Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(مَنۡ کَفَرَ بِاللہِ مِنۡۢ بَعْدِ اِیۡمَانِہٖۤ اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ بِۢالۡاِیۡمَانِ وَ لٰکِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیۡہِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللہِ ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۰۶﴾)
(1)
''جس نے ایمان کے بعد کفر کیا (اس پراﷲکا غضب ہو)مگر جو شخص مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے (وہ عذاب سے بری ہے)ولیکن جس نے کفر کے لیے سینہ کو کھول دیا اون پر اﷲ کا غضب ہے، اور اون کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ ''
ہدایہ میں ہے کہ یہ آیت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالٰی عنہماکے بارے میں نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے کلمہء کفر بولنے پر انھیں مجبور کیا اور انھوں نے زبان سے کہہ دیا پھر جب حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے دریافت فرمایا کہ تم نے اپنے قلب کو کس حال پر پایا عرض کی میرا دل ایمان پر بالکل مطمئن تھا ارشاد فرمایا کہ اگر وہ پھر ایسا کریں تو تم کو ایسا ہی کرنا چاہیے(2)یعنی دل ایمان پر مطمئن رہنا چاہیے۔ تفسیر بیضاوی شریف میں ہے کہ کفار قریش نے عمار اور ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کو ارتداد پر مجبور کیا ان کے والدین نے انکار کیا ان دونوں کو قتل کر ڈالا اور یہ دونوں پہلے دو شخص ہیں جو اسلام میں شہید کیے گئے اور عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ نے زبان سے وہ کہہ دیا جو کفار نے چاہا تھا۔ کسی نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!عمار کافر ہوگیا فرمایا:''ہرگز نہیں، بے شک عمار چوٹی سے قدم تک ایمان سے بھرپور ہے ایمان اس کے گوشت و خون میں سرایت کیے ہوئے ہے''، اس کے بعد عماررضی اﷲ تعالٰی عنہ روتے ہوئے حاضر خدمت اقدس ہوئے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ان کی آنکھوں سے آنسو پونچھا اور فرمایا کہ''تمہیں کیا ہوا (جوروتے ہو)اگر وہ پھر ایسا کریں تو تم ویساہی کرنا۔''(3)
1 ۔پ۱۴،النحل:۱۰۶.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإکراہ،فصل،ج۲،ص۲۷۴.
3 ۔''تفسیرالبیضاوی''،النحل،تحت الآیۃ:۱۰۶،ج۳،ص۴۲۲.
اور اﷲعزوجل ارشاد فرماتا ہے :
(لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ ۚ وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللہِ فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنْہُمْ تُقٰىۃً ؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗ ؕ وَ اِلَی اللہِ الْمَصِیۡرُ ﴿۲۸﴾)
(1)
''مسلمان مسلمانوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کریگا وہ اﷲ(عزوجل)کے دین سے کسی شے میں نہیں ہے مگر یہ کہ بچاؤ کے طور پر (اِکراہ کی صورت میں زبانی دوستی کا اظہار کرسکتے ہو)اور اﷲ(عزوجل)تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اﷲ(عزوجل)ہی کی طرف لوٹنا ہے۔''
اور فرماتا ہے:
(وَلَا تُکْرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمْ عَلَی الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوۡا عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ؕ وَمَنۡ یُّکْرِہۡہُّنَّ فَاِنَّ اللہَ مِنۡۢ بَعْدِ اِکْرَاہِہِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۳﴾)
(2)
''اور اپنی باندیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو اگر وہ پارسائی (3)کا ارادہ کریں تاکہ زندگیِ دنیا کی متاع حاصل کرو اور جس نے انھیں مجبور کیا تو اس کے بعد کہ وہ مجبور کی گئیں اﷲبخشنے والا مہربان ہے۔''
مسئلہ ۱: اِکراہ جس کو جبر کرنابھی لوگ بولتے ہیں اس کے شرعی معنی یہ ہیں کہ کسی کے ساتھ ناحق ایسا فعل کرنا کہ وہ شخص ایسا کام کرے جس کو وہ کرنا نہیں چاہتا۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مکرِہ نے کوئی ایسا فعل نہیں کیا جس کی وجہ سے مکرَہ اپنی مرضی کے خلاف کام کرے مگر مکرَہ جانتا ہے کہ یہ شخص ظالم جابر ہے جو کچھ یہ کہتا ہے اگر میں نے نہ کیا تو مجھے مار ڈالے گا اس صورت میں بھی اکراہ ہے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)مجبور کرنے والے کو مکرِہ اور جس کو مجبور کیا اوس کو مکرَہ کہتے ہیں پہلی جگہ رے کو زیر ہے دوسری جگہ زبر۔
مسئلہ ۲: اکراہ کا حکم اس وقت متحقق (5)ہوتا ہے جب ایسے شخص کی جانب سے ہو کہ وہ جس چیز کی دھمکی دے رہا ہے اس کے کر ڈالنے پر قادر ہو جیسے بادشاہ یا ڈاکو کہ ان کے کہنے کے مطابق اگر نہ کرے تو یہ وہ کام کر گزریں گے جس کی دھمکی دے رہے ہیں۔(6) (ہدایہ)
1 ۔پ۳،آل عمرٰن:۲۸.
2 ۔پ۱۸،النور:۳۳.
3 ۔پاک دامنی۔
4 ۔''الدرالمختار ''و''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۱۷.
5 ۔ثابت۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإکراہ،ج۲،ص۲۷۲.
مسئلہ ۳: اکراہ کی دو قسمیں ہیں ایک تام اور اس کومُلجی بھی کہتے دوسری ناقص اس کو غیر مُلجی بھی کہتے ہیں۔ اکراہ تام یہ ہے کہ مار ڈالنے یا عضو کاٹنے یا ضرب شدید کی دھمکی دی جائے ضرب شدید کا مطلب یہ ہے کہ جس سے جان یا عضو کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو مثلاً کسی سے کہتا ہے کہ یہ کام کر، ورنہ تجھے مارتے مارتے بیکار کر دوں گا۔ اکراہ ناقص یہ ہے کہ جس میں اس سے کم کی دھمکی ہو مثلاًپانچ جوتے ماروں گا یا پانچ کوڑے ماروں گا یا مکان میں بند کر دوں گا یا ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈال دوں گا۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: اکراہ کی شرائط یہ ہیں۔ (۱)مکرِہ اس فعل کے کرنے پر قادر ہو جس کی وہ دھمکی دیتا ہو، (۲)مکرَہ یعنی جس کودھمکی دی گئی اس کا غالب گمان یہ ہو کہ اگر میں اس کام کو نہ کروں گا تو جس کی دھمکی دے رہا ہے اسے کر گزرے گا، (۳)جس چیز کی دھمکی ہے وہ جان جانا ہے یا عضو کاٹنا ہے یا ایسا غم پیدا کرنا ہے جس کی وجہ سے وہ کام اپنی خوشی و رضامندی سے نہ ہو، (۴)جس کو دھمکی دی گئی وہ پہلے سے اس کام کو نہ کرنا چاہتا ہو اور اس کا نہ کرنا خواہ اپنے حق کی وجہ سے ہو مثلاً اس سے کہا گیا کہ تو اپنا مال ہلاک کر دے یا بیچ دے اور یہ ایسا کرنا نہیں چاہتا یا کسی دوسرے شخص کے حق کی وجہ سے اس کام کو نہیں کرنا چاہتا مثلاًفلاں شخص کا مال ہلاک کر۔یا حق شرع کی وجہ سے ایسا نہیں کرنا چاہتا مثلاً شراب پینا، زنا کرنا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۵: شرط سوم میں بیان کیا گیا کہ ایسا غم پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے رضامندی سے کام کرنا نہ ہو یہ اکراہ کا ادنیٰ مرتبہ ہے اور اس میں سب لوگوں کی ایک حالت نہیں ہے شریف آدمی کے لیے سخت کلامی ہی سے یہ بات پیدا ہو جائے گی اور کمینہ آدمی ہو تو جب تک اسے ضرب شدید کی نوبت نہ آئے معمولی طور پر مارنے اور گالی دینے کی بھی اسے پرواہ نہیں ہوتی۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۶: اکراہ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایسا کرو ورنہ تمہارا مال لے لوں گا یا حاکم نے کہا یہ مکان میرے ہاتھ بیع کر دو ورنہ تمہارے فریق کو دلا دوں گا۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار ''و''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۱۷.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۱۸.
3 ۔المرجع السابق،ص۲۱۹.
4 ۔''الدرالمختار ''و''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،مطلب:بیع المکرہ فاسد...إلخ،ج۹،ص۲۳۹.
مسئلہ ۷: قتل یا ضرب شدید یا حبس مدید کی دھمکی دی اس لیے کہ وہ اپنی کوئی چیز بیچ ڈالے یا فلاں چیز خریدے یا اجارہ کرے یا کسی چیز کا اقرار کرے اور اس دھمکی کی وجہ سے اس نے یہ سب کام کر لیے تو مکرَہ کو ان عقود کے فسخ کرنے کا حق باقی رہتا ہے یعنی اکراہ جاتے رہنے کے بعد ان چیزوں کو فسخ کر سکتا ہے اور یہ حق ان دونوں میں سے کوئی مر جائے جب بھی باقی رہتا ہے کہ اس کا وارث فسخ کرسکتا ہے اور مشتری (1)کے مر جانے سے بھی یہ حق باطل نہیں ہوتا نہ زیادت مُنفصِلہ(2)یازیادت مُتَّصِلہ متولّدہ (3)سے یہ حق باطل ہوتا ہے بلکہ وہ چیزا گریکے بعد دیگرے بہت سے ہاتھوں میں پہنچ گئی جب بھی یہ لے سکتا ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۸: دو ایک کوڑا مارنا ضرب شدید نہیں ہے مگر آلات تناسل اور آنکھ پر مارنا کہ ان پر ایک کوڑا مارنا بھی ضرب شدید ہے۔ حَبْس مدیدیہ کہ ایک دن سے زیادہ ہو۔ ذی عزت آدمی کے لیے ضرب غیر شدید اور حبس غیر مدید میں وہی صورت ہے جو اوروں کے لیے ضرب شدید میں ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۹: اقرار میں مال قلیل و کثیر کا فرق ہے کہ مال قلیل کے اقرار میں ضرب غیر شدید سے بھی اکراہ پایا جائے گا اور مال کثیر میں ضرب شدید سے اکراہ ہوگا۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: مکرَہ کی بیع نافذ ہے اگرچہ لازم نہیں لازم اس وقت ہوگی کہ رضامندی سے اجازت دے دے لہٰذا مشتری جو کچھ ا س بیع میں تصرف کریگا وہ تصرفات صحیح ہوں گے اور مکرَہ نے ثمن پر راضی خوشی قبضہ کیا یا مبیع کو خوشی سے تسلیم کر دیا تو اب وہ بیع لازم ہوگئی یعنی اب بیع کو فسخ نہیں کرسکتا اور اگر قبضِ ثمن(7)و تسلیم مبیع(8) بھی اکراہ کے ساتھ ہو تو حق فسخ باقی رہے گا، اور ہبہ میں اکراہ ہو تو سرے سے موہوب لہ چیز کا مالک ہی نہیں ہوگا اور اس کے تصرفات صحیح نہیں ہوں گے۔(9) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۱: بائع نے اگر اکراہ کے ساتھ ثمن پر قبضہ کیا ہے تو فسخ بیع کی صورت میں ثمن واپس کر دے اگر اس کے
1 ۔خریدار۔ 2 ۔کسی شے میں ایسی زیادتی جو اس کے ساتھ متصل نہ ہومثلاًغلام کامال کمانا۔
3 ۔کسی شے میں ایسی زیادتی جو اس میں خود بخود پیدا ہوجائے اور اس کے ساتھ متصل بھی ہو مثلاً جانور کابڑاہونا،موٹا ہو جانا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۱۹،۲۲۰.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۱۹.
7 ۔یعنی طے شدہ قیمت پر قبضہ کرنا۔ 8 ۔بیچی گئی چیز حوالہ کرنا۔
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإکراہ،ج۲،ص۲۷۲۔۲۷۳.
پاس موجود ہے اور ہلاک ہوگیا ہے تو اس پر ضمان واجب نہیں کہ ثمن بائع کے پاس امانت ہے۔ (1) (ہدایہ، عنایہ)
مسئلہ ۱۲: اکراہ کے ساتھ بیع اگرچہ بیع فاسد ہے مگر اس میں اور دیگر بیوع فاسدہ میں چند وجہ سے فرق ہے۔یہ ۱بیع ؔ اجازت قولی یا فعلی کے بعد صحیح ہو جاتی ہے دوسری بیعیں فاسد کی فاسد ہی رہتی ہیں۔۲جس ؔ نے اس سے خریدا ہے اس کے تصرفات توڑ دیے جائیں گے اگرچہ یکے بعد دیگرے کہیں سے کہیں پہنچی ہو۔۳مبیع ؔ غلام تھا اور مشتری نے اسے آزاد کر دیا تو بائع کو اختیار ہے کہ مشتری سے یوم القبض کی قیمت لے یا یوم العِتاق کی ۴اگر ؔبائع پر اکراہ ہوا تو ثمن اس کے پاس امانت ہے اور مشتری پر اکراہ ہوا تو مبیع اس کے پاس امانت ہے اور دیگر بیوع فاسدہ میں یہ چاروں باتیں نہیں ہیں۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: مبیع اگر ہلاک ہوچکی ہے تو بائع اس کی قیمت لے گا یعنی چیز کی جو واجبی قیمت ہوگی وہ مشتری سے وصول کریگا۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۴: بادشاہ کا کہہ دینا ہی اکراہ ہے اگرچہ وہ دھمکی نہ دے کہ اس کی مخالفت میں جان جانے یا اتلاف عضو کا اندیشہ ہے۔یوہیں جن لوگوں سے اس قسم کا اندیشہ ہو ان کا کہہ دینا ہی اکراہ ہے اگرچہ دھمکی نہ دیں بعض شوہر بھی ایسے ہوتے ہیں کہ اون کا خلاف کرنے میں عورت کو اسی قسم کا اندیشہ ہوتا ہے ایسے شوہر کا کہنا ہی اکراہ ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: معاذ اﷲشراب پینے یا خون پینے یا مردار کا گوشت کھانے یا سوئر(5)کا گوشت کھانے پر اکراہ کیا گیا اگر وہ اکراہ غیر ملجی ہے یعنی حبس و ضرب کی دھمکی (6)ہے تو ان چیزوں کا کھانا پینا جائز نہیں ہے البتہ شراب پینے میں اس صورت میں حد نہیں ماری جائے گی کہ شبہہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے اور اگر وہ اکراہ ملجی ہے یعنی قتل یا قطع عضوکی (7)دھمکی ہے تو ان کاموں کا کرنا جائز بلکہ فرض ہے اور اگر صبر کیا ان کاموں کو نہیں کیا اور مار ڈالا گیا تو گنہگار ہوا کہ شرع نے ان صورتوں میں اس کے لیے یہ چیزیں جائز کی تھیں جس طرح بھوک کی شدت اور اضطرارکی حالت میں یہ چیزیں مباح ہیں۔ (8)ہاں اگر اس کو یہ بات معلوم نہ تھی کہ
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإکراہ،ج۲،ص۲۷۳.
و''العنایۃ''علی''فتح القدیر''،کتاب الإکراہ،ج۸،ص۱۷۱.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،مطلب:بیع المکرہ فاسد...إلخ،ج ۹،ص۲۲۲.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإکراہ،ج۲،ص۲۷۳.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۲۳.
5 ۔خنزیر۔ 6 ۔قیدکرنے ا ورمارنے کی دھمکی۔
7 ۔یعنی عضو کاٹنے کی۔ 8 ۔یعنی شرعی مجبوری کی حالت میں یہ چیزیں جائز ہیں۔
اس حالت میں ان چیزوں کا استعمال شرعاً جائز ہے اور ناواقفی کی وجہ سے استعمال نہ کیا اور قتل کر دیا گیا تو گناہ نہیں۔ یو ہیں اگر استعمال نہ کرنے سے کفار کو غیظ و غضب میں ڈالنا مقصود ہو تو گناہ نہیں۔(1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: معاذ اﷲکفر کرنے پر اکراہ ہوا اور قتل یا قطع عضو کی دھمکی دی گئی تو اس شخص کو صرف ظاہری طور پر اس کفر کے کر لینے کی رخصت ہے اور دل میں وہی یقین ایمانی قائم رکھنا لازم ہے جو پہلے تھا اور اس شخص کو چاہیے کہ اپنے قول و فعل میں توریہ کرے یعنی اگرچہ اس فعل یا قول کا ظاہر کفر ہے مگر اس کی نیت ایسی ہو کہ کفر نہ رہے مثلاً اس کو مجبور کیا گیا کہ بت کو سجدہ کرے اور اس نے سجدہ کیا تو یہ نیت کرے کہ خدا کو سجدہ کرتا ہوں یا سرکار رسالت مآب(صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم)میں گستاخی کرنے پر مجبور کیا گیا تو کسی دوسرے شخص کی نیت کرے جس کا نام محمد ہو اور اگر اس شخص کے دل میں توریہ کا خیال آیا مگر توریہ نہ کیا یعنی خدا کے لیے سجدہ کی نیت نہیں کی تو یہ شخص کافر ہو جائے گا اور اس کی عورت نکاح سے خارج ہو جائے گی اور اگر اس شخص کو توریہ کا دھیان ہی نہیں آیا کہ توریہ کرتا اور بت کو ہی سجدہ کیا مگر دل سے اس کا منکر ہے تو اس صورت میں کافر نہیں ہوگا۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: کفر کرنے پر مجبور کیا گیا اور کفر نہ کیا اس وجہ سے قتل کر دیا گیا تو ثواب پائے گا اسی طرح نماز یا روزہ توڑنے یا نماز نہ پڑھنے یا روزہ نہ رکھنے پر مجبور کیا گیا یا حرم میں شکار کرنے یا حالت احرام میں شکار کرنے یا جس چیز کی فرضیت قرآن سے ثابت ہو اس کے چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور اس نے اس کے خلاف کیا جو مکرِہ کرانا چاہتا تھا اور قتل کر ڈالا گیا سب میں ثواب کا مستحق ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: روزہ دار مسافر یا مریض ہے جس کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے یہ اگر روزہ توڑنے پر مجبور کیا جائے توروزہ توڑ دے اور نہ توڑا یہاں تک کہ قتل کر ڈالا گیا تو گنہگار ہوگا۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: رمضان میں دن کے وقت کھانے پینے یا بی بی سے جماع کرنے پر اکراہ ہوا اور روزہ دار نے ایسا کر لیا تواس پر روزہ کی قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔(5) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۲۵.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإکراہ،الباب الثانی فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۸.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،مطلب:بیع المکرہ فاسد...إلخ،ج ۹،ص ۲۲۶.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج ۹،ص ۲۲۷.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،مطلب:بیع المکرہ فاسد...إلخ،ج ۹، ص ۲۲۸.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإکراہ،الباب الثانی فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۴۹.
مسئلہ ۲۰: اگر اکراہ غیر مُلجی ہو تو کفر کا اظہار نہیں کرسکتا اس صورت میں اظہار کفر کی رخصت نہیں ہے کہ غیر ملجی اس کے حق میں اکراہ ہی نہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: اس پر مجبور کیا گیا کہ کسی مسلم یا ذمی کے مال کو تلف کرے اور دھمکی بھی قتل یا قطع عضو کی ہے تو تلف کرنے کی اس کے لیے رخصت ہے اور اگر اس نے تلف نہ کیا اور اس کے ساتھ وہ کر ڈالا گیا جس کی دھمکی دی گئی تھی تو ثواب کا مستحق ہے اور اگر اس نے مال تلف کر ڈالا تو مال کا تاوان مجبور کرنے والے کے ذمہ ہے کہ یہ شخص اس کے لیے بمنزلہ آلہ کے ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: اس پر مجبور کیا گیا کہ فلاں شخص کو قتل کر ڈال یا اس کا عضو کاٹ ڈال یا اس کو گالی دے اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تجھے مار ڈالوں گا یا تیرا عضو کاٹ ڈالوں گا تو اس کو ان کاموں کے کرنے کی اجازت نہیں ہے اگر اس کے کہنے کے موافق کریگا گنہگار ہوگا اور قصاص مجبور کرنے والے سے لیا جائے گا کہ مکرَہ اس کے لیے بمنزلہ آلہ کے ہے۔ جس کے عضو کاٹنے پر اسے مجبور کیا گیا اس نے اس کو اجازت دے دی کہ ہاں تو ایسا کرلے اب بھی اس کو اجازت نہیں ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۳: اگر اس کو مجبور کیا گیا کہ تو اپنا عضو کاٹ ڈال ورنہ میں تجھے قتل کر ڈالوں گا تو اس کو ایسا کرنے کی اجازت ہے اور اگر اس پر مجبور کیا گیا کہ تو خودکشی کرلے ورنہ میں تجھے مار ڈالوں گا اس کو خودکشی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: اکراہ ہوا کہ تو اپنے کو تلوار سے قتل کر ورنہ میں تجھے اتنے کوڑے ماروں گا کہ تو مر جائے یا نہایت بری طرح سے قتل کروں گا تو اس صورت میں خودکشی کرنے میں گناہ نہیں کہ اس سختی اور تکلیف سے بچنے کے لیے خودکشی کرتا ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: زنا پر اکراہ ہوا خواہ اکراہ مُلجی ہو یا غیرمُلجی، زنا کی اجازت نہیں مگر اس زانی پر اکراہ ملجی میں حد نہیں اورعورت کو مجبور کیا گیا اور اکراہ ملجی ہے تو اسے رخصت ہے اور غیر ملجی ہے تو رخصت نہیں اور عورت سے اکراہ غیر ملجی میں بھی حدساقط ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۲۶: لواطت پر اِکراہ ہوا اکراہ مُلجی ہو یا غیر مُلجی بہر صورت اس کی اجازت نہیں۔ (7)(ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۲۸.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۲۹. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،مطلب:بیع المکرہ فاسدٌ...إلخ،ج۹،ص۲۳۰.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإکراہ،الباب الثانی فیمایحل...إلخ،ج۵،ص۴۰.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۳۰.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،مطلب:بیع المکرہ فاسدٌ...إلخ،ج۹،ص۲۳۱.
مسئلہ ۲۷: عورت کو زنا کرانے پر مجبور کیا اور اس نے مرد کو قابو دے دیا تو عورت بھی گنہگار ہے اور قابو نہ دیا اور اس کے ساتھ کر لیا گیا تو عورت گنہگار نہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: زنا پر اکراہ ہوا اس نے زنا نہیں کیا اور قتل کر دیا گیا اس کو ثواب ملے گا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: نکاح و طلاق و عتاق پر اکراہ ہوا یعنی دھمکی دے کر ایجاب یا قبول کرالیا یا طلاق کے الفاظ کہلوائے یا غلام کو آزاد کرایا تو یہ سب صحیح ہو جائیں گے اور غلام کی قیمت مکرِہ سے وصول کرسکتا ہے اور طلاق کی صورت میں اگر عورت غیر مدخولہ ہے تو نصف مہر وصول کرسکتا ہے اور مدخولہ ہے تو کچھ نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۳۰: خود زوجہ نے شوہر کو طلاق دینے پر مجبور کیا اور اکراہ ملجی ہے تو عورت شوہر سے کچھ نہیں لے سکتی اور غیر ملجی ہے تو نصف مہَر لے سکتی ہے۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: نکاح میں مہَر ذکر نہیں کیا گیا اور اکراہ کے ساتھ طلاق دلوائی گئی تو شوہر پر متعہ واجب ہے جس کا بیان کتاب الطلاق میں گزرا اور مکرِہ سے اس کو وصول کریگا۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: ایک طلاق دینے پر اکراہ ہوا اور اس نے تین طلاقیں دے دیں اور عورت غیر مدخولہ ہے تو مکرِہ سے نصف مہَرواپس نہیں لے سکتا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: اس پر اکراہ ہوا کہ زوجہ کو تفویض طلاق کر دے(7)یا اس کی طلاق فلاں شخص کے اختیار میں دے دے اس نے ایسا ہی کر دیا اور زوجہ یا اس شخص نے طلاق دے دی طلاق ہو جائے گی اور غیر مدخولہ ہے، تو نصف مہر مکرِہ سے وصول کریگا۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإکراہ،الباب الثانی فیمایحل...إلخ،ج۵،ص۴۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۳۱.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإکراہ،مطلب:بیع المکرہ فاسدٌ...إلخ،ج۹،ص۲۳۲.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإکراہ،الباب الثانی فیمایحل...إلخ،ج۵،ص۴۲.
7 ۔یعنی طلاق سپرد کردے۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإکراہ،الباب الثانی فیمایحل...إلخ،ج۵،ص۴۲.
مسئلہ ۳۴: مرد مریض نے اپنی عورت کو مجبور کیا کہ وہ اس سے طلاق بائن کی درخواست کرے عورت نے اس سے کہا کہ تو مجھے طلاق بائن دے دے اس نے دے دی اور عدت ہی میں وہ شخص مر گیا عورت وارث ہوگی اور اگر عورت نے دو طلاق بائن کی درخواست کی تو وارث نہیں ہوگی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: عورت کو مجبور کیا گیا کہ ایک ہزار کے بدلے میں شوہر کی طلاق قبول کرے اس نے قبول کر لی ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اور اوس پر روپے واجب نہیں ہوں گے اور اگر ایک ہزار پر خلع کے لیے عورت پر اکراہ ہوا اور اس نے خلع کرایا توطلاق بائن واقع ہوگی اور مال واجب نہیں ہوگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: ایک شخص کو مجبور کیا گیا کہ فلانی عورت سے دس ہزار مہَر پر نکاح کرے اور اس عورت کا مہر مثل ایک ہزار ہے اس نے دس ہزار مہر پر نکاح کیا نکاح صحیح ہے مگر مہر ایک ہی ہزار واجب ہوگا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: ایک شخص ہزار روپے پر خلع کرنے میں مجبور کیا گیا اور اس کی عورت کا مہر چار ہزار ہے اس نے خلع کر لیا اورعورت خلع کرانے پر مجبور نہیں کی گئی ہے تو ایک ہزار پر خلع ہوگیا عورت کے ذمہ یہ روپے لازم ہوں گے اور مرد مجبور کرنے والے سے کچھ نہیں لے سکتا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: اکراہ کے ساتھ یہ سب چیزیں صحیح ہیں نذر، یمین، ظہار، رجعت، ایلا، فے یعنی اس کو منت ماننے پر مجبور کیا کہ نماز یا روزہ یا صدقہ یا حج کی منت مانے اور اس نے مان لی تو منت پوری کرنی ہوگی۔ یوہیں ظہار کیا تو بغیر کفارہ عورت سے قربت جائز نہ ہوگی اور ایلا کیا تو اس کے احکام بھی جاری ہوں گے اور رجعت کر لی تو رجعت ہوگئی اور ایلا کیا تھا فے کرنے پر مجبور کیا گیا فے ہوگئی۔(5)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۹: عورت سے ظہار کیا تھا اس کو مجبور کیا گیا کہ ظہار کے کفارہ میں اپنا غلام آزاد کرے اس نے آزاد کیا اگر یہ غلام غیر معین ہے جب تو کچھ نہیں کہ اس نے اپنا فرض ادا کیا اور اگر معین غلام کو آزاد کرایا تو دو صورتیں ہیں وہی سب میں گھٹیا اور کم
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإکراہ،الباب الثانی فیمایحل...إلخ،ج۵،ص۴۳.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص۴۴.
4 ۔المرجع السابق،ص۴۶.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإکراہ،الباب الثانی فیمایحل...إلخ،ج۵،ص۴۶.
و''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۳۲.
درجہ کا ہے جب بھی مکرِہ پر ضمان واجب نہیں اور اگر دوسرے غلام اس سے گھٹیا ہیں تو مکرِہ پر اس کی قیمت واجب ہے اور کفارہ ادا نہ ہوا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: قسم کے کفارہ دینے پر مجبور کیا گیا اور یہ معین نہیں کیا ہے کہ کونسا کفارہ دے اور اس نے کفارہ دے دیا کفارہ صحیح ہے اور اگر معیَّن کر دیا ہے اور اس سے کم درجہ کا کفارہ دے سکتا تھا تو مکرِہ پر ضمان واجب ہے اور کفارہ صحیح نہیں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: اکراہ کے ساتھ اسلام صحیح ہے۔(3)(درمختار) یعنی اگر اس نے اکراہ کی وجہ سے اپنا اسلام ظاہر کیا تو جب تک اس سے کفر ظاہر نہ ہو اس کو کافر نہ کہیں گے۔ اس لیے کہ یہ کیونکر یقین کیا جاسکتا ہے کہ اس نے محض خوف سے ہی اسلام ظاہر کیا ہے دل میں اس کے اسلام نہیں ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک کافر نے مسلمان پر حملہ کیا اور جب مسلمان نے حملہ کیا تو اس نے کلمہ پڑھ لیا انھوں نے یہ خیال کر کے کہ محض تلوار کے خوف سے اسلام ظاہر کیا ہے کلمہ پڑھنے کے باوجود اس کو قتل کر ڈالا، جب حضور( صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کو اس کی اطلاع ہوئی تو نہایت شدت سے انکار فرمایا(4)۔ اسلام صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ محض مونھ سے کہہ دینے سے ہی وہ حقیقۃً مسلمان ہے کہ اسلام حقیقی تو دل سے تصدیق کا نام ہے صرف مونھ سے بولنا کیا مفید ہوسکتا ہے جبکہ دل میں تصدیق نہ ہو۔
مسئلہ ۴۲: اکراہ کے ساتھ اس سے دَین معاف کرایا گیا یا کفیل(5) کو بَری کرایا گیا یاشفیع کو(6)طلبِ شفعہ سے روک دیا گیا یا کسی کو جبراً مرتد بنانا چاہا یہ سب چیزیں اکراہ سے نہیں ہوسکتیں۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۴۳: قاضی نے مجبور کر کے کسی سے چوری یا قتلِ عمد کا اقرار کرایا اور اس اقرار پر اس کا ہاتھ کاٹا گیا یا قصاص لیا گیا اگر وہ شخص نیک ہے توقاضی سے قصاص لیا جائے گا اور اگرچوری و قتل میں متہم ہے مشہور ہے کہ چور ہے،قاتل ہے توقاضی سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔(8) (درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإکراہ،الباب الثانی فیمایحل...إلخ،ج۵،ص۴۶.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۷.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۳۳.
4 ۔''سنن أبی داود''،کتاب الجھاد،باب علی مایقاتل المشرکون،الحدیث:۲۶۴۳،ج۳،ص۶۳.
5 ۔کفالت کرنے والا یعنی ضامن۔ 6 ۔حق شفعہ رکھنے والے کو۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۳۴.
8 ۔المرجع السابق،ص۲۳۶.
مسئلہ ۴۴: شوہر نے عورت کو دھمکی دی کہ مہر معاف کر دے یا ہبہ کر دے(1) ورنہ تجھے ماروں گا اس نے ہبہ کر دیا یا معاف کر دیا اگر شوہر اس کے مارنے پر قادر ہے تو ہبہ اور معاف کرنا صحیح نہیں اور اگر یہ دھمکی دی کہ ہبہ کر دے ورنہ طلاق دے دوں گا یا دوسرا نکاح کر لوں گا تو یہ اکراہ نہیں اس صورت میں ہبہ کرے گی تو صحیح ہو جائے گا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۴۵: شوہر نے عورت کو اس کے باپ ماں کے یہاں جانے سے روک دیا کہ جب تک مہر نہ بخشے گی جانے نہیں دوں گا یہ بھی اکراہ کے حکم میں ہے کہ اس حالت میں بخشنا صحیح نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۴۶: ایک شخص کو دھمکی دی گئی کہ وہ اپنی فلاں چیز زید کو ہبہ کر دے اس نے زید و عمرو دونوں کو ہبہ کر دی عمرو کے حق میں ہبہ صحیح ہے اور زید کے حق میں صحیح نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: ایک شخص کو کھانا کھانے پر اکراہ کیا گیا اور وہ کھانا بھی خود اوسی کا ہے اگر وہ بھوکا ہے تو کچھ نہیں کہ اپنی چیز کا فائدہ خود اسی کو پہنچا اور اگر آسودہ تھا(5) تو مکرِہ سے تاوان لے گا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۴۸: بہت سے مسلمان کافروں نے گرفتار کر لیے ہیں ان کافروں کا جو سرغنہ (7)ہے یہ کہتا ہے کہ اگر تم اپنی لونڈی زنا کے لیے دے دو تو ایک ہزار قیدی رہا کیے دیتا ہوں قیدی چھوڑانے کے لیے اس کو لونڈی دینا حلال نہیں اﷲ تعالٰی ان اَسیروں کے لیے کوئی سبب پیدا کر دے گا یا انھیں اس مصیبت پر صبر و اجر دے گا۔(8) (درمختار) اس سے اسلام کی نظافت و پاکیزگی کا اندازہ کرنا چاہیے کہ اپنے ایک ہزار آدمی کفار کے ہاتھ سے چھوڑانے کے لیے بھی اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا کہ مسلمان اپنی لونڈی کو بھی زنا کے لیے دے بخلاف دیگر مذاہب کہ انھوں نے بہت معمولی باتوں کے لیے اپنی بی بیاں اور لڑکیاں پیش کر دیں چنانچہ تاریخ عالَم اس پر شاہد ہے معلوم ہوا کہ کفار کو جب کبھی کامیابی ہوئی تو اسی قسم کی حرکات سے۔
1 ۔یعنی بطور تحفہ دیدے۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاکراہ،ج۹،ص ۲۳۷.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإکراہ،الباب الاول فی تفسیرہ شرعاً...إلخ،ج۵،ص۳۸.
5 ۔ یعنی بھوکانہ تھا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۳۹.
7 ۔یعنی سردار۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإکراہ،ج۹،ص۲۳۹.
مسئلہ ۴۹: چوروں نے کسی کو مجبور کیا کہ تمہارا مال کہاں ہے بتاؤ ورنہ ہم قتل کر ڈالیں گے اس نے نہیں بتایا انھوں نے قتل کر ڈالا یہ شخص گنہگار نہ ہوا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: مرد و عورت دونوں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ لوگوں کے سامنے ایک ہزار پر طلاق دوں گا اور طلاق دینامقصود نہ ہوگا محض لوگوں کے دکھانے کے لیے ایسا کیا جائے گا چنانچہ لوگوں کے سامنے ایک ہزار پر طلاق دے دی۔ طلاق واقع ہوجائے گی اور مال لازم نہ ہوگا۔ (2) (عالمگیری)
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(وَلَا تُؤْتُوا السُّفَہَآءَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیۡ جَعَلَ اللہُ لَکُمْ قِیٰمًا وَّارْزُقُوۡہُمْ فِیۡہَا وَاکْسُوۡہُمْ وَقُوۡلُوۡا لَہُمْ قَوْلًا مَّعْرُوۡفًا ﴿۵﴾وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰۤی اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمۡ مِّنْہُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوۡۤا اِلَیۡہِمْ اَمْوَالَہُمْ ۚ)
(3)
''اور بے عقلوں کو ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کواﷲ(عزوجل) نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انھیں اسی میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انھیں سپرد کردو۔''
(حدیث ۱): امام احمد و ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ و دارقطنی انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص خرید و فروخت میں دھوکا کھا جاتے تھے ان کے گھر والوں نے حضور( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖٖ وسلَّم)کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی یارسول اﷲ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖٖ وسلَّم)ان کو محجور کر دیجئے (4)ان کو بلا کر حضور( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖٖ وسلَّم)نے بیع سے منع فرمایا انھوں نے عرض کی یارسول اﷲ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖٖ وسلَّم) میں بیع سے صبر نہیں کرسکتا حضور ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖٖ وسلَّم)نے فرمایا:'' اگر بیع کو تم نہیں چھوڑتے توجب بیع کرو یہ کہہ دیا کرو کہ دھوکا نہیں ہے''۔(5)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإکراہ،الباب الثانی فیمایحل...إلخ،ج۵،ص۴۹.
2 ۔المرجع السابق،ص۵۱.
3 ۔پ۴،النساء:۵،۶.
4 ۔یعنی ان کو خریدوفروخت سے روک دیجئے۔
5 ۔''المسند''،للإمام احمد بن حنبل،مسند أنس بن مالک بن النضر،الحدیث:۱۳۲۷۵،ج۴،ص۴۳۳.
و''سنن أبی داود''،کتاب الإجارۃ،باب فی الرجل یقول...إلخ،الحدیث:۳۵۰۱،ج۳،ص۳۹۱.
(حدیث ۲): دوسری حدیث میں فرمایا: ''تین شخصوں سے قلم اٹھالیا گیا ہے سوتے سے یہاں تک کہ بیدار ہو اور بچہ سے یہاں تک کہ بالغ ہو جائے اور مجنون سے یہاں تک کہ ہوش میں آئے''۔(1)
مسئلہ ۱: کسی شخص کے تصرفات قولیہ روک دینے کو حجر کہتے ہیں۔ انسان کواﷲ تعالٰی نے مختلف مراتب پر پیدا فرمایا ہے کسی کو سمجھ بوجھ اور دانائی و ہوشیاری عطا فرمائی اور بعض کی عقلوں میں فتور (2)اور کمزوری رکھی جیسے مجنون اور بچے کہ ان کی فہم و عقل میں جو کچھ قصور ہے وہ مخفی نہیں اگر ان کے تصرفات نافذ ہو جایا کریں اور بسا اوقات یہ اپنی کم فہمی سے(3)ایسے تصرفات کر جاتے ہیں جو خود ان کے لیے مضر ہیں تو انھیں کو نقصان اوٹھانا پڑے گا لہٰذا اس کی رحمتِ کاملہ نے ان کے تصرفات کو روک دیا کہ ان کو ضرر نہ پہنچنے پائے۔ باندی غلام کی عقل میں فتور نہیں ہے مگر یہ خود اور جو ان کے پاس ہے سب ملکِ مولیٰ ہے لہٰذا ان کو پرائی مِلک میں تصرّف کرنے کا کیا حق ہے۔
مسئلہ ۲: حجر کے اسباب تین ہیں۔ نابالغی، جنون، رقیت نتیجہ یہ ہوا کہ آزاد عاقل بالغ کو قاضی محجور نہیں کرسکتا ہاں اگر کسی شخص کے تصرفات کا ضرر عام لوگوں کو پہنچتا ہو تو اس کو روک دیا جائے گا مثلاً طبیب جاہل کہ فن طب میں مہارت نہیں رکھتا اور علاج کرنے کو بیٹھ جاتا ہے لوگوں کو دوائیں دے کر ہلاک کرتا ہے۔ آج کل بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص سے یا مدرسہ میں طب پڑھ لیتے ہیں اور علاج و معالجہ سے سابقہ بھی نہیں پڑتا دو تین برس کے بعد سند طب حاصل کر کے مطب کھول لیتے ہیں اور ہر طرح کے مریض پرہاتھ ڈال دیتے ہیں مرض سمجھ میںآیا ہویا نہ آیا ہونسخے پلاناشروع کردیتے ہیں۔وہ اس کہنے کو کسرِ شان(4)سمجھتے ہیں کہ میری سمجھ میں مرض نہیں آیا ایسوں کو علاج کرنا کب جائز و درست ہے۔ علاج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مدت دراز تک استاد کامل کے پاس بیٹھے اور ہر قسم کا علاج دیکھے اور استاد کی موجودگی میں علاج کرے اور طریق علاج کو استاد پر پیش کرتا رہے جب استاد کی سمجھ میں آجائے کہ یہ شخص اب علاج میں ماہر ہوگیا تو علاج کی اجازت دے۔ آج کل تعلیم اور امتحان کی سندوں کو علاج کے لیے کافی سمجھتے ہیں مگر یہ غلطی ہے اور سخت غلطی ہے، اسی کی دوسری مثال جاہل مفتی ہے کہ لوگوں کو غلط فتوے دے کر خود بھی گمراہ و گنہگار ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی کرتا ہے طبیب ہی کی طرح آج کل مولوی بھی ہو رہے ہیں کہ جو کچھ اس زمانہ میں مدارس میں تعلیم ہے وہ ظاہر ہے اول تو درس نظامی جو ہندوستان کے مدارس میں عموماًجاری ہے اس کی تکمیل کرنے والے بھی بہت قلیل افراد ہوتے ہیں عموماً کچھ معمولی طور پر پڑھ کر سند حاصل کر لیتے ہیں اور اگر پورا درس بھی پڑھا تو اس پڑھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اب اتنی
1 ۔''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،مسند علی بن أبي طالب،الحدیث:۱۱۸۳،ج۱،ص۲۹۵.
و''سنن أبي داود''،کتاب الحدود،باب في المجنون یسرق...إلخ،الحدیث:۴۴۰۳،ج۴،ص۱۸۸.
2 ۔خرابی ،نقص۔ 3 ۔نادانی سے۔ 4 ۔بے عزتی،توہین۔
استعداد ہوگئی کہ کتابیں دیکھ کر محنت کر کے علم حاصل کرسکتا ہے ورنہ درس نظامی میں دینیات کی جتنی تعلیم ہے ظاہر کہ اس کے ذریعہ سے کتنے مسائل پر عبور ہوسکتا ہے مگر ان میں اکثر کو اتنا بیباک (1)پایا گیا ہے کہ اگر کسی نے ان سے مسئلہ دریافت کیا تو یہ کہنا ہی نہیں جانتے کہ مجھے معلوم نہیں یا کتاب دیکھ کر بتاؤں گا کہ اس میں وہ اپنی توہین جانتے ہیں اٹکل پچو(2)جی میں جو آیا کہہ دیا۔ صحابہ کبار و ائمہء اعلام کی زندگی کی طرف اگر نظر کی جاتی ہے تومعلوم ہوتا ہے کہ باوجود زبردست پایہء اجتہاد رکھنے کے بھی وہ کبھی ایسی جراء ت نہیں کرتے تھے جو بات نہ معلوم ہوتی اس کی نسبت صاف فرما دیا کرتے کہ مجھے معلوم نہیں۔ ان نوآموزمولویوں کو (3)ہم خیر خواہانہ نصیحت کرتے ہیں کہ تکمیل درس نظامی کے بعد فقہ و اصول و کلام و حدیث و تفسیر کا بکثرت مطالعہ کریں اور دین کے مسائل میں جسارت(4)نہ کریں جو کچھ دین کی باتیں ان پر منکشف و واضح ہو جائیں ان کو بیان کریں اور جہاں اشکال پیدا ہو(5) اس میں کامل غور و فکر کریں خود واضح نہ ہو تو دوسروں کی طرف رجوع کریں کہ علم کی بات پوچھنے میں کبھی عار (6)نہ کرنا چاہیے۔
مسئلہ ۳: جنون قوی ہو یا ضعیف حجر کے لیے سبب ہے۔ معتوہ جس کو بوہرا کہتے ہیں وہ ہے جو کم سمجھ ہو اوس کی باتوں میں اختلاط ہو اوٹ پٹانگ باتیں(7)کرتا فاسد التدبیرہو (8)مجنون کی طرح لوگوں کو مارتا گالی دیتا نہ ہو یہ معتوہ اس بچہ کے حکم میں ہے جس کو تمیز ہے۔ (9)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: مجنون نہ طلاق دے سکتا ہے نہ اقرار کرسکتا ہے اسی طرح نابالغ کہ نہ اس کی طلاق صحیح نہ اقرار ،مجنون اگر ایسا ہے کہ کبھی کبھی اسے افاقہ ہو جاتا ہے اور افاقہ بھی پوری طور پر ہوتا ہے تو اس حالت میں اس پر جنون کا حکم نہیں ہے اور اگر ایسا افاقہ ہے کہ عقل ٹھکانے پر نہیں آئی ہو تو نابالغ عاقل کے حکم میں ہے۔(10) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: غلام طلاق بھی دے سکتا ہے اور اقرار بھی کرسکتا ہے مگر اس کا اقرار اس کی ذات تک محدود ہے لہٰذا اگر مال کا اقرار کریگا تو آزاد ہونے کے بعد اس سے وصول کیا جاسکتا ہے اور حدود و قصاص کا اقرار کریگا تو فی الحال قائم کر دیں گے آزاد ہونے کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ (11)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶: نابالغ نے ایسا عقد کیا جس میں نفع و ضرر دونوں ہوتے ہیں جیسے خرید و فروخت کہ نہ ہمیشہ اس میں نفع ہی
1 ۔بے پرواہ،دلیر۔ 2 ۔یعنی بے جانے بوجھے۔ 3 ۔نئے نئے مولویوں کو۔
4 ۔جرأت۔ 5 ۔کسی مسئلہ میں مشکل پیش آئے۔ 6 ۔شرم۔
7 ۔بیہودہ باتیں۔ 8 ۔یعنی سوچ وبچار میں درستگی نہ ہو۔
9 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحجر،ج۹،ص۲۴۳وکتاب الطلاق،مطلب:فی الحشیشۃ...إلخ،ج۴،ص۴۳۸.
10 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحجر،ج۹، ص ۲۴۴.
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحجر،ج۹،ص۲۴۵،وغیرہ.
ہوتا ہے نہ ہمیشہ ضرر، اگر وہ خریدنے اور بیچنے کے معنی جانتا ہو کہ خریدنا یہ ہے کہ دوسرے کی چیز ہماری ہو جائے گی اور بیچنا یہ کہ اپنی چیز اپنی نہ رہے گی دوسرے کی ہو جائے گی تو اس کا عقد ولی کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے جائز کر دے گا جائز ہو جائے گا ردکر دے گا باطل ہو جائے گا اور اگر اتنا بھی نہ جانتا ہو کہ بیچنا اور خریدنا اسے کہتے ہیں تو اس کا عقد باطل ہے ولی کے جائز کرنے سے بھی جائز نہیں ہوگا مجنون کا بھی یہی حکم ہے۔(1) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۷: فعل میں حجر نہیں ہوتا یعنی ان کے افعال کو کالعدم نہیں سمجھا جائے گا بلکہ ان کا اعتبار کیا جائے گا لہٰذا نابالغ یامجنون نے کسی کی کوئی چیز تلف کر دی تو ضمان واجب ہے فی الحال تاوان وصول کیا جائے گا یہ نہیں کہ جب وہ بالغ ہو یا مجنون ہوش میں آئے اس وقت تاوان وصول کریں یہاں تک کہ اگر ایک دن کے بچہ نے کروٹ لی اور کسی شخص کی شیشہ کی کوئی چیز تھی وہ ٹوٹ گئی اس کا بھی تاوان دینا ہوگا۔ (2)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۸: بچہ نے کسی سے قرض لیا یا اس کے پاس کوئی چیز امانت رکھی گئی یا اس کو کوئی چیز عاریت دی گئی یا اس کے ہاتھ کوئی چیز بیع کی گئی اور یہ سب کام ولی کی بغیر اجازت ہوئے اور بچہ نے وہ چیز تلف کر دی تو ضمان واجب نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۹: آزاد عاقل بالغ پر حجر نہیں کیا جاسکتا کہ مثلاً وہ سفیہ ہے مال کو بیجا خرچ کرتا ہے عقل و شرع کے خلاف وہ اپنے مال کو برباد کرتا ہے۔ گانے بجانے والوں کو دے دیتا ہے تماشہ کرنے والوں کو دیتا ہے کبوتر بازی میں مال اڑاتا ہے بیش قیمت کبوتروں کو خریدتا ہے پتنگ بازی میں آتش بازی میں اور طرح طرح کی بازیوں میں مال ضائع کرتا ہے۔ خرید و فروخت میں بے محل ٹوٹے میں پڑتا ہے(4)کہ ایک روپیہ کی چیز ہے دس پانچ میں خرید لی دس کی چیز ہے بلاوجہ ایک روپیہ میں بیع کر ڈالی۔ غرض اسی قسم کے بیوقوفی کے کام جو شخص کرتا ہے اس کو ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک حجر نہیں کیا جاسکتا اسی طرح فسق یا غفلت کی وجہ سے یا مدیون ہے اس وجہ سے اس پر حجر نہیں ہوسکتا مگر صاحبین(5)کے نزدیک ان صورتوں میں بھی حجر کیا جاسکتا ہے اور صاحبین ہی کے قول پر یہاں فتویٰ دیا جاتا ہے۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الحجر،ج ۲،ص۲۷۷.
و''الدرالمختار''،کتاب الحجر،ج۹،ص۲۴۵.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحجر،ج۹،ص۲۴۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحجر،الباب الاول فی تفسیرہ شرعاً...إلخ،ج۵،ص۵۴.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحجر،ج۹،ص۲۴۷.
4 ۔خسارے میں پڑتا ہے،نقصان اٹھا تاہے۔ 5 ۔یعنی حضرت امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃاللہ تعالٰی علیھما۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحجر،ج۹،ص۲۴۷.
مسئلہ ۱۰: سفیہ یعنی جس آزاد عاقل بالغ پر حجر ہوا اس کے وہ تصرفات(1)جو فسخ کا احتمال رکھتے ہیں اور ہزل سے باطل ہو جاتے ہیں انھیں میں حجر کا اثر ہوتا ہے کہ یہ شخص نابالغ عاقل کے حکم میں ہوتا ہے اور جو تصرفات ایسے ہیں کہ نہ فسخ ہوسکیں اور نہ ہزل سے(2)باطل ہوں ان میں حجر کا اثر نہیں ہوتا لہٰذا نکاح، طلاق، عتاق، استیلاد(3)، تدبیر(4)، وجوب زکوٰۃ و فطرہ وحج و دیگر عبادات بدنیہ، باپ دادا کی ولایت کا زائل ہونا، نفقہ میں خرچ کرنا یعنی اپنے اور اہل و عیال پر اور ان لوگوں پر خرچ کرنا جن کانفقہ اس کے ذمہ واجب ہے، نیک کاموں میں ایک تہائی تک وصیت کرنا، عقوبات(5)کا اقرار کرنا یہ چیزیں وہ ہیں کہ باوجود حجر بھی صحیح ہیں اور ان کے علاوہ جن میں ہزل کا اعتبار ہے وہ قاضی کی اجازت سے کرسکتا ہے یعنی قاضی اگر نافذ کر دے گا تو نافذ ہوجائیں گے۔(6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: نابالغ جس کا مال ولی یا وصی کے قبضہ میں تھا وہ بالغ ہوا اور اس کی حالت اچھی معلوم ہوتی ہے اور چال چلن ٹھیک ہیں (یہاں نیک چلنی کے صرف یہ معنےٰ ہیں کہ مال کو موقع سے خرچ کرتا ہو اور بے موقع خرچ کرنے سے رکتا ہو جس کو رشد کہتے ہیں)تو اس کے اموال اسے دے دیے جائیں اور اگر چال چلن اچھے نہ ہوں تو اموال نہ دیے جائیں جب تک اس کی عمر پچیس سال کی نہ ہو جائے اور اس کے تصرفات پچیس سال سے قبل بھی نافذ ہوں گے اور اس عمر تک پہنچنے کے بعد بھی اس میں رشد ظاہر نہ ہوا تو امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کے نزدیک اب مال دے دیا جائے وہ جو چاہے کرے مگر صاحبین فرماتے ہیں کہ اب بھی نہ دیا جائے جب تک رشد ظاہر نہ ہو مال سپرد نہ کیا جائے اگرچہ اوس کی عمر ستر سال کی ہوجائے۔(7) (ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۲: بالغ ہونے کے بعد نیک چلن تھا اور اموال دے دیے گئے اب اس کی حالت خراب ہوگئی تو امام اعظم کے نزدیک حجرنہیں ہوسکتا مگر صاحبین کے نزدیک محجور کر دیا جائے گا جیسا اوپر مذکور ہوا۔ (8) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۳: کسی شخص پر کثرت سے دَین ہوگئے قرض خواہوں کو اندیشہ ہے کہ اگر اس نے اپنے اموال کو ہبہ کردیا یاصدقہ کر دیا یا اور کسی طرح خرچ کر ڈالا تو ہم اپنے دَین کیونکر وصول کریں گے انھوں نے قاضی سے محجور کرنے کی درخواست کی تو
1 ۔معاملات۔ 2 ۔مذاق سے۔ 3 ۔لونڈی کو اُم ولد بنانا۔
4 ۔غلام یا لونڈی کو مدبر یا مدبرہ بنانا۔ 5 ۔جرائم۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحجر،ج۹،ص۲۵۰۔۲۵۳.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الحجر،باب الحجرللفساد،ج۲،ص۲۷۹،وغیرھا.
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب الحجر،باب الحجرللفساد،ج۲،ص۲۷۹.
ایسے شخص کو قاضی محجور کر دے گا اب اس کے تصرفات ہبہ وغیرہ نافذ نہیں ہوں گے اور قاضی اس کے اموال کو بیع کر کے دَین ادا کر دے گا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: ایک شخص مفلس (دیوالیا)ہوگیا اور اس کے پاس کچھ وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے خریدا ہے اور ثمن بائع کو نہیں دیا ہے تو یہ چیز تنہا بائع کو نہیں ملے گی بلکہ اس میں دیگر قرض خواہ بھی شریک ہیں جتنی بائع کے حصہ میں آئے اتنی ہی لے سکتا ہے اور اگر اس نے اب تک اس چیز پر قبضہ ہی نہیں کیا ہے یا بغیر اجازت بائع قبضہ کر لیا ہے تو تنہا بائع اس کا حقدار ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: مدیون کا دَین نقود سے(3)ادا کیا جائے گا ان سے نہ ادا ہو تو دیگر سامان سے اور ان سے بھی نہ ہو تو جائداد غیر منقولہ سے اور صرف ایک جوڑا کپڑے کا اوس کے لیے چھوڑ دیا جائے باقی سب اموال ادائے دَین میں صرف کر دیے (4)جائیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: لڑکے کو جب انزال ہوگیا وہ بالغ ہے وہ کسی طرح ہو سوتے میں ہو جس کو احتلام کہتے ہیں یا بیداری کی حالت میں ہو۔ اور انزال نہ ہو تو جب تک اس کی عمر پندرہ سال کی نہ ہو بالغ نہیں جب پورے پندرہ سال کا ہوگیا تو اب بالغ ہے علامات بلوغ پائے جائیں یا نہ پائے جائیں ،لڑکے کے بلوغ کے لیے کم سے کم جو مدت ہے وہ بارہ سال کی ہے یعنی اگر اس مدت سے قبل وہ اپنے کو بالغ بتائے اس کا قول معتبر نہ ہوگا۔(6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲: لڑکی کا بلوغ احتلام سے ہوتا ہے یا حمل سے یا حیض سے ان تینوں میں سے جو بات بھی پائی جائے تو وہ بالغ قرار پائے گی اور ان میں سے کوئی بات نہ پائی جائے تو جب تک پندرہ سال کی عمر نہ ہو جائے بالغ نہیں اور کم سے کم اس کا بلوغ نوسال میں ہوگا اس سے کم عمر ہے اور اپنے کو بالغہ کہتی ہو تو معتبر نہیں۔ (7)(درمختار وغیرہ)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحجر،ج۹،ص۲۵۴.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی جو رقم نقدی کی صورت میں موجود ہے اُس سے۔ 4 ۔یعنی قرض کی ادائیگی میں خرچ کیے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحجر،الباب الثالث فی الحجر بسبب الدین،ج۵،ص۶۲.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحجر،الباب الثانی فی الحجرللفساد،الفصل الثانی،ج۵،ص۶۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الحجر،فصل،ج۹،ص۲۵۹،۲۶۰.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحجر، فصل،ج۹،ص۲۶۰،وغیرہ.
مسئلہ ۳: لڑکے کی عمر بارہ سال یا لڑکی کی نو سال کی ہو اور وہ اپنے کو بالغ بتاتے ہیں اگر ظاہر حال ان کی تکذیب نہ کرتا ہو (1)کہ ان کے ہم عمر بالغ ہوں تو ان کی بات مان لی جائے گی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴: جب ان کا بالغ ہونا تسلیم کر لیا گیا تو بالغ کے جتنے احکام ہیں ان پر جاری ہوں گے اور اس کے بعدوہ اپنے بالغ ہونے سے انکار کرے بھی تو معتبر نہ ہوگا اگرچہ یہ احتمال ہے کہ وہ نابالغ ہو اس کی بیع و تقسیم نہیں توڑی جائیں گی۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۵: جس لڑکے کی عمر بارہ سال کی ہو اور اس کے ہم عمر بالغ ہوں اس نے اپنی عورت سے جماع کیا اور عورت کے بچہ پیدا ہوا تو اس کے بلوغ کا حکم دیا جائے گا اور بچہ ثابت النسب ہوگا۔(4) (عالمگیری)
حجر سے تصرفات نہیں کرسکتا تھا جس کا بیان گزرا اس حجر کے دور کرنے کو اذن کہتے ہیں یہاں صرف ان مسائل کو بیان کرنا ہے جن کا تعلق نابالغ یا معتوہ سے ہے غلام ماذون کے مسائل ذکر کرنے کی حاجت نہیں۔
مسئلہ ۱: نابالغ کے تصرفات تین قسم ہیں۔نافع محض ۱؎ یعنی وہ تصرف جس میں صرف نفع ہی نفع ہے جیسے اسلام قبول کرنا۔ کسی نے کوئی چیز ہبہ کی اس کو قبول کرنا اس میں ولی کی اجازت درکار نہیں۔ ضار محض۲؎ جس میں خالص نقصان ہو یعنی دنیوی مضرت ہو اگرچہ آخرت کے اعتبار سے مفید ہو جیسے صدقہ و قرض، غلام کو آزاد کرنا۔ زوجہ کو طلاق دینا۔ اس کا حکم یہ ہے کہ ولی اجازت دے تو بھی نہیں کرسکتا بلکہ خود بھی بالغ ہونے کے بعد اپنی نابالغی کے ان تصرفات کو نافذ کرنا چاہے نہیں کرسکتا۔ اس کا باپ یا قاضی ان تصرفات کو کرنا چاہیں تو یہ بھی نہیں کرسکتے۔ بعض ۳؎ وجہ سے نافع بعض وجہ سے ضار جیسے بیع، اِجارہ، نکاح یہ اذن ولی پر موقوف ہیں۔ (5)(درمختار وغیرہ)نابالغ سے مراد وہ ہے جو خرید و فروخت کا مطلب سمجھتا ہو جس کا بیان اوپر گزر چکا اور جو اتنا بھی نہ سمجھتا ہو اوس کے تصرفات ناقابل اعتبار ہیں۔ معتوہ کے بھی یہی احکام ہیں جو نابالغ سمجھ وال کے ہیں۔
مسئلہ ۲: جب ولی نے بیع کی اجازت دے دی تو اس نے جس قیمت پر بھی خرید و فروخت کی ہو جائز ہے اور اذن
1 ۔جھٹلاتا نہ ہو۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحجر، فصل،ج۹،ص۲۶۰.
3 ۔المرجع السابق،۲۶۱.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحجر،الباب الثانی فی الحجرللفساد،الفصل الثانی،ج۵،ص۶۱.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الماذون،ج۹،ص۲۹۱،وغیرہ.
سے قبل جو عقد کیا ہے وہ اذن پر موقوف ہے ولی کے نافذ کرنے سے نافذ ہوگا اور اذن کے بعد وہ ان تصرفات میں آزاد بالغ کی مثل ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: نابالغ غیر ماذون نے بیع کی تھی اور ولی نے اس کے متعلق کچھ نہیں کہا تھا یہاں تک کہ یہ خود بالغ ہوگیا تو اب اجازت ولی پر موقوف نہیں ہے یہ خود نافذ کرسکتا ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۴: ولی باپ ہے باپ کے مرنے کے بعد اس کا وصی پھر وصی کا وصی پھر دادا پھر اس کا وصی پھر اس وصی کا وصی پھر بادشاہ یا قاضی یا وہ جس کو قاضی نے وصی مقرر کیا ہو ان تینوں میں تقدیم و تاخیر نہیں ان تینوں میں سے جو تصرف کر دے گا نافذ ہوگا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: چچا اور بھائی اور ماں یا اس کے وصی کو ولایت نہیں ہے تو بہن پھوپی خالہ کو کیا ہوتی۔(4)(عالمگیری، درمختار)یہاں مال کی ولایت کا ذکر ہے نکاح کا ولی کون ہے اس کو ہم کتاب النکاح میں(5)بیان کرچکے ہیں وہاں سے معلوم کریں۔
مسئلہ ۶: ولی نے نابالغ یا معتوہ کو بیع کرتے دیکھا اور منع نہ کیا خاموش رہا تو یہ سکوت(6)بھی اذن ہے اور قاضی نے ان کو بیع و شراء(7)کرتے دیکھا اور خاموش رہا تو اس کا سکوت اذن نہیں۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۷: نابالغ و معتوہ کے لیے ولی نہ ہو یا ولی ہو مگر وہ بیع وغیرہ کی اجازت نہ دیتا ہو تو قاضی کو اختیار ہے کہ وہ اجازت دیدے۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۸: قاضی نے اجازت دے دی اس کے بعد وہ قاضی مر گیا یا معزول ہوگیا تو باپ وغیرہ اب بھی اسے نہیں روک سکتے اور وصی نے اجازت دی تھی پھر وہ مرگیا تو حجر ہوگیا یعنی اس کے بعد جو ولی ہے اس کی اجازت درکار ہے۔(10) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الماذون،الباب الثانی عشرفی الصبی اوالمعتوہ...إلخ،ج۵،ص۱۱۰.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الماذون،ج۹،ص۲۹۱.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الماذون، الباب الثانی عشرفی الصبی اوالمعتوہ...إلخ،ج۵،ص۱۱۰.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الماذون،الباب الثانی عشرفی الصبی اوالمعتوہ...إلخ،ج۵،ص۱۱۰.
و''الدرالمختار''،کتاب الماذون،ج۹،ص۲۹۳.
5 ۔بہارشریعت،ج۲،حصہ۷میں۔ 6 ۔خاموشی ۔ 7 ۔خریدو فروخت۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الماذون،ج۹،ص۲۶۴،۲۶۶،۲۹۴.
9 ۔المرجع السابق،ص۲۹۴.
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الماذون، الباب الثانی عشرفی الصبی اوالمعتوہ...إلخ،ج۵،ص۱۱۲،۱۱۳.
مسئلہ ۹: ان دونوں یعنی نابالغ و معتوہ کے پاس جو چیز ہے اس کے متعلق یہ اقرار کیا کہ یہ فلاں کی ہے خواہ یہ چیز ان کے کسب کی ہو یا میراث میں ملی ہو ان کا اقرار صحیح ہے اور اگر باپ نے ہی ان کو اذن دیا اور اسی کے لیے اقرار کیا تو یہ اقرار صحیح نہیں۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: باپ نے اپنے دو نابالغ لڑکوں کو اجازت دی ان میں سے ایک نے دوسرے سے کوئی چیز خریدی یہ بیع جائز ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: لڑکا مسلمان ہے اور اس کا باپ کافر ہے تو یہ باپ ولی نہیں اور اس کو اذن دینے کا اختیار نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: نابالغ ماذون پر دعویٰ ہوا اور وہ انکار کرتا ہے تو اس پر حلف (4)دیا جائے گا۔(5) (عالمگیری)
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(وَلَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالْبَاطِلِ)
(6)
''ایک کا مال دوسرا شخص ناحق طور پر نہ کھائے۔''
حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں سعید بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں :''جس نے ایک بالشت زمین ظلم کے طور پر لے لی قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اتنا حصہ طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔''(7)
حدیث ۲: صحیح بخاری شریف میں عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:''جس نے کسی کی زمین میں سے کچھ بھی ناحق لے لیا قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔ ''(8)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الماذون،مبحث:فی تصرف الصبی...إلخ،ج۹،ص۲۹۵.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الماذون،الباب الثانی عشرفی الصبی اوالمعتوہ...إلخ،ج۵،ص۱۱۰.
3 ۔المرجع السابق،الباب التاسع فی الشہادۃ علی العبد الماذون...إلخ،ج۵،ص۱۰۳.
4 ۔قسم۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الماذون،الباب الثالث عشرفی المتفرقات،ج۵،ص۱۱۵.
6 ۔پ۲،البقرۃ:۱۸۸.
7 ۔''صحیح البخاري''،کتاب بدء الخلق،باب ماجاء في سبع ارضین،الحدیث:۳۱۹۸،ج۲،ص۳۷۷.
8 ۔المرجع السابق،باب ماجاء في سبع ارضین،الحدیث:۳۱۹۶،ج۲،ص۳۷۶.
حدیث ۳ و ۴: امام احمد نے یعلٰی بن مُرّہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس نے ناحق زمین لی قیامت کے دن اسے یہ تکلیف دی جائے گی کہ اس کی مٹی اٹھا کر میدان حشر میں لائے۔''(1)دوسری روایت امام احمد کی انھیں سے یوں ہے کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:'' جس نے ایک بالشت زمین ظلم کے طور پر لی۔ اﷲعزوجل اسے یہ تکلیف دے گا کہ اس حصہ زمین کو کھودتا ہوا سات زمین تک پہنچے پھر یہ سب اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا اور یہ طوق اس وقت تک اس کے گلے میں رہے گا کہ تمام لوگوں کے مابین فیصلہ ہو جائے۔ ''(2)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''کوئی شخص دوسرے کا جانور بغیر اجازت نہ دوہے(3)کیا تم میں کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانہ پر کوئی آکر خزانہ کی کوٹھری توڑ کر جو کچھ اس میں کھانے کی چیزیں ہیں اوٹھا لے جائے۔ ان لوگوں یعنی اعراب اور بدویوں کے کھانے کے خزانے جانوروں کے تھن ہیں''(4)یعنی جانوروں کا دودھ ہی ان کی غذا ہے۔
حدیث ۶: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے زمانہ میں آفتاب میں گہن لگا اور اسی روز حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی تھی حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )نے گہن کی نماز پڑھائی اور اس کے بعد یہ فرمایا:''تمام وہ چیزیں جن کی تمہیں خبر دی جاتی ہے سب کو میں نے اپنی اس نماز میں دیکھا میرے سامنے دوزخ پیش کی گئی اور یہ اس وقت کہ تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا کہ کہیں اوس کی لپٹ نہ لگ جائے میں نے اس میں صاحبِ مِحْجن کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں جہنم میں گھسیٹ رہا ہے۔ (مِحْجن اس چھڑی کو کہتے ہیں جس کی مونٹھ(5)ٹیڑھی ہوتی ہے جاہلیت میں ایک شخص عمرو بن لحی نامی تھا، جو اسی قسم کی چھڑی رکھتا اس کو صاحبِ مِحْجن کہتے تھے)وہ حاجیوں کی چیز چھڑی کی مونٹھ سے کھینچ لیا کرتا تھا اگر حاجی کو پتا چل جاتا کہ میری چیز کسی نے کھینچ لی تو کہہ دیتا کہ تمہاری چیز میری چھڑی کی مونٹھ سے لگ گئی اور اسے پتا نہ چلتا تو یہ چیز اٹھا لے جاتا۔ اور میں نے جہنم میں بلی والی عورت کو دیکھا جس نے بلی پکڑ کر باندھ رکھی تھی نہ اسے کچھ کھلایا نہ چھوڑا کہ وہ کچھ کھا لیتی وہ بلی اسی حالت میں بھوک سے مر گئی پھر اس کے بعد جنت میرے سامنے پیش کی گئی۔ یہ اس وقت
1 ۔''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،حدیث یعلی ا بن مرۃ الثقفی،الحدیث:۱۷۵۶۹،ج۶،ص۱۷۷.
2 ۔المرجع السابق،الحدیث:۱۷۵۸۲،ج۶،ص۱۸۰.
3 ۔یعنی دودھ نہ نکالے۔
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب اللقطۃ،باب تحریم حلب الماشیۃ بغیر إذن مالکھا،الحدیث:۱۳۔(۱۷۲۶)،ص۹۵۰.
5 ۔چھڑی کا سرا،قبضہ۔
کہ تم نے مجھے آگے بڑھتے دیکھا یہاں تک کہ اپنی جگہ پر جاکر کھڑا ہوگیا اور میں نے ہاتھ بڑھایا تھا اور میں نے ارادہ کیا تھا کہ جنت کے پھلوں میں سے کچھ لے لوں کہ تم بھی انھیں دیکھ لو پھر میری سمجھ میں آیا کہ ایسا نہ کروں۔'' (1)
حدیث ۷: بیہقی نے شعب الایمان اور دارقطنی نے مجتبیٰ میں ابو حرہ رقاشی سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''خبردار تم لوگ ظلم نہ کرنا سن لو کسی کا مال بغیر اس کی خوشی کے حلال نہیں۔''(2)
حدیث ۸: ترمذی و ابو داود نے سائب بن یزید سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''کوئی شخص اپنے بھائی (مسلمان)کی چھڑی ہنسی مذاق میں واقعی طور پر نہ لے لے یعنی ظاہر تو یہ ہے کہ مذاق کر رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لینا ہی چاہتا ہے اور جس نے اس طرح لی ہو وہ واپس کر دے۔''(3)
حدیث ۹: امام احمد و ابو داود و نسائی سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )نے ارشاد فرمایا:''جوشخص اپنا بعینہٖ مال کسی کے پاس پائے تو وہی حقدار ہے اور وہ شخص جس کے پاس مال تھا اگر اس نے کسی سے خریدا ہے تووہ اپنے بائع سے مطالبہ کرے۔''(4)
حدیث ۱۰: ابو داود نے سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:'' جب کوئی شخص جانوروں میں پہنچے (اور دودھ دوہنا چاہے)اگر مالک وہاں ہو تو اس سے اجازت لے لے اور وہاں نہ ہو تو تین مرتبہ مالک کو آواز دے اگر کوئی جواب دے تو اس سے اجازت لے کر دوہے اور جواب نہ آئے تو دوہ کر پی لے وہاں سے لے نہ جائے۔''(5) (یہ حکم اس وقت ہے کہ یہ شخص مضطر ہو)
حدیث ۱۱: ترمذی و ابن ماجہ نے عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص باغ میں جائے تو کھائے، جھولی میں رکھ کر لے نہ جائے۔''(6) (یہ بھی اضطرار کی صورت میں ہے یا وہاں کا ایسا عرف ہوگا)۔
حدیث ۱۲: ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ رافع بن عَمْرْو غفاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں میں لڑکا تھا انصار
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الکسوف،باب ماعرض علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم...إلخ،الحدیث:۱۰۔(۹۰۴)،ص۴۵۱.
2 ۔''شعب الإیمان''،الباب الثامن والثلاثون...إلخ،باب فی قبض الید...إلخ،الحدیث:۵۴۹۲،ج۴،ص۳۸۷.
و''المسند''للامام احمد بن حنبل،مسند البصریین،حدیث عم ابی حرۃ الرقاشی،الحدیث۲۰۷۲۰،ج۷،ص۳۷۶.
3 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الفتن،باب ماجاء لایحل لمسلم...إلخ،الحدیث:۲۱۶۷،ج۴،ص۶۵.
4 ۔''سنن أبي داود''،کتاب البیوع،باب في الرجل یجد عین مالہٖ...إلخ،الحدیث:۳۵۳۱،ج۳،ص۴۰۳.
5 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد،باب في ابن السبیل یأکل من التمر...إلخ،الحدیث:۲۶۱۹،ج۳،ص۵۵.
6 ۔''جامع الترمذي''،کتاب البیوع،باب ماجاء في الرخصۃ في أکل الثمرۃ...إلخ،الحدیث:۱۲۹۱،ج۳،ص۴۴.
کے پیڑوں سے کھجوریں جھاڑ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم تشریف لائے اور فرمایا :''اے لڑکے پیڑوں پر کیوں ڈھیلے پھینکتا ہے میں نے عرض کی جھاڑ کر کھاتا ہوں فرمایا جھاڑو مت جو نیچے گری ہیں انھیں کھا لو پھر ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر دعا کی الٰہی (عزوجل)تو اسے آسودہ کر دے۔ ''(1)
حدیث ۱۳: طبرانی نے اشعث بن قیس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ فرمایا نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے:''جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اﷲ تعالٰیسے کوڑھی ہو کر ملے گا۔'' (2)
مال متقوم محترم منقول(3)سے جائز قبضہ کو ہٹا کر ناجائز قبضہ کرنا غصب ہے جبکہ یہ قبضہ خفیۃًنہ ہو اس ناجائز قبضہ کرنے والے کو غاصب اور مالک کو مغصوب منہ اور چیز کو مغصوب کہتے ہیں جس چیز پر ناجائز قبضہ ہوا مگر کسی جائز قبضہ کو ہٹا کر نہیں ہوا وہ غصب نہیں مثلاً جو چیز غصب کی تھی اس میں کچھ زائد چیزیں پیدا ہوگئیں، جیسے جانور غصب کیا تھا اس سے بچہ پیدا ہوا۔ گائے غصب کی تھی اس کا دودھ دوہا ان زوائد کو غصب کرنا نہیں کہا جائے گا۔ غیر متقوم چیز پر قبضہ کیا یہ بھی غصب نہیں مثلاً مسلمان کے پاس شراب تھی اس نے چھین لی اور مال محترم نہ ہو جیسے حربی کافر کا مال چھین لیا یہ بھی غصب نہیں۔ غیر منقول پر قبضہ ناجائز کیا یہ بھی غصب نہیں۔ (4)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱: بعض ایسی صورتیں بھی ہیں کہ ا گرچہ وہ غصب نہیں ہیں مگر ان میں غصب کا حکم جاری ہوتا ہے یعنی ضمان کا حکم دیا جاتا ہے اس وجہ سے ان کو بھی غصب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مثلاً مودَع (5)نے ودیعت سے انکار کر دیا یا ہلاک کر دیا کہ یہاں تاوان لازم ہے۔ پڑا مال اٹھایا اور اس پر گواہ نہیں بنایا، پرائی مِلک میں کوآں کھودا اور اس میں کسی کی چیز گر کر ہلاک ہوگئی اور ان کے علاوہ بہت سی ایسی صورتیں ہیں جن میں تاوان کا حکم ہے اور وہاں غصب نہیں کہ ان سب صورتوں میں تعدّی کی وجہ سے(6)ضمان لازم آتا ہے۔(7) (ردالمحتار)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد،باب من قال إنہ یأکل مماسقط،الحدیث:۲۶۲۲،ج۳،ص۵۵.
2 ۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۶۳۷،ج۱،ص۲۳۳.
3 ۔منقول وہ مال ہے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہو۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۲۹۸،۳۰۱،وغیرہ.
5 ۔جس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے۔
6 ۔یعنی اپنی طرف سے قصداً زیادتی کی وجہ سے۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۲۹۸.
مسئلہ ۲: جانور کو غصب کر لایا اس کے ساتھ لگا ہوا بچہ چلا آیا یا غصب کے بعد بچہ پیدا ہوا بچہ کا تاوان غاصب پر نہیں یابچہ کو غصب کر لایا اور اسے ہلاک کر دیا اس کے جدا ہونے سے گائے کا دودھ سوکھ گیا یہاں بچہ کا ضمان ہے اور گائے میں جو کچھ کمی ہوئی اس کا نقصان دینا ہوگا یہ نقصان تعدی کی وجہ سے ہے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳: کسی شخص کا مٹی کا ڈھیلا یا ایک قطرہ پانی لے لیا اگرچہ بغیر اجازت ایسا کرنا جائز نہیں مگر یہ غصب نہیں کہ مال متقوم نہیں۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: چھپا کر کسی کی چیز لے لی جس کو چوری کہتے ہیں اگر دس درہم قیمت کی ہے جس میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے یہ غصب نہیں کہ ہلاک ہونے سے یہاں تاوان لازم نہیں۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: دوسرے کے جانور پر بغیر اجازت مالک بوجھ لادنا یا سوار ہونا بلکہ مشترک جانور پر بغیر اجازت شریک بوجھ لادنا یا سوار ہونا غصب ہے ہلاک ہونے سے تاوان دینا ہوگا دوسرے کے بچھونے پر بغیر اجازت بیٹھنا غصب نہیں اگر وہ ہلاک ہو جائے تو تاوان نہیں جب تک اس کے فعل سے ہلاک نہ ہو۔(4) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۶: غصب کا حکم یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ دوسرے کا مال ہے تو غاصب گنہگار ہے اور چیز موجود ہو تو مالک کو واپس کر دے موجود نہ ہو تو تاوان دے اور معلوم نہ ہو کہ پرایا مال ہے تو اس کا حکم واپس کرنا یا چیز موجود نہ ہو تو تاوان دینا ہے اور اس صورت میں گنہگار نہیں ہوا۔ (5)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۷: غاصب سے دوسرا شخص چھین لے گیا تو مغصوب منہ کو یعنی جس کی چیز غصب کی گئی اسے اختیار ہے کہ غاصب سے ضمان لے یا غاصب الغاصب سے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۸: شے موقوف(7)غصب کی جس کی قیمت ایک ہزار ہے پھر غاصب سے کسی نے غصب کر لی اور اس وقت
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۲۹۸،۲۹۹.
2 ۔المرجع السابق،ص۳۰۰. 3 ۔المرجع السابق،ص۳۰۱.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب،ج۲،ص۲۹۶.
و''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۰۱.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب،ج۲،ص۲۹۶.
و''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۰۲.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۰۲.
7 ۔وقف شدہ چیز۔
اس کی قیمت دو ہزار ہے تو اگر غاصب دوم غاصب اول سے زیادہ مالدار ہے اسی غاصب دوم سے تاوان لے ورنہ متولی کو اختیار ہے جس سے چاہے لے اور جس ایک سے لے گا دوسرا بری ہو جائے گا۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: پرائی دیوار گرا دی تو مالک کا جو کچھ نقصان ہوا لے لے۔ اس میں دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ دیوار کی قیمت اس سے وصول کرے اور گرا ہوا ملبہ اسے دے دے یا ملبہ خود لے لے اور دیوار کی قیمت سے ملبہ کی قیمت کم کر کے باقی اس سے وصول کرے اس کو یہ حق نہیں کہ اس سے دیوار بنوانے کا مطالبہ کرے۔ ہاں اگر مسجد یا کسی عمارت موقوفہ(2)کی دیوار کسی نے گرائی ہے تو اسے دیوار بنوانی ہوگی۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: دیوار گرانے والے نے اگر ویسی ہی دیوار بنوا دی تو ضمان سے بری ہو جائے گا اور اگر دیوار میں نقش و نگار پھول پتے ہیں تو ان کا بھی تاوان دینا ہوگا اور اگر تصویریں بنی ہیں تو رنگ کا ضمان ہے تصاویر کا ضمان نہیں۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: جس چیز کو جہاں سے غصب کیا وہیں واپس کرنا ہوگا غاصب اگر دوسرے شہر میں دینا چاہتا ہے مالک اس سے کہہ سکتا ہے کہ جہاں سے لائے ہو وہیں چل کر دینا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: غاصب کے واپس کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس طرح واپس کرے کہ مالک کو علم ہو جائے اگر اس کی لاعلمی میں چیز واپس کر دی بری ہوگیا مثلاًاس کے صندوق یا تھیلی میں سے روپے نکال لے گیا تھا پھر اس میں رکھ آیا اور مالک کو پتا نہ چلا یہ واپسی بھی صحیح ہے۔ یوہیں اگر کسی دوسرے نام سے مالک کو دے دی جب بھی بری ہو جائے گا مثلاً مالک کو ہبہ کیا یا ودیعت کے نام سے اسے دے آیا بلکہ اگر وہ چیز کھانے کی تھی مالک کو کھلا دی اس صورت میں بھی بری ہو جائے گا مگر اس چیز میں اگر تغییر(6)کر دی ہے اور مالک کو دے آیا تو بری نہیں مثلاًکپڑے کو قطع کر کے اس کو سی کر مالک کو دیا یا گیہوں(7)کو پسوا کر اس کی روٹی مالک کو کھلا دی یا شکر کا شربت بنا کر پلا دیا۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: گیہوں غصب کیے تھے مالک کو یہ گیہوں پیسنے کو دے آیا پیسنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ یہ تو میرے ہی
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۰۳.
2 ۔وقف شدہ عمارت۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۰۴.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۰۴.
5 ۔''الدرالمحتار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۰۵،۳۰۶.
6 ۔کسی قسم کی تبدیلی۔ 7 ۔گندم۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۰۶.
گیہوں ہیں آٹے کو روک سکتا ہے۔ یوہیں سوت غصب کیا تھا اور مالک کو کپڑا بننے کے لیے دے آیا کپڑا بننے کے بعد مالک کو معلوم ہوا کہ یہ سوت میرا ہی تھا کپڑا رکھ سکتا ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: سوتے میں انگوٹھی یا جوتے یا ٹوپی اوتار لی اگر وہاں سے لے نہیں گیا اور پہنا دی تو ضامن نہیں اور وہاں سے لے گیا تو اب بیداری میں دینے سے ضمان سے بری ہوگا اور سوتے میں پہنا دے گا تو بری نہ ہوگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: غاصب نے مغصوب کو مالک کی گود میں رکھ دیا اس کو یہ نہیں معلوم ہوا کہ میری چیز ہے اس کی گود میں سے کوئی دوسرا اٹھا لے گیا غاصب بری ہوگیا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: جو چیز غصب کی اور وہ ہلاک ہوگئی اس کی دو صورتیں ہیں اگر وہ چیز قیمی ہے تو قیمت تاوان دے اور مثلی ہے تو اس کی مثل تاوان میں دے اور مثلی ہے مگر اس وقت موجود نہیں ہے یعنی بازار میں نہیں ملتی اگرچہ گھروں میں اس کا وجود ہے تو اس صورت میں بھی قیمت تاوان میں دے سکتا ہے۔ (4)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۷: مثلی چیز اگر دوسری جنس کے ساتھ مخلوط ہو جائے اور تمیز دشوار ہو جیسے گیہوں کو جو میں ملا دیا یا تمیز نہ ہوسکے جیسے تِل کا تیل کہ اس کو روغن زیتون(5)میں ملا دیا یا پاک تیل کو ناپاک تیل میں ملا دیا اب یہ مثلی نہیں ہے بلکہ قیمی ہے۔ یوہیں اگر اس میں صنعت کی وجہ سے اختلاف پیدا ہو جائے مثلاًتانبے وغیرہ کے برتن کہ یہ بھی قیمی ہیں اگرچہ تانبا مثلی تھا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: بعض ذوات القیم اور ذوات الامثال کی تفصیل۔ پنیر ضمان کے بارے میں قیمی ہے اور دیگر امور میں مثلاًسلم کے باب میں مثلی ہے کہ اس میں سلم صحیح ہے۔ کوئلا، گوشت اگرچہ کچا ہو، اینٹ، صابون، گوبر، درخت کے پتے، سوئی، چمڑا کچا ہو یا پکایا ہوا، نجس تیل، نصف صاع سے کم غلہ، روٹی، پانی،کسم(7)، تانبے، پیتل، مٹی کے برتن، انار، سیب، کھیرا، ککڑی، خربزہ، تربز،
سِکَنجَبِین
(8)، سوختنی لکڑی(9) ، لکڑی کے تختے، چٹائی، کپڑے، تازہ پھول، ترکاریاں(10)، دہی، چربی، دنبے کی چکی(11)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب السادس فی إستردادالمغصوب...إلخ،ج۵،ص۱۳۵.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۳۵،۱۳۶. 3 ۔المرجع السابق،ص۱۳۶.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب،ج۲،ص۲۹۶،وغیرھا.
5 ۔زیتون کا تیل۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹، ص ۳۰۷.
7 ۔ایک پھول جس سے شہاب یعنی گہرا سرخ رنگ نکلتا ہے جس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں۔
8 ۔لیموں کے رس کا مشروب۔ 9 ۔جلانے کے قابل لکڑی۔
10 ۔ سبزیاں۔ 11 ۔دنبے کی چوڑی چپٹی دم۔
ان سب کی نسبت قیمی ہونا مُصرَّح ہے۔ تانبا، پیتل، لوہا، سیسہ(1)، کھجور کی سب قسمیں ایک ہی جنس ہیں، سرکہ، آٹا، روئی، اون، کاتی ہوئی اون، ریشم، چونا، روپیہ، اشرفی، پیسہ، بھوسہ، مہندی،وسمہ(2)، خشک پھول، کاغذ، دودھ ان چیزوں کے مثلی ہونے کی تصریح ہے۔ (3)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: مثلی اور قیمی کے متعلق قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز کی مثل بازار میں پائی جاتی ہو اور اس کی قیمتوں میں معتدبہ(4)فرق نہ ہو وہ مثلی ہے جیسے انڈے اخروٹ اور جن کی قیمتوں میں بہت کچھ تفاوت ہوتا ہے جیسے گائے، بھینس، آم، امرود وغیرہا یہ سب قیمی ہیں۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: کپڑے جو گزوں سے بکتے ہیں جیسے ململ، لٹھا وغیرہ کہ اس کی سب تہیں ایک سی ہوتی ہیں یہ مثلی ہیں اور جو کپڑے ایسے ہوتے ہیں کہ گزوں سے نہ بکیں وہ قیمی ہیں۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: غاصب یہ کہتا ہے کہ شے مغصوب ہلاک ہوگئی تو اسے حاکم قید کرے جب اتنا زمانہ گزر جائے کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اگر اس کے پاس چیز ہوتی تو ضرور ظاہر کر دیتا قید خانہ میں پڑا نہ رہتا تو اب اس کے متعلق تاوان کا حکم ہوگا خواہ مثل تاوان دلائی جائے یا قیمت۔(7) (ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۲: غاصب کہتا ہے کہ میں نے چیز مالک کو واپس کر دی تھی اس کے یہاں ہلاک ہوئی اور مالک کہتا ہے غاصب کے پاس ہلاک ہوئی اور دونوں نے ثبوت کے گواہ پیش کیے غاصب کے گواہوں کو ترجیح دی جائے گی اور قیمت میں اختلاف ہو تو مالک کے گواہ معتبر ہیں اور اگر خود مغصوب میں اختلاف ہو غاصب کہتا ہے میں نے یہ چیز غصب کی اور مالک کہتا ہے وہ چیز غصب کی تو قسم کے ساتھ غاصب کا قول معتبر ہے۔(8) (درمختار)
1 ۔ایک قسم کی دھات ۔ 2 ۔نیل کے پتے جن سے خضاب تیار کیا جاتاہے ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الأول فی تفسیر الغصب...إلخ،ج۵،ص۱۱۹.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الغصب،مطلب:فی رد المغصوب ...إلخ،ج۹،ص۳۰۸.
4 ۔عام طور پر۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۱۰.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الغصب،مطلب:الصابون...إلخ،ج۹،ص۳۱۱.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب،ج۲،ص۲۹۷،وغیرہا.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۱۱.
مسئلہ ۲۳: کسی کی جائداد غیر منقولہ (1)چھین لی (یہ حقیقۃً غصب نہیں ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا)اگر یہ چیز موجود ہے تو مالک کو دلا دی جائے گی اور اگر ہلاک ہوگئی مثلاًمکان تھا گر گیا اور ہلاک ہونا آفت سماویہ(2)سے ہو مثلاًزمین دریا برد ہوگئی ،مکان بارش کی کثرت یا زلزلہ یا آندھی سے گر گیا تو ضمان واجب نہیں اور اگر ہلاک ہونا کسی کے فعل سے ہو تو اس پر ضمان واجب ہے۔غاصب نے ہلاک کیا ہو تو غاصب تاوان دے کسی اور نے کیا ہو تو وہ دے اور اگر وہ چیز مثلاًمکان موجود ہے مگر غاصب کے رہنے استعمال کرنے کی وجہ سے اس میں نقصان پیدا ہوگیا ہے یا کھیت میں زراعت کرنے کی وجہ سے زمین کمزور ہوگئی تو اس نقصان کا تاوان دینا ہوگا۔ اور نقصان کا اندازہ یوں کیا جائے گا کہ اس زمین کا اس حالت میں کیا لگان (3)ہوتا اور اب کیا ہے، مکان کی اوس حالت میں کیا قیمت ہوتی اور اس حالت میں کیا ہے۔ (4)(ہدایہ، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۲۴: زمین غصب کی اور کاشت کی جس کی وجہ سے اسے زمین کا نقصان دینا پڑا تو بیج اور یہ نقصان کی مقدار پیداوار میں سے لے لے باقی جو کچھ غلہ ہے اسے تصدق کر دے مثلاً من بھر بیج ڈالے تھے اور ایک من کی قیمت کی قدر ضمان دینا پڑا اور کھیت میں چار من غلہ پیدا ہوا تو دو من خود لے لے اور دو من صدقہ کر دے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: جائداد موقوفہ مکان یا زمین کو غصب کیا اس کا تاوان دینا ہوگا اگرچہ اس نے خود ہلاک نہ کی ہو بلکہ اس سے جو کچھ منفعت حاصل کی ہے اس کا بھی تاوان دینا ہوگا مکان میں سکونت کی تو واجبی کرایہ(6)لیا جائے گا زمین میں زراعت کی تو لگان وصول کیا جائے گا۔ اسی طرح نابالغ کی جائداد غیر منقولہ پر قبضہ کیا تو اس کا ضمان لیا جائے گا اور منافع حاصل کیے تو اُجرت مثل بھی لی جائے گی۔ (7)(درمختار)
مسئلہ۲۶: چیز میں نقصان کی چار صورتیں ہیں۔۱ نرؔخ کا کم ہو جانا۔۲ ا ؔس کے اجزا کا جاتا رہنا مثلاًغلام کی آنکھ جاتی رہی۔ ۳ وصف ؔمرغوب فیہ کا فوت ہو جانا مثلاًبہرا ہوگیا، آنکھ کی روشنی جاتی رہی، گیہوں خشک ہو گیا، سونے چاندی کے زیور تھے ٹوٹ کر سونا چاندی رہ گئے۔۴معنی ؔمرغوب فیہ جاتے رہے مثلاًغلام کوئی کام کرنا جانتا تھا غاصب کے پاس جاکر وہ کام بھول گیا۔ پہلی صورت میں اگر مغصوب چیز دے دی تو ضمان واجب نہیں اور دوسری صورت میں مطلقاً ضمان واجب ہے۔ اور تیسری صورت
1 ۔وہ جائداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ کی جاسکتی ہو۔ 2 ۔قدرتی آفت۔ 3 ۔زمین کا خراج،سرکاری محصول۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب،ج۲،ص۲۹۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الأول فی تفسیرالغصب...إلخ،ج۵،ص۱۲۰، وغیرہما.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الأول فی تفسیرالغصب...إلخ،ج۵،ص۱۲۰.
6 ۔رائج کرایہ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۱۲.
میں اگر مغصوب اموالِ ربا میں سے نہ ہو تو ضمان واجب ہے اور وہ مغصوب اموالِ ربا میں سے ہو تو ضمان نہیں مثلاًگیہوں غصب کیے تھے وہ خراب ہوگئے یا چاندی کا برتن یا زیور غصب کیے تھے اور غاصب نے توڑ ڈالے اس میں مالک کو اختیار ہے کہ وہی خراب لے لے یا اس کا مثل لے لے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ چیز بھی لے اور نقصان کا معاوضہ بھی لے۔ اور چوتھی صورت میں اگر معمولی نقصان ہے تو نقصان کا ضمان لے سکتا ہے اور زیادہ نقصان ہے تو مالک کو اختیار ہے کہ وہ چیز لے لے اور جو کچھ نقصان ہوا وہ لے یا چیز کو نہ لے بلکہ اس کی پوری قیمت وصول کرے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ۲۷: مغصوب شے کو اُجرت پر دیا اور اس سے اُجرت حاصل کی اور فرض کرو اُجرت پر دینے سے اس چیز میں نقصان پیدا ہوگیا تو جو کچھ نقصان کا معاوضہ دینے کے بعد اس اُجرت میں سے بچے اس کو صدقہ کر دے یوہیں اگر مغصوب ہلاک ہوگیا تو اس اُجرت سے تاوان دے سکتا ہے اور اس کے بعد کچھ بچے تو تصدّق کر دے اور اگر غاصب غنی(2)ہو تو کل آمدنی تصدّق (3)کر دے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: مغصوب(5)یا ودِیعت(6)اگر معین چیز ہو اسے بیچ کر نفع حاصل کیا تو اس نفع کو صدقہ کر دینا واجب ہے مثلاًایک چیز کی قیمت سو روپے تھی اور غاصب نے اسے سوا سومیں بیچا سو روپے تاوان کے دینے ہوں گے اور پچیس روپے کو صدقہ کر دینا ہوگا اور اگر وہ چیز غیر متعین یعنی از قبیل نقود ہو (7)تو اس میں چار صورتیں ہیں۔ (۱) عقد و نقد دونوں اسی حرام مال پر مجتمع ہوں مثلاً یوں کہا کہ اس روپیہ کی فلاں چیز دو پھر وہی روپیہ اسے دے دیا تو یہ چیز جو خریدی ہے یہ بھی حرام ہے یا بائع کو پہلے سے وہ حرام روپیہ دے دیا تھا پھر اس سے چیز خریدی یہ چیز حرام ہے۔ (۲) عقد ہو نقد نہ ہو یعنی حرام روپیہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس کی فلاں چیز دو مگر بائع کو یہ روپیہ نہیں دیا بلکہ دوسرا دیا۔ (۳)عقد نہ ہو نقد ہو بائع سے حرام کی طرف اشارہ کر کے نہیں کہا کہ اس روپیہ کی چیز دو بلکہ مطلقاً کہا کہ ایک روپیہ کی چیز دو مگر ثمن میں یہی حرام روپیہ دیا۔ (۴)حلال روپیہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس کی چیز دو مگر ثمن میں حرام روپیہ ادا کیا ان تین صورتوں میں تصدق واجب نہیں ہے اور بعض فقہا ان صورتوں میں بھی تصدق کو واجب کہتے ہیں اور یہ قول بھی باقوت ہے مگر زمانہ کی حالت دیکھتے ہوئے کہ حرام سے بچنا بہت دشوار ہوگیا قول اول پر بعض علماء نے فتوےٰدیا ہے۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الغصب،مطلب:شری داراً...إلخ،ج۹،ص۳۱۶.
2 ۔مالدار یعنی صاحب نصاب ہو۔ 3 ۔صدقہ۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الغصب،مطلب:شری داراً...إلخ،ج۹،ص۳۱۶.
5 ۔غصب کی گئی چیز۔ 6 ۔امانت۔ 7 ۔یعنی سونے چاندی، روپے پیسے کی قسم سے ہو۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الغصب،مطلب:شری داراً...إلخ،ج۹،ص۳۱۷.
مسئلہ ۱: مغصوب میں ایسی تبدیل کر دی کہ وہ دوسری چیز ہوگئی یعنی پہلا نام بھی باقی نہ رہا اور اُس کے اکثر مقاصد بھی جاتے رہے یا اُس کو اپنی چیز یا دوسرے کی چیز میں اس طرح ملا دیا کہ تمیز نہ ہوسکے مثلاًگیہوں کو گیہوں میں ملا دیا یا دشواری سے جدا ہوسکے مثلاً جَومیں گیہوں ملا دیے تو غاصب تاوان دے گا اور اُس چیز کا مالک ہو جائے گا مگر غاصب اُس چیز سے نفع حاصل نہیں کرسکتا جب تک تاوان نہ دیدے یا مالک اسے معاف نہ کر دے یاقاضی اُس کے تاوان کا حکم نہ کر دے یعنی مالک کی رضامندی درکار ہے اور وہ ان تینوں صورتوں سے ہوتی ہے۔(1) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۲: روپیہ(2)غصب کر کے گلا دیا(3)تو اگرچہ اب وہ نام باقی نہ رہا اوسے روپیہ نہیں کہا جائے گا مگر اس کے اکثر مقاصد اب بھی باقی ہیں کہ اب بھی وہ ثمن ہے اس کا زیور وغیرہ بن سکتا ہے لہٰذا مالک کو واپس لینے کا حق باقی ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳: مالک موجود نہیں ہے پردیس چلا گیا ہے غاصب چاہتا ہے کہ اس کی چیز واپس کر دے مگر مالک کے انتظارمیں چیز خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو لوگوں کو گواہ بنا لے کہ میں اُسے ضمان دے دوں گا اب اُس سے نفع حاصل کر سکتاہے۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: کھانے کی چیز غصب کی اور اُس کو چبایا کہ چیز اس قابل نہ رہی کہ مالک کو واپس دی جائے مگر چونکہ ضمان دیا نہیں لہٰذا حلق سے اوتارنا لقمہ حرام نگلنا ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۵: بکری غصب کر کے ذبح کر ڈالی اُس کا گوشت بھونا یا پکایا یا گیہوں غصب کر کے آٹا پسوایا یا کھیت میں بودیے یا لوہا غصب کر کے اُس کی تلوار، چُھری وغیرہ بنوالی یا تانبا، پیتل غصب کر کے ان کے برتن بنا لیے ان سب صورتوں میں غاصب کے ذمہ ضمان لازم ہوگا اور چیز غاصب کی مِلک ہو جائے گی مگر بے رضامندی مالک اِنتفاع حلال نہیں۔ (7)(ہدایہ، درمختار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب، فصل فیما یتغیر...إلخ،ج۲،ص۲۹۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۱۹.
2 ۔یعنی سونے ،چاندی یاکسی دھات کاسکہ۔ 3 ۔یعنی پِگھلا دیا۔
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الغصب،ج۹،ص۳۲۰.
5 ۔''ردالمحتار''، کتاب الغصب، مطلب شری داراً...إلخ،ج۹،ص۳۲۱.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۲۱.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب،فصل فیمایتغیر... إلخ،ج۲،ص۲۹۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۲۲.
مسئلہ ۶: بکری ذبح کر ڈالی بلکہ بوٹی بھی بنالی تو اب بھی مالک ہی کی ملک ہے مالک کو اختیار ہے کہ بکری کی قیمت لے کر بکری غاصب کو دیدے یا بکری خود لے لے اور غاصب سے نقصان کا معاوضہ لے اگر بکری کا آگے کا پاؤں کاٹ لیا جب بھی یہی حکم ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: جو جانور حلال نہیں ہیں اُن کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے تو کاٹنے والے پر قیمت واجب ہے۔ جانور کے کان یا دم کاٹ ڈالی نقصان کا تاوان دینا ہوگا۔ گھوڑا خچر گدھا اور وہ جانور جس سے کام لیا جاتا ہے جیسے بیل، بھینسا ان کی آنکھ پھوڑ دی تو چوتھائی قیمت تاوان دے اور جن سے کام نہیں لیا جاتا جیسے گائے، بکری ان کی آنکھ پھوڑ دی تو جو کچھ نقصان ہوا وہ تاوان دے۔ گدھے کو ذبح کر ڈالا تو پوری قیمت واجب ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: مغصوب چیز موجود ہے مگر اُس کے لینے میں غاصب کا نقصان ہوگا مثلاً شہتیر(3)غصب کر کے مکان میں لگا لی کہ اب اس کے نکالنے میں غاصب کا مکان توڑنا ہوگا اس صورت میں غاصب سے اُس کی قیمت دلوائی جائے گی یا اینٹیں غصب کر کے عمارت چنوائی(4)تو غاصب کو قیمت دینی ہوگی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: بلاقصد ایک شخص کی چیز دوسرے کی چیز میں اس طرح چلی گئی کہ بغیر نقصان اس چیز کو حاصل نہ کیا جاسکے تو جس کی چیز زیادہ قیمت کی ہو وہ کم قیمت والے کو نقصان دے مثلاًایک شخص کی اشرفی(6)دوسرے کی دوات(7)میں چلی گئی اور جب تک دوات نہ توڑی جائے اشرفی نہ نکل سکے تو دوات توڑی جائے گی اور اُس کی قیمت اشرفی والا دے گا یا مرغی نے موتی نگل لیا یا گائے نے دیگ میں سر ڈال دیا اور کسی طرح باہر نہیں نکلتا اور اگر آدمی نے موتی نگل لیا تو موتی کی قیمت تاوان دے اور آدمی نگل کر مرگیا تو پیٹ چاک کر کے موتی نکالا جاسکتا ہے۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: سونا یا چاندی غصب کر کے روپیہ، اشرفی یا برتن بنا لیا تو مالک کی ملک بدستور قائم ہے مالک ان چیزوں کو لے لے گا اور بنانے کا کوئی معاوضہ نہ دے گا۔ (9)(ہدایہ)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب، الباب الثانی فی أحکام المغصوب...إلخ،ج۵،ص۱۲۲.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۲۲،۱۲۳.
3 ۔بڑی کڑی۔ 4 ۔یعنی عمارت تعمیر کی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب، الباب الثانی فی أحکام المغصوب...إلخ،ج۵،ص۱۲۴.
6 ۔سونے کا سکہ۔ 7 ۔سیاہی کی بوتل وغیرہ۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الغصب، مطلب شری داراً...إلخ،ج ۹،ص ۳۲۳.
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب،فصل فیما یتغیر...إلخ،ج۲،ص۳۰۰.
مسئلہ ۱۱: غاصب (1)نے کپڑا غصب کیا تھا اور اوسے پھاڑ ڈالا اس میں تین صورتیں ہیں۔ (۱)اگر اس طرح پھاڑا کہ کام کا نہ رہا تو پوری قیمت تاوان دے۔ (۲)اور اگر زیادہ پھاڑا کہ اس کے بعض منافع فوت ہوگئے مگر کام کا ہے تو مالک کو اختیار ہے کہ کپڑا غاصب کو دیدے اور پوری قیمت وصول کر لے یا کپڑا خود ہی رکھ لے اور جو کمی ہوگئی اوس کا تاوان لے۔ (۳)اور اگر تھوڑا پھاڑا ہے کہ اس کے منافع بدستور باقی ہیں مگر اس میں عیب پیدا ہوگیا تو مالک کو کپڑا رکھ لینا ہوگا اور نقصان کا تاوان لے سکتا ہے۔ اور اگر پھاڑ کر اس نے کچھ صنعت کی مثلاًاُس کا کرتا وغیرہ بنا لیا تو مالک کی ملک جاتی رہی صرف قیمت تاوان میں لے سکتا ہے۔(2) (ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۲: کپڑا غصب کر کے رنگ دیا مالک کو اختیار ہے کہ کپڑا لے لے اور رنگ کی قیمت دیدے یعنی رنگ کی وجہ سے کپڑے کی قیمت میں جو کچھ زیادتی ہوئی وہ دیدے اور چاہے تو سفید کپڑے کی قیمت تاوان لے اور کپڑا غاصب ہی کو دیدے یا چاہے تو کپڑا بیع کر کے کپڑے کی قیمت کے مقابل میں ثمن کا جو حصہ ہے خود لے اور رنگ کی زیادتی کے مقابل میں ثمن کا جو حصہ ہے وہ غاصب کو دیدے۔ (3)(ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: اگر کپڑا دوسرے کے رنگ میں گر گیا اور اس پر رنگ آگیا تو مالک کو اختیار ہے کہ کپڑا لے کر رنگ کی قیمت دیدے یا کپڑا بیچ کر ثمن کو قیمت پر تقسیم کر دے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: رنگ غصب کر کے اپنا کپڑا رنگ لیا تو رنگ کا تاوان دینا ہوگا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: ایک شخص کا کپڑا غصب کیا دوسرے کا رنگ غصب کیا اور کپڑا رنگ لیا تو کپڑے کا مالک کپڑا لے لے اور رنگ والے کو رنگ یا اُس کی قیمت دیدے یا چاہے تو کپڑا بیچ کر ثمن دونوں پر تقسیم کر دیا جائے اور اگر ایک ہی شخص کے کپڑے اور رنگ دونوں کو غصب کیا اور رنگ دیا تو مالک کو اختیار ہے کہ رنگا ہوا کپڑا لے لے اور اس صورت میں غاصب کو کچھ نہیں دیا جائے گا اور چاہے تو غاصب کو ہی وہ کپڑا دیدے او رکپڑے اور رنگ دونوں کا تاوان لے۔ (6)(عالمگیری)
1 ۔غصب کرنے والے ۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب، فصل فیما یتغیر...إلخ،ج۲،ص۳۰۱،وغیرہا.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب، فصل فیما یتغیر...إلخ،ج۲،ص۳۰۱،۳۰۲.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الثانی فی أحکام المغصوب... إلخ،ج۵،ص۱۲۱.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الثانی فی أحکام المغصوب... إلخ،ج۵،ص۱۲۱.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱۶: کپڑا غصب کر کے دھویا یا اُس میں پھننے (1)بنائے جس طرح رومال، تولیا میں بناتے ہیں تو مالک اپناکپڑا لے لے اور غاصب کو دھونے یا پھننے بٹنے کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا ہاں اگر جھالر لگائی تو اُس کا حکم وہی ہے جو رنگ کا ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: ستو غصب کر کے اُس میں گھی مل دیا تو مالک کو اختیار ہے کہ ستو کا تاوان لے اور یہ ستو غاصب کو دیدے یا یہ ستو خود لے لے اور اُتنا ہی گھی غاصب کو دیدے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: چاندی یا سونے کے زیور یا برتن غصب کر کے توڑ پھوڑ ڈالے تو مالک کو اختیار ہے کہ وہی ٹوٹا پھوٹا لے لے اور توڑنے سے جو نقصان ہوا ہے اس کا معاوضہ کچھ نہیں مل سکتا کہ سود ہوگا اور چاہے تو یہ کرسکتا ہے کہ چاندی کے زیور یا برتن کی قیمت سونے سے لگا کر اُتنا سونا لے لے اور سونے کے برتن یا زیور کی قیمت چاندی سے لگا کر اُتنی چاندی لے لے کہ جنس بدل جانے کی صورت میں سود نہ ہوگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: چاندی کی چیز پر سونے کا ملمع تھا غاصب نے ملمع دور کر دیا مالک کو اختیار ہے کہ اپنی یہی چیز لے لے اور نقصان کا معاوضہ کچھ نہیں لے سکتا اور چاہے تو غیر جنس سے اُس ملمع شدہ چیز کی قیمت کا تاوان لے اور اگر بیع میں یہی صورت ہوتی کہ ملمع شدہ چیز خرید کر مشتری (5)نے اُس کے ملمع کو دور کر دیا پھر اُس کے بعد اس چیز کے کسی عیب سابق پر(6)مطلع ہوا تو نہ چیز کوواپس کرسکتا کہ اُس نے اُس میں ایک جدید عیب پیدا کر دیا اور نہ نقصان لے سکتا کہ سود ہوگا۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: تانبے لوہے پیتل کی چیزیں اگر اپنی صنعت کی وجہ سے حدوزن سے خارج نہ ہوئی ہوں یعنی اب بھی وہ وزن سے بکتی ہوں اور اُن کو غاصب نے خراب کر ڈالا تو مالک کو اختیار ہے کہ اُسی جنس کو تاوان میں لے اور اس صورت میں کچھ زیادہ نہیں لے سکتا اور چاہے تو روپے پیسے سے اُس کی قیمت لے لے خرابی تھوڑی ہو یا زیادہ سب کا ایک حکم ہے۔ اور اگر حد وزن سے خاج ہو کر گنتی سے بکتی ہوں تو اگر تھوڑا نقصان ہے مالک یہی کرسکتا ہے کہ چیز اپنے پاس رکھ لے اور نقصان کا معاوضہ لے،
1 ۔دھاگے یا ریشم کا پھول یا گچھا۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الثانی فی أحکام المغصوب... إلخ،ج۵،ص۱۲۲.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص ۳۲۹.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الثانی فی أحکام المغصوب...إلخ،ج۵،ص۱۲۳.
5 ۔خریدار۔ 6 ۔یعنی خریدنے سے پہلے جوعیب تھا اُس پر۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الغصب،مطلب: شری داراً...إلخ،ج۹،ص۳۲۶.
چیز غاصب کو دے کر قیمت نہیں لے سکتا اور اگر زیادہ عیب پیدا ہوگیا ہے تو اختیار ہے کہ چیز دیدے اور قیمت لے لے یا چیز رکھ لے اور نقصان وصول کرے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: جانور غصب کیا غاصب کے یہاں وہ مدت تک رہا بڑھ گیا اور اُس کی قیمت زیادہ ہوگئی مالک اپنا جانور لے لے گا اور غاصب کو کوئی معاوضہ نہیں ملے گا۔ کھیت یا باغ کو چھین کر اُس کو پانی دیا زراعت بڑھ گئی درخت میں پھل آگئے مالک اپنا کھیت اور باغ لے لے گا اور کوئی معاوضہ نہیں دے گا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: روئی غصب کر کے کتوالی یا سوت غصب کر کے کپڑا بُنوا لیا مالک کپڑے یا سوت کو نہیں لے سکتا بلکہ روئی یا سوت کا تاوان لے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: زمین غصب کر کے اُس میں عمارت بنا لی یا درخت لگائے غاصب کو حکم دیا جائے گا کہ اپنی عمارت اوٹھالے جا اور درخت کاٹ لے اور اگر عمارت و درخت کے نکالنے میں زمین خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو مالک زمین درخت یا عمارت کی قیمت دیدے اور یہ اس کے ہو جائیں گے۔ قیمت اس طرح دلائی جائے گی کہ دیکھا جائے تنہا زمین کی کیا قیمت ہے اور زمین کی مع عمارت یا درخت کے کیا قیمت ہے جو کچھ زیادتی ہو وہ غاصب کو دلا دی جائے۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۴: زمین غصب کر کے اُسی زمین کی مٹی سے دیوار بنوائی تو یہ دیوار بھی مالک زمین کی ہے اس کا معاوضہ غاصب کو نہیں ملے گا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: لکڑی غصب کر کے چیر ڈالی وہ اب تک مالک ہی کی ملک ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۲۶: لکڑی چیرنے کے لیے آرہ عاریت لیا وہ ٹوٹ گیا اور اس نے بلا اِجازتِ مالک اُسے جوڑوایا ٹوٹے ہوئے آرہ کی قیمت مالک کو دے اور یہ آرہ اسی کا ہوگیا۔ (7)(درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب، الباب الثانی فی أحکام المغصوب...إلخ،ج۵،ص۱۲۳.
2 ۔المرجع السابق،ص ۱۲۴.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب، فصل فیما یتغیر...إلخ،ج۲،ص۳۰۱.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الثانی فی أحکام المغصوب... إلخ،ج۵،ص۱۲۵.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۳۲.
7 ۔المرجع السابق،ص۳۳۳.
مسئلہ ۲۷: مردار کا چمڑا غصب کر کے اُسے پکا لیا اگر ایسی چیز سے پکایا جس کی کوئی قیمت نہیں جب تو مالک چمڑے کو مفت لے لے گا اور اگر ایسی چیز سے پکایا جس کی کوئی قیمت ہے تو جو کچھ پکانے سے چمڑے کی قیمت میں زیادتی ہوئی غاصب کو مالک دے گا یعنی اگر یہ چمڑا مذبوح کا ہوتا تو کیا قیمت ہوتی اور اب پکنے پر کیا قیمت ہے جو کچھ قیمت میں اضافہ ہو غاصب کو دے اور اگر غاصب کے پاس وہ چمڑا بغیر کسی کے فعل کے ضائع ہوگیا تو غاصب سے تاوان نہیں لیا جائے گا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: دروازے کا ایک بازو تلف کر دیا یا موزے یا جوتے میں سے ایک کو تلف کر دیا تو مالک کو اختیار ہے کہ دوسرا بھی اسی کو دے کر دونوں بازو یا دونوں موزے یا دونوں جوتے کی قیمت اس سے وصول کرے اگر انگوٹھی کا حلقہ خراب کر ڈالا نگینہ باقی ہے تو صرف حلقہ ہی کا تاوان لے سکتا ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: انڈا توڑ دیا اندر سے گندہ نکلا یا اخروٹ توڑ دیا اندر سے خالی نکلا ضمان واجب نہیں کہ یہ مال نہیں ہے۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: چٹائی کی بناوٹ (4)کھول ڈالی یا دروازہ کی چوکھٹ الگ کر دی یا اسی طرح کسی اور شے کی ترکیب(5) اور بناوٹ خراب کر دی اگر اس کو پہلی حالت پر لایا جاسکتا ہے تو اُس کو حکم دیا جائے گا کہ اُسی طرح ٹھیک کر دے اور ٹھیک نہ کیا جاسکتا ہو تو اُس سے قیمت وصول کی جائے اور یہ ٹوٹی ہوئی چیز اسے دے دی جائے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: دیوار گرا دی اور ویسی ہی بنا دی تو ضمان سے بری ہوگیا اور لکڑی کی دیوار تھی اُسی لکڑی کی بنائی بَری ہوگیا اور دوسری لکڑی کی بنائی تو بری نہ ہوا ہاں اگر یہ اُس سے بہتر ہے تو بری ہو جائے گا۔(7) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۴: دوسرے کی زمین سے مٹی اوٹھائی اگر وہاں مٹی کی کوئی قیمت نہیں ہے اور مٹی لے لینے سے زمین میں کوئی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الثانی فی أحکام المغصوب...إلخ،ج۵،ص۱۲۶.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۲۸.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الثالث فیما لایجب...إلخ،ج۵،ص۱۲۸.
4 ۔سلائی۔ 5 ۔شے کی مختلف اجزاء کوملانا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الثالث فیما لایجب...إلخ،ج۵،ص۱۲۸.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۰۴.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب، الباب الثالث فیما لایجب...إلخ،ج۵،ص۱۲۹.
نقصان بھی پیدا نہیں ہوا تو کچھ نہیں اور زمین میں نقصان ہوگیا تو نقصان کا ضمان دے اور اگر مٹی کی وہاں قیمت ہے تو تاوان بہرحال ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: دوسرے کا گوشت بغیر اُس کے حکم کے پکا ڈالا ضمان دینا ہوگا اور اگر مالک نے گوشت کو دیگچی میں رکھ کر چولہے پر چڑھا دیا اور چولہے میں لکڑیاں بھی رکھ دی تھیں اس نے اُس کے بغیر کہے لکڑیوں میں آگ دیدی اور گوشت پک گیا اس پر تاوان نہیں اسی کی مثل چار صورتیں اور ہیں۔ اول یہ کہ کسی شخص کے گیہوں بغیر اُس کے حکم کے پیس دیے تاوان دینا ہوگا اور اگر گیہوں والے نے گیہوں پیسنے کے لیے چکی میں ڈالے تھے اور چکی میں بیل جوڑ دیا تھا اس نے بیل کو چلا دیا اور گیہوں پس گئے تاوان نہیں۔ دوم یہ کہ دوسرے کا گھڑا اٹھایا اور ٹوٹ گیا تاوان دینا ہوگا اور گھڑے والے نے گھڑا جھکایا اور اُٹھانا چاہتا تھا اس نے ہاتھ لگا دیا اور گھڑا دونوں سے چھوٹ کر گرا تاوان نہیں۔ سوم کسی کے جانور پر بوجھ لاد دیا اور جانور ہلاک ہوگیا تاوان ہے اور اگر مالک نے بوجھ لادا تھا اور وہ بوجھ راستہ میں گر پڑا اس نے اٹھا کر لاد دیا اور جانور ہلاک ہوگیا تاوان نہیں۔ چہارم کسی کے قربانی کا جانور ایام قربانی کے سوا دوسرے دنوں میں ذبح کیا تاوان ہے اور قربانی کے دنوں میں ذبح کر ڈالا جائز ہے اور تاوان نہیں۔ جن صورتوں میں تاوان نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ صراحۃً اجازت نہیں ہے مگر دلالۃًاجازت ہے اور دلالت بھی اعتبار کی جاتی ہے جبکہ صراحت کے خلاف نہ ہو۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: ایک شخص نے دیوار گرانے کے لیے مزدور اکٹھے کیے تھے اس کی دیوار بلا اجازت گرا دی تاوان نہیں کہ یہاں بھی دلالۃًاجازت ہے۔ اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جو کام ایسا ہے کہ اُس میں جس سے بھی مددلے لیں فرق نہیں ہوتا اُس میں دلالت کافی ہے اور اگر ہر شخص یکساں نہ کرسکتا ہو تو ہر شخص کے لیے اجازت نہیں ہے مثلاًبکری ذبح کر کے کھال کھینچنے کے لیے لٹکا دی تھی کوئی آیا اور اُس نے بغیر اجازت کھال کھینچی ضامن ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: قصاب نے بکری خریدی تھی اور بغیر اجازت کسی نے ذبح کر ڈالی ضمان دینا ہوگا اور اگر قصاب نے بکری کو گرا کر اس کے ہاتھ پاؤں ذبح کرنے کے لیے باندھ رکھے تھے اور اس نے ذبح کر دی تاوان نہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: دوسرے کے مال کو بغیر اجازت خرچ کرنا چند موقعوں پر جائز ہے۔ مریض کے مال یعنی نقود کو اُس کا باپ یا بیٹا اوس کی ضروریات میں بغیر اجازت صرف کرسکتا ہے۔ سفر میں کوئی شخص بیمار ہوگیا یا وہ بیہوش ہوگیا اُس کے ساتھ والے اُس کی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب، الباب الثالث فیمالایجب...إلخ،ج۵،ص۱۲۹.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق.
ضروریات میں اُس کا مال صرف کرسکتے ہیں۔ مودَع مودِع کے مال کو اُس کے والدین پر خرچ کرسکتا ہے جبکہ ایسی جگہ ہو کہ قاضی سے اجازت حاصل نہ کرسکے۔ سفر میں کوئی شخص مرگیا اُس کے سامان کو بیچ کر تجہیز و تکفین میں صرف کرسکتے ہیں اور باقی جو رہ جائے وہ ورثہ کو دے دیں۔ مسجد کا کوئی متولی نہیں ہے اہل محلہ مسجد کی آمدنی کو لوٹے چٹائی وغیرہ ضروریات مسجد میں صرف کرسکتے ہیں۔ میت نے کسی کو وصی نہیں کیا ہے بڑے ورثہ چھوٹوں پر خرچ کرسکتے ہیں۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جانور چھوٹ گیا اور اُس نے کسی کا کھیت چر لیا تاوان واجب نہیں۔ بلی نے کسی کا کبوتر کھالیا تو تاوان نہیں اور اگر کبوتر یا مرغی پر بلی چھوڑی اور اُس نے اُسی وقت پکڑ لیا تاوان ہے اور کچھ دیر بعد پکڑا تو تاوان نہیں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مسلمان کے پاس شراب تھی اُسے کسی نے تلف کر دیا (3)اس پر تاوان نہیں تلف کرنے والا مسلم ہو یا کافر اور ذمی کی شراب کسی نے تلف کی تو اُس پر تاوان ہے۔ مسلم نے تلف کی ہے تو قیمت دے اور ذمی نے تلف کی تو اُس کی مثل شراب دے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: مسلمان نے کافر سے شراب خرید کر پی لی تو نہ ضمان واجب ہے نہ ثمن۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: مسلمان کی شراب غصب کر کے سرکہ بنا لیا اگر ایسی چیز ڈال کر بنایا جس کی کچھ قیمت نہیں ہے مثلا تھوڑا سا نمک یا تھوڑے سے گیہوں تو یہ سرکہ اُسی کا ہے جس کی شراب تھی اور اگر زیادہ نمک وغیرہ ڈالا جس کی کچھ قیمت ہے تو سرکہ غاصب کا ہے اور غاصب پر تاوان بھی نہیں۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: کسی نے دوسرے کی چیز تلف کر دی مالک نے اس کو جائز رکھا کہہ دیا کہ میں نے جائز کر دیا یا میں اس پر راضی ہوں وہ ضمان سے بری نہیں ہوگا یعنی مالک چاہے تو اس کہنے کے بعد بھی ضمان لے سکتا ہے۔ (7)(تنویر)
مسئلہ ۱۴: غاصب کے پاس سے کوئی دوسرا غصب کرکے لے گیا مالک کو اختیار ہے غاصبِ اول سے تاوان لے یا غاصبِ دوم سے، اگر غاصبِ اول سے ضمان لیا تو وہ غاصبِ دوم سے رجوع کریگا اور غاصبِ دوم سے لیا تو وہ اول سے رجوع
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الغصب،مطلب: فیما یجوزمن التصرف...إلخ،ج۹،ص۳۳۴.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الثالث فیما لایجب...إلخ،ج۵،ص۱۳۰.
3 ۔ضائع کردیا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹، ص ۳۴۹.
5 ۔المرجع السابق،ص۳۵۰. 6 ۔ المرجع السابق،ص ۳۵۱.
7 ۔''تنویر الأبصار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۳۱.
نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگر غاصب نے مغصوب کو کسی کے پاس ودیعت رکھا تو مالک اس مودَع سے تاوان لے سکتا ہے ایک سے ضمان لے گا تو دوسرا بری ہو جائے گا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: غاصب الغاصب نے مغصوب چیز غاصب اول کے پاس واپس کر دی تاوان سے بری ہوگیا اور مغصوب چیز غاصب دوم نے ہلاک کر دی اور اُس کی قیمت غاصب اول کو دیدی اب بھی بری ہوگیا اب مالک اس سے تاوان کا مطالبہ نہیں کرسکتا مگر یہ ضرور ہے کہ مغصوب کا واپس کرنا یا اُس کی قیمت ادا کرنا معروف ہو قاضی نے اس کے متعلق فیصلہ کیا ہو یا گواہوں سے ثابت ہو یا خود مالک نے تصدیق کی ہو۔ اور اگر یہ باتیں نہ ہوں بلکہ غاصب اول نے اقرار کیا ہو کہ اُس نے چیز یا اُس کی قیمت مجھ کو دیدی ہے تو یہ اقرار محض غاصب اول کے حق میں معتبر ہے یعنی اُس کو لینے والا قرار دیا جائے گا اصل مالک کے حق میں وہ اقرار بے کار ہے یعنی وہ اب بھی غاصب دوم سے مطالبہ کر کے ضمان وصول کرسکتا ہے مگر چونکہ غاصب اول اقرار کرچکا ہے لہٰذا غاصب دوم اُس سے رجوع کریگا اور اگر غاصب اول سے مالک نے ضمان لیا تو وہ دوم سے نہیں لے سکتا کہ مغصوب یا اُس کی قیمت پانے کا اقرار کرچکا ہے۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: غاصب نے مغصوب کو بطور عاریت دے دیا ہے تو مالک معیر و مستعیر جس سے چاہے ضمان لے سکتا ہے جس سے لے گا وہ دوسرے سے نہیں لے سکتا ہاں اگر مستعیر نے اس چیز کو تلف کر دیا ہے اور مالک نے معیر سے ضمان لیا تو وہ مستعیر سے رجوع کرسکتا ہے۔ اور غاصب نے ہبہ کر دیا ہے اور موہوب لہ کے پاس ہلاک ہوگئی اور مالک نے اس سے ضمان لیا تو یہ واہب سے رجوع نہیں کرسکتا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: غاصب نے مغصوب کو بیچ ڈالا اور مشتری کو تسلیم کر دیا اور مالک نے غاصب سے ضمان لے لیا تو بیع صحیح ہوگئی اور ثمن غاصب کا ہوگیا اور مشتری سے ضمان لیا تو بیع باطل ہوگئی مشتری غاصب سے ثمن واپس لے اور اگر مبیع مشتری کو نہیں دی ہے تو مشتری سے ضمان نہیں لے سکتا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: غاصب نے مغصوب کو رہن رکھ دیا ہے یا اُجرت پر دے دیا ہے اور مالک نے مرتہن یا مستاجر سے تاوان لیا تو یہ غاصب پر رجوع کریں گے ،یوہیں مودَع سے تاوان لیا تو وہ غاصب سے وصول کریگا۔(5) (ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الثانی عشر فی غاصب الغاصب...إلخ،ج۵،ص۱۴۶.
2 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الغصب، مطلب: فی ابحاث غاصب الغاصب،ج۹، ص۳۳۰.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب، الباب الثانی عشر فی غاصب الغاصب...إلخ،ج۵،ص ۱۴۶.
4 ۔المرجع السابق، ص ۱۴۷.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الغصب، مطلب: فی ابحاث غاصب الغاصب،ج۹،ص۳۳۱.
مسئلہ ۱۹: مالک کو اختیار ہے کہ کچھ حصہ ضمان کا غاصب سے لے اور باقی غاصب الغاصب سے اور ایک سے ضمان کو اختیار کر لیا تو اب دوسرے سے نہیں لے سکتا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: غاصب سے مغصوب کو کسی نے اس لیے لیا ہے کہ مالک کو دیدے گا مالک کے یہاں گیا وہ نہیں ملا تو یہ شخص غاصب الغاصب کے حکم میں ہے جب تک مالک کو دے نہ دے بریئ الذمہ نہ ہوگا۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: ایک شخص نے گھوڑا غصب کیا اس سے دوسرے نے غصب کیا دوسرے کے یہاں سے مالک چورا لے گیا پھر غاصب دوم اس مالک سے زبردستی چھین لے گیا اور مالک کو اس سے مقابلہ کی طاقت نہیں ہے مالک یہ چاہتا ہے کہ غاصب اول سے مطالبہ کرے اب یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ جب اُس کی چیز اُس کو مل گئی کسی طرح سے بھی ملی غاصب بری ہوگیا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: غاصب نے مغصوب کو بیع کر دیا اور مالک نے اس بیع کو جائز کر دیا بیع صحیح ہو جائے گی بشرطیکہ وقتِ اجازت بائع یعنی غاصب اور مشتری و مغصوب سب موجود ہوں ہلاک نہ ہوئے ہوں اور یہ اجازت مقدمہ دائر کرنے سے قبل ہو۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: غاصب نے مغصوب کو بیع کر دیا پھر خود غاصب اس چیز مغصوب کا مالک ہوگیا کہ مالک سے خرید لی یا اُس نے اسے ہبہ کر دی یا میراث میں یہ چیز اسے ملی تو وہ پہلی بیع جو اس نے کی تھی باطل ہوگئی۔ (5)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۴: شہر یا گاؤں میں آگ لگ گئی بجھانے کے لیے کسی کی دیوار یا مکان پر چڑھا اور اس کے چڑھنے سے عمارت کو نقصان پہنچا کوئی چیز ٹوٹ گئی یا دیوار گر گئی اس کا تاوان واجب نہیں۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۲۵: کسی کے مکان میں بغیر اجازت مالک داخل ہونا جائز نہیں مگر بضرورت مثلاًاس کا کپڑا اُڑ کر اُس مکان میں چلا گیا اور معلوم ہے کہ اگر مالک مکان سے کہہ دے گا تو وہ لے لے گا اسے نہیں دے گا مگر اچھے لوگوں سے یہ کہہ دے کہ محض اس غرض سے مکان میں گھسنا چاہتا ہے اور اگر مالک سے اندیشہ نہیں ہے تو جانے کی ضرورت نہیں مالک سے کہہ دے کہ کپڑا لا کر
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب ج۹،ص۳۳۰.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الغصب،مطلب: فی ابحاث غاصب الغاصب،ج۹،ص۳۳۱.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الثانی عشر فی غاصب الغاصب...إلخ،ج۵، ص ۱۴۸.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الرابع عشر فی المتفرقات،ج۵،ص ۱۴۹،۱۵۰.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ ...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۱۱.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۳۳.
دیدے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی اُچکا اس کی چیز لے کر کسی کے مکان میں گھس گیا یہ اُس سے لینے کے لیے اُس کے پیچھے جاسکتا ہے۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: ایک شخص نے قبر کھودوائی تھی دوسرے نے اپنی میت اُس میں دفن کر دی اگر یہ زمین پہلے شخص کی مملوک ہے تو وہ قبر کھود کر میت نکلوا سکتا ہے یا زمین کو برابر کر کے اُس کو کام میں لاسکتا ہے اور میت کی توہین کرنے والا یہ نہیں ہے۔ بلکہ حقیقۃً میت کی توہین اُس نے کی کہ بغیر اجازت پرائی زمین میں دفن کر دی۔ اور اگر وہ زمین مباح یا وقف ہے تو نہ میت کو نکال سکتا ہے نہ زمین کو برابر کرسکتا ہے قبر کھودنے کی اُجرت لے سکتا ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲۷: غاصب(3)نے مغصوب چیز کو غائب کر دیا پتا نہیں چلتا کہ کہاں ہے مالک کو اختیار ہے کہ صبر کرے اورچیز ملنے کا انتظار کرے اور چاہے تو غاصب سے ضمان لے اگر غاصب سے ضمان لے لیا تو چیز غاصب کی ہوگئی اور غاصب کی یہ مِلک مِلکِ مستند ہے یعنی اگرچہ ملک کا حکم اس وقت دیا جائے گا مگر یہ مِلک وقتِ غصب سے شمار ہوگی اور اوس چیز میں جو زوائدمُتَّصِلہ ہوئے غاصب ان کا بھی مالک ہے(4)اور زوائدمُنْفَصِلہ(5)کا مالک نہیں جیسے درخت میں پھل اور جانوروں میں بچے۔ (6)(ہدایہ، عنایہ)
مسئلہ ۲۸: اُس چیز کی قیمت کیا ہے اگر اس میں اختلاف ہے تو گواہ مالک کے معتبر ہیں اور گواہ نہ ہوں تو غاصب جو کہتا ہے قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہے۔(7) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۲۹: غاصب اگر یہ کہتا ہے کہ اس کی قیمت کیا ہے میں نہیں جانتا تو اُسے مجبور کیا جائے گا کہ بتائے اور نہیں
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الغصب،مطلب: فیمایجوز فیہ...إلخ،ج۹،ص۳۳۳.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۳۳.
3 ۔غصب کرنے والا۔
4 ۔یعنی ایسی زیادتیاں جو اس چیزکے ساتھ متصل ہوں وہ بھی غاصب کی ملکیت شمار ہوں گی۔
5 ۔چیز میں ایسی زیادتی جو اس کے ساتھ متصل نہ ہو۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب، فصل،ج۲،ص۳۰۲.
و''العنایۃ''علی''فتح القدیر''،کتاب الغصب،فصل،ج۸،ص۲۷۲.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب، فصل،ج۲،ص۳۰۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الغصب،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۹،ص۳۳۷.
بتاتاتو جو کچھ مالک کہتا ہے اُس پر غاصب کو قسم دی جائے یعنی قسم کھائے کہ یہ قیمت نہیں ہے جو مالک کہتا ہے اگر قسم کھانے سے انکار کرتا ہے تو مالک جو کچھ کہتا ہے دینا ہوگا اور قسم کھا گیا تو مالک کو قسم کھانی ہوگی کہ جو کچھ میں نے قیمت بیان کی وہی ہے۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: شے مغصوب ضمان لینے کے بعد ظاہر ہوگئی تو مالک کو اختیار ہے کہ ضمان جو لے چکا ہے واپس کر دے اور اپنی چیز لے لے اور چاہے تو ضمان کو نافذ کر دے یہ اُس صورت میں ہے کہ قیمت وہ لی گئی جو غاصب نے بتائی ہے اور غاصب کو اختیار نہیں ہے اور اگر قیمت وہ دلائی گئی ہے جو مالک نے بتائی یا مالک نے گواہوں سے ثابت کی ہے یا غاصب پر قسم دی گئی اس نے قسم کھانے سے انکار کر دیا ہے تو ان صورتوں میں مالک اس چیز کو نہیں لے سکتا۔ (2)(ہدایہ، عنایہ)
مسئلہ ۳۱: مغصوب میں جو زیادت مُنفَصِلہ پیدا ہوئی مثلاً جانور کا دودھ، درخت کے پھل، یہ غاصب کے پاس بمنزلہء امانت ہے اگر غاصب نے اُس میں تعدِّی کی ،ہلاک کر ڈالی،خرچ کر ڈالی یا مالک نے طلب کی اور غاصب نے نہیں دی جب تو ضمان واجب ہوگا ورنہ ان کا ضمان واجب نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۳۲: طبلہ(4)، سارنگی(5)، ستار(6)، یکتارا(7)، دوتارا(8)، ڈھول اور ان کے علاوہ دوسری قسم کے باجے کسی نے توڑ ڈالے توڑنے والے کو تاوان دینا ہوگا مگر تاوان میں باجے کی قیمت نہیں دی جائے گی بلکہ اوس قسم کی لکڑی کُھدی ہوئی باجے کے سوا اگر کسی جائز کام میں آئے اُس کی جو قیمت ہو وہ دی جائے یہ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے مگر صاحبین کے قول پر فتویٰ ہے وہ یہ کہ توڑنے والے پر کچھ بھی تاوان واجب نہیں بلکہ ان کی بیع بھی جائز نہیں اور یہ اختلاف اُسی صورت میں ہے جب وہ لکڑی کسی کام میں آسکتی ہو ورنہ بالاتفاق تاوان نہیں اور اگر امام کے حکم سے توڑے ہوں تو بالاتفاق تاوان واجب نہیں اور یہ اختلاف اُس میں ہے کہ وہ باجے ایسے شخص کے نہ ہوں جو گاتا بجاتا ہو
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الغصب، فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۹، ص۳۳۸.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب، فصل،ج۲،ص۳۰۲،۳۰۳.
و''العنایۃ''،علی''فتح القدیر''،کتاب الغصب،فصل،ج۸،ص۲۷۳.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۹،ص۳۴۱.
4 ۔ایک قسم کا ایک رُخا ڈھول۔ 5 ۔ایک قسم کا ساز جس میں تار لگے ہوئے ہوتے ہیں اسے گز سے بجایاجاتا ہے۔
6 ۔ایک قسم کا ساز جسے مضراب(ستار بجانے کے لئے استعمال ہونے والا ایک چھوٹا سا آلہ)سے بجایا جاتا ہے۔
7 ۔ایک قسم کا باجاجس میں ایک تارلگاہوتاہے۔ 8 ۔ایک قسم کی چھوٹی سارنگی جس میں دو تار ہوتے ہیں۔
اور گویے کے ہوں تو بھی بالاتفاق تاوان واجب نہیں۔ (1)(ہدایہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: شطرنج، گنجفہ(2)، چوسر(3)، تاش وغیرہ ناجائز کھیل کی چیزیں تلف کر دیں ان کا بھی تاوان واجب نہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: طبل غازی کو توڑ ڈالا یا وہ دف جس کو شادیوں میں بجانا جائز ہے اسے توڑا یا چھوٹے بچوں کے تاشے باجے توڑ ڈالے تو ان کا تاوان ہے۔(5) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: بولنے والے کبوتر یا فاختہ کو تلف کیا تو تاوان میں وہ قیمت لی جائے گی جو بولنے والے کی ہے اسی طرح بعض کبوتر خوبصورت ہوتے ہیں اس کی وجہ سے اُن کی قیمت زیادہ ہوتی ہے تو تاوان میں یہی قیمت لی جائے گی اور اُڑنے والے کبوتروں میں وہ قیمت لگائی جائے گی جو نہ اُڑنے والے کی ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: سینگ والامینڈھا جو لڑایا جاتا ہے یا اصیل مرغ جس کو لڑاتے ہیں ان میں وہ قیمت لگائی جائے گی جو نہ لڑنے والوں کی ہے کیونکہ ان کا لڑانا حرام ہے قیمت میں اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ (7)(عالمگیری)یوہیں تیتر، بٹیر وغیرہ لڑاتے ہیں اور اس کی وجہ سے انھیں بہت داموں میں خریدتے بیچتے ہیں ان کے اتلاف میں وہی قیمت لی جائے گی جو گوشت کھانے کے تیتر بٹیر کی ہو۔
مسئلہ ۳۷: درخت میں چھوٹے چھوٹے پھل ہیں جو اس وقت کسی کام کے نہیں جیسے امرود کے ابتدائی پھل وہ تلف کر ڈالے تو یہ نہیں خیال کیا جائے گا کہ ان کی کچھ قیمت نہیں ہے بلکہ تاوان لیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ تنہا درخت کی کیا قیمت ہے اور درخت مع پھل کی کیا قیمت ہے جو زیادتی قیمت میں ہو وہ نقصان کرنے والے سے لی جائے۔ یوہیں اگر درخت میں
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الغصب،فصل فی غصب مالایتقدم،ج۲،ص۳۰۷.
و''الدرالمختار'' و'' ردالمحتار''،کتاب الغصب، مطلب: فی ضمان...إلخ،ج۹،ص۳۵۲.
2 ۔ایک قسم کا کھیل جس میں 96گول پتے اور تین کھلاڑی ہوتے ہیں۔
3 ۔ایک قسم کا کھیل جو سات کوڑیوں سے کھیلا جاتا ہے اس کی بساط کے چار حصے ہوتے ہیں اور ہر حصے میں نو خانے ہوتے ہیں۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الرابع فی کیفیۃ الضمان،ج۵،ص۱۳۱.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۹، ص۳۵۴.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الرابع فی کیفیۃ الضمان،ج۵،ص۱۳۱.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الرابع فی کیفیۃ الضمان،ج۵،ص۱۳۱.
7 ۔المرجع السابق.
کلیاں نکلی ہیں اور کسی نے ان کو جھاڑ کر گرا دیا تو یہاں بھی اُسی صورت سے تاوان لیا جائے گا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: کسی شخص نے خاص کوئیں میں نجاست ڈالی تو اوس سے تاوان لیا جائے گا۔ اور عام کوئیں میں ڈالی تو اسے حکم ہوگا کہ کوئیں کو پاک کرے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: علی بن عاصم رحمہ اﷲتعالٰی علیہ کہتے ہیں میں نے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سؤال کیا کہ ایک شخص کا ایک روپیہ دوسرے کے دو روپے میں مل گیا اُس کے پاس سے دو روپے جاتے رہے ایک باقی ہے اور معلوم نہیں یہ کس کا روپیہ ہے اس کا کیا حکم ہے امام نے فرمایا وہ جو باقی ہے اُس میں سے ایک تہائی ایک روپیہ والے کی ہے اور دو تہائیاں دو۲ روپے والے کی۔ علی بن عاصم کہتے ہیں اس کے بعد میں ابن شبرمہ رحمہ اﷲتعالٰی علیہ سے ملا اور ان سے بھی یہی سؤال کیا اُنھوں نے کہا تم نے اس کو کسی اور سے بھی پوچھا ہے میں نے کہا ہاں ابو حنیفہ رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ سے پوچھا ہے ابن شبرمہ نے کہا اُنھوں نے یہ جواب دیا ہوگا میں نے کہا ہاں۔ ابن شبرمہ نے کہا اُنھوں نے غلط جواب دیا اس لیے کہ دو روپے جو گم ہوگئے اون میں ایک تو یقینا اُس کا ہے جس کے دو روپے تھے اور ایک میں احتمال ہے کہ اُس کا ہو یا ایک روپیہ والے کا ہو اور جو باقی ہے اس میں بھی احتمال ہے کہ دو والے کا ہو یا ایک والے کا دونوں برابر کا احتمال رکھتے ہیں لہٰذا نصف نصف دونوں بانٹ لیں۔ کہتے ہیں مجھے ابن شبرمہ کا جواب بہت پسند آیا پھر میں امام اعظم(رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے ملا اور ان سے کہا کہ اس مسئلہ میں آپ کے خلاف جواب ملا ہے امام (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے فرمایا کیا تم ابن شبرمہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کے پاس گئے تھے میں نے کہا ہاں۔ فرمایا انھوں نے تم سے یہ کہا ہے وہ سب باتیں بیان کر دیں میں نے کہا ہاں۔ فرمایا کہ جب تینوں روپے مل گئے اور امتیاز باقی نہ رہا توہر روپیہ میں دونوں شریک ہوگئے ایک والے کی ایک تہائی اور دو والے کی دو تہائیاں پھر جب دو گم ہوگئے تو دونوں کی شرکت کے دو روپے گم ہوئے اور جو باقی ہے یہ بھی دونوں کی شرکت کا ہے کہ ایک تہائی ایک کی اور دو تہائیاں دوسرے کی۔ (3)(جوہرہ)
مسئلہ ۴۰: ایک شخص نے دوسرے سے کہا اس بکری کو ذبح کر دو اوس نے ذبح کر دی اور بکری اوس کی نہ تھی جس نے ذبح کرنے کو کہا تھا تو ذبح کرنے والے کو تاوان دینا ہوگا اوسے یہ بات کہ بکری دوسرے کی ہے معلوم ہو یا نہ ہو دونوں کا ایک حکم ہے ہاں یہ فرق ہے کہ اگر معلوم نہیں ہے تو کہنے والے سے رجوع کرسکتا ہے اور معلوم ہو تو رجوع بھی نہیں کرسکتا۔(4) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الرابع فی کیفیۃ الضمان،ج۵،ص۱۳۱.
2 ۔المرجع السابق،ص ۱۳۲.
3 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الغصب،الجزء الأول، ص ۴۴۶.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب التاسع فی الأمربالاتلاف...إلخ،ج۵،ص۱۴۲.
مسئلہ ۴۱: کسی نے کہا میرے اس کپڑے کو پھاڑ کر پانی میں ڈال آؤ اُس نے ایسا ہی کیا تو اُس پر تاوان نہیں مگر گنہگار ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: زمین غصب کر کے اُس میں کوئی چیز بوئی مالک نے کھیت جوت کر کوئی اور چیز بودی مالک کو تاوان نہیں دینا ہوگا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت کاشت کی مالک نے کہا تم نے ایسا کیوں کیا میرا کھیت واپس دو بونے والے نے کہا اُتنے ہی بیج مجھے دے دو اور میں اُجرت کے طور پر کام کروں گا یا یہ کہ جو کچھ کھیت میں ہو نصف میرا اور نصف تمہارا مالک زمین نے بیج دے دیے پیداوار مالک زمین لے گا اور اس کو اُجرت مثل دے گا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: درخت کی شاخ دوسرے کی دیوار پر آگئی اس کو اپنی دیوار کے نقصان پہنچ جانے کا اندیشہ ہے مالکِ درخت سے کہہ دے کہ شاخ کاٹ ڈالو ورنہ میں خود کا ٹ ڈالوں گا اگر مالک نے کاٹ دی فبہا ورنہ یہ کاٹ ڈالے اس پر تاوان واجب نہیں کہ مالک کا خاموش رہنا رضامندی کی دلیل ہے اور اگر مالکِ درخت سے بغیر کہے کاٹ ڈالی تو تاوان واجب ہوگا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: دو انڈے غصب کئے ایک کو مرغی کے نیچے رکھ دیا اور دوسرے کو اس نے نہیں رکھا بلکہ مرغی آپ سیتی رہی(5)اور دونوں سے بچے ہوئے تو دونوں غاصب کے ہیں اور غاصب سے دو انڈے تاوان میں لیے جائیں گے اور اگر غصب نہ کیے ہوتے بلکہ اس کے پاس ودیعت ہوتے تو جس انڈے کو مرغی نے خود سی کر بچہ نکالا وہ مودِع کا ہوتا اور جس کو مرغی کے نیچے رکھتا وہ مودَع کا ہوتا اور اس انڈے کا تاوان دینا ہوتا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: تنور میں اتنی لکڑیاں ڈال دیں کہ تنور اُن کا متحمل نہ تھا شعلہ اوٹھا اور وہ مکان جلا اورپروس کا مکان بھی جل گیا اس مکان کا تاوان دینا ہوگا۔ (7)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب التاسع فی الأمربالاتلاف...إلخ،ج۵،ص۱۴۳.
2 ۔المرجع السابق،الباب العاشر فی زراعۃالأرض المغصوبۃ ،ج۵،ص۱۴۴. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الرابع عشر فی المتفرقات،ج۵،ص۱۵۰.
5 ۔مرغی خود انڈوں پربچے نکالنے کے لیے بیٹھتی رہی۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الرابع عشر فی المتفرقات،ج۵،ص۱۵۱.
7 ۔المرجع السابق،ص۱۵۲.
مسئلہ ۴۷: ایک شخص کا دامن دوسرے شخص کے نیچے دبا ہوا تھا دامن والے کو خبر نہ تھی وہ اوٹھا اور دامن پھٹ گیا آدھا تاوان اس پر واجب ہے جس نے دبا رکھا تھا۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۴۸: دلال کو بیچنے کے لیے چیز دی تھی دلال کو معلوم ہوا کہ یہ چیز چوری کی ہے، جس نے دی اُسے واپس کر دی مالک نے دلال سے اپنی چیز مانگی اس نے کہا جس نے مجھے دی تھی اُس کو دے دی دلال بری ہوگیا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: دائن نے مدیون کے سر سے پگڑی اوتار لی اور یہ کہا کہ جب میرا روپیہ لاؤ گے تمہاری پگڑی دے دوں گا وہ جب روپیہ لایا تو پگڑی ضائع ہوگئی تھی تو اس کے لیے غصب کا حکم نہیں ہے بلکہ رہن کا حکم ہے کہ مرہون چیز ہلاک ہونے پر جو کیا جاتا ہے یہاں بھی کیا جائے گا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: ایک کا جانور دوسرے کے گھر میں گھس گیا گھر میں سے نکالنا جانور کے مالک کا کام ہے۔ اور پرند کسی کے کوئیں میں گر کر مرگیا تو کوئیں سے اُس کو نکالنا پرند کے مالک کا کام ہے کوآں صاف کرانا اُس کے ذمہ نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: تربز غصب کیا اور اُس میں سے ایک کھانپ کاٹ لی تو تربز مالک ہی کا ہے اور سب کھانپیں کاٹ ڈالیں تو مالک کی مِلک جاتی رہی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: ایک مکان میں بہت لوگ جمع تھے صاحب خانہ کا آئینہ اوٹھا کر ایک نے دیکھا اُس نے دوسرے کو دے دیا یکے بعد دیگرے سب دیکھتے رہے اور آئینہ ٹوٹ گیا کسی سے تاوان نہیں لیا جائے گا کہ ایسی چیزوں کے استعمال کی عادۃً اجازت ہوا کرتی ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: ایک نے کسی کی ٹوپی اوتار کر دوسرے کے سر پر رکھ دی اُس نے اپنے سر سے اوتار کر ڈال دی پھر وہ ٹوپی ضائع ہوگئی اگر اُس نے ٹوپی والے کے سامنے پھینکی ہے کہ اگر وہ لینا چاہے تو لے سکتا ہے تو کسی پر تاوان نہیں ورنہ تاوان ہے دونوں میں سے جس سے چاہے تاوان وصول کرسکتا ہے۔ یوہیں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اُس کے سر سے ٹوپی گر گئی اُس کو کسی نے وہاں سے ہٹا دیا اور وہاں سے چور لے گیا اگر ایسی جگہ ہٹا کر رکھی کہ مُصلِّی لینا چاہے تو ہاتھ بڑھا کر لے سکتا ہے تو ہٹانے والے پر تاوان نہیں اور اگر دو ررکھی تو تاوان ہے۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الغصب،فصل فیمایصیربہ المرء غاصباًوضامناً،ج۲،ص۲۶۲.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الغصب، الباب الرابع عشر فی المتفرقات،ج۵،ص۱۵۴.
3 ۔المرجع السابق،ص۱۵۵. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔المرجع السابق،ص ۱۵۸. 7 ۔المرجع السابق،ص۱۵۹.
حدیث ۱: صحیح بخاری میں ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''پروسی کو شفعہ کرنے کا حق ہے''۔(1)
حدیث ۲: امام احمد و ترمذی و ابو داود و ابن ماجہ و دارمی جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''پروسی کو شفعہ کرنے کا حق ہے اس کا انتظار کیا جائے گااگرچہ وہ غائب ہو جبکہ دونوں کا راستہ ایک ہو''۔ (2)
حدیث ۳: ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنھماسے روایت کی کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''شریک شفیع ہے اور شفعہ ہر شے میں ہے''۔ (3)
حدیث ۴: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فیصلہ فرمادیا کہ شفعہ ہر شرکت کی چیز میں ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو مکان ہو یا باغ ہو۔ اُسے یہ حلال نہیں کہ شریک کو بغیر خبرکیے بیچ ڈالے خبر کرنے پر وہ چاہے تو لے لے اور چاہے چھوڑ دے اور اگر بغیر خبر کیے اُس نے بیچ ڈالا تو وہ حقدار ہے۔(4)
حدیث ۵: صحیح بخاری میں جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فیصلہ کیا کہ شفعہ ہر غیر منقسم چیز میں ہے اور جب حدود واقع ہوگئے اور راستے پھیر دیے گئے یعنی تقسیم کر کے ہر ایک کا راستہ جدا کر دیا گیا تو اب شفعہ نہیں یعنی شرکت کی وجہ سے جو شفعہ تھا وہ اب نہیں۔ (5)
حدیث ۶: صحیح بخاری میں عَمْرْو بن شَرِید سے مروی ہے کہتے ہیں میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس کھڑا تھا اتنے میں ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے اور یہ کہا کہ سعد تمہارے دار میں جو میرے دو مکان ہیں اُنھیں خرید لو اُنھوں نے کہا میں نہیں خریدوں گا مِسْوَربن مَخْرَمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا واللہ تم کو خریدنا ہوگا سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا واﷲ میں چار ہزاردرہم سے زیادہ نہیں دوں گا اور وہ بھی باقساط ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا۔ مجھے پانسو اشرفیاں مل رہی ہیں
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الشفعۃ...إلخ، باب عرض الشفعۃ علی صاحبھا قبل البیع، الحدیث: ۲۲۵۸،ج۲، ص۶۱.
2 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الأحکام، باب ماجاء في الشفعۃ للغائب، الحدیث: ۱۳۷۴،ج۳، ص۸۳.
3 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأحکام،باب ماجاء ان الشریک شفیع، الحدیث: ۱۳۷۶،ج۳، ص۸۴.
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ... إلخ، باب الشفعۃ، الحدیث:۱۳۳،۱۳۴۔( ۱۶۰۸)،ص۸۶۸.
5 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الشفعۃ... إلخ، باب الشفعۃ فیما لم یقسم... إلخ، الحدیث: ۲۲۵۷،ج۲، ص۶۱.
اور اگر میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے یہ سنا نہ ہوتا کہ پروسی کو قرب کی وجہ سے حق ہوتا ہے تو چار ہزار میں نہیں دیتا جبکہ پانسو دینار مجھے مل رہے ہیں یہ کہہ کر ان کو چار ہزار میں دے دیا۔ (1)
غیر منقول جائداد کو کسی شخص نے جتنے میں خریدا اُتنے ہی میں اُس جائداد کے مالک ہونے کا حق جو دوسرے شخص کو حاصل ہو جاتا ہے اس کو شفعہ کہتے ہیں۔ یہاں اس کی ضرورت نہیں کہ مشتری اس پر راضی ہو جب ہی شفعہ کیا جائے وہ راضی ہو یا ناراض بہرصورت جو حق دار ہے لے سکتا ہے۔ جس شخص کو یہ حق حاصل ہے اوس کو شفیع کہتے ہیں۔ مشتری نے مثلی چیز کے عوض میں جائداد خریدی ہے مثلاًروپے اشرفی پیسے کے عوض میں ہے تو اُس کی مثل دے کر شفیع لے لے گا اور اگر قیمی چیز ثمن ہے تو اُس کی جو کچھ قیمت ہے وہ دے گا۔
مسئلہ ۱: شفعہ وہ شخص کر سکتا ہے جس کی مِلک جائداد مبیعہ سے متصل ہے خواہ اُس جائداد میں شفیع کی شرکت ہو یا اس کا جوار(پروس)ہو۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲: شفعہ کے شرائط حسب ذیل ہیں۔ (۱)جائداد کا انتقال عقد معاوضہ کے ذریعہ سے ہو یعنی بیع یا معنی بیع میں ہو۔ معنی بیع مثلاً جائداد کو بدل صلح قرار دیا یعنی اُس کو دے کر صلح کی ہو اور اگر انتقال میں یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو شفعہ نہیں ہوسکتا مثلاً ہبہ، صدقہ، میراث، وصیت کی رو سے جائداد حاصل ہوئی تو اُس پر شفعہ نہیں ہوسکتا۔ ہبہ بشرط العوض میں اگر دونوں جانب سے تقابض بدلین ہوگیا تو شفعہ ہوسکتا ہے۔ اور اگر ہبہ میں عوض کی شرط نہ تھی مگر موہوب لہ نے عوض دے دیا مثلاً زید نے عَمْرْو کو ایک مکان ہبہ کر دیا اور عمرو نے زید کو اُس کے عوض میں مکان ہبہ کیا تو دونوں میں سے کسی پر شفعہ نہیں ہوسکتا۔ (3)(عالمگیری) (۲)مبیع عقار یعنی جائداد غیر منقولہ ہو منقولات میں شفعہ نہیں ہوسکتا۔ (۳)بائع کی ملک زائل ہوگئی ہو لہٰذا اگر بائع کو خیار شرط ہو تو شفعہ نہیں ہوسکتا جب وہ اپنا خیار شرط ساقط کر دے گا تب ہوسکے گا۔ اور مشتری کو خیار ہو تو شفعہ ہوسکتا ہے۔(۴)بائع کا حق بھی زائل ہوگیا ہو یعنی مبیع کے واپس لینے کا اُسے حق نہ ہو لہٰذا مشتری نے بیع فاسد کے ذریعہ سے جائداد بیچی تو شفعہ نہیں ہوسکتا۔ ہاں اگر مشتری نے اس جائداد کو بیع صحیح کے ذریعہ فروخت کر ڈالا تو اب شفعہ ہوسکتا ہے اور اس شفعہ کو اگر بیع ثانی پر بنا کرے تو بیع ثانی
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الشفعۃ... إلخ، باب عرض الشفعۃ... إلخ، الحدیث: ۲۲۵۸،ج۲،ص۶۱.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،ج۹،ص۳۶۲.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ،الباب الأول فی تفسیرھا... إلخ،ج۵،ص۱۶۰.
کا جو کچھ ثمن ہے اُس کے ساتھ لے گا اور اگر بیع اول پر بنا کرے تو مشتری کے قبضہ کرنے کے دن جو اُس کی قیمت تھی وہ دینی ہوگی۔(۵)جس جائداد کے ذریعہ سے اس جائداد پر شفعہ کرنے کا حق حاصل ہوا ہے وہ اس وقت شفیع کی ملک میں ہو یعنی جبکہ مشتری نے اس شفعہ والی جائداد کو خریدا لہٰذا اگر وہ مکان شفیع کے کرایہ میں ہو یا عاریت کے طور پر اوس میں رہتا ہے تو شفعہ نہیں کرسکتا یا اس مکان کو اس نے پہلے ہی بیع کر دیا ہے تو اب شفعہ نہیں کرسکتا۔(۶)شفیع نے اوس بیع سے نہ صراحۃً رضامندی ظاہر کی ہو نہ دلالۃً۔ (1)
مسئلہ ۳: دو منزلہ مکان ہے اُس کی دونوں منزل میں شفعہ ہوسکتا ہے مثلاًاگر صرف بالاخانہ فروخت ہوا تو شفعہ ہوسکتا ہے اگرچہ اوس کا راستہ نیچے کی منزل میں نہ ہو۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۴: نابالغ اور مجنون کے لیے بھی حق شفعہ ثابت ہوتا ہے ان کا وصی یا ولی اس کا مطالبہ کریگا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: شفعہ کے ذریعہ سے جو جائداد حاصل کی گئی وہ اُسی کی مثل ہے جس کو خریدا ہے یعنی اس جائداد میں شفیع کوخیار رویت خیار عیب حاصل ہوگا جس طرح مشتری کو ہوتا ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۶: شفعہ کا حکم یہ ہے کہ جب اس کا سبب پایا جائے یعنی جائداد بیچی گئی تو طلب کرنا جائز ہے اور بعد طلب و اشہادیہ مؤکد ہو جاتا ہے اور قاضی کے فیصلہ یا مشتری کی رضامندی سے شفیع اُس چیز کا مالک ہو جاتا ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۷: مکان موقوف کے متصل کوئی مکان فروخت ہوا تو نہ واقف شفعہ کر سکتا ہے نہ متولی نہ وہ شخص جس پر یہ مکان وقف ہے کہ شفعہ کے لیے یہ ضرورت تھی کہ جس کے ذریعہ سے شفعہ کیا جائے وہ مملوک ہو اور مکان موقوف مملوک نہیں۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: زمین موقوف میں کسی نے مکان بنایا ہے اور اُس کے جوار میں کوئی مکان فروخت ہوا تو یہ شفعہ نہیں کرسکتا اور اپنی عمارت بیع کرے تو اس پر بھی شفعہ نہیں ہوسکتا۔ (7)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ،الباب الأول فی تفسیرھا... إلخ،ج۵،ص۱۶۰،۱۶۱.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،ج۹،ص۳۶۲.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ،الباب الأول فی تفسیر ھا... إلخ،ج۵،ص۱۶۱.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،ج۹،ص۳۶۴.
5 ۔المرجع السابق،ص ۳۶۴،۳۶۵.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا... إلخ،ج ۵،ص۱۶۱.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۹: جس جائداد موقوفہ کی بیع نہیں ہوسکتی اگر کسی نے ایسی جائداد بیع کر دی تو اس پر شفعہ نہیں ہوسکتا کہ شفعہ کے لیے بیع ہونا ضرور ہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: اگر وقف ایسا ہو جس کی بیع جائز ہو اور وہ فروخت ہوا تو اس پر شفعہ ہوسکتا ہے اور اگر اُس کے جوار میں کوئی جائداد فروخت ہوئی تو وقف کی جانب سے شفعہ نہیں ہوسکتا کہ اس کا کوئی مالک نہیں جو شفعہ کرسکے۔ یوہیں اگر جائداد کا ایک جز وقف ہے اور ایک جز ملک اور جو حصہ مِلک ہے وہ فروخت ہوا تو وقف کی جانب سے اُس پر شفعہ نہیں ہوسکتا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: مکان کو نکاح کا مَہرقرار دیا یا اُس کو اُجرت مقرر کیا تو اُس پر شفعہ نہیں ہوسکتا اور اگرمَہر کوئی دوسری چیز ہے مکان کو اُس کے بدلے میں بیع کیا یا نکاح میں مہر کا ذکر نہ ہوا اورمَہرمثل واجب ہوا اُس کے بدلے میں عورت کے ہاتھ مکان بیچ دیا تو شفعہ ہوسکتا ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: شفعہ کے چند اسباب مجتمع ہو جائیں تو اُن میں ترتیب کا لحاظ رکھا جائے گا جو سبب قوی ہو اُس کو مقدم کیا جائے۔ شفعہ کے تین سبب ہیں۔ (۱)شفعہ کرنے والا شریک ہے یا(۲)خلیط ہے یا(۳)جارِ ملاصق۔ شریک وہ ہے کہ خود مبیع میں اُس کی شرکت ہو مثلاًایک مکان دو شخصوں میں مشترک ہے ایک شریک نے بیع کی تو دوسرے شریک کو شفعہ پہنچتا ہے۔ خلیط کا یہ مطلب ہے کہ خود مبیع میں شرکت نہیں ہے اس کا حصہ بائع کے حصہ سے ممتاز ہے مگر حق مبیع میں شرکت ہے مثلاًدونوں مکانوں کا ایک ہی راستہ ہے اور راستہ بھی خاص ہے یا دونوں کے کھیت میں ایک نالی سے پانی آتا ہو۔ جار ملاصق یہ ہے کہ اس کے مکان کی پچھیت(4)دوسرے کے مکان میں ہو۔ ان سب میں مقدم شریک ہے پھر خلیط اور جار ملاصق کا مرتبہ سب سے آخر میں ہے۔(5) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۲: شریک نے مشتری کو تسلیم کر دی یعنی شفعہ کرنا نہیں چاہتا ہے تو خلیط کو شفعہ کا حق حاصل ہوگیا کہ اُس کے بعد اسی کا مرتبہ ہے یا اُس جائداد میں کسی کی شرکت ہی نہیں ہے تو خلیط کو شفعہ کا حق ہے اور خلیط نے بھی مشتری سے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،ج۹،ص۳۷۱.
2 ۔المرجع السابق،ص۳۷۲.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۱۶۱.
4 ۔مکان کے پیچھے کی دیوار۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،ج۲،ص۳۰۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،ج۹،ص۳۶۵۔۳۶۸.
نہیں لینا چاہا تسلیم کر دی یا کوئی خلیط ہی نہیں ہے تو جار کو حق ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: نہرعظیم اور راستہ عام میں شرکت سبب شفعہ نہیں ہے بلکہ اس صورت میں جارملاصق کو شفعہ کا حق ملے گا۔(2)(درمختار)
مسئلہ ۴: نہر عظیم وہ ہے جس میں کشتی چل سکتی ہو اور اگر کشتی نہ چل سکے تو نہر صغیر ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۵: کوچہ سربستہ(4)میں جن لوگوں کے مکانات ہیں وہ سب خلیط ہیں کہ خاص راستہ میں شرکت ہوگئی۔ کوچہ سربستہ سے دوسرا راستہ نکلا کہ آگے چل کر یہ بھی بند ہوگیا اس میں بھی کچھ مکانات ہیں اگر اس میں کوئی مکان فروخت ہوا تو اس کوچہ والے حقدار ہیں پہلے کوچہ والے نہیں اور پہلے کوچہ میں مکان فروخت ہوا تو دونوں کوچہ والے برابر کے حقدار ہیں۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۶: کوچہ سربستہ میں ایک مکان ہے جس میں ایک حصہ ایک شخص کا ہے اور ایک حصہ میں دو شخص شریک ہیں اور جس کوچہ میں یہ مکان ہے اس میں دوسروں کے بھی مکانات ہیں ایک شریک نے اپنا حصہ بیع کیا تو اُس کا شریک شفعہ کر سکتا ہے وہ نہ کرے تو دوسرا شخص کرے جو شریک نہ تھا مگر اسی مکان میں اس کا مکان بھی ہے اور یہ بھی نہ کرے تو اُس کوچہ کے دوسرے لوگ کریں۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: مبیع میں شرکت کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ پوری مبیع میں شرکت ہے مثلاًپورا مکان دو شخصوں میں مشترک ہو۔ دوم یہ کہ بعض مبیع میں شرکت ہو یعنی مکان کا ایک جز مشترک ہے اور باقی میں شرکت نہیں مثلاً پردہ کی دیوار دونوں کی ہو اور ایک نے اپنا مکان بیع کر دیا تو پردہ کی دیوار جو مشترک ہے اس کی بھی بیع ہوگئی یہ شخص شریک کی حیثیت سے شفعہ کریگا لہٰذا دوسرے شفیعوں پر مقدم ہوگا مگر جو شخص پورے مکان میں شریک ہے وہ اس شریک پر مقدم ہوگا۔ (7)(درمختار، عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ،الباب الثانی فی بیان مراتب الشفعۃ،ج۵،ص۱۶۶.
2 ۔''ا لدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،ج۹،ص۳۶۷.
3 ۔المرجع السابق،ص۳۶۶.
4 ۔بند گلی۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،ج۲،ص۳۰۹.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ،الباب الثانی فی بیان مراتب الشفعۃ،ج۵،ص۱۶۶.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،ج۹،ص۳۶۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ،الباب الثانی فی بیان مراتب الشفعۃ،ج۵،ص۱۶۶.
مسئلہ ۸: دیوار میں شرکت سے یہ مراد ہے کہ دیوار کی زمین میں شرکت ہو اور اگر زمین میں شرکت نہ ہو صرف دیوار میں شرکت ہو تو اس کو شریک نہیں شمار کیا جائے گا۔ دونوں کی صورتیں یہ ہیں ایک مکان کے بیچ میں ایک دیوار قائم کردی گئی پھر تقسیم یوں ہوئی کہ ایک شخص نے دیوار سے ادھر کا حصہ لیا اور دوسرے نے اُدھر کا اور دیوار تقسیم میں نہیں آئی لہٰذا دونوں کی ہوئی۔ اور اگر مکان کو تقسیم کر کے ایک خط کھینچ دیا پھر بیچ میں دیوار بنانے کے لیے ہر ایک نے ایک ایک بالشت زمین دے دی اور دونوں کے پیسوں سے دیوار بنی تو یہاں زمین میں بالکل شرکت نہیں ہے اگر شرکت ہے تو دیوار میں ہے اور دیوار و عمارت میں شرکت موجب شفعہ نہیں لہٰذا اس شرکت کا اعتبار نہیں بلکہ یہ شخص جار ملاصق ہے اور اسی حیثیت سے شفعہ کرسکتاہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: بیچ کی دیوار پر دونوں کی کڑیاں ہیں ا ور یہ معلوم نہیں کہ یہ دیوار دونوں میں مشترک ہے صرف اتنی بات سے کہ دونوں کی کڑیاں ہیں دیوار کا مشترک ہونا معلوم ہوتا ہے ان میں سے ایک کا مکان فروخت ہوا اگر دوسرے نے گواہوں سے دیوار کا مشترک ہونا ثابت کر دیا تو اس کو شریک قرار دیا جائے گا اور شفعہ میں اس کا مرتبہ جار سے مقدم ہوگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: یہ جو کہا گیا کہ شریک کے بعد جا رملاصق کا مرتبہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بیع کی خبر سن کر اس نے شفعہ طلب کیا ہو اور اگر اُس وقت اس نے شفعہ طلب نہ کیا اور شریک نے شفعہ تسلیم کر دیا یعنی بذریعہ شفعہ لینا نہیں چاہتا تو اب اُس جار کو شفعہ کرنے کا حق نہ رہا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: دو منزلہ مکان ہے نیچے کی منزل زید وعَمْرْو کی شرکت میں ہے اور اوپر کی منزل میں زید و بکر شریک ہیں اگر زید نے نیچے کی منزل بیع کی تو عَمْرْو شفعہ کرسکتا ہے، بکر نہیں اور اوپر کی منزل بیچی تو بکر شفعہ کرسکتا ہے عمرو نہیں۔ (4)(بدائع)
مسئلہ ۱۲: ایک مکان کی چھت پر بالاخانہ ہے مگر اس بالاخانہ کا راستہ دوسرے مکان میں ہے اُس مکان میں نہیں ہے جس کی چھت پر بالاخانہ ہے۔ یہ بالاخانہ (5)فروخت ہوا تو وہ شخص شفعہ کریگا جس کے مکان میں اس کا راستہ ہے وہ نہیں کرسکتا جس کے مکان کی چھت پر بالاخانہ ہے۔ اور اگر پہلے شخص نے تسلیم کر دیا نہ لینا چاہا تو دوسرا شخص شفعہ کرسکتا ہے مگر بالاخانہ کا کوئی جارِ ملاصق ہے تو شفعہ میں یہ بھی شریک ہے اور اگر نیچے کی منزل فروخت ہوئی تو بالاخانہ والا شفعہ کرسکتا ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ،الباب الثانی فی بیان مراتب الشفعۃ،ج۵،ص۱۶۶.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۶۷. 3 ۔المرجع السابق .
4 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الشفعۃ، باب بیان کیفیۃ سبب الشفعۃ،ج۴،ص۱۰۵.
5 ۔اوپری منزل۔
اوروہ مکان جس میں بالاخانہ کا راستہ ہے فروخت ہوا تو اُس میں بھی بالاخانہ والا شفعہ کرسکتا ہے۔ (1)(بدائع)
مسئلہ ۱۳: کوچہ سربستہ میں چند اشخاص کے مکانات ہیں ان میں سے کسی نے اپنا مکان یا کوئی کمرہ بیع کر دیا اور راستہ مشتری کے ہاتھ نہیں بیچا بلکہ مشتری سے یہ طے پایا کہ اس مکان کا دروازہ شارع عام(2)میں کھول لے اس صورت میں بھی اس کوچے کے رہنے والے شفعہ کرسکتے ہیں کیونکہ بوقتِ بیع یہ لوگ راستہ میں شریک ہیں اور اگر اس وقت ان لوگوں نے شفعہ نہ کیا اور مشتری نے دروازہ کھولنے کے بعد اس کو بیع کر ڈالا تو اب شفعہ نہیں کرسکتے کہ راستہ کی شرکت دوسری بیع کے وقت نہیں ہے بلکہ اب وہ شخص شفعہ کرسکتا ہے جو جار ملاصق ہو۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مکان کے دو دروازے ہیں ایک دروازہ ایک گلی میں ہے دوسرا دوسری گلی میں ہے اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ پہلے دو۲ مکان تھے ایک کا دروازہ ایک گلی میں تھا دوسرے کا دوسری گلی میں تھا ایک شخص نے دونوں کو خرید کر ایک مکان کر دیا اس صورت میں ہر گلی والے اپنی جانب کا مکان شفعہ کر کے لے سکتے ہیں ایک گلی والوں کو دوسری جانب کے حصہ کا حق نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب وہ مکان بنا تھا اُسی وقت اُس میں دو دروازے رکھے گئے تھے تو دونوں گلی والے پورے مکان میں شفعہ کا برابر حق رکھتے ہیں۔ یوہیں اگر دو گلیاں تھیں دونوں کے بیچ کی دیوار نکال کر ایک گلی کر دی گئی تو ہر ایک کوچہ والے اپنی جانب میں شفعہ کا حق رکھتے ہیں۔ دوسری جانب میں اُنھیں حق نہیں۔ اسی طرح کوچہ سربستہ تھا(4)اُس کی دیوار نکال دی گئی کہ سربستہ نہ رہا بلکہ کوچہ نافذہ ہوگیا تو اب بھی اس کے رہنے والے شفعہ کا حق رکھیں گے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: باپ کا مکان تھا اُس کے مرنے کے بعد بیٹوں کو ملا اور اُن میں سے کوئی لڑکا مرگیا اور اُس نے اپنے بیٹے وارث چھوڑے ان میں سے کسی نے اپنا حصہ بیع کیا تو اُس کے بھائی اور چچا سب شفعہ کرسکتے ہیں بھائیوں کو چچا پر ترجیح نہیں ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: مکان کے دو پروسی ہیں ایک موجود ہے دوسرا غائب ہے موجود نے شفعہ کا دعویٰ کیا مگر قاضی ایسے شفعہ کا
1 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الشفعۃ، باب بیان کیفیۃ سبب الشفعۃ،ج۴،ص۱۰۵.
2 ۔عام راستہ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثانی فی بیان مراتب الشفعۃ،ج۵،ص۱۶۸.
4 ۔بند گلی تھی یعنی ایسی گلی تھی جو آگے جاکربند ہوجاتی تھی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثانی فی بیان مراتب الشفعۃ،ج۵،ص۱۶۹.
6 ۔المرجع السابق،ص۱۷۰.
قائل نہ تھا اُس نے دعوے کو خارج کر دیا کہ شفعہ کا تجھے حق نہیں ہے پھر وہ غائب آیا اور اُس نے دوسرے قاضی کے پاس دعویٰ کیا جس کے مذہب میں پروسی کے لیے بھی شفعہ ہے یہ قاضی پورا مکان اسی شفعہ کرنے والے کو دلائے گا۔(1) (بدائع)
مسئلہ ۱۷: کسی کے مکان کا پرنالہ دوسرے کے مکان میں گرتا ہے یا اُس مکان کی نالی اس مکان میں ہے تو اُس کو اس مکان میں جوار (2)کی وجہ سے شفعہ کا حق ہے شرکت کی وجہ سے نہیں۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: شفعہ کا دعویٰ کیا اور قاضی نے اس کا حکم دے دیا اس کے بعد شفیع نے(4)جائداد لینے سے انکار کر دیا تو دوسرے لوگ جو اس کے بعد شفعہ کرسکتے تھے اُن کا حق باطل ہوگیا یعنی وہ لوگ اب شفعہ نہیں کرسکتے کہ بعد قضائے قاضی(5)اس کی مِلک مُتَقَرِّر ہوگئی اور اگر قاضی کے حکم سے قبل ہی یہ اپنے حق سے دست بردار ہوگیا تو دوسرے لوگ کرسکتے ہیں۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: بعض حقدار موجود ہیں بعض غائب ہیں جو موجود ہیں انھوں نے دعویٰ کیا تو ان کے لیے فیصلہ کر دیا جائے گا اس کا انتظار نہ کیا جائے گا کہ وہ غائب بھی آجائے کیونکہ آجانے کے بعد وہ مطالبہ کرے یا نہ کرے کیا معلوم لہٰذا اُس کے آنے تک فیصلہ کو مؤخر نہ کیا جائے۔ پھر اس غائب نے آنے کے بعد اگر مطالبہ کیا تو اس کی تین صورتیں ہیں۔ اگر اس کا مرتبہ اُس سے کم ہے جس کے لیے فیصلہ ہوا تو اس کا مطالبہ ساقط۔ اور برابر کا ہے یعنی اگر وہ شریک ہے تو یہ بھی شریک ہے یا دونوں خلیط ہیں یادونوں پروسی ہیں تو اس صورت میں دونوں کو برابر برابر جائداد ملے گی اور اگر اس کا مرتبہ اُس سے اونچا ہے یعنی مثلاًوہ خلیط یاپروسی تھا اور یہ شریک ہے تو کل جائداد اسی کو ملے گی۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: شفیع چاہتا ہے کہ جائداد مبیعہ(8)میں سے ایک حصہ لے لے اور باقی مشتری کے لیے چھوڑ دے اس کاحق شفیع کو نہیں یعنی مشتری کو اس کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جائداد کا یہ جز لینے میں مشتری اپناضرر تصور کرتا ہو۔ (9)(درمختار)
1 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الشفعۃ، باب بیان کیفیۃ سبب الشفعۃ،ج۴،ص۱۰۳.
2 ۔پڑوس۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الشفعۃ،الباب الثانی فی بیان مراتب الشفعۃ،ج۵،ص۱۷۰.
4 ۔ شفعہ کرنے والے نے۔ 5 ۔قاضی کے فیصلے کے بعد۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،مطلب: فی الکلام علی الشفعۃ... إلخ،ج۹،ص۳۶۹.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،ج۹،ص۳۶۹.
8 ۔بیچی گئی جائداد۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،ج۹،ص۳۷۰.
مسئلہ ۲۱: ایک شفیع نے اپنا حق شفعہ دوسرے کو دے دیا مثلاًتین شخص شفیع تھے ان میں سے ایک نے دوسرے کو اپنا حق دے دیا یہ دینا صحیح نہیں بلکہ اس کا حق ساقط ہوگیا اور اس کے سوا جتنے شفیع ہیں وہ سب برابر کے حقدار ہیں بلکہ اگر دو شخص حقدار ہیں ان میں سے ایک نے یہ سمجھ کر کہ مجھے نصف ہی جائداد ملے گی نصف ہی کو طلب کیا تو اس کا شفعہ ہی باطل ہو جائے گا یعنی ضروری ہے کہ ہر ایک پورے کا مطالبہ کرے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: دو شخصوں نے اپنا مشترک مکان بیع کیا شفیع یہ چاہتا ہے کہ فقط ایک کے حصہ میں شفعہ کرے یہ نہیں ہوسکتا اور اگر دو شخصوں نے ایک مکان خریدا اور شفیع فقط ایک مشتری کے حصہ میں شفعہ کرنا چاہتا ہے یہ ہوسکتا ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: ایک شخص نے ایک عقد میں دو مکان خریدے اور شفیع دونوں میں شفعہ کرسکتا ہو تو دونوں میں شفعہ کرے یادونوں کو چھوڑے یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک میں کرے اور ایک کو چھوڑے اور اگر ایک ہی میں وہ شفیع ہے تو ایک میں شفعہ کرسکتاہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مشتری(4)کے وکیل نے جائداد خریدی اور وہ ابھی اسی وکیل کے ہاتھ میں ہے تو شفعہ کی طلب وکیل سے ہوسکتی ہے اور وکیل نے موکل کو دے دی تو وکیل سے طلب نہیں کرسکتا بلکہ اس سے طلب کرنے پر شفعہ ہی ساقط ہو جائے گا کہ جس سے طلب کرنا چاہیے تھا باوجود قدرت شفیع نے اُس سے طلب کرنے میں دیر کی۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
طلب کی تین قسمیں ہیں۔ (۱)طلب مواثبہ،(۲)طلب تقریر اس کو طلب اشہاد بھی کہتے ہیں،(۳)طلب تملیک۔ طلب مواثبہ یہ ہے کہ جیسے ہی اس کو اُس جائداد کے فروخت ہونے کا علم ہو فوراً اُسی وقت یہ ظاہر کر دے کہ میں طالبِ شفعہ ہوں اگر علم ہونے کے بعد اس نے طلب نہ کی تو شفعہ کا حق جاتا رہا اور بہتر یہ ہے کہ اپنے اس طلب کرنے پر لوگوں کو گواہ بھی بنالے تاکہ یہ نہ کہا جاسکے کہ اس نے طلب مواثبت نہیں کی ہے۔ (6)(ہدایہ)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،ج۹،ص۳۷۰.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ،الباب الرابع فی استحقاق الشفیع...إلخ،ج۵،ص۱۷۵.
3 ۔المرجع السابق،ص۱۷۵،۱۷۶.
4 ۔خریدار۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،مطلب: فی الکلام علی الشفعۃ...إلخ،ج۹،ص۳۷۱.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۲،ص۳۱۰،۳۱۱.
مسئلہ ۱: جائداد کی بیع کا علم کبھی تو خود مشتری(1)ہی سے ہوتا ہے کہ اس نے خود اسے خبر دی اور کبھی مشتری کے قاصد کے ذریعہ سے(2)ہوتا ہے کہ اس نے کسی کی معرفت اس کے پاس کہلا بھیجا اور کبھی کسی اجنبی کے ذریعہ سے ہوتا ہے اس صورت میں یہ ضرور ہے کہ وہ مخبر(3) عادل ہو یا خبر دہندہ (4)میں عدد شہادت پایا جائے یعنی دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ خبر دینے والا ایک ہی شخص ہے اور وہ بھی فاسق ہے مگر شفیع(5)نے اس خبر میں اس کی تصدیق کر لی تو بیع کا علم ہوگیا یعنی اگر طلب مواثبہ نہ کریگا شفعہ باطل ہو جائے گا اور اگر اس کی تکذیب کی(6)تو شفیع کے نزدیک بیع کا ثبوت نہ ہوا یعنی طلب نہ کرنے پر حق شفعہ باطل نہ ہوگا اگرچہ واقع میں اُس کی خبر صحیح ہو۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: طلب مواثبہ میں ادنیٰ تاخیر بھی شفعہ کو باطل کر دیتی ہے مثلاً کسی خط کے ذریعہ سے اسے بیع کی خبر دی گئی اور اس خط میں بیع کا ذکر مقدم ہے اور اس کے بعد دوسرے مضامین ہیں یا بیع کا ذکر درمیان میں ہے اس نے پورا خط پڑھ کر طلب مواثبت کی شفعہ باطل ہوگیا کہ اتنی تاخیر بھی یہاں نہ ہونی چاہیے۔ (8)(ہدایہ)
مسئلہ ۳: خطبہ ہو رہا ہے اور اس کو بیع کی خبر دی گئی اور نماز کے بعد اس نے طلب مواثبت کی اگر ایسی جگہ ہے کہ خطبہ سن رہا ہے تو شفعہ باطل نہیں ہوا اور اگر خطبہ کی آواز اس کو نہیں پہنچتی تو شفعہ باطل ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے۔ نفل نماز پڑھنے میں اسے خبر ملی اسے چاہیے کہ دو رکعت پر سلام پھیر دے اور طلب مواثبت کرے اور چار پوری کر لی یعنی دو رکعتیں اور ملائیں تو باطل ہوگیا اور قبل ظہر یا بعد ظہر کی سنتیں پڑھ رہا تھا اور چار پوری کر کے طلب کیا تو باطل نہ ہوا(9)۔(10) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: بیع کی خبر سن کر
سُبْحَانَ اللہِ
یا
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
یا
اَللہُ اَکْبَر
یا
لاحَوْلَ ولا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ
کہا تو شفعہ باطل نہ ہوا کہ ان الفاظ کا کہنا اِعرا ض (11)کی دلیل نہیں بلکہ خدا کا شکر کرتا ہے کہ اُس کے پروس سے نجات ملی یا تعجب کرتا ہے کہ
1 ۔خریدار۔ 2 ۔یعنی خریدار کے پیغام رساں کے ذریعے سے۔ 3 ۔خبر دینے والا۔
4 ۔خبر دینے والا۔ 5 ۔حق شفعہ کا دعویٰ کرنے والا۔ 6 ۔یعنی اسے جھٹلایا۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۷۳.
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۴،ص۳۱۰.
9 ۔بہار شریعت کے نسخوں میں اس مقام پر''باطل ہوگیا'' لکھا ہے ،جو کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل کتاب''ردالمحتار'' میں جب دیکھاگیاتومعلوم ہواکہ اس مقام پر''باطل''کے بعد''نہ''متروک ہے ، اسی وجہ سے ہم نے اس کی تصحیح کرتے ہوئے''باطل نہ ہوا'' کردیا ...عِلْمِیہ
10 ۔''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۷۴.
11 ۔روگردانی۔
اُس نے ضرر(1)پہنچانے کا ارادہ کیا تھا اور نتیجہ یہ ہوا۔ یوہیں اگر اس کے پاس کے کسی شخص کو چھینک آئی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہا اس نے اُس کا جواب دیا شفعہ باطل نہ ہوا۔(2) (عالمگیری، ہدایہ)
مسئلہ ۵: بیع کی خبر ملنے پر اس نے دریافت کیا کہ کس نے خریدا یا کتنے میں خریدا یہ پوچھنا تاخیر میں شمار نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ثمن اتنا ہو جو اس کے نزدیک مناسب ہے تو شفعہ کرے اور زیادہ ثمن ہے تو اسے اُتنے داموں میں لینا منظور نہیں۔ یوہیں اگر مشتری کوئی نیک شخص ہے اُس کا پروس ناگوار نہیں ہے تو شفعہ کی کیا ضرورت اور ایسا شخص مشتری ہے جس کا قرب منظور نہیں ہے تو شفعہ کرنے کی ضرورت ہے لہٰذا یہ پوچھنا شفعہ سے اعراض کی دلیل نہیں۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۶: شفیع نے مشتری کو سلام کیا شفعہ باطل نہیں ہوا اور کسی دوسرے کو سلام کیا تو باطل ہوگیا مثلاًمشتری کا بیٹا بھی وہیں کھڑا تھا اس لڑکے کو سلام کیا باطل ہوگیا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: طلب مواثبہ کے لیے کوئی لفظ مخصوص نہیں جس لفظ سے بھی اس کا طالب شفعہ ہونا سمجھ میں آتا ہو وہ کافی ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۸: جو جائداد فروخت ہوئی ایک شخص اُس میں شریک ہے اور ایک اُس کا پروسی ہے دونوں کو ایک ساتھ خبر ملی شریک نے طلب مواثبہ کی پروسی نے نہیں کی پھر شریک نے شفعہ چھوڑ دیا اب پروسی کو شفعہ کا حق نہیں رہا یہ بھی اگر اُسی وقت طلب کرتا تو اب شفعہ کرسکتا تھا۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: طلب مواثبہ کے بعد طلب اشہاد کا مرتبہ ہے جس کو طلب تقریر بھی کہتے ہیں اس کی صورت یہ ہے کہ بائع یا مشتری یا اُس جائداد مبیعہ(7)کے پاس جاکر گواہوں کے سامنے یہ کہے کہ فلاں شخص نے یہ جائداد خریدی ہے اور میں اس کا شفیع
1 ۔نقصان۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثالث فی طلب الشفعۃ،ج۵،ص۱۷۲.
و''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۲،ص۳۱۰،۳۱۱.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۲،ص۳۱۱.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب التاسع فیما یبطل بہ...إلخ،ج۵،ص۱۸۴،۱۸۵.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۷۴.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثالث فی طلب الشفعۃ،ج۵،ص۱۷۲.
7 ۔فروخت شدہ جائداد۔
ہوں اور اس سے پہلے میں طلب شفعہ کرچکا ہوں اور اب پھر طلب کرتا ہوں تم لوگ اس کے گواہ رہو۔(1) (ہدایہ)یہ اُس وقت ہے کہ جائدادمَبیعہ کے پاس طلب اشہاد کرے(2)اور اگر مشتری کے پاس کرے تو یہ کہے کہ اس نے فلاں جائداد خریدی ہے اور میں فلاں جائداد کے ذریعہ سے اُس کا شفیع ہوں اور بائع کے پاس یوں کہے کہ اس نے فلاں جائداد فروخت کی ہے اور میں فلاں جائداد کی وجہ سے اس کا شفیع ہوں۔ (3)(نتائج)
مسئلہ ۱۰: بائع کے پاس طلب اشہاد کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ جائداد بائع کے قبضہ میں ہو یعنی اب تک بائع نے مشتری کے قبضہ میں نہ دی ہو اور مشتری کا قبضہ ہوچکا ہو تو بائع کے پاس طلب اشہاد نہیں ہوسکتی اور مشتری کے پاس بہرصورت طلب اشہاد ہوسکتی ہے چاہے وہ جائداد بائع کے قبضہ میں ہو یا مشتری کے قبضہ میں ہو اسی طرح جائداد مبیعہ کے سامنے بھی مطلقاً طلب اشہاد ہوسکتی ہے۔ (4)(ہدایہ، درمختار) طلب اشہاد میں جائداد کے حدود اربعہ بھی ذکر کر دے تو بہتر ہے تاکہ اختلاف سے بچ جائے۔
مسئلہ ۱۱: جو شخص باوجود قدرت طلب اشہاد نہ کرے تو شفعہ باطل ہو جائے گا مثلاًبغیر طلب اشہاد قاضی کے پاس دعویٰ کر دیا شفعہ باطل ہوگیا۔ طلب اشہاد قاصد اور خط کے ذریعہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: جو شخص دور ہے اور اُسے بیع کی خبر ملی تو خبر ملنے کے بعد اُس کو اتنا موقع ہے کہ وہاں سے آکر یا قاصد یا وکیل کو بھیج کر طلب اشہاد کرے اس کی وجہ سے جتنی تاخیر ہوئی اس سے شفعہ باطل نہیں ہوگا۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: شفیع کو رات میں خبر ملی اور وہ وقت باہر نکلنے کا نہیں ہے اس وجہ سے صبح تک طلب اشہاد کو مؤخر کیا اس سے شفعہ باطل نہیں ہوگا۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۲،ص۳۱۱.
2 ۔یعنی گواہی طلب کرے۔
3 ۔''نتائج الأفکار''تکملۃ ''فتح القدیر''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۸،ص۳۱۱.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۲،ص۳۱۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۷۵.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۵،ص۳۷۵،۳۷۶.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثالث فی طلب الشفعۃ،ج۵،ص۱۷۳.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱۴: بائع و مشتری و جائداد مبیعہ ایک ہی شہر میں ہوں تو قرب و بعد کا اعتبار نہیں یعنی یہ ضرور نہیں کہ قریب ہی کے پاس طلب کرے بلکہ اُسے اختیار ہے کہ دور والے کے پاس کرے یا قریب والے کے پاس کرے ہاں اگر قریب کے پاس سے گزرا اور یہاں طلب اشہاد نہ کی دور والے کے پاس جاکر کی تو شفعہ باطل ہے اور اگر ان میں سے ایک اسی شہر میں ہے اور دوسرا دوسرے شہر میں یا گاؤں میں ہے اور اس شہر والے کے سامنے طلب نہ کی دوسرے شہر یا گاؤں میں اشہاد کے لیے گیا تو شفعہ باطل ہوگیا۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: طلب اشہاد کا طلب مواثبہ کے بعد ہونا اُس وقت ہے کہ بیع کا جس مجلس میں علم ہوا وہاں نہ بائع ہے نہ مشتری ہے نہ جائداد مبیعہ۔ اور اگر شفیع ان تینوں میں سے کسی کے پاس موجود تھا اور بیع کی خبر ملی اور اُسی وقت اپنا شفیع ہونا ظاہر کر دیا تو یہ ایک ہی طلب دونوں کے قائم مقام ہے یعنی یہی طلب مواثبہ بھی ہے اور طلب اشہاد بھی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: ان دونوں طلبوں کے بعد طلب تملیک ہے یعنی اب قاضی کے پاس جاکریہ کہے کہ فلاں شخص نے فلاں جائداد خریدی ہے اور فلاں جائداد کے ذریعہ سے میں اُس کا شفیع ہوں وہ جائداد مجھے دِلا دی جائے۔ طلب تملیک میں تاخیر ہونے سے شفعہ باطل ہوتا ہے یا نہیں، ظاہر الروایہ یہ ہے کہ باطل نہیں ہوتا اور ہدایہ وغیرہا میں تصریح ہے کہ اسی پر فتویٰ ہے اورامام محمد رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ بلاعذر ایک ماہ کی تاخیر سے باطل ہو جاتا ہے بعض کتابوں میں اس پر فتویٰ ہونے کی تصریح ہے اور نظر بحال زمانہ اس قول کو اختیار کرنا قرین مصلحت ہے کیونکہ اگر اس کے لیے کوئی میعاد نہ ہوگی تو خوف شفعہ کی وجہ سے مشتری نہ اُس زمین میں کوئی تعمیر کرسکے گا نہ درخت نصب کرسکے گا اور یہ مشتری کا ضرر ہے۔(3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: جوار (4)کی وجہ سے شفعہ کا حق ہے اور قاضی کا مذہب یہ ہے کہ جوار کی وجہ سے شفعہ نہیں ہے شفیع نے دعویٰ اس وجہ سے نہیں کیا کہ قاضی میرے خلاف فیصلہ کر دے گا اس انتظار میں ہے کہ دوسرا قاضی آئے تو دعوےٰ کروں اس صورت میں بالاتفاق اُس کا حق باطل نہیں ہوگا۔(5) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثالث فی طلب الشفعۃ،ج۵،ص۱۷۲.
و''رد المحتار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ، مطلب:طلب عند القاضی...إلخ،ج۹،ص۳۷۶.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۷۵.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،مطلب:طلب عند القاضی...إلخ،ج۹،ص۳۷۵،۳۷۶.
4 ۔پڑوس۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ،الباب الثالث فی طلب الشفعۃ،ج۵،ص۱۷۳.
مسئلہ ۱۸: شفیع کے دعویٰ کرنے پر قاضی اس سے چند سوالات کریگا۔ وہ جائداد کہاں ہے اور اُس کے حدودِاربعہ کیا ہیں اور مشتری نے اس پر قبضہ کیا ہے یا نہیں اُس پر شفعہ کس جائداد کی وجہ سے کرتا ہے اور اس کے حدود کیا ہیں۔ اُس جائداد کے فروخت ہونے کا اس شفیع کو کب علم ہوا اور اس نے اس کے متعلق کیا کیا۔ پھر طلب تقریر کی یا نہیں۔ اور کن لوگوں کے سامنے طلب تقریر کی اور کس کے پاس طلب تقریر کی، وہ قریب تھا یا دور تھا۔ جب تمام سوالوں کے جوابات شفیع نے ایسے دے دیے جن سے دعویٰ پر برا اثر نہ پڑتا ہو تو اس کا دعویٰ مکمل ہوگیا اب مدعیٰ علیہ(1)سے دریافت کریگا کہ شفیع جس جائداد کے ذریعہ سے شفعہ کرتا ہے اُس کا مالک ہے یا نہیں اگر اُس نے انکار کر دیا تو شفیع کو گواہوں کے ذریعہ سے اُس جائداد کا مالک ہونا ثابت کرنا ہوگا یا گواہ نہ ہونے کی صورت میں مدعیٰ علیہ پر حلف دیا جائے گا گواہ سے یا مدعیٰعلیہ کے حلف سے انکارکرنے سے جب شفیع کی ملک ثابت ہوگئی تو مدعیٰعلیہ سے دریافت کریگا کہ وہ جائداد جس پر شفعہ کا دعویٰ ہے اس نے خریدی ہے یا نہیں اگر اُس نے خریدنے سے انکارکر دیاتو شفیع کو گواہوں سے اُس کا خریدناثابت کرناہوگا اور اگر گواہ نہ ہوں تومدعی ا علیہ پر پھر حلف پیش کیا جائے گا اگر حلف سے نکول کیا (2)یا گواہوں سے خریدنا ثابت ہوگیا تو قاضی شفعہ کا فیصلہ کر دے گا۔(3) (ہدایہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: شفعہ کا دعویٰ کرنے کے لیے یہ ضرور نہیں کہ شفیع ثمن کو قاضی کے پاس حاضر کر دے جب ہی اس کا دعویٰ سنا جائے اور یہ بھی ضرور نہیں کہ فیصلہ کے وقت ثمن قاضی کے پاس پیش کر دے جب ہی وہ فیصلہ کرے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: فیصلہ کے بعد اسے ثمن لاکر دینا ہوگا اور اگر ثمن ادا کرنے کو کہا گیا اور اس نے ادا کرنے میں تاخیر کی یہ کہہ دیا کہ اس وقت میرے پاس نہیں ہے یا یہ کہ کل حاضر کر دوں گا یا اسی قسم کی کچھ اور بات کہی تو شفعہ باطل نہ ہوگا۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۱: فیصلہ کے بعد ثمن وصول کرنے کے لیے مشتری اُس جائداد کو روک سکتا ہے کہہ سکتا ہے کہ جب تک ثمن ادا نہ کرو گے یہ جائداد میں تم کو نہیں دوں گا۔ (6)(ہدایہ)
1 ۔جس پر دعویٰ کیا گیا ہے۔ 2 ۔یعنی انکار کیا۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۲،ص۴۱۲.
و''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ، مطلب:طلب عند القاضی...إلخ،ج۹،ص۳۷۷.
4 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ، مطلب:طلب عند القاضی ...إلخ،ج۹،ص۳۷۸.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۲،ص۳۱۲،۳۱۳.
6 ۔المرجع السابق،ص۳۱۳.
مسئلہ ۲۲: شفعہ کا دعویٰ مشتری پر مطلقاً ہوسکتا ہے اس نے جائداد پر قبضہ کیا ہو یا نہ کیا ہو اُس کو مدعیٰعلیہ بنایا جاسکتا ہے اور بائع کو بھی مدعی ا علیہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ جائداد اب تک بائع کے قبضہ میں ہو مگر بائع کے مقابل میں گواہ نہیں سنے جائیں گے جب تک مشتری حاضر نہ ہو۔ یوہیں اگر بائع پر دعویٰ ہوا تو جب تک مشتری حاضر نہ ہو حق مشتری میں وہ بیع فسخ نہیں کی جائے گی اور اگر مشتری کا قبضہ ہوچکا ہو تو بائع کے حاضر ہونے کی ضرورت نہیں۔ (1)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۲۳: بائع کے قبضہ میں جائداد ہو تو بائع پر قاضی شفعہ کا فیصلہ کریگا اور اُس کی تمام تر ذمہ داری بائع پر ہوگی یعنی جائداد مشفوعہ میں اگر کسی دوسرے کا حق ثابت ہو اور اس نے لے لی تو ثمن کی واپسی بائع کے ذمہ ہے اور اگر جائداد پر مشتری کا قبضہ ہوچکا ہے تو ذمہ داری مشتری پر ہوگی یعنی جب کہ مشتری نے بائع کو ثمن ادا کر دیا ہے اور شفیع نے مشتری کو ثمن دیا اور اگر ابھی مشتری نے ثمن ادا نہیں کیا ہے شفیع نے بائع کو ثمن دیا تو بائع ذمہ دار ہے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: شفیع کو خیار رویت اور خیار عیب حاصل ہے یعنی اگر اُس نے جائداد مشفوعہ نہیں دیکھی ہے تو دیکھنے کے بعد لینے سے انکار کرسکتا ہے۔ یوہیں اگر اُس میں کوئی عیب ہے تو عیب کی وجہ سے واپس کرسکتا ہے کیونکہ شفعہ کے ذریعہ سے جائداد کا ملنا بیع کا حکم رکھتا ہے لہٰذا بیع میں جس طرح یہ دونوں خیار حاصل ہوتے ہیں یہاں بھی ہوں گے اور اگرمشتری نے عیب سے براء ت کر لی ہے کہہ دیا ہے کہ اس میں کوئی عیب نکلے تو اس کی ذمہ داری نہیں اس صورت میں بھی عیب کی وجہ سے واپس کرسکتا ہے۔ مشتری کا براء ت قبول کرنا کوئی چیز نہیں۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۵: شفعہ میں خیار شرط نہیں ہوسکتا نہ اس میں ثمن ادا کرنے کے لیے کوئی میعاد مقرر کی جاسکتی نہ اس میں غرر یعنی دھوکے کی وجہ سے ضمان لازم ہوسکتا ہے یعنی مثلاًشفیع نے اُس جائداد میں کوئی جدید تعمیر کی اس کے بعد مستحق نے دعویٰ کیا کہ یہ جائداد میری ہے اور وہ جائداد مستحق کو مل گئی تو تعمیر کی وجہ سے شفیع کا جو کچھ نقصان ہوا وہ نہ بائع سے لے سکتا ہے نہ مشتری سے کہ اس نے یہ جائداد جبراً وصول کی ہے انھوں نے اپنے قصد و اختیار سے اسے نہیں دی ہے کہ وہ اس کے نقصان کا ضمان دیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۲،ص۳۱۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۷۹.
2 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ، مطلب:طلب عند القاضی...إلخ،ج۹،ص۳۸۰.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ...إلخ،ج۴،ص۳۱۳.
4 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ، مطلب:طلب عند القاضی...إلخ،ج۹،ص۳۸۱.
مسئلہ ۲۶: مشتری یہ کہتا ہے کہ شفیع کو جس وقت بیع کا علم ہوا اُس نے طلب نہیں کی اور شفیع کہتا ہے میں نے اُسی وقت طلب کی تو شفیع کو گواہوں سے ثابت کرنا ہوگا اور گواہ نہ ہوں تو قسم کے ساتھ مشتری کا قول معتبر ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: شفیع و مشتری میں ثمن کا اختلاف ہے اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں تو قسم کے ساتھ مشتری کا قول معتبر ہے اور اگر دونوں گواہ پیش کریں تو گواہ شفیع کے معتبر ہوں گے۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۸: مشتری نے دعویٰ کیا کہ ثمن اتنا ہے اور بائع نے اُس سے کم ثمن کا دعویٰ کیا اس کی دو صورتیں ہیں بائع نے ثمن پر قبضہ کیا ہے یا نہیں۔ اگر قبضہ نہیں کیا ہے تو بائع کا قول معتبر ہے یعنی اُس نے جو کچھ بتایا شفیع اوتنے ہی میں لے گا۔ اور اگر بائع ثمن پر قبضہ کرچکا ہے تو مشتری کا قول معتبر ہے یعنی اگر شفیع لینا چاہے تو وہ ثمن ادا کرے جس کو مشتری بتاتا ہے اور بائع کی بات نامعتبر ہے کہ جب وہ ثمن لے چکا ہے تو اس معاملہ میں اُس کا تعلق ہی کیا ہے۔ اور اگر بائع ثمن زیادہ بتاتا ہے اور مشتری کم بتاتا ہے اور یہ اختلاف بائع کے ثمن وصول کر لینے کے بعد ہے تو مشتری کی بات معتبر ہے اور ثمن پر قبضہ کرنے سے پہلے یہ اختلاف ہے تو بائع و مشتری دونوں پر حلف ہے جو حلف سے انکار کر دے اُس کے مقابل کی معتبر ہے اور اگر دونوں نے حلف کر لیا تو دونوں یعنی بائع و مشتری کے مابین بیع فسخ کر دی جائے گی مگر شفیع کے حق میں یہ بیع فسخ نہیں ہوگی وہ چاہے تو اُتنے ثمن کے عوض میں(3)لے سکتا ہے جس کو بائع نے بتایا۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۹: بائع کا ثمن پر قبضہ کرنا ظاہر نہ ہو اور مقدارِ ثمن میں اختلاف ہو اس کی دو صورتیں ہیں۔ بائع نے ثمن پر قبضہ کرنے کا اقرار کیا ہے یا نہیں اگر اقرار نہیں کیا ہے تو اس کا حکم وہی ہے جو قبضہ نہ کرنے کی صورت میں ہے۔ اور اگر اقرار کر لیا ہے اور مشتری زیادہ کا دعویٰ کرتا ہے اور جائداد اس کے قبضہ میں ہے تو اس کی پھر دو صورتیں ہیں پہلے مقدار ثمن کا اقرار کیا پھر قبضہ کا یا اس کا عکس ہے یعنی پہلے قبضہ کا اقرار کیا پھر مقدار کا اگر پہلی صورت ہے مثلاًیوں کہا کہ اس مکان کو میں نے ہزار روپے میں بیچا اور ثمن پر قبضہ پالیا شفیع ایک ہزار میں لے گا اور مشتری جو ایک ہزار سے زیادہ ثمن بتاتا ہے اُس کا اعتبار نہیں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثالث فی طلب الشفعۃ،ج۵،ص۱۷۴.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ، فصل فی مسائل الإختلاف،ج۲،ص۳۱۴.
3 ۔بدلے میں۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ، فصل فی مسائل الإختلاف،ج۲،ص۳۱۴.
اوراگردوسری صورت ہے یعنی پہلے قبضہ کا اقرار ہے پھر مقدار ثمن کا مثلاًیوں کہا کہ مکان میں نے بیچ دیا اور ثمن پر قبضہ کر لیا اور ثمن ایک ہزار ہے تو اس صورت میں مشتری کی بات معتبر ہے۔(1) (ہدایہ، عنایہ)
مسئلہ ۳۰: مشتری یہ کہتا ہے کہ میں نے ثمن معجل کے عوض میں خریدا ہے یعنی ثمن ابھی واجب الادا ہے اور شفیع کہتا ہے کہ ثمن مؤجل کے عوض میں خریدا ہے یعنی فوراً واجب الادا نہیں ہے اُس کے لیے کوئی میعاد(2)مقرر ہے تو مشتری کا قول معتبر ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: مشتری یہ کہتا ہے کہ یہ پورا مکان میں نے دو عقد کے ذریعہ سے خریدا ہے یعنی پہلے یہ حصہ اتنے میں خریدااُس کے بعد یہ حصہ اتنے میں خریدا اور شفیع یہ کہتا ہے کہ تم نے پورا مکان ایک عقد سے خریدا ہے تو شفیع کا قول معتبر ہے اور اگر کسی کے پاس گواہ ہوں تو گواہ مقبول ہیں اور اگر دونوں گواہ پیش کریں اور گواہوں نے وقت نہیں بیان کیا تو مشتری کے گواہ معتبر ہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: ایک شخص نے مکان خریدا شفیع نے شفعہ کا دعویٰ کیا اور مشتری نے اُس کا ثمن ایک ہزار بتایا تھا شفیع نے ایک ہزار دے کر لے لیا پھر شفیع کو گواہ ملے جو کہتے ہیں اُس نے پانسو میں خریدا تھا یہ گواہ سنے جائیں گے اور اگر مشتری کے کہنے کی شفیع نے تصدیق کر لی تھی تو اب یہ گواہ نہیں سنے جائیں گے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: بائع و مشتری(6)اس پر متفق ہیں کہ اس بیع میں بائع کو خیار شرط ہے اور شفیع اس سے انکار کرتا ہے تو اُنھیں دونوں کی بات معتبر ہے اور شفیع کو شفعہ کا حق حاصل نہیں اور اگر بائع شرط خیار کا مدعی(7)ہے اور مشتری و شفیع دونوں اس سے انکار کرتے ہیں تو مشتری کا قول معتبر ہے اور شفیع کو حق شفعہ حاصل ہے اور اگر مشتری شرط خیار کا مدعی ہے اور بائع و شفیع دونوں انکار کرتے ہیں تو بائع کا قول معتبر ہے اور شفعہ ہوسکتا ہے۔(8) (عالمگیری)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ، فصل فی مسائل الإختلاف،ج۲،ص۳۱۴.
و''العنایۃ''علی''فتح القدیر''،کتاب الشفعۃ، فصل فی مسائل الإختلاف،ج۸،ص۳۱۷.
2 ۔مدت۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب العاشر فی الإختلاف...إلخ،ج۵،ص۱۸۶.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔بیچنے والا اورخریدار۔ 7 ۔دعویٰ کرنے والا۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب العاشر فی الإختلاف...إلخ،ج۵،ص۱۸۶.
مسئلہ ۳۴: ایک شخص نے اپنی جائداد بیع کی ،شفیع نے بائع و مشتری دونوں کے سامنے شفعہ طلب کیا بائع نے کہا یہ بیع معاملہ یعنی فرضی بیع ہوئی ہے اور مشتری نے بھی بائع کی تصدیق کی ان دونوں کا یہ قول شفیع کے مقابل میں نامعتبر ہے بلکہ اگروہ یہ کہتا ہے کہ جائز بیع ہوئی ہے تو شفعہ کرسکتا ہے مگر جبکہ ظاہر حال سے یہی سمجھا جاتا ہو کہ فرضی بیع ہے مثلاًاوس چیز کی قیمت بہت زیادہ ہو اور تھوڑے داموں میں بیع ہوئی کہ ایسی چیز ان داموں میں نہ بکتی ہو تو اُنھیں دونوں کی بات معتبر ہے اورشفعہ نہیں ہوسکتا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: جائداد تین شخصوں کی شرکت میں ہے اُن میں سے دو شخصوں نے یہ شہادت دی کہ ہم تینوں نے یہ جائداد فلاں شخص کے ہاتھ بیع کر دی ہے اور وہ شخص بھی کہتا ہے کہ میں نے خرید لی ہے مگر وہ تیسرا شریک بیع سے انکار کرتا ہے اُن کی گواہی شریک کے خلاف نامعتبر ہے مگر شفیع اون دونوں کے حصوں کو شفعہ کے ذریعہ سے لے سکتا ہے اور اگر مشتری خریدنے سے انکار کرتا ہے اور یہ تینوں شرکا بیع کی شہادت دیتے ہیں تو ان کی یہ گواہی بھی باطل ہے مگر شفیع پوری جائداد کو بذریعہ شفعہ لے سکتا ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: ایک ہزار میں مکان خریدا اُس پر شفعہ کا دعویٰ ہوا مشتری یہ کہتا ہے کہ اس مکان میں میں نے یہ جدید تعمیر کی ہے اور شفیع منکر ہے(3)اس میں مشتری کا قول معتبر ہے اور دونوں نے گواہ پیش کیے تو گواہ شفیع ہی کے معتبر ہوں گے۔ یوہیں اگر زمین خریدی ہے اور مشتری یہ کہتا ہے کہ میں نے اس میں یہ درخت نصب کیے ہیں(4)اور شفیع انکار کرتا ہے تو قول مشتری کا معتبر ہے اور گواہ شفیع کے مگر ان دونوں صورتوں میں یہ ضرور ہے کہ مشتری کا قول ظاہر کے خلاف نہ ہو مثلاًدرختوں کی نسبت کہتا ہے میں نے کل نصب کیے ہیں حالانکہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت دنوں کے ہیں یا عمارت کو کہتا ہے کہ میں نے اب بنائی ہے اور وہ عمارت پرانی معلوم ہوتی ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: مشتری کہتا ہے میں نے صرف زمین خریدی ہے اس کے بعد بائع نے یہ عمارت مجھے ہبہ کر دی ہے یا یہ کہ پہلے اس نے مجھے عمارت ہبہ کر دی تھی اس کے بعد میں نے زمین خریدی اور شفیع یہ کہتاہے تم نے دونوں چیزیں خریدی ہیں یہاں مشتری کا قول معتبر ہے شفیع اگر چاہے تو اُس کو بذریعہ شفعہ لے لے جو مشتری نے خریدا ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: دو مکان خریدے اور ایک شخص دونوں کا جار ملاصق (7)ہے وہ شفعہ کرتا ہے مشتری یہ کہتا ہے کہ میں نے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب العاشر فی الإختلاف...إلخ،ج۵،ص۱۸۷.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۸۸.
3 ۔شفعہ کرنے والا انکار کرتا ہے۔ 4 ۔لگائے ہیں۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب العاشر فی الإختلاف...إلخ،ج۵،ص۱۸۷.
6 ۔المرجع السابق،ص۱۸۸،۱۸۹.
7 ۔جار ملاصق وہ پڑوسی ہے جس کے مکان کے پیچھے کی دیوار دوسرے کے مکان میں ہو۔
دونوں آگے پیچھے خریدے ہیں یعنی دو عقدوں میں خریدے ہیں لہٰذا دوسرے مکان میں تمہیں شفعہ کرنے کا حق نہیں شفیع یہ کہتا ہے کہ دونوں مکان تم نے ایک عقد کے ذریعہ سے خریدے ہیں اور مجھے دونوں میں شفعہ کا حق ہے اس صورت میں مشتری کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ دو عقدوں کے ذریعہ خریدا ہے ورنہ قول شفیع کا معتبر ہوگا۔ یوہیں اگر مشتری یہ کہتا ہے کہ میں نے نصف مکان پہلے خریدا اس کے بعد نصف خریدا اور شفیع یہ کہتا ہے کہ پورا مکان ایک عقد سے خریدا ہے تو شفیع کا قول معتبر ہے اور اگر مشتری یہ کہتا ہے کہ پورا مکان میں نے ایک عقد سے خریدا ہے اور شفیع یہ کہتا ہے کہ آدھا آدھا کر کے دو مرتبہ میں لہٰذا میں صرف نصف مکان پر شفعہ کرتا ہوں تو اس میں مشتری کا قول معتبر ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: شفیع یہ کہتا ہے کہ مشتری نے مکان کا ایک حصہ مُنہدِم کر دیا اور مشتری اس سے انکار کرتا ہے تو مشتری کا قول معتبر ہے اور گواہ شفیع کے معتبر ہوں گے۔ (2)(عالمگیری)
یہ بیان کیا جاچکا کہ مشتری نے جن داموں میں جائداد خریدی ہے شفیع کو اوتنے ہی میں ملے گی مگر بعض مرتبہ عقد کے بعد ثمن میں کمی بیشی کر دی جاتی ہے اور بعض مرتبہ اُس چیز میں کمی بیشی ہو جاتی ہے یہاں یہ بیان کرنا ہے کہ اس کمی بیشی کا اثر شفیع پر ہوگا یا نہیں۔
مسئلہ ۱: اگر بائع نے عقد کے بعد ثمن میں کچھ کمی کر دی تو چونکہ یہ کمی اصل عقد کے ساتھ ملحق ہوتی ہے جس کا بیان کتاب البیوع(3)میں گزر چکا ہے لہٰذا شفیع کے حق میں بھی اس کمی کا اعتبار ہوگا یعنی اس کمی کے بعد جو کچھ باقی ہے اُس کے بدلے میں شفیع اس جائداد کو لے گا اور اگر بائع نے پورا ثمن ساقط کر دیا تو اس کا اعتبار نہیں یعنی شفیع کو پورا ثمن دینا ہوگا۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۲: بائع نے پہلے نصف ثمن کم کر دیا اس کے بعد بقیہ نصف بھی ساقط کر دیا تو شفیع سے نصف اول ساقط ہوگیا اور بعد میں جو ساقط کیا ہے یہ دینا ہوگا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۳: بائع نے مشتری کو ثمن ہبہ کر دیا اس کی دو صورتیں ہیں ثمن پر قبضہ کرنے کے بعد ہبہ کیا ہے تو اس کا اعتبار نہیں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ،الباب العاشر فی الإختلاف...إلخ،ج۵،ص۱۸۹.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔بہار شریعت ،ج۲،حصہ ۱۱۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،فصل فیما یؤخذ بہ المشفوع،ج۲،ص۳۱۵.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۸۴.
یعنی شفیع پورا ثمن دے اور قبضہ سے پہلے ثمن کا کچھ حصہ ہبہ کیا تو شفیع سے یہ رقم ساقط ہو جائے گی۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: بائع نے ایک شخص کو بیع کا وکیل کیا اُس وکیل نے عقد کے بعد مشتری سے ثمن کا کچھ حصہ کم کر دیا اگرچہ یہ کمی مشتری کے حق میں معتبر ہے کہ اُس سے یہ حصہ کم ہو جائے گا مگر اس کمی کا وکیل ضامن ہے یعنی بائع کو پورا ثمن یہ دے گا لہٰذا شفیع کے حق میں اس کمی کا اعتبار نہیں۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: شفیع کو معلوم تھا کہ ایک ہزار میں مشتری نے خریدا ہے اس نے ہزار دے دیے اس کے بعد بائع نے سو روپے کی مشتری سے کمی کر دی تو یہ رقم شفیع سے بھی کم ہو جائے گی یعنی شفعہ سے پہلے بائع نے کم کیا یا بعد میں دونوں کا ایک حکم ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۶: مشتری نے عقد کے بعد ثمن میں اضافہ کیا یہ زیادتی بھی اصل عقد کے ساتھ لاحق ہوگی مگر شفیع کا حق پہلے ثمن کے ساتھ متعلق ہوچکا اور شفیع پر یہ زیادتی لازم کرنے میں اُس کا ضرر ہے لہٰذا اس کا اعتبار نہیں شفیع کو وہ چیز پہلے ہی ثمن میں مل جائے گی۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۷: مشتری نے جائداد کو مثلی چیز کے عوض میں خریدا ہے تو شفیع اُس کی مثل دے کر جائداد کو حاصل کرسکتا ہے اور قیمی چیز کے عوض میں خریدا ہے تو اس چیز کی بیع کے وقت جو قیمت تھی شفیع کو وہ دینی ہوگی اور اگر جائداد غیر منقولہ(5)کو جائداد غیر منقولہ کے عوض میں خریدا ہے مثلاًاپنے مکان کے عوض میں دوسرا مکان خریدا اور فرض کرو دونوں مکان کے دو شفیع ہوں اور دونوں نے بذریعہ شفعہ لینا چاہا تو اُس مکان کی قیمت کے بدلے میں اس مکان کو لے گا اور اس کی قیمت کے عوض میں اس کو لے گا۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۸: عقد بیع میں ثمن کی ادا کے لیے کوئی میعاد مقرر تھی تو شفیع کو اختیار ہے کہ ابھی ثمن دے کر مکان لے لے اور چاہے تو میعاد پوری ہونے کا انتظار کرے جب میعاد پوری ہو اُس وقت ثمن ادا کر کے چیز لے اور یہ نہیں کرسکتا کہ چیز تو اب لے
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ، مطلب:طلب عند القاضی...إلخ،ج۹،ص۳۸۳.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ، مطلب:طلب عند القاضی...إلخ،ج۹،ص۳۸۳.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۸۴.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ، فصل فیما یؤخذ بہ المشفوع،ج۲،ص۳۱۵.
5 ۔وہ جائداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوسکتی ہو۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ، فصل فیما یؤخذ بہ المشفوع،ج۲،ص۳۱۵.
اور ثمن میعاد پوری ہونے پر ادا کرے۔ مگر دوسری صورت میں جو انتظار کرنے کے لیے کہا گیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ شفعہ طلب کرنے میں انتظار کرے اگر طلب شفعہ میں دیر کریگا تو شفعہ ہی باطل ہو جائے گا بلکہ شفعہ تو اسی وقت طلب کریگا اور چیز اُس وقت لے گا جب میعاد پوری ہوگی۔ اور پہلی صورت میں کہ اسی وقت ثمن ادا کر کے لے اگر اس نے وہ ثمن بائع کو دیا تو مشتری سے بائع کا مطالبہ ساقط ہوگیا اور اگر مشتری کو دیا تو مشتری کو اختیار ہے کہ وہ بائع کو اُس وقت دے جب میعاد پوری ہو جائے بائع اُس سے ابھی مطالبہ نہیں کرسکتا۔ (1)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۹: مشتری نے جدید تعمیر کی یا زمین میں درخت نصب کر دیے اور بذریعہ شفعہ یہ جائداد شفیع کو دلائی گئی تو وہ مشتری سے یہ کہے کہ اپنی عمارت توڑ کر اور درخت کا ٹ کر لے جائے اور اگر عمارت توڑنے اور درخت کھودنے میں زمین خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو اس عمارت کو توڑنے کے بعد اور درخت کاٹنے کے بعد جو قیمت ہو وہ قیمت مشتری کو دیدے اور ان چیزوں کو خود لے لے۔(2) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۰: مشتری نے اُس زمین میں کاشت کی اور فصل طیار ہونے سے پہلے شفیع نے شفعہ کر کے لے لی تو مشتری کو اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا کہ اپنی کچی کھیتی کاٹ لے بلکہ شفیع کو فصل طیارہونے تک انتظار کرنا ہوگا اور اس زمانے کی اُجرت بھی مشتری سے نہیں دلائی جائے گی۔ ہاں اگر زراعت سے زمین میں کچھ نقصان پیدا ہوگیا تو بقدر نقصان ثمن میں سے کم کر کے بقیہ ثمن شفیع ادا کریگا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: مشتری نے مکان میں روغن کر لیایا رنگ کرایا یا سفیدی کرائی یا پلاستر کرایا تو ان چیزوں کی وجہ سے مکان کی قیمت میں جو کچھ اضافہ ہوا شفیع کو یہ بھی دینا ہوگااور اگر نہ دینا چاہے تو شفعہ چھوڑ دے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: ایک شخص نے مکان خریدا اور اُسے خود اسی مشتری نے مُنہدِم کر دیا (5)یا کسی دوسرے شخص نے مُنہَدِم کر دیا
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ، فصل فیما یؤخذ بہ المشفوع،ج۲،ص۳۱۵،۳۱۶.
و''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۸۵،۳۸۶.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ، فصل فیما یؤخذ بہ المشفوع،ج۲،ص۳۱۶.
و''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۸۷.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثامن فی تصرف المشتری...إلخ،ج۵،ص۱۸۰.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۸۷.
5 ۔گرادیا۔
تو ثمن کو زمین اور بنی ہوئی عمارت کی قیمت پر تقسیم کریں۔ زمین کے مقابل میں ثمن کا جتنا حصہ آئے وہ دے کر زمین لے لے اوراگر وہ عمارت خود منہدم ہوگئی کسی نے گرائی نہیں تو ثمن کو اُس زمین اور اس ملبہ پر تقسیم کریں جو حصہ زمین کے مقابل میں پڑے اوس کے عوض میں زمین کو لے لے۔ اور آگ سے وہ مکان جل گیا اور کوئی سامان باقی نہ رہا یا سیلاب ساری عمارت کو بہا لے گیا تو پورے ثمن کے عوض میں شفیع اُس زمین کو لے سکتا ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: مشتری نے صرف عمارت بیچ دی اور زمین نہیں بیچی ہے مگر عمارت ابھی قائم ہے تو شفیع اُس بیع کو توڑ سکتا ہے اور عمارت و زمین دونوں کو بذریعہ شفعہ لے سکتا ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مشتری یا کسی دوسرے نے عمارت منہدم کر دی ہے یا وہ خود گر گئی اور ملبہ موجود ہے شفیع یہ چاہتا ہے کہ شفعہ میں اس سامان کو بھی لے لے وہ ایسا نہیں کرسکتا بلکہ صرف زمین کو لے سکتا ہے۔ یوہیں اگر مشتری نے مکان میں سے دروازے نکلوا کر بیچ ڈالے تو شفیع ان دروازوں کو نہیں لے سکتا بلکہ دروازوں کی قیمت کی قدر زر ثمن سے کم کر کے مکان کوشفعہ میں لے سکتا ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: مکان کا کچھ حصہ دریابُرد ہوگیا (4)کہ اس حصہ میں دریا کا پانی جاری ہے تو مابقی(5)کو حصہ ثمن کے مقابل میں شفیع لے سکتا ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: زمین خریدی جس میں درخت ہیں اور درختوں میں پھل لگے ہوئے ہیں اور مشتری نے پھل بھی اپنے لیے شرط کر لیے ہیں اور اس میں شفعہ ہوا اگر پھل اب بھی موجود ہیں تو شفیع زمین و درخت اور پھل سب کو لے گا اور اگر پھل ٹوٹ چکے ہیں تو صرف زمین و درخت لے گا اورپھلوں کی قیمت ثمن سے کم کر دی جائے گی۔ اور اگر خریدنے کے بعد پھل آئے اس میں چندصورتیں ہیں ابھی تک درخت بائع ہی کے قبضہ میں تھے کہ پھل آگئے تو شفیع پھلوں کو بھی لے گا اور پھل توڑ لیے ہوں تو ان کی قیمت کی مقدار ثمن سے کم کی جائے گی۔ اور اگر مشتری کے قبضہ کرنے کے بعد پھل آئے اور پھل موجود ہیں تو شفیع پھلوں کو بھی لے گا اور ثمن میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور اگر مشتری نے توڑ کر بیچ ڈالے یا کھا لیے تو شفیع کو زمین و درخت ملیں گے اور ثمن میں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثامن فی تصرف المشتری...إلخ،ج۵،ص۱۸۰.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔یعنی دریابہالے گیا۔ 5 ۔باقی ماندہ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثامن فی تصرف المشتری...إلخ،ج۵،ص۱۸۰.
کچھ کمی نہیں کی جائے گی۔(1) (ہدایہ، درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: بیع میں پھل مشروط تھے اور آفت سماویہ(2)سے پھل جاتے رہے تو ان کے مقابل میں ثمن کا حصہ ساقط ہو جائے گا۔ اور اگر بعد میں پیدا ہوئے اور آفت سماویہ سے جاتے رہے تو ثمن میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: شفیع کے لینے سے پہلے مشتری نے جائداد میں تصرفات کیے شفیع اُس کے تمام تصرفات کو رد کر دے گا مثلاًمشتری نے بیع کر دی یا ہبہ کر دی اور قبضہ بھی دے دیا یا اُس کو صدقہ کر دیا بلکہ اُس کو مسجد کر دیا اور اُس میں نماز بھی پڑھ لی گئی یا اُس کو قبرستان بنایا اور مردہ بھی اُس میں دفن کر دیا گیا یا اور کسی قسم کا وقف کیا غرض کسی قسم کا تصرف کیا ہو شفیع ان تمام تصرفات کو باطل کر کے وہ جائداد لے لے گا۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۹: شفعہ سے پہلے مشتری نے جو کچھ تصرّف کیا ہے وہ تصرّف صحیح ہے مگر شفیع اُس کو توڑ دے گا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ تصرّف ہی صحیح نہیں ہے لہٰذا اس جائداد کو اگر مشتری نے کرایہ پر دیا تو یہ کرایہ مشتری کے لیے حلال ہے بلکہ اگر اُس نے بیع کر ڈالی ہے تو ثمن بھی مشتری کے لیے حلال طَیِّب ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: ایک مکان کا نصف حصہ غیر معین خریدا خریدنے کے بعد بذریعہ تقسیم مشتری نے اپنا حصہ جدا کر لیا یہ تقسیم آپس کی رضامندی سے ہو یا حکمِ قاضی سے بہرحال شفیع اسی حصہ کو لے سکتا ہے جو مشتری کو ملا اُس تقسیم کو توڑ کر جدید تقسیم نہیں کراسکتا اور اگر مکان میں دو شخص شریک تھے ایک نے اپنا حصہ بیع کر دیا اور مشتری نے دوسرے شریک سے تقسیم کرائی اور اپناحصہ جدا کر لیا اس صورت میں شفیع اس تقسیم کو توڑ سکتا ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: شفعہ صرف جائداد غیر منقولہ میں ہوسکتا ہے جس کی مِلک مال کے عوض میں حاصل ہوئی ہو اگرچہ وہ جائداد
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۲،ص۳۱۷.
و''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۹۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثامن فی تصرف المشتری...إلخ،ج۵،ص۱۸۰.
2 ۔ قدرتی آفت مثلاًبارش ،آندھی ،طوفان وغیرہ۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب الشفعۃ،ج۹،ص۳۹۰.
4 ۔المرجع السابق،ص۳۸۸.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثامن فی تصرف المشتری...إلخ،ج۵،ص۱۸۱.
6 ۔المرجع السابق.
قابل تقسیم نہ ہو جیسے چکی کا مکان اور حمام اور کوآں اور چھوٹی کوٹھری کہ یہ چیزیں اگرچہ قابل تقسیم نہیں ہیں ان میں بھی شفعہ ہوسکتاہے۔ جائداد منقولہ میں شفعہ نہیں ہوسکتا لہٰذا کشتی اور صرف عمارت یا صرف درخت کسی نے خریدے ان میں شفعہ نہیں ہوسکتا اگرچہ یہ طے پایا ہو کہ عمارت اور درخت برقرار رہیں گے ہاں اگر عمارت یا درخت کو زمین کے ساتھ فروخت کیا تو تبعاً ان میں بھی شفعہ ہوگا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲: جائداد غیر منقولہ کو نکاح کامَہر قرار دیا یا عورت نے اُس کے عوض میں خلع کرایا یا کسی چیز کی اُجرت اُس کو قراردیا یا دم عمد کا اُسے بدل صلح قرار دیا یا وراثت میں ملی یا کسی نے بطور صدقہ دے دی یا ہبہ کی بشرطیکہ ہبہ میں عوض کی شرط نہ ہو توشفعہ نہیں ہوسکتا کہ ان سب صورتوں میں مال کے عوض میں ملک نہیں حاصل ہوئی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳: کسی شخص پر ایک چیز کا دعویٰ تھا اس نے اپنا مکان دے کر مدعی سے صلح کر لی اس پر شفعہ ہوسکتا ہے اگرچہ یہ صلح انکار یا سکوت (3)کے بعد ہو کیونکہ مدعی اس کو اپنے اس حق کے عوض میں لینا قرار دیتا ہے اور شفعہ کا تعلق اسی مدعی سے ہے لہٰذا مدعی ا علیہ کے انکار کا اعتبار نہیں اور اگر اسی مکان کا دعویٰ تھا اور مدعی ا علیہ نے اقرار کے بعد کچھ دے کر مدعی سے صلح کر لی تو شفعہ ہوسکتا ہے کہ یہ صلح حقیقۃً اُن داموں کے عوض اس مکان کو خریدنا ہے اور اگرمدعیٰ علیہ نے انکار یا سکوت کے بعد صلح کی تو شفعہ نہیں ہوسکتا کہ یہ صلح بیع کے حکم میں نہیں ہے بلکہ کچھ دے کر جھگڑا کاٹنا ہے۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: اگر بیع میں بائع نے اپنے لیے خیار شرط کیا ہو تو جب تک خیار ساقط نہ ہو شفعہ نہیں ہوسکتا کہ خیار ہوتے ہوئے مبیع مِلکِ بائع سے خارج ہی نہ ہوئی شفعہ کیونکر ہو اور صحیح یہ ہے کہ شفعہ کی طلب خیار ساقط ہونے پر کی جائے اور اگر مشتری نے اپنے لیے خیار شرط کیا تو شفعہ ہوسکتا ہے کیونکہ مبیع مِلکِ بائع سے خارج ہوگئی اور اندرون مدت خیار شفیع نے لے لیا تو بیع واجب ہوگئی اور شفیع کے لیے خیار شرط نہیں حاصل ہوگا۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: بیع فاسد میں اُس وقت شفعہ ہوگا جب بائع کا حق منقطع ہو جائے یعنی اُسے واپس لینے کا حق نہ رہے مثلاًاس جائداد میں مشتری نے کوئی تصرّف کر لیا نئی عمارت بنائی اب شفعہ ہوسکتا ہے اور ہبہ بشرط ِالعوض (6)میں اُس وقت شفعہ ہوسکتا ہے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب ما تثبت ھی فیہ أولاتثبت،ج۹،ص۳۹۳.
2 ۔المرجع السابق،ص۳۹۴.
3 ۔خاموشی۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،باب ما تثبت ھی فیہ أولاتثبت،ج۹،ص۳۹۴.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب ما تجب فیہ الشفعۃ...إلخ،ج۲،ص۳۱۹.
6 ۔وہ ہبہ جس میں عوض مشروط ہو۔
جب تقابض بدلین ہو جائے یعنی اس نے اس کی چیز اور اس نے اس کی چیز پر قبضہ کر لیا اور فقط ایک نے قبضہ کیا ہو دوسرے نے قبضہ نہیں کیا ہو تو شفعہ نہیں ہوسکتا اور فرض کرو ایک نے ہی قبضہ کیا اور شفیع نے شفعہ کی تسلیم کر دی تو دوسرے کے قبضہ کے بعد شفعہ کرسکتا ہے کہ وہ پہلی تسلیم صحیح نہیں کہ قبل از وقت ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۶: بیع فاسد کے ذریعہ سے ایک مکان خریدا اس کے بعد اس مکان کے پہلو میں دوسرا مکان فروخت ہوا اگر وہ مکان اول ابھی تک بائع ہی کے قبضہ میں ہے تو بائع شفعہ کرسکتا ہے کیوں کہ بیع فاسد سے بائع کی مِلک زائل نہیں ہوئی اور اگر مشتری کو قبضہ دے دیا ہے تو مشتری شفعہ کرسکتا ہے کہ اب یہ مالک ہے اور اگر بائع کا قبضہ تھا اور اس نے شفعہ کا دعویٰ کیا تھا اور قبل فیصلہ مشتری کو قبضہ دے دیا شفعہ باطل ہوگیا اور فیصلہ کے بعد مشتری کے قبضہ میں دیا تو جائدادِ مَشفوعہ(2)پر اس کا کچھ اثر نہیں اوراگر مشتری کا قبضہ تھا اور مشتری نے شفعہ کا دعویٰ بھی کیا تھا اور قبل فیصلہ بائع نے مشتری سے واپس لے لیا تومشتری کا دعویٰ باطل ہوگیا اور بعد فیصلہ بائع نے واپس لیا تو اس کا کچھ اَثر نہیں یعنی مشتری اس مکان کا مالک ہے جس کو بذریعہء شفعہ حاصل کیا۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۷: جائداد فروخت ہوئی اور شفیع نے شفعہ سے انکار کر دیا پھر مشتری نے خیار رویت یا خیار شرط کی وجہ سے واپس کر دی یا اس میں عیب نکلا اور حکم قاضی سے واپس ہوئی تو اس واپسی کو بیع قرار دے کر شفیع شفعہ نہیں کرسکتا کہ یہ واپسی فسخ ہے بیع نہیں ہے اور اگر عیب کی صورت میں بغیر حکم قاضی بائع نے خود واپس لے لی تو شفعہ ہوسکتا ہے کہ حق ثالث میں یہ بیع جدید ہے۔ یوہیں اگر بیع کا اقالہ ہوا تو شفعہ ہوسکتا ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱: طلب مواثبت یا طلب اشہاد نہ کرنے سے شفعہ باطل ہو جاتا ہے۔ شفعہ کی تسلیم سے بھی باطل ہو جاتا ہے مثلاًیہ کہے کہ اس مکان کا شفعہ میں نے تسلیم کر دیا۔ بائع کے لیے تسلیم کرے یا مشتری یا وکیل مشتری کے لیے، قبضہ مشتری سے قبل تسلیم کرے یا بعد میں ہر صورت میں باطل ہو جاتا ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ بیع کے بعد تسلیم ہو اور اگر بیع سے قبل تسلیم پائی گئی تو اس سے شفعہ باطل نہیں ہوگا۔ یوہیں اگر یہ کہے کہ میں نے شفعہ باطل کر دیا یا ساقط کر دیا جب بھی شفعہ باطل ہو جائے گا۔ نابالغ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب طلب عند القاضی...إلخ،ج۹،ص۳۹۳.
2 ۔وہ جائداد جس پر شفعہ کا دعویٰ کیا گیا۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب ما تجب فیہ الشفعۃ...إلخ،ج۲،ص۳۲۰.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ ،باب ما تثبت ھی فیہ أولاتثبت،ج ۹،ص ۳۹۶.
کے لیے حق شفعہ تھا اُس کے باپ یا وصی نے تسلیم کی شفعہ باطل ہوگیا۔ (1)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲: طلب شفعہ کے لیے وکیل کیا تھا وکیل نے قاضی کے پاس شفعہ کی تسلیم کر دی یا یہ اقرار کیا کہ میرے موکل نے تسلیم کر دی ہے اس سے بھی شفعہ باطل ہو جائے گا اور اگر یہ تسلیم یا اقرار تسلیم قاضی کے پاس نہ ہو تو شفعہ باطل نہیں ہوگا مگر یہ وکیل وکالت سے خارج ہو جائے گا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳: جس شخص کے لیے تسلیم کا حق ہے اس کا سکوت بھی شفعہ کو باطل کر دیتا ہے مثلاًباپ یا وصی کا خاموش رہنا بھی مُبطِل(3)ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۴: مشتری نے شفیع کو کچھ دے کر مصالحت کر لی کہ شفعہ نہ کرے یہ صلح بھی باطل ہے کہ جو کچھ دینا قرار پایا ہے رشوت ہے اور اس صلح کی وجہ سے شفعہ بھی باطل ہوگیا۔ یوہیں اگر حق شفعہ کو مال کے بدلے میں بیع کیا یہ بیع بھی باطل ہے اور شفعہ بھی باطل ہوگیا۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: شفیع نے مشتری سے یوں مصالحت کی نصف مکان مجھے اتنے میں دے دے یہ صلح صحیح ہے اور اگر یوں مصالحت کی کہ یہ کمرہ مجھے دے دے اس کے مقابل میں ثمن کا جو حصہ ہے وہ میں دوں گا تو صلح صحیح نہیں مگر شفعہ بھی ساقط نہ ہوگا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۶: شفیع نے مشتری سے اوس جائداد کا نرخ چکایا یا یہ کہا کہ میرے ہاتھ بیع تولیہ کر و یا اجارہ پر لیایا مشتری سے کہا میرے پاس ودیعت (7)رکھ دویا میرے لیے ودیعت رکھ دویا میرے لیے اس کی وصیت کردو یا مجھے صدقہ کے طور پر دے دو ان سب صورتوں میں شفعہ کی تسلیم ہے۔(8) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطلھا،ج۹،ص۳۹۸۔۴۰۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب التاسع فیما یبطل بہ...إلخ،ج۵،ص۱۸۲والباب الثانی عشرفی شفعۃ الصبِیِّ،ص۱۹۲.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطلھا،ج۹،ص۴۰۰.
3 ۔یعنی شفعہ کو باطل کرنے والا ہے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطلھا،ج۹،ص۴۰۰.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطل بہ الشفعۃ،ج۲،ص۳۲۱.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطلھا،ج۹،ص۴۰۱.
7 ۔امانت۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب التاسع فیما یبطل بہ...إلخ،ج۵،ص۱۸۲.
مسئلہ ۷: ہبہ بشرط العوض میں بعد تقابضِ بدلین شفیع نے شفعہ کی تسلیم کی اس کے بعد اون دونوں نے یہ اقرار کیا کہ ہم نے اُس عوض کے مقابل میں بیع کی تھی اب شفیع کو شفعہ کا حق نہیں ہے اور اگر ہبہ بغیر عوض میں بعد تسلیم شفعہ اون دونوں نے ہبہ بشرط العوض یا بیع کا اقرار کیا تو شفعہ کرسکتا ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: شفعہ کے فیصلہ سے پہلے شفیع مرگیا شفعہ باطل ہوگیا یعنی اس میں میراث نہیں ہوگی کہ وہ مرگیا تو اس کا وارث اس کے قائم مقام ہو کر شفعہ کرے اور فیصلہ کے بعد شفیع کا انتقال ہوا تو شفعہ باطل نہیں ہوا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۹: مشتری یا بائع کی موت سے شفعہ باطل نہیں ہوتا بلکہ شفیع اون کے وارثوں سے مطالبہ کریگا کہ یہ اُن کے قائم مقام ہیں اور مشتری کے ذمہ اگر دَین ہے تو اُس کی ادا کے لیے یہ جائداد نہیں بیچی جائے گی۔ قاضی یا وصی نے بیع کر دی ہو تو شفیع اس بیع کو باطل کر دے گا اور اگر مشتری نے یہ وصیّت کی ہے کہ فلاں کو دی جائے تو یہ وصیت بھی شفیع باطل کر دے گا۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: جس جائداد کے ذریعہ سے شفعہ کرتا ہے قبل فیصلہ شفیع نے وہ جائداد بیع کر دی حق شفعہ باطل ہوگیا اگرچہ اس جائداد کی بیع کا اُسے علم نہ تھا جس پر شفعہ کرتا۔ یوہیں اگر اُس کو مسجد یا مقبرہ کر دیا یا کسی دوسری طرح وقف کر دیا اب شفعہ نہیں کرسکتا اور اگر اُس جائداد کو بیع کر دیا مگر اپنے لیے خیار شرط رکھا ہے تو جب تک خیار ساقط نہ ہو شفعہ باطل نہیں ہوگا۔ (4)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۱: شفیع نے اپنی پوری جائداد نہیں فروخت کی ہے بلکہ آدھی یا تہائی بیچی الغرض کچھ باقی ہے تو شفعہ کا حق بدستور قائم ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: شفیع نے مشتری سے وہ جائداد خرید لی اس کا شفعہ باطل ہوگیا دوسرا شخص جو اس کی برابر کا ہے یعنی مثلاًیہ بھی شریک ہے وہ بھی شریک ہے یا اس سے کم درجہ کا ہے یعنی یہ شریک ہے وہ پروسی ہے یہ شفعہ کرسکتا ہے اور اختیار ہے کہ پہلی بیع کے لحاظ سے شفعہ کرے یا دوسری بیع جو مشتری و شفیع کے مابین ہوئی ہے اس کے لحاظ سے شفعہ کرے۔(6) (درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب التاسع فیما یبطل بہ...إلخ،ج۵،ص۱۸۲.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب ما یُبطلھا،ج۹،ص۴۰۱.
3 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطلھا،ج۹،ص۴۰۱.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطل بہ الشفعۃ،ج۲،ص۳۲۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطلھا،ج۹،ص۴۰۲.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب التاسع فیما یبطل بہ...إلخ،ج۵،ص۱۸۴.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطلھا،ج۹،ص۴۰۲.
مسئلہ ۱۳: شفیع نے ضمان درک کیا یعنی مشتری کو اندیشہ تھا کہ اگر اس جائداد کا کوئی دوسرا مالک نکل آیا تو جائداد ہاتھ سے نکل جائے گی اور بائع سے ثمن کی وصولی کی کیا صورت ہوگی شفیع نے ضمانت کر لی شفعہ باطل ہوگیا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: بائع نے شفیع کو بیع کا وکیل کیا اسی وکیل نے بیع کی اب شفعہ نہیں کرسکتا اور مشتری نے کسی کو مکان خریدنے کا وکیل کیا تھا اُس نے خریدا تو اس خریدنے کی وجہ سے شفعہ نہیں باطل ہوگا۔ یوہیں اگر بائع نے بیع میں شفیع کے لیے خیار شرط کیا کہ اُسے اختیار ہے بیع کو نافذ کرے یا نہ کرے اُس نے نافذ کر دی حق شفعہ باطل ہوگیا۔ اور اگر مشتری نے ایسے شخص کے لیے خیار شرط کیا جو شفعہ کریگا اُس نے خیار ساقط کر کے بیع کو نافذ کر دیا حق شفعہ نہیں باطل ہوگا۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۵: شفیع کو یہ خبر ملی تھی کہ مکان ایک ہزار کو فروخت ہوا ہے اوس نے تسلیم شفعہ کر دی بعد میں معلوم ہوا کہ ہزار سے کم میں فروخت ہوا ہے یا ہزار روپے میں نہیں فروخت ہوا ہے بلکہ اتنے من گیہوں یا جو کے بدلے میں فروخت ہوا ہے اگرچہ ان کی قیمت ایک ہزار بلکہ ایک ہزار سے زیادہ ہو تو تسلیم صحیح نہیں بلکہ شفعہ کرسکتا ہے اور اگربعد میں یہ معلوم ہوا کہ ہزار روپے کی اشرفیوں کے عوض میں فروخت ہوا ہے یا عروض کے عوض میں فروخت ہوا جن کی قیمت ایک ہزار ہے تو شفعہ نہیں کرسکتا۔ (3)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۶: شفیع کو یہ خبر ملی کہ ثمن از قبیل مکیل و موزون فلاں چیز ہے اور تسلیم شفعہ کر دی بعد کو معلوم ہوا کہ مکیل و موزون کی دوسری جنس ثمن ہے تو شفعہ کرسکتا ہے اگرچہ اس کی قیمت اُس سے کم یا زیادہ ہو۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: یہ خبر ملی تھی کہ مشتری زید ہے اس نے تسلیم کر دی بعد کو معلوم ہوا کہ دوسرا شخص ہے تو شفعہ کرسکتا ہے اور اگر بعد کو معلوم ہوا کہ زید و عمرو دونوں مشتری ہیں تو زید کے حصہ میں نہیں کرسکتا عَمْرْو کے حصہ میں کرسکتا ہے۔ (5)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۸: شفیع کو خبر ملی تھی کہ نصف مکان فروخت ہوا ہے اُس نے تسلیم شفعہ کر دی بعد میں معلوم ہوا کہ پورا مکان فروخت ہوا تو شفعہ کرسکتا ہے اور اگر پہلے یہ خبر تھی کہ کل فروخت ہوا اُس نے تسلیم کر دی بعد کو معلوم ہوا کہ نصف فروخت ہوا تو شفعہ نہیں کرسکتا۔ (6)(درمختار) یہ اُس صورت میں ہے کہ کل کا جو ثمن تھا اُتنے ہی میں نصف کا فروخت ہونا معلوم ہوا اور اگر یہ صورت
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطلھا،ج۹،ص۴۰۲.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطل بہ الشفعۃ،ج۲،ص۳۲۱.
3 ۔المرجع السابق،ص۳۲۲.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب التاسع فیما یبطل بہ...إلخ،ج۵،ص۱۸۴.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطل بہ الشفعۃ،ج۴،ص۳۲۲.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطلھا،ج۹،ص۴۰۳.
نہ ہو بلکہ نصف کا ثمن کل کے ثمن کا نصف ہے تو شفعہ کرسکتا ہے مثلاًپہلے یہ خبر ملی تھی کہ پورا مکان ایک ہزارمیں فروخت ہوا اور اب یہ معلوم ہوا کہ نصف مکان پانسو میں فروخت ہوا تو شفعہ ہوسکتا ہے پہلے کی تسلیم مانع نہیں ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: شفیع نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ مکان جو فروخت ہوا ہے میرا ہی ہے بائع کا نہیں ہے شفعہ نہیں کرسکتا یعنی شفعہ باطل ہوگیا اور اگر پہلے شفعہ کا دعویٰ کیا اور اب کہتا ہے کہ میرا ہی مکان ہے یہ دعوےٰ نامقبول ہے۔(2) (خانیہ) اور اگر یوں کہا کہ یہ مکان میرا ہے اور میں اس کا شفیع ہوں اگر مالک ہونے کی حیثیت سے ملا تو ملا ورنہ شفعہ سے لوں گا اس طرح کہنے سے نہ شفعہ باطل ہوا نہ دعوائے مِلک باطل۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: جس جانب شفیع کا مکان یا زمین ہے اس جانب ایک کنارہ سے دوسرے کنارہ تک ایک ہاتھ چھوڑ کر باقی مکان بیچ ڈالا یعنی جائداد مبیعہ اور جائداد شفیع میں فاصلہ ہوگیا اب شفعہ نہیں کرسکتا کہ دونوں میں اتصال ہی نہ رہا۔ یوہیں اگر ایک ہاتھ کی قدر یہاں سے وہاں تک مشتری کو ہبہ کر دیا اور قبضہ بھی دے دیا اس کے بعد باقی جائداد کو فروخت کیا تو شفعہ نہیں کرسکتا۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۱: مکان کے سوسہام (5)میں سے ایک سہم پہلے خرید لیا باقی سہام کو بعد میں خریدا تو پروسی کا شفعہ صرف پہلے سہم میں ہوسکتا ہے کہ بعد میں جو کچھ خریدا ہے اُس میں خود مشتری شریک ہے۔ مشتری ان ترکیبوں سے شفعہ کا حق باطل کرسکتا ہے۔ (6)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۲: شفعہ ثابت ہو جانے کے بعد اس کے اسقاط کا حیلہ کرنا بالاتفاق مکروہ ہے مثلاًمشتری شفیع سے یہ کہے کہ تم شفعہ کر کے کیا کرو گے اگر تم اسے لینا ہی چاہتے ہو تو جتنے میں میں نے لیا ہے اتنے میں تمہارے ہاتھ فروخت کر دوں گا شفیع نے کہہ دیا ہاں یا کہا میں خرید لوں گا شفعہ باطل ہوگیا یا اس سے کسی مال پر مشتری نے مصالحت کر لی شفعہ بھی باطل ہوگیا اور مال بھی نہیں دینا پڑا۔ (7)(نہایہ وغیرہا)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب التاسع فیما یبطل بہ...إلخ،ج۵،ص۱۸۴.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الشفعۃ، فصل فی الطلب،ج۲،ص۴۴۷.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطلھا،ج۹،ص۴۱۷.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطل بہ الشفعۃ،ج۴،ص۳۲۲.
5 ۔سہم کی جمع حصے۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطل بہ الشفعۃ،ج۴،ص۳۲۲، وغیرھا.
7 ۔''العنایۃ''علی''فتح القدیر''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطل بہ الشفعۃ،ج۸،ص۳۴۴، وغیرھا.
مسئلہ ۲۳: ایسی ترکیب کرنا کہ شفعہ کا حق ہی نہ پیدا ہونے پائے امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیک مکروہ ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں کہ اس میں کراہت نہیں قولِ امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۴: نابالغ بچہ کو بھی حق شفعہ حاصل ہوتا ہے بلکہ جو بچہ ابھی پیٹ میں ہے اوس کو بھی یہ حق حاصل ہے جب کہ جائداد کی خریداری سے چھ ماہ کے اندر پیدا ہوگیا ہو اور اگر شکم میں بچہ ہے اور اس کا باپ مرگیا اور یہ جائداد کا وارث ہوا اور اس کے باپ کے مرنے کے بعد جائداد فروخت ہوئی تو اگرچہ وقت خریداری سے چھ ماہ کے بعد پیدا ہوا ہو شفعہ کا بھی اسے حق ملے گا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: نابالغ کے لیے جب حق شفعہ ہے تو اس کا باپ یا باپ کا وصی یہ نہ ہو تو دادا پھر اس کے بعد اس کا وصی یہ بھی نہ ہو تو قاضی نے جس کو وصی مقرر کیا ہو وہ شفعہ کو طلب کریگا اور ان میں سے کوئی نہ ہو تو یہ خود بالغ ہو کر مطالبہ کریگا اور اگر ان میں سے کوئی ہو مگر اس نے قصدا ًطلب نہ کیا تو شفعہ کا حق جاتا رہا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: باپ نے ایک مکان خریدا اور اُس کا نابالغ لڑکا شفیع ہے اور باپ نے نابالغ کی طرف سے طلب شفعہ نہیں کی شفعہ باطل ہوگیا کہ خریدنا طلب شفعہ کے منافی نہ تھا اور اگر باپ نے مکان بیچا اور نابالغ لڑکا شفیع ہے اور باپ نے طلب نہ کی شفعہ باطل نہ ہوا کہ بیع کرنا طلب شفعہ کے منافی تھا اور اس صورت میں وہ لڑکا بعد بلوغ شفعہ طلب کرسکتا ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: باپ نے مکان غبن فاحش کے ساتھ خریدا تھا اس وجہ سے نابالغ کے لیے شفعہ طلب نہیں کیا کہ اُس کے مال سے نقصان کے ساتھ اُسے لینے کا حق نہ تھا اس صورت میں حق شفعہ باطل نہیں ہے وہ لڑکا بالغ ہو کر شفعہ کرسکتا ہے۔ (5)(عالمگیری)
تقسیم کا جواز قرآن وحدیث و اجماع سے ثابت۔
قرآن مجید میں فرمایا:
(وَ نَبِّئْہُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَۃٌۢ بَیۡنَہُمْ ۚ)
(6)
''اور انھیں خبر دے دو کہ پانی کی ان کے مابین تقسیم ہے۔''
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشفعۃ،باب ما یبطلھا،ج۹،ص۴۰۸.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشفعۃ، الباب الثانی عشر فی شفعۃ الصبی،ج۵،ص۱۹۱.
3 ۔المرجع السابق،ص۱۹۲. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔پ۲۷، القمر:۲۸.
اور دوسرے مقام پر فرمایا:
(وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰی)
(1)
''جب تقسیم کے وقت رشتہ والے آجائیں۔''
اور احادیث اس بارہ میں بہت ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نےغنیمتوں اور میراثوں کی تقسیم فرمائی اور اس کے جواز پر اجماع بھی منعقد ہے۔
مسئلہ ۱: شرکت کی صورت میں ہر ایک شریک کی مِلک دوسرے کی مِلک سے ممتاز نہیں ہوتی اور ہر ایک کسی مخصوص حصہ سے نفع پر قادر نہیں ہوتا ان حصوں کو جدا کر دینے کا نام تقسیم ہے جب شرکا میں سے کوئی شخص تقسیم کی درخواست کرے تو قاضی پر لازم ہے کہ اُس کی درخواست قبول کرے اور تقسیم کر دے۔ (2)(عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: قاضی کو اُس کی درخواست قبول کرنا اُس وقت ضروری ہے کہ تقسیم سے اس چیز کی منفعت فوت نہ ہو یعنی وہ چیز جس کام کے لیے عرف میں ہے وہ کام تقسیم کے بعد بھی اس سے لیا جاسکے اور اگر تقسیم سے منفعت جاتی رہے مثلاًحمام کو اگر تقسیم کردیا جائے تو حمام نہ رہے گا اگرچہ اُس میں دوسرے کام ہوسکتے ہوں لہٰذا اس کی تقسیم سے منفعت فوت ہوتی ہے یہ تقسیم قاضی کے ذمہ لازم نہیں۔ جس چیز میں تقسیم سے منفعت فوت ہو اُس کی تقسیم اُس وقت کی جائے گی جب تمام شرکا تقسیم پر راضی ہوں۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: تقسیم میں اگرچہ ایک شریک کا حصہ دوسرے شرکا کے حصوں سے جدا کرنا ہے مگر اس میں مبادَلہ کا(4)پہلو بھی پایا جاتا ہے کیونکہ شرکت کی صورت میں ہر جز میں ہر ایک شریک کی مِلک(5)ہے اور تقسیم سے یہ ہوا کہ اس کے حصہ میں جو اس کی مِلک تھی اُس کے عوض میں اس حصہ میں جو اُس کی مِلک تھی حاصل کر لی۔ مثلی چیزوں میں جُدا کرنے کا پہلو غالب ہے اور قیمی میں مبادَلہ کا پہلو غالب۔(6) (درمختار)
1 ۔پ۴، النساء:۸.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث عشر فی المتفرقات،ج۵،ص۲۳۱.
و''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۲۱.
3 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۲۲.
4 ۔باہم تبدیل ہونے کا۔ 5 ۔ملکیت۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۲۲.
مسئلہ ۴: مکیل (1)و موزون (2)اور دیگر مثلی چیزوں میں تقسیم کے بعد ایک شریک اپنا حصہ دوسرے کی عدم موجودگی(3)میں لے سکتا ہے اور قیمی چیزوں میں چونکہ مبادَلہ کا پہلو غالب ہے تقسیم کے بعد ایک شریک دوسرے کی عدم موجودگی میں نہیں لے سکتا۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۵: دو شخصوں نے چیز خریدی پھر اس کو باہم تقسیم کر لیا اب ایک شخص اپنا حصہ مرابحہ کے طور پر بیع کرنا چاہتا ہے یہ نہیں کرسکتا۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۶: مکیل یا موزوں دو شخصوں میں مشترک ہے ان میں ایک موجود ہے دوسرا غائب ہے یا ایک بالغ ہے دوسرانابالغ ہے تقسیم کے بعد اُس موجود یا بالغ نے اپنا حصہ لے لیا یہ تقسیم اُس وقت صحیح ہے کہ دوسرے شریک یعنی غائب یا نابالغ کو اس کاحصہ پہنچ جائے اور اگر ان کو حصہ نہ ملا فرض کرو کہ ہلاک ہوگیا تو تقسیم باقی نہیں رہے گی ٹوٹ جائے گی یعنی جو شخص حصہ لے چکا ہے اُس حصہ کو ان دونوں کے مابین پھر تقسیم کیا جائے گا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۷: غیر مثلی چیزیں اگر ایک ہی جنس کی ہوں اور ایک شریک نے تقسیم کا مطالبہ کیا تو دوسرا شریک تقسیم پر مجبور کیا جائے گا یہ نہیں خیال کیا جائے گا کہ یہ مبادَلہ ہے اس میں رضامندی ضروری ہے البتہ شرکت کی لونڈی غلام میں جبریہ تقسیم نہیں ہے۔(7) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۸: بہتر یہ ہے کہ تقسیم کے لیے کوئی شخص حکومت کی جانب سے مقرر کر دیا جائے جس کو بیتُ المال سے وظیفہ دیا جائے اور اگر بیت المال سے وظیفہ نہ دیا جائے بلکہ اُس کی مناسب اُجرت شرکا کے ذمہ ڈال دی جائے یہ بھی جائزہے۔(8) (ہدایہ)
مسئلہ ۹: بانٹنے والے کی اُجرت تمام شرکا پر برابر برابر ڈالی جائے اُن کے حصوں کے کم زیادہ ہونے کا اعتبار نہ ہوگا
1 ۔ناپ سے بکنے والی اشیاء مکیل کہلاتی ہیں۔ 2 ۔وزن سے بکنے والی اشیاء موزون کہلاتی ہیں۔ 3 ۔غیر موجودگی۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ،ج۲،ص۳۲۵.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۲۳.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ،ج۲،ص۳۲۵.
و''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۲۴.
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ،ج۲،ص۳۲۵.
مثلاًایک شخص کی ایک تہائی ہے دوسرے کی دو تہائیاں دونوں کے ذمہ اُجرت تقسیم یکساں ہوگی کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ دوسرے مواقع پر مشترک چیز میں کام کرنے والے کی اُجرت ہر ایک شریک پر بقدر حصہ ہے مثلاًمشترک غلہ کے ناپنے یا کسی چیز کے تولنے کی اُجرت یا مشترک دیوار بنانے یا اُس میں کہگل(1)کرنے کی اُجرت یا مشترک نہر کھودنے یا اُس میں سے مٹی نکالنے کی اُجرت سب شرکا کے ذمہ برابر نہیں بلکہ ہر ایک کا جتنا حصہ ہے اُسی مناسبت سے سب کو اُجرت دینی ہوگی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: تقسیم کرنے کے لیے ایسا شخص مقرر کیا جائے جو عادل ہوا مین ہو اور تقسیم کرنا جانتا ہو بددیانت یااَناڑی(3)کو یہ کام نہ سپرد کیا جائے۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۱: ایک ہی شخص اس کام کے لیے معین نہ کیا جائے یعنی لوگوں کو اس پر مجبور نہ کیا جائے کہ اُسی سے تقسیم کرائیں کہ اس صورت میں وہ جو چاہے گا اُجرت لے لیا کریگا اور واجبی اُجرت سے زیادہ لوگوں سے وصول کر لیا کریگا اور ایسا بھی موقع نہ دیا جائے کہ تقسیم کنندگان(5)باہم شرکت کر لیں کہ جو کچھ اس تقسیم کے ذریعہ سے حاصل کریں گے سب بانٹ لیں گے کہ اس میں بھی وہی اندیشہ ہے کہ اتفاق کر کے یہ لوگ اُجرت میں اضافہ کر دیں گے۔(6) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۲: شرکا نے باہم رضامندی کے ساتھ خود ہی تقسیم کر لی یہ تقسیم صحیح و لازم ہے ہاں اگر ان میں کوئی نابالغ یامجنون ہے جس کا کوئی قائم مقام نہ ہو یا کوئی شریک غائب ہے اور اس کا کوئی وکیل بھی نہیں ہے جس کی موجودگی میں تقسیم ہو تویہ اُس وقت لازم ہوگی کہ قاضی اسے جائز کر دے یا وہ غائب حاضر ہو کر یا نابالغ بالغ ہو کر یا اُس کا ولی اس تقسیم کو جائز کر دے یہ تمام اَحکام اُس وقت ہیں کہ میراث میں ان کی شرکت ہو۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: جائداد منقولہ (8)میں چند اشخاص شریک ہیں وہ کہتے ہیں ہم کو یہ جائداد وراثت میں ملی ہے یا مِلک مطلق کا
1 ۔ بھس ملی ہوئی مٹی کا پلستر۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۲۵،۴۲۶.
3 ۔ناتجربہ کار،ان جان،ناواقف۔۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ،ج۲،ص۳۲۵.
5 ۔تقسیم کرنے والے۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ،ج۲،ص ۳۲۵،۳۲۶.
و''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۲۷.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۲۷.
8 ۔وہ جائداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاسکتی ہو۔
دعویٰ کرتے ہیں یا کہتے ہیں ہم نے خریدی ہے یا اور کسی سبب سے سب اپنی مِلک و شرکت کا دعویٰ کرتے ہیں یہ لوگ تقسیم کرانا چاہتے ہیں محض ان کے کہنے پر تقسیم کر دی جائے گی ان سے خریداری وغیرہ کے گواہ کا مطالبہ نہیں ہوگا۔ یوہیں جائداد غیر منقولہ کے متعلق اگر یہ لوگ خریدنا بتاتے ہیں یا مِلک مطلق کا دعویٰ کرتے ہیں تو اسے بھی تقسیم کر دیا جائے گا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: جائداد غیر منقولہ کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ یہ ہم کو وراثت میں ملی ہے تو تقسیم اوس وقت کی جائے گی جب لوگ یہ ثابت کر دیں کہ مورث مرگیا اور اُس کے ورثہ ہم ہی ہیں ہمارے سوا کوئی دوسرا وارث نہیں ہے۔ یوہیں اگر کسی جائداد غیر منقولہ کی نسبت چند شخص یہ کہتے ہیں کہ ہمارے قبضہ میں ہے اور تقسیم کرانا چاہتے ہیں تو تقسیم نہیں کی جائے گی جب تک یہ ثابت نہ کردیں کہ وہ جائداد اُنھیں کی ہے۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اون کے قبضہ میں ہونا بطور عاریت و اِجارہ ہو۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: شرکا نے مورِث کی موت اور ورثہ کی تعداد کو ثابت کر دیا مگر ان وارثوں میں کوئی نابالغ بھی ہے یا کوئی وارث موجود نہیں ہے غائب ہے تو کسی شخص کو اس نابالغ یا غائب کے قائم مقام کیا جائے گا جو نابالغ کے لیے وصی اور غائب کی طرف سے وکیل ہوگا اس کی موجودگی میں تقسیم ہوگی۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: ایک وارث تنہا حاضر ہوتا ہے اور موتِ مُورِث کو ثابت کرنا چاہتا ہے تو اس کے کہنے پر تقسیم نہیں ہوسکتی جب تک کم از کم دو شخص نہ ہوں اگرچہ ان میں ایک نابالغ ہو یا موصی ا لہ (4)ہو۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: چند اشخاص نے شرکت میں کوئی چیز خریدی ہے یا میراث کے سوا کسی دوسرے طریقہ سے چیز میں شرکت ہے اور ان شرکا میں سے بعض غائب ہیں تو جب تک یہ حاضر نہ ہوں تقسیم نہیں ہوسکتی۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: ایک وارث غائب ہے اور جائداد منقولہ کل یا اس کا جز اُسی غائب کے قبضہ میں ہے تو جو ورثہ حاضر ہیں وہ تقسیم نہیں کراسکتے۔یوہیں اگر وارث نابالغ کے قبضہ میں جائداد غیر منقولہ کل یا جز ہے تو بالغین کے مطالبہ پر تقسیم نہیں ہوسکتی۔ (7)(ہدایہ)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹، ص۴۲۸۔۴۲۹.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۲۹. 3 ۔المرجع السابق،ص۴۳۰.
4 ۔وہ شخص جس کے لیے وصیت کی گئی۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۳۱.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ،ج۲،ص۳۲۷.
مسئلہ ۱: مشترک چیز اگر ایسی ہے کہ تقسیم کے بعد ہر ایک شریک کو جو کچھ حصہ ملے گا وہ قابل انتفاع ہوگا تو ایک شریک کی طلب پر تقسیم کر دی جائے گی اور اگر بعد تقسیم بعض شریک کو اتنی قلیل ملے گی کہ نفع کے قابل نہ ہوگی اور تقسیم وہ شخص چاہتا ہے جس کا حصہ زیادہ ہے تو تقسیم کر دی جائے گی اور جس کا حصہ اتنا کم ہے کہ بعد تقسیم قابلِ نفع نہیں رہے گا اس کی طلب پر تقسیم نہیں ہوگی۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۲: تقسیم کے بعد ہر شریک کو اتنا ہی حصہ ملے گا جو قابل نفع نہیں تو جب تک سب شرکا راضی نہ ہوں ایک کے چاہنے سے تقسیم نہیں ہوگی مثلاًدکان دو شخصوں کی شرکت میں ہے اگر تقسیم کے بعد ہر ایک کو دکان کا اتنا حصہ ملتا ہے کہ جو کام اس میں کر رہا تھا اب بھی کرسکے گا تو ہر ایک کے کہنے سے تقسیم کر دی جائے گی اور اتنا حصہ نہ ملے تو تقسیم نہیں ہوگی جب تک دونوں راضی نہ ہوں۔(2) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۳: ایک ہی جنس کی چیز ہو یا چند طرح کی چیزیں ہوں مگر ہر ایک میں تقسیم کرنی ہو یعنی مثلاًصرف گیہوں یا صرف جَو ہوں یا دونوں ہوں مگر دونوں میں تقسیم کرنی ہو تو ایک کے کہنے سے قاضی تقسیم کر دے گا اور اگر دو قسم کی چیزیں ہوں مگر دونوں میں تقسیم جاری نہ کرنی ہو بلکہ ایک کو ایک چیز دے دی جائے اور دوسرے کو دوسری اس طرح کی تقسیم بغیر ہر ایک کی رضامندی کے نہیں ہوسکتی۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴: جواہر کی تقسیم بغیر رضامندی شرکا نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ ان میں بہت زیادہ تفاوت(4)ہوتا ہے۔ یوہیں حمام اور کوآں اور چکی کہ ان کی جبریہ(5)تقسیم نہیں ہوسکتی کہ تقسیم کے بعد وہ چیز قابلِ اِنتفاع(6)نہ رہے گی۔ اور حمام اگر بڑا ہے کہ بعد تقسیم ہر ایک کو جو کچھ حصہ ملے گا وہ کام کے قابل رہے گا تو تقسیم کر دیا جائے گا اور اگر رضامندی کے ساتھ حمام کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو تقسیم ہوسکتی ہے اگرچہ تقسیم کے بعد ہر ایک کا حصہ حمام نہ رہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان شرکا کا مقصود ہی یہ ہے کہ اسے حمام نہ رکھیں بلکہ کسی دوسرے کام میں لائیں۔ (7)(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، فصل فیما یقسم...إلخ،ج۲،ص۳۲۷.
2 ۔المرجع السابق،ص۳۲۹.
و''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۳۳.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹، ص۴۳۳،وغیرہ.
4 ۔فرق۔ 5 ۔غیررضامندی۔ 6 ۔نفع اُٹھانے کے قابل۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ،ج ۹، ص۴۳۴.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث فی بیان ما یقسم...إلخ،ج۵،ص۲۰۸.
مسئلہ ۵: چوکھٹ (1)کِواڑ(2)اور جانور اور موتی اور بانس اور کمان اور چراغ یہ چیزیں اگر ایک ایک ہوں تو ان کی تقسیم نہیں ہوگی کہ تقسیم سے یہ چیزیں خراب ہو جائیں گی اسی طرح ہر وہ چیز جس کی تقسیم میں توڑنے یا پھاڑنے کی ضرورت ہو تقسیم نہیں ہوگی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: کوآں یا چشمہ یا نہر مشترک ہو شرکا تقسیم چاہتے ہوں اگر اس کے ساتھ زمین نہیں ہے تو تقسیم نہیں کی جائے گی اور اگر زمین بھی ہے تو زمین کی تقسیم کر دی جائے اور وہ چیزیں مشترک رہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: کتابوں کو ورثہ کے مابین تقسیم نہیں کریں گے کہ ان میں بہت زیادہ تفا وُت ہوتا ہے بلکہ ہر ایک شریک مُہایاۃ یعنی باری مقرر کر کے اُن سے نفع حاصل کرسکتا ہے اور اگر رضامندی کے طور پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں مگر وہ لوگ اگر یہ چاہتے ہیں کہ کتابوں کو ورق ورق کر کے تقسیم کر دیا جائے یعنی ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے اوراق دے دیئے جائیں یہ نہیں کیا جاسکتا اگرچہ وہ سب اس پر راضی بھی ہوں۔ یوہیں اگر ایک کتاب کی کئی جلدیں ہوں یعنی سب جلدیں مل کر وہ کتاب پوری ہوتی ہو اور ان جلدوں کو تقسیم کرنا چاہتے ہوں تقسیم نہیں کی جائے گی اگرچہ وہ سب رضامند ہوں۔ وُرثہ اگر یہ کہیں کہ کتابوں کی قیمتیں لگا کر قیمت کے لحاظ سے شرکا پر کتابیں تقسیم کر دی جائیں اگر سب اس طرح تقسیم پر راضی ہوں تقسیم کر دی جائے گی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۸: دو مکانوں کے مابین ایک دیوار مشترک ہے اس کی تقسیم بغیر دونوں کی رضامندی کے نہیں ہوسکتی اوررضامند ہوں تو تقسیم کر دی جائے گی یعنی جبکہ دیوار بدستور باقی رکھتے ہوئے دونوں اپنے اپنے حصہ سے نفع اوٹھا سکیں اور اگریہ چاہیں کہ دیوار کو مُنہدم کر کے بنیاد کو تقسیم کر دیا جائے تو اگرچہ دونوں رضامند ہوں اس طرح تقسیم نہیں کی جائے گی ہاں اگر وہ خود دیوار کو گرا کر خود ہی تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو قاضی انھیں منع بھی نہ کریگا۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: ایک شخص کی زمین میں دو شخصوں نے مالک زمین کی اجازت سے دیوار بنائی اور یہ دونوں دیوار کوتقسیم کرنا چاہتے ہیں ان کی رضامندی سے مالکِ زمین کی عدم موجودگی میں بھی دیوار کی تقسیم ہوسکتی ہے۔ اور اگر مالکِ زمین نے ان دونوں
1 ۔دروازے کی چار لکڑیاں جن میں پٹ لگائے جاتے ہیں،فریم۔ 2 ۔لکڑی کا تختہ یاپٹ جس سے دروازہ بند کرتے ہیں۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثالث فی بیان ما یقسم...إلخ،ج۵،ص۲۰۸.
4 ۔المرجع السابق،ص۲۰۹.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۳۵.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث فی بیان ما یقسم...إلخ،ج۵،ص۲۰۷.
سے کہہ دیا کہ میری زمین خالی کر دو تو دیوارمُنہدم کرنی ہوگی اور ملبہ اگر قابل تقسیم ہے تو تقسیم کر دیا جائے گا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: ایک شریک یہ چاہتا ہے کہ اس مشترک چیز کو بیع کر دیا جائے اور دوسرا انکار کرتا ہے اس کو بیع کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: دکان مشترک قابل تقسیم نہ ہو ایک شریک یہ کہتا ہے کہ نہ اسے کرایہ پر دوں گا نہ باری مقرر کر کے اس سے نفع حاصل کروں گا یہاں باری مقرر کر دی جائے گی اور اس سے یہ کہہ دیا جائے گا کہ تم کو اختیار ہے اپنی باری میں دکان کو بند رکھو یا کسی کام میں لاؤ۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: زراعت مشترک ہے اگر دانے پڑ چکے ہیں مگر ابھی کاٹنے کے قابل نہیں ہے اس کی تقسیم نہیں ہوسکتی جب تک کھیت کٹ نہ جائے اگرچہ سب شرکا راضی ہوں۔ اور اگر کھیتی بالکل کچی ہے یعنی دانے پیدا نہیں ہوئے ہیں اور شرکا تقسیم پر راضی ہوں تو تقسیم ہوسکتی ہے مگر اس شرط سے کہ تقسیم کے بعد ہر ایک اپنا حصہ کاٹ لے یہ نہیں کہ پکنے تک کھیت ہی میں چھوڑ رکھے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: کپڑے کا تھان اپنی رضامندی سے پھاڑ کر تقسیم کرسکتے ہیں اس میں جبری تقسیم نہیں ہوسکتی۔ سلا ہوا کپڑا مثلاًکرتہ یا اَچکن (5)اس کی تقسیم نہیں ہوسکتی۔ دو کپڑے مختلف قیمت کے ہوں ان کی بھی جبری تقسیم نہیں ہوسکتی اس لیے کہ جو کم درجہ کا ہے اس کے ساتھ روپیہ شامل کرنا ہوگا تاکہ دونوں جانب برابری ہو جائے اور یہ بات بغیر دونوں کی رضامندی کے ہو نہیں سکتی اور جب دونوں راضی ہوں تو تقسیم کر دی جائے گی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: ایک ہی دھات کے مختلف قسم کے برتن مثلا ًدیگچی ،لوٹا، کٹورا، طَشت(7)ان کوبغیر رضامندی شرکا تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ یوہیں سونے یا چاندی یا پیتل یا اور کسی دھات کے زیور بغیر رضامندی تقسیم نہیں ہوں گے اگرچہ سب زیور
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث فی بیان ما یقسم...إلخ،ج۵،ص ۲۰۸.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۳۴،۴۳۵.
3 ۔المرجع السابق،ص۴۳۵.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث فی بیان ما یقسم...إلخ،ج۵،ص۲۰۸.
5 ۔چولی دامن کا گھٹنوں سے نیچے تک کا ایک قسم کالمبا لباس ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث فی بیان ما یقسم...إلخ،ج۵،ص۲۰۸،۲۰۹.
7 ۔تھال ۔
ایک ہی دھات کے ہوں اور سونا چاندی وغیرہما دھاتیں اگر ان کی کوئی چیز بنی ہوئی نہ ہو تو ان کی تقسیم میں تمام شرکا کی رضامندی درکار نہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: چند مکانات مشترک ہوں تو ہر ایک کو جدا تقسیم کیا جائے گا یہ نہیں کیا جائے گا کہ تمام مکانات کو ایک چیز فرض کر کے تقسیم کریں کہ ایک کو ایک مکان دے دیا جائے دوسرے کو دوسرا۔ یہ سب مکانات ایک ہی شہر میں ہوں یا مختلف شہروں میں دونوں کا ایک حکم ہے۔ یوہیں اگر چند قطعات زمین مشترک ہوں تو ہر قطعہ کی تقسیم جداگانہ ہوگی۔ یوہیں اگر مکان و دکان و زمین سب چیزیں ہوں تو ہر ایک کو علیٰحدہ علیٰحدہ تقسیم کیا جائے۔(2) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۶: مشترک نالی یا پرنالہ ہے ایک تقسیم چاہتا ہے دوسرا اِنکار کرتا ہے اگر اس کے مکان میں ایسی جگہ ہے کہ بغیرضرر نالی یا پرنالہ ہوسکتا ہے تو تقسیم کر دیں ورنہ نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: تقسیم کرنے والے کو یہ چاہیے کہ ہر شریک کے سِہام(4)جتنے ہوں انھیں پہلے لکھ لے اور زمین کی پیمائش کر کے ہر شریک کے سہام کے مقابل میں جتنی زمین پڑے صحیح طور پر قائم کرلے اور ہر حصہ کے لیے راستہ وغیرہ علیٰحدہ قائم کر دے تاکہ آئندہ جھگڑے کا احتمال نہ رہے اور ان حِصَص(5)پر ایک دو تین وغیرہ نمبر ڈال دے اور جمیع شرکا کے نام لکھ کر قرعہ اندازی کرے جس کا نام پہلے نکلے اوسے پہلا نمبر جس کا نام دوسری مرتبہ نکلے اسے نمبر دوم دے دے وعلیٰ ہذا القیاس۔ (6)(ہدایہ)
مسئلہ ۲: تقسیم میں قرعہ ڈالنا ضروریات میں نہیں بلکہ تَطْیِیْبِِ قلب(7)کے لیے ہے کہ کہیں حصہ داروں کو یہ وہم نہ ہو کہ فلاں کا حصہ میرے حصہ سے اچھا ہے اور قصداًایسا کیا گیا ہے اوّل تو تقسیم کرنے والا ہر حصہ میں مساوات کا ہی لحاظ رکھے گا پھر اس کے باوجود قرعہ بھی ڈالے گا تاکہ وہم ہی نہ پیدا ہوسکے اور اگر قاضی نے بغیر قرعہ ڈالے ہوئے خود ہی حصص کو نامزد کر دیا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث فی بیان ما یقسم...إلخ،ج۵،ص۲۰۹.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، فصل فیما یقسم...الخ،ج۲،ص۳۲۹.
و''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۳۵،۴۳۶.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث فی بیان ما یقسم...إلخ،ج۵،ص۲۰۷.
4 ۔ حصے۔ 5 ۔حصوں۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۲،ص۳۲۹.
7 ۔اطمینانِ قلب ۔
کہ یہ تمہارا ہے اور یہ تمہارا تو اس میں بھی حرج نہیں کہ قاضی کے فیصلہ سے انکار کی گنجائش نہیں۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: قاضی یا نائب قاضی نے تقسیم کی ہو اور قرعہ ڈالا اور بعض کے نام نکل آئے تو کسی شریک کو انکار کی گنجائش نہیں جس طرح نام نکلنے سے پہلے اسے انکار کا حق نہ تھا اب بھی نہیں ہے۔ اور اگر باہم رضامندی سے تقسیم کر رہے ہوں اور قرعہ ڈالا گیا بعض نام نکل آئے تو بعض شرکا انکار کرسکتے ہیں اور اگر سب شرکا کے نام نکل آئے یا صرف ایک ہی نام باقی رہ گیا تو قسمت (2)مکمل ہوگئی اب رضامندی کی صورت میں بھی انکار کی گنجائش باقی نہیں۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: مکان کی تقسیم میں جب زمین کی پیمائش کر کے حصے قائم کریگا عمارت کی قیمت لگائے گا کیونکہ آگے چل کر اس کی بھی ضرورت پڑے گی مثلاًکسی کے حصہ میں اچھی عمارت آئی اور کسی کے حصہ میں خراب تو بغیر قیمت معلوم کیے کیونکر مُساوات(4)قائم رہے گی۔ (5)(ہدایہ)
مسئلہ ۵: اگر زمین و عمارت دونوں کی تقسیم منظور ہے اور عمارت کچھ اچھی ہے کچھ بُری یا ایک طرف عمارت زائد ہے اور ایک طرف کم اور ایک کو اچھی یا زیادہ عمارت ملے تو دوسرے کو زمین زیادہ دے کر وہ کمی پوری کر دی جائے اور اگر زمین زیادہ دینے میں بھی کمی پوری نہ ہو کہ ایک طرف کی عمارت ایسی اچھی یا اتنی زیادہ ہے کہ بقیہ کل زمین دینے سے بھی کمی پوری نہیں ہوتی تو یہ کمی روپے سے پوری کی جائے۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۶: مکان کی تقسیم میں ایک کا پرنالہ یا راستہ دوسرے کے حصے میں پڑا اگر تقسیم میں یہ شرط مذکور ہو کہ اس کاپرنالہ یا راستہ دوسرے کے حصہ میں ہوگا جب تو اس تقسیم کو بدستور باقی رکھا جائے گا اور شرط نہ ہو تو دو صورتیں ہیں اس حصہ کاراستہ وغیرہ پھیر کر دوسرا کیا جاسکتاہے یا نہیں اگر ممکن ہو تو راستہ وغیرہ پھیر کر دوسرا کر دیا جائے اور ناممکن ہو تو اس تقسیم کو توڑکر اَزسرنو تقسیم کی جائے۔ (7)(ہدایہ، درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ،مطلب:لکل من الشرکاء ...إلخ،ج۹،ص۴۳۶.
2 ۔تقسیم۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ، مطلب: فی الرجوع عن القرعۃ، ج۹، ص۴۳۶۔۴۳۷.
4 ۔برابری۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۲،ص۳۳۰.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۲،ص۳۳۰.
و''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۳۸.
مسئلہ ۷: اگر شرکا میں اختلاف ہے بعض یہ کہتے ہیں کہ راستہ کو تقسیم میں نہ لیا جائے بلکہ جس طرح پہلے پورے مکان کا ایک راستہ تھا اب بھی رہے اور مکان کا ایسا موقع ہے کہ ہر حصہ کا جداگانہ راستہ ہوسکتا ہے یعنی جدید دروازہ کھول کر آمدورفت ہوسکتی ہے تو اس شریک کا کہنا مانا جاسکتا ہے اور اگر یہ بات ناممکن ہے تو اس کا کہنا نہیں مانا جائے گا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۸: راستہ کی چوڑائی اور اونچائی میں اختلاف ہو تو صدر دروازہ کی چوڑائی کی برابر راستہ کی چوڑائی رکھی جائے اور اس کی بلندی کی برابر راستہ کی بلندی رکھی جائے یعنی اس بلندی سے اوپر اگر کوئی اپنی دیوار میں چھجا نکالنا چاہتا ہے نکال سکتاہے اور اس سے نیچے نہیں نکال سکتا۔ (2)(عنایہ، درمختار)
مسئلہ ۹: مکان کی تقسیم میں اگر یہ شرط ہو کہ راستہ کی مقداریں مختلف ہوں گی اگرچہ شرکا کے حصے اس مکان میں برابر برابر ہوں یہ جائز ہے جب کہ یہ تقسیم آپس کی رضامندی سے ہو کہ غیر اموال ربویہ(3)میں رضامندی کے ساتھ کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: دو منزلہ مکان ہے اس میں چند صورتیں ہیں پورا مکان یعنی دونوں منزلیں مشترک ہیں یا صرف نیچے کی منزل مشترک ہے یا صرف بالاخانہ مشترک ہے اس کی تقسیم میں ہر ایک کی قیمت لگائی جائے اور قیمت کے لحاظ سے تقسیم ہوگی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: زمین مشترک میں درخت اور زراعت تھی صرف زمین کی تقسیم ہوئی تو جس کے حصہ میں درخت یا زراعت پڑی وہ قیمت دے کر اس کا مالک ہوگا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: بھوسے کی تقسیم گٹھریوں سے ہوسکتی ہے وزن کے ساتھ ہونا ضرور نہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: ایک شخص کی دو روٹیاں ہیں اور ایک کی تین روٹیاں دونوں نے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا چاہا ایک تیسرا شخص آگیا اوسے دونوں نے کھانے میں شریک کر لیا اور تینوں نے برابر برابر کھایا اس نے کھانے کے بعد پانچ روپے دیے اور یہ کہا کہ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۳۸.
2 ۔''العنایۃ''علی''فتح القدیر''،کتاب القسمۃ، فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۸،ص۳۶۵.
و''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۳۸.
3 ۔وہ اموال جن میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ کرنے سے سود نہیں ہوتا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۳۹.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث فی بیان ما یقسم...إلخ،ج۵،ص۲۰۹.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثانی فی بیان کیفیۃ القسمۃ،ج۵،ص۲۰۷.
جتنی جتنی میں نے تمہاری روٹی کھائی اُسی حساب سے روپے بانٹ لو تو جس کی دو تھیں اوسے ایک روپیہ ملے گا اور جس کی تین تھیں اوسے چار۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: تقسیم ہونے کے بعد ایک شریک یہ کہتا ہے کہ میرا حصہ مجھے نہیں ملا اور تقسیم کرنے والوں نے گواہی دی کہ اس نے اپنا حصہ وصول پالیا یہ گواہی مقبول ہے اور فقط ایک تقسیم کرنے والے نے شہادت دی تو گواہی مقبول نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: تقسیم کے بعد ایک شریک یہ کہتا ہے کہ فلاں چیز میرے حصہ میں تھی اور غلطی سے دوسرے کے پاس پہنچ گئی اور اس سے پہلے یہ اقرار کرچکا تھا کہ میں نے اپنا حصہ وصول پالیا یا وصول پانے کا اقرار نہ کیا ہو دونوں صورتوں میں اس کی بات جب ہی مانی جائے گی کہ اس کے قول کے صحیح ہونے پر دلیل ہو یعنی گواہوں سے ایسا ثابت کر دے یا دوسرا شریک اقرار کر لے کہ ہاں اس کے حصہ کی فلاں چیز میرے پاس ہے اور یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو اس کے شریک پر قسم دی جائے اور وہ قسم کھانے سے نکول(3)کرے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: تقسیم کے بعد کہتا ہے کہ مجھے میرا حصہ مل گیا تھا اور میں نے قبضہ بھی کر لیا تھا پھر میرے شریک نے اس میں سے فلاں چیز لے لی اور شریک اس سے انکار کرتا ہے اس کا حاصل یہ ہوا کہ شریک پر غصب کا دعویٰ کرتا ہے اور وہ انکار کرتا ہے اگر اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو شریک پر حَلْف رکھا جائے۔ اور اگر وصول پانے کا اقرار نہیں کیا ہے صرف اتنی بات کہی ہے کہ یہاں سے یہاں تک میرے حصہ میں آئی مگر مجھے دی نہیں اور شریک اس کی تکذِیب کرتا ہے(5)تو دونوں کو حلف دیا جائے اور دونوں قسم کھا جائیں تو تقسیم فسخ کر دی جائے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: مکان دو شخصوں میں مشترک تھا دونوں نے اسے بانٹ لیا پھر ایک یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ کمرہ جو میرے شریک کے پاس ہے یہ میرے حصہ کا ہے اور دوسرا اس سے انکاری ہے تو مدّعِی کے ذمہ گواہ پیش کرنا ہے اور اگر دونوں نے گواہ پیش کیے تو مدّعِی کے گواہ مقبول ہوں گے اور اگر قبضہ کرنے پر گواہ نہ کیے ہوں تو دونوں پر حلف ہے اور اس صورت میں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثانی فی بیان کیفیۃ القسمۃ،ج۵،ص۲۰۶.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۳۹،۴۴۰.
3 ۔انکار۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۴۰.
5 ۔یعنی اس بات کو جھٹلاتا ہے۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۴۱.
اگر دونوں نے قسمیں کھالیں تو تقسیم فسخ کر دی جائے گی۔ اسی طرح اگر حدود میں اختلاف ہو مثلاًایک یہ کہتا ہے کہ یہ حد میری تھی جو اس کے حصہ میں جا پڑی اور دوسرا بھی یہی کہتا ہے کہ یہ حد میری تھی جو اس کے حصہ میں چلی گئی اگر دونوں گواہ پیش کریں تو ہر ایک کے گواہ اُس کے حق میں معتبر ہیں جو اس کے قبضہ میں نہ ہو اور اگر فقط ایک نے گواہ پیش کیے تو اسی کے موافق فیصلہ ہوگا اور کسی نے بھی گواہ نہیں پیش کیے تو دونوں پر حلف ہے۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۸: تقسیم میں چیزوں کی قیمتیں لگائی گئیں اب معلوم ہوا کہ قیمتوں میں بہت فرق ہے جس کو غبن فاحش کہتے ہیں یعنی اتنی کمی یا بیشی ہے جو اندازہ سے باہر ہے مثلاًجس چیز کی قیمت پانسو ہے اس کی ہزار روپے قیمت قرار دی یہ تقسیم توڑ دی جائے گی۔ قاضی نے اس کے متعلق فیصلہ کیا ہو یا دونوں کی رضامندی سے تقسیم ہوئی ہو بہرصورت توڑ دی جائے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: دو شخصوں کی سو بکریاں تھیں تقسیم کے بعد ایک یہ کہتا ہے غلطی سے تم نے پچپن بکریاں لے لیں اور مجھے پینتالیس ہی ملیں دوسرا کہتا ہے غلطی سے نہیں بلکہ تقسیم اسی طرح ہوئی اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں تو دونوں پر حلف (3)ہے یہ اس وقت ہے کہ اُس نے اپنا پورا حق پالینے کا اقرار نہ کیا ہو اور اگر اقرار کرچکا ہو تو غلطی کا دعویٰ نامسموع (4)ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: تقسیم ہو جانے کے بعد استحقاق ہوا یعنی کسی دوسرے شخص نے اس میں اپنی ملک کا دعویٰ کیا اس کی تین صورتیں ہیں۔ایک ۱؎ حصہ میں جزو معین کا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ چیز میری ہے یا جزو۲؎ شا ئع کا دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے حصہ میں نصف یا تہائی میری ہے یا کل۳؎میں جز و شائع کا مدعی ہے یعنی پوری جائداد میں مثلاًنصف یا تہائی کا مدعی ہے۔ پہلی صورت میں کہ فقط ایک کے حصہ میں جز و معین کا استحقاق کرتا ہے اس میں تقسیم کو فسخ نہیں کیا جائے گا بلکہ مستحق نے جتنا اپنا ثابت کر دیا اس کو دے دیا جائے اور مابقی(6)اس کا ہے جس کے حصہ میں تھا اور اس کے حصہ میں جو کمی پڑی اسے شریک کے حصہ میں سے اوتنی دِلا دی جائے کہ اس کا حصہ سہام کے موافق ہو جائے دوسری صورت میں کہ ایک کے حصہ میں جز و شائع کا مدعی ہے اس میں حصہ والے کو اختیارہے کہ مُستحق کو دینے کے بعد جو کمی پڑتی ہے وہ شریک کے حصہ میں سے لے لے یا تقسیم توڑوا کر ازسرنو (7)تقسیم کرائے یہ
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، باب دعوی الغلط فی القسمۃ...إلخ،ج۲،ص۳۳۳.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۴۴.
3 ۔یعنی قسم اُٹھانا۔ 4 ۔یعنی قابل قبول نہیں۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الحادی عشر فی دعوی الغلط... إلخ۵،ص ۲۲۶.
6 ۔باقی ماندہ۔ 7 ۔نئے سرے سے۔
اُس صورت میں ہے کہ استحقاق سے پہلے اس میں کا کچھ بیع نہ کیا ہو ورنہ تقسیم نہیں توڑی جائے گی بلکہ اپنے حصہ کی قدر شریک کے حصہ میں سے لے سکتا ہے و بس۔ تیسری صورت میں کہ کل میں جز و شائع کا مدعی ہے تقسیم فسخ کر دی جائے اور ان تینوں یعنی مستحق اور دونوں شریکوں کے مابین اَزسرنو تقسیم کی جائے گی۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۱: اِستحقاق کی ایک چوتھی صورت بھی ہے وہ یہ کہ ہر ایک کے حصہ میں مستحق نے اپنا حصہ ثابت کر دیا اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ہر ایک کے حصہ میں اس نے جز و شائع ثابت کیا اس کا حکم یہ ہے کہ تقسیم فسخ کر دی جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں میں جز و معیَّن ثابت کرے اس کا حکم یہ ہے کہ دونوں کے حصوں میں اس کا جو کچھ ہے اگر برابر ہے جب تو ظاہر ہے کہ مستحق کے لے لینے کے بعد ہر ایک کے پاس جو کچھ بچا وہ بقدر حصہ ہے لہٰذا نہ تقسیم توڑی جائے گی نہ رجوع کا حکم دیا جائے گا اور اگر مستحق کا حق ایک کے حصہ میں زائد ہے دوسرے کے حصہ میں کم تو اس زائد کی زیادتی کا اعتبار ہوگا کہ اسی کے حساب سے کم والے کے حصہ میں رجوع کریگا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: سو بکریاں دو شخصوں میں مشترک تھیں تقسیم اس طرح ہوئی کہ ایک کو چالیس بکریاں ملیں جن کی قیمت پانسو ہے اور دوسرے کو ساٹھ بکریاں دی گئیں یہ بھی پانسو کی قیمت کی ہیں چالیس والے کی ایک بکری میں کسی نے اپنا حق ثابت کیا کہ یہ میری ہے اور یہ بکری دس روپے قیمت کی ہے تو یہ شخص دوسرے سے پانچ روپے وصول کرسکتا ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: مکان یا زمین مشترک کا بٹوارا ہوا(4)ایک نے دوسرے کے حصہ میں ایک کمرہ کا دعوی کیا کہ یہ میرا ہے میں نے اسے بنایا ہے یا یہ درخت میرا ہے میں نے اسے لگایا ہے اور اپنی اس بات پر گواہ پیش کرتا ہے یہ گواہ نامقبول ہیں کہ عمارت یا درخت زمین کی تقسیم میں تبعاً داخل ہوگئے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: درخت یا عمارت کی تقسیم ہوئی اس کے بعد ایک نے پوری زمین کا یا اس کے جز کا دعویٰ کیا یہ دعویٰ جائز و مسموع ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ درخت یا عمارت مشترک ہو اور زمین مشترک نہ ہو اور زمین توابع میں بھی نہیں کہ تقسیم میں تبعًا داخل ہو جائے۔ (6)(ردالمحتار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ،باب دعوی الغلط فی القسمۃ...إلخ،ج۲،ص۳۳۳،۳۳۴.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۴۳.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب العاشر فی القسمۃ...إلخ،ج۵،ص۲۲۵.
4 ۔ یعنی تقسیم ہوئی۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ،مطلب:فی الرجوع عن القرعۃ،ج۹،ص۴۴۵.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ،مطلب: فی الرجوع عن القرعۃ،ج۹،ص۴۴۵.
مسئلہ ۲۵: ایک کے حصہ میں جو درخت ملا اس کی شاخیں دوسرے کے حصہ میں لٹک رہی ہیں ان شاخوں کو یہ شخص جبراً نہیں کٹوا سکتا اسی طرح مکان کی تقسیم میں جو دیوار ایک کے حصہ میں پڑی اس پر دوسرے کی کڑیاں ہیں تودوسرے کو یہ حکم نہیں دیا جائے گا کہ اپنی کڑیاں اوٹھا لے مگر جب کہ تقسیم میں یہ شرط ہوچکی ہو کہ وہ اپنی کڑیاں اوٹھا لے گا۔(1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: زمین مشترک میں ایک شریک نے بغیر اجازت شریک مکان بنا لیا دوسرا یہ کہتا ہے کہ اس عمارت کو ہٹا لو تواس صورت میں زمین کو تقسیم کر دیا جائے اگر یہ عمارت اسی کے حصہ میں پڑی جس نے بنائی ہے فبہا اور اگر دوسرے کے حصہ میں پڑی تو ہوسکتا ہے کہ عمارت کی قیمت دے کر عمارت خود لے لے یا اس کو منہدم کرا دیا(2) جائے۔ زمین مشترک میں ایک نے درخت لگایا اس کا بھی وہی حکم ہے۔ اور اگر شریک کی اجازت سے مکان بنوایا یا پیڑ(3)لگائے اگر اپنے لیے یہ تعمیر کی ہے یا پیڑ لگایاہے اس کا بھی وہی حکم ہے کیونکہ مُعیر(4)کو اختیار ہوتا ہے کہ عاریت کو جب چاہے واپس لے سکتا ہے اور اگر اجازت اس لیے ہے کہ وہ عمارت یا درخت شرکت کا ہوگا تو بقدر حصہ اس سے مَصارف(5)وصول کرسکتا ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: ترکہ کی تقسیم کے بعد معلوم ہوا کہ میت کے ذمہ دَین ہے تو تقسیم توڑ دی جائے گی کیونکہ اگر دَین پورے ترکہ کی برابر ہے جب تو ظاہر ہے کہ یہ ترکہ وارثوں کی مِلک ہی نہیں تقسیم کیونکر کریں گے اور اگر دَین پورے ترکہ سے کم ہے جب بھی توڑی جائے کہ ترکہ کے ساتھ دوسروں کا حق متعلق ہے ہاں اگر میت کا متروکہ اس کے علاوہ بھی ہے جس سے دَین ادا کیا جاسکتا ہے تو جو کچھ منقسم ہوچکا ہے اس کی تقسیم باقی رہے گی۔ اگر دَین پورے ترکہ کی برابر تھا مگر جن کا تھا اونھوں نے معاف کر دیا یاوارثوں نے اپنے مال سے دَین ادا کر دیا تو ان صورتوں میں تقسیم نہ توڑی جائے کہ وہ سبب ہی باقی نہ رہا۔(7) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۸: جن دو شخصوں نے تقسیم کی ان میں ایک نے یہ دعویٰ کیا کہ ترکہ میں دَین ہے اس کا یہ دعویٰ مسموع ہوگا تناقض قرار دے کر دعویٰ کو رد نہ کیا جائے۔ ہاں جن چیزوں کی تقسیم ہوئی ان میں سے کسی معین چیز کا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ میت
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث عشر فی المتفرقات،ج۵،ص۲۳۲.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ، مطلب: فی الرجوع عن القرعۃ،ج۹،ص۴۴۵۔۴۴۶.
2 ۔گرادیا۔ 3 ۔درخت۔
4 ۔عاریت پر دینے والا۔ 5 ۔اخراجات۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ، مطلب: فی الرجوع عن القرعۃ،ج۹،ص ۴۴۶.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، باب دعوی الغلط فی القسمۃ...إلخ،ج۲، ص ۳۳۴.
کی متروکہ نہیں ہے بلکہ میری ہے اور اس کا سبب کچھ بھی بتائے مثلاًمیں نے میت سے خریدی ہے یا اُس نے ہبہ کی بہرحال یہ دعویٰ نامسموع ہے کہ اُس چیز کو تقسیم میں داخل کرنا یہ مشترک ہونے کا اقرار ہے پھر اپنی بتانا اس کے منافی ہے لہٰذا یہ دعویٰ قابل سماعت نہیں۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۹: ایک شخص مرا اور اُس نے کسی کو وصی مقرر کیا ہے اور ترکہ میں دَین غیر مستغرق ہے (2)وصی سے وُرثہ یہ کہتے ہیں کہ ترکہ میں سے بقدر دَین جدا کر کے باقی کو ان میں تقسیم کر دے وصی کو یہ اختیار ہے کہ تقسیم نہ کرے بلکہ بقدرِ دَین مشاع (3)فروخت کر دے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: میت نے دو شخصوں کو وصی کیا ہے دونوں نے مال کو تقسیم کر کے بعض ورثہ کا مال ایک نے رکھا اور بعض کا دوسرے نے یہ جائز نہیں۔ یوہیں ایک وصی کی عدم موجودگی میں دوسرے نے وُرَثہ کے مقابل میں تقسیم کی یہ بھی ناجائز ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: ورثہ مسلمان ہیں اور وصی کافر ذمی، اگرچہ اس کا وصی ہونا جائز ہے مگر اس کو وصیت سے خارج کر دینا چاہیے کیونکہ کافر کی جانب سے اس کا اطمینان نہیں ہے کہ وہ مسلمان کے ساتھ خیانت نہ کریگا بلکہ مسلمان کے ساتھ اس کی مذہبی عداوت بہت ممکن ہے کہ خیانت پر آمادہ کرے۔ مگر جدا کرنے سے پہلے اس نے تقسیم کی ہو تو یہ تقسیم صحیح ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: ایک وارث نے میت کے ذمہ دَین کا اقرار کیا دوسرے ورثہ انکار کرتے ہیں ترکہ ورثہ پر تقسیم کر دیا جائے جس نے اقرار کیا ہے اس کے حصہ سے دَین ادا کیا جائے۔ (7)(خانیہ)
مسئلہ ۳۳: میت کے ذمہ دَین تھا ورثہ نے جائداد تقسیم کر لی جس کا دین ہے وہ مطالبہ کرتا ہے تو تقسیم توڑی جاسکتی ہے دَین مُستَغرَق ہو یا غیر مستغرق۔ اور اگر قاضی کے پاس تقسیم کی درخواست کریں اور قاضی کو معلوم ہے کہ میت پر
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ،باب دعوی الغلط فی القسمۃ...إلخ،ج۲،ص۳۳۴.
2 ۔یعنی دَین(قرض) ترکہ سے کم ہے۔
3 ۔یعنی دَین کے برابر ترکہ مشترکہ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب السابع فی بیان من یلی القسمۃ...إلخ،ج۵،ص۲۲۰.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب القسمۃ، فصل فیما یدخل فی القسمۃ، ج۲،ص۲۱۴.
دَین ہے اگر وہ دَین مستغرق ہے تو قاضی تقسیم کا حکم نہیں دے گا کہ ان لوگوں کا ترکہ میں حق ہی نہیں ہے اور اگر دَین غیر مستغرق ہے تو بقدرِ دَین الگ کر کے باقی کو تقسیم کر دے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: قاضی کے پاس تقسیم کی درخواست گزری اور قاضی کو معلوم نہیں کہ میت کے ذمہ دَین ہے تو ورثہ سے دریافت کرے اگر وہ کہیں نہیں ہے تو ان کی بات مان لی جائے گی اور اگر کہیں دَین ہے تو اس کی مقدار دریافت کرے پھر یہ دریافت کرے کہ میت نے کوئی وصیت کی ہے یا نہیں اگر وصیت کی ہے تو کسی معین چیز کی وصیت ہے یا وصیت مرسلہ ہے یعنی اپنے مال کی تہائی چوتھائی وغیرہ کی ہے کسی معین چیز سے تعلق نہیں ہے، اس کے بعد تقسیم کر دے گا اور اگر تقسیم کے بعد دَین ظاہر ہو توتقسیم توڑ دی جائے گی۔ یوہیں اگر قاضی نے دَین کو بغیر دریافت کیے تقسیم کر دی یہ تقسیم بھی توڑ دی جائے گی ہاں اگر ورثہ اپنے مال سے دَین ادا کردیں یا جس کا دَین ہے وہ معاف کر دے تو تقسیم نہ توڑی جائے۔ اور تقسیم توڑنا اس وقت ہے کہ دَین کے لیے ورثہ نے کچھ ترکہ جدا نہ کیا ہو اور اگر دَین کے لیے پہلے ہی سے جدا کر دیا ہو یا کل اموال کی تقسیم ہی نہ کی ہو تو تقسیم توڑنے کی کیا ضرورت۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: تقسیم کے بعد کوئی نیا وارث ظاہر ہوا یا معلوم ہوا کہ کسی کے لیے تہائی یا چوتھائی کی وصیت ہے تو تقسیم توڑکر ازسرنو تقسیم کی جائے اگرچہ ورثہ کہتے ہوں کہ ان کے حق ہم اپنے مال سے ادا کردیں گے ہاں اگر یہ وارث و موصیٰ لہ(3)بھی راضی ہو جائیں تو نہ توڑیں۔ اور اگر دَین ظاہر ہو یا یہ کہ کسی کے لیے ہزار روپے کی مثلاًوصیت مرسلہ کی ہے اور ورثہ اپنے مال سے دَین و وصیت ادا کرنے کو کہتے ہیں تو تقسیم نہ توڑی جائے دائن اورموصیٰ لہ کی رضامندی کی بھی ضرورت نہیں۔ اسی طرح اگر ایک ہی وارث نے دَین ادا کرنا اپنے ذمہ لیا اور ترکہ میں سے رجوع بھی نہ کریگا تو توڑی نہ جائے اور اگر واپس لینے کی شرط ہے یا اس سے خاموش ہے تو توڑ دی جائے مگر جبکہ بقیہ ورثہ اپنے مال سے ادا کرنے کو کہتے ہوں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: بعض ورثہ نے میت کا دَین ادا کر دیا تو وہ باقیوں سے رجوع کرسکتا ہے(5)یعنی جبکہ میت نے ترکہ چھوڑا ہو جس سے دَین ادا کیا جاسکے۔ ادا کرنے کے وقت اس نے رجوع کی شرط کی ہو یا نہ کی ہو دونوں کا ایک حکم ہے کیونکہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثامن فی قسمۃ الترکۃ...إلخ،ج۵، ص۲۲۱.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔جس کے متعلق وصیت کی گئی۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثامن فی قسمۃ الترکۃ...إلخ،ج۵، ص۲۲۱.
5 ۔یعنی وصول کر سکتا ہے۔
ہروارث سے دین کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے اور ایک ہی وارث کو دائن نے قاضی کے پاس پیش کیا تو تنہا اُسی پر پورے دَین کافیصلہ ہوسکتا ہے لہٰذا یہ وارث ادائے دَین میں متَبَرِّع نہ ہوا(1)ہاں اگرمُتَبَرِّع ہو کہہ دیا ہو کہ میں رجوع نہ کروں گا تو اب رجوع نہیں کرسکتا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: میت کا ترکہ ورثہ نے تقسیم کیا اور ان وارثوں میں اس کی عورت بھی ہے تقسیم کے بعد عورت نے دَینِ مَہر کا(3)دعویٰ کیا اور گواہوں سے ثابت کر دیا تقسیم توڑ دی جائے گی اسی طرح اگر کسی وارث نے ترکہ میں دَین کا دعویٰ کیا اس کا دعوی صحیح ہے اس پر گواہ لیے جائیں گے اور ثابت ہونے پر تقسیم توڑ دی جائے گی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: میت کا دَین دوسروں کے ذمہ تھا یہ دَین و عین یعنی جو کچھ ترکہ موجود ہے دونوں کو تقسیم کیا مثلاً یوں کہ یہ وارث یہ چیز لے اور یہ دَین جو فلاں کے ذمہ ہے اور وہ وارث یہ چیز اور یہ دَین لے جو فلاں کے ذمہ ہے یہ تقسیم دَین و عین دونوں میں باطل اور اگر اَعیان یعنی جو چیزیں موجود ہیں ان کو تقسیم کر کے پھر دَین کی تقسیم کی تو عین کی تقسیم صحیح ہے اور دَین کی باطل۔ دَین کی تقسیم باطل ہونے کا یہ نتیجہ ہو گا کہ ایک مدیون سے دَین وصول ہوا تو وہ تنہا اُسی کا نہیں ہوگا جس کے حصہ میں کر دیا گیا تھا بلکہ دوسرے ورثہ بھی اس میں شریک ہوں گے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: تین بھائی ہیں جن کو اپنے باپ سے زمین میراث میں ملی ان میں سے ایک کا انتقال ہوا اس نے ایک لڑکا چھوڑا اس لڑکے اور اس کے دونوں چچاؤں کے مابین زمین تقسیم ہوئی یہ لڑکا تقسیم کے بعد یہ کہتا ہے کہ میرے دادا نے جو مورث اعلی تھا اس نے اس میں ایک ثلث(6)کی میرے لیے وصیت کی تھی اور تقسیم کو باطل کرنا چاہتا ہے اس کی یہ بات نامعتبر ہے کہ تناقض ہے اور اگر یہ کہتا ہے کہ میرے باپ کے ذمہ میرا دَین ہے یہ بات سنی جائے گی اور گواہ لیے جائیں گے اگر گواہوں سے دَین ثابت ہو جائے تو تقسیم توڑ دی جائے گی۔ اس صورت میں چچا یہ نہیں کہہ سکتے کہ دَین تمہارے باپ کے ذمہ ہے اُس کا حصہ جو تمہیں ملا تم کو اختیار ہے کہ اسے دَین میں فروخت کر لو یا اپنے پاس رکھو تمہارا دَین تمہارے دادا کے ذمہ نہیں کہ پوری جائداد سے دَین وصول کیا جائے لہٰذا تقسیم کے توڑنے میں کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ لڑکا کہہ سکتا ہے کہ تقسیم توڑنے میں فائدہ یہ ہے کہ مشترک
1 ۔یعنی دوسرے وارثوں سے دَین وصول کر سکتا ہے۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثامن فی قسمۃ الترکۃ...إلخ،ج۵،ص۲۲۲.
3 ۔یعنی مَہرکامیت کے ذمہ باقی ہونے کا۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثامن فی قسمۃ الترکۃ...إلخ،ج۵،ص۲۲۲.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔تہائی۔
چیز میں جو حصہ ہوتا ہے اُس کی قیمت کبھی زیادہ ہوتی ہے اور تقسیم کے بعد وہ قیمت نہیں رہتی لہٰذا میرا یہ فائدہ ہے کہ تقسیم نہ رہنے کی صورت میں میرے باپ کی مالیت زیادہ داموں میں فروخت ہوگی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: تقسیم کو توڑا جاسکتا ہے یعنی شرکا نے اپنی رضامندی سے تقسیم کر لی اس کے بعد یہ چاہتے ہیں کہ یہ چیزیں شرکت میں رہیں یہ ہوسکتا ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۴۱: محض تقسیم کر دینے سے کوئی معین حصہ شرکا میں سے کسی خاص شخص کی مِلک نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے یہ ضرور ہے کہ قاضی نے معین کر دیا ہو کہ یہ فلاں کا ہے اور یہ فلاں کا یا یہ کہ ایک نے تقسیم کے بعد ایک حصہ پر قبضہ کر لیا تو یہ اس کا ہوگیا یا قرعہ کے ذریعہ سے حِصَص(3)کی تعیین ہو جائے یا یہ کہ شرکا نے کسی کو وکیل کر دیا ہو کہ تقسیم کر کے ہر ایک کا حصہ مُشخص کر دے (4)اور اُس نے مشخص کر دیا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: دو شخصوں میں کوئی چیز مشترک تھی انھوں نے تقسیم کر لی اور قرعہ ڈال کر حصہ کا تعین کر لیا اس کے بعد ایک شریک اس تقسیم پر نادم ہوا اور چاہتا یہ ہے کہ تقسیم ٹوٹ جائے یہ نہیں ہوسکتا کہ تقسیم مکمل ہوچکی۔ یوہیں اگر ان دونوں نے کسی تیسرے شخص کو تقسیم کے لیے مقرر کیا اور اس نے انصاف کے ساتھ تقسیم کر کے قرعہ ڈالا تو جس کے نام کا جو حصہ قرعہ کے ذریعہ متعین ہوچکا بس وہی اس کا مالک ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: تین شریکوں میں تقسیم ہوئی اور قرعہ ڈالا گیا ابھی ایک کا نام نکلا ہے دو باقی ہیں تو ہر ایک رجوع کرسکتا ہے اور دو کے نام نکل آئے تو اب کوئی رجوع نہیں کرسکتا اور چار شریکوں میں دو کے نام نکل آئے تو رجوع کرسکتے ہیں اور تین کے نام نکلنے کے بعد رجوع نہیں کرسکتے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: ترکہ میں اونٹ گائے بکریاں سب ہیں ایک حصہ اونٹوں کا دوسرا گایوں کا تیسرا بکریوں کا قرار دیا اور قرعہ ڈالا گیا جس کے حصہ میں جو جانور آئے لے لے یہ جائز ہے اور اگر یہ قرار پایا کہ جس کے حصہ میں اونٹ آئیں گے وہ اونٹ لے گا اور اتنے روپے دے گا جو اس کے شریکوں کو دیے جائیں گے یہ بھی جائز ہے۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثامن فی قسمۃ الترکۃ...إلخ،ج۵،ص۲۲۳.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۴۶.
3 ۔حصوں۔ 4 ۔معیّن کردے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الخامس فی الرجوع عن القسمۃ...إلخ،ج۵،ص۲۱۷.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۴۵: تقسیم میں ایک شریک نے بیع یا ہبہ یا صدقہ کی شرط کی یعنی اس شرط پر تقسیم کرتا ہوں کہ میرا یہ مکان یا مکان مشترک میں جو میرا حصہ ہے تم خرید لو یا فلاں چیز مجھ کو ہبہ یا صدقہ کر دو یہ تقسیم فاسد ہے۔ تقسیم فاسد میں قبضہ کرنے سے مِلک حاصل ہو جائے گی اور تصرفات نافذ ہوں گے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: مکان مشترک کی اس طرح تقسیم ہوئی کہ ایک شریک پوی زمین لے گا اور دوسرا ساری عمارت لے گا زمین اس کو بالکل نہیں ملے گی اس کی تین صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جس کے حصہ میں عمارت آئی اس سے شرط یہ ٹھہری ہے کہ عمارت کھود کر نکال لے گا یہ صورت جائز ہے۔ دوسری صورت یہ کہ عمارت کھودنے یا نہ کھودنے کا کوئی ذکر نہیں ہوا یہ بھی جائز ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ عمارت باقی رکھنے کی شرط ہے اس صورت میں تقسیم فاسد ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مشترک چیز کو تقسیم نہ کریں اُس کو مشترک ہی رکھیں اور ہر ایک شریک نوبت اور باری کے ساتھ اس چیز سے نفع اوٹھائے اسے اصطلاح فقہا میں مہایاۃ اور تہایُوء کہتے ہیں۔ اس طور پر نفع اوٹھانا شرعاً جائز ہے بلکہ اگر بعض شرکا قاضی کے پاس اس کی درخواست کریں اور دوسرے شرکا اِنکار کریں تو قاضی ان کو مہایاۃ پر مجبور کریگا۔ البتہ اگر بعض مہایاۃ کو چاہیں اور دوسرے تقسیم کرانا چاہیں تو قاضی تقسیم کا حکم دے گا کہ تقسیم کا مرتبہ مہایاۃ سے بڑھ کر ہے۔(3) (عنایہ)
مسئلہ ۲: جو چیز قابل تقسیم ہے اوس سے بطور مہایاۃ دونوں نفع اوٹھا رہے تھے پھر ایک نے تقسیم کی درخواست کی تو تقسیم کر دی جائے گی اور مہایاۃ باطل کر دی جائے گی اور دونوں شریکوں میں سے کوئی مر گیا یا دونوں مر گئے اس سے مہایاۃ باطل نہیں ہوگی بلکہ جو مرگیا اس کا وارث اس کے قائم مقام ہوگا۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۳: مہایاۃ کی کئی صورتیں ہیں۔ایک۱؎ مکان کے ایک حصہ میں ایک رہتا ہے دوسرے میں دوسرا، یا۲؎ ایک بالاخانہ پر رہتا ہے دوسرا نیچے کی منزل میں ،یا ۳؎ ایک مہینہ میں ایک رہے گا دوسرے مہینہ میں دوسرا ،یا۴؎ دو مکان ہیں ایک میں ایک رہے گا دوسرے میں دوسرا ،یا۵؎ غلام سے ایک دن ایک شخص کام کرائے گا دوسرے دن دوسرا ،یا۶؎دو غلام ہیں ایک سے ایک خدمت لے گا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثالث فی بیان مایقسم...إلخ،ج۵،ص۲۱۱.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔'' العنایۃ''علی''فتح القدیر''،کتاب القسمۃ، فصل فی المھایاۃ،ج۸،ص۳۷۸.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ،فصل فی المھایاۃ،ج۲،ص۳۳۴.
دوسرے سے دوسرا، یا۷؎مکان کو کرایہ پر دے دیا ایک ماہ کا کرایہ ایک لے گا دوسرے مہینہ کا دوسرا ،یا۸؎ دو مکان ہیں ایک کا کرایہ ایک لے گا دوسرے کا دوسرا یہ سب صورتیں جائز ہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۴: مہایاۃ کے طور پر جو چیز اس کے حصہ میں آئی یہ اس چیز کو کرایہ پر بھی دے سکتا ہے مثلاًاس مکان میں اس کو رہنا ہی ضرور نہیں بلکہ کرایہ پر اوٹھا سکتا ہے(2)اگرچہ مہایاۃ کے وقت یہ شرط اس نے ذکر نہیں کی ہو کہ میں اس کو کرایہ پر بھی دے سکوں گا۔ (3)(ہدایہ)
مسئلہ ۵: غلاموں سے خدمت لینے میں یہ طے ہوا کہ جو غلام جس کی خدمت کریگا اس کا نفقہ اسی کے ذمہ ہے یہ جائز ہے بلکہ اگر نفقہ کا ذکر نہیں آیا جب بھی اُسی کے ذمہ ہے جس کی خدمت کرتا ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۶: مکان مشترک کو کرایہ پر دیا گیا اور یہ ٹھہرا ہے کہ باری باری دونوں کرایہ وصول کریں گے اب اس کا کرایہ زیادہ ہوگیا تو جس کی باری میں کرایہ کی زیادتی ہوئی ہے تنہا یہی اس کا مستحق نہیں بلکہ اس زیادتی کے دونوں حقدار ہیں اور اگر دو مکان تھے ایک کا کرایہ ایک لیتا تھا دوسرے کا دوسرا اور ایک مکان کے کرایہ میں اضافہ ہوا تو جو اس کا کرایہ لیتا تھا یہ زیادتی تنہا اسی کی ہے دوسرا اس میں سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۷: دو چیزیں مشترک ہیں اور دونوں کی منفعت مختلف قسم کی ہے مثلاًایک مکان اور ایک غلام مشترک ہیں اور مہایاۃ اس طرح ہوئی کہ ایک سے ایک شریک منفعت حاصل کرے اور دوسرے سے دوسرا یعنی ایک شخص غلام سے خدمت لے اور دوسرا مکان میں سکونت کرے یہ بھی جائز ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۸: اگر فریقین کی رضامندی سے مہایاۃ ہوئی ہو تو اسے توڑ بھی سکتے ہیں دونوں توڑیں یا ایک، عذر سے ہویا بلاعذر سب جائز ہے، ہاں اگر قضائے قاضی سے مہایاۃ ہوئی ہو تو جب تک دونوں راضی نہ ہوں فقط ایک نہیں توڑسکتا۔ (7)(عالمگیری)
1 ۔''الدرالمحتار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص ۴۴۷.
2 ۔یعنی کرایہ پر دے سکتا ہے۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ، فصل فی المھایاۃ،ج۲،ص۳۳۵.
4 ۔''الدرالمحتار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۴۹.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثانی عشر فی المھایاۃ،ج۵،ص۲۲۹.
مسئلہ ۹: غلام میں اس طرح مہایاۃ ہوئی کہ اوس سے اُجرت پر کام کرایا جائے ایک مہینہ کی اُجرت ایک شریک لے گا دوسرے مہینہ کی دوسرا یہ ناجائز ہے ۔یوہیں اگر دو غلام ہوں ایک کی اُجرت ایک شریک لے گا دوسرے کی دوسرا یہ بھی ناجائز۔ ایک جانور یا دو جانوروں کی سواری لینے یا کرایہ پر دینے میں مہایاۃ ہوئی یہ بھی ناجائز ہے۔ یوہیں اگر گائے یا بھینس مشترک ہے یہ ٹھہرا کہ پندرہ روز ایک کے یہاں رہے اور دودھ سے نفع اوٹھائے اور پندرہ دن دوسرے کے یہاں رہے اور یہ دودھ سے نفع اٹھائے یہ ناجائز ہے اور دودھ جس کے یہاں کچھ زیادہ ہوا یہ زیادتی بھی اس کے لیے حلال نہیں اگرچہ دوسرے نے اجازت دے دی ہو اور کہہ دیا ہو کہ جو کچھ زیادتی ہو وہ تمہارے لیے حلال ہے، ہاں اس زیادتی کو خرچ کر دینے کے بعد اگر حلال کر دے تو ہوسکتا ہے کہ یہ ضمان سے اِبرا ہے اور یہ جائز ہے۔(1) (خانیہ، درمختار)
مسئلہ ۱۰: درختوں کے پھلوں میں مہایاۃ ہوئی یہ ناجائز ہے۔ یوہیں بکریاں مشترک تھیں دونوں نے بطور مہایاۃ کچھ کچھ بکریاں لے لیں کہ ہر ایک اپنے حصہ کی چرائے گا اور دودھ وغیرہ سے نفع اٹھائے گا یہ ناجائز ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: بکریوں اور پھلوں وغیرہ میں مہایاۃ جائز ہونے کا حیلہ یہ ہے کہ اپنی باری میں شریک کا حصہ خرید لے جب باری کی مدت پوری ہو جائے اس حصہ کو شریک کے ہاتھ بیع کر ڈالے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ روزانہ دودھ کو وزن کر لے اور شریک کے حصہ کا جتنا دودھ ہو اس سے قرض لے لے جب مدت پوری ہو جائے اور جانور دوسرے کے پاس جائے اس زمانہ میں جو کچھ دودھ اس کے حصہ کا ہو قرض میں ادا کرتا رہے یہاں تک کہ جتنا قرض لیا تھا وہ مقدار پوری ہو جائے اس طرح کرنا جائز ہے کہ مشاع (3)کو قرض لیا جاسکتا ہے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: کپڑا مشترک ہے اس میں اس طرح مہایاۃ ہوئی کہ دونوں باری باری سے پہنیں گے یا دو کپڑے ہیں ایک کو ایک پہنے گا دوسرے کو دوسرا یہ مہایاۃ ناجائز ہے کہ کپڑے پہننے میں لوگوں کی مختلف حالت ہوتی ہے کسی کے بدن پر جلد پھٹتا ہے اور کسی کے دیر میں۔(5) (ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،فصل فی المھایاۃ،ج۲،ص۱۹۷.
و''الدرالمختار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۴۹.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب الثانی عشر فی المھایاۃ،ج۵،ص۲۳۰.
3 ۔شے مشترک۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ، مطلب: فی الرجوع عن القرعۃ،ج۹،ص۴۵۰.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ،ج۹،ص۴۵۱.
مسئلہ ۱۳: مکان میں دونوں باری سے سکونت کریں گے (1)یا دوسری چیزوں میں جبکہ باری کے ساتھ نفع حاصل کرنا ہو اس میں شروع کس سے کریں اس کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ قاضی متعین کر دے کہ پہلے فلاں شخص نفع اوٹھائے دوسرا یہ کہ قرعہ ڈالا جائے جس کے نام کا قرعہ نکلے وہ پہلے نفع اوٹھائے اور یہ دوسرا طریقہ بہتر ہے کہ پہلی صورت میں قاضی کی طرف بدگمانی کا موقع ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: دونوں شریکوں میں اختلاف ہے ایک یہ کہتا ہے کہ باری مقرر کر دی جائے دوسرا یہ کہتا ہے کہ مکان کے حصے متعین کر دیے جائیں کہ ایک حصہ میں میں سکونت کروں دوسرے میں دوسرا اس صورت میں دونوں سے کہا جائے گا کہ تم دونوں ایک بات پر متفق ہو جاؤ جس ایک بات پر متفق ہو جائیں وہی کی جائے۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۵: کسی گاؤں کی حفاظت کے لیے سپاہی مقرر ہوئے اور حکومت نے حفاظت کے مصارف گاؤں والوں پر ڈالے یہ خرچہ گاؤں والوں سے کس حساب سے وصول ہوگا اس کی دو صورتیں ہیں اگر جان کی حفاظت مقصود ہے تو گاؤں کی مردم شماری کے حساب سے ہر ایک پر ڈالا جائے یعنی جتنے مرد ہوں سب سے برابر برابر وصول کیا جائے عورتوں اور بچوں پر خرچہ نہ ڈالا جائے اور اگر اموال کی حفاظت مقصود ہے تو ان لوگوں کے اموال و املاک کے لحاظ سے خرچہ ڈالا جائے اور اگر دونوں کی حفاظت مقصود ہو تو دونوں کا لحاظ کیا جائے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: زمین کی تقسیم میں درخت تبعاًداخل ہو جاتے ہیں اگرچہ یہ ذکر نہ کیا گیا ہو کہ یہ زمین مع حقوق و مرافق(5)کے تم کو دی گئی جس طرح بیعِ زمین میں درخت داخل ہوا کرتے ہیں اور زراعت اور پھل زمین کی تقسیم میں داخل نہیں اگرچہ حقوق و مرافق کا ذکر کر دیا ہو۔ اور اگر تقسیم میں یہ کہہ دیا کہ جو کچھ قلیل و کثیر اس میں ہے سب کے ساتھ تقسیم ہوئی تو زراعت اور پھل بھی داخل ہیں۔ جو کچھ سامان و متاع اُس میں ہیں اس کہنے سے بھی تقسیم میں داخل نہ ہوں گے۔ پرنالہ اور نالی اور راستہ اور آبپاشی(6)کا حق تقسیم میں داخل ہوتے ہیں یا نہیں اس میں تفصیل ہے اگر یہ چیزیں دوسری جانب سے
1 ۔یعنی رہائش اختیار کریں گے۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ،الباب الثانی عشر فی المھایاۃ،ج۵،ص۲۳۱.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب القسمۃ،فصل فی المھایاۃ،ج۲،ص۳۳۵.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القسمۃ،مطلب: فی الرجوع عن القرعۃ،ج۹،ص۴۵۱.
5 ۔وہ اشیا جو تبعاً،ضمناً بیع میں شامل ہوں۔ 6 ۔یعنی کھیت کو پانی دینے۔
ہوسکتی ہیں تو داخل نہیں اور اگر نہیں ہوسکتیں اور وقت تقسیم علم میں ہے کہ یہ چیزیں تقسیم میں نہیں دی گئیں تو تقسیم جائز ہے اور یہ چیزیں نہیں ملیں گی اور اگر علم میں نہیں تو تقسیم باطل ہے۔(1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲: اجناس مختلفہ کی تقسیم میں خیار رویت، خیار شرط، خیار عیب تینوں ثابت ہوتے ہیں اور ذواتُ الامثال جیسے مکیلات(2)و موزونات (3)میں خیار عیب ہوتا ہے خیار شرط و خیار رویت نہیں ہوتا اور غیر مثلی جیسے گائے بکری اور ایک قسم کے کپڑوں میں خیار عیب ہوتا ہے اور فتوےٰاس پر ہے کہ خیار شرط و خیار رویت بھی ہوتا ہے۔ صرف گیہوں تقسیم کیے گئے مگر وہ مختلف قسم کے ہیں تو اس میں بھی خیار رویت حاصل ہوگا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: دو تھیلیوں میں روپے تھے ایک ایک تھیلی دونوں کو دی گئی اور ایک نے روپے دیکھ لیے تھے دوسرے نے نہیں یہ تقسیم دونوں کے حق میں جائز ہے مگر جبکہ جس نے نہیں دیکھے ہیں اس کے حصہ میں خراب روپے آئے تو اسے خیار حاصل ہوگا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: مکان کی تقسیم ہوئی اسے باہر سے دیکھ لیا ہے اندر سے نہیں دیکھا ہے تو خیار حاصل نہیں۔ تھان تہہ کیے ہوئے اوپر سے دیکھ لیے اندر سے نہیں دیکھے خیار باقی نہ رہا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: تقسیم میں خیار کے وہی احکام ہیں جو بیع میں ہیں لہٰذا اس کے حصہ میں جو چیزیں آئیں اون میں کوئی چیز عیب دار ہے اور قبضہ سے پہلے اسے علم ہوگیا تو سب کو واپس کر دے اس کے حصہ میں ایک ہی قسم کی چیزیں ہوں یا مختلف قسم کی اور اگر قبضہ کے بعد عیب پر مطلع ہو اور اس کا حصہ ایک چیز ہو حقیقۃً یا حکماً جیسے مکیل و موزوں تو سب واپس کر دے یہ نہیں کرسکتا کہ کچھ رکھ لے کچھ واپس کر دے اور اگر مختلف چیزیں ہوں جیسے بکریاں تو صرف عیب دار کو واپس کرسکتا ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: تقسیم میں جو چیز اسے ملی اس نے بیچ ڈالی مشتری نے اس میں عیب پاکر واپس کر دی اگر یہ واپسی قاضی کے حکم سے ہوئی ہے تو تقسیم توڑی جاسکتی ہے اور بغیر حکم قاضی واپسی ہوئی تو تقسیم کو نہیں توڑ سکتا۔(8) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ،کتاب القسمۃ،الباب الرابع فیمایدخل تحت القسمۃ...إلخ،ج۵،ص۲۱۵،وغیرہ.
2 ۔ وہ اشیاء جو ناپ سے بکتی ہیں۔ 3 ۔ وہ اشیاء جو وزن سے بکتی ہیں۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ،کتاب القسمۃ،الباب السادس فی الخیار فی القسمۃ،ج۵،ص۲۱۷.
5 ۔المرجع السابق،ص۲۱۸. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق،ص۲۱۹.
مسئلہ ۷: جو شخص کسی کی چیز بیع کرسکتا ہے وہ اس کے اموال کی تقسیم بھی کراسکتا ہے۔ نابالغ اور مجنوں و معتوہ کے اموال کی تقسیم باپ نے کرائی یہ جائز ہے جب تک اس تقسیم میں غبن فاحش نہ ہو۔ باپ نہ ہو تو اس کا وصی باپ کے قائم مقام ہے اور باپ کا وصی نہ ہو تو دادا اس کے قائم مقام ہے۔ ماں نے اولاد کے لیے ترکہ چھوڑا ہے اور کسی کو وصی مقرر کر گئی ہے یہ وصی اس ترکہ میں تقسیم کراسکتا ہے بشرطیکہ وہ تینوں جن کا پہلے ذکر کیا گیا نہ ہوں مگر ماں کا وصی جائداد غیر منقولہ(1)میں تقسیم نہیں کراسکتا۔ ماں اور بھائی اور چچا اور نابالغہ عورت کے شوہر کو یا بالغہ عورت جو غائب ہے اس کے شوہر کو تقسیم کرانے کا حق نہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: نابالغ مسلم کا باپ کافر ہے یہ اس کی ملک کی تقسیم نہیں کراسکتا۔ یوہیں اگر نابالغ آزاد ہے اور اس کا باپ غلام ہے یا مکاتب اسے بھی ولایت حاصل نہیں اسی طرح پڑا ہوا بچہ کوئی اوٹھا لایا وہ اگرچہ اس کی پرورش میں ہو اس کے اموال کویہ تقسیم نہیں کراسکتا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: قاضی نے یتیم کے لیے کسی کو وصی مقرر کر دیا ہے اگر یہ ہر چیز میں وصی ہے تو تقسیم کراسکتا ہے جائداد منقولہ اور غیر منقولہ سب کی تقسیم کراسکتا ہے اور اگر وہ نفقہ یا کسی معین چیز کی حفاظت کے لیے وصی ہے تو تقسیم نہیں کراسکتا اور باپ کا وصی اگر ایک چیز میں وصی ہے تو سب چیزوں میں وصی ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: ایک شخص دو بچوں کا وصی ہے تو ان کے مشترک اموال کو تقسیم نہیں کراسکتا جس طرح ایک کے مال کو دوسرے کے مال سے بیع نہیں کرسکتا۔(5)اور باپ اپنے نابالغ بچوں کے مشترک مال کو تقسیم کرسکتا ہے جس طرح ایک کے مال کو دوسرے کے مال سے بیع کرسکتا ہے۔ وصی اگر دونوں نابالغوں کے اموال کو تقسیم کرانا ہی چاہتا ہے تو اس کا حیلہ یہ ہے کہ ایک کا حصہ کسی کے ہاتھ بیع کر دے پھر اس مشتری اور دوسرے نابالغ کے مابین تقسیم کرائے پھر اس مشتری سے پہلے نابالغ کی طرف سے خرید لے دونوں کے حصہ ممتاز ہو جائیں گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں کے مال فروخت کر دے پھر ہر ایک کے لیے مشتری سے ممتاز کر کے خرید لے۔(6) (عالمگیری)
1 ۔وہ جائداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوسکے۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب القسمۃ،الباب السابع فی بیان من یلی القسمۃ...إلخ،ج۵،ص۲۱۹.
3 ۔المرجع السابق . 4 ۔المرجع السابق .
5 ۔یعنی بیچ نہیں سکتا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب السابع فی بیان من یلی القسمۃ...إلخ،ج۵،ص۲۱۹.
مسئلہ ۱۱: اگر یتیم و وصی کے مابین مال مشترک ہے تو اس صورت میں وصی مال کو تقسیم نہیں کراسکتا مگر جب کہ تقسیم میں نابالغ کے لیے کھلا ہوا فائدہ معلوم ہوتا ہو۔ اور باپ اور اس کے نابالغ بچہ کے مابین مال مشترک ہو تو باپ تقسیم کراسکتا ہے اگرچہ نابالغ کا کھلا ہوا نفع نہ بھی ہو۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: بالغ و نابالغ دونوں قسم کے ورثہ ہیں اور بالغِین موجود ہیں وصی نے بالغین کے مقابلہ میں تقسیم کرائی اور سب نابالغوں کے حصے یکجائی رکھے یہ جائز ہے پھر نابالغوں کے حصے تقسیم کرنا چاہے یہ نہیں ہوسکتا اور اگر ایک نابالغ ہے باقی بالغ اور بالغین میں ایک غائب ہے اور باقی موجود وصی نے موجودِین کے مقابلہ میں تقسیم کرائی اور غائب کے حصہ کو نابالغ کے ساتھ رکھا یہ جائز ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: ورثہ میں بالغ و نابالغ دونوں ہیں وصی نے اس طرح تقسیم کرائی کہ ہر نابالغ کا حصہ بھی ممتاز ہوگیا یہ تقسیم ناجائز ہے۔ میت نے کسی کے لیے تہائی کی وصیت کی ہے وصی نے موصیٰ لہ(3)اور نابالغین کے مابین تقسیم کی موصیٰ لہکی تہائی اس کو دے دی اور دو تہائیاں نابالغین کے لیے رکھیں یہ جائز ہے۔ اور اگر ورثہ بالغ ہوں مگر موجود نہیں ہیں وصی نے تقسیم کر کے موصیٰ لہکی تہائی اسے دے دی اور ورثہ کا حصہ محفوظ رکھا یہ بھی جائز ہے اور اگر موصیٰ لہ غائب ہے وصی نے ورثہ کے مقابل میں تقسیم کر کے موصیٰ لہ کا حصہ محفوظ رکھا یہ تقسیم باطل ہے۔(4) (عالمگیری)
مزارَعت کے متعلق مختلف قسم کی حدیثیں آئیں بعض سے جواز ثابت ہوتا ہے اور بعض سے عدم جواز اسی وجہ سے صحابہ و ائمہ میں اس کے جواز و عدم جواز میں اختلاف رہا۔
حدیث ۱: صحیح مسلم میں عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی کہتے ہیں ہم مزارعت کیا کرتے تھے اس میں حرج نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ رافع بن خدیج رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب یہ کہا کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا ہے تو ہم نے اسے چھوڑ دیا۔ (5)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب السابع فی بیان من یلی القسمۃ...إلخ،ج۵،ص ۲۱۹.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۲۰.
3 ۔جس کے متعلق وصیت کی گئی۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب السابع فی بیان من یلی القسمۃ...إلخ،ج۵،ص ۲۱۹،۲۲۰.
5 ۔''صحیح مسلم''،کتاب البیوع، باب کراء الأرض، الحدیث: ۱۰۶،۱۰۷۔(۱۵۴۷)،ص۸۳۳.
حدیث ۲: صحیح بخاری و مسلم میں رافع بن خدیج رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہتے ہیں مدینہ میں سب سے زیادہ ہمارے کھیت تھے اور ہم میں کوئی شخص زمین کو اس طرح کرایہ پر دیتا کہ اس ٹکڑے کی پیداوار میری ہے اور اس کی تمہاری تو کبھی ایسا ہوتا کہ ایک میں پیداوار ہوتی اور دوسرے میں نہیں ہوتی لہٰذا نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اُن کو منع فرمادیا۔ (1)
حدیث ۳: صحیحین میں حنظلہ بن قیس، رافع بن خدیج رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں میرے دو چچاؤں نے مجھے خبر دی کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے زمانہ میں کچھ لوگ زمین کو اس طرح دیتے کہ جو کچھ نالیوں کے آس پاس پیداوار ہوگی وہ مالک زمین کی ہے یا مالکِ زمین پیداوار میں سے کسی مخصوص شے کو اپنے لیے مستثنیٰ کر لیتا۔ لہٰذا نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس سے منع فرما دیا۔ کہتے ہیں:میں نے رافع سے پوچھا کہ روپیہ اشرفی(2)سے زمین کو دینا کیسا ہے تو کہا: اس میں حرج نہیں۔ بعض راوی یہ کہتے ہیں کہ جس صورت میں ممانعت ہے اُس کو جب وہ شخص دیکھے گا جسے حلال و حرام کی سمجھ ہے تو جائز نہیں کہہ سکتا۔ (3)
حدیث ۴: صحیح بخاری و مسلم میں عمرو بن دینار (رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے مروی ہے، کہتے ہیں: میں نے طاوس (رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے کہا کہ آپ مزارعت چھوڑ دیتے تو اچھا تھا کیونکہ لوگ یہ کہتے ہیں اس سے نبیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ممانعت فرمائی ہے۔ اُنھوں نے کہا:اےعَمْرْو!اس ذریعہ سے لوگوں کو میں دیتا ہوں اور لوگوں کی اِعانت (4)کرتا ہوں اور مجھے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے یہ خبر دی کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس کو منع نہیں فرمایا اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے یہ فرمایا کہ''کوئی شخص اپنے بھائی کو زمین مفت دیدے یہ اس سے بہتر ہے کہ اس پر اُجرت لے۔''(5)
حدیث ۵: صحیح بخاری میں ابو جعفر یعنی امام محمد باقررضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہتے ہیں مدینہ میں مہاجرین کا کوئی گھرانا ایسا نہیں جو تہائی اور چوتھائی پر مزارعت نہ کرتا ہو اور حضرت علی و سعد بن مالک و عبداﷲبن مسعود و عمر بن عبدالعزیز و قاسم وعروہ و آل ابی بکر و آل عمر و آل علی و ابن سیرین سب نے مزارعت کی رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔(6)
مسئلہ ۱: کسی کو اپنی زمین اس طور پر کاشت کے لیے دینا کہ جو کچھ پیداوار ہوگی دونوں میں مثلاًنصف نصف
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الحرث والمزارعۃ،باب ما یکرہ من الشروط في المزارعۃ، الحدیث:۲۳۳۲،ج۲، ص۸۹.
2 ۔سونے کا سکہ۔
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الحرث والمزارعۃ،باب کراء الأرض بالذھب والفضۃ، الحدیث:۲۳۴۶،۲۳۴۷،ج۲،ص۹۳.
4 ۔مدد۔
5 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الحرث والمزارعۃ،باب:۱۰،الحدیث:۲۳۳۰،ج۲،ص۸۸.
6 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الحرث والمزارعۃ،باب المزارعۃ بالشطر ونحوہ،ج۲،ص۸۷.
یاایک تہائی دو تہائیاں تقسیم ہو جائے گی اس کو مزارعت کہتے ہیں،اسی کو ہندوستان میں بٹائی پر کھیت دینا کہتے ہیں امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک مزارعت ناجائز ہے مگر فتویٰ قول صاحبین پر (1)ہے کہ مزارَعت جائز ہے۔(2)
مزارعت کے جواز کے لیے چند شرطیں ہیں کہ بغیر ان شرطوں کے جائز نہیں۔
(۱)عاقدین عاقل بالغ آزاد ہوں اگر نابالغ یا غلام ہو تو اس کا ماذون ہونا(3)ضروری ہے۔
(۲)زمین قابلِ زراعت ہو۔ اگر شور زمین(4)یا بنجر جس میں زراعت کی قابلیت نہیں ہے مزارعت پر دی گئی تو یہ عقد ناجائز ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس وقت زمین قابل زراعت نہیں ہے مگر وہ وجہ زائل ہو جائے گی مثلاً اس وقت وہاں پانی نہیں ہے مگر وقت پر پانی ہو جائے گا یا اُس وقت کھیت پانی میں ڈوبا ہوا ہے بونے کے وقت تک سوکھ جائے گا تو مزارعت جائز ہے۔
(۳) وہ زمین جو مزارعت پر دی گئی معلوم ہو۔
(۴) مالکِ زمین کاشتکار کو وہ زمین سپرد کر دے اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ مالکِ زمین بھی اس میں کام کریگا تومزارَعت صحیح نہیں۔
(۵) بیان مدت مثلاً ایک سال دو سال کے لیے زمین دی اور اگر مدت کا بیان نہ ہو تو صرف پہلی فصل کے لیے مزارعت ہوئی اور اگر ایسی مدت بیان کی جس میں زراعت نہ ہوسکے یا اتنی مدت بیان کی کہ اوتنی مدت تک ایک کے زندہ رہنے کی بظاہر اُمید نہیں ہے تو ان دونوں صورتوں میں مزارعت فاسد۔
(۶) یہ بیان کہ بیج مالک زمین دے گا یا کاشتکار کے ذمہ ہوگا۔ اگر بیان نہ ہو تو وہاں کا جو عرف ہو وہ کیا جائے جیسے یہاں ہندوستان بھر میں یہی عرف ہے کہ بیج کاشتکار کے ہوتے ہیں۔
(۷) یہ بیان کہ کیا چیز بوئے گا اور اگر متعین نہ کرے تو یہ اجازت دے کہ تیرا جو جی چاہے اس میں بونا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کتنے بیج ڈالے گا کہ زمین جتنی ہوتی ہے اسی حساب سے کاشتکار بیج ڈالا کرتے ہیں۔
(۸) ہر ایک کو کیا ملے گا اس کا عقد میں ذکر کرنا ضروری ہے۔ اور جو کچھ پیداوار ہو اس میں دونوں کی شرکت ہواگرفقط ایک کو دینا قرار پایا تو عقد صحیح نہیں۔ اور یہ شرط کہ دوسری چیز میں سے دیا جائے گا اس سے بھی شرکت نہ ہوئی۔
1 ۔یعنی اما م ابو یوسف وامام محمدرحمۃ اللہ تعالٰیعلیھما کے قول پر۔
2 ۔''الدر المختار''،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۵۶۔۴۵۸.
3 ۔یعنی اپنے ولی یا آقا کی طرف سے انہیں خریدو فروخت کی اجازت کاہونا۔
4 ۔کھاری زمین،وہ زمین جو کھار یا تھور کے باعث قابل کاشت نہ ہو۔
اورجومقدار ہو ہر ایک کے لیے اوس کا متعین ہو جانا ضرور ہے مثلاً نصف یا تہائی یا چوتھائی اور جو کچھ حصہ ہو وہ جز و شائع ہو لہٰذا اگر ایک کے لیے یہ ٹھہرا کہ ایک من یا دو من دیے جائیں گے تو صحیح نہیں۔ یوہیں اگر یہ ٹھہرا کہ بیج کی مقدار نکالنے کے بعد باقی کو اس طرح تقسیم کیا جائے گا تو مزارعت صحیح نہ ہوئی۔ اسی طرح اگر یہ ٹھہرا کہ کھیت کے اس حصہ کی پیداوار فلاں لے گا اور باقی فلاں یا باقی کو دونوں میں تقسیم کیا جائے گا یہ مزارعت صحیح نہیں۔ اور اگر یہ ٹھہرا کہ زمین کا عشر(1)نکال کر باقی کو تقسیم کیا جائے گا تو حرج نہیں۔ یوہیں اگر یہ طے ہوا کہ دونوں میں ایک کو پہلے پیداوار کا دسواں حصہ دیا جائے اُس کے بعد اس طرح تقسیم ہو تو اس میں بھی حرج نہیں۔ (2)
شروط مندرجہ ذیل سے مزارعت فاسد ہو جاتی ہے۔ ۱ پیداوا ؔ ر کا ایک کے لیے مخصوص ہونا۔۲ مالک ؔ زمین کے کام کرنے کی شرط۔۳ ہل ؔ بیل مالک زمین کے ذمہ شرط کر دینا۔ کھیت کاٹنا اور ڈھوکر(3)خِرْمَنْ(4)میں پہنچانا پھر دائیں چلانا اور غلہ کو بھوسہ اوڑا کر جدا کرنا ان سب کو مزارع پر شرط کرنا مفسد ہے یا نہیں اس میں دو روایتیں ہیں اور یہاں کا عرف یہ ہے کہ یہ چیزیں بھی مزارع (5)ہی کرتا ہے مگر رواج یہ ہے کہ ان سب چیزوں میں مزدوری جو کچھ دی جاتی ہے وہ مشترک غلہ سے دی جاتی ہے مزارع اپنے پاس سے نہیں دیتا بلکہ ان تمام مصارف کے بعد جو کچھ غلہ بچتا ہے وہ حسب قرار دادتقسیم ہوتا ہے۔۴ ایک ؔ کو غلہ ملے گا اور دوسرے کو صرف بھوسا۔۵ غلہؔ بانٹا جائے گا اور بھوسا وہ لے گا جس کے بیج نہیں ہیں مثلاً مالک زمین۔ ۶ بھو ؔسا بانٹا جائے گااور غلہ صرف ایک کو ملے گا۔ اور اگر یہ شرط ہے کہ غلہ بنٹے گا اور بھوسا اُس کو ملے گا جس کے بیج ہیں جیسا یہاں کا یہی عرف ہے کہ مزارع ہی بیج دیتا ہے اور بھوسہ لیتا ہے یہ صورت صحیح ہے۔ یوہیں اگر بھوسے کے متعلق کچھ ذکر ہی نہ آیا کہ اس کو کون لے گا یہ بھی صحیح ہے مگر اس صورت میں بھوسا کون لے گا اس میں دو قول ہیں ایک یہ کہ یہ بھی بٹے گا دوسرا یہ کہ جس کے بیج ہیں اسے ملے گا یہی ظاہر الروایہ ہے اور یہاں کا عرف دوسرے قول کے موافق ہے۔ (6)
مسئلہ ۲: ۱ ایک ؔ شخص کی زمین اور بیج اور دوسرا شخص اپنے ہل بیل سے جوتے بوئے گا ۲ یا ؔ ایک کی فقط زمین باقی سب کچھ دوسرے کا یعنی بیج بھی اسی کے اور ہل بیل بھی اسی کے اور کام بھی یہی کریگا ۳ یا ؔ مزارع صرف کام کریگا باقی سب کچھ مالک زمین کا ،یہ تینوں صورتیں جائز ہیں۔ اور اگر یہ ہو کہ ۱ زمین ؔ اور بیل ایک کے اور کام کرنا اور بیج مزارع کے ذمہ یا ؔ۲ یہ کہ
1 ۔یعنی پیداوار کا دسواں حصہ۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۵۸-۴۶۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الأول فی شرعیتھا...إلخ،ج۵،ص۲۳۵،۲۳۶.
3 ۔یعنی ایک جگہ سے اُٹھاکر دوسری جگہ لے جانا۔ 4 ۔غلے کا ڈھیرلگانے کی جگہ۔ 5 ۔کاشتکار۔
6 ۔''الدر المختار''و''ردالمحتار''،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۶۰-۴۶۴.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الأول فی شرعیتھا...إلخ،ج۵،ص۲۳۶.
بیل اور بیج ایک کے اور زمین اور کام دوسرے کایا ؔ۳ یہ کہ ایک کے ذمہ فقط بیل ۴ یا ؔ بیج باقی سب کچھ دوسرے کا یہ چاروں صورتیں ناجائز و باطل ہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۳: مزارَعت جب صحیح ہو تو جو کچھ پیداوار ہو اُس کو اس طور پر تقسیم کریں جیسا طے ہوا ہے اور کچھ پیداوار نہ ہوئی توکسی کو کچھ نہیں ملے گا اور اگر مزارَعت فاسد ہو تو بہرصورت کام کرنے والے کو اُجرت ملے گی پیداوار ہو یا نہ ہو۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۴: تین یا چار شخص مزارعت میں شریک ہوئے یوں کہ ایک کے فقط بیج یا بیل ہوں گے یا یوں کہ ایک کی زمین اور ایک کے بیج اور ایک کے بیل اور ایک کام کریگا یا یوں کہ ایک کی زمین اور بیج اور دوسرے کے بیل اور تیسرا کام کریگا یہ سب صورتیں مزارعت فاسدہ کی ہیں۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: عقدِ مزارَعت ہو جانے کے بعد یہ عقد لازم ہوتا ہے یا نہیں اس میں یہ تفصیل ہے کہ جس کے بیج ہوں گے اس کی جانب سے لازم نہیں وہ اس پر عمل پیرا ہونے سے انکار کرسکتا ہے اور جس کے بیج نہیں اس پر لازم ہے یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے یہ عقد منظور نہیں بلکہ اس کو عقد کے موافق کرنا ہی پڑے گااور بیج زمین میں ڈال دینے کے بعد دونوں طرف سے لازم ہوگیا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: جس کے بیج ہیں اگر وہ اس عقد سے انکار اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے بونا چاہتا ہے یا اس کو کوئی دوسرا شخص مل گیا جو کم میں کام کریگا مثلاً یہ مزارع نصف لینا چاہتا ہے وہ دوسرا تہائی پر کام کرنے کو طیار ہے ان صورتوں میں بیج والا انکار نہیں کرسکتا اُس کو اس عقد کے موافق کرنا ہی ہوگا۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: مزارعت میں اگر مزارِع کے ذمہ کھیت کا جو تنا(6)شرط ہے جب تو اُسے جوتنا ہی ہے اور اگر عقد میں یہ شرط مذکور نہ ہوئی تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ اگر وہ زمین ایسی ہے کہ بغیر جوتے بھی اس میں ویسی ہی پیداوار ہوسکتی ہے جو مقصود ہے تو جبراً اس سے نہیں جتوایا جاسکتا اور اگر بغیر جوتے کچھ پیداوار نہ ہوگی یا بہت کم ہوگی تو کھیت جوتنے پر مجبور کیا جائے گا۔ یہی حکم آبپاشی کا(7)ہے کہ اگر محض آسمانی بارش کافی ہے پانی نہ دیا جائے جب بھی ٹھیک پیداوار ہوگی تو پانی دینے پر مجبور نہیں
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۶۲.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۶۴۔۴۶۶.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب المزارعۃ ،ج۹،ص۴۶۴.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الأول فی شرعیتھا...إلخ،ج۵،ص۲۳۷.
5 ۔''ردالمحتار'' ،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۶۵.
6 ۔ زمین کو قابلِ کا شت بنانا، ہل چلانا۔ 7 ۔زمین کو پانی دینے کا۔
کیاجاسکتا ورنہ اُسے پانی دینا ہی ہوگا انکار نہیں کرسکتا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: مزارعت ہوجانے کے بعد پیداوار کی تقسیم جس طرح طے پاگئی ہے اس میں کمی بیشی ہوسکتی ہے یا نہیں مثلاً نصف نصف تقسیم کرنا طے پایا تھا اب ایک تہائی دو تہائیاں لینا دینا چاہتے ہیں اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ کمی یا بیشی مالکِ زمین کی طرف سے ہوگی یا مزارِع کی طرف سے اور بہرصورت بیج مالکِ زمین کے ہیں یا مزارِع کے۔ اگر کھیت طیار ہوگیا اور بیج مزارِع کے ہیں اور پہلے مزارعت نصف پر تھی اب کاشتکار مالکِ زمین کا حصہ بڑھانا چاہتا ہے اسے دو تہائیاں دینا چاہتا ہے یہ ناجائز ہے بلکہ پیداوار اسی طور پر تقسیم ہوگی جو طے ہے اور اگر مالکِ زمین مزارع کا حصہ بڑھانا چاہتا ہے بجائے نصف اس کو دو تہائیاں دینا چاہتا ہے یہ جائز ہے اور اگر بیج مالکِ زمین کے ہیں اور یہ مزارِع کا حصہ زیادہ کرنا چاہتا ہے یہ ناجائز ہے اور مزارِع مالکِ زمین کا حصہ زیادہ کرنا چاہتا ہے یہ جائز ہے اور اگر فصل طیار ہونے سے پہلے کمی بیشی کرنا چاہتے ہیں تو مطلقًا جائز ہے مزارِع کی طرف سے ہو یا مالکِ زمین کی طرف سے بیج اس کے ہوں یا اس کے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: مزارعت اس طرح ہوئی کہ ایک کی زمین ہے اور بیج دونوں کے ہیں اور مزارع کے ذمہ کام کرنا ہے اور شرط یہ ہے کہ جو کچھ پیداوار ہوگی دونوں برابر بانٹ لیں گے یہ مزارعت فاسد ہے۔ یوہیں اگر ایک کے لیے دو تہائیاں اور دوسرے کے لیے ایک تہائی ملنا شرط ہو یہ بھی فاسد ہے۔ اور اگر زمین دونوں کی ہو اور بیج بھی دونوں دیں گے اور کام بھی دونوں کریں گے اور جو کچھ پیداوار ہوگی دونوں برابر بانٹ لیں گے یہ مزارعت صحیح ہے اور اگر زمین دونوں میں مشترک ہے اور بیج ایک کے ہیں اور پیداوار برابر لیں گے یہ صورت فاسد ہے۔ اور اگر اسی صورت میں کہ زمین مشترک ہے یہ شرط ہو کہ جو کام کریگا اس کی دو تہائیاں اور دوسرے کو یعنی جس کے بیج نہیں ہیں اس کو ایک تہائی ملے گی یہ جائز ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مزارعت فاسدہ کے یہ احکام ہیں۔ جو کچھ اس صورت میں پیداوار ہو اس کا مالک تنہا وہ شخص ہے جس کے بیج ہیں پھر اگر بیج مزارِع کے ہیں تو یہ مالکِ زمین کو زمین کی اُجرتِ مثل دے گا اور اگر بیج مالکِ زمین کے ہیں تو یہ مزارِع کو اس کے کام کی اُجرت مثل دے گا اور اگر بیل بھی مالکِ زمین ہی کے ہیں تو زمین اور بیل دونوں کی اُجرت مثل اس کو ملے گی۔ امام ابو یوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیک اُجرت مثل اوتنی ہی دی جائے جو مقرر شدہ سے زائد نہ ہویعنی اگر مقرر شدہ سے زائد ہوتی ہو تو اوتنی ہی دیں جو مقرر ہے یعنی مثلاً نصف پیداوار کی برابر اور امام محمدرحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیک یہ پابندی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الأوّل فی شرعیتھا...إلخ،ج۵،ص۲۳۷.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الثانی فی بیان أنواع المزارعۃ،ج۵،ص۲۳۸،۲۳۹.
نہیں بلکہ جتنی بھی اُجرت مثل ہو اگرچہ مقرر شدہ سے زیادہ ہو وہی دی جائے گی۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۱: مزارعت فاسدہ میں اگر بیج مالکِ زمین کے ہیں اور پیداوار اس نے لی یہ اس کے لیے حلال و طیّب ہے اور اگر مزارِع کے بیج تھے اور پوری پیداوار اس نے لی تو اس کے لیے فقط اوتنا ہی طیّب ہے جو بیج اور لگان کے مقابل میں ہے باقی کو صدقہ کرے۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۲: مزارعت فاسدہ میں اگر یہ چاہیں کہ پیداوار کا جو کچھ حصہ ملا ہے وہ طیّب و طاہر ہو جائے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ حصے بنٹ جانے کے بعد(3)مالکِ زمین مزارِع سے کہے کہ تمہارا میرے ذمہ یہ واجب ہے اور میرا تمہارے ذمہ یہ واجب ہے اس غلہ کو لے کر مصالحت کر لو اور مزارع بھی اسی طرح کرے اور دونوں آپس میں مصالَحت کر لیں اب کوئی حرج نہ رہے گا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: ایک شخص نے دوسرے کو بیج دیے اور یہ کہا کہ تم انھیں اپنی زمین میں بو دو اور جو کچھ غلہ پیدا ہو وہ تمہارا ہے یا یوں کہا کہ اپنی زمین میں میرے بیج سے کاشت کرو جو کچھ پیداوار ہو وہ تمہاری ہے یہ دونوں صورتیں جائز ہیں مگر یہ مزارعت نہیں ہے کیونکہ پیداوار میں شرکت نہیں ہے بلکہ اس شخص نے اپنے بیج اسے قرض دیے اور اگر بیج والے نے مالک زمین سے یہ کہا کہ میرے بیج سے تم اپنی زمین میں کاشت کرو اور جو کچھ پیداوار ہو میری ہے یہ صورت بھی جائز ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی زمین کاشت کے لیے عاریت لی۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مزارِع کو زمین دی اور یہ کہا کہ اس میں گیہوں (6)اور جَودونوں بوئے جائیں ایک کو گیہوں ملیں گے اور دوسرے کو جو یہ مزارعت فاسد ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: مزارع کو زمین دی اور یہ کہا کہ اگر تم نے گیہوں بوئے تو نصف نصف دونوں کے اور جَوبوئے تو کل
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب المزارعۃ،ج۲،ص۳۳۹۔۳۴۰.
2 ۔المرجع السابق،ص۳۴۰.
3 ۔یعنی تقسیم ہوجانے کے بعد۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الثانی فی بیان أنواع المزارعۃ،ج۵،ص۲۳۸.
5 ۔المرجع السابق،الباب الثالث فی الشروط...إلخ،ج۵ ،ص۲۴۱.
6 ۔گندم۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الثالث فی الشروط...إلخ،ج۵،ص۲۴۵.
مزارِع کے، یہ صورت جائز ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ گیہوں بونے کی صورت میں مزارَعت ہے اور جو بونے کی صورت میں عاریت ہے اور اگر یہ کہہ کر زمین دی کہ گیہوں بوئے تو نصف نصف اور جو بوئے تو یہ کل مالکِ زمین کے، اس کا حکم یہ ہے کہ گیہوں بونے کی صورت میں مزارَعت ہے اور جائز ہے اور جو بوئے تو یہ کل مزارِع کے ہوں گے اور مالکِ زمین کو زمین کی اُجرتِ مثل یعنی واجبی لگان دیا جائے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: یہ کہہ کر زمین دی کہ اگر گیہوں بوئے تو نصف نصف اور جو بوئے تو مالکِ زمین کے لیے ایک تہائی اور مزارِع کے لیے دو تہائیاں اور تل بوئے تو مالکِ زمین کی ایک چوتھائی باقی مزارِع کی، یہ صورت جائز ہے جو کچھ بوئے گا اسی شرط کے موافق تقسیم ہوگی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: ایک شخص کو تیس برس کے لیے زمین دے دی کہ گیہوں یا جَو یا جو کچھ ربیع یا خریف کی پیداوار ہو دونوں میں برابر تقسیم ہوگی اور اس زمین میں مزارع جو درخت لگائے گا وہ ایک تہائی مالکِ زمین کا باقی مزارِع کا، یہ جائز ہے وہ جو کچھ بوئے یاجس قسم کے درخت لگائے اسی شرط کے موافق کیا جائے گا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: مزارَعت میں یہ شرط ہوئی کہ اگر مزدور سے کام لیا جائے گا تو اس کی اُجرت مزارِع کے ذمہ ہوگی یہ جائز ہے اور اگر یہ شرط ہو کہ مزدوری مالکِ زمین کے ذمہ ہوگی یہ ناجائز ہے اور مزارعت فاسد۔ یوہیں اگر یہ شرط ہو کہ مزدوری مزارِع دے گا مگر جو کچھ اُجرت میں صرف ہوگا اس کے عوض کا غلہ نکال کر باقی کو تقسیم کیا جائے گا یہ بھی ناجائز۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: مزارَعت میں ایسی شرط تھی جس کی وجہ سے مزارعت فاسد ہوگئی تھی اور وہ شرط جس کے لیے مفید تھی اس نے عمل سے پہلے شرط باطل کر دی مثلاً یہ شرط تھی کہ مالکِ زمین یا مزارِع بیس روپے اور نصف پیداوار لے گا جس کو یہ روپے ملتے اوس نے یہ شرط باطل کر دی تو اب یہ مزارَعت جائز ہوگئی اور اگر وہ شرط دونوں کے لیے مفید ہو تو جب تک دونوں اس شرط کو باطل نہ کریں فقط ایک کے باطل کرنے سے مزارَعت جائز نہ ہوگی۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: کاشتکار نے کھیت جوت لیا(6)اب مالکِ زمین کہتا ہے میں بٹائی پر بوانا (7)نہیں چاہتا اگر بیج کاشتکار کے ذمہ ہیں تو مالکِ زمین کو انکار کرنے کا کوئی حق نہیں اس سے زمین جبراً لی جائے گی اور کاشتکار بوئے گا اور اگر بیج مالکِ زمین
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الثالث فی الشروط...إلخ،ج۵، ص۲۴۷.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۴۸. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق،ص۲۴۵.
6 ۔یعنی ہل چلادیا۔ 7 ۔تقسیم پر کاشت کرانا۔
کے ذمہ ہیں تو وہ انکار کرسکتا ہے اس پر جبر نہیں کیا جاسکتا رہا یہ کہ کاشتکار کو کھیت جوتنے کا معاوضہ دیا جائے گا یا نہیں دیانت کا حکم یہ ہے کہ کاشتکار کو کھیت جوتنے کی اُجرت مثل دے کر راضی کرے کیونکہ اگرچہ کھیت جوتنے پر وہ اجیر نہیں ہے مگر چونکہ مالکِ زمین نے اس سے عقد مزارعت کیا اس وجہ سے اس نے جوتا ورنہ کیوں جوتتا۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: کاشتکار کو مزارعت پر زمین دی کاشتکار یہ چاہتا ہے کہ دوسرے شخص کو مزارعت پر دے دے اگر بیج مالکِ زمین کے ہیں تو ایسا نہیں کرسکتا جب تک مالک زمین سے صراحۃً یا دلالۃً اجازت نہ حاصل کرے دلالۃً اجازت کی یہ صورت ہے کہ اس نے کہہ دیا ہو تم اپنی رائے سے کام کرو اور بغیر اجازت اس نے دوسرے کو دے دی تو ان دونوں کے مابین حسبِ شرائط غلہ تقسیم ہوگا اور مالکِ زمین بیج کا تاوان لے گا پہلے سے لے گا تو وہ دوسرے سے واپس نہیں لے سکتا اور دوسرے سے لے گا تو وہ پہلے سے رجوع کریگا اور زراعت کی وجہ سے زمین میں جو کچھ نقصان ہوگا وہ مزارع دوم سے مالکِ زمین وصول کریگا پھر اس صورت میں مزارع اول کو پیداوار کا جو حصہ ملا ہے اس میں سے اوتنا حصہ اس کے لیے جائز ہے جو تاوان میں دے چکا ہے باقی کو صدقہ کر دے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: مالکِ زمین نے مزارع کو صراحۃً یا دلالۃً اجازت دے دی ہے کہ وہ دوسرے کو مزارَعت کے طور پر دے دے اور مالکِ زمین نے نصف پر اس کو دی تھی اور اس نے دوسرے کو نصف پر دے دی تو یہ دوسری مزارَعت جائز ہے اور جوپیداوار ہوگی اس میں کا نصف مالکِ زمین لے گا اور نصف مزارِع دوم لے گا مزارِع اول کے لیے کچھ نہیں بچا۔ اور اگر مزارِع اول نے دوسرے سے یہ طے کر لیا ہے کہ آدھا مالکِ زمین کو ملے گا اور آدھے میں ہم دونوں برابر لیں گے یا ایک تہائی دوتہائی لیں گے تو جو کچھ طے پایا اُس کے موافق تقسیم ہو۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: مالکِ زمین نے مزارَعت پر زمین دی اور یہ کہا کہ اپنے بیج سے کاشت کرو اس نے زمین اور بیج دوسرے کو بونے کے لیے مزارعت پر دے دی یہ جائز ہے مالکِ زمین نے صراحۃً یا دلالۃً ایسا کرنے کی اجازت دی ہو یا نہ دی ہو دونوں کا ایک حکم ہے اب اگر پہلی مزارَعت نصف پر تھی اور دوسری بھی نصف پر ہوئی تو نصف غلہ مالکِ زمین لے گا اور نصف مزارِع دوم
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۶۶.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الخامس فی دفع المزارع...إلخ،ج۵،ص۲۵۰.
3 ۔المرجع السابق.
اور مزارِع اول کو کچھ نہیں ملے گا اور اگر دوسری مزارَعت میں یہ ٹھہرا ہے کہ ایک تہائی مزارِع دوم کی تو نصف مالکِ زمین کا اور ایک تہائی دوم کی اور چھٹا حصہ مزارع اول کا یا اس کے سوا جو صورت طے پاگئی ہو اس کے مطابق تقسیم ہو۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مالکِ زمین نے مزارِع سے کہا کہ تم اپنے بیجوں سے کاشت کرو دونوں نصف نصف لیں گے اور مزارِع نے دوسرے کو دے دی کہ تم اپنے بیج سے کاشت کرو اور جو کچھ پیداوار ہو اس میں دو تہائیاں تمہاری اس صورت میں مزارِع دوم حسب شرط دو تہائیاں لے گا اور ایک تہائی مالکِ زمین لے گا اور مالکِ زمین مزارِع اول سے تہائی زمین کی اُجرت (لگان)لے گا اور اگر بیج مزارِع اول ہی نے دیے مگر مزارِع دوم کے لیے پیداوار کی دو تہائیاں دینا طے پایا اس صورت میں بھی وہی حکم ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: کاشت کے لیے دوسرے کو زمین دی اور یہ ٹھہرا کہ بیج دونوں کے ہوں گے اور بیل کاشتکار کے ہوں گے اور پیداوار دونوں میں نصف نصف تقسیم ہو جائے گی کاشتکار نے ایک دوسرے شخص کو اپنے حصہ میں شریک کر لیا کہ یہ بھی اس کے ساتھ کام کریگا اس صورت میں مزارعت اور شرکت دونوں فاسد ہیں۔ جتنے جتنے دونوں کے بیج ہوں اسی حساب سے غلہ دونوں میں تقسیم ہوگا اور مالک زمین مزارع اول سے نصف زمین کی اُجرت مثل لے گا اور یہ دوسرا شخص بھی مزارع اول سے اپنے کام کی اُجرت مثل لے گا۔ اور مزارع اول اپنے بیج کی قدر اور جو کچھ زمین کی اُجرت اور کام کی اُجرت دے چکا ہے ان کی قیمت کا غلہ رکھ لے باقی کو صدقہ کر دے۔(3) (عالمگیری)اور اگر کاشتکار نے دوسرے کو شریک نہ کیا ہو جب بھی فاسد ہے اور وہی احکام ہیں جو مذکور ہوئے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: جن دو شخصوں کے مابین مزارَعت ہوئی ان میں کسی کے مر جانے سے مزارَعت فسخ ہو جائے گی جیسا کہ اِجارہ کا حکم تھا پھر اگر مثلاً تین سال کے لیے مزارَعت پر زمین دی تھی اور پہلے سال میں کھیت بونے اور اوگنے کے بعد مالکِ زمین مرگیا اور کھیت ابھی کاٹنے کے قابل نہیں ہوا تو زمین مزارِع کے پاس اس وقت تک چھوڑ دی جائے گی کہ فصل طیار ہو جائے اس صورت میں پیداوار حسب قرار تقسیم ہوگی اور دوسرے تیسرے سال کے حق میں مزارَعت فسخ ہو جائے گی۔ (5)(ہدایہ)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الخامس فی دفع المزارع...إلخ،ج۵،ص۲۵۱.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الدرالمختار''و''رد المحتار''،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۶۸.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب المزارعۃ،ج۲،ص۳۴۰.
مسئلہ ۲۷: مزارِع نے کھیت جوت کرطیار کیا مینڈھ (1)بھی درست کر لی نالیاں بھی بنا لیں مگر ابھی بویا نہیں ہے کہ مالکِ زمین مرگیا تو مزارَعت فسخ ہوگئی اور مزارِع نے جو کچھ کام کیا ہے اس صورت میں اوس کا کوئی معاوضہ نہیں۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۸: کھیت بو دیا گیا اور ابھی اوگا نہیں کہ مالکِ زمین مرگیا اس صورت میں مزارَعت فسخ ہوگی یا باقی رہے گی اس میں مشایخ کا اختلاف ہے۔(3) (عالمگیری)جو مشایخ یہ کہتے ہیں کہ مزارَعت فسخ نہیں ہوگی اون کا قول بہتر معلوم ہوتا ہے کہ مزارِع کو نقصان سے بچانا ہے جب کہ بیج مزارِع کے ہوں۔
مسئلہ ۲۹: مزارِع نے کھیت بونے میں دیر کی کہ مدت ختم ہوگئی اور ابھی زراعت کچی ہے کٹنے کے قابل نہیں ہوئی مالکِ زمین کہتا ہے کچی کھیتی کاٹ لی جائے اور مزارِع انکار کرتا ہے مالکِ زمین کو کھیت کاٹنے سے روکا جائے گا اور چونکہ آدھی زرَاعت مزارِع کی ہے کھیت طیار ہونے تک دونوں کے مابین ایک جدید اجارہ قرار دیا جائے گا لہٰذا اتنے دنوں کی جو کچھ اُجرت اس زمین کی ہو اس کا نصف مزارِع مالکِ زمین کو دے گا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: فصل طیار ہونے سے پہلے مزارِع مرگیا اس کے ورثہ کہتے ہیں کہ ہم اس کھیت کا کام کریں گے ان کو یہ حق دیا جائے گا کہ یہ لوگ مزارِع کے قائم مقام ہیں اس صورت میں کام کی ان کو کچھ اُجرت نہیں ملے گی بلکہ پیداوار کا حصہ ملے گا اور اگر یہ لوگ زراعت کے کام سے انکار کرتے ہیں تو ان کو مجبور نہیں کیا جاسکتا بلکہ مالکِ زمین کو اختیار ہے کہ کچی کھیتی کا ٹ کر آدھی ان کو دے دے اور آدھی خود لے لے یا ان کے حصہ کی قیمت دے کر زراعت لے لے یا ان کے حصہ پر بھی خرچ کرے اور جو کچھ ان کے حصہ پر صرف ہو(5)وہ ان کے حصہ کی پیداوار سے وصول کرے۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۳۱: کھیت بونے کے بعد مزارِع غائب ہوگیا معلوم نہیں کہاں ہے مالکِ زمین نے قاضی سے حکم حاصل کر کے زراعت پر صرف کیا کھیت جب طیار ہوگیا مزارِع آیا اور اپنا حصہ مانگتا ہے تو جو کچھ صرفہ ہوا ہے جب تک سب نہ دے دے اپنا حصہ لینے کا حقدار نہیں اور اگر بغیر حکم قاضی مالکِ زمین نے صرف کیا تو مُتبرِّع ہے (7)وصول نہیں کرسکتا اور قاضی حکم اس وقت
1 ۔منڈیر ،بنیرا،کنارہ۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب المزارعۃ،ج۲،ص۳۴۰.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب التاسع فیما اذا مات رب الأرض...إلخ،ج۹،ص۲۵۴.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔خرچ ہو۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب المزارعۃ،ج۲،ص۳۴۱.
7 ۔احسان کرنے والاہے۔
دے گا جب مالکِ زمین گواہوں سے یہ ثابت کر دے کہ زمین میری ہے مزارَعت پر فلاں کو دے دی ہے وہ کھیت بو کر غائب ہوگیا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: فصل طیار ہونے کے بعد مزارِع مرگیا مالکِ زمین یہ دیکھتا ہے کہ کھیت میں زراعت موجود نہیں ہے اوریہ معلوم نہیں کہ کیا ہوئی تو اپنے حصہ کا تاوان اس کے ترکہ سے وصول کریگا اگرچہ ورثہ کہتے ہوں کہ زراعت چوری ہوگئی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: مالکِ زمین پر دَین ہے اور سوا اس زمین کے جس کو مزارعت پر دے چکا ہے کوئی مال نہیں ہے جس سے دَین ادا کیا جائے اگر ابھی فقط عقد ِمزارَعت ہی ہوا ہے کاشتکار نے کھیت بویا نہیں ہے تو زمین دَین کی ادا کے لیے بیع کر دی جائے اور مزارعت فسخ کر دی جائے اور اگر کھیت بویا جاچکا ہے مگر ابھی اوگا نہیں ہے جب بھی بیع ہوسکتی ہے اور دیانت کا حکم یہ ہے کہ مزارع کو کچھ دے کر راضی کر لیا جائے اور زراعت اوگ چکی ہے مگر ابھی طیار نہیں ہوئی ہے تو بغیر اجازت مزارع نہیں بیچی جاسکتی وہ اگر اجازت دے دے تو اب بیچنا جائز ہے۔ اور اس میں دو صورتیں ہیں صرف زمین کی بیع ہو یا زمین و زراعت دونوں کی ہو اگر دونوں کی بیع ہو اور مزارِع نے اجازت دے دی تو دونوں میں بیع نافذ ہوگی اور اس صورت میں ثمن کو قیمت زمین اور قیمت زراعت پر تقسیم کریں جو حصہ زمین کے مقابل میں ہو وہ مالکِ زمین کا ہے اور جو حصہ زراعت کے مقابل میں ہے دونوں پر حسب قرار داد تقسیم کیا جائے۔ اور اگر مزارِع نے اِجازت نہیں دی تو مشتری کو اختیار ہے کہ بیع کو فسخ کر دے یا زراعت طیار ہونے کا انتظار کرے۔ اور اگر صرف زمین کی بیع ہوئی ہے اور مزارِع نے اجازت دے دی تو زمین مشتری کی ہے اور زراعت بائع و مزارِع کی ہے۔ اور اگر مزارِع نے اجازت نہیں دی تو مشتری کو اختیار ہے کہ بیع فسخ کر دے یا انتظار کرے اور اگر مالکِ زمین نے زمین اور زراعت کا اپنا حصہ بیع کیا تو اس میں بھی وہی دو صورتیں ہیں۔ اور مزارِع یہ چاہے کہ بیع کو فسخ کر دے یہ حق اسے حاصل نہیں۔(3) (ہدایہ، درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: فصل طیار ہونے کے بعد دَین ادا کرنے کے لیے زمین بیچی گئی اگر صرف زمین کی بیع ہوئی تو بلا توَقُّف جائز ہے اور اگر زمین اور پوری زراعت بیع کر دی تو زمین اور زراعت کے اس حصہ میں جو مالکِ زمین کا ہے بیع جائز ہے اور
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب التاسع فیما اذا مات رب الأرض...إلخ،ج۵،ص۲۵۴.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الثالث عشرفیما اذا مات المزارع...إلخ،ج۵،ص۲۶۱.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب المزارعۃ،ج۲،ص۳۴۰.
و''الدرالمختار''،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۶۶۔۴۶۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الحادی عشرفی بیع الأرض...إلخ،ج۵،ص۲۵۹.
مزارِع کے حصہ میں اس کی اجازت پر موقوف ہے اور فرض کرو مزارِع نے اجازت نہیں دی اور مشتری کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ زمین مزارَعت پر ہے تو مشتری کو اختیار حاصل ہے کہ صرف بائع کے حصہ پر قناعت کرے اور حصہء مزارع کے مقابل میں ثمن کا جو حصہ ہو وہ کم کر دے اور چاہے تو بیع فسخ کر دے کہ اس نے پوری زراعت خریدی تھی فقط اتنا ہی حصہ اسے خریدنا مقصود نہ تھا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: کھیت میں بیج ڈال دیے گئے اور ابھی اوگے نہیں کھیت کو بیع کر دیا اگر وہ بیج سڑ گئے ہیں (2)تو مشتری کے ہیں اور اگر سڑے نہیں ہیں تو یہ بیج بائع کے ہیں اور فرض کرو مشتری نے پانی دیا بیج اوگے غلہ پیدا ہوا تو یہ سب بائع ہی کا ہے مشتری کو کوئی معاوضہ نہیں ملے گا کہ اس نے جو کچھ کیا تبرع (3)ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: مدیون دَین کی وجہ سے قید کیا گیا اور اس کے پاس یہی زمین ہے جو مزارَعت پر اوٹھا چکا ہے اور زمین میں کچی زراعت ہے جس کی وجہ سے بیع نہیں کی جاسکتی کہ بیچ کر دَین ادا کیا جاتا تو اسے قید خانہ سے رہا کیا جائے گا کہ دَین کی ادامیں جو کچھ دیر ہوگی وہ عذر سے ہے۔ (5)(ہدایہ)
مسئلہ ۳۷: مزارِع ایسا بیمار ہوگیا کہ کام نہیں کرسکتا یا سفر میں جانا چاہتا ہے یا وہ اس پیشہء زراعت ہی کو چھوڑنا چاہتا ہے ان صورتوں میں مزارَعت فسخ کر دی جائے گی یا مزارع یہ کہتا ہے کہ میں دوسری زمین کی کاشت کروں گا اور بیج اسی کے ہیں توچھوڑ سکتا ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: مدت پوری ہوگئی اور ابھی فصل طیار نہیں ہے تو مدت کے بعد جتنوں دنوں تک زراعت طیار نہ ہوگی اوتنے دنوں کی مزارع کے ذمہ نصف زمین کی اُجرتِ مثل واجب ہے اور مدت کے بعد زراعت پر جو کچھ صرف ہوگا وہ دونوں کے ذمہ ہوگا کیونکہ عقدِ مزارعت ختم ہوچکا اب یہ زراعت دونوں کی مشترک چیز ہے لہٰذا خرچ بھی دونوں کے ذمہ مگر یہ ضرور ہے کہ جوکچھ ایک خرچ کرے وہ دوسرے کی اجازت سے ہو یا حکم قاضی سے بغیر اس کے جو کچھ خرچ کیا مُتبرِّع ہے اس کا معاوَضہ نہیں ملے گا۔ (7)(ہدایہ)
مسئلہ ۳۹: مدت ختم ہوگئی مالکِ زمین یہ چاہتا ہے کہ یہی کچی کھیتی کاٹ لی جائے یہ نہیں کیا جاسکتا اور اگر مزارع کچی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الحادی عشرفی بیع الأرض...إلخ،ج۵،ص۲۵۹.
2 ۔یعنی ثابت نہیں رہے۔ 3 ۔احسان۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الحادی عشرفی بیع الأرض...إلخ،ج۵،ص۲۶۰.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب المزارعۃ،ج۲،ص۳۴۰،۳۴۱.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الثانی عشرفی العذر...إلخ،ج۵،ص۲۶۰.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب المزارعۃ،ج۲،ص۳۴۱.
کاٹنا چاہتا ہے تو مالکِ زمین کو اختیار دیا جائے گا کہ کچا کھیت کا ٹ کر دونوں بانٹ لیں یا مزارع کے حصہ کی قیمت دے کر کل زراعت لے لے یا کھیت پر اپنے پاس سے صرف کرے اور طیار ہونے پر اس کے حصہ سے وصول کرے۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۴۰: دو شخصوں کی مشترک زمین ہے ایک غائب ہے تو جو موجود ہے وہ پوری زمین میں کاشت کرسکتا ہے جب شریک آجائے تو جتنے دنوں تک اس کی کاشت میں رہی اب یہ اوتنے دنوں کاشت میں رکھے یہ اُس صورت میں ہے کہ زراعت سے زمین کو نقصان نہ پہنچے اوس کی قوت کم نہ ہو اور اگر معلوم ہے کہ زراعت سے زمین کمزور ہو جائے گی یا زراعت نہ کرنے میں زمین کو نفع پہنچے گا، اُس کی قوت زیادہ ہوگی تو شریک موجود کو زراعت کی اجازت نہیں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت کاشت کی اور مالک کو اُس وقت خبر ہوئی جب فصل طیار ہوئی اُس نے اپنی رضامندی ظاہر کی یا یہ ہوا کہ پہلے ناراض ہوا پھر رضامندی دے دی دونوں صورتوں میں کاشتکار کے لیے پیداوار حلال ہوگئی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: ایک شخص نے دوسرے کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کیا اور مزارعت پر اوٹھا دی(4)مزارع (5)نے اپنے بیج بوئے اور ابھی اوگے نہیں تھے کہ مالکِ زمین نے اجازت دے دی تو اجازت ہوگئی اور جو کچھ پیداوار ہوگی وہ مالکِ زمین اور مزارع کے مابین اس طرح تقسیم ہوگی جو غاصب نے طے کی تھی۔ اور اگر کھیتی اوگ آئی ہے اور ایسی ہوگئی ہے کہ اس کی کچھ قیمت ہو اور اب مالکِ زمین نے اجازت دی تو مزارعت جائز ہوگئی یعنی مالکِ زمین اس کے بعد ناجائز کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا اور اجازت سے پہلے اپنا کھیت خالی کراسکتا تھا مزارعت کے جائز ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ پیداوار میں اسے حصہ ملے گا بلکہ اس صورت میں جو کچھ پیداوار ہوگی وہ مزارع و غاصب کے مابین تقسیم ہوگی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: بیج غصب کر کے اپنی زمین میں بو دیے تو جب تک اوگے نہ ہوں مالک اجازت دے سکتا ہے کہ ابھی بیج موجود ہیں اور اوگنے کے بعد اجازت نہیں ہوسکتی کہ بیج موجود نہیں۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: مالکِ زمین نے اپنی زمین رہن رکھی پھر وہ زمین مرتہن کو مزارَعت پر دے دی کہ مرتہن اپنے بیج
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب المزارعۃ،ج۲،ص۳۴۱.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب العاشرفی زراعۃ...إلخ،ج۵،ص۲۵۵.
3 ۔المرجع السابق،ص۲۵۶.
4 ۔مزارَعت پر دے دی۔ 5 ۔کاشتکا ر ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب العاشرفی زراعۃ...إلخ،ج۵،ص۲۵۷.
7 ۔المرجع السابق،ص۲۵۸.
سے کاشت کریگا یہ مزارَعت صحیح ہے مگر زمین رہن سے خارج ہوگئی جب تک پھر سے رہن نہ رکھی جائے رہن میں نہیں آئے گی۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: زمین کسی کے پاس رہن ہے اس کو بطور مزارعت کوئی شخص لینا چاہتا ہے تو راہن سے لے سکتا ہے جبکہ مرتہن بھی اس کی اجازت دے دے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: زراعت طیار ہونے سے پہلے جو کچھ کام ہوگا مثلاً کھیت جوتنا، بونا، پانی دینا، حفاظت کرنا وغیرہ یہ سب مزارِع کے ذمہ ہے چاہے وہ خود کرے یا مزدوروں سے کرائے اور دوسری صورت میں(3)مزدوری اوسی کے ذمہ ہوگی۔ اور جو کام زراعت طیار ہونے کے بعد کے ہیں مثلاً کھیت کاٹنا اوسے لاکرخِرْمَنْ میں جمع کرنا دائیں چلانا بھوسا اوڑانا وغیرہ اس کے متعلق ظاہر الروایۃیہ ہے کہ دونوں کے ذمہ ہیں کیونکہ مزارع کا کام فصل طیار ہونے پر ختم ہوگیا مگر امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی سے ایک روایت یہ ہے کہ یہ کام بھی مزارع کے ذمہ ہیں اور بعض مشایخ نے اسی کو اختیار فرمایا کہ مسلمانوں کا اس پر عمل ہے۔ اور جو کام تقسیم کے بعد ہے مثلاً غلہ مکان پر پہنچانایہ بالاتفاق دونوں کے ذمہ ہے مزارع اپنا غلہ خود لے جائے اور مالک اپنا غلہ اپنے گھر لائے یا دونوں اپنے اپنے مزدوروں سے اوٹھوا لے جائیں۔(4)(ہدایہ)قسم دوم یعنی فصل تیار ہونے کے بعد جو کام ہیں ان کے متعلق مزارع کے کرنے کی شرط کر لی تو یہ شرط صحیح ہے اس کی وجہ سے مزارعت فاسد نہیں ہوگی تنویر میں اس قول کو اصح کہا اور درمختار میں مُلتقی سے اسی پر فتویٰ ہونا بتایا۔(5)مگر ہندوستان میں عموماً یہ ہوتا ہے کہ فصل طیار ہونے کے بعد مزدوروں سے کام کراتے ہیں اور مزدوری اسی غلہ میں سے دی جاتی ہے یعنی کھیت کاٹنے والے اور دائیں چلانے والے وغیرہ کو جو کچھ مزدوری دی جاتی ہے وہ کوئی اپنے پاس سے نہیں دیتا بلکہ اسی غلہ کی کچھ مقدار مزدوری میں دی جاتی ہے یہ طریقہ کہ جس کام کو کیا اوسی میں سے مزدوری دی جائے اگرچہ ناجائز ہے جس کو ہم اجارہ میں بیان کرچکے ہیں مگر اس سے اتنا ضرور معلوم ہوا کہ فصل کی طیاری کے بعد جو کام کیا جائے گا یہاں کے عرف کے مطابق وہ تنہا مزارع کے ذمہ نہیں ہے بلکہ دونوں کے ذمہ ہے کیونکہ مزدوری میں دونوں کی مشترک چیز دی جاتی ہے۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الخامس عشر فی الرھن... إلخ،ج۵،ص۲۶۴.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،،الباب الرابع والعشرون فی المتفرقات،ج۵،ص۲۷۳.
3 ۔یعنی مزدوروں سے کروانے کی صورت میں۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب المزارعۃ،ج۲،ص۳۴۱،۳۴۲.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۷۱.
مسئلہ ۴۷: فصل طیار ہونے کے بعد کے جو کام ہیں اگر مالکِ زمین کے ذمہ شرط کیے گئے یہ بالاتفاق فاسد ہے کہ اس کے متعلق عرف بھی ایسا نہیں جس کی وجہ سے جائز کہا جائے۔(1)(ہدایہ)
مسئلہ ۴۸: مزارعت میں جو کچھ غلہ ہے یہ مزارع کے پاس امانت ہے اگرچہ وہ مزارعت فاسدہ ہو لہٰذا اگر مزارِع کے پاس ہلاک ہو جائے مگر اُس کے فعل سے ہلاک نہ ہوا تو مزارع کے ذمہ اس کا تاوان نہیں۔ اور اس غلہ کی مزارع کی طرف سے کسی نے کفالت بھی کی یہ کفالت صحیح نہیں اس کفیل سے مطالبہ نہیں کیا جاسکتا ہاں اگر مالک زمین کے حصہ کی مزارع کی طرف سے کسی نے یوں کفالت کی کہ اگر مزارع خود ہلاک کر دے گا تو میں ضامن ہوں اور یہ کفالت مزارعت کے لیے شرط نہ ہو تو مزارعت بھی جائز ہے اور کفالت بھی اور اگر کفالت شرط ہو تو مزارَعت فاسد۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۴۹: مزارِع نے کھیت کو پانی دینے میں کوتاہی کی جس کی وجہ سے زراعت برباد ہوگئی اگر یہ مزارعت فاسدہ ہے تو مزارع پر تاوان نہیں کہ اس میں مزارِع پر کام کرنا واجب نہیں اور اگر مزارعت صحیحہ ہے تو تاوان واجب ہے کہ اس میں کام کرنا واجب تھا۔ ضمان کی صورت یہ ہوگی کہ زراعت اوگی تھی اور پانی نہ دینے سے خشک ہوگئی تو اس زراعت کی جو قیمت ہو اوس کا نصف بطور تاوان مالک زمین کو دے اور قیمت نہ ہو تو خالی کھیت کی قیمت اور اس بوئے ہوئے کھیت میں جو تفاوت ہو اوس کا نصف تاوان دلایا جائے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۵۰: کاشتکار نے پانی دینے میں تاخیر کی اگر اتنی تاخیر ہے کہ کاشتکاروں کے یہاں اتنی تاخیر ہوا کرتی ہے جب تو تاوان نہیں اور غیر معمولی تاخیر کی تو تاوان ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ۵۱: فصل کاٹنا کاشتکار کے ذمہ شرط تھا اس نے کاٹنے میں دیر کی اور فصل ضائع ہوگئی اگر معمولی تاخیر ہے تو کچھ نہیں اور غیر معمولی دیر کی تو تاوان واجب۔ یوہیں اگر کاشتکار نے حفاظت نہیں کی جانوروں نے کھیت چر لیا کاشتکار کو تاوان دینا ہوگا۔ ٹڈیاں کھیت میں گریں اگر اُڑانے پر قدرت تھی اور نہ اوڑائیں اور ٹڈیاں کھیت کھا گئیں تاوان ہے اور اگر اس کے بس کی بات نہ تھی تو تاوان واجب نہیں۔(5)(درمختار)
مسئلہ ۵۲: دو شخصوں نے شرکت میں کھیت بویا تھا ایک شریک اوس میں پانی دینے سے انکار کرتا ہے یہ معاملہ حاکم کے
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب المزارعۃ،ج۲،ص۳۴۲.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۷۱.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق،ص۴۷۲. 5 ۔المرجع السابق.
پاس پیش کیا جائے اوس کے حکم دینے کے بعد بھی اگر اس نے پانی نہیں دیا اور فصل ماری گئی تو اس پر تاوان ہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ۵۳: مزارَعت میں بیج مزارِع کے ذمہ تھے مگر مالک زمین نے خود اس کھیت کو بویا اگر اس سے مقصود مزارع کی مدد کرنا ہے جب تو مزارعت باقی رہے گی اور یہ مقصود نہ ہو تو مزارَعت جاتی رہی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ۵۴: کسی سے اجارہ پر زمین لی مثلاً زمیندار سے بونے کے لیے کھیت لیا پھر اوس مالک زمین کو اوس میں کام کرنے کے لیے اَجیر رکھا یہ جائز ہے اُجرت پر کام کرنے سے زمین کے اِجارہ میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوگی۔(3) (درمختار)
مسئلہ۵۵: ایک شخص مرگیا اور اوس نے بی بی اور نابالغ اور بالغ اولادیں چھوڑیں یہ سب چھوٹے بڑے ایک ساتھ رہتے ہیں اور وہ عورت سب کی نگہداشت کرتی ہے بڑے لڑکوں نے زمین مشترک یا دوسرے سے زمین لے کر اوس میں کاشت کی اور جو کچھ غلّہ پیدا ہوا مکان پر لائے اور یکجائی طور پر سب کے خرچ میں آیا جیسا کہ عموماً دیہاتوں میں ایسا ہوتا ہے۔ یہ غلّہ آیا مشترک قرار پائے گا یا صرف بڑے لڑکوں کا ہوگا جنھوں نے کاشت کی اس کا حکم یہ ہے کہ اگر مشترک بیج بوئے گئے ہیں اور سب کی اجازت سے بوئے ہیں یعنی جو اون میں بالغ ہیں اون سے اجازت حاصل کر لی ہے اور جو نابالغ ہیں اون کے وصی سے اجازت لے لی ہے تو پیداوار مشترک ہے اور اگر بڑوں نے خود اپنے بیج سے کاشت کی ہے یا مشترک سے کی ہے مگر اجازت نہیں لی ہے تو غلہ ان کاشت کرنے والوں کا ہے دوسرے اس میں شریک نہیں۔(4) (عالمگیری، ردالمحتار)
باغ یا درخت کسی کو اس لیے دینا کہ اوس کی خدمت کرے اور جو کچھ اوس سے پیداوار ہوگی اوس کا ایک حصہ کام کرنے والے کو اور ایک حصہ مالک کو دیا جائے گا اس کو مساقاۃ کہتے ہیں اور اس کا دوسرا نام معاملہ بھی ہے جس طرح حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فتح خیبر کے بعد وہاں کے باغات یہودیوں کو دے دیے تھے کہ اون باغات کے کام کریں اور جو کچھ پھل ہوں گے اون میں سے نصف اون کو دیے جائیں گے۔(5)جس طرح مزارَعت جائز ہے معاملہ بھی جائز ہے اور اس
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۷۲.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۷۳. 3 ۔المرجع السابق،ص۴۷۳.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المزارعۃ،الباب الرابع والعشرون فی المتفرقات،ج۵،ص۲۷۴.
و''ردالمحتار''،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۷۴.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب المزارعۃ،ج۹،ص۴۷۶.
کے جواز کے شرائط یہ ہیں۔ (۱) عاقدین کا عاقل ہونا (۲)جو پیداوار ہو وہ دونوں میں مشترک ہو اور اگر فقط ایک کے لیے پیداوار مخصوص کر دی گئی تو عقد فاسد ہے (۳)ہر ایک کا حصہ مَشاع ہو جس کی مقدار معلوم ہو مثلاً نصف یا تہائی یا چوتھائی۔ (۴)باغ یا درخت عامل کوسپرد کر دینا یعنی مالک کا قبضہ اوس پر نہ رہے۔ اور اگر یہ قرار پایا کہ مالک بھی اوس میں کام کریگا تو معاملہ فاسد ہے۔ (۵)جودرخت مساقاۃ کے طور پر دیے گئے وہ ایسے ہوں کہ عامل کے کام کرنے سے اوس میں زیادتی ہوسکے یعنی اگر پھل پورے ہوچکے جتنا بڑھنا تھا بڑھ چکے صرف پکنا ہی باقی رہ گیا ہے تو یہ عقد صحیح نہیں۔ بعض شرائط ایسے ہیں جن کی وجہ سے معاملہ فاسد ہوجائے گا مثلاً یہ کہ کل پیداوار ایک کو ملے گی یا پیداوار میں سے اتنا مالک یا عامل لے گا اوس کے بعد نصف نصف تقسیم ہوگی۔ عامل کے ذمہ پھل توڑنا وغیرہ جو کام پھل طیار ہونے کے بعد ہوتے ہیں شرط کر دینا یا یہ کہ تقسیم کے بعد عامل اون کی حفاظت کرے یامالک کے مکان پر پہنچائے۔ ایسے کسی کام کی شرط کر دینا جس کی منفعت مدت معاملہ پوری ہونے کے بعد باقی رہے مثلاً پیڑوں میں کھات ڈالنا انگوروں کے لیے چھپر بنانا باغ کی زمین کھودنا یا اس میں نئے پودے لگانا وغیرہ۔
مسئلہ ۱: معاملہ اونھیں پیڑوں کا ہوسکتا ہے جو ایک سال یا زیادہ تک باقی رہ سکیں اور جو ایسے نہیں ہیں اون کا معاملہ جائز نہیں۔ بیگن اور مرچ کے درختوں میں معاملہ ہوسکتا ہے کہ یہ مدّتوں باقی رہتے اور پھلتے رہتے ہیں۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲: درختوں کے سوا مثلاً بکریاں یا مرغیاں کسی مدت تک کے لیے بطورمعاملہ کسی کو دیں یہ ناجائز ہے۔(2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳: ایسے درخت جو پھلتے نہ ہوں اور اون کی شاخوں اور پتوں سے نفع اوٹھایا جاتا ہو جیسے سینٹھے، نر کل، بید وغیرہ اگر ایسے درختوں میں پانی دینے اور حفاظت کرنے کی ضرورت ہوتی ہو تو معاملہ ہوسکتا ہے ورنہ نہیں۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: مزارعت اور معاملہ میں بعض باتوں میں فرق ہے۔۱ معاملہ ؔ عقد لازم ہے دونوں میں سے کوئی بھی اس سے انحراف نہیں کرسکتا(4)ہر ایک کو پاپندی پر مجبور کیا جائے گا اگر ۲ مدتؔ پوری ہوگئی اور پھل طیار نہیں ہیں تو باغ عامل ہی کے پاس رہے گا اور ان زائد دنوں کی اوسے اُجرت نہیں ملے گی اور عامل کو بھی بلااُجرت اتنے دنوں کام کرنا ہوگا اور مزارَعت میں مالک ِزمین اُتنے دنوں کی اُجرت لے گا اور مزارع بھی ان زائد دنوں کے کام کی اُجرت لے گا۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب المساقاۃ،ج۹،ص۴۷۶.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص۴۷۷.
4 ۔یعنی پھر نہیں سکتا۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب المساقاۃ،ج۹،ص۴۷۷.
مسئلہ ۵: معاملہ میں مدت بیان کرنا ضرور نہیں بغیر بیان مدّت بھی معاملہ صحیح ہے اور اس صورت میں پہلی مرتبہ پھل طیار ہونے پر معاملہ ختم ہوگا اور ترکاریوں میں بیج طیار ہونے پر ختم ہوگا جب کہ بیج مقصود ہوں ورنہ خود ترکاریوں کی پہلی فصل ہوجانے پر معاملہ ختم ہوگا اور اگر مدت ذکر نہیں کی گئی اور اوس سال پھل پیدا ہی نہ ہوئے تو معاملہ فاسد ہے۔ (1)(درمختار، ہدایہ)
مسئلہ ۶: معاملہ میں مدت ذکر ہوئی مگر معلوم ہے کہ اوس مدّت میں پھل نہیں پیدا ہوں گے تو معاملہ فاسد ہے اور اگر ایسی مدت ذکر کی جس میں احتمال ہے کہ پھل پیدا ہوں یا نہ ہوں تو معاملہ صحیح ہے۔ پھر اس صورت میں اگر پھل آگئے تو جو شرائط ہیں اون پر عمل ہوگا اور اگر اس مدت میں نہیں آئے بلکہ مدت پوری ہونے کے بعد پھل آئے تو معاملہ فاسد ہے اور اس صورت میں عامل کو اُجرت مثل ملے گی یعنی ابتدا سے پھل طیار ہونے تک کی اُجرت مثل پائے گا اور اگر اس صورت میں کہ مدت مذکور ہوئی اور یہ احتمال تھا کہ پھل آئیں گے مگر اوس سال بالکل پھل نہیں آئے نہ مدت میں نہ بعد مدت تو عامل کو کچھ نہیں ملے گا کیوں کہ یہ معاملہ صحیح ہے فاسد نہیں ہے کہ اُجرت مثل دلائی جائے اور اگر اوس مدت معینہ میں کچھ پھل نکلے کچھ بعد میں نکلے تو جو پھل مدت کے اندر پیدا ہوئے اُن میں عامل کو حصّہ ملے گا بعد والوں میں نہیں۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: نئے پودے جو ابھی پھلنے کے قابل نہیں ہیں بطور معاملہ دیے کہ عامل اوس میں کام کرے جب پھل آئیں گے تو دونوں نصف نصف تقسیم کر لیں گے یہ معاملہ فاسد ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں کتنے دنوں میں پھل آئیں زمین موافق ہے تو جلد پھلیں گے ناموافق ہے تو دیر میں پھلیں گے ہاں اگر مدت ذکر کر دی جائے اور وہ اتنی ہو کہ اون میں پھلنے کا احتمال ہو تو معاملہ صحیح ہے۔(4) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۸: ترکاریوں کے درخت معاملہ کے طور پر دیے کہ جب تک پھلتے رہیں کام کرو اور اتنا حصہ تم کو ملا کریگا یہ معاملہ فاسد ہے یوہیں باغ دیا اور کہہ دیا کہ جب تک یہ پھلتا رہے کام کرو اور نصف لیا کرو یہ معاملہ فاسد ہے کہ مدت نہ بیان کرنے کی صورت میں صرف پہلی فصل پر معاملہ ہوتا ہے۔(4) (ہدایہ، درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب المساقاۃ،ج۹،ص۴۷۸.
و''الھدایۃ''،کتاب المساقاۃ،ج۲،ص۳۴۳.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب المساقاۃ،ج۹،ص۴۷۹.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب المساقاۃ،ج۲،ص۳۴۳.
و''الدرالمختار''،کتاب المساقاۃ،ج۹،ص۴۸۰.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب المساقاۃ،ج۲،ص۳۴۳.
و''الدرالمختار''،کتاب المساقاۃ،ج۹،ص۴۸۰.
مسئلہ ۹: ترکاریوں (1)کے درخت کا معاملہ کیا اور اب ان میں سے ترکاریوں کے نکلنے کا وقت ختم ہوچکا بیج لینے کاوقت باقی ہے جیسے میتھی، پالک، سویا(2)،وغیرہ جب اس حد کو پہنچ جائیں کہ ان سے ساگ نہیں لیا جاسکتا بیج لیے جاسکتے ہیں اوریہ بیج کام کے ہوں ان کی خواہش ہوتی ہو اور عامل سے کہہ دیا کہ کام کرے آدھے بیج اوسے ملیں گے یہ معاملہ صحیح ہے اگرچہ مدّت نہ ذکر کی جائے اور اس صورت میں وہ پیڑ مالک کے ہوں گے صرف بیجوں کی تقسیم ہوگی اور اگر پیڑوں کی تقسیم بھی مشروط ہو تومعاملہ فاسد ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: درختوں میں پھل آچکے ہیں ان کو معاملہ کے طور پر دینا چاہتا ہے مگر ابھی وہ پھل تیار نہیں ہیں عامل کے کام کرنے سے اون میں زیادتی ہوگی تو معاملہ صحیح ہے اور اگر پھل بالکل پورے ہوچکے ہیں اب ان کے بڑھنے کا وقت ختم ہوچکا تو معاملہ صحیح نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: کسی کو خالی زمین دی کہ اس میں درخت لگائے پھل اور درخت دونوں نصف نصف تقسیم ہو جائیں گے یہ جائز ہے اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ زمین و درخت دونوں چیزیں دونوں کے مابین تقسیم ہوں گی تو یہ معاملہ ناجائز ہے اور اس صورت میں پھل اور درخت مالکِ زمین کے ہوں گے اور دوسرے کو پودوں کی قیمت ملے گی اور اُجرت مثل۔ اور قیمت سے مراد اوس روز کی قیمت ہے جس دن لگائے گئے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: کسی شخص کے باغ سے گٹھلی اوڑ کر دوسرے کی زمین میں چلی گئی اور یہاں جم گئی اور پیڑ ہوگیا جیسا کہ خودرو (6)درختوں میں اکثر یہی ہوتا ہے کہ ادھر اودھر سے بیج آکر جم جاتا ہے یہ درخت اوس کا ہے جس کی زمین ہے اس کا نہیں ہے جس کی گٹھلی ہے کیوں کہ گٹھلی کی کوئی قیمت نہیں ہے اسی طرح شفتالو یا آم یا اسی قسم کے دوسرے پھل اگر دوسرے کی زمین میں گرے اور جم گئے یہ درخت بھی مالکِ زمین کے ہوں گے کہ پہلے یہ پھل سڑیں گے اوس کے بعد جمیں گے اور جب سڑکر اوپر کا حصہ جاتا رہا تو فقط گٹھلی باقی رہی جس کی کوئی قیمت نہیں۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: معاملہ صحیحہ کے احکام حسب ذیل ہیں۔۱ درختوںؔ کے لیے جن کاموں کی ضرورت ہے مثلاً نالیاں ٹھیک کرنا
1 ۔سبزیوں۔ 2 ۔ایک خوشبودار ساگ۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب المساقاۃ،ج۹،ص۴۸۰.
4 ۔المرجع السابق،ص۴۸۱. 5 ۔المرجع السابق،ص۵۸۱۔۵۸۳.
6 ۔خود اُگے ہوئے۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب المساقاۃ،ج۹،ص۴۸۴.
درختوں کو پانی دینا اون کی حفاظت کرنا یہ سب کام عامل کے ذمہ ہیں اور جن چیزوں میں خرچ کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً زمین کو کھودنا اوس میں کھات ڈالنا انگور کی بیلوں کے لیے چھپر بنوانا یہ بقدر ِحصص (1) دونوں کے ذمہ ہیں اسی طرح پھل توڑنا۔جو۲ کچھ ؔ پھل پیدا ہوں وہ حسب قرار داد دونوں تقسیم کر لیں۔۳ کچھ ؔ پیدا نہ ہوا تو کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔۴ یہ ؔعقد دونوں جانب سے لازم ہوتا ہے بعد عقد دونوں میں سے کسی کو بغیر عذر منع کا اختیار نہیں اور نہ بغیر دوسرے کی رضامندی کے فسخ کر سکتا ہے۔۵ عا ؔ مل کو کام کرنے پر مجبور کیا جائے گا مگر جب کہ عذر ہو۔جو ۶ کچھ ؔ طرفین کے لیے مقرر ہوا ہے اوس میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے۔۷ عا ؔ مل کو یہ اختیار نہیں کہ دوسرے کو معاملہ کے طور پر دے دے مگر جب کہ مالک نے یہ کہہ دیا ہو کہ تم اپنی رائے سے کام کرو۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: معاملہء فاسدہ کے احکام یہ ہیں۔۱ عا ؔ مل کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا،جو ۲ کچھ ؔ پیداوار ہو وہ کل مالک کی ہے اور اوس پر یہ ضرور نہیں کہ اوس میں کا کوئی جز صدقہ کرے،۳ عا ؔ مل کے لیے اُجرت مثل واجب ہے پیداوار ہو یا نہ ہو اور اوس میں وہی صاحِبَین(3)کا اختلاف ہے کہ پوری اُجرتِ مثل اگرچہ مقرر سے زیادہ ہو واجب ہے یا یہ کہ مقرر شدہ سے زائد نہ ہونے پائے۔ اور اگر حصہ کی تعیین نہ ہوئی ہو تو بالاتفاق پوری اُجرتِ مثل واجب ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: عامل اگر چور ہے اوس کا چور ہونا لوگوں کو معلوم ہے اندیشہ ہے کہ پھلوں کو چورائے گا تو معاملہ کو فسخ کیا جاسکتا ہے۔ یوہیں اگر عامل بیمار ہوگیا کہ پوری طرح کام نہ کرسکے گا معاملہ فسخ کیا جاسکتا ہے۔ دونوں میں سے ایک کے مر جانے سے معاملہ خود ہی فسخ ہو جاتا ہے اور اسی طرح مدت کا پورا ہونا بھی سبب فسخ ہے جبکہ ان دونوں صورتوں میں پھل طیار نہ ہوئے ہوں۔ (5)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: مرنے کی صورت میں اگرچہ معاملہ فسخ ہو جاتا ہے مگر دفعِ ضرر کے لیے عقد کو پھل طیار ہونے تک باقی رکھا جائے گا لہٰذا عامل کے مرنے کے بعد اس کے ورثہ اگر یہ چاہیں کہ پھل طیار ہونے تک ہم کام کریں گے تو اُن کو ایسا موقع دیا جائے گا اگرچہ مالکِ زمین ان کو دینے سے انکار کرتا ہو۔ اور اگر وُرثہ کام کرنا نہ چاہتے ہوں کہتے ہوں کہ کچے ہی پھل توڑ کر تقسیم کردیے جائیں تو اون کو کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ اس صورت میں مالک کو اختیار دیا جائے گا کہ یہ بھی اگر یہی چاہتا
1 ۔اپنے حصوں کے مقدار۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المعاملۃ،الباب الأول فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۷۷.
3 ۔یعنی امام ابو یوسف اور امام محمدرحمۃ اللہ تعالٰی علیھما۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المعاملۃ ،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص ۲۷۸.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب المساقاۃ،ج۹،ص۴۸۴،۴۸۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المعاملۃ،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص ۲۷۸.
ہو تو توڑ کر تقسیم کر لیں یا ورثہء عامل کو اون کے حصہ کی قیمت دے دے یا خود اپنے صرفہ سے کام کرائے اورطیار ہونے کے بعد صرفہ(1)اون کے حصہ سے منہا (2)کر کے باقی پھل اون کو دے دے۔ (3)(ہدایہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: دو شخص باغ میں شریک ہیں ایک نے دوسرے کوبطور معاملہ دے دیا یہ معاملہ فاسد ہے جب کہ عامل کو نصف سے زیادہ دینا قرار پایا اور اس صورت میں دونوں نصف نصف تقسیم کر لیں اور اگر یہ شرط ٹھہری ہے کہ دونوں نصف نصف لیں گے تو معاملہ جائز ہے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: دو شخصوں کو معاملہ پر دیا اور یہ ٹھہرا کہ تینوں ایک ایک تہائی لیں گے یہ جائز ہے اور اگر یہ ٹھہرا کہ مالک ایک تہائی لے گا اور ایک عامل نصف لے گا اور دوسرا عامل چھٹا حصہ لے گا یہ بھی جائز ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: دو شخصوں کا باغ ہے اسے معاملہ پر دیا یوں کہ نصف عامل لے گا اور نصف میں وہ دونوں،(6)یہ جائز ہے اور اگر یہ شرط ہوئی کہ نصف ایک حصہ دارلے گا اور دوسرے نصف میں عامل اور دوسرا حصہ دار دونوں شریک ہوں گے یہ ناجائزہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: کاشتکار نے بغیر اجازت زمیندار پیڑ لگا دیا جب درخت بڑا ہوگیا تو زمیندار کہتا ہے میرا ہے اور کاشتکار کہتا ہے میرا ہے اگر زمیندار نے یہ اقرار کر لیا ہے کہ کاشتکار ہی نے لگایا ہے اور پودہ بھی اوسی کا تھا تو کاشتکار کو ملے گا مگر دیانۃً اوس کے لیے یہ درخت جائز نہیں کیوں کہ بغیر اجازت لگایا ہے اور اگر اجازت لے کر لگاتا اور مالک زمین شرکت کی بھی شرط نہ کرتا تو کاشتکار کے لیے دیانۃً بھی جائز ہوتا۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: گاؤں کے بچوں کو معلّم پڑھاتا ہے گاؤں کے لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ میاں جی کے لیے کھیت بودیا جائے تھوڑے تھوڑے بیج سب نے دیے اور میاں جی کے لیے کھیت بو دیا گیا تو جو کچھ پیداوار ہوئی وہ اون کی ملک ہےجنھوں نے بیج دیے ہیں معلّم کی ملک نہیں کیوں کہ بیج اونھوں نے معلم کو دیا نہیں تھا کہ معلم مالک ہو جاتا ہاں اب اگر پیداوار معلّم
1 ۔خرچہ۔ 2 ۔کٹوتی۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب المساقاۃ،ج۲،ص۳۴۵.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب المساقاۃ، مطلب:یشترط فی المناصبۃ...إلخ،ج۹،ص۴۸۴.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب المساقاۃ، مطلب:یشترط فی المناصبۃ...إلخ،ج۹،ص ۴۸۷.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المعاملۃ،الباب الثانی فی المتفرقات،ج۵،ص۲۷۸.
6 ۔یعنی نصف میں وہ دونوں شریک ہوں گے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المعاملۃ،الباب الثانی فی المتفرقات،ج۵،ص۲۷۹.
8 ۔المرجع السابق،ص۲۸۱.
کو دے دیں تو معلم مالک ہو جائے گا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: خربزہ یا تربز کی پالیز(2)مالک نے پھل توڑنے کے بعد چھوڑ دی اگر چھوڑنے کا یہ مقصد ہے کہ جس کا جی چاہے وہ باقی پھلوں کو لے جائے تو لوگوں کو اوس کے پھل لینا جائز ہے جیسا کہ عموماً آخر فصل میں ایسا کیا کرتے ہیں۔ اسی طرح کھیت کٹنے کے بعد جو کچھ بالیں یا دانے گرتے ہیں اگر مالک نے لوگوں کے لیے چھوڑ دیے تو لینا جائز ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: عامل پر لازم ہے کہ اپنے کو حرام سے بچائے مثلاً باغ کے درخت خشک ہوگئے تو اُن کا جلانا عامل کے لیے جائز نہیں۔ یوہیں سوکھی شاخیں توڑ کر ان سے کھانا پکانا جائز نہیں یوہیں چھپر تُھنیاں(4)اور اس کے بانس پھونس کو جلانا جائز نہیں۔ یوہیں مہمان یا ملاقاتی آجائے توپھلوں سے اوس کی تواضع جائز نہیں ان سب میں مالک کی اجازت درکار ہے۔ (5)(عالمگیری)
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(حُرِّمَتْ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیۡرِ وَمَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللہِ بِہٖ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوۡذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیۡحَۃُ وَمَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیۡتُمْ ۟ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنۡ تَسْتَقْسِمُوۡا بِالۡاَزْلَامِ ؕ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ ؕ)
(6)
''تم پر حرام ہے مردار اور خون اور سوئرکا گوشت اور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور جو گلا گھونٹنے سے مرجائے اور دب کر مرا ہوا یعنی بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا ہو اور جس کو کسی جانور نے سینگ مارا ہو اور جس کو درندہ نے کچھ کھا لیا ہو مگر وہ جنھیں تم ذبح کر لو اور جو کسی تھان (7)پر ذبح کیا گیا ہو اور تیروں سے تقدیر کو معلوم کرنا یہ گناہ کا کام ہے۔''
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المعاملۃ،الباب الثانی فی المتفرقات،ج۵، ص۲۸۲.
2 ۔خربوزہ یاتربوز کی فصل۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المعاملۃ،الباب الثانی فی المتفرقات،ج۵، ص۲۸۲،۲۸۳.
4 ۔وہ لکڑی جوچھپر کے نیچے سہارا دینے کے لیے لگاتے ہیں۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المعاملۃ،الباب الثانی فی المتفرقات،ج۵، ص۲۸۳.
6 ۔پ۶،المائدہ:۳.
7 ۔امام ابن جریرطبری نے ابن جریج اور مجاہدرحمۃ اللہ تعالٰی علیھماسے نقل کیاہے کہ نُصُب(تھان)وہ پتھر ہیں جو زمانہء جاہلیت میں کعبہ کے اردگرد مشرکین نے نصب کر رکھے تھے ان کی تعداد تین سو ساٹھ تھی،اہل عرب ان کے سامنے جانور ذبح کرتے اور بیت اﷲ سے متصلبتوں پر ان کا خون چھڑکتے اور گوشت کاٹ کر ان بتوں پرچڑھاوا چڑھاتے تھے۔ (تفسیرطبری،پ۶،المائدہ تحت الآیۃ:۳،ج۴،ص۴۱۴)
اورمفتی نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃاﷲ الھادی خزائن العرفان میں فرماتے ہیں:''اہل جاہلیت نے کعبہ شریف کے گردتین سوساٹھ پتھر (بت)
نصب کیے تھے جن کی وہ عبادت کرتے اوران کے لیے ذبح کرتے تھے اوراس ذبح سے ان کی تعظیم وتقرب کی نیت کرتے تھے''۔
(خزائن العرفان، پ۶، المائدۃتحت الآیۃ۳،حاشیۃ۱۳)
اور فرماتا ہے:
(اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ؕ وَطَعَامُ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ ۪ وَطَعَامُکُمْ حِلُّ لَّہُمْ ۫)
(1)
''آج تمہارے لیے پاک چیزیں حلال ہوئیں اور کتابیوں کا کھانا (ذبیحہ)تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا اون کے لیے حلال ہے۔''
اور فرماتا ہے:
(فَکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللہِ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾ وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللہِ عَلَیۡہِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیۡہِ ؕ)
(2)
''کھاؤ اوس میں سے جس پر اﷲ(عزوجل)کا نام لیا گیا اگر تم اوس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو اور تمہیں کیا ہوا کہ اوس میں سے نہ کھاؤ جس پر اﷲ (عزوجل)کا نام لیا گیا۔ اور اوس نے تو مفصل (3)بیان کر دیا جو کچھ تم پر حرام ہے مگر جب تم اوس کی طرف مجبور ہو۔''
اور فرماتا ہے:
(وَلَا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِاسْمُ اللہِ عَلَیۡہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسْقٌ ؕ)
(4)
''اور اوسے نہ کھاؤ جس پر اﷲ(عزوجل)کا نام نہیں لیا گیا اور وہ بے شک حکم عدولی ہے۔''
حدیث ۱: صحیح مسلم میں ہے حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے آپ لوگوں کو کوئی خاص بات ایسی بتائی ہے جو عام لوگوں کو نہ بتائی ہو فرمایا کہ نہیں مگر صرف وہ باتیں جو میری تلوار کی میان(5)میں ہیں پھر میان میں سے ایک پرچہ نکالا جس میں یہ تھا اﷲکی لعنت اوس پر جو غیر خدا کے نام پر ذبح کرے اور اﷲ کی لعنت اوس پر جو زمین کی مینڈھ(6)بدل دے (جیسا کہ بعض کاشتکار کرتے ہیں کہ کھیت کی مینڈھ جگہ سے ہٹا دیتے ہیں)اور اﷲ کی لعنت اوس پر جو اپنے باپ پر لعنت کرے۔ اور اﷲکی لعنت اوس پر جو بدمذہب کو پناہ دے۔ (7)
1 ۔پ۶،المائدہ:۵.
2 ۔پ۸،الأنعام:۱۱۸-۱۱۹.
3 ۔یعنی تفصیل کے ساتھ ۔
4 ۔پ۸،الأنعام:۱۲۱.
5 ۔نیام ۔ 6 ۔زمین کی حدبندی کا نشان۔
7 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأضاحی،باب تحریم الذبح لغیراللہ تعالی ا ...إلخ،الحدیث:۴۵۔(۱۹۷۸)ص۱۰۹۳.
حدیث ۲: صحیح بخاری و مسلم میں رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں میں نے عرض کی یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ہمیں کل دشمن سے لڑنا ہے اور ہمارے پاس چھری نہیں ہے کیا ہم کَھپَچِّی (1)سے ذبح کرسکتے ہیں فرمایا:''جو چیز خون بہا دے اوراﷲ(عزوجل)کا نام لیا گیا ہو اوسے کھاؤ سوا دانت اور ناخن کے(جو جدانہ(2)ہوں)اور اسے میں بتاتا ہوں دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اور غنیمت میں ہم کو اونٹ اور بکریاں ملی تھیں اون میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا ایک شخص نے اوسے تیر مار کر گرا دیا حضورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ان اونٹوں میں بعض اونٹ وحشی جانوروں کی طرح ہو جاتے ہیں جب تم کو اوس پر قابو نہ ملے تو اوس کے ساتھ یہی کرو۔''(3)
حدیث ۳: صحیح بخاری شریف میں کعب بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ان کی بکریاں سلع (مدینہ منورہ میں ایک پہاڑی کا نام ہے)میں چرتی تھیں لونڈی (جو بکریاں چراتی تھی)اوس نے دیکھا کہ ایک بکری مرنا چاہتی ہے اوس نے پتھر توڑ کر اوس سے ذبح کر دی اونھوں نے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے دریافت کیا حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اوس کے کھانے کا حکم دے دیا ۔ (4)
حدیث ۴: ابو داود و نسائی نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں میں نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )یہ فرمایئے کسی کو شکار ملے اور اوس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا پتھر اور لاٹھی کیکَھپَچِّی سے ذبح کرسکتا ہے فرمایا:'' جس چیز سے چاہو خون بہا دو اوراﷲ (عزوجل)کا نام ذکر کرو۔'' (5)
حدیث ۵: ترمذی و ابو داود و نسائی ابو العشراء اور وہ اپنے والد سے راوی اونھوں نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کیا ذکاۃ (ذبح شرعی)حلق اور لبہ(6)ہی میں ہوتی ہے فرمایا:''اگر تم اوس کی ران میں نیزہ بھونک دو تو بھی کافی ہے۔ ذبح کی یہ صورت مجبوری اور ضرورت کی حالت میں ہے ''جیسا کہ ابو داود و ترمذی نے بھی اس کی تصریح کی ہے۔ (7)
1 ۔بانس کا چرا ہوا ٹکڑا۔
2 ۔بہار شریعت کے نسخوں میں اس مقام پر''جوجداہوں'' لکھاہے ،جو کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کہ خود صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ
اسی باب کے مسئلہ (۱۲) میں جدا ناخن سے ذبح کرنے کی وضاحت فرماتے ہیں اسی وجہ سے ہم نے اس کی تصحیح کرتے ہوئے لفظِ'' نہ''
بڑھادیاہے نیز'' عمدۃ القاری،ج۹،ص۲۶۹''پر وضاحت ملاحظہ فرمائیں ۔...عِلْمِیہ
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح والصید،باب التسمیۃ...إلخ،الحدیث۵۴۹۸،ج۳،ص۵۵۸
وباب ما ندَّ مِن البھائم...إلخ، الحدیث:۵۵۰۹،ج۳،ص۵۶۱.
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الوکالۃ،باب اذا أبصر الراعی...إلخ،الحدیث:۲۳۰۴،ج۲،ص۷۹.
5 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب فی الذبیحۃ بالمروۃ،الحدیث:۲۸۲۴،ج۳،ص۱۳۶.
6 ۔سینے کا بالائی حصہ۔
7 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأطعمۃ،باب ماجاء في الذکاۃ في الحلق واللبّۃ،الحدیث:۱۴۸۶،ج۳،ص۱۵۴.
حدیث ۶: ترمذی نے ابوالدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مجثمہ کے کھانے سے منع فرمایا۔ مجثمہ وہ جانور ہے جس کو باندھ کر تیر مارا جائے اور وہ مر جائے۔ (1)
حدیث ۷: ابو داودنے ابن عباس و ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کی رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے شریطۃالشیطان سے ممانعت فرمائی یہ وہ ذبیحہ ہے جس کی کھال کاٹی جائے اور رگیں نہ کاٹی جائیں اور چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ مر جائے۔ (2)
حدیث ۸: صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی کہ لوگوں نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہاں کچھ لوگ ابھی نئے مسلمان ہوئے ہیں اور وہ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں ہمیں معلوم نہیں کہ اﷲ(عزوجل)کا نام اونھوں نے ذکر کیا ہے یا نہیں، فرمایا کہ'' تم بِسْمِ اﷲکہو اور کھاؤ'' (3)یعنی مسلم کی ذبیحہ میں اس قسم کے احتمالات نہ کیے جائیں۔
حدیث ۹: صحیح مسلم میں شداد بن اوس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ'' اﷲ تبارک وتعالیٰ نے ہر چیز میں خوبی کرنا لکھ دیا ہے لہٰذا قتل کرو تو اس میں بھی خوبی کا لحاظ رکھو (یعنی بے سبب اوس کو ایذا مت پہنچاؤ)اور ذبح کرو تو ذبح میں خوبی کرو اور(4)اپنی چھری کو تیز کر لے اور ذبیحہ کو تکلیف نہ پہنچائے۔''(5)
حدیث ۱۰: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے چوپایہ یا اس کے سوا دوسرے جانور کو باندھ کر اوس کو تیر سے قتل کرنے کی ممانعت فرمائی۔ (6)
حدیث ۱۱: صحیحین میں اونھیں سے مروی نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اوس پر لعنت کی جس نے ذی روح کو نشانہ بنایا۔ (7)
حدیث ۱۲: صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جس میں روح ہو اوس کو نشانہ نہ بناؤ۔ ''(8)
1 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأطعمۃ،باب ماجاء في کراھیۃ أکل المصبورۃ،الحدیث:۱۴۷۸،ج۳،ص۱۵۰.
2 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب في المبالغۃ في الذبح،الحدیث:۲۸۲۶،ج۳،ص۱۳۷.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب التوحید،باب السوال باسماء اللہ تعالی ا ...إلخ،الحدیث:۷۳۹۸،ج۴،ص۵۳۹.
4 ۔غالباًیہاں عبارت''تم میں کوئی'' متروک ہے۔...علمیہ
5 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الصید...إلخ،باب الأمر بإحسان الذبح والقتل...إلخ،الحدیث:۵۷۔(۱۹۵۵)،ص۱۰۸۰.
6 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح والصید،باب ما یکرہ من المثلۃ...إلخ،الحدیث:۵۵۱۴،ج۳،ص۵۶۳.
7 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الصید...إلخ،باب النھی عن صبرالبھائم،الحدیث:۵۹۔(۱۹۵۸)،ص۱۰۸۱.
8 ۔المرجع السابق،الحدیث:۵۸۔(۱۹۵۷)،ص۱۰۸۱.
مسئلہ ۱: گلے میں چند رگیں ہیں ان کے کاٹنے کو ذَبح کہتے ہیں اور اس جانور کو جس کی وہ رگیں کاٹی گئیں ذبیحہ اور ذِبح کہتے ہیں۔ یہاں ذال کو زیر ہے اور پہلی جگہ زبر ہے۔ (1)
مسئلہ ۲: بعض جانور ذبح کیے جاسکتے ہیں بعض نہیں۔ جو شرعاً ذبح نہیں کیے جاسکتے ہیں ان میں یہ دو۲ مچھلی اور ٹڈی بغیر ذبح حلال ہیں اور جو ذبح کیے جاسکتے ہیں وہ بغیر ذکاۃ شرعی حلال نہیں۔(2)(درمختار) ذکاۃ شرعی کا یہ مطلب ہے کہ جانور کو اس طرح نحر یا ذبح کیا جائے کہ حلال ہو جائے۔
مسئلہ ۳: ذکاۃ شرعی دو قسم ہے۔۱ اختیار ؔ ی اور ۲ اضطرا ؔ ری۔ ذکاۃ اختیاری کی دو۲ قسمیں ہیں۔ ۱ذبح ؔ اور، ۲نحرؔ ۔ ذکاۃاضطراری یہ ہے کہ جانور کے بدن میں کسی جگہ نیزہ وغیرہ بھونک کر خون نکال دیا جائے اس سے مخصوص صورتوں میں جانور حلال ہوتا ہے جو بیان کی جائیں گی۔ حلق کے آخری حصہ میں نیزہ وغیرہ بھونک کر رگیں کاٹ دینے کو نحر کہتے ہیں۔ ذبح کی جگہ حلق اور لبہ کے مابین ہے لبہ سینہ کے بالائی حصہ کو کہتے ہیں۔ اونٹ کو نحر کرنا اور گائے بکری وغیرہ کو ذبح کرنا سنت ہے اور اگر اس کا عکس کیا یعنی اونٹ کو ذبح کیا اور گائے وغیرہ کو نحر کیا تو جانور اس صورت میں بھی حلال ہو جائے گا مگر ایسا کرنا مکروہ ہے کہ سنت کے خلاف ہے۔(3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴: عوام میں یہ مشہور ہے کہ اونٹ کو تین جگہ ذبح کیا جاتا ہے غلط ہے اور یوں کرنا مکروہ ہے کہ بلا فائدہ ایذا دینا ہے۔
مسئلہ ۵: جو رگیں ذبح میں کاٹی جاتی ہیں وہ چار ہیں۔۱حلقو ؔ م یہ وہ ہے جس میں سانس آتی جاتی ہے، ۲ مریؔ اس سے کھانا پانی اوترتا ہے ان دونوں کے اغل بغل اور دو رگیں ہیں جن میں خون کی روانی ہے ان کو ؔ۳، ۴ود جین کہتے ہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۶: پورا حلقوم(5)ذبح کی جگہ ہے یعنی اوس کے اعلی،اوسط، اسفل جس جگہ میں ذبح کیا جائے جانور حلال ہوگا۔
آج کل چونکہ چمڑے کا نرخ زیادہ ہے اور یہ وزن یا ناپ سے فروخت ہوتا ہے اس لیے قصاب(6)اس کی کوشش کرتے ہیں کہ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۴۹۰.
2 ۔المرجع السابق .
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبائح،الباب الاول فی رکنہٖ...إلخ،ج۵،ص۲۸۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۴۹۱.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص ۴۹۱۔۴۹۳.
5 ۔گلا۔ 6 ۔قصائی۔
کسی طرح چمڑے کی مقدار بڑھ جائے اور اس کے لیے یہ ترکیب کرتے ہیں کہ بہت اوپر سے ذبح کرتے ہیں اور اس صورت میں ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ذبح فوق العقدہ(1)ہو جائے اور اس میں علما کو اختلاف ہے کہ جانور حلال ہوگا یا نہیں۔ اس باب میں قولِ فیصل یہ ہے کہ ذبح فوق العقدہ میں اگر تین رگیں کٹ جائیں توجانور حلال ہے ورنہ نہیں۔(2)(درمختار، ردالمحتار)علماکا یہ اختلاف اور رگوں کے کٹنے میں احتمال دیکھتے ہوئے احتیاط ضروری ہے کہ یہ معاملہ حلت و حرمت کا ہے(3)اور ایسے مقام پر احتیاط لازم ہوتی ہے۔
مسئلہ ۷: ذبح کی چار رگوں میں سے تین کا کٹ جانا کافی ہے یعنی اس صورت میں بھی جانور حلال ہو جائے گا کہ اکثر کے لیے وہی حکم ہے جو کل کے لیے ہے اور اگر چاروں میں سے ہر ایک کا اکثر حصہ کٹ جائے گا جب بھی حلال ہو جائے گا اور اگر آدھی آدھی ہر رگ کٹ گئی اور آدھی باقی ہے تو حلال نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: ذبح سے جانور حلال ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں۔ (۱)ذبح کرنے والا عاقل ہو۔ مجنوں یا اتنا چھوٹا بچہ جو بے عقل ہو ان کا ذبیحہ جائز نہیں اور اگر چھوٹا بچہ ذبح کو سمجھتا ہو اور اس پر قدرت رکھتا ہو تو اس کا ذبیحہ حلال ہے، (۲) ذبح کرنے والا مسلم ہو یا کتابی۔ مشرک اور مرتد کا ذبیحہ حرام و مردار ہے۔ کتابی اگر غیر کتابی ہوگیا تو اب اس کا ذبیحہ حرام ہے اور غیر کتابی ، کتابی ہوگیا تو اس کا ذبیحہ حلال ہے اور معاذ اﷲمسلمان اگر کتابی ہوگیا تو اس کا ذبیحہ حرام ہے کہ یہ مرتد ہے۔ لڑکا نابالغ ایسا ہے کہ اوس کے والدین میں ایک کتابی ہے اور ایک غیر کتابی تو اس کو کتابی قرار دیا جائے گا اور اس کا ذبیحہ حلال سمجھا جائے گا۔ (5)
مسئلہ ۹: کتابی کا ذبیحہ اوس وقت حلال سمجھا جائے گا جب مسلمان کے سامنے ذبح کیا ہو اور یہ معلوم ہو کہ اﷲ (عزوجل)کا نام لے کر ذبح کیا اور اگر ذبح کے وقت اوس نے حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام لیا اور مسلمان کے علم میں یہ بات ہے توجانور حرام ہے اور اگر مسلمان کے سامنے اوس نے ذبح نہیں کیا اور معلوم نہیں کہ کیا پڑھ کر ذبح کیا جب بھی حلال ہے۔ (۳)اﷲعزوجل کے نام کے ساتھ ذبح کرنا۔ ذبح کرنے کے وقت اﷲتعالیٰ کے ناموں میں سے کوئی نام ذکر کرے جانور حلال ہوجائے گا یہی ضروری نہیں کہ لفظاﷲ(عزوجل)ہی زبان سے کہے۔ (6)
1 ۔گھنڈ ی(گلے کی ابھری ہوئی ہڈی)سے اوپر ذبح۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۴۹۱.
3 ۔یعنی حلال وحرام کا معاملہ ہے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبائح،الباب الاول فی رکنہٖ...إلخ،ج۵،ص۲۸۷.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۴۹۵۔۴۹۹.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۴۹۶۔۵۰۰.
مسئلہ ۱۰: تنہا نام ہی ذکر کرے یا نام کے ساتھ صفت بھی ذکر کرے دونوں صورتوں میں جانور حلال ہو جاتا ہے مثلاً
اﷲ اکبر،اﷲ اعظم،اﷲ اجل،اﷲ الرحمن،اﷲ الرحیم،
یا صرف
اﷲ
یا
الرحمن
یا
الرحیم
کہے اسی طرح
سُبْحَانَ اللہ
یا
الحمد ﷲ
یا
لآالٰہ الااﷲ
پڑھنے سے بھی حلال ہو جائے گا۔ اﷲعزوجل کا نام عربی کے سوا دوسری زبان میں لیا جب بھی حلال ہوجائے گا۔ (1)(عالمگیری) (۴)خود ذبح کرنے والا اﷲعزوجل کا نام اپنی زبان سے کہے اگر یہ خود خاموش رہا دوسروں نے نام لیا اور اسے یاد بھی تھا بھولا نہ تھا تو جانور حرام ہے، (۵)نام الٰہی(عزوجل)لینے سے ذبح پر نام لینا مقصود ہو اور اگر کسی دوسرے مقصد کے لیے بسم اﷲپڑھی اور ساتھ لگے ذبح کر دیا اور اس پر بسم اﷲپڑھنا مقصود نہیں ہے تو جانور حلال نہ ہوا مثلاًچھینک آئی اور اس پر الحمد ﷲکہا اور جانور ذبح کر دیا اس پر نام الٰہی(عزوجل)ذکر کرنا مقصود نہ تھا بلکہ چھینک پر مقصود تھا جانور حلال نہ ہوا (۶)ذبح کے وقت غیر خدا کا نام نہ لے (۷)جس جانور کو ذبح کیا جائے وہ وقت ذبح زندہ ہو اگرچہ اوس کی حیات کا تھوڑاہی حصہ باقی رہ گیا ہو۔ ذبح کے بعد خون نکلنا یا جانور میں حرکت پیدا ہونا یوں ضروری ہے کہ اوس سے اوس کا زندہ ہونا معلوم ہوتا ہے۔
مسئلہ ۱۱: بکری ذبح کی اور خون نکلا مگر اوس میں حرکت پیدا نہ ہوئی اگر وہ ایسا خون ہے جیسے زندہ جانور میں ہوتا ہے حلال ہے۔ بیمار بکری ذبح کی صرف اوس کے مونھ کو حرکت ہوئی اور اگر وہ حرکت یہ ہے کہ مونھ کھول دیا تو حرام ہے اور بند کر لیا تو حلال ہے اور آنکھیں کھول دیں تو حرام اور بند کر لیں تو حلال اور پاؤں پھیلا دیے تو حرام اور سمیٹ لیے تو حلال اور بال کھڑے نہ ہوئے تو حرام اور کھڑے ہوگئے تو حلال یعنی اگر صحیح طور پر اوس کے زندہ ہونے کا علم نہ ہو تو ان علامتوں سے کام لیا جائے اور اگر زندہ ہونا یقینا معلوم ہے تو ان چیزوں کا خیال نہیں کیا جائے گا بہرحال جانور حلال سمجھا جائے گا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: ذبح ہر اوس چیز سے کر سکتے ہیں جو رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے یہ ضرور نہیں کہ چھری ہی سے ذبح کریں بلکہکَھپَچِّی(3)اور دھاردار پتھر سے بھی ذبح ہوسکتا ہے صرف ناخن اور دانت سے ذبح نہیں کرسکتے جب کہ یہ اپنی جگہ پر قائم ہوں اور اگر ناخن کاٹ کر جدا کر لیا ہو یا دانت علیٰحدہ ہوگیا ہو تو اس سے اگرچہ ذبح ہو جائے گا مگر پھر بھی اس کی ممانعت ہے کہ جانور کو اس سے اذیت ہوگی۔ اسی طرح کند چھری سے بھی ذبح کرنا مکروہ ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: مستحب یہ ہے کہ جانور کو لٹانے سے پہلے چھری تیز کر یں اور لٹانے کے بعد چھری تیز کرنا مکروہ ہے۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبائح، الباب الاوّل فی رکنہٖ...إلخ،ج۵،ص۲۸۵.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۸۶.
3 ۔بانس کا چرا ہوا ٹکڑا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۴۹۴.
یوہیں جانور کو پاؤں پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے مذبح کو(1)لے جانا بھی مکروہ ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: اس طرح ذبح کرنا کہ چھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سر کٹ کر جدا ہو جائے مکروہ ہے مگر وہ ذبیحہ کھایا جائے گا یعنی کراہت اوس فعل میں ہے نہ کہ ذبیحہ میں۔(3) (ہدایہ)عام لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ ذبح کرنے میں اگر سر جدا ہوجائے تو اس سر کا کھانا مکروہ ہے یہ کتب فقہ میں نظر سے نہیں گزرا بلکہ فقہا کا یہ ارشاد کہ ذبیحہ کھایا جائے گا اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سر بھی کھایا جائے گا۔
مسئلہ ۱۵: ہر وہ فعل جس سے جانور کو بلا فائدہ تکلیف پہنچے مکروہ ہے مثلاً جانور میں ابھی حیات باقی ہو ٹھنڈا ہونے سے پہلے اوس کی کھال اوتارنا اوس کے اعضاکاٹنا یا ذبح سے پہلے اوس کے سر کو کھینچنا کہ رگیں ظاہر ہو جائیں یا گردن کو توڑنا یوہیں جانور کو گردن کی طرف سے ذبح کرنا مکروہ ہے بلکہ اس کی بعض صورتوں میں جانور حرام ہو جائے گا۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۶: سنت یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور کا مونھ قبلہ کو کیا جائے اور ایسا نہ کرنا مکروہ ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: اگر جانور شکار ہو تو ضرور ہے کہ ذبح کرنے والا حلال ہو یعنی احرام نہ باندھے ہوئے ہو اور ذبح کرنا بیرونِ حرم(6)ہو لہٰذا مُحرِم(7)کا ذبح کیا ہوا جانور حرام ہے اور حرم میں شکار کو ذبح کیا تو ذبح کرنے والا محرِم ہو یا حلال دونوں صورتوں میں جانور حرام ہے اور اگر وہ جانور شکار نہ ہو بلکہ پلاؤ ہو(8)جیسے مرغی ،بکری وغیرہ اس کو محرم بھی ذبح کرسکتا ہے اور حرم میں بھی ذبح کرسکتے ہیں۔ نصرانی نے حرم میں جنگلی جانور کو ذبح کیا تو جانور حرام ہے یعنی مسلم ذبح کرے یا کتابی دونوں صورتوں میں حرام ہے۔ (9)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۸: جنگلی جانور اگر مانوس ہو جائے مثلاً ہرن وغیرہ پال لیتے ہیں اور وہ مانوس ہو جاتے ہیں ان کو اوسی طرح ذبح کیا جائے جیسے پلاؤ جانور ذبح کیے جاتے ہیں یعنی ذبح اختیاری ہونا ضرور ہے جس کا ذکر گزر چکا اور اگر گھریلو جانور وحشی کی طرح ہو جائے کہ قابو میں نہ آئے تو اس کا ذبح اضطراری ہے کہ جس طرح ممکن ہو ذبح کرسکتے ہیں۔ یوہیں اگر چوپایہ کوئیں میں
1 ۔ذبح گاہ تک۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۴۹۴.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الذبائح،ج۲،ص۳۵۰.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبا ئح ،ج۹،ص۴۹۵.
6 ۔حرم کے باہر۔ 7 ۔یعنی حالتِ احرام میں ہونے والے فرد۔ 8 ۔گھریلو ہو۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبا ئح ،ج۹،ص۴۹۵،وغیرہ.
گر پڑا کہ اوسے باقاعدہ ذبح نہ کرسکتے ہوں تو جس طرح ممکن ہو ذبح کرسکتے ہیں۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۹: ذبح میں عورت کا وہی حکم ہے جو مرد کا ہے یعنی مسلمہ یا کتابیہ عورت کا ذبیحہ حلال ہے اور مشرکہ و مرتدہ کا ذبیحہ حرام ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: گونگے کا ذبیحہ حلال ہے اگر وہ مسلم یا کتابی ہو اسی طرح اقلف کا یعنی جس کا ختنہ نہ ہوا ہو اور ابرص یعنی سپید داغ (3)والے کا ذبیحہ بھی حلال ہے۔(4) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: جن اگر انسان کی شکل میں ہو تو اس کا ذبیحہ جائز ہے اور انسانی شکل میں نہ ہو تو اوس کا ذبیحہ جائز نہیں۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: مجوسی نے آتش کدہ(6)کے لیے یا مشرک نے اپنے معبودان باطل کے لیے مسلمان سے جانور ذبح کرایا اور اس نے اﷲ(عزوجل)کا نام لے کر جانور ذبح کیا یہ جانور حرام نہ ہوا مگر مسلمان کو ایسا کرنا مکروہ ہے۔(7)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: مسلمان نے جانور ذبح کر دیا اس کے بعد مشرک نے اوس پر چھری پھیری تو جانور حرام نہ ہوا کہ ذبح توپہلے ہی ہوچکا اور اگر مشرک نے ذبح کر ڈالا اس کے بعد مسلم نے چھری پھیری تو حرام ہی ہے اس کے چھری پھیرنے سے حلال نہ ہوگا۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: ذبح کرنے میں قصداً بسم اﷲ نہ کہی جانور حرام ہے اور اگر بھول کر ایسا ہوا جیسا کہ بعض مرتبہ شکار کے ذبح میں جلدی ہوتی ہے اور جلدی میں بسم اﷲ کہنا بھول جاتا ہے اس صورت میں جانور حلال ہے۔(9) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۵: ذبح کرتے وقت بسم اﷲ کے ساتھ غیر خدا کا نام بھی لیا اس کی دو صورتیں ہیں اگر بغیر عطف ذکر کیا ہے
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الذبا ئح،ج۲،ص۳۵۰.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبا ئح،الباب الاول فی رکنہٖ...إلخ،ج۵،ص۲۸۶.
3 ۔برص کی بیماری۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۴۹۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبا ئح،الباب الاول فی رکنہٖ...إلخ،ج۵،ص۲۸۶.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۴۹۷.
6 ۔آگ کے پجاریوں کا عبادت خانہ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبا ئح،الباب الاول فی رکنہٖ...إلخ،ج۵،ص۲۸۶.
8 ۔المرجع السابق،ص۲۸۷.
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب الذبا ئح،ج۲،ص۳۴۷.
مثلاً یوں کہا
بسم اﷲمحمد رسول اﷲ
یا
بسم اﷲاللّٰھم تقبل من فلان
ایسا کرنا مکروہ ہے مگر جانور حرام نہیں ہوگا۔ اور اگر عطف کے ساتھ دوسرے کا نام ذکر کیا مثلاً یوں کہا
بسم اﷲ واسم فلان
اس صورت میں جانور حرام ہے کہ یہ جانور غیر خدا کے نام پر ذبح ہوا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ذبح سے پہلے مثلاً جانور کو لٹانے سے پہلے اس نے کسی کا نام لیا یا ذبح کرنے کے بعد نام لیا تو اس میں حرج نہیں جس طرح قربانی اور عقیقہ میں دعائیں پڑھی جاتی ہیں اور قربانی میں اون لوگوں کے نام لیے جاتے ہیں جن کی طرف سے قربانی ہے اور حضور اقدس صلی اﷲعلیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے نام بھی لیے جاتے ہیں۔ (1) (ہدایہ وغیرہا)۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ
مَااُھِلَّ لِغَیْرِاللہِ بِہ
جو حرام ہے اوس کا مطلب یہ ہے کہ ذبح کے وقت جب غیر خدا کا نام اس طرح لیا جائے گا اوس وقت حرام ہوگا اور وہابیہ یہ کہتے ہیں کہ آگے پیچھے جب کبھی غیر خدا کا نام لے دیا جائے حرام ہو جاتا ہے بلکہ یہ لوگ تو مطلقا ہر چیز کو حرام کہتے ہیں جس پر غیر خدا کا نام لیا جائے اون کا یہ قول غلط اور باطل محض ہے اگر ایسا ہو تو سب ہی چیزیں حرام ہو جائیں گی۔ کھانے پینے اور استعمال کی سب چیزوں پر لوگوں کے نام لے دیے جاتے ہیں اور ان سب کو حرام قرار دینا شریعت پر افترا اور مسلم کو زبردستی حرام کا مرتکب بنانا ہے معلوم ہوا کہ بعض مسلمان گائے ،بکرا، مرغ جو اس لیے پالتے ہیں کہ ان کو ذبح کر کے کھانا پکوا کر کسی ولی اﷲکی روح کو ایصال ثواب کیا جائے گا یہ جائز ہے اور جانور بھی حلال ہے اس کو مَااُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ میں داخل کرنا جہالت ہے کیونکہ مسلمان کے متعلق یہ خیال کرنا کہ اوس نے
تَقَرُّب اِلٰی غِیْرِاﷲ
کی نیت کی، ہٹ دھرمی اور سخت بدگمانی ہے مسلم ہرگز ایسا خیال نہیں رکھتا۔ عقیقہ اور ولیمہ اور ختنہ وغیرہ کی تقریبوں میں جس طرح جانور ذبح کرتے ہیں اور بعض مرتبہ پہلے ہی سے متعین کر لیتے ہیں کہ فلاں موقع اور فلاں کام کے لیے ذبح کیا جائے گا جس طرح یہ حرام نہیں ہے وہ بھی حرام نہیں۔
مسئلہ ۲۶: بسم اﷲکی (ہ)کو ظاہر کرنا چاہیے اگر ظاہر نہ کی جیسا کہ بعض عوام اس کا تلفظ اس طرح کرتے ہیں کہ (ہ)ظاہر نہیں ہوتی اور مقصود اﷲ کا نام ذکر کرنا ہے تو جانور حلال ہے اور اگر یہ مقصود نہ ہو اور (ہ)کا چھوڑنا ہی مقصودہو تو حلال نہیں۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: مستحب یہ ہے کہ ذبح کے وقت
بِسْمِ اﷲاﷲُاَکْبَر
کہے یعنی
بِسْمِ اﷲ
اور
اَﷲُاَکْبَر
کے درمیان واؤ نہ لائے اور اگر
بِسْمِ اﷲ وَاﷲُ اَکْبَر
واؤ کے ساتھ کہا تو جانور اس صورت میں بھی حلال ہوگا مگر بعض علماء اس طرح کہنے کو مکروہ بتاتے ہیں۔(3) (درمختار وغیرہ)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الذبا ئح،ج۲،ص۳۴۸،وغیرہا.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۵۰۳.
3 ۔''الدرالمحتار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۵۰۳،وغیرہ.
مسئلہ ۲۸: بسم اﷲکسی دوسرے مقصد سے پڑھی اور جانور کو ذبح کر دیا تو جانور حلال نہیں اور اگر زبان سے بسم اﷲکہی اور دل میں یہ نیت حاضر نہیں کہ جانور ذبح کرنے کے لیے بسم اﷲ کہتا ہوں تو جانور حلال ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۹: ذبح اختیاری میں شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے والا ذبح کے وقت بسم اﷲ پڑھے یہاں مذبوح پر بسم اﷲ پڑھی جاتی ہے یعنی جس جانور کو ذبح کرنے کے لیے بسم اﷲپڑھی اوسی کو ذبح کرسکتے ہیں دوسرا جانور اس تسمیہ سے حلال نہ ہوگا مثلاً بکری ذبح کرنے کے لیے لٹائی اور اس کے ذبح کرنے کوبسم اﷲپڑھی مگر اس کو ذبح نہیں کیا بلکہ اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کر دی یہ حلال نہیں ہوئی یہ ضرور نہیں کہ جس چھری سے ذبح کرنا چاہتا تھا اور بسم اللہ پڑھ لی تو اوسی سے ذبح کرے بلکہ دوسری چھری سے بھی ذبح کرسکتا ہے اور شکار کرنے میں آلہ پربسم اﷲپڑھی جاتی ہے یعنی اوسی آلہ سے شکار کرنا ہوگا دوسرے سے کریگا حلال نہ ہوگا مثلاًتیر چھوڑنا چاہتا ہے اور بسم اﷲپڑھی مگر اس کو رکھ دیا دوسرا تیر چلایا تو جانور حلال نہیں اور اگر جس جانور کو تیر سے مارنا چاہتا ہے اوس کو تیر نہیں لگا دوسرا جانور اس تیر سے مارا تو یہ حلال ہے۔(2) (ہدایہ)
مسئلہ ۳۰: خود ذبح کرنے والے کو بسم اﷲکہنا ضرور ہے دوسرے کا کہنا اس کے کہنے کے قائم مقام نہیں یعنی دوسرے کے بسم اﷲپڑھنے سے جانور حلال نہ ہوگا جبکہ ذابح نے قصداً (3)ترک کیا ہو اور دو شخصوں نے ذبح کیا تو دونوں کا پڑھنا ضروری ہے ایک نے قصداً ترک کیا تو جانور حرام ہے۔ (4)(ردالمحتار)معین ذابح سے یہی مراد ہے کہ ذبح کرنے میں اوس کا معین ہو یعنی دونوں نے مل کر ذبح کیا ہو دونوں نے چھری پھیری ہو مثلاً ذابح کمزور ہے کہ اوس کی تنہا قوت کام نہیں دے گی دوسرے نے بھی شرکت کی دونوں نے مل کر چھری چلائی۔ اگر دوسرا شخص جانور کو فقط پکڑے ہوئے ہے تو یہ معین ذابح نہیں اس کے پڑھنے نہ پڑھنے کو کچھ دخل نہیں۔ یہ اگر پڑھتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ ذابح کو بسم اﷲیاد آجائے اور پڑھ لے۔
مسئلہ۳۱: بسم اﷲکہنے اور ذبح کرنے کے درمیان طویل فاصلہ نہ ہو اور مجلس بدلنے نہ پائے اگر مجلس بدل گئی اور عمل کثیر بیچ میں پایا گیا تو جانور حلال نہ ہوا۔ ایک لقمہ کھایا یا ذرا سا پانی پیا یا چھری تیز کر لی یہ عمل قلیل ہے جانور اس صورت میں حلال ہے۔ (5)(درمختار ،ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۵۰۴.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الذبا ئح،ج۲،ص۳۴۷.
3 ۔یعنی جان بوجھ کر۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الذبا ئح،ج۲،ص۵۰۴.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۵۰۴.
مسئلہ۳۲: دو بکریوں کو نیچے اوپر لٹا کر دونوں کو ایک ساتھ بسم اﷲپڑھ کر ذبح کر دیا دونوں حلال ہیں اور اگر ایک کو ذبح کر کے فوراً دوسری کو ذبح کرنا چاہتا ہے تو اوس کو پھر بسم اﷲپڑھنی ہوگی پہلے جو پڑھ چکا ہے وہ دوسری کے لیے کافی نہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ۳۳: بکری ذبح کے لیے لٹائی تھی بسم اﷲکہہ کر ذبح کرنا چاہتا تھا کہ وہ اوٹھ کر بھاگ گئی پھر اوسے پکڑ کے لایا اور لٹایا تو اب پھر بسم اﷲپڑھے پہلے کا پڑھنا ختم ہوگیا۔ یوہیں بکریوں کاگلہ (2)دیکھا اور بسم اﷲ پڑھ کر اون میں سے ایک بکری پکڑ لایا اور ذبح کر دی اس وقت قصداً بسم اﷲ ترک کر دی یہ خیال کر کے کہ پہلے پڑھ چکا ہے بکری حرام ہوگئی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ۳۴: پلاؤ جانور اگر بھاگ جائے اور پکڑنے میں نہ آئے تو اس کے لیے ذبح اضطراری ہے یعنی تیر یا نیزہ وغیرہ سے بہ نیت ذبح بسم اللہ پڑھ کر ماریں اور اس کے لیے گردن میں ہی ذبح کرنا ضرور نہیں بلکہ جس جگہ بھی زخمی کر دیا جائے کافی ہے۔ یوہیں اگر جانور کوئیں میں گر گیا اوس کو نیزہ وغیرہ سے بہ نیت ذبح بسم اﷲکہہ کر ہلاک کر دیں ذبح ہوگیا۔ اسی طرح
اگر جانور اس پر حملہ آور ہوا جیسا کہ بھینسے اور سانڈ اکثر حملہ کر دیتے ہیں ان کو بھی اوسی طرح ذبح کیا جاسکتا ہے اور اگر محض اپنے سے دفع کرنے کے لیے اوسے نیزہ مارا ذبح کرنا مقصود نہ تھا تو جانور حرام ہے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۳۵: آبادی میں اگر بکری بھاگ گئی تو اس کے لیے ذبح اضطراری نہیں ہے کہ بکری پکڑی جاسکتی ہے اور میدان میں بھاگ گئی تو ذبح اضطراری ہوسکتا ہے اور گائے، بیل، اونٹ اگر بھاگ جائیں تو آبادی اور جنگل دونوں کا ان کے لیے یکساں حکم ہے ہوسکتا ہے کہ آبادی میں بھی ان کے پکڑنے پر قدرت نہ ہو۔ (5)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۳۶: مرغی اوڑ کر درخت پر چلی گئی اگر وہاں تک نہیں پہنچ سکتا ہے اور بسم اﷲپڑھ کر اوسے تیر مار کرہلاک کیا اگر اوس کے جاتے رہنے کا اندیشہ نہ تھا تو نہ کھائی جائے اور اندیشہ تھا تو کھا سکتے ہیں کہ اس صورت میں ذبح اضطراری ہوسکتا ہے۔ کبوتر اوڑ گیا اگر وہ مکان پر واپس آسکتا ہے اور اوسے تیرسے مارا اگر تیر جائے ذبح پر لگا
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۵۰۴.
2 ۔بکریوں کا ریوڑ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبا ئح،الباب الاول فی رکنہٖ...إلخ،ج۵،ص۲۸۹.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۵۰۵.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الذبائح،ج۲،ص۳۵۰،وغیرھا.
کھایا جاسکتا ہے ورنہ نہیں اگر وہ واپس نہیں آسکتا تو بہرصورت کھایا جاسکتا ہے۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ ۳۷: ہرن کو پال لیا وہ اتفاق سے جنگل میں چلا گیا کسی نے بسم اﷲکہہ کر اوسے تیر مارا اگر تیر ذبح کی جگہ پر لگا حلال ہے ورنہ نہیں ہاں اگر وحشی ہوگیا اور اب بغیر شکار کئے ہاتھ نہ آئے گا تو جہاں بھی لگے حلال ہے۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۳۸: گائے یا بکری ذبح کی اور اس کے پیٹ میں بچہ نکلا اگر وہ زندہ ہے ذبح کر دیا جائے حلال ہو جائے گا اور مرا ہوا ہے تو حرام ہے اوس کی ماں کا ذبح کرنا اوس کے حلال ہونے کے لیے کافی نہیں۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳۹: بلی نے مرغی کا سر کاٹ لیا اور وہ ابھی زندہ ہے پھڑک رہی ہے ذبح نہیں کی جاسکتی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ۴۰: جانور کو دن میں ذبح کرنا بہتر ہے اور مستحب یہ ہے کہ ذبح سے پہلے چھری تیز کر لے کند چھری یا ایسی چیزوں سے ذبح کرنے سے بچے جس سے جانور کو ایذا ہو۔(5) (عالمگیری)
حدیث ۱: ترمذی نے عرِباض بن ساریہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے خیبر کے دن کیلے والے درندہ سے اور پنجہ والے پرند سے اور گھریلو گدھے اور مجثمہ اور خلیسہ سے ممانعت فرمائی اور حاملہ عورت جب تک وضع حمل نہ کر لے اس کی وطی سے ممانعت فرمائی یعنی حاملہ لونڈی کا مالک ہوا یا زانیہ عورت حاملہ سے نکاح کیا تو جب تک وضع حمل نہ ہو اوس سے وطی نہ کرے۔ مجثمہ یہ ہے کہ پرند یا کسی جانور کو باندھ کر اوس پر تیر مارا جائے۔ خلیسہ یہ ہے کہ بھیڑیے یا کسی درندہ نے جانور پکڑا اوس سے کسی نے چھین لیا اور ذبح سے پہلے وہ مرگیا۔(6)
حدیث ۲: ابو داود و دارمی جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:ــ'' جنین (پیٹ کے بچہ)کا ذبح اوس کی ماں کے ذبح کی مثل ہے''۔(7)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصید والذبا ئح،ج۴،ص۳۳۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۵۰۷،وغیرہ.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبا ئح،الباب الاول فی رکنہٖ...إلخ،ج۵،ص۲۸۷.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأطعمۃ،باب ماجاء فيکراھیۃ أکل المصبورۃ،الحدیث:۱۴۷۹،ج۳،ص۱۵۰.
7 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب ما جاء في ذکاۃ الجنین،الحدیث:۲۸۲۸،ج۳،ص۱۳۸.
حدیث ۳: احمد و نسائی و دارمی عبداﷲبن عَمْرْو رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قتل کیا اوس سے اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن سؤال کریگا عرض کیا گیا یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )اوس کا حق کیا ہے فرمایا کہ''اوس کا حق یہ ہے کہ ذبح کرے اور کھائے یہ نہیں کہ سر کاٹے اور پھینک دے۔''(1)
حدیث ۴: ترمذی و ابو داود ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں جب نبی کریم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم مدینہ میں تشریف لائے اس زمانہ میں یہاں کے لوگ زندہ اونٹ کا کوہان کاٹ لیتے اور زندہ دنبہ کی چکی کاٹ لیتے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )نے فرمایا:''زندہ جانور کا جو ٹکڑا کاٹ لیا جائے وہ مردار ہے کھایا نہ جائے''۔(2)
حدیث ۵: دارقطنی جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''دریا کے جانور (مچھلی)کو خدا نے حلال کر دیا ہے''۔(3)
حدیث ۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی انھوں نے حمار وحشی(گورخر)دیکھا اوس کا شکار کیا حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''کیا تمہارے پاس اوس کے گوشت میں کا کچھ ہے''؟ عرض کی ہاں اوس کی ران ہے اوس کو حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے قبول فرمایا اور کھایا۔ (4)
حدیث ۷: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہتے ہیں ہم نے مَرّ الظَھْرَان(5)میں خرگوش بھگا کر پکڑا میں اوس کو ابو طلحہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس لایا انھوں نے ذبح کیا اور اوس کی پُٹھ اور رانیں حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں بھیجیں حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے قبول فرمائیں۔ (6)
حدیث ۸: صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔(7)
1 ۔''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل،مسندعبداللہ بن عمرو،الحدیث:۶۵۶۲،ج۲،ص۵۶۷.
و''سنن النسائي''،کتاب الصید...إلخ،باب إباحۃ أکل العصافیر،الحدیث:۴۳۵۵،ص۷۰۷.
2 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأطعمۃ،باب ما قطع من الحی...إلخ،الحدیث:۱۴۸۵،ج۳،ص۱۵۳.
3 ۔''سنن الدارقطني''،کتاب الأشربۃوغیرہا،باب الصید...إلخ،الحدیث:۴۶۶۶،ج۴،ص۳۱۷.
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الحج،باب تحریم الصیدللمحرم،الحدیث:۵۷۔(۱۱۹۶)و۶۳۔(۱۱۹۶)،ص۶۱۱،۶۱۳.
5 ۔ مکہء مکرمہ کے قریب ایک جگہ کا نام۔
6 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح...إلخ،باب ماجاء فی التصید،الحدیث:۵۴۸۹،ج۳،ص۵۵۴.
7 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح...إلخ،باب الدجاج،الحدیث:۵۵۱۷،ج۳،ص۵۶۳.
حدیث ۹: صحیحین میں عبداﷲبن ابی اَوفی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہتے ہیں ہم رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے ساتھ سات غزوے میں تھے ہم حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی موجودگی میں ٹڈی کھاتے تھے۔ (1)
حدیث ۱۰: صحیحین میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہتے ہیں میں جیش الخبط(2)میں گیا تھا اور امیر لشکر ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے ہمیں بہت سخت بھوک لگی تھی دریا نے مری ہوئی ایک مچھلی پھینکی کہ ویسی مچھلی ہم نے نہیں دیکھی اوس کا نام عنبر ہے ہم نے آدھے مہینے تک اوسے کھایا ابو عبیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اوس کی ایک ہڈی کھڑی کی بعض روایت میں ہے پسلی کی ہڈی تھی اوس کی کجی اتنی تھی کہ اوس کے نیچے سے اونٹ مع سوار گزر گیا جب ہم واپس آئے تو حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے ذکر کیافرمایا :''کھاؤ اﷲ(عزوجل) نے تمہارے لیے رزق بھیجا ہے اور تمہارے پاس ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ'' ہم نے اوس میں سے حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے پاس بھیجا حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے تناول فرمایا۔ (3)
حدیث ۱۱ و ۱۲: صحیح بخاری و مسلم میں ام شریک رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے وزغ (چھپکلی اور گرگٹ)کے قتل کا حکم دیا اور فرمایا کہ''ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے کافروں نے جو آگ جلائی تھی اوسے یہ پھونکتا تھا''(4)اور صحیح مسلم میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جو روایت ہے اوس میں یہ بھی ہے کہ اس کا نام حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فُوَیْسِقْ رکھا(5)یعنی چھوٹا فاسق یا بڑا فاسق اس لفظ میں دونوں معنی کا احتمال ہے۔
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح...إلخ،باب أکل الجراد،الحدیث:۵۴۹۵،ج۳،ص۵۵۷.
2 ۔ اس لشکر میں جب توشہ کی کمی ہوئی تو سب کے پاس جو کچھ تھا اکٹھا کر لیا گیا روزانہ فی کس ایک مٹھی کھجور ملتی جب اور کمی ہوئی تو روزانہ ایک کھجور ملتی جس کو صحابہء کرام مونھ میں رکھ کر کچھ چوس کر نکال لیتے اور رکھ لیتے پھر اوپر سے پانی پی لیتے اسی ایک کھجور کو چوس چوس کر ایک دن رات گزارتے اور شدتگُرُسْنَگی(بھوک)سے درختوں کے پتے جھاڑ کر کھاتے جس سے اون کے مونھ چھل گئے اور زخمی ہوگئے اسی وجہ سے اس کا نام جیش الخبط ہے کہ خبط درختوں کے پتوں کو کہتے ہیں جو جھاڑ لیے جاتے ہیں اور پتوں کے کھانے کی وجہ سے اونٹ اور بکری کی مینگنی کی طرح اون کو اجابت ہوتی۔ خدا(تعالیٰ)نے اپنا کرم کیا کہ ساحل پر ٹیلے برابر کی یہ عنبر مچھلی اون کو ملی جس کی آنکھوں کے حلقے سے مٹکے برابر چربی نکلی اوس کو پندرہ دن تک یا ایک ماہ تک جیسا کہ دوسری روایت میں ہے اون حضرات نے کھایا۔ اس واقعہ کو مختصر طور پر بیان کرنے کا یہ مقصد بھی ہے کہ مسلمان دیکھیں اور غور کریں کہ حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کیسی کیسی تکالیف برداشت کیں اونھیں حضرات کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اسلام اپنی کمال تابانی سے تمام عالم کو منور کر رہا ہے۔ ۱۲ منہ
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب المغازی،باب غزوۃ سِیْفِ البحر...إلخ،الحدیث:۴۳۶۰و۴۳۶۲،ج۳،ص۱۲۷،۱۲۸.
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب أحادیث الأنبیائ،باب قول اللہ تعالی ا (واتخذاللہ ابراھیم خلیلاً)،الحدیث:۳۳۵۹،ج۲،ص۴۲۳.
5 ۔''صحیح مسلم''،کتاب السلام،باب إستحباب قتل الوزغ،الحدیث:۱۴۴۔(۲۲۳۸)،ص۱۲۳۰.
حدیث ۱۳: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو چھپکلی یاگرگٹ کو پہلی ضرب میں مارے اوس کے لیے سو۱۰۰ نیکیاں اور دوسری میں اس سے کم اور تیسری میں اس سے بھی کم۔''(1)
حدیث ۱۴: ترمذی نے عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے جَلّالہ(2)اور اس کا دودھ کھانے سے منع فرمایا۔ (3)
حدیث ۱۵: ابو داود نے عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ (4)
حدیث ۱۶: ابو داود و ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے بلی کھانے سے اور اس کے ثمن کھانے سے منع فرمایا۔ (5)
حدیث ۱۷: امام احمد و ابن ماجہ و دارقطنی ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ہمارے لیے دو مرے ہوئے جانور اور دو خون حلال ہیں۔ دو مردے مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہیں۔''(6)
حدیث ۱۸: ابو داود و ترمذی جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ'' دریا نے جس مچھلی کو پھینک دیا ہو اور وہاں سے پانی جاتا رہا اوسے کھاؤ اور جو پانی میں مر کر تیر جائے اوسے نہ کھاؤ۔'' (7)
حدیث ۱۹: شرح السنہ میں زید بن خالدرضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مرغ کو برا کہنے سے منع فرمایا کیونکہ وہ نماز کے لیے اذان کہتا ہے یا خبردار کرتا ہے(8)اور ابو داود کی روایت میں ہے کہ وہ نماز کے لیے جگاتا ہے۔(9)
گوشت یا جو کچھ غذا کھائی جاتی ہے وہ جزو بدن ہو جاتی ہے اور اوس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں اور چونکہ بعض جانوروں میں مذموم صفات پائے جاتے ہیں اون جانوروں کے کھانے میں اندیشہ ہے کہ انسان بھی اون بری صفتوں کے
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب السلام،باب إستحباب قتل الوزغ،الحدیث:۱۴۷۔(۲۲۴۰)،ص۱۲۳۰.
2 ۔گندگی کھانے والا جانور۔
3 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأطعمۃ،باب ما جاء في أکل لحوم الجلالۃ وألبانھا،الحدیث:۱۸۳۱،ج۳،ص۳۲۴.
4 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب في أکل الضب،الحدیث:۳۷۹۶،ج۳،ص۴۹۶.
5 ۔''جامع الترمذی ''،کتاب البیوع،باب ماجاء فيثمن الکلب والسنّور،الحدیث:۱۲۸۴،ج۳،ص۴۱.
6 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ،باب الکبدوالطحال،الحدیث:۳۳۱۴،ج۴،ص۳۲.
7 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب في أکل الطافي من السمک،الحدیث:۳۸۱۵،ج۳،ص۵۰۲.
8 ۔''شرح السنۃ''،کتاب الطب والرقی،باب الدیک،الحدیث:۳۱۶۳،ج۶،ص۲۸۸۔۲۸۹.
9 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب ماجاء فی الدیک والنھائم،الحدیث:۵۱۰۱،ج۴،ص۴۲۲.
ساتھ متصف ہو جائے لہٰذا انسان کو اون کے کھانے سے منع کیا گیا حلال و حرام جانوروں کی تفصیل دشوار ہے۔ یہاں چند کلیات بیان کیے جاتے ہیں جن کے ذریعہ سے جزئیات جانے جاسکتے ہیں۔
مسئلہ ۱: کیلے والا(1)جانور جو کیلے سے شکار کرتا ہو حرام ہے جیسے شیر، گیدڑ، لومڑی، بِجُّو، کتا وغیرہا کہ ان سب میں کیلے ہوتے ہیں اور شکار بھی کرتے ہیں۔ اونٹ کے کیلا ہوتا ہے مگر وہ شکار نہیں کرتا لہٰذا وہ اس حکم میں داخل نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲: پنجہ والا پرند جو پنجہ سے شکار کرتا ہے حرام ہے جیسے شکرا، باز، بَہری، چیل۔ حشرات الارض حرام ہیں جیسے چوہا، چھپکلی، گرگٹ، گھونس، سانپ، بچھو، بر(3)، مچھر، پسو، کٹھمل، مکھی، کلی، مینڈک وغیرہا۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: گھریلو گدھا اور خچر حرام ہے اور جنگلی گدھا جسے گورخر کہتے ہیں حلال ہے گھوڑے کے متعلق روایتیں مختلف ہیں یہ آلہ جہاد ہے اس کے کھانے میں تقلیل آلہ ئجہاد ہوتی ہے لہٰذا نہ کھایا جائے۔ (5)(درمختار وغیرہا)
مسئلہ ۴: کچھوا خشکی کا ہو یا پانی کا حرام ہے۔ غراب ابقع یعنی کوا جو مردار کھاتا ہے حرام ہے۔ اور مہو کا کہ یہ بھی کوے سے ملتا جلتا ایک جانور(6)ہوتا ہے حلال ہے۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: پانی کے جانوروں میں صرف مچھلی حلال ہے ۔جو مچھلی پانی میں مر کر تیر گئی یعنی جو بغیر مارے اپنے آپ مر کر پانی کی سطح پر اولٹ گئی وہ حرام ہے مچھلی کو مارا اور وہ مر کر اولٹی تیرنے لگی یہ حرام نہیں۔(8) (درمختار) ٹِڈِّی بھی حلال ہے۔ مچھلی اور ٹڈی یہ دونوں بغیر ذبح حلال ہیں جیسا کہ حدیث میں فرمایا کہ دو ۲ مردے حلال ہیں مچھلی اور ٹڈی۔
مسئلہ ۶: پانی کی گرمی یا سردی سے مچھلی مرگئی یا مچھلی کو ڈورے میں باندھ کر پانی میں ڈال دیا اور مرگئی یا جال میں پھنس کر مرگئی یا پانی میں کوئی ایسی چیز ڈال دی جس سے مچھلیاں مرگئیں اور یہ معلوم ہے کہ اوس چیز کے ڈالنے سے مریں یاگھڑے یا گڑھے میں مچھلی پکڑ کر ڈال دی اور اوس میں پانی تھوڑا تھا اس وجہ سے یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے مرگئی ان سب
1 ۔نوکیلے دانتوں والا۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۰۷.
3 ۔بِھڑ۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۰۸.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۰۸،وغیرھا.
6 ۔یعنی پرندہ۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۰۹.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۱۱.
صورتوں میں وہ مری ہوئی مچھلی حلال ہے۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: جھینگے کے متعلق اختلاف ہے کہ یہ مچھلی ہے یا نہیں اسی بنا پر اس کی حلت و حرمت میں بھی اختلاف ہے بظاہر اوس کی صورت مچھلی کی سی نہیں معلوم ہوتی بلکہ ایک قسم کا کیڑا معلوم ہوتا ہے لہٰذا اس سے بچنا ہی چاہیے۔
مسئلہ ۸: چھوٹی مچھلیاں بغیر شکم چاک کئے بھون لی گئیں ان کا کھانا حلال ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹: مچھلی کا پیٹ چاک کیا اوس میں موتی نکلا اگر یہ سیپ کے اندر ہے تو مچھلی والا اس کا مالک ہے۔ شکاری نے مچھلی بیچ ڈالی ہے تو وہ موتی مشتری کا ہے اور اگر موتی سیپ میں نہیں ہے تو مشتری شکاری کو دے دے اور یہ لقطہ ہے۔ اور مچھلی کے شکم میں انگوٹھی یا روپیہ یا اشرفی یا کوئی زیور ملا تو لقطہ ہے اگر یہ شخص خود محتاج و فقیر ہے تو اپنے صرف میں لاسکتا ہے(3)ورنہ تصدق کر دے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: بعض گائیں، بکریاں غلیظ کھانے لگتی ہیں ان کو جَلّالہ کہتے ہیں اس کے بدن اور گوشت وغیرہ میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے اس کو کئی دن تک باندھ رکھیں کہ نجاست نہ کھانے پائے جب بدبو جاتی رہے ذبح کر کے کھائیں اسی طرح جو مرغی غلیظ کھانے کی عادی ہو اوسے چند روز بند رکھیں جب اثر جاتا رہے ذبح کر کے کھائیں۔ جو مرغیاں چھوٹی پھرتی ہیں ان کو بندکرنا ضروری نہیں جبکہ غلیظ کھانے کی عادی نہ ہوں اور ان میں بدبو نہ ہو ہاں بہتر یہ ہے کہ ان کو بھی بند رکھ کر ذبح کریں۔(5)(عالمگیری،ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: بکرا جو خصی نہیں ہوتا وہ اکثر پیشاب پینے کا عادی ہوتا ہے اور اوس میں ایسی سخت بدبو پیدا ہو جاتی ہے کہ جس راستہ سے گزرتا ہے وہ راستہ کچھ دیر کے لیے بدبودار ہو جاتا ہے اس کا بھی حکم وہی ہے جو جلالہ کا ہے کہ اگر اس کے گوشت سے بدبو دفع ہوگئی تو کھا سکتے ہیں ورنہ مکروہ و ممنوع۔
مسئلہ ۱۲: بکری کے بچہ کو کتیا کا دودھ پلاتا رہا اس کا بھی حکم جلالہ کا ہے کہ چند روز تک اوسے باندھ کر چارہ کھلائیں کہ وہ اثر جاتا رہے۔(6) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۱۲.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۱۵.
3 ۔یعنی تشہیر کے بعد اپنے استعمال میں لا سکتا ہے۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۱۵.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبائح،الباب الثانی فی بیان مایؤکل...إلخ،ج۵،ص۲۸۹،۲۹۰.
و''ردالمحتار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۱۱.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبائح،الباب الثانی فی بیان مایؤکل...إلخ،ج۵،ص۲۹۰.
مسئلہ ۱۳: بکری سے کتے کی شکل کا بچہ پیدا ہوا اگر وہ بھونکتا ہے تو نہ کھایا جائے اور اگر اوس کی آواز بکری کی طرح ہے کھایا جاسکتا ہے اور اگر دونوں طرح آواز دیتا ہے تو اوس کے سامنے پانی رکھا جائے اگر زبان سے چاٹے کتا ہے اور مونھ سے پیے تو بکری ہے اور اگر دونوں طرح پانی پیے تو اوس کے سامنے گھاس اور گوشت دونوں چیزیں رکھیں گھاس کھائے تو بکری مگر اس کا سر کاٹ کر پھینک دیا جائے کھایا نہ جائے اور گوشت کھائے تو کتا ہے اور اگر دونوں چیزیں کھائے تو اوسے ذبح کر کے دیکھیں اوس کے پیٹ میں معدہ ہے تو کھا سکتے ہیں اور نہ ہو تو نہ کھائیں۔ (1)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۴: جانور کو ذبح کیا وہ اٹھ کر بھاگا اور پانی میں گر کر مرگیا یا اونچی جگہ سے گر کر مرگیا اوس کے کھانے میں حرج نہیں کہ اوس کی موت ذبح ہی سے ہوئی پانی میں گرنے یا لڑھکنے کا اعتبار نہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: زندہ جانور سے اگر کوئی ٹکڑا کاٹ کر جدا کر لیا گیا مثلاً دنبہ کی چکی کاٹ لی یا اونٹ کا کوہان کاٹ لیا یا کسی جانور کا پیٹ پھاڑ کر اوس کی کلیجی نکال لی یہ ٹکڑا حرام ہے۔ جدا کرنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ گوشت سے جدا ہوگیا اگرچہ ابھی چمڑا لگا ہوا ہو اور اگر گوشت سے اس کا تعلق باقی ہے تو مردار نہیں یعنی اس کے بعد اگر جانور کو ذبح کر لیا تو یہ ٹکڑا بھی کھایا جاسکتا ہے۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: جانور کو ذبح کر لیا ہے مگر ابھی اوس میں حیاۃ باقی ہے اوس کا کوئی ٹکڑا کاٹ لیا یہ حرام نہیں کہ ذبح کے بعد اوس جانور کا زندوں میں شمار نہیں اگرچہ جب تک جانور ذبح کے بعد ٹھنڈا نہ ہو جائے اوس کا کوئی عضو کاٹنا مکروہ ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: شکار پر تیر چلایا اوس کا کوئی ٹکڑا کٹ کر جدا ہوگیا اگر وہ ایسا عضو ہے کہ بغیر اوس کے جانور زندہ رہ سکتا ہے تو اوس کا کھانا حرام ہے اور اگر بغیر اوس کے زندہ نہیں رہ سکتا مثلاً سر جدا ہوگیا تو سر بھی کھایا جائے گا اور وہ جانور بھی۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: زندہ مچھلی میں سے ایک ٹکڑا کاٹ لیا یہ حلال ہے اور اس کاٹنے سے اگر مچھلی پانی میں مرگئی تو وہ بھی حلال ہے۔ (6)(ہدایہ)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبائح،الباب الثالث فی المتفرقات،ج۵،ص۲۹۰.
و''الدرالمختار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۱۸.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبائح،الباب الثالث فی المتفرقات،ج۵،ص۲۹۰.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۱۶۔۵۱۷.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۱۷.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبائح،الباب الثالث فی المتفرقات،ج۵،ص۲۹۱.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الذبائح،فصل فیمایحل أکلہ...إلخ،ج۲،ص۳۵۴.
مسئلہ ۱۹: کسی نے دوسرے سے اپنے جانور کے متعلق کہا اسے ذبح کر دو اوس نے اوس وقت ذبح نہیں کیا مالک نے وہ جانور کسی کے ہاتھ بیچ ڈالا اب اوس نے ذبح کر دیا اس کو تاوان دینا ہوگا اور جس نے اس سے ذبح کرنے کو کہا تھا تاوان کی رقم اوس سے واپس نہیں لے سکتا ذبح کرنے والے کو بیع کا علم ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں کا ایک ہی حکم ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ذبح شرعی سے اون کا گوشت اور چربی اور چمڑا پاک ہو جاتا ہے مگر خنزیر کہ اس کا ہر جز نجس ہے اور آدمی اگرچہ طاہر ہے اس کا استعمال ناجائز ہے۔ (2)(درمختار)ان جانوروں کی چربی وغیرہ کو اگر کھانے کے سوا خارجی طور پر استعمال کرنا چاہیں تو ذبح کر لیں کہ اس صورت میں اوس کے استعمال سے بدن یا کپڑا نجس نہیں ہوگا اور نجاست کے استعمال کی قباحت سے بھی بچنا ہوگا۔
مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے اور کبھی اوس جانور کو بھی اضحیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اس امت کے لیے باقی رکھی گئی اور نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا، ارشاد فرمایا:
(فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ ؕ﴿۲﴾)
(3)
''تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔''
اس کے متعلق پہلے چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں پھر فقہی مسائل بیان ہوں گے۔
حدیث ۱: ابو داود، ترمذی و ابن ماجہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''یوم النحر(دسویں ذی الحجہ)میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے)سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے لہٰذا اس کو خوش دلی سے کرو۔ ''(4)
حدیث ۲: طبرانی حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ حضور( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبائح،الباب الثالث فی المتفرقات،ج۵،ص۲۹۱.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۱۳.
3 ۔پ۳۰،الکوثر:۲.
4 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأضاحی،باب ماجاء في فضل الأضحیۃ،الحدیث:۱۴۹۸،ج۳،ص۱۶۲.
فرمایا:''جس نے خوشیِ دل سے طالب ثواب ہو کر قربانی کی وہ آتش جہنم سے حجاب (روک)ہو جائے گی۔ ''(1)
حدیث ۳: طبرانی ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:''جو روپیہ عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں۔''(2)
حدیث ۴: ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:'' جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ ''(3)
حدیث ۵: ابن ماجہ نے زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ صحابہ(رضی اللہ تعالٰی عنہم)نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ قربانیاں کیا ہیں فرمایا کہ''تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے''لوگوں نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے فرمایا:''ہر بال کے مقابل نیکی ہے عرض کی اُون کا کیا حکم ہے فرمایا:''اُون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ہے۔ ''(4)
حدیث ۶: صحیح بخاری میں براء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سب سے پہلے جو کام آج ہم کریں گے وہ یہ ہے کہ نماز پڑھیں پھر اوس کے بعد قربانی کریں گے جس نے ایسا کیا اوس نے ہماری سنت (طریقہ)کو پالیا اور جس نے پہلے ذبح کر لیا وہ گوشت ہے جو اوس نے پہلے سے اپنے گھر والوں کے لیے طیار کر لیا قربانی سے اوسے کچھ تعلق نہیں۔''ابوبردہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کھڑے ہوئے اور یہ پہلے ہی ذبح کرچکے تھے(اس خیال سے کہ پروس کے لوگ غریب تھے انھوں نے چاہا کہ اون کو گوشت مل جائے)اور عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میرے پاس بکری کا چھ ماہہ ایک بچہ ہے فرمایا:''تم اوسے ذبح کر لو اور تمہارے سوا کسی کے لیے چھ ماہہ بچہ کفایت نہیں کریگا۔ ''(5)
حدیث ۷: امام احمد وغیرہ براء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ'' آج کے دن جو کام ہم کو پہلے کرنا ہے وہ نماز ہے اوس کے بعد قربانی کرنا ہے جس نے ایسا کیا وہ ہماری سنت کو پہنچا اور جس نے پہلے ذبح کر ڈالا وہ گوشت ہے جو اوس نے اپنے گھر والوں کے لیے پہلے ہی سے کر لیا۔ نسک یعنی قربانی سے اوس کو کچھ تعلق نہیں۔ ''(6)
1 ۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۲۷۳۶،ج۳،ص۸۴.
2 ۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۰۸۹۴،ج۱۱،ص۱۴۔۱۵.
3 ۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الأضاحی،باب الأضاحی واجبۃ ھی أم لا،الحدیث:۳۱۲۳،ج۳،ص۵۲۹.
4 ۔المرجع السابق،باب ثواب الأضحیۃ،الحدیث:۳۱۲۷،ص۵۳۱.
5 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الأضاحی،باب سنۃ الأضحیۃ،الحدیث:۵۵۴۵،ج۳،ص۵۷۱.
6 ۔''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،مسند الکوفیین،حدیث البراء بن عازب،الحدیث:۱۸۷۱۵،ج۶،ص۴۴۴،وغیرہ.
حدیث ۸: امام مسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حکم فرمایا کہ'' سینگ والا مینڈھا لایا جائے جو سیاہی میں چلتا ہو اور سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں نظر کرتا ہو یعنی اوس کے پاؤں سیاہ ہوں اور پیٹ سیاہ ہو اور آنکھیں سیاہ ہوں وہ قربانی کے لیے حاضر کیا گیا حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''عائشہ چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کر لو پھر حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے چھری لی اور مینڈھے کو لٹایا اور اوسے ذبح کیا پھر فرمایا:
''بِسْمِ اللہِ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُّحَمَّدٍ.وَاٰلِ مُحَمَّدٍ.وَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ.''(1)
الٰہی تو اس کو محمد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی طرف سے اور اون کی آل اور امت کی طرف سے قبول فرما۔
حدیث ۹: امام احمد و ابو داود و ابن ماجہ و دارمی جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ''نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ذبح کے دن دو مینڈھے سینگ والے چت کبرے خصی کیے ہوئے ذبح کیے جب اون کا مونھ قبلہ کو کیا یہ پڑھا:
اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلٰی مِلَّۃِ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَا تِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ مُّحَمّدٍ وَّاُمَّتِہٖ بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَرُ.(2)
اس کو پڑھ کر ذبح فرمایا ''(3)اور ایک روایت میں ہے کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے یہ فرمایا کہ''الٰہی یہ میری طرف سے ہے اور میری امت میں اوس کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔ ''(4)
حدیث ۱۰: امام بخاری و مسلم نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے دو مینڈھے چت کبرے سینگ والوں کی قربانی کی اونھیں اپنے دست مبارک سے ذبح کیا اور
بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَر
کہا ،کہتے ہیں میں نے حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو دیکھا کہ اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا اور
بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَر
کہا۔''(5)
حدیث ۱۱: ترمذی میں حنش سے مروی وہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیکھا کہ دو مینڈھے کی قربانی
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأضاحی،باب إستحباب إستحسان الضحیۃ...إلخ،الحدیث:۱۹۔(۱۹۶۷)ص۱۰۸۷.
2 ۔میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ملت ابراہیمی پر ایک اسی کا ہو کر، اور میں مشرکوں میں نہیں ۔بے شک میری نمازاورمیری قربانیاں اورمیراجینا اور میر امرنا سب اﷲ(عزوجل) کے لئے ہے جورب(ہے) سارے جہان کا،اس کا کوئی شریک نہیں،مجھے یہی حکم ہواہے اور میں مسلمانوں میں ہوں،الٰہی یہ تیری توفیق سے ہے اور تیرے لیے ہی ہے محمد(صلَّی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اور آپ کی امت کی طرف سے،بسم اللہ واللہ اکبر۔
3 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب ما یستحب من الضحایا،الحدیث:۲۷۹۵،ج۳،ص۱۲۶.
4 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب في الشاۃ یضحی بہاعن جماعۃ، الحدیث: ۲۸۱۰،ج۳،ص۱۳۱.
5 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأضاحی،باب إستحباب إستحسان الضحیۃ...إلخ،الحدیث:۱۷(۱۹۶۶)،۱۸(۱۹۶۶) ص۱۰۸۶.
کرتے ہیں میں نے کہا یہ کیا اونھوں نے فرمایا کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی طرف سے قربانی کروں لہٰذا میں حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔ (1)
حدیث ۱۲: ابو داود و نسائی عبد اﷲبن عَمْرْورضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مجھے یوم اضحی کا حکم دیا گیا اس دن کو خدا نے اس امت کے لیے عید بنایا ایک شخص نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ بتایے اگر میرے پاس منیحہ(2) کے سوا کوئی جانور نہ ہو تو کیا اوسی کی قربانی کر دوں فرمایا:''نہیں۔ ہاں تم اپنے بال اور ناخن ترشواؤ اور مونچھیں ترشواؤ اور موئے زیر ناف کو مونڈو اسی میں تمہاری قربانی خدا کے نزدیک پوری ہو جائے گی ''(3)یعنی جس کو قربانی کی توفیق نہ ہو اوسے ان چیزوں کے کرنے سے قربانی کا ثواب حاصل ہو جائے گا۔
حدیث ۱۳: مسلم و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا :''جس نے ذی الحجہ کا چاند دیکھ لیا اور اوس کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے تو جب تک قربانی نہ کر لے بال اور ناخنوں سے نہ لے یعنی نہ ترشوائے۔ (4)
حدیث ۱۴: طبرانی عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''قربانی میں گائے سات کی طرف سے اور اونٹ سات کی طرف سے ہے۔ ''(5)
حدیث ۱۵: ابو داود و نسائی و ابن ماجہ مجاشع بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:'' بھیڑ کا جذع (چھ مہینے کا بچہ)سال بھر والی بکری کے قائم مقام ہے۔''(6)
حدیث ۱۶: امام احمد نے روایت کی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''افضل قربانی وہ ہے جو باعتبار قیمت اعلیٰ ہو اور خوب فربہ ہو۔ (7)
حدیث ۱۷: طبرانی ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے رات میں قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ (8)
1 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأضاحی،باب ماجاء في الأضحیۃ...إلخ،الحدیث:۱۵۰۰،ج۳،ص۱۶۳.
2 ۔منیحہ اوس جانور کو کہتے ہیں جو دوسرے نے اسے اس لیے دیا ہے کہ یہ کچھ دنوں اوس کے دودھ وغیرہ سے فائدہ اٹھائے پھر مالک کو واپس کردے، ۱۲ منہ۔
3 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب ماجاء في إیجاب الأضاحی،الحدیث:۲۷۸۹،ج۳،ص۱۲۳.
4 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأضاحی،باب ترک أخذ الشعرلمن أرادأن یضحّی،الحدیث:۱۵۲۸،ج۳،ص۱۷۷.
5 ۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۰۰۲۶،ج۱۰،ص۸۳.
6 ۔''سنن أبي داود''، کتاب الضحایا،باب ما یجوزمن السن في الضحایا،الحدیث:۲۷۹۹،ج۳،ص۱۲۷.
7 ۔''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،حدیث جد أبی الأشد،الحدیث:۱۵۴۹۴،ج۵،ص۲۷۹.
8 ۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۱۴۵۸،ج۱۱،ص۱۵۲.
حدیث ۱۸: امام احمد وغیرہ حضرت علی سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''چار قسم کے جانور قربانی کے لیے درست نہیں۔ ۱ کانا ؔ جس کا کانا پن ظاہر ہے اور ۲بیمارؔ جس کی بیماری ظاہر ہو اور ۳ لنگڑا ؔجس کا لنگ ظاہرہے اور ۴ ایسا لاغر ؔ جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو''(1)اسی کی مثل امام مالک و احمد و ترمذی و ابو داود و نسائی و ابن ماجہ و دارمی براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی۔
حدیث ۱۹: امام احمد و ابن ماجہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے کان کٹے ہوئے اور سینگ ٹوٹے ہوئے کی قربانی سے منع فرمایا۔(2)
حدیث ۲۰: ترمذی و ابو داود و نسائی و دارمی حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ'' ہم جانوروں کے کان اور آنکھیں غور سے دیکھ لیں اور اوس کی قربانی نہ کریں جس کے کان کا اگلا حصہ کٹا ہو اور نہ اوس کی جس کے کان کا پچھلا حصہ کٹا ہو نہ اوس کی جس کا کان پھٹا ہو یا کان میں سوراخ ہو۔'' (3)
حدیث ۲۱: امام بخاری ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم عیدگاہ میں نحر و ذبح فرماتے تھے۔ (4)
قربانی کئی قسم کی ہے۔۱غنیؔ اور فقیر دونوں پر واجب،۲فقیر ؔپر واجب ہو غنی پر واجب نہ ہو،۳غنی ؔپر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو۔ دونوں پر واجب ہو اوس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کی منت مانی یہ کہا کہ اﷲ(عزوجل)کے لیے مجھ پر بکری یا گائے کی قربانی کرنا ہے یا اس بکری یا اس گائے کو قربانی کرنا ہے۔ فقیر پر واجب ہو غنی پر نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ فقیر نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی اگر خریدتا تو اس خریدنے سے قربانی اوس پر واجب نہ ہوتی۔ غنی پر واجب ہو فقیر پرواجب نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کا وجوب نہ خریدنے سے ہو نہ منت ماننے سے بلکہ خدا نے جو اسے زندہ رکھا ہے اس کے شکریہ میں اور حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت کے اِحیا میں(5)جو قربانی واجب ہے وہ صرف غنی پر ہے۔ (6)(عالمگیری)
1 ۔''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،مسند الکوفیین،حدیث البراء بن عازب،الحدیث:۱۸۵۳۵،ج۶،ص۴۰۷،وغیرہ.
2 ۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الأضاحی،باب ما یکرہ أن یضحی بہ،الحدیث:۳۱۴۵،ج۳،ص۵۴۰.
3 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأضاحی،باب مایکرہ من الأضاحی،الحدیث:۱۵۰۳،ج۳،ص۱۶۵.
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الأضاحی،باب الأضحی والنحربالمصلّٰی،الحدیث:۵۵۵۲،ج۳،ص۵۷۳.
5 ۔ یعنی سنت ابراہیمی کو قائم رکھنے کے لیے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۹۱،۲۹۲.
مسئلہ ۱: مسافر پر قربانی واجب نہیں اگر مسافر نے قربانی کی یہ تطوّع (نفل)ہے اور فقیر نے اگر نہ منت مانی ہو نہ قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو اوس کا قربانی کرنا بھی تطوّع ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: بکری کا مالک تھا اور اوس کی قربانی کی نیت کر لی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی بعد میں نیت کر لی تو اس نیت سے قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: قربانی واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں۔ ۱ اسلا ؔ م یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں، ۲ اقا ؔ مت یعنی مقیم ہونا، مسافر پر واجب نہیں، ۳ تونگریؔ یعنی مالک نصاب ہونا یہاں مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، حر ؔ ۴ یت یعنی آزاد ہونا جو آزاد نہ ہو اوس پر قربانی واجب نہیں کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں لہٰذا عبادت مالیہ اوس پر واجب نہیں۔ مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں۔ عورتوں پر واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے اس کے لیے بلوغ شرط ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور نابالغ پر واجب ہے تو آیا خود اوس کے مال سے قربانی کی جائے گی یا اوس کا باپ اپنے مال سے قربانی کریگا۔ ظاہرالروایۃ یہ ہے کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہے اور نہ اوس کی طرف سے اوس کے باپ پر واجب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴: مسافر پر اگرچہ واجب نہیں مگر نفل کے طور پر کرے تو کرسکتا ہے ثواب پائے گا۔ حج کرنے والے جو مسافر ہوں اون پر قربانی واجب نہیں اور مقیم ہوں تو واجب ہے جیسے کہ مکہ کے رہنے والے حج کریں تو چونکہ یہ مسافر نہیں ان پر واجب ہوگی۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں بلکہ قربانی کے لیے جو وقت مقرر ہے اوس کے کسی حصہ میں شرائط کا پایا جانا وجوب کے لیے کافی ہے مثلاً ایک شخص ابتدائے وقت قربانی میں کافر تھا پھر مسلمان ہوگیا اور ابھی قربانی کاوقت باقی ہے اوس پر قربانی واجب ہے جبکہ دوسرے شرائط بھی پائے جائیں اسی طرح اگر غلام تھا اور آزاد ہوگیا اوس کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ یوہیں اول وقت میں مسافر تھا اور اثنائے وقت میں مقیم ہوگیا اس پر بھی قربانی واجب ہوگئی یا فقیر تھا اوروقت کے اندر مالدار ہوگیا اس پر بھی قربانی واجب ہے۔(5) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۹۱.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۹۱.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۴،وغیرہ.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۴.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۹۳.
مسئلہ ۶: قربانی واجب ہونے کا سبب وقت ہے جب وہ وقت آیا اور شرائط وجوب پائے گئے قربانی واجب ہوگئی اور اس کا رکن اون مخصوص جانوروں میں کسی کو قربانی کی نیت سے ذبح کرنا ہے۔ قربانی کی نیت سے دوسرے جانور مثلاً مرغ کو ذبح کرنا ناجائز ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۷: جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے ان کے سوا جو چیزیں ہوں وہ حاجت سے زائد ہیں۔(2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۸: اوس شخص پر دَین ہے اور اوس کے اموال سے دَین کی مقدارمُجرا کی جائے(3)تو نصاب نہیں باقی رہتی اوس پر قربانی واجب نہیں اور اگر اس کا مال یہاں موجود نہیں ہے اور ایامِ قربانی(4)گزرنے کے بعد وہ مال اوسے وصول ہوگا تو قربانی واجب نہیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: ایک شخص کے پاس دو سو درہم تھے سال پورا ہوا اور ان میں سے پانچ درہم زکوٰۃ میں دیے ایک سو پچانوے باقی رہے اب قربانی کا دن آیا تو قربانی واجب ہے اور اگر اپنے ضروریات میں پانچ درہم خرچ کرتا تو قربانی واجب نہ ہوتی۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مالکِ نصاب نے قربانی کے لیے بکری خریدی تھی وہ گم ہوگئی اور اس شخص کا مال نصاب سے کم ہوگیا اب قربانی کا دن آیا تو اس پر یہ ضرور نہیں کہ دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے اور اگر وہ بکری قربانی ہی کے دنوں میں مل گئی اور یہ شخص اب بھی مالک نصاب نہیں ہے تو اوس پر اس بکری کی قربانی واجب نہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: عورت کامَہر شوہر کے ذمہ باقی ہے اور شوہر مالدار ہے تو اس مَہر کی وجہ سے عورت کو مالک نصاب نہیں ماناجائے گا اگرچہ مَہر معجل ہو اور اگر عورت کے پاس اس کے سوا بقدر نصاب مال نہیں ہے تو عورت پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۰.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۹۲،وغیرہ.
3 ۔کٹوتی کی جائے ۔ 4 ۔ایامِ قربانی یعنی دس،گیارہ،بارہ(۱۲،۱۱،۱۰)ذوالحجہ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۹۲.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱۲: کسی کے پاس دو سو درہم کی قیمت کا مصحف شریف (قرآن مجید)ہے اگر وہ اوسے دیکھ کر اچھی طرح تلاوت کرسکتا ہے تو اوس پر قربانی واجب نہیں چاہے اوس میں تلاوت کرتا ہو یا نہ کرتا ہو اور اگر اچھی طرح اوسے دیکھ کر تلاوت نہ کرسکتا ہو تو واجب ہے۔ کتابوں کا بھی یہی حکم ہے کہ اوس کے کام کی ہیں تو قربانی واجب نہیں ورنہ ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: ایک مکان جاڑے کے لیے(2)اور ایک گرمی کے لیے یہ حاجت میں داخل ہے ان کے علاوہ اس کے پاس تیسرا مکان ہو جو حاجت سے زائد ہے اگر یہ دو سو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے اسی طرح گرمی جاڑے کے بچھونے حاجت میں داخل ہیں اور تیسرا بچھونا جو حاجت سے زائد ہے اوس کا اعتبار ہوگا۔ غازی کے لیے دو گھوڑے حاجت میں ہیں تیسرا حاجت سے زائد ہے۔ اسلحہ غازی کی حاجت میں داخل ہیں ہاں اگر ہر قسم کے دو ہتھیار ہوں تو دوسرے کو حاجت سے زائد قرار دیا جائے گا۔ گاؤں کے زمیندار کے پاس ایک گھوڑا حاجت میں داخل ہے اور دو ہوں تو دوسرے کو زائد مانا جائے گا۔ گھر میں پہننے کے کپڑے اور کام کاج کے وقت پہننے کے کپڑے اور جمعہ و عید اور دوسرے موقعوں پر پہن کر جانے کے کپڑے یہ سب حاجت میں داخل ہیں اور ان تین کے سوا چوتھا جوڑا اگر دو سو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے۔(3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: بالغ لڑکوں یا بی بی کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہے تو اون سے اجازت حاصل کرے بغیر اون کے کہے اگر کر دی تو اون کی طرف سے واجب ادا نہ ہوا اور نابالغ کی طرف سے اگرچہ واجب نہیں ہے مگر کر دینا بہتر ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: قربانی کا حکم یہ ہے کہ اس کے ذمہ جو قربانی واجب ہے کر لینے سے بری الذمہ ہوگیا اور اچھی نیت سے کی ہے ریا وغیرہ کی مداخلت نہیں تو اﷲ(عزوجل)کے فضل سے امید ہے کہ آخرت میں اس کا ثواب ملے۔ (5)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۶: یہ ضرورنہیں کہ دسویں ہی کو قربانی کر ڈالے اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وقت میں جب چاہے کرے لہٰذا اگر ابتدائے وقت میں اس کا اہل نہ تھا وجوب کے شرائط نہیں پائے جاتے تھے اور آخر وقت میں اہل ہوگیا یعنی وجوب کے شرائط پائے گئے تو اوس پر واجب ہوگئی اور اگر ابتدائے وقت میں واجب تھی اور ابھی کی نہیں اور آخر وقت میں شرائط جاتے رہے تو واجب نہ رہی۔(6)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۹۲،۲۹۳.
2 ۔سردی یعنی موسم سرما کے لیے۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۹۳.
و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۰.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۹۳.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۱،وغیرہ.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۹۳.
مسئلہ ۱۷: ایک شخص فقیر تھا مگر اوس نے قربانی کر ڈالی اس کے بعد ابھی وقت قربانی کا باقی تھا کہ غنی ہوگیا تو اوس کو پھر قربانی کرنی چاہیے کہ پہلے جو کی تھی وہ واجب نہ تھی اور اب واجب ہے بعض علماء نے فرمایا کہ وہ پہلی قربانی کافی ہے اور اگر باوجود مالک نصاب ہونے کے اوس نے قربانی نہ کی اور وقت ختم ہونے کے بعد فقیر ہوگیا تو اوس پر بکری کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے یعنی وقت گزرنے کے بعد قربانی ساقط نہیں ہوگی۔ اور اگر مالک نصاب بغیر قربانی کیے ہوئے انھیں دنوں میں مرگیا تو اوس کی قربانی ساقط ہوگئی۔(1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۸: قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی مثلاً بجائے قربانی اوس نے بکری یا اس کی قیمت صدقہ کر دی یہ ناکافی ہے اس میں نیابت ہوسکتی ہے یعنی خود کرنا ضرور نہیں بلکہ دوسرے کو اجازت دے دی اوس نے کر دی یہ ہوسکتا ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: جب قربانی کے شرائط مذکورہ پائے جائیں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے۔ ساتویں حصہ سے کم نہیں ہوسکتا بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکامیں اگر کسی شریک کا ساتویں حصہ سے کم ہے تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی یعنی جس کا ساتواں حصہ یا اس سے زیادہ ہے اوس کی بھی قربانی نہیں ہوئی۔ گائے یا اونٹ میں ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہوسکتی ہے۔ مثلاً گائے کو چھ یا پانچ یا چار شخصوں کی طرف سے قربانی کریں ہوسکتا ہے اور یہ ضرور نہیں کہ سب شرکا کے حصے برابر ہوں بلکہ کم و بیش بھی ہوسکتے ہیں ہاں یہ ضرورہے کہ جس کا حصہ کم ہے تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: سات شخصوں نے پانچ گایوں کی قربانی کی یہ جائز ہے کہ ہر گائے میں ہر شخص کا ساتواں حصہ ہوا اور آٹھ شخصوں نے پانچ یا چھ گایوں میں بحصہ مساوی شرکت کی یہ ناجائز ہے کہ ہر گائے میں ہر ایک کا ساتویں حصہ سے کم ہے۔ سات بکریوں کی سات شخصوں نے شریک ہو کر قربانی کی یعنی ہر ایک کا ہر بکری میں ساتواں حصہ ہے استحساناً قربانی ہو جائے گی یعنی ہر ایک کی ایک ایک بکری پوری قرار دی جائے گی۔ یوہیں دو شخصوں نے دو بکریوں میں شرکت کر کے قربانی کی تو بطور استحسان ہر ایک کی قربانی ہو جائے گی۔ (4)
مسئلہ ۲۱: شرکت میں گائے کی قربانی ہوئی تو ضرور ہے کہ گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جائے اندازہ سے تقسیم نہ ہو
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۹۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۵.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۹۳،۲۹۴.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۱۔۵۲۵.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۵.
کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو زائد یا کم ملے اور یہ ناجائز ہے یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ کم و بیش ہوگا تو ہر ایک اس کو دوسرے کے لیے جائز کر دے گا کہہ دے گا کہ اگر کسی کو زائد پہنچ گیا ہے تو معاف کیا کہ یہاں عدم جواز حق شرع ہے اور ان کو اس کے معاف کرنے کا حق نہیں۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن ، دوراتیں اور ان دنوں کو ایام نحر کہتے ہیں اور گیارہ سے تیرہ تک تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں لہٰذا بیچ کے دو دن ایام نحر وایام تشریق دونوں ہیں اور پہلا دن یعنی دسویں ذی الحجہ صرف یوم النحرہے اور پچھلا دن یعنی تیرہویں ذی الحجہ صرف یوم التشریق ہے۔(2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۳: دسویں کے بعد کی دونوں راتیں ایام نحر میں داخل ہیں ان میں بھی قربانی ہوسکتی ہے مگر رات میں ذبح کرنا مکروہ ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: پہلا دن یعنی دسویں تاریخ سب میں افضل ہے پھر گیارہویں اور پچھلا دن یعنی بارہویں سب میں کم درجہ ہے اور اگر تاریخوں میں شک ہو یعنی تیس کا چاند مانا گیا ہے اور اونتیس کے ہونے کا بھی شبہہ ہے مثلاً گمان تھا کہ اونتیس کا چاند ہوگا مگر ابر وغیرہ کی وجہ سے نہ دکھایا شہادتیں گزریں مگر کسی وجہ سے قبول نہ ہوئیں ایسی حالت میں دسویں کے متعلق یہ شبہہ ہے کہ شاید آج گیارہویں ہو تو بہتر یہ ہے کہ قربانی کو بارہویں تک مؤخر نہ کرے یعنی بارہویں سے پہلے کر ڈالے کیونکہ بارہویں کے متعلق تیرہویں تاریخ ہونے کا شبہہ ہوگا تو یہ شبہہ ہوگا کہ وقت سے بعد میں ہوئی اور اس صورت میں اگر بارہویں کو قربانی کی جس کے متعلق تیرہویں ہونے کا شبہہ ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت صدقہ کر ڈالے بلکہ ذبح کی ہوئی بکری اور زندہ بکری میں قیمت کا تفاوت ہو کہ زندہ کی قیمت کچھ زائد ہو تو اس زیادتی کو بھی صدقہ کر دے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: ایام نحر میں قربانی کرنا اوتنی قیمت کے صدقہ کرنے سے افضل ہے کیونکہ قربانی واجب ہے یا سنت اور صدقہ کرنا تطوّع محض ہے(5)لہٰذا قربانی افضل ہوئی۔(6)(عالمگیری)اور وجوب کی صورت میں بغیر قربانی کیے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔(7)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۷.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۰و۵۲۷۔۵۲۹،وغیرہ.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الثالث فی وقت الأضحیۃ،ج۵،ص۲۹۵.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔یعنی نفلی عبادت ہے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الثالث فی وقت الأضحیۃ،ج۵،ص۲۹۵.
7 ۔یعنی واجب ادانہیں ہوسکتا۔
مسئلہ ۲۶: شہر میں قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز ہوچکے لہٰذا نماز عید سے پہلے شہر میں قربانی نہیں ہوسکتی اور دیہات میں چونکہ نماز عید نہیں ہے یہاں طلوع فجر کے بعد سے ہی قربانی ہوسکتی ہے اور دیہات میں بہتر یہ ہے کہ بعد طلوع آفتاب قربانی کی جائے اور شہر میں بہتر یہ ہے کہ عید کا خطبہ ہوچکنے کے بعد قربانی کی جائے۔(1) (عالمگیری)یعنی نماز ہوچکی ہے اور ابھی خطبہ نہیں ہوا ہے اس صورت میں قربانی ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔
مسئلہ ۲۷: یہ جو شہر و دیہات کا فرق بتایا گیا یہ مقام قربانی کے لحاظ سے ہے قربانی کرنے والے کے اعتبار سے نہیں یعنی دیہات میں قربانی ہو تو وہ وقت ہے اگرچہ قربانی کرنے والا شہر میں ہو اور شہر میں ہو تو نماز کے بعد ہو اگرچہ جس کی طرف سے قربانی ہے وہ دیہات میں ہو لہٰذا شہری آدمی اگر یہ چاہتا ہے کہ صبح ہی نماز سے پہلے قربانی ہو جائے تو جانور دیہات میں بھیج دے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: اگر شہر میں متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو تو پہلی جگہ نماز ہوچکنے کے بعد قربانی جائز ہے یعنی یہ ضرور نہیں کہ عیدگاہ میں نماز ہو جائے جب ہی قربانی کی جائے بلکہ کسی مسجد میں ہوگئی اور عیدگاہ میں نہ ہوئی جب بھی ہوسکتی ہے۔(3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: دسویں کو اگر عید کی نماز نہیں ہوئی تو قربانی کے لیے یہ ضرور ہے کہ وقت نماز جاتا رہے یعنی زوال کا وقت آجائے اب قربانی ہوسکتی ہے اور دوسرے یا تیسرے دن نماز عید سے قبل ہوسکتی ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۰: منےٰ میں چونکہ عید کی نماز نہیں ہوتی لہٰذا وہاں جو قربانی کرنا چاہے طلوع فجر کے بعد سے کرسکتا ہے اوس کے لیے وہی حکم ہے جو دیہات کا ہے کسی شہر میں اگر فتنہ کی وجہ سے نماز عید نہ ہو تو وہاں دسویں کی طلوع فجر کے بعد قربانی ہوسکتی ہے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: امام ابھی نماز ہی میں ہے اور کسی نے جانور ذبح کر لیا اگرچہ امام قعدہ میں ہو اور بقدر تشہد بیٹھ چکا ہو مگر ابھی سلام نہ پھیرا ہو تو قربانی نہیں ہوئی اور اگر امام نے ایک طرف سلام پھیر لیاہے دوسری طرف باقی تھا کہ اس نے ذبح کر دیا قربانی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الثالث فی وقت الأضحیۃ،ج۵،ص۲۹۵.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۹.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۷،۵۲۸.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۳۰.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۸،۵۳۰.
ہوگئی اور بہتر یہ ہے کہ خطبہ سے جب امام فارغ ہو جائے اوس وقت قربانی کی جائے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: امام نے نماز پڑھ لی اس کے بعد قربانی ہوئی پھر معلوم ہوا کہ امام نے بغیر وضو نماز پڑھا دی تو نماز کااعادہ کیا جائے قربانی کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳۳: یہ گمان تھا کہ آج عرفہ کا دن (3)ہے اور کسی نے زوال آفتاب کے بعد قربانی کر لی پھر معلوم ہوا کہ عرفہ کا دن نہ تھا بلکہ دسویں تاریخ تھی تو قربانی جائز ہوگئی۔ یوہیں اگر دسویں کو نماز عید سے پہلے قربانی کر لی پھر معلوم ہوا کہ وہ دسویں نہ تھی بلکہ گیارہویں تھی تو اس کی بھی قربانی جائز ہوگئی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: نویں کے متعلق کچھ لوگوں نے گواہی دی کہ دسویں ہے اس بناپر اوسی روز نماز پڑھ کر قربانی کی پھر معلوم ہوا کہ گواہی غلط تھی وہ نویں تاریخ تھی تو نماز بھی ہوگئی اور قربانی بھی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۳۵: ایامِ نحر گزر گئے اور جس پر قربانی واجب تھی اوس نے نہیں کی ہے تو قربانی فوت ہوگئی اب نہیں ہوسکتی پھر اگر اوس نے قربانی کا جانور معین کر رکھا ہے مثلاً معین جانور کے قربانی کی منت مان لی ہے وہ شخص غنی ہو یا فقیر بہرصورت اوسی معین جانور کو زندہ صدقہ کرے اور اگر ذبح کر ڈالا تو سارا گوشت صدقہ کرے اوس میں سے کچھ نہ کھائے اور اگر کچھ کھا لیا ہے تو جتنا کھایا ہے اوس کی قیمت صدقہ کرے اور اگر ذبح کیے ہوئے جانور کی قیمت زندہ جانور سے کچھ کم ہے تو جتنی کمی ہے اوسے بھی صدقہ کرے اور فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہے اور قربانی کے دن نکل گئے چونکہ اس پر بھی اسی معین جانور کی قربانی واجب ہے لہٰذااس جانور کو زندہ صدقہ کر دے اور اگر ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو منت میں مذکور ہوا۔ یہ حکم اوسی صورت میں ہے کہ قربانی ہی کے لیے خریدا ہو اور اگر اوس کے پاس پہلے سے کوئی جانور تھا اور اوس نے اوس کے قربانی کرنے کی نیت کر لی یا خریدنے کے بعد قربانی کی نیت کی تو اوس پر قربانی واجب نہ ہوئی۔ اور غنی نے قربانی کے لیے جانور خرید لیا ہے تو وہی جانور صدقہ کر دے اور ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو مذکور ہوا اور خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے۔(6) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الثالث فی وقت الأضحیۃ،ج۵،ص۲۹۵.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۹.
3 ۔یعنی نویں ذی الحجہ کا دن۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الثالث فی وقت الأضحیۃ،ج۵،ص۲۹۵.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۳۰.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۳۱.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الرابع فیما یتعلق بالمکان والزمان،ج۵،ص۲۹۶.
مسئلہ ۳۶: قربانی کے دن گزر گئے اور اوس نے قربانی نہیں کی اور جانور یا اوس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں کیا یہاں تک کہ دوسری بقر عید آگئی اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کر لے یہ نہیں ہوسکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اوس کی قیمت صدقہ کرے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: جس جانور کی قربانی واجب تھی ایامِ نحر گزرنے کے بعد اوسے بیچ ڈالا تو ثمن کا صدقہ کرنا واجب ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: کسی شخص نے یہ وصیت کی کہ اوس کی طرف سے قربانی کر دی جائے اور یہ نہیں بتایا کہ گائے یا بکری کس جانور کی قربانی کی جائے اور نہ قیمت بیان کی کہ اتنے کا جانور خرید کر قربانی کی جائے یہ وصیت جائز ہے اور بکری قربان کر دینے سے وصیت پوری ہوگئی اور اگر کسی کو وکیل کیا کہ میری طرف سے قربانی کر دینا اور گائے یا بکری کا تعین نہ کیا اور قیمت بھی بیان نہیں کی تو یہ توکیل صحیح نہیں۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: قربانی کی منت مانی اور یہ معین نہیں کیا کہ گائے کی قربانی کریگا یا بکری کی تو منت صحیح ہے بکری کی قربانی کر دینا کافی ہے اور اگر بکری کی قربانی کی منت مانی تو اونٹ یا گائے قربانی کر دینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی منت کی قربانی میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کر دے اور کچھ کھا لیا تو جتنا کھایا اوس کی قیمت صدقہ کرے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں۔ ۱ اونٹؔ ،۲ گائےؔ ،۳ بکریؔ ہرقسم میں اوس کی جتنی نوعیں ہیں سب داخل ہیں نراور مادہ ،خصی(5)اور غیر خصی سب کا ایک حکم ہے یعنی سب کی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھینس گائے میں شمار ہے اس کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھیڑ اور دنبہ بکری میں داخل ہیں ان کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔(6) (عالمگیری وغیرہ)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الرابع فیما یتعلق بالمکان والزمان،ج۵،ص۲۹۶،۲۹۷.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۹۷. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الثانی فی وجوب الأضحیۃ...إلخ،ج۵،ص۲۹۵.
5 ۔وہ جانور جس کے فوطے نکال دیئے گئے ہوں۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل اقامۃالواجب،ج۵،ص۲۹۷،وغیرہ.
مسئلہ ۲: وحشی جانور جیسے نیل گائے اور ہرن ان کی قربانی نہیں ہوسکتی وحشی اور گھریلو جانور سے مل کر بچہ پیدا ہوا مثلاً ہرن اور بکری سے اس میں ماں کا اعتبار ہے یعنی اوس بچہ کی ماں بکری ہے تو جائز ہے اور بکرے اور ہرنی سے پیدا ہے تو ناجائز۔(1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: قربانی کے جانور کی عمر یہ ہونی چاہیے اونٹ پانچ سال کا گائے دو سال کی بکری ایک سال کی اس سے عمر کم ہو تو قربانی جائز نہیں زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہہ بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اوس کی قربانی جائز ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۴: بکری کی قیمت اور گوشت اگر گائے کے ساتویں حصہ کی برابر ہو تو بکری افضل ہے اور گائے کے ساتویں حصہ میں بکری سے زیادہ گوشت ہو تو گائے افضل ہے یعنی جب دونوں کی ایک ہی قیمت ہو اور مقدار بھی ایک ہی ہو تو جس کا گوشت اچھا ہو وہ افضل ہے اور اگر گوشت کی مقدار میں فرق ہو تو جس میں گوشت زیادہ ہو وہ افضل ہے اور مینڈھا بھیڑ سے اور دنبہ دنبی سے افضل ہے جبکہ دونوں کی ایک قیمت ہو اور دونوں میں گوشت برابر ہو۔ بکری بکرے سے افضل ہے مگر خصی بکرا بکری سے افضل ہے اور اونٹنی اونٹ سے اور گائے بیل سے افضل ہے جبکہ گوشت اور قیمت میں برابر ہوں۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی اور زیادہ عیب ہو تو ہوگی ہی نہیں۔ جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں اوس کی قربانی جائز ہے اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گیا اور مینگ تک(4)ٹوٹا ہے تو ناجائز ہے اس سے کم ٹوٹا ہے تو جائز ہے۔ جس جانور میں جنوں ہے اگر اس حد کا ہے کہ وہ جانور چرتا بھی نہیں ہے تو اوس کی قربانی ناجائز ہے اور اس حد کا نہیں ہے تو جائز ہے۔ خصی یعنی جس کے خصیے نکال لیے گئے ہیں یا مجبوب یعنی جس کے خصیے اور عضو تناسل سب کاٹ لیے گئے ہوں ان کی قربانی جائز ہے۔ اتنا بوڑھا کہ بچہ کے قابل نہ رہا یا داغا ہوا جانور یا جس کے دودھ نہ اوترتا ہو ان سب کی قربانی جائز ہے۔ خارشتی جانور کی قربانی جائز ہے جبکہ فربہ(5)ہو اور اتنا لاغر ہو کہ ہڈی میں مغز نہ رہا تو قربانی جائز نہیں۔ (6)(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب،ج۵،ص۲۹۷.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۳۳.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۳۴.
4 ۔ یعنی جڑ تک ۔ 5 ۔موٹا،صحت مند۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۳۵.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب،ج۵،ص۲۹۷.
مسئلہ ۶: بھینگے جانور کی قربانی جائز ہے۔ اندھے جانور کی قربانی جائز نہیں اور کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو اس کی بھی قربانی ناجائز۔ اتنا لاغر جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو اور لنگڑا جو قربان گاہ تک(1)اپنے پاؤں سے نہ جاسکے اور اتنا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو اور جس کے کان یا دم یا چکی(2)کٹے ہوں یعنی وہ عضو تہائی سے زیادہ کٹا ہو ان سب کی قربانی ناجائز ہے اور اگر کان یا دم یا چکی تہائی یا اس سے کم کٹی ہو تو جائز ہے جس جانور کے پیدائشی کان نہ ہوں یا ایک کان نہ ہو اوس کی ناجائز ہے اور جس کے کان چھوٹے ہوں اوس کی جائز ہے۔ جس جانور کی تہائی سے زیادہ نظر جاتی رہی اوس کی بھی قربانی ناجائز ہے اگر دونوں آنکھوں کی روشنی کم ہو تو اس کا پہچاننا آسان ہے اور صرف ایک آنکھ کی کم ہو تو اس کے پہچاننے کا طریقہ یہ ہے کہ جانور کو ایک دو دن بھوکا رکھا جائے پھر اوس آنکھ پر پٹی باندھ دی جائے جس کی روشنی کم ہے اور اچھی آنکھ کھلی رکھی جائے اور اتنی دور چارہ رکھیں جس کو جانور نہ دیکھے پھر چارہ کو نزدیک لاتے جائیں جس جگہ وہ چارے کو دیکھنے لگے وہاں نشان رکھ دیں پھر اچھی آنکھ پر پٹی باندھ دیں اور دوسری کھول دیں اور چارہ کو قریب کرتے جائیں جس جگہ اس آنکھ سے دیکھ لے یہاں بھی نشان کر دیں پھر دونوں جگہوں کی پیمائش کریں اگر یہ جگہ اوس پہلی جگہ کی تہائی ہے تو معلوم ہوا کہ تہائی روشنی کم ہے اور اگر نصف ہے تو معلوم ہوا کہ بہ نسبت اچھی آنکھ کی اس کی روشنی آدھی ہے۔(3) (ہدایہ، درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۷: جس کے دانت نہ ہوں(4)یاجس کے تھن کٹے ہوں یا خشک ہوں اوس کی قربانی ناجائز ہے بکری میں ایک کا خشک ہونا ناجائز ہونے کے لیے کافی ہے اور گائے بھینس میں دو خشک ہوں تو ناجائز ہے۔ جس کی ناک کٹی ہو یا علاج کے ذریعہ اوس کا دودھ خشک کر دیا ہو اورخنثٰی جانور یعنی جس میں نر و مادہ دونوں کی علامتیں ہوں اور جلّالہ جو صرف غلیظ کھاتا ہو ان سب کی قربانی ناجائز ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۸: بھیڑ یا دنبہ کی اون کاٹ لی گئی ہو اس کی قربانی جائز ہے اور جس جانور کا ایک پاؤں کاٹ لیا گیا ہو اوس کی قربانی ناجائز ہے۔ (6)(عالمگیری)
1 ۔ ذبح کرنے کی جگہ تک۔ 2 ۔دنبے کی گول چپٹی دم۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الأضحیۃ،ج۲،ص۳۵۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۳۵۔۵۳۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب،ج۵،ص۲۹۷۔۲۹۸.
4 ۔یعنی ایساجانورجوگھاس کھانے کی صلاحیت نہ رکھتاہو،ہاں البتہ اگرگھاس کھانے کی صلاحیت رکھتاہوتواس کی قربانی جائزہے جیساکہ
بحرالرائق،ج۸،ص۳۲۳، الھدایۃ،ج۲،ص۳۵۹، تبیین الحقائق،ج۶،ص۴۸۱، الفتاوی الخانیۃ،ج۲،ص۳۳۴، الفتاوی الھندیۃ،ج۵،ص۲۹۸ پرمذکورہے...علمیہ
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۳۷.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب،ج۵،ص۲۹۸،۲۹۹.
مسئلہ ۹: جانور کو جس وقت خریدا تھا اوس وقت اوس میں ایسا عیب نہ تھا جس کی وجہ سے قربانی ناجائز ہوتی ہے بعد میں وہ عیب پیدا ہوگیا تو اگر وہ شخص مالک نصاب ہے تو دوسرے جانور کی قربانی کرے اور مالک نصاب نہیں ہے تو اوسی کی قربانی کر لے یہ اوس وقت ہے کہ اوس فقیر نے پہلے سے اپنے ذمہ قربانی واجب نہ کی ہو اور اگر اوس نے منت مانی ہے کہ بکری کی قربانی کروں گا اور منت پوری کرنے کے لیے بکری خریدی اوس وقت بکری میں ایسا عیب نہ تھا پھر پیدا ہوگیا اس صورت میں فقیر کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ دوسرے جانور کی قربانی کرے۔(1) (ہدایہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: فقیر نے جس وقت جانور خریدا تھا اوسی وقت اوس میں ایسا عیب تھا جس سے قربانی ناجائز ہوتی ہے اور وہ عیب قربانی کے وقت تک باقی رہا تو اس کی قربانی کرسکتا ہے اور غنی عیب دار خریدے اور عیب دار ہی کی قربانی کرے تو ناجائز ہے اور اگر عیبی جانور کو خریدا تھا اور بعد میں اوس کا عیب جاتا رہا تو غنی اور فقیر دونوں کے لیے اوس کی قربانی جائز ہے مثلاً ایسا لاغر جانور خریدا جس کی قربانی ناجائز ہے اور اوس کے یہاں وہ فربہ ہوگیا تو غنی بھی اس کی قربانی کرسکتا ہے۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: قربانی کرتے وقت جانور اوچھلا کودا جس کی وجہ سے عیب پیدا ہوگیا یہ عیب مضر نہیں یعنی قربانی ہو جائے گی اور اگر اوچھلنے کودنے سے عیب پیدا ہوگیا اور وہ چھوٹ کر بھاگ گیا اور فوراً پکڑ لایا گیا اور ذبح کر دیا گیا جب بھی قربانی ہو جائے گی۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: قربانی کا جانور مر گیا تو غنی پر لازم ہے کہ دوسرے جانور کی قربانی کرے اور فقیر کے ذمہ دوسرا جانور واجب نہیں اور اگر قربانی کا جانور گم ہوگیا یا چوری ہوگیا اور اوس کی جگہ دوسرا جانور خرید لیا اب وہ مل گیا تو غنی کو اختیار ہے کہ دونوں میں جس ایک کو چاہے قربانی کرے اور فقیر پر واجب ہے کہ دونوں کی قربانیاں کرے۔ (4)(درمختار) مگر غنی نے اگر پہلے جانور کی قربانی کی تو اگرچہ اس کی قیمت دوسرے سے کم ہو کوئی حرج نہیں اور اگر دوسرے کی قربانی کی اور اس کی قیمت پہلے سے کم ہے تو جتنی کمی ہے اوتنی رقم صدقہ کرے ہاں اگر پہلے کو بھی قربان کر دیا تو اب وہ تصد ق (5)واجب نہ رہا۔ (6)(ردالمحتار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الأضحیۃ،ج۲،ص۳۵۹.
و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۳۹.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۳۹.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۳۹.
5 ۔صدقہ کرنا۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۳۹.
مسئلہ ۱۳: سات شخصوں نے قربانی کے لیے گائے خریدی تھی ان میں ایک کا انتقال ہوگیا اس کے ورثہ نے شرکا سے یہ کہہ دیا کہ تم اس گائے کو اپنی طرف سے اور اوس کی طرف سے قربانی کرو اونھوں نے کر لی تو سب کی قربانیاں جائز ہیں اور اگر بغیر اجازت ورثہ ان شرکا نے کی تو کسی کی نہ ہوئی۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۴: گائے کے شرکا میں سے ایک کافر ہے یا ان میں ایک شخص کا مقصود قربانی نہیں ہے بلکہ گوشت حاصل کرنا ہے تو کسی کی قربانی نہ ہوئی بلکہ اگر شرکا میں سے کوئی غلام یا مدبر ہے جب بھی قربانی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ لوگ اگر قربانی کی نیت بھی کریں تو نیت صحیح نہیں۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: شرکا میں سے ایک کی نیت اس سال کی قربانی ہے اور باقیوں کی نیت سال گزشتہ کی قربانی ہے تو جس کی اس سال کی نیت ہے اوس کی قربانی صحیح ہے اور باقیوں کی نیت باطل کیونکہ سال گزشتہ کی قربانی اس سال نہیں ہوسکتی ان لوگوں کی یہ قربانی تطوّع یعنی نفل ہوئی اور ان لوگوں پر لازم ہے کہ گوشت کو صدقہ کر دیں بلکہ ان کا ساتھی جس کی قربانی صحیح ہوئی ہے وہ بھی گوشت صدقہ کر دے۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: قربانی کے سب شرکا کی نیت تقَرُّب ہو(4)اس کا یہ مطلب ہے کہ کسی کا ارادہ گوشت نہ ہو اور یہ ضرور نہیں کہ وہ تقرب ایک ہی قسم کا ہو مثلاً سب قربانی ہی کرنا چاہتے ہیں بلکہ اگر مختلف قسم کے تقرب ہوں وہ تقرب سب پر واجب ہو یا کسی پر واجب ہو اور کسی پر واجب نہ ہو ہر صورت میں قربانی جائز ہے مثلاًدَمِ اِحصار اور احرام میں شکار کرنے کی جزا اور سر منڈانے کی وجہ سے دَم واجب ہوا ہو اورتمتع و قران کادَم(5)کہ ان سب کے ساتھ قربانی کی شرکت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح قربانی اور عقیقہ کی بھی شرکت ہوسکتی ہے کہ عقیقہ بھی تقرب کی ایک صورت ہے۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: تین شخصوں نے قربانی کے جانور خریدے ایک نے دس کا دوسرے نے بیس کا تیسرے نے تیس کا اور ہر ایک نے جتنے میں خریدا ہے اوس کی واجبی قیمت بھی اوتنی ہی ہے یہ تینوں جانور مل گئے یہ پتا نہیں چلتا کہ کس کا کون ہے تینوں نے
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الأضحیۃ،ج۲،ص۳۶۰.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۰.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۰.
4 ۔یعنی اﷲتعالیٰ کاحق اداکرنا مقصود ہو۔ 5 ۔یعنی حج تمتع اور حج قران کادم،تفصیل کے لیے بہارشریعت ،ج۱،حصہ۶ ملاحظہ فرمائیں۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۰.
یہ اتفاق کر لیا کہ ایک ایک جانور ہر شخص قربانی کرے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا سب کی قربانیاں ہوگئیں مگر جس نے تیس میں خریدا تھا وہ بیس روپے خیرات کرے کیوں کہ ممکن ہے کہ دس والے کو اوس نے قربانی کیا ہو اور جس نے بیس میں خریدا تھا وہ دس روپے خیرات کرے اور جس نے دس میں خریداتھا اوس پر کچھ صدقہ کرنا واجب نہیں اور اگر ہر ایک نے دوسرے کو ذبح کرنے کی اجازت دے دی تو قربانی ہو جائے گی اور اوس پر کچھ واجب نہ ہوگا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور خوب فربہ اور خوبصورت اور بڑا ہو اور بکری کی قسم میں سے قربانی کرنی ہو تو بہتر سینگ والا مینڈھا چت کبرا ہو(2) جس کے خصیے کوٹ کر خصی کر دیا ہو کہ حدیث میں ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایسے مینڈھے کی قربانی کی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: ذبح کرنے سے پہلے چھری کو تیز کر لیا جائے اور ذبح کے بعد جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے اوس کے تمام اعضا سے روح نکل نہ جائے اوس وقت تک ہاتھ پاؤں نہ کاٹیں اور نہ چمڑا اوتاریں اور بہتر یہ ہے کہ اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے کرے اگر اچھی طرح ذبح کرنا جانتا ہو اور اگر اچھی طرح نہ جانتا ہو تو دوسرے کو حکم دے وہ ذبح کرے مگر اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ وقت قربانی حاضر ہو حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا :''کھڑی ہوجاؤ اور اپنی قربانی کے پاس حاضر ہو جاؤ کہ اوس کے خون کے پہلے ہی قطرہ میں جو کچھ گناہ کیے ہیں سب کی مغفرت ہوجائے گی اس پر ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی یا نبی اﷲ(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ آپ کی آل کے لیے خاص ہے یاآپ کی آل کے لیے بھی ہے اور عامہ مسلمین کے لیے بھی فرمایا کہ میری آل کے لیے خاص بھی ہے اور تمام مسلمین کے لیے عام بھی ہے۔ (4)(عالمگیری، زیلعی، شلبیہ)
مسئلہ ۲۰: قربانی کا جانور مسلمان سے ذبح کرانا چاہیے اگر کسی مجوسی یا دوسرے مشرک سے قربانی کا جانور ذبح کرادیا تو قربانی نہیں ہوئی بلکہ یہ جانور حرام و مردار ہے اور کتابی سے قربانی کا جانور ذبح کرانا مکروہ ہے کہ قربانی سے مقصود
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۱.
2 ۔یعنی سفید وسیاہ رنگ والا ہو۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب،ج۵،ص۳۰۰.
و''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب مایستحب من الضحایا،الحدیث:۲۷۹۵،ج۳،ص۱۲۶.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب،ج۵،ص۳۰۰.
و''تبیین الحقائق''،کتاب الأضحیۃ،ج۶،ص۴۸۷.
و''حاشیۃ الشلبیۃ''ھامش علی''تبیین الحقائق''،کتاب الأضحیۃ،ج۶،ص۴۸۷.
تَقَرُّب اِلَی اﷲ
ہے(1)اس میں کافر سے مدد نہ لی جائے بلکہ بعض ائمہ کے نزدیک اس صورت میں بھی قربانی نہیں ہوگی مگر ہمارا مذہب وہی پہلا ہے کہ قربانی ہو جائے گی اور مکروہ ہے۔ (2)(زیلعی، شلبیہ)
مسئلہ ۲۱: قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسرے شخص غنی یا فقیر کو دے سکتا ہے کھلا سکتا ہے بلکہ اوس میں سے کچھ کھا لینا قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے۔ بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرے ایک حصہ فقرا کے لیے اور ایک حصہ دوست و احباب کے لیے اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے، ایک تہائی سے کم صدقہ نہ کرے۔ اور کل کو صدقہ کر دینا بھی جائز ہے اور کل گھر ہی رکھ لے یہ بھی جائز ہے۔ تین دن سے زائد اپنے اور گھر والوں کے کھانے کے لیے رکھ لینا بھی جائز ہے اور بعض حدیثوں میں جو اس کی ممانعت آئی ہے وہ منسوخ ہے اگر اوس شخص کے اہل و عیال بہت ہوں اور صاحب وسعت نہیں ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت اپنے بال بچوں ہی کے لیے رکھ چھوڑے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: قربانی کا گوشت کافر کو نہ دے کہ یہاں کے کفار حربی ہیں۔
مسئلہ ۲۳: قربانی اگر منت کی ہے تو اوس کا گوشت نہ خود کھاسکتا ہے نہ اغنیا کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے وہ منت ماننے والا فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ خود نہیں کھا سکتا ہے نہ غنی کو کھلا سکتا ہے۔ (4)(زیلعی)
مسئلہ ۲۴: میت کی طرف سے قربانی کی تو اوس کے گوشت کا بھی وہی حکم ہے کہ خود کھائے دوست احباب کو دے فقیروں کو دے یہ ضرور نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے کیوں کہ گوشت اس کی مِلک ہے یہ سب کچھ کرسکتا ہے اور اگر میت نے کہہ دیا ہے کہ میری طرف سے قربانی کر دینا تو اس میں سے نہ کھائے بلکہ کل گوشت صدقہ کر دے۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: قربانی کا چمڑا اور اوس کی جھول(6)اور رسّی اور اوس کے گلے میں ہار ڈالا ہے وہ ہار ان سب چیزوں کوصدقہ کردے۔ قربانی کے چمڑے کو خود بھی اپنے کام میں لاسکتا ہے یعنی اوس کو باقی رکھتے ہوئے اپنے کسی کام میں لاسکتا ہے
1 ۔یعنی اﷲ عزوجلکی رضاحاصل کرنا ہے۔
2 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الأضحیۃ،ج۶،ص۴۸۷.
و''حاشیۃ الشلبیۃ''ھامش علی''تبیین الحقائق''،کتاب الأضحیۃ،ج۶،ص۴۸۷.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب،ج۵،ص۳۰۰.
4 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الأضحیۃ،ج۶،ص۴۸۶.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۲.
6 ۔قربانی کے جانوروں پر ڈالنے والا کپڑا۔
مثلاً اوس کی جانماز بنائے، چلنی(1)، تھیلی، مشکیزہ، دسترخوان، ڈول وغیرہ بنائے یا کتابوں کی جلدوں میں لگائے یہ سب کر سکتاہے۔ (2)(درمختار)چمڑے کا ڈول بنایا تو اسے اپنے کام میں لائے اُجرت پر نہ دے اور اگر اُجرت پر دے دیا تو اس اُجرت کو صدقہ کرے۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: قربانی کے چمڑے کو ایسی چیزوں سے بدل سکتا ہے جس کو باقی رکھتے ہوئے اوس سے نفع اٹھایا جائے جیسے کتاب، ایسی چیز سے بدل نہیں سکتا جس کو ہلاک کر کے نفع حاصل کیا جاتا ہو جیسے روٹی، گوشت، سرکہ، روپیہ، پیسہ اور اگر اوس نے ان چیزوں کو چمڑے کے عوض میں حاصل کیا تو ان چیزوں کو صدقہ کر دے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: اگر قربانی کی کھال کو روپے کے عوض میں بیچا مگر اس لیے نہیں کہ اوس کو اپنی ذات پر یا بال بچوں پر صرف کریگا بلکہ اس لیے کہ اوسے صدقہ کر دے گا تو جائز ہے۔(5) (عالمگیری)جیسا کہ آج کل اکثر لوگ کھال مدارس دینیہ میں دیا کرتے ہیں اور بعض مرتبہ وہاں کھال بھیجنے میں دقت ہوتی ہے اوسے بیچ کر روپیہ بھیج دیتے ہیں یا کئی شخصوں کو دینا ہوتا ہے اوسے بیچ کر دام ان فقرا پر تقسیم کر دیتے ہیں یہ بیع جائز ہے اس میں حرج نہیں اور حدیث میں جو اس کے بیچنے کی ممانعت آئی ہے اس سے مراد اپنے لیے بیچنا ہے۔
مسئلہ ۲۸: گوشت کا بھی وہی حکم ہے جو چمڑے کا ہے کہ اس کو اگر ایسی چیز کے بدلے میں بیچا جس کو ہلاک کر کے نفع حاصل کیا جائے تو صدقہ کر دے۔ (6)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۹: قربانی کی چربی اور اوس کی سری، پائے اور اون اور دودھ جو ذبح کے بعد دوہا ہے ان سب کا وہی حکم ہے کہ اگر ایسی چیز اس کے عوض میں لی جس کو ہلاک کر کے نفع حاصل کریگا تو اوس کو صدقہ کر دے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: قربانی کا چمڑا یا گوشت یا اس میں کی کوئی چیز قصاب یا ذبح کرنے والے کو اُجرت میں نہیں دے سکتا کہ اس کو اُجرت میں دینا بھی بیچنے ہی کے معنی میں ہے۔ (8)(ہدایہ)
1 ۔آٹا وغیرہ چھاننے کا آلہ،چھلنی۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۳.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۴.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۳.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب السادس فی بیان ما یستحب...إلخ،ج۵،ص۳۰۱.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الأضحیۃ،ج۲،ص۳۶۰.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب السادس فی بیان ما یستحب...إلخ،ج۵،ص۳۰۱.
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب الأضحیۃ،ج۲،ص۳۶۱.
مسئلہ ۳۱: قصاب کو اُجرت میں نہیں دیا بلکہ جیسے دوسرے مسلمانوں کو دیتا ہے اس کو بھی دیا اور اُجرت اپنے پاس سے دوسری چیز دے گا تو جائز ہے۔
مسئلہ ۳۲: بھیڑ کے کسی جگہ کے بال نشانی کے لیے کاٹ لیے ہیں ان بالوں کو پھینک دینا یا کسی کو ہبہ کر دینا ناجائز ہے بلکہ انھیں صدقہ کرے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: ذبح سے پہلے قربانی کے جانور کے بال اپنے کسی کام کے لیے کاٹ لینا یا اوس کا دودھ دوہنا مکروہ و ممنوع ہے اور قربانی کے جانور پر سوار ہونا یا اوس پر کوئی چیز لادنا یا اوس کو اُجرت پر دینا غرض اوس سے منافع حاصل کرنا منع ہے اگر اوس نے اون کاٹ لی یا دودھ دوہ لیا تو اوسے صدقہ کر دے اور اُجرت پر جانور کو دیا ہے تو اُجرت کو صدقہ کرے اور اگر خود سوار ہوا یا اوس پر کوئی چیز لادی تواس کی وجہ سے جانور میں جو کچھ کمی آئی اوتنی مقدار میں صدقہ کرے۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: جانور دودھ والا ہے تو اوس کے تھن پر ٹھنڈا پانی چھڑکے کہ دودھ خشک ہو جائے اگر اس سے کام نہ چلے توجانور کو دوہ کر دودھ صدقہ کرے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: جانور ذبح ہوگیا تو اب اوس کے بال کو اپنے کام کے لیے کاٹ سکتا ہے اور اگر اوس کے تھن میں دودھ ہے تو دوہ سکتا ہے کہ جو مقصود تھا وہ پورا ہوگیا اب یہ اس کی مِلک ہے اپنے صرف میں لاسکتا ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: قربانی کے لیے جانور خریدا تھا قربانی کرنے سے پہلے اوس کے بچہ پیدا ہوا تو بچہ کو بھی ذبح کر ڈالے اور اگر بچہ کوبیچ ڈالا تو اوس کا ثمن صدقہ کر دے اور اگر نہ ذبح کیا نہ بیع کیا اور ایام نحر(5) گزر گئے تو اوس کو زندہ صدقہ کر دے اور اگرکچھ نہ کیا اور بچہ اوس کے یہاں رہا اور قربانی کا زمانہ آگیا یہ چاہتا ہے کہ اس سال کی قربانی میں اسی کو ذبح کرے یہ نہیں کرسکتا اور اگر قربانی اسی کی کر دی تو دوسری قربانی پھر کرے کہ وہ قربانی نہیں ہوئی اور وہ بچہ ذبح کیا ہوا صدقہ کر دے بلکہ ذبح سے جوکچھ اوس کی قیمت میں کمی ہوئی اسے بھی صدقہ کرے۔(6) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب السادس فی بیان ما یستحب...إلخ،ج۵،ص۳۰۱.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۴.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب السادس فی بیان ما یستحب...إلخ،ج۵،ص۳۰۱.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔ قربانی کے دن یعنی دس، گیارہ،بارہ ذی الحجہ کے دن۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب السادس فی بیان ما یستحب...إلخ،ج۵،ص۳۰۱۔۳۰۲.
مسئلہ ۳۷: قربانی کی اور اوس کے پیٹ میں زندہ بچہ ہے تواسے بھی ذبح کر دے اور اسے صرف میں لاسکتا ہے اور مرا ہوا بچہ ہو تو اسے پھینک دے مردار ہے۔
مسئلہ ۳۸: دو شخصوں نے غلطی سے یہ کیا کہ ہر ایک نے دوسرے کی قربانی کی بکری ذبح کر دی یعنی ہر ایک نے دوسرے کی بکری کو اپنی سمجھ کر قربانی کر دیا تو بکری جس کی تھی اوسی کی قربانی ہوئی اور چونکہ دونوں نے ایسا کیا لہٰذا دونوں کی قربانیاں ہوگئیں اور اس صورت میں کسی پر تاوان نہیں بلکہ ہر ایک اپنی اپنی بکری ذبح شدہ لے لے اور فرض کرو کہ ہر ایک کو اپنی غلطی اوس وقت معلوم ہوئی جب اوس بکری کو صرف کرچکا تو چونکہ ہر ایک نے دوسرے کی بکری کھا ڈالی لہٰذا ہر ایک دوسرے سے معاف کرالے اور اگر معافی پر راضی نہ ہوں تو چونکہ ہر ایک نے دوسرے کی قربانی کا گوشت بلااجازت کھا ڈالا گوشت کی قیمت کا تاوان لے لے اس تاوان کو صدقہ کرے کہ قربانی کے گوشت کے معاوضہ کا یہی حکم ہے۔ یہ تمام باتیں اوس وقت ہیں کہ ہر ایک دوسرے کے اس فعل پر کہ اوس نے اس کی بکری ذبح کر ڈالی راضی ہو تو جس کی بکری تھی اوسی کی قربانی ہوئی اور اگرراضی نہ ہو تو بکری کی قیمت کا تاوان لے گا اور اس صورت میں جس نے ذبح کی اوس کی قربانی ہوئی یعنی بکری کا جب تاوان لیا تو بکری ذابح کی(1)ہوگئی اور اسی کی جانب سے قربانی ہوئی اور گوشت کا بھی یہی مالک ہوا۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۹: دوسرے کی قربانی کی بکری بغیر اوس کی اجازت کے قصداً ذبح کر دی اس کی دو صورتیں ہیں مالک کی طرف سے اس نے قربانی کی یا اپنی طرف سے ،اگر مالک کی نیت سے قربانی کی تو اوس کی قربانی ہوگئی کہ وہ جانور قربانی کے لیے تھا اور قربان کر دیا گیا اس صورت میں مالک اوس سے تاوان نہیں لے سکتا اور اگر اوس نے اپنی طرف سے قربانی کی اور ذبح شدہ بکری کے لینے پر مالک راضی ہے تو قربانی مالک کی جانب سے ہوئی اور ذابح کی نیت کا اعتبار نہیں اور مالک اگر اس پر راضی نہیں بلکہ بکری کا تاوان لیتا ہے تو مالک کی قربانی نہیں ہوئی بلکہ ذابح کی ہوئی کہ تاوان دینے سے بکری کا مالک ہوگیا اور اوس کی اپنی قربانی ہوگئی۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: اگر بکری قربانی کے لیے معین نہ ہو تو بغیر اجازتِ مالک اگر دوسرا شخص قربانی کر دے گا توقربانی نہ ہوگی مثلاً ایک شخص نے پانچ بکریاں خریدی تھیں اور اوس کا یہ خیال تھا کہ ان میں سے ایک بکری کو قربانی کروں گا اور اون میں
1 ۔ذبح کرنے والے کی۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۴۔۵۴۶.
3 ۔المرجع السابق،ص۵۴۶.
سے کسی ایک کو معیَّن نہیں کیا تھا تو دوسرا شخص مالک کی جانب سے قربانی نہیں کرسکتا اگر کریگا توتاوان لازم ہوگا ذبح کے بعد مالک اوس کی قربانی کی نیت کرے بیکار ہے یعنی اس صورت میں قربانی نہیں ہوئی۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: دوسرے کی بکری غصب کر لی اور اوس کی قربانی کر لی اگر مالک نے زندہ بکری کا اوس شخص سے تاوان لے لیا تو قربانی ہوگئی مگر یہ شخص گنہگار ہے اس پر توبہ و استغفار لازم ہے اور اگر مالک نے تاوان نہیں لیا بلکہ ذبح کی ہوئی بکری لی اور ذبح کرنے سے جو کچھ کمی ہوئی اوس کا تاوان لیا تو قربانی نہیں ہوئی۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: اپنی بکری دوسرے کی طرف سے ذبح کر دی اوس کے حکم سے ایسا کیا یا بغیر حکم بہرصورت اوس کی قربانی نہیں کیونکہ اوس کی طرف سے قربانی اوس وقت ہوسکتی ہے جب اوس کی مِلک ہو۔(3) (شلبیہ)
مسئلہ ۴۳: ایک شخص کے پاس کسی کی بکری امانت کے طور پر تھی امین نے قربانی کر دی یہ قربانی صحیح نہیں نہ مالک کی طرف سے نہ امین کی طرف سے اگرچہ مالک نے امین سے اپنی بکری کا تاوان لیا ہو اسی طرح اگر کسی کا جانور اس کے پاس عاریت یا اجارہ کے طور پر(4)ہے اور اس نے قربانی کر دیا یہ قربانی جائز نہیں۔ مرہون کو(5)راہن نے(6)قربانی کیا تو ہو جائے گی کہ جانور اوس کی مِلک ہے اور مرتہن نے کیا تو اس میں اختلاف ہے۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: مویشی خانہ کے جانور ایک مدت مقررہ کے بعد نیلام ہو جاتے ہیں اور بعض لوگ اوسے لے لیتے ہیں اس کی قربانی جائز نہیں کیونکہ یہ جانور اس کی مِلک نہیں۔
مسئلہ ۴۵: دو شخصوں کے مابین ایک جانور مشترک ہے(8)اوس کی قربانی نہیں ہوسکتی کہ مشترک مال میں دونوں کا حصہ ہے ایک کا حصہ دوسرے کے پاس امانت ہے اور اگر دو جانوروں میں دو شخص برابر کے شریک ہیں ہر ایک نے ایک ایک کی قربانی کر دی دونوں کی قربانیاں ہو جائیں گی۔ (9)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۶: ایک شخص کے نو بال بچے ہیں اور ایک خود، اوس نے دس بکریوں کی قربانی کی اور یہ نیت نہیں کہ کس کی
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۷.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''حاشیۃ الشلبیۃ''ھامش علی''تبیین الحقائق''،کتاب الأضحیۃ،ج ۶،ص۴۸۸.
4 ۔یعنی کرائے کے طورپر۔ 5 ۔رہن رکھی ہوئی چیزکو۔ 6 ۔رہن رکھوانے والے نے۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۷.
8 ۔یہاں جانورسے مرادبکری یااس جیساجانورمرادہے جس میں صرف ایک حصہ ہوتاہے۔...علمیہ
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۸.
طرف سے کس بکری کی قربانی ہے مگر یہ نیت ضرورہے کہ دسوں بکریاں ہم دسوں کی طرف سے ہیں یہ قربانی جائز ہے سب کی قربانیاں ہو جائیں گی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: اپنی طرف سے اور اپنے بچوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی اگر وہ نابالغ ہیں تو سب کی قربانیاں جائز ہیں اور بالغ ہیں اور سب لڑکوں نے کہہ دیا ہے تو سب کی طرف سے صحیح ہے اور اگر اونھوں نے کہا نہیں یا بعض نے نہیں کہا ہے تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۸: بیع فاسد کے ذریعہ بکری خریدی اور قربانی کر دی یہ قربانی ہوگئی کہ بیع فاسد میں قبضہ کر لینے سے مِلک ہوجاتی ہے اور بائع کو اختیار ہے اگر اوس نے زندہ بکری کی واجبی قیمت مشتری سے لے لی تو اب اس کے ذمہ کچھ واجب نہیں اور اگر بائع نے ذبح کی ہوئی بکری لے لی تو قربانی کرنے والا اس ذبح کی ہوئی بکری کی قیمت صدقہ کرے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: ایک شخص نے دوسرے کو بکری ہبہ کر دی موہوب لہ (4)نے اوس کی قربانی کر دی اس کے بعد واہب(5)اپنا ہبہ واپس لینا چاہتا ہے وہ واپس لے سکتا ہے اور موہوب لہ کی قربانی صحیح ہے اور اس کے ذمہ کچھ صدقہ کرنا بھی واجب نہیں۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: دوسرے سے قربانی ذبح کرائی ذبح کے بعد وہ یہ کہتا ہے میں نے قصداً بِسْمِ اللہنہیں پڑھی اس کو اوس جانور کی قیمت دینی ہوگی پھر اگر قربانی کا وقت باقی ہے تو اس قیمت سے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے اور اس کا گوشت صدقہ کرے خود نہ کھائے اور وقت باقی نہ ہو تو اس قیمت کو صدقہ کر دے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: تین شخصوں نے تین بکریاں قربانی کے لیے خریدیں پھر یہ بکریاں مل گئیں پتا نہیں چلتا کہ کس کی کونسی بکری ہے اس صورت میں یہ کرنا چاہیے کہ ہر ایک دوسرے کو ذبح کرنے کا وکیل کر دے سب کی قربانیاں ہو جائیں گی کہ اس نے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب ...إلخ،ج۵،ص۳۰۰.
2 ۔المرجع السابق،الباب السابع فی التضحیۃ عن الغیر...إلخ،ج۵،ص۳۰۲.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔جسے بکری ہبہ کی گئی۔ 5 ۔ہبہ کرنے والا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب السابع فی التضحیۃ عن الغیر...إلخ،ج۵،ص۳۰۳.
7 ۔المرجع السابق.
اپنی بکری ذبح کی جب بھی جائز ہے اور دوسرے کی ذبح کی جب بھی جائز ہے کہ یہ اوس کا وکیل ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: دوسرے سے ذبح کرایا اور خود اپنا ہاتھ بھی چھری پر رکھ دیا کہ دونوں نے مل کر ذبح کیا تو دونوں پر بِسْمِ اﷲ کہناواجب ہے ایک نے بھی قصداً چھوڑ دی یا یہ خیال کر کے چھوڑ دی کہ دوسرے نے کہہ لی مجھے کہنے کی کیا ضرورت دونوں صورتوں میں جانور حلال نہ ہوا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۵۳: قربانی کے لیے گائے خریدی پھر اس میں چھ شخصوں کو شریک کر لیا سب کی قربانیاں ہو جائیں گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے ہاں اگر خریدنے ہی کے وقت اوس کا یہ ارادہ تھا کہ اس میں دوسروں کو شریک کروں گا تو مکروہ نہیں اور اگر خریدنے سے پہلے ہی شرکت کر لی جائے تو یہ سب سے بہتر اور اگر غیر مالک نصاب نے قربانی کے لیے گائے خریدی تو خریدنے سے ہی اوس پر اس گائے کی قربانی واجب ہوگئی اب وہ دوسرے کو شریک نہیں کرسکتا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: پانچ شخصوں نے قربانی کے لیے گائے خریدی ایک شخص آتاہے وہ یہ کہتا ہے مجھے بھی اس میں شریک کرلو چار نے منظور کر لیا اور ایک نے انکار کیا اوس گائے کی قربانی ہوئی سب کی طرف سے جائز ہوگئی کیونکہ یہ چھٹا شخص اون چاروں کا شریک ہے اور ان میں ہر ایک کا ساتویں حصہ سے زیادہ ہے اور گوشت یوں تقسیم ہوگا کہ پانچواں حصہ اوس کا ہے جس نے شرکت سے انکار کیا باقی چار حصوں کو یہ پانچوں برابر بانٹ لیں۔ یا یوں کرو کہ پچیس حصے کر کے اوس کو پانچ حصے دو جس نے شرکت سے انکار کیا ہے باقیوں کو چار چار حصے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۵: قربانی کے لیے بکری خریدی اور قربانی کر دی پھر معلوم ہوا کہ بکری میں عیب ہے مگر ایسا عیب نہیں جس کی قربانی نہ ہوسکے اس کو اختیار ہے کہ اوس کی وجہ سے جو کچھ قیمت میں کمی ہوسکتی ہے وہ بائع سے واپس لے اور اوس کا صدقہ کرنا اس پر واجب نہیں اور اگر بائع(5)کہتا ہے کہ میں ذبح کی ہوئی بکری لوں گا اور ثمن واپس کر دوں گا تو مشتری(6)اس ثمن کو صدقہ کر دے صرف اوتنا حصہ جو عیب کی وجہ سے کم ہوسکتا ہے اوس کو رکھ سکتا ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: قربانی کی ذبح کی ہوئی بکری غصب کر لی غاصب سے اس کا تاوان لے سکتا ہے مگر اس تاوان کو صدقہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب السابع فی التضحیۃ عن الغیر...إلخ،ج۵،ص۳۰۴.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۵۱.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الثامن فیما یتعلق بالشرکۃ فی الضحایا،ج۵،ص۳۰۴.
4 ۔المرجع السابق،ص۳۰۴،۳۰۵.
5 ۔بیچنے والا۔ 6 ۔خریدار۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب التاسع فی المتفرقات،ج۵،ص۳۰۷.
کرنا ضروری ہے کہ یہ اوس قربانی کا معاوضہ ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۷: مالکِ نصاب نے قربانی کی منت مانی تو اوس کے ذمہ دو قربانیاں واجب ہوگئیں ایک وہ جو غنی پر واجب ہوتی ہے اور ایک منت کی وجہ سے۔ دو یا دو سے زیادہ قربانیوں کی منت مانی تو جتنی قربانیوں کی منت ہے سب واجب ہیں۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: ایک سے زیادہ قربانی کی سب قربانیاں جائز ہیں ایک واجب باقی نفل اور اگر ایک پوری گائے قربانی کی تو پوری سے واجب ہی ادا ہوگا یہ نہیں کہ ساتواں حصہ واجب ہو باقی نفل۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
تنبیہ: قربانی کے مسائل تفصیل کے ساتھ مذکور ہوچکے اب مختصر طور پر اس کا طریقہ بیان کیا جاتا ہے تاکہ عوام کے لیے آسانی ہو۔ قربانی کا جانور اون شرائط کے موافق ہو جو مذکور ہوئیں یعنی جو اوس کی عمر بتائی گئی اوس سے کم نہ ہو اور اون عیوب سے پاک ہو جن کی وجہ سے قربانی ناجائز ہوتی ہے اور بہتر یہ کہ عمدہ اور فربہ ہو۔ قربانی سے پہلے اوسے چارہ پانی دے دیں یعنی بھوکا پیاسا ذبح نہ کریں۔ اور ایک کے سامنے دوسرے کو نہ ذبح کریں اور پہلے سے چھری تیز کر لیں ایسا نہ ہو کہ جانور گرانے کے بعد اوس کے سامنے چھری تیز کی جائے۔ جانور کو بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ قبلہ کو اوس کا مونھ ہو اور اپنا داہنا پاؤں اوس کے پہلو پر رکھ کر تیز چھری سے جلد ذبح کر دیا جائے اور ذبح سے پہلے یہ دُعا پڑھی جائے۔
اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لاشَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَرُ.(4)
اسے پڑھ کر ذبح کر دے۔ قربانی اپنی طرف سے ہو تو ذبح کے بعد یہ دُعا پڑھے۔
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلَ مِنِّی کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ(5) صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم.
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب التاسع فی المتفرقات،ج۵،ص۳۰۷.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۹،۵۵۰.
3 ۔المرجع السابق،ص۵۵۱.
4 ۔میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ، ایک اسی کا ہو کر، اور میں مشرکوں میں نہیں ۔بے شک میری نمازاور میری قربانیاں
اورمیرا جینا اور میر امرنا سب اﷲکے لئے ہے جورب(ہے) سارے جہان کا،اس کا کوئی شریک نہیں،مجھے یہی حکم ہواہے اور میں مسلمانوں میں
ہوں،الٰہی یہ تیری توفیق سے ہے اور تیرے لیے ہے محمد(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )اور آپ کی امت کی طرف سے،بسم اﷲ واﷲ اکبر۔
5 ۔اے اﷲ (عزوجل)تومجھ سے ( اس قربانی کو) قبول فرماجیسے تونے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام اور اپنے حبیب محمد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے قبول فرمائی۔
اس طرح ذبح کرے کہ چاروں رگیں کٹ جائیں یا کم سے کم تین رگیں کٹ جائیں۔ اس سے زیادہ نہ کاٹیں کہ چھری گردن کے مہرہ تک پہنچ جائے کہ یہ بے وجہ کی تکلیف ہے پھر جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے یعنی جب تک اوس کی روح بالکل نہ نکل جائے اوس کے نہ پاؤں وغیرہ کاٹیں نہ کھال اوتاریں اور اگر دوسرے کی طرف سے ذبح کرتا ہے تو مِنِّیکی جگہ مِن ْکے بعد اوس کا نام لے۔ اور اگر وہ مشترک جانور ہے جیسے گائے اونٹ تو وزن سے گوشت تقسیم کیا جائے محض تخمینہ سے (1)تقسیم نہ کریں۔ پھر اس گوشت کے تین حصے کر کے ایک حصہ فقرا پر تصدّق کرے (2)اور ایک حصہ دوست و احباب کے یہاں بھیجے اور ایک اپنے گھر والوں کے لیے رکھے اور اس میں سے خود بھی کچھ کھالے اور اگر اہل و عیال زیادہ ہوں تو تہائی سے زیادہ بلکہ کل گوشت بھی گھر کے صرف میں(3)لاسکتا ہے۔ اور قربانی کا چمڑا اپنے کام میں بھی لاسکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ کسی نیک کام کے لیے دیدے مثلاً مسجد یادینی مدرسہ کو دیدے یا کسی فقیر کو دیدے۔ بعض جگہ یہ چمڑا امام مسجد کو دیا جاتا ہے اگر امام کی تنخواہ میں نہ دیا جاتا ہو بلکہ اعانت کے طور پرہو توحرج نہیں۔ بحرالرائق میں مذکور ہے کہ قربانی کرنے والا بقرعید کے دن سب سے پہلے قربانی کا گوشت کھائے اس سے پہلے کوئی دوسری چیز نہ کھائے یہ مستحب ہے اس کے خلاف کرے جب بھی حرج نہیں۔ (4)
hc فائدہ: hcاحادیث سے ثابت ہے کہ سید عالم حضرت محمد رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس امت مرحومہ کی طرف سے قربانی کی یہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے بے شمار الطاف میں سے ایک خاص کرم ہے کہ اس موقع پر بھی امت کا خیال فرمایا اور جو لوگ قربانی نہ کرسکے اون کی طرف سے خود ہی قربانی ادا فرمائی۔ یہ شبہہ کہ ایک مینڈھا ان سب کی طرف سے کیونکر ہوسکتا ہے یا جو لوگ ابھی پیدا ہی نہ ہوئے اون کی قربانی کیونکر ہوئی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے خصائص سے ہے۔ جس طرح حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے چھ مہینے کے بکری کے بچہ کی قربانی ابوبردہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے جائز فرما دی اوروں کے لیے اس کی ممانعت کر دی۔ اسی طرح اس میں خود حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خصوصیت ہے۔ کہنا یہ ہے کہ جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اُمت کی طرف سے قربانی کی تو جو مسلمان صاحب استطاعت ہو اگر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہٖ وسلَّم کے نام کی ایک قربانی کرے تو زہے نصیب اور بہتر سینگ والا مینڈھا ہے جس کی سیاہی میں سفیدی کی بھی آمیزش ہو جیسے مینڈھے کی خود حضور اکرم (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )نے قربانی فرمائی۔
اس کے متعلق پہلے چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں وہ یہ ہیں۔
1 ۔اندازہ سے۔ 2 ۔صدقہ کردے۔ 3 ۔استعمال میں۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلاۃ...إلخ،ج۲،ص۵۷.
حدیث ۱: امام بخاری نے سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کوفرماتے سنا کہ''لڑکے کے ساتھ عقیقہ ہے اوس کی طرف سے خون بہاؤ (یعنی جانور ذبح کرو)اور اوس سے اذیت کو دور کرو''(1)یعنی اوس کا سر مونڈا دو۔
حدیث ۲: ابو داود و ترمذی و نسائی نے اُمّ کرز رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہتی ہیں میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو فرماتے سُنا کہ''لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک اس میں حرج نہیں کہ نر ہوں یا مادہ۔''(2)
حدیث ۳: امام احمد و ابو داود و ترمذی و نسائی سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا :''لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے ساتویں دن اوس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے اور اوس کا نام رکھا جائے اور سر مونڈا جائے۔ ''(3)گروی ہونے کا یہ مطلب یہ ہے کہ اوس سے پورا نفع حاصل نہ ہوگا جب تک عقیقہ نہ کیا جائے اور بعض نے کہا بچہ کی سلامتی اور اوس کی نشوونما اور اوس میں اچھے اوصاف ہونا عقیقہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔
حدیث ۴: ترمذی نے اَمیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف سے عقیقہ میں بکری ذبح کی اور یہ فرمایا کہ''اے فاطمہ اس کا سرمونڈا دو اور بال کے وزن کی چاندی صدقہ کرو''ہم نے بالوں کو وزن کیا تو ایک درہم یا کچھ کم تھے۔ (4)
حدیث ۵: ابو داود اِبن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے امام حسن و امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا اور نسائی کی روایت میں ہے کہ دو دو مینڈھے۔ (5)
حدیث ۶: ابو داود بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں کہ زمانہء جاہلیت میں جب ہم میں کسی کے بچہ پیدا ہوتا توبکری ذبح کرتا اور اوس کا خون بچہ کے سر پر پوت دیتا(6)اب جبکہ اسلام آیا تو ساتویں دن ہم بکری ذبح کرتے ہیں اور بچہ کاسرمونڈاتے ہیں اور سر پر زعفران لگا دیتے ہیں۔ (7)
حدیث ۷: ابو داود و ترمذی ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب العقیقۃ،باب إماطۃ الأذی عن الصبی في العقیقۃ،الحدیث:۵۴۷۲،ج۳،ص۵۴۷.
2 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب العقیقۃ،الحدیث:۲۸۳۵،ج۳،ص۱۴۱.
3 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأضاحی،باب من العقیقۃ،الحدیث:۱۵۲۷،ج۳،ص۱۷۷.
4 ۔المرجع السابق،باب العقیقۃ بشاۃ،الحدیث:۱۵۲۴،ص۱۷۵.
5 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب العقیقۃ،الحدیث:۲۸۴۱،ج۳،ص۱۴۳.
و''سنن النسائي''،کتاب العقیقۃ،باب کم یعق عن الجاریۃ،الحدیث:۴۲۲۵،ص۶۸۸.
6 ۔یعنی سرپر مَل لیتا۔
7 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب العقیقۃ،الحدیث:۲۸۴۳،ج۳،ص۱۴۴.
پیدا ہوئے تو میں نے دیکھا کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اون کے کان میں وہی اذان کہی جو نماز کے لیے کہی جاتی ہے۔ (1)
حدیث ۸: امام مسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے راوی کہتی ہیں کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں بچے لائے جاتے حضور(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )ان کے لیے برکت کی دعا کرتے اورتحنیک کرتے یعنی کوئی چیز مثلاً کھجور چبا کر اوس بچہ کے تالو میں لگادیتے کہ سب سے پہلے اوس کے شکم میں حضور(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کا لعاب دہن پہنچے۔(2)
حدیث ۹: بخاری و مسلم حضرت اسمابنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی کہتی ہیں کہ عبداﷲبن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ مکہ ہی میں ہجرت سے قبل میرے پیٹ میں تھے بعد ہجرت قبا میں یہ پیدا ہوئے میں ان کو رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں لائی اور حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی گود میں ان کو رکھ دیا پھر حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے کھجور منگائی اور چبا کر ان کے مونھ میں ڈال دی اور ان کے لیے دُعائے برکت کی اور بعد ہجرت مسلمان مہاجرین کے یہاں یہ سب سے پہلے بچہ ہیں۔ (3)
بچہ پیدا ہونے کے شکریہ میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اوس کو عقیقہ کہتے ہیں۔ حنفیہ کے نزدیک عقیقہ مباح و مستحب ہے۔ یہ جو بعض کتابوں میں مذکور ہے کہ عقیقہ سنت نہیں اس سے مراد یہ ہے کہ سنت مؤکدہ نہیں ورنہ جب خود حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے فعل سے اس کا ثبوت موجود ہے تو مطلقاً اس کی سنیت سے انکار صحیح نہیں۔ بعض کتابوں میں یہ آیا ہے کہ قربانی سے یہ منسوخ ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ اوس کا وجوب منسوخ ہے جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ زکوٰۃ نے حقوق مالیہ کو منسوخ کر دیا یعنی اون کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔ جب بچہ پیدا ہو تو مستحب یہ ہے کہ اوس کے کان میں اذان و اقامت کہی جائے اذان کہنے سے ان شاأاﷲتعالیٰ بلائیں دور ہو جائیں گی۔ بہتر یہ ہے کہ دہنے کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں میں تین مرتبہ اقامت کہی جائے۔ بہت لوگوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اذان کہی جاتی ہے اور لڑکی پیدا ہوتی ہے تو نہیں کہتے۔ یہ نہ چاہیے بلکہ لڑکی پیدا ہو جب بھی اذان و اقامت کہی جائے۔ ساتویں دن اوس کا نام رکھا جائے اور اوس کا سرمونڈا جائے اور سر مونڈنے کے وقت عقیقہ کیا جائے۔ اور بالوں کو وزن کر کے اوتنی چاندی یا سونا صدقہ کیا جائے۔
مسئلہ ۱: ہندوستان میں عموماً بچہ پیدا ہونے پرچَھٹی(4)کی جاتی ہے۔ بعض لوگوں میں اس موقع پر ناجائز رسمیں برتی جاتی ہیں مثلاً عورتوں کا گانا بجانا ایسی باتوں سے بچنا اور ان کو چھوڑنا ضروری و لازم ہے بلکہ مسلمانوں کو وہ کرنا چاہیے جو حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے قول و فعل سے ثابت ہے۔ عقیقہ سے بہت زائد رسوم میں صرف کر دیتے ہیں اور عقیقہ نہیں
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في الصبی یولد فیؤذن فيأذنہ،الحدیث:۵۱۰۵،ج۴،ص۴۲۳.
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الطھارۃ،باب حکم بول الطفل الرضیع...إلخ،الحدیث:۱۰۱۔(۲۸۶)،ص۱۶۵.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب العقیقۃ،باب تسمیۃ المولود...إلخ،الحدیث:۵۴۶۹،ج۳،ص۵۴۶.
4 ۔بچے کی پیدائش کے چھٹے دن منائی جانے والی خوشی ۔
کرتے۔ عقیقہ کریں تو سنت بھی ادا ہو جائے اور مہمانوں کے کھلانے کے لیے گوشت بھی ہو جائے۔
مسئلہ ۲: بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شامل حال ہو۔
مسئلہ ۳: عبداﷲو عبدالرحمن بہت اچھے نام ہیں مگر اس زمانہ میں یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بجائے عبدالرحمن اوس شخص کو بہت سے لوگ رحمن کہتے ہیں اور غیر خدا کو رحمن کہنا حرام ہے۔ اسی طرح عبدالخالق کو خالق اور عبدالمعبود کو معبود کہتے ہیں اس قسم کے ناموں میں ایسی ناجائز ترمیم ہرگز نہ کی جائے۔ اسی طرح بہت کثرت سے ناموں میں تصغیر کا رواج ہے یعنی نام کو اس طرح بگاڑتے ہیں جس سے حقارت نکلتی ہے اور ایسے ناموں میں تصغیر ہرگز نہ کی جائے لہٰذا جہاں یہ گمان ہو کہ ناموں میں تصغیر کی جائے گی یہ نام نہ رکھے جائیں دوسرے نام رکھے جائیں۔(1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۴: محمد بہت پیارا نام ہے اس نام کی بڑی تعریف حدیثوں میں آئی ہے اگر تصغیر کا اندیشہ نہ ہو تو یہ نام رکھا جائے اور ایک صورت یہ ہے کہ عقیقہ کا یہ نام ہو اور پکارنے کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کر لیا جائے اور ہندوستان میں ایسا بہت ہوتا ہے کہ ایک شخص کے کئی نام ہوتے ہیں اس صورت میں نام کی برکت بھی ہوگی اور تصغیر سے بھی بچ جائیں گے۔
مسئلہ ۵: مردہ بچہ پیدا ہوا تو اوس کا نام رکھنے کی ضرورت نہیں بغیر نام اس کو دفن کر دیں(2)اور زندہ پیدا ہو تو اس کا نام رکھا جائے اگرچہ پیدا ہو کر مر جائے۔ (3)
مسئلہ ۶: عقیقہ کے لیے ساتواں دن بہتر ہے اور ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں سنت ادا ہو جائے گی۔ بعض نے یہ کہا کہ ساتویں یا چودہویں یا اکیسویں دن یعنی سات دن کا لحاظ رکھا جائے یہ بہتر ہے اور یاد نہ رہے تو یہ کرے کہ جس دن بچہ پیدا ہو اوس دن کو یاد رکھیں اوس سے ایک دن پہلے والا دن جب آئے وہ ساتواں ہوگا مثلاًجمعہ کو پیدا ہوا تو جمعرات ساتویں دن ہے اور سنیچر کو پیدا ہوا تو ساتویں دن جمعہ ہوگا پہلی صورت میں جس جمعرات کو اور دوسری صورت میں جس جمعہ کو عقیقہ کریگا اوس میں ساتویں کا حساب ضرور آئے گا۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثانی والعشرون فی تسمیۃ الاولاد...إلخ،ج۵،ص۳۶۲،وغیرھ.
2 ۔یہ ظاہر الروایہ ہے مگر امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کا مذہب یہ ہے کہ بچہ زندہ پیدا ہو یا مردہ بہر حال اس کی تکریم کے لیے اس کا نام رکھا
جائے۔ملتقی الابحر میں ہے کہ اس پر فتویٰ ہے اور نہر سے مستفاد ہے کہ یہی مختار ہے ایسا ہی درمختار باب صلاۃ الجنازۃ جلد۳، صفحہ ۱۵۳ میں ہے۔ بہار شریعت،ج۱ حصہ ۴، صفحہ ۸۴۱، نمازجنازہ کا بیان میں بھی اسی کو اختیار کیا اور اس حصے پر اعلیٰ حضرت کی یہ تصدیق بھی ہے کہ اسے مسائلصحیحہ، رجیحہ، محقـقہ، منقحہپر مشتمل پایا لہٰذا مسلمانوں کو اسی پر عمل کرنا چاہے۔ ...علمیہ
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثانی والعشرون فی تسمیۃ الاولاد...إلخ،ج ۵،ص۳۶۲.
مسئلہ ۷: لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی میں ایک بکری ذبح کی جائے یعنی لڑکے میں نر جانور اور لڑکی میں مادہ مناسب ہے۔ اور لڑکے کے عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی میں بکرا کیا جب بھی حرج نہیں۔ اور عقیقہ میں گائے ذبح کی جائے تو لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ کافی ہے یعنی سات حصوں میں دو حصے یا ایک حصہ۔
مسئلہ ۸: گائے کی قربانی ہوئی اس میں عقیقہ کی شرکت ہوسکتی ہے جس کا ذکر قربانی میں گزرا۔
مسئلہ ۹: بچہ کا سر مونڈنے کے بعد سر پر زعفران پیس کر لگا دینا بہتر ہے۔
مسئلہ ۱۰: عقیقہ کا جانور اونھیں شرائط کے ساتھ ہونا چاہیے جیسا قربانی کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا گوشت فقرا اور عزیز و قریب دوست و احباب کو کچا تقسیم کر دیا جائے یا پکا کر دیا جائے یا اون کو بطورِ ضیافت(1)و دعوت کھلایا جائے یہ سب صورتیں جائز ہیں۔
مسئلہ ۱۱: بہتر یہ ہے کہ اوس کی ہڈی نہ توڑی جائے بلکہ ہڈیوں پر سے گوشت اوتار لیا جائے یہ بچہ کی سلامتی کی نیک فال ہے(2)اور ہڈی توڑ کر گوشت بنایا جائے اس میں بھی حرج نہیں۔ گوشت کو جس طرح چاہیں پکا سکتے ہیں مگر میٹھا پکایا جائے تو بچہ کے اخلاق اچھے ہونے کی فال ہے۔
مسئلہ ۱۲: بعض کا یہ قول ہے کہ سری پائے حجام کو اور ایک ران دائی کو دیں باقی گوشت کے تین حصے کریں ایک حصہ فقرا کا ایک احباب کا اور ایک حصہ گھر والے کھائیں۔
مسئلہ ۱۳: عوام میں یہ بہت مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت بچہ کے ماں باپ اور دادا دادی، نانا نانی نہ کھائیں یہ محض غلط ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔
مسئلہ ۱۴: لڑکے کے عقیقہ میں دو بکریوں کی جگہ ایک ہی بکری کسی نے کی تو یہ بھی جائز ہے۔ ایک حدیث سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عقیقہ میں ایک مینڈھا ذبح ہوا۔
مسئلہ ۱۵: اس کی کھال کا وہی حکم ہے جو قربانی کی کھال کا ہے کہ اپنے صرف میں لائے یا مساکین کو دے یا کسی اور نیک کام مسجد یا مدرسہ میں صرف کرے۔
مسئلہ ۱۶: عقیقہ میں جانور ذبح کرتے وقت ایک دعا پڑھی جاتی ہے اوسے پڑھ سکتے ہیں اور یاد نہ ہو تو بغیر دعا پڑھے بھی ذبح کرنے سے عقیقہ ہو جائے گا۔
واللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ قَدْ تَمّ ھٰذَا الْجُزْءُ بِحَمْدِ اللہِ سُبْحٰنَہٗ وَتَعَالٰی وَصَلَّی اللہُ عَلٰی اَفْضَلِ
خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَابْنِہٖ وَحِزْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ.
وَاَنا الْفَقِیْرُ اَبُوالْعُلا مُحَمَّد اَمْجَدْ عَلِی الاَعْظَمِی عفی عنہ.
1 ۔یعنی بطور مہمان نوازی۔ 2 ۔یعنی نیک شگون ہے۔