Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اس کتاب میں ان چیزوں کا بیان ہے جو شرعاً ممنوع یا مباح ہیں۔ اصطلاح شرح میں مباح اس کو کہتے ہیں، جس کے کرنے اور چھوڑنے دونوں کی اجازت ہو، نہ اس میں ثواب ہے نہ اس میں عذاب ہے۔ مکروہ کی دونوں قسموں کی تعریفیں حصہ دوم (2)میں ذکر کردی گئیں وہاں سے معلوم کریں۔
اس کتاب کے مسائل چند ابواب پر منقسم ہیں۔ سب سے پہلے کھانے پینے سے جن مسائل کا تعلق ہے، وہ بیان کیے جاتے ہیں کہ انسانی زندگی کا تعلق کھانے پینے سے ہے ۔قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ ﴿۸۷﴾وَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ حَلٰـلًا طَیِّبًا ۪ وَّاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤْمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾)
(3)
''اے ایمان والواﷲ(عزوجل)نے جو تمھارے لیے حلال کیا ہے اسے حرام نہ کرو اور حد سے نہ گزرو، بے شک اﷲ(عزوجل)حد سے گزرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اوراﷲ(عزوجل)نے جو تمہیں حلال پاکیزہ رزق دیا ہے، اس میں سے کھاؤ اور اﷲ(عزوجل)سے ڈرو جس پر تم ایمان لائے ہو۔''
اور فرماتا ہے:
(کُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۴۲﴾ۙ
) (4)
''کھاؤ اس میں سے جواﷲ(عزوجل)نے تمھیں روزی دی اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔''
اور فرماتا ہے:
(یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمْ عِنۡدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّکُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا وَلَا تُسْرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیۡنَ ﴿٪۳۱﴾قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللہِ الَّتِیۡۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ؕ قُلْ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا خَالِصَۃً
1 ۔ یعنی ممنوع اور مباح چیزوں کا بیان۔ 2 ۔یعنی بہارشریعت ،ج۱،حصہ دوم۔
3 ۔پ۷، المآئدۃ: ۸۷ ۔ ۸۸.
4 ۔پ۸، الانعام:۱۴۲.
یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ ﴿۳۲﴾قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالۡاِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیۡرِ الْحَقِّ وَ اَنۡ تُشْرِکُوۡا بِاللہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۳۳﴾
)
(1)
''اے بنی آدم!اپنی زینت لو، جب مسجد میں جاؤ اور کھاؤ اور پیو اور اسراف (زیادتی)نہ کرو، بے شک وہ اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اے محبوب!تم فرمادو، کس نے حرام کی اﷲ(عزوجل)کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی اور ستھرا رزق، تم فرمادو کہ وہ ایمان والوں کے لیے ہے دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن تو خاص انھیں کے لیے ہے، اسی طرح ہم تفصیل کے ساتھ اپنی آیتوں کو بیان کرتے ہیں علم والوں کے لیے۔ تم فرمادو کہ میرے رب(عزوجل)نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں جو ان میں ظاہر ہیں اور جو چھپی ہیں اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ کہ اﷲ(عزوجل)کا شریک کروجس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اُتاری اور یہ کہ اﷲ(عزوجل)پر وہ بات کہو جس کا تمھیں علم نہیں۔''
اور فرماتا ہے:
(لَیۡسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الْمَرِیۡضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمْ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا مِنۡۢ بُیُوۡتِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اٰبَآئِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اُمَّہٰتِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اِخْوَانِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اَخَوٰتِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اَعْمَامِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ عَمّٰتِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اَخْوَالِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ خٰلٰتِکُمْ اَوْ مَا مَلَکْتُمۡ مَّفَاتِحَہٗۤ اَوْ صَدِیۡقِکُمْ ؕ لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوْ اَشْتَاتًا ؕ)
(2)
''نہ اندھے پر تنگی ہے اور نہ لنگڑے پر مضایقہ اور نہ بیمار پر حرج اور نہ تم میں کسی پر کہ کھاؤ اپنی اولاد کے گھر یا اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر یا اپنے بھائیوں کے یہاں یا اپنی بہنوں کے یہاں یا اپنے چچاؤں کے یہاں یا اپنی پھپیوں کے گھر یا اپنے ماموؤں کے یہاں(3)یااپنی خالاؤں کے گھر یا جہاں کی کنجیاں تمھارے قبضہ میں ہیں یا اپنے دوست کے یہاں، تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ مجتمع ہو کر کھاؤ یاالگ الگ۔''
پہلے کھانے کے متعلق چند حدیثیں بیان کی جاتی ہیں۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''جس کھانے پر بسم اﷲ نہ پڑھی جائے، شیطان کے لیے وہ کھانا حلال ہوجاتا ہے۔''(4)یعنی بسم اﷲنہ پڑھنے کی صورت میں شیطان اس کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔
1 ۔پ۸، الاعراف: ۳۱ ۔ ۳۳. 2 ۔پ۱۸، النور:۶۱.
3 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر '' اَوْ بُیُوۡتِ اَخْوَالِکُمْ ''کاترجمہ''یااپنے ماموؤں کے یہاں'' موجودنہیں تھا،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے لہذامتن میں کنزالایمان سے اس کااضافہ کردیاگیاہے۔...علمیہ
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب آداب الطعام والشرب...إلخ، الحدیث:۱۰۲۔(۲۰۱۷)،ص۱۱۱۶.
حدیث ۲: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کوئی شخص مکان میں آیا اور داخل ہوتے وقت اور کھانے کے وقت اس نے بسم اﷲپڑھ لی تو شیطان اپنی ذریّت سے کہتا ہے کہ اس گھر میں نہ تمھیں رہنا ملے گا نہ کھانا اور اگر داخل ہوتے وقت بسم اﷲنہ پڑھی تو کہتا ہے، اب تمھیں رہنے کی جگہ مل گئی اور کھانے کے وقت بھی بسم اﷲنہ پڑھی تو کہتا ہے کہ رہنے کی جگہ بھی ملی اور کھانا بھی ملا۔''(1)
حدیث ۳: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا، رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی پرورش میں تھا (یعنی یہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے ربیب اور اُم المومنین اُم سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہاکے فرزند ہیں)کھاتے وقت برتن میں ہر طرف ہاتھ ڈال دیتا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:''بسم اﷲ پڑھو اور داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور برتن کی اس جانب سے کھاؤ، جو تمھارے قریب ہے۔''(2)
حدیث ۴: ابو داود و ترمذی و حاکم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''جب کوئی شخص کھانا کھائے تو اﷲ(عزوجل)کا نام ذکر کرے یعنی بسم اﷲ پڑھے ا ور اگر شروع میں بسم اﷲپڑھنا بھول جائے تو یوں کہے۔
بِسْمِ اللہِ اَوَّلَـہٗ وَااخِرَہٗ ۔'' (3)
اور امام احمد و ابن ماجہ و ابن حبان وبیہقی کی روایت میں یوں ہے۔
بِسْمِ اللہِ فِیْ اَوَّلِـہٖ وَااخِرِہٖ .(4)
حدیث ۵: امام احمد و ابو داود و ابن ماجہ و حاکم وحشی بن حرب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، کہ ارشاد فرمایا: ''مجتمع ہو کر کھانا کھاؤ اور بسم اﷲ پڑھو، تمھارے لیے اس میں برکت ہوگی۔''(5)ابن ماجہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ لوگوں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ہم کھاتے ہیں اور پیٹ نہیں بھرتا۔ ارشاد فرمایاکہ ''شاید تم الگ الگ کھاتے ہو گے۔ عرض کی، ہاں۔ فرمایا:اکٹھے ہو کر کھاؤ اور بسم اﷲپڑھو، برکت ہوگی۔''(6)
حدیث ۶: شرح سنہ میں ابو ایوب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر تھے، کھانا پیش کیا گیا ابتدا میں اتنی برکت ہم نے کسی کھانے میں نہیں دیکھی، مگر آخر میں بڑی بے برکتی دیکھی،
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب آداب الطعام والشرب...إلخ،الحدیث:۱۰۳۔(۲۰۱۸)،ص۱۱۱۶.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۱۰۸۔(۲۰۲۲)،ص۱۱۱۸.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب التسمیۃعلی الطعام،الحدیث: ۳۷۶۷،ج۳،ص۴۸۷.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ،باب التسمیۃ عند الطعام،الحدیث:۳۲۶۴،ج۴،ص۱۱.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب في الإجتماع علی الطعام، الحدیث:۳۷۶۴،ج۳،ص۴۸۶.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ،باب الإجتماع علی الطعام، الحدیث:۳۲۸۶،ج۴،ص۲۱.
ہم نے عرض کی، یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!ایسا کیوں ہوا؟ ارشاد فرمایا:''ہم سب نے کھانے کے وقت بسم اﷲ پڑھی تھی، پھر ایک شخص بغیر بسم اﷲ پڑھے کھانے کو بیٹھ گیا، اس کے ساتھ شیطان نے کھانا کھا لیا۔''(1)
حدیث ۷: ابو داود نے اُمَیَّہ بن مخشی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:ایک شخص بغیر بسم اﷲپڑھے کھانا کھا رہا تھا، جب کھا چکا صرف ایک لقمہ باقی رہ گیا، یہ لقمہ اٹھایا اور یہ کہا:
بِسْمِ اللہِ اَوَّلَـہٗ وَااخِرَہٗ
رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے تبسم کیا اور یہ فرمایا کہ ''شیطان اس کے ساتھ کھارہا تھا، جب اس نے اﷲ(عزوجل)کا نام ذکر کیا جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا اُگل دیا۔''(2)اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ بسم اﷲ نہ کہنے سے کھانے کی برکت جو چلی گئی تھی واپس آگئی۔
حدیث ۸: صحیح مسلم میں حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: جب ہم لوگ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے ساتھ کھانے میں حاضر ہوتے تو جب تک حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)شروع نہ کرتے، کھانے میں ہم ہاتھ نہیں ڈالتے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ہم حضور (علیہ الصلوٰۃ والسلام)کے پاس حاضر تھے، ایک لڑکی دوڑتی ہوئی آئی، جیسے اسے کوئی ڈھکیل رہا ہے، اس نے کھانے میں ہاتھ ڈالنا چاہا، حضور (علیہ الصلوٰۃ والسلام)نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک اعرابی دوڑتا ہوا آیا جیسے اسے کوئی ڈھکیل رہا ہے،حضور (علیہ الصلوٰۃ والسلام)نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا۔
اور یہ فرمایاکہ ''جب کھانے پر اﷲ(عزوجل)کا نام نہیں لیا جاتا تو وہ کھانا شیطان کے لیے حلال ہوجاتا ہے۔ شیطان اس لڑکی کے ساتھ آیا کہ اس کے ساتھ کھائے، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر اس اعرابی کے ساتھ آیا کہ اس کے ساتھ کھائے، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ قسم ہے اس کی جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اس کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے، اس کے بعد حضور(علیہ الصلوٰۃ والسلام)نے اﷲ(عزوجل)کا نام ذکر کیا یعنی بسم اﷲکہی اور کھانا کھایا۔ (3)اسی کے مثل امام احمد و ابو داود و نسائی و حاکم نے بھی روایت کی ہے۔
حدیث ۹: ابن عساکر نے عقبہ بن عامررضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایاکہ''جس کھانے پر اﷲ(عزوجل)کا نام ذکر نہ کیا ہو، وہ بیماری ہے اور اس میں برکت نہیں ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اگر ابھی دسترخوان نہ اٹھایا گیا ہو تو بسم اﷲ پڑھ کر کچھ کھالے اور دسترخوان اٹھایا گیا ہو تو بسم اﷲ پڑھ کر انگلیاں چاٹ لے۔''(4)
1 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب الأطعمۃ،باب التسمیۃ علی الأکل...إلخ، الحدیث: ۲۸۱۸،ج۶،ص۶۱۔۶۲.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب التسمیۃ علی الطعام،الحدیث:۳۷۶۸،ج۳،ص۳۸۸.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب آداب الطعام والشرب...إلخ، الحدیث:۱۰۲۔(۲۰۱۷)،ص۱۱۱۶.
4 ۔ ''تاریخ دمشق'' لابن عساکر، رقم: ۱۲۴۷۴،ج۶۰،ص۳۲۵.
حدیث ۱۰: دیلمی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کھائے یا پیے تو یہ کہہ لے:
بِسْمِ اللہِ وَبِاللہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ یَا حَیُّ یَا قَـیُّوْمُ .
(1)پھراس سے کوئی بیماری نہ ہوگی، اگرچہ اس میں زہر ہو۔'' (2)
حدیث ۱۱: صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب کھانا کھائے تو داہنے ہاتھ سے کھائے اور پانی پیے تو داہنے ہاتھ سے پیے۔''(3)
حدیث ۱۲: صحیح مسلم میں انھیں سے مروی ہے کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''کوئی شخص نہ بائیں ہاتھ سے کھانا کھائے، نہ پانی پیے کہ بائیں ہاتھ سے کھانا پینا شیطان کا طریقہ ہے۔''(4)
حدیث ۱۳: ابن ماجہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''دہنے ہاتھ سے کھائے اور دہنے ہاتھ سے پیے اور دہنے ہاتھ سے لے اور دہنے ہاتھ سے دے، کیونکہ شیطان بائیں سے کھاتا ہے، بائیں سے پیتا ہے اور بائیں سے لیتا ہے اور بائیں سے دیتا ہے۔'' (5)
حدیث ۱۴: ابن النجار نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا:''تین انگلیوں سے کھانا انبیا علیہم السلام کا طریقہ ہے۔'' (6)
اور حکیم نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا: ''تین انگلیوں سے کھاؤ کہ یہ سنت ہے اور پانچوں انگلیوں سے نہ کھاؤ کہ یہ اعراب (گنواروں)کا طریقہ ہے۔''(7)
حدیث ۱۵: صحیح مسلم میں کعب بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم تین انگلیوں سے کھانا تناول فرماتے اور پونچھنے سے پہلے ہاتھ چاٹ لیتے۔ (8)
1 ۔ ترجمہ: اﷲ تعالٰی کے نام سے شروع کرتا ہوں،جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اے ہمیشہ زندہ و قائم رہنے والے!
2 ۔ ''الفردوس بمأ ثور الخطاب''، الحدیث: ۱۱۱۳،ج۱،ص۱۶۸.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب آداب الطعام والشرب...إلخ، الحدیث:۱۰۵۔(۲۰۲۰)،ص۱۱۱۷.
4 ۔ المرجع السابق، الحدیث:۱۰۶۔(۲۰۲۰)،ص۱۱۱۷.
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ،باب الأکل بالیمین، الحدیث:۳۲۶۶،ج۴،ص۱۲.
6 ۔ ''الجامع الصغیر'' للسیوطي، الحدیث: ۳۰۷۴،ص۱۸۴.
7 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب المعیشۃ...إلخ، رقم:۴۰۸۷۲،ج۱۵،ص۱۱۵.
8 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب استحباب لعق الاصابع...إلخ، الحدیث:۱۳۲۔(۲۰۳۲)،ص۱۱۲۲.
حدیث ۱۶: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے انگلیوں اور برتن کے چاٹنے کا حکم دیا اور یہ فرمایاکہ ''تمھیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔'' (1)
حدیث ۱۷: صحیح بخاری ومسلم میں عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''کھانے کے بعد ہاتھ کو نہ پونچھے، جب تک چاٹ نہ لے یا دوسرے کو چٹا نہ دے۔'' (2) یعنی ایسے شخص کو چٹا دے جو کراہت و نفرت نہ کرتا ہو، مثلاً تلامذہ و مریدین کہ یہ استاد و شیخ کے جھوٹے کو تبرک جانتے ہیں اور بڑی خوشی سے استعمال کرتے ہیں۔
حدیث ۱۸: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ نے نُبیشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو کھانے کے بعد برتن کو چاٹ لے گا وہ برتن اس کے لیے استغفار کریگا۔''(3)
رزین کی روایت میں یہ بھی ہے، کہ وہ برتن یہ کہتا ہے کہ اﷲتعالیٰ تجھ کو جہنم سے آزاد کرے، جس طرح تو نے مجھے شیطان سے نجات دی۔ (4)
حدیث ۱۹: طبرانی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے کھانے اور پانی میں پھونکنے سے ممانعت فرمائی۔ (5)
حدیث ۲۰: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''شیطان تمھارے ہر کام میں حاضر ہوجاتا ہے۔ کھانے کے وقت بھی حاضر ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اگر لقمہ گرجائے اور اس میں کچھ لگ جائے تو صاف کرکے کھا لے اسے شیطان کے لیے چھوڑ نہ دے اور جب کھانے سے فارغ ہو جائے تو انگلیاں چاٹ لے کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصّے میں برکت ہے۔''(6)
حدیث ۲۱: ابن ماجہ نے حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ معقل بن یساررضی اللہ تعالٰی عنہ کھانا کھارہے
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب استحباب لعق الاصابع...إلخ، الحدیث:۱۳۳۔(۲۰۳۳)،ص۱۱۲۲.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأطعمۃ،باب لعق الاصابع...إلخ، الحدیث:۵۴۵۶،ج۳،ص۵۴۲.
3 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،مسند البصریین، حدیث نبیشۃ الھذلی، الحدیث:۲۰۷۵۰،ج۷،ص۳۸۲.
4 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الأطعمۃ، الفصل الثالث، الحدیث:۴۲۴۲،ج۲،ص۴۵۵.
5 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن العباس، الحدیث: ۲۸۱۸،ج۱،ص۶۶۲.
و''المعجم الأوسط''باب المیم، الحدیث: ۵۱۳۸،ج۴،ص۴۰.
6 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب استحباب لعق الاصابع...إلخ، الحدیث: ۱۳۵۔(۲۰۳۳)،ص۱۱۲۳.
تھے، ان کے ہاتھ سے لقمہ گرگیا، انہوں نے اٹھا لیا اور صاف کرکے کھا لیا۔ یہ دیکھ کر گنواروں نے آنکھوں سے اشارہ کیا (کہ یہ کتنی حقیر و ذلیل بات ہے کہ گرے ہوئے لقمہ کو انھوں نے کھا لیا)کسی نے ان سے کہا، خدا امیر کا بھلا کرے (معقل بن یسار وہاں امیر وسردار کی حیثیت سے تھے)یہ گنوار کنکھیوں سے اشارہ کرتے ہیں کہ آپ نے گرا ہوا لقمہ کھا لیا اور آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہے۔ انھوں نے فرمایا ان عجمیوں کی وجہ سے میں اس چیز کو نہیں چھوڑ سکتا ہوں جو میں نے رسول اﷲصلَّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سنا ہے، ہم کو حکم تھا کہ جب لقمہ گر جائے، اسے صاف کرکے کھا جائے، شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے۔ (1)
حدیث ۲۲: ابن ماجہ نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم مکان میں تشریف لائے، روٹی کا ٹکڑ اپڑا ہوا دیکھا، اس کو لے کر پونچھا پھر کھالیا اور فرمایا:''عائشہ!اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی)جب کسی قوم سے بھاگی ہے تو لوٹ کر نہیں آئی۔''(2)یعنی اگر ناشکری کی وجہ سے کسی قوم سے رزق چلا جاتا ہے تو پھر واپس نہیں آتا۔
حدیث ۲۳: طبرانی نے عبداﷲابن اُم حرام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا کہ ''روٹی کا احترام کرو کہ وہ آسمان و زمین کی برکات سے ہے، جو شخص دسترخوان سے گری ہوئی روٹی کو کھا لے گا، اس کی مغفرت ہوجائے گی۔''(3)
حدیث ۲۴: دارمی نے اسما رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ جب ان کے پاس ثرید لایا جاتا تو حکم کرتیں کہ چھپا د یا جائے کہ اس کی بھاپ کا جوش ختم ہوجائے اور فرماتیں کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے سنا ہے کہ اس سے برکت زیادہ ہوتی ہے۔ (4)
حدیث ۲۵: حاکم جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور ابو داود اسما رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کرتے ہیں، کہ ارشاد فرمایا:''کھانے کو ٹھنڈا کرلیا کرو کہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہے۔'' (5)
حدیث ۲۶: صحیح بخاری شریف میں ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ جب دسترخوان اٹھایا جاتا، اُس وقت نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم یہ پڑھتے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّباً مُّبَارَکاً فِیْہِ غَیْرَ مَکْفِیٍّ وَلَا
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ،باب اللقمۃ إذا سقطت، الحدیث: ۳۲۷۸،ج۴،ص۱۷.
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ،باب النھی عن إلقاء الطعام، الحدیث: ۳۳۵۳،ج۴،ص۴۹.
3 ۔ ''الجامع الصغیر'' للسیوطي، الحدیث: ۱۴۲۶،ص۸۸.
4 ۔ ''سنن الدارمي''،کتاب الأطعمۃ،باب النھی عن اکل الطعام الحار، الحدیث: ۲۰۴۷،ج۲،ص۱۳۷.
5 ۔ ''المستدرک''للحاکم،کتاب الأطعمۃ،باب أبردوا الطعام الحار، الحدیث:۷۲۰۷،ج۵،ص۱۶۲.
مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًی عَنْہُ رَبَّنَا .(1)
حدیث ۲۷: صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''اﷲتعالیٰ اس بندہ سے راضی ہوتا ہے کہ جب لقمہ کھاتا ہے تو اس پراﷲ(عزوجل)کی حمد کرتا ہے اور پانی پیتا ہے تو اس پر اس کی حمد کرتا ہے۔''(2)
حدیث ۲۸: ترمذی و ابو داود و ابن ماجہ ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کھانے سے فارغ ہو کر یہ پڑھتے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ . (3)
حدیث ۲۹: ترمذی ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''کھانے والا شکر گزار ویسا ہی ہے جیسا روزہ دار صبر کرنے والا۔''(4)
حدیث ۳۰: ابو داود نے ابو ایوب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم جب کھاتے یا پیتے، یہ پڑھتے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَ وَسَقٰی وَسَوَّغَہٗ وَجَعَلَ لَہٗ مَخْرَجًا.(5)
حدیث ۳۱: ضیا نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ ارشاد فرمایا:''آدمی کے سامنے کھانا رکھا جاتا ہے اور اٹھانے سے پہلے اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔''(6)اس کی صورت یہ ہے کہ جب رکھا جائے بسم اﷲکہے اور جب اٹھایا جانے لگے الحمد ﷲکہے ۔
حدیث ۳۲: نسائی وغیرہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ کھانے کے بعد یہ دُعا پڑھے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأطعمۃ،باب ما یقول إذا فرغ من طعامہ، الحدیث:۵۴۵۸،ج۳،ص۵۴۳.
و''سنن الترمذي''،کتاب الدعوات،باب ما یقول إذا فرغ من الطعام، الحدیث:۳۴۶۷،ج۵،ص۲۸۳.
ترجمہ: اﷲ تعالیٰ کے لیے بے شمار تعریفیں، نہایت پاکیزہ اور بابرکت نہ کفایت کی گئی نہ چھوڑی گئی اور نہ اس سے لاپرواہی برتی گئی۔ ایہمارے رب!(قبول فرما)
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الذکر والدعاء...إلخ،باب استحباب حمد اللہ ...إلخ، الحدیث:۸۹۔(۲۷۳۴)،ص۱۴۶۳.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب ما یقول الرجل إذا طعم، الحدیث:۳۸۵۰،ج۳،ص۵۱۳.
ترجمہ: اﷲ تعالٰی کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔
نوٹ: بہار شریعت کے بعض نسخوں میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَامِنَ الْمُسْلِمِینَ.لکھا ہے۔جبکہ بہارِ شریعت مطبوعہ مکتبہ رضویہ،باب المدینہ کراچی، ابو داود (الحدیث: 3850)، ترمذی (الحدیث: 3457) اور ابن ماجہ (الحدیث: 3283) میں یہ دعا ان الفاظ کے ساتھ ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِینَ .
4 ۔ ''سنن الترمذی''،کتاب صفۃ القیامۃ،باب:۴۳، الحدیث: ۲۴۹۴،ج۴،ص۲۱۹.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب ما یقول الرجل اذا طعم، الحدیث: ۳۸۵۱،ج۳،ص۵۱۳.
ترجمہ: تمام تعریفیں اﷲ تعالٰیکے لیے ہیں،جس نے کھلایا، پلایا اور اسے باآسانی اتارا اور اس کے نکلنے کا راستہ بنایا۔
6 ۔ ''الاحادیث المختارۃ''،مسند انس بن مالک،الحدیث:۲۳۰۰،ج۶،ص۲۸۶.
الَّذِیْ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ وَمَنَّ عَلَیْنَا فَھَدا نَاوَاَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکُلَّ بَـلَاءٍ حَسَنٍ اَ بْـلَانَا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ غَیْرَ مُوَدَّعٍ رَّبِّیْ وَلَا مُکَافًی وَّلَا مَکْفُوْرٍ وَّلَا مُسْتَـغْنًی عَنْہُ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا مِنَ الطَّعَامِ وَسَقَانَا مِنَ الشَّرَابِ وَکَسَانَا مِنَ الْعُرْیِ وَھَدا نَا مِنَ الضَّلَالِ وَبَصَّرَنَا مِنَ الْعَمٰی وَفَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ خَلْقِـہٖ تَفْضِیْلاً وَّالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ.(1)
حدیث ۳۳: امام احمد و ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کوئی شخص کھانا کھائے تو یہ کہے۔
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَاَبْدِلْنَا خَیْرًا مِّنْہٗ.
(2)اور جب دودھ پیے تویہ کہے:
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہٗ.
(3)کیونکہ دودھ کے سوا کوئی چیز ایسی نہیں جو کھانے اور پانی دونوں کی قائم مقام ہو۔ ''(4)
حدیث ۳۴: ابن ماجہ نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے کھانے پر سے اُٹھنے کی ممانعت کی، جب تک کھانا اٹھا نہ لیا جائے۔ (5)
حدیث ۳۵: ابن ماجہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جب دسترخوان چنا جائے تو کوئی شخص دسترخوان سے نہ اٹھے، جب تک دسترخوان نہ اٹھالیا جائے اور کھانے سے ہاتھ نہ کھینچے اگرچہ کھاچکا ہو، جب تک سب لوگ فارغ نہ ہوجائیں اور اگر ہاتھ روکنا ہی چاہتا ہے تو معذرت پیش کرے کیونکہ اگر بغیر معذرت کیے ہاتھ روک لے گا تو اس کے ساتھ دوسرا شخص جو کھانا کھا رہا ہے شرمندہ ہوگا، وہ بھی ہاتھ کھینچ لے گا اور شاید ابھی اس کو کھانے کی حاجت باقی ہو۔''(6)
1 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب المعیشۃ، رقم:۴۰۸۴۳،ج۱۵،ص۱۱۳.
ترجمہ: تمام تعریفیں اﷲتعالیٰ کے لیے ہیں،جو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس نے ہم پر احسان فرمایا کہ ہمیں ھدایت دی اور ہمیں کھلایا،
پلایا اور ہمیں ہر نعمت خوب عطا کی۔ تمام تعریفیں اﷲتعالیٰ کے لیے ہیں، اس حال میں کہ نہ تو وہ نعمت چھوڑی گئی نہ اس کا بدلہ دیا گیا اور نہ ناشکری کی گئی اور نہ اس سے لاپرواہی برتی گئی۔ تمام تعریفیں اﷲتعالیٰ کے لیے ہیں،جس نے کھانا کھلایا اور پانی پلایا اور برہنگی میں کپڑا پہنایا اور گمراہی سے ھدایت دی اور اندھے پن سے بینا کیا اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت دی تمام تعریفیں اﷲ تعالیٰ کے لیے ہیں،جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔
2 ۔ ترجمہ: اے اﷲ!عزوجل ہمارے لیے اس (کھانے)میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر بدل عطا فرما۔
3 ۔ ترجمہ: اے اﷲ! عزوجل ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں مزید عطا فرما۔
4 ۔ ''شعب الایمان''،باب في المطاعم والمشارب، الحدیث: ۵۹۵۷،ج۵،ص۱۰۴.
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ،باب النھی ان یقام عن الطعام حتی یرفع...إلخ، الحدیث:۳۲۹۴،ج۴،ص۲۴.
6 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۳۲۹۵،ج۴،ص۲۴.
اسی حدیث کی بناء پرعلما یہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کم خوراک ہو تو آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کھائے اور اس کے باوجود بھی اگر جماعت کا ساتھ نہ دے سکے تو معذرت پیش کرے تاکہ دوسروں کو شرمندگی نہ ہو۔
حدیث ۳۶: ترمذی وابو داود نے سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ کھانے کے بعد وضو کرنا یعنی ہاتھ دھونا اور کلی کرنا برکت ہے۔ اس کو میں نے نبی کر یم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے ذکر کیا، حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:''کھانے کی برکت اس کے پہلے وضو کرنا اور اس کے بعد وضو کرنا ہے ۔''(1) (اس حدیث میں وضو سے مراد ہاتھ دھونا ہے)۔
حدیث ۳۷: طبرانی ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی، کہ ارشاد فرمایا:''کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرنا (ہاتھ مونھ دھونا)محتاجی کو دور کرتا ہے اور یہ مرسلین(علیہم السلام)کی سنتوں میں سے ہے۔''(2)
حدیث ۳۸: ابن ماجہ نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ فرمایا:''جو یہ پسند کرے کہ اﷲ تعالیٰ اس کے گھر میں خیر زیادہ کرے تو جب کھانا حاضر کیا جائے، وضو کرے اور جب اٹھایا جائے اس وقت وضو کرے ۔''(3) یعنی ہاتھ مونھ دھولے۔
حدیث ۳۹: ابن ماجہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایاکہ ''اکٹھے ہو کر کھاؤ، الگ الگ نہ کھاؤ کہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔''(4)
حدیث ۴۰: ترمذی نے عکراش بن ذویب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:ہمارے پاس ایک برتن میں بہت سی ثرید اور بوٹیاں لائیں گئیں۔ میرا ہاتھ برتن میں ہر طرف پڑنے لگا اور رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اپنے سامنے سے تناول فرمایا۔ پھر حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایاکہ عکراش ایک جگہ سے کھاؤ کہ یہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے۔ ا سکے بعد طبق میں طرح طرح کی کھجوریں لائیں گئیں، میں نے اپنے سامنے سے کھانی شروع کیں اور رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا ہاتھ مختلف جگہ طباق میں پڑتا۔
پھر فرمایاکہ عکراش جہاں سے چاہو کھاؤ،کہ یہ ایک قسم کی چیز نہیں۔ پھر پانی لایا گیا حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ہاتھ دھوئے اور ہاتھوں کی تری سے مونھ اور کلائیوں اور سر پر مسح کرلیا اور فرمایاکہ ''عکراش جس چیز کو آگ نے چھوا یعنی جو
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأطعمۃ،باب ماجاء في الوضوء قبل الطعام وبعدہ، الحدیث: ۱۸۵۳،ج۴،ص۳۳۴.
2 ۔ ''المعجم الأوسط''،باب المیم، الحدیث:۷۱۶۶،ج۵،ص۲۳۱.
3 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ،باب الوضوء عند الطعام، الحدیث:۳۲۶۰،ج۴،ص۹.
4 ۔المرجع السابق،باب الإجتماع علی الطعام، الحدیث: ۳۲۸۷،ج۴،ص۲۱.
آگ سے پکائی گئی ہو، اس کے کھانے کے بعد یہ وضو ہے۔''(1)
حدیث ۴۱: ترمذی و ابو داودو ابن ماجہ نے ابوہریرہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کسی کے ہاتھ میں چکنائی کی بُو ہو اور بغیر ہاتھ دھوئے سوجائے اور اس کو کچھ تکلیف پہنچ جائے تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے۔''(2)اسی کی مثل حضرت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالٰی عنہاسے بھی مروی ہے۔
حدیث ۴۲: حاکم نے ابو عبس بن جبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ارشاد فرمایا:''کھانے کے وقت جوتے اتار لو کہ یہ سنتِ جمیلہ(اچھا طریقہ)ہے۔''(3)اور اَنس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت میں ہے، کہ ''کھانا رکھا جائے تو جوتے اتار لو، کہ اس سے تمھارے پاؤں کے لیے راحت ہے۔''(4)
حدیث ۴۳: ابو داود عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا کہ (کھاتے وقت)گوشت کو چھری سے نہ کاٹو کہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، اس کو دانت سے نوچ کر کھاؤ کہ یہ خوش گوار اور زود ہضم ہے۔ (5)
یہ اس وقت ہے کہ گوشت اچھی طرح پک گیا ہو۔ ہاتھ یا دانت سے نوچ کر کھایا جاسکتا ہو۔ آج کل یورپ کی تقلید میں بہت سے مسلمان بھی چھری کانٹے سے کھاتے ہیں، یہ مذموم طریقہ ہے اور اگر بوجہ ضرورت چھری سے گوشت کاٹ کر کھایا جائے کہ گوشت اتنا گلا ہوا نہیں ہے کہ ہاتھ سے توڑا جاسکے یا دانتوں سے نوچا جاسکے یا مثلاً مسلّم ران بھنی ہوئی ہے کہ دانتوں سے نوچنے میں دقت ہوگی تو چھری سے کاٹ کر کھانے میں حرج نہیں، اسی قسم کے بعض مواقع پر حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا چھری سے گوشت کاٹ کر تناول فرمانا آیا ہے، اس سے آج کل کے چھری کانٹے سے کھانے کی دلیل لانا صحیح نہیں۔
حدیث ۴۴: صحیح بخاری میں اَ بُوحُجَیْفَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''میں تکیہ لگا کر کھانا نہیں کھاتا۔''(6)
حدیث ۴۵: صحیح بخاری میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے خوان پر کھانا
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأطعمۃ،باب ماجاء في التسمیۃ،الحدیث:۱۸۵۵،ج۳،ص۳۳۵.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب في غسل الید من الطعام،الحدیث:۳۸۵۲،ج۳،ص۵۱۴.
3 ۔ ''المستدرک''للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنھم،باب دعا النبی...إلخ، الحدیث:۵۵۵۰،ج۴،ص۴۲۳.
4 ۔ ''سنن الدارمي''،کتاب الأطعمۃ،باب في خلع النعال عند الاکل، الحدیث:۲۰۸۰،ج۲،ص۱۴۸.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب في أکل اللحم، الحدیث: ۳۷۷۸،ج۳ص۴۹۰.
6 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأطعمۃ،باب الأکل متکأاً، الحدیث:۵۳۹۸،ج۳،ص۵۲۸.
نہیں تناول فرمایا، نہ چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں کھایا اور نہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کے لیے پتلی چپاتیاں پکائی گئیں۔
دوسری روایت میں یہ ہے، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے پتلی چپاتی دیکھی بھی نہیں۔ قتادہ سے پوچھا گیا کہ کس چیز پر وہ لوگ کھانا کھایا کرتے تھے؟ کہا کہ دسترخوان پر۔ (1)
خوان تپائی کی طرح اونچی چیز ہوتی ہے، جس پر امراء کے یہاں کھانا چنا جاتا ہے تاکہ کھاتے وقت جھکنا نہ پڑے، اس پر کھانا کھانا متکبرین کا طریقہ تھا۔ جس طرح بعض لوگ اس زمانہ میں میز پر کھاتے ہیں، چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں کھانا کھانا بھی امراء کا طریقہ ہے کہ ان کے یہاں مختلف قسم کے کھانے ہوتے ہیں، چھوٹے چھوٹے برتنوں میں رکھے جاتے ہیں۔
حدیث ۴۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے کھانے کو کبھی عیب نہیں لگایا(یعنی بُرا نہیں کہا)، اگر خواہش ہوئی کھا لیا ورنہ چھوڑ دیا۔ (2)
حدیث ۴۷: صحیح مسلم میں جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں کہ ''ایک شخص کا کھانا، دو ۲ کے لیے کفایت کرتاہے اور دو ۲ کا کھانا، چار کے لیے کفایت کرتا ہے اور چار کا کھانا، آٹھ کو کفایت کرتا ہے۔''(3)
حدیث ۴۸: صحیح بخاری میں مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اپنے اپنے کھانے کو ناپ لیا کرو، تمھارے لیے اس میں برکت ہوگی۔''(4)
حدیث ۴۹: ابن ماجہ و ترمذی و دارمی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں ایک برتن میں ثرید پیش کیا گیا۔ ارشاد فرمایاکہ ''کناروں سے کھاؤ، بیچ میں سے نہ کھاؤ کہ بیچ میں برکت اترتی ہے۔''(5)ثرید ایک قسم کا کھانا ہے، روٹی توڑ کر شوربے میں مَل دیتے ہیں۔ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ کھانا پسند تھا۔
حدیث ۵۰: طبرانی نے عبدالرحمن بن موقع سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''کوئی ظرف (6)جو بھرا جائے، پیٹ سے زیادہ برا نہیں اگر تمھیں پیٹ میں کچھ ڈالنا ہی ہے تو ایک تہائی میں کھانا ڈالو اور ایک تہائی میں
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الاطـعمۃ،باب ما کان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم و اصحابہ یأ کلون،باب شاۃ مسموطۃ ... إلخ،
الحدیث:۵۴۱۵،۵۴۲۱،ج۳،ص۵۳۲،۵۳۳.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأطعمۃ،باب ما عاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم طعاما، الحدیث:۵۴۰۹،ج۳،ص۵۳۱.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب فضیلۃ المواساۃ...إلخ، الحدیث:۱۷۹۔(۲۰۵۹)،ص۱۱۴۰.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب البیوع،باب ما یستحب من الکیل، الحدیث:۲۱۲۸،ج۲ص۲۷.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الأطعمۃ، الفصل الاول، الحدیث: ۴۱۹۸،ج۲،ص۴۴۸.
5 ۔ ''سنن الدارمي''،کتاب الأطعمۃ،باب النھی عن اکل وسط الثرید...إلخ، الحدیث: ۲۰۴۶،ج۲،ص۱۳۷.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الأطعمۃ، الفصل الثاني، الحدیث: ۴۲۱۱،ج۲،ص۴۴۹.
6 ۔ برتن۔
پانی اور ایک تہائی ہوا اور سانس کے لیے رکھو۔''(1)
حدیث ۵۱: ترمذی و ابن ماجہ نے مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ ''آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں جواس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں۔ اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو تہائی پیٹ کھانے کے لیے اور تہائی پانی کے لیے اور تہائی سانس کے لیے۔''(2)
حدیث ۵۲: ترمذی نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک شخص کی ڈکار کی آواز سنی، فرمایا:''اپنی ڈکار کم کر، اس لیے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا وہ ہوگا جو دنیا میں زیادہ پیٹ بھرتا ہے۔''(3)
حدیث ۵۳: صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو کھجور کھاتے دیکھا اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) سرین پر اس طرح بیٹھے تھے کہ دونوں گھٹنے کھڑے تھے۔ (4)
حدیث ۵۴: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے دو کھجوریں ملا کر کھانے سے منع فرمایا، جب تک ساتھ والے سے اجازت نہ لے لے۔ (5)
حدیث ۵۵: صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جن کے یہاں کھجوریں ہیں، اس گھر والے بھوکے نہیں۔''(6)دوسری روایت میں یہ ہے، کہ ''جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں، اس گھر والے بھوکے ہیں۔''(7)
یہ اس زمانے اور اس ملک کے لحاظ سے ہے کہ وہاں کھجوریں بکثرت ہوتی ہیں اور جب گھر میں کھجوریں ہیں تو بال بچوں اور گھر والوں کے لیے اطمینان کی صورت ہے کہ بھوک لگے گی تو انھیں کھالیں گے، بھوکے نہیں رہیں گے۔
1 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب المعیشۃ...إلخ، رقم: ۴۰۸۱۳،ج۱۵،ص۱۱۰.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الزھد،باب ماجاء في کراھیۃ کثرۃ الاکل، الحدیث:۲۳۸۷،ج۴،ص۱۶۸.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب صفۃ القیامۃ...إلخ، باب حدیث أکثرھم شبعا في الدنیا...إلخ، الحدیث:۲۴۸۶،ج۴،ص۲۱۷.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب إستحباب تواضع الأکل...إلخ،الحدیث:۱۴۸۔(۲۰۴۴)،ص۱۱۳۰.
5 ۔ المرجع السابق،باب نھی الآکل مع جماعۃ عن قران تمرتین...إلخ،الحدیث:۱۵۱۔(۲۰۴۵)،ص۱۱۳۱.
6 ۔ المرجع السابق،باب في إدخال التمر ونحوہ من الأقوات للعیال، الحدیث:۱۵۲۔(۲۰۴۶)،ص۱۱۳۱.
7 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۱۵۳۔(۲۰۴۶)،ص۱۱۳۱.
حدیث ۵۶: صحیح مسلم میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس جب کھانا حاضر کیا جاتا تو تناول فرمانے کے بعد اس کا بقیہ (اولش)میرے پاس بھیج دیتے۔ ایک دن کھانے کا برتن میرے پاس بھیج دیا، اس میں سے کچھ نہیں تناول فرمایا تھا کیونکہ اس میں لہسن پڑا ہوا تھا۔ میں نے دریافت کیا، کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا:''نہیں، مگر میں بُو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں۔''میں نے عرض کی، جس کو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ناپسند فرماتے ہیں، میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ (1)
حدیث ۵۷: صحیح بخاری و مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جو شخص لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے علیحدہ رہے یا فرمایا:وہ ہماری مسجد سے علیحدہ رہے یا اپنے گھر میں بیٹھ جائے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں ایک ہانڈی پیش کی گئی، جس میں سبز ترکاریاں تھیں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایاکہ''بعض صحابہ کو پیش کردو اور ان سے فرمایاکہ تم کھالو، اس لیے کہ میں ان سے باتیں کرتا ہوں کہ تم ان سے باتیں نہیں کرتے۔''(2)یعنی ملائکہ سے۔
حدیث ۵۸: ترمذی و ابو داود نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے لہسن کھانے سے منع فرمایا، مگر یہ کہ پکا ہوا ہو۔ (3)
حدیث ۵۹: ترمذی نے اُم ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی، کہتی ہیں کہ میرے یہاں حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) تشریف لائے، فرمایا:''کچھ تمھارے یہاں ہے۔ میں نے عرض کی، سوکھی روٹی اور سرکہ کے سوا کچھ نہیں، فرمایا: لاؤ، جس گھر میں سرکہ ہے، اس گھر والے سالن سے محتاج نہیں۔''(4)
حدیث ۶۰: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے گھر والوں سے سالن کو دریافت کیا۔ لوگوں نے کہا، ہمارے یہاں سرکہ کے سوا کچھ نہیں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے اسے طلب فرمایا اور اس سے کھانا شروع کیا اور بار بار فرمایاکہ ''سرکہ اچھا سالن ہے۔''(5)
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب إباحۃ أکل الثوم...إلخ، الحدیث:۱۷۰۔(۲۰۵۳)،ص۱۱۳۵.
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الاذان،باب الإنفتال والإنصراف...إلخ، الحدیث:۸۵۵،ج۱،ص۲۹۷.
3 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب في أکل الثوم، الحدیث:۳۸۲۸،ج۳،ص۵۰۶.
4 ۔''سنن الترمذي''الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء في إدام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث:۱۷۲،ج۵،ص۵۳۲.
و''سنن الترمذي''،کتاب الأطعمۃ،باب ماجاء في الخل،الحدیث:۱۸۴۸،ج۳،ص۳۳۲.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب فضیلۃ الخل...إلخ،الحدیث:۱۶۶۔(۲۰۵۲)،ص۱۱۳۴.
حدیث ۶۱: ابن ماجہ نے اسما بنتِ یزید رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں کھانا حاضر لایا گیا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ہم پر پیش فرمایا، ہم نے کہا ہمیں خواہش نہیں ہے۔ فرمایا: ''بھوک اور جھوٹ دونوں چیزوں کو اکٹھا مت کرو۔''(1)
یعنی بھوک کے وقت کوئی کھانا کھلائے تو کھالے یہ نہ کہے کہ بھوک نہیں ہے کہ کھانا بھی نہ کھانا اور جھوٹ بھی بولنا دنیا و آخرت دونوں کا خسارہ ہے۔ بعض تکلف کرنے والے ایسا کیا کرتے ہیں اور بہت سے دیہاتی اس قسم کی عادت رکھتے ہیں کہ جب تک ان سے بار بار نہ کہا جائے، کھانے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں خواہش نہیں ہے، جھوٹ بولنے سے بچنا ضروری ہے۔
حدیث ۶۲: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم باہر تشریف لائے اور ابوبکر و عمررضی اللہ تعالٰی عنہماملے، ارشاد فرمایا:کیا چیز تمھیں اس وقت گھر سے باہر لائی؟ عرض کی، بھوک۔ فرمایا:قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!جو چیز تمھیں گھر سے باہر لائی، وہی مجھے بھی لائی۔ ارشاد فرمایا:اُٹھو!وہ لوگ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور ایک انصاری کے یہاں تشریف لے گئے، دیکھا تو وہ گھر میں نہیں ہیں، انصاری کی بی بی نے جُوہیں ان حضرات کو دیکھا مرحبا و اہلاً کہا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے دریافت فرمایاکہ فلاں شخص کہاں ہے؟ کہا کہ میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔
اتنے میں انصاری آگئے۔حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو اور شیخین کو دیکھ کر کہا، الحمد للہ آج مجھ سے بڑھ کر کوئی نہیں، جس کے یہاں ایسے معزز مہمان آئے ہوں پھر وہ کھجور کا ایک خوشہ لائے، جس میں ادھ پکی اور خشک کھجوریں بھی تھیں اور رطب بھی تھے اور ان حضرات سے کہا، کہ کھائیے اور خود چھری نکالی (یعنی بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا)حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:دودھ والی کو نہ ذبح کرنا۔ انصاری نے بکری ذبح کی، ان حضرات نے بکری کا گوشت کھایا اور کھجوریں کھائیں، پانی پیا۔ جب کھاپی کر فارغ ہوئے، ابوبکر و عمررضی اللہ تعالٰی عنہماسے فرمایاکہ ''قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!قیامت کے دن اس نعمت کا سوال ہوگا، تمھیں بھوک گھر سے لائی اور واپس ہونے سے پہلے یہ نعمت تم کو ملی۔''(2)
حدیث ۶۳: مسلم و ابو داود نے اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''جو شخص چاندی یا سونے کے برتن میں کھاتا یا پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ اُتارتا ہے۔'' (3)
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ،باب عرض الطعام، الحدیث:۳۲۹۸،ج۴،ص۲۶.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب جواز استـتباعہ غیرہ...إلخ، الحدیث:۱۴۰۔(۲۰۳۸)،ص۱۱۲۵.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب اللباس والزینۃ،باب تحریم إستعمال أوانی الذھب...إلخ، الحدیث:۱۔(۲۰۶۵)،ص۱۱۴۲.
حدیث ۶۴: ابو داود وغیرہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب کھانے میں مکھی گر جائے تو اسے غوطہ دے دو (اور پھینک دو)کیونکہ اس کے ایک بازو میں بیماری ہے اور دوسرے میں شِفا ہے اور اسی بازو سے اپنے کو بچاتی ہے جس میں بیماری ہے۔''(1)یعنی وہی بازو کھانے میں پہلے ڈالتی ہے جس میں بیماری ہے، لہٰذا پوری کو غوطہ دیدو۔
حدیث ۶۵: ابو داودو ابن ماجہ ودارمی ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص کھانا کھائے (اور دانتوں میں کچھ رہ جائے)اسے اگر خلال سے نکالے تو تھوک دے اور زبان سے نکالے تو نگل جائے ،جس نے ایسا کیا اچھا کیا اور نہ کیا تو بھی حرج نہیں۔''(2)
بعض صورت میں کھانا فرض ہے کہ کھانے پر ثواب ہے اور نہ کھانے میں عذاب۔ اگر بھوک کا اتنا غلبہ ہو کہ جانتا ہو کہ نہ کھانے سے مرجائے گا تو اتنا کھالینا جس سے جان بچ جائے فرض ہے اور اس صورت میں اگر نہیں کھایا یہاں تک کہ مر گیا تو گنہگار ہوا۔ اتنا کھالینا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت آجائے اور روزہ رکھ سکے یعنی نہ کھانے سے اتنا کمزور ہوجائے گا کہ کھڑا ہو کر نماز نہ پڑھ سکے گا اور روزہ نہ رکھ سکے گا تو اس مقدار سے کھالینا ضروری ہے اور اس میں بھی ثواب ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱: ا ضطرار کی حالت میں یعنی جبکہ جان جانے کا اندیشہ ہے اگر حلال چیز کھانے کے لیے نہیں ملتی تو حرام چیز یا مردار یا دوسرے کی چیز کھا کر اپنی جان بچائے اور ان چیزوں کے کھالینے پر اس صورت میں مؤاخذہ نہیں، بلکہ نہ کھا کر مرجانے میں مؤاخذہ ہے اگرچہ پرائی چیز کھانے میں تاوان (4)دینا ہوگا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲: پیاس سے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے، تو کسی چیز کو پی کر اپنے کو ہلاکت سے بچانا فرض ہے۔ پانی نہیں ہے اور شراب موجود ہے اور معلوم ہے کہ اس کے پی لینے میں جان بچ جائے گی، تو اتنی پی لے جس سے یہ اندیشہ جاتا رہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب في الذباب یقع في الطعام، الحدیث:۳۸۴۴،ج۳،ص۵۱۱.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الطھارۃ،باب الاستتار في الخلاء، الحدیث: ۳۵،ج۱،ص۴۶.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۵۹.
4 ۔ یعنی جو کچھ نقصان ہوا ،وہ ادا کرے۔
5 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۵۹.
6 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۵۹.
مسئلہ ۳: دوسرے کے پاس کھانے پینے کی چیز ہے ،تو قیمت سے خرید کر کھا پی لے وہ قیمت سے بھی نہیں دیتا اور اس کی جان پر بنی ہے ،تو اس سے زبردستی چھین لے اور اگر اس کے لیے بھی یہی اندیشہ ہے تو کچھ لے لے اور کچھ اس کے لیے چھوڑ دے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: ایک شخص اضطرار کی حالت میں ہے دوسرا شخص اس سے یہ کہتا ہے کہ تم میرا ہاتھ کاٹ کر اس کا گوشت کھالو۔ اس کے لیے اس گوشت کے کھانے کی اجازت نہیں ہے، یعنی انسان کا گوشت کھانا اس حالت میں بھی مباح نہیں۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: کھانے پینے پر دوا اور علاج کو قیاس نہ کیا جائے، یعنی حالتِ اضطرار میں مردار اور شراب کو کھانے پینے کا حکم ہے، مگر دوا کے طور پر شراب جائز نہیں کیونکہ مردار کا گوشت اور شراب یقینی طور پر بھوک اور پیاس کا دفعیہ ہے اور دوا کے طورپر شراب پینے میں یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ مرض کا ازالہ ہی ہوجائے گا۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: بھوک سے کم کھانا چاہیے اور پوری بھوک بھر کر کھانا کھا لینا مباح ہے یعنی نہ ثواب ہے نہ گناہ، کیونکہ اس کا بھی صحیح مقصد ہوسکتا ہے کہ طاقت زیادہ ہوگی اور بھوک سے زیادہ کھالینا حرام ہے۔ زیادہ کا یہ مطلب ہے کہ اتنا کھالینا جس سے پیٹ خراب ہونے کا گمان ہے، مثلاً دست آئیں گے اور طبیعت بدمزہ ہوجائے گی۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۷: اگر بھوک سے کچھ زیادہ اس لیے کھالیا کہ کل کا روزہ اچھی طرح رکھ سکے گاروزہ میں کمزوری نہیں پیدا ہوگی توحرج نہیں، جبکہ اتنی ہی زیادتی ہو جس سے معدہ خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو اور معلوم ہے کہ زیادہ نہ کھایا تو کمزوری ہوگی، دوسرے کاموں میں دقت ہوگی۔ یوہیں اگر مہمان کے ساتھ کھا رہا ہے اور معلوم ہے کہ یہ ہاتھ روک دے گا تو مہمان شرما جائے گا اور سیر ہو کر نہ کھائے گا تو اس صورت میں بھی کچھ زیادہ کھالینے کی اجازت ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۸: سیر ہو کر کھانا اس لیے کہ نوافل کثرت سے پڑھ سکے گا اور پڑھنے پڑھانے میں کمزوری پیدا نہ ہوگی، اچھی طرح اس کام کو انجام دے سکے گا یہ مندوب ہے اور سیری سے زیادہ کھایا مگر اتنا زیادہ نہیں کہ شکم خراب ہوجائے یہ مکروہ ہے۔ عبادت گزار شخص کو یہ اختیار ہے کہ بقدر مباح تناول کرے یا بقدر مندوب، مگر اسے یہ نیت کرنی چاہیے کہ اس کے لیے کھاتا ہوں
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۵۹.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۰.
5 ۔ المرجع السابق،ص۵۶۱.
کہ عبادت کی قوت پیدا ہو (1)کہ اس نیت سے کھانا ایک قسم کی طاعت ہے۔ کھانے سے اس کا مقصود تلذذ و تنعم نہ ہو (2)کہ یہ بری صفت ہے۔
قرآن مجید میں کفار کی صفت یہ بیان کی گئی ، کہ کھانے سے ان کا مقصود تمتع و تنعم (3)ہوتا ہے اور حدیث میں کثرت خوری کفار کی صفت بتائی گئی۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: ریاضت و مجاہدہ میں ایسی تقلیل غذا (5)کہ عبادت مفروضہ (6)کی ادا میں ضعف پیدا ہوجائے، مثلاً اتنا کمزور ہوگیا کہ کھڑا ہو کر نماز نہ پڑھ سکے گا یہ ناجائز ہے اور اگر اس حد کی کمزوری نہ پیدا ہو تو حرج نہیں۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: زیادہ کھالیا اس لیے کہ قے کر ڈالے گا اور یہ صور ت اس کے لیے مفید ہو تو حرج نہیں کیونکہ بعض لوگوں کے لیے یہ طریقہ نافع ہوتا ہے۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: طرح طرح کے میوے کھانے میں حرج نہیں، اگرچہ افضل یہ ہے کہ ایسا نہ کرے۔ (9) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: جوان آدمی کو یہ اندیشہ ہے کہ سیر ہو کر کھائے گا تو غلبہ شہوت ہوگا تو کھانے میں کمی کرے کہ غلبہ شہوت نہ ہو، مگر اتنی کمی نہ کرے کہ عبادت میں قصور پیدا ہو۔ (10) (عالمگیری)اسی طرح بعض لوگوں کو گوشت کھانے سے غلبہ شہوت
1 ۔ مزید نیتوں کے لیے امیرِ اہلسنّت، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ العالی کی طرف سے فیضانِ سنت(تخریج شدہ)میں بیان کردہ کھانے کی 7 نیتیں پیشِ خدمت ہیں: (۱) تِلاوت۔ (۲) والدین کی خدمت۔ (۳) تحصیلِ عِلمِ دین۔ (۴) سنّتوں کی تربیّت کی خاطِر مَدَنی قافِلے میں سفر۔ (۵) عَلاقائی دَورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت۔ (۶) اُمورِ آخِرت اور (۷) حسبِ ضَرورت کسبِ حلال کیلئے بھاگ دوڑ پر قوّت حاصِل کروں گا (یہ نِیّتیں اُسی صورت میں مُفید ہوں گی جبکہ بھوک سے کم کھائے، خوب ڈٹ کر کھانے سے اُلٹا عبادت میں سُستی پیدا ہوتی، گناہوں کی طرف رُجحان بڑھتا اور پیٹ کی خرابیاں جَنَم لیتی ہیں) (ماخوذ از: فیضان سنت (تخریج شدہ) ج۱،ص۱۸۲)
2 ۔ یعنی صرف حصول لذت اور خواہش کی تکمیل کے لیے نہ ہو۔ 3 ۔ یعنی صرف لطف و لذت اٹھانا۔
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۰.
5 ۔ یعنی کھانے میں کمی کرنا۔ 6 ۔ یعنی فرض کی ہوئی عبادت۔
7 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۱.
8 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۱.
9 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۱.
10 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۳۶.
ہوتا ہے، وہ بھی گوشت میں کمی کردیں۔
مسئلہ ۱۳: ایک قسم کا کھانا ہو گاتو بقدر حاجت نہ کھاسکے گا طبیعت گھبراجائے گی، لہٰذا کئی قسم کے کھانے طیار کراتا ہے کہ سب میں سے کچھ کچھ کھا کر ضرورت پوری کرلے گا اس مقصد کے لیے متعدد قسم کے کھانے میں حرج نہیں یا اس لیے بہت سے کھانے پکواتا ہے کہ لوگوں کی ضیافت کرنی ہے، وہ سب کھانے صرف ہوجائیں گے تو اس میں بھی حرج نہیں اور یہ مقصود نہ ہو تو اسراف ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: کھانے کے آداب و سنن یہ ہیں۔
(۱) کھانے سے پہلے اور
(۲) بعدمیں ہاتھ دھونا
(۳) کھانے سے پہلے ہاتھ دھو کر پونچھے نہ جائیں اور
(۴) کھانے کے بعد ہاتھ دھو کر رومال یا تولیا سے پونچھ لیں کہ کھانے کا اثر باقی نہ رہے۔ (2)
مسئلہ ۱۵: سنت یہ ہے کہ قبل طعام اور بعد طعامدونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئے جائیں، بعض لوگ صرف ایک ہاتھ یا فقط انگلیاں دھولیتے ہیں بلکہ صرف چٹکی دھونے پر کفایت کرتے ہیں اس سے سنت ادا نہیں ہوتی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: مستحب یہ ہے کہ ہاتھ دھوتے وقت خود اپنے ہاتھ سے پانی ڈالے، دوسرے سے اس میں مدد نہ لے یعنی اس کا وہی حکم ہے جو وضو کا ہے۔ (4) (عالمگیری)
(۵) کھانے کے بعد اچھی طرح ہاتھ دھوئیں، کہ کھانے کا اثر باقی نہ رہے، بھوسی یا آٹے یا بیسن سے ہاتھ دھونے میں حرج نہیں۔ اس زمانے میں صابون سے ہاتھ دھونے کا رواج ہے اس میں بھی حرج نہیں، کھانے کے لیے مونھ دھونا سنت نہیں یعنی اگر کسی نے نہ دھویا تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے سنت ترک کردی، ہاں جُنب نے اگر مونھ نہ دھویا تو مکروہ ہے اور حیض والی کا بغیر دھوئے کھانا مکروہ نہیں۔
(۶) کھانے سے قبل جوانوں کے ہاتھ پہلے دھلائے جائیں اور کھانے کے بعد پہلے بوڑھوں کے ہاتھ دھلائے جائیں، اس کے بعد جوانوں کے۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۳۶.
2 ۔ المرجع السابق،ص۳۳۷. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۳۷.
(۷) یہی حکم علما و مشایخ کا ہے کہ کھانے سے قبل ان کے ہاتھ آخر میں دھلائے جائیں اور کھانے کے بعد ان کے پہلے دھلائے جائیں۔
(۸) کھانا بسم اﷲ پڑھ کر شروع کیا جائے اور
(۹) ختم کرکے الحمدﷲپڑھیں اگر بسم اﷲ کہنا بھول گیا ہے تو جب یاد آجائے یہ کہے
بِسْمِ اللہِ فِیْ اَوَّلِـہٖ وَاٰخِرِہٖ.
(۱۰) بسم اﷲ بلند آواز سے کہے کہ ساتھ والوں کو اگر یاد نہ ہو تو اس سے سن کر انھیں یاد آجائے اور الحمد ﷲ آہستہ کہے۔ مگر جب سب لوگ فارغ ہوچکے ہوں تو الحمدﷲ بھی زور سے کہے کہ دوسرے لوگ سن کر شکر خدا بجا لائیں۔
(۱۱) روٹی پر کوئی چیز نہ رکھی جائے، بعض لوگ سالن کا پیالہ یا چٹنی کی پیالی یا نمک دانی رکھ دیتے ہیں، ایسا نہ کرنا چاہیے نمک اگر کاغذ میں ہے تو اسے روٹی پر رکھ سکتے ہیں۔
(۱۲) ہاتھ یا چھری کو روٹی سے نہ پونچھیں۔
(۱۳) تکیہ لگا کر یا
(۱۴) ننگے سر کھانا ادب کے خلاف ہے۔
(۱۵) بائیں ہاتھ کو زمین پر ٹیک دے کر کھانا بھی مکروہ ہے۔
(۱۶) روٹی کا کنارہ توڑ کر ڈال دینا اور بیچ کی کھا لینا اسراف ہے، بلکہ پوری روٹی کھائے، ہاں اگر کنارے کچے رہ گئے ہیں، اس کے کھانے سے ضرر ہوگا تو توڑ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر معلوم ہے کہ یہ ٹوٹے ہوئے دوسرے لوگ کھا لیں گے، ضائع نہ ہوں گے تو توڑنے میں حرج نہیں۔ یہی حکم اس کا بھی ہے کہ روٹی میں جو حصہ پھولا ہوا ہے اسے کھا لیتا ہے، باقی کو چھوڑ دیتا ہے۔
(۱۷) روٹی جب دسترخوان پر آگئی تو کھانا شروع کردے سالن کا انتظار نہ کرے، اسی لیے عموماً دسترخوان پر روٹی سب سے آخر میں لاتے ہیں تاکہ روٹی کے بعد انتظار نہ کرنا پڑے۔
(۱۸) دہنے ہاتھ سے کھانا کھائے۔
(۱۹) ہاتھ سے لقمہ چھوٹ کر دسترخوان پر گرگیا، اسے چھوڑ دینا اسراف ہے بلکہ پہلے اس کو اٹھا کر کھائے۔
(۲۰) رکابی یا پیالے کے بیچ میں سے ابتداءً نہ کھائے ،بلکہ ایک کنارہ سے کھائے اور
(۲۱) جوکنارہ اس کے قریب ہے، وہاں سے کھائے۔
(۲۲) جب کھانا ایک قسم کا ہو تو ایک جگہ سے کھائے ہر طرف ہاتھ نہ مارے۔ ہاں اگر طباق میں مختلف قسم کی چیزیں لاکر رکھی گئیں، ادھر ادھر سے کھانے کی اجازت ہے کہ یہ ایک چیز نہیں۔
(۲۳) کھانے کے وقت بایاں پاؤں بچھا دے اور داہنا کھڑا رکھے یا سرین پر بیٹھے اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھے۔
(۲۴) گرم کھانا نہ کھائے اور
(۲۵) نہ کھانے پر پھونکے ۔
(۲۶) نہ کھانے کو سونگھے ۔
(۲۷) کھانے کے وقت باتیں کرتا جائے، بالکل چپ رہنا مجوسیوں (1)کا طریقہ ہے، مگر بیہودہ باتیں نہ بکے بلکہ اچھی باتیں کرے۔
(۲۸) کھانے کے بعد انگلیاں چاٹ لے، ان میں جھوٹا نہ لگا رہنے دے اور
(۲۹) برتن کو اونگلیوں سے پونچھ کر چاٹ لے۔ حدیث میں ہے، ''کھانے کے بعد جو شخص برتن چاٹتا ہے تو وہ برتن اس کے لیے دعا کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ اﷲ(عزوجل)تجھے جہنم کی آگ سے آزاد کرے جس طرح تو نے مجھے شیطان سے آزاد کیا۔''(2)اور ایک روایت میں ہے، ''برتن اس کے لیے استغفار کرتا ہے۔''(3)
(۳۰) کھانے کی ابتدا نمک سے کی جائے اور
(۳۱) ختم بھی اسی پر کریں، اس سے ستر بیماریاں دفع ہوجاتی ہیں۔ (4) (بزازیہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: راستہ اور بازار میں کھانا مکروہ ہے۔ (5)
مسئلہ ۱۸: دسترخوان پر روٹی کے ٹکڑے جمع ہوگئے اگر کھانا ہے تو کھالے ورنہ مرغی، گائے، بکری وغیرہ کو کھلادے یا کہیں احتیاط کی جگہ پر رکھ دے، کہ چیونٹیاں یا چڑیاں کھالیں گی راستہ پر نہ پھینکے۔ (6) (بزازیہ)
1 ۔ یعنی آگ کی پوجا کرنے والوں۔
2 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب المعیشۃ...إلخ، رقم:۴۰۸۲۲،ج۱۵،ص۱۱۱.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث:۲۰۷۵۰،ج۷،ص۳۸۲.
4 ۔ ''البزازیۃ''ھامش علی''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الفصل الخامس في الأکل،ج۶،ص۳۶۵.
و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۱،وغیرہما.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۳۷،وغیرہا.
6 ۔ ''البزازیۃ''ھامش علی''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الفصل الخامس في الأکل،ج۶،ص۳۶۵۔۳۶۶.
مسئلہ ۱۹: کھانے میں عیب نہ بتانا چاہیے نہ یہ کہنا چاہیے کہ برا ہے۔''حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے کبھی کھانے کو عیب نہ لگایا، اگر پسند آیا تناول فرمایا ،ورنہ نہ کھایا۔''(1)
مسئلہ ۲۰: کھانا کھاتے وقت جب کوئی آجاتا ہے تو ہندوستان کا عرف یہ ہے کہ اسے کھانے کو پوچھتے ہیں، کہتے ہیں آؤ کھانا کھاؤ، اگر نہ پوچھیں تو طعن (2)کرتے ہیں کہ انھوں نے پوچھا تک نہیں،یہ بات یعنی دوسرے مسلمان کو کھانے کے لیے بلانا اچھی بات ہے،مگر بلانے والے کو یہ چاہیے، کہ یہ پوچھنا محض نمائش کے لیے نہ ہو بلکہ دل سے پوچھے۔
یہ بھی رواج ہے کہ جب پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے بسم اﷲ، یہ نہ کہنا چاہیے،کہ یہاں بسم اﷲکہنے کے کوئی معنی نہیں، اس موقع پر بسم اﷲ کہنے کو علما نے بہت سخت ممنوع فرمایا بلکہ ایسے موقع پر دعائیہ الفاظ کہنا بہتر ہے، مثلاً اﷲ تعالیٰ برکت دے، زیادہ دے۔
مسئلہ ۲۱: باپ کو بیٹے کے مال کی حاجت ہے، اگر احتیاج (3)اس وجہ سے ہے کہ اس کے پاس دام(4)نہیں ہیں کہ اس چیز کو خرید سکے تو بیٹے کی چیز بلا کسی معاوضہ کے استعمال کرنا جائز ہے اور اگر دام ہیں مگر چیز نہیں ملتی تو معاوضہ دے کر لے، یہ اس وقت ہے کہ بیٹا نالائق ہے اور اگر لائق ہے تو بغیر حاجت بھی اس کی چیز لے سکتا ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: ایک شخص بھوک سے اتنا کمزور ہوگیا ہے کہ گھر سے باہر نہیں جاسکتا ،کہ لوگوں سے اپنی حالت بیان کرے تو جس کو اس کی یہ حالت معلوم ہے، اُس پر فرض ہے کہ اسے کھانے کو دے تاکہ گھر سے نکلنے کے قابل ہوجائے، اگر ایسا نہیں کیا اور وہ بھوک سے مرگیا تو جن لوگوں کو اس کا یہ حال معلوم تھا سب گنہگار ہوئے اور اگر یہ شخص جس کو اس کا حال معلوم تھا اس کے پاس بھی کچھ نہیں ہے کہ اسے کھلائے تو اس پر یہ فرض ہے کہ دوسروں سے کہے اور لوگوں سے کچھ مانگ لائے اور ایسا نہ ہو ااور وہ مرگیا تو یہ سب لوگ جن کو اس کے حال کی خبر تھی گنہگار ہوئے۔
اور اگر یہ شخص گھر سے باہر جاسکتا ہے مگر کمانے پر قادر نہیں تو جا کر لوگوں سے مانگے اور جس کے پاس صدقے کی قسم سے کوئی چیز ہو، اس پر دینا واجب ہے اور اگر وہ محتاج شخص کماسکتا ہے تو کام کرکے پیسے حاصل کرے، اس کے لیے مانگنا حلال نہیں، محتاج شخص اگر کمانے پر قادر نہیں ہے مگر یہ کرسکتا ہے کہ دروازوں پر جا کر سوال کرے تو اس پر ایسا کرنا فرض ہے، ایسا نہ کیا
1 ۔ انظر: ''صحیح البخاري''،کتاب الأطعمۃ،باب ما عاب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم طعاما، الحدیث:۵۴۰۹،ج۳،ص۵۳۱.
2 ۔ ملامت۔ 3 ۔ یعنی ضرورت۔ 4 ۔یعنی روپیہ۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۳۸.
اور بھوک سے مرگیا تو گنہگار ہوگا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: کھانے میں پسینہ ٹپک گیا یا رال ٹپک پڑی یا آنسوگر گیا وہ کھانا حرام نہیں ہے، کھایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اگر پانی میں کوئی پاک چیز مل گئی اور اس سے طبیعت کو نفرت پیدا ہوگئی وہ پیاجاسکتا ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: روٹی میں اگر اُپلے کا ٹکڑا (3)ملا اور وہ سخت ہے تو اتنا حصہ توڑ کر پھینک دے، پوری روٹی کو نجس نہیں کہا جائے گا اور اگر اس میں نرمی آگئی ہے تو بالکل نہ کھائے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: نالی وغیر ہ کسی ناپاک جگہ میں روٹی کا ٹکڑا دیکھا تو اس پر یہ لازم نہیں کہ اسے نکال کر دھوئے اور کسی دوسری جگہ ڈال دے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: گیہوں (6)کے ساتھ آدمی کا دانت بھی چکی میں پس گیا، اس آٹے کو نہ خود کھاسکتا ہے نہ جانوروں کو کھلا سکتا ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: گوشت سڑ گیا تو اس کا کھانا حرام ہے۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: باغ میں پہنچا وہاں پھل گرے ہوئے ہیں، تو جب تک مالکِ باغ کی اجازت نہ ہو پھل نہیں کھاسکتا اور اجازت دونوں طرح ہوسکتی ہے۔ صراحۃً اجازت ہو، مثلاً مالک نے کہہ دیا ہو کہ گرے ہوئے پھلوں کو کھاسکتے ہو یا دلالۃً اجازت ہو یعنی وہاں ایسا عرف و عادت ہے کہ باغ والے گرے ہوئے پھلوں سے لوگوں کو منع نہیں کرتے۔
درختوں سے پھل توڑ کر کھانے کی اجازت نہیں، مگر جبکہ پھلوں کی کثرت ہو معلوم ہو کہ توڑ کر کھانے میں بھی مالک کو ناگواری نہیں ہوگی تو توڑ کر بھی کھاسکتا ہے، مگر کسی صورت میں یہ اجازت نہیں کہ وہاں سے پھل اٹھا لائے۔ (9) (عالمگیری) ان سب صورتوں میں عرف و عادت کا لحاظ ہے اور اگر عرف و عادت نہ ہو یا معلوم ہو کہ مالک کو ناگواری ہوگی تو کھانا جائز نہیں۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۳۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔وہ گوبر جس کو جَلانے کے لیے سُکھاتے ہیں اس کا ٹکڑا۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۳۹.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ گندم۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۳۹.
8 ۔ المرجع السابق. 9 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۲۹: خریف (1)کے موسم میں درختوں کے پتے گرجاتے ہیں، اگر وہ پتے کام کے ہوں تو اٹھا لانا ناجائز ہے اور مالک کے لیے بیکار ہوں جیسا کہ ہمارے ملک میں باغات میں پتے گرجاتے ہیں اور مالک ان کو کام میں نہیں لاتا، بھاڑ (2) جلانے والے اٹھا لاتے ہیں ایسے پتوں کو اٹھا لانے میں حرج نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: دوست کے گھر گیا جو چیز پکی ہوئی ملی، خود لے کر کھالی یا اس کے باغ میں گیا اور پھل توڑ کر کھالیے، اگر معلوم ہے کہ اسے ناگوار نہ ہوگا تو کھانا جائز ہے، مگر یہاں اچھی طرح غور کرلینے کی ضرورت ہے بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے ناگوار نہ ہوگا حالانکہ اسے ناگوار ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: روٹی کو چھری سے کاٹنا نصاریٰ کا طریقہ ہے، مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہیے۔ ہاں اگر ضرورت ہو، مثلاً ڈبل روٹی کہ چھری سے کاٹ کر اس کے ٹکڑے کرلیے جاتے ہیں تو حرج نہیں یا دعوتوں میں بعض مرتبہ ہر شخص کو نصف نصف شیرمال دی جاتی ہے، ایسے موقع پر چھری سے کاٹ کر ٹکڑے بنانے میں حرج نہیں کہ یہاں مقصود دوسرا ہے۔ اسی طرح اگرمُسلّم ران بھنی ہوئی ہو اور چھری سے کاٹ کر کھائی جائے تو حرج نہیں۔
مسئلہ ۳۲: مسلمانوں کے کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ فرش وغیرہ پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، میز کرسی پر کھانا نصاریٰ کا طریقہ ہے، اس سے اجتناب چاہیے بلکہ مسلمانوں کو ہر کام سلف صالحین کے طریقہ پر کرنا چاہیے، غیروں کے طریقہ کو ہر گز اختیار نہ کرنا چاہیے۔
مسئلہ ۳۳: خمیری روٹی پکوانے میں نانبائی (5)سے خمیر لے لیتے ہیں پھر ان کے آٹے میں سے اسی انداز سے نانبائی لے لیتا ہے اس میں حرج نہیں۔ (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: بہت سے لوگوں نے چندہ کرکے کھانے کی چیز طیار کی اور سب مل کر اسے کھائیں گے، چندہ سب نے برابر دیا ہے اور کھانا کوئی کم کھائے گا کوئی زیادہ اس میں حرج نہیں۔ اسی طرح مسافروں نے اپنے توشے اور کھانے کی چیزیں ایک ساتھ مل کر کھائیں اس میں بھی حرج نہیں، اگرچہ کوئی کم کھائے گا کوئی زیادہ یا بعض کی چیزیں اچھی ہیں
1 ۔ یعنی خزاں۔ 2 ۔ بھٹی،تنور۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۴۰.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ یعنی روٹی پکانے والا۔
6 ۔
اور بعض کی ویسی نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: کھانا کھانے کے بعد خلال کرنے میں جو کچھ دانتوں میں سے ریشہ وغیرہ نکلا بہتر ہے کہ اسے پھینک دے اور نگل گیا تو اس میں بھی حرج نہیں اور خلال کا تنکا یا جو کچھ خلال سے نکلا اس کو لوگوں کے سامنے نہ پھینکے ،بلکہ اسے لیے رہے جب اس کے سامنے طشت (2)آئے، اس میں ڈال دے پھول اور میوہ کے تنکے سے خلال نہ کرے۔ (3) (عالمگیری)
خلال کے لیے نیم کی سینک بہت بہتر ہے کہ اس کی تلخی سے مونھ کی صفائی ہوتی ہے اور یہ مسوڑوں کے لیے بھی مفید ہے جھاڑو کی سینکیں(4)بھی اس کام میں لاسکتے ہیں جبکہ وہ کوری ہوں مستعمل نہ ہوں۔
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم پانی پینے میں تین بار سانس لیتے تھے ۔''(5)
اور مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے، کہ فرماتے تھے کہ ''اس طرح پینے میں زیادہ سیرابی ہوتی ہے اور صحت کے لیے مفید اور خوشگوار ہے۔''(6)
حدیث ۲: ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''ایک سانس میں پانی نہ پیو جیسے اونٹ پیتا ہے، بلکہ دو اور تین مرتبہ میں پیو اور جب پیو تو بسم اﷲکہہ لو اور جب برتن کو مونھ سے ہٹاؤ تواﷲ(عزوجل)کی حمد کرو۔''(7)
حدیث ۳: ابو داود وابن ماجہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے برتن میں سانس لینے اور پھونکنے سے منع فرمایا۔ (8)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۴۱.
2 ۔ یعنی ہاتھ دھونے کا برتن، تھال۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثاني عشر في الھدایا والضیافات،ج۵،ص۳۴۵.
4 ۔ یعنی جھاڑو کی تیلیاں۔
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب کراھۃ التنفس في نفس الاناء...إلخ، الحدیث:۱۲۳۔(۲۰۲۸)،ص۱۱۲۰.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الاشربۃ،باب ماجاء في التنفس في الاناء، الحدیث:۱۸۹۲،ج۳،ص۳۵۲.
8 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأشربۃ،باب في النفخ في الشراب...إلخ، الحدیث: ۳۷۲۸،ج۳ص۴۷۴.
حدیث ۴: ترمذی نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے پینے کی چیز میں پھونکنے سے منع فرمایا۔ ایک شخص نے عرض کی، کہ برتن میں کبھی کوڑا دکھائی دیتا ہے، فرمایا:''اسے گرادو۔''اس نے عرض کی، کہ ایک سانس میں سیراب نہیں ہوتا ہوں، فرمایا:''برتن کو مونھ سے جدا کرکے سانس لو۔''(1)
حدیث ۵: ابو داود نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے پیالے میں جو جگہ ٹوٹی ہوئی ہے، وہاں سے پینے کی اور پینے کی چیز میں پھونکنے کی ممانعت فرمائی۔ (2)
حدیث ۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مشک کے دہانے سے پینے کو منع فرمایا۔ (3)
حدیث ۷: صحیح بخاری و مسلم و سنن ترمذی میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مشک کے دہانے کو موڑ کر اس سے پانی پینے کو منع فرمایا۔ (4)
ابن ماجہ نے اس حدیث کو ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے بھی روایت کیا ہے اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے منع فرمانے کے بعد ایک شخص رات میں اُٹھا اور مشک کا دہانہ پانی پینے کے لیے موڑا، اس میں سے سانپ نکلا۔ (5)
حدیث ۸: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا۔ (6)
حدیث ۹: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''کھڑے ہو کر ہر گز کوئی شخص پانی نہ پیے اور جو بھول کر ایسا کر گزرے، وہ قے کردے۔''(7)
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأشربۃ، باب ماجاء في کراھیۃ النفخ في الشراب، الحدیث: ۱۸۹۴،ج۳،ص۳۵۳.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأشربۃ، باب في الشرب من ثلمۃ القدح، الحدیث: ۳۷۲۲،ج۳،ص۴۷۳.
و''سنن الدارمي''،کتاب الأشربۃ، باب من شرب بنفس واحد، الحدیث: ۲۱۲۱، ج۲، ص۱۶۱.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الأشربۃ، باب الشرب من فم السقاء، الحدیث: ۵۶۲۹،ج۳،ص۵۹۲.
4 ۔ المرجع السابق ،باب إختناث الأسقیۃ، الحدیث: ۵۶۲۶،ج۳،ص۵۹۲.
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأشربۃ، باب اختناث الأسقیۃ، الحدیث: ۳۴۱۹،ج۴،ص۷۸.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ، باب في الشرب قائما...إلخ، الحدیث:۱۱۳۔(۲۰۲۴)،ص۱۱۱۹.
7 ۔ المرجع السابق، الحدیث:۱۱۶۔(۲۰۲۶)،ص۱۱۱۹.
حدیث ۱۰: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی، کہتے ہیں:میں آبِ زم زم کا ایک ڈول نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر لایا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے کھڑے کھڑے اسے پیا۔ (1)
حدیث ۱۱: صحیح بخاری میں ہے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی اور لوگوں کی حاجات پوری کرنے کے لیے رحبہ کوفہ (2)میں بیٹھ گئے، جب عصر کا وقت آیا ان کے پاس پانی لایا گیا۔ انھوں نے پیا اور وضو کیا پھر وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا اور یہ فرمایا کہ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ بتاتے ہیں اور جس طرح میں نے کیا نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے بھی ویسا ہی کیا تھا۔ (3)
اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ مطلقاً کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ بتاتے ہیں حالانکہ وضو کے پانی کا یہ حکم نہیں بلکہ اس کو کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے۔اسی طرح آبِ زم زم کو بھی کھڑے ہو کر پینا سنت ہے۔ یہ دونوں پانی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں اور اس میں حکمت یہ ہے کہ کھڑے ہوکر جب پانی پیا جاتا ہے وہ فوراً تمام اعضا کی طرف سرایت کرجاتا ہے اور یہ مضر ہے، مگر یہ دونوں برکت والے ہیں اور ان سے مقصود ہی تبرک ہے، لہٰذا ان کا تمام اعضاء میں پہنچ جانا فائدہ مند ہے۔
بعض لوگوں سے سناگیا ہے کہ مسلم کا جھوٹا پانی بھی کھڑے ہو کر پینا چاہیے، مگر میں نے کسی کتاب میں اس کو نہیں دیکھا، صرف دو ہی پانیوں کا کتابوں میں استثناء مذکور پایا۔
وَالْعِلْمُ عِنْدَاﷲ۔
حدیث ۱۲: ترمذی نے کبشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہتی ہیں: میرے یہاں رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم تشریف لائے، مشک لٹکی ہوئی تھی، اس کے دہانے سے کھڑے ہو کر پانی پیا۔ (حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے اس فعل کو علما نے بیان جواز پر محمول کیا ہے)، میں نے مشک کے دہانے کو کاٹ کر رکھ لیا۔ (4)ان کا کاٹ کر رکھ لینا بغرض تبرک تھا، کہ چونکہ اس سے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا دہن اقدس لگا ہے، یہ برکت کی چیز ہے اور اس سے بیماروں کو شفا ہوگی۔
حدیث ۱۳: صحیح بخاری میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک انصاری کے پاس تشریف لے گئے وہ اپنے باغ میں پیڑوں کو پانی دے رہے تھے ارشاد فرمایا:''کیا تمھارے یہاں باسی پانی پرانی مشک میں ہے؟ (اگر ہو تو لاؤ)ورنہ ہم مونھ لگا کر پانی پی لیں۔''انھوں نے کہا، میرے یہاں باسی پانی پرانی مشک میں ہے، اپنی جھونپڑی میں گئے اور برتن میں پانی انڈیل کر اس میں بکری کا دودھ دوہا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ، باب في الشرب من زمزم قائما، الحدیث:۱۱۷۔(۲۰۲۷)،ص۱۱۱۹.
2 ۔ یعنی کوفہ کی جامع مسجد کے صحن۔
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأشربۃ، باب الشرب قائما، الحدیث: ۵۶۱۶،ج۳،ص۵۸۹.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأشربۃ، باب ماجاء في الرخصۃ...إلخ، الحدیث:۱۸۹۹،ج۳،ص۳۵۵.
پیا پھر دوبارہ انھوں نے پانی لے کر دودھ دوہا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے ساتھی نے پیا۔ (1)
حدیث ۱۴: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے لیے بکری کا دودھ دوہا گیا اور انس کے گھر میں جو کوآں تھا، اس کا پانی اس میں ملایا گیا یعنی لسی بنائی گئی پھر حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے نوش فرمایا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی بائیں طرف ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ تھے اور د ہنی طرف ایک اعرابی تھے، حضرت عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ابوبکر (رضی اللہ تعالٰی عنہ)کو دیجیے، حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اعرابی کو دیا کیونکہ یہ د ہنی جانب تھے اور ارشاد فرمایا:''دہنا مستحق ہے پھر ا سکے بعد جو دہنے ہو، دہنے کو مقدم رکھا کرو۔'' (2)
حدیث ۱۵: بخاری و مسلم میں سہل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں پیالہ پیش کیا گیا، حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے نوش فرمایا، حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی د ہنی جانب سب سے چھوٹے ایک شخص تھے (عبداﷲبن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما)اور بڑے بڑے اصحاب بائیں جانب تھے۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''لڑکے اگر تم اجازت دو تو بڑوں کو دے دوں۔'' انہوں نے عرض کی، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کے اولش (3)میں دوسروں کو اپنے پر ترجیح نہیں دوں گا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ان کو دے دیا۔ (4)
حدیث ۱۶: صحیح بخاری و مسلم میں حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں:''حریر اور دیباج نہ پہنو اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پیو اور نہ ان کے برتنوں میں کھانا کھاؤ کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لیے ہیں اور تمھارے لیے آخرت میں ہیں۔'' (5)
حدیث ۱۷: ترمذی نے زہری سے روایت کی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو پینے کی وہ چیز زیادہ پسند تھی جوشیریں اور ٹھنڈ ی ہو۔ (6)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأشربۃ،باب شرب اللبن بالماء، الحدیث: ۵۶۱۳ ،ج۳،ص۵۸۸.
و باب الکرع في الحوض، الحدیث:۵۶۲۱،ج۳،ص۵۹۰.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب المساقاۃ، باب من رأی صدقۃ الماء...إلخ، الحدیث: ۲۳۵۲،ج۲،ص۹۵.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الأطعمۃ، باب الاشربۃ، الحدیث: ۴۲۷۳، ج۲،ص۴۶۲.
3 ۔ یعنی حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تبرک۔
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب المساقاۃ، باب من رأی صدقۃ الماء...إلخ، الحدیث: ۲۳۵۱،ج۲،ص۹۵.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأطعمۃ، باب الاکل في إناء...إلخ، الحدیث: ۵۴۲۶،ج۳،ص۵۳۵.
وکتاب الأشربۃ، باب الشرب في آنیۃ الذھب، الحدیث: ۵۶۳۲،ج۳،ص۵۹۳.
6 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأشربۃ، باب ماجاء ای الشراب...إلخ،الحدیث:۱۹۰۳،ج۳،ص۳۵۷.
حدیث ۱۸: ابن ماجہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے پیٹ کے بل جھک کر پانی میں مونھ ڈال کر پینے سے منع فرمایا اور نہ ایک ہاتھ سے چلو لے کر پیے جیسے وہ لوگ پیتے ہیں، جن پر خدا ناراض ہے اور رات میں جب کسی برتن میں پانی پیے تو اسے ہلا لے، مگر جبکہ وہ برتن ڈھکا ہو تو ہلانے کی ضرورت نہیں اور جو شخص برتن سے پینے پر قادر ہے اور تواضع کے طور پر ہاتھ سے پیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکیاں لکھتا ہے جتنی اس کے ہاتھ میں انگلیاں ہیں۔ ہاتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا برتن تھا کہ انھوں نے اپنا پیالہ بھی پھینک دیا اور یہ کہا کہ یہ بھی دنیا کی چیز ہے۔'' (1)
حدیث ۱۹: ابن ماجہ نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ہاتھوں کو دھوؤ اور ان میں پانی پیو کہ ہاتھ سے زیادہ پاکیزہ کوئی برتن نہیں۔'' (2)
حدیث ۲۰: مسلم و احمد وترمذی نے ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''ساقی (جو لوگوں کو پانی پلارہا ہے)وہ سب کے آخر میں پیے گا۔'' (3)
حدیث ۲۱: دیلمی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا: ''پانی کو چوس کر پیو کہ یہ خوش گوار اور زود ہضم ہے اور بیماری سے بچاؤ ہے۔''(4)
حدیث ۲۲: ابن ماجہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، انھوں نے کہا یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کس چیز کا منع کرنا حلال نہیں؟ فرمایا:''پانی اور نمک اور آگ۔''کہتی ہیں:میں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)پانی کو تو ہم نے سمجھ لیا، مگر نمک اور آگ کا منع کرنا کیوں حلال نہیں؟ فرمایا:''اے حمیراء!جس نے آگ دے دی گویا اس نے اُس پورے کو صدقہ کیا جو آگ سے پکایا گیااور جس نے نمک دے دیا گویا اُس نے تمام اُس کھانے کو صدقہ کیا جو اس نمک سے درست کیا گیا اور جس نے مسلمان کو اُس جگہ پانی کا گھونٹ پلایا جہاں پانی ملتا ہے تو گویا گردن کو آزاد کیا (5)اور جس نے مسلم کو ایسی جگہ پانی کا گھونٹ پلایا جہاں پانی نہیں ملتا ہے تو گویا اُسے زندہ کردیا۔''(6)
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأشربۃ، باب الشرب بالاکف والکرع، الحدیث: ۳۴۳۱،ج۴،ص۸۲.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۳۴۳۳،ج۴،ص۸۴.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب المساجد...إلخ، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ...إلخ،الحدیث:۳۱۱۔(۶۸۱)،ص۳۴۴.
و''سنن الترمذي''،کتاب الأشربۃ، باب ماجاء أن ساقی القوم...إلخ،الحدیث:۱۹۰۱،ج۳،ص۳۵۶.
4 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب المعیشۃ...إلخ، رقم: ۴۱۰۴۲،ج۱۵،ص۱۲۶.
5 ۔ یعنی غلام آزاد کیا۔
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الرھون، باب المسلمون شرکاء في ثلاث، الحدیث:۲۴۷۴،ج۳،ص۱۷۷.
مسئلہ ۱: پانی بسم اﷲ کہہ کر دہنے ہاتھ سے پیے اور تین سانس میں پیے، ہر مرتبہ برتن کو مونھ سے ہٹا کر سانس لے ۔ پہلی اور دوسری مرتبہ ایک ایک گھونٹ پیے اور تیسری سانس میں جتنا چاہے پی ڈالے ۔اس طرح پینے سے پیاس بجھ جاتی ہے اور پانی کو چوس کر پیے، غٹ غٹ بڑے بڑے گھونٹ نہ پیے، جب پی چکے الحمدللہ کہے۔
اس زمانہ میں بعض لوگ بائیں ہاتھ میں کٹورا یا گلاس لے کر پانی پیتے ہیں خصوصاً کھانے کے وقت دہنے ہاتھ سے پینے کو خلافِ تہذیب جانتے ہیں ان کی یہ تہذیب تہذیبِ نصاریٰ ہے۔ اسلامی تہذیب دہنے ہاتھ سے پینا ہے۔
آجکل ایک تہذیب یہ بھی ہے کہ گلاس میں پینے کے بعد جو پانی بچا اسے پھینک دیتے ہیں کہ اب وہ پانی جھوٹا ہوگیا جو دوسرے کو نہیں پلایا جائے گا، یہ ہندوؤں سے سیکھا ہے اسلام میں چھوت چھات نہیں، مسلمان کے جھوٹے سے بچنے کے کوئی معنی نہیں اور اس علت سے پانی کو پھینکنا اسراف ہے۔
مسئلہ ۲: مشک کے دہانے میں مونھ لگا کر پانی پینا مکروہ ہے۔ کیا معلوم کوئی مضر (1)چیز اس کے حلق میں چلی جائے۔ (2) (عالمگیری)اسی طرح لوٹے کی ٹونٹی سے پانی پینا مگر جبکہ لوٹے کو دیکھ لیا ہو کہ اس میں کوئی چیز نہیں ہے۔ صراحی میں مونھ لگا کر پانی پینے کا بھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ ۳: سبیل کا پانی مالدار شخص بھی پی سکتا ہے مگر وہاں سے پانی کوئی شخص گھر نہیں لے جاسکتا۔ کیونکہ وہاں پینے کے لیے پانی رکھا گیا ہے نہ کہ گھر لے جانے کے لیے۔ ہاں اگر سبیل لگانے والے کی طرف سے اس کی اجازت ہو تو لے جاسکتا ہے۔ (3) (عالمگیری)جاڑوں (4)میں اکثر جگہ مسجد کے سقایہ میں پانی گرم کیا جاتا ہے تاکہ مسجد میں جو نمازی آئیں، اس سے وضو و غسل کریں، یہ پانی بھی وہیں استعمال کیا جاسکتا ہے گھر لے جانے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح مسجد کے لوٹوں کو بھی وہیں استعمال کرسکتے ہیں گھر نہیں لے جاسکتے، بعض لوگ تازہ پانی بھر کر مسجد کے لوٹوں میں گھر لے جاتے ہیں یہ بھی ناجائز ہے۔
مسئلہ ۴: لوٹوں میں وضو کا پانی بچا ہوا ہوتا ہے اسے بعض لوگ پھینک دیتے ہیں، یہ ناجائز و اسراف ہے۔
1 ۔ نقصان دہ۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الحادي عشر في الکراھۃ،ج۵،ص۳۴۱.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ سردیوں۔
مسئلہ ۵: وضو کا پانی اور آبِ زم زم کو کھڑے ہو کر پیا جائے، باقی دوسرے پانی کو بیٹھ کر۔(1)
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ پر زردی کا اثر دیکھا (یعنی خلوق کا رنگ ان کے بدن یا کپڑوں پر لگا ہوا دیکھا)فرمایا:یہ کیا ہے؟ (یعنی مرد کے بدن پر اس رنگ کونہ ہونا چاہیے یہ کیونکر لگا)عرض کی، میں نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے (اس کے بدن سے یہ زردی چھوٹ کر لگ گئی)، فرمایا:''اﷲتعالیٰ تمھارے لیے مبارک کرے، تم ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے یا ایک ہی بکری سے۔''(2)
حدیث ۲: بخاری و مسلم نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے جتنا حضرت زینبرضی اللہ تعالٰی عنہا کے نکاح پر ولیمہ کیا، ایسا ولیمہ ازواجِ مطہرات میں سے کسی کا نہیں کیا۔ ایک بکری سے ولیمہ کیا۔ (3)یعنی تمام ولیموں میں یہ بہت بڑا ولیمہ تھا کہ ایک پوری بکری کا گوشت پکا تھا۔
صحیح بخاری شریف کی دوسری روایت انھیں سے ہے کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا کے زفاف کے بعد جو ولیمہ کیا تھا، لوگوں کو پیٹ بھر روٹی گوشت کھلایا تھا۔ (4)
حدیث ۳: صحیح بخاری میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں:خیبر سے واپسی میں خیبر و مدینہ کے مابین صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے زفاف کی وجہ سے تین راتوں تک حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے قیام فرمایا، میں مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت میں بُلالایا، ولیمہ میں نہ گوشت تھا، نہ روٹی تھی، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے حکم دیا، دسترخوان بچھا دیے گئے، اُس پر کجھوریں اور پنیر اور گھی ڈال دیا گیا۔ (5)
امام احمد و ترمذی و ابو داودو ابن ماجہ کی روایت میں ہے، کہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ولیمہ میں ستو اور کھجوریں تھیں۔ (6)
1 ۔انظر ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ، باب في الشرب من زمزم قائما، الحدیث:۱۱۷۔(۲۰۲۷)،ص۱۱۱۹.
و''صحیح البخاري''،کتاب الأشربۃ، باب الشرب قائما، الحدیث: ۵۶۱۶،ج۳،ص۵۸۹.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب النکاح، باب کیف یدعی للمتزوج، الحدیث: ۵۱۵۵،ج۳،ص۴۴۹.
3 ۔ المرجع السابق، باب الولیمۃ ولوبشاۃ، الحدیث:۵۱۶۸،ج۳،ص۴۵۳.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب التفسیر، باب قولہ ( لا تدخلوا بیوت النبی... إلخ )، الحدیث: ۴۷۹۴،ج۳،ص۳۰۶.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، الحدیث: ۴۲۱۳،ج۳،ص۸۶.
6 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب النکاح، باب ماجاء في الولیمۃ، الحدیث:۱۰۹۷،ج۲،ص۳۴۹.
حدیث ۴: صحیح بخاری و مسلم میں عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کسی شخص کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو اسے آنا چاہیے۔''(1)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو قبول کرنی چاہیے پھر اگر چاہے کھائے، چاہے نہ کھائے۔'' (2)
حدیث ۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے، جس میں مال دار لوگ بلائے جاتے ہیں اور فقرا چھوڑ دیے جاتے ہیں اور جس نے دعوت کو ترک کیا (یعنی بلا سبب انکار کردیا)اس نے اﷲو رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کی نافرمانی کی۔''(3)
مسلم کی ایک روایت میں ہے، ولیمہ کا کھانا برا کھانا ہے کہ جو اس میں آتا ہے اسے منع کرتا ہے۔ اور اس کو بلایا جاتا ہے جو انکار کرتا ہے اور جس نے دعوت قبول نہیں کی اس نے اﷲو رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کی نافرمانی کی۔ (4)
حدیث ۷: ابو داود نے عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس کو دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہ کی اس نے اﷲو رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی نافرمانی کی اور جو بغیر بلائے گیا وہ چور ہو کر گھسا اور غارت گری کرکے نکلا۔'' (5)
حدیث ۸: ترمذی نے عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''(شادیوں میں)پہلے دن کا کھانا حق ہے یعنی ثابت ہے، اسے کرنا ہی چاہیے اور دوسرے دن کا کھانا سنت ہے اور تیسرے دن کا کھانا سمعہ ہے (یعنی سنانے اور شہ رت کے لیے ہے)۔ جو سنانے کے لیے کوئی کام کریگا،اﷲ تعالیٰ اس کو سنائے گا۔''(6)یعنی اس کی سزا دے گا۔
حدیث ۹: ابو داود نے عکرمہ سے روایت کی، کہ ایسے دو شخص جو مقابلہ اور تفاخر کے طور پر دعوت کریں، رسول اﷲ
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب النکاح، باب حق إجابۃ الولیمۃ...إلخ، الحدیث:۵۱۷۳،ج۳،ص۴۵۴.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب النکاح، باب الأمر بإجابۃ الداعی...إلخ، الحدیث:۱۰۵۔(۱۴۳۰)،ص۷۴۹.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب النکاح، باب من ترک الدعوۃ...إلخ،الحدیث: ۵۱۷۷،ج۳،ص۴۵۵.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب النکاح، باب الامر بإجابۃ الداعی...إلخ، الحدیث:۱۰۷۔(۱۴۳۲)،ص۷۴۹.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ، باب ماجاء في إجابۃ الدعوۃ، الحدیث:۳۷۴۱،ج۳،ص۴۷۹.
6 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب النکاح، باب ماجاء في الولیمۃ،الحدیث:۱۰۹۹،ج۲،ص۳۴۹.
صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ان کے یہاں کھانے سے منع فرمایا۔ (1)
حدیث ۱۰: امام احمد و ابو داود نے ایک صحابی سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب دو شخص دعوت دینے بیک وقت آئیں تو جس کا دروازہ تمھارے دروازہ سے قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو اور اگر ایک پہلے آیا تو جو پہلے آیا اس کی قبول کرو۔'' (2)
حدیث ۱۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ ایک انصاری جن کی کنیت ابوشعیب تھی، انھوں نے اپنے غلام سے کہا، کہ اتنا کھانا پکاؤ جو پانچ شخصوں کے لیے کفایت کرے۔ میں نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی مع چار اصحاب کے دعوت کروں گا۔ تھوڑا سا کھانا طیار کیا اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کو بلانے آئے، ایک شخص حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے ساتھ ہولیے، نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ابوشعیب ہمارے ساتھ یہ شخص چلا آیا، اگر تم چاہو اسے اجازت دو اور چاہو تو نہ اجازت دو، انھوں نے عرض کی، میں نے ان کو اجازت دی۔'' (3)
یعنی اگر کسی کی دعوت ہو اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا شخص بغیر بلائے چلا آئے تو ظاہر کردے کہ میں نہیں لایا ہوں اور صاحب خانہ کو اختیار ہے، اسے کھانے کی اجازت دے یا نہ دے، کیونکہ ظاہر نہ کریگا تو صاحبِ خانہ کو یہ ناگوار ہوگا کہ اپنے ساتھ دوسروں کو کیوں لایا۔
حدیث ۱۲: بیہقی نے شعب الایمان میں عمران بن حصین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فاسقوں کی دعوت قبول کرنے سے منع فرمایا۔ (4)
حدیث ۱۳: صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص اﷲ(عزوجل)اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ مہمان کا اکرام کرے اور جو شخص اﷲ(عزوجل) اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے اور جو شخص اﷲ(عزوجل)اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ بھلی بات بولے یا چپ رہے۔''(5)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ، باب في طعام المتباریین،الحدیث:۳۷۵۴،ج۳،ص۴۸۳.
2 ۔ المرجع السابق، باب اذا إجتمع داعیان...إلخ، الحدیث:۳۷۵۶،ج۳،ص۴۸۴.
و''المسند''،حدیث رجل من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۲۳۵۲۶،ج۹،ص۱۲۲.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الأطعمۃ، باب الرجل یدعی إلی الطعام...إلخ،الحدیث:۵۴۶۱،ج۳،ص۵۴۳.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في المطاعم والمشارب، فصل في طیب المطعم...إلخ، الحدیث: ۵۸۰۳،ج۵،ص۶۸.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان، باب الحث علی إکرام الجار...إلخ، الحدیث:۷۷۔(۳۸)،ص۴۴.
''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الأطعمۃ، باب الضیافۃ، الحدیث: ۴۲۴۳،ج۲،ص۴۵۶.
اور ایک روایت میں یہ ہے کہ ''جو شخص اﷲ(عزوجل)اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ صلہ رحمی کرے۔'' (1)
حدیث ۱۴: صحیح بخاری و مسلم میں ابو شریح کعبی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّمنے فرمایاکہ ''جو شخص اﷲ(عزوجل)اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ مہمان کا اکرام کرے، ایک دن رات اُس کا جائزہ ہے (یعنی ایک دن اس کی پوری خاطر داری کرے، اپنے مقدور بھر اس کے لیے تکلف کا کھانا طیار کرائے) اور ضیافت تین دن ہے (یعنی ایک دن کے بعد ماحضر پیش کرے)اور تین دن کے بعد صدقہ ہے، مہمان کے لیے یہ حلال نہیں کہ اس کے یہاں ٹھہرا رہے کہ اسے حرج میں ڈال دے۔'' (2)
حدیث ۱۵: ترمذی ابی الاحوص جشمی سے وہ اپنے والد سے ر وایت کرتے ہیں، کہتے ہیں:میں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ فرمائیے کہ میں ایک شخص کے یہاں گیا، اس نے میری مہمانی نہیں کی، اب وہ میرے یہاں آئے تو اس کی مہمانی کروں یا بدلا دوں۔ ارشاد فرمایا:''بلکہ تم اس کی مہمانی کرو۔''(3)
حدیث ۱۶: ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''سنت یہ ہے کہ مہمان کو دروازہ تک رخصت کرنے جائے۔'' (4)
دعوتِ ولیمہ سنت ہے۔ ولیمہ یہ ہے کہ شبِ زفاف کی صبح کو اپنے دوست احباب عزیز و اقارب اور محلہ کے لوگوں کی حسب استطاعت ضیافت کرے اور اس کے لیے جانور ذبح کرنا اور کھانا طیار کرانا جائز ہے اور جو لوگ بلائے جائیں ان کو جانا چاہیے کہ ان کا جانا اس کے لیے مسرت کا باعث ہوگا۔ ولیمہ میں جس شخص کو بلایا جائے اس کو جانا سنت ہے یا واجب۔ علما کے دونوں قول ہیں، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اِجابت سنت مؤکدہ ہے۔
ولیمہ کے سوا دوسری دعوتوں میں بھی جانا افضل ہے اور یہ شخص اگر روزہ دار نہ ہو تو کھانا افضل ہے کہ اپنے مسلم بھائی کی خوشی میں شرکت اور اس کا دل خوش کرنا ہے اور روزہ دار ہو جب بھی جائے اور صاحب خانہ کے لیے دعا کرے اور ولیمہ کے سوا
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب،باب إکرام الضیف...إلخ، الحدیث:۶۱۳۸،ج۴،ص۱۳۶.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۶۱۳۵،ج۴،ص۱۳۶.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء في الإحسان والعفو،الحدیث: ۲۰۱۳،ج۳،ص۴۰۵.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ، باب الضیافۃ،الحدیث:۳۳۵۸،ج۴،ص۵۲.
دوسری دعوتوں کا بھی یہی حکم ہے کہ روزہ دار نہ ہو تو کھائے، ورنہ اس کے لیے دعا کرے۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: دعوتِ ولیمہ کا یہ حکم جو بیان کیا گیا ہے، اس وقت ہے کہ دعوت کرنے والوں کا مقصود ادائے سنت ہو اور اگر مقصود تفاخر ہو یا یہ کہ میری واہ واہ ہوگی جیسا کہ اس زمانہ میں اکثر یہی دیکھا جاتا ہے، تو ایسی دعوتوں میں نہ شریک ہونا بہتر ہے خصوصاً اہلِ علم کو ایسی جگہ نہ جانا چاہیے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: دعوت میں جانا اس وقت سنت ہے جب معلوم ہو کہ وہاں گانا بجانا، لہو و لعب نہیں ہے اور اگر معلوم ہے کہ یہ خرافات وہاں ہیں تو نہ جائے۔ جانے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں لغویات ہیں، اگر وہیں یہ چیزیں ہوں تو واپس آئے اور اگر مکان کے دوسرے حصے میں ہیں جس جگہ کھانا کھلایا جاتا ہے وہاں نہیں ہیں تو وہاں بیٹھ سکتا ہے اور کھا سکتا ہے پھر اگر یہ شخص ا ن لوگوں کو روک سکتا ہے تو روک دے اور اگر اس کی قدرت اسے نہ ہو تو صبر کرے۔
یہ اس صورت میں ہے کہ یہ شخص مذہبی پیشوا نہ ہو اور اگر مقتدیٰ و پیشوا ہو، مثلاً علما و مشایخ، یہ اگر نہ روک سکتے ہوں تو وہاں سے چلے آئیں نہ وہاں بیٹھیں نہ کھانا کھائیں اور پہلے ہی سے یہ معلوم ہو کہ وہاں یہ چیزیں ہیں تو مقتدیٰ ہو یا نہ ہو کسی کو جانا جائز نہیں اگرچہ خاص اُس حصہ مکان میں یہ چیزیں نہ ہوں بلکہ دوسرے حصہ میں ہوں۔ (3) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۳: اگر وہاں لہوو لعب ہو اور یہ شخص جانتا ہے کہ میرے جانے سے یہ چیزیں بند ہوجائیں گی تو اس کو اس نیت سے جانا چاہیے کہ اس کے جانے سے منکراتِ شرعیہ روک دیے جائیں گے اور اگر معلوم ہے کہ وہاں نہ جانے سے ان لوگوں کو نصیحت ہوگی اور ایسے موقع پر یہ حرکتیں نہ کریں گے، کیونکہ وہ لوگ اس کی شرکت کو ضروری جانتے ہیں اور جب یہ معلوم ہوگا کہ اگر شادیوں اور تقریبوں میں یہ چیزیں ہوں گی تو وہ شخص شریک نہ ہوگا تو اس پر لازم ہے کہ وہاں نہ جائے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو اور ایسی حرکتیں نہ کریں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: دعوتِ ولیمہ صرف پہلے دن ہے یا اس کے بعد دوسرے دن بھی یعنی دو ۲ ہی دن تک یہ دعوت ہوسکتی ہے، اس
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثاني عشر في الھدایا والضیافات،ج۵،ص۳۴۳.
و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۴.
2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۴.
3 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الأکل والشرب،ج۲،ص۳۶۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۴.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثاني عشر في الھدایا والضیافات،ج۵،ص۳۴۳.
کے بعدولیمہ اور شادی ختم۔ (1) (عالمگیری)ہندوستان میں شادیوں کا سلسلہ کئی دن تک قائم رہتا ہے۔ سنت سے آگے بڑھنا ریا و سمعہ (2)ہے اس سے بچنا ضروری ہے۔
مسئلہ ۵: ایک دسترخوان پر جو لوگ کھانا تناول کرتے ہیں، ان میں سے ایک شخص کوئی چیز اٹھا کر دوسرے کو دیدے یہ جائز ہے، جبکہ معلوم ہو کہ صاحبِ خانہ کو یہ دینا ناگوار نہ ہوگا اور اگر معلوم ہے کہ اسے ناگوار ہوگا تو دینا جائز نہیں، بلکہ اگر مشتبہ حال ہو معلوم نہ ہو کہ ناگوار ہوگا یا نہیں جب بھی نہ دے۔ (3) (عالمگیری)
بعض لوگ ایک ہی دسترخوان پر معززین کے سامنے عمدہ کھانے چنتے ہیں اور غریبوں کے لیے معمولی چیزیں رکھ دیتے ہیں۔ اگرچہ ایسا نہ کرنا چاہیے کہ غریبوں کی اس میں دل شکنی ہوتی ہے۔مگر اس صورت میں جس کے پاس کوئی اچھی چیز ہے، اس نے ایسے کو دے دی جس کے پاس نہیں ہے تو ظاہر یہی ہے کہ صاحبِ خانہ کو ناگوار ہوگا کیونکہ اگر دینا ہوتا تو وہ خود ہی اس کے سامنے بھی یہ چیز رکھتا یا کم از کم یہ صورت اشتباہ کی ہے، لہٰذا ایسی حالت میں چیز دینا ناجائز ہے اور اگر ایک ہی قسم کا کھانا ہے، مثلاً روٹی، گوشت اور ایک کے پاس روٹی ختم ہوگئی، دوسرے نے اپنے پا س سے اٹھا کر دے دی تو ظاہر یہی ہے کہ صاحبِ خانہ کو ناگوار نہ ہوگا۔
مسئلہ ۶: دوسرے کے یہاں کھانا کھارہا ہے، سائل نے مانگا اس کو یہ جائز نہیں کہ سائل کو روٹی کا ٹکڑا دیدے کیونکہ اس نے اس کے کھانے کے لیے رکھا ہے، اس کو مالک نہیں کردیا کہ جس کو چاہے دیدے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: دو دسترخوان پر کھانا کھایا جارہا ہے تو ایک دسترخوان والا دوسرے دسترخوان والے کو کوئی چیز اس پر سے اٹھا کر نہ دے۔ مگر جبکہ یقین ہو کہ صاحبِ خانہ کو ایسا کرنا ناگوار نہ ہوگا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: کھاتے وقت صاحبِ خانہ کا بچہ آگیا تو اس کو یا صاحبِ خانہ کے خادم کو اس کھانے میں سے نہیں دے سکتا۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: کھانا ناپاک ہوگیا تو یہ جائز نہیں کہ کسی پاگل یا بچہ کو کھلائے یا کسی ایسے جانور کو کھلائے جس کا کھانا حلال ہے۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثاني عشر في الھدایا والضیافات،ج۵،ص۳۴۳.
2 ۔ ریا یعنی دکھاوے کے لیے کام کرنا اور سمعہ یعنی اس لیے کام کرنا کہ لوگ سنیں گے اور اچھا جانیں گے۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثاني عشر في الھدایا والضیافات،ج۵،ص۳۴۴.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق. 7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۰: مہمان کو چار باتیں ضروری ہیں۔
(۱) جہاں بٹھایا جائے وہیں بیٹھے۔
(۲) جو کچھ اس کے سامنے پیش کیا جائے اس پر خوش ہو، یہ نہ ہو کہ کہنے لگے اس سے اچھا تو میں اپنے ہی گھر کھایا کرتا ہوں یا اسی قسم کے دوسرے الفاظ جیسا کہ آج کل اکثر دعوتوں میں لوگ آپس میں کہا کرتے ہیں۔
(۳) بغیر اجازتِ صاحبِ خانہ وہاں سے نہ اٹھے۔
(۴) اور جب وہاں سے جائے تو اس کے لیے دعا کرے۔ میزبان کو چاہیے کہ مہمان سے وقتاً فوقتاً کہے کہ اور کھاؤ مگر اس پر اصرار نہ کرے ،کہ کہیں اصرار کی وجہ سے زیادہ نہ کھا جائے اور یہ ا س کے لیے مضر ہو، میزبان کو بالکل خاموش نہ رہنا چاہیے اور یہ بھی نہ کرنا چاہیے کہ کھانا رکھ کر غائب ہوجائے، بلکہ وہاں حاضر رہے اور مہمانوں کے سامنے خادم وغیرہ پر ناراض نہ ہو اور اگر صاحبِ وسعت ہو تو مہمان کی وجہ سے گھر والوں پر کھانے میں کمی نہ کرے۔
میزبان کو چاہیے کہ مہمان کی خاطرداری میں خود مشغول ہو، خادموں کے ذمہ اس کو نہ چھوڑے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ ا لصلوۃ والتسلیم کی سنت ہے اگر مہمان تھوڑے ہوں تو میزبان ان کے ساتھ کھانے پر بیٹھ جائے کہ یہی تقاضائے مُروت ہے اور بہت سے مہمان ہوں تو ان کے ساتھ نہ بیٹھے بلکہ ان کی خدمت اور کھلانے میں مشغول ہو۔ مہمانوں کے ساتھ ایسے کو نہ بٹھائے جس کا بیٹھنا ان پر گراں ہو۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: جب کھا کر فارغ ہوں ان کے ہاتھ دھلائے جائیں اور یہ نہ کرے کہ ہر شخص کے ہاتھ دھونے کے بعد پانی پھینک کر دوسرے کے سامنے ہاتھ دھونے کے لیے طشت پیش کرے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: جس نے ہدیہ بھیجا اگر اس کے پاس حلال و حرام دونوں قسم کے اموال ہوں مگر غالب مال حلال ہے تو اس کے قبول کرنے میں حرج نہیں۔ یہی حکم اس کے یہاں دعوت کھانے کا ہے اور اگر اس کا غالب مال حرام ہے تو نہ ہدیہ قبول کرے اور نہ اس کی دعوت کھائے، جب تک یہ نہ معلوم ہو کہ یہ چیز جو اُسے پیش کی گئی ہے حلال ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: جس شخص پر اس کا دَین (4)ہے، اگر اس نے دعوت کی اور قرض سے پہلے بھی وہ اسی طرح دعوت کرتا تھا تو قبول کرنے میں حرج نہیں اور اگر پہلے بیس دن میں دعوت کرتا تھا اور اب دس ۱۰ دن میں کرتا ہے یا اب اُس نے کھانے میں تکلّفات
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثاني عشر في الھدایا والضیافات،ج۵،ص۳۴۴ ۔ ۳۴۵.
2 ۔ المرجع السابق،ص۳۴۵. 3 ۔ المرجع السابق،ص۳۴۲.
4 ۔ اُدھاریعنی قرض۔
بڑھا دیے، تو قبول نہ کرے کہ یہ قرض کی وجہ سے ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا اور ان کی پیالیوں سے تیل لگانا یا ان کے عطر دان سے عطر لگانا یا ان کی انگیٹھی سے بخور کرنا (2)منع ہے اور یہ ممانعت مرد و عورت دونوں کے لیے ہے۔ عورتوں کو ان کے زیور پہننے کی اجازت ہے۔ زیور کے سوا دوسری طرح سونے چاندی کا استعمال مرد و عورت دونوں کے لیے ناجائز ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲: سونے چاندی کے چمچے سے کھانا، ان کی سلائی یا سرمہ دانی سے سرمہ لگانا، ان کے آئینہ میں مونھ دیکھنا، ان کی قلم دوات سے لکھنا، ان کے لوٹے یا طشت سے وضو کرنا یا ان کی کرسی پر بیٹھنا، مرد عورت دونوں کے لیے ممنوع ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: سونے چاندی کی آرسی (5)پہننا عورت کے لیے جائز ہے، مگر اُس آرسی میں مونھ دیکھنا عورت کے لیے بھی ناجائز ہے۔
مسئلہ ۴: سونے چاندی کی چیزوں کے استعمال کی ممانعت اس صورت میں ہے کہ ان کو استعمال کرنا ہی مقصود ہو اور اگریہ مقصود نہ ہو تو ممانعت نہیں، مثلاً سونے چاندی کی پلیٹ یا کٹورے میں کھانا رکھا ہوا ہے اگر یہ کھانا اسی میں چھوڑ دیا جائے تو اضاعتِ مال ہے اُ س کو اُس میں سے نکال کر دوسرے برتن میں لے کر کھائے یا اُس میں سے پانی چلّو میں لے کر پیا یا پیالی میں تیل تھا، سر پر پیالی سے تیل نہیں ڈالا بلکہ کسی برتن میں یا ہاتھ پر تیل اس غرض سے لیا کہ اُس سے استعمال ناجائز ہے، لہٰذا تیل کو اُس میں سے لے لیا جائے اور اب استعمال کیا جائے یہ جائز ہے اور اگر ہاتھ میں تیل کا لینا بغرض استعمال ہو جس طرح پیالی سے تیل لے کر سر یا داڑھی میں لگاتے ہیں، اس طرح کرنے سے ناجائز استعمال سے بچنا نہیں ہے کہ یہ بھی استعمال ہی ہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثاني عشر في الھدایا والضیافات،ج۵،ص۳۴۲.
2 ۔ یعنی دھونی لینا۔
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۴.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ایک زیور جو عورتیں ہاتھ کے انگوٹھے میں پہنتی ہیں، اس میں شیشہ جڑا ہوتا ہے۔
6 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۴.
مسئلہ ۵: چائے کے برتن سونے چاندی کے استعمال کرنا ناجائز ہے۔ اسی طرح سونے چاندی کی گھڑی ہاتھ میں باندھنا بلکہ اس میں وقت دیکھنا بھی ناجائز ہے، کہ گھڑی کا استعمال یہی ہے کہ اس میں وقت دیکھا جائے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: سونے چاندی کی چیزیں محض مکان کی آرائش و زینت کے لیے ہوں، مثلاً قرینہ سے (2) یہ برتن و قلم و دوات لگا دیے، کہ مکان آراستہ ہوجائے اس میں حرج نہیں۔ یوہیں سونے چاندی کی کرسیاں یا میز یا تخت وغیرہ سے مکان سجا رکھا ہے، ان پر بیٹھتا نہیں ہے تو حرج نہیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: بچوں کو بسم اﷲ پڑھانے کے موقع پر چاندی کی دوات قلم تختی لا کر رکھتے ہیں، یہ چیزیں استعمال میں نہیں آتیں، بلکہ پڑھانے والے کو دے دیتے ہیں، اس میں حرج نہیں۔
مسئلہ ۸: سونے چاندی کے سوا ہر قسم کے برتن کا استعمال جائز ہے، مثلاً تانبے، پیتل، سیسہ، بلور وغیرہا۔ مگر مٹی کے برتنوں کا استعمال سب سے بہتر کہ حدیث میں ہے کہ ''جس نے اپنے گھر کے برتن مٹی کے بنوائے، فرشتے اُس کی زیارت کو آئیں گے۔'' تانبے اور پیتل کے برتنوں پر قلعی ہونی چاہیے، بغیر قلعی ان کے برتن استعمال کرنا مکروہ ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جس برتن میں سونے چاندی کا کام بنا ہوا ہے اس کا استعمال جائز ہے، جبکہ موضع استعمال (5)میں سونا چاندی نہ ہو، مثلاً کٹورے یا گلاس میں چاندی کا کام ہو تو پانی پینے میں اس جگہ مونھ نہ لگے جہاں سونا یا چاندی ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ وہاں ہاتھ بھی نہ لگے، اور قول اول اصح ہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: چھڑی کی موٹھ (7)سونے چاندی کی ہو تو اس کا استعمال ناجائز ہے۔ کیونکہ اس میں استعمال کا طریقہ یہ ہے کہ موٹھ پر ہاتھ رکھا جاتا ہے، لہٰذا موضع استعمال میں سونا چاندی ہوئی اور اگر اُس کی شام (8)سونے چاندی کی ہو، دستہ سونے چاندی کا نہ ہو تو استعمال میں حرج نہیں، کیونکہ ہاتھ رکھنے کی جگہ پر سونا چاندی نہیں ہے۔ اسی طرح قلم کی نب اگر سونے چاندی کی ہو تو اس سے لکھنا ناجائز ہے کہ وہی موضع استعمال ہے اور اگر قلم کے بالائی حصہ میں ہو تو ناجائز نہیں۔
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۵.
2 ۔ یعنی سجاکر،ترتیب سے رکھنا۔
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۶.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ استعمال کی جگہ۔
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۷.
7 ۔ یعنی چھڑی کا دستہ۔ 8 ۔ یعنی چھڑی کے سروں پر چڑھایا جانے والا کسی دھات کا چھلے کی طرح کا خول۔
مسئلہ ۱۱: چاندی سونے کا کرسی یا تخت میں کام بنا ہوا ہے یا زین میں کام بنا ہوا ہے توا س پر بیٹھنا جائز ہے، جبکہ سونے چاندی کی جگہ سے بچ کر بیٹھے۔ محصل (1)یہ ہے کہ جو چیز خالص سونے چاندی کی ہے، اُس کا استعمال مطلقاً ناجائز ہے اور اگر اس میں جگہ جگہ سونا چاندی ہے تو اگر موضع استعمال میں ہے تو ناجائز، ورنہ جائز۔ مثلاً چاندی کی انگیٹھی سے بخور کرنا مطلقاً ناجائز ہے، اگرچہ دھونی لیتے وقت اس کو ہاتھ بھی نہ لگائے۔ اسی طرح اگر حقہ کی فرشی(2)چاندی کی ہے تو اس سے حقہ پینا ناجائز ہے، اگرچہ یہ شخص فرشی پر ہاتھ نہ لگائے ۔
اسی طرح حقہ کی مونھ نال(3)سونے چاندی کی ہے تو اس سے حقہ پینا ناجائز ہے اور اگر نیچہ(4)پر جگہ جگہ چاندی سونے کا تار ہو تو اس سے حقہ پی سکتا ہے، جبکہ استعمال کی جگہ پر تار نہ ہو۔ کرسی میں استعمال کی جگہ بیٹھنے کی جگہ ہے اور اس کا تکیہ ہے جس سے پیٹھ لگاتے ہیں اور اس کے دستے ہیں جن پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ تخت میں موضع استعمال بیٹھنے کی جگہ ہے۔ اسی طرح زین میں اور رکاب بھی سونے چاندی کی ناجائز ہے اور اس میں کام بنا ہوا ہو تو موضع استعمال میں نہ ہو۔ یہی حکم لگام اور دُمچی (5)کا ہے۔ (6) (ہدایہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: برتن پر سونے چاندی کا مُلمّع ہو (7)تو اس کے استعمال میں حرج نہیں۔ (8) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۳: آئینہ کا حلقہ جو بوقتِ استعمال پکڑنے میں نہ آتا ہو اس میں سونے چاندی کا کام ہو، اس کا بھی وہی حکم ہے۔ (9) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۴: تلوار کے قبضے میں اور چھری یا پیش قبض (10)کے دستے میں چاندی یا سونے کا کام ہے تو ان کا بھی وہی حکم ہے۔ (11) (ہدایہ، درمختار)
1 ۔ خلاصہ۔ 2 ۔یعنی پیندا ۔ 3 ۔دھات وغیرہ کی بنی ہوئی چھوٹی سی نلی جسے حقے میں لگاتے ہیں۔
4 ۔ حقہ کی نلیاں۔ 5 ۔ یعنی تسمہ جو زین کے پچھلے حصے سے جڑا ہوتا ہے، دُم کے نیچے سے گزرتا اور زین کو آگے کی طرف سے جانے سے روکتا ہے۔
6 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الأکل والشرب،ج۲،ص۳۶۳.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۷.
7 ۔ یعنی برتن پر سونے یا چاندی کا پانی چڑھایا ہوا ہو۔
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الأکل والشرب،ج۲،ص۳۶۴.
9 ۔ المرجع السابق.
و''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۸.
10 ۔ یعنی خنجر۔
11 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الأکل والشرب،ج۲،ص۳۶۴.
و''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۸.
مسئلہ ۱۵: کپڑے میں سونے چاندی کے حروف بنائے گئے، اس کے استعمال کا بھی وہی حکم ہے۔ (1) (درمختار) اس میں تفصیل ہے جو لباس کے بیان میں آئے گی۔
مسئلہ ۱۶: ٹوٹے ہوئے برتن کو چاندی یا سونے کے تار سے جوڑنا، جائز ہے اور اُس کا استعمال بھی جائز ہے، جبکہ اُس جگہ سے استعمال نہ کرے۔ جیساکہ حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا لکڑی کا پیالہ تھا، وہ ٹوٹ گیا تو چاندی کے تار سے جوڑا گیا۔ (2)اور یہ پیالہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس تھا۔ (3)
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوْمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیۡنَ ﴿۶﴾)
(4)
''اے ایمان والو!اگر فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو اُسے خوب جانچ لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ناواقفی میں کسی قوم کو تکلیف پہنچا دو پھر تمھیں اپنے کیے پر شرمندہ ہونا پڑے۔''
مسئلہ ۱: اپنے نوکر یا غلام کو گوشت لانے کے لیے بھیجا، اگرچہ یہ مجوسی یا ہندو ہو وہ گوشت لایا اور کہتا ہے کہ مسلمان یا کتابی سے خرید کر لایا ہوں تو یہ گوشت کھایا جاسکتا ہے اور اگر اس نے آ کریہ کہا کہ مشرک مثلاً مجوسی یا ہندو سے خرید کر لایا ہوں تو اس گوشت کا کھانا حرام ہے کہ خریدنا بیچنا معاملات میں ہے اور معاملات میں کافر کی خبر معتبر ہے، اگرچہ حلَّت و حرمت (5)دِیانات (6)میں سے ہیں اور دیانات میں کافر کی خبر نامقبول ہے، مگر چونکہ اصل خبر خریدنے کی ہے اور حلت و حرمت اس مقام پر ضمنی چیزہے، لہٰذا جب وہ خبر معتبر ہوئی تو ضمناًیہ بھی ثابت ہوجائے گی اور اصل خبر حلت و حرمت کی ہوتی تو نامعتبر ہوتی۔ (7) (ہدایہ، درمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۸.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب فرض الخمس، باب ما ذکر...إلخ، الحدیث:۳۱۰۹،ج۲،ص۳۴۴.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأشربۃ، باب الشرب...إلخ، الحدیث:۵۶۳۸،ج۳،ص۵۹۵.
4 ۔ پ۲۶، الحجرٰت: ۶.
5 ۔ یعنی حلال و حرام ہونا۔ 6 ۔ اس کی وضاحت صفحہ 400 پر آرہی ہے۔
7 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الأکل و الشرب،ج۲،ص۳۶۴.
و''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۹.
مسئلہ ۲: معاملات میں کافر کی خبر معتبر ہونا اس وقت ہے، جب غالب گمان یہ ہو کہ سچ کہتا ہے اور اگر غالب گمان اس کا جھوٹا ہونا ہو تو اس پر عمل نہ کرے۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۳: گوشت خریدا پھر یہ معلوم ہوا کہ جس سے خریدا ہے وہ مشرک ہے، پھیرنے (2)کو لے گیا، اس نے کہا کہ اس جانور کو مسلم نے ذبح کیا ہے، اب بھی اس گوشت کو کھانا ممنوع ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: لونڈی غلام اور بچے کی ہدیہ کے متعلق خبر معتبر ہے، مثلاً بچے نے کسی کے پاس کوئی چیز لا کر یہ کہا کہ میرے والد نے آپ کے پاس یہ ہدیہ بھیجا ہے، وہ شخص چیز کو لے سکتا ہے اور اس میں تصرف کرسکتا ہے، کھانے کی چیز ہو تو کھاسکتا ہے۔ اسی طرح لونڈی غلام نے کوئی چیز دی اور یہ کہا کہ میرے مولیٰ نے یہ چیز ہدیہ بھیجی ہے، بلکہ یہ دونوں خود اپنے متعلق اس کی خبر دیں کہ ہمارے مولیٰ نے خود ہمیں ہدیہ کیا ہے یہ خبر بھی مقبول ہے۔ فرض کرو لونڈی نے یہ خبر دی تو اس سے یہ شخص وطی بھی کرسکتا ہے۔ (4) (زیلعی)
مسئلہ ۵: ان لوگوں نے یہ خبر دی کہ ہمارے ولی یا مولیٰ نے ہمیں خریدنے کی اجازت دی ہے یہ خبر بھی معتبر ہے، جبکہ غالب گمان ان کی سچائی ہو، لہٰذا بچہ نے کوئی چیز خریدی مثلاً نمک، مرچ، ہلدی، دھنیا اور کہتا ہے ہم کو اس کی اجازت ہے تو اس کے ہاتھ اس چیز کو بیچ سکتے ہیں اور اگر غالب گمان یہ ہو کہ جھوٹ کہتا ہے تو اس کی بات کا اعتبار نہ کیا جائے۔ مثلاًاسے چند پیسوں کی مٹھائی یا پھل وغیرہ خریدنا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ مجھے اجازت ہے اس کا اعتبار نہ کیا جائے، جبکہ اس صورت میں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہو کہ اُس کو پیسے اس لیے نہیں ملے ہیں کہ مٹھائی وغیرہ خرید کر کھالے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)یعنی جبکہ گمان غالب یہ ہو کہ اسے خریدنے کی اجازت نہیں ہے، مثلاً یہ گمان ہے کہ چھپا کر لایا ہے، مٹھائی خرید رہا ہے، اس کے گھر والے ایسے کہاں ہیں کہ مٹھائی کھانے کو پیسے دے دیں اس صورت میں اس کے ہاتھ مٹھائی کا بیچنا بھی ناجائز ہے۔
مسئلہ ۶: کافر یا فاسق نے یہ خبر دی کہ میں فلاں شخص کا اس چیز کے بیچنے میں وکیل ہوں، اس کی خبر اعتبار کی جاسکتی ہے اور اُس چیز کو خریدسکتے ہیں۔ اسی طرح دیگر معاملات میں بھی ان کی خبریں مقبول ہیں، جبکہ ظن غالب یہ ہو کہ سچ کہتا ہے۔ (6) (درمختار)
1 ۔الجوھرۃ النیرۃ،کتاب الحظر والاباحۃ،جز۲،ص۳۶۲.
2 ۔ واپس کرنے۔
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۹.
4 ۔ ''تبیین الحقائق''،کتاب الکراھیۃ،ج۷،ص۲۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۰.
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۰.
مسئلہ ۷: دیانات میں مخبر (1)کا عادل ہونا ضروری ہے۔ دیانات سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا تعلق بندہ اور رب کے مابین ہے۔ مثلاً حلت، حرمت، نجاست، طہارت اور اگر دیانت کے ساتھ زوالِ ملک بھی ہو مثلاً میاں بی بی کے متعلق کسی نے یہ خبر دی کہ یہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہیں تو اس کے ثبوت کے لیے فقط عدالت کافی نہیں، بلکہ عدد اور عدالت دونوں چیزیں درکار ہیں یعنی خبر دینے والے دو ۲ مرد یا ایک مرد دو ۲ عورتیں ہوں اور یہ سب عادل ہوں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: پانی کے متعلق کسی مسلم عادل نے یہ خبر دی کہ یہ نجس ہے تو اس سے وضو نہ کرے، بلکہ اگر دوسرا پانی نہ ہو تو تیمم کرے اور اگر فاسق یا مستور (3)نے خبر دی کہ پانی نجس ہے تو تحری (غور)کرے اگر دل پر یہ بات جمتی ہے کہ سچ کہتا ہے تو پانی کو پھینک دے اور تیمم کرے وضو نہ کرے اور اگر غالب گمان یہ ہے کہ جھوٹ کہتا ہے تو وضو کرے اور احتیاط یہ ہے کہ وضو کے بعد تیمم بھی کرلے اور اگر کافر نے نجاست کی خبر دی اور غالب گمان یہ ہے کہ سچ کہتا ہے جب بھی بہتر یہ ہے کہ اسے پھینک دے پھر تیمم کرے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۹: ایک عادل نے یہ خبر دی کہ پاک ہے اور دوسرے عادل نے نجاست کی خبر دی یا ایک نے خبر دی کہ یہ مسلم کا ذبیحہ ہے اور دوسرے نے یہ کہ مشرک کا ذبیحہ ہے، اس میں بھی تحری کرے، جدھر غالب گمان ہو اُس پر عمل کرے۔ (5) (ردالمحتار)
حدیث ۱: امام بخاری نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ فرماتے ہیں صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم: ''تُو جو چاہے کھا اور تُو جو چاہے پہن، جب تک دو باتیں نہ ہوں، اسراف و تکبر۔''(6)
حدیث ۲: امام احمد و نسائی و ابن ماجہ بروایت عَمْرْوبن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''کھاؤ اور پیو اور صدقہ کرو اور پہنو، جب تک اسراف و تکبر کی آمیزش نہ ہو۔'' (7)
1 ۔ خبر دینے والا۔
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۱.
3 ۔ مستور: یعنی وہ شخص جس کا عادل یا فاسق ہونا ظاہر نہ ہو۔
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۱.
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۳.
6 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس، باب قول اللہ تعالٰی:( قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللہِ الَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ)،ج۴،ص۴۵.
7 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب اللباس، باب البس ما شئت...إلخ،الحدیث:۳۶۰۵،ج۴،ص۱۶۲.
و''سنن النسائي''،کتاب الزکاۃ، باب الإختیال في الصدقۃ،الحدیث:۲۵۵۵،ص۴۲۰.
حدیث ۳: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں:رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو حِبرہ بہت پسند تھا۔ یہ ایک قسم کی دھاری دار چادر ہوتی تھی جو یمن میں بنتی تھی۔ (1)
حدیث ۴: ترمذی نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں نے چاندنی رات میں نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو دیکھا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سرخ حُلّہ (2)پہنے ہوئے تھے یعنی اس میں سرخ دھاریاں تھیں، میں کبھی حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو دیکھتا اور کبھی چاند کو، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میرے نزدیک چاند سے زیادہ حسین تھے۔ (3)
حدیث ۵: صحیح بخاری و مسلم میں ابو بردہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہانے پیوند لگی ہوئی کملی اور موٹا تہبند نکالا اور یہ کہا، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی وفات انھیں میں ہوئی۔ (4) (یعنی بوقت وفات اسی قسم کے کپڑے پہنے ہوئے تھے)۔
حدیث ۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: کہ ''جو شخص تکبر کے طور پر تہبند گھسیٹے(یعنی اتنا نیچا کرلے کہ زمین سے لگ جائے)اُس کی طرف اﷲ تعالیٰ نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔''(5)ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی روایت میں ہے، ''جو اِترانے کے طور پر کپڑا گھسیٹے گا، اس کی طرف اﷲ(عزوجل)نظرِ رحمت نہیں کریگا۔''(6)صحیح بخاری کی انھیں سے روایت ہے، کہ''ایک شخص اترانے کے طورپر تہبند گھسیٹ رہا تھا، زمین میں دھنسا دیا گیا، اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی چلا جائے گا۔'' (7)
حدیث ۷: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''ٹخنوں سے نیچے تہبندکا جو حصہ ہے، وہ آگ میں ہے۔'' (8)
حدیث ۸: ابو داود و ابن ماجہ ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس، باب البرود والحبرۃ...إلخ،الحدیث:۵۸۱۳،ج۴،ص۵۴.
2 ۔ حُلّہ: چادر و تہبند کے مجموعہ کو کہتے ہیں یعنی جوڑا۔
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء في الرخصۃ في لبس الحمرۃ للرجال،الحدیث:۲۸۲۰،ج۴،ص۳۷۰.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس، باب الأکسیۃوالخمائص،الحدیث:۵۸۱۸،ج۴،ص۵۵.
5 ۔ المرجع السابق، باب من جر ثوبہ من الخیلاء،الحدیث:۵۷۸۸،ج۴،ص۴۶.
6 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۵۷۹۱،ج۴،ص۴۷.
7 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۵۷۹۰،ج۴،ص۴۷.
8 ۔ المرجع السابق، باب ما أسفل من الکعبین فھو في النار،الحدیث:۵۷۸۷،ج۴،ص۴۶.
وسلَّم فرماتے ہیں:''مومن کا تہبند آدھی پنڈلیوں تک ہے اور اس کے اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو، اس میں بھی حرج نہیں اور اس سے جو نیچے ہو آگ میں ہے اور اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں فرمائے گا، جو تہبندکو ازراہِ تکبر گھسیٹے۔'' (1)
حدیث ۹: ابو داود و نسائی و ابن ماجہ نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اسبال یعنی کپڑے کے نیچا کرنے کی ممانعت تہبندو قمیص و عمامہ سب میں ہے۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے عرض کی، عورتوں کے لیے کیا حکم ہے؟ فرمایا: ایک بالشت لٹکالیں (یعنی آدھی پنڈلی کے نیچے ایک بالشت لٹکائیں)عرض کی، اب تو عورتوں کے قدم کھل جائیں گے، ارشاد فرمایا:ایک ہاتھ لٹکالیں اس سے زیادہ نہیں۔''(2)
حدیث۱۰: صحیح مسلم میں عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہتے ہیں:میں رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس سے گزرا اور میرا تہبند کچھ لٹک رہاتھا، ارشاد فرمایا:''عبداﷲ!اپنے تہبندکو اونچا کرو۔''میں نے اونچا کرلیا پھر فرمایا:''زیادہ اونچا کرو۔''میں نے زیادہ کرلیا۔ اس کے بعد میں ہمیشہ کوشش کرتا رہا۔ کسی نے عبداﷲ سے پوچھا، کہاں تک اونچا کیا جائے؟ کہا، نصف پنڈلی تک۔ (3)
حدیث۱۱: صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص اپنا کپڑا تکبر سے نیچا کریگا، اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں فرمائے گا۔'' حضرت ابوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میرا تہبند لٹک جاتا ہے، مگر اس وقت کہ میں پورا خیال رکھوں(یعنی ان کے شکم پر تہبند رکتا نہیں تھا، سرک جاتا تھا)۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''تم ان میں سے نہیں جو براہِ تکبر لٹکاتے ہیں۔''(4) (یعنی جو بالقصد تہبند کو نیچا کرتے ہیں، اُن کے لیے وہ وعید ہے۔)
حدیث ۱۲: ابو داود نے عکرمہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماکو دیکھا کہ ان کے تہبند کا حاشیہ پشت قدم پر تھا، میں نے کہا: آپ اس طرح کیوں تہبند باندھتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو اس طرح تہبند باندھے ہوئے دیکھا ہے۔''(5)
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب اللباس، باب موضع الإزارأین ھو،الحدیث:۳۵۷۳،ج۴،ص۱۴۸.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب اللباس، الحدیث:۴۳۳۱،ج۲،ص۴۷۲.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب في قدر موضع الإزار،الحدیث:۴۰۹۴،ج۴،ص۸۳.
وباب في قدر الذیل،الحدیث:۴۱۱۷،ج۴،ص۸۹.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس، باب تحریم جر الثوب خیلاء...إلخ،الحدیث:۴۷۔(۲۰۸۶)،ص۱۱۵۶.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس، باب من جر إزارہ من غیرخیلاء،الحدیث:۵۷۸۴،ج۴،ص۴۵.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب في قدرموضع الازار،الحدیث:۴۰۹۶،ج۴،ص۸۳.
حدیث ۱۳: ترمذی وابو داود نے اسما بنت یزید رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہتی ہیں:رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی قمیص کی آستین گٹے تک تھی۔ (1)
حدیث ۱۴: امام احمد وترمذی و نسائی و ابن ماجہ نے سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سپید کپڑے پہنو کہ وہ زیادہ پاک اور ستھرے ہیں اور انھیں میں اپنے مردے کفناؤ۔'' (2)
حدیث ۱۵: ابن ماجہ نے ابو داودرضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سب میں اچھے وہ کپڑے جنھیں پہن کر تم خدا کی زیارت قبروں اور مسجدوں میں کرو، سپید ہیں یعنی سپید کپڑوں میں نماز پڑھنا اور مردے کفنانا اچھا ہے۔''(3)
حدیث ۱۶: ترمذی و ابو داود نے عبداﷲبن عَمْرْو رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہتے ہیں:ایک شخص سرخ کپڑے پہنے ہوئے گزرے اور انھوں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو سلام کیا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے سلام کا جواب نہیں دیا۔''(4)
حدیث ۱۷: ابو داود نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ اسماء رضی اللہ تعالٰی عنہا باریک کپڑے پہن کر حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے سامنے آئیں، حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے مونھ پھیرلیا اور یہ فرمایا:''اے اسماء!جب عورت بالغ ہوجائے تو اُس کے بدن کا کوئی حصہ دکھائی نہ دینا چاہیے، سوا مونھ اور ہتھیلیوں کے۔''(5)
حدیث ۱۸: امام مالک علقمہ بن ابی علقمہ سے وہ اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں، کہ حفصہ بنتِ عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہاکے پاس باریک دوپٹا اوڑھ کر آئیں، حضرت عائشہ نے ان کا دوپٹا پھاڑ دیا اور موٹا دوپٹا دے دیا۔ (6)
حدیث ۱۹: ترمذی نے ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم عمامہ باندھتے تو دونوں شانوں کے درمیان شملہ لٹکاتے۔ (7)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب ما جاء في القمیص،الحدیث:۴۰۲۷،ج۴،ص۶۱.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب اللباس،الحدیث:۴۳۲۹،ج۲،ص۴۷۲.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند البصریین،حدیث سمرۃ بن جندب،الحدیث:۲۰۱۷۴،ج۷،ص۲۶۰.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب اللباس، باب البیاض من الثیاب،الحدیث:۳۵۶۸،ج۴،ص۱۴۶.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء في کراھیۃ لبس المعصفر للرجال،الحدیث:۲۸۱۶،ج۴،ص۳۶۸.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب فیما تبدی المرأۃ من زینتھا،الحدیث:۴۱۰۴،ج۴،ص۸۵.
6 ۔ ''الموطأ'' للإمام مالک،کتاب اللباس، باب مایکرہ للنساء لبسہ من الثیاب،الحدیث:۱۷۳۹،ج۲،ص۴۱۰.
7 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب اللباس، باب في سدل العمامۃبین الکتفین،الحدیث:۱۷۴۲،ج۳،ص۲۸۶.
حدیث ۲۰: بیہقی نے شعب الایمان میں عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''عمامہ باندھنا اختیار کرو کہ یہ فرشتوں کا نشان ہے اور اس کو پیٹھ کے پیچھے لٹکالو۔'' (1)
حدیث ۲۱: ترمذی نے رکانہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایاکہ ''ہمارے اور مشرکین کے مابین یہ فرق ہے کہ ہمارے عمامہ ٹوپیوں پر ہوتے ہیں۔''(2)
حدیث ۲۲: ترمذی نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ر وایت کی، کہتی ہیں:حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے مجھ سے یہ فرمایا:''عائشہ!اگر تم مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو دنیا سے اتنے ہی پر بس کرو جتنا سوار کے پاس توشہ ہوتا ہے اور مال داروں کے پاس بیٹھنے سے بچو اور کپڑے کو پرانا نہ سمجھو، جب تک پیوند نہ لگالو۔''(3)
حدیث ۲۳: ابو داود نے ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''کیا سنتے نہیں ہو، کیا سنتے نہیں ہو؟ ردی حالت میں ہونا (4) ایمان سے ہے، ردی حالت میں ہونا ایمان سے ہے۔''(5)
حدیث ۲۴: امام احمد و ابو داود و ابن ماجہ نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص شہ رت کا کپڑا پہنے، قیامت کے دن اﷲتعالٰی اُس کو ذلت کا کپڑا پہنائے گا۔''(6)
لباس شہ رت سے مراد یہ ہے کہ تکبر کے طور پر اچھے کپڑے پہنے یا جو شخص درویش نہ ہو، وہ ایسے کپڑے پہنے جس سے لوگ اسے درویش سمجھیں یا عالم نہ ہو اور علما کے سے کپڑے پہن کر لوگوں کے سامنے اپنا عالم ہونا جتاتا ہے یعنی کپڑے سے مقصود کسی خوبی کا اظہار ہو۔
حدیث ۲۵: ابو داود نے ایک صحابی سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو باوجود قدرت اچھے کپڑے پہننا تواضع کے طور پر چھوڑ دے، اﷲتعالیٰ اس کو کرامت کا حُلّہ پہنائے گا۔''(7)
حدیث ۲۶: امام احمد و نسائی جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم ہمارے
1 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في الملابس،فصل في العمائم،الحدیث:۶۲۶۲،ج۵،ص۱۷۶.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب اللباس، باب العمائم علی القلانس،الحدیث:۱۷۹۱،ج۳،ص۳۰۵.
3 ۔ المرجع السابق، باب ما جاء في ترقیع الثوب،الحدیث:۱۷۸۷،ج۳ص۳۰۲.
4 ۔ یعنی لباس کی سادگی۔
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الترجل، باب النھی عن کثیر من الإرفاہ،الحدیث:۴۱۶۱،ج۴،ص۱۰۳.
6 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب،الحدیث:۵۶۶۸،ج۲،ص۴۰۳.
7 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الادب، باب من کظم غیظا،الحدیث:۴۷۷۸،ج۴،ص۳۲۶.
یہاں تشریف لائے، ایک شخص کو پراگندہ سر دیکھا، جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں، فرمایا:''کیا اس کو ایسی چیز نہیں ملتی جس سے بالوں کو اکٹھا کرلے اور دوسرے شخص کو میلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا فرمایا:کیا اسے ایسی چیز نہیں ملتی، جس سے کپڑے دھولے۔''(1)
حدیث ۲۷: ترمذی نے عبداﷲ ابن عَمْرْورضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اﷲتعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی نعمت کا اثر بندہ پر ظاہر ہو۔''(2)
حدیث ۲۸: امام احمد و نسائی نے ابو الاحوص سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہتے ہیں:میں رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے کپڑے گھٹیا تھے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''کیا تمھارے پاس مال نہیں ہے؟ میں نے عرض کی، ہاں ہے۔ فرمایا:کس قسم کا مال ہے؟ میں نے عرض کی، خدا کا دیا ہوا ہر قسم کا مال ہے۔ اونٹ، گائے، بکریاں، گھوڑے، غلام۔ فرمایا:جب خدا نے تمھیں مال دیا ہے تو اس کی نعمت و کرامت کا اثر تم پر دکھائی دینا چاہیے۔''(3)
حدیث ۲۹: صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عمر و انس و ابن زبیر و ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے مروی، نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو دنیا میں ریشم پہنے گا، وہ آخرت میں نہیں پہنے گا۔'' (4)
حدیث ۳۰: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو دنیا میں ریشم پہنے گا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔'' (5)
حدیث ۳۱: صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ریشم پہننے کی ممانعت فرمائی، مگر اتنا۔ اور رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے دو ۲ ا نگلیاں بیچ والی اور کلمہ کی انگلیوں کو ملا کر اشارہ کیا۔''(6)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر(رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے خطبہ میں فرمایا:رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ریشم کی ممانعت فرمائی ہے، مگر دو ۲ یا تین یا چار اُنگلیوں کی برابر یعنی کسی کپڑے میں اتنی چوڑی ریشم کی گوٹ لگائی جاسکتی ہے۔ (7)
حدیث ۳۲: صحیح مسلم میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی ہے، انھوں نے ایک کسروانی جبہ نکالا،
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب في الخلقان وفي غسل الثوب،الحدیث:۴۰۶۲،ج۴،ص۷۲.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء ان اللہ تعالٰی یحب أن یری أثر نعمتہ علی عبدہ،الحدیث:۲۸۲۸،ج۴،ص۳۷۴.
3 ۔''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند المکیین،حدیث مالک بن نضلۃ أبی الأحوص، الحدیث:۱۵۸۸۸،ج۵،ص۳۸۳.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب اللباس،الحدیث:۴۳۵۲،ج۲،ص۴۷۵.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس، باب لبس الحریر...إلخ،الحدیث:۵۸۳۴،ج۴،ص۵۹.
5 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۵۸۳۵،ج۴،ص۵۹.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس، باب تحریم إستعمال إناء الذھب،الحدیث:۱۲۔(۲۰۶۹)،ص۱۱۴۸.
7 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۱۵۔(۲۰۶۹)،ص۱۱۴۹.
جس کا گریبان دیباج کا تھا اور دونوں چاکوں میں دیباج کی گوٹ لگی ہوئی تھی اور یہ کہا کہ یہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا جبہ ہے جو حضرت عائشہ کے پاس تھا۔ جب حضرت عائشہ کا انتقال ہوگیا میں نے لے لیا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اسے پہنا کرتے تھے اور ہم اسے دھو کر بیماروں کو بغرض شفا پلاتے ہیں۔ (1)
حدیث ۳۳: ترمذی و نسائی نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سونا اور ریشم میری اُمت کی عورتوں کے لیے حلال ہے اور مردوں پر حرام۔''(2)
حدیث ۳۴: صحیح مسلم میں عبداللہ بن عَمْرْورضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مجھے کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا، فرمایا:''یہ کافروں کے کپڑے ہیں، انھیں تم مت پہنو۔''میں نے کہا، انھیں دھو ڈالوں۔ فرمایاکہ ''جلادو۔''(3)
حدیث ۳۵: ترمذی ابو الملیح سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے درندہ کی کھال بچھانے سے منع فرمایا ہے۔ (4)
حدیث ۳۶: ترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم جب قمیص پہنتے تو دہنے سے شروع کرتے۔ (5)
حدیث ۳۷: ترمذی و ابو داود نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّمجب نیا کپڑا پہنتے، اُس کا نام لیتے عمامہ یا قمیص یا چادر پھر یہ دعا پڑھتے:
اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا کَسَوْتَنِیْہِ اَسْأَ لُکَ خَیْرَہٗ وَخَیْرَ مَا صُنِعَ لَہٗ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہٗ.(6)
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس، باب تحریم إستعمال إناء الذھب،الحدیث:۱۰۔(۲۰۶۹)،ص۱۱۴۷.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب اللباس،الحدیث:۴۳۲۵،ج۲،ص۴۷۱.
2 ۔ ''سنن النسائي''،کتاب الزینۃ من السنن، باب تحریم الذھب علی الرجال،الحدیث:۵۱۵۸،ص۷۲۱.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس،باب النھی عن لبس الرجل الثوب المعصفر،الحدیث:۲۷،۲۸۔(۲۰۷۷)،ص۱۱۵۱.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب اللباس،باب ماجاء في النھی عن جلود السباع،الحدیث:۱۷۷۷،ج۳،ص۲۹۹.
5 ۔المرجع السابق،باب ماجاء في القمص،الحدیث:۱۷۷۲،ج۳ص۲۹۷.
6 ۔ المرجع السابق،باب مایقول إذا لبس ثوباجدیدا،الحدیث:۱۷۷۳،ج۳،ص۲۹۷.
ترجمہ: اے اﷲ عزوجل! تیرا شکر ہے جیسے تو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا، ویسے ہی میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس مقصد کے لیے یہ بنایاگیا، اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر اور جس مقصد کے لیے یہ بنایا گیا ہے، اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
حدیث ۳۸: ابو داود نے معاذ بن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص کپڑا پہنے اور یہ پڑھے:
اَلْحَمدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِّنِّی وَلَا قَوَّۃٍ
(1)تو اُس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔'' (2)
حدیث ۳۹: امام احمد نے ابو مطر سے روایت کی، کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تین درہم میں کپڑا خریدا، اُس کو پہنتے وقت یہ پڑھا:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ رَزَقَنِیْ مِنَ الرِّیَاشِ مَا اَ تَجَمَّلُ بِہٖ فِی النَّاسِ وَاُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ.(3)
پھر یہ کہا کہ میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو یہی پڑھتے ہوئے سنا۔ (4)
حدیث ۴۰: امام احمدو ترمذی و ابن ماجہ نے ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ نے نیا کپڑا پہنا اور یہ پڑھا:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَاَ تَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَا تِیْ .
(5) پھر یہ کہا کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے سنا ہے، کہ جو شخص نیاکپڑاپہنتے وقت یہ پڑھے اور پرانے کپڑے کو صدقہ کر دے، وہ زندگی میں اور مرنے کے بعداﷲ تعالٰی کے کنف و حفظ و ستر میں رہے گا۔ (6)تینوں لفظ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی اﷲ تعالٰیاُس کا حافظ و نگہبان ہے۔
حدیث ۴۱: امام احمد و ابو داود نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص جس قوم سے تشبہ کرے، وہ انھیں میں سے ہے۔''(7)یہ حدیث ایک اصل کلی ہے۔ لباس و عادات و اطوار میں کن لوگوں سے مشابہت کرنی چاہیے اور کن سے نہیں کرنی چاہیے۔ کفار و فساق و فجار سے مشابہت بری ہے اور اہل صلاح و تقویٰ کی مشابہت اچھی ہے پھر اس تشبہ کے بھی درجات ہیں اور انھیں کے اعتبار سے احکام بھی مختلف ہیں۔ کفار و فساق سے تشبہ کا ادنیٰ مرتبہ کراہت ہے، مسلمان اپنے کو ان لوگوں سے ممتاز رکھے کہ پہچانا جاسکے اور غیر مسلم کا شبہ اس پر نہ ہوسکے۔
1 ۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں،جس نے مجھے یہ (لباس) پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر یہ عطا فرمایا۔
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب مایقول اذا لبس ثوبا جدیدا،الحدیث:۴۰۲۳،ج۴،ص۵۹.
و''المستدرک''للحاکم،کتاب اللباس،باب الدعاء عند فراغ الطعام،الحدیث:۷۴۸۶،ج۵،ص۲۷۰.
و''مشکوۃالمصابیح''کتاب اللباس،الفصل الثانی،الحدیث۴۳۴۳،ج۲،ص۱۱۷.
3 ۔ اﷲ تعالٰی کا شکر ہے،جس نے مجھے وہ لباس پہنایا جس سے میں اپنا ستر ڈھانپتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت کرتا ہوں۔
4 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند علی بن أبي طالب،الحدیث:۱۳۵۲،ج۱،ص۳۳۱.
5 ۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں،جس نے مجھے وہ لباس عطا فرمایا جس سے میں لوگوں میں زینت کرتا ہوں اور اپنا ستر ڈھانپتا ہوں۔
6 ۔ ''سنن الترمذي''، احادیث شتی،باب۱۰۷:(۱۲۱)،الحدیث:۳۵۷۱،ج۵،ص۳۲۷.
7 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب في لبس الشھرۃ،الحدیث:۴۰۳۱،ج۴،ص۶۲.
حدیث ۴۲: ابو داود نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ان عورتوں پر لعنت کی جو مردوں سے تشبہ کریں اور ان مردوں پر جو عورتوں سے تشبہ کریں۔ (1)
حدیث ۴۳: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس مرد پر لعنت کی، جو عورت کا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر لعنت کی، جو مردانہ لباس پہنتی ہے۔ (2)
حدیث ۴۴: ابو داود عمران بن حصین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''نہ میں سرخ زین پوش پر سوار ہوتا ہوں اور نہ کسم کا رنگا ہوا کپڑا پہنتا ہوں اور نہ وہ قمیص پہنتا ہوں، جس میں ریشم کا کف لگا ہوا ہو (یعنی چار انگل سے زائد)، سن لو!مردوں کی خوشبو وہ ہے، جس میں بو ہو اور رنگ نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے، جس میں رنگ ہو، بو نہ ہو۔''(3)
یعنی مردوں میں خوشبو مقصود ہوتی ہے، اس کا رنگ نمایاں نہ ہونا چاہیے کہ بدن یا کپڑے رنگین ہوجائیں اور عورتیں ہلکی خوشبو استعمال کریں کہ یہاں زینت مقصود ہوتی ہے اور یہ رنگین خوشبو مثلاً خلوق سے حاصل ہوتی ہے، تیز خوشبو سے خواہ مخواہ لوگوں کی نگاہیں اٹھیں گی۔
حدیث ۴۵: ترمذی نے ابو رمثہ تیمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں کہ میں نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)دو ۲ سبز کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ (4)
حدیث ۴۶: ابو داود نے دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں چند قبطی کپڑے لائے گئے، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ایک مجھے دیا اور یہ فرمایاکہ ''اس کے دو ٹکڑے کرلو، ایک ٹکڑے کی قمیص بنوالو اور ایک اپنی بی بی کو دے دینا، وہ اوڑھنی بنالے گی۔''جب یہ چلے تو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایاکہ ''اپنی بی بی سے کہہ دینا کہ اس کے نیچے کوئی دوسرا کپڑا لگالے تاکہ بدن نہ جھلکے۔''(5)
حدیث ۴۷: صحیح بخاری و مسلم میں عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا بچھونا جس پر آرام فرماتے تھے، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔''(6)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب في لباس النساء ،الحدیث:۴۰۹۷،ج۴،ص۸۳.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۰۹۸،ج۴،ص۸۳.
3 ۔ المرجع السابق، باب من کرھہ،الحدیث:۴۰۴۸،ج۴،ص۶۸.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء في الثوب الأخضر،الحدیث:۲۸۲۱،ج۴،ص۳۷۱.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب في لبس القباطی للنساء،الحدیث:۴۱۱۶،ج۴،ص۸۸.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس، باب التواضع في اللباس...إلخ،الحدیث:۳۸۔(۲۰۸۲)،ص۱۱۵۳.
مسلم کی روایت میں ہے کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا تکیہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔''(1)
حدیث ۴۸: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''ایک بچھونا مرد کے لیے اور ایک اُس کی زوجہ کے لیے اور تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے۔''(2) یعنی گھر کے آدمیوں اور مہمانوں کے لیے بچھونے جائز ہیں اور حاجت سے زیادہ نہ چاہیے۔
مسئلہ ۱: اتنا لباس جس سے ستر عورت ہوجائے اور گرمی سردی کی تکلیف سے بچے فرض ہے اور اس سے زائد جس سے زینت مقصود ہو اور یہ کہ جبکہ اﷲ(عزوجل)نے دیا ہے تو اُس کی نعمت کا اظہار کیا جائے۔ یہ مستحب ہے خاص موقع پر مثلاً جمعہ یا عید کے دن عمدہ کپڑے پہننا مباح ہے۔ اس قسم کے کپڑے روز نہ پہنے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اِترانے لگے اور غریبوں کو جن کے پاس ایسے کپڑے نہیں ہیں نظر حقارت سے دیکھے، لہٰذا اس سے بچنا ہی چاہیے ۔
اور تکبر کے طور پر جو لباس ہو وہ ممنوع ہے، تکبر ہے یا نہیں اس کی شناخت یوں کرے کہ ان کپڑوں کے پہننے سے پہلے اپنی جو حالت پاتا تھا اگر پہننے کے بعد بھی وہی حالت ہے تو معلوم ہوا کہ ان کپڑوں سے تکبر پیدا نہیں ہوا۔ اگر وہ حالت اب باقی نہیں رہی تو تکبر آگیا۔ لہٰذا ایسے کپڑے سے بچے کہ تکبر بہت بری صفت ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: بہتر یہ ہے کہ اونی یا سوتی یا کتان کے کپڑے بنوائے جائیں جو سنت کے موافق ہوں، نہ نہایت اعلیٰ درجہ کے ہوں نہ بہت گھٹیا، بلکہ متوسط (4)قسم کے ہوں کہ جس طرح بہت اعلیٰ درجہ کے کپڑوں سے نمود (5) ہوتی ہے، بہت گھٹیا کپڑے پہننے سے بھی نمائش ہوتی ہے۔ لوگوں کی نظریں اُٹھتی ہیں سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی صاحبِ کمال اور تارک الدنیا شخص ہیں۔ سفید کپڑے بہتر ہیں کہ حدیث میں ا س کی تعریف آئی ہے اور سیاہ کپڑے بھی بہتر ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فتح مکہ کے دن جب مکہ معظمہ میں تشریف لائے تو سراقدس پر سیاہ عمامہ تھا۔ سبز کپڑوں کو بعض کتابوں میں سنت لکھا ہے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: سنت یہ ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں کے پوروں تک اور چوڑائی ایک بالشت ہو۔ (7) (ردالمحتار)اس زمانہ میں بہت سے مسلمان پاجامہ کی جگہ جانگھیا (8) پہننے لگے ہیں۔ اس
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس، باب التواضع في اللباس...إلخ،الحدیث:۳۷۔(۲۰۸۲)،ص۱۱۵۳.
2 ۔ المرجع السابق، باب کراھۃ مازاد علی الحاجۃ...إلخ،الحدیث:۴۱۔(۲۰۸۴)،ص۱۱۵۴.
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۷۹.
4 ۔ درمیانہ۔ 5 ۔ نمائش۔
6 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۷۹.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔ یعنی نیکر۔ گھٹنوں سے اوپر کا پاجامہ۔
کے ناجائز ہونے میں کیا کلام کہ گھٹنے کا کھلا ہونا حرام ہے اور بہت لوگوں کے کُرتے کی آستینیں کہنی کے اوپر ہوتی ہیں یہ بھی خلافِ سنت ہے اور یہ دونوں کپڑے نصاریٰ کی تقلید میں پہنے جاتے ہیں، اس چیز نے ان کی قباحت میں اور اضافہ کردیا۔
اﷲ تعالٰی مسلمانوں کی آنکھیں کھولے، کہ وہ کفار کی تقلید او ر ان کی وضع قطع سے بچیں۔ حضرت امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ارشاد جو آپ نے لشکریوں کے لیے بھیجا تھا، جن میں بیشتر حضرات صحابہ کرام تھے، اس کو مسلمان پیش نظر رکھیں اور عمل کی کوشش کریں اور وہ ارشاد یہ ہے:
اِیَّاکُمْ وَزِیَّ الْاَعَاجِمِ(1)
عجمیوں کے بھیس سے بچو، ان جیسی وضع قطع نہ بنا لینا۔
مسئلہ ۴: ریشم کے کپڑے مرد کے لیے حرام ہیں، بدن اور کپڑوں کے درمیان کوئی دوسرا کپڑا حائل ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں حرام ہیں اور جنگ کے موقع پر بھی نرے ریشم کے کپڑے حرام ہیں، ہاں اگر تانا سوت ہو اور بانا ریشم تو لڑائی کے موقع پر پہننا جائز ہے اور اگر تانا ریشم ہو اور بانا سوت ہو تو ہر شخص کے لیے ہر موقع پر جائز ہے۔ مجاہد اور غیر مجاہد دونوں پہن سکتے ہیں۔ لڑائی کے موقع پر ایسا کپڑا پہننا جس کا بانا ریشم ہو اس وقت جائز ہے جبکہ کپڑا موٹا ہو اور اگر باریک ہو تو ناجائز ہے کہ اس کا جو فائدہ تھا، اس صورت میں حاصل نہ ہوگا۔ (2) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۵: تانا ریشم ہو اور بانا سوت، مگر کپڑا اس طرح بنایا گیا ہے کہ ریشم ہی ریشم دکھائی دیتا ہے تو اس کا پہننا مکروہ ہے۔ (3) (عالمگیری)بعض قسم کی مخمل ایسی ہوتی ہے کہ اس کے روئیں ریشم کے ہوتے ہیں، اس کے پہننے کا بھی یہی حکم ہے، اس کی ٹوپی اورصدری (4)وغیرہ نہ پہنی جائے۔
مسئلہ ۶: ریشم کے بچھونے پر بیٹھنا ،لیٹنا اور اس کا تکیہ لگانا بھی ممنوع ہے، اگرچہ پہننے میں بہ نسبت اس کے زیادہ برائی ہے۔ (5) (عالمگیری)مگر درمختار میں اسے مشہور کے خلاف بتایا ہے (6)اور ظاہر یہی ہے کہ یہ جائز ہے۔
مسئلہ ۷: ٹسر، کہ ایک قسم کے ریشم کا نام ہے، بھاگلپوری کپڑے ٹسر کے کہلاتے ہیں۔ وہ موٹا ریشم ہوتا ہے، اس کا حکم بھی وہی ہے، جو باریک ریشم کا ہے۔ کاشی سلک اور چینا سلک بھی ریشم ہی ہے، اس کے پہنے کا بھی وہی حکم ہے۔ سن اور رام بانس
1 ۔ ''المقاصد الحسنۃ'' للسخاوی،حرف الھمزۃ، رقم :۲۷۲،ص۱۴۲.
2 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في اللبس،ج۲،ص۳۶۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس ما یکرہ...إلخ،ج۵،ص۳۳۱.
4 ۔ یعنی واسکٹ۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس ما یکرہ...إلخ،ج۵،ص۳۳۱.
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۷.
کے کپڑے جو بظاہر بالکل ریشم معلوم ہوتے ہوں، ان کا پہننا اگرچہ ریشم کا پہننا نہیں ہے مگر اس سے بچنا چاہیے۔ خصوصاً علما کو کہ لوگوں کوبدظنی کا موقع ملے گا یا دوسروں کو ریشم پہننے کا ذریعہ بنے گا۔ اس زمانہ میں کیلے کا ریشم چلا ہے۔ یہ ریشم نہیں ہے بلکہ کسی درخت کی چھال سے اس کو بناتے ہیں اور یہ بہت ظاہر طور پر شناخت میں آتا ہے، اس کو پہننے میں حرج نہیں۔
مسئلہ ۸: ریشم کا لحاف اوڑھنا ناجائز ہے کہ یہ بھی لبس میں داخل ہے۔ ریشم کے پردے دروازوں پر لٹکانا مکروہ ہے۔ کپڑے بیچنے والے نے ریشم کے کپڑے کندھے پر ڈال لیے جیسا کہ پھیری کرنے والے کندھوں پر ڈال لیا کرتے ہیں، یہ ناجائز نہیں کہ یہ پہننا نہیں ہے اور اگر جبہ یا کرتہ ریشم کا ہو اور اُس کی آستینوں میں ہاتھ ڈال لیے، اگرچہ بیچنے ہی کے لیے لے جارہا ہے یہ ممنوع ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: عورتوں کو ریشم پہننا جائز ہے اگرچہ خالص ریشم ہو اس میں سوت کی بالکل آمیزش نہ ہو۔ (2) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱۰: مردوں کے کپڑوں میں ریشم کی گوٹ چار انگل تک کی جائز ہے اس سے زیادہ ناجائز، یعنی اس کی چوڑائی چار انگل تک ہو، لمبائی کا شمار نہیں۔ اسی طرح اگر کپڑے کا کنارہ ریشم سے بُنا ہو جیسا کہ بعض عمامے یا چادروں یا تہبند کے کنارے اس طرح کے ہوتے ہیں، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر چار انگل تک کا کنارہ ہو تو جائز ہے، ورنہ ناجائز۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)یعنی جبکہ اس کنارہ کی بناوٹ بھی ریشم کی ہو اور اگر سوت کی بناوٹ ہو تو چار انگل سے زیادہ بھی جائز ہے۔ عمامہ یا چادر کے پلّو ریشم سے بُنے ہوں تو چونکہ بانا ریشم کا ہونا ناجائز ہے، لہٰذا یہ پلّو بھی چار انگل تک کا ہی ہونا چاہیے زیادہ نہ ہو۔
مسئلہ ۱۱: آستین یا گریبان یا دامن کے کنارہ پر ریشم کا کام ہو تو وہ بھی چار انگل ہی تک ہو صدری یا جبہ کا ساز ریشم کا ہو تو چار انگل تک جائز ہے اور ریشم کی گھنڈیاں بھی جائز ہیں۔ ٹوپی کا طرہ بھی چار انگل کا جائز ہے، پائجامہ کا نیفہ بھی چار انگل تک کا جائز ہے، اچکن یا جبہ میں شانوں اور پیٹھ پر ریشم کے پان یا کیری چار انگل تک کے جائز ہیں۔ (4) (ردالمحتار)یہ حکم اس وقت ہے کہ پان (5)وغیرہ مغرق ہوں(6)کہ کپڑا دکھائی نہ دے اور اگر مغرق نہ ہوں تو چار انگل سے زیادہ بھی جائز ہے۔
مسئلہ ۱۲: ریشم کے کپڑے کا پیوند کسی کپڑے میں لگایا اگر یہ پیوند چار انگل تک کا ہو جائز ہے اور زیادہ ہو تو ناجائز۔ ریشم کو روئی کی طرح کپڑے میں بھردیا گیا مگر ابرا (7)اور استر (8)دونوں سوتی ہوں تو اس کا پہننا جائز ہے اور اگر ابرا یا استر دونوں
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس ما یکرہ...إلخ،ج۵،ص۳۳۱.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۰.
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۱.
5 ۔پان کے پتے کی شکل۔ 6 ۔یعنی ریشم سے بالکل ڈھکاہواہوں۔
7 ۔ یعنی دوہرے کپڑے کی اوپری تہ۔ 8 ۔ یعنی دوہرے کپڑے کی نیچے کی تہ۔
میں سے کوئی بھی ریشم ہو تو ناجائز ہے۔ اسی طرح ٹوپی کا استر بھی ریشم کا ناجائز ہے اور ٹوپی میں ریشم کا کنارہ چار انگل تک جائز ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: ٹوپی میں لیس لگائی گئی یا عمامہ میں گوٹا لچکا لگایا گیا، اگر یہ چار انگل سے کم چوڑا ہے جائز ہے ورنہ نہیں۔
مسئلہ ۱۴: متفرق جگہوں پر ریشم کا کام ہے، تواس کو جمع نہیں کیاجائے گا یعنی اگرایک جگہ چار انگل سے زیادہ نہیں ہے مگر جمع کریں تو زیادہ ہوجائے گا یہ ناجائز نہیں، لہٰذا کپڑے کی بناوٹ میں جگہ جگہ ریشم کی دھاریاں ہوں تو جائز ہے، جبکہ ایک جگہ چار انگل سے زیادہ چوڑی کوئی دھاری نہ ہو۔ یہی حکم نقش و نگار کا ہے کہ ایک جگہ چار انگل سے زیادہ نہ ہونا چاہیے ۔
اور اگر پھول یا کام اس طرح بنایا ہے کہ ریشم ہی ر یشم نظر آتا ہو جس کو مغرق کہتے ہیں، جس میں کپڑا نظر ہی نہیں آتا تو اس کام کو متفرق نہیں کہا جاسکتا۔ اس قسم کا ریشم یا زری کا کام ٹوپی یا اچکن یا صدری یا کسی کپڑے پر ہو اور چار انگل سے زائد ہو تو ناجائز ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)دھاریوں کے لیے چار انگل سے زیادہ نہ ہونا، اس وقت ضروری ہے کہ بانے میں دھاریاں ہوں اور اگر تانے میں ہوں اور بانا سوت ہو تو چار انگل سے زیادہ ہونے کی صورت میں بھی جائز ہے۔
مسئلہ ۱۵: کپڑا اس طرح بُنا گیا کہ ایک تاگا سوت ہے اور ایک ریشم، مگر دیکھنے میں بالکل ریشم معلوم ہوتا ہے یعنی سوت نظر نہیں آتا یہ ناجائز ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: سونے چاندی سے کپڑا بُنا جائے جیسا کہ بنارسی کپڑے میں زری بنی جاتی ہے۔ کمخواب اور پوت میں زری ہوتی ہے اور اسی طرح بنارسی عمامہ کے کنارے اور دونوں طرف کے حاشیے زری کے ہوتے ہیں ان کا یہ حکم ہے کہ اگر ایک جگہ چار انگل سے زیادہ ہو تو ناجائز ہے، ورنہ جائز، مگر کمخواب اور پوت میں چونکہ تانا بانا (4)دونوں ریشم ہوتا ہے، لہٰذا زری اگرچہ چار انگل سے کم ہو، جب بھی ناجائز ہے۔
ہاں اگر سوتی کپڑا ہوتا یا تانا ریشم اور بانا سوت ہوتا اور اُس میں زری بنی جاتی تو چار انگل تک جائز ہوتا۔ جیسا کہ عمامہ سوت کا ہوتا ہے اور اس میں زری بنی جاتی ہے، اس کا یہی حکم ہے کہ ایک جگہ چار انگل سے زیادہ ناجائز ہے، یہ حکم مردوں کے لیے ہے۔ عورتوں کے لیے ریشم اور سونا چاندی پہننا جائز ہے، ان کے لیے چار انگل کی تخصیص نہیں ۔ اسی طرح عورتوں کے لیے
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۱.
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،۹،ص۵۸۲.
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۲.
4 ۔ وہ دھاگے جو کپڑا بُننے میں لمبائی اور چوڑائی میں دیئے جاتے ہیں۔
گوٹے لچکے(1)، اگر چہ کتنے ہی چوڑے ہوں جائز ہیں اور مغرق (2)اور غیر مغرق کا فرق بھی مردوں ہی کے لیے ہے۔ عورتوں کے لیے مطلقاً جائز ہے۔ (3) (المستفاد من ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: زری کی بناوٹ کا جو حکم ہے وہی اس کے نقش و نگار کا بھی ہے، اب بھی زری کی ٹوپیاں بعض لوگ پہنتے ہیں، اگر کام کے درمیان سے کپڑا نظر آتا ہو تو چونکہ ایک جگہ چار انگل نہیں ہے جائز ہے اور مغرق ہو کہ بالکل کام لِسا ہوا ہو(4)تو چار انگل سے زیادہ ناجائز ہے۔ اسی طرح کامدانی (5)کہ کپڑا زری کے کام سے چھپ گیا ہو تو چار انگل سے زیادہ جب ایک جگہ ہو ناجائز ہے، ورنہ جائز۔
مسئلہ ۱۸: کمر کی پیٹی ریشم کی ہو تو ناجائز ہے اور اگر سوتی ہو، اس میں ریشم کی دھاری ہو اور چار انگل تک ہو تو جائز ہے۔ (6) (عالمگیری) کلابتو (7)کی پیٹی ناجائز ہے۔ بعض رؤسا اپنے سپاہیوں اور چپراسیوں کی پیٹیاں اس قسم کی بنواتے ہیں، ان کو بچنا چاہیے۔
مسئلہ ۱۹: ریشم کی مچھر دانی مردوں کے لیے بھی جائز ہے، کیونکہ اس کا استعمال پہننے میں داخل نہیں۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: ریشم کے کپڑے میں تعویذ سی کر گلے میں لٹکانا یا بازو پر باندھنا ناجائز ہے کہ یہ پہننے میں داخل ہے۔ اسی طرح سونے اور چاندی میں رکھ کر پہننا بھی ناجائز ہے اور چاندی یا سونے ہی پر تعویذ کھدا ہوا ہو، یہ بدرجہ اَولیٰ ناجائز ہے۔
مسئلہ ۲۱: ریشم کی ٹوپی اگرچہ عمامہ کے نیچے ہو، یہ بھی ناجائز ہے۔ اسی طرح زری کی ٹوپی بھی ناجائزہے، اگرچہ عمامہ کے نیچے ہو۔ (9) (درمختار، ردالمحتار)زریں کلاہ جو افغانی اور سرحدی اور پنجابی عمامہ کے نیچے پہنتے ہیں اور وہ مغرق ہوتی ہے اور اس کا کام چار انگل سے زیادہ ہوتا ہے یہ ناجائز ہے، ہاں اگرچار انگل یا کم ہو تو جائز ہے۔
مسئلہ ۲۲: ریشم کا کمر بند ممنوع ہے۔ ریشم کے ڈورے میں تسبیح گوندھی جائے تو اُس کو گلے میں ڈالنا منع ہے۔ اسی طرح گھڑی کا ڈورا ریشم کا ہو تو اس کو گلے میں ڈالنا یا ریشم کی چین کا ج میں ڈال کر لٹکانا بھی ممنوع ہے، ریشم کا ڈورا یا فیتا کلائی پر
1 ۔ دیکھئے اعلام۔ 2 ۔ سونے چاندی سے اس طرح لپاہوکہ اس میں کپڑا نظر نہ آئے۔
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۲. وغیرہ
4 ۔یعنی بالکل ڈھکاہواہو۔
5 ۔ یعنی وہ ریشمی کپڑا جس پر سونے چاندی کے تاروں سے بوٹے کاڑھے گئے ہوں۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب التاسع فی اللبس مایکرہ...إلخ،ج۵،ص۳۳۲.
7 ۔ یعنی چاندی یا سونے کے تاروں کی ڈور۔
8 ۔ ''الدرالمختار'' کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۳.
9 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۴.
باندھنا بھی منع ہے۔ ان سب میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ یہ چیز چار انگل سے کم ہے کیونکہ یہ چیز پوری ریشم کی ہے۔ سونے چاندی کی زنجیر گھڑی میں لگا کر اس کو گلے میں پہننا یا کاج میں لٹکانا یا کلائی پر باندھنا منع ہے۔ (1) (ردالمحتار)بلکہ دوسری دھات مثلاً تانبے، پیتل، لوہے وغیرہ کی چینوں کا بھی یہی حکم ہے، کیونکہ ان دھاتوں کا بھی پہننا ناجائز ہے اور اگر ان چیزوں کو لٹکایا نہیں اور نہ کلائی پر باندھا بلکہ جیب میں پڑی رہتی ہیں تو ناجائز نہیں کہ ان کے پہننے سے ممانعت ہے، جیب میں رکھنا منع نہیں۔
مسئلہ ۲۳: قرآن مجید کا جزدان ایسے کپڑے کا بنایا جس کا پہننا ممنوع ہے تو اس میں قرآن مجید رکھ سکتا ہے، مگر اُس میں فیتا لگا کر گلے میں ڈالنا ممنوع ہے یعنی ممانعت اُسی صورت میں ہے کہ جزدان ریشم یا زری کا ہو۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: ریشم کی تھیلی میں روپیہ رکھنا منع نہیں ،ہاں اس کو گلے میں لٹکانا منع ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: ریشم کا بٹوا گلے میں لٹکانا منع ہے اور اُس میں چھالیا، تمباکو رکھ کر اُسے جیب میں رکھنا اور اُس میں سے کھانا منع نہیں کہ اُس کا پہننا منع ہے نہ کہ مطلقاً استعمال اور زری کے بٹوے کا مطلقاً استعمال منع ہے، کیونکہ سونے چاندی کا مطلقاً استعمال منع ہے، اس میں سے چھالیا، تمباکو کھانا بھی منع ہے۔
مسئلہ ۲۶: فصاد فصد لیتے وقت (4)پٹی باندھتا ہے تاکہ رگیں ظاہر ہوجائیں، یہ پٹی ریشم کی ہو تو مرد کو باندھنا ناجائز ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: ریشم کے مُصلّے پر نماز پڑھنا حرام نہیں۔ (6) (ردالمحتار)مگر اس پر پڑھنا نہ چاہیے۔
مسئلہ ۲۸: مکان کو ریشم، چاندی، سونے سے آراستہ کرنا مثلاً دیواروں، دروازوں پر ریشمی پردے لٹکانا اور جگہ جگہ قرینہ سے سونے چاندی کے ظروف و آلات (7)رکھنا، جس سے مقصود محض آرائش و زیبائش ہو تو کراہت ہے اور اگر تکبر وتفاخر سے ایسا کرتا ہے تو ناجائز ہے۔ (8) (ردالمحتار)غالباً کراہت کی وجہ یہ ہوگی کہ ایسی چیزیں اگرچہ ابتداءً تکبر سے نہ ہوں، مگر
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۴.
2 ۔ المرجع السابق،ص۵۸۵
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۴.
4 ۔ یعنی فصد کھولنے والا رَگ سے خون نکالتے وقت۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس ما یکرہ...إلخ،ج۵،ص۳۳۲.
6 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۵.
7 ۔ یعنی برتن اور اَوزار۔
8 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۵.
بالآخر عموماً ان سے تکبر پیدا ہوجایا کرتا ہے۔
مسئلہ ۲۹: فقہا وعلما کو ایسے کپڑے پہننے چاہیے کہ وہ پہچانے جائیں تاکہ لوگوں کو ان سے استفادہ (1)کا موقع ملے اور علم کی وقعت لوگوں کے ذہن نشین ہو۔ (2) (ردالمحتار)اور اگر اُس کو اپنا ذاتی تشخص و امتیاز مقصود ہو تو یہ مذموم ہے۔
مسئلہ ۳۰: کھانے کے وقت بعض لوگ گھٹنوں پر کپڑا ڈال لیتے ہیں تاکہ اگر شور باٹپکے تو کپڑے خراب نہ ہوں، جو کپڑا گھٹنوں پر ڈالا گیا اگر ریشم ہے تو ناجائز ہے۔ ریشم کا رومال ناک وغیرہ پونچھنے یا وضو کے بعد ہاتھ مونھ پونچھنے کے لیے جائز ہے یعنی جبکہ اس سے پونچھنے کا کام لے، رومال کی طرح اُسے نہ رکھے اور تکبر بھی مقصود نہ ہو۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: سونے چاندی کے بٹن کرتے یا اچکن میں لگانا جائز ہے، جس طرح ریشم کی گھنڈی جائز ہے۔ (4)(درمختار)یعنی جبکہ بٹن بغیر زنجیر ہوں اور اگر زنجیر والے بٹن ہوں تو ان کا استعمال ناجائز ہے کہ یہ زنجیر زیور کے حکم میں ہے، جس کا استعمال مرد کو ناجائز ہے۔
مسئلہ ۳۲: آشوب چشم (5)کی وجہ سے مونھ پر سیاہ ریشم کا نقاب ڈالنا جائز ہے کہ یہ عذر کی صورت ہے۔ (6)(درمختار)اس زمانے میں رنگین چشمے بکتے ہیں، جو دھوپ اور روشنی کے موقع پر لگائے جاتے ہیں، ایسا چشمہ ہوتے ہوئے ریشم کے استعمال کی ضرورت نہیں رہتی۔
مسئلہ ۳۳: نابالغ لڑکوں کو بھی ریشم کے کپڑے پہنانا حرام ہے اور گناہ پہنانے والے پر ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: کسم یا زعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مرد کو منع ہے گہرا رنگ ہو کہ سرخ ہوجائے یا ہلکا ہو کہ زرد رہے دونوں کا ایک حکم ہے۔ عورتوں کو یہ دونوں قسم کے رنگ جائز ہیں، ان دونوں رنگوں کے سوا باقی ہر قسم کے رنگ زرد، سرخ، دھانی، بسنتی، چمپئی، نارنجی وغیرہا مردوں کو بھی جائز ہیں۔ اگرچہ بہتر یہ ہے کہ سرخ رنگ یا شوخ رنگ کے کپڑے مرد نہ پہنے، خصوصاً جن رنگوں میں زنانہ پن ہو مرد اس کو بالکل نہ پہنے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ یعنی فائدہ حاصل کرنے۔ نفع اٹھانے۔
2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۶.
3 ۔ المرجع السابق،ص۵۸۷۔۵۸۸.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۶.
5 ۔ یعنی آنکھ دُکھنا۔
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۶.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۱.
8 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۰.
اور یہ ممانعت رنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ عورتوں سے تشبہ ہوتا ہے اس وجہ سے ممانعت ہے، لہٰذا اگر یہ علت نہ ہو تو ممانعت بھی نہ ہوگی، مثلاً بعض رنگ اس قسم کے ہیں کہ عمامہ رنگا جاسکتا ہے اور کرتہ پاجامہ اسی رنگ سے رنگا جائے یا چادر رنگ کر اوڑھیں تو اس میں زنانہ پن ظاہر ہوتا ہے تو عمامہ کو جائز کہا جائے گا اور دوسرے کپڑوں کو مکروہ۔
مسئلہ ۳۵: جس کے یہاں میت ہوئی اسے اظہارِ غم میں سیاہ کپڑے پہننا ،ناجائز ہے۔ (1) (عالمگیری) سیاہ بلے لگانا(2) بھی ناجائز ہے کہ اولاً تو وہ سوگ کی صورت ہے، دوم یہ کہ نصاریٰ کا یہ طریقہ ہے۔
ایام محرم میں یعنی پہلی محرم سے بارہویں تک تین قسم کے رنگ نہ پہنے جائیں، سیاہ کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے اور سبز کہ یہ مبتدعین یعنی تعزیہ داروں کا طریقہ ہے اور سُرخ کہ یہ خارجیوں کا طریقہ ہے ،کہ وہ معاذ اﷲاظہارِ مسرت کے لیے سُرخ پہنتے ہیں۔(3) (اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ،)
مسئلہ ۳۶: اون اور بالوں کے کپڑے انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔ سب سے پہلے سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کپڑے پہنے۔ حدیث میں ہے کہ اون کے کپڑے پہن کر اپنے دلوں کو منور کرو کہ یہ دنیا میں مذلّت ہے اور آخرت میں نور ہے۔ (4) (عالمگیری)
اور صوف یعنی اون کے کپڑے، اولیائے کاملین اور بزرگانِ دین نے پہنے اور ان کو صوفی کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ صوف یعنی اون کے کپڑے پہنتے تھے۔ اگرچہ ان کے جسم پر کالی کملی ہوتی، مگر دل مخزن انوارِ الٰہی اور معدن اسرارِ نامتناہی ہوتا، مگر اس زمانے میں اون کے کپڑے بہت بیش قیمت ہوتے ہیں اور ان کا شمار لباسہائے فاخرہ میں ہوتا ہے، یہ چیزیں فقرا اور غربا کو کہاں ملیں، انھیں تو امرا و رؤسا استعمال کرتے ہیں۔
فقہا اور حدیث کا مقصد غالباً ان بیش قیمت اونی کپڑوں سے پورا نہ ہوگا، بلکہ وہی معمولی دیسی کمبل جو کم وقعت سمجھے جاتے ہیں، ان کے استعمال سے وہ بات پوری ہوگی۔
مسئلہ ۳۷: پاجامہ پہننا سنت ہے، کیونکہ اس میں بہت زیادہ ستر عورت ہے۔ (5) (عالمگیری)اس کو سنت بایں معنی کہا گیا ہے کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اسے پسند فرمایا اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے پہنا۔ خود حضور اقدس
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۳.
2 ۔یعنی بازو پر سیاہ پٹی لگانا۔
3 ۔ماخوذازفتاوی رضویہ،ج۲۲،ص۱۸۵.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۳.
5 ۔ المرجع السابق.
صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم تہبند پہنا کرتے تھے، پاجامہ پہننا ثابت نہیں۔
مسئلہ ۳۸: مرد کو ایسا پاجامہ پہننا جس کے پائنچے کے اگلے حصے پشت قدم پر رہتے ہوں مکروہ ہے۔ کپڑوں میں اسبال یعنی اتنا نیچا کرتہ، جبہ، پاجامہ، تہبند پہننا کہ ٹخنے چھپ جائیں ممنوع ہے، یہ کپڑے آدھی پنڈلی سے لے کر ٹخنے تک ہوں یعنی ٹخنے نہ چھپنے پائیں۔ (1)(عالمگیری)
مگر پاجامہ یا تہبند بہت اونچا پہننا آج کل وہابیوں کا طریقہ ہے، لہٰذا اتنا اونچا بھی نہ پہنے کہ دیکھنے والا وہابی سمجھے۔ اس زمانے میں بعض لوگوں نے پاجامے بہت نیچے پہننے شروع کردیے ہیں کہ ٹخنے تو کیا ایڑیاں بھی چھپ جاتی ہیں، حدیث میں اس کی بہت سخت ممانعت آئی ہے، یہاں تک کہ ارشاد فرمایا:''ٹخنے سے جو نیچا ہو، وہ جہنم میں ہے۔''(2)
اور بعض لوگ اتنا اونچا پہنتے ہیں کہ گھٹنے بھی کھل جاتے ہیں جس کو نیکر کہتے ہیں، یہ نصرانیوں سے سیکھا ہے،اونچا پہنتے ہیں تو گھٹنے کھول دیتے ہیں اور نیچا پہنتے ہیں تو ایڑیاں چھپا دیتے ہیں۔افراط و تفریط سے علیحدہ ہو کر مسنون طریقہ نہیں اختیار کرتے۔
بعض لوگ چوڑی دار پاجامہ پہنتے ہیں، اس میں بھی ٹخنے چھپتے ہیں اور عضو کی پوری ہیأت نظر آتی ہے۔ عورتوں کو بالخصوص چوڑی دار پاجامہ نہیں پہننا چاہیے، عورتوں کے پاجامے ڈھیلے ڈھالے ہوں اور نیچے ہوں کہ قدم چھپ جائیں، ان کے لیے جہاں تک پاؤں کا زیاد ہ حصہ چھپے اچھا ہے۔
مسئلہ ۳۹: موٹے کپڑے پہننا اور پرانا ہوجائے تو پیوند لگا کر پہننا اسلامی طریقہ ہے۔ (3) (عالمگیری)حدیث میں فرمایاکہ ''جب تک پیوند لگا کر پہن نہ لو، کپڑے کو پرانا نہ سمجھو۔''(4)
اور بہت باریک کپڑے نہ پہنے جس سے بدن کی رنگت جھلکے، خصوصاً تہبند کہ اگر یہ باریک ہے تو ستر عورت نہ ہوسکے گا۔ اس زمانہ میں ایک یہ بلا بھی پیدا ہوگئی ہے کہ ساڑی کا تہبند پہنتے ہیں جس سے بالکل ستر عورت نہیں ہوتا اور اسی کو پہن کر بعض لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں اور ان کی نماز بھی نہیں ہوتی کہ ستر عورت نماز میں فرض ہے۔ بعض لوگ پاجامہ اور تہبند کی جگہ دھوتی باندھتے ہیں، دھوتی باندھنا ہندؤں کا طریقہ ہے اور ا س سے ستر عورت بھی نہیں ہوتا، چلنے میں ران کا پچھلا حصہ کھل جاتا ہے اور نظر آتا ہے۔
مسئلہ ۴۰: سدل یعنی سریاشانے پر کپڑا ڈال کر اس کے کنارے لٹکائے رکھنا نماز میں مکروہ ہے، جس کا بیان گزرچکا
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۳.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس، باب ما اسفل من الکعبین فھو في النار،الحدیث:۵۷۸۷،ج۴،ص۴۶.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۳.
4 ۔ ''سنن الترمذی''،کتاب اللباس،باب ماجاء فی ترقیع الثوب ،الحدیث:۱۷۸۷،ج۳،ص۳۰۲.
مگر نماز میں نہ ہو تو مکروہ ہے یا نہیں اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر کرتہ یا پاجامہ یا تہبند پہنے ہوئے ہے اور چادر کو سریا شانوں سے لٹکادیا تو مکروہ نہیں اور اگر کرتہ نہیں پہنے ہوئے ہے تو سدل مکروہ ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: پوستین (2)پہننا جائز ہے۔ بزرگانِ دین، علما و مشایخ نے پہنی ہے۔ جو جانور حلال نہیں، اگر اس کو ذبح کرلیا ہو یا اس کے چمڑے کی دباغت کرلی ہو تو اُس کی پوستین بھی پہنی جاسکتی ہے اور اس کی ٹوپی اوڑھی جاسکتی ہے، مثلاً لومڑی کی پوستین یا سمور کی پوستین کہ بلی کی شکل کا ایک جانور ہوتا ہے جس کی پوستین بنائی جاتی ہے۔ اسی طرح سنجاب کی پوستین، یہ گھونس (3)کی شکل کا جانور ہوتا ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: درندہ جانور شیرچیتا وغیرہ کی پوستین میں بھی حرج نہیں اس کو پہن سکتے ہیں، اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ (5) (عالمگیری اگرچہ افضل ا س سے بچنا ہے۔ حدیث میں''چیتے کی کھال پر سوار ہونے کی ممانعت آئی ہے۔'' (6)
مسئلہ ۴۳: ناک مونھ پونچھنے کے لیے رومال رکھنا یا وضو کے بعد ہاتھ مونھ پونچھنے کے لیے رومال رکھنا جائز ہے، اسی طرح پسینہ پونچھنے کے لیے رومال رکھنا جائز ہے اور اگر براہ تکبر ہو تو منع ہے۔ (7) (عالمگیری)
عمامہ باندھنا سنت ہے، خصوصاً نماز میں کہ جو نماز عمامہ کے ساتھ پڑھی جاتی ہے، اس کا ثواب بہت زیادہ ہوتا ہے۔ عمامہ کے متعلق چند حدیثیں اوپر ذکر کی جاچکی ہیں۔
مسئلہ ۱: عمامہ باندھے تو اس کا شملہ پیٹھ پر دونوں شانوں کے درمیان لٹکالے۔ شملہ کتنا ہونا چاہیے اس میں اختلاف ہے، زیادہ سے زیادہ اتنا ہو کہ بیٹھنے میں نہ دبے۔ (8) (عالمگیری)بعض لوگ شملہ بالکل نہیں لٹکاتے، یہ سنت کے خلاف ہے اور بعض شملہ کو اوپر لا کر عمامہ میں گھرس دیتے ہیں، یہ بھی نہ چاہیے خصوصاً حالتِ نماز میں ایسا ہے تو نماز مکروہ ہوگی۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۳.
2 ۔ یعنی کھال کا کوٹ یا کُرتہ۔ 3 ۔ یعنی بڑاچوہا۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۳.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''المصنف'' لعبد الرزاق،کتاب الطہارۃ،باب جلود السباع، رقم:۲۲۰،ج۱،ص۵۴.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۳.
8 ۔ المرجع السابق،ص۳۳۰.
مسئلہ ۲: عمامہ کو جب پھر سے باندھنا ہو تو اسے اتار کر زمین پر پھینک نہ دے، بلکہ جس طرح لپیٹا ہے اُسی طرح اودھیڑا جائے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: ٹوپی پہننا خود حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے ثابت ہے۔ (2) (عالمگیری)مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام عمامہ بھی باندھتے تھے یعنی عمامہ کے نیچے ٹوپی ہوتی اور یہ فرمایاکہ ''ہم میں اور اُن میں فرق ٹوپی پر عمامہ باندھنا ہے۔''(3)یعنی ہم دونوں چیزیں رکھتے ہیں اور وہ صرف عمامہ ہی باندھتے ہیں، اس کے نیچے ٹوپی نہیں رکھتے۔ چنانچہ یہاں کے کفار بھی اگر پگڑی باندھتے ہیں تو اس کے نیچے ٹوپی نہیں پہنتے۔
بعض نے حدیث کا یہ مطلب بیان کیا کہ صرف ٹوپی پہننا مشرکین کا طریقہ ہے، مگر یہ قول صحیح نہیں کیونکہ مشرکینِ عرب بھی عمامہ باندھا کرتے تھے۔
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں مذکور ہے کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا چھوٹا عمامہ سات ہاتھ کا اور بڑا عمامہ بارہ ہاتھ کا تھا۔ (4)بس اسی سنت کے مطابق عمامہ رکھے، اس سے زیادہ بڑا نہ رکھے۔ بعض لوگ بہت بڑے عمامے باندھتے ہیں، ایسا نہ کرے کہ سنت کے خلاف ہے۔ مارواڑ کے علاقے میں بہت سے لوگ پگڑیاں باندھتے ہیں، جو بہت کم چوڑی ہوتی ہیں اور چالیس پچاس گز لمبی ہوتی ہیں، اس طرح کی پگڑیاں مسلمان نہ باندھیں۔
بزرگانِ دین، اولیا و صالحین کے مزاراتِ طیبہ پر غلاف ڈالنا جائز ہے، جبکہ یہ مقصود ہو کہ صاحبِ مزار کی وقعت نظر عوام میں پیدا ہو، اُن کا ادب کریں اُن کے برکات حاصل کریں۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: یادداشت کے لیے یعنی اس غرض سے کہ بات یاد رہے بعض لوگ رومال یا کمر بند میں گرہ لگالیتے ہیں یا کسی جگہ انگلی وغیرہ پر ڈورا باندھ لیتے ہیں، یہ جائز ہے اور بلاوجہ ڈورا باندھ لینا مکروہ ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۵: گلے میں تعویذ لٹکانا جائز ہے، جبکہ وہ تعویذ جائز ہو یعنی آیاتِ قرآنیہ یا اسماء الٰہیہ (7)یا ادعیہ (8) سے تعویذ کیا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب التاسع في اللبس...إلخ،ج۵،ص۳۳۰.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب اللباس، باب العمائم علی القلانس،الحدیث:۱۷۹۱،ج۳،ص۳۰۵.
4 ۔ ''مرقاۃ المفاتیح''شرح''مشکاۃ المصابیح''،کتاب اللباس،الباب الثانی،تحت الحدیث:۴۳۴۰،ج۸، ص۱۴۸.
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۹.
6 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۹.
7 ۔ اﷲ تعالٰی کے ناموں۔ 8 ۔ دعاؤں۔
جائے اور بعض حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے، اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں، جو زمانہ جاہلیت میں کیے جاتے تھے، اسی طرح تعویذات اور آیات و احادیث و ادعیہ کو رکابی میں لکھ کر مریض کو بہ نیت شفا پلانا بھی جائز ہے۔ جنبو حائض و نفسابھی تعویذات کو گلے میں پہن سکتے ہیں، بازو پر باندھ سکتے ہیں جبکہ غلاف میں ہوں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: بچھونے یا مُصلّے پر کچھ لکھا ہوا ہو تو اس کو استعمال کرنا ناجائز ہے۔ یہ عبارت اس کی بناوٹ میں ہو یا کاڑھی گئی ہو (2) یا روشنائی سے لکھی ہو، اگرچہ حروف مفردہ لکھے ہوں کیونکہ حروف مفردہ (3) کا بھی احترام ہے۔ (4) (ردالمحتار) اکثر دسترخوان پر عبارت لکھی ہوتی ہے ایسے دسترخوانوں کو استعمال میں لانا، اُن پر کھانا کھانا نہ چاہیے۔ بعض لوگوں کے تکیوں پر اشعار لکھے ہوتے ہیں، ان کا بھی استعمال نہ کیا جائے۔
مسئلہ ۷: بعض کاشتکار اپنے کھیتوں میں کپڑا لپیٹ کر کسی لکڑی پر لگادیتے ہیں، اس سے مقصود نظرِ بد سے کھیتوں کو بچانا ہوتا ہے کیونکہ دیکھنے والے کی نظر پہلے اس پر پڑے گی، اس کے بعد زراعت پر پڑے گی اور اُس صورت میں زراعت کو نظر نہیں لگے گی، ایسا کرنا ناجائز نہیں کیونکہ نظر کا لگنا صحیح ہے، احادیث سے ثابت ہے، اس کا انکار نہیں کیاجاسکتا۔ حدیث میں ہے کہ جب اپنی یا کسی مسلمان بھائی کی چیز دیکھے اور پسند آئے تو برکت کی دعا کرے یہ کہے:
تَبَارَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِـقِیْنَ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْہِ .
یا اردو میں یہ کہدے کہ اﷲ(عزوجل)برکت کرے۔ اس طرح کہنے سے نظر نہیں لگے گی۔ (5) (ردالمحتار)
حدیث ۱: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سناکہ ''جوتے بکثرت استعمال کرو کہ آدمی جب تک جوتے پہنے ہوئے ہے، گویا وہ سوار ہے یعنی کم تھکتا ہے۔'' (6)
حدیث ۲: صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو میں نے ایسی
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۶۰۰.
2 ۔ یعنی کڑھائی کی گئی ہو۔ 3 ۔ یعنی جُدا جُدا لکھے ہوئے حروف۔
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۶۰۰.
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۶۰۱.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس، باب إستحباب لبس النعال...إلخ، الحدیث:۶۷۔(۲۰۹۷)،ص۶۱۱۱.
نعلین پہنے دیکھا، جن میں بال نہ تھے۔ (1)
حدیث ۳: صحیح بخاری میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی نعلین میں دو قبال تھے۔ (2)یعنی انگلیوں کے مابین دو تسمے تھے۔
حدیث ۴: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہ ریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''جب جوتا پہنے تو پہلے دہنے پاؤں میں پہنے اور جب اوتارے تو پہلے بائیں پاؤں کا اُتارے کہ دہنا پہننے میں پہلے ہو اور اُتارنے میں پیچھے۔'' (3)
حدیث ۵: صحیح بخار ی و مسلم میں ابوہ ریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''ایک جوتا پہن کر نہ چلے، دونوں اتار دے یا دونوں پہن لے۔''(4)
حدیث ۶: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو فقط ایک جوتا پہن کر نہ چلے بلکہ تسمہ کو درست کرلے اورایک موزہ پہن کر نہ چلے۔'' (5)
حدیث ۷: ترمذی نے جابر سے اور ابن ماجہ نے ابوہ ریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ (6)
یہ حکم ان جوتوں کا ہے جن کو کھڑے ہو کر پہننے میں دِقت ہوتی ہے، جن میں تسمے باندھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح بوٹ جوتا بھی بیٹھ کر پہنے کہ اس میں بھی فیتہ باندھنا پڑتا ہے اور کھڑے ہو کر باندھنے میں دشواری ہوتی ہے اور جو اس قسم کے نہ ہوں جیسے سلیم شاہی یا پمپ یا وہ چپل جس میں تسمہ باندھنا نہیں ہوتا، ان کو کھڑے ہو کرپہننے میں مضایقہ نہیں۔
حدیث ۸: ترمذی نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کبھی ایک نعل پہن کر بھی چلے ہیں۔(7)یہ بیان جواز کے لیے ہوگا یا دو ۲ ایک قدم چلنا ہوا ہوگا مثلاً حجرے کا دروازہ کھولنے کے لیے۔
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس، باب النعال السبتیۃ وغیرھا، الحدیث:۵۸۵۱،ج۴،ص۶۴.
2 ۔ المرجع السابق، باب قبالان في نعل...إلخ، الحدیث:۵۸۵۷،ج۴،ص۶۶.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ھریرۃ، الحدیث:۱۰۰۱۰،ج۳،ص۴۹۴.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس، باب لایمشی في نعل واحدۃ، الحدیث:۵۸۵۶،ج۴،ص۶۶.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس، باب النھی عن اشتمال الصماء، الحدیث:۷۱۔(۲۰۹۹)،ص۱۱۶۲.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب اللباس، باب الإنتعال قائما، الحدیث:۳۶۱۸،ج۴،ص۱۶۷.
7 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب اللباس، باب ماجاء في الرخصۃ في المشی...إلخ،الحدیث:۱۷۸۴،ج۳،ص۳۰۱.
حدیث ۹: ابو داود نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، کہ کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے کہا کہ ایک عورت (مردوں کی طرح) جوتے پہنتی ہے۔ انھوں نے فرمایا:رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔(1)
یعنی عورتوں کو مردانہ جوتا نہیں پہننا چاہیے، بلکہ وہ تمام باتیں جن میں مردوں اور عورتوں کا امتیاز ہوتا ہے، ان میں ہ ر ایک کودوسرے کی وضع اختیار کرنے سے ممانعت ہے، نہ مرد عورت کی وضع اختیار کرے، نہ عورت مرد کی۔
حدیث ۱۰: ابو داود نے عبداﷲ بن بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ کسی نے فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہا کہ کیا بات ہے کہ آپ کو پراگندہ سردیکھتا ہوں؟ انھوں نے کہا، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم ہم کو کثرتِ ارفاہ یعنی بنے سنورے رہنے سے منع فرماتے تھے۔ اُس نے کہا، کیا بات ہے کہ آپ کو ننگے پاؤں دیکھتا ہوں؟ انھوں نے کہا، کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہم کو حکم فرماتے کہ کبھی کبھی ہم ننگے پاؤں رہیں۔ (2)
مسئلہ ۱: بال کے چمڑے کی جوتیاں جائز ہیں، بلکہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے بعض مرتبہ اس قسم کی نعلین استعمال فرمائی ہیں۔ لوہے کی کیلوں سے سلے ہوئے جوتے جائز ہیں، بلکہ اس زمانے میں ایسے بہت جوتے بنتے ہیں جن کی سلائی کیلوں سے ہوتی ہے۔ (3) (عالمگیری)
حدیث ۱: صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے جب یہ ارادہ فرمایا کہ کسریٰ و قیصر و نجاشی کو خطوط لکھے جائیں تو کسی نے یہ عرض کی، کہ وہ لوگ بغیر مہ رکے خط کو قبول نہیں کرتے، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس میں یہ نقش تھا ''محمدرسول اﷲ ۔'' (4)
امام بخاری کی روایت میں ہے، کہ ''انگوٹھی کا نقش تین سطر میں تھا۔
ایک سطر میں محمد ، دوسری میں رسول، تیسری میں اﷲ۔''(5)
حدیث ۲: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب في لباس النساء...إلخ، الحدیث:۴۰۹۹،ج۴،ص۸۴.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الترجل، باب النھی عن کثیر من الارفاہ...إلخ، الحدیث:۴۱۶۰،ج۴،ص۱۰۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس...إلخ،ج۵،ص۳۳۳.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس،باب فی اتخاذ النبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتما...إلخ،الحدیث:۵۶۔(۲۰۹۲)،ص۱۱۵۹.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس، باب ہل یجعل نقش الخاتم ثلاثۃ أسطر،الحدیث:۵۸۷۸،ج۴،ص۷۱.
نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔(1)
اور ایک روایت میں ہے، کہ اس کو دہنے ہاتھ میں پہنا پھر اس کو پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس میں یہ نقش تھا۔ محمد رسول اﷲاور یہ فرمایاکہ ''کوئی شخص میری انگوٹھی کے نقش کے موافق اپنی انگوٹھی میں نقش کندہ نہ کرائے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)جب انگوٹھی پہنتے تو نگینہ ہتھیلی کی طرف ہوتا۔ (2)
حدیث ۳: صحیح بخاری میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اُس کا نگینہ بھی تھا۔ (3)
حدیث ۴: صحیح بخاری و مسلم میں انھیں سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے دہنے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی پہنی اور اس کا نگینہ حبشی ساخت کا تھا اور نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے۔ (4)
حدیث ۵: مسلم کی روایت انھیں سے ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی انگوٹھی اس انگلی میں تھی یعنی بائیں ہاتھ کی چھنگلیا میں۔ (5)
حدیث ۶: صحیح مسلم میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس میں یا اس میں یعنی بیچ والی میں یا کلمہ کی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے مجھے منع فرمایا۔ (6)
حدیث ۷: ابن ماجہ نے عبداﷲبن جعفر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے اور ابو داود و نسائی نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم دہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ (7)اور ابو داود نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔ (8)
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس،باب تحریم خاتم الذھب علی الرجال...إلخ،الحدیث:۵۳۔(۲۰۹۱)،ص۱۱۵۷.
2 ۔ المرجع السابق، باب لبس النبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتما،الحدیث:۵۵۔(۲۰۹۱)،ص۱۱۵۸.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس،باب فص الخاتم،الحدیث:۵۸۷۰،ج۴،ص۶۹.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس، باب في خاتم الورق فصہ حبشی،الحدیث:۶۲۔(۲۰۹۴)،ص۱۱۶۰.
5 ۔ المرجع السابق،باب في لبس الخاتم في الخنصر من الید، الحدیث:۶۳۔(۲۰۹۵)،ص۱۱۶۰.
6 ۔ المرجع السابق، باب النھی عن التختم في الوسطی...إلخ، الحدیث:۶۵۔(۲۰۹۵)،ص۱۱۶۱.
7 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الخاتم، باب ماجاء في التختم في الیمین أوالیسار، الحدیث:۴۲۲۶،ج۴،ص۱۲۳.
8 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۲۲۷،ج۴،ص۱۲۴.
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی دہنے میں پہنی اور کبھی بائیں میں، مگر بیہقی نے کہا کہ دہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہننا منسوخ ہے۔ (1)
حدیث ۸: ابو داود و نسائی نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے دہنے ہاتھ میں ریشم لیا اور بائیں ہاتھ میں سونا پھر یہ فرمایاکہ ''یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں''(2)
حدیث ۹: صحیح مسلم میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے قسی (یہ ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے)اور کسم کے رنگے ہوئے کپڑے اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور رکوع میں قرآن مجید پڑھنے سے منع فرمایا۔ (3)
حدیث ۱۰: صحیح مسلم میں عبداﷲبن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اُس کو اُتار کر پھینک دیا اور یہ فرمایاکہ کیا کوئی اپنے ہاتھ میں انگارہ رکھتا ہے؟ جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)تشریف لے گئے۔کسی نے ان سے کہا، اپنی انگوٹھی اٹھالو اور کسی کام میں لانا۔ انھوں نے کہا، خدا کی قسم!میں اُسے کبھی نہ لوں گا، جبکہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اُسے پھینک دیا۔ (4)
حدیث ۱۱: ابو داود و نسائی نے معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے چیتے کی کھال پر سوار ہونے سے اور سونا پہننے سے ممانعت فرمائی، مگر ریزہ ریزہ کرکے یعنی اگر کپڑے میں سونے کے باریک باریک ریزہ لگائے جائیں تو ممنوع نہیں۔ (5)
حدیث ۱۲: امام مالک رحمۃ اﷲعلیہ موطا میں فرماتے ہیں، کہ بچوں کو سونا پہنانا برا جانتا ہوں، کیونکہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے، کہ ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے سونے کی انگوٹھی سے ممانعت فرمائی۔''(6)لہٰذا مردوں کے لیے برا ہے، چھوٹے اور بڑے دونوں کے لیے۔
حدیث ۱۳: ترمذی و ابو داود و نسائی نے بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص پیتل کی انگوٹھی پہنے
1 ۔ انظر:''التوشیح''شرح''الجامع الصحیح''للسیوطي،کتاب اللباس،باب من جعل فص الخاتم في بطن کفہ،
تحت الحدیث:۵۸۷۶،ج۸،ص۳۵۹۸.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب في الحریرللنساء،الحدیث:۴۰۵۷،ج۴،ص۷۱.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس، باب النھی عن لبس الرجل الثوب المعصفر،الحدیث:۲۹۔(۲۰۷۸)،ص۱۱۵۲.
4 ۔ المرجع السابق، باب تحریم خاتم الذھب علی الرجال...إلخ،الحدیث:۵۲۔(۲۰۹۰)،ص۱۱۵۷.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الخاتم، باب ماجاء في الذھب للنساء، الحدیث:۴۲۳۹،ج۴،ص۱۲۷.
6 ۔ ''الموطأ'' للإمام مالک،کتاب اللباس، باب ماجاء في لبس الثیاب المصبغۃ والذھب، الحدیث:۱۷۳۷،ج۲،ص۴۰۹.
ہوئے تھے، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''کیا بات ہے کہ تم سے بُت کی بو آتی ہے؟ انھوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آئے، فرمایا:کیا بات ہے کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے ہو؟ اسے بھی پھینکا اور عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کس چیز کی انگوٹھی بناؤں؟ فرمایا:چاندی کی بناؤ اور ایک مثقال پورا نہ کرو یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم کی ہو۔''(1)
ترمذی کی روایت میں ہے کہ لوہے کے بعد سونے کی انگوٹھی پہن کر آئے، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا:کہ ''کیا بات ہے کہ تم کو جنتیوں کا زیور پہنے دیکھتا ہوں۔''(2)یعنی سونا تو اہلِ جنت جنت میں پہنیں گے۔
حدیث ۱۴: ابو داود و نسائی نے عبداﷲ بن مسعودرضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)دس ۱۰ چیزوں کو برا بتاتے تھے:
(1) زردی یعنی مرد کو خلوق استعمال کرنا۔ (2) سپید بالوں میں سیاہ خضاب کرنا۔ (3) تہبند لٹکانا۔ (4)سونے کی انگوٹھی پہننا۔ (5) بے محل عورت کا زینت کو ظاہر کرنا یعنی شوہ ر اور محارم کے سوا دوسروں کے سامنے اظہارِ زینت۔(6) پانسا پھینکنا یعنی چوسر اور شطرنج وغیرہ کھیلنا۔ (7) جھاڑ پھونک کرنا، مگر معوذات سے یعنی جس میں ناجائز الفاظ ہوں ان سے جھاڑ پھونک منع ہے۔ اور(8) تعویذ باندھنا یعنی وہ تعویذ باندھنا جس میں خلاف شرع الفاظ ہوں۔ اور(9)پانی کو غیر محل میں گرانا یعنی وطی کے بعد منی کو باہ ر گرانا کہ یہ آزاد عورت میں بغیر اجازت ناجائز ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد لواطت ہو۔ اور (10) بچہ کو فاسد کردینا، مگر اس دسویں کو حرام نہیں کیا یعنی بچہ کے دودھ پینے کے زمانے میں اس کی ماں سے وطی کرنا کہ اگر وہ حاملہ ہوگئی تو بچہ خراب ہوجائے گا۔(3)
حدیث ۱۵: ابو داود نے عبداﷲبن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں کی لونڈی حضرت زبیر کی لڑکی کو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس لائی اور اُس کے پاؤں میں گھنگرو تھے۔ حضرت عمر نے انھیں کاٹ دیا اور فرمایاکہ میں نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے سنا ہے کہ ''ہرگھنگرو کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔'' (4)
حدیث ۱۶: ابو داود نے روایت کی، کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکے پاس ایک لڑکی آئی، جس کے پاؤں میں
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الخاتم، باب ماجاء في خاتم الحدید،الحدیث:۴۲۲۳،ج۴،ص۱۲۲.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب اللباس، باب ماجاء في خاتم الحدید، الحدیث:۱۷۹۲،ج۳،ص۳۰۵.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الخاتم، باب ماجاء في خاتم الذہب،الحدیث:۴۲۲۲،ج۴،ص۱۲۱.
4 ۔ المرجع السابق، باب ماجاء في الجلاجل،الحدیث:۴۲۳۰،ج۴،ص۱۲۴.
گھنگرو بج رہے تھے، فرمایاکہ اسے میرے پاس نہ لانا، جب تک اس کے گھنگرو کاٹ نہ لینا۔ میں نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے سنا ہے، کہ ''جس گھر میں جرس یعنی گھنٹی یا گھنگرو ہوتے ہیں، اس میں فرشتے نہیں آتے۔'' (1)
مسئلہ ۱: مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے، صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے، جو وزن میں ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اور سونے کی انگوٹھی بھی حرام ہے۔ تلوار کا حلیہ چاندی کا جائز ہے یعنی اس کے نیام اور قبضہ یا پرتلے (2)میں چاندی لگائی جاسکتی ہے، بشرطیکہ وہ چاندی موضع استعمال میں نہ ہو۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے، دوسری دھات کی انگوٹھی پہننا حرام ہے، مثلاً لوہا، پیتل، تانبا، جست وغیرہا ان دھاتوں کی انگوٹھیاں مرد و عورت دونوں کے لیے ناجائز ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ عورت سونا بھی پہن سکتی ہے اور مرد نہیں پہن سکتا۔
حدیث میں ہے کہ ایک شخص حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں پیتل کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوئے، فرمایا: کیا بات ہے کہ تم سے بُت کی بُو آتی ہے؟انھوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی پھر دوسرے دن لوہے کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوئے، فرمایا:کیا بات ہے کہ تم پر جہنمیوں کا زیور دیکھتا ہوں؟ انھوں نے اس کو بھی اتار دیا اور عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کس چیز کی انگوٹھی بناؤں؟ فرمایاکہ ''چاندی کی اور اس کو ایک مثقال پورا نہ کرنا۔''(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: بعض علما نے یشب (5)اور عقیق (6) کی انگوٹھی جائز بتائی اور بعض نے ہر قسم کے پتھر کی انگوٹھی کی اجازت دی اور بعض ان سب کی ممانعت کرتے ہیں۔
لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ چاندی کے سوا ہ ر قسم کی انگوٹھی سے بچاجائے، خصوصاً جبکہ صاحبِ ہدایہ جیسے جلیل القدر کا میلان ان سب کے عدم جواز (7)کی طرف ہے۔
مسئلہ ۴: انگوٹھی سے مراد حلقہ ہے نگینہ نہیں، نگینہ ہ ر قسم کے پتھر کا ہوسکتا ہے۔ عقیق، یاقوت، زمرد، فیروزہ وغیرہا سب کا نگینہ جائز ہے۔ (8) (درمختار)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الخاتم، باب ماجاء في الجلاجل،الحدیث:۴۲۳۱،ج۴،ص۱۲۵.
2 ۔ یعنی وہ پیٹی یا چوڑا تسمہ جس میں تلوار لٹکی رہتی ہے۔
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۲.
4 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۳.
''سنن أبي داود''،کتاب الخاتم، باب ماجاء في خاتم الحدید، الحدیث:۴۲۲۳،ج۴،ص۱۲۲.
5 ۔ یعنی ایک قیمتی پتھر کا نام جو مائل بہ سبزی ہوتا ہے۔ 6 ۔ یعنی ایک سرخ رنگ کا قیمتی پتھر۔ 7 ۔ یعنی ناجائز ہونے۔
8 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۵.
مسئلہ ۵: جب ان چیزوں کی انگوٹھیاں مرد و عورت دونوں کے لیے ناجائز ہیں تو ان کا بنانا اور بیچنا بھی ممنو ع ہوا کہ یہ ناجائز کام پر اعانت (1)ہے۔ ہاں بیع کی(2)ممانعت ویسی نہیں جیسی پہننے کی ممانعت ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: لوہے کی انگوٹھی پر چاندی کا خول چڑھا دیا کہ لوہا بالکل نہ دکھائی دیتا ہو، اس انگوٹھی کے پہننے کی ممانعت نہیں۔ (4) (عالمگیری)اس سے معلوم ہوا کہ سونے کے زیوروں میں جو بہت لوگ اندر تانبے یا لوہے کی سلاخ رکھتے ہیں اور اوپر سے سونے کا پتّر چڑھا دیتے ہیں، اس کا پہننا جائز ہے۔
مسئلہ ۷: انگوٹھی کے نگینہ میں سوراخ کرکے اس میں سونے کی کیل ڈال دینا جائز ہے۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۸: انگوٹھی اُنھیں کے لیے مسنون ہے جن کو مہ ر کرنے کی حاجت ہوتی ہے، جیسے سلطان و قاضی اور علما جو فتوی پر مہ ر کرتے ہیں، ان کے سوا دوسروں کے لیے جن کو مہ ر کرنے کی حاجت نہ ہو مسنون نہیں مگر پہننا جائز ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: مرد کو چاہیے کہ اگر انگوٹھی پہنے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھے اور عورتیں نگینہ ہاتھ کی پشت کی طرف رکھیں کہ ان کا پہننا زینت کے لیے ہے اور زینت اسی صورت میں زیادہ ہے کہ نگینہ باہ ر کی جانب رہے۔ (7) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۰: دہنے یا بائیں جس ہاتھ میں چاہیں انگوٹھی پہن سکتے ہیں اور چھنگلیا میں پہنی جائے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: انگوٹھی پر اپنا نام کندہ کراسکتا ہے اوراﷲتعالیٰ اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا نام پاک بھی کندہ کراسکتا ہے، مگر ''محمد رسول اﷲ''یعنی یہ عبارت کندہ نہ کرائے کہ یہ حضور ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی انگشتری پر تین سطروں میں کندہ تھی، پہلی سطر محمد (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)، دوسری رسول، تیسری اسم جلالت اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمادیا تھا کہ کوئی دوسرا شخص اپنی انگوٹھی پر یہ نقش کندہ نہ کرائے۔ نگینہ پر انسان یا کسی جانور کی تصویر کندہ نہ کرائے۔ (9) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: انگوٹھی وہی جائز ہے جو مردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینہ کی ہو اور اگر اس میں کئی نگینے ہوں تو اگرچہ
1 ۔ مدد۔ 2 ۔یعنی فروخت کرنے کی۔
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۵.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب العاشر في إستعمال الذھب والفضۃ،ج۵،ص۳۳۵.
5 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في اللبس،ج۴،ص۳۶۷.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب العاشر فيإستعمال الذھب والفضۃ،ج۵،ص۳۳۵.
7 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في اللبس،ج۴،ص۳۶۷.
8 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۶.
9 ۔ المرجع السابق.
وہ چاندی ہی کی ہو، مرد کے لیے ناجائز ہے۔ (1) (ردالمحتار)اسی طرح مردوں کے لیے ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننا یا چھلے پہننا بھی ناجائز ہے کہ یہ انگوٹھی نہیں، عورتیں چھلے پہن سکتی ہیں۔
مسئلہ ۱۳: ہلتے ہوئے دانتوں کو سونے کے تار سے بندھوانا جائز ہے اور اگر کسی کی ناک کٹ گئی ہو تو سونے کی ناک بنوا کر لگا سکتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں ضرورت کی وجہ سے سونے کو جائز کہا گیا، کیونکہ چاندی کے تار سے دانت باندھے جائیں یا چاندی کی ناک لگائی جائے تو اس میں تعفن (2) پیدا ہوگا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: دانت گر گیا اسی دانت کو سونے یا چاندی کے تار سے بندھواسکتا ہے، دوسرے شخص کا دانت اپنے میں نہیں لگاسکتا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: لڑکوں کو سونے چاندی کے زیور پہنانا حرام ہے اور جس نے پہنایا، وہ گنہگار ہوگا۔ اسی طرح بچوں کے ہاتھ پاؤں میں بلا ضرورت مہندی لگانا ناجائز ہے۔ عورت خود اپنے ہاتھ پاؤں میں لگاسکتی ہے، مگر لڑکے کو لگائے گی تو گنہگار
ہوگی۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب رات کی ابتدائی تاریکی آجائے یا یہ فرمایا کہ جب شام ہوجائے تو بچوں کو سمیٹ لو کہ اُس وقت شیاطین منتشر ہوتے ہیں پھر جب ایک گھڑی رات چلی جائے، اب اُنھیں چھوڑ دو اور بسم اﷲ کہہ کر دروازے بند کرلو کہ اس طرح جب دروازہ بند کیا جائے تو شیطان نہیں کھول سکتا اور بسم اﷲ کہہ کر مشکوں کے دہانے باندھو اور بسم اﷲ پڑھ کر برتنوں کو ڈھانک دو، ڈھانکو نہیں تو یہی کرو کہ اس پر کوئی چیز آڑی کرکے رکھ دو اور چراغوں کو بجھادو۔''(6)
اور صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے، کہ ''برتن چھپادو اور مشکوں کے مونھ بند کردو اور دروازے بھیڑ دو اور بچوں
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس، ج۹، ص۵۹۷.
2 ۔ بدبو۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب العاشرفي إستعمال الذھب والفضۃ،ج۵، ص۳۳۶.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب العاشر فيإستعمال الذھب والفضۃ،ج۵، ص۳۳۶.
5 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۸.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ، باب الأمر بتغطیۃالإناء...إلخ، الحدیث:۹۷۔(۲۰۱۲)،ص۱۱۱۴.
کوسمیٹ لو، شام کے وقت کیونکہ اس وقت جن منتشر ہوتے ہیں اور اچک لیتے ہیں اور سوتے وقت چراغ بجھا دو کہ کبھی چوہا بتی گھسیٹ کر لے جاتا ہے اور گھر جل جاتا ہے۔''(1)
مسلم کی ایک روایت میں ہے، ''برتن چھپا دو اور مشک کا مونھ باندھ دو اور دروازے بند کردو اور چراغ بجھا دو کہ شیطان مشک کو نہیں کھولے گا اور نہ دروازہ اور برتن کھولے گا، اگرکچھ نہ ملے تو بسم اﷲکہہ کر ایک لکڑی آڑی کرکے رکھ دے۔''(2)
اور مسلم کی ایک روایت میں ہے، کہ ''سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے کہ اس میں وبا اترتی ہے، جو برتن چھپا ہوا نہیں ہے یا مشک کا مونھ باندھا ہوا نہیں ہے، اگر وہاں سے وہ وبا گزرتی ہے تو اس میں اتر جاتی ہے۔''(3)
حدیث ۲: امام احمد و مسلم و ابو داود نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب آفتاب ڈوب جائے تو جب تک عشا کی سیاہی جاتی نہ رہے اپنے چوپایوں اور بچوں کو نہ چھوڑو، کیونکہ اس وقت شیاطین منتشر ہوتے ہیں۔''(4)
حدیث ۳: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''سوتے وقت اپنے گھروں میں آگ مت چھوڑا کرو۔''(5)
حدیث ۴: صحیح بخاری میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ مدینہ میں ایک مکان رات میں جل گیا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )نے فرمایاکہ ''یہ آگ تمھاری دشمن ہے، جب سویا کرو تو بجھا دیا کرو۔''(6)
حدیث ۵: شرح السنہ میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جب رات میں کتے کا بھونکنا اور گدھے کی آواز سنو تو
اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم
پڑھو کہ وہ اُس چیز کو دیکھتے ہیں جس کو تم نہیں دیکھتے اور جب پہچل بند ہوجائے (7)تو گھر سے کم نکلو کہ اﷲعزوجل رات میں اپنی مخلوقات میں سے جس کو چاہتا ہے، زمین پر منتشر کرتا ہے۔''(8)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب بدء الخلق، باب إذا وقع الذباب في شراب أحدکم...إلخ، الحدیث:۳۳۱۶،ج۲،ص۴۰۸.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ، باب الأمربتغطیۃ الإناء...إلخ، الحدیث:۹۶۔(۲۰۱۲)،ص۱۱۱۴.
3 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۹۹۔(۲۰۱۴)،ص۱۱۱۵.
4 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۹۸۔(۲۰۱۳)،ص۱۱۱۵.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإستئذان، باب لا تترک النار في البیت عند النوم،الحدیث:۶۲۹۳،ج۴،ص۱۸۶.
6 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۶۲۹۴،ج۴،ص۱۸۶.
7 ۔ یعنی جب لوگوں کی آمدورفت بند ہوجائے۔
8 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب الأشربۃ، باب إیکاء الأسقیۃ وتخمیرالآنیۃ،الحدیث:۲۹۵۴،ج۶،ص۱۴۱۔۱۴۲.
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
(وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَاتَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوۡرٍ ﴿ۚ۱۸﴾)
(1)
''(لقمان نے بیٹے سے کہا)کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ ٹیڑھا نہ کر اور زمین پر اِتراتا نہ چل، بے شک اﷲ (عزوجل)کو پسند نہیں ہے کوئی اِترانے والا، فخر کرنے والا اور میانہ چال چل اور اپنی آواز پست کر، بے شک سب آوازوں میں بُری آواز گدھے کی آواز ہے۔''
اور فرماتا ہے:
(وَ لَا تَمْشِ فِی الۡاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخْرِقَ الۡاَرْضَ وَلَنۡ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوۡلًا ﴿۳۷﴾)
(2)
''اور زمین میں اِتراتا نہ چل، بے شک تو ہ ر گز نہ تو زمین چیر ڈالے گا اور نہ تو بلندی میں پہاڑوں کو پہنچے گا۔''
(وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمْشُوۡنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ﴿۶۳﴾وَالَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿۶۴﴾)
(3)
''اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں، جاہل جب ان سے مخاطبہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں: سلام اور وہ جو اپنے رب کے لیے سجدہ اور قیام میں رات گزارتے ہیں۔''
اورفرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوۡا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوۡا یَفْسَحِ اللہُ لَکُمْ ۚ وَ اِذَا قِیۡلَ انۡشُزُوۡا فَانۡشُزُوۡا یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕ)
(4)
''اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دے دو، اﷲ(عزوجل)تم کو جگہ دے گا اور جب کہا جائے اوٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو،اﷲتعالیٰ تم میں ایمان والوں اور علم والوں کو درجوں بلند کریگا۔''
1 ۔پ۲۱، لقمٰن: ۱۸ ۔ ۱۹.
2 ۔ پ۱۵، بنیۤ اسرآء یل: ۳۷.
3 ۔ پ۱۹، الفرقان: ۶۳ ۔ ۶۴.
4 ۔ پ۲۸، المجادلۃ: ۱۱.
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ایسا نہ کرے کہ ایک شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اوٹھا کر خود بیٹھ جائے و لیکن ہٹ جایا کرو اور جگہ کشادہ کردیا کرو۔''(1)یعنی بیٹھنے والوں کو یہ چاہیے کہ آنے والے کے لیے سرک جائیں اور جگہ دے دیں کہ وہ بھی بیٹھ جائے یا یہ کہ آنے والا کسی کو نہ اٹھائے بلکہ ان سے کہے کہ سرک جاؤ، مجھے بھی جگہ دیدو۔
صحیح بخاری میں یہ بھی مذکور ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما اسے مکروہ جانتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے اور یہ اس کی جگہ پر بیٹھیں۔ (2)حضرت ابن عمر(رضی اللہ تعالٰی عنہما )کا یہ فعل کمال ورع سے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا جی نہ چاہتا ہو اور محض ان کی خاطر سے جگہ چھوڑ دی ہو۔
حدیث ۲: ابو داود نے سعید بن ابی الحسن سے روایت کی، کہتے ہیں:کہ ابوبکر ہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہمارے پاس ایک شہادت میں آئے۔ ایک شخص ان کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ گیا، انھوں نے اس جگہ پر بیٹھنے سے انکار کیا اور یہ کہا کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا ہے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ ''کوئی شخص ایسے شخص کے کپڑے سے ہاتھ پونچھے جس کو یہ کپڑا پہنایا نہیں ہے۔''(3)
اس حدیث میں بھی اگرچہ یہ نہیں ہے کہ ابوبکر ہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس شخص کو اس کی جگہ سے اٹھایا ہو، بلکہ وہ شخص خود اٹھ گیا تھا اور بظاہر یہ صورت ممانعت کی نہیں ہے مگر یہ کمال احتیاط ہے کہ انھوں نے اس صورت میں بھی بیٹھنا گوارا نہ کیا کہ اگرچہ اٹھنے کو کہا نہیں مگر اٹھنا چونکہ انھیں کے لیے ہوا، لہٰذا یہ خیال کیا کہ کہیں یہ بھی اٹھانے ہی کے حکم میں نہ ہو۔
حدیث ۳: صحیح مسلم میں ابوہ ریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر گیا، پھر آگیا تو اس جگہ کا وہی حق دار ہے۔''(4)یعنی جبکہ جلد آجائے۔
حدیث ۴: ابو داود نے ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم جب بیٹھتے اور ہم لوگ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے پاس بیٹھتے اور اٹھ کر تشریف لے جاتے مگر واپسی کا ارادہ ہوتا تو نعلین مبارک یا کوئی چیز وہاں چھوڑ جاتے اس سے صحابہ کو یہ پتا چلتا کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)تشریف لائیں گے اور سب لوگ ٹھہر ے رہتے۔ (5)
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب السلام، باب تحریم إقامۃ الإنسان من موضعہ...إلخ، الحدیث:۲۸۔(۲۱۷۷)،ص۱۱۹۸.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإستئذان، باب(إذا قیل لکم ...إلخ)،الحدیث:۶۲۷۰،ج۴،ص۱۷۹.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في الرجل یقوم للرجل من مجلسہ، الحدیث:۴۸۲۷،ج۴،ص۳۳۹.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب السلام، باب إذا قام من مجلسہ ثم عاد فھو أحق بہ،الحدیث:۳۱۔(۲۱۷۹)،ص۱۱۹۹.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب إذا قام من مجلسہ ثم رجع، الحدیث:۴۸۵۴،ج۴،ص۳۴۶.
حدیث ۵: ترمذی و ابو داود نے عبداﷲبن عَمْرْو رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''کسی کو یہ حلال نہیں کہ دو شخصوں کے درمیان جدائی کردے (یعنی دونوں کے درمیان میں بیٹھ جائے)، مگر ان کی اجازت سے۔''(1)
حدیث ۶: بیہقی نے شعب الایمان میں واثلہ بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس کے لیے حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اپنی جگہ سے سرک گئے اس نے عرض کیا، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)جگہ کشادہ موجود ہے، (حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو سرکنے اور تکلیف فرمانے کی ضرورت نہیں)۔ ارشاد فرمایا:''مسلم کا یہ حق ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے، اس کے لیے سرک جائے۔'' (2)
حدیث ۷: رزین نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ''رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم جب مسجد میں بیٹھتے دونوں ہاتھوں سے احتبا کرتے ۔'' (3)
احتبا کی صورت یہ ہے کہ آدمی سرین کو زمین پر رکھ دے اور گھٹنے کھڑے کرکے دونوں ہاتھوں سے گھیر لے اور ایک ہاتھ کو دوسرے سے پکڑ لے اس قسم کا بیٹھنا تواضع اور انکسار میں شمار ہوتا ہے۔
حدیث ۸: ابو داود نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ ''نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم جب نماز فجر پڑھ لیتے چار زانو بیٹھے رہتے ،یہاں تک کہ آفتاب اچھی طرح طلوع ہوجاتا۔'' (4)
حدیث ۹: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب کوئی شخص سایہ میں ہو اور سایہ سمٹ گیا کچھ سایہ میں ہوگیا کچھ دھوپ میں تو وہاں سے اٹھ جائے۔'' (5)
حدیث ۱۰: ابو داود نے عمرو بن شریدرضی اللہ تعالٰی عنہ سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں:میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ بائیں ہاتھ کو پیٹھ کے پیچھے کر لیا اور داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کی گدی پر ٹیک لگائی۔ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء فيکراھیۃ الجلوس...إلخ،الحدیث:۲۷۶۱،ج۴،ص۳۴۶.
2 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في مقاربۃ وموادۃ أھل الدین، فصل في قیام المرء...إلخ،الحدیث:۸۹۳۳،ج۶،ص۴۶۸.
3 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب، باب الجلوس...إلخ، الحدیث:۴۷۱۳، ج۳، ص۲۱.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الادب، باب في الرجل یجلس متربعا، الحدیث:۴۸۵۰،ج۴،ص۳۴۵.
5 ۔ المرجع السابق، باب في الجلوس بین الظل الشمس، الحدیث:۴۸۲۱،ج۴،ص۳۳۷.
میرے پاس سے گزرے اور یہ فرمایا :''کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو، جن پر خدا کا غضب ہے۔''(1)
حدیث ۱۱: ابو داود نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ جب ہم نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو وہاں بیٹھ جاتے جہاں مجلس ختم ہوتی یعنی مجلس کے کنارہ پر بیٹھتے اسے چیر کر اندر نہیں گھستے۔ (2)
حدیث ۱۲: طبرانی نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور اس کی خوشنودی کے لیے وہ لوگ جگہ میں وسعت کردیں، تو اللہ عزوجل پر حق ہے کہ ان کو راضی کرے۔'' (3)
حدیث ۱۳: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''چند کلمات ہیں کہ جو شخص مجلس سے فارغ ہو کر ان کو تین مرتبہ کہہ لے گا۔ اللہ تعالٰی اس کے گناہ مٹا دے گا اور جو شخص مجلس خیر و مجلس ذکر میں ان کو کہے گا ،تو اﷲعزوجل ان کو اس خیر پر مہر کردے گا ،جس طرح کوئی شخص انگوٹھی سے مہر کرتا ہے۔ وہ یہ ہیں:
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ.''(4)
حدیث ۱۴: حاکم نے مستدرک میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو لوگ دیر تک کسی جگہ بیٹھے اور بغیر ذکراللہ اور نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم پر درود پڑھے وہاں سے متفرق ہوگئے۔ انھوں نے نقصان کیا اگراللہ عزوجل چاہے عذاب دے اور چاہے تو بخش دے۔ (5)
حدیث ۱۵: بزار نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب بیٹھو جوتے اتار لو ،تمھارے قدم آرام پائیں گے۔'' (6)
حدیث ۱۶: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے پاؤں پر پاؤں رکھنے سے منع فرمایا ہے، جبکہ چت لیٹا ہو۔ (7)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في الجلسۃ المکروھۃ، الحدیث:۴۸۴۸،ج۴،ص۳۴۵.
2 ۔ المرجع السابق، باب في التحلق، الحدیث:۴۸۲۵،ج۴،ص۳۳۹.
3 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب الصحبۃ، رقم: ۲۵۳۷۰، ج۹، ص۵۸.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في کفارۃ المجلس، الحدیث:۴۸۵۷،ج۴،ص۳۴۷.
5 ۔ ''المستدرک''،کتاب الدعاء والتکبیر...إلخ، باب ما عمل آدمی من عمل...إلخ، الحدیث:۱۸۶۹،ج۲،ص۱۶۸.
6 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب الصحبۃ، رقم: ۲۵۳۹۰، ج۹، ص۵۹.
7 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس...إلخ، باب فی منع الإستلقاء..إلخ، الحدیث:۷۲۔(۲۰۹۹)،ص۱۱۶۲.
حدیث ۷ ۱: صحیح بخاری و مسلم میں عباد بن تمیم سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ'' رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو مسجد میں لیٹے ہوئے میں نے دیکھا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ایک پاؤں کو دوسرے پر رکھا تھا۔''(1)
یہ بیان جواز کے لیے ہے اور اس صورت میں کہ ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہو، اور پہلی حدیث اس صورت میں ہے کہ ستر کھلنے کا اندیشہ ہو۔ مثلاً آدمی تہبند پہنے ہو اور چت لیٹ کر ایک پاؤں کھڑا کرکے اس پر دوسرے کو رکھے تو ستر کھلنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور اگر پاؤں پھیلا کر ایک کودوسرے پر رکھے تو اس صورت میں کھلنے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔
حدیث ۱۸: شرح سنہ میں ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ''ر سول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم جب رات میں منزل میں اوترتے تو دہنی کروٹ پر لیٹتے اور جب صبح سے کچھ ہی پہلے اوترتے تو دہنے ہاتھ کو کھڑا کرتے اور اس کی ہتھیلی پر سر رکھ کر لیٹتے۔ ''(2)
حدیث ۱۹: ترمذی نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کوبائیں کروٹ پر تکیہ لگائے ہوئے دیکھا۔ (3)
حدیث ۲۰: ترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک شخص کو پیٹ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا، فرمایا:''اس طرح لیٹنے کو اﷲ(عزوجل)پسند نہیں کرتا۔'' (4)
حدیث ۲۱: ابو داود و ابن ماجہ نے طخفہ غفاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ، (یہ اصحاب صفہ میں سے تھے) کہتے ہیں،سینے کی بیماری کی وجہ سے میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا کہ اچانک کوئی شخص اپنے پاؤں سے مجھے حرکت دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ '' اس طرح لیٹنے کو اﷲ تعالٰی مبغوض رکھتا ہے۔''میں نے دیکھا تو وہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم تھے۔ (5)
حدیث ۲۲: ابن ماجہ نے ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم میرے پاس سے گزرے اور پاؤں سے ٹھوکر ماری اور فرمایا:''اے جندب (یہ حضرت ابوذر کا نام ہے یہ جہنمیوں کے لیٹنے کا طریقہ ہے۔''(6)یعنی اس طرح کافر لیٹتے ہیں یا یہ کہ جہنمی جہنم میں اس طرح لیٹیں گے۔
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإستئذان، باب الإستلقاء، الحدیث:۶۲۸۷،ج۴،ص۱۸۴.
2 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب الإستئذان، باب کیفیۃ النوم، الحدیث:۳۲۵۲،ج۶،ص۳۸۰.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء، في الاتکاء، الحدیث:۲۷۷۹،ج۴،ص۳۵۳.
4 ۔ المرجع السابق، باب ماجاء في کراھیۃ الإضطجاع علی البطن،الحدیث:۲۷۷۷،ج۴،ص۳۵۲.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في الرجل ینبطح علی بطنہ،الحدیث:۵۰۴۰،ج۴،ص۴۰۲.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأدب، باب النھی عن الإضطجاع علی الوجہ،الحدیث:۳۷۲۴،ج۴،ص۲۱۴.
و''المشکوٰۃالمصابیح''،کتاب الآداب،باب الجلوس...إلخ،الحدیث۴۷۳۱،ج۲،ص۱۷۷.
حدیث ۲۳: ابو داود نے علی بن شیبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص ایسی چھت پر رات میں رہے ،جس پر روک نہیں ہے یعنی دیوار یا منڈیر نہیں ہے اس سے ذمہ بری ہے۔''(1)یعنی اگر رات میں چھت سے گرجائے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔
حدیث ۲۴: ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس چھت پر سونے سے منع فرمایا کہ جس پر روک نہ ہو۔ (2)
حدیث ۲۵: ابو یعلیٰ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی ، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے ہی کو ملامت کرے۔''(3)
حدیث ۲۶: امام احمد نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے تنہائی سے منع فرمایا۔''(4)یعنی اس سے کہ آدمی تنہا سوئے۔
حدیث ۲۷: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ایک شخص دو چادریں اوڑھے ہوئے اِترا کر چل رہا تھا اور گھمنڈ میں تھا، وہ زمین میں دھنسادیا گیا، وہ قیامت تک دھنستا ہی جائے گا۔''(5)
حدیث ۲۸: ابو داود نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مرد کو دو عورتوں کے درمیان میں چلنے سے منع فرمایا۔''(6)
حدیث ۲۹: بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب تمھارے سامنے عورتیں آجائیں تو ان کے درمیان میں نہ گزرو، داہنے یا بائیں کا راستہ لے لو۔'' (7)
مسئلہ ۱: قیلولہ (8)کرنا جائز بلکہ مستحب ہے۔ (9) (عالمگیری)غالباً یہ ان لوگوں کے لیے ہوگا جو شبِ بیداری کرتے
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب فی النوم علی سطح غیرمحجر،الحدیث:۵۰۴۱،ج۴،ص۴۰۲.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الأدب، باب الجلوس...إلخ،الحدیث:۴۷۲۰،ج۳،ص۲۲.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب...، الحدیث:۲۸۶۳،ج۴،ص۳۸۸.
3 ۔ ''المسند أبي یعلی''،مسند عائشہ رضی اللہ عنہا، الحدیث:۴۸۹۷،ج۴،ص۲۷۸.
4 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عمر، الحدیث:۵۶۵۴،ج۲،ص۴۰۱.
5 ۔ ''صحیح مسلم ''،کتاب اللباس، باب تحریم التبختر في المشی...إلخ، الحدیث:۴۹،۵۰۔(۲۰۸۸)۱۱۵۶.
6 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في مشی النساء مع الرجال في الطریق،الحدیث:۵۲۷۳،ج۴،ص۴۷۰.
7 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في تحریم الفروج، الحدیث:۵۴۴۷،ج۴،ص۳۷۱۔۳۷۲.
8 ۔ یعنی دوپہر کی تھوڑی نیند یا دوپہر کا (بغیر سوئے ہوئے) آرام۔
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵،ص۳۷۶.
ہیں، رات میں نمازیں پڑھتے ذکرِ الٰہی کرتے ہیں یا کُتب بینی یا مطالعہ میں مشغول رہتے ہیں کہ شب بیداری میں جو تکان ہوا قیلولہ سے دفع ہوجائے گا۔
مسئلہ ۲: دن کے ابتدائی حصہ میں سونا یا مغرب و عشا کے درمیان میں سونا مکروہ ہے۔ سونے میں مستحب یہ ہے کہ باطہارت سوئے اور کچھ دیر دہنی کروٹ پر دہنے ہاتھ کو رخسارہ کے نیچے رکھ کر قبلہ رو سوئے پھر اس کے بعد بائیں کروٹ پر اور سوتے وقت قبر میں سونے کو یاد کرے کہ وہاں تنہا سونا ہوگا سوا اپنے اعمال کے کوئی ساتھ نہ ہوگا، سوتے وقت یادِ خدا میں مشغول ہو تہلیل و تسبیح وتحمید پڑھے یہاں تک کہ سوجائے، کہ جس حالت پر انسان سوتا ہے اسی پر اٹھتا ہے اور جس حالت پر مرتا ہے قیامت کے دن اسی پر اٹھے گا۔ سو کر صبح سے پہلے ہی اٹھ جائے اور اٹھتے ہی یادِ خدا کرے یہ پڑھے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّـذِیْۤ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَا تَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ .
(1)اسی وقت اس کا پکا ارادہ کرے کہ پرہیز گاری و تقویٰ کریگا کسی کو ستائے گا نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: بعد نمازِ عشا باتیں کرنے کی تین صورتیں ہیں۔
اول: علمی گفتگو کسی سے مسئلہ پوچھنا یااس کا جواب دینا یا اس کی تحقیق و تفتیش کرنا اس قسم کی گفتگو سونے سے افضل ہے۔
دوم: جھوٹے قصے کہانی کہنا مسخرہ پن اور ہنسی مذاق کی باتیں کرنا یہ مکروہ ہے۔
سوم: موانست کی بات چیت کرنا جیسے میاں بیوی میں یا مہمان سے اس کے انس کے لیے کلام کرنا یہ جائز ہے اس قسم کی باتیں کرے تو آخر میں ذکر الٰہی میں مشغول ہوجائے اور تسبیح و استغفار پر کلام کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
مسئلہ ۴: دومرد برہنہ ایک ہی کپڑے کو اوڑھ کر لیٹیں یہ ناجائز ہے۔ اگرچہ بچھو نے کے ایک کنارہ پر ایک لیٹا ہو اور دوسرے کنارہ پر دوسرا ہو،اسی طرح دو عورتوں کا برہنہ ہو کر ایک کپڑے کو اوڑھ کر لیٹنا بھی ناجائز ہے۔ (3) ''حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔''(4)
مسئلہ ۵: جب لڑکے اور لڑکی کی عمر دس سال کی ہوجائے تو ان کو الگ الگ سلانا چاہیے یعنی لڑکا جب اتنا بڑا ہوجائے اپنی ماں یا بہن یا کسی عورت کے ساتھ نہ سوئے صرف اپنی زوجہ یا باندی کے ساتھ سوسکتا ہے، بلکہ اس عمر کا لڑکا اتنے بڑے لڑکوں یا مردوں کے ساتھ بھی نہ سوئے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ترجمہ: تمام تعریفیں اﷲ تعالیٰ کے لیے جس نے ہمیں موت (نیند)کے بعد زندگی دی اور (قیامت کے دن) اسی کی طرف اٹھنا ہے۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵،ص۳۷۶.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۲۹.
4 ۔ انظر: ''صحیح مسلم''،کتاب الحیض،باب تحریم النظرإلی العورات، الحدیث:۷۴۔(۳۳۸)،ص۱۸۶.
5 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۲۹.
مسئلہ ۶: میاں بیوی جب ایک چار پائی پر سوئیں تو دس برس کے بچہ کو اپنے ساتھ نہ سلائیں، لڑکا جب حد ِشہوت کو پہنچ جائے تو وہ مرد کے حکم میں ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۷: راستہ چھوڑ کر کسی کی زمین میں چلنے کا حق نہیں اور اگر وہاں راستہ نہیں ہے تو چل سکتا ہے، مگر جبکہ مالک زمین منع کرے تو اب نہیں چل سکتا، یہ حکم ایک شخص کے متعلق ہے اور جو بہت سے لوگ ہوں تو جب تک مالک زمین راضی نہ ہو نہیں چلنا چاہیے۔ راستہ میں پانی ہے اس کے کنارہ کسی کی زمین ہے، ایسی صورت میں اس زمین میں چل سکتاہے۔ (2) (عالمگیری)
بعض مرتبہ کھیت بویا ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اس میں چلنا کاشتکار کے نقصان کا سبب ہے، ایسی صورت میں ہر گز اُس میں چلنا نہ چاہیے۔ بلکہ بعض مرتبہ کاشت کار کھیت کے کنارہ پر جہاں سے چلنے کا احتمال ہوتا ہے کانٹے رکھ دیتے ہیں، یہ صاف اس کی دلیل ہے کہ اس کی جانب سے چلنے کی ممانعت ہے۔ مگر اس پر بھی بعض لوگ توجہ نہیں کرتے ان کو جاننا چاہیے کہ اس صورت میں چلنا منع ہے۔
اﷲعزوجل ارشاد فرماتا ہے:
(قُلۡ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَ یَحْفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمْ ؕ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۳۰﴾وَ قُلۡ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَلَا یُبْدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبْدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ اَوْ اٰبَآئِہِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوْ اَبْنَآئِہِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوْ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیۡۤ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہنَّ اَوْ نِسَآئِہِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التَّابِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیۡنَ لَمْ یَظْہَرُوۡا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۳۱﴾)
(3)
''مسلمان مردوں سے فرمادو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اﷲ(عزوجل)کو ان کے کاموں کی خبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۳۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات، ج۵، ص۳۷۳.
3 ۔ پ۱۸، النور:۳۰۔۳۱.
کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی مِلک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنھیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں نہ ماریں جس سے ان کا چھپا ہوا سنگار معلوم ہوجائے اور اﷲ(عزوجل)کی طرف توبہ کرو ،اے مسلمانو!سب کے سب اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔''
اور فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزْوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیۡنَ یُدْنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدْنٟٓى اَنۡ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیۡنَ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾)
(1)
''اے نبی!اپنی ازواج اور صاحبزادیوں اور مومنین کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنے اوپر اپنی اوڑھنیاں لٹکا لیں یہ اس سے نزدیک ترہے کہ(2)وہ پہچانی جائیں گی اور ان کو ایذا نہیں دی جائے گی اوراﷲ(عزوجل)بخشنے والا مہربان ہے۔''
اور فرماتا ہے:
(وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیۡ لَا یَرْجُوۡنَ نِکَاحًا فَلَیۡسَ عَلَیۡہِنَّ جُنَاحٌ اَنۡ یَّضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ غَیۡرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیۡنَۃٍ ؕ وَ اَنۡ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیۡرٌ لَّہُنَّ ؕ وَاللہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۶۰﴾)
(3)
''اوربوڑھی خانہ نشین عورتیں جنھیں نکاح کی آرزو نہیں ان پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے بالائی کپڑے اتار رکھیں جبکہ سنگار ظاہر نہ کریں اور اس سے بچنا ان کے لیے بہتر ہے اور اﷲ(عزوجل)سنتا جانتا ہے۔''
حدیث ۱: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: '' عورت شیطان کی صورت میں آگے آتی ہے اور شیطان کی صورت میں پیچھے جاتی ہے، جب کسی نے کوئی عورت دیکھی اور وہ پسند آگئی اور اس کے دل میں کچھ واقع ہو تو اپنی عورت سے جماع کرے، اس سے وہ بات جاتی رہے گی جو دل میں پیدا ہوگئی ہے۔''(4)
حدیث ۲: دارمی نے عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس نے کسی عورت کو دیکھا اور وہ پسند آگئی تو اپنی زوجہ کے پاس چلا جائے کہ اس کے پاس بھی ویسی ہی چیز ہے جو اس کے پاس ہے۔''(5)
1 ۔ پ۲۲، الاحزاب: ۵۹.
2 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر ''ذٰلِکَ اَدْنٰی'' کاترجمہ''یہ اس سے نزدیک ترہے کہ''موجودنہیں تھا، لہذا متن میں کنزالایمان سے اس کا اضافہ کردیاگیاہے۔...علمیہ
3 ۔ پ۱۸، النور: ۶۰.
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب النکاح، باب ندب من رأی إمرأۃ...إلخ، الحدیث:۹۔(۱۴۰۳)،ص۷۲۶.
5 ۔ ''سنن الدارمي''،کتاب النکاح، باب الرجل یری المرأۃ فیخاف علی نفسہ،الحدیث:۲۲۱۵،ج۲،ص۱۹۶.
حدیث ۳: صحیح مسلم میں جریر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں:میں نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے اچانک نظر پڑجانے کے متعلق دریافت کیا۔''حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے حکم دیا کہ اپنی نگاہ پھیر لو۔''(1)
حدیث ۴: امام احمد و ابو داود و ترمذی و د ارمی نے بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایاکہ ''ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ کرو (یعنی اگر اچانک بلاقصد کسی عورت پر نظر پڑجائے تو فوراً نظر ہٹالے اور دوبارہ نظر نہ کرے)کہ پہلی نظر جائز ہے اور دوسری نظر جائز نہیں۔''(2)
حدیث ۵: ترمذی نےعبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''عورت عورت ہے یعنی چھپانے کی چیز ہے جب وہ نکلتی ہے، تو اسے شیطان جھانک کر دیکھتا ہے ۔'' (3) یعنی اسے دیکھنا شیطانی کام ہے۔
حدیث ۶: امام احمد نے ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جو مسلمان کسی عورت کی خوبیوں کی طرف پہلی دفعہ نظر کرے یعنی بلاقصد پھر اپنی آنکھ میچ لے، اﷲتعالیٰ اس کے لیے ایسی عبادت پیدا کردے گا جس کا مزہ اس کو ملے گا۔''(4)
حدیث ۷: بیہقی نے حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''دیکھنے والے پر اور اُس پر جس کی طرف نظر کی گئی اﷲ(عزوجل)کی لعنت۔'' (5) یعنی دیکھنے والا جب بلا عذر قصداً دیکھے اور دوسرا اپنے کو بلاعذر قصداً دکھائے۔
حدیث ۸: ابن ماجہ نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہتی ہیں میں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی شرم گاہ کی طرف کبھی نظر نہیں کی۔ (6)
حدیث ۹: ترمذی و ابو داود و ابن ماجہ بروایت بہزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:اپنی عورت یعنی ستر کی جگہ کو محفوظ رکھو، مگر بی بی سے یا اس باندی سے جس کے تم مالک ہو۔ میں نے عرض کی،
1 ۔''صحیح مسلم ''،کتاب الآداب، باب نظرالفجاء ۃ، الحدیث:۴۵۔(۲۱۵۹)،ص۱۱۹۰.
2 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل، حدیث بریدۃ الأسلمی، الحدیث:۲۳۰۵۲، ج۹، ص۱۸ ۔ ۱۹.
و''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء في نظرۃ الفجاء ۃ، الحدیث:۲۷۸۶،ج۴،ص۳۵۶.
3 ۔ ''سنن الترمذي ''،کتاب الرضاع، باب:۱۸، الحدیث:۱۱۷۶،ج۲،ص۳۹۲.
4 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل، مسند الانصار،حدیث أبي أمامۃ الباھلی،الحدیث:۲۲۳۴۱،ج۸،ص۲۹۹.
5 ۔ ''شعب الإیمان''، باب الحیاء، فصل في الحمام، الحدیث:۷۷۸۸، ج۶، ص۱۶۲.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الطھارۃ،باب النھی أن یری عورۃ أخیہ، الحدیث:۶۶۲، ج۱،ص۳۶۵.
یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ فرمائیے کہ اگر مرد تنہائی میں ہو ارشاد فرمایا: ''اﷲعزوجل سے شرم کرنا زیادہ سزاوار ہے ۔''(1)
حدیث ۱۰: ترمذی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب مرد عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے، تو تیسرا شیطان ہوتا ہے۔''(2)
حدیث ۱۱: ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:'' جن عورتوں کے شوہر غائب ہیں ان کے پاس نہ جاؤ ،کہ شیطان تم میں خون کی طرح تیرتا ہے یعنی شیطان کو بہکاتے دیر نہیں لگتی۔ ہم نے عرض کی، اورحضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)۔ فرمایا:اور مجھ سے بھی، مگر اﷲ(عزوجل)نے میری اس کے مقابل میں مدد فرمائی، وہ مسلمان ہوگیا یا میں سلامت رہتا ہوں۔''(3)حدیث کے لفظ میں دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔
حدیث ۱۲: صحیح بخاری و مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔''ایک شخص نے عرض کی، یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!دیور کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایاکہ ''دیور موت ہے۔''(4)یعنی دیور کے سامنے ہونا گویا موت کا سامنا ہے کہ یہاں فتنہ کا زیادہ احتمال ہے۔
حدیث ۱۳: ترمذی نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''برہنہ ہونے سے بچو، کیونکہ تمھارے ساتھ وہ (فرشتے)ہوتے ہیں جو جدا نہیں ہوتے مگر صرف پاخانہ کے وقت اور اس وقت جب مرد اپنی عورت کے پاس جاتا ہے، لہٰذا ان سے حیا کرو اور ان کا اکرام کرو۔''(5)
حدیث ۱۴: ترمذی وابو داود نے جرہد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''کیا تمھیں معلوم نہیں کہ ران عورت ہے۔''(6)یعنی چھپانے کی چیز ہے۔
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب النکاح، باب التسترعند الجماع، الحدیث:۱۹۲۰،ج۲،ص۴۴۸.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب النکاح، باب النظر إلی المخطوبۃ...إلخ،الحدیث:۳۱۱۷،ج۲،ص۲۰۸.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الفتن، باب ماجاء في لزوم الجماعۃ،الحدیث:۲۱۷۲،ج۴،ص۶۷.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الرضاع، باب:۱۷،الحدیث:۱۱۷۵،ج۲،ص۳۹۱.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب النکاح، باب لایخلون رجل بامرأۃ إلا ذومحرم...إلخ،الحدیث:۵۲۳۲،ج۳،ص۳۷۲.
و''صحیح مسلم''،کتاب السلام، باب تحریم الخلوۃ بالأجنبیۃ...إلخ،الحدیث:۲۰۔(۲۱۷۲)،ص۱۱۹۶.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء في الإستـتار عند الجماع، الحدیث:۲۸۰۹،ج۴،ص۳۶۵.
6 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الحمام، باب النھی عن التعری،الحدیث:۴۰۱۴،ج۴،ص۵۶.
حدیث ۱۵: ابو داودو ابن ماجہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایاکہ ''اے علی!ران کو نہ کھولو اور نہ زندہ کی ران کی طرف نظر کرو نہ مردہ کی۔'' (1)
حدیث ۱۶: صحیح مسلم میں ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''ایک مرد دوسرے مرد کی ستر کی جگہ نہ دیکھے اور نہ عورت دوسری عورت کی ستر کی جگہ دیکھے اور نہ مرددوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ سوئے اور نہ عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ سوئے۔'' (2)
حدیث ۱۷: امام احمد و ترمذی و ابو داود نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی کہ یہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہما حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں حاضر تھیں کہ عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ان دونوں سے فرمایاکہ ''پردہ کرلو۔''کہتی ہیں:میں نے عرض کی، یارسول اللہ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!وہ تو نابینا ہیں، ہمیں نہیں دیکھیں گے۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''کیا تم دونوں اندھی ہو، کیا تم انھیں نہیں دیکھو گی۔'' (3)
حدیث ۱۸: صحیح بخاری و مسلم میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ایسا نہ ہو کہ ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ رہے پھر اپنے شوہر کے سامنے اس کا حال بیان کرے،گویا یہ اسے دیکھ رہا ہے ۔'' ( 4)
حدیث ۱۹: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''خبردار کوئی مرد ثیب عورت کے یہاں رات کو نہ رہے مگر اس صورت میں کہ اس سے نکاح کرنے والا ہو یا اس کا ذی محرم ہو۔''(5)
حدیث ۲۰: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ ایک شخص نے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں یہ عرض کی کہ انصار یہ عورت سے نکاح کامیرا ارادہ ہے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایاکہ ''اسے دیکھ لو! کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے۔''(6)یعنی ان کی آنکھیں کچھ بھوری ہوتی ہیں۔
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب ماجاء في الجنائز، باب ماجاء في غسل المیت،الحدیث:۱۴۶۰،ج۲،ص۲۰۰.
2 ۔ ''صحیح مسلم ''،کتاب الحیض،باب تحریم النظر إلی العورات،الحدیث:۷۴۔(۳۳۸)،ص۱۸۶.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء في إحتجاب النساء من الرجال،الحدیث:۲۷۸۷،ج۴،ص۳۵۶.
و''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث ام سلمۃ زوج النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، الحدیث:۲۶۵۹۹،ج۱۰،ص۱۸۳.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب النکاح، باب لا تباشر المرأۃ...إلخ،الحدیث:۵۲۴۰،ج۳،ص۴۷۴.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب السلام، باب تحریم الخلوۃ بالأجنبیۃ...إلخ،الحدیث:۱۹۔(۲۱۷۲)،ص۱۱۹۶.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب النکاح، باب ندب من اراد نکاح إمرأۃ...إلخ،الحدیث:۷۴۔(۱۴۲۴)،ص۷۳۹.
حدیث ۲۱: امام احمد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا۔ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ سے فرما یاکہ تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟ عرض کی، نہیں۔ فرمایا:''اسے دیکھ لو!کہ اس کی وجہ سے تم دونوں کے درمیان موافقت ہونے کا پہلو غالب ہے۔''(1)
اس باب کے مسائل چار قسم کے ہیں۔ مرد کا مرد کو دیکھنا، عورت کا عورت کو دیکھنا، عورت کا مرد کو دیکھنا، مرد کا عورت کو دیکھنا۔
مرد مرد کے ہر حصہ بدن کی طرف نظر کرسکتا ہے سوا ان اعضا کے جن کا ستر ضروری ہے۔ وہ ناف کے نیچے سے گھٹنے کے نیچے تک ہے کہ اس حصہ بدن کا چھپانا فرض ہے، جن اعضا کا چھپانا ضروری ہے ان کو عورت کہتے ہیں ۔ کسی کو گھٹنا کھولے ہوئے دیکھے تو اسے منع کرے اور ران کھولے ہوئے دیکھے تو سختی سے منع کرے اور شرم گاہ کھولے ہوئے ہو تو اسے سزا دی جائے گی۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: بہت چھوٹے بچے کے لیے عورت نہیں یعنی اس کے بدن کے کسی حصہ کا چھپانا فرض نہیں، پھر جب کچھ بڑا ہوگیا تو اس کے آگے پیچھے کا مقام چھپانا ضروری ہے۔ پھر جب اور بڑا ہوجائے دس برس سے بڑا ہوجائے توا س کے لیے بالغ کا سا حکم ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: جس حصہ بدن کی طرف نظر کرسکتا ہے اس کو چھو بھی سکتا ہے۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۳: لڑکا جب مراہق(5)ہوجائے اور وہ خوبصورت نہ ہو تو نظر کے بارے میں اس کا وہی حکم ہے جو مرد کا ہے اور خوبصورت ہو تو عورت کا جو حکم ہے وہ ا س کے لیے ہے یعنی شہوت کے ساتھ اس کی طرف نظر کرنا حرام ہے اور شہوت نہ ہو تو اس کی طرف بھی نظر کرسکتا ہے اور اس کے ساتھ تنہائی بھی جائز ہے۔
1 ۔ ''سنن النسائی''،کتاب النکاح،باب إباحۃ النظرقبل التزویج،الحدیث:۳۲۳۲،ص۵۲۷.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب النکاح،باب النظر إلی المخطوبۃ،الحدیث:۳۱۰۷،ج۲،ص۲۰۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۷.
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر والمس،ج۹،ص۶۰۲.
4 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس،ج۲،ص۳۷۱.
5 ۔ یعنی بالغ ہونے کے قریب۔
شہوت نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے یقین ہو کہ نظر کرنے سے شہوت نہ ہوگی اور اگر اس کا شبہہ بھی ہو تو ہر گز نظر نہ کرے، بوسہ کی خواہش پیدا ہونا بھی شہوت کی حد میں داخل ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: عورت کا عورت کو دیکھنا، اس کا وہی حکم ہے جو مرد کو مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے یعنی ناف کے نیچے سے گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتی باقی اعضا کی طرف نظر کرسکتی ہے۔ بشرطیکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ (2) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: عورت صالحہ کو یہ چاہیے کہ اپنے کو بدکار عورت کے دیکھنے سے بچائے، یعنی اس کے سامنے دوپٹا وغیرہ نہ اتارے کیونکہ وہ اسے دیکھ کر مردوں کے سامنے اس کی شکل و صورت کا ذکر کرے گی، مسلمان عورت کو یہ بھی حلال نہیں کہ کافرہ کے سامنے اپنا ستر کھولے۔ (3) (عالمگیری)
گھروں میں کافرہ عورتیں آتی ہیں اور بیبیاں ان کے سامنے اسی طرح مواضع ستر کھولے ہوئے ہوتی ہیں جس طرح مسلمہ کے سامنے رہتی ہیں ان کو اس سے اجتناب (4)لازم ہے۔ اکثر جگہ دائیاں کافرہ ہوتی ہیں اور وہ بچہ جنانے کی خدمت انجام دیتی ہیں، اگر مسلمان دائیاں مل سکیں تو کافرہ سے ہر گز یہ کام نہ کرایا جائے کہ کافرہ کے سامنے ان اعضا کے کھولنے کی اجازت نہیں۔
مسئلہ ۶: عورت کا مرد اجنبی کی طرف نظر کرنے کا وہی حکم ہے، جو مرد کا مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے اور یہ اس وقت ہے کہ عورت کو یقین کے ساتھ معلوم ہو ،کہ اس کی طرف نظر کرنے سے شہوت نہیں پیدا ہوگی اور اگر اس کا شبہہ بھی ہو تو ہر گز نظر نہ کرے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: عورت مرد اجنبی کے جسم کو ہرگز نہ چھوئے جبکہ دونوں میں سے کوئی بھی جوان ہو، اس کو شہوت ہوسکتی ہو اگرچہ اس بات کا دونوں کو اطمینان ہو کہ شہوت نہیں پیدا ہوگی۔ (6) (عالمگیری)بعض جو ان عورتیں اپنے پیروں کے ہاتھ پاؤں دباتی ہیں اور بعض پیراپنی مریدہ سے ہاتھ پاؤں دبواتے ہیں اور ان میں اکثر دونوں یا ایک حدِ شہوت میں ہوتا ہے ایسا کرنا ناجائز ہے اور دونوں گنہگار ہیں۔
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر والمس،ج۹،ص۶۰۲.
2 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس،ج۲،ص۳۷۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثامن فیمایحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۷.
4 ۔ بچنا۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۷.
6 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۸: مرد کا عورت کو دیکھنا، اس کی کئی صورتیں ہیں:
(1) مرد کا اپنی زوجہ یا باندی کو دیکھنا۔ (2) مرد کا اپنے محارم کی طرف نظر کرنا۔ (3)مرد کا آزاد عورت اجنبیہ کو دیکھنا۔
(4)مرد کا دوسرے کی باندی کو دیکھنا۔
پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ عورت کی ایڑی سے چوٹی تک ہر عضو کی طرف نظر کرسکتا ہے شہوت اور بلا شہوت دونوں صورتوں میں دیکھ سکتا ہے، اسی طرح یہ دونوں قسم کی عورتیں اس مرد کے ہر عضو کو دیکھ سکتی ہیں، ہاں بہتر یہ ہے کہ مقام مخصوص کی طرف نظر نہ کرے، کیونکہ اس سے نسیان پیدا ہوتا ہے اور نظر میں بھی ضعف پیدا ہوتا ہے ۔اس مسئلہ میں باندی سے مراد وہ ہے جس سے وطی جائز ہے۔ (1) (عالمگیری، درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جس باندی سے وطی نہ کرسکتا ہو مثلاً وہ مشرکہ ہے یا مکاتبہ یا مشترکہ یا رضاعت یا مصاہرت کی وجہ سے اس سے وطی حرام ہو وہ اجنبیہ کے حکم میں ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: زوجہ اور اس باندی کے ہر عضو کو چھو بھی سکتا ہے اور یہ بھی اس کے ہر عضو کو چھو سکتی ہے، یہاں تک کہ ہر ایک دوسرے کی شرم گاہ کو بھی چھوسکتا ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: جماع کے وقت دونوں بالکل برہنہ بھی ہوسکتے ہیں جبکہ وہ مکان بہت چھوٹا دس پانچ ہاتھ کا ہو۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: میاں بی بی جب بچھونے پر ہوں مگر جماع میں مشغول نہ ہوں، اس حالت میں ان کے محارم وہاں اجازت لے کر آسکتے ہیں، بغیر اجازت نہیں آسکتے۔ اسی طرح خادم یعنی غلام اور باندی بھی آسکتی ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: باندی کا ہاتھ پکڑ کر مکان کے اندر لے گیا اور دروازہ بند کرلیا اور لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ وطی کرنے کے لیے ایسا کیا ہے یہ مکروہ ہے۔ یوہیں سَوت(6)کے سامنے بی بی سے وطی کرنا مکروہ ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: جو عورت اس کے محارم میں ہو اس کے سر، سینہ، پنڈلی، بازو، کلائی، گردن، قدم کی طرف نظر کرسکتا
1 ۔ 'الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۷.
و ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر والمس،ج۹،ص۶۰۵.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر والمس،ج۹،ص۶۰۴.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۸.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ یعنی ایک خاوند کی دو یا زیادہ بیویاں آپس میں ایک دوسرے کی سَوت کہلاتی ہیں۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۸.
ہے، جبکہ دونوں میں سے کسی کی شہوت کا اندیشہ نہ ہو محارم کے پیٹ، پیٹھ اور ران کی طرف نظر کرنا ناجائز ہے۔ (1) (ہدایہ)اسی طرح کروٹ اورگھٹنے کی طرف نظر کرنا بھی ناجائز ہے۔ (2) (ردالمحتار)کان اور گردن اور شانہ اور چہرہ کی طرف نظر کرنا جائز ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: محارم سے مراد وہ عورتیں ہیں جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے، یہ حرمت نسب سے ہو یا سبب سے مثلاً رضاعت یا مصاہرت (4)اگر زنا کی وجہ سے حرمت مصاہرت ہو جیسے مزنیہ کے اصول و فروع (5)ان کی طرف نظر کا بھی وہی حکم ہے۔ (6) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۶: محارم کے جن اعضا کی طرف نظر کرسکتا ہے ان کو چھو بھی سکتا ہے، جبکہ دونوں میں سے کسی کی شہوت کا اندیشہ نہ ہو ۔مرد اپنی والدہ کے پاؤں دبا سکتا ہے مگر ران اس وقت دبا سکتا ہے جب کپڑے سے چھپی ہو، یعنی کپڑے کے اوپر سے اور بغیر حائل چھونا جائز نہیں۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: والدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتا ہے۔ حدیث میں ہے''جس نے اپنی والدہ کا پاؤں چوما، تو ایسا ہے جیسے جنت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا۔''(8) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: محارم کے ساتھ سفر کرنا یا خلوت میں اس کے ساتھ ہونا، یعنی مکان میں دونوں کا تنہا ہونا کہ کوئی دوسرا وہاں نہ ہو جائز ہے بشرطیکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ (9) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: دوسرے کی باندی کی طرف نظر کرنے کا وہی حکم ہے جو محارم کا ہے۔ مدبرہ اور مکاتبہ کا بھی یہی حکم ہے۔ (10) (ہدایہ)
1 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس،ج۲،ص۳۷۰.
2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر والمس،ج۹،ص۶۰۶.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۸.
4 ۔ رضاعت (یعنی دودھ کے رشتے) اور مصاہرت (یعنی سُسرالی رشتے)کی معلومات کے لیے ''بہارِ شریعت،جلد دوم، حصہ ۷''، ملاحظہ فرمائیں۔
5 ۔ یعنی جس عورت سے زنا کیا، اس کی ماں اور لڑکیاں زانی کے لیے۔
6 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس،ج۲،ص۳۷۰.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۸.
8 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر والمس،ج۹،ص۶۰۶.
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۸.
10 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس،ج۲،ص۳۷۱.
مسئلہ ۲۰: کنیز کو خریدنے کا ارادہ ہو تو اس کی کلائی اور بازو اور پنڈلی اور سینہ کی طرف نظر کرسکتا ہے ،کیونکہ اس حالت میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے ان اعضا کو چھو بھی سکتا ہے بشرطیکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ (1) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۱: اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے کا حکم یہ ہے کہ اس کے چہرہ اور ہتھیلی کی طرف نظر کرنا جائز ہے ،کیونکہ اس کی ضرورت پڑتی ہے کہ کبھی اس کے موافق یا مخالف شہادت دینی ہوتی ہے یا فیصلہ کرنا ہوتا ہے اگر اسے نہ دیکھا ہو تو کیونکر گواہی دے سکتا ہے کہ اس نے ایسا کیا ہے اس کی طرف دیکھنے میں بھی وہی شرط ہے کہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو اور یوں بھی ضرورت ہے کہ بہت سی عورتیں گھر سے باہر آتی جاتی ہیں، لہٰذا اس سے بچنا بہت دشوار ہے۔ بعض علما نے قدم کی طرف بھی نظر کو جائز کہا ہے۔ (2) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: اجنبیہ عورت کے چہرہ اور ہتھیلی کو دیکھنا اگرچہ جائز ہے مگر چھونا جائز نہیں، اگرچہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو کیونکہ نظر کے جواز کی وجہ ضرورت اور بلوائے عام ہے چھونے کی ضرورت نہیں، لہٰذا چھونا حرام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان سے مصافحہ جائز نہیں اسی لیے حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بوقت بیعت بھی عورتوں سے مصافحہ نہ فرماتے صرف زبان سے بیعت لیتے۔ ہاں اگر وہ بہت زیادہ بوڑھی ہو کہ محل شہوت نہ ہو تو اس سے مصافحہ میں حرج نہیں۔ یوہیں اگر مرد بہت زیادہ بوڑھا ہو کہ فتنہ کا اندیشہ ہی نہ ہو تو مصافحہ کرسکتا ہے۔ (3) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۳: بہت چھوٹی لڑکی جو مشتہاۃ (4)نہ ہو اس کو دیکھنا بھی جائز ہے اور چھونا بھی جائز ہے۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۴: اجنبیہ عورت نے کسی کے یہاں کام کاج کرنے روٹی پکانے کی نوکری کی ہے اس صورت میں اس کی کلائی کی طرف نظر جائز ہے۔ کہ وہ کام کاج کے لیے آستین چڑھائے گی کلائیاں اس کی کھلیں گی اور جب اس کے مکان میں ہے تو کیوں کر بچ سکے گا، اسی طرح اس کے دانتوں کی طرف نظر کرنا بھی جائز ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: اجنبیہ عورت کے چہرہ کی طرف اگرچہ نظر جائز ہے ،جبکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو مگر یہ زمانہ فتنہ کا ہے اس زمانے میں ویسے لوگ کہاں جیسے اگلے زمانہ میں تھے، لہٰذا س زمانہ میں اس کو دیکھنے کی ممانعت کی جائے گی مگر گواہ و قاضی کے لیے
1 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس،ج۲،ص۳۷۱.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۶۱۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۹.
3 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس،ج۲،ص۳۶۸،وغیرھا.
4 ۔ یعنی قابلِ شَہوت۔
5 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس،ج۲،ص۳۶۸.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۹.
کہ بوجہ ضرورت ان کے لیے نظر کرنا جائز ہے اور ایک صورت اور بھی ہے وہ یہ کہ اس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو تو اس نیت سے دیکھنا جائز ہے۔ کہ حدیث میں یہ آیا ہے کہ ''جس سے نکاح کرنا چاہتے ہو اس کو دیکھ لو کہ یہ بقائے محبت کا ذریعہ ہوگا۔''(1)اسی طرح عورت اُس مرد کو جس نے اس کے پاس پیغام بھیجا ہے دیکھ سکتی ہے، اگرچہ اندیشہ شہوت ہو مگر دیکھنے میں دونوں کی یہی نیت ہو کہ حدیث پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اگر اس کو دیکھنا ناممکن ہو جیسا کہ اس زمانہ کا رواج یہ ہے کہ اگر کسی نے نکاح کا پیغام دے دیا تو کسی طرح بھی اسے لڑکی کو نہیں دیکھنے دیں گے یعنی اس سے اتنا زبردست پردہ کیا جاتا ہے کہ دوسرے سے اتنا پردہ نہیں ہوتا اس صورت میں اس شخص کو یہ چاہیے کہ کسی عورت کو بھیج کر دکھوالے اور وہ آکر اس کے سامنے سارا حلیہ و نقشہ وغیرہ بیان کردے تاکہ اسے اس کی شکل وصورت کے متعلق اطمینا ن ہوجائے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے، اس کی ایک لڑکی بھی ہے اور معلوم ہوا کہ یہ لڑکی بالکل اپنی ماں کی شکل و صورت کی ہے اس مقصد سے کہ اس کی ماں سے نکاح کرنا ہے لڑکی کو دیکھنا جائز نہیں جبکہ یہ مشتہاۃ ہو۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: اجنبیہ عورت کی طرف نظر کرنے میں ضرورت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ عورت بیمار ہے اس کے علاج میں بعض اعضا کی طرف نظر کرنے کی ضرورت پڑتی ہے بلکہ اس کے جسم کو چھونا پڑتا ہے۔ مثلاً نبض دیکھنے میں ہاتھ چھونا ہوتا ہے یا پیٹ میں ورم کا خیال ہو تو ٹٹول کر دیکھنا ہوتا ہے یا کسی جگہ پھوڑا ہو تو اسے دیکھنا ہوتا ہے بلکہ بعض مرتبہ ٹٹولنا بھی پڑتا ہے اس صورت میں موضع مرض کی طرف نظر کرنا یا اس ضرورت سے بقدر ضرورت اس جگہ کو چھونا جائز ہے ۔
یہ اس صورت میں ہے کوئی عورت علاج کرنے والی نہ ہو، ورنہ چاہیے یہ کہ عورتوں کو بھی علاج کرنا سکھایا جائے تاکہ ایسے مواقع پر وہ کام کریں کہ ان کے دیکھنے وغیرہ میں اتنی خرابی نہیں جو مرد کے دیکھنے وغیرہ میں ہے۔ اکثر جگہ دائیاں ہوتی ہیں جو پیٹ کے ورم کو دیکھ سکتی ہیں جہاں دائیاں دستیاب ہوں مرد کو دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ علاج کی ضرورت سے نظر کرنے میں بھی یہ احتیاط ضروری ہے کہ صرف اتنا ہی حصہ بدن کھولا جائے جس کے دیکھنے کی ضرورت ہے باقی حصہ بدن کو اچھی طرح چھپا دیا جائے کہ اس پر نظر نہ پڑے۔ (5) (ہدایہ وغیرہا)
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب النکاح،باب ماجاء في النظرإلی المخطوبۃ،الحدیث:۱۰۸۹،ج۲،ص۳۴۶.
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر والمس،ج۹،ص۶۱۰.
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في النظر والمس،ج۹،ص۶۱۱.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس،ج۲،ص۳۶۹،وغیرھا.
مسئلہ ۲۹: عمل دی نے (1) کی ضرورت ہو تو مرد مرد کے موضع حقنہ (2) کی طرف نظر کرسکتا ہے یہ بھی بوجہ ضرورت جائز ہے اور ختنہ کرنے میں موضع ختنہ کی طرف نظر کرنا بلکہ اس کا چھونا بھی جائز ہے کہ یہ بھی بوجہ ضرورت ہے۔ (3) (ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: عورت کو فصد کرانے (4)کی ضرورت ہے اور کوئی عورت ایسی نہیں ہے جو اچھی طرح فصد کھولے تو مرد سے فصد کرانا جائز ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: اجنبیہ عورت نے خوب موٹے کپڑے پہن رکھے ہیں کہ بدن کی رنگت وغیرہ نظر نہیں آتی، تو اس صورت میں اس کی طرف نظر کرنا جائز ہے ،کہ یہاں عورت کو دیکھنا نہیں ہوا بلکہ ان کپڑوں کو دیکھنا ہوا یہ اس وقت ہے کہ اس کے کپڑے چست نہ ہوں اور اگر چست کپڑے پہنے ہو کہ جسم کا نقشہ کھنچ جاتا ہو مثلاً چست پائجامہ میں پنڈلی اور ران کی پوری ہیئت نظر آتی ہے تو اس صورت میں نظر کرنا ناجائز ہے۔
اسی طرح بعض عورتیں بہت باریک کپڑے پہنتی ہیں مثلاً آب رواں (6)یا جالی یا باریک ململ ہی کا ڈوپٹا (7) جس سے سر کے بال یا بالوں کی سیاہی یا گردن یا کان نظر آتے ہیں اور بعض باریک تنزیب یا جالی کے کرتے پہنتی ہیں کہ پیٹ اور پیٹھ بالکل نظر آتی ہے اس حالت میں نظر کرنا حرام ہے اور ایسے موقع پر ان کو اس قسم کے کپڑے پہننا بھی ناجائز ۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: خصی یعنی جس کے انثیین نکال لیے گئے ہوں یا مجبوب جس کا عضو تناسل کاٹ لیا گیا جب ان کی عمر پندرہ سال کی ہو تو ان کے لیے بھی اجنبیہ کی طرف نظر کرنا ناجائز ہے۔ یہی حکم زنخوں (9) کا بھی ہے۔ (10) (ہدایہ)
مسئلہ ۳۳: جس عضو کی طرف نظر کرنا ناجائز ہے اگر وہ بدن سے جدا ہوجائے تو اب بھی اس کی طرف نظر کرنا ناجائز ہی رہے گا، مثلاً پیڑو کے بال (11) کہ ان کو جدا کرنے کے بعد بھی دوسرا شخص دیکھ نہیں سکتا۔ عورت کے سر کے بال یا اس کے
1 ۔ یعنی دوا دینے۔ 2 ۔ یعنی کسی دوا کی بتی یا پچکاری چڑھانے کی جگہ (یعنی پیچھے کا مقام)۔
3 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس،ج۲،ص۳۶۹.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۳۰.
4 ۔ یعنی رَگ سے خون نکلوانے۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۳۰.
6 ۔ایک قسم کا نہایت اچھا اورباریک کپڑا۔ 7 ۔دوپٹا۔
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۹.
9 ۔ یعنی ہیجڑے۔
10 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس،ج۲،ص۳۷۲.
11 ۔ یعنی ناف کے نیچے کے بال۔
پاؤں یا کلائی کی ہڈی کہ اس کے مرنے کے بعد بھی اجنبی شخص اُن کو نہیں دیکھ سکتا۔ عورت کے پاؤں کے ناخن کہ ان کو بھی اجنبی شخص نہیں دیکھ سکتا اور ہاتھ کے ناخن کو دیکھ سکتا ہے۔ (1) (درمختار)اکثر دیکھا گیا ہے کہ غسل خانہ یا پاخانہ میں موئے زیر ناف مونڈ کر بعض لوگ چھوڑ دیتے ہیں ایسا کرنا درست نہیں بلکہ ان کو ایسی جگہ ڈال دیں کہ کسی کی نظر نہ پڑے یا زمین میں دفن کردیں۔ عورتوں کو بھی لازم ہے کہ کنگھا کرنے میں یا سر دھونے میں جو بال نکلیں انھیں کہیں چھپا دیں کہ ان پر اجنبی کی نظر نہ پڑے۔
مسئلہ ۳۴: عورت کو داڑھی یا مونچھ کے بال نکل آئیں تو ان کا نوچنا جائز بلکہ مستحب ہے کہ کہیں اس کے شوہر کو اس سے نفرت نہ پیدا ہو۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: اجنبیہ عورت کے ساتھ خلوت یعنی دونوں کا ایک مکان میں تنہا ہونا حرام ہے ہاں اگر وہ بالکل بوڑھی ہے کہ شہوت کے قابل نہ ہو تو خلوت ہوسکتی ہے۔ عورت کو طلاق بائن دے دی تو اس کے ساتھ تنہا مکان میں رہنا ناجائز ہے اور اگر دوسرا مکان نہ ہو تو دونوں کے مابین پردہ لگادیا جائے ،تاکہ دونوں اپنے اپنے حصہ میں رہیں یہ اس وقت ہے کہ شوہر فاسق نہ ہو اور اگر فاسق ہو تو ضروری ہے کہ وہاں کوئی ایسی عورت بھی رہے جو شوہر کو عورت سے روکنے پر قادر ہو۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: محارم کے ساتھ خلوت جائز ہے، یعنی دونوں ایک مکان میں تنہا ہوسکتے ہیں۔ مگر رضاعی بہن اور ساس کے ساتھ تنہائی جائز نہیں جبکہ یہ جوان ہوں۔ یہی حکم عورت کی جوان لڑکی کا ہے جو دوسرے شوہر سے ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدْخُلُوۡا بُیُوۡتًا غَیۡرَ بُیُوۡتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاۡنِسُوۡا وَ تُسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَہۡلِہَا ؕ ذٰلِکُمْ خَیۡرٌ لَّکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۷﴾فَاِنۡ لَّمْ تَجِدُوۡا فِیۡہَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوۡہَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْ ۚ وَ اِنۡ قِیۡلَ لَکُمُ ارْجِعُوۡا فَارْجِعُوۡا ہُوَ اَزْکٰی لَکُمْ ؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸﴾لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَدْخُلُوۡا بُیُوۡتًا غَیۡرَ مَسْکُوۡنَۃٍ فِیۡہَا مَتَاعٌ لَّکُمْ ؕ وَ اللہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوۡنَ وَمَا تَکْتُمُوۡنَ ﴿۲۹﴾
)
(5)
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر و المس،ج۹،ص۶۱۲ ۔ ۶۱۴.
2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر و المس،ج۹،ص۶۱۵.
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر و المس،ج۹،ص۶۰۷.
4 ۔ المرجع السابق،ص۶۰۸.
5 ۔ پ۱۸، النور: ۲۷ ۔ ۲۹.
''اے ایمان والو!اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوجب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کرلو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو اور اگر ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تو اندر نہ جاؤ جب تک تمھیں اجازت نہ ملے اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو واپس چلے آؤ، یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ(عزوجل)اس کو جانتا ہے، اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ایسے گھروں کے اندر چلے جاؤ جن میں کوئی رہتا نہیں ہے اور ان میں تمھارا سامان ہے اور اﷲ(عزوجل)جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جس کو چھپاتے ہو۔''اور فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِیَسْتَاۡذِنۡکُمُ الَّذِیۡنَ مَلَکَتْ اَیۡمَانُکُمْ وَالَّذِیۡنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنۡکُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ؕ مِنۡ قَبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَحِیۡنَ تَضَعُوۡنَ ثِیَابَکُمۡ مِّنَ الظَّہِیۡرَۃِ وَمِنۡۢ بَعْدِ صَلٰوۃِ الْعِشَآءِ ۟ؕ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّکُمْ ؕ لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ وَلَا عَلَیۡہِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَہُنَّ ؕ طَوَّافُوۡنَ عَلَیۡکُمۡ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۵۸﴾ )
(1)
''اے ایمان والو!چاہیے کہ تم سے اذن لیں وہ جن کے تم مالک ہو (غلام)اور وہ جو تم میں ابھی جوانی کو نہ پہنچے تین وقت نماز صبح سے پہلے اور جب تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو دوپہر کو اور نماز عشا کے بعد یہ تین وقت تمھاری شرم کے ہیں، ان تین کے علاوہ کچھ گناہ نہیں تم پر، نہ ان پر، تمھارے پاس آمدورفت رکھتے ہیں بعض بعض کے پاس۔ یوہیں اﷲ (عزوجل)تمھارے لیے آیتیں بیان کرتا ہے اوراﷲ(عزوجل)علم و حکمت والا ہے اور جب تم میں کے لڑکے جوانی کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اذن مانگیں جیسے ان کے اگلوں نے اذن مانگا۔ یوہیں اﷲ(عزوجل)تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے اور اﷲ(عزوجل)علم و حکمت والا ہے۔''
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ ہمارے پاس آئے اور یہ کہا کہ حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ نے مجھے بلایا تھا۔ میں نے ان کے دروازہ پر جا کر تین بار سلام کیا، جب جواب نہیں ملا تو میں واپس چلا آیا۔ اب حضرت عمر(رضی اللہ تعالٰی عنہ)فرماتے ہیں کہ تم کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا کہ میں آیا تھا اور دروازہ پرتین بار سلام کیا جب جواب نہیں ملا تو واپس گیا اور رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مجھ سے فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص تین بار اجازت مانگے اور جواب نہ ملے تو واپس جائے۔ حضرت عمر(رضی اللہ تعالٰی عنہ)یہ فرماتے ہیں کہ گواہ لاؤ کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ایسا فرمایا ہے۔ ابوسعید خدری (رضی اللہ تعالٰی عنہ)کہتے ہیں میں نے جا کر گواہی دی۔ (2)
1 ۔ پ۱۸، النور: ۵۸۔۵۹.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأدب،باب الاستئذان،الحدیث:۳۳۔(۲۱۵۳)،ص۱۱۸۶.
حدیث ۲: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے ساتھ میں مکان میں گیا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو پیالے میں دودھ ملااور فرمایا:''ابوہریرہ!اصحاب صفہ کے پاس جاؤ انھیں بلا لاؤ۔''(تاکہ ان کو دودھ دیا جائے)میں انھیں بلا لایا، وہ آئے اور اجازت طلب کی، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے اجازت دی تب وہ مکان کے اندر داخل ہوئے۔ (1)
حدیث ۳: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کوئی شخص بلایا جائے اوراسی بلانے والے کے ساتھ ہی آئے تو یہی (بلانا)اس کے لیے اجازت ہے۔'' (2)یعنی اس صورت میں اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ایک روایت میں ہے کہ ''آدمی بھیجنا ہی اجازت ہے۔'' (3)
یہ حکم اس وقت ہے کہ فوراً آئے اور قرائن سے معلوم ہو کہ صاحبِ خانہ انتظار میں ہے، مکان میں پردہ ہوچکا ہے تو اجازت لی نے کی ضرورت نہیں اور اگر دیر میں آئے تو اجازت حاصل کرے ،جیسا کہ اصحاب صفہ نے کیا تھا۔
حدیث ۴: ترمذی و ابو داود نے کلدہ بن حنبل سے روایت کی، کہتے ہیں کہ صفوان بن امیہ نے مجھے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس بھیجا تھا میں بغیر سلام کیے اور بغیر اجازت اندر چلا گیا۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا:''باہر جاؤ اور یہ کہو
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ءَ اَدْخُلُ
کیا اندر آجاؤں۔ (4)
حدیث ۵: امام مالک نے عطا بن یسار(رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے روایت کی، کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے دریافت کیا کہ کیا میں اپنی ماں کے پاس جاؤں تو اس سے بھی اجازت لوں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:ہاں۔ انھوں نے کہا میں تو اس کے ساتھ اسی مکان میں رہتا ہی ہوں۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:اجازت لے کر اس کے پاس جاؤ، انھوں نے کہا، میں اس کی خدمت کرتا ہوں یعنی بار بار آنا جانا ہوتا ہے۔ پھر اجازت کی کیا ضرورت ہے؟ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اجازت لے کر جاؤ، کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ اسے برہنہ دیکھو؟ عرض کی نہیں، فرمایا:تو اجازت حاصل کرو۔''(5)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإستئذان،باب إذا دعی الرجل فجاء ھل یستأذن،الحدیث:۶۲۴۶،ج۴،ص۱۷۰.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في الرجل یدعی أیکون ذلک إذنہ،الحدیث:۵۱۹۰،ج۴،ص۴۴۷.
3 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۵۱۸۹،ج۴ص۴۴۷.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ماجاء في التسلیم قبل الإستئذان،الحدیث:۲۷۱۹،ج۴،ص۳۲۵.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب،باب الإستئذان،الحدیث:۴۶۷۱،ج۳،ص، ۱۲۔۱۳.
5 ۔ ''الموطأ'' للإمام مالک،کتاب الإستئذان،باب الإستئذان،الحدیث:۱۸۴۷،ج۲،ص۴۴۶.
حدیث ۶: بیہقی نے شعب الایمان میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جو شخص اجازت طلب کرنے سے پہلے سلام نہ کرے، اسے اجازت نہ دو۔''(1)
حدیث ۷: ابو داود نےعبداﷲ بن بسر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں جب رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کسی کے دروازہ پر تشریف لے جاتے تو دروازہ کے سامنے نہیں کھڑے ہوتے تھے بلکہ دہنے یا بائیں ہٹ کر کھڑے ہوتے اور یہ فرماتے:
''اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ، اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ''۔
(2)اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانہ میں دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے۔
حدیث ۸: ترمذی نے ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''کسی شخص کو یہ حلال نہیں کہ دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت حاصل کیے نظر کرے اور اگر نظر کرلی تو داخل ہی ہوگیا اور یہ نہ کرے کہ کسی قوم کی امامت کرے اور خاص اپنے لیے دعا کرے، ان کے لیے نہ کرے او رایسا کیا تو ان کی خیانت کی۔'' (3)
حدیث ۹: امام احمد و نسائی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو کسی کے گھر میں بغیر اجازت لیے جھانکے اور انھوں نے اس کی آنکھ پھوڑ دی تو نہ دیت ہے نہ قصاص(4)۔''(5)
حدیث ۱۰: ترمذی نے ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جس نے اجازت سے قبل پردہ ہٹا کر مکان کے اندر نظر کی، اس نے ایسا کام کیا جو اس کے لیے حلال نہ تھا اور اگر کسی نے اس کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر کچھ نہیں اور اگر کوئی شخص ایسے دروازہ پر گیا جس پر پردہ نہیں اور اس کی نظر گھر والے کی عورت پر پڑ گئی (یعنی بلا قصد)تو اس کی خطا نہیں خطا گھر والوں کی ہے۔''(6) (کہ انہوں نے دروازہ پر پردہ کیوں نہیں لٹکایا)۔
مسئلہ ۱: جب کوئی شخص دوسرے کے مکان پر جائے ،تو پہلے اندر آنے کی اجازت حاصل کرے پھر جب اندر جائے تو پہلے سلام کرے ،اس کے بعد بات چیت شروع کرے اور اگر جس کے پاس گیا ہے وہ باہر ہے تو اجازت کی ضرورت
1 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في مقاربۃ وموادۃ أھل الدین،الحدیث:۸۸۱۶،ج۶،ص۴۴۱.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب کم مرۃ یسلم الرجل في الاستئذان،الحدیث:۵۱۸۶،ج۴،ص۴۴۶.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الصلاۃ،باب ماجاء في کراھیۃ أن یخص الإمام نفسہ بالدعاء،الحدیث:۳۵۷،ج۱،ص۳۷۳.
4 ۔یعنی آنکھ پھوڑنے کے عوض نہ مال دیا جائے گا نہ بدلہ میں اس کی آنکھ پھوڑی جائے گی۔
5 ۔ ''سنن النسائي''،کتاب القسامۃ والقود،باب من إقتص وأخذحقہ دون السلطان،الحدیث:۴۸۷۰،ص۷۸۰.
6 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ماجاء في الاستئذان قبالۃ البیت،الحدیث:۲۷۱۶،ج۴،ص۳۲۴.
نہیں سلام کرے اس کے بعد کلام شروع کرے۔ (1) (خانیہ)
مسئلہ ۲: کسی کے دروازہ پر جا کر آواز دی اس نے کہا کون؟ تو اس کے جواب میں یہ نہ کہے ، کہ میں جیسا کہ بہت سے لوگ میں کہہ کر جواب دیتے ہیں اس جواب کو حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے ناپسند فرمایا ۔(2)بلکہ جواب میں اپنا نام ذکر کرے کیونکہ میں کا لفظ تو ہر شخص اپنے کو کہہ سکتا ہے یہ جواب ہی کب ہوا۔
مسئلہ ۳: اگر تم نے اجازت مانگی اور صاحبِ خانہ نے اجازت نہ دی تو اس سے ناراض نہ ہو، اپنے دل میں کدورت (3) نہ لاؤ، خوشی خوشی وہاں سے واپس آؤ۔ ہوسکتا ہے اس کو اس وقت تم سے ملنے کی فرصت نہ ہو کسی ضروری کام میں مشغول ہو۔
مسئلہ ۴: اگر ایسے مکان میں جانا ہو کہ اس میں کوئی نہ ہو تو یہ کہو
اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصّٰلِحِیْن
فرشتے اس سلام کا جواب دیں گے۔ (4) (ردالمحتار)یا اس طرح کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ
کیونکہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم کی روح مبارک مسلمانوں کے گھروں میں تشریف فرما ہے۔ (5)
مسئلہ ۵: آنے والے نے سلام نہیں کیا اور بات چیت شروع کردی تو اسے اختیار ہے ،کہ اسکی بات کا جواب نہ دے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جس نے سلام سے قبل کلام کیا، اس کی بات کا جواب نہ دو۔'' (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: آنے کے وقت بھی سلام کرے اور جاتے وقت بھی یہاں تک کہ دونوں کے درمیان میں اگر دیوار یا درخت حائل ہوجائے، جب بھی سلام کرے۔ (7) (ردالمحتار)
اﷲتعالٰی فرماتا ہے:
(وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحْسَنَ مِنْہَاۤ اَوْ رُدُّوۡہَا ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا ﴿۸۶﴾
)
(8)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في التسبیح...إلخ،ج۲،ص۳۷۷.
2 ۔ انظر: ''سنن أبی داود''،کتاب الأدب ،باب الرجل یستأذن بالدق،الحدیث:۵۱۸۷،ج۴،ص۴۴۶.
3 ۔ یعنی ناراضگی۔
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۲.
5 ۔ انظر: ''شرح الشفاء'' للقاري، الباب الرابع، فصل في المواطن التی تستحب فیھا الصلاۃ والسلام،ج۲،ص۱۱۸.
6 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۲.
7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔ پ۵، النسآء: ۸۶.
''جب تم کو کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو تم اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا وہی کہہ دو، بے شک اللہ (عزوجل)ہر چیز پر حساب لی نے والا ہے۔''
اور فرماتا ہے:
(فَاِذَا دَخَلْتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِّنْ عِنۡدِ اللہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ؕ)
(1)
''جب تم گھروں میں جاؤ تو اپنوں کو سلام کرو، اﷲ(عزوجل)کی طرف سے تحیت ہے مبارک پاکیزہ۔''
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ اﷲتعالٰی نے آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا فرمایا، ان کا قد ساٹھ ہاتھ کا تھا، جب پیدا کیا یہ فرمایاکہ ان فرشتوں کے پاس جاؤ اور سلام کرو اور سنو کہ وہ تمھیں کیا جواب دیتے ہیں جو کچھ وہ تحیت کریں وہی تمھاری اور تمھاری ذریت کی تحیت ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے ان کے پاس جا کر
السَّلامُ عَلَیْکُمْ
کہا، انھوں نے جواب میں کہا:
السَّلامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اﷲ۔
حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایاکہ جواب میں ملائکہ نے وَرَحْمَۃُ اللہ زیادہ کیا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا: جو شخص جنت میں جائے گا وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا اور ساٹھ ہاتھ لمبا ہوگا۔ آدم علیہ السلام کے بعد لوگوں کی خلقت کم ہوتی گئی یہاں تک کہ اب۔ (2) (بہت چھوٹے قد کا انسان ہوتا ہے)۔
حدیث ۲: صحیح بخاری و مسلم میں عبداللہ بن عَمْرْو رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے، کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم سے دریافت کیا کہ اسلام کی کون سی چیز سب سے اچھی ہے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''کھانا کھلاؤ اور جس کو پہچانتے ہو اور نہیں پہچانتے سب کو سلام کرو۔''(3)
حدیث ۳: نسائی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''ایک مومن کے دوسرے مومن پر چھ ۶ حق ہیں۔ (1)جب وہ بیمار ہو تو عیادت کرے اور (2) جب وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں حاضر ہو اور (3)جب وہ بلائے تو اجابت کرے، یعنی حاضر ہو اور (4) جب اس سے ملے تو سلام کرے اور (5)جب چھینکے تو جواب دے اور (6) حاضر و غائب اس کی خیر خواہی کرے۔'' (4)
1 ۔ پ۱۸، النور: ۶۱.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الجنۃ...إلخ،باب یدخل الجنۃ اقوام...إلخ،الحدیث:۲۸۔(۲۸۴۱)،ص۱۵۲۲.
و''صحیح البخاري''،کتاب الإستئذان،باب بدء السلام،الحدیث:۶۲۲۷،ج۴،ص۱۶۴.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإیمان،باب إطعام الطعام من الإسلام،الحدیث:۱۲،ج۱ص۱۶.
4 ۔ ''سنن النسائي''،کتاب الجنائز،باب النھی عن سب الأموات،الحدیث:۱۹۳۵،ص۳۲۸.
حدیث ۴: ترمذی و دارمی نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مسلم کے مسلم پر چھ حقوق ہیں، معروف کے ساتھ (1)جب اس سے ملے تو سلام کرے اور (2) جب وہ بلائے اجابت کرے اور (3) جب چھینکے یہ جواب دے اور (4) جب بیمار ہو عیادت کرے اور (5)جب وہ مرجائے اس کے جنازے کے ساتھ جائے اور (6) جو چیز اپنے لیے پسند کرے، اس کے لیے پسند کرے۔'' (1)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جنت میں تم نہیں جاؤ گے، جب تک ایما ن نہ لاؤ اور تم مومن نہیں ہوگے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا تمھیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو گے، وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔'' (2)
حدیث ۶: امام احمد و ترمذی و ابو داود، ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں ،کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص پہلے سلام کرے وہ رحمتِ الٰہی کا زیادہ مستحق ہے۔'' (3)
حدیث ۷: بیہقی نے شعب الایمان میں عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص پہلے سلام کرتا ہے، وہ تکبر سے بری ہے۔'' (4)
حدیث ۸: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب کوئی شخص اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے پھر ان دونوں کے درمیان درخت یا دیوار یا پتھر حائل ہوجائے اور پھر ملاقات ہو تو پھر سلام کرے۔''(5)
حدیث ۹: ترمذی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''بیٹے جب گھر والوں کے پاس جاؤ تو انھیں سلام کرو ،تم پر تمھارے گھر والوں پر اس کی برکت ہوگی۔'' (6)
حدیث ۱۰: ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''سلام بات چیت کرنے سے پہلے ہے۔''(7)
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب،باب ماجاء في تشمیت العاطس،الحدیث:۲۷۴۵،ج۴،ص۳۳۸.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان،باب بیان أنہ لایدخل الجنۃ إلا المؤمنون...إلخ،الحدیث:۹۳۔(۵۴)،ص۴۷.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب السلام،باب في فضل من بدأ بالسلام،الحدیث:۵۱۹۷،ج۴،ص۴۴۹.
4 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في مقاربۃ وموادۃ أھل الدین،الحدیث:۸۷۸۶،ج۶،ص۴۳۳.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب السلام،باب في الرجل یفارق الرجل...إلخ،الحدیث:۵۲۰۰،ج۴،ص۴۵۰.
6 ۔ ''سنن الترمذي ''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ماجاء في التسلیم إذا دخل بیتہ،الحدیث:۲۷۰۷،ج۴،ص۳۲۰.
7 ۔ المرجع السابق،باب ماجاء في السلام قبل الکلام،الحدیث:۲۷۰۸،ج۴،ص۳۲۱.
حدیث ۱۱: ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''سلام کو کلام سے پہلے ہونا چاہیے اور کسی کو کھانے کے لیے نہ بلاؤ، جب تک وہ سلام نہ کرلے۔''(1)
حدیث ۱۲: ابن النجار نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سوال سے پہلے سلام ہے، جو شخص سلام سے پہلے سوال کرے، اسے جواب نہ دو۔''(2)
حدیث ۱۳: ترمذی وابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جب کسی مجلس تک کوئی پہنچے تو سلام کرے، پھر اگر وہاں بیٹھنا ہو تو بیٹھ جائے پھر جب وہاں سے اٹھے سلام کرے، کیونکہ پہلی مرتبہ کا سلام پچھلی مرتبہ کے سلام سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔''(3)یعنی جیسے وہ سنت ہے، یہ بھی سنت ہے۔
حدیث ۱۴: امام مالک و بیہقی نے شعب الایمان میں طفیل بن ابی بن کعب سے روایت کی، کہ یہ صبح کو ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماکے پاس جاتے تو وہ ان کو اپنے ساتھ بازار لے جاتے۔ وہ گھٹیا چیزوں کے بیچنے والے اور کسی بیچنے والے اور مسکین یا کسی کے سامنے سے گزرتے سب کو سلام کرتے۔ طفیل کہتے ہیں کہ ایک دن میں عبداﷲبن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما کے پاس آیا، انھوں نے بازار چلنے کو کہا، میں نے کہا، آپ بازار جا کر کیا کریں گے نہ تو آپ وہاں کھڑے ہوتے ہیں، نہ سودے کے متعلق کچھ دریافت کرتے ہیں، نہ کسی چیز کا نرخ چکاتے ہیں اور نہ بازار کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں؟ یہیں بیٹھے باتیں کیجیے یعنی حدیثیں سنائیے۔ انھوں نے فرمایا:''ہم سلام کرنے کے لیے بازار جاتے ہیں کہ جو ملے گا، اسے سلام کریں گے۔''(4)
حدیث ۱۵: امام ا حمد و بیہقی نے شعب الایمان میں جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ ایک دن نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور یہ عرض کی کہ فلاں شخص کے میرے باغ میں کچھ پھل ہیں، ان کی وجہ سے مجھے تکلیف ہے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے آدمی بھیج کر اسے بلایا اور یہ فرمایاکہ اپنے پھلوں کو بیچ ڈالو۔ اُس نے کہا، نہیں بیچوں گا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:ہبہ کر دو۔ اس نے کہا، نہیں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:اس کو جنت کے پھل کے عوض بیچ دو۔ اس نے کہا، نہیں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''تجھ سے بڑھ کر بخیل میں نے نہیں دیکھا، مگر وہ شخص جو سلام کرنے میں بخل کرتا ہے۔''(5)
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب في السلام قبل الکلام،الحدیث:۲۷۰۸،ج۴،ص۳۲۱.
2 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب الصحبۃ، رقم: ۲۵۲۸۷،ج۹،ص۵۲.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب في التسلیم عند القیام...إلخ،الحدیث:۲۷۱۵،ج۴،ص۳۲۴.
4 ۔ ''المؤطا'' للإمام مالک،کتاب السلام،باب جامع السلام،الحدیث:۱۸۴۴،ج۲،ص۴۴۴ ۔ ۴۴۵.
5 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد اللہ،الحدیث:۱۴۵۲۴،ج۵،ص۷۹.
حدیث ۱۶: بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ فرمایا:''جماعت کہیں سے گزری اور اس میں سے ایک نے سلام کرلیا یہ کافی ہے اور جو لوگ بیٹھے ہیں، ان میں سے ایک نے جواب دے دیا یہ کافی ہے۔'' (1) یعنی سب پر جواب دینا ضروری نہیں۔
حدیث ۱۷: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''سوار پیدل کو سلام کرے اور چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور تھوڑے آدمی زیادہ آدمیوں کو سلام کریں۔''(2)یعنی ایک طر ف زیادہ ہوں اور دوسری طرف کم تو سلام وہ لوگ کریں جو کم ہیں۔ بخاری کی دوسری روایت انھیں سے یہ ہے کہ ''چھوٹا بڑے کو سلام کرے اور گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے زیادہ کو۔''(3)
حدیث ۱۸: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم بچوں کے سامنے سے گزرے اور بچوں کو سلام کیا۔ (4)
حدیث ۱۹: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''یہود و نصاریٰ کو ابتداءً سلام نہ کرو اور جب تم ان سے راستہ میں ملو تو ان کو تنگ راستہ کی طرف مضطر کرو۔'' (5)
حدیث ۲۰: صحیح بخاری و مسلم میں اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم ایک مجلس پر گزرے، جس میں مسلمان اور مشرکین بت پرست اور یہود سب ہی تھے، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے سلام کیا۔ (6)یعنی مسلمانوں کی نیت سے۔
حدیث ۲۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں السام علیک تو تم اس کے جواب میں وعلیک کہو یعنی وعلیک السلام نہ کہو۔''(7)
سام کے معنی موت ہیں وہ لوگ حقیقۃً سلام نہیں کرتے، بلکہ مسلم کے جلد مر جانے کی دعا کرتے ہیں۔ اسی کی مثل انس
1 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في مقاربۃ وموادۃ اھل الدین، فصل في سلام الواحد...إلخ،الحدیث:۸۹۲۲،ج۶،ص۴۶۶.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الاستئذان،باب یسلم الراکب علی الماشی،الحدیث:۶۲۳۲،ج۴،ص۱۶۶.
3 ۔ المرجع السابق،باب تسلیم القلیل علی الکثیر،الحدیث:۶۲۳۱،ج۴،ص۱۶۶.
4 ۔ المرجع السابق،باب التسلیم علی الصبیان،الحدیث:۶۲۴۷،ج۴،ص۱۷۰.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب السلام،باب النھی عن إبتداء أھل الکتاب بالسلام...إلخ،الحدیث:۱۳۔(۲۱۶۷)،ص۱۱۹۴.
6 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإستئذان،باب التسلیم في مجلس فیہ...إلخ،الحدیث:۶۲۵۴،ج۴،ص۱۷۲.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب،باب السلام،الحدیث:۴۶۳۹،ج۳،ص۵.
7 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الاستئذان،باب کیف الرد علی اھل الذمۃ بالسلام،الحدیث:۶۲۵۷،ج۴،ص۱۷۴.
رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی مروی ہے، کہ ''اہلِ کتاب سلام کریں تو ان کے جواب میں وعلیکم کہہ دو۔'' (1)
حدیث ۲۲: صحیح بخاری و مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ لوگوں نے عرض کی، یا رسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!ہمیں راستہ میں بیٹھنے سے چارہ نہیں، ہم وہاں آپس میں بات چیت کرتے ہیں۔ فرمایا:جب تم نہیں مانتے اور بیٹھنا ہی چاہتے ہو تو راستہ کا حق ادا کرو۔لوگوں نے عرض کی، راستہ کا حق کیا ہے؟ فرمایاکہ ''نظر نیچی رکھنا اور اذیت کو دور کرنا اور سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کا حکم کرنا اور بری باتوں سے منع کرنا۔''(2)
دوسری روایت میں ہے اور راستہ بتانا۔(3)ایک اور روایت میں ہے فریاد کرنے والے کی فریاد سننا اور بھولے ہوئے کو ہدایت کرنا ۔ (4)
حدیث ۲۳: شرح سنہ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''راستوں کے بیٹھنے میں بھلائی نہیں ہے، مگر اس کے لیے جو راستہ بتائے اور سلام کا جواب دے اور نظر نیچی رکھے اور بوجھ لادنے پر مددکرے۔''(5)
حدیث ۲۴: ترمذی وابو داود نے عمران بن حصین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں آیا اور
السَّلامُ عَلَیْکُمْ
کہا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اسے جواب دیا وہ بیٹھ گیا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:اس کے لیے دس یعنی دس نیکیاں ہیں۔ پھر دوسرا آیا اور
السَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہ
کہا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے جواب دیا وہ بیٹھ گیا۔ ارشاد فرمایا: اس کے لیے بیس۔ پھر تیسرا شخص آیا اور
السَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲوَبَرَکَاتُہ
کہا اس کو جواب دیا اور یہ بھی بیٹھ گیا حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''اس کے لیے تیس۔''(6)اور معاذ بن انس(رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی روایت میں ہے، کہ پھر ایک شخص آیا اس نے کہا
السَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲ وَبَرَکَاتُہٗ وَ مَغْفِرَتُہ۔
حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''اس کے لیے چالیس۔''(7)اور فضائل اسی طرح ہوتے ہیں یعنی جتنا کام زیادہ ہوگا ثواب بھی بڑھتا جائے گا۔
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الاستئذان،باب کیف الرد علی أھل الذمۃ بالسلام،الحدیث:۶۲۵۸،ج۴،ص۱۷۴.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب السلام،باب من حق الجلوس علی الطریق رد السلام،الحدیث:۳۔(۲۱۶۱)،ص۱۱۹۱.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في الجلوس بالطرقات،الحدیث:۴۸۱۶،ج۴،ص۳۳۷.
4 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۸۱۷،ج۴،ص۳۳۷.
5 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب الاستئذان...إلخ،باب کراھیۃ الجلوس علی الطرق،الحدیث:۳۲۳۲،ج۶،ص۳۶۵.
6 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب السلام،باب کیف السلام،الحدیث:۵۱۹۵،ج۴،ص۴۴۹.
7 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۵۱۹۶،ج۴،ص۴۴۹.
حدیث ۲۵: ترمذی میں بروایت عَمْرْوبن شعیب عن ابیہ عن جدہ ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص ہمارے غیر کے ساتھ تَشَبُّہ(1)کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔ یہودو نصاریٰ کے ساتھ تَشَبُّہ نہ کرو، یہودیوں کا سلام انگلیوں کے اشارے سے ہے اور نصاریٰ کا سلام ہتھیلیوں کے اشارے سے ہے۔''(2)
حدیث ۲۶: ابو داود و ترمذی نے ابوجری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں: میں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ کہا علیک السلام یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)۔ میں نے دو مرتبہ کہا، حضور ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''علیک السلام نہ کہو، علیک السلام مردہ کی تحیت ہے، السلام علیک کہا کرو۔''(3)
سلام کرنے میں یہ نیت ہو کہ اس کی عزت و آبرو اور مال سب کچھ اس کی حفاظت میں ہے، ان چیزوں سے تعرض کرنا حرام ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱: صرف اسی کو سلام نہ کرے جس کو پہچانتا ہو، بلکہ ہر مسلمان کو سلام کرے چاہے پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو۔ بلکہ بعض صحابہ کرام اسی ارادہ سے بازار جاتے تھے کہ کثرت سے لوگ ملیں گے اور زیادہ سلام کرنے کا موقع ملے گا۔
مسئلہ ۲: اس میں اختلاف ہے کہ افضل کیا ہے سلام کرنا یا جواب دینا کسی نے کہا جواب دینا افضل ہے کیونکہ سلام کرنا سنت ہے اور جواب دینا واجب۔ بعض نے کہا کہ سلام کرنا افضل ہے کہ اس میں تواضع ہے جواب تو سبھی دے دیتے ہیں مگر سلام کرنے میں بعض مرتبہ بعض لوگ کسر شان (5)سمجھتے ہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: ایک شخص کو سلام کرے تو اس کے لیے بھی لفظ جمع ہونا چاہیے یعنی
اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ
کہے اور جواب دینے والا بھی
وَعَلَیْکُمُ السَّلام
کہے بجائے
عَلَیْکُمْ عَلَیْکَ
نہ کہے اور دو یا دو سے زیادہ کو سلام کرے جب بھی عَلَیْکُمْ کہے اور بہتر یہ ہے کہ سلام میں رحمت و برکت کا بھی ذکر کرے یعنی
اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہٗ
کہے اور جواب دینے والا بھی وہی کہے
1 ۔ یعنی مشابہت کرے۔
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ماجاء في کراھیۃ إشارۃ الید بالسلام،الحدیث:۲۷۰۴،ج۴،ص۳۱۹.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ماجاء في کراھیۃ أن یقول...إلخ،الحدیث:۲۷۳۰،۲۷۳۱،ج۴،ص۳۳۱.
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۲.
5 ۔ یعنی خلافِ شان۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۴،۳۲۵.
بَرَکاتُہ، پر سلام کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد اور الفاظ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: جواب میں واؤ ہونا یعنی وَعَلَیْکُمُ السَّلامْ کہنا بہتر ہے اور اگر صرف عَلَیْکُمُ السَّلامْ بغیر واؤ کہا یہ بھی ہوسکتا ہے اور اگر جواب میں اس نے بھی وہی السَّلامُ عَلَیْکُمْ کہہ دیا تو اس سے بھی جواب ہوجائے گا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: اگرچہ سَلامٌ عَلَیْکُمْ بھی سلام ہے مگر یہ لفظ شیعوں میں اس طرح جاری ہے کہ اس کے کہنے سے سننے والے کا ذہن فوراً اس کی طرف منتقل ہوتا ہے، کہ یہ شخص شیعی ہے، لہٰذا اس سے بچنا ضروری ہے۔
مسئلہ ۶: سلام کا جواب فوراً دینا واجب ہے، بلاعذر تاخیر کی تو گنہگار ہوا اور یہ گناہ جواب دینے سے دفع نہ ہوگا، بلکہ توبہ کرنی ہوگی۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: جن لوگوں کو اس نے سلام کیا ان میں سے کسی نے جواب نہ دیا، بلکہ کسی اور نے جو اس مجلس سے خارج تھا جواب دیا تو یہ جواب اہلِ مجلس کی طرف سے نہیں ہوا یعنی وہ لوگ بریئ الذمہ نہ ہوئے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: ایک جماعت دوسری جماعت کے پاس آئی اور کسی نے سلام نہ کیا تو سب نے سنت کو ترک کیا، سب پر الزام ہے(5) اور اگر ان میں سے ایک نے سلام کر لیا تو سب بری ہوگئے اور افضل یہ ہے کہ سب ہی سلام کریں۔ یوہیں اگر ان میں سے کسی نے جواب نہ دیا تو سب گنہگار ہوئے اور اگر ایک نے جواب دے دیا تو سب بری ہوگئے اور افضل یہ ہے کہ سب جواب دیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: ایک شخص مجلس میں آیا اور اس نے سلام کیا اہلِ مجلس پر جواب دینا واجب ہے اور دوبارہ پھر سلام کیا توجواب دینا واجب نہیں۔ مجلس میں آکر کسی نے السلام علیک کہا یعنی صیغہ واحد بولا اور کسی ایک شخص نے جواب دے دیا تو جواب ہوگیا خاص اس کو جواب دینا واجب نہیں جس کی طرف اس نے اشارہ کیا ہے۔ ہاں اگر اس نے کسی شخص کا نام لے کر سلام کیا کہ فلاں صاحب السلام علیک تو خاص اس شخص کو جواب دینا ہوگا، دوسرے کا جواب اس کے جواب کے قائم مقام نہیں ہوگا۔ (7) (خانیہ، عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: اہلِ مجلس پر سلام کیا ان میں سے کسی نابالغ عاقل نے جواب دے دیا تو یہ جواب کافی ہے اور بڑھیا نے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۴،۳۲۵.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۳.
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۲.
5 ۔ یعنی سب گنہگار ہوں گے۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۵.
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في التسبیح والتسلیم،ج۲،ص۳۷۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۵.
جواب دیا، یہ جواب بھی ہوگیا۔ جوان عورت یا مجنون یا ناسمجھ بچہ نے جواب دیا، یہ ناکافی ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: سائل نے دروازہ پر آکر سلام کیا اس کا جواب دینا واجب نہیں۔ کچہری میں قاضی جب اجلاس کررہا ہو، اس کو سلام کیا گیا قاضی پر جواب دینا واجب نہیں۔ لوگ کھانا کھارہے ہوں اس وقت کوئی آیا تو سلام نہ کرے، ہاں اگر یہ بھوکا ہے اور جانتا ہے کہ اسے وہ لوگ کھانے میں شریک کرلیں گے تو سلام کرلے۔ (2) (خانیہ، بزازیہ)یہ اس وقت ہے کہ کھانے والے کے مونھ میں لقمہ ہے اور وہ چبا رہا ہے کہ اس وقت وہ جواب دینے سے عاجز ہے اور ابھی کھانے کے لیے بیٹھا ہی ہے یا کھا چکا ہے تو سلام کرسکتا ہے کہ اب وہ عاجز نہیں۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: ایک شخص شہ ر سے آرہا ہے دوسرا دیہات سے، دونوں میں کون سلام کرے؟ بعض نے کہا شہ ری دیہاتی کو سلام کرے اور بعض علما فرماتے ہیں دیہاتی شہ ری کو سلام کرے۔ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے، دوسرا یہاں سے گزرا تو یہ گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے اور سوار پیدل کو سلام کرے اور تھوڑے زیادہ کو سلام کریں، ایک شخص پیچھے سے آیا، یہ آگے والے کو سلام کرے۔ (4) (بزازیہ، عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: مرد اور عورت کی ملاقات ہو تو مرد عورت کو سلام کرے اور اگر عورت اجنبیہ نے مرد کو سلام کیا اور وہ بوڑھی ہو تو اس طرح جواب دے کہ وہ بھی سنے اور وہ جوان ہو تو اس طرح جواب دے کہ وہ نہ سنے۔ (5) (خانیہ)
مسئلہ ۱۴: جب اپنے گھر میں جائے تو گھر و الوں کو سلام کرے بچوں کے سامنے گزرے تو ان بچوں کو سلام کرے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: کفار کو سلام نہ کرے اور وہ سلام کریں تو جواب دے سکتا ہے مگر جواب میں صرف عَلَیْکُمْ کہے اگر ایسی جگہ گزرنا ہو جہاں مسلم و کافر دونوں ہوں تو السَّلامُ عَلَیْکُمْ کہے اور مسلمانوں پر سلام کا ارادہ کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے۔ کہ
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۳.
2 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في التسبیح والتسلیم،ج۲،ص۳۷۷.
و''البزازیۃ''ہامش علی''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، نوع في السلام،ج۶،ص۳۵۴۔۳۵۵.
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۵.
4 ۔ ''البزازیۃ''ہامش علی''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، نوع في السلام،ج۶،ص۳۵۵.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۵.
5 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في التسبیح...إلخ،ج۲،ص۳۷۷.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۵.
السَّلامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی
کہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: کافر کو اگر حاجت کی وجہ سے سلام کیا، مثلاً سلام نہ کرنے میں اس سے اندیشہ ہے تو حرج نہیں اور بقصد تعظیم کافر کو ہرگز ہرگز سلام نہ کرے کہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: سلام اس لیے ہے کہ ملاقات کرنے کو جو شخص آئے وہ سلام کرے کہ زائر اور ملاقات کرنے والے کی یہ تحیت ہے۔ لہٰذا جو شخص مسجد میں آیا اور حاضرین مسجد تلاوت قرآن و تسبیح ودرود میں مشغول ہیں یا انتظارِ نماز میں بیٹھے ہیں تو سلام نہ کرے کہ یہ سلام کا وقت نہیں۔ اسی واسطے فقہا یہ فرماتے ہیں کہ ان کو اختیار ہے کہ جواب دیں یا نہ دیں۔ ہاں اگر کوئی شخص مسجد میں اس لیے بیٹھا ہے کہ لوگ اس کے پاس ملاقات کو آئیں تو آنے والے سلام کریں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: کوئی شخص تلاوت میں مشغول ہے یا درس و تدریس یا علمی گفتگو یا سبق کی تکرار میں ہے تو اس کو سلام نہ کرے۔ اسی طرح اذان و اقامت و خطبہ جمعہ و عیدین کے وقت سلام نہ کرےٖ۔ سب لوگ علمی گفتگو کررہے ہوں یا ایک شخص بول رہا ہے باقی سن رہے ہوں،دونوں صورتوں میں سلام نہ کرے، مثلاً عالم وعظ کہہ رہا ہے یا دینی مسئلہ پر تقریر کررہا ہے اور حاضرین سن رہے ہیں، آنے والا شخص چپکے سے آکر بیٹھ جائے سلام نہ کرے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: عالمِ دین تعلیم علمِ دین میں مشغول ہے، طالب علم آیا تو سلام نہ کرے اور سلام کیا تو اس پر جواب دینا واجب نہیں۔ (5) (عالمگیری)اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگرچہ وہ پڑھا نہ رہا ہو سلام کا جواب دینا واجب نہیں، کیونکہ یہ اس کی ملاقات کو نہیں آیا ہے کہ اس کے لیے سلام کرنا مسنون ہو بلکہ پڑھنے کے لیے آیا ہے، جس طرح قاضی کے پاس جو لوگ اجلاس میں جاتے ہیں وہ ملنے کو نہیں جاتے بلکہ اپنے مقدمہ کے لیے جاتے ہیں۔
مسئلہ ۲۰: جو شخص ذکر میں مشغول ہو اس کے پاس کوئی شخص آیا تو سلام نہ کرے اور کیا تو ذاکر (6)پر جواب واجب نہیں۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: جو شخص پیشاب پاخانہ پھررہا ہے یا کبوتر اڑا رہا ہے یا گارہا ہے یا حمام یا غسل خانہ میں ننگانہارہا ہے، اس کو
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۵.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۱.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۵.
4 ۔ المرجع السابق،ص۳۲۵ ۔ ۳۲۶. 5 ۔ المرجع السابق،ص۳۲۶.
6 ۔ یعنی ذِکر کرنے والا۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۶.
سلام نہ کیا جائے اور اس پر جواب دینا واجب نہیں۔ (1) (عالمگیری) پیشاب کے بعد ڈھیلا لے کر استنجا سکھانے کے لیے ٹہلتے ہیں، یہ بھی اسی حکم میں ہے کہ پیشاب کررہا ہے۔
مسئلہ ۲۲: جو شخص علانیہ فسق کرتا ہو اسے سلام نہ کرے کسی کے پروس میں فساق رہتے ہیں، مگر ان سے یہ اگر سختی برتتا ہے تو وہ اس کو زیادہ پریشان کریں گے اور نرمی کرتا ہے ان سے سلام کلام جاری رکھتا ہے تووہ ایذا پہنچانے سے باز رہتے ہیں تو ان کے ساتھ ظاہری طور پر میل جول رکھنے میں یہ معذور ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: جو لوگ شطرنج کھیل رہے ہوں ان کو سلام کیا جائے یا نہ کیا جائے، جو علما سلام کرنے کو جائز فرماتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ سلام اس مقصد سے کرے کہ اتنی دیر تک کہ وہ جواب دیں گے، کھیل سے باز رہیں گے۔ یہ سلام ان کو معصیت سے بچانے کے لیے ہے، اگرچہ اتنی ہی دیر تک سہی۔ جو فرماتے ہیں کہ سلام کرنا ناجائز ہے ان کا مقصد زجرو توبیخ ہے کہ اس میں ان کی تذلیل ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: کسی سے کہہ دیا کہ فلاں کو میرا سلام کہہ دینا اوس پر سلام پہنچانا واجب ہے اور جب اس نے سلام پہنچایاتوجواب یوں دے کہ پہلے اس پہنچانے والے کو اس کے بعد اس کو جس نے سلام بھیجا ہے یعنی یہ کہے
وَعَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلام۔
(4)(عالمگیری)
یہ سلام پہنچانا اس وقت واجب ہے جب اس نے اس کا التزام کر لیا ہو یعنی کہدیا ہو کہ ہاں تمہارا سلام کہدوں گا کہ اس وقت یہ سلام اس کے پاس امانت ہے جو اس کا حقدار ہے اس کو دینا ہی ہو گا ورنہ یہ بمنزلہ ودیعت ہے کہ اس پر یہ لازم نہیں کہ سلام پہنچانے وہاں جائے ۔ اسی طرح حاجیوں سے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم کے دربار میں میرا سلام عرض کر دینا یہ سلام بھی پہنچانا واجب ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: خط میں سلام لکھا ہوتا ہے اس کا بھی جواب دینا واجب ہے اور یہاں جواب دو طرح ہوتا ہے، ایک یہ کہ زبان سے جواب دے، دوسری صورت یہ ہے کہ سلام کا جواب لکھ کر بھیجے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار) مگر چونکہ جواب سلام فوراً دینا واجب ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا تو اگر فوراً تحریری جواب نہ ہو جیسا کہ عموما ً یہی ہوتا ہے کہ خط کا جواب فوراً ہی نہیں لکھا جاتا خواہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۶.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۵.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۵.
مخواہ کچھ دیر ہوتی ہے تو زبان سے جواب فوراً دے دے، تاکہ تاخیر سے گناہ نہ ہو۔ اسی وجہ سے علامہ سید احمد طحطاوی نے اس جگہ فرمایا:
وَالنَّاسُ عَنْہُ غَافِلُوْنَ.
(1)یعنی لوگ اس سے غافل ہیں۔
اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ جب خط پڑھا کرتے تو خط میں جو السَّلام عَلَیْکُمْ لکھا ہوتا ہے اس کا جواب زبان سے دے کر بعد کا مضمون پڑھتے۔
مسئلہ ۲۶: سلام کی میم کو ساکن کہا یعنی سَلامْ عَلَیْکُمْ، جیسا کہ اکثر جاہل اسی طرح کہتے ہیں یا سَلامُ عَلَیْکُمْ میم کے پیش کے ساتھ کہا، ان دونوں صورتوں میں جواب واجب نہیں کہ یہ مسنون سلام نہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: ابتداءً کسی نے یہ کہا عَلَیْکَ السَّلامیا عَلَیْکُمُ السَّلام،تو اس کا جواب نہیں۔ حدیث میں فرمایاکہ ''یہ مُردوں کی تحیت ہے۔''(3)
مسئلہ ۲۸: سلام اتنی آواز سے کہے کہ جس کو سلام کیا ہے وہ سن لے اور اگر اتنی آواز نہ ہو تو جواب دینا واجب نہیں، جواب سلام میں بھی اتنی آواز ہو کہ سلام کرنے والا سن لے اور اتنا آہستہ کہا کہ وہ سن نہ سکا تو واجب ساقط نہ ہوا اور اگر وہ بہراہے تو اس کے سامنے ہونٹ کو جنبش دے کہ اس کی سمجھ میں آجائے کہ جواب دے دیا۔ چھینک کے جواب کا بھی یہی حکم ہے۔(4) (بزازیہ)
مسئلہ ۲۹: انگلی یا ہتھیلی سے سلام کرنا ممنوع ہے۔ حدیث میں فرمایاکہ ''انگلیوں سے سلام کرنا یہودیوں کا طریقہ ہے اور ہتھیلی سے اشارہ کرنا نصاریٰ کا۔''(5)
مسئلہ ۳۰: بعض لو گ سلام کے جواب میں ہاتھ یا سر سے اشارہ کردیتے ہیں، بلکہ بعض صرف آنکھوں کے اشارہ سے جواب دیتے ہیں یوں جواب نہیں ہوا، ان کو مونھ سے جواب دینا واجب ہے۔
مسئلہ ۳۱: بعض لوگ سلام کرتے وقت جھک بھی جاتے ہیں، یہ جھکنا اگر حدرکوع تک ہو تو حرام ہے اور اس سے کم ہو تو مکروہ ہے۔
مسئلہ ۳۲: اس زمانہ میں کئی طرح کے سلام لوگوں نے ایجاد کرلیے ہیں۔ ان میں سب سے بُر ا یہ ہے جو بعض لوگ کہتے ہیں بندگی عرض یہ لفظ ہر گز نہ کہا جائے۔ بعض لوگ
1 ۔ ''حاشیۃ الطحطاوي''علی''الدرالمختار'' ،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۴،ص۲۰۷.
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۶.
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۶.
و ''سنن أبي داود''،کتاب السلام،باب کراھیۃ أن یقول علیک السلام،الحدیث:۵۲۰۹،ج۴،ص۳۵۲.
4 ۔ ''البزازیۃ''ہامش علی''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، نوع في السلام،ج۶،ص۳۵۵.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان والآداب،باب في کراھیۃ إشارۃ الید بالسلام،الحدیث:۲۷۰۴،ج۴،ص۳۱۹.
آداب عرض کہتے ہیں، اگرچہ اس میں اتنی برائی نہیں مگر سنت کے خلاف ہے۔ بعض لوگ تسلیم یا تسلیمات عرض کہتے ہیں، اس کو سلام کہا جاسکتا ہے کہ یہ سلام ہی کے معنی میں ہے۔
بعض کہتے ہیں سلام۔ اس کو بھی سلام کہا جاسکتا ہے قرآن مجید میں ہے کہ ملائکہ جب ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
(فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ)
(1)انھوں نے آکر سلام کہا، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی سلام کہا یعنی اگر کسی نے کہا سلام تو سلام کہہ دینے سے جواب ہوجائے گا۔
بعض لوگ اس قسم کے ہیں کہ وہ خود تو کیا سلام کریں گے، اگر ان کو سلام کیا جاتا ہے تو بگڑتے ہیں، کہتے ہیں کہ کیا ہمیں بر ابر کا سمجھ لیا ہے، یعنی کوئی غریب آدمی سلام مسنون کرے تو وہ اپنی کسر شان(2)سمجھتے ہیں۔
اور بعض یہ چاہتے ہیں کہ انھیں آداب عرض کہا جائے یا جھک کر ہاتھ سے اشارہ کیا جائے اور بعض یہاں تک بے باک ہیں کہ یہ کہتے ہیں، کیا ہمیں دُھنا(3)جولاہا (4)مقرر کررکھا ہے؟ اﷲتعالیٰ ان کو ہدایت دے اور ان کی آنکھیں کھولے۔
مسئلہ ۳۳: کسی کے نام کے ساتھ علیہ السلام کہنا یہ انبیا وملائکہ علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے، مثلاً موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، جبریل علیہ السلام، نبی اور فرشتہ کے سوا کسی دوسرے کے نام کے ساتھ یوں نہ کہا جائے۔
مسئلہ ۳۴: اکثر جگہ یہ طریقہ ہے کہ چھوٹا جب بڑے کو سلام کرتا ہے تو وہ جواب میں کہتا ہے جیتے رہو۔ یہ سلام کا جواب نہیں ہے، بلکہ یہ جواب جاہلیت میں کفار دیا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے حیاک اللہ۔ اسلام نے یہ بتایا کہ جواب میں وَعَلَیْکُمُ السَّلام کہا جائے۔
حدیث ۱: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ نے براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب دو مسلمان مل کر مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت ہوجاتی ہے۔''(5)
اور ابو داود کی روایت میں ہے، ''جب دو مسلمان ملیں اور مصافحہ کریں اور اﷲ(عزوجل)کی حمد کریں اور استغفار کریں تو دونوں کی مغفرت ہوجائے گی۔''(6)
1 ۔ پ۱۴، الحجر: ۵۲.
2 ۔یعنی اپنی بے عزتی۔ 3 ۔یعنی روئی دُھننے والا۔ 4 ۔یعنی کپڑابُننے والا۔
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ماجاء في المصافحۃ،الحدیث:۲۷۳۶،ج۴،ص۳۳۳.
6 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في المصافحۃ،الحدیث:۵۲۱۱،ج۴،ص۴۵۳.
حدیث ۲: بیہقی نے شعب الایمان میں براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص دوپہر سے پہلے چار رکعتیں (نماز چاشت)پڑھے تو گویا اس نے شبِ قدر میں پڑھیں اور دو مسلمان مصافحہ کریں تو کوئی گناہ باقی نہ رہے گا، مگر جھڑ جائے گا۔'' (1)
حدیث ۳: صحیح بخاری میں قتادہ سے روایت ہے، کہتے ہیں میں نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے دریافت کیا کیا اصحاب رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم میں مصافحہ کا دستور تھا؟کہا:''ہاں۔''(2)
حدیث ۴: امام مالک نے عطاء خراسانی سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''آپس میں مصافحہ کرو، دل کی کپٹ جاتی رہے گی(3) اور باہم ہدیہ کرو، محبت پیدا ہوگی اور عداوت نکل جائے گی۔'' (4)
حدیث ۵: امام احمدنے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب دو مسلمانوں نے ملاقات کی اور ایک نے دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیا(مصافحہ کیا)تو اﷲتعالٰی کے ذمہ میں یہ حق ہے کہ ان کی دعا کو حاضر کردے اور ہاتھ جدا نہ ہونے پائیں گے کہ ان کی مغفرت ہوجائے گی اور جو لوگ جمع ہو کر اﷲتعالٰی کا ذکر کرتے ہیں اور سوا رضائے الٰہی کے ان کا کوئی مقصد نہیں ہے تو آسمان سے منادی ندا دیتا ہے کہ کھڑے ہوجاؤ!تمھاری مغفرت ہوگئی، تمھارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا گیا۔'' (5)
حدیث ۶: طبرانی نے سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے ملے اور ہاتھ پکڑے (مصافحہ کرے)تو ان دونوں کے گناہ ایسے گرتے ہیں جیسے تیز آندھی کے دن میں خشک درخت کے پتے اور ان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، اگرچہ سمندرکی جھاگ برابر ہوں۔'' (6)
حدیث ۷: ابن النجار نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جو مسلمان اپنے بھائی سے مصافحہ کرے اور کسی کے دل میں دوسرے سے عداوت نہ ہو
1 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في مقاربۃ وموادۃ أھل الدین، فصل في المصافحۃ...إلخ،الحدیث:۸۹۵۵،ج۶،ص۴۷۴.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإستئذان باب المصافحۃ،الحدیث:۶۲۶۳،ج۴،ص۱۷۷.
3 ۔ یعنی کینہ ختم ہوجائے گا۔
4 ۔ ''الموطأ'' للإمام مالک،کتاب حسن الخلق،باب ماجاء فيالمھاجرۃ،الحدیث:۱۷۳۱،ج۲،ص۴۰۷.
5 ۔ ''المسند ''للإمام أحمد بن حنبل،الحدیث:۱۲۴۵۴، ۱۲۴۵۶،ج۴،ص۲۸۶.
6 ۔ ''المعجم الکبیر''،الحدیث:۶۱۵۰،ج۶،ص۲۵۶.
تو ہاتھ جدا ہونے سے پہلے اﷲتعالیٰ دونوں کے گزشتہ گناہوں کو بخش دے گا اور جو شخص اپنے بھائی کی طرف نظر محبت سے دیکھے، اس کے دل یا سینے میں عداوت نہ ہو تو نگاہ لوٹنے سے پہلے دونوں کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔''(1)
حدیث ۸: امام احمد و ترمذی نے ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''مریض کی پوری عیادت یہ ہے کہ اس کی پیشانی یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھے کہ مزاج کیسا ہے اور پوری تحیت یہ ہے کہ مصافحہ کیا جائے ۔''(2)
حدیث ۹: ترمذی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملاقات کرے تو کیا اس کے لیے جھک جائے؟ فرمایا: ''نہیں۔''اس نے کہا، تو کیا اس سے چپٹ جائے اور بوسہ لے؟ فرمایا:''نہیں۔''اس نے کہا، تو کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرے؟ فرمایا:''ہاں۔''(3)
حدیث ۱۰: ابو داود نے روایت کی، کہ ایک شخص نے ابوذررضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا، کیا تم لوگ جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے ملتے تھے تو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) تم سے مصافحہ کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: میں نے جب کبھی ملاقات کی حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے مصافحہ کیا۔ ایک دن حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے آدمی بھیجا، میں گھر پر موجود نہ تھا، جب آیا تو مجھے مطلع کیا گیا میں حاضر ہوا، اس وقت حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)تخت پر تھے، مجھے چپٹالیا تو یہ خوب ہی اچھا تھا، خوب اچھا۔ (4)
حدیث ۱۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے ساتھ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر گیا۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے حضرت حسنرضی اللہ تعالٰی عنہ کو دریافت کیا، کہ وہ یہاں ہیں؟ تھوڑی دیر بعد وہ دوڑتے ہوئے آئے ا ور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے انھیں گلے لگایا اور وہ بھی چپٹ گئے۔ پھر فرمایا:''اے اﷲ(عزوجل)! میں اسے محبوب رکھتا ہوں تو بھی اسے محبوب رکھ اور اسے محبوب بنا لے جو اسے محبوب رکھے۔''(5)
حدیث ۱۲: امام احمد نے یعلی ا رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما دوڑ کر رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میںآئے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے انھیں چپٹا لیا اور فرمایا:''اولاد بخل اور بزدلی کا سبب ہوتی ہے۔'' (6)
1 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب الصحبۃ، رقم: ۲۵۳۵۸،ج۹،ص۵۷.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ما جاء في المصافحۃ،الحدیث:۲۷۴۰،ج۴ص۳۳۴.
3 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۲۷۳۷،ج۴ص۳۳۳.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في المعانقۃ،الحدیث:۵۲۱۴،ج۴ص۴۵۳.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب فضائل الصحابۃ،باب من فضائل الحسن والحسین رضی اللہ عنھما،الحدیث:۵۷۔(۲۴۲۱)،ص۱۳۱۹.
6 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث یعلی بن مرۃ الثقفی،الحدیث:۱۷۵۷۳،ج۶،ص۱۷۸.
حدیث ۱۳: ترمذی نے اُم المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ جب مدینہ میں آئے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میرے مکان میں تشریف فرما تھے۔ انھوں نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کپڑا گھسیٹتے ہوئے برہنہ یعنی بغیر چادر اوڑھے ہوئے چل دیے۔ واﷲ! میں نے کبھی اس کے پہلے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو برہنہ یعنی بغیر چادر اوڑھے کسی کے پاس جاتے نہیں دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی اس طرح دیکھا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے انھیں گلے لگا یا اور بوسہ دیا۔ (1)
حدیث ۱۴: ابو داود نے اسید بن حضیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک انصاری شخص جن کی طبیعت میں مزاح تھا، وہ باتیں کررہے تھے اور لوگوں کو ہنسا رہے تھے۔ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک لکڑی سے ان کی کمر میں کونچا دیا۔ انھوں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے عرض کی، مجھے اس کا بدلہ دیجیے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:بدلہ لے لو۔ انھوں نے کہا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)قمیص پہنے ہوئے ہیں، میرے بدن پر قمیص نہیں ہے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے قمیص ہٹادی، وہ چپٹ گئے اور پہلو کو بوسہ دیا اور یہ کہا کہ میرا مقصد یہی تھا۔ (2) (بدلہ لینا مقصود نہ تھا)
حدیث ۱۵: ابو داود وبیہقی نے عامر شعبی سے مرسلاً روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے جعفر بن ابی طالب رضی اﷲتعالٰی عنہ کا استقبال کیا اور ان سے معانقہ فرمایا اور دونوں آنکھوں کے درمیان میں بوسہ دیا۔(3)
حدیث ۱۶: ابو داود نے زارع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں آیا تھا، یہ بھی اس وفد میں تھے، یہ کہتے ہیں جب ہم مدینہ میں پہنچے، اپنی منزلوں سے جلدی جلدی حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں حاضر ہوتے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے دستِ مبارک اور پائے مبارک کو بوسہ دیتے۔ (4)
حدیث ۱۷: ابو داود نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ان کی طرف کھڑے ہوجاتے اور ان کا ہاتھ پکڑتے اور ان کو بوسہ دیتے پھر اپنی جگہ بٹھاتے اور جب حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ان کے یہاں تشریف لے جاتے تو وہ کھڑی ہوجاتیں اور حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا ہاتھ پکڑ لیتیں اور بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ (5)
1 ۔''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ما جاء في المعانقۃ والقبلۃ،الحدیث:۲۷۴۱،ج۴،ص۳۳۵.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في قبلۃ الجسد،الحدیث:۵۲۲۴،ج۴،ص۴۵۶.
3 ۔ المرجع السابق،باب في قبلۃ ما بین العینین،الحدیث:۵۲۲۰،ج۴،ص۴۵۵.
4 ۔ المرجع السابق،باب قبلۃ الرجل،الحدیث:۵۲۲۵،ج۴،ص۴۵۶.
5 ۔ المرجع السابق،باب في القیام،الحدیث:۵۲۱۷،ج۴،ص۴۵۴.
حدیث ۱۸: ابو داود نے براء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ جب ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ شروع شروع مدینہ میں آئے تھے میں ان کے ساتھ ان کے یہاں گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بخار میں لیٹی ہوئی تھیں، حضرت ابوبکر ان کے پاس گئے اور پوچھا بیٹی کیسی ہو اور ان کے رخسارہ پر بوسہ دیا۔ (1)
حدیث ۱۹: ترمذی نے صفوان بن عسال رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ دو ۲ یہودی حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ سوال کیا کہ کھلی ہوئی نو ۹ نشانیاں کیا ہیں؟ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:!اﷲ(عزوجل)کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ (1) اور چوری نہ کرو۔ (2) اورزنانہ کرو۔ (3) اور جس جان کو اﷲ(عزوجل)نے حرام کیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرو۔ (4) اور جوجرم سے بری ہو اسے بادشاہ کے پاس قتل کے لیے نہ لے جاؤ۔ (5) اور جادو نہ کرو۔ (6) اور سود نہ کھاؤ۔ (7) اور عفیفہ (2)پر زنا کی تہمت نہ دھرو۔ (اور لڑائی کے دن مونھ پھیر کر نہ بھاگو اورخاص تم یہودی ہفتہ کے متعلق حد سے تجاوز نہ کرو۔''جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے یہ فرمایا تو انھوں نے حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے ہاتھوں اور قدموں کو بوسہ دیا۔(3)
حدیث ۲۰: ابو داود نے عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہتے ہیں کہ ہم حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے قریب گئے اور ہاتھ کو بوسہ دیا۔ (4)
حدیث ۲۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ جب بنی قریظہ(5)اپنے قلعہ سے سعد بن معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حکم پر اترے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے سعدرضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس آدمی بھیجا اور وہ وہاں سے قریب میں تھے۔ جب مسجد کے قریب آگئے، حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے انصار سے فرمایا:''اپنے سردار کے پاس اٹھ کر جاؤ۔''(6)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في قبلۃ الخد،الحدیث:۵۲۲۲،ج۴،ص۴۵۵.
2 ۔پاکدامن عورت۔
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ما جاء في قبلۃ الید والرجل،الحدیث:۲۷۴۲،ج۴،ص۳۳۵.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في قبلۃ الید،الحدیث:۵۲۲۳،ج۴،ص۴۵۶.
5 ۔یہودیوں کے ایک قبیلے کا نام ہے۔
6 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الجھاد،باب اذا نزل العدو علی حکم رجل،الحدیث:۳۰۴۳،ج۲،ص۳۲۲.
وکتاب المغازي،باب مرجع النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب...إلخ،الحدیث:۴۱۲۱،ج۳،ص۵۶.
و''صحیح مسلم''،کتاب الجھاد...إلخ،باب جواز قتال من نقض العھد...إلخ،الحدیث:۶۴۔(۱۷۶۸)،ص۹۷۲.
حدیث ۲۲: بیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم مسجد میں بیٹھ کر ہم سے باتیں کرتے جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کھڑے ہوتے ہم بھی کھڑے ہو جاتے اور اتنی دیر کھڑے رہتے کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو دیکھ لیتے کہ بعض ازواج مطہرات کے مکان میں تشریف لے گئے۔ (1)
حدیث ۲۳: ترمذی و ابودا ودنے معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جس کی یہ خوشی ہو کہ لوگ میری تعظیم کے لیے کھڑے رہیں، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔''(2)
حدیث ۲۴: ابو داود نے ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم عصا پر ٹیک لگا کر باہر تشریف لائے۔ ہم حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے لیے کھڑے ہوگئے۔ ارشاد فرمایا:''اس طرح نہ کھڑے ہوا کرو جیسے عجمی کھڑے ہوا کرتے ہیں کہ ان میں کا بعض بعض دوسرے کی تعظیم کیا کرتا ہے۔''(3)
یعنی عجمیوں کا کھڑے ہونے میں جو طریقہ ہے وہ قبیح و مذموم ہے، اس طرح کھڑے ہونے کی ممانعت ہے، وہ یہ ہے کہ اُمرا بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بروجہ تعظیم ان کے قریب کھڑے رہتے ہیں۔ دوسری صورت عدم جواز کی وہ ہے کہ وہ خود پسند کرتا ہو کہ میرے لیے لوگ کھڑے ہوا کریں اور کوئی کھڑا نہ ہو تو برا مانے جیسا کہ ہندوستان میں اب بھی بہت جگہ رواج ہے کہ امیروں، رئیسوں، زمین داروں کے لیے ان کی رعایا کھڑی ہوتی ہے، نہ کھڑی ہو تو زدو کوب تک نوبت آتی ہے۔ ایسے ہی متکبرین و متجبرین کے متعلق معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ والی حدیث میں وعید آئی ہے(4)اور اگر ان کی طرف سے یہ نہ ہو بلکہ یہ کھڑا ہونے والا اس کو مستحق تعظیم سمجھ کر ثواب کے لیے کھڑا ہوتا ہے یا تواضع کے طور پر کسی کے لیے کھڑ ا ہوتا ہے تو یہ ناجائز نہیں بلکہ مستحب ہے۔
مسئلہ ۱: مصافحہ سنت ہے اور اس کا ثبوت تواتر سے ہے اور احادیث میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ ایک حدیث یہ ہے کہ ''جس نے اپنے مسلمان بھائی سے مصافحہ کیا اور ہاتھ کو حرکت دی، اس کے تمام گناہ گرجائیں گے۔''جتنی بار ملاقات ہو ہر بار مصافحہ کرنا مستحب ہے۔ مطلقاً مصافحہ کا جواز یہ بتاتا ہے کہ نماز فجر و عصر کے بعدجو اکثر جگہ مصافحہ کرنے کا مسلمانوں میں رواج ہے یہ بھی جائز ہے اور بعض کتابوں میں جو اس کو بدعت کہا گیا، اس سے مراد بدعتِ حسنہ ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في مقاربۃ وموادۃ أھل الدین، فصل في قیام المرء...إلخ،الحدیث:۸۹۳۰،ج۶،ص۴۶۷. 2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب،باب ما جاء في کراھیۃ قیام الرجل للرجل،الحدیث:۲۷۶۴،ج۴ص۳۴۷.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب الرجل یقوم للرجل یعظمہ بذلک،الحدیث:۵۲۳۰،ج۴،ص۴۵۸.
4 ۔ انظر:''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب فی قیام الرجل للرجل،الحدیث:۵۲۲۹،ج۴،ص۴۵۷.
5 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۲۸.
مسئلہ ۲: جس طرح فجر و عصر کے بعد مصافحہ کرنا جائز ہے دوسری نمازوں کے بعد بھی مصافحہ کرنا جائز ہے، کیونکہ اصل مصافحہ کرنا جائز ہے تو کسی وقت بھی کیا جائے جائز ہی ہے، جب تک شرع مطہر سے ممانعت ثابت نہ ہو۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مصافحہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنی ہتھیلی دوسرے کی ہتھیلی سے ملائے، فقط انگلیوں کے چھونے کا نام مصافحہ نہیں ہے۔ سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جائے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابین کپڑا وغیرہ کوئی چیز حائل نہ ہو۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: مصافحہ کا ایک طریقہ وہ ہے جو بخاری شریف وغیرہ میں عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ ''حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا دستِ مبارک ان کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں تھا۔''(3) یعنی ہر ایک کا ایک ہاتھ دوسرے کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں ہو۔ دوسرا طریقہ جس کو بعض فقہا نے بیان کیا اور اس کی نسبت بھی وہ کہتے ہیں کہ حدیث سے ثابت ہے، وہ یہ کہ ہر ایک اپنا داہنا ہاتھ دوسرے کے دہنے سے اور بایاں بائیں سے ملائے اور انگوٹھے کو دبائے کہ انگوٹھے میں ایک رگ ہے کہ اس کے پکڑنے سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ (4)
مسئلہ ۵: مصافحہ مسنون یہ ہے کہ جب دو مسلمان باہم ملیں تو پہلے سلام کیا جائے اس کے بعد مصافحہ کریں۔ رخصت کے وقت بھی عموماً مصافحہ کرتے ہیں، اس کے مسنون ہونے کی تصریح نظر فقیر سے نہیں گزری۔ مگر اصل مصافحہ کا جواز (5) حدیث سے ثابت ہے تو اس کو بھی جائز ہی سمجھا جائے گا۔
مسئلہ ۶: معانقہ کرنا (6)بھی جائز ہے جبکہ خوف فتنہ اور اندیشہ شہوت نہ ہو۔ چاہیے کہ جس سے معانقہ کیا جائے وہ صرف تہبند یا فقط پاجامہ پہنے ہوئے نہ ہو، بلکہ کرتا یا اچکن بھی پہنے ہو یا چادر اوڑھے ہو یعنی کپڑا حائل ہو۔ (7) (زیلعی)حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے معانقہ کیا۔ (8)
مسئلہ ۷: بعد نماز عیدین مسلمانوں میں معانقہ کا رواج ہے اور یہ بھی اظہار خوشی کا ایک طریقہ ہے۔ یہ معانقہ بھی جائز ہے، جبکہ محل فتنہ نہ ہو مثلاً امرد خوبصورت سے معانقہ کرنا کہ یہ محل فتنہ ہے۔
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۲۸.
2 ۔ المرجع السابق،ص۶۲۹.
3 ۔''صحیح البخاری''،کتاب الاستئذان،باب المصافحۃ،ج۴،ص۱۷۷.
حدیثِ پاک کے مطابق ترجمہ یوں ہوگا''کہ میراہاتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا''۔... علمیہ
4 ۔ انظر ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۲۹.
5 ۔ یعنی جائز ہونا۔ 6 ۔ یعنی گلے ملنا۔
7 ۔ ''تبیین الحقائق''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الإستبراء وغیرہ،ج۷،ص۵۶.
8 ۔ انظر: ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في قبلۃ ما بین العینین،الحدیث:۵۲۲۰،ج۴،ص۴۵۵.
مسئلہ ۸: بوسہ دینا اگر بشہوت ہو تو ناجائز ہے اور اکرام و تعظیم کے لیے ہو تو ہوسکتا ہے۔ پیشانی پر بوسہ بھی انھیں شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی دونوں آنکھوں کے درمیان کو بوسہ دیا۔(1)اور صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین سے بھی بوسہ دینا ثابت ہے۔
مسئلہ ۹: بعض لوگ مصافحہ کرنے کے بعد خود اپنا ہاتھ چوم لیا کرتے ہیں یہ مکروہ ہے، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ (2) (زیلعی)
مسئلہ ۱۰: عالمِ دین اور بادشاہ عادل کے ہاتھ کو بوسہ دینا جائز ہے، بلکہ اس کے قدم چومنا بھی جائز ہے۔ بلکہ اگر کسی نے عالمِ دین سے یہ خواہش کی کہ آپ اپنا ہاتھ یا قدم مجھے دیجیے کہ میں بوسہ دوں تو اس کے کہنے کے مطابق وہ عالم اپنا ہاتھ پاؤں بوسہ کے لیے اس کی طرف بڑھا سکتا ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: عورت نے عورت کے مونھ یا رخسارہ کو بوقتِ ملاقات یا بوقتِ رخصت بوسہ دیا، یہ مکروہ ہے۔ (4) (درمختار) مسئلہ ۱۲: عالم یا کسی بڑے کے سامنے زمین کو بوسہ دینا حرام ہے۔ جس نے ایسا کیا اور جو اس پر راضی ہوا، دونوں گنہگار ہوئے۔ (5) (زیلعی)
مسئلہ ۱۳: بوسہ کی چھ قسمیں ہیں:
(1) بوسہ رحمت، جیسے والدین کا اولاد کو بوسہ دینا۔
(2) بوسہ شفقت، جیسے اولاد کا والدین کو بوسہ دینا۔
(3) بوسہ محبت، جیسے ایک شخص اپنے بھائی کی پیشانی کو بوسہ دے۔
(4) بوسہ تحیت، جیسے بوقت ملاقات ایک مسلم دوسرے مسلم کو بوسہ دے۔
(5) بوسہ شہوت، جیسے مرد عورت کو بوسہ دے اور
(6) ایک قسم بوسہ دیانت ہے، جیسے حجر اسود کا بوسہ۔ (6) (زیلعی)
1 ۔''سنن إبن ماجہ''،کتاب الجنائز،باب ذکروفات ھودفنہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم،الحدیث:۱۶۲۷،ج۲،ص۲۸۳.
2 ۔ ''تبیین الحقائق''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الإستبراء وغیرہ،ج۷،ص۵۶.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۳۱.
4 ۔ المرجع السابق،ص۶۳۲.
5 ۔ ''تبیین الحقائق''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الإستبراء وغیرہ،ج۷،ص۵۶.
6 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۴: مصحف یعنی قرآن مجید کو بوسہ دینا بھی صحابہ کرام کے فعل سے ثابت ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ روزانہ صبح کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے یہ میرے رب کا عہد اور اس کی کتاب ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی مصحف کو بوسہ دیتے اور چہرے سے مس کرتے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: سجدہ تحیت یعنی ملاقات کے وقت بطورِ اکرام کسی کو سجدہ کرنا حرام ہے اور اگر بقصد عبادت ہو تو سجدہ کرنے والا کافر ہے کہ غیر خدا کی عبادت کفر ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: بادشاہ کو بروجہ تحیت سجدہ کرنا یا اس کے سامنے زمین کو بوسہ دینا کفر نہیں، مگر یہ شخص گنہگار ہو ااور اگر عبادت کے طور پر سجدہ کیا تو کفر ہے۔ عالم کے پاس آنے والا بھی اگر زمین کو بوسہ دے، یہ بھی ناجائز و گناہ ہے، کرنے والا اور اس پر راضی ہونے والا دونوں گنہگار ہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: ملاقات کے وقت جھکنا منع ہے۔ (4) (عالمگیری)یعنی اتنا جھکنا کہ حدِ رکوع تک ہوجائے۔
مسئلہ ۱۸: آنے والے کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا جائز بلکہ مندوب ہے، جبکہ ایسے کی تعظیم کے لیے کھڑا ہو جو مستحق تعظیم ہے، مثلاً عالم دین کی تعظیم کو کھڑا ہونا۔ کوئی شخص مسجد میں بیٹھا ہے یا قرآن مجید پڑھ رہا ہے اور ایسا شخص آگیا جس کی تعظیم کرنی چاہیے تو اس حالت میں بھی تعظیم کو کھڑا ہوسکتا ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ لوگ میرے لیے کھڑے ہوں اس کی یہ بات ناپسند و مذموم ہے۔ (6) (ردالمحتار)احادیث میں اسی قیام کی مذمت ہے یا اس قیام کو برا بتایا گیا ہے۔ جو اعاجم میں مروج ہے کہ سلاطین بیٹھے ہوتے ہیں اور اُس کے آس پاس تعظیم کے طور پر لوگ کھڑے رہتے ہیں، آنے والے کے لیے کھڑا ہونا اس قیام ممنوع میں داخل نہیں۔ قیام میلاد شریف کی ممانعت پر ان احادیث سے دلیل لانا جہالت ہے۔
مسئلہ ۲۰: جہاں یہ اندیشہ ہو کہ تعظیم کے لیے اگر کھڑا نہ ہوا تو اس کے دل میں بغض وعداوت پیدا ہوگا، خصوصاً ایسی
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۳۴.
2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۳۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن والعشرون في ملاقاۃ الملوک،ج۵،ص۳۶۸ ۔ ۳۶۹.
4 ۔ المرجع السابق،ص۳۶۹.
5 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۳۲.
6 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۳۳.
جگہ جہاں قیام کا رواج ہے تو قیام کرنا چاہیے تاکہ ایک مسلم کو بغض و عداوت سے بچایا جائے۔ (1) (ردالمحتار)
حدیث ۱: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''اﷲتعالیٰ کو چھینک پسند ہے اور جماہی ناپسند ہے۔ جب کوئی شخص چھینکے اور اَلْحَمْد لِلّٰہ کہے تو جو مسلمان اس کو سنے اس پر یہ حق ہے کہ یَرْحَمُکَ اللہ کہے اور جماہی شیطان کی طرف سے ہے، جب کسی کو جماہی آئے تو جہاں تک ہوسکے، اُسے دفع کرے کیونکہ جب جماہی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔''(2)یعنی خوش ہوتا ہے کیونکہ یہ کسل اور غفلت کی دلیل ہے، ایسی چیز کو شیطان پسند کرتا ہے اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ ''جب وہ (ہا)کہتا ہے شیطان ہنستا ہے۔'' (3)
حدیث ۲: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب کسی کو چھینک آئے تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے اور اس کا بھائی یا ساتھ والا یَرْحَمُکَ اللہ کہے جب یہ یَرْحَمُکَ اللہ کہہ لے تو چھینکنے والا اس کے جواب میں یہ کہے
یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ۔''
(4)
ترمذی اوردارمی کی روایت میں ابوایوب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے ،کہ جب چھینک آئے تو یہ کہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِ حَال ۔ (5)
حدیث ۳: طبرانی نے عبد اﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کسی کو چھینک آئے تو
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
کہے۔'' (6)
حدیث ۴: طبرانی ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا:''جب کسی کو چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے تو فرشتے کہتے ہیں: رَبّ الْعَالَمِیْنَ اور اگر وہ رَبّ الْعَالَمِیْن کہتاہے تو فرشتے کہتے ہیں:رَحِمَکَ اللہ۔'' (7)
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۳۳.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب اذا تثاوَبَ فلیضع یدہ علی فیہ،الحدیث:۶۲۲۶،ج۴،ص۱۶۳.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب بدء الخلق، باب صفۃ إبلیس وجنودہ، الحدیث:۳۲۸۹،ج۲،ص۴۰۲.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب،باب العطاس والتثاؤب،الحدیث:۴۷۳۲،ج۳،ص۲۴.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب اذا عطس کیف یشمت، الحدیث:۶۲۲۴،ج۴،ص۱۶۲.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء کیف یشمت العاطس، الحدیث:۲۷۵۰،ج۴،ص۳۴۰.
6 ۔ ''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۰۳۲۶،ج۱۰،ص۱۶۲.
7 ۔ ''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۲۲۸۴،ج۱۱،ص۳۵۸.
حدیث ۵: ترمذی نے نافع سے روایت کی، کہ ایک شخص کو ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے پاس چھینک آئی۔ اس نے کہا
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہ۔
ابن عمر نے فرمایا:یہ تو میں بھی کہتا ہوں کہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہ
مگر اس کے کہنے کی یہ جگہ نہیں۔ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی، ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اس موقع پر
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَال
کہیں۔ (1)
حدیث ۶: ترمذی و ابو داود نے ہلال بن یساف سے روایت کی، کہتے ہیں: ہم سالم بن عبید کے پاس تھے، ایک شخص کو چھینک آئی، اس نے کہا:
اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ۔
سالم نے کہا:
وَعَلَیْکَ وَ عَلٰی اُمِّکَ
اسے اس کا رنج ہوا۔ (کہ مجھے ایسا جواب کیوں دیا)۔ ابو داود کی روایت میں ہے، کہ اس نے کہا: میری ماں کا آپ نے ذکر نہ کیا ہوتا۔ نہ اچھا، نہ برا تو اچھا ہوتا۔ سالم نے کہا:میں نے وہی کہا جو رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا تھا۔ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی، اس نے کہا اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا: وَعَلَیْکَ وَعَلٰی اُمِّکَ.جب کسی کو چھینک آئے تو کہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن
اور جواب دینے والا کہے
یَرْحَمُکَ اللہ
اور وہ کہے
یَغْفِرُ اللہُ لِیْ وَلَکُمْ۔ (2)
حدیث ۷: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس دو شخصوں کو چھینک آئی۔ آپ نے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو نہیں دیا۔ اس نے عرض کی، یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اُس کو جواب دیا اور مجھے نہیں دیا۔ ارشاد فرمایا:''اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہا اور تو نے نہیں کہا۔'' (3)
حدیث ۸: صحیح مسلم میں ابوموسیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو فرماتے سنا ہے کہ ''جب کوئی چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے تو اسے جواب دو اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ نہ کہے تو اسے جواب مت دو۔'' (4)
حدیث ۹: صحیح مسلم میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اس کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللہ کہا، پھر دوبارہ چھینک آئی تو حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''اسے زکام ہوگیا ہے۔'' (5)
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ما یقول العاطس اذا عطس، الحدیث:۲۷۴۷،ج۴،ص۳۳۹.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء کیف یشمت العاطس، الحدیث:۲۷۴۹،ج۴،ص۳۳۹.
و''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب کیف تشمیت العاطس، الحدیث:۵۰۳۱،ج۴،ص۳۹۹.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب لا یشمت العاطس اذا لم یحمد اللہ، الحدیث:۶۲۲۵،ج۴،ص۱۶۳.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الزھد...إلخ، باب تشمیت العاطس...إلخ، الحدیث:۵۴۔(۲۹۹۲)،ص۱۵۹۶.
5 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۵۵۔(۲۹۹۳)،ص۱۵۹۶.
اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ تیسری مرتبہ چھینک آئی تب حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ایسا فرمایا۔ (1) یعنی جب بار بار چھینک آئے تو جواب کی حاجت نہیں۔
حدیث ۱۰: ترمذی و ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو چھینک آتی تو مونھ کو ہاتھ یا کپڑے سے چھپالیتے اور آواز کو پست کرتے۔ (2)
حدیث ۱۱: صحیح مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ جب کسی کو جماہی آئے تو مونھ پر ہاتھ رکھ لے کیونکہ شیطان مونھ میں گھس جاتا ہے۔ (3)
حدیث ۱۲: طبرانی اوسط میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''سچی بات وہ ہے کہ اس وقت چھینک آجائے۔''(4)اور حکیم کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ ہے کہ ''جب کوئی بات کی جائے اور چھینک آجائے تو وہ حق ہے۔''(5)اور ابو نعیم کی روایت انھیں سے ہے، کہ ''دعا کے وقت چھینک آجانا سچا گواہ ہے۔''(6)
حدیث ۱۳: بیہقی نے شعب الایمان میں عبادہ بن صامت و شداد بن اوس و واثلہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کسی کو ڈکار یا چھینک آئے تو آواز کو بلند نہ کرے کہ شیطان کو یہ بات پسند ہے کہ ان میں آواز بلند کی جائے۔''(7)
مسئلہ ۱: چھینک کا جواب دینا واجب ہے، جبکہ چھینکنے والا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے اور اس کا جواب بھی فوراً دینا اور اس طرح جواب دینا کہ وہ سن لے، واجب ہے۔ جس طرح سلام کے جواب میں ہے یہاں بھی ہے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: چھینک کا جواب ایک مرتبہ واجب ہے، دوبارہ چھینک آئی اور اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہا تو دوبارہ جواب واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے۔ (9) (عالمگیری)
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء کم یشمت العاطس، الحدیث:۲۷۵۳،ج۴،ص۳۴۲.
2 ۔ المرجع السابق،باب ماجاء في خفض الصوت...إلخ، الحدیث:۲۷۵۴،ج۴،ص۳۴۳.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الزھد...إلخ، باب تشمیت العاطس...إلخ، الحدیث:۵۷۔(۲۹۹۵)،ص۱۵۹۷.
4 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب الجیم، الحدیث:۳۳۶۰،ج۲،ص۳۰۲.
5 ۔ ''نوادر الاصوال في احادیث الرسول''،ج۳،ص۵.
6 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب الصحبۃ، رقم: ۲۵۵۲۰،ج۹،ص۶۸.
7 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في تشمیت العاطس، فصل في خفض الصوت بالعطاس، الحدیث:۹۳۵۵،ج۷،ص۳۲.
8 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۳.
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۶.
مسئلہ ۳: جس کو چھینک آئے اسے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا چاہیے اور بہتر یہ ہے کہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِیْنَ
کہے۔ جب اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہا تو سننے والے پر اس کا جواب دینا واجب ہوگیا اور حمد نہ کرے تو جواب نہیں۔ ایک مجلس میں کئی مرتبہ کسی کو چھینک آئی تو صرف تین بار تک جواب دینا ہے، اس کے بعد اسے اختیار ہے کہ جواب دے یا نہ دے۔ (1) (بزازیہ)
مسئلہ ۴: جس کو چھینک آئے وہ یہ کہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
یا
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کلِّ حَال
اور اس کے جواب میں دوسرا شخص یوں کہے یَرْحَمُکَ اللہُ (2)پھر چھینکنے والا یہ کہے
یَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ
(3)یا یہ کہے
یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ
(4)اس کے سوا دوسری بات نہ کہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: عورت کو چھینک آئی اگر وہ بوڑھی ہے تو مرد اس کا جواب دے، اگر جوان ہے تو اس طرح جواب دے کہ وہ نہ سنے۔ مرد کو چھینک آئی اورعورت نے جواب دیا، اگر جوان ہے تو مرد اس کا جواب اپنے دل میں دے اور بوڑھی ہے تو زور سے جواب دے سکتا ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: خطبہ کے وقت کسی کو چھینک آئی تو سننے والا اس کو جواب نہ دے۔ (7) (خانیہ)
مسئلہ ۷: کافر کو چھینک آئی اور اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا تو جواب میں یَھْدِ یْکَ اللہُ کہا جائے۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۸: چھینکنے والے کو چاہیے کہ زور سے حمد کہے تاکہ کوئی سنے اور جواب دے۔ چھینک کا جواب بعض حاضرین نے دید یا تو سب کی طرف سے ہوگیا اور بہتر یہ ہے کہ سب حاضرین جواب دیں۔ (9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: دیوار کے پیچھے کسی کو چھینک آئی اور اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا تو سننے والا اس کا جواب دے۔ (10) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: چھینکنے والے سے پہلے ہی سننے والے نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا تو ایک حدیث میں آیا ہے کہ یہ شخص دانتوں اور
1 ۔ ''البزازیۃ''ہامش علی''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، نوع في السلام،ج۶،ص۳۵۵.
2 ۔ اﷲ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے۔ 3 ۔ اﷲ عزوجل ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے۔
4 ۔ اﷲ عزوجل تمہیں ہدایت دے اور تمہاری اصلاح فرمائے۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۶.
6 ۔ المرجع السابق،ص۳۲۷.
7 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في التسبیح والتسلیم،ج۲،ص۳۷۷.
8 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۴.
9 ۔ المرجع السابق. 10 ۔ المرجع السابق.
کانوں کے درد اور تخمہ (1)سے محفوظ رہے گا۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ کمر کے درد سے محفوظ رہے گا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: چھینک کے وقت سرجھکالے اور مونھ چھپالے اور آواز کو پست کرے، چھینک کی آواز بلند کرنا حماقت ہے۔ (3) (ردالمحتار)
فائدہ: حدیث میں ہے کہ بات کے وقت چھینک آجانا شاہد عدل ہے۔ (4)
مسئلہ ۱۲: بہت لوگ چھینک کو بدفالی خیال کرتے ہیں، مثلاً کسی کام کے لیے جارہا ہے اور کسی کو چھینک آگئی تو سمجھتے ہیں کہ اب وہ کام انجام نہیں پائے گا، یہ جہالت ہے کہ بدفالی کوئی چیز نہیں اور ایسی چیز کو بدفالی کہنا جس کو حدیث میں شاہد عدل فرمایا، سخت غلطی ہے۔
مسئلہ ۱: جب تک خریدو فروخت کے مسائل معلوم نہ ہوں کہ کون سی بیع جائز ہے اور کون ناجائز، اس وقت تک تجارت نہ کرے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: انسان کے پاخانہ کا بیع کرنا ممنوع ہے، گوبر کا بیچنا ممنوع نہیں۔ انسان کے پاخانہ میں مٹی یا راکھ مِل کر غالب ہوجائے، جیسے کھات میں مٹی کا غلبہ ہوجاتا ہے تو بیع بھی جائز ہے اور اس کو کام میں لانا مثلاً کھیت میں ڈالنا بھی جائز ہے۔ (7) (ہدایہ)
مسئلہ ۳: یہ معلوم ہے کہ یہ فلاں شخص کی کنیز (8)ہے اور دوسرا شخص اسے بیع کررہا ہے، یہ بائع (9)کہتا ہے کہ اس نے مجھے بیع کا وکیل کیا ہے یا اس سے میں نے خرید لی ہے یا اس نے مجھے ہبہ کردی ہے (10)تو اس کو خریدنا اور اس سے وطی کرنا جائز ہے۔ جبکہ وہ شخص ثقہ ہو یا غالب گمان یہ ہو کہ سچ کہتا ہے اور اگر غالب گمان یہ ہے کہ وہ اس خبر میں جھوٹا ہے تو اس کے لیے ایسا
1 ۔ یعنی بد ہضمی۔
2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۴.
و''کنزالعمال''،کتاب الصحبۃ،حرف العین،الحدیث:۲۵۵۳۹،۲۵۵۴۰،ج۹،ص۷۰.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۴.
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۵.
و''کنزالعمال''،کتاب الصحبۃ،حرف العین،الحدیث:۲۵۵۱۸،۲۵۵۱۹،ج۹،ص۶۸.
5 ۔ خرید فروخت کا مفصل بیان حصہ یازدہم میں گزر چکا ہے وہاں سے معلوم کریں۔ ۱۲ منہ
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس والعشرون في البیع...إلخ،ج۵،ص۳۶۳.
7 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في البیع،ج۲،ص۳۷۵.
8 ۔لونڈی۔ 9 ۔ یعنی بیچنے والا۔ 10 ۔ یعنی تحفۃً مالک بنا دیا۔
کرنا جائز نہیں اور اگراس کو خود اس کا علم نہیں کہ یہ فلاں کی ہے، مگر اس بائع ہی نے بتایا کہ یہ فلاں کی ہے اور مجھے اس نے بیع کا وکیل کیا ہے اور وہ بائع ثقہ ہے یا غالب گمان یہ ہے کہ سچ کہتا ہے تو اس کو خریدنا وغیرہ جائز ہے۔ (1) (ہدایہ)اسی طرح دوسری اشیاء کے متعلق یہ علم ہے کہ فلاں کی ہے اور بیچنے والا کہتا ہے کہ اس نے مجھے بیع کا وکیل کیا ہے یامیں نے خرید لی ہے یا اس نے ہبہ کردی ہے تو اس کو خریدنا اور اس چیز سے نفع اٹھانا انھیں شرائط کے ساتھ جائز ہے۔
مسئلہ ۴: جو شخص چیز کو بیع کررہا ہے اس نے یہ نہیں بتایا کہ یہ چیز میرے پاس اس طرح آئی اور مشتری (2) کو معلوم ہے کہ یہ چیز فلاں کی ہے تو جب تک معلوم نہ ہوجائے کہ یہ چیز اس کو یوں ملی ہے، اسے نہ خریدے۔ مشتری کو یہ نہیں معلوم ہے کہ چیز کسی دوسرے شخص کی ہے تو بیچنے والے سے خریدنا جائز ہے کہ اس کے قبضہ میں ہونا اس کی ملک کی دلیل ہے اور اس کا معارض پایا نہیں گیا۔ پھر اس کی کوئی وجہ نہیں کہ خواہ مخواہ دوسرے کی ملک کا توہم کیا جائے۔
ہاں اگر وہ چیز ایسی ہے کہ اس جیسے شخص کی نہیں ہوسکتی مثلاً وہ چیز بیش قیمت ہے اور یہ شخص ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ وہ اس کی ہو گی یا جاہل کے پاس کتاب ہے اور اس کے باپ دادا بھی عالم نہ تھے کہ اسے میراث میں ملی ہو تو اس صورت میں اس کی خریداری سے بچنا چاہیے اور اس کے باوجود اس نے خرید ہی لی تو خریدنا جائز ہے، کیونکہ خریدار نے دلیل شرعی پر اعتماد کرکے خریدا ہے یعنی قبضہ کو ملک کی دلیل قرار دیا ہے۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: مشترک چیز میں جو اس کا حصہ ہے اسے نہ بیچے جب تک شریک کو مطلع نہ کردے، اگر وہ شریک خرید لے فبہا ورنہ جس کے ہاتھ چاہے بیچ ڈالے اس کا مطلب یہ ہے کہ شریک کو مطلع کرنا مستحب ہے اور بغیر مطلع کیے بیچنا مکروہ ہے یہ مطلب نہیں کہ بغیر اطلاع بیع ہی ناجائز ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: اگر بازار والے ایسے لوگوں سے مال خریدتے ہیں، جن کا غالب مال حرام ہے اور ان میں سود اور عقود فاسدہ جاری ہیں، ان سے خریدنے میں تین صورتیں ہیں۔ جس ۱ چیز کے متعلق گمان غالب یہ ہے کہ ظلم کے طور پر کسی کی چیز بازار میں لا کر بیچ گیا، ایسی چیز خریدی نہ جائے۔ دوسری ۲ صورت یہ ہے کہ مال حرام بعینہ موجود ہے مگر مال حلال میں اس طرح مل گیا کہ جدا کرنا ناممکن ہے، اس طرح مل جانے سے اس کی مِلک ہوگئی مگر اس کو بھی خریدنا نہ چاہیے، جب تک بائع اس مالک کو
1 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في البیع،ج۲،ص۳۷۵.
2 ۔ یعنی خریدنے والا۔
3 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في البیع،ج۲،ص۲۷۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس والعشرون في البیع...إلخ،ج۵،ص۳۶۴.
عوض دے کر راضی نہ کرلے اور اگر خرید ہی لی تو مشتری کی ملک ہوجائے گی اور کراہت رہے گی۔ تیسری ۳ صورت یہ ہے کہ معلوم ہے کہ جس کو غصب کیا تھا یا چوری وغیرہ کا مال تھا، وہ بعینہ باقی نہ رہا تو دوکان دار سے چیز خریدنی جائز ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: تاجر اپنی تجارت میں اس طرح مشغول نہ ہو کہ فرائض فوت ہوجائیں، بلکہ جب نماز کا وقت آجائے تو تجارت چھوڑ کر نماز کو چلا جائے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: نجس کپڑے کو بیچ سکتا ہے، مگرجب یہ گمان ہو کہ خریدار اُس میں نماز پڑھے گا تو اس کوظاہر کردے کہ یہ کپڑا ناپاک ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: جتنے میں چیز خریدی، بائع کو اس سے کچھ زیادہ دیا تو جب تک یہ نہ کہدے کہ یہ زیادتی تمھارے لیے حلال ہے یا یہ کہ میں نے تمھیں مالک کردیا، اس زیادتی کو لینا جائز نہیں۔ (4) (عالمگیری) خریدنے کے بعد بہت سے لوگ روکھ (5)لیتے ہیں کہ مبیع جتنی طے ہوئی ہے، اس سے کچھ زیادہ لیتے ہیں بغیر بائع کی رضا مندی کے یہ ناجائز ہے اور روکھ مانگنا بھی نہ چاہیے کہ یہ ایک قسم کا سوال ہے اور بغیر حاجت سوال کی اجازت نہیں۔
مسئلہ ۱۰: گوشت یا مچھلی یا پھل وغیرہ ایسی چیزجو جلد خراب ہوجانے والی ہے کسی کے ہاتھ بیچی اور مشتری غائب ہوگیا اور بائع کو اندیشہ ہے کہ اس کے انتظار میں چیز خراب ہوجائے گی، ایسی صورت میں اس کو دوسرے کے ہاتھ بیچ سکتا ہے اور جس کو ایسا معلوم ہے، وہ خرید سکتا ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: جو شخص بیمار ہے اس کاباپ یا بیٹا بغیر اس کی اجازت کے ایسی چیز یں خرید سکتا ہے جس کی مریض کو حاجت ہے، مثلاً دوا وغیرہ۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: اچھے، صاف گیہوں میں خاک دھول ملا کر بیچنا ناجائز ہے، اگر چہ وہاں ملانے کی عادت ہو۔(8) (عالمگیری)اسی طرح دودھ میں پانی ملا کر بیچنا ناجائز ہے۔
مسئلہ ۱۳: جس جگہ بازار میں روٹی گوشت کا نرخ مقرر ہے کہ اس حساب سے فروخت ہوتی ہے کسی نے خریدی بائع
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس والعشرون في البیع...إلخ،ج۵،ص۳۶۴.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس والعشرون في البیع...إلخ،ج۵،ص۳۶۵.
5 ۔ یعنی کسی چیز کی خریداری کے بعد تھوڑی سی چیز جو مفت میں لیتے ہیں۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس والعشرون في البیع...إلخ،ج۵،ص۳۶۵.
7 ۔ المرجع السابق. 8 ۔ المرجع السابق.
نے کم دی مگر خریدار کوا س وقت یہ نہیں معلوم ہواکہ کم ہے بعد کو معلوم ہو ا تو جو کچھ کمی ہے وصول کرسکتا ہے جبکہ مشتری کو بھی نرخ معلوم ہے اور اگر خریدار پردیسی ہے، وہاں کا نہیں ہے تو روٹی میں جو کمی ہے، وصول کرسکتا ہے۔ گوشت میں جو کمی ہے، وصول نہیں کرسکتا کیونکہ روٹی کا نرخ قریب قریب سب شہ روں میں یکسا ں ہوتا ہے اور گوشت میں یہ بات نہیں۔ (1) (زیلعی)
مسئلہ ۱۴: لوہے، پیتل وغیرہ کی انگوٹھی جس کا پہننا مرد و عورت دونوں کے لیے ناجائز ہے، اس کا بیچنا مکروہ ہے۔ (2) (عالمگیری)اسی طرح افیون وغیرہ جس کا کھانا ناجائز ہے، ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہوں ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر اِعانت (3) ہے۔
مسئلہ ۱۵: مسلمان کا کافر پر دَین ہے، اس نے شراب بیچ کر اس کے ثمن سے دَین ادا کیا۔ مسلم کے علم میں ہے کہ یہ روپیہ شراب کا ثمن ہے، اس کا لینا جائز ہے کیونکہ کافر کا کافر کے ہاتھ شراب بیچنا جائز ہے اور ثمن میں جو روپیہ اسے ملا، وہ جائز ہے، لہٰذا مسلم اپنے دَین میں لے سکتا ہے اور مسلم نے شراب بیچی تو چونکہ یہ بیع ناجائز ہے اس کا ثمن بھی ناجائز ہے، اس روپیہ کو دَین میں لینا ناجائز ہے۔ (4) (درمختار) یہی حکم ہر ایسی صورت میں ہے جہاں یہ معلوم ہے کہ یہ مال بعینہ خبیث وحرام ہے تو اس کو لینا ناجائز ہے، مثلاً معلوم ہے کہ چوری یا غصب کا مال ہے۔
مسئلہ ۱۶: رنڈیوں کو ناچ گانے کی جو اُجرت ملی ہے یہ بھی خبیث ہے، جس کسی کو دَین یا کسی مطالبہ میں دے اس کا لینا ناجائز ہے۔ جس شخص نے ظلم یا رشوت کے طور پر مال حاصل کیا ہو، مرنے کے بعد اس کا مال ورثہ کو نہ لینا چاہیے کہ یہ مال حرام ہے۔ بلکہ وُرثہ یہ کریں کہ اگر معلوم ہے کہ یہ مال فلاں کا ہے تو جس سے مورث نے حاصل کیا ہے، اسے واپس دے دیں اور معلوم نہ ہو کہ کس سے لیا ہے تو فقرا پر تصدق کردیں کہ ایسے مال کا یہی حکم ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: پنساری کو روپیہ دیتے ہیں اور یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ روپیہ سودے میں کٹتا رہے گا یا دیتے وقت یہ شرط نہ ہو کہ سودے میں کٹ جائے گا، مگر معلوم ہے کہ یوہیں کیا جائے گا تو اس طرح روپیہ دینا ممنوع ہے کہ اس قرض سے یہ نفع ہوا کہ اس کے پاس رہنے میں اس کے ضائع ہونے کا احتمال تھا اب یہ احتمال جاتا رہا اور قرض سے نفع اٹھانا، ناجائز ہے۔ (6) (درمختار)
1 ۔ ''تبیین الحقائق''،کتاب الکراھیۃ، فصل في البیع،ج۷،ص۶۳.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس والعشرون في البیع...إلخ،ج۵،ص۳۶۵.
3 ۔ مدد کرنا۔
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۳۵.
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۳۵.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۴۹.
مسئلہ ۱۸: احتکار ممنوع ہے۔ احتکار کے یہ معنی ہیں کہ کھانے کی چیز کو اس لیے روکنا کہ گراں ہونے پر فروخت کریگا۔ احادیث (1)میں اس بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔
ایک حدیث میں یہ ہے '' جوچالیس روز تک احتکار کریگا، اﷲتعالیٰ اس کو جذام و افلاس میں مبتلا کریگا۔'' (2) دوسری حدیث میں یہ ہے کہ ''وہ اﷲ(عزوجل)سے بری اوراﷲ(عزوجل)اُس سے بری۔''(3)
تیسری حدیث یہ ہے کہ ''اُس پر اﷲ(عزوجل)اور فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت، اﷲ تعالیٰ نہ اس کے نفل قبول کریگا نہ فرض۔''(4)
احتکار انسان کے کھانے کی چیزوں میں بھی ہوتا ہے، مثلاً اناج اور انگور بادام وغیرہ اور جانوروں کے چارہ میں بھی ہوتا ہے جیسے گھاس، بھوسا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: احتکار وہیں کہلائے گا جبکہ اس کا غلہ روکنا وہاں والوں کے لیے مضر ہو یعنی اس کی وجہ سے گرانی ہوجائے یایہ صورت ہو کہ سارا غلہ اسی کے قبضہ میں ہے، اس کے روکنے سے قحط پڑنے کا اندیشہ ہے، دوسری جگہ غلہ دستیاب نہ ہوگا۔ (6) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۰: احتکار کرنے والے کو قاضی یہ حکم دے گا کہ اپنے گھر والوں کے خرچ کے لائق غلہ رکھ لے اور باقی فروخت کر ڈالے، اگر وہ شخص قاضی کے اس حکم کے خلاف کرے یعنی زائد غلہ نہ بیچے تو قاضی اس کو مناسب سزا دے گا اور اس کی حاجت سے زیادہ جتنا غلہ ہے، قاضی خود بیع کردے گا کیونکہ ضرر عام سے بچنے کی یہی صورت ہے۔ (7) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۱: بادشاہ کو رعایا کی ہلاکت کا اندیشہ ہو تو احتکار کرنے والوں سے غلہ لے کر رعایا پر تقسیم کردے۔ پھر جب ان کے پاس غلہ ہوجائے تو جتنا جتنا لیا ہے، واپس دید یں۔ (8) (درمختار)
1 ۔ احتکار کے متعلق چند حدیثیں حصہ یازدہم بیع مکروہ کے بیان میں لکھی جاچکی ہیں۔ ۱۲ منہ
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب التجارات، باب الحکرۃ والجلب،الحدیث:۲۱۵۵،ج۳،ص۱۴،
و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۵۷.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عمر، الحدیث:۴۸۸۰،ج۲،ص۲۷۰.
4 ۔
5 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۵۶۔۶۵۷.
6 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في البیع،ج۲،ص۳۷۷.
7 ۔ المرجع السابق،ص۳۷۸.
8 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۵۸.
مسئلہ ۲۲: اپنی زمین کا غلہ روک لینا احتکار نہیں۔ ہاں اگر یہ شخص گرانی یا قحط کا منتظر ہے تو اس بری نیت کی وجہ سے گنہگار ہوگا اور اس صورت میں بھی اگر عام لوگوں کو غلہ کی حاجت ہو اور غلہ دستیاب نہ ہوتا ہو تو قاضی اسے بیع کرنے پر مجبور کریگا۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: دوسری جگہ سے غلہ خرید کر لایا، اگر وہاں سے عموماً یہاں غلہ آتا ہے تو اس کا روکنا بھی احتکار ہے اور اگر وہاں سے یہاں غلہ لانے کی عادت جاری نہ ہو تو روکنا احتکار نہیں۔ مگر اس صورت میں بھی بیچ ڈالنا مستحب ہے کہ روکنے میں یہاں بھی ایک قسم کی کراہت ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: حاکم کو یہ نہ چاہیے کہ اشیا کا نرخ مقرر کردے۔ حدیث میں ہے کہ لوگوں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم)نرخ گراں ہوگیا، حضور(صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم)نرخ مقرر فرما دیں۔ ارشاد فرمایا:''نرخ مقرر کرنے والا، تنگی کشادگی کرنے والا، روزی دینے والا اﷲ(عزوجل)ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ خدا سے اس حالت میں ملوں کہ کوئی شخص خون یا مال کے معاملہ میں مجھ سے کسی حق کا مطالبہ نہ کرے۔''(3)
مسئلہ ۲۵: تاجروں نے اگر چیزوں کا نرخ بہت زیادہ کردیا ہے اور بغیر نرخ مقرر کیے کام چلتا نظر نہ آتا ہو تو اہل الرائے سے مشورہ لے کر قاضی نرخ مقرر کرسکتا ہے اور مقرر شدہ نرخ کے موافق جو بیع ہوئی یہ بیع جائز ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بیع مُکرَہ ہے کیونکہ یہاں بیع پرا کراہ نہیں، قاضی نے اسے بیچنے پر مجبور نہیں کیا۔ اسے اختیار ہے کہ اپنی چیز بیچے یا نہ بیچے، صرف یہ کیا ہے کہ اگر بیچے تو جو نرخ مقرر ہوا ہے، اس سے گراں نہ بیچے۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۶: انسان کے کھانے اور جانوروں کے چارہ میں نرخ مقرر کرنا صورت مذکور ہ میں جائز ہے اور دوسری چیزوں میں بھی حکم یہ ہے کہ اگر تاجروں نے بہت زیادہ گراں کردی ہوں تو ان میں بھی نرخ مقرر کیا جاسکتا ہے۔ (5) (درمختار)
قرآن مجید پڑھنے اور پڑھانے کے بہت فضائل ہیں۔ اجمالی طور پر اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ یہ اﷲتعالیٰ کا کلام ہے۔
1 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۵۸.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب البیوع، باب في التسعیر، الحدیث:۳۴۵۱،ج۴،ص۴۷۴.
4 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في البیع،ج۲،ص۳۷۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۱.
اس پر اسلام اور احکامِ اسلام کا مدار ہے۔ اس کی تلاوت کرنا، اس میں تدبُّر، آدمی کو خدا تک پہنچاتا ہے۔
اس موقع پر اس کے متعلق چند حدیثیں ذکر کی جاتی ہیں۔
حدیث ۱: صحیح بخاری میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''تم میں بہتر وہ شخص ہے، جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔''(1)
حدیث ۲: صحیح مسلم میں عقبہ بن عامررضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی شخص اس کو پسند کرتا ہے کہ بطحان یا عقیق میں صبح کو جائے اور وہاں سے دو اونٹنیاں کوہان والی لائے، اس طرح کہ گناہ اور قطع رحم نہ ہو یعنی جائز طور پر۔ ہم نے عرض کی، کہ یہ بات ہم سب کو پسند ہے۔ فرمایا: ''پھر کیوں نہیں صبح کو مسجد میں جا کر کتاب اﷲ کی دو آیتوں کو سیکھتا ،کہ یہ دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین تین سے بہتر اور چار چار سے بہتر۔''(2)وعلیٰ ہذا القیاس۔
حدیث ۳: صحیح بخاری و مسلم میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو مومن قرآن پڑھتا ہے، اس کی مثال ترنج کی سی ہے کہ خوشبو بھی اچھی ہے اورمزہ بھی اچھا ہے اور جو مومن قرآن نہیں پڑھتا، وہ کھجور کی مثل ہے کہ اس میں خوشبو نہیں مگر مزہ شیریں ہے ۔اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا، وہ اندرائن کی مثل ہے کہ اس میں خوشبو بھی نہیں ہے اور مزہ کڑوا ہے اور جو منافق قرآن پڑھتا ہے، وہ پھول کی مثل ہے کہ اس میں خوشبو ہے مگر مزہ کڑوا۔'' (3)
حدیث ۴: صحیح مسلم میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اﷲتعالیٰ اس کتاب سے بہت لوگوں کو بلند کرتا ہے اور بہتوں کو پَست کرتا ہے۔''(4)یعنی جو اس پر ایمان لاتے اور عمل کرتے ہیں، اُن کے لیے بلندی ہے اور دوسروں کے لیے پستی ہے۔
حدیث ۵: صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو قرآن پڑھنے میں ماہر ہے، وہ کراماً کاتبین کے ساتھ ہے اور جو شخص رک رک کر قرآن پڑھتا ہے اور وہ اُس پر شاق ہے یعنی اُس کی زبان آسانی سے نہیں چلتی، تکلیف کے ساتھ ادا کرتا ہے، اُس کے لیے دو اجر ہیں۔'' (5)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب فضائل القرآن، باب خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ، الحدیث:۵۰۲۷،ج۳،ص۴۱۰.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب صلاۃ المسافرین...إلخ، باب فضل قراء ۃ القرآن...إلخ،الحدیث:۲۵۱۔(۸۰۳)،ص۴۰۲.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأطعمۃ، باب ذکر الطعام،الحدیث:۵۴۲۷،ج۳،ص۵۳۵.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب فضائل القرآن، الحدیث:۲۱۱۴،ج۱،ص۵۸۲،
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب صلاۃ المسافرین...إلخ، باب فضل من یقوم بالقرآن...إلخ، الحدیث:۲۶۹۔(۸۱۶)،ص۴۰۸.
5 ۔ المرجع السابق، باب فضل الماھر بالقرآن...إلخ، الحدیث:۲۴۴۔(۷۹۸)،ص۴۰۰.
حدیث ۶: شرح سنہ میں عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''تین چیزیں قیامت کے دن عرش کے نیچے ہوں گی۔ ایک ۱ قرآن کہ یہ بندوں کے لیے جھگڑا کریگا، اس کے لیے ظاہر و باطن ہے اور امانت ۲ اور رشتہ ۳ پکارے گا کہ جس نے مجھے ملایا، اُسے اﷲ(عزوجل)ملائے گا اور جس نے مجھے کاٹا، اﷲ(عزوجل)اُسے کاٹے گا۔'' (1)
حدیث ۷: امام احمد و ترمذی و ابو داود و نسائی نے عبد اﷲ بن عَمْرْورضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھ اور چڑھ اور ترتیل کے ساتھ پڑھ، جس طرح دنیا میں ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا۔ تیری منزل آخر آیت جو تو پڑھے گا، وہاں ہے۔'' (2)
حدیث ۸: ترمذی و دارمی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس کے جوف میں کچھ قرآن نہیں ہے، وہ ویرانہ مکان کی مثل ہے۔'' (3)
حدیث ۹: ترمذی ودارمی نے ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:''جس کو قرآن نے میرے ذکر اور مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا، اُسے میں اُس سے بہتر دوں گا، جو مانگنے والوں کو دیتا ہوں۔ اور کلام اﷲکی فضیلت دوسرے کلاموں پر ویسی ہی ہے، جیسی اﷲ (عزوجل)کی فضیلت اسکی مخلوق پر ہے۔''(4)
حدیث ۱۰: ترمذی و دارمی نے عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص کلام اﷲکا ایک حرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہوگی۔ میں یہ نہیں کہتاایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام دوسرا حرف ہے، میم تیسرا حرف۔'' (5)
حدیث ۱۱: ابو داود نے معاذ جہنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جس نے قرآن پڑھا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کیا، اس کے والدین کو قیامت کے دن تاج پہنایا جائے گا۔ جس کی روشنی سورج سے اچھی ہے، اگر وہ تمھارے گھروں میں ہوتا تو اب خود اس عمل کرنے والے کے متعلق تمہارا کیا گمان ہے۔''(6)
1 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب البر والصلۃ، باب ثواب صلۃ الرحم...إلخ، الحدیث:۳۳۲۷،ج۶،ص۴۳۸.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الوتر، باب کیف یستحب الترتیل في القراء ۃ، الحدیث:۱۴۶۴،ج۲،ص۱۰۴.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب فضائل القرآن، باب:۱۸، الحدیث:۲۹۲۲،ج۴ص۴۱۹.
4 ۔ المرجع السابق،باب:۲۵،الحدیث:۲۹۳۵،ج۴ص۴۲۵.
5 ۔ المرجع السابق، باب ماجاء في من قرأ حرفا من القرآن...إلخ، الحدیث:۲۹۱۹،ج۴ص۴۱۷.
6 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الوتر، باب في ثواب قراء ۃ القرآن، الحدیث:۱۴۵۳،ج۲ص۱۰۰.
حدیث ۱۲: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ و دارمی نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس نے قرآن پڑھا اور اس کو یاد کرلیا، اس کے حلال کو حلال سمجھا اور حرام کو حرام جانا۔ اس کے گھر والوں میں سے دس شخصوں کے بارے میں اﷲتعالیٰ اس کی شفاعت قبول فرمائے گا، جن پر جہنم واجب ہوچکا تھا۔''(1)
حدیث ۱۳: ترمذی و نسائی و ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''قرآن سیکھو اور پڑھو کہ جس نے قرآن سیکھا اور پڑھا اور اس کے ساتھ قیام کیا، اس کی مثال یہ ہے جیسے مشک سے تھیلی بھری ہوئی ہے جس کی خوشبو ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے اور جس نے سیکھا اور سوگیا یعنی قیام اللیل نہیں کیا، اس کی مثال وہ تھیلی ہے جس میں مشک بھری ہوئی ہے اور اس کا مونھ باندھ دیا گیا ہے۔''(2)
حدیث ۱۴: بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:ان دلوں میں بھی زنگ لگ جاتی ہے، جس طرح لوہے میں پانی لگنے سے زنگ لگتی ہے۔ عرض کی، یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!اس کی جِلا کس چیز سے ہوگی؟ فرمایا:''کثرت سے موت کو یادکرنے اور تلاوت قرآن سے۔''(3)
حدیث ۱۵: صحیح بخاری و مسلم میں جندب بن عبد اﷲرضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''قرآن کو اس وقت تک پڑھو، جب تک تمھارے دل کو الفت اور لگاؤ ہو اور جب دل اُچاٹ ہوجائے، کھڑے ہو جاؤ۔''(4)یعنی تلاوت بند کر دو۔
حدیث ۱۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اﷲ(عزوجل )کو جتنی توجہ اس نبی کی طرف ہے جو خوش آوازی سے قرآن پڑھتا ہے، کسی کی طرف اتنی توجہ نہیں۔'' (5)
حدیث ۱۷: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص قرآن کو تغنی یعنی خوش آوازی سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں۔''(6)اس حدیث کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تغنی سے مراد استغنا ہے یعنی قرآن پڑھنے کے عوض میں کسی سے کچھ لینا نہ چاہیے۔
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء في فضل قاریئ القرآن، الحدیث:۲۹۱۴،ج۴ص۴۱۴.
و''سنن ابن ماجہ''،کتاب السنۃ، باب فضل من تعلم القرآن...إلخ، الحدیث:۲۱۶،ج۱ص۱۴۱.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء في فضل سورۃ البقرۃ...إلخ، الحدیث:۲۸۸۵،ج۴ص۴۰۱.
3 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في تعظیم القرآن، فصل في ادمان تلاوتہ، الحدیث:۲۰۱۴،ج۲،ص۳۵۲۔۳۵۳.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب فضائل القرآن، باب اقرؤوا القرآن...إلخ، الحدیث:۵۰۶۱،ج۳ص۳۱۹.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالٰی ولا تنفع الشفاعۃ...إلخ،الحدیث:۷۴۸۲،ج۴،ص۵۶۹.
6 ۔ المرجع السابق،باب قول اللہ تعالٰی واسروا قولکم او اجھروا...إلخ، الحدیث:۷۵۲۷،ج۴ص۵۸۶.
حدیث ۱۸: امام احمد و ابو داود و ابن ماجہ ودارمی نے براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو۔''(1)اور دارمی کی روایت میں ہے کہ ''اپنی آوازوں سے قرآن کو خوبصورت کرو، کیونکہ اچھی آواز قرآن کا حسن بڑھا دیتی ہے۔'' (2)
حدیث ۱۹: بیہقی نے عبیدہ ملیکی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اے قرآن والو!قرآن کو تکیہ نہ بناؤ یعنی سستی اور تغافل نہ برتو اور رات اور دن میں اسکی تلاوت کرو جیسا تلاوت کا حق ہے اور اس کو پھیلاؤ اور تغنی کرو یعنی اچھی آواز سے پڑھو یا اس کا معاوضہ نہ لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے غور کرو، تاکہ تم کو فلاح ملے، اس کے ثواب میں جلدی نہ کرو کیونکہ اس کا ثواب بہت بڑا ہے۔''(3) (جو آخرت میں ملنے والا ہے)
حدیث ۲۰: ابو داود و بیہقی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ ہم قرآن پڑھ رہے تھے اور ہمارے ساتھ اعرابی اور عجمی بھی تھے۔ اتنے میں رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم تشریف لائے اور فرمایا کہ قرآن پڑھو!تم سب اچھے ہو، بعد میں قومیں آئیں گی جو قرآن کو اس طرح سیدھا کریں گی جیسا تیر سیدھا ہوتا ہے، اس کا بدلہ جلدی لینا چاہیں گے، دیر میں لینا نہیں چاہیں گے۔''(4)یعنی دنیا میں بدلہ لینا چاہیں گے۔
حدیث ۲۱: بیہقی نے حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''قرآن کو عرب کے لحن اور آواز سے پڑھو، اہلِ عشق اور یہود ونصاریٰ کے لحن سے بچو یعنی قواعد موسیقی کے مطابق گانے سے بچو اور میرے بعد ایک قوم آئے گی جو قرآن کو ترجیع کے ساتھ پڑھے گی، جیسے گانے اور نوحہ میں ترجیع ہوتی ہے، قرآن ان کے گلوں سے تجاوز نہیں کریگا، ان کے دل فتنہ میں مبتلا ہیں اور ان کے بھی جن کو ان کی یہ بات پسند ہے۔''(5)
حدیث ۲۲: ابوسعید بن معلّیرضی اللہ تعالٰی عنہ سے صحیح بخاری میں روایت ہے، کہتے ہیں:میں نماز پڑھ رہا تھا اور نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مجھے بلایا، میں نے جواب نہیں دیا۔ (جب نماز سے فارغ ہوا)حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی
1 ۔ ''سنن الدارمي''،کتاب فضائل القرآن، باب التغنی بالقرآن، الحدیث:۳۵۰۰،ج۲،ص۵۶۵.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۳۵۰۱،ج۲،ص۵۶۵.
3 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في تعظیم القرآن، فصل في إدمان تلاوتہ،الحدیث:۲۰۰۷،۲۰۰۹،ج۲،ص۳۵۰،۳۵۱.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الصلاۃ، باب مایجزیئ الامی والاعجمی من القراء ۃ، الحدیث:۸۳۰،ج۱،ص۳۱۷.
5 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في تعظیم القرآن، فصل في ترک التعمق فیہ، الحدیث:۲۶۴۹،ج۲،ص۵۴۰.
و''مرقاۃ المفاتیح''،کتاب فضائل القرآن، الحدیث:۲۲۰۷،ج۴،ص۷۰۶.
خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!میں نماز پڑھ رہا تھا۔ ارشاد فرمایا:کیا اﷲتعالیٰ نے نہیں فرمایا ہے
(اسْتَجِیۡبُوۡا لِلہِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ )
(1) اﷲورسول(عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے پاس حاضر ہوجاؤ، جب وہ تمھیں بلائیں۔
پھر فرمایا: مسجد سے باہر جانے سے پہلے قرآن میں جو سب سے بڑی سورت ہے، وہ بتادوں گا اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، جب نکلنے کا ارادہ ہوا۔ میں نے عرض کی، حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )نے یہ فرمایا تھاکہ ''مسجد سے باہَر جانے سے پہلے قران کی سب سے بڑی سورت کی تعلیم کروں گا۔ فرمایاکہ وہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے، جو مجھے ملا ہے۔''(2)
حدیث ۲۳: ترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ابی بن کعب سے فرمایا کہ نماز میں تم کس طرح پڑھتے ہو؟ انھوں نے اُمّ القرآن یعنی سور ت فاتحہ کو پڑھا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!نہ اس کی مثل تورات میں کوئی سورت اُتاری گئی، نہ انجیل میں، نہ زبور میں، نہ قرآن میں۔ وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے ملا۔''(3)
حدیث ۲۴: سورئہ فاتحہ ہر بیماری سے شفا ہے۔ (4) (دارمی، بیہقی)
حدیث ۲۵: صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ، کہتے ہیں: جبرئیل علیہ السلام حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں حاضر تھے۔ اوپر سے ایک آواز آئی۔ انھوں نے سر اٹھایا اور یہ کہاکہ آسمان کا یہ دروازہ آج ہی کھولا گیا، آج سے پہلے کبھی نہیں کھلا۔ ایک فرشتہ اترا، جبریل علیہ السلام نے کہا:یہ فرشتہ آج سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا۔ اس نے سلام کیا اور یہ کہا کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو بشارت ہو کہ دو نُور حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو دیے گئے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملے۔ وہ دو نُور یہ ہیں، سورئہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کا خاتمہ، جو حرف آپ پڑھیں گے وہ دیا جائے گا۔(5)
حدیث ۲۶: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:
1 ۔ پ۹،الأنفال: ۲۴.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب التفسیر، باب ماجاء في فاتحۃ الکتاب،الحدیث:۴۴۷۴،ج۳،ص۱۶۳.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء في فضل فاتحۃ الکتاب،الحدیث:۲۸۸۴،ج۴،ص۴۰۰.
4 ۔ ''سنن الدارمي''،کتاب فضائل القرآن، باب فضل فاتحۃ الکتاب، الحدیث:۳۳۷۰،ج۲،ص۵۳۸.
و ''شعب الإیمان''، باب في تعظیم القرآن، فصل في فضائل السور والآیات، الحدیث:۲۳۶۷،ج۲،ص۴۵۰.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب صلاۃ المسافرین...إلخ، باب فضل الفاتحۃ...إلخ، الحدیث:۲۵۴۔(۸۰۶)،ص۴۰۳.
''اپنے گھروں کو مقابر نہ بناؤ، شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔'' (1)
حدیث ۲۷: صحیح مسلم میں ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو میں نے یہ فرماتے سنا کہ ''قرآن پڑھو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے اصحاب کے لیے شفیع ہو کر آئے گا۔ دو چمک دار سورتیں بقرہ و آل عمران کو پڑھو کہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی گویا دو ابر ہیں یا دو سائبان ہیں یا صف بستہ پرندوں کی دو جماعتیں، وہ دونوں اپنے اصحاب کی طرف سے جھگڑا کریں گی یعنی ان کی شفاعت کریں گی۔ سورہ بقرہ کو پڑھو کہ اس کا لینا برکت ہے اور اس کا چھوڑنا حسرت ہے اور اہلِ باطل اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔''(2)
حدیث ۲۸: صحیح مسلم میں ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اے ابوالمنذر (یہ ابی بن کعب کی کنیت ہے)تمھارے پاس قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟''میں نے کہا اﷲو رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اعلم ہیں۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا: اے ابو المنذر تمہیں معلوم ہے کہ قرآن کی کون سی آیت تمہارے پاس سب میں بڑی ہے۔ میں نے عرض کی،
اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوۡمُ
(یعنی آیۃ الکرسی)۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا:''ابوالمنذر تم کو علم مبارک ہو۔''(3)
حدیث ۲۹: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے زکاۃ رمضان یعنی صدقہ فطر کی حفاظت مجھے سپر د فرمائی تھی۔ ایک آنے والا آیا اور غلہ بھرنے لگا، میں نے اسے پکڑلیااور یہ کہاکہ تجھے حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں پیش کروں گا۔ کہنے لگا، میں محتاج عیال دار ہوں، سخت حاجت مند ہوں، میں نے اسے چھوڑ دیا۔ جب صبح ہوئی حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا: ابوہریرہ !تمہارا رات کا قیدی کیا ہوا؟ میں نے عرض کی، یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!اس نے شدید حاجت اور عیال کی شکایت کی، مجھے رحم آگیا چھوڑ دیا۔ ارشاد فرمایا:وہ تم سے جھوٹ بولا اور وہ پھر آئے گا۔
میں نے سمجھ لیا وہ پھر آئے گا، کیونکہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرما دیا ہے۔میں اس کے انتظار میں تھا وہ آیا اور غلہ بھرنے لگا، میں نے اسے پکڑ لیا اور یہ کہا تجھے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس پیش کروں گا۔ اس نے کہا مجھے چھوڑ دو، میں محتاج ہوں، عیال دار ہوں، اب نہیں آؤں گا۔ مجھے رحم آگیا، اسے چھوڑ دیا صبح ہوئی تو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب صلاۃ المسافرین...إلخ، باب إستحباب صلاۃ النافلۃ...إلخ، الحدیث:۲۱۲۔(۷۸۰)،ص۳۹۳.
2 ۔ المرجع السابق، باب فضل قراء ۃ القرآن وسورۃ البقرۃ، الحدیث:۲۵۲۔(۸۰۴)،ص۴۰۳.
3 ۔ المرجع السابق، باب فضل سورۃ الکھف...إلخ، الحدیث:۲۵۸۔(۸۱۰)،ص۴۰۴.
نے فرمایا:ابوہریرہ تمہارا قیدی کیا ہوا؟ میں نے عرض کی، اس نے حاجت شدیدہ اور عیال داری کی شکایت کی، مجھے رحم آیا، اسے چھوڑ دیا۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:وہ تم سے جھوٹ بولا اور پھر آئے گا۔
میں اس کے انتظار میں تھا وہ آیا اور غلہ بھرنے لگا، میں نے پکڑا اور کہا:تجھے حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے پاس پیش کروں گا تین مرتبہ ہوچکا تو کہتا ہے نہیں آئے گا پھر آتا ہے۔ اس نے کہامجھے چھوڑ دو، میں تمھیں ایسے کلمات سکھاتا ہوں جن سے اللہ (عزوجل)تم کو نفع دے گا، جب تم بچھونے پر جاؤ آیت الکرسی آخر آیۃ تک پڑھ لو، صبح تک اللہ(عزوجل)کی طرف سے تم پر نگہبان ہوگا اور شیطان تمھارے قریب نہیں آئے گا۔ میں نے اسے چھوڑ دیا جب صبح ہوئی، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:تمہارا قیدی کیا ہوا؟ میں نے عرض کی، اس نے کہا چند کلمات تم کو سکھاتا ہوں، اللہ تعالیٰ تمہیں ان سے نفع دے گا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:یہ بات اس نے سچ کہی اور وہ بڑا جھوٹا ہے اور تمھیں معلوم ہے کہ تین راتوں سے تمہارا مخاطب کون ہے؟ میں نے عرض کی نہیں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا کہ وہ شیطان ہے ۔ (1)
حدیث ۳۰: صحیح بخاری و مسلم میں ابومسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں جو شخص رات میں پڑھ لے، وہ اس کے لیے کافی ہیں۔''(2)
حدیث ۳۱: اﷲتعالیٰ نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے دو ہزاربرس پہلے ایک کتاب لکھی۔ اس میں سے دو آیتیں جو سورہ بقرہ کے ختم پر ہیں، نازل فرمائیں۔ جس گھر میں تین راتوں تک پڑھی جائیں، شیطان اس کے قریب نہیں جائے گا۔''(3) (ترمذی و دارمی)
حدیث ۳۲: سورہ بقرہ کے خاتمہ کی دو آیتیں اللہ تعالیٰ کے اس خزانہ میں سے ہیں، جو عرش کے نیچے ہے اللہ (عزوجل)نے مجھے یہ دونوں آیتیں دیں انھیں سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھاؤ کہ وہ رحمت ہیں اوراللہ(عزوجل)سے نزدیکی اور دعاہیں۔ (4) (دارمی)
حدیث ۳۳: صحیح مسلم میں ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سورہ کہف کی پہلی دس آیتیں جو شخص یاد کرے، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔''(5)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الوکالۃ، باب إذا وکل رجلا...إلخ، الحدیث:۲۳۱۱،ج۲،ص۸۲.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب المغازی، الحدیث:۴۰۰۸،ج۳،ص۲۱.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء في آخر سورۃ البقرۃ،الحدیث:۲۸۹۱،ج۴،ص۴۰۴.
4 ۔ ''سنن الدارمي''،کتاب فضائل القرآن، باب فضل اول سورۃ البقرۃ وآیۃ الکرسی،الحدیث:۳۳۹۰،ج۲،ص۵۴۲.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب صلاۃ المسافرین...إلخ، باب فضل سورۃ الکھف...إلخ، الحدیث:۲۵۷۔(۸۰۹)،ص۴۰۴.
حدیث ۳۴: جو شخص سورہ کہف جمعہ کے دن پڑھے گا، اس کے لیے دو جمعہ کے مابین نور روشن ہوگا۔ (1) (بیہقی)
حدیث ۳۵: ہر چیز کے لیے دل ہے اور قرآن کا دل یٰس ہے، جس نے یٰس پڑھی دس مرتبہ قرآن پڑھنا اللہ تعالٰی اس کے لیے لکھے گا۔ (2) (ترمذی و دارمی)
حدیث ۳۶: اﷲتعالیٰ نے زمین و آسمان کے پیدا کرنے سے ہزار برس پہلے طٰہٰ و یٰس پڑھا، جب فرشتوں نے سنا، یہ کہا: مبارک ہو، اس ا مت کے لیے جس پر یہ اتارا جائے اور مبارک ہو، ان جوفوں کے لیے جو اس کے حامل ہوں اور مبارک ہو، ان زبانوں کے لیے جو اس کو پڑھیں۔ (3) (دارمی)
حدیث ۳۷: جو شخص اﷲتعالیٰکی رضا کے لیے یٰس پڑھے گا، اس کے اگلے گناہوں کی مغفرت ہوجائے گی۔ لہٰذا اس کو اپنے مردوں کے پاس پڑھو۔ (4) (بیہقی)
حدیث ۳۸: جو شخص کوتک اورآیۃ الکرسی صبح کو پڑھ لے گا، شام تک محفوظ رہے گا اور جو شام کو پڑھ لے گا، صبح تک محفوظ رہے گا۔ (5) (ترمذی و دارمی)
حدیث ۳۹: جو شخص شب جمعہ میں پڑھے، اس کی مغفرت ہوجائے گی۔ (6) (ترمذی)
حدیث ۴۰: نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم جب تک الٓـمّٓ تَنۡزِیۡلُاور تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الْمُلْکنہ پڑھ لیتے سوتے نہ تھے۔ (7) (احمد، ترمذی، دارمی)
حدیث ۴۱: خالد بن معدان نے کہا، نجات دینے والی سورت کو پڑھو وہ ہے۔ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ایک شخص اس کو پڑھتا تھا اس کے سوا کچھ نہیں پڑھتا تھا اور وہ بہت گنہگار تھا، اس سورت نے اپنا بازو اس پر بچھادیا اور کہا اے رب!اس کی مغفرت فرمادے کہ یہ مجھ کو کثرت سے پڑھتا تھا۔ رب تعالیٰ نے اس کی شفاعت قبول فرمائی اور فرشتوں سے فرمایاکہ ''اس کی ہر خطا کے بدلے میں ایک نیکی لکھو اور ایک درجہ بلند کرو۔''
1 ۔''السنن الکبری''للبیھقي،کتاب الجمعۃ، باب مایؤمربہ في لیلۃ الجمعۃ...إلخ،الحدیث:۵۹۹۶،ج۳،ص۳۵۳.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل سورۃ یٰسۤ، الحدیث:۲۸۹۶،ج۴،ص۴۰۶.
3 ۔ ''سنن الدارمي''،کتاب فضائل القرآن، باب في فضل سورۃ طٰہٰ ویٰسۤ، الحدیث:۳۴۱۴،ج۲،ص۵۴۷۔۵۴۸.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في تعظیم القرآن، فصل في فضائل السور.. الخ، الحدیث:۲۴۵۸،ج۲،ص۴۷۹.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء في سورۃ البقرۃ وآیۃ الکرسی، الحدیث:۲۸۸۸،ج۴،ص۴۰۲.
6 ۔ المرجع السابق،باب ماجاء في فضل حمۤ الدخان، الحدیث:۲۸۹۸،ج۴،ص۴۰۷.
7 ۔ المرجع السابق،باب ماجاء في فضل سورۃ الملک الحدیث:۲۹۰۱،ج۴،ص۴۰۸.
اور خالد نے یہ بھی کہا کہ یہ اپنے پڑھنے والے کی طرف سے قبر میں جھگڑا کرے گی، کہے گی الٰہی!اگر میں تیری کتاب سے ہوں تو میری شفاعت قبول فرما اور تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو اس میں سے مجھے مٹا دے۔ اور وہ پرند کی طرح اپنے بازو اس پر بچھادے گی اور شفاعت کرے گی اور عذاب قبر سے بچائے گی۔
اور خالد نے تبارک کے متعلق بھی ایسا ہی کہا اور جب تک ان دونوں کو پڑھ نہ لیتے خالد سوتے نہ تھے اور طاؤس نے کہا کہ یہ دونوں سورتیں قرآن کی ہر ایک سورۃ پر ساٹھ حسنہ کے ساتھ فضیلت رکھتی ہیں۔ (1) (دارمی)
حدیث ۴۲: قرآن میں تیس آیت کی ایک سورت ہے، آدمی کے لیے شفاعت کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہوجائے گی۔ وہ
تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الْمُلْک
ہے۔ (2) (احمد و ترمذی و ابو داود و نسائی و ابن ماجہ)
حدیث ۴۳: بعض صحابہ نے قبر پر خیمہ گاڑ دیا انھیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہاں قبر ہے، اس میں کسی شخص نے
تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الْمُلْک
ختم سورۃ تک پڑھا، جب انھوں نے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ سنایا، تو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''وہ مانعہ ہے، وہ منجیہ ہے، عذاب الٰہی سے نجات دیتی ہے۔''(3) (ترمذی)
حدیث ۴۴: جو شخص سورہ واقعہ ہر رات میں پڑھ لے گا، اس کو کبھی فاقہ نہیں پہنچے گا۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی صاحب زادیوں کو حکم فرماتے تھے کہ ہر رات میں اس کو پڑھا کریں۔ (4) (بیہقی)
حدیث ۴۵: کیا تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے کہ ہر روز ایک ہزار آیتیں پڑھا کرو، لوگوں نے عرض کی اس کی کون استطاعت رکھتا ہے کہ ہر روز ہزار آیتیں پڑھا کرے؟ فرمایا: کیا اس کی استطاعت نہیں کہ
اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ
پڑھ لیا کرو۔ (5) (بیہقی)
حدیث ۴۶: کیا تم اس سے عاجز ہو کہ رات میں تہائی قرآن پڑھ لیا کرو؟ لوگوں نے عرض کی، تہائی قرآن کیونکر کوئی پڑھ لے گا؟ فرمایا کہ ''
قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ
تہائی کی برابر ہے۔'' (6) (بخاری ، مسلم)
1 ۔ ''سنن الدارمي''،کتاب فضائل القرآن، باب في فضل سورۃ تنزیل السجدۃ وتبارک، الحدیث:۳۴۰۸،۳۴۱۰،۳۴۱۲،
ج۲،ص۵۴۶۔۵۴۷.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء في فضل سورۃ الملک،الحدیث:۲۹۰۰،ج۴،ص۴۰۸.
3 ۔ المرجع السابق، باب ماجاء في فضل سورۃ الملک، الحدیث:۲۸۹۹،ج۴،ص۴۰۷.
4 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في تعظیم القرآن، فصل في فضائل السور والآیات، الحدیث:۲۴۹۹،ج۲،ص۴۹۱۔۴۹۲.
5 ۔ المرجع السابق، الحدیث:۲۵۱۸،ج۲،ص۴۹۸.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب صلاۃ المسافرین...إلخ، باب فضل قراء ۃ قل ہو اللہ احد...إلخ، الحدیث:۲۵۹۔(۸۱۱)،ص۴۰۵.
حدیث ۴۷:
اِذَا زُلْزِلَتِ
نصف قرآن کی برابر ہے اور'
قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ
تہائی قرآن کی برابر ہے اور
قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ
چوتھائی کی برابر۔ (1) (ترمذی)
حدیث ۴۸: جو ایک دن میں دو سو مرتبہ پڑھے گا، اس کے پچاس برس کے گناہ مٹا دیے جائیں گے مگر یہ کہ اس پر دَین ہو۔ (2) (ترمذی و دارمی)
حدیث ۴۹: جو شخص سوتے وقت بچھونے پر داہنی کروٹ لیٹ کر سو مرتبہ
قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ
پڑھے، قیامت کے دن رب تبارک و تعالیٰ اس سے فرمائے گاکہ ''اے میرے بندے!اپنی دہنی جانب جنت میں چلا جا۔''(3) (ترمذی)
حدیث ۵۰: نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک شخص کو
قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ
پڑھتے سنا، فرمایا کہ ''جنت واجب ہوگئی۔'' (4) (امام مالک، ترمذی، نسائی)
حدیث ۵۱: کسی نے پوچھا، یارسول اﷲ! (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) قرآن میں سب سے بڑی سورت کون سی ہے؟ فرمایا:''
قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ .
اس نے عرض کی، قرآن میں سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ فرمایا:آیۃ الکرسی
اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوۡمُ.
اس نے کہا، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کون سی آیت آپ کو اور آپ کی امت کو پہنچنا محبوب ہے؟ یعنی اس کا فائدہ و ثواب۔ فرمایا:سورہ بقرہ کے خاتمہ کی آیت کہ وہ رحمت الٰہی کے خزانہ سے عرش الٰہی کے نیچے سے ہے، اﷲتعالیٰ نے وہ آیت اس اُمت کو دی دنیا و آخرت کی کوئی خیر نہیں مگر یہ اس پر مشتمل ہے۔ (5) (دارمی)
حدیث ۵۲: جو شخص
اَعُوْذُ بِاللہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
تین مرتبہ پڑھ کر سورہ حشر کی پچھلی تین آیتیں پڑھے،اﷲ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے مقرر فرمائے گا جو شام تک اس کے لیے دعا کریں گے۔ اور اگر وہ شخص اس روز مرجائے تو شہید مرے گا اور شام کو پڑھ لے تو اس کے لیے بھی یہی ہے۔ (6) (ترمذی)
حدیث ۵۳: جو قرآن پڑھے اس کو اﷲ(عزوجل)سے سوال کرنا چاہیے۔ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے، جو قرآن
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء في إذا زلزلت، الحدیث:۲۹۰۲،ج۴،ص۴۰۹.
2 ۔ المرجع السابق، باب ماجاء في سورۃ الإخلاص...إلخ، الحدیث:۲۹۰۷،ج۴،ص۴۱۱.
3 ۔ المرجع السابق،۲۹۰۷،ج۴،ص۴۱۱.
4 ۔ المرجع السابق، الحدیث:۲۹۰۶،ج۴،ص۴۱۱.
5 ۔ ''سنن الدارمي''،کتاب فضائل القرآن، باب فضل اول سورۃ البقرۃ وآیۃ الکرسی، الحدیث:۳۳۸۰،ج۲،ص۵۴۰.
6 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب فضائل القرآن، باب في فضل قراء ۃ آخر سورۃ الحشر، الحدیث:۲۹۳۱،ج۴،ص۴۲۳.
پڑھ کر آدمیوں سے سوال کریں گے۔ (1) (احمد، ترمذی)
حدیث ۵۴: جو قرآن پڑھ کر آدمیوں سے کھانا مانگے گا، قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت نہ ہوگا، نری ہڈیاں ہوں گی۔ (2) (بیہقی)
حدیث ۵۵: ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مصحف لکھنے کی اُجرت سے سوال ہوا۔ انھوں نے فرمایا:اس میں حرج نہیں، وہ لوگ نقش بناتے ہیں اور اپنی دست کاری سے کھاتے ہیں۔ یعنی یہ ایک قسم کی دست کاری ہے، اس کا معاوضہ لینا جائز ہے۔ (3) (رزین)
قرآن مجید کی تلاوت وغیرہ کے مسائل حصہ سوم میں مذکور ہوچکے ہیں وہاں سے معلوم کیے جائیں۔ مصحف شریف کے متعلق بعض باتیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں۔
مسئلہ ۱: قرآن مجید پر سونے چاندی کا پانی چڑھانا جائز ہے کہ اس سے نظر عوام میں عظمت پیدا ہوتی ہے، اس میں اعراب و نقطے لگانا بھی مستحسن ہے، کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو اکثر لوگ اسے صحیح نہ پڑھ سکیں گے۔ اسی طرح آیت سجدہ پر سجدہ لکھنا اور وقف کی علامتیں لکھنا اور رکوع کی علامت لکھنا اور تعشیر یعنی دس دس آیتوں پر نشان لگانا جائز ہے۔ اسی طرح سورتوں کے نام لکھنا اور یہ لکھنا کہ اس میں اتنی آیتیں ہیں یہ بھی جائز ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
اس زمانہ میں قرآن مجید کے تراجم بھی چھاپنے کا رواج ہے اگر ترجمہ صحیح ہو تو قرآن مجید کے ساتھ طبع کرنے میں حرج نہیں، اس لیے کہ اس سے آیت کا ترجمہ جاننے میں سہولت ہوتی ہے مگر تنہا ترجمہ طبع نہ کیا جائے۔
مسئلہ ۲: تاریخ کے اوراق قرآن مجید کی جلد یا تفسیر وفقہ کی کتابوں پر بطور غلاف چڑھانا جائز ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳: قرآن مجید کی کتابت نہایت خوش خط اور واضح حرفوں میں کی جائے، کاغذ بھی بہت اچھا، روشنائی بھی
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب فضائل القرآن، باب من قرأ القرآن فلیسأل اللہ بہ...إلخ، الحدیث:۲۹۲۶،ج۴،ص۴۲۱.
2 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في تعظیم القرآن، فصل في ترک قراء ۃ القرآن في المساجد والأسواق لیعطی ویستأکل بہ،
الحدیث:۲۶۲۵،ج۲،ص۵۳۲ ۔ ۵۳۳.
3 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''،کتاب البیوع، باب الکسب و طلب الحلال، الحدیث:۲۷۸۲،ج۲،ص۱۳۳.
4 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۳۶.
5 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۳۷.
خوب اچھی ہو کہ دیکھنے والے کو بھلا معلوم ہو۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)بعض اہلِ مطابع (2)نہایت معمولی کاغذ پر بہت خراب کتابت و روشنائی سے چھپواتے ہیں یہ ہرگز نہ ہونا چاہیے۔
مسئلہ ۴: قرآن مجید کا حجم چھوٹا کرنا مکروہ ہے۔ (3) (درمختار) مثلاً آج کل بعض اہل مطابع نے تعویذی قرآن مجید چھپوائے ہیں جن کا قلم اتنا باریک ہے کہ پڑھنے میں بھی نہیں آتا، بلکہ حمائل(4)بھی نہ چھپوائی جائے کہ اس کا حجم بھی بہت کم ہوتا ہے۔
مسئلہ ۵: قرآن مجید پرانا بوسیدہ ہوگیا اس قابل نہ رہا کہ اس میں تلاوت کی جائے اور یہ اندیشہ ہے کہ اس کے اوراق منتشر ہو کر ضائع ہوں گے، توکسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر احتیاط کی جگہ دفن کردیا جائے اور دفن کرنے میں اس کے لیے لحد بنائی جائے، تاکہ اس پر مٹی نہ پڑے یا اس پر تختہ لگا کر چھت بنا کر مٹی ڈالیں کہ اس پر مٹی نہ پڑے۔ مصحف شریف بوسیدہ ہوجائے تو اس کو جلایا نہ جائے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: لغت و نحو و صرف کاایک مرتبہ ہے، ان میں ہر ایک کی کتاب کو دوسرے کی کتاب پر رکھ سکتے ہیں اور ان سے اوپر علم کلام کی کتابیں رکھی جائیں ان کے اوپر فقہ اور احادیث و مواعظ و دعوات ماثورہ (6)فقہ سے اوپر اور تفسیر کو ان کے اوپر اور قرآن مجید کو سب کے اوپر رکھیں۔ قرآن مجید جس صندوق میں ہو اس پر کپڑاوغیرہ نہ رکھا جائے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: کسی نے محض خیرو برکت کے لیے اپنے مکان میں قرآن مجید رکھ چھوڑا ہے اور تلاوت نہیں کرتا تو گناہ نہیں بلکہ اس کی یہ نیت باعث ثواب ہے۔ (8) (خانیہ)
مسئلہ ۸: قرآن مجید پر اگر بقصدِ توہین پاؤں رکھا کافر ہوجائے گا۔ (9) (عالمگیری)
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۳۷.
2 ۔ یعنی چھاپنے والے۔
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۳۷.
4 ۔ یعنی چھوٹے سائز کا قرآن جسے گلے میں لٹکاتے ہیں۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد...إلخ،ج۵،ص۳۲۳.
6 ۔ دعوات ماثورہ: یعنی قرآن و حدیث سے منقول دعائیں ماثورہ کہلاتی ہیں۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد...إلخ،ج۵،ص۳۲۳ ۔ ۳۲۴.
8 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في آداب المسجد،ج۲،ص۳۷۸.
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد...إلخ،ج۵،ص۳۲۲.
مسئلہ ۹: جس گھر میں قرآن مجید رکھا ہو، اس میں بی بی سے صحبت کرنا جائز ہے جبکہ قرآن مجید پر پردہ پڑا ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: قرآن مجید کو نہایت اچھی آواز سے پڑھنا چاہیے۔ اسی طرح اذان کہنے میں خوش گلوئی سے کام لے یعنی اگرآواز اچھی نہ ہو تو اچھی آواز بنانے کی کوشش کرے، لحن کے ساتھ پڑھنا کہ حروف میں کمی بیشی ہوجائے جیسے گانے والے کیا کرتے ہیں یہ ناجائز ہے، بلکہ پڑھنے میں قواعد تجوید کی مراعات کرے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: قرآن مجید کو معروف و شاذ دونوں قراء توں کے ساتھ ایک ساتھ پڑھنا مکروہ ہے تو فقط قراء ت شاذہ کے ساتھ پڑھنا بدرجہ اَولیٰ مکروہ ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)بلکہ عوام کے سامنے وہی قراءَ ت پڑھی جائے جو وہاں رائج ہے کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی ناواقفی کی وجہ سے انکار کر بیٹھیں۔
مسئلہ ۱۲: مسلمانوں میں یہ دستور ہے کہ قرآن مجید پڑھتے وقت اگر اٹھ کر کہیں جاتے ہیں تو بند کردیتے ہیں کھلا ہوا چھوڑ کر نہیں جاتے یہ ادب کی بات ہے۔ مگر بعض لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ اگر کھلا ہوا چھوڑ دیا جائے گا تو شیطان پڑھے گا، اس کی اصل نہیں ممکن ہے کہ بچوں کو اس ادب کی طرف توجہ دلانے کے لیے ایسا اختراع کیا ہو۔
مسئلہ ۱۳: قرآن مجید کے آداب میں یہ بھی ہے کہ اس کی طرف پیٹھ نہ کی جائے، نہ پاؤں پھیلائے جائیں، نہ پاؤں کو اس سے اونچا کریں، نہ یہ کہ خود اونچی جگہ پر ہواور قرآن مجید نیچے ہو۔
مسئلہ ۱۴: قرآن مجید کو جزدان و غلاف میں رکھنا ادب ہے۔ صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالٰی عنھم اجمعین کے زمانہ سے اس پر مسلمانوں کا عمل ہے۔
مسئلہ ۱۵: نئے قلم کا تراشہ ادھر ادھر پھینک سکتے ہیں مگر مستعمل قلم کا تراشہ احتیاط کی جگہ میں رکھا جائے پھینکا نہ جائے۔ اسی طرح مسجد کا گھاس کوڑا موضعِ اِحتیاط (4)میں ڈالا جائے ایسی جگہ نہ پھینکا جائے کہ احترام کے خلاف ہو۔ (5) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد...إلخ،ج۵،ص۳۲۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۹۴.
3 ۔ المرجع السابق،ص۶۹۵.
4 ۔ یعنی احتیاط کی جگہ۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد...إلخ،ج۵،ص۳۲۴.
مسئلہ ۱۶: جس کاغذ پراﷲتعالیٰ کا نام لکھا ہو، اس میں کوئی چیز رکھنا مکروہ ہے اور تھیلی پر اسمائے الٰہی لکھے ہوں اس میں روپیہ پیسہ رکھنا مکروہ نہیں۔ کھانے کے بعد انگلیوں کو کاغذ سے پونچھنا مکروہ ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسجد کو چونے اور گچ سے منقش کرنا جائز ہے، سونے چاندی کے پانی سے نقش و نگار کرنا بھی جائز ہے جبکہ کوئی شخص اپنے مال سے ایسا کرے مال وقف سے ایسا نہیں کرسکتا، بلکہ متولی مسجد نے اگر مال وقف سے سونے چاندی کا نقش کرایا تو اسے تاوان دینا ہوگا، ہاں اگر بانی مسجد نے نقش کرایا تھا جو خراب ہوگیا تو متولی مسجد مال مسجد سے بھی نقش و نگار کراسکتا ہے۔ بعض مشایخ دیوار قبلہ میں نقش و نگار کرنے کو مکروہ بتاتے ہیں، کہ نمازی کا دل اُدھر متوجہ ہوگا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: مسجد کی دیواروں میں گچ اور پلاستر کرانا جائز ہے کہ اس کی وجہ سے عمارت محفوظ رہے گی۔ مسجد میں پلاستر کرانے یا قلعی (4)یا کہگل (5)کرانے میں ناپاک پانی استعمال نہ کیا جائے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: مسجد میں درس دینا جائز ہے اگرچہ بوقت درس مسجد کی جانمازوں اور چٹائیوں کو استعمال کرتا ہو۔ مسجد میں کھانا کھانا اور سونا معتکف کو جائز ہے غیر معتکف کے لیے مکروہ ہے، اگر کوئی شخص مسجد میں کھانا یا سونا چاہتا ہو تو وہ بہ نیت اعتکاف مسجد میں داخل ہو اور ذکر کرے یا نماز پڑھے اس کے بعد وہ کام کرسکتا ہے۔ (7) (عالمگیری)
ہندوستان میں تقریباً ہر جگہ یہ رواج ہے کہ ماہ رمضان میں عام طور پر مسجد میں روزہ افطار کرتے ہیں، اگر خارج مسجد کوئی جگہ ایسی ہو کہ وہاں افطار کریں جب تو مسجد میں افطار نہ کریں۔ ورنہ داخل ہوتے وقت اعتکاف کی نیت کرلیا کریں اب افطار کرنے میں حرج نہیں، مگر اس بات کا اب بھی لحاظ کرنا ہوگا کہ مسجد کا فرش یا چٹائیاں آلودہ نہ کریں۔
مسئلہ ۳: مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے، مثلاً مسجد کے دو دروازے ہیں اور اس کو کہیں جانا ہے آسانی اس میں ہے کہ ایک دروازہ سے داخل ہو کر دوسرے سے نکل جائے۔ ایسا نہ کرے اگر کوئی شخص اس نیت سے گیا کہ اس دروازے سے داخل ہو کر
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد...إلخ،ج۵،ص۳۲۲.
2 ۔ مسجد کے متعلق مسائل حصہ سوم میں مفصل ذکر کیے گئے ہیں ،کچھ باتیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں۔ ۱۲ منہ
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۳۶.
4 ۔ یعنی سفیدی۔ 5 ۔ یعنی مٹی کی لپائی۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد...إلخ،ج۵،ص۳۱۹.
7 ۔ المرجع السابق،ص۳۲۰،۳۲۱.
دوسرے سے نکل جائے گا، اندر جانے کے بعد اپنے اس فعل پر نادم ہوا تو جس دروازے سے نکلنے کا ارادہ کیا تھا اس کے سوا دوسرے دروازے سے نکلے اور بعض علما ء نے فرمایا ہے کہ یہ شخص پہلے نماز پڑھے پھر نکلے اور بعض نے فرمایاکہ اگر بے وضو ہے تو جس دروازہ سے گیا ہے، اسی سے نکلے مسجد میں جوتے پہن کر جانا مکروہ ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: جامع مسجد میں تعویذ بیچنا، ناجائز ہے جیسا کہ تعویذ والے کیا کرتے ہیں کہ اس تعویذ کا یہ ہدیہ ہے اتنا دو اور تعویذ لے جاؤ۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: مسجد میں عقد نکاح کرنا مستحب ہے۔ (3) (عالمگیری)مگر یہ ضرور ہے کہ بوقت نکاح شورو غل اور ایسی باتیں جو احترام مسجد کے خلاف ہیں نہ ہونے پائیں، لہٰذا اگر معلوم ہو کہ مسجد کے آداب کا لحاظ نہ رہے گا تو مسجد میں نکاح نہ پڑھوائیں۔
مسئلہ ۶: جس کے بدن یا کپڑے پر نجاست لگی ہو وہ مسجد میں نہ جائے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: مسجد میں ان آداب کا لحاظ رکھے۔
(1) جب مسجد میں داخل ہو تو سلام کرے بشرطیکہ جو لوگ وہاں موجود ہیں، ذکر و درس میں مشغول نہ ہوں اور اگر وہاں کوئی نہ ہو یا جو لوگ ہیں وہ مشغول ہیں تو یوں کہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا مِنْ رَّبِّنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصّٰلِحِیْنَ۔
(2) وقت مکروہ نہ ہو تو دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کرے۔
(3) خرید و فروخت نہ کرے۔
(4) ننگی تلوار مسجد میں نہ لے جائے۔
(5) گمی ہوئی چیز مسجد میں نہ ڈھونڈے۔
(6) ذِکرکے سوا آواز بلند نہ کرے۔
(7) دُنیا کی باتیں نہ کرے۔
(8) لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے۔
(9)جگہ کے متعلق کسی سے جھگڑا نہ کرے۔
(10) اس طرح نہ بیٹھے کہ دوسروں کے لیے جگہ میں تنگی ہو۔
(11) نمازی کے آگے سے نہ گزرے۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد...إلخ،ج۵،ص۳۲۱.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق.
(12) مسجد میں تھوک کھنکار نہ ڈالے۔
(13) انگلیاں نہ چٹکائے۔
(14) نجاست اور بچوں اور پاگلوں سے مسجد کو بچائے۔
(15) ذکر الٰہی کی کثرت کرے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: مسجد میں جگہ تنگ ہوگئی تو جو نماز پڑھنا چاہتا ہے وہ بیٹھے ہوئے کو کہہ سکتا ہے کہ سرک جاؤ نماز پڑھنے کی جگہ دے دو۔ اگرچہ وہ شخص ذکر و درس یا تلاوت قرآن میں مشغول ہو یا معتکف ہو۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: مسجد کے سائل کو دینا منع ہے، مسجد میں دنیا کی باتیں کرنی مکروہ ہیں۔ مسجد میں کلام کرنا نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھاتی ہے، یہ جائز کلام کے متعلق ہے ناجائز کلام کے گناہ کا کیا پوچھنا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: نماز پڑھنے کے بعد مصلے کولپیٹ کر رکھ دیتے ہیں، یہ اچھی بات ہے کہ اس میں زیادہ احتیاط ہے، مگر بعض لوگ جانماز کا صرف کونا لوٹ دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ایسا نہ کرنے میں اس پر شیطان نما زپڑھے گا یہ بے اصل ہے۔
مسئلہ۱۱: مسجد کی چھت پر چڑھنا مکروہ ہے، گرمی کی وجہ سے مسجد کی چھت پر جماعت کرنا مکروہ ہے، ہاں اگر مسجد میں تنگی ہو نمازیوں کی کثرت ہو تو چھت پر نماز پڑھ سکتے ہیں (4)، جیسا کہ بمبئی اور کلکتہ میں مسجد کی تنگی کی وجہ سے چھت پر بھی جماعت ہوتی ہے۔ (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: طالبِ علم نے مسجد کی چٹائی کا تنکا نشانی کے لیے کتاب میں رکھ لیا یہ معاف ہے۔ (5) (عالمگیری) اس کا یہ مطلب نہیں کہ اچھی چٹائی سے تنکا توڑ کر نشانی بنائے، کہ اس طرح بار بار کرنے سے چٹائی خراب ہو جائے گی۔
مسئلہ۱۳: قبلہ کی جانب ہدف یعنی نشانہ بنا کر اس پر تیر مارنا یا اس پر گولی مارنا مکروہ ہے، یعنی قبلہ کی طرف چاند ماری کرنا مکروہ ہے۔ (6) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد...إلخ،ج۵،ص۳۲۱.
2 ۔ المرجع السابق،ص۳۲۲.
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۸، ۶۹۰.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد...إلخ،ج۵،ص۳۲۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد...إلخ،ج۵،ص۳۲۲.
6 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۶.
عیادت کے فضائل کے متعلق چند احادیث حصہ چہارم کتاب الجنائز میں ذکر کی گئی ہیں۔ علاج کے متعلق کچھ حدیثیں یہاں لکھی جاتی ہیں۔
حدیث ۱: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''اﷲتعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں اُتاری مگر اس کے لیے شفا بھی اتاری۔''(1)
حدیث ۲: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسو ل اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''ہر بیماری کے لیے دوا ہے جب بیماری کو دوا پہنچ جائے گی،اﷲ(عزوجل)کے حکم سے اچھا ہوجائے گا۔''(2)
حدیث ۳: امام احمد و ترمذی وابو داود نے اسامہ بن شریک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ لوگوں نے عرض کی یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ہم دوا کریں؟ فرمایا:''ہاں اے اﷲ(عزوجل)کے بندو!دوا کرو، کیونکہ اﷲ(عزوجل)نے بیماری نہیں رکھی مگر اس کے لیے شفا بھی رکھی ہے، سوا ایک بیماری کے وہ بڑھاپا ہے۔'' (3)
حدیث ۴: ابو داود نے ابوالدردا ء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''بیماری اور دوا دونوں کو اﷲ تعالیٰ نے اتارا، اس نے ہر بیماری کے لیے دوا مقرر کی، پس تم دوا کرو مگر حرام سے دوا مت کرو۔''(4)
حدیث ۵: امام احمد و ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے دواء خبیث سے ممانعت فرمائی۔'' (5)
حدیث ۶: ترمذی و ابن ماجہ نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مریضوں کو کھانے پر مجبور نہ کرو، کہ ان کو اﷲ تعالیٰ کھلاتا پلاتا ہے۔''(6)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الطب، باب ما أنزل اللہ داء الاانزل لہ شفاء،الحدیث:۵۶۷۸،ج۴،ص۱۶.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب السلام، باب لکل داء دواء...إلخ،الحدیث:۶۹۔(۲۲۰۴)،ص۱۲۱۰.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الطب، باب الرجل یتداوی،الحدیث:۳۸۵۵،ج۴،ص۵.
و''سنن الترمذي''،کتاب الطب، باب ماجاء في الدواء...إلخ،الحدیث:۲۰۴۵،ج۴،ص۴.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الطب، باب في الادویۃ المکروھۃ،الحدیث:۳۸۷۴،ج۴،ص۱۰.
5 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۳۸۷۰،ج۴،ص۹.
6 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الطب، باب ماجاء لا تکرھوا مرضاکم علی الطعام والشرب،الحدیث:۲۰۴۷،ج۴،ص۵.
حدیث ۷: ابن ماجہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب مریض کھانے کی خواہش کرے تو اسے کھلا دو۔''(1)یہ حکم اس وقت ہے کہ کھانے کا اشتہائے صادق ہو۔ (2)
حدیث ۸: ابو داود نے اُم منذر بنت قیس رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی، کہتی ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم مع حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے میرے یہاں تشریف لائے۔ حضرت علی(رضی اللہ تعالٰی عنہ)کو نقاہت تھی یعنی بیماری سے ابھی اچھے ہوئے تھے، مکان میں کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ان میں سے کھجوریں تناول فرمائیں۔ حضرت علی نے کھانا چاہا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے ان کو منع کیا اور فرمایاکہ تم نقیہ ہو۔ کہتی ہیں کہ جو اور چقندر پکا کر حاضر لائی، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے حضرت علی سے فرمایا:''اس میں سے لو کہ یہ تمھارے لیے نافع ہے۔''(3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مریض کو پرہیز کرنا چاہیے جو چیزیں اس کے لیے مضر (4)ہیں، ان سے بچنا چاہیے۔
حدیث ۹: امام احمد و ترمذی و ابو داود نے عمران بن حصین اور ابن ماجہ نے بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''جھاڑ پھونک نہیں مگر نظربد اور زہریلے جانور کے کاٹنے سے۔'' (5) یعنی ان دونوں میں زیادہ مفید ہے۔
حدیث ۱۰: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ نے اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی، انھوں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اولادِ جعفر کو جلد نظر لگ جایا کرتی ہے، کیا جھاڑ پھونک کراؤں؟ فرمایا: ''ہاں کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جانے والی ہوتی تو نظر بد سبقت لے جاتی۔'' (6)
حدیث ۱۱: صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے، کہ ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے نظر بد سے جھاڑ پھونک کرانے کا حکم فرمایا ہے۔'' (7)
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الطب، باب المریض یشتھی الشیئ،الحدیث:۳۴۴۰،ج۴،ص۸۹.
2 ۔ یعنی کھانے کی سچی خواہش ہو۔
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الطب، باب في الحمیۃ،الحدیث:۳۸۵۶،ج۴،ص۵.
4 ۔ نقصان دہ۔
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الطب، باب ماجاء في الرخصۃ في ذلک،الحدیث:۲۰۶۴،ج۴،ص۱۲.
6 ۔المرجع السابق، باب ماجاء في الرقیۃ من العین،الحدیث:۲۰۶۶،ج۴،ص۱۳.
7 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الطب، باب رقیۃ العین،الحدیث:۵۷۳۸،ج۴،ص۳۱.
حدیث ۱۲: صحیح بخاری و مسلم میں حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت ہے، کہ ان کے گھر میں ایک لڑکی تھی جس کے چہرہ میں زردی تھی۔ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اسے جھاڑ پھونک کراؤ، کیونکہ اسے نظر لگ گئی ہے ۔ ''(1)
حدیث ۱۳: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ جب رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے جھاڑ پھونک سے منع فرمایا۔ عمرو بن حزم کے گھر والوں نے حاضر ہو کر یہ کہا، کہ یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے جھاڑنے کو منع فرمایا اور ہمارے پاس بچھو کا جھاڑ ہے اور اس کو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے سامنے پیش کیا۔ ارشاد فرمایا:''اس میں کچھ حرج نہیں جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکے، نفع پہنچائے۔''(2)
حدیث ۱۴: صحیح مسلم میں عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے، کہتے ہیں ہم جاہلیت میں جھاڑا کرتے تھے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)حضور کا اس کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ فرمایاکہ''میرے سامنے پیش کرو، جھاڑ پھونک میں حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔'' (3)
حدیث ۱۵: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''عدویٰ نہیں، یعنی مرض لگنا اور متعدی ہونا نہیں ہے اور نہ بدفالی ہے اور نہ ہامہ (4)ہے، نہ صفر (5) اور مجذوم سے بھاگو، جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔''(6)
دوسری روایت میں ہے، کہ ایک اعرابی نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اس کی کیا وجہ ہے کہ ریگستان میں اونٹ ہرن کی طرح (صاف ستھرا)ہوتا ہے اور خارشتی اونٹ (7)جب اس کے ساتھ مل جاتا ہے تو اسے بھی خارشتی کر دیتا ہے؟ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''پہلے کو کس نے مرض لگا دیا۔'' (8) یعنی جس طرح پہلا اونٹ
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الطب، باب رقیۃ العین،الحدیث:۵۷۳۹،ج۴،ص۳۱.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب السلام، باب إستحباب الرقیۃ من العین...إلخ،الحدیث:۶۳۔(۲۱۹۹)،ص۱۲۰۷.
3 ۔ المرجع السابق،باب لا بأس بالرقی مالم یکن فیہ شرک،الحدیث:۶۴۔(۲۲۰۰)،ص۱۲۰۸.
4 ۔ ہامہ سے مراد اُلُّو ہے، زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اس کے متعلق مختلف قسم کے خیالات رکھتے تھے اور اب بھی لوگ اس کو منحوس سمجھتے ہیں۔
جو کچھ بھی ہو حدیث نے اس کے متعلق یہ ہدایت کی ہے کہ اس کا اعتبار نہ کیا جائے۔ ۱۲ منہ
5 ۔ ماہ صفر کو لوگ منحوس جانتے ہیں، حدیث میں فرمایا: یہ کوئی چیز نہیں۔ ۱۲ منہ
6 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الطب، باب الجذام،الحدیث:۵۷۰۷،ج۴،ص۲۴.
7 ۔ یعنی وہ اونٹ جسے خارش ہو۔
8 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الطب، باب لاصفر...إلخ،الحدیث:۵۷۱۷،ج۴،ص۲۶.
خارشتی ہوگیادوسرا بھی ہوگیا۔
مرض کا متعدی ہونا (1)غلط ہے اور مجذوم سے بھاگنے کا حکم سد ذرائع (2)کے قبیل سے ہے، کہ اگر اس سے میل جول میں دوسرے کو جذام پیدا ہوجائے تو یہ خیال ہوگا کہ میل جول سے پیدا ہوا، اس خیالِ فاسد (3)سے بچنے کے لیے یہ حکم ہوا کہ اس سے علیحدہ رہو۔
حدیث ۱۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ بدفالی کوئی چیز نہیں اور فال اچھی چیز ہے۔ لوگوں نے عرض کی، فال کیا چیز ہے؟ فرمایا: ''اچھا کلمہ جو کسی سے سنے۔''(4)یعنی کہیں جاتے وقت یا کسی کام کا ارادہ کرتے وقت کسی کی زبان سے اگر اچھا کلمہ نکل گیا، یہ فال حسن ہے۔
حدیث ۱۷: ابو داود و ترمذی نے عبداﷲ بن مسعودرضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''طیرہ (بدفالی)شرک ہے۔ اس کو تین مرتبہ فرمایا (یعنی مشرکین کا طریقہ ہے)۔ جو کوئی ہم میں سے ہو یعنی مسلمان ہو، وہ اﷲ(عزوجل)پر توکل کرکے چلا جائے۔''(5)
حدیث ۱۸: ترمذی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ''نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم جب کسی کام کے لیے نکلتے تو یہ بات حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو پسند تھی کہ یاراشد، یانجیح سنیں۔''(6)یعنی اس وقت اگر کوئی شخص ان ناموں کے ساتھ کسی کو پکارتا یہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو اچھا معلوم ہوتا کہ یہ کامیابی اور فلاح کی فال نیک ہے۔
حدیث ۱۹: ابو داود نے بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کسی چیز سے بدشگونی(7)نہیں لیتے، جب کسی عامل کو بھیجتے اس کا نام دریافت کرتے اگر اسکا نام پسند ہوتا تو خوش ہوتے اور خوشی کے آثار چہرہ میں ظاہر ہوتے اور اگر اس کا نام ناپسند ہوتا تو اس کے آثار حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے چہرہ میں دکھائی دیتے اور جب کسی بستی میں جاتے اس کا نام پوچھتے اگر اس کا نام پسند ہوتا تو خوش ہوتے اور خوشی کے آثار چہرہ میں دکھائی دیتے اور ناپسند ہوتا تو کراہیت کے آثار چہرہ میں دکھائی دیتے۔ (8)
1 ۔ یعنی ایک کا مرض دوسرے کو لگنا۔ 2 ۔یعنی ذرائع روکنے۔ 3 ۔ یعنی بُرے خیال۔
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الطب، باب الطیرۃ،الحدیث:۵۷۵۴،ج۴،ص۳۶.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الطب، باب في الطیرۃ،الحدیث:۳۹۱۰،ج۴،ص۲۳.
6 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب السیر، باب ماجاء في الطیرۃ،الحدیث:۱۶۲۲،ج۳،ص۲۸۸.
7 ۔بد فالی۔
8 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الطب، باب في الطیرۃ،الحدیث:۳۹۲۰،ج۴،ص۲۵.
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ ناموں سے آپ بدشگونی لیتے بلکہ یہ کہ اچھے نام حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو پسند تھے اور برے نام ناپسند تھے۔
حدیث ۲۰: ابو داود نے عروہ بن عامر سے مرسلاً روایت کی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے سامنے بدشگونی کا ذکر ہوا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:فال اچھی چیز ہے اور براشگون کسی مسلم کو واپس نہ کرے یعنی کہیں جارہا تھا اور برا شگون ہوا تو واپس نہ آئے، چلا جائے جب کوئی شخص ایسی چیز دیکھے جو ناپسند ہے یعنی برا شگون پائے تویہ کہے۔
اَللّٰھُمَّ لَا یَأْ تِیْ بِالْحَسَنَاتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَا یَدْفَعُ السَّیِّاٰتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوّۃَ اِلَّا بِاللہِ۔ (1)
حدیث ۲۱: صحیح بخاری و مسلم میں اسامہ بن زیدرضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب سنو کہ فلاں جگہ طاعون ہے، تو وہاں نہ جاؤ اور جب وہاں ہوجائے جہاں تم ہو، تو وہاں سے نہ نکلو۔''(2)
حدیث ۲۲: صحیح مسلم میں اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''طاعون عذاب کی نشانی ہے، اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے کچھ لوگوں کو اس میں مبتلا کیا، جب سنو کہ کہیں ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب وہاں ہوجائے جہاں تم ہو تو بھاگو مت۔''(3)
حدیث ۲۳: امام احمد و بخاری نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''طاعون عذاب تھا، اﷲتعالیٰ جس پر چاہتا ہے اس کو بھیجتا ہے۔ اس کو اﷲ(عزوجل)نے مومنین کے لیے رحمت کردیا۔ جہاں طاعون واقع ہو اور اس شہ ر میں جو شخص صبر کرکے اور طلب ثواب کے لیے ٹھہرا رہے اور یہ یقین رکھے کہ وہی ہوگا جواﷲ(عزوجل)نے لکھ دیا ہے، اس کے لیے شہید کا ثواب ہے۔''(4)
حدیث ۲۴: امام بخاری و مسلم وا حمد نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ (5)سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''طاعون ہر مسلم کے لیے شہادت ہے۔'' (6)
1 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الطب،باب في الطیرۃ،الحدیث:۳۹۱۹،ج۴،ص۲۵.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الطب، باب ما یذکر في الطاعون،الحدیث:۵۷۲۸،ج۴،ص۲۸.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب السلام، باب الطاعون والطیرۃ...إلخ،الحدیث:۹۳۔(۲۲۱۸)،ص۱۲۱۵.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب القدر،الحدیث:۶۶۱۹،ج۴،ص۲۷۸.
5 ۔ہمیں یہ حدیث صحیح بخاری،صحیح مسلم اورمسنداحمدمیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بجائے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہسے ملی اسی لیے متن میں ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بجائے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ لکھ دیاہے۔...علمیہ
6 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الطب، باب ما یذکر في الطاعون،الحدیث:۵۷۳۲،ج۴،ص۳۰.
مسئلہ ۱: مریض کی عیادت کرنا(1)سنت ہے، اگر معلوم ہے کہ عیادت کوجائے گا تو اس بیمار پر گراں گزرے گا ایسی حالت میں عیادت نہ کرے۔ عیادت کو جائے اور مرض کی سختی دیکھے تو مریض کے سامنے یہ ظاہر نہ کرے کہ تمھاری حالت خراب ہے اور نہ سر ہلائے جس سے حالت کا خراب ہونا سمجھا جاتا ہے، اس کے سامنے ایسی باتیں کرنی چاہیے جو اس کے دل کو بھلی(2) معلوم ہوں، اس کی مزاج پرسی کرے اس کے سر پر ہاتھ نہ رکھے مگر جبکہ وہ خود اس کی خواہش کرے۔ فاسق کی عیادت بھی جائز ہے، کیونکہ عیادت حقوق اسلام سے ہے اور فاسق بھی مسلم ہے۔ یہودی یا نصرانی اگر ذمی (3)ہو تو اس کی عیادت بھی جائز ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مجوسی کی عیادت کو جائے یا نہ جائے اس میں علما کو اختلاف ہے یعنی جبکہ یہ ذمی ہو۔ (5) (عنایہ)ہنود مجوس کے حکم میں ہیں، ان کے احکام وہی ہیں جو مجوسیوں کے ہیں، اہلِ کتاب جیسے ان کے احکام نہیں۔ ہندوستان کے یہودی، نصرانی، مجوسی، بت پرست ان میں کوئی بھی ذمی نہیں۔
مسئلہ ۲: دوا علاج کرنا جائز ہے جبکہ یہ اعتقاد (6)ہو کہ شافی (7) اﷲ(عزوجل)ہے، اس نے دوا کو ازالہ مرض (8)کے لیے سبب بنادیا ہے اور اگر دوا ہی کو شفا دینے والا سمجھتا ہو تو ناجائز ہے۔ (9) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: انسان کے کسی جز کو دوا کے طور پر استعمال کرنا حرام ہے۔ خنزیر کے بال یا ہڈی یا کسی جز کو دواء ً استعمال کرنا حرام ہے۔ دوسرے جانوروں کی ہڈیاں دوا میں استعمال کی جاسکتی ہیں بشرطیکہ ذبیحہ کی ہڈیاں ہوں یا خشک ہوں کہ اس میں رطوبت باقی نہ ہو۔ ہڈیاں اگر ایسی دوا میں ڈالی گئی ہوں جو کھائی جائے گی تو یہ ضروری ہے کہ ایسے جانور کی ہڈی ہو جس کا کھانا حلال ہے اور ذبح بھی کردیا ہو، مردار کی ہڈی کھانے میں استعمال نہیں کی جاسکتی۔ (10) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: حرام چیزوں کو دوا کے طور پر بھی استعمال کرنا ناجائز ہے، کہ حدیث میں ارشاد فرمایا:''جو چیزیں حرام ہیں ان میں اﷲتعالیٰ نے شفا نہیں رکھی ہے۔''(11)بعض کتب میں یہ مذکور ہے کہ اگر اس چیز کے متعلق یہ علم ہو کہ اسی میں شفا
1 ۔بیمارپرسی کرنا۔ 2 ۔اچھی ۔ 3 ۔وہ غیر مسلم جو اسلامی سلطنت میں مطیع الاسلام ہوکر رہے اورجزیہ اداکرے۔
4 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۳۹،۶۴۰.
5 ۔ ''العنایۃ''علی''فتح القدیر''،کتاب الکراھیۃ،مسائل متفرقہ،ج۸،ص۴۹۷.
6 ۔ عقیدہ، یقین۔ 7 ۔ صحت یا شفا دینے والا۔ 8 ۔ یعنی مرض کو دور کرنے۔
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن عشر في التداوی،ج۵،ص۳۵۴.
10 ۔ المرجع السابق.
11 ۔ انظر: ''المعجم الکبیر''للطبراني،الحدیث:۷۴۹،ج۲۳،ص۳۲۶.
ہے تو اس صورت میں وہ چیز حرام نہیں اس کا حاصل بھی وہی ہے۔ کیونکہ کسی چیز کی نسبت ہرگز یہ یقین نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس سے مرض زائل ہی ہوجائے گا، زیادہ سے زیادہ ظن اور گمان ہوسکتا ہے نہ کہ علم و یقین، خود علمِ طب کے قواعد و اُصول ہی ظنی ہیں لہٰذا یقین حاصل ہونے کی کوئی صورت نہیں، یہاں ویسا یقین بھی نہیں ہوسکتا جیسا بھوکے کو حرام لقمہ کھانے سے یا پیاسے کو شراب پینے سے جان بچ جانے میں ہوتا ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
انگریزی دوائیں بکثرت ایسی ہیں جن میں اسپرٹ اور شراب کی آمیزش ہوتی ہے ایسی دوائیں ہرگز استعمال نہ کی جائیں۔
مسئلہ ۵: بیماری کے متعلق طبیب نے یہ کہا کہ خون کا غلبہ ہے، فصدو غیرہ کے ذریعہ سے خون نکالا جائے۔ مریض نے ایسا نہ کیا اور مرگیا تو اس علاج کے نہ کرنے سے گنہگار نہیں ہوا۔ کیونکہ یہ یقین نہیں ہے کہ اس علاج سے شفا ہو ہی جائے گی۔ (2) (خانیہ)
مسئلہ ۶: دست آتے ہیں یا آنکھیں دکھتی ہیں یا کوئی دوسری بیماری ہے اس میں علاج نہیں کیا اور مرگیا گنہگار نہیں ہے۔ (3) (عالمگیری) یعنی علاج کرانا ضروری نہیں کہ اگر دوا نہ کرے اورمرجائے تو گنہگار ہو۔ اور بھوک پیاس میں کھانے پینے کی چیز دستیاب ہو اور نہ کھائے پیے یہاں تک کہ مرجائے تو گنہگار ہے، کہ یہاں یقیناً معلوم ہے کہ کھانے پینے سے وہ بات جاتی رہے گی۔
مسئلہ ۷: عورت کو حمل ہے تو جب تک شکم میں بچہ حرکت نہ کرے نہ فصد کھلوائے، نہ پچھنے لگوائے اور بچہ حرکت کرنے لگے تو فصد وغیرہ کراسکتی ہے، مگر جب ولادت کا زمانہ قریب آجائے تو نہ کرائے کیونکہ بچہ کو ضرر پہنچ جانے کا اندیشہ ہے، ہاں اگر فصد نہ کرانے میں خود عورت ہی کو سخت نقصان پہنچے گا تو کراسکتی ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: مہینہ کی پہلی سے پندرہ تاریخوں تک پچھنے نہ لگوائے جائیں، پندرہویں کے بعد پچھنے کرائیں خصوصاً ہفتہ کا دن اس کے لیے زیادہ اچھا ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: شراب سے خارجی علاج بھی ناجائز ہے مثلاً زخم میں شراب لگائی یا کسی جانور کو زخم ہے اس پر شراب لگائی
1 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۴۱.
2 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۲،ص۳۶۵.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن عشر في التداوی،ج۵،ص۳۵۵.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق.
یا بچہ کے علا ج میں شراب کا استعمال، ان سب میں وہ گنہگار ہوگا جس نے اس کو استعمال کرایا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: انگلی میں ایک قسم کا پھوڑا نکلتا ہے اور اسکا علاج اس طرح کیا جاتا ہے کہ جانور کا پتّہ اس انگلی میں باندھ دیا جاتا ہے، فتویٰ اس پر ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: بعض اورام (3)میں آٹا گوندھ کر باندھا جاتا ہے یا لئی پکا کر (4)باندھتے ہیں یا کچی پکی روٹی باندھتے ہیں یہ جائز ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: علاج کے لیے حقنہ کرنے یعنی عمل دینے میں حرج نہیں جبکہ حقنہ ایسی چیز کا نہ ہو جو حرام ہے مثلاً شراب۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۳: بعض امراض میں مریض کو بے ہوش کرنا پڑتا ہے، تاکہ گوشت کاٹا جاسکے یا ہڈی وغیرہ کو جوڑا جاسکے یا زخم میں ٹانکے لگائے جائیں، اس ضرورت سے دوا سے بے ہوش کرنا جائز ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: حقنہ دینے میں بعض مرتبہ اس جگہ کی طرف نظر کرنے یا چھونے کی نوبت آتی ہے، بوجہ ضرورت ایسا کرنا جائز ہے۔ (8) (زیلعی)
مسئلہ ۱۵: اسقاط حمل کے لیے دوا استعمال کرنا یا دائی سے حمل ساقط کرانا منع ہے۔ بچہ کی صورت بنی ہو یا نہ بنی ہو دونوں کا ایک حکم ہے، ہاں اگر عذر ہو مثلاً عورت کے شیر خوار بچہ ہے اور باپ کے پاس اتنا نہیں کہ دایہ مقرر کرے یا دایہ دستیاب نہیں ہوتی اور حمل سے دودھ خشک ہوجائے گا اور بچہ کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے تو اس مجبوری سے حمل ساقط کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ اس کے اعضا نہ بنے ہوں اور اس کی مدت ایک سو بیس دن ہے۔ (9) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن عشر في التداوی،ج۵،ص۳۵۵.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ورم کی جمع، سوجن۔ 4 ۔ یعنی گھلا ہوا آٹا جو آگ پر پکا کر گاڑھا کیا گیا ہو۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن عشر في التداوی،ج۵،ص۳۵۶.
6 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، مسائل متفرقہ،ج۲،ص۳۸۱.
7 ۔
8 ۔ ''تبیین الحقائق''،کتاب الکراھیۃ، فصل في النظر واللمس،ج۹،ص۴۰.
9 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۷۰۸،۷۰۹.
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْتَرِیۡ لَہۡوَ الْحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ بِغَیۡرِ عِلْمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾)
(1)
''اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں کہ اﷲ(عزوجل)کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں، ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔''
حدیث ۱: ترمذی و ابو داود اور ابن ماجہ نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جتنی چیزوں سے آدمی لہو کرتا ہے، سب باطل ہیں مگر کمان سے تیر چلانا اور گھوڑے کو ادب دینا اور زوجہ کے ساتھ ملاعبت کہ یہ تینوں حق ہیں۔''(2)
حدیث ۲: امام احمد و مسلم و ابو داود و ابن ماجہ نے بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس نے نرد شیر کھیلا گویا سوئر کے گوشت و خون میں اپنا ہاتھ ڈال دیا۔''(3)
دوسری روایت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے، کہ ''اس نے اﷲو رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی نافرمانی کی۔''(4)
حدیث ۳: امام احمد نے ابوعبدالرحمن خطمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص نرد کھیلتا ہے پھر نماز پڑھنے اٹھتا ہے، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور سوئر کے خون سے وضو کرکے نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے۔'' (5)
حدیث ۴: دیلمی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''اصحاب شاہ جہنم میں ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ میں نے تیرے بادشاہ کو مار ڈالا۔''(6)اس سے مراد شطرنج کھیلنے والے ہیں جو بادشاہ پر شہ دیا کرتے ہیں اور مات کرتے ہیں۔
1 ۔ پ۲۱،لقمٰن:۶.
2 ۔''سنن الترمذي''،کتاب فضائل الجھاد، باب ماجاء في فضل الرمی في سبیل اللہ،الحدیث:۱۶۴۳،ج۳،ص۲۳۸.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الشعر، باب تحریم اللعب بالنرد شیر،الحدیث:۱۰۔(۲۲۶۰)،ص۱۲۴۰.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في النھی عن اللعب بالنرد،الحدیث:۴۹۳۸،ج۴،ص۳۷۱.
5 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل، احادیث رجال من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۲۳۱۹۹،ج۹،ص۵۰.
6 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب اللھو...إلخ،رقم:۴۰۶۴۷،ج۱۵،ص۹۵.
حدیث ۵: بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، وہ فرماتے ہیں، شطرنج عجمیوں کا جوا ہے۔ اور ابن شہاب نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں کہ شطرنج نہیں کھیلے گا مگر خطا کار۔ اور انھیں سے دوسری روایت یہ ہے کہ وہ باطل سے ہے اور اﷲ تعالیٰباطل کو دوست نہیں رکھتا۔ (1)
حدیث ۶: ابو داود وابن ماجہ نے ابوہریرہ سے اور ابن ماجہ نے انس و عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک شخص کو کبوتری کے پیچھے بھاگتے دیکھا، فرمایا:''شیطانہ کے پیچھے پیچھے شیطان جارہا ہے۔''(2)
حدیث ۷: ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے چوپایوں کو لڑانے سے منع فرمایا۔''(3)
حدیث ۸: بزار نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''دو آوازیں دنیا و آخرت میں ملعون ہیں، نغمہ کے وقت باجے کی آواز اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز۔'' (4)
حدیث ۹: بیہقی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''گانے سے دل میں نفاق اوگتا ہے، جس طرح پانی سے کھیتی اُوگتی ہے۔''(5)
حدیث ۱۰: طبرانی نے ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے گانے سے اور گانا سننے سے اور غیبت سے اور غیبت سننے سے اور چغلی کرنے اور چغلی سننے سے منع فرمایا۔'' (6)
حدیث ۱۱: بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''اﷲتعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول) حرام کیا اور فرمایا:ہر نشہ والی چیز حرام ہے۔''(7)
حدیث ۱۲: ابو داود نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی، کہتی ہیں:میں گڑیاں کھیلا کرتی تھی اور کبھی رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّمایسے وقت تشریف لاتے کہ لڑکیاں میرے پاس ہوتیں۔ جب حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)تشریف لاتے لڑکیاں چلی جاتیں اور جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)چلے جاتے لڑکیاں آجاتیں۔ (8)
1 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في تحریم الملاعب والملاھی،الحدیث:۶۵۱۸،ج۵،ص۲۴۱.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في اللعب بالحمام،الحدیث:۴۹۴۰،ج۴،ص۳۷۱.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الجھاد، باب ماجاء في کراھیۃ التحریش بین البھائم...إلخ،الحدیث:۱۷۱۴،ج۳،ص۲۷۱.
4 ۔ ''مجمع الزوائد''،کتاب الجنائز، باب في النوح،الحدیث:۴۰۱۷،ج۳،ص۱۰۰.
5 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في حفظ اللسان، فصل في حفظ اللسان عن الغناء،الحدیث:۵۱۰۰،ج۴،ص۲۷۹
6 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب اللھو...إلخ، رقم: ۴۰۶۵۵،ج۱۵،ص۹۵.
و''تاریخ بغداد''،الرقم:۴۳۳۷،الحکم بن مروان،ج۸،ص۲۲۱.
7 ۔ ''السنن الکبری'' للبیھقي،کتاب الشھادات، باب ما یدل علی رد شھادۃ...إلخ،الحدیث:۲۰۹۴۳،ج۱۰،ص۳۶۰.
8 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب اللعب بالبنات،الحدیث:۴۹۳۱،ج۴،ص۳۶۹.
حدیث ۱۳: صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی، کہتی ہیں:میں نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے یہاں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میرے ساتھ چند دوسری لڑکیاں بھی کھیلتیں۔ جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)تشریف لاتے وہ چھپ جاتیں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ان کو میرے پاس بھیج دیتے، وہ میرے پاس آکر کھیلنے لگتیں۔ (1)
حدیث ۱۴: ابو داود نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی، کہتی ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم غزوہ تبوک یا خیبر سے تشریف لائے اور ان کے طاق پر گڑیاں تھیں اور پردہ پڑا ہوا تھا، ہوا چلی اور پردہ کا کنارہ ہٹ گیا، حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا)کی گڑیاں دکھائی دیں۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:عائشہ یہ کیا ہیں؟ عرض کی، میری گڑیاں ہیں۔ ان گڑیوں کے درمیان میں کپڑے کا ایک گھوڑا تھا جس کے دو بازو تھے۔
حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اس گھوڑے کی طرف اشارہ کرکے فرمایاکہ گڑیوں کے بیچ میں یہ کیا ہے؟ عرض کی، یہ گھوڑا ہے۔ ارشاد فرمایا: گھوڑے کے یہ کیا ہیں؟ عرض کی، یہ گھوڑے کے بازو ہیں۔ ارشاد فرمایا: گھوڑے کے لیے بازو۔ حضرت عائشہ(رضی اللہ تعالٰی عنہا)نے عرض کی، کیا آپ نے نہیں سنا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑوں کے بازو تھے، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے سن کر تبسم فرمایا۔(2)
مسئلہ ۱: نوبت بجانا اگر تفاخر کے لیے ہو تو ناجائز ہے اور اگر لوگوں کو اس سے متنبہ کرنا مقصود ہو اور نفخات صور یاددلانے کے لیے ہو تو تین وقتوں میں نوبت بجانے کی اجازت ہے بعد عصر اور بعد عشا اور بعد نصف شب کہ ان اوقات میں نوبت کو نفخ صور سے مشابہت ہے۔ (3) (درمختار)
یہ نیت بہت اچھی ہے اگر نوبت بجوانے والے کو بھی اس کا دھیان ہو اور کاش سننے والے کو بھی نوبت کی آواز سن کر نفخات صور یاد آئیں، مگر اس زمانہ میں ایسے لوگ کہاں، یہاں تو نوبت سے مقصود دھوم دھام اور شادی بیاہ کی رونق و زینت ہے۔
مسئلہ ۲: عید کے دن اور شادیوں میں دف بجانا جائز ہے جبکہ سادے دف ہوں، اس میں جھانج نہ ہوں اور قواعد موسیقی پر نہ بجائے جائیں یعنی محض ڈھپ ڈھپ کی بے سری آواز سے نکاح کا اعلان مقصود ہو۔ (4) (ردالمحتار، عالمگیری)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب الإنبساط الی الناس،الحدیث:۶۱۳۰،ج۴،ص۱۳۴.
و''صحیح مسلم''،کتاب فضائل الصحابۃ، باب في فضائل عائشۃ...إلخ،الحدیث:۸۱۔(۲۴۴۰)،ص۱۳۲۵.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب اللعب با لبنات،الحدیث:۴۹۳۲،ج۴،ص۳۶۹.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۸.
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۹.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع عشر في الغناء،ج۵،ص۳۵۲.
مسئلہ ۳: لوگوں کو بیدار کرنے اور خبردار کرنے کے ارادہ سے بگل بجانا جائز ہے، جیسے حمام میں بگل اس لیے بجاتے ہیں کہ لوگوں کو اطلاع ہوجائے کہ حمام کھل گیا۔ رمضان شریف میں سحری کھانے کے وقت بعض شہ روں میں نقارے بجتے ہیں، جن سے یہ مقصود ہوتا ہے کہ لوگ سحری کھانے کے لیے بیدار ہوجائیں اور انھیں معلوم ہوجائے کہ ابھی سحری کا وقت باقی ہے یہ جائز ہے، کہ یہ صورت لہو ولعب میں داخل نہیں۔ (1) (درمختار)
اسی طرح کارخانوں میں کام شروع ہونے کے وقت اور ختم کے وقت سیٹی بجا کرتی ہے یہ جائز ہے، کہ لہو مقصود نہیں بلکہ اطلاع دینے کے لیے یہ سیٹی بجائی جاتی ہے۔ اسی طرح ریل گاڑی کی سیٹی سے بھی مقصود یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ گاڑی چھوٹ رہی ہے یا اسی قسم کے دوسرے صحیح مقصد کے لیے سیٹی دی جاتی ہے یہ بھی جائز ہے۔
مسئلہ ۴: گنجفہ (2)، چوسر(3)کھیلنا ناجائز ہے، شطرنج کا بھی یہی حکم ہے۔ اسی طرح لہو ولعب کی جتنی قسمیں ہیں سب باطل ہیں صرف تین قسم کے لہو کی حدیث میں اجازت ہے، بی بی سے ملاعبت اور گھوڑے کی سواری اور تیر اندازی کرنا۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵: ناچنا، تالی بجانا، ستار، ایک تارہ، دو تارہ، ہارمونیم، چنگ، طنبورہ بجانا، اسی طرح دوسرے قسم کے باجے سب ناجائز ہیں۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: متصوفہ زمانہ کہ مزامیر کے ساتھ قوالی سنتے ہیں اور کبھی اوچھلتے کودتے اور ناچنے لگتے ہیں اس قسم کا گانا بجانا ناجائز ہے، ایسی محفل میں جانا اور وہاں بیٹھنا ناجائز ہے، مشایخ سے اس قسم کے گانے کا کوئی ثبوت نہیں۔جو چیز مشایخ سے ثابت ہے وہ فقط یہ ہے کہ اگر کبھی کسی نے ان کے سامنے کوئی ایسا شعر پڑھ دیا جو ان کے حال و کیف کے موافق ہے تو ان پر کیفیت و رقت طاری ہوگئی اور بے خود ہو کر کھڑے ہوگئے اور اس حال وارفتگی میں ان سے حرکات غیر اختیاریہ صادر ہوئے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
مشایخ و بزرگانِ دین کے احوال اور ان متصوفہ کے حال و قال میں زمین آسمان کا فرق ہے، یہاں مزامیر کے ساتھ محفلیں منعقد کی جاتی ہیں، جن میں فساق و فجار کا اجتماع ہوتا ہے، نااہلوں کا مجمع ہوتا ہے، گانے والوں میں اکثر بے شرع ہوتے
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۹.
2 ۔ یعنی ایک کھیل کا نام جو تاش کی طرح کھیلا جاتا ہے، اس میں 96 پتے اور آٹھ رنگ ہوتے ہیں اور تین کھلاڑی کھیلتے ہیں۔
3 ۔ یعنی نرد شیر (چوسر) ایک کھیل ہے، ایک بادشاہ اَرد شیر بن بابک نے یہ جُوا ایجاد کیا تھا۔
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۵۰،وغیرہ .
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۵۱.
ہیں، تالیاں بجاتے اور مزامیر کے ساتھ گاتے ہیں اور خوب اچھلتے کودتے ناچتے تھرکتے ہیں اور اس کا نام حال رکھتے ہیں ان حرکات کو صوفیہ کرام کے احوال سے کیا نسبت، یہاں سب چیزیں اختیار ی ہیں وہاں بے اختیاری تھیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: کبوتر پالنا اگر اڑانے کے لیے نہ ہو تو جائز ہے اور اگر کبوتروں کو اڑاتا ہے تو ناجائز کہ یہ بھی ایک قسم کا لہو ہے اور اگر کبوتر اڑانے کے لیے چھت پر چڑھتا ہے جس سے لوگوں کی بے پردگی ہوتی ہے یا اڑانے میں کنکریاں پھینکتا ہے جن سے لوگوں کے برتن ٹوٹنے کا اندیشہ ہے، تو اس کو سختی سے منع کیا جائے گا اور سزا دی جائے گی اور اس پر بھی نہ مانے تو حکومت کی جانب سے اس کے کبوتر ذبح کرکے اسی کو دے دیے جائیں، تاکہ اڑانے کا سلسلہ ہی منقطع ہوجائے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۸: جانوروں کو لڑانا مثلاً مرغ، بٹیر، تیتر، مینڈھے، بھینسے وغیرہ کہ ان جانوروں کو بعض لوگ لڑاتے ہیں یہ حرام ہے (3)اور اس میں شرکت کرنا یا اس کا تماشہ دیکھنا بھی ناجائز ہے۔
مسئلہ ۹: آم کے زمانے میں نوروز (4)کرنے نوجوان لڑکے باغوں میں جاتے ہیں اور بعد میں چھلکے گٹھلی سے کھیلتے ہیں، اس میں حرج نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: کشتی لڑنا اگر لہو و لعب کے طور پر نہ ہو بلکہ اس لیے ہو کہ جسم میں قوت آئے اور کفار سے لڑنے میں کام دے، یہ جائزو مستحسن و کار ثواب ہے بشرطیکہ ستر پوشی کے ساتھ ہو۔ آج کل برہنہ ہو کر صرف ایک لنگوٹ یا جانگیا پہن کر لڑتے ہیں کہ ساری رانیں کھلی ہوتی ہیں یہ ناجائز ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے رکانہ سے کشتی لڑی اورتین مرتبہ پچھاڑا، کیونکہ رکانہ نے یہ کہا تھا کہ اگر آپ مجھے پچھاڑ دیں تو ایمان لاؤں گا پھر یہ مسلمان ہوگئے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: ہنسی مذاق میں اگر بیہودہ باتیں، گالی گلوج اور کسی مسلم کی ایذا رسانی (7)نہ ہو محض پر لطف اور دل خوش کن باتیں ہوں جن سے اہلِ مجلس کو ہنسی آئے اور خوش ہوں، اس میں حرج نہیں۔ (8) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع عشر في الغناء،ج۵،ص۳۵۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۱.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' (الجدیدۃ)،ج۲۴،ص۶۵۵،
4 ۔ یعنی خوشی کا دن۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع عشر في الغناء،ج۵،ص۳۵۲.
6 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۶.
7 ۔ یعنی مسلمان کو تکلیف دینا۔
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع عشر في الغناء،ج۵،ص۳۵۲.
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ ﴿۲۲۴﴾ؕاَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ ﴿۲۲۵﴾ۙوَ اَنَّہُمْ یَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا یَفْعَلُوۡنَ ﴿۲۲۶﴾ۙاِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَکَرُوا اللہَ کَثِیۡرًا وَّ انۡتَصَرُوۡا مِنۡۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوۡا ؕ)
(1)
''اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں، کیا تو نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بکثرت اﷲ(عزوجل)کی یاد کی اور بدلا لیا اس کے بعد کہ ان پر ظلم ہوا۔''یعنی ان کے لیے وہ حکم نہیں۔
حدیث ۱: صحیح بخاری میں ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''بعض اشعار حکمت ہیں۔''(2)
حدیث ۲: صحیح بخاری و مسلم میں براء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حسان بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ ''مشرکین کی ہجو کرو، جبریل تمھارے ساتھ ہیں اور رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم حسان سے فرماتے :تم میری طرف سے جواب دو۔ الٰہی تو روح القدس سے حسان کی تایید فرما۔'' (3)
حدیث ۳: صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی، کہتی ہیں: میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو حسان سے یہ فرماتے سنا کہ ''روح القدس ہمیشہ تمھاری تایید میں ہے، جب تک تم اﷲو رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی طرف سے مدافعت کرتے رہو گے۔'' (4)
حدیث ۴: دارقطنی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس شعر کا ذکر آیا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:''وہ ایک کلام ہے، اچھا ہے تو اچھا ہے اور برا ہے تو برا۔''(5)
1 ۔ پ ۱۹، الشعرآء: ۲۲۴ ۔ ۲۲۷.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب،باب ما یجوز من الشعر...إلخ،الحدیث:۶۱۴۵،ج۴،ص۱۳۹.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فضائل حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ،الحدیث:۱۵۱۔(۲۴۸۵)،
و:۱۵۳۔(۲۴۸۶)،ص۱۳۵۰،۱۳۵۱.
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فضائل حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ الحدیث:۱۵۷۔(۲۴۹۰)،ص۱۳۵۲.
5 ۔ ''سنن الدار قطني''،کتاب الوکالۃ،خبرالواحد یوجب العمل،الحدیث:۴۲۶۱،ج۴،ص۱۸۳.
حدیث ۵: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے جو اسے فاسد کردے، یہ بہتر ہے اس سے کہ شعر سے بھرا ہو۔''(1)
حدیث ۶: صحیح مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے ہمراہ عرج میں جارہے تھے، ایک شاعر شعر پڑھتا ہوا سامنے آیا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''شیطان کو پکڑو آدمی کا جوف پیپ سے بھرا ہو، یہ اس سے بہتر ہے کہ شعر سے بھرا ہو۔''(2)
حدیث ۷: امام احمد نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''قیامت قائم نہ ہوگی جب تک ایسے لوگ ظاہر نہ ہوں جواپنی زبانوں کے ذریعہ سے کھائیں گے، جس طرح گائے اپنی زبان سے کھاتی ہے۔''(3)
یعنی ان کا ذریعہ رزق لوگوں کی تعریف و مذمت کرنا ہے اور اس میں حق و ناحق کا بالکل خیال نہ کریں گے، جس طرح گائے اس کا خیال نہیں کرتی ہے کہ یہ چیز مفید ہے یا مضر جو چیز زبان کے سامنے آگئی کھاگئی۔
ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ اشعار اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی، اگر اﷲو رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی تعریف کے اشعار ہوں یا ان میں حکمت کی باتیں ہوں اچھے اخلاق کی تعلیم ہو تو اچھے ہیں اور اگر لغو و باطل پر مشتمل ہوں تو برے ہیں اور چونکہ اکثر شعرا ایسے ہی بے تکی ہانکتے ہیں اس وجہ سے ان کی مذمت کی جاتی ہے۔
مسئلہ ۱: جو اشعار مباح ہوں ان کے پڑھنے میں حرج نہیں، اشعار میں اگر کسی مخصوص عورت کے اوصاف کا ذکر ہواور وہ زندہ ہو تو پڑھنا مکروہ ہے اور مرچکی ہو یا خاص عورت کا ذکر نہ ہو تو پڑھنا جائز ہے۔ شعر میں لڑکے کا ذکر ہو تو وہی حکم ہے جو عورت کے متعلق اشعار کا ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: اشعار کے پڑھنے سے اگر یہ مقصود ہو کہ ان کے ذریعہ سے تفسیر و حدیث میں مدد ملے یعنی عرب کے محاورات اور اسلوب کلام پر مطلع ہو، جیسا کہ شعراء جاہلیت کے کلام سے استدلال کیا جاتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ (5) (عالمگیری)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب مایکرہ أن یکون الغالب علی الإنسان...إلخ،الحدیث: ۶۱۵۵،ج۴،ص۱۴۳.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الشعر،الحدیث:۹۔(۲۲۵۹)،ص۱۲۳۹.
3 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي إسحاق سعد بن أبي وقاص،الحدیث:۱۵۹۷،ج۱،ص۳۸۹.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع عشر في الغناء،ج۵،ص۳۵۱ ۔ ۳۵۲.
5 ۔ المرجع السابق،ص۳۵۲.
جھوٹ ایسی بری چیز ہے کہ ہر مذہب والے اس کی برائی کرتے ہیں تمام ادیان میں یہ حرام ہے اسلام نے اس سے بچنے کی بہت تاکید کی، قرآن مجید میں بہت مواقع پر اس کی مذمت فرمائی اور جھوٹ بولنے والوں پر خدا کی لعنت آئی۔ حدیثوں میں بھی اس کی برائی ذکر کی گئی، اس کے متعلق بعض احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں:''صدق کو لازم کرلو، کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اﷲ(عزوجل)کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے، یہاں تک کہ اﷲ(عزوجل)کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔''(1)
حدیث ۲: ترمذی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور وہ باطل ہے (یعنی جھوٹ چھوڑنے کی چیز ہی ہے)اس کے لیے جنت کے کنارے میں مکان بنایا جائے گا اور جس نے جھگڑا کرنا چھوڑا اور وہ حق پر ہے یعنی باوجود حق پر ہونے کے جھگڑا نہیں کرتا، اس کے لیے وسط جنت میں مکان بنایا جائے گا اور جس نے اپنے اخلاق اچھے کیے، اس کے لیے جنت کے اعلیٰ درجہ میں مکان بنایا جائے گا۔''(2)
حدیث ۳: ترمذی نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب بندہ جھوٹ بولتا ہے، اس کی بدبو سے فرشتہ ایک میل دور ہوجاتا ہے۔''(3)
حدیث ۴: ابو داود نے سفیان بن أَسِیْد (4)حضرمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّمکو یہ فرماتے سنا کہ ''بڑی خیانت کی یہ بات ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور وہ تجھے اس بات میں سچا جان رہا ہے اور تو اس سے جھوٹ بول رہا ہے۔'' (5)
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر...إلخ، باب قبح الکذب...إلخ،الحدیث:۱۰۵۔(۲۶۰۷)،ص۱۴۰۵.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء في المراء،الحدیث:۲۰۰۰،ج۳،ص۴۰۰.
3 ۔ المرجع السابق،باب ماجاء في الصدق والکذب،الحدیث:۱۹۷۹،ج۳،ص۳۹۲.
4 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''سفیان بن اسعد''رضی اللہ تعالٰی عنہ لکھاہواہے،جبکہ ''سنن ابی داؤد ''میں''سفیان بن أَسِیْد''رضی اللہ تعالٰی عنہ مذکور ہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في المعاریض،الحدیث:۴۹۷۱،ج۴،ص۳۸۱.
حدیث ۵: امام احمد و بیہقی نے ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مومن کی طبع میں تمام خصلتیں ہوسکتی ہیں مگر خیانت اور جھوٹ۔''(1)یعنی یہ دونوں چیزیں ایمان کے خلاف ہیں، مومن کو ان سے دور رہنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
حدیث ۶: امام مالک و بیہقی نے صفوان بن سلیم سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے پوچھا گیا، کیا مومن بزدل ہوتا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ پھر عرض کی گئی، کیا مومن بخیل ہوتا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ پھر کہا گیا، کیا مومن کذاب ہوتا ہے؟ فرمایا: نہیں۔ (2)
حدیث ۷: امام احمد نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ ایمان سے مخالف ہے۔''(3)
حدیث ۸: امام احمد نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''بندہ پورا مومن نہیں ہوتا جب تک مذاق میں بھی جھوٹ کو نہ چھوڑ دے اور جھگڑا کرنا نہ چھوڑ دے، اگرچہ سچا ہو۔''(4)
حدیث ۹: امام احمد و ترمذی و ابو داود و دارمی نے بروایت بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ہلاکت ہے اس کے لیے جو بات کرتا ہے اور لوگو ں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے۔''(5)
حدیث ۱۰: بیہقی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''بندہ بات کرتا ہے اور محض اس لیے کرتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائے اس کی وجہ سے جہنم کی اتنی گہرائی میں گرتا ہے جو آسمان و زمین کے درمیان کے فاصلہ سے زیادہ ہے اور زبان کی وجہ سے جتنی لغزش ہوتی ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی قدم سے لغز ش ہوتی ہے۔''(6)
حدیث ۱۱: ابو داودو بیہقی نے عبد اﷲ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل،حدیث أبي امامۃ الباھلی،الحدیث:۲۲۲۳۲،ج۸،ص۲۷۶.
2 ۔ ''الموطأ''،کتاب الکلام،باب ماجاء في الصدق والکذب،الحدیث:۱۹۱۳،ج۲،ص۴۶۸.
3 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،مسند أبي بکر الصدیق،الحدیث:۱۶،ج۱،ص۲۲.
4 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہریرۃ،الحدیث:۸۶۳۸،ج۳،ص۲۶۸.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الزھد، باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحک الناس،الحدیث:۲۳۲۲،ج۴،ص۱۴۲.
6 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في حفظ اللسان،الحدیث:۴۸۳۲،ج۴،ص۲۱۳.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب، باب ما جاء حفظ اللسان...إلخ،الحدیث:۴۸۳۶،ج۳،ص۴۱.
علیہ وسلَّم ہمارے مکان میں تشریف فرما تھے۔ میری ماں نے مجھے بلایا کہ آؤ تمھیں دوں گی۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:کیا چیز دینے کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا، کھجور دوں گی۔ ارشاد فرمایا:''اگر تو کچھ نہیں دیتی تو یہ تیرے ذمہ جھوٹ لکھا جاتا۔''(1)
حدیث ۱۲: بیہقی نے ابوبرزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جھوٹ سے مونھ کالا ہوتا ہے اور چغلی سے قبر کا عذاب ہے۔''(2)
حدیث ۱۳: صحیح بخاری و مسلم میں اُم کلثوم رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان میں اصلاح کرتا ہے، اچھی بات کہتا ہے اور اچھی بات پہنچاتا ہے۔''(3)
یعنی ایک کی طرف سے دوسرے کے پاس اچھی بات کہتا ہے جو بات اس نے نہیں کہی ہے وہ کہتا ہے، مثلاً اس نے تمھیں سلام کہا ہے، تمھاری تعریف کرتا تھا۔
حدیث ۱۴: ترمذی نے اسما بنتِ یزید رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جھوٹ کہیں ٹھیک نہیں مگر تین جگہوں میں، مرد اپنی عورت کو راضی کرنے کے لیے بات کرے اور لڑائی میں جھوٹ بولنااور لوگوں کے درمیان میں صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا۔'' (4)
مسئلہ ۱: تین صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی ا س میں گناہ نہیں۔
ایک جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے مقابل کو دھوکا دینا جائز ہے، اسی طرح جب ظالم ظلم کرنا چاہتا ہو اس کے ظلم سے بچنے کے لیے بھی جائز ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ دو مسلمانوں میں اختلاف ہے اور یہ ان دونوں میں صلح کرانا چاہتا ہے، مثلاً ایک کے سامنے یہ کہدے کہ وہ تمھیں اچھا جانتا ہے، تمھاری تعریف کرتا تھا یا اس نے تمھیں سلام کہلا بھیجا ہے اور دوسرے کے پاس بھی اسی قسم کی باتیں کرے تا کہ دونوں میں عداوت کم ہوجائے اور صلح ہوجائے۔
تیسری صورت یہ ہے کہ بی بی کو خوش کرنے کے لیے کوئی بات خلاف واقع کہدے۔ (5) (عالمگیری)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب التشدید في الکذب،الحدیث:۴۹۹۱،ج۴،ص۳۸۷.
2 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في حفظ اللسان،الحدیث:۴۸۱۳،ج۴،ص۲۰۸.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر...إلخ، باب تحریم الکذب...إلخ،الحدیث:۱۰۱۔(۲۶۰۵)،ص۱۴۰۴.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في إصلاح ذات البین،الحدیث:۱۹۴۵،ج۳،ص۳۷۷.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع عشر في الغناء،ج۵،ص۳۵۲.
مسئلہ ۲: توریہ یعنی لفظ کے جو ظاہر معنی ہیں وہ غلط ہیں مگر اس نے دوسرے معنی مراد لیے جو صحیح ہیں، ایسا کرنا بلاحاجت جائز نہیں اور حاجت ہو تو جائز ہے۔ توریہ کی مثال یہ ہے کہ تم نے کسی کو کھانے کے لیے بلایا وہ کہتا ہے میں نے کھانا کھالیا۔ اس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس وقت کا کھانا کھالیا ہے مگر وہ یہ مراد لیتا ہے کہ کل کھایا ہے یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: احیائے حق کے لیے توریہ جائز ہے مثلاً شفیع کورات میں جائدادِ مشفوعہ کی بیع کا علم ہوا اور اس وقت لوگوں کو گواہ نہ بناسکتا ہو تو صبح کو گواہوں کے سامنے یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے بیع کا اس وقت علم ہوا۔ دوسری مثال یہ ہے کہ لڑکی کو رات کو حیض آیا اور اس نے خیار بلوغ کے طور پر اپنے نفس کو اختیار کیا مگر گواہ کوئی نہیں ہے تو صبح کو لوگوں کے سامنے یہ کہہ سکتی ہے کہ میں نے اس وقت خون دیکھا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جس اچھے مقصد کو سچ بول کر بھی حاصل کیا جاسکتا ہو اور جھوٹ بول کر بھی حاصل کرسکتا ہو، اس کے حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولنا حرام ہے اور اگر جھوٹ سے حاصل کرسکتا ہو، سچ بولنے میں حاصل نہ ہوسکتا ہو تو بعض صورتوں میں کذب بھی مباح ہے بلکہ بعض صورتوں میں واجب ہے، جیسے کسی بے گناہ کو ظالم شخص قتل کرنا چاہتا ہے یا ایذا دینا چاہتا ہے وہ ڈرسے چھپا ہوا ہے، ظالم نے کسی سے دریافت کیا کہ وہ کہاں ہے؟ یہ کہہ سکتا ہے مجھے معلوم نہیں اگرچہ جانتا ہو یا کسی کی امانت اس کے پاس ہے کوئی اسے چھیننا چاہتا ہے پوچھتا ہے کہ امانت کہاں ہے ؟یہ انکار کرسکتا ہے کہہ سکتا ہے کہ میرے پاس اس کی امانت نہیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: کسی نے چھپ کر بے حیائی کا کام کیا ہے، اس سے دریافت کیا گیا کہ تو نے یہ کام کیا؟ وہ انکار کرسکتا ہے کیونکہ ایسے کام کو لوگوں کے سامنے ظاہر کردینا یہ دوسرا گناہ ہوگا۔ اسی طرح اگر اپنے مسلم بھائی کے بھید پر مطلع ہو تو اس کے بیان کرنے سے بھی انکارکرسکتا ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: اگر سچ بولنے میں فساد پیدا ہوتا ہو تو اس صورت میں بھی جھوٹ بولنا جائز ہے اور اگر جھوٹ بولنے میں فسادہوتا ہو تو حرام ہے اور اگر شک ہو معلوم نہیں کہ سچ بولنے میں فساد ہوگا یا جھوٹ بولنے میں، جب بھی جھوٹ بولنا حرام ہے۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: جس قسم کے مبالغہ کا عادۃً رواج ہے لوگ اسے مبالغہ ہی پر محمول کرتے ہیں اس کے حقیقی معنی مراد نہیں لیتے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع عشر في الغناء،ج۵،ص۳۵۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۷۰۴.
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۷۰۵.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق.
وہ جھوٹ میں داخل نہیں، مثلاً یہ کہا کہ میں تمھارے پاس ہزار مرتبہ آیا یا ہزار مرتبہ میں نے تم سے یہ کہا۔ یہاں ہزار کا عدد مراد نہیں بلکہ کئی مرتبہ آنا اور کہنا مراد ہے، یہ لفظ ایسے موقع پر نہیں بولا جائے گا کہ ایک ہی مرتبہ آیا ہو یا ایک ہی مرتبہ کہا ہو اور اگر ایک مرتبہ آیا اور یہ کہہ دیا کہ ہزار مرتبہ آیا تو جھوٹا ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: تعریض کی بعض صورتیں جن میں لوگوں کا دل خوش کرنا اور مزاح مقصود ہو جائز ہے۔ جیسا کہ حدیث میں فرمایا کہ''جنت میں بڑھیا نہیں جائے گی۔''(2)یا ''میں تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا۔''(3) (ردالمحتار)
حدیث ۱: صحیح بخاری میں سہل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص میرے لیے اس چیز کا ضامن ہو جائے جو اس کے جبڑوں کے درمیان میں ہے یعنی زبان کا اور اس کا جو اس کے دونوں پاؤں کے درمیان میں ہے یعنی شرمگاہ کا، میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔''(4)یعنی زبان اور شرمگاہ کو ممنوعات سے بچانے پر جنت کا وعدہ ہے۔
حدیث ۲: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''بندہ اﷲتعالیٰکی خوشنودی کی بات بولتا ہے اور اس کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا یعنی یہ خیال بھی نہیں کرتا کہ اﷲ تعالیٰ اتنا خوش ہوگا، اﷲتعالیٰ اس کو درجوں بلند کرتا ہے اور بندہ اﷲتعالیٰ کی ناخوشی کی بات بولتا ہے اور اس کی طرف دھیان نہیں دھرتا یعنی اس کے ذہن میں یہ بات نہیں ہوتی کہ اﷲ تعالیٰ اس سے اتنا ناراض ہوگا، اس کلمہ کی وجہ سے جہنم میں گرتا ہے۔''(5)
اور بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ''جہنم کی اتنی گہرائی میں گرتا ہے جو مشرق و مغرب کے فاصلہ سے بھی زیادہ ہے۔'' (6)
حدیث ۳: ترمذی و ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۷۰۵.
2 ۔ انظر: ''سنن الترمذي''،کتاب الشمائل، باب ماجاء في صفۃ...إلخ،الحدیث:۲۳۹،ج۵،ص۵۴۵.
3 ۔ انظر: ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في المزاح،الحدیث:۱۹۹۱،ج۳،ص۳۹۹.
و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۷۰۶.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان،الحدیث:۶۴۷۴،ج۴،ص۲۴۰.
5 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۶۴۷۸،ج۴،ص۲۴۱.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الزھد...إلخ، باب التکلم بالکلمۃ...إلخ،الحدیث:۵۰۔(۲۹۸۸)،ص۱۵۹۵.
نے فرمایا:''جو چیز انسان کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرنے والی ہے، وہ تقویٰ اور حسن خلق ہے اور جو چیز انسان کو سب سے زیادہ جہنم میں لے جانے والی ہے، وہ دو جوف دار (کھکل)چیزیں ہیں، مونھ اور شرمگاہ۔''(1)
حدیث ۴: امام احمد و ترمذی و دارمی و بیہقی نے عبد اﷲبن عَمْرْو رضی اللہ تعالٰی عنھما سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو چپ رہا، اسے نجات ہے۔''(2)
حدیث ۵: امام احمد وترمذی نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں میں حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، نجات کیا ہے؟ ارشاد فرمایا:''اپنی زبان پر قابو رکھو اور تمہارا گھر تمھارے لیے گنجائش رکھے (یعنی بے کار ادھر ادھر نہ جاؤ)اور اپنی خطا پر گریہ کرو۔''(3)
حدیث ۶: ترمذی نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا کہ ''ابن آدم جب صبح کرتا ہے تو تمام اعضا زبان کے سامنے عاجزانہ یہ کہتے ہیں، کہ تو خدا سے ڈر کہ ہم سب تیرے ساتھ وابستہ ہیں، اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم سب ٹیڑھے ہوجائیں گے۔''(4)
حدیث ۷: امام مالک و احمد نے حضر ت علی بن حسین رضی اللہ تعالٰی عنھماسے اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور ترمذی اور بیہقی نے دونوں سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''آدمی کے اسلام کی اچھائی میں سے یہ ہے کہ لایعنی چیز چھوڑ دے۔''(5)یعنی جوچیز کار آمد نہ ہو اس میں نہ پڑے، زبان و دل و جوارح کو بے کار باتوں کی طرف متوجہ نہ کرے۔
حدیث ۸: ترمذی نے سفیان بن عبد اﷲثَقفی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سب سے زیادہ کس چیز کا مجھ پر خوف ہے؟ یعنی کس چیز کے ضرر کا زیادہ اندیشہ ہے۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا:''یہ ہے۔''(6)
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب الزھد، باب ذکر الذنوب،الحدیث:۴۲۴۶،ج۴،ص۴۸۹.
و''سنن الترمذی''،کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء في حسن الخلق،الحدیث:۲۰۱۱،ج۳،ص۴۰۴.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب صفۃ القیامۃ...إلخ، باب:۱۱۵،الحدیث:۲۵۰۹،ج۴،ص۲۲۵.
3 ۔''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أبي امامۃ الباھلی،الحدیث:۲۲۲۹۸،ج۸،ص۲۹۰.
و''جامع الترمذي''،کتاب الزھد، باب ماجاء في حفظ اللسان،الحدیث:۲۴۱۴،ج۴،ص۱۸۲.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الزھد، باب ماجاء في حفظ اللسان،الحدیث:۲۴۱۵،ج۴،ص۱۸۳.
5 ۔ ''الموطأ'' للإمام مالک،کتاب حسن الخلق، باب ماجاء في حسن الخلق،الحدیث:۱۷۱۸،ج۲، ۴۰۳.
6 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الزھد، باب ماجاء في حفظ اللسان،الحدیث:۲۴۱۸،ج۴،ص۱۸۴.
حدیث ۹: بیہقی نے شعب الایمان میں عمران بن حطان سے روایت کی، کہتے ہیں میں ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس گیا، انھیں کالی کملی اوڑھے ہوئے مسجد میں تنہا بیٹھا ہوا دیکھا۔ میں نے کہا، ابوذر یہ تنہائی کیسی؟ اونھوں نے کہا، میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو فرماتے سنا کہ ''تنہائی اچھی ہے برے ہم نشین سے اور ہم نشین صالح تنہائی سے بہتر ہے اور اچھی بات بولنا خاموشی سے بہتر ہے اور بری بات بولنے سے چپ رہنا بہتر ہے۔''(1)
حدیث ۱۰: بیہقی نے عمران بن حصین رضی اللہ تعالٰی عنھما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''سکوت پر قائم رہنا ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے۔''(2)
حدیث ۱۱: بیہقی نے ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) مجھے وصیت فرمائیے، ارشاد فرمایا:میں تم کو تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں کہ اس سے تمھارے سب کام آراستہ ہوجائیں گے۔ میں نے عرض کی اور وصیت فرمائیے، فرمایا:کہ تلاوت قرآن اور ذکر اﷲکو لازم کرلو، کہ اس کی وجہ سے تمہارا ذکر آسمان میں ہوگا اور زمین میں تمھارے لیے نور ہوگا۔ میں نے کہا اور وصیت فرمائیے،ارشاد فرمایا:زیادتی خاموشی کو لازم کرلو، کہ اس سے شیطان دفع ہوگا اور تمھیں دین کے کاموں میں مدد دے گی۔
میں نے عرض کی اور وصیت کیجیے، فرمایاکہ زیادہ ہنسنے سے بچو کہ یہ دل کو مُردہ کردیتا ہے اور چہرہ کے نور کو دور کرتا ہے۔ میں نے کہا اور وصیت کیجیے۔ فرمایا: حق بولو اگرچہ کڑوا ہو۔ میں نے کہا اور وصیت کیجیے، فرمایا کہ اﷲ (عزوجل)کے بارے میں ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو۔ میں نے کہا اور وصیت کیجیے، فرمایا:تم کو دوسرے لوگوں سے روکے وہ چیز جو تم اپنے نفس سے جانتے ہو۔''(3)یعنی جو اپنے عیوب کی طرف نظر رکھے گا دوسروں کے عیوب میں نہ پڑے گا اور کام کی بات یہ ہے کہ اپنے عیب پر نظر کی جائے تاکہ اسکے زائل کرنے کی کوشش کی جائے۔
حدیث ۱۲: بیہقی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''اے ابوذر!کیا میں تم کو ایسی دو باتیں نہ بتادوں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں اور میزان میں بھاری ہیں؟ انھوں نے کہا، ہاں۔ ارشاد فرمایا:زیادہ خاموش رہنا اور خوبی اخلاق، قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تمام مخلوقات نے ان کی مثل پر عمل نہیں کیا۔''(4)
1 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في حفظ اللسان، فصل في فضل السکوت...إلخ،الحدیث:۴۹۹۳،ج۴،ص۲۵۶.
2 ۔ المرجع السابق، فصل في فضل السکوت عما لایعنیہ،الحدیث:۴۹۵۳،ج۴،ص۲۴۵.
3 ۔ المرجع السابق، فصل في فضل السکوت عما لایعنیہ،الحدیث:۴۹۴۲،ج۴،ص۲۴۲.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في حسن الخلق،الحدیث:۸۰۰۶،ج۶،ص۲۳۹.
یعنی ان کی مثل کوئی چیز نہیں جس پر عمل کیا جائے۔
حدیث ۱۳: امام مالک نے اسلم سے روایت کی، کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس گئے اور حضرت صدیق اکبر(رضی اللہ تعالٰی عنہ)اپنی زبان پکڑ کر کھینچ رہے تھے۔ حضرت عمر(رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے عرض کی، کیا بات ہے اﷲ(عزوجل)آپ کی مغفرت کرے، حضرت صدیق (رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے فرمایا:اس نے مجھے مہالک (1)میں ڈالا ہے ۔(2)
حدیث ۱۴: امام احمد و بیہقی نے عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ میں تمھارے لیے جنت کا ذمہ دار ہوتا ہوں۔(1) جب بات کرو سچ بولو اور (2) جب وعدہ کرو اسے پورا کرو اور (3) جب تمھارے پاس امانت رکھی جائے اسے ادا کرو اور (4) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرواور (5) اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور (6) اپنے ہاتھوں کو روکو۔''(3)یعنی ہاتھ سے کسی کو ایذا نہ پہنچاؤ۔
حدیث ۱۵: ترمذی نے عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''مومن نہ طعن کرنے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش بکنے والا بے ہودہ ہوتا ہے۔''(4)
حدیث ۱۶: ترمذی نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مومن کو یہ نہ چاہیے کہ لعنت کرنے والا ہو۔''(5)
حدیث ۱۷: صحیح مسلم میں ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کوفرماتے سنا ہے کہ ''جو لوگ لعنت کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن نہ گواہ ہوں گے، نہ کسی کے سفارشی۔'' (6)
حدیث ۱۸: ترمذی و ابو داود نے سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اﷲ(عزوجل)کی لعنت و غضب اور جہنم کے ساتھ آپس میں لعنت نہ کرو۔''(7)
حدیث ۱۹: ابو داود نے ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم
1 ۔ یعنی ہلاکتوں۔
2 ۔ ''الموطأ'' للإمام مالک،کتاب الکلام، باب ماجاء فیما یخاف من اللسان،الحدیث:۱۹۰۶،ج۲،ص۴۶۶.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث عبادۃ بن الصامت الحدیث: ۲۲۸۲۱،ج۸،ص۴۱۲.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ،باب ماجاء في اللعنۃ،الحدیث:۱۹۸۴،ج۳،ص۳۹۳.
5 ۔ المرجع السابق، باب ماجاء في اللعن والطعن،الحدیث:۲۰۲۶،ج۳،ص۴۱۰.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر...إلخ، باب النھی عن لعن الدواب وغیرھا،الحدیث:۸۶۔(۲۵۹۸)،ص۱۴۰۰.
7 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في اللعنۃ،الحدیث:۱۹۸۳،ج۳،ص۳۹۳.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب، باب حفظ اللسان...إلخ،الحدیث:۴۸۴۹،ج۳،ص۴۳.
کو یہ فرماتے سنا کہ ''جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کو جاتی ہے، آسمان کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں پھر زمین پر اتاری جاتی ہے، اس کے دروازے بھی بند کردیے جاتے ہیں پھر دہنے بائیں جاتی ہے، جب کہیں راستہ نہیں پاتی تو اس کی طرف آتی ہے جس پر لعنت بھیجی گئی، اگر اسے اس کا اہل پاتی ہے تو اس پر پڑتی ہے، ورنہ بھیجنے والے پر آجاتی ہے۔''(1)
حدیث ۲۰: ترمذی و ابو داود نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما سے روایت کی، کہ ایک شخص کی چادر کو ہوا کے تیز جھونکے لگے، اس نے ہوا پر لعنت کی۔ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''ہوا پر لعنت نہ کرو کہ وہ خدا کی طرف سے مامور ہے اور جو شخص ایسی چیز پر لعنت کرتا ہے جو لعنت کی اہل نہ ہو تو لعنت اُسی پر لوٹ آتی ہے۔'' (2)
حدیث ۲۱: ترمذی نے اُبیّ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''ہوا کو گالی نہ دو اور جب دیکھو کہ تمھیں بری لگتی ہے تویہ کہو کہ الٰہی!میں اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور جو کچھ اس میں خیر ہے اور جس خیر کا اسے حکم ہوا اور میں اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں شر ہے اوراس کے شرسے جس کا اسے حکم ہوا۔''(3)
حدیث ۲۲: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ ایک شخص نے اپنی سواری کے جانور پر لعنت کی، رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اس سے اتر جاؤ ہمارے ساتھ میں ملعون چیز کو لے کر نہ چلو، اپنے اوپر اور اپنی اولاد و اموال پر بددعا نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بددعا اس ساعت میں ہو جس میں جو دعا خدا سے کی جائے قبول ہوتی ہے۔''(4)
حدیث ۲۳: طبرانی نے ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مومن پر لعنت کرنا اس کے قتل کی مثل ہے اور جو شخص مومن مرد یا عورت پر کفر کی تہمت لگائے تویہ اس کے قتل کی مثل ہے۔''(5)
حدیث ۲۴: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہے تو اس کلمہ کے ساتھ دونوں میں سے ایک لوٹے گا۔''(6)یعنی یہ کلمہ دونوں میں سے ایک پر پڑے گا۔
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في اللعن،الحدیث:۴۹۰۵،ج۴،ص۳۶۱.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۹۰۸،ج۴،ص۳۶۲.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الفتن باب ماجاء في النھی عن سب الریاح،الحدیث:۲۲۵۹،ج۴،ص۱۱۱.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الزھد، باب حدیث جابر الطویل...إلخ،الحدیث:۳۔(۳۰۰۹)،ص۱۶۰۴.
5 ۔ ''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۳۳۰،ج۲،ص۷۳.
6 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب من أکفر أخاہ بغیر تأویل فھوکما قال،الحدیث:۶۱۰۴،ج۴،ص۱۲۷.
و''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان، باب بیان حال إیمان من قال لأخیہ المسلم یا کافر،الحدیث:۱۱۱۔(۶۰)،ص۵۱.
حدیث ۲۵: صحیح بخاری میں ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جو شخص دوسرے کو فسق اور کفر کی تہمت لگائے اور وہ ایسا نہ ہو تو اس کہنے والے پر لوٹتا ہے۔''(1)
حدیث ۲۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص کسی کو کافر کہہ کر بلائے یا دشمنِ خدا کہے اور وہ ایسا نہیں ہے تو اسی کہنے والے پر لوٹے گا۔''(2)
حدیث ۲۷: بخاری و مسلم و احمد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ عبد اﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مسلم سے گالی گلوج کرنا فسق ہے اور اس سے قتال کفر ہے۔''(3)
حدیث ۲۸: صحیح مسلم میں انس و ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنھماسے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''دو شخص گالی گلوج کرنے والے انھوں نے جو کچھ کہا سب کا وبال اس کے ذمہ ہے جس نے شروع کیا ہے، جب تک مظلوم تجاوز نہ کرے۔''(4)یعنی جتنا پہلے نے کہا، اس سے زیادہ نہ کہے۔
حدیث ۲۹: طبرانی نے سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''اگر کوئی کسی کو برا بھلا کہنا ہی چاہتا ہے تو نہ اس پر افترا کرے، نہ اس کے والدین کو گالی دے، نہ اس کی قوم کو گالی دے، ہاں اگر اس میں ایسی بات ہے جو اس کے علم میں ہے تو یوں کہے کہ تو بخیل ہے یا تو بزدل ہے یا تو جھوٹا ہے یا بہت سونے والا ہے۔''(5)
حدیث ۳۰: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''فحش جس چیز میں ہوگا، اسے عیب دار کردے گا اور حیا جس میں ہوگی، اسے آراستہ کردے گی۔'' (6)
حدیث ۳۱: صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں:''اﷲ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب لوگوں میں بدتر مرتبہ اس کا ہے کہ اس کے شر سے بچنے کے لیے لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ہو۔''(7)اور ایک روایت میں ہے کہ ''اُس کے فحش سے بچنے کے لیے چھوڑ دیا ہو۔''(8)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب ما ینھی من السباب واللعن،الحدیث:۶۰۴۵،ج۴،ص۱۱۱.
2 ۔ ''صحیح مسلم ''،کتاب الایمان، باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم: یاکافر،الحدیث:۱۱۲۔(۶۱)،ص۵۱.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب ما ینھی من السباب واللعن،الحدیث:۶۰۴۴،ج۴،ص۱۱۱.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ، باب النھی عن السباب،الحدیث:۶۸۔(۲۵۸۷)،ص۱۳۹۶.
5 ۔ ''المعجم الکبیر''،الحدیث:۷۰۳۰،ج۷،ص۲۵۳.
6 ۔''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في الفحش والتفحش،الحدیث:۱۹۸۱،ج۳،ص۳۹۲.
7 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب لم یکن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فاحشا...إلخ،الحدیث:۶۰۳۲،ج۴،ص۱۰۸.
8 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ، باب مداراۃ من یتقی فحشہ،الحدیث:۷۳۔(۲۵۹۱)،ص۱۳۹۷.
حدیث ۳۲: بخاری و مسلم و احمد و ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:''ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے کہ دہر کو برا کہتا ہے، دہر تو میں ہوں میرے ہاتھ میں سب کام ہیں، رات اور دن کو میں بدلتا ہوں۔''(1)یعنی زمانہ کو برا کہنا اﷲ(عزوجل)کو برا کہنا ہے کہ زمانہ میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ سب اﷲتعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔
حدیث ۳۳: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کوئی شخص یہ کہے کہ سب لوگ ہلاک ہوگئے تو سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا یہ ہے۔''(2)یعنی جو شخص تمام لوگوں کو گنہگار اور مستحق نار بتائے تو سب سے بڑھ کر گنہگار وہ خود ہے۔
حدیث ۳۴: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سب سے زیادہ برا قیامت کے دن اس کو پاؤ گے، جو ذوالوجہین ہو۔''(3)
یعنی دور خاآدمی کہ ان کے پاس ایک مونھ سے آتا ہے اور ان کے پاس دوسرے مونھ سے آتا ہے یعنی منافقوں کی طرح کہیں کچھ کہتا ہے اور کہیں کچھ کہتا ہے، یہ نہیں کہ ایک طرح کی بات سب جگہ کہے۔
حدیث ۳۵: دارمی نے عمار بن یاسر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص دنیا میں دورخاہوگا، قیامت کے دن آگ کی زبان اس کے لیے ہوگی۔''(4)ابوداود کی روایت میں ہے کہ ''اس کے لیے دو زبانیں آگ کی ہو ں گی۔'' (5)
حدیث ۳۶: صحیح بخاری و مسلم میں حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو میں نے یہ فرماتے سنا کہ ''جنت میں چغل خور نہیں جائے گا۔''(6)
حدیث ۳۷: بیہقی نے شعب الایمان میں عبدالرحمن بن غنم و اسما بنتِ یزید رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''اﷲ(عزوجل)کے نیک بندے وہ ہیں کہ ان کے دیکھنے سے خدا یاد آئے
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالٰی ( یریدون ان یبدلواکلام اللہ)،الحدیث:۷۴۹۱،ج۴،ص۵۷۲.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ، باب النھی عن قول: ھلک الناس،الحدیث:۱۳۹۔(۲۶۲۳)،ص۱۴۱۲.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب ماقیل في ذی الوجھین،الحدیث:۶۰۵۸،ج۴،ص۱۱۵.
4 ۔ ''سنن الدارمي''،کتاب الرقائق، باب ما قیل في ذی الوجھین،الحدیث:۲۷۶۴،ج۲،ص۴۰۵.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في ذی الوجھین،الحدیث:۴۸۷۳،ج۴،ص۳۵۲.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم النمیمۃ،الحدیث:۱۶۹۔(۱۰۵)،ص۶۷.
اور اﷲ(عزوجل)کے برے بندے وہ ہیں، جو چغلی کھاتے ہیں، دوستوں میں جدائی ڈالتے ہیں اور جو شخص جرم سے بری ہے، اس پر تکلیف ڈالنا چاہتے ہیں۔''(1)
حدیث ۳۸: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:تمھیں معلوم ہے غیبت کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کی، اللہ و رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) خوب جانتے ہیں ۔ ارشادفرمایا:غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا اس چیز کے ساتھ ذکر کرے جو اسے بری لگے۔ کسی نے عرض کی، اگر میرے بھائی میں وہ موجود ہو جو میں کہتا ہوں (جب تو غیبت نہیں ہوگی)۔ فرمایا:''جو کچھ تم کہتے ہو، اگر اس میں موجود ہے جب ہی تو غیبت ہے اور جب تم ایسی بات کہو جو اس میں ہو نہیں، یہ بہتان ہے۔''(2)
حدیث ۳۹: امام احمد وترمذی و ابو داود نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہتی ہیں، میں نے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے کہا، صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ایسی ہیں ایسی ہیں یعنی پستہ قد ہیں، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایاکہ ''تم نے ایسا کلمہ کہا کہ اگر سمندر میں ملایا جائے تواس پر غالب آجائے۔''(3)یعنی کسی پستہ قد کو ناٹا، ٹھگنا کہنا بھی غیبت میں داخل ہے، جبکہ بلاضرورت ہو۔
حدیث ۴۰: بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، دو شخصوں نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھی اور وہ دونوں روزہ دار تھے، جب نماز پڑھ چکے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:تم دونوں وضو کرواور نماز کا اعادہ کرو اور روزہ پورا کرو اور دوسرے دن اس روزہ کی قضا کرنا۔ انھوں نے عرض کی، یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم !یہ حکم کس لیے؟ ارشاد فرمایا:''تم نے فلاں شخص کی غیبت کی ہے۔'' (4)
حدیث ۴۱: ترمذی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ کسی کی نقل کروں، اگرچہ میرے لیے اتنا اتنا ہو۔''(5) یعنی نقل کرنا دنیا کی کسی چیز کے مقابل میں درست نہیں ہوسکتا۔
1 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الاصلاح بین الناس...إلخ،الحدیث:۱۱۱۰۸،ج۷،ص۴۹۴.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب، باب حفظ اللسان...إلخ،الحدیث:۴۸۷۱،ج۳،ص۴۶.
2 ۔ ''صحیح مسلم ''،کتاب البروالصلۃ...إلخ، باب تحریم الغیبۃ،الحدیث:۷۰۔(۲۵۸۹)،ص۱۳۹۷.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في الغیبۃ،الحدیث:۴۸۷۵،ج۴،ص۳۵۳.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في تحریم اعراض الناس،الحدیث:۶۷۲۹،ج۵،ص۳۰۳.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب صفۃ القیامۃ...إلخ، باب:۱۱۶،الحدیث: ۲۵۱۰،ج۴،ص۲۲۵.
حدیث ۴۲: بیہقی نے شعب الایمان میں ابوسعید و جابر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت چیز ہے۔ لوگوں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)زنا سے زیادہ سخت غیبت کیونکر ہے۔ فرمایا کہ ''مرد زنا کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے، اﷲتعالیٰ اس کی توبہ قبو ل فرماتاہے اور غیبت کرنے والے کی مغفرت نہ ہوگی، جب تک وہ نہ معاف کردے جس کی غیبت ہے۔''(1)
اور انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت میں ہے کہ ''زنا کرنے والا توبہ کرتا ہے اور غیبت کرنے والے کی توبہ نہیں ہے۔''(2)
حدیث ۴۳: بیہقی نے دعوات کبیر میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ غیبت کے کفار ہ میں یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے، اس کے لیے استغفار کرے، یہ کہے۔
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلَہ۔
(3)''الٰہی! ہمیں اور اسے بخش دے۔''
حدیث ۴۴: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ماعزاسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جب رجم کیا گیا تھا، دو شخص آپس میں باتیں کرنے لگے، ایک نے دوسرے سے کہا، اسے تو دیکھو کہ اﷲ(عزوجل)نے اس کی پردہ پوشی کی تھی مگر اس کے نفس نے نہ چھوڑا، کتے کی طرح رجم کیا گیا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے سن کر سکوت فرمایا۔ کچھ دیر تک چلتے رہے، راستہ میں مرا ہوا گدھا ملا جو پاؤں پھیلائے ہوئے تھا۔
حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ان دونوں شخصوں سے فرمایا:جاؤ اس مردار گدھے کا گوشت کھاؤ۔ انھوں نے عرض کی، یا نبی اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!اسے کون کھائے گا؟ ارشاد فرمایا:''وہ جو تم نے اپنے بھائی کی آبروریزی کی، وہ اس گدھے کے کھانے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!وہ (ماعز)اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔''(4)
حدیث ۴۵: امام احمد و نسائی و ابن ماجہ و حاکم نے اسامہ بن شریک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اے اﷲکے بندو!اﷲ(عزوجل)نے حرج اٹھا لیا، مگر جو شخص کسی مرد مسلم کی بطورظلم آبروریزیکرے، وہ حرج میں ہے اور ہلاک ہوا۔''(5)
1 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في تحریم إعراض الناس،الحدیث:۶۷۴۱،ج۵،ص۳۰۶.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۶۷۴۲،ج۵،ص۳۰۶.
3 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب، باب حفظ اللسان...إلخ،الحدیث:۴۸۷۷،ج۳،ص۴۷.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الحدود، باب رجم ما عزبن مالک،الحدیث:۴۴۲۸،ج۴،ص۱۹۷.
5 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب الأخلاق،الحدیث:۸۰۱۴،ج۳،ص۲۳۴.
حدیث ۴۶: امام احمد و ابو داود و حاکم نے مُستَورِدبن شداد (1)رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس شخص کو کسی مرد مسلم کی برائی کرنے کی وجہ سے کھانے کو ملا، اللہ تعالیٰ اس کو اتنا ہی جہنم سے کھلائے گا اور جس کو مرد مسلم کی برائی کی وجہ سے کپڑا پہننے کو ملا، اﷲتعالیٰ اس کو جہنم کا اتنا ہی کپڑا پہنائے گا۔''(2)
حدیث ۴۷: امام احمد وابو داود نے ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اے وہ لوگ جو زبان سے ایمان لائے اور ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کی چھپی ہوئی باتوں کی ٹٹول نہ کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی چھپی ہوئی چیز کی ٹٹول کریگا، اللہ تعالیٰ اس کی پوشیدہ چیز کی ٹٹول کریگا اور جس کی اﷲ(عزوجل)ٹٹول کریگا اس کو رسوا کردے گا، اگرچہ وہ اپنے مکان کے اندر ہو۔''(3)
حدیث ۴۸: امام احمد و ابو داود نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:جب مجھے معراج ہوئی، ایک قوم پر گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے، وہ اپنے مونھ اور سینے کو نوچتے تھے۔ میں نے کہا:جبریل یہ کون لوگ ہیں؟ جبریل نے کہا، ''یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی آبروریزی کرتے تھے۔''(4)
حدیث ۴۹: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مسلمان کی سب چیزیں مسلمان پرحرام ہیں اس کا مال اور اس کی آبرو اور اس کا خون آدمی کو برائی سے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔''(5)
حدیث ۵۰: ابو داود نے معاذ بن انس جہنیرضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص مسلمان پر کوئی بات کہے اس سے مقصد عیب لگانا ہو، اللہ تعالیٰ اس کو پل صراط پر روکے گا جب تک اس چیز سے نہ نکلے جو اس نے کہی۔''(6)
حدیث ۵۱: ابو داود نے جابر بن عبد اللہ اور ابوطلحہ بن سہل رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلَّی اللہ
1 ۔ بہارِ شریعت کے نسخوں میں مسور بن شداد لکھا ہے، یہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے، جسے ہم نے ''مُستَورِد بن شداد'' لکھ کر صحیح کردیا ہے۔ . . . علمیہ
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في الغیبۃ،الحدیث:۴۸۸۱،ج۴،ص۳۵۴.
و''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث المستورد بن شداد،الحدیث:۱۸۰۳۳،ج۶،ص۲۹۴.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في الغیبۃ الحدیث: ۴۸۸۰،ج۴،ص۳۵۴.
و''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أبي برزۃ الاسلمی،الحدیث:۱۹۷۹۷،ج۷،ص۱۸۱.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في الغیبۃ،الحدیث:۴۸۷۸،ج۴،ص۳۵۳.
5 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۸۸۲،ج۴،ص۳۵۴.
6 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب من رد عن مسلم غیبۃ،الحدیث:۴۸۸۳،ج۴،ص۳۵۵.
تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جہاں مرد مسلم کی ہتک حرمت کی جاتی ہو اور اس کی آبروریزی کی جاتی ہو ایسی جگہ جس نے اُس کی مدد نہ کی، یعنی یہ خاموش سنتا رہا اور اُن کو منع نہ کیا تو اﷲتعالیٰ اس کی مدد نہیں کریگا جہاں اسے پسند ہو کہ مدد کی جائے اور جو شخص مرد مسلم کی مدد کریگا ایسے موقع پر جہاں اُس کی ہتک حرمت اور آبرو ریزی کی جارہی ہو، اﷲتعالیٰ اس کی مدد فرمائے گا ایسے موقع پر جہاں اسے محبوب ہے کہ مدد کی جائے۔''(1)
حدیث ۵۲: شرح سنہ میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جس کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اس کی مدد پر قادر ہو اور مدد کی، اﷲتعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد کریگا اور اگر باوجود قدرت اس کی مدد نہیں کی تو اﷲتعالیٰ دنیا اور آخرت میں اسے پکڑے گا۔''(2)
حدیث ۵۳: بیہقی نے اسما بنتِ یزید رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص اپنے بھائی کے گوشت سے اس کی غیبت میں روکے یعنی مسلمان کی غیبت کی جارہی تھی، اس نے روکا تو اﷲ(عزوجل)پر حق ہے کہ اُسے جہنم سے آزاد کردے۔''(3)
حدیث ۵۴: شرح سنہ میں ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو مسلمان اپنے بھائی کی آبرو سے روکے یعنی کسی مسلم کی آبرو ریزی ہوتی تھی اس نے منع کیا تو اﷲ (عزوجل)پر حق ہے کہ قیامت کے دن اس کو جہنم کی آگ سے بچائے۔ اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کی۔''
(وَکَانَ حَقًّا عَلَیۡنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۴۷﴾)
(4)
''مسلمانوں کی مدد کرنا ہم پر حق ہے۔''
حدیث ۵۵: ترمذی و ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے اور مومن مومن کا بھائی ہے، اس کی چیزوں کو ہلاک ہونے سے بچائے اور غیبت میں اس کی حفاظت کرے۔''(5)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب من رد عن مسلم غیبۃ،الحدیث:۴۸۸۴،ج۴،ص۳۵۵.
2 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب البر والصلۃ، باب الذب عن المسلمین،الحدیث:۳۴۲۴،ج۶،ص۴۹۵.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق،الحدیث:۴۹۸۰،ج۳،ص۶۹.
3 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في التعاون علی البر والتقوی،الحدیث:۷۶۴۳،ج۶،ص۱۱۲.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق،الحدیث:۴۹۸۱،ج۳،ص۷۰.
4 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب البر والصلۃ، باب الذب عن المسلمین،الحدیث:۳۴۲۲،ج۶،ص۴۹۴.
پ۲۱، الروم: ۴۷.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في النصیحۃ والحیاطۃ،الحدیث:۴۹۱۸،ج۴،ص۳۶۵.
حدیث ۵۶: امام احمد و ترمذی نے عقبہ بن عامررضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص ایسی چیز دیکھے جس کو چھپانا چاہیے اور اس نے پردہ ڈال دیا یعنی چھپادی تو ایسا ہے جیسے موؤدہ (یعنی زندہ درگور)کو زندہ کیا۔'' (1)
حدیث ۵۷: ابونعیم نے معرفہ میں شبیب بن سعد بلوی سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''بندہ کو قیامت کے دن اس کا دفتر کھلا ہوا ملے گا، وہ اس میں ایسی نیکیاں بھی دیکھے گا جن کو کیا نہیں ہے، عرض کریگا، اے رب!یہ میرے لیے کہاں سے آئیں؟ میں نے تو انھیں کیا نہیں۔ اس سے کہا جائے گا کہ یہ وہ ہیں جو تیری لاعلمی میں لوگوں نے تیری غیبت کی تھی۔''(2)
حدیث ۵۸: ترمذی نے معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جس نے اپنے بھائی کو ایسے گناہ پر عار دلایا جس سے وہ توبہ کرچکا ہے، تو مرنے سے پہلے وہ خود اس گناہ میں مبتلا ہوجائے گا۔''(3)
حدیث ۵۹: ترمذی نے واثلہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اپنے بھائی کی شماتت نہ کر یعنی اس کی مصیبت پر اظہار مسرت نہ کر، کہ اﷲتعالیٰ اس پر رحم کریگا اور تجھے اس میں مبتلا کردے گا۔''(4)
حدیث ۶۰: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''میری ساری امت عافیت میں ہے مگر مجاہرین یعنی جو لوگ کھلم کھلا گناہ کرتے ہیں یہ عافیت میں نہیں ان کی غیبت اور برائی کی جائے گی اور آدمی کی بے باکی سے یہ ہے کہ رات میں اس نے کوئی کام کیا یعنی گناہ کا کام اور خدا نے اس کو چھپایا اور یہ صبح کو خود کہتا ہے، کہ آج رات میں میں نے یہ کیا، خدا نے اس پر پردہ ڈالا تھا اور یہ شخص پردہ الٰہی کو ہٹا دیتا ہے۔''(5)
حدیث ۶۱: طبرانی و بیہقی نے بروایت بہزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل حدیث عقبۃ بن عامر الجھنی،الحدیث:۱۷۳۳۴،ج۶،ص۱۲۶.
و''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في الستر علی المسلم،الحدیث:۴۸۹۱،ج۴،ص۳۵۷.
2 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب الاخلاق، رقم: ۸۰۴۳، ج۳،ص۲۳۶.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب صفۃ القیامۃ...إلخ، باب:۱۱۸،الحدیث:۲۵۱۳،ج۴،ص۲۲۶.
4 ۔ المرجع السابق، باب:۱۱۹،الحدیث:۲۵۱۴،ج۴،ص۲۲۷.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب ستر المؤمن علی نفسہ،الحدیث:۶۰۶۹،ج۴،ص۱۱۸.
و''صحیح مسلم''،کتاب الزھد، باب النھی عن ھتک الانسان ستر نفسہ،الحدیث:۵۲۔(۲۹۹۰)،ص۱۵۹۵.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب، باب حفظ اللسان...إلخ،الحدیث:۴۸۳۱، ج۳،ص۴۰.
فرمایا:کیا فاجر کے ذکر سے بچتے ہو اس کو لوگ کب پہچانیں گے، فاجر کا ذکر اس چیز کے ساتھ کرو جو اس میں ہے، تاکہ لوگ اس سے بچیں۔''(1)
حدیث ۶۲: بیہقی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جس نے حیا کی چادر ڈال دی اس کی غیبت نہیں۔''(2)یعنی ایسوں کی برائی بیان کرنا غیبت میں داخل نہیں۔
حدیث ۶۳: طبرانی نے معاویہ بن حیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''فاسق کی غیبت نہیں ہے۔''(3)
حدیث ۶۴: صحیح مسلم میں مقداد بن اسود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مبالغہ کے ساتھ مدح کرنے والوں کو جب تم دیکھو، تو ان کے مونھ میں خاک ڈال دو۔''(4)
حدیث ۶۵: صحیح بخاری میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک شخص کو سنا کہ دوسرے کی تعریف کرتا ہے اور تعریف میں مبالغہ کرتا ہے۔ ارشاد فرمایا:''تم نے اسے ہلاک کردیا یااس کی پیٹھ توڑ دی۔''(5)
حدیث ۶۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوبکرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے سامنے ایک شخص نے ایک شخص کی تعریف کی، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''تجھے ہلاکت ہو تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی اس کو تین مرتبہ فرمایا، جس شخص کو کسی کی تعریف کرنی ضروری ہی ہو تو یہ کہے کہ میرے گمان میں فلاں ایسا ہے اگر اس کے علم میں یہ ہو کہ وہ ایسا ہے اور اﷲ(عزوجل)اس کو خوب جانتا ہے اور اﷲ (عزوجل)پر کسی کا تزکیہ نہ کرے۔''(6)یعنی جزم اور یقین کے ساتھ کسی کی تعریف نہ کرے۔
حدیث ۶۷: بیہقی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے، رب تعالیٰ غضب فرماتا ہے اور عرشِ الٰہی جنبش کرنے لگتا ہے۔''(7)
1 ۔ ''السنن الکبری''للبیھقی،کتاب الشھادات باب الرجل من أھل الفقہ...إلخ،الحدیث:۲۰۹۱۴، ج۱۰،ص۳۵۴.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۲۰۹۱۵، ج۱۰،ص۳۵۴.
3 ۔ ''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۰۱۱،ج۱۹،ص۴۱۸.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الزھد...إلخ، باب النھی عن المدح إذا کان فیہ إفراط...إلخ،الحدیث:۶۹۔(۳۰۰۲)،ص۱۵۹۹.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب ما یکرہ من التمادح،الحدیث:۶۰۶۰،ج۴،ص۱۱۵.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الزھد...إلخ، باب النھی عن المدح...إلخ،الحدیث:۶۵۔(۳۰۰۰)،ص۱۵۹۹.
7 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في حفظ اللسان،الحدیث:۴۸۸۶، ج۴،ص۲۳۰.
غیبت کے یہ معنی ہیں کہ کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو (جس کو وہ دوسروں کے سامنے ظاہر ہونا پسند نہ کرتا ہو) اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا اور اگر اس میں وہ بات ہی نہ ہو تو یہ غیبت نہیں بلکہ بہتان ہے قرآن مجید میں فرمایا:
(وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ)
(1)
''تم آپس میں ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے اس کو تو تم بُرا سمجھتے ہو۔''
احادیث میں بھی غیبت کی بہت برائی آئی ہے، چند حدیثیں ذکر کردی گئیں انھیں غور سے پڑھو، اس حرام سے بچنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ آج کل مسلمانوں میں یہ بلا بہت پھیلی ہوئی ہے اس سے بچنے کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے، بہت کم مجلسیں ایسی ہوتی ہیں جو چغلی اور غیبت سے محفوظ ہوں۔
مسئلہ ۱: ایک شخص نماز پڑھتا ہے اور روزے رکھتا ہے مگر اپنی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمانوں کو ضرر پہنچاتا ہے اس کی اس ایذا رسانی کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا غیبت نہیں، کیونکہ اس ذکر کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کی اس حرکت سے واقف ہوجائیں اور اس سے بچتے رہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی نماز اور روزے سے دھوکا کھاجائیں اور مصیبت میں مبتلا ہوجائیں۔ حدیث میں ارشاد فرمایاکہ ''کیا تم فاجر کے ذکر سے ڈرتے ہو جو خرابی کی بات اس میں ہے بیان کردو تاکہ لوگ اس سے پرہیز کریں اور بچیں۔''(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: ایسے شخص کا حال جس کا ذکر اوپر گزرا اگر بادشاہ یا قاضی سے کہا تاکہ اسے سزا ملے اور اپنی حرکت سے باز آجائے یہ چغلی اور غیبت میں داخل نہیں۔ (3) (درمختار)یہ حکم فاسق و فاجر کا ہے جس کے شر سے بچانے کے لیے لوگوں پر اس کی برائی کھول دینا جائز ہے اور غیبت نہیں۔ اب سمجھنا چاہیے کہ بدعقیدہ لوگوں کا ضرر فاسق کے ضرر سے بہت زائد ہے فاسق سے جو ضرر پہنچے گا وہ اس سے بہت کم ہے، جو بدعقیدہ لوگوں سے پہنچتا ہے فاسق سے اکثر دنیا کا ضرر ہوتا ہے اور بدمذہب سے تو دین و ایمان کی بربادی کا ضرر ہے اور بدمذہب اپنی بدمذہبی پھیلانے کے لیے نماز روزہ کی بظاہر خوب پابندی کرتے ہیں، تاکہ ان کا
1 ۔ پ۲۶، الحجرٰت: ۱۲.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹،ص۶۷۳.
''شعب الإیمان''، باب في الستر...إلخ،الحدیث:۹۶۶۶، ج۷،ص۱۰۹.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹،ص۶۷۳.
وقار لوگوں میں قائم ہو پھر جو گمراہی کی بات کریں گے ان کا پور ااثر ہوگا، لہٰذا ایسوں کی بدمذہبی کا اظہار فاسق کے فسق کے اظہار سے زیادہ اہم ہے اس کے بیان کرنے میں ہر گز دریغ نہ کریں۔
آج کل کے بعض صوفی اپنا تقدس یوں ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں کسی کی برائی نہیں کرنی چاہیے یہ شیطانی دھوکا ہے مخلوق خدا کو گمراہوں سے بچانا یہ کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ یہ انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے جس کو ناکارہ تاویلات سے چھوڑنا چاہتا ہے اور اس کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ میں ہر دل عزیز بنوں، کیوں کسی کو اپنا مخالف کروں۔
مسئلہ ۳: یہ معلوم ہے کہ جس میں برائی پائی جاتی ہے اگر اس کے والد کو خبر ہوجائے گی تو وہ اس حرکت سے روک دے گا، توا سکے باپ کو خبر کردے زبانی کہہ سکتا ہو تو زبانی کہے یا تحریر کے ذریعہ مطلع کردے اور اگر معلوم ہے کہ اپنے باپ کا کہا بھی نہیں مانے گا اور باز نہیں آئے گا تو نہ کہے کہ بلاوجہ عداوت پیدا ہوگی۔ اسی طرح بیوی کی شکایت اس کے شوہر سے کی جاسکتی ہے اور رعایا کی بادشاہ سے کی جاسکتی ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)مگر یہ ضرور ہے کہ ظاہر کرنے سے اس کی برائی کرنا مقصود نہ ہو بلکہ اصلی مقصد یہ ہو کہ وہ لوگ اس برائی کا انسداد (2)کریں اور اس کی یہ عادت چھوٹ جائے۔
مسئلہ ۴: کسی نے اپنے مسلمان بھائی کی برائی افسوس کے طور پر کی کہ مجھے نہایت افسوس ہے کہ وہ ایسے کام کرتا ہے یہ غیبت نہیں، کیونکہ جس کی برائی کی اگر اسے خبر بھی ہوگئی تواس صورت میں وہ برا نہ مانے گا، برا اس وقت مانے گا جب اسے معلوم ہو کہ اس کہنے والے کا مقصود ہی برائی کرنا ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ اس چیز کا اظہار اس نے حسرت و افسوس ہی کی وجہ سے کیا ہو ورنہ یہ غیبت ہے بلکہ ایک قسم کا نفاق اور ریا اور اپنی مدح سرائی ہے، کیونکہ اس نے مسلمان بھائی کی برائی کی اور ظاہر یہ کیا کہ برائی مقصود نہیں یہ نفاق ہوا اور لوگوں پر یہ ظاہر کیا کہ یہ کام میں اپنے لیے اور دوسروں کے لیے برا جانتاہوں یہ ریا ہے اور چونکہ غیبت کو غیبت کے طور پر نہیں کیا، لہٰذا اپنے کو صلحا میں سے ہونا بتایا یہ تزکیہ نفس اور خود ستائی ہوئی۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: کسی بستی یا شہ ر والوں کی برائی کی، مثلاً یہ کہا کہ وہاں کے لوگ ایسے ہیں، یہ غیبت نہیں کیونکہ ایسے کلام کا یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہاں کے سب ہی لوگ ایسے ہیں بلکہ بعض لوگ مراد ہوتے ہیں اور جن بعض کو کہا گیا وہ معلوم نہیں، غیبت اس صورت میں ہوتی ہے جب معین و معلوم ا شخاص کی برائی ذکر کی جائے اور اگراس کا مقصود وہاں کے تمام لوگوں کی برائی کرنا ہے تو یہ غیبت ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹،ص۶۷۳.
2 ۔ یعنی برائی کی روک تھام۔
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹،ص۶۷۳.
4 ۔ المرجع السابق،ص۶۷۴.
مسئلہ ۶: فقیہ ابواللیث نے فرمایا کہ غیبت چار ۴قسم کی ہے:
ایک کفر اس کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص غیبت کررہا ہے اس سے کہا گیا کہ غیبت نہ کرو۔ کہنے لگا یہ غیبت نہیں میں سچا ہوں، اس شخص نے ایک حرام قطعی کو حلال بتایا۔
دوسری صورت نفا ق ہے کہ ایک شخص کی برائی کرتا ہے اور اس کا نام نہیں لیتا مگر جس کے سامنے برائی کرتا ہے، وہ اس کو جانتا پہچانتا ہے، لہٰذا یہ غیبت کرتا ہے اور اپنے کو پرہیز گار ظاہر کرتا ہے، یہ ایک قسم کا نفاق ہے۔
تیسری صورت معصیت ہے وہ یہ کہ غیبت کرتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ یہ حرام کام ہے ایسا شخص توبہ کرے۔
چوتھی صورت مباح ہے وہ یہ کہ فاسق معلن یا بدمذہب کی برائی بیان کرے، بلکہ جبکہ لوگوں کو اس کے شر سے بچانا مقصود ہو تو ثواب ملنے کی امید ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: جو شخص علانیہ برا کام کرتا ہے اور اس کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ لوگ اسے کیا کہیں گے، اس کی اس بری حرکت کا بیان کرنا غیبت نہیں، مگر اس کی دوسری باتیں جو ظاہر نہیں ہیں ان کو ذکر کرنا غیبت میں داخل ہے۔ حدیث میں ہے کہ ''جس نے حیا کا حجاب اپنے چہرے سے ہٹا دیا، اس کی غیبت نہیں۔''(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: جس سے کسی بات کا مشورہ لیا گیا وہ اگر اس شخص کا عیب و برائی ظاہر کرے جس کے متعلق مشورہ ہے یہ غیبت نہیں۔ حدیث میں ہے، ''جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہے۔''(3)لہٰذا اس کی برائی ظاہر نہ کرنا خیانت ہے، مثلاً کسی کے یہاں اپنا یا اپنی اولاد وغیرہ کا نکاح کرنا چاہتا ہے دوسرے سے اس کے متعلق تذکرہ کیا کہ میرا ارادہ ایسا ہے تمھاری کیا راے ہے اس شخص کو جو کچھ معلومات ہیں بیان کردینا غیبت نہیں۔
اسی طرح کسی کے ساتھ تجارت وغیرہ میں شرکت کرنا چاہتا ہے یا اس کے پاس کوئی چیز امانت رکھنا چاہتا ہے یا کسی کے پڑوس میں سکونت کرنا چاہتا ہے اور اس کے متعلق دوسرے سے مشورہ لیتا ہے یہ شخص اس کی برائی بیان کرے غیبت نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جو بدمذہب اپنی بدمذہبی چھپائے ہوئے ہے، جیسا کہ روافض کے یہاں تقیہ ہے یا آج کل کے بہت سے وہابی بھی اپنی وہابیت چھپاتے اور خود کو سنی ظاہر کرتے ہیں اور جب موقع پاتے ہیں تو بدمذہبی کی آہستہ آہستہ تبلیغ کرتے ہیں۔
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹،ص۶۷۴.
2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹،ص۶۷۴.
''شعب الإیمان''، باب في الستر...إلخ،الحدیث:۹۶۶۴، ج۷،ص۱۰۸.
3 ۔''سنن أبی داود''،کتاب الأدب، باب فی المشورۃ،الحدیث:۵۱۲۸،ج۴،ص۴۲۹۔۴۳۰.
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹،ص۶۷۵.
ان کی بدمذہبی کا اظہار غیبت نہیں کہ لوگوں کو ان کے مکرو شر سے بچانا ہے اور اگر اپنی بدمذہبی کو چھپاتا نہیں بلکہ علانیہ ظاہر کرتا ہے، جب بھی غیبت نہیں کہ وہ علانیہ برائی کرنے والوں میں داخل ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: کسی کے ظلم کی شکایت حاکم کے پاس کرنا بھی غیبت نہیں، مثلاً یہ کہ فلاں شخص نے مجھ پر یہ ظلم و زیادتی کی ہے، تاکہ حاکم اس کا انصاف و داد رسی کرے۔ اسی طرح مفتی کے سامنے استفتا پیش کرنے میں کسی کی برائی کی کہ فلاں شخص نے میرے ساتھ یہ کیا ہے اس سے بچنے کی کیا صورت ہے۔ مگر اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ نام نہ لے، بلکہ یوں کہے کہ ایک شخص نے ایک شخص کے ساتھ یہ کیا بلکہ زیدو عمرو سے تعبیر کرے، جیسا کہ اس زمانہ میں استفتا کی عموماً یہی صورت ہوتی ہے پھر بھی اگر نام لے دیا جب بھی جائز ہے اس میں بھی قباحت نہیں۔
جیسا کہ حدیث صحیح میں آیا، کہ ہند نے ابوسفیان رضی اللہ تعالٰی عنہما کے متعلق حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں شکایت کی کہ وہ بخیل ہیں اتنا نفقہ نہیں دیتے جو مجھے اور میرے بچوں کو کافی ہو مگر جبکہ میں ان کی لاعلمی میں کچھ لے لوں، ارشاد فرمایاکہ ''تم اتنا لے سکتی ہو جو معروف کے ساتھ تمھارے اور بچوں کے لیے کافی ہو۔'' (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: ایک صورت اس کے جواز کی یہ ہے کہ اس سے مقصود مبیع کا عیب بیان کرنا ہو مثلاً غلام کو بیچنا چاہتا ہے اور اس غلام میں کوئی عیب ہے چور یا زانی ہے اس کا عیب مشتری کے سامنے بیان کردینا جائز ہے۔ یوہیں کسی نے دیکھا کہ مشتری بائع کو خراب روپیہ دیتا ہے اس سے اس کی حرکت کو ظاہر کرسکتا ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: ایک صورت جواز کی یہ بھی ہے کہ اس عیب کے ذکر سے مقصود اس کی برائی نہیں ہے، بلکہ اس شخص کی معرفت و شناخت مقصود ہے مثلاً جو شخص ان عیوب کے ساتھ ملقب ہے تو مقصود معرفت ہے نہ بیان عیب۔ جیسے اعمی، اعمش، اعرج، احول، صحابہ کرام میں عبداﷲبن اُم مکتوم نابینا تھے اور روایتوں میں ان کے نام کے ساتھ اعمیٰ آتا ہے۔ محدثین میں بڑے زبردست پایہ کے سلیمان اعمش ہیں اعمش کے معنی چندھے کے ہیں یہ لفظ ان کے نام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہاں بھی بعض مرتبہ محض پہچاننے کے لیے کسی کو اندھا یا کانا یا ٹھگنا یا لمبا کہا جاتا ہے، یہ غیبت میں داخل نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: حدیث کے راویوں اور مقدمہ کے گواہوں اور مصنفین پر جرح کرنا اور ان کے عیوب بیان کرنا جائز ہے
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹،ص۶۷۵.
2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۵.
''صحیح البخاري''،کتاب النفقات، باب إذا لم ینفق الرجل فللمرأۃ ان تاخذ بغیرعلمہ...إلخ،الحدیث:۵۳۶۴،ج۳،ص۵۱۶.
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۵.
4 ۔ المرجع السابق.
اگر راویوں کی خرابیاں بیان نہ کی جائیں تو حدیث صحیح اور غیر صحیح میں امتیاز نہ ہوسکے گا۔ اسی طرح مصنفین کے حالات نہ بیان کیے جائیں تو کتب معتمدہ وغیرمعتمدہ میں فرق نہ رہے گا۔ گواہوں پر جرح نہ کی جائے تو حقوق مسلمین کی نگہداشت نہ ہوسکے گی، اول سے آخر تک گیارہ صورتیں وہ ہیں، جو بظاہر غیبت ہیں اور حقیقت میں غیبت نہیں اور ان میں عیوب کا بیان کرنا جائز ہے، بلکہ بعض صورتوں میں واجب ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: غیبت جس طرح زبان سے ہوتی ہے فعل سے بھی ہوتی ہے۔ صراحت کے ساتھ برائی کی جائے یا تعریض و کنایہ کے ساتھ ہو سب صورتیں حرام ہیں، برائی کو جس نوعیت سے سمجھا ئے گا سب غیبت میں داخل ہے۔ تعریض کی یہ صورت ہے کہ کسی کے ذکر کرتے وقت یہ کہا کہ الحمدﷲمیں ایسا نہیں جس کا یہ مطلب ہوا کہ وہ ایسا ہے کسی کی برائی لکھ دی یہ بھی غیبت ہے سر وغیرہ کی حرکت بھی غیبت ہوسکتی ہے، مثلاً کسی کی خوبیوں کا تذکرہ تھا اس نے سر کے اشارہ سے یہ بتانا چاہا کہ اس میں جو کچھ برائیاں ہیں ان سے تم واقف نہیں، ہونٹوں اور آنکھوں اور بھوؤں اور زبان یا ہاتھ کے اشارہ سے بھی غیبت ہوسکتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں، ایک عورت ہمارے پاس آئی، جب وہ چلی گئی تو میں نے ہاتھ کے اشارہ سے بتایا کہ وہ ٹھگنی ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے ارشاد فرمایاکہ ''تم نے اس کی غیبت کی۔''(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: ایک صورت غیبت کی نقل ہے مثلاً کسی لنگڑے کی نقل کرے اور لنگڑا کر چلے یا جس چال سے کوئی چلتا ہے اس کی نقل اتاری جائے یہ بھی غیبت ہے، بلکہ زبان سے کہہ دینے سے یہ زیادہ برا ہے کیونکہ نقل کرنے میں پوری تصویر کشی اور بات کو سمجھانا پایا جاتا ہے کہ کہنے میں وہ بات نہیں ہوتی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: غیبت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ یہ کہا کہ ایک شخص ہمارے پاس اس قسم کا آیا تھا یا میں ایک شخص کے پاس گیا جو ایسا ہے اور مخاطب کو معلوم ہے کہ فلاں شخص کا ذکر کرتا ہے، اگرچہ متکلم نے کسی کا نام نہیں لیا مگر جب مخاطب کو ان لفظوں سے سمجھادیا تو غیبت ہوگئی کیونکہ جب مخاطب کو یہ معلوم ہے کہ اس کے پاس فلاں آیا تھا یا یہ فلاں کے پاس گیا تھا تو اب نام لینا نہ لینا دونوں کا ایک حکم ہے، ہاں اگر مخاطب نے شخص معین کو نہیں سمجھا مثلاً اس کے پاس بہت سے لوگ آئے یا یہ بہتوں کے یہاں
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹،ص۶۷۵.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹،ص۶۷۶.
انظر:''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا،الحدیث:۲۵۱۰۳، ج۹،ص۴۶۳.
و''شعب الإیمان'' للبیھقي، باب في تحریم أعراض الناس،الحدیث:۶۷۶۷، ج۵،ص۳۱۳.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۶.
گیا تھا مخاطب کو یہ پتا نہ چلا کہ یہ کس کے متعلق کہہ رہا ہے تو غیبت نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: جس طرح زندہ آدمی کی غیبت ہوسکتی ہے مرے ہوئے مسلمان کو برائی کے ساتھ یاد کرنا بھی غیبت ہے، جبکہ وہ صورتیں نہ ہوں جن میں عیوب کا بیان کرنا غیبت میں داخل نہیں۔ مسلم کی غیبت جس طرح حرام ہے کافر ذمی کی بھی ناجائز ہے کہ ان کے حقوق بھی مسلم کی طرح ہیں کافر حربی کی برائی کرنا غیبت نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: کسی کی برائی اس کے سامنے کرنا اگر غیبت میں داخل نہ بھی ہو جبکہ غیبت میں پیٹھ پیچھے برائی کرنا معتبر ہو مگر یہ اس سے بڑھ کر حرام ہے کیونکہ غیبت میں جو وجہ ہے وہ یہ ہے کہ ایذاء مسلم ہے وہ یہاں بدرجہ اَولی پائی جاتی ہے غیبت میں تو یہ احتمال ہے کہ اسے اطلاع ملے یا نہ ملے اگر اسے اطلاع نہ ہوئی تو ایذا بھی نہ ہوئی، مگر احتمال ایذا کو یہاں ایذا قرار دے کر شرع مطہر نے حرام کیا اور مونھ پر اس کی مذمت کرنا تو حقیقۃً ایذا ہے پھر یہ کیوں حرام نہ ہو۔ (3) (ردالمحتار)
بعض لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ تم فلاں کی غیبت کیوں کرتے ہو، وہ نہایت دلیری کے ساتھ یہ کہتے ہیں مجھے اس کا ڈر اپڑا ہے چلو میں اس کے مونھ پر یہ باتیں کہہ دوں گا ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا غیبت و حرام ہے اور مونھ پر کہو گے تو یہ دوسرا حرام ہوگا اگر تم اس کے سامنے کہنے کی جرأت رکھتے ہو تو اس کی وجہ سے غیبت حلال نہیں ہوگی۔
مسئلہ ۱۹: غیبت کے طور پر جو عیوب بیان کیے جائیں وہ کئی قسم کے ہیں، اس کے بدن میں عیب ہو مثلاً اندھا، کانا، لنگڑا، لولا، ہونٹ کٹا، نک چپٹا وغیرہ یا نسب کے اعتبار سے وہ عیب سمجھا جاتا ہو مثلاً اس کے نسب میں یہ خرابی ہے اس کی دادی، نانی چماری تھی، ہندوستان والوں نے پیشہ کو بھی نسب ہی کا حکم دے رکھا ہے، لہٰذا بطور عیب کسی کو دھنا جولاہا کہنا بھی غیبت و حرام ہے، اخلاق و افعال کی برائی یا اس کی بات چیت میں خرابی مثلاً ہکلایا توتلایا دین داری میں وہ ٹھیک نہ ہو یہ سب صورتیں غیبت میں داخل ہیں، یہاں تک کہ اس کے کپڑے اچھے نہ ہوں یا مکان اچھا نہ ہو ان چیزوں کو بھی اس طرح ذکر کرنا جو اسے برا معلوم ہو،نا جائز ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: جس کے سامنے کسی کی غیبت کی جائے اسے لازم ہے کہ زبان سے انکار کردے مثلاً کہدے کہ میرے سامنے اس کی برائی نہ کرو۔ اگر زبان سے انکار کرنے میں اس کو خوف و اندیشہ ہے تو دل سے اسے برا جانے اور اگر ممکن ہو تو یہ شخص جس کے سامنے برائی کی جارہی ہے وہاں سے اٹھ جائے یا اس بات کو کاٹ کر کوئی دوسری بات شروع کردے ایسا نہ کرنے
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۶.
2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۶.
3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق.
میں سننے والا بھی گناہ گار ہوگا، غیبت کا سننے والا بھی غیبت کرنے والے کے حکم میں ہے۔ حدیث میں ہے، ''جس نے اپنے مسلم بھائی کی آبروغیبت سے بچائی، اﷲتعالیٰ کے ذمہ کرم پر یہ ہے کہ وہ اسے جہنم سے آزاد کردے۔''(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: جس کی غیبت کی اگر اس کو اس کی خبر ہوگئی تو اس سے معافی مانگنی ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے سامنے یہ کہے کہ میں نے تمھاری اس اس طرح غیبت یا برائی کی تم معاف کردو اس سے معاف کرائے اور توبہ کرے تب اس سے بریئ الذمہ ہوگا اور اگر اس کو خبر نہ ہوئی ہو تو توبہ اور ندامت کافی ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: جس کی غیبت کی ہے اسے خبر نہ ہوئی اور اس نے توبہ کرلی اس کے بعد اسے خبر ملی کہ فلاں نے میری غیبت کی ہے آیا اس کی توبہ صحیح ہے یا نہیں؟ اس میں علما کے دوقول ہیں ایک قول یہ ہے کہ وہ توبہ صحیح ہے اﷲ تعالیٰ دونوں کی مغفرت فرمادے گا، جس نے غیبت کی اس کی مغفرت توبہ سے ہوئی اور جس کی غیبت کی گئی اس کو جو تکلیف پہنچی اور اس نے درگزر کیا، اس وجہ سے اس کی مغفرت ہوجائے گی۔
اور بعض علما یہ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ معلق رہے گی اگر وہ شخص جس کی غیبت ہوئی خبر پہنچنے سے پہلے ہی مرگیا تو توبہ صحیح ہے اور توبہ کے بعد اسے خبر پہنچ گئی تو صحیح نہیں، جب تک اس سے معاف نہ کرائے۔ بہتان کی صورت میں توبہ کرنا اور معافی مانگنا ضروری ہے بلکہ جن کے سامنے بہتان باندھا ہے ان کے پاس جا کر یہ کہنا ضرور ہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا جو فلاں پر میں نے بہتان باندھا تھا۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: معافی مانگنے میں یہ ضرور ہے کہ غیبت کے مقابل میں اس کی ثناء حسن کرے اور اس کے ساتھ اظہار محبت کرے کہ اس کے دل سے یہ بات جاتی رہے اور فرض کرو اس نے زبان سے معاف کردیا مگر اس کا دل اس سے خوش نہ ہوا تو اس کا معافی مانگنا اور اظہار محبت کرنا غیبت کی برائی کے مقابل ہوجائے گا اور آخرت میں مواخذہ نہ ہوگا۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: اس نے معافی مانگی اور اس نے معاف کردیا مگر اس نے سچائی اور خلوص دل سے معافی نہیں مانگی تھی محض ظاہری اور نمائشی یہ معافی تھی تو ہوسکتا ہے کہ آخرت میں مؤاخذہ ہو، کیونکہ اس نے یہ سمجھ کر معاف کیا تھا کہ یہ خلوص کے ساتھ معافی مانگ رہا ہے۔ (5) (ردالمحتار)
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹،ص۶۷۷.
''مجمع الزوائد''،کتاب الأدب، باب فیمن ذب...إلخ،الحدیث:۱۳۱۵۰،ج۸،ص۱۷۹.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۷.
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۷.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۲۵: امام غزالی علیہ الرحمۃ یہ فرماتے ہیں، کہ جس کی غیبت کی وہ مرگیا یا کہیں غائب ہوگیا اس سے کیونکر معافی مانگے یہ معاملہ بہت دشوار ہوگیا، اس کو چاہیے کہ نیک کام کی کثرت کرے تاکہ اگر اس کی نیکیاں غیبت کے بدلے میں اسے دے دی جائیں، جب بھی اس کے پاس نیکیاں باقی رہ جائیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: اگر اس کی ایسی برائیاں بیان کی ہیں جن کو وہ چھپاتا تھا یعنی یہ نہیں چاہتا تھا کہ لوگ ان پر مطلع ہوں تو معافی مانگنے میں ان عیوب کی تفصیل نہ کرے، بلکہ مبہم طور پر یہ کہدے کہ میں نے تمھارے عیوب لوگوں کے سامنے ذکر کیے ہیں تم معاف کردو اور اگر ایسے عیوب نہ ہوں تو تفصیل کے ساتھ بیان کرے۔ اسی طرح اگر وہ باتیں ایسی ہوں جن کے ظاہر کرنے میں فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے تو ظاہر نہ کرے بعض علما ء کا یہ قول ہے کہ حقوق مجہولہ کو معاف کردینا بھی صحیح ہے اور اس طرح بھی معافی ہوسکتی ہے، لہٰذا اس قول پر بنا کی جائے اور ایسی خاص صورتوں میں تفصیل نہ کی جائے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: دو شخصوں میں جھگڑا تھا دونوں نے معذرت کے ساتھ مصافحہ کیا یہ بھی معافی کا ایک طریقہ ہے۔ جس کی غیبت کی ہے وہ مرگیا تو ورثہ کو یہ حق نہیں کہ معاف کریں ان کے معاف کرنے کا اعتبار نہیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: کسی کے مونھ پر اس کی تعریف کرنا منع ہے اور پیٹھ پیچھے تعریف کی مگر یہ جانتا ہے کہ میرے اس تعریف کرنے کی خبر اس کو پہنچ جائے گی یہ بھی منع ہے، تیسری صورت یہ ہے کہ پس پشت تعریف کرتا ہے اس کا خیال بھی نہیں کرتا کہ اسے خبر پہنچ جائے گی یا نہ پہنچے گی یہ جائز ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ تعریف میں جو خوبیاں بیان کرے وہ اس میں ہوں، شعراء کی طرح اَن ہوئی باتوں کے ساتھ تعریف نہ کرے کہ یہ نہایت درجہ قبیح ہے۔ (4) (عالمگیری)
قرآن مجید میں ارشاد ہوا:
(وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوۡا ؕ وَلِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ ؕ وَسْئَلُوا اللہَ مِنۡ فَضْلِہٖ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿۳۲﴾)
(5)
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹،ص۶۷۷.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق،ص۶۷۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثالث والعشرون في الغیبۃ، ج۵،ص۳۶۳.
5 ۔ پ۵، النسآء: ۳۲.
''اور اس کی آرزو مت کرو جس سے اﷲ (عزوجل)نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی، مردوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ اور اﷲ(عزوجل)سے اس کا فضل مانگو، بے شک اﷲ (عزوجل)ہر چیز کو جانتا ہے۔''اور فرماتا ہے:
(وَ مِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ٪﴿۵﴾ )
(1)
''تم کہو!میں پناہ مانگتا ہوں حاسد کے شر سے، جب وہ حسد کرتا ہے۔''
حدیث ۱: ابن ماجہ نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''حسد نیکیوں کو اس طرح کھا تا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھاتی ہے اور صدقہ خطا کو بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے۔''(2) اسی کی مثل ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۲: دیلمی نے مسند الفردوس میں معاویہ بن حیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''حسد ایمان کو ایسا بگاڑتا ہے، جس طرح ایلوا (3) شہد کو بگاڑتا ہے۔''(4)
حدیث ۳: امام احمدو ترمذی نے زبیر بن عوام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''اگلی امت کی بیماری تمھاری طرف بھی آئی وہ بیماری حسدو بغض ہے، وہ مونڈنے والا ہے دین کو مونڈتا ہے بالوں کونہیں مونڈتا، قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی جان ہے!جنت میں نہیں جاؤ گے جب تک ایمان نہ لاؤ اور مومن نہیں ہو گے جب تک آپس میں محبت نہ کرو، میں تمھیں ایسی چیز نہ بتادوں کہ جب اسے کرو گے آپس میں محبت کرنے لگو گے، آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔''(5)
حدیث ۴: طبرانی نے عبداﷲبن بسر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''حسد اور چغلی اور کہانت نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں۔''(6)یعنی مسلمان کو ان چیزوں سے بالکل تعلق نہ ہونا چاہیے۔
1 ۔ پ۳۰، الفلق: ۵.
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الزھد، باب الحسد،الحدیث:۴۲۱۰،ج۴ص۴۷۳.
3 ۔ ایلوا: ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رَس ہے۔
4 ۔ ''الجامع الصغیر'' للسیوطي، حرف الحاء،الحدیث:۳۸۱۹،ص۲۳۲.
5 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الزبیر بن العوام،الحدیث:۱۴۱۲، ۱۴۳۰، ج۱،ص۳۴۸، ۳۵۲.
و''سنن الترمذي''،کتاب صفۃ القیامۃ...إلخ، باب :۱۲۱،الحدیث:۲۵۱۸،ج۴،ص۲۲۸.
6 ۔ ''مجمع الزوائد''،کتاب الأدب، باب ماجاء في الغیبۃ والنمیمۃ،الحدیث:۱۳۱۲۶، ج۸،ص۱۷۲۔۱۷۳.
حدیث ۵: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''آپس میں نہ حسد کرو، نہ بغض کرو، نہ پیٹھ پیچھے برائی کرو اور اﷲ(عزوجل)کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو۔'' (1)
حدیث ۶: صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ ''حسد نہیں ہے مگر دو پر، ایک وہ شخص جسے خدا نے کتاب دی یعنی قرآن کا علم عطا فرمایا وہ اس کے ساتھ را ت میں قیام کرتا ہے اور دوسرا وہ کہ خدا نے اسے مال دیا وہ دن اور رات کے اوقات میں صدقہ کرتا ہے۔''(2)
حدیث ۷: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''حسد نہیں ہے مگر دو شخصوں پر ایک وہ شخص جسے خدا نے قرآن سکھایا وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہے، اس کے پڑوسی نے سنا تو کہنے لگا، کاش! مجھے بھی ویسا ہی دیا جاتا جو فلاں شخص کو دیا گیا تو میں بھی اُس کی طرح عمل کرتا۔ دوسرا وہ شخص کہ خدا نے اسے مال دیا وہ حق میں مال کو خرچ کرتا ہے، کسی نے کہا، کاش!مجھے بھی ویسا ہی دیا جاتا جیسا فلاں شخص کو دیا گیا تو میں بھی اسی کی طرح عمل کرتا۔''(3)
ان دونوں حدیثوں میں حسد سے مراد غبطہ ہے جس کو لوگ رشک کہتے ہیں، جس کے یہ معنی ہیں کہ دوسرے کو جو نعمت ملی ویسی مجھے بھی مل جائے اوریہ آرزو نہ ہو کہ اسے نہ ملتی یا اس سے جاتی رہے اور حسد میں یہ آرزو ہوتی ہے، اسی وجہ سے حسد مذموم ہے اور غبطہ مذموم نہیں۔ امام بخاری کے ترجمۃ الباب سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان حدیثوں میں غبطہ مراد ہے، لہٰذا ان حدیثوں کے یہ معنی ہوئے کہ یہی دوچیزیں غبطہ کرنے کی ہیں، کہ یہ دونوں خدا کی بہت بڑی نعمتیں ہیں غبطہ ان پر کرنا چاہیے نہ کہ دوسری نعمتوں پر، واﷲتعالیٰ اعلم بالصواب۔
حدیث ۸: بیہقی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اﷲتعالیٰ شعبان کی پندرھویں شب میں اپنے بندوں پر خاص تجلی فرماتا ہے، جو استغفار کرتے ہیں ان کی مغفرت کرتا ہے اور جو رحم کی درخواست کرتے ہیں ان پر رحم کرتا ہے اور عداوت والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔'' (4)
حدیث ۹: امام احمد نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ہر ہفتہ میں دوبار دو شنبہ اور پنج شنبہ کو لوگوں کے اعمال نامے پیش ہوتے ہیں، ہر بندے کی مغفرت ہوتی ہے مگر وہ شخص کہ اس کے اور
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب (یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا...إلخ)،الحدیث:۶۰۶۶،ج۴،ص۱۱۷.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب فضائل القرآن، باب إغتباط صاحب القرآن،الحدیث:۵۰۲۵،ج۳،ص۴۱۰.
3 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۵۰۲۶،ج۳،ص۴۱۰.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، ماجاء في لیلۃ النصف من شعبان،الحدیث:۳۸۳۵،ج۳،ص۳۸۲۔۳۸۳.
اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو ان کے متعلق یہ فرماتا ہے:''انھیں چھوڑ دو اس وقت تک کہ باز آجائیں۔''(1)
حدیث ۱۰: طبرانی نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''دو شنبہ اور پنج شنبہ کو اﷲتعالیٰ کے حضور لوگوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں، سب کی مغفرت فرمادیتا ہے مگر جو دو شخص باہم عداوت رکھتے ہیں اور وہ شخص جو قطع رحم کرتا ہے۔''(2)
حدیث ۱۱: امام احمد و ابو داودو ترمذی ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''دو شنبہ اور پنج شنبہ کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، جس بندہ نے شرک نہیں کیا ہے اسکی مغفرت کی جاتی ہے، مگر جو شخص ایسا ہے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہے، ان کے متعلق کہا جاتا ہے انھیں مہلت دو یہاں تک کہ یہ دونوں صلح کرلیں۔''(3)
حسد حرام ہے، احادیث میں اس کی بہت مذمت وار دہوئی۔ حسد کے یہ معنی ہیں کہ کسی شخص میں خوبی دیکھی اس کو اچھی حالت میں پایا اس کے دل میں یہ آرزو ہے کہ یہ نعمت اس سے جاتی رہے اور مجھے مل جائے اور اگر یہ تمنا ہے کہ میں بھی ویسا ہوجاؤں مجھے بھی وہ نعمت مل جائے یہ حسد نہیں اس کو غبطہ کہتے ہیں جس کو لوگ رشک سے تعبیر کرتے ہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: یہ آرزو کہ جو نعمت فلاں کے پاس ہے وہ بعینھا (5)مجھے مل جائے یہ حسد ہے، کیونکہ بعینہ وہی چیز اس کو جب ملے گی کہ اس سے جاتی رہے اور اگر یہ آرزو ہے کہ اس کی مثل مجھے ملے یہ غبطہ ہے کیونکہ اس سے زائل ہونے کی آرزو نہیں پائی گئی۔ (6) (عالمگیری)حدیث میں فرمایا ہے کہ ''حسد نہیں ہے مگر دو چیزوں میں، ایک وہ شخص جس کو خدا نے مال دیا ہے اور وہ راہِ حق میں صرف کرتا ہے، دوسرا وہ شخص جس کو خدا نے علم دیا ہے، وہ لوگوں کو سکھاتا ہے اور علم کے موافق فیصلہ کرتا ہے۔''(7)
1 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب الاخلاق، رقم: ۷۴۴۹، ج۳،ص۱۸۷.
2 ۔ ''المعجم الکبیر''،باب الالف،الحدیث:۴۰۹، ج۱،ص۱۶۷.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب فیمن یھجرأخاہ المسلم،الحدیث:۴۹۱۶،ج۴،ص۳۶۴.
و''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في المتھاجرین،الحدیث:۲۰۳۰،ج۳،ص۴۱۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثالث والعشرون في الغیبۃ،ج۵،ص۳۶۲۔۳۶۳.
5 ۔ یعنی ویسے ہی۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثالث والعشرون في الغیبۃ، ج۵،ص۳۶۳.
7 ۔''صحیح البخاري''،کتاب العلم، باب الإغتباط فی العلم والحکمۃ،الحدیث:۷۳،ج۱،ص۴۳.
اس حدیث سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دو چیزوں میں حسد جائز ہے مگر بغور دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی حسد حرام ہے، بعض علما نے یہ بتایا کہ اس حدیث میں حسد بمعنی غبطہ ہے۔ امام بخاری علیہ الرحمۃ کے ترجمۃ الباب سے بھی یہی پتا چلتا ہے۔
اور بعض نے کہا کہ حدیث کا یہ مطلب ہے کہ اگر حسد جائز ہوتا تو ان میں جائز ہوتا مگر ان میں بھی ناجائز ہے۔ جیسا کہ حدیث
لَا شُؤْمَ اِلَّا فِی الدَّارِ.
(1) (الحدیث)میں اسی قسم کی تاویل کی جاتی ہے۔
اور بعض علما نے فرمایا کہ معنی حدیث یہ ہیں کہ حسد انھیں دونوں میں ہوسکتا ہے اور چیزیں تو اس قابل ہی نہیں کہ ان میں حسد پایا جاسکے کہ حسد کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے میں کوئی نعمت دیکھے اوریہ آرزو کرے کہ وہ مجھے مل جائے اور دنیا کی چیزیں نعمت نہیں کہ جن کی تحصیل کی فکر ہو دنیا کی چیزوں کا مآل اﷲ تعالیٰ کی ناراضی ہے اور یہ چیزیں وہ ہیں کہ ان کا مآل اﷲتعالیٰ کی خوشنودی و رضا ہے، لہٰذا نعمت جس کا نام ہے وہ یہی ہیں ان میں حسد ہوسکتا ہے۔ (2) (عالمگیری وغیرہ)
قرآن مجید میں بہت سے مواقع پر اس کی برائی ذکر کی گئی اور احادیث اس کے متعلق بہت ہیں بعض ذکر کی جاتی ہیں۔
حدیث ۱: ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہے۔(3)یعنی ظلم کرنے والا قیامت کے دن سخت مصیبتوں اور تاریکیوں میں گھرا ہوا ہوگا۔ (بخاری و مسلم)
حدیث ۲: اﷲتعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے، مگر جب پکڑتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں، اس کے بعد یہ آیت تلاوت کی:
(وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰی وَہِیَ ظَالِمَۃٌ ؕ)
(4)
''ایسی ہی تیرے رب کی پکڑ ہے، جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو پکڑتا ہے۔''
حدیث ۳: جس کے ذمہ اس کے بھائی کا کوئی حق ہو وہ آج اس سے معاف کرالے، اس سے پہلے کہ نہ اشرفی ہوگی نہ روپیہ بلکہ اس کے عمل صالح کو بقدر حق لے کر دوسرے کو دیدیے جائیں گے اور اگر اس کے پاس نیکیاں
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأدب،باب لاعدویٰ ولاطیرۃ،الحدیث:۱۱۷۔(۲۲۲۵)،ص۱۲۲۳.
کتب حدیث میں یہ حدیث ہمیں ان الفاظ کے ساتھ نہیں ملی صحیح مسلم میں یہ حدیث ان الفاظ ''الشؤم فی الداروالمرأۃ والفرس''کے ساتھ موجودہے اس وجہ سے صحیح مسلم کاحوالہ ذکرکردیا۔...علمیہ
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثالث والعشرون في الغیبۃ، ج۵،ص۳۶۲،وغیرہ.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب المظالم، باب الظلم ظلمات یوم القیامۃ،الحدیث:۲۴۴۷،ج۲،ص۱۲۷.
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب التفسیر،باب (وکذلک اخذ ربک...إلخ)الحدیث:۴۶۸۶،ج۳،ص۲۴۷.
پ۱۲، ھود: ۱۰۲.
نہیں ہوں گی تو دوسرے کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے۔ (1) (بخاری)
حدیث ۴: تمھیں معلوم ہے مفلس کون ہے؟ لوگوں نے عرض کی، ہم میں مفلس وہ ہے کہ نہ اس کے پاس روپیہ ہے نہ متاع۔ فرمایا:''میری امت میں مفلس وہ ہے کہ قیامت کے دن نماز، روزہ، زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ کسی کو گالی دی ہے، کسی پر تہمت لگائی ہے، کسی کا مال کھالیا ہے، کسی کا خون بہایا ہے، کسی کو مارا ہے۔ لہٰذا اس کی نیکیاں اس کو دے دی جائیں گی اگر لوگوں کے حقوق پورے ہونے سے پہلے نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان کی خطائیں اس پر ڈال دی جائیں گی پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔''(2) (مسلم شریف)
حدیث ۵: اِمعہ نہ بنو کہ یہ کہنے لگو کہ لوگ اگر ہمارے ساتھ احسان کریں گے تو ہم بھی احسان کریں گے اور اگر ہم پر ظلم کریں گے تو ہم بھی ان پر ظلم کریں گے، بلکہ اپنے نفس کو اس پر جماؤ کہ لوگ احسان کریں تو تم بھی احسان کرو اور اگر برائی کریں تو تم ظلم نہ کرو۔ (3) (ترمذی)
حدیث ۶: جو شخص اﷲ(عزوجل)کی خوشنودی کاطالب ہو لوگوں کی ناراضی کے ساتھ یعنی اﷲ (عزوجل) راضی ہو، چاہے لوگ ناراض ہوں ہوا کریں اس کی کوئی پروا نہ کرے، اﷲتعالٰی لوگوں کے شر سے اس کی کفایت کریگا اور جو شخص لوگوں کو خوش رکھنا چاہے اﷲ(عزوجل)کی ناراضی کے ساتھ، اﷲتعالٰی اس کو آدمیوں کے سپرد کر دے گا۔ (4) (ترمذی)
حدیث ۷: سب سے بُرا قیامت کے دن وہ بندہ ہے، جس نے دوسرے کی دنیا کے بدلے میں اپنی آخرت برباد کردی۔ (5) (ابن ماجہ)
حدیث ۸: مظلوم کی بددعا سے بچ کہ وہ اﷲتعالیٰ سے اپنا حق مانگے گا اور کسی حق والے کے حق سے اﷲ (عزوجل)منع نہیں کریگا۔ (6) (بیہقی)
حدیث ۱: ایک شخص نے عرض کی، مجھے وصیت کیجیے۔ فرمایا:''غصہ نہ کرو۔''اس نے بار بار وہی سوال کیا، جواب
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب المظالم، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل...إلخ،الحدیث:۲۴۴۹،ج۲،ص۱۲۸.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر و الصلۃ...إلخ، باب تحریم الظلم،الحدیث:۵۹۔(۲۵۸۱)،ص۱۳۹۴.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في الاحسان والعفو،الحدیث:۲۰۱۴،ج۳،ص۴۰۵.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الزھد، باب:۶۵،الحدیث:۲۴۲۲،ج۴،ص۱۸۶.
5 ۔ ''سنن إبن ماجہ''،کتاب الدعا، باب إذا إلتقی المسلمان بسیفھما،الحدیث:۳۹۶۶،ج۴،ص۳۳۹.
6 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في طاعۃ اولی الأمر، فصل في ذکر ماورد من التشدید في الظلم،الحدیث:۷۴۶۴،ج۶،ص۴۹.
یہی ملا کہ غصہ نہ کرو۔ (1) (بخاری)
حدیث ۲: قوی وہ نہیں جو پہلوان ہو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ قوی وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے کو قابو میں رکھے۔ (2) (بخاری، مسلم)
حدیث ۳: اﷲ تعالٰی کی خوشنودی کے لیے بندہ نے غصہ کا گھونٹ پیا، اس سے بڑھ کر اﷲ(عزوجل)کے نزدیک کوئی گھونٹ نہیں۔ (3) (احمد)
حدیث ۴: قرآن مجید کی آیت ہے:
(اِدْفَعْ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَبَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾)
(4)
''اس کے ساتھ دفع کر جو احسن ہے پھر وہ شخص کہ تجھ میں اور اس میں عداوت ہے، ایسا ہوجائے گا گویا وہ خالص دوست ہے۔''
اس کی تفسیر میں حضرت عبداﷲبن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ غصہ کے وقت صبر کرے اور دوسرا اس کے ساتھ برائی کرے تو یہ معاف کر دے، جب ایسا کریں گے اﷲ(عزوجل)ان کو محفوظ رکھے گا اور ان کا دشمن جھک جائے گا گویا وہ خالص دوست قریب ہے۔ (5) (بخاری)
حدیث ۵: غصہ ایمان کو ایسا خراب کرتا ہے، جس طرح ایلوا شہد کو خراب کردیتا ہے۔ (6) (بیہقی)
حدیث ۶: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی، اے رب!کون بندہ تیرے نزدیک عزت والا ہے؟ فرمایا: ''وہ جو باوجود قدرت معاف کردے۔''(7) (بیہقی)
حدیث ۷: جو شخص اپنی زبان کو محفوظ رکھے گا، اﷲ(عزوجل)اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور جو اپنے غصہ کو روکے گا، قیامت کے دن اﷲتعالٰی اپنا عذاب اس سے روک دے گا اور جو اﷲ(عزوجل)سے عذر کریگا، اﷲ (عزوجل)اس کے عذر کو
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب،الحدیث:۶۱۱۶،ج۴،ص۱۳۱.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۶۱۱۴،ج۴،ص۱۳۰.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب،الحدیث:۶۱۲۲،ج۲،ص۴۸۲.
4 ۔ پ۲۴، حٰمۤ السجدۃ: ۳۴.
5 ۔ ''الدرالمنثور في تفسیر المأثور''،ج۷،ص۳۲۷.
6 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في حسن الخلق، فصل في ترک الغضب،الحدیث:۸۲۹۴،ج۶،ص۳۱۱.
7 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۸۳۲۷،ج۶،ص۳۱۹.
قبول فرمائے گا۔ (1) (بیہقی)
حدیث ۸: غصہ شیطا ن کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوتا ہے اورآگ پانی ہی سے بجھائی جاتی ہے، لہٰذا جب کسی کو غصہ آجائے تو وضو کرلے۔ (2) (ابو داود)
حدیث ۹: جب کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے، اگر غصہ چلا جائے فبہا ورنہ لیٹ جائے۔ (3) (احمد، ترمذی)
حدیث ۱۰: بعض لوگوں کوغصہ جلد آجاتا ہے اور جلد جاتا رہتا ہے، ایک کے بدلے میں دوسرا ہے اور بعض کو دیر میں آتا ہے اور دیر میں جاتا ہے یہاں بھی ایک کے بدلے میں دوسرا ہے یعنی ایک بات اچھی ہے اور ایک بری ادلا بدلا ہوگیا اور تم میں بہتر وہ ہیں کہ دیر میں انھیں غصہ آئے اورجلد چلا جائے اور بدتر وہ ہیں جنھیں جلد آئے اور دیر میں جائے۔ غصہ سے بچو کہ وہ آدمی کے دل پر ایک انگارا ہے، دیکھتے نہیں ہو کہ گلے کی رگیں پھول جاتی ہیں اور آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں جو شخص غصہ محسوس کرے لیٹ جائے اور زمین سے چپٹ جائے۔ (4)
حدیث ۱۱: میں تم کو جنت والوں کی خبر نہ دوں، وہ ضعیف ہیں جن کو لوگ ضعیف و حقیر جانتے ہیں۔ (مگر ہے یہ کہ)اگر اﷲ(عزوجل)پر قسم کھا بیٹھے تو اﷲ(عزوجل)اس کو سچا کردے اور کیا جہنم والوں کی خبر نہ دوں وہ سخت گو سخت خو تکبر کرنے والے ہیں۔ (5) (بخار، مسلم)
حدیث ۱۲: جس کسی کے دل میں رائی برابر ایمان ہوگا وہ جہنم میں نہیں جائے گا اور جس کسی کے دل میں رائی برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ (6) (مسلم)دونوں جملوں کی وہی تاویل ہے جو اس مقام میں مشہور ہے۔
حدیث۱۳: تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن نہ تو اﷲ تعالٰی کلام کریگا، نہ ان کو پاک کریگا، نہ ان کی طرف نظر فرمائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، بوڑھا ۱ زنا کار، بادشاہ ۲ کذاب اور محتاج ۳ متکبر۔ (7) (مسلم)
1 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في حسن الخلق، فصل في ترک الغضب،الحدیث:۸۳۱۱، ج۶،ص۳۱۵.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب ما یقال عندالغضب،الحدیث:۴۷۸۴،ج۴،ص۳۲۷.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أبي ذر الغفاری،الحدیث:۲۱۴۰۶،ج۸،ص۸۰۔۸۱.
4 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب، باب الأمر بالمعروف،الحدیث:۵۱۴۵،ج۳،ص۱۰۰.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب التفسیر، باب (عُتُـلٍّ بۢـَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیۡـمٍ)،الحدیث:۴۹۱۸،ج۳،ص۳۶۳.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ،الحدیث:۱۴۸۔(۹۱)،ص۶۱.
7 ۔ المرجع السابق، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار والمن بالعطیۃ...إلخ،الحدیث:۱۷۲۔(۱۰۷)،ص۶۸.
حدیث ۱۴: اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ ''کبریا اور عظمت میری صفتیں ہیں، جو شخص ان میں سے کسی ایک میں مجھ سے منازعت کریگا، اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔''(1) (مسلم)
حدیث ۱۵: آدمی اپنے کو (اپنے مرتبہ سے اونچے مرتبہ کی طرف)لے جاتا رہتا ہے یہاں تک کہ جبارین میں لکھ دیا جاتا ہے، پھر جو انھیں پہنچے گا اسے بھی پہنچے گا۔ (2) (ترمذی)
حدیث ۱۶: متکبرین کا حشر قیامت کے دن چیونٹیوں کی برابر جسموں میں ہوگا اور ان کی صورتیں آدمیوں کی ہوں گی، ہر طرف سے ان پر ذلت چھائے ہوئے ہوگی اون کو کھینچ کر جہنم کے قید خانہ کی طرف لے جائیں گے جس کا نام بولس ہے، ان کے اوپر آگوں کی آگ ہوگی، جہنمیوں کا نچوڑ انھیں پلایا جائے گا جس کو طینۃ الخبال کہتے ہیں۔ (3) (ترمذی)
حدیث ۱۷: جو اﷲ(عزوجل)کے لیے تواضع کرتا ہے اﷲ(عزوجل)اس کو بلند کرتا ہے، وہ اپنے نفس میں چھوٹا مگر لوگوں کی نظروں میں بڑا ہے اور جو بڑائی کرتا ہے اﷲ(عزوجل)اس کو پست کرتا ہے، وہ لوگوں کی نظر میں ذلیل ہے اور اپنے نفس میں بڑا ہے، وہ لوگوں کے نزدیک کتے یا سوئر سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ (4) (بیہقی)
حدیث ۱۸: تین چیزیں نجات دینے والی ہیں اور تین ہلاک کرنے والی ہیں:
نجات والی چیزیں یہ ہیں: پوشیدہ ۱ اور ظاہر میں اﷲ(عزوجل)سے تقویٰ، خوشی ۲ و ناخوشی میں حق بات بولنا، مالداری ۳ اور احتیاج کی حالت میں درمیانی چال چلنا۔
ہلاک کرنے والی یہ ہیں: ۱ خواہش نفسانی کی پیروی کرنا اور ۲ بخل کی اطاعت اور ۳ اپنے نفس کے ساتھ گھمنڈ کرنا، یہ سب میں سخت ہے۔ (5) (بیہقی)
حدیث ۱: صحیح مسلم و بخاری میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم
1 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب، باب الغضب والکبر،الحدیث:۵۱۱۰، ج۳،ص۹۲.
و''سنن أبي داود''،کتاب اللباس،باب ماجاء في الکبر،الحدیث:۴۰۹۰،ج۴،ص۸۱.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في الکبر،الحدیث:۲۰۰۷،ج۳،ص۴۰۳.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب صفۃ القیامۃ...إلخ،باب:۱۱۲،الحدیث:۲۵۰۰،ج۴،ص۲۲۱.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في حسن الخلق، فصل في التواضع،الحدیث:۸۱۴۰،ج۶،ص۲۷۶.
5 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، فصل في الطبع علی القلب،الحدیث:۷۲۵۲،ج۵،ص۴۵۲.
نے فرمایا:''آدمی کے لیے یہ حلال نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ رکھے، کہ دونوں ملتے ہیں ایک اِدھر مونھ پھیر لیتا ہے اور دوسرا اُدھر مونھ پھیرلیتا ہے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو ابتداءً سلام کرے۔''(1)
حدیث ۲: ابو داود نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''مسلم کے لیے یہ نہیں ہے کہ دوسرے مسلم کو تین دن سے زیادہ چھوڑ رکھے، جب اس سے ملاقات ہو تو تین مرتبہ سلام کرلے، اگر اوس نے جواب نہیں دیا تو اس کا گناہ بھی اوسی کے ذمہ ہے۔ (2)
حدیث ۳: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مومن کے لیے یہ حلال نہیں کہ مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑدے، اگر تین دن گزر گئے ملاقات کرلے اور سلام کرے اگر دوسرے نے سلام کا جواب د ے د یا تو اجر میں دونوں شریک ہوگئے اور اگر جواب نہیں دیا تو گناہ اس کے ذمہ ہے اور یہ شخص چھوڑنے کے گناہ سے نکل گیا۔''(3)
حدیث ۴: ابو داود نے ابوخراش سلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ انھوں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ ''جو شخص اپنے بھائی کو سال بھر چھوڑ دے، تو یہ اس کے قتل کی مثل ہے۔''(4)
حدیث ۵: امام احمد وابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''مسلم کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ دے، پھر جس نے ایسا کیا اور مرگیا تو جہنم میں گیا۔''(5)
اﷲتعالٰی فرماتا ہے:
(وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ لَا تَعْبُدُوۡنَ اِلَّا اللہَ ۟ وَبِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا وَّذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنِ وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ ؕ)
(6)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب الھجرۃ،الحدیث:۶۰۷۷،ج۴،ص۱۲۰.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب فیمن یھجرأخاہ المسلم،الحدیث:۴۹۱۳،ج۴،ص۳۶۴.
3 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۹۱۲،ج۴،ص۳۶۳.
4 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۹۱۵،ج۴،ص۳۶۴.
5 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۹۱۴،ج۴،ص۳۶۴.
6 ۔ پ۱،البقرۃ: ۸۳.
''اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اﷲ(عزوجل)کے سوا کسی کو نہ پوجنا اور ماں باپ اور رشتہ والوں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ بھلائی کرنا اور نماز قائم کرو اور زکاۃ دو۔''
اور فرماتا ہے:
(قُلْ مَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنْ خَیۡرٍ فَلِلْوَالِدَیۡنِ وَالۡاَقْرَبِیۡنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ؕ وَمَا تَفْعَلُوۡا مِنْ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۱۵﴾
)
(1)
''تم فرماؤ!جو کچھ نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر کے لیے ہو اور جو کچھ بھلائی کرو گے، بے شک اﷲ(عزوجل)اس کو جانتا ہے۔''
اور فرماتا ہے:
(وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنۡدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوْکِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوْلًاکَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾وَ اخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا ﴿ؕ۲۴﴾)
(2)
''اور تمھارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف نہ کہنا اور انھیں نہ جھڑکنا اور ان سے عزت کی بات کہنا اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا دے نرم دلی سے اور یہ کہہ کہ اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ انھوں نے بچپن میں مجھے پالا۔''
اور فرماتا ہے:
(وَ وَصَّیۡنَا الْاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ حُسْنًا ؕ وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ لِتُشْرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا ؕ)
(3)
''اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیّت کی اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرا ایسے کو جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان۔''
اور فرماتا ہے:
(وَوَصَّیۡنَا الْاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ ۚ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَہۡنٍ وَّ فِصٰلُہٗ فِیۡ عَامَیۡنِ اَنِ اشْکُرْ لِیۡ وَ لِوَالِدَیۡکَ ؕ
1 ۔ پ۲،البقرۃ: ۲۱۵.
2 ۔ پ۱۵،بنیۤ اسرآء یل: ۲۳ ۔ ۲۴.
3 ۔ پ۲۰،العنکبوت: ۸.
اِلَیَّ الْمَصِیۡرُ ﴿۱۴﴾وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ عَلٰۤی اَنۡ تُشْرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ۙ فَلَا تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوۡفًا ۫)
(1)
''اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی، اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے یہ کہ شکر کر میرا اور اپنے ماں باپ کا، میری ہی طرف تجھے آنا ہے اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرا ایسے کو جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں بھلائی کے ساتھ ان کا ساتھ دے۔''
اور فرماتا ہے:
(وَ وَصَّیۡنَا الْاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحْسٰنًا ؕ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کُرْہًا وَّ وَضَعَتْہُ کُرْہًا ؕ)
(2)
''اور ہم نے آدمی کو ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا، اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اسے پیٹ میں رکھا اور تکلیف کے ساتھ اس کو جنا۔''
اور فرماتا ہے:
(اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلْبَابِ ﴿ۙ۱۹﴾الَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللہِ وَلَا یَنۡقُضُوۡنَ الْمِیۡثَاقَ ﴿ۙ۲۰﴾وَالَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ وَیَخَافُوۡنَ سُوۡٓءَ الۡحِسَابِ ﴿ؕ۲۱﴾)
(3)
''نصیحت وہی مانتے ہیں جنھیں عقل ہے، وہ جو اﷲ(عزوجل)کا عہد پورا کرتے ہیں اور بات پختہ کرکے نہیں توڑتے اور جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے اسے جوڑتے ہیں اور خدا سے ڈرتے ہیں اور حساب کی برائی سے ڈرتے رہتے ہیں۔''
اور فرماتا ہے:
(وَالَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللہِ مِنۡۢ بَعْدِ مِیۡثَاقِہٖ وَیَقْطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَیُفْسِدُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ ۙ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَہُمْ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۲۵﴾)
(4)
''اور جو لوگ اﷲ(عزوجل)کے عہد کو مضبوطی کے بعد توڑتے ہیں اور اﷲ(عزوجل)نے جس کے جوڑنے کاحکم دیا ہے، اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں، ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔''
1 ۔پ۲۱،لقمٰن: ۱۴۔ ۱۵.
2 ۔پ۲۶،الأحقاف: ۱۵.
3 ۔پ۱۳،الرعد: ۱۹،۲۱.
4 ۔پ۱۳،الرعد: ۲۵.
اور فرماتا ہے:
(وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَالۡاَرْحَامَ ؕ)
(1)
''اور اﷲ(عزوجل)سے ڈرو، جس سے تم سوال کرتے ہو اور رشتہ سے۔''
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ ایک شخص نے عرض کی، یارسول اللہ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سب سے زیادہ حسنِ صحبت یعنی احسان کا مستحق کون ہے؟ ارشاد فرمایا:''تمھاری ماں یعنی ماں کا حق سب سے زیادہ ہے۔ انھوں نے پوچھا، پھر کون؟ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے پھر ماں کو بتایا۔ انھوں نے پھر پوچھا کہ پھر کون؟ ارشاد فرمایا:تمہارا والد۔''(2)اور ایک روایت میں ہے کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''سب سے زیادہ ماں ہے، پھر ماں، پھر ماں، پھر باپ، پھر وہ جو زیادہ قریب، پھر وہ ہے جو زیادہ قریب ہے۔''(3)یعنی احسان کرنے میں ماں کا مرتبہ باپ سے بھی تین درجہ بلند ہے۔
حدیث ۲: ابو داود و ترمذی بروایت بہزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ راوی، کہتے ہیں میں نے عرض کی، یارسول اللہ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کس کے ساتھ احسان کروں؟ فرمایا:''اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا، پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا:اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا، پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا:اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا، پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا:اپنے باپ کے ساتھ، پھر اس کے ساتھ جو زیادہ قریب ہو، پھر اس کے بعد جو زیادہ قریب ہو۔''(4)
حدیث ۳: صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''زیادہ احسان کرنے والا وہ ہے جو اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ باپ کے نہ ہونے کی صورت میں احسان کرے۔''(5)یعنی جب باپ مرگیا یا کہیں چلا گیا ہو۔
حدیث ۴: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ اس کی ناک خاک میں ملے۔ (اس کو تین مرتبہ فرمایا)یعنی ذلیل ہو۔ کسی نے پوچھا، یارسول اللہ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کون؟ یعنی یہ کس کے متعلق ارشاد ہے۔ فرمایا:''جس نے ماں باپ دونوں یا ایک کو بڑھاپے کے وقت پایا اور جنت میں داخل نہ ہوا ۔''(6)
1 ۔پ۴، النسآء:۱.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب من أحق الناس بحسن الصحبۃ،الحدیث:۵۹۷۱،ج۴،ص۹۳.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ، باب بر الوالدین...إلخ،الحدیث:۱،۲۔(۲۵۴۸)،ص۱۳۷۸،۱۳۷۹.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في بر الوالدین،الحدیث:۱۹۰۳،ج۳،ص۳۵۸.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ، باب فضل صلۃ أصدقاء...إلخ،الحدیث:۱۱،۱۲۔(۲۵۵۲)،ص۱۳۸۲.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر...إلخ، باب رغم من أدرک أبویہ...إلخ،الحدیث:۹،۱۰۔(۲۵۵۱)،ص۱۳۸۱.
یعنی ان کی خدمت نہ کی کہ جنت میں جاتا۔
حدیث ۵: صحیح بخاری و مسلم میں اسماء بنتِ ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی، کہتی ہیں:جس زمانہ میں قریش نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے معاہدہ کیا تھا میری ماں جو مشرکہ تھی میرے پاس آئی، میں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میری ماں آئی ہے اور وہ اسلام کی طرف راغب ہے یا وہ اسلام سے اعراض کیے ہوئے ہے، کیا میں اس کے ساتھ سلوک کروں؟ ارشاد فرمایا:''اس کے ساتھ سلوک کرو۔'' (1) یعنی کافرہ ماں کے ساتھ بھی سلوک کیا جائے گا۔
حدیث ۶: صحیح بخاری و مسلم میں مغیرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اﷲتعالٰی نے یہ چیزیں تم پر حرام کر دی ہیں:
(1) ماؤں کی نافرمانی کرنا اور (2) لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا اور (3)دوسروں کا جو اپنے اوپر آتا ہو اسے نہ دینا اور اپنا مانگنا کہ لاؤ۔ اور یہ باتیں تمھارے لیے مکروہ کیں(4)قیل و قال یعنی فضول باتیں اور(5)کثرت سوال اور (6) اِضاعت مال۔''(2)
حدیث ۷: صحیح مسلم و بخاری میں عبد اﷲ بن عَمْرْو رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:یہ بات کبیرہ گناہوں میں ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔ لوگوں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے؟ فرمایا:''ہاں، اس کی صورت یہ ہے کہ یہ دوسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے، وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، اور یہ دوسرے کی ماں کو گالی دیتا ہے، وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔'' (3)
صحابہ کرام جنھوں نے عرب کا زمانہ جاہلیت دیکھا تھا، ان کی سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ اپنے ماں باپ کو کوئی کیوں کر گالی دے گا یعنی یہ بات ان کی سمجھ سے باہر تھی۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے بتایا کہ مراد دوسرے سے گالی دلوانا ہے اور اب وہ زمانہ آیا کہ بعض لوگ خود اپنے ماں باپ کو گالیاں دیتے ہیں اور کچھ لحاظ نہیں کرتے۔
حدیث ۸: شرح سنہ میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:میں جنت میں گیا، اس میں قرآن پڑھنے کی آواز سنی، میں نے پوچھا یہ کون پڑھتا ہے؟ فرشتوں نے کہا، حارثہ بن نعمان ہیں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''یہی حال ہے احسان کا، یہی حال ہے احسان کا، حارثہ اپنی ماں کے ساتھ بہت بھلائی کرتے تھے۔''(4)
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الجزیۃ والموادعۃ،الحدیث:۳۱۸۳،ج۲،ص۳۷۱.
و''صحیح مسلم''،کتاب الزکاۃ، باب فضل النفقۃ والصدقۃ...إلخ،الحدیث:۴۹،۵۰۔(۱۰۰۳)،ص۵۰۲.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإستقراض والدیون، باب ما ینھی عن إضاعۃ المال،الحدیث:۲۴۰۸،ج۲،ص۱۱۱.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان، باب الکبائر وأکبرھا،الحدیث:۱۴۶۔(۹۰)،ص۶۰.
4 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب البر والصلۃ، باب بر الوالدین،الحدیث:۳۳۱۲، ۳۳۱۳،ج۶،ص۴۲۶ ۔ ۴۲۷.
حدیث ۹: ترمذی نے عبداﷲبن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''پروردگار کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے اور پروردگار کی ناخوشی باپ کی ناراضی میں ہے۔''(1)
حدیث ۱۰: ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کی، کہ ایک شخص ابوالدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس آیا اور یہ کہا کہ میری ماں مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اپنی عورت کو طلاق دے دوں۔ ابوالدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایاکہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو فرماتے سنا کہ ''والد جنت کے دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے، اب تیری خوشی ہے کہ اس دروازہ کی حفاظت کرے یا ضائع کردے۔''(2)
حدیث ۱۱: ترمذی و ابو داود نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہتے ہیں میں اپنی بی بی سے محبت رکھتا تھا اور حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ اس عورت سے کراہت کرتے تھے۔ انھوں نے مجھ سے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو، میں نے نہیں دی پھر حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ بیان کیا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے مجھ سے فرمایاکہ ''اسے طلاق دے دو۔''(3)
علما فرماتے ہیں کہ اگر والدین حق پر ہوں جب تو طلاق دینا واجب ہی ہے اور اگر بی بی حق پر ہو جب بھی والدین کی رضا مندی کے لیے طلاق دینا جائز ہے۔
حدیث ۱۲: ابن ماجہ نے ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے عرض کی، یارسول اﷲ!( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)والدین کا اولاد پر کیا حق ہے؟ فرمایاکہ ''وہ دونوں تیری جنت و دوزخ ہیں۔''(4)یعنی ان کو راضی رکھنے سے جنت ملے گی اور ناراض رکھنے سے دوزخ کے مستحق ہو گے۔
حدیث ۱۳: بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:جس نے اس حال میں صبح کی کہ اپنے والدین کا فرمانبردار ہے، اس کے لیے صبح ہی کو جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر والدین میں سے ایک ہی ہو تو ایک دروازہ کھلتا ہے اور جس نے اس حال میں صبح کی کہ والدین کے متعلق خدا کی نافرمانی کرتا
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء من الفضل في رضا الوالدین،الحدیث:۱۹۰۷،ج۳،ص۳۶۰.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۱۹۰۶،ج۳،ص۳۵۹.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في برالوالدین،الحدیث:۵۱۳۸،ج۴،ص۴۳۲.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأدب، باب برالوالدین،الحدیث:۳۶۶۲،ج۴،ص۱۸۶.
ہے، اس کے لیے صبح ہی کو جہنم کے دو ۲ دروازے کھل جاتے ہیں اور ایک ہو تو ایک دروازہ کھلتا ہے۔ ایک شخص نے کہا، اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں؟ فرمایا:''اگرچہ ظلم کریں، اگرچہ ظلم کریں، اگرچہ ظلم کریں۔''(1)
حدیث ۱۴: بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب اولاد اپنے والدین کی طرف نظررحمت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر نظر کے بدلے حج مبرور کا ثواب لکھتا ہے۔ لوگوں نے کہا، اگرچہ دن میں سو ۱۰۰ مرتبہ نظر کرے؟ فرمایا:ہاں اللہ(عزوجل)بڑا ہے اور اطیب ہے۔'' (2)یعنی اُسے سب کچھ قدرت ہے، اس سے پاک ہے کہ اس کو اس کے دینے سے عاجز کہا جاے۔
حدیث ۱۵: امام احمد و نسائی و بیہقی نے معاویہ بن جاہمہ سے روایت کی، کہ ان کے والد جاہمہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی، یارسول اللہ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے مشورہ لینے کو حاضر ہوا ہوں۔ ارشاد فرمایا:تیری ماں ہے؟ عرض کی، ہاں۔ فرمایا:''اس کی خدمت لازم کرلے کہ جنت اس کے قدم کے پاس ہے۔'' (3)
حدیث ۱۶: بیہقی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''کسی کے ماں باپ دونوں یا ایک کا انتقال ہو گیا اور یہ ان کی نافرمانی کرتا تھا، اب ان کے لیے ہمیشہ استغفار کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو نیکوکار لکھ دیتا ہے۔''(4)
حدیث ۱۷: نسائی و دارمی نے عبد اللہ بن عَمْرْو رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''منان یعنی احسان جتانے والا اور والدین کی نافرمانی کرنے والا اور شر اب خواری کی مداومت کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔''(5)
حدیث ۱۸: ترمذی نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ ایک شخص نے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، کہ یارسول اللہ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میں نے ایک بڑا گناہ کیا ہے، آیا میری توبہ
1 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في برالوالدین، فصل في حفظ حق الوالدین بعد موتھما،فصل،الحدیث:۷۹۱۶،ج۶، ص۲۰۶.
2 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في برالوالدین،الحدیث:۷۸۵۶،ج۶، ص۱۸۶.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث معاویۃ بن جاھمۃ،الحدیث:۱۵۵۳۸،ج۵، ص۲۹۰.
و''سنن النسائي''،کتاب الجھاد، باب الرخصۃ في التخلف لمن لہ والدۃ،الحدیث:۳۱۰۱،ص۵۰۴.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في برالوالدین، فصل في حفظ حق الوالدین بعد موتھما،الحدیث:۷۹۰۲،ج۶، ص۲۰۲.
5 ۔ ''سنن النسائي''،کتاب الأشربۃ، باب الروایۃ في المدمنین في الخمر،الحدیث:۵۶۸۲،ص۸۹۵.
قبول ہوگی؟ فرمایا:کیا تیری ماں زندہ ہے۔ عرض کی نہیں، فرمایا:تیری کوئی خالہ ہے۔ عرض کی ہاں، فرمایا:''اس کے ساتھ احسان کر۔''(1)
حدیث ۱۹: ابو داود و ابن ماجہ نے ابی اَسِیدساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ میں کا ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میرے والدین مرچکے ہیں اب بھی ان کے ساتھ احسان کا کوئی طریقہ باقی ہے؟ فرمایا:''ہاں ان کے لیے دُعا و استغفار کرنا اور جو انھوں نے عہد کیا ہے اس کو پورا کرنا اور جس رشتہ والے کے ساتھ انھیں کی وجہ سے سلوک کیا جاسکتا ہو اس کے ساتھ سلوک کرنا اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا۔''(2)
حدیث ۲۰: حاکم نے مستدرک میں کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ تم لوگ منبر کے پاس حاضر ہوجاؤ۔ ہم سب حاضر ہوئے، جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے فرمایا: آمین، جب دوسرے پر چڑھے کہا: آمین، جب تیسرے درجہ پر چڑھے کہا: آمین۔ جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)منبر سے اُترے ہم نے عرض کی، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سے آج ایسی بات سنی کہ کبھی ایسی نہیں سنا کرتے تھے۔
فرمایاکہ ''جبرئیل میرے پاس آئے اور یہ کہا کہ اسے رحمت الٰہی سے دوری ہو، جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی، اس پر میں نے آمین کہی۔ جب میں دوسرے درجہ پر چڑھا تو انھوں نے کہا، اس شخص کے لیے رحمت الٰہی سے دوری ہو، جس کے سامنے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا ذکر ہو اور وہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)پر درود نہ پڑھے، اس پر میں نے کہا آمین۔ جب میں تیسرے زینہ پر چڑھا انھوں نے کہا، اس کے لیے دوری ہو، جس کے ماں باپ دونوں یا ایک کو بڑھاپا آیا اور انھوں نے اسے جنت میں داخل نہ کیا، میں نے کہا آمین۔''(3)
حدیث ۲۱: بیہقی نے سعید بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''بڑے بھائی کا چھوٹے بھائی پر ویسا ہی حق ہے، جیسا کہ باپ کا حق اولاد پر ہے۔''(4)
حدیث ۲۲: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''جب اﷲتعالیٰ مخلوق کو پیدا فرماچکا، رشتہ (کہ یہ بھی ایک مخلوق ہے)کھڑا ہوا اور دربارِ الوہیت میں استغاثہ کیا، ارشادِ الٰہی ہوا:
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب في بر الخالۃ،الحدیث:۱۹۱۱،ج۳،ص۳۶۲.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في برالوالدین،الحدیث:۵۱۴۲،ج۴،ص۴۳۴.
3 ۔ ''المستدرک'' للحاکم،کتاب البر والصلۃ، باب لعن اللہ العاق لوالدیہ...إلخ،الحدیث:۷۳۳۸،ج۵،ص۲۱۲.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في برالوالدین، فصل في صلۃ الرحم،الحدیث:۷۹۲۹ ج۶، ص۲۱۰.
کیا ہے۔ رشتہ نے کہا، میں تیری پناہ مانگتا ہوں کاٹنے والوں سے۔ ارشاد ہوا:کیا تو اس پر راضی نہیں کہ جو تجھے ملائے میں اسے ملاؤں گا اور جو تجھے کاٹے میں اسے کاٹ دوں گا؟ اس نے کہا، ہاں میں راضی ہوں، فرمایا:تو بس یہی ہے۔''(1)
حدیث ۲۳: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:رحم (رشتہ)رحمن سے مشتق ہے، اﷲتعالیٰ نے فرمایا:''جو تجھے ملائے گا، میں اسے ملاؤں گا اور جو تجھے کاٹے گا، میں اسے کاٹوں گا ۔''(2)
حدیث ۲۴: صحیح بخاری و مسلم میں اُم المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''رشتہ عرش الٰہی سے لپٹ کر یہ کہتا ہے:جو مجھے ملائے گا، اﷲ(عزوجل)اس کو ملائے گا اور جو مجھے کاٹے گا، اﷲ(عزو جل)اسے کاٹے گا۔'' (3)
حدیث ۲۵: ابو داود نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو فرماتے سنا کہ اﷲتبارک و تعالیٰ نے فرمایا:''میں اﷲہوں اور میں رحمن ہوں، رحم (یعنی رشتہ)کو میں نے پیدا کیا اور اس کا نام میں نے اپنے نام سے مشتق کیا، لہٰذا جو اسے ملائے گا، میں اسے ملاؤں گا اور جو اسے کاٹے گا، میں اسے کاٹوں گا ۔''(4)
حدیث ۲۶: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جو یہ پسند کرے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کے اثر (یعنی عمر)میں تاخیر کی جائے، تو اپنے رشتہ والوں کے ساتھ سلوک کرے۔''(5)
حدیث ۲۷: ابن ماجہ نے ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''تقدیر کو کوئی چیز رد نہیں کرتی مگر دعا اور بر۔''(6)یعنی احسان کرنے سے عمر میں زیادتی ہوتی ہے اور آدمی گناہ کرنے کی وجہ سے رزق سے محروم ہوجاتا ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دعا سے بلائیں دفع ہوتی ہیں۔ یہاں تقدیر سے مراد تقدیر معلق ہے اور زیادتی عمر کا بھی
1 ۔ ''صحیح البخاری''،کتاب الأدب، باب من وصل وصلہ اللہ،الحدیث:۵۹۸۷،ج۴،ص۹۷.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۵۹۸۸،ج۴،ص۹۸.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البروالصلۃ...إلخ، باب صلۃ الرحم...إلخ،الحدیث:۱۷۔(۲۵۵۵)،ص۱۳۸۳.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في قطیعۃ الرحم،الحدیث:۱۹۱۴،ج۳،ص۳۶۳.
و''سنن أبي داود''،کتاب الزکاۃ، باب في صلۃ الرحم،الحدیث:۱۶۹۴،ج۲،ص۱۸۴.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البروالصلۃ...إلخ، باب صلۃ الرحم...إلخ،الحدیث:۲۱۔(۲۵۵۷)،ص۱۳۸۴.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الفتن،باب العقوبات،الحدیث:۴۰۲۲،ج۴،ص۳۶۹.
یہی مطلب ہے کہ احسان کرنا درازی عمر کا سبب ہے اور رزق سے ثواب اُخروی مراد ہے کہ گناہ اس کی محرومی کا سبب ہے اور ہوسکتا ہے کہ بعض صورتوں میں دُنیوی رزق سے بھی محروم ہوجائے۔
حدیث ۲۸: حاکم نے مستدرک میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اپنے نسب پہچانو تاکہ صلہ رحم کرو، کیونکہ اگر رشتہ کو کاٹا جائے تو اگرچہ قریب ہو وہ قریب نہیں اور اگر جوڑا جائے تو دور نہیں اگرچہ دور ہو۔''(1)
حدیث ۲۹: ترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اپنے نسب کو اتنا سیکھوجس سے صلہ رحم کرسکو، کیونکہ صلہ رحم اپنے لوگوں میں محبت کا سبب ہے اس سے مال میں زیادتی اور اثر (یعنی عمر)میں تاخیر ہوگی۔''(2)
حدیث ۳۰: حاکم نے مستدرک میں عاصم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس کو یہ پسند ہو کہ عمر میں درازی ہو اور رزق میں وسعت ہو اور بری موت دفع ہو وہ اﷲ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور رشتہ والوں سے سلوک کرے۔''(3)
حدیث ۳۱: صحیح بخاری و مسلم میں جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''رشتہ کاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔''(4)
حدیث ۳۲: بیہقی نے شعب الایمان میں عبداﷲ بن أبی أوفیا رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو میں نے یہ فرماتے سنا کہ ''جس قوم میں قاطع رحم ہوتا ہے، اس پر رحمت الٰہی نہیں اُترتی۔'' (5)
حدیث ۳۳: ترمذی و ابو داود نے ابوبکرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس گناہ کی سزا دنیا میں بھی جلد ہی دے دی جائے او راس کے لیے آخرت میں بھی عذاب کا ذخیرہ رہے، وہ بغاوت اور قطع رحم سے بڑھ کر نہیں۔''(6)
1 ۔ ''المستدرک''،کتاب البرو الصلۃ، باب ان اللہ لیعمر بالقوم الزمان بصلتھم لارحامھم،الحدیث:۷۳۶۵،ج۵، ص۲۲۳.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في تعلیم النسب،الحدیث:۱۹۸۶،ج۳،ص۳۹۴.
3 ۔ ''المستدرک''،کتاب البر والصلۃ، باب من سرہ أن یدفع عنہ میتۃ السوء...إلخ،الحدیث:۷۳۶۲،ج۵،ص۲۲۲.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ،باب صلۃ الرحم...إلخ،الحدیث:۱۸۔(۲۵۵۶)،ص۱۳۸۳.
5 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في صلۃ الأرحام،الحدیث:۷۹۶۲،ج۶،ص۲۲۳.
6 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب صفۃ القیامۃ،باب:۱۲۲،الحدیث:۲۵۱۹،ج۴،ص۲۲۹.
اور بیہقی کی روایت شعب الایمان میں انھیں سے یوں ہے کہ ''جتنے گناہ ہیں ان میں سے جس کو اللہ تعالٰی چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے سواوالدین کی نافرمانی کے، کہ اس کی سزا زندگی میں موت سے پہلے دی جاتی ہے۔''(1)
حدیث ۳۴: صحیح بخاری میں ابن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''صلہ رحمی اس کا نام نہیں کہ بدلہ دیا جائے یعنی اس نے اس کے ساتھ احسان کیا اس نے اس کے ساتھ کردیا، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ ادھر سے کاٹا جاتا ہے اور یہ جوڑتا ہے۔''(2)
حدیث ۳۵: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ ایک شخص نے عرض کی، کہ یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میری قرابت والے ایسے ہیں کہ میں انھیں ملاتا ہوں اور وہ کاٹتے ہیں، میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ حلم سے پیش آتا ہوں اور وہ مجھ پر جہالت کرتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:''اگر ایسا ہی ہے جیسا تم نے بیان کیا تو تم ان کو گرم راکھ پھنکاتے ہو اور ہمیشہ اﷲ (عزوجل)کی طر ف سے تمھارے ساتھ ایک مددگار رہے گا، جب تک تمھاری یہی حالت رہے۔''(3)
حدیث ۳۶: حاکم نے مستدرک میں عقبہ بن عامررضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی ملاقات کو گیا۔ میں نے جلدی سے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا دستِ مبارک پکڑ لیا اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے میرے ہاتھ کو جلدی سے پکڑلیا۔ پھر فرمایا:''اے عقبہ!دنیا و آخرت کے افضل اخلاق یہ ہیں کہ تم اس کو ملاؤ، جو تمھیں جدا کرے اور جو تم پر ظلم کرے، اسے معاف کردو اور جو یہ چاہے کہ عمر میں درازی ہو اور رزق میں وسعت ہو، وہ اپنے رشتہ والوں کے ساتھ صلہ کرے۔''(4)
صلہ رحم کے معنی رشتہ کو جوڑنا ہے یعنی رشتہ والوں کے ساتھ نیکی اور سلوک کرنا۔ ساری اُمت کا اس پر اتفاق ہے کہ صلہ رحم واجب ہے اور قطع رحم حرام ہے، جن رشتہ والوں کے ساتھ صلہ واجب ہے وہ کون ہیں۔ بعض علما نے فرمایا:وہ ذو رحم محرم ہیں اور بعض نے فرمایا:اس سے مراد ذو رحم ہیں، محرم ہوں یا نہ ہوں۔
1 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في برالوالدین، فصل في عقوق الوالدین وما جاء فیہ،الحدیث:۷۸۸۹،ج۶،ص۱۹۷.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب لیس الواصل بالمکافیئ،الحدیث:۵۹۹۱،ج۴،ص۹۸.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ،باب صلۃ الرحم...إلخ،الحدیث:۲۲۔(۲۵۵۸)،ص۱۳۸۴.
4 ۔ ''المستدرک''،کتاب البر والصلۃ، باب من أراد أن یمد في رزقہ فلیصل ذا رحمہ،الحدیث:۷۳۶۷،ج۵،ص۲۲۴.
اور ظاہر یہی قول دوم ہے احادیث میں مطلقاً رشتہ والوں کے ساتھ صلہ کرنے کا حکم آتا ہے قرآن مجید میں مطلقاً ذوی القربیٰ فرمایا گیا مگر یہ بات ضرور ہے کہ رشتہ میں چونکہ مختلف درجات ہیں صلہ رحم کے درجات میں بھی تفاوت ہوتا ہے۔ والدین کا مرتبہ سب سے بڑھ کر ہے، ان کے بعد ذورحم محرم کا، ان کے بعد بقیہ رشتہ والوں کا علیٰ قدر مراتب۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱: صلہ رحم کی مختلف صورتیں ہیں ان کو ہدیہ و تحفہ دینا اور اگر ان کو کسی بات میں تمھاری اِعانت درکار ہو تو اس کا م میں ان کی مدد کرنا، انھیں سلام کرنا، ان کی ملاقات کو جانا، ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا ان سے بات چیت کرنا ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آنا۔ (2) (درر)
مسئلہ ۲: اگر یہ شخص پردیس میں ہے تو رشتہ والوں کے پاس خط بھیجا کرے، ان سے خط و کتابت جاری رکھے تاکہ بے تعلقی پیدا نہ ہونے پائے اور ہوسکے تو وطن آئے اور رشتہ داروں سے تعلقات تازہ کرلے اس طرح کرنے سے محبت میں اِضافہ ہوگا۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: یہ پردیس میں ہے والدین اسے بلاتے ہیں تو آنا ہی ہوگا، خط لکھنا کافی نہیں ہے۔ یوہیں والدین کو اس کی خدمت کی حاجت ہو تو آئے اور ان کی خدمت کرے، باپ کے بعد دادا اور بڑے بھائی کا مرتبہ ہے کہ بڑا بھائی بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے بڑی بہن اور خالہ ماں کی جگہ پر ہیں، بعض علما نے چچا کو باپ کی مثل بتایا اور حدیث
عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ اَبِیْہِ .
(4)سے بھی یہی مستفاد ہوتا ہے ان کے علاوہ اوروں کے پاس خط بھیجنا یا ہدیہ بھیجنا کفایت کرتا ہے۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: رشتہ داروں سے ناغہ دے کر ملتا رہے یعنی ایک دن ملنے کو جائے دوسرے دن نہ جائے وعلیٰ ہذا القیاس کہ اس سے محبت و اُلفت زیادہ ہوتی ہے، بلکہ اَقربا سے جمعہ جمعہ ملتا رہے یا مہینہ میں ایک باراور تمام قبیلہ اور خاندان کو ایک ہونا چاہیے۔ جب حق ا ن کے ساتھ ہو تو دوسروں سے مقابلہ اور اظہارِ حق میں سب متحد ہو کر کام کریں، جب اپنا کوئی رشتہ دار کوئی حاجت پیش کرے تو اس کی حاجت روائی کرے، اس کو رد کردینا قطع رحم ہے۔ (6) (درر)
مسئلہ ۵: صلہ رحمی اسی کا نام نہیں کہ وہ سلوک کرے تو تم بھی کرو، یہ چیز تو حقیقت میں مکافاۃ یعنی ادلا بدلا کرنا ہے
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۸.
2 ۔ ''دررالحکام ''،کتاب الکراھیۃ،الجزء الأول،ص۳۲۳.
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹، ص۶۷۸.
4 ۔ یعنی آدمی کا چچا باپ کی مثل ہوتا ہے۔
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۶۷۸.
6 ۔ ''دررالحکام ''،کتاب الکراھیۃ،الجزء الأول،ص۳۲۳.
کہ اس نے تمھارے پاس چیز بھیج دی تم نے اس کے پاس بھیج دی، وہ تمھارے یہاں آیا تم اس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتاً صلہ رحم یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو، وہ تم سے جدا ہونا چاہتا ہے، بے اعتنائی کرتا ہے اور تم اس کے ساتھ رشتہ کے حقوق کی مراعات کرو۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: حدیث میں آیا ہے کہ ''صلہ رحم سے عمر زیادہ ہوتی ہے اور رزق میں وسعت ہوتی ہے۔'' بعض علما نے اس حدیث کو ظاہر پر حمل کیا ہے یعنی یہاں قضا معلق مراد ہے کیونکہ قضا مبرم ٹل نہیں سکتی۔
(اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ فَلَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَایَسْتَقْدِمُوۡنَ ﴿۴۹﴾)
(2)
اور بعض نے فرمایا کہ زیادتی عمر کا یہ مطلب ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس کا ثواب لکھا جاتا ہے گویا وہ اب بھی زندہ ہے یا یہ مراد ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس کا ذکر خیر لوگوں میں باقی رہتا ہے۔ (3) (ردالمحتار)
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں اُم المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی، کہ ایک اعرابی نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں عرض کی، کہ آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں ہم انھیں بوسہ نہیں دیتے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایاکہ ''اﷲتعالیٰ نے تیرے دل سے رحمت نکال لی ہے تو میں کیا کروں۔''(4)
حدیث ۲: صحیح بخاری و مسلم میں عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں:ایک عورت اپنی دو لڑکیاں لے کر میرے پاس آئی اور اس نے مجھ سے کچھ مانگا، میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا، میں نے وہی دے دی۔ عورت نے کھجور تقسیم کرکے دونوں لڑکیوں کو دے دی اور خود نہیں کھائی جب وہ چلی گئی، حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم تشریف لائے، میں نے یہ واقعہ بیان کیا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:''جس کو خدا نے لڑکیاں دی ہوں، اگر وہ ان کے ساتھ احسان کرے تو وہ جہنم کی آگ سے اس کے لیے روک ہوجائیں گی۔'' (5)
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹، ص۶۷۸.
2 ۔ پ۱۱، یونس:۴۹.
ترجمہ کنزالایمان: جب ان کا وعدہ آئے گا توایک گھڑی نہ پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں۔
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹، ص۶۷۸.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ...إلخ،الحدیث:۵۹۹۸،ج۴،ص۱۰۰.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ،باب فضل الإحسان إلی البنات،الحدیث:۱۴۷۔(۲۶۲۹)،ص۱۴۱۴.
حدیث ۳: امام احمد و مسلم نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہتی ہیں:ایک مسکین عورت دو لڑکیوں کو لے کر میرے پاس آئی، میں نے اسے تین کھجوریں دیں، ایک ایک لڑکیوں کو دے دی اور ایک کو مونھ تک کھانے کے لیے لے گئی کہ لڑکیوں نے اس سے مانگی، اس نے دو ٹکڑے کرکے دونوں کو دے دی۔ جب یہ واقعہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو سنایا ارشاد فرمایا:''اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت واجب کردی اور جہنم سے آزاد کردیا۔'' (1)
حدیث ۴: صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس کی عیال (پرورش)میں دو لڑکیاں بلوغ تک رہیں، وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ پاس پاس ہوں گے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اپنی انگلیاں ملا کر فرمایا کہ اس طرح۔''(2)
حدیث ۵: شرح سنہ میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شریک کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ضرور جنت واجب کردے گا مگر جبکہ ایسا گناہ کیا ہو جس کی مغفرت نہ ہو اور جو شخص تین لڑکیوں یا اتنی ہی بہنوں کی پرورش کرے، ان کو ادب سکھائے، ان پر مہربانی کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انھیں بے نیاز کردے (یعنی اب ان کو ضرورت باقی نہ رہے)، اﷲتعالیٰ اس کے لیے جنت واجب کر دے گا۔''کسی نے کہا، یارسول اللہ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یا دو (یعنی دو کی پرورش میں یہی ثواب ہو جائے)، فرمایا:دو (یعنی ان میں بھی وہی ثواب ہے)اور اگر لوگوں نے ایک کے متعلق کہا ہوتا تو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ایک کو بھی فرما دیتے۔ اور جس کی کَرِیْمَتَین کواللہ(عزوجل)نے دور کردیا، اس کے لیے جنت واجب ہے۔ دریافت کیا گیا کَرِیْمَتَین کیا ہیں؟ فرمایا: آنکھیں۔(3)
حدیث ۶: ابو داود نے عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''میں اور وہ عورت جس کے رخسارے میلے ہیں، دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے۔''(4) یعنی جس طرح کلمہ اور بیچ کی انگلیاں پاس پاس ہیں۔ اس سے مراد وہ عورت ہے جو منصب وجمال والی تھی اور بیوہ ہوگئی اور اس نے یتیموں کی خدمت کی، یہاں تک کہ وہ جدا ہوجائیں۔ (یعنی بڑے ہوجائیں یا مرجائیں۔)
حدیث ۷: امام احمد و حاکم و ابن ماجہ نے سراقہ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اﷲ تعالٰی علیہ
1 ۔ ''صحیح مسلم ''،کتاب البر والصلۃ...إلخ، باب فضل الاحسان الی البنات،الحدیث:۱۴۸۔(۲۶۳۰)،ص۱۴۱۵.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۱۴۹۔(۲۶۳۱)،ص۱۴۱۵.
3 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب البر والصلۃ، باب ثواب کافل الیتیم،الحدیث:۳۳۵۱،ج۶،ص۴۵۲.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب،باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق،الحدیث:۴۹۷۵،ج۳،ص۶۹.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في فضل من عال یتامی،الحدیث:۵۱۴۹،ج۴،ص۴۳۵.
وسلَّم نے فرمایا:''کیا میں تم کو یہ نہ بتا دوں کہ افضل صدقہ کیا ہے، وہ اپنی اس لڑکی پر صدقہ کرنا ہے، جو تمھاری طرف واپس ہوئی (یعنی اس کا شوہر مرگیا یا اس کو طلاق دے دی اور باپ کے یہاں چلی آئی)تمھارے سوا اس کا کمانے والا کوئی نہیں ہے۔''(1)
حدیث ۸: ابو داود نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس کی لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے اور اس کی توہین نہ کرے اور اولاد ذکور کو اس پر ترجیح نہ دے، اﷲتعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔''(2)
حدیث ۹: ترمذی نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب دے، وہ اس کے لیے ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔''(3)
حدیث ۱۰: ترمذی و بیہقی نے بروایت ایوب بن موسیٰ عن ابیہ عن جدہ روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''باپ کا اولاد کو کوئی عطیہ ادب حسن سے بہتر نہیں۔'' (4)
حدیث ۱۱: ترمذی و حاکم نے عمرو بن سعید بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''والد کا اپنی اولاد کو اس سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں، کہ اسے اچھے آداب سکھائے۔''(5)
حدیث ۱۲: ابن ماجہ نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''اپنی اولاد کا اِکرام کرو اور انھیں اچھے آداب سکھاؤ۔''(6)
حدیث ۱۳: ابن النجار نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''باپ کے ذمہ بھی اولاد کے حقوق ہیں، جس طرح اولاد کے ذمہ باپ کے حقوق ہیں۔''(7)
حدیث ۱۴: طبرانی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اپنی اولاد کو برابر دو، اگر میں کسی کو فضیلت دیتا تو لڑکیوں کو فضیلت دیتا۔''(8)
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأدب، باب بر الوالد...إلخ،الحدیث:۳۶۶۷،ج۴،ص۱۸۸.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في فضل من عال یتامی،الحدیث:۵۱۴۶،ج۴،ص۴۳۵.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في أدب الولد،الحدیث:۱۹۵۸،ج۳،ص۳۸۲.
4 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۱۹۵۹،ج۳،ص۳۸۳.
5 ۔ ''المستدرک'' للحاکم،کتاب الأدب، باب فضل تادیب الأولاد،الحدیث:۷۷۵۳،ج۵،ص۳۷۳.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأدب، باب بر الوالد...إلخ،الحدیث:۳۶۷۱،ج۴،ص۱۸۹.
7 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب النکاح،رقم:۴۵۳۳۶،ج۱۶،ص۱۸۴.
8 ۔ ''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۱۹۹۷،ج۱۱،ص۲۸۰.
حدیث ۱۵: طبرانی نے نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''عطیہ میں اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو، جس طرح تم خود یہ چاہتے ہو کہ وہ سب تمھارے ساتھ احسان و مہربانی میں عدل کریں ۔''(1)
حدیث ۱۶: ابن النجار نے نعمان بن بشیررضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''اﷲتعالیٰ اس کو پسند کرتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو، یہاں تک کہ بوسہ لینے میں۔'' (2)
حدیث ۱۷: صحیح بخاری میں سہل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''جو شخص یتیم کی کفالت کرے وہ یتیم اسی گھر کا ہو یا غیر کا، میں اور وہ دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ کیا۔''(3)
حدیث ۱۸: ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ احسان کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں سب سے برا وہ گھر ہے، جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ برائی کی جاتی ہو۔''(4)
حدیث ۱۹: امام احمد و ترمذی نے ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص یتیم کے سر پر محض اﷲ(عزوجل)کے لیے ہاتھ پھیرے تو جتنے بالوں پر اس کا ہاتھ گزرے گا، ہر بال کے مقابل میں اس کے لیے نیکیاں ہیں اور جو شخص یتیم لڑکی یا یتیم لڑکے پر احسان کرے مَیں اور وہ جنت میں(د و انگلیوں کو ملا کر فرمایا)اس طرح ہوں گے۔''(5)
حدیث ۲۰: امام احمد نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے اپنی دل کی سختی کی شکایت کی۔ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔''(6)
حدیث ۲۱: طبرانی نے اوسط میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما (7)سے روایت کی، کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ
1 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب النکاح، رقم:۴۵۳۳۹،ج۱۶، ص۱۸۴.
2 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب النکاح، رقم:۴۵۳۴۲،ج۱۶، ص۱۸۵.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الطلاق، باب اللعان...إلخ،الحدیث:۵۳۰۴،ج۳،ص۴۹۷.
و''صحیح مسلم''،کتاب الزھد...إلخ، باب فضل الإحسان إلی الأرملۃ...إلخ،الحدیث:۴۲۔(۲۹۸۳)،ص۱۵۹۲.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأدب، باب حق الیتیم،الحدیث:۳۶۷۹،ج۴،ص۱۹۳.
5 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أبي أمامۃ الباھلی،الحدیث:۲۲۲۱۵، ۲۲۳۴۷،ج۸،ص۲۷۲،۳۰۰.
6 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ھریرۃ الحدیث:۹۰۲۸،ج۳،ص۳۳۵.
7 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر'' ابوہریرہ ''رضی اللہ تعالٰی عنہ لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ''المعجم الأوسط للطبرانی '' میں ''عبداللہ بن عباس''رضی اللہ تعالٰی عنہما مذکورہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
وسلَّم)نے فرمایاکہ ''لڑکا یتیم ہو تو اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے میں آگے کو لائے اور بچہ کا باپ ہو تو ہاتھ پھیرنے میں گردن کی طرف لے جائے۔''(1)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِکُوۡا بِہٖ شَیْـًٔا وَّ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنۡۢبِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَمَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوۡرَۨا ﴿ۙ۳۶﴾)
(2)
''اور اﷲ(عزوجل)کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسایہ اور دور کے ہمسایہ اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنے باندی غلام سے، بے شک اﷲ(عزوجل)کو خوش نہیں آتا کوئی اِترانے والا، بڑائی مارنے والا۔''
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''خدا کی قسم!وہ مومن نہیں، خدا کی قسم وہ مومن نہیں، خدا کی قسم وہ مومن نہیں۔ عرض کی گئی، کو ن یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)فرمایا:وہ شخص کہ اس کے پروسی اس کی آفتوں سے محفوظ نہ ہوں۔'' (3)یعنی جو اپنے پروسیوں کو تکلیفیں دیتا ہے۔
حدیث ۲: صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''وہ جنت میں نہیں جائے گا، جس کا پروسی اس کی آفتوں سے امن میں نہیں ہے۔''(4)
حدیث ۳: صحیح بخاری و مسلم میں حضرت اُم المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ ''جبرئیل علیہ السلام مجھے پروسی کے متعلق برابر وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ پروسی کو وارث بنا دیں گے۔''(5)
1 ۔ ''المعجم الأوسط''،باب الالف،الحدیث:۱۲۷۹،ج۱،ص۳۵۱.
2 ۔ پ۵،النسآء:۳۶.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب اثم من لایأ من جارہ بوائقہ،الحدیث:۶۰۱۶،ج۴،ص۱۰۴.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان، باب بیان تحریم إیذاء الجار،الحدیث:۷۳۔(۴۶)،ص۴۳.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب الوصاۃ بالجار،الحدیث:۶۰۱۴،ج۴،ص۱۰۴.
حدیث ۴: ترمذی و دارمی و حاکم نے عبداﷲ بن عَمْرْو رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اﷲتعالیٰ کے نزدیک ساتھیوں میں وہ بہتر ہے، جو اپنے ساتھی کا خیر خواہ ہو اور پروسیوں میں اﷲ(عزوجل)کے نزدیک وہ بہتر ہے، جو اپنے پروسی کا خیر خواہ ہو۔''(1)
حدیث ۵: حاکم نے مستدرک میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص اﷲ(عزوجل)اور پچھلے دن (قیامت)پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پروسی کا اِکرام کرے۔'' (2)
حدیث ۶: ابن ماجہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں: ایک شخص نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)مجھے یہ کیونکر معلوم ہو کہ میں نے اچھا کیا یا برا کیا؟ فرمایا:''جب تم اپنے پروسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے اچھا کیا ہے تو بے شک تم نے اچھا کیا اور جب یہ کہتے سنو کہ تم نے برا کیا توبے شک تم نے برا کیا ہے۔'' (3)
حدیث ۷: بیہقی نے شعب الایمان میں عبدالرحمن بن ابی قراد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک روز نبی کریم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے وضو کیا۔ صحابہ کرام(رضوان اﷲتعالٰی علیہم)نے وضو کا پانی لے کر مونھ وغیرہ پر مسح کرنا شروع کردیا۔
حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا: کیا چیز تمھیں اس کام پر آمادہ کرتی ہے؟ عرض کی، اﷲو رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی محبت، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''جس کی خوشی یہ ہو کہ اﷲ و رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے محبت کرے یا اﷲو رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اس سے محبت کریں، وہ جب بات بولے سچ بولے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو امانت ادا کردے اور جو اس کے جوار میں ہو، اس کے ساتھ احسان کرے۔''(4)
حدیث ۸: بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہتے ہیں:میں نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا:''مومن وہ نہیں جو خود پیٹ بھر کھائے اور اس کا پروسی اس کے پہلو میں بھوکا رہے۔''(5)یعنی مومن کامل نہیں۔
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في حق الجوار،الحدیث:۱۹۵۱،ج۳،ص۳۷۹.
2 ۔ ''المستدرک''للحاکم،کتاب البر والصلۃ، باب خیر الأصحاب عند اللہ...إلخ،الحدیث:۷۳۷۸،ج۵،ص۲۲۸.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الزھد، باب الثناء الحسن،الحدیث:۴۲۲۳،ج۴،ص۴۷۹.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في تعظیم النبی صلی اللہ علیہ وسلم واجلالہ وتوقیرہ،الحدیث:۱۵۳۳،ج۲، ص۲۰۱.
5 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الزکاۃ، فصل في کراھیۃ امساک الفضل...إلخ،الحدیث:۳۳۸۹،ج۳، ص۲۲۵.
حدیث ۹: طبرانی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''جب کوئی شخص ہانڈی پکائے تو شوربا زیادہ کرے اور پروسی کو بھی اس میں سے کچھ دے۔''(1)
حدیث ۱۰: دیلمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا:''اے عائشہ!پروسی کا بچہ آجائے تو اس کے ہاتھ میں کچھ رکھ دو کہ اس سے محبت بڑھے گی۔''(2)
حدیث ۱۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''پروسی تمھاری دیوار پر کڑیاں رکھنا چاہے تو اسے منع نہ کرو۔''(3)یہ حکم دیانت کا ہے، قضاءً اس کو منع کرسکتا ہے۔
حدیث ۱۲: امام احمد و بیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے عرض کی، یارسول اللہ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)فلانی عورت کے متعلق ذکر کیا جاتا ہے کہ نمازو روزہ و صدقہ کثرت سے کرتی ہے مگر یہ بات بھی ہے کہ وہ اپنے پروسیوں کو زبان سے تکلیف پہنچاتی ہے، فرمایا: ''وہ جہنم میں ہے۔''انھوں نے کہا، یارسول اللہ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)فلانی عورت کی نسبت زیادہ ذکر کیا جاتا ہے کہ اس کے روزہ و صدقہ و نماز میں کمی ہے (یعنی نوافل)، وہ پنیر کے ٹکڑے صدقہ کرتی ہے اور اپنی زبان سے پروسیوں کو ایذا نہیں دیتی، فرمایا: ''وہ جنت میں ہے۔'' (4)
حدیث ۱۳: امام احمد و بیہقی نےعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اللہ تعالیٰ نے تمھارے مابین اخلاق کی اسی طرح تقسیم فرمائی جس طرح رزق کی تقسیم فرمائی، اللہ تعالیٰ دنیا اسے بھی دیتا ہے جو اسے محبوب ہو اور اسے بھی جو محبوب نہیں اور دین صرف اسی کو دیتا ہے جو اس کے نزدیک پیارا ہے، لہٰذا جس کو خدا نے دین دیا اسے محبوب بنالیا، قسم ہے اس کی جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!بندہ مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہو۔''(5)یعنی جب تک دل میں تصدیق اور زبان سے اقرار نہ ہو اور مومن نہیں ہوتا جب تک اس کا پروسی اس کی آفتوں سے امن میں نہ ہو، اسی کی مثل حاکم نے مستدرک میں روایت کی۔
حدیث ۱۴: حاکم نے مستدرک میں نافع بن عبدالحارث رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ
1 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب الراء،الحدیث:۳۵۹۱،ج۲، ص۳۷۹.
2 ۔ ''الفردوس بمأ ثور الخطاب''،الحدیث:۸۶۳۰،ج۵،ص۴۲۷.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب المظالم، باب لا یمنع جار جارہ أن یغرزخشبۃ في جدارہ،الحدیث:۲۴۶۳،ج۲،ص۱۳۲.
4 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ھریرۃ،الحدیث:۹۶۸۱،ج۳، ص۴۴۱.
و''شعب الإیمان''، باب في إکرام الجار،الحدیث:۹۵۴۵، ۹۵۴۶،ج۷، ص۷۸ ۔ ۷۹.
5 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في قبض الید عن الاموال المحرمۃ،الحدیث:۵۵۲۴،ج۴، ص۳۹۵ ۔ ۳۹۶.
تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مرد مسلم کے لیے دنیا میں یہ بات سعادت میں سے ہے، کہ اس کا پروسی صالح ہو اور مکان کشادہ ہو اورسواری اچھی ہو۔''(1)
حدیث ۱۵: حاکم نے مستدرک میں عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی کہتی ہیں میں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میرے دو پروسی ہیں، ان میں سے کس کے پاس ہدیہ بھیجوں؟ فرمایا:''جس کا دروازہ زیادہ نزدیک ہو۔''(2)
حدیث ۱۶: امام احمد نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''قیامت کے دن سب سے پہلے جو دو شخص اپنا جھگڑا پیش کریں گے، وہ دونوں پروسی ہوں گے۔''(3)
حدیث ۱۷: بیہقی نے عبد اﷲ بن عَمْرْو رضی اللہ تعالٰی عنہماسے بسند ضعیف روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:تمھیں معلوم ہے کہ پروسی کا کیا حق ہے؟ یہ کہ جب وہ تم سے مدد مانگے مدد کرو اور جب قرض مانگے قرض دو اور جب محتاج ہو تو اسے دو اور جب بیمار ہو عیادت کرو اور جب اسے خیر پہنچے تو مبارک باد دو اور جب مصیبت پہنچے تو تعزیت کرو اور مرجائے تو جنازہ کے ساتھ جاؤ اور بغیر اجازت اپنی عمارت بلند نہ کرو، کہ اس کی ہوا روک دو اور اپنی ہانڈی سے اس کو ایذا نہ دو، مگر اس میں سے کچھ اسے بھی دو اور میوے خریدو تو اس کے پاس بھی ہدیہ کرو اور اگر ہدیہ نہ کرنا ہو تو چھپا کر مکان میں لاؤ اور تمھارے بچے اسے لے کر باہر نہ نکلیں کہ پروسی کے بچوں کو رنج ہوگا۔
تمھیں معلوم ہے کہ پروسی کا کیا حق ہے؟ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!پوری طور پر پروسی کا حق ادا کرنے والے تھوڑے ہیں، وہی ہیں جن پر اﷲ(عزوجل)کی مہربانی ہے۔ برابر پروسی کے متعلق حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)وصیت فرماتے رہے یہاں تک کہ لوگوں نے گمان کیا کہ پروسی کو وارث کردیں گے۔
پھر حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا کہ ''پروسی تین قسم کے ہیں، بعض کے تین حق ہیں، بعض کے دو اور بعض کا ایک حق ہے۔ جو پروسی مسلم ہو اور رشتہ والا ہو، اس کے تین حق ہیں۔ حق جوار اور حق اسلام اور حق قرابت۔ پروسی مسلم کے دو حق ہیں، حق جوار اور حق اسلام اور پروسی کافر کا صرف ایک حق جوار ہے۔''ہم نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ان کو اپنی قربانیوں میں سے دیں؟ فرمایاکہ مشرکین کو قربانیوں میں سے کچھ نہ دو۔ (4)
1 ۔ ''المستدرک''،کتاب البر والصلۃ، باب ان اللہ لایعطی الإیمان الا من یحب،الحدیث:۷۳۸۶،ج۵، ص۲۳۲.
2 ۔ ''المستدرک'' للحاکم،کتاب البر والصلۃ، باب لایشبع الرجل دون جارہ،الحدیث:۷۳۸۹،ج۵، ص۲۳۲.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل حدیث عقبۃ بن عامر الجھنی،الحدیث:۱۷۳۷۷،ج۶، ص۱۳۴.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في اکرام الجار،الحدیث:۹۵۶۰،ج۷، ص۸۳ ۔ ۸۴.
مسئلہ ۱: چھت پر چڑھنے میں دوسروں کے گھروں میں نگاہ پہنچتی ہے تو وہ لوگ چھت پر چڑھنے سے منع کرسکتے ہیں، جب تک پردہ کی دیوار نہ بنوالے یا کوئی ایسی چیز نہ لگالے جس سے بے پردگی نہ ہو اور اگر دوسرے لوگو ں کے گھروں میں نظر نہیں پڑتی مگر وہ لوگ جب چھت پر چڑھتے ہیں تو سامنا ہوتا ہے تو اس کو چڑھنے سے منع نہیں کرسکتے، بلکہ ان کی مستورات کو یہ چاہیے کہ وہ خود چھتوں پر نہ چڑھیں تاکہ بے پردگی نہ ہو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲: اس کے مکان کی پچھیت (2)دوسرے کے مکان میں ہے یہ اپنی دیوار میں مٹی لگانا چاہتا ہے، مالک مکان اپنے گھر میں جانے سے اسے روکتا ہے۔ اب مٹی کیوں کر لگائی جائے مالک مکان سے کہا جائے گا کہ اسے مکان میں جانے کی اجازت دے، ورنہ وہ خود مٹی لگوادے، اس کے پیسے اس سے دلوادیے جائیں گے۔ اسی طرح اگراس کی دیوار دوسرے کے مکان میں گرگئی ہے، وہاں سے مٹی اٹھانے کی ضرورت ہے، مالک مکان اس کو اجازت دیدے کہ یہ وہاں سے مٹی اٹھائے اور اجازت نہیں دیتا تو خود اٹھائے۔ (3) (عالمگیری)
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ۪ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۪)
(4)
''نیکی اورپرہیزگاری پر آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و ظلم پر مدد نہ کرو۔''
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں جریر بن عبداﷲرضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اﷲتعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔''(5)
حدیث ۲: امام احمد و ترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صادق مصدوق صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سناکہ ''رحمت نہیں نکالی جاتی مگر بدبخت سے۔''(6)
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب القضاء،مسائل شتّٰی،ج۸،ص۱۷۲.
2 ۔ یعنی مکان کے پیچھے کی دیوار۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵، ص۳۷۴.
4 ۔ پ۶،المآئدۃ:۲.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب التوحید، باب قول اللہ ( قل ادعوا اللہ...إلخ)،الحدیث:۷۳۷۶،ج۴،ص۵۳۱.
6 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ھریرۃ،الحدیث:۸۰۰۷،ج۳، ص۱۶۴.
و''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في رحمۃ الناس،الحدیث:۱۹۲۳،ج۳،ص۳۷۱.
حدیث ۳: ابو داود و ترمذی نے عبد اﷲ بن عمر ورضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، زمین والوں پر رحم کرو، تم پر وہ رحم فرمائے گا جس کی حکومت آسمان میں ہے۔''(1)
حدیث ۴: ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑے کی توقیر نہ کرے اور اچھی بات کا حکم نہ کرے اور بری بات سے منع نہ کرے۔''(2)
حدیث ۵: ترمذی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی:''جو ان اگر بوڑھے کا اکرام اس کی عمر کی وجہ سے کریگا تو اس کی عمر کے وقت اﷲتعالیٰ ایسے کو مقرر کردے گا، جو اس کا اکرام کرے۔''(3)
حدیث ۶: ابو داود نے ابو موسیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''یہ بات اﷲتعالیٰ کی تعظیم میں سے ہے کہ بوڑھے مسلمان کا اکرام کیا جائے اور اس حامل قرآن کا اکرام کیا جائے جو نہ غالی ہو، نہ جافی (یعنی جو غلو کرتے ہیں کہ حد سے تجاوز کرجاتے ہیں کہ پڑھنے میں الفاظ کی صحت کا لحاظ نہیں رکھتے یا معنی غلط بیان کرتے ہیں یا ریا کے طور پر تلاوت کرتے ہیں اور جفا یہ ہے کہ اُس سے اعراض کرے، نہ قرآن کی تلاوت کرے، نہ اس کے احکام پر عمل کرے)اور بادشاہ عادل کا اکرام کرنا۔''(4)
حدیث ۷: امام احمد و بیہقی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''مومن اُلفت کی جگہ ہے اور اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ اُلفت کرے، نہ اس سے اُلفت کی جائے۔''(5)
حدیث ۸: بیہقی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جو میری اُمت میں کسی کی حاجت پوری کردے جس سے مقصود اس کو خوش کرنا ہے، اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا، اس نے اﷲ(عزوجل)کو خوش کیا اور جس نے اﷲ(عزوجل)کو خوش کیا، اﷲ(عزوجل)اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔''(6)
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء في رحمۃ المسلمین،الحدیث:۱۹۳۱،ج۳ص۳۷۱.
2 ۔ المرجع السابق،باب ما جاء في رحمۃ الصبیان،الحدیث:۱۹۲۸،۱۹۲۶،ج۳،ص۳۶۹.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في إجلال الکبیر،الحدیث:۲۰۲۹،ج۳،ص۴۱۱.
4 ۔ ''سنن أبيداود ''،کتاب الأدب، باب في تنزیل الناس منازلھم،الحدیث:۴۸۴۳،ج۴،ص۳۴۴.
5 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ھریرۃ،الحدیث:۹۲۰۹،ج۳،ص۳۶۲۔۳۶۳.
و''شعب الإیمان''،باب في حسن الخلق، فصل في لین الجانب...إلخ،الحدیث:۸۱۱۹،ج۶، ص۲۷۰ ۔ ۲۷۱.
6 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في التعاون علی البر والتقوی،الحدیث:۷۶۵۳،ج۶، ص۱۱۵.
حدیث ۹: بیہقی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو کسی مظلوم کی فریاد رسی کرے، اﷲتعالیٰ اس کے لیے تہتّر ۷۳ مغفرتیں لکھے گا، ان میں سے ایک سے اس کے تمام کاموں کی درستی ہوجائے گی اور بہتّر ۷۲ سے قیامت کے دن اس کے درجے بلند ہوں گے۔''(1)
حدیث ۱۰: صحیح مسلم میں نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''تمام مومنین شخص واحد کی مثل ہیں، اگر اس کی آنکھ بیمار ہوئی تو وہ کل بیمار ہے اور سر میں بیماری ہوئی تو کل بیمار ہے۔''(2)
حدیث ۱۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابو موسیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''مومن مومن کے لیے عمارت کی مثل ہے کہ اس کا بعض بعض کو قوت پہنچاتا ہے۔ پھر حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل فرمائیں۔''(3)یعنی جس طرح یہ ملی ہوئی ہیں مسلمانوں کو بھی اسی طرح ہونا چاہیے۔
حدیث ۱۲: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:اپنے بھائی کی مدد کر ظالم ہو یا مظلوم ہو۔ کسی نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) مظلوم ہو تو مدد کروں گا ظالم ہو توکیونکر مدد کروں۔ فرمایا کہ ''اس کو ظلم کرنے سے روک دے یہی مدد کرنا ہے۔'' (4)
حدیث ۱۳: صحیح بخاری ومسلم میں ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مسلم مسلم کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے، نہ اس کی مدد چھوڑے اور جو شخص اپنے بھائی کی حاجت میں ہو، اﷲ(عزوجل)اس کی حاجت میں ہے اور جو شخص مسلم سے کسی ایک تکلیف کو دور کرے، اﷲتعالیٰ قیامت کی تکالیف میں سے ایک تکلیف اس کی دور کردے گا اور جو شخص مسلم کی پردہ پوشی کریگا،اﷲتعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کریگا۔''(5)
حدیث ۱۴: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بندہ مومن نہیں ہوتاجب تک اپنے بھائی کے لیے وہ پسند نہ کرے، جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔''(6)
1 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في التعاون علی البر والتقوی،الحدیث:۷۶۷۰،ج۶، ص۱۲۰.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ، باب تراحم المومنین...إلخ،الحدیث:۶۶،۶۷۔(۲۵۸۶)،ص۱۳۹۶.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب تعاون المؤمنین...إلخ،الحدیث:۶۰۲۶،ج۴،ص۱۰۶.
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الأکراہ، باب یمین الرجل...إلخ،الحدیث:۶۹۵۲،ج۴،ص۳۸۹.
و ''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق،الحدیث:۴۹۵۷،ج۳،ص۶۶.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب المظالم،باب لایظلم المسلم المسلم...إلخ،الحدیث:۲۴۴۲،ج۲،ص۱۲۶.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان، باب الدلیل علی ان من خصال الإیمان...إلخ،الحدیث:۷۱،۷۲۔(۴۵)،ص۴۳.
حدیث ۱۵: صحیح مسلم میں تمیم داری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:دین خیر خواہی کا نام ہے، اس کو تین مرتبہ فرمایا۔ ہم نے عرض کی کس کی خیر خواہی؟ فرمایا:''اﷲو رسول اور اُس کی کتاب کی اور ائمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کی۔''(1)
حدیث ۱۶: صحیح بخاری و مسلم میں جریر بن عبد اﷲرضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے نماز قائم کرنے اور زکاۃ دینے اورہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کی تھی۔ (2)
حدیث ۱۷: ابو داود نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''لوگوں کو ان کے مرتبہ میں اتارو۔''(3)یعنی ہر شخص کے ساتھ اس طرح پیش آؤ جو اس کے مرتبہ کے مناسب ہو سب کے ساتھ ایک سا برتاؤ نہ ہو مگر اس میں یہ لحاظ ضرور کرنا ہو گا کہ دوسرے کی تحقیر و تذلیل نہ ہو۔
حدیث ۱۸: ترمذی وبیہقی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''تم میں اچھا وہ شخص ہے جس سے بھلائی کی امید ہو اور جس کی شرارت سے امن ہو اور تم میں برا وہ شخص ہے جس سے بھلائی کی اُمید نہ ہو اور جس کی شرارت سے امن نہ ہو۔''(4)
حدیث ۱۹: بیہقی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''تمام مخلوق اﷲتعالیٰ کی عیال ہے اور اﷲتعالیٰ کے نزدیک سب میں پیارا وہ ہے جو اس کی عیال کے ساتھ احسان کرے۔'' (5)
حدیث ۲۰: ترمذی نے ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جہاں کہیں رہو خدا سے ڈرتے رہو اور برائی ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرو یہ نیکی اسے مٹادے گی اور لوگوں سے اچھے اخلا ق کے ساتھ پیش آؤ۔''(6)
حدیث ۱: اﷲتعالیٰ مہربان ہے، مہربانی کو دوست رکھتا ہے اور مہربانی کرنے پر وہ دیتا ہے کہ سختی پر نہیں دیتا۔ (7) (مسلم)
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان، باب بیان ان الدین النصیحۃ،الحدیث:۹۵۔(۵۵)،ص۴۷.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإیمان، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم الدین النصیحۃ...إلخ،الحدیث:۵۷،ج۱،ص۳۵.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في تنزیل الناس منازلھم،الحدیث:۴۸۴۲،ج۴،ص۳۴۳.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب:۷۶،الحدیث:۲۲۷۰،ج۴،ص۱۱۶.
5 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في طاعۃ أولی الأمر، فصل في نصیحۃ الولاۃ،الحدیث:۷۴۴۷،ج۶،ص۴۳.
6 ۔ ''سنن الترمذي''، ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء في معاشرۃ الناس،الحدیث:۱۹۹۴،ج۳،ص۳۹۷.
7 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ، باب فضل الرفق،الحدیث:۷۷۔(۲۵۹۳)،ص۱۳۹۸.
حدیث ۲: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا:نرمی کو لازم کرلو اور سختی و فحش سے بچو، جس چیز میں نرمی ہوتی ہے، اس کو زینت دیتی ہے اور جس چیز سے جدا کرلی جاتی ہے، اُسے عیب دار کردیتی ہے۔ (1) (مسلم)
حدیث ۳: جو نرمی سے محروم ہوا وہ خیر سے محروم ہوا۔ (2) (مسلم)
حدیث ۴: جس کو نرمی سے حصہ ملا اسے دنیا و آخرت کی خیر کا حصہ ملا اور جو شخص نرمی کے حصہ سے محروم ہوا وہ دنیا و آخرت کے خیرسے محروم ہوا۔ (3) (شرح سنہ)
حدیث ۵: کیا میں تم کو خبر نہ دوں کہ کون شخص جہنم پر حرام ہے اور جہنم اس پر حرام وہ شخص کہ آسانی کرنے والا نرم قریب سہل ہے۔ (4) (احمد و ترمذی)
حدیث ۶: مومن آسانی کرنے والے نرم ہوتے ہیں، جیسے نکیل والا اونٹ کہ کھینچا جائے تو کھنچ جاتا ہے اور چٹان پر بٹھایا جائے تو بیٹھ جائے۔ (5) (ترمذی)
حدیث ۷: ایک شخص اپنے بھائی کو حیا کے متعلق نصیحت کررہا تھا کہ اتنی حیا کیوں کرتے ہو، رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اسے چھوڑ و۔''یعنی نصیحت نہ کرو کیونکہ حیا ایمان سے ہے۔ (6) (بخاری، مسلم)
حدیث ۸: حیا نہیں لاتی ہے مگر خیر کو حیا کل ہی خیر ہے۔ (7) (بخاری، مسلم)
حدیث ۹: یہ اگلے انبیا کا کلام ہے جو لوگوں میں مشہور ہے، جب تجھے حیا نہیں تو جو چاہے کر۔ (8) (بخاری)
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ، باب فضل الرفق،الحدیث:۷۸،۷۹۔(۲۵۹۴)،ص۱۳۹۸،۱۳۹۹.
و''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب لم یکن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فاحشا...إلخ،الحدیث:۶۰۳۰،ج۴،ص۱۰۸.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ، باب فضل الرفق،الحدیث:۷۵۔(۲۵۹۲)،ص۱۳۹۸.
3 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب البر والصلۃ، باب الرفق،الحدیث:۳۳۸۵،ج۶، ص۴۷۲.
4 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن مسعود،الحدیث:۳۹۳۸ ج۲، ص۹۰.
و''سنن الترمذي''،کتاب صفۃ القیامۃ...إلخ، باب:۱۱۰،الحدیث:۲۴۹۶،ج۴،ص۲۲۰.
5 ۔ ''مشکاۃالمصابیح''،کتاب الآداب، باب الرفق والحیاء...إلخ،الحدیث:۵۰۸۶،ج۳، ص۸۸.
6 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإیمان، باب الحیاء من الإیمان،الحدیث:۲۴،ج۱،ص۱۹.
7 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان...إلخ،الحدیث۶۰،۶۱۔(۳۷)،ص۴۰.
8 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب أحادیث الأنبیاء،باب:۵۶،الحدیث:۳۴۸۴،ج۲،ص۴۷۰.
حدیث ۱۰: حیا ایمان سے ہے اور ایمان جنت میں ہے اور بے ہودہ گوئی جفا سے ہے اور جفا جہنم میں ہے۔(1)(احمد، ترمذی)
حدیث ۱۱: ہر دین کے لیے ایک خلق ہوتا ہے یعنی عادت و خصلت اور اسلام کا خلق حیا ہے۔ (2) (امام مالک)
حدیث ۱۲: ایمان و حیا دونوں ساتھی ہیں ایک کو اٹھالیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھالیا جاتا ہے۔ (3) (بیہقی)
حدیث ۱۳: نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے یہ ناپسند ہو کہ لوگوں کو اس پراطلاع ہو جائے۔ (4) (مسلم)
یہ حکم اس کا ہے جس کے سینے کو خدا نے منور فرمایا ہے اور قلب بیدارو روشن ہے پھر بھی یہ وہاں ہے کہ دلائل شرعیہ سے اس کی حرمت ثابت نہ ہو اور اگر دلائل حرمت پر ہوں تو نہ کھٹکنے کا لحاظ نہ ہوگا۔
حدیث ۱۴: تم میں سب سے زیادہ میرا محبوب وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ (5) (بخاری)
حدیث ۱۵: تم میں اچھے وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔ (6) (بخاری، مسلم)
حدیث ۱۶: ایمان میں زیادہ کامل وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔ (7) (ابو داود)
حدیث ۱۷: خلق حَسَن سے بہتر انسان کو کوئی چیز نہیں دی گئی۔ (8) (بیہقی)
حدیث ۱۸: قیامت کے دن مومن کی میزان میں سب میں بھاری جو چیز رکھی جائے گی وہ خلق حَسَن ہے اور اﷲتعالیٰ اس کو دوست نہیں رکھتا جو فحش گو بد زبان ہو۔ (9) (ترمذی)
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في الحیاء،الحدیث:۲۰۱۶،ج۳،ص۴۰۶.
2 ۔ ''الموطأ''،کتاب حسن الخلق، باب ماجاء في الحیاء،الحدیث:۱۷۲۴،ج۲، ص۴۰۵.
و''سنن ابن ماجہ''، کتاب الزھد، باب الحیاء،الحدیث:۴۱۸۱،ج۴،ص۴۶۰.
3 ۔ ''شعب الإیمان''، باب الحیاء،الحدیث:۷۷۲۷،ج۶، ص۱۴۰.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ، باب تفسیر البر والإثم،الحدیث:۱۴۔(۲۵۵۳)،ص۱۳۸۲.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، باب مناقب عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ،
الحدیث:۳۷۵۹،ج۲،ص۵۴۹.
6 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب المناقب، باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۳۵۵۹،ج۲،ص۴۸۹.
7 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب السنۃ، باب الدلیل علی زیادۃ الإیمان ونقصانہ،الحدیث:۴۶۸۲،ج۴،ص۲۹۰.
8 ۔ ''شعب الإیمان''، باب فی حسن الخلق،الحدیث:۷۹۹۲،ج۶،ص۲۳۵.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب، باب الرفق والحیاء...إلخ،الفصل الثانی ،الحدیث:۵۰۷۸،ج۳، ص۸۷.
9 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في حسن الخلق،الحدیث:۲۰۰۹،ج۳،ص۴۰۳.
حدیث ۱۹: مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل اور صائم النہار کا درجہ پا جاتا ہے۔ (1) (ابو داود)
حدیث ۲۰: مومن دھوکا کھا جانے والا ہوتا ہے (یعنی اپنے کرم کی وجہ سے دھوکا کھا جاتا ہے نہ کہ بے عقلی سے)اور فاجر دھوکا دینے والا لئیم یعنی بدخلق ہوتا ہے۔ (2) (امام احمد، ترمذی، ابو داود)
حدیث ۲۱: اﷲ(عزوجل)سے ڈر جہاں بھی تو ہو اور برائی ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کر کہ یہ اس کو مٹادے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آیا کر۔ (3) (احمد، ترمذی، دارمی)
حدیث ۲۲: جو شخص غصہ کو پی جاتا ہے حالانکہ کرڈالنے پر اسے قدرت ہے قیامت کے دن اﷲتعالٰی اسے سب کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے دے گا کہ جن حوروں میں تو چاہے چلا جائے۔ (4) (ترمذی، ابو داود)
حدیث ۲۳: میں اس لیے بھیجا گیا کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کردوں۔ (5) (امام مالک و احمد)
حدیث ۱: اچھے اور بُرے ہم نشین کی مثال جیسے مشک کا اُٹھانے والا اور بھٹی پھونکنے والا، جو مشک لیے ہوئے ہے یا وہ تجھے اس میں سے دے گا یا تو اس سے خرید لے گا یا تجھے خوشبو پہنچے گی اور بھٹی پھونکنے والا تیرے کپڑے جلادے گا یا تجھے بری بو پہنچے گی۔ (6)
حدیث ۲: مصاحبت نہ کرو مگر مومن کی۔ (7)یعنی صرف مومن کامل کے پاس بیٹھا کرو۔
حدیث ۳: بڑوں کے پاس بیٹھا کرو اور علما ء سے باتیں پوچھا کرو اور حکما سے میل جول رکھو۔ (8)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في حسن الخلق،الحدیث:۴۷۹۸،ج۴،ص۳۳۲.
و''المسند''للإمام أحمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃرضی اللہ عنھا ،الحدیث:۲۴۴۰۹،ج۹،ص۳۳۲.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في البخل،الحدیث:۱۹۷۱،ج۳،ص۳۸۸.
3 ۔ المرجع السابق ،باب ماجاء في معاشرۃ الناس،الحدیث:۱۹۹۴،ج۳،ص۳۹۷.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ، باب في کظم الغیظ،الحدیث:۲۰۲۸،ج۳،ص۴۱۱.
و''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب من کظم غیظا،الحدیث:۴۷۷۷،ج۴،ص۳۲۵.
5 ۔ ''الموطأ''للمالک،کتاب حسن الخلق، باب ما جاء في الحیاء،الحدیث:۱۷۲۳،ج۲، ص۴۰۴.
6 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح والصید، باب المسک،الحدیث:۵۵۳۴،ج۳،ص۵۶۷.
7 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب من یؤمران یجالس،الحدیث:۴۸۳۲،ج۴،ص۳۴۱.
8 ۔ ''الجامع الصغیر''،الحدیث:۳۵۷۷،ص۲۱۸.
حدیث ۴: جو مسلمان لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان کی ایذاؤں پر صبر کرتا ہے، وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو نہیں ملتا جلتا اور ان کی تکلیف دہی پر صبر نہیں کرتا۔ (1)
حدیث ۵: اچھا ساتھی وہ ہے کہ جب تو خدا کو یاد کرے تو وہ تیری مدد کرے اور جب تو بھولے تو وہ یاد دلائے۔ (2)
حدیث ۶: اچھا ہم نشین وہ ہے کہ اس کے دیکھنے سے تمھیں خدایاد آئے اور اس کی گفتگو سے تمھارے عمل میں زیادتی ہو اور اس کا عمل تمھیں آخرت کی یاد دلائے۔ (3)
حدیث ۷: ایسے کے ساتھ نہ رہو جو تمھاری فضیلت کا قائل نہ ہو، جیسے تم اس کی فضیلت کے قائل ہو۔ (4) یعنی جو تمھیں نظر حقارت سے دیکھتا ہو اس کے ساتھ نہ رہو یا یہ کہ وہ اپنا حق تمھارے ذمہ جانتا ہو اور تمھارے حق کا قائل نہ ہو۔
حدیث ۸: حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:ایسی چیز میں نہ پڑو جو تمھارے لیے مفید نہ ہو اور دشمن سے الگ رہو اور دوست سے بچتے رہو مگر جبکہ وہ امین ہو کہ امین کے برابر کوئی نہیں اور امین وہی ہے جو اﷲ(عزوجل) سے ڈرے اور فاجر کے ساتھ نہ رہو کہ وہ تمھیں فجور سکھائے گا اور اس کے سامنے بھید کی بات نہ کہو اور اپنے کام میں ان سے مشورہ لو جو اﷲ(عزوجل)سے ڈرتے ہیں۔ (5)
حدیث ۹: حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:فاجر سے بھائی بندی نہ کر کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لیے مزین کریگا اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہوجائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا، تیرے پاس اس کا آنا جانا عیب اور ننگ ہے اور احمق سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ وہ اپنے کو مشقت میں ڈال دے گا اور تجھے کچھ نفع نہیں پہنچائے گااور کبھی یہ ہوگا کہ تجھے نفع پہنچانا چاہے گا مگر ہوگا یہ کہ نقصان پہنچادے گا اس کی خاموشی بولنے سے بہتر ہے اس کی دوری نزدیکی سے بہتر ہے اور موت زندگی سے بہتر اور کذاب سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ اس کے ساتھ معاشرت تجھے نفع نہ دے گی تیری بات دوسروں تک پہنچائے گا اور دوسروں کی تیرے پاس لائے گا اور اگر تو سچ بولے گا جب بھی وہ سچ نہیں بولے گا۔ (6)
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب صفۃ القیامۃ،باب:۱۲۰،الحدیث:۲۵۱۵،ج۴،ص۲۲۷.
و''سنن ابن ماجہ''،کتاب الفتن، باب الصبر علی البلاء،الحدیث:۴۰۳۲،ج۴،ص۳۷۵.
2 ۔ ''الإخوان''لابن أبي الدنیا، باب من أمر بصحبتہ...إلخ،ص۴۶.
3 ۔ ''الجامع الصغیر''،الحدیث:۴۰۶۳، ص۲۴۷.
4 ۔ ''حلیۃ الاولیاء''، رقم:۱۴۳۷۵،ج۱۰، ص۲۴.
5 ۔ ''الصمت'' لابن أبي الدنیا، باب النھی عن الکلام فیما لا یعنیک، ص۱۲۴.
و''شعب الإیمان''، باب في حفظ اللسان، فصل في فضل السکوت عمالایعنیہ،الحدیث:۴۹۹۵،ج۴، ص۲۵۷.
6 ۔ ''تاریخ دمشق'' لابن عساکر،ج۴۲، ص۵۱۶.
حدیث ۱: روحوں کا لشکر مجتمع تھا جن میں وہاں تعارف تھا دنیا میں اُلفت ہوئی اور وہاں ناآشنائی رہی تو یہاں اختلاف ہوا۔ (1)
حدیث ۲: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا:''کہاں ہیں جو میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے تھے آج میں ان کو اپنے سایہ میں رکھوں گا، آج میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں۔''(2)
حدیث ۳: ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے دوسرے قریہ میں گیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستہ پر ایک فرشتہ بٹھا دیا۔ جب وہ فرشتہ کے پاس آیا، اس نے دریافت کیا کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا اس قریہ میں میرا بھائی ہے اس سے ملنے جاتا ہوں۔ فرشتہ نے کہا، کیا اس پر تیرا کوئی احسان ہے، جسے لینے کو جاتا ہے ؟اس نے کہا نہیں، صرف یہ بات ہے کہ میں اسے اللہ (عزوجل)کے لیے دوست رکھتا ہوں۔ فرشتہ نے کہا، مجھے اللہ (عزوجل)نے تیرے پاس بھیجا ہے کہ تجھے یہ خبردوں کہ اللہ (عزوجل) نے تجھے دوست رکھا کہ تو نے اللہ (عزوجل)کے لیے اس سے محبت کی۔(3)
حدیث ۴: ایک شخص نے عرض کی، یارسول اللہ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اس کے متعلق کیا ارشاد ہے جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے اور ان کے ساتھ ملا نہیں یعنی ان کی صحبت حاصل نہ ہوئی یا اس نے ان جیسے اعمال نہیں کیے۔ ارشاد فرمایا:''آدمی اس کے ساتھ ہے جس سے اسے محبت ہے۔'' (4)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھوں سے محبت اچھا بنادیتی ہے اور اس کا حشر اچھوں کے ساتھ ہوگا اور بدوں کی محبت برا بنا دیتی ہے اور اس کا حشر اُن کے ساتھ ہوگا۔
حدیث ۵: ایک شخص نے عرض کی، یارسول اللہ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)قیامت کب ہوگی؟ فرمایا: تُو نے اس کے لیے کیاطیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی، اس کے لیے میں نے کوئی طیاری نہیں کی، صرف اتنی بات ہے کہ میں اللہ و رسول(عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے محبت رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا:"تو ان کے ساتھ ہے جن سے تجھے محبت ہے۔''
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب أحادیث الانبیاء،باب الأرواح جنود مجندۃ،الحدیث:۳۳۳۶،ج۲،ص۴۱۳.
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ،باب فضل الحب في اللہ تعالٰی،الحدیث:۳۷۔(۲۵۶۶)،ص۱۳۸۸.
3 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۳۸۔(۲۵۶۷)،ص۱۳۸۸.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب،باب علامۃحب اللہ...إلخ،الحدیث:۶۱۶۹،ج۴،ص۱۴۷.
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ اسلام کے بعد مسلمانوں کو جتنی اس کلمہ سے خوشی ہوئی، ایسی خوشی میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ (1)
حدیث ۶: اﷲتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:''جو لوگ میری وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں اور میری وجہ سے ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے ہیں اور آپس میں ملتے جلتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں، ان سے میری محبت واجب ہوگئی۔'' (2)
حدیث ۷: اﷲتعالیٰ نے فرمایا:''جو لوگ میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں ان کے لیے نُور کے منبر ہوں گے، انبیا و شہدا ان پر غبطہ کریں گے۔''(3)
حدیث ۸: اﷲتعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں کہ وہ نہ انبیا ہیں نہ شہدا اور خدا کے نزدیک ان کا ایسا مرتبہ ہوگا کہ قیامت کے دن انبیا اور شہدا ان پر غبطہ کریں گے۔ لوگوں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) ارشاد فرمائیے یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا ''یہ وہ لوگ ہیں جو محض رحمتِ الٰہی کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں، نہ ان کے آپس میں رشتہ ہے، نہ مال کا لینا دینا ہے۔ خدا کی قسم! ان کے چہرے نور ہیں اور وہ خود نور پر ہیں ان کو خوف نہیں، جبکہ لوگ خوف میں ہوں گے اور نہ وہ غمگین ہوں گے، جب دوسرے غم میں ہوں گے۔''اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے یہ آیت پڑھی:
(اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿ۚ۶۲﴾)
(4)
''سن لو بے شک اﷲ(عزوجل)کے اولیا پر نہ خوف ہے، نہ وہ غم کریں گے۔''
حدیث ۹: ایمان کی چیزوں میں سب میں مضبوط اﷲ(عزوجل)کے بارے میں موالاۃ ہے اور اﷲ(عزوجل) کے لیے محبت کرنا اور بغض رکھنا۔ (5)
حدیث ۱۰: رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:تمھیں معلوم ہے اﷲ(عزوجل)کے نزدیک سب سے زیادہ پسند کون سا عمل ہے ؟ کسی نے کہا، نماز و زکاۃ اور کسی نے کہا جہاد۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''سب سے زیادہ اﷲ(عزوجل)کو پیارا، اﷲ(عزوجل)کے لیے دوستی اور بغض رکھنا ہے۔''(6)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب فضائل أصحاب النبیصلی اللہ علیہ وسلم،باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ...إلخ،
الحدیث:۳۶۸۸،ج۲،ص۵۲۷،وکتاب الأدب،باب ماجاء في قول الرجل ویلک،الحدیث:۶۱۶۷،ج۴،ص۱۴۶.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب،باب الحب في اللہ...إلخ،الحدیث:۵۰۰۹،ج۳،ص۷۵.
2 ۔ ''الموطأ'' للإمام مالک،کتاب الشعر،باب ماجاء في المتحابین في اللہ،الحدیث:۱۸۲۸،ج۲،ص۴۳۹.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الزھد،باب ماجاء في الحب في اللہ،الحدیث:۲۳۹۷،ج۴،ص۱۷۴.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب البیوع،باب في الرھن،الحدیث:۳۵۲۷،ج۳،ص۴۰۲،و پ۱۱،یونس:۶۲.
5 ۔ ''کنز العمال''،کتاب الصحبۃ، رقم:۲۴۶۵۲،ج۹،ص۴.
6 ۔ ''المنسد''للإمام أحمد بن حنبل،مسندالأنصار،حدیث أبي ذر الغفاری،الحدیث:۲۱۳۶۱،ج۸،ص۶۸.
حدیث ۱۱: جب کسی نے کسی سے اﷲ(عزوجل)کے لیے محبت کی تو اس نے رب عزوجل کا اکرام کیا۔ (1)
حدیث ۱۲: دو شخصوں نے اﷲ(عزوجل)کے لیے باہم محبت کی اور ایک مشرق میں ہے، دوسرا مغرب میں، قیامت کے دن اﷲتعالیٰ دونوں کو جمع کردے گا اور فرمائے گا:''یہی وہ ہے جس سے تو نے میرے لیے محبت کی تھی۔''(2)
حدیث ۱۳: جنت میں یاقوت کے ستون ہیں ان پر زبرجد کے بالاخانے ہیں، وہ ایسے روشن ہیں جیسے چمکدار ستارے۔ لوگوں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ان میں کون رہے گا؟ فرمایا:''وہ لوگ جو اﷲ(عزوجل)کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہیں، ایک جگہ بیٹھتے ہیں، آپس میں ملتے ہیں۔''(3)
حدیث ۱۴: اﷲ(عزوجل)کے لیے محبت رکھنے والے عرش کے گرد یا قوت کی کرسی پر ہوں گے۔ (4)
حدیث ۱۵: جو کسی سے اﷲ(عزوجل)کے لیے محبت رکھے، اﷲ(عزوجل)کے لیے دشمنی رکھے اور اﷲ (عزوجل)کے لیے دے اور اﷲ(عزوجل)کے لیے منع کرے، اس نے اپنا ایمان کامل کرلیا۔ (5)
حدیث ۱۶: دو شخص جب اﷲ(عزوجل)کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں، ان کے درمیان میں جدائی اس وقت ہوتی ہے کہ ان میں سے ایک نے کوئی گناہ کیا۔ (6)یعنی اﷲ(عزوجل)کے لیے جو محبت ہو اس کی پہچان یہ ہے کہ اگر ایک نے گناہ کیا تو دوسرا اس سے جدا ہوجائے۔
حدیث ۱۷: اﷲتعالیٰ نے ایک نبی کے پاس وحی بھیجی، کہ فلاں زاہد سے کہہ دو کہ تمہارا زہد اور دنیا میں بے رغبتی اپنے نفس کی راحت ہے اور سب سے جدا ہو کر مجھ سے تعلق رکھنا یہ تمھاری عزت ہے، جو کچھ تم پر میرا حق ہے اُس کے مقابل کیا عمل کیا۔ عرض کریگا، اے رب!وہ کون سا عمل ہے؟ ارشاد ہوگا:''کیا تم نے میری وجہ سے کسی سے دشمنی کی اور میرے بارے میں کسی ولی سے دوستی کی۔''(7)
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الانصار،حدیث أبي امامۃ الباھلی،الحدیث:۲۲۲۹۲،ج۸،ص۲۸۹.
2 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في مقاربۃ و موادۃ اھل الدین، فصل في المصافحۃ...إلخ،الحدیث:۹۰۲۲،ج۶،ص۴۹۲.
3 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في مقاربۃ و موادۃ أھل الدین، فصل في المصافحۃ...إلخ،الحدیث:۹۰۰۲،ج۶،ص۴۸۷.
4 ۔ ''المعجم الکبیر''،الحدیث:۳۹۷۳،ج۴،ص۱۵۰.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب السنۃ،باب الدلیل علی زیادۃ الإیمان ونقصانہ،الحدیث:۴۶۸۱،ج۴،ص۲۹۰.
6 ۔ ''الأدب المفرد''للبخاري،باب ھجرۃ المسلم،الحدیث:۴۰۶،ص۱۲۱.
7 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب الصحبۃ، رقم: ۲۴۶۵۳،ج۹،ص۴.
و''حلیۃ الاولیاء''، رقم: ۱۵۳۸۴،ج۱۰،ص۳۳۷.
حدیث ۱۸: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ کس سے دوستی کرتا ہے۔ (1)
حدیث ۱۹: جب ایک شخص دوسرے سے بھائی چارہ کرے تو اس کا نام اور اس کے باپ کا نام پوچھ لے اور یہ کہ وہ کس قبیلہ سے ہے کہ اس سے محبت زیادہ پائیدار ہوگی۔ (2)
حدیث ۲۰: جب ایک شخص دوسرے سے محبت رکھے تو اسے خبر کر دے کہ میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں۔ (3)
حدیث ۲۱: ایک شخص نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں عرض کی، کہ میں اس شخص سے اﷲ(عزوجل)کے واسطے محبت رکھتا ہوں ارشاد فرمایا: تم نے اس کو اطلاع دیدی ہے۔ عرض کی نہیں، ارشاد فرمایا:اٹھو!اس کو اطلاع دے دو۔ اس نے جا کر خبردار کیا، اس نے کہا جس کے لیے تو مجھ سے محبت رکھتا ہے، وہ تجھے محبوب بنالے۔ واپس آکر حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے کہہ سنایا، ارشاد فرمایا:اس نے کیا کہا؟ جو اس نے کہا تھا کہہ سنایا۔ فرمایا:''تو اس کے ساتھ ہوگا جس سے تو نے محبت کی اور تیرے لیے وہ ہے جو تو نے قصد کیا ہے۔'' (4)
حدیث ۲۲: دوست سے تھوڑی دوستی کر عجب نہیں کہ کسی دن وہ تیرا دشمن ہوجائے اور دشمن سے دشمنی تھوڑی کردور نہیں کہ وہ کسی روز تیرا دوست ہوجائے۔ (5)
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:''پانچ چیزیں فطرت سے ہیں، یعنی انبیاء سابقین علیہم السلام کی سنت سے ہیں۔ (1) ختنہ کرنا اور (2) موئے زیرِ ناف مونڈنا اور (3) مونچھیں کم کرنا اور (4) ناخن ترشوانا اور (5) بغل کے بال اُکھیڑنا۔''(6)
حدیث ۲: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''مونچھیں کٹواؤ اور داڑھیاں لٹکاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو۔''(7)
1 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ھریرۃ،الحدیث:۸۰۳۴،ج۳،ص۱۶۸۔۱۶۹.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الزھد،باب ماجاء في إعلام الحب،الحدیث:۲۴۰۰،ج۴،ص۱۷۶.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب إخبارالرجلِ الرجلَ بمحبتہٖ إیاہ،الحدیث:۵۱۲۴،ج۴،ص۴۲۸.
4 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في مقاربۃ وموادۃ...إلخ، فصل في المصافحۃ...إلخ،الحدیث:۹۰۱۱،ج۶،ص۴۸۹.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البر والصلۃ،باب ماجاء فيالإقتصاد فی الحب والبغض،الحدیث:۲۰۰۴،ج۳،ص۴۰۱.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الطھارۃ،باب خصال الفطرۃ،الحدیث:۵۰۔(۲۵۷)،ص۱۵۳.
7 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۵۵۔(۲۶۰)،ص۱۵۴.
حدیث ۳: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھیوں کو زیادہ کرو اور مونچھوں کو خوب کم کرو۔''(1)
حدیث ۴: ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہتے ہیں کہ ''نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم مونچھ کو کم کرتے تھے اور حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ الصلاۃ و السلام بھی یہی کرتے تھے۔''(2)
حدیث ۵: امام احمد و ترمذی و نسائی نے زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو مونچھ سے نہیں لے گا، وہ ہم میں سے نہیں۔''(3)یعنی ہمارے طریقہ کے خلاف ہے۔
حدیث ۶: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جو موئے زیرِ ناف کو نہ مونڈے اور ناخن نہ تراشے اور مونچھ نہ کاٹے، وہ ہم میں سے نہیں۔''(4)
حدیث ۷: ترمذی نے بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت کی، کہ ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم داڑھی کی چوڑائی اورلمبائی سے کچھ لیا کرتے تھے۔''(5)
حدیث ۸: صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں کہ مونچھیں اور ناخن ترشوانے اور بغل کے بال اکھاڑنے اور موئے زیر ناف مونڈنے میں ہمارے لیے یہ وقت مقرر کیا گیا ہے کہ چالیس ۴۰ دن سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ (6)یعنی چالیس دن کے اندر ان کاموں کو ضرور کرلیں۔
حدیث ۹: ابو داود نے بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت کی، رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سفید بال نہ اکھاڑو کیونکہ وہ مسلم کا نور ہے، جو شخص اسلام میں بوڑھا ہوا، اﷲتعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے نیکی لکھے گا اور خطا مٹا دے گا اور درجہ بلند کریگا۔'' (7)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس،باب تقلیم الأظفار،الحدیث:۵۸۹۲،ج۴،ص۷۵.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب،باب ماجاء في قص الشارب،الحدیث:۲۷۶۹،ج۴،ص۳۴۹.
3 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۲۷۷۰،ج۴،ص۳۴۹.
4 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث رجل من بنی غفار رضی اللہ عنہ،الحدیث:۲۳۵۳۹،ج۹،ص۱۲۵.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب،باب ماجاء في الأخذ من اللحیۃ،الحدیث:۲۷۷۱،ج۴،ص۳۴۹.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الطھارۃ،باب خصال الفطرۃ،الحدیث:۵۱۔(۲۵۸)،ص۱۵۳.
7 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الترجل،باب فی نتف الشیب،الحدیث:۴۲۰۲،ج۴،ص۱۱۵.
و ''شرح السنۃ'' للبغوي،کتاب اللباس،باب النھی عن نتف الشیب،الحدیث:۳۰۷۴،ج۶،ص۲۱۱.
حدیث ۱۰: ترمذی و نسائی نے کعب بن مرّہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو اسلام میں بوڑھا ہوا، یہ بڑھاپا اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔''(1)
حدیث ۱۱: امام مالک نے روایت کی، سعید بن المسیب رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سب سے پہلے مہمانوں کی ضیافت کی اور سب سے پہلے ختنہ کیا اور سب سے پہلے مونچھ کے بال تراشے اور سب سے پہلے سفید بال دیکھا۔ عرض کی، اے رب!یہ کیا ہے؟ پروردگار تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ''اے ابراہیم! یہ وقار ہے۔''عرض کی، اے میرے رب!میرا وقار زیادہ کر۔ (2)
حدیث ۱۲: دیلمی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جو شخص قصداً سفید بال اکھاڑے گا، قیامت کے دن وہ نیزہ ہوجائے گا، جس سے اس کو بھونکا جائے گا۔''(3)
حدیث ۱۳: طبرانی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حجامت کے سوا گردن کے بال مونڈانے سے منع فرمایا۔'' (4)
حدیث ۱۴: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے قزع سے منع فرمایا۔ نافع سے پوچھا گیا، قزع کیا چیز ہے؟ نافع نے کہا، بچہ کا سر کچھ مونڈدیا جائے، کچھ متعدد جگہ چھوڑ دیا جائے۔ (5)
حدیث ۱۵: صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک بچہ کو دیکھا، کہ اس کا سر کچھ مونڈا ہوا ہے اور کچھ چھوڑ دیا گیا ہے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے لوگوں کو اس سے منع کیا اور یہ فرمایاکہ''کل مونڈ دو یا کل چھوڑ دو۔'' (6)
حدیث ۱۶: ابو داود و نسائی نے عبداﷲ بن جعفر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ جب حضرت جعفر شہید ہوئے تین دن تک حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ان کی آل سے کچھ نہیں فرمایا، پھر تشریف لائے اور یہ فرمایاکہ آج کے بعد سے میرے بھائی (جعفر)پر نہ رونا، پھر فرمایاکہ میرے بھائی کے بچوں کو بلاؤ۔ کہتے ہیں کہ ہم حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب فضائل الجھاد،باب ماجاء في فضل من شاب شیبۃ في سبیل اللہ،الحدیث:۱۶۴۰،ج۳،ص۲۳۷.
2 ۔ ''الموطأ''،کتاب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم،باب ماجاء في السنۃ في الفطرۃ،الحدیث:۱۷۵۶،ج۲،ص۴۱۵.
3 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب الزینۃ والتجمل، رقم: ۱۷۲۷۶،ج۶،ص۲۸۱.
4 ۔ ''الجامع الصغیر'' للسیوطي، حرف النون،الحدیث:۹۴۶۲،ص۵۶۳.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس،باب کراھۃ القزع،الحدیث:۱۱۳۔(۲۱۲۰)،ص۱۱۷۳.
6 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الترجل،باب الذؤابۃ،الحدیث:۴۱۹۵،ج۴،ص۱۱۳.
خدمت میں پیش کیے گئے، فرمایا: حجام کو بلاؤ، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ہمارے سر مونڈا دیے۔ (1)
حدیث ۱۷: ابو داود نے ابن الحنظلیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''خریم اسدی بہت اچھا شخص ہے اگر اس کے سر کے بال بڑے نہ ہوتے اور تہبند نیچا نہ ہوتا۔ جب یہ خبر خریم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو پہنچی تو چھری لے کر بال کاٹ ڈالے اور کانوں تک کرلیے اور تہبند کو آدھی پنڈلی تک اونچا کرلیا۔ (2)
حدیث ۱۸: ابو داود نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں میرے گیسو تھے۔ میری ماں نے کہا، کہ ان کو نہیں کٹواؤں گی کیونکہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم انھیں پکڑتے اور کھینچتے تھے۔ (3)یعنی حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا دست اقدس ان بالوں کو لگا ہے اس وجہ سے بقصد تبرک چھوڑ رکھے تھے، کٹواتی نہ تھیں۔
حدیث ۱۹: نسائی نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے عورت کو سر مونڈانے سے منع فرمایا ہے۔ (4)
حدیث ۲۰: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو جس چیز کے متعلق کوئی حکم نہ ہوتا اس میں اہلِ کتاب کی موافقت پسند تھی (کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہوں وہ انبیاء علیہم السلام کا طریقہ ہو)اور اہلِ کتاب بال سیدھے رکھتے تھے اور مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے، لہٰذا نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے بال سیدھے رکھے یعنی مانگ نہیں نکالی پھر بعد میں حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے مانگ نکالی۔ (5) (اس سے معلوم ہوا کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو اس معاملے میں اہلِ کتاب کی مخالفت کا حکم ہوا۔)
جمعہ کے دن ناخن ترشوانا مستحب ہے، ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جمعہ کا انتظار نہ کرے کہ ناخن بڑا ہونا اچھا نہیں کیونکہ ناخنوں کا بڑا ہونا تنگیئ رزق کا سبب ہے۔ ایک حدیث ضعیف میں ہے، کہ حضور اقدس (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) جمعہ کے دن نماز کے لیے جانے سے پہلے مونچھیں کترواتے اور ناخن ترشواتے۔
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الترجل،باب في حلق الرأس،الحدیث:۴۱۹۲،ج۴،ص۱۱۲.
2 ۔ المرجع السابق،باب ماجاء في إسبال الإزار،الحدیث:۴۰۸۹،ج۴،ص۸۰.
3 ۔ المرجع السابق،باب ماجاء في الرخصۃ،الحدیث:۴۱۹۶،ج۴،ص۱۱۳.
4 ۔ ''سنن النسائي''،کتاب الزینۃ من السنن،باب النھی عن حلق المرأۃ رأسھا،الحدیث:۵۰۵۹،ص۸۰۹.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس،باب الفرق،الحدیث:۵۹۱۷،ج۴،ص۷۹.
ایک دوسری حدیث میں ہے، کہ جو جمعہ کے دن ناخن ترشوائے، اﷲتعالیٰ اس کو دوسرے جمعہ تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور تین دن زائد(1)یعنی دس دن تک۔
ایک حدیث میں ہے، جو ہفتہ کے دن ناخن ترشوائے، اُس سے بیماری نکل جائے گی اور شفا داخل ہو گی اور جو اتوار کے دن ترشوائے فاقہ نکلے گا اور تونگری آئے گی اور جو پیر کے دن ترشوائے جنون جائے گا اور صحت آئے گی اور جو منگل کے دن ترشوائے مرض جائے گا اور شفا آئے گی اور جو بدھ کے دن ترشوائے وسواس و خوف نکلے گا اور امن و شفا آئے گی (2)اور جو جمعرات کے دن ترشوائے جذام جائے اور عافیت آئے اور جو جمعہ کے دن ترشوائے رحمت آئے گی اور گناہ جائیں گے۔ یہ حدیثیں اگرچہ ضعیف ہیں، مگر فضائل میں قابلِ اعتبار ہیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ منقول ہے کہ پہلے داہنے ہاتھ کے ناخنوں کو اس طرح ترشوائے، سب سے پہلے چھنگلیا پھر بیچ والی پھر انگوٹھا پھر منجھلی پھر کلمہ کی انگلی اور بائیں ہاتھ میں پہلے انگوٹھا پھر بیچ والی پھر چھنگلیا پھر کلمہ کی انگلی پھرمنجھلی یعنی دہنے ہاتھ میں چھنگلیاسے شروع کرے اور بائیں ہاتھ میں انگوٹھے سے اور ایک انگلی چھوڑ کر اور بعض میں دو چھوڑ کر کٹوائے۔ ایک روایت میں آیا ہے، کہ ''اس طرح کرنے سے کبھی آشوب چشم نہیں ہوگا۔'' (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: ناخن تراشنے کی یہ ترتیب جو مذکور ہوئی اس میں کچھ پیچیدگی ہے، خصوصاً عوام کو اس کی نگہداشت دشوار ہے لہٰذا ایک دوسرا طریقہ ہے جو آسان ہے اور وہ بھی حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے مروی ہے، وہ یہ ہے کہ دہنے ہاتھ کی کلمہ کی انگلی سے شروع کرے اور چھنگلیا پر ختم کرے پھر بائیں کی چھنگلیا سے شروع کر کے انگوٹھے پر ختم کرے۔ اس کے بعد دہنے
1 ۔ ''مرقاۃالمفاتیح''،کتاب اللباس،باب الترجل،تحت الحدیث:۴۴۲۲،ج۸،ص۲۱۲.
2 ۔ اعلیٰ حضرت سے اس طرح کا سوال کیا گیا کہ ایک حدیث میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی ممانعت آئی اور دوسری حدیث میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی فضیلت آئی ،ان دونوں روایتوں میں طبیق یا ترجیح کی کیا صورت ہے اور بدھ کے دن ناخن تراشنا کیسا ہوگا؟ اس کے جواب میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:''ناخن کاٹنے سے متعلق کسی دن کوئی ممانعت نہیں، اس ليے کہ دن کی تعیین میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں، البتہ بعض ضعیف حدیثوں میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی ممانعت ہے، لہٰذا اگر بدھ کا دن وجوب کا دن آجائے، مثلاً انتالیس دن سے نہیں تراشے تھے، آج بد ھ کو چالیسواں دن ہے، اگر آج نہیں تراشتا تو چالیس دن سے زائد ہوجائیں گے، تو اس پر واجب ہوگا کہ بدھ کے دن تراشے اس لیے کہ چالیس دن سے زائد ناخن رکھنا ناجائز و مکروہ تحریمی ہے۔ اور اگرمذکورہ صورت نہ ہو تو بدھ کے علاوہ کسی اور دن تراشنا مناسب کہ جانب منع کو ترجیح رہتی ہے۔'' (''فتاویٰ رضویہ''،ج۲۲،ص۶۸۵، ملخصاً)
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۸.
4 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۹.
ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن ترشوائے، اس صورت میں دہنے ہی ہاتھ سے شروع ہوا اور دہنے پر ختم بھی ہوا۔ (1) (درمختار)اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ، کا بھی یہی معمول تھا اور یہ فقیر بھی اسی پر عمل کرتا ہے۔
مسئلہ ۳: پاؤں کے ناخن ترشوانے میں کوئی ترتیب منقول نہیں، بہتر یہ ہے کہ پاؤں کی انگلیوں میں خلال کرنے کی جو ترتیب ہے اسی ترتیب سے ناخن ترشوائے یعنی دہنے پاؤں کی چھنگلیا سے شروع کرکے انگوٹھے پر ختم کرے پھر بائیں پاؤں کے انگوٹھے سے شروع کرکے چھنگلیا پر ختم کرے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴: دانت سے ناخن نہ کھٹکنا چاہیے کہ مکروہ ہے اور اس میں مرض برص معاذ اﷲ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: مجاہد جب دارالحرب میں ہوں تو ان کے لیے مستحب یہ ہے کہ ناخن اور مونچھیں بڑی رکھیں کہ ان کی یہ شکل مہیب دیکھ کر کفار پر رعب طاری ہو۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۶: ہرجمعہ کو اگر ناخن نہ ترشوائے تو پندرھویں دن ترشوائے اور اس کی انتہائی مدت چالیس ۴۰ دن ہے اس کے بعد نہ ترشوانا ممنوع ہے۔ یہی حکم مونچھیں ترشوانے اور موئے زیر ِ ناف دور کرنے اور بغل کے بال صاف کرنے کا ہے کہ چالیس دن سے زیادہ ہونا منع ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے، کہتے ہیں کہ ''ناخن ترشوانے اور مونچھ کاٹنے اور بغل کے بال لینے میں ہمارے لیے یہ میعاد مقرر کی گئی تھی کہ چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑ رکھیں۔''(5)
مسئلہ ۷: موئے زیر ناف دور کرنا سنت ہے۔ ہر ہفتہ میں نہانا، بدن کو صاف ستھرا رکھنا اور موئے زیر ناف دور کرنا مستحب ہے اور بہتر جمعہ کا دن ہے اور پندرھویں روز کرنا بھی جائز ہے اور چالیس روز سے زائد گزار دینا مکروہ و ممنوع۔ موئے زیر ناف استرے سے مونڈنا چاہیے اور اس کو ناف کے نیچے سے شروع کرنا چاہیے اور اگر مونڈنے کی جگہ ہرتال چونا یا اس زمانہ میں بال اڑانے کا صابون چلا ہے، اس سے دور کرے یہ بھی جائز ہے، عورت کو یہ بال اکھیڑ ڈالنا سنت ہے۔ (6) (درمختار، عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۰.
2 ۔ المرجع السابق،ص۶۷۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۸.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۸.
5 ۔ انظر:''صحیح مسلم''،کتاب الطھارۃ،باب خصال الفطرۃ،الحدیث:۵۱۔(۲۵۸)،ص۱۵۳.
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۱.
و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۷،۳۵۸.
مسئلہ ۸: بغل کے بالوں کا اکھاڑنا سنت ہے اور مونڈنا بھی جائز ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: بہتر یہ ہے کہ گلے کے بال نہ مونڈائے انھیں چھوڑ رکھے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: ناک کے بال نہ اکھاڑے کہ اس سے مرض آکلہ پیدا ہونے کا ڈر ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: جنابت کی حالت میں نہ بال مونڈائے اور نہ ناخن ترشوائے کہ یہ مکروہ ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: بھوں کے بال اگر بڑے ہوگئے تو ان کو ترشواسکتے ہیں، چہرہ کے بال لینا بھی جائز ہے جس کو خط بنوانا کہتے ہیں، سینہ اور پیٹھ کے بال مونڈنا یا کتروانا اچھا نہیں، ہاتھ، پاؤں، پیٹ پر سے بال دور کرسکتے ہیں۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: بچی (6)کے اغل بغل (7)کے بال مونڈانا یا اکھیڑنا بدعت ہے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مونچھوں کو کم کرنا سنت ہے اتنی کم کرے کہ ابرو کی مثل ہوجائیں یعنی اتنی کم ہوں کہ اوپر والے ہونٹ کے بالائی حصہ سے نہ لٹکیں اور ایک روایت میں مونڈانا آیا ہے۔ (9) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: مونچھوں کے دونوں کناروں کے بال بڑے بڑے ہوں تو حرج نہیں بعض سلف کی مونچھیں اس قسم کی تھیں۔ (10) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: داڑھی بڑھانا سنن انبیاء سابقین سے ہے۔ مونڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے، ہاں ایک مشت سے زائد ہو جائے تو جتنی زیادہ ہے اس کو کٹواسکتے ہیں۔ (11) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: داڑھی چڑھانا یا اس میں گرہ لگانا جس طرح سکھ وغیرہ کرتے ہیں ناجائز ہے، اس زمانہ میں داڑھی مونچھ
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۰.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۸.
4 ۔ المرجع السابق،ص۳۵۸.
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۰،وغیرہ .
6 ۔ یعنی وہ چند بال جو نیچے کے ہونٹ اور ٹھوڑی کے بیچ میں ہوتے ہیں۔ 7 ۔ آس پاس۔
8 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۸.
9 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۱.
10 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۸.
11 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۱، وغیرہ.
میں طرح طرح کی تراش خراش کی جاتی ہے، بعض داڑھی مونچھ کا بالکل صفایا کرا دیتے ہیں، بعض لوگ مونچھوں کی دونوں جانب مونڈ کر بیچ میں ذرا سی باقی رکھتے ہیں جیسے معلوم ہوتا ہے کہ ناک کے نیچے دومکھیاں بیٹھی ہیں، کسی کی داڑھی فرنچ کٹ اور کسی کی کرزن فیشن ہوتی ہے،یہ جو کچھ ہورہا ہے سب نصاریٰ کے اتباع و تقلید میں ہورہا ہے۔ مسلمانوں کے جذبات ایمانی اتنے زیادہ کمزور ہوگئے کہ وہ اپنے وقار و شعار کو کھوتے ہوئے چلے جاتے ہیں ان کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ ہم کیا تھے اور کیا ہوگئے جب ان کی بے حسی اس درجہ بڑھ گئی اور حمیت وغیرت ایمانی یہاں تک کم ہوگئی کہ دوسری قوموں میں جذب ہوتے جاتے ہیں، پامردی اور استقلال کے ساتھ اسلامی روایات و احکام کی پابندی نہیں کرتے تو ان سے کیا امید ہوسکتی ہے کہ اسلامی احکام کا احترام کرائیں گے اور حقوق مسلمین کی حفاظت کریں گے۔ مسلم کے ہر فرد کو تعلیمات اسلام کا مجسمہ ہونا چاہیے اخلاق سلف صالحین کا نمونہ ہونا چاہیے اسلامی شعار کی حفاظت کرنی چاہیے تاکہ دوسری قوموں پر اس کا اثر پڑے۔
مسئلہ ۱۸: بعض داڑھی منڈے یہاں تک بے باک ہوتے ہیں کہ وہ داڑھی کا مذاق اڑاتے ہیں، شریعت کے مطابق داڑھی رکھنے پر پھبتیاں کستے ہیں۔ داڑھی مونڈانا حرام تھا، گناہ تھا مگر یہ تو سوچو یہ تم نے کس چیز کا مذاق اوڑایا کس کی توہین و تذلیل کی۔ اسلام کی ہر بات اٹل ہے اور اس کے تمام اصول وفروع مضبوط ہیں ان میں کسی بات کو برا بتانا اسلام کو عیب لگانا ہے تم خود سوچو توجو کچھ اس کا نتیجہ ہے، وہ تم پر واضح ہوجائے گا کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے گی۔
مسئلہ ۱۹: مرد کو اختیار ہے کہ سر کے بال منڈائے یا بڑھائے اور مانگ نکالے۔ (1) (ردالمحتار)
حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے دونوں چیزیں ثابت ہیں۔ اگرچہ منڈانا صرف احرام سے باہر ہونے کے وقت ثابت ہے۔ دیگر اوقات میں مونڈانا ثابت نہیں۔ (2)ہاں بعض صحابہ سے مونڈانا ثابت ہے مثلاً حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بطورِ عادت مونڈایا کرتے تھے۔ (3)حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے موئے مبارک کبھی نصف کان تک (4)، کبھی کان کی لوتک ہوتے (5)اور جب بڑھ جاتے تو شانہ مبارک سے چھو جاتے۔(6)اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)بیچ سر میں مانگ نکالتے۔(7)
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۲.
2 ۔ ''جمع الوسائل في شرح الشمائل'' للقاری،باب ماجاء في شعر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم،ص۹۹.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الطھارۃ،باب فيالغسل من الجنابۃ، الحدیث:۲۴۹،ج۱،ص۱۱۷.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الترجل،باب ما جاء في الشِّعر،الحدیث:۴۱۸۶،ج۴،ص۱۱۱.
5 ۔ انظر:''صحیح البخاري''،کتاب المناقب،باب صفۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۳۵۵۱،ج۲،ص۴۸۷.
6 ۔ انظر:''صحیح البخاري''،کتاب اللباس،باب الجعد،الحدیث:۵۹۰۴،ج۴،ص۷۷.
7 ۔ انظر:''صحیح البخاري''،کتاب المناقب،باب صفۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۳۵۵۸،ج۲،ص۴۸۹.
مسئلہ ۲۰: مرد کویہ جائز نہیں کہ عورتوں کی طرح بال بڑھائے، بعض صوفی بننے والے لمبی لمبی لٹیں(1)بڑھا لیتے ہیں جو اُن کے سینہ پر سانپ کی طرح لہراتی ہیں اور بعض چوٹیاں گوندتے ہیں یا جوڑے بنالیتے ہیں یہ سب ناجائز کام اور خلاف شرع ہیں۔ تصوف بالوں کے بڑھانے اور رنگے ہوئے کپڑے پہننے کا نام نہیں بلکہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی پوری پیروی کرنے اور خواہشات نفس کو مٹانے(2)کا نام ہے۔
مسئلہ ۲۱: سپید بالوں کو اوکھاڑنا یا قینچی سے چن کر نکلوانا مکروہ ہے، ہاں مجاہد اگر اس نیت سے ایسا کرے کہ کفار پر اس کا رعب طاری ہو تو جائز ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: بیچ سر کو مونڈا دینا اور باقی جگہ کو چھوڑ دینا جیسا کہ ایک زمانہ میں پان بنوانے کا رواج تھا یہ جائز ہے اور حدیث میں جو قزع کی ممانعت آئی ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ متعدد جگہ سر کے بال مونڈنا اور جگہ جگہ باقی چھوڑنا، جس کو گل بنانا کہتے ہیں۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار) بخاری شریف سے بھی یہی ظاہر ہے۔ (5)پان بنوانے کو قزع سمجھنا غلطی ہے، ہاں بہتر یہی ہے کہ سر کے بال مونڈائے تو کل مونڈا ڈالے یہ نہیں کہ کچھ مونڈے جائیں اور کچھ چھوڑ دیے جائیں۔
مسئلہ ۲۳: بعض دیہاتیوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ پیشانی کو خط کی طرح بنواتے ہیں اور دونوں جانب نوکیں نکلواتے ہیں یا اور طرح سے بنواتے ہیں یہ سنت اور سلف کے طریقہ کے خلاف ہے، ایسا نہ کریں۔
مسئلہ ۲۴: گردن کے بال مونڈنا مکروہ ہے۔ (6) (عالمگیری)یعنی جب سر کے بال نہ مونڈائیں صرف گردن ہی کے مونڈائیں، جیسا کہ بہت سے لوگ خط بنوانے میں گردن کے بال بھی مونڈاتے ہیں اور اگر پورے سر کے بال مونڈا دیے تو اس کے ساتھ گردن کے بال بھی مونڈا دیے جائیں۔
مسئلہ ۲۵: آج کل سر پر گپھا رکھنے کا رواج بہت زیادہ ہوگیا ہے کہ سب طرف سے بال نہایت چھوٹے چھوٹے اور بیچ میں بڑے بال ہوتے ہیں، یہ بھی نصاریٰ کی تقلید میں ہے اور ناجائز ہے پھر ان بالوں میں بعض داہنے یا بائیں جانب مانگ
1 ۔بالوں کی لڑیاں۔ 2 ۔ختم کرنے۔
3 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب العشرون في الزینۃ،ج۵،ص۳۵۹.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۷.
و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۲.
5 ۔ انظر:''صحیح البخاري''،کتاب اللباس،باب القزع،الحدیث:۵۹۲۰،ج۴،ص۸۰.
6 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۷.
نکالتے ہیں یہ بھی سنت کے خلاف ہے، سنت یہ ہے کہ بال ہوں تو بیچ میں مانگ نکالی جائے اور بعض مانگ نہیں نکالتے سیدھے رکھتے ہیں یہ بھی سنت منسوخہ اور یہود ونصاریٰ کا طریقہ ہے جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے۔
مسئلہ ۲۶: ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ نہ پورے بال رکھتے ہیں نہ مونڈا تے ہیں بلکہ قینچی یا مشین سے بال کترواتے ہیں یہ ناجائز نہیں مگر افضل و بہتر وہی ہے کہ مونڈائے یا بال رکھے۔
مسئلہ ۲۷: عورت کو سر کے بال کٹوانے جیسا کہ اس زمانہ میں نصرانی عورتوں نے کٹوانے شروع کردیے ناجائز و گناہ ہے اور اس پر لعنت آئی شوہر نے ایسا کرنے کو کہا جب بھی یہی حکم ہے کہ عور ت ایسا کرنے میں گنہگار ہوگی کیونکہ شریعت کی نافرمانی کرنے میں کسی کا کہنا نہیں مانا جائے گا۔ (1) (درمختار)سنا ہے کہ بعض مسلمان گھروں میں بھی عورتوں کے بال کٹوانے کی بلا آگئی ہے، ایسی پر قینچ عورتیں دیکھنے میں لونڈا معلوم ہوتی ہیں۔
اور حدیث میں فرمایاکہ ''جو عورت مردانہ ہیأت میں ہو، اس پر اﷲ(عزوجل)کی لعنت ہے۔''(2)جب بال کٹوانا عورت کے لیے ناجائز ہے تو مونڈانا بدرجہ اولیٰ ناجائز کہ یہ بھی ہندوستان کے مشرکین کا طریقہ ہے کہ جب ان کے یہاں کوئی مرجاتا ہے یا تِیرَتْھ(3)کو جاتی ہیں تو بال مونڈا دیتی ہیں۔
مسئلہ ۲۸: ترشوانے یا مونڈانے میں جو بال نکلے انھیں دفن کردے، اسی طرح ناخن کا تراشہ پاخانہ یا غسل خانہ میں انھیں ڈال دینا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔ (4) (عالمگیری)موئے زیر ناف کا ایسی جگہ ڈال دینا کہ دوسروں کی نظر پڑے ناجائز ہے۔
مسئلہ ۲۹: چار چیزوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ دفن کردی جائیں، بال، ناخن، حیض کا لتا (5)، خون۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ۳۰: سر میں جوئیں بھری ہیں اور بال مونڈا دیے، انھیں دفن کر دے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ۳۱: مجنونہ کے سر میں بیماری ہوگئی مثلاً کثرت سے جوئیں پڑگئیں اور اس کا کوئی ولی نہیں تو اگر کسی نے اس کا
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظروالإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۱.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس،باب المتشبھون بالنساء...إلخ،الحدیث:۵۸۸۵،ج۴،ص۷۳.
3 ۔ہندوؤں وغیرہ کامقدس مقام،متبرک دریا(گنگا،جمنا)پرنہانے کاگھاٹ۔
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۸.
5 ۔ یعنی وہ کپڑا جس سے عورت حیض کا خون صاف کرے۔
6 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۸.
7 ۔ المرجع السابق.
سر مونڈا دیا اس نے احسان کیا، مگر اس کے سر میں کچھ بال چھوڑ دے تاکہ معلوم ہوسکے کہ عورت ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: سپید بال اکھیڑنے میں حرج نہیں جبکہ بقصد زینت ایسا نہ کرے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار) اور ظاہر یہی ہے کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ زینت ہی کے ارادہ سے کرتے ہیں تاکہ یہ سپیدی دوسروں پر ظاہر نہ ہو اور جوان معلوم ہوں، اسی وجہ سے حدیث میں اس سے ممانعت آئی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ داڑھی میں اس قسم کا تصرف زیادہ ممنوع ہوگا۔
ختنہ سنت ہے اور یہ شعار اسلام میں ہے کہ مسلم وغیرمسلم میں اس سے امتیاز ہوتا ہے اسی لیے عرف عام میں اس کو مسلمانی بھی کہتے ہیں۔
صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''حضرت ابراہیم خلیل اﷲعلیہ الصلاۃ وا لسلام نے اپنا ختنہ کیا، اس وقت ان کی عمر شریف اسّی ۸۰ برس کی تھی۔'' (3)
مسئلہ ۱: ختنہ کی مدت سات سال سے بارہ سال کی عمر تک ہے اور بعض علما نے یہ فرمایا کہ ولادت سے ساتویں دن کے بعد ختنہ کرنا جائز ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: لڑکے کی ختنہ کرائی گئی مگر پوری کھال نہیں کٹی، اگر نصف سے زائد کٹ گئی ہے تو ختنہ ہوگئی باقی کو کاٹنا ضروری نہیں اور اگر نصف یا نصف سے زائد باقی رہ گئی تو نہیں ہوئی یعنی پھر سے ہونی چاہیے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: بچہ پیدا ہی ایسا ہوا کہ ختنہ میں جو کھال کاٹی جاتی ہے وہ اس میں نہیں ہے تو ختنہ کی حاجت نہیں اور اگر کچھ کھال ہے جس کو کھینچا جاسکتا ہے مگر اسے سخت تکلیف ہوگی اور حشفہ (سپاری)ظاہر ہے تو حجاموں کو دکھایا جائے، اگر وہ کہہ دیں کہ نہیں ہوسکتی تو چھوڑ دیا جائے، بچہ کو خواہ مخواہ تکلیف نہ دی جائے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: سنا جاتا ہے کہ جس بچہ میں پیدائشی ختنہ کی کھال نہیں ہوتی، اس کے باپ وغیرہ اولیا اس رسم کی اداکے لیے اعزہ اقربا کو بلاتے ہیں اور ختنہ کے قائم مقام پان کی گلوری کاٹی جاتی ہے گویا اس سے ختنہ کی رسم ادا کی گئی۔
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۱.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب أحادیث الأنبیاء،باب (واتخذ اللہ ابراھیم خلیلاً...إلخ)،الحدیث:۳۳۵۶،ج۲،ص۴۲۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۷.
5 ۔ المرجع السابق. 6 ۔ المرجع السابق.
یہ ایک لغو حرکت ہے جس کا کچھ محصل و فائدہ نہیں۔
مسئلہ ۵: بوڑھا آدمی مشرف باسلام ہوا جس میں ختنہ کرانے کی طاقت نہیں تو ختنہ کرانے کی حاجت نہیں۔ بالغ شخص مشرف با سلام ہوا، اگر وہ خود ہی اپنی مسلمانی کرسکتا ہے تو اپنے ہاتھ سے کرلے ورنہ نہیں، ہاں اگر ممکن ہو کہ کوئی عورت جو ختنہ کرنا جانتی ہو، اس سے نکاح کرے، تو نکاح کرکے اس سے ختنہ کرالے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: ختنہ ہوچکی ہے مگر وہ کھال پھر بڑھ گئی اور حشفہ کو چھپالیا تو دوبارہ ختنہ کی جائے اور اتنی زیادہ نہ بڑھی ہو تونہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: ختنہ کرانا باپ کا کام ہے وہ نہ ہو تو اس کا وصی، اس کے بعد دادا پھر اس کے وصی کا مرتبہ ہے۔ ماموں اور چچا یا ان کے وصی کا یہ کام نہیں، ہاں اگر بچہ ان کی تربیت و عیال میں ہو تو کرسکتے ہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: عورتوں کے کان چھدوانے میں حرج نہیں اور لڑکیوں کے کان چھدوانے میں بھی حرج نہیں، اس لیے کہ زمانہ رسالت میں کان چھدتے تھے اور اس پر انکار نہیں ہوا۔ (4) (عالمگیری)بلکہ کان چھدوانے کا سلسلہ اب تک برابر جاری ہے، صرف بعض لوگوں نے نصرانی عورتوں کی تقلید (5)میں موقوف کردیا (6)جن کا اعتبار نہیں۔
مسئلہ ۹: انسان کو خصی کرنا حرام ہے، اسی طرح ہیجڑا کرنا بھی۔ گھوڑے کو خصی کرنے میں اختلا ف ہے صحیح یہ ہے کہ
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۷.
بالغ کے ختنہ کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت، امامِ احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن''فتاویٰ رضویہ'' جلد 22 صفحہ 593 پر فرماتے ہیں: ہاں اگر خود کر سکتا ہو تو آپ اپنے ہاتھ سے کر لے یا کوئی عورت جو اس کا م کو کرسکتی ہو، ممکن ہو تو اس سے نکاح کرادیا جائے وہ ختنہ کردے، اس کے بعد چاہے تو اسے چھوڑ دے یا کوئی کنیز شرعی واقف ہو تو وہ خرید دی جائے۔اور اگر یہ تینوں صورتیں نہ ہو سکیں توحجام ختنہ کردے کہ ایسی ضرورت کے ليے ستر دیکھنا دکھانا منع نہیں۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: امام کرخی نے جامع صغیر میں فرمایاکہ بالغ آدمی کاختنہ حمام والا کرے۔(ت) (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۷.)
صدرالشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اﷲ القوی''بہارِ شریعت''ج2حصہ9 ص384 پر فرماتے ہیں: دوسرے کی شرمگاہ کی طرف دیکھنا حرام، مگر بضرورت جائز،جیسے دائی اور ختنہ کرنے والے اور عمل دینے والے اور طبیب کو بوقت ضرورت اجازت ہے۔
(بہارِ شریعت، حدود کا بیان ، زنا کی گواہی دے کر رجوع کرنا،ج۲، حصہ۹،ص۳۸۴)
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۷.
3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ یعنی پیروی۔ 6 ۔ چھوڑ دیا۔
جائز ہے۔ دوسرے جانوروں کے خصی کرنے میں اگر فائدہ ہو مثلاً اس کا گوشت اچھا ہوگا یا خصی نہ کرنے میں شرارت کریگا، لوگوں کو ایذا پہنچائے گا، انھیں مصالح کی بنا پر بکرے اور بیل وغیرہ کو خصی کیا جاتا ہے یہ جائز ہے اور اگر منفعت یا دفع ضرر دونوں باتیں نہ ہوں تو خصی کرنا حرام ہے۔ (1) (ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: جس غلام کو خصی کیا گیا ہو اس سے خدمت لینا ممنوع ہے، جیسا کہ امرا و سلاطین کے یہاں اس قسم کے لوگوں سے خدمت لی جاتی ہے جن کو خواجہ سرا کہتے ہیں، ان سے خدمت لینے میں یہ خرابی ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ اس کی وجہ سے خصی کرنے کی جرأت کرتے اور اس حرام فعل کا ارتکاب کرتے ہیں اور اگر ایسے غلام سے کام ہی نہ لیا جائے تو خصی کرنے کا سلسلہ ہی منقطع ہوجائے گا۔ (2) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۱: گھوڑی کو گدھے سے گابھن کرنا جس سے خچر پیدا ہوتا ہے اس میں حرج نہیں۔ حدیث صحیح میں ہے کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی سواری کا جانور بغلہ بیضا تھا اور اگر یہ فعل ناجائز ہوتا تو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم )ایسے جانور کو اپنی سواری میں نہ رکھتے۔ (3) (ہدایہ)
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی، کہتی ہیں:حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو میں نہایت عمدہ خوشبو لگاتی تھی، یہاں تک کہ اس کی چمک حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے سر مبارک اور داڑھی میں پاتی تھی۔(4)
حدیث ۲: صحیح مسلم میں نافع سے مروی، کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کبھی خالص عود(اگر)کی دھونی لیتے یعنی اس کے ساتھ کسی دوسری چیز کی آمیزش نہیں کرتے اور کبھی عود کے ساتھ کافور ملا کر دھونی لیتے اور یہ کہتے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم بھی اسی طرح دھونی لیا کرتے تھے۔ (5)
حدیث ۳: ابو داود نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس ایک
1 ۔''الھدايۃ''،کتاب الکراھیۃ، مسائل متفرقہ،ج۲،ص۳۸۰.
و ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان،ج۵،ص۳۵۷.
2 ۔ ''الھدايۃ''،کتاب الکراھیۃ، مسائل متفرقہ،ج۲،ص۳۸۰.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس،باب الطیب في الرأس واللحیۃ،الحدیث:۵۹۲۳،ج۴،ص۸۱.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الألفاظ من الأدب وغیرھا،باب کراھۃ قول الإنسان...إلخ،الحدیث:۲۱۔(۲۲۵۴)،ص۱۲۳۷.
قسم کی خوشبو تھی، جس کو استعمال فرمایا کرتے تھے۔ (1)
حدیث ۴: شرح سنہ میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کثرت سے سر میں تیل ڈالتے اور داڑھی میں کنگھا کرتے۔ (2)
حدیث ۵: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جس کے بال ہوں ان کا اکرام کرے۔''(3)یعنی ان کو دھوئے، تیل لگائے کنگھا کرے۔
حدیث ۶: امام مالک نے ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں میرے سر پر پورے بال تھے، میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے عرض کی، ان کو کنگھا کیا کروں؟ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''ہاں اور ان کا اکرام کرو۔' لہٰذا ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے فرمانے کی وجہ سے کبھی دن میں دو مرتبہ تیل لگایا کرتے۔ (4)
حدیث ۷: ترمذی و ابو داود و نسائی نے عبداﷲ بن مغفل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے روز روز کنگھا کرنے سے منع فرمایا۔''(5) (یہ نہی تنزیہی ہے اور مقصد یہ ہے کہ مرد کو بناؤ سنگھار میں مشغول نہ رہنا چاہیے)
حدیث ۸: امام مالک نے عطاء بن یسار سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ ایک شخص آیا جس کے سر اور ڈاڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اس کی طرف اشارہ کیا، گویا بالوں کے درست کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ وہ شخص درست کرکے واپس آیا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ کوئی شخص بالوں کو اس طرح بکھیر کر آتا ہے گویا وہ شیطان ہے۔'' (6)
حدیث ۹: ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اثمد پتھر کا سرمہ لگاؤ کہ وہ نگاہ کو جِلا دیتا ہے اور پلک کے بال اگاتا ہے۔''اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے یہاں سرمہ دانی تھی، جس سے ہر شب میں سرمہ لگاتے تھے تین سلائیاں اس آنکھ میں اور تین اس میں۔ (7)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الترجل،باب في إستحباب الطیب،الحدیث:۴۱۶۲،ج۴،ص۱۰۳.
2 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب اللباس،باب ترجیل الشعر...إلخ،الحدیث:۳۰۵۷،ج۶،ص۲۰۱، ۲۰۲.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الترجل،باب في إصلاح الشعر،الحدیث:۴۱۶۳،ج۴،ص۱۰۳.
4 ۔ ''الموطأ''،کتاب الشعر،باب إصلاح الشعر،الحدیث:۱۸۱۸،ج۲،ص۴۳۵.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب اللباس،باب ماجاء في النھی عن الترجل الاغِبًّا،الحدیث:۱۷۶۲،ج۳،ص۲۹۳.
6 ۔ ''الموطأ''،کتاب الشعر،باب إصلاح الشعر،الحدیث:۱۸۱۹،ج۲،ص۴۳۵۔۴۳۶.
7 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب اللباس،باب ماجاء في الإکتحال،الحدیث:۱۷۶۳،ج۳،ص۲۹۳.
حدیث ۱۰: ابو داود و نسائی نے کریمہ بنتِ ہمام سے روایت کی، کہتی ہیں:میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے منہدی لگانے کے متعلق پوچھا؟ انھوں نے فرمایاکہ اس میں کچھ حرج نہیں، لیکن میں خود منہدی لگانے کو ناپسند کرتی ہوں کیونکہ میرے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو اس کی بو ناپسند تھی۔ (1)
حدیث ۱۱: ابو داود نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ ہند بنت عتبہ نے عرض کی، یا نبی اﷲ! (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)مجھے بیعت کرلیجیے۔ فرمایا:''میں تجھے بیعت نہ کروں گا، جب تک تو اپنی ہتھیلیوں کو نہ بدل دے۔ (یعنی منہدی لگا کر ان کا رنگ نہ بدل لے)تیرے ہاتھ گویا درندہ کے ہاتھ معلوم ہورہے ہیں۔'' (2) (یعنی عورتوں کو چاہیے کہ ہاتھوں کو رنگین کر لیا کریں)۔
حدیث ۱۲: ابو داود و نسائی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہتی ہیں کہ ایک عورت کے ہاتھ میں کتاب تھی، اس نے پردہ کے پیچھے سے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی طرف اشارہ کیا یعنی حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو دینا چاہا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور یہ فرمایاکہ معلوم نہیں مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا ہاتھ ہے۔ اس نے کہا، عورت کا ہاتھ ہے۔ فرمایاکہ ''اگر عورت ہوتی تو ناخنوں کو منہدی سے رنگے ہوتی۔''(3)
حدیث ۱۳: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس ایک مخنث حاضر لایا گیا، جس نے اپنے ہاتھ اور پاؤں منہدی سے رنگے تھے۔ ارشاد فرمایا:اس کا کیا حال ہے؟ (یعنی اس نے کیوں منہدی لگائی ہے)لوگوں نے عرض کی، یہ عورتوں سے تشبہ کرتا ہے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے حکم فرمایا، اس کو شہ ر بدر کردیا گیا، مدینہ سے نکال کر نقیع کو بھیج دیا گیا۔ (4)
حدیث ۱۴: ترمذی نے سعید بن المسیب سے روایت کی، کہتے ہیں کہ اﷲ(عزوجل)طیِّب ہے۔ طیب یعنی خوشبو کو دوست رکھتا ہے، ستھرا ہے ستھرائی کو دوست رکھتا ہے، کریم ہے کرم کو دوست رکھتا ہے، جواد ہے جود کو دوست رکھتا ہے۔ لہٰذا اپنے صحن کو ستھرا رکھو، یہودیوں کے ساتھ مشابہت نہ کرو۔ (5)
حدیث ۱۵: صحیح مسلم میں عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الترجل،باب في الخضاب للنساء،الحدیث:۴۱۶۴،ج۴،ص۱۰۳.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۱۶۵،ج۴،ص۱۰۴. 3 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۱۶۶،ج۴،ص۱۰۴.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب الحکم في المخنثین،الحدیث:۴۹۲۸،ج۴،ص۳۶۸.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب،باب ماجاء في النظافۃ،الحدیث:۲۸۰۸،ج۴،ص۳۶۵.
فرمایا: جس کے دل میں ذرہ برابر تکبّر ہوگا، جنّت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے عرض کی، کہ کسی کو یہ پسند ہوتا ہے کہ کپڑے اچھے ہوں، جوتے اچھے ہوں (یعنی یہ بات بھی تکبر ہے یا نہیں)؟ فرمایا:''اﷲ(عزوجل)جمیل ہے جمال کو دوست رکھتا ہے۔ تکبر نام ہے حق سے سرکشی کرنے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا۔''(1)
حدیث ۱۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''یہود ونصاریٰ خضاب نہیں کرتے، تم ان کی مخالفت کرو۔'' (2) یعنی خضاب کرو۔
حدیث ۱۷: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے والد)لائے گئے اور ان کا سر اور داڑھی ثغامہ (یہ ایک گھاس ہے)کی طرح سفید تھی۔ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اس کو کسی چیز سے بدل دو (یعنی خضاب لگاؤ)اور سیاہی سے بچو۔''(3)یعنی سیاہ خضاب نہ لگانا۔
حدیث ۱۸: ابو داود و نسائی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''آخر زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے جو سیاہ خضاب کریں گے جیسے کبوتر کے پوٹے، وہ لوگ جنت کی خوشبو نہیں پائیں گے۔''(4)
حدیث ۱۹: ترمذی و ابو داود و نسائی نے ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سب سے اچھی چیز جس سے سفید بالوں کا رنگ بدلا جائے،منہدی یا کتم ہے۔''(5)یعنی منہدی لگائی جائے یا کتم۔
حدیث ۲۰: ابو داود نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے سامنے ایک شخص گزرا جس نے منہدی کا خضاب کیا تھا، ارشاد فرمایا: یہ خوب اچھا ہے۔ پھر ایک دوسرا شخص گزرا جس نے منہدی اور کتم کا خضاب کیا تھا، فرمایا:یہ اس سے بھی اچھا ہے۔ پھر ایک تیسرا شخص گزرا جس نے زرد خضاب کیا تھا، فرمایا:''یہ ان سب سے اچھا ہے ۔''(6)
حدیث ۲۱: ابن النجار نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان،باب تحریم الکبر وبیانہ،الحدیث:۱۴۷۔(۹۱)،ص۶۰.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب أحادیث الأنبیاء،باب ما ذکر عن بني اسرائیل،الحدیث:۳۴۶۲،ج۲،ص۴۶۲.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس...إلخ،باب إستحباب خضاب الشیب بصفرۃ...إلخ،الحدیث:۸۰۔(۲۱۰۲)،ص۱۱۶۴.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الترجل،باب ماجاء في خضاب السواد،الحدیث:۴۲۱۲،ج۴،ص۱۱۸.
و''سنن النسائي''،کتاب الزینۃ من السنن،باب النھی عن الخضاب بالسواد،الحدیث:۵۰۸۵،ص۸۱۲.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب اللباس،باب ماجاء في الخضاب،الحدیث:۱۷۵۹،ج۳،ص۲۹۲.
6 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الترجل،باب في خضاب الصفرۃ،الحدیث:۴۲۱۱،ج۴،ص۱۱۷.
''سب سے پہلے منہدی اور کتم کا خضاب ابراہیم علیہ السلام نے کیا اور سب سے پہلے سیاہ خضاب فرعون نے کیا۔''(1)
حدیث ۲۲: طبرانی نے کبیر میں اور حاکم نے مستدرک میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ مومن کا خضاب زردی ہے اور مسلم کا خضاب سرخی ہے اور کافر کا خضاب سیاہی ہے۔''(2)
حدیث ۲۳: صحیح بخاری و مسلم میں عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اﷲ(عزوجل)کی لعنت اس عور ت پر جو بال ملائے یا دوسری سے بال ملوائے اور گودنے والی (3)اور گودوانے والی پر۔''(4)
حدیث ۲۴: صحیح بخاری و مسلم میں عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، انھوں نے فرمایاکہ اﷲ (عزوجل)کی لعنت گود نے والیوں پر اور گودوانے والیوں پر اور بال نوچنے والیوں پر یعنی جو عورت بھوں کے بال نوچ کر ابرو کو خوبصورت بناتی ہے اس پر لعنت اور خوبصورتی کے لیے دانت ریتنے والیوں پر یعنی جو عورتیں دانتوں کو ریت کر خوبصورت بناتی ہیں اوراﷲ(عزوجل)کی پیدا کی ہوئی چیز کو بدل ڈالتی ہیں۔ ایک عورت نے عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس حاضر ہو کر یہ کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے فلاں فلاں قسم کی عورتوں پر لعنت کی ہے، انھوں نے فرمایا:میں کیوں نہ لعنت کروں ان پر جن پر رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے لعنت کی اور اس پر جو کتاب اﷲمیں (ملعون)ہے اس نے کہا میں نے کتاب اﷲپڑھی ہے مجھے تو اس میں یہ چیز نہیں ملی۔ فرمایا:تو نے (غور سے پڑھا ہوتا تو ضرور اس کو پایا ہوتا کیا تو نے یہ نہیں پڑھا:
(وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ)
(5)
''یعنی رسول جو کچھ تمھیں دیں اسے لو اور جس چیز سے منع کر دیں اس سے باز آجاؤ۔''
اس عورت نے کہا، ہاں یہ پڑھا ہے۔ عبداﷲبن مسعود نے فرمایا کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اس سے منع فرما یا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کے بعد اس عورت نے یہ کہا کہ ان میں کی بعض باتیں تو آپ کی بی بی میں بھی ہیں۔ عبداﷲبن مسعود نے فرمایا اندر جا کر دیکھو وہ مکان میں گئی پھر آئی، تو آپ نے فرمایا کیا دیکھا؟ اس نے کہا کچھ نہیں دیکھا۔ عبداﷲ نے فرمایا اگر اس میں یہ بات ہوتی تو میرے ساتھ نہیں رہتی۔ یعنی ایسی عورت میرے گھر میں نہیں رہ سکتی ہے۔ (6)
حدیث ۲۵: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ
1 ۔ ''الفردوس بمأ ثور الخطاب''،الحدیث:۴۷،ج۱،ص۳۵.
2 ۔ ''المستدرک''،کتاب معرفۃ الصحابۃ،باب الصفرۃ خضاب المؤمن...إلخ،الحدیث:۶۲۹۶،ج۴،ص۶۷۵.
3 ۔ یعنی جسم میں سوئی وغیرہ چھید لگا کر اس میں سُرمہ یا سبزہ یا نیل بھرنے والی۔
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس،باب الوصل فی الشعر،الحدیث:۵۹۳۷،ج۴،ص۸۴.
5 ۔ پ۲۸،الحشر:۷.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس،باب تحریم، فعل الواصلۃ والمستوصلۃ...إلخ،الحدیث:۱۲۰۔(۲۱۲۵)،ص۱۱۷۵.
نظرِ بدحق ہے یعنی نظر لگنا صحیح ہے ایسا ہوتا ہے اور گود نے سے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے منع فرمایا۔ (1)
حدیث ۲۶: سنن ابو داود میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے، انھوں نے کہا، بال ملانے والی اور ملوانے والی اور ابرو کے بال نوچنے والی اورنو چوانے والی اور گود نے والی اور گودوانے والی پر لعنت ہے، جبکہ بیماری سے یہ نہ کیا ہو۔ (2)
حدیث ۲۷: ابو داود نے روایت کی، کہ جس سال معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں حج کیا (مدینہ میں آئے)اور منبر پر چڑھ کر بالوں کا گچھا جو سپا ہی کے ہاتھ میں تھا لے کر کہا اے اہلِ مدینہ تمھارے علما کہاں ہیں؟ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے سنا ہے کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اس سے منع فرماتے تھے یعنی چوٹی میں بال جوڑنے سے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل اسی وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے یہ کرنا شروع کردیا۔(3)
مسئلہ ۱: انسان کے بالوں کی چوٹی بنا کر عورت اپنے بالوں میں گوندھے یہ حرام ہے۔ حدیث میں اس پر لعنت آئی بلکہ اس پر بھی لعنت جس نے کسی دوسری عورت کے سر میں ایسی چوٹی گوندھی اور اگر وہ بال جس کی چوٹی بنائی گئی خود اسی عورت کے ہیں جس کے سر میں جوڑی گئی جب بھی ناجائز اور اگر اون یا سیاہ تاگے کی چوٹی بنا کر لگائے تو اس کی ممانعت نہیں۔ سیاہ کپڑے کا موباف (4)بنانا جائز ہے اور کلاوہ میں تو اصلاً حرج نہیں کہ یہ بالکل ممتاز ہوتا ہے۔ اسی طرح گود نے والی اور گودو انے والی یا ریتی سے دانت ریت کر خوبصورت کرنے والی یا دوسری عورت کے دانت ریتنے والی یا موچنے (5)سے ابرو کے بالوں کو نوچ کر خوبصورت بنانے والی اور جس نے دوسری کے بال نوچے ان سب پر حدیث میں لعنت آئی ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۲: لڑکیوں کے کان ناک چھیدنا جائز ہے اور بعض لوگ لڑکوں کے بھی کان چھدواتے ہیں اور دُریا (7) پہناتے ہیں یہ ناجائز ہے یعنی کان چھدوانا بھی ناجائز اور اسے زیور پہنانا بھی ناجائز۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: عورتوں کو ہاتھ پاؤں میں منہدی لگانا جائز ہے کہ یہ زینت کی چیز ہے، بلا ضرورت چھوٹے بچوں کے ہاتھ پاؤں میں منہدی لگانا نہ چاہیے۔ (9) (عالمگیری)لڑکیوں کے ہاتھ پاؤں میں لگاسکتے ہیں جس طرح ان کو زیور پہناسکتے ہیں۔
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الطب،باب العین حق،الحدیث:۵۷۴۰،ج۴،ص۳۲.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الترجل،باب في صلۃ الشعر،الحدیث:۴۱۷۰،ج۴،ص۱۰۶.
3 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۱۶۷،ج۴،ص۱۰۵.
4 ۔ بالوں میں دھاگہ لگا کر انہیں دراز کرنا موباف کہلاتا ہے۔ 5 ۔ یعنی بال اکھاڑنے کا آلہ۔
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر والمس،ج۹،ص۶۱۴.
7 ۔یعنی کانوں کی لَو میں پہننے کا چھوٹا سا زیور جس میں عام طور پر صرف ایک موتی ہوتا ہے۔
8 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظروالإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۹۳.
9 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب العشرون في الزینۃ،ج۵،ص۳۵۹.
مسئلہ ۴: عورتیں اپنی چوٹیوں میں پوت (1)اور چاندی سونے کے دانے لگاسکتی ہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: پتھر کا سرمہ استعمال کرنے میں حرج نہیں اور سیاہ سرمہ یا کاجل بقصدِ زینت مرد کو لگانا مکروہ ہے اور زینت مقصود نہ ہو تو کراہت نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: مکان میں ذی روح کی تصویر لگانا جائز نہیں اور غیر ذی روح کی تصویر سے مکان آراستہ کرنا جائز ہے جیسا کہ طغرے اور کتبوں سے مکان سجانے کا رواج ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: گرمی سے بچنے کے لیے خس یا جواسے کی ٹٹیاں (5)لگانا جائز ہے اور اگر تکبر کے طور پر ہو تو ناجائز ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: یہ شخص سواری پر ہے اور اس کے ساتھ اور لوگ پیدل چل رہے ہیں اگر محض اپنی شان دکھانے اور تکبر کے لیے ایسا کرتا ہے تو منع ہے۔ (7) (عالمگیری)اور ضرورت سے ہو تو حرج نہیں مثلاً یہ بوڑھا یا کمزور ہے کہ چل نہ سکے گا یا ساتھ والے کسی طرح اسکے پیدل چلنے کو گوارا ہی نہیں کرتے، جیسا کہ بعض مرتبہ علما و مشایخ کے ساتھ دوسرے لوگ خود پیدل چلتے ہیں اور ان کو پیدل چلنے نہیں دیتے، اس میں کراہت نہیں جبکہ اپنے دل کو قابو میں رکھیں اور تکبر نہ آنے دیں اور محض ان لوگوں کی دلجوئی منظور ہو۔
مسئلہ۹: مرد کو داڑھی اور سر وغیرہ کے بالوں میں خضاب لگانا جائز بلکہ مستحب ہے مگر سیاہ خضاب لگانا منع ہے ہاں مجاہد کو سیاہ خضاب بھی جائز ہے کہ دشمن کی نظر میں اس کی وجہ سے ہیبت بیٹھے گی۔ (8) (درمختار)
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسْخَرْ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ
1 ۔ پوت: یعنی شیشے یا کانچ کے دانے۔
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب العشرون في الزینۃ،ج۵،ص۳۵۹.
3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ یعنی مخصوص گھاس کا پردہ یا قنات دروازوں وغیرہ پر لگا کر اس پر پانی چھڑکتے ہیں، تاکہ ٹھنڈک حاصل ہو۔
6 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب العشرون في الزینۃ،ج۵،ص۳۵۹.
7 ۔ المرجع السابق،ص۳۶۰.
8 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظروالإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۹۶.
یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنْہُنَّ ۚ وَلَا تَلْمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقَابِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوۡقُ بَعْدَ الْاِیۡمَانِ ۚ وَمَنۡ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱﴾
)
(1)
''اے ایمان والو!ایک گروہ دوسرے گروہ سے مسخرا پن نہ کرے، ہوسکتا ہے کہ یہ اون سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے مسخرا پن کریں، ہوسکتا ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور اپنے کو عیب نہ لگاؤ اور برے لقبوں سے نہ پکارو، ایمان کے بعد فسوق برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں۔''
حدیث ۱: بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اولاد کا والد پر یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے۔''(2)
حدیث ۲: اصحاب سنن اربعہ نے عبد اﷲ بن جراد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اپنے بھائیوں کو ان کے اچھے ناموں سے پکارو برے القاب سے نہ پکارو۔''(3)
حدیث ۳: صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''تمھارے ناموں میں اﷲتعالیٰ کے نزدیک زیادہ پیارے نام عبداﷲو عبدالرحمن ہیں۔''(4)
حدیث ۴: امام احمد و ابو داود نے ابو الدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''قیامت کے دن تم کو تمھارے نام اور تمھارے باپوں کے نام سے بلایا جائے گا، لہٰذا اچھے نام رکھو۔'' (5)
حدیث ۵: ابو داود نے ابی وہب جشمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''انبیا علیہم السلام کے نام پر نام رکھو اوراﷲ(عزوجل)کے نزدیک ناموں میں زیادہ پیارے نام عبداﷲو عبدالرحمن ہیں اور سچے نام حارث و ہمام ہیں اور حرب و مُرّہ برے نام ہیں۔''(6)
حدیث ۶: دیلمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اچھوں کے نام پر نام رکھو اور اپنی حاجتیں اچھے چہرہ والوں سے طلب کرو۔'' (7)
1 ۔ پ۲۶،الحجرٰت:۱۱.
2 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في حقوق الأولاد والأھلین،الحدیث:۸۶۵۸،ج۶،ص۴۰۰.
و ''کنزالعمال''،کتاب النکاح،رقم:۴۵۱۸۴،ج۱۶،ص۱۷۳.
3 ۔''کنزالعمال''،کتاب النکاح، رقم:۴۵۲۱۱،ج۱۶،ص۱۷۵.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الآداب،باب النھی عن التکني بأبی القاسم...إلخ،الحدیث:۲۔(۲۱۳۲)،ص۱۱۷۸.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في تغییرالأسماء ،الحدیث:۴۹۴۸،ج۴،ص۳۷۴.
6 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۹۵۰،ج۴،ص۳۷۴.
7 ۔ ''المسند الفردوس''،الحدیث:۲۳۲۹،ج۲،ص۵۸.
حدیث ۷: صحیح بخاری و مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت کے ساتھ کنیت نہ کرو، کیونکہ (میری کنیت ابوالقاسم محض اس وجہ نہیں کہ میرے صاحب زادہ کا نام قاسم تھا بلکہ)میں قاسم بنایا گیا ہوں کہ تمھارے مابین تقسیم کرتا ہوں۔'' (1)
حدیث ۸: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم بازار میں تھے، ایک شخص نے ابوالقاسم کہہ کر پکارا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس نے کہا، میں نے اس شخص کو پکارا، ارشاد فرمایا: ''میرے نام کے ساتھ نام رکھو اور میری کنیت کے ساتھ کنیت نہ کرو۔'' (2)
حدیث ۹: ابو داود نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں: میں نے عرض کی، یارسول اﷲ! (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اگر حضور کے بعد میرے لڑا پیدا ہو تو آپ کے نام پر اس کا نام رکھوں اور آپ کی کنیت پر اس کی کنیت کروں؟ فرمایا:''ہاں۔''(3)
حدیث ۱۰: ابن عساکر ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں: ''جس کے لڑکا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لیے اس کا نام محمد رکھے (4)، وہ اور اس کا لڑکا دونوں بہشت میں جائیں۔''(5)
حدیث ۱۱: حافظ ابو طاہر سلفی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں:''روز قیامت دو شخص رب العزت کے حضور کھڑے کیے جائیں گے، حکم ہوگا انھیں جنت میں لے جاؤ۔ عرض کریں گے، الٰہی!ہم کس عمل پر جنت کے قابل ہوئے، ہم نے تو جنت کا کوئی کام کیا نہیں؟ فرمائے گا:''جنت میں جاؤ!میں نے حلف کیا ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو، دوزخ میں نہ جائے گا۔''(6)
1 ۔ ''صحیح البخاری''،فرض الخمس،باب قولہ تعالٰی(فان للہ خُمُسَہ وللرسول) یعنی للرسول قسم ذلک،
الحدیث:۳۱۱۴،ج۲،ص۳۴۶.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب البیوع،باب ماذکر في الأسواق،الحدیث:۲۱۲۰،ج۲،ص۲۴.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في الرخصۃ في الجمع بینھما،الحدیث:۴۹۶۷،ج۴،ص۳۸۰.
4 ۔اعلیٰ حضرت امامِ احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن''فتاویٰ رضویہ''جلد 24صفحہ691 پر فرماتے ہیں:''بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یااحمد نام رکھے، اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا انھیں اسمائے مبارکہ کے وارد ہوئے ہیں۔''
5 ۔''کنزالعمال''،کتاب النکاح،الباب السابع فی برالاولادوحقوقہم،الحدیث:۴۵۲۱۵،ج۸،الجزء السادس عشر،ص۷۵ ۱. و''فتاوی رضویۃ''،ج۲۴،ص۶۸۶۔
6 ۔''فردوس الاخبار''،الحدیث:۸۵۱۵،ج۲،ص۵۰۳. و''فتاوی رضویۃ''،ج۲۴،ص۶۸۷۔
حدیث ۱۲: ابو نعیم نے حلیہ میں نبیط بن شریط رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا:''مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم!جس کا نام تمھارے نام پر ہوگا، اسے عذاب نہ دوں گا۔''(1)
حدیث ۱۳: ابن سعد طبقات میں عثمان عمری سے مرسلاً راوی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں: ''تم میں کسی کا کیا نقصان ہے، اگر اس کے گھر میں ایک محمد یا دو محمد یا تین محمد ہوں۔''(2)
حدیث ۱۴: طبرانی کبیر میں عبداﷲبن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جس کے تین بیٹے ہوں اور وہ ان میں سے کسی کا نام محمد نہ رکھے، وہ ضرور جاہل ہے۔'' (3)
حدیث ۱۵: حاکم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب لڑکے کا نام محمد رکھو تو اس کی عزت کرو اور مجلس میں اس کے لیے جگہ کشادہ کرو اور اسے برائی کی طرف نسبت نہ کرو۔'' (4)
حدیث ۱۶: بزار نے ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب لڑکے کا نام محمد رکھو تو اسے نہ مارو اور نہ محروم کرو۔'' (5)
حدیث ۱۷: صحیح مسلم میں زینب بنتِ ابی سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ ان کا نام برہ تھا۔ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اپنا تزکیہ نہ کرو (یعنی اپنی بڑائی اور تعریف نہ کرو)اﷲ(عزوجل)کو معلوم ہے کہ تم میں برا اور نیکی والا کون ہے، اس کا نام زینب رکھ دو۔''(6)
حدیث ۱۸: صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہتے ہیں: جویریہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا نام برہ تھا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے یہ نام بدل کر جویریہ رکھا اوریہ بات حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو ناپسند تھی کہ یوں کہا جائے کہ برہ کے پاس سے چلے گئے۔''(7)
حدیث ۱۹: صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ایک لڑکی کا
1 ۔ ''کشف الخفاء''،حرف الخاء،الحدیث:۱۲۴۳،ج۱،ص۳۴۵.
2 ۔ ''الطبقات الکبری''لابن سعد،الطبقۃ الأولی من أھل المدینۃ من التابعین،محمد بن طلحۃ،رقم: ۶۲۲،ج۵،ص۴۰.
3 ۔ ''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۱۰۷۷،ج۱۱،ص۵۹.
4 ۔ ''الجامع الصغیر'' ،الحدیث:۷۰۶، ص۴۹.
5 ۔ ''البحر الزخارالمعروف بمسند البزار''،الحدیث:۳۸۸۳،ج۹،ص۳۲۷.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الآداب،باب إستحباب تغییرالإسم القبیح إلی حسن...إلخ،الحدیث:۱۹۔(۲۱۴۲)،ص۱۱۸۲.
7 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۱۶۔(۲۱۴۰)،ص۱۱۸۲.
نام عاصیہ تھا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اس کا نام جمیلہ رکھا۔ (1)
حدیث ۲۰: ترمذی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم برے نام کو بدل دیتے تھے۔'' (2)
حدیث ۲۱: صحیح بخاری میں سعید بن المسیب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہتے ہیں:میرے دادا نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے پوچھا:تمہارا کیا نام ہے؟ انھوں نے کہا:حزن۔ فرمایا:''تم سہل ہو۔ یعنی اپنا نام سہل رکھو کہ اس کے معنی ہیں نرم اور حزن سخت کو کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو نام میرے باپ نے رکھا ہے اسے نہیں بدلوں گا۔''(3)سعید ابن المسیب کہتے ہیں:اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم میں اب تک سختی پائی جاتی ہے۔
تنبیہ: نام رکھنے کے متعلق بعض مسائل عقیقہ کے بیان میں ذکر کیے گئے ہیں وہاں سے معلوم کریں (4)، بعض باتیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں۔
مسئلہ ۱: اﷲتعالیٰ کے نزدیک بہت پیارے نام عبد اﷲو عبدالرحمن ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہے، ان دونوں میں زیادہ افضل عبد اﷲ ہے کہ عبودیت کی اضافت (5)علم ذات کی طرف ہے۔ انھیں کے حکم میں وہ اسماء ہیں جن میں عبودیت کی اضافت دیگر اسماء صفاتیہ کی طرف ہو، مثلاً عبدالرحیم، عبدالملک، عبدالخالق وغیرہا۔
حدیث میں جوان دونوں ناموں کو تمام ناموں میں خدا تعالیٰ کے نزدیک پیارا فرمایا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنا نام عبد کے ساتھ رکھنا چاہتا ہو تو سب سے بہتر عبداﷲو عبدالرحمن ہیں، وہ نام نہ رکھے جائیں جو جاہلیت میں رکھے جا تے تھے کہ کسی کا نام عبد شمس اور کسی کا عبدالدار ہوتا۔
لہٰذا یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ دونوں نام محمد و احمد سے بھی افضل ہیں، کیونکہ حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے اسم پاک محمد واحمد ہیں اور ظاہر یہی ہے کہ یہ دونوں نام خود اﷲتعالیٰ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے لیے منتخب فرمائے، اگر یہ دونوں نام خدا کے نزدیک بہت پیارے نہ ہوتے تو اپنے محبوب کے لیے پسند نہ فرمایا ہوتا۔ احادیث میں محمد نام رکھنے کے بہت فضائل مذکور ہیں، ان میں سے بعض ذکر کی گئیں۔
مسئلہ ۲: جس کا نام محمد ہو وہ اپنی کنیت ابوالقاسم رکھ سکتا ہے اور حدیث میں جو ممانعت آئی ہے، وہ حضور اقدس
صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی حیاتِ ظاہری کے ساتھ مخصوص تھی، کیونکہ اگر کسی کی یہ کنیت ہوتی او راس کے ساتھ پکارا جاتاتو دھوکا لگتا
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الآداب،باب إستحباب تغییرالإسم القبیح إلی حسن...إلخ،الحدیث:۱۵۔(۲۱۳۹)،ص۱۱۸۱.
2 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب،باب ماجاء في تغییر الأسماء،الحدیث:۲۸۴۸،ج۴،ص۳۸۲.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب،باب تحویل الإسم إلی إسم أحسن منہ،الحدیث:۶۱۹۳،ج۴،ص۱۵۳.
4 ۔ دیکھئے: اسی جلد میں حصہ ۱۵،ص۳۵۶. 5 ۔ یعنی عبد کی نسبت۔
کہ شاید حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو پکارا، چنانچہ ایک دفعہ ایسا ہی ہوا کہ کسی نے دوسرے کو ابوالقاسم کہہ کر آواز دی، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اس کی طرف توجہ فرمائی تو اس نے کہا، میں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو نہیں ارادہ کیا یعنی نہیں پکارا اس موقع پر ارشاد فرمایا کہ''میرے نام کے ساتھ نام رکھو اور میری کنیت کے ساتھ اپنی کنیت نہ کرو۔''(1)
اگر یہ شبہ کیا جائے کہ نام رکھنے میں بھی اس قسم کا دھوکا ہوسکتا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو نام پاک کے ساتھ پکارنا قرآن پاک نے منع فرما دیا تھا:
(لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمۡ بَعْضًا ؕ)
(2)
لہٰذا صحابہ کرام(رضی اللہ تعالٰی عنہم)جو حاضر خدمت اقدس ہوا کرتے تھے، وہ کبھی نام کے ساتھ پکارتے نہ تھے، بلکہ یارسول اﷲ، یا نبی اﷲوغیرہ القاب سے ندا کرتے۔
وہ احتمال ہی یہاں پیدا نہ ہوتا کہ محمد کہہ کر کوئی پکارے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)مراد ہوں۔ اعراب وغیرہ ناواقف لوگوں نے اس طرح پکارا تو یہ دوسری بات ہے کیونکہ وہ ناوا قفی میں ہوا اور حضرت علی رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ نے اپنےصاحبزادہ محمد بن الحنفیہ کا نام محمد اور کنیت ابوالقاسم رکھی اور یہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی اجازت سے ہوا، لہٰذا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حدیث منسوخ ہے۔
مسئلہ ۳: بعض اسماء الٰہیہ جن کا اطلاق غیراﷲ پر جائز ہے ان کے ساتھ نام رکھنا جائز ہے، جیسے علی، رشید، کبیر، بدیع ، کیونکہ بندوں کے ناموں میں وہ معنی مراد نہیں ہیں جن کا ارادہ اﷲتعالیٰ پر اطلاق کرنے میں ہوتا ہے اور ان ناموں میں الف ولام ملا کر بھی نام رکھنا جائز ہے، مثلاً العلی، الرشید۔
ہاں اس زمانہ میں چونکہ عوام میں ناموں کی تصغیر کرنے کا بکثرت رواج ہوگیا ہے،لہٰذا جہاں ایسا گمان ہو ایسے نام سے بچنا ہی مناسب ہے۔خصوصاً جب کہ اسماء الٰہیہ کے ساتھ عبد کا لفظ ملا کر نام رکھا گیا، مثلاً عبدالرحیم، عبدالکریم، عبدالعزیز کہ یہاں مضاف الیہ سے مراد اﷲ تعالیٰ ہے اور ایسی صورت میں تصغیر اگر قصداً ہوتی تو معاذاﷲکفر ہوتی، کیونکہ یہ اس شخص کی تصغیر نہیں بلکہ معبود برحق کی تصغیر ہے مگر عوام اور ناواقفوں کا یہ مقصد یقینا نہیں ہے، اسی لیے وہ حکم نہیں دیا جائے گا بلکہ اون کو سمجھایا اور بتایا جائے اور ایسے موقع پر ایسے نام ہی نہ رکھے جائیں جہاں یہ احتمال ہو۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔انظر: ''صحیح البخاري''،کتاب البیوع،باب ماذکر في الأسواق،الحدیث:۲۱۲۰،ج۲،ص۲۴.
2 ۔ پ۱۸،النور: ۶۳.
ترجمہ کنزالإیمان:رسول کے پکارنے کوآپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا کہ تم میں ایک دوسرے کوپکارتاہے۔
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۸.
مسئلہ ۴: ایسا نام رکھنا جس کا ذکر نہ قرآن مجید میں آیا ہو نہ حدیثوں میں ہو نہ مسلمانوں میں ایسا نام مستعمل ہو، اس میں علما کو اختلاف ہے بہتر یہ ہے کہ نہ رکھے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: مرا ہوا بچہ پیدا ہوا تو اس کا نام رکھنے کی حاجت نہیں بغیر نام رکھے دفن کر دیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: بچہ پیدا ہو کر مرگیا تو دفن سے پہلے اس کا نام رکھا جائے لڑکا ہو تو لڑکوں کا سا اور لڑکی ہو تو لڑکیوں کا سا نام رکھاجائے اور معلوم نہ ہوسکا کہ لڑکی ہے یا لڑکا تو ایسا نام رکھا جائے جو مرد و عورت دونوں کے لیے ہوسکتا ہو۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: بچہ کی کنیت ہوسکتی ہے یا نہیں صحیح یہ ہے کہ ہوسکتی ہے، حدیث ابی عمیر اس کی دلیل ہے۔ (4)
مسئلہ ۸: بچہ کی کنیت ابوبکر، ابوتراب، ابوالحسن، وغیرہ رکھنا جائز ہے ان کنیتوں سے تبرک مقصود ہوتا ہے کہ ان حضرات کی برکت بچہ کے شامل حال ہو۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جو نام برے ہوں ان کو بدل کر اچھا نام رکھنا چاہیے۔ حدیث میں ہے، کہ ''قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے باپوں کے نام سے پکارے جاؤ گے، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھو۔''(6)حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے برے ناموں کو بدل دیا۔ ایک شخص کا نام اصرم تھا اس کو بدل کر زرعہ رکھا۔ (7)اور عاصیہ نام کو بدل کر جمیلہ رکھا۔ (8) یسار، رباح، افلح، برکت نام رکھنے سے بھی منع فرمایا۔ (9)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثاني والعشرون في تسمیۃ الاولاد،ج۵،ص۳۶۲.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثاني والعشرون في تسمیۃ الاولاد،ج۵،ص۳۶۲.
یہ ظاہر الروایۃ ہے مگر امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالیٰ کا مذہب یہ ہے کہ بچہ زندہ پیدا ہو یا مردہ بہر حال اس کی تکریم کے لیے اس کا نام رکھا جائے۔ ملتقی الابحر میں ہے کہ اس پر فتویٰ ہے اور نہر سے مستفاد ہے کہ یہی مختار ہے ایسا ہی درمختار باب صلاۃ الجنازۃ جلد۳،صفحہ ۱۵۳ میں ہے۔ بہار شریعت جلد اول حصہ ۴،صفحہ ۸۴۱،نمازجنازہ کا بیان میں بھی اسی کو اختیار کیا اور اس حصے پر اعلیٰ حضرت کی یہ تصدیق بھی ہے کہ اسے مسائل صحیحہ،رجیحہ،محقـقہ،منقحہپر مشتمل پایا، لہٰذا مسلمانوں کو اسی پر عمل کرنا چاہے۔
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۹.
4 ۔ انظر:''صحیح مسلم'' کتاب الآداب،باب إستحباب تحنیک المولود...إلخ،الحدیث۳۰۔(۲۱۵۰)،ص۱۱۸۵.
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۹.
6 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في تغییر الأسماء،الحدیث:۴۹۴۸،ج۴،ص۳۷۴.
7 ۔ المرجع السابق،باب في تغییر الإسم القبیح،الحدیث:۴۹۵۴،ج۴،ص۳۷۵.
8 ۔ انظر:''صحیح مسلم''،کتاب الآداب،باب إستحباب تغییر الإسم القبیح...إلخ،الحدیث:۱۴۔(۲۱۳۹)،ص۱۱۸۱.
9 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۹.
مسئلہ ۱۰: عبدالمصطفےٰ، عبدالنبی، عبدالرسول نام رکھنا جائز ہے کہ اس نسبت کی شرافت مقصود ہے اور عبودیت کے حقیقی معنی یہاں مقصود نہیں ہیں۔ رہی عبد کی اضافت غیراﷲ کی طرف یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
مسئلہ ۱۱: ایسے نام جن میں تزکیہ نفس اور خود ستائی (1)نکلتی ہے، ان کو بھی حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے بدل ڈالا برہ کا نام زینب رکھا اور فرمایاکہ ''اپنے نفس کا تزکیہ نہ کرو۔''(2)شمس الدین، زین الدین، محی الدین، فخر الدین، نصیر الدین، سراج الدین، نظام الدین، قطب الدین وغیرہا اسما جن کے اندر خود ستائی اور بڑی زبردست تعریف پائی جاتی ہے نہیں رکھنے چاہیے۔
رہا یہ کہ بزرگانِ دین وائمہ سابقین کو ان ناموں سے یاد کیا جاتا ہے تو یہ جاننا چاہیے کہ ان حضرات کے نام یہ نہ تھے بلکہ یہ ان کے القاب ہیں کہ جب وہ حضرات مراتب علیّہ اور مناصب جلیلہ (3)پر فائز ہوئے تو مسلمانوں نے ان کو اس طرح کہا اور یہاں ایک جاہل اور ان پڑھ جو ابھی پیدا ہوا اور اس نے دین کی ابھی کوئی خدمت نہیں کی اتنے بڑے بڑے الفاظ فخیمہ(4)سے یاد کیا جانے لگا۔ امام محی الدین نووی رحمہ اللہ تعالٰی باوجود اس جلالت شان کے ان کو اگر محی الدین کہا جاتا تو انکار فرماتے اور کہتے کہ جو مجھے محی الدین نام سے بلائے اس کو میری طرف سے اجازت نہیں۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: غلام محمد، غلام صدیق، غلام فاروق، غلام علی، غلام حسن، غلام حسین وغیرہ اسما جن میں انبیاء و صحابہ و اولیا کے ناموں کی طرف غلام کو اضافت کرکے نام رکھا جائے یہ جائز ہے اس کے عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں۔ بعض وہابیہ کا ان ناموں کو ناجائز بلکہ شرک بتانا ان کی بدباطنی کی دلیل ہے۔ ایسا بھی سنا گیا ہے کہ بعض وہابیوں نے غلام علی نام کو بدل کر غلام اﷲ نام رکھا ،یہ ان کی جہالت ہے کہ جائز نام کو بدل کر ناجائز نام رکھا، غلام کی اضافت اﷲتعالیٰ کی طرف کرنا اور کسی کو غلاماﷲ کہنا ناجائز ہے کیونکہ غلام کے حقیقی معنی پسر اور لڑکا ہیں، اﷲ(عزوجل)اس سے پاک ہے کہ اس کے لیے کوئی لڑکا ہو۔ علامہ عبدالغنی نا بلسی قدس سرہ نے حدیقہ ندیہ میں فرمایا:
یقال عبدُ اللہ واَمَۃُ اللہ ولا یقال غلام ا للہ وجَارِیَۃُ اللہ. (6)
مسئلہ ۱۳: محمد بخش، احمد بخش، نبی بخش، پیر بخش، علی بخش، حسین بخش اور اسی قسم کے دوسرے نام جن میں کسی نبی یا ولی کے نام کے ساتھ بخش کا لفظ ملا کر نام رکھا گیا ہو جائز ہے۔
1 ۔ یعنی اپنی بڑائی اور تعریف۔
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الآداب،باب استحباب تغییر الإسم القبیح إلی حسن...إلخ،الحدیث:۱۹۔(۲۱۴۲)،ص۱۱۸۲.
3 ۔ یعنی بڑے بڑے رتبوں اور عہدوں۔ 4 ۔ یعنی بزرگی والے الفاظ۔
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۹۔۶۹۰.
6 ۔ ''الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقۃ المحمدیہ''،النوع الثالث والعشرون...إلخ،ج۲،ص۲۷۹.
ترجمہ: یعنی یوں کہا جاتا ہے،اﷲ عزوجل کا بندہ،اﷲعزوجل کی بندی اور یہ نہیں کہا جاتا کہ اﷲ عزوجل کا غلام یا اﷲ عزوجل کی لونڈی۔
مسئلہ ۱۴: غفور الدین، غفوراﷲنام رکھنا ناجائز ہے۔ کیونکہ غفور کے معنی ہیں مِٹانے والا، اﷲتعالیٰ غفور ہے کہ وہ بندوں کے گناہ مٹادیتا ہے، لہٰذا غفور الدین کے معنی ہوئے دین کا مٹانے والا۔
مسئلہ ۱۵: طٰہٰ،یٰس نام بھی نہ رکھے جائیں کہ یہ مقطعات قرآنیہ سے ہیں جن کے معنی معلوم نہیں ظاہر یہ ہے کہ یہ اسمائے نبی صلَّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہیں اور بعض علما نے اسمائے الٰہیہ سے کہا۔ بہر حال جب معنی معلوم نہیں تو ہوسکتا ہے کہ اس کے ایسے معنی ہوں جو حضورصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یا اﷲتعالیٰ کے ساتھ خاص ہوں اور ان ناموں کے ساتھ محمد ملا کرمحمد طٰہٰ، محمد یٰس کہنا بھی ممانعت کو دفع نہ کریگا۔
مسئلہ ۱۶: محمد نبی، احمدنبی، محمد رسول، احمد رسول، نبی الزمان نام رکھنا بھی ناجائز ہے، بلکہ بعض کا نام نبی اﷲ بھی سنا گیا ہے، غیر نبی کو نبی کہنا ہر گز ہرگز جائزنہیں ہوسکتا۔
تنبیہ: اگر کوئی یہ کہے کہ ناموں میں اصلی معنی کا لحاظ نہیں ہوتا، بلکہ یہاں تو یہ شخص مراد ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو شیطان ابلیس وغیرہ اس قسم کے ناموں سے لوگ گریز نہ کرتے اور ناموں میں اچھے اور برے ناموں کی دو قسمیں نہ ہوتیں اور حدیث میں نہ فرمایا جاتا کہ اچھے نام رکھو، نیز حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے برے ناموں کو بدلا نہ ہوتا کہ جب اس اصلی معنی کا بالکل لحاظ نہیں تو بدلنے کی کیا وجہ۔
حدیث ۱: صحیح بخاری میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں کچھ لوگ پیدل تیر اندازی کررہے تھے یعنی مسابقت کے طور پر، ان کے پاس رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم تشریف لائے اور فرمایا:اے بنی اسمٰعیل (یعنی اہلِ عرب کیونکہ عرب والے حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ و السلام کی اولاد ہیں)!تیر اندازی کرو کیونکہ تمھارے باپ یعنی اسمٰعیل علیہ السلام تیر انداز تھے اور دونوں فریقوں میں سے ایک کے متعلق فرمایاکہ میں بنی فلاں کے ساتھ ہوں۔
دوسرے فریق نے ہاتھ روک لیا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''کیوں تم لوگوں نے ہاتھ روکا۔'' انھوں نے کہا، جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)بنی فلاں یعنی ہمارے فریق مقابل کے ساتھ ہوگئے تو اب ہم کیوں کر تیر چلائیں یعنی اب ہمارے جیتنے کی صورت باقی نہیں رہی۔ ارشاد فرمایا:''تم تیر چلاؤ، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔''(1)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب المناقب،باب نسبۃ الیمن...إلخ،الحدیث:۳۵۰۷،ج۲،ص۴۷۶.
حدیث ۲: صحیح بخاری و مسلم میں عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مضمر (1)گھوڑوں میں حفیا (2)سے دوڑ کرائی اور اس کی انتہائی مسافت ثنیۃ الوداع تھی اور دونوں کے مابین چھ میل مسافت تھی اور جو گھوڑے مضمر نہ تھے ان کی دوڑ ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک ہوئی ان دونوں میں ایک میل کا فاصلہ تھا۔ (3)
حدیث ۳: ترمذی و ابو داود و نسائی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مسابقت نہیں مگر تیر اور اونٹ اور گھوڑے میں۔''(4)
حدیث ۴: شرح سنہ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''دوگھوڑوں میں ایک اور گھوڑا شامل کرلیا اور معلوم ہے کہ یہ پیچھے رہ جائے گا تو اس میں خیر نہیں اور اگر اندیشہ ہے کہ یہ آگے جاسکتا ہے تو مضایقہ نہیں۔''(5)یعنی پہلی صورت میں ناجائز ہے اور دوسری صورت میں جائز۔
حدیث ۵: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''دو گھوڑوں میں ایک اور گھوڑا شامل کیا اور اس کے پیچھے ہو جانے کا علم نہیں ہے تو قمار (جوا)نہیں اور معلوم ہے کہ پیچھے رہ جائے گا تو جوا ہے۔''(6)
حدیث ۶: ابو داود و نسائی نے عمران بن حصین رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جلب و جُنُب نہیں ہیں(7)یعنی گھوڑ دوڑ میں یہ جائز نہیں کہ کوئی دوسرا شخص اس کے گھوڑے کو ڈانٹے اور مارے کہ یہ تیز دوڑنے لگے اور نہ یہ کہ سوار اپنے ساتھ کوتل گھوڑا(8)رکھے کہ جب پہلا گھوڑا تھک جائے تو دوسرے پر سوار ہوجائے۔''
حدیث ۷: ابو داود نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے ہمراہ یہ سفرمیں تھیں۔ کہتی ہیں:میں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سے پیدل مسابقت کی اور میں آگے ہوگئی پھر جب میرے جسم
1 ۔ مضمر گھوڑے وہ کہلاتے ہیں جن کو خوب کھلا کر فربہ کر لیا جائے،اس کے بعد خوراک کم کریں اور ایک مکان میں بند کر دیں اور ان کو جھول اڑھا دیں کہ خوب پسینہ آئے اور بادی گوشت چھنٹ کر دبلے ہو جائیں،ایسے گھوڑے بہت تیز رفتار ہوتے ہیں۔ ۱۲ منہ
2 ۔ یہ ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ طیبہ سے چند میل فاصلہ پر ہے۔ ۱۲ منہ
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الجھاد والسیر،باب غایۃالسبق للخیل المُضْمَرَّۃ...إلخ،الحدیث:۲۸۷۰،ج۲،ص۲۷۳.
4 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الجھاد،باب ماجاء في الرھان والسبق،الحدیث:۱۷۰۶،ج۳،ص۲۶۷.
5 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب السیر والجھاد،باب أخذالمال علی المسابقۃ...إلخ،الحدیث:۲۶۴۸،ج۵،ص۵۳۷.
6 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد، باب في المحلل،الحدیث:۲۵۷۹،ج۳،ص۴۲.
7 ۔المرجع السابق،باب في الجلب علی الخیل في السباق،الحدیث:۲۵۸۱،ج۳،ص۴۳.
8 ۔ یعنی خالی گھوڑا۔
میں گوشت زیادہ ہوگیا یعنی پہلے سے کچھ موٹی ہوگئی، میں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے ساتھ دوڑ کی۔ اس مرتبہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)آگے ہوگئے اور یہ فرمایاکہ یہ اس کا بدلہ ہوگیا۔ (1)
مسابقت کا مطلب یہ ہے کہ چند شخص آپس میں یہ طے کریں کہ کون آگے بڑھ جاتا ہے جو سبقت لے جائے اس کو یہ دیاجائے گا یہ مسابقت صرف تیر اندازی میں ہوسکتی ہے یا گھوڑے، گدھے، خچر میں، جس طرح گھوڑ دوڑ میں ہوا کرتا ہے کہ چندگھوڑے ایک ساتھ بھگائے جاتے ہیں جو آگے نکل جاتا ہے، اس کو ایک رقم یا کوئی چیز دی جاتی ہے۔ اونٹ اور آدمیوں کی دوڑبھی جائز ہے کیونکہ اونٹ بھی اسباب جہاد میں ہے یعنی یہ جہاد کے لیے کار آمد چیز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دوڑوں سے مقصود جہاد کی طیاری ہے لہو و لعب مقصود نہیں اگر محض کھیل کے لیے ایسا کرتا ہے تو مکروہ ہے اسی طرح اگر فخر اور اپنی بڑائی مقصود ہویا اپنی شجاعت و بہادری کا اظہار مقصود ہو تو یہ بھی مکروہ ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: سبقت لے جانے والے کے لیے کوئی چیز مشروط نہ ہو تو ان مذکور اشیا کے ساتھ اس کا جواز خاص نہیں، بلکہ ہر چیز میں مسابقت ہوسکتی ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲: سابق کے لیے جو کچھ ملنا طے پایا ہے وہ اس کے لیے حلال و طیب ہے مگر وہ اس کا مستحق نہیں یعنی اگر دوسرا اس کو نہ دے تو قاضی کے یہاں دعوے ا کرکے جبراً وصول نہیں کرسکتا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: مسابقت جائز ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ صرف ایک جانب سے مال شرط ہو، یعنی دونوں میں سے ایک نے یہ کہا کہ اگر تم آگے نکل گئے تو تم کو مثلاً سو روپے دوں گا اور میں آگے نکل گیا تو تم سے کچھ نہیں لوں گا۔ دوسری صورت جواز کی یہ ہے کہ شخص ثالث نے ان دونوں سے یہ کہا کہ تم میں جو آگے نکل جائے گا اس کو اتنا دوں گا جیسا کہ اکثر حکومت کی جانب سے دوڑ ہوتی ہے اور اس میں آگے نکل جانے والے کے لیے انعام مقرر ہوتا ہے ان لوگوں میں باہم کچھ لینا دینا طے نہیں ہوتا ہے۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴: اگر دونوں جانب سے مال کی شرط ہو مثلاً تم آگے ہوگئے تو میں اتنا دوں گا اور میں آگے ہوگیا تو میں
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد،باب في السبق علی الرجل،الحدیث:۲۵۷۸،ج۳،ص۴۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۳.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۶.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب السادس في المسابقۃ،ج۵،ص۳۲۴.
5 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۵، وغیرہ.
اتنا لوں گا یہ صورت جوا اور حرام ہے، ہاں اگر دونوں نے اپنے ساتھ ایک تیسرے شخص کو شامل کرلیا جس کو محلل کہتے ہیں اور ٹھہرا یہ کہ اگر یہ آگے نکل گیا تو رقم مذکور یہ لے گا اور پیچھے رہ گیا تو یہ دے گا کچھ نہیں، اس صورت میں دونوں جانب سے مال کی شرط جائز ہے۔ (1) (عالمگیری،درمختار)
مسئلہ ۵: محلل کے لیے یہ ضرور ہے کہ اس کا گھوڑا بھی انھیں دونوں جیسا ہو یعنی ہوسکتا ہے کہ اس کا گھوڑا آگے نکل جائے یا پیچھے رہ جائے دونوں باتوں میں سے ایک کا یقین نہ ہو اور اگر اس کا گھوڑا ان جیسا نہ ہو معلوم ہو کہ وہ پیچھے ہی رہ جائے گا یا معلوم ہو کہ یقینا آگے نکل جائے گا تو اس کے شامل کرنے سے شرط جائز نہ ہوگی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۶: محلل یعنی شخص ثالث کا گھوڑا اگر دونوں سے آگے نکل گیا تو دونوں نے جوکچھ دینے کو کہا تھا، یہ محلل دونوں سے لے لے گا اور اگر دونوں سے پیچھے رہ گیا تو یہ ان دونوں کو کچھ نہیں دے گا، بلکہ ان دونوں میں جو آگے ہوگیا وہ دوسرے سے وہ لے گا جس کا دینا شرط ٹھہرا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ دو شخصوں نے پان پانسو کی بازی لگائی اور محلل کو شامل کرلیا کہ اگر محلل آگے ہوگیا تو دونوں سے پان پانسو یعنی ایک ہزار لے لے گا اور اگر محلل آگے نہ ہوا تو ان دونوں کو وہ کچھ نہ دے گا بلکہ ان دونوں میں جو آگے ہوگا وہ دوسرے سے پان سو لے گا اور اگر دونوں کے گھوڑے ایک ساتھ پہنچے تو ان دونوں میں کوئی بھی دوسرے کو کچھ نہ دے گا، نہ محلل سے کچھ لے گا اور اگر ان دونوں میں ایک کاگھوڑا اور محلل کا گھوڑا دونوں ایک ساتھ پہنچے تو محلل اس سے کچھ نہیں لے سکتا بلکہ اس سے لے گا جس کا گھوڑا پیچھے رہ گیا اور دوسرا بھی اسی پیچھے رہ جانے والے سے لے گا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: مسابقت میں شرط یہ ہے کہ مسافت اتنی ہو جس کو گھوڑے طے کرسکتے ہوں اور جتنے گھوڑے لیے جائیں، وہ سب ایسے ہوں جن میں یہ احتمال ہو کہ آگے نکل جائیں گے۔ اسی طرح تیر اندازی اور آدمیوں کی دوڑ میں بھی یہی شرطیں ہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: اونٹوں کی دوڑ میں آگے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ شانہ آگے ہوجائے گردن کا اعتبار نہیں اور گھوڑوں کی دوڑ میں جس کی گردن آگے ہوجائے وہ آگے ہونے والا مانا جائے گا۔ (5) (ردالمحتار)مگر اس زمانہ کا رواج یہ ہے کہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب السادس في المسابقۃ،ج۵،ص۳۲۴.
و''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۵.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۵.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۵.
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۵.
5 ۔ المرجع السابق.
گھوڑوں میں کنوتی (1)کا اعتبار کیا جاتا ہے اور کنوتی بھی جب ہی آگے ہوگی کہ گردن آگے ہوجائے۔
مسئلہ ۹: طلبہ نے کسی مسئلہ کے متعلق شرط لگائی کہ جس کی بات صحیح ہوگی اس کو یہ دیا جائے گا، اس میں بھی وہ ساری تفصیل ہے جو مسابقت میں مذکور ہوئی یعنی اگر ایک طرف سے شرط ہو تو جائز ہے دونوں طرف سے ہو تو ناجائز، مثلاً ایک طالب علم نے دوسرے سے کہا چلو استاذ سے چل کر پوچھیں اگر تمھاری بات صحیح ہو تو میں تم کو یہ دوں گا اور میری صحیح ہوئی تو تم سے کچھ نہیں لوں گا کہ یہ ایک جانب سے شرط ہوئی یا ایک نے دوسرے سے کہا آؤ میں اور تم مسائل میں گفتگو کریں اگر تمھاری بات صحیح ہوئی تو یہ دوں گا اور میری صحیح ہوئی تو کچھ نہ لوں گا، یہ جائز ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: طلبہ میں یہ ٹھہرا کہ جو پہلے آئے گا اس کا سبق پہلے ہوگا اس صورت میں جو درس گاہ میں پہلے آیا اس کا حق مقدم ہے اور اگر ہر ایک پہلے آنے کا مدعی (3)ہے تو جو گواہوں سے پہلے آنا ثابت کردے وہ مقدم ہے اور اگر گواہ نہ ہوں تو قرعہ ڈالا جائے جس کا نام پہلے نکلے وہ مقدم ہے۔ (4) (خانیہ)
اتنا کمانا فرض ہے جو اپنے لیے اور اہل و عیال کے لیے اور جن کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے ان کے نفقہ کے لیے اورادائے دین کے لیے کفایت کرسکے اس کے بعد اسے اختیار ہے کہ اتنے ہی پر بس کرے یا اپنے اوراہل و عیال کے لیے کچھ پس ماندہ رکھنے (6)کی بھی سعی و کوشش کرے۔ ماں باپ محتاج و تنگدست ہوں تو فرض ہے کہ کما کر انھیں بقدرِ کفایت دے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: قدر کفایت سے زائد اس لیے کماتا ہے کہ فقراء و مساکین کی خبر گیری کرسکے گا یا اپنے قریبی رشتہ داروں کی مدد کریگا یہ مستحب ہے اور یہ نفل عبادت سے افضل ہے اور اگر اس لیے کماتا ہے کہ مال ودولت زیادہ ہونے سے میری عزت ووقار میں اضافہ ہو گا، فخر وتکبر مقصود نہ ہو تو یہ مباح ہے اور اگر محض مال کی کثرت یا تفاخر مقصود ہے تو منع ہے۔ (8) (عالمگیری)
1 ۔ یعنی گھوڑے کے کان۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب السادس في المسابقۃ،ج۵،ص۳۲۴.
3 ۔ یعنی دعویٰ کرنے والا۔
4 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في التسبیح...إلخ،ج۲،ص۳۸۰.
5 ۔ کسب حلال کی خوبیاں حصہ یازدہم میں احادیث سے مذکور ہو چکی ہیں۔ ۱۲ منہ 6 ۔ یعنی بچا کر رکھنے۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الخامس عشر في الکسب،ج۵،ص۳۴۸ ، ۳۴۹.
8 ۔ المرجع السابق،ص۳۴۹.
مسئلہ ۲: جو لوگ مساجد اور خانقاہوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور بسر اوقات کے لیے کچھ کام نہیں کرتے اور اپنے کو متوکل بتاتے ہیں حالانکہ ان کی نگاہیں اس کی منتظر رہتی ہیں کہ کوئی ہمیں کچھ دے جائے وہ متوکل نہیں، اس سے اچھا یہ تھا کہ کچھ کام کرتے اس سے بسر اوقات کرتے۔ (1) (عالمگیری)
اسی طرح آج کل بہت سے لوگوں نے پیری مریدی کو پیشہ بنالیا ہے، سالانہ مریدوں میں دورہ کرتے ہیں اور مریدوں سے طرح طرح سے رقمیں کھسوٹتے ہیں جس کو نذرانہ وغیرہ ناموں سے موسوم کرتے ہیں اور ان میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو جھوٹ اور فریب سے بھی کام لیتے ہیں یہ ناجائز ہے۔
مسئلہ ۳: سب سے افضل کسب جہاد ہے یعنی جہاد میں جو مالِ غنیمت حاصل ہوا مگر یہ ضرور ہے کہ اس نے مال کے لیے جہاد نہ کیا ہو بلکہ اعلائے کلمۃاﷲ(2)مقصود اصلی ہو جہاد کے بعد تجارت پھر زراعت پھر صنعت و حرفت کا مرتبہ ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: چرخہ کاتنا (4)عورتوں کا کام ہے، مرد کو چرخہ کاتنا مکروہ ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: جس کے پاس اس دن کے کھانے کے لیے موجود ہو اسے سوال کرنا حرام ہے۔ سائلوں اور گداگروں نے اس طرح پر جو مال حاصل کیا اور جمع کیا وہ خبیث مال ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: جو شخص علم دین و قرآن پڑھ کر کسب چھوڑ دیتا ہے وہ اپنے دین کو کھاتا ہے۔ (7) (عالمگیری) یعنی عالم یا قاری ہو کر بیٹھ گیا اور کمانا چھوڑ دیا یہ خیال کیے ہوئے ہے کہ لوگ مجھے عالم یا قاری سمجھ کر خود ہی کھانے کو دیں گے کمانے کی کیا ضرورت ہے، یہ ناجائز ہے۔ رہا یہ امر کہ قرآن مجید و علم دین کی تعلیم پر اُجرت لینا اور اس کے پڑھانے کی نوکری کرنا، اس کو فقہائے متاخرین نے جائز بتایا ہے جس کو ہم اجارہ کے بیان میں ذکر کرچکے ہیں (8)یہ دین فروشی میں داخل نہیں۔
مسئلہ ۷: جس شخص نے حرام طریقہ سے مال جمع کیا اور مرگیا ورثہ کو اگر معلوم ہو کہ فلاں فلاں کے یہ اموال ہیں تو ان
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الخامس عشر في الکسب،ج۵،ص۳۴۹.
2 ۔ یعنی اﷲ عزوجل کانام اوردِین اسلام کاسر بلند ہونا۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الخامس عشر في الکسب،ج۵،ص۳۴۹.
4 ۔ یعنی چرخہ چلانے کا کام کرنا۔
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۱.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الخامس عشر في الکسب،ج۵،ص۳۴۹.
7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔ دیکھئے: اسی جلد سوم کاحصہ۱۴،اجارہ کابیان۔
کو واپس کردیں اور معلوم نہ ہو تو صدقہ کردیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: اگر مال میں شبہہ ہو تو ایسے مال کو اپنے قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرسکتا ہے یہاں تک کہ اپنے باپ یا بیٹے کو دے سکتا ہے، اس صورت میں یہی ضرور نہیں کہ اجنبی ہی کو دے۔ (2) (عالمگیری)
اﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
(وَلْتَکُنۡ مِّنۡکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوۡنَ اِلَی الْخَیۡرِ وَیَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ ؕ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾)
(3)
''اور تم میں ایک ایسا گروہ ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائے اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کرے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔''
اور فرماتا ہے:
(کُنۡتُمْ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ وَتُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ ؕ)
(4)
''تم بہتر ہو ان سب اُمتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں، بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اﷲ (عزوجل)پر ایمان رکھتے ہو۔''
اور قرآن میں ہے:
(یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاۡمُرْ بِالْمَعْرُوۡفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنۡکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی مَاۤ اَصَابَکَ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوۡرِ ﴿ۚ۱۷﴾)
(5)
''(لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا)اے میرے بیٹے!نماز قائم رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور جو افتاد تجھ پر پڑے اس پر صبر کر، بے شک یہ ہمت کے کام ہیں۔''
حدیث ۱: تم میں جو شخص بری بات دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الخامس عشر في الکسب،ج۵،ص۳۴۹.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ پ۴،اٰلِ عمرٰن: ۱۰۴. 4 ۔ پ۴،اٰلِ عمرٰن: ۱۱۰. 5 ۔ پ۲۱،لقمٰن: ۱۷.
بدلے اور اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے یعنی اسے دل سے برا جانے اور یہ کمزور ایمان والا ہے۔ (1) (مسلم)
حدیث ۲: حدوداﷲ میں مداہنت کرنے والا (یعنی خلافِ شرع چیز دیکھے اور باوجود قدرت منع نہ کرے اس کی) اور حدوداﷲ میں واقع ہونے والے کی مثال یہ ہے کہ ایک قوم نے جہاز کے بارے میں قرعہ ڈالا، بعض اوپر کے حصہ میں رہے بعض نیچے کے حصہ میں، نیچے والے پانی لینے اوپر جاتے اور پانی لے کر ان کے پاس سے گزرتے ان کو تکلیف ہوتی (انھوں نے اس کی شکایت کی)نیچے والے نے کلہاڑی لے کر نیچے کا تختہ کاٹنا شروع کیا۔
اوپر والوں نے دیکھا تو پوچھا کیا بات ہے کہ تختہ توڑ رہے ہو؟اس نے کہا میں پانی لینے جاتا ہوں تو تم کو تکلیف ہوتی ہے اور پانی لینا مجھے ضروری ہے۔ (لہٰذا میں تختہ توڑ کر یہیں سے پانی لے لوں گا اور تم لوگوں کو تکلیف نہ دوں گا)پس اس صورت میں اگر اوپر والوں نے اس کا ہاتھ پکڑلیا اور کھودنے سے روک دیا تو اسے بھی نجات دیں گے اور اپنے کو بھی اور اگر چھوڑ دیا تو اسے بھی ہلاک کیا اور اپنے کو بھی۔ (2) (بخاری)
حدیث ۳: ''قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میری جان ہے!یا تو اچھی بات کا حکم کرو گے اور بری بات سے منع کرو گے یا اﷲتعالیٰ تم پر جلد اپنا عذاب بھیجے گا، پھر دعا کرو گے اور تمھاری دعا قبول نہ ہوگی۔''(3) (ترمذی)
حدیث ۴: جب زمین میں گناہ کیا جائے تو جو وہاں موجود ہے مگر اسے برا جانتا ہے، وہ اس کی مثل ہے جو وہاں نہیں ہے اور جو وہاں نہیں ہے مگر اس پر راضی ہے، وہ اس کی مثل ہے جو وہاں حاضر ہے۔ (4) (ابو داود)
حدیث ۵: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:اے لوگو!تم اس آیت کو پڑھتے ہو:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمْ اَنۡفُسَکُمْ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمْ ؕ)
(5)
''اے ایمان والو!اپنے نفس کو لازم پکڑ لو، گمراہ تم کو ضرر نہ پہنچائے گا، جب کہ تم خود ہدایت پر ہو۔''
(یعنی تم اس آیت سے یہ سمجھتے ہو گے کہ جب ہم خود ہدایت پر ہیں تو گمراہ کی گمراہی ہمارے لیے مضر نہیں ہم کو منع کرنے کی ضرورت نہیں)میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ لوگ اگر بری بات دیکھیں اور ا س کو نہ
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الایمان،باب بیان کون النھی عن المنکر من الإیمان...إلخ،الحدیث:۷۸۔(۳۹)،ص۴۴.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الشھادات،باب القرعۃ في المشکلات...إلخ،الحدیث:۲۶۸۶،ج۲،ص۲۰۸.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الفتن،باب ماجاء في الأمر بالمعروف...إلخ،الحدیث:۲۱۷۶،ج۴،ص۶۹.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الملاحم،باب الأمر والنھی،الحدیث:۴۳۴۵،۴۳۴۶،ج۴،ص۱۶۶.
5 ۔ پ۷،المائدۃ: ۱۰۵.
بدلیں تو قریب ہے کہ اﷲتعالیٰ ان پر ایسا عذاب بھیجے گا جو سب کو گھیر لے گا۔ (1) (ابن ماجہ، ترمذی)
حدیث ۶: جس قوم میں گناہ ہوتے ہوں اور وہ لوگ بدلنے پر قادر ہوں پھر نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اﷲتعالیٰ سب پر عذاب بھیجے۔ (2) (ابو داود)
حدیث ۷: اچھی بات کا حکم کرو اور بری بات سے منع کرو یہاں تک کہ جب تم یہ دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جاتی ہے اور خواہش نفسانی کی پیروی کی جاتی ہے اور دنیا کو دین پر ترجیح دی جاتی ہے اور ہر شخص اپنی رائے پر گھمنڈ کرتا ہے اور ایسا امر دیکھو کہ تمھیں اس سے چارہ نہ ہو تو اپنے نفس کو لازم کرلو یعنی خود کو بری چیزوں سے بچاؤ اور عوام کے معاملہ کو چھوڑو (یعنی ایسے وقت میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر ضروری نہیں)۔تمھارے آگے صبر کے دن آئیں گے جن میں صبر کرنا ایسا ہے جیسے مٹھی میں انگارا لینا، عمل کرنے والے کے لیے اوس زمانہ میں پچاس شخص عمل کرنے والوں کا اجر ہے۔ لوگوں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ان میں سے پچاس کا اجر اس ایک کو ملے گا۔ فرمایاکہ ''تم میں سے پچاس کی برابر اجر ملے گا۔''(3) (ترمذی، ابن ماجہ) پانچویں حدیث میں جو آیت ذکر کی گئی وہ اسی موقع اور وقت کے لیے ہے۔
حدیث ۸: لوگوں کی ہیبت حق بولنے سے نہ روکے جب معلوم ہو تو کہدے۔ (4) (ترمذی)
حدیث ۹: چند مخصوص لوگو ں کے عمل کی وجہ سے اﷲتعالیٰ سب لوگوں کو عذاب نہیں کریگا مگر جبکہ وہاں بری بات کی جائے اور وہ لوگ منع کرنے پر قادر ہوں اور منع نہ کریں تو اب عام و خاص سب کو عذاب ہوگا۔ (5) (شرح سنہ)
حدیث ۱۰: بنی اسرائیل نے جب گناہ کیے ان کے علما نے منع کیا مگر وہ باز نہ آئے پھر علما ان کی مجلسوں میں بیٹھنے لگے اور انکے ساتھ کھانے پینے لگے، خدا نے علما کے دل بھی انھیں جیسے کردیے اور داود و عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی زبان سے ان سب پر لعنت کی۔ یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔ اس کے بعد حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''خدا کی قسم! تم یا تو اچھی بات کا حکم کرو گے اور بری بات سے روکو گے اور ظالم کے ہاتھ پکڑلو گے اور ان کو حق پر روکو گے اور حق پر ٹھہراؤ گے یا اﷲتعالیٰ تم سب کے دل ایک طرح کے کر دے گا پھر تم سب پر لعنت کردے گا،
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الفتن،باب الأمر بالمعروف والنھی عن المنکر،الحدیث:۴۰۰۵،ج۴،ص۳۵۹.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الملاحم،باب الأمر والنھی،الحدیث:۴۳۳۸،ج۴،ص۱۶۳.
3 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۳۴۱،ج۴،ص۱۶۴.
4 ۔ ''سنن ا لترمذي''،کتاب ا لفتن، باب ما أخبر النبی صلی ا للہ علیہ وسلمأصحا بہ بما ھوکا ئن إ لی یوم ا لقیامۃ،ا لحدیث:۲۱۹۸،ج۴،ص۸۱.
5 ۔ ''شرح السنۃ''،کتاب الرقاق،باب الأمر بالمعروف والنھی عن المنکر،الحدیث:۴۰۵۰،ج۷،ص۳۵۸.
جس طرح ان سب پر لعنت کی۔''(1) (ابو داود)
حدیث ۱۱: میں نے شب معراج میں دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا، جبرئیل!یہ کون لوگ ہیں؟ کہا، یہ آپ کی اُمت کے واعظ ہیں، جو لوگوں کو اچھی بات کا حکم کرتے تھے اور اپنے کو بھولے ہوئے تھے۔ (2) (شرح سنہ)
حدیث ۱۲: بادشاہ ظالم کے پاس حق بات بولنا، افضل جہاد ہے۔ (3) (ابن ماجہ)
حدیث ۱۳: میرے بعد میں امرا ہوں گے جن کی بعض باتیں اچھی ہوں گی اور بعض بری، جس نے بری بات سے کراہت کی وہ بری ہے اور جس نے انکار کیا وہ سلامت رہا، لیکن جو راضی ہوا اور پیروی کی وہ ہلاک ہوا۔ (4)(مسلم، ابو داود)
حدیث ۱۴: مجھ سے پہلے جس نبی کو خدا نے کسی امت میں مبعوث کیا، اس کے لیے اُمت سے حواریین اور اصحاب ہوئے جو نبی کی سنت لیتے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے پھر اون کے بعد ناخلف لوگ پیدا ہوئے کہ کہتے وہ جو کرتے نہیں اور کرتے وہ جس کا دوسروں کو حکم نہ دیتے، جس نے ہاتھ کے ساتھ ان سے جہاد کیا وہ مومن ہے اور جس نے زبان سے جہاد کیا وہ مومن ہے اور جس نے دل سے جہاد کیا وہ مومن ہے اور اس کے بعد رائی کے دانہ کے برابر ایمان نہیں۔ (5) (مسلم)
امربالمعروف یہ ہے کہ کسی کو اچھی بات کا حکم دینا مثلاً کسی سے نماز پڑھنے کو کہنا۔ اور نہی عن المنکر کا مطلب یہ ہے کہ بری باتوں سے منع کرنا۔ یہ دونوں چیزیں فرض ہیں، قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
(کُنۡتُمْ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ)
(6)
احادیث میں ان کی بہت تاکید آئی اور اس کے خلاف کرنے کی مذمت فرمائی۔
مسئلہ ۱: معصیت کا ارادہ کیا مگر اس کو کیا نہیں تو گناہ نہیں بلکہ اس میں بھی ایک قسم کا ثواب ہے، جبکہ یہ سمجھ کر باز رہا
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب تفسیر القرآن،[باب] و من سورۃ المائدۃ،الحدیث:۳۰۵۹،،ج۴،ص۳۶.
و''سنن أبي داود''،کتاب الملاحم،باب الأمر والنھی،الحدیث:۴۳۳۶،۴۳۳۷،،ج۴،ص۱۶۳.
2 ۔ ''شرح السنۃ ''،کتاب الرقاق،باب وعید من یامر بالمعروف ولایأتیہ،الحدیث:۴۰۵۴،ج۷،ص۳۶۲.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الفتن،باب الأمر بالمعروف والنھی عن المنکر،الحدیث:۴۰۱۱،ج۴،ص۳۶۳.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الامارۃ،باب وجوب الانکار علی الامراء...إلخ،الحدیث:۶۳،۶۴۔(۱۸۵۴)،ص۱۰۳۱.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان،باب بیان کون النھی عن المنکر من الإیمان...إلخ،الحدیث:۸۰۔(۵۰)،ص۴۴.
6 ۔ پ۴،اٰلِ عمرٰن: ۱۱۰.
ترجمہ کنزالإیمان:تم بہتر ہواُن سب اُمتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں،بھلائی کاحکم دیتے ہواوربُرائی سے منع کرتے ہو۔
کہ یہ گناہ کا کام ہے، نہیں کرنا چاہیے۔ احادیث سے ایسا ہی ثابت ہے اور اگر گناہ کے کام کا بالکل پکا ارادہ کرلیا جس کو عزم کہتے ہیں تو یہ بھی ایک گناہ ہے اگرچہ جس گناہ کا عزم کیا تھا اسے نہ کیا ہو۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: کسی کو گناہ کرتے دیکھے تو نہایت متانت اور نرمی کے ساتھ اسے منع کرے اور اسے اچھی طرح سمجھائے پھر اگر اس طریقہ سے کام نہ چلا وہ شخص باز نہ آیا تو اب سختی سے پیش آئے، اس کو سخت الفاظ کہے، مگر گالی نہ دے، نہ فحش لفظ زبان سے نکالے اور اس سے بھی کام نہ چلے تو جو شخص ہاتھ سے کچھ کرسکتا ہے کرے، مثلاً وہ شراب پیتا ہے تو شراب بہا دے، برتن توڑ پھوڑ ڈالے، گاتا بجاتا ہے تو باجے توڑ ڈالے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: امربالمعروف کی کئی صورتیں ہیں:
(1) اگر غالب گمان یہ ہے کہ یہ ان سے کہے گا تو وہ اس کی بات مان لیں گے اور بری بات سے باز آجائیں گے، توامربالمعروف واجب ہے اس کو باز رہنا جائز نہیں اور
(2) اگر گمان غالب یہ ہے کہ وہ طرح طرح کی تہمت باندھیں گے اور گالیاں دیں گے تو ترک کرنا افضل ہے اور
(3) اگر یہ معلوم ہے کہ وہ اسے ماریں گے اور یہ صبر نہ کرسکے گا یا اس کی وجہ سے فتنہ و فساد پیدا ہوگا آپس میں لڑائی ٹھن جائے گی جب بھی چھوڑنا افضل ہے اور
(4) اگرمعلوم ہو کہ وہ اگر اسے ماریں گے تو صبر کرلے گا تو ان لوگوں کو برے کام سے منع کرے اور یہ شخص مجاہد ہے اور
(5) اگر معلوم ہے کہ وہ مانیں گے نہیں مگر نہ ماریں گے اورنہ گالیاں دیں گے تو اسے اختیار ہے اور افضل یہ ہے کہ امر کرے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: اگر اندیشہ ہے کہ ان لوگوں کو امربالمعروف کریگا تو قتل کر ڈالیں گے اور یہ جانتے ہوئے اس نے کیا اور ان لوگوں نے مار ہی ڈالا تو یہ شہید ہوا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: امرا کے ذمہ امربالمعروف ہاتھ سے ہے کہ اپنی قوت و سطوت (5)سے اس کام کو روک دیں اور علما کے ذمہ زبان سے ہے کہ اچھی بات کرنے کو اور بری بات سے باز رہنے کو زبان سے کہہ دیں اور عوام الناس کے ذمہ دل سے برا جاننا
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب السابع عشر في الغناء...إلخ،ج۵،ص۳۵۲، وغیرہ .
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب السابع عشر في الغناء...إلخ،ج۵،ص۳۵۲.
3 ۔ المرجع السابق،ص۳۵۲ ۔ ۳۵۳. 4 ۔ المرجع السابق،ص۳۵۳.
5 ۔ یعنی طاقت و دَبدبہ۔
ہے۔ (1) (عالمگیری)اس کا مقصد وہی ہے جو حدیث میں فرمایاکہ ''جو بری بات دیکھے، اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ سے بدل دے اور اگر ہاتھ سے بدلنے پر قادر نہ ہو تو زبان سے بدل دے یعنی زبان سے اس کا برا ہونا ظاہر کردے اور منع کردے اور اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور مرتبہ ہے۔''(2)یہاں عوام سے مراد وہ لوگ ہیں کہ ان میں نہ ہاتھ سے روکنے کی ہمت ہے اور نہ زبان سے منع کرنے کی جرأت۔ قوم کے چودھری اور زمیندار وغیرہ بہت سے عوام ایسی حیثیت رکھتے ہیں کہ ہاتھ سے روک سکتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ روکیں ایسوں کے لیے فقط دل سے برا جاننا کافی نہیں۔
مسئلہ ۶: امربالمعروف کے لیے پانچ چیزوں کی ضرورت ہے:
اول: علم (3)کہ جسے علم نہ ہو اس کام کو اچھی طرح انجام نہیں دے سکتا۔
دوم: اس سے مقصود رضائے الٰہی اور اعلاء کلمۃ اﷲہو۔
سوم: جس کو حکم دیتا ہے اس کے ساتھ شفقت و مہربانی کرے نرمی کے ساتھ کہے۔
چہارم: امر کرنے والا صابر اور بردبار ہو۔
پنجم: یہ شخص (4)خود اس بات پر عامل ہو ورنہ قرآن کے اس حکم کا مصداق بن جائے گا، کیوں کہتے ہو وہ جس کو تم خود نہیں کرتے۔ اﷲ(عزوجل)کے نزدیک ناخوشی کی بات ہے یہ کہ ایسی بات کہو، جس کو خود نہ کرو۔ اور یہ بھی قرآن مجید میں فرمایا کہ ''کیا لوگوں کو تم اچھی بات کا حکم کرتے ہو اور خودا پنے کو بھولے ہوئے ہو۔''(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: عامی شخص کو یہ نہ چاہیے کہ قاضی یا مفتی یا مشہور و معرو ف عالم کو امر بالمعروف کرے کہ یہ بے ادبی ہے۔ مثل مشہور ہے، خطائے بزرگان گرفتن خطاست۔ (6)اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی مصلحت خاص سے ایک فعل کرتے ہیں، جس تک عوام کی نظر نہیں پہنچتی اور یہ شخص سمجھتا ہے، کہ جیسے ہم نے کیا انھوں نے بھی کیا، حالانکہ دونوں میں بہت فرق ہوتا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب السابع عشر في الغناء...إلخ،ج۵،ص۳۵۳.
2 ۔ انظر:''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل،مسند أبي سعید الخدري،الحدیث:۱۱۴۶۰،ج۴،ص۹۸.
3 ۔ علم سے یہ مراد نہیں کہ وہ پورا عالم ہو،بلکہ مراد یہ ہے کہ اتنا جانتا ہو کہ یہ چیز گناہ ہے اور دوسرے کو بری بھلی بات سمجھانے کا طریقہ معلوم ہو،
کہ موثر پیرایہ سے اس کو کہہ سکے۔۱۲منہ
4 ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو شخص خود عامل نہ ہو،وہ دوسروں کو اچھی بات کا حکم ہی نہ دے بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ خود بھی کرے اور دوسروں کو بھی کرنے کو کہے۔ ۱۲ منہ
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب السابع عشر في الغناء...إلخ،ج۵،ص۳۵۳.
6 ۔ یعنی بزرگوں پر اعتراض کرنا بڑی نادانی و خطا ہے۔
ہے۔ (1) (عالمگیری)یہ حکم ان علما کے متعلق ہے، جو احکام شرع کے پابند ہیں اور اتفاقاً کبھی ایسی چیز ظاہر ہوئی جو نظر عوام میں بری معلوم ہوتی ہے وہ لوگ مراد نہیں جو حلال و حرام کی پروا نہیں کرتے اور نام علم کو بدنام کرتے ہیں۔
مسئلہ ۸: جس نے کسی کو برا کام کرتے دیکھا اور خود یہ بھی اس برے کام کو کرتا ہے تو اس برے کام سے منع کردے کیونکہ اس کے ذمہ دو چیزیں واجب ہیں برے کام کو چھوڑنا اور دوسرے کو برے کام سے منع کرنا اگر ایک واجب کا تارک ہے تو دوسرے کا کیوں تارک بنے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: ایک شخص برا کام کرتا ہے اس کے باپ کے پاس شکایت لکھ کر بھیجی جائے یا نہیں اگر معلوم ہے کہ اس کا باپ منع کرنے پر قادر ہے اور وہ منع بھی کردے گا تو لکھ کر بھیج دے ورنہ کیا فائدہ۔ اسی طرح زوجین اور بادشاہ و رعیت یا آقا و ملازمین کے بارے میں اگر لکھنا مفید ہو تو لکھے۔ (3) (خانیہ)
مسئلہ ۱۰: باپ کو اندیشہ ہے کہ اگر لڑکے سے کہے گا تو اس کا حکم نہ مانے گا اور اس کا جی بھی کہنے کو چاہتا ہے تو یوں کہے اگر یہ کرتے تو خوب ہوتا اسے حکم نہ دے کہ اس صورت میں اگر اس نے نہ کیا توعاق ہوگا جو ایک سخت کبیرہ گناہ ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: کسی نے گناہ کیا پھر سچے دل سے تائب ہوگیا، تو اسے یہ نہ چاہیے کہ قاضی یا حاکم کے پاس اپنے جرم کو اس لیے پیش کرے کہ حدِ شرع قائم کی جائے کیونکہ پردہ پوشی بہتر ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: ایک شخص کو دوسرے کا مال چراتے دیکھا ہے مگر مالک کو خبر دیتا ہے تو چوراس پر ظلم کریگا تو خاموش ہوجائے اور یہ اندیشہ نہ ہو تو خبر کردے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: مشرکین پر تنہا حملہ کرنے میں غالب گمان یہ ہے کہ قتل ہوجائے گا، مگر یہ بھی غالب گمان ہے کہ یہ بھی ان کے آدمی کو قتل کریگا یا زخمی کردے گا یا شکست دے دے گا تو تنہا حملہ کرنے میں حرج نہیں اور غالب گمان یہ ہو کہ ان کا کچھ نہیں بگڑے گا اور یہ مارا جائے گا تو حملہ نہ کرے اور اگر فساق مسلمین کو گناہ سے روکے گا تو یہ خود قتل ہوجائے گا اور ان کاکچھ نہیں
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب السابع عشر في الغناء...إلخ،ج۵،ص۳۵۳.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في التسبیح...إلخ،ج۲،ص۳۸۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب السابع عشر في الغناء...إلخ،ج۵،ص۳۵۳.
5 ۔ المرجع السابق. 6 ۔ المرجع السابق.
بگڑے گا، جب بھی ان کو منع کرے عزیمت یہی ہے اگرچہ منع نہ کرنے کی بھی رخصت ہے۔ (1) (عالمگیری)کیونکہ اس صورت میں قتل ہوجانا فائدہ سے خالی نہیں اس وقت اگرچہ بظاہر فائدہ نہیں معلوم ہوتا مگر آئندہ اس کے نتائج بہتر نکلیں گے۔
علم ایسی چیز نہیں جس کی فضیلت اور خوبیوں کے بیان کرنے کی حاجت ہو ساری دنیا جانتی ہے کہ علم بہت بہتر چیز ہے اس کا حاصل کرنا طغرائے امتیاز (2)ہے۔ یہی وہ چیزہے کہ اس سے انسانی زندگی کامیاب اور خوشگوار ہوتی ہے اور اسی سے دنیا و آخرت سدھرتی ہے مگر ہماری مراد اس علم سے وہ علم نہیں جو فلاسفہ سے حاصل ہو ا ہو اور جس کو انسانی دماغ نے اختراع (3)کیا ہو یا جس علم سے دنیا کی تحصیل مقصود ہو ایسے علم کی قرآن مجید نے مذمت کی بلکہ وہ علم مراد ہے جو قرآن و حدیث سے حاصل ہو کہ یہی علم وہ ہے جس سے دنیا و آخرت دونوں سنورتی ہیں اور یہی علم ذریعہ نجات ہے اور اسی کی قرآن و حدیث میں تعریفیں آئی ہیں اور اسی کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے قرآن مجید میں بہت سے مواقع پر اس کی خوبیاں صراحۃً یا اشارۃً بیان فرمائی گئیں۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ)
(4)
''اﷲ(عزوجل)سے اوس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں، جو علم والے ہیں۔''
اور فرماتا ہے:
(یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕ)
(5)
''اﷲ (عزوجل) تمھارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا ہے، درجے بلند فرمائے گا۔''
اور فرماتا ہے:
(فَلَوْلَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَلِیُنۡذِرُوۡا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾٪
)
(6)
''کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کرے اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب السابع عشر في الغناء...إلخ،ج۵،ص۳۵۳ ۔ ۳۵۴.
2 ۔یعنی بڑائی کی علامت۔ 3 ۔ایجاد۔
4 ۔ پ۲۲،فاطر: ۲۸. 5 ۔ پ۲۸،المجادلۃ: ۱۱. 6 ۔ پ۱۱،التوبۃ: ۱۲۲.
سنائے، اس امید پر کہ وہ بچیں۔''
اور فرماتا ہے:
(قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ ٪﴿۹﴾)
(1)
''تم فرماؤ!کیا جاننے والے اور انجان برابر ہیں، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں۔''
احادیث علم کے فضائل میں بہت آئیں چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔
حدیث ۱: جس شخص کے ساتھ اﷲ تعالیٰبھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین کافقیہ بناتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں اوراﷲ(عزوجل)دیتا ہے۔ (2) (بخاری، مسلم)
حدیث ۲: سونے چاندی کی طرح آدمیوں کی کانیں ہیں، جو لوگ جاہلیت میں اچھے تھے، اسلام میں بھی اچھے ہیں جبکہ علم حاصل کریں۔ (3) (مسلم)
حدیث ۳: انسان جب مرجاتا ہے اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین چیزیں (کہ مرنے کے بعد بھی یہ عمل ختم نہیں ہوتے اس کے نامہ اعمال میں لکھے جاتے ہیں) (1) صدقہ جاریہ اور (2)علم جس سے نفع حاصل کیا جاتا ہو اور (3) اولاد صالح جو اس کے لیے دعا کرتی رہتی ہے۔ (4) (مسلم)
حدیث ۴: جو شخص کسی راستہ پر علم کی طلب میں چلے، اﷲ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردے گا اور جب کوئی قوم خانہ خدا میں مجتمع ہو کر کتاب اﷲکی تلاوت کرے اور اس کو پڑھے پڑھائے توا س پر سکینہ اترتا ہے اور رحمت ڈھانک لیتی ہے اور ملائکہ گھیر لیتے ہیں اوراﷲتعالیٰ ان کا ذکر ان لوگوں میں کرتا ہے جو اس کے مقرب ہیں اور جس کے عمل نے سستی کی تو اس کا نسب اسے تیز رفتار نہیں کریگا۔ (5) (مسلم)
حدیث ۵: مسجد دمشق میں ایک شخص ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں مدینہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے آپ کے پاس ایک حدیث سننے کو آیا ہوں، مجھے خبر ملی ہے کہ آپ اسے بیان کرتے ہیں کسی اور کام کے لیے نہیں
1 ۔ پ۲۳،الزمر: ۹.
2 ۔ ''صحیح البخاری ''،کتاب العلم،باب من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ في الدین،الحدیث:ج۱،ص۴۲.
3 ۔ ''صحیح مسلم ''کتاب البر والصلۃ...إلخ،باب الأرواح جنود مجندۃ،الحدیث:۱۶۰۔(۲۶۳۸)،ص۱۴۱۸.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الوصیۃ،باب ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ،الحدیث:۱۴۔(۱۶۳۱)،ص۸۸۶.
و''سنن أبي داود''،کتاب الوصایا،باب ماجاء في الصدقۃ عن المیت،الحدیث:۲۸۸۰،ج۳،ص۱۶۱.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الذکر...إلخ،باب فضل الإجتماع علی تلاوۃ القرآن...إلخ،الحدیث:۳۸۔(۲۶۹۹)،ص۱۴۴۷.
آیا ہوں۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کویہ فرماتے سنا ہے کہ''جو شخص علم کی طلب میں کسی راستہ کو چلے اﷲتعالیٰ اس کو جنت کے راستہ پر لے جاتا ہے اور طالبعلم کی خوشنودی کے لیے فرشتے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں اور عالم کے لیے آسمان والے اور زمین کے بسنے والے اور پانی کے اندر مچھلیاں یہ سب استغفار کرتے ہیں او ر عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کو تمام ستاروں پر اور بے شک علما و ارث انبیا ہیں، انبیا نے اشرفی اور روپیہ کا وارث نہیں کیا، انھوں نے علم کا وارث کیا، پس جس نے علم کو لیا اس نے پورا حصہ لیا۔''(1) (احمد،ترمذی، ابو داود، ابن ماجہ، دارمی)
حدیث ۶: عالم کی فضیلت عابد پر ویسی ہے جیسی میری فضیلت تمھارے ادنیٰ پر اس کے بعد پھر فرمایا کہ ''اﷲتعالیٰ اور اس کے فرشتے اور تمام آسمان و زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور یہاں تک کہ مچھلی اس کی بھلائی کے خواہاں ہیں، جو لوگوں کو اچھی چیز کی تعلیم دیتا ہے۔''(2) (ترمذی)
حدیث ۷: ایک فقیہ ہزار عابد سے زیادہ شیطان پر سخت ہے۔ (3) (ترمذی، ابن ماجہ)
حدیث ۸: علم کی طلب ہر مسلم پر فرض ہے اور علم کو نااہل کے پاس رکھنے والا ایسا ہے، جیسے سوئر کے گلے میں جواہر اور موتی اور سونے کا ہار ڈالنے والا۔ (4) (ابن ماجہ)
حدیث ۹: جو شخص طلب علم کے لیے گھر سے نکلا تو جب تک واپس نہ ہو، اﷲ(عزوجل)کی راہ میں ہے۔ (5) (ترمذی، دارمی)
حدیث ۱۰: مومن کبھی خیر (یعنی علم)سے آسودہ نہیں ہوتا، یہاں تک کہ اس کا منتہےٰ جنت ہوتا ہے۔ (6) (ترمذی)
حدیث ۱۱: اﷲتعالیٰ اس بندہ کو خوش رکھے جس نے میری بات سنی اور یاد کرلی اور محفوظ رکھی اور دوسر ے کوپہنچا دی، کیونکہ بہت سے علم کے حامل فقیہ نہیں اور بہت سے علم کے حامل اس تک پہنچاتے ہیں، جو ان سے زیادہ فقیہ ہے۔ (7) (احمد، ترمذی، ابو داود، ابن ماجہ، دارمی)
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب العلم،باب ماجاء في فضل الفقہ علی العبادۃ،الحدیث:۲۶۹۱،ج۴،ص۳۱۲.
2 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۲۶۹۴،ج۴،ص۳۱۳.
3 ۔''سنن الترمذي''،کتاب العلم،باب ماجاء في فضل الفقہ علی العبادۃ،الحدیث:۲۶۹۰،ج۴،ص۳۱۱.
و''سنن ابن ماجہ''،کتاب السنۃ،باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم،الحدیث:۲۲۲،ج۱،ص۱۴۵.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب السنۃ، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم،الحدیث:۲۲۴،ج۱،ص۱۴۶.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب العلم،باب فضل طلب العلم،الحدیث:۲۶۵۶،ج۴،ص۲۹۴.
6 ۔ المرجع السابق،باب ماجاء في فضل الفقہ علی العبادۃ،الحدیث:۲۶۹۵،ج۴،ص۳۱۴.
7 ۔''سنن الترمذي''،کتاب العلم،باب ماجاء فی الحث...إلخ،الحدیث:۲۶۶۵،ج۴،ص۲۹۸.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب العلم،باب ماجاء فی الحث علی تبلیغ السماع،الحدیث:۲۲۸،ج۱،ص۱۱۱.
حدیث ۱۲: مومن کو اس کے عمل اور نیکیوں سے مرنے کے بعد بھی یہ چیزیں پہنچتی رہتی ہیں۔ علم جس کی اس نے تعلیم دی اور اشاعت کی اور اولاد صالح جسے چھوڑ مرا ہے یا مصحف جسے میراث میں چھوڑا یا مسجد بنائی یا مسافر کے لیے مکان بنادیا نہر جاری کردی یا اپنی صحت اور زندگی میں اپنے مال میں سے صدقہ نکال دیا جو اس کے مرنے کے بعد اس کو ملے گا۔ (1) (ابن ماجہ)
حدیث ۱۳: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہمانے فرمایاکہ ایک گھڑی رات میں پڑھنا پڑھانا، ساری رات عبادت سے افضل ہے۔ (2) (دارمی)
حدیث ۱۴: رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم مسجد میں تشریف لائے، وہاں دو مجلسیں تھیں۔ فرمایاکہ ''دونوں مجلسیں اچھی ہیں اورایک دوسری سے افضل ہے، یہ لوگ اﷲ(عزوجل)سے دعا کرتے ہیں اور ا س کی طرف رغبت کرتے ہیں، وہ چاہے تو ان کو دے اور چاہے تو منع کردے اور یہ دوسری مجلس والے علم سیکھتے ہیں اور جاہل کو سکھاتے ہیں یہ افضل ہیں، میں معلم بنا کر بھیجا گیا۔''او راسی مجلس میں حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)بیٹھ گئے۔ (3) (دارمی)
حدیث ۱۵: جس نے میری امت کے دین کے متعلق چالیس حدیثیں حفظ کیں، اس کو اﷲ تعالٰی فقیہ اٹھائے گا اور میں اس کا شافع و شہید ہوں گا۔ (4) (بیہقی)
حدیث ۱۶: دو حریص آسودہ نہیں ہوتے ایک علم کا حریص کہ علم سے کبھی اس کا پیٹ نہیں بھرے گا اور ایک دنیا کا لالچی کہ یہ کبھی آسودہ نہیں ہوگا۔ (5) (بیہقی)
حدیث ۱۷: عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا دو حریص آسودہ نہیں ہوتے، ایک صاحب علم، دوسرا صاحب دنیا، مگر یہ دونوں برابر نہیں۔ صاحب علم اﷲ(عزوجل)کی خوشنودی زیادہ حاصل کرتا رہتا ہے اور صاحب دنیا سرکشی میں بڑھتا جاتا ہے۔ اس کے بعد حضرت عبداﷲنے یہ آیت پڑھی:
(کَلَّاۤ اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَیَطْغٰۤی ۙ﴿۶﴾اَنۡ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی ﴿ؕ۷﴾ )
(6)
اور دوسرے کے لیے فرمایا:
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب السنۃ،باب ثواب معلم الناس الخیر،الحدیث:۲۴۲،ج۱،ص۱۵۷.
2 ۔ ''سنن الدارمي''،باب مذاکرۃ العلم،الحدیث:۶۱۴،ج۱،ص۱۵۷.
3 ۔ ''سنن الدارمی''،باب في فضل العلم و العالم،الحدیث:۳۴۹،ج۱،ص۱۱۱ ۔ ۱۱۲.
4 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في طلب العلم،فصل في فضل العلم و شرفہ،الحدیث:۱۷۲۶،ج۲،ص۲۷۰.
5 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في الزھدو قصر الامل،الحدیث:۱۰۲۷۹،ج۷،ص۲۷۱.
6 ۔ پ۳۰،العلق: ۶۔۷.
ترجمہ کنزالإیمان:ہاں ہاں ،بے شک آدمی سرکشی کرتاہے اس پر کہ اپنے آپ کوغنی سمجھ لیا۔
(اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ)
(1) (دارمی)
حدیث ۱۸: جس علم سے نفع حاصل نہ کیا جائے وہ اس خزانہ کی مثل ہے جس میں سے راہِ خدا میں خرچ نہیں کیا جاتا۔ (2) (احمد)
حدیث ۱۹: سب سے زیادہ حسر ت قیامت کے دن اس کو ہوگی جسے دنیا میں طلبِ علم کا موقع ملا، مگر اس نےطلب نہیں کی اور اس شخص کو ہوگی جس نے علم حاصل کیا اور اس سے سن کر دوسروں نے نفع اٹھایا خود اس نے نفع نہیں اٹھایا۔(3)(ابن عساکر)
حدیث ۲۰: علما کی سیاہی شہید کے خون سے تولی جائے گی اور اس پر غالب ہوجائے گی۔ (4) (خطیب)
حدیث ۲۱: علما کی مثال یہ ہے جیسے آسمان میں ستارے جن سے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ کا پتا چلتا ہے اور اگر ستارے مٹ جائیں تو راستہ چلنے والے بھٹک جائیں گے۔ (5) (احمد)
حدیث ۲۲: علم تین ہیں، آیت محکمہ یا سنت قائمہ یا فریضہ عادلہ اور ان کے سوا جو کچھ ہے، وہ زائد ہے۔ (6) (ابن ماجہ، ابو داود)
حدیث ۲۳: حضرت حسن بصری (رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ)نے فرمایا علم دو ہیں ایک وہ کہ قلب میں ہو یہ علم نافع ہے دوسرا وہ کہ زبان پر ہو یہ ابن آدم پراﷲ(عزوجل)کی حجت ہے۔ (7) (دارمی)
حدیث ۲۴: جس نے علم طلب کیا اور حاصل کرلیا اس کے لیے دو چند اجر ہے اور حاصل نہ ہوا تو ایک اجر۔ (8)(دارمی)
حدیث ۲۵: جس کو موت آگئی اور وہ علم کو اس لیے طلب کررہا تھا کہ اسلام کا احیا کرے، اس کے اور انبیا کے
1 ۔ ''سنن الدارمي''،باب في فضل العلم والعالم،الحدیث:۳۳۲،ج۱،ص۱۰۸.
پ۲۲،فاطر: ۲۸.
ترجمہ کنزالإیمان:اﷲ(عزوجل)سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جوعلم والے ہیں۔
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل،مسند أبي ھریرۃ،الحدیث: ۱۰۴۸۱،ج۳،ص۵۶۳.
3 ۔ ''تاریخ دمشق'' لابن عساکر،الرقم:۵۹۷۸،محمدبن احمدبن محمد،ج۵۱،ص۱۳۷، ۱۳۸.
4 ۔ ''تاریخ بغداد''،الرقم:۶۱۸،محمدبن الحسن بن ازھر،ج۲،ص۱۹۰.
5 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل،مسند انس بن مالک،الحدیث:۱۲۶۰۰،ج۴،ص۳۱۴.
6 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الفرائض،باب ماجاء في تعلیم الفرائض،الحدیث:۲۸۸۵،ج۳،ص۱۶۴.
7 ۔ ''سنن الدارمي''، المقدمۃ باب التوبیخ لمن یطلب العلم لغیر اللہ،الحدیث:۳۶۴،ج۱،ص۱۱۴.
8 ۔ ''سنن الدارمي''،المقدمۃ باب في فضل العلم والعالم،الحدیث:۳۳۵،ج۱،ص۱۰۸.
درمیان جنت میں ایک درجہ کا فرق ہوگا۔ (1) (دارمی)
حدیث ۲۶: اچھا شخص وہ عالمِ دین ہے کہ اگر اس کی طرف احتیاج لائی جائے تو نفع پہنچاتا ہے اور اس سے بے پروائی کی جائے تو وہ اپنے کو بے پروا رکھتا ہے۔ (2) (رزین)
حدیث ۲۷: حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:جس کو کوئی بات معلوم ہے وہ کہے اور نہ معلوم ہو تو یہ کہدے کہ اﷲاعلم، کیونکہ علم کی شان یہ ہے کہ جس چیز کو نہ جانتا ہو اس کے متعلق یہ کہدے اﷲاعلم۔ اﷲتعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام)سے فرمایا:
(قُلْ مَاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیۡہِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیۡنَ ﴿۸۶﴾)
(3)
''میں تم سے اس پر اُجرت نہیں مانگتا اور نہ میں تکلُّف کرنے والوں سے ہوں۔''
یعنی جو بات معلوم نہ ہو اس کے متعلق بولنا تکلف ہے۔ (4) (بخاری، مسلم)
حدیث ۲۸: قیامت کے دن اﷲ(عزوجل)کے نزدیک سب سے بُرا مرتبہ اس عالم کا ہے، جو علم سے مُنْتَفِعنہ ہو۔(5) (دارمی)
حدیث ۲۹: زیادبن لبید رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک چیز ذکر کرکے فرمایا کہ یہ اس وقت ہوگی جب علم جاتا رہے گا۔ میں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)علم کیونکرجائے گا؟ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں وہ اپنی اولاد کو پڑھائیں گے، اسی طرح قیامت تک سلسلہ جاری رہے گا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''زیاد!تجھے تیری ماں روئے، میں خیال کرتا تھا کہ تو مدینہ میں فقیہ شخص ہے، کیا یہ یہود ونصاریٰ تورات و انجیل نہیں پڑھتے، مگر ہے یہ کہ جو کچھ ان میں ہے اس پر عمل نہیں کرتے۔''(6) (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)
حدیث ۳۰: حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کعب احبار ( رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے پوچھا، ارباب علم کون ہیں؟ کہا، وہ
1 ۔ ''سنن الدارمي''،باب في فضل العلم و العالم،الحدیث:۳۵۴،ج۱،ص۱۱۲.
2 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''،کتاب العلم،الحدیث:۲۵۱،ج۱،ص۱۱۵.
3 ۔ پ۲۳،صۤ: ۸۶.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب التفسیر،باب قولہ( ومآ انا من المتکلفین )،الحدیث: ۴۸۰۹،ج۳،ص۳۱۳.
5 ۔ ''سنن الدارمي''،باب العمل بالعلم و حسن النیۃ فیہ،الحدیث:۲۶۲،ج۱،ص۹۳.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الفتن،باب ذھاب القرآن والعلم،الحدیث:۴۰۴۸،ج۴،ص۳۸۳.
جو جانتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ فرمایا: کس چیز نے علما کے قلوب سے علم کو نکال دیا؟ کہا، طمع نے۔ (1) (دارمی)
حدیث ۳۱: میری اُمت میں کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے اور یہ کہیں گے کہ ہم امرا کے پاس جا کر وہاں سے دنیا حاصل کرلیں اور اپنے دین کو ان سے بچائے رکھیں گے مگر ایسا نہیں ہوگا، جس طرح قتاد(ایک کانٹے والا درخت ہے) سے نہیں لیا جاتا مگر کانٹا، اسی طرح امرا کے قرب سے سوا خطا کے کچھ حاصل نہیں۔ (2) (ابن ماجہ)
حدیث ۳۲: خدا کے نزدیک بہت مبغوض قراء (علما)وہ ہیں جو امراء کی ملاقات کو جاتے ہیں۔ (3) (ابن ماجہ)
حدیث ۳۳: عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اگر اہلِ علم، علم کی حفاطت کریں اور اس کو اہل کے پاس رکھیں تو اس کی وجہ سے اہلِ زمانہ کے سردار ہوجائیں، مگر انھوں نے علم کو دنیا والوں کے لیے خرچ کیا تاکہ ان سے دنیا حاصل کریں، لہٰذا ان کے سامنے ذلیل ہوگئے۔ میں نے تمھارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا ہے:''جس نے تمام فکروں کو ایک فکر آخرت کی فکر کردیا، اﷲ تعالیٰ فکرِ دنیا سے اس کی کفایت فرمائے گا اور جس کے لیے احوالِ دنیا کی فکریں متفرق رہیں، اﷲ(عزوجل)کو اس کی کچھ پروا نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوا۔''(4) (ابن ماجہ)
حدیث ۳۴: جس سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی اور اس نے نہیں بتائی، اس کے مونھ میں قیامت کے دن آگ کی لگام لگا دی جائے گی۔ (5) (احمد، ابو داود، ترمذی، ابن ماجہ)
حدیث ۳۵: جس نے علم کو اس لیے طلب کیا کہ علما سے مقابلہ کریگا یا جاہلوں سے جھگڑا کریگا یا اس لیے کہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کریگا، اﷲ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کردے گا۔ (6) (ترمذی، ابن ماجہ)
حدیث ۳۶: جو علم اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے (یعنی علم دین)اس کو جو شخص اس لیے حاصل کرے کہ متاعِ دنیا مل جائے، اس کو قیامت کے دن جنت کی خوشبو نہیں ملے گی۔ (7) (احمد، ابو داود، ابن ماجہ)
حدیث ۳۷: وعظ نہیں کہتا، مگر امیر یا مامور یا متکبر۔ یعنی وعظ کہنا امیر کا کام ہے یا وہ کسی کو حکم کردے کہ وہ کہے اور ان کے
1 ۔ ''سنن الدارمي''،باب صیانۃ العلم،الحدیث:۵۸۴،ج۱،ص۱۵۲.
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،باب الإنتفاع بالعلم والعمل بہ،الحدیث:۲۵۵،ج۱،ص۱۶۶.
3 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۲۵۶،ج۱،ص۱۶۷.
4 ۔ المرجع السابق،الحدیث:۲۵۷،ج۱،ص۱۶۷.
5 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب العلم،باب ماجاء في کتمان العلم،الحدیث:۲۶۵۸،ج۴،ص۲۹۵.
6 ۔ المرجع السابق،باب فیمن یطلب بعلمہ الدنیا،الحدیث:۲۶۶۳،ج۴،ص۲۹۷.
7 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب العلم،باب في طلب العلم لغیراللہ،الحدیث:۳۶۶۴،ج۳،ص۴۵۱.
سوا جو کوئی کہتا ہے، وہ طلب جاہ و طلب دنیا کے لیے ہے۔ (1) (ابو داود)
حدیث ۳۸: جس کو بغیر علم فتویٰ دیا گیا تو اس کا گناہ اس فتویٰ دینے والے پر ہے اور جس نے اپنے بھائی کو مشورہ دیا اور یہ جانتا ہے کہ بھلائی اس کے غیر میں ہے اس نے خیانت کی۔ (2) (ابو داود)
حدیث ۳۹: رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی پھر یہ فرمایا کہ ''یہ وہ وقت ہے کہ لوگوں سے علم جدا کردیا جائے گا، یہاں تک کہ علم کی کسی بات پر قادر نہیں ہوں گے۔''(3) (ترمذی)
حدیث ۴۰: اﷲتعالیٰ علم کو اس طرح نہیں قبض کریگا کہ لوگوں کے سینوں سے جدا کرلے، بلکہ علم کا قبض کرنا علما کے قبض کرنے سے ہوگا، جب عالم باقی نہ رہیں گے جاہلوں کو لوگ سردار بنالیں گے، وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (4) (بخاری، مسلم)
حدیث ۴۱: بدتر سے بدتر برے علما ہیں اور بہتر سے بہتر اچھے علما ہیں۔ (5) (دارمی)
حدیث ۴۲: علم کی آفت نسیان ہے اور نااہل سے علم کی بات کہنا علم کو ضائع کرنا ہے۔ (6) (دارمی)
حدیث ۴۳: ابن سیرین نے فرمایا: یہ علم دین ہے، تمھیں دیکھنا چاہیے کہ کس سے اپنا دین لیتے ہو۔ (7)
مسئلہ ۱: اپنے بچہ کو قرآن و علم پڑھنے پر مجبور کرسکتا ہے، یتیم بچہ کو اس چیز پر مار سکتا ہے جس پر اپنے بچہ کو مارتا ہے۔ (8) (ردالمحتار)کیونکہ اگر یتیم بچہ کو مطلق العنان (9)چھوڑ دیا جائے تو علم و ادب سے بالکل کورا رہ جائے گا اور عموماً بچے بغیر تنبیہ قابو میں نہیں آتے اور جب تک انھیں خوف نہ ہو کہنا نہیں مانتے، مگر مارنے کا مقصد صحیح ہونا ضرور ہے ایسے ہی موقع پر فرمایا گیا:
(وَاللہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ؕ)
(10)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب العلم،باب فی القصص،الحدیث:۳۶۶۵،ج۳،ص۴۵۱.
2 ۔ المرجع السابق،باب التوقي في الفتیا،الحدیث:۳۶۵۷،ج۳،ص۴۴۹.
3 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب العلم،باب ماجاء في ذھاب العلم،الحدیث:۲۶۶۲،ج۴،ص۲۹۷.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب العلم،باب کیف یقبض العلم،الحدیث:۱۰۰،ج۱،ص۵۴.
5 ۔ ''سنن الدارمي''،باب التوبیخ لمن یطلب العلم لغیر اللہ،الحدیث:۳۷۰،ج۱،ص۱۱۶.
6 ۔ ''سنن الدارمي''،باب مذاکرۃ العلم ،الحدیث:۶۲۴،ج۱،ص۱۵۸.
7 ۔ مقدمۃ الکتاب للإمام مسلم،باب بیان أن الإسناد من الدین...إلخ،ص۱۱.
8 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،مطلب:فی تعزیر المتھم،ج۶،ص۱۲۵.
9 ۔ یعنی بالکل آزاد۔
10 ۔ پ۲،البقرۃ:۲۲۰.
''اﷲ(عزوجل)کو معلوم ہے کہ کون مفسد ہے اور کون مصلح۔''
اسی طرح اساتذہ بھی بچوں کو نہ پڑھنے یا شرارت کرنے پر سزائیں دے سکتے ہیں، مگر وہ کلیہ ان کے پیش نظر بھی ہونا چاہیے کہ اپنا بچہ ہوتا تو اسے بھی اتنی ہی سزا دیتے، بلکہ ظاہر تو یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے بچہ کی تربیت و تعلیم کا جتنا خیال ہوتا ہے دوسرے کا اتنا خیال نہیں ہوتا تو اگر اس کام پر اپنے بچہ کو نہ مارا یا کم مارا اور دوسرے بچہ کو زیادہ مارا تو معلوم ہوا کہ یہ مارنا محض غصہ اتارنے کے لیے ہے سدھارنا مقصود نہیں، ورنہ اپنے بچہ کے سدھارنے کا زیادہ خیال ہوتا۔
مسئلہ ۲: عالم اگرچہ جوان ہو بوڑھے جاہل پر فضیلت رکھتا ہے، لہٰذا چلنے اور بیٹھنے میں گفتگو کرنے میں بوڑھے جاہل کو عالم پر تقدم کرنا نہ چاہیے یعنی بات کرنے کا موقع ہو تو اس سے پہلے کلام یہ نہ شروع کرے، نہ عالم سے آگے آگے چلے، نہ ممتاز جگہ پر بیٹھے، عالم غیر قرشی قرشی غیر عالم پر فضیلت رکھتا ہے۔ عالم کا حق غیر عالم پر ویسا ہی ہے جیسا استاذ کا حق شاگرد پر ہے، عالم اگر کہیں چلا بھی جائے تو اس کی جگہ پر غیر عالم کو بیٹھنا نہ چاہیے۔ شوہر کا حق عورت پر اس سے بھی زیادہ ہے کہ عورت کو شوہر کی ہر ایسی چیز میں جو مباح ہو اطاعت کرنی پڑے گی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: دینِ حق کی حمایت کے لیے مناظرہ کرنا جائز ہے بلکہ عبادت ہے اور اگر اس لیے مناظرہ کرتا ہے کہ کسی مسلم کو مغلوب کر دے یا اس لیے کہ اس کا عالم ہونا لوگوں پر ظاہر ہوجائے یا دنیا حاصل کرنا مقصود ہے، مال ملے گا یا لوگوں میں مقبولیت حاصل ہوگی، یہ ناجائز ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴: مناظرہ میں اگر مناظر طلب حق کے لیے مناظرہ کرتا ہے یا اس کا یہ مقصود نہیں مگر بے جا ضداور ہٹ نہیں کرتا انصاف پسندی سے کام لیتا ہے جب تو اس کے ساتھ حیلہ کرنا جائز نہیں اوراگر محض اس کا مقصود ہی یہ ہے کہ اپنے مقابل کو مغلوب کردے اور ہرا دے جیسا کہ اس زمانہ میں اکثر بدمذہب اسی قسم کا مناظرہ کرتے ہیں تو اس کے مکر اورداؤں سے اپنے کو بچانا ہی چاہیے ایسے موقع پر اس کے کید سے بچنے کی ترکیبیں کرسکتے ہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: منبر پر چڑھ کر وعظ و نصیحت کرنا انبیا علیہم السلام کی سنت ہے اور اگر تذکیر و وعظ سے مال و جاہ مقصود ہو تو یہ یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۶: وعظ کہنے میں بے اصل باتیں بیان کردینا، مثلاً احادیث میں اپنی طرف سے کچھ جملے ملا دینا یا ان میں کچھ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵،ص۳۷۳.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۹۵.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵،ص۳۷۸.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۹۵.
ایسی کمی کردینا جس سے حدیث کے معنی بگڑ جائیں، جیسا کہ اس زمانہ کے اکثر مقررین کی تقریروں میں ایسی باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں کہ مجمع پر اثر ڈالنے کے لیے ایسی حرکتیں کر ڈالتے ہیں ایسی وعظ گوئی ممنوع ہے۔
اسی طرح یہ بھی ممنوع ہے کہ دوسروں کو نصیحت کرتا ہے اور خود انھیں باتوں میں آلودہ ہے، اس کو سب سے پہلے اپنی ذات کو نصیحت کرنی چاہیے اور اگر واعظ غلط باتیں بیان نہیں کرتا اور نہ اس قسم کی کمی بیشی کرتا ہے بلکہ الفاظ وتقریر میں لطافت اور شستگی کا خیال رکھتا ہے تاکہ اثر اچھا پڑے لوگوں پر رقت طاری ہو اور قرآن و حدیث کے فوائد اور نکات کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتا ہے تویہ اچھی چیز ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۷: معلم نے بچوں سے کہا کہ تم لوگ اپنے اپنے گھروں سے چٹائی کے لیے پیسے لاؤ۔ پیسے اکٹھے ہوئے، کچھ پیسوں کی چٹائیاں لایا اور کچھ خود رکھ لیے، جو اپنے کام میں صرف کریگا ایسا کرسکتا ہے کیونکہ بچوں کے باپ وغیرہ اس قسم کے پیسے اس غرض سے دیتے ہیں کہ بچ رہے گا تو وہ میاں جی کا ہوگا، وہ ہرگز اس کے امیدوار نہیں رہتے کہ جو کچھ بچے گا واپس ملے گا اور جان بوجھ کر اس سے زیادہ دیا کرتے ہیں جتنے کی ضرورت ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مقصود اس رقم زائد کی تملیک ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: عالم اگر اپنا عالم ہونا لوگوں پر ظاہر کرے تو اس میں حرج نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ تفاخر کے طور پر یہ اظہار نہ ہو کہ تفاخر حرام ہے، بلکہ محض تحدیثِ نعمت الٰہی کے لیے یہ اظہار ہو اور یہ مقصد ہو کہ جب لوگوں کو ایسا معلوم ہوگا تو استفادہ کریں گے کوئی دین کی بات پوچھے گا اور کوئی پڑھے گا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: طلب علم اگر اچھی نیت سے ہو تو ہر عمل خیر سے یہ بہتر ہے، کیونکہ اس کا نفع سب سے زیادہ ہے مگر یہ ضرور ہے کہ فرائض کی انجام دہی میں خلل و نقصان نہ ہو۔ اچھی نیت کا یہ مطلب ہے کہ رضائے الٰہی اور آخرت کے لیے علم سیکھے۔ طلبِ دنیا و طلب جاہ نہ ہو اور طالب کا اگر مقصد یہ ہو کہ میں اپنے سے جہالت کو دور کروں اور مخلوق کو نفع پہنچاؤں یا پڑھنے سے مقصود علم کا احیا ہے، مثلاً لوگوں نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے میں بھی نہ پڑھوں تو علم مٹ جائے گا، یہ نیتیں بھی اچھی ہیں اور اگر تصحیح نیت پر قادر نہ ہو جب بھی نہ پڑھنے سے پڑھنااچھا ہے۔ (4) (عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۹۷.
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في البیع،ج۹،ص۶۹۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵،ص۳۷۷.
4 ۔ المرجع السابق،ص۳۷۸.
مسئلہ ۱۰: عالم ومُتَعَلِّم (1)کو علم میں بخل نہ کرنا چاہیے، مثلاً اس سے عاریت کے طور پر کوئی کتاب مانگے یا اس سے کوئی مسئلہ سمجھنا چاہے، تو انکار نہ کرے کتاب دے دے مسئلہ سمجھادے۔ حضرت عبد اﷲبن مبارک رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:جو شخص علم میں بخل کریگا، تین باتوں میں سے کسی میں مبتلا ہوگا یا وہ مرجائے گا اور اس کا علم جاتا رہے گا یا بادشاہ کی طرف سے کسی بلا میں مبتلا ہوگا یا علم بھول جائے گا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: عالم ومُتَعَلِّم کو علم کی توقیر کرنی چاہیے، یہ نہ ہو کہ زمین پر کتابیں رکھے، پاخانہ پیشاب کے بعد کتابیں چھونا چاہے تو وضو کرلینا مستحب ہے، وضو نہ کرے تو ہاتھ ہی دھولے اب کتابیں چھوئے اور یہ بھی چاہیے کہ عیش پسندی میں نہ پڑے، کھانے پہننے، رہنے سہنے میں معمولی حالت اختیار کرے، عورتوں کی طرف زیادہ توجہ نہ رکھے، مگر یہ بھی نہ ہو کہ اتنی کمی کردے کہ تقلیل غذا اور کم خوابی میں اپنی جسمانی حالت خراب کردے اور اپنے کو کمزور کر دے کہ خود اپنے نفس کا بھی حق ہے اور بی بی بچوں کا بھی حق ہے، سب کا حق پورا کرنا چاہیے۔
عالم ومُتَعَلِّم کو یہ بھی چاہیے کہ لوگوں سے میل جول کم رکھیں اور فضول باتوں میں نہ پڑیں اور پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ برابر جاری رکھیں، دینی مسائل میں مذاکرہ کرتے رہیں، کتب بینی کرتے رہیں، کسی سے جھگڑا ہوجائے تو نرمی اور انصاف سے کام لیں جاہل اور اس میں اس وقت بھی فرق ہونا چاہیے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: استاذ کا ادب کرے اس کے حقوق کی محافظت کرے اور مال سے اس کی خدمت کرے اوراستاد سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس میں پیروی نہ کرے۔ استاذکا حق ماں باپ اور دوسرے لوگوں سے زیادہ جانے اس کے ساتھ تواضع سے پیش آئے، جب استاذ کے مکان پر جائے تو دروازہ پر دستک نہ دے بلکہ اس کے برآمد ہونے کا انتظار کرے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: نااہلوں کو علم نہ پڑھائے اور جو اس کے اہل ہوں ان کی تعلیم سے انکار نہ کرے کہ نااہلوں کو پڑھانا علم کو ضائع کرنا ہے اور اہل کو نہ پڑھانا ظلم وجورہے۔ (5) (عالمگیری)نااہل سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی نسبت معلوم ہے کہ علم کے حقوق کو محفوظ نہ رکھ سکیں گے، پڑھ کر چھوڑ دیں گے، جاہلوں کے سے افعال کریں گے یا لوگوں کو گمراہ کریں گے یا علما کو بدنام کریں گے۔
1 ۔ عالم و طالب علم۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵،ص۳۷۸.
3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق،ص۳۷۸ ۔ ۳۷۹.
5 ۔ المرجع السابق،ص۳۷۹.
مسئلہ ۱۴: معلم اگر ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے تو پانچ باتیں اس پر لازم ہیں۔
(1) تعلیم پر اُجرت لینا شرط نہ کرے، اگر کوئی خود کچھ دیدے تو لے لے، ورنہ کچھ نہ کہے۔
(2) باوضو رہے۔
(3) خیر خواہانہ تعلیم دے، توجہ کے ساتھ پڑھائے۔
(4) لڑکوں میں جھگڑا ہو تو عدل و انصاف سے کام لے، یہ نہ ہو کہ مال داروں کے بچوں کی طرف زیادہ توجہ کرے اور غریبوں کے بچوں کی طر ف کم۔
(5) بچوں کو زیادہ نہ مارے، مارنے میں حد سے تجاوز کریگا تو قیامت کے روز محاسبہ (1)دینا پڑے گا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: ایک شخص نے نماز وغیرہ کے مسائل اس لیے سیکھے کہ دوسرے لوگوں کو سکھائے بتائے گا اور دوسرے نے اس لیے سیکھے کہ ان پر خود عمل کریگا، پہلا شخص اس دوسرے سے افضل ہے۔ (3) (درمختار) یعنی جبکہ پہلے کا یہ مقصد ہو کہ عمل بھی کریگا اور تعلیم بھی دے گا یا یہ کہ محض تحصیل علم میں اول کو دوسرے پر فضیلت ہے، کیونکہ پہلے کا مقصد دوسروں کو فائدہ پہنچانا اور دوسرے کا مقصد صرف اپنے کو فائدہ پہنچانا ہے۔
مسئلہ ۱۶: گھڑی بھر علم دین کے مسائل میں مذاکرہ اور گفتگو کرنا ساری رات عبادت کرنے سے افضل ہے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: کچھ قرآن مجید یاد کرچکا ہے اور اسے فرصت ہے تو افضل یہ ہے کہ علم فقہ سیکھے، کہ قرآن مجیدحفظ کرنا فرض کفایہ ہے اور فقہ کی ضروری باتوں کا جاننا فرض عین ہے۔ (5) (ردالمحتار)
ریا یعنی دکھاوے کے لیے کام کرنا اور سمعہ یعنی اس لیے کام کرنا کہ لوگ سنیں گے اور اچھا جانیں گے یہ دونوں چیزیں بہت بری ہیں ان کی وجہ سے عبادت کا ثواب نہیں ملتا بلکہ گناہ ہوتا ہے اور یہ شخص مستحق عذاب ہوتا ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوا:
1 ۔ یعنی حساب۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵،ص۳۷۹.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۲.
4 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۲.
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۷۲.
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰی ۙ کَالَّذِیۡ یُنۡفِقُ مَالَہٗ رِئَآءَ النَّاسِ)
(1)
''اے ایمان والو!اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت دے کر باطل نہ کرو، اس شخص کی طرح جو دکھاوے کے لیے مال خرچ کرتا ہے۔''
اور ارشاد ہوا:
(فَمَنۡ کَانَ یَرْجُوۡ لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿۱۱۰﴾٪)
(2)
''جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو، اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔''
اس کی تفسیر میں مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ ریا نہ کرے کہ وہ ایک قسم کا شرک ہے۔
اور فرماتا ہے:
(فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾الَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾الَّذِیۡنَ ہُمْ یُرَآءُوۡنَ ۙ﴿۶﴾وَ یَمْنَعُوۡنَ الْمَاعُوۡنَ ٪﴿۷﴾
)
(3)
''ویل ہے ان نمازیوں کے لیے جو نماز سے غفلت کرتے ہیں، جو ریا کرتے ہیں اور برتنے کی چیز مانگے نہیں دیتے۔''
اور فرماتا ہے:
(فَاعْبُدِ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ؕ﴿۲﴾اَلَا لِلہِ الدِّیۡنُ الْخَالِصُ ؕ)
(4)
''اﷲ (عزوجل) کی عبادت اس طرح کر کہ دین کو اس کے لیے خالص کر، آگاہ ہوجاؤ کہ دین خالص اﷲ (عزوجل)کے لیے ہے۔''
اور فرماتا ہے:
(وَالَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَمَنۡ یَّکُنِ الشَّیۡطٰنُ لَہٗ قَرِیۡنًا فَسَآءَ قَرِیۡنًا ﴿۳۸﴾)
(5)
''اور جو لوگ اپنے مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور نہ اﷲ(عزوجل)پر ایمان لاتے ہیں اور نہ پچھلے دن پر اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو برا ساتھی ہوا۔''
احادیث اس کی مذمت میں بہت ہیں، بعض ذکر کی جاتی ہیں:
1 ۔ پ۳، البقرۃ: ۲۶۴. 2 ۔پ۱۶، الکھف: ۱۱۰.
3 ۔ پ۳۰، الماعون: ۴ ۔ ۷. 4 ۔ پ ۲۳، الزمر: ۲ ۔ ۳.
5 ۔ پ۵، النسآء: ۳۸.
حدیث ۱: ابن ماجہ نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:ہم لوگ مسیح دجال کا ذکر کررہے تھے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم تشریف لائے اور یہ فرمایاکہ میں تمھیں ایسی چیز کی خبر نہ دوں جس کا مسیح دجال سے بھی زیادہ میرے نزدیک تم پر خوف ہے؟ ہم نے کہا، ہاں یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)، ارشاد فرمایا:''وہ شرک خفی ہے، آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور اس وجہ سے زیادہ کرتا ہے کہ یہ دیکھتا ہے کہ دوسرا شخص اسے نماز پڑھتے دیکھ رہا ہے۔''(1)
حدیث ۲: امام احمد نے محمود بن لبید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس چیز کا تم پر زیادہ خوف ہے، وہ شرکِ اصغر ہے۔''لوگوں نے عرض کی، شرک اصغر کیا چیز ہے؟ ارشاد فرمایاکہ ''ریا ہے۔''(2)
بیہقی نے اس حدیث میں اتنا زیادہ کیا کہ جس دن بندوں کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، ریا کرنے والوں سے اﷲتعالیٰفرمائے گا :''ان کے پاس جاؤ جن کے دکھاوے کے لیے کام کرتے تھے، جا کر دیکھو کہ وہاں تمھیں کوئی بدلا اور خیر ملتا ہے ۔ ''(3)
حدیث ۳: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ نے ابوسعید ابن ابی فضالہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب اﷲ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو اس دن میں جمع فرمائے گا جس میں شک نہیں، تو ایک منادی ندا کریگا، جس نے کوئی کام اﷲ(عزوجل)کے لیے کیا اور اس میں کسی کو شریک کرلیا وہ اپنے عمل کا ثواب اسی شریک سے طلب کرے کیونکہ اﷲتعالیٰ شرک سے بالکل بے نیاز ہے۔''(4)
حدیث ۴: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا اﷲتعالیٰ نے فرمایا:''میں تمام شرکا میں شرکت سے بے نیاز ہوں، جس نے کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ دوسرے کو شریک کیا ، میں اس کو شرک کے ساتھ چھوڑ دوں گا۔''(5)یعنی اس کا کچھ ثواب نہ دوں گا اور ایک روایت میں ہے کہ فرماتا ہے:''میں اس سے بَری ہوں، وہ اسی کے لیے ہے جس کے لیے عمل کیا۔''(6)
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الزھد،باب الریاء والسمعۃ،الحدیث:۴۲۰۴،ج۴،ص۳۷۰.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الرقاق،باب الریاء والسمعۃ،الحدیث:۵۳۳۳،ج۳،ص۱۴۰.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث محمود بن لبید،الحدیث:۳۶۹۲ ۲،ج۹،ص۱۶۰.
3 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في اخلاص العمل...إلخ،الحدیث:۶۸۳۱،ج۵،ص۳۳۳.
4 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أبي سعید بن أبي فضالۃ،الحدیث:۱۵۸۳۸،ج۵،ص۳۶۹.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الزھد،باب من أشرک فی عملہ،الحدیث:۴۶۔(۲۹۸۵)،ص۱۵۹۴.
6 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في إخلاص العمل للہ...إلخ،الحدیث:۶۸۱۵،ج۵،ص۳۲۹.
حدیث ۵: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اﷲتعالیٰ تمھاری صورتوں اور تمھارے اموال کی طرف نظر نہیں فرماتا، وہ تمھارے دل اور تمھارے اعمال کی طر ف نظر کرتا ہے ۔''(1)
حدیث ۶: صحیح بخاری و مسلم میں جندب یعنی ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو سنانے کے لیے کام کریگا، اﷲ(عزوجل)اس کو سنائے گا یعنی اس کی سزا دے گا اور جو ریا کریگا اﷲتعالیٰ اسے ریاکی سزا دے گا۔''(2)
حدیث ۷: طبرانی و حاکم نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ریا کا ادنیٰ مرتبہ بھی شرک ہے اور تمام بندوں میں خدا کے نزدیک وہ زیادہ محبوب ہیں، جو پرہیز گار ہیں جو چھپے ہوئے ہیں اگر وہ غائب ہوں تو انھیں کوئی تلاش نہ کرے اور گواہی دیں تو پہچانے نہ جائیں، وہ لوگ ہدایت کے امام اور علم کے چراغ ہیں۔''(3)
حدیث ۸: ابن ماجہ نے روایت کی، کہ ایک رو ز حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ مسجد نبوی میں تشریف لے گئے، معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو قبر نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس روتا ہوا پایا۔ حضرت عمر(رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے فرمایا:کیوں روتے ہو؟ حضرت معاذ (رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے کہا، ایک بات میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے سنی تھی، وہ مجھے رلاتی ہے۔ میں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو یہ فرماتے سناکہ تھوڑا سا ریا بھی شرک ہے اور جو شخص اﷲ(عزوجل)کے ولی سے دشمنی کرے، وہ اﷲ (عزوجل)سے لڑائی کرتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نیکوں، پرہیزگاروں، چھپے ہوؤں کو دوست رکھتا ہے وہ کہ غائب ہوں تو ڈھونڈیں نہ جائیں، حاضر ہوں تو بلائے نہ جائیں اور ان کو نزدیک نہ کیا جائے، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ہر غبار آلود تاریک سے نکل جاتے ہیں۔(4) یعنی مشکلات اور بلاؤں سے الگ ہوتے ہیں۔
حدیث ۹: امام بخاری نے ابو تمیمہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ صفوان اور ان کے ساتھیوں کے پاس میں حاضر تھا، جندب (رضی اللہ تعالٰی عنہ)ان کو نصیحت کررہے تھے۔ انھوں نے کہا، تم نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے کچھ سنا ہو تو بیان کرو۔ جندب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا، میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا: جو سنانے کے لیے عمل کریگا،
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر...إلخ،باب تحریم ظلم المسلم...إلخ،الحدیث:۳۴۔(۲۵۴۶)،ص۱۳۸۷.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الرقاق،باب الریاء والسمعۃ،الحدیث:۶۴۹۹،ج۴،ص۲۴۷.
3 ۔ ''المستدرک''،کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنھم،الحدیث:۵۲۳۱،ج۴،ص۳۰۶.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الفتن،باب من ترجی لہ...إلخ،الحدیث:۳۹۸۹،ج۴،ص۳۵۱.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الرقاق،باب الریاء والسمعۃ،الحدیث:۵۳۲۸،ج۳،ص۱۳۹.
اﷲتعالیٰ قیامت کے دن اسے سنائے گا یعنی سزا دے گا اور جو مشقت ڈالے گا، اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر مشقت ڈالے گا۔ انھوں نے کہا، ہمیں وصیت کیجیے۔ فرمایا:''سب سے پہلے انسا ن کا پیٹ سڑے گا، لہٰذا جس سے ہوسکے کہ پاکیزہ مال کے سوا کچھ نہ کھائے، وہ یہی کرے اور جس سے ہوسکے کہ اس کے اور جنت کے درمیان چلو بھر خون حائل نہ ہو وہ یہ کرے یعنی کسی کو ناحق قتل نہ کرے۔''(1)
حدیث ۱۰: امام احمد نے شداد بن اوس(رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے روایت کی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سناکہ ''جس نے ریا کے ساتھ نماز پڑھی، اس نے شرک کیا اور جس نے ریا کے ساتھ روزہ رکھا، اس نے شرک کیا اور جس نے ریا کے ساتھ صدقہ دیا، اس نے شرک کیا۔''(2)
حدیث ۱۱: امام احمد نے شداد بن اوس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ یہ روئے، کسی نے پوچھا کیوں روتے ہیں؟ کہا کہ ایک بات میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے سنی تھی وہ یاد آگئی اس نے مجھے رلادیا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو میں نے یہ فرماتے سنا کہ''میں اپنی امت پر شرک اور شہوت خفیہ کا اندیشہ کرتا ہوں۔ میں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ فرمایا: ہاں مگر وہ لوگ آفتاب و ماہتاب اور پتھر اور بت کو نہیں پوجیں گے، بلکہ اپنے اعمال میں ریا کریں گے اور شہوت خفیہ یہ کہ صبح کو روزہ رکھے گا پھر کسی خواہش سے روزہ توڑ دے گا۔''(3)
حدیث ۱۲: امام احمد و مسلم و نسائی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سب سے پہلے قیامت کے دن ایک شخص کا فیصلہ ہوگا جو شہید ہوا ہے وہ حاضر کیا جائے گا،اﷲ تعالیٰ اپنی نعمتیں در یا فت کریگا وہ نعمتوں کو پہچانے گا یعنی اقرار کریگا، ارشاد فرمائے گا کہ ان نعمتوں کے مقابل میں تو نے کیا عمل کیا ہے؟ وہ کہے گا، میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوا، اﷲتعالیٰ فرمائے گا:تو جھوٹا ہے، تو نے اس لیے قتال کیا تھا کہ لوگ تجھے بہادر کہیں سو کہہ لیا گیا، حکم ہوگا اس کو مونھ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
اور ایک وہ شخص جس نے علم پڑھا اور پڑھایا اور قرآن پڑھا، وہ حاضر کیا جائے گا اس سے نعمتوں کو دریافت کریگا، وہ نعمتوں کو پہچانے گا ،فرمائے گا: ان نعمتوں کے مقابل میں تو نے کیا عمل کیا ہے؟ کہے گا، میں نے تیرے لیے علم سیکھا اور سکھایا اور قرآن پڑھا، فرمائے گا: تو جھوٹا ہے، تو نے علم اس لیے پڑھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأحکام،باب من شاق شق اللہ علیہ،الحدیث:۷۱۵۲،ج۴،ص۴۵۶.
2 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل، حدیث شداد بن اوس،الحدیث:۱۷۱۴۰،ج۶،ص۸۱۔۸۲.
3 ۔المرجع السابق،الحدیث:۱۷۱۲۰،ج۶،ص۷۷.
جائے سو تجھے کہہ لیا گیا، حکم ہوگا مونھ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
پھر ایک تیسرا شخص لایا جائے گا، جس کو خدا نے وسعت دی ہے اور ہر قسم کا مال دیا ہے، اس سے اپنی نعمتیں دریافت فرمائے گا، وہ نعمتوں کو پہچانے گا، فرمائے گا: تو نے ان کے مقابل کیا کیا؟ عرض کریگا میں نے کوئی راستہ ایسا نہیں چھوڑا جس میں خرچ کرنا تجھے محبوب ہے، مگر میں نے اس میں تیرے لیے خرچ کیا۔ فرمائے گا: تو جھوٹا ہے، تو نے اس لیے خرچ کیا کہ سخی کہا جائے سو کہہ لیا گیا، اس کے متعلق بھی حکم ہوگا مونھ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔''(1)
حدیث ۱۳: بخاری نے تاریخ میں اور ترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اﷲ(عزوجل)کی پناہ مانگو ''جبُّ الحزن''سے یہ جہنم میں ایک وادی ہے کہ جہنم بھی ہر روز چار سو مرتبہ اس سے پناہ مانگتا ہے، اس میں قاری داخل ہوں گے جو اپنے اعمال میں ریا کرتے ہیں اور خدا کے بہت زیادہ مبغوض وہ قاری ہیں، جو امرا کی ملاقات کو جاتے ہیں۔''(2)
حدیث ۱۴: طبرانی اوسط میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص آخرت کے عمل سے آراستہ ہو اور وہ نہ آخرت کا ارادہ کرتا ہے، نہ آخرت کا طالب ہے، اس پر آسمان و زمین میں لعنت ہے۔''(3)
حدیث ۱۵: حکیم نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''میری امت میں شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے، جو چکنے پتھر پر چلتی ہے۔'' (4)
حدیث ۱۶: امام احمد و طبرانی نے ابو موسیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اے لوگو!شرک سے بچو کیونکہ وہ چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔ لوگوں نے عرض کی، یارسول اﷲ!( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کس طرح شرک سے بچیں؟ ارشا د فرمایاکہ یہ دعا پڑھو۔
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ اَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْأاً نَعْلَمُہٗ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُہٗ .(5)
الٰہی!ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس سے کہ جان کر ہم تیرے ساتھ کسی چیز کو شریک کریں اور ہم اس سے استغفار کرتے
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإمارۃ،باب من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار،الحدیث:۱۵۲۔(۱۹۰۵)،ص۱۰۵۵.
2 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب الأخلاق،رقم :۷۴۷۷،ج۳،ص۱۹۰.
و''سنن الترمذي''،کتاب الزھد،باب ماجاء في الریاء والسمعۃ،الحدیث:۲۳۹۰،ج۴،ص۱۷۰.
3 ۔ ''المعجم الأوسط''،باب العین،الحدیث:۴۷۷۶،ج۳،ص۳۳۸.
و''الترغیب والترہیب''للمنذري،الترہیب من الریاء...إلخ،الحدیث:۱۲،ج۱،ص۳۲.
4 ۔ ''نوادرالأصول في معرفۃ أحادیث الرسول''، الأصل الرابع والسبعون والمئتان...إلخ،الحدیث:۱۹۰۱،ص۶۷۲.
5 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أبی موسی الاشعری،الحدیث:۱۹۶۲۵،ج۷،ص۱۴۶.
ہیں جس کو نہیں جانتے۔''
حدیث ۱۷: طبرانی نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: کچھ لوگوں کو جنت کا حکم ہوگا، جب جنت کے قریب پہنچ جائیں گے اور اس کی خوشبو سونگھیں گے اور محل اور جو کچھ جنت میں اﷲ تعالیٰ نے جنتیوں کے لیے سامان طیار کررکھا ہے، دیکھیں گے۔ پکارا جائے گا کہ انھیں واپس کرو جنت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔ یہ لوگ حسرت کے ساتھ واپس ہوں گے کہ ایسی حسرت کسی کو نہیں ہوئی اور یہ لوگ کہیں گے کہ اے رب!اگر تو نے ہمیں پہلے ہی جہنم میں داخل کردیا ہوتا، ہمیں تو نے ثواب اور جو کچھ اپنے اولیا کے لیے جنت میں مہیا کیا ہے نہ دکھایا ہوتا تو یہ ہم پر آسان ہوتا۔
ارشاد فرمائے گا:''ہمارا مقصد ہی یہ تھا اے بدبختو!جب تم تنہا ہوتے تھے تو بڑے بڑے گناہوں سے میرا مقابلہ کرتے تھے اور جب لوگوں سے ملتے تھے تو خشوع کے ساتھ ملتے جو کچھ دل میں میری تعظیم کرتے اس کے خلاف لوگوں پر ظاہر کرتے لوگوں سے تم ڈرے اور مجھ سے نہ ڈرے، لوگوں کی تعظیم کی اور میری تعظیم نہیں کی، لوگوں کے لیے گناہ چھوڑے میرے لیے نہیں چھوڑے، لہٰذا تم کو آج عذاب چکھاؤں گا اور ثواب سے محروم کروں گا۔''(1)
حدیث ۱۸: ترمذی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جس کی نیت طلبِ آخرت ہے اﷲتعالیٰ اس کے دل میں غنا پیدا کردے گا اور اس کی حاجتیں جمع کردے گا اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آئے گی اور طلب دنیا جس کی نیت ہواﷲتعالیٰ فقرو محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے کردے گا اور اس کے کاموں کو متفرق کردے گا اور ملے گا وہی جو اس کے لیے لکھا جاچکا ہے۔''(2)
حدیث ۱۹: صحیح مسلم میں ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے پوچھا گیا کہ یہ فرمائیے کہ آدمی اچھا کام کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں(یہ ریا ہے یا نہیں)؟ فرمایا:''یہ مومن کے لیے جلد یعنی دنیا میں بشارت ہے۔''(3)
حدیث ۲۰: ترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں نے عرض کی، یارسول اﷲ! (صلَّی اللہ
1 ۔ ''المعجم الکبیر'' للطبراني،الحدیث:۱۹۹،ج۱۵،ص۸۵.
و''مجمع الزوائد''،کتاب الزھد،باب ماجاء في الریاء،الحدیث:۱۷۶۴۹،ج۱۰،ص۳۷۷.
2 ۔''سنن الترمذي''،کتاب صفۃ القیامۃ،باب:۹۵،الحدیث:۲۴۷۳،ج۴،ص۲۱۱.
و ''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الرقاق،باب الریاء والسمعۃ،الحدیث:۵۳۲۰،ج۳،ص۱۳۸.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ،باب إذا أثني علی الصالح...إلخ،الحدیث:۱۶۶۔(۲۶۴۲)،ص۱۴۲۰.
تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میں اپنے مکان کے اندر نماز کی جگہ میں تھا، ایک شخص آگیا اور یہ بات مجھے پسند آئی کہ اس نے مجھے اس حال میں دیکھا (یہ ریا تو نہ ہوا)۔ ارشاد فرمایا: ''ابوہریرہ!تمھارے لیے دو ۲ ثواب ہیں، پوشیدہ عبادت کرنے کا اور علانیہ کا بھی۔''(1)
یہ اس صورت میں ہے کہ عبادت اس لیے نہیں کی کہ لوگوں پر ظاہر ہو اور لوگ عابد سمجھیں، عبادت خالصاً اﷲ (عزوجل)کے لیے ہے، عبادت کے بعد اگر لوگوں پر ظاہر ہوگئی اور طبعًایہ بات اچھی معلوم ہوتی ہے کہ دوسرے نے اچھی حالت پر پایا، اس طبعی مسرت سے ریا نہیں۔
حدیث ۲۱: بیہقی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''آدمی کی برائی کے لیے یہ کافی ہے کہ دین و دنیا میں اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے، مگر جس کو اﷲ تعالیٰ بچائے۔''(2)یعنی جسے لوگ اچھا سمجھتے ہوں، اس کو ریا و عجب سے بچنا بہت مشکل ہوتا ہے، مگر خدا کی خاص مہربانی جس پر ہو وہی بچتا ہے۔
مسئلہ ۱: روزہ دار سے پوچھا، کیا تمہارا روزہ ہے؟ اسے کہہ دینا چاہیے کہ ہاں ہے، کہ روزہ میں ریا کو دخل نہیں، یہ نہ کہے کہ دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے، یعنی ایسے الفاظ نہ کہے جن سے معلوم ہوتا ہو کہ یہ اپنے روزہ کو چھپاتا ہے کہ یہ بے وقوفی کی بات ہے کہ چھپاتا ہے مگر اس طرح جس سے اظہار ہوجاتا ہے یہ منافقین کا طریقہ ہے کہ لوگوں کے سامنے وہ بتانا چاہتا ہے کہ اپنے عمل کو چھپاتا ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: عبادت کوئی بھی ہو اس میں اخلاص نہایت ضروری چیز ہے یعنی محض رضائے الٰہی کے لیے عمل کرنا ضرور ہے۔ دکھاوے کے طور پر عمل کرنا بالاجماع حرام ہے، بلکہ حدیث میں ریا کو شرک اصغر فرمایا اخلاص ہی وہ چیز ہے کہ اس پر ثواب مرتب ہوتا ہے، ہوسکتا ہے کہ عمل صحیح نہ ہو مگر جب اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہو تو اس پر ثواب مرتب ہو مثلاً لاعلمی میں کسی نے نجس پانی سے وضو کیا اور نماز پڑھ لی اگرچہ یہ نماز صحیح نہ ہوئی کہ صحت کی شرط طہارت تھی وہ نہیں پائی گی مگر اس نے صدقِ نیت اور اخلاص کے ساتھ پڑھی ہے تو ثواب کا ترتب ہے یعنی اس نماز پر ثواب پائے گا مگر جبکہ بعد میں معلوم ہوگیا کہ ناپاک پانی سے وضو کیا تھا تو وہ مطالبہ جو اس کے ذمہ ہے ساقط نہ ہوگا، وہ بدستور قائم رہے گا اس کو ادا کرنا ہوگا۔
اور کبھی شرائط صحت پائے جائیں گے مگر ثواب نہ ملے گا مثلاً نماز پڑھی تمام ارکان ادا کیے اور شرائط بھی پائے گئے، مگر ریا
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الزھد،باب عمل السر،الحدیث:۲۳۹۱،ج۴،ص۱۷۱.
و''شرح السنۃ''،کتاب الرقاق،باب من عمل للہ فحمد علیہ،الحدیث:۴۰۳۶،ج۷،ص۳۴۶.
2 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في اخلاص العمل...إلخ،الحدیث:۶۹۷۸،ج۵،ص۳۶۷.
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۷۰۰.
کے ساتھ پڑھی تو اگرچہ اس نماز کی صحت کا حکم دیا جائے مگر چونکہ اخلاص نہیں ہے ثواب نہیں۔
ریا کی دو صورتیں ہیں، کبھی تو اصل عبادت ہی ریا کے ساتھ کرتا ہے کہ مثلاً لوگوں کے سامنے نماز پڑھتا ہے اور کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا تو پڑھتا ہی نہیں یہ ریائے کامل ہے کہ ایسی عبادت کا بالکل ثواب نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اصل عبادت میں ریا نہیں، کوئی ہوتا یا نہ ہوتا بہرحال نماز پڑھتا مگر وصف میں ریا ہے کہ کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا جب بھی پڑھتا مگر اس خوبی کے ساتھ نہ پڑھتا۔ یہ دوسری قسم پہلی سے کم درجہ کی ہے اس میں اصل نماز کا ثواب ہے اور خوبی کے ساتھ ادا کرنے کا جو ثواب ہے وہ یہاں نہیں کہ یہ ریا سے ہے اخلاص سے نہیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: کسی عبادت کو اخلاص کے ساتھ شروع کیا مگر اثناء عمل میں ریا کی مداخلت ہوگئی تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ ریا سے عبادت کی بلکہ یہ عبادت اخلاص سے ہوئی، ہاں اس کے بعد جو کچھ عبادت میں حسن و خوبی پیدا ہوگئی وہ ریا سے ہوگی اور یہ ریا کی قسم دوم میں شمار ہوگی۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: روزہ کے متعلق بعض علما کا یہ قول ہے کہ اس میں ریا نہیں ہوتا اس کا غالباً یہ مطلب ہوگا کہ روزہ چند چیزوں سے باز رہنے کا نام ہے اس میں کوئی کام نہیں کرنا ہوتا جس کی نسبت کہا جائے کہ ریا سے کیا، ورنہ یہ ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو جتانے کے لیے یہ کہتا پھرتا ہے کہ میں روزہ سے ہوں یا لوگوں کے سامنے مونھ بنائے رہتا ہے تاکہ لوگ سمجھیں کہ اس کا بھی روزہ ہے اس طور پر روزہ میں بھی ریا کی مداخلت ہوسکتی ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: ریا کی طرح اُجرت لے کر قرآن مجید کی تلاوت بھی ہے کہ کسی میت کے لیے بغرض ایصالِ ثواب کچھ لے کر تلاوت کرتا ہے کہ یہاں اخلاص کہاں بلکہ تلاوت سے مقصود وہ پیسے ہیں کہ وہ نہیں ملتے تو پڑھتا بھی نہیں، اس پڑھنے میں کوئی ثواب نہیں پھر میت کے لیے ایصالِ ثواب کا نام لینا غلط ہے کہ جب ثواب ہی نہ ملا تو پہنچائے گا کیا۔ اس صورت میں نہ پڑھنے والے کو ثواب، نہ میت کو بلکہ اُجرت دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار۔(4)(ردالمحتار) ہاں اگر اخلاص کے ساتھ کسی نے تلاوت کی تو اس پر ثواب بھی ہے اور اس کا ایصال بھی ہوسکتا ہے اور میت کو اس سے نفع بھی پہنچے گا۔
بعض مرتبہ پڑھنے والوں کو پیسے نہیں دیے جاتے مگر ختم کے بعد مٹھائی تقسیم ہوتی ہے۔ اگر اس مٹھائی کی خاطر تلاوت کی ہے تویہ بھی ایک قسم کی اُجرت ہی ہے کہ جب ایک چیز مشہور ہوجاتی ہے تو اسے بھی مشروط ہی کا حکم دیا جاتا ہے، اس کا بھی وہی حکم
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۷۰۱.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق،ص۷۰۲.
4 ۔ المرجع السابق.
ہے جو مذکور ہوچکا، ہاں جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ مٹھائی نہیں ملتی جب بھی میں پڑھتا وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے اور اس بات کا خود وہ اپنے ہی دل سے فیصلہ کرسکتا ہے کہ میرا پڑھنا مٹھائی کے لیے ہے یا اﷲعزوجل کے لیے۔
پنج آیت (1)پڑھنے والا اپنا دوہرا حصہ لیتا ہے یعنی ایک حصہ خاص پنج آیت پڑھنے کا ہوتا ہے اور نہ ملے تو جھگڑتا ہے گویا یہ زائد حصہ پنج آیت کا معاوَضہ ہے اس سے بھی یہی نکلتا ہے کہ جس طرح اجیر کو اُجرت نہ ملے تو جھگڑ(2) کرلیتا ہے، اسی طرح یہ بھی لیتا ہے، لہٰذا بظاہر اخلاص نظر نہیں آتا،
وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔
میلاد خوان اور واعظ بھی دو حصے لیتے ہیں جب کہ وعظ میں مٹھائی تقسیم ہوتی ہے جس سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ ایک حصہ اپنے پڑھنے اور تقریر کرنے کا لیتے ہیں، اگر وہی حصہ یہ بھی لیتے جو عام طور پر تقسیم ہوتا ہے تو بہت خوب ہوتا کہ ذرا سی مٹھائی کے بدلے اجر عظیم کے ضائع ہونے کا شبہہ نہ ہوتا۔
بعض جگہ خصوصیت کے ساتھ ان کی دعوتیں بھی ہوتی ہیں کہ ان کو اسی حیثیت سے کھانا کھلایا جاتا ہے کہ یہ پڑھیں گے بیان کریں گے یہ مخصوص دعوت بھی اسی اُجرت ہی کی حد میں آتی ہے، ہاں اگر اور لوگوں کی دعوت بھی ہو تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ وعظ و تقریر کا معاوضہ ہے۔
اسی قسم کی بہت سی صورتیں ہیں جن کی تفصیل کی چنداں ضرورت نہیں، یہ مختصر بیان دین دارمتبع شریعت کے لیے کافی ووافی ہے وہ خود اپنے دل میں انصاف کرسکتا ہے کہ کہاں عمل خیر کی اجرت ہے اور کہاں نہیں۔
مسئلہ ۶: جو شخص حج کو گیا اور ساتھ میں اموال تجارت بھی لے گیا، اگر تجارت کا خیال غالب ہے یعنی تجارت کرنا مقصود ہے اور وہاں پہنچ جاؤں گا حج بھی کرلوں گا یا دونوں پہلو برابر ہیں یعنی سفر ہی دونوں مقصد سے کیا تو ان دونوں صورتوں میں ثواب نہیں یعنی جانے کا ثواب نہیں اور اگر مقصود حج کرنا ہے اور یہ کہ موقع مل جائے گا تو مال بھی بیچ لوں گا تو حج کا ثواب ہے۔ اسی طرح اگر جمعہ پڑھنے گیا اور بازار میں دوسرے کام کرنے کا بھی خیال ہے، اگر اصلی مقصود جمعہ ہی کو جانا ہے تو اس جانے کا ثواب ہے اور اگر کام کا خیال غالب ہے یا دونوں برابر تو جانے کا ثواب نہیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: فرائض میں ریا کو دخل نہیں۔ (4) (درمختار)اس کا یہ مطلب نہیں کہ فرائض میں ریا پایا ہی نہیں جاتا اس لیے کہ جس طرح نوافل کو ریا کے ساتھ ادا کرسکتا ہے، ہوسکتا ہے کہ فرائض کو بھی ریا کے طور پر ادا کرے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ فرض اگر
1 ۔ یعنی سورہ فاتحہ اور چاروں قل،جو فاتحہ میں پڑھتے ہیں۔ 2 ۔یعنی جھگڑا۔
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۷۰۲.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۷۰۳.
ریا کے طور پر ادا کیا جب بھی اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا، اگرچہ اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے ثواب نہ ملے۔
اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کسی کو فرض ادا کرنے میں ریا کی مداخلت کا اندیشہ ہو تو اس مداخلت کو اعتبار کرکے فرض کو ترک نہ کرے(1) بلکہ فرض ادا کرے اور ریا کو دور کرنے کی اور اخلاص حاصل ہونے کی کوشش کرے۔
حدیث ۱: صحیح مسلم میں بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''میں نے تم کو زیارت قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کرو اور میں نے تم کو قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی ممانعت کی تھی اب جب تک تمھاری سمجھ میں آئے رکھ سکتے ہو۔''(3)
حدیث ۲: ابن ماجہ نے عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''میں نے تم کو زیارت قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کرو، کہ وہ دنیا میں بے رغبتی کا سبب ہے اور آخرت یاددلاتی ہے۔''(4)
حدیث ۳: صحیح مسلم میں بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم لوگوں کو تعلیم دیتے تھے کہ جب قبروں کے پاس جائیں یہ کہیں۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَآءَ اللہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ نَسْأَلُ اللہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ .(5)
حدیث ۴: ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم مدینہ میں قبور کے پاس گزرے تو اودھر کو مونھ کرلیا اور یہ فرمایا:
1 ۔یعنی فرائض کو نہ چھوڑے۔
2 ۔ زیارت کے متعلق مسائل حصہ چہارم میں ذکر کیے گئے ہیں ۔وہاں سے معلوم کریں۔ ۱۲ منہ
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الجنائز،باب استـئذان النبی صلی اللہ علیہ وسلم ربہ عزوجل...إلخ،الحدیث:۱۰۶۔(۹۷۷)،ص۴۸۶.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب ماجاء في الجنائز،باب ما جاء في زیارۃ القبور،الحدیث:۱۵۷۱،ج۲،ص۲۵۲.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الجنائز،باب ما یقال عند دخول القبور...إلخ،الحدیث:۱۰۴۔(۹۷۵)،ص۴۸۵.
و''سنن ابن ماجہ''،کتاب ماجاء في الجنائز،باب ماجاء فیما یقال إذا دخل المقابر،الحدیث:۱۵۴۷،ج۲،ص۲۴۰.
ترجمہ:اے قبرستان والے مومنو اورمسلمانو! تم پر سلامتی ہو اور انشاء اﷲ عزوجل ہم تم سے آملیں گے ،ہم اﷲ عزوجل سے اپنے لئے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَـفُنَا وَنَحْنُ بِالْاَثَرِ .(1)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی، کہتی ہیں کہ جب میری باری کی رات ہوتی حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)آخر شب میں بقیع کو جاتے اور یہ فرماتے۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَاَ تَاکُمْ مَا تُوْعَدُوْنَ غَدًا مُّؤَجَّلُوْنَ وَاِنَّا اِنْشَاءَ اللہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَ ھْلِ بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ .(2)
حدیث ۶: بیہقی نے شعب الایمان میں محمد بن نعمان سے مرسلاً روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو اپنے والدین کی دونوں یا ایک کی ہر جمعہ میں زیارت کریگا، اس کی مغفرت ہوجائے گی اور نیکو کار لکھا جائے گا۔''(3)
حدیث ۷: خطیب نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کوئی شخص ایسے کی قبر پر گزرے جسے دنیا میں پہچانتا تھا اور اس پر سلام کرے تو وہ مُردہ اسے پہچانتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔''(4)
حدیث ۸: امام احمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہتی ہیں میں اپنے گھر میں جس میں رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم تشریف فرما ہیں (یعنی روضہ اطہر میں)داخل ہوتی تو اپنے کپڑے اوتار دیتی(یعنی زائد کپڑے جو غیروں کے سامنے ہونے میں ستر پوشی کے لیے ضروری ہیں) اور اپنے دل میں یہ کہتی کہ یہاں تو صرف میرے شوہر اور میرے والد ہیں پھر جب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ وہاں مدفون ہوئے تو حضرت عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ)کی حیا کی وجہ سے خدا کی قسم! میں وہاں نہیں گئی مگر اچھی طرح اپنے اوپر کپڑوں کو لپیٹ کر۔ (5)
مسئلہ ۱: زیارت قبور جائز و مسنون ہے۔ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم شہدائے احد کی زیارت کو تشریف لے جاتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔ (6)
1 ۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الجنائز،باب ما یقول الرجل إذا دخل المقابر،الحدیث:۱۰۵۵،ج۲،ص۳۲۹.
ترجمہ:اے قبرستان والو! تم پر سلامتی ہو،اﷲ عزوجل ہماری اورتمہاری مغفرت فرمائے ،تم ہم سے پہلے چلے گئے اورہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں۔
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الجنائز،باب ما یقال عند دخول القبور...إلخ،الحدیث:۱۰۲۔(۹۷۴)،ص۴۸۴.
3 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في برالوالدین، فصل في حفظ حق الوالدین بعد موتھما،الحدیث:۷۹۰۱،ج۶،ص۲۰۱.
4 ۔ ''تاریخ بغداد''، رقم: ۳۱۷۵،ج۶،ص۱۳۵.
5 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا،الحدیث:۲۵۷۱۸،ج۱۰،ص۱۲.
6 ۔ انظر:''الدرالمنثور''للسیوطي،سورۃ الرعد، تحت الآیۃ:۲۴،ج۴،ص۶۴۰۔۶۴۱.
اور یہ فرمایا بھی ہے کہ ''تم لوگ قبروں کی زیارت کرو۔''(1)
مسئلہ ۲: جس کی قبر کی زیارت کو گیا ہے اس کی زندگی میں اگر اس کے پاس ملاقات کو آتا تو جتنا نزدیک یا دور ہوتا اب بھی قبر کی زیارت میں اسی کا لحاظ رکھے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ۳: قبر کی زیارت کو جانا چاہے تو مستحب یہ ہے کہ پہلے اپنے مکان میں دورکعت نماز نفل پڑھے، ہر رکعت میں بعد فاتحہ آیۃ الکرسی ایک بار اور قل ہواﷲتین بار پڑھے اور اس نماز کا ثواب میت کو پہنچائے، اﷲتعالیٰ میت کی قبر میں نُور پید ا کریگا اور اس شخص کو بہت بڑا ثواب عطا فرمائے گا، اب قبرستان کو جائے راستہ میں لایعنی باتوں میں مشغول نہ ہو جب قبرستان پہنچے جوتیاں اوتار دے اور قبر کے سامنے اس طرح کھڑا ہو کہ قبلہ کو پیٹھ ہو اور میت کے چہرہ کی طرف مونھ اور اس کے بعد یہ کہے۔
اَلسّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَنَحْنُ بِالْاَثَر.
اور
سورہ فاتحہ وآیۃ الکرسی و سورہ اِذا زُلْزِلَتْ و اَلْھٰکُمُ التَّکاثُر
پڑھے، سورہ ملک اور دوسری سورتیں بھی پڑھ سکتا ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: چار دن زیارت کے لیے بہتر ہیں، دو شنبہ (4)، پنج شنبہ (5)، جمعہ، ہفتہ، جمعہ کے دن بعد نماز جمعہ افضل ہے اور ہفتہ کے دن طلوع آفتاب تک اور پنج شنبہ، کو دن کے اول وقت میں اور بعض علما نے فرمایا کہ پچھلے وقت میں افضل ہے، متبرک راتوں میں زیارت قبور افضل ہے، مثلاً شب برا ء ت، شب قدر، اسی طرح عیدین کے دن اور عشرہ ذی الحجہ میں بھی بہتر ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: قبرستان کے درخت کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ درخت قبرستان سے پہلے کا ہے یعنی زمین کو جب قبرستان بنایا گیا اس وقت وہ درخت وہاں موجود تھا، تو جس کی زمین ہے اسی کا درخت ہے وہ جو چاہے کرے اور اگر وہ زمین بنجر تھی کسی کی مِلک نہ تھی تو درخت اور زمین کا وہ حصہ جس میں درخت ہے اسی پہلی حالت پر ہے کہ کسی کی مِلک نہیں اور اگر قبرستان ہونے کے بعد کا
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الجنائز،باب إستـئذان النبیصلی اللہ علیہ وسلم ربہ عزوجل...إلخ،الحدیث:۱۰۶۔(۹۷۷)،ص۴۸۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السادس عشر في زیارۃ القبور،ج۵،ص۳۵۰.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ پیر۔
5 ۔ جمعرات۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السادس عشر في زیارۃ القبور،ج۵،ص۳۵۰.
درخت ہے اور معلوم ہے کہ فلاں شخص نے لگایا ہے تو جس نے لگایا ہے اس کا ہے مگر اسے یہ چاہیے کہ صدقہ کردے اور معلوم نہ ہو کہ کس نے لگایا ہے بلکہ وہ خود ہی وہاں جم گیا ہے توقاضی کو اس کے متعلق اختیار ہے اگر قاضی کی یہ رائے ہو کہ درخت کٹوا کر قبرستان پر خرچ کردے تو کرسکتا ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: بزرگانِ دین اولیا وصالحین کے مزاراتِ طیبہ پر غلاف ڈالنا جائز ہے، جبکہ یہ مقصود ہو کہ صاحب مزار کی وقعت نظرِ عوام میں پیدا ہو،ان کا ادب کریں ان کے برکات حاصل کریں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱: ایصال ثواب یعنی قرآن مجید یا درود شریف یا کلمہ طیبہ یا کسی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچانا جائز ہے۔ عبادتِ مالیہ یا بدنیہ فرض و نفل سب کا ثواب دوسروں کو پہنچایا جاسکتا ہے، زندوں کے ایصال ثواب سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ کتب فقہ و عقائد میں اس کی تصریح مذکور ہے، ہدایہ (3)اور شرح عقائد نسفی (4)میں اس کا بیان موجود ہے اس کو بدعت کہنا ہٹ دھرمی ہے۔ حدیث سے بھی اس کا جائز ہونا ثابت ہے۔
حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدہ کا جب انتقال ہوا، انھوں نے حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سعد کی ماں کا انتقال ہوگیا، کون سا صدقہ افضل ہے؟ ارشاد فرمایا:پانی۔ انھوں نے کوآں کھودا اور یہ کہا کہ یہ سعد کی ماں کے لیے ہے۔ (5)معلوم ہوا کہ زندوں کے اعمال سے مردوں کو ثواب ملتا اور فائدہ پہنچتا ہے۔
اب رہیں تخصیصات مثلاً تیسرے دن یا چالیسویں دن یہ تخصیصات نہ شرعی تخصیصات ہیں نہ ان کو شرعی سمجھا جاتا ہے، یہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ اسی دن میں ثواب پہنچے گا اگر کسی دوسرے دن کیا جائے گا تو نہیں پہنچے گا۔ یہ محض رواجی اور عرفی بات ہے جو اپنی سہولت کے لیے لوگوں نے کرر کھی ہے بلکہ انتقال کے بعد ہی سے قرآن مجید کی تلاوت اور خیر خیرات کا سلسلہ جاری ہوتا ہے اکثر لوگوں کے یہاں اسی دن سے بہت دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اس کے ہوتے ہوئے کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ مخصوص دن کے سوا دوسرے دنوں میں لوگ ناجائز جانتے ہیں، یہ محض افترا ہے جو مسلمانوں کے سر باندھا جاتا
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف، الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر،ج۲،ص۴۷۳۔۴۷۴.
2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۹.
3 ۔ انظر:''الھدایۃ''،کتاب الحج،باب الحج عن الغیر،ج۱،ص۱۷۸.
4 ۔ انظر:''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث دعاء الأحیاء للاموات...إلخ،ص۱۷۲.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الزکاۃ،باب في فضل سقی الماء،الحدیث :۱۶۸۱،ج۲،ص۱۸۰.
ہے اور زندوں مُردوں کو ثواب سے محروم کرنے کی بیکار کوشش ہے، پس جبکہ ہم اصل کلی بیان کرچکے تو جزئیات کے احکام خود اسی کلیہ سے معلوم ہوگئے۔
سوم یعنی تیجہ جو مرنے سے تیسرے دن کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید پڑھوا کر یا کلمہ طیبہ پڑھوا کر ایصالِ ثواب کرتے ہیں اور بچوں اور اہلِ حاجت کو چنے، بتاسے یا مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور کھانا پکوا کر فقرا و مساکین کو کھلاتے ہیں یا ان کے گھروں پر بھیجتے ہیں جائز و بہتر ہے، پھر ہر پنج شنبہ کو حسبِ حیثیت کھانا پکا کر غربا کو دیتے یا کھلاتے ہیں، پھر چالیسویں دن کھانا کھلاتے ہیں، پھر چھ مہینے پر ایصال کرتے ہیں، اس کے بعد برسی ہوتی ہے۔ یہ سب اسی ایصال ثواب کی فروع ہیں اسی میں داخل ہیں مگر یہ ضرور ہے کہ یہ سب کام اچھی نیت سے کیے جائیں نمائشی نہ ہوں، نمود مقصود نہ ہو، ورنہ نہ ثواب ہے نہ ایصالِ ثواب۔
بعض لوگ اس موقع پر عزیز و قریب اور رشتہ داروں کی دعوت کرتے ہیں، یہ موقع دعوت کا نہیں بلکہ محتاجوں فقیروں کو کھلانے کا ہے جس سے میت کو ثواب پہنچے۔ اسی طرح شب براء ت میں حلوا پکتا ہے اور اس پر فاتحہ دلائی جاتی ہے، حلوا پکانا بھی جائز ہے اور اس پر فاتحہ بھی اسی ایصالِ ثواب میں داخل۔
ماہ رجب میں بعض جگہ سورہ ملک چالیس مرتبہ پڑھ کر روٹیوں یا چھوہاروں پر دم کرتے ہیں اور ان کو تقسیم کرتے ہیں اور ثواب مردوں کو پہنچاتے ہیں یہ بھی جائز ہے۔ اسی ماہ رجب میں حضرت جلال بخاری علیہ الرحمہ کے کونڈے ہوتے ہیں کہ چاول یا کھیر پکوا کر کونڈوں میں بھرتے ہیں اور فاتحہ دلا کر لوگوں کو کھلاتے ہیں یہ بھی جائز ہے، ہاں ایک بات مذموم ہے وہ یہ کہ جہاں کونڈے بھرے جاتے ہیں وہیں کھلاتے ہیں وہاں سے ہٹنے نہیں دیتے، یہ ایک لغو حرکت ہے مگر یہ جاہلوں کا طریق عمل ہے، پڑھے لکھے لوگوں میں یہ پابندی نہیں۔
اسی طرح ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ایصالِ ثواب کے لیے پور یوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ بھی جائز مگر اس میں بھی اسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کررکھی ہے یہ بے جا پابندی ہے۔ اس کونڈے کے متعلق ایک کتاب بھی ہے جس کا نام داستانِ عجیب ہے، اس موقع پر بعض لوگ اس کو پڑھواتے ہیں اس میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبو ت نہیں وہ نہ پڑھی جائے فاتحہ دلا کر ایصالِ ثواب کریں۔
ماہ محرم میں دس ۱۰ دنوں تک خصوصاً دسویں کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ و دیگر شہدائے کربلا کو ایصال ثواب کرتے ہیں کوئی شربت پر فاتحہ دلاتا ہے، کوئی شیر برنج (1)پر، کوئی مٹھائی پر، کوئی روٹی گوشت پر، جس پر چاہو فاتحہ دلاؤ جائز ہے، ان کو جس طرح ایصال ثواب کرو مندوب ہے۔ بہت سے پانی اور شربت کی سبیل لگادیتے ہیں، جاڑوں (2)میں چائے پلاتے
1 ۔ چاولوں کی کھیر۔ 2 ۔ یعنی سردیوں۔
ہیں، کوئی کھچڑا پکواتا ہے جو کار خیر کرو اور ثوا ب پہنچاؤ ہو سکتا ہے، ان سب کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا۔ بعض جاہلوں میں مشہور ہے کہ محرم میں سوائے شہدائے کربلا کے دوسروں کی فاتحہ نہ دلائی جائے ان کا یہ خیال غلط ہے، جس طرح دوسرے دنوں میں سب کی فاتحہ ہوسکتی ہے، ان دنوں میں بھی ہوسکتی ہے۔
ماہ ربیع الآخر کی گیارہویں تاریخ بلکہ ہر مہینہ کی گیارہویں کو حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فاتحہ دلائی جاتی ہے، یہ بھی ایصالِ ثواب کی ایک صورت ہے بلکہ غوث پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ کی جب کبھی فاتحہ ہوتی ہے کسی تاریخ میں ہو، عوام اسے گیارہویں کی فاتحہ بولتے ہیں۔
ماہ رجب کی چھٹی تاریخ بلکہ ہر مہینہ کی چھٹی تاریخ کو حضور خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فاتحہ بھی ایصال ثواب میں داخل ہے۔ اصحابِ کہف کا توشہ یا حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا توشہ یا حضرت شیخ احمد عبدالحق رُدولوی قدس سرہ العزیز کا توشہ (1)بھی جائز ہے اور ایصال ثواب میں داخل ہے۔
مسئلہ ۲: عرس بزرگانِ دین رضی اللہ تعالٰی عنہماجمعین جو ہر سال ان کے وصال کے دن ہوتا ہے یہ بھی جائز ہے، کہ اس تاریخ میں قرآن مجید ختم کیا جاتا ہے اور ثواب اون بزرگ کو پہنچایا جاتا ہے یا میلاد شریف پڑھا جاتا ہے یا وعظ کہا جاتا ہے، بالجملہ ایسے امور جوباعث ثواب و خیر و برکت ہیں جیسے دوسرے دنوں میں جائز ہیں ان دنوں میں بھی جائز ہیں۔
حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم ہر سال کے اول یا آخر میں شہدائے احد رضی اللہ تعالٰی عنہم کی زیارت کو تشریف لے جاتے۔ (2)ہاں یہ ضرور ہے کہ عرس کو لغو و خرافات چیزوں سے پاک رکھا جائے،جاہلوں کو نا مشروع حرکات سے روکا جائے، اگر منع کرنے سے باز نہ آئیں تو ان افعال کا گناہ ان کے ذمہ۔
مسئلہ ۱: میلاد شریف یعنی حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی ولادت اقدس کا بیان جائز ہے۔ اسی کے ضمن میں اس مجلس پاک میں حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے فضائل و معجزات و سیر و حالات حیاۃ ورضاعت و بعثت کے واقعا ت بھی بیان ہوتے ہیں، ان چیزوں کا ذکر احادیث میں بھی ہے اور قرآن مجید میں بھی۔ اگر مسلمان اپنی محفل میں بیان کریں بلکہ خاص ان باتوں کے بیان کرنے کے لیے محفل منعقد کریں تو اس کے ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اس مجلس کے لیے لوگوں کو
1 ۔ یعنی کسی ولی یا بزرگ کی فاتحہ کا کھانا،جو عرس کے دن تقسیم کیا جاتا ہے۔
2 ۔ انظر:''الدرالمنثور''للسیوطي، سورۃ الرعد، تحت الآیۃ: ۲۴،ج۴،ص۶۴۰ ۔ ۶۴۱.
بلانا اور شریک کرنا خیر کی طرف بلانا ہے، جس طرح وعظ اور جلسوں کے اعلان کیے جاتے ہیں، اشتہارات چھپوا کر تقسیم کیے جاتے ہیں، اخبارات میں اس کے متعلق مضامین شائع کیے جاتے ہیں اور ان کی وجہ سے وہ وعظ اور جلسے ناجائز نہیں ہوجاتے، اسی طرح ذکر پاک کے لیے بلاوا دینے سے اس مجلس کو ناجائز و بدعت نہیں کہا جاسکتا۔
اسی طرح میلاد شریف میں شیرینی بانٹنا بھی جائز ہے، مٹھائی بانٹنا بروصلہ ہے، جب یہ محفل جائز ہے تو شیرینی تقسیم کرنا جو ایک جائز فعل تھا اس مجلس کو ناجائز نہیں کردے گا، یہ کہنا کہ لوگ اسے ضروری سمجھتے ہیں اس وجہ سے ناجائز ہے یہ بھی غلط ہے کوئی بھی واجب یا فرض نہیں جانتا، بہت مرتبہ میں نے خود دیکھا ہے کہ میلاد شریف ہوا اور مٹھائی نہیں تقسیم ہوئی۔ اور بالفرض اسے کوئی ضروری سمجھتا بھی ہو، تو عرفی ضروری کہتا ہوگا نہ کہ شرعاً اس کو ضروری جانتا ہوگا۔
اس مجلس میں بوقت ذکر ولادت قیام کیا جاتا ہے یعنی کھڑے ہو کر درود و سلام پڑھتے ہیں علما ئے کرام نے اس قیام کو مستحسن فرمایا ہے۔ کھڑے ہو کر صلاۃ وسلام پڑھنا بھی جائز ہے۔
بعض اکابر کو اس مجلس پاک میں حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا ہے اگرچہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اس موقع پر ضرور تشریف لاتے ہی ہیں، مگر کسی غلام پر اپنا کرم خاص فرمائیں اور تشریف لائیں تو مستبعد بھی نہیں۔
مسئلہ ۲: مجلس میلاد شریف میں یا دیگر مجالس میں وہی روایات بیان کی جائیں جو ثابت ہوں، موضوعات اور گڑھے ہوئے قصے ہر گز ہرگز بیان نہ کیے جائیں، کہ بجائے خیر و برکت ایسی باتوں کے بیان کرنے میں گناہ ہوتا ہے۔
مسئلہ ۳: معراج شریف کے بیان کے لیے مجلس منعقد کرنا، اس میں واقعہ معراج بیان کرنا جس کو رجبی شریف کہا جاتا ہے جائز ہے۔
مسئلہ ۴: یہ مشہور ہے کہ شب معراج میں حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نعلین مبارک پہنے ہوئے عرش پر گئے اور واعظین اس کے متعلق ایک روایت بھی بیان کرتے ہیں اس کا ثبوت نہیں اور یہ بھی ثابت نہیں کہ برہنہ پا تھے، لہٰذا اس کے متعلق سکوت کرنا مناسب ہے۔
مسئلہ ۵: خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم کی وفات کی تاریخوں میں مجلس منعقد کرنا اور ان کے حالات و فضائل و کمالات سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا بھی جائز ہے، کہ وہ حضرات مقتدایان اہلِ اسلام ہیں، ان کی زندگی کے کارنامے مسلمانوں کے لیے مشعل ہدایت ہیں اور ان کا ذکر باعث خیر و برکت اور سبب نزول رحمت ہے۔
مسئلہ ۶: رجب کی ۲۶ و ۲۷ کو روزے رکھتے ہیں، پہلے کو ہزاری اور دوسرے کو لکھی کہتے ہیں یعنی پہلے میں ہزار
روزے کا ثواب اور دوسرے میں ایک لاکھ کا ثواب بتاتے ہیں۔ ان روزوں کے رکھنے میں مضایقہ نہیں، مگر یہ جو ثواب کے متعلق مشہور ہے اس کا ثبوت نہیں۔
مسئلہ ۷: عشرہ محرم میں مجلس منعقد کرنا اور واقعات کربلا بیان کرنا جائز ہے جبکہ روایات صحیحہ بیان کی جائیں، ان واقعات میں صبرو تحمل رضا و تسلیم کا بہت مکمل درس ہے اور پابندی احکام شریعت و اتباع سنت کا زبردست عملی ثبوت ہے کہ دین حق کی حفاظت میں تمام اعزہ و اقربا و رفقا اور خود اپنے کو راہِ خدا میں قربان کیا اور جزع و فزع کا نام بھی نہ آنے دیا، مگر اس مجلس میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کا بھی ذکر خیر ہوجانا چاہیے تاکہ اہل سنت اور شیعوں کی مجالس میں فرق و امتیازر ہے۔
مسئلہ ۸: تعزیہ داری کہ واقعات کربلا کے سلسلہ میں طرح طرح کے ڈھانچے بناتے اور ان کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے روضہ پاک کی شبیہ کہتے ہیں، کہیں تخت بنائے جاتے ہیں، کہیں ضریح بنتی ہے (1)اور علم اور شدے (2)نکالے جاتے ہیں، ڈھول تاشے اور قسم قسم کے باجے بجائے جاتے ہیں، تعزیوں کا بہت دھوم دھام سے گشت ہوتا ہے، آگے پیچھے ہونے میں جاہلیت کے سے جھگڑے ہوتے ہیں، کبھی درخت کی شاخیں کاٹی جاتیں ہیں، کہیں چبوترے کھودوائے جاتے ہیں، تعزیوں سے منتیں مانی جاتی ہیں، سونے چاندی کے عَلَم چڑھائے جاتے ہیں،ہار پھول ناریل چڑھاتے ہیں، وہاں جوتے پہن کر جانے کو گناہ جانتے ہیں بلکہ اس شدت سے منع کرتے ہیں کہ گناہ پر بھی ایسی ممانعت نہیں کرتے چھتری لگانے کو بہت برا جانتے ہیں۔
تعزیوں کے اندر دو مصنوعی قبریں بناتے ہیں، ایک پر سبز غلاف اور دوسری پر سرخ غلاف ڈالتے ہیں، سبز غلاف والی کو حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر اور سرخ غلاف والی کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر یا شبیہ قبر بتاتے ہیں اور وہاں شربت مالیدہ وغیرہ پر فاتحہ دلواتے ہیں۔ یہ تصور کرکے کہ حضرت امام عالی مقام کے روضہ اور مواجہہ اقدس میں فاتحہ دلارہے ہیں پھر یہ تعزیے دسویں تاریخ کو مصنوعی کربلا میں لے جا کر دفن کرتے ہیں گویا یہ جنازہ تھا جسے دفن کر آئے پھر تیجہ دسواں چالیسواں سب کچھ کیا جاتا ہے اور ہر ایک خرافات پر مشتمل ہوتا ہے۔
حضرت قاسم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی منہدی نکالتے ہیں گویا ان کی شادی ہورہی ہے اور منہدی رچائی جائے گی اور اسی تعزیہ داری کے سلسلہ میں کوئی پیک (3)بنتا ہے جس کے کمرسے گھنگرو بندھے ہوتے ہیں گویا یہ حضرت امام عالی مقام کا قاصد اور ہر کارہ ہے جو یہاں سے خط لے کر ابن زیاد یا یزید کے پاس جائے گا اور وہ ہر کاروں کی طرح بھاگا پھرتا ہے۔
کسی بچہ کو فقیر بنایا جاتا ہے اوس کے گلے میں جھولی ڈالتے اور گھر گھر اس سے بھیک منگواتے ہیں، کوئی سقہ (4) بنایا جاتا
1 ۔ یعنی ایک قسم کا تعزیہ جو گنبد نما ہوتا ہے۔ 2 ۔ یعنی جھنڈے یا نشان جو محرم میں شہدائے کربلا کی یاد میں تعزیوں کے ساتھ۔
3 ۔ یعنی قاصد،پیغام رساں۔ 4 ۔ یعنی پانی بھر کر لانے والا۔
ہے، چھوٹی سی مشک اس کے کندھے سے لٹکتی ہے گویا یہ دریائے فرات سے پانی بھر کر لائے گا، کسی علَم پر مشک لٹکتی ہے اور اس میں تیر لگا ہوتا ہے، گویا یہ حضرت عباس علَم دار ہیں کہ فُرات سے پانی لارہے ہیں اور یزیدیوں نے مشک کو تیر سے چھید دیا ہے، اسی قسم کی بہت سی باتیں کی جاتی ہیں یہ سب لغوو خرافات ہیں ان سے ہر گز سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ خوش نہیں یہ تم خود غور کرو کہ انھوں نے اِحیائے دین و سنت کے لیے یہ زبردست قربانیاں کیں اور تم نے معاذ اﷲاس کو بدعات کا ذریعہ بنالیا۔
بعض جگہ اسی تعزیہ داری کے سلسلہ میں براق بنایا جاتا ہے جو عجب قسم کا مجسمہ ہوتا ہے کہ کچھ حصہ انسانی شکل کا ہوتا ہے اور کچھ حصہ جانور کا سا۔ شاید یہ حضرت امام عالی مقام کی سواری کے لیے ایک جانور ہوگا۔ کہیں دلدل بنتا ہے، کہیں بڑی بڑی قبریں بنتی ہیں، بعض جگہ آدمی ریچھ، بندر، لنگور(1)بنتے ہیں اور کودتے پھرتے ہیں جن کو اسلام تو اسلام انسانی تہذیب بھی جائز نہیں رکھتی ایسی بری حرکت ،اسلام ہرگز جائز نہیں رکھتا۔ افسوس کہ محبت اہلِ بیت کرام کا دعویٰ اور ایسی بے جا حرکتیں یہ واقعہ تمھارے لیے نصیحت تھا اور تم نے اس کو کھیل تماشہ بنالیا۔
اسی سلسلے میں نوحہ و ماتم بھی ہوتا ہے اور سینہ کوبی ہوتی ہے، اتنے زور زور سے سینہ کوٹتے ہیں کہ ورم ہوجاتا ہے، سینہ سرخ ہوجاتا ہے بلکہ بعض جگہ زنجیروں اور چھریوں سے ماتم کرتے ہیں کہ سینے سے خون بہنے لگتا ہے۔ تعزیوں کے پاس مرثیہ (2)پڑھا جاتا ہے اور تعزیہ جب گشت کو نکلتا ہے اس وقت بھی اس کے آگے مرثیہ پڑھا جاتا ہے، مرثیہ میں غلط واقعات نظم کیے جاتے ہیں، اہل بیتِ کرام کی بے حرمتی اور بے صبری اور جزع فزع کا ذکر کیا جاتا ہے اور چونکہ اکثر مرثیہ رافضیوں ہی کے ہیں، بعض میں تَبَرَّا بھی ہوتا ہے مگر اس رو میں سنّی بھی اسے بے تکلف پڑھ جاتے ہیں اور انھیں اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ کیا پڑھ رہے ہیں، یہ سب ناجائز اور گناہ کے کام ہیں۔
مسئلہ ۹: اظہارِ غم کے لیے سر کے بال بکھیرتے ہیں، کپڑے پھاڑتے اور سر پر خاک ڈالتے اور بھوسا اڑاتے ہیں، یہ بھی ناجائز اور جاہلیت کے کام ہیں، ان سے بچنا نہایت ضروری ہے، احادیث میں ان کی سخت ممانعت آئی ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے امور سے پرہیز کریں اور ایسے کام کریں جن سے اﷲ(عزوجل)اور رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم راضی ہوں کہ یہی نجات کا راستہ ہے۔
مسئلہ ۱۰: تعزیوں اور علم کے ساتھ بعض لوگ لنگر لٹاتے ہیں یعنی روٹیاں یا بسکٹ یا اور کوئی چیز اونچی جگہ سے پھینکتے ہیں یہ ناجائز ہے، کہ رزق کی سخت بے حرمتی ہوتی ہے، یہ چیزیں کبھی نالیوں میں بھی گرتی ہیں اور اکثر لوٹنے والوں کے پاؤں کے
1 ۔ایک قسم کابندر جس کامنہ کالا اوردُم لمبی ہوتی ہے ،یہ عام بندر سے زیادہ طاقتور ہوتاہے۔
2 ۔ یعنی وہ نظم جس میں شہدائے کربلا کے مصائب اور شہادت کا ذکر ہو۔
نیچے بھی آتی ہیں اور بہت کچھ کچل کر ضائع ہوتی ہیں۔ اگر یہ چیزیں انسانیت کے طریق پر فقرا کو تقسیم کی جائیں تو بے حرمتی بھی نہ ہو اور جن کو دیا جائے انھیں فائدہ بھی پہنچے، مگر وہ لوگ اس طرح لٹانے ہی کو اپنی نیک نامی تصور کرتے ہیں۔
حدیث ۱: صحیح بخاری میں کَعب بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم غزوہ تبوک کو پنجشنبہ کے روز (2)روانہ ہوئے اور پنجشنبہ کے دن روانہ ہونا حضور (صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو پسند تھا۔ (3)
حدیث ۲: ترمذی و ابو داود نے صَخْرْبن وَدَاعَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:الٰہی!تو میری امت کے لیے صبح میں برکت دے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)جب سریہ یا لشکر بھیجتے تو صبح کے وقت میں بھیجتے اورصَخْرْ رضی اللہ تعالٰی عنہ تاجر تھے، یہ اپنی تجارت کا مال صبح کو بھیجتے، یہ صاحبِ ثروت ہوگئے اور ان کا مال زیادہ ہوگیا۔ (4)
حدیث ۳: صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''تنہائی کی خرابیوں کوجو کچھ میں جانتا ہوں، اگر دوسرے لو گ جانتے تو کوئی سوار رات میں تنہا نہ جاتا۔''(5)
حدیث ۴: امام مالک و ترمذی و ابو داود بروایت عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ایک سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں اور تین جماعت ہے۔''(6)
حدیث ۵: ابو داود نے ابوسعید خُدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب سفر میں تین شخص ہوں تو ایک کو امیر یعنی اپنا سردار بنالیں۔''(7)
حدیث ۶: بیہقی نے سَہْل بن سَعْد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''سفر میں قوم کا سردار وہ ہے جو ان کی خدمت کرے، جو شخص خدمت میں سبقت لے جائے گا تو شہادت کے سوا کسی عمل سے دوسرے لوگ اس پر سبقت نہیں لے جاسکتے۔''(8)
1 ۔ سفر کے متعلق بہت سی باتیں حصہ ششم میں بیان کی گئی ہیں۔وہاں سے معلوم کریں۔ ۱۲ منہ 2 ۔یعنی جمعرات کے دن۔
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الجھاد،باب من اراد غزوۃ...إلخ،الحدیث:۲۹۵۰،ج۲،ص۲۹۶.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد،باب في الابتکار في السفر،الحدیث:۲۶۰۶،ج۳،ص۵۱.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الجھاد،باب السیر وحدہ،الحدیث:۲۹۹۸،ج۲،ص۳۰۹.
6 ۔ ''سنن الترمذي''، کتاب الجھاد،باب ماجاء في کراھیۃ أن یسافر الرجل وحدہ ،الحدیث:۱۶۸۰،ج۳،ص۲۵۶.
7 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد،باب في القوم یسافرون یؤمرون أحدھم،الحدیث:۲۶۰۸،ج۳،ص۵۱.
8 ۔ ''شعب الإیمان''،باب في حسن الخلق، فصل في ترک الغضب،الحدیث:۸۴۰۷،ج۶،ص۳۳۴.
حدیث ۷: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سفر عذاب کا ٹکڑا ہے، سونا اور کھانا پینا سب کو روک دیتا ہے، لہٰذا جب کام پورا کرلے جلدی گھرکو واپس ہو۔''(2)
حدیث ۸: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب رات میں منزل پر اترو تو راستہ سے بچ کر ٹھہرو، کہ وہ جانوروں کا راستہ ہے اور زہریلے جانوروں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔''(3)
حدیث ۹: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جانو ر و ں کی پیٹھوں کو منبر نہ بناؤ یعنی جب سواری رکی ہوئی ہو تو اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر باتیں نہ کرو، کیونکہ اﷲ(عزوجل)نے سواریوں کو تمھارے لیے اس لیے مسخر کیا ہے کہ تم ان کے ذریعہ سے ایسے شہ روں کو پہنچو، جہاں بغیر مشقت نفس نہیں پہنچ سکتے تھے اور تمھارے لیے زمین کو اﷲتعالیٰ نے بنایا ہے، اس پر اپنی حاجتیں پوری کرو یعنی باتیں کرنی ہوں تو زمین پر اتر کر کرو۔''(4)
حدیث ۱۰: ابو داود نے ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ لوگ جب منزل میں اُترتے تو متفرق ٹھہرتے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''تمہارا متفرق ہو کر ٹھہرنا شیطان کی جانب سے ہے۔''اس کے بعد صحابہ (رضی اللہ تعالٰی عنہم )جب کسی منزل میں اُترتے تو مل کر ٹھہرتے۔ (5)
حدیث ۱۱: ابو داود نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''رات میں چلنے کولازم کرلو (یعنی فقط دن ہی میں نہیں بلکہ رات کے کچھ حصہ میں بھی چلا کرو)کیونکہ رات میں زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔(6)یعنی رات میں چلنے سے راستہ جلد طے ہوتا ہے۔
حدیث ۱۲: ابو داود نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی،کہتے ہیں کہ جب ہم منزل میں اُترتے تو جب تک کجاوے کھول نہ لیتے نماز نہیں پڑھتے۔ (7)
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإمارۃ،باب السفر قطعۃ من العذاب...إلخ،الحدیث:۱۷۹۔(۱۹۲۷)،ص۱۰۶۳.
2 ۔ المرجع السابق،باب مراعاۃ مصلحۃ الدواب...إلخ،الحدیث:۱۷۸۔(۱۹۲۶)،ص۱۰۶۳.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد،باب في الوقوف علی الدابۃ،الحدیث:۲۵۶۷،ج۳،ص۳۸.
4 ۔ المرجع السابق،باب مایؤمرمن انضمام العسکر وسعتہ،الحدیث:۲۶۲۸،ج۳،ص۵۸.
5 ۔ المرجع السابق،باب في الدلجۃ،الحدیث:۲۵۷۱،ج۳،ص۴۰.
6 ۔ المرجع السابق،باب في نزول المنازل،الحدیث:۲۵۵۱،ج۳،ص۳۳.
حدیث ۱۳: ترمذی و ابو داود نے بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم پیدل تشریف لے جارہے تھے۔ ایک شخص گدھے پر سوار آیا اور عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سوار ہوجائیے اور خود پیچھے سِرکا۔ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''یوں نہیں، جانور کی صدر جگہ بیٹھنے میں تمہارا حق ہے مگر جبکہ یہ حق تم مجھے دیدو۔''انھوں نے کہا میں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو دیا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سوار ہوگئے۔ (1)
حدیث ۱۴: ابن عساکر نے ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب سفر سے کوئی واپس آئے تو گھر والوں کے لیے کچھ ہدیہ لائے، اگرچہ اپنی جھولی میں پتھر ہی ڈال لائے۔'' (2)
حدیث ۱۵: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم اپنے اہل کے پاس سفر سے رات میں نہیں تشریف لاتے، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)صبح کو آتے یا شام کو۔ (3)
حدیث ۱۶: صحیح بخاری و مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کسی کے غائب ہونے کا زمانہ طویل ہو یعنی بہت دنوں کے بعد مکان پر آئے تو زوجہ کے پاس رات میں نہ آئے۔''(4)
دوسری روایت میں ہے کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ان سے فرمایا:''اگر رات میں مدینہ میں داخل ہوئے تو بی بی کے پاس نہ جانا، جب تک وہ بناؤ سنگار کرکے آراستہ نہ ہوجائے۔''(5)
حدیث ۱۷: صحیح بخاری و مسلم میں کعب بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سفر سے دن میں چاشت کے وقت تشریف لاتے۔ تشریف لانے کے بعد سب سے پہلے مسجد میں جاتے اور دو رکعت نماز پڑھتے پھر لوگوں کے لیے مسجد ہی میں بیٹھ جاتے۔ (6)
حدیث ۱۸: صحیح بخاری میں جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے ساتھ
1 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد، باب رب الدابۃ أحق بصدرھا،الحدیث: ۲۵۷۲،ج۳،ص۴۰.
2 ۔ ''کنزالعمال''،کتاب السفر، رقم: ۱۷۵۰۲،ج۶، ص۳۰۱.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الإمارۃ، باب کراھۃ الطروق وھوالدخول لیلا...إلخ، الحدیث:۱۸۰۔(۱۹۲۸)،ص۱۰۶۴.
و''صحیح البخاري''،کتاب العمرۃ، باب الدخول بالعشی،الحدیث: ۱۸۰۰،ج۱،ص۵۹۴.
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب النکاح، باب لایطرق أھلہ لیلا...إلخ، الحدیث:۵۲۴۴،ج۳،ص۴۷۵.
5 ۔ المرجع السابق،باب طلب الولد،الحدیث:۵۲۴۶،ج۳،ص۴۷۶.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب صلاۃ المسافرین،باب إستحباب رکعتین في المسجد...إلخ،الحدیث:۷۴۔(۷۱۶)،ص۳۶۱.
و''سنن الدارمي''،کتاب الصلاۃ، باب في صلاۃ الرجل إذا قدم من سفرہ الحدیث:۱۵۲۰،ج۱، ص۴۲۸.
سفر میں تھا، جب ہم مدینہ میں آگئے تو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے مجھ سے فرمایا:''مسجد میں جاؤ اور دو رکعت نماز پڑھو۔''(1)
عورت کو بغیر شوہر یا محرم کے تین دن یا زیادہ کا سفر کرنا ناجائز ہے اور تین دن سے کم کا سفر اگر کسی مردصالح یا بچہ کے ساتھ کرے تو جائز ہے۔ (2)باندی کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: جہاد کے سوا کسی کام کے لیے سفر کرنا چاہتا ہے مثلاً تجارت یا حج یا عمرہ کے لیے سفر کرنا چاہتا ہے اس کے لیے والدین سے اجازت حاصل کرے، اگر والدین اس سفر کو منع کریں اور اس کو اندیشہ ہو کہ میرے جانے کے بعد ان کی کوئی خبر گیری نہ کریگا اور اس کے پاس اتنا مال بھی نہیں ہے کہ والدین کو بھی دے اور سفر کے مصارف (4)بھی پورے کرے، ایسی صورت میں بغیر اجازت والدین سفر کو نہ جائے اور اگر والدین محتاج نہ ہوں، ان کا نفقہ (5)اولاد کے ذمہ نہ ہو مگر وہ سفر خطرناک ہے ہلاکت کا اندیشہ ہے، جب بھی بغیر اجازت سفر نہ کرے اور ہلاکت کا اندیشہ نہ ہو تو بغیر اجازت سفر کرسکتا ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: بغیر اجازت والدین علم دین پڑھنے کے لیے سفر کیا اس میں حرج نہیں اور اس کو والدین کی نافرمانی نہیں کہا جائے گا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: یادداشت کے لیے یعنی اس غرض سے کہ بات یاد رہے بعض لوگ رومال یا کمر بند میں گرہ لگالیتے ہیں یا کسی جگہ اونگلی وغیرہ پر ڈورا باندھ لیتے ہیں یہ جائز ہے اور بلاوجہ ڈورا باندھ لینامکرو ہ ہے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الجھاد، باب الصلاۃ إذا قدم من سفر،الحدیث:۳۰۸۷،ج۲،ص۳۳۶.
2 ۔ یہ ظاہر الروایۃ ہے ۔ مگر علا مہ علی قاری علیہ رحمۃاللہ الباری ''مناسک'' صفحہ 57پر لکھتے ہیں:'' امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ تعالیٰ سے عورت کو بغیر شوہر یا محرم کے ایک دن کا سفر کرنے کی کراہیت بھی مروی ہے۔ فتنہ و فساد کے زمانے کی وجہ سے اسی قول( ایک دن) پرفتوی دینا چاہیے۔''
( انظر:''ردالمحتار''،کتاب الحج،ج۳،ص۵۳۳)''بہارِ شریعت'' جلداول،حصہ 4 ،نماز مسافر کابیان، صفحہ 752 پرہے کہ'' عورت کو بغیر محرم کے تین دن یا زیادہ کی راہ جانا، ناجائز ہے بلکہ ایک دن کی راہ جانا بھی۔'' اور اسی حصہ 4 پر اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کی یہ تصدیق بھی ہے کہ اسے مسائل صحیحہ،رجیحہ،محقـقہ،منقحہپر مشتمل پایا ۔لہٰذا مسلمانوں کو اسی پر عمل کرنا چاہے۔
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۴۲.
4 ۔ یعنی سفر کے اخراجات۔ 5 ۔ یعنی روٹی، کپڑے وغیرہ کا خرچ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السادس والعشرون،ج۵، ص۳۶۵.
7 ۔ المرجع السابق،ص۳۶۶.
8 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۵۹۹.
مسئلہ ۲: گلے میں تعویذ لٹکانا جائز ہے، جبکہ وہ تعویذ جائز ہو یعنی آیاتِ قرآنیہ یا اسمائے الٰہیہ اور ادعیہ سے تعویذ کیا گیا ہو اور بعض حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے، اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں، جو زمانہ جاہلیت میں کیے جاتے تھے۔ اسی طرح تعویذات اور آیات و احادیث و ادعیہ (1)رکابی میں لکھ کر مریض کو بہ نیت شفاپلانا بھی جائز ہے۔ جُنب(2)و حائض (3)و نفسا (4)بھی تعویذات کو گلے میں پہن سکتے ہیں، بازو پر باندھ سکتے ہیں جبکہ تعویذات غلاف میں ہوں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: بچھونے یا مصلّے پر کچھ لکھا ہوا ہو تو اس کو استعمال کرنا ناجائز ہے، یہ عبارت اس کی بناوٹ میں ہو یا کاڑھی گئی ہو یا روشنائی سے لکھی ہو اگر چہ حروف مفردہ لکھے ہوں کیونکہ حروف مفردہ (6)کا بھی احترام ہے۔ (7)(ردالمحتار)
اکثردسترخوان پر عبارت لکھی ہوتی ہے ایسے دستر خوانوں کو استعمال میں لانا ان پر کھانا کھانا نہ چاہیے۔ بعض لوگوں کے تکیوں پر اشعار لکھے ہوتے ہیں ان کا بھی استعمال نہ کیا جائے۔
مسئلہ ۴: وعدہ کیا مگر اس کو پورا کرنے میں کوئی شرعی قباحت تھی اس وجہ سے پورا نہیں کیا تو اس کو وعدہ خلافی نہیں کہا جائے گا اور وعدہ خلاف کرنے کا جو گناہ ہے اس صورت میں نہیں ہوگا، اگرچہ وعدہ کرنے کے وقت اس نے استثنا نہ کیا ہو کہ یہاں شریعت کی جانب سے استثنا موجود ہے، اس کو زبان سے کہنے کی ضرورت نہیں مثلاً وعدہ کیا تھا کہ میں فلاں جگہ آؤں گا اور وہاں بیٹھ کر تمہارا انتظار کروں گا مگر جب وہاں گیا تو دیکھتا ہے کہ ناچ رنگ اور شراب خواری وغیرہ میں لوگ مشغول ہیں وہاں سے یہ چلا آیا، یہ وعدہ خلافی نہیں ہے یا اس کے انتظار کرنے کا وعدہ کیا تھا اور انتظار کررہا تھا کہ نماز کا وقت آگیا یہ چلا آیا، وعدہ کے خلاف نہیں ہوا۔ (8) (مشکل الآثار امام طحاوی)
مسئلہ ۵: بعض کاشت کار اپنے کھیتوں میں کپڑا لپیٹ کر کسی لکڑی پر لگادیتے ہیں اس سے مقصود نظر بد سے کھیتوں کو بچانا ہوتا ہے، کیونکہ دیکھنے والے کی نظر پہلے اس پر پڑے گی اس کے بعد زراعت پر پڑے گی اور اس صورت میں زراعت کو نظر نہیں لگے گی ایسا کرنا ناجائز نہیں کیونکہ نظر کا لگنا صحیح ہے، احادیث سے ثابت ہے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔حدیث میں ہے
1 ۔ یعنی دعائیں۔ 2 ۔ یعنی جس پرجماع یااحتلام یا شَہوت کے ساتھ مَنی خارِج ہونے کی وجہ سے غُسل فرض ہو گیا ہو۔
3 ۔ یعنی حیض والی۔ 4 ۔ یعنی نفاس والی۔
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹، ص۶۰۰.
6 ۔ یعنی جدا جدا لکھے ہوئے حروف۔
7 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹، ص۶۰۰.
8 ۔ ''مشکل الآثار''،ج۲، ص۶.
کہ جب اپنی یا کسی مسلمان بھائی کی چیز دیکھے اور پسند آئے تو برکت کی دعا کرے یہ کہے:
تَبَارَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْہِ . (1)
یا اردو میں یہ کہدے کہ اﷲ(عزوجل)برکت کرے اس طرح کہنے سے نظر نہیں لگے گی۔ (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مشرکین کے برتنوں میں بغیر دھوئے کھانا پینا مکروہ ہے، یہ اس وقت ہے کہ برتن کا نجس ہونا معلوم نہ ہو اور معلوم ہو تو اس میں کھانا پینا حرام ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: عجیب و غریب قصے کہانی تفریح کے طور پر سننا جائز ہے، جبکہ ان کا جھوٹا ہونا یقینی نہ ہو بلکہ جو یقینا جھوٹ ہوں ان کو بھی سنا جاسکتا ہے، جبکہ بطورِ ضرب مثل ہوں یا ان سے نصیحت مقصود ہو جیسا کہ مثنوی شریف وغیرہ میں بہت سے فرضی قصے وعظ وپند کے لیے درج کیے گئے ہیں۔ اسی طرح جانوروں اور کنکر پتھر وغیرہ کی باتیں فرضی طور پر بیان کرنا یا سننا بھی جائز ہے مثلاً گلستان میں حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے لکھا۔ ؎
مسئلہ ۸: تمام زبانوں میں عربی زبان افضل ہے ہمارے آقاو مولٰے سرکار دوعالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی یہی زبان ہے قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا، اہل جنت کی جنت میں عربی ہی زبان ہوگی، جو اس زبان کو خود سیکھے یا دوسروں کو سکھائے اسے ثواب ملے گا۔ (4) (درمختار)یہ جو کہا گیا صرف زبان کے لحاظ سے کہا گیا ورنہ ایک مسلم کو خود سوچنے کی ضرورت ہے کہ عربی زبان کا جاننا مسلمانوں کے لیے کتنا ضروری ہے، قرآن و حدیث اور دین کے تمام اصول و فروع اسی زبان میں ہیں اس زبان سے ناواقفی کتنی کمی اور نقصان کی چیز ہے۔
مسئلہ ۹: عورت رخصت ہو کر آئی اور عورتوں نے کہہ دیا، کہ یہ تمھاری عورت ہے اُس سے وطی جائز ہے، اگرچہ یہ خود اُسے پہچانتا نہ ہو۔ (5) (درمختار)اسی طرح عورتوں نے شبِ زفاف میں اُس کے کمرہ میں جس عورت کو دولہن بنا کر بھیج دیا اگرچہ یہ نہیں کہا کہ یہ تمھاری عورت ہے اوس سے وطی جائز ہے، کہ اس کو ہیأت مخصوصہ کے ساتھ یہاں پہنچانا ہی اس کی دلیل ہے، کیونکہ دوسری عورت کو اس طرح ہر گز نہیں بھیجا جاتا۔
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹، ص۶۰۱.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الرابع عشر في أھل الذمۃ والاحکام،ج۵، ص۳۴۷.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹، ص۶۶۷،وغیرہ .
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۹۱.
5 ۔المرجع السابق،ص۶۹۴.
مسئلہ ۱۰: جس کے ذمہ اپنا حق ہو اور وہ نہ دیتا ہو تو اگر اس کی ایسی چیز مل جائے جو اسی جنس کی ہے جس جنس کا حق ہے تو لے سکتا ہے۔(1)اس معاملہ میں روپیہ اور اشرفی ایک جنس کی چیزیں ہیں، یعنی اس کے ذمہ روپیہ تھا اور اشرفی مل گئی تو بقدر اپنے حق کے لے سکتا ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: لوگوں کے ساتھ مدارات سے پیش آنا، نرم باتیں کرنا، کشادہ روئی سے کلام کرنا مستحب ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ مداہنتنہ پیدا ہو۔بدمذہب سے گفتگو کرے تو اس طرح نہ کرے کہ وہ سمجھے میرے مذہب کو اچھا سمجھنے لگا برا نہیں جانتاہے ۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مکان کرایہ پر دیا اور کرایہ دار اس میں رہنے لگا اگر مکان دیکھنے کو جانا چاہتا ہے، کہ دیکھیں کس حالت میں ہے اور مرمت کی ضرورت ہو تو مرمت کرادی جائےتو کرایہ دار سے اجازت لے کر اندر جائے، یہ خیال نہ کرے کہ مکان میرا ہے مجھے اجازت کی کیا ضرورت، کہ مکان اگر چہ اس کا ہے مگر سکونت (4)دوسرے کی ہے اور اجازت لینے کا حکم اسی سکونت کی وجہ سے ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: حمام میں جائے تو تہبند باندھ کر نہائے لوگوں کے سامنے برہنہ ہونا ناجائز ہے۔ تنہائی میں جہاں کسی کی نظر پڑنے کا احتمال نہ ہو برہنہ ہو کر بھی غسل کرسکتا ہے۔ اسی طرح تالاب یاد ریا میں جبکہ ناف سے اونچا پانی ہو برہنہ نہا سکتا ہے۔ (6) (عالمگیری)
مگر جبکہ پانی صاف ہو اور دوسرا کوئی شخص نزدیک ہو کہ اس کی نظر مواضع ستر پر پڑے گی، تو ایسے موقع پر پانی میں بھی برہنہ ہونا،جائز نہیں۔
مسئلہ۱۴: اہلِ محلہ نے امام مسجد کے لیے کچھ چندہ جمع کرکے دے دیا یا اسے کھانے پہننے کے لیے سامان کردیا، یہ ان لوگوں کے نزدیک بھی جائز ہے جو اُجرت پر امامت کو ناجائز فرماتے ہیں، کہ یہ اُجرت نہیں بلکہ احسان ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کرنا ہی چاہیے۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔اعلی حضرت امام احمد رضاخاں علیہ رحمۃالرحمٰن فتاوی رضویہ میں علامہ شامی اور طحطاوی رحمۃا للہ علیہماکے حوالے سے امام اخصب رحمۃا للہ علیہ سے نقل کرتے ہوئے ذکر کرتے ہیں کہ :''خلاف جنس سے وصول کرنے کا عدم جواز مشائخ کے زمانے میں تھاکیوں کہ وہ لوگ باہم متفق تھے آج کل فتوی اس پر ہے کہ جب اپنے حق کی وصولی پر قادر ہوچاہے کسی بھی مال سے ہوتو وصول کرنا جائز ہے ۔(فتاوی رضویہ ،ج ۱۷، ص ۵۶۲ ) ۔ . . . عِلْمِیہ
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹، ص۶۹۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵، ص۳۷۹.
4 ۔ یعنی رہائش۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵، ص۳۷۹.
6 ۔ المرجع السابق، الباب الرابع والعشرون في دخول الحمام،ج۵، ص۳۶۳.
7 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹، ص۶۹۹.
مسئلہ ۱۵: جو شخص مقتدیٰ (1)اور مذہبی پیشوا ہو اوس کے لیے اہل باطل اور برے لوگوں سے میل جول رکھنا منع ہے اور اگر اس وجہ سے مدارات کرتا ہے کہ ایسا نہ کرنے میں وہ ظلم کریگا، تو مضایقہ نہیں جبکہ یہ غیر معروف شخص ہو۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: کسی نے کٹکھنا کتا (3)پال رکھا ہے جو راہ گیروں کو کاٹ کھاتا ہے، تو بستی والے ایسے کتے کو قتل کر ڈالیں۔ بلی اگر ایذا (4)پہنچاتی ہے تو اسے تیز چھری سے ذبح کر ڈالیں، اسے ایذا دے کر نہ ماریں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: ٹڈی حلال جانور ہے اسے کھانے کے لیے مار سکتے ہیں اور ضرر سے بچنے کے لیے بھی اسے مار سکتے ہیں۔ چیونٹی نے ایذا پہنچائی اور مار ڈالی تو حرج نہیں ورنہ مکروہ ہے، جوں کو مار سکتے ہیں اگرچہ اوس نے کاٹا نہ ہو اور آگ میں ڈالنا مکرو ہ ہے، جوں کو بدن یا کپڑوں سے نکال کر زندہ پھینک دینا طریق ادب کے خلاف ہے۔ (6) (عالمگیری) کھٹمل کو مارنا جائز ہے کہ یہ تکلیف دہ جانور ہے۔
مسئلہ ۱۸: جس کے پاس مال کی قلت ہے اور اولاد کی کثرت اسے وصیت نہ کرنا ہی افضل ہے اور اگر ورثہ اغنیا (7)ہوں یا مال کی دو تہائیاں بھی ان کے لیے بہت ہوں گی، تو تہائی کی وصیت کرجانا بہتر ہے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: مرد کو اجنبیہ عورت کا جھوٹا اور عورت کو اجنبی مرد کا جھوٹا مکروہ ہے، زوجہ و محارم کے جھوٹے میں حرج نہیں۔ (9) (درمختار، ردالمحتار) کراہت اس صورت میں ہے جب کہ تلذذ (10)کے طور پر ہو اور اگر تلذذ مقصود نہ ہو بلکہ تبرک کے طور پر ہو جیسا کہ عالم باعمل اور باشرع پیر کا جھوٹا کہ اسے تبرک سمجھ کر لوگ کھاتے پیتے ہیں اس میں حرج نہیں۔
مسئلہ ۲۰: بی بی نماز نہ پڑھے تو شوہر اس کو مار سکتا ہے، اسی طرح ترکِ زینت پر بھی مار سکتا ہے اور گھر سے باہر نکل جانے پر بھی مارسکتا ہے۔ (11) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ یعنی جس کی پیروی کی جائے۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الرابع عشر في أھل الذمۃ،ج۵، ص۳۴۶.
3 ۔ یعنی کاٹ کھانے والا کتا۔ 4 ۔ یعنی تکلیف۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الحادی والعشرون فیما یسع من جراحات بنی آدم،ج۵، ص۳۶۰ ۔ ۳۶۱.
6 ۔ المرجع السابق،ص۳۶۱.
7 ۔ یعنی مالدار۔
8 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹، ص۷۰۱.
9 ۔ المرجع السابق،ص۷۰۳.
10 ۔ یعنی لذّت۔
11 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹، ص۷۰۴.
مسئلہ ۲۱: بی بی بے ہودہ بلکہ فاجرہ ہو تو شوہر پر یہ واجب نہیں کہ اسے طلاق ہی دے ڈالے۔ یوہیں اگر مرد فاجر ہو تو عورت پر یہ واجب نہیں کہ اس سے پیچھا چھڑائے، ہاں اگر یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدوداﷲکو قائم نہ رکھ سکیں گے، حکم شرع کی پابندی نہ کریں گے تو جدائی میں حرج نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: حاجت کے موقع پر قرض لینے میں حرج نہیں، جبکہ ادا کرنے کا ارادہ ہو اور اگر یہ ارادہ ہو کہ ادا نہ کریگا تو حرام کھاتا ہے اور اگر بغیر ادا کیے مرگیا مگر نیت یہ تھی کہ ادا کردے گا، تو امید ہے کہ آخرت میں اس سے مواخذہ نہ ہو۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: جس کا حق اس کے ذمہ تھا وہ غائب ہوگیا پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے نہ یہ معلوم کہ زندہ ہے یا مرگیا تو اس پر یہ واجب نہیں کہ شہ روں شہ روں اُسے تلاش کرتا پھرے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: جس کا دَین تھا وہ مرگیا اور مدیون (4)دَین سے انکار کرتا ہے ورثہ اس سے وصول نہ کرسکے ،تو اس کا ثواب دائن (5)کو ملے گا اس کے ورثہ کو نہیں اور اگر مدیون نے اس کے ورثہ کو دَین ادا کردیا تو بری ہوگیا۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: جس کے ذمہ دَین تھا وہ مرگیا اور وارث کو معلوم نہ تھا کہ اس کے ذمہ دَین ہے تاکہ ترکہ سے ادا کرے، اس نے ترکہ کو خرچ کر ڈالا تو وارث سے دَین کا مؤاخذہ نہیں ہوگا اور اگر وارث کو معلوم ہے کہ میت کے ذمہ دَین ہے تو اس پر ادا کرنا واجب ہے اور اگر وارث کو معلوم تھا مگر بھول گیا، اس وجہ سے ادا نہ کیا، جب بھی آخرت میں مؤاخذہ نہیں۔ ودیعت کا بھی یہی حکم ہے کہ بھول گیا اور جس کی چیز تھی اسے نہیں دی تو مؤاخذہ نہیں۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: مدیون اور دائن جارہے تھے راستہ میں ڈاکوؤں نے گھیرا، مدیون یہ چاہتا ہے کہ اسی وقت میں دَین ادا کردوں تاکہ ڈاکو اس کا مال چھینیں اور میں بچ جاؤں، آیا اس حالت میں دائن لینے سے انکار کرسکتا ہے یا اس کو لینا ہی ہوگا؟ فقیہ ابواللیث رحمہ اللہ تعالٰی یہ فرماتے ہیں کہ دائن لینے سے انکار کرسکتا ہے۔ (8) (عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۷۰۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع والعشرون في القرض والدَّین،ج۵، ص۳۶۶.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ یعنی دَین لینے والا۔ قرض دار۔ 5 ۔ یعنی دَین دینے والا۔ قرض دینے والا۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع والعشرون في القرض و الدین،ج۵، ص۳۶۶ ۔ ۳۶۷.
7 ۔ المرجع السابق،ص۳۶۷. 8 ۔ المرجع السابق،ص۳۶۷.
مسئلہ ۲۷: کسی نے کہا فلاں شخص کی کچھ چیزیں میں نے کھالی ہیں، اسے پانچ روپے دے دینا وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو دینا وارث نہ ہو تو خیرات کردینا، اس شخص کی صرف بی بی ہے کوئی دوسرا وارث نہیں ہے اگر عورت یہ کہتی ہے کہ میرا دَین مَہر اس کے ذمہ ہے جب تو روپے اسی کو دیے جائیں، ورنہ صرف اسے چہارم دیا جائے یعنی سوا روپیہ جبکہ عورت یہ کہے کہ اس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: اگرجان مال آبرو(2)کا اندیشہ(3)ہے ان کے بچانے کے لیے رشوت دیتا ہے یا کسی کے ذمہ اپنا حق ہے جو بغیر رشوت دیے وصول نہیں ہوگا اور یہ اس لیے رشوت دیتا ہے کہ میرا حق وصول ہوجائے یہ دینا جائز ہے یعنی دینے والا گنہگار نہیں مگر لینے والا ضرور گنہگار ہے اس کو لینا جائز نہیں۔
اسی طرح جن لوگوں سے زبان درازی کا اندیشہ ہو جیسے بعض لچے شہدے (4)ایسے ہوتے ہیں کہ سربازار کسی کو گالی دے دینا یا بے آبرو کردینا(5)ان کے نزدیک معمولی بات ہے، ایسوں کو اس لیے کچھ دے دینا تاکہ ایسی حرکتیں نہ کریں یا بعض شعرا ایسے ہوتے ہیں کہ انھیں اگر نہ دیا جائے، تو مذمت میں قصیدے کہہ ڈالتے ہیں ان کو اپنی آبرو بچانے اور زبان بندی کے لیے کچھ دے دینا جائز ہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: بھیڑ بکریوں کے چرواہے کو اس لیے کچھ دے دینا کہ وہ جانوروں کو رات میں اس کے کھیت میں رکھے گا کیونکہ اس سے کھیت درست ہوجاتا ہے، یہ ناجائز و رشوت ہے اگرچہ یہ جانور خود چرواہے کے ہوں اور اگر کچھ دینا نہیں ٹھہرا ہے جب بھی ناجائز ہے کیونکہ اس موقع پر عرفاً دیا ہی کرتے ہیں، تو اگرچہ دینا شرط نہیں مگر مشروط ہی کے حکم میں ہے۔
اس کے جواز کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ مالک سے ان جانوروں کو عاریت لے لے اور مالک چرواہے سے یہ کہدے کہ تو اس کے کھیت میں جانوروں کو رات میں ٹھہرانا۔ اب اگرچرواہے کو احسان کے طور پر دینا چاہے تو دے سکتا ہے ناجائز نہیں اور اگر مالک کے کہنے کے بعد بھی چرواہا مانگتا ہے اور جب تک اسے کچھ نہ دیا جائے ٹھہرانے پر راضی نہ ہو، تو یہ پھرنا جائز و رشوت ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: باپ کو اس کا نام لے کر پکارنا مکروہ ہے ،کہ یہ ادب کے خلاف ہے۔ اسی طرح عورت کو یہ مکروہ ہے، کہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع والعشرون في القرض والدَّین،ج۵، ص۳۶۸.
2 ۔عزت۔ 3 ۔خوف،ڈر۔ 4 ۔ یعنی شریر، بدمعاش۔ 5 ۔بے عزت کردینا۔
6 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۹۹.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵،ص۳۷۶.
شوہر کو نام لے کر پکارے۔ (1) (درمختار)بعض جاہلوں میں یہ مشہور ہے کہ عورت اگر شوہر کا نام لے لے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ غلط ہے شاید اسے اس لیے گڑھا ہو کہ اس ڈر سے کہ طلاق ہوجائے گی شوہر کا نام نہ لے گی۔
مسئلہ ۳۱: مرنے کی آرزو کرنا اور اس کی دعا مانگنا مکروہ ہے، جبکہ کسی دنیوی تکلیف کی وجہ سے ہو، مثلاً تنگی سے بسر اوقات ہوتی ہے یا دشمن کا اندیشہ ہے مال جانے کا خوف ہے اور اگر یہ باتیں نہ ہوں بلکہ لوگوں کی حالتیں خراب ہو گئیں معصیت میں مبتلا ہیں اسے بھی اندیشہ ہے کہ گناہ میں پڑ جائے گا تو آرزوئے موت مکروہ نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: زلزلہ کے وقت مکان سے نکل کرباہر آجانا جائز ہے۔ اسی طرح اگر دیوار جھکی ہوئی ہے گرنا چاہتی ہے، اس کے پاس سے بھاگنا جائز ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: طاعون جہاں ہو وہاں سے بھاگنا جائز نہیں اور دوسری جگہ سے وہاں جانا بھی نہ چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ کمزور اعتقاد کے ہوں اور ایسی جگہ گئے اور مبتلا ہوگئے، ان کے دل میں بات آئی کہ یہاں آنے سے ایسا ہوا نہ آتے تو کاہے کو اس بلا میں پڑتے اور بھاگنے میں بچ گیا ،تو یہ خیال کیا کہ وہاں ہوتا تو نہ بچتا بھاگنے کی وجہ سے بچا ایسی صورت میں بھاگنا اور جانا دونوں ممنوع۔
طاعون کے زمانہ میں عوام سے اکثر اسی قسم کی باتیں سننے میں آتی ہیں اور اگر اس کا عقیدہ پکا ہے جانتا ہے کہ جو کچھ مقدر میں ہوتا ہے وہی ہوتا ہے، نہ وہاں جانے سے کچھ ہوتا ہے نہ بھاگنے میں فائدہ پہنچتا ہے توایسے کو وہاں جانا بھی جائز ہے، نکلنے میں بھی حرج نہیں کہ اس کو بھاگنا نہیں کہا جائے گا اور حدیث میں مطلقاً نکلنے کی ممانعت نہیں بلکہ بھاگنے کی ممانعت ہے۔
مسئلہ ۳۴: کافر کے لیے مغفرت کی دعا ہرگز ہرگز نہ کرے، ہدایت کی دعا کرسکتا ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: ایک شخص مرا جس کا کافر ہونا معلوم تھا، مگر اب ایک مسلمان اس کے مسلمان ہونے کی شہادت دیتا ہے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی اور مسلمان مرا اور ایک شخص اس کے مرتد ہونے کی شہادت دیتا ہے، تو محض اس کے کہنے سے اسے مرتد نہیں قرار دیا جائے گا اور جنازہ کی نماز ترک نہیں کی جائے گی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: مکان میں پرند نے گھونسلا لگایا اور بچے بھی کیے، بچھونے اور کپڑوں پر بیٹ گرتی ہے، ایسی حالت میں
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹، ص۶۹۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵، ص۳۷۹.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الرابع عشر في أھل الذمۃ،ج۵،ص۳۴۸.
5 ۔ المرجع السابق.
گھونسلا بگاڑنا اور پرند کو بھگادینا نہیں چاہیے، بلکہ اس وقت تک انتظار کرے کہ بچے بڑے ہو کر اڑجائیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: جماع کرتے وقت کلام کرنا مکروہ ہے اور طلوع فجر سے نماز فجر تک بلکہ طلوع آفتاب تک خیر کے سوا دوسری بات نہ کرے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: ماہ صفر کو لوگ منحوس جانتے ہیں اس میں شادی بیاہ نہیں کرتے لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے اور بھی اس قسم کے کام کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں، خصوصاً ماہ صفر کی ابتدائی تیرہ تاریخیں بہت زیادہ نحس مانی جاتی ہیں اور ان کو تیرہ تیزی کہتے ہیں یہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔
حدیث میں فرمایاکہ ''صفر کوئی چیز نہیں۔''(3)یعنی لوگوں کا اسے منحوس سمجھنا غلط ہے۔ اسی طرح ذیقعدہ کے مہینہ کو بھی بہت لوگ برا جانتے ہیں اور اس کو خالی کا مہینہ کہتے ہیں یہ بھی غلط ہے اور ہر ماہ میں ۳، ۱۳، ۲۳، ۸، ۱۸، ۲۸ کو منحوس جانتے ہیں یہ بھی لغوبات ہے۔
مسئلہ ۳۹: قمردرعقرب یعنی چاند جب برج عقرب میں ہوتا ہے تو سفر کرنے کو برا جانتے ہیں اور نجومی اسے منحوس بتاتے ہیں اور جب برج اسد میں ہوتا ہے تو کپڑے قطع کرانے اور سلوانے کو برا جانتے ہیں۔ ایسی باتوں کو ہر گز نہ مانا جائے، یہ باتیں خلاف شرع اور نجومیوں کے ڈھکوسلے ہیں۔
مسئلہ ۴۰: نجوم کی اس قسم کی باتیں جن میں ستاروں کی تاثیرات بتائی جاتی ہیں، کہ فلاں ستارہ طلوع کریگا تو فلاں بات ہوگی، یہ بھی خلاف شرع ہے۔ اس طرح نچھتروں کا حساب کہ فلاں نچھتر سے بارش ہوگی یہ بھی غلط ہے، حدیث میں اس پر سختی سے انکار فرمایا۔ (4)
مسئلہ۴۱: ماہ صفر کا آخر چہار شنبہ ہندوستان میں بہت منایا جاتا ہے، لوگ اپنے کاروبار بند کردیتے ہیں، سیر و تفریح و شکار کو جاتے ہیں، پوریاں پکتی ہیں اور نہاتے دھوتے خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس روز غسل صحت فرمایا تھا اور بیرون مدینہ طیبہ سیر کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ یہ سب باتیں بے اصل ہیں، بلکہ ان دنوں میں حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مرض شدت کے ساتھ تھا، وہ باتیں خلاف واقع ہیں۔
اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس روز بلائیں آتی ہیں اور طرح طرح کی باتیں بیان کی جاتی ہیں سب بے ثبوت ہیں،
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵،ص۳۸۰.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الطب،باب لا ھامۃ،الحدیث:۵۷۵۷،ج۴،ص۳۶.
4 ۔''المعجم الأوسط''،الحدیث:۸۱۸۲،ج۶،ص۱۱۱.
بلکہ حدیث کا یہ ارشاد لاصفر.(1)یعنی صفر کوئی چیز نہیں۔ ایسی تمام خرافات کو رد کرتا ہے۔
مسئلہ ۴۲: ایک شخص نے کسی کو اذیت پہنچائی اس سے معافی مانگنا چاہتا ہے مگر جانتا ہے کہ ابھی اسے غصہ ہے معاف نہیں کریگا، لہٰذا معافی مانگنے میں تاخیر کی اس تاخیر میں یہ معذور نہیں۔ ظالم نے مظلوم کو بار بار سلام کیا اور وہ جواب بھی دیتا رہا اور اس کے ساتھ اچھی طرح پیش آیا یہاں تک کہ ظالم نے سمجھ لیا کہ اب وہ مجھ سے راضی ہوگیا، یہ کافی نہیں ہے بلکہ معافی مانگنی چاہیے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: عمامہ کھڑے ہوکر باندھے اور پاجامہ بیٹھ کر پہنے۔ جس نے اس کا الٹا کیا وہ ایسے مرض میں مبتلا ہوگا جس کی دوا نہیں۔ (3)
مسئلہ ۴۴: کپڑا پہنے تو داہنے سے شروع کرے یعنی پہلے دہنی آستین یادہنے پائنچہ میں ڈالے پھر بائیں میں۔ (4)
مسئلہ ۴۵: پاجامہ کا تکیہ نہ بنائے کہ یہ ادب کے خلاف ہے اور عمامہ کا بھی تکیہ نہ بنائے۔ (اعلیٰ حضرت)
مسئلہ ۴۶: بیل پر سوار ہونا اور اس پر بوجھ لادنا اور گدھے سے ہل جوتنا جائز ہے یعنی یہ ضرور نہیں کہ بیل سے صرف ہل جوتنے کا کام لیا جائے اس پر بوجھ نہ لادا جائے اور گدھے پر صرف بوجھ ہی لادا جائے ہل نہ جوتا جائے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۴۷: جانور سے کام لینے میں یہ لحاظ ضروری ہے کہ اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لیا جائے۔ اتنا نہ لیا جائے کہ وہ مصیبت میں پڑجائے جتنا بوجھ اٹھا سکتا ہے اتنا ہی اس پر لاداجائے یا جتنی دور جاسکے وہیں تک لے جایا جائے یا جتنی دیر تک کام کرنے کا متحمل ہوسکے اتنا ہی لیا جائے۔ بعض یکہ تانگہ والے اتنی زیادہ سواریاں بٹھالیتے ہیں کہ گھوڑا مصیبت میں پڑ جاتا ہے یہ ناجائز ہے اور یہ بھی ضرور ہے کہ بلاوجہ جانور کو نہ مارے اور سر یا چہرہ پر کسی حالت میں ہر گز نہ مارے کہ یہ بالا جماع ناجائز ہے۔ جانور پر ظلم کرنا ذمی کافر پر ظلم کرنے سے زیادہ برا ہے اور ذمی پر ظلم کرنا مسلم پر ظلم کرنے سے بھی برا کیونکہ جانور کا کوئی معین و مددگاراﷲ(عزوجل)کے سوا نہیں اس غریب کو اس ظلم سے کون بچائے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
وَصَلَّی اللہُ علٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن وَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبِّ الْعَالَمِیْن.
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الطب، باب لاھامۃ،الحدیث:۵۷۵۷،ج۴،ص۳۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵، ص۳۷۵۔۳۷۶.
3 ۔ انظر:''کشف الالتباس في إستحباب اللباس''للشیخ المحقق عبدالحق، ذکرشملہ، ص۳۹.
4 ۔ انظر:''المرجع السابق،ذکرجیب،ص۴۳.
5 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۲.
6 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۶۲.