Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
ایمان و تصحیح عقائد مطابق مذہب اہل سنت و جماعت کے بعد نماز تمام فرائض میں نہایت اہم واعظم ہے۔ قرآن مجید و احادیث نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اس کی اہمیت سے مالا مال ہیں ،جا بجا اس کی تاکید آئی اور اس کے تارکین (1) پر وعید فرمائی، چند آیتیں اور حدیثیں ذکر کی جاتی ہیں، کہ مسلمان اپنے رب عزوجل اور پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشادات سنیں اور اس کی توفیق سے ان پر عمل کریں۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
ہُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِالْغَیۡبِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾ ) (2)
یہ کتاب پرہیز گاروں کو ہدایت ہے، جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز قائم رکھتے اور ہم نے جو دیا اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
اور فرماتا ہے:
( وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوۡا مَعَ الرَّاکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾) (3)
نماز قائم کرو اور زکاۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ نماز پڑھو۔
یعنی مسلمانوں کے ساتھ کہ رکوع ہماری ہی شریعت میں ہے۔ يا باجماعت ادا کرو۔
اور فرماتا ہے:
(حَافِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی ٭ وَقُوۡمُوۡا لِلہِ قٰنِتِیۡنَ ﴿۲۳۸﴾ ) (4)
تمام نمازوں خصوصاً بیچ والی نماز (عصر) کی محافظت رکھو اور اﷲ کے حضور ادب سے کھڑے رہو۔
1 ۔ تارِک کی جمع، چھوڑنے والے۔
2 ۔ پ۱، البقرۃ: ۳.
3 ۔ پ۱، البقرۃ: ۴۳.
4 ۔ پ۲، البقرۃ: ۲۳۸.
اور فرماتا ہے:
( وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾ ) (1)
نماز شاق ہے مگر خشوع کرنے والوں پر۔
نماز کا مطلقاً ترک تو سخت ہولناک چیز ہے اسے قضا کرکے پڑھنے والوں کو فرماتا ہے:
( فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾الَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ ) (2)
خرابی ان نمازیوں کے ليے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں، وقت گزار کر پڑھنے اٹھتے ہیں۔
جہنم میں ایک وادی ہے ،جس کی سختی سے جہنم بھی پناہ مانگتا ہے، اس کا نام ''ویل'' ہے، قصداً (3) نماز قضا کرنے والے اس کے مستحق (4) ہیں۔
اور فرماتا ہے:
( فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾ ) (5)
ان کے بعد کچھ ناخلف پیدا ہوئے جنھوں نے نمازیں ضائع کر دیں اور نفسانی خواہشوں کا اتباع کیا، عنقریب انھیں سخت عذاب طویل و شدید سے ملنا ہو گا۔
غیّ جہنم میں ایک وادی ہے ،جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے، اس میں ایک کوآں ہے، جس کا نام ''ہبہب'' ہے، جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے، اﷲ عزوجل اس کوئيں کو کھول دیتا ہے ،جس سے و ہ بدستور بھڑکنے لگتی ہے۔
قال اﷲ تعالیٰ:
(کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰہُمْ سَعِیۡرًا ﴿۹۷﴾ ) (6)
جب بجھنے پر آئے گی ہم انھیں اور بھڑک زیادہ کریں گے۔
یہ کوآں بے نمازوں اور زانیوں اور شرابیوں اور سود خواروں اور ماں باپ کو ایذا دینے والوں کے ليے ہے۔ نماز کی
1 ۔ پ۱، البقرۃ: ۴۵.
2 ۔ پ۳۰، الماعون: ۴،۵.
3 ۔ یعنی جان بوجھ کر۔ 4 ۔ یعنی حقدار۔
5 ۔ پ۱۶، مريم :۵۹.
6 ۔ پ۱۵، بني اسرآئيل: ۹۷.
اہمیت کا اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اﷲ عزوجل نے سب احکام اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو زمین پر بھیجے، جب نماز فرض کرنی منظور ہوئی حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو اپنے پاس عرشِ عظیم پر بلا کر اسے فرض کیا اور شب اسرا (1) میں یہ تحفہ دیا۔
حدیث ۱: صحیح بُخاری و مُسلِم میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ''اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔اس امر کی شہادت دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں ،اور نماز قائم کرنا اور زکاۃ دینا اور حج کرنا اور ماہِ رمضان کا روزہ رکھنا۔'' (2)
حدیث ۲: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا، وہ عمل ارشاد ہو کہ مجھے جنت میں لے جائے اور جہنم سے بچائے؟ فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور نماز قائم رکھ اور زکاۃ دے اور رمضان کا روزہ رکھ اور بیت اﷲ کا حج کر۔'' اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ''اسلام کا ستون نماز ہے۔'' (3)
حدیث ۳: صحیح مُسلِم میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک ان تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں، جو ان کے درمیان ہوں جب کہ کبائر سے بچا جائے۔'' (4)
حدیث ۴: صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''بتاؤ! تو کسی کے دروازہ پر نہر ہو وہ اس میں ہر روز پانچ بارغسل کرے کیا اس کے بدن پر میل رہ جائے گا؟ عرض کی نہ۔ فرمایا: ''یہی مثال پانچوں نمازوں کی ہے، کہ اﷲ تعالیٰ ان کے سبب خطاؤں کو محو فرمادیتا ہے۔'' (5)
حدیث ۵: صحیحین میں ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ،کہ ایک صاحب سے ایک گناہ صادر ہوا، حاضر ہو کر
1 ۔ یعنی معراج کی رات۔
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الإيمان، باب بيان أرکان الإسلام... إلخ، الحدیث:۲۱۔(۱۶)، ص۲۷.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أ بواب الإيمان، باب ماجاء في حرمۃ الصلاۃ، الحدیث:۲۶۲۵، ج۴، ص۲۸۰.
4 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الطہارۃ، باب الصلاۃ الخمس، الحدیث: ۱۶۔(۲۳۳)، ص۱۴۴.
5 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد، باب المشي إلی الصلاۃ... إلخ، الحديث: ۶۶۷، ص۳۳۶.
عرض کی، اُس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (1)
(اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیۡلِ ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾ۚ ) (2)
نماز قائم کردن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصہ میں بے شک نیکیاں گناہوں کو دور کرتی ہیں، یہ نصيحت ہے، نصيحت ماننے والوں کے ليے۔
انھوں نے عرض کی، یا رسول اﷲ! کیا یہ خاص میرے ليے ہے؟ فرمایا: ''میری سب اُمت کے ليے۔''
حدیث ۶: صحیح بُخاری و مُسلِم میں ہے کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا اعمال میں اﷲ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کیا ہے؟ فرمایا: ''وقت کے اندر نماز۔''، ميں نے عرض کی، پھر کيا؟ فرمایا: ''ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا۔''، میں نے عرض کی، پھر کیا؟ فرمایا: ''راہِ خدا میں جہاد۔'' (3)
حدیث ۷: بیہقی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ ایک صاحب نے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ! اسلام میں سب سے زیادہ اﷲ کے نزدیک محبوب کیا چیز ہے؟ فرمایا: ''وقت میں نماز پڑھنا اور جس نے نماز چھوڑی اس کا کوئی دین نہیں۔ نماز دین کا ستون ہے۔'' (4)
حدیث ۸: ابو داود نے بطریق عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدّہ روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جب تمھارے بچّے سات برس کے ہوں، تو اُنھیں نماز کا حکم دو اور جب دس برس کے ہو جائیں، تو مار کر پڑھاؤ۔'' (5)
حدیث ۹: امام احمد روایت کرتے ہیں کہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جاڑوں (6) میں باہر تشریف لے گئے، پت جھاڑ کا زمانہ تھا، دو ٹہنیاں پکڑ لیں، پتّے گرنے لگے، فرمایا: ''اے ابوذر! میں نے عرض کی، لبیک یا رسول اﷲ! فرمایا: ''مسلمان بندہ اﷲ کے ليے نماز پڑھتا ہے، تو اس سے گناہ ایسے گرتے ہیں جیسے اس درخت سے یہ پتّے۔'' (7)
حدیث ۱۰: صحیح مُسلِم شریف میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو شخص
1 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب مواقيت الصلاۃ، باب الصلاۃ کفارۃ، الحدیث: ۵۲۶، ج۱، ص۱۹۶.
2 ۔ پ۱۲، ھود: ۱۱۴.
3 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب مواقيت الصلاۃ، باب الصلاۃ کفارۃ، الحدیث: ۵۲۷، ج۱، ص۱۹۶.
4 ۔ ''شعب الإيمان''، باب في الصلوٰت، الحدیث: ۲۸۰۷، ج۳، ص۳۹.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب متی يؤمر الغلام بالصلاۃ، الحدیث: ۴۹۵، ج۱، ص۲۰۸.
6 ۔ سرديوں۔
7 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الأنصار، حديث أبي ذرالغفاري، الحدیث: ۲۱۶۱۲، ج۸، ص۱۳۳.
اپنے گھر میں طہارت (وضو وغسل) کرکے فرض ادا کرنے کے ليے مسجد کو جاتا ہے، تو ایک قدم پر ایک گناہ محو ہوتا، دوسرے پر ایک درجہ بلند ہوتا ہے۔'' (1)
حدیث ۱۱: امام احمد زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو دو رکعت نماز پڑھے اور ان میں سہو نہ کرے، تو جو کچھ پیشتر اس کے گناہ ہوئے ہیں، اﷲ تعالیٰ معاف فرمادیتا ہے'' (2) یعنی صغائر۔
حدیث ۱۲: طَبَرانی ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''بندہ جب نماز کے ليے کھڑا ہوتا ہے، اس کے ليے جنتوں کے دروازے کھول ديے جاتے ہیں اور اس کے اور پروردگار کے درمیان حجاب ہٹا ديے جاتے ہیں ،اور حُورعین اس کا استقبال کرتی ہیں، جب تک نہ ناک سِنکے، نہ کھکارے۔'' (3)
حدیث ۱۳: طَبَرانی اَوسَط میں اور ضیا نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''سب سے پہلے قیامت کے دن بندہ سے نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر یہ درست ہوئی تو باقی اعمال بھی ٹھیک رہیں گے اور یہ بگڑی تو سبھی بگڑے۔'' (4) اور ایک روایت میں ہے کہ ''وہ خائب و خاسر ہوا۔'' (5)
حدیث ۱۴: امام احمد و ابو داود و نَسائی و ابن ماجہ کی روایت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یوں ہے، اگر نماز پوری کی ہے، تو پوری لکھی جائے گی اور پوری نہیں کی (یعنی اس میں نقصان ہے) تو ملائکہ سے فرمائے گا: ''دیکھو! میرے بندہ کے نوافل ہوں تو ان سے فرض پورے کر دو پھر زکوٰۃ کا اسی طرح حساب ہو گا پھر یوہیں باقی اعمال کا۔'' (6)
حدیث ۱۵: ابو داود و ابن ماجہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''(جو مسلمان جہنم میں جائے گا والعیاذ باﷲ تعالیٰ) اس کے پورے بدن کو آگ کھائے گی سوا اعضائے سجود کے، اﷲ تعالیٰ نے ان کا کھانا آگ پر حرام کر دیا ہے۔'' (7)
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب المشي إلی الصلاۃ، الحدیث: ۶۶۶، ص۳۳۶.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الأنصار، حديث زيد بن خالد الجھني، الحدیث: ۲۱۷۴۹، ج۸، ص۱۶۲.
3 ۔ ''الترغيب و الترھيب'' للمنذري، کتاب الصلاۃ، الترھيب من البصاق في المسجد، الحدیث: ۱۲، ج۱، ص۱۲۶.
4 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب الألف، الحديث: ۱۸۵۹، ج۱، ص۵۰۴.
5 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب العين، الحديث: ۳۷۸۲، ج۳، ص۳۲.
6 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث تميم الداري، الحدیث: ۱۶۹۴۶، ج۶، ص۳۵.
7 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الزھد، باب صفۃ النار، الحدیث: ۴۳۲۶، ج۴، ص۵۳۲.
حدیث ۱۶: طَبَرانی اَوسَط میں راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بندہ کی یہ حالت سب سے زیادہ پسند ہے کہ اسے سجدہ کرتا دیکھے کہ اپنا مونھ خاک پر رگڑ رہا ہے۔ (1)
حدیث ۱۷: طَبَرانی اَوسَط میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''کوئی صبح و شام نہیں مگر زمین کا ایک ٹکڑا دوسرے کو پکارتا ہے، آج تجھ پر کوئی نیک بندہ گزرا جس نے تجھ پر نماز پڑھی یا ذکرِ الٰہی کیا؟ اگر وہ ہاں کہے تو اس کے ليے اس سبب سے اپنے اوپر بزرگی تصور کرتا ہے۔'' (2)
حدیث ۱۸: صحیح مُسلِم میں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی طہارت۔'' (3)
حدیث ۱۹: ابو داود نے ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو طہارت کرکے اپنے گھر سے فرض نما زکے ليے نکلا اس کا اجر ایسا ہے جیسا حج کرنے والے محرم کا اور جو چاشت کے ليے نکلا اس کا اجر عمرہ کرنے والے کی مثل ہے'' اور ایک نماز دوسری نماز تک کہ دونوں کے درمیان میں کوئی لغوبات نہ ہو علیّین میں لکھی ہوئی ہے (4) یعنی درجہ قبول کو پہنچتی ہے۔
حدیث ۲۰ و ۲۱ : امام احمد و نَسائی و ابن ماجہ نے ابو ایوب انصاری و عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جس نے وضو کیا جیسا حکم ہے اور نماز پڑھی جیسی نماز کا حکم ہے، تو جو کچھ پہلے کیا ہے معاف ہوگیا۔'' (5)
حدیث ۲۲: امام احمد ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو اﷲ کے ليے ایک سجدہ کرتا ہے، اس کے ليے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے۔'' (6)
حدیث ۲۳: کنز العمال میں ہے کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو تنہائی میں دو رکعت نماز پڑھے کہ
1 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب المیم، الحدیث: ۶۰۷۵، ج۴، ص۳۰۸.
2 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب الألف، الحدیث: ۵۶۲، ج۱، ص۱۷۱.
3 ۔ لم نجد ہذاالحدیث في صحيح مسلم .
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد اللہ، الحدیث: ۱۴۶۶۸، ج۵، ص۱۰۳.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء في فضل المشي إلی الصلاۃ، الحدیث: ۵۵۸، ج۱، ص۲۳۱.
5 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الطہارۃ، باب من توضأ کما أمر، الحدیث: ۱۴۴، ص۳۱.
6 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الأنصار، حديث أبي ذر الغفاري، الحدیث: ۲۱۵۰۸، ج۸، ص۱۰۴.
اﷲ (عزوجل) اور فرشتوں کے سوا کوئی نہ دیکھے، اس کے ليے جہنم سے براء ت لکھ دی جاتی ہے۔'' (1)
حدیث ۲۴: منیتہ المصلِّی میں ہے، کہ ارشاد فرمایا: ''ہر شے کے ليے ایک علامت ہوتی ہے، ایمان کی علامت نماز ہے۔'' (2)
حدیث ۲۵: منیتہ المصلِّی میں ہے، فرمایا: ''نما ز دین کا ستون ہے جس نے اسے قائم رکھا دین کو قائم رکھا اور جس نے اسے چھوڑ دیا دین کو ڈھا دیا۔'' (3)
حدیث ۲۶: امام احمد و ابو داود عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''پانچ نمازیں اﷲ تعالیٰ نے بندوں پر فرض کیں، جس نے اچھی طرح وضو کیا اور وقت میں پڑھیں اور رکوع و خشوع کو پورا کیا تو اس کے ليے اﷲ تعالیٰ نے اپنے ذمۂ کرم پر عہد کر لیا ہے کہ اسے بخش دے ،اور جس نے نہ کیا اس کے ليے عہد نہیں، چاہے بخش دے، چاہے عذاب کرے۔'' (4)
حدیث ۲۷: حاکم نے اپنی تاریخ میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں، کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:'' اگر وقت میں نماز قائم رکھے تو میرے بندہ کا میرے ذمۂ کرم پر عہد ہے، کہ اسے عذاب نہ دوں اور بے حساب جنت میں داخل کروں۔'' (5)
حدیث ۲۸: دیلمی ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ نے کوئی ایسی چیز فرض نہ کی، جو توحید و نماز سے بہتر ہو۔ اگر اس سے بہتر کوئی چیز ہوتی تو وہ ضرور ملائکہ پر فرض کرتا ،ان میں کوئی رکوع میں ہے، کوئی سجدے میں۔'' (6)
حدیث ۲۹: ابو داود طیالسی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو بندہ نماز پڑھ کر اس جگہ جب تک بیٹھا رہتا ہے، فرشتے اس کے ليے استغفار کرتے رہتے ہیں، اس وقت تک کہ بے وضو ہوجائے يا اٹھ کھڑا
1 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۱۹۰۱۵، ج۷، ص۱۲۵.
2 ۔ ''منیۃ المصلي''، ثبوت فرضیۃ الصلاۃ بالسنۃ، ص۱۳.
3 ۔ ''منیۃ المصلي''، ثبوت فرضیۃ الصلاۃ بالسنۃ، ص۱۳.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب المحافظۃ علی الصلوات، الحدیث: ۴۲۵، ج۱، ص۱۸۶.
5 ۔ ''کنزالعمال''،، کتاب الصلاۃ،الحدیث: ۱۹۰۳۲، ج۷، ص۱۲۷.
6 ۔ ''الفردوس بمأثور الخطاب''، الحدیث: ۶۱۰، ج۱، ص۱۶۵.
ہو۔ ملائکہ کا استغفار اس کے ليے یہ ہے،
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ (1) اَللّٰھُمَّ ارْحَمْہُ (2) اَللّٰھُمَّ تُبْ عَلَیْہِ . (3)
اور متعدد حدیثوں میں آیا ہے، کہ جب تک نماز کے انتظار میں ہے اس وقت تک وہ نماز ہی میں ہے، یہ فضائل مطلق نماز کے ہیں اور خاص خاص نمازوں کے متعلق جو احادیث وارد ہوئیں، ان میں بعض یہ ہیں:
حدیث ۳۰: طَبَرانی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں: ''جو صبح کی نماز پڑھتا ہے، وہ شام تک اﷲ کے ذمہ میں ہے۔'' (4) دوسری روایت میں ہے، ''تو اﷲ کا ذمہ نہ توڑو، جو اﷲ کا ذمہ توڑے گا اﷲ تعالیٰ اسے اوندھا کرکے دوزخ میں ڈال دے گا۔'' (5)
حدیث ۳۱: ابن ماجہ سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو صبح نماز کو گیا، ایمان کے جھنڈے کے ساتھ گیا اور جو صبح بازار کو گیا، ابلیس کے جھنڈے کے ساتھ گیا۔'' (6)
حدیث ۳۲: بیہقی نے شُعَبُ الاِيمان میں عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موقوفاً روایت کی، کہ ''جو نماز صبح کے ليے طالب ثواب ہو کر حاضر ہوا ،گویا اس نے تمام رات قیام کیا (عبادت کی) اور جو نماز عشا کے ليے حاضر ہوا گویا اس نے نصف شب قیام کیا۔'' (7)
حدیث ۳۳: خطیب نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جس نے چالیس دن نماز فجر و عشا باجماعت پڑھی، اس کو اﷲ تعالیٰ دو برائتیں عطا فرمائے گا، ایک نار سے دوسری نفاق سے۔'' (8)
حدیث ۳۴: امام احمد ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: رات اور دن کے ملائکہ نماز فجر و عصر میں جمع ہوتے ہیں، جب وہ جاتے ہیں تو اﷲ عزوجل ان سے فرماتا ہے: ''کہاں سے آئے؟ حالانکہ وہ جانتا
1 ۔ اے اﷲ تو اس کو بخش دے۔
2 ۔ اے اﷲ تو اس پر رحم کر۔
3 ۔ ''مسند أبي داود الطيالسي''، الجزء العاشر، أبو صالح عن أبي ھريرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ، الحديث: ۲۴۱۵، ص۳۱۷.
و ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء في فضل المشي إلی الصلاۃ... إلخ، الحدیث: ۵۵۹، ج۱، ص۲۳۲.
اے اﷲ اس کی توبہ قبول کر۔
4 ۔ ''المعجم الکبير'' للطبراني، الحدیث: ۱۳۲۱۰، ج۱۲، ص۲۴۰.
5 ۔''مجمع الزوائد''، کتاب الصلاۃ،باب فضل الصلاۃ و حقنھا للدم، الحدیث: ۱۶۴۰، ص۲۷.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب التجارات، باب الأسواق، ودخولھا، الحدیث: ۲۲۳۴، ج۳، ص۵۳.
7 ۔ ''شعب الإيمان''، باب في الصلاۃ فضل في الجماعۃ... إلخ، الحدیث: ۲۸۵۲، ج۳، ص۵۵.
8 ۔ ''تاريخ بغداد''، رقم: ۶۲۳۱، ج۱۱، ص۳۷۴.
ہے۔'' عرض کرتے ہیں: ''تیرے بندوں کے پاس سے، جب ہم ان کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور انھیں نماز پڑھتا چھوڑ کر تیرے پاس حاضر ہوئے۔'' (1)
حدیث ۳۵: ابن ماجہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو مسجد جماعت ميں چالیس راتیں نماز عشا پڑھے، کہ رکعت اولیٰ فوت نہ ہو، اﷲ تعالیٰ اس کے ليے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔'' (2)
حدیث ۳۶: طَبَرانی نے عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''سب نمازوں میں زیادہ گراں منافقین پر نماز عشا و فجر ہے اور جو ان میں فضیلت ہے، اگر جانتے تو ضرور حاضر ہوتے اگرچہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے۔'' (3) یعنی جیسے بھی ممکن ہوتا۔
حدیث ۳۷: بَزّار نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو نماز عشا سے پہلے سوئے اﷲ اس کی آنکھ کو نہ سلائے۔'' (4) نماز نہ پڑھنے پر جو وعیدیں آئیں ان میں سے بعض یہ ہیں:
حدیث ۳۸: صحیحین میں نوفل بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس کی نماز فوت ہوئی گویا اس کے اہل و مال جاتے رہے۔'' (5)
حدیث ۳۹: ابو نعیم ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ـ''جس نے قصداً نماز چھوڑی، جہنم کے دروازے پر اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے۔ '' (6)
حدیث ۴۰: امام احمد اُمّ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''قصداً نماز ترک نہ کرو کہ جو قصداً نماز ترک کردیتا ہے، اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) اس سے بری الذمہ ہیں۔'' (7)
حدیث ۴۱: شیخین نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں:
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہريرۃ، الحدیث: ۷۴۹۴، ج۳، ص۶۸.
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المساجد... إلخ، باب صلاۃ العشاء و الفجر في جماعۃ، الحدیث: ۷۹۸، ج۱، ص۴۳۷،
عن عمر ابن الخطاب رضی اﷲتعالیٰ عنہ.
3 ۔ ''المعجم الکبير''، الحدیث: ۱۰۰۸۲، ج۱۰، ص۹۹.
4 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۱۹۴۹۷، ج۷، ص۱۶۵، عن عائشۃ رضي اﷲ تعالیٰ عنہا.
5 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام، الحدیث: ۳۶۰۲، ج۲، ص۵۰۱.
6 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۱۹۰۸۶، ج۷، ص۱۳۲.
7 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث أم أيمن، الحدیث: ۲۷۴۳۳، ج۱۰، ص۳۸۶.
''جس دین میں نماز نہیں، اس میں کوئی خیر نہیں۔'' (1)
حدیث ۴۲: بیہقی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جس نے نماز چھوڑ دی اس کا کوئی دین نہیں، نماز دین کا ستون ہے۔'' (2)
حدیث ۴۳: بَزّار نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہیں، جس کے ليے نماز نہ ہو۔'' (3)
حدیث ۴۴: امام احمد و دارمی و بیہقی شُعَبُ الاِيمان میں راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جس نے نماز پر محافظت (مداومت) کی، قیامت کے دن وہ نماز اس کے ليے نور و برہان و نجات ہو گی اور جس نے محافظت نہ کی اس کے ليے نہ نور ہے نہ برہان نہ نجات اور قیامت کے دن قارون و فرعون و ہامان و اُبی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔'' (4)
حدیث ۴۵: بُخاری و مُسلِم و امام مالک نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضرت امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صوبوں کے پاس فرمان بھیجا کہ'' تمھارے سب کاموں سے اہم میرے نزدیک نماز ہے ''جس نے اس کا حفظ کیا اور اس پر محافظت کی اس نے اپنا دین محفوظ رکھا اور جس نے اسے ضائع کیا وہ اوروں کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کر ے گا۔'' (5)
حدیث ۴۶: ترمذی عبداﷲ بن شقیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ صحابہ کرام کسی عمل کے ترک کو کفر نہیں جانتے سوا نماز کے۔ (6) بہت سی ایسی حدیثیں آئیں جن کا ظاہر یہ ہے کہ قصداً نما زکا ترک کفر ہے اور بعض صحابۂ کرام مثلاً حضرت امیر المومنین فاروق اعظم و عبدالرحمن بن عوف و عبداﷲ بن مسعود و عبداﷲ بن عباس و جابر بن عبداﷲ و معاذ بن جبل و ابو ہریرہ و ابوالدردأ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا یہی مذہب تھا اور بعض ائمہ مثلاً امام احمد بن حنبل و اسحاق بن راہویہ و عبداﷲ بن مبارک و امام نخعی کا بھی یہی مذہب تھا، اگرچہ ہمارے امام اعظم و دیگر آئمہ نیز بہت سے صحابۂ کرام اس کی تکفیر نہیں کرتے (7) پھر بھی یہ کیا تھوڑی بات ہے کہ ان جلیل القدر حضرات کے نزدیک ایسا شخص'' کافِر'' ہے۔
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث عثمان بن أبي العاص، الحدیث: ۱۷۹۳۴، ج۶، ص۲۷۱.
2 ۔ ''شعب الإيمان''، باب في الصلوٰت، الحدیث: ۲۸۰۷، ج۳، ص۳۹.
3 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحديث: ۱۹۰۹۴، ج۷، ص۱۳۳.
4 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اﷲ بن عمرو، الحدیث: ۶۵۸۷، ج۲، ص۵۷۴.
5 ۔ ''الموطا'' للإمام مالک، کتاب وقوت الصلاۃ، الحدیث: ۶، ج۱، ص۳۵.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الإيمان، باب ماجاء في ترک الصلاۃ، الحدیث: ۲۶۳۱، ج۴، ص۲۸۲.
7 ۔ یعنی کافر نہيں کہتے۔
مسئلہ ۱: ہر مکلّف یعنی عاقِل بالغ پر نما ز فرض عین ہے اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے۔ اور جو قصداً چھوڑ ے اگرچہ ایک ہی وقت کی وہ فاسِق ہے اور جو نماز نہ پڑھتا ہو قید کیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے بلکہ ائمۂ ثلٰثہ مالک و شافعی و احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نزدیک سلطانِ اسلام کو اس کے قتل کا حکم ہے۔ (1) (درمختار )
مسئلہ ۲: بچّہ کی جب سات برس کی عمر ہو، تو اسے نماز پڑھنا سکھایا جائے اور جب دس برس کا ہو جائے، تو مار کر پڑھوانا چاہیے۔ (2) (ابو داود و ترمذی)
مسئلہ ۳: نماز خالص عبادتِ بدنی ہے، اس میں نیابت جاری نہیں ہو سکتی یعنی ایک کی طرف سے دوسرا نہیں پڑھ سکتا نہ یہ ہو سکتا ہے کہ زندگی میں نماز کے بدلے کچھ مال بطورِ فدیہ ادا کر دے البتہ اگر کسی پر کچھ نمازیں رہ گئی ہیں اور انتقال کر گیا اور وصیت کر گیا کہ اس کی نمازوں کا فدیہ ادا کیا جائے تو ادا کیا جائے (3) اور امید ہے کہ انشاء اﷲ تعالیٰ قبول ہو اور بے وصیت بھی وارث اس کی طرف سے دے کہ امید قبول و عفو ہے۔ (4) (درمختار و ردالمحتار و دیگر کتب)
مسئلہ ۴: فرضیت نماز کا سبب حقیقی امر الٰہی ہے اور سبب ظاہری وقت ہے کہ اوّل وقت سے آخر وقت تک جب ادا کرے ادا ہو جائے گی اور فرض ذمّہ سے ساقط ہو جائے گا اور اگر ادا نہ کی یہاں تک کہ وقت کا ایک خفیف جز باقی ہے تو یہی جز اخیر سبب ہے، تو اگر کوئی مجنون یا بے ہوش ہوش میں آیا یا حیض و نفاس والی پاک ہوئی یا صبی (5) بالغ ہوا یا کافر مسلمان ہوا اور وقت صرف اتنا ہے کہ اﷲ اکبر کہہ لے تو ان سب پر اس وقت کی نماز فرض ہوگئی اور جنون و بے ہوشی پانچ وقت سے زائد کو مستغرق نہ ہوں تو اگرچہ تکبیر تحریمہ کا بھی وقت نہ ملے نماز فرض ہے، قضا پڑھے۔ (6) (درمختار ) حیض و نفاس والی میں تفصیل ہے، جو باب الحیض میں مذکور ہوئی۔ (7)
1 ۔ ''الدرالمختار''معہ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۶.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ،باب ماجاء متی یؤمرالصبي بالصلاۃ، الحدیث: ۴۰۷، ج۱، ص۴۱۶.
3 ۔ نماز کا فدیہ ادا کرنے کا طریقہ ''بہارِ شريعت'' حصہ ۴ ''قضا نماز کا بیان'' ميں اور امير اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الياس
عطّار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب ''نماز کے اَحکام'' صفحہ ۳۴۵ تا ۳۴۷ پر ملاحظہ فرمائيں۔
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب فيما يصير الکافر بہ مسلما من الأفعال، ج۲، ص۱۲.
5 ۔ بچہ۔ 6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۱۳،۱۵.
7 ۔ اگر پوری مدت ميں پاک ہوئی تو صرف اﷲ اکبر کہنے کی گنجائش وقت ميں ہونے سے نماز فرض ہوجائیگی اور اگر پوری مدت سے پہلے پاک =
مسئلہ ۵: نابالغ نے وقت میں نماز پڑھی تھی اور اب آخر وقت میں بالغ ہوا، تو اس پر فرض ہے کہ اب پھر پڑھے یوہیں اگر معاذ اﷲ کوئی مرتد ہو گیا پھر آخر وقت میں اسلام لایا اس پر اس وقت کی نماز فرض ہے، اگرچہ اوّل وقت میں قبل ار تداد نماز پڑھ چکا ہو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۶: نابالغ عشا کی نماز پڑھ کر سویا تھا اس کو احتلام ہوا اور بیدار نہ ہوا یہاں تک کہ فجر طلوع ہونے کے بعد آنکھ کھلی تو عشا کا اعادہ کرے اور اگر طلوع فجر سے پیشتر آنکھ کھلی تو اس پر عشا کی نماز بالاجماع فرض ہے۔ (2) (بحرالرائق)
مسئلہ ۷: کسی نے اوّل وقت میں نماز نہ پڑھی تھی اور آخر وقت میں کوئی ایسا عذر پیدا ہو گیا، جس سے نماز ساقط ہو جاتی ہے مثلاً آخر وقت میں حیض و نفاس ہو گیا یا جنون یا بے ہوشی طاری ہوگئی تو اس وقت کی نماز معاف ہوگئی، اس کی قضا بھی ان پر نہیں ہے، مگر جنون و بے ہوشی میں شرط ہے کہ علی الاتصال (3) پانچ نمازوں سے زائد کو گھیر لیں، ورنہ قضا لازم ہوگی۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: یہ گمان تھا کہ ابھی وقت نہیں ہوا نماز پڑھ لی بعد نماز معلوم ہوا کہ وقت ہو گیا تھا نماز نہ ہوئی۔ (5) (درمختار)
قال اﷲ تعالیٰ:
(اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوْقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾ ) (6)
= ہوئی يعنی حيض ميں دس دن سے پہلے اور نفاس ميں چاليس دن سے پہلے تو اتنا وقت درکار ہے کہ غسل کرکے کپڑے پہن کر اﷲ اکبر کہہ سکے غسل کرسکنے ميں مقدمات غسل، پانی لانا، کپڑے اُتارنا، پردہ کرنا بھی داخل ہيں۔ (ردالمحتار) ۱۲ منہ ۔
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۱۵.
2 ۔ ''البحرالرائق''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۱۵۹.
3 ۔ لگاتار۔ ''بہارِ شريعت'' حصہ ۴، ''نمازِ مريض کا بيان'' ميں ہے: اگر کسی وقت ہوش ہوجاتا ہے تو اس کا وقت مقرر ہے يا نہيں اگر وقت مقرر ہے اور اس سے پہلے پورے چھ وقت نہ گزرے تو قضا واجب اور وقت مقرر نہ ہو بلکہ دفعتہ ہوش ہوجاتا ہے پھر وہی حالت پيدا ہوجاتی ہے تو اس افاقہ کا اعتبار نہيں يعنی سب بیہوشياں متصل سمجھی جائيں گی۔ (عالمگیری، درمختار)
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، ج۱، ص۵۱.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب فيما يصير الکافر بہ مسلما من الأفعال، ج۲، ص۱۴.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۳۶.
6 ۔ پ۵، النسآء: ۱۰۳.
بے شک نماز ایمان والوں پر فرض ہے، وقت باندھا ہوا۔
اور فرماتا ہے:
( فَسُبْحٰنَ اللہِ حِیۡنَ تُمْسُوۡنَ وَ حِیۡنَ تُصْبِحُوۡنَ ﴿۱۷﴾وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّ حِیۡنَ تُظْہِرُوۡنَ ﴿۱۸﴾ ) (1)
اﷲ کی تسبیح کرو جس وقت تمھيں شام ہو (نماز مغرب و عشا) اور جس وقت صبح ہو (نماز فجر) اور اسی کی حمد ہے، آسمانوں اور زمین میں اور پچھلے پہر کو (نماز عصر) اور جب تمھيں دن ڈھلے (نماز ظہر)۔
حدیث ۱: حاکم نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''فجر دو ہیں ایک وہ جس میں کھانا حرام یعنی روزہ دار کے ليے اور نماز حلال دوسری وہ کہ اس میں نماز (فجر) حرام اور کھانا حلال۔'' (2)
حدیث ۲: نَسائی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جس شخص نے فجر کی ایک رکعت قبل طلوع آفتاب پالی، تو اس نے نماز پا لی (اس پر فرض ہوگئی )اور جسے ایک رکعت عصر کی قبل غروب آفتاب مل گئی اس نے نماز پالی یعنی اس کی نماز ہوگئی۔'' (3) یہاں دونوں جگہ رکعت سے تکبیر تحریمہ مراد لی جائے گی یعنی عصر کی نیت باندھ لی تکبیر تحریمہ کہہ لی اس وقت تک آفتاب نہ ڈوبا تھا پھر ڈوب گیا نماز ہوگئی اور کافر مسلمان ہوا یا بچّہ بالغ ہوا اس وقت کہ آفتاب طلوع ہونے تک تکبیر تحریمہ کہہ لینے کا وقت باقی تھا، اس فجر کی نماز اس پر فرض ہوگئی، قضا پڑھے اور طلوع آفتاب کے بعد مسلمان یا بالغ ہوا تو وہ نماز اس پر فرض نہ ہوئی۔
حدیث ۳: ترمذی رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''فجر کی نماز اجالے میں پڑھو کہ اس میں بہت عظیم ثواب ہے۔'' (4)
حدیث ۴: دیلمی کی روایت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ'' اس سے تمہاری مغفرت ہو جائے گی۔'' (5) اور دیلمی کی
1 ۔ پ۲۱، الروم: ۱۷۔ ۱۸.
2 ۔ ''المستدرک'' للحاکم، کتاب الصلاۃ، فال الفجر فجران، الحدیث: ۷۱۳، ج۱، ص۴۳۳.
3 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب المواقيت، باب من أدرک رکعتين من العصر، الحدیث: ۵۱۴، ص۹۲.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في الإسفار بالفجر، الحدیث: ۱۵۴، ج۱، ص۲۰۴.
5 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۱۹۲۷۹، ج۷، ص۱۴۸.
دوسری روایت انھیں سے ہے کہ'' جو فجر کو روشن کرکے پڑھے گا اﷲ تعالیٰ اس کی قبر اور قلب کو منور کریگا اور اس کی نماز قبول فرمائے گا۔ '' (1)
حدیث ۵: طَبَرانی اَوسَط میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں:'' میری امت ہمیشہ فطرت یعنی دینِ حق پر رہے گی، جب تک فجر کو اجالے میں پڑھے گی۔ '' (2)
حدیث ۶: امام احمد و ترمذی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''نماز کے ليے اوّل و آخر ہے، اوّل وقت ظہر کا اس وقت ہے کہ آفتاب ڈھل جائے اور آخر اس وقت کہ عصرکاوقت آجائے اور آخر وقت عصر کا اس وقت کہ آفتاب کا قرص زرد ہوجائے ،اور اول وقت مغرب کا اس وقت کہ آفتاب ڈوب جائے اور اس کا آخر وقت جب شفق ڈوب جائے اور اول وقت عشا جب شفق ڈوب جائے اور آخر وقت جب آدھی رات ہوجائے۔'' (3) (يعنی وقت مباح بلا کراہت)۔
حدیث ۷: بُخاری و مُسلِم ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''ظہر کو ٹھنڈا کرکے پڑھو کہ سخت گرمی جہنم کے جوش سے ہے۔ دوزخ نے اپنے رب کے پاس شکایت کی کہ میرے بعض اجزا بعض کو کھائے لیتے ہیں اسے دو مرتبہ سانس کی اجازت ہوئی ایک جاڑے میں ایک گرمی میں۔'' (4)
حدیث ۸: صحیح بُخاری شریف باب الاذان للمسافرین میں ہے، ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، ہم رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، مؤذن نے اَذان کہنی چاہی، فرمایا: ''ٹھنڈا کر''، پھر قصد کیا، فرمایا: ''ٹھنڈا کر ''، پھر ارادہ کیا، فرمایا: ''ٹھنڈا کر، یہا ں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو گیا۔'' (5)
حدیث ۹ و ۱۰: امام احمد و ابو داود، ابو ایوب و عقبہ بن عامررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''میری امت ہمیشہ فطرت پر رہے گی، جب تک مغرب میں اتنی تاخیر نہ کریں کہ ستارے گُتھ جائیں۔'' (6)
حدیث ۱۱: ابو داود نے عبدالعزیز بن رفیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''دن کی نماز
1 ۔ ''الفردوس بمأ ثور الخطاب''، الحدیث: ۵۶۲۴، ج۳، ص۵۲۰.
2 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب السين، الحدیث: ۳۶۱۸، ج۲، ص۳۹۰.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في مواقيت الصلاۃ، الحدیث: ۱۵۱، ج۱، ص۲۰۲.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب مواقيت الصلاۃ، باب الإبراد بالظہر في شدۃ الحر، الحدیث: ۵۳۷۔ ۵۳۸، ج۱، ص۱۹۹.
5 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب الأذان للمسافرين... إلخ، الحدیث: ۶۲۹، ج۱، ص۲۲۸.
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلوٰۃ، باب في وقت المغرب، الحدیث: ۴۱۸، ج۱، ص۱۸۳.
(عصر) ابر کے دن میں جلدی پڑھو اور مغرب میں تاخیر کرو۔'' (1)
حدیث ۱۲: امام احمد ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری امت پر مشقت ہو جائے گی، تو میں ان کو حکم فرمادیتا کہ ہر وضو کے ساتھ مسواک کریں اور عشا کی نماز تہائی یا آدھی رات تک مؤخر کر دیتا کہ رب تبارک و تعالیٰ آسمان پر خاص تجلّی رحمت فرماتا ہے اور صبح تک فرماتا رہتا ہے :کہ ہے کوئی سائل کہ اسے دوں، ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ اس کی مغفرت کروں، ہے کوئی دُعا کرنے والا کہ قبول کروں۔'' (2)
حدیث ۱۳: طَبَرانی اَوسَط میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جب فجر طلوع کر آئے تو کوئی (نفل) نماز نہیں سوا دو رکعت فجر کے۔'' (3)
حدیث ۱۴: بُخاری و مُسلِم میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''بعد صبح نماز نہیں تا وقتیکہ آفتاب بلند نہ ہو جائے اور عصر کے بعد نما زنہیں یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔'' (4)
حدیث ۱۵: صحیحین میں عبداﷲ صنابحی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''آفتاب شیطان کے سینگ کے ساتھ طلوع کرتا ہے، جب بلند ہو جاتا ہے، تو جدا ہو جاتا ہے پھر جب سر کی سیدھ پر آتا ہے، تو شیطان اس سے قریب ہو جاتا ہے، جب ڈھل جاتا ہے تو ہٹ جاتا ہے پھر جب غروب ہونا چاہتا ہے شیطان اس سے قریب ہو جاتا ہے، جب ڈوب جاتا ہے جُدا ہو جاتا ہے، تو ان تين وقتوں میں نماز نہ پڑھو۔'' (5)
مسئلہ ۱: وقت فجر: طلوع صبح صادق سے آفتاب کی کرن چمکنے تک ہے۔ (6) (متون)
فائدہ: صبح صادق ایک روشنی ہے کہ پورب (7) کی جانب جہاں سے آج آفتاب طلوع ہونے والا ہے اس کے اوپر
1 ۔ ''مراسيل أبي داود'' مع ''سنن أبي داود''، کتاب الصلوٰۃ، ص۵ .
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہريرۃ، الحدیث: ۹۵۹۷، ج۳، ص۴۲۷.
3 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب الألف، الحدیث: ۸۱۶، ج۱، ص۲۳۸.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب مواقيت الصلاۃ، باب لا تتحری الصلاۃ قبل ...الخ، الحدیث:۵۸۶، ج۱، ص ۲۱۳.
5 ۔ لم نجدہذا الحدیث في الصحيحین .
''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ الأوقات المکروھۃ، الحدیث: ۱۹۵۸۵، ج۷، ص۱۷۱.
6 ۔ ''مختصر القدوري''، کتاب الصلاۃ، ص۱۵۳.
7 ۔ مشرق۔
آسمان کے کنارے میں دکھائی دیتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے، یہاں تک کہ تمام آسمان پر پھیل جاتی اور زمین پر اجالا ہو جاتا ہے اور اس سے قبل بیچ آسمان میں ایک دراز سپیدی ظاہر ہوتی ہے، جس کے نیچے سارا اُفق سیاہ ہوتا ہے، صبح صادق اس کے نیچے سے پھوٹ کر جنوباً شمالاً دونوں پہلوؤں پر پھیل کر اوپر بڑھتی ہے، یہ دراز سپیدی اس میں غائب ہو جاتی ہے، اس کو صبح کاذب کہتے ہیں، اس سے فجر کا وقت نہیں ہوتا یہ جو بعض نے لکھا کہ صبح کاذب کی سپیدی جاکر بعد کو تاریکی ہو جاتی ہے، محض غلط ہے، صحیح وہ ہے جو ہم نے بیان کیا۔
مسئلہ ۲: مختار یہ ہے کہ نماز فجر میں صبح صادق کی سپیدی چمک کر ذرا پھیلنی شروع ہو اس کا اعتبار کیا جائے اور عشا اور سحری کھانے میں اس کے ابتدائے طلوع کا اعتبار ہو۔ (1) (عالمگیری)
فائدہ: صبح صادق چمکنے سے طلوع آفتاب تک ان بلاد (2) میں کم از کم ایک گھنٹا اٹھارہ منٹ ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹا پینتیس (۳۵) منٹ نہ اس سے کم ہو گا نہ اس سے زیادہ، اکیس (۲۱) مارچ کو ایک گھنٹا اٹھارہ منٹ ہوتا ہے، پھر بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ۲۲ جون کو پورا ایک گھنٹا ۳۵ منٹ ہوجاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے، یہاں تک کہ (۲۲) ستمبر کو ایک گھنٹا ۱۸ منٹ ہو جاتا ہے، پھر بڑھتا ہے، یہاں تک کہ ۲۲ دسمبر کو ایک گھنٹا ۲۴ منٹ ہو تاہے، پھر کم ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ ۲۱ مارچ کو وہی ایک گھنٹا اٹھارہ منٹ ہو جاتا ہے، جو شخص وقت صحیح نہ جانتا ہو اسے چاہيے کہ گرمیوں میں ایک گھنٹا ۴۰ منٹ باقی رہنے پر سحری چھوڑ دے خصوصاً جون جولائی میں اور جاڑوں میں ڈیڑھ گھنٹا رہنے پر خصوصاً دسمبر جنوری میں اورمارچ و ستمبر کے اواخرمیں جب دن رات برابر ہوتا ہے، تو سحری ایک گھنٹا چوبيس منٹ پر چھوڑ ے اور سحری چھوڑنے کا جو وقت بیان کیا گیا اس کے آٹھ دس منٹ بعد اَذان کہی جائے تاکہ سحری اور اَذان دونوں طرف احتیاط رہے، بعض ناواقف آفتاب نکلنے سے دو پونے دو گھنٹے پہلے اَذان کہہ دیتے ہیں پھر اسی وقت سنت بلکہ فرض بھی بعض دفعہ پڑھ لیتے ہیں، نہ یہ اَذان ہو نہ نماز، بعضوں نے رات کا ساتواں حصہ وقتِ فجر سمجھ رکھا ہے یہ ہرگز صحیح نہیں ماہِ جون و جولائی میں جب کہ دن بڑا ہوتا ہے اور رات تقریباً دس گھنٹے کی ہوتی ہے، ان دنوں تو البتہ وقت صبح رات کا ساتواں حصہ یا اس سے چند منٹ پہلے ہو جاتا ہے، مگر دسمبر جنوری میں جب کہ رات چودہ گھنٹے کی ہوتی ہے، اسوقت فجر کا وقت نواں حصہ بلکہ اس سے بھی کم ہو جاتا ہے۔ ابتدائے وقت فجر کی شناخت دشوار ہے، خصوصاً جب کہ گرد و غبار ہو یا چاندنی رات ہو لہٰذا ہمیشہ طلوع آفتاب کا خیال رکھے کہ آج جس وقت طلوع ہوا دوسرے دن اسی حساب سے وقت متذکرۂ بالا (3) کے اندر اندر اَذان و نماز فجر ادا کی جائے۔ (از افاداتِ رضویہ)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقیت، الفصل الأول، ج۱، ص۵۱.
2 ۔ شہروں۔ 3 ۔ متذکرۂ بالایعنی اوپر ذکر کئے گئے۔
وقت ظہر و جمعہ: آفتاب ڈھلنے سے اس وقت تک ہے، کہ ہر چیز کا سایہ علاوہ سایہ اصلی کے دو چند ہو جائے۔ (1) (متون)
فائدہ: ہر دن کا سایہ اصلی وہ سایہ ہے، کہ اس دن آفتاب کے خط نصف النہار پر پہنچنے کے وقت ہوتا ہے اور وہ موسم اور بلاد کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتا ہے، دن جتنا گھٹتا ہے، سایہ بڑھتا جاتا ہے اور دن جتنا بڑھتا ہے، سایہ کم ہوتا جاتا ہے، یعنی جاڑوں (2) میں زیادہ ہوتا ہے اور گرمیوں میں کم اور ان شہروں میں کہ خطِ استوا کے قرب میں واقع ہیں،کم ہوتا ہے، بلکہ بعض جگہ بعض موسم میں بالکل ہوتا ہی نہیں جب آفتاب بالکل سمت راس (3) پر ہوتا ہے، چنانچہ موسم سرما ماہِ دسمبر میں ہمارے ملک کے عرض البلد پر کہ ۲۸ درجہ کے قریب پر واقع ہے، ساڑھے آٹھ قدم سے زائد یعنی سوائے کے قریب سایہ اصلی ہو جاتا ہے اور مکۂ معظمہ میں جو ۰۲۱ درجہ پر واقع ہے، ان دنوں میں سات قدم سے کچھ ہی زائد ہوتا ہے، اس سے زائد پھر نہیں ہوتا اسی طرح موسم گرما میں مکۂ معظمہ میں ۲۷ مئی سے ۳۰ مئی تک دوپہر کے وقت بالکل سایہ نہیں ہوتا، اس کے بعد پھر وہ سایہ الٹا ظاہر ہوتا ہے، یعنی سایہ جو شمال کو پڑتا تھا، اب مکۂ معظمہ میں جنوب کو ہوتا ہے اور ۲۲ جون تک پاؤ قدم تک بڑھ کر پھر گھٹتا ہے، یہاں تک کہ پندرہ جولائی سے اٹھارہ جولائی تک پھر معدوم ہو جاتا ہے، اس کے بعد پھر شمال کی طرف ظاہر ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں نہ کبھی جنوب میں پڑتا ہے، نہ کبھی معدوم ہوتا بلکہ سب سے کم سایہ ۲۲ جون کو نصف قدم باقی رہتا ہے۔ (از افاداتِ رضویہ)
فائدہ: آفتاب ڈھلنے کی پہچان یہ ہے کہ برابر زمین میں ہموار لکڑی اس طرح سیدھی نصب کریں کہ مشرق یا مغرب کو اصلاً جھکی نہ ہو آفتاب جتنا بلند ہوتا جائے گا، اس لکڑی کا سایہ کم ہوتا جائے گا، جب کم ہونا موقوف ہو جائے، تو اس وقت خط نصف النہار پر پہنچا اور اس وقت کا سایہ سایۂ اصلی ہے، اس کے بعد بڑھنا شروع ہوگا اور یہ دلیل ہے، کہ خط نصف النہار سے متجاوز ہوا اب ظہر کا وقت ہوا یہ ایک تخمینہ ہے اس ليے کہ سایہ کا کم و بیش ہونا خصوصاً موسم گرما میں جلد متمیز نہیں ہوتا، اس سے بہتر طریقہ خط نصف النہار کا ہے کہ ہموار زمین میں نہایت صحیح کمپاس سے سوئی کی سیدھ پر خط نصف النہار کھینچ دیں اور ان ملکوں میں اس خط کے جنوبی کنارے پر کوئی مخروطی شکل کی نہایت باریک نوک دار لکڑی خوب سیدھی نصب کریں کہ شرق یا غرب کو اصلاً نہ جھکی ہو ،اور وہ خط نصف النہار اس کے قاعدے کے عین وسط میں ہو۔ جب اس کی نوک کا سایہ اس خط پر منطبق ہو ٹھیک دوپہر ہوگیا، جب بال برابر پورب کو جھکے دوپہر ڈھل گیا، ظہر کا وقت آگیا ۔
1 ۔ ''مختصرالقدوري''، کتاب الصلاۃ، ص۱۵۳.
2 ۔ سرديوں۔
3 ۔ یعنی بالکل سر کے اوپر۔
وقت عصر: بعد ختم ہونے وقت ظہر کے یعنی سوا سایہ اصلی کے دو مثل سایہ ہونے سے، آفتاب ڈوبنے تک ہے۔ (1) (متون)
فائدہ: ان بلاد میں وقت عصر کم از کم ایک گھنٹا ۳۵ منٹ اور زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے ۶ منٹ ہے، اس کی تفصیل یہ ہے، ۲۴ اکتوبر تحویل عقرب (2) سے آخر ماہ تک ایک گھنٹا ۳۶ منٹ پھر یکم نومبر سے ۱۸ فروری یعنی پونے چار مہینے تک تقریباً ایک گھنٹا ۳۵ منٹ سال میں یہ سب سے چھوٹا وقت عصر ہے، ان بلاد میں عصر کا وقت کبھی اس سے کم نہیں ہوتا، پھر ۱۹ فروری تحویل حوت سے ختم ماہ تک ایک گھنٹا ۳۶ منٹ، پھر مارچ کے ہفتۂ اوّل میں ایک گھنٹا ۳۷ منٹ، ہفتۂ دوم میں ایک گھنٹا ۳۸ منٹ ،ہفتۂ سوم میں ایک گھنٹا ۴۰ منٹ، پھر ۲۱ مارچ تحویل حمل سے آخر ماہ تک ایک گھنٹا ۴۱ منٹ، پھر اپریل کے ہفتۂ اوّل میں ایک گھنٹا ۴۳ منٹ، دوسرے ہفتہ میں ایک گھنٹا ۴۵ منٹ، تیسرے ہفتہ میں ایک گھنٹا ۴۸ منٹ ،پھر ۲۰ و ۲۱ اپریل تحویل ثور سے آخر ماہ تک ایک گھنٹا ۵۰ منٹ، پھر مئی کے ہفتۂ اول میں ایک گھنٹا ۵۳ منٹ ،ہفتۂ دوم میں ایک گھنٹا ۵۵ منٹ ،ہفتۂ سوم ميں ایک گھنٹا ۵۸ منٹ، پھر ۲۲ و ۲۳ مئی تحویل جوزا سے آخر ماہ تک دو گھنٹے ایک منٹ، پھر جون کے پہلے ہفتہ میں دو گھنٹے ۳ منٹ، ہفتۂ دوم میں دو گھنٹے ۴ منٹ ،ہفتۂ سوم میں دو گھنٹے۵ منٹ ،پھر ۲۲ جون تحویل سرطان سے آخر ماہ تک دو گھنٹے ۶ منٹ، پھر ہفتۂ اوّل جولائی میں دو گھنٹے ۵ منٹ ،دوسرے ہفتہ میں دو گھنٹے ۴ منٹ ،تیسرے ہفتہ میں دو گھنٹے دو منٹ ،پھر ۲۳ جولائی تحویل اسد کو دو گھنٹے ایک منٹ اس کے بعد سے آخر ماہ تک دو گھنٹے، پھر اگست کے پہلے ہفتہ میں ایک گھنٹا ۵۸ منٹ، دوسرے ہفتہ میں ایک گھنٹا ۵۵ منٹ، تیسرے ہفتہ میں ایک گھنٹا ۵۱ منٹ، پھر ۲۳ و ۲۴ اگست تحویل سنبلہ کو ایک گھنٹا ۵۰ منٹ ،پھر اس کے بعد سے آخر ماہ تک ایک گھنٹا ۴۸ منٹ ،پھر ہفتۂ اول ستمبر میں ایک گھنٹا ۴۶ منٹ ،دوسرے ہفتہ میں ایک گھنٹا ۴۴ منٹ، تیسرے ہفتہ میں ایک گھنٹا ۴۲ منٹ ،پھر ۲۳، ۲۴ ستمبر تحویل میزان میں ایک گھنٹا ۴۱ منٹ ،پھر اس کے بعد آخر ماہ تک ایک گھنٹا ۴۰ منٹ ،پھر ہفتۂ اوّل اکتوبر میں ایک گھنٹا ۳۹ منٹ، ہفتۂ دوم میں ایک گھنٹا ۳۸ منٹ ،ہفتۂ سوم ميں ۲۳ اکتوبر تک ایک گھنٹا ۳۷ منٹ، غروب آفتاب سے پیشتر وقت عصر شروع ہوتا ہے۔ (از افاداتِ رضویہ)
وقت مغرب: غروب آفتاب سے غروب شفق تک ہے۔ (3) (متون)
1 ۔ ''مختصرالقدوري''، کتاب الصلاۃ، ص۱۵۴.
2 ۔ ايک بُرج کا نام ہے۔ بارہ بُرج جو سات سيارہ ستاروں کی منزليں ہيں۔ بُرج یہ ہيں:
(۱) حمل (۲) ثور (۳) جوزا (۴) سرطان (۵) اسد (۶) سنبلہ (۷) ميزان (۸) عقرب (۹) قوس (۱۰) جدی
(۱۱) دلو (۱۲) حوت۔ (''معالم التنزيل''، ج۳، ص۳۱۸، ملخّصاً)
3 ۔ ''مختصرالقدوري''، کتاب الصلاۃ، ص۱۵۴.
مسئلہ ۳: شفق ہمارے مذہب میں اس سپیدی کا نام ہے، جو جانب مغرب میں سُرخی ڈوبنے کے بعد جنوباً شمالاً صبح صادق کی طرح پھیلی ہوئی رہتی ہے۔ (1) (ہدایہ، شرح وقایہ، عالمگیری، افاداتِ رضویہ) اور یہ وقت ان شہروں میں کم سے کم ایک گھنٹا اٹھارہ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹا ۳۵ منٹ ہوتا ہے۔ (2) (فتاویٰ رضویہ) فقیر نے بھی بکثرت اس کا تجربہ کیا۔
فائدہ: ہر روز کے صبح اور مغرب دونوں کے وقت برابر ہوتے ہیں۔
وقت عشا و وتر: غروب سپیدی مذکور سے طلوع فجر تک ہے، اس جنوباً شمالاً پھیلی ہوئی سپیدی کے بعد جو سپیدی شرقاً غرباً طويل باقی رہتی ہے، اس کا کچھ اعتبار نہیں، وہ جانب شرق میں صبح کاذب کی مثل ہے۔ (3)
مسئلہ ۴: اگرچہ عشا و وتر کا وقت ایک ہے، مگر باہم ان میں ترتیب فرض ہے، کہ عشا سے پہلے وتر کی نماز پڑھ لی تو ہوگی ہی نہیں، البتہ بھول کر اگر وتر پہلے پڑھ ليے یا بعد کو معلوم ہوا کہ عشا کی نماز بے وضو پڑھی تھی اور وتر وضو کے ساتھ تو وتر ہوگئے۔ (4) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۵: جن شہروں میں عشا کا وقت ہی نہ آئے کہ شفق ڈوبتے ہی یا ڈوبنے سے پہلے فجر طلوع کر آئے (جیسے بلغار و لندن کہ ان جگہوں میں ہر سال چالیس راتیں ایسی ہوتی ہیں کہ عشا کا وقت آتا ہی نہیں اور بعض دنوں میں سیکنڈوں اور منٹوں کے ليے ہوتا ہے) تو وہاں والوں کو چاہیے کہ'' ان دنوں کی عشا و وتر کی قضا پڑھیں۔'' (5) (درمختار، ردالمحتار)
اوقات مستحبہ: فجر میں تاخیر مستحب ہے، یعنی اسفار میں (جب خوب اُجالا ہو یعنی زمین روشن ہو جائے) شروع کرے مگر ایسا وقت ہونا مستحب ہے، کہ چالیس سے ساٹھ آیت تک ترتیل کے ساتھ پڑھ سکے پھر سلام پھیرنے کے بعد اتنا وقت باقی رہے ،کہ اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو طہارت کرکے ترتیل کیساتھ چالیس سے ساٹھ آیت تک دوبارہ پڑھ سکے اور اتنی تاخیر مکروہ ہے کہ طلوع آفتاب کا شک ہو جائے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
1 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب المواقیت، ج۱، ص۴۰.
2 ۔ الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأوقات، ج۵، ص۱۵۳.
3 ۔ الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأوقات، ج۵، ص۱۵۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقیت، الفصل الأول، ج۱، ص۵۱.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۲۳.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب فی فاقدوقت العشاء کأھل بلغار، ج۲، ص۲۴.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في طلوع الشمس من مغربہا، ج۲، ص۳۰.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقیت، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۱.
مسئلہ ۶: حاجیوں کے ليے مزدلفہ میں نہایت اوّل وقت فجر پڑھنا مستحب ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: عورتوں کے ليے ہمیشہ فجر کی نماز غلس ( یعنی اوّل وقت )میں مستحب ہے اور باقی نمازوں میں بہتر یہ ہے، کہ مردوں کی جماعت کا انتظار کریں، جب جماعت ہو چکے تو پڑھیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۸: جاڑوں کی ظہر میں جلدی مستحب ہے، گرمی کے دنوں میں تاخیر مستحب ہے، خواہ تنہا پڑھے یا جماعت کے ساتھ، ہاں گرمیوں میں ظہر کی جماعت اوّل وقت میں ہوتی ہو تو مستحب وقت کے ليے جماعت کا ترک جائز نہیں، موسم ربیع جاڑوں کے حکم میں ہے اور خریف گرمیوں کے حکم میں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۹: جمعہ کا وقت مستحب وہی ہے، جو ظہر کے ليے ہے۔ (4) (بحر)
مسئلہ ۱۰: عصر کی نماز میں ہمیشہ تاخیر مستحب ہے، مگر نہ اتنی تاخیر کہ خود قرص آفتاب میں زردی آجائے، کہ اس پر بے تکلّف بے غبار و بخار نگاہ قائم ہونے لگے ،دھوپ کی زردی کا اعتبار نہیں۔ (5) ( عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۱۱: بہتر یہ ہے کہ ظہر مثل اوّل میں پڑھیں اور عصر مثل ثانی کے بعد۔ (6) (غنیہ)
مسئلہ ۱۲: تجربہ سے ثابت ہوا کہ قرص آفتاب میں یہ زردی اس وقت آجاتی ہے، جب غروب میں بیس منٹ باقی رہتے ہیں، تو اسی قدر وقتِ کراہت ہے یوہیں بعد طلوع بیس منٹ کے بعد جواز نماز کا وقت ہو جاتا ہے۔ (7) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱۳: تاخیر سے مراد یہ ہے کہ وقت مستحب کے دو حصے کيے جائیں، پچھلے حصہ میں ادا کریں۔ (8) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۴: عصر کی نماز وقت مستحب میں شروع کی تھی، مگر اتنا طول دیا کہ وقت مکروہ آگیا تو اس میں کراہت نہیں۔ (9) (بحر و عالمگیری و درمختار )
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۳۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقیت، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۲.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۳۵.
4 ۔ ''البحرالرائق''، کتاب الصلاۃ، ج۱، ص۴۲۹.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقیت، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۲.
6 ۔ ''غنیۃ المتملي شرح منیۃ المصلي''، الشرط الخامس، ص۲۲۷.
7 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأوقات، ج۵، ص۱۳۸. ملخصاً.
8 ۔ ''البحرالرائق''
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۲.
مسئلہ ۱۵: روز ابر (1) کے سوا مغرب میں ہمیشہ تعجیل (2) مستحب ہے اور دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہِ تنزیہی اور اگر بغیر عذر سفر و مرض وغیرہ اتنی تاخیر کی کہ ستارے گُتھ گئے، تو مکروہ ِتحریمی۔ (3) (درمختار، عالمگيری، فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱۶: عشا میں تہائی رات تک تاخیر مستحب ہے اور آدھی رات تک تاخیر مباح یعنی جب کہ آدھی رات ہونے سے پہلے فرض پڑھ چکے اور اتنی تاخیر کہ رات ڈھل گئی مکروہ ہے ،کہ باعثِ تقلیل جماعت ہے۔ (4) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۱۷: نماز عشا سے پہلے سونا اور بعد نماز عشا دنیا کی باتیں کرنا، قصے کہانی کہنا سننا مکروہ ہے، ضروری باتیں اور تلاوت قرآن مجید اور ذکر اور دینی مسائل اور صالحین کے قصے اور مہمان سے بات چیت کرنے میں حرج نہیں، یوہیں طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ذکرِ الٰہی کے سوا ہر بات مکروہ ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: جو شخص جاگنے پر اعتماد رکھتا ہو اس کو آخر رات میں وتر پڑھنا مستحب ہے، ورنہ سونے سے قبل پڑھ لے، پھر اگر پچھلے کو آنکھ کھلی تو تہجد پڑھے وتر کا اعادہ جائز نہیں۔ (6) (درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: ابر کے دن عصر و عشا میں تعجیل مستحب ہے اور باقی نمازوں میں تاخیر۔ (7) (متون)
مسئلہ ۲۰: سفر وغیرہ کسی عذر کی وجہ سے دو نمازوں کا ایک وقت میں جمع کرنا حرام ہے، خواہ یوں ہو کہ دوسری کو پہلی ہی کے وقت میں پڑھے یا یوں کہ پہلی کو اس قدر مؤخر کرے کہ اس کا وقت جاتا رہے اور دوسری کے وقت میں پڑھے مگر اس دوسری صورت میں پہلی نماز ذمہ سے ساقط ہوگئی کہ بصورت قضا پڑھ لی اگرچہ نماز کے قضا کرنے کا گناہِ کبیرہ سر پر ہوا اور پہلی صورت میں تو دوسری نماز ہو گی ہی نہیں اور فرض ذمہ پر باقی ہے ۔ ہاں اگر عذر سفر و مرض وغیرہ سے صورۃً جمع کرے کہ پہلی کو اس کے آخر وقت میں اور دوسری کو اس کے اوّل وقت میں پڑھے کہ حقیقتاً دونوں اپنے اپنے وقت میں واقع ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ (8) (عالمگیری مع زيادۃ التفصيل )
1 ۔ روز ابریعنی جس دن بادل چھائے ہوں۔ 2 ۔ جلدی پڑھنا۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۲.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۳۳.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۳۲، و ''البحرالرائق''، کتاب الصلاۃ، ج۱، ص۴۳۰.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۵۵.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في طلوع الشمس من مغربہا، ج۲، ص۳۳.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في طلوع الشمس من مغربہا، ج۲، ص۳۴.
7 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأول في المواقیت، فصل ویستحب الإسفار بالفجر، ج۱، ص۴۱.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۲.
مسئلہ ۲۱: عرفہ و مزدلفہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں، کہ عرفہ میں ظہر و عصر وقت ظہر میں پڑھی جائیں اور مزدلفہ میں مغرب و عشا وقت عشا میں۔ (1) (عالمگیری)
اوقاتِ مکروہہ: طلوع و غروب و نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا، یوہیں سجدۂ تلاوت و سجدۂ سہو بھی ناجائز ہے، البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگرچہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے ،مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے ۔ حدیث میں اس کو منافق کی نماز فرمایا، طلوع سے مراد آفتاب کا کنارہ ظاہر ہونے سے اس وقت تک ہے کہ اس پر نگاہ خیرہ ہونے لگے جس کی مقدار کنارہ چمکنے سے ۲۰ منٹ تک ہے اور اس وقت سے کہ آفتاب پر نگاہ ٹھہرنے لگے ڈوبنے تک غروب ہے، یہ وقت بھی ۲۰ منٹ ہے، نصف النہار سے مراد نصف النہار شرعی سے نصف النہار حقیقی یعنی آفتاب ڈھلکنے تک ہے جس کو ضحوۂ کبریٰ کہتے ہیں یعنی طلوع فجر سے غروب آفتاب تک آج جو وقت ہے، اس کے برابر برابر دو حصے کریں، پہلے حصہ کے ختم پر ابتدائے نصف النہار شرعی ہے اور اس وقت سے آفتاب ڈھلنے تک وقت استوا و ممانعت ہر نماز ہے۔ (2) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار، فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۲۲: عوام اگر صبح کی نماز آفتاب نکلنے کے وقت پڑھیں تو منع نہ کیا جائے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: جنازہ اگر اوقاتِ ممنوعہ میں لایا گیا ،تو اسی وقت پڑھیں کوئی کراہت نہیں کراہت، اس صورت میں ہے کہ پیشتر سے طیار موجود ہے اور تاخیر کی یہاں تک کہ وقتِ کراہت آگیا۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: ان اوقات میں آیت سجدہ پڑھی تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ میں تاخیر کرے ،یہاں تک کہ وقتِ کراہت جاتا رہے اور اگر وقت مکروہ ہی میں کر لیا تو بھی جائز ہے اور اگر وقتِ غیر مکروہ میں پڑھی تھی تو وقتِ مکروہ میں سجدہ کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: ان اوقات میں قضا نماز ناجائز ہے اور اگر قضا شروع کر لی تو واجب ہے کہ توڑ دے اور وقتِ غیر
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۲.
2 ۔ المرجع السابق، الفصل الثالث، و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۳۷.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأوقات، ج۵، ص۱۲۲.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۳۸ .
مگر بعد نماز کہہ ديا جائے کہ نماز نہ ہوئی، آفتاب بلند ہونے کے بعد پھر پڑھيں۔ ۱۲ منہ
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: یشترط العلم بدخول الوقت، ج۲، ص۴۳.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۲.
مکروہ میں پڑھے اور اگر توڑی نہیں اور پڑھ لی تو فرض ساقط ہو جائے گا اور گناہگار ہوگا۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۶: کسی نے خاص ان اوقات میں نماز پڑھنے کی نذر مانی یا مطلقاً نماز پڑھنے کی منت مانی، دونوں صورتوں میں ان اوقات میں اس نذر کا پورا کرنا جائز نہیں، بلکہ وقت کامل میں اپنی منت پوری کرے۔ (2) (درمختار، عالمگیری )
مسئلہ ۲۷: ان وقتوں میں نفل نماز شروع کی تو وہ نما زواجب ہوگئی، مگر اس وقت پڑھنا جائز نہیں، لہٰذا واجب ہے کہ توڑ دے اور وقت کامل میں قضا کرے اور اگر پوری کر لی تو گنہگار ہوا اور اب قضا واجب نہیں۔ (3) (غنیہ، درمختار)
مسئلہ ۲۸: جو نماز وقت مباح یا مکروہ میں شروع کرکے فاسد کر دی تھی، اس کو بھی ان اوقات میں پڑھنا ناجائز ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: ان اوقات میں تلاوتِ قرآن مجید بہتر نہیں، بہتر یہ ہے کہ ذکر و درود شریف میں مشغول رہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: بارہ (۱۲) وقتوں میں نوافل پڑھنا منع ہے اور ان کے بعض یعنی ۶ و ۱۲ میں فرائض و واجبات و نمازِ جنازہ و سجدۂ تلاوت کی بھی ممانعت ہے۔
(۱) طلوع فجر سے طلوع آفتا ب تک کہ اس درمیان میں سوا دو رکعت سنت فجر کے کوئی نفل نماز جائز نہیں۔ (6)
مسئلہ ۳۱: اگر کوئی شخص طلوع فجر سے پیشتر (7) نماز نفل پڑھ رہا تھا، ایک رکعت پڑھ چکا تھا کہ فجر طلوع کر آئی تو دوسری بھی پڑھ کر پوری کرلے اور یہ دونوں رکعتیں سنت فجر کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں ،اور اگر چار رکعت کی نیت کی تھی اور ایک رکعت کے بعد طلوع فجر ہوا اور چاروں رکعتیں پوری کر لیں تو پچھلی دو رکعتیں سنت فجر کے قائم مقام ہو جائیں گی۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: نمازِ فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک اگرچہ وقت وسیع باقی ہو اگرچہ سنت فجر فرض سے پہلے نہ پڑھی تھی اور اب پڑھنا چاہتا ہو، جائز نہیں۔ (9) (عالمگیری، ردالمحتار)
1 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۴۳.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۴۳.
4 ۔ المرجع السابق، ص۴۵.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۴۴.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۲.
7 ۔ پہلے۔
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۲.
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳.
مسئلہ ۳۳: فرض سے پیشتر سنت فجر شروع کرکے فاسد کر دی تھی اور اب فرض کے بعد اس کی قضا پڑھنا چاہتا ہے، یہ بھی جائز نہیں۔ (1) (عالمگیری)
(۲) اپنے مذہب کی جماعت کے ليے اِقامت ہوئی تو اِقامت سے ختم جماعت تک نفل و سنت پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، البتہ اگر نماز فجر قائم ہو چکی اور جانتا ہے کہ سنت پڑھے گا جب بھی جماعت مل جائے گی اگرچہ قعدہ میں شرکت ہو گی، تو حکم ہے کہ جماعت سے الگ اور دور سنت فجر پڑھ کر شریک جماعت ہو اور جو جانتا ہے کہ سنت میں مشغول ہو گا تو جماعت جاتی رہے گی اور سنت کے خیال سے جماعت ترک کی یہ ناجائز و گناہ ہے اور باقی نمازوں میں اگرچہ جماعت ملنا معلوم ہو سنتیں پڑھنا جائز نہیں۔ (2) (عالمگیری، درمختار)
(۳) نمازِ عصر سے آفتاب زرد ہونے تک نفل منع ہے ،نفل نما زشروع کرکے توڑ دی تھی اس کی قضا بھی اس وقت میں منع ہے اور پڑھ لی تو ناکافی ہے، قضا اس کے ذمہ سے ساقط نہ ہوئی۔ (3) (عالمگیری، درمختار)
(۴) غروب آفتاب سے فرض مغرب تک۔ (4) (عالمگیری، درمختار) مگر امام ابن الہمام نے دو رکعت خفیف کا استثنا فرمایا۔ (5)
(۵) جس وقت امام اپنی جگہ سے خطبۂ جمعہ کے ليے کھڑا ہوا اس وقت سے فرض جمعہ ختم ہونے تک نماز نفل مکروہ ہے، یہاں تک کہ جمعہ کی سنتیں بھی۔ (6) (درمختار)
(۶) عین خطبہ کے وقت اگرچہ پہلا ہو یا دوسرا اور جمعہ کا ہو یا خطبۂ عیدین یا کسوف و استسقا و حج و نکاح کا ہو ہر نماز حتیٰ کہ قضا بھی ناجائز ہے، مگر صاحب ترتیب کے ليے خطبۂ جمعہ کے وقت قضا کی اجازت ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۳۴: جمعہ کی سنتیں شروع کی تھیں کہ امام خطبہ کے ليے اپنی جگہ سے اٹھا چاروں رکعتیں پوری کرلے۔ (8) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳.
2 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۴۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳.
4 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۴۶.
5 ۔ ''فتح القدیر''، کتاب الصلاۃ، باب النوافل، ج۱، ص۳۸۹.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۴۷.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۴۸.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳.
(۷) نماز عیدین سے پیشتر نفل مکروہ ہے، خواہ گھر ميں پڑھے يا عید گاہ و مسجد میں۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
(۸) نما زعیدین کے بعدنفل مکروہ ہے، جب کہ عید گاہ یا مسجد میں پڑھے، گھرمیں پڑھنا مکروہ نہیں۔ (2) (عالمگیری، درمختار)
(۹) عرفات میں جو ظہر و عصر ملا کر پڑھتے ہیں، ان کے درمیان میں اور بعد میں بھی نفل و سنت مکروہ ہے۔ (3)
(۱۰) مزدلفہ میں جو مغرب و عشا جمع کيے جاتے ہیں، فقط ان کے درمیان میں نفل و سنت پڑھنا مکروہ ہے، بعدمیں مکروہ نہیں۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
(۱۱) فرض کا وقت تنگ ہو تو ہر نماز یہاں تک کہ سنت فجر و ظہر مکروہ ہے۔ (5)
(۱۲) جس بات سے دل بٹے اور دفع کر سکتا ہو اسے بے دفع کيے ہر نماز مکروہ ہے مثلاً پاخانے یا پیشاب یا ریاح کا غلبہ ہو مگر جب وقت جاتا ہو تو پڑھ لے پھر پھیرے۔ (6) (عالمگیری وغیرہ) یوہیں کھانا سامنے آگیا اور اس کی خواہش ہوغرض کوئی ایسا امر درپیش ہو جس سے دل بٹے خشوع میں فرق آئے ان وقتوں میں بھی نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ (7) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳۵: فجر اور ظہر کے پورے وقت اوّل سے آخر تک بلا کراہت ہیں۔ (8) (بحرالرائق) یعنی یہ نمازیں اپنے وقت کے جس حصے میں پڑھی جائیں اصلاً مکروہ نہیں۔
قال اﷲ تعالیٰ:
(وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللہِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیۡ مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾ ) (9)
اس سے اچھی کس کی بات، جو اﷲ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور یہ کہے کہ میں مسلمانوں میں ہوں۔
1 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۵۰.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۵۰.
4 ۔ المرجع السابق، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۵۰.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳.
7 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۵۱.
8 ۔ ''البحرالرائق''، کتاب الصلاۃ، ج۱، ص۴۳۲.
9 ۔ پ۲۴، حمۤ السجدۃ: ۳۳.
امیر المومنین فاروقِ اعظم اور عبداﷲ بن زید بن عبد رَبِّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو اَذان خواب میں تعلیم ہوئی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''یہ خواب حق ہے ''اور عبد اﷲ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ''جاؤ بلال کو تلقین کرو، وہ اَذان کہیں کہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز ہیں۔'' (1) اس حدیث کو ابو دادو ترمذی و ابن ماجہ و دارمی نے روایت کیا، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم فرمایا: کہ ''اَذان کے وقت کانوں میں انگلیاں کر لو، کہ اس کے سبب آواز زیادہ بلند ہوگی۔'' (2) اس حدیث کو ابن ماجہ نے عبدالرحمن بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔
اَذان کہنے کی بہت بڑی بڑی فضیلتیں احادیث میں مذکور ہیں، بعض فضائل ذکر کيے جاتے ہیں:
حدیث ۱: مُسلِم و احمد و ابن ماجہ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''مؤذنوں کی گردنیں قیامت کے دن سب سے زیادہ دراز ہوں گی۔'' (3) علامہ عبدالرؤف مناوی تیسیر میں فرماتے ہیں، یہ حدیث متواتر ہے اور حدیث کے معنی یہ بیان فرماتے ہیں کہ مؤذن رحمتِ الٰہی کے بہت امیدوار ہوں گے کہ جس کو جس چیز کی امید ہوتی ہے، اس کی طرف گردن دراز کرتا ہے يا اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کو ثواب بہت ہے اور بعضوں نے کہا یہ کنایہ ہے، اس سے کہ شرمندہ نہ ہوں گے اس ليے کہ جو شرمندہ ہوتا ہے، اس کی گردن جھک جاتی ہے۔ (4)
حدیث ۲ : امام احمد ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''مؤذن کی جہاں تک آواز پہنچتی ہے، اس کے ليے مغفرت کر دی جاتی ہے اور ہر تر و خشک جس نے اس کی آواز سنی اس کی تصدیق کرتا ہے۔'' (5) اور ایک روایت میں ہے کہ ''ہر تر و خشک جس نے آواز سنی اس کے ليے گواہی دے گا۔'' (6) دوسری روایت میں ہے، ''ہر ڈھیلا اور پتھر اس کے ليے گواہی دے گا۔ '' (7)
حدیث ۳: بُخاری و مُسلِم و مالک و ابو داود ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جب اَذان کہی جاتی ہے، شیطان گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے، یہاں تک کہ اَذان کی آواز اسے نہ پہنچے، جب اَذان پوری ہو جاتی ہے، چلا
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب کیف الأذان، الحدیث: ۴۹۹، ج۱، ص۲۱۰.
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الأذان، باب السنۃ في الأذان، الحدیث: ۷۱۰، ج۱، ص۳۹۵.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب فضل الأذان... إلخ، الحدیث: ۳۸۷، ص۲۰۴.
4 ۔ ''التیسير'' شرح ''الجامع الصغير''، حرف الميم، تحت الحديث: ۹۱۳۶، ج۶، ص۳۱۳.
5 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہريرۃ، الحدیث: ۷۶۱۵، ج۳، ص۸۹.
6 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہريرۃ، الحدیث: ۹۵۴۶، ج۳، ص۴۲۰.
7 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۲۰۸۷۸، ج۷، ص۲۷۷، الحديث: ۲۰۹۱۳، ص۲۸۰.
آتا ہے، پھر جب اِقامت کہی جاتی ہے، بھاگ جاتا ہے، جب پوری ہو لیتی ہے، آجاتا ہے اور خطرہ ڈالتا ہے، کہتا ہے فلاں بات یاد کر فلاں بات یاد کر وہ جو پہلے یاد نہ تھی یہاں تک کہ آدمی کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کتنی پڑھی۔'' (1)
حدیث ۴: صحیح مُسلِم میں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''شیطان جب اَذان سنتا ہے، اتنی دور بھاگتا ہے، جیسے روحا اور روحا مدینہ سے چھتیس میل کے فاصلہ پر ہے۔'' (2)
حدیث ۵: طَبَرانی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''اَذان دینے والا کہ طالبِ ثواب ہے، اس شہید کی مثل ہے کہ خون میں آلودہ ہے اور جب مرے گا، قبر میں اس کے بدن میں کیڑے نہیں پڑیں گے۔'' (3)
حدیث ۶: امام بُخاری اپنی تاریخ میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:جب مؤذن اَذان کہتا ہے، رب عزوجل اپنا دستِ قدرت اس کے سر پر رکھتا ہے اور یوہیں رہتا ہے، یہاں تک کہ اَذان سے فارغ ہو اور اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، جہاں تک آواز پہنچے جب وہ فارغ ہوتا ہے، رب عزوجل فرماتا ہے:'' میرے بندہ نے سچ کہا اور تو نے حق گواہی دی، لہٰذا تجھے بشارت ہو۔'' (4)
حدیث ۷: طَبَرانی صَغِیر میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جس بستی میں اَذان کہی جائے، اﷲ تعالیٰ اپنے عذاب سے اس دن اسے امن دیتا ہے۔'' (5)
حدیث ۸: طَبَرانی معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جس قوم میں صبح کو اَذان ہوئی ان کے ليے اﷲ کے عذاب سے شام تک امان ہے اور جن میں شام کو اَذان ہوئی ان کے ليے اﷲ کے عذاب سے صبح تک امان ہے۔'' (6)
حدیث ۹: ابو یعلی مُسْند میں اُبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''میں جنت میں گیا، اس میں موتی کے گنبد دیکھے، اس کی خاک مشک کی ہے، فرمایا: ''اے جبریل! یہ کس کے ليے ہے؟ عرض کی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)
1 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب فضل التأذين، الحدیث: ۶۰۸، ج۱، ص۲۲۲.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب فضل الأذان... إلخ، الحدیث:۳۸۸، ص۲۰۴.
3 ۔ ''المعجم الکبير'' للطبراني، الحدیث: ۱۳۵۵۴، ج۱۲، ص۳۲۲.
4 ۔ لم نجد الحدیث في تاریخ البخاري.
''الجامع الصغیر'' للسیوطي، حرف الھمزۃ، الحدیث: ۳۶۶، ص۲۸.
5 ۔ ''المعجم الصغير'' للطبراني، باب الصاد، ج۱، ص۱۷۹.
6 ۔ ''المعجم الکبير''، الحدیث: ۴۹۸، ج۲۰، ص۲۱۵.
کی اُمّت کے مؤذنوں اور اماموں کے ليے۔'' (1)
حدیث ۱۰: امام احمد ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اَذان کہنے میں کتنا ثواب ہے، تو اس پر باہم تلوار چلتی۔'' (2)
حدیث ۱۱: ترمذی و ابن ماجہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جس نے سات برس ثواب کے ليے اَذان کہی، اﷲ تعالیٰ اس کے ليے نار سے بر اء ت لکھ دے گا۔'' (3)
حدیث ۱۲: ابن ماجہ و حاکم ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جس نے بارہ برس اَذان کہی اس کے ليے جنت واجب ہوگئی اور ہر روز اس کی اَذان کے بدلے ساٹھ نیکیاں اور اِقامت کے بدلے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی۔'' (4)
حدیث ۱۳: بیہقی کی روایت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یوں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جس نے سال بھر اَذان پر محافظت کی اس کے ليے جنت واجب ہوگئی۔'' (5)
حدیث ۱۴: بیہقی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جس نے پانچ نمازوں کی اَذان ایمان کی بنا پر ثواب کے ليے کہی اس کے جو گناہ پہلے ہوئے ہیں معاف ہو جائیں گے اور جو اپنے ساتھیوں کی پانچ نمازوں میں اِمامت کرے ایمان کی بنا پر ثواب کے ليے اس کے جو گناہ پیشتر ہوئے معاف کر دئیے جائیں گے۔'' (6)
حدیث ۱۵: ابن عساکِر انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جو سال بھر اَذان کہے اور اس پر اجرت طلب نہ کرے، قیامت کے دن بلایا جائے گا اور جنت میں دروازہ پرکھڑا کیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا جس کے ليے تُو چاہے شفاعت کر۔'' (7)
حدیث ۱۶: خطیب و ابن عساکِر انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''مؤذنوں کا حشر
1 ۔ ''الجامع الصغير''، حرف الدال، الحدیث: ۴۱۷۹، ص۲۵۵.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي سعيد الخدري، الحدیث: ۱۱۲۴۱، ج۴، ص۵۹.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الأذان... إلخ، باب فضل الأذان... إلخ، الحدیث: ۷۲۷، ج۱، ص۴۰۲.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الأذان... إلخ، باب فضل الأذان... إلخ، الحدیث: ۷۲۸، ج۱، ص۴۰۲.
5 ۔ ''شعب الإيمان''، باب في الصلاۃ، فضل الأذان... إلخ، الحدیث: ۳۰۵۸، ج۳، ص۱۱۹.
6 ۔ ''السنن الکبری'' للبیھقي، کتاب الصلاۃ، باب الترغيب في الأذان، الحديث: ۲۰۳۹، ج۱، ص۶۳۶.
7 ۔ ''الجامع الصغير''، حرف الميم، الحدیث: ۸۳۷۹، ص۵۱۱.
یوں ہو گا کہ جنت کی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے، ان کے آگے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں گے سب کے سب بلند آواز سے اَذان کہتے ہوئے آئیں گے، لوگ ان کی طرف نظر کریں گے، پوچھیں گے یہ کون لوگ ہیں؟ کہا جائے گا، یہ اُمّت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مؤذن ہیں، لوگ خوف میں ہیں اور ان کو خوف نہیں لوگ غم میں ہیں، ان کو غم نہیں۔'' (1)
حدیث ۱۷: ابوالشیخ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جب اَذان کہی جاتی ہے، آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دُعا قبول ہوتی ہے، جب اِقامت کا وقت ہوتا ہے، دُعا رد نہیں کی جاتی۔'' (2) ابو داود و ترمذی کی روایت انھیں سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''اَذان و اِقامت کے درمیان دُعا رد نہیں کی جاتی۔'' (3)
حدیث ۱۸: دارمی و ابو داود نے سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دو دُعائیں رد نہیں ہوتیں یا بہت کم رد ہوتی ہیں، اَذان کے وقت اور جہاد کی شدّت کے وقت۔'' (4)
حدیث ۱۹: ابو الشیخ نے روایت کی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''اے ابن عباس! اَذان کو نماز سے تعلق ہے، تو تم میں کوئی شخص اَذان نہ کہے مگر حالتِ طہارت میں۔'' (5)
حدیث ۲۰: ترمذی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:
''لَا یُؤَذِّنُ اِلَّا مُتَوَضِّئٌ (6)
''کوئی شخص اَذان نہ دے مگر با وضو۔''
حدیث ۲۱: بُخاری و ابو داود و ترمذی و نَسائی و ابن ماجہ و احمد جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ''جو اَذان سُن کر یہ دُعا پڑھے۔
'' اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلاۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ (سَیِّدَنَا) مُحَمَّدَنِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَاماً مَحْمُوْدَ نِ الَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ ؕ ''
اس کے ليے میری شفاعت واجب ہوگئی۔'' (7)
1 ۔ ''تاريخ بغداد''، باب الميم، ذکر من اسمہ موسی، رقم: ۶۹۹۵، ج۱۳، ص۳۹.
2 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الأذان، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۲۰۹۱۰، ج۷، ص۲۷۹.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء، في الدعاء بين الأذان و الإقامۃ، الحدیث: ۵۲۱، ج۱، ص۲۲۰.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الجہاد، باب الدعاء عند اللقاء، الحدیث:۲۵۴۰، ج۳، ص۲۹.
5 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۲۰۹۷۲، ج۷، ص۲۸۴.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في کراھیۃ الأذان بغير وضوء، الحدیث: ۲۰۰، ج۱، ص۲۴۳.
7 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب التفسير،۱۱۔ باب ، الحدیث: ۴۷۱۹، ج۳، ص۲۶۲.
حدیث ۲۲: امام احمد ومُسلِم و ابو داود و ترمذی و نَسائی کی روایت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے کہ'' مؤذن کا جواب دے پھر مجھ پر درود پڑھے پھر وسیلہ کا سوال کرے۔ '' (1)
حدیث ۲۳: طَبَرانی کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے
'' وَاجْعَلْنَا فِیْ شَفَاعَتِہٖ یَوْمَ القِیَامَۃِ ''
بھی ہے۔ (2)
حدیث ۲۴: طَبَرانی کبیر میں کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جب تُو اَذان سُنے تو اﷲ کے داعی کا جواب دے۔'' (3)
حدیث ۲۵: ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جب مؤذّن کو اَذان کہتے سنو تو جو وہ کہتا ہے، تم بھی کہو۔'' (4)
حدیث ۲۶: فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''مومن کو بدبختی و نامرادی کے ليے کافی ہے کہ موذّن کو تکبیر کہتے سنے اور اجابت نہ کرے۔'' (5)
حدیث ۲۷: کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''ظلم ہے، پورا ظلم اور کفر ہے اور نفاق ہے، یہ کہ اﷲ کے منادی کو اَذان کہتے سُنے اورحاضرنہ ہو۔'' (6) یہ دونوں حدیثیں طَبَرانی نے معاذ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیں اَذان کے جواب کا نہایت عظیم ثواب ہے۔
حدیث ۲۸: ابوالشیخ کی روایت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: ''اس کی مغفرت ہو جائے گی۔'' (7)
حدیث ۲۹: ابن عساکِر نے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے گروہ زنان! جب تم بلال کو اَذان و اِقامت کہتے سنو، تو جس طرح وہ کہتا ہے، تم بھی کہو کہ اﷲ تعالیٰ تمھارے ليے ہر کلمہ کے بدلے ایک لاکھ نیکی لکھے گا اور ہزار درجے بلند فرمائے گا اور ہزار گناہ محو کریگا، عورتوں نے عرض کی یہ تو عورتوں کے ليے ہے، مردوں کے ليے کیا ہے؟ فرمایا: مردوں کے ليے دُونا۔'' (8)
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب استيجاب القول... إلخ، الحدیث: ۳۸۴، ص۲۰۳. عن عبداﷲ بن عمرو.
2 ۔ ''المعجم الکبير'' للطبراني، الحدیث: ۱۲۵۵۴، ج۱۲، ص۶۶ ۔ ۶۷.
3 ۔ ''المعجم الکبير'' للطبراني، الحدیث: ۳۰۴، ج۱۹، ص۱۳۸.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الأذان... إلخ، باب مايقال، إذا أذن المؤذن، الحديث: ۷۱۸، ج۱، ص۳۹۷.
5 ۔ ''المعجم الکبير'' للطبراني، الحدیث: ۳۹۶، ج۲۰، ص۱۸۳.
6 ۔ ''المعجم الکبير'' للطبراني، الحدیث: ۳۹۴، ج۲۰، ص۱۸۳.
7 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۲۱۰۰۴، ج۷، ص۲۸۷.
8 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۲۱۰۰۵، ج۷، ص۲۸۷.
حدیث ۳۰: طَبَرانی کی روایت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہے کہ : ''عورتوں کے ليے ہر کلمہ کے مقابل دس لاکھ درجے بلند کيے جائیں گے۔'' فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، یہ عورتوں کے ليے ہے، مردوں کے ليے کیا ہے؟ فرمایا: ''مردوں کے ليے دُونا۔'' (1)
حدیث ۳۱: حاکم و ابو نعیم ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''مؤذن کو نماز پڑھنے والے پر دوسو بیس حسنہ زیادہ ہے، مگر وہ جو اس کی مثل کہے اور اگر اِقامت کہے تو ایک سو چالیس نیکی ہے، مگر وہ جو اس کی مثل کہے۔'' (2)
حدیث ۳۲: صحیح مُسلِم میں امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جب مؤذن اَذان دے، تو جو شخص اس کی مثل کہے اور جب وہ
''حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ''
کہے، تو یہ
''لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ''
کہے جنت میں داخل ہو گا۔'' (3)
حدیث ۳۳: ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کی، زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: ''نماز فجر میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اَذان کہنے کا مجھے حکم دیا، میں نے اَذان کہی، بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اِقامت کہنی چاہی، فرمایا: ''صدائی نے اَذان کہی اور جو اَذان دے وہی اِقامت کہے۔'' (4)
مسائل فقہیہ: اَذان عرف شرع میں ایک خاص قسم کا اعلان ہے، جس کے ليے الفاظ مقرر ہیں، الفاظِ اَذان یہ ہیں:
اَللہُ اَکْبَرْ اَللہُ اَکْبَرْ
اَللہُ اَکْبَرْ اَللہُ اَکْبَرْ
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ
1 ۔ ''المعجم الکبير'' للطبراني، الحدیث: ۲۸، ج۲۴، ص۱۶.
2 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۲۱۰۰۸، ج۷، ص۲۸۷.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب استيجاب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ، الحديث: ۳۸۵، ص۲۰۳.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء أن من أذن فھو يقيم، الحديث: ۱۹۹، ج۱، ص۲۴۳.
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ
حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ
حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ
اَللہُ اَکْبَرْ اَللہُ اَکْبَرْ
لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ . (1)
مسئلہ ۱: فرض پنج گانہ کہ انھیں میں جمعہ بھی ہے، جب جماعت مستحبہ کے ساتھ مسجد میں وقت پر ادا کيے جائیں تو ان کے ليے اَذان سنت مؤکدہ ہے اور اس کا حکم مثل واجب ہے کہ اگر اذن نہ کہی تو وہاں کے سب لوگ گنہگار ہوں گے، یہاں تک کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر کسی شہر کے سب لوگ اَذان ترک کردیں، تو میں ان سے قِتال کروں گا اور اگر ایک شخص چھوڑ دے تو اسے ماروں گا اور قید کروں گا۔ (2) (خانیہ و ہندیہ و درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ ۲: مسجد میں بلا اَذان و اِقامت جماعت پڑھنا مکروہ ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: قضا نماز مسجد میں پڑھے تو اَذان نہ کہے، اگر کوئی شخص شہرمیں گھر میں نماز پڑھے اور اَذان نہ کہے تو کراہت نہیں ، کہ وہاں کی مسجد کی اَذان اس کے ليے کافی ہے۔ اور کہہ لینا مستحب ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: گاؤں میں مسجد ہے کہ اس میں اَذان و اِقامت ہوتی ہے، تو وہاں گھر میں نماز پڑھنے والے کا وہی حکم ہے، جو شہر میں ہے اور مسجد نہ ہو تو اَذان و اِقامت میں اس کا حکم مسافِر کا سا ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: اگر بيرون شہر و قریہ باغ یا کھیتی وغیرہ میں ہے اور وہ جگہ قریب ہے تو گاؤں یا شہر کی اَذان کِفایَت کرتی ہے، پھر بھی اَذان کہہ لینا بہتر ہے اور جو قریب نہ ہو تو کافی نہیں ،قریب کی حد یہ ہے کہ یہاں کی اَذان کی آواز وہاں تک پہنچتی ہو۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۵.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۳.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۶۰، و ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۱، ص۳۴.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان،الفصل الأول، ج۱، ص۵۴.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۶۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۴.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۴.
مسئلہ ۶: لوگوں نے مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھی، بعد کو معلوم ہوا کہ وہ نماز صحیح نہ ہوئی تھی اور وقت باقی ہے، تو اسی مسجد میں جماعت سے پڑھیں اور اَذان کا اعادہ نہیں اور فصل طویل نہ ہو، تو اِقامت کی بھی حاجت نہیں اور زیادہ وقفہ ہوا تو اِقامت کہے اور وقت جاتا رہا، تو غیر مسجد میں اَذان و اِقامت کے ساتھ پڑھیں۔ (1) (ردالمحتار، عالمگیری مع افاداتِ رضویہ)
مسئلہ ۷: جماعت بھر کی نماز قضا ہوگئی، تو اَذان و اِقامت سے پڑھیں اور اکیلا بھی قضا کے ليے اَذان و اِقامت کہہ سکتا ہے، جب کہ جنگل میں تنہا ہو، ورنہ قضا کا اظہار گناہ ہے، و لہٰذا مسجد میں قضا پڑھنا مکروہ ہے اور پڑھے تو اَذان نہ کہے اور وتر کی قضا میں دعائے قنوت کے وقت رفع یدین نہ کرے، ہاں اگر کسی ایسے سبب سے قضا ہوگئی، جس میں وہاں کے تمام مسلمان مبتلا ہوگئے، تو اگرچہ مسجد میں پڑھیں اَذان کہیں۔ (2) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار مع تنقیح از افاداتِ رضویہ)
مسئلہ ۸: اہل جماعت سے چند نمازیں قضا ہوئیں، تو پہلی کے ليے اَذان و اِقامت دونوں کہیں اور باقیوں میں اختیار ہے، خواہ دونوں کہیں یا صرف اِقامت پر اِکتفا کریں اور دونوں کہنا بہتر۔ یہ اُس صورت میں ہے کہ ایک مجلس میں وہ سب پڑھیں اور اگر مختلف اوقات میں پڑھیں، تو ہر مجلس میں پہلی کے لیے اَذان کہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: وقت ہونے کے بعد اَذان کہی جائے، قبل از وقت کہی گئی يا وقت ہونے سے پہلے شروع ہوئی اور اَثنائے اَذان میں وقت آگیا، تو اعادہ کی جائے۔ (4) (متون، درمختار)
مسئلہ ۱۰: اَذان کا وقت مستحب وہی ہے، جو نماز کا ہے یعنی فجر میں روشنی پھیلنے کے بعد اور مغرب اور جاڑوں کی ظہر میں اوّل وقت اور گرمیوں کی ظہر اور ہر موسم کی عصر و عشا میں نصف وقت مستحب گزرنے کے بعد، مگر عصر میں اتنی تاخیر نہ ہو کہ نماز پڑھتے پڑھتے وقت مکروہ آجائے اور اگر اوّل وقت اَذان ہوئی اور آخر وقت میں نماز ہوئی، تو بھی سنت اَذان ادا ہوگئی۔ (5) (درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: فرائض کے سوا باقی نمازوں مثلاً وتر، جنازہ، عیدین، نذر، سنن، رواتب، تراویح، استسقا، چاشت، کسوف، خسوف، نوافل میں اَذان نہیں۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۵.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في أذان الجوق، ج۲، ص۷۲.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۵.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في أذان الجوق، ج۲، ص۷۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۵.
4 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۱،ص۴۵.
5 ۔ ''الدرالمختار''و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في أذان الجوق، ج۲، ص۶۲.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۳.
مسئلہ ۱۲: بچّے اور مغموم کے کان میں اور مرگی والے اور غضب ناک اور بد مزاج آدمی یا جانور کے کان میں اور لڑائی کی شدّت اور آتش زدگی (1) کے وقت اور بعد دفن میت (2) اور جن کی سرکشی کے وقت اور مسافِر کے پیچھے اور جنگل میں جب راستہ بھول جائے اور کوئی بتانے والا نہ ہو اس وقت اَذان مستحب ہے۔ (3) (ردالمحتار) وبا کے زمانے میں بھی مستحب ہے۔ (4) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱۳: عورتوں کو اَذان و اِقامت کہنا مکروہ تحریمی ہے، کہیں گی گناہ گار ہوں گی اور اعادہ کی جائے۔ (5) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: عورتیں اپنی نماز ادا پڑھتی ہوں یا قضا، اس میں اَذان و اِقامت مکروہ ہے، اگرچہ جماعت سے پڑھیں۔ (6) (درمختار) کہ ان کی جماعت خود مکروہ ہے۔ (7) (متون)
مسئلہ ۱۵: خنثیٰ و فاسِق اگرچہ عالِم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نا سمجھ بچّے اور جنب کی اَذان مکروہ ہے، ان سب کی اَذان کا اعادہ کیا جائے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: سمجھ وال بچّہ اور غلام اور اندھے اور ولدالزنا اور بے وضو کی اَذان صحیح ہے۔ (9) (درمختار) مگر بے وضو اَذان کہنا مکروہ ہے۔ (10) (مراقی الفلاح)
مسئلہ ۱۷: جمعہ کے دن شہر میں ظہر کی نماز کے ليے اَذان ناجائز ہے۔ ا گرچہ ظہر پڑھنے والے معذور ہوں، جن پر جمعہ فرض نہ ہو۔ (11) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: اَذان کہنے کا اہل وہ ہے، جو اوقاتِ نماز پہچانتا ہو اور وقت نہ پہچانتا ہو، تو اس ثواب کا مستحق نہیں، جو
1 ۔ آگ لگنے۔
2 ۔ اور ابن حجر شافعی المذہب ہيں فقہ ميں ان کا قول اور وہ بھی اپنی رائے اور وہ بھی خلافِ دليل حجت نہيں۔ ۱۲ منہ
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في المواضع التی یندب... إلخ، ج۲، ص۶۲.
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۵، ص۳۷۰.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۴.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۶۰.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۷۲.
7 ۔ ''شرح الوقایۃ''، کتاب الصلاۃ، فصل في الجماعۃ، ج۱، ص۱۷۶.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۷۵. 9 ۔ المرجع السابق، ص۷۳.
10 ۔ ''مراقي الفلاح''، کتاب الصلوۃ، باب الأذان، ص۴۶.
11 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في أذان الجوق، ج۲، ص۷۳.
مؤذن کے ليے ہے۔ (1) (عالمگیری، غنیہ)
مسئلہ ۱۹: مستحب یہ ہے کہ مؤذن مرد، عاقل، صالح، پرہیزگار، عالِم بالسنۃ ذی وجاہت، لوگوں کے احوال کا نگراں اور جو جماعت سے رہ جانے والے ہوں، ان کو زجر کرنے والا ہو، اَذان پر مداومت (2) کرتا ہو اور ثواب کے ليے اَذان کہتا ہو یعنی اَذان پر اجرت نہ لیتا ہو، اگر مؤذن نابینا ہو، اوروقت بتانے والا کوئی ایسا ہے کہ صحیح بتا دے، تو اس کا اور آنکھ والے کا، اَذان کہنا یکساں ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: اگر مؤذن ہی امام بھی ہو، تو بہتر ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: ایک شخص کو ایک وقت میں دو مسجدوں میں اَذان کہنا مکروہ ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: اَذان و اِمامت کی ولایت بانئ مسجد کو ہے، وہ نہ ہو، تو اس کی اولاد، اس کے کنبہ والوں کو اور اگر اہلِ محلہ نے کسی ایسے کو مؤذن یا امام کیا، جو بانی کے مؤذن و امام سے بہتر ہے، تو وہی بہتر ہے۔ (6) (درمختار، رد المحتار )
مسئلہ ۲۳: اگر اَثنائے اَذان (7) میں مؤذن مر گیا يا اسکی زبان بند ہوگئی يا رُک گیا اور کوئی بتانے والا نہیں يا اس کا وضو ٹوٹ گیا اور وضو کرنے چلا گیا يا بے ہوش ہو گیا، تو ان سب صورتوں میں سرے سے اَذان کہی جائے، وہی کہے، خواہ دوسرا۔ (8) (درمختار، غنيہ)
مسئلہ ۲۴: اَذان کے بعد معاذا ﷲ مُرتد ہوگیا، تو اعادہ کی حاجت نہیں اور بہتر اعادہ ہے اور اگر اَذان کہتے میں مُرتد ہوگیا، تو بہتر ہے کہ دوسرا شخص سرے سے کہے اور اگر اسی کو پورا کر لے تو بھی جائز ہے۔ (9) (عالمگیری) یعنی یہ دوسرا شخص باقی کو پورا کر لے، نہ یہ کہ وہ بعد ارتداد اس کی تکمیل کرے، کہ کافر کی اَذان صحیح نہیں اور اَذان متجزی نہیں، تو فسادِ بعض، فسادِ کل ہے، جیسے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۳.
و ''غنیۃ المتملي''، سنن الصلاۃ، ص۳۷۷.
2 ۔ ہميشگی۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۳.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۸۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۸۸.
6 ۔ ''الدرالمختار''، و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۸۸.
7 ۔ یعنی اَذان کے دوران۔
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۷۵، و ''غنیۃ المتملي''، سنن الصلاۃ، ص۳۷۵.
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۴.
نماز کی پچھلی رکعت میں فساد ہو، تو سب فاسد ہے۔ (افاداتِ رضویہ)
مسئلہ ۲۵: بیٹھ کر اَذان کہنا مکروہ ہے، اگر کہی اعادہ کرے، مگر مسافِر اگر سواری پر اَذان کہہ لے، تو مکروہ نہیں اور اِقامت مسافِر بھی اتر کر کہے، اگر نہ اترا اور سواری ہی پر کہہ لی، تو ہو جائے گی۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶ : اَذان قبلہ رو کہے اور اس کے خلاف کرنا مکروہ ہے، اُس کا اعادہ کيا جائے، مگر مسافِر جب سواری پر اَذان کہے اور اُ س کا مونھ قبلہ کی طرف نہ ہو، تو حرج نہيں۔ (2) ( در مختار، عالمگيری، رد المحتار )
مسئلہ ۲۷: اَذان کہنے کی حالت میں بلا عذر کھکارنا مکروہ ہے اور اگر گلا پڑ گیا يا آواز صاف کرنے کے ليے کھکارا، تو حرج نہیں۔ (3) (غنیہ)
مسئلہ ۲۸: مؤذن کو حالت اَذان میں چلنا مکروہ ہے اور اگر کوئی چلتا جائے اور اسی حالت میں اَذان کہتا جائے تو اعادہ کریں۔ (4) (غنیہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: اَثنائے اَذان میں بات چیت کرنا منع ہے، اگر کلام کیا، تو پھر سے اَذان کہے۔ (5) (صغیری)
مسئلہ ۳۰: کلمات اَذان میں لحن حرام ہے، مثلاً اﷲ يا اکبر کے ہمزے کو مد کے ساتھ آﷲ یا آکبر پڑھنا، یوہیں اکبر میں بے کے بعد الف بڑھانا حرام ہے۔ (6) (درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۳۱: یوہیں کلمات اَذان کو قواعد موسیقی پر گانا بھی لحن و ناجائز ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: سنت یہ ہے کہ اَذان بلند جگہ کہی جائے کہ پروس والوں کو خوب سنائی دے اور بلند آواز سے کہے۔ (8) (بحر)
مسئلہ ۳۳: طاقت سے زیادہ آواز بلند کرنا، مکروہ ہے۔ (9) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۴.
2 ۔ المرجع السابق، و''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في أول من بنی من المنائر للأذان ج۲، ص۶۹.
3 ۔ ''غنیۃ المتملي''، سنن الصلاۃ، ص۳۷۶.
4 ۔ المرجع السابق، و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في المؤذن... إلخ، ج۲، ص۷۵.
5 ۔ ''صغيری شرح منیۃ المصلي''، سنن الصلاۃ، فصل في السنن، ص۱۹۶.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الفصل الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۶.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۶۳، وغیرہما.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في الکلام علی حديث ((الأذان جزم))، ج۲، ص۶۵.
8 ۔ ''البحرالرائق''، کتاب الصلوۃ، باب الأذان، ج۱، ص۴۴۳،۴۴۴.
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۵.
مسئلہ ۳۴: اَذان مئذنہ (1) پر کہی جائے يا خارج مسجد اور مسجد میں اَذان نہ کہے۔ (2) (خلاصہ، عالمگیری) مسجد میں اَذان کہنا، مکروہ ہے۔ (3) (غایۃ البیان، فتح القدیر، نظم زندویستی، طحطاوی علی المراقی) یہ حکم ہر اَذان کے ليے ہے، فقہ کی کسی کتاب میں کوئی اَذان اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اَذانِ ثانی جمعہ بھی اسی میں داخل ہے۔ امام اتقانی و امام ابن الہمام نے یہ مسئلہ خاص باب جمعہ میں لکھا، ہاں اس میں ایک بات البتہ یہ زائد ہے کہ خطیب کے محاذی ہو، یعنی سامنے باقی مسجد کے اندر منبر سے ہاتھ دو ہاتھ کے فاصلہ پر، جیسا کہ ہندوستان میں اکثر جگہ رواج پڑ گیا ہے، اس کی کوئی سند کسی کتاب میں نہیں، حدیث و فقہ دونوں کے خلاف ہے۔
مسئلہ ۳۵: اَذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کر کہے، اﷲ اکبر اﷲ اکبر دونوں مل کر ایک کلمہ ہیں، دونوں کے بعد سکتہ کرے (4) درمیان میں نہیں اور سکتہ کی مقدار یہ ہے کہ جواب دینے والا، جواب دے لے اور سکتہ کا ترک مکروہ ہے اور ایسی اَذان کا اعادہ مستحب ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: اگر کلماتِ اَذان یا اِقامت میں کسی جگہ تقدیم و تاخیر ہوگئی، تو اتنے کو صحیح کرلے۔ سرے سے اعادہ کی حاجت نہیں اور اگر صحیح نہ کيے اور نماز پڑھ لی، تو نماز کے اعادہ کی حاجت نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷:
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ
داہنی طرف مونھ کر کے کہے اور
حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ
بائیں جانب اگرچہ اَذان نماز کے ليے نہ ہو بلکہ مثلاً بچے کے کان میں یا اور کسی ليے کہی یہ پھیرنا فقط مونھ کا ہے، سارے بدن سے نہ پھرے۔ (7) (متون، درمختار)
مسئلہ ۳۸: اگر منارہ پر اَذان کہے تو داہنی طرف کے طاق سے سر نکال کر
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ
کہے اور بائیں جانب کے طاق سے
حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ۔
(8) (شرح وقایہ) یعنی جب بغیر اس کے آواز پہنچنا پورے طور پر نہ ہو۔ (9) (ردالمحتار)
1 ۔ مينارا۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۵.
3 ۔ ''حاشیۃ الطحطاوي'' علی ''مراقي الفلاح''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان،ص۱۹۷.
4 ۔ یعنی چُپ ہوجائے۔
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في الکلام علی حديث ((الأذان جزم))
ج۲، ص۶۶، و ''الفتاوی الھندیۃ''،الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۶.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۶.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۶۶، و ''شرح الوقایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ص۱۵۳.
8 ۔ ''شرح الوقایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۱، ص۱۵۳.
9 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في أوّل من بنیٰ المنائر... إلخ، ج۲، ص۶۷.
یہ وہیں ہو گا کہ منارہ بند ہے اور دونوں طرف طاق کھلے ہیں اور کھلے منارہ پر ایسا نہ کرے، بلکہ وہیں صرف مونھ پھیرنا ہو اور قدم ایک جگہ قائم۔
مسئلہ ۳۹: صبح کی اَذان میں فلاح کے بعد
اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ
کہنا مستحب ہے۔ (1) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۴۰: اَذان کہتے وقت کانوں کے سوراخ میں انگلیاں ڈالے رہنا مستحب ہے اور اگر دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ ليے تو بھی اچھا ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار) اور اوّل احسن ہے کہ ارشاد حدیث کے مطابق ہے اور بلندی آواز میں زیادہ معین۔ کان جب بند ہوتے ہیں آدمی سمجھتا ہے کہ ابھی آواز پوری نہ ہوئی، زیادہ بلند کرتا ہے۔ (رضا)
مسئلہ ۴۱: اِقامت مثل اَذان ہے یعنی احکام مذکورہ اس کے ليے بھی ہیں صرف بعض باتوں میں فرق ہے، اس میں بعد فلاح کے
قَدْ قَامَتِ الصّلاۃُ
دو بار کہیں، اس میں بھی آواز بلند ہو، مگر نہ اَذان کی مثل، بلکہ اتنی کہ حاضرین تک آواز پہنچ جائے، اس کے کلمات جلد جلد کہیں، درمیان میں سکتہ نہ کریں، نہ کانوں پر ہاتھ رکھنا ہے، نہ کانوں میں انگلیاں رکھنا اور صبح کی اِقامت میں
اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ
نہیں اِقامت بلند جگہ يا مسجد سے باہر ہونا سنت نہیں، اگر امام نے اِقامت کہی، تو
قَدْ قَامَتِ الصَّلاۃُ
کے وقت آگے بڑھ کر مصلّٰی پرچلا جائے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری، غنیہ وغیرہا)
مسئلہ ۴۲: اِقامت میں بھی
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ
کے وقت دہنے بائیں مونھ پھیرے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: اِقامت کی سنیّت، اَذان کی بہ نسبت زیادہ مؤکد ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۴۴: جس نے اَذان کہی، اگر موجود نہیں، تو جو چاہے اِقامت کہہ لے اور بہتر امام ہے اور مؤذن موجود ہے، تو اس کی اجازت سے دوسرا کہہ سکتا ہے کہ یہ اسی کا حق ہے اور اگر بے اجازت کہی اور مؤذن کو ناگوار ہو، تو مکروہ ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: جنب و محدث کی اِقامت مکروہ ہے، مگر اعادہ نہ کی جائے گی۔ بخلاف اَذان کہ جنب اَذان کہے تو
1 ۔ ''مختصرالقدوري''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ص۱۵۸.
نماز سونے سے بہتر ہے۔ ۱۲ منہ
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان مطلب في أوّل من بنیٰ المنائر... إلخ، ج۲، ص۶۷.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في أوّل من بنیٰ المنائر للأذان، ج۲، ص۶۷.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، الباب الثاني في الآذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۶، و ''غنیۃ المتملي''، سنن الصلاۃ، ص۳۷۶.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۶۶.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۶۷.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأوّل، ج۱، ص۵۴.
دوبارہ کہی جائے، اس ليے کہ اَذان کی تکرار مشروع ہے اور اِقامت دوبار نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴۶: اِقامت کے وقت کوئی شخص آیا تو اسے کھڑے ہو کر انتظار کرنا مکروہ ہے، بلکہ بیٹھ جائے جب
حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ
پر پہنچے اس وقت کھڑا ہو۔ یوہیں جو لوگ مسجد میں موجود ہیں، وہ بھی بیٹھے رہیں، اس وقت اٹھیں، جب مکبّر
حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ
پر پہنچے، یہی حکم امام کے ليے ہے۔ (2) (عالمگیری) آج کل اکثر جگہ رواج پڑ گیا ہے کہ وقت اِقامت سب لوگ کھڑے رہتے ہیں بلکہ اکثر جگہ تو یہاں تک ہے کہ جب تک امام مُصلّے پر کھڑا نہ ہو، اس وقت تک تکبیر نہیں کہی جاتی، یہ خلاف سنت ہے۔
مسئلہ ۴۷: مسافِر نے اَذان و اِقامت دونوں نہ کہی يا اِقامت نہ کہی، تو مکروہ ہے اور اگر صرف اِقامت پر اِکتفا کیا، تو کراہت نہیں، مگر اولیٰ یہ ہے کہ اَذان بھی کہے، اگرچہ تنہا ہو يا اس کے سب ہمراہی وہیں موجود ہوں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۸: بیرونِ شہر کسی میدان میں جماعت قائم کی اور اِقامت نہ کہی، تو مکروہ ہے اور اَذان نہ کہی، تو حرج نہیں، مگر خلافِ اَولیٰ ہے۔ (4) (خانیہ)
مسئلہ ۴۹: مسجد محلہ یعنی جس کے ليے امام و جماعت معین ہو کہ وہی جماعت اُولیٰ قائم کرتا ہو، اس میں جب جماعت اُولیٰ بطریق مسنون ہوچکی، تو دوبارہ اَذان کہنا مکروہ ہے اور بغیر اَذان اگر دوسری جماعت قائم کی جائے، تو امام محراب میں نہ کھڑا ہو، بلکہ دہنے یا بائیں ہٹ کر کھڑا ہو کہ امتياز رہے۔ اس امام جماعت ثانیہ کو محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے اور مسجد محلہ نہ ہو جیسے سڑک، بازار، اسٹیشن، سرائے کی مسجدیں جن میں چند شخص آتے ہیں اور پڑھ کر چلے جاتے ہیں، پھر کچھ اور آئے اور پڑھی، وعلیٰ ہذا تو اس مسجد میں تکرار اَذان مکروہ نہیں، بلکہ افضل یہی ہے کہ ہر گروہ کہ نیا آئے، جدید اَذان و اِقامت کے ساتھ جماعت کرے، ایسی مسجد میں ہر امام محراب میں کھڑا ہو۔ (5) (درمختار، عالمگیری، فتاویٰ قاضی خان، بزازیہ) محراب سے مراد وسط مسجد ہے، یہ طاق معروف ہو یا نہ ہو، جیسے مسجد الحرام شریف جس میں یہ محراب اصلاً نہیں يا ہرمسجد صیفی یعنی صحن مسجد اس کا وسط محراب ہے، اگرچہ وہاں عمارت اصلاً نہیں ہوتی محراب حقیقی یہی ہے اور وہ شکل طاق محراب صوری کہ زمانۂ رسالت و زمانۂ خلفائے
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۷۵.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في أوّل من بنی المنائر للأذان، ج۲، ص۶۷،۷۸.
4 ۔ الفتاوی الخانیۃ، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۱، ص۳۸.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۴.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۷۸.
راشدین میں نہ تھی، ولید بادشاہ مروانی کے زمانہ میں حادث ہوئی۔ (1) (فتاویٰ رضویہ) بعض لوگوں کے خیال میں ہے کہ دوسری جماعت کا امام پہلے کے مصلّٰی پر نہ کھڑا ہو، لہٰذا مصلے ہٹا کر وہیں کھڑے ہوتے ہیں، جو امام اوّل کے قیام کی جگہ ہے، یہ جہالت ہے، اس جگہ سے دہنے بائیں ہٹنا چاہيے، مصلّٰی اگرچہ وہی ہو۔ (رضا)
مسئلہ ۵۰: مسجد محلہ میں بعض اہل محلہ نے اپنی جماعت پڑھ لی، ان کے بعد امام اور باقی لوگ آئے، تو جماعت اُولیٰ انھیں کی ہے، پہلوں کے ليے کراہت۔ یوہیں اگر غیر محلہ والے پڑھ گئے، ان کے بعدمحلہ کے لوگ آئے، تو جماعت اُولیٰ یہی ہے اور امام اپنی جگہ پر کھڑا ہوگا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: اگر اَذان آہستہ ہوئی، تو پھر اَذان کہی جائے اور پہلی جماعت، جماعت اُولیٰ نہیں۔ (3) (قاضی خان)
مسئلہ ۵۲: اَثنائے اِقامت میں بھی مؤذن کو کلام کرنا ناجائز ہے، جس طرح اَذان میں۔ (4) (عالمگیری )
مسئلہ ۵۳: اَثنائے اَذان و اِقامت میں اس کو کسی نے سلام کیا تو جواب نہ دے بعد ختم بھی جواب دینا واجب نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: جب اَذان سُنے، تو جواب دینے کا حکم ہے، یعنی مؤذن جو کلمہ کہے، اس کے بعد سُننے والا بھی وہی کلمہ کہے، مگر
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ
کے جواب میں
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
کہے اور بہتر یہ ہے کہ دونوں کہے، بلکہ اتنا لفظ اور ملا لے
مَا شَاءَ اللہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ۔
(6) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۵۵:
اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم
کے جواب میں
صَدَقْتَ وَ بَرَرْتَ وَبِالْحَقِّ نَطَقْتَ
کہے۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۷، ص۳۴۵.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۴.
3 ۔ الفتاوی الخانیۃ، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۱، ص۳۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأوّل، ج۱، ص۵۵.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأوّل، ج۱، ص۵۵.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في کراہۃ تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۸۱.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷.
جو اﷲ (عزوجل) نے چاہا ہوا اور جو نہيں چاہا نہيں ہوا۔ ۱۲
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في کراہۃ تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۸۳.
تو سچا اور نیکوکار ہے اور تو نے حق کہا۔ ۱۲
مسئلہ ۵۶: جنب بھی اَذان کا جواب دے۔ حیض و نفاس والی عورت اور خطبہ سننے والے اور نمازِ جنازہ پڑھنے والے اور جو جماع میں مشغول یا قضائے حاجت میں ہو، ان پر جواب نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵۷: جب اَذان ہو، تو اتنی دیر کے ليے سلام کلام اور جواب سلام، تمام اشغال موقوف کر دے یہاں تک کہ قرآن مجید کی تلاوت میں اَذان کی آواز آئے، تو تلاوت موقوف کر دے اور اَذان کو غور سے سُنے اور جواب دے۔ یوہیں اِقامت میں۔ (2) (درمختار، عالمگیری)
جو اَذان کے وقت باتوں میں مشغول رہے، اس پر معاذ اﷲ خاتمہ برا ہونے کا خوف ہے۔ (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۵۸: راستہ چل رہا تھا کہ اَذان کی آواز آئی تو اتنی دیر کھڑا ہو جائے سُنے اور جواب دے۔ (3) (عالمگیری، بزازیہ)
مسئلہ ۵۹: اِقامت کا جواب مستحب ہے، اس کا جواب بھی اسی طرح ہے۔ فرق اتنا ہے کہ
قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃ
کے جواب میں
اَقَامَھَا اللہُ وَ اَدَامَھَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ
کہے۔ (4) (عالمگیری) یا
اَقَامَھَا اللہُ وَاَدَامَھَا وَجَعَلْنَا مِنْ صَالِحِیْ اَھْلِھَا اَحْیَاءً وَ اَمْوَاتًا ۔ (5)
(رضا)
مسئلہ ۶۰: اگر چند اَذانیں سُنے، تو اس پر پہلی ہی کا جواب ہے اور بہتر یہ کہ سب کا جواب دے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۱: اگر بوقتِ اَذان جواب نہ دیا، تو اگر زیادہ دیر نہ ہوئی ہو، اب دے لے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۶۲: خطبہ کی اَذان کا جواب زبان سے دینا، مقتدیوں کو جائز نہیں۔ (8) (درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۸۱.
2 ۔ المرجع السابق، ص۸۶، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷.
اﷲ اس کو قائم رکھے اور ہميشہ رکھے جب تک آسمان اور زمين ہيں۔ ۱۲
5 ۔ ہم کو زندگی ميں اور مرنے کے بعد اس کے نیک اہل سے بنائے۔ ۱۲
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في کراہۃ تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۸۲.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۸۳.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۸۷.
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاویٰ رضویہ '' ميں فرماتے ہيں: ''مقتديوں کو خطبے کی اذان کا جواب ہرگز نہيں
دينا چاہيے يہی احوط ہے۔ ہاں اگر يہ جوابِ اذان يا (دو خطبوں کے درميان) دُعا، اگر دل سے کريں، زبان سے تَلَفُّظ اصلاً نہ ہو توحرج کوئی نہيں۔ اور امام يعنی خطيب اگر زبان سے بھی جوابِ اذان دے يا دعا کرے، بلاشبہ جائز ہے۔
( ''الفتاوی الرضویۃ ''، ج۸، ص۳۰۰۔۳۰۱)
مسئلہ ۶۳: جب اَذان ختم ہو جائے، تو مؤذن اور سامعین درود شریف پڑھیں اس کے بعد یہ دُعا
اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ سَیِّدَنَا مُحَمَّدَنِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَنِ الَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ وَاجْعَلْنَا فِیْ شَفَاعَتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ۔ (1)
(ردالمحتار، غنیہ)
مسئلہ ۶۴: جب مؤذن
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ
کہے، تو سُننے والا درود شریف پڑھے اور مستحب ہے کہ انگوٹھوں کو بوسہ دے کر آنکھوں سے لگا لے اور کہے
قُرَّۃُ عَیْنِیْ بِکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۵: اَذان نماز کے علاوہ اور اَذانوں کا بھی جواب دیا جائے گا، جیسے بچہ پيدا ہوتے وقت کی اَذان۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۶: اگر اَذان غلط کہی گئی، مثلاً لحن کے ساتھ تو اس کا جواب نہیں بلکہ ایسی اَذان سُنے بھی نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۷: متاخرین نے تثویب مستحسن رکھی ہے، یعنی اَذان کے بعد نماز کے ليے دوبارہ اعلان کرنا اور اس کے ليے شرع نے کوئی خاص الفاظ مقرر نہیں کيے بلکہ جو وہاں کا عرف ہو مثلاً
اَلصَّلٰوۃُ اَلصَّلٰوۃُ یا قَامَتْ قَامَتْ یا اَلصَّلوَۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ ۔ (5) ( درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶۸: مغرب کی اَذان کے بعد تثویب نہیں ہوتی۔ (6) (عنایہ) اور دوبار کہہ لیں تو حرج نہیں۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۶۹: اَذان و اِقامت کے درمیان وقفہ کرنا سنت ہے۔ اَذان کہتے ہی اِقامت کہہ دینا مکروہ ہے، مگر مغرب میں وقفہ، تین چھوٹی آیتوں یا ایک بڑی کے برابر ہو، باقی نمازوں میں اَذان و اِقامت کے درمیان اتنی دیر تک ٹھہرے کہ جو لوگ
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في کراہۃ تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۸۴.
و ''غنیۃ المتملي''، سنن الصلاۃ، ص۳۸۰.
اے اﷲ اس دعائے تام اور نماز برپا ہونے والی کے مالک تو ہمارے سردار محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت اور بلند درجہ عطا کر اور ان
کو مقام محمود میں کھڑا کر جس کا تو نے وعدہ کیا ہے (اور ہميں قيامت کے دن اِن کی شفاعت نصيب فرما) بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ ۱۲
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في کراہۃ تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۸۴.
یا رسول اﷲ میری آنکھوں کی ٹھنڈک حضور سے ہے اے اﷲ شنوائی اور بینائی کے ساتھ مجھے متمتع کر۔ ۱۲
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في کراہۃ تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۸۲.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب في کراہۃ تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۸۲.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۶۹. وغیرہ
6 ۔ ''العنایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۱، ص۳۱۴ (ھامش ''فتح القدير'').
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۷۰.
پابند جماعت ہیں آجائیں، مگر اتنا انتظار نہ کیا جائے کہ وقت کراہت آجائے۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۷۰: جن نمازوں سے پیشتر سنت یا نفل ہے، ان میں اَولیٰ یہ ہے کہ مؤذن بعداَذان، سنن و نوافل پڑھے، ورنہ بیٹھا رہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۱: رئیس محلہ کا اس کی ریاست کے سبب انتظار مکروہ ہے، ہاں اگر وہ شریر ہے اور وقت میں گنجائش ہے، تو انتظار کر سکتے ہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۷۲: متقدمین نے اَذان پر اجرت لینے کو حرام بتایا، مگر متأخرین نے جب لوگوں میں سستی دیکھی، تو اجازت دی اور اب اسی پر فتویٰ ہے، مگر اَذان کہنے پر احادیث میں جو ثواب ارشاد ہوئے، وہ انھیں کے ليے ہیں جو اجرت نہیں لیتے۔ خالصاً ﷲ عزوجل اس خدمت کو انجام دیتے ہیں، ہاں اگر لوگ بطورِ خود مؤذن کو صاحب حاجت سمجھ کر دے دیں، تو یہ بالاتفاق جائز بلکہ بہتر ہے اور یہ اُجرت نہیں۔ (4) (غنیہ) جب کہ
المعھود کالمشروط
کی حد تک نہ پہنچ جائے۔ (رضا)
تنبیہ: اس باب میں جہاں یہ حکم دیا گیا کہ نماز صحیح ہے یا ہو جائے گی یا جائز ہے، اس سے مراد فرض ادا ہونا ہے، یہ مطلب نہیں کہ بلا کراہت و مما نعت و گناہ صحیح و جائز ہوگی، اکثر جگہیں ایسی ہیں کہ مکروہ تحریمی و ترک واجب ہوگا اور کہا جائے گا کہ نماز ہوگئی کہ یہاں اس سے بحث نہیں، اس کو باب مکروہات میں انشاء اﷲ تعالیٰ بیان کیاجائے گا۔ یہاں شروط کا بیان ہے کہ بے (5) اُن کے ہوگی ہی نہیں۔ صحت نماز کی چھ شرطیں ہیں:
(۱) طہارت۔
(۲) ستر عورت۔
(۳) استقبال قبلہ۔
(۴) وقت۔
1 ۔ المرجع السابق، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۷.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۸۸.
4 ۔ ''غنیۃ المتملي''، سنن الصلاۃ، ص۳۸۱.
5 ۔ بغير۔
(۵) نیت۔
(۶) تحریمہ۔ (1) (متون)
طہارت:
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۸۹.
2 ۔ نمازی۔
3 ۔ ''شرح الوقایۃ''، کتاب الصلوۃ، باب شروط الصلوۃ، ج۱، ص۱۵۶.
4 ۔ یعنی وہ چيزيں جن سے غسل واجب ہوتا ہے۔ 5 ۔ یعنی وضو توڑنے والی چيزيں۔
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۴۷.
7 ۔ المرجع السابق، ص۹۱، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۶۰.
مسئلہ ۳: اگر نجاست قدر مانع سے کم ہے، جب بھی مکروہ ہے، پھر نجاست غلیظہ بقدر درہم ہے تو مکروہ تحریمی اور اس سے کم تو خلاف سنت۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۴: چھت، خیمہ، سائبان اگر نجس ہوں اور مصلّی کے سر سے کھڑے ہونے میں لگیں، جب بھی نماز نہ ہوگی۔ (2) (ردالمحتار) یعنی اگر ان کی نجس جگہ بقدر مانع اس کے سر کو بقدر ادائے رکن لگے۔ (رضا)
مسئلہ ۵: اگر اس کا کپڑا یا بدن، اَثنائے نماز میں بقدر مانع ناپاک ہوگیا، اورتین تسبیح کا وقفہ ہوا، نماز نہ ہوئی اور اگر نماز شروع کرتے وقت کپڑا ناپاک تھا يا کسی ناپاک چیز کو ليے ہوئے تھا اور اسی حالت میں شروع کرلی اور اﷲ اکبر کہنے کے بعد جُدا کیا، تو نماز منعقد ہی نہ ہوئی۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مصلّی کا بدن، جنب یا حیض و نفاس والی عورت کے بدن سے ملا رہا، یا انھوں نے اس کی گود میں سر رکھا، تو نماز ہو جائے گی۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۷: مصلّی کے بدن پر نجس کبوتر بیٹھا، نماز ہو جائے گی۔ (5) (بحر)
مسئلہ ۸: جس جگہ نماز پڑھے، اس کے طاہر (6) ہونے سے مراد موضع سجود و قدم کا پاک ہونا (7) ہے، جس چیز پر نماز پڑھتا ہو، اس کے سب حصہ کا پاک ہونا، شرط صحت نماز نہیں۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۹: مصلّی کے ایک پاؤں کے نیچے قدر درہم سے زیادہ نجاست ہو، نماز نہ ہوگی۔ (9) یوہیں اگر دونوں پاؤں کے نیچے تھوڑی تھوڑی نجاست ہے کہ جمع کرنے سے ایک درم ہو جائے گی اور اگر ایک قدم کی جگہ پاک تھی اور دوسرا قدم جہاں رکھے گا، ناپاک ہے، اس نے اس پاؤں کو اٹھا کر نماز پڑھی ہوگئی، ہاں بے ضرورت ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ (درمختار)
مسئلہ ۱۰: پيشانی پاک جگہ ہے اور ناک نجس جگہ، تو نماز ہو جائے گی کہ ناک درہم سے کم جگہ پر لگتی ہے اور بلا
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق، ص۵۸، و ''الدرالمختار''، کتاب الطھارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۵۷۱.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۱.
3 ۔ ''ردالمحتار''،
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۱، موضحاً.
5 ۔ ''البحرالرائق''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۱، ص۴۶۴.
6 ۔ پاک۔ 7 ۔ یعنی سجدہ اور پاؤں رکھنے کی جگہ کا پاک ہونا۔
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۲.
9 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۲.
ضرورت یہ بھی مکروہ۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: سجدہ میں ہاتھ یا گھٹنا، نجس جگہ ہونے سے صحیح مذہب میں نماز نہ ہوگی ۔ (2) (ردالمحتار) اور اگر ہاتھ نجس جگہ ہو اور ہاتھ پر سجدہ کیا ،تو بالاجماع نماز نہ ہوگی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: آستين کے نیچے نجاست ہے اور اسی آستین پر سجدہ کیا، نماز نہ ہوگی۔ (4) (رد المحتار) اگرچہ نجاست ہاتھ کے نیچے نہ ہو بلکہ چوڑی آستین کے خالی حصے کے نیچے ہو، یعنی آستین فاصل نہ سمجھی جائے گی، اگرچہ دبیز (5) ہو کہ اس کے بدن کی تابع ہے، بخلاف اور دبیز کپڑے کے کہ نجس جگہ بچھا کر پڑھی اور اس کی رنگت یا بُو محسوس نہ ہو، تو نماز ہو جائے گی کہ یہ کپڑا نجاست و مصلّی میں فاصل ہو جائے گا کہ بدن مصلّی کا تابع نہیں، یوہیں اگر چوڑی آستین کا خالی حصہ سجدہ کرنے میں نجاست کی جگہ پڑے اور وہاں نہ ہاتھ ہو، نہ پیشانی، تو نماز ہو جائے گی اگرچہ آستین باریک ہو کہ اب اس نجاست کو بدن مصلّی سے کوئی تعلق نہیں۔ (رضا)
مسئلہ ۱۳: اگر سجدہ کرنے میں دامن وغیرہ نجس زمین پر پڑتے ہوں، تو مضر نہیں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: اگر نجس جگہ پر اتنا باریک کپڑا بچھا کر نماز پڑھی، جو ستر کے کام میں نہیں آسکتا، یعنی اس کے نیچے کی چیز جھلکتی ہو، نما زنہ ہوئی اور اگر شیشہ پر نماز پڑھی اور اس کے نیچے نجاست ہے، اگرچہ نمایاں ہو، نماز ہوگئی۔ (7) (ردالمحتار)
( خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ) (8)
ہر نماز کے وقت کپڑے پہنو۔
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۲.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۲.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۲.
5 ۔ یعنی موٹی۔
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في ستر العورۃ، ج۲، ص۹۲.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في ستر العورۃ، ج۲، ص۹۲.
و باب مایفسد الصلاۃ، وما یکرہ فیہا، مطلب في التشبہ باھل الکتاب، ص۴۶۷.
8 ۔ پ۸، الاعراف: ۳۱.
اور فرماتا ہے:
( وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا ) (1)
عورتیں زینت یعنی مواضع زینت کو ظاہر نہ کریں، مگر وہ کہ ظاہر ہیں۔
( کہ ان کے کھلے رہنے پر بروجہ جائز عادت جاری ہے )۔
حدیث ۱: حدیث میں ہے جس کو، ابن عدی نے کامل میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جب نماز پڑھو، تہبند باندھ لو اور چادر اوڑھ لو اور یہودیوں کی مشابہت نہ کرو۔'' (2) اور
حدیث ۲: ابو داود وترمذی وحاکم وابن خزیمہ ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''بالغ عورت کی نماز بغیر دوپٹے کے اﷲ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔'' (3)
حدیث ۳: ابو داود نے روایت کی کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے عرض کی، کیا بغیر ازار پہنے، کُرتے اور دوپٹے میں عورت نماز پڑھ سکتی ہے؟ ارشاد فرمایا: ''جب کُرتا پورا ہو کہ پشت قدم کو چھپالے۔'' (4) اور
حدیث ۴: دارقطنی بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدّہ راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''ناف کے نیچے سے گھٹنے تک عورت ہے۔'' (5) اور
حدیث ۵: ترمذی نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''عورت، عورت ہے يعنی چھپانے کی چیز ہے، جب نکلتی ہے، شیطان اس کی طرف جھانکتا ہے۔'' (6)
مسئلہ ۱۵: ستر عورت ہر حال میں واجب ہے، خواہ نماز میں ہو یا نہیں، تنہا ہو یا کسی کے سامنے، بلا کسی غرض صحیح کے تنہائی میں بھی کھولنا جائز نہیں اور لوگوں کے سامنے یا نماز میں توستر بالاجماع فرض ہے۔ یہاں تک کہ اگر اندھیرے مکان میں نماز پڑھی، اگرچہ وہاں کوئی نہ ہو اور اس کے پاس اتنا پاک کپڑا موجود ہے کہ ستر کا کام دے اور ننگے پڑھی، بالاجماع نہ ہوگی۔ مگر عورت کے ليے خلوت میں جب کہ نماز میں نہ ہو، تو سارا بدن چھپانا واجب نہیں، بلکہ صرف ناف سے گھٹنے تک اور
1 ۔ پ۱۸،النور: ۳۱.
2 ۔ ''الکامل في ضعفاء الرجال''، رقم الترجمۃ، نصر بن حماد ۱۹۷۴، ج۸، ص۲۸۷.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب المرأۃ تصلی بغير خمار، الحدیث: ۶۴۱، ج۱، ص۲۵۸.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب في کم تصلی المرأۃ، الحديث: ۶۴۰، ج۱، ص۲۵۸.
5 ۔ ''سنن الدارقطني''، کتاب الصلاۃ، باب الأمر بتعليم الصلوٰت، الحديث: ۸۷۶، ج۱، ص۳۱۶.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الرضاع، ۱۸۔باب، الحديث:۱۱۷۶، ج۲، ص۳۹۲.
محارم کے سامنے پیٹ اور پیٹھ کا چھپانا بھی واجب ہے اور غیر محرم کے سامنے اور نماز کے ليے اگرچہ تنہا اندھیری کوٹھڑی میں ہو، تمام بدن سوا پانچ عضو کے جن کا بیان آئے گا چھپانا فرض ہے، بلکہ جوان عورت کو غیر مردوں کے سامنے مونھ کھولنا بھی منع ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: اتنا باریک کپڑا، جس سے بدن چمکتا ہو، ستر کے ليے کافی نہیں، اس سے نماز پڑھی، تو نہ ہوئی۔ (2) (عالمگیری) یوہیں اگر چادر میں سے عورت کے بالوں کی سیاہی چمکے، نماز نہ ہوگی۔ (رضا) بعض لوگ باریک ساڑیاں اور تہبند باندھ کر نماز پڑھتے ہیں کہ ران چمکتی ہے، ان کی نمازیں نہیں ہوتیں اور ایسا کپڑا پہننا، جس سے ستر عورت نہ ہوسکے، علاوہ نماز کے بھی حرام ہے۔
مسئلہ ۱۷: دبیز کپڑا، جس سے بدن کا رنگ نہ چمکتا ہو، مگربدن سے بالکل ایسا چپکا ہوا ہے کہ دیکھنے سے عضو کی ہيات معلوم ہوتی ہے، ایسے کپڑے سے نماز ہو جائے گی، مگر اس عضو کی طرف دوسروں کو نگاہ کرنا جائز نہیں۔ (3) (ردالمحتار) اور ایسا کپڑا لوگوں کے سامنے پہننا بھی منع ہے اور عورتوں کے ليے بدرجۂ اَولیٰ ممانعت۔ بعض عورتیں جو بہت چست پاجامے پہنتی ہیں، اس مسئلہ سے سبق لیں۔
مسئلہ ۱۸: نماز میں ستر کے ليے پاک کپڑا ہونا ضرور ہے، یعنی اتنا نجس نہ ہو، جس سے نماز نہ ہوسکے، تو اگر پاک کپڑے پر قدرت ہے اور ناپاک پہن کر نماز پڑھی، نماز نہ ہوئی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: اس کے علم میں کپڑا ناپاک ہے اور اس میں نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ پاک تھا، نماز نہ ہوئی۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: غیر نماز میں نجس کپڑا پہنا تو حرج نہیں، اگرچہ پاک کپڑا موجود ہو اور جو دوسرا نہیں، تو اُسی کو پہننا واجب ہے۔ (6) (در مختار، رد المحتار) یہ اس وقت ہے کہ اس کی نجاست خشک ہو، چھوٹ کر بدن کو نہ لگے، ورنہ پاک کپڑا ہوتے ہوئے ایسا کپڑا پہننا مطلقاً منع ہے کہ بلاوجہ بدن ناپاک کرنا ہے۔ (رضا)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في ستر العورۃ، ج۲، ص۹۳، ۹۷.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الأوّل، ج۱، ص۵۸.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في النظر إلی وجہ الأمرد، ج۲، ص۱۰۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الأوّل، ج۱، ص۵۸.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۴۷.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في النظر إلی وجہ الأمرد، ج۲، ص۹۳،۱۰۷.
مسئلہ ۲۱: مرد کے ليے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک عورت ہے، یعنی اس کا چھپانا فرض ہے۔ ناف اس میں داخل نہیں اور گھٹنے داخل ہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار) اس زمانہ میں بہتیرے ایسے ہیں کہ تہبند یا پاجامہ اس طرح پہنتے ہیں، کہ پیڑو(1) کا کچھ حصہ کھلا رہتا ہے، اگر کُرتے وغیرہ سے اس طرح چھپا ہو کہ جلد کی رنگت نہ چمکے تو خیر، ورنہ حرام ہے اور نماز میں چوتھائی کی مقدار کھلا رہا تو نماز نہ ہوگی اور بعض بے باک ایسے ہیں کہ لوگوں کے سامنے گھٹنے، بلکہ ران تک کھولے رہتے ہیں، یہ بھی حرام ہے اور اس کی عادت ہے تو فاسِق ہیں۔
مسئلہ ۲۲: آزاد عورتوں اورخنثیٰ مشکل (3) کے ليے سارا بدن عورت ہے، سوا مونھ کی ٹکلی اور ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں کے، سر کے لٹکتے ہوئے بال اور گردن اور کلائیاں بھی عورت ہیں، ان کا چھپانا بھی فرض ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: اتنا باریک دوپٹا، جس سے بال کی سیاہی چمکے، عورت نے اوڑھ کر نماز پڑھی، نہ ہوگی، جب تک اس پر کوئی ایسی چیز نہ اوڑھے، جس سے بال وغیرہ کا رنگ چھپ جائے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: باندی کے ليے سارا پیٹ اور پیٹھ اور دونوں پہلو اور ناف سے گھٹنوں کے نیچے تک عورت ہے، خنثیٰ مشکل رقیق (6) ہو، تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: باندی سر کھولے نماز پڑھ رہی تھی، اَثنائے نماز میں مالک نے اسے آزاد کر دیا، اگر فوراً عمل قلیل یعنی ایک ہاتھ سے اس نے سر چھپا لیا، نماز ہوگئی، ورنہ نہیں، خواہ اسے اپنے آزاد ہونے کا علم ہوا یا نہیں، ہاں اگر اس کے پاس کوئی ایسی چیز ہی نہ تھی، جس سے سر چھپائے، تو ہوگئی۔ (8) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: جن اعضا کا ستر فرض ہے، ان میں کوئی عضو چوتھائی سے کم کھل گیا، نماز ہوگئی اور اگر چوتھائی عضو کھل گیا
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في ستر العورۃ، ج۲، ص۹۳.
2 ۔ ناف کے نيچے۔
3 ۔ جس میں مردوعورت دونوں کی علامتیں پائی جائیں اور یہ ثابت نہ ہو کہ مرد ہے یا عورت۔ (بہار شريعت حصہ ۷، نکاح کا بيان)
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃج۲، ص۹۵.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الأوّل، ج۱، ص۵۸. موضحاً.
6 ۔ یعنی غلام۔
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۴.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۴.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الأوّل، ج۱، ص۵۹.
اور فوراً چھپا لیا، جب بھی ہوگئی اور اگر بقدر ایک رکن یعنی تین مرتبہ سبحان اﷲ کہنے کے کھلا رہا یا بالقصد کھولا، اگرچہ فوراً چھپا لیا، نماز جاتی رہی۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: اگر نماز شروع کرتے وقت عضو کی چوتھائی کھلی ہے، یعنی اسی حالت پر اﷲ اکبر کہہ لیا، تو نماز منعقد ہی نہ ہوئی۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: اگر چند اعضا میں کچھ کچھ کھلا رہا کہ ہر ایک اس عضو کی چوتھائی سے کم ہے، مگر مجموعہ ان کا اُن کھلے ہوئے اعضا میں جو سب سے چھوٹا ہے، اس کی چوتھائی کی برابر ہے، نماز نہ ہوئی، مثلاً عورت کے کان کا نواں حصہ اور پنڈلی کا نواں حصہ کھلا رہا تو مجموعہ دونوں کا کان کی چوتھائی کی قدر ضرور ہے، نماز جاتی رہی۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: عورتِ غلیظہ یعنی قبل و دبر اور ان کے آس پاس کی جگہ اور عورتِ خفیفہ کہ ان کے ماسوا اور اعضائے عورت ہیں، اس حکم میں سب برابر ہیں، غلظت و خفت باعتبار حرمت نظر کے ہے کہ غلیظہ کی طرف دیکھنا زیادہ حرام ہے کہ اگر کسی کو گھٹنا کھولے ہوئے دیکھے، تو نرمی کیساتھ منع کرے، اگر باز نہ آئے، تو اس سے جھگڑا نہ کرے اور اگر ران کھولے ہوئے ہے، تو سختی سے منع کرے اور باز نہ آیا، تو مارے نہیں اور اگرعورتِ غلیظہ کھولے ہوئے ہے، تو جو مارنے پر قادر ہو، مثلاً باپ یا حاکم، وہ مارے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: ستر کے ليے یہ ضرور نہیں کہ اپنی نگاہ بھی ان اعضا پر نہ پڑے، تو اگر کسی نے صرف لنبا کُرتا پہنا اور اس کا گریبان کھلا ہوا ہے کہ اگر گریبان سے نظر کرے، تو اعضا دکھائی دیتے ہیں نماز ہو جائے گی، اگرچہ بالقصد ادھر نظر کرنا، مکروہ تحریمی ہے۔ (5) (درمختار، عالمگيری)
مسئلہ ۳۱: اوروں سے ستر فرض ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اِدھراُدھر سے نہ دیکھ سکیں، تو معاذاﷲ اگر کسی شریر نے نیچے جھک کر اعضا کو دیکھ لیا، تو نماز نہ گئی۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في النظر إلی وجہ الأمرد، ج۲، ص۱۰۰.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱ ص۵۸.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ مطلب في النظر إلی وجہ الأمرد، ج۲، ص۱۰۰.
3 ۔ المرجع السابق، ص۱۰۲.
4 ۔ المرجع السابق، ص۱۰۱.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۰۲.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۵۸.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۵۸.
مسئلہ ۳۲: مرد میں اعضائے عورت نو ہیں۔ آٹھ علامہ ابراہیم حلبی و علامہ شامی و علامہ طحطاوی وغیرہم نے گنے۔ (۱)ذکر مع اپنے سب اجزا ،حشفہ و قصبہ و قلفہ کے، (۲) انثيين یہ دونوں مل کر ایک عضو ہیں، ان میں فقط ایک کی چوتھائی کھلنا مفسد نماز نہیں، (۳) دبر یعنی پاخانہ کا مقام، (۴،۵) ہرایک سرین جدا عورت ہے، (۶،۷) ہر ران جدا عورت ہے۔ چڈھے سے گھٹنے تک ران ہے۔ گھٹنا بھی اس میں داخل ہے، الگ عضو نہیں، تو اگر پورا گھٹنا بلکہ دونوں کھل جائیں نماز ہو جائے گی کہ دونوں مل کر بھی ایک ران کی چوتھائی کو نہیں پہنچتے، (۸) ناف کے نیچے سے، عضو تناسل کی جڑ تک اور اس کے سیدھ میں پشت اور دونوں کروٹوں کی جانب، سب مل کر ایک عورت ہے۔ (1)
اعلیٰ حضرت مجدد مأتہ حاضرہ نے یہ تحقیق فرمائی کہ (۹) دبر و انثيين کے درمیان کی جگہ بھی، ایک مستقل عورت ہے اور ان اعضا کا شمار اور انکے تمام احکام کو چار شعروں میں جمع فرمایا ؎
ستر عورت بمرد نہ عضو است از تہِ ناف تاتہ زانو
ہر چہ ربعش بقدرر کن کشود یا کشودی دمے نماز مجو
ذکر و انثيين و حلقہ پس دوسرین ہر فخذ بہ زانوئے او
ظاہرا فصل انثيين و دبر باقی زیر ناف از ہر سو (2)
مسئلہ ۳۳: آزاد عورتوں کے ليے، باستثنا پانچ عضو کے، جن کا بیان گزرا، سارا بدن عورت ہے اور وہ تیس اعضا پر مشتمل کہ ان میں جس کی چوتھائی کھل جائے، نماز کا وہی حکم ہے، جو اوپر بیان ہوا۔ (۱) سر یعنی پیشانی کے اوپر سے شروع گردن تک اور ایک کان سے دوسرے کان تک، یعنی عادۃً جتنی جگہ پر بال جمتے ہیں۔ (۲) بال جو لٹکتے ہوں۔ (۳،۴) دونوں کان۔ (۵) گردن اس میں گلا بھی داخل ہے۔ (۶،۷) دونوں شانے۔ (۸،۹) دونوں بازو ان میں کہنياں بھی داخل ہیں۔ (۱۰،۱۱) دونوں کلائیاں یعنی کہنی کے بعد سے گٹوں کے نیچے تک۔ (۱۲) سینہ یعنی گلے کے جوڑ سے دونوں پستان کی حد زیریں تک۔ (۱۳،۱۴) دونوں ہاتھوں کی پشت۔ (۱۵،۱۶) دونوں پستانیں، جب کہ اچھی طرح اٹھ چکی ہوں، اگر بالکل نہ اٹھی ہوں يا خفیف اُبھری ہوں کہ سینہ سے جدا عضو کی ہیأت نہ پیدا ہوئی ہو، تو سینہ کی تابع ہیں، جدا عضو نہیں اور پہلی صورت میں بھی، ان کے
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ مطلب في النظر إلی وجہ الأمرد، ج۲، ص۱۰۱.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۶، ص۳۹.
درمیان کی جگہ سینہ ہی میں داخل ہے، جدا عضو نہیں۔ (۱۷) پیٹ یعنی سینہ کی حد مذکور سے ناف کے کنارۂ زیریں تک، یعنی ناف کا بھی پیٹ میں شمار ہے۔ (۱۸) پیٹھ یعنی پيچھے کی جانب سینہ کے مقابل سے کمر تک۔ (۱۹) دونوں شانوں کے بیچ میں جو جگہ ہے، بغل کے نیچے سینہ کی حد زیریں تک، دونوں کروٹوں میں جو جگہ ہے، اس کا اگلا حصہ سینہ میں اور پچھلا شانوں یا پیٹھ میں شامل ہے اور اس کے بعد سے دونوں کروٹوں میں کمر تک جو جگہ ہے، اس کا اگلا حصہ پیٹ میں اور پچھلا پیٹھ میں داخل ہے۔ (۲۰،۲۱) دونوں سرین۔ (۲۲) فرج۔ (۲۳) دبر۔ (۲۴،۲۵) دونوں رانیں، گھٹنے بھی انھيں میں شامل ہیں۔ (۲۶) ناف کے نیچے پیڑو اور اس کے متصل جو جگہ ہے اور انکے مقابل پشت کی جانب سب مل کر ایک عورت ہے۔ (۲۷،۲۸) دونوں پنڈلیاں ٹخنوں سمیت۔ (۲۹،۳۰) دونوں تلوے اور بعض علماء نے پشتِ دست اور تلوؤں کو عورت میں داخل نہیں کیا۔ (1)
مسئلہ ۳۴: عورت کا چہرہ اگرچہ عورت نہیں، مگر بوجہ فتنہ غیر محرم کے سامنے مونھ کھولنا منع ہے۔ (2) یوہیں اس کی طرف نظر کرنا، غیر محرم کے ليے جائز نہیں اور چھونا تو اور زیادہ منع ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳۵: اگر کسی مرد کے پاس ستر کے ليے جائز کپڑا نہ ہو اور ریشمی کپڑا ہے تو فرض ہے کہ اسی سے ستر کرے اور اسی میں نماز پڑھے، البتہ اور کپڑا ہوتے ہوئے، مرد کو ریشمی کپڑا پہننا حرام ہے اور اس میں نما زمکروہ تحریمی۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: کوئی شخص برہنہ اگر اپنا سارا جسم مع سر کے، کسی ایک کپڑے میں چھپا کر نماز پڑھے، نماز نہ ہوگی اور اگر سر اس سے باہر نکال لے، ہو جائے گی۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۷: کسی کے پاس بالکل کپڑا نہیں، تو بیٹھ کر نماز پڑھے۔ دن ہو یا رات، گھر میں ہو یا میدان میں، خواہ ویسے بیٹھے جیسے نماز میں بیٹھتے ہیں، یعنی مرد مردوں کی طرح اور عورت عورتوں کی طرح یا پاؤں پھیلا کر اور عورت غلیظہ پر ہاتھ رکھ کر اور یہ بہتر ہے اور رکوع و سجود کی جگہ اشارہ کرے اور یہ اشارہ رکوع و سجود سے اس کے ليے افضل ہے اور یہ بیٹھ کر پڑھنا، کھڑے ہو کر پڑھنے سے افضل، خواہ قیام میں رکوع و سجود کے ليے اشارہ کرے يا رکوع و سجود کرے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ ''، ج۶، ص۳۹۔۴۰.
2 ۔ ان مسائل کی تحقيق اور ان کے متعلق جزئيات کتاب الحظر و الاباحۃ ميں انشاء اﷲ تعالیٰ مذکور ہونگے۔ ۱۲ منہ
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۹۷.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في النظر إلی وجہ الأمرد، ج۲، ص۱۰۳.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في النظر إلی وجہ الأمرد، ج۲، ص۱۰۴.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في النظر إلی وجہ الأمرد، ج۲، ص۱۰۵.
مسئلہ ۳۸: ایسا شخص برہنہ نماز پڑھ رہا تھا، کسی نے عاریتہ اس کو کپڑا دے دیا یا مباح کر دیا (1) نماز جاتی رہی۔ کپڑا پہن کر سرے سے پڑھے۔ (2) (درمختار، رد المحتار)
مسئلہ ۳۹: اگر کپڑا دینے کا کسی نے وعدہ کیا، تو آخر وقت تک انتظار کرے، جب دیکھے کہ نماز جاتی رہے گی، تو برہنہ ہی پڑھ لے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: اگر دوسرے کے پاس کپڑا ہے اور غالب گمان ہے کہ مانگنے سے دے دے گا، تو مانگنا واجب ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: اگر کپڑا مول (5) ملتا ہے اور اس کے پاس دام حاجت اصلیہ سے زائد ہیں، تو اگر اتنے دام مانگتا ہو، جو اندازہ کرنے والوں کے اندازہ سے باہر نہ ہوں، تو خریدنا واجب۔ (6) (ردالمحتار) یوہیں اگر اُدھار دینے پر راضی ہو، جب بھی خریدنا واجب ہونا چاہيے۔
مسئلہ ۴۲: اگر اس کے پاس کپڑا ایسا ہے کہ پورا نجس ہے، تو نماز میں اسے نہ پہنے اور اگر ایک چوتھائی پاک ہے، تو واجب ہے کہ اسے پہن کر پڑھے، برہنہ جائز نہیں، یہ سب اس وقت ہے کہ ایسی چیز نہیں کہ کپڑا پاک کر سکے یا اس کی نجاست قدر مانع سے کم کرسکے، ورنہ واجب ہو گا کہ پاک کرے یا تقلیل نجاست کرے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: چند شخص برہنہ ہیں، تو تنہا تنہا، دُور دُور، نمازیں پڑھیں اور اگر جماعت کی، تو امام بیچ میں کھڑا ہو۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: اگر برہنہ شخص کو چٹائی یا بچھونا مل جائے، تو اسی سے ستر کرے، ننگا نہ پڑھے۔ یوہيں گھاس یا پتوں سے ستر کر سکتا ہے تو یہی کرے۔ (9) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: اگر پورے ستر کے ليے کپڑا نہیں اور اتنا ہے کہ بعض اعضا کا ستر ہو جائے گا تو اس سے ستر واجب ہے اور
1 ۔ یعنی کسی کے پاس کپڑا تھا اس نے کہا تم اسے استعمال کرسکتے ہو۔
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في النظر إلی وجہ الأمرد، ج۲، ص۱۰۶.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في النظر إلی وجہ الأمرد، ج۲، ص۱۰۶.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ یعنی قيمت سے۔
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في النظر إلی وجہ الأمرد، ج۲، ص۱۰۷.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۰۷.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث، في شروط الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۵۹.
9 ۔ المرجع السابق.
اس کپڑے سے عورت غلیظہ یعنی قبل و دبر کو چھپائے اور اتنا ہو کہ ایک ہی کو چھپا سکتا ہے، تو ایک ہی کو چھپائے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴۶: جس نے ایسی مجبوری میں برہنہ نماز پڑھی، تو بعد نماز کپڑا ملنے پر اعادہ نہیں، نماز ہوگئی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴۷: اگر ستر کا کپڑا یا اس کے پاک کرنے کی چیز نہ ملنا، بندوں کی جانب سے ہو، تو نماز پڑھے، پھر اعادہ کرے۔ (3) (درمختار)
(سَیَقُوۡلُ السُّفَہَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىہُمْ عَنۡ قِبْلَتِہِمُ الَّتِیۡ کَانُوۡا عَلَیۡہَا ؕ قُلۡ لِّلہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ؕ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۴۲﴾ ) (4)
بے وقوف لوگ کہیں گے کہ جس قبلہ پر مسلمان لوگ تھے، انھيں کس چیزنے اس سے پھیر دیا، تم فرما دو اﷲ ہی کے ليے مشرق و مغرب ہے، جسے چاہتا ہے، سیدھے راستہ کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے سولہ یا سترہ مہینہ تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی اور حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کو پسند یہ تھا کہ کعبہ قبلہ ہو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی
کما ھو مروی فی صحیح البخاری وغیرہ من الصحاح
اور فرماتا ہے:
( وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیۡ کُنۡتَ عَلَیۡہَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنۡ یَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ یَّنۡقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیۡہِ ؕ وَ اِنۡ کَانَتْ لَکَبِیۡرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیۡنَ ہَدَی اللہُ ؕ وَمَا کَانَ اللہُ لِیُضِیۡعَ اِیۡمَانَکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴۳﴾قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ ۚ فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰىہَا ۪ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ؕ وَحَیۡثُ مَا کُنۡتُمْ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمْ شَطْرَہٗ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَیَعْلَمُوۡنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمْ ؕ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۴۴﴾ ) (5)
جس قبلہ پر تم پہلے تھے، ہم نے پھر وہی اس ليے مقرر کیا کہ رسول کے اتباع کرنے والے ان سے متمیز ہوجائیں، جو ایڑیوں کے بل لوٹ جاتے ہیں اور بے شک یہ شاق ہے، مگر ان پر جن کو اﷲ نے ہدایت کی اور اﷲ تمہارا ایمان ضائع نہ کریگا،
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۰۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۱۰.
3 ۔ المرجع السابق، ص۱۱۰.
4 ۔ پ۲، البقرۃ: ۱۴۲.
5 ۔ پ۲، البقرۃ: ۱۴۳۔ ۱۴۴.
بیشک اﷲ لوگوں پر بڑا مہربان رحم والا ہے۔ اے محبوب! آسمان کی طرف تمہارا بار بار مونھ اٹھانا ہم دیکھتے ہیں، تو ضرور ہم تمھيں اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے، جسے تم پسند کرتے ہو، تو اپنا مونھ (نماز میں) مسجد حرام کی طرف پھیرو اور اے مسلمانوں! تم جہاں کہیں ہو، اسی کی طرف (نماز میں) مونھ کرو اور بے شک جنھيں کتاب دی گئی، وہ ضرور جانتے ہیں کہ وہی حق ہے، ان کے رب کی طرف سے اور اﷲ ان کے کوتکوں سے غافل نہیں۔
مسئلہ ۴۸: نماز اﷲ ہی کے ليے پڑھی جائے اور اسی کے ليے سجدہ ہو نہ کہ کعبہ کو، اگر کسی نے معاذ اﷲ کعبہ کے ليے سجدہ کیا، حرام و گناہ کبیرہ کیا اور اگر عبادت کعبہ کی نیت کی، جب تو کھلا کافر ہے کہ غیر خدا کی عبادت کفر ہے۔ (1) (درمختار و افاداتِ رضویہ)
مسئلہ ۴۹: استقبال قبلہ عام ہے کہ بعینہٖ کعبۂ معظمہ کی طرف مونھ ہو، جیسے مکہ مکرمہ والوں کے ليے یا اس جہت کو مونھ ہو جیسے اوروں کے ليے۔ (2) (درمختار) یعنی تحقیق یہ ہے کہ جو عین کعبہ کی سمت خاص تحقیق کر سکتا ہے، اگرچہ کعبہ آڑ میں ہو، جیسے مکۂ معظمہ کے مکانوں میں جب کہ مثلاً چھت پر چڑھ کر کعبہ کو دیکھ سکتے ہیں، تو عین کعبہ کی طرف مونھ کرنا فرض ہے، جہت کافی نہیں اور جسے یہ تحقیق نا ممکن ہو، اگرچہ خاص مکۂ معظمہ میں ہو،اس کے ليے جہت کعبہ کو مونھ کرناکافی ہے۔ (افاداتِ رضویہ)
مسئلہ ۵۰: کعبۂ معظمہ کے اندر نماز پڑھی، تو جس رُخ چاہے پڑھے، کعبہ کی چھت پر بھی نماز ہو جائے گی، مگر اس کی چھت پر چڑھنا ممنوع ہے۔ (3) (غنیہ وغیرہا)
مسئلہ ۵۱: اگر صرف حطیم کی طرف مونھ کیا کہ کعبۂ معظمہ محاذات میں نہ آیا، نماز نہ ہوئی۔ (4) (غنیہ)
.gif)
مسئلہ ۵۲: جہت کعبہ کو مونھ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ مونھ کی سطح کا کوئی جز کعبہ کی سمت میں واقع ہو، تو اگر قبلہ سے کچھ انحراف ہے، مگر مونھ کا کوئی جز کعبہ کے مواجہہ میں ہے، نماز ہو جائے گی، اس کی مقدار ۴۵ درجہ رکھی گئی ہے، تو اگر ۴۵ درجہ سے زائد انحراف ہے، استقبال نہ پایا گیا، نماز نہ ہوئی، مثلاً ا، ب، ایک خط ہے اس پر ہ، ح، عمود ہے اور فرض کرو کہ کعبۂ معظمہ عین نقطہ ح کے محاذی ہے، دونوں قائمے ا، ہ، ح اور ح، ہ ب کی تنصیف کرتے ہوئے خطوط ہ، ر، ہ، ح خطوط کھینچے، تو یہ زاویہ ۴۵،۴۵ درجے کے ہوئے کہ قائمہ ۹۰ درجے ہے، اب جو شخص مقام ہ پر کھڑا ہے، اگر نقطۂ ح کی طرف مونھ کرے، تو
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، بحث النیۃ، ج۲، ص۱۳۴. 2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل مسائل شتی، ص۶۱۶، وغیرہا.
4 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فروع في شرح الطحاوی، ص۲۲۵.
اگرعین کعبہ کو مونھ ہے اور اگر دہنے بائیں ریا ح کی طرف جھکے تو جب تک ر ح یا ح ح کے اندر ہے، جہت کعبہ میں ہے اور جب ر سے بڑھ کر ا یا ح سے گزر کر ب کی طرف کچھ بھی قریب ہوگا، تو اب جہت سے نکل گیا، نماز نہ ہوگی۔ (1) (درمختار و افاداتِ رضویہ)
مسئلہ ۵۳: قبلہ بنائے کعبہ کا نام نہیں، بلکہ وہ فضاہے، اس بنا کی محاذات میں ساتویں زمین سے عرش تک قبلہ ہی ہے، تو اگروہ عمارت وہاں سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دی جائے اور اب اس عمارت کی طرف مونھ کرکے نماز پڑھی نہ ہوگی يا کعبۂ معظمہ کسی ولی کی زیارت کو گیا اور اس فضا کی طرف نماز پڑھی ہوگئی، یوہیں اگر بلند پہاڑ پر یا کوئيں کے اندر نماز پڑھی اور قبلہ کی طرف مونھ کیا، نماز ہوگئی کہ فضا کی طرف توجہ پائی گئی، گو عمارت کی طرف نہ ہو۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۴: جو شخص استقبال قبلہ سے عاجز ہو، مثلاً مریض ہے کہ اس میں اتنی قوت نہیں کہ ادھر رُخ بدلے اور وہاں کوئی ایسا نہیں جو متوجہ کردے يا اس کے پاس اپنا یا امانت کا مال ہے جس کے چوری ہوجانے کا صحیح اندیشہ ہو يا کشتی کے تختہ پر بہتا جا رہا ہے اور صحیح اندیشہ ہے کہ استقبال کرے تو ڈوب جائے گا يا شریر جانور پر سوار ہے کہ اترنے نہیں دیتا یا اتر تو جائے گا مگر بے مددگار سوار نہ ہونے دے گا يا یہ بوڑھا ہے کہ پھر خود سوار نہ ہو سکے گا اور ایسا کوئی نہیں جو سوار کرا دے، تو ان سب صورتوں میں جس رُخ نماز پڑھ سکے، پڑھ لے اور اعادہ بھی نہیں، ہاں سواری کے روکنے پر قادر ہو تو روک کر پڑھے اور ممکن ہو تو قبلہ کو مونھ کرے، ورنہ جیسے بھی ہو سکے اور اگرروکنے میں قافلہ نگاہ سے مخفی ہو جائے گا تو سواری ٹھہرانا بھی ضروری نہیں، یوہیں روانی میں پڑھے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۵: چلتی کشتی میں نماز پڑھے، تو بوقت تحریمہ قبلہ کو مونھ کرے اور جیسے جيسے وہ گھومتی جائے یہ بھی قبلہ کو مونھ پھیرتا رہے، اگرچہ نفل نماز ہو۔ (4) (غنیہ)
مسئلہ ۵۶: مصلّی کے پاس مال ہے اور اندیشہ صحیح ہے کہ استقبال کریگا تو چوری ہو جائے گی، ایسی حالت میں کوئی ایسا شخص مل گیا جو حفاظت کرے، اگرچہ باجرت مثل استقبال فرض ہے۔ (5) (ردالمحتار) یعنی جب کہ وہ اجرت حاجتِ اصلیہ سے زائد اس کے پاس ہو يا محافظ آئندہ لینے پر راضی ہو اور اگر وہ نقد مانگتا ہے اور اس کے پاس نہیں يا ہے مگر حاجتِ اصلیہ سے زائد نہیں یا ہے مگر وہ اجرت مثل سے بہت زیادہ مانگتا ہے، تو اجیر کرنا ضرور نہیں، یوہیں پڑھے۔ (افاداتِ رضویہ)
مسئلہ ۵۷: کوئی شخص قید میں ہے اور وہ لوگ اسے استقبال سے مانع ہیں تو جیسے بھی ہوسکے، نماز پڑھ لے، پھر
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۱۳۵.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: کرامات الأولياء ثابتۃ، ج۲، ص۱۴۱.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: کرامات الأولياء ثابتۃ، ج۲، ص۱۴۲.
4 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فروع في شرح الطحطاوي، ص۲۲۵.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: کرامات الأولياء ثابتۃ، ج۲، ص۱۴۲.
جب موقعہ ملے وقت میں یا بعد، تو اس نماز کا ا عادہ کرے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: اگر کسی شخص کو کسی جگہ قبلہ کی شناخت نہ ہو، نہ کوئی ایسا مسلمان ہے جو بتادے، نہ وہاں مسجديں محرابیں ہیں، نہ چاند، سورج، ستارے نکلے ہوں يا ہوں مگر اس کو اتنا علم نہیں کہ ان سے معلوم کرسکے، تو ایسے کے ليے حکم ہے کہ تحری کرے (سوچے جدھر قبلہ ہونا دل پر جمے ادھر ہی مونھ کرے)، اس کے حق میں وہی قبلہ ہے۔ (2) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۵۹: تحری کر کے نماز پڑھی، بعد کو معلوم ہوا کہ قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھی، ہوگئی، اعادہ کی حاجت نہیں۔ (3) (تنویر الابصار وغیرہ)
مسئلہ ۶۰: ایسا شخص اگر بے تحری کسی طرف مونھ کرکے نماز پڑھے، نماز نہ ہوئی، اگرچہ واقع میں قبلہ ہی کی طرف مونھ کیا ہو، ہاں اگر قبلہ کی طرف مونھ ہونا، بعد نماز یقین کے ساتھ معلوم ہوا، ہوگئی اورا گر بعد نماز اس کا جہت قبلہ ہونا گمان ہو، یقین نہ ہو يا اثنائے نماز میں اسی کا قبلہ ہونا معلوم ہوا، اگرچہ یقین کے ساتھ تو نماز نہ ہوئی۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۱: اگر سوچا اور دل میں کسی طرف قبلہ ہونا ثابت ہوا، مگر اس کے خلاف دوسری طرف اس نے مونھ کیا، نماز نہ ہوئی، اگرچہ واقع میں وہی قبلہ تھا، جدھر مونھ کیا، اگرچہ بعد کو یقین کیساتھ اسی کا قبلہ ہونا معلوم ہو۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۶۲: اگر کوئی جاننے والا موجود ہے، اس سے دریافت نہیں کیا، خود غور کرکے کسی طرف کو پڑھ لی، تو اگر قبلہ ہی کی طرف مونھ تھا، ہوگئی، ورنہ نہیں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۳: جاننے والے سے پوچھا اس نے نہیں بتایا، اس نے تحری کرکے نماز پڑھ لی، اب بعد نماز اس نے بتایا نماز ہوگئی، اعادہ کی حاجت نہیں۔ (7) (غنیہ)
مسئلہ ۶۴: اگر مسجدیں اور محرابیں وہاں ہیں، مگر ان کا اعتبار نہ کیا، بلکہ اپنی رائے سے ایک طرف کو متوجہ ہو لیا، یا تارے وغیرہ موجود ہیں اور اس کو علم ہے کہ ان کے ذریعہ سے معلوم کرلے اور نہ کیا بلکہ سوچ کر پڑھ لی، دونوں صورت میں نہ
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: کرامات الأولياء ثابتۃ، ج۲، ص۱۴۳.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: مسائل التحری في القبلۃ، ج۲، ص۱۴۳.
3 ۔ ''تنوير الأبصار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۱۴۳، وغیرہ .
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: مسائل التحری في القبلۃ، ج۲، ص۱۴۷.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۱۴۷.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: مسائل التحری... إلخ، ج۲، ص۴۳ا.
7 ۔ ''منیۃ المصلي''، مسائل تحری القبلۃ... إلخ، ص۱۹۲.
ہوئی، اگر خلاف جہت کی طرف پڑھی۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۵: ایک شخص تحری کرکے (سوچ کر) ایک طرف پڑھ رہا ہے، تو دوسرے کو اس کا اتباع جائز نہیں، بلکہ اسے بھی تحری کا حکم ہے، اگر اس کا اتباع کیا، تحری نہ کی، اس کی نماز نہ ہوئی۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۶: اگر تحری کرکے نماز پڑھ رہا تھا اور اثنائے نماز میں اگرچہ سجدۂ سہو میں رائے بدل گئی يا غلطی معلوم ہوئی تو فرض ہے کہ فوراً گھوم جائے اور پہلے جو پڑھ چکا ہے، اس میں خرابی نہ آئے گی۔ اسی طرح اگر چاروں رکعتیں چار جہات میں پڑھیں، جائز ہے اور اگر فوراً نہ پھرا یہاں تک کہ ایک رکن یعنی تین بار سبحان اﷲ کہنے کا وقفہ ہوا، نماز نہ ہوئی۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۷: نابینا غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ رہا تھا، کوئی بینا آیا، اس نے اسے سیدھا کر کے اس کی اقتدا کی، تو اگر وہاں کوئی شخص ایسا تھا، جس سے قبلہ کا حال نابینا دریافت کر سکتا تھا، مگرنہ پوچھا، دونوں کی نمازیں نہ ہوئیں اور اگر کوئی ایسا نہ تھا، تو نابینا کی ہوگئی اور مقتدی کی نہ ہوئی۔ (4) (خانیہ، ہندیہ، غنيہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۸: تحری کرکے غیر قبلہ کو نماز پڑھ رہا تھا، بعد کو اسے اپنی رائے کی غلطی معلوم ہوئی اور قبلہ کی طرف پھر گیا، تو جس دوسرے شخص کو اس کی پہلی حالت معلوم ہو، اگر یہ بھی اسی قسم کا ہے کہ اس نے بھی پہلے وہی تحری کی تھی اور اب اس کو بھی غلطی معلوم ہوئی، تو اس کی اقتدا کر سکتا ہے، ورنہ نہیں۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۹: اگر امام تحری کر کے ٹھیک جہت میں پہلے ہی سے پڑھ رہا ہے، تو اگرچہ مقتدی تحری کرنے والوں میں نہ ہو، اس کی اقتدا کر سکتا ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۷۰: اگر امام و مقتدی ایک ہی جہت کو تحری کرکے نماز پڑھ رہے تھے اور امام نے نماز پوری کر لی اور سلام پھیر دیا اب مسبوق (7) و لاحق(8) کی رائے بدل گئی، تو مسبوق گھوم جائے اور لاحق سرے سے پڑھے۔ (9) (درمختار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: مسائل التحری في القبلۃ، ج۲، ص۱۴۳.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: مسائل التحری في القبلۃ، ج۲، ص۱۴۳.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: مسائل التحری في القبلۃ، ج۲، ص۱۴۴.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: مسائل التحری في القبلۃ، ج۲، ص۱۴۴.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۴۴.
7 ۔ وہ کہ امام کی بعض رکعتيں پڑھنے کے بعد شامل ہوا اور آخر تک شامل رہا۔
8 ۔ وہ کہ امام کے ساتھ پہلی رکعت ميں شريک ہوا، مگر اقتدا کے بعد اس کی کل رکعتيں يا بعض فوت ہوگئيں، خواہ عذر سے يا بلا عذر۔
9 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۴۴.
مسئلہ ۷۱: اگر پہلے ایک طرف کو رائے ہوئی اور نماز شروع کی، پھر دوسری طرف کو رائے پلٹی، پلٹ گیا پھر تیسری یا چوتھی بار وہی رائے ہوئی، جو پہلے مرتبہ تھی تو اسی طرف پھرجائے، سرے سے پڑھنے کی حاجت نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۷۲: تحری کرکے ایک رکعت پڑھی، دوسری میں رائے بدل گئی، اب یاد آیا کہ پہلی رکعت کا ایک سجدہ رہ گیا تھا، تو سرے سے نماز پڑھے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۷۳: اندھیری رات ہے، چند شخصوں نے جماعت سے تحری کرکے مختلف جہتوں میں نماز پڑھی، مگر اثنائے نماز میں یہ معلوم نہ ہوا کہ اس کی جہت امام کی جہت کے خلاف ہے، نہ مقتدی امام سے آگے ہے، نماز ہوگئی اور اگر بعد نماز معلوم ہوا کہ امام کے خلاف اسکی جہت تھی، کچھ حرج نہیں اور اگر امام کے آگے ہونا معلوم ہوا نماز میں یا بعد کو، تو نماز نہ ہوئی۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۴: مصلّی نے قبلہ سے بلا عذر قصداً سینہ پھیر دیا، اگرچہ فوراً ہی قبلہ کی طرف ہوگیا، نماز فاسد ہوگئی اور اگر بلاقصد پھر گیا اور بقدر تین تسبیح کے وقفہ نہ ہوا، تو ہوگئی۔ (4) (منیہ، بحر)
مسئلہ ۷۵: اگر صرف مونھ قبلہ سے پھیرا، تو اس پر واجب ہے کہ فوراً قبلہ کی طرف کرلے اور نماز نہ جائے گی، مگر بلاعذر مکروہ ہے۔ (5) (منیہ، بحر)
(وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ ) (6)
انھيں تو یہی حکم ہوا کہ اﷲ ہی کی عبادت کریں، اسی کے ليے دین کو خالص رکھتے ہوئے۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم فرماتے ہیں:
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۴۶.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۴۶.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب: اذا ذکر في مسألۃ ثلاثۃ اقوال... إلخ، ج۲، ص۱۴۷.
4 ۔ ''منیۃ المصلي''، مسائل التحری القبلۃ... إلخ، ص۱۹۳.
و ''البحرالرائق''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۱، ص۴۹۷.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ پ۳۰، البينۃ: ۵.
(( اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَلِکُلِّ امْرِءٍ مَانَوٰی )) (1)
''اعمال کا مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کے ليے وہ ہے، جو اس نے نیت کی۔''
اس حدیث کو بُخاری و مُسلِم اور دیگر محدثین نے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
مسئلہ ۷۶ : نيت دل کے پکے ارادہ کو کہتے ہيں، محض جاننا نيت نہيں، تا وقت يہ کہ ارادہ نہ ہو۔ (2) (تنوير الابصار)
مسئلہ ۷۷: نیت میں زبان کا اعتبار نہیں، یعنی اگر دل میں مثلاً ظہر کا قصد کیا اور زبان سے لفظ عصر نکلا، ظہر کی نماز ہوگئی۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۸: نیت کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اگر اس وقت کوئی پوچھے، کون سی نماز پڑھتا ہے؟ تو فوراً بلا تأمل بتا دے، اگر حالت ایسی ہے کہ سوچ کر بتائے گا، تو نماز نہ ہوگی۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۷۹: زبان سے کہہ لینا مستحب ہے اور اس میں کچھ عربی کی تخصیص نہیں، فارسی وغیرہ میں بھی ہو سکتی ہے اور تلفظ میں ماضی کا صیغہ ہو، مثلاً
نَوَیْتُ
یا نیت کی میں نے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۸۰: احوط یہ ہے کہ اﷲ اکبر کہتے وقت نیت حاضر ہو۔ (6) (منیہ)
مسئلہ ۸۱: تکبیر سے پہلے نیت کی اور شروع نماز اور نیت کے درمیان کوئی امر اجنبی، مثلاً کھانا، پینا، کلام وغیرہ وہ امور جو نماز سے غیر متعلق ہیں، فاصل نہ ہوں نماز ہو جائے گی، اگرچہ تحریمہ کے وقت نیت حاضر نہ ہو۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۸۲: وضو سے پیشتر نیت کی، تو وضو کرنا فاصل اجنبی نہیں، نماز ہو جائے گی۔ یوہیں وضو کے بعد نیت کی اس کے بعد نماز کے ليے چلنا پایا گیا، نماز ہو جائے گی اور یہ چلنا فاصل اجنبی نہیں۔ (8) (غنیہ)
1 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب بدء الوحي، باب کيف کان بدء الوحي إلی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم... إلخ،
الحديث: ۱، ج۱، ص۵.
2 ۔ ''تنوير الأبصار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۱۱.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، بحث النیۃ، ج۲، ص۱۱۲.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۱۳.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۱۳.
6 ۔ ''منیۃ المصلي''، استحباب ان ينوی بقبلہ ويتکلم باللسان، ص۲۳۲.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۱۴.
8 ۔ ''غنیۃ المتملي''، الشرط السادس النیۃ، ص۲۵۵.
مسئلہ ۸۳: اگر شروع کے بعد نیت پائی گئی، اس کا اعتبار نہیں، یہاں تک کہ اگر تکبير تحریمہ میں اﷲ کہنے کے بعد اکبر سے پہلے نیت کی، نماز نہ ہوگی۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۴: اصح یہ ہے کہ نفل و سنت و تراویح میں مطلق نماز کی نیت کافی ہے، مگر احتیاط یہ ہے کہ تراویح میں تراویح یا سنت وقت یا قیام اللیل کی نیت کرے اور باقی سنتوں میں سنت يا نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کی متابعت (2) کی نیت کرے، اس ليے کہ بعض مشائخ ان میں مطلق نیت کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔ (3) (منیہ)
مسئلہ ۸۵: نفل نماز کے ليے مطلق نماز کی نیت کافی ہے، اگرچہ نفل نیت میں نہ ہو۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۸۶: فرض نماز میں نیت فرض بھی ضرور ہے، مطلق نماز یا نفل وغیرہ کی نیت کافی نہیں، اگر فرضیت جانتا ہی نہ ہو، مثلاً پانچوں وقت نماز پڑھتا ہے، مگر ان کی فرضیت علم میں نہیں، نماز نہ ہوگی اور اس پر ان تمام نمازوں کی قضا فرض ہے، مگر جب امام کے پیچھے ہو اور یہ نیت کرے کہ امام جو نماز پڑھتا ہے، وہی میں بھی پڑھتا ہوں، تو یہ نماز ہو جائے گی اور اگر جانتا ہو مگر فرض کو غیر فرض سے متمیّز نہ کیا تو دو صورتیں ہیں، اگر سب میں فرض ہی کی نیت کرتا ہے، تو نماز ہو جائے گی، مگر جن فرضوں سے پیشتر سنتیں ہيں، اگر سنتيں پڑھ چکا ہے، تو اِمامت نہیں کر سکتا کہ سنتیں بہ نیت فرض پڑھنے سے اس کا فرض ساقط ہوچکا، مثلاً ظہر کے پیشتر چار رکعت سنتیں بہ نیت فرض پڑھیں، تو اب فرض نماز میں اِمامت نہیں کرسکتا کہ یہ فرض پڑھ چکا، دوسری صورت یہ کہ نیتِ فرض کسی میں نہ کی، تو نماز ِ فرض ادا نہ ہوئی۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۷: فرض میں یہ بھی ضرور ہے کہ اس خاص نماز مثلاً ظہر یا عصر کی نیت کرے يا مثلاً آج کے ظہر یا فرضِ وقت کی نیت وقت میں کرے، مگر جمعہ میں فرض وقت کی نیت کافی نہیں، خصوصیت جمعہ کی نیت ضروری ہے۔ (6) (تنویر الابصار)
مسئلہ ۸۸: اگر وقت نماز ختم ہوچکا اور اس نے فرض وقت کی نیت کی، تو فرض نہ ہوئے خواہ وقت کا جاتا رہنا اسکے علم میں ہو یا نہیں۔ (7) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في حضور القلب والخشوع، ج۲، ص۱۱۶.
2 ۔ یعنی پيروی۔
3 ۔ ''منیۃ المصلي''، الشرط السادس النیۃ، ص۲۲۵.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في حضور القلب والخشوع، ج۲، ص۱۱۶.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في حضور القلب والخشوع، ج۲، ص۱۱۷.
6 ۔ ''تنوير الأبصار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۱۷، ۱۲۳.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في حضور القلب والخشوع، ج۲، ص۱۲۳.
مسئلہ ۸۹: نماز فرض میں یہ نیت کہ آج کے فرض پڑھتا ہوں کافی نہیں، جبکہ کسی نماز کو معین نہ کیا، مثلاً آج کی ظہر یا آج کی عشا۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹۰: اَولیٰ یہ ہے کہ یہ نیت کرے آج کی فلاں نماز کہ اگرچہ وقت خارج ہوگیا ہو، نماز ہو جائے گی، خصوصاً اس کے ليے جسے وقت خارج ہونے میں شک ہو۔ (2) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۹۱: اگر کسی نے اس دن کو دوسرا دن گمان کرلیا، مثلاً وہ دن پیر کا ہے اور اس نے اسے منگل سمجھ کر منگل کی ظہر کی نیت کی، بعد کو معلوم ہوا کہ پیر تھا، نماز ہو جائے گی۔ (3) (غنیہ) یعنی جبکہ آج کا دن نیت میں ہو کہ اس تعیین کے بعد پیر یا منگل کی تخصیص بے کار ہے اور اس میں غلطی مضر نہیں، ہاں اگر صرف دن کے نام ہی سے نیت کی اور آج کے دن کا قصد نہ کیا، مثلاً منگل کی ظہر پڑھتا ہوں، تو نماز نہ ہوگی اگرچہ وہ دن منگل ہی کا ہو کہ منگل بہت ہیں۔ (افاداتِ رضویہ)
مسئلہ ۹۲: نیت میں تعداد رکعات کی ضرورت نہیں البتہ افضل ہے، تو اگر تعداد رکعات میں خطا واقع ہوئی مثلاً تین رکعتیں ظہر یا چار رکعتيں مغرب کی نیت کی، تو نماز ہو جائے گی۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹۳: فرض قضا ہوگئے ہوں، تو ان میں تعیین یوم اور تعیین نماز ضروری ہے، مثلاً فلاں دن کی فلاں نماز مطلقاً ظہر وغیرہ يا مطلقاً نماز قضا نیت میں ہونا کافی نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۹۴: اگر اس کے ذمہ ایک ہی نماز قضا ہو، تو دن معین کرنے کی حاجت نہیں، مثلاً میرے ذمہ جو فلاں نماز ہے، کافی ہے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹۵: اگر کسی کے ذمہ بہت سی نمازیں ہیں اور دن تاریخ بھی یاد نہ ہو، تو اس کے ليے آسان طریقہ نیت کا یہ ہے کہ سب میں پہلی یا سب میں پچھلی فلاں نماز جو میرے ذمہ ہے۔ (7) (درمختار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في حضور القلب والخشوع، ج۲، ص۱۲۳.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۲۳.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۶۶.
3 ۔ ''غنیۃ المتملي''، الشرط السادس النیۃ، ص۲۵۳.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في حضور القلب والخشوع، ج۲، ص۱۲۰.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۱۹.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في حضور القلب والخشوع، ج۲، ص۱۱۹.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۱۹.
مسئلہ ۹۶: کسی کے ذمہ اتوار کی نماز تھی، مگر اس کو گمان ہوا کہ ہفتہ کی ہے اور اس کی نیت سے نماز پڑھی، بعد کو معلوم ہوا کہ اتوار کی تھی، ادا نہ ہوئی۔ (1) (غنیہ)
مسئلہ ۹۷: قضا یا ادا کی نیت کی کچھ حاجت نہیں، اگرقضا بہ نیت ادا پڑھی يا ادا بہ نیت قضا، تو نماز ہوگئی، یعنی مثلاً وقت ظہر باقی ہے اور اس نے گمان کیا کہ جاتا رہا اور اس دن کی نماز ظہر بہ نیت قضا پڑھی يا وقت جاتا رہا اور اس نے گمان کیا کہ باقی ہے اوربہ نیت ادا پڑھی ہوگئی اور اگر یوں نہ کیا، بلکہ وقت باقی ہے اور اس نے ظہر کی قضا پڑھی، مگر اس دن کے ظہر کی نیت نہ کی تو نہ ہوئی، یوہیں اس کے ذمہ کسی دن کی نماز ظہر تھی اور بہ نیت ادا پڑھی نہ ہوئی۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹۸: مقتدی کو اقتدا کی نیت بھی ضروری ہے اور امام کو نیت اِمامت مقتدی کی نماز صحیح ہونے کے ليے ضروری نہیں، یہاں تک کہ اگر امام نے یہ قصد کرلیا کہ ميں فلاں کا امام نہیں ہوں اور اس نے اس کی اقتدا کی نماز ہوگئی، مگر امام نے اِمامت کی نیت نہ کی تو ثواب جماعت نہ پائے گا اور ثواب جماعت حاصل ہونے کے ليے مقتدی کی شرکت سے پیشتر نیت کر لینا ضروری نہیں، بلکہ وقت شرکت بھی نیت کر سکتا ہے۔ (3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۹۹: ایک صورت میں امام کو نیت اِمامت بالاتفاق ضروری ہے کہ مقتدی عورت ہو اور وہ کسی مرد کے محاذی کھڑی ہو جائے اور وہ نماز، نمازِ جنازہ نہ ہو تو اس صورت میں اگر امام نے اِمامت زناں (4) کی نیت نہ کی، تو اس عورت کی نماز نہ ہوئی۔ (5) (درمختار) اور امام کی یہ نیت شروع نماز کے وقت درکار ہے، بعد کو اگر نیت کر بھی لے، صحت اقتدائے زن کے ليے کافی نہیں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰۰: جنازہ میں تومطلقاً خواہ مرد کے محاذی ہو یا نہ ہو، اِمامت زناں کی نیت بالاجماع ضروری نہیں اور اصح یہ ہے کہ جمعہ و عیدین میں بھی حاجت نہیں، باقی نمازوں میں اگر محاذی مرد کے نہ ہوئی، تو عورت کی نماز ہو جائے گی، اگرچہ امام نے
1 ۔ ''غنیۃ المتملي''، الشرط السادس النیۃ، ص۲۵۴.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب: يصح القضاء بنیۃ الأداء و عکسہ، ج۲، ص۱۲۵.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۲۱،
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۶۶.
4 ۔ یعنی عورتوں کی امامت۔
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۲۸.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب: مضیٰ علیہ سنوات... إلخ، ج۲، ص۱۲۹.
اِمامت زناں کی نیت نہ کی ہو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۰۱: مقتدی نے اگر صرف نماز امام یا فرض امام کی نیت کی اور اقتدا کا قصد نہ کیا، نماز نہ ہوئی۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۲: مقتدی نے بہ نیت اقتدا یہ نیت کی کہ جو نماز امام کی وہی نماز میری، تو جائز ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۳: مقتدی نے یہ نیت کی کہ وہ نماز شروع کرتا ہوں جو اس امام کی نماز ہے، اگر امام نماز شروع کر چکا ہے، جب تو ظاہر کہ اس نیت سے اقتدا صحیح ہے اور اگر امام نے اب تک نماز شروع نہ کی تو دو صورتیں ہیں، اگر مقتدی کے علم میں ہو کہ امام نے ابھی نماز شروع نہ کی، تو بعد شروع وہی پہلی نیت کافی ہے اور اگر اس کے گمان میں ہے کہ شروع کر لی اور واقع میں شروع نہ کی ہو تو وہ نیت کافی نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۴: مقتدی نے نیت اقتدا کی، مگر فرضوں میں تعیین فرض نہ کی، تو فرض ادا نہ ہوا۔ (5) (غنیہ) یعنی جب تک یہ نیت نہ ہو کہ نماز امام میں اس کا مقتدی ہوتا ہوں۔
مسئلہ ۱۰۵: جمعہ میں بہ نیت اقتدا نماز امام کی نیت کی ظہر یا جمعہ کی نیت نہ کی، نماز ہوگئی، خواہ امام نے جمعہ پڑھا ہو یا ظہر اور اگر بہ نیت اقتدا ظہر کی نیت کی اور امام کی نماز جمعہ تھی تو نہ جمعہ ہوا، نہ ظہر۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۶: مقتدی نے امام کو قعدہ میں پایا اور یہ معلوم نہ ہو کہ قعدۂ اُولیٰ ہے یا اخیرہ اور اس نیت سے اقتدا کی کہ اگر یہ قعدۂ اُولیٰ ہے تو میں نے اقتدا کی ورنہ نہیں، تو اگرچہ قعدۂ اُولیٰ ہو اقتدا صحیح نہ ہوئی اور اگر بایں نیت اقتدا کی کہ قعدۂ اُولیٰ ہے، تو میں نے فرض میں اقتدا کی، ورنہ نفل میں تو اس اقتدا سے فرض ادا نہ ہوگا، اگرچہ قعدۂ اُولیٰ ہو۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۷: یوہیں اگر امام کو نما زمیں پایا اور یہ نہیں معلوم کہ عشا پڑھتا یا تراویح اور یوں اقتدا کی کہ اگر فرض ہے تو اقتدا کی، تراویح ہے تو نہیں، تو عشا ہو، خواہ تراویح اقتدا صحیح نہ ہوئی۔ (8) (عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۲۹.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۶۶.
3 ۔ المرجع السابق، ص۶۷.
4 ۔ المرجع السابق، ص۶۶.
5 ۔ غنیۃالمتملي، الشرط السادس النیۃ، ص۲۵۱.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۶۶.
7 ۔ المرجع السابق، ص۶۷.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۶۷.
اس کو يہ چاہيے کہ فرض کی نیت کرے کہ اگر فرض کی جماعت تھی تو فرض، ورنہ نفل ہو جائیں گے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۰۸: امام جس وقت جائے اِمامت پر گیا، اس وقت مقتدی نے نیت اقتدا کرلی، اگرچہ بوقت تکبیر نیت حاضر نہ ہو، اقتدا صحیح ہے، بشرطیکہ اس درمیان میں کوئی عمل منافی نماز نہ پایا گیا ہو۔ (2) (غنیہ)
مسئلہ ۱۰۹: نیت اقتدا میں یہ علم ضرور نہیں کہ امام کون ہے؟ زید ہے یا عمرو اور اگر یہ نیت کی کہ اس امام کے پیچھے اور اس کے علم میں وہ زید ہے، بعد کو معلوم ہوا کہ عمرو ہے اقتدا صحیح ہے اور اگر اس شخص کی نیت نہ کی، بلکہ یہ کہ زید کی اقتدا کرتا ہوں، بعد کو معلوم ہوا کہ عمرو ہے، تو صحیح نہیں۔ (3) (عالمگیری، غنیہ)
مسئلہ ۱۱۰: جماعت کثیر ہو تو مقتدی کو چاہيے کہ نیت اقتدا میں امام کی تعیین نہ کرے، یوہیں جنازہ میں یہ نیت نہ کرے کہ فلاں میت کی نماز۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۱: نماز جنازہ کی یہ نیت ہے، نماز اﷲ کے ليے اور دُعا اس میت کے ليے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۱۲: مقتدی کو شبہہ ہو کہ میت مرد ہے یا عورت، تو يہ کہہ لے کہ امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہوں جس پر امام نماز پڑھتا ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۱۳: اگر مرد کی نیت کی، بعد کو عورت ہونا معلوم ہوا یا بالعکس، جائز نہ ہوئی، بشرطیکہ جنازہ حاضرہ کی طرف اشارہ نہ ہو، یوہیں اگر زید کی نیت کی بعد کو اس کا عمرو ہونا معلوم ہوا صحیح نہیں اور اگر یوں نیت کی کہ اس جنازہ کی اور اس کے علم میں وہ زید ہے بعد کو معلوم ہوا کہ عمرو ہے، تو ہوگئی۔ (7) (درمختار، ردالمحتار) یوہیں اگر اس کے علم میں وہ مرد ہے، بعد کو عورت ہونا معلوم ہوا یا بالعکس، تو نماز ہو جائے گی، جب کہ اس میت پر نماز نیت میں ہے۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱۴: چند جنازے ایک ساتھ پڑھے، تو ان کی تعداد معلوم ہونا ضروری نہیں اور اگر اس نے تعداد معین کرلی اور
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۵۳.
2 ۔ ''غنیۃ المتملي''، الشرط السادس النیۃ، ص۲۵۲.
3 ۔ المرجع السابق، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۶۷.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۶۷.
5 ۔ ''تنوير الأبصار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۲۶.
6 ۔ ''تنوير الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۲۷.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب: مضیٰ علیہ سنوات... إلخ، ج۲، ص۱۲۷.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب: مضیٰ علیہ سنوات... إلخ، ج۲، ص۱۲۷.
اس سے زائد تھے، تو کسی جنازے کی نہ ہوئی۔ (1) (درمختار) یعنی جب کہ نیت میں اشارہ نہ ہو، صرف اتنا ہو کہ دس (۱۰) ميّتوں کی نماز اور وہ تھے گیارہ (۱۱) تو کسی پر نہ ہوئی اور اگر نیت میں اشارہ تھا، مثلاً ان دس (۱۰) ميّتوں پر نماز اور وہ ہوں بیس (۲۰) تو سب کی ہوگئی، یہ احکام امامِ نمازِ جنازہ کے ہیں اور مقتدی کے بھی، اگر اس نے یہ نیت نہ کی ہو کہ جن پر امام پڑھتا ہے، ان کے جنازہ کی نماز کہ اس صورت میں اگر اس نے ان کو دس (۱۰) سمجھا اور وہ ہیں زیادہ تو اس کی نماز بھی سب پر ہو جائے گی۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱۵: نماز واجب میں واجب کی نیت کرے اور اسے معین بھی کرے، مثلاً نماز عیدالفطر، عید اضحی، نذر، نماز بعد طواف یا نفل، جس کو قصداً فاسد کیا ہو کہ اس کی قضا بھی واجب ہو جاتی ہے، یوہیں سجدۂ تلاوت میں نیت تعیین ضرور ہے، مگر جب کہ نماز میں فوراً کیا جائے اور سجدۂ شکر اگرچہ نفل ہے مگر اس میں بھی نیت تعیین درکار ہے یعنی یہ نیت کہ شکر کا سجدہ کرتا ہوں اور سجدۂ سہو کو درمختار میں لکھا کہ اس میں نیت تعیین ضروری نہیں، مگر'' نہرالفائق '' میں ضروری سمجھی اور یہی ظاہر تر ہے۔ (3) (ردالمحتار) اور نذریں متعدد ہوں تو ان میں بھی ہر ایک کی الگ تعیین درکار ہے اور وتر میں فقط وتر کی نیت کافی ہے، اگرچہ اس کے ساتھ نیت وجوب نہ ہو، ہاں نیت واجب اولیٰ ہے، البتہ اگر نیت عدمِ وجوب ہے تو کافی نہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱۶: یہ نیت کہ مونھ میرا قبلہ کی طر ف ہے شرط نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ قبلہ سے اعراض کی نیت نہ ہو۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱۷: نماز بہ نیت فرض شروع کی پھر درمیان نماز میں یہ گمان کیا کہ نفل ہے اور بہ نیت نفل نماز پوری کی تو فرض ادا ہوئے اور اگر بہ نیت نفل شروع کی اور درمیان میں فرض کا گمان کیا اور اسی گمان کے ساتھ پوری کی، تو نفل ہوئی۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۸: ایک نماز شروع کرنے کے بعد دوسری کی نیت کی، تو اگر تکبیر جدید کے ساتھ ہے، تو پہلی جاتی رہی اور دوسری شروع ہوگئی، ورنہ وہی پہلی ہے، خواہ دونوں فرض ہوں یا پہلی فرض دوسری نفل يا پہلی نفل دوسری فرض۔ (7) (عالمگیری، غنیہ)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۲۷.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب: مضیٰ علیہ سنوات وھو يصلي... إلخ، ج۲، ص۱۲۷.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في حضور القلب و الخشوع، ج۲، ص۱۱۹.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب في حضور القلب والخشوع، ج۲، ص۱۲۰.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب: مضیٰ علیہ سنوات... إلخ، ج۲، ص۱۲۹.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۶۶.
7 ۔ المرجع السابق، و ''غنیۃ المتملي''، الشرط السادس النیۃ، ص۲۴۹.
یہ اس وقت میں ہے کہ دوبارہ نیت زبان سے نہ کرے، ورنہ پہلی بہرحال جاتی رہی۔ (1) (ہندیہ)
مسئلہ ۱۱۹: ظہر کی ایک رکعت کے بعد پھر بہ نیت اسی ظہر کے تکبیر کہی، تو یہ وہی نماز ہے اور پہلی رکعت بھی شمار ہوگی، لہٰذا اگر قعدۂ اخيرہ کیا، تو ہوگئی ورنہ نہیں، ہاں اگر زبان سے بھی نیت کا لفظ کہا تو پہلی نماز جاتی رہی اور وہ رکعت شمار میں نہیں۔ (2) (عالمگیری، غنیہ)
مسئلہ ۱۲۰: اگر دل میں نماز توڑنے کی نیت کی، مگر زبان سے کچھ نہ کہا، تو وہ بدستور نماز میں ہے۔ (3) (درمختار) جب تک کوئی فعل قاطع نماز نہ کرے۔
مسئلہ ۱۲۱: دو نمازوں کی ایک ساتھ نیت کی اس میں چند صورتیں ہیں۔ (۱) ان میں ایک فرض عین ہے، دوسری جنازہ، تو فرض کی نیت ہوئی، (۲) اور دونوں فرض عین ہیں، تو ایک اگر وقتی ہے اور دوسری کا وقت نہیں آیا، تو وقتی ہوئی، (۳) اور ایک وقتی ہے، دوسری قضا اور وقت میں وسعت نہیں جب بھی وقتی ہوئی، (۴) اور وقت میں وسعت ہے تو کوئی نہ ہوئی اور (۵) دونوں قضا ہوں، تو صاحب ترتیب کے ليے پہلی ہوئی اور (۶) صاحب ترتیب نہیں، تو دونوں باطل اور ایک (۷) فرض، دوسری نفل، تو فرض ہوئے، (۸) اور دونوں نفل ہیں تو دونوں ہوئیں، (۹) اور ایک نفل، دوسری نماز جنازہ، تو نفل کی نیت رہی۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲۲: نماز خالصاً ﷲ شروع کی، پھر معاذ اﷲ ریا کی آمیزش ہوگئی، تو شروع کا اعتبار کیا جائے گا۔ (5) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۲۳: پورا ریا یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے ہے، اس وجہ سے پڑھ لی ورنہ پڑھتا ہی نہیں اور اگر یہ صورت ہے کہ تنہائی میں پڑھتا تو، مگر اچھی نہ پڑھتا اور لوگوں کے سامنے خوبی کے ساتھ پڑھتا ہے، تو اس کو اصل نماز کا ثواب ملے گا اور اس خوبی کا ثواب نہیں۔ (6) (درمختار، عالمگیری) اور ریا کا استحقاق عذاب بہرحال ہے۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۶۶.
2 ۔ المرجع السابق، و ''غنیۃ المتملي''، الشرط السادس النیۃ، ص۲۵۰.
3 ۔ ''الدرالمختار''،
4 ۔ ''غنیۃ المتملي''، الشرط السادس النیۃ، ص۲۵۰،
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب: فروع في النیۃ، ج۲، ص۱۵۳.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۵۱.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث في شروط الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۶۷.
6 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۲۴: نماز خلوص کے ساتھ پڑھ رہا تھا، لوگوں کو دیکھ کر یہ خیال ہوا کہ ریا کی مداخلت ہو جائے گی يا شروع کرنا چاہتا تھا کہ ریا کی مداخلت کا اندیشہ ہوا تو، اس کی وجہ سے ترک نہ کرے، نماز پڑھے اور استغفار کرلے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
( وَ ذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی ﴿ؕ۱۵﴾) (2)
اپنے رب کا نام لے کر نماز پڑھی۔
اور احادیث اس بارے میں بہت ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم
اَللہُ اَکْبَرْ
سے نماز شروع فرماتے۔
مسئلہ ۱۲۵: نماز جنازہ میں تکبیر تحریمہ رکن ہے۔ باقی نمازوں میں شرط۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۲۶: غیر نماز جنازہ میں اگر کوئی نجاست ليے ہوئے تحریمہ باندھے اور اﷲ اکبر ختم کرنے سے پیشتر (4) پھینک دے، نماز منعقد ہو جائے گی۔ یوہیں بر وقت ابتدائے تحریمہ ستر کھلا ہوا تھا يا قبلہ سے منحرف (5) تھا، یا آفتاب خط نصف النہار پر تھا اور تکبیر سے فارغ ہونے سے پہلے عمل قلیل کے ساتھ ستر چھپا لیا، یا قبلہ کو مونھ کر لیا یا نصف النہار سے آفتاب ڈھل گیا، نماز منعقد ہو جائے گی۔ یوہیں معاذ اﷲ بے وضو شخص دریا میں گر پڑا اور اعضائے وضو پر پانی بہنے سے پیشتر تکبیر تحریمہ شروع کی، مگر ختم سے پہلے اعضا دھل گئے، نماز منعقد ہوگئی۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲۷: فرض کی تحریمہ پر نفل نماز کی بنا کر سکتا ہے، مثلاً عشا کی چاروں رکعتیں پوری کر کے بے سلام پھیرے سنتوں کے ليے کھڑا ہوگیا، لیکن قصداً ایسا کرنا مکروہ و منع ہے اور قصداً نہ ہو تو حرج نہیں، مثلاً ظہر کی چار رکعت پڑھ کر قعدۂ اخيرہ کر چکا تھا، اب خیال ہوا کہ دو ہی پڑھیں اٹھ کھڑا ہوا اور پانچويں رکعت کا سجدہ بھی کر لیا، اب معلوم ہوا کہ چار ہو چکی تھیں، تو یہ رکعت نفل ہوئی، اب ایک اور پڑھ لے کہ دو رکعتیں ہو جائیں، تو یہ بنا بقصد نہ ہوئی، لہٰذا اس میں کوئی کراہت نہیں۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب: فروع في النیۃ، ج۲، ص۱۵۱.
2 ۔ پ۳۰، الاعلیٰ: ۱۵.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۵۸.
4 ۔ پہلے۔ 5 ۔ یعنی پھرا ہوا۔
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، بحث القيام، ج۲، ص۱۶۲.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب: قد يطلق الفرض... إلخ، ج۲، ص۱۵۹.
مسئلہ ۱۲۸: ایک نفل پر دوسری نفل کی بنا کر سکتا ہے اور ایک فرض کی دوسرے فرض یا نفل پر بنا نہیں ہوسکتی۔ (1) (درمختار)
حدیث ۱: بُخاری و مُسلِم ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک شخص مسجد میں حاضر ہوئے اوررسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم مسجد کی ایک جانب ميں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے نماز پڑھی، پھر خدمت اقدس میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا، فرمایا: وعلیک السلام، جاؤ نماز پڑھو کہ تمہاری نماز نہ ہوئی، وہ گئے اور نماز پڑھی پھر حاضر ہو کر سلام عرض کیا، فرمایا: وعلیک السلام، جاؤ نماز پڑھو کہ تمہاری نماز نہ ہوئی، تیسری بار یا اس کے بعد عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) مجھے تعلیم فرمائیے، ارشاد فرمایا: ''جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو، تو کامل وضو کرو، پھر قبلہ کی طرف مونھ کر کے اﷲ اکبر کہو پھر قرآ ن پڑھو جتنا میسر آئے پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں تمھيں اطمینان ہو، پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں اطمینان ہو جائے، پھر اٹھو یہاں تک کہ بیٹھنے میں اطمینان ہو پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں اطمینان ہو جائے پھر اٹھو اور سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر اسی طرح پوری نماز میں کرو۔'' (2)
حدیث ۲: صحیح مُسلِم شریف میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم اﷲ اکبر سے نماز شروع کرتے اور
( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ )
سے قراء ت اور جب رکوع کرتے سر کو نہ اٹھائے ہوتے نہ جھکائے بلکہ متوسط حالت میں رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے، تو سجدہ کو نہ جاتے تاوقتیکہ سیدھے کھڑے نہ ہولیں اور سجدہ سے اٹھ کر سجدہ نہ کرتے تاوقتیکہ سیدھے نہ بیٹھ لیں اور ہر دو رکعت پر التحیات پڑھتے اور بایاں پاؤں بچھاتے اور دہنا کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرماتے اور درندوں کی طرح کلائیاں بچھانے سے منع فرماتے (یعنی سجدے میں مردوں کو) اور سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے۔ (3)
حدیث ۳: صحیح بُخاری شریف میں سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ لوگوں کو حکم کیا جاتا کہ نماز میں مرد داہنا ہاتھ بائیں کلائی پر رکھے۔ (4)
حدیث ۴: امام احمد ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے ہم کو نماز پڑھائی اور پچھلی
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۵۹.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب وجوب قرائۃ الفاتحۃ... إلخ، الحديث: ۴۵۔(۳۹۷)،۴۶۔(۳۹۸)، ص۲۱۰.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب ما يجمع صفۃ الصلاۃ... إلخ، الحديث: ۴۹۸، ص۲۵۵.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب وضع اليمنی علی اليسریٰ في الصلاۃ، الحديث: ۷۴۰، ج۱، ص۲۶۲.
صف میں ایک شخص تھا، جس نے نماز میں کچھ کمی کی، جب سلام پھیرا تو اسے پکارا، اے فلاں! ''تو اﷲ سے نہیں ڈرتا، کیا تو نہیں دیکھتا کہ کیسے نماز پڑھتا ہے؟ تم یہ گمان کرتے ہو گے کہ جو تم کرتے ہو، اس میں سے کچھ مجھ پر پوشیدہ رہ جاتا ہو گا۔ خدا کی قسم! ''میں پیچھے سے ویسا ہی دیکھتا ہوں جیسا سامنے سے۔'' (1)
حدیث ۵و۶: ابوداود نے روایت کی کہ اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا گیا کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو مقام پر رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کا سکتہ فرمانا یاد کیا، ایک اس وقت جب تکبیر تحریمہ کہتے۔ دوسرا جب
(غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآ لِّیۡنَ ٪﴿۷﴾ )
پڑھ کر فارغ ہوتے، اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تصدیق کی۔ (2) ترمذی و ابن ماجہ و دارمی نے بھی اس کے مثل روایت کی۔ اس حدیث سے آمین کا آہستہ کہنا ثابت ہوتا ہے۔
حدیث ۷: امام بُخاری ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: ''جب امام
( غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ )
کہے، تو آمین کہو کہ جس کا قول ملائکہ کے قول کے موافق ہو، اس کے اگلے گناہ بخش ديے جائیں گے۔'' (3)
حدیث ۸: صحیح مُسلِم میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ ارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جب تم نماز پڑھو تو صفیں سیدھی کرلو، پھر تم میں سے جو کوئی اِمامت کرے، وہ جب تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب
( غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ )
کہے، تو تم آمین کہو، اﷲ تمہاری دُعا قبول فرمائے گا اور جب وہ اﷲ اکبر کہے اور رکوع میں آجائے، تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو کہ امام تم سے پہلے رکوع کریگا اور تم سے پہلے اٹھے گا، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کا بدلہ ہوگیا اور جب وہ
سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ
کہے تم
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ
کہو، اﷲ تمہاری سُنے گا۔'' (4)
حدیث ۹و۱۰: ابوہریرہ وقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اسی صحیح مُسلِم میں ہے، جب امام قراء ت کرے تو تم چُپ رہو۔ (5) اس حدیث اور اس کے پہلے جو حدیث ہے دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ آمین آہستہ کہی جائے کہ اگر زور سے کہنا ہوتا تو امام کے
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہريرۃ، الحديث: ۹۸۰۳، ج۳، ص۴۶۰.
اس حديث شريف سے نہايت واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ديکھنے کے ليے کسی چيز کا سامنے ہونا درکار
نہيں کہ کوئی شے ادراک کے ليے حجاب نہيں۔ ۱۲ منہ
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب السکتۃ عندالافتتاح، الحديث: ۷۷۹، ج۱، ص۳۰۱.
3 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب جھر المأموم بالتأمين، الحديث: ۷۸۲، ج۱، ص۲۷۵.
4 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب التشھد في الصلاۃ، الحديث: ۴۰۴، ص۲۱۴ .
5 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب التشھد في الصلاۃ، الحديث:۶۳۔(۴۰۴)، ص۲۱۵.
آمین کہنے کا پتہ اور موقع بتانے کی کیا حاجت ہوتی کہ جب وہ
وَلَاالضَّآلِّیْنَ
کہے، تو آمین کہو اور اس سے بہت صریح ترمذی کی روایت شعبہ سے ہے، وہ علقمہ سے وہ ابی وائل سے روایت کرتے ہیں،
فَقَال اٰمِیْن وَخَفَضَ بِھَا صَوْتَہٗ
آمین کہی اور اس میں آواز پست کی، (1) نیز ابوہریرہ و قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی قراء ت نہ کریں، بلکہ چُپ رہیں اور یہی قرآن عظیم کا بھی ارشاد ہے کہ
وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾ ) (2)
جب قرآن پڑھا جائے تو سُنو اور چُپ رہو، اس امید پر کہ رحم کيے جاؤ۔
حدیث ۱۱: ابو داود ونَسائی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا کہ: ''امام تو اس ليے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، جب تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قراء ت کرے تم چُپ رہو۔'' (3)
حدیث ۱۲: ابوداود و ترمذی علقمہ سے راوی، کہ عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''کیا تمھيں وہ نماز نہ پڑھاؤں، جو رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کی نماز تھی؟، پھر نماز پڑھی اور ہاتھ نہ اٹھائے، مگر پہلی بار (4) یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے پھر نہیں۔ (5) ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے۔
حدیث ۱۳: دار قطنی و ابن عدی کی روایت انھيں سے ہے کہ عبداﷲ بن مسعو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی، تو ان حضرات نے ہاتھ نہ اٹھائے، مگر نماز شروع کرتے وقت۔ (6)
حدیث ۱۴: مُسلِم و احمد جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''یہ کیا بات ہے؟ کہ تمھيں ہاتھ اٹھاتے دیکھتا ہوں، جیسے چنچل گھوڑے کی دُمیں، نماز میں سکون کے ساتھ رہو۔'' (7)
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في التأمين، الحديث: ۲۴۸، ج۱، ص۲۸۵.
2 ۔ پ۹، الاعراف: ۲۰۴.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب اقامۃ الصلوات... إلخ، باب إذا قرء الامام فانصتوا، الحديث: ۸۴۶، ج۱، ص۴۶۱.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب من لم يذکر الرفع عند الرکوع، الحديث: ۷۴۸، ج۱، ص۲۹۲.
''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء ان النبی صلّی اﷲ علیہ وسلم لم يرفع الا في أوّل مرّۃ، الحديث: ۲۵۷،ج۱،
ص۲۹۲.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب من لم يذکر الرفع عند الرکوع، الحديث: ۷۵۲، ج۱،ص۲۹۲.
6 ۔ ''سنن الدارقطني''، کتاب الصلاۃ، باب ذکر التکبير و رفع اليدين، الحديث: ۱۱۲۰، ج۱، ص۳۹۹.
7 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب الأمر بالسکون في الصلاۃ... إلخ، الحديث: ۴۳۰، ص۲۲۹.
حدیث ۱۵: ابو داود و امام احمد نے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ'' سنت سے ہے کہ نماز میں ہاتھ پر ہاتھ ناف کے نیچے رکھے جائیں۔'' (1)
ان اُمور کے متعلق اور بکثرت احادیث و آثار موجود ہیں، تبرکاً چند حدیثیں ذکر کیں کہ یہ مقصود نہیں کہ افعالِ نماز احادیث سے ثابت کيے جائیں کہ ہم نہ اس کے اہل نہ اس کی ضرورت کہ آئمہ کرام نے یہ مرحلے طے فرما ديے، ہمیں تو ان کے ارشادات بس ہیں کہ وہ ارکان شریعت ہیں، وہ وہی فرماتے ہیں جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کے ارشاد سے ماخوذ ہے۔
نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ باوضو قبلہ رُو دونوں پاؤں کے پنجوں میں چار انگل کا فاصلہ کر کے کھڑا ہو اور دونوں ہاتھ کان تک لے جائے کہ انگوٹھے کان کی لَو سے چُھو جائیں اور انگلیاں نہ ملی ہوئی رکھے نہ خوب کھولے ہوئے بلکہ اپنی حالت پر ہوں اور ہتھیلیاں قبلہ کو ہوں، نیت کر کے اﷲ اکبر کہتا ہوا ہاتھ نیچے لائے اور ناف کے نیچے باندھ لے، یوں کہ دہنی ہتھیلی کی گدی بائیں کلائی کے سرے پر ہو اور بیچ کی تین انگلیاں بائیں کلائی کی پشت پر اور انگوٹھا اور چھنگلیا (2) کلائی کے اغل بغل اور ثنا پڑھے۔
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰـہَ غَیْرُکَ . (3)
پھر تعوذ یعنی
اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
پڑھے، پھر تسمیہ یعنی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
کہے پھر الحمد پڑھے اور ختم پر آمین آہستہ کہے، اس کے بعد کوئی سورت یا تین آیتیں پڑھے یا ایک آیت کہ تین کے برابر ہو، اب اﷲ اکبر کہتا ہوا رکوع میں جائے اور گھٹنوں کو ہاتھ سے پکڑے، اس طرح کہ ہتھیلیاں گھٹنے پر ہوں اور انگلیاں خوب پھیلی ہوں، نہ یوں کہ سب انگلیاں ایک طرف ہوں اور نہ یوں کہ چار انگلیاں ایک طرف، ایک طرف فقط انگوٹھا اور پیٹھ بچھی ہو اور سر پیٹھ کے برابر ہو اونچا نیچا نہ ہو اور کم سے کم تین بار
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ
کہے پھر
سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ
کہتا ہوا سیدھا کھڑا ہو جائے اور منفرد ہو تو اس کے بعد
اَللَّھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ
کہے، پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدہ میں جائے، یوں کہ پہلے گھٹنے زمین پر رکھے پھر ہاتھ پھر
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب وضع اليمنٰی علی اليسرٰی في الصلاۃ، الحديث: ۷۵۶، ج۱، ص۲۹۳.
2 ۔ چھوٹی انگلی۔
3 ۔ پاک ہے تو اے اﷲ اور میں تیری حمد کرتا ہوں تیرا نام برکت والا ہے اور تیری عظمت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ ۱۲
دونوں ہاتھوں کے بیچ میں سر رکھے، نہ یوں کہ صرف پیشانی چُھو جائے اور ناک کی نوک لگ جائے, بلکہ پیشانی اور ناک کی ہڈی جمائے اور بازوؤں کو کروٹوں اور پیٹ کو رانوں اور رانوں کو پنڈلیوں سے جُدا رکھے اور دونوں پاؤں کی سب انگلیوں کے پیٹ قبلہ رُو جمے ہوں اور ہتھیلیاں بچھی ہوں اور انگلیاں قبلہ کو ہوں اور کم از کم تین بار
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی
کہے، پھر سر اوٹھائے، پھر ہاتھ اور داہنا قدم کھڑا کر کے اس کی انگلیاں قبلہ رُخ کرے اور بایاں قدم بچھا کر اس پر خوب سیدھا بیٹھ جائے اور ہتھیلیاں بچھا کر رانوں پر گھٹنوں کے پاس رکھے کہ دونوں ہاتھ کی انگلیاں قبلہ کو ہوں، پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدے کو جائے اور اسی طرح سجدہ کرے، پھر سر اٹھائے، پھر ہاتھ کو گھٹنے پر رکھ کر پنجوں کے بل کھڑا ہو جائے، اب صرف
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
پڑھ کر قراء ت شروع کر دے، پھر اسی طرح رکوع اور سجدے کر کے داہنا قدم کھڑا کر کے بایاں قدم بچھا کر بیٹھ جائے اور
اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرُسُوْلُہٗ ۔ (1)
پڑھے اور اس میں کوئی حرف کم و بیش نہ کرے اور اس کو تشہد کہتے ہیں اور جب کلمۂ
لَا
کے قریب پہنچے، دہنے ہاتھ کی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنائے اور چھنگلیا اور اس کے پاس والی کو ہتھیلی سے ملا دے اور لفظ
لَا
پر کلمہ کی انگلی اٹھائے مگر اس کو جنبش نہ دے اور کلمۂ
اِلَّا
پر گرا دے اور سب انگلیاں فوراً سیدھی کر لے، اگر دو سے زیادہ رکعتیں پڑھنی ہیں تو اٹھ کھڑا ہو اور اسی طرح پڑھے مگر فرضوں کی ان رکعتوں میں الحمد کے ساتھ سورت ملانا ضرور نہیں، اب پچھلا قعدہ جس کے بعد نماز ختم کریگا، اس میں تشہد کے بعد درود شریف
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ.
پڑھے (2) پھر
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ تَوَالَدَ وَلِجَمِیْعِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ
1 ۔ تمام تحیتیں اور نمازیں اور پاکیزگیاں اﷲ (عزوجل) کے ليے ہیں سلام حضور پر، اے نبی! اﷲ (عزوجل) کی رحمت اور برکتیں ،ہم پر
اور اﷲ (عزوجل) کے نیک بندوں پر سلام، میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
اس کے بندہ اور رسول ہیں۔ ۱۲
2 ۔ اے اﷲ (عزوجل) درود بھیج ہمارے سردار محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر اور ان کی آل پر، جس طرح تو نے درود بھیجی سیدنا ابراہیم
(علیہ الصلوٰۃ والسلام) پر اور انکی آل پر، بیشک تو سراہا ہوا بزرگ ہے، اے اﷲ (عزوجل) برکت نازل کر ہمارے سردار محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)
پر اور انکی آل پر، جس طرح تو نے برکت نازل کی سیدنا ابراہیم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) پر اور انکی آل پر، بیشک تو سراہا ہوا بزرگ ہے۔ ۱۲
الْاَحْیَاءِ مِنْھُمْ وَالْاَمْوَاتِ اِنَّکَ مُجِیْبُ الدَّعْوَاتِ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ (1)
یا اور کوئی دُعائے ماثور پڑھے۔ مثلاً
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیرًا وَّ اِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْلِی مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ . (2)
یا یہ دُعا پڑھے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہٖ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ اَعْلَمْ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الشَّرِ کُلِّہٖ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ اَعْلَمْ. (3)
یا یہ پڑھے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَ فِتْنَۃِ الْمَمَاتِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَمِنَ الْمَغْرَمِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَ قَھْرِ الرِّجَال . (4)
یا یہ پڑھے۔
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ. (5)
اور اس کو بغیر
اَللّٰھُمَّ
کے نہ پڑھے، پھر دہنے شانے کی طرف مونھ کر کے
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہِ
کہے، پھر بائیں طرف، یہ طریقہ کہ مذکور ہوا، امام یا تنہا مرد کے پڑھنے کا ہے، مقتدی کے ليے اس میں کی بعض بات جائز نہیں، مثلاً امام کے
1 ۔ اے اﷲ (عزوجل) تو بخش دے مجھ کو اور میرے والدین کو اور اس کو جو پیدا ہوا اور تمام مومنین و مومنات اور مسلمین و مسلمات کو، بیشک تو
دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے اپنی رحمت سے، اے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان۔ ۱۲
2 ۔ اے اﷲ (عزوجل) میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے اوربیشک تیرے سوا گناہوں کا بخشنے والا کوئی نہیں ہے، تو اپنی طرف سے میری
مغفرت فرمااور مجھ پر رحم کر، بیشک تو ہی بخشنے والا مہربان ہے۔ ۱۲
3 ۔ اے اﷲ (عزوجل) میں تجھ سے ہر قسم کے خیر کا سوال کرتا ہوں جس کو میں جانتا ہوں اور جس کو نہیں جانتا اور ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتا
ہوں جس کو میں نے جانا اور جس کو نہیں جانا۔ ۱۲
4 ۔ اے اﷲ (عزوجل) تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور تيری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجّال کے فتنہ سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت
کے فتنہ سے اے اﷲ تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور تاوان سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں دَین کے غلبہ اور مَردوں کے قہر سے۔ ۱۲
5 ۔ اے اﷲ (عزوجل) اے ہمارے پروردگار، تو ہم کو دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں نیکی دے اور ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا۔ ۱۲
پیچھے فاتحہ یا اور کوئی سورت پڑھنا۔ عورت بھی بعض اُمور میں مستثنیٰ ہے، مثلاً ہاتھ باندھنے اور سجدہ کی حالت اور قعدہ کی صورت میں فرق ہے۔ (1) جس کو ہم بیان کرينگے، ان مذکورات میں بعض چیزیں فرض ہیں کہ اس کے بغیر نماز ہوگی ہی نہیں، بعض واجب کہ اس کا ترک (2) قصداً (3) گناہ اور نماز واجب الاعادہ (4) اور سہواً ہو تو سجدۂ سہو واجب۔ بعض سنت مؤکدہ کہ اس کے ترک کی عادت گناہ اور بعض مستحب کہ کریں تو ثواب، نہ کریں تو گناہ نہیں۔
(۱) تکبیر تحریمہ
(۲) قیام
(۳) قراء ت
(۴) رکوع
(۵) سجدہ
(۶) قعدہ اخیرہ
(۷) خروج بصنعہ ۔ (5)
حقیقۃً یہ شرائط نماز سے ہے مگر چونکہ افعال نماز سے اس کو بہت زیادہ اتصال ہے، اس وجہ سے فرائض نماز میں اس کا شمار ہوا۔
مسئلہ ۱: نماز کے شرائط یعنی طہارت و استقبال و ستر عورت و وقت۔ تکبیر تحریمہ کے ليے شرائط ہیں یعنی قبل ختم تکبیر ان شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، اگر اﷲ اکبر کہہ چکا اور کوئی شرط مفقود ہے، نماز نہ ہوگی۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''غنیۃ المتملي''، صفۃ الصلاۃ، ص۲۹۸۔۳۳۶، وغيرہا.
2 ۔ چھوڑنا۔ 3 ۔ یعنی جان بوجھ کر۔
4 ۔ یعنی نماز کا پھر سے پڑھنا واجب۔
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۱۵۸۔۱۷۰.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، بحث شروط التحریمۃ، ج۲، ص۱۷۵.
مسئلہ ۲: جن نمازوں میں قیام فرض ہے، ان میں تکبیر تحریمہ کے ليے قیام فرض ہے، تو اگر بیٹھ کر اﷲ اکبر کہا پھر کھڑا ہوگیا، نماز شروع ہی نہ ہوئی۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳: امام کو رکوع میں پایا اور تکبیر تحریمہ کہتا ہوا رکوع میں گیا یعنی تکبیر اس وقت ختم کی کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنے تک پہنچ جائے، نماز نہ ہوئی۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: نفل کے ليے تکبیر تحریمہ رکوع میں کہی، نماز نہ ہوئی اور بیٹھ کر کہتا، تو ہو جاتی۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: مقتدی نے لفظ اﷲ امام کے ساتھ کہا مگر اکبر کو امام سے پہلے ختم کر چکا، نماز نہ ہوئی۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۶: امام کو رکوع میں پایا اور اﷲ اکبر کھڑے ہو کر کہا مگر اس تکبیر سے تکبیر رکوع کی نیت کی، نماز شروع ہوگئی اور یہ نیت لغو ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۷: امام سے پہلے تکبیر تحریمہ کہی، اگر اقتدا کی نیت ہے، نماز میں نہ آیا ورنہ شروع ہوگئی، مگر امام کی نماز میں شرکت نہ ہوئی، بلکہ اپنی الگ۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: امام کی تکبیر کا حال معلوم نہیں کہ کب کہی تو اگر غالب گمان ہے کہ امام سے پہلے کہی نہ ہوئی اور اگر غالب گمان ہے کہ امام سے پہلے نہیں کہی تو ہوگئی اور اگر کسی طرف غالب گمان نہ ہو، تو احتیاط یہ ہے کہ قطع کرے اور پھر سے تحریمہ باندھے۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جو شخص تکبیر کے تلفظ پر قادر نہ ہو مثلاً گونگا ہو یا کسی اور وجہ سے زبان بند ہو، اس پر تلفظ واجب نہیں، دل میں ارادہ کافی ہے۔ (8) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۶۸.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۶۹.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، بحث شروط التحريمۃ، ج۲، ص۱۷۶.
بعض لوگ جلدی ميں اسی طرح کر گزرتے ہيں ان کی وہ نماز نہ ہوئی اس کو پھر پڑھيں۔ ۱۲ منہ حفظہ
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الصلاۃ، بحث شروط التحريمۃ، ج۲، ص۲۱۹.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ فصل، ج۲، ص۲۱۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۱۹.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۶۹.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۱۹.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ،فصل، ج۲، ص۲۲۰.
مسئلہ ۱۰: اگر بطور تعجب اﷲ اکبر کہا یا مؤذن کے جواب میں کہا اور اسی تکبیر سے نماز شروع کر دی، نماز نہ ہوئی۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: اﷲ اکبر کی جگہ کوئی اور لفظ جو خالص تعظیم الٰہی کے الفاظ ہوں۔ مثلاً
اَللہُ اَجَلُّ
یا
اَللہُ اَعْظَمُ
یا
اَللہُ کَبِیْرٌ
یا
اَللہُ الْاَکْبَرُ
یا
اَللہُ الْکَبِیْرُ
یا
اَلرَّحْمٰنُ اَکْبَرُ
یا
اَللہُ اِلٰـہٌ
یا
لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ
یا
سُبْحَانَ اللہُ
یا
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
یا
لَا اِلٰـہَ غَیْرُہٗ
یا
تَبَارَکَ اللہُ
وغيرہا (2) الفاظ تعظیمی کہے، تو ان سے بھی ابتدا ہوجائے گی مگر یہ تبدیل مکروہ تحریمی ہے۔
اور اگر دُعا یا طلب حاجت کے لفظ ہوں۔ مثلاً
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ، اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِیْ ، اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ
وغیرہا الفاظ دُعا کہے تو نماز منعقد نہ ہوئی۔ یوہیں اگر صرف
اکبر
یا
اجلّ
کہا اس کے ساتھ لفظ
اَللہُ
نہ ملایا جب بھی نہ ہوئی۔
یوہیں اگر
اَسْتَغْفِرُ اللہَ
یا
اَعُوْذُ بِاللہِ
یا
اِنَّا لِلّٰہِ
یا
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
یا
مَاشَاءَ اللہُ کَانَ
یا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
کہا، تو منعقد نہ ہوئی اور اگر صرف
اَللہُ
کہا یا
یَا اَللہُ
یا
اَللّٰھُمَّ
کہا ہو جائے گی۔ (3) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: لفظ
اَللہُ
کو
اٰللہُ
یا
اَکْبَرْ
کو
اٰکْبَرْ
یا
اَکْبَارْ
کہا، نماز نہ ہوگی بلکہ اگر اُن کے معانی فاسدہ سمجھ کر قصداً کہے، تو کافر ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: پہلی رکعت کا رکوع مل گیا، تو تکبیر اولیٰ کی فضیلت پا گیا۔ (5) (عالمگیری)
قیام کمی کی جانب اس کی حد یہ ہے کہ ہاتھ پھیلائے تو گھٹنوں تک نہ پہنچیں اور پورا قیام یہ ہے کہ سیدھا کھڑا ہو۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۱۹.
2 ۔ یعنی اور اس کے علاوہ۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۶۸.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۱۸.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۶۹.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، بحث القيام، ج۲، ص۱۶۳.
مسئلہ ۱۴: قیام اتنی دیر تک ہے جتنی دیر قراء ت ہے، یعنی بقدرِ قراء ت فرض، قیام فرض اور بقدرِ واجب ،واجب اور بقدرِ سنت، سنت۔ (1) (درمختار) یہ حکم پہلی رکعت کے سوا اور رکعتوں کا ہے، رکعت اُولیٰ میں قیام فرض میں مقدار تکبیر تحریمہ بھی شامل ہوگی اور قیام مسنون میں مقدار ثنا و تعوذ و تسمیہ بھی۔ (رضا)
مسئلہ ۱۵: قیام و قراء ت کا واجب و سنت ہونا بایں معنی ہے کہ اس کے ترک پر ترک واجب و سنت کا حکم دیا جائے گا ورنہ بجا لانے میں جتنی دیر تک قیام کیا اور جو کچھ قراء ت کی سب فرض ہی ہے، فرض کا ثواب ملے گا۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: فرض و وتر و عیدین و سنت فجر میں قیام فرض ہے کہ بلا عذر صحیح بیٹھ کر یہ نمازیں پڑھے گا، نہ ہوں گی۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: ایک پاؤں پر کھڑا ہونا یعنی دوسرے کو زمین سے اٹھالینا مکروہ تحریمی ہے۔ اور اگر عذر کی وجہ سے ایسا کیا تو حرج نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: اگر قیام پر قادر ہے مگر سجدہ نہیں کر سکتا تو اسے بہتر یہ ہے کہ بیٹھ کر اشارے سے پڑھے اور کھڑے ہو کر بھی پڑھ سکتا ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: جو شخص سجدہ کر تو سکتا ہے مگر سجدہ کرنے سے زخم بہتا ہے، جب بھی اسے بیٹھ کر اشارے سے پڑھنا مستحب ہے اورکھڑے ہو کر اشارے سے پڑھنا بھی جائز ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: جس شخص کو کھڑے ہونے سے قطرہ آتا ہے یا زخم بہتا ہے اور بیٹھنے سے نہیں تو اسے فرض ہے کہ بیٹھ کر پڑھے، اگر اور طور پر اس کی روک نہ کر سکے۔ یوہیں کھڑے ہونے سے چوتھائی ستر کُھل جائے گا یا قراءت بالکل نہ کر سکے گا تو بیٹھ کر پڑھے اور اگر کھڑے ہو کر کچھ بھی پڑھ سکتا ہے تو فرض ہے کہ جتنی پر قادر ہو کھڑے ہو کر پڑھے، باقی بيٹھ کر۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: اگر اتنا کمزور ہے کہ مسجد میں جماعت کے ليے جانے کے بعد کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکے گا اور گھر میں پڑھے تو
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ۱۶۳.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، بحث القيام، ج۲، ص۱۶۳.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، بحث القيام، ج۲، ص۱۶۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۶۹.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۶۴.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۲، ص۱۶۴.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ و مبحث في الرکن الاصلي... إلخ، ج۲، ص۱۶۴.
کھڑا ہو کر پڑھ سکتا ہے تو گھر میں پڑھے، جماعت میسر ہو تو جماعت سے، ورنہ تنہا۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: کھڑے ہونے سے محض کچھ تکلیف ہونا عذر نہیں، بلکہ قیام اس وقت ساقط ہوگا کہ کھڑا نہ ہو سکے یا سجدہ نہ کر سکے یا کھڑے ہونے یا سجدہ کرنے میں زخم بہتا ہے یا کھڑے ہونے میں قطرہ آتا ہے یا چوتھائی ستر کھلتا ہے یا قراء ت سے مجبور محض ہو جاتا ہے۔ یوہیں کھڑا ہو تو سکتا ہے مگر اس سے مرض میں زیادتی ہوتی ہے یا دیر میں اچھا ہوگا یا ناقابلِ برداشت تکلیف ہوگی، تو بیٹھ کر پڑھے۔ (2) (غنیہ)
مسئلہ ۲۳: اگر عصا یا خادم یا دیوار پر ٹیک لگا کر کھڑا ہو سکتا ہے، تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر پڑھے۔ (3) (غنیہ)
مسئلہ ۲۴: اگر کچھ دیر بھی کھڑا ہو سکتا ہے، اگرچہ اتنا ہی کہ کھڑا ہو کر اﷲ اکبر کہہ لے، تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر اتنا کہہ لے پھر بیٹھ جائے۔ (4) (غنیہ)
تنبیہ ضروری: آج کل عموماً یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ جہاں ذرا بخار آیا یا خفیف سی تکلیف ہوئی بیٹھ کر نماز شروع کر دی، حالانکہ وہی لوگ اسی حالت میں دس دس پندرہ پندرہ منٹ بلکہ زیادہ کھڑے ہو کر اِدھر اُدھر کی باتیں کر لیا کرتے ہیں، ان کو چاہیے کہ ان مسائل سے متنبہ ہوں اور جتنی نمازیں باوجود قدرت قیام بیٹھ کر پڑھی ہوں ان کا اعادہ فرض ہے۔ يوہيں اگر ویسے کھڑا نہ ہو سکتا تھا مگر عصا یا دیوار یا آدمی کے سہارے کھڑا ہونا ممکن تھا تو وہ نمازیں بھی نہ ہوئیں، ان کا پھیرنا فرض۔ اﷲ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔
مسئلہ ۲۵: کشتی پر سوار ہے اور وہ چل رہی ہے، تو بیٹھ کر اس پر نماز پڑھ سکتا ہے۔ (5) (غنیہ) یعنی جب کہ چکر آنے کا گمان غالب ہو اور کنارے پر اُتر نہ سکتا ہو۔
قراء ت اس کا نام ہے کہ تمام حروف مخارج سے ادا کيے جائیں ،کہ ہر حرف غیر سے صحیح طور پر ممتاز ہو جائے اور آہستہ پڑھنے میں بھی اتنا ہونا ضرور ہے کہ خود سنے، اگر حروف کی تصحیح تو کی مگر اس قدر آہستہ کہ خود نہ سنا اور کوئی مانع مثلاً شور و غل یا
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ و مبحث في الرکن الاصلي... إلخ، ج۲، ص۱۶۵.
2 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فرائض الصلاۃ، الثاني، ص۲۶۱ ۔ ۲۶۷.
3 ۔ المرجع السابق، ص۲۶۱.
4 ۔ المرجع السابق، ص۲۶۲.
5 ۔ المرجع السابق، ص۲۷۴.
ثقل سماعت (1) بھی نہیں، تو نماز نہ ہوئی(2) ۔ (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: یوہیں جس جگہ کچھ پڑھنا یا کہنا مقرر کیا گیا ہے، اس سے یہی مقصد ہے کہ کم سے کم اتنا ہو کہ خود سن سکے، مثلاً طلاق دینے، آزاد کرنے، جانور ذبح کرنے میں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: مطلقاً ایک آیت پڑھنا فرض کی دو رکعتوں میں اور وتر و نوافل کی ہر رکعت میں امام و منفردپر فرض ہے۔ اور مقتدی کو کسی نماز میں قراء ت جائز نہیں، نہ فاتحہ، نہ آیت، نہ آہستہ کی نماز میں، نہ جہر کی میں۔ امام کی قراء ت مقتدی کے ليے بھی کافی ہے۔ (4) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۲۸: فرض کی کسی رکعت میں قراء ت نہ کی يا فقط ایک میں کی، نماز فاسد ہوگئی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: چھوٹی آیت جس میں دو یا دو سے زائد کلمات ہوں پڑھ لینے سے فرض ادا ہو جائے گا اور اگر ایک ہی حرف کی آیت ہو جیسے
صۤ، نۤ، قۤ،
کہ بعض قراء توں میں ان کو آیت مانا ہے، تو اس کے پڑھنے سے فرض ادا نہ ہوگا، اگرچہ اس کی تکرار کرے(6)۔ (عالمگیری، ردالمحتار) رہی ایک کلمہ کی آیت
مُدْہَآمَّتَانِ ﴿ۚ۶۴﴾
اس میں اختلاف ہے اور بچنے میں احتیاط۔ (7)
مسئلہ ۳۰: سورتوں کے شروع میں
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
ایک پوری آیت ہے، مگر صرف اس کے پڑھنے سے فرض ادا نہ ہوگا۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: قراء ت شاذہ سے فرض ادا نہ ہوگا، یوہیں بجائے قراء ت آیت کی ہجے کی، نماز نہ ہوگی۔ (9) (درمختار)
1 ۔ یعنی اونچا سننے کا مرض۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۶۹.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، وارکانھا، ص۵۱.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۶۹.
6 ۔ المرجع السابق، و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، مطلب: تحقيق مھم فيما لوتذکر في رکوعہ انہ
لم يقراء... إلخ، ج۲، ص۳۱۳.
7 ۔ امام اسبيجابی نے شرح جامع صغير و شرح مختصر امام طحاوی اور امام علاء الدين نے تحفۃ الفقہاء اور امام ملک العلما نے بدائع ميں اس سے جواز
پر جزم فرمايا اور خلاف کا اصلا نام نہ ليا اور يہی اظہر من حيث الدليل ہے اور ظہيريہ و سراج وہاج و فتح القدير و شرح المجمع لابن ملک و
درمختار ميں عدم جواز کو اصح کہا محقق صاحب فتح و ديگر شراح ہدايہ نے جو اسکی دليل ذکر کی محقق صاحب نے اس پر اعتراض کيا بہرحال احتياط
اولیٰ ہے خصوصاً جبکہ مرجحين نے اسے تصريحاً اصح بتايا۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔ ۱۲
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۳۶.
9 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۲۶.
اتنا جھکنا کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنے کو پہنچ جائیں، یہ رکوع کا ادنیٰ درجہ ہے۔ (1) (درمختار وغيرہ) اور پورا یہ کہ پیٹھ سيدھی بچھاوے۔
مسئلہ ۳۲: کُوزہ پشت (2) کہ اس کا کُب حد رکوع کو پہنچ گیا ہو، رکوع کے ليے سر سے اشارہ کرے۔ (3) (عالمگیری)
حدیث میں ہے: ''سب سے زیادہ قرب بندہ کو خدا سے اس حالت میں ہے کہ سجدہ میں ہو، لہٰذا دُعا زیادہ کرو۔'' (4) اس حدیث کو مُسلِم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ پیشانی کا زمین پر جمنا سجدہ کی حقیقت ہے اور پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ لگنا شرط۔ (5) تو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے، نماز نہ ہوئی بلکہ اگر صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی، جب بھی نہ ہوئی اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں۔ (6) (درمختار، فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۳۳: اگر کسی عذر کے سبب پیشانی زمین پر نہیں لگا سکتا، تو صرف ناک سے سجدہ کرے پھر بھی فقط ناک کی نوک لگنا کافی نہیں، بلکہ ناک کی ہڈی زمین پر لگنا ضرور ہے۔ (7) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: رخسارہ یا ٹھوڑی زمین پر لگانے سے سجدہ نہ ہوگا خواہ عذر کے سبب ہو یا بلاعذر، اگر عذر ہو تو اشارہ کا حکم ہے۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: ہر رکعت میں دو بار سجدہ فرض ہے۔
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۱۶۵.
2 ۔ کبڑا۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۷۰.
4 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب ما يقال في الرکوع والسجود، الحديث: ۴۸۲، ص۲۵۰.
5 ۔ مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا عليہ رحمۃ الرحمن ''فتاویٰ رضويہ '' ميں فرماتے ہيں: ''حالتِ سجدہ ميں قدم کی دس انگليوں ميں سے ايک
کے باطن پر اعتماد مذہب معتمد اور مفتیٰ بہ ميں فرض ہے اور دونوں پاؤں کی تمام يا اکثر انگليوں پر اعتماد بعيد نہيں کہ واجب ہو، اس بنا پر جو
''حليہ'' ميں ہے اور قبلہ کی طرف متوجہ کرنا بغير کسی انحراف کے سنت ہے۔''(ت)
(''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۷، ص۳۷۶. )
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۱۶۷،۲۴۹۔۲۵۱.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۷، ص۳۶۳۔۳۷۶.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۷۰.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۷۰.
مسئلہ ۳۶: کسی نرم چیز مثلاً گھاس، روئی، قالین وغیرہا پر سجدہ کیا تو اگر پیشانی جم گئی یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ (1) (عالمگیری) بعض جگہ جاڑوں میں مسجد میں پیال (2) بچھاتے ہیں، ان لوگوں کو سجدہ کرنے میں اس کا لحاظ بہت ضروری ہے کہ اگر پیشانی خوب نہ دبی، تو نماز ہی نہ ہوئی اور ناک ہڈی تک نہ دبی تو مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی، کمانی دار (3) گدّے پر سجدہ میں پیشانی خوب نہیں دبتی لہٰذا نماز نہ ہوگی، ریل کے بعض درجوں میں بعض گاڑیوں میں اسی قسم کے گدّے ہوتے ہیں اس گدّے سے اتر کر نماز پڑھنی چاہیے۔
مسئلہ ۳۷: دو پہیا گاڑی یکّہ وغیرہ پر سجدہ کیا تو اگر اس کا جُوا (4) یا بَم (5) بیل اور گھوڑے پر ہے، سجدہ نہ ہوا اور زمین پر رکھا ہے، تو ہوگیا۔ (6) (عالمگیری) بہلی کا کھٹولا (7) اگر بانوں سے بنا ہوا ہو تو اتنا سخت بنا ہو کہ سر ٹھہر جائے دبانے سے اب نہ دبے، ورنہ نہ ہوگی۔
مسئلہ ۳۸: جوار، باجرہ وغیرہ چھوٹے دانوں پر جن پر پیشانی نہ جمے، سجدہ نہ ہوگا البتہ اگر بوری وغیرہ میں خوب کس کر بھر دئیے گئے کہ پیشانی جمنے سے مانع نہ ہوں، تو ہو جائے گا۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: اگر کسی عذر مثلاً اژدہام (9) کی وجہ سے اپنی ران پر سجدہ کیا جائز ہے۔ اور بلاعذر باطل اور گھٹنے پر عذر و بلاعذر کسی حالت میں نہیں ہوسکتا۔ (10) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: اژدہام کی وجہ سے دوسرے کی پیٹھ پر سجدہ کیا اور وہ اس نماز میں اس کا شریک ہے، تو جائز ہے ورنہ ناجائز، خواہ وہ نماز ہی میں نہ ہو یا نماز میں تو ہے مگر اس کا شریک نہ ہو، یعنی دونوں اپنی اپنی پڑھتے ہوں۔ (11) (عالمگیری وغیرہ)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۷۰.
2 ۔ یعنی چاول کا بھس۔
3 ۔ یعنی اسپرنگ والے۔
4 ۔ یعنی وہ لکڑی جو گاڑی يا ہَل کے بيلوں کے کندھے پر رکھی جاتی ہے۔
5 ۔ یعنی گھوڑا گاڑی کا بانس جس ميں گھوڑا جوتا جاتا ہے۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۷۰.
7 ۔ یعنی بيلوں کی چھوٹی گاڑی کی چھوٹی سی چارپائی۔
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۷۰.
9 ۔ یعنی بھيڑ۔ مجمع۔
10 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۷۰.
11 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۷۰، وغیرہ .
مسئلہ ۴۱: ہتھیلی یا آستین یا عمامہ کے پیچ یا کسی اور کپڑے پر جسے پہنے ہوئے ہے سجدہ کیا اورنیچے کی جگہ ناپاک ہے تو سجدہ نہ ہوا، ہاں ان سب صورتوں میں جب کہ پھر پاک جگہ پر سجدہ کر لیا، تو ہوگیا۔ (1) (منیہ، درمختار)
مسئلہ ۴۲: عمامہ کے پیچ پر سجدہ کیا اگر ماتھا خوب جم گیا، سجدہ ہوگیا اور ماتھا نہ جما بلکہ فقط چھو گیا کہ دبانے سے دبے گا یا سر کا کوئی حصہ لگا، تو نہ ہوا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: ایسی جگہ سجدہ کیا کہ قدم کی بہ نسبت بارہ اونگل سے زیادہ اونچی ہے، سجدہ نہ ہوا، ورنہ ہوگیا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴۴: کسی چھوٹے پتھر پر سجدہ کیا، اگر زیادہ حصہ پیشانی کا لگ گیا ہوگیا، ورنہ نہیں۔ (4) (عالمگیری)
نماز کی رکعتیں پوری کرنے کے بعد اتنی دیر تک بیٹھنا کہ پوری التحیات یعنی رسولہ تک پڑھ لی جائے، فرض ہے۔ (5)
مسئلہ ۴۵: چار رکعت پڑھنے کے بعد بیٹھا پھر یہ گمان کر کے کہ تین ہی ہوئیں کھڑا ہوگیا، پھر یاد کر کے کہ چار ہو چکیں بیٹھ گيا پھر سلام پھیر دیا، اگر دونوں بار کا بیٹھنا مجموعتہً بقدر تشہد ہوگیا فرض ادا ہوگیا، ورنہ نہیں۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۴۶: پورا قعدۂ اخیرہ سوتے میں گزر گیا بعد بیداری بقدر تشہد بیٹھنا فرض ہے، ورنہ نماز نہ ہوگی، یوہیں قیام، قراء ت، رکوع، سجود میں اوّل سے آخر تک سوتا ہی رہا، تو بعد بیداری ان کا اعادہ فرض ہے، ورنہ نماز نہ ہوگی اور سجدۂ سہو بھی کرے، لوگ اس میں غافل ہیں خصوصاً تراویح میں، خصوصاً گرمیوں میں۔ (7) (منیہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۷: پوری رکعت سوتے میں پڑھ لی، تو نماز فاسد ہوگئی۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۴۸: چار رکعت والے فرض میں چوتھی رکعت کے بعد قعدہ نہ کیا، تو جب تک پانچویں کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے
1 ۔ ''منیۃ المصلي''، مسائل الفريضۃ الخامسۃ ای السجود، ص۲۶۳.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۵۳.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۵۲.
3 ۔ المرجع السابق، ص۲۵۷.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۷۰.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲ ص۱۷۰.
7 ۔ ''منیۃ المصلي''، الفريضۃ السادسۃ و تحقيق التراويح، ص۲۶۷.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، بحث شروط التحريمۃ، ج۲، ص۱۸۰.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۱۸۱.
ـــ
1 ۔ ''غنیۃ المتملي''، السادس القعدۃ الاخيرۃ، ص۲۹۰.
2 ۔ ''منیۃ المصلي''، الفريضۃ السادسۃ وھی القعدۃ الاخيرۃ، ص۲۶۷.
3 ۔ یعنی لوٹانا۔ دہرانا۔
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: کل شفع من النفل صلاۃ، ج۲، ص۱۹۳.
5 ۔
اور پانچویں کا سجدہ کر لیا یا فجر میں دوسری پر نہیں بیٹھا اور تیسری کا سجدہ کر لیا یا مغرب میں تیسری پر نہ بیٹھا اور چوتھی کا سجدہ کرلیا، تو ان سب صورتوں میں فرض باطل ہوگئے۔ مغرب کے سوا اور نمازوں میں ایک رکعت اور ملا لے۔ (1) (غنیہ)
مسئلہ ۴۹: بقدر تشہد بیٹھنے کے بعد یاد آیا کہ سجدۂ تلاوت یا نماز کا کوئی سجدہ کرنا ہے اور کر لیا تو فرض ہے کہ سجدہ کے بعد پھر بقدر تشہد بیٹھے، وہ پہلا قعدہ جاتا رہا قعدہ نہ کریگا، تو نماز نہ ہوگی۔ (2) (منیہ)
مسئلہ ۵۰: سجدۂ سہو کرنے سے پہلا قعدہ باطل نہ ہوا، مگر تشہد واجب ہے یعنی اگر سجدۂ سہو کر کے سلام پھیر دیا تو فرض ادا ہوگیا، مگر گناہ گار ہوا۔ اعادہ (3) واجب ہے۔ (4) (ردالمحتار)
یعنی قعدۂ اخیرہ کے بعد سلام و کلام وغیرہ کوئی ایسا فعل جو منافی نماز ہو بقصد کرنا، مگر سلام کے علاوہ کوئی دوسرا منافی قصداً پایا گیا، تو نماز واجب الاعادہ ہوئی اور بلاقصد کوئی منافی پایا گیا تو نماز باطل۔ مثلاً بقدر تشہد بيٹھنے کے بعد تیمم والا پانی پر قادر ہوا، یا موزہ پر مسح کيے ہوئے تھا اور مدت پوری ہوگئی يا عمل قلیل کے ساتھ موزہ اتار دیا، یا بالکل بے پڑھا تھا اور کوئی آیت بے کسی کے پڑھائے محض سننے سے یاد ہوگئی يا ننگا تھا اب پاک کپڑا بقدر ستر کسی نے لا کر دے دیا جس سے نماز ہو سکے یعنی بقدر مانع اس میں نجاست نہ ہو، یا ہو تو اس کے پاس کوئی چیز ایسی ہے جس سے پاک کر سکے يا یہ بھی نہیں، مگر اس کپڑے کی چوتھائی یا زیادہ پاک ہے يا اشارہ سے پڑھ رہا ہے اب رکوع و سجود پر قادر ہوگیا يا صاحب ترتیب کو یاد آیا کہ اس سے پہلے کی نماز نہیں پڑھی ہے اگر وہ صاحب ترتیب امام ہے تو مقتدی کی بھی گئی يا امام کو حدث ہوا اور امّی کو خلیفہ کیا اور تشہد کے بعد خلیفہ کیا تو نماز ہوگئی يا نماز فجر میں آفتاب طلوع کر آیا يا نماز جمعہ میں عصر کا وقت آگیا يا عیدین میں نصف النہار شرعی ہوگیا يا پٹی پر مسح کيے ہوئے تھا اور زخم اچھا ہو کر وہ گر گئی يا صاحب عذر تھا اب عذر جاتا رہا یعنی اس وقت سے وہ حدث موقوف ہوا یہاں تک کہ اس کے بعد کا دوسرا وقت پورا خالی رہا يا نجس کپڑے میں نماز پڑھ رہا تھا اور اسے کوئی چیز مل گئی جس سے طہارت ہو سکتی ہے يا قضا پڑھ رہا تھا اور وقت مکروہ آگیا يا باندی سر کھولے نماز پڑھ رہی تھی اور آزاد ہو گئی اور فوراً سر نہ ڈھانکا، ان سب صورتوں میں نماز باطل ہوگئی۔ (5) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۵۱: مقتدی اُمّی تھا اور امام قاری اور نماز میں اسے کوئی آیت یاد ہوگئی، تو نماز باطل نہ ہوگی۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵۲: قیام و رکوع و سجود و قعدۂ اخیرہ میں ترتیب فرض ہے، اگر قیام سے پہلے رکوع کر لیا پھر قیام کیا تو وہ رکوع جاتا رہا، اگر بعد قیام پھر رکوع کریگا نماز ہو جائیگی ورنہ نہیں۔ یوہیں رکوع سے پہلے، سجدہ کرنے کے بعد اگر رکوع پھر سجدہ کرلیا ہو جائے گی، ورنہ نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۳: جو چیزیں فرض ہیں ان میں امام کی متابعت مقتدی پر فرض ہے یعنی ان میں کا کوئی فعل امام سے پیشتر ادا کر چکا اور امام کے ساتھ یا امام کے ادا کرنے کے بعد ادا نہ کیا، تو نماز نہ ہوگی مثلاً امام سے پہلے رکوع یا سجدہ کر لیا اور امام رکوع یا سجدہ میں ابھی آیا بھی نہ تھا کہ اس نے سر اٹھا لیا تو اگر امام کے ساتھ یا بعدکو ادا کر لیا ہوگئی، ورنہ نہیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۴: مقتدی کے ليے یہ بھی فرض ہے ، کہ امام کی نماز کو اپنے خیال میں صحیح تصور کرتا ہو اور اگر اپنے نزدیک امام کی نماز باطل سمجھتا ہے، تو اس کی نہ ہوئی۔ اگرچہ امام کی نماز صحیح ہو۔ (4) (درمختار)
(۱) تکبیر تحریمہ میں لفظ اﷲ اکبر ہونا۔
(۲ تا ۸) الحمد پڑھنا یعنی اسکی ساتوں آیتیں کہ ہر ایک آیت مستقل واجب ہے، ان میں ایک آیت بلکہ ایک لفظ کا ترک بھی ترک واجب ہے۔
(۹) سورت ملانا یعنی ایک چھوٹی سورت جيسے
اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿۱﴾
یا تین چھوٹی آیتیں جیسے
ثُمَّ نَظَرَ ﴿ۙ۲۱﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَ ﴿ۙ۲۲﴾ ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَکْبَرَ ﴿ۙ۲۳﴾
یا ایک یا دو آیتیں تین چھوٹی کے برابر پڑھنا۔
(۱۰ و ۱۱) نماز فرض میں دو پہلی رکعتوں میں قراء ت واجب ہے۔
(۱۲ و ۱۳) الحمد اور اس کے ساتھ سورت ملانا فرض کی دو پہلی رکعتوں میں اور نفل و وتر کی ہر رکعت میں واجب ہے۔
(۱۴) الحمد کا سورت سے پہلے ہونا۔
(۱۵) ہر رکعت میں سورت سے پہلے ایک ہی بار الحمد پڑھنا۔
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، المسائل الاثنا عشریۃ، ج۲، ص۴۳۵.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، بحث الخروج بصنعہ، ج۲، ص۱۷۲.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، بحث الخروج بصنعہ، ج۲، ص۱۷۳.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۱۷۳.
(۱۶) الحمد و سورت کے درمیان کسی اجنبی کا فاصل نہ ہونا ، آمین تابع الحمد ہے اور بسم اﷲ تابع سورت یہ اجنبی نہیں۔
(۱۷) قراء ت کے بعد متصلاً رکوع کرنا۔
(۱۸) ایک سجدہ کے بعد دوسرا سجدہ ہونا کہ دونوں کے درمیان کوئی رکن فاصل نہ ہو۔
(۱۹) تعدیل ارکان یعنی رکوع و سجود و قومہ و جلسہ میں کم از کم ایک بار سبحان اﷲ کہنے کی قدر ٹھہرنا یوہیں
(۲۰) قومہ یعنی رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا۔
(۲۱) جلسہ یعنی دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا۔
(۲۲) قعدۂ اولیٰ اگرچہ نماز نفل ہو اور
(۲۳) فرض و وتر و سنن رواتب (1) میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد پر کچھ نہ بڑھانا۔
(۲۴ و ۲۵) دونوں قعدوں میں پورا تشہد پڑھنا، یوہیں جتنے قعدے کرنے پڑیں سب میں پورا تشہد واجب ہے ایک لفظ بھی اگر چھوڑے گا، ترک واجب ہوگا اور
(۲۶ و ۲۷) لفظ
اَلسَّلَامُ
دو بار اور لفظ
عَلَیْکُمْ
واجب نہیں اور
(۲۸) وتر میں دعائے قنوت پڑھنا اور
(۲۹) تکبیر قنوت اور
(۳۰ تا ۳۵) عیدین کی چھوؤں تکبیریں اور
(۳۶) عیدین میں دوسری رکعت کی تکبیر رکوع اور
(۳۷) اس تکبیر کے ليے لفظ اﷲ اکبر ہونا اور
(۳۸) ہر جہری نماز میں امام کو جہر (2) سے قراء ت کرنا اور
(۳۹) غیر جہری (3) میں آہستہ۔
(۴۰) ہر واجب و فرض کا اس کی جگہ پر ہونا۔
1 ۔ سنن رواتب یعنی سنتِ مؤکدہ۔
2 ۔ یعنی بلند آواز۔
3 ۔ مثلاً ظہر و عصر۔
(۴۱) رکوع کا ہر رکعت میں ایک ہی بار ہونا۔
(۴۲) اور سجود کا دو ہی بار ہونا۔
(۴۳) دوسری سے پہلے قعدہ نہ کرنا اور
(۴۴) چار رکعت والی میں تیسری پر قعدہ نہ ہونا۔
(۴۵) آیت سجدہ پڑھی ہو تو سجدۂ تلاوت کرنا۔
(۴۶) سہو ہوا ہو تو سجدۂ سہو کرنا۔
(۴۷) دو فرض یا دو واجب یا واجب فرض کے درمیان تین تسبیح کی قدر (1) وقفہ نہ ہونا۔
(۴۸) امام جب قراء ت کرے بلند آواز سے ہو خواہ آہستہ، اس وقت مقتدی کا چپ رہنا۔
(۴۹) سِوا قراء ت کے تمام واجبات میں امام کی متابعت کرنا۔ (2)
مسئلہ ۵۵: کسی قعدہ میں تشہد کا کوئی حصہ بھول جائے تو سجدۂ سہو واجب ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۵۶: آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ میں سہواً تین آیت یا زیادہ کی تاخیر ہوئی تو سجدۂ سہو کرے۔ (4) (غنیہ)
مسئلہ ۵۷: سورت پہلے پڑھی اس کے بعد الحمد یا الحمد و سورت کے درمیان دیر تک یعنی تین بار سبحان اﷲ کہنے کی قدر چپکا رہا، سجدۂ سہو واجب ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۵۸: الحمد کا ایک لفظ بھی رہ گیا تو سجدۂ سہو کرے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۵۹: جو چیزیں فرض و واجب ہیں مقتدی پر واجب ہے کہ امام کے ساتھ انھيں ادا کرے، بشرطیکہ کسی واجب کا تعارض نہ پڑے اور تعارض ہو تو اسے فوت نہ کرے بلکہ اس کو ادا کرکے متابعت کرے، مثلاً امام تشہد پڑھ کر کھڑا ہوگیا اور مقتدی نے ابھی پورا نہیں پڑھا تو مقتدی کوواجب ہے کہ پورا کر کے کھڑا ہو اور سنت میں متابعت سنت ہے، بشرطیکہ تعارض نہ ہو اور تعارض ہو تو اس کو ترک کرے اور امام کی متابعت کرے، مثلاً رکوع یا سجدہ میں اس نے تین بار تسبیح نہ کہی تھی کہ
1 ۔ یعنی تين بار ''سبحان اللہ'' کہنے کی مقدار۔
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: واجبات صلاۃ، ج۲، ص۱۸۴۔۲۰۳، وغيرہما .
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۱۹۶.
4 ۔ ''غنیۃ المتملي''، واجبات الصلاۃ، ص۲۹۶.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۱۸۷.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: کل صلاۃ أدیت... إلخ، ج۲، ص۱۸۴.
امام نے سر اُوٹھا لیا تو یہ بھی اُٹھالے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۰: ایک سجدہ کسی رکعت کا بھول گیا تو جب یاد آئے کرلے، اگرچہ سلام کے بعد بشرطیکہ کوئی فعل منافی نہ صادرہوا ہو اور سجدۂ سہو کرے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۶۱: ایک رکعت میں تین سجدے کيے یا دو رکوع یا قعدۂ اولیٰ بھول گیا تو سجدۂ سہو کرے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۶۲: الفاظ تشہد (4) سے ان کے معانی کا قصد اور انشاء ضروری ہے، گویا اﷲ عزوجل کے ليے تحیت کرتا ہے اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اپنے اوپر اور اولیاء اﷲ پر سلام بھیجتا ہے نہ یہ کہ واقعۂ معراج کی حکایت مدنظر ہو۔ (5) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۶۳: فرض و وتر و سنن رواتب کے قعدۂ اولیٰ میں اگر تشہد کے بعد اتنا کہہ لیا
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ،
يا
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنَا
تو اگر سہواً ہو سجدۂ سہو کرے، عمداً ہو تو اعادہ واجب ہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۴: مقتدی قعدۂ اولیٰ میں امام سے پہلے تشہد پڑھ چکا تو سکوت کرے، دُرود و دُعا کچھ نہ پڑھے اور مسبوق کو چاہیے کہ قعدۂ اخیرہ میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھے کہ امام کے سلام کے وقت فارغ ہو اور سلام سے پیشتر فارغ ہوگیا تو کلمۂ شہادت کی تکرار کرے۔ (7) (درمختار)
(۱) تحریمہ کے ليے ہاتھ اٹھانا اور
(۲) ہاتھوں کی انگلیاں اپنے حال پر چھوڑنا ۔یعنی نہ بالکل ملائے نہ بہ تکلف کشادہ رکھے بلکہ اپنے حال پر چھوڑ دے ۔
(۳) ہتھیلیوں اور انگلیوں کے پیٹ کا قبلہ رُو ہونا
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: مھم في تحقيق متابعۃ الامام، ج۲، ص۲۰۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۱۹۲.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۰۱.
4 ۔ جب کلمات تشہد انشائے تحت و سلام ہوئے، نہ محض حکایتِ واقعۂ شبِ معراج تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم کو ندا کرنا جسے وہابيہ بدعت
و شرک کہتے ہيں ایسا جائز ثابت ہوا کہ نماز ميں واجب ہے۔ ۱۲ منہ
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۶۹.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۷۲.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۶۹.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۷۰.
(۴) بوقتِ تکبیر سر نہ جھکانا
(۵) تکبیر سے پہلے ہاتھ اٹھانا یوہیں
(۶) تکبیر قنوت و
(۷) تکبیرات عیدین میں کانوں تک ہاتھ لے جانے کے بعد تکبیر کہے اور ان کے علاوہ کسی جگہ نماز میں ہاتھ اٹھانا سنت نہیں۔ (1)
مسئلہ ۶۵: اگر تکبیر کہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا تو اب نہ اٹھائے اور اﷲ اکبر پورا کہنے سے پیشتر یاد آگیا تو اٹھائے اور اگر موضع مسنون تک ممکن نہ ہو، تو جہاں تک ہو سکے اٹھائے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۶: عورت کے ليے سنت یہ ہے کہ مونڈھوں تک ہاتھ اٹھائے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۷: کو ئی شخص ایک ہی ہاتھ اٹھا سکتا ہے تو ایک ہی اٹھائے اور اگر ہاتھ موضع مسنون سے زیادہ کرے جب ہی اٹھتا ہے تو اٹھائے۔ (4) (عالمگیری)
(۹) امام کا بلند آواز سے اﷲ اکبر اور
(۱۰) سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ
اور
(۱۱) سلام کہنا جس قدر بلند آواز کی حاجت ہو اور بلا حاجت بہت زیادہ بلند آواز کرنا مکروہ ہے۔ (5)
مسئلہ ۶۸: امام کو تکبیر تحریمہ اور تکبیرات انتقال سب میں جہر مسنون ہے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۹: اگر امام کی تکبیر کی آواز تمام مقتدیوں کو نہیں پہنچتی، تو بہتر ہے کہ کوئی مقتدی بھی بلند آواز سے تکبیر کہے کہ نماز شروع ہونے اور انتقالات کا حال سب کو معلوم ہو جائے اور بلا ضرورت مکروہ و بدعت ہے۔ (7) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في قولھم الإساء ۃ دون الکراھۃ، ج۲، ص۲۰۸.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۲.
و ''غنیۃ المتملي''، صفۃ الصلاۃ، ص۳۰۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۳.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۲۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۳.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في قولھم الإساء ۃ دون الکراھۃ، ج۲، ص۲۰۸.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في التبلیغ خلف الامام، ج۲، ص۲۰۹.
مسئلہ ۷۰: تکبیر تحریمہ سے اگر تحریمہ مقصود نہ ہو بلکہ محض اعلان مقصود ہو، تو نماز ہی نہ ہوگی۔ یوں ہونا چاہيے کہ نفس تکبیر سے تحریمہ مقصود ہو اور جہر سے اعلان، یوہیں آواز پہنچانے والے کو قصد کرنا چاہيے اگر اس نے فقط آواز پہنچانے کا قصد کیا تو نہ اس کی نماز ہو، نہ اس کی جو اس کی آواز پر تحریمہ باندھے اور علاوہ تکبیر تحریمہ کے اور تکبیرات یا
سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ
یا
رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ
میں اگر محض اعلان کاقصد ہو تو نماز فاسد نہ ہوگی، البتہ مکروہ ہوگی کہ ترک سنت ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۱: مکبّر کو چاہيے کہ اس جگہ سے تکبیر کہے جہاں سے لوگوں کو اس کی حاجت ہے، پہلی یا دوسری صف میں جہاں تک امام کی آواز بلا تکلف پہنچتی ہے ،یہاں سے تکبیر کہنے کا کیا فائدہ نیز یہ بہت ضروری ہے کہ امام کی آواز کے ساتھ تکبیر کہے امام کے کہہ لینے کے بعد تکبیر کہنے سے لوگوں کو دھوکا لگے گا، نيز یہ کہ اگر مکبّر نے تکبير ميں مد کيا تو امام کے تکبير کہہ لينے کے بعد اس کی تکبير ختم ہونے کا انتظار نہ کریں، بلکہ تشہد وغیرہ پڑھنا شروع کر دیں یہاں تک کہ اگر امام تکبیر کہنے کے بعد اس کے انتظار میں تین بار سبحان اﷲ کہنے کے برابر خاموش رہا، اس کے بعد تشہد شروع کیا ترک واجب ہوا، نماز واجب الاعادہ ہے۔
مسئلہ ۷۲: مقتدی و منفرد کو جہر کی حاجت نہیں، صرف اتنا ضروری ہے کہ خود سنيں۔ (2) (درمختار، بحر)
(۱۲) بعد تکبیر فوراً ہاتھ باندھ لینا یوں کہ مرد ناف کے نیچے دہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں کلائی کے جوڑ پر رکھے، چھنگلیا اور انگوٹھا کلائی کے اغل بغل رکھے اور باقی انگلیوں کو بائیں کلائی کی پشت پر بچھائے اور عورت و خنثیٰ بائیں ہتھیلی سینہ پر چھاتی کے نیچے رکھ کر اس کی پشت پر دہنی ہتھیلی رکھے۔ (3) (غنیہ وغیرہا) بعض لوگ تکبیر کے بعد ہاتھ سیدھے لٹکا لیتے ہیں پھر باندھتے ہیں یہ نہ چاہيے بلکہ ناف کے نیچے لا کر باندھ لے۔
مسئلہ ۷۳: بیٹھے یا لیٹے نماز پڑھے، جب بھی یوہیں ہاتھ باندھے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۴: جس قیام میں ذکر مسنون ہو اس میں ہاتھ باندھنا سنت ہے تو ثنا اور دُعائے قنوت پڑھتے وقت اور جنازہ میں تکبیر تحریمہ کے بعد چوتھی تکبیر تک ہاتھ باندھے اور رکوع سے کھڑے ہونے اور تکبیرات عیدین میں ہاتھ نہ باندھے۔ (5) (ردالمحتار)
(۱۳) ثنا و
(۱۴) تعوذ و
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في التبلیغ خلف الامام، ج۲، ص۲۰۹.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۰۹.
3 ۔ ''غنیۃ المتملي''، صفۃ الصلاۃ، ص۳۰۰، وغیرہا .
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ،فصل، مطلب في بيان المتواتر بالشاذ، ج۲، ص۲۲۹.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل، مطلب في بيان المتواتر بالشاذ، ج۲، ص۲۳۰.
(۱۵) تسمیہ و
(۱۶) آمین کہنا اور
(۱۷) ان سب کا آہستہ ہونا
(۱۸) پہلے ثنا پڑھے
(۱۹) پھر تعوذ (1)
(۲۰) پھر تسمیہ (2)
(۲۱) اور ہر ایک کے بعد دوسرے کو فوراً پڑھے، وقفہ نہ کرے، (۲۲) تحریمہ کے بعد فوراً ثنا پڑھے اور ثنا میں
وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ
غیر جنازہ میں نہ پڑھے اور دیگر اذکار جو احادیث میں وارد ہیں، وہ سب نفل کے ليے ہیں۔
مسئلہ ۷۵: امام نے بالجہر قراء ت شروع کر دی تو مقتدی ثنا نہ پڑھے اگرچہ بوجہ دُور ہونے یا بہرے ہونے کے امام کی آواز نہ سنتا ہو جیسے جمعہ و عیدین میں پچھلی صف کے مقتدی کہ بوجہ دُور ہونے کے قراء ت نہیں سنتے۔ (3) (عالمگیری، غنیہ) امام آہستہ پڑھتا ہو تو پڑھ لے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۶: امام کو رکوع یا پہلے سجدہ میں پایا، تو اگر غالب گمان ہے کہ ثنا پڑھ کر پالے گا تو پڑھے اور قعدہ یا دوسرے سجدہ میں پایا تو بہتریہ ہے کہ بغیر ثنا پڑھے شامل ہو جائے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۷: نماز میں اعوذ و بسم اﷲ قراء ت کے تابع ہیں اور مقتدی پر قراء ت نہیں، لہٰذا تعوذ و تسمیہ بھی ان کے ليے مسنون نہیں، ہاں جس مقتدی کی کوئی رکعت جاتی رہی ہو تو جب وہ اپنی باقی رکعت پڑھے، اس وقت ان دونوں کو پڑھے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۷۸: تعوذ صرف پہلی رکعت میں ہے اور تسمیہ ہر رکعت کے اوّل میں مسنون ہے فاتحہ کے بعد اگر اوّل
1 ۔ یعنی اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيم.
2 ۔ یعنی بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل السابع ج۱، ص۹۰.
و ''غنیۃ المتملي''، صفۃ الصلاۃ، ص۳۰۴.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في بيان المتواتر بالشاذ، ج۲، ص۲۳۲.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في بيان المتواتر بالشاذ، ج۲، ص۲۳۲.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في بيان المتواتر بالشاذ، ج۲، ص۲۳۴.
سورت شروع کی تو سورت پڑھتے وقت بسم اﷲ پڑھنا مستحسن ہے، قراء ت خواہ سری ہو یا جہری، مگر بسم اﷲ بہرحال آہستہ پڑھی جائے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۹: اگر ثنا و تعوذ و تسمیہ پڑھنا بھول گیا اور قراء ت شروع کر دی تو اعادہ نہ کرے کہ ان کا محل ہی فوت ہوگیا، یوہیں اگر ثنا پڑھنا بھول گیا اور تعوذ شروع کر دیا تو ثنا کا اعادہ نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸۰: مسبوق شروع میں ثنا نہ پڑھ سکا تو جب اپنی باقی رکعت پڑھنا شروع کرے، اس وقت پڑھ لے۔ (3) (غنیہ)
مسئلہ ۸۱: فرائض میں نیت کے بعدتکبیر سے پہلے یا بعد
اِنِّیْ وَجَّھْتُ۔۔۔ الخ
نہ پڑھے اور پڑھے تو اس کے آخر میں
وَاَنَا اَوَّلُ الْمَسْلِمِیْن
کی جگہ
وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْن
کہے۔ (4) (غنیہ وغیرہا)
مسئلہ ۸۲: (۲۳) عیدین میں تکبیر تحریمہ ہی کے بعد ثنا کہہ لے اور ثنا پڑھتے وقت ہاتھ باندھ لے اور اعوذباﷲ چوتھی تکبیر کے بعد کہے۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۸۳: آمین کو تین طرح پڑھ سکتے ہیں، مد کہ الف کو کھینچ کر پڑھیں اور قصر کہ الف کو دراز نہ کریں اور امالہ کہ مد کی صورت میں الف کو یا کی طرح مائل کریں۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۸۴: اگر مد کے ساتھ میم کو تشدید پڑھی (7) یا یا کو گرا دیا (8) تو بھی نماز ہو جائے گی ،مگر خلاف سنت ہے اور اگر مد کے ساتھ میم کو تشدید پڑھی اور یا کو حذف کر دیا (9) یا قصر کے ساتھ تشدید (10) یا حذفِ یا ہو (11) تو ان صورتوں میں نماز فاسد ہو جائے گی۔ (12) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۵: امام کی آواز اس کو نہ پہنچی مگر اس کے برابر والے دوسرے مقتدی نے آمین کہی اور اس نے آمین کی آواز
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في بيان المتواتر بالشاذ، ج۲، ص۲۳۲.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في بيان المتواتر بالشاذ، ج۲، ص۲۳۳.
3 ۔ ''غنیۃ المتملي''، صفۃ الصلاۃ، ص۳۰۴.
4 ۔ ''غنیۃ المتملي''، صفۃ الصلاۃ، ص۳۰۳، وغیرہا .
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۳۴، وغیرہ .
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۳۷.
7 ۔ آمِّیْن۔ 8 ۔ آمِنْ۔
9 ۔ آمِّنْ۔ 10 ۔ اَمِّیْنْ۔
11 ۔ اَمِنْ۔ ۱۲
12 ۔ ''الدرالمختار''، و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: قراء ۃ البسملۃ... إلخ، ج۲، ص۲۳۷.
سن لی، اگرچہ اس نے آہستہ کہی ہے تو یہ بھی آمین کہے، غرض یہ کہ امام کا
وَلَا الضَّآلِّیْنْ
کہنا معلوم ہو تو آمین کہنا سنت ہو جائے گا، امام کی آواز سُنے یا کسی مقتدی کے آمین کہنے سے معلوم ہوا ہو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۸۶: سرّی نماز میں امام نے آمین کہی اور یہ اس کے قریب تھا کہ امام کی آواز سن لی، تو یہ بھی کہے۔ (2) (درمختار) اور
(۲۴) رکوع میں تین بار
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم
کہنا اور
(۲۵) گھٹنوں کو ہاتھ سے پکڑنا اور
(۲۶) انگلیاں خوب کھلی رکھنا، یہ حکم مردوں کے ليے ہے اور
(۲۷) عورتوں کے ليے سنت گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا اور
(۲۸) انگلیاں کشادہ نہ کرنا ہے آج کل اکثر مرد رکوع میں محض ہاتھ رکھ دیتے اور انگلیاں ملا کر رکھتے ہیں یہ خلاف سنت ہے۔
(۲۹) حالت رکوع میں ٹانگیں سیدھی ہونا، اکثر لوگ کمان کی طرح ٹیڑھی کر لیتے ہیں یہ مکروہ ہے۔
(۳۰) رکوع کے ليے اﷲ اکبر کہنا۔
مسئلہ ۸۷: اگر ''ظ'' ادا نہ کرسکے تو
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم
کی جگہ
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْکَرِیْم
کہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸۸: بہتر یہ ہے کہ اﷲ اکبر کہتا ہوا رکوع کو جائے یعنی جب رکوع کے ليے جھکنا شروع کرے، تو اﷲ اکبر شروع کرے اور ختم رکوع پر تکبیر ختم کرے۔ (4) (عالمگیری) اس مسافت کے پورا کرنے کے ليے اﷲ کے لام کو بڑھائے اکبر کی ب وغیرہ کسی حرف کو نہ بڑھائے ۔
مسئلہ ۸۹: (۳۱) ہر تکبیر میں اﷲ اکبر کی ''ر'' کو جزم پڑھے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۹۰: آخر سورت میں اگر اﷲ عزوجل کی ثنا ہو تو افضل یہ کہ قراء ت کو تکبیر سے وصل کرے جیسے
وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرَنِ اللہُ اَکْبَرُ وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّث اللہُ اَکْبَر
(ث) کو کسرہ پڑھے اور اگر آخر میں کوئی لفظ ایسا ہے جس کا اسم جلالت کے
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۳۹.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۳۹.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: قراء ۃ البسملۃ... إلخ، ج۲، ص۲۴۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۴.
5 ۔ المرجع السابق.
ساتھ ملانا ناپسند ہو تو فصل بہتر ہے یعنی ختم قراء ت پر ٹھہرے پھر اﷲ اکبر کہے، جیسے
اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَر
میں وقف و فصل کرے پھر رکوع کے ليے اﷲ اکبر کہے اور اگر دونوں نہ ہوں، تو فصل و وصل دونوں یکساں ہیں۔ (1) (ردالمحتار، فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۹۱: کسی آنے والے کی وجہ سے رکوع یا قراء ت میں طول دینا مکروہ تحریمی ہے، جب کہ اسے پہچانتا ہو یعنی اس کی خاطر ملحوظ ہو اور نہ پہنچانتا ہو تو طویل کرنا افضل ہے کہ نیکی پر اعانت ہے، مگر اس قدر طول نہ دے کہ مقتدی گھبرا جائیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹۲: مقتدی نے ابھی تین بار تسبیح نہ کہی تھی کہ امام نے رکوع یا سجدہ سے سر اٹھالیا تو مقتدی پر امام کی متابعت واجب ہے۔ اور اگر مقتدی نے امام سے پہلے سر اُٹھا ليا تو مقتدی پر لوٹنا واجب ہے، نہ لوٹے گا تو کراہت تحریم کا مرتکب ہوگا، گناہ گار ہوگا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹۳: (۳۲) رکوع میں پیٹھ خوب بچھی رکھے یہاں تک کہ اگر پانی کا پیالہ اس کی پیٹھ پر رکھ دیا جائے، تو ٹھہر جائے۔ (4) (فتح القدیر)
مسئلہ ۹۴: رکوع میں نہ سر جھکائے نہ اونچا ہو بلکہ پیٹھ کے برابر ہو۔ (5) (ہدایہ) حدیث میں ہے: ''اس شخص کی نماز ناکافی ہے (یعنی کامل نہیں) جو رکوع و سجود میں پیٹھ سیدھی نہیں کرتا۔'' (6) یہ حدیث ابو داود و ترمذی و نَسائی و ابن ماجہ و دارمی نے ابو مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور ترمذی نے کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''رکوع و سجود کو پورا کرو کہ خدا کی قسم میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔'' (7) اس حدیث کو بُخاری و مُسلِم نے انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
مسئلہ ۹۵: (۳۳) عورت رکوع میں تھوڑا جھکے یعنی صرف اس قدر کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں، پیٹھ سیدھی نہ کرے اور گھٹنوں پر زور نہ دے، بلکہ محض ہاتھ رکھ دے اور ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی رکھے اور پاؤں جھکے ہوئے رکھے مردوں کی
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: قراء ۃ البسملۃ... إلخ، ج۲، ص۲۴۰.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۶، ص۳۳۵.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في إطالۃ الرکوع للجائی، ج۲، ص۲۴۲.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في إطالۃ الرکوع للجائی، ج۲، ص۲۴۳.
4 ۔ ''فتح القدير''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۱، ص۲۵۹.
5 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۱، ص۵۰.
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ من لا يقيم صلبہ في الرکوع و السجود، الحديث: ۸۵۵، ج۱، ص۳۲۵.
7 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب الخشوع في الصلاۃ، الحديث: ۷۴۲، ج۱، ص۲۶۳.
طرح خوب سیدھے نہ کر دے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹۶: تین بار تسبیح ادنیٰ (2) درجہ ہے کہ اس سے کم ميں سنت ادا نہ ہوگی اور تین بار سے زیادہ کہے تو افضل ہے مگر ختم طاق عدد (3) پر ہو، ہاں اگر یہ امام ہے اور مقتدی گھبراتے ہوں تو زیادہ نہ کرے۔ (4) (فتح القدیر) حلیہ میں عبداﷲ بن مبارک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وغیرہ سے ہے کہ'' امام کے ليے تسبیحات پانچ بار کہنا مستحب ہے۔ '' (5) حدیث میں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جب کوئی رکوع کرے اور تین بار
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم
کہے تو اس کا رکوع تمام ہوگیا اور یہ ادنیٰ درجہ ہے اور جب سجدہ کرے اور تين بار
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ
کہے تو سجدہ پورا ہوگيا اور یہ ادنی درجہ ہے۔'' (6) اس کو ابو داود اور ترمذی و ابن ماجہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
مسئلہ ۹۷: (۳۴) رکوع سے جب اٹھے، تو ہاتھ نہ باندھے لٹکا ہوا چھوڑ دے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۹۸: (۳۵)
سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ
کی ہ کو ساکن پڑھے، اس پر حرکت ظاہر نہ کرے، نہ دال کو بڑھائے۔ (8) (عالمگیری)
(۳۶) رکوع سے اٹھنے میں امام کے ليے
سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ
کہنا اور
(۳۷) مقتدی کے ليے
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْد
کہنا اور
(۳۸) منفرد کو دونوں کہنا سنت ہے۔
مسئلہ ۹۹:
رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد
سے بھی سنت ادا ہو جاتی ہے مگر واو ہونا بہتر ہے اور
اَللّٰھُمَّ
ہونا اس سے بہتر اور سب میں بہتر یہ ہے کہ دونوں ہوں۔ (9) (درمختار) حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ''جب امام
سَمِعَ اللہُ لِمَنْ
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: قراء ۃ البسملۃ... إلخ، ج۲، ص۲۴۰.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۶، ص۳۳۵.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في إطالۃ الرکوع للجائی، ج۲، ص۲۴۲.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في إطالۃ الرکوع للجائی، ج۲، ص۲۴۳.
4 ۔ ''فتح القدير''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۱، ص۲۵۹.
5 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۱، ص۵۰.
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ من لا يقيم صلبہ في الرکوع و السجود، الحديث: ۸۵۵، ج۱، ص۳۲۵.
7 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب الخشوع في الصلاۃ، الحديث: ۷۴۲، ج۱، ص۲۶۳.
حَمِدَہ
کہے، تو
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد
کہو کہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوا، اس کے اگلے گناہ کی مغفرت ہو جائے گی۔'' (1) اس حدیث کو بُخاری و مُسلِم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
مسئلہ ۱۰۰: منفرد
سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ
کہتا ہوا رکوع سے اٹھے اور سیدھا کھڑا ہو کر
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْد
کہے۔ (2) (درمختار)
(۳۹) سجدہ کے ليے اور
(۴۰) سجدہ سے اٹھنے کے ليے اﷲ اکبر کہنا اور
(۴۱) سجدہ میں کم از کم تین بار
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی
کہنا اور
(۴۲) سجدہ میں ہاتھ کا زمین پر رکھنا
مسئلہ ۱۰۱: (۴۳) سجدہ میں جائے تو زمین پر پہلے گھٹنے رکھے پھر
(۴۴) ہاتھ پھر
(۴۵) ناک پھر
(۴۶) پیشانی اور جب سجدہ سے اٹھے تو اس کا عکس کرے یعنی
(۴۷) پہلے پیشانی اٹھائے پھر
(۴۸) ناک پھر
(۴۹) ہاتھ پھر
(۵۰) گھٹنے۔ (3) (عالمگیری)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب سجدہ کو جاتے، توپہلے گھٹنے رکھتے پھر ہاتھ اور جب اٹھتے تو پہلے ہاتھ اٹھاتے پھر گھٹنے۔ (4) اصحاب سُنن اربعہ اور دارمی نے اس حدیث کو وائل ابن حجر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
مسئلہ ۱۰۲: (۵۱) مرد کے ليے سجدہ میں سنت یہ ہے کہ بازو کروٹوں سے جدا ہوں، (۵۲) اور پیٹ رانوں سے
1 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب فضل اللّٰھم ربنا لک الحمد، الحديث: ۷۹۶، ج۱، ص۲۷۹.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۴۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۵.
4 ۔ ''سنن ابي داود''، کتاب الصلاۃ، باب کیف يضع رکبتيہ قبل يديہ، الحديث: ۸۳۸، ج۱، ص۳۲۰.
(۵۳) اور کلائیاں زمین پر نہ بچھائے، مگر جب صف میں ہو تو بازو کروٹوں سے جدا نہ ہوں گے۔ (1) (ہدایہ، عالمگیری، درمختار) (۵۴) حدیث میں ہے جس کو بُخاری و مُسلِم نے انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''سجدہ میں اعتدال کرے اور کُتے کی طرح کلائیاں نہ بچھائے۔'' (2) اور صحیح مُسلِم میں براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جب تو سجدہ کرے، تو ہتھیلی کو زمین پر رکھ دے اور کہنیاں اٹھالے۔'' (3) ابو داود نے اُم المومنین میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ جب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ کروٹوں سے دُور رکھتے، یہاں تک کہ ہاتھوں کے نیچے سے اگر بکری کا بچہ گزرنا چاہتا، تو گزر جاتا۔'' (4) اور مُسلِم کی روایت بھی اسی کے مثل ہے، دوسری روایت بُخاری و مُسلِم کی عبداﷲ بن مالک ابن بحلينہ سے یوں ہے کہ ہاتھوں کو کشادہ رکھتے، یہاں تک کہ بغل مبارک کی سپيدی ظاہر ہوتی۔ (5)
مسئلہ ۱۰۳: (۵۵) عورت سمٹ کر سجدہ کرے، یعنی بازو کروٹوں سے ملا دے، (۵۶) اور پیٹ ران سے، (۵۷) اور ران پنڈلیوں سے، (۵۸) اور پنڈلیاں زمین سے۔ (6) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۰۴: (۵۹) دونوں گھٹنے ایک ساتھ زمین پر رکھے اور اگر کسی عذر سے ایک ساتھ نہ رکھ سکتا ہو، تو پہلے داہنا رکھے پھر بایاں۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰۵: اگر کوئی کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرے تو حرج نہیں اور جو کپڑا پہنے ہوئے ہے اس کا کونا بچھا کر سجدہ کیا یا ہاتھوں پر سجدہ کیا، تو اگر عذر نہیں ہے تو مکروہ ہے اور اگر وہاں کنکریاں ہیں یا زمین سخت گرم یا سخت سرد ہے تو مکروہ نہیں اور وہاں دھول ہو اور عمامہ کو گرد سے بچانے کے ليے پہنے ہوئے کپڑے پر سجدہ کیا تو حرج نہیں اور چہرے کو خاک سے بچانے کے ليے کیا، تو مکروہ ہے۔ (8) (درمختار)
1 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۱، ص۵۱.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۵۷.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب الاعتدال في السجود،... إلخ، الحديث: ۴۹۳، ص۲۵۴.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب الاعتدال في السجود،... إلخ، الحديث: ۴۹۴، ص۲۵۴.
4 ۔ ''سنن ابي داود''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ السجود، الحديث: ۸۹۸، ج۱، ص۳۴۰.
5 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب الاعتدال في السجود،... إلخ، الحديث: ۴۹۵، ص۲۵۵.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۵، وغیرہ .
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في إطالۃ الرکوع للجائي، ج۲، ص۲۴۷.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۵۵.
مسئلہ ۱۰۶: اچکن (1) وغیرہ بچھا کر نماز پڑھے، تو اس کا اوپر کا حصّہ پاؤں کے نیچے رکھے اور دامن پر سجدہ کرے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۰۷: سجدہ میں ایک پاؤں اٹھاہوا رکھنا مکروہ و ممنوع ہے۔ (3) (درمختار) (۶۰) دونوں سجدوں کے درمیان مثل تشہد کے بیٹھنا یعنی بایاں قدم بچھانا اور داہنا کھڑا رکھنا، (۶۱) اور ہاتھوں کا رانوں پر رکھنا، (۶۲) سجدوں میں انگلیاں قبلہ رُو ہونا، (۶۳) ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی ہونا۔
مسئلہ ۱۰۸: (۶۴) سجدہ میں دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا سنت ہے اور ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا واجب اور دسوں کا قبلہ رُو ہونا سُنت۔ (4) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱۰۹: (۶۵) جب دونوں سجدے کرلے تو رکعت کے ليے پنجوں کے بل، (۶۶) گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اُٹھے، یہ سُنت ہے، ہاں کمزوری وغیرہ عذر کے سبب اگر زمین پر ہاتھ رکھ کر اُٹھا جب بھی حرج نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار) اب دوسری رکعت میں ثنا و تعوذ نہ پڑھے۔ (۶۷) دوسری رکعت کے سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد بایاں پاؤں بچھا کر، (۶۸) دونوں سرین اس پر رکھ کر بیٹھنا، (۶۹) اور داہنا قدم کھڑا رکھنا، (۷۰) اور داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ رُخ کرنا یہ مرد کے ليے ہے، (۷۱) اور عورت دونوں پاؤں داہنی جانب نکال دے، (۷۲) اور بائیں سرین پر بیٹھے، (۷۳) اور داہنا ہاتھ داہنی ران پر رکھنا، (۷۴) اور بایاں بائیں پر، (۷۵) اور انگلیوں کو اپنی حالت پر چھوڑنا کہ نہ کھلی ہوئی ہوں، نہ ملی ہوئی، (۷۶) اور انگلیوں کے کنارے گھٹنوں کے پاس ہونا، گھٹنے پکڑنا نہ چاہیے، (۷۷) شہادت پر اشارہ کرنا، یوں کہ چھنگلیا اور اس کے پاس والی کو بند کرلے، انگوٹھے اور بیچ کی اُنگلی کا حلقہ باندھے اور
لَا
پر کلمہ کی انگلی اٹھائے اور
اِلَّا
پررکھ دے اور سب اُنگلیاں سیدھی کرلے۔ حدیث میں ہے جس کو ابو داود و نَسائی نے عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب دُعا کرتے (تشہد میں کلمہ شہادت پر پہنچتے) تو انگلی سے اشارہ کرتے اور حرکت نہ دیتے۔ (6) نیز ترمذی و نَسائی و بیہقی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک شخص
1 ۔ یعنی ايک لمبا لباس جو کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے۔
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۵۵.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في إطالۃ الرکوع للجائي،، ج۲، ص۲۵۸.
4 ۔ انظر: ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۷، ص۳۷۶.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في إطالۃ الرکوع للجائي، ج۲، ص۲۶۲.
6 ۔ ''سنن ابي داود''، کتاب الصلاۃ، باب الاشارۃ في التشہد، الحديث: ۹۸۹، ج۱، ص۳۷۱.
کو دو انگلیوں سے اشارہ کرتے دیکھا، فرمایا: ''توحید کر۔ توحید کر'' (1) (ایک انگلی سے اشارہ کر)۔
مسئلہ ۱۱۰: (۷۸) قعدۂ اُولیٰ کے بعد تیسری رکعت کے ليے اُٹھے تو زمین پر ہاتھ رکھ کر نہ اُٹھے، بلکہ گھٹنوں پر زور دے کر، ہاں اگر عذر ہے تو حرج نہیں۔ (2) (غنیہ)
مسئلہ ۱۱۱: نماز فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں افضل سورۂ فاتحہ پڑھنا ہے اور سبحان اﷲ کہنا بھی جائز ہے اور بقدر تین تسبیح کے چپکا کھڑا رہا، تو بھی نماز ہو جائے گی، مگر سکوت نہ چاہیے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۱۲: دوسرے قعدہ میں بھی اسی طرح بیٹھے جیسے پہلے میں بیٹھا تھا اور تشہد بھی پڑھے۔ (4) (درمختار) بعد (۷۹) تشہد دوسرے قعدہ میں دُرود شریف پڑھنا اور افضل وہ دُرود ہے، جو پہلے مذکور ہوا۔
مسئلہ ۱۱۳: دُرود شریف میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضور سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے اسمائے طیبہ کے ساتھ لفظ سیّدنا کہنا بہتر ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
دُرود شریف پڑھنے کے فضائل میں احادیث بکثرت وارد ہیں، تبرکاً بعض ذکر کی جاتی ہیں۔
حدیث ۱: صحیح مُسلِم میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو مجھ پر ایک بار دُرود بھیجے، اﷲ تعالیٰ اس پر دس بار دُرود نازل فرمائے گا۔'' (6)
حدیث ۲: نَسائی کی روایت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے یوں ہے کہ فرماتے ہیں: ''جو مجھ پر ایک بار دُرود بھیجے، اﷲ عزوجل اس پر دس دُرودیں نازل فرمائے گا اور اس کی دس خطائیں محو فرمائے گا اور دس درجے بلند فرمائے گا۔'' (7)
حدیث ۳: امام احمد عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، فرماتے ہیں: ''جو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ایک بار دُرود
1 ۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الدعوات،۱۰۴۔باب، الحديث: ۳۵۶۸، ج۵، ص۳۲۶.
2 ۔ ''غنیۃ المتملي''، صفۃ الصلاۃ، ص۳۳۱.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۷۰.
4 ۔ المرجع السابق، ص۲۷۲.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في جواز الترحم علی النبي ابتداء، ج۲، ص۲۷۴.
6 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ علی النبی صلّی اﷲ عليہ وسلم بعد التشھد، الحدیث: ۴۰۸، ص۲۱۶.
7 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب السھو، باب الفضل في الصلاۃ علی النبی صلّی اﷲ عليہ وسلم، الحديث: ۱۲۹۴، ص۲۲۲.
بھیجے، اﷲ عزوجل اور فرشتے اس پر ستر بار دُرود بھیجتے ہیں۔'' (1)
حدیث ۴: درمختار میں بروایت اصبہانی انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو مجھ پر ایک بار دُرود بھیجے اور وہ قبول ہو جائے، تو اﷲ تعالیٰ اس کے اَسّی (۸۰) برس کے گناہ محو فرما دے گا۔'' (2)
حدیث ۵: ترمذی عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :''قیامت کے دن مجھ سے سب میں زیادہ قریب وہ ہوگا، جس نے سب سے زیادہ مجھ پر دُرود بھیجا ہے۔'' (3)
حدیث ۶: نَسائی و دارمی اونھیں سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ''اﷲ کے کچھ فارغ فرشتے ہیں، جو زمین میں سیر کرتے رہتے ہیں۔ میری اُمّت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔'' (4)
حدیث ۷: ترمذی میں اُنھيں سے ہے کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''اس کی ناک خاک میں ملے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور مجھ پر دُرود نہ بھیجے اور اس کی ناک خاک میں ملے جس کو رمضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت سے پہلے چلا گیا اور اس کی ناک خاک میں ملے جس نے ماں باپ دونوں یا ایک کو ان کے بڑھاپے میں پایا اور انہوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کیا۔'' (5) (یعنی ان کی خدمت و اطاعت نہ کی کہ جنت کا مستحق ہو جاتا)۔
حدیث ۸: ترمذی نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''پورا بخیل وہ ہے، جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور مجھ پر دُرود نہ بھیجے۔'' (6)
حدیث ۹: نَسائی و دارمی نے روایت کی کہ ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تشریف لائے اور بشاشت چہرۂ اقدس میں نمایاں تھی، فرمایا: ''میرے پاس جبریل آئے اور کہا! ''آپ کا ربّ فرماتا ہے: کیا آپ راضی نہیں کہ آپ کی اُمّت میں جو کوئی آپ پر درود بھیجے، میں اس پر دس بار دُرود بھیجوں گا اور آپ کی اُمّت میں جو کوئی آپ پر سلام بھیجے، میں اس پر دس بار سلام بھیجوں گا۔'' (7)
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اﷲ بن عمرو، الحديث: ۶۷۶۶، ج۲، ص۶۱۴.
2 ۔ ''الدرالمختار'' کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۸۴.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الوتر، باب ماجاء في فضل الصلاۃ علی النبی صلّی اﷲ عليہ وسلم، الحديث: ۴۸۴، ج۲، ص۲۷.
4 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب السھو، باب التسليم علی النبی صلّی اﷲ عليہ وسلم، الحديث: ۱۲۷۹، ص۲۱۹.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الدعوات، باب رغم أنف رجل، الحديث: ۳۵۵۶، ج۵، ص۳۲۰،عن ابي ہريرۃ رضي اﷲ تعالیٰ عنہ .
6 ۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الدعوات، باب رغم أنف رجل، الحديث: ۳۵۵۷، ج۵، ص۳۲۱.
7 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب السھو، باب الفضل في الصلاۃ علی النبی صلّی اﷲ عليہ وسلم، الحديث: ۱۲۹۶، ص۲۱۷۱.
حدیث ۱۰: ترمذی شریف میں ہے، ابی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، میں نے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) : میں بکثرت دُعا مانگتا ہوں، تو اس میں سے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر دُرود کے ليے کتنا وقت مقرر کروں؟ فرمایا: ''جو تم چاہو۔'' عرض کی، چوتھائی؟ فرمایا: ''جو تم چاہو اور اگر زیادہ کرو تو تمھارے ليے بہتری ہے۔'' میں نے عرض کی، نصف؟ فرمایا: ''جو تم چاہو اور زیادہ کرو تو تمھارے ليے بھلائی ہے۔'' میں نے عرض کی، دو تہائی؟ فرمایا: ''جو تم چاہو اور اگر زیادہ کرو تو تمھارے ليے بہتری ہے۔'' میں نے عرض کی، تو کُل دُرود ہی کے ليے مقرر کروں؟ فرمایا: ''ایسا ہے تو اﷲ تمھارے کاموں کی کفایت فرمائے گا اور تمھارے گناہ بخش دے گا۔'' (1)
حدیث ۱۱: امام احمد رویفع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو دُرود پڑھے اور یہ کہے
اَللّٰھُمَّ اَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (2)
اس کے ليے میری شفاعت واجب ہوگئی۔'' (3)
حدیث ۱۲: ترمذی نے روایت کی کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''دُعا آسمان اور زمین کے درمیان معلّق ہے، چڑھ نہیں سکتی، جب تک نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر دُرود نہ بھیجے۔'' (4)
مسئلہ ۱۱۴: عمر میں ایک بار دُرود شریف پڑھنا فرض ہے اور ہر جلسۂ ذکر میں دُرود شریف پڑھنا واجب، خواہ خود نام اقدس لے یا دوسرے سے سُنے اور اگر ايک مجلس میں سو بار ذکر آئے تو ہر بار دُرود شریف پڑھنا چاہیے، اگر نام اقدس ليا يا سُنا اور دُرود شریف اس وقت نہ پڑھا تو کسی دوسرے وقت میں اس کے بدلے کا پڑھ لے۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۱۵: گاہک کو سودا دکھاتے وقت تاجر کا اس غرض سے دُرود شریف پڑھنا یا سبحان اﷲ کہنا کہ اس چیز کی عمدگی خریدار پر ظاہر کرے، ناجائز ہے۔ یوہیں کسی بڑے کو دیکھ کر دُرود شریف پڑھنا اس نیت سے کہ لوگوں کو اس کے آنے کی خبر ہوجائے، اس کی تعظیم کو اُٹھیں اور جگہ چھوڑ دیں، ناجائز ہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱۶: جہاں تک بھی ممکن ہو دُرود شریف پڑھنا مستحب ہے اور خصوصیت کے ساتھ ان جگہوں میں (۱) روز جمعہ، (۲) شب ِ جمعہ، (۳،۴) صبح و شام، (۵)مسجد میں جاتے، (۶) مسجد سے نکلتے وقت، (۷) بوقت زیارت روضۂ اطہر،
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب صفۃ القيامۃ، ۲۳۔باب، الحديث: ۲۴۶۵، ج۴، ص۲۰۷.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث رو یفع بن ثابت الأنصاري، الحدیث: ۱۶۹۸۸، ج۶، ص۴۶.
3 ۔ اے اﷲ (عزوجل) ! تو اپنے محبوب کو قیامت کے دن ایسی جگہ میں اوتار، جوتیرے نزدیک مقرب ہے۔ ۱۲
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الوتر، باب ماجاءَ في فضل الصلاۃ علی النبی صلّی اﷲ عليہ وسلم، الحديث: ۴۸۶، ج۲، ص۲۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۷۶ ۔ ۲۸۱، وغیرہ .
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: ھل نفع الصلاۃ، عائد للمصلي... إلخ، ج۲، ص۲۸۱.
(۸) صفا و مروہ پر، (۹) خطبہ میں، (۱۰) جو اب اذان کے بعد، (۱۱) بوقت اقامت، (۱۲) دُعا کے اول آخر بیچ میں، (۱۳) دُعائے قنوت کے بعد، (۱۴) حج میں لبیک سے فارغ ہونے کے بعد، (۱۵) اجتماع و فراق کے وقت، (۱۶) وضو کرتے وقت، (۱۷) جب کوئی چیز بھول جائے اس وقت، (۱۸) وعظ کہنے اور (۱۹) پڑھنے اور (۲۰) پڑھانے کے وقت، خصوصاً حدیث شریف پڑھنے کے اول آخر، (۲۱) سوال و (۲۲) فتویٰ لکھتے وقت، (۲۳) تصنیف کے وقت، (۲۴) نکاح، (۲۵) اور منگنی، (۲۶) اور جب کوئی بڑا کام کرنا ہو۔ نام اقدس لکھے تو دُرود ضرور لکھے کہ بعض علما کے نزدیک اس وقت دُرود شریف لکھنا واجب ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱۷: اکثر لوگ آج کل دُرود شریف کے بدلے صلعم، عم، ، ؑ لکھتے ہیں، یہ ناجائز و سخت حرام ہے۔ یوہیں رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی جگہ ؓ ، رحمتہ اﷲ تعالیٰ کی جگہ ؒ ، لکھتے ہیں یہ بھی نہ چاہیے، جن کے نام محمد، احمد، علی حسن، حسین وغیرہ ہوتے ہیں ان ناموں پر ؑبناتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے کہ اس جگہ تو یہ شخص مراد ہے، اس پر دُرود کا اشارہ کیا معنی۔ (2) (طحطاوی وغیرہ)
مسئلہ ۱۱۸: قعدۂ اخیرہ کے علاوہ فرض نماز میں دُرود شریف پڑھنا نہیں، (۸۰) اور نوافل کے قعدۂ اُولیٰ میں بھی مسنون ہے۔ (3) (درمختار) (۸۱) دُرود کے بعد دُعا پڑھنا۔
مسئلہ ۱۱۹ (۸۲) دُعا عربی زبان میں پڑھے، غیر عربی میں مکروہ ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۲۰: اپنے اور اپنے والدین و اساتذہ کے ليے جب کہ مسلمان ہوں اور تمام مومنین و مومنات کے ليے دُعا مانگے، خاص اپنے ہی ليے نہ مانگے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۲۱: ماں باپ اور اساتذہ کے ليے مغفرت کی دُعا حرام ہے، جب کہ کافر ہوں اور مر گئے ہوں تو دُعائے مغفرت کو فقہاء نے کُفر تک لکھا ہے، ہاں اگر زندہ ہوں تو ان کے ليے ہدایت و توفیق کی دُعا کرے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: نصّ العلماء علی استحباب الصلاۃ... إلخ،
ج۲، ص۲۸۱.
2 ۔ ''حاشیۃ الطحطاوي'' علی ''الدرالمختار''، خطبۃ الکتاب، ج۱، ص۶.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۳، ص۳۸۷، وغیرہما.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ،فصل، ج۲، ص۲۸۲.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۸۵.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،مطلب في الدعاء بغیرالعربیۃ، ۲۸۶.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في الدعاء المحرم، ج۲، ص۲۸۸.
مسئلہ ۱۲۲: محالات عادیہ و محالات شرعیہ کی دُعا حرام ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۲۳: وہ دُعائیں کہ قرآن و حدیث میں ہیں ان کے ساتھ دُعا کرے، مگر ادعیۂ قرآنیہ بہ نیت قرآن اس موقع پر پڑھنا جائز نہیں، بلکہ قیام کے علاوہ نماز میں کسی جگہ قرآن پڑھنے کی اجازت نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲۴: نماز میں ایسی دُعائیں جائز نہیں جن میں ایسے الفاظ ہوں جو آدمی ایک دوسرے سے کہا کرتا ہے، مثلاً
اَللَّھُمَّ زَوِّجْنِیْ . (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲۵: مناسب یہ ہے کہ نماز میں جو دُعا یاد ہو وہ پڑھے اور غیر نماز میں بہتر یہ ہے کہ جو دُعا کرے وہ حفظ سے نہ ہو، بلکہ وہ جو قلب میں حاضر ہو۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲۶: مستحب ہے کہ آخر نماز میں بعد اذکار نماز یہ دُعا پڑھے۔
رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلوٰۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَّبَلْ دُعَآءِ ؕ رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُوْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ . (5) (عالمگیری)
(۸۳) مقتدی کے تمام انتقالات امام کے ساتھ ساتھ ہونا
(۸۴،۸۵)
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہِ
دو بار کہنا
(۸۶) پہلے داہنی طرف پھر
(۸۷) بائیں طرف۔
مسئلہ ۱۲۷: داہنی طرف سلام میں مونھ اتنا پھیرے کہ داہنا رخسار دکھائی دے اور بائیں میں بایاں۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۸۸.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في خلف الوعيد... إلخ، ج۲، ص۲۸۹.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۶.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في خلف الوعيد... إلخ، ج۲، ص۲۹۰.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۶.
اے میرے پروردگار! تو مجھ کو اور میری ذریت کو نماز قائم کرنے والا بنا اور اے رب! تو میری دُعا قبول فرما، اے رب! تو میری اور میرے
والدین اور ایمان والوں کی قیامت کے دن مغفرت فرما۔ ۱۲
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۶.
مسئلہ ۱۲۸:
عَلَیْکُمُ السَّلام
کہنا مکروہ ہے۔ یوہیں آخر میں
وَ بَرَکاتُہٗ
ملانا بھی نہ چاہیے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۲۹: (۸۸) سُنّت یہ ہے کہ امام دونوں سلام بلند آواز سے کہے۔ (۸۹) مگر دوسرا بہ نسبت پہلے کے کم آواز سے ہو۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۳۰: اگر پہلے بائیں طرف سلام پھیر ديا تو جب تک کلام نہ کیا ہو، دوسرا دہنی طرف پھیر لے پھر بائیں طرف، سلام کے اعادہ کی حاجت نہیں اور اگر پہلے میں کسی طرف مونھ نہ پھیرا تو دوسرے میں بائیں طرف مونھ کرے اور اگر بائیں طرف سلام پھیرنا بھول گیا، تو جب تک قبلہ کو پیٹھ نہ ہو یا کلام نہ کیا ہو، کہہ لے۔ (3) (درمختار، عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳۱: امام نے جب سلام پھیرا تو وہ مقتدی بھی سلام پھیر دے جس کی کوئی رکعت نہ گئی ہو، البتہ اگر اس نے تشہد پورا نہ کیا تھا کہ امام نے سلام پھیر دیا تو امام کا ساتھ نہ دے، بلکہ واجب ہے کہ تشہد پورا کر کے سلام پھیرے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۳۲: امام کے سلام پھیر دینے سے مقتدی نما زسے باہر نہ ہوا جب تک یہ خود بھی سلام نہ پھیرے، یہاں تک کہ اگر اس نے امام کے سلام کے بعد اور اپنے سلام سے پیشتر قہقہہ لگایا، وضو جاتا رہے گا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۳۳: مقتدی کو امام سے پہلے سلام پھیرنا جائز نہیں، مگر بضرورت مثلاً خوفِ حدث (6) ہو یا يہ اندیشہ ہو کہ آفتاب طلوع کر آئے گا یا جمعہ یا عیدین میں وقت ختم ہو جائے گا۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳۴: پہلی بار لفظ سلام کہتے ہی امام نماز سے باہر ہوگیا، اگرچہ علیکم نہ کہا ہو اس وقت اگر کوئی شریکِ جماعت ہوا تو اقتدا صحیح نہ ہوئی، ہاں اگر سلام کے بعد سجدۂ سہو کیا تو اقتدا صحیح ہوگئی۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳۵: امام داہنے سلام میں خطاب سے ان مقتدیوں کی نیت کرے جو داہنی طرف ہيں اور بائیں سے بائیں طرف والوں کی، مگر عورت کی نیت نہ کرے، اگرچہ شریکِ جماعت ہو نیز دونوں سلاموں میں کراماً کاتبین اور ان ملائکہ کی نیت
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۹۳.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۹۴.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في خلف الوعيد... إلخ، ج۲، ص۲۹۱.
و ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۷.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۴۴.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۲۹۲.
6 ۔ یعنی وضو کے ٹوٹ جانے کا خوف۔
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في خلف الوعيد... إلخ، ج۲، ص۲۹۳.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في خلف الوعيد... إلخ، ج۲، ص۲۹۲.
کرے، جن کو اﷲ عزوجل نے حفاظت کے ليے مقرر کیا اور نیت میں کوئی عدد معین نہ کرے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۳۶: مقتدی بھی ہر طرف کے سلام میں اس طرف والے مقتدیوں اور اُن ملائکہ کی نیت کرے، نیز جس طرف امام ہو اس طرف کے سلام میں امام کی بھی نیت کرے اور امام اس کے محاذی ہو تو دونوں سلاموں میں امام کی بھی نیت کرے اور منفرد صرف اُن فرشتوں ہی کی نیت کرے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۳۷: (۹۰) سلام کے بعد سُنّت یہ ہے کہ امام دہنے بائیں کو انحراف کرے اور داہنی طرف افضل ہے اور مقتدیوں کی طرف بھی مونھ کر کے بیٹھ سکتا ہے، جب کہ کوئی مقتدی اس کے سامنے نماز میں نہ ہو، اگرچہ کسی پچھلی صف میں وہ نماز پڑھتا ہو۔ (3) (حلیہ ،ذخيرہ)
مسئلہ ۱۳۸: منفرد بغیر انحراف اگر وہیں دُعا مانگے، تو جائز ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳۹: ظہر و مغرب و عشا کے بعد مختصر دُعاؤں پر اِکتفا کر کے سُنّت پڑھے، زیادہ طویل دُعاؤں میں مشغول نہ ہو۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴۰: فجر و عصر کے بعد اختیار ہے جس قدر اذکار و اوراد و ادعیہ پڑھنا چاہے پڑھے، مگر مقتدی اگر امام کے ساتھ مشغول بہ دُعا ہوں اور ختم کے منتظر ہوں تو امام اس قدر طویل دُعا نہ کرے کہ گھبرا جائیں۔ (6) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱۴۱: سنتیں وہیں نہ پڑھے بلکہ دہنے بائیں آگے پیچھے ہٹ کر پڑھے یا گھر جا کر پڑھے۔ (7) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۴۲: جن فرضوں کے بعد سنتیں ہیں ان میں بعد فرض کلام نہ کرنا چاہیے، اگرچہ سنتیں ہو جائیں گی مگر ثواب کم ہو گا اور سنتوں میں تاخیر بھی مکروہ ہے، یوہیں بڑے بڑے وظائف و اوراد کی بھی اجازت نہیں۔ (8) (غنیہ، ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في وقت إدراک فضيلۃ... إلخ، ج۲، ص۲۹۴.
2 ۔ ''تنوير الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ،فصل، ج۲، ص۲۹۹.
3 ۔ ''الفتاوی الرضويۃ'' (الجديدۃ)، باب صفۃ الصلاۃ، ج۶، ص۱۹۰، ۲۰۴.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۷.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الرضويۃ''
7 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۷.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل، ج۲، ص۳۰۲.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: ھل يفارقہ الملکان؟، ج۲، ص۳۰۰.
و ''غنيۃ المتملي''، صفۃ الصلاۃ، ص۳۴۳.
مسئلہ ۱۴۳: افضل یہ ہے کہ نماز فجر کے بعد بلندی آفتاب تک وہیں بیٹھا رہے۔ (1) (عالمگیری)
(۱) حالت قیام میں موضع سجدہ (2) کی طرف نظر کرنا۔
(۲) رکوع میں پُشت قدم کی طرف۔
(۳) سجدہ میں ناک کی طرف۔
(۴) قعدہ میں گود کی طرف۔
(۵) پہلے سلام میں داہنے شانہ کی طرف۔
(۶) دوسرے میں بائیں کی طرف۔
(۷) جماہی آئے تو مونھ بند کيے رہنا اور نہ رُکے تو ہونٹ دانت کے نیچے دبائے اور اس سے بھی نہ رُکے تو قیام میں داہنے ہاتھ کی پُشت سے مونھ ڈھانک لے اور غیر قیام میں بائیں کی پُشت سے یا دونوں میں آستین سے اور بلا ضرورت ہاتھ یا کپڑے سے مونھ ڈھانکنا، مکروہ ہے۔ جماہی روکنے کا مجرب طریقہ یہ ہے کہ دل میں خیال کرے کہ انبیاء علیہم السلام کو جماہی نہیں آتی تھی۔
(۸) مرد کے ليے تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ کپڑے سے باہر نکالنا۔
(۹) عورت کے ليے کپڑے کے اندر بہتر ہے۔
(۱۰) جہاں تک ممکن ہو کھانسی دفعہ کرنا۔
(۱۱) جب مکبّر
حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ
کہے تو امام و مقتدی سب کا کھڑا ہو جانا۔
(۱۲) جب مکبّر
قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃُ
کہہ لے تو نماز شروع کر سکتا ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ ا قامت پوری ہونے پر شروع کرے۔ (3)
(۱۳) دونوں پنجوں کے درميان، قیام میں چار اُنگل کا فاصلہ ہونا۔
(۱۴) مقتدی کو امام کے ساتھ شروع کرنا۔
(۱۵) سجدہ زمین پر بلا حائل ہونا ۔
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۷۷.
2 ۔ سجدہ کی جگہ۔ 3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۱۴۔۲۱۶.
نماز کے بعد جو اذکار طویلہ احادیث میں وارد ہیں، وہ ظہر و مغرب و عشا میں سنتوں کے بعد پڑھے جائیں، قبل سُنّت مختصر دُعا پر قناعت چاہیے، ورنہ سنتوں کا ثواب کم ہوجائے گا۔ (1) (ردالمحتار)
تنبیہ: احادیث میں کسی دُعا کی نسبت جو تعداد وارد ہے اس سے کم زیادہ نہ کرے کہ جو فضائل ان اذکار کے ليے ہیں وہ اسی عدد کے ساتھ مخصوص ہیں ان میں کم زیادہ کرنے کی مثال یہ ہے کہ کوئی قفل (2) کسی خاص قسم کی کنجی سے کھلتا ہے اب اگر کنجی میں دندانے کم یا زائد کر دیں تو اس سے نہ کھلے گا، البتہ اگر شمار میں شک واقع ہو تو زیادہ کر سکتا ہے اور یہ زیادت نہیں بلکہ اتمام ہے۔ (3) (ردالمحتار) ہر نماز کے بعد تین بار استغفار کرے اور آیۃ الکرسی، تینوں
قُل
ایک ایک بار پڑھے اور
سُبْحَانَ اللہ
۳۳ بار،
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
۳۳ بار،
اَللہُ اَکْبَر
۳۴ بار اور
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھْوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ
ایک بار، اس کے گناہ بخش ديے جائیں گے، اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں اور عصر و فجر کے بعد بغیر پاؤں بدلے، بغیر کلام کيے ۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْیئٍ قَدِیْرٌ . (4)
دس دس بار پڑھے بعد ہر نماز، پیشانی یعنی سر کے اگلے حصّہ پر ہاتھ رکھ کر پڑھے۔
بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اَللّٰھُمَّ اَذْھِبْ عَنِّی الْھَمَّ وَالْحُزْنَ . (5)
اور ہاتھ کھینچ کر ماتھے تک لائے۔
حدیث ۱: ابو داود انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ''نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور عصر کے بعد غروب تک ذکر کرنا، اس سے بہتر ہے کہ چار چار غلام بنی اسماعیل سے آزاد کيے جائیں۔'' (6)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: ہل يفارقہ الملکان؟، ج۲، ص۳۰۰.
2 ۔ تالا۔
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب فيما لو زاد علی العدد... إلخ، ج۲، ص۳۰۲.
4 ۔ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اوس کا کوئی شریک نہیں، اس کے ليے ملک و حمد ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے، وہ زندہ کرتا
ہے اور موت دیتا ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔ ۱۲
5 ۔ اﷲ (عزوجل) کے نام کی برکت سے کہ اوس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ رحمن و رحیم ہے، اے اﷲ! تو مجھ سے غم و رنج کو دور کردے۔ ۱۲
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب العلم، باب في القصص، الحديث: ۳۶۶۷، ج۳، ص۴۵۲.
حدیث ۲: ترمذی انہیں سے راوی، ارشاد ہوا کہ ''فجر کی نماز جماعت سے پڑھ کر آفتاب نکلنے تک ذکر کرے، پھر بعد بلندی آفتاب دو رکعت نماز پڑھے، تو ایسا ہے جیسے حج و عمرہ کیا پورا پورا پورا۔'' (1)
حدیث ۳: بخاری و مسلم وغیرہما مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم ہر نماز فرض کے بعد یہ دُعا پڑھتے۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا رَآ دَّ لِمَا قَضَیْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَاالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ . (2)
حدیث ۴: صحیح مسلم میں عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ ''حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم)سلام پھیر کر، بلند آواز سے یہ دُعا پڑھتے۔''
لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ؕ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاہُ لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَاءُ اَلْحَسَنُ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ . (3)
حدیث ۵: صحیح بخاری و مسلم میں مروی، کہ فقرائے مہاجرین حاضر خدمت اقدس ہوئے اور عرض کی! ''مال داروں نے بڑے بڑے درجے اور لازوال نعمت حاصل کی''، ارشاد فرمایا: کیا سبب؟ لوگوں نے عرض کی، ''جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں ہم نہیں کر سکتے اور غلام آزاد کرتے ہیں ہم نہیں
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب السفر، باب ماذکر ممّا يستحب من الجلوس في المسجد... إلخ، الحديث: ۵۸۶، ج۲، ص۱۰۰.
2 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب الذکر بعد الصلوٰۃ، الحديث: ۸۴۴، ج۱،ص۲۹۴. دون قولہ (وَلَا رَآدَّ لِمَا قَضَیْتَ).
اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور وہ ہر شے پر قادر ہے، اے اﷲ (عزوجل) ! جسے تو عطا کرے،
اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں اور تیری قضا کا کوئی پھیرنے والا نہیں اور تیرے عذاب سے مالدار
کو اس کا مال نفع نہیں دیتا۔ ۱۲
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب استجاب الذکر... إلخ، الحديث: ۵۹۴، ص۲۹۹.
و ''مشکاۃ المصابيح''، کتاب الصلاۃ، باب الذکر بعد الصلاۃ، الحديث: ۹۶۳، ج۱، ص۲۸۷.
(اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے ليے ملک ہے اور اسی کے ليے حمد ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے)
گناہ سے باز رہنے اور نیکی کی طاقت اﷲ ہی سے ہے، اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں، اسی کے ليے نعمت و فضل ہے
اور اسی کے ليے اچھی تعریف ہے، اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہم اسی کے ليے دین کو خالص کرتے ہیں اگرچہ کافر بُرا مانیں۔۱۲
کر سکتے، ارشاد فرمایا: کیا تمہیں ایسی بات نہ سکھا دوں؟ جس سے ان لوگوں کو پالو جو تم سے آگے بڑھ گئے اور بعد والوں پر سبقت لے جاؤ اورتم سے کوئی افضل نہ ہو، مگر وہ جو تمہاری طرح کرے، لوگوں نے عرض کی، ہاں یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) ! ارشاد فرمایا کہ: ''ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار
سُبْحَانَ اللہِ اَللہُ اَکْبَرْ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ،
کہہ لیا کرو، ابو صالح کہتے ہیں کہ پھر فقرائے مہاجرین حاضر ہوئے اور عرض کی، ہم نے جو کیا اس کو ہمارے بھائی مال داروں نے سُنا، تو انہوں نے بھی ویسا ہی کیا، ارشاد فرمایا: ''یہ اﷲ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔'' (1) ابو صالح کا کلام صرف مسلم میں ہے۔
حدیث ۶: صحیح مسلم میں کعب بن عجرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ ارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''کچھ اذکار نماز کے بعد کے ہیں، جن کا کہنے والا نا مراد نہیں رہتا۔ ہر فرض نماز کے بعد
سُبْحَانَ اللہِ
۳۳ بار،
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
۳۳ بار،
اَللہُ اَکْبَرْ
۳۴ بار۔'' (2)
حدیث ۷: صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جو ہر نمازکے بعد ۳۳ بار
سُبْحَانَ اللہِ،
۳۳ بار
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ،
۳۳ بار
اَللہُ اَکْبَرْ
کہے کہ یہ کُل ننانوے ہوئے اور یہ کلمہ کہہ کر سو پورے کر لے،
لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَییئٍ قَدِیْرٌؕ،
تو اس کی تمام خطائیں بخش دی جائیں گی، اگرچہ دریا کے جھاگ کی مثل ہوں۔'' (3)
حدیث ۸: بیہقی شُعَب الایمان میں راوی، کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کو اسی منبر پر فرماتے سنا، جو ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھ لے، اسے جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں سوا موت کے یعنی مرتے ہی جنت میں چلا جائے اور لیٹتے وقت جو اسے پڑھے، اﷲ تعالیٰ اس کے اور اس کے پروسی کے گھر کو اور آس پاس کے گھر والوں کو شیطان اور چور سے امن دے گا۔'' (4)
حدیث ۹: امام احمد عبدالرحمن بن غنم سے اور ترمذی ابو ذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''مغرب اور صبح کے بعد بغیر جگہ بدلے اور پاؤں موڑے، دس بار جو یہ پڑھ لے۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ؕ .
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب استجاب الذکر... إلخ، الحديث: ۵۹۵، ص۳۰۰.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب استجاب الذکر... إلخ، الحديث: ۵۹۶، ص۳۰۱.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب استجاب الذکر... إلخ، الحديث: ۵۹۷، ص۳۰۱.
4 ۔ ''شعب الإيمان''، باب في تعظيم القرآن، فصل في فضائل السور والآيات، الحديث: ۲۳۹۵، ج۲، ص۴۵۸.
اس کے ليے ہر ایک کے بدلے دس نیکیاں لکھی جائیں اور دس گناہ محو کيے جائیں گے اور دس درجے بلند کيے جائیں گے اور یہ دُعا اس کے ليے ہر برائی اور شیطان رجیم سے حفظ ہے اور کسی گناہ کو حلال نہیں کہ اسے پہنچے، سوا شرک کے اور وہ سب سے عمل میں اچھا ہے، مگر وہ جو اس سے افضل کہے، تو یہ بڑھ جائے گا۔'' (1) دوسری روایت میں فجر و عصر آیا ہے۔ (2)
اور حنفیہ کے مذہب سے زیادہ مناسب یہی ہے۔
حدیث ۱۰: امام احمد و ابو داود و نَسائی روایت کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا: ''اے معاذ !میں تجھے محبوب رکھتا ہوں''۔ میں نے عرض کی، یا رسول اﷲ ! میں بھی حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کو محبوب رکھتا ہوں، فرمایا: ''تو ہر نماز کے بعد اسے کہہ لینا، چھوڑنا نہیں۔''
رَبِّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَ شُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ . (3)
حدیث ۱۱: ترمذی امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے نجد کی جانب ايک لشکر بھیجا وہ جلد واپس ہوا اور غنیمت بہت لایا، ایک صاحب نے کہا، اس لشکر سے بڑھ کر ہم نے کوئی لشکرنہیں دیکھا جو جلد واپس ہو اہو اور غنیمت زیادہ لایا ہو، اس پر نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ ''کیا وہ قوم نہ بتادوں، جو غنیمت اور واپسی میں ان سے بڑھ کر ہیں، جو لوگ نماز صبح میں حاضر ہوئے، پھر بیٹھے اﷲ کا ذکر کرتے رہے یہاں تک کہ آفتاب طلوع کر آئے، وہ جلد واپس ہونے والے اور زیادہ غنیمت والے ہیں۔'' (4)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(فَاقْرَءُوۡا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ؕ ) (5)
قرآن سے جو میّسر آئے پڑھو۔
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث عبدالرحمٰن بن غنم الأشعري، الحدیث: ۱۸۰۱۲، ج۶، ص۲۸۹.
2 ۔ ''الترغيب و الترھيب''، الترغيب في أذکار... إلخ، ج۱، ص۱۸۰.
3 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب السھو، باب نوع آخر من الدعاء، الحديث: ۱۳۰۰، ص۲۲۳.
اے پروردگار! تو اپنے ذکر و شکر اور حسن عبادت پر میری مددفرما۔ ۱۲
4 ۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الدعوات، ۱۰۸۔باب، الحديث: ۳۵۷۲، ج۵، ص۳۲۸.
5 ۔ پ۲۹، المزمل: ۲۰.
اور فرماتا ہے:
( وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾ )( 1)
جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سُنو اور چپ رہو، اس امید پر کہ رحم کيے جاؤ۔
حدیث ۱تا۳: امام بخاری و مسلم نے عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ''جس نے سورۂ فاتحہ نہ پڑھی، اس کی نماز نہیں۔'' (2) یعنی نماز کامل نہیں، چنانچہ دوسری روایت صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے
((فَھِیَ خِدَاجٌ)) (3)
وہ نماز ناقص ہے، یہ حکم اس کے ليے ہے جو امام ہو یا تنہا پڑھتا ہو اور مقتدی کو خود پڑھنا نہیں، بلکہ امام کی قراء ت اس کی قراء ت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: ''جوامام کے پیچھے ہو تو امام کی قراء ت، اس کی قراء ت ہے۔'' (4) اس حدیث کو امام محمد اور ترمذی و حاکم نے جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا اور اسی کے مثل امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کی امام حلبی نے فرمایا: کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
حدیث ۴تا۶: امام ابو جعفر شرح معانی الآثار میں روایت کرتے ہیں، کہ حضرت عبداﷲ بن عمر و زید بن ثابت و جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے سوال ہوا ان سب حضرات نے فرمایا: ''امام کے پیچھے کسی نماز میں قراء ت نہ کر۔'' (5)
حدیث ۷: امام محمد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مؤطا میں روایت کی، کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے امام کے پیچھے قراء ت کے بارے میں سوال ہوا، فرمایا: ''خاموش رہ کہ نماز میں شغل ہے اور امام کی قراء ت تجھے کافی ہے۔'' (6)
حدیث ۸: سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''میں دوست رکھتا ہوں کہ جو امام کے پیچھے قراء ت کرے، اس کے مونھ میں انگارا ہو۔'' (7)
حدیث ۹: امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''جو امام کے پیچھے قراء ت کرتا ہے، کاش اس کے مونھ میں پتھر ہو۔'' (8)
1 ۔ پ۹، الاعراف: ۲۰۴.
2 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب وجوب القراء ۃ... إلخ، الحديث: ۷۵۶، ج۱، ص۲۶۷.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب وجوب القراء ۃ الفاتحۃ... إلخ، الحديث:۳۹۵، ص۲۰۸.
4 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد اﷲ، الحديث: ۱۴۶۴۹، ج۵، ص۱۰۰.
5 ۔ ''شرح معاني الآثار''، کتاب الصلاۃ، باب القراء ۃ خلف الإمام، الحديث: ۱۲۷۸، ج۱، ص۲۸۴.
6 ۔ ''الموطا''، باب القراء ۃ في الصلاۃخلف الإمام، الحديث: ۱۱۹، ص۶۲.
7 ۔ ''المصنف'' لابن أبي شيبۃ، کتاب الصلاۃ، باب من کرہ القراء ۃ خلف الإمام، الحديث: ۷، ج۱، ص۴۱۲.
8 ۔ ''المصنف'' لعبدالرزاق، باب القراء ۃ خلف الإمام، الحديث: ۲۸۰۹، ج۲، ص۹۰.
حدیث ۱۰: حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے، کہ فرمایا: ''جس نے امام کے پیچھے قراء ت کی، اس نے فطرت سے خطا کی۔'' (1)
یہ تو پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ قراء ت میں اتنی آواز درکار ہے کہ اگر کوئی مانع مثلاً ثقل سماعت شور وغل نہ ہو تو خود سُن سکے، اگر اتنی آواز بھی نہ ہو، تو نماز نہ ہوگی۔ اسی طرح جن معاملات میں نطق کو دخل ہے سب میں اتنی آواز ضروری ہے، مثلاً جانور ذبح کرتے وقت بسم اﷲ کہنا، طلاق، عتاق، استثنا، آیت سجدہ پڑھنے پر سجدۂ تلاوت واجب ہونا۔
مسئلہ ۱: فجر و مغرب و عشا کی دو پہلی میں اور جمعہ و عیدین و تراویح اور وتر رمضان کی سب میں امام پر جہر واجب ہے اور مغرب کی تیسری اور عشا کی تیسری چوتھی یا ظہر و عصر کی تمام رکعتوں میں آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: جہر کے یہ معنیٰ ہیں کہ دوسرے لوگ یعنی وہ کہ صفِ اوّل میں ہيں سُن سکیں، یہ ادنیٰ درجہ ہے اور اعلےٰ کے ليے کوئی حد مقرر نہیں اور آہستہ یہ کہ خود سُن سکے۔ (3) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۳: اس طرح پڑھنا کہ فقط دو ايک آدمی جو اس کے قریب ہیں سُن سکیں، جہر نہیں بلکہ آہستہ ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۴: حاجت سے زیادہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنا کہ اپنے یا دوسرے کے ليے باعثِ تکلیف ہو، مکروہ ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: آہستہ پڑھ رہا تھا کہ دوسرا شخص شامل ہوگیا تو جو باقی ہے اُسے جہر سے پڑھے اور جو پڑھ چکا ہے اس کا اعادہ نہیں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: ایک بڑی آیت جیسے آیت الکرسی یا آیت مداينہ اگر ایک رکعت میں اس میں کا بعض پڑھا اور دوسری میں
1 ۔ ''المصنف'' لابن أبي شيبۃ، کتاب الصلاۃ، باب من کرہ القراء ۃ خلف الإمام، الحديث: ۶، ج۱، ص۴۱۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، ج۲، ص۳۰۵، وغیرہ.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار'، کتاب الصلاۃ، مطلب في الکلام علی الجہر و المخافتۃ، ج۲، ص۳۰۸.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، ج۲، ص۳۰۸.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، ج۲، ص۳۰۴.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، ج۲، ص۳۰۴.
بعض، تو جائز ہے، جب کہ ہر رکعت میں جتنا پڑھا، بقدر تین آیت کے ہو۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: دن کے نوافل میں آہستہ پڑھنا واجب ہے اور رات کے نوافل میں اختیار ہے اگر تنہا پڑھے اور جماعت سے رات کے نفل پڑھے، تو جہر واجب ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۸: جہری نمازوں میں منفرد کو اختيار ہے اور افضل جہر ہے جب کہ ادا پڑھے اور جب قضا ہے تو آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۹: جہری کی قضا اگرچہ دن میں ہو امام پر جہر واجب ہے اور سرّی کی قضا میں آہستہ پڑھنا واجب ہے، اگرچہ رات میں ادا کرے۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۰: چار رکعتی فرض کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورت بھول گیا تو پچھلی رکعتوں میں پڑھنا واجب ہے اور ایک میں بھول گیا ہے، تو تیسری یا چوتھی میں پڑھے اور مغرب کی پہلی دونوں میں بھول گیا تو تیسری میں پڑھے اور ایک رکعت کی قراء ت سورت جاتی رہی اور ان سب صورتوں میں فاتحہ کے ساتھ پڑھے، جہری نماز ہو تو فاتحہ و سورت جہراً پڑھے، ورنہ آہستہ اور سب صورتوں میں سجدۂ سہو کرے اور قصداً چھوڑی تو اعادہ کرے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: سور ت ملانا بھول گیا، رکوع میں یاد آیا تو کھڑا ہو جائے اور سورت ملائے پھر رکوع کرے اور اخیر میں سجدۂ سہو کرے اگر دوبارہ رکوع نہ کریگا، تو نماز نہ ہوگی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: فرض کی پہلی رکعتوں میں فاتحہ بھول گیا تو پچھلی رکعتوں میں اس کی قضا نہیں اور رکوع سے پیشتر یاد آیا تو فاتحہ پڑھ کر پھر سورت پڑھے، یوہیں اگر رکوع میں یاد آیا تو قیام کی طرف عود کرے اور فاتحہ و سورت پڑھے پھر رکوع کرے، اگر دوبارہ رکوع نہ کریگا، نماز نہ ہوگی۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: ایک آیت کا حفظ کرنا ہر مسلمان مکلّف پر فرض عین ہے اور پورے قرآن مجید کا حفظ کرنا فرض کفايہ اور سورۂ
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج۱، ص۶۹.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، ج۲، ص۳۰۶.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق، ص۳۰۷، و ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۷۲.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، و مطلب في الکلام علی الجھر و المخافتۃ، ج۲، ص۳۱۰.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، مطلب: تحقيق مھم فيما لو تذکر... إلخ، ج۲، ص۳۱۱.
7 ۔ المرجع السابق.
فاتحہ اور ایک دوسری چھوٹی سورت یا اس کے مثل، مثلاً تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت کا حفظ، واجب عین ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: بقدر ضرورت مسائل فقہ کا جاننا فرض عین ہے اور حاجت سے زائد سیکھنا حفظ جمیع قرآن سے افضل ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: سفر میں اگر امن و قرار ہو تو سنت یہ ہے کہ فجر و ظہر میں سورۂ بروج یا اس کی مثل سورتیں پڑھے اور عصر و عشا میں اس سے چھوٹی اور مغرب میں قصار مفصّل کی چھوٹی سورتیں اور جلدی ہو تو ہر نماز میں جو چاہے پڑھے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: اضطراری حالت میں مثلاً وقت جاتے رہنے یا دشمن یا چور کا خوف ہو تو بقدر حال پڑھے، خواہ سفر میں ہو یا حضر (4) میں، يہاں تک کہ اگر واجبات کی مراعات نہيں کرسکتا تو اس کی بھی اجازت ہے، مثلاً فجر کا وقت اتنا تنگ ہے کہ صرف ایک ایک آیت پڑھ سکتا ہے، تو یہی کرے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار) مگر بعد بلندی آفتاب اس نماز کا اعادہ کرے۔
مسئلہ ۱۷: سنت فجر میں جماعت جانے کا خوف ہو تو صرف واجبات پر اقتصار کرے، ثنا و تعوذ کو ترک کرے اور رکوع سجود میں ايک ایک بار تسبیح پر اِکتفا کرے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: حضر میں جب کہ وقت تنگ نہ ہو تو سنت یہ ہے کہ فجر و ظہر میں طوال مفصل پڑھے اور عصر و عشا میں اوساط مفصل اور مغرب میں قصار مفصل اور ان سب صورتوں میں امام و منفرد دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ (7) (درمختار وغیرہ)
فائدہ: حجرات سے آخر تک قرآن مجید کی سورتوں کو مفصل کہتے ہیں، اس کے یہ تین حصّے ہیں، سورۂ حجرات سے بروج تک طوال مفصل اور بروج سے لم یکن تک اوساط مفصل اور لم یکن سے آخر تک قصار مفصل۔
مسئلہ ۱۹: عصر کی نماز وقت مکروہ میں ادا کرے، جب بھی صواب یہ ہے کہ قراء ت مسنونہ کو پورا کرے، جب کہ وقت میں تنگی نہ ہو۔ (8) (عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، ج۲، ص۳۱۵.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، مطلب: السنۃ تکون سنۃ عين... إلخ، ج۲، ص۳۱۵.
3 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۷۷.
4 ۔ یعنی حالتِ اقامت۔
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، فصل في القراء ۃ، کتاب الصلاۃ، مطلب: السنۃ تکون سنۃ عين... إلخ، ج۲، ص۳۱۷.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، مطلب: السنۃ تکون سنۃ عين و سنۃ کفايۃ، ج۲، ص۳۱۷.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، ج۲، ص۳۱۷، وغیرہ.
8 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۷۷.
مسئلہ ۲۰: وتر میں نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے پہلی رکعت میں
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی
دوسری میں
قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾
تیسری میں
قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾
پڑھی ہے، لہٰذا کبھی تبرکاً انہیں پڑھے۔ (1) (عالمگیری) اور کبھی پہلی رکعت میں سورۂ اعلیٰ کی جگہ
اِنَّاۤ اَنۡزَلْنٰہُ ۔
مسئلہ ۲۱: قراء ت مسنونہ پر زیادت نہ کرے، جب کہ مقتدیوں پر گراں ہو اور شاق نہ ہو تو زیادت قلیلہ میں حرج نہیں۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: فرضوں میں ٹھہر ٹھہر کر قراء ت کرے اور تراویح میں متوسط انداز پر اور رات کے نوافل میں جلد پڑھنے کی اجازت ہے، مگر ایسا پڑھے کہ سمجھ میں آسکے یعنی کم سے کم مد کا جو درجہ قاریوں نے رکھا ہے اس کو ادا کرے، ورنہ حرام ہے اس ليے کہ ترتیل سے قرآن پڑھنے کا حکم ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار) آج کل کے اکثر حفاظ اس طرح پڑھتے ہیں کہ مد کا ادا ہونا تو بڑی بات ہے
یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ
کے سوا کسی لفظ کا پتہ بھی نہیں چلتا نہ تصحیح حروف ہوتی، بلکہ جلدی میں لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں اور اس پر تفاخر ہوتا ہے کہ فلاں اس قدر جلد پڑھتا ہے، حالانکہ اس طرح قرآن مجید پڑھنا حرام و سخت حرام ہے۔
مسئلہ ۲۳: ساتوں قرأتیں جائز ہیں، مگر اولیٰ یہ ہے کہ عوام جس سے نا آشنا ہوں وہ نہ پڑھے کہ اس میں ان کے دین کا تحفظ ہے، جیسے ہمارے یہاں قراء ت امام عاصم بروایتِ حفص رائج ہے، لہٰذا یہی پڑھے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: فجر کی پہلی رکعت کو بہ نسبت دوسری کے دراز کرنا مسنون ہے اور اس کی مقدار یہ رکھی گئی ہے کہ پہلی میں دو تہائی، دوسری میں ایک تہائی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: اگر فجر کی پہلی رکعت میں طول فاحش کیا، مثلاً پہلی میں چالیس (۴۰) آیتیں، دوسری میں تین تو بھی مضایقہ نہیں، مگر بہتر نہيں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: بہتر یہ ہے کہ اور نمازوں میں بھی پہلی رکعت کی قراء ت دوسری سے قدرے زیادہ ہو، یہی حکم
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۷۸.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، مطلب: السنۃ تکون سنۃ... إلخ،
ج۲، ص۳۲۰.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۷۸.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل في القراء ۃ و مطلب: السنۃ تکون سنۃ عين... إلخ، ج۲، ص۳۲۲.
جمعہ وعیدین کا بھی ہے۔ (1) (عالمگیری )
مسئلہ ۲۷: سنن و نوافل میں دونوں رکعتوں میں برابر کی سورتیں پڑھے۔ (2) (منيہ)
مسئلہ ۲۸: دوسری رکعت کی قراء ت پہلی سے طویل کرنا مکروہ ہے جبکہ بیّن (3) فرق معلوم ہوتا ہو اور اس کی مقدار یہ ہے کہ اگر دونوں سورتوں کی آیتیں برابر ہوں تو تین آیت کی زیادتی سے کراہت ہے اور چھوٹی بڑی ہوں تو آیتوں کی تعداد کا اعتبار نہیں بلکہ حروف و کلمات کا اعتبار ہے، اگر کلمات و حروف میں بہت تفاوت ہو کراہت ہے اگرچہ آیتیں گنتی میں برابر ہوں، مثلاً پہلی میں
اَلَمْ نَشْرَحْ
پڑھی اور دوسری میں
لم یکن
تو کراہت ہے، اگرچہ دونوں میں آٹھ آٹھ آیتیں ہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: جمعہ و عیدین کی پہلی رکعت میں
سَبِّحِ اسْمَ
دوسری میں
ھَلْ اَتٰکَ
پڑھنا سنت ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم سے ثابت ہے، یہ اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: سورتوں کا معین کرلینا کہ اس نماز میں ہمیشہ وہی سورت پڑھا کرے، مکروہ ہے، مگر جو سورتیں احادیث میں وارد ہیں ان کو کبھی کبھی پڑھ لینا مستحب ہے، مگر مداومت نہ کرے کہ کوئی واجب نہ گمان کرلے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: فرض نماز ميں آیت ترغیب (جس میں ثواب کا بیان ہے) و ترہیب (جس میں عذاب کا ذکر ہے) پڑھے تو مقتدی و امام اس کے ملنے اور اس سے بچنے کی دُعا نہ کریں، نوافل با جماعت کا بھی یہی حکم ہے، ہاں نفل تنہا پڑھتا ہو تو دُعا کرسکتا ہے۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت کی تکرار مکروہ تنزیہی ہے، جب کہ کوئی مجبوری نہ ہو اور مجبوری ہو تو بالکل کراہت نہیں، مثلاً پہلی رکعت میں پوری
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ
پڑھی، تو اب دوسری میں بھی یہی پڑھے یا دوسری ميں بلاقصد وہی پہلی سورت شروع کر دی یا دوسری سورت یاد نہیں آتی، تو وہی پہلی پڑھے۔ (8) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۷۸.
2 ۔ ''منيۃ المصلي''، مقدار القراء ۃ في الصلاۃ، ص۳۰۰.
3 ۔ یعنی واضح۔ صاف۔
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، و مطلب: السنۃ تکون سنۃ عين... إلخ،
ج۲، ص۳۲۲.
5 ۔ المرجع السابق، ص۳۲۴.
6 ۔ المرجع السابق، ص۳۲۵.
7 ۔ المرجع السابق، ص۳۲۷.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، و مطلب: السنۃ تکون سنۃ عين... إلخ، ج۲، ص۳۲۹.
مسئلہ ۳۳: نوافل کی دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت کو مکرر پڑھنا یا ایک رکعت میں اسی سورت کو باربار پڑھنا، بلا کراہت جائز ہے۔ (1) (غنیہ)
مسئلہ ۳۴: ایک رکعت میں پورا قرآن مجید ختم کر لیا تو دوسری میں فاتحہ کے بعد
الٓم
سے شروع کرے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: فرائض کی پہلی رکعت میں چند آیتیں پڑھیں اور دوسری میں دوسری جگہ سے چند آیتیں پڑھیں، اگرچہ اسی سورت کی ہوں تو اگر درمیان میں دو یا زیادہ آیتیں رہ گئیں تو حرج نہیں، مگر بلا ضرورت ایسا نہ کرے اور اگر ایک ہی رکعت میں چند آیتیں پڑھیں پھر کچھ چھوڑ کر دوسری جگہ سے پڑھا، تو مکروہ ہے اور بھول کر ایسا ہوا تو لوٹے اور چھوٹی ہوئی آیتیں پڑھے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: پہلی رکعت میں کسی سورت کا آخر پڑھا اور دوسری میں کوئی چھوٹی سورت، مثلاً پہلی میں
اَفَحَسِبْتُمْ
اور دوسری میں
قُلْ ھُوَ اللہُ،
تو حرج نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: فرض کی ایک رکعت میں دو سورت نہ پڑھے اور منفرد پڑھ لے تو حرج بھی نہیں، بشرطیکہ ان دونوں سورتوں میں فاصلہ نہ ہو اور اگر بیچ میں ایک یا چند سورتیں چھوڑ دیں، تو مکروہ ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۸: پہلی رکعت میں کوئی سورت پڑھی اور دوسری میں ایک چھوٹی سورت درمیان سے چھوڑ کر پڑھی تو مکروہ ہے اور اگر وہ درمیان کی سورت بڑی ہے کہ اس کو پڑھے تو دوسری کی قراء ت پہلی سے طویل ہو جائے گی تو حرج نہیں، جيسے
وَالتِّیْنِ
کے بعد
اِنَّا اَنْزَلْنَا
پڑھنے میں حرج نہیں اور
اِذَا جَآءَ
کے بعد
قُلْ ھُوَ اللہُ
پڑھنا نہ چاہیے۔ (6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳۹: قرآن مجید اُلٹا پڑھنا کہ دوسری رکعت میں پہلی والی سے اوپر کی سورت پڑھے، یہ مکروہ تحریمی ہے، مثلاً پہلی میں
قُلْ یٰاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ
پڑھی اور دوسری میں
اَلَمْ تَرَکَیْفَ۔ (7)
(درمختار) اس کے ليے سخت وعید آئی، عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''جو قرآن اُلٹ کر پڑھتا ہے، کیا خوف نہیں کرتا کہ اﷲ اس کا دل اُلٹ دے۔'' (8)
1 ۔ ''غنيۃ المتملي''، فیما يکرہ من القران فی العسلاۃ وما لا يکرہ... إلخ، ص۴۹۴. موضحاً.
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۷۹.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، مطلب: الاستماع للقرآن فرض کفايۃ، ج۲، ص۳۲۹.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۷۸.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، مطلب: الاستماع للقرآن فرض کفايۃ، ج۲، ص۳۳۰.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، ج۲، ص۳۳۰، وغیرہ.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، ج۲، ص۳۳۰.
8 ۔ ''الفتاوی الرضويۃ''، ج۶، ص۲۳۹.
اور بھول کر ہو تو نہ گناہ، نہ سجدۂ سہو۔
مسئلہ ۴۰: بچوں کی آسانی کے ليے پارۂ عم خلاف ترتیب قرآن مجید پڑھنا جائز ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: بھول کر دوسری رکعت میں اوپر کی سورت شروع کر دی یا ایک چھوٹی سورت کا فاصلہ ہوگیا، پھر یاد آیا تو جو شروع کر چکا ہے اسی کو پورا کرے اگرچہ ابھی ایک ہی حرف پڑھا ہو، مثلاً پہلی میں
قُلْ یٰاَیُّھَا الْکَفِرُوْنَ
پڑھی اور دوسری میں
اَلَمْ تَرَکَیْفَ یا تَبَّتْ
شروع کر دی، اب یاد آنے پر اسی کو ختم کرے، چھوڑ کر
اِذَا جآءَ
پڑھنے کی اجازت نہیں۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴۲: بہ نسبت ایک بڑی آیت کے تین چھوٹی آیتوں کا پڑھنا افضل ہے اور جز و سورت اور پوری سورت میں افضل وہ ہے جس میں زیادہ آیتیں ہوں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: رکوع کے ليے تکبیر کہی، مگر ابھی رکوع میں نہ گیا تھا یعنی گھٹنوں تک ہاتھ پہنچنے کے قابل نہ جُھکا تھا کہ اور زیادہ پڑھنے کا ارادہ ہوا تو پڑھ سکتا ہے، کچھ حرج نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: قرآن مجیددیکھ کر پڑھنا، زبانی پڑھنے سے افضل ہے کہ يہ پڑھنا بھی ہے اور دیکھنا اور ہاتھ سے اس کا چھونا بھی اور سب عبادت ہيں۔ (5)
مسئلہ ۴۵: مستحب یہ ہے کہ باوضو قبلہ رو اچھے کپڑے پہن کر تلاوت کرے اور شروع تلاوت میں اعوذ پڑھنا مستحب ہے (6) اور ابتدائے سورت میں بسم اﷲ سنت، ورنہ مستحب اور اگر جو آیت پڑھنا چاہتا ہے تو اس کی ابتدا میں ضمیر مولیٰ تعالیٰ کی طرف راجع ہے، جیسے
ھُوَ اللہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ
تو اس سورت میں اعوذ کے بعد بسم اﷲ پڑھنے کا استحباب
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،فصل في القراء ۃ، مطلب: الاستماع للقرآن فرض کفايۃ، ج۲، ص۳۳۰.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، ج۲، ص۳۳۰، وغیرہ. 3 ۔ المرجع السابق، ص۳۳۱.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۷۹.
5 ۔ ''غنيۃ المتملي''، القراء ۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۵.
6 ۔ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ رحمۃ اﷲ القوی ''فتاویٰ فیض الرسول''، جلد
ـــ
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،فصل في القراء ۃ، مطلب: الاستماع للقرآن فرض کفايۃ، ج۲، ص۳۳۰.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القراء ۃ، ج۲، ص۳۳۰، وغیرہ. 3 ۔ المرجع السابق، ص۳۳۱.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۷۹.
5 ۔ ''غنيۃ المتملي''، القراء ۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۵.
6 ۔ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ رحمۃ اﷲ القوی ''فتاویٰ فیض الرسول''، جلد1، صفحہ 351 پر فرماتے ہیں: کہ ''تلاوت کے شروع ميں اعوذ باﷲ پڑھنا مستحب ہے واجب نہيں۔ اور بے شک بہارِ شريعت ميں واجب چھپا ہے جس پرغنيہ کا حوالہ ہے، حالانکہ غنيہ مطبوعہ رحيميہ ص۴۶۳ ميں ہے التعوذ يستحب مرۃ واحدۃ ما لم يفصل بعمل دنيوی. (یعنی ایک مرتبہ تعوذ پڑھنا مستحب ہے جب تک اس تلاوت میں کوئی دنیاوی کام حائل نہ ہو)۔ تو معلوم ہوا کہ بہارِ شريعت ميں بہت سے مسائل جو ناشرين کی غفلتوں کی وجہ سے غلط چھپ گئے ہيں، ان ميں سے ايک يہ بھی ہے۔'' اسی وجہ سے ہم نے ''مستحب '' کر دیا ہے ۔
مؤکد ہے، درمیان میں کوئی دنیوی کام کرے تو
اعوذباﷲ بسم اﷲ
پھر پڑھ لے اور دینی کام کیا مثلاً سلام یا اذان کا جواب دیا یا سبحان اﷲ اور کلمۂ طیّبہ وغیرہ اذکار پڑھے،
اَعُوْذُ بِاللہ
پھر پڑھنا اس کے ذمے نہیں۔ (1) (غنیہ وغیرہا)
مسئلہ ۴۶: سورۂ براء ت سے اگر تلاوت شروع کی تو
اَعُوْذُ بِاللہِ بِسْمِ اللہ
کہہ لے اور جو اس کے پہلے سے تلاوت شروع کی اور سورت براء ت آگئی تو تسمیہ پڑھنے کی حاجت نہیں۔ (2) (غنیہ) اور اس کی ابتدا میں نیا تعوذ جو آج کل کے حافظوں نے نکالا ہے، بے اصل ہے اور یہ جو مشہو ر ہے کہ سورۂ توبہ ابتداً بھی پڑھے، جب بھی بسم اﷲ نہ پڑھے، یہ محض غلط ہے۔
مسئلہ ۴۷: گرمیوں میں صبح کو قرآن مجید ختم کرنا بہتر ہے اور جاڑوں میں اوّل شب کو، کہ حدیث میں ہے: ''جس نے شروع دن میں قرآن ختم کیا، شام تک فرشتے اس کے ليے استغفار کرتے ہیں اور جس نے ابتدائے شب میں ختم کیا، صبح تک استغفار کرتے ہیں۔'' اس حدیث کو دارمی نے سعد بن وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، تو گرمیوں میں چونکہ دن بڑا ہوتا ہے تو صبح کے ختم کرنے میں استغفار ملائکہ زیادہ ہوگی اور جاڑوں کی راتیں بڑی ہوتی ہیں تو شروع رات میں ختم کرنے سے استغفار زیادہ ہوگی۔ (3) (غنیہ)
مسئلہ ۴۸: تین دن سے کم میں قرآن کا ختم خلافِ اَولیٰ ہے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے تین رات سے کم میں قرآن پڑھا، اس نے سمجھا نہیں۔'' (4) اس حدیث کو ابو داود و ترمذی و نَسائی نے عبداﷲ بن عمر و بن عاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔
مسئلہ ۴۹: جب ختم ہو تو تین بار
قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ
پڑھنا بہتر ہے، اگرچہ تراویح میں ہو، البتہ اگر فرض نماز میں ختم کرے، تو ایک بار سے زیادہ نہ پڑھے۔ (5) (غنیہ وغیرہا)
مسئلہ ۵۰: لیٹ کر قرآن پڑھنے میں حرج نہیں، جب کہ پاؤں سمٹے ہوں اور مونھ کھلا ہو، یوہیں چلنے اور کام کرنے کی حالت میں بھی تلاوت جائز ہے، جبکہ دل نہ بٹے، ورنہ مکروہ ہے۔ (6) (غنیہ)
مسئلہ ۵۱: غسل خانہ اور مواضعِ نجاست (7) میں قرآن مجید پڑھنا، ناجائز ہے۔ (8) (غنیہ)
1 ۔ ''غنيۃ المتملي''، القراء ۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۵، وغیرہا.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق، ص۴۹۶.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب شہر رمضان، باب تحزيب القرآن، الحديث: ۱۳۹۴، ج۲، ص۷۹.
5 ۔ ''غنيۃ المتملي''، القراء ۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۶، وغیرہا.
6 ۔ المرجع السابق. 7 ۔ یعنی نجاست کی جگہوں۔
8 ۔ ''غنيۃ المتملي''، القراء ۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۶.
مسئلہ ۵۲: جب بلند آواز سے قرآن پڑھا جائے تو تمام حاضرین پر سُننا فرض ہے، جب کہ وہ مجمع بغرض سُننے کے حاضر ہو ورنہ ایک کا سننا کافی ہے، اگرچہ اور اپنے کام میں ہوں۔ (1) (غنیہ، فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۵۳: مجمع میں سب لوگ بلند آواز سے پڑھیں یہ حرام ہے، اکثر تیجوں میں سب بلند آواز سے پڑھتے ہیں یہ حرام ہے، اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ آہستہ پڑھیں۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۴: بازاروں ميں اور جہاں لوگ کام میں مشغول ہوں بلند آواز سے پڑھنا ناجائز ہے، لوگ اگر نہ سُنیں گے تو گناہ پڑھنے والے پر ہے اگر کام میں مشغول ہونے سے پہلے اس نے پڑھنا شروع کر دیا ہو اور اگر وہ جگہ کام کرنے کے ليے مقرر نہ ہو تو اگر پہلے پڑھنا اس نے شروع کیا اور لوگ نہیں سنتے تو لوگوں پر گناہ اور اگرکام شروع کرنے کے بعد اس نے پڑھنا شروع کیا، تو اس پر گناہ۔ (3) (غنیہ)
مسئلہ ۵۵: جہاں کوئی شخص علمِ دین پڑھا رہا ہے يا طالب علم علمِ دین کی تکرار کرتے يا مطالعہ دیکھتے ہوں، وہاں بھی بلند آواز سے پڑھنا منع ہے۔ (4) (غنیہ)
مسئلہ ۵۶: قرآن مجید سُننا، تلاوت کرنے اور نفل پڑھنے سے افضل ہے۔ (5) (غنیہ)
مسئلہ ۵۷: تلاوت کرنے میں کوئی شخص معظم دینی، بادشاہ اسلام یا عالِم دین یا پیر یا استاد یا باپ آجائے، تو تلاوت کرنے والا اس کی تعظیم کو کھڑا ہو سکتا ہے۔ (6) (غنیہ)
مسئلہ ۵۸: عورت کو عورت سے قرآن مجيد پڑھنا غیر محرم نابینا سے پڑھنے سے بہتر ہے، کہ اگرچہ وہ اسے دیکھتا نہیں مگر آواز تو سنتا ہے اور عورت کی آواز بھی عورت ہے یعنی غیرمحرم کو بلا ضرورت سُنانے کی اجازت نہیں۔ (7) (غنیہ)
مسئلہ ۵۹: قرآن پڑھ کر بھلا دینا گناہ ہے، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم فرماتے ہیں: ''میری امت کے ثواب مجھ پر پیش کيے گئے، یہاں تک کہ تنکا جو مسجد سے آدمی نکال دیتا ہے اور میری امت کے گناہ مجھ پر پیش ہوئے، تو اس سے بڑھ
1 ۔ ''غنيۃ المتملي''، القراء ۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۷، و ''الفتاوی الرضويۃ ''، ج۲۳، ص۳۵۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''
3 ۔ ''غنيۃ المتملي''، القراء ۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۷.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ المرجع السابق.
کر کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ آدمی کو سورت یا آیت دی گئی اور اس نے بھلا دیا۔'' (1) اس حدیث کو ابو داود و ترمذی نے روایت کیا، دوسری روایت میں ہے، ''جو قرآن پڑھ کر بھول جائے قیامت کے دن کوڑھی ہو کر آئے گا۔'' (2) اس حدیث کو ابو داود و دارمی و نَسائی نے روایت کیا اور قرآن مجید میں ہے کہ: ''اندھا ہو کر اُٹھے گا۔'' (3)
مسئلہ ۶۰: جو شخص غلط پڑھتا ہو تو سُننے والے پر واجب ہے کہ بتا دے، بشرطیکہ بتانے کی وجہ سے کینہ و حسد پیدا نہ ہو۔ (4)(غنیہ) اسی طرح اگر کسی کا مُصْحف شریف اپنے پاس عاریت ہے، اگر اس میں کتابت کی غلطی ديکھے، بتا دینا واجب ہے۔
مسئلہ ۶۱: قرآن مجید نہایت باریک قلم سے لکھ کر چھوٹا کر دینا جیسا آج کل تعویذی قرآن چھپے ہیں مکروہ ہے، کہ اس میں تحقیر کی صورت ہے۔ (5) (غنیہ) بلکہ حمائل (6) بھی نہ چاہیے۔
مسئلہ ۶۲: قرآن مجید بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے جب کہ کسی نمازی یا مریض یا سوتے کو ایذا نہ پہنچے۔ (7) (غنیہ)
مسئلہ ۶۳: دیواروں اور محرابوں پر قرآن مجید لکھنا اچھا نہیں اور مُصْحف شریف کو مطلاً (8) کرنے میں حرج نہیں۔ (9) (غنیہ) بلکہ بہ نیّت تعظیم مستحب ہے۔
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب فضائل القرآن،۱۹۔باب، الحديث: ۲۹۲۵، ج۴، ص۴۲۰.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الوتر، باب التشديد فيمن حفظ القرآن ثم نسیہ، الحديث: ۱۴۷۴، ج۲، ص۱۰۷.
3 ۔ قرآن مجيد ميں ہے: ( وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ الآيۃ ) پ ۱۶، طٰہٰ: ۱۲۴.
''جو ميرے ذکر يعنی قرآن سے منہ پھيرے گا سو اس کے لئے تنگ عيش ہے اور ہم اسے قيامت کے دن اندھا اٹھائيں گے، کہے گا،
اے ميرے رب! تو نے مجھے اندھا کيوں اٹھايا ميں تو تھا انکھيارا، اﷲ تعالیٰ فرمائے گا، يوہيں آئی تھيں تيرے پاس ہماری آيتيں سو تُو نے
انھيں بُھلا ديا اور ايسے ہی آج تُو بُھلا ديا جائے گا کہ کوئی تيری خبر نہ لے گا۔''
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا عليہ رحمۃ الرحمن ''فتاویٰ رضويہ '' ميں فرماتے ہيں: ''وہ قرآن مجيد بھول جائے اور ان وعيدوں کا
مستحق ہو، جو اس باب ميں وارد ہوئيں، پھر آپ نے مذکورہ آيہ و ترجمہ لکھا۔ ( ''الفتاوی الرضويۃ ''، ج۲۳، ص۶۴۶ ).
4 ۔ ''غنيۃ المتملي''، القراء ۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۸.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ یعنی چھوٹے سائز کا قرآن جسے گلے ميں لٹکاتے ہيں۔
7 ۔ ''غنيۃ المتملي''، القراء ۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۷.
8 ۔ یعنی سونے سے آراستہ۔
9 ۔ ''غنيۃ المتملي''، القراء ۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۸.
اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ گئے، نماز فاسد ہوگئی، ورنہ نہیں۔
مسئلہ ۱: اعرابی غلطیاں اگر ایسی ہوں جن سے معنی نہ بگڑتے ہوں تو مفسد نہیں، مثلاً
لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَا تِکُمْ، نَعْبَدُ
اور اگر اتنا تغّیر ہو کہ اس کا اعتقاد اور قصداً پڑھنا کفر ہو، تو احوط یہ ہے کہ اعادہ کرے، مثلاً
(وَعَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی )(1)
میں میم کو زبر اور بے کو پیش پڑھ دیا اور
( اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ )(2)
میں جلالت کو رفع اور العلما کو زبر پڑھا اور
(فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ )(3)
میں ذال کو زیر پڑھا،
( اِیَّاکَ نَعْبُدُ ) (4)
میں کاف کو زیر پڑھا،
( اَلْمُصَوِّرُ ) (5)
کے واؤ کو زبر پڑھا۔ (6) (ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۲: تشدید کو تخفيف پڑھا جیسے
( اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ) (7)
میں ی پر تشدید نہ پڑھی،
( اَلْحَمْدُ لِلہِِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ )(8)
میں ب پر تشدید نہ پڑھی،
( قُتِّلُوْا تَقْتِیْلاً ) (9)
میں ت پر تشدید نہ پڑھی، نماز ہوگئی۔ (10) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مخفف کو مشدد پڑھا جیسے
( فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلَی اللہِ )(11)
میں ذال کو تشدید کے ساتھ پڑھا يا ادغام ترک کیا جیسے
( اِھْدِنَا الصِّرَاطَ )(12)
میں لام ظاہر کیا، نماز ہو جائے گی۔ (13) (عالمگیری، ردالمحتار)
1 ۔ پ۱۶، طٰہٰ: ۱۲۱.
2 ۔ پ۲۲، فاطر: ۲۸.
3 ۔ پ۱۹، النمل: ۵۸.
4 ۔ پ۱، الفاتحۃ: ۴.
5 ۔ پ۲۸، الحشر: ۲۴.
6 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۱.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ، ومایکرہ فیھا، مطلب: مسائل زلۃ القاریئ، ج۲، ص۴۷۳.
7 ۔ پ۱، الفاتحۃ: ۴.
8 ۔ پ۱، الفاتحۃ: ۱. 9 ۔ پ۲۲، الاحزاب: ۶۱.
10 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۱.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃ، ومایکرہ فیھا مطلب: مسائل زلۃ القاریئ، ج۲، ص۴۷۴.
11 ۔ پ۲۴، الزمر: ۳۲. 12 ۔ پ۱، الفاتحۃ: ۵.
13 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۱.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب: مسائل زلۃ القاریئ، ج۲، ص۴۷۵.
مسئلہ ۴: حرف زیادہ کرنے سے اگر معنی نہ بگڑیں نماز فاسد نہ ہوگی، جیسے
(وَانْہَ عَنِ الْمُنۡکَرِ) (1)
میں ر کے بعد ی زیادہ کی،
(ہُمُ الَّذِیۡنَ)(2)
میں میم کو جزم کرکے الف ظاہر کیا اور اگر معنی فاسد ہو جائیں، جیسے
( وَّ زَرَابِیُّ)(3)
کو
زَرَابِیْبَ،
( مَّثَانِیَ )(4)
کو
مثانین
پڑھا، تو نماز فاسد ہو جائیگی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: کسی حرف کو دوسرے کلمہ کے ساتھ وصل کر دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، جیسے
(اِیَّاکَ نَعْبُدُ)
یوہیں کلمہ کے بعض حرف کو قطع کرنا بھی مفسد نہیں، یوہیں وقف و ابتدا کابے موقع ہونا بھی مفسد نہیں، اگرچہ وقف لازم ہو مثلاً
(اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ )(6)
پر وقف کیا، پھر پڑھا
(اُولٰٓئِکَ ہُمْ خَیۡرُ الْبَرِیَّۃِ ؕ﴿۷﴾ )(7)
یا
(اَصْحٰبُ النَّارِ )(8)
پر وقف نہ کیا اور
( اَلَّذِیۡنَ یَحْمِلُوۡنَ الْعَرْشَ) (9)
پڑھ دیا اور
(شَہِدَ اللہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ )(10)
پر وقف کرکے
اِلَّا ہُوَ
پڑھا ان سب صورتوں میں نماز ہو جائے گی مگر ایسا کرنا بہت قبیح ہے۔ (11) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۶: کوئی کلمہ زیادہ کر دیا ،تووہ کلمہ قرآن میں ہے یا نہیں اور بہر صورت معنی کا فساد ہوتا ہے یا نہیں، اگر معنی فاسد ہو جائیں گے، نماز جاتی رہے گی، جیسے
اِنَّ الَّذِیْنَ امَنُوْا ا وَکَفَرُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ اُوْلٰئِکَ ھُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ
اور
اِنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ لِیَزْدَادُوْا اِثْمًا وَجَمَالًا
اور اگر معنی متغیر نہ ہوں، تو فاسد نہ ہوگی اگرچہ قرآن میں اس کا مثل نہ ہو، جیسے
اِنَّ اللہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًا بَصِیْرًا
اور
فِیْھَا فَاکِھَۃٌ وَّ نَخْلٌ وَّ تُفَّاحٌ وَّ رُمَّانٌ ۔ (12)
(عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۷: کسی کلمہ کو چھوڑ گیا اور معنی فاسد نہ ہوئے جیسے
(وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا )(13)
میں دوسرے
سَیِّئَۃٌ
1 ۔ پ۲۱، لقمان: ۱۷.
2 ۔ پ۲۸، المنافقون: ۷.
3 ۔ پ۳۰، الغاشيۃ: ۱۶.
4 ۔ پ۲۳، الزمر: ۲۳.
5 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۷۹.
6 ۔ پ۳۰، البروج: ۱۱.
7 ۔ پ۳۰، البينۃ: ۷.
8 ۔ پ۲۸، الحشر: ۲۰.
9 ۔ پ۲۴، المؤمن: ۷.
10 ۔ پ۳، آل عمران: ۱۸.
11 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۷۹، ۸۲، وغیرہ.
12 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۰، وغیرہ.
13 ۔ پ۲۵، الشوریٰ: ۴۰.
کو نہ پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوئی اور اگر اس کی وجہ سے معنی فاسد ہوں، جیسے
( فَمَا لَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (1)
میں
لَا
نہ پڑھا، تو نماز فاسد ہوگئی۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: کوئی حرف کم کر دیا اور معنی فاسد ہوں جیسے
خَلَقْنَا
بلا خ کے اور
جَعَلْنَا
بغیر ج کے، تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر معنی فاسد نہ ہوں مثلاً بروجہ ترخیم شرائط کے ساتھ حذف کیا جیسے
یَا مَالِکُ
میں
یَا مَالُ
پڑھا تو فاسد نہ ہوگی، یوہیں
تَعَالیٰ جَدُّ رَبِّنَا
میں
تعالَ
پڑھا، ہو جائے گی۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: ایک لفظ کے بدلے میں دوسرا لفظ پڑھا، اگر معنی فاسد نہ ہوں نماز ہو جائے گی جیسے
عَلِیْمٌ
کی جگہ
حَکِیْمٌ
، اور اگر معنی فاسد ہوں نماز نہ ہوگی جیسے
( وَعْدًا عَلَیْنَا ط اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ ) (4)
میں
فَاعِلِیْنَ
کی جگہ
غَافِلِیْنَ
پڑھا، اگر نسب میں غلطی کی اور منسوب الیہ قرآن میں نہیں ہے، نماز فاسد ہوگئی جیسے
مَرْیَمُ ابْنَۃُ غَیْلَانَ
پڑھا اور قرآن میں ہے تو فاسد نہ ہوئی جیسے
مَرْیَمُ ابْنَۃُ لُقْمَانَ ۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: حروف کی تقدیم و تاخیر میں بھی اگر معنی فاسد ہوں، نماز فاسد ہے ورنہ نہیں، جیسے
( قَسْوَرَۃٍ ) (6)
کو
قَوْسَرَۃٍ
پڑھا،
عَصْفٍ
کی جگہ
عَفْصٍ
پڑھا، فاسد ہوگئی اور
اِنْفَجَرَتْ
کو
اِنْفَرَجَتْ
پڑھا تو نہیں، یہی حکم کلمہ کی تقدیم تاخیر کا ہے، جیسے
( لَھُمْ فِیْھَا زَفِیْرٌ وَّشَھِیْقٌ ) (7)
میں
شَھِیْقٌ
کو
زَفِیْرٌ
پر مقدم کیا، فاسد نہ ہوئی اور
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ
پڑھا، فاسد ہوگئی۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: ایک آیت کو دوسری کی جگہ پڑھا، اگر پورا وقف کر چکا ہے تو نماز فاسد نہ ہوئی جیسے
(وَالْعَصْرِ ۙ﴿۱﴾اِنَّ الْاِنۡسَانَ) (9)
پر وقف کر کے
(اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۲۲﴾ )(10)
پڑھا، یا
(اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ)
پر
1 ۔ پ۳۰، الانشقاق: ۲۰.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ، ومایکرہ فیھا، مطلب: مسائل زلۃ القاریئ، ج۲، ص۴۷۶.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ، ومایکرہ فیھا، مطلب: مسائل زلۃ القاریئ، ج۲، ص۴۷۶.
4 ۔ پ۱۷، الانبياء: ۱۰۴.
5 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۰.
6 ۔ پ۲۹، المدثر: ۵۱.
7 ۔ پ۱۲، ہود: ۱۰۶.
8 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۰.
9 ۔ پ۳۰، العصر:۱۔۲.
10 ۔ پ۳۰، المطففين: ۲۲.
وقف کیا، پھر پڑھا
( اُولٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ ؕ﴿۶﴾ )(1)
نماز ہوگئی اور اگر وقف نہ کیا تو معنی متغیر ہونے کی صورت میں نماز فاسد ہو جائے گی، جیسے یہی مثال ورنہ نہیں جیسے
( اِنَّ الَّذِیْنَ امَنُوْا ا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَھُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ ) (2)
کی جگہ
فَلَھُمْ جَزَآؤُنِ الْحُسْنٰی
پڑھا، نماز ہوگئی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: کسی کلمہ کو مکرّر پڑھا، تو معنی فاسد ہونے میں نماز فاسد ہوگی جیسے
رَبِّ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ مٰلِکِ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ
جب کہ بقصد اضافت پڑھا ہو یعنی رب کا رب، مالک کا مالک اور اگر بقصد تصحیح مخارج مکرّر کیا یا بغیر قصد زبان سے مکرّر ہوگیا یا کچھ بھی قصد نہ کیا تو ان سب صورتوں میں نماز فاسد نہ ہوگی۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھنا اگر اس وجہ سے ہے کہ اس کی زبان سے وہ حرف ادا نہیں ہوتا تو مجبور ہے، اس پر کوشش کرنا ضروری ہے، اگر لاپرواہی سے ہے جیسے آج کل کے اکثر حفاظ و علما کہ ادا کرنے پر قادر ہیں مگر بے خیالی میں تبدیل حرف کر دیتے ہیں، تو اگر معنی فاسد ہوں نماز نہ ہوئی، اس قسم کی جتنی نمازیں پڑھی ہوں ان کی قضا لازم اس کی تفصیل باب الامامۃ میں مذکور ہوگی۔
مسئلہ ۱۴: ط ت، س ث ص، ذ ز ظ، ا ء ع، ہ ح، ض ظ د، ان حرفوں میں صحیح طور پر امیتاز رکھیں، ورنہ معنی فاسد ہونے کی صورت میں نماز نہ ہوگی اور بعض تو س ش، ز ج، ق ک میں بھی فرق نہیں کرتے۔
مسئلہ ۱۵: مد، غنہ، اظہار، اخفاء، امالہ بے موقع پڑھا، یا جہاں پڑھنا ہے نہ پڑھا، تو نماز ہو جائے گی۔ (5) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۱۶: لحن کے ساتھ قرآن پڑھنا حرام ہے اور سُننا بھی حرام، مگر مد و لین (6) میں لحن ہوا، تو نماز فاسد نہ ہوگی۔ (7) (عالمگیری) اگر فاحش نہ ہو کہ تان کی حد تک پہنچ جائے۔
مسئلہ ۱۷: اﷲ عزوجل کے ليے مؤنث کے صیغے یا ضمیر ذکر کرنے سے نماز جاتی رہتی ہے۔ (8)
1 ۔ پ۳۰، البينۃ: ۶. 2 ۔ پ۱۶، الکھف: ۱۰۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۰.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلوۃ، ومایکرہ فیھا، مطلب: إذا قرأ قولہ... إلخ، ج۲، ص۴۷۸.
5 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۱.
6 ۔ واو، ی، الف ساکن اور ما قبل کی حرکت موافق ہو تو اس کو مدو لین کہتے ہیں۔ یعنی واو کے پہلے پیش اور ی کے پہلے زیرالف کے پہلے زبر۔ ۱۲
7 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۲.
8 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۲.
حدیث ۱ـ: ابو داود ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں کے اچھے لوگ اذان کہیں اور ''قُرّا '' اِمامت کریں۔'' (1) (کہ اس زمانہ میں جو زیادہ قرآن پڑھا ہوتا وہی علم میں زیادہ ہوتا)۔
حدیث ۲ـ: صحیح مسلم کی روایت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ اِمامت کا زیادہ مستحق اقرء ہے (2) یعنی قرآن زیادہ پڑھا ہوا۔
حدیث ۳ـ: ابوالشیخ کی روایت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ فرمایا: ''امام و مؤذن کو ان سب کی برابر ثواب ہے، جنہوں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔'' (3)
حدیث ۴ـ: ابو داود و ترمذی روایت کرتے ہیں کہ ابو عطیہ عقیلی کہتے ہیں کہ: ''مالک بن حویرث رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہمارے یہاں آیا کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت آگیا، ہم نے کہا: آگے بڑھیے، نماز پڑھائیے، فرمایا: اپنے میں سے کسی کو آگے کرو کہ نماز پڑھائے اور بتا دوں گا کہ میں کیوں نہیں پڑھاتا؟ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم سے سُنا ہے کہ فرماتے ہیں: ''جو کسی قوم کی ملاقات کو جائے، تو اُن کی اِمامت نہ کرے اور یہ چاہیے کہ انہیں میں کا کوئی اِمامت کرے۔'' (4)
حدیث ۵ـ: ترمذی ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے فرمایا: کہ ''تین شخصوں کی نماز کانوں سے متجاوز نہیں ہوتی، بھاگا ہوا غلام یہاں تک کہ واپس آئے اور جو عورت اس حالت میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس پر ناراض ہے اور کسی گروہ کا امام کہ وہ لوگ اس کی اِمامت سے کراہيت کرتے ہوں۔'' (5) (یعنی کسی شرعی قباحت کی وجہ سے)۔
حدیث ۶ ـ: ابن ماجہ کی روایت ابنِ عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے یوں ہے، کہ ''تین شخصوں کی نماز سرسے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی، ایک وہ شخص کہ قوم کی اِمامت کرے اور وہ لوگ اس کو بُرا جانتے ہوں اور وہ عورت جس نے اس حالت میں رات گزاری کہ اس کا شوہر اس پر ناراض ہے اور دو مسلمان بھائی باہم جو ایک دوسرے کو کسی دنیاوی وجہ سے چھوڑے ہوں۔'' (6)
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب من أحق با لإمامۃ، الحديث: ۵۹۰، ج۱، ص۲۴۲.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب من أحق بالإمامۃ الحديث: ۶۷۲، ص۳۳۷.
3 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحديث: ۲۰۳۷۰، ج۷، ص۲۳۹.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب امامۃ الزائر، الحديث: ۵۹۶، ج۱، ص۲۴۴.
و ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء فيمن زار قوما فلا يصل بھم، الحديث: ۳۵۶، ج۱، ص۳۷۲.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء فيمن أمّ قوما وھم لہ کارھون، الحديث: ۳۶۰، ج۱، ص۳۷۵.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب إقامۃ الصلاۃ... إلخ، باب من أمّ قوما وھم لہ کارھون، الحديث: ۹۷۱، ج۱، ص۵۱۶.
حدیث ۷ـ: ابو داود و ابن ماجہ ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''تین شخصوں کی نماز قبول نہیں ہوتی، جو شخص قوم کے آگے ہو یعنی امام ہو اور وہ لوگ اس سے کراہیت کرتے ہوں اور وہ شخص کہ نماز کو پیٹھ دے کر آئے یعنی نماز فوت ہونے کے بعد پڑھے اور وہ شخص جس نے آزاد کو غلام بنایا۔'' (1)
حدیث ۸ـ: امام احمد و ابن ماجہ سلامہ بنت الحر رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''قیامت کی علامات سے ہے کہ باہم اہل مسجد اِمامت ایک دوسرے پر ڈالیں گے، کسی کو امام نہیں پائیں گے کہ ان کو نماز پڑھا وے۔'' (2) (یعنی کسی میں اِمامت کی صلاحیت نہ ہوگی) ۔
حدیث ۹ـ: بخاری کے علاوہ صحاح ستہ میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''کسی کے گھر یا اسکی سلطنت میں اِمامت نہ کی جائے، نہ اس کی مسند پر بیٹھا جائے، مگر اس کی اجازت سے۔'' (3)
حدیث ۱۰ـ: بخاری و مسلم وغیرہما ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جب کوئی اوروں کو نماز پڑھائے تو تخفیف کرے کہ ان میں بیمار اور کمزور اور بوڑھا ہوتا ہے اور جب اپنی پڑھے تو جس قدر چاہے طول دے۔'' (4)
حدیث ۱۱ـ: امام بخاری ابو قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: کہ ''میں نماز میں داخل ہوتا ہوں اور طویل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ بچّہ کے رونے کی آواز سنتا ہوں، لہٰذا نماز میں اختصار کر دیتا ہوں کہ جانتا ہوں، اس کے رونے سے اس کی ماں کو غم لاحق ہوتا ہے۔'' (5)
حدیث ۱۲ـ: صحیح مسلم میں ہے انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: کہ ''ایک دن رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے نماز پڑھائی جب پڑھ چکے، ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے لوگو! میں تمہارا امام ہوں، رکوع و سجود و قیام اور نماز سے پھرنے میں مجھ پر سبقت نہ کرو کہ میں تم کو آگے اور پیچھے سے دیکھتا ہوں۔'' (6)
حدیث ۱۳ـ: امام مالک کی روایت انہیں سے اس طرح ہے، کہ فرمایا: کہ ''جو امام سے پہلے اپنا سر اُٹھاتا اور جھکاتا
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب اقامۃ... إلخ، باب من أمّ... إلخ، الحديث: ۹۷۰، ج۱، ص۵۱۵، عن عبداﷲ بن عمرو.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب في کراھيۃ التدافع عن الإمامۃ، الحديث: ۵۸۱، ج۱، ص۲۳۹.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب من أحق بالإمامۃ، الحديث: ۲۹۱۔(۶۷۳)، ص۳۳۸.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب إذا صلی لنفسہ... إلخ، الحدیث: ۷۰۳، ج۱، ص۲۵۲،وغیرہ.
5 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب من أخف الصلاۃ... إلخ، الحدیث: ۷۰۷، ج۱، ص۲۵۳.
6 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب تحريم سبق الإمام برکوع... إلخ، الحدیث: ۴۲۶، ص۲۲۸.
ہے، اس کی پیشانی کے بال شیطان کے ہاتھ میں ہیں۔'' (1)
حدیث ۱۴ـ: بخاری و مسلم وغیرہما ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''کیا جو شخص امام سے پہلے سر اُٹھاتا ہے، اس سے نہیں ڈرتا کہ اﷲ تعالیٰ اس کا سر گدھے کا سر کر دے؟'' (2) بعض محدثین سے منقول ہے کہ امام نووی رحمہ اﷲ تعالیٰ حدیث لینے کے ليے ایک بڑے مشہور شخص کے پاس دمشق میں گئے اور ان کے پاس بہت کچھ پڑھا، مگر وہ پردہ ڈال کر پڑھاتے، مدتوں تک ان کے پاس بہت کچھ پڑھا، مگر ان کا مونھ نہ دیکھا، جب زمانہ دراز گزرا اور انہوں نے دیکھا کہ ان کو حدیث کی بہت خواہش ہے تو ایک روز پردہ ہٹا دیا، دیکھتے کیا ہیں کہ اُن کا مونھ گدھے کا سا ہے، انہوں نے کہا، ''صاحب زادے! امام پر سبقت کرنے سے ڈرو کہ یہ حدیث جب مجھ کو پہنچی میں نے اسے مستبعد (3) جانا اور میں نے امام پر قصداً سبقت کی، تو میرا مونھ ایسا ہوگیا جو تم دیکھ رہے ہو۔'' (4)
حدیث ۵ـ۱: ابو داود ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: کہ ''تین باتیں کسی کو حلال نہیں، جو کسی قوم کی اِمامت کرے تو ایسا نہ کر ے کہ خاص اپنے ليے دُعا کرے، اُنہیں چھوڑ دے، ایسا کیا تو ان کی خیانت کی اور کسی کے گھر کے اندر بغیر اجازت نظر نہ کرے اور ایسا کیا تو ان کی خیانت کی اور پاخانہ پیشاب روک کر نماز نہ پڑھے، بلکہ ہلکا ہولے یعنی فارغ ہولے۔'' (5)
اِمامت کبریٰ کابیان حصّہ عقائد میں مذکور ہوا۔ اس باب میں امامتِ صغریٰ یعنی اِمامت نماز کے مسائل بیان کيے جائیں گے، اِمامت کے یہ معنی ہیں کہ دوسرے کی نماز کا اس کی نماز کے ساتھ وابستہ ہونا۔
مسئلہ ۱: مرد غیرمعذور کے امام کے ليے چھ شرطیں ہیں:
1 ۔ ''الموطا'' لإمام مالک، کتاب الصلاۃ، باب ما يفعل من رفع رأسہ قبل الإمام، الحدیث: ۲۱۲، ج۱، ص۱۰۲،
عن أبي ہريرۃ رضی اﷲ عنہ .
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب تحريم سبق الإمام برکوع... إلخ، الحديث: ۴۲۷، ص۲۲۸.
3 ۔ یعنی بعض راويوں کی عدم صحت کے باعث دور از قياس۔
4 ۔ ''مرقاۃ المفاتيح''، کتاب الصلاۃ، تحت الحديث: ۱۱۴۱، ج۳، ص۲۲۱. لکن لم یذکرالنووی.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطہارۃ، باب أيصلی الرجال وھو حاقن، الحديث: ۹۰، ج۱، ص۶۶.
(۱) اسلام۔
(۲) بلوغ۔
(۳) عاقِل ہونا۔
(۴) مرد ہونا۔
(۵) قراء ت۔
(۶) معذور نہ ہونا۔ (1)
مسئلہ ۲: عورتوں کے امام کے ليے مرد ہونا شرط نہیں، عورت بھی امام ہو سکتی ہے، اگرچہ مکروہ ہے۔ (2) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۳: نابالغوں کے امام کے ليے بالغ ہونا شرط نہیں، بلکہ نابالغ بھی نابالغوں کی اِمامت کر سکتا ہے، اگر سمجھ وال ہو۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: معذوراپنے مثل یا اپنے سے زائد عذر والے کی اِمامت کر سکتا ہے، کم عذر والے کی اِمامت نہیں کر سکتا اور اگر امام و مقتدی دونوں کو دو قسم کے عذر ہوں، مثلا ایک کو ریاح کا مرض ہے، دوسرے کو قطرہ آنے کا، تو ایک دوسرے کی اِمامت نہیں کرسکتا۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: طاہر معذور کی اقتدا نہیں کرسکتا جبکہ حالت وضو میں حدث پایا گیا، يا بعد وضو وقت کے اندر طاری ہوا، اگرچہ نماز کے بعد اور اگر نہ وضو کے وقت حدث تھا، نہ ختم وقت تک اس نے عود کیا تو یہ نماز جو اس نے انقطاع پر پڑھی، اس میں تندرست اس کی اقتدا کرسکتا ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۶: معذور اپنے مثل معذور کی اقتدا کرسکتا ہے اور ایک عذر والا دو عذر والے کی اقتدا نہیں کر سکتا، نہ ایک عذر والا دوسرے عذر والے کی اور دو عذر والا ایک عذر والے کی اقتدا کر سکتا ہے، جب کہ وہ ایک عذر اسی کے دو میں سے ہو۔ (6) (درمختار وغیرہ)
1 ۔ ''نور الإيضاح'' کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ص۷۳.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: شروط الإمامۃ الکبری، ج۲، ص۳۳۷، ۳۶۵.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: شروط الإمامۃ الکبری، ج۲، ص۳۳۷.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: الواجب کفايۃ... إلخ، ج۲، ص۳۸۹.
و ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ،ا لباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۴.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۸۹.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۸۹، وغیرہ.
مسئلہ ۷: معذور نے اپنے مثل دوسرے معذور اور صحیح کی اِمامت کی، صحیح کی نہ ہوگی اوروں کی ہو جائے گی۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۸: وہ بد مذہب جس کی بد مذہبی حد کفر کو پہنچ گئی ہو، جیسے رافضی اگرچہ صرف صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی خلافت یا صحبت سے انکار کرتا ہو، یا شیخین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی شانِ اقدس میں تبرّا کہتا ہو۔ قدری، جہمی، مشبہ اور وہ جو قرآن کو مخلوق بتاتا ہے اور وہ جو شفاعت يا دیدار الٰہی يا عذابِ قبر يا کراماً کاتبین کا انکار کرتا ہے، ان کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی۔ (2) (عالمگیری، غنیہ) اس سے سخت تر حکم وہابیۂ زمانہ کا ہے کہ اﷲ عزوجل و نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کی توہین کرتے يا توہین کرنے والوں کو اپنا پیشوا يا کم از کم مسلمان ہی جانتے ہیں۔
مسئلہ ۹: جس بد مذہب کی بد مذہبی حد کفر کو نہ پہنچی ہو، جیسے تفضیلیہ اس کے پیچھے نماز، مکروہ تحریمی ہے۔ (3) (عالمگیری)
(۱) نیت اقتدا۔
(۲) اور اس نیت اقتدا کا تحریمہ کے ساتھ ہونا یا تحریمہ پر مقدم ہونا، بشرطیکہ صورت تقدم میں کوئی اجنبی نیت و تحریمہ میں فاصل نہ ہو۔
(۳) امام و مقتدی دونوں کا ایک مکان میں ہونا۔
(۴) دونوں کی نماز ایک ہو یا امام کی نماز، نماز مقتدی کو متضمن ہو۔
(۵) امام کی نماز مذہبِ مقتدی پر صحیح ہونا۔ اور
ء (۶) امام و مقتدی دونوں کا اسے صحیح سمجھنا۔
(۷) عورت کا محاذی (4) نہ ہونا ان شروط کے ساتھ جو مذکور ہوں گی۔
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۸۹.
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۴.
و ''غنيۃ المتملي''، الأولیٰ بالإمامۃ، ص۵۱۴.
3 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۴.
4 ۔ یعنی برابر۔
(۸) مقتدی کا امام سے مقدم (1) نہ ہونا۔
(۹) امام کے انتقالات کا علم ہونا۔
(۱۰) امام کا مقیم یا مسافر ہونا معلوم (2) ہو۔
(۱۱) ارکان کی ادا میں شریک ہونا۔
(۱۲) ارکان کی ادا میں مقتدی امام کے مثل ہو یا کم۔
(۱۳) یوہیں شرائط میں مقتدی کا امام سے زائد نہ ہونا۔ (3)
مسئلہ ۱۰: سوار نے پیدل کی یا پیدل نے سوار کی اقتدا کی يا مقتدی و امام دونوں دو سواریوں پر ہیں، ان تینوں صورتوں میں اقتدا نہ ہوئی کہ دونوں کے مکان مختلف ہیں۔ اور اگر دونوں ایک سواری پر سوار ہوں، تو پیچھے والا اگلے کی اقتدا کرسکتا ہے کہ مکان ایک ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: امام و مقتدی کے درمیان اتنا چوڑا راستہ ہو جس میں بیل گاڑی جاسکے، تو اقتدا نہیں ہوسکتی۔ يوہيں اگر بیچ میں نہر ہو جس میں کشتی یا بجرا (5) چل سکے تو اقتدا صحیح نہیں، اگرچہ وہ نہر بیچ مسجد میں ہو اور اگر بہت تنگ نہرہو جس میں بجرا بھی نہ تیر سکے، تو اقتدا صحیح ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: بیچ میں حوض دَہ در دَہ ہے تو اقتدا نہیں ہوسکتی، مگر جب کہ حوض کے گرد صفیں برابر متصل ہوں اور اگر چھوٹا حوض ہے، تو اقتدا صحیح ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: بیچ میں چوڑا راستہ ہے، مگر اس راستہ میں صف قائم ہوگئی، مثلاً کم سے کم تین شخص کھڑے ہوگئے تو ان کے پیچھے دوسرے لوگ امام کی اقتدا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ہر دو صف اور صف ِ اوّل و امام کے درمیان بیل گاڑی نہ جا سکے یعنی اگر راستہ زیادہ چوڑا ہو کہ ایک سے زیادہ صفیں اس میں ہوسکتی ہیں تو اتنی ہو لیں کہ دو صفوں کے درمیان بیل گاڑی نہ جا سکے، یوہیں اگر راستہ لنبا
1 ۔ یعنی آگے۔
2 ۔ يہ حقيقۃً صحت اقتدا کی شرط نہيں بلکہ حکم صحت اقتدا کے ليے شرط ہے و لہٰذا بعد نماز اگر حال معلوم ہوجائے نماز صحيح ہوگئی۔ ۱۲منہ
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: شروط الإمامۃ الکبریٰ، ج۲، ص۳۳۸۔۳۳۹.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،،باب الإمامۃ، مطلب: الواجب کفایۃ ھل يسقط... إلخ، ج۲، ص۳۹۵.
5 ۔ یعنی ايک قسم کی گول اور خوبصورت کشتی۔
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۴۰۰.
7 ۔ ''ردالمحتار'' کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: الکافي للحاکم... إلخ، ج۲، ص۴۰۰.
ہو یعنی مثلاً ہمارے ملکوں میں پورب پچھم (1) ہو تو بھی ہر دو صفوں میں اور امام و مقتدی میں وہی شرط ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: نہر پر پُل ہے اور اس پر صفیں متصل ہوں تو امام اگرچہ نہر کے اس طرف ہے، اس طرف والا اس کی اقتدا کرسکتا ہے۔
مسئلہ ۱۵: میدان میں جماعت قائم ہوئی، اگر امام و مقتدی کے درمیان اتنی جگہ خالی ہے کہ اس میں دو صفیں قائم ہوسکتی ہیں تو اقتدا صحیح نہیں، بڑی مسجد مثلاً مسجد قدس کا بھی یہی حکم۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: بڑا مکان میدان کے حکم میں ہے اور اس مکان کو بڑا کہیں گے، جو چالیس ہاتھ ہو۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: مسجدِ عید گاہ میں کتنا ہی فاصلہ امام و مقتدی میں ہومانع اقتدا نہیں، اگرچہ بیچ میں دو یا زیادہ صفوں کی گنجائش ہو۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: میدان میں جماعت قائم ہوئی، پہلی دو صفوں نے ابھی اﷲ اکبر نہ کہا تھا کہ تیسری صف نے امام کے بعد تحریمہ باندھ لیا، اقتدا صحیح ہوگئی۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: میدان میں جماعت ہوئی اور صفوں کے درمیان بقدر حوض دَہ در دَہ کے خالی چھوڑا کہ اس میں کوئی کھڑا نہ ہوا، تو اگر اس خالی جگہ کے آس پاس یعنی دہنے بائیں صفيں متصل ہیں تو اس جگہ کے بعد والے کی اقتدا صحیح ہے، ورنہ نہیں اور دَہ در دَہ سے کم جگہ خالی بچی ہے تو پیچھے والے کی اقتدا صحیح ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: دو کشتیاں باہم بندھی ہوں ایک پر امام ہے، دوسری پر مقتدی تو اقتدا صحیح ہے اور جدا ہوں تو نہیں۔ اور اگر کشتی کنارے پر رُکی ہوئی ہے اور امام کشتی پر ہے اور مقتدی خشکی میں تو اگر درمیان میں راستہ ہو یا بڑی نہر کے برابر فاصلہ ہو تو اقتدا صحیح نہیں، ورنہ ہے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار) یعنی جب امام اُترنے پر قادر نہ ہو، اس ليے کہ جو شخص کشتی سے اُتر کر خشکی میں
1 ۔ مشرق و مغرب۔
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار'' کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ، مطلب: الکافي للحاکم... إلخ، ج۲، ص۴۰۱.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ، ج۲، ص۴۰۰.
4 ۔ ''ردالمحتار'' کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ، مطلب: الکافي للحاکم... إلخ، ج۲، ص۴۰۱.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۸۷.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: الکافي للحاکم... إلخ، ج۲، ص۴۰۱.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: الکافي للحاکم... إلخ، ج۲، ص۴۰۲.
8 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، مطلب في الصلاۃ في السفينۃ، ج۲، ص۶۹۱.
پڑھ سکتا ہے اس کی کشتی پر نماز ہوگی ہی نہیں، ہاں اگر کشتی زمین پر بیٹھ گئی تو اس پر بہرحال نماز صحیح ہے کہ اب وہ تخت کے حکم میں ہے۔
مسئلہ ۲۱: جو مسجد بہت بڑی نہ ہو، اس میں امام اگرچہ محراب میں ہو، مقتدی منتہائے مسجد میں اس کی اقتدا کرسکتا ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: امام و مقتدی کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو اگر امام کے انتقالات مشتبہ نہ ہوں، مثلاً اس کی یا مکبّر کی آواز سنتا ہو یا اس کے یا اس کے مقتدیوں کے انتقالات دیکھتا ہے تو حرج نہیں، اگرچہ اس کے ليے امام تک پہنچنے کا راستہ نہ ہو، مثلاً دروازہ میں جالیاں ہیں کہ امام کو دیکھ رہا ہے، مگر کھلا نہیں ہے کہ جانا چاہے تو جا سکے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: امام و مقتدی کے درمیان ممبر حائل ہونا مانع اقتدا نہیں، جب کہ امام کا حال مشتبہ نہ ہو۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: جس مکان کی چھت مسجد سے بالکل متصل ہو کہ بیچ میں راستہ نہ ہو تو اس چھت پر سے اقتدا ہوسکتی ہے اور اگر راستہ کا فاصلہ ہو، تو نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: مسجد کے متصل کوئی دالان ہے، اس میں مقتدی اقتدا کر سکتا ہے جبکہ امام کا حال مخفی نہ ہو۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: مسجد سے باہر چبوترہ ہے اور امام مسجد میں ہے، مقتدی اس چبوترے پر اقتدا کر سکتا ہے جب کہ صفیں متصل ہوں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: وقت نماز میں تو یہی معلوم تھا کہ امام کی نماز صحیح ہے بعد کو معلوم ہوا کہ صحیح نہ تھی، مثلاً مسحِ موزہ کی مدّت گزر چکی تھی یا بھول کر بے وضو نماز پڑھائی، تو مقتدی کی نماز بھی نہ ہوئی۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: امام کی نماز خود اس کے گمان میں صحیح ہے اورمقتدی کے گمان میں صحیح نہ ہو تو جب بھی اقتدا صحیح نہ ہوئی، مثلاً شافعی المذہب امام کے بدن سے خون نکل کر بہ گیا جس سے حنفیہ کے نزدیک وضو ٹوٹتا ہے اور بغیر وضو کيے اِمامت کی، حنفی اس کی
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۸۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۴۰۲.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: الکافي للحاکم... إلخ، ج۲، ص۴۰۳.
4 ۔ المرجع السابق، ص۴۰۴.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۸۸.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: شروط الإمامۃ الکبرٰی، ج۲، ص۳۳۹.
اقتدا نہیں کر سکتا، اگر کریگا نماز باطل ہوگی اور اگر امام کی نماز خود اس کے طور پر صحیح نہ ہو مگر مقتدی کے طور پر صحیح ہو تو اس کی اقتدا صحیح ہے، جب کہ امام کو اپنی نماز کا فساد معلوم نہ ہو مثلاً شافعی امام نے عورت یا عضو تناسل چھونے کے بعد بغیروضو کيے بھول کر اِمامت کی، حنفی اس کی اقتدا کر سکتا ہے، اگرچہ اس کو معلوم ہو کہ اس سے ایسا واقعہ ہوا تھا اور اس نے وضو نہ کیا۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: شافعی یا دوسرے مقلد کی اقتدا اس وقت کر سکتے ہیں، جب وہ مسائل طہارت و نماز میں ہمارے فرائض مذہب کی رعایت کرتا ہو يا معلوم ہو کہ اس نماز میں رعایت کی ہے یعنی اس کی طہارت ایسی نہ ہو کہ حنفیہ کے طور پر غیر طاہر کہا جائے، نہ نماز اس قسم کی ہو کہ ہم اُسے فاسد کہیں پھر بھی حنفی کو حنفی کی اقتدا افضل ہے اور اگر معلوم نہ ہو کہ ہمارے مذہب کی رعایت کرتا ہے، نہ یہ کہ اس نماز میں رعایت کی ہے تو جائز ہے، مگر مکروہ اور اگر معلوم ہو کہ اس نماز میں رعایت نہیں کی ہے، تو باطل محض ہے۔ (2) (عالمگیری، غنیہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: عورت کا مرد کے برابر کھڑا ہونا، اس وقت مرد کے ليے مانع اقتدا ہے جب کہ کوئی چیز ایک ہاتھ اونچی حائل نہ ہو، نہ مرد کے قد برابر بلندی پر عورت کھڑی ہو۔ (3) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: ایک عورت مرد کے برابر کھڑی ہو تو تین مردوں کی نماز جاتی رہے گی، دو دہنے بائیں اور ایک پیچھے والے کی۔ اور دو عورتیں ہوں تو چار مرد کی نماز فاسد ہو جائے گی، دو دہنے بائیں دو پیچھے اور تین عورتیں ہوں تو دو دہنے بائیں اور پیچھے کی ہر صف سے تین تین شخص کی اور اگر عورتوں کی پوری صف ہو تو پیچھے جتنی صفیں ہیں، ان سب کی نماز نہ ہوگی۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: مسجد میں بالا خانہ ہے، اس پر عورتوں نے امام مسجد کی اقتدا کی اور بالا خانہ کے نیچے مردوں نے اسی کی اقتدا کی اگرچہ مرد عورتوں سے پیچھے ہوں نماز فاسد نہ ہوگی اور عورتوں کی صف نیچے ہو اور مرد بالا خانہ پر، تو ان میں جتنے مرد عورتوں کی صف سے پیچھے ہوں گے، ان کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ (5) (عالمگیری، ردالمحتار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: شروط الإمامۃ الکبرٰی، ج۲، ص۳۳۹.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۴.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب في الاقتداء بشافعي... إلخ، ج۲، ص۳۶۱.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۹.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۹۸.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب في الکلام علی الصف الأوّل، ج۲، ص۳۸۰.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۸۷.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: الکافي للحاکم... إلخ، ج۲، ص۳۹۹.
مسئلہ ۳۳: ایک ہی صف میں ایک طرف مرد کھڑے ہوئے، دوسری طرف عورتیں تو صرف ایک مرد کی نماز نہیں ہوگی جو درمیان میں ہے، باقیوں کی ہو جائے گی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: اس وجہ سے کہ مقتدی کے پاؤں امام سے بڑ ے ہیں، اس کی اُنگلیاں اس کی اُنگلیوں سے آگے ہیں، مگر ایڑیاں برابر ہوں، تو نماز ہو جائے گی۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: سب سے زیادہ مستحق اِمامت وہ شخص ہے جو نماز و طہارت کے احکام کو سب سے زیادہ جانتا ہو، اگرچہ باقی علوم میں پوری دستگاہ (3) نہ رکھتا ہو، بشرطیکہ اتنا قرآن یاد ہو کہ بطور مسنون پڑھے اور صحیح پڑھتا ہو یعنی حروف مخارج سے ادا کرتا ہو اور مذہب کی کچھ خرابی نہ رکھتا ہو اور فواحش (4) سے بچتا ہو، اس کے بعد وہ شخص جو تجوید (قراء ت) کا زیادہ علم رکھتا ہو اور اس کے موافق ادا کرتا ہو۔ اگر کئی شخص ان باتوں میں برابر ہوں، تو وہ کہ زیادہ ورع رکھتا ہو یعنی حرام تو حرام شبہات سے بھی بچتا ہو، اس میں بھی برابر ہوں، تو زيادہ عمر والا يعنی جس کو زيادہ زمانہ اسلام ميں گزرا، اس ميں بھی برابر ہوں، تو جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں، اس میں بھی برابر ہوں، تو زیادہ وجاہت والا یعنی تہجد گزار کہ تہجد کی کثرت سے آدمی کا چہرہ زیادہ خوبصورت ہو جاتا ہے، پھر زیادہ خوبصورت، پھر زیادہ حسب والا پھر وہ کہ باعتبار نسب کے زیادہ شریف ہو، پھر زیادہ مالدار، پھر زیادہ عزت والا، پھر وہ جس کے کپڑے زیادہ ستھرے ہوں، غرض چند شخص برابر کے ہوں، تو ان میں جو شرعی ترجیح رکھتا ہو زیادہ حق دار ہے اور اگر ترجیح نہ ہو تو قرعہ ڈالا جائے، جس کے نام کا قرعہ نکلے وہ اِمامت کرے يا ان میں سے جماعت جس کو منتخب کرے وہ امام ہو اور جماعت میں اختلاف ہو تو جس طرف زیادہ لوگ ہوں وہ امام ہو اور اگر جماعت نے غیر اولیٰ کو امام بنایا، تو بُرا کیا، مگر گنہگار نہ ہوئے۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳۶: امام معین ہی اِمامت کا حق دار ہے، اگرچہ حاضرین میں کوئی اس سے زیادہ علم اور زیادہ تجوید والا ہو۔ (6) (درمختار) یعنی جب کہ وہ امام جامع شرائط امام ہو، ورنہ وہ اِمامت کا اہل ہی نہیں، بہتر ہونا درکنار۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الرابع، ج۱، ص۸۷.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: اذا صلی الشافعي قبل الحنفي... إلخ، ج۲، ص۳۶۸.
3 ۔ یعنی مہارت۔ 4 ۔ یعنی بے حيائيوں اور ايسے کاموں سے بچتا ہو، جو مروّت کے خلاف ہيں۔
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۵۰ ۔ ۳۵۴، وغیرہ.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۵۴.
مسئلہ ۳۷: کسی کے مکان میں جماعت قائم ہوئی اور صاحب خانہ میں اگر شرائط اِمامت پائے جائیں تو وہی اِمامت کے ليے اولیٰ ہے، اگرچہ اور کوئی اس سے علم وغیرہ میں بہتر ہو، ہاں افضل یہ ہے کہ صاحب خانہ ان میں سے بوجہ فضیلت علم کسی کو مقدم کرے کہ اس میں اس کا اعزاز ہے اور اگر وہ مہمان خود ہی آگے بڑھ گیا، تو بھی نماز ہو جائے گی۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۸: کرایہ کا مکان ہے، اس میں مالک مکان اور کرایہ دار اور مہمان تینون موجود ہیں تو کرایہ دار احق (2) ہے، وہی اجازت دے گا اور اسی سے اجازت لی جائے گی، یہی حکم اس کا ہے کہ مکان ميں بطور عاريت (3) رہتا ہو کہ یہی احق ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: سلطان و امیر و قاضی کسی کے گھر مجتمع ہوئے تو احق سلطان ہے، پھر امیر، پھر قاضی، پھر صاحب خانہ۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: کسی شخص کی اِمامت سے لوگ کسی وجہ شرعی سے ناراض ہوں، تو اس کا امام بننامکروہ تحریمی ہے اور اگر ناراضی کسی وجہ شرعی سے نہ ہو تو کراہت نہیں، بلکہ اگر وہی حق ہو، تو اسی کو امام ہونا چاہیے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۴۱: کوئی شخص صالح اِمامت ہے اور اپنے محلّہ کی اِمامت نہیں کرتا اور وہ ماہِ رمضان میں دوسرے محلّہ والوں کی اِمامت کرتا ہے، اسے چاہیے کہ عشا کا وقت آنے سے پہلے چلا جائے، وقت ہو جانے کے بعد جانا مکروہ ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: امام کو چاہیے کہ جماعت کی رعایت کرے اور قدر مسنون سے زیادہ طویل قراء ت نہ کرے کہ یہ مکروہ ہے۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: بد مذہب کہ جس کی بد مذہبی حد کفر کو نہ پہنچی ہو اور فاسق معلن جیسے شرابی، جواری، زناکار، سود خوار،
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۸۳.
2 ۔ یعنی زيادہ حقدار۔
3 ۔ یعنی دوسرے شخص کو اپنی کسی چيز کی منفعت کا بغير عوض مالک کردينا عاريت ہے۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۸۳.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۳۵۴.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۵۴.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۶.
8 ۔ المرجع السابق، ص۸۷.
چغل خور، وغیرہم جو کبیرہ گناہ بالاعلان کرتے ہیں، ان کو امام بنانا گناہ اور ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ۔ (1) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۴۴: غلام، دہقانی(2)، اندھے، ولدالزنا، امرد، کوڑھی، فالج کی بیماری والے، برص والے کی جس کا برص ظاہر ہو، سفیہ (یعنی بے وقوف کہ تصّرفات مثلاً بیع و شرا (3) میں دھوکے کھاتا ہو) کی اِمامت مکروہ تنزیہی ہے اور کراہت اس وقت ہے کہ اس جماعت میں اور کوئی ان سے بہتر نہ ہو اور اگر یہی مستحق اِمامت ہیں تو کراہت نہیں اور اندھے کی اِمامت میں تو بہت خفیف کراہت ہے۔ (4) (درمختار، غنیہ)
مسئلہ ۴۵: جس کو کم سوجھتا ہے، وہ بھی اندھے کے حکم میں ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۴۶: فاسق کی اقتدا نہ کی جائے مگر صرف جمعہ میں کہ اس میں مجبوری ہے، باقی نمازوں میں دوسری مسجد کو چلا جائے اور جمعہ اگر شہر میں چند جگہ ہوتا ہو تو اس میں بھی اقتدا نہ کی جائے، دوسری مسجد میں جا کر پڑھیں۔ (6) (غنیہ، ردالمحتار، فتح القدیر)
مسئلہ ۴۷: عورت، خنثیٰ، نابالغ لڑکے کی اقتدا مرد بالغ کسی نماز میں نہیں کرسکتا، یہاں تک کہ نماز جنازہ و تراویح و نوافل میں اور مرد بالغ ان سب کا امام ہو سکتا ہے، مگر عورت بھی اس کی مقتدی ہو تو امامتِ عورت کی نیت کرے سوا جمعہ و عیدین کے کہ ان میں اگرچہ امام نے امامتِ عورت کی نیت نہ کی، اقتدا کرسکتی ہے اور عورت و خنثیٰ عورت کے امام ہوسکتے ہیں، مگر عورت کو مطلقاً امام ہونا مکروہ تحریمی ہے، فرائض ہوں یا نوافل پھر بھی اگر عورت عورتوں کی اِمامت کرے، تو امام آگے نہ ہو بلکہ بیچ میں کھڑی ہو اور آگے ہوگی جب بھی نماز فاسد نہ ہوگی اور خنثیٰ کے ليے یہ شرط ہے کہ صف سے آگے ہو ورنہ نما زہوگی ہی نہیں، خنثیٰ خنثیٰ کا بھی امام نہیں ہوسکتا۔ (7) (ردالمحتار وغيرہ)
مسئلہ ۴۸: نماز جنازہ صرف عورتوں نے پڑھی کہ عورت ہی امام اور عورتیں ہی مقتدی، تو اس جماعت میں کراہت
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: البدعۃ خمسۃ اقسام، ج۲، ص۳۵۶۔۳۶۰، وغیرہما.
2 ۔ ديہاتی، اس سے مراد ديہات کا رہنے والا نہيں بلکہ جاہل مراد ہے چاہے وہ شہری ہی کيوں نہ ہو۔
3 ۔ یعنی خريد و فروخت۔
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۵۵ ۔ ۳۶۰.
و ''غنیۃ المتملي شرح منیۃ المصلي''، ص۵۱۴.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۵۵.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۳۵۵.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ، مطلب في الکلام علی الصف الأوّل، ج۲، ص۳۸۷.
نہیں۔ (1) (عالمگیری، درمختار) بلکہ اگر عورت نماز جنازہ میں مردوں کی اِمامت کرے گی، جب بھی نماز جنازہ ادا ہو جائے گی اگرچہ مردوں کی نماز نہ ہوگی۔
مسئلہ ۴۹: مجنون غیر حالت افاقہ میں امام نہیں ہو سکتا اور جب ہوش میں ہو اور معلوم بھی ہو تو ہو سکتا ہے۔ یوہیں جس کو نشہ ہے اس کی اِمامت صحیح نہیں اور معتوہ (مدہوش) اپنے مثل کے ليے امام ہو سکتا ہے اوروں کے ليے نہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: جس کو کچھ قرآن یاد ہو اگرچہ ایک ہی آیت ہو، وہ اُمّی کی (یعنی اس کی جس کو کوئی آیت یاد نہیں) اقتدا نہیں کرسکتا اور اُمّی اُمّی کے پیچھے پڑھ سکتا ہے جس کو کچھ آیتیں یاد ہیں مگر حروف صحیح ادا نہیں کرتا جس کی وجہ سے معنی فاسد ہوجاتے ہیں، وہ بھی اُمّی کے مثل ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۱: اُمّی گونگے کی اقتدا نہیں کر سکتا، گونگا اُمّی کی کر سکتا ہے اور اگر اُمّی صحیح طور پر تحریمہ بھی باندھ نہیں سکتا تو گونگے کی اقتدا کر سکتا ہے۔ (4) (درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۵۲: اُمّی نے اُمّی اور قاری کی (یعنی اس کی کہ بقدر فرض قرآن صحیح پڑھ سکتا ہو) اِمامت کی، تو کسی کی نماز نہ ہوگی۔ اگرچہ قاری درمیان نماز ميں شریک ہوا ہو، یوہیں اگر قاری نے اُمّی کو خلیفہ بنایا ہو، اگرچہ تشہد میں۔ (5) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۵۳: اُمّی پر واجب ہے کہ رات دن کوشش کرے یہاں تک کہ بقدر فرض قرآن مجید یاد کرلے، ورنہ عنداﷲ تعالیٰ معذور نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: جس سے حروف صحیح ادا نہیں ہوتے اس پر واجب ہے کہ تصحیح حروف میں رات دن پوری کوشش کرے اور اگر صحیح خواں کی اقتدا کر سکتا ہو تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اقتدا کرے يا وہ آیتیں پڑھے جس کے حروف صحیح ادا کر سکتا ہو اور یہ دونوں صورتیں نا ممکن ہوں تو زمانۂ کوشش میں اس کی اپنی نماز ہو جائے گی اور اپنے مثل دوسرے کی اِمامت بھی کر سکتا ہے یعنی اس کی کہ وہ
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ،، ص۳۶۵.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس، في الإمامۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۵.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: الواجب کفایۃ، ج۲، ص۳۸۹.
3 ۔ المرجع السابق، ص۳۹۱.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: المواضع التي تفسد... إلخ، ج۲، ص۴۱۲، وغیرہ.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۶.
بھی اسی حرف کو صحیح نہ پڑھتا ہو جس کو یہ اور اگر اس سے جو حرف ادا نہیں ہوتا، دوسرا اس کو ادا کر لیتا ہے مگر کوئی دوسرا حرف اس سے ادا نہیں ہوتا، تو ایک دوسرے کی اِمامت نہیں کر سکتا اور اگر کوشش بھی نہیں کرتا تو اس کی خود بھی نہیں ہوتی دوسرے کی اس کے پیچھے کیا ہوگی۔ آج کل عام لوگ اس میں مبتلا ہیں کہ غلط پڑھتے ہيں اور کوشش نہیں کرتے ان کی نمازیں خود باطل ہیں اِمامت درکنار۔ ہکلا جس سے حرف مکرّر ادا ہوتے ہیں، اس کا بھی یہی حکم ہے یعنی اگر صاف پڑھنے والے کے پیچھے پڑھ سکتا ہے تو اس کے پیچھے پڑھنا لازم ہے ورنہ اس کی اپنی ہو جائے گی اور اپنے مثل یا اپنے سے کمتر (1) کی اِمامت بھی کر سکتا ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۵: قاری نماز پڑھ رہا تھا، اُمّی آیا اور شریک نہ ہوا، اپنی الگ پڑھی، تو اس کی نماز نہ ہوئی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: قاری کوئی دوسری نماز پڑھ رہا ہے تو اُمّی کو جائز ہے کہ اپنی پڑھ لے اور انتظار نہ کرے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۷: اُمّی مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے اور قاری مسجد کے دروازہ پر ہے یا مسجد کے پڑوس میں، تو اُمّی کی نماز ہوجائے گی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۸: جس کا ستر کُھلا ہوا ہے وہ ستر چھپانے والے کا امام نہیں ہوسکتا، ستر کُھلے ہوؤں کا امام ہوسکتا ہے اور اگر بعض مقتدی اس قسم کے ہیں بعض ویسے تو ستر چھپانے والوں کی نماز نہ ہوگی کُھلے ہوؤں کی ہو جائے گی اور جن کے پاس ستر کے لائق کپڑے نہ ہوں اُن کے ليے افضل یہ ہے کہ تنہا تنہا بیٹھ کر اشارے سے دُور دُور پڑھیں، جماعت سے پڑھنا مکروہ ہے اور اگر جماعت سے پڑھیں تو امام بیچ میں ہو آگے نہ ہو۔ (6) (درمختار، عالمگیری) ستر کُھلے ہوئے سے مراد یہ ہے کہ جس کے پاس کپڑا ہی نہیں کہ چُھپائے۔ ہوتے ہوئے نہ چُھپایا تو نہ اس کی ہو نہ اس کے پیچھے کسی اور کی، جیساکہ شروط الصلاۃ میں بیان ہوا۔
مسئلہ ۵۹: جو رکوع و سجود سے عاجز ہے یعنی وہ کہ کھڑے یا بیٹھے رکوع و سجود کی جگہ اشارہ کرتا ہو، اس کے پیچھے اس کی نماز نہ ہوگی جو رکوع وسجود پر قادر ہے اور اگر بیٹھ کر رکوع و سجود کر سکتا ہو تو اس کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی ہوجائے گی۔ (7) (درمختار، ردالمحتار وغيرہما)
1 ۔ يعنی جو اس سے زيادہ ہکلاتا ہو۔ ۱۲
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب في الالثغ، ج۲، ص۳۹۵.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۵.
4 ۔ المرجع السابق، ص۸۶.
5 ۔ المرجع السابق، ص۸۵.
6 ۔ المرجع السابق، ص۸۵، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ،بحث النیۃ، ج۲، ص۱۰۳، ۳۹۱.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: الواجب کفایۃ... إلخ، ج۲، ص۳۹۱.
مسئلہ ۶۰: فرض نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے اور ایک فرض والے کی دوسرے فرض پڑھنے والے کے پیچھے نہیں ہوسکتی خواہ دونوں کے فرض دو نام کے ہوں، مثلاً ایک ظہر پڑھتا ہو دوسرا عصر يا صفت میں جُدا ہوں، مثلاً ایک آج کی ظہر پڑھتا ہو، دوسرا کل کی اور اگر دونوں کی ایک ہی دن کے ایک ہی وقت کی قضا ہوگئی ہے تو ایک دوسرے کے پیچھے پڑھ سکتا ہے، یوہیں اگر امام نے عصر کی نماز غروب سے پہلے شروع کی دو رکعتیں پڑھیں کہ آفتاب غروب ہوگیا، اب دوسرا شخص جس کی اسی دن کی نماز عصر جاتی رہی پچھلی رکعتوں میں اس کی اقتدا کر سکتا ہے، البتہ اگر یہ مقتدی مسافر تھا تو اس کی اقتدا نہیں کرسکتا، مگر غروب سے پہلے نیت اقامت کر لی ہو تو کرسکتا ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۶۱: دو شخصوں نے باہم یوں نماز پڑھی کہ ہر ایک نے اِمامت کی نیت کی نماز ہوگئی اور اگر ہر ایک نے اقتدا کی نیت کی، تو دونوں کی نہ ہوئی۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۲: جس نے کسی نماز کی منت مانی، اس نماز کو نہ فرض پڑھنے والے کے پیچھے پڑھ سکتا ہے، نہ نفل والے کے، نہ اس کے پیچھے کہ منت کی نماز پڑھتا ہے، ہاں اگر ایک کی نذر ماننے کے بعد دوسرے نے یوں نذر کی کہ اس نماز کی منت مانتا ہوں، جو فلاں نے مانی ہے تو ایک دوسرے کے پیچھے پڑھ سکتا ہے۔ (3) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۶۳: ایک شخص نے نفل نماز پڑھنے کی قسم کھائی، منت والا منت کی نماز اس کے پیچھے بھی نہیں پڑھ سکتا اور یہ قسم کھانے والا فرض اورنفل اور نذر اور دوسرے قسم کھانے والے کے پیچھے پڑھ سکتا ہے۔ (4) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۶۴: دو شخص نفل ایک ساتھ پڑھ رہے تھے اور فاسد کر دی، تو ایک دوسرے کے پیچھے پڑھ سکتا ہے اور تنہا تنہا پڑھ رہے تھے اور فاسد کر دیں، تو اقتدا نہیں ہوسکتی۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۶۵: لاحق نہ مسبوق کی اقتدا کر سکتا ہے نہ لاحق کی، يوہيں مسبوق نہ لاحق کی نہ مسبوق کی، نہ ان دونوں کی کوئی دوسرا شخص اقتدا کر سکتا ہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۶.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: الواجب کفایۃ... إلخ، ج۲، ص۳۹۱.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۶.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۹۲.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۹۲.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: الواجب کفایۃ ہل يسقط... إلخ، ج۲، ص۳۹۳.
6 ۔ المرجع السابق، ص۳۹۴.
مسئلہ ۶۶: جن نمازوں میں قصر ہے وقت گزر جانے کے بعد ان میں مسافر مقیم کی اقتدا نہیں کرسکتا، خواہ مقیم نے وقت ختم ہونے پر شروع کی ہو یا وقت میں شروع کی اور نماز پوری ہونے سے پہلے وقت ختم ہوگیا، البتہ اگر مسافر نے مقیم کے پیچھے تحریمہ باندھ لیا اور بعد تحریمہ وقت ختم ہوگیا، تو اقتدا صحیح ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۶۷: محل اقامت یعنی شہر یا گاؤں میں جو شخص چار رکعت والی نماز پڑھائے اور دو پر سلام پھیر دے، تو ضرور ہے کہ مقتدی کو اس کا مقیم یا مسافر ہونا معلوم ہو خواہ مقتدی خود مقیم ہو یا مسافر، اگر امام نے نہ نماز سے پہلے اپنا مسافر ہونا بتایا نہ بعد کو اورچلا گیا نہ اس کا حال اور طرح معلوم ہوا تو مقتدی اپنی پھر پڑھیں، ہاں اگر جنگل میں یا منزل پر دو پڑھ کر چلا گیا تو ان کی نماز ہو جائے گی، یہی سمجھا جائے گا کہ مسافر تھا۔ (2) (خانیہ، بحر)
مسئلہ ۶۸: جہاں بوجہ شرط مفقود ہونے کے اقتدا صحیح نہ ہو، تو وہ نماز سرے سے شروع ہی نہ ہوگی اور اگر بوجہ مختلف نماز ہونے کے اقتدا صحیح نہ ہو تو اس کے نفل ہوجائیں گے، مگر اس نفل کے توڑ دینے سے قضا واجب نہ ہوگی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۶۹: جس نے وضو کیا ہے تیمم والے کی اور پاؤں دھونے والا موزہ پر مسح کرنے والے کی اور اعضائے وضو کا دھونے والا پٹی پر مسح کرنے والے کی، اقتدا کر سکتا ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۰: کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والا بیٹھنے والے اور کوزہ پشت کی اقتدا کر سکتا ہے، اگرچہ اس کا کُب حد رکوع کو پہنچا ہو، جس کے پاؤں میں ایسا لنگ ہے کہ پورا پاؤں زمین پر نہیں جمتا اوروں کی اِمامت کر سکتا ہے، مگر دوسرا شخص اَولیٰ ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۱: نفل پڑھنے والا فرض پڑھنے والے کی اقتدا کر سکتا ہے، اگرچہ مفترض پچھلی رکعتوں میں قراء ت نہ کرے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: متنفل (7) نے مفترض (8) کی اقتدا کی پھر نما زفاسد کر دی، پھر اسی نماز میں اس فوت شدہ کی قضا کی
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۹۴.
2 ۔ ''البحرالرائق''، کتاب الصلاۃ، باب المسافر، ج۲، ص ۲۳۸.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۹۷.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۴.
5 ۔ المرجع السابق، ص۸۵.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ یعنی نفل پڑھنے والے۔
8 ۔ یعنی فرض پڑھنے والے۔
نیت سے اقتدا کی صحیح ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۳: اشارے سے پڑھنے والا اپنے مثل کی اقتدا کر سکتا ہے، مگر جب کہ امام لیٹ کر اشارہ سے پڑھتا ہو اور مقتدی کھڑے یا بیٹھے تو نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۷۴: جنّ نے اِمامت کی، اقتدا صحیح ہے اگر انسانی صورت میں ظاہر ہوا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۵: امام نے اگر بلا طہارت نماز پڑھائی یا کوئی اور شرط یا رکن نہ پایا گیا جس سے اس کی اِمامت صحیح نہ ہو، تو اس پر لازم ہے کہ اس امر کی مقتدیوں کو خبر کر دے جہاں تک بھی ممکن ہو، خواہ خود کہے يا کہلا بھیجے، یا خط کے ذریعہ سے اور مقتدی اپنی اپنی نماز کا اعادہ کریں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۷۶: امام نے اپنا کافر ہونا بتایا تو پیشتر کے بارے میں اس کاقول نہیں مانا جائے گا اور جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھیں اُنکا اعادہ نہیں، ہاں اب وہ بے شک مرتد ہوگیا۔ (5) (درمختار) مگر جب کہ یہ کہے کہ اب تک کافر تھا اور اب مسلمان ہوا۔
مسئلہ ۷۷: پانی نہ ملنے کے سبب امام نے تیمم کیا تھا اور مقتدی نے وضو اور اثنائے نماز میں مقتدی نے پانی دیکھا، امام کی نماز صحیح ہوگئی اور مقتدی کی باطل۔ (6) (درمختار) جب کہ اس کے گمان میں ہو کہ امام نے بھی پانی پر اطلاع پائی، بہت کتابوں میں یہ حکم مطلق ہے۔ اور ظاہر تریہ تقیید واﷲ اعلم بالصواب۔
حدیث ۱: بخاری و مسلم و مالک و ترمذی و نَسائی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم فرماتے ہیں: ''نماز جماعت، تنہا پڑھنے سے ستائیس درجہ بڑھ کر ہے۔'' (7)
حدیث ۲: مسلم و ابو داود و نَسائی و ابن ماجہ نے روایت کی، کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: ''ہم نے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الثالث، ج۱، ص۸۵.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۴۰۸.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۳۴۵.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۴۱۰.
5 ۔ المرجع السابق، ص۴۱۱.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۴۳۴.
7 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ، الحديث: ۶۴۵، ج۱، ص۲۳۲.
اپنے کو اس حالت میں دیکھا کہ نماز سے پیچھے نہیں رہتا، مگر کھلا منافق یا بیمار اور بیمار کی یہ حالت ہوتی کہ دو شخصوں کے درمیان میں چلا کر نماز کو لاتے اور فرماتے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے ہم کو سنن الہُدیٰ کی تعلیم فرمائی اور جس مسجد میں اذان ہوتی ہے، اس میں نماز پڑھنا سنن الہُدیٰ سے ہے''، (1) اور ایک روایت میں یوں ہے، کہ ''جسے یہ اچھا معلوم ہو کہ کل خدا سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملے، تو پانچوں نمازوں پر محافظت کرے، جب ان کی اذان کہی جائے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمھارے نبی کے ليے سنن الہُدیٰ مشروع فرمائی اور یہ سنن الہُدیٰ سے ہے اور اگر تم نے اپنے گھروں میں پڑھ لی جیسے یہ پیچھے رہ جانے والا اپنے گھرمیں پڑھ لیا کرتا ہے، تو تم نے اپنے نبی کی سُنت چھوڑ دی اور اگر اپنے نبی کی سُنت چھوڑو گے، تو گمراہ ہو جاؤ گے۔'' (2) اور ابو داود کی روایت میں ہے، ''کافر ہو جاؤ گے'' (3) اور جو شخص اچھی طرح طہارت کرے پھرمسجد کو جائے تو جو قدم چلتا ہے، ہر قدم کے بدلے اﷲ تعالیٰ نیکی لکھتا ہے اور درجہ بلند کرتا ہے اور گناہ مٹا دیتا ہے۔ (4)
حدیث ۳: نَسائی و ابن خزیمہ اپنی صحیح میں عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جس نے کامل وضو کیا، پھر نماز فرض کے ليے چلا اور امام کے ساتھ پڑھی، اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔'' (5)
حدیث ۴: طبرانی ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''اگر یہ نماز جماعت سے پیچھے رہ جانے والا جانتا کہ اس جانے والے کے ليے کیا ہے؟، تو گھسٹتا ہوا حاضر ہوتا۔'' (6)
حدیث ۵و۶: ترمذی انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جو اﷲ کے ليے چالیس دن باجماعت پڑھے اور تکبیرۂ اُولیٰ پائے، اس کے ليے دو آزادیاں لکھ دی جائیں گی، ایک نار سے، دوسری نفاق سے۔'' (7) ابن ماجہ کی روایت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو شخص چالیس راتیں مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھے کہ عشا کی تکبیرۂ اُولیٰ فوت نہ ہو، اﷲ تعالیٰ اس کے ليے دوزخ سے آزادی لکھ دے گا۔'' (8)
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد، باب صلاۃ الجماعۃ من سنن الھدیٰ، الحديث: ۶۵۴، ص۳۲۸.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد، باب صلاۃ الجماعۃ من سنن الھدیٰ، الحديث: ۲۵۷۔(۶۵۴)، ص۳۲۸.
3 ۔ ''سنن ابي داود''، کتاب الصلاۃ، باب التشديد يدفي ترک الجماعۃ، الحديث: ۵۵۰، ج۱، ص۲۲۹.
4 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد، باب صلاۃ الجماعۃ من سنن الھدیٰ، الحديث: ۲۵۷۔(۶۵۴)، ص۳۲۸.
5 ۔ ''صحيح ابن خزيمہ''، کتاب الصلاۃ، باب فضل المشي إلی الجماعۃ فتوضيا... إلخ، الحديث: ۱۴۸۹، ج۲، ص۳۷۳.
6 ۔ ''المعجم الکبير''، الحديث: ۷۸۸۶، ج۸، ص۲۲۴.
7 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في فضل التکبيرۃ الأولیٰ، الحديث: ۲۴۱، ج۱، ص۲۷۴.
8 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المساجد... إلخ، باب صلاۃ العشاء و الفجر في جماعۃ، الحديث: ۷۹۸، ج۱، ص۴۳۷.
حدیث ۷: ترمذی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''رات میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور ایک روایت میں ہے، میں نے اپنے رب کو نہایت جمال کے ساتھ تجلّی فرمائے ہوئے دیکھا، اس نے فرمایا: اے محمد! میں نے عرض کی
لَبَّیْکَ وَسَعْدَیکَ،
اس نے فرمایا: تمھیں معلوم ہے ملاء اعلی (یعنی ملائکہ مقربین) کس امر میں بحث کرتے ہیں؟'' میں نے عرض کی، ''نہیں جانتا، اس نے اپنا دستِ قدرت میرے شانوں کے درمیان رکھا، یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینہ میں پائی، تو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے میں نے جان لیا'' اور ایک روایت میں ہے، ''جو کچھ مشرق و مغرب کے درمیان ہے جان لیا''، فرمایا: ''اے محمد! جانتے ہو ملاء اعلیٰ کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟'' میں نے عرض کی، ''ہاں، درجات و کفارات اور جماعتوں کی طرف چلنے اور سخت سردی میں پورا وضو کرنے اور نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں اور جس نے ان پر محافظت کی خیر کے ساتھ زندہ رہے گا اور خیر کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہوگیا، جیسے اس دن کہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا'' اس نے فرمایا: ''اے محمد!'' میں نے عرض کی،
لَـبَّیْکَ وَسَعْدَیکَ،
فرمایا: ''جب نماز پڑھو، تو یہ کہہ لو۔''
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَ تَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنَ وَاِذَا اَرَدْتَّ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ ؕ . (1)
فرمایا: ''اور درجات یہ ہیں۔ سلام عام کرنا اور کھانا کھلانا اور رات میں نماز پڑھنا، جب لوگ سوتے ہوں۔'' (2)
حدیث ۸و۹: امام احمد و ترمذی نے معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یوں روایت کی ہے، کہ ایک دن صبح کی نماز کو تشریف لانے میں دیر ہوئی، یہاں تک قریب تھا کہ ہم آفتاب دیکھنے لگیں کہ جلدی کرتے ہوئے تشریف لائے، اقامت ہوئی اور مختصر نماز پڑھی، سلام پھیر کر بلند آواز سے فرمایا: ''سب اپنی اپنی جگہ پر رہو، میں تمہیں خبر دوں گا کہ کس چیز نے صبح کی نماز میں آنے سے روکا؟، میں رات میں اٹھا، وضو کیا اور جو مقدر تھا نماز پڑھی، پھر میں نماز میں اونگھا ( اس کے بعد اُسی کے مثل واقعات بیان فرمائے اور اس روایت میں یہ ہے) اس کے دستِ قدرت رکھنے سے ان کی خنکی (3) میں نے اپنے سینہ میں پائی تو مجھ پر ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی'' اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ اﷲ عزوجل نے فرمایا: ''کفارات کیا ہیں؟ میں نے عرض کی،
1 ۔ اے اﷲ (عزوجل) ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اچھے کام کروں اور بُری باتوں سے باز رہوں اور مساکین سے محبت رکھوں اور جب
تو اپنے بندوں پر فتنہ کرنا چاہے، تو مجھے اس سے قبل اُوٹھا لے۔ ۱۲
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب تفسير القرآن، باب ومن سورۃ ص، الحديث: ۳۲۴۵،۳۲۴۶، ص۱۵۹۔۱۶۰.
3 ۔ یعنی ٹھنڈک۔
جماعت کی طرف چلنا اور مسجدوں میں نمازوں کے بعد بیٹھنا اور سختیوں کے وقت کامل وضو کرنا''، اس کے آخر میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: ''یہ حق ہے اسے پڑھو اور سیکھو۔'' (1) ترمذی نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے اور میں نے محمد بن اسماعیل یعنی بخاری سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو جواب دیا کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اسی کے مثل دارمی و ترمذی نے عبدالرحمن بن عائش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۱۰: ابو داود و نَسائی و حاکم ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جو اچھی طرح وضو کرکے مسجد کو جائے اورلوگوں کو اس حالت میں پائے کہ نماز پڑھ چکے، تو اﷲ تعالیٰ اسے بھی جماعت سے پڑھنے والوں کی مثل ثواب دے گا اور ان کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا۔'' (2) حاکم نے کہا یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
حدیث ۱۱: امام احمد و ابو داود و نَسائی و حاکم اور ابن خزیمہ و ابن حبان اپنی صحیح میں ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک دن صبح کی نماز پڑھ کر نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''آیا فلاں حاضر ہے؟'' لوگوں نے عرض کی، نہیں، فرمایا: ''فلاں حاضر ہے؟'' لوگوں نے عرض کی، نہیں، فرمایا: ''یہ دونوں نمازیں منافقین پر بہت گراں ہيں، اگر جانتے کہ ان میں کیا (ثواب) ہے تو گھٹنوں کے بل گِھسٹتے آتے اور بے شک پہلی صف فرشتوں کی صف کے مثل ہے اور اگر تم جانتے کہ اس کی فضیلت کیا ہے تو اس کی طرف سبقت کرتے مرد کی ایک مرد کے ساتھ نماز بہ نسبت تنہا کے زیادہ پاکیزہ ہے اور دو کے ساتھ بہ نسبت ایک کے زیادہ اچھی اور جتنے زیادہ ہوں، اﷲ عزوجل کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں۔'' (3) یحیی بن معین اور ذہلی کہتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث ۱۲: صحیح مسلم میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جس نے باجماعت عشا کی نماز پڑھی، گویا آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نماز جماعت سے پڑھی، گویا پوری رات قیام کیا۔'' (4) اسی کے مثل ابو داود و ترمذی و ابن خزیمہ نے روایت کی۔
حدیث ۱۳: بخاری و مسلم ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''منافقین پر سب سے
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث معاذ بن جبل، الحديث: ۲۲۱۷۰، ج۸، ص۲۵۸.
و ''مشکاۃ المصابيح''، کتاب الصلاۃ، الحديث: ۷۴۸، ج۱، ص۲۳۵.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب فيمن خرج يريد الصلاۃ... إلخ، الحديث: ۵۶۴، ج۱، ص۲۳۴.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب في فضل صلاۃ الجماعۃ، الحديث: ۵۵۴، ج۱، ص۲۳۰.
و ''الترغيب و الترہيب''، کتاب الصلاۃ، الترغيب في کثرۃ الجماعۃ، الحديث: ۱، ج۱، ص۱۶۱.
4 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب فضل صلاۃ العشاء... إلخ، الحديث: ۶۵۶، ص۳۲۹.
زیادہ گراں نماز عشا و فجر ہے اور جانتے کہ اس میں کیا ہے؟ تو گھسٹتے ہوئے آتے اور بیشک میں نے قصد کیا کہ نماز قائم کرنے کا حکم دوں پھر کسی کو امر فرماؤں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں اپنے ہمراہ کچھ لوگوں کو جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں ان کے پاس لے کر جاؤں، جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھر اُن پر آگ سے جلا دوں۔'' (1) امام احمد نے انہیں سے روایت کی، کہ فرماتے ہیں: ''اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے، تو نماز عشا قائم کرتا اور جوانوں کو حکم دیتا کہ جو کچھ گھروں میں ہے، آگ سے جلا دیں۔'' (2)
حدیث ۱۴: امام مالک نے ابو بکر بن سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ ''امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صبح کی نماز میں سلیمان بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں دیکھا، بازار تشریف لے گئے، راستہ میں سلیمان کا گھر تھا ان کی ماں شفا کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: کہ صبح کی نماز میں، میں نے سلیمان کو نہیں پایا، انہوں نے کہا! رات میں نماز پڑھتے رہے پھر نیند آگئی، فرمایا: کہ صبح کی نماز جماعت سے پڑھوں، یہ میرے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ رات میں قیام کروں۔'' (3)
حدیث ۱۵: ابو داود و ابن ماجہ و ابن حبان ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جس نے اذان سُنی اور آنے سے کوئی عذر مانع نہیں، اس کی وہ نماز مقبول نہیں''، لوگوں نے عرض کی، عذر کیا ہے؟ فرمایا: ''خوف یا مرض۔'' (4) اور ایک روایت ابن حبان و حاکم کی انہیں سے ہے، ''جو اذان سُنے اور بلا عذر حاضر نہ ہو، اس کی نماز ہی نہیں۔'' (5) حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث ۱۶: احمد و ابو داود و نَسائی و ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''کسی گاؤں یا بادیہ میں تین شخص ہوں اور نماز نہ قائم کی گئی مگر ان پر شیطان مسلّط ہوگیا تو جماعت کو لازم جانو، کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے، جو ریوڑ سے دور ہو۔'' (6)
حدیث ۱۷ تا ۲۰: ابو داود و نَسائی نے روایت کی، کہ عبداﷲ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، یارسول اﷲ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) مدینہ میں موذی جانور بکثرت ہیں اور میں نابینا ہوں، تو کیا مجھے رخصت ہے کہ گھر پڑھ لُوں؟ فرمایا:
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب فضل صلاۃ الجماعۃ... إلخ، الحديث: ۲۵۲۔(۶۵۱)، ص۳۲۷.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحديث: ۸۸۰۴، ج۳، ص۲۹۶.
3 ۔ ''الموطا'' للإمام مالک، کتاب صلاۃ الجماعۃ باب ماجاء في العتمۃ والصبح، الحديث: ۳۰۰، ج۱، ص۱۳۴.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب التشديد في ترک الجماعۃ، الحديث: ۵۵۱، ج۱، ص۲۲۹.
5 ۔ ''الإحسان بترتيب صحيح ابن حبان''،کتاب الصلاۃ، باب فرض الجماعۃ... إلخ، الحديث: ۲۰۶۱، ج۳، ص۲۵۳.
6 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الإمامۃ، التشديد في ترک الجماعۃ، الحديث: ۸۴۴، ص۱۴۷.
''حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ
سُنتے ہو''، عرض کی، ہاں، فرمایا: ''تو حاضر ہو۔'' (1) اسی کے مثل مسلم نے ابوہریرہ سے اور طبرانی نے کبیر میں ابو امامہ سے اور احمد و ابو یعلی اور طبرانی نے اوسط میں اور ابن حبان نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کی۔
حدیث ۲۱: ابو داود و ترمذی ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک صاحب مسجد میں حاضر ہوئے اس وقت کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے، فرمایا: ''ہے کوئی کہ اس پر صدقہ کرے (یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھ لے کہ اسے جماعت کا ثواب مل جائے) ایک صاحب (یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔'' (2)
حدیث ۲۲: ابن ماجہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں: دو اور دو سے زیادہ جماعت ہے۔ (3)
حدیث ۲۳: بُخاری و مسلم ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''اگر لوگ جانتے کہ اذان اور صفِ اوّل میں کیا ہے؟ پھر بغیر قرعہ ڈالے نہ پاتے، تو اس پر قرعہ اندازی کرتے۔'' (4)
حدیث ۲۴: امام احمد و طبرانی ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: کہ اﷲ (عزوجل) اور اس کے فرشتے صفِ اوّل پر درود بھیجتے ہیں''، لوگوں نے عرض کی اور دوسری صف پر، فرمایا: ''اﷲ (عزوجل) اور اس کے فرشتے صفِ اوّل پر درود بھیجتے ہیں''، لوگوں نے عرض کی اور دوسری پر، فرمایا: ''اور دوسری پر اور فرمایا صفوں کو برابر کرو اور مونڈھوں کو مقابل کرو اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور کشادگیوں کو بند کرو کہ شیطان بھیڑ کے بچے کی طرح تمھارے درمیان داخل ہو جاتا ہے۔'' (5)
حدیث ۲۵: بُخاری کے علاوہ دیگر صحاح ستّہ میں مروی، نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں: کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم ہماری صفیں تیر کی طرح سیدھی کرتے یہاں تک کہ خیال فرمایا کہ اب ہم سمجھ ليے، پھر ایک دن تشریف لائے اور کھڑئے ہوئے اور قریب تھا کہ تکبیر کہیں کہ ایک شخص کا سینہ صف سے نکلا دیکھا، فرمایا: ''اے اﷲ (عزوجل) کے بندو! صفیں برابر
1 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الإمامۃ، باب المحافظۃ علی الصلوٰت، الحديث: ۸۴۸، ص۱۴۸.
نابينا کہ اٹکل نہ رکھتا ہو نہ کوئی لے جانے والا ہو خصوصاً درندوں کا خوف ہو تو اُسے ضرور رخصت ہے مگر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) نے
انھيں افضل پر عمل کرنے کی ہدايت فرمائی کہ اور لوگ سبق ليں جو بلاعذر گھر ميں پڑھ ليتے ہيں۔ ۱۲ منہ
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في الجماعۃ... إلخ، الحديث: ۲۲۰، ج۱، ص۲۵۹.
و ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب في الجمع في المسجد مرتين، الحديث: ۵۷۴، ج۱، ص۲۳۷.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب إقامۃ الصلوٰت... إلخ، باب الاثنان جماعۃ، الحديث: ۹۷۲، ج۱، ص۵۱۷.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب الاستھام في الأذان، الحديث: ۶۱۵، ج۱، ص۲۲۴.
5 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث أبي امامۃ الباھلی، الحديث: ۲۲۳۲۶، ج۸، ص۲۹۵.
کرو یا تمھارے اندر اﷲ تعالیٰ اختلاف ڈال دے گا۔'' (1) بخاری نے بھی اس حدیث کے جزاخیر کو روایت کیا۔
حدیث ۲۶: بخاری و مسلم و ابن ماجہ وغیرہم انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں: ''صفیں برابر کرو کہ صفیں برابر کرنا، تمام نماز سے ہے۔'' (2)
حدیث ۲۷: امام احمد و ابو داود و نَسائی و ابن خزیمہ و حاکم ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو صف کو ملائے گا، اﷲ تعالیٰ اسے ملائے گا اور جو صف کو قطع کریگا، اﷲ تعالیٰ اسے قطع کردے گا۔'' (3) حاکم نے کہا برشرط مسلم یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث ۲۸: مسلم و ابو داود و نَسائی و ابن ماجہ جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''کیوں نہیں اس طرح صف باندھتے ہو جیسے ملائکہ اپنے ربّ کے حضور باندھتے ہیں''، عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کس طرح ملائکہ اپنے ربّ کے حضور صف باندھتے ہیں؟ فرمایا: ''اگلی صفیں پوری کرتے ہیں اور صف میں مِل کر کھڑے ہوتے ہیں۔'' (4)
حدیث ۲۹: امام احمد و ابن ماجہ و ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''اﷲ (عزوجل) اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر درود بھیجتے ہیں جو صفیں ملاتے ہیں۔'' (5) حاکم نے کہا، یہ حدیث بشرط مُسلِم صحیح ہے۔
حدیث ۳۰: ابن ماجہ ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''جو کشادگی کو بند کرے اﷲ تعالیٰ اس کا درجہ بلند فرمائے گا۔'' (6) اور طبرانی کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ ''اس کے ليے جنت میں اﷲ تعالیٰ اس کے بدلے ایک گھر بنائے گا۔'' (7)
حدیث ۳۱: سنن ابو داود و نَسائی و صحیح ابن خزیمہ میں براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃ الصفوف... إلخ، الحديث: ۱۲۸۔(۴۳۶)، ص۲۳۱.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃ الصفوف... إلخ، الحدیث: ۴۳۳، ص۲۳۰.
3 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الإمامۃ، باب من وصل صفأ، الحديث: ۸۱۶، ص۱۴۳.
4 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب الأمر، بالسکون في الصلاۃ... إلخ، الحديث:۴۳۰، ص۲۲۹.
5 ۔ ''المستدرک'' للحاکم، کتاب الإمامۃ... إلخ، باب من وصل صفاً وصلہ اﷲ، الحديث: ۸۰۶، ج۱، ص۴۷۰.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب إقامۃ الصلاۃ... إلخ، باب اقامۃ الصفوف، الحديث: ۹۹۵، ج۱، ص۵۲۷.
7 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب الميم، الحديث: ۵۷۹۷، ج۴، ص۲۲۵.
رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم صف کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے اور ہمارے مونڈھے یا سینے پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے: ''مختلف کھڑے نہ ہو کہ تمھارے دل مختلف ہو جائیں گے۔'' (1)
حدیث ۳۲ تا ۳۴ : طبرانی ابن عمر سے اور ابو داود براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''اس قدم سے بڑھ کر کسی قدم کا ثواب نہیں، جو ا س ليے چلا کہ صف میں کشادگی کو بند کرے۔'' (2) اور بزار باسناد حسن ابوجحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ''جو صف کی کشادگی بند کرے، اس کی مغفرت ہو جائے گی۔'' (3)
حدیث ۳۵: ابو داود و ابن ماجہ باسناد حسن ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''اﷲ (عزوجل) اور اس کے فرشتے صف کے دہنے والوں پر دُرود بھیجتے ہیں۔'' (4)
حدیث ۳۶: طبرانی کبیر میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو مسجد کی بائیں جانب کو اس ليے آباد کرے کہ اُدھر لوگ کم ہیں، اسے دُونا ثواب ہے۔'' (5)
حدیث ۳۷: مسلم و ابو داود و ترمذی و نَسائی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''مردوں کی سب صفوں میں بہتر پہلی صف ہے اور سب میں کم تر پچھلی اور عورتوں کی سب صفوں میں بہتر پچھلی ہے اور کم تر پہلی۔'' (6)
حدیث ۳۸و۳۹ : ابو داود و ابن خزیمہ و ابن حبان ام المؤمنین صدیقہ سے اور مسلم و ابو داود و نَسائی و ابن ماجہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''ہمیشہ صف اوّل سے لوگ پیچھے ہوتے رہیں گے، یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے مؤخر کرکے، نار میں ڈال دے گا۔'' (7)
حدیث ۴۰: ابو داود انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں: ''صف مقدم کو پورا کرو پھر اس کو جو اس کے بعد ہو، اگر کچھ کمی ہو تو پچھلی میں ہو۔'' (8)
1 ۔ ''صحيح ابن خزيمۃ''، باب ذکر صلوات الرب وملائکتہ... إلخ، الحديث: ۱۵۵۶، ج۳، ص۲۶.
2 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب الميم، الحديث:۵۲۴۰، ج۴، ص۶۹.
3 ۔ ''مسند البزار''، مسند أبي جحيفۃ، الحديث: ۴۲۳۲، ج۱۰، ص۱۵۹.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب من يستحب أن يلي الإمام في الصف... إلخ، الحدیث: ۶۷۶، ج۱، ص۲۶۸.
5 ۔ ''المعجم الکبير'' للطبراني، الحديث: ۱۱۴۵۹، ج۱۱، ص۱۵۲.
6 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃ الصفوف... إلخ، الحديث:۴۴۰، ص۲۳۲.
7 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب صف النساء، الحديث: ۶۷۹، ج۱، ص۲۶۹.
8 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃ الصفوف، الحديث: ۶۷۱، ج۱، ص۲۶۷.
حدیث ۴۱: ابو داود عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''عورت کا دالان میں نماز پڑھنا، صحن میں پڑھنے سے بہتر ہے اور کوٹھری میں دالان سے بہتر ہے۔'' (1)
حدیث ۴۲: ترمذی ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''ہر آنکھ زنا کرنے والی ہے (یعنی جو اجنبی کی طرف نظر کرے) اور بے شک عورت عطر لگا کر مجلس میں جائے، تو ایسی اور ایسی ہے، یعنی زانیہ ہے۔'' (2) ابو داود و نَسائی میں بھی اسی کے مثل ہے۔
حدیث ۴۳: صحیح مسلم میں عبداﷲ بن مسعور رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''تم میں سے عقل مند لوگ میرے قریب ہوں پھر وہ جواُن کے قریب ہوں (اسے تین بار فرمایا) اور بازاروں کی چیخ پکار سے بچو۔'' (3)
احکام فقہيہ: عاقِل، بالغ، حر، قادر پر جماعت واجب ہے، بلاعذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہگار اور مستحق سزا ہے اور کئی بار ترک کرے، تو فاسق مردود الشہادۃ اور اس کو سخت سزا دی جائے گی، اگر پروسیوں نے سکوت کیا تو وہ بھی گنہگار ہوئے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار، غنیہ)
مسئلہ ۱: جمعہ و عیدین میں جماعت شرط ہے اور تراویح میں سُنت کفایہ کہ محلہ کے سب لوگوں نے ترک کی تو سب نے بُرا کیا اور کچھ لوگوں نے قائم کر لی تو باقیوں کے سر سے جماعت ساقط ہوگئی اور رمضان کے وتر میں مستحب ہے، نوافل اور علاوہ رمضان کے وتر میں اگر تداعی کے طور پر ہو تو مکروہ ہے۔ تداعی کے یہ معنی ہیں کہ تین سے زیادہ مقتدی ہوں۔ سورج گہن میں جماعت سنت ہے اور چاند گہن میں تداعی کے ساتھ مکروہ۔ (5) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب التشديد في ذالک، الحديث: ۵۷۰، ج۱، ص۲۳۵.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الأدب، باب ماجاء في کراھیۃ خروج المرأ ۃ معطرۃ، الحديث: ۲۷۹۵، ج۴، ص۳۶۱.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃ الصفوف... إلخ، الحديث: ۱۲۳۔(۴۳۲)، ص۲۳۰.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: شروط الإمامۃ الکبرٰی، ج۲، ص۳۴۰.
و ''غنیۃ المتملي''، فصل في الإمامۃ و فيھا مباحث، ص۵۰۸.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب في شروط الإمامۃ الکبرٰی، ج۲، ص۳۴۱.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثامن عشر في الصلاۃ الکسوف، ج۱، ص۱۵۲.
مسئلہ ۲: جماعت میں مشغول ہونا کہ اس کی کوئی رکعت فوت نہ ہو، وضو میں تین تین بار اعضا دھونے سے بہتر ہے اور تین تین بار اعضا دھونا تکبیرۂ اُولیٰ پانے سے بہتر یعنی اگر وضو میں تین تین بار اعضا دھوتا ہے تو رکعت جاتی رہے گی، تو افضل یہ ہے کہ تین تین بار نہ دھوئے اور رکعت نہ جانے دے اور اگر جانتا ہے کہ رکعت تو مِل جائے گی، مگر تکبیرۂ اُولیٰ نہ ملے گی تو تین تین بار دھوئے۔ (1) (صغیری)
مسئلہ ۳: مسجدِ محلہ میں جس کے ليے امام مقرر ہو، امام محلہ نے اذان و اقامت کے ساتھ بطریق مسنون جماعت پڑھ لی ہو تو اذان و اقامت کے ساتھ ہيات اُولی پر دوبارہ جماعت قائم کرنا مکروہ ہے اور اگر بے اذان جماعتِ ثانیہ ہوئی، تو حرج نہیں جب کہ محراب سے ہٹ کر ہو اور اگر پہلی جماعت بغیر اذان ہوئی یا آہستہ اذان ہوئی یا غیروں نے جماعت قائم کی تو پھر جماعت قائم کی جائے اور یہ جماعت جماعتِ ثانیہ نہ ہوگی۔ ہيات بدلنے کے ليے امام کا محراب سے دہنے یا بائیں ہٹ کر کھڑا ہونا کافی ہے، شارع عام کی مسجد جس میں لوگ جوق جوق آتے اور پڑھ کر چلے جاتے ہیں یعنی اس کے نمازی مقرر نہ ہوں، اس میں اگرچہ اذان و اقامت کے ساتھ جماعتِ ثانیہ قائم کی جائے کوئی حرج نہیں، بلکہ یہی افضل ہے کہ جو گروہ آئے نئی اذان و اقامت سے جماعت کرے، یوہیں اسٹیشن و سرائے کی مسجدیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۴: جس کی جماعت جاتی رہی اس پر یہ واجب نہیں کہ دوسری مسجد میں جماعت تلاش کرکے پڑھے، ہاں مستحب ہے، البتہ جس کی مسجد حرم شریف کی جماعت فوت ہوئی، اس پر مستحب بھی نہیں کہ دوسری جگہ تلاش کرے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۵: (۱) مریض جسے مسجد تک جانے میں مُشقّت ہو۔
(۲) اپاہج۔
(۳) جس کا پاؤں کٹ گیا ہو۔
(۴) جس پر فالج گرا ہو۔
(۵) اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہے۔
(۶) اندھا اگرچہ اندھے کے ليے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے۔
(۷) سخت بارش اور
1 ۔ ''صغيری''، فصل في مسائل شتی، ص۳۰۶.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۳۴۲۔۳۴۴، وغیرہما.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۴۷۔۳۴۹.
(۸) شدید کیچڑ کا حائل ہونا۔
(۹) سخت سردی۔
(۱۰) سخت تاریکی۔
(۱۱) آندھی۔
(۱۲) مال یا کھانے کے تلف (1) ہونے کا اندیشہ۔
(۱۳) قرض خواہ کا خوف ہے اور یہ تنگ دست ہے۔
(۱۴) ظالم کا خوف۔
(۱۵) پاخانہ۔
(۱۶) پیشاب۔
(۱۷) ریاح کی حاجت شدید ہے۔
(۱۸) کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو۔
(۱۹) قافلہ چلے جانے کا اندیشہ ہے۔
(۲۰) مریض کی تیمارداری کہ جماعت کے ليے جانے سے اس کو تکلیف ہوگی اور گھبرائے گا، یہ سب ترک جماعت کے ليے عذر ہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۶: عورتوں کو کسی نماز میں جماعت کی حاضری جائز نہیں، دن کی نماز ہو یا رات کی، جمعہ ہو یا عیدین، خواہ وہ جوان ہوں یا بڑھیاں، یوہیں وعظ کی مجالس میں بھی جانا ناجائز ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۷: جس گھر میں عورتیں ہی عورتیں ہوں، اس میں مرد کو ان کی اِمامت ناجائز ہے، ہاں اگر ان عورتوں میں اس کی نسبی محارم ہوں یا بی بی یا وہاں کوئی مرد بھی ہو، تو ناجائز نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۸: اکیلا مقتدی مرد اگرچہ لڑکا ہو امام کی برابر دہنی جانب کھڑا ہو، بائیں طرف یا پیچھے کھڑا ہونا مکروہ ہے، دو
1 ۔ یعنی ضائع۔
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۴۷ ۔ ۳۴۹.
3 ۔ المرجع السابق، ص۳۶۷.
4 ۔ المرجع السابق، ص۳۶۸.
مقتدی ہوں تو پیچھے کھڑے ہوں، برابر کھڑا ہونا مکروہ تنزیہی ہے، دو سے زائد کا امام کی برابر کھڑا ہونا مکروہ تحریمی۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۹: دو مقتدی ہیں ایک مرد اور ایک لڑکا تو دونوں پیچھے کھڑے ہوں، اگر اکيلی عورت مقتدی ہے تو پیچھے کھڑی ہو، زیادہ عورتیں ہوں جب بھی یہی حکم ہے، دو مقتدی ہوں ایک مرد ایک عورت تو مرد برابر کھڑا ہو اور عورت پیچھے، دو مرد ہوں ایک عورت تو مرد امام کے پیچھے کھڑے ہوں اور عورت ان کے پیچھے۔ (2) (عالمگیری، بحر)
مسئلہ ۱۰: ایک شخص امام کی برابر کھڑا ہو اور پیچھے صف ہے، تو مکروہ ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: امام کی برابر کھڑے ہونے کے یہ معنی ہیں کہ مقتدی کا قدم امام سے آگے نہ ہو یعنی اس کے پاؤں کا گِٹا اُس کے گِٹے سے آگے نہ ہو، سر کے آگے پیچھے ہونے کا کچھ اعتبار نہیں، تو اگر امام کی برابر کھڑا ہوا اور چونکہ مقتدی امام سے دراز قد ہے لہٰذا سجدے میں مقتدی کا سر امام سے آگے ہوتا ہے، مگر پاؤں کا گِٹا گِٹے سے آگے نہ ہو تو حرج نہیں۔ یوہیں اگر مقتدی کے پاؤں بڑے ہوں کہ اُنگلیاں امام سے آگے ہیں جب بھی حرج نہیں، جب کہ گِٹا آگے نہ ہو۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: اشارے سے نماز پڑھتا ہو تو قدم کی محاذات معتبر نہیں، بلکہ شرط یہ ہے کہ اس کا سر امام کے سر سے آگے نہ ہو اگرچہ مقتدی کا قدم امام سے آگے ہو، خواہ امام رکوع و سجود سے پڑھتا ہو یا اشارے سے، بیٹھ کر یا لیٹ کر قبلہ کی طرف پاؤں پھیلا کر اور اگر امام کروٹ پر لیٹ کر اشارے سے پڑھتا ہو تو سر کی محاذات نہیں لی جائے گی، بلکہ شرط یہ ہے کہ مقتدی امام کے پیچھے لیٹا ہو۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: مقتدی اگر ایک قدم پر کھڑا ہے تو محاذات میں اسی قدم کا اعتبار ہے اور دونوں پاؤں پر کھڑا ہوا اگر ایک برابر ہے اور ایک پیچھے، تو صحیح ہے اور ایک برابر ہے اور ایک آگے، تو نماز صحیح نہ ہونا چاہیے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: ایک شخص امام کی برابر کھڑا تھا پھر ایک اور آیا تو امام آگے بڑھ جائے اور وہ آنے والا اس مقتدی کی برابر کھڑا ہو جائے یا وہ مقتدی پیچھے ہٹ آئے خود یا آنے والے نے اس کو کھینچا، خواہ تکبیر کے بعد یا پہلے یہ سب صورتیں جائز ہیں، جو
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۷۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۸.
و ''البحرالرائق''، کتاب الصلوۃ،باب الإمامۃ، ج۱، ص۶۱۸.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۷۰.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: إذا صلی الشافعي... إلخ، ج۲، ص۳۶۸.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: إذا صلی الشافعي... إلخ، ج۲، ص۳۶۹.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: إذا صلی الشافعي... إلخ، ج۲، ص۳۷۰.
ہو سکے کرے اور سب ممکن ہيں تو اختیار ہے، مگر مقتدی جبکہ ایک ہو تو اس کا پیچھے ہٹنا افضل ہے اور دو ہوں تو امام کا آگے بڑھنا، اگر مقتدی کے کہنے سے امام آگے بڑھا یا مقتدی پیچھے ہٹا اس نیت سے کہ یہ کہتا ہے اس کی مانوں، تو نماز فاسد ہو جائے گی اور حکم شرع بجالانے کے ليے ہو، کچھ حرج نہیں۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۵: مرد اور بچے اور خنثیٰ (2) اور عورتیں جمع ہوں تو صفوں کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے مردوں کی صف ہو پھر بچوں کی پھر خنثیٰ کی پھر عورتوں کی اور بچہ تنہا ہو تو مردوں کی صف میں داخل ہو جائے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: صفیں مل کر کھڑی ہوں کہ بیچ میں کشادگی نہ رہ جائے اور سب کے مونڈھے برابر ہوں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: امام کو چاہیے کہ وسط میں کھڑا ہو، اگر دہنی یا بائیں جانب کھڑا ہوا، تو خلافِ سنت کیا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: مردوں کی پہلی صف کہ امام سے قریب ہے، دوسری سے افضل ہے اور دوسری تیسری سے وعلیٰ ہذا القیاس۔ (6) (عالمگیری) مقتدی کے ليے افضل جگہ یہ ہے کہ امام سے قریب ہو اور دونوں طرف برابر ہوں، تو دہنی طرف افضل ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: صف مقدم کا افضل ہونا، غیر جنازہ میں ہے اور جنازہ میں آخر صف افضل ہے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: امام کو ستونوں کے درمیان کھڑا ہونا مکروہ ہے۔ (9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: پہلی صف میں جگہ ہو اور پچھلی صف بھر گئی ہو تو اس کو چیر کر جائے اور اس خالی جگہ میں کھڑا ہو، اس کے ليے حدیث میں فرمایا: کہ ''جو صف میں کشادگی دیکھ کر اسے بند کر دے، اس کی مغفرت ہو جائے گی۔'' (10) (عالمگیری) اور یہ
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: ھل الاساء ۃ... إلخ، ج۲، ص۳۷۰، وغیرہ.
2 ۔ ہيجڑا۔
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۷۷.
4 ۔ المرجع السابق، ص۳۷۱.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۹.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۷۲۔۳۸۴.
9 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: ھل اساء ۃ دون الکراہۃ او افحش منھا؟، ج۲، ص۳۷۱.
10 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۹.
و '' مجمع الزوائد''، کتاب الصلاۃ، باب صلۃ الصفوف سدّ الفرج، الحديث: ۲۵۰۳، ج۲، ص۲۵۱.
وہاں ہے، جہاں فتنہ و فساد کا احتمال نہ ہو۔
مسئلہ ۲۲: صحن مسجد میں جگہ ہوتے ہوئے بالا خانہ پر اقتدا کرنا مکروہ ہے، يوہيں صف ميں جگہ ہوتے ہوئے صف کے پیچھے کھڑا ہونا ممنوع ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: عورت اگر مرد کے محاذی ہو تو مرد کی نماز جاتی رہے گی۔ اس کے ليے چند شرطیں ہیں:
(۱) عورت مشتہاۃ ہو یعنی اس قابل ہو کہ اس سے جماع ہو سکے، اگرچہ نابالغہ ہو اور مشتہات میں سن کا اعتبار نہیں نو برس کی ہو یا اس سے کچھ کم کی، جب کہ اُس کا جُثہ اس قابل ہو اور اگر اس قابل نہیں، تو نماز فاسد نہ ہوگی اگرچہ نماز پڑھنا جانتی ہو۔ بڑھیا بھی اس مسئلہ میں مشتہاۃ ہے وہ عورت اگر اس کی زوجہ ہو یا محارم میں ہو، جب بھی نماز فاسد ہو جائے گی، (۲) کوئی چیز اُنگلی برابر موٹی اور ایک ہاتھ اونچی حائل نہ ہو، نہ دونوں کے درمیان اتنی جگہ خالی ہو کہ ایک مرد کھڑا ہوسکے، نہ عورت اتنی بلندی پر ہو کہ مرد کا کوئی عضو اس کے کسی عضو سے محاذی نہ ہو، (۳) رکوع سجود والی نماز میں یہ محاذات واقع ہو، اگر نماز جنازہ میں محاذات ہوئی تو نماز فاسد نہ ہوگی، (۴) وہ نماز دونوں میں تحریمۃً مشترک ہو یعنی عورت نے اس کی اقتدا کی ہو یا دونوں نے کسی امام کی، اگرچہ شروع سے شرکت نہ ہو تو اگر دونوں اپنی اپنی پڑھتے ہوں تو فاسد نہ ہوگی، مکروہ ہوگی، (۵) ادا میں مشترک ہو کہ اس میں مرد اس کا امام ہو یا ان دونوں کا کوئی دوسرا امام ہو جس کے پیچھے ادا کر رہے ہیں، حقیقۃً یا حکماً مثلاً دونوں لاحق ہوں کہ بعد فراغ امام اگرچہ امام کے پیچھے نہیں مگر حکماً امام کے پیچھے ہی ہیں اور مسبوق امام کے پیچھے، نہ حقیقۃً ہے نہ حکماً بلکہ وہ منفرد ہے، (۶) دونوں ایک ہی جہت کو متوجہ ہوں اگر جہت بدل جائے، جیسے تاریک شب میں کہ پتہ نہ چلتا ہو ایک طرف امام کا مونھ ہے اور دوسری طرف مقتدی کا یا کعبہ معظمہ میں پڑھی اور جہت بدلی ہو تو نماز ہو جائے گی، (۷) عورت عاقلہ ہو، مجنونہ کی محاذات میں نماز فاسد نہ ہوگی، (۸) امام نے اِمامت زناں (2) کی نیّت کر لی ہو، اگرچہ شروع کرتے وقت عورتیں شریک نہ ہوں اور اگر اِمامت زناں کی نیت نہ ہو تو عورت ہی کی فاسد ہوگی مرد کی نہیں، (۹) اتنی دیر تک محاذات رہے کہ ایک کامل رکن ادا ہوجائے یعنی بقدر تین تسبیح کے، (۱۰) دونوں نماز پڑھنا جانتے ہوں، (۱۱) مرد عاقِل بالغ ہو۔ (3) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری وغیرہا)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۷۴.
2 ۔ یعنی عورتوں کی امامت۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۹.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب في الکلام علی الصف الأوّل، ج۲،
ص۳۷۸ ۔ ۳۸۶.
مسئلہ ۲۴: مرد کے شروع کرنے کے بعد عورت آکر برابر کھڑی ہوگئی اور اس نے اِمامت عورت کی نیت بھی کر لی ہے، مگر شریک ہوتے ہی پیچھے ہٹنے کو اشارہ کیا مگر نہ ہٹی تو عورت کی نماز جاتی رہے گی مرد کی نہیں، یوہیں اگر مقتدی کے برابر کھڑی ہوئی اور اشارہ کر دیا اور نہ ہٹی تو عورت ہی کی نماز فاسد ہوگی۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: خنثیٰ مشکل کی محاذات مفسد نماز نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: امرد خوبصورت مشتہی کا مرد کے برابر کھڑا ہونا مفسد نماز نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: مقتدی کی چار قسمیں ہیں:
(۱) مدرک۔
(۲) لاحق۔
(۳) مسبوق۔
(۴) لاحق مسبوق۔
مدرک اسے کہتے ہیں جس نے اوّل رکعت سے تشہد تک امام کے ساتھ پڑھی، اگرچہ پہلی رکعت میں امام کے ساتھ رکوع ہی میں شریک ہوا ہو۔
لاحق وہ کہ امام کے ساتھ پہلی رکعت میں اقتدا کی مگر بعد اقتدا اس کی کل رکعتیں یا بعض فوت ہوگئیں، خواہ عذر سے فوت ہوں، جیسے غفلت یا بھیڑ کی وجہ سے رکوع سجود کرنے نہ پایا، يا نماز میں اسے حدث ہوگیا یا مقیم نے مسافر کے پیچھے اقتدا کی یا نماز خوف میں پہلے گروہ کو جو رکعت امام کے ساتھ نہ ملی، خواہ بلا عذر فوت ہوں، جیسے امام سے پہلے رکوع سجود کرلیا پھر اس کا اعادہ بھی نہ کیا تو امام کی دوسری رکعت، اس کی پہلی رکعت ہوگی اور تیسری دوسری اور چوتھی تیسری اور آخر میں ایک رکعت پڑھنی ہوگی۔
مسبوق وہ ہے کہ امام کی بعض رکعتیں پڑھنے کے بعد شامل ہوا اور آخر تک شامل رہا۔
لاحق مسبوق وہ ہے جس کی کچھ رکعتیں شروع کی نہ ملیں، پھر شامل ہونے کے بعد لاحق ہوگیا۔ (4)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب في الکلام علی الصف الأوّل، ج۲، ص۳۸۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۹۰.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۸۶.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب في احکام المسبوق... إلخ، ج۲، ص۴۱۴.
مسئلہ ۲۸: لاحق مدرک کے حکم میں ہے کہ جب اپنی فوت شدہ پڑھے گا، تو اس میں نہ قراء ت کریگا، نہ سہو سے سجدۂ سہو کریگا اور اگر مسافر تھا تو نماز میں نیتِ اقامت سے اس کا فرض متغیر نہ ہوگا کہ دو سے چار ہو جائے اور اپنی فوت شدہ کو پہلے پڑھے گا، یہ نہ ہو گا کہ امام کے ساتھ پڑھے، پھر جب امام فارغ ہو جائے تو اپنی پڑھے، مثلاً اس کو حدث ہوا اور وضو کرکے آیا، تو امام کو قعدۂ اخیرہ میں پایا تو یہ قعدہ میں شریک نہ ہوگا، بلکہ جہاں سے باقی ہے، وہاں سے پڑھنا شروع کرے، اس کے بعد اگر امام کو پا لے تو ساتھ ہو جائے اور اگر ایسا نہ کیا بلکہ ساتھ ہو لیا، پھر امام کے سلام پھیرنے کے بعد فوت شدہ پڑھی، تو ہوگئی، مگر گنہگار ہوا۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: تیسر ی رکعت میں سو گیا اور چوتھی میں جاگا، تو اسے حکم ہے کہ پہلے تیسری بلا قراء ت پڑھے، پھر اگر امام کو چوتھی میں پائے تو ساتھ ہو لے، ورنہ اُسے بھی بلا قراء ت تنہا پڑھے اور ایسا نہ کیا بلکہ چوتھی امام کے ساتھ پڑھ لی، پھر بعد میں تیسری پڑھی، تو ہو گئی اور گنہگار ہوا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: مسبوق کے احکام ان امور میں لاحق کے خلاف ہیں کہ پہلے امام کے ساتھ ہو لے پھر امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی فوت شدہ پڑھے اور اپنی فوت شدہ میں قراء ت کریگا اور اس میں سہو ہو تو سجدۂ سہو کریگا اورنیت اقامت سے فرض متغیر ہوگا۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: مسبوق اپنی فوت شدہ کی ادا میں منفرد ہے کہ پہلے ثنا نہ پڑھی تھی، اس وجہ سے کہ امام بلند آواز سے قراء ت کررہا تھا یا امام رکوع میں تھا اور يہ ثنا پڑھتا تو اسے رکوع نہ ملتا، یا امام قعدہ میں تھا، غرض کسی وجہ سے پہلے نہ پڑھی تھی تو اب پڑھے اور قراء ت سے پہلے تعوذ پڑھے۔(4) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۲: مسبوق نے اپنی فوت شدہ پڑھ کر امام کی متابعت کی، تو نماز فاسد ہوگئی۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: مسبوق نے امام کو قعدہ میں پایا ،تو تکبیر تحریمہ سیدھے کھڑے ہونے کی حالت میں کرے، پھر دوسری تکبیر کہتا ہوا قعدہ میں جائے۔ (6) (عالمگیری) رکوع و سجود میں پائے ،جب بھی یوہیں کرے، اگر پہلی تکبیر کہتا ہوا جھکا
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب فیما لو أتی بالرکوع... إلخ، ج۲، ص۴۱۶.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ، مطلب فیما لو أتی بالرکوع... إلخ، ج۲، ص۴۱۶.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ، مطلب فیما لو أتی بالرکوع... إلخ، ج۲، ص۴۱۶.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ص۴۱۷.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل السابع، ج۱، ص۹۱.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۴۱۷.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل السابع، ج۱، ص۹۱.
اور حد رکوع تک پہنچ گیا ،تو سب صورتوں میں نماز نہ ہوگی۔
مسئلہ ۳۴: مسبوق نے جب امام کے فارغ ہونے کے بعد اپنی شروع کی تو حق قراء ت میں یہ رکعت اوّل قرار دی جائے گی اور حق تشہد میں پہلی نہیں بلکہ دوسری تیسری چوتھی جو شمار میں آئے مثلاً تین یا چار رکعت والی نماز میں ایک اسے ملی تو حق تشہد میں یہ جو اب پڑھتا ہے، دوسری ہے، لہٰذا ایک رکعت فاتحہ و سورت کے ساتھ پڑھ کر قعدہ کرے اور اگر واجب یعنی فاتحہ یا سورت ملانا ترک کیا تو اگر عمداً ہے اعادہ واجب ہے اور سہواً ہو تو سجدۂ سہو، پھر اس کے بعد والی میں بھی فاتحہ کے ساتھ سورت ملائے اور اس میں نہ بیٹھے، پھر اس کے بعد والی میں فاتحہ پڑھ کر رکوع کر دے اور تشہد وغیرہ پڑھ کر ختم کر دے، دو ملی ہیں دو جاتی رہیں تو ان دونوں میں قراء ت کرے، ایک میں بھی فرض قراء ت ترک کیا، نماز نہ ہوئی۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳۵: چار باتوں میں مسبوق مقتدی کے حکم میں ہے۔
(۱) اس کی اقتدا نہیں کی جاسکتی، مگر امام اسے اپنا خلیفہ بنا سکتا ہے مگر خلیفہ ہونے کے بعد سلام نہ پھیرے گا، اس کے ليے دوسرے کو خلیفہ بنائے گا۔
(۲) بالاجماع تکبیرات تشریق کہے گا۔
(۳) اگر نئے سرے سے نماز پڑھنے اور اس نماز کے قطع کرنے کی نیت سے تکبیر کہے، تو نماز قطع ہو جائے گی، بخلاف منفرد کے کہ اس کی نماز قطع نہ ہوگی۔
(۴) اپنی فوت شدہ پڑھنے کے ليے کھڑا ہوگیا اور امام کو سجدۂ سہو کرنا ہے، اگرچہ اس کی اقتدا کے پہلے ترک وا جب ہوا ہو تو اُسے حکم ہے کہ لوٹ آئے، اگر اپنی رکعت کا سجدہ نہ کر چکا ہو اور نہ لوٹا تو آخر میں یہ دو سجدۂ سہو کرے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: مسبوق کو چاہیے کہ امام کے سلام پھیرتے ہی فوراً کھڑا نہ ہو جائے، بلکہ اتنی دیر صبر کرے کہ معلوم ہو جائے کہ امام کو سجدۂ سہو نہیں کرنا ہے، مگر جب کہ وقت میں تنگی ہو۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳۷: امام کے سلام پھیرنے سے پہلے مسبوق کھڑا ہوگیا تو اگر امام کے بقدر تشہد بیٹھنے سے پہلے کھڑا ہوگیا تو جو کچھ اس سے پہلے ادا کرچکا اسکا شمار نہيں، مثلاً امام کے قدر تشہد بيٹھنے سے پہلے يہ قراء ت سے فارغ ہوگيا تو یہ قراء ت کافی نہیں اور نماز نہ ہوئی اور بعد میں بھی بقدر ضرورت پڑھ لیا تو ہو جائے گی اور اگر امام کے بقدر تشہد بیٹھنے کے بعد اور سلام سے پہلے کھڑا ہوگیا تو
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۴۱۸، وغیرہ .
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق، ص۴۱۹.
جو ارکان ادا کر چکا ان کا اعتبار ہوگا، مگر بغیر ضرورت سلام سے پہلے کھڑا ہونا مکروہ تحریمی ہے، پھر اگر امام کے سلام سے پہلے فوت شدہ ادا کر لی اور سلام میں امام کا شریک ہوگیا تو بھی صحیح ہو جائے گی اور قعدہ اور تشہد میں متابعت کریگا تو فاسد ہو جائے گی۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۸: امام کے سلام سے پہلے مسبوق کسی عذر کی وجہ سے کھڑا ہوگیا، مثلاً سلام کے انتظار میں خوف حدث ہو، یا فجر و جمعہ و عیدین کے وقت ختم ہو جانے کا اندیشہ ہے يا وہ مسبوق معذور ہے اور وقت نماز ختم ہونے کا گمان ہے يا موزہ پر مسح کیا ہے اور مسح کی مدت پوری ہو جائے گی، تو ان سب صورتوں میں کراہت نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳۹: اگر امام سے نماز کا کو ئی سجدہ رہ گیا اور مسبوق کے کھڑے ہونے کے بعد یاد آیا، تو اس میں مسبوق کو امام کی متابعت فرض ہے، اگر نہ لوٹا تو اس کی نماز ہی نہ ہوئی اور اگر اس صورت میں رکعت پوری کر کے مسبوق نے سجدہ بھی کر لیا ہے تو مطلقاً نما ز نہ ہوگی، اگرچہ امام کی متابعت کرے اگر امام کو سجدۂ سہو یا تلاوت کرنا ہے اور اس نے اپنی رکعت کا سجدہ کر لیا تو اگر متابعت کریگا، فاسد ہو جائے گی ورنہ نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴۰: مسبوق نے امام کے ساتھ قصداً سلام پھیرا، یہ خیال کر کے کہ مجھے بھی امام کے ساتھ سلام پھیرنا چاہیے، نماز فاسد ہوگئی اور بھول کر سلام پھيرا ،تو اگر امام کے ذرا بعد سلام پھیرا تو سجدۂ سہو لازم ہے اور اگر بالکل ساتھ ساتھ پھیرا تو نہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: بھول کر امام کے ساتھ سلام پھیر دیا پھر گمان کر کے کہ نماز فاسد ہوگئی، نئے سرے سے پڑھنے کی نیت سے اﷲ اکبر کہا، تو اب فاسد ہوگئی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: امام قعدۂ اخیرہ کے بعد بھول کر پانچویں رکعت کے ليے اُٹھا، اگر مسبوق امام کی قصداً متابعت کرے، نماز جاتی رہے گی اور اگر امام نے قعدۂ اخیرہ نہ کیا تھا، تو جب تک پانچویں رکعت کا سجدہ نہ کرلے گا، فاسد نہ ہوگی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: امام نے سجدۂ سہو کیا مسبوق نے اس کی متابعت کی جیسا کہ اسے حکم ہے، پھر معلوم ہوا کہ امام پر سجدۂ سہو نہ تھا، مسبوق کی نماز فاسد ہوگئی۔ (7) (درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۴۲۰.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب فیما لو أتی بالرکوع... إلخ، ج۲ص۴۲۱.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب فیما لو أتی بالرکوع... إلخ، ج۲، ص۴۲۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل السابع، ج۱، ص۹۱.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۴۲۲.
7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۴۴: دو مسبوقوں نے ایک ہی رکعت میں امام کی اقتدا کی، پھر جب اپنی پڑھنے لگے تو ایک کو اپنی رکعتیں یاد نہ رہیں، دوسرے کو دیکھ دیکھ کر جتنی اس نے پڑھی، اس نے بھی پڑھی، اگر اس کی اقتدا کی نیت نہ کی ہوگئی ۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴۵: لاحق مسبوق کا حکم يہ ہے کہ جن رکعتوں میں لاحق ہے ان کو امام کی ترتیب سے پڑھے اور ان میں لاحق کے احکام جاری ہوں گے، ان کے بعد امام کے فارغ ہونے کے بعد جن میں مسبوق ہے، وہ پڑھے اور ان میں مسبوق کے احکام جاری ہوں گے، مثلاً چار رکعت والی نماز کی دوسری رکعت میں ملا پھر دو رکعتوں میں سوتا رہ گیا، تو پہلے یہ رکعتیں جن میں سوتا رہا بغیر قراء ت ادا کرے، صرف اتنی دیر خاموش کھڑا رہے جتنی دیر میں سورۂ فاتحہ پڑھی جاتی ہے پھر امام کے ساتھ جو کچھ مل جائے، اس میں متابعت کرے، پھر وہ فوت شدہ مع قراء ت پڑھے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴۶: دو رکعتوں میں سوتا رہا اور ایک میں شک ہے کہ امام کے ساتھ پڑھی ہے یا نہیں، تو اس کو آخر نماز میں پڑھے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: قعدۂ اُولیٰ میں امام تشہد پڑھ کر کھڑا ہوگیا اور بعض مقتدی تشہد پڑھنا بھول گئے، وہ بھی امام کے ساتھ کھڑے ہوگئے، تو جس نے تشہد نہیں پڑھا تھا وہ بیٹھ جائے اور تشہد پڑھ کر امام کی متابعت کرے، اگرچہ رکعت فوت ہوجائے۔ (4) (عالمگیری) رکوع یا سجدہ سے امام کے پہلے مقتدی نے سر اوٹھا لیا، تو اسے لوٹنا واجب ہے اور یہ دو رکوع، دو سجدے نہیں ہوں گے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۸: امام نے طویل سجدہ کیا ،مقتدی نے سر اوٹھایا اور یہ خیال کیا کہ ا مام دوسرے سجدہ میں ہے اس نے بھی اس کے ساتھ سجدہ کیا، توا گر سجدۂ اُولیٰ کی نیت کی یا کچھ نیت نہ کی یا ثانیہ اور متابعت کی نیت کی تو اُولیٰ ہوا اور اگر صرف ثانیہ کی نیت کی تو ثانیہ ہوا پھر اگر وہ اسی سجدے میں تھا کہ امام نے بھی سجدہ کیا اور مشارکت ہوگئی تو جائز ہے اور امام کے دوسرا سجدہ کرنے سے پہلے اگر اس نے سر اوٹھا لیا تو جائز نہ ہوا اور اس پر اس سجدہ کا اعادہ ضروری ہے، اگر اعادہ نہ کریگا نماز فاسد ہوجائے گی۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۴۱۹.
2 ۔ المرجع السابق، ص۴۱۶.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل السابع، ج۱، ص۹۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل السادس، ج۲، ص۹۰.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۴۹: مقتدی نے سجدہ میں طُول کیا یہاں تک کہ امام پہلے سجدہ سے سر اُٹھا کر دوسرے میں گیا، اب مقتدی نے سر اوٹھایا اور یہ گمان کیا کہ امام ابھی پہلے ہی سجدے میں ہے اور سجدہ کیا تو یہ دوسرا سجدہ ہوگا، اگرچہ صرف پہلے ہی سجدہ کی نیت کی ہو۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: پانچ چیزیں وہ ہیں کہ امام چھوڑ دے تو مقتدی بھی نہ کرے اور امام کا ساتھ دے۔
(۱) تکبیرات عیدین۔
(۲) قعدۂ اُولیٰ۔
(۳) سجدۂ تلاوت۔
(۴) سجدۂ سہو۔
(۵) قنوت جب کہ رکوع فوت ہونے کا اندیشہ ہو، ورنہ قنوت پڑھ کر رکوع کرے۔ (2) (عالمگیری، صغیری) مگر قعدۂ اُولیٰ نہ کیا اور ابھی سیدھا کھڑا نہ ہوا تو مقتدی ابھی اس کے ترک میں متابعت امام کی نہ کرے بلکہ اسے بتائے، تاکہ وہ واپس آئے، اگر واپس آگیا فبہا اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تو اب نہ بتائے کہ نماز جاتی رہے گی، بلکہ خود بھی قعدہ چھوڑ دے اور کھڑا ہو جائے۔
مسئلہ ۵۱: چار چیزیں وہ ہیں کہ امام کرے تو مقتدی اس کا ساتھ نہ ديں۔
(۱) نماز میں کوئی زائد سجدہ کیا۔
(۲) تکبیرات عیدین میں اقوال صحابہ پر زیادتی کی۔
(۳) جنازہ میں پانچ تکبیریں کہیں۔
(۴) پانچویں رکعت کے ليے بھول کر کھڑا ہوگیا، پھر اس صورت میں اگر قعدۂ اخيرہ کر چکا ہے تو مقتدی اس کا انتظار کرے، اگر پانچویں کے سجدہ سے پہلے لوٹ آیا تو مقتدی بھی اس کا ساتھ دے، اس کے ساتھ سلام پھیرے اور اس کے ساتھ سجدۂ سہو کرے اور اگر پانچویں کا سجدہ کر لیا تو مقتدی تنہا سلام پھیرلے۔ اور اگر قعدۂ اخیرہ نہیں کیا تھا اور پانچویں رکعت کا سجدہ کر لیا تو سب کی نماز فاسد ہوگئی، اگرچہ مقتدی نے تشہد پڑھ کر سلام پھیر لیا ہو۔ (3) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل السادس، ج۲، ص۹۰.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۵۲: نو چیزیں ہیں کہ امام اگر نہ کرے تو مقتدی اس کی پیروی نہ کرے، بلکہ بجا لائے۔
(۱) تکبیر تحریمہ میں ہاتھ اُٹھانا۔
(۲) ثنا پڑھنا، جبکہ امام فاتحہ میں ہو اور آہستہ پڑھتا ہو۔
(۳) رکوع۔
(۴) سجود کی تکبیرات و
(۵) تسبیحات۔
(۶) تسمیع۔
(۷) تشہد پڑھنا۔
(۸) سلام پھیرنا۔
(۹) تکبیرات تشریق۔ (1) (عالمگیری، صغیری)
مسئلہ ۵۳: مقتدی نے سب رکعتوں میں امام سے پہلے رکوع سجود کر لیا، تو ایک رکعت بعد کو بغیر قراء ت پڑھے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: امام سے پہلے سجدہ کیا مگر اس کے سر اٹھانے سے پہلے امام بھی سجدہ میں پہنچ گیا تو سجدہ ہوگیا، مگر مقتدی کو ایسا کرنا حرام ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۵: امام اور مقتدیوں میں اختلاف ہوا، مقتدی کہتے ہیں تین پڑھیں امام کہتا ہے چار پڑھیں تو اگر امام کو یقین ہو، اعادہ نہ کرے، ورنہ کرے اور اگر مقتدیوں میں باہم اختلاف ہوا تو امام جس طرف ہے اس کا قول لیا جائے گا۔ ایک شخص کو تین رکعتوں کا یقین ہے اور ایک کو چار کا اور باقی مقتدیوں اور امام کو شک ہے تو ان لوگوں پر کچھ نہیں اور جسے کمی کا یقین ہے اعادہ کرے اور امام کو تین رکعتوں کا یقین ہے اور ایک شخص کو پوری ہونے کا یقین ہے تو امام و قوم اعادہ کریں اور اس یقین کرنے والے پر اعادہ نہیں، ایک شخص کو کمی کا یقین ہے اور امام و جماعت کو شک ہے تو اگر وقت باقی ہے اعادہ کریں، ورنہ ان کے ذمہ کچھ نہیں۔ ہاں اگر دو عادل یقین کے ساتھ کہتے ہوں تو بہرحال اعادہ ہے۔ (4) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل السادس، ج۲، ص۹۰.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل السابع، ج۱، ص۹۳.
ابو داود اُم المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی ،رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب کوئی نماز میں بے وضو ہو جائے، تو ناک پکڑلے اور چلا جائے۔'' (1)
ابن ماجہ و دارقطنی کی روایت انھيں سے ہے، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم ''جس کو قے آئے یا نکسیر ٹوٹے یا مذی نکلے، تو چلا جائے اور وضو کرکے اسی پر بنا کرے، بشرطیکہ کلام نہ کیا ہو۔'' (2)
اور بہت سے صحابۂ کرام مثلاً صدیق اکبر و فاروقِ اعظم و مولیٰ علی و عبداﷲ بن عمر و سلمان فارسی اور تابعین عظام مثلاً علقمہ و طاؤس و سالم بن عبداﷲ و سعید بن جبیر و شعبی و ابراہیم نخعی و عطا و مکحول و سعید بن المسیب رضوان اﷲ تعالیٰ عليہم اجمعین کا یہی قول ہے۔
احکام فقہيہ: نماز میں جس کا وضو جاتا رہے اگرچہ قعدۂ اخیرہ میں تشہد کے بعد سلام سے پہلے، تو وضو کر کے جہاں سے باقی ہے وہیں سے پڑھ سکتا ہے، اس کو بنا کہتے ہیں، مگر افضل یہ ہے کہ سرے سے پڑھے اسے استیناف کہتے ہیں، اس حکم میں عورت مرد دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ (3) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۱: جس رکن میں حدث واقع ہو، اُس کا اعادہ کرے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: بنا کے ليے تیرہ (۱۳) شرطیں ہیں، اگر ان میں ایک شرط بھی معدوم (5) ہو، بنا جائز نہیں۔
(۱) حدث مُوجب وُضو ہو۔
(۲) اُس کا وجود نا درنہ ہو۔
(۳) وہ حدث سماوی ہو یعنی نہ وہ بندہ کے اختیار سے ہو نہ اس کا سبب۔
(۴) وہ حدث اس کے بدن سے ہو۔
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب استئذان المحدث للإمام، الحدیث: ۱۱۱۴، ج۱، ص۴۱۲.
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب إقامۃ الصلوات، باب ماجاء في البناء علی الصلاۃ، الحدیث: ۱۲۲۱، ج۲، ص۶۹.
3 ۔ ''البحرالرائق''، کتاب الصلاۃ، باب الحدث في الصلاۃ، ج۱، ص ۶۴۲ ۔ ۶۵۳.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، ج۱، ص۹۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، ج۱، ص۹۳.
5 ۔ یعنی نہ پائی گئی۔
(۵) اس حدث کے ساتھ کوئی رکن ادا نہ کیا ہو۔
(۶) نہ بغیر عذر بقدر ادائے رکن ٹھہرا ہو۔
(۷) نہ چلتے میں رکن ادا کیا ہو۔
(۸) کوئی فعل منافی نماز جس کی اسے اجازت نہ تھی، نہ کیا ہو۔
(۹) کوئی ایسا فعل کیا ہو جس کی اجازت تھی، تو بغیر ضرورت بقدر منافی زائد نہ کیا ہو۔
(۱۰) اس حدث سماوی کے بعد کوئی حدث سابق ظاہر نہ ہوا ہو۔
(۱۱) حدث کے بعد صاحبِ ترتیب کو قضا نہ یاد آئی ہو۔
(۱۲) مقتدی ہو تو امام کے فارغ ہونے سے پہلے، دوسری جگہ ادا نہ کی ہو۔
(۱۳) امام تھا تو ایسے کو خلیفہ نہ بنایا ہو، جو لائق امامت نہیں۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳: نماز میں موجب غسل پایا گیا، مثلاً تفکر وغیرہ سے انزال ہوگیا تو بنا نہیں ہوسکتی، سرے سے پڑھنا ضروری ہے۔ (2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۴: اگر وہ حدث نادرالوجود ہو، جیسے قہقہہ و بے ہوشی و جنون، تو بنا نہیں کرسکتا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: اگر وہ حدث سماوی نہ ہو، خواہ اس مُصلّی کی طرف سے ہو کہ قصداً اس نے اپنا وضو توڑ دیا (مثلاً بھر مونھ قے کر دی يا نکسير توڑ دی یا پھڑیا دبادی کہ اس سے مواد بہا یا گھٹنے میں پُھڑیا تھی اور سجدہ میں گھٹنوں پر زور دیا کہ بہی) خواہ دوسرے کی طرف سے ہو، مثلاً کسی نے اس کے سر پر پتھر مارا کہ خون نکل کر بہ گیا یا کسی نے اس کی پھڑیا دبادی اور خون بہ گیا یا چھت سے اس پر کوئی پتھر گرا اور اس کے بدن سے خون بہا، وہ پتھر خودبخود گرا یا کسی کے چلنے سے، تو ان سب صورتوں میں سرے سے پڑھے، بنا نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگر درخت سے پھل گرا جس سے یہ زخمی ہوگیا اور خون بہا یا پاؤں میں کانٹا چُبھا یا سجدہ میں پیشانی میں چُبھا اور خون بہا یا بھڑنے کاٹا اور خون بہا، تو بنا نہیں ہوسکتی۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
1 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۲۲.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، ج۱، ص۹۳، وغیرہ.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، ج۱، ص۹۳، ۹۴.
4 ۔ المرجع السابق، و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۲۴.
مسئلہ ۶: بلااختیار بھر مونھ قے ہوئی تو بنا کرسکتا ہے اور قصداً کی تو بنا نہیں کرسکتا، نماز میں سو گیا اور حدث واقع ہوا اور دیر کے بعد بیدار ہوا تو بنا کرسکتا ہے اور بیداری میں توقف کیا، نماز فاسد ہوگئی، چھینک یا کھانسی سے ہوا خارج ہوگئی یا قطرہ آگیا، تو بنا نہیں کرسکتا۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۷: کسی نے اس کے بدن پر نجاست ڈال دی يا کسی طرح اس کا بدن يا کپڑا ایک درم سے زیادہ نجس ہوگیا، تو اُسے پاک کرنے کے بعد بنا نہیں کرسکتا اور اگر اُسی حدث کے سبب نجس ہوا تو بنا کرسکتا ہے اور اگر خارج و حدث دونوں سے ہے، تو بنا نہیں ہوسکتی۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: کپڑا ناپاک ہوگیا، دوسرا پاک کپڑا موجود ہے کہ فوراً بدل سکتا ہے، تو اگر فوراً بدل لیا ہوگئی اور دوسرا کپڑا نہیں کہ بدلے یا اسی حالت میں ایک رکن ادا کیا یا وقفہ کیا، نماز فاسد ہوگئی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: رکوع یا سجدہ میں حدث ہوا اور بہ نیت ادائے رکن سر اُٹھایا یعنی رکوع سے
سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ
اور سجدہ سے اﷲ اکبر کہتے ہوئے اُٹھا، یا وضو کے ليے جانے یا واپسی میں قراء ت کی، نماز فاسد ہوگئی بنا نہیں کرسکتا،
سُبْحَانَ اللہِ
یا
لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ
کہا، تو بنا میں حرج نہیں۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: حدث سماوی کے بعد قصداً حدث کیا، تو اب بنا نہیں ہوسکتی۔ (5) (ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: حدث ہوا اور بقدر وضو پانی موجود ہے، اسے چھوڑ کر دور جگہ گیا بنا نہیں کرسکتا یوہیں بعد حدث کلام کیا یا کھایا یا پیا، تو بنا نہیں ہوسکتی۔ (6) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: وضو کے ليے کوئيں سے پانی بھرنا پڑا تو بنا ہوسکتی ہے اور بغير ضرورت ہو تو نہیں۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: وضو کرنے میں ستر کھل گیا یا بضرورت ستر کھولا، مثلاً عورت نے وضو کے ليے کلائی کھولی تو نماز فاسد نہ ہوگی اور بلا ضرورت ستر کھولا تو نماز فاسد ہوگئی، مثلاً عورت نے وضو کے ليے ایک ساتھ دونوں کلائیاں کھول دیں، تو نماز گئی۔ (8) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، ج۱، ص۹۳ ۔ ۹۴، وغیرہ.
2 ۔ المرجع السابق، ص۹۵.
3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق، ص۹۴.
5 ۔ المرجع السابق، ص۹۳. و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۲۳.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، ج۱، ص۹۴.
7 ۔ المرجع السابق. 8 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۴: کوآں نزدیک ہے، مگر پانی بھرنا پڑے گا اور رکھا ہو ا پانی دُور ہے، تو اگر پانی بھر کر وضو کیا تو سرے سے پڑھے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: نماز میں حدث ہوا اور اس کا گھر حوض کی بہ نسبت قریب ہے اور گھر میں پانی موجود ہے، مگر حوض پر وضو کے ليے گیا اور اگر حوض و مکان میں دو صف سے کم فاصلہ ہو تو نماز فاسد نہ ہوئی اور زیادہ فاصلہ ہو تو فاسد ہوگئی اور اگر گھر میں پانی ہونا یاد نہ رہا اور اس کی عادت بھی حوض سے وضو کی ہے، تو بنا کرسکتا ہے ۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: حدث کے بعد وضو کے ليے گھر گیا، دروازہ بند پایا اسے کھولا اور وضو کیا، اگر چور کا خوف ہو تو واپسی میں بند کر دے، ورنہ کھلا چھوڑ دے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: وضو کرنے میں سُنن و مستحبات کے ساتھ وضو کرے، البتہ اگر تین تین بار کی جگہ چار چار بار دھویا تو سرے سے پڑھے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: حوض میں جو جگہ زیادہ نزدیک ہو وہاں وضو کرے، بلا عذر اسے چھوڑ کر دوسری جگہ دو صف سے زائد ہٹا نماز فاسد ہوگئی اور وہاں بھیڑ تھی، تو فاسد نہ ہوئی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: اگر وضو میں مسح بھول گیا تو جب تک نماز میں کھڑا نہ ہوا جا کر مسح کر آئے اور نماز میں کھڑے ہونے کے بعد یاد آیا تو سرے سے پڑھے۔ اور اگر وہاں کپڑا بھول آیا تھا اور جا کر اٹھا لیا تو سرے سے پڑھے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: مسجد میں پانی ہے، اس سے وضو کر کے ایک ہاتھ سے برتن نماز کی جگہ اٹھا لایا تو بنا کرسکتا ہے، دونوں ہاتھ سے اٹھایا، تو نہیں۔ يوہيں برتن سے لوٹے میں پانی لے کر ایک ہاتھ سے اٹھایا تو بنا کرسکتا ہے، دونوں ہاتھ سے اٹھایا، تو نہیں۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: موزہ پر مسح کیا تھا، نماز میں حدث ہوا، وضو کے ليے گیا، اثنائے وضو میں مسح کی مدت ختم ہوگئی یا تیمم
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، ج۱، ص۹۴.
2 ۔ المرجع السابق، ص۹۴۔۹۵.
3 ۔ المرجع السابق، ص۹۵.
4 ۔ المرجع السابق، ص۹۴.
5 ۔ المرجع السابق، ص۹۵.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ المرجع السابق.
سے نماز پڑھ رہا تھا اور حدث ہوا اور پانی پایا یا پٹی پر مسح کیا تھا، حدث کے بعد زخم اچھا ہو کر پٹی کھل گئی، تو ان سب صورتوں میں بنا نہیں کرسکتا۔(1) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۲۲: بے وضو ہو جانے کا گمان کر کے مسجد سے نکل گیا، اب معلوم ہوا کہ وضو نہ گیا تھا تو سرے سے پڑھے اور مسجد سے باہر نہ ہوا تھا تو مابقی (2) پڑھ لے۔ (3) (ہدایہ) عورت کو ایسا گمان ہوا، تو مُصلّے سے ہٹتے ہی نماز فاسد ہوگئی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: اگر یہ گمان ہوا کہ بے وضو شروع ہی کی تھی یا موزے پر مسح کیا تھا اور گمان ہوا کہ مدت ختم ہوگئی يا صاحبِ ترتیب ظہر کی نماز میں تھا اور گمان ہوا کہ فجر کی نہیں پڑھی يا تیمم کیا تھا اور سراب (5) پر نظر پڑی اور اُسے پانی گمان کیا، یا کپڑے پر رنگ دیکھا اور اسے نجاست گمان کیا، ان سب صورتوں میں نماز چھوڑنے کے خیال سے ہٹا ہی تھا کہ معلوم ہوا گمان غلط ہے، تو نماز فاسد ہوگئی۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: رکوع یا سجدہ میں حدث ہوا، اگر ادا کے ارادہ سے سر اٹھایا، نماز باطل ہوگئی، اس پر بنا نہیں کرسکتا۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱: نماز میں امام کو حدث ہوا تو ان شرائط کے ساتھ جو اوپر مذکور ہوئیں، دوسرے کو خلیفہ کرسکتا ہے (اس کو استخلاف کہتے ہیں) اگرچہ وہ نماز نمازِ جنازہ ہو۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۲: جس موقع پر بنا جائز ہے وہاں استخلاف صحیح ہے اور جہاں بنا صحیح نہیں استخلاف بھی صحیح نہیں۔ (9) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: جو شخص اس محدث کا امام ہو سکتا ہے وہ خلیفہ بھی ہو سکتا ہے اور جو امام نہیں بن سکتا وہ خلیفہ بھی نہیں ہوسکتا۔ (10) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، ج۱، ص۹۵.
2 ۔ یعنی جو بقیہ نماز رہ گئی ہو۔ 3 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الحدث في الصلاۃ، ج۱، ص۶۰.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، فصل في الاستخلاف، ج۱، ص۹۷.
5 ۔ یعنی رتیلی زمین کی وہ چمک جس پر چاند سورج کی چمک سے پانی کا دھوکہ ہوتا ہے۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، فصل في الاستخلاف، ج۱، ص۹۷.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۴۳.
8 ۔ المرجع السابق، ص۴۲۵.
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، فصل في الاستخلاف، ج۱، ص۹۵.
10 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۴: جب امام کو حدث ہو جائے تو ناک بند کرکے (کہ لوگ نکسیر گُمان کریں) پيٹھ جُھکا کر پیچھے ہٹے اور اشارے سے کسی کو خلیفہ بنائے، خلیفہ بنانے میں بات نہ کرے۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: میدان میں نماز ہو رہی ہے، تو جب تک صفوں سے باہر نہ گیا، خلیفہ بنا سکتا ہے اور مسجد میں ہے تو جب تک مسجد سے باہر نہ ہو، استخلاف ہوسکتا ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: مسجد کے باہر تک برابر صفیں ہیں، امام نے مسجد میں سے کسی کو خلیفہ نہ بنایا، بلکہ باہر والے کو خلیفہ بنایا یہ استخلاف صحیح نہ ہوا قوم اور امام سب کی نمازیں گئیں اور آگے بڑھ گیا، تو اس وقت تک خلیفہ بنا سکتا ہے کہ سُترہ یا موضع سجود سے متجاوز نہ ہوا ہو۔ (3) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۷: مکان اور چھوٹی عید گاہ مسجد کے حکم میں ہیں، بڑی مسجد اور بڑا مکان اور بڑی عید گاہ میدان کے حکم میں ہیں۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: امام نے کسی کو خلیفہ نہ کیا بلکہ قوم نے بنا دیا، یا خود ہی امام کی جگہ پر نیت امامت کر کے کھڑا ہوگیا تو یہ خلیفہ امام ہوگیا اور محض امام کی جگہ پر چلے جانے سے امام نہ ہوگا جب تک نیت امامت نہ کرے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: مسجد و میدان میں خلیفہ بنانے کے ليے جو حد مقرر کی گئی ہے، اس سے ابھی متجاوز نہ ہوا نہ خود کوئی خلیفہ بنا، نہ جماعت نے کسی کو بنایا توامام کی امامت قائم ہے، یہاں تک کہ اس وقت بھی اگر اس کی اقتدا کوئی شخص کر لے، توہوسکتی ہے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: امام کو حدث ہوا پچھلی صف میں سے کسی کو خلیفہ کر کے مسجد سے باہر ہوگیا، اگر خلیفہ نے فوراً ہی امامت کی نیت کر لی تو جتنے مقتدی اس خلیفہ سے آگے ہیں، سب کی نمازیں فاسد ہوگئیں، اس صف میں جو داہنے بائیں ہیں یا اس صف سے پیچھے ان کی اور امام اوّل کی فاسد نہ ہوئی اور اگر خلیفہ نے یہ نیت کی کہ امام کی جگہ پہنچ کر امام ہو جاؤں گا اور امام کی جگہ پر پہنچنے سے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، فصل في الاستخلاف، ج۱، ص۹۵.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۲۵.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، فصل في الاستخلاف، ج۱، ص۹۵.
3 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۲۵.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۲۶.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق.
پہلے امام باہر ہوگیا تو سب کی نمازیں فاسد ہوگئيں۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: امام کے ليے اَولیٰ یہ ہے کہ مسبوق کو خلیفہ نہ بنائے، بلکہ کسی اور کو اور جو مسبوق ہی کو خلیفہ بنائے تو اسے چاہیے کہ قبول نہ کرے اور قبول کر لیا، تو ہوگیا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مسبوق کو خلیفہ بنا ہی دیا تو جہاں سے امام نے ختم کیا ہے، مسبوق وہیں سے شروع کرے ، رہا یہ کہ مسبوق کو کیا معلوم کہ کیا باقی ہے، لہٰذا امام اسے اشارے سے بتا دے، مثلاً ایک رکعت باقی ہے تو ایک اُنگلی سے اشارہ کرے دو ہوں، تو دو سے رکوع کرنا ہو تو گھٹنے پر ہاتھ رکھ دے، سجدہ کے ليے پیشانی پر،قراء ت کے ليے مونھ پر، سجدۂ تلاوت کے ليے پیشانی و زبان پر، سجدۂ سہو کے ليے سینہ پر رکھے اور اگر اس مسبوق کو معلوم ہو، تو اشارے کی کچھ حاجت نہیں۔ (3) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: چار رکعت والی نماز میں ایک شخص نے اقتدا کی پھر امام کو حدث ہوا اور اسے خلیفہ کيا اور اسے معلوم نہیں کہ امام نے کتنی پڑھی ہے اور کیا باقی ہے، تو یہ چار رکعت پڑھے اور ہر رکعت پر قعدہ کرے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مسبوق کو خلیفہ کیا، تو امام کی نماز پوری کرنے کے بعد سلام پھیرنے کے ليے کسی مدرک کو مقدم کر دے، کہ وہ سلام پھیرے۔ (5) (عالمگیری، وغیرہ)
مسئلہ ۱۵: چار یا تین رکعت والی میں اس مسبوق کو خلیفہ کیا، جس کو دو رکعتیں نہ ملی تھیں، تو اس خلیفہ پر دو قعدے فرض ہیں، ایک امام کا قعدۂ اخیرہ اور ایک اس کا خود اور اگر امام نے اشارہ کر دیا کہ پہلی رکعتوں میں قراء ت نہ کی تھی، چار رکعت والی نماز میں، چاروں میں اس پر قراء ت فرض ہے۔ (6) (عالمگيری، درمختار)
مسئلہ ۱۶: مسبوق نے امام کی نماز پوری کرنے کے بعد قہقہہ لگایا، یا قصداً حدث کیا، یا کلام کیا، یا مسجد سے باہر ہوگیا، تو خود اس کی نماز جاتی رہی اور قوم کی ہوگئی۔ رہا امام اوّل، وہ اگر ارکانِ نماز سے فارغ ہوگیا ہے، تو اس کی
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، فصل في الاستخلاف، ج۱، ص۹۶.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۲۷.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، فصل في الاستخلاف، ج۱، ص۹۶.
3 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۲۵.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، فصل في الاستخلاف، ج۱، ص۹۶.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، فصل في الاستخلاف، ج۱، ص۹۶، وغیرہ.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، المسائل الاثنا عشریۃ، ج۲، ص۴۴۱.
بھی ہوگئی، ورنہ گئی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: لاحق کو خلیفہ بنایا تو اُسے حکم ہے کہ جماعت کی طرف اشارہ کرے کہ اپنے حال پر سب لوگ رہیں، یہاں تک کہ جو اس کے ذمہ ہے، اسے پورا کر کے نماز امام کی تکمیل کرے اور اگر پہلے امام کی نماز پوری کر دی، تو جب سلام کا موقع آئے کسی کو سلام پھیرنے کے ليے خلیفہ بنائے اور خود اپنی پوری کرے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: امام نے ایک کو خلیفہ بنایا اور اس خلیفہ نے دوسرے کو خلیفہ کر دیا، تو اگر امام کے مسجد سے باہر ہونے اور خلیفہ کے امام کی جگہ پر پہنچنے سے پہلے یہ ہوا تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: تنہا نما ز پڑھ رہا تھا، حدث واقع ہوا اور ابھی مسجد سے باہر نہ ہوا کہ کسی نے اس کی اقتدا کی، تو یہ مقتدی خلیفہ ہوگیا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: مسافروں نے مسافر کی اقتدا کی اور امام کوحدث ہوا، اُس نے مقیم کو خلیفہ کیا، مسافروں پر چار رکعتیں پوری کرنا لازم نہیں۔ اور خلیفہ کو چاہیے کہ کسی مسافر کو مقدم کر دے کہ وہ سلام پھیرے اور اگر مقتدیوں میں اور بھی مقیم تھے تو وہ تنہا تنہا دو دو رکعت بلا قراء ت پڑھیں، اب اگر اس خلیفہ کی اقتدا کریں گے، تو ان سب کی نماز باطل ہوگئی۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: امام کو جنون ہوگیا یا بے ہوشی طاری ہوئی یا قہقہہ لگایا یا کوئی موجب غسل پایا گیا، مثلاً سو گیا اور احتلام ہوا، یا تفکر کرنے یا شہوت کے ساتھ نظر کرنے یا چھونے سے منی نکلی، تو ان سب صورتوں میں نماز فاسد ہوگئی، سرے سے پڑھے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: اگر شدّت سے پاخانہ پیشاب معلوم ہوا کہ نماز پوری نہیں کرسکتا، تو استخلاف جائز نہیں۔ یوہیں اگر پیٹ میں درد شدید ہوا کہ کھڑا نہیں رہ سکتا تو بیٹھ کر پڑھے، استخلاف جائز نہیں۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: اگر شرم یا رعب کی وجہ سے قراء ت سے عاجز ہے، تو استخلاف جائز ہے اور بالکل نسیان ہوگیا تو
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس في الحدث في الصلاۃ، فصل في الاستخلاف، ج۱، ص۹۶.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق، ص۹۶۔۹۷.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، المسائل الاثنا عشریۃ، ج۲، ص۴۴۱.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۲۹.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۳۰.
ناجائز۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: امام کو حدث ہوا اور کسی کو خلیفہ بنایا اور خلیفہ نے ابھی نماز پوری نہیں کی ہے کہ امام وضو سے فارغ ہوگیا تو اس پر واجب ہے کہ واپس آئے، یعنی اتنا قریب ہو جائے کہ اقتدا ہوسکے اور خلیفہ پوری کرچکا ہے، تو اسے اختیار ہے کہ وہیں پوری کرے یا موضع اقتدا میں آئے۔ یوہیں منفرد کو اختیار ہے اور مقتدی کو حدث ہوا تو واجب ہے کہ واپس آئے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: نماز میں امام کا انتقال ہوگیا، اگرچہ قعدۂ اخیرہ میں تو مقتدیوں کی نماز باطل ہوگئی، سرے سے پڑھنا ضروری ہے ۔ (3) (ردالمحتار)
حدیث ۱: صحیح مسلم میں معاویہ بن الحکم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم فرماتے ہیں: ''نماز میں آدمیوں کا کوئی کلام درست نہیں وہ تو نہیں مگر تسبیح و تکبیر و قراء ت قرآن۔'' (4)
حدیث ۲: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ہے عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) نماز میں ہوتے اور ہم حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) کو سلام کیا کرتے اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) جواب دیتے، جب نجاشی کے یہاں سے ہم واپس ہوئے، سلام عرض کیا، جواب نہ دیا، عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) ہم سلام کرتے تھے اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) جواب دیتے تھے (اب کیا بات ہے کہ جواب نہ ملا؟) فرمایا: ''نماز میں مشغولی ہے۔'' (5)
اور ابوداود کی روایت میں ہے فرمایا: کہ ''اﷲ عزوجل اپنا حکم جو چاہتا ہے، ظاہر فرماتا ہے اور جو ظاہر فرمایا ہے، اس میں سے یہ ہے کہ نماز میں کلام نہ کرو، اس کے بعد سلام کا جواب دیا'' اور فرمایا: ''نماز قراء ت قرآن اور ذکر خدا کے ليے ہے، تو جب تم نماز میں ہو تو تمہاری یہی شان ہونی چاہیے۔'' (6)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۲۹.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الاستخلاف، ج۲، ص۴۳۳.
3 ۔ ''ردالمحتار''
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب تحریم الکلام في الصلاۃ... إلخ، الحدیث: ۵۳۷، ص۲۷۲.
5 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب مناقب الأنصار، باب ہجرۃ الحبشۃ، الحدیث: ۳۸۷۵، ج۲، ص۵۸۱.
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب ردالسلام في الصلاۃ، الحدیث: ۹۲۴، ج۱، ص۳۴۸.
حدیث ۳: امام احمد و ابو داود و ترمذی و نَسائی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''دو سیاہ چیزیں، سانپ اور بچھو کو نماز میں قتل کرو۔'' (1)
احکام فقہيہ: کلام مفسد نماز ہے، عمداً ہو یا خطاء ً یا سہواً، سوتے میں ہو، یا بیداری میں اپنی خوشی سے کلام کیا، يا کسی نے کلام کرنے پر مجبور کیا، یا اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ کلام کرنے سے نماز جاتی رہتی ہے۔ خطا کے معنی یہ ہیں کہ قراء ت وغیرہ اذکارِ نماز کہنا چاہتا تھا، غلطی سے زبان سے کوئی بات نکل گئی اور سہو کے یہ معنی ہیں کہ اسے اپنا نماز میں ہونا یاد نہ رہا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱: کلام میں قلیل و کثیر کا فرق نہیں اور یہ بھی فرق نہیں کہ وہ کلام اصلاح نماز کے ليے ہو یا نہیں، مثلاً امام کو بیٹھنا تھا کھڑا ہوگیا، مقتدی نے بتانے کو کہا بیٹھ جا، یا ہوں کہا، نماز جاتی رہی۔ (3) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲: قصداً کلام سے اسی وقت نماز فاسد ہوگی جب بقدر تشہد نہ بیٹھ چکا ہو اور بیٹھ چکا ہے تو نماز پوری ہوگئی، البتہ مکروہ تحریمی ہوئی۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳: کلام وہی مفسد ہے، جس میں اتنی آواز ہو کہ کم از کم وہ خود سُن سکے، اگر کوئی مانع نہ ہو اور اگر اتنی آواز بھی نہ ہو بلکہ صرف تصحیح حروف ہو، تو نماز فاسد نہ ہوگی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: نماز پوری ہونے سے پہلے بھول کر سلام پھیر دیا تو حرج نہیں اور قصداً پھیرا، تو نماز جاتی رہی۔ (6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵: کسی شخص کو سلام کیا، عمداً ہو یا سہواً، نماز فاسد ہوگئی، اگرچہ بھول کر السّلام کہا تھا کہ یاد آیا سلام کرنا نہ چاہيے اور سکوت کیا۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب العمل في الصلاۃ ، الحدیث: ۹۲۱، ج۱، ص۳۴۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃوما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۴۵۔۴۴۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، ج۱، ص۹۸.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۴۶.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، ج۱، ص۹۸.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، ج۲، ص۴۴۹. وغیرہ
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، ج۱، ص۹۸.
مسئلہ ۶: مسبوق نے یہ خیال کر کے کہ امام کے ساتھ سلام پھیرنا چاہيے سلام پھیر دیا، نماز فاسد ہوگئی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: عشا کی نماز میں یہ خيال کر کے کہ تراویح ہے، دو رکعت پر سلام پھیر دیا۔ يا ظہر کو جمعہ تصوّر کر کے دو رکعت پر سلام پھیرا، یا مقیم نے اپنے کو مسافر خیال کر کے دو رکعت پر سلام پھیرا، نماز فاسد ہوگئی، اس پر بنا بھی جائز نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: دوسری رکعت کو چوتھی سمجھ کر سلام پھیر دیا، پھر یاد آیا تو نماز پوری کرکے سجدۂ سہو کرلے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: زبان سے سلام کا جواب دینا بھی نماز کو فاسد کرتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے دیا تو مکروہ ہوئی، سلام کی نیت سے مصافحہ کرنا بھی نماز کو فاسد کر دیتا ہے۔ (4) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مُصلّی سے کوئی چیز مانگی یا کوئی بات پوچھی، اس نے سر یا ہاتھ سے ہاں یا نہیں کا اشارہ کیا، نماز فاسد نہ ہوئی البتہ مکروہ ہوئی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: کسی کوچھینک آئی اس کے جواب میں نمازی نے
یَرْحَمُکَ اللہ
کہا، نماز فاسد ہوگئی اور خود اسی کو چھینک آئی اور اپنے کو مخاطب کرکے
یَرْحَمُکَ اللہ
کہا، تو نماز فاسد نہ ہوئی اور کسی اور کو چھینک آئی اس مصلّی نے
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ
کہا، نماز نہ گئی اور جواب کی نیت سے کہا، تو جاتی رہی۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: نماز میں چھینک آئی کسی دوسرے نے
یَرْحَمُکَ اللہ
کہا اور اس نے جواب میں کہا آمین، نماز فاسد ہوگئی۔ (7)
مسئلہ ۱۳: نما زمیں چھینک آئے، تو سکوت کرے اور الحمدﷲ کہہ لیا تو بھی نماز میں حرج نہیں اور اگر اس وقت حمد نہ کی تو فارغ ہو کر کہے۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: خوشی کی خبر سن کر جواب میں الحمد ﷲ کہا، نماز فاسد ہوگئی اور اگر جواب کی نیت سے نہ کہا بلکہ یہ ظاہر کرنے کے ليے کہ نماز میں ہے، تو فاسد نہ ہوئی، یوہیں کوئی چیز تعجب خیز ديکھ کر بقصد جواب
سُبْحَانَ اللہ
یا
لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، ج۱، ص۹۸.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، ج۱، ص۹۸.
4 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۵۰.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، ج۱، ص۹۸.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ المرجع السابق. 8 ۔ المرجع السابق.
یا
اَللہُ اَکْبَر
کہا، نماز فاسد ہوگئی، ورنہ نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: کسی نے آنے کی اجازت چاہی اس نے یہ ظاہر کرنے کو کہ نماز میں ہے، زور سے الحمد ﷲ یا اﷲ اکبر، یا سبحان اﷲ پڑھا، نماز فاسد نہ ہوئی۔ (2) (غنیہ)
مسئلہ ۱۶: بُری خبر سُن کر
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن
کہا، یا الفاظ قرآن سے کسی کو جواب دیا، نماز فاسد ہوگئی، مثلاً کسی نے پوچھا، کیا خدا کے سوا دوسرا خدا ہے؟ اس نے جواب دیا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ،
یا پوچھا تیرے کیا کیا مال ہیں؟ اس نے جواب میں کہا
( اَلْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ ) (3)
یا پوچھا کہاں سے آئے؟ کہا
( وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ ) (4)
یوہیں اگر کسی کو الفاظ قرآن سے مخاطب کیا، مثلاً اس کا نام یحیی ہے، اس سے کہا
( یٰـیَحْیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ ) (5)
موسیٰ نام ہے، اس سے کہا
( وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یمُوْسٰی ) (6)
نماز فاسد ہوگئی۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: اﷲ عزوجل کا نام مبارک سُن کر جل جلالہ کہا، یا نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کا اسم مبارک سُن کر درود پڑھا، یا امام کی قراء ت سُن کر
صَدَقَ اللہ وَصَدَقَ رَسُوْلُـہ
کہا، تو ان سب صورتوں میں نماز جاتی رہی، جب کہ بقصد جواب کہا ہو اور اگر جواب میں نہ کہا تو حرج نہیں۔ یوہیں اگر اذان کا جواب دیا، نماز فاسد ہو جائے گی۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: شیطان کا ذکر سُن کر اس پر لعنت بھیجی نماز جاتی رہی، دفع وسوسہ کے ليے
لَا حَوْلَ
پڑھی، اگر امور دنیا کے ليے ہے، نماز فاسد ہو جائے گی اور امور آخرت کے ليے، تو نہیں۔ (9) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: چاند دیکھ کر
رَ بِّی وَرَبُّکَ اللہ
کہا، یا بخار وغیرہ کی وجہ سے کچھ قرآن پڑھ کر دم کیا، نماز فاسد ہوگئی بیمار نے اٹھتے بیٹھتے تکلیف اور درد پر بسم اﷲ کہی تو نماز فاسد نہ ہوئی۔ (10) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: کوئی عبارت بوزن شعر کہ قرآن مجید میں بترتیب پائی جاتی ہے، بہ نیت شعر پڑھی نماز فاسد ہوگئی، جیسے
(وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا ۙ﴿۱﴾ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا ۙ﴿۲﴾ ) (11)
اور اگر نماز میں شعر موزوں کیا، مگر زبان سے کچھ نہ کہا، تو اگرچہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، ج۱، ص۹۹.
2 ۔ ''غنیۃ المتملي''، کتاب الصلاۃ، مفسدات الصلاۃ، ص۴۴۹.
3 ۔ پ۱۴، النحل: ۸. 4 ۔ پ۱۷، الحج: ۴۵. 5 ۔ پ۱۶، مریم: ۱۲.
6 ۔ پ۱۶، طٰہٰ: ۱۷. 7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، ج۲، ص۴۵۸.
8 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، ج۲، ص۴۶۰.
9 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، ج۲، ص۴۶۰.
10 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع في ما یفسد الصلاۃ... إلخ، الفصل الأول، ج۱، ص۹۹.
11 ۔ پ۲۹، المرسلت: ۲ ۔ ۱.
نماز فاسد نہ ہوئی، مگر گنہگار ہوا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: نماز میں زبان پر نعم یا ارے یا ہاں جاری ہوگیا، اگر یہ لفظ کہنے کا عادی ہے، فاسد ہوگئی ورنہ نہیں۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: مصلّی نے اپنے امام کے سوا دوسرے کو لقمہ دیا نماز جاتی رہی، جس کو لقمہ دیا ہے وہ نماز میں ہو یا نہ ہو، مقتدی ہو یا منفرد یا کسی اور کا امام۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۳: اگر لقمہ دینے کی نیت سے نہیں پڑھا، بلکہ تلاوت کی نیت سے تو حرج نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: اپنے مقتدی کے سوا دوسرے کا لقمہ لینا بھی مفسد نماز ہے، البتہ اگر اس کے بتاتے وقت اسے خود یاد آگیا اس کے بتانے سے نہیں، یعنی اگر وہ نہ بتاتا جب بھی اسے یاد آجاتا، اس کے بتانے کو کچھ دخل نہیں تو اس کا پڑھنا مفسد نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: اپنے امام کو لقمہ دینا اور امام کا لقمہ لینا مفسد نہیں، ہاں اگر مقتدی نے دوسرے سے سُن کر جو نماز میں اس کا شریک نہیں ہے لقمہ دیا اور امام نے لے لیا، تو سب کی نماز گئی اور امام نے نہ لیا تو صرف اس مقتدی کی گئی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۲۶: لقمہ دینے والا قراء ت کی نیت نہ کرے، بلکہ لقمہ دینے کی نیت سے وہ الفاظ کہے۔ (7) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۲۷: فوراً ہی لقمہ دینا مکروہ ہے، تھوڑا توقف چاہیے کہ شاید امام خود نکال لے، مگر جب کہ اس کی عادت اسے معلوم ہو کہ رُکتا ہے، تو بعض ایسے حروف نکلتے ہیں جن سے نماز فاسد ہو جاتی ہے تو فوراً بتائے۔ یوہیں امام کو مکروہ ہے کہ مقتدیوں کو لقمہ دینے پر مجبور کرے، بلکہ کسی دوسری سورت کی طرف منتقل ہو جائے یا دوسری آیت شروع کر دے، بشرطیکہ اس کا وصل مفسد نماز نہ ہو اور اگر بقدر حاجت پڑھ چکا ہے تو رکوع کر دے، مجبور کرنے کے یہ معنی ہیں کہ بار بار پڑھے یا ساکت کھڑا رہے۔ (8)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، ج۱، ص۱۰۰.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۶۲، وغیرہ .
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، ج۲، ص۴۶۱، وغیرہ .
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، ج۲، ص۴۶۱.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب المواضع التی لا یجب... إلخ، ج۲، ص۴۶۲.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، ج۱، ص۹۹.
(عالمگیری، ردالمحتار) مگر وہ غلطی اگر ایسی ہے، جس میں فساد معنی تھا تو اصلاح نماز کے ليے اس کا اعادہ لازم تھا اور یاد نہیں آتا تو مقتدی کو آپ ہی مجبور کر ے گا اور وہ بھی نہ بتا سکے، تو گئی۔
مسئلہ ۲۸: لقمہ دینے والے کے ليے بالغ ہونا شرط نہیں، مراہق بھی لقمہ دے سکتا ہے۔ (1) (عالمگیری) بشرطیکہ نماز جانتا ہو اور نماز میں ہو۔
مسئلہ ۲۹: ایسی دعا جس کا سوال بندے سے نہیں کیا جا سکتا جائز ہے، مثلاً
اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ
اور جس کا سوال بندوں سے کیا جا سکتا ہے، مفسد نماز ہے، مثلاً
اَللّٰھُمَّ اَطْعِمْنِیْ یا اَللّٰھُمَّ زَوِّجْنِیْ . (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: آہ، اوہ، اُف، تف یہ الفاظ درد یا مصیبت کی وجہ سے نکلے یا آواز سے رویا اور حرف پیدا ہوئے، ان سب صورتوں میں نماز جاتی رہی اور اگر رونے میں صرف آنسو نکلے آواز و حروف نہیں نکلے، تو حرج نہیں۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: مریض کی زبان سے بے اختیار آہ ،اوہ نکلی نماز فاسد نہ ہوئی، یوہیں چھینک کھانسی جماہی ڈکار میں جتنے حروف مجبوراً نکلتے ہیں، معاف ہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: جنت و دوزخ کی یاد میں اگر یہ الفاظ کہے، تو نماز فاسد نہ ہوئی۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: امام کا پڑھنا پسند آیا اس پر رونے لگا اور ارے، نعم، ہاں، زبان سے نکلا کوئی حرج نہیں ، کہ یہ خشوع کے باعث ہے اور اگر خوش گلوئی کے سبب کہا، تو نماز جاتی رہی۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: پھونکنے میں اگر آواز پیدا نہ ہو تو وہ مثل سانس کے ہے مفسد نہیں، مگر قصداً کرنا مکروہ ہے اور اگر دو حرف پیدا ہوں، جیسے اف، تف، تو مفسد ہے۔ (7) (غنیہ)
مسئلہ ۳۵: کھنکارنے میں جب دو حرف ظاہر ہوں، جیسے اح مفسد نما زہے، جب کہ نہ عذر ہو نہ کوئی صحیح غرض، اگر عذر سے ہو، مثلاً طبیعت کا تقاضا ہو یا کسی صحیح غرض کے ليے، مثلاً آواز صاف کرنے کے ليے یا امام سے غلطی ہوگئی ہے اس ليے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، الفصل الأول، ج۱، ص۹۹.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، الفصل الأول، ج۱، ص۱۰۰.
3 ۔ المرجع السابق، ص۱۰۱، و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب: المواضع التی
لا یجب فیھا ردالسلام، ج۲، ص۴۵۵.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۵۶.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''غنیۃ المتملي''، کتاب الصلاۃ، مفسدات الصلاۃ، ص۴۵۱.
کھنکارتا ہے کہ درست کرلے يا اس ليے کھنکارتا ہے کہ دوسرے شخص کو اس کا نماز میں ہونا معلوم ہو، تو ان صورتوں میں نما ز فاسد نہیں ہوتی۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳۶: نماز میں مصحف شریف سے دیکھ کر قرآن پڑھنا مطلقاً مفسد نماز ہے، يوہيں اگر محراب وغيرہ ميں لکھا ہو اسے ديکھ کر پڑھنا بھی مفسد ہے، ہاں اگر یاد پر پڑھتا ہو مصحف یا محراب پر فقط نظر ہے، تو حرج نہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۷: کسی کاغذ پر قرآن مجید لکھا ہوا دیکھا اور اسے سمجھا نماز میں نقصان نہ آیا، یوہیں اگر فقہ کی کتاب دیکھی اور سمجھی نماز فاسد نہ ہوئی، خواہ سمجھنے کے ليے اسے دیکھا یا نہیں، ہاں اگر قصداً دیکھا اور بقصد سمجھا تو مکروہ ہے اور بلا قصد ہوا تو مکروہ بھی نہیں۔ (3) (عالمگیری، درمختار) یہی حکم ہر تحریر کا ہے اور جب غیر دینی ہو تو کراہت زیادہ۔
مسئلہ ۳۸: صرف تورات يا انجیل کو نما ز میں پڑھا تو نماز نہ ہوئی، قرآن پڑھنا جانتا ہو یا نہیں۔ (4) (عالمگیری) اور اگر بقدر حاجت قرآن پڑھ لیا اور کچھ آیات تورات و انجیل کی، جن میں ذکرِ الٰہی ہے پڑھیں، تو حرج نہیں مگر نہ چاہیے۔
مسئلہ ۳۹: عملِ کثیر کہ نہ اعمال نماز سے ہو نہ نما زکی اصلاح کے ليے کیا گیا ہو، نماز فاسد کر دیتا ہے، عملِ قلیل مفسد نہیں، جس کام کے کرنے والے کو دُور سے دیکھ کر اس کے نماز میں نہ ہونے کا شک نہ رہے، بلکہ گمان غالب ہو کہ نماز میں نہیں تو وہ عملِ کثیر ہے اور اگر دُور سے دیکھنے والے کو شبہہ و شک ہو کہ نماز میں ہے یا نہیں، تو عملِ قلیل ہے۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴۰: کرتا یا پاجامہ پہنا یا تہبند باندھا، نماز جاتی رہی۔ (6) (غنیہ)
مسئلہ ۴۱: ناپاک جگہ پر بغیر حائل کے سجدہ کیا نماز فاسد ہوگئی، اگرچہ اس سجدہ کو پاک جگہ پر اعادہ کرے۔ (7) (درمختار) یوہیں ہاتھ یا گھٹنے سجدہ میں ناپاک جگہ پر رکھے، نماز فاسد ہوگئی۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: ستر کھولے ہوئے یا بقدر مانع نجاست کے ساتھ پورا رکن ادا کرنا، یا تین تسبیح کا وقت گزر جانا، مفسد نماز
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۵۵، وغیرہ.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، ج۲، ص۴۶۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، ج۱، ص۱۰۱.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۷۹.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، ج۱، ص۱۰۱.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، ج۲، ص۴۶۴، وغیرہ.
6 ۔ ''غنیۃ المتملي''، کتاب الصلاۃ، مفسدات الصلاۃ، ص۴۵۲.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۶۶.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، و مطلب في التشبہ باہل الکتاب، ج۲، ص۴۶۶.
ہے۔ یوہیں بھیڑ کی وجہ سے اتنی دیر تک عورتوں کی صف میں پڑ گیا، یا امام سے آگے ہوگیا، نماز جاتی رہی۔ (1) (درمختار وغیرہ) اور قصداً ستر کھولنا مطلقاً مفسد نماز ہے، اگرچہ معاً (2) ڈھانک لے، اس میں وقفہ کی بھی حاجت نہیں۔
مسئلہ ۴۳: دو کپڑے ملا کر سیے ہوں ان میں استر (3) ناپاک ہے اور ابرا (4) پاک، تو ابرے کی طرف بھی نماز نہیں ہوسکتی، جب کہ نجاست بقدر مانع مواضع سجود میں ہو اور سِلے نہ ہوں تو ابرے پر جائز ہے، جب کہ اتنا باریک نہ ہو کہ استر چمکتا ہو۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: نجس زمین پر مٹی چونا خوب بچھا دیا، اب اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں اور اگر معمولی طرح سے خاک چھڑک دی ہے کہ نجاست کی بُو آتی ہے، تو ناجائز ہے جب کہ مواضع سجود پر نجاست ہو۔ (6) (منیہ)
مسئلہ ۴۵: نماز کے اندر کھانا پینا مطلقاً نماز کو فاسد کر دیتا ہے، قصداً ہو یا بھول کر، تھوڑا ہو یا زیادہ، یہاں تک کہ اگر تل بغير چبائے نگل لیا یا کوئی قطرہ اُس کے مونھ میں گرا اور اس نے نگل لیا، نماز جاتی رہی۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۶: دانتوں کے اندر کھانے کی کوئی چیز رہ گئی تھی اس کو نگل گیا، اگر چنے سے کم ہے نماز فاسد نہ ہوئی مکروہ ہوئی اور چنے برابر ہے تو فاسد ہوگئی۔ دانتوں سے خون نکلا، اگر تھوک غالب ہے تو نگلنے سے فاسد نہ ہوگی، ورنہ ہو جائے گی۔ (8) (درمختار، عالمگیری) غلبہ کی علامت یہ ہے کہ حلق ميں خون کا مزہ محسوس ہو، نماز اور روزہ توڑنے میں مزے کا اعتبار ہے اور وضو توڑنے میں رنگ کا۔
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۶۷. وغیرہ
2 ۔ فوراً۔
3 ۔ نیچے کی تہ۔ 4 ۔ اوپر کی تہ۔
5 ۔ ''الدرالمختار''و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، و مطلب في التشبہ باہل الکتاب،
ج۲، ص۴۶۷.
6 ۔ ''منیۃ المصلي''، حکم ما اذا کان تحت قدمی المصلي نجس، ص۱۷۰.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب المواضع التی لا یجب... إلخ،
ج۲، ص۴۶۲.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، الفصل الأول، ج۱، ص۱۰۲.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، ج۲، ص۴۶۲.
''کافی'' اور ''فتح القدیر'' کی تحقیق یہ ہے کہ اگر حلق میں اس کا مزہ محسوس ہو تو مطلقاً نماز فاسد ہوگئی اور یہی حکم روزہ کا ہے اور یہ قول با قوت
معلوم ہوتا ہے اور احتیاط ضروری ہے۔ ۱۲ منہ
مسئلہ ۴۷: نماز سے پیشتر (1) کوئی چیز میٹھی کھائی تھی اس کے اجزا نگل ليے تھے، صرف لعاب دہن میں کچھ مٹھاس کا اثر رہ گیا، اُس کے نگلنے سے نماز فاسد نہ ہوگی۔ مونھ میں شکر وغیرہ ہو کہ گھل کر حلق میں پہنچتی ہے، نماز فاسد ہوگئی۔ گوند مونھ میں ہے اگر چبایا اور بعض اجزا حلق سے اتر گئے، نماز جاتی رہی۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۸: سینہ کوقبلہ سے پھیرنا مفسد نما زہے، جب کہ کوئی عذر نہ ہو یعنی جب کہ اتنا پھیرے کہ سینہ خاص جہت کعبہ سے پینتالیس (۴۵) درجے ہٹ جائے اور اگر عذر سے ہو تو مفسد نہیں، مثلاً حدث کا گمان ہوا اور مونھ پھیرا ہی تھا کہ گمان کی غلطی ظاہر ہوئی تو مسجد سے اگر خارج نہ ہوا ہو، نما زفاسد نہ ہوگی۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴۹: قبلہ کی طرف ایک صف کی قدر چلا، پھر ایک رکن کی قدر ٹھہر گیا، پھر چلا پھر ٹھہرا، اگرچہ متعدد بار ہو جب تک مکان نہ بدلے، نماز فاسد نہ ہوگی، مثلاً مسجد سے باہر ہو جائے یا میدان میں نماز ہو رہی تھی اور یہ شخص صُفوف سے متجاوز ہوگیا کہ يہ دونوں صورتیں مکان بدلنے کی ہیں اور ان میں نماز فاسد ہو جائے گی۔ یوہیں اگر ايک دم دو صف کی قدر چلا، نماز فاسد ہوگئی۔ (4) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: صحرا میں اگر اس کے آگے صفیں نہ ہوں بلکہ یہ امام ہے اور موضع سجود سے متجاوز ہوا، تو اگر اتنا آگے بڑھا جتنا اس کے اور سب سے قریب والی صف کے درمیان فاصلہ تھا تو فاسد نہ ہوئی اور اس سے زیادہ ہٹا تو فاسد ہوگئی اور اگر منفرد ہے تو موضع سجود کا اعتبار ہے یعنی اتنا ہی فاصلہ آگے پیچھے دہنے بائیں کہ اس سے زیادہ ہٹنے میں نماز جاتی رہے گی۔ (5) (عالمگيری)
مسئلہ ۵۱: کسی کو چوپایہ نے ایک دم بقدر تین قدم کے کھینچ لیا یاڈھکیل دیا، تو نماز فاسد ہوگئی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۵۲: ایک نماز سے دوسری کی طرف تکبیر کہہ کر منتقل ہوا، پہلی نماز فاسد ہوگئی، مثلاً ظہر پڑھ رہا تھا عصر یا نفل کی نیت سے اﷲ اکبر کہا ظہر کی نماز جاتی رہی پھر اگر صاحبِ ترتیب ہے اور وقت میں گنجائش ہے تو عصر کی بھی نہ ہوگی، بلکہ دونوں
1 ۔ پہلے۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، الفصل الأول، ج۱، ص۱۰۲.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، ج۲، ص۴۶۸.
و ''الفتاوی الرضویۃ (الجدیدۃ)''، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج۶، ص۷۵، وغیرہما.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب في التشبہ باہل الکتاب،
ج۲، ص۴۶۸.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب في التشبہ باہل الکتاب،ج۲، ص۴۶۹.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۷۰.
صورتوں میں نفل ہے، ورنہ عصر کی نیت ہے تو عصر اور نفل کی نیت ہے تو نفل۔ یوہیں اگر تنہا نماز پڑھتا تھا اب اقتدا کی نیت سے اﷲ اکبر کہا یا مقتدی تھا اور تنہا پڑھنے کی نیت سے اﷲ اکبر کہا تو نماز فاسد ہوگئی۔ یوہیں اگر نماز جنازہ پڑھ رہا تھا اور دوسرا جنازہ لایا گیا دونوں کی نیت سے اﷲ اکبر کہا یا دوسرے کی نیت سے تو دوسرے جنازہ کی نماز شروع ہوئی اور پہلے کی فاسد ہوگئی۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵۳: عورت نماز پڑھ رہی تھی، بچہ نے اس کی چھاتی چوسی اگر دودھ نکل آیا، نماز جاتی رہی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۵۴: عورت نماز میں تھی، مرد نے بوسہ لیا یا شہوت کے ساتھ اس کے بدن کو ہاتھ لگایا، نماز جاتی رہی اور مرد نماز ميں تھا اور عورت نے ايسا کيا تو نماز فاسد نہ ہوئی، جب تک مرد کو شہوت نہ ہو۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۵: داڑھی يا سر ميں تيل لگايا يا کنگھا کيا يا سرمہ لگايا نماز جاتی رہی، ہاں اگر ہاتھ ميں تيل لگا ہوا ہے اس کو سر يا بدن ميں کسی جگہ پونچھ ديا تو نماز فاسد نہ ہوگی۔ (4) (منيہ، غنیہ)
مسئلہ ۵۶: کسی آدمی کو نماز پڑھتے میں طمانچہ یا کوڑا مارا نماز جاتی رہی اور جانور پر سوار نماز پڑھ رہا تھا دو ایک بار ہاتھ یا ایڑی سے ہانکنے میں نماز فاسد نہ ہوگی، تین بار پے در پے کریگا تو جاتی رہے گی۔ ایک پاؤں سے ایڑ لگائی اگر پے در پے تین بار ہو نماز جاتی رہی ورنہ نہیں اور دونوں پاؤں سے لگائی تو فاسد ہوگئی، لیکن اگر آہستہ پاؤں ہلائے کہ دوسرے کو بغور دیکھنے سے پتہ چلے، تو فاسد نہ ہوئی۔ (5) (منیہ، غنیہ)
مسئلہ ۵۷: گھوڑے کو چابک سے راستہ بتایا اور مارا بھی، نماز فاسد ہوگئی، نماز پڑھتے میں گھوڑے پر سوار ہوگیا، نماز جاتی رہی اور سواری پر نماز پڑھ رہا تھا اتر آیا، فاسد نہ ہوئی۔ (6) (منیہ، قاضی خاں)
مسئلہ ۵۸: تین کلمے اس طرح لکھنا کہ حروف ظاہر ہوں، نماز کو فاسد کرتا ہے اور اگر حرف ظاہر نہ ہوں، مثلاً پانی پر یا ہوا میں لکھا تو عبث ہے، نماز مکروہ تحریمی ہوئی۔ (7) (غنیہ)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۶۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۷۰.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب في المشی في الصلاۃ،
ج۲، ص۴۷۰.
4 ۔ ''منیۃ المصلي''، بیان مفسدات الصلاۃ، ص۴۱۴، و ''غنیۃ المتملي''، مفسدات الصلاۃ، ص۴۴۲.
5 ۔ ''منیۃ المصلي''، بیان مفسدات الصلاۃ، ص۴۱۵، و ''غنیۃ المتملي''، مفسدات الصلاۃ، ص۴۴۳.
6 ۔ ''منیۃ المصلي''، المرجع السابق، و ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الصلاۃ، فصل فیما یفسد الصلاۃ، ج۱، ص۶۴.
7 ۔ ''غنیۃ المتملي''، مفسدات الصلاۃ، ص۴۴۴.
مسئلہ ۵۹: نماز پڑھنے والے کو اٹھا لیا پھر وہیں رکھ دیا، اگر قبلہ سے سینہ نہ پھرا، نماز فاسد نہ ہوئی اور اگر اس کو اٹھا کرسواری پر رکھ دیا، نماز جاتی رہی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: موت و جنون و بے ہوشی سے نماز جاتی رہتی ہے، اگر وقت میں ا فاقہ ہوا تو ادا کرے، ورنہ قضا بشرطیکہ ایک دن رات سے متجاوز نہ ہو۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۱: قصداً وضو توڑا یا کوئی موجب غسل پایا گیا یا کسی رکن کو ترک کیا، جبکہ اس نماز میں اس کو ادا نہ کر لیا ہو، يا بلاعذر شرط کو ترک کیا، یا مقتدی نے امام سے پہلے رکن ادا کر لیا اور امام کے ساتھ یا بعد میں پھر اس کو ادا نہ کیا، یہاں تک کہ امام کیساتھ سلام پھیر دیا، يا مسبوق نے فوت شدہ رکعت کا سجدہ کر کے امام کے سجدۂ سہو میں متابعت کی، یا قعدۂ اخیرہ کے بعد سجدۂ نماز یا سجدۂ تلاوت یاد آیا اور اس کے ادا کرنے کے بعد پھر قعدہ نہ کیا، یا کسی رکن کو سوتے میں ادا کیا تھا اس کا اعادہ نہ کیا، ان سب صورتوں میں نماز فاسد ہوگئی۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶۲: سانپ بچھو مارنے سے نماز نہیں جاتی جب کہ نہ تین قدم چلنا پڑے نہ تین ضرب کی حاجت ہو، ورنہ جاتی رہے گی، مگر مارنے کی اجازت ہے اگرچہ نماز فاسد ہوجائے۔ (4) (عالمگیری، غنیہ)
مسئلہ ۶۳: سانپ بچھو کو نماز میں مارنا اس وقت مباح ہے، کہ سامنے سے گزرے اور ایذا دینے کا خوف ہو اور اگر تکلیف پہنچانے کا اندیشہ نہ ہو تو مکروہ ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۴: پے در پے تین بال اکھیڑے یا تین جوئیں ماریں یا ایک ہی جوں کو تین بار ميں مارا نماز جاتی رہی اور پے در پے نہ ہو، تو نماز فاسد نہ ہوگی مگر مکروہ ہے۔ (6) (عالمگیری ، غنیہ)
مسئلہ ۶۵: موزہ کشادہ ہے اسے اتارنے سے نماز فاسد نہ ہوگی اور موزہ پہننے سے نماز جاتی رہے گی۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ، النوع الثاني، ج۱، ص۱۰۳.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب في المشی في الصلاۃ،
ج۲، ص۴۷۲.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۷۲. وغیرہ
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ، النوع الثاني، ج۱، ص۱۰۳.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ، النوع الثاني، ج۱، ص۱۰۳.
6 ۔ المرجع السابق، و ''غنیۃ المتملي''، مفسدات الصلاۃ، ص۴۴۸.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ، النوع الثاني، ج۱، ص۱۰۳.
مسئلہ ۶۶: گھوڑے کے مونھ ميں لگام دی يا اس پر کاٹھی کسی يا کاٹھی اتار دی نماز جاتی رہی۔ (1) (عالمگيری)
مسئلہ ۶۷: ایک رکن میں تین بار کھجانے سے نماز جاتی رہتی ہے، یعنی یوں کہ کھجا کر ہاتھ ہٹا لیا پھر کھجایا پھر ہاتھ ہٹالیا وعلیٰ ہذا اور اگر ایک بار ہاتھ رکھ کر چند مرتبہ حرکت دی تو ایک ہی مرتبہ کھجانا کہا جائے گا۔ (2) (عالمگیری، غنیہ)
مسئلہ ۶۸: تکبیرات انتقال میں اللہ یا اکبر کے الف کو دراز کیا آللہ یا آکبر کہا یا بے کے بعد الف بڑھایا اکبار کہا نماز فاسد ہو جائے گی اور تحریمہ میں ایسا ہوا تو نماز شروع ہی نہ ہوئی۔ (3) (درمختار وغیرہ) قراء ت یا اذکارِ نماز میں ایسی غلطی جس سے معنی فاسد ہو جائیں، نما زفاسد کر دیتی ہے، اس کے متعلق مفصّل بیان گزر چکا۔
مسئلہ ۶۹: نمازی کے آگے سے بلکہ موضع سجود (4) سے کسی کا گزرنا نماز کو فاسد نہیں کرتا، خواہ گزرنے والا مرد ہو یا عورت، کُتّا ہو یا گدھا۔ (5) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۷۰: مصلّی کے آگے سے گزرنا بہت سخت گناہ ہے۔
حدیث میں فرمایا: کہ ''اس میں جو کچھ گناہ ہے، اگر گزرنے والا جانتا تو چالیس تک کھڑے رہنے کو گزرنے سے بہتر جانتا''، راوی کہتے ہیں: ''میں نہیں جانتا کہ چالیس دن کہے يا چالیس مہینے يا چالیس برس۔'' (6) یہ حدیث صحاح ستہ میں ابی جہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہوئی اور بزار کی روایت میں چالیس برس (7) کی تصریح ہے۔ اور
ابن ماجہ کی روایت ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: ''اگر کوئی جانتا کہ اپنے بھائی کے سامنے نماز میں آڑے ہو کر گزرنے میں کیا ہے؟ تو سو برس کھڑا رہنا اس ايک قدم چلنے سے بہتر سمجھتا۔'' (8)
امام مالک نے روایت کیا کہ کعب احبار فرماتے ہیں: ''نمازی کے سامنے گزرنے والا اگر جانتا کہ اس پر کیا گناہ ہے؟ تو زمین میں دھنس جانے کو گزرنے سے بہتر جانتا۔'' (9)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ، النوع الثاني، ج۱، ص۱۰۳.
2 ۔ المرجع السابق، ص۱۰۴، و ''غنیۃ المتملي''، مفسدات الصلاۃ، ص۴۴۸.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ ویکرہ فیھا، ج۲، ص۴۷۳، وغیرہ .
4 ۔ موضع سجود سے کیا مراد ہے یہ آگے مذکور ہوگا۔ ۱۲ منہ
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۸۰.
6 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب منع الماربین یدی المصلي، الحدیث: ۵۰۷، ص۲۶۰.
7 ۔ ''مسند البزار''، مسند زید بن خالد الجہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، الحدیث: ۳۷۸۲، ج۹، ص۲۳۹.
8 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، ابواب اقامۃ الصلوات و السنۃ فیھا، باب المروربین یدي المصلي، الحدیث: ۹۴۶، ج۱، ص۵۰۶.
9 ۔ ''الموطا''، کتاب قصر الصلاۃ في السفر، باب التشدید في ان یمر احد بین یدي المصلي، الحدیث: ۳۷۱، ج۱، ص۱۵۴.
امام مالک سے روایت صحيح بخاری و صحيح مسلم میں ہے ابو جحيفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کو مکّہ میں دیکھا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) ابطح میں چمڑے کے ایک سُرخ قبہ کے اندر تشریف فرما ہیں اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) کے وضو کا پانی لیا اور لوگ جلدی جلدی اسے لے رہے ہیں جو اس میں سے کچھ پا جاتا اسے مونھ اور سینہ پر ملتا اور جو نہیں پاتا وہ کسی اور کے ہاتھ سے تری لے لیتا پھر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نیزہ نصب کر دیا اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم سُرخ دھاری دار جوڑا پہنے تشریف لائے اورنیزہ کی طرف مونھ کر کے دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے آدمیوں اور چوپاؤں کو نیزے کے اُس طرف سے گزرتے دیکھا۔ (1)
مسئلہ ۷۱: میدان اور بڑی مسجد میں مصلّی کے قدم سے موضع سجود تک گزرنا ناجائز ہے۔ موضع سجود سے مراد یہ ہے کہ قیام کی حالت ميں سجدہ کی جگہ کی طرف نظر کرے تو جتنی دور تک نگاہ پھیلے وہ موضع سجود ہے اس کے درمیان سے گزرنا ناجائز ہے، مکان اور چھوٹی مسجد میں قدم سے دیوار قبلہ تک کہیں سے گزرناجائز نہیں اگر سترہ نہ ہو۔ (2) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۷۲: کوئی شخص بلندی پر پڑھ رہا ہے اس کے نیچے سے گزرنا بھی جائز نہیں، جبکہ گزرنے والے کا کوئی عضو نمازی کے سامنے ہو، چھت یا تخت پر نماز پڑھنے والے کے آگے سے گزرنے کا بھی یہی حکم ہے اور اگر ان چیزوں کی اتنی بلندی ہو کہ کسی عضو کا سامنا نہ ہو، تو حرج نہیں۔ (3) (درمختار وغيرہ)
مسئلہ ۷۳: مصلّی کے آگے سے گھوڑے وغیرہ پر سوار ہو کر گزرا، اگر گزرنے والے کا پاؤں وغیرہ نیچے کا بدن مصلّی کے سر کے سامنے ہوا تو ممنوع ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۴: مصلّی کے آگے ستُرہ ہو یعنی کوئی ايسی چیز جس سے آڑ ہو جائے، تو سُترہ کے بعد سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (5) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۷۵: سُترہ بقدر ایک ہاتھ کے اونچا اور انگلی برابر موٹا ہو اور زیادہ سے زیادہ تین ہاتھ اونچا (6)ہو۔ (7) (درمختار ردالمحتار)
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب سترۃ المصلي و الندب إلی الصلاۃ... إلخ، الحدیث: ۲۵۰۔(۵۰۳)، ص۲۵۷.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، الفصل الأول، ج۱، ص۱۰۴.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ، وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۷۹.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۸۰.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب إذا قرأ قولہ... إلخ، ج۲، ص۴۸۰.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، الفصل الأول، ج۱، ص۱۰۴.
6 ۔ یہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ردالمحتار میں ہے: سنت یہ ہے کہ نمازی او ر سترہ کے درمیان فاصلہ زیادہ سے زیادہ تین ہاتھ ہو۔
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۸۴.
مسئلہ ۷۶: امام و منفرد جب صحرا میں یا کسی ایسی جگہ نماز پڑھیں، جہاں سے لوگوں کے گزرنے کا اندیشہ ہو تو مستحب ہے کہ سُترہ گاڑیں اور سُترہ نزدیک ہونا چاہیے، سُترہ بالکل ناک کی سیدھ پر نہ ہو بلکہ داہنے یا بائیں بھوں کی سیدھ پر ہو اور دہنے کی سيدھ پر ہونا افضل ہے۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۷۷: اگر نصب کرنا نا ممکن ہو تو وہ چیز لنبی لنبی رکھ دے اور اگر کوئی ایسی چیز بھی نہیں کہ رکھ سکے تو خط کھینچ دے خواہ طول میں ہو یا محراب کی مثل۔ (2) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۷۸: اگر سُترہ کے ليے کوئی چیز نہیں ہے اور اس کے پاس کتاب یا کپڑا موجود ہے، تو اسی کو سامنے رکھ لے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۹: امام کا سُترہ مقتدی کے ليے بھی سُترہ ہے، اس کو جدید سُترہ کی حاجت نہیں، تو اگر چھوٹی مسجد میں بھی مقتدی کے آگے سے گزر جائے، جب کہ امام کے آگے سے نہ ہو حرج نہیں۔ (4) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۸۰: درخت اور جانور اور آدمی وغیرہ کا بھی سُترہ ہو سکتا ہے کہ ان کے بعد گزرنے میں کچھ حرج نہیں۔ (5) (غنیہ) مگر آدمی کو اس حالت میں سُترہ کیا جائے، جب کہ اس کی پیٹھ مصلّی کی طرف ہو کہ مصلّی کی طرف مونھ کرنا منع ہے۔
مسئلہ ۸۱: سوار اگر مصلّی کے آگے سے گزرنا چاہتا ہے، تو اس کا حیلہ یہ ہے کہ جانور کو مصلّی کے آگے کرلے اور اس طرف سے گزر جائے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۲: دو شخص برابر برابر امام کے آگے سے گزر گئے، تو مصلّی سے جو قریب ہے وہ گناہ گار ہوا اور دوسرے کے
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، ج۲، ص۴۸۴. وغیرہ
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، الفصل الأول، ج۱، ص۱۰۴.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۸۵.
ان دونوں صورتوں سے یہ مقصود نہیں کہ گزرنا جائز ہو جائیگا بلکہ اس لیے ہیں کہ نمازی کا خیال نہ بٹے۔ ۱۲
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب إذا قرأ قولہ... إلخ، ج۲، ص۴۸۵.
اس سے بھی وہی مقصود ہے کہ نمازی کا دل نہ بٹے ورنہ کتاب یا کپڑا رکھنے سے اس کے آگے سے گزرنا، جائز نہ ہوگا، ہاں اگر بلندی اتنی
ہو جائے جو سترہ کے لیے درکار ہے، تو گزرنا بھی جائز ہو جائیگا۔ ۱۲ منہ
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب إذا قرأ قولہ... إلخ، ج۲، ص۴۸۷، وغیرہ .
5 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل کراھیۃ الصلاۃ، ص۳۶۷.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، الفصل الأول، ج۱، ص۱۰۴.
ليے یہی سُترہ ہوگیا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۳: مصلّی کے آگے سے گزرنا چاہتا ہے تو اگر اس کے پاس کوئی چیز سُترہ کے قابل ہو تو اسے اس کے سامنے رکھ کر گزر جائے پھر اسے اٹھالے، اگر دو شخص گزرنا چاہتے ہیں اور سُترہ کو کوئی چیز نہیں تو ان میں ايک نمازی کے سامنے اس کی طرف پيٹھ کرکے کھڑا ہو جائے اور دوسرا اس کی آڑ پکڑ کر گزر جائے، پھر وہ دوسرا اس کی پیٹھ کے پیچھے نمازی کی طرف پشت کر کے کھڑا ہو جائے اور یہ گزر جائے، پھر وہ دوسرا جدھر سے اس وقت آیا اسی طرف ہٹ جائے۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۴: اگر اس کے پاس عصا ہے مگر نصب نہیں کرسکتا، تو اسے کھڑا کر کے مصلّی کے آگے سے گزرنا جائز ہے، جب کہ اس کو اپنے ہاتھ سے چھوڑ کر گرنے سے پہلے گزر جائے۔
مسئلہ ۸۵: اگلی صف میں جگہ تھی، اسے خالی چھوڑ کر پیچھے کھڑا ہوا تو آنے والا شخص اس کی گردن پھلانگتا ہوا جا سکتا ہے ، کہ اس نے اپنی حُرمت اپنے آپ کھوئی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۸۶: جب آنے جانے والوں کا اندیشہ نہ ہو نہ سامنے راستہ ہو تو سُترہ نہ قائم کرنے میں بھی حرج نہیں، پھر بھی اَولیٰ سُترہ قائم کرنا ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۸۷: نمازی کے سامنے سُترہ نہیں اور کوئی شخص گزرنا چاہتا ہے يا سُترہ ہے مگر وہ شخص مصلّی اور سُترہ کے درمیان سے گزرنا چاہتا ہے تو نمازی کو رخصت ہے کہ اسے گزرنے سے روکے، خواہ سبحان اللہ کہے یا جہر کے ساتھ قراء ت کرے يا ہاتھ، یا سر، یا آنکھ کے اشارے سے منع کرے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں، مثلاً کپڑا پکڑ کر جھٹکنا یا مارنا، بلکہ اگر عملِ کثیر ہوگیا، تو نماز ہی جاتی رہی۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۸: تسبیح و اشارہ دونوں کو بلا ضرورت جمع کرنا مکروہ ہے، عورت کے سامنے سے گزرے تو تصفیق سے منع کرے، یعنی دہنے ہاتھ کی انگلیاں بائیں کی پشت پر مارے اور اگر مرد نے تصفیق کی اور عورت نے تسبیح ، تو بھی فاسد نہ ہوئی،
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، الفصل الأول، ج۱، ص۱۰۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، الفصل الأول، ج۱، ص۱۰۴.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، مطلب إذا قرأ قولہٰ... إلخ، ج۲، ص۴۸۳.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، ج۲، ص۴۸۳.
4 ۔ المرجع السابق، ص۴۸۷.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، مطلب إذا قرأ قولہٰ... إلخ، ج۲، ص۴۸۵.
مگر خلافِ سُنّت ہوا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۸۹: مسجد الحرام شریف میں نماز پڑھتا ہو تو اُس کے آگے طواف کرتے ہوئے لوگ گزر سکتے ہیں۔ (2) (ردالمحتار)
حدیث ۱:ـ بخاری و مسلم ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا۔ (3)
حدیث ۲:ـ شرح سنہ میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''کمر پر نماز میں ہاتھ رکھنا، جہنمیوں کی راحت ہے۔'' (4)
حدیث ۳: بخاری و مسلم و ابو داود و نَسائی روایت کرتے ہیں، کہ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: ''میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم سے نماز کے اندر اِدھر اُدھر دیکھنے کے بارے میں سوال کیا؟' فرمایا: یہ اُچک لینا ہے کہ بندہ کی نماز میں سے شیطان اُچک لے جاتا ہے۔'' (5)
حدیث ۴: امام احمد و ابو داود و نَسائی و ابن خزیمہ و حاکم بافادۂ تصحیح ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جو بندہ نماز میں ہے، اﷲ عزوجل کی رحمتِ خاصہ اس کی طرف متوجہ رہتی ہے جب تک اِدھر اُدھر نہ دیکھے، جب اس نے اپنا مونھ پھیرا، اس کی رحمت بھی پھر جاتی ہے۔'' (6)
حدیث ۵: امام احمد باسناد حسن وابو یعلیٰ روایت کرتے ہیں، کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: ''مجھے میرے
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، ج۲، ص۴۸۶.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، مطلب إذا قرأ قولہٰ... إلخ، ج۲، ص۴۸۲.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب کراھیۃ الاختصار في الصلاۃ، الحدیث: ۵۴۵، ص۲۷۶.
و ''صحیح البخاري''، کتاب العمل في الصلاۃ، باب الخصر في الصلاۃ، الحدیث: ۱۲۱۹، ج۱، ص۴۱۱.
4 ۔ ''شرح السنۃ''، کتاب الصلاۃ، باب کراھیۃ الاختصار في الصلاۃ، الحدیث: ۷۳۱، ج۲، ص۳۱۳.
یعنی یہ یہودیوں کا فعل ہے، کہ وہ جہنمی ہیں ورنہ جہنمیوں کے لیے جہنم میں کیا راحت ۔ کذا فسرہ الائمۃ ۔ ۱۲ منہ
5 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الأذان، باب الإلتفات في الصلاۃ، الحدیث: ۷۵۱، ج۱، ص۲۶۵.
6 ۔ ''المستدرک'' للحاکم، کتاب الإمامۃ... إلخ، باب لایزال اﷲ، مقبلاً علی العبد مالم یلتفت... إلخ، الحدیث: ۸۹۶،
ج۱، ص۵۰۴.
خلیل صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے تین باتوں سے منع فرمایا، مُرغ کی طرح ٹھونگ مارنے اور کتّے کی طرح بیٹھنے اور اِدھر اُدھر لومڑی کی طرح دیکھنے سے۔'' (1)
حدیث ۶: بزار نے جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم جب آدمی نماز کو کھڑا ہوتا ہے اﷲ عزوجل اپنی خاص رحمت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور جب اِدھر اُدھر دیکھتا ہے فرماتا ہے: ''اے ابنِ آدم! کس کی طرف التفات کرتا ہے، کیا مجھ سے کوئی بہتر ہے، جس کی طرف التفات کرتا ہے، پھر جب دوبارہ التفات کرتا ہے ایسا ہی فرماتا ہے، پھر جب تیسری بار التفات کرتا ہے، اﷲ عزوجل اپنی اس خا ص ر حمت کو اس سے پھیر لیتا ہے۔'' (2)
حدیث ۷: ترمذی باسناد حسن روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ''اے لڑکے! نماز میں التفات سے بچ کہ نماز میں التفات ہلاکت ہے۔'' (3)
حدیث ۸تا۱۲: بخاری و ابو داود و نَسائی و ابن ماجہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں: ''کیا حال ہے؟ اُن لوگوں کا جو نماز میں آسمان کی طرف آنکھیں اٹھاتے ہیں، اس سے باز رہیں یا ان کی نگاہیں اُچک لی جائیں گی۔'' (4) اسی مضمون کے قریب قریب ابن عمر و ابوہریرہ و ابوسعید خدری و جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایتیں کتب احادیث میں موجود ہیں۔
حدیث ۱۳: امام احمد و ابو داود و ترمذی بافادۂ تحسین و نَسائی و ابن ماجہ و ابن حبان و ابن خزیمہ ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جب کوئی تم میں نماز کو کھڑا ہو تو کنکری نہ چھوئے، کہ رحمت اس کے مواجہہ میں ہے۔'' (5)
حدیث ۱۴: صحاح ستہ میں معیقیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''کنکری نہ چھو اور اگر تجھے ناچار کرنا ہی ہے تو ایک بار۔'' (6)
1 ۔ ''مجمع الزوائد''، کتاب الصلاۃ، باب ما ینھی عنہ في الصلاۃ... إلخ، الحدیث: ۲۴۲۵، ج۲، ص۲۳۲.
2 ۔ ''مجمع الزوائد''، کتاب الصلاۃ، باب ینھی عنہ في الصلاۃ... إلخ، الحدیث: ۲۴۲۶، ج۲، ص۲۳۲.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب السفر، باب ما ذکر في الإلتفات في الصلاۃ، الحدیث: ۵۸۹، ج۲، ص۱۰۲.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الأذان، باب رفع البصر إلی السماء في الصلاۃ، الحدیث: ۷۵۰، ج۱، ص۲۶۵.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ... إلخ، باب ماجاء في کراھیۃ مسح الحصی في الصلاۃ، الحدیث: ۳۷۹،
ج۱، ص۳۹۰، عن أبي ذر رضی اﷲ عنہ.
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب مسح الحصي في الصلاۃ، الحدیث: ۹۴۶، ج۱، ص۳۵۶.
حدیث ۱۵: صحیح ابن خزیمہ میں مروی ہے کہ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، میں نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) سے نماز میں کنکری چھونے کا سوال کیا؟ فرمایا: ''ایک بار اور اگر تُو اس سے بچے، تو یہ سو اونٹنیوں سیاہ آنکھ والیوں سے بہتر ہے۔'' (1)
حدیث ۱۶و۱۷:ـ مسلم ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جب نماز میں کسی کو جماہی آئے تو جہاں تک ہو سکے روکے، کہ شیطان مونھ میں داخل ہو جاتا ہے۔'' (2)
اور صحیح بخاری کی روایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ فرماتے ہیں: ''جب نماز میں کسی کو جماہی آئے تو جہاں تک ہو سکے روکے اور ھا نہ کہے، کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے، شیطان اس سے ہنستا ہے۔'' (3)
اور ترمذی و ابن ماجہ کی روایت انہیں سے ہے، اس کے بعد فرمایا: کہ ''مونھ پر ہاتھ رکھ دے۔'' (4)
حدیث ۱۸و۱۹: امام احمد و ابو داود و ترمذی و نَسائی و دارمی کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جب کوئی اچھی طرح وضو کر کے مسجد کے قصد سے نکلے، تو ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں نہ ڈالے کہ وہ نماز میں ہے۔'' (5) اور اسی کے مثل ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حدیث ۲۰: صحیح بخاری میں شقیق سے مروی کہ حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ رکوع و سجود پورا نہیں کرتا، جب اس نے نماز پڑھ لی، تو بُلایا اور کہا: ''تیری نماز نہ ہوئی۔'' راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ یہ بھی کہا کہ اگر تو مرا تو فطرت محمد صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کے غیر پر مرے گا۔ (6)
حدیث ۲۱تا۲۴: بخاری تاریخ میں اور ابن خزیمہ وغیرہ خالد بن ولید و عمرو بن عاص و یزید بن ابی سفیان و شرجیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے راوی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ملاحظہ فرمایا کہ رکوع تمام نہیں کرتا اور سجدہ میں ٹھونگ مارتا ہے، حکم فرمایا: کہ ''پورا رکوع کرے اور فرمایا: یہ اگر اسی حالت میں مرا تو ملّت محمد صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کے غیر
1 ۔ ''صحیح ابن خزیمہ''، أبواب الافعال المباحۃ في الصلاۃ، باب الرخصۃ في مسح الحصي في الصلاۃ مرۃ واحدۃ،
الحدیث: ۸۹۷، ج۲، ص۵۲.
2 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزھد، باب تشمیت العاطس... إلخ، الحدیث: ۵۹۔(۲۹۹۵)، ص۱۵۹۷.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، الحدیث: ۳۲۸۹، ج۲، ص۴۰۲.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب إقامۃ الصلوات... إلخ، باب ما یکرہ في الصلاۃ، الحدیث: ۹۶۸، ج۱، ص۵۱۵.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في کراھیۃ التشبیک... إلخ، الحدیث: ۳۸۶، ج۱، ص۳۹۶.
6 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الأذان ، باب اذا لم یتم الرکوع، الحدیث: ۷۹۱، ۸۰۸، ج۱ ،ص۲۷۷ ،۲۸۴.
پر مرے گا، پھر فرمایا: جو رکوع پورا نہیں کرتا اور سجدہ میں ٹھونگ مارتا ہے، اس کی مثال اس بھوکے کی ہے کہ ایک دو کھجوریں کھا لیتا ہے، جو کچھ کام نہیں دیتیں۔'' (1)
حدیث ۲۵: امام احمد ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم : ''سب میں بُرا وہ چور ہے، جو اپنی نماز سے چراتا ہے، صحابہ نے عرض کی، یارسول اﷲ (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) ! نماز سے کیسے چُراتا ہے؟ فرمایا: کہ ''رکوع و سجود پورا نہیں کرتا۔'' (2)
حدیث ۲۶: امام مالک و احمد نعمان بن مرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے حدود نازل ہونے سے پہلے صحابہ کرام سے فرمایا: کہ ''شرابی اور زانی اور چور کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟ سب نے عرض کی، اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) خوب جانتے ہیں، فرمایا: یہ بہت بُری باتیں ہیں اور ان میں سزا ہے اور سب میں بُری چوری وہ ہے کہ اپنی نماز سے چرائے۔ عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) ! نماز سے کیسے چُرائے گا؟ فرمایا: یوں کہ رکوع و سجود تمام نہ کرے۔'' (3) اسی کے مثل دارمی کی روایت میں بھی ہے۔
حدیث ۲۷: امام احمد نے طلق بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) نے فرمایا: اﷲ عزوجل بندہ کی اس نماز کی طرف نظر نہیں فرماتا، جس میں رکوع و سجود کے درمیان پیٹھ سیدھی نہ کرے۔'' (4)
حدیث ۲۸: ابو داود و ترمذی باسناد حسن روایت کرتے ہیں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''ہم رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کے زمانہ میں دروں میں کھڑے ہونے سے بچتے تھے۔'' (5) دوسری روایت میں ہے ہم دھکا دے کر ہٹائے جاتے۔ (6)
حدیث ۲۹: ترمذی نے روایت کی، کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں: ''ہمارا ایک غلام افلح نامی جب سجدہ کرتا تو پھونکتا، فرمایا: اے افلح! اپنا مونھ خاک آلود کر۔'' (7)
حدیث ۳۰: ابن ماجہ نے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے
1 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۲۲۴۲۶، ج۸، ص۸۳.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الانصار، حدیث أبي قتادہ الانصاری، الحدیث: ۲۲۷۰۵، ج۸، ص۳۸۶.
3 ۔ ''الموطا'' لإمام مالک، کتاب قصد الصلاۃ في السفر، باب العمل في جامع الصلاۃ، الحدیث: ۴۱۰، ج۱،ص۱۶۴.
4 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث طلق بن علی، الحدیث: ۱۶۲۸۳، ج۵، ص۴۹۲.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في کراھیۃ الصف بین السواري،الحدیث: ۲۲۹، ج۱، ص۲۶۴.
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب الصفوف بین السواري، الحدیث: ۶۷۳، ج۱، ص۲۶۷.
7 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في کراھیۃ النفخ... إلخ، الحدیث: ۳۸۱، ج۱، ص۳۹۲.
ہیں: ''جب تُو نماز میں ہو تو انگلیاں نہ چٹکا۔'' (1) بلکہ ایک روایت میں ہے، جب مسجد میں انتظارِ نماز میں ہو اس وقت انگلیاں چٹکانے سے منع فرمایا۔ (2)
حدیث ۳۱: صحاح ستّہ میں مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: کہ ''مجھے حکم ہوا ہے کہ سات اعضاء پر سجدہ کروں اور بال یا کپڑا نہ سمیٹوں۔'' (3)
حدیث ۳۲: صحیحین میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم : ''مجھے حکم ہوا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں، مونھ اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پنجے اور یہ حکم ہوا کہ کپڑے اور بال نہ سمیٹوں۔'' (4)
حدیث ۳۳: ابو داود و نَسائی و دارمی عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ''رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے کوّے کی طرح ٹھونک مارنے اور درندے کی طرح پاؤں بچھانے سے منع فرمایا اور اس سے منع فرمایا کہ مسجد میں کوئی شخص جگہ مقرر کرلے، جیسے اونٹ جگہ مقرر کر لیتا ہے۔'' (5)
حدیث ۳۴: ترمذی نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: ''اے علی! میں اپنے ليے جو پسند کرتا ہوں تمھارے ليے پسند کرتا ہوں اور اپنے ليے جو مکروہ جانتا ہوں تمھارے ليے مکروہ جانتا ہوں۔ دونوں سجدوں کے درمیان اقعا نہ کرنا۔'' (6) (یعنی اس طرح نہ بیٹھنا کہ سرین زمین پر ہوں اور گھٹنے کھڑے)۔
حدیث ۳۵: ابو داود اور حاکم نے مستدرک میں بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا کہ ''مرد صرف پاجامہ پہن کر نماز پڑھے اور چادر نہ اوڑھے۔'' (7)
حدیث ۳۶: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) فرماتے ہیں: ''تم میں کوئی ایک کپڑا پہن کرا س طرح ہرگز نماز نہ پڑھے کہ مونڈھوں پر کچھ نہ ہو۔'' (8)
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب إقامۃ الصلوات... إلخ، باب مایکرہ في الصلاۃ، الحدیث: ۹۶۵، ج۱، ص۵۱۴.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب إذا تردد الحکم... إلخ، ج۲، ص۴۹۳.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الأذان، باب لا یکف ثوبہ في الصلاۃ، الحدیث: ۸۱۶، ج۱، ص۲۸۶.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الأذان، باب السجود علی الأنف، الحدیث: ۸۱۲، ج۱، ص۲۸۵.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ من لا یقیم صلبہ في الرکوع و السجود، الحدیث: ۸۶۲، ج۱، ص۳۲۸.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في کراھیۃ الإقعاء بین السجدتین، الحدیث: ۲۸۲، ج۱، ص۳۰۹.
7 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب إذا کان الثوب ضیقا یتذربہ، الحدیث: ۶۳۶، ج۱، ص۲۵۷.
8 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصلاۃ، باب إذا صلی في الثوب الواحد، الحدیث: ۳۵۹، ج۱، ص۱۴۵.
حدیث ۳۷: صحیح بخاری میں اونھیں سے مروی، فرماتے ہیں: ''جو ایک کپڑے میں نماز پڑھے، یعنی وہی چادر وہی تہبند ہو، تو اِدھر کا کنارہ اُدھر اور اُدھر کا اِدھر کر لے۔'' (1)
حدیث ۳۸: عبدالرزاق نے مصنف میں روایت کی، کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نافع کو دو کپڑے پہننے کو دیے اور یہ اس وقت لڑکے تھے اس کے بعد مسجد میں گئے اور ان کو ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا، اس پر فرمایا: ''کیا تمھارے پاس دو کپڑے نہیں کہ انھیں پہنتے؟ عرض کی، ہاں ہیں۔ تو فرمایا: بتاؤ اگر مکان سے باہر تمہیں بھیجوں تو دونوں پہنو گے؟ عرض کی، ہاں۔ فرمایا: تو کیا اﷲ عزوجل کے دربار کے ليے زینت زیادہ مناسب ہے یا آدمیوں کے ليے؟ عرض کی، اﷲ (عزوجل) کے لئے۔'' (2)
حدیث ۳۹: امام احمد کی روایت ہے، کہ ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ''ایک کپڑے میں نماز سُنت ہے یعنی جائز ہے، کہ ہم حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) کے زمانہ میں ایسا کرتے اور ہم پر اس بارے میں عیب نہ لگایا جاتا، عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''یہ اس وقت ہے کہ کپڑوں میں کمی ہو اور جو اﷲ تعالیٰ نے وسعت دی ہو تو دو کپڑوں ميں نماز زیادہ پاکیزہ ہے۔'' (3)
حدیث ۴۰: ابو داود نے عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) نے فرمایا: ''جو شخص نماز میں تکبر سے تہبند لٹکائے، اسے اﷲ (عزوجل) کی رحمت حل میں ہے، نہ حرم میں۔'' (4)
حدیث ۴۱: ابو داود ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ''ایک صاحب تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہے تھے، ارشاد فرمایا: جاؤ وضو کرو، وہ گئے اور وضو کر کے واپس آئے۔'' کسی نے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) ! کیا ہوا کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) نے وضو کا حکم فرمایا؟ ارشاد فرمایا: ''وہ تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا اور بے شک اﷲ عزوجل اس شخص کی نماز نہیں قبول فرماتا،جو تہبند لٹکائے ہوئے ہو۔'' (5) (یعنی اتنا نیچا کہ پاؤں کے گِٹے چھپ جائیں)۔ شیخ محقق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ لمعات میں فرماتے ہیں: کہ ''وضو کا حکم اس ليے دیا کہ انھیں معلوم ہو جائے کہ یہ معصیت ہے کہ سب لوگوں کو بتا دیا تھا
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصلاۃ، باب إذا صلی في الثوب الواحد... إلخ، الحدیث:۳۶۰، ج۱، ص۱۴۵.
2 ۔ ''المصنف'' لعبد الرزاق، کتاب الصلاۃ، باب ما یکفي الرجل من الثیاب، الحدیث: ۱۳۹۲، ج۱، ص۲۷۴.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الأنصار، حدیث المشایخ، الحدیث: ۲۱۳۳۴، ج۸، ص۶۰.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب الإسبال في الصلاۃ، الحدیث: ۶۳۷، ج۱، ص۲۵۷.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب الإسبال في الصلاۃ، الحدیث: ۶۳۸، ج۱، ص۲۵۷.
کہ وضو گناہوں کا کفارہ ہے اور گناہ کے اسباب کا زائل کرنے والا۔'' (1)
حدیث ۴۲: ابو داود ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''جب کوئی نماز پڑھے تو دہنی طرف جوتیاں نہ رکھے اور بائیں طرف بھی نہیں کہ کسی اور کی دہنی جانب ہوں گی، مگر اس وقت کہ بائیں جانب کوئی نہ ہو، بلکہ جوتیاں دونوں پاؤں کے درمیان رکھے۔'' (2)
احکام فقہيہ: (۱) کپڑے یا داڑھی یا بدن کے ساتھ کھیلنا، (۲) کپڑا سمیٹنا، مثلاً سجدہ میں جاتے وقت آگے یا پيچھے سے اٹھا لینا، اگرچہ گرد سے بچانے کے ليے کیا ہو اور اگر بلا وجہ ہو تو اور زیادہ مکروہ، (۳) کپڑا لٹکانا، مثلاً سر یا مونڈھے پر اس طرح ڈالنا کہ دونوں کنارے لٹکتے ہوں، یہ سب مکروہ تحریمی ہيں۔ (3) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۱: اگر کُرتے وغیرہ کی آستین میں ہاتھ نہ ڈالے، بلکہ پیٹھ کی طرف پھینک دی، جب بھی یہی حکم ہے۔ (4) (مستفاد من الدر)
مسئلہ ۲: رومال یا شال یا رضائی یا چادر کے کنارے دونوں مونڈھوں سے لٹکتے ہوں، یہ ممنوع و مکروہ تحریمی ہے اور ایک کنارہ دوسرے مونڈھے پر ڈال دیا اور دوسرا لٹک رہا ہے تو حرج نہیں اور اگر ایک ہی مونڈھے پر ڈالا اس طرح کہ ایک کنارہ پیٹھ پر لٹک رہا ہے دوسرا پیٹ پر، جیسے عموماً اس زمانہ میں مونڈھوں پر رومال رکھنے کا طریقہ ہے، تو یہ بھی مکروہ ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: (۴) کوئی آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہوئی، یا (۵) دامن سميٹے نماز پڑھنا بھی مکروہ تحریمی ہے، خواہ پیشتر سے چڑھی ہو یا نماز میں چڑھائی۔ (6) (درمختار)
1 ۔ ''لمعات''،
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب المصلي إذا خلع نعلیہ... إلخ، الحدیث: ۶۵۴، ج۱، ص۲۶۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ... إلخ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۵ ۔ ۱۰۶.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۸۸.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب في الکراہۃ التحریمیۃ و التنزیہیۃ،
ج۲، ص۴۸۸.
6 ۔ المرجع السابق، ص۴۹۰، و ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الصلاۃ، ج۷، ص۳۸۵.
مسئلہ ۴: (۶) شدت کا پاخانہ پیشاب معلوم ہوتے وقت، یا (۷) غلبہ ریاح کے وقت نماز پڑھنا، مکروہ تحریمی ہے۔ (1) حدیث میں ہے، ''جب جماعت قائم کی جائے اور کسی کو بیت الخلا جانا ہو، تو پہلے بیت الخلا کو جائے۔'' (2) اس حدیث کو ترمذی نے عبداﷲ بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا اور ابو داود و نَسائی و مالک نے بھی اس کے مثل روایت کی ہے۔
مسئلہ ۵: نماز شروع کرنے سے پیشتر اگر ان چیزوں کا غلبہ ہو تو وقت میں وسعت ہوتے ہوئے شروع ہی ممنوع و گناہ ہے، قضائے حاجت مقدم ہے، اگرچہ جماعت جاتی رہنے کا اندیشہ ہو اور اگر دیکھتا ہے کہ قضائے حاجت اور وضو کے بعد وقت جاتا رہے گا تو وقت کی رعایت مقدم ہے، نماز پڑھ لے اور اگر اثنائے نماز (3) میں یہ حالت پیدا ہو جائے اور وقت میں گنجائش ہو تو توڑ دینا واجب اور اگر اسی طرح پڑھ لی، تو گناہ گار ہوا۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: (۸) جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی اور نماز میں جوڑا باندھا، تو فاسد ہوگئی۔ (5)
مسئلہ ۷: (۹) کنکرياں ہٹانا مکروہ تحریمی ہے، مگر جس وقت کہ پورے طور پر بروجہ سُنت سجدہ ادا نہ ہوتا ہو، تو ایک بار کی اجازت ہے اور بچنا بہتر ہے اور اگر بغیر ہٹائے واجب ادا نہ ہوتا ہو تو ہٹانا واجب ہے، اگرچہ ایک بار سے زیادہ کی حاجت پڑے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: (۱۰) اُنگلیاں چٹکانا، (۱۱) انگلیوں کی قینچی باندھنا یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا، مکروہ تحریمی ہے۔ (7) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۹: نما زکے ليے جاتے وقت اور نماز کے انتظار میں بھی یہ دونوں چیزیں مکروہ ہیں اور اگر نہ نماز میں ہے، نہ توابع نماز میں تو کراہت نہیں، جب کہ کسی حاجت کے ليے ہوں۔ (8) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۰: (۱۲) کمر پر ہاتھ رکھنا مکروہ تحریمی ہے، نماز کے علاوہ بھی کمر پر ہاتھ رکھنا نہ چاہیے۔ (9) (درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في الخشوع، ج۲، ص۴۹۲.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء إذا أقیمت الصلاۃ... إلخ، الحدیث: ۱۴۲، ج۱، ص۱۹۲.
3 ۔ یعنی نماز کے دوران۔
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب في الخشوع، ج۲، ص۴۹۲.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۹۲.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب في الخشوع، ج۲، ص۴۹۳.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۹۳، وغیرہ.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۴۹۳، وغیرہ.
9 ۔ المرجع السابق، ص۴۹۴.
مسئلہ ۱۱: (۱۳) اِدھر اُدھر مونھ پھیر کر دیکھنا مکروہ تحریمی ہے، کل چہرہ پھر گیا ہو یا بعض اور اگر مونھ نہ پھیرے، صرف کنکھیوں سے اِدھر اُدھر بِلا حاجت دیکھے، تو کراہت تنزیہی ہے اور نادراً کسی غرض صحیح سے ہو تو اصلاً حرج نہیں، (۱۴) نگاہ آسمان کی طرف اٹھانا بھی مکروہ تحریمی ہے۔
مسئلہ ۱۲: (۱۵) تشہد یا سجدوں کے درمیان میں کُتّے کی طرح بیٹھنا، یعنی گھٹنوں کو سینہ سے ملا کر دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھ کر سرین کے بل بیٹھنا، (۱۶) مرد کا سجدہ میں کلائیوں کو بچھانا، (۱۷) کسی شخص کے مونھ کے سامنے نما زپڑھنا، مکروہ تحریمی ہے۔ یوہیں دوسرے شخص کو مصلّی کی طرف مونھ کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے، یعنی اگر مصلّی کی جانب سے ہو تو کراہت مصلّی پر ہے، ورنہ اس پر۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: اگر مصلّی اور اس شخص کے درمیان جس کا مونھ مصلّی کی طر ف ہے، فاصلہ ہو جب بھی کراہت ہے، مگر جب کہ کوئی شے درمیان میں حائل ہو کہ قیام میں بھی سامنا نہ ہوتا ہو توحرج نہیں اور اگر قیام میں مواجہہ ہو قعود میں نہ ہو، مثلاً دونوں کے درمیان میں ایک شخص مصلّی کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا کہ اس صورت میں قعود میں مواجہہ نہ ہوگا، مگر قیام میں ہوگا، تو اب بھی کراہت ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: (۱۸) کپڑے میں اس طرح لپٹ جانا کہ ہاتھ بھی باہر نہ ہو مکروہ تحریمی ہے، علاوہ نماز کے بھی بے ضرورت اس طرح کپڑے میں لپٹنا نہ چاہیے اور خطرہ کی جگہ سخت ممنوع ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: (۱۹) اعتجار یعنی پگڑی اس طرح باندھنا کہ بیچ سر پر نہ ہو، (4) مکروہ تحریمی ہے، نماز کے علاوہ بھی اس طرح عمامہ باندھنا مکروہ ہے۔ (۲۰) یوہیں ناک اور مونھ کو چُھپانا، (۲۱) اور بے ضرورت کھنکار نکالنا، یہ سب مکروہ تحریمی ہیں۔ (5) (درمختار، عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب إذا تردد الحکم... إلخ، ج۲،
ص۴۹۵۔۴۹۷.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، مطلب إذا تردد الحکم... إلخ، ج۲، ص۴۹۷.
3 ۔ ''مراقي الفلاح شرح نور الإیضاح''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ، فصل في مکروہات الصلاۃ، ص۷۹،
4 ۔ صدر الشریعہ، بدرالطریقہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ''فتاویٰ امجدیہ'' میں فرماتے ہیں:لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹوپی پہنے رہنے کی
حالت میں اعتجار ہوتا ہے مگر تحقیق یہ ہے :کہ ''اعتجار اس صورت میں ہے کہ عمامہ کے نیچے کوئی چیز سر کو چھپانے والی نہ ہو۔''
( ''فتاویٰ امجدیہ''، کتاب الصوم، ج۱، ص۳۹۹ ).
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج۲، ص۵۱۱.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۶.
مسئلہ ۱۶: (۲۲) نما زمیں بالقصد جماہی لینا مکروہ تحریمی ہے اور خود آئے تو حرج نہیں، مگر روکنا مستحب ہے اور اگر روکے سے نہ رُکے تو ہونٹ کو دانتوں سے دبائے اور اس پر بھی نہ رُکے تو داہنا یا بایاں ہاتھ مونھ پر رکھ دے یا آستین سے مونھ چھپالے، قیام میں دہنے ہاتھ سے ڈھانکے اور دوسرے موقع پر بائیں سے۔ (1) (مراقی الفلاح)
فائدہ: انبیاء علیہم الصلوۃ وا لسّلام اس سے محفوظ ہیں، اس ليے کہ اس میں شیطانی مداخلت ہے۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: کہ ''جماہی شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں کسی کو جماہی آئے تو جہاں تک ممکن ہو روکے۔'' (2) اس حدیث کو امام بخاری و مسلم نے صحیحین میں روایت کیا، بلکہ بعض روایتوں میں ہے، کہ ''شیطان مونھ میں گُھس جاتا ہے۔'' (3) بعض میں ہے، ''شیطان دیکھ کر ہنستا ہے۔'' (4)
علماء فرماتے ہيں: کہ ''جو جماہی ميں مونھ کھول ديتا ہے، شيطان اس کے مونھ ميں تھوک ديتا ہے اور وہ جو قاہ قاہ کی آواز آتی ہے، وہ شیطان کا قہقہہ ہے کہ اس کا مونھ بگڑا دیکھ کر ٹھٹھا لگاتا ہے اور وہ جو رطوبت نکلتی ہے، وہ شیطان کا تھوک ہے۔'' اس کے روکنے کی بہتر ترکیب یہ ہے کہ جب آتی معلوم ہو تو دل میں خیال کرے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ وا لسّلام اس سے محفوظ ہیں، فوراً رُک جائے گی۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: (۲۳) جس کپڑے پر جاندار کی تصویر ہو، اسے پہن کر نما زپڑھنا، مکروہ تحریمی ہے۔ نماز کے علاوہ بھی ایسا کپڑا پہننا، ناجائز ہے۔ (۲۴) یوہیں مصلّی (6) کے سر پر یعنی چھت ميں ہو یا معلّق (7) ہو، یا (۲۵) محل سجود (8) میں ہو، کہ اس پر سجدہ واقع ہو، تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی (۲۶) یوہیں مصلّی کے آگے، یا (۲۷) داہنے، یا (۲۸)بائیں تصویر کا ہونا، مکروہ تحریمی ہے، (۲۹) اور پسِ پُشت (9) ہونا بھی مکروہ ہے، اگرچہ ان تینوں صورتوں سے کم اور ان چاروں صورتوں میں کراہت اس وقت ہے کہ تصویر آگے پیچھے دہنے بائیں معلق ہو، یا نصب ہو یا دیوار وغیرہ میں منقوش ہو، اگر فرش میں ہے اور اس پر سجدہ نہیں، تو کراہت نہیں۔ اگر تصویر غیر جاندار کی ہے، جیسے پہاڑ دریا وغیرہا کی، تو اس میں کچھ حرج نہیں۔ (10) (عامۂ کتب)
1 ۔ ''مراقي الفلاح'' شرح ''نور الإیضاح''، کتاب الصلاۃ، فصل في مکروہات الصلاۃ، ص۸۰.
2 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزھد، باب تشمیت العاطس... إلخ، الحدیث: ۲۹۹۴، ص۱۵۹۷.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزھد، باب تشمیت العاطس... إلخ، الحدیث: ۲۹۹۵، ص۱۵۹۷.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الأدب، باب ما یستحب من العطاس... إلخ، الحدیث: ۶۲۲۳، ج۴، ص۱۶۲.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، آداب الصلاۃ، ومطلب إذا تردد الحکم بین سنۃ... إلخ، ج۲، ص۴۹۸.
6 ۔ نمازی۔ 7 ۔ آویزاں۔
8 ۔ سجدے کی جگہ۔ 9 ۔ پیچھے۔
10 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، ج۲، ص۵۰۲ ۔ ۵۰۴، وغيرہما .
مسئلہ ۱۸: اگر تصویر ذلت کی جگہ ہو، مثلاً جوتیاں اُتارنے کی جگہ يا اور کسی جگہ فرش پر کہ لوگ اسے روندتے ہوں يا تکیے پر کہ زانو وغیرہ کے نیچے رکھا جاتا ہو، تو ایسی تصویر مکان میں ہونے سے کراہت نہیں، نہ اس سے نماز میں کراہت آئے، جب کہ سجدہ اس پر نہ ہو۔ (1) (درمختاروغیرہ)
مسئلہ ۱۹: جس تکیہ پر تصویر ہو، اسے منصوب (2) کرنا پڑا ہوا نہ رکھنا، اعزاز تصویر میں داخل ہوگا اور اس طرح ہونا نماز کو بھی مکروہ کردے گا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: اگر ہاتھ میں یا اور کسی جگہ بدن پر تصویر ہو، مگر کپڑوں سے چھپی ہو، یا انگوٹھی پر چھوٹی تصویر منقوش ہو، یا آگے، پیچھے، دہنے، بائیں، اوپر، نیچے کسی جگہ چھوٹی تصویر ہو یعنی اتنی کہ اس کو زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو اعضا کی تفصیل نہ دکھائی دے، یا پاؤں کے نیچے، یا بیٹھنے کی جگہ ہو، تو ان سب صورتوں میں نماز مکروہ نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: تصویر سر بریدہ یا جس کا چہرہ مٹا دیا ہو، مثلاً کاغذ یا کپڑے یا دیوار پر ہو تو اس پر روشنائی پھیر دی ہو یا اس کے سر یا چہرے کو کھرچ ڈالا یا دھو ڈالا ہو، کراہت نہیں۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: اگر تصویر کا سر کاٹا ہو مگر سر اپنی جگہ پر لگا ہوا ہے ہنوز (6) جدا نہ ہوا، تو بھی کراہت ہے۔ مثلاً کپڑے پر تصویر تھی، اس کی گردن پر سلائی کر دی کہ مثل طوق کے بن گئی۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: مٹانے میں صرف چہرہ کا مٹانا کراہت سے بچنے کے ليے کافی ہے، اگر آنکھ یا بھوں، ہاتھ، پاؤں جُدا کر ليے گئے تو اس سے کراہت دفع نہ ہوگی۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: تھیلی یا جیب میں تصویر چھپی ہوئی ہو، تو نماز میں کراہت نہیں۔ (9) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: تصویر والا کپڑا پہنے ہوئے ہے اور اس پر کوئی دوسرا کپڑا اور پہن لیا کہ تصویر چھپ گئی، تو اب نماز
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيہا، ج۲، ص۵۰۳، وغیرہ.
2 ۔ یعنی کھڑا۔
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيہا، ج۲، ص۵۰۳.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب إذا تردد الحکم... إلخ، ج۲، ص۵۰۴.
6 ۔ یعنی ابھی تک۔
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب إذا تردد الحکم... إلخ، ج۲، ص۵۰۴.
8 ۔ المرجع السابق.
9 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب مايفسد الصلاۃ وما يکرہ فيہا، ج۲، ص۵۰۴.
مکروہ نہ ہوگی۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: یوں تو تصویر جب چھوٹی نہ ہو اور موضع اہانت (2) میں نہ ہو، اس پر پردہ نہ ہو، تو ہر حالت میں اس کے سبب نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے، مگر سب سے بڑھ کر کراہت اس صورت میں ہے، جب تصویر مصلّی کے آگے قبلہ کو ہو، پھر وہ کہ سر کے اوپر ہو، اس کے بعد وہ کہ داہنے بائیں دیوار پر ہو، پھر وہ کہ پیچھے ہو دیوار یا پردہ پر۔ (3) (ردالمحتار، عالمگيری)
مسئلہ ۲۷: یہ احکام تو نماز کے ہیں، رہا تصویروں کا رکھنا اس کی نسبت صحیح حدیث میں ارشاد ہوا کہ ''جس گھر میں کُتّا ہو یا تصویر ، اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔'' (4) یعنی جب کہ توہین کے ساتھ نہ ہوں اور نہ اتنی چھوٹی تصویریں ہوں۔
مسئلہ ۲۸: روپے اشرفی اور دیگر سکّے کی تصویریں بھی فرشتوں کے داخل ہونے سے مانع ہیں یا نہیں۔ امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ نہیں اور ہمارے علمائے کرام کے کلمات سے بھی یہی ظاہر ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: یہ احکام تو تصویر کے رکھنے میں ہیں کہ صورت اہانت و ضرورت وغیرہما مستثنیٰ ہیں، رہا تصویر بنانا یا بنوانا، وہ بہرحال حرام ہے۔ (6) (ردالمحتار) خواہ دستی (7) ہو یا عکسی(8) ، دونوں کا ایک حکم ہے۔
مسئلہ ۳۰: (۳۰) اُلٹا قرآن مجید پڑھنا، (۳۱) کسی و اجب کو ترک کرنا مکروہ تحریمی ہے، مثلاً رکوع و سجود میں پیٹھ سیدھی نہ کرنا، یوہیں قومہ اور جلسہ میں سیدھے ہونے سے پہلے سجدہ کو چلا جانا، (۳۲) قیام کے علاوہ اور کسی موقع پر قرآن مجید پڑھنا، یا (۳۳) رکوع میں قراء ت ختم کرنا، (۳۴) امام سے پہلے مقتدی کا رکوع و سجود وغیرہ میں جانا يا اس سے پہلے سر اٹھانا۔
مسئلہ ۳۱: (۳۵) صرف پاجامہ یا تہبند پہن کر نماز پڑھی اور کُرتا یا چادر موجود ہے، تو نماز مکروہ تحریمی ہے اور جو
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب مايفسد الصلاۃ وما يکرہ فيہا، مطلب إذا ترددالحکم... إلخ، ج۲، ص۵۰۴.
2 ۔ یعنی ذلّت کی جگہ۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۷.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب مايفسد الصلاۃ وما يکرہ فيہا، مطلب إذا ترددالحکم... إلخ، ج۲، ص۵۰۳.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب المغازي، الحديث: ۴۰۰۲، ج۳، ص۱۹.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب إذا ترددالحکم... إلخ، ج۲، ص۵۰۶.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب إذا تردد الحکم... إلخ، ج۲، ص۵۰۶.
اس کے متعلق دیگر احکام انشاء اللہ تعالی کتاب الحظر میں مذکور ہونگے۔ ۱۲
7 ۔ یعنی ہاتھ کے ذريعہ۔
8 ۔ یعنی فوٹو۔
دوسرا کپڑا نہیں، تو معافی ہے۔ (1) (عالمگیری، غنیہ)
مسئلہ ۳۲: (۳۶) امام کو کسی آنے والے کی خاطر نماز کا طول دینا مکروہ تحریمی ہے، اگر اس کو پہچانتا ہو اور اس کی خاطر مد نظر ہو اور اگر نماز پر اس کی اعانت کے ليے بقدر ایک دو تسبیح کے طول دیا تو کراہت نہیں۔ (2) (عالمگیری) (۳۷) جلدی میں صف کے پیچھے ہی سے اﷲ اکبر کہہ کرشامل ہوگیا، پھر صف میں داخل ہوا، یہ مکروہ تحریمی ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: (۳۸) زمین مغصوب(4) ، یا (۳۹) پرائے کھیت میں جس میں زراعت موجود ہے يا جُتے ہوئے کھیت میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، (۴۰) قبر کا سامنے ہونا، اگر مصلّی و قبر کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو مکروہ تحریمی ہے۔ (5) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: (۴۱) کفار کے عبادت خانوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے کہ وہ شیاطین کی جگہ ہيں اور ظاہر کراہت تحریم۔ (6) (بحر) بلکہ ان میں جانا بھی ممنوع ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: (۴۲) اُلٹا کپڑا پہن کر یا اوڑھ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے اور ظاہر تحریم۔ (۴۳) یوہیں انگرکھے کے بند نہ باندھنا اور اچکن وغیرہ کے بٹن نہ لگانا، اگر اس کے نیچے کرتا وغیرہ نہیں اور سینہ کھلا رہا تو ظاہر کراہت تحریم ہے اور نیچے کرتا وغیرہ ہے تو مکروہ تنزیہی۔ یہاں تک تو وہ مکروہات بیان ہوئے جن کا مکروہ تحریمی ہونا کتب معتبرہ میں مذکور ہے، بلکہ اسی پر اعتماد کیا ہے، اب بعض دیگر مکروہات بیان کيے جاتے ہیں کہ ان میں اکثر کا مکروہ تنزیہی ہونا مصرح ہے اور بعض میں اختلاف ہے، مگر راجح تنزیہی ہے۔ (۱) سجدہ یا رکوع میں بلا ضرورت تین تسبیح سے کم کہنا، حدیث میں اسی کو مرغ کی سی ٹھونگ مارنا فرمایا، ہاں تنگی وقت یا ریل چلے جانے کے خوف سے ہو تو حرج نہیں اور اگر مقتدی تین تسبیحیں نہ کہنے پایا تھا کہ امام نے سر اٹھا لیا تو امام کا ساتھ دے۔
مسئلہ ۳۶: (۲) کام کاج کے کپڑوں سے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے، جب کہ اس کے پاس اور کپڑے ہوں ورنہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۶،
و '' غنیۃ المتملي''، کراہیۃ الصلاۃ، ص۳۴۸.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۸.
4 ۔ یعنی ايسی زمين جس پر ناجائز قبضہ کيا ہو۔
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۵۴.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد و قبلۃ... إلخ، ج۵، ص۳۱۹.
6 ۔ ''البحرالرائق''، کتاب الدعوی، ج۷، ص۳۶۴.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب تکرہ الصلاۃ في الکنيسۃ، ج۲، ص۵۳.
کراہت نہیں۔ (1) (متون)
مسئلہ ۳۷: (۳) مونھ میں کوئی چیز ليے ہوئے نماز پڑھنا پڑھانا مکروہ ہے، جب کہ قراء ت سے مانع نہ ہو اور اگر مانع قراء ت ہو، مثلاً آواز ہی نہ نکلے یا اس قسم کے الفاظ نکلیں کہ قرآن کے نہ ہوں، تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۸: (۴) سُستی سے ننگے سر نماز پڑھنا یعنی ٹوپی پہننا بوجھ معلوم ہوتا ہو یا گرمی معلوم ہوتی ہو، مکروہ تنزیہی ہے اور اگر تحقیر نماز مقصود ہے، مثلاً نماز کوئی ایسی مہتم بالشان (3) چیز نہیں جس کے ليے ٹوپی، عمامہ پہنا جائے تو یہ کفر ہے اور خشوع خضوع کے ليے سر برہنہ پڑھی، تو مستحب ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۹: نماز میں ٹوپی گِر پڑی تو اٹھا لینا افضل ہے، جب کہ عمل کثیر کی حاجت نہ پڑے، ورنہ نماز فاسد ہو جائے گی اور بار بار اٹھانی پڑے، تو چھوڑ دے اور نہ اٹھانے سے خضوع مقصود ہو، تو نہ اٹھانا افضل ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: (۵) پیشانی سے خاک یا گھاس چھڑانا مکروہ ہے، جب کہ ان کی وجہ سے نماز میں تشویش نہ ہو اور تکبّر مقصود ہو تو کراہت تحریمی ہے اور اگر تکلیف دہ ہوں یا خیال بٹتا ہو تو حرج نہیں اور نماز کے بعد چھڑانے میں تو مطلقاً مضایقہ نہیں بلکہ چاہیے، تاکہ ریا نہ آنے پائے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: یوہیں حاجت کے وقت پیشانی سے پسینہ پوچھنا، بلکہ ہر وہ عمل قلیل کہ مصلّی کے ليے مفید ہو جائز ہے اور جو مفید نہ ہو، مکروہ ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: نماز میں ناک سے پانی بہا اس کو پونچھ لینا، زمین پر گرنے سے بہتر ہے اور اگر مسجد میں ہے تو ضرور ہے۔ (8) (عالمگیری وغیرہ)
1 ۔ ''شرح الوقایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، ج۱، ص۱۹۸.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب في الکراہۃ التحريمیۃ و التنزيھیۃ،
ج۲، ص۴۹۱.
3 ۔ یعنی اہم۔
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب في الکراہۃ التحريمیۃ و التنزيھیۃ،
ج۲، ص۴۹۱.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۵.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۵.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۵، وغیرہ.
مسئلہ ۴۳: (۶) نماز میں اُنگلیوں پر آیتوں اور سورتوں اور تسبیحات کا گننا مکروہ ہے، نماز فرض ہو خواہ نفل اور دل میں شمار رکھنا يا پوروں کو دبانے سے تعداد محفوظ رکھنا اور سب اُنگلیاں بطورِ مسنون اپنی جگہ پر ہوں، اس میں کچھ حرج نہیں، مگر خلافِ اَولیٰ ہے کہ دل دوسری طرف متوجہ ہوگا اور زبان سے گننا مفسد نماز ہے۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴۴: نماز کے علاوہ انگلیوں پر شمار کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ بعض احادیث ميں عقدِ انامل (2) کا حکم ہے اور یہ کہ اُنگلیوں سے سوال ہوگا اور وہ بولیں گی۔ (3) (ردالمحتار، حلیہ)
مسئلہ ۴۵: تسبیح رکھنے میں حرج نہیں، جب کہ ریا کے ليے نہ ہو۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۶: (۷) ہاتھ یا سر کے اشارے سے سلام کا جواب دینا، مکروہ ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۴۷: (۸) نماز میں بغیر عذر چار زانو بیٹھنا مکروہ ہے اور عذر ہو تو حرج نہیں اور علاوہ نماز کے اس نشست میں کوئی حرج نہیں۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۴۸: (۹) دامن یا آستین سے اپنے کو ہوا پہنچانا مکروہ ہے۔ (7) (عالمگیری) جب کہ دو ایک بار ہو۔ (8) (مراقی الفلاح) یہ اس قول کی بنا پر کہ ایک رکن میں تین بار حرکت کو مفسد نماز کہا اور پنکھا جھلنا مفسد نماز ہے کہ دور سے دیکھنے والا سمجھے گا کہ نماز میں نہیں۔ (9) (منتقے، ذخیرہ، محیط رضوی، طحطاوی علی مراقی الفلاح)
مسئلہ ۴۹: (۱۰) اسبال یعنی کپڑا حد معتاد سے بافراط دراز رکھنا منع ہے، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب نماز پڑھو تو لٹکتے کپڑے کو اٹھا لو کہ اس میں سے جو شے زمین کو پہنچے گی، وہ نار میں ہے۔'' (10) اس حدیث کو بُخاری نے تاریخ میں اور طبرانی نے کبیر میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔دامنوں اور پائچوں میں اسبال یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے ہوں اور
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب إذا ترددالحکم... إلخ، ج۲، ص۵۰۷، وغیرہ.
2 ۔ یعنی انگليوں پر گننا۔
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ،باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيہا، مطلب إذا ترددالحکم... إلخ، ج۲، ص۵۰۷.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب الکلام علی اتخاذ المسبحۃ، ج۲، ص۵۰۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، ج۲، ص۴۹۷.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، ج۲، ص۴۹۸.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۷.
8 ۔ ''مراقي الفلاح''، کتاب الصلاۃ، فصل في مکروہات الصلاۃ، ص۸۰.
9 ۔ ''حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح''، کتاب الصلاۃ، فصل في المکروہات، ص۱۹۴.
10 ۔ ''المعجم الکبير''، الحديث: ۱۱۶۷۷، ج۱۱، ص۲۰۸.
آستینوں میں انگلیوں سے نیچے اور عمامہ میں یہ کہ بیٹھنے میں دبے۔
مسئلہ ۵۰: (۱۱) انگڑائی لینا (۱۲) اور بالقصد کھانسنا، یا (۱۳) کھنکارنا مکروہ ہے اور اگر طبیعت دفع کر رہی ہے تو حرج نہیں (۱۴) اور نماز میں تھوکنا بھی مکروہ ہے۔ (1) (عالمگیری) طحطاوی علی مراقی الفلاح میں انگڑائی کو فرمایا ظاہراً مکروہ تنزیہی ہے۔ (2)
مسئلہ ۵۱: (۱۵) صف میں منفرد (3) کو کھڑا ہونا مکروہ ہے، کہ قیام و قعود وغیرہ افعال لوگوں کے مخالف ادا کریگا۔ (۱۶) یوہیں مقتدی کو صف کے پیچھے تنہا کھڑا ہونا مکروہ ہے، جب کہ صف میں جگہ موجود ہو اور اگر صف میں جگہ نہ ہو تو حرج نہیں اور اگر کسی کو صف میں سے کھینچ لے اور اس کے ساتھ کھڑا ہو تو یہ بہتر ہے، مگر یہ خیال رہے کہ جس کو کھینچے وہ اس مسئلہ سے واقف ہو کہ کہیں اس کے کھینچنے سے اپنی نماز نہ توڑ دے۔ (4) (عالمگیری) اور چاہیے یہ کہ یہ کسی کو اشارہ کرے اور اسے یہ چاہیے کہ پیچھے نہ ہٹے، اس پر سے کراہت دفع ہوگئی۔ (5) (فتح القدیر)
مسئلہ ۵۲: (۱۷) فرض کی ایک رکعت میں کسی آیت کو بار بار پڑھنا حالت اختیار میں مکروہ ہے اور عذر سے ہو تو حرج نہیں۔ (۱۸) یوہیں ایک سورت کو بار بار پڑھنا بھی مکروہ ہے۔ (6) (عالمگیری، غنیہ)
مسئلہ ۵۳: (۱۹) سجدہ کو جاتے وقت گھٹنے سے پہلے ہاتھ رکھنا، (۲۰) اور اٹھتے وقت ہاتھ سے پہلے گھٹنے اٹھانا، بلا عذر مکروہ ہے۔ (7) (منیہ)
مسئلہ ۵۴: (۲۱) رکوع میں سر کو پشت سے اونچا يا نیچا کرنا، مکروہ ہے۔ (8) (منیہ)
مسئلہ ۵۵: (۲۲) بسم اﷲ و تعوذ و ثنا اور آمین زور سے کہنا، يا (۲۳) اذکار نماز کو ان کی جگہ سے ہٹا کر پڑھنا، مکروہ ہے۔ (9) (غنیہ، عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۷.
2 ۔ ''حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح''، کتاب الصلاۃ، فصل في المکروہات، ص۱۹۴.
3 ۔ یعنی تنہا نماز پڑھنے والے۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۷.
5 ۔ ''فتح القدير''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۱، ص۳۰۹.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۷.
و ''غنیۃ المتملي''، کراہیۃ الصلاۃ، ص۳۵۵.
7 ۔ ''منیۃ المصلي''، بيان مکروہات الصلاۃ، ص۳۴۰. 8 ۔ المرجع السابق، ص۳۴۹.
9 ۔ ''غنیۃ المتملي''، کراہیۃ الصلاۃ، ص۳۵۲.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ۱۰۷.
مسئلہ ۵۶: (۲۴) بغیر عذر دیوار یا عصا پر ٹیک لگانا مکروہ ہے اور عذر سے ہو تو حرج نہیں، بلکہ فرض و واجب و سنت فجر کے قیام میں اس پر ٹيک لگا کر کھڑا ہونا فرض ہے جب کہ بغیر اس کے قیام نہ ہوسکے، جیسا کہ بحث قیام میں ذکر ہوا۔ (1) (غنیہ وغیرہا)
مسئلہ ۵۷: (۲۵) رکوع میں گھٹنوں پر، (۲۶) اور سجدوں میں زمین پر ہاتھ نہ رکھنا، مکروہ ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۸: (۲۷) عمامہ کو سر سے اتار کر زمین پر رکھ دینا، یا (۲۸) زمین سے اٹھا کر سر پر رکھ لینا مفسد نماز نہیں، البتہ مکروہ ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۹: (۲۹) آستین کوبچھا کر سجدہ کرنا تاکہ چہرہ پر خاک نہ لگے مکروہ ہے اور براہِ تکبّر ہو تو کراہت تحریم اور گرمی سے بچنے کے ليے کپڑے پر سجدہ کیا، تو حرج نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: آیت رحمت پر سوال کرنا اور آیت عذاب پر پناہ مانگنا، منفرد نفل پڑھنے والے کے ليے جائز ہے۔ (۳۰) امام و مقتدی کو مکروہ۔ (5) (عالمگیری) اور اگر مقتدیوں پر ثقل کا باعث ہو تو امام کو مکروہ تحریمی۔
مسئلہ ۶۱: (۳۱) داہنے بائیں جھومنا مکروہ ہے اور تراوح یعنی کبھی ایک پاؤں پر زور دیا کبھی دوسرے پر یہ سُنّت ہے۔ (6) (حلیہ)
مسئلہ ۶۲: (۳۲) اٹھتے وقت آگے پیچھے پاؤں اٹھانا مکروہ ہے اور سجدہ کو جاتے وقت داہنی جانب زور دینا اور اٹھتے وقت بائیں پر زور دینا، مستحب ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۳: (۳۳) نماز میں آنکھ بند رکھنا مکروہ ہے، مگر جب کھلی رہنے میں خشوع نہ ہوتا ہو تو بند کرنے میں حرج نہیں، بلکہ بہتر ہے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''غنیۃ المتملي''، کراہیۃ الصلاۃ، ص۳۵۳. وغیرہا
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۹.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۸.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الحلیۃ''، کتاب الصلاۃ، فصل فيما يکرہ في الصلاۃ وما لا يکرہ، ج۱، ص۳۲۸.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۸.
8 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب إذا تردد الحکم... إلخ، ج۲، ص۴۹۹.
مسئلہ ۶۴: (۳۴) سجدہ وغیرہ میں قبلہ سے انگلیوں کو پھیر دینا، مکروہ ہے۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۶۵: جوں یا مچھر جب ایذا پہنچاتے ہوں تو پکڑ کر مار ڈالنے میں حرج نہیں۔ (2) (غنیہ) یعنی جب کہ عمل کثیر کی حاجت نہ ہو۔
مسئلہ ۶۶: (۳۵) امام کو تنہا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے اور اگر باہر کھڑا ہوا سجدہ محراب میں کیا یا وہ تنہا نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ کچھ مقتدی بھی محراب کے اندر ہوں تو حرج نہیں۔ یوہیں اگر مقتدیوں پر مسجد تنگ ہو تو بھی محراب میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں۔ (3) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۶۷: (۳۶) امام کو دروں میں کھڑا ہونا بھی مکروہ ہے، (۳۷) یوہیں امام جماعت اولیٰ کو مسجد کے زاویہ و جانب میں کھڑا ہونا بھی مکروہ، اسے سُنّت یہ ہے کہ وسط میں کھڑا ہو اور اسی وسط کا نام محراب ہے، خواہ وہاں طاق معروف ہو یا نہ ہو تو اگر وسط چھوڑ کر دوسری جگہ کھڑا ہوا اگرچہ اس کے دونوں طرف صف کے برابر برابر حصے ہوں، مکروہ ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۸: (۳۸) امام کا تنہا بلند جگہ کھڑا ہونا مکروہ ہے، بلندی کی مقدار یہ ہے کہ دیکھنے میں اس کی اونچائی ظاہر ممتاز ہو۔ پھر یہ بلندی اگر قلیل ہو تو کراہت تنزیہ ورنہ ظاہر تحریم۔ (۳۹) امام نیچے ہو اور مقتدی بلند جگہ پر، یہ بھی مکروہ و خلافِ سُنت ہے۔ (5) (درمختار وغيرہ)
مسئلہ ۶۹: (۴۰) کعبۂ معظمہ اور مسجد کی چھت پر نما زپڑھنا مکروہ ہے، کہ اس میں ترک تعظیم ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۰: (۴۱) مسجد میں کوئی جگہ اپنے ليے خاص کر لینا، کہ وہیں نماز پڑھے یہ مکروہ ہے۔ (7) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۷۱: کوئی شخص کھڑا یا بیٹھا باتیں کر رہا ہے، اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں کراہت نہیں، جب کہ باتوں سے دل
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۸، وغیرہ .
2 ۔ ''غنیۃ المتملي''، کراہیۃ الصلاۃ، ص۳۵۳.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، ج۲، ص۴۹۹.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۸.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيہا، مطلب إذا ترددالحکم... إلخ، ج۲، ص۵۰۰.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب إذا تردد الحکم... إلخ، ج۲، ص۵۰۰.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۸.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس في آداب المسجد و قبلۃ... إلخ، ج۵، ص۳۲۲.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۸، وغیرہ .
بٹنے کا خوف نہ ہو۔ مصحف شریف اور تلوار کے پیچھے اور سونے والے کے پیچھے نماز پڑھنا، مکروہ نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۲: (۴۲) تلوار و کمان وغیرہ حمائل کيے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ ہے، جب کہ ان کی حرکت سے دل بٹے ورنہ حرج نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۳: (۴۳) جلتی آگ نمازی کے آگے ہونا باعث کراہت ہے، شمع یا چراغ میں کراہت نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۴: (۴۴) ہاتھ میں کوئی ایسا مال ہو جس کے روکنے کی ضرورت ہوتی ہے، اس کو ليے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ ہے، مگر جب ایسی جگہ ہو کہ بغیر اس کے حفاظت نا ممکن ہو، (۴۵) سامنے پاخانہ وغیرہ نجاست ہونا یا ایسی جگہ نماز پڑھنا کہ وہ مظنئہ نجاست ہو، مکروہ ہے۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۵: (۴۶) سجدہ میں ران کو پیٹ سے چپکا دینا، یا (۴۷) ہاتھ سے بغیر عذر مکھی پسو اڑانا مکروہ ہے۔ (5) (عالمگیری) مگر عورت سجدہ میں ران پیٹ سے مِلا دے گی۔
مسئلہ ۷۶: قالین اور بچھونوں پر نماز پڑھنے میں حرج نہیں، جب کہ اتنے نرم اور موٹے نہ ہوں کہ سجدہ میں پیشانی نہ ٹھہرے، ورنہ نما زنہ ہو گی۔ (6) (غنیہ)
مسئلہ ۷۷: (۴۸) ایسی چیز کے سامنے جو دل کو مشغول رکھے نماز مکروہ ہے، مثلاً زینت اور لہو و لعب وغیرہ۔
مسئلہ ۷۸: (۴۹) نماز کے ليے دوڑنا مکروہ ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۹: (۵۰) عام راستہ، (۵۱) کوڑا ڈالنے کی جگہ، (۵۲) مذبح، (8) (۵۳) قبرستان، (۵۴) غسل خانہ،
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب الکلام علی اتخاذ المسبحۃ... إلخ،
ج۲، ص۵۰۹.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۹.
3 ۔ المرجع السابق، ص۱۰۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۸.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب في بيان السنۃ و المستحب، ج۲، ص۵۱۳.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع، فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۹.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، آداب الصلاۃ،مطلب في اطالۃ الرکوع للجائي، ج۲، ص۲۵۹.
6 ۔ ''غنیۃ المتملي''، کتاب الصلاۃ، کراہیۃ الصلاۃ، فروع في الخلاصۃ، ص۳۶۰.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب في بيان السنۃ و المستحب، ج۲، ص۵۱۳.
8 ۔ یعنی جانور ذبح کرنے کی جگہ۔
(۵۵) حمام، (۵۶) نالا، (۵۷) مویشی خانہ خصوصاً اونٹ باندھنے کی جگہ، (۵۸) اصطبل، (1) (۵۹) پاخانہ کی چھت، (۶۰) اور صحرا میں بلا سُترہ کے جب کہ خوف ہو کہ آگے سے لوگ گزریں گے ان مواضع (2) میں نماز مکروہ ہے۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۸۰: مقبرہ میں جو جگہ نماز کے ليے مقرر ہو اور اس میں قبر نہ ہو تو وہاں نماز میں حرج نہیں اور کراہت اس وقت ہے کہ قبر سامنے ہو اور مصلّی اور قبر کے درمیان کوئی شے سُترہ کی قدر حائل نہ ہو ورنہ اگر قبر دہنے بائیں یا پیچھے ہو یا بقدر سُترہ کوئی چیز حائل ہو، تو کچھ بھی کراہت نہیں۔ (4) (عالمگیری، غنیہ)
مسئلہ ۸۱: ایک زمین مسلمان کی ہو دوسری کافر کی، تو مسلمان کی زمین پر نماز پڑھے، اگر کھیتی نہ ہو ورنہ راستہ پر پڑھے کافر کی زمین پر نہ پڑھے اور اگر زمین میں زراعت ہے، مگر اس میں اور مالک زمین میں دوستی ہے کہ اسے ناگوار نہ ہوگا تو پڑھ سکتا ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸۲: سانپ وغیرہ کے مارنے کے ليے جب کہ ایذا کا اندیشہ صحیح ہو يا کوئی جانور بھاگ گیا اس کے پکڑنے کے ليے يا بکریوں پر بھیڑیے کے حملہ کرنے کے خوف سے نماز توڑ دینا جائز ہے۔ یوہیں اپنے یا پرائے ایک درہم کے نقصان کا خوف ہو، مثلاً دُودھ اُبل جائے گا یا گوشت ترکاری روٹی وغیرہ جل جانے کا خوف ہو يا ایک درہم کی کوئی چیز چور اُچکا لے بھاگا، ان صورتوں میں نماز توڑ دینے کی اجازت ہے۔ (6) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۸۳: پاخانہ پیشاب معلوم ہوا یا کپڑے یا بدن میں اتنی نجاست لگی دیکھی کہ مانع نماز نہ ہو، یا اس کو کسی اجنبی عورت نے چھو دیا تو نماز توڑ دینا مستحب ہے، بشرطیکہ وقت و جماعت نہ فوت ہو اور پاخانہ پیشاب کی حاجت شدید معلوم ہونے میں تو جماعت کے فوت ہو جانے کا بھی خیال نہ کیا جائے گا، البتہ فوت وقت کا لحاظ ہوگا۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۴: کوئی مصیبت زدہ فریاد کر رہا ہو، اسی نمازی کو پُکار رہا ہو یا مطلقاً کسی شخص کو پُکارتا ہو یا کوئی ڈوب رہا ہو یا
1 ۔ یعنی گھوڑے باندھنے کی جگہ۔
2 ۔ یعنی جگہوں۔
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۵۲ ۔ ۵۵ ، وغیرہ .
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس، ج۵، ص۳۲۰، و ''غنیۃ المتملي''، کراہیۃ الصلاۃ، ص۳۶۳.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في الصلاۃ في الارض المغصوبۃ... إلخ، ج۲، ص۵۴.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيہا، مطلب في بيان المستحب... إلخ، ج۲، ص۵۱۳.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع، فيما يفسد الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۰۹.
7 ۔ ''الدرالمختار''ودالمحتار کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب في بيان المستحب... إلخ، ج۲، ص۵۱۴.
آگ سے جل جائے گا یا اندھا راہ گیر کوئيں میں گرا چاہتا ہو، ان سب صورتوں میں توڑ دینا واجب ہے، جب کہ یہ اس کے بچانے پر قادر ہو۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۵: ماں باپ، دادا دادی وغیرہ اصول کے محض بلانے سے نماز قطع کرنا جائز نہیں، البتہ اگر ان کا پُکارنا بھی کسی بڑی مصیبت کے ليے ہو، جیسے اوپر مذکور ہوا تو توڑ دے، یہ حکم فرض کا ہے اور اگر نفل نماز ہے اور ان کو معلوم ہے کہ نماز پڑھتا ہے تو ان کے معمولی پُکارنے سے نماز نہ توڑے اور اس کا نماز پڑھنا انھیں معلوم نہ ہو اور پُکارا تو توڑ دے اور جواب دے، اگرچہ معمولی طور سے بلائیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللہَ ۟ فَعَسٰۤی اُولٰٓئِکَ اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مِنَ الْمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۸﴾ ) (3)
مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں، جو اﷲ (عزوجل) اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی اور خدا کے سوا کسی سے نہ ڈرے، بے شک وہ راہ پانے والوں سے ہونگے۔
حدیث ۱ تا ۴: بُخاری و مُسلِم و ابو داود وترمذی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''مرد کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ، گھر میں اور بازار میں پڑھنے سے پچیس درجے زائد ہے اور یہ یوں ہے کہ جب اچھی طرح وضو کر کے مسجد کے ليے نکلا تو جو قدم چلتا ہے اس سے درجہ بلند ہوتا ہے اور گناہ مٹتا ہے اور جب نماز پڑھتا ہے، تو ملائکہ برابر اس پر دُرود بھیجتے رہتے ہیں جب تک اپنے مصلّے پر ہے اور ہمیشہ نماز میں ہے جب تک نماز کا انتظار کر رہا ہے۔'' (4) امام احمد و ابو يعلیٰ وغیرہ کی روایت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جب سے گھر سے نکلتا ہے واپسی تک نماز پڑھنے والوں میں لکھا
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب في بيان المستحب... إلخ، ج۲، ص۵۱۴.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ پ۱۰، التوبۃ: ۱۸.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ، الحديث: ۶۴۷، ج۱، ص۲۳۳.
و ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء في فضل المشي إلیٰ الصلاۃ، الحديث: ۵۵۹، ج۱، ص۲۳۲.
جاتا ہے۔'' (1) انھیں روایتوں کے قریب قریب ابن عمر و ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی مروی ہے۔
حدیث ۵: نسائی نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو اچھی طرح وضو کر کے فرض نماز کو گیا اور مسجد میں نماز پڑھی، اس کی مغفرت ہو جائے گی۔'' (2)
حدیث ۶: مُسلِم وغیرہ نے روایت کی کہ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، مسجد نبوی کے گرد کچھ زمینیں خالی ہوئیں، بنی سلمہ نے چاہا کہ مسجد کے قریب آجائیں، یہ خبر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پہنچی، فرمایا: ''مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب اٹھ آنا چاہتے ہو۔''، عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! ہاں ارادہ تو ہے، فرمایا: ''اے بنی سلمہ! اپنے گھروں ہی میں رہو، تمھارے قدم لکھے جائیں گے۔ دوباراس کو فرمایا، بنی سلمہ کہتے ہیں، لہٰذا ہم کو گھر بدلنا پسند نہ آیا۔'' (3)
حدیث ۷: ابن ماجہ نے باسنا د جید روایت کی، کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں: ''انصار کے گھر مسجد سے دُور تھے، انہوں نے قریب آنا چاہا۔'' اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
(نَکْتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمْ ) (4)
جو انہوں نے نیک کام آگے بھیجے، وُہ اور ان کے نشانِ قدم ہم لکھتے ہیں۔
حدیث ۸: بُخاری و مُسلِم نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''سب سے بڑھ کر نماز میں اس کا ثواب ہے، جو زیادہ دور سے چل کر آئے۔'' (5)
حدیث ۹: مُسلِم وغیرہ کی روایت ہے، ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: ''ایک انصاری کا گھر مسجد سے سب سے زیادہ دُور تھا اور کوئی نماز ان کی خطا نہ ہوتی، ان سے کہا گیا، کاش! تم کوئی سواری خرید لو کہ اندھیرے اور گرمی میں اس پر سوار ہو کر آؤ، جواب دیا میں چاہتا ہوں کہ میرا مسجد کو جانا اور پھر گھر کو واپس آنا لکھا جائے، اس پر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ (عزوجل) نے تجھے یہ سب جمع کر کے دے دیا۔'' (6)
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الشاميين، حديث عقبۃ بن عامر الجہني، الحديث: ۱۷۴۴۵، ج۶، ص۱۴۶.
2 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الإمامۃ، باب حد إدراک الجماعۃ، الحديث: ۸۵۳، ص۱۴۹.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المسجد، الحديث: ۲۸۰۔(۶۶۵)،۲۸۱۔(۶۶۵)، ص۳۳۵.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب المساجد... إلخ، باب الأبعد فالأ بعد من المسجد أعظم أجرا، الحديث: ۷۸۵، ج۱،
ص۴۳۲. پ۲۲، يٰسۤ: ۱۲.
5 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المسجد، الحديث: ۶۶۲، ص۳۳۴.
6 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المسجد، الحديث: ۶۶۳، ص۳۳۴.
حدیث ۱۰: بزارو ابو یعلیٰ باسناد حسن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''تکلیف میں پورا وضو کرنا اور مسجد کی طرف چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار کرنا، گناہوں کو اچھی طرح دھو دیتا ہے۔'' (1)
حدیث ۱۱: طبرانی ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''صبح و شام مسجد کو جانا از قسم جہاد فی سبیل اﷲ ہے۔'' (2)
حدیث ۱۲: صحیحین وغیرہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو مسجد کو صبح یا شام کو جائے، اﷲ تعالیٰ اس کے ليے جنت میں مہمانی طیار کرتا ہے، جتنی بار جائے۔'' (3)
حدیث ۱۳تا۲۳: ابو داود و ترمذی بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ابن ماجہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو لوگ اندھیریوں میں مساجد کو جانے والے ہیں، انھیں قیامت کے دن کامل نور کی خوشخبری سُنا دے۔'' (4) اور اسی کے قریب قریب ابو ہریرہ و ابودرداء و ابو امامہ و سہل بن سعد ساعدی و ابن عباس و ابن عمر و ابی سعید خدری و زید بن حارثہ و ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی۔
حدیث ۲۴: ابو داود و ابن حبان ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''تین شخص اﷲ عزوجل کی ضمان میں ہیں اگر زندہ رہیں، تو روزی دے اور کفایت کرے، مر جائیں تو جنت میں داخل کرے، جو شخص گھر میں داخل ہو اور گھر والوں پر سلام کرے، وہ اﷲ کی ضمان میں ہے اور جو مسجد کو جائے اﷲ کی ضمان میں ہے اور جو اﷲ کی راہ میں نکلا وہ اﷲ کی ضمان میں ہے۔'' (5)
حدیث ۲۵: طبرانی کبیر میں باسناد جید اور بیہقی باسناد صحیح موقوفاً سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''جس نے گھر میں اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کو آیا وہ اﷲ کا زائر ہے اور جس کی زیارت کی جائے، اس پر حق ہے کہ زائر کا اکرام کرے۔'' (6)
حدیث ۲۶: ابن ماجہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو گھر سے نماز کو
1 ۔ ''مسند البزار''، مسند علي بن أبي طالب، الحديث: ۵۲۸، ج۲، ص۱۶۱.
2 ۔ ''المعجم الکبير''، ، الحديث: ۷۷۳۹، ج۸، ص۱۷۷.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب المشي إلی الصلاۃ... إلخ، الحديث: ۶۶۹، ص۳۳۶.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء في المشي إلی الصلاۃ في الظلم، الحديث: ۵۶۱، ج۱، ص۲۳۲.
5 ۔ ''الإحسان بترتيب صحيح ابن حبان''،کتاب البروالإحسان، باب إفشاء السلام... إلخ، الحديث: ۴۹۹، ج۱،ص۳۵۹.
6 ۔ ''المعجم الکبير''، باب السين، الحديث: ۶۱۳۹، ج۶، ص۲۵۳.
جائے اور یہ دُعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِیْنَ عَلَیْکَ وَ بِحَقِّ مَمْشَایَ ھٰذَا فَاِنِّی لَمْ اَخْرُجْ اَشِرًا وَّلَا بَطِرًا وَّلَا رِیَاءً وَّلَا سُمْعَۃً وَّخَرَجْتُ اِ تِّقَاءَ سَخْطِکَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِکَ فَاَسْئَلُکَ اَنْ تُعِیْذَنِیْ مِنَ النَّارِ وَاَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّہ' لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ . (1)
اس کی طرف اﷲ عزوجل اپنے وجہہ کریم کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے اور ستّر ہزار فرشتے اس کے ليے استغفار کرتے ہیں۔(2)
حدیث ۲۷تا۲۹: صحیح مُسلِم میں ابوا سید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: جب کوئی مسجد میں جائے، تو کہے۔
اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ . (3)
اور جب نکلے تو کہے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ . (4)
اور ابو داود کی روایت عبداﷲ بن عمر و بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے جب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مسجد میں جاتے، تو یہ کہتے:
اَعُوْذُ بِاللہِ الْعَظِیْمِ وَ بِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ . (5)
فرمایا: ''جب اسے کہہ لے، تو شیطان کہتا ہے مجھ سے تمام دن محفوظ رہا۔'' (6) اور ترمذی کی روایت حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہے، جب مسجد میں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) داخل ہوتے تو دُرود پڑھتے اور کہتے۔
1 ۔ اے اﷲ (عزوجل) میں تُجھ سے سوال کرتا ہوں اس حق سے کہ تُو نے سوال کرنے والوں کا اپنے ذمہ کرم پر رکھا ہے اور اپنے اس چلنے کے
حق سے کیونکہ ميں تکبر و فخر کے طور پر گھر سے نہیں نکلا اور نہ دکھانے اور سنانے کے ليے نکلا میں تیری ناراضی سے بچنے اور تیری رضا کی طلب
میں نکلا، لہٰذا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جہنم سے مجھے پناہ دے اور میرے گناہوں کو بخش دے تیرے سوا کوئی گناہوں کا بخشنے والا نہیں۔ ۱۲
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المساجد و الجماعت، باب المشي إلی الصلوٰۃ، الحديث: ۷۷۸، ج۱، ص۴۲۸.
3 ۔ اے اﷲ (عزوجل)! تو اپنی رحمت کے دروازے میرے ليے کھول دے۔ ۱۲
4 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرين ...إلخ باب ما يقول إذا دخل المسجد، الحديث: ۷۱۳، ص۳۵۹.
اے اﷲ (عزوجل) ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔ ۱۲
5 ۔ پناہ مانگتا ہوں اﷲ عظیم کی اور اس کے وجہ کریم کی اور سلطان قدیم کی، مردود شيطان سے۔ ۱۲
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب ما يقول الرجل عند دخولہ المسجد، الحديث: ۴۶۶، ج۱، ص۱۹۹.
رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ . (1)
اور جب نکلتے تو دُرود پڑھتے اور کہتے۔
رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ . (2)
امام احمد و ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ جاتے اور نکلتے وقت بِسْمِ اللہِ وَالسَّلَامُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللہِ کہتے اس کے بعد وہ دُعا پڑھتے۔ (3)
حدیث ۳۰تا۳۳: صحیح مُسلِم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''اﷲ عزوجل کو سب جگہ سے زیادہ محبوب مسجدیں ہیں اور سب سے زیادہ مبغوض بازار ہیں۔'' (4) اور اسی کے مثل جبیر بن مطعم و عبداﷲ بن عمر و انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے اور بعض روایت میں ہے کہ یہ قول اﷲ عزوجل کا ہے۔
حدیث ۳۴: بُخاری و مُسلِم وغیرہما اونھیں سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''سات شخص ہیں، جن پر اﷲ عزوجل سایہ کریگا، اس دن کہ اس کے سایہ کے سوا، کوئی سایہ نہیں۔ (۱) امام عادل، (۲) اور وہ جوان جس کی نشوونما اﷲ عزوجل کی عبادت میں ہوئی، (۳) اور وہ شخص جس کا دل مسجد کو لگا ہوا ہے، (۴) اور وہ دو شخص کہ باہم اﷲ کے ليے دوستی رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوئے، اسی پر متفرق ہوئے، (۵) اور وہ شخص جسے کسی عورت صاحبِ منصب و جمال نے بلایا، اس نے کہہ دیا، میں اﷲ سے ڈرتا ہوں، (۶) اور وہ شخص جس نے کچھ صدقہ کیا اور اسے اتنا چھپایا کہ بائیں کو خبر نہ ہوئی کہ دہنے نے کیا خرچ کیا اور (۷) وہ شخص جس نے تنہائی میں اﷲ کو یاد کیا اور آنکھوں سے آنسو بہے۔'' (5)
حدیث ۳۵: ترمذی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''تم جب کسی کو دیکھو کہ مسجد کا عادی ہے، تو اس کے ایمان کے گواہ ہو جاؤ۔'' کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے: ''مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں، جو اﷲ اور پچھلے دن پر ایمان لائے۔'' (6) ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب
1 ۔ اے پروردگار! تُو میرے گناہوں کو بخش دے اور میرے ليے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ ۱۲
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء ما يقول عند دخولہ المسجد، الحديث: ۳۱۴، ج۱، ص۳۳۹.
اے رب! تو میرے گناہ بخش دے اور اپنے فضل کے دروازے میرے ليے کھول دے۔ ۱۲
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المساجد... إلخ، باب الدعاء عند دخول المسجد، الحديث: ۷۷۱، ج۱، ص۴۲۵.
4 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب فضل الجلوس في مصلاہ... إلخ، الحديث: ۶۷۱، ص۳۳۷.
5 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ باليمين، الحديث: ۱۴۲۳، ج۱، ص۴۸۰.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الإيمان، باب ماجاء في حرمۃ الصلوٰۃ، الحديث: ۲۶۲۶، ج۴، ص۲۸۰.
ہے اور حاکم نے کہا صحیح الاسنادہے۔
حدیث ۳۶: صحیحین میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''مسجد میں تھوکنا خطا ہے اور اس کا کفارہ زائل کر دینا ہے۔'' (1)
حدیث ۳۷: صحیح مُسلِم میں ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: کہ مجھ پر میری اُمت کے اعمال اچھے بُرے سب پیش کيے گئے، نیک کاموں میں اذیت کی چیز کا راستہ سے دُور کرنا پایا اور بُرے اعمال میں مسجد میں تھوک کہ زائل نہ کیا گیاہو۔'' (2)
حدیث ۳۸و۳۹: ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''مجھ پر اُمت کے ثواب پیش کيے گئے، یہاں تک کہ تنکا جو مسجد سے کوئی باہر کر دے اور گناہ پیش کيے گئے، تو اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی کو آیت یا سورت قرآن دی گئی اور اس نے بھلا دی۔'' (3) اور ابن ماجہ کی ایک روایت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو مسجد سے اذیت کی چیز نکالے، اﷲ تعالیٰ اس کے ليے ایک گھر جنت میں بنائے گا۔'' (4)
حدیث ۴۰تا۴۲: ابن ماجہ و اثلہ بن اسقع سے اور طبرانی اون سے اور ابودرداء و ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''مساجد کو بچوں اور پاگلوں اور بیع و شرا اور جھگڑے اور آواز بلند کرنے اور حدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچاؤ۔'' (5)
حدیث ۴۳: ترمذی و دارمی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جب کسی کو مسجد میں خرید یا فروخت کرتے دیکھو، تو کہو: خدا تیری تجارت میں نفع نہ دے۔'' (6)
حدیث ۴۴: بیہقی شعب الایمان میں حسن بصری سے مرسلاً راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مساجد میں دنیا کی باتیں ہوں گی، تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو کہ خدا کو ان سے کچھ کام نہیں۔'' (7)
1 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الصلاۃ، باب کفارۃ البزاق في المسجد، الحديث: ۴۱۵، ج۱، ص۱۶۰.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب النھی عن البصاق في المسجد... إلخ، الحدیث: ۵۵۳، ص۲۷۹.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلوٰۃ، باب کنس المسجد، الحدیث: ۴۶۱، ج۱، ص۱۹۱.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المساجد... إلخ، باب تطھير المساجد وتطيبھا، الحدیث: ۷۵۷، ج۱، ص۴۱۹.
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المساجد... إلخ، باب مايکرہ في المساجد، الحدیث:۷۵۰، ج۱، ص۴۱۵.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب البيوع، باب النھی عن البيع في مسجد، الحدیث: ۱۳۲۵، ج۳، ص۵۹.
7 ۔ ''شعب الإيمان''، باب في الصلوٰت، فصل المشي إلی المساجد، الحدیث: ۲۹۶۲، ج۳، ص۸۶.
حدیث ۴۵: ابن خزیمہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ایک دن مسجد میں قبلہ کی طرف تھوک دیکھا، اسے صاف کیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ''کیا تم میں کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے سامنے کھڑا ہو کر کوئی شخص اس کے مونھ کی طرف تھوک دے۔'' (1)
حدیث ۴۶و۴۷: ابو داود و ابن خزیمہ و ابن حبان ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو قبلہ کی جانب تھوکے، قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا تھوک، دونوں آنکھوں کے درمیان ہوگا۔'' (2) اور امام احمد کی روایت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ فرمایا: ''مسجد میں تھوکنا گناہ ہے۔'' (3)
حدیث ۴۸: صحیح بُخاری شریف میں ہے سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں: میں مسجد میں سویا تھا، ایک شخص نے مجھ پر کنکری پھینکی دیکھا، تو امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، فرمایا: جاؤ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لاؤ، میں ان دونوں کو حاضر لایا، فرمایا: تم کس قبیلہ کے ہو یا کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے عرض کی، ہم طائف کے رہنے والے ہیں، فرمایا: ''اگر تم اہلِ مدینہ سے ہوتے تو میں تمھيں سزا دیتا (کہ وہاں کے لوگ آداب سے واقف تھے) مسجد رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں آواز بلند کرتے ہو۔'' (4)
مسئلہ ۱: قبلہ کی طرف قصداً پاؤں پھیلانا مکروہ ہے، سوتے میں ہو یا جاگتے میں، یوہیں مصحف شریف و کتب شرعیہ (5) کی طرف بھی پاؤں پھیلانا مکروہ ہے، ہاں اگر کتابیں اونچے پر ہوں کہ پاؤں کی محاذات (6) اُن کی طرف نہ ہو تو حرج نہیں يا بہت دور ہوں کہ عرفاً کتاب کی طرف پاؤں پھیلانا نہ کہا جائے، تو بھی معاف ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۲: نابالغ کا پاؤں قبلہ رُخ کر کے لٹا دیا، یہ بھی مکروہ ہے اور کراہت اس لٹانے والے پر عائد ہوگی۔ (8) (ردالمحتار)
1 ۔ ''المسند'' للإمام احمد بن جنبل، مسند أبي سعيد الخدري، الحدیث: ۱۱۱۸۵، ج۴، ص۴۸.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الأطعمۃ، باب في أکل الثوم، الحدیث: ۳۸۲۴، ج۳، ص۵۰۵ ، عن حذيفۃ رضی اللہ عنہ.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الأنصار، حديث أبي امامۃ الباھلی، الحدیث: ۲۲۳۰۶، ج۸، ص۲۹۲.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الصلاۃ، باب رفع الصوت في المسجد، الحدیث: ۴۷۰، ج۱، ص۱۷۸.
رواہ بلفظ '' کنت قائما '' وفي نسخۃ '' نائما '' ('' ارشاد الساري ''شرح ''صحيح البخاري''، ج۲، ص۱۴۸).
5 ۔ یعنی تفسیر و حدیث وغيرہ۔ 6 ۔ یعنی سيدھ۔
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، ج۲، ص۵۱۶.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، مطلب في أحکام المسجد، ج۲، ص۵۱۵.
مسئلہ ۳: مسجد کا دروازہ بند کرنا مکروہ ہے، البتہ اگر اسباب مسجد جاتے رہنے کا خوف ہو، تو علاوہ اوقات نماز بند کرنے کی اجازت ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: مسجد کی چھت پر وطی و بول و براز (2) حرام ہے، یوہیں جنب اور حیض و نفاس والی کو اس پر جانا حرام ہے کہ وہ بھی مسجد کے حکم میں ہے ۔مسجد کی چھت پر بلا ضرورت چڑھنا مکروہ ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: مسجد کو راستہ بنانا یعنی اس میں سے ہو کر گزرنا ناجائز ہے، اگر اس کی عادت کرے تو فاسق ہے، اگر کوئی اس نیت سے مسجد میں گیا وسط میں پہنچا کہ نادم ہوا، تو جس دروازہ سے اس کو نکلنا تھا اس کے سوا دوسرے دروازہ سے نکلے يا وہیں نماز پڑھے پھر نکلے اور وضو نہ ہو، تو جس طرف سے آیا ہے، واپس جائے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مسجد میں نجاست لے کر جانا، اگرچہ اس سے مسجد آلودہ نہ ہو، یا جس کے بدن پر نجاست لگی ہو، اس کو مسجد میں جانا منع ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ناپاک روغن مسجد میں جلانا یا نجس گارا مسجد میں لگانا منع ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۸: مسجد میں کسی برتن کے اندر پیشاب کرنا یا فصد کا خون لینا (7) بھی جائز نہیں۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۹: بچے اور پاگل کو جن سے نجاست کا گمان ہو مسجد میں لے جانا حرام ہے ورنہ مکروہ، جو لوگ جوتیاں مسجد کے اندر لے جاتے ہیں، ان کو اس کا خیال کرنا چاہیے کہ اگر نجاست لگی ہو تو صاف کر لیں اور جوتا پہنے مسجد میں چلے جانا، سؤادب ہے۔ (9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: عیدگاہ یا وہ مقام کہ جنازہ کی نماز پڑھنے کے ليے بنایا ہو، اقتدا کے مسائل میں مسجد کے حکم میں ہے کہ اگرچہ امام و مقتدی کے درمیان کتنی ہی صفوں کی جگہ فاصل ہو اقتدا صحیح ہے اور باقی احکام مسجد کے اس پر نہیں، اس کایہ مطلب نہیں
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ... إلخ، فصل کرہ غلق باب المسجد، ج۱، ص۱۰۹.
2 ۔ یعنی پیشاب اور پاخانہ۔
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، مطلب في أحکام المسجد، ج۲، ص۵۱۶.
4 ۔ المرجع السابق، ص۵۱۷.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، مطلب في أحکام المسجد، ج۲، ص۵۱۷.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، ج۲، ص۵۱۷.
7 ۔ یعنی رگ کھول کر فاسد خون نکلوانا۔
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، ج۲، ص۵۱۷.
9 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، ج۲، ص۵۱۸.
کہ اس میں پیشاب پاخانہ جائز ہے بلکہ یہ مطلب کہ جنب اور حیض و نفاس والی کو اس میں آنا جائز، فنائے مسجد اور مدرسہ و خانقاہ و سرائے اور تالابوں پر جو چبوترہ وغیرہ نماز پڑھنے کے ليے بنا لیا کرتے ہیں، اُن سب کے بھی یہی احکام ہیں، جو عید گاہ کے ليے ہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: مسجد کی دیوار میں نقش و نگار اور سونے کا پانی پھیرنا منع نہیں جب کہ بہ نیت تعظیم مسجد ہو، مگر دیوارِ قبلہ میں نقش و نگار مکروہ ہے، یہ حکم اس وقت ہے کہ کوئی شخص اپنے مال حلال سے نقش کرے اور مال وقف سے نقش و نگار حرام ہے، اگر متولّی نے کرایا یا سفیدی کی تو تاوان دے، ہاں اگر واقف نے یہ فعل خود بھی کیا یا اُس نے متولّی کو اختیار دیا ہو ،تو مال وقف سے یہ خرچ دیا جائے گا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: مسجد کا مال جمع ہے اور خوف ہے کہ ظالم ضائع کر ڈالیں گے، تو ایسی حالت میں نقش و نگار میں صرف کرسکتے ہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: مسجد کی دیواروں اور محرابوں پر قرآن لکھنا اچھا نہیں کہ اندیشہ ہے وہاں سے گرے اور پاؤں کے نیچے پڑے، اسی طرح مکان کی دیواروں پر کہ علّت مشترک ہے۔ یوہیں جس بچھونے یا مُصلّے پر اسمائے الٰہی لکھے ہوں اس کا بچھانا یا کسی اور استعمال میں لانا جائز نہیں اور یہ بھی ممنوع ہے کہ اپنی ملک میں سے اِسے جُدا کر دے کہ دوسرے کے استعمال نہ کرنے کا کیا اطمينان، لہٰذا واجب ہے کہ اس کو سب سے اوپر کسی ایسی جگہ رکھیں کہ اس سے اوپر کوئی چیز نہ ہو۔ (4) (عالمگیری) یوہیں بعض دستر خوان پر اشعار لکھتے ہیں، ان کا بچھانا اور ان پر کھانا ممنوع ہے۔
مسئلہ ۱۴: مسجد میں وضو کرنا اور کُلی کرنا اور مسجد کی دیواروں یا چٹائیوں پر یا چٹائیوں کے نیچے تھوکنا اور ناک سنکنا ممنوع ہے اور چٹائیوں کے نیچے ڈالنا اوپر ڈالنے سے زیادہ بُرا ہے اور اگر ناک سنکنے یا تھوکنے کی ضرورت ہی پڑ جائے، تو کپڑے میں لے لے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: مسجد میں کوئی جگہ وضو کے ليے ابتدا ہی سے بانی مسجد نے قبل تمام مسجدیت بنائی ہے، جس میں نماز نہیں ہوتی تو وہاں وضو کر سکتا ہے۔ یوہیں طشت وغیرہ کسی برتن میں بھی وضو کر سکتا ہے، مگر بشرط کمال احتیاط کہ کوئی چھینٹ مسجد میں
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، ج۲، ص۵۱۹.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ... إلخ، فصل کرہ غلق باب المسجد، ج۱، ص۱۰۹.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق، ص۱۱۰.
نہ پڑے۔ (1) (عالمگیری) بلکہ مسجد کو ہر گھن کی چیز سے بچانا ضروری ہے۔ آج کل اکثر دیکھا جاتا ہے کہ وضو کے بعد مونھ اور ہاتھ سے پانی پونچھ کر مسجد میں جھاڑتے ہیں، یہ ناجائز ہے۔
مسئلہ ۱۶: کیچڑ سے پاؤں سنا ہوا ہے، اس کو مسجد کی دیوار یا ستون سے پونچھنا ممنوع ہے، یوہیں پھیلے ہوئے غبار سے پونچھنا بھی ناجائز ہے اور کوڑا جمع ہے تو اس سے پونچھ سکتے ہيں، یوہیں مسجد میں کوئی لکڑی پڑی ہوئی ہے کہ عمارت مسجد میں داخل نہیں اس سے بھی پونچھ سکتے ہیں، چٹائی کے بے کار ٹکڑے سے جس پر نماز نہ پڑھتے ہوں پونچھ سکتے ہیں، مگر بچنا افضل۔ (2) (عالمگیری، صغیری)
مسئلہ ۱۷: مسجد کا کوڑا جھاڑ کر کسی ایسی جگہ نہ ڈالیں، جہاں بے ادبی ہو۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: مسجد میں کوآں نہیں کھودا جا سکتا اور اگر قبل مسجد وہ کوآں تھا اور اب مسجد میں آگیا، تو باقی رکھا جائے گا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: مسجد میں پیڑ لگانے کی اجازت نہیں، ہاں مسجد کو اس کی حاجت ہے کہ زمین میں تری ہے، ستون قائم نہیں رہتے، تو اس تری کے جذب کرنے کے ليے پیڑ لگا سکتے ہیں۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۰: قبل تمام مسجدیت، مسجد کے اسباب رکھنے کے ليے مسجد میں حجرہ وغیرہ بنا سکتے ہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: مسجد میں سوال کرنا حرام ہے اور اس سائل کو دینا بھی منع ہے، مسجد میں گم شدہ چیز تلاش کرنا منع ہے۔ (7) حدیث میں ہے، ''جب دیکھو کہ گُمی ہوئی چیز مسجد میں تلاش کرتا ہے، تو کہو، خدا اس کو تیرے پاس واپس نہ کرے کہ مسجدیں اس ليے نہیں بنیں۔'' (8) اس حدیث کو مُسلِم نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: مسجد میں شعر پڑھنا ناجائز ہے، البتہ اگر وہ شعر ''حمد و نعت و منقبت و وعظ و حکمت کا ہو''، تو جائز ہے۔ (9) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ... إلخ، فصل کرہ غلق باب المسجد، ج۱، ص۱۱۰.
2 ۔ المرجع السابق، و ''صغيری''، فصل في أحکام المسجد، ص۳۰۱.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطھارۃ، ج۱، ص۳۵۵.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ... إلخ، فصل کرہ غلق باب المسجد، ج۱، ص۱۱۰.
5 ۔ المرجع السابق. وغیرہ 6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، ج۲، ص۵۲۳.
8 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب النھی عن نشد الضالۃ في المسجد... إلخ، الحديث: ۱۲۶۰، ص۷۶۵.
9 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، ج۲، ص۵۲۳.
مسئلہ ۲۳: مسجد میں کھانا، پینا، سونا، معتکف اور پردیسی کے سوا کسی کو جائز نہیں، لہٰذا جب کھانے پینے وغیرہ کا ارادہ ہو تو اعتکاف کی نیت کر کے مسجد میں جائے کچھ ذکر و نماز کے بعد اب کھا پی سکتا ہے اور بعضوں نے صرف معتکف کا استثنا کیا اور یہی راجح، لہٰذا غریب الوطن بھی نیتِ اعتکاف کرے کہ خلاف سے بچے۔ (1) (درمختار، صغیری)
مسئلہ ۲۴: مسجد میں کچا لہسن، پیاز کھانا يا کھا کر جانا جائز نہیں، جب تک بو باقی ہو کہ فرشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ''جو اس بدبودار درخت سے کھائے، وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کہ ملائکہ کو اس چیز سے ایذا ہوتی ہے، جس سے آدمی کو ہوتی ہے۔'' (2) اس حدیث کو بُخاری و مُسلِم نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ یہی حکم ہر اس چیز کا ہے جس میں بدبُو ہو۔ جیسے گندنا، (3) مولی،کچا گوشت، مٹی کا تیل، وہ دیا سلائی جس کے رگڑنے میں بُو اُڑتی ہے، ریاح خارج کرنا وغیرہ وغیرہ۔ جس کو گندہ دہنی کا عارضہ ہو یا کوئی بدبُودار زخم ہو یا کوئی دوا بدبُودار لگائی ہو، تو جب تک بُو منقطع نہ ہو اس کو مسجد میں آنے کی ممانعت ہے، یوہیں قصاب اور مچھلی بیچنے والے (4) اور کوڑھی اور سفید داغ والے اور اس شخص کو جو لوگوں کو زبان سے ایذا دیتا ہو، مسجد سے روکا جائے گا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۲۵: بیع و شرا (6) وغیرہ ہر عقد مبادلہ مسجد میں منع ہے، صرف معتکف کو اجازت ہے جب کہ تجارت کے ليے خریدتا بیچتا نہ ہو، بلکہ اپنی اور بال بچوں کی ضرورت سے ہو اور وہ شے مسجد میں نہ لائی گئی ہو۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۲۶: مباح باتیں بھی مسجد میں کرنے کی اجازت نہیں (8)، نہ آواز بلند کرنا جائز۔ (درمختار، صغیری)
افسوس کہ اس زمانے میں مسجدوں کو لوگوں نے چوپال بنا رکھا ہے، یہاں تک کہ بعضوں کو مسجدوں میں گالیاں بکتے دیکھا جاتا ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالیٰ۔
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، ج۲، ص۵۲۵.
و ''صغيری''، فصل في أحکام المسجد، ص۳۰۲.
2 ۔ صحيح مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب نہی من أکل ثوما... إلخ، الحديث: ۵۶۴، ص۲۸۲.
3 ۔ یعنی ايک قسم کی مشہور ترکاری جو لہسن سے مشابہ ہوتی ہے۔
4 ۔ یعنی جبکہ ان دونوں کے بدن یا کپڑے میں بو ہو۔ قصاب سے مراد قوم قصاب نہیں بلکہ وہ جو گوشت بيچتاہو، چاہے وہ کسی قوم کا ہو۔ ۱۲ منہ
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ... إلخ، و مطلب في الغرس في المسجد، ج۲، ص۵۲۵، وغیرہما.
6 ۔ یعنی خريد و فروخت۔
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، مطلب في الغرس في المسجد، ج۲، ص۵۲۶.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، ج۲، ص۵۲۶.
و ''صغيری''، فصل في أحکام المسجد، ص۳۰۲.
مسئلہ ۲۷: درزی کو اجازت نہیں کہ مسجد میں بیٹھ کر اُجرت پر کپڑے سیے، ہاں اگر بچوں کو روکنے اور مسجد کی حفاظت کے ليے بیٹھا تو حرج نہیں۔ یوہیں کاتب کو مسجد میں بیٹھ کرلکھنے کی اجازت نہیں، جب کہ اُجرت پر لکھتا ہو اور بغیر اُجرت لکھتا ہو تو اجازت ہے جب کہ کتاب کوئی بُری نہ ہو۔ یوہیں معلّم اجیر (1) کو مسجد میں بیٹھ کر تعلیم کی اجازت نہیں اور اجیر نہ ہو تو اجازت ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: مسجد کا چراغ گھر نہیں لے جا سکتا اور تہائی رات تک چراغ جلا سکتے ہیں اگرچہ جماعت ہو چکی ہو، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں، ہاں اگر واقف نے شرط کر دی ہو یا وہاں تہائی رات سے زیادہ جلانے کی عادت ہو تو جلا سکتے ہیں، اگرچہ شب بھر کی ہو۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: مسجد کے چراغ سے کتب بینی اور درس و تدریس تہائی رات تک تو مطلقاً کر سکتا ہے، اگرچہ جماعت ہوچکی ہو اور اس کے بعد اجازت نہیں، مگر جہاں اس کے بعد تک جلنے کی عادت ہو۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: چمگادڑ اور کبوتر وغیرہ کے گھونسلے، مسجد کی صفائی کے ليے نوچنے میں حرج نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: جس نے مسجد بنوائی تو مرمت اور لوٹے، چٹائی، چراغ بتی وغیرہ کا حق اُسی کو ہے اور اذان و اقامت و امامت کا اہل ہے تو اس کا بھی وہی مستحق ہے، ورنہ اس کی رائے سے ہو، یوہیں اس کے بعد اس کی اولاد اور کنبے والے غیروں سے اولیٰ ہیں۔ (6) (عالمگیری، غنیہ)
مسئلہ ۳۲: بانی مسجد نے ایک کو امام و مؤذن کیا اور اہل محلہ نے دوسرے کو، تو اگر وہ افضل ہے جسے اہل محلہ نے پسند کیا ہے، تو وہی بہتر ہے اور اگر برابر ہوں، تو جسے بانی نے پسند کیا، وہ ہو گا۔ (7) (غنیہ)
مسئلہ ۳۳: سب مسجدوں سے افضل مسجد حرام شریف ہے، پھر مسجد نبوی، پھر مسجد قدس، پھر مسجد قبا، پھر اور جامع
1 ۔ یعنی اُجرت پر پڑھانے والے۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ... إلخ، فصل کرہ غلق باب المسجد، ج۱، ص۱۱۰.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، ج۲، ص۵۲۸.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاۃ... إلخ، فصل کرہ غلق باب المسجد، ج۱، ص۱۱۰.
و ''غنیۃ المتملي''، أحکام المسجد، ص۶۱۵.
7 ۔ ''غنیۃ المتملي''، أحکام المسجد، ص۶۱۵.
مسجدیں، پھر مسجد محلّہ، پھر مسجد شارع۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: مسجد محلہ میں نماز پڑھنا، اگرچہ جماعت قلیل ہو مسجد جامع سے افضل ہے، اگرچہ وہاں بڑی جماعت ہو، بلکہ اگر مسجد محلہ میں جماعت نہ ہوئی ہو تو تنہا جائے اور اذان و اقامت کہے، نماز پڑھے، وہ مسجد جامع کی جماعت سے افضل ہے۔ (2) (صغیری وغیرہ)
مسئلہ ۳۵: جب چند مسجدیں برابر ہوں تو وہ مسجد اختیار کرے، جس کا امام زیادہ علم و صلاح والا ہو۔ (3) (صغیری) اور اگر اس میں برابر ہوں تو جو زیادہ قدیم ہو اور بعضوں نے کہا جو زیادہ قریب ہو اور زیادہ راجح یہی معلوم ہوتا ہے۔
مسئلہ ۳۶: مسجد محلہ میں جماعت نہ ملی تو دوسری مسجد میں با جماعت پڑھنا افضل ہے اور جو دوسری مسجد میں بھی جماعت نہ ملے تو محلہ ہی کی مسجد میں اَولیٰ ہے اور اگر مسجد محلہ میں تکبیر اُولیٰ یا ایک دو رکعت فوت ہوگئی اور دوسری جگہ مل جائے گی، تو اس کے ليے دوسری مسجد میں نہ جائے۔ یوہیں اگر اذان کہی اور جماعت میں سے کوئی نہیں، تو مؤذن تنہا پڑھ لے، دوسری مسجد میں نہ جائے۔ (4) (صغیری)
مسئلہ ۳۷: جو ادب مسجد کا ہے، وہی مسجد کی چھت کا ہے۔ (5) (غنیہ)
مسئلہ ۳۸: مسجد محلہ کا امام اگر معاذ اﷲ زانی یا سود خوار ہو یا اس میں اور کوئی ایسی خرابی ہو، جس کی وجہ سے اس کے پیچھے نماز منع ہو تو مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد کو جائے۔ (6) (غنیہ) اور اگر اس سے ہو سکتا ہو تو معزول کر دے۔
مسئلہ۳۹: اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی اجازت نہیں۔ حدیث میں فرمایا: کہ ''اذان کے بعد مسجد سے نہیں نکلتا، مگر منافق۔'' (7) لیکن وہ شخص کہ کسی کام کے ليے گیا اور واپسی کا ارادہ رکھتا ہے یعنی قبل قیام جماعت۔ یوہیں جو شخص دوسری مسجد کی جماعت کا منتظم ہو تو اسے چلا جانا چاہیے۔ (8) (عامۂ کتب)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيھا، مطلب في أفضل المسجد، ج۲، ص۵۲۱.
2 ۔ ''صغيری''، فصل في أحکام المسجد، ص۳۰۲، وغیرہ .
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيہا، مطلب في أفضل المساجد، ج۲، ص۵۲۳.
3 ۔ ''صغيری''، فصل في أحکام المسجد، ص۳۰۲.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، باب ما يفسد الصلاۃ وما يکرہ فيہا، مطلب في أفضل المساجد، ج۲، ص۵۲۲.
4 ۔ ''صغيری''، فصل في أحکام المسجد، ص۳۰۲.
5 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في أحکام المسجد، ص۶۱۲.
6 ۔ ''غنیۃ المتملي''، أحکام المسجد، ص۶۱۳.
7 ۔ ''مراسيل أبي داود'' مع ''سنن أبي داود''، باب ماجاء في الاذان، ص۶.
8 ۔ ''غنیۃ المتملي''، أحکام المسجد، ص۶۱۳.
مسئلہ ۴۰: اگر اس وقت کی نماز پڑھ چکا ہے، تو اذان کے بعد مسجد سے جا سکتا ہے، مگر ظہر و عشا میں اقامت ہوگئی تو نہ جائے، نفل کی نیت سے شریک ہو جانے کا حکم ہے۔ (1) (عامۂ کتب) اور باقی تین نمازوں میں اگر تکبیر ہوئی اور یہ تنہا پڑھ چکا ہے ،تو باہر نکل جانا واجب ہے۔
قد تم ھذا الجزء بحمد اللہ سبحٰنہ و تعالیٰ وصلّی اللہ تعالیٰ علیٰ حبیبہٖ واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین والحمد للہ ربّ العٰلمین .