Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
جب کسی موقع پر حقیقت معلوم کرنا دشوارہوجائے توسوچے اورجس جانب گمان غالب ہوعمل کرے اس سوچنے کا نام تحری ہے۔ تحری پر عمل کرنا اس وقت جائز ہے جب دلائل سے پتہ نہ چلے دلیل ہوتے ہوئے تحری پر عمل کرنے کی اجازت نہیں۔ (1)
مسئلہ ۱: دو شخصوں نے تحری کی ایک کا غالب گمان نفس الامر(2)کے موافق ہوا اور دوسرے کاگمان غلط ہواتو اگرچہ دونوں بری الذمہ ہوگئے مگر جس کی رائے صحیح ہوئی اُس کو ثواب زیادہ ہے۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: نماز کے وقت میں شبہ ہے اگر یہ شبہ ہے کہ وقت ہوا یا نہیں تو ٹھہر جائے جب وقت ہوجانے کا یقین ہوجائے اُس وقت نماز پڑھے اور یہ شبہ ہے کہ وقت باقی ہے یا ختم ہوگیا تو نماز پڑھے اور نیت یہ کرے کہ آج کی فلاں نماز پڑھتا ہوں۔(4)(عالمگیری)نماز کے متعلق تحری کے مسائل کتاب الصلاۃ(5)میں مذکور ہوچکے وہاں سے معلوم کریں۔
مسئلہ ۳: جس کو زکوٰۃ دینا چاہتا ہے اس کی نسبت غالب گمان یہ ہے کہ وہ فقیر ہے یا خود اس نے اپنا فقیر ہونا ظاہر کیا یا کسی عادل نے اس کا فقیر ہونا بیان کیا، یا اسے فقیروں کے بھیس میں پایا ،یا اسے صف فقرا میں بیٹھا ہُوا پایا ،یا اُسے مانگتا ہوا دیکھا اور دل میں یہ بات آئی کہ فقیر ہے ان سب صورتوں میں اس کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: بعض کپڑے پاک ہیں اور بعض ناپاک اور یہ پتہ نہیں چلتا کہ کون سا پاک ہے اگر مجبوری کی حالت ہو کہ دوسرا کپڑا نہیں ہے جس کا پاک ہونا یقینامعلوم ہو اور وہاں پانی بھی نہیں ہے کہ اُن میں سے ایک کو پاک کرسکے اور نماز پڑھنی ہے تو اس صورت میں تحری کرے جس کی نسبت پاک ہونے کا غالب گمان ہو اُس میں نماز پڑھے اور مجبوری کی حالت نہ ہو تو تحری نہ کرے مگر جبکہ پاک کپڑے ناپاک سے زیادہ ہوں تو تحری کرسکتا ہے۔ (7)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب التحری،الباب الاول فی تفسیرالتحری...إلخ،ج۵،ص۳۸۲.
2 ۔یعنی حقیقت۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب التحری،الباب الاول فی تفسیرالتحری...إلخ،ج۵،ص۳۸۲.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔بہارشریعت ،جلد۱،حصہ۳ ،ص۴۸۹پر ملاحظہ کریں۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب التحری،الباب الثانی فی التحرّی فی الزکاۃ، ج۵،ص۳۸۳.
7 ۔المرجع السابق،الباب الثالث فی التحرّی فی الثیاب...إلخ.
مسئلہ ۵: دو کپڑوں میں ایک ناپاک تھا تحری کرکے اس نے ایک میں ظہر کی نماز پڑھ لی پھر اس کا غالب گمان دوسرے کے پاک ہونے کے متعلق ہوا اور اس میں عصر کی نماز پڑھی یہ نماز نہیں ہوئی کیونکہ جب ظہر کی نماز جائز ہونے کا حکم دیا جاچکا تو اُس کے یہ معنے ہوئے کہ دوسرا ناپاک ہے تو اسکے پاک ہونے کا اب کیونکر حکم ہوسکتا ہے ہاں اگر اُس پہلے کپڑے کے متعلق یقین ہے کہ ناپاک ہے تو ظہر کی نماز کا اعادہ کرے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: دو کپڑوں میں ایک ناپاک تھا اُس نے بلا تحری ایک میں ظہر پڑھ لی اور دوسرے میں عصر پڑھی پھر تحری سے معلوم ہوا کہ پہلا کپڑا پاک ہے دونوں نمازیں نہیں ہوئیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: دو کپڑوں میں ایک ناپاک ہے ایک شخص نے تحری کرکے ایک میں نماز پڑھی اور دوسرے نے تحری کرکے دوسرے میں پڑھی اگر دونوں نے الگ الگ پڑھی دونوں کی نمازیں ہوگئیں اور اگر ایک امام ہوا دوسرا مقتدی تو امام کی ہوگئی مقتدی کی نہیں ہوئی۔ کھیل کود میں کسی کے خون کا قطرہ نکلا مگر ہر ایک یہ کہتا ہے کہ میرے بدن سے نہیں نکلا اس کابھی وہی حکم ہے کہ تنہا تنہا پڑھی تو دونوں کی نمازیں ہوگئیں اور اگر ایک امام ہو دوسرا مقتدی تو امام کی ہوگئی مقتدی کی نہیں ہوئی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: چند شخص سفر میں ہیں سب کے برتن مخلوط ہوگئے(4)اس کے شرکاء اُس وقت کہیں چلے گئے ہیں اور اُسے خود اپنے برتن کی شناخت نہیں ہے تو اُن کے آنے کا انتظارکرے تحری کر کے برتن کو استعمال میں نہ لائے ہاں اگر استعمال کی ضرورت ہے وضو کرنا ہے یا پانی پینا ہے اور معلوم نہیں ساتھی کب آئیں تو تحری کرکے استعمال کرے یونہی اگر کھانا شرکت میں ہے اورشرکاء غائب ہیں اور اُسے بھوک لگی ہے تو اپنے حصہ کی قدر اس میں سے لے لے۔ (5) (عالمگیری)
حدیث ۱: صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا :''جس نے اُس زمین کو آباد کیا جو کسی کی مِلک نہ ہو (6)تووہی حقدار ہے۔''عُروَہ کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب التحری،الباب الثالث فی التحرّی فی الثیاب...إلخ،ج۵،ص۳۸۳.
2 ۔المرجع السابق ،ص۳۸۴. 3 ۔المرجع السابق ،ص۳۸۴.
4 ۔آپس میں مل گئے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب التحری،الباب الثالث فی التحرّی فی الثیاب...إلخ،ج۵،ص۳۸۴،۳۸۵.
6 ۔یعنی ملکیت میں نہ ہو۔
نے اپنی خلافت میں یہی فیصلہ کیاتھا۔(1)
حدیث ۲: ابو داؤد نے سَمُرَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فر مایا کہ'' جس نے زمین پر دیوار بنالی یعنی احاطہ کر لیا وہ اُسی کی ہے۔''(2)
حدیث ۳: ابو داؤد نے ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جاگیر(3)دی جہاں تک اُن کا گھوڑا دوڑ کرجائے زبیر نے اپنا گھوڑا دوڑایاجب وہ کھڑا ہوگیا تو اُنہوں نے اپنا کو ڑ ا (4)پھینکا حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا :''جہاں ان کا کوڑاگرا ہے وہاں تک جاگیر میں دیدو۔''(5)
حدیث ۴: ترمذی نے وائل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اُن کو حضرموت(6)میں زمین جاگیر دی اور معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا کہ ان کو دے آؤ۔ (7)
حدیث ۵: امام شافعی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)نے طاؤس سے مرسلاًروایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس نے مردہ زمین زندہ کی(8)وہ اسی کے لئے ہے اور پرانی زمین (یعنی جس کا مالک معلوم نہ ہو)اﷲورسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کی ہے پھر میری جانب سے تمہارے لئے ہے۔''(9)
حدیث ۶: ابو داؤد نے اسمر بن مضرس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں میں نے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر بیعت کی پھر حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا :''جو شخص اُس چیز کی طرف سبقت کرے(10)جس کی طرف کسی مسلم نے سبقت نہیں کی ہے تو وہ اُسی کی ہے۔''اس کو سن کر لوگ دوڑے کہ خط کھینچ کر نشان بنالیں۔ (11)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الحرث... إلخ،باب من أحیا أرضاً مواتاً،الحدیث: ۲۳۳۵،ج۲،ص۹۰.
2 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الخراج... إلخ،باب في إحیاء الموات،الحدیث: ۳۰۷۷،ج۳،ص۲۴۰.
3 ۔یعنی زمین۔ 4 ۔چابک،چھڑی۔
5 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الخراج... إلخ،باب في إقطاع الأرضین،الحدیث: ۳۰۷۲،ج۳،ص۲۳۸.
6 ۔یمن کے مشرق میں واقع ایک شہر کانام ہے۔
7 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأحکام،باب ماجاء في القطائع،الحدیث:۱۳۸۶،ج۳،ص۹۱.
8 ۔یعنی بنجر زمین، غیرآباد زمین آباد کی۔
9 ۔''المسند'' للإمام الشافعي،کتاب الطعام والشرب و عمارۃ الارضین... إلخ،ص۳۸۲.
10 ۔پہل کرے ۔
11 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الخراج... إلخ،باب في اقطاع الارضین،الحدیث: ۳۰۷۱،ج۳،ص۲۳۸.
موات اس زمین کو کہتے ہیں جو آبادی سے فاصلہ پر ہو اور وہ نہ کسی کی ملک ہو اور نہ کسی کی حق خاص ہو اندرون آبادی افتادہ زمین کو موات نہیں کہا جائے گا اور شہر سے باہر کی وہ زمین جس میں لوگوں کے جانور چرتے ہیں یا اس میں سے جلانے کے لئے لکڑیاں کاٹ لاتے ہیں یہ موات نہیں اسی طرح جس زمین میں نمک پیدا ہوتا ہے وہ بھی موات نہیں یعنی موات وہی کہلائے گی جو منتفع بہانہ ہو۔ فاصلہ سے مراد یہ ہے کہ آبادی کے کنارے سے کوئی شخص جس کی آواز بلند ہو زور سے چلائے تو وہاں تک آواز نہ پہنچے نزدیک ودور کا لحاظ اس بنا پر ہے کہ نزدیک والی زمین عموماً منتفع بہا ہوتی ہے۔(1)ورنہ ظاہرالروایۃ یہی ہے کہ نزدیک و دور کا لحاظ نہیں بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ منتفع بہا ہے یا نہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱: ایسی زمین جس کا ذکر کیا گیا اگر کسی نے امام کی اجازت حاصل کرکے اُسے آباد کیا تو یہ شخص اُس کا مالک ہوگیا دوسرا شخص نہیں لے سکتا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲: ایک شخص نے دوسرے کو احیاء موات کے لئے وکیل کیا اگر موکل نے بادشاہ اسلام سے اجازت حاصل کرلی ہے تو یہ توکیل صحیح ہے اورزمین موکل کی ہوگی ورنہ نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: امام نے(5)ایسی زمین کسی کو جاگیر دیدی اور جاگیر دار نے اُس زمین کو ویسی ہی چھوڑ رکھا تو تین سال تک کچھ تعرض نہیں کیا جائے گا، تین سال کے بعد وہ جاگیر دوسرے کو جاگیر دی جاسکتی ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: ایک شخص نے زمین کو احیاء کیا پھر چھوڑ رکھا دوسرے نے اس میں کاشت کرلی تو پہلا ہی شخص اس کا حقدار ہے کیونکہ وہ مالک ہوچکا دوسرے کو اس میں تصرف کی اجازت نہیں۔ (7) (درمختار)
1 ۔یعنی عمومی طورپر اس سے نفع اُٹھایاجاتاہے۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب إحیاء الموات،ج۱۰،ص۵.
و''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب إحیاء الموات،الباب الاول فی تفسیرالموات...إلخ،ج۵،ص۳۸۵،۳۸۶.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب إحیاء الموات،ج۱۰،ص۶،۷.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب إحیاء الموات،ج۱۰،ص۷.
5 ۔حاکم وقت نے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب إحیاء الموات،الباب الاول فی تفسیر الموات... إلخ،ج۵،ص۳۸۶.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب إحیاء الموات،ج۱۰،ص۷.
مسئلہ ۵: ایک شخص نے زمین کو آباد کیا اس کے بعد چار شخصوں نے آگے پیچھے چاروں جانب زمینیں آباد کیں تو پہلے شخص کا راستہ پچھلے شخص کی زمین میں رہے گا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۶: زمین موات میں کسی نے چاروں طرف پتھر رکھ دیے یا شاخیں گاڑدیں یا زمین کا گھاس کوڑا صاف کیا یااُس میں کانٹے تھے اُس نے جلادیے یا کوآں بنانے کے خیال سے دوایک ہاتھ زمین کھود دی اور یہ سب کام اس مقصد سے کئے کہ دوسرا اس کو آباد نہ کر ے تو تین سال تک امام اس کا انتظار کریگا اگر اُس نے آباد کرلی فبہا(2) ورنہ کسی دوسرے کو دیدیگا جو آباد کرے۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۷: زمین موات میں کسی نے کوآں کھودا ایک ہاتھ پانی نکلنے کو باقی تھا کہ دوسرے نے اُسے کھودا تو پہلا شخص حقدار ہے ہاں اگر معلوم ہو کہ پہلے نے اُسے چھوڑ دیا یعنی ایک ماہ کا زمانہ گزر گیا اور باقی کو نہیں کھودتا تو اس صورت میں کوآں دوسرے شخص کا ہوگا۔(4) (عالمگیری)
حدیث ۱: صحیح بخاری میں عروہ سے روایت ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور ایک انصاری سے حرّہ کی نالیوں کے متعلق جھگڑا ہوگیانبی اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے زبیر سے فرمایا کہ''بقدر ضرورت پانی لے لو پھر اپنے پڑوسی کے لئے چھوڑ دو''اُس انصاری نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لئے کیا کہ وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں یہ سُن کر حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا چہرہ متغیرہوگیا اور فرمایا:''اے زبیر اپنے باغ کو پانی دو پھر روک لو یہاں تک کہ مینڈھ(5)تک پانی پہنچ جائے پھر اپنے پڑوسی کے لئے چھوڑو ''اُس انصاری نے ناراض کردیا لہٰذا حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے صاف حکم میں زبیر(رضی اللہ تعالٰی عنہ)کا پورا حق دلوایا اور پہلے ایسی بات فرمادی تھی جس میں دونوں کے لئے گنجائش تھی۔(6)
حدیث ۲: صحیح بخاری ومسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''تین شخص ہیں کہ قیامت کے دن اﷲتعالیٰ ان سے نہ کلام کرے گا نہ اُن کی طرف نظر فرمائیگا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی بیچنے کی
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب إحیاء الموات،ج۱۰،ص۷.
2 ۔توصحیح ہے۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب إحیاء الموات،ج۲،ص۳۸۴.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب إحیاء الموات،الباب الاول فی تفسیرالموات... إلخ،ج۵،ص۳۸۷.
5 ۔کھیت کی منڈیر۔
6 ۔''صحیح البخاري''،کتاب التفسیر،باب ( فلا وربک لا یؤمنون ...إلخ)،الحدیث:۴۵۸۵،ج۳،ص۲۰۵،۲۰۶.
چیزکے متعلق یہ قسم کھائی کہ جو کچھ اس کے دام(1)مل رہے ہیں اس سے زیادہ ملتے تھے(اور نہیں بیچا)حالانکہ یہ اپنی قسم میں جھوٹا ہے دوسرا وہ شخص کہ عصر کے بعد جھوٹی قسم کھائی تاکہ کسی مردمسلم کا مال لے لے اور تیسرا وہ شخص جس نے بچے ہوئے پانی کو روکا، اﷲتعالیٰ فرمائے گا آج میں اپنا فضل تجھ سے روکتا ہوں جس طرح تونے بچے ہوئے پانی کو روکا جس کو تیرے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا۔''(2)
حدیث ۳: صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''بچے ہوئے پانی سے منع نہ کرو کہ اس کی وجہ سے بچی ہوئی گھاس کو منع کروگے۔''(3)
حدیث ۴: ابو داؤد، ابن ماجہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا : ''تمام مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں پانی اور گھاس اور آگ۔''(4)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے بچے ہوئے پانی کے بیچنے سے منع فرمایا۔ (5)
حدیث ۶: صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''بچا ہوا پانی نہ بیچا جائے کہ اس کی وجہ سے گھاس کی بیع ہوجائیگی۔''(6)
کھیت کی آبپاشی یا جانوروں کو پانی پلانے کے لیے جو باری مقرر کرلی جاتی ہے اُس کو شِرب کہتے ہیں اس لفظ میں شین کو زیر(7)ہے۔ (8)
1 ۔روپیہ،رقم۔
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب المساقاۃ،باب من رأی أن صاحب الحوض...إلخ،الحدیث:۲۳۶۹،ج۲،ص۱۰۰.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب المساقاۃ،باب من قال إن صاحب الماء أحق... إلخ،الحدیث:۲۳۵۴،ج۲،ص۹۶.
4 ۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الرھون،باب المسلمون شرکاء في ثلاث،الحدیث: ۲۴۷۲،ج۳،ص۱۷۶.
5 ۔''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ...إلخ،باب تحریم فضل بیع الماء...إلخ،الحدیث:۳۴۔(۱۵۶۵)،ص۸۴۶.
6 ۔المرجع السابق،الحدیث:۳۸۔(۱۵۶۶)،ص۸۴۶.
7 ۔بہارشریعت کے نسخوں میں ا س مقام پر''زبر''لکھاہواہے جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ فقہاء کی اصطلاح اس باب میں شِرب(یعنی زیرکے ساتھ)ہی ہے اس کی تائید ردالمحتار،ج۱۰،ص۱۵۔اوردیگرکتب فقہ سے بھی ہوتی ہے، اسی وجہ سے متن میں تصحیح کردی گئی۔...علمیہ
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب إحیاء الموات،فصل الشرب،ج۱۰،ص۱۵.
مسئلہ ۱: جس پانی کو برتن میں محفوظ نہ کرلیا ہو اُس کو ہر شخص پی سکتا ہے اور اپنے جانوروں کو پلا سکتا ہے کوئی شخص پینے یاپلانے سے نہیں روک سکتا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲: پانی کی چار قسمیں ہیں، اوّل سمندر کا پانی اس سے ہر شخص نفع اُٹھا سکتا ہے خود پئے جانوروں کو پلائے کھیت کی آبپاشی کرے اس میں نہر نکال کر اپنے کھیتوں کو لیجائے جس طرح چاہے کام میں لائے کوئی منع نہیں کرسکتا، دوم بڑے دریا کا پانی جیسے سیحون، جیحون،دجلہ،فرات، نیل یا ہندوستان میں گنگا،گھاگرا اس کو ہر شخص پی سکتا ہے اپنے جانوروں کو پلاسکتا ہے مگر زمین کو سیراب کرنے اور اُس سے نہر نکالنے میں یہ شرط ہے کہ عام لوگوں کو ضرر(2)نہ پہنچے، سوم وہ ندی نالے جو کسی خاص جماعت کی مِلک ہوں پینے پلانے کی اُس میں بھی اِجازت ہے مگر دوسرے لوگ اپنے کھیت کی اس سے آبپاشی نہیں کرسکتے، چوتھے وہ پانی جس کو گھڑوں ،مٹکوں یا برتنوں میں محفوظ کردیا گیا ہو اُس کو بغیر اجازت مالک کوئی شخص صَرف میں نہیں لاسکتا اور اس پانی کو اس کا مالک بیع بھی کرسکتا ہے۔ (3) (ہدایہ،عالمگیری)
مسئلہ ۳: کوآں اگرچہ مملوک ہو مگر اس کا پانی مملوک نہیں دوسرا شخص اس پانی کو پی سکتا ہے اپنے جانوروں کو پلا سکتا ہے جس کا کوآں ہے وہ روک نہیں سکتا اور نہ اس کے بھرے ہوئے پانی کو چھین سکتا ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: کوآں یا چشمہ جس کی ملک میں ہے دوسرا شخص وہاں جا کر پانی پینا چاہتا ہے وہ مالک اپنی ملک مثلاً مکان یاباغ میں اُسکو جانے سے روک سکتا ہے بشرطیکہ وہاں قریب میں دوسری جگہ پانی ہو جو کسی کی ملک میں نہیں ہے اور اگرپانی نہ ہوتو مالک سے کہا جائے گا کہ تو خود اپنے باغ یا مکان سے پینے کے لیے پانی لادے یا اسے اجازت دے کہ یہ خود بھر کرپی لے۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: کوئیں سے پانی بھرا ڈول مونھ تک آگیا ہے ابھی باہر نہیں نکلا ہے یہ بھرنے والا اُس پانی کا ابھی مالک نہیں ہوا جب باہر نکال لے گا اُس وقت مالک ہوگا۔ (6) (ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب إحیاء الموات،فصل الشرب،ج۱۰،ص۱۵،۱۶.
2 ۔نقصان۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب إحیاء الموات،فصل فی المیاہ،ج۲،ص۳۸۸.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرب...إلخ،الباب الاول فی تفسیرہ...إلخ،ج۵،ص۳۹۰،۳۹۱.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرب...إلخ،الباب الاول فی تفسیرہ...إلخ،ج۵،ص۳۹۱.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب إحیاء الموات،فصل فی المیاہ،ج۲،ص۳۸۸.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب إحیاء الموات،فصل فی الشرب،ج۱۰،ص۱۶.
مسئلہ ۶: حمام میں گیا اور حوض میں سے پانی نکالا مگر جس برتن میں پانی لیا وہ حمام والے کا ہے تویہ شخص پانی کا مالک نہیں ہوا بلکہ وہ پانی حمام والے ہی کا ہے مگر دوسرا شخص اس سے نہیں لے سکتا کہ زیادہ حقدار یہی ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: دوسرے کے کوئیں سے بغیر اجازتِ مالک نہ اپنے کھیت کو سینچ سکتا ہے(2)نہ درختوں کو پلاسکتا ہے نہ اُس میں رہٹ یا چرسا وغیرہ لگاسکتا ہے مگر گھڑے وغیرہ میں بھر کر لایا ہو تواُس سے گھر میں جودرخت ہے یا گھر میں جو ترکاریاں بوئی ہیں ان کو سیراب کر سکتا ہے، کوئیں والے سے اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۸: نہر خاص یا کسی کے مملوک حوض یا کنوئیں سے وضو کرنے یا کپڑے دھونے کے لیے گھڑے میں پانی بھر کر لاسکتا ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: حوض میں اگر پانی خود ہی جمع ہوگیا مالک حوض نے پانی جمع کرنے کی کوئی ترکیب نہیں کی ہے یہ حوض نہر خاص کے حکم میں ہے۔(5) (ردالمحتار)دیہاتوں میں تالاب اور گڑھے ہوتے ہیں برسات میں ادھر اُدھر سے پانی بہہ کر آتا ہے اور ان میں جمع ہوجاتا ہے انکا بھی یہی حکم ہے کہ بغیر اجازت مالک دوسرے لوگ اپنے کھیتوں کی اس سے آبپاشی نہیں کرسکتے۔
مسئلہ ۱۰: بعض جگہ مکانوں میں حوض بنا رکھتے ہیں برساتی پانی اُس میں جمع کرلیتے ہیں اور اپنے استعمال میں لاتے ہیں عربی میں ایسے حوض کو صہریج کہتے ہیں۔ (ہندوستان میں بفضلہٖ تعالیٰ پانی کی کثرت ہے صہریج بنانے کی ضرورت نہیں مگر جہاں پانی کی کمی ہے بنانا پڑتا ہی ہے جیسا کہ مارواڑکے بعض علاقوں میں بکثرت ہیں)یہ پانی خاص اُس شخص کی مِلک ہے جس کے گھر میں ہے اور یہ پانی ویسا ہی ہے جیسا گھڑے وغیرہ میں بھر لیا جاتا ہے کہ بغیر اجازت مالک کوئی شخص اپنے کسی صرف میں نہیں لاسکتا۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: بارش کے وقت آگن(7)یا چھت پر پانی جمع کرنے کے لیے طشت (8)یا کنڈا(9)وغیرہ رکھ دیا ہے تو جو کچھ
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب إحیاء الموات،فصل الشرب،ج۱۰،ص۱۶.
2 ۔پانی دے سکتا ہے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب إحیاء الموات، فصل الشرب،ج۱۰،ص۱۷.
4 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرب...إلخ،الباب الاول فی تفسیرہ...إلخ،ج۵،ص۳۹۱.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب إحیاء الموات،فصل الشرب،ج۱۰،ص۱۷.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔صحن۔ 8 ۔تھال۔ 9 ۔مٹی کا برتن،پرات۔
پانی جمع ہوگا اُس کا ہے جس نے طشت وغیرہ رکھا ہے دوسرا شخص اس پانی کو نہیں لے سکتا اور اگر پانی جمع کرنے کے لیے طشت نہیں رکھا ہے تو جو چاہے لے لے اس کو منع نہیں کیا جاسکتا۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: زمین غیر مملوکہ (2) کی گھاس کسی کی ملک نہیں جو چاہے کاٹ لائے یا اپنے جانوروں کو چرائے دوسرا شخص اس کو منع نہیں کرسکتا یہ گھاس دریا کے پانی کی طرح سب کے لیے مباح ہے، زمین مملوکہ میں گھاس خود ہی جمی ہے (3)بوئی نہیں گئی ہے یہ گھا س بھی مالک زمین کی ملک نہیں جب تک اسے محفوظ نہ کرلے جو چاہے اس کو لے سکتا ہے، مگر مالکِ زمین دوسرے لوگوں کو اپنی زمین میں آنے سے روک سکتا ہے اِس صورت میں اگر مالکِ زمین لوگوں کو اوراُن کے جانوروں کو اپنی زمین میں آنے سے منع کرتا ہے اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم گھاس کاٹیں گے یا اپنے جانور چرائیں گے اگر قریب میں زمین غیر مملوکہ ہے جس میں گھاس موجودہے تو لوگوں سے کہا جائے گا کہ اپنے جانوروں کو وہاں چرالو یا وہاں سے گھاس کاٹ لو اور اگر زمین قریب میں نہ ہو تو مالک زمین سے کہا جائے گا کہ ان لوگوں کواجازت دو یا تم خود اپنی زمین سے گھاس کاٹ کر ان کو دے دو، اور اگر مالک زمین نے گھاس کاٹ کر محفوظ کرلی تو دوسرا شخص اس کو لے نہیں سکتا کہ یہ مملوک ہوگئی، اگر مالک زمین نے گھاس بو رکھی ہے یا اپنی زمین کو جوت کر اُس میں پانی دیا ہے اور اسی لیے چھوڑرکھا ہے کہ اُس میں گھاس جمے تو یہ گھاس مالک زمین کی ہے، دوسرا شخص نہ اسے لے سکتا ہے نہ اپنے جانوروں کو چرا سکتا ہے، کسی دوسرے نے یہ گھاس کاٹ لی تو مالک زمین والا اس کو واپس لے سکتا ہے اور گھاس کو بیچ سکتا ہے۔ (4) (عالمگیری،درمختار)
مسئلہ ۱۳: آگ میں بھی سب لوگ شریک ہیں دوسروں کو منع نہیں کر سکتا یعنی اگر کسی نے میدان میں آگ جلائی ہے تو جس کا جی چاہے تاپ سکتا ہے اپنے کپڑے اس سے سکھا سکتا ہے اُس کی روشنی میں کام کرسکتا ہے مگر بغیر اجازت اُس میں سے انگارہ نہیں لے سکتا،اگر کسی نے اُس میں سے تھوڑی سی آگ لے لی کہ بجھانے کے بعد اتنے کوئلے نہیں ہونگے جن کی کچھ قیمت ہوتو اس سے واپس نہیں لے سکتا اور اتنی آگ بغیر اجازت بھی لے سکتا ہے کہ عادۃً اس کو کوئی منع بھی نہیں کرتااور اگر اتنی زیادہ ہے کہ بجھنے کے بعد کوئلوں کی قیمت ہوگی تو واپس لے سکتا ہے۔(5) (عالمگیری)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب إحیاء الموات،فصل الشرب،ج۱۰،ص۱۷.
2 ۔وہ زمین جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو۔ 3 ۔اُگی ہے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرب...إلخ،الباب الاول فی تفسیرہ...إلخ،ج۵،ص۳۹۲.
و''الدرالمختار''،کتاب إحیاء الموات،فصل الشرب،ج۱۰،ص۱۹.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرب...إلخ،الباب الاول فی تفسیرہ...إلخ،ج۵،ص۳۹۳.
مسئلہ ۱۴: کوئیں یا حوض یا نہر خاص کے پانی سے روکتا ہے اور اُس شخص کو روکا گیا پیاس سے ہلاکت کا اندیشہ ہے یا اس کے جانور کے ہلاک ہونے کا ڈر ہے تو زبردستی پانی وصول کرے نہ دے تو لڑ کر لے اگرچہ ہتھیار سے لڑنا پڑے اور برتن میں جمع کر رکھا ہے تو اس میں بھی لڑ کر وصول کرنے کی اجازت ہے مگر یہاں ہتھیار سے لڑنے کی اجازت نہیں اور یہ حکم اس وقت ہے کہ پانی اس کی حاجت سے زائد ہے یہی حکم مخمصہ کا بھی ہے کہ کسی کو بھوک سے ہلاکت کا اندیشہ ہے اور دوسرے کے پاس حاجت سے زائد کھانا ہے اوراُس کو نہیں دیتا تو لڑسکتا ہے مگر ہتھیار سے لڑنے کی اجازت نہیں۔ (1) (درمختار)
حدیث ۱: صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے لیے مَشک میں ہم نبیذ بناتے صبح کو بناتے تو عشا تک پیتے اور عشا کو بناتے تو صبح تک پیتے (یہ گرمی کے زمانے میں ہوتا تھا)۔ (2)
حدیث ۲: صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے لیے اول شب میں نبیذ بنائی جاتی صبح کے وقت اُسے پیتے دن میں اور رات میں پھر دوسرے روز دن اور رات میں اور تیسرے دن عصر تک پھر اگر بچ رہتی تو خادم کو پلا دیتے یا گرا دی جاتی۔(3) (یہ جاڑے کے زمانے میں ہوتا)
حدیث ۳: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے لیے مَشک میں نبیذ بنائی جاتی ،مشک نہ ہوتی تو پتھر کے برتن میں بنائی جاتی۔(4)
حدیث ۴: امام بخاری اپنی صحیح میں سہل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابو اُسید ساعدی حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس حاضر ہوئے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو اپنی شادی کی دعوت دی (جب حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)تشریف لائے)تو اُن کی زوجہ جو دلہن تھیں وہی خادم کا کام انجام دے رہی تھیں انھوں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے لیے پانی میں کھجوریں رات میں ڈال دی تھیں وہی پانی حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو پلایا۔(5)
حدیث ۵: امام بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ حضرت عمر اور ابو عبیدہ اور معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہم
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب إحیاء الموات،فصل الشرب،ج۱۰،ص۱۸،۲۰.
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب إباحۃ النبیذ الذی لم یشتد... إلخ،الحدیث:۸۵۔(۲۰۰۵)،ص۱۱۱۱.
3 ۔المرجع السابق،الحدیث:۷۹۔(۲۰۰۴)،ص۱۱۱۰.
4 ۔المرجع السابق،باب النھي عن الإنتباد في المزفت...إلخ،الحدیث: ۶۲۔(۱۹۹۹)،ص۱۱۰۷.
5 ۔''صحیح البخاري''،کتاب النکاح،باب حق إجابۃ الولیمۃ...إلخ،الحدیث:۵۱۷۶،ج۳،ص۴۵۵.
نے مثلث(1)کے پینے کو جائز فرمایا ہے اور براء بن عازب و ابو جحیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے نصف حصہ پکا دینے کے بعد انگور کا شیرہ پیا، ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہمانے کہا کہ انگور کا رس جب تک تازہ ہے پیو۔(2)
حدیث ۶: بخاری نے اپنی صحیح میں ابوجویریہ(3)رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں میں نے ابن عباس (رضی اللہ تعالٰی عنہما)سے باذَق (ایک قسم کی شراب ہے)کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا کہ محمد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم باذق سے پہلے گزر چکے ہیں لہٰذا جو نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے اور فرمایا کہ پینے کی چیزیں حلال و طیب ہیں اور حلال و طیب کے علاوہ حرام و خبیث ہیں۔ (4)
حدیث ۷: امام بخاری اپنی صحیح میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بیشک معراج کی رات ایلیا (بیت المقدس)میں حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے سامنے دو پیالے پیش کئے گئے ایک شراب کا دوسرا دودھ کا حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے دونوں کو دیکھ کر دودھ کا پیالہ لے لیا۔ جبریل (علیہ السلام)نے کہا الحمد للہ خدا تعالیٰ نے آپ کو فطرت کی ہدایت کی اگر آپ شراب لے لیتے تو آپ کی اُمت گمراہ ہو جاتی۔(5)
حدیث ۸: ابو داود و ابن ماجہ نے ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''میری امت کے کچھ لوگ خمر (شراب)پئیں گے اور اس کا نام کچھ دوسرا رکھ لیں گے۔''(6)
لغت میں پینے کی چیز کو شراب کہتے ہیں اور اصطلاح فقہا میں شراب اُسے کہتے ہیں جس سے نشہ ہوتا ہے، اس کی بہت قسمیں ہیں،خمر انگور کی شراب کو کہتے ہیں یعنی انگور کا کچا پانی جس میں جوش آجائے اور شدت پیدا ہو جائے۔ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں جھاگ پیدا ہواور کبھی ہر شراب کو مجازاً خمر کہہ دیتے ہیں۔(7)
1 ۔ انگور کا شیرہ جو پکانے کے بعد ایک تہائی رہ جائے۔
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الأشربۃ،باب الباذق ومن نھی...إلخ،ج۳،ص۵۸۴.
3 ۔بہارشریعت کے کچھ نسخوں میں ا س مقام پر''ابوھریرہ'' اورکچھ نسخوں میں''ابوجوہر'' لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ہمارے
پاس موجود ''بخاری شریف'' کے نسخوں میں''حضرت ابوجویریہ رضی اللہ تعالٰی عنہ''مذکورہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے .. . علمیہ
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الأشربۃ،باب الباذق ومن نھی...إلخ،الحدیث:۵۵۹۸،ج۳،ص۵۸۵.
5 ۔المرجع السابق،کتاب الأشربۃ،باب قول اللہ تعالٰی( انماالخمر...إلخ )،الحدیث:۵۵۷۶،ج۳،ص۵۷۹.
6 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الأشربۃ،باب في الداذی،الحدیث:۳۶۸۸،ج۳،ص۴۶۱.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأشربۃ،الباب الاول فی تفسیرہ الأشربۃ...إلخ،ج۵،ص۴۰۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الأشربۃ،ج۱۰،ص۳۲.
مسئلہ ۱: خمر حرام بعینہٖ ہے اس کی حرمت نصِ قطعی سے ثابت ہے اور اس کی حرمت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے اس کا قلیل و کثیر سب حرام ہے اور یہ پیشاب کی طرح نجس ہے اور اس کی نجاست غلیظہ ہے جو اس کو حلال بتائے کافر ہے کہ نصِ قرآنی کامنکر ہے مسلم کے حق میں یہ متقوم نہیں یعنی اگر کسی نے مسلمان کی یہ شراب تلف کر دی تو اس پر ضمان نہیں اور اس کو خریدنا صحیح نہیں اس سے کسی قسم کا انتفاع جائز نہیں نہ دوا کے طور پر استعمال کر سکتا ہے نہ جانور کو پلا سکتا ہے نہ اس سے مٹی بھگا (1)سکتاہے نہ حقنہ کے کام میں لائی جا سکتی ہے، اس کے پینے والے کو حد ماری جائے گی اگرچہ نشہ نہ ہوا ہو۔(2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: جانوروں کے زخم میں بھی بطور علاج اس کو نہیں لگا سکتے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: شیرہ انگور کو پکایا یہاں تک کہ دو تہائی سے کم جل گیا یعنی ایک تہائی سے زیادہ باقی ہے اور اس میں نشہ ہو یہ بھی حرام اور نجس ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۴: رطب یعنی تر کھجور کا پانی اور منقےٰ کو پانی میں بھگایا گیا جب یہ پانی تیز ہو جائے اور جھاگ پھینکے یہ بھی حرام نجس ہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۵: شہد، انجیر، گیہوں،(6)جَو وغیرہ کی شرابیں بھی حرام ہیں مثلاً یہاں ہندوستان میں مہوے (7)کی شراب بنتی ہے جب ان میں نشہ ہو حرام ہیں۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۶: کافر یا بچہ کو شراب پلانا بھی حرام ہے اگرچہ بطور علاج پلائے اور گناہ اسی پلانے والے کے ذمہ ہے۔ (9) (ہدایہ)بعض مسلمان انگریزوں کی دعوت کرتے ہیں اور شراب بھی پلاتے ہیں وہ گنہگار ہیں اس شراب نوشی کا وبال انہیں پر ہے۔
1 ۔بھگو۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأشربۃ،ج۱۰،ص۳۳،وغیرہ.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأشربۃ،الباب الاول فی تفسیرہ...إلخ،ج۵،ص۴۱۰.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأشربۃ،ج۱۰،ص۳۶.
5 ۔المرجع السابق،ص۳۷.
6 ۔گندم۔
7 ۔ایک درخت جس کے پتے سرخ ،زردی مائل اور خوشبودار ہوتے ہیں پھل گول چھوہارے کی مانند ہوتا ہے اس سے شراب بھی بنائی جاتی ہے۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأشربۃ،ج۱۰،ص۳۹،۴۰.
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب الأشربۃ،ج۲،ص۳۹۸.
مسئلہ ۷: نبیذ یعنی کھجور یا منقےٰ کو پانی میں بھگویا جائے وہ پانی نشہ پیدا ہونے سے پہلے پیا جائے یہ جائز ہے احادیث سے اس کا جواز ثابت ہے۔ (1)
مسئلہ ۸: تونبے(2) اور ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بنانا جائز ہے بعض خاص برتنوں میں نبیذ بنانے کی ابتدا میں ممانعت آئی تھی مگر بعد میں یہ ممانعت منسوخ ہو گئی۔ (3)
مسئلہ ۹: گھوڑی کے دودھ میں بھی نشہ ہوتا ہے اس کا پینا بھی ناجائز ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: بھنگ(5)اور افیون(6)اتنی استعمال کرناکہ عقل فاسد ہو جائے ناجائز ہے جیسا کہ افیونی اور بھنگیڑے(7)استعمال کرتے ہیں اور اگر کمی کے ساتھ اتنی استعمال کی گئی کہ عقل میں فتور(8)نہیں آیا جیسا کہ بعض نسخوں میں افیون قلیل جز ہوتا ہے کہ فی خوراک اس کااِتنا خفیف جز ہوتا ہے کہ استعمال کرنے والے کو پتا بھی نہیں چلتا کہ افیون کھائی ہے اس میں حرج نہیں۔ (9) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: بعض عورتیں بچوں کو افیون کھلایا کرتی ہیں اور اُن کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کے نشہ میں پڑا رہے گا پریشان نہیں کریگا یہ بھی ناجائز ہے کیونکہ بچہ کو اگرچہ تھوڑی مقدار میں دی جاتی ہے مگر وہ اتنی ضرور ہوتی ہے کہ اُس کی عقل میں فتور آجائے۔
مسئلہ ۱۲: چانڈو(10)اور مدک(11)بھی افیون کے استعمال کے طریقہ ہیں کہ اس کا دھواں پیا جاتا ہے جیسا کہ تمباکو کوپیتے ہیں یہ بھی ناجائز ہے بلکہ غالباً افیون استعمال کرنے کی سب صورتوں میں یہ صورت زیادہ قبیح و مضر (12)ہے۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأشربۃ،ج۱۰،ص۳۹.
2 ۔اندر سے خالی اور خشک کیا ہوا کدو۔
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب النھی عن الإنتباذ...إلخ،الحدیث:۶۴،۶۵۔(۹۷۷)،ص۱۱۰۷.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأشربۃ،ج۱۰،ص۴۴.
5 ۔ایک قسم کا نشہ آورپتوں والا پودا جس کے پتوں کو گھوٹ کرپیتے ہیں۔
6 ۔ایک نشہ آور چیز جو پوست کے رس کومنجمد کرکے بنائی جاتی ہے،افیم۔
7 ۔افیون اوربھنگ کا نشہ کرنے والے افراد۔ 8 ۔خرابی ،فساد۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأشربۃ،ج۱۰،ص۴۶۔۴۸.
10 ۔افیون کا ایک نشہ جس میں ا فیون کو پانی میں پکاکر حقے کی طرح پیاجاتاہے۔
11 ۔افیون کا ایک نشہ جس میں ا فیون تمباکوکی طرح چلم بھر کرپیتے ہیں۔ 12 ۔نقصان دہ۔
مسئلہ ۱۳: چرس (1)گانجا (2)یہ بھی ایسی چیز ہے کہ اس سے عقل میں فتور آجاتا ہے اس کا پینا ناجائز ہے۔
مسئلہ ۱۴: جوز الطیب(3)میں نشہ ہوتا ہے اس کا استعمال بھی اتنی مقدار میں ناجائز ہے کہ نشہ پیدا ہوجائے اگرچہ اس کا حکم بھنگ سے کم درجہ کا ہے۔
مسئلہ ۱۵: خشک چیزیں جو نشہ لاتی ہیں جیسے بھنگ وغیرہ یہ نجس نہیں ہیں لہٰذا ضماد(4)وغیرہ میں خارجی طور پر ان کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ اس طرح استعمال میں نشہ نہیں پیدا ہو گا پھر ناجائز کیوں ہو۔
مسئلہ ۱۶: حقہ کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں مگر قول فیصل یہ ہے کہ اس کی متعددصورتیں ہیں ایک یہ کہ حقہ پی کر عقل جاتی رہتی ہے جیسا کہ رامپور ،بریلی ،شاہجہانپور،(5)میں بعض لوگ رمضان شریف میں اِفطار کے بعد خاص اہتمام سے حقہ بھرتے ہیں اور اس زور سے دَم لگاتے ہیں کہ چلم سے اونچی اونچی لو اُٹھتی ہے اور پینے والے بیہوش ہو کر گر پڑتے ہیں اور بہت دیر تک بیہوش پڑے رہتے ہیں پانی کے چھینٹے دینے اور پانی پلانے سے ہوش آتا ہے اس طرح حقہ پینا حرام ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ نہ بیہوش ہو نہ عقل میں فتور پیدا ہومگر گھٹیا خراب تمباکو پیا جائے اور حقّہ تازہ کرنے کا بھی چنداں خیال نہ ہو جس سے مونھ میں بدبو ہو جاتی ہے ایسا حقّہ مکروہ ہے اور اس حقہ کو پی کربغیر منہ صاف کیے مسجد میں جانا منع ہے اس کا وہی حکم ہے جو کچے لہسن پیاز کھانے کا ہے،تیسری صورت یہ ہے کہ تمباکو بھی اچھا ہو اورحقہ بھی بار بار تازہ کیا جاتا ہو کہ پینے سے منہ میں بدبو نہ پیدا ہویہ مباح ہے اس میں اصلاً کراہت نہیں،بعض لوگوں نے حقہ کے حرام بتانے میں نہایت غلو کیا اور حد سے تجاوز کیا یہاں تک کہ اس کے متعلق حدیثیں بھی معاذاﷲوضع کر ڈالیں ان کی باتیں قابل اعتبار نہیں۔
مسئلہ ۱۷: قہوہ، کافی، چائے کا پینا جائز ہے کہ ان میں نہ نشہ ہے نہ تفتیرِعقل(6)البتہ یہ چیزیں خشکی لاتی ہیں اور نیند کو دفع کرتی ہیں اسی لیے مشائخ ان کو پیتے ہیں کہ نیند کا غلبہ جاتا رہے اور شب بیداری میں مدد ملے اور کسل(7)اور کاہلی کو بھی یہ چیزیں دفع کرتی ہیں۔
1 ۔ایک نشہ جوبھنگ کے پتوں اور افیون سے تیار کیاجاتا ہے اسے تمباکو کی طرح پیتے ہیں۔
2 ۔بھنگ کی قسم کا ایک پودا جس کے پتے اوربیج نشہ آورہوتے ہیں ا ورچلم میں بھرکرپیتے ہیں۔
3 ۔ایک قسم کاخوشبودار پھل۔ 4 ۔جسم پرلیپ کرنا، جسم پرلگانا۔
5 ۔ہندوستان میں علاقوں کے نام ہیں۔ 6 ۔عقل کی خرابی ،فساد۔
7 ۔سستی۔
مسئلہ ۱۸: جس شخص کو افیون کی عادت ہے اُسے لازم ہے کہ ترک کرے اگر ایک دم چھوڑنے میں ہلاکت کا اندیشہ ہے تو آہستہ آہستہ کمی کرتا رہے یہاں تک کہ عادت جاتی رہے اور ایسا نہ کیا تو گنہگار و فاسق ہے۔(1) (ردالمحتار)
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ اُحِلَّتْ لَکُمۡ بَہِیۡمَۃُ الۡاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیۡکُمْ غَیۡرَ مُحِلِّی الصَّیۡدِ وَاَنۡتُمْ حُرُمٌ ؕ)
(2)
''اے ایمان والو!اپنے قول پورے کرو تمہارے لیے حلال ہوئے بے زبان مویشی مگر وہ جو آگے سنا یا جائے گا تم کو لیکن شکار حلال نہ سمجھو جب تم احرام میں ہو۔''
اور فرماتا ہے:
(وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوۡا ؕ)
(3)
''اور جب تم احرام سے باہر ہو جاؤتو شکار کر سکتے ہو۔''
اور فرماتا ہے:
(یَسْئَلُوۡنَکَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَہُمْ ؕ قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُمۡ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیۡنَ تُعَلِّمُوۡنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللہُ ۫ فَکُلُوۡا مِمَّاۤ اَمْسَکْنَ عَلَیۡکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَیۡہِ ۪ وَاتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ سَرِیۡعُ الْحِسَابِ ﴿۴﴾)
(4)
''اے محبوب تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال ہو۔ تم فرما دو کہ حلال کی گئیں تمہارے لیے پاک چیزیں اورجو شکاری جانور تم نے سکھالیے انہیں شکار پر دوڑاتے جو علم تمہیں خدا نے دیا اس میں اُنہیں سکھاتے تو کھاؤ اس میں سے جومار کرتمہارے لیے رہنے دیں اور اس پراﷲکا نام لو اوراﷲ(عزوجل)سے ڈرتے رہو بیشک اﷲ(عزوجل)جلد حساب کرنے والاہے۔''
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأشربۃ''،ج۱۰،ص۵۲.
2 ۔پ۶،المائدہ:۱.
3 ۔پ۶،المائدہ:۲.
4 ۔پ۶،المائدہ:۴.
اور فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقْتُلُوا الصَّیۡدَ وَاَنۡتُمْ حُرُمٌ ؕ)
(1)
''اے ایمان والو شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو۔''
اور فرماتا ہے:
(اُحِلَّ لَکُمْ صَیۡدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَیۡکُمْ صَیۡدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ؕ)
(2 )
''دریا کا شکار تمہارے لیے حلال ہے اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدہ کو اور تم پر حرام ہے خشکی کا شکار جب تک تم احرام میں ہو۔''
حدیث ۱: رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا :''شکار کو حلال جانو اس لیے کہ اﷲعزوجل نے اس کو حلال فرمایا مجھ سے پہلے اﷲ(عزوجل)کے بہت سے رسول تھے وہ سب شکار کیا کرتے تھے۔ اپنے لیے اور اپنے بال بچوں کے لیے حلال رزق تلاش کرو اس لیے کہ یہ بھی جہاد فی سبیل اﷲکی طرح ہے اور جان لو کہ اﷲ(عزوجل) صالح تجار کا مددگار ہے۔ ''(3)
حدیث ۲: صحیح بخاری و مسلم میں عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہتے ہیں مجھ سے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب تم اپنا کتّا چھوڑو تو بسم اﷲ کہہ لو اگر اس نے پکڑ لیا اور تم نے جانور کو زندہ پا لیا تو ذبح کر لو اور اگر کتّے نے مار ڈالا ہے اور اُس میں سے کچھ کھایا نہیں تو کھاؤ اور اگر کھا لیا تو نہ کھاؤ کیونکہ اُس نے اپنے لیے شکار پکڑا اور اگر تمہارے کتّے کے ساتھ دوسرا کتّا شریک ہو گیا اور جانور مر گیا تو نہ کھاؤ کیونکہ تمہیں یہ نہیں معلوم کہ کس نے قتل کیا اور جب شکار پر تیر چھوڑو تو بسم اﷲکہہ لو اور اگر شکار غائب ہو گیا اور ایک دن تک نہ ملا اور اُس میں تمہارے تیر کے سوا کوئی دوسرا نشان نہیں ہے تو اگر چاہو کھا سکتے ہو اور اگر شکار پانی میں ڈوبا ہوا ملا تو نہ کھاؤ۔ ''(4)
حدیث ۳: صحیح بخاری و مسلم میں عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ہم سکھائے ہوئے کتّے کو شکار پر چھوڑتے ہیں فرمایا کہ ''جو تمہارے لیے اُس نے پکڑا ہے اُسے کھاؤ'' میں نے عرض کی اگرچہ مار ڈالیں فرمایا:''اگرچہ مار ڈالیں''میں نے عرض کی ہم تیر سے شکار کرتے ہیں فرمایا:''تیر نے جسے چھید
1 ۔پ۷،المائدہ:۹۵.
2 ۔پ۷،المائدہ:۹۶.
3 ۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۷۳۴۲،ج۸،ص۵۱،۵۲.
4 ۔''صحیح البخاری''،کتاب الصیدإذا غاب...إلخ،باب الصید،الحدیث:۵۴۸۴،ج۳،ص۵۵۲.
دیا اُسے کھاؤ اور پٹ تیر(1)شکار کو لگے اور مر جائے تو نہ کھاؤ''کیونکہ دب کر مرا ہے۔(2)
حدیث ۴: امام بخاری نے عطاء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی اگر کتّے نے شکار کا خون پی لیا اور گوشت نہ کھایا تو اُس جانور کو کھا سکتے ہو۔ (3)
حدیث ۵: صحیح بخاری و مسلم میں ابو ثعلبہ خُشَنِی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ،کہتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ہم اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہیں کیا اُن کے برتن میں کھا سکتے ہیں اور شکار کی زمین میں رہتے ہیں اور میں کمان سے شکار کرتا ہوں اور ایسے کتّے سے شکار کرتا ہوں جو معلم نہیں ہے اور معلم کتّے سے بھی شکار کرتا ہوں اس میں کیا چیز میرے لیے درست ہے۔ ارشاد فرمایا:''وہ جو تم نے اہل کتاب کے برتن کا ذکر کیا۔ (اس کا حکم یہ ہے)کہ اگر تمہیں دوسرا برتن ملے تو اُس میں نہ کھاؤ اور دوسرا برتن نہ ملے تو اُسے دھو لو پھر کھاؤ۔ اور کمان سے جو تم نے شکار کیا اور بسم اﷲ کہہ لی تو کھاؤ اور معلم کتّے سے جو شکار کیا اور بسم اﷲکہہ لی تو کھاؤ اور غیر معلم سے جو شکار کیا ہے اور اُسے ذبح کر لیا تو کھاؤ۔ ''(4)
حدیث ۶: صحیح مسلم میں انہیں سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب تیر سے شکار مارو غائب ہوجائے پھر مل جائے تو کھا لو جبکہ بدبو دار نہ ہو۔ ''(5)
حدیث ۷: ابو داود نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''کتّے یاباز کو اگر تم نے سکھا لیا ہے پھر اُسے شکار پر چھوڑتے وقت بسم اﷲکہہ لی ہے تو کھاؤ جو تمہارے لیے پکڑے''میں نے کہا اگرچہ مار ڈالے فرمایا :''اگرمار ڈالے اور اُس میں سے نہ کھائے تو تمہارے لیے پکڑا ہے۔ ''(6)
حدیث ۸: کتاب الآثار میں امام محمد رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے کہ تمہارے کتّے نے جس چیز کو تمہارے لیے پکڑا ہے اسے کھاؤ اگر وہ سیکھا ہوا ہو پھر اگر اُس کتّے نے اس سے کچھ کھا لیا تو نہ کھاؤ اس لیے کہ اس نے اپنے ہی لیے پکڑا ہے لیکن اگر شکرہ اور باز نے کھا بھی لیا ہے تب بھی کھا سکتے ہو اس واسطے کہ اس کی تعلیم
1 ۔یعنی تیرچوڑائی میں۔
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح...إلخ،باب ما أصاب المعراض بعرضہ،الحدیث:۵۴۷۷،ج۳،ص۵۵۰.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح...إلخ،باب إذاأکل الکلب،ج۳،ص۵۵۲.
4 ۔المرجع السابق،باب صیدالقوس،الحدیث:۵۴۷۸،ج۳،ص۵۵۱.
5 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الصید...إلخ،باب إذا غاب عنہ الصید...إلخ،الحدیث:۹۔(۱۹۳۱)،ص۱۰۶۸.
6 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الصید،باب في الصید،الحدیث:۲۸۵۱،ج۳،ص۱۴۸.
یہ ہے کہ جب تم اُسے بلاؤ تو آجائے اور وہ تمہاری مار کی برداشت نہیں کر سکتا کہ مار کھانا چھڑا دو۔ (1)
حدیث ۹: ابو داود نے اُنہیں(2)سے روایت کی کہتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) میں شکار کو تیر مارتا ہوں اور دوسرے دن اپنا تیر اس میں پاتا ہوں۔ فرمایا کہ ''جب تمہیں معلوم ہو کہ تمہارے تیر نے اُسے مار ا ہے اور اس میں کسی درندہ کا نشان نہ دیکھو توکھا لو۔ ''(3)
حدیث ۱۰: امام احمد نے عبداﷲ بن عَمْرْو رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا :''ایسی چیز کو کھاؤ جس کو تمہاری کمان یا تمہارے ہاتھ نے شکار کیا ہو،ذبح کیا ہو یا نہ کیا ہو اگرچہ وہ آنکھوں سے غائب ہو جائے جب تک اس میں تمہارے تیر کے سوا دوسرا نشان نہ ہو۔ ''(4)
حدیث ۱۱: ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں مجوسی کے کتّے نے جو شکار کیا ہے اُس کی ہمیں ممانعت ہے۔(5)
حدیث ۱۲: امام بخاری نے اپنی صحیح میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، فرماتے ہیں کہ غُلہ(6)مارنے سے جو جانور مر گیا وہ موقوذہ (7)ہے(8)(یعنی اُس کا کھانا حرام ہے)۔
حدیث ۱۳: صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت حسن بصری اور ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جب شکار کو مارا جائے اور اُس کا ہاتھ یا پیر کٹ کر الگ ہو جائے تو الگ ہونے والے کو نہ کھایا جائے اور باقی کوکھا سکتا ہے ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ جب گردن یا وسط ِجسم میں(9)مارو تو کھا سکتے ہو(10) (یعنی گردن جدا ہو جائے یا وسط سے کٹ جائے تو اس ٹکڑے کو بھی کھایا جائے گا)
1 ۔''کتاب الآثار''،کتاب الحظر والاباحۃ،باب صید الکلب،الحدیث: ۸۲۶،ص۱۸۹.
2 ۔یعنی عدی بن حاتم۔
3 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الصید،باب ماجاء في الرجل یرمي الصید...إلخ،الحدیث:۱۴۷۳،ج۳،ص۱۴۵.
ہمارے پاس موجودسنن ابوداؤدکے نسخوں میں یہ روایت نہیں ملی، لیکن اس سے ملتی جلتی روایت ،سنن ابوداؤدہی میں حدیث :۲۸۴۹، ج۳ ،ص ۱۴۷پرمذکور ہے ۔جامع الترمذی میں یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے جبکہ مشکوٰۃ المصابیح ، الحدیث :
۴۰۸۴، ج۲ ،ص۴۲۸پر یہی حدیث سنن ابو داؤد کے حوالے سے حضرت عدی بن حاتم سے مروی ہے۔...علمیہ
4 ۔''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص،الحدیث: ۶۷۳۷،ج۲،ص۶۰۷.
و''کنزالعمال''،کتاب الصید،الحدیث:۲۵۸۱۸،الجزء التاسع،ج۵،ص۱۰۵.
5 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الصید،باب في صیدکلب المجوس،الحدیث:۱۴۷۱،ج۳،ص۱۴۴.
6 ۔مٹی کی گولی (چھوٹاڈھیلا)یا چھوٹاپتھر جسے غلیل میں رکھ کر مارتے ہیں۔
7 ۔وہ جانور جس کو لکڑی وغیرہ سے ضرب لگائی جائے اور وہ چوٹ کھاکرمرجائے۔
8 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح...إلخ،باب صید المعراض،ج۳،ص۵۵۰.
9 ۔ جسم کے درمیان میں۔
10 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح...إلخ،باب صیدالقوس،ج۳،ص۵۵۰.
حدیث ۱۴: طبرانی اور حاکم اور بیہقی و ابن عساکر نے زِر بِن حُبَیْش(1)سے روایت کی انھوں نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سُنا وہ فرماتے ہیں کہ خرگوش کو لکڑی یا پتھر سے مار کر (بغیر ذبح کئے)نہ کھاؤلیکن بھالے(2)اور برچھی(3)اور تیر سے مار کر کھاؤ۔ (4)
حدیث ۱۵: صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جانوروں کی حفاظت اور شکاری کتّے کے سوا جس نے اور کتّا پالا اُس کے عمل سے ہر دن دو قیراط کم ہو جائے گا۔ ''(5)
شکار اُس وحشی جانور کو کہتے ہیں جو آدمیوں سے بھاگتا ہو اور بغیر حیلہ نہ پکڑا جا سکتا ہو اور کبھی فعل یعنی اس جانور کے پکڑنے کو بھی شکار کہتے ہیں۔ حرام و حلال دونوں قسم کے جانور کو شکار کہتے ہیں شکار سے جانور حلال ہونے کے لیے پندرہ۱۵شرطیں ہیں۔ پانچ شکار کرنے والے میں اور پانچ کتّے میں اور پانچ شکار میں:
(1) شکاری ان میں سے ہو جن کا ذبیحہ جائز ہوتا ہے۔
(2) اُس نے کتّے وغیرہ کو شکار پر چھوڑا ہو۔
(3)چھوڑنے میں ایسے شخص کی شرکت نہ ہو جس کا شکار حرام ہو۔
(4) بسم اﷲ قصداً ترک نہ کی ہو۔
(5) چھوڑنے اور پکڑنے کے درمیان کسی دوسرے کام میں مشغول نہ ہوا ہو۔
(6) کتّا معلَّم (سکھایا ہوا)ہو۔
(7) جدھر چھوڑا گیا ہو اُدھر ہی جائے۔
(8) شکار پکڑنے میں ایسا کتّا شریک نہ ہوا ہو جس کا شکار حرام ہے۔
1 ۔بہارشریعت کے نسخوں میں ا س مقام پر'' زر بن جیش ،رزین بن جیش،زرین جیش'' لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ
کتب حدیث میں''زِرْبِن حُبَیْش''مذکورہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں درست کردیاہے ۔ . . . علمیہ
2 ۔نیزہ۔ 3 ۔چھوٹانیزہ۔
4 ۔''المعجم الکبیر''،صفۃعمربن الخطاب،الحدیث۵۱،ج۱،ص۶۵.
و''المستدرک''للحاکم،کتاب معرفۃالصحابۃ،ذکرنسب عمر،الحدیث:۴۵۳۵،ج۴،ص۳۲.
5 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح...إلخ،باب من اقتنی کلباً...إلخ،الحدیث:۵۴۸۰،ج۳،ص۵۵۱.
(9)شکار کو زخمی کر کے قتل کرے۔
(10) اُس میں سے کچھ نہ کھائے۔
(11) شکار حشراتُ الارض میں سے نہ ہو۔
(12)پانی کا جانور ہو تو مچھلی ہی ہو۔
(13) بازوؤں یا پاؤں سے اپنے آپ کو شکار سے بچائے۔
(14) کِیلے (1)یا پنجہ والا جانور نہ ہو۔
(15) شکاری کے وہاں تک پہنچنے سے پہلے ہی مر جائے۔ یعنی ذبح کرنے کا موقع ہی نہ ملا ہو۔
یہ شرائط اُس جانور کے متعلق ہیں جو مر گیا ہو اور اس کا کھانا حلال ہو۔ (2)
مسئلہ ۱: شکار کرنا ایک مباح فعل ہے مگر حرم یا احرام میں خشکی کاجانور شکار کرنا حرام ہے اسی طرح اگر شکار محض لھو کے طور پر ہو تو وہ مباح نہیں۔ (3) (درمختار)اکثر اس فعل سے مقصود ہی کھیل اور تفریح ہوتی ہے اسی لیے عرف عام میں شکار کھیلنا بولا جاتا ہے جتنا وقت اور پیسہ شکار میں خرچ کیا جاتا ہے اگر اس سے بہت کم داموں میں گھر بیٹھے ان لوگوں کو وہ جانور مل جایا کرے تو ہرگز راضی نہ ہوں گے وہ یہی چاہیں گے کہ جو کچھ ہو ہم تو خود اپنے ہاتھ سے شکار کریں گے اس سے معلوم ہوا کہ ان کا مقصد کھیل اور لھو ہی ہے، شکار کرنا جائز و مباح اُس وقت ہے کہ اس کا صحیح مقصد ہو مثلاً کھانا یا بیچنا یا دوست احباب کو ہدیہ کرنا یا اُس کے چمڑے کو کام میں لانا یا اُس جانور سے اذیت کا اندیشہ ہے اس لیے قتل کرنا وغیرہ ذلک۔
مسئلہ ۲: جس جانور کا گوشت حلال ہے اُس کے شکار سے بڑا مقصود کھانا ہے اور حرام جانور کو بھی کسی غرض صحیح سے شکار کرنا جائز ہے مثلاً اس کی کھال یا بال کو کام میں لانا مقصود ہے یا وہ موذی جانور ہے اُس کے ایذا سے بچنا مقصود ہے۔ (4)(شلبیہ)بعض آدمی جنگلی خنزیر کا شکار کرتے ہیں یا شیر وغیرہ کا جنگلوں میں جا کر شکار کرتے ہیں اس غرض سے نہیں کہ لوگوں کو اُن کی اذیت سے بچائیں بلکہ محض تفریح خاطر اور اپنی بہادری کے لیے اس قسم کے شکار کھیلے جاتے ہیں یہ شکار مباح نہیں۔
1 ۔گوشت خورجانوروں کے وہ دونوں بڑے دانت جن کے ذریعے سے وہ گوشت کاٹتے یاشکار پکڑتے ہیں۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصید،الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ وحکمہ،ج۵،ص۴۱۷.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص۵۳،۵۴.
4 ۔''حاشیۃ الشلبی''علی''التبیین الحقائق''،کتاب الصّید،ج۷،ص۱۱۱.
مسئلہ ۳: شکار کو پیشہ بنا لینا اور کسب کا ذریعہ کر لینا جائز ہے بعض فقہا نے اس کو ناجائز یا مکروہ کہا یہ صحیح نہیں کیونکہ کراہت جب ہی ہو سکتی ہے کہ اس کے لیے دلیل شرعی ہو اور دلیل میں یہ کہنا کہ جان مارنے کا پیشہ کر لینا قساوتِ قلب (1)کا سبب ہوتا ہے اس سے بھی کراہت ثابت نہیں، صرف اتنا ہی ثابت ہو گا کہ دوسرے جائز پیشے اس سے بہتر ہیں ورنہ لازم آئے گا کہ قصاب کا پیشہ بھی مکروہ ہو حالانکہ اس کی کراہت کا قول کسی سے منقول نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جنگلی جانور کو جو شخص پکڑے اُس کی مِلک ہو جاتا ہے پکڑنا حقیقۃً ہو یا حکماً، حکماً کی صورت یہ ہے کہ جو چیز شکار کے لیے موضوع ہو اس کا استعمال کرے اور استعمال سے مقصود شکار کرنا نہ ہو لہٰذا اگر جال تانا اور اُس میں جانور پھنس گیا تو جال والے کا ہو گیا، جال اسی مقصد سے تانا ہو یا کچھ مقصد نہ ہو ہاں اگر کھانے کے لیے تانا تو اس کی مِلک نہیں جب تک پکڑ نہ لے۔ حکماً پکڑنے کی دوسری صورت یہ ہے کہ جو چیز شکار کے لیے موضوع نہ ہو اُس کو بقصد شکار استعمال کرے مثلاً شکار پکڑنے کے لیے دیرہ نصب کیا(3)اور اس میں شکار آگیا اور بند ہو گیا تو دیرہ والا مالک ہو گیا یا مکان کا دروازہ اس غرض سے کھول رکھا تھا اُس میں ہرن آگیا اور دروازہ بند کر لیا۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: جال تانا تھا اس میں شکار پھنسا، کسی دوسرے نے اس کو پکڑ لیا تو شکار والے کا ہے اُس کا نہیں جس نے پکڑ لیا ہاں اگر وہ جال سے نکل کر بھا گ گیا یا اُڑ گیا اور دوسرے نے پکڑ لیا تو اسی پکڑنے والے کا ہے جال والے کا نہیں اور اگر جال میں پھنسا اور جال والے نے پکڑلیا پھر اس سے چھوٹ کر بھاگا اور دوسرے نے پکڑا تو جال والے ہی کا ہے کہ پکڑنے سے اس کی مِلک ہو گیا اور بھاگنے سے مِلک نہیں جاتی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: پانی کاٹ کر اپنی زمین میں لایا اس غرض سے پانی کے ساتھ مچھلیاں آئیں گی اور اُن کو شکار کریگا پانی کے ساتھ مچھلیاں آئیں اور پانی جاتا رہا مچھلیاں زمین پر پڑی ہیں یا تھوڑا سا پانی باقی ہے کہ بغیر شکار کئے مچھلیاں ویسے ہی پکڑی جاسکتی ہیں یہ مچھلیاں زمین والے کی ہیں دوسرا شخص ان کو نہیں پکڑ سکتا جو پکڑے گا اُسے تاوان دینا ہوگا اور اگر پانی زیادہ ہے کہ بغیر شکار کئے مچھلیاں ہاتھ نہیں آتیں تو جو چاہے پکڑ لے تو یہی پکڑنے والا مالک ہے۔(6) (عالمگیری)
1 ۔دل کی سختی۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص۵۴.
3 ۔خیمہ لگایا۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص۵۵.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب الثانی فی بیان ما یملک بہ الصید...إلخ،ج۵،ص۴۱۸.
6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۷: ایک شخص نے پانی میں جال ڈالا دوسرے نے شص (1)پھینکی مچھلی جال میں آئی اور اُس نے شِص کو بھی پکڑلیا اگر جال کے باریک حصہ میں آ چکی ہے تو جال والے کی ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: پانی میں کانٹا ڈالا مچھلی پھنسی اس نے باہر پھینکی خشکی میں گری اور ایسی جگہ گری کہ یہ اُس کے پکڑنے پرقادرہے پھر تڑپ کر پانی میں چلی گئی تو یہ شخص اُس کا مالک ہو گیا اور اگر باہر نکالنے سے پہلے ہی ڈورا ٹوٹ گیا تو مالک نہ ہوا۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: کسی شخص نے گڑھا کھودا تھا اس میں شکار آکر گرا تو جو شخص پکڑ لے اسی کا ہے اور اگر گڑھا کھودنے سے مقصود ہی یہ تھا کہ اس میں شکار گرے گا اور پکڑوں گا تو شکار اسی کا ہے دوسرے کو اس کا پکڑنا جائز نہیں۔(4) (خانیہ)
مسئلہ ۱۰: کوآں کھودا تھا اور یہ مقصد نہ تھا کہ اس کے ذریعہ سے شکار پکڑے گا اس میں شکار گرا اگر کوئیں والا وہاں سے قریب ہے کہ ہاتھ بڑھا کر شکار پکڑ سکتا ہے اسی کا ہے دوسرا شخص نہیں پکڑ سکتا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: پھندے میں شکار پھنسا مگر رسی توڑا کر بھاگا دوسرے نے پکڑ لیا تو اسی کا ہے اور اگر پھندے والا اتنا قریب آچکاتھاکہ ہاتھ بڑھاکرپکڑسکتاہے اتنے میں شکارنے رسی توڑائی اوردوسرے نے پکڑلیاتوپھندے والے کاہے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: کسی کے مکان میں دوسرے لوگوں کے کبوتروں نے انڈے بچے کئے تو یہ انڈے بچے اُسی کے ہیں جس کے کبوتر ہیں دوسرے لوگوں کو یا مالک مکان کو ان کا پکڑنا اور رکھنا جائز نہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: شکار کو مارا وہ زخمی نہیں ہو ا مگر چوٹ سے بیہوش ہو گیا تھوڑی دیر بعد اُٹھ کے بھاگا اب دوسرے شخص نے مارا اور پکڑ لیا تو اسی دوسرے کا ہے اور اگر بے ہوشی میں پہلے شخص نے پکڑ لیا تھا تو پہلے کا ہے اور اگر شکار زخمی ہو گیا تھا مگرپہلے نے پکڑا نہیں کچھ دنوں بعد اچھا ہو گیا پھر دوسرے نے مارا اور پکڑا تو اس کا نہیں پہلے ہی شخص کا ہے۔(8) (عالمگیری)
1 ۔مچھلی پکڑنے کاکانٹا۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب الثانی فی بیان ما یملک بہ الصید...إلخ،ج۵،ص۴۱۸.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصّید،ج۲،ص۳۳۷.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب الثانی فی بیان ما یملک بہ الصید...إلخ،ج۵،ص۴۱۸.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص۵۵.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب الثانی فی بیان ما یملک بہ الصید... إلخ،ج ۵،ص۴۱۹.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱۴: شکار کی مِلک (1)کے متعلق یہ چند جزئیات اس لیے ذکر کئے کہ شکاریوں کو شکار کے لینے میں اس قدر شغف (2)ہوتا ہے کہ وہ بالکل اس بات کا لحاظ نہیں رکھتے کہ یہ چیز ہمیں لینی جائز بھی ہے یا نہیں، ان مسائل سے اُن کو یہ کرنا چاہیے کہ کس صورت میں ہماری مِلک ہے اور کس صورت میں دوسرے کی، تاکہ اپنی مِلک نہ ہو تو لینے سے بچیں۔
مسئلہ ۱: ہر درندہ جانور سے شکار کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ نجس العین نہ ہو اور اُس میں تعلیم کی قابلیت ہو اور اُسے سکھا بھی لیا ہو۔ درندہ کی دو قسمیں ہیں۔ (۱)چوپایہ جیسے کتّا وغیرہ جس میں کِیلا ہوتا ہے، (۲)پنجہ والا پرند جیسے باز، شکرا وغیرہ۔ جس درندہ میں قابلیت تعلیم نہ ہو اس کا شکار حلال نہیں مگر اس صورت میں کہ شکار پکڑ کر ذبح کر لیا جائے لہٰذا شیر اور ریچھ سے شکار حلال نہیں کہ ان دونوں میں تعلیم کی قابلیت ہی نہیں۔ شیر اپنی علو ہمت (3)اور ریچھ اپنی دنات(4)اور خساست (5)کی وجہ سے تعلیم کی قابلیت نہیں رکھتے، بعض فقہا نے چیل کو بھی قابل تعلیم نہیں مانا ہے کہ یہ بھی اپنی خساست کی وجہ سے تعلیم نہیں حاصل کرتی۔ (6)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۲: کتّا چیتا وغیرہ چوپایہ کے معلّم ہونے (7)کی علامت یہ ہے کہ پے درپے تین مرتبہ ایسا ہو کہ شکار کو پکڑے اور اُس میں سے نہ کھائے تو معلوم ہو گیا کہ یہ سیکھ گیا اب اس کے بعد جو شکار کریگا اور وہ مر بھی جائے تو اُس کا کھانا حلال ہے بشرطیکہ دیگر شرائط بھی پائے جائیں کہ اس کا پکڑنا ہی ذبح کے قائم مقام ہے اور شکرا باز وغیرہ شکاری پرندکے معلم ہونے کی پہچان یہ ہے کہ اُسے شکار پر چھوڑا اس کے بعد واپس بلا لیا تو واپس آجائے اگر واپس نہ آیا تو معلوم ہوا کہ ابھی تمہارے قابو میں نہیں ہے معلم نہیں ہوا۔ (8)(ہدایہ)
1 ۔یعنی ملکیت۔ 2 ۔دلچسپی،مشغولیت۔
3 ۔بلند ہمتی۔ 4 ۔کمینگی۔
5 ۔کمینہ پن۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصّید،فصل فی الجوارح،ج۲،ص۴۰۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص۵۶.
7 ۔یعنی سکھائے ہوئے ۔
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصید،فصل فی الجوارح،ج۲،ص۴۰۱،۴۰۲.
مسئلہ ۳: کتّے نے شکار پکڑنے کے بعد اُس کاگوشت نہیں کھایا مگر خون پی لیا تو کوئی حرج نہیں، شکرے باز وغیرہ پرند شکاریوں نے اگر گوشت میں سے کچھ کھا لیا تو جانور حلال ہے کہ یہ بات اُس کے معلم ہونے کے خلاف نہیں اور اگر مالک نے شکار میں سے ٹکڑا کاٹ کر کتّے کو دیا اور اُس نے کھا لیا تو مابقی(1)گوشت کھایا جائے گا کہ اس صورت میں اُس نے خود نہیں کھایا مالک نے کھلایا تب کھایا،اسی طرح اگر مالک نے شکار کو محفوظ کر لیا اُس کے بعد کتّے نے اُس میں سے چھین جھپٹ کر کچھ کھا لیا تومابقی گوشت جائز ہے کہ یہ بات اُس کے معلم ہونے کے خلاف نہیں۔ (2)(زیلعی)
مسئلہ ۴: کتّے کو شکار پر چھوڑا اس نے شکار کی بوٹی کاٹ لی اور اُسے کھا لیا اس کے بعد شکار کو پکڑا اور مار ڈالا تو یہ شکار حرام ہے کہ جب کتّے نے کھالیا تو معلم نہ رہا اور اُس کا مارا ہوا شکار حلال نہیں اور اگرکتّے نے بوٹی کاٹ لی مگر اُس کو کھایا نہیں چھوڑ دیا اورشکار کا پیچھا کیا شکار پکڑنے کے بعد جب مالک نے شکار پر قبضہ کر لیا اب کتّے نے وہ بوٹی کھائی تو جانور حلال ہے۔(3)(زیلعی)
مسئلہ ۵: یہ ضروری ہے کہ شکاری جانور نے شکار کو زخمی کر کے مارا ہو محض دبوچنے سے مر گیا ہو توکھانا حلال نہیں، کسی خاص جگہ پر زخم کرنا ضروری نہیں بلکہ جس کسی مقام پر گھائل (4)کر دیا ہو حلال ہونے کے لئے کافی ہے۔ (5)(زیلعی)شکرا اپنے مالک کے پاس سے اُڑ گیا ایک مدّت کے بعد پھر آگیا مالک نے اس سے شکار کیا تو بغیر ذبح یہ شکار حلال نہیں کہ بھاگ جانے سے وہ معلم نہ رہا اب پھر جب تک اُس کا معلم ہونا ثابت نہ ہو جائے اُس کا مارا ہوا شکار حلال قرار نہیں پائے گا۔ (6)(زیلعی)
مسئلہ ۶: جو کتّا معلم(7)ہو چکا تھا جب کبھی شکار میں سے کچھ کھا لے گا وہ شکار حرام ہے بلکہ اُس کے بعد کے شکاربھی حرام ہیں بلکہ اس سے پہلے کا شکار جو ابھی محفوظ ہے وہ بھی حرام ،ہاں جو کھایا جا چکا ہے اس کو حرام نہیں کہا جا سکتا، اس کتّے کو پھر سے سکھانا ہو گا کیونکہ شکار میں سے کھانے کی وجہ سے معلم نہ رہا جاہل ہو گیا اب اس کا شکار اُس وقت حلال ہو گا کہ سکھا لیا جائے۔ (8)(ہدایہ)
1 ۔بچا ہوا۔
2 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الصید،ج۷،ص۱۱۵،۱۱۷.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔گہرازخم۔
5 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الصید،ج۷،ص۱۱۷،۱۱۸.
6 ۔المرجع السابق،ص۱۱۴.
7 ۔یعنی سکھایاہوا۔
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصید،فصل فی الجوارح،ج۲،ص۴۰۲،۴۰۳.
مسئلہ ۷: مسلم یا کتابی نے بسم اﷲپڑھ کر شکاری جانور کو شکار پر چھوڑا تب مرا ہوا شکار حلال ہو گا، اگر مجوسی یا بت پرست یا مرتد نے چھوڑا تو حلال نہیں جس طرح ان کا ذبیحہ حلال نہیں اگرچہ انہوں نے بسم اﷲ پڑھی ہو اور اگر جانور کو چھوڑا نہیں بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ شکار پر دوڑ پڑا اور پکڑ کر مار ڈالا یہ شکارحلال نہیں۔(1)یوہیں اگر یہ معلوم نہ ہو کہ کسی نے چھوڑا یا خود ہی جا کر پکڑ لایا ،یہ معلوم نہیں کہ کس نے مسلم نے یا مجوسی نے، تو جانور حلال نہیں۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: شکار پر چھوڑتے وقت بسم اﷲ پڑھنا بھول گیا تو جانورحلال ہے جس طرح ذبح کرتے وقت اگر بسم اﷲ پڑھنا بھول گیا تو حلال ہے، حرام اُس وقت ہے جب قصداً نہ پڑھے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۹: شکار پر چھوڑتے وقت قصداً بسم اﷲ نہیں پڑھی بلکہ جب کتّے نے جانور پکڑا اس وقت بسم اﷲپڑھی جانور حلال نہ ہوا کہ بسم اﷲپڑھنا اُس وقت ضروری تھا اب پڑھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: مسلم نے شکار پر کتّا چھوڑامجوسی یا ہندو نے کتّے کو شہ دی (5)جیسا کہ شکار کرتے وقت کتّے کو جوش دلاتے ہیں اُس کے شہ دینے پر جوش میں آیا اور شکار مارا یہ حلال ہے اور اگر مجوسی نے چھوڑا اور مسلم نے شہ دی تو حرام ہے یعنی کتّا چھوڑنے کا اعتبار ہے اس کا اعتبار نہیں کہ کس نے جوش دلایا، اسی طرح اگر محرم نے(6)شہ دی اور شکار پر جانور اُس نے چھوڑا ہے جو احرام نہیں باندھے ہوئے ہے تو جانور حلال ہے مگر محرم کواس صورت میں شکار کا فدیہ دینا ہو گا کہ اُس کو شکار میں مداخلت جائز نہیں۔ (7)(زیلعی)
مسئلہ ۱۱: کتّا چھوڑا نہیں گیا بلکہ وہ خود چھوٹ گیا اور اپنے آپ شکار پر دوڑ پڑا کسی مسلم نے اس کو شہ دی اس سے جوش میں آیا اور شکار کو مارا یہ شکار حلا ل ہے اس صورت میں شہ دینا وہی چھوڑنے کے قائم مقام ہے،ان باتوں میں شکرے اور باز کا بھی وہی حکم ہے جو کتّے کا ہے۔(8) (زیلعی)
1 ۔بہارشریعت کے نسخوں میں اس مقام پر'' حرام نہیں'' لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ردالمحتار میں ہے '' اوراگر جانور کو چھوڑ ا
نہیں بلکہ وہ خودہی اپنے آپ شکارپردوڑپڑااورپکڑکرمارڈالایہ شکارحلال نہیں''،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص۵۹.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص۵۹،۶۰.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص ۵۹.
5 ۔ یعنی کتے کو شکار پراُبھارا۔ 6 ۔احرام باندھے ہوئے شخص نے۔
7 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الصید،ج۷،ص۱۲۰.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱۲: کتّے کو شکار پر چھوڑا اُس نے کئی پکڑلیے سب حلال ہیں اور جس شکار پر چھوڑا اس کو نہیں پکڑا دوسرے کو پکڑا یہ بھی حلال ہے اوراگرکتّے کو شکار پر نہ چھوڑا ہو بلکہ کسی اور چیز پر چھوڑا اور اُس نے شکار مارا یہ حلال نہیں کہ یہاں شکار کرنا ہی نہیں ہے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: شکاری جانور کو وحشی جانور (2)پر چھوڑنا شکار ہے اگر پلاؤ اور مانوس جانور پر کتّا چھوڑا جائے اور وہ مار ڈالے تو یہ جانور حلال نہیں ہو گا کہ ایسے جانوروں کے حلال ہونے کے لیے ذبح کرنا ضروری ہے ذکاۃ اضطراری یہاں کافی نہیں ہے (3)۔(4)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: کتّے کے ساتھ اگر شکار کرنے میں دوسرا کتّا جس کا شکار حلال نہ ہو شریک ہو گیا تو یہ شکار حلال نہ ہو گا مثلاً دوسرا کتّا جو معلم نہ تھا اُس کی شرکت میں شکار ہوا یا مجوسی کے کتّے کی شرکت میں شکار ہوا یا دوسرے کو کسی نے چھوڑا ہی نہیں ہے اپنے آپ شریک ہو گیا اُس دوسرے کے چھوڑنے کے وقت قصداً بسم اﷲچھوڑ دی ان سب صورتوں میں وہ جانور مردار ہے اس کا کھانا حرام ہے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: یہ بھی ضروری ہے کہ کتّے کو جب شکار پر چھوڑا جائے فوراً دوڑ پڑے طویل وقفہ نہ ہونے پائے ورنہ جانور حلال نہ ہو گا، طول وقفہ کا یہ مطلب ہے کہ دوسرے کام میں مشغول نہ ہو مثلاً چھوڑنے کے بعد پیشاب کرنے لگا یاکچھ کھانے لگا اس صورت میں شکار حلال نہیں۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: چھوڑنے کے بعد کتّا شکار پر دوڑا مگر بعد میں شکار سے دہنے یا بائیں کو مڑ گیا یا شکار کی طلب کے سوا کسی دوسرے کام میں لگ گیا یا سُست پڑ گیا پھر کچھ وقفہ کے بعد شکار کا پیچھا کیا اور جانور کو مارا اس کا کھانا حلال نہیں ہاں ا ن صورتوں میں اگر کتّے کو پھر سے چھوڑا جاتا تو جانور حلال ہوتا یا مالک کے للکارنے سے شکار پر جھپٹتا اور مارتا تو کھایا جاتا۔ (7)(ردالمحتار)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الصید،ج۱۰،ص ۶۰.
2 ۔یعنی جنگلی جانور۔
3 ۔بہارشریعت کے نسخوں میں اس مقام پر'' ذکاۃاضطراری یہاں کافی ہے'' لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل(درمختار) میں یہ ہے''ذکاۃاضطراری یہاں کافی نہیں'' ،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص ۶۰.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص۶۱.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص۶۱.
مسئلہ ۱۷: اگر کتّے کا رُک جانا یا چھپ جانا آرام طلبی کے لئے نہ ہو بلکہ شکار کرنے کا یہ حیلہ داؤں ہو(1)جس طرح چیتا شکار کو گھات سے(2)پکڑتا ہے اس میں حرج نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: شکار اگر زندہ مل گیا اور ذبح کرنے پر قدرت ہے تو ذبح کرنا ضروری ہے کہ ذکاۃ اضطراری مجبوری کی صورت میں ہے اور یہاں مجبوری نہیں ہے اور اگر جانور اُس کو زندہ ملا مگر یہ اُس کے ذبح پر قدرت نہیں رکھتا ہے کہ وقت تنگ ہے یا ذبح کا آلہ موجود نہیں ہے اس کی دو صورتیں ہیں اگر جانور میں حیاۃ (4)اتنی باقی ہے جو مذبوح (5)سے زیادہ ہے تو حرام ہے ورنہ جائز ہے۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۹: شکار تک پہنچ گیا ہے مگر اسے پکڑتا نہیں اگر اتنا وقت ہے کہ پکڑ کر ذبح کر سکتا تھا مگر کچھ نہیں کیا یہاں تک کہ مر گیا تو جانورنہ کھایا جائے اور وقت اتنا نہیں ہے کہ ذبح کر سکے تو حلال ہے۔(7) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۰: کتّے کو شکار پر چھوڑا اُس نے ایک شکار مارا پھر دوسرا مارا دونوں حلال ہیں اور اگر پہلا شکار کرنے کے بعد دیر تک رُکا رہا پھر دوسرا مارا تو دوسرا حرام ہے کہ پہلے شکار کے بعد جب وقفہ ہوا تو شکار پر چھوڑنا دوسرے کے بارے میں نہیں پایا گیا۔(8) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۱: معلم کتّے کے ساتھ دوسرے کتّے نے شرکت کی جس کا شکار حرام ہے مگر اُس نے شکار کرنے میں شرکت نہیں کی ہے بلکہ یہ کتّا گھیر گھار کر(9)شکار کو ادھر لایا اور پہلے ہی کتّے نے شکار کو زخمی کیا اور مارا ہوتو اس کا کھانا مکروہ ہے اور اگر دوسرا کتّا گھیر کر ادھر نہیں لایا بلکہ اُس نے پہلے کتّے کو دوڑایا اور اُس نے شکار کو دوڑا کر زخمی کیا اور مارا تو یہ شکار حلال ہے۔ (10)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۲: مسلم نے کتّے کو بسم اﷲ پڑھ کر چھوڑا اُس نے شکار کو جھنجھوڑا یعنی اچھی طرح زخمی کیا اُس کے بعد پھر حملہ کیا
1 ۔یعنی شکار کو دھوکا دینا ہو۔ 2 ۔چھپ کر ،دھوکا دے کر۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص ۶۱.
4 ۔زندگی ،سانس۔ 5 ۔ذبح کیا ہوا ۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصید،فصل فی الجوارح،ج۲،ص۴۰۳،۴۰۴.
7 ۔المرجع السابق،ص۴۰۴. 8 ۔المرجع السابق،ص۴۰۵.
9 ۔گھیرا ڈال کر۔
10 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصید،فصل فی الجوارح،ج۲،ص۴۰۵،۴۰۶.
اور مار ڈالا یہ شکار حلال ہے اسی طرح اگر دو کتّے چھوڑے ایک نے اُسے جھنجھوڑا اور دوسرے کتّے نے مار ڈالا یہ شکار بھی حلال ہے، یونہی اگر دو شخصوں نے بسم اﷲکہہ کر دو کتّے چھوڑے ایک کے کتّے نے جھنجھوڑ ڈالا اور دوسرے کے کتّے نے مار ڈالا یہ جانور حلال ہے کھایا جائے گا مگر مِلک پہلے شخص کی ہے دوسرے کی نہیں کیونکہ پہلے نے جب اُسے گھائل کر دیا اور بھاگنے کے قابل نہ رہا اُسی وقت اُس کی مِلک ہو چکی۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۳: ایک کتّے نے شکار کو پچھاڑ لیا(2)اور شکار کی حد سے خارج ہو گیا اب اُس کے بعد دوسرے شخص نے اُسی جانور پر اپنا کتّا چھوڑا اور اُس کتّے نے مار ڈالا حرام ہے، کھایا نہ جائے کہ جب وہ جانور بھاگ نہیں سکتا تو اگر موقع ملتا ذبح کیا جاتا ایسی حالت میں ذکاۃ اضطراری نہیں ہے لہٰذا حرام ہے۔ (3)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۴: شکار کی دوسری نوع(4)تیر وغیرہ سے جانور مارنا ہے اس میں بھی شرط یہ ہے کہ تیر چلاتے وقت بسم اﷲپڑھے اور تیر سے جانور زخمی ہو جائے ایسا نہ ہو کہ تیر کی لکڑی جانور کو لگی اور اس سے دب کر مر گیا کہ اس صورت میں وہ جانور حرام ہے۔(5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۵: شکار اگر غائب ہو گیا کتّے کا ہو یا تیر کا تو یہ اس وقت حلال ہو گا کہ شکاری برابر اس کی جستجو(6)جاری رکھے بیٹھ نہ رہے اور اگر بیٹھ رہا پھر شکار مرا ہواملا تو حلال نہیں اور پہلی صورت میں یہ بھی ضروری ہے کہ شکار میں تمہارے تیر کے سوا کوئی دوسرا زخم نہ ہو ورنہ حرام ہو جائے گا۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۲۶: شکار کے حلال ہونے کے لیے یہ ضرور ہے کہ کتّا چھوڑنے یا تیر چلانے کے بعد کسی دوسرے کام میں مشغول نہ ہو بلکہ شکار اور کتّے کی تلاش میں رہے، اگر نظر سے شکار غائب ہو گیا پھر دیر کے بعد ملا اور اُس کی دو صورتیں ہیں اگر جستجو جاری رکھی اور شکار کو مرا ہوا پایا اور کتّا بھی شکار کے پاس ہی تھا تو کھایا جا سکتا ہے اور اگر کتّا وہاں سے چلا آیا ہے تو نہ کھایا
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصید،فصل فی الجوارح،ج۲،ص۴۰۶.
2 ۔شدید زخمی کر دیا، گرادیا۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصید،فصل فی الجوارح،ج۲،ص۴۰۶.
4 ۔یعنی دوسری قسم۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص ۶۴،وغیرہ.
6 ۔تلاش۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص ۶۴.
جائے اور اگر شکار کی تلاش میں نہ رہا کسی دوسرے کام میں مشغول ہو گیا پھر شکار کو پایا مگر معلوم نہیں کہ کتّے نے زخمی کیا ہے یا کسی دوسری چیز نے تو نہ کھایا جائے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: شکار کی آہٹ محسوس ہوئی اور اُس شخص کو یہی گمان ہے کہ یہ شکار کی آہٹ ہے اُس نے کتّا یا باز چھوڑ دیا یا تیر چلا دیا اور شکار کو مارا یہ جانور حلال ہے جبکہ بعد میں یہی ثابت ہو کہ یہ آہٹ شکار ہی کی تھی کہ اُس کا یہ فعل شکار کرنا قرار پائے گا اگرچہ شکار کو آنکھ سے دیکھا نہ ہو، اوراگر بعد میں یہ پتہ چلا کہ وہ شکار کی آہٹ نہ تھی کسی آدمی کی پہل چل تھی(2)یا گھریلو جانور کی تھی تو وہ شکار حلال نہیں کہ جس چیز پر کتّا چھوڑا یا تیر چلایا وہ شکار نہ تھا لہٰذا شکار کرنانہ پایا گیا۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۸: پرند پر تیر چلایا وہ تو اُڑ گیا دوسرے شکار کو لگا یہ حلال ہے اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ وہ پرند جس پر تیر چلایا تھا وحشی ہے یا نہیں۔ چونکہ پرند میں غالب یہی ہے کہ وحشی ہو اور اگر اونٹ پر تیر چلایا وہ اونٹ کو نہیں لگا بلکہ کسی شکار کو لگا اس کی دو صورتیں ہیں اگر معلوم ہے کہ اونٹ بھاگ گیا ہے کسی طرح قابو میں نہیں آتا یعنی وہ اس حالت میں ہے کہ اُس کا ذَبح اضطراری ہوسکتا ہے تو وہ شکار حلال ہے اور اگر یہ پتہ نہ ہو تو شکار حلال نہیں کہ اس کا یہ فعل شکار کرنا نہیں ہے۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۹: جس جانور کو تیر سے مارا اگر زندہ مل گیا تو ذبح کرے بغیر ذبح کئے حلال نہیں،یہی حکم کتّے کے شکار کا بھی ہے یہاں حیاۃ سے مراد یہ ہے کہ اُس کی زندگی مذبوح سے کچھ زیادہ ہو اور مُترَدِّیہ(5)و نطیحہ(6)و موقوذہ (7)و مریضہ(8)وغیرہا میں مطلقاً زندگی مراد ہے یعنی اگر ان جانوروں میں کچھ بھی زندگی باقی ہے اور ذبح کر لیا تو حلال ہے۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۳۰: بسم اﷲپڑھ کر تیر چھوڑا ایک شکار کو چھیدتا ہوا دوسرے کو لگا دونوں حلال ہیں اور اگر ہوانے تیر کا رُخ بدل دیا اس کو دہنے یا بائیں کو موڑ دیا اوراس صورت میں شکار کو(10)لگا تو نہیں کھایا جائے گا۔(11) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب الثالث فی شرائط الاصطیاد،ج۵،ص۴۲۱،۴۲۲.
2 ۔یعنی قدموں کی چاپ تھی۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصّید،فصل فی الرمی،ج۲،ص۴۰۶،۴۰۷.
4 ۔المرجع السابق،ص۴۰۷.
5 ۔وہ جانور جو گر کرمرا ہو۔ 6 ۔وہ جانور جوکسی جانور کے سینگ مارنے کی وجہ سے مرگیا ہو۔
7 ۔وہ جانور جو لکڑی یاپتھر کی چوٹ سے مرا ہو۔ 8 ۔بیمار جانور۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص ۶۵،۶۸.
10 ۔یعنی کسی دوسرے شکارکو۔
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب الرابع فی بیان شرائط الصّید،ج۵،ص۴۲۴.
مسئلہ ۳۱: تیر شکار پر چلایا وہ درخت یا دیوار پر لگا اور لوٹا پھر شکار کو لگا یہ جانور حلال نہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: مسلم کے ساتھ مجوسی نے بھی کمان پر ہاتھ رکھ دیا اور اس کے ساتھ اس نے بھی کھینچا تو شکار حرام ہے یہ ویسا ہی ہے جیسے ذبح کرتے وقت مجوسی نے بھی چھری کو چلا یا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: شکار حلال ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی موت دوسرے سبب سے نہ ہو یعنی کتّے یابازیاتیر وغیرہ جس سے شکار کیا اسی سے مرا ہو اور اگر یہ شبہ ہو کہ دوسرے سبب سے اس کی موت ہوئی تو حلال نہیں مثلاً زخمی ہوکروہ جانور پانی میں گرا،یا اونچی جگہ پہاڑ یا ٹیلے سے لڑھکا اور یہ احتمال ہے کہ پانی کی وجہ سے یا لڑھکنے سے مرا ہے تو نہ کھایا جائے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: تیر سے شکار کومارا وہ اُوپر سے زمین پر گرا ،یا وہاں اینٹیں بچھی ہوئی تھیں ان پر گرا اور مر گیا یہ شکار حلال ہے اگرچہ یہ احتمال ہے کہ گرنے سے چوٹ لگی اور مر گیاہو اس احتمال کا اعتبار نہیں کہ اس احتمال سے بچنے کی صورت نہیں اور اگر پہاڑ پر یا پتھر کی چٹان پر گرا پھر لڑھک کر زمین پر آیا اور مرا، یا درخت پر گرا،یا نیزہ کھڑا ہوا تھا اُس کی اَنی پر(4)گرا،یاپکی اینٹ کی کور (5)پر گرا ان سب کے بعد پھر زمین پر گرا اور مر گیا تو نہ کھایا جائے کہ ہو سکتا ہے اُن چیزوں پر گرنے کی وجہ سے مراہو۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: مرغابی کو تیر مارا وہ پانی میں گری اور مر گئی اگراس کا زخم پانی میں ڈوب گیا ہے تو نہ کھائی جائے اور نہیں ڈوبا ہے تو کھائی جائے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۳۶: پانی وغیرہ میں گرنے سے مرنا یہ اُس وقت معتبر ہے جبکہ شکار کو ایسا زخم پہنچا ہے کہ ہو سکتا تھا ابھی نہ مرتا تو کہا جا سکتا ہے کہ شاید اس وجہ سے مرا ہو اور اگر کاری زخم(8)لگا ہے کہ بچنے کی اُمید ہی نہیں ہے اُس میں زندگی کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا مذبوح میں ہوتا ہے تو اس کا کھانا جائز ہے مثلاً سر جدا ہو گیا اورابھی زندہ ہے اور پانی میں گرا اور مرا اس صورت میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پانی میں گرنے سے مرا۔ (9)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب الرابع فی بیان شرائط الصّید،ج۵،ص۴۲۴.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص۴۲۶،۴۲۷.
4 ۔نیزے کی نوک پر۔ 5 ۔کنارہ،سرا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب الرابع فی بیان شرائط الصّید،ج۵،ص۴۲۷.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص۷۰.
8 ۔گہرازخم۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب الرابع فی بیان شرائط الصّید،ج۵،ص۴۲۷.
مسئلہ ۳۷: شکار اگر زمین کے سوا کسی اور چیز پر گر کر مرا اگر وہ چیز مسطح ہے(1)مثلاً چھت یا پہاڑ پر گر کر مر گیا تو حلال ہے کہ اُس پر گرنا ویسا ہی ہے جیسے زمین پر گرنا اور اگر مسطح چیز پر نہ ہو مثلاً نیزہ پر یا اینٹ کی کورپر(2)یا لاٹھی کی نوک پر تو حرام ہے۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: غلیل سے شکار کیا اور جانور مر گیا تو کھایا نہ جائے اگرچہ جانور مجروح(4)ہو گیا ہو کہ غلیلہ کاٹتا نہیں بلکہ توڑتا ہے یہ موقوذہ ہے جس طرح تیر مارا اور اس کی نوک نہیں لگی بلکہ پٹ ہو کر(5)شکار پر لگا اور مر گیا جس کی حدیث میں حرمت مذکور ہے۔ (6)(ہدایہ)
مسئلہ ۳۹: بندوق کا شکار مرجائے یہ بھی حرام ہے کہ گولی یا چھَرا بھی آلہ جارحہ نہیں(7)بلکہ اپنی قوت مدافعت کی وجہ سے توڑا کرتا ہے۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: دھار دار پتھر سے مارا اگر پتھر بھاری ہے تو کھایا نہ جائے کیونکہ اس میں اگر یہ احتمال ہے کہ زخمی کرنے سے مرا تویہ احتمال بھی ہے کہ پتھر کے بوجھ سے مرا ہو اور اگر وہ ہلکا ہے تو کھایا جائے کہ یہاں مرنا جراحت کی وجہ سے ہے۔(9) (ہدایہ)
مسئلہ ۴۱: لاٹھی یا لکڑی سے شکار کو مار ڈالا تو کھایا نہ جائے کہ یہ آلہ جارحہ نہیں بلکہ اس کی چوٹ سے مرتا ہے اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جانور کا مرنا اگر جراحت سے ہونا(10)یقینا معلوم ہو تو حلال ہے اور اگر ثقل(11)اور دَبتے سے(12)ہو تو حرام ہے اورا گر شک ہے کہ جراحت سے ہے یا نہیں تو احتیاطاً یہاں بھی حرمت ہی کا حکم دیا جائے گا۔ (13)(ہدایہ)
1 ۔یعنی ہموار ہے۔ 2 ۔اینٹ کے کنارے پر۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب الرابع فی بیان شرائط الصّید،ج۵،ص۴۲۷.
4 ۔زخمی۔ 5 ۔ یعنی چوڑائی میں۔
6 ۔''الھدایۃ،کتاب الصید،فصل فی الرمي،ج۲،ص۴۰۸.
7 ۔یعنی دھاردار آلے کی طرح کاٹ کر زخمی نہیں کرتا۔
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب الصید،ج۱۰،ص۶۹.
9 ۔''الھدایۃ،کتاب الصید،فصل فی الرمي،ج۲،ص۴۰۸.
10 ۔یعنی کٹے ہوئے زخم سے مرنا۔
11 ۔بوجھ کی وجہ سے۔ 12 ۔کسی چیز کے نیچے دبنے کی وجہ سے۔
13 ۔''الھدایۃ،کتاب الصید،فصل فی الرمي،ج۲،ص۴۰۸.
مسئلہ ۴۲: چھری یا تلوار سے مارا اگر اس کی دھار سے زخمی ہو کر مر گیا تو حلال ہے اور اگر الٹی طرف سے لگی یا تلوار کا قبضہ یا چھری کادستہ لگا تو حرام ہے۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ۴۳: شکار کو مارا اُ س کا کوئی عضو کٹ کر جدا ہو گیا تو شکار کھایا جائے اور وہ عضو نہ کھایا جائے جب کہ اُس عضو کے کٹ جانے سے جانور کا زندہ رہنا ممکن ہو اور اگر نا ممکن ہو تو وہ عضو بھی کھایا جا سکتا ہے اور اگر جانور کو مارا اُس کے دو ٹکڑے ہو گئے اور دونوں برابر نہیں دونوں کھائے جائیں اور ایک ٹکڑا ایک تہائی ہے دوسرا دو تہائی اور یہ بڑا ٹکڑا دُم کی جانب کا ہے جب بھی دونوں کھائے جائیں اور اگر بڑا ٹکڑا سر کی طرف کا ہے تو صرف یہ بڑا ٹکڑا کھایا جائے دوسرا نہ کھایا جائے،اور اگر سر آدھا یا آدھے سے زیادہ کٹ کر جدا ہو گیا تو یہ ٹکڑا بھی کھا یا جا سکتا ہے۔ (2)(ہدایہ، عنایہ)
مسئلہ ۴۴: شکار کا ہاتھ یا پاؤں کٹ گیا مگر جدا نہ ہوا اگر اتنا کٹا ہے کہ جڑ جانا ممکن ہے اور وہ شکار مر گیا تو یہ ٹکڑا بھی کھایا جا سکتا ہے اور اگر جڑنا ناممکن ہے کہ پورا کٹ گیا ہے صرف چمڑا ہی باقی رہ گیا ہے تو شکار کھایا جائے، یہ کٹا ہوا ہاتھ یا پاؤں نہ کھایا جائے۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۴۵: ایک شخص نے شکار کو تیر مارا اور لگا مگر ایسا نہیں لگا ہے کہ بھاگ نہ سکے بلکہ بھاگ سکتا ہے اور پکڑنے میں نہیں آسکتا اُس کے بعد دوسرے شخص نے تیر مار دیا اور وہ مر گیا یہ کھایا جائے گا اور دوسرے کی مِلک ہو گا اور اگر پہلے نے کاری زخم لگایا ہے کہ بھاگ نہیں سکتا پھر دوسرے نے تیر مارا اور مر گیا تو پہلے شخص کی مِلک ہے اور کھایا نہ جائے کیونکہ اس کوذبح کر سکتے تھے ایسے کو تیر مار کر ہلاک کرنے سے جانور حرام ہوجاتا ہے یعنی یہ حکم اُس وقت ہے کہ پہلے کے تیر مارنے کے بعد اس میں اتنی جان تھی کہ ذبح اختیاری ہو سکے اور اگراتنی ہی جان باقی تھی جتنی مذبوح میں ہوتی ہے تو دوسرے کے تیرمارنے سے حرام نہیں ہوا، اور دوسرے کے مارنے سے تین صورت میں شکار حرام ہو گیا یہ دوسرا شخص پہلے شخص کو اس زخم خوردہ(4)جانور کی قیمت تاوان دے کہ اس کی مِلک کو ضائع کیا ہے اور اگر یہ معلوم ہے کہ جانور کی موت دونوں زخموں سے ہوئی یامعلوم نہ ہو دوسرا شخص جانور کے زخمی کرنے کا تاوان دے پھر جس جانور کو دو زخم لگے ہیں اُس کے نصف قیمت کا
1 ۔''الھدایۃ،کتاب الصید،فصل فی الرمي،ج۲،ص۴۰۹.
2 ۔''الھدایۃ،کتاب الصید،فصل فی الرمي،ج۲،ص۴۰۹.
و''العنایۃ''علی ''فتح القدیر''،کتاب الصید،فصل فی الرمي،ج۹،ص۶۱.
3 ۔''الھدایۃ،کتاب الصید،فصل فی الرمي،ج۲،ص۴۰۹،۴۱۰.
4 ۔زخمی۔
جوہو وہ تاوان دے پھر گوشت کی نصف قیمت تاوان دے یعنی اس صورت میں یہ تاوان دینے ہوں گے۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۴۶: شکار کو تیر مارا پھر اس شخص نے دوسرا تیر مارا اور مر گیا اس جانور کے حلال یا حرام ہونے میں وہی حکم ہے جو دوسرے شخص کے تیر مارنے کی صورت میں ہے یہاں ضمان کی صورت نہیں ہے کہ دونوں تیر خود اسی نے مارے ہیں۔ (2)(ہدایہ، عنایہ)
مسئلہ ۴۷: پہاڑ کی چوٹی پر شکار مارا اوروہ پورا گھائل ہو گیا ہے(3)کہ بھاگ نہیں سکتا اس نے پھر دوسرا تیر مار کر اتارا یعنی دوسرا تیر لگنے سے مر گیا اور گرا تو حلال نہیں۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ۴۸: پرند کو رات میں پکڑنا مباح ہے مگر بہتر یہ ہے کہ رات کو نہ پکڑے۔(5) (درمختار)
مسئلہ۴۹: باز اور شکرے وغیرہ کو زندہ پرندپر سکھانا ممنوع ہے کہ اُس پرند کو ایذا دینا ہے(6)(درمختار) بلکہ ذَبح کئے ہوئے جانور پر سکھائے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: معلّم باز نے کسی جانور کو پکڑا اور مار ڈالا اور یہ معلوم نہیں کہ کسی نے چھوڑا ہے یا نہیں ایسی حالت میں جانور حلال نہیں کہ شک سے حلت ثابت نہیں ہوتی اور اگر معلوم ہے کہ فلاں نے چھوڑا ہے تو پرایا مال (8)ہے بغیر اجازت مالک اس کا لینا حلال نہیں۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۵۱: کسی دوسرے شخص کا معلم کتّا یا باز مار ڈالا یا کسی کی بلی مار ڈا لی اُس کی قیمت کا تاوان دینا ہو گا اسی طرح
1 ۔''الھدایۃ،کتاب الصید،فصل فی الرمي،ج۲،ص۴۱۰.
2 ۔''الھدایۃ،کتاب الصید،فصل فی الرمي،ج۲،ص۴۱۱.
و''العنایۃ''علی ''فتح القدیر''،کتاب الصید،فصل فی الرمي،ج۹،ص۶۳.
3 ۔شدیدزخمی ہوگیاہے۔
4 ۔''الھدایۃ،کتاب الصید،فصل فی الرمي،ج۲،ص۴۱۱.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص ۷۴.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب السابع فی المتفرقات،ج ۵،ص۴۳۱.
8 ۔غیر کامال۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصّید،ج۱۰،ص ۷۶.
دوسرے کی ہر وہ چیز جس کی بیع جائز ہے تلف (1)کر دینے سے تاوان دینا ہو گا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: معلم کتّے کا ہبہ اور وصیت جائز ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: بعض جگہ رؤسا اور زمیندار اپنے علاقہ میں دوسرے لوگوں کے لیے شکار کرنے کی ممانعت کر دیتے ہیں ان کا مقصد ان جنگلوں میں خود شکار کھیلنا ہوتا ہے کہ دوسرے جب نہیں کھیلیں گے تو بافراط(4)شکار ملے گا ایسی جگہ اگرکسی نے شکار کیا تو یہی مالک ہو گیا اُن کی ممانعت کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں کہ شکار اُن کی مِلک نہیں کہ منع کرنے سے ممنوع ہو جائے بلکہ جوپکڑے اُسی کی مِلک ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: بہت جگہ زمیندار تالابوں سے مچھلیاں نہیں مارنے دیتے اور جو مارتا ہے چھین لیتے ہیں یہ ان کا فعل ناجائز و حرام ہے جو مار لے اُسی کی ہیں اور چھپ کر مارنا چوری میں داخل نہیں اگرچہ بعض لوگ اسے چوری کہتے ہیں کہ مال مباح میں چوری کیسی۔
مسئلہ ۵۵: بعض لوگ مچھلیوں کے شکار میں زندہ مچھلی یازندہ مینڈ کی کانٹے میں پرو دیتے ہیں اور اُس سے بڑی مچھلی پھنساتے ہیں ایسا کرنا منع ہے کہ اُس جانور کو ایذا دینا ہے اسی طرح زندہ گھینسا(6)کانٹے میں پرو کر شکار کرتے ہیں یہ بھی منع ہے۔
رہن کا جواز کتاب و سنت سے ثابت اور اس کے جائز ہونے پر اجماع منعقد۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوا:
(وَ اِنۡ کُنۡتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوۡا کَاتِبًا فَرِہٰنٌ مَّقْبُوۡضَۃٌ ؕ)
(7)
''اور اگر تم سفر میں ہو (اور لین دین کرو)اور کاتب نہ پاؤ (کہ وہ دستاویز لکھے)تو گروی رکھنا ہے جس پر قبضہ ہو جائے۔''
1 ۔ضائع۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب السابع فی المتفرقات،ج ۵،ص۴۳۱.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔کثرت سے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصّید،الباب السابع فی المتفرقات،ج ۵،ص۴۳۱.
6 ۔پتلا لمبا زمینی کیڑا۔
7 ۔پ۳،البقرۃ:۲۸۳.
اس آیت میں سفر میں گروی رکھنے کا ذکر ہے مگر حدیثوں سے ثابت کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مدینہ میں اپنی زرہ گرو (1)رکھی تھی۔
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی کہتی ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک یہودی سے غلّہ اُدھار خریدا تھا اور لوہے کی زرہ اس کے پاس رہن رکھی تھی۔(2)
حدیث ۲: صحیح بخاری میں انہیں سے مروی کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی جب وفات ہوئی اس وقت حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس ۳۰ صاع جَو کے مقابل میں گروی تھی۔ (3)
حدیث ۳: صحیح بخاری میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے جَو کے مقابل میں اپنی زرہ گرو رکھ دی تھی۔ (4)
حدیث ۴: امام بخاری ابوہریرہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے راوی ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ''جانور جب مرہون(5)ہو توا س پر خرچ کے عوض سوار ہو سکتے ہیں اور دودھ والے جانور کا دودھ بھی نفقہ کے عوض میں پیا جائے گا، اور سوار ہونے اور دودھ پینے کا خرچہ سوار ہونے والے اور پینے والے پر ہے۔ ''(6)
حدیث ۵: ابن ماجہ ابوہریرہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''رہن بند نہیں کیا جائے گا''(7)(یعنی مرتہن اُس کو اپنا کر لے یہ نہیں ہو سکتا)۔
حدیث ۶: امام شافعی اور حاکم نے مستدرک اور بیہقی نے ابوہریرہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''رہن مغلق (یعنی مرتہن اپنا کر لے)نہیں ہوتا،جس نے رہن رکھا ہے اس کے لیے رہن کا فائدہ اور اُسی پر اُس کا نقصان ہے۔ ''(8)
1 ۔رہن ،گروی۔
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب المساقاہ... إلخ،باب الرھن... إلخ،الحدیث: ۱۲۵۔(۱۶۰۳)،ص۸۶۶.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الجھاد والسیر،باب ما قیل في درع النبیصلی اللہ علیہ وسلم... إلخ،الحدیث:۲۹۱۶،ج۲،ص۲۸۶.
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الرھن،باب في الرھن في الحضر،الحدیث:۲۵۰۸،ج۲،ص۱۴۷.
5 ۔گروی رکھا ہوا۔
6 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الرھن،باب الرھن مرکوب ومحلوب،الحدیث:۲۵۱۲،ج۲،ص۱۴۸.
7 ۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الرھون،باب لایغلق الرھن،الحدیث:۲۴۴۱،ج۳،ص۱۶۱.
8 ۔''السنن الکبری''للبیھقي،کتاب الرھن...إلخ،باب ماجاء في زیادات الرھن،الحدیث:۱۱۲۱۰،۱۱۲۱۱ج۶،ص۶۵.
لغت میں رہن کے معنی روکنا ہیں اس کا سبب کچھ بھی ہو اور اصطلاح شرع میں دوسرے کے مال کو اپنے حق میں اس لئے روکنا کہ اس کے ذریعہ سے اپنے حق کو کلاً یا جزء ً وصول کرنا ممکن ہو مثلاً کسی کے ذمہ اس کا دَین(1)ہے اس مدیون(2)نے اپنی کوئی چیز دائن (3)کے پاس اس لئے رکھ دی ہے کہ اُس کو اپنے دَین کی وصول پانے کے لئے ذریعہ بنے،رہن کو اُردو زبان میں گروی رکھنا بولتے ہیں،کبھی اُس چیز کو بھی رہن کہتے ہیں جورکھی گئی ہے اس کا دوسرا نام مرہون ہے، چیز کے رکھنے والے کو راہن اور جس کے پاس رکھی گئی اُس کو مرتہن کہتے ہیں، عقد رہن بالاجماع جائز ہے، قرآن مجید اور حدیث شریف سے اس کا جواز ثابت ہے،رہن میں خوبی یہ ہے کہ دائن و مدیون دونوں کا اس میں بھلا ہے کہ بعض مرتبہ بغیر رہن رکھے کوئی دیتا نہیں مدیون کا بھلا یوں ہوا کہ دَین مل گیا اور دائن کا بھلا ظاہر ہے کہ اُس کو اطمینان ہوتا ہے کہ اب میرا روپیہ مارا نہ جائے گا۔ (4)(ہدایہ، عنایہ)
مسئلہ ۱: رہن جس حق کے مقابلہ میں رکھا جاتا ہے وہ دَین (یعنی واجب فی الذمہ)ہو عین کے مقابل(5)رہن رکھنا صحیح نہیں، ظاہراً و باطناً دونوں طرح واجب ہو جیسے مبیع کا ثمن اور قرض یا ظاہراً واجب ہو جیسے غلام کو بیچا اور وہ حقیقت میں آزاد تھا یاسرکہ بیچا اور وہ شراب تھا اور ان کے ثمن کے مقابل میں کوئی چیز رہن رکھی، یہ ثمن بظاہر واجب ہے مگر واقع میں نہ بیع ہے نہ ثمن، اگر حقیقۃً دَین نہ ہو حکماً دَین ہو تو اس کے مقابل میں بھی رہن صحیح ہے جیسے اعیان مضمونہ بنفسہایعنی جہاں مثل یا قیمت سے تاوان دینا پڑے جیسے مغصوب شے(6)کہ غاصب (7)پر واجب یہ ہے کہ جو چیز غصب کی ہے بعینہٖ وہی چیز مالک کو دے اور وہ نہ ہو تو مثل یاقیمت تاوان دے، جہاں ضمان واجب نہ ہو جیسے ودیعت اور امانت کی دوسری صورتیں ان میں رہن درست نہیں اسی طرح اعیان مضمونہ بغیر ہاکے مقابل میں بھی رہن صحیح نہیں جیسے مبیع کہ جب تک یہ بائع کے قبضہ میں ہے اگر ہلاک ہوگئی توا س کے مقابل میں مشتری سے بائع کا ثمن ساقط ہو جائے گا، مشتری کے پاس بائع کوئی چیز رہن رکھے، صحیح نہیں۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔قرض۔ 2 ۔مقروض۔ 3 ۔قرض دینے والا۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،ج۲،ص۴۱۲.
و''العنایۃ''علی ''فتح القدیر''،کتاب الرھن،ج۹،ص۶۴،۶۵.
5 ۔یعنی ثمن وقرض کے علاوہ کسی چیز کے بدلے میں۔
6 ۔غصب کی ہوئی چیز۔ 7 ۔غصب کرنے والا۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۰.
مسئلہ ۲: عقد رہن ایجاب و قبول سے منعقد ہوتا ہے مثلاً مدیون نے کہا کہ تمہارا جو کچھ میرے ذمہ ہے اُس کے مقابلہ میں یہ چیز تمہارے پاس رہن رکھی یا یہ کہے ا س چیز کو رہن رکھ لو دوسرا کہے میں نے قبول کیا،بغیر ایجاب و قبول کے الفاظ بولنے کے بھی بطورِ تعاطی رہن ہو سکتا ہے جس طرح بیع تعاطی سے ہو جاتی ہے۔(1) (ہدایہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: لفظ رہن بولنا ضروری نہیں بلکہ کوئی دوسرا لفظ جس سے معنی رہن سمجھے جاتے ہوں تو رہن ہو گیا مثلاً ایک روپیہ کی کوئی چیز خریدی اور بائع کو اپنا کپڑا یا کوئی چیز دے دی اور کہہ دیا کہ اسے رکھے رہو جب تک میں دام نہ دے دوں یہ رہن ہو گیا یونہی ایک شخص پر دَین ہے اُس نے دائن کو اپنا کپڑا دے کر کہاکہ اسے رکھے رہو جب تک دَین ادا نہ کر دوں یہ رہن بھی صحیح ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: ایجاب وقبول سے عقد رہن ہوجاتا ہے مگر لازم نہیں ہوتا جب تک مرتہن شے مرہون (3)پر قبضہ نہ کرلے لہٰذا قبضہ سے پہلے راہن کو اختیار رہتا ہے کہ چیز دے یا نہ دے اور جب مرتہن نے قبضہ کر لیا تو پکّا معاملہ ہو گیا اب راہن کو بغیر اُس کا حق ادا کئے چیز واپس لینے کا حق نہیں رہتا۔ (4)(ہدایہ)مگر عنایہ میں فرمایا کہ یہ عامہ کتب کے مخالف ہے، امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی تصریح یہ ہے کہ بغیر قبضہ رہن جائز ہی نہیں ،امام حاکم شہید نے کافی میں اور امام جعفر طحاوی و امام کرخی نے اپنے اپنے مختصر میں اسی کی تصریح کی (5)اور درمختار میں مجتبےٰ سے ہے کہ قبضہ شرط جواز ہے نہ کہ شرط لزوم۔(6)
مسئلہ ۵: قبضہ کے لئے اجازتِ راہن ضروری ہے، صراحۃً قبضہ کی اجازت دے یا دلالۃً دونوں صورتوں میں قبضہ ہوجائے گا، اُسی مجلس میں قبضہ ہو جس میں ایجاب و قبول ہوا ہے یا بعد میں خود قبضہ کرے یا اُس کا نائب قبضہ کرے سب صحیح ہے۔ (7)(ردالمحتار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،ج۲،ص۴۱۲.
و ''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۱.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ...إلخ،الفصل الاول،ج۵،ص۴۳۲.
3 ۔گروی رکھی ہوئی چیز۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،ج۲،ص۴۱۲.
5 ۔ ''العنایۃ''علی''فتح القدیر''،کتاب الرھن،ج۹،ص۶۶.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۲.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۱.
مسئلہ ۶: مرہون شے پر قبضہ اس طرح ہو کہ وہ اکھٹی ہو متفرق نہ ہو مثلاً درخت پر پھل ہیں یا کھیت میں زراعت ہے صرف پھلوں یا زراعت کو رہن رکھا درخت اور کھیت کو نہیں رکھا یہ قبضہ صحیح نہیں اور یہ بھی ضرور ہے کہ مرہون شے حق راہن کے ساتھ مشغول نہ ہو مثلاً درخت پر پھل ہیں اور صرف درخت کو رہن رکھا اور یہ بھی ضرور ہے کہ متمیز ہو یعنی مشاع نہ ہو۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۷: ایسی چیز رہن رکھی جو دوسری چیز کے ساتھ متصل ہے مثلاً درخت میں پھل لگے ہیں صرف پھلوں کو رہن رکھا اور مرتہن نے جدا کر کے مثلاً پھلوں کو توڑ کر قبضہ کر لیا اگر یہ قبضہ بغیر اجازت راہن ہے تو ناجائز ہے خواہ اسی مجلس میں قبضہ کیا ہو یا بعد میں اور اگر اجازت راہن سے ہے تو جائز ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: مرہون و مرتہن کے درمیان راہن نے تخلیہ کر دیا۔(3)کہ مرتہن اگر قبضہ کرنا چاہے کر سکتا ہے یہ بھی قبضہ ہی کے حکم میں ہے جس طرح بیع میں بائع نے مبیع اور مشتری کے درمیان تخلیہ کر دیا قبضہ ہی کے حکم میں ہے۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۹: رہن کے شرائط حسبِ ذیل ہیں:
(۱) راہن و مرتہن عاقل ہوں یعنی نا سمجھ بچہ اور مجنون کا رہن رکھنا صحیح نہیں، بلوغ اس کے لئے شرط نہیں نابالغ بچہ جو عاقل ہو اس کا رہن رکھنا صحیح ہے۔
(۲) رہن کسی شرط پر معلق نہ ہو نہ اس کی اضافت وقت کی طرف ہو۔
(۳) جس چیز کو رہن رکھا وہ قابل بیع ہو یعنی وقت عقد موجود ہو مال مطلق، متقوم،(5)مملوک، (6)معلوم، مقدورالتسلیم ہو(7)لہٰذا جو چیز وقت عقد موجود ہی نہ ہو یا اس کے وجودو عدم(8)دونوں کا احتمال ہو،اس کا رہن جائز نہیں مثلاًدرخت میں جو پھل اس سال آئیں گے یا بکریوں کے اس سال جو بچے پیدا ہوں گے یا اُس کے پیٹ میں جو بچہ ہے ان سب کا رہن نہیں ہوسکتا مردار اور خون کو رہن نہیں رکھ سکتے کہ یہ مال نہیں حرم وا حرام کے شکار بھی مردار ہیں مال نہیں،آزادکو رہن نہیں رکھ سکتا کہ مال نہیں، مدبرواُم ولد کا رہن جائز نہیں، دونوں راہن و مرتہن میں اگر کوئی مسلم ہو تو شراب و خنزیر کو رہن
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۲.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ،کتاب الرھن،الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ...إلخ،الفصل الاول،ج۵،ص۴۳۳.
3 ۔یعنی شے مرہون سے اپنا قبضہ ہٹادیا۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،ج ۲،ص۴۱۲.
5 ۔یعنی شرعاًقابل قیمت ہو۔ 6 ۔ملکیت میں ہو۔
7 ۔یعنی سپرد کرنے پرقادرہو۔ 8 ۔یعنی چیز کے ہونے یانہ ہونے۔
نہیں رکھ سکتے، اموالِ مباحہ مثلاً شکار اور جنگل کی لکڑی اور گھاس چونکہ یہ مملوک نہیں ان کا رہن بھی ناجائز ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مرہون چیز مرتہن کے ضمان میں ہوتی ہے یعنی مرہون کی مالیت اُس کے ضمان میں ہوتی ہے اورخود عین بطور امانت ہے اس کا فرق یوں ظاہر ہو گا کہ اگر مرہون کو مرتہن نے راہن سے خریدلیا تو یہ قبضہ جو مرتہن کا ہے۔ قبضہ ئخریداری کے قائم مقام نہیں ہو گا۔ کہ یہ قبضہ امانت ہے اور مشتری کے لیے قبضہ ضمان درکار ہے اور خود وہ چیز امانت ہے۔ لہٰذا مرہون کا نفقہ راہن کے ذمہ ہے مرتہن کے ذمہ نہیں اور غلا م مرہون تھا وہ مر گیا تو کفن راہن کے ذمہ ہے۔ (2)(ہدایہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: مرتہن کے پاس اگر مرہون ہلاک ہو جائے تو دَین اور اس کی قیمت میں جو کم ہے اُس کے مقابلہ میں ہلاک ہو گا مثلاً سو روپے دَین ہیں اور مرہون کی قیمت دوسو۲۰۰ہے توسو۱۰۰ کے مقابل میں ہلاک ہوا یعنی اس کا دَین ساقط ہو گیا اور مرتہن راہن کو کچھ نہیں دے گا اور اگر صورتِ مفروضہ(3)میں مرہون کی قیمت پچاس روپے ہے تو دَین میں سے پچاس ساقط ہو گئے اورپچاس باقی ہیں اور اگر دونوں برابر ہیں تو نہ دینا ہے نہ لینا۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: مرہون کی قیمت اس روز کی معتبر ہے جس دن رہن رکھا ہے یعنی جس دن مرتہن کا قبضہ ہوا ہے جس دن ہلاک ہوا اُس دن کی قیمت کا اعتبار نہیں یعنی رہن رکھنے کے بعد چیز کی قیمت گھٹ بڑھ گئی(5)اس کا اعتبار نہیں مگر اگر دوسرے شخص نے مرہون کو ہلاک کر دیا تو اس سے تاوان میں وہ قیمت لی جائے گی جو ہلاک کرنے کے دن ہے اور یہ قیمت مرتہن کے پاس اُس مرہون کی جگہ رہن ہے یعنی اب یہ مرہون ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: مرتہن نے رہن رکھتے وقت یہ شرط کرلی ہے کہ اگر چیز ہلاک ہوگئی تومیں ضامن نہیں ،اس صورت میں وہ ضامن ہے اوریہ شرط باطل ہے۔(7)(ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ...إلخ،الفصل الاول،ج۵،ص۴۳۲.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن ،ج ۲،ص ۴۱۲.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۳ .
3 ۔مثال کے طورپر بیان کی گئی صورت۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۳ .
5 ۔یعنی کم زیادہ ہوگئی۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۴.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۳.
مسئلہ۱۴: دو چیزیں رہن رکھی ہیں ان میں سے ایک ہلاک ہو گئی اور ایک باقی ہے اور جو ہلاک ہو گئی اس تنہا کی قیمت دَین سے زائد ہے تو یہ نہیں ہو گا کہ دَین ساقط ہو جائے بلکہ دَین کو اُن دونوں کی قیمتوں پر تقسیم کیا جائے جو حصّہ اس ہلاک شدہ کے مقابل آئے وہ ساقط اورجوباقی کے مقابل ہے وہ باقی ہے، یوہیں مکان رہن رکھا اور وہ گِر گیا تو دَین کو عمارت و زمین کی قیمت پر تقسیم کیا جائے جو حصہ عمارت کے مقابل ہے ساقط اور جو زمین کے مقابل ہے باقی ہے یوہیں اگر دس روپے دَین کے ہیں چالیس روپے کی پوستین(1)رہن رکھ دی اس کو کیڑوں نے کھا لیا اب اس کی قیمت دس روپے رہ گئی تو ڈھائی روپے دے کر راہن چھوڑا لے گا کہ پوستین کی تین چوتھائیاں کم ہو گئیں لہٰذا دَین کی بھی تین چوتھائیاں یعنی ساڑھے سات روپے کم ہو گئے ان جزئیات سے معلوم ہوا کہ خود چیز میں اگر نقصان ہوجائے تو اس کا دَین پر اثر پڑے گا اور نرخ کم ہونے کا کوئی اعتبار نہیں۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: مرتہن نے اگر مرہون میں کوئی ایسا فعل کیا جس کی وجہ سے وہ چیز ہلاک ہو گئی یا اُس میں نقصان پیدا ہو گیا تو ضامن ہے یعنی اس کا تاوان دینا ہو گا، مثلاً ایک کپڑا بیس۲۰ روپے کی قیمت کا دس ۱۰ روپے میں رہن رکھا مرتہن نے باجازت راہن ایک مرتبہ اُسے پہنا اس کے پہننے سے چھ روپے قیمت گھٹ گئی (3)اب وہ چودہ۱۴ روپے کا ہو گیا اس کے بعد اس کو بغیر اجازت استعمال کیا اس استعمال سے چار روپے اور کم ہو گئے اب اس کی قیمت دس روپے ہو گئی اس کے بعد وہ کپڑا ضائع ہو گیا اس صورت میں مرتہن راہن سے صرف ایک روپیہ وصول کر سکتا ہے اور نو روپے ساقط ہو گئے کیونکہ رہن کے دن جب اس کی قیمت بیس۲۰ روپے تھی اور قرض کے دس۱۰ ہی روپے تھے تو نصف کا ضمان ہے اور نصف امانت ہے، پھر جب اس کو اجازت سے پہنا ہے تو چھ روپے کی جو کمی ہے اُس کا تاوان نہیں کہ یہ کمی باجازت مالک ہے مگر دوبارہ جو پہنا تو اس کی کمی کے چار روپے اس پر تاوان ہوئے گویا دس ۱۰ میں سے چار وصول ہو گئے چھ باقی ہیں پھر جس دن وہ کپڑا ضائع ہوا چونکہ دس ۱۰ کا تھا لہٰذا نصف قیمت کے پانچ روپے ہیں، امانت ہے اور نصف دوم کہ یہ بھی پانچ ہے اس کا ضمان ہے ہلاک ہونے سے نصف دوم بھی وصول سمجھو لہٰذا یہ پانچ اور چار پہلے کے کُل نو وصول ہو گئے، ایک باقی رہ گیا ہے وہ راہن سے لے سکتا ہے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: ایک شخص کچھ دَین لینا چاہتا ہے بات چیت ہو گئی اور یہ بھی ٹھہر گیا کہ اس کے مقابلہ میں فلاں چیز رہن رکھوں گا چنانچہ اس چیز پر مرتہن کا قبضہ ہو گیا اور ابھی دَین دیا نہیں ہے اب فرض کرو کہ قرض دینے سے پہلے مرتہن کے پاس و ہ چیز ہلاک ہو گئی اس کی دو صورتیں ہیں اگر قرض کی کوئی مقدار نہیں بیان کی گئی ہے فقط اتنی بات ہوئی کہ تم سے کچھ روپے قرض لوں گا
1 ۔کھال کا کوٹ، چمڑے کا چغہ۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۳.
3 ۔یعنی کم ہوگئی۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۵.
اس صورت میں وہ چیز مرتہن کے ضمان میں نہیں ہے ہلاک ہونے سے اُس کو کچھ دینا واجب نہیں، اور اگر قرض کی مقدار بیان کر دی ہے مثلاً سو۱۰۰روپے لوں گا اور یہ لو رکھو یہ رہن ہو گی اس صورت میں ضمان ہے اس کا وہی حکم ہے کہ سو روپے لے کر رکھ دیتا یعنی دَین اور اُس چیز کی قیمت دونوں میں جو کم ہے اس کے مقابل میں اس کو ہلاک ہونا سمجھا جائے گا مثلاً اس کی قیمت سو۱۰۰ روپے یا زیادہ ہے تو مرتہن راہن کو سو۱۰۰ روپے دے اور سو۱۰۰ سے کم ہے توجو کچھ قیمت ہے وہ دے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: قرض دینے کا وعدہ کیا تھا اور قرض مانگنے والے نے قرض لینے سے پہلے کوئی چیز رہن رکھ دی اور مرتہن نے کچھ قرض دیا اور کچھ باقی ہے تو باقی کا جبراً اس سے مطالبہ نہیں ہو سکتا یہ حکم اُس وقت ہے کہ مرہون موجود ہو اور ہلاک ہوگیا تو اُس کا حکم وہ ہے جو پہلے بیان ہوا۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: دائن نے مدیون سے اپنے دَین کے مقابل جب کوئی چیز رہن رکھوا لی تو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اب وہ دَین کا مطالبہ ہی نہیں کر سکتا خاموش بیٹھا رہے بلکہ اب بھی مطالبہ کر سکتا ہے قاضی کے پاس دَین کا دعویٰ کر سکتا ہے اور قاضی کو اگر ثابت ہوجائے کہ مدیون(3) ادائے دَین میں ڈھیل ڈال رہا ہے(4) تو اسے قید بھی کر سکتا ہے کہ ایسے کی یہی سزا ہے۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۹: رہن فسخ ہونے کے بعد بھی مرتہن کو یہ اختیار ہے کہ جب تک اپنا مطالبہ وصول نہ کر لے یا معاف نہ کر دے مرہون شے اپنے قبضہ میں رکھے راہن کو واپس نہ دے یعنی محض زبان سے کہہ دینے سے کہ رہن فسخ کیا رہن فسخ نہیں ہوتا بلکہ باقی رہتا ہے جب تک مرہون کو واپس نہ کر دے جب رہن فسخ نہیں ہوا تو اب بھی چیز کو روک سکتا ہے، ہاں دَین یا قبضہ دونوں میں ایک جاتا رہے مثلاً دَین وصول پایا، یا معاف کر دیا کہ اب دَین باقی نہ رہا یا راہن کے قبضہ میں دے دیا تو اب رہن جاتا رہے گا۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: فسخ رہن کے بعد چیز مرتہن کے پاس ہلاک ہو گئی اب بھی وہی احکام ہیں جو فسخ نہ ہونے کی صورت میں تھے کہ دَین اور قیمت مرہون میں جو کم ہے اس کے مقابل میں چیز ہلاک ہو گئی۔(7) (ہدایہ)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۴.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ وما لایجوز،ج۱۰،ص۱۰۴.
3 ۔مقروض۔ 4 ۔قرض کی ادائیگی میں تاخیرکررہاہے۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،ج ۲،ص۴۱۴.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۵.
7 ۔''الھدایۃ،کتاب الرھن،ج ۲،ص۴۱۵.
مسئلہ ۲۱: مرتہن نے اگر راہن کو وہ چیز دے دی مگر بطورِ فسخ رہن نہیں بلکہ بطور عاریت (1)تو اب بھی رہن باقی ہے (2)یعنی اس سے واپس نہیں لے سکتاہے۔ (عنایہ)
مسئلہ ۲۲: مرہون شے جب تک مرتہن کے ہاتھ میں ہے راہن اُسے بیع نہیں کر سکتا، مرتہن جب تک دَین وصول نہ کر لے اُس کو اختیار ہے کہ بیچنے نہ دے اور اگر مدیون نے کچھ دَین ادا کیا ہے کچھ باقی ہے اب بھی راہن مرتہن سے چیز واپس نہیں لے سکتا جب تک کُل دَین ادا نہ کر دے اور جب دَین بیباق کر دیا(3)تو مرتہن سے کہا جائے گا کہ رہن واپس دو کیونکہ اب اُسے روکنے کا حق باقی نہ رہا۔(4)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۳: مدیون نے دَین ادا کر دیا اور ابھی تک شے مرہون مرتہن کے پاس ہے واپسی نہیں ہوئی ہے اور چیز ہلاک ہو گئی تو جو کچھ مدیون نے ادا کیا ہے مرتہن سے واپس لے گا، کیونکہ مرتہن کا وہ قبضہ اب بھی قبضہ ضمان ہے اور یہ ہلاک دَین کے مقابل میں متصور ہو گا لہٰذا واپس کرنا ہو گا۔ (5) (ہدایہ)یہ اُس وقت ہے کہ مرہون کی قیمت دَین سے زائد یا دَین کے برابر ہے اگر دَین سے کم ہے تو جتنا مرہون کی قیمت تھی اُتنا ہی واپس لے سکتا ہے۔
مسئلہ ۲۴: مرتہن نے راہن سے دَین معاف کر دیا یاہبہ کر دیا اور ابھی مرہون کو واپس نہیں دیا تھا اُسی کے پاس ہلاک ہو گیا اس صورت میں راہن مرتہن سے چیز کا تاوان نہیں لے سکتا کہ یہاں مرتہن نے دَین کے مقابل میں کوئی چیز وصول نہیں کی ہے جس کو واپس دے بلکہ دَین کو ساقط کیا ہے۔(6) (عنایہ)
مسئلہ ۲۵: مرہون چیز سے کسی قسم کا نفع اُٹھانا جائز نہیں ہے مثلاً لونڈی غلام ہو تو اس سے خدمت لینا یا اجارہ پر دینا مکان میں سکونت کرنا یا کرایہ پر اُٹھانا یا عاریت پر دینا، کپڑے اور زیور کو پہننایااجارہ و عاریت پر دینا الغرض نفع کی سب صورتیں ناجائز ہیں اور جس طرح مرتہن کو نفع اُٹھانا ناجائز ہے راہن کو بھی ناجائز ہے۔ (7) (درمختار)
1 ۔یعنی وقتی طور پر استعما ل کے لیے دی۔
2 ۔ ''العنایۃ''علی ''فتح القدیر''،کتاب الرھن،ج۹،ص۷۹.
3 ۔یعنی قرض کی مکمل ادائیگی کردی۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،ج۲،ص۴۱۵.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔ ''العنایۃ''علی''فتح القدیر''،کتاب الرھن،ج۹،ص۷۸.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۵،۸۶.
مسئلہ ۲۶: مرتہن کے لیے اگر راہن نے اِنتفاع کی اجازت دے دی ہے اس کی دو۲ صورتیں ہیں۔ یہ اجازت رہن میں شرط ہے یعنی قرض ہی اس طرح دیا ہے کہ وہ اپنی چیز اس کے پاس رہن رکھے اور یہ اس سے نفع اٹھائے جیسا کہ عموماً ا س زمانہ میں مکان یا زمین اسی طور پر رکھتے ہیں یہ ناجائز اور سود ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ شرط نہ ہو یعنی عقد رہن ہو جانے کے بعد راہن نے اجازت دی ہے کہ مرتہن نفع اٹھائے یہ صورت جائز ہے۔ اصل حکم یہی ہے جس کا ذکر ہوا مگر آج کل عام حالت یہ ہے کہ روپیہ قرض دے کر اپنے پاس چیز اسی مقصد سے رہن رکھتے ہیں کہ نفع اُٹھائیں اور یہ اس درجہ معروف و مشہور ہے کہ مشروط کی حد میں(1)داخل ہے لہٰذا اس سے بچنا ہی چاہیے۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: جس طرح مرہون سے مرتہن نفع نہیں اُٹھا سکتا راہن کے لیے بھی اس سے انتفاع جائز نہیں مگر اس صورت میں کہ مرتہن اُسے اجازت دیدے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: راہن نے مرتہن کو استعمال کی اجازت دے دی تھی اُس نے استعمال کی تو مرتہن پر ضمان نہیں یعنی مکان میں سکونت یا باغ کے پھل کھانے یا جانور کے دودھ استعمال کرنے کے مقابل میں دَین کا کچھ حصہ ساقط نہیں ہو گا۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: مرتہن نے باجازت راہن چیز کو استعمال کیا اور بوقت استعمال چیز ہلاک ہو گئی تو یہاں امانت کا حکم دیا جائے گا یعنی مرتہن پر اُس کا تاوان نہ ہو گا دَین کا کوئی جز ساقط نہ ہو گا۔ اور اس سے پہلے یا بعد میں ہلاک ہو تو ضمان ہے جس کا حکم پہلے بتایا گیا۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: مرتہن شے مرہون کو نہ اجارہ پر دے سکتا ہے نہ عاریت کے طورپر کہ جب وہ خود نفع نہیں اُٹھا سکتا تو دوسرے کو نفع اُٹھانے کی کب اجازت دے سکتا ہے۔ (6) (ہدایہ)
مسئلہ ۳۱: ایک شخص سے روپیہ قرض لیا اوراُس نے اپنا مکان رہنے کو دے دیا کہ جب تک قرض ادا نہ کر دوں تم اس میں رہو یا کھیت اسی طرح دیا مثلاً سو ۱۰۰ روپے قرض لے کر کھیت دے دیا کہ قرض دینے والا کھیت جوتے بوئے گا اور نفع اُٹھائے گایہ
1 ۔یعنی شرط لگانے کی حد میں۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۶.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۶.
4 ۔المرجع السابق،ص۸۷.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۶.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،ج۲،ص۴۱۵.
صورت رہن میں داخل نہیں بلکہ یہ بمنزلہ اجارہ فاسد ہ ہے۔ اُس شخص پر اجرت مثل لازم ہے کیونکہ مکان یاکھیت اُسے مفت نہیں دے رہا ہے بلکہ قرض کی وجہ سے دے رہا ہے اور چونکہ قرض سے انتفاع حرام ہے(1)لہٰذا اُجرت مثل دینی ہوگی۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: بعض لوگ قرض لے کر مکان یا کھیت رہن رکھ دیتے ہیں کہ مرتہن مکان میں رہے اور کھیت کو جوتے بوئے اور مکان یا کھیت کی کچھ اُجرت مقرر کر دیتے ہیں مثلاً مکان کا کرایہ پانچ روپے ماہوار یا کھیت کا پٹہ(3) دس روپے سال ہونا چاہیے اور طے یہ پاتا ہے کہ یہ رقم زر قرض سے مجرا ہوتی رہے گی(4)جب کُل رقم ادا ہو جائے گی اُس وقت مکان یا کھیت واپس ہو جائے گا اس صورت میں بظاہر کوئی قباحت نہیں معلوم ہوتی اگرچہ کرایہ یا پٹہ واجبی اُجرت سے کم طے پایا ہو اور یہ صورت اجارہ میں داخل ہے یعنی اتنے زمانہ کے لیے مکان یا کھیت اُجرت پر دیا اور زر اجرت پیشگی لے لیا۔
مسئلہ ۳۳: بکری رہن رکھی تھی اور راہن نے مرتہن کو دودھ پینے کی اجازت دے دی وہ دودھ پیتا رہا پھر وہ بکری مرگئی اس صورت میں دَین کو بکری اور دودھ کی قیمت پر تقسیم کیا جائے جو حصہدَین بکری کے مقابل میں(5) آئے وہ ساقط اور دودھ کی قیمت کے مقابل میں جو حصہ آئے وہ راہن سے وصول کرے کیونکہ حکم یہ ہے کہ رہن سے جو پیداوار ہو گی وہ بھی رہن ہو گی اور چونکہ مرتہن نے باجازت راہن اس کو خرچ کیا توگویا خود راہن نے خرچ کیا لہٰذا اس کے مقابل کا دَین ساقط نہیں ہوگا۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۳۴: مرتہن نے اگر بغیر اجازت راہن مرہون سے نفع اُٹھایا تو یہ تعدی اور زیادتی ہے یعنی اس صورت میں اگر چیز ہلاک ہو گئی تو پوری چیز کا تاوان دینا ہو گا یہ نہیں کہ د َین ساقط ہو جائے اور باقی کا مرتہن سے مطالبہ نہ ہو مگر اس کی وجہ سے رہن باطل نہیں ہو گا یعنی اگر اپنی اس حرکت سے باز آگیا تو چیز رہن ہے اور رہن کے احکام جاری ہوں گے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۳۵: مرتہن نے راہن سے دَین طلب کیا تو اس سے کہا جائے گا کہ پہلے مرہون چیز حاضر کرو جب وہ حاضر کر دے تو راہن سے کہا جائے گا کہ دَین ادا کرو جب یہ پورا دَین ادا کر دے اب مرتہن سے کہا جائے گا اس کی چیز دے دو۔(8)(ہدایہ)
1 ۔یعنی قرض دے کر اس کے بدلے میں نفع حاصل کرناحرام ہے۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص ۸۷.
3 ۔یعنی کھیت کا کرایہ۔
4 ۔یعنی قرض سے کٹوتی ہوتی رہے گی ۔ 5 ۔بدلے میں۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۷.
7 ۔المرجع السابق.
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،ج۲،ص۴۱۴.
مسئلہ ۳۶: مرتہن نے راہن سے دَین کا مطالبہ دوسرے شہر میں کیا اگر وہ چیز ایسی ہے کہ وہاں تک لے جانے میں بار برداری صرف کرنی نہیں ہو گی جب بھی وہی حکم ہے کہ وہ مرہون کو پہلے حاضر کرے پھر اس سے ادائے دَین کو کہا جائے گا اور بار برداری صرف کرنی پڑے تو وہاں لانے کی تکلیف نہ دی جائے بلکہ بغیر چیز لائے ہوئے بھی دَین ادا کردے۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۳۷: یہ حکم کہ مرتہن کو مرہون کے حاضر لانے کو کہا جائے گا اُس وقت ہے کہ راہن یہ کہتا ہو کہ مرہون مرتہن کے پاس ہلاک ہو چکا ہے، لہٰذا میں دَین کیوں ادا کروں اورمرتہن کہتا ہے کہ مرہون موجود ہے اور اگر راہن بھی مرہون کو موجود ہونا کہتا ہو تو اس کی کیا ضرورت کہ یہاں حاضر لائے جب ہی دَین ادا کرنے کو کہا جائے گا کہ اگر وہ چیز ایسی ہے جس میں باربرداری صرف ہو گی اس وجہ سے حاضر لانے کو نہیں کہا گیا مگر راہن اس کے تلف(2)ہوجانے کا مدعی (3)ہے تو راہن سے کہا جائے گا کہ اگر مرتہن کی بات کا تمہیں اطمینان نہیں ہے تو اس سے قسم کھلا لو کہ مرہون ہلاک نہیں ہوا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۸: اگر دَین ایسا ہے کہ قسط وار اَدا کیا جائے گا قسط ادا کرنے کا وقت آگیا اس کا بھی وہی حکم ہے کہ اگر راہن مرہون کا ہلاک ہونا بتاتا ہے اور مرتہن اس سے انکاری ہے تو مرتہن سے کہا جائے گاکہ چیز حاضر لائے اور بار برداری والی چیز ہو تو مرتہن سے قسم کھلا سکتا ہے کہ ہلاک نہیں ہوئی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۳۹: مرتہن نے دَین وصول پا لیا اور ابھی چیز واپس نہیں دی اور یہ چیز اس کے پاس ہلاک ہو گئی تو راہن اُس سے دَین واپس لے گا۔ کیونکہ مرہون پر اب بھی مرتہن کا قبضہ قبضہ ضمان ہے اور ہلاک ہونا دَین وصول ہونے کے قائم مقام ہے لہٰذا جو لے چکا ہے واپس دے۔ (6) (ہدایہ)
مسئلہ ۴۰: راہن نے اگر مرتہن سے کہہ دیا کہ مرہون کو فلاں شخص کے پاس رکھ دو اس نے اُس کے کہنے کی وجہ سے اُس کے پاس رکھ دیا اب اگر مرتہن نے دَین کا مطالبہ کیا اور راہن مرہون کے حاضر لانے کو کہتا ہے تو مرتہن کو اُس کی تکلیف نہ دی جائے کیونکہ اس کے پاس ہے ہی نہیں جو حاضر کرے اسی طرح اگر راہن نے مرتہن کو یہ حکم دیا کہ مرہون کو بیع کر ڈالے اُس نے بیچ ڈالا اور ابھی اُس کے ثمن پر مرتہن نے قبضہ نہیں کیا ہے راہن یہ نہیں کہہ سکتا کہ ثمن مرہون بمنزلہ مرہون ہے(7)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،ج۲،ص۴۱۴.
2 ۔ضائع۔ 3 ۔دعویدار۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۸۸.
5 ۔المرجع السابق،ص۸۹.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،ج۲،ص۴۱۵.
7 ۔یعنی گروی رکھی ہوئی چیز کی طے شدہ قیمت گروی رکھی ہوئی چیز کے قائم مقام ہے۔
لہٰذا اُسے حاضر لاؤ کیونکہ جب ثمن پر قبضہ ہی نہیں ہوا ہے تو کیونکر حاضر کرے ہاں ثمن پر قبضہ کر لیا تو اب بیشک ثمن کو حاضر کرنا ہو گا کہ یہ ثمن مرہون کے قائم مقام ہے۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۴۱: راہن یہ کہتا ہے کہ مرہون چیز مجھے دے دو میں اسے بیچ کر تمہارا دَین ادا کروں گا مرتہن کو اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا کہ مرہون کو دیدے۔ یوہیں اگر کچھ حصہ دَین کا ادا کر دیا ہے کچھ باقی ہے یا مرتہن نے کچھ دَین معاف کر دیا ہے کچھ باقی ہے راہن یہ کہتا ہے کہ مرہون کا ایک جز مجھے دے دیا جائے کیونکہ میرے ذمہ کُل دَین باقی نہ رہا اس صورت میں بھی مرتہن پر یہ ضرور نہیں کہ مرہون کا جز واپس کر ے جب تک پورا دَین ادا نہ ہو جائے یا مرتہن معاف نہ کر دے واپس کرنے پر مجبور نہیں ہاں اگر دو چیزیں رہن رکھی ہیں اور ہر ایک کے مقابل میں دَین کا حصہ مقرر کر دیا ہے مثلاً سو ۱۰۰ روپے قرض لئے اور دو چیزیں رہن کیں کہہ دیا کہ ساٹھ روپے کے مقابل میں یہ ہے اور چالیس کے مقابل میں وہ تو اس صورت میں جس کے مقابل کا دَین ادا کیا اُسے چھوڑا سکتا ہے کہ یہاں حقیقۃً دو عقدہیں۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: مرتہن کے ذمہ مرہون کی حفاظت لازم ہے اور یہاں حفاظت کا وہی حکم ہے جس کا بیان ودیعت میں گزر چکا کہ خود حفاظت کرے یا اپنے اہل و عیال کی حفاظت میں دے دے یہاں عیال سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ رہتے سہتے ہوں جیسے بی بی بچے خادم اور اجیر خاص یعنی نوکر جس کی ماہوار یا ششماہی(3)یا سالانہ(4)تنخواہ دی جاتی ہو۔ مزدور جو روزانہ پر کام کرتا ہو مثلاً ایک دن کی اُسے اتنی اُجرت دی جائے گی اس کی حفاظت میں نہیں دے سکتا۔ عورت مرتہن ہے تو شوہر کی حفاظت میں دے سکتی ہے۔ بی بی اور اولاد اگر عیال میں نہ ہوں جب بھی اُن کی حفاظت میں دے سکتا ہے جن دو شخصوں کے مابین شرکت مفاوضہ یا شرکت عنان ہے ان میں ایک کے پاس کوئی چیز رکھی گئی تو شریک کی حفاظت میں دے سکتا ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: ان لوگوں کے سوا کسی اور کی حفاظت میں چیز دے دی یا کسی کے پاس ودیعت رکھی یا اجارہ یا عاریت کے طور پر دے دی یا کسی اور طرح اس میں تعدِّی کی مثلاً کتاب رہن تھی اُس کو پڑھا، یا جانور پر سوار ہوا غرض یہ کہ کسی صورت سے بلااجازت راہن استعمال میں لائے بہر صورت پوری قیمت کا تاوان اُس کے ذمہ واجب ہے اور مرتہن ان سب صورتوں میں غاصب کے حکم میں ہے اسی وجہ سے پوری قیمت کا تاوان واجب ہوتا ہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،ج۲،ص۴۱۴،۴۱۵.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۹۰،۹۱.
3 ۔یعنی چھ ماہ بعد۔ 4 ۔یعنی بارہ ماہ بعد۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۹۱.
6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۴۴: انگوٹھی رہن رکھی مرتہن نے چھنگلیا (1)میں پہن لی پوری قیمت کا ضامن ہو گیا کہ یہ مرہون کو بلا اجازت استعمال کرنا ہے دہنے ہاتھ کی چھنگلیا میں پہنے یا بائیں ہاتھ میں، دونوں کا ایک حکم ہے کہ انگوٹھی دونوں طرح عادۃً پہنی جاتی ہے اور چھنگلیا کے سوا کسی دوسری اُنگلی میں ڈال لی تو ضامن نہیں کہ عادۃً اس طرح پہنی نہیں جاتی لہٰذا اس کو پہننا نہ کہیں گے بلکہ حفاظت کے لئے اُنگلی میں ڈال لینا ہے۔(2)(ہدایہ)یہ حکم اُس وقت ہے کہ مرتہن مرد ہو اور اگر عورت کے پاس انگوٹھی رہن رکھی تو جس کسی انگلی میں ڈالے پہننا ہی کہا جائے گا کہ عورتیں سب میں پہنا کرتی ہیں۔(3) (غنیۃ ذوی الاحکام)کُرتے کو کندھے پر ڈال لیا یعنی جوچیز جس طرح استعمال کی جاتی ہے اُس کے سوا دوسرے طریق پر بدن پر ڈال لی اس میں کُل قیمت کا تاوان نہیں۔
مسئلہ ۴۵: مرتہن خود انگوٹھی پہنے ہوئے تھا اس کے پاس انگوٹھی رہن رکھی گئی اپنی انگوٹھی پر رہن والی انگوٹھی کو بھی پہن لیا یا ایک شخص کے پاس دو انگوٹھیاں رہن رکھی گئیں اُس نے دونوں ایک ساتھ پہن لیں، یہاں یہ دیکھا جائے گا کہ یہ شخص اگر اُن لوگوں میں ہے جو بقصد زینت دو انگوٹھیاں پہنتے ہیں (اگرچہ یہ شرعاً ناجائز ہے)تو پورا تاوان واجب اور اگر دونوں انگوٹھیاں پہننے والوں میں نہیں تو اس کو پہننا نہیں کہا جائے گا بلکہ یہ حفاظت کرنا کہا جائے گا۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۴۶: دو تلواریں رہن رکھیں مرتہن نے دونوں کو ایک ساتھ باندھ لیا ضامن ہے کہ بہادر دو تلواریں ایک ساتھ لگایا کرتے ہیں اور تین تلواریں رہن رکھیں اور تینوں کو لگا لیا تو ضامن نہیں کہ تلوار کے استعمال کا یہ طریقہ نہیں۔ (5) (ہدایہ)پہلی صورت میں اُس وقت ضامن ہے کہ خود مرتہن بھی دو تلواریں ایک ساتھ لگانے والوں میں ہو۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۷: مرتہن نے چیز استعمال کی اور ہلاک ہو گئی اور اُس پر پوری قیمت کا تاوان لازم آیا اگر یہ قیمت اتنی ہی ہے جتنا اس کا دَین تھا اور قاضی نے اسی جنس کی قیمت کا فیصلہ کیا جس جنس کا دَین ہے۔ مثلاً سو روپے دَین ہے اورقیمت بھی سوروپے قرار دی تو فیصلہ کرنے ہی سے ادلا بدلا ہو گیا یعنی نہ لینا نہ دینا اور اگر دَین کی مقدار زیادہ ہے تو مرتہن راہن سے بقیہ دَین کا مطالبہ کریگا اور اگر قیمت دَین سے زیادہ ہے تو راہن مرتہن سے یہ زیادتی وصول کریگا اور اگر دَین ایک جنس کا ہے اور قاضی نے
1 ۔ہاتھ کی چھوٹی انگلی۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،کیفیۃ انعقاد الرھن،ج۲،ص ۴۱۶.
3 ۔''غنیۃ ذوی الأحکام''ھامش علی''دررالحکام''،کتاب الرھن،الجزء الثانی،ص۲۵۰.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،کیفیۃ انعقاد الرھن،ج ۲،ص ۴۱۶.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص ۹۲.
قیمت دوسری جنس سے لگائی مثلاً دَین روپیہ ہے اور مرہون کی قیمت اشرفیوں(1)سے لگائی یا اس کا عکس تو یہ قیمت مرتہن کے پاس بجائے اُس ہلاک شدہ چیز کے رہن ہے یعنی راہن جب دَین ادا کر ے گا تب اس قیمت کے وصول کرنے کا مستحق ہو گا۔ اسی طرح اگر دَین میعادی ہو اور ابھی میعاد باقی ہے تو اگرچہ قیمت اسی جنس سے لگائی ہو مرتہن کے پاس یہ قیمت رہن ہو گی جب میعاد پوری ہو جائے گی اُس قیمت کو دَین میں وصول کریگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱: مرہون کی(3)حفاظت میں جو کچھ صرف ہو گا وہ سب مرتہن کے ذمہ ہے کہ حفاظت خود اُسی کے ذمہ ہے لہٰذا جس مکان میں مرہون کو رکھے اُس کا کرایہ اور حفاظت کرنے والے کی تنخواہ مرتہن اپنے پاس سے خرچ کرے اور اگرجانور کو رہن رکھا ہے تو اس کے چرانے کی اُجرت اور مرہون کا نفقہ مثلاً اُس کا کھانا پینا اور لونڈی غلام کو رہن رکھا ہے توان کا لباس بھی اور باغ رہن رکھاہے تو درختوں کو پانی دینے پھل توڑنے اور دوسرے کاموں کی اُجرت راہن کے ذمہ ہے اسی طرح زمین کا عشر یا خراج بھی راہن ہی کے ذمہ ہے خلاصہ یہ کہ مرہون کی بقا،یا اُس کے مصالح میں(4)جو خرچہ ہو وہ راہن کے ذمہ ہے۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۲: جو مصارف مرتہن کے ذمہ ہیں اگر یہ شرط کر لی جائے کہ یہ بھی راہن ہی کے ذمہ ہوں گے تو باوجود شرط بھی راہن کے ذمہ نہیں ہوں گے بلکہ مرتہن ہی کو دینے ہوں گے بخلاف ودیعت کہ اس میں اگر مودَع نے یہ شرط کر لی ہے کہ حفاظت کے مصارف مود ِع کے ذمہ ہوں گے تو شرط صحیح ہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مرہون کو مرتہن کے پاس واپس لانے میں جو صرفہ ہو مثلاً وہ بھاگ گیا اُس کو پکڑ لانے میں کچھ خرچ کرناہوگایا مرہون کے کسی عضو میں زخم ہو گیا یا اُس کی آنکھ سپید پڑ گئی یا کسی قسم کی بیماری ہے ان کے علاج میں جوکچھ صرفہ (7) ہووہ مضمون وامانت پر تقسیم کیا جائے یعنی اگر مرہون کی قیمت دَین سے زائد ہو تو اس صورت میں بتایا جا چکا ہے کہ بقدرِ دَین(8) مرتہن کے ضمان میں ہے اور جو کچھ دَین سے زائد ہے وہ امانت ہے لہٰذا یہ صرفہ دونوں پر تقسیم ہو جو حصّہ مرتہن کے ضمان کے
1 ۔سونے کے سکوں۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۹۳.
3 ۔جو چیز رہن رکھی گئی ہے اُس کی۔ 4 ۔یعنی اس کی درستگی میں۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،ج ۲،ص ۴۱۶.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۹۴.
7 ۔خرچہ ۔ 8 ۔یعنی قرض کے برابر۔
مقابل میں آئے وہ مرتہن کے ذمہ ہے اورجو امانت کے مقابل ہو وہ راہن کے ذمہ اور اگر مرہون کی قیمت دَین سے زائد نہ ہو تویہ سارے مصارف مرتہن کے ذمہ ہوں گے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۴: جو مصارف ایک کے ذمہ واجب تھے اُنہیں دوسرے نے اپنے پاس سے کر دیا اس کی دو صورتیں ہیں۔ اگر اس نے خود ایسا کیا ہے جب تو متبرّع ہے وصول نہیں کر سکتا۔ اور اگر قاضی کے حکم سے ایسا کیا ہے اور قاضی نے کہہ دیا ہے کہ جو کچھ خرچ کرو گے دوسرے کے ذمہ دَین ہو گا اس صورت میں وصول کر سکتا ہے۔ اور اگر قاضی نے خرچ کرنے کا حکم دے دیا مگر یہ نہیں کہا کہ دوسرے کے ذمہ دَین ہو گا تو اس صورت میں بھی وصول نہیں کر سکتا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۵: مرہون پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے اور وہاں قاضی نہیں ہے کہ اس سے اجازت حاصل کرتا یہاں محض مرتہن کا یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ ضرورت کی وجہ سے خرچ کیا ہے بلکہ گواہوں سے ثابت کرنا ہو گا کہ ضرورت تھی اوراس لئے خرچ کیا تھا کہ وصول کرلے گا۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱: مشاع کو مطلقاً رہن رکھنا ناجائز ہے۔ وہ چیز رہن رکھتے وقت ہی مشاع تھی یا بعد رہن شیوع آیا، وہ چیز قابل قسمت ہو یا ناقابل تقسیم ہو، اجنبی کے پاس رہن رکھے یا شریک کے پاس، سب صورتیں ناجائز ہیں۔ پہلے کی مثال یہ ہے کہ کسی نے اپنا نصف مکان رہن رکھ دیا اُس نصف کو ممتاز نہیں کیا (4)،بعد میں شیوع پیدا ہو اس کی مثال یہ ہے کہ پوری چیز رہن رکھی پھر دونوں نے نصف میں رہن فسخ کر دیا۔ مثلاً راہن نے کسی کو حکم کر دیا کہ وہ مرہون کو جس طرح چاہے بیع کر دے اُس نے نصف کو بیع کر دیاباقی صورتوں کی مثالیں ظاہر ہیں۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۲: مشاع کو رہن رکھنافاسد ہے یا باطل۔ صحیح یہ ہے کہ باطل نہیں بلکہ فاسد ہے لہٰذا مرہون پر مرتہن کا اگر قبضہ ہوگیا تویہ قبضہ قبضہ ئضمان ہے کہ مرہون اگرہلاک ہو جائے تو وہی حکم ہے جو رہن صحیح کا تھا۔ (6) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۹۴.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،ج۱۰،ص۹۴.
4 ۔یعنی یہ وضاحت نہیں کی کہ کس نصف حصہ کو گروی رکھتاہوں۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ...إلخ،ج۲،ص۴۱۷.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ ومالا یجوز،ج۱۰،ص۹۷،۹۸.
رہن فاسدو باطل میں فرق یہ ہے کہ باطل وہ ہے جس میں رہن کی حقیقت ہی نہ پائی جائے کہ جس چیز کو رہن رکھا وہ مال ہی نہ ہو یا جس کے مقابل میں رکھا وہ مال مضمون نہ ہو اور فاسد وہ ہے کہ رہن کی حقیقت پائی جائے مگر جوا زکی شرطوں میں سے کوئی شرط مفقود ہو(1)جس طرح بیع میں فاسد و باطل کا فرق ہے یہاں بھی ہے۔(2) (شرنبلالی)
مسئلہ ۳: ایسی چیز رہن رکھی جو دوسری چیز کے ساتھ متصل ہے یعنی اس کی تابع ہے یہ رہن بھی ناجائز ہے جیسے درخت پر پھل ہیں اور صرف پھلوں کو رہن رکھایا صرف زراعت یا صرف د رخت کو رہن رکھازمین کو نہیں یا ان کا عکس یعنی درخت کو رہن رکھا پھل کو نہیں یازمین کو رہن رکھا زراعت اور درخت کو نہیں رکھا۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۴: درخت کو صرف اُتنی زمین کے ساتھ رہن رکھا جتنی زمین میں درخت ہے۔ باقی آس پاس کی زمین نہیں رکھی یہ جائز ہے اور اس صورت میں درخت کے پھل بھی تبعاً رہن میں داخل ہو جائیں گے اسی طرح زمین رہن رکھی یا گاؤں کو رہن رکھا تو جو کچھ درخت ہیں یہ بھی تبعاً رہن ہو جائیں گے۔ (4) (ہدایہ)اس میں اور پہلی صورتوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی صورتوں میں متصل چیز کے رہن کرنے کی نفی کر دی لہٰذا صحیح نہیں اور یہاں توابع کے متعلق سکوت ہے لہٰذا یہ تبعاً داخل ہیں۔
مسئلہ۵: جو چیز کسی برتن یا مکان میں ہے فقط چیز کو رہن رکھا برتن یا مکان کو رہن نہیں رکھایہ جائز ہے کہ اس صورت میں اتصال نہیں ہے۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۶: کاٹھی(6)اور لگام رہن رکھی اور گھوڑا کسا کسا یا(7)مرتہن کو دے دیا یہ رہن ناجائز ہے بلکہ اس صورت میں یہ ضروری ہے کہ ان چیزوں کو گھوڑے سے اُتار کر مرتہن کو دے اور گھوڑا رہن رکھا اور کاٹھی لگام سمیت مرتہن کو دے دیا یہ جائز ہے یہ ساز(8)بھی تبعاً رہن میں داخل ہو جائیں گے۔ (9) (ہدایہ)
1 ۔یعنی کوئی شرط نہ پائی جاتی ہو۔
2 ۔''غنیۃ ذوی الأحکام''حامش علی''دررالحکام''، کتاب الرھن ،باب مایصح رھنہ... إلخ،الجزء الثانی،ص۲۵۱.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ...إلخ،ج۲،ص۴۱۷، ۴۱۸.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ...إلخ،ج۲،ص ۴۱۸.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔زین۔ 7 ۔ یعنی کاٹھی باندھ کر اورلگام لگاکرگھوڑاتیار کیا ہوا تھا۔
8 ۔یعنی سامان ،اسباب۔
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ...إلخ،ج۲،ص ۴۱۸.
مسئلہ ۷: آزاد کو رہن نہیں رکھ سکتے کہ یہ مال نہیں اور شراب کو رہن رکھنا بھی جائز نہیں کہ اس کی بیع نہیں ہو سکتی۔ جائداد موقوفہ(1)کو بھی رہن نہیں رکھا جا سکتا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ۸: تیس ۳۰ روپے قرض لیے اور دو بکریاں رہن رکھیں ایک کو دس۱۰ کے مقابل دوسری کو بیس ۲۰ کے مقابل مگر یہ نہیں بیان کیا کہ کون سی دس۱۰ کے مقابل ہے اور کون سی بیس ۲۰ کے مقابل یہ ناجائز ہے۔ کیونکہ اگر ایک ہلاک ہو گئی تو یہ جھگڑا ہو گا کہ یہ کس کے مقابل تھی تاکہ اس کے مقابل کا دَین ساقط ہونا قرار پائے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: مکان کو رہن رکھا اور راہن و مرتہن دونوں اُس مکان کے اندر ہیں راہن نے کہا میں نے یہ مکان تمہارے قبضہ میں دیا۔ اور مرتہن نے کہا کہ میں نے قبول کیا رہن تمام نہ ہوا جب تک راہن مکان سے باہر ہو کر مرتہن کو قبضہ نہ دے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ۱۰: امانتوں کے مقابل میں کوئی چیز رہن نہیں رکھی جا سکتی مثلاً وکیل یا مضارب کو جو مال دیا جاتا ہے وہ امانت ہے یا مودَع کے پاس ودیعت امانت ہے ان لوگوں سے مال والا کوئی چیز رہن کے طور پر لے یہ نہیں ہو سکتا اگر لے گا تویہ رہن نہیں، نہ اس پر رہن کے احکام جاری ہوں گے لہٰذا اگر کسی نے کتابیں وقف کی ہیں اور یہ شرط کر دی ہے کہ جو شخص کتب خانہ سے کوئی کتاب لے جائے تو اُس کے مقابل میں کوئی چیز رہن رکھ جائے یہ شرط باطل ہے کہ مستعیر کے پاس عاریت امانت ہے اس کے تلف ہونے پر ضمان نہیں پھر اس کے مقابل میں رہن رکھنا کیونکر صحیح ہو گا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)وقفی کتابوں کا خاص کر اس لیے ذکر کیا گیا کہ یہاں واقف کی شرط کا بھی اعتبار نہیں ورنہ حکم یہ ہے کہ کوئی چیز عاریت دی جائے اُس کے مقابل میں رہن نہیں ہو سکتا۔
مسئلہ ۱۱: شرکت کی چیز شریک کے پاس ہے دوسرا شریک اُس سے کوئی چیز رہن رکھوائے صحیح نہیں کہ یہ بھی امانت ہے مبیع بائع کے پاس ہے ابھی اُس نے مشتری کو دی نہیں مشتری اس سے رہن نہیں رکھوا سکتا کہ مبیع اگرچہ امانت نہیں مگر بائع کے پاس اگر ہلاک ہو جائے تو ثمن کے مقابل میں ہلاک ہو گی یعنی بائع مشتری سے ثمن نہیں لے سکتا یا لے چکا ہے تو واپس کرے لہٰذا رہن کا حکم یہاں بھی جاری نہ ہوا۔(6) (ہدایہ)
1 ۔وقف شدہ جائداد۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ...إلخ،ج۱۰،ص۱۰۱،۱۰۳.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الفصل الرابع فیما یجوز رھنہ وما لا یجوز،ج۵،ص۴۳۶.
4 ۔المرجع السابق،ص ۴۳۷.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ...إلخ،ج۱۰،ص۱۰۲.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ..إلخ،ج۲،ص۴۱۸.
مسئلہ ۱۲: درک کے مقابل میں رہن نہیں ہو سکتا یعنی ایک چیز خریدی ثمن ادا کر دیا اور مبیع پر قبضہ کر لیا مگر مشتری کو ڈر ہے کہ یہ چیز اگر کسی دوسرے کی ہوئی اور اس نے مجھ سے لے لی تو بائع سے ثمن کی واپسی کیونکر ہو گی اس اطمینان کی خاطر بائع کی کوئی چیز اپنے پاس رہن رکھنا چاہتا ہے یہ رہن صحیح نہیں مشتری کے پاس اگر یہ چیز ہلاک ہو گئی تو ضمان نہیں کہ یہ رہن نہیں ہے بلکہ امانت ہے اور مشتری کو اُس کا روکنا جائز نہیں یعنی بائع اگر مشتری سے چیز مانگے تو منع نہیں کر سکتا دینا ہو گا۔(1) (درر، غرر)اور چونکہ یہ چیز مشتری کے پاس امانت ہے اور اس کو روکنے کا حق نہیں ہے لہٰذا بائع کی طلب کے بعد اگر نہ دے گا اور ہلاک ہو گئی تواب تاوان دینا ہو گا۔ اب وہ غاصب ہے۔
مسئلہ ۱۳: کسی چیز کا نرخ چُکا کر بائع کے یہاں سے لے گیا اور ابھی خریدی نہیں ہاں خریدنے کا ارادہ ہے اور بائع نے اس سے کوئی چیز رہن رکھوالی یہ جائز ہے اس بارے میں یہ چیز مبیع کے حکم میں نہیں ہے۔ (2) (زیلعی)
مسئلہ ۱۴: دَین موعودکے مقابل میں رہن رکھنا جائز ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا کہ مثلاً کسی سے قرض مانگا اور اُس نے دینے کا وعدہ کر لیا ہے مگر ابھی دیا نہیں قرض لینے والا اس کے پاس کوئی چیز رہن رکھ آیا یہ رہن صحیح ہے۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۵: جس صورت میں قصاص واجب ہے وہاں رہن صحیح نہیں اور خطا کے طور پرجنایت ہوئی کہ اس میں دیت واجب ہو گی یہاں رہن صحیح ہے کہ مرہون سے اپنا حق وصول کر سکتا ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: خریدار پر شفعہ ہوا اور شفیع (5)کے حق میں فیصلہ ہوا کہ تسلیمِ مبیع (6)مشتری(7)پر واجب ہو گئی شفیع یہ چاہے کہ مشتری کی کوئی چیز رہن رکھ لوں یہ نہیں ہو سکتا جس طرح بائع سے مشتری مبیع کے مقابل میں رہن نہیں لے سکتا مشتری سے شفیع بھی نہیں لے سکتا۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: جن صورتوں میں اجارہ باطل ہے ایسے اجارہ میں اُجرت کے مقابل کوئی چیز رہن نہیں ہو سکتی کہ شرعاً یہاں اُجرت واجب ہی نہیں کہ رہن صحیح ہو مثلاً نوحہ کرنے والی کی اُجرت یا گانے والے کی اُجرت نہیں دی ہے اس کے مقابل
1 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب الرھن،باب مایصح رھنہ والرھن بہ أولا، الجزالثانی،ص۲۵۲.
2 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الرھن،باب مایجوز إرتھانہ...إلخ،ج۷،ص۱۵۴.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ...إلخ،ج۲،ص۴۱۹ .
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ ومالایجوز،ج۱۰،ص۱۰۳.
5 ۔شفعہ کرنے والا۔ 6 ۔بیچی گئی چیز سپرد کرنا۔ 7 ۔خریدار۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ ومالایجوز،ج۱۰،ص۱۰۳.
میں رہن نہیں ہو سکتا۔ (1) (درمختار)جن صورتوں میں رہن صحیح نہ ہو اُن میں مرہون امانت ہوتا ہے کہ ہلاک ہونے سے ضمان نہیں اور راہن کے طلب کرنے پر مرہون کو دے دینا ہو گا۔ اگر روکے گا تو غاصب قرار پائے گا اور تاوان واجب ہو گا۔
مسئلہ ۱۸: غاصب سے مغصوب کے مقابل میں کوئی چیز رہن لی جا سکتی ہے یہ رہن صحیح ہے اسی طرح بدل خلع اوربدل صلح کے مقابل میں رہن ہو سکتا ہے مثلاً عورت نے ہزار روپے پر خلع کرایا اور روپیہ اس وقت نہیں دیا روپے کے مقابل میں شوہر کے پاس کوئی چیز رہن رکھ دی یہ رہن صحیح ہے یا قصاص واجب تھا مگر کسی رقم پر صلح ہو گئی اس کے مقابل میں رہن رکھنا صحیح ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: مکان یا کوئی چیز کرایہ پر لی تھی اور کرایہ کے مقابل میں مالک کے پاس کوئی چیز رہن رکھ دی یہ رہن جائز ہے پھر اگر مدت اجارہ پوری ہونے کے بعد وہ چیز ہلاک ہوئی تو گویا مالک نے کرایہ وصول پا لیا اب مطالبہ نہیں کر سکتا اور اگر مستاجر(3)کے منفعت حاصل کرنے سے پہلے چیز ہلاک ہو گئی تو رہن باطل ہے مرتہن پر واجب ہے کہ مرہون(4) کی قیمت راہن کو دے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ۲۰: درزی کوسینے کے لیے کپڑا دیا اور سینے کے مقابل میں اُس سے کوئی چیز اپنے پاس رہن رکھوائی یہ جائز اور اگر اس کے مقابل میں رہن ہے کہ تم کو خود سینا ہو گا یہ رہن ناجائز ہے۔ یوہیں کوئی چیز عاریت دی اور اس چیز کی واپسی میں باربرداری صَرف (6)ہو گی لہٰذا معیر نے مستعیر سے کوئی چیز واپسی کے مقابل میں رہن رکھوائی یہ جائز ہے اور اگر یوں رہن رکھوائی کہ تم کو خود پہنچانی ہو گی توناجائز ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: بیع سلم کے راس المال کے مقابل میں رہن صحیح ہے اور مسلم فیہ کے مقابل میں بھی صحیح ہے۔ اسی طرح بیع صرف کے ثمن کے مقابل میں رہن صحیح ہے۔ پہلے کی صورت یہ ہے کہ کسی شخص سے مثلاً سو ۱۰۰ روپے میں سلم کیا اور ان روپوں کے مقابل میں کوئی چیز رہن رکھ دی۔ دوسرے کی یہ صورت ہے کہ دس ۱۰ من گیہوں(8) میں سلم کیا اور روپے دے دیے اور مُسلم اِلَیہ سے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ ومالایجوز،ج۱۰،ص۱۰۳.
2 ۔المرجع السابق،ص ۱۰۴ .
3 ۔کرایہ دار۔ 4 ۔گروی رکھی ہوئی چیز۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ...إلخ،الفصل الثالث،ج۵،ص ۴۳۵.
6 ۔خرچ ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ...إلخ،الفصل الثالث ج۵،ص ۴۳۵.
8 ۔گندم۔
کوئی چیز رہن لے لی۔ تیسرے کی یہ صورت ہے کہ روپے سے سونا خریدا اور روپے کی جگہ پر کوئی چیز سونے والے کو دے دی۔ پہلی اور تیسری صورت میں اگر مرہون اسی مجلس میں ہلاک ہو جائے تو عقد سلم و صَرف تمام ہو گئے(1)اور مرتہن نے اپنا مال وصول پا لیا یعنی بیع سلم میں راس المال مسلم الیہ کو مل گیا اور بیع صَرف میں زرِ ثمن وصول ہو گیا (2)مگر یہ اس وقت ہے کہ مرہون کی قیمت راس المال اور ثمنِ صَرف سے(3)کم نہ ہو اور اگر قیمت کم ہے تو بقدر قیمت صحیح ہے مابقی کو(4)اگر اسی مجلس میں نہ دیا تو اُس کے مقابل میں صحیح نہ رہا اور اگر مرہون اُس مجلس میں ہلاک نہ ہوا اور عاقدین(5)جدا ہو گئے اور راس المال و ثمنِ صَرف اُس مجلس میں نہ دیا تو عقد ِسلم و صَرف باطل ہو گئے کہ ان دونوں عقدوں میں اسی مجلس میں دینا ضروری تھا جو پایا نہ گیا۔ اور اس صورت میں چونکہ عقد باطل ہو گئے لہٰذا مرتہن راہن کو مرہون واپس دے۔ اور فرض کرو مرتہن نے ابھی واپس نہیں دیا تھا اور مرہون ہلاک ہو گیا تو راس المال وثمن صَرف کے مقابل میں ہلاک ہونا مانا جائے گا یعنی وصول پانا قرار دیا جائے گا مگر وہ دونوں عقداب بھی باطل ہی رہیں گے اب جائز نہیں ہوں گے۔ دوسری صورت یعنی مسلم فیہ کے مقابل میں رب السلم نے اپنے پاس کوئی چیز رہن رکھی اس میں عقد سلم مطلقاً صحیح ہے مرہون اسی مجلس میں ہلاک ہو یا نہ ہو دونوں کے جدا ہونے کے بعد ہو یا نہ ہو کہ راس المال پر قبضہ جو مجلس عقد میں ضروری تھا وہ ہو چکا اور مسلم فیہ کے قبضہ کی ضرورت تھی ہی نہیں لہٰذا اس صورت میں اگر مرہون ہلاک ہو جائے مجلس میں یا بعد مجلس بہر صورت عقد سلم تمام ہے۔ اور رب السلم کو گویا مسلم فیہ وصول ہو گیا یعنی مرہون کے ہلاک ہونے کے بعد اب مسلم فیہ کا مطالبہ نہیں کر سکتا ہاں اگر مرہون کی قیمت کم ہو توبقدر قیمت وصول سمجھا جائے باقی باقی ہے۔ (6) (ہدایہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: رب السلم نے مسلم فیہ کے مقابل میں اپنے پاس چیز رہن رکھ لی تھی اور دونوں نے عقدِ سلم کو فسخ کر دیا توجب تک راس المال وصول نہ ہو جائے یہ چیز راس المال کے مقابل ہے یعنی مسلم الیہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ سلم فسخ ہوگیالہٰذامرہون واپس دو۔ ہاں جب مسلم الیہ راس المال واپس کر دے تو مرہون کو واپس لے سکتا ہے اور فرض کرو کہ راس المال واپس نہیں دیا اوررب السلم کے پاس وہ چیز ہلاک ہو گئی تو مسلم فیہ کے مقابل میں اس کا ہلاک ہونا سمجھا جائے گا یعنی رب المال مسلم فیہ کی مثل
1 ۔یعنی بیع سلم اورسونے چاندی کی بیع کاعقد مکمل ہوگیا۔
2 ۔یعنی طے شدہ قیمت وصول ہوگئی۔ 3 ۔یعنی سونے چاندی کی بیع میں مقررہ رقم سے۔
4 ۔باقی ماندہ۔ 5 ۔یعنی راہن اورمرتہن۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ... إلخ،ج ۲،ص ۴۱۹.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب مایجوز ارتھانہ ومالایجوز،ج۱۰،ص۱۰۵،۱۰۶.
مسلم الیہ کو دے اوراپنا راس المال واپس لے یہ نہیں کہ اس کو راس المال کے قائم مقام فرض کر کے راس المال کی وصولی قراردیں۔(1)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۳: سونا چاندی روپیہ اشرفی اور مکیل و موزون کو رہن رکھنا جائز ہے پھر ان کو رہن رکھنے کی دو صورتیں ہیں۔ دوسری جنس کے مقابل میں رہن رکھا یا خود اپنی ہی جنس کے مقابل میں رکھا۔ پہلی صورت میں یعنی غیر جنس کے مقابل میں اگر ہو مثلاً کپڑ ے کے مقابل روپیہ، اشرفی(2)یا جَو گیہوں کو رہن رکھا اور یہ مرہون (3)ہلاک ہو جائے تو اس کی قیمت کا اعتبار ہو گا اور اس صورت میں کھرے کھوٹے کا لحاظ ہو گا یعنی اگر اس کی قیمت دَین کی برابر یا زائد ہے تو دَین وصول سمجھا جائے گا اور اگر کچھ کمی ہے تو جو کمی ہے اتنی راہن سے لے سکتا ہے۔ اور اگر دوسری صورت ہے یعنی اپنی ہم جنس کے مقابل میں رہن ہے مثلاً چاندی کو روپیہ کے مقابل میں یا سونے کو اشرفی کے مقابل میں یا گیہوں کو گیہوں کے مقابل رہن رکھا اورمرہون ہلاک ہو گیا تو وزن وکَیل (ناپ)کا اعتبار ہو گا۔ اور اس صورت میں کھرے کھوٹے کا اعتبار نہیں ہو گامثلاًسو۱۰۰روپے قرض لئے اور چاندی رہن رکھی اور یہ ضائع ہو گئی اور یہ چاندی سو روپے بھر یا زائد تھی تو دَین وصول سمجھا جائے یہ نہیں کہا جا سکتا کہسو۱۰۰روپے بھر چاندی کی مالیت سو۱۰۰روپے سے کم ہے اورسو۱۰۰روپے بھر سے کچھ کمی ہے تو اتنی کمی وصول کر سکتا ہے۔ (4) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۲۴: سونے چاندی کی کوئی چیز مثلاً برتن یا زیور کو اپنی ہم جنس کے مقابل میں رہن رکھا اور چیز ٹوٹ گئی اگر اس کی قیمت وزن کی بہ نسبت کم ہے تو خلاف جنس سے اس کی قیمت لگا کر اُس قیمت کو رہن قرار دیا جائے اور ٹوٹی ہوئی چیز کا مرتہن مالک ہو گیا اور راہن کو اختیار ہے کہ دَین ادا کر کے وہ چیز لے لے اور اگر اس کی قیمت وزن کی بہ نسبت زیادہ ہے تو دوسری جنس سے قیمت لگا ئی جائے گی اور مرتہن پوری قیمت کا ضامن ہے اور یہ قیمت اُس کے پاس رہن ہو گی اور مرتہن اس ٹوٹی ہوئی چیزکا مالک ہو جائے گا۔ مگر راہن کو یہ اختیار ہو گا کہ پورا دَین ادا کر کے فک رہن (5) کرالے۔ (6) (تبیین)
مسئلہ ۲۵: ایک شخص سے دس درہم قرض لئے اور انگوٹھی رہن رکھ دی جس میں ایک درہم چاندی ہے اور نو درہم کا
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوز ارتھانہ... إلخ،ج۲،ص ۴۱۹ .
2 ۔سونے کاسکہ۔ 3 ۔گروی رکھی ہوئی چیز۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوز ارتھانہ... إلخ،ج۲،ص ۴۲۲ .
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ ومالایجوز،ج۱۰،ص۱۰۸.
5 ۔یعنی گروی رکھی ہوئی چیز کوچھڑانا۔
6 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ والار تھان بہ،ج۷،ص ۱۶۲،۱۶۳.
نگینہ ہے اور مرتہن کے پاس سے انگوٹھی ضائع ہو گئی تو گویا دَین وصول ہو گیا اور اگر نگینہ ٹوٹ گیا تو اس کی وجہ سے انگوٹھی کی قیمت میں جو کچھ کمی ہوئی اتنا دَین ساقط اور اگر انگوٹھی ٹوٹ گئی اور اُس کی قیمت ایک درہم سے زیادہ ہے تو پوری قیمت کا ضمان ہے مگر یہ ضمان دوسری جنس مثلاً سونے سے لیا جائے ۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: پیسے رہن رکھے تھے اور ان کا چلن بند ہو گیا یہ بمنزلہ ہلاک ہے اورا گر پیسوں کا نرخ سستا ہو گیا اس کا اعتبار نہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: طشت (3) لوٹا یا کوئی اور برتن رہن رکھا اور وہ ٹوٹ گیا اگر وہ وزن سے بکنے کی چیز نہ ہو تو جو کچھ نقصان ہوا اتنا دَین ساقط اور اگر وہ وزن سے بکے تو راہن کو اختیار ہے کہ دَین ادا کر کے اپنی چیز واپس لے یا اُس کی جو کچھ قیمت ہو اتنے میں مرتہن کے پاس چھوڑ دے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: پرائی چیز بیچ دی اور ثمن کے مقابل میں مشتری سے کوئی چیز رہن رکھوا لی مالک نے دونوں باتوں کو جائز کردیا یہ بیع جائز ہے مگر رہن جائز نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: کوئی چیز بیع کی اور مشتری سے یہ شرط کر لی کہ فلاں معین چیز ثمن کے مقابل میں رہن رکھے یہ جائز ہے اوراگر بائع نے یہ شرط کی کہ فلاں شخص ثمن کا کفیل ہو جائے اور وہ شخص وہاں حاضر ہے اس نے قبول کر لیا یہ بھی جائز ہے اور اگربائع نے کفیل کو معین نہیں کیا ہے یا معین کر دیا ہے مگر وہ وہاں موجود نہیں ہے اوراس کے آنے اور قبول کرنے سے پہلے بائع ومشتری جدا ہو گئے تو بیع فاسد ہو گئی اسی طرح اگر رہن کے لیے کوئی چیز معین نہیں کی ہے تو بیع فاسد ہو گئی مگر جبکہ اسی مجلس میں دونوں نے رہن کو معین کر لیا یا اسی مجلس میں مشتری نے ثمن ادا کر دیا تو بیع صحیح ہو گئی مجلس بدل جانے کے بعد معین رہن یا ادائے ثمن سے بیع کا فساد دفع نہیں ہو گا۔ (6) (ہدایہ ،د رمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب العاشر فی رہن الفضۃبالفضۃ...إلخ،ج۵،ص۴۷۵.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۷۶.
3 ۔تھال ،بڑا برتن۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب العاشر فی رہن الفضۃبالفضۃ...إلخ،ج۵،ص۴۷۶.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ...إلخ،الفصل الرابع فیمایجوزرہنہ...إلخ،ج۵،ص ۴۳۶.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ... إلخ،ج۲،ص ۴۲۴ .
و''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ ومالایجوز،ج۱۰،ص۹ ۱۰.
مسئلہ۳۰: بائع نے معین چیز رہن رکھنے کی شرط کی تھی اور مشتری نے یہ شرط منظور بھی کر لی تھی اس صورت میں مشتری مجبور نہیں ہے کہ اس شرط کو پورا ہی کر دے کہ محض ایجاب و قبول سے عقد رہن لازم نہیں ہوتا، مگر مشتری نے اگر وہ چیز رہن نہ رکھی تو بائع کو اختیار ہے کہ بیع کو فسخ کر دے مگر جبکہ مشتری ثمن ادا کر دے یا جو چیز رہن رکھنے کے لئے معین ہوئی تھی اُسی قیمت کی دوسری چیز رہن رکھ دے تو اب بیع کو فسخ نہیں کر سکتا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: کوئی چیز خریدی اور مشتری نے بائع کو کوئی چیز دے دی کہ اسے رکھے جب تک میں دام (2) نہ دوں تو یہ چیز رہن ہو گئی اورا گر جو چیز خریدی ہے اُسی کے متعلق کہا کہ اسے رکھے رہو جب تک دام نہ دوں تو اس میں دو صورتیں ہیں اگر مشتری نے اُس پر قبضہ کر لیا تھا پھر بائع کو یہ کہہ کر دے دی کہ اسے رکھے رہو تو یہ رہن بھی صحیح ہے اور اگر مشتری نے قبضہ نہیں کیا تھا اور مبیع کے متعلق وہ الفاظ کہے تو رہن صحیح نہیں کہ وہ تو بغیر کہے بھی ثمن کے مقابل میں محبوس (3)ہے بائع بغیر ثمن لئے دینے سے انکار کر سکتا ہے۔ (4) (ہدایہ ،درمختار)
مسئلہ ۳۲: مشتری نے چیز خرید کر بائع کے پاس چھوڑ دی کہ اسے رکھے رہو دام دے کر لے جاؤں گا اور مشتری چیز لینے نہیں آیا اور چیز ایسی ہے کہ خراب ہو جائے گی مثلاً گوشت ہے کہ رکھا رہنے سے سڑ جائے گا یا برف ہے جو گھل جائے گی بائع کو ایسی چیز کا دوسرے کے ہاتھ بیع کر دینا جائز ہے اور جسے معلوم ہے کہ یہ چیز دوسرے کی خریدی ہوئی ہے اُس کو خریدنا بھی جائز ہے مگر بائع نے اگر زائد داموں سے بیچا تو جو کچھ پہلے ثمن سے زائد ہے اُسے صدقہ کر دے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: دائن (6)نے مدیون (7)کی پگڑی لے لی کہ میرا دَین دے دو گے اُس وقت پگڑی دوں گا اگر مدیون بھی راضی ہو گیا اور چھوڑ آیا تو رہن ہے ضائع ہو گی تو رہن کے احکام جاری ہوں گے اور اگر راضی نہیں ہے مثلاً یہ کمزور ہے اُس سے چھین نہیں سکتاتھا تو رہن نہیں بلکہ غصب ہے۔ (8) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ ومالایجوز،ج۱۰،ص۱۰۹.
2 ۔رقم،روپیہ۔ 3 ۔مقید۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوز إرتھانہ... إلخ،ج۲،ص ۴۲۴ .
و''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ ومالایجوز،ج۱۰، ص ۱۰۹.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ ومالایجوز،ج۱۰، ص ۱۰۹،۱۱۰.
6 ۔قرض خواہ۔ 7 ۔مقروض۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ ومالایجوز،ج۱۰، ص ۱۱۴.
مسئلہ ۱: باپ کے ذمہ دَین ہے وہ اپنے نابالغ لڑکے کی چیز دائن کے پاس رہن رکھ سکتا ہے اسی طرح وصی بھی نابالغ کی چیز کو اپنے دَین کے مقابل میں رہن رکھ سکتا ہے پھر اگر یہ چیز مرتہن (1)کے پاس ہلاک ہو گئی تو یہ دونوں بقدر دَین نابالغ کو تاوان دیں اورمقدارِ دَین سے مرہون (2)کی قیمت زائد ہو تو زیادتی کا تاوان نہیں کہ یہ امانت تھی جو ہلاک ہو گئی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲: باپ یا وصی نے نابالغ کی چیز اپنے دائن کے پاس رکھی تھی پھر اُس دائن کو انہوں نے چیز بیچ ڈالنے کے لیے کہہ دیا اُس نے بیچ کر اپنا دَین وصول کر لیا یہ بھی جائز ہے مگر بقدرِ ثمن نابالغ کو دینا ہو گا اسی طرح اگر ان دونوں نے نابالغ کی چیز اپنے دَین کے بدلے میں خود بیع کر دی یہ بھی جائز ہے اور اس ثمن اور دَین میں مقاصہ (ادلا بدلا)ہو جائے گا پھر نابالغ کو اپنے پاس سے بقدر ثمن ادا کر یں۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۳: خود نابالغ لڑکے کا باپ کے ذمہ دَین ہے اس کے مقابل میں باپ نے اُس کے پاس کوئی چیز رہن رکھ دی یہ بھی جائز ہے اور اس صورت میں اُس چیز پر اس کا قبضہ نابالغ کی طرف سے ہو گا اور اس کا عکس بھی جائز ہے یعنی باپ کا بیٹے پر دَین تھا اور اس کی چیز اپنے پاس رہن رکھ لی یہ دونوں صورتیں وصی کے حق میں ناجائز ہیں کہ نہ اپنی چیز اُس کے پاس رہن رکھ سکتاہے نہ اس کی اپنے پاس۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۴: ایک شخص کے دو نابالغ لڑکے ہیں اور ایک کا دوسرے پر دَین ہے ان کا باپ مدیون کی چیز دائن کے پاس رہن رکھ سکتا ہے اور دو نابالغوں کا وصی یہ نہیں کر سکتا کہ ایک کی چیز کو دوسرے کی طرف سے رہن رکھ لے۔ (6) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: باپ اور نابالغ لڑکے دونوں پر دَین ہے اور باپ نے نابالغ کی چیز دونوں کے مقابل میں رہن رکھ دی یہ جائز ہے اور اس صورت میں اگر مرہون چیز مرتہن کے پاس ہلاک ہو گئی تو باپ کے دَین کے مقابل میں مرہون کا جتنا حصہ تھا اتنے کا لڑکے کو تاوان دے وصی اور دادا کا بھی یہی حکم ہے۔ (7) (ہدایہ)
1 ۔جس کے پاس چیز گروی رکھی گئی۔
2 ۔ گروی رکھی ہوئی چیز۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن والجنایۃعلیہ...إلخ،ج۱۰،ص ۱۳۱.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوز ارتھانہ...إلخ،ج۲،ص۴۲۱.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۶: باپ پر دَین ہے وہ بالغ لڑکے کی چیز اُس دَین کے مقابل میں رہن نہیں رکھ سکتا کہ بالغ پر اس کی ولایت نہیں اسی طرح نابالغ کے دَین میں بالغ کی چیز گِروی نہیں رکھ سکتا، اور اگر بالغ و نابالغ دونوں کی مشترک چیز ہے اس کو بھی رہن نہیں رکھ سکتا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: باپ پر دَین ہے اس نے بالغ و نابالغ لڑکوں کی مشترک چیز کو رہن رکھ دیا یہ ناجائز ہے جب تک بالغ سے اجازت حاصل نہ کر لے اور مرہون (2)ہلاک ہو جائے تو بالغ کے حصہ کا ضامن ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: باپ نے نابالغ لڑکے کی چیز رہن رکھ دی تھی پھر باپ مر گیا اور وہ بالغ ہو کر یہ چاہتا ہے کہ میں اپنی چیز مرتہن سے لے لوں تو جب تک دَین ادا نہ کر دے چیز نہیں لے سکتا پھر اگر خود باپ پر دَین تھا جس کے مقابل میں(4)گِروی رکھی تھی اور لڑکے نے اپنے مال سے دَین ادا کر کے چیز لے لی تو بقدر َدین(5)باپ کے ترکہ سے وصول کر سکتا ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: ماں کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اپنے نابالغ لڑکے کی چیز رہن رکھ دے ہاں اگر وہ وصیہ ہے یا جو شخص نابالغ کے مال کا ولی ہے اس کی طرف سے اجازت حاصل ہے تو رکھ سکتی ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: وصی نے یتیم کے کھانے اور لباس کے لیے اُدھار خریدا اور اس کے مقابل میں یتیم کی چیز رہن رکھ دی یہ جائز ہے اسی طرح اگر یتیم کے مال کو تجارت میں لگایا اور اُس کی چیز د وسرے کے پاس رکھ دی یا دوسرے کی چیز اس کے لیے رہن میں لی یہ بھی جائز ہے۔ (8) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۱: وصی نے بچہ کے لئے کوئی چیز اُدھار لی تھی اور اس کی چیز رہن رکھ دی تھی پھر مرتہن کے پاس سے بچہ ہی کی ضرورت کے لئے مانگ لایا اور چیز ضائع ہو گئی تو چیز رہن سے نکل گئی اور بچہ ہی کا نقصان ہوا اس صورت میں دَین کا کوئی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ...إلخ،الفصل الخامس فی رھن الاب والوصی،ج۵،ص۴۳۸.
2 ۔گروی رکھی ہوئی چیز۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ...إلخ،الفصل الخامس فی رھن الاب والوصی،ج۵،ص۴۳۸.
4 ۔بدلے میں۔ 5 ۔یعنی قرض کے برابر۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ...إلخ،الفصل الخامس فی رھن الاب والوصی،ج۵،ص۴۳۸.
7 ۔المرجع السابق.
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوز ارتھانہ والارتھان... إلخ،ج۲،ص ۴۲۱ .
جز اس کے مقابل میں ساقط نہیں ہو گا اور اگر اپنے کام کے لئے وصی مرتہن سے مانگ لایا ہے اور چیز ہلاک ہو گئی تو وصی کے ذمہ تاوان ہے کہ یتیم کی چیز کو اپنے لئے استعمال کرنے کا حق نہ تھا۔ (1) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۲: وصی نے یتیم کی چیز رہن رکھ دی پھر مرتہن کے پاس سے غصب کر لایا اور اپنے کام میں استعمال کی اور چیز ہلاک ہو گئی اگر اس چیزکی قیمت بقدر دَین ہے تو اپنے پاس سے دَین ادا کرے اور یتیم کے مال سے وصول نہیں کر سکتا اور اگر دَین سے اس کی قیمت کم ہے تو بقدر قیمت اپنے پاس سے مرتہن کو دے اور مابقی یتیم کے مال سے ادا کرے اور اگر قیمت دَین سے زیادہ ہے تو دَین اپنے پاس سے ادا کرے اور جو کچھ چیز کی قیمت دَین سے زائد ہے یہ زیادتی یتیم کو دے کیونکہ اس نے دونوں کے حق میں تعدی زیادتی کی اور اگر غصب کر کے یتیم کے استعمال میں لایا اور ہلاک ہوئی تو مرتہن کے مقابل میں ضامن ہے یتیم کے مقابل میں نہیں یعنی اگرچیز کی قیمت دَین سے زائد ہے تو اس زیادتی کا تاوان اس کے ذمہ نہیں ہوگا۔ (2) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۳: وصی نے یتیم کی چیز اپنے نابالغ لڑکے کے پاس رہن رکھ دی یہ ناجائز ہے اور بالغ لڑکے یا اپنے باپ کے پاس رکھ دی یہ جائز ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: وصی نے ورثہ کے خرچ اور حاجت کے لیے چیز اُدھارلی اوران کی چیز رہن رکھ دی اگر یہ سب ورثہ بالغ ہیں تو ناجائز ہے اور سب نابالغ ہیں تو جائز ہے اور بعض بالغ بعض نابالغ ہیں تو بالغ کے حق میں ناجائز اور نابالغ کے بارے میں جائز۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: میت پر دَین ہے وصی نے ترکہ کو ایک دائن کے پاس رہن رکھ دیا یہ ناجائز ہے۔ دوسرے دائن اس رہن کو واپس لے سکتے ہیں اور اگر صرف ایک ہی شخص کا دَین ہے تو اس کے پاس رہن رکھ سکتا ہے اور میت کا دوسرے پر دَین ہے تو وصی مدیون کی چیز اپنے پاس رہن رکھ سکتا ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: راہن مر گیا تو اس کا وصی رہن کو بیچ کر دَین ادا کر سکتا ہے۔ اور راہن کا وصی کوئی نہیں ہے تو قاضی کسی کو اس کا وصی مقرر کرے اور اُسے حکم دے گا کہ چیز بیچ کر دَین ادا کرے۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوز ارتھانہ والارتھان... إلخ،ج۲،ص ۴۲۱،۴۲۲.
2 ۔المرجع السابق ،ص ۴۲۲.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ...إلخ،الفصل الخامس فی رھن الاب والوصی،ج۵،ص۴۳۹.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱: ہزارروپے قرض لئے اور دو چیزیں رہن رکھیں تو دونوں چیزیں پورے دَین کے مقابل میں(1)رہن ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک کے حصہ کا دَین ادا کر کے فک رہن کرا لے (2)جب تک پورا دَین ادا نہ کر لے ایک کو بھی نہیں چھوڑا سکتا۔ ہاں ا گر رہن رکھتے وقت ہر ایک کے مقابل میں دَین کا حصہ نامزد کر دیا ہو مثلاً یہ کہہ دیا ہو کہ چھ سو۶۰۰ کے مقابل میں یہ ہے اور چارسو۴۰۰کے مقابل میں یہ ہے اور ادا کرتے وقت کہہ دیا کہ اس کے مقابل کا دَین ادا کرتا ہوں توا س کا فک رہن ہو سکتا ہے کہ یہ ایک رہن نہیں بلکہ دو عقد ہیں۔ (3) (زیلعی، درمختار)اور اگر دو چیزیں رہن رکھیں اور یہ کہہ دیا کہ اتنے دَین کے مقابل میں ایک اور اتنے کے مقابل میں دوسری مگر یہ معین نہیں کیا کہ کس کے مقابل میں کون ہے تو رہن صحیح نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: دو شخصوں کے پاس ایک چیز رہن رکھی اس کی کئی صورتیں ہیں۔ اگر یہ کہہ دیا کہ آدھی اس کے پاس رہن ہے اور آدھی اُس کے پاس یہ ناجائز کہ مشاع کا رہن ناجائز ہے اور اگر اس قسم کی تفصیل نہیں کی ہے اور ایک نے قبول کیا دوسرے نے نامنظور کیا جب بھی صحیح نہیں اور دونوں نے قبول کر لیا تو وہ چیز پوری پوری دونوں کے پاس رہن ہے اس کی ضرورت نہیں کہ دونوں نے اس شخص کو مشترک طور پر دَین دیا ہو دونوں میں شرکت ہو یا نہ ہو بہرحال وہ چیز دونوں کے پاس رہن ہے راہن اپنی چیز اسی وقت لے سکتا ہے کہ دونوں کا پورا پورا دَین ادا کر دے اور ایک کا پورا دَین ادا کر دیا تو پوری چیز اُسی کے پاس رہن ہے جس کا دَین باقی ہے۔ (5) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۳: دو شخصوں کے پاس ایک چیز رہن رکھی اور وہ چیز قابلِ تقسیم ہے دونوں تقسیم کر کے آدھی آدھی اپنے قبضہ میں کر لیں اور اس صورت میں ا گر پوری چیز ایک ہی کے قبضہ میں دے دی تو جس نے دی وہ ضامن ہے۔ اوراگر
1 ۔بدلے میں۔
2 ۔یعنی گروی چیز چھڑالے۔
3 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ...إلخ ،ج۷،ص۱۶۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ وما لایجوز،ج۱۰،ص۱۱۱.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ وما لایجوز،ج۱۰،ص۱۱۱.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ...إلخ ،فصل ،ج۲،ص۴۲۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ وما لایجوز،ج۱۰ص۱۱۰.
چیزناقا بلِ تقسیم ہے تودونوں باریاں مقرر کر لیں اپنی اپنی باری میں ہر ایک پوری چیز اپنے قبضہ میں رکھے اس صورت میں وہ چیز جس کے پاس اُس کی باری میں ہے تو دوسرے کی طرف سے اُس کا حکم یہ ہے کہ جیسے کسی معتبر آدمی کے پاس شے مرہون ہوتی ہے۔ (جس کا بیان آئے گا)۔ (1) (زیلعی)
مسئلہ ۴: دو شخصوں کے پاس چیز رہن رکھی اور وہ ہلاک ہو گئی توہر ایک اپنے حصہ کے مطابق ضامن ہے مثلاً ایک شخص کے دس ۱۰ روپے تھے دوسرے کے پانچ تھے اور دونوں کے پاس ایک چیز تیس ۳۰ روپے کی رہن رکھ دی اُس چیز کے دو حصے ضائع ہوگئے ایک حصہ باقی ہے تو یہ حصہ جو باقی رہ گیا ہے دونوں پر تقسیم ہو گا۔ یعنی دو تہائیاں(2) دس ۱۰ والے کی اور ایک تہائی(3)پانچ والے کی یعنی دس ۱۰ وا لے کی دو تہائیاں ساقط ہو گئیں ایک تہائی باقی ہے یعنی تین روپے پانچ آنے (4)چار پائی(5) اور پانچ والے کی دو تہائیاں ساقط ہوئیں ایک تہائی باقی ہے یعنی ایک روپیہ دس آنے آٹھ پائی۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: دو شخصوں پر ایک شخص کا دَین ہے دونوں نے ایک چیز دائن کے پاس رہن رکھی یہ رہن صحیح ہے اورپورے دَین کے مقابل میں چیز گِروی ہے دونوں نے ایک ساتھ اس سے دَین لیا ہو یا الگ الگ دونوں صورتوں کاایک حکم ہے۔ پھر اگر ایک نے اپنا دَین ادا کر دیا تو چیز کو واپس نہیں لے سکتا جب تک دوسرا بھی اپنے ذمہ کا دَین ادا نہ کردے۔(7) (ہدایہ)
مسئلہ ۶: مدیون (8)نے دائن(9)کو دو کپڑے دیے اور یہ کہا کہ ان میں سے جس کو چاہو رہن رکھ لو اُس نے دونوں رکھ لئے کوئی بھی رہن نہ ہوا جب تک ایک کو معین نہ کر لے اور وہ ضامن نہیں ہو گا اور ضائع ہونے سے دَین ساقط نہیں ہو گا۔ اسی طرح اگر بیس روپے باقی تھے دائن نے مانگے مدیون نے اس کے پاس سو روپے ڈال دیے کہ تم ان میں سے اپنے بیس لے لو اور ابھی اس نے لئے نہیں کہ یہ سب روپے ضائع ہو گئے تو مدیون کے گئے، دائن کا دَین بحالہ باقی ہے۔ (10) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ...إلخ،ج۷ص۱۷۰.
2 ۔یعنی تین حصوں میں سے دو حصے۔ 3 ۔تیسرا حصہ۔
4 ۔چھ ۶ پیسوں کا ایک آنا ہوتاہے۔ 5 ۔یعنی چار۴ پیسے۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن، باب مایجوزإرتھانہ وما لایجوز،ج۱۰،ص۱۱۰.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ...إلخ،ج۲،ص۴۲۵.
8 ۔مقروض۔ 9 ۔قرض خواہ۔
9 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن، باب مایجوزإرتھانہ وما لایجوز،ج۱۰،ص۱۱۵.
مسئلہ ۱: شے مرہون کو کسی نے غصب کر لیا تو اس کا وہی حکم ہے جو ہلاک ہونے، ضائع ہونے کا ہے کہ قیمت اور دَین میں جو کم ہے اُس کا ضامن ہے یعنی اگر دَین اُس کی قیمت کے برابر یا کم ہے تو دَین ساقط ہو گیا اور قیمت کم ہے تو بقدر قیمت ساقط باقی دَین مدیون سے وصول کرے۔ اور اگر خود مرتہن ہی نے غصب کیا یعنی بلا اجازتِ راہن چیز کو استعمال کیا اور ہلاک ہوئی تو پوری قیمت کا ضامن ہے اگرچہ قیمت دَین سے زیادہ ہو۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: مرتہن راہن کی اجازت سے چیز کو استعمال کر رہا تھا اس حالت میں کوئی چھین لے گیا تو یہ غصب ہلاک کے حکم میں نہیں یعنی اس صورت میں دَین بالکل ساقط نہیں ہو گا بلکہ اس حالت میں ہلاک ہو جائے جب بھی دَین بدستور باقی رہے گا کہ اب وہ رہن نہ رہا بلکہ عاریت و امانت ہے ہاں استعمال سے فارغ ہونے پر پھر رہن ہو جائے گا اور رہن کے احکام جاری ہوں گے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: راہن نے مرتہن سے کہا کہ چیز دلال کو دے دو اس نے دیدی اور ضائع ہو گئی تو مرتہن اس کا ضامن نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴: رہن میں کوئی میعاد نہیں ہو سکتی مثلاً اتنے دنوں کے لیے رہن رکھتا ہوں میعاد مقرر کرنے سے عقد رہن فاسد ہو جائے گا اور اس صورت میں چیز ہلاک ہو جائے تو ضامن ہے اور وہی احکام ہیں جو رہن صحیح کے ہیں۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۵: راہن نے مرتہن سے کہا چیز کو بیچ ڈالو اور راہن مر گیا مرتہن اس کو بیع کر سکتا ہے ورثہ کو منع کرنے کا حق نہیں اور ورثہ اس بیع کو توڑ بھی نہیں سکتے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۶: راہن غائب ہو گیا پتہ نہیں کہ کہاں ہے مرتہن اس معاملہ کو قاضی کے پاس پیش کرے قاضی اس کو بیچ کردَین ادا کر سکتا ہے اور راہن موجود ہے اور دَین ادا نہیں کرتا اُس کو مجبور کیا جائے گا کہ مرہون کو بیچ کر دَین ادا کرے اور نہ مانے تو قاضی یا امین قاضی بیچ کر دَین ادا کر دے اور دَین کا کچھ جز باقی رہ جائے تو راہن ہی اُس کا ذمہ دار ہے۔(6)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ وما لایجوز،ج۱۰،ص۱۱۵.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ ما لایجوز،ج۱۰،ص۱۱۵.
4 ۔المرجع السابق،ص۱۱۶. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ وما لایجوز،ج۱۰،ص۱۱۶.
مسئلہ ۷: درخت کو رہن رکھا اس میں پھل آئے مرتہن پھلوں کو بیع نہیں کر سکتا (1)اگرچہ یہ اندیشہ ہو کہ خراب ہوجائیں گے البتہ اس معاملہ کو قاضی کے پاس پیش کر سکتا ہے اور اگر وہاں قاضی ہی نہ ہو یا اتنا موقع نہیں کہ قاضی کے پاس معاملہ پیش کیا جائے یعنی وہ چیز جلد خراب ہو جائے گی تو خود مرتہن بھی بیع کر سکتا ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱: عقد رہن میں راہن و مرتہن دونوں نے یہ شرط کی کہ مرہون چیز فلاں شخص کے پاس رکھ دی جائے گی یہ صحیح ہے اور اُس کے قبضہ کر لینے سے رہن مکمل ہو گیا یہ شخص مرتہن کے قائم مقام تصور کیا جائے گا اس کے پاس سے چیز ضائع ہو گئی تووہی احکام ہیں جو مرتہن کے پاس ہلاک ہونے میں ہوتے ہیں ایسے معتبر شخص کو عدل کہتے ہیں کیونکہ راہن و مرتہن نے اُسے عادل و معتبر سمجھ رکھا ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: رہن میں یہ شرط تھی کہ مرتہن کا قبضہ ہو گا پھر دونوں نے باتفاق رائے عادل کے پاس رکھ دیا یہ صورت بھی جائز ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: دَین میعادی تھا اور معتبر شخص کو یہ کہہ دیا تھا کہ جب میعاد پوری ہو جائے رہن کو بیع کر ڈالے اور میعاد پوری ہو گئی مگر ابھی تک چیز پر اس کا قبضہ ہی نہیں تو رہن باطل ہو گیا مگر بیع کی وکالت اس کے لیے بدستور باقی ہے اب بھی بیع کرسکتا ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جب ایسے شخص کے پاس چیز رکھ دی گئی تو چیز کو نہ راہن لے سکتا ہے نہ مرتہن اور اگر اُس نے اُن میں سے کسی کو دیدی تو اُس سے واپس لے کر اپنے پاس رکھے اور اگر اُس کے پاس تلف(6)ہو گئی تو وہ خود ضامن ہو گیا یعنی چیز کی قیمت اُس سے تاوان میں لی جائے گی یعنی راہن و مرتہن دونوں مل کر اُس سے تاوان وصول کریں اور اُس کو اُسی کے پاس یاکسی دوسرے کے پاس بطور رہن رکھ دیں یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ شخص بطور خود قیمت کو اپنے پاس بطور رہن رکھ لے۔ (7) (ہدایہ)اور اگر عقد رہن میں اس کے پاس رکھنے کی شرط نہ تھی اور رکھ دیا گیا اس صورت میں راہن یا مرتہن اُس سے لے اور وہ ضامن نہیں ہو گا۔ (1) (ردالمحتار)
1 ۔یعنی فروخت نہیں کرسکتا۔
2 ۔''الدرالمختار''،باب مایجوزإرتھانہ وما لایجوز،کتاب الرھن ،باب مایجوزإرتھانہ وما لایجوز،ج۱۰،ص۱۱۶.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب الرھن یوضع علی یدعدل...إلخ،ج۱۰،ص۱۱۷.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الثانی فی الرھن بشرط ان یوضع علی یدی عدل،ج ۵،ص۴۴۰.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب الرھن،یوضع علی یدعدل...إلخ،ج۱۰،ص۱۱۷.
6 ۔ ضائع۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب الرھن یوضع علی یدالعدل،ج۲،ص ۴۲۶.
مسئلہ ۵: عادل سے قیمت کا تاوان لے کر پھر اسی کے پاس یا دوسرے کے پاس رہن رکھا گیا اور فرض کرو کہ اس نے مرہون راہن کو دیا تھا اور اس کے پاس ہلاک ہوا اس صورت میں راہن جب دَین ادا کر دے گا تو وہ تاوان عادل کو واپس مل جائے گا کہ مرتہن کو دَین وصول ہو گیا لہٰذا یہ تاوان لینے کا مستحق نہیں اور راہن کو خود اس کی مرہون شے وصول ہو چکی تھی پھراس تاوان کو کیونکر لے سکتا ہے۔ اور اگر عادل سے مرتہن نے لیا تھا تو دَین ادا کرنے کے بعد یہ تاوان کی رقم راہن کو ملے گی کیونکہ راہن کی چیز کا یہ بدلہ ہے چیز نہیں ملی اور ہلاک ہو گئی تو تاوان جو اُس کے قائم مقام ہے اُسے ملے گا۔ رہی یہ بات کہ عادل نے مرتہن کو دیا تھا اوراس کے پاس ہلاک ہوا تو مرتہن سے اس ضمان کو رجوع کر سکتا ہے یا نہیں اس میں تفصیل ہے اگرمرتہن کو بطور عاریت یا ودیعت دیا ہے تو رجوع نہیں کر سکتا جبکہ مرتہن کے پاس ہلاک ہو گیا ہو اس نے خود ہلاک نہ کیا ہو اوراگر مرتہن نے خود ہلاک کردیا ہو تو رجوع کر سکتا ہے اور اگر مرتہن کو بطور رہن دیا ہو یہ کہہ دیا ہو کہ تمہارا جوحق ہے اس میں لے جاؤ تو اس صورت میں بہرحال مرتہن سے ضمان واپس لے گا۔ (2) (ہدایہ، عنایہ)
مسئلہ ۶: راہن نے مرتہن کو یاعادل کو یا کسی اور شخص کو بیع کا وکیل کر دیا تھا کہہ دیا تھا کہ جب دَین کی میعاد پوری ہوجائے تو اس کو بیچ ڈالنا یا مطلقاً وکیل کر دیا ہے۔ میعاد پوری ہونے کی قید نہیں لگائی ہے یہ توکیل صحیح ہے اس وکیل کابیچنا جائزہے۔ بشرطیکہ جس وقت اسے وکیل کیا ہے اس وقت اس میں بیع کی اہلیت ہو اور اگر اہلیت نہ ہو تو یہ توکیل صحیح نہیں مثلاً ایک چھوٹے بچہ کو بیع مرہون کا(3)وکیل کیا وہ بچہ اب بالغ ہو گیا اور بیچنا چاہتا ہے بیع نہیں کر سکتا کہ وہ وکیل ہی نہیں ہوا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۷: عقد رہن میں بیع مرہون کی وکالت شرط تھی کہ مرتہن یا فلاں شخص اس چیز کو بیع کر دے گا اس وکیل کو راہن اگر معزول کرنا چاہے نہیں کر سکتا یعنی معزول کرے تو بھی معزول نہیں ہو گا اور یہ وکالت ایسی ہے کہ نہ راہن کے مرنے سے ختم
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب الرھن یوضع علی یدعدل...إلخ،ج۱۰،ص۱۱۷.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن یوضع علی یدالعدل،ج۲،ص ۴۲۶.
و''العنایۃ''علی''فتح القدیر''،کتاب الرھن،باب الرھن یوضع علی یدالعدل،ج۹،ص۱۰۶.
3 ۔گروی رکھی ہوئی چیز کے بیچنے کا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ وما لایجوز،ج۱۰،ص۱۱۸.
ہونہ مرتہن کے مرنے سے اور اس وکیل کے لیے یہ ضرورری نہیں کہ راہن یا مرتہن کی موجودگی ہی میں بیع کرے نہ یہ ضروری کہ وہ مرگئے ہوں تو ان کے ورثہ کی موجودگی میں بیع کرے۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۸: وکیل کے مر جانے سے وکالت باطل ہو جائے گی اُس کا وارث یا وصی اس کا قائم مقام نہیں ہو گا کہ وکالت اسی کے دَم (2)کے ساتھ وابستہ تھی یہ وکیل دوسرے شخص کو بیع کرنے کا وصی نہیں بنا سکتا مگر جبکہ وکالت میں اس کی شرط ہو تو وصی بنا سکتا ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۹: وکالت مطلق تھی تو نقد اور اُدھار دونوں طرح بیچنے کا اُسے اختیار حاصل ہے اس کے بعد اگر اُدھار بیچنے سے منع کر دے تو اس کا کچھ اثر نہیں یعنی ممانعت کے بعد بھی اُدھار بیچ سکتا ہے۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۰: راہن غائب ہے اور میعاد پوری ہو گئی وکیل بیچنے سے انکار کرتا ہے تو اُس کو بیچنے پر مجبور کیا جائے گا بلکہ عقدِرہن میں بیع کی شرط نہ تھی بعد میں راہن نے کسی کو بیع کا وکیل کر دیا یہ بھی بیع سے انکار نہیں کر سکتا اسے بھی بیچنے پر مجبور کیاجائے گا۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۱: رہن میں وکالت بیع(6) شرط تھی اور فرض کرو مرہون کے(7)بچہ پیدا ہو تو بچہ کو بھی یہ وکیل بیع کر سکتا ہے دوسرے وکیلوں کو اس قسم کا اختیار نہیں۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: جس جنس کا دَین تھا اس کے خلاف دوسری جنس سے اس وکیل نے بیع کی اور دَین روپیہ تھا اوراس نے اشرفی کے بدلے میں بیع کی تو اس زر ثمن کو جنسِ دَین(9)سے بیع صَرف کر سکتا ہے یعنی اشرفیاں روپے سے بھنا سکتا ہے۔(10)دوسرے وکیل کو یہ اختیار حاصل نہیں۔ (11) (درمختار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب الرھن یوضع علی یدالعدل،ج۲،ص۴۲۷.
2 ۔حیات،زندگی۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ وما لایجوز،ج۱۰،ص۱۲۰.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب الرھن یوضع علی یدالعدل،ج۲،ص۴۲۷.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔یعنی فروخت کرنے کی وکالت۔ 7 ۔یعنی گروی جانور کا۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزارتھانہ ومالا یجوز،ج۱۰،ص۱۲۰.
9 ۔قرض کی قِسم۔ 10 ۔یعنی چینج کرواسکتاہے۔
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ ومالا یجوز،ج۱۰،ص۱۲۰.
مسئلہ ۱۳: راہن(1)نے بیع کا کسی کو وکیل کر دیا ہے تو نہ راہن بیع کر سکتا ہے نہ مرتہن(2)ہاں دوسرے کی رضا مندی حاصل کر کے یہ دونوں بیع کر سکتے ہیں یعنی راہن مرتہن سے رضا مندی حاصل کرے یا مرتہن راہن سے۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۴: اُس عادل نے مرہون(4)کو بیع کر دیا تو مرہون چیز رہن سے خارج ہو گئی اور یہ ثمن اس کے قائم مقام ہوگیا اگرچہ ابھی ثمن پر قبضہ نہ ہواہو،لہٰذا اگر ثمن ہلاک ہو گیا مثلاً مشتری سے وصول ہی نہ ہوا یا عادل کے پاس سے ضائع ہو گیا تومرتہن کا ہلاک ہوا یعنی دَین ساقط ہو گیا اور اس صورت میں مرہون کی واجبی قیمت (5)کا لحاظ نہیں ہو گا بلکہ خود زر ثمن کو دیکھا جائے گا یعنی جتنا ثمن ہے اتنا دَین ساقط اگرچہ واجبی قیمت کم ہو یا زائد۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: عادل نے مرہون کو بیچ کر زر ثمن مرتہن کو دے دیا اور اس مرہون شے میں استحقاق ہوا یعنی کسی اور شخص نے ثابت کر دیا کہ یہ چیز میری ہے اگر مبیع(7)مشتری(8)کے پاس موجود ہے تو مستحق اس مبیع کو مشتری سے لے لے گا اور مشتری اپنا زر ثمن اس عادل سے وصول کریگا اور عادل اس راہن سے وصول کریگا اور اس صورت میں مرتہن کا زر ثمن پر قبضہ صحیح ہوگیا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عادل مرتہن سے ثمن واپس لے اورمرتہن راہن سے اپنا دَین وصول کرے اور اگر وہ چیز مشتری کے پاس ہلاک ہو چکی ہے تو مستحق راہن سے مرہون کی قیمت کا تاوان لے کیونکہ راہن غاصب ہے اور اس صورت میں بیع بھی صحیح ہو گئی اور مرتہن کازرثمن پر قبضہ بھی صحیح ہو گیا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مستحق اُس عادل سے تاوان لے پھر عادل مرتہن سے اور اب بھی بیع اور ثمن پرقبضہ صحیح ہو گیا یا مستحق عادل سے تاوان لے اور عادل مرتہن سے زر ثمن واپس لے پھر مرتہن راہن سے اپنا دَین وصول کرے۔ (9) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: مرتہن کے پاس مرہون ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد اس میں استحقاق ہوا۔ اور مستحق نے راہن سے ضمان لیا تو دَین ساقط ہو گیا۔ اور اگر مرتہن سے قیمت کا ضمان لیا تو جو کچھ تاوان دیا ہے راہن سے واپس لے گا اور اپنا دَین بھی وصول کریگا۔(10) (درمختار)
1 ۔گروی رکھنے والا۔ 2 ۔جس کے پاس چیز گروی رکھی ہے۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب الرھن یوضع علی یدالعدل،ج۲،ص۴۲۷.
4 ۔گروی رکھی ہوئی چیز۔ 5 ۔رائج قیمت۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ ومالا یجوز،ج۱۰،ص۱۲۱.
7 ۔بیچی گئی چیز۔ 8 ۔خریدار۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ ومالا یجوز،ج۱۰،ص۱۲۱،۱۲۲.
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب مایجوزإرتھانہ ومالایجوز،ج۱۰،ص۱۲۳،۱۲۴.
مسئلہ ۱۷: ایک شخص نے دوسرے سے کوئی چیز خریدی بائع(1)کہتا ہے کہ جب تک ثمن نہ دو گے مبیع پر(2) قبضہ نہیں دوں گا اور مشتری(3)یہ کہتا ہے کہ جب تک مبیع نہ دو گے ثمن نہیں دوں گا دونوں میں اس طرح مصالحت ہوئی کہ مشتری کسی تیسرے کے پاس ثمن جمع کر دے اور مبیع پر قبضہ کر لے اُس نے ثمن جمع کر دیا مگر تیسرے کے پاس سے ضائع ہو گیا تو مشتری کا ضائع ہوا اور اگر یہ طے پایا کہ تیسرے کے پاس ثمن کے مقابل میں کوئی چیز رہن رکھ دے اُس وقت مبیع پر قبضہ دوں گا اس نے رہن رکھ دی اور ضائع ہو گئی تو بائع کی چیز ہلاک ہوئی یعنی ثمن ساقط ہو گیا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: راہن نے مرہون کو بغیر اجازت مرتہن بیع کر دیا تو یہ بیع موقوف ہے اگر مرتہن نے اجازت دیدی یا راہن نے مرتہن کا دَین ادا کر دیا توبیع جائز و نافذ ہو گئی اور پہلی صورت میں کہ مرتہن نے اجازت دیدی وہ ثمن رہن ہو جائے گا ثمن مشتری سے وصول ہوا ہو یا نہ ہوا ہو دونوں کا ایک حکم ہے اور اگر مرتہن نے اجازت نہیں دی تو اب بھی وہ بیع نہ باطل ہوئی نہ مرتہن کے فسخ کرنے سے فسخ ہو گی لہٰذا مشتری کو اختیار ہے کہ فکِ رہن کا (5)انتظار کرے جب رہن چھوٹ جائے اپنی چیز لے لے اور اگر انتظار نہ کرنا چاہے تو قاضی کے پاس معاملہ پیش کر دے وہ بیع کو فسخ کر دے گا۔ (6) (ہدایہ)
مسئلہ ۲: مرتہن اگر شے مرہون کو بیع کرے تو یہ بیع بھی اجازت راہن پر موقوف ہے وہ چاہے تو جائز کر دے ورنہ جائزنہیں اور راہن اس بیع کو باطل کر سکتا ہے۔ مرتہن نے بیع کر دی اور چیز مشتری کے پاس راہن کی اجازت سے پہلے ہی ہلاک ہو گئی تو راہن اب اجازت بھی نہیں دے سکتا اور راہن کو اختیار ہے دونوں میں سے جس سے چاہے اپنی چیز کا ضمان لے۔(7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مرتہن نے راہن سے کہا کہ رہن کو فلاں کے ہاتھ بیع کر دو اُس نے دوسرے کے ہاتھ بیچا یہ جائز نہیں اور مستاجر نے موجر سے کہا کہ فلاں کے ہاتھ یہ مکان بیچ دو اس نے دوسرے کے ہاتھ بیچ دیا یہ بیع جائز ہے۔ (8) (ردالمحتار)
1 ۔بیچنے والا۔ 2 ۔بیچی گئی چیز پر۔ 3 ۔خریدار۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الثالث فی ھلاک المرھون...إلخ،ج۵،ص۴۵۴.
5 ۔رہن کے چھوٹنے کا۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۲،ص۴۲۹،۴۳۰.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۱۰،ص۱۲۴،۱۲۵.
8 ۔المرجع السابق،ص ۱۲۵.
مسئلہ ۴: راہن نے ایک شخص کے ہاتھ بیع کی اور مرتہن کی اجازت سے قبل دوسرے کے ہاتھ بیع کر دی یہ دوسری بیع بھی اجازت مرتہن پر موقوف ہے مرتہن جس ایک کو جائز کر دے گا وہ جائز ہو جائے گی دوسری باطل ہو جائے گی۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: راہن نے مرہون کو بیع کیا پھر اس کو اجارہ پر دیا،یا کسی اور کے پاس رہن رکھ دیا ،یا کسی اور کو ہبہ کر دیا اور ان دونوں صورتوں میں مرتہن ثانی یا موہوب لہ کو قبضہ بھی دیدیا اس کے بعد مرتہن اول نے اجارہ یا رہن یا ہبہ کو جائز کر دیا تو وہ پہلی بیع جو موقوف تھی جائز ہو گئی اور یہ تصرفات ناجائز ہو گئے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۶: راہن نے مرہون کو ایک شخص کے ہاتھ بیع کر دیا اس کے بعد پھر مرتہن کے ہاتھ بیچا تو یہ دوسری بیع جائز ہو گئی پہلی باطل ہو گئی۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۷: مرہون کو راہن نے ہلاک کر دیا اور دَین غیر میعادی ہے یا میعادی تھا مگر میعاد پوری ہو چکی ہے تو مرتہن راہن سے اپنا دَین وصول کر لے اور اگر میعاد ابھی پوری نہیں ہوئی ہے تو راہن سے اُس کی قیمت کا تاوان لے اور یہ قیمت بجائے مرہون رہن میں رہے جب میعاد پوری ہو جائے تو بقدر دَین اپنے حق میں وصول کر لے کچھ بچے تو واپس کر دے اور کم ہو تو بقیہ راہن سے وصول کرے۔ یہ حکم اس وقت ہے کہ قیمت اسی جنس کی ہو جس جنس کا دَین ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۸: کسی اجنبی نے مرہون کو تلف(5)کر دیا تو اُس ہلاک کرنے والے سے تاوان لینا مرتہن کا کام ہے ہلاک کرنے کے وقت جو اس کی قیمت تھی وہ قیمت تاوان میں لے اور اس میں وہی تفصیل ہے کہ میعاد پوری ہو گئی تو دَین میں وصول کرے اور میعاد باقی ہے تو یہ قیمت رہن میں رہے یہاں ایک صورت یہ بھی ہے کہ جس روز چیز رہن رکھی گئی تھی اُس روز قیمت زیادہ تھی اور جس دن ہلاک ہوئی اُس کی قیمت کم ہو گئی تو اجنبی سے اگرچہ آج کی قیمت لے گا مگر مرتہن کے حق میں اُسی پہلی قیمت کا اعتبار ہو گا مثلاً فرض کرو ایک ہزار روپیہ دَین تھا اور چیز رہن رکھی گئی اُس کی قیمت بھی ایک ہزار تھی مگرجس روز اجنبی نے ہلاک کی اس کی قیمت پانسو ہے تو اجنبی سے پانسو تاوان لے گا اور پانسو روپے دَین کے ساقط ہو گئے جس طرح آفت سماویہ (6)سے ہلاک ہونے میں دَین ساقط ہوتا ہے۔ (7) (ہدایہ)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۲،ص۴۳۰.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۱۰،ص۱۲۵،۱۲۶.
3 ۔المرجع السابق،ص ۱۲۶. 4 ۔المرجع السابق،ص ۱۲۷.
5 ۔ضائع۔ 6 ۔یعنی قدرتی آفت۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن ... إلخ،ج۱۰،ص۴۳۲.
مسئلہ ۹: خود مرتہن نے مرہون کو ہلاک کر دیا تو اس پر بھی تاوان واجب ہے پھر اگر دَین کی میعاد پوری ہو چکی ہے اور یہ قیمت جنس دَین سے ہے تو دَین وصول کر لے اور کچھ بچے تو راہن کو واپس دے اور یہ دونوں باتیں نہ ہوں تویہ قیمت بجائے مرہون رہن میں رہے گی۔ اُس چیز کی قیمت نرخ سستا ہونے کی وجہ سے کم ہو گئی ہے تو جتنی کمی ہوئی اتنا دَین ساقط ہو گیا کہ مرتہن کے حق میں اسی قیمت کا اعتبار ہو گا جو رہن رکھنے کے دن تھی۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۰: مرتہن نے راہن کو مرہون شے بطور عاریت دے دی مرتہن کے ضمان سے نکل گئی یعنی اگر راہن کے یہاں ہلاک ہو گئی تو مرتہن پر اس کاکچھ اثر نہیں اور دیتے وقت مرتہن نے راہن سے کفیل(2)لیا تھا کہ اسے واپس کر دے گا تو کفیل سے بھی مرتہن کوئی مطالبہ نہیں کر سکتا کہ اُس چیز میں رہن کا حکم باقی ہی نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: مرتہن نے راہن کو بطور عاریت مرہون دے دیا تھا اُس نے پھر واپس کر دیا تو پھر وہ چیز مرتہن کے ضمان میں آگئی اور رہن کا حکم حسب سابق اس میں جاری ہو گا۔ مرتہن کو راہن سے واپس لینے کا حق باقی رہتا ہے کیونکہ عاریت دینے سے رہن باطل نہیں ہوتا۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۲: عاریت کی صورت میں مرتہن کے واپس لینے سے قبل اگر راہن مر گیا تو دوسرے قرض خواہوں سے مرتہن زیادہ حقدار ہے یعنی دوسرے اس مرہون سے اپنے دَین وصول نہیں کر سکتے جب تک مرتہن اپنا دَین وصول نہ کر لے اس کے وصول کرنے کے بعد اگر کچھ بچے تو وہ لوگ لے سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: راہن و مرتہن میں سے ایک نے دوسرے کی اجازت سے مرہون شے کسی اجنبی کو بطور عاریت دے دی یا اجنبی کے پاس ودیعت رکھ دی تو مرہون ضمان سے نکل گیا اور دونوں میں سے ہر ایک کو یہ اختیار ہے کہ اُسے پھر ضمان میں لائے یعنی اُسے رہن بنا دے۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۴: مرتہن نے راہن سے مرہون کو استعمال کرنے کے لیے عاریت لیا یہ عاریت صحیح ہے مگر استعمال سے پہلے یا استعمال کے بعد مرہون ہلاک ہوا تو مرتہن ضامن ہے یعنی وہی حکم ہے جو مرتہن کے پاس مرہون کے ہلاک ہونے میں ہوتا ہے
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۱۰،ص۴۳۲.
2 ۔ضامن۔
3 ۔''الدرالمختار''،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج۱۰،ص۱۲۷،۱۲۸.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج۲،ص۴۳۲.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۱۰،ص۱۲۹.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۲،ص۴۳۳.
اور اگر حالت استعمال میں ہوا تو مرتہن کے ذمہ کچھ ضمان نہیں۔ اسی طرح اگر مرتہن کو راہن نے استعمال کی اجازت دے دی ہے تو حالت استعمال میں ہلاک ہونے میں ضمان نہیں ہے اور قبل یا بعد میں ہلاک ہوا تو ضمان ہے۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۵: قرآن مجید یا کتاب رہن رکھی ہے تو مرتہن کو اُس میں پڑھنا ناجائز ہے ہاں اگر راہن سے اجازت لے کر پڑھے تو پڑھ سکتا ہے مگر جتنی دیر تک پڑھے گا اتنی دیر تک عاریت ہے فارغ ہونے کے بعد رہن ہے یعنی پڑھتے وقت ہلاک ہوجائے تو دَین ساقط نہیں ہو گا۔ اس کے بعد ہلاک ہو تو ساقط ہو جائے گا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: راہن و مرتہن میں سے ایک نے دوسرے کی اجازت سے مرہون کو بیع کر دیا(3)یا اجارہ پر دے دیایاہبہ کردیا یارہن رکھ دیا ان سب صورتوں میں مرہون رہن سے خارج ہو گیا اب وہ رہن میں واپس نہیں لیا جا سکتا جب تک پھر نیا عقد ِرہن نہ ہو اور ان صورتوں میں اگر راہن نے مرتہن کے پاس پھر سے رہن نہ رکھا اور مر گیا تو تنہا مرتہن اس کا مستحق نہیں بلکہ جیسے دوسرے قرضخواہ ہیں ایک یہ بھی ہے اپنا حصہ رسد (4)یہ بھی لے سکتا ہے۔ (5) (ہدایہ)بیع و اجارہ و ہبہ خود مرتہن کے ہاتھ ہو یا اجنبی کے ہاتھ ہو، دونوں کا ایک حکم ہے اور خود راہن کے ہاتھ مرہون کو بیع کیا تو اس سے رہن باطل نہ ہوا۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: مرتہن کی اجازت سے اجنبی کو کرایہ پر دے دیا تو اُجرت راہن کی ہے اور بغیر اجازت دیا تو اُجرت مرتہن کی ہے مگر اس کو صدقہ کرنا ہو گا اور اس صورت میں رہن واپس لے سکتا ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: مرتہن نے بغیر اجازت راہن رہن کو اجارہ پر سال بھر کے لئے دیا اور سال پورا ہونے کے بعد راہن نے اجازت دی یہ اجازت صحیح نہیں لہٰذا مرتہن رہن کو واپس لے سکتا ہے اور چھ ماہ گزرنے کے بعد اجازت دی تو اجازت صحیح ہے۔ پہلی صورت میں پوری اُجرت مرتہن کی ہے جس کو صدقہ کرے اور دوسری صور ت میں نصف اُجرت راہن کی ہے اور نصف مرتہن کی، مرتہن کو جو ملی صدقہ کر دے اور اس دوسری صورت میں چیز کو مرتہن رہن میں واپس نہیں لے سکتا۔ (8) (عالمگیری)اس زمانہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کھیت یا مکان رہن رکھ لیتے ہیں پھر مرتہن مکان کو کرایہ پر اُٹھا دیتا ہے اور کھیت کو لگان اور پٹے
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۲،ص۴۳۳.
2 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الثامن فی تصرف الراھن ...إلخ،ج۵،ص۴۶۶.
3 ۔بیچ دیا۔ 4 ۔یعنی جتنا اس کے حصے میں آتا ہے۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن ...إلخ،ج۲،ص۴۳۳.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۱۰،ص۱۲۹.
7 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الثامن فی تصرف الراھن...إلخ،ج۵،ص۴۶۴.
8 ۔المرجع السابق،ص ۴۶۵.
پردے دیا کرتا ہے اور اس کرایہ یا لگان کو خود کھاتا ہے اس کا سود ہونا تو ظاہر ہے کہ قرض کے ذریعہ سے نفع اُٹھانا ہے مگراس کے ساتھ ہی یہ بتانا بھی ہے کہ اگر راہن سے اجازت حاصل نہیں کی ہے تو اُس کی مِلک میں ایک ناجائز تصرف ہے اور یہ بھی گناہ ہے اور اگر اجازت لے لی ہے تو رہن ہی ختم ہو گیا اس کے بعد مرتہن کا اُس چیز پر قبضہ ناجائز قبضہ اور غاصبانہ قبضہ ہے یہ بھی حرام ہے۔ مرتہن پر لازم ہے کہ ایسے گناہ کے کاموں سے پرہیز کرے یہ نہ دیکھے کہ انگریزی قانون ہمیں اس قسم کی اجازت دے رہا ہے بلکہ مسلمان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ شریعت کا قانون ہمیں اجازت دیتا ہے یا نہیں، قانون شریعت تمہارے لئے دنیا و آخرت دونوں جگہ نافع ہے انگریزی قانون سے اگر تمہیں کچھ نفع پہنچ سکتا ہے تو صرف دنیا ہی میں اور اگر وہ خدا و رسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خلاف ہے تو سخت ٹوٹا (1)اور نقصان ہے۔
مسئلہ ۱۹: دوسرے سے کوئی چیز رہن رکھنے کے لئے عاریت مانگی اس نے دے دی اس چیز کو رہن رکھنا جائز ہے پھر اگر مالک نے کوئی قید نہیں لگائی ہے تو مستعیر کو اختیار ہے کہ جس کے پاس چاہے جتنے میں چاہے جس شہر میں چاہے رہن رکھے اس کے ذمہ کوئی پابندی نہیں ہے۔ اور اگر مالک نے معین کر دیا ہے کہ فلاں کے پاس رکھنا یا فلاں شہر میں یا اتنے میں رکھنا تو اس کو پابندی کرنی ضرور ہے خلاف کرنے کی اجازت نہیں اور اگر اُس نے مالک کے کہنے کے خلاف کیا تو مالک کو اختیار ہے کہ اپنی چیز مرتہن سے لے لے اور رہن کو فسخ کر دے اور چیز ہلاک ہو گئی ہے تو اس کی پوری قیمت کا تاوا ن لے۔ تاوان لینے میں اختیار ہے کہ راہن سے تاوان لے یا مرتہن سے اگر مستعیر سے ضمان لیارہن صحیح ہو گیا اور مرتہن سے ضمان لیا تو مرتہن اپنا دَین اور یہ ضمان دونوں راہن سے وصول کریگا۔ (2) (ہدایہ، درمختار) مالک نے جو قید لگا دی ہے اس کی مخالفت اس وجہ سے نہیں کی جا سکتی کہ مالک کے نقصان کا اندیشہ ہے کیونکہ مالک کو اگر ضرورت پیش آتی اور یہ چاہتا ہے کہ رہن چھڑا لوں(3)اور جس رقم کے مقابل میں اس نے رہن رکھنے کو کہا تھا اس سے زیادہ رقم کے مقابل میں رہن ہے تو بسا اوقات مالک کواس رقم کے فراہم کرنے میں دُشواری ہوگی اسی طرح اگر مالک کی بتائی ہوئی رقم سے کم میں رکھی اور چیز تلف(4)ہو گئی تو قیمتی چیز تھوڑے سے داموں کے مقابل میں ہلاک ہوگئی اس میں بھی مالک کا نقصان ہے۔ اسی طرح مرتہن اور جگہ کی قید لگانے میں فوائد ہیں لہٰذا یہ قیدیں بیکار نہیں ہیں کہ ان کا لحاظ نہ کیا جائے۔ (5) (ہدایہ)
1 ۔خسارہ۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۲،ص۴۳۳.
و ''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۱۰،ص۱۳۲.
3 ۔یعنی گروی رکھی چیز آزادکرالوں۔ 4 ۔ضائع۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن ... إلخ،ج۲،ص۴۳۳.
مسئلہ ۲۰: معیر نے جو قید لگائی تھی مستعیر نے اُس کی مخالفت کی مگر یہ مخالفت معیر کے لئے مضر (1)نہیں بلکہ مفید ہے تواس صورت میں نہ مرتہن پر(2)ضمان ہے نہ راہن پر مثلاً اس نے جتنے پر رہن رکھنے کو کہا تھا اُس سے کم کے مقابل میں(3)رکھ دیا مگر یہ کمی چیز کی واجبی قیمت(4)کے برابر یا واجبی قیمت سے زائد ہے مثلاً اس نے ایک ہزار میں رہن رکھنے کو کہا تھا اور یہ چیز پانسو کی ہی ہے مستعیر نے پانسو یا چھ سو غرض ہزار سے کم میں رہن رکھ دی یہ مخالفت جائز ہے کہ اس میں معیر کا کچھ نقصان نہیں کیونکہ ہلاک ہونے کی صورت میں واجبی قیمت ملے گی یعنی وہی پانسو۔ ہزار تو ملیں گے نہیں پھر کیا نقصان ہوا بلکہ فائدہ یہ ہے کہ اگر اپنی چیزچھوڑانا (5)چاہے گا تو ہزار روپے فراہم کرنے نہیں پڑیں گے جتنے میں رہن ہے اُتنے ہی دے کر چھوڑا سکے گا۔(6) (زیلعی)
مسئلہ ۲۱: معیر نے جو کچھ مستعیر سے کہہ دیا تھا مستعیر نے اُسی کے موافق کیا مثلاً جتنے میں رہن رکھنے کو کہا تھا اتنے ہی میں رکھا اور فرض کرو مرتہن کے پاس وہ چیز ہلاک ہو گئی اس کی کئی صورتیں ہیں اُس چیز کی قیمت دَین کے برابر ہے یا زیادہ یادَین سے کم ہے۔ پہلی دو صورتوں میں مرتہن کا دَین ساقط ہو گیا اور راہن یعنی مستعیر معیر کو یعنی مالک کو بقدر دَین ادا کرے۔ اوردوسری صورت میں کہ دَین سے زیادہ قیمت ہے اس زیادتی کا کچھ معاوضہ نہیں اور تیسری صورت میں کہ چیز کی قیمت دَین سے کم ہے بقدرِ قیمت دَین ساقط ہو گیا اور باقی دَین مرتہن راہن سے وصول کریگا اور راہن معیر کو قیمت ادا کر ے گا اور مثلی چیزہے تو مثل دیدے۔(7) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۲: مستعیر نے عاریت کی چیز رہن رکھی اور اس میں مرتہن کے پاس کچھ عیب پیدا ہو گیا اس عیب کی وجہ سے چیز کی قیمت میں کمی ہوئی وہ مرتہن کے ذمہ ہے یعنی اتنی ہی دَین میں کمی ہو گئی اور اُسی کے برابر مستعیر مالک کو دے۔ (8) (ہدایہ)
مسئلہ۲۳: معیر یہ چاہتا ہے کہ میں دَین اد اکر کے اپنی چیز چھوڑا لوں تو مرتہن فک ِرہن پر(9)مجبور ہے، یہ نہیں کہہ سکتاہے کہ میں چیز ابھی نہیں دوں گا فکِ رہن کے بعد معیر مستعیر یعنی راہن سے دَین کی رقم وصول کریگا اس فکِ رہن کو تبرّع نہیں کہا جا سکتا کہ مستعیر سے رقم وصول نہ کرنے پائے اور اگر کوئی اجنبی شخص دَین ادا کرکے فک رہن کرائے تو راہن سے وصول
1 ۔نقصان دہ ۔ 2 ۔یعنی جس کے پاس چیز گروی رکھی ہے اُس پر۔
3 ۔ بدلے میں۔ 4 ۔رائج قیمت۔ 5 ۔آزاد کرانا۔
6 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج۷،ص۱۸۹،۱۹۰.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج۲،ص۴۳۳.
8 ۔المرجع السابق.
9 ۔گروی رکھی ہوئی چیز کوچھوڑنے پر۔
نہیں کر سکتا کہ یہ متبرع ہے۔ یہ حکم کہ معیر راہن سے دَین کی رقم وصول کریگا اُس وقت ہے کہ دَین اتنا ہی ہے جتنی اُس چیز کی قیمت ہے اور اگر دَین کی مقدار اس چیز سے زاید ہے تو راہن سے صرف قیمت کی برابر وصول کر سکتا ہے قیمت سے زیادہ جو کچھ دیا ہے وہ تبرع ہے اُسے نہیں وصول کر سکتا اور اگر جو چیز کی قیمت دَین سے زاید ہے اور معیر دَین ادا کر کے چھوڑا نا چاہتا ہے تو مرتہن اس صورت میں فک رہن پر مجبور نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: رہن رکھنے کے لئے کوئی چیز عاریت لی تھی مرتہن نے ابھی دَین کا وعدہ ہی کیا تھا دیا نہیں تھا اور اُس نے وہ چیز رہن رکھ دی اور مرتہن کے پاس ہلاک ہو گئی تو مرتہن نے جتنے دَین کا وعدہ کیا تھا اتنا تاوان دے اور معیر مستعیر یعنی راہن سے اتنا وصول کریگا۔(2) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۵: رہن رکھنے کے لئے چیز عاریت لی تھی اور رہن رکھنے سے پہلے ہی مستعیر کے یہاں وہ چیز ہلاک ہو گئی یا فک رہن کے بعد ابھی مستعیر کے یہاں تھی واپس نہیں کی تھی اور ہلاک ہو گئی ان دونوں صورتوں میں مستعیر پر تاوان واجب نہیں کہ وہ چیز اس کے پاس امانت تھی اور اگر مستعیر نے قبل رہن یا بعد فک رہن چیز کو استعمال کیا مثلاً گھوڑا تھا اُس پر سوار ہوا، کپڑا یازیور تھا اُسے پہنا مگر پھر اپنی اِس حرکت سے باز آیا اور اس کا استعمال ترک کر دیا اور چیز ہلاک ہو گئی اس صورت میں بھی اس کے ذمہ تاوان نہیں۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: معیر و مستعیر میں اختلاف ہے معیر کہتا ہے کہ چیز مرتہن کے یہاں ہلاک ہوئی لہٰذا دَین ساقط ،مجھے ضمان دو اور مستعیر کہتا ہے میں نے چھوڑا لی تھی میرے یہاں چیز ہلاک ہوئی لہٰذا مجھ پر تاوان نہیں اس صورت میں راہن کی بات مانی جائے گی یعنی قسم کے ساتھ اور جتنے میں معیر نے رہن رکھنے کو کہا تھا اُس میں اختلاف ہے ایک کہتا ہے سو روپے میں رہن رکھنے کو کہا تھا دوسرا پچاس روپے بتاتا ہے تو معیر کا قول معتبر ہے یعنی قسم کے ساتھ۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۷: مستعیر مفلس ہو گیا(5)اور اسی حالتِافلاس ہی میں مر گیا تو عاریت کی چیز جو مرتہن کے پاس رہن ہے وہ بدستور رہن ہے اگرمرتہن یہ چاہے کہ اُسے بیچ دیا جائے تو جب تک معیر سے رضا مندی حاصل نہ کر لی جائے بیچی نہیں جا سکتی کہ
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج۱۰،ص۱۳۴.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج ۲ص ۴۳۴.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج۱۰،ص۱۳۵.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج ۲ص ۴۳۴.
5 ۔دیوالیہ ہوگیا،نادارہوگیا۔
وہی مالک ہے اور اگر معیر بیچنا چاہتا ہے تو دو صورتیں ہیں اگر اتنے میں فروخت ہو گی کہ دَین کے لئے پور ا ہو جائے تو مرتہن سے اجازت حاصل کرنے کی کچھ ضرورت نہیں ورنہ مرتہن سے اجازت لینی ہو گی۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: معیر مفلس ہو گیا اور اسی حالت میں مر گیا اور اُس کے ذمہ دوسروں کا دَین ہے راہن کو حکم دیا جائے گا کہ اپنادَین ادا کر کے رہن کو چھوڑائے پھر اس رہن سے معیر کا دَین ادا کیا جائے اور اگر راہن بھی مفلس ہے کہ اپنا دَین نہیں ادا کر سکتا تو یہ چیز بدستور رہن رہے گی۔ ہاں اگر ورثہ معیر یہ چاہیں کہ مرتہن کا دَین ادا کر کے فک رہن کرائیں تو ان کو اختیار ہے۔ معیر کے قرض خواہ ورثہ معیرسے یہ کہتے ہیں کہ چیز بیع کر دی جائے اگربیچنے سے مرتہن کا دَین ادا ہو سکتا ہے تو بیع کی جائے گی ورنہ بغیراجازت مرتہن بیع نہیں ہو سکتی ہے جیسا کہ خود معیر کی زندگی میں بغیر مرتہن کی رضا مندی کے بیع نہیں ہو سکتی تھی اور اگر بیچنے کی صورت میں مرتہن کا دَین ادا ہو کر کچھ بچ رہے گا مگر اتنا نہیں بچے گا کہ معیر کے قرض خواہوں کا پورا پورا دَین ادا ہو جائے تو اس صورت میں ان قرض خواہوں کی اجازت سے بیع کی جائے بغیر اجازت بیع نہیں ہو سکتی اور ان کا بھی پورادَین ادا ہوتا ہو تو اجازت کی کچھ ضرورت نہیں۔ (2)
جنایت کی کئی صورتیں ہیں۔ مرتہن مرہون پر جنایت کرے یعنی اُس کو نقصان پہنچائے یا تلف (3)کر دے یا راہن مرہون پر جنایت کرے یا شے مرہون راہن پریا مرتہن پر جنایت کرے۔ مرہون جنایت کرے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ لونڈی یا غلام ہے اور وہ راہن یا مرتہن کے جان یا مال میں نقصان پہنچائے یا ہلاک کرے اس کو ہم بیان کرنا نہیں چاہتے صرف راہن یا مرتہن کی جنایت کو مختصر طور پر بتانا چاہتے ہیں۔
مسئلہ ۱: راہن نے مرہون پر جنایت کی یعنی اُس کو تلف کر دیا یا اُس میں نقصان پہنچایا اس کا وہی حکم ہے جو اجنبی کی جنایت کا ہے یعنی اس کو تاوان دینا ہو گا یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ وہ تو خود ہی مرہون کا مالک ہے اُس پر تاوان کیسا،کیونکہ مرہون کے ساتھ مرتہن کا حق متعلق ہے اور یہ تاوان مرتہن کے پاس مرہون رہے گا اورا گر اسی جنس کا ہے جس جنس کا دَین ہے اور دَین کی میعاد نہ ہو تو اپنا دَین اس سے وصول کریگا۔(4) (ہدایہ وغیرہا)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج۱۰،ص۱۳۶.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۳۶،۱۳۷.
3 ۔ضائع۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج۲،ص۴۳۴،وغیرھا.
مسئلہ ۲: مرتہن نے رہن پرجنایت کی اس کا بھی ضمان ہے اور یہ ضمان اگر جنس دَین(1)سے ہے اور میعاد پوری ہو چکی ہے تو بقدرِ ضمان(2)دَین ساقط ہو جائے گا اور اس میں سے کچھ بچا تو راہن کوواپس کر ے کہ اس کی مِلک کا معاوضہ ہے۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۳: مرہون چیز میں اگر نرخ (4)کم ہو جانے سے نقصان پیدا ہو تو ہلاک ہونے کی صورت میں اس کمی کا لحاظ نہیں ہو گا اور اس کے اجزا میں کمی ہوئی تو اس کا اعتبار ہو گا لہٰذا ایک چیز جس کی قیمت سو۱۰۰ روپے تھی سو۱۰۰ روپے میں رہن رکھی اور اب اس کی قیمت پچاس روپے رہ گئی کہ نرخ سستا ہو گیا اور فرض کرو کسی نے اس کو ہلاک کر دیا تو پچاس روپے تاوان لیا جائے گا کہ اس وقت یہی اُس کی قیمت ہے تو مرتہن کو صرف یہی پچاس روپے ملیں گے اور راہن سے بقیہ رقم وصول نہیں کر سکتا اور اگر راہن کے کہنے سے مرتہن اس کو پچاس میں بیچے تو بقیہ پچاس روپے راہن سے وصول کریگا۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۴: جانور مرہون ہے اُس نے مرتہن کو یا اس کے مال کو ہلاک کر دیا اس کا کچھ اعتبار نہیں یہ ویسا ہی ہے جیسے آفت سماویہ(6)سے ہلاک ہو۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۵: راہن یا مرتہن کے مرنے سے رہن باطل نہیں ہوتا بلکہ دونوں مر جائیں جب بھی باطل نہیں ہو گا بلکہ ورثہ یا وصی اُس مرے ہوئے کے قائم مقام ہیں۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۶: مرتہن اگر چاہے تو خود ہی تنہا فسخ رہن کر سکتا ہے اور راہن فسخ رہن نہیں کر سکتا جب تک مرتہن راضی نہ ہو لہٰذا مرتہن نے فسخ رہن کر دیا اور راہن راضی نہ ہوا اور اس کے بعد مرہون ہلاک ہو گیا تو دَین ساقط نہ ہوا کہ رہن فسخ ہو چکا ہے اور اس کے عکس میں یعنی راہن نے فسخ کر دیا اور مرتہن راضی نہیں اور چیز ہلاک ہو گئی تو دَین ساقط کہ رہن فسخ نہیں ہوا۔ (9) (ردالمحتار)
1 ۔قرض کی قِسم۔ 2 ۔تاوان کے برابر۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج ۲،ص ۴۳۴،۴۳۵.
4 ۔قیمت ،دام۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج۲،ص ۴۳۵،۴۳۶.
6 ۔قدرتی آفت مثلاً ڈوب جانا،آگ میں جلناوغیرہ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج۱۰،ص۱۴۲.
8 ۔المرجع السابق .
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج۱۰،ص۱۴۲.
پہلی صورت میں دَین ساقط نہ ہونا اس وقت ہے کہ مرتہن کے ضمان سے نکل چکی ہو، ور نہ صرف رہن فسخ ہونے سے ضمان سے خارج نہیں ہوتی جب تک راہن کو واپس نہ دیدے۔
مسئلہ ۱: دس۱۰ روپے میں بکری رہن رکھی اور یہ بکری بھی دس۱۰ روپے قیمت کی ہے پھر یہ بکری بلا ذبح کئے مر گئی اور اُس کی کھال ایسی چیزسے دباغت کی(1)جس کی کوئی قیمت نہیں اور رہن کے دن کھال کی ایک روپیہ قیمت تھی تو ایک روپیہ میں رہن ہے اور دو روپے تھی تود و میں رَہن ہے اور بیع میں یہ بات نہیں یعنی بکری مبیع ہوتی اور قبل قبضہ مر جاتی تو کھال پکا لینے کے بعد بھی اس کی بیع صحیح نہیں رہتی۔(2)(ہدایہ)اور اگر بکری کی قیمت دَین سے زیادہ ہے مثلاً بیس ۲۰ روپے قیمت کی ہے تو کھال آٹھ آنے میں رہن ہے اور اگر قیمت کم ہے مثلاً دَین دس۱۰ روپے ہے اور بکری پانچ ہی کی ہے تو کھال چھ روپے میں رہن ہے مگر کھال تلف ہو جائے تو چونکہ وہ ایک روپیہ کی ہے ایک ساقط ہو گا اور پانچ روپے راہن سے وصول کریگا اور اگر کھال کو ایسی چیز سے پکایا ہے جس کی کوئی قیمت ہے تو مرتہن کو اس کھال کے روکنے کاحق حاصل ہے کہ جو کچھ دباغت سے زیادتی ہوئی ہے اُسے جب تک وصول نہ کر لے راہن کو دینے سے انکار کر سکتا ہے۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: مرہون میں جو کچھ زیادتی ہوئی مثلاً جانور رہن تھا اس کے بچہ پیدا ہوا بھیڑ، دُنبہ کی اُون، درخت کے پھل، جانور کا دودھ یہ سب چیزیں راہن کی مِلک ہیں اور یہ چیزیں بھی رہن میں داخل ہیں یعنی جب تک دَین ادا نہ کر لے راہن ان چیزوں کو مرتہن سے نہیں لے سکتا پھریہ چیزیں فکِ رہن تک(4)باقی رہ جائیں تو دَین کو اصل اور اس زیادتی کی قیمت پر تقسیم کیا جائے گا اور یہ چیزیں پہلے ہی ہلاک ہو جائیں تو ان کے مقابل میں دَین ساقط نہیں ہوگا۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مرہون کے منافع مثلاً مکان مرہون کی اُجرت یہ بھی راہن کی ہیں اور یہ رہن میں داخل نہیں اگر ہلاک ہوجائے تو اس کے مقابل میں دَین کاکوئی جزساقط نہیں ہو گا۔ (6)(درمختار)
1 ۔یعنی صاف کرکے کسی رنگ سے رنگی۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن... إلخ،ج۲،ص ۴۳۹.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن ... إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۴۴.
4 ۔ رہن کے آزادہونے تک۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن ... إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۴۵.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن ... إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۴۵.
مسئلہ ۴: مرہون سے جو چیزیں پیدا ہوئیں مثلاً بچہ ،د ودھ، پھل وغیرہ یہ اگرچہ رہن میں داخل ہیں مگر فک رہن سے قبل ہلاک ہو جائیں تو دَین کا(1)کوئی حصہ اس کے مقابل میں ساقط نہیں ہو گا۔ اور اگر خود رہن ہلاک ہو گیا مگر یہ پیداوار باقی ہے تو اس کے مقابل جتنا حصہ دَین پڑے اس کو ادا کر کے راہن اس کو حاصل کر سکتا ہے مفت نہیں لے سکتا یعنی اصل رہن کی جو کچھ قیمت رہن رکھنے کے دن تھی اور اس کی جو قیمت فک رہن کے دن ہے دونوں پر دَین کوتقسیم کیاجائے اصل کے مقابل میں جو حصہ آئے وہ ساقط اور اس کے مقابل میں جتنا حصہ ہو ادا کر کے فک رہن کرا لے مثلاً دس ۱۰ روپے دَین ہیں اور مرہون بھی دس ۱۰ روپے کی چیز ہے اور اُس کا بچہ پانچ روپے کا ہے اور مرہون ہلاک ہو گیا تو دو تہائی دَین ساقط ہو گیا ایک تہائی باقی ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۵: راہن نے مرتہن کو زوائد کے کھا لینے کی اجازت دے دی مثلاً کہہ دیا کہ بکری کا دودھ دوہ کر پی لینا تمہارے لئے حلال ہے یا درخت کے پھل کھالینا مرتہن نے کھا لئے اس صورت میں مرتہن پر ضمان نہیں کہ مالک کی اجازت سے چیز کھائی ہے اور دَین بھی اس کے مقابل میں کچھ ساقط نہیں اور اس صورت میں کہ مرتہن نے زوائد کو کھالیا اور راہن نے فکِ رہن نہیں کرایا اور یہ رہن ہلاک ہو گیا تو دَین کو اصل رہن اور ان زوائد پر تقسیم کیا جائے گا جو کچھ اصل کے مقابل ہے وہ ساقط اور جو کچھ زوائد کے مقابل ہے راہن سے وصول کرے کہ اس کے حکم سے اس کا کھانا گویا خود اُسی کا کھا لینا ہے لہٰذاراہن معاوضہ دے۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۶: باغ رہن رکھا اور مرتہن نے قبضہ کر لیا پھر راہن کو دے دیا کہ درختوں کو پانی دے اور باغ کی نگہداشت (4) کرے اس سے رہن باطل نہیں ہوا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۷: باغ رہن رکھا اور مرتہن کو پھل کھانے کی اجازت دے دی اسکے بعد راہن نے باجازت مرتہن باغ کو بیع کر دیا(6)اس صورت میں باغ کی جگہ پر اُس کا ثمن رہن ہے اور باغ میں پھل اگر بیع کے بعد پیدا ہوئے تو مشتری
1 ۔قرض کا۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۴۵،۱۴۶.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن والجنایۃ،ج ۲،ص ۴۳۹،۴۴۰.
4 ۔دیکھ بھال،حفاظت۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن ... إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۴۸.
6 ۔یعنی باغ کو بیچا۔
کے ہیں یعنی جبکہ راہن نے دَین ادا کر دیا ہو اور اگر ادا نہ کیا ہو تو جس طرح باغ کا ثمن رہن ہے یہ پھل بھی رہن ہیں یعنی اس صورت میں مرتہن پھل کو نہیں کھا سکتا کہ راہن نے اگرچہ پھل کھانے کی اجازت دے دی تھی مگر باغ کو جب بیع کر ڈالا تو اباحت جاتی رہی۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۸: زمین رہن رکھی اور مرتہن کے لئے اُس کے منافع کو مباح کر دے مرتہن نے زمین میں کاشت کی اس صورت میں مرتہن کے ذمہ کاشت کے مقابل میں کچھ دینا نہیں اور بغیر اجازت راہن مرتہن نے کاشت کی ہو تو زمین میں جو کچھ نقصان پیدا ہوا ہو اُس کاضمان دینا ہو گا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۹: زمین رہن رکھی راہن نے باجازت مرتہن اُس میں کاشت کی یا درخت لگائے اس سے رہن باطل نہیں ہوا مرتہن جب چاہے واپس لے سکتا ہے اور راہن کے قبضہ میں جب تک چیز ہے مرتہن کے ضمان میں نہیں یعنی ہلاک ہونے سے دَین ساقط نہیں ہو گا۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: مرہون چیز پر استحقاق ہوا یعنی کسی شخص نے اپنی مِلک ثابت کر کے چیز لے لی مرتہن راہن کو اس پر مجبور نہیں کر سکتا کہ اُ س کی جگہ پر دوسری چیز رہن رکھے اور اگر مرہون کے جز میں استحقاق ہوا(4)تواس کی دو صورتیں ہیں۔ جز و شائع کا استحقاق ہو مثلاً نصف یا ربع تو استحقاق کے بعد جو حصہ باقی ہے اُس میں بھی رہن باطل ہے اور اتنا ہی حصہ پورے دَین کے مقابل میں مرہون رہے مگر یہ چیز ہلاک ہو جائے تو اگرچہ پورے دَین کی قیمت کی برابر ہو پورا دَین ساقط نہیں ہو گا۔ بلکہ دَین کا اتناہی جز ساقط ہو گا جو اس کے مقابل میں پڑے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: مکان کرایہ پر دیا پھر اُسی مکان کو کرایہ دار کے پاس رہن رکھا یہ رہن صحیح ہے اور اجارہ باطل ہو گیا یعنی جبکہ رہن کے لئے مرتہن کا قبضہ ئجدید ہو کیونکہ پہلا قبضہ اس قبضہ کے قائم مقام نہیں۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: رہن میں زیادتی جائز ہے یعنی مثلاً کسی نے قرض لیا اور اس کے پاس ایک چیز رہن رکھ دی اس کے بعد
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن ... إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۴۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۴۸.
4 ۔یعنی گروی رکھی ہوئی چیزمیں کسی کاحق ثابت ہوا۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن ... إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۴۸،۱۴۹.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۴۹.
راہن نے دوسری چیز بھی اسی قرض کے مقابل میں رہن رکھی یہ دونوں چیزیں رہن ہو گئیں یعنی جب تک قرض ادا نہ کرے دونوں میں سے کسی کو نہیں لے سکتا۔ اور ان میں سے ایک ہلاک ہو گئی تو اگرچہ اس کی قیمت دَین کے برابر ہو پورا دَین ساقط نہیں ہو گا بلکہ دَین کو دونوں پر تقسیم کیا جائے جتنا اس کے مقابل ہو صرف وہی ساقط ہو گا اور یہ دوسری چیز جو بعد میں رہن رکھی قبضہ کے دن جو اس کی قیمت تھی اس کا اعتبار ہو گا جس طرح پہلی کی قیمت میں بھی قبضہ ہی کے دن کا اعتبار تھا یعنی ہلاک ہونے کی صورت میں انہیں قیمتوں پر دَین کی تقسیم ہو گی مثلاً ہزار روپے قرض لئے اورایک چیز رہن رکھی جس کی قیمت ہزار روپے ہے پھر دوسری چیز رہن رکھی جس کی قیمت پانسو روپے ہے اور ایک ہلاک ہو گئی تو دَین کے تین حصے کئے جائیں دو حصے پہلی کے مقابل میں اور ایک حصہ دوسری کے مقابل میں۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۳: دَین کے مقابل میں کوئی چیزرہن رکھی پھر دَین کاکچھ حصہ ادا کر دیا کچھ باقی ہے اب رہن میں زیادتی کی یعنی دوسری چیز بھی رہن رکھ دی اس زیادتی کا تعلق پورے دَین سے نہیں بلکہ جو باقی ہے اُسی سے ہے یعنی ہلاک ہونے کی صورت میں دَین کے صرف اتنے ہی حصہ کو دونوں پر تقسیم کریں گے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: دَین میں زیادتی ناجائز ہے یعنی دَین کے مقابل میں کوئی چیز رہن رکھ دی اس کے بعد راہن یہ چاہے کہ پھر قرض لوں اور اس قرض کے مقابل میں بھی وہی چیز رہن رہے یہ نہیں ہو سکتا یعنی اگر وہ چیز ہلاک ہو گئی تو دوسرے دَین پر اس کا اثر نہیں پڑے گا یہ ساقط نہیں ہو گا اور پہلا دَین ادا کر دیا دوسرا باقی ہے تو مرتہن اُس چیز کو روک نہیں سکتا کہ دوسرے دَین سے رہن کو تعلق نہیں۔ (3)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۵: ہزار روپے میں دو غلام رہن رکھے پھر مرتہن سے کہا کہ مجھے ایک کی ضرورت ہے واپس دے دو اُس نے ایک غلام واپس کر دیا یہ دوسرا جو باقی ہے پانسو کے مقابل میں(4)رہن ہے یعنی اگر ہلاک ہو توصرف پانسو ساقط ہوں گے اگرچہ اس کی قیمت ایک ہزار ہو مگر راہن اُس وقت فک ِرہن کرا سکتا ہے(5)جب پورے ہزار ادا کر دے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: ہزار روپے کے مقابل میں غلام کو رہن رکھا اس کے بعد راہن نے مرتہن کو ایک دوسرا غلام دیا کہ
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۲،ص۴۴۰.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب السادس فی الزیادۃ فی الرھن...إلخ،ج۵،ص۴۵۹.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج ۲،ص۴۴۰.
4 ۔یعنی پانچ سو کے بدلے میں۔ 5 ۔یعنی رہن واپس لے سکتاہے۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۵۰.
اُس کی جگہ پر اسے رہن رکھ لو جب تک مرتہن پہلے غلام کو واپس نہ دے دے وہ رہن سے خارج نہیں ہو گا اور دوسرا غلام مرتہن کے پاس بطور امانت ہے جب پہلا غلام واپس کر دے اب یہ دوسرا غلام رہن ہو جائے گا اور مرتہن کے ضمان میں آجائے گا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: مرتہن نے راہن سے دَین معاف کردیا، یا ہبہ کر دیا اور ابھی مرہون کو واپس نہیں کیا ہے اور مرہون ہلاک ہوگیا تو مرتہن سے اس کا کوئی معاوضہ نہیں ملے گا ہاں اگر راہن نے مرتہن سے معافی یا ہبہ کے بعد مرہون کو مانگا اوراس نے نہیں دیا اس کے بعد ہلاک ہوا تو مرتہن کے ذمہ تاوان ہے کہ روکنے سے غاصب ہو گیا اور اگر مرتہن نے دَین وصول پایا راہن نے اُسے دیا ہو یا کسی دوسرے نے بطور تبرّع(2)دَین ادا کر دیایا مرتہن نے راہن سے دَین کے عوض میں کوئی چیز خرید لی یا راہن سے کسی چیز پر مصالحت کی یا راہن نے دَین کا کسی دوسرے شخص پر حوالہ کر دیا اور ان صورتوں میں مرہون مرتہن کے پاس ہلاک ہوگیا تو دَین کے مقابل میں ہلاک ہو گا یعنی دَین ساقط ہو جائے گا اور جو کچھ راہن نے متبرّع (3)سے وصول پایا ہے اُسے واپس کرے اورحوالہ والی صورت میں حوالہ باطل ہو گیا۔(4) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۸: یہ سمجھ کرکہ فلاں کا میرے ذمہ دَین ہے ایک چیز رہن رکھ دی اس کے بعد راہن و مرتہن نے اس پر اتفاق کیا کہ دین تھا ہی نہیں اور مرہون ہلاک ہو گیا تو دَین کے مقابل میں ہلاک ہوا یعنی مرتہن راہن کو اتنی رقم ادا کرے جس کے مقابل ہلاک ہوایعنی مرتہن راہن کو اتنی رقم ادا کرے جس کے مقابل میں رہن رکھا گیا۔ (5)(ہدایہ)اور بعض آئمہ یہ فرماتے ہیں کہ یہ اُس صورت میں ہے کہ مرہو ن کے ہلاک ہونے کے بعد دونوں نے دَین نہ ہونے پر اتفاق کیا ہو اور اگر اتفاق کرنے کے بعد ہلاک ہو تو ضمان نہیں کہ اب وہ چیز مرتہن کے پاس امانت ہے مگر صاحب ہدایہ کے نزدیک دونوں صورتوں کا ایک حکم ہے۔ (6)
مسئلہ ۱۹: عورت کے پاس شوہر نے مَہر کے مقابل میں کوئی چیز رہن رکھ دی پھر عورت نے مَہر معاف کر دیا ،یا شوہر کو
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۵۰.
2 ۔بطورِاحسان۔ 3 ۔احسان کرنے والے۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۲،ص۴۴۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن ...إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۵۰،۱۵۱.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۲،ص۴۴۱.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۵۲.
ہبہ کر دیا یا مَہر کے مقابل میں شوہر سے خلع کرایا، ان سب کے بعد وہ مرہون چیز عورت کے پاس ہلاک ہو گئی تو اس کے مقابل میں عورت سے کوئی معاوضہ نہیں لے سکتا۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۰: ایک شخص نے دوسرے کا مَہر بطور تبرع ادا کر دیا پھر شوہر نے عورت کو قبل دخول طلاق دے دی تو وہ شخص عورت سے نصف مَہر واپس لے سکتا ہے کیونکہ دخول سے قبل طلاق ہونے میں عورت آدھے مَہر کی مستحق ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک شخص نے کوئی چیز خریدی دوسرے نے بطور تبرع اُس کا ثمن بائع کو دے دیا پھر مشتری نے عیب کی وجہ سے مبیع کو واپس کر دیا تو ثمن اس کو ملے گا جس نے دیا ہے مشتری کو نہیں ملے گا۔(2) (زیلعی)
مسئلہ ۲۱: رہن فاسد کے وہی احکام ہیں جو رہن صحیح کے ہیں یعنی مثلاً راہن نے عقد رہن کو توڑ دیا اور یہ چاہے کہ مرہون کو واپس لے لے تو جب تک وہ چیز ادا نہ کر دے جس کے مقابل میں رہن رکھا ہے مرہون کو واپس نہیں لے سکتا یا راہن مر گیا اور اس کے ذمہ دوسروں کے بھی دَین ہیں وہ لوگ یہ چاہیں کہ مرہون سے ہم بھی بحصہ رسد(3)وصول کریں ایسا نہیں کرسکتے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: مرہون چیز مال ہو اور جس کے مقابل میں رہن رکھا ہو وہ مضمون ہو یعنی اس کا ضمان واجب ہو مگر جواز رہن کے شرائط میں کوئی شرط معدوم ہو مثلاً مشاع کو رہن رکھا اس صورت میں رہن فاسد ہے اور اگر مرہون مال ہی نہ ہو یا جس کے مقابل میں رکھا ہو اس کا ضمان واجب نہ ہوتا ہوتو یہ رہن باطل ہے رہن باطل میں مرہون ہلاک ہو جائے تو وہ امانت تھی جو ضائع ہو گئی اُس کا کچھ معاوضہ راہن کو نہیں ملے گا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۲۳: غلام خریدا اور اس پر قبضہ بھی کر لیا اور ثمن کے مقابل میں بائع کے پاس کوئی چیز رہن رکھ دی اور یہ چیزمرتہن کے پاس ہلاک ہو گئی اس کے بعد معلوم ہوا کہ وہ غلام نہ تھا بلکہ حر(6)تھا یابائع کا نہ تھا کسی اور کاتھا جس نے لے لیا تو مرتہن کوضمان دینا ہو گا۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۲،ص۴۴۱.
2 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،ج۷،ص ۲۰۶.
3 ۔ یعنی جتنا حصے میں آئے ۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الرھن،باب التصرف فی الرھن...إلخ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۱۰،ص۱۵۲.
5 ۔المرجع السابق،ص۱۵۳.
6 ۔آزاد۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الثالث فی ھلاک المرھون بضمان...إلخ،ج۵،ص۴۵۲.
مسئلہ ۲۴: بیع سلم میں مسلم فیہ (1)کے مقابل میں رب السلم(2)کے پاس کوئی چیز رہن رکھی اس کے بعد دونوں نے بیع سلم کو فسخ کر دیا تو اب یہ چیز راس المال(3)کے مقابل میں رہن ہے یعنی رب السلم جب تک راس المال وصول نہ کر لے اس چیز کو روک سکتا ہے مگر یہ مرہون(4)اگر ہلاک ہو جائے تو مسلم فیہ کے مقابل میں اس کا ہلاک ہونا متصور ہو گا کہ حقیقۃً اُسی کے مقابل میں رہن ہے۔ یوہیں اگر بیع میں ثمن کے مقابل میں کوئی چیز رہن رکھ دی پھر بیع کا اقالہ ہوا تو جب تک مبیع(5)بائع(6)کو واپس نہ ملے رہن کو روک سکتا ہے مگر مرہون ہلاک ہو جائے تو ثمن کے مقابل میں ہلاک متصور ہو گا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: ایک شخص کے دوسرے کے ذمہ کچھ روپے تھے مدیون (8)نے دائن(9)کے دو کپڑے یہ کہہ کر دیے کہ اپنے روپے کے عوض (10)ان میں سے ایک کپڑا لے لو اُس نے دونوں رکھ لئے اور دونوں ضائع ہو گئے تو مدیون کے کپڑے ضائع ہوئے دائن کا دَین(11)بدستور باقی ہے جب تک وہ ایک کو اپنے روپے کے عوض متعین نہ کر لے یہ ویسا ہی ہے کہ ایک شخص پر دوسرے کے بیس ۲۰ روپے باقی ہیں مدیون نے اُسے سو ۱۰۰ ر وپے دیے کہ ان میں سے اپنے بیس ۲۰ لے لو اُس نے کُل رکھ لئے ان میں سے اپنے بیس ۲۰ نہیں نکالے اور کُل روپے ضائع ہو گئے تو مدیون کے ضائع ہوئے دائن کا دَین بدستور باقی ہے اور اگر کپڑے دیتے وقت یہ کہے کہ ان میں سے ایک کو اپنے دَین کے مقابل میں رہن رکھ لو اور اُس نے دونوں رکھ لئے پھر دونوں ضائع ہو گئے اور دونوں ایک قیمت کے ہوں تو ہر ایک کی نصف قیمت دَین کے مقابل میں ہوگی۔ (12)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: جس دَین کے مقابل میں(13)چیز رہن ہے جب تک وہ پورا وصول نہ ہو جائے مرتہن (14)مرہون کو روک سکتا ہے اور مرتہن کے اگر دیگر دیون(15)بھی راہن کے ذمہ ہوں رہن سے پہلے ہوں یا بعد کے مگر ان کے مقابل میں یہ چیز رہن نہ ہو تو ان کے وصول کرنے کے لئے رہن کو روک نہیں سکتا۔(16) (عالمگیری)
1 ۔مبیع ۔ 2 ۔ خریدار۔ 3 ۔ثمن۔
4 ۔گروی رکھی ہوئی چیز۔ 5 ۔بیچی گئی چیز۔ 6 ۔بیچنے والے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الثالث فی ھلاک المرھون بضمان ... إلخ،ج۵،ص۴۵۰.
8 ۔مقروض۔ 9 ۔اپناقرض طلب کرنے والا۔
10 ۔یعنی اپنے روپے کے بدلے میں۔ 11 ۔قرض۔
12 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الثالث فی ھلاک المرھون بضمان... إلخ،ج۵،ص۴۵۰.
13 ۔یعنی قرض کے بدلے میں۔ 14 ۔جس کے پاس چیز گروی رکھی ہے۔ 15 ۔قرضے۔
16 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرھن،الباب الثالث فی ھلاک المرھون بضمان ...إلخ،ج۵،ص۴۴۸.
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالۡاُنۡثٰی بِالۡاُنۡثٰی ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیۡہِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَیۡہِ بِاِحْسَانٍ ؕ ذٰلِکَ تَخْفِیۡفٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ ؕ فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۸﴾ۚوَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الۡاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾)
(1) (پ۲،ع۶)
''اے ایمان والو !قصاص یعنی جو ناحق قتل کئے گئے ان کا بدلہ لینا تم پر فرض کیا گیا۔ آزاد کے بدلے آزاداور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔ تو جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہو تو بھلائی سے تقاضا کرے اور اچھی طرح سے اس کو ادا کر دے۔ یہ تمہارے رب کی جانب سے تمہارے لیے آسانی ہے اور تم پر مہربانی ہے، اب اس کے بعد جوزیادتی کرے اس کے لیے دردناک عذاب ہے اور تمہارے لیے خون کا بدلہ لینے میں زندگی ہے۔ اے عقل والو تاکہ تم بچو۔''
اور فرماتا ہے:
(وَکَتَبْنَا عَلَیۡہِمْ فِیۡہَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ ۙ وَالْعَیۡنَ بِالْعَیۡنِ وَ الۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ وَالۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوۡحَ قِصَاصٌ ؕ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ؕ وَمَنۡ لَّمْ یَحْکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾
)
(2 )
''اور ہم نے توریت میں ان پر واجب کیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے۔ پھر جو معاف کر دے تو وہ اس کے گناہ کا کفارہ ہے اور جو اﷲ کے نازل کئے پر حکم نہ کرے(3)وہ ہی لوگ ظالم ہیں۔''
امام بخاری اپنی صحیح میں ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں قصاص کا حکم تھا اور ان میں دیت نہ تھی تو اﷲتعالیٰ نے اس امت کے لیے فرمایا
کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی ؕ
(الاٰیہ)
ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں، عفو(4)یہ ہے کہ قتلِ عمد میں دیت قبول کرے اور اتباع بالمعروف یہ ہے کہ بھلائی سے طلب کرے اور قاتل اچھی طرح ادا کرے۔ (5)
اور فرماتاہے:
1 ۔پ۲،البقرۃ:۱۷۸،۱۷۹. 2 ۔پ۶،المائدۃ:۴۵.
3 ۔یعنی فیصلہ نہ کرے۔ 4 ۔یعنی معاف کرنا۔
5 ۔''صحیح البخاری''،کتاب الدیات،باب من قتل لہ قتیل...إلخ،الحدیث:۶۸۸۱،ج۴،ص۳۶۲.
(مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ۚۛؔ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیۡرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الۡاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ)
(1)(پ۶،ع۹)
''اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو زندہ رکھا تو گویا اس نے سب انسانوں کو زندہ رکھا۔
اور فرماتا ہے:
(وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنۡ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَأً ۚ وَمَنۡ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّصَّدَّقُوۡا ؕ فَاِنۡ کَانَ مِنۡ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِنۡ قَوْمٍۭ بـَیۡنَکُمْ وَبَیۡنَہُمْ مِّیۡثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ وَتَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ۚ فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ ۫ تَوْبَۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَکَانَ اللہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۹۲﴾وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾)
(2)(پ۵،ع۱۰)
''اور مسلمان کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے مگر غلطی کے طور پر اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے تو اس پر ایک غلام مسلم کا آزاد کرنا ہے اور خون بہا کہ مقتول کے لوگوں کو دیا جائے مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں۔ پھر وہ اگر اس قوم سے جو تمہاری دشمن ہے اور وہ خود مسلمان ہے تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا ہے اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں اور ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خون بہا سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان مملوک کو آزاد کیا جائے۔ پھر جو نہ پائے وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ اﷲ سے اس کی توبہ ہے اوراﷲجاننے والا حکمت والا ہے اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اﷲنے اس پر غضب فرمایا اور اس پر لعنت کی اور اس پر بڑا عذاب تیار رکھا ہے۔''
حدیث ۱: امام بخاری و مسلم نے صحیحین میں عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''کسی مسلمان مرد کا جو لااِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی گواہی اور میری رسالت کی شہادت دیتا ہے خون صرف تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں حلال ہے۔ ۱نفس بدلے میں نفس کے اور۲ ثیب زانی(3)اور ۳ اپنے مذہب سے نکل کر جماعت اہل اسلام کو چھوڑ دے''(مرتد ہو جائے یا باغی ہو جائے)۔ (4)
حدیث ۲: امام بخاری اپنی صحیح میں ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم
1 ۔پ ۶،المائدۃ:۳۲. 2 ۔ پ۵،النساء:۹۲۔۹۳.
3 ۔ یعنی شادی شدہ زانی۔
4 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الدیات،باب قول اللہ تعالی (اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ....اِلَخ)،الحدیث:۶۸۷۸،ج۴،ص۳۶۱.
نے فرمایا کہ''مسلمان اپنے دین کی سبب کشادگی میں رہتا ہے جب تک کوئی حرام خون نہ کر لے۔''(1)
حدیث ۳: صحیحین میں عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''قیامت کے دن سب سے پہلے خون ناحق کے بارے میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔'' (2)
حدیث ۴: امام بخاری اپنی صحیح میں عبداﷲ بن عَمْرْورضی اﷲ تعالٰی عنہما(3)سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''جس نے کسی معاہد (ذمی)کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھے گا اور بے شک جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک پہنچتی ہے۔''(4)
حدیث ۵ و ۶: امام ترمذی اور نسائی عبداﷲبن عَمْرْورضی اﷲتعالٰی عنہما (5)سے اور ابن ماجہ براء بن عازب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''بے شک دنیا کا زوال اﷲ(عزوجل)پر آسان ہے۔ ایک مرد مسلم کے قتل سے ''۔ (6)
حدیث ۷ و ۸: امام ترمذی ابو سعید اور ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ اگر آسمان و زمین والے ایک مرد مومن کے خون میں شریک ہو جائیں تو سب کو اﷲتعالیٰ جہنم میں اوندھا کر کے ڈال دے گا۔ (7)
حدیث ۹: امام مالک نے سعید بن مسیب رضی اﷲتعالٰی عنہماسے روایت کی کہ عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہنے پانچ یاسات نفر کو(8)ایک شخص کو دھوکا دے کر قتل کرنے کی وجہ سے قتل کر دیا اور فرمایا کہ اگر صنعاء (9)کے سب لوگ اس خون میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کر دیتا۔(10)امام بخاری نے اپنی صحیح میں اسی کے مثل ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے روایت کی ہے۔ (11)
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الدیات،باب قول اللہ تعالٰی(ومن یقتل مؤمنا متعمداً...إلخ )،الحدیث: ۶۸۶۲،ج۴،ص۳۵۶.
2 ۔المرجع السابق،الحدیث:۶۸۶۴،ج۴،ص۳۵۷.
3 ۔بہارشریعت کے نسخوں میں اس مقام پر''عبداللہ بن عمر''رضی اللہ تعالٰی عنہما لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ''بخاری شریف''اوردیگرکتب ِحدیث میں''عبداللہ بن عَمْرْو''رضی اللہ تعالٰی عنہما مذکورہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الجزیۃوالموادعۃ،باب إثم من قتل معاھدا بغیرجرم،الحدیث: ۳۱۶۶،ج۲،ص۳۶۵.
5 ۔بہارشریعت کے نسخوں میں اس مقام پر''عبداللہ بن عمر''رضی اللہ تعالٰی عنہما لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ''جامع ترمذی
اور سنن نسائی'' میں''عبداللہ بن عَمْرْو''رضی اللہ تعالٰی عنہما مذکورہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
6 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الدیات،باب ماجاء في تشدید قتل المؤمن،الحدیث:۱۴۰۰،ج۳،ص۹۹.
7 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الدیات،باب الحکم في الدماء،الحدیث: ۱۴۰۳،ج۳،ص۱۰۰.
8 ۔یعنی آدمیوں کو۔ 9 ۔ یمن کا دارالحکومت۔
10 ۔''الموطأ''،للإمام مالک،کتاب العقول،باب ماجاء في الغیلۃ والسحر،الحدیث: ۱۶۷۱،ج۲،ص۳۷۷.
11 ۔''صحیح البخاری''،کتاب الدیات،باب إذا اصاب قوم من رجل...إلخ،الحدیث:۶۸۹۶،ج۴،ص۳۶۷.
حدیث ۱۰: دار قطنی حضرت عمر رضی اﷲتعالٰی عنہماسے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''جب ایک مرد دوسرے کو پکڑ لے اور کوئی اور آ کر قتل کر دے توقاتل قتل کیا جائے گا اور پکڑنے والے کو قید کیا جائے گا۔''(1)
حدیث ۱۱: امام ترمذی اور امام شافعی حضرت ابی شریح کعبی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا پھر تم نے اے قبیلہ خزاعہ(2)ہذیل (3)کے آدمی کو قتل کر دیا اب میں اس کی دیت خود دیتا ہوں، اس کے بعد جو کوئی کسی کو قتل کرے تو مقتول کے گھر والے دو چیزوں میں سے ایک اختیار کریں اگر پسند کریں تو قتل کریں اور اگر وہ چاہیں تو خون بہا لیں۔ (4)
حدیث ۱۲: صحیحین میں انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی کہ حضرت ربیع نے جو انس بن مالک کی پھوپھی تھیں ایک انصاریہ عورت کے دانت توڑ دئیے تو وہ لوگ نبی صلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس حاضر ہوئے۔ حضور (صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسَلَّم)نے قصاص کا حکم فرمایا۔ حضرت انس کے چچا انس بن النضر(رضی اﷲتعالٰی عنہ)نے عرض کی یا رسول اﷲ!(صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہٖ وسَلَّم)، قسم اﷲکی ان کے دانت نہیں توڑے جائیں گے تو رسول اﷲصلَّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''اے انس !اﷲ کا حکم قصاص کا ہے''، اس کے بعد وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے دیت قبول کر لی، رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''اﷲ(عزوجل)کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر اﷲ (عزوجل)پر قسم کھائیں تو اﷲ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا کر دیتا ہے۔''(5)
حدیث ۱۳: امام بخاری اپنی صحیح میں ابو جحیفہرضی اﷲ تعالٰی عنہ(6)سے کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے پوچھا، کیا تمہارے پاس کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو قرآن میں نہیں، تو انہوں نے فرمایا:''قسم اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا فرمایا، ہمارے پاس وہی ہے جو قرآن میں ہے مگر اﷲ(عزوجل)نے جو قرآن کی سمجھ کسی کو دے دی اور ہمارے پاس وہ ہے جو اس صحیفہ میں ہے''۔ میں نے کہا، اس صحیفہ میں کیا ہے ؟ تو فرمایا: دیت اور اس کے احکام اور قیدی کو چھڑانا اور یہ کہ کوئی مسلم کسی کافر (حربی)کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔ (7)
حدیث ۱۴: ابو داود و نسائی حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے اور ابن ماجہ ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہماسے راوی کہ
1 ۔ ''سنن الدار قطني''،کتاب الحدود والدیات... إلخ،الحدیث: ۳۲۴۳،ج۳،ص۱۶۷.
2 ۔عرب کا ایک قبیلہ ۔
3 ۔کذا فی المشکوۃ کتاب القصاص۱۲.
4 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الدیات،باب ماجاء في حکم ولی القتیل...إلخ،الحدیث: ۱۴۱۱،ج۳،ص۱۰۳.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب التفسیر،باب قولہ (والجروح قصاص)،الحدیث: ۴۶۱۱،ج۳،ص۲۱۵.
6 ۔بہارشریعت کے نسخوں میں اس مقام پر''ابوحنیفہ'' لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ''بخاری شریف'' اوردیگر کتب ِحدیث میں''حضرت ابوجُحَیْفَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ''ہی مذکورہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
7 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الدیات،باب لایقتل المسلم بالکافر،الحدیث: ۶۹۱۵،ج۴،ص۳۷۴.
رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''مسلمانوں کے خون برابر ہیں اور ان کے ادنی کے ذمہ کو پورا کیا جائے گا اور جو دور والوں نے غنیمت حاصل کی ہو وہ سب لشکریوں کو ملے گی اور وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک ہیں۔ خبردار کوئی مسلمان کسی کافر (حربی)کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ کوئی ذمی، جب تک وہ ذمہ میں باقی ہے۔ (1)
حدیث ۱۵: ترمذی اور دارمی ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ حدیں مسجد میں قائم نہ کی جائیں اور اگر باپ نے اپنی اولاد کو قتل کیا ہو تو باپ سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (2)
حدیث ۱۶: ترمذی سراقہ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں کہ میں رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا، حضور(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسَلَّم) باپ کے قصاص میں بیٹے کو قتل کرتے اور بیٹے کے قصاص میں باپ کو قتل نہ کرتے(3) یعنی اگربیٹے نے باپ کو قتل کیا تو بیٹے سے قصاص لیتے اور باپ نے بیٹے کو قتل کیا ہو تو باپ سے قصاص نہ لیتے۔
حدیث ۱۷: ابو داود و نسائی ابو رمثہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضور اقدس صلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسَلَّم)نے دریافت کیا، یہ کون ہے ؟ میرے والد نے کہا، یہ میرا لڑکا ہے آپ اس کے گواہ رہیں۔ حضور(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسَلَّم)نے فرمایا، خبردار نہ یہ تمہارے اوپر جنایت کر سکتا ہے اور نہ تم اس پر جنایت کر سکتے ہو۔(4) (بلکہ جو جنایت کریگا وہی ماخوذ ہوگا)
حدیث ۱۸: امام ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی ابو امامہ بن سہل بن حُنَیف رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے گھر کا جب باغیوں نے محاصرہ کیا تو کھڑکی سے جھانک کر فرمایا کہ میں تم کو خدا کی قسم دلاتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاہے کہ کسی مرد مسلم کا خون حلال نہیں ہے مگر تین وجہوں سے۔ (1)احصان کے بعد(5) زنا سے یا (2)اسلام کے بعد کفر سے یا (3)کسی نفس کو بغیر کسی نفس کے قتل کر دینے سے، انہیں وجوہ سے قتل کیا جائے گا۔ قسم خدا کی ،نہ میں نے زمانہ کفر میں زنا کیا اور نہ زمانہ اسلام میں اور جب سے میں نے رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم سے بیعت کی مرتد نہیں ہوا اور کسی ایسی جان کو جسے اﷲتعالیٰ نے حرام فرمایا، قتل نہیں کیا پھر تم مجھے کیوں قتل کرتے ہو۔ (6)
1 ۔''سنن أبی داود''،کتاب الدیات،باب إیقاد المسلم بالکافر،الحدیث:۴۵۳۰،۴۵۳۱،ج۴،ص۲۳۸،۲۳۹.
2 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الدیات،باب ماجاء في الرجل یقتل ابنہ... إلخ،الحدیث:۱۴۰۶،ج۳،ص۱۰۱.
3 ۔ المرجع السابق،الحدیث: ۱۴۰۴،ج۳،ص۱۰۰.
4 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الدیات،باب لایؤخذ أحد بجریرۃ أخیہ أوأبیہ،الحدیث: ۴۴۹۵،ج۴،ص۲۲۳.
5 ۔ یعنی شادی شدہ ہونے کے بعد۔
6 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الفتن،باب ما جاء لایحل دم إمریئ مسلم... إلخ،الحدیث: ۲۱۶۵،ج۴،ص۶۴.
حدیث ۱۹: ابو داود حضرت ابو الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''مومن تیز رو(1)اور صالح رہتا ہے جب تک حرام خون نہ کر لے اور جب حرام خون کر لیتا ہے تو اب وہ تھک جاتا ہے(2)۔(3)
حدیث ۲۰: ابو داود انہیں سے اور نسائی معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''امید ہے کہ گناہ کو اﷲ بخش دے گا مگر اس شخص کو نہ بخشے گا جو مشرک ہی مر جائے یا جس نے کسی مرد مومن کو قصداً (4)ناحق قتل کیا۔''(5) (اس کی تاویل آگے آئے گی)
حدیث ۲۱: امام ترمذی نےعَمْرْو بن شعیب عن ابیہ عن جدہروایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''جس نے ناحق جان بوجھ کر قتل کیا وہ اولیائے مقتول کو دے دیا جائے گاپس وہ اگر چاہیں قتل کریں اور اگر چاہیں دیت لیں۔ (6)
حدیث ۲۲: دارمی ابن شریح خزاعی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم کو فرماتے سنا ہے کہ ''جو اس بات کے ساتھ مبتلا ہو کہ اس کے یہاں کوئی قتل ہوگیا یا زخمی ہوگیا تو تین چیز میں سے ایک اختیار کرے۔ اگر چوتھی چیز کا ارادہ کرے تو اس کے ہاتھ پکڑ لو (یعنی روک دو)یہ اختیار ہے کہ قصاص لے یا معاف کرے یا دیت لے پھر ان تینوں باتوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کے بعد اگر کوئی زیادتی کرے تو اس کے لیے جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔''(7)
حدیث ۲۳: ابو داود جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''میں اس کو معاف نہیں کروں گا جس نے دیت لینے کے بعد قتل کیا۔''(8)
حدیث ۲۴: امام ترمذی و ابن ماجہ نے ابو درداء رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں، میں نے رسول اﷲ صلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم کو فرماتے سنا ہے کہ جس کے جسم میں کوئی زخم لگ جائے پھر وہ اس کا صدقہ کر دے (معاف کر دے) تو اﷲ
1 ۔یعنی مومن نیکی میں جلدی کرنے والا ہوتا ہے۔
2 ۔ یعنی قتل ناحق کی نحوست سے انسان توفیق خیر سے محروم رہ جاتاہے اسی کو تھک جانے سے تعبیرفرمایا۔
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الفتن والملاحم،باب في تعظیم قتل المؤمن،الحدیث:۴۲۷۰،ج۴،ص۱۳۹.
4 ۔یعنی جان بوجھ کر۔
5 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الفتن... إلخ،باب في تعظیم قتل المؤمن،الحدیث:۴۲۷۰،ج۴،ص۱۳۹.
6 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الدیات،باب ماجاء في الدیۃ کم ھی من الإبل،الحدیث:۱۳۹۲،ج۳،ص۹۵.
7 ۔ ''سنن الدارمي''،کتاب الدیات،باب الدیۃ في قتل العمد،الحدیث: ۲۳۵۱،ج۲،ص۲۴۷.
8 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الدیات،باب من یقتل بعد أخذ الدیۃ،الحدیث: ۴۵۰۷،ج۴،ص۲۲۹.
(عزوجل)اس کا ایک درجہ بڑھاتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے۔ (1)
حدیث ۲۵: امام بخاری اپنی صحیح میں عبد اﷲ بن مسعود (رضی اﷲ تعالٰی عنہ)سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرد نے عرض کی یا رسول اﷲ(صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہٖ وسَلَّم )!کون سا گناہ اﷲ(عزوجل)کے نزدیک بڑا ہے ؟ فرمایا کہ ''اﷲ(عزوجل)کا کوئی شریک بتائے، حالانکہ اﷲ(عزوجل)ہی نے تم کو پیدا کیا۔''عرض کی پھر کون سا گناہ ؟ فرمایا:''پھر یہ کہ اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔ '' کہا۔ پھر کون ؟ ارشاد فرمایا:'' پھر یہ کہ اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ پس اﷲ(عزوجل)نے اس کی تصدیق نازل فرمائی:
(وَالَّذِیۡنَ لَا یَدْعُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوۡنَ النَّفْسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوۡنَHوَ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا ﴿ۙ۶۸﴾ (2) یُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ یَخْلُدْ فِیۡہٖ مُہَانًا ﴿٭ۖ۶۹﴾اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾)
(3)(پ۱۹،ع۴)
''اور وہ جو اﷲ(عزوجل)کے ساتھ کسی اور کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جسے اﷲ(عزوجل)نے حرام کیا ناحق قتل نہیں کرتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا، اس کے لیے چند در چند عذاب کیا جائے گاقیامت کے دن۔(4)اور وہ اس میں مدتوں ذلت کے ساتھ رہے گا، مگر جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اوراچھے کام کرے۔ اﷲ(عزوجل)ایسے لوگوں کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دے گا۔ اور اﷲ(عزوجل)مغفرت والا رحم والا ہے۔''
حدیث ۲۶: امام بخاری نے اپنی صحیح میں عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں ان نقبا (5)سے ہوں جنہوں نے (لیلۃ العقبہ(6)میں) رسول اﷲ صلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم سے بیعت کی۔ ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ اﷲ(عزوجل)کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے اور زنا نہ کریں گے اور چوری نہ کریں گے اور ایسی جان کو قتل نہ کریں گے جس کو اﷲ(عزوجل)نے حرام فرمایااور لوٹ نہ کریں گے اور خدا (تعالیٰ)کی نافرمانی نہ کریں گے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم کو جنت
1 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الدیات،باب ماجاء في العفو،الحدیث:۱۳۹۸،ج۳،ص۹۷.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الدیات باب قول اللہ تعالٰی(ومن یقتل مؤمنا متعمداً...إلخ)،الحدیث:۶۸۶۱،ج۴،ص۳۵۶.
3 ۔پ۱۹،الفرقان:۶۸۔۷۰.
4 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''یوم القیٰمۃ'' کاترجمہ ''قیامت کے دن'' موجودنہیں تھا، لہذامتن میں کنزالایمان سے اس کااضافہ کردیاگیاہے۔...علمیہ
5 ۔قوم کے سرداروں۔
6 ۔عقبہ سے مرادوہ مقام ہے جومنیٰ کے اطراف میں واقع ہے،اس مقام پر رات کے وقت چند انصار صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دست اقدس پر بیعت کی جن میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ بھی شامل تھے۔
دی جائے گی اور اگر ان میں سے کوئی کام ہم نے کیا تو اس کا فیصلہ اﷲ(عزوجل)کی طرف ہے۔ (1)
حدیث ۲۷: امام بخاری اپنی صحیح میں ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہماسے راوی کہ نبی کریم صلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اﷲ(عزوجل)کے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ مبغوض تین شخص ہیں۔ ۱ حرم میں الحاد کرنے والا اور ۲ اسلام میں طریقہ جاہلیت کا طلب کرنے والا اور ۳ کسی مسلمان شخص کا ناحق خون طلب کرنے والاتاکہ اسے بہائے۔ (2)
حدیث ۲۸: امام ابو جعفر طحاوی نے اپنی کتاب شرح معانی الآ ثار میں نعمان رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''قصاص میں قتل تلوار ہی سے ہوگا۔''(3)
یہاں جنایت سے مراد وہ فعل ہے جس سے جان یا اعضاء کو نقصان پہنچایا جائے اس کے احکام کا تعلق حکومت سے ہے کہ وہی ان کا نفاذ کرتی ہے یہاں نہ اسلامی حکومت ہے نہ شریعت کے مطابق احکام جاری ہیں لہذا اس کے مسائل بیان کرنے کی چندا ں حاجت نہ تھی مگر پھر بھی مسلمانوں کو شرعی احکام معلوم کرنا بے سود نہیں ہے اس لحاظ سے کچھ مسائل بیان کئے جاتے ہیں ۔
مسئلہ ۱: قتل ناحق کی پانچ صورتیں ہیں۔ (۱)قتل عمد (۲)قتل شبہ عمد (۳)قتل خطا (۴)قائم مقام خطا (۵) قتل بالسبب۔ قتل عمد یہ ہے کہ کسی دھار دار آلے سے قصداً قتل کرے۔ آگ سے جلا دینا بھی قتل عمد ہی ہے۔ دھار دار آلہ مثلاً تلوار، چھری یا لکڑی اور بانس کی کَھپَچِّی(4)میں دھار نکال کر قتل کیا یا دھار دار پتھر سے قتل کیا، لوہے اور تانبا ،پیتل وغیرہ کی کسی چیز سے قتل کریگا، اگر اس سے جرح یعنی زخم ہوا تو قتل عمد ہے، مثلاً چھری، خنجر، تیر، نیزہ، بلم(5)وغیرہ کہ یہ سب آلہ جارحہ ہیں ۔(6)گولی اور چھرے سے قتل ہوا، یہ بھی اسی میں داخل ہے۔ (7)(ہدایہ، درمختار )
مسئلہ ۲: قتل عمد کا حکم یہ ہے کہ ایسا شخص نہایت سخت گنہگار ہے۔ کفر کے بعد تمام گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے۔
قرآن مجید میں فرمایا :
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الدیات،باب قول اللہ تعالٰی(ومن احیاھا)،الحدیث:۶۸۷۳،ج۴،ص۳۵۹. 2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الدیات،باب من طلب دم إمریئ بغیر حق،الحدیث:۶۸۸۲،ج۴،ص۳۶۲.
3 ۔ ''شرح معاني الآثار''،کتاب الجنایات،باب الرجل یقتل رجلا کیف یقتل؟،الحدیث:۴۹۱۷،ج۳،ص۸۱.
4 ۔بانس کاچِراہواٹکڑا۔ 5 ۔ لمبی لاٹھی جس کے سرے پر نوک دار بھال ہوتی ہے،بھالا،برچھا۔
6 ۔یعنی زخمی کرنے والے آلے ہیں۔
7 ۔''الھدایۃ''کتاب الجنایات،ج ۲،ص ۴۴۲. و''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،ج۱۰،ص۱۵۵۔۱۵۷.
(وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا)
(1)(پ۵،ع۱۰)
''جو کسی مومن کو قصداً قتل کرے اس کی سزا جہنم میں مدتوں(2)رہنا ہے۔''
ایسے شخص کی توبہ قبول ہوتی ہے یا نہیں اس کے متعلق صحابہ (رضوان اللہ تعالٰی علیہم)میں اختلاف ہے جیسا کہ کتب حدیث میں یہ بات مذکور ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اس کی توبہ بھی قبول ہو سکتی ہے اور صحیح یہ ہے کہ ایسے قاتل کی بھی مغفرت ہو سکتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی مشیت میں ہے۔ اگر وہ چاہے تو بخش دے (3)جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا:
(اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ)
(4)(پ۵،ع۴)
''بے شک اﷲ(عزوجل) (5)شرک یعنی کفر کو تو نہیں بخشے گا۔ اس سے نیچے جتنے گناہ ہیں جس کے لئے چاہے گا مغفرت فرما دے گا۔''
اور پہلی آیت کا یہ مطلب بیان کیا جاتا ہے کہ مومن کو جو بحیثیت مومن قتل کریگا یا اس کے قتل کو حلال سمجھے گا وہ بے شک ہمیشہ جہنم میں رہے گا یا خلود سے مراد بہت دنوں تک رہنا ہے۔
مسئلہ ۳: قتل عمد کی سزا دنیا میں فقط قصاص ہے یعنی یہی متعین ہے۔ ہاں اگر اولیائے مقتول معاف کر دیں یا قاتل سے مال لے کر مصالحت کر لیں تو یہ بھی ہو سکتا ہے مگر بغیر مرضی قاتل اگر مال لینا چاہیں تونہیں ہو سکتا۔ یعنی قاتل اگر قصاص کو کہے تو اولیائے مقتول اس سے مال نہیں لے سکتے۔ مال پر مصالحت کی صورت میں دیت کی برابر یا کم یا زیادہ تینوں صورتیں جائز ہیں۔ یعنی مال لینے کی صورت میں یہ ضرور نہیں کہ دیت سے زیادہ نہ ہو اور جس مال پر صلح ہوئی وہ دیت کی قسم سے ہو یا دوسری جنس سے ہو دونوں صورتوں میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ (6)( درمختار)
مسئلہ ۴: قتلِ عمد میں قاتل کے ذمے کفارہ واجب نہیں۔(7) (متون)
مسئلہ۵: اولیائے مقتول نے اگر نصف قصاص معاف کر دیا تو کل ہی معاف ہوگیا یعنی اس میں تجزی نہیں ہو سکتی، اب اگر یہ چاہیں کہ باقی نصف کے مقابل میں مال لیں، یہ نہیں ہو سکتا۔ (8)(شلبی)
1 ۔پ۵،النساء:۹۳.
2 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''خالداً'' کاترجمہ ''مدتوں''موجودنہیں تھا، لہذامتن میں کنزالایمان سے اس کااضافہ کردیاگیاہے ۔...علمیہ
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،ج۱۰،ص۱۵۸.
4 ۔پ۵،النساء:۴۸.
5 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر ''اِنَّ اللہَ'' کاترجمہ ''بے شک اﷲ (عزوجل)''موجودنہیں تھا، لہذامتن میں کنزالایمان سے اس کااضافہ کردیاگیاہے۔...علمیہ
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،ج۱۰،ص۱۵۸.
7 ۔''کنزالدقائق''،کتاب الجنایات،ص۴۴۸.
8 ۔''حاشیۃ الشلبی''علی''تبیین الحقائق''،کتاب الجنایات،ج۷،ص۲۱۲.
مسئلہ ۶: قتل کی دوسری قسم شبہ عمد ہے۔ وہ یہ کہ قصداً قتل کرے مگر اسلحہ سے یا جو چیزیں اسلحہ کے قائم مقام ہوں ان سے قتل نہ کرے مثلاً کسی کو لاٹھی یا پتھر سے مار ڈالا یہ شبہ عمد ہے اس صورت میں بھی قاتل گنہگار ہے اور اس پر کفارہ واجب ہے اور قاتل کے عصبہ پر دیت مغلظہ واجب جو تین سال میں ادا کریں گے۔ دیت کی مقدار کیا ہوگی اس کو آئندہ ان شاء اﷲبیان کیا جائے گا۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۷: شبہ عمد مار ڈالنے ہی کی صورت میں ہے۔ اور اگر وہ جان سے نہیں مارا گیا بلکہ اس کا کوئی عضوتلف ہوگیا مثلاً لاٹھی سے مارا اور اس کا ہاتھ یا انگلی ٹوٹ کر علیحدہ ہوگئی تو اس کو شبہ عمد نہیں کہیں گے بلکہ یہ عمد ہے اور اس صورت میں قصاص ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۸: تیسری قسم قتل خطا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ اس کے گمان میں غلطی ہوئی، مثلاً اس کو شکار سمجھ کر قتل کیا اور شکار نہ تھا بلکہ انسان ہے یا حربی یا مرتد سمجھ کر قتل کیا حالانکہ کہ وہ مسلم تھا دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے فعل میں غلطی ہوئی مثلاً شکار پر یا چاند ماری(3)پر گولی چلائی اور لگ گئی آدمی کو کہ یہاں انسان کو شکار نہیں سمجھا بلکہ شکار ہی کو شکار سمجھا اور شکار ہی پر گولی چلائی مگر ہاتھ بہک گیا۔ (4)گولی شکار کو نہیں لگی آدمی کو لگی۔ اسی کی یہ صورتیں بھی ہیں۔ نشانہ پر گولی لگ کر لوٹ آئی اور کسی آدمی کو لگی یا نشانہ سے پار ہو کر کسی آدمی کو لگی یا ایک شخص کو مارنا چاہتا تھا دوسرے کو لگی یا ایک شخص کے ہاتھ میں مارنا چاہتا تھا دوسرے کی گردن میں لگی یا ایک شخص کو مارنا چاہتا تھا مگر گولی دیوار پر لگی پھر ٹپا کھا کر لوٹی اور اس شخص کو لگی یااس کے ہاتھ سے لکڑی یا اینٹ چھوٹ کر کسی آدمی پر گری او ر مرگیا یہ سب صورتیں قتل خطا کی ہیں۔ (5)(درمختار )
مسئلہ ۹: قتل خطا کا حکم یہ ہے کہ قاتل پر کفارہ واجب ہے اور اس کے عصبہ پر دیت واجب جو تین سال میں اداکی جائے گی۔ قتل خطا کی دونوں صورتوں میں اس کے ذمہ قتل کا گناہ نہیں۔ یہ تو ضرور گناہ ہے کہ ایسے آلہ کے استعمال میں اس نے بے احتیاطی برتی، شریعت کا حکم ہے کہ ایسے موقعوں پر احتیاط سے کام لینا چاہے۔ (6)(ہدایہ)
مسئلہ۱۰: مقتول کے جسم کے جس حصہ پر وار کرنا چاہتا تھا وہاں نہیں لگا۔ دوسری جگہ لگا یہ خطا نہیں ہے بلکہ عمد ہے اور اس میں قصاص واجب ہے۔ (7)( ہدایہ)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الجنایات،ج ۲،ص۴۴۳.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،ج۱۰،ص۱۶۱.
3 ۔نشانہ ،وہ جگہ جس پر نشانہ بازی کرتے ہیں۔ 4 ۔یعنی اِدھر اُدھر مڑگیا۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،ج۱۰،ص۱۶۱،۱۶۲.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الجنایات،ج۲،ص۴۴۳.
7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۱: قتل کی ان تینوں قسموں میں قاتل میراث سے محروم ہوتا ہے یعنی اگر کسی نے اپنے مورث کو قتل کیا تو اس کا ترکہ اس کو نہیں ملے گا( ہدایہ)(1)بشرطیکہ جس سے قتل ہوا وہ مکلف (2)ہو اور اگر مجنوں یا بچہ ہے تو میراث سے محروم نہیں۔(3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: چوتھی قسم قائم مقام خطا جیسے کوئی شخص سوتے میں کسی پر گر پڑا اور یہ مر گیا اسی طرح چھت سے کسی انسان پر گرا اور مر گیا قتل کی اس صورت میں بھی وہی احکام ہیں جو خطا میں ہیں یعنی قاتل پر کفارہ واجب ہے اور اس کے عصبہ پر دیت اور قاتل میراث سے محروم ہوگا اور اس میں بھی قتل کرنے کا گناہ نہیں، مگر یہ گناہ ہے کہ ایسی بے احتیاطی کی جس سے ایک انسان کی جان ضائع ہوئی۔(4) (درمختار،رد المحتار)
مسئلہ ۱۳: پانچویں قسم قتل بالسبب، جیسے کسی شخص نے دوسری کی ملک میں کوآں کھودا یا پتھر رکھ دیا یا راستہ میں لکڑی رکھ دی اور کوئی شخص کوئیں میں گر کر یا پتھر اور لکڑی سے ٹھوکر کھا کر مر گیا۔ اس قتل کا سبب وہ شخص ہے جس نے کوآں کھودا تھا اور پتھروغیرہ رکھ دیا تھا۔ اس صورت میں اس کے عصبہ کے ذمے دیت ہے۔ قاتل پر نہ کفارہ ہے نہ قتل کا گناہ، اس کا گناہ ضرور ہے کہ پرائی مِلک میں کوآں کھودا ،یا وہاں پتھر رکھ دیا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱: قتل عمد میں قصاص واجب ہوتا ہے کہ ایسے کو قتل کیا جس کے خون کی محافظت ہمیشہ کے لیے ہو۔ جیسے مسلم یا ذمی کہ اسلام نے ان کی محافظت کا حکم دیا ہے۔ بشرطیکہ قاتل مکلف ہو، یعنی عاقل بالغ ہو۔ مجنون یا نابالغ سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ بلکہ اگر قتل کے وقت عاقل تھا اور بعد میں مجنون ہوگیا۔ اگر قتل کے لیے ابھی تک حوالہ نہیں کیا گیا ہے۔ قصاص ساقط ہوجائے گا اور اگر قصاص کا حکم ہوچکا اور قتل کرنے کے لیے دیا جاچکا ہے اس کے بعد مجنون ہوا تو قصاص ساقط نہیں ہوگا اور ان صورتوں میں بجائے قصاص اُس پر دیت واجب ہوگی۔(6) (درمختار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الجنایات،ج۲،ص۴۴۳.
2 ۔یعنی عاقل ،بالغ ہو۔
3 ۔ ''رد المحتار''،کتاب الجنایات،ج۱۰،ص۱۶۴.
4 ۔''الدرالمختار''و''رد المحتار''،کتاب الجنایات،ج۱۰،ص۱۶۳.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،ج۱۰،ص۱۶۳.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...الخ،ج۱۰،ص ۱۶۴.
مسئلہ ۲: جو شخص کبھی مجنون ہو جاتا ہے اور کبھی ہوش میں آجاتا ہے۔ اس نے اگر حالت افاقہ میں کسی کو قتل کیا ہے تو اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ ہاں اگر قتل کے بعد اسے جنون مطبق ہوگیا تو قصاص ساقط ہوگیا اور جنون مطبق نہیں ہے تو قتل کیا جائے گا۔ (1)( درمختار)
مسئلہ ۳: قصاص کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ قاتل و مقتول کے مابین شبہ نہ پایا جاتا ہو۔ مثلاً باپ بیٹا ،آقا و غلام کہ یہاں قصاص نہیں اور اگر مقتول نے قاتل کو کہہ دیا کہ مجھے قتل کر ڈال، اس نے قتل کر دیا اس میں بھی قصاص واجب نہیں۔ (2)(درمختار )
مسئلہ ۴: آزاد کو آزاد کے بدلے میں اور غلام کے بدلے میں بھی قتل کیا جائے گا اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور آزاد کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ مرد کو عورت کے بدلے میں اور عورت کو مرد کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ مسلم کو ذمی کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ حربی یا مستامن کے بدلے میں نہ مسلم سے قصاص لیا جائے گا نہ ذمی سے، اسی طرح مستامن سے مستامن کے مقابل میں قصاص نہیں۔ ذمی نے ذمی کو قتل کیا، قصاص لیا جائے گا اور قتل کے بعد قاتل مسلمان ہوگیا جب بھی قصاص ہے۔(3) ( عالمگیری)
مسئلہ ۵: مسلم نے مرتد یا مرتدہ کو قتل کیا اس صورت میں قصاص نہیں۔ دو مسلمان دارالحرب میں امان لے کر گئے اور ایک نے دوسرے کو وہیں قتل کر دیا قصاص نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: عاقل سے مجنون کے بدلے میں اور بالغ سے نابالغ کے بدلے میں اور انکھیارے سے اندھے کے بدلے میں اور ہاتھ پاؤں والے سے لنجھے(5)یا جس کے ہاتھ پاؤں نہ ہوں اس کے بدلے میں، تندرست سے بیمار کے بدلے میں اور مرد سے عورت کے بدلے میں قصاص لیا جائے گا۔ (6)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۷: اصول نے فروع کو قتل کیا مثلاً باپ ماں، دادا دادی، نانا نانی نے بیٹے یا پوتے یا نواسہ کو قتل کیا اس
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...الخ،ج۱۰،ص۱۶۵.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی فیمن یقتل قصاصاً..إلخ،ج۶،ص۳.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔لنگڑا لولا،ہاتھ پاؤں سے معذور۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود...الخ،ج۱۰،ص۱۶۸.
و'' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی فیمن یقتل قصاصاً..إلخ،ج۶،ص۳.
میں قصاص نہیں بلکہ خود اس قاتل سے دیت دلوائی جائے گی بلکہ باپ کے ساتھ اگر بیٹے کے قتل میں کوئی اجنبی بھی شریک تھا تو اس اجنبی سے بھی قصاص نہیں لیا جائے گا بلکہ اس سے بھی دیت ہی لی جائے گی۔ اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ دو شخصوں نے مل کراگر کسی کو قتل کیا اور ان میں ایک وہ ہے کہ اگر وہ تنہا کرتا تو قصاص واجب ہوتا اور دوسرا وہ ہے کہ تنہا قتل کرتا تو اس پر قصاص واجب نہیں ہوتا تو اس پہلے سے بھی قصاص نہیں، مثلاً اجنبی اور باپ دونوں نے قتل کیا یا ایک نے قصداً قتل کیا اور دوسرے نے خطا کے طور پر۔ ایک نے تلوار سے قتل کیا، دوسرے نے لاٹھی سے، ان سب صورتوں میں قصاص نہیں ہے بلکہ دیت واجب ہے۔(1) (درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۸: مولے ا نے اپنے غلام کو قتل کیا اس میں قصاص نہیں۔ اسی طرح اپنے مدبر یا مکاتب یا اپنی اولاد کے غلام کو قتل کیا یا اس غلام کو قتل کیا جس کے کسی حصہ کا قاتل مالک ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۹: قتل سے قصاص واجب تھا مگر اس کا وارث ایسا شخص ہوا کہ وہ قصاص نہیں لے سکتا تو قصاص ساقط ہوگیا مثلاً وہ قاتل اس وارث کے اصول میں سے ہے تو اب قصاص نہیں ہوسکتا۔ جیسے ایک شخص نے اپنے خسر کو قتل کیا اور اس کی وارث صرف اس کی لڑکی ہے یعنی قاتل کی بیوی۔ پھر یہ عورت مرگئی اور اس کا لڑکا وارث ہوا جو اسی شوہر سے ہے تو قصاص کی صورت میں بیٹے کا باپ سے قصاص لینا لازم آتا ہے، لہٰذا قصاص ساقط۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: مسلم نے اگر مسلم کو مشرک سمجھ کر قتل کیا، مثلاً جہاد میں ایک مسلم کو کافر سمجھا اور مار ڈالا، اس صورت میں قصاص نہیں ہے بلکہ دیت و کفارہ ہے کہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا ہے اور اگر مسلم صف کفار میں تھا اور کسی مسلم نے قتل کر ڈالا تو دیت و کفارہ بھی نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: جن اگر ایسی شکل میں آیا جس کا قتل جائز ہے۔ مثلاً سانپ کی شکل میں آیا تو اس کے قتل میں کوئی مواخذہ نہیں۔(5) (درمختار )
مسئلہ ۱۲: قصاص میں جس کو قتل کیا جائے تو یہ ضرور ہے کہ تلوار ہی سے قتل کیا جائے اگرچہ قاتل نے اسے تلوار سے قتل نہ کیا ہو بلکہ کسی اور طرح سے مار ڈالا ہو جس سے قصاص و اجب ہوتا ہو۔ خنجر یا نیزہ سے یاکسی دوسرے اسلحہ سے قتل کرنا بھی تلوار ہی
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود... إلخ،ج۱۰،ص ۱۶۸،۱۶۹.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود... إلخ،ج۱۰،ص۱۶۹.
3 ۔المرجع السابق،ص۱۷۱. 4 ۔ المرجع السابق،ص ۱۷۲.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود... إلخ،ج۱۰،ص ۱۷۳.
کے حکم میں ہے۔ لہٰذا اگر اسلحہ کے سوا کسی اور طرح سے قصاص میں قتل کیا، مثلاً کوئیں میں گرا کر مار ڈالا یا پتھر سے قتل کیا تو ایسا کرنے سے تعزیر کا مستحق ہے۔ (1)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۳: کسی کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے اور وہ مرگیا تو قاتل کی گردن تلوار سے اڑا دی جائے یہ نہیں کہ اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر چھوڑ دیں۔ اسی طرح اگر اس کا سر توڑ ڈالا اور مرگیا تو قاتل کی گردن تلوار سے کاٹ دی جائے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: بعض اولیائے مقتول نے قصاص لے لیا تو باقی اولیا اس سے ضمان نہیں لے سکتے۔(3) (درمختار )
مسئلہ ۱۵: دو شخص ولی مقتول تھے، ان میں سے ایک نے معاف کر دیا اور دوسرے نے قاتل کو قتل کر ڈالا، اگر اسے یہ معلوم تھا کہ بعض ولی کے معاف کر دینے سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے تو اس سے قصاص لیا جائے گا اور اگر نہیں معلوم تھا تو اس سے دیت لی جائے گی۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: مقتول کے بعض اولیا بالغ ہیں اور بعض نابالغ تو قصاص میں یہ انتظار نہیں کیا جائے گا کہ وہ نابالغ بالغ ہوجائیں بلکہ جو وُرَثہ بالغ ہیں وہ ابھی قصاص لے سکتے ہیں۔ (5)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۷: قاتل کو کسی اجنبی شخص نے (یعنی اس نے جو مقتول کا ولی نہیں ہے)قتل کر ڈالا، اگر اس نے عمداً قتل کیا ہے تو اس قاتل سے قصاص لیا جائے گا۔ اور خطا کے طور پر قتل کیا ہے تو اس قاتل کے عصبہ سے دیت لی جائے گی، کیونکہ اس اجنبی کے لئے اس کا قتل حلال نہ تھا، اب اگر مقتول اول کا ولی یہ کہتا ہے کہ میں نے اس اجنبی سے قتل کرنے کو کہا تھا لہٰذا اس سے قصاص نہ لیا جائے تو جب تک گواہ نہ ہوں۔ اس کی بات نہیں مانی جائے گی اور اس اجنبی سے قصاص لیا جائے اور بہرصورت جبکہ قاتل کو اجنبی نے قتل کر ڈالا تو ولی مقتول کا حق ساقط ہوگیا یعنی قصاص تو ہو ہی نہیں سکتا کہ قاتل رہا ہی نہیں اور دیت بھی نہیں لی جاسکتی کہ اس کے لیے رضامندی درکار ہے اور وہ پائی نہیں گئی۔ جس طرح قاتل مر جائے تو ولی مقتول کا حق ساقط ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہاں۔(6) (درمختار )
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الجنایات،باب مایوجب القصاص ومالایوجبہ،ج۲،ص۴۴۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود...إلخ،ج۱۰،ص ۱۷۳.
2 ۔ '' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی فیمن یقتل قصاصاً...الخ ،ج۶،ص۴.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...الخ،ج۱۰،ص۱۷۸.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الجنایات،باب مایوجب القصاص ومالایوجبہ،ج۲،ص۴۴۶.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...الخ،ج۱۰،ص۱۷۷.
مسئلہ ۱۸: اولیائے مقتول نے گواہوں سے یہ ثابت کیا کہ زید نے اسے زخمی کیا اور قتل کیا ہے اور زید نے گواہوں سے یہ ثابت کیا کہ خود مقتول نے یہ کہا ہے کہ زید نے نہ مجھے زخمی کیا نہ قتل کیا تو اُنہیں گواہوں کو ترجیح دی جائے گی۔ (1)(درمختار )
مسئلہ ۱۹: مجروح(2)نے یہ کہا کہ فلاں نے مجھے زخمی نہیں کیا ہے، یہ کہہ کر مرگیا تو اس کے ورثہ اس شخص پر قتل کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ مجروح نے یہ کہا کہ فلاں شخص نے مجھے قتل کیا۔ یہ کہہ کر مرگیا اب اس کے ورثہ دوسرے شخص پر دعوے ا کر تے ہیں کہ اس نے قتل کیا ہے۔ یہ دعویٰ مسموع(3) نہیں ہوگا۔ (4)(درمختار )
مسئلہ ۲۰: جس کو زخمی کیا گیا۔ اس نے مرنے سے پہلے معاف کر دیا یا اس کے اولیاء نے مرنے سے پہلے معاف کر دیا یہ معافی جائز ہے۔ یعنی اب قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: کسی کو زہر دے دیا۔ اسے معلوم نہیں اور لاعلمی میں کھا پی گیا تو اس صورت میں نہ قصاص ہے نہ دیت، مگر زہر دینے والے کو قید کیا جائے گا اور اس پر تعزیر ہوگی اور اگر خود اس نے اُس کے منہ میں زبردستی ڈال دیا یا اس کے ہاتھ میں دیا اور پینے پر مجبور کیا تو دیت واجب ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: یہ کہا کہ میں نے اپنی بددعا سے فلاں کو ہلاک کر دیا یا باطنی تیروں سے ہلاک کیا یا سورہ انفال پڑھ کر ہلاک کیا تو اقرار کرنے والے پر قصاص وغیرہ لازم نہیں۔ اسی طرح اگر وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے اﷲتعالیٰ کے اسمائے قہر یہ پڑھ کر اسے ہلاک کر دیا، اس کہنے سے بھی کچھ لازم نہیں۔ نظر بد سے ہلاک کرنے کا اقرار کرے اس کے متعلق بھی کچھ منقول نہیں۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: کسی نے اس کا سر توڑ ڈالا اور خود اس نے بھی اپنا سر توڑا اور شیر نے اسے زخمی کیا اور سانپ نے بھی کاٹ کھایا اور یہ مرگیا تو اس شخص پر جس نے سر توڑا ہے تہائی دیت(8)واجب ہوگی۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: ایک شخص نے کئی شخصوں کو قتل کیا اور ان تمام مقتولین کے اولیا نے قصاص کا مطالبہ کیا تو سب کے بدلے
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...الخ،ج۱۰،ص ۱۷۹.
2 ۔زخمی ۔ 3 ۔یعنی قابل سماعت ۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...الخ،ج۱۰،ص۱۷۹.
5 ۔ المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق،ص۱۸۰.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...الخ،مبحث شریف،ج۱۰،ص۱۸۱.
8 ۔یعنی دیت کاتیسرا حصہ۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی،فیمن یقتل قصاصاً...إلخ،ج۶،ص۴.
میں اس قاتل کو قتل کیا جائے گا اور فقط ایک کے ولی نے مطالبہ کیا اور قتل کر دیا گیا تو باقیوں کا حق ساقط ہو گیا۔ یعنی اب ان کے مطالبہ پر کوئی مزید کارروائی نہیں ہوسکتی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: ایک شخص کو چند شخصوں نے مل کر قتل کیا تو اس کے بدلے میں یہ سب قتل کئے جائیں گے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: ایک سے زیادہ مرتبہ جس نے گلا گھونٹ کر مار ڈالا اس کو بطور سیاست قتل کیا جائے اور گرفتاری کے بعد اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ مقبول نہیں اور اس کا وہی حکم ہے جو جادوگر کا ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۷: کسی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر شیر یا درندے کے سامنے ڈال دیا اس نے مار ڈالا، ایسے شخص کو سزا دی جائے اور مارا جائے اور قید میں رکھا جائے یہاں تک کہ وہیں قید خانہ ہی میں مرجائے اسی طرح اگر ایسے مکان میں کسی کو بند کر دیا جس میں شیر ہے جس نے مار ڈالا یا اس میں سانپ ہے جس نے کاٹ لیا۔ (4)(درمختار )
مسئلہ ۲۸: بچہ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر دھوپ یا برف پر ڈال دیا اور وہ مرگیا تواس کے عصبہ سے دیت وصول کی جائے کسی کے ہاتھ ،پاؤں باندھ کر دریا میں ڈال دیااور ڈالتے ہی تہہ نشین ہوگیا تو اس کے عصبہ سے دیت وصول کی جائے اور اگر کچھ دیر تک تیرتا رہا پھر ڈوب کر مرگیا تو دیت نہیں ۔(5)(درمختار)
مسئلہ ۲۹: گرم تنور میں کسی آدمی کو ڈال دیا اور وہ مرگیا یا آگ میں کسی کو ڈال دیا جس سے نکل نہیں سکتا اور وہ مرگیا تو ان دونوں صورتوں میں قصاص ہے اور اگر آگ میں ڈال کر نکال لیا اور تھوڑی سی زندگی باقی ہے مگر کچھ دنوں بعد مرگیا تو قصاص ہے اور اگر چلنے پھرنے لگا پھر مرگیا تو قصاص نہیں ۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: ایک شخص نے دوسرے کا پیٹ پھاڑ دیا کہ آنتیں نکل پڑیں۔ پھر کسی اور نے دوسرے کی گردن اڑا دی تو قاتل یہی ہے جس نے گردن ماری۔ اگر اس نے عمداً کیا ہے تو قصاص ہے اور خطا کے طور پر ہو تو دیت واجب ہے اور جس نے پیٹ پھاڑا اس پر تہائی دیت واجب ہے اور اگر پیٹ اس طرح پھاڑا کہ پیٹھ کی جانب زخم نفوذ کر گیا تو دیت کی دو تہائیاں۔ یہ حکم اس وقت ہے کہ پیٹ پھاڑنے کے بعد وہ شخص ایک دن یا کچھ کم زندہ رہ سکتا ہو، اور اگر زندہ نہ رہ سکتا ہو اور مقتول کی طرح تڑپ رہا ہو تو قاتل
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی فیمن یقتل قصاصاً...إلخ،ج۶،ص۴.
2 ۔ المرجع السابق ،ص۵.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...الخ،ج۱۰،ص۱۸۳.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق،ص ۱۸۴.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی فیمن یقتل قصاصاً... إلخ،ج ۶،ص۵.
وہ ہے جس نے پیٹ پھاڑا، اس نے عمداً کیا ہو تو قصاص ہے اور خطا کے طور پر ہو تو دیت ہے اور جس نے گردن ماری اس پر تعزیر ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص نے ایسا زخمی کیا کہ امید زیست (1)نہ رہی۔ پھر دوسرے نے اسے زخمی کیا تو قاتل وہی پہلا شخص ہے۔ اگر دونوں نے ایک ساتھ زخمی کیا تو دونوں قاتل ہیں۔ اگرچہ ایک نے دس وار کیے اور دوسرے نے ایک ہی وار کیا ہو۔(2) ( عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: کسی شخص کا گلا کاٹ دیا۔ صرف حلقوم(3)کا کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے اور ابھی جان باقی ہے دوسرے نے اسے قتل کر ڈالا تو قاتل پہلا شخص ہے دوسرے پر قصاص نہیں کیونکہ اس کا میت میں شمار ہے لہٰذا اگر مقتول اس حالت میں تھا اور مقتول کا بیٹا مرگیا تو بیٹا وارث ہوگا یہ مقتول اپنے بیٹے کا وارث نہیں ہوگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: جو شخص حالت نزع میں تھا اسے قتل کر ڈالا اس میں بھی قصاص ہے۔ اگرچہ قاتل کو یہ معلوم ہو کہ اب زندہ نہیں رہے گا۔ (5)(درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: کسی کو عمداً زخمی کیا گیا کہ وہ صاحب فراش ہوگیا(6)اور اسی میں مرگیا تو قصاص لیا جائے گا۔ ہاں اگر کوئی ایسی چیز پائی گئی جس کی وجہ سے یہ کہا گیا ہو کہ اسی زخم سے نہیں مرا ہے تو قصاص نہیں۔ مثلاً کسی دوسرے نے اس مجروح کی گردن کاٹ دی تو اب مرنے کو اس کی طرف نسبت کیا جائے گا وہ شخص اچھا ہو کر مرگیا تو اب یہ نہیں کہا جائے گا کہ اسی زخم سے مرا۔ (7)(درمختار )
مسئلہ ۳۴: جس نے مسلمانوں پر تلوار کھینچی ایسے کو اس حالت میں قتل کر دینا واجب ہے یعنی اس کے شر کو دفع کرنا واجب ہے، اگرچہ اس کے لیے قتل ہی کرنا پڑے اسی طرح اگر ایک شخص پر تلوار کھینچی تو اسے بھی قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں خواہ وہی شخص قتل کرے جس پر تلوار اٹھائی یا دوسرا شخص۔ اسی طرح اگر رات کے وقت شہر میں لاٹھی سے حملہ کیا یا شہر سے باہر دن یا رات
1 ۔ یعنی زندگی کی اُمید۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی فیمن یقتل قصاصاً... إلخ،ج۶،ص۶.
3 ۔گلے میں سانس آنے جانے والی رگ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی فیمن یقتل قصاصاً... إلخ،ج۶،ص۶.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...الخ،مبحث شریف،ج۱۰،ص۱۸۴.
6 ۔ یعنی چلنے پھرنے کے قابل نہ رہا۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...الخ،ج۱۰،ص۱۸۵.
کسی وقت میں حملہ کیا اور اس کو کسی نے مار ڈالا تو اس کے ذمہ کچھ نہیں۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۳۵: مجنون نے کسی پر تلوار کھینچی اور اس نے مجنون کو قتل کر دیا تو قاتل پر دیت واجب ہے جو خود اپنے مال سے ادا کرے۔ یہی حکم بچہ کا ہے کہ اس کی بھی دیت دینی ہوگی اور اگر جانور نے حملہ کیا اور جانور کو مار ڈالا تو اس کی قیمت کا تاوان دینا ہوگا۔ (2)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۳۶: جو شخص تلوار مار کر بھاگ گیا کہ اب دوبارہ مارنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ پھر اسے کسی نے مار ڈالا توقاتل سے قصاص لیا جائے گا۔ یعنی اسی وقت اس کو قتل کرنا جائز ہے جب وہ حملہ کر رہا ہے یا حملہ کرنا چاہتا ہے بعد میں جائز نہیں۔ (3) ( ہدایہ)
مسئلہ ۳۷: گھر میں چور گھسا اور مال چورا کر لے جانے لگا صاحب خانہ نے پیچھا کیا اور چور کو مار ڈالا۔ تو قاتل کے ذمہ کچھ نہیں مگر یہ اس وقت ہے کہ معلوم نہ ہو کہ شور کرنے اور چلانے سے مال چھوڑکر بھاگ جائے گا اور اگر معلوم ہے کہ شور کریگا تو مال چھوڑ کر بھاگ جائے گا تو قتل کرنے کی اجازت نہیں بلکہ اس وقت قتل کرنے سے قصاص واجب ہوگا۔ (4)( ہدایہ)
مسئلہ ۳۸: مکان میں چور گھسا اور ابھی مال لے کر نکلا نہیں اس نے شور و غل کیا مگر وہ بھاگا نہیں یا اس کے مکان میں یا دوسرے کے مکان میں نقب لگا رہا ہے(5)اور شور کرنے سے بھاگتا نہیں، اس کو قتل کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ چور ہونا اس کا معروف ومشہور ہو۔ (6)(درمختار وردالمحتار)
مسئلہ ۳۹: ولی مقتول نے قاتل کو یا کسی دوسرے کو قصاص ہبہ کر دیا۔ یہ ناجائز ہے۔ یعنی قصاص ایسی چیز نہیں جس کا مالک دوسرے کو بنایا جاسکے اور اس کو ہبہ کرنے سے قصاص ساقط نہیں ہوگا۔(7) (درمختار،ردالمحتار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الجنایات،باب مایوجب القصاص ومالایوجبہ،فصل،ج۲،ص ۴۴۸.
2 ۔المرجع السابق.
و''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،ج۱۰،ص۱۸۸.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الجنایات،باب مایوجب القصاص ومالایوجبہ،فصل،ج۲،ص۴۴۸، ۴۴۹.
4 ۔ المرجع السابق،ص۴۴۹.
5 ۔یعنی چوری کے لیے دیوار میں سوراخ کررہا ہے۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود...الخ،مبحث شریف،ج۱۰،ص ۱۸۹.
7 ۔المرجع السابق،ص۱۹۲.
مسئلہ ۴۰: ولی مقتول نے معاف کر دیا یہ صلح سے افضل ہے اور صلح قصاص سے افضل ہے اور معاف کرنے کی صورت میں قاتل سے دنیا میں مطالبہ نہیں ہوسکتا ہے نہ اب قصاص لیا جاسکتا ہے نہ دیت لی جاسکتی ہے۔ (1)(درمختار ،ردالمحتار)رہامواخذہ اخروی،(2)اُس سے بری نہیں ہوا، کیوں کہ قتل ناحق میں تین حق اس کے ساتھ متعلق ہیں۔ ایک حق اﷲ، دوسرا حق مقتول، تیسرا حق ولی مقتول، ولی کو اپنا حق معاف کرنے کا اختیار تھا سو اس نے معاف کر دیا مگر حق اﷲا ور حق مقتول بدستور باقی ہیں۔ ولی کے معاف کرنے سے وہ معاف نہیں ہوئے۔ (3)
مسئلہ ۴۱: مجروح (4)کا معاف کرنا صحیح ہے یعنی معاف کرنے کے بعد مرگیا تو اب ولی کو قصاص لینے کا اختیار نہیں رہا۔(5)(درمختار)
مسئلہ۴۲: قاتل کی توبہ صحیح نہیں جب تک وہ اپنے کو قصاص کے لیے پیش نہ کر دے۔ یعنی اولیائے مقتول کو جس طرح ہوسکے راضی کرے۔ خواہ وہ قصاص لے کر راضی ہوں یا کچھ لے کر مصالحت کریں(6)یا بغیر کچھ لیے معاف کر دیں۔ اب وہ دنیا میں بری ہوگیا اور معصیت (7)پر اقدام کرنے کا جرم و ظلم یہ توبہ سے معاف ہو جائے گا۔ (8)(درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۱: اعضا میں قصاص وہیں ہوگا جہاں مماثلت کی رعایت کی جاسکے۔ یعنی جتنا اس نے کیا ہے اتنا ہی کیا جائے۔ یہ احتمال نہ ہو کہ اس سے زیادتی ہو جائے گی۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۲: ہاتھ کو جوڑ پر سے کاٹ لیا ہے، اس کا قصاص لیا جائے گا، جس جوڑ پر سے کاٹا ہے اسی جوڑ سے اس کا بھی ہاتھ کاٹ لیاجائے۔ اس میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کا ہاتھ چھوٹا تھا اور اس کا بڑا ہے کہ ہاتھ ہاتھ دونوں یکساں
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود...الخ،مبحث شریف،ج۱۰،ص ۱۹۲.
2 ۔ یعنی آخرت کی پکڑ۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود...الخ،مبحث شریف،،ج۱۰،ص۱۹۲.
4 ۔زخمی ۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود...الخ،ج۱۰،ص۱۷۹.
6 ۔صلح کریں ۔ 7 ۔گناہ۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود...الخ،مبحث شریف،ج۱۰،ص ۱۹۲.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج۱۰،ص۱۹۵.
قرارپائیں گے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۳: کلائی یا پنڈلی درمیان میں سے کاٹ دی یعنی جوڑ پر سے نہیں کاٹی بلکہ آدھی یا کم و بیش کاٹ دی اس میں قصاص نہیں کہ یہاں مماثلت (2)ممکن نہیں اس طرح ناک کی ہڈی کل یا اس میں سے کچھ کاٹ دی یہاں بھی قصاص نہیں۔(3) (درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۴: پاؤں کاٹا یا ناک کا نرم حصہ کاٹا یا کان کاٹ دیا۔ ان میں قصاص ہے اور اگر ناک کے نرم حصہ میں سے کچھ کاٹا ہے تو قصاص واجب نہیں اور ناک کی نوک کاٹی ہے تو اس میں حکومت عدل ہے۔ کاٹنے والی کی ناک اس کی ناک سے چھوٹی ہے۔ تو جس کی ناک کاٹی ہے اسے اختیار ہے کہ قصاص لے یا دیت اور اگر کاٹنے والے کی ناک میں کوئی خرابی ہے مثلاًوہ اخشم ہے جسے بو محسوس نہیں ہوتی یا اس کی ناک کچھ کٹی ہوئی ہے یا اور کسی قسم کا نقصان ہے تو اس کو اختیار ہے کہ قصاص لے یا دیت۔(4) (درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۵: کان کاٹنے میں قصاص اس وقت ہے کہ پورا کاٹ لیا ہو۔ یا اتنا کاٹا ہو جس کی کوئی حد ہو،تا کہ اتنا ہی اس کا کان بھی کاٹا جائے۔ اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو قصاص نہیں کہ مماثلت ممکن نہیں۔ کاٹنے والے کا کان چھوٹا ہے اور اس کابڑا تھا۔ یا کاٹنے والے کے کان میں چھید ہے یا یہ پھٹا ہوا ہے اور اس کا کان سالم تھا، تو اسے اختیار ہے کہ قصاص لے یا دیت ۔ (5)(ردالمحتار)
ھٰذا ما تَیَسَّرلِی اِلَی الْاٰن وَمَاتَوفِیقِی اِلَّا بِاللہِ وَھُوَ حَسْبِی وَ نِعْمَ الْوَکِیل نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْر وَاللہُ الْمَسْؤُلُ اَنْ یَّوَفِّقَنِی لِعَمَلِ اَھْلِ السَّعَادَۃِ وَ یَرْزُقَنِی حُسْنَ الْخَاتِمَۃِ عَلٰی الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ وَاَنَا الْفَقِیْرُ الْحَقِیْر اَبو العلا مُحَمَّد اَمْجَد عَلِی الاَعْظَمِی غُفِرَلَہ وَلِوَالِدَیْہ وَاَسَاتِذَتِہٖ وَلِمُحِبِّیْہ۔
٭٭٭٭٭
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج۱۰،ص۱۹۵.
2 ۔یعنی برابری۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار،کتاب الجنایات،باب القود فیما دون النفس،ج۱۰،ص۱۹۵.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج۱۰،ص۱۹۵،۱۹۶.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج۱۰،ص۱۹۶.
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؕ
حَامِداً لِوَلِیِّہٖ وَ مُصَلِّیًا وَ مُسَلِّمًا عَلٰی حَبِیْبِہٖ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن
امّا بعد فقیر پُر تقصیر ابوالعلا محمد امجد علی اعظمی عفی عنہ متوطن گھوسی محلہ کریم الدین پور ضلع اعظم گڑھ عرض پر داز ہے کہ ضرورتِ زمانہ نے اِس طرف توجّہ دلائی کہ مسائل فقہیہ، صحیحہ ورجیحہ کا ایک مجموعہ اردو زبان میں بردارانِ اسلام کی خدمت میں پیش کیا جائے، اس طرح پر کہ ہمارے عوام بھائی اردو خواں بھی منتفِع ہوسکیں، اور اپنی ضروریات میں اس سے کام لیں سکیں۔ اردو زبان میں اب تک کوئی ایسی کتاب تصنیف نہیں ہوئی تھی جو صحیح مسائل پر مشتمل ہو اور ضروریات کے لیے کافی و وافی ہو، فقیر بوجہ کثرتِ مشاغل دینیہ اتنی فرصت نہیں پاتا تھا کہ اس کام کو پورے طور پر انجام دے سکے، مگر حالتِ زمانہ نے مجبور کیا اور اس کے لیے تھوڑی فرصت نکالنی پڑی، جب کبھی فرصت ہاتھ آجاتی اس کام کو قدرے انجام دے لیتا۔ تدریس کی مشغولیت اور افتاء وغیرہ چند دینی کام ایسے انجام دینے پڑتے جن کی وجہ سے تصنیف کتاب کے لیے فرصت نہ ملتی، مگر اﷲپر توکل کرکے جب یہ کام شروع کردیا گیا تو بزرگانِ کرام اور مشائخ عظام واساتذئہ اعلام کی دعاؤں کی برکت سے ایک حد تک اس میں کامیابی حاصل ہوئی، اس کتاب کا نام ''بہارِ شریعت'' رکھا جس کے بفضلہ تعالیٰ سترہ حصے مکمل ہوچکے، اور بحمدہٖ تعالیٰ یہ کتاب مسلمانوں میں حد درجہ مقبول ہوئی، عوام تو عوام اہل علم کے لیے بھی نہایت کار آمد ثابت ہوئی۔ اس کتاب کی تصنیف میں عموماً یہی ہوا ہے کہ ماہِ رمضان مبارک کی تعطیلات میں جو کچھ دوسرے کاموں سے وقت بچتا اس میں کچھ لکھ لیا جاتا ، یہاں تک کہ جب ۱۹۳۹ کی جنگ شروع ہوئی اور کاغذ کا ملنا نہایت مشکل ہوگیا اور اس کی طبع میں دشواریاں پیش آگئیں تو اس کی تصنیف کا سلسلہ بھی جو کچھ تھا وہ بھی جاتا رہا، اور یہ کتاب اُس حد تک پوری نہ ہوسکی جس کا فقیر نے ارادہ کیا تھا، بلکہ اپنا ارادہ تو یہ تھا کہ اس کتاب کی تکمیل کے بعد اسی نہج پر ایک دوسری کتاب اور بھی لکھی جائے گی جو تصوف اور سلوک کے مسائل پر مشتمل ہوگی جس کا اظہار ا س سے پیشتر نہیں کیا گیا تھا۔ ہوتا وہی ہے جو خدا چاہتا ہے، چند سال کے اندر متعدد حوادث پیہم ایسے درپیش ہوئے جنہوں نے اس قابل بھی مجھے باقی نہ رکھا کہ بہارِ شریعت کی تصنیف کو حد تکمیل تک پہنچاتا۔
۷ شعبان ۱۳۵۸ھ کو میری ایک جوان لڑکی کا انتقال ہوا اور ۲۵ ربیع الاول ۱۳۵۹ھ کو میرا منجھلا لڑکا مولوی محمد یحیٰی کا انتقال ہوا۔ شب دہم، رمضان المبارک ۱۳۵۹ھ کو بڑے لڑکے مولوی حکیم شمس الہدیٰ نے رحلت کی ۲۰ رمضان المبارک ۱۳۶۲ھ کو میرا چوتھا لڑکا عطاء المصطفی کا دادوں ضلع علی گڑھ میں انتقال ہوا اور اسی دوران میں مولوی شمس الہُدیٰ مرحوم کی تین جوان لڑکیوں کا
اور ان کی اہلیہ کا اور مولوی محمد یحییٰ مرحوم کے ایک لڑکے کا اور مولوی عطاء المصطفیٰ مرحوم کی اہلیہ اور بچی کا انتقال ہوا، اِن پیہم حوادث نے قلب و دماغ پر کافی اثر ڈالا۔ یہاں تک کہ مولوی عطاء المصطفیٰ مرحوم کے سوم کے روز جب کہ فقیر تلاوتِ قرآن مجید کررہا تھا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا معلوم ہونے لگااور اس میں برابر ترقی ہوتی رہی اور نظر کی کمزوری اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لکھنے پڑھنے سے معذور ہوں، ایسی حالت میں بہارِ شریعت کی تکمیل میرے لیے بالکل دشوار ہوگئی او رمیں نے اپنی اس تصنیف کو اس حد پر ختم کردیا گویا اب اس کتاب کو کامل و اکمل بھی کہا جاسکتا ہے ، مگر ابھی اس کا تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا ہے جو زیادہ سے زیادہ تین حصوں پر مشتمل ہوتا۔ اگر توفیقِ الہی سعادت کرتی اور بقیہ مضامین بھی تحریر میں آجاتے تو فقہ کے جمیع ابواب پر یہ کتاب مشتمل ہوتی۔ اور کتاب مکمل ہوجاتی، اور اگر میری اولاد یا تلامذہ یا علمائے اہل سُنّت میں سے کوئی صاحب اس کا قلیل حصہ جو باقی رہ گیا ہے اس کی تکمیل فرمائیں تو میری عین خوشی ہے۔ محرم ۱۳۶۲ھ میں فقیر نے چند طلباء خصوصاً عزیزی مولوی مبین الدین صاحب امروہوی وعزیزی مولوی سید ظہیر احمد صاحب نگینوی وحبیبی مولوی حافظ قاری محبوب رضا خان صاحب بریلوی و عزیزی مولوی محمد خلیل مارہروی کے اصرار پر شرح معانی الآثار معروف بطحاوی شریف کا تحشیہ شروع کیا تھا کہ یہ کتاب نہایت معرکۃ الآراء حدیث وفقہ کی جامع حواشی سے خالی تھی۔ استاذ نا المعظم حضرت مولیٰنا وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس کتاب پر کہیں کہیں کچھ تعلیقات تحریر فرمائے ہیں جو بالکل طلبہ کے لیے ناکافی ہیں، مکمل اور مفصل حاشیہ کی اشد ضرورت تھی، اس تحشیہ کا کام سنہ مذکورہ میں تقریباً سات ماہ تک کیا مگر مولوی عطاء المصطفی کی علالتِ شدیدہ ، پھر اُن کے انتقال نے اس کام کا سلسلہ بند کرنے پر مجبور کیا، جلد اول کا نصف بفضلہ تعالیٰ محشٰی ہوچکا ہے جس کے صفحات کی تعداد باریک قلم سے ۴۵۰ ہیں اور ہر صفحہ۳۵ یا ۳۶ سطر پر مشتمل ہے، اگر کوئی صاحب اس کام کو بھی آخر تک پہنچائیں تو میری عین خوشی ہے، خصوصاً اگر میرے تلامذہ میں سے کسی کوایسی توفیق نصیب ہو اور اس کتاب کے تحشیہ کی خدمت انجام دیں تو ان کی عین سعادت اور میری قلبی مسرت کا باعث ہوگی۔
سب سے آخر میں ان تمام حضرات سے جو اس کتاب سے فائدہ حاصل کریں، فقیر کی التجا ہے کہ وہ صمیمِ قلب سے اس فقیر کے لیے حُسنِ خاتمہ اور مغفرتِ ذنوب کی دُعا کریں، مولیٰ تبارک و تعالیٰ ان کو اور اس فقیر کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھے اور اتباع نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسَلَّم کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَصَلَّی اللہُ تَعالٰی عَلٰی خَیْرِخَلْقِہٖ وَقاسِمِ رِزْقِہٖ سَیِّدِنَا وَمَوْلانَا مُحَمَّدٍ
وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ واٰخِرُدَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۵ؕ
فقیر امجد علی عفی عنہ
قادری منزل بڑا گاؤں ، گھوسی اعظم گڑھ یوپی