Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
حدیث ۱: امام مالک نے ابو جمیلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانہ ميں ایک پڑا ہوا بچہ پایا۔ کہتے ہیں ميں اُسے اُٹھا لایا اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس لے گیا، اُنھوں نے فرمایا: تم نے اِسے کیوں اُٹھایا؟ جو اب دیا، کہ ميں نہ اُٹھاتا تو ضائع ہوجاتا پھرا ن کی قوم کے سردار نے کہا، اے امیرالمومنین! یہ مرد صالح ہے یعنی یہ غلط نہیں کہتا۔ فرمایا: اِسے لے جاؤ، یہ آزاد ہے، اس کانفقہ ہمارے ذمہ ہے یعنی بیت المال سے دیا جائے گا۔ (1)
حدیث ۲: سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس لقیط لایا جاتا تو اُس کے مناسب حال کچھ مقرر فرما دیتے کہ اُس کا ولی (ملتقط) ماہ بماہ لیجایا کرے اور اُس کے متعلق بھلائی کرنے کی وصیت فرماتے اور اُس کی رضاعت کے مصارف(2)اور دیگر اخراجات بیت المال سے مقرر کرتے۔ (3)
حدیث ۳: تمیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک لقیط پایا، اُسے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس لائے، اُنھوں نے اُسے اپنے ذمہ لیا۔ (4)
حدیث ۴: امام محمد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حسن بصری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے لقیط پایا، اُسے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس لایا اُنھوں نے فرمایا: یہ آزاد ہے اور اگر ميں اس کا متولی ہوتا یعنی ميں اُٹھانے والا ہوتا تو مجھے فلاں فلاں چیز سے یہ زیادہ محبوب ہوتا۔(5)
عرف شرع (6)ميں لقیط اُس بچہ کو کہتے ہیں جس کو اُس کے گھر والے نے اپنی تنگدستی یا بدنامی کے خوف سے پھینک دیا ہو۔(7)
1 ۔''الموطأ''،للإمام مالک،کتاب الأقضیۃ،باب القضاء في المنبوذ،الحدیث:۱۴۸۲،ج۲،ص۲۶۰.
2 ۔دودھ پلانے کے اخراجات۔
3 ۔''نصب الرایۃ''،کتاب اللقیط،ج۳،ص۷۰۴.
4 ۔''المصنف''،لعبدالرزاق،باب اللقیط،الحدیث:۱۳۹۱۶،ج۷،ص۳۶۰.
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب اللقیط،ج۵،ص۳۴۳.
6 ۔یعنی شریعت کی اصطلاح۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقیط،ج۶،ص۴۱۲.
مسئلہ ۱: جس کو ایسا بچہ ملے اور معلوم ہو کہ نہ اُٹھالائے تو ضائع و ہلاک ہو جائیگا تو اُٹھا لانا فرض ہے اور ہلاک کا غالب گمان نہ ہو تو مستحب۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۲: لقیط آزاد ہے اس پر تمام احکام وہی جاری ہوں گے جو آزاد کے ليے ہیں اگرچہ اُس کا اُٹھا لانے والا غلام ہو ہاں اگر گواہوں سے کوئی شخص اسے اپنا غلام ثابت کردے تو غلام ہوگا۔ (2)(ہدایہ، فتح)
مسئلہ ۳: ایک مسلمان اور ایک کافر دونوں نے پڑا ہوا بچہ پایا اور ہر ایک اُس کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تو مسلمان کو دیا جائے۔(3) (فتح)
مسئلہ ۴: لقیط کی نسبت کسی نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ میرا لڑکا ہے تو اُسی کا لڑکا قرار دیدیا جائے اور اگر کوئی شخص اوسے اپنا غلام بتائے تو جب تک گواہوں سے ثابت نہ کردے غلام قرار نہ دیا جائے۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: ایک کے دعویٰ کرنے کے بعددوسراشخص دعویٰ کرتا ہے تو وہ پہلے ہی کا لڑکا ہوچکا دوسرے کا دعویٰ باطل ہے ہاں اگر دوسرا شخص گواہوں سے اپنا دعویٰ ثابت کردے تو اس کانسب ثابت ہو جائے گا۔ دوشخصوں نے بیک وقت اُس کے متعلق دعویٰ کیا اور ان ميں ایک نے اُس کے جسم کا کوئی نشان بتایا اور دوسرا نہیں تو جس نے نشانی بتائی اُسی کا ہے مگر جبکہ دوسرا گواہوں سے ثابت کردے کہ میرا لڑکا ہے تو یہی مستحق ہوگا اور اگر دونوں کوئی علامت بیان نہ کریں نہ گواہوں سے ثابت کریں یا دونوں گواہ قائم کریں تو لقیط دونوں ميں مشترک قرار دیا جائے اور اگر ایک نے کہا لڑکا ہے دوسرا کہتا ہے لڑکی تو جو صحیح کہتا ہے اُسی کا ہے۔ مجہول ُ النسب(5)بھی اس حکم ميں لقیط کی مثل ہے یعنی دعوی النسب(6)ميں جو حکم لقیط کا ہے وہی اس کا ہے۔(7)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۶: لقیط کی نسبت دوشخصوں نے دعویٰ کیا کہ یہ میرا لڑکا ہے اون ميں ایک مسلمان ہے ایک کافر تو مسلمان کا لڑکا
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب اللقیط،ج۱،ص۴۱۵.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب اللقیط،ج۱،ص۴۱۵.
و''فتح القدیر''،کتاب اللقیط،ج۵،ص۳۴۲.
3 ۔''فتح القدیر''،کتاب اللقیط،ج۵،ص۳۴۴.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب اللقیط،ج۱،ص۴۱۶.
5 ۔یعنی جس کا باپ معلوم نہ ہو۔ 6 ۔نسب کے دعویٰ۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب اللقیط،ج۱،ص۴۱۵،وغیرہا.
قرار دیا جائے۔ یوہیں اگر ایک آزاد ہے اور ایک غلام تو آزاد کا لڑکا قرار دیا جائے۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۷: خاوند والی عورت لقیط کی نسبت دعویٰ کرے کہ یہ میرا بچہ ہے اور اُس کے شوہر نے تصدیق کی یا دائی نے شہادت دی یا دومرد یا ایک مرداور دو عورتوں نے ولادت پر گواہی دی تو اُسی کا بچہ ہے اور اگر یہ باتیں نہ ہوں تو عورت کا قول مقبول نہیں۔ اور بے شوہر والی عورت نے دعویٰ کیا تو دو مردوں کی شہادت سے اُس کا بچہ قرار پائیگا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۸: مُلتقِط (یعنی اُٹھا لانے والے) سے لقیط کو جبراً کوئی نہیں لے سکتا قاضی و بادشاہ کو بھی اس کا حق نہیں ہاں اگر کوئی سبب خاص ہو تو لیا جاسکتا ہے مثلاًاُس ميں بچہ کی نگہداشت کی صلاحیت نہ ہو یا ملتقط فاسق فاجر شخص ہے اندیشہ ہے کہ اس کے ساتھ بدکاری کریگا ایسی صورتوں ميں بچہ کواُس سے جدا کرلیا جائے۔(3) (ہدایہ، فتح القدیر)
مسئلہ ۹: ملتقِط کی رضا مندی سے قاضی نے لقیط کو دوسرے شخص کی تربیت ميں دیدیا پھر اس کے بعد ملتقط واپس لینا چاہتا ہے تو جب تک یہ شخص راضی نہ ہو واپس نہیں لے سکتا۔(4) (خلاصۃ الفتاویٰ)
مسئلہ ۱۰: لقِیط کے جملہ اخراجات کھانا کپڑا رہنے کا مکان بیماری ميں دو ایہ سب بیت المال کے ذمہ ہے اور لقیط مرجائے اور کوئی وارث نہ ہو تو میراث بھی بیت المال ميں جائے گی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: ایک شخص ایک بچہ کو قاضی کے پاس پیش کرکے کہتا ہے یہ لقیط ہے ميں نے ایک جگہ پڑا پایا ہے تو ہوسکتا ہے کہ(6) محض اُس کے کہنے سے قاضی تصدیق نہ کرے بلکہ گواہ مانگے اس لیے کہ ممکن ہے خود اُسی کا بچہ ہواور لقیط اس غرض سے بتاتا ہے کہ مصارف(7)بیت المال سے وصول کرے اور یہ ثبوت بہم پہنچ جانے کے بعد کہ لقیط ہے نفقہ وغیرہ بیت المال سے مقرّرکر دیا جائے۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب اللقیط،ج۱،ص۴۱۶.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقیط،ج۶،ص۴۱۵،۴۱۶.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب اللقیط،ج۱،ص۴۱۵.
و''فتح القدیر''،کتاب اللقیط،ج۵،ص۳۴۳.
4 ۔''خلاصۃ الفتاوی''،کتاب اللقیط،ج۴،ص۴۳۴.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقیط،ج۶،ص۴۱۲،۴۱۳.
6 ۔یہاں غالباً''ہوسکتاہے کہ''کتابت کی غلطی کی وجہ سے زائدہے ،کیونکہ اس مقام پرعالمگیری میں اصل عبارت یوں مذکورہے'' . تومحض اُس
کے کہنے سے قاضی تصدیق نہ کرے ...إلخ''۔...عِلْمِیہ
7 ۔یعنی پرورش کے اخراجات۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب اللقیط،ج۲،ص۲۸۶
مسئلہ ۱۲: لقیط کے ہمراہ کچھ مال ہے یا لقیط کسی جانور پر ملا اور اُس جانور پر کچھ مال بھی ہے تو مال لقیط کا ہے، لہٰذا یہ مال لقیط پر صرف کیا جائے مگر صرف کرنے کے لیے قاضی سے اجازت لینی پڑے گی۔ اور وہ مال اگر لقیط کے ہمراہ نہیں بلکہ قریب ميں ہے تو لقیط کا نہیں بلکہ لقطہ ہے(1) (جس کا بیان آگے آتا ہے) ۔(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۳: ملتقط نے بغیر حکم قاضی جو کچھ لقیط پر خرچ کیا اس کا کوئی معاوضہ نہیں پاسکتا اور قاضی نے حکم دے دیا ہو کہ جو کچھ خرچ کریگا وہ دَین(2)ہوگا اور اُس کا معاوضہ ملے گا اگر لقیط کا کوئی باپ ظاہر ہو ا تو اُس کو دینا پڑے گا ور نہ بالغ ہونے کے بعد لقیط دے گا۔(3) (فتح، عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: لقیط پر خرچ کرنے کی ولایت ملتقط کو ہے اور کھانے پینے لباس وغیرہ ضروری اشیاء خریدنے کی ضرورت ہوتو اس کا ولی بھی ملتقط ہے لقیط کی کوئی چیز بیع نہیں کرسکتا نہ کوئی چیز بے ضرورت اُدھار خریدسکتا ہے۔(4) (ہدایہ، فتح القدیر)
مسئلہ ۱۵: لقیط کو کسی نے کوئی چیز ہبہ کی(5) یا صدقہ کیا توملتقط کو قبول کرنے کا حق ہے کیونکہ یہ تو نرا فائدہ ہی فائدہ ہے اس ميں نقصان اصلاً نہیں۔(6) (ہدایہ، فتح)
مسئلہ ۱۶: لقیط کو علم دین کی تعلیم دلائیں اور علم حاصل کرنے کی صلاحیت اس ميں نظر نہ آئے تو کام سِکھانے کے ليے صنعت وحرفت(7) کے اُستادوں کے پاس بھیج دیں تاکہ کام سیکھ کر ہوشیار ہو اور کام کاآدمی بنے، ورنہ بیکار ی ميں نکمّا ہو جائے گا۔(8) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۱۷: ملتقط کو یہ اختیار نہیں کہ لقیط کانکاح کردے اور اصح یہ ہے کہ اسے اجارہ پربھی نہیں دے سکتا۔ (9)(ہدایہ)
.
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقیط،ج۶،ص۴۱۸،وغیرہ.
2 ۔قرض۔
3 ۔''فتح القدیر''،کتاب اللقیط،ج۵،ص۳۴۲.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب اللقیط،ج۲،ص۲۸۶.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب اللقیط،ج۱،ص۴۱۶.
و''فتح القدیر''،کتاب اللقیط،ج۵،ص۳۴۷.
5 ۔تحفے میں دی۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب اللقیط،ج ا،ص۴۱۶.
و''فتح القدیر''،کتاب اللقیط،ج۵،ص۳۴۷.
7 ۔ہنرودستکاری وغیرہ۔
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب اللقیط،مطلب فی قولہم:الغرم بالغنم،ج۶،ص۴۱۹،وغیرہ.
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب اللقیط،ج۱،ص۴۱۶.
مسئلہ ۱۸: لقیط اگر سمجھ وال ہونے سے پہلے مر جائے تو اُس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی اُس کو مسلمان اُٹھالایاہو یا کافر(1)(خلاصہ) ہاں اگر کافر نے اسے ایسی جگہ پایا ہے جوخاص کافروں کی جگہ ہے مثلاً بُت خانہ ميں تو اس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھی جائے۔(2) (فتح)
لقطہ کا بيان
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف و مسند امام احمد ميں زید بن خالد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص کسی کی گم شدہ چیز کو پناہ دے (اوٹھائے)، وہ خود گمراہ ہے اگر تشہیر کاا رادہ نہ رکھتا ہو۔'' (3)
حدیث ۲: دارمی نے جارود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے'' (4) یعنی اس کا اٹھا لینا سبب عذاب ہے، اگر یہ مقصود ہو کہ خود مالک بن بیٹھے۔
حدیث ۳: بزار و دارقطنی نے ابو ہريرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے لقطہ کے متعلق سوال ہوا؟ ارشاد فرمایا: ''لقطہ حلال نہیں اور جو شخص پڑا مال اٹھائے اُسکی ایک سال تک تشہیر کرے، اگر مالک آجائے تو اسے دیدے اور نہ آئے تو صدقہ کر دے۔'' (5)
حدیث ۴: امام احمد و ابو داود و دارمی عیاض بن حمار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص پڑی ہوئی چیز پائے تو ایک یا دو عادل کو اُٹھاتے وقت گواہ کرلے اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے پھر اگر مالک مل جائے تو اُسے دیدے، ورنہ اﷲ (عزوجل) کا مال ہے، وہ جسکو چاہتا ہے دیتا ہے۔'' (6) اس حدیث ميں گواہ کرلینے کا حکم اس مصلحت سے ہے کہ جب لوگوں کے علم ميں ہوگا تو اب اس کانفس یہ طمع نہیں کرسکتا کہ ميں اِسے ہضم کر جاؤں اور مالک کو نہ دوں اور اگر اس کا اچانک انتقال ہو جائے یعنی ورثہ سے نہ کہہ سکا کہ یہ لقطہ ہے تو چونکہ لوگوں کو لقطہ ہونا معلوم ہے ترکہ ميں شمار
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف و مسند امام احمد ميں زید بن خالد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص کسی کی گم شدہ چیز کو پناہ دے (اوٹھائے)، وہ خود گمراہ ہے اگر تشہیر کاا رادہ نہ رکھتا ہو۔'' (3)
حدیث ۲: دارمی نے جارود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے'' (4) یعنی اس کا اٹھا لینا سبب عذاب ہے، اگر یہ مقصود ہو کہ خود مالک بن بیٹھے۔
حدیث ۳: بزار و دارقطنی نے ابو ہريرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے لقطہ کے متعلق سوال ہوا؟ ارشاد فرمایا: ''لقطہ حلال نہیں اور جو شخص پڑا مال اٹھائے اُسکی ایک سال تک تشہیر کرے، اگر مالک آجائے تو اسے دیدے اور نہ آئے تو صدقہ کر دے۔'' (5)
حدیث ۴: امام احمد و ابو داود و دارمی عیاض بن حمار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص پڑی ہوئی چیز پائے تو ایک یا دو عادل کو اُٹھاتے وقت گواہ کرلے اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے پھر اگر مالک مل جائے تو اُسے دیدے، ورنہ اﷲ (عزوجل) کا مال ہے، وہ جسکو چاہتا ہے دیتا ہے۔'' (6) اس حدیث ميں گواہ کرلینے کا حکم اس مصلحت سے ہے کہ جب لوگوں کے علم ميں ہوگا تو اب اس کانفس یہ طمع نہیں کرسکتا کہ ميں اِسے ہضم کر جاؤں اور مالک کو نہ دوں اور اگر اس کا اچانک انتقال ہو جائے یعنی ورثہ سے نہ کہہ سکا کہ یہ لقطہ ہے تو چونکہ لوگوں کو لقطہ ہونا معلوم ہے ترکہ ميں شمار
1 ۔''خلاصۃ الفتاوی''،کتاب اللقیط،ج۴،ص۴۳۴.
2 ۔''فتح القدیر''،کتاب اللقیط،ج۵،ص۳۴۶.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب اللقطۃ،باب في لقطۃ الحاج،الحدیث:۱۲ـ(۱۷۲۵)،ص۹۵۰.
4 ۔''سنن الدارمي''،کتاب البیوع،باب في الضالۃ،الحدیث:۲۶۰۱،ج۲،ص۳۴۴.
5 ۔''سنن الدارقطنی''،کتاب الرضاع،الحدیث۴۳۴۳،ج۴،ص۲۱۵.
6 ۔''سنن أبيداود''،کتاب اللقطۃ،[باب] التعریف باللقطۃ،الحدیث:۱۷۰۹،ج۲،ص۱۹۰.
نہیں ہوگی اور یہ بھی فائدہ ہے کہ مالک اس سے یہ مطالبہ نہیں کرسکتا کہ یہ چیز اتنی ہی نہ تھی بلکہ اس سے زیادہ تھی۔
حدیث ۵: ابو داود نے ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ ایک دینار پایا۔ اُسے فاطمہ زہرارضی اﷲ تعالیٰ عنہاکے پاس لائے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے دریافت کیا (یعنی اس وقت ان کو ضرورت تھی یہ پوچھا کہ صرف(1) کرسکتا ہوں یا نہیں؟) ارشاد فرمایا: یہ اﷲ (عزوجل) نے رزق دیا ہے خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی اس سے کھایا اور علی و فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہانے بھی کھایا پھر ایک عورت دینار ڈھونڈتی آئی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''اے علی وہ دینار اسے دیدو۔'' (2)
حدیث ۶: صحیح بخاری و مسلم ميں زید بن خالد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، ایک شخص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوا اور اُس نے لقطہ کے متعلق سوال کیا؟ ارشاد فرمایا: ''اُس کے ظرف (یعنی تھیلی) اور بندش(3) کو شناخت کرلو پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو، اگر مالک مل جائے تو دیدو، ورنہ تم جو چاہوکرو۔'' اُس نے دریافت کیا، گم شدہ بکری کاکیا حکم ہے؟ ارشاد فرمایا: ''وہ تمھارے ليے ہے یا تمھارے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے ليے۔'' (یعنی ا س کا لینا جائز ہے کہ کوئی نہیں لے گا تو بھیڑیا لے جائے گا) اُس نے دریافت کیا، گم شدہ اُونٹ کا کیا حکم ہے؟ ارشاد فرمایا: ''تم اُسے کیا کرو گے، اُس کے ساتھ اُس کی مشک اور جوتا ہے، وہ پانی کے پاس آکر پانی پی لے گا اور درخت کھاتا رہے گا یہاں تک اُس کا مالک پاجائے گا۔'' (4)یعنی اُس کے لینے کی اجازت نہیں۔
حدیث ۷: ابو داود نے جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں ہميں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے عصا اور کوڑے اور رسی اور اس جیسی چیزوں کو اُٹھا کر اسے کام ميں لانے کی رخصت دی ہے۔ (5)
حدیث ۸: صحیح بخاری شریف ميں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ''بنی اسرائیل ميں سے ایک شخص نے دوسرے سے ایک ہزار دینار قرض مانگے، اس نے کہا گواہ لاؤ جن کو گواہ بنالوں۔ اُس نے کہا، کفٰی باللہ شھیدًااﷲ (عزوجل) کی گواہی کافی ہے۔ اس نے کہا، کسی کو ضامن لاؤ۔ اُس نے کہا کفٰی باللہ کفیلًا
1 ۔استعمال،خرچ۔
2 ۔''سنن أبيداود''،کتاب اللقطۃ،[باب] التعریف باللقطۃ،الحدیث:۱۷۱۴،ج۲،ص۱۹۱.
3 ۔یعنی تھیلی کی گانٹھ۔
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب في اللقطۃ باب اذا لم یوجد صاحب اللقط...إلخ،الحدیث:۲۴۲۹،ج۲،ص۱۲۱.
5 ۔ ''سنن أبيداود''،کتاب اللقطۃ،[باب]التعریف باللقطۃ،الحدیث:۱۷۱۷،ج۲،ص۱۹۲.
اﷲ (عزوجل) کی ضمانت کافی ہے اس نے کہا، تُو نے سچ کہا اور ایک ہزار دینار اُسے دیدے اور ادا کی ایک میعاد مقرر کردی۔ اُس شخص نے سمندر کا سفر کیا اور جو کام کرنا تھا انجام کو پہنچا یا پھر جب میعا د پوری ہونے کا وقت آیا تو اُس نے کشتی تلاش کی کہ جاکر اُس کا دَین(1) ادا کرے مگر کوئی کشتی نہ ملی، نا چاراُس نے ایک لکڑی ميں سوراخ کرکے ہزار اشرفیاں بھر دیں اور ایک خط لکھ کر اُس ميں رکھا اور خوب اچھی طرح بند کردیا پھر اس لکڑی کو دریا کے پاس لایا اور یہ کہا، اے اﷲ! (عزوجل) تو جانتا ہے کہ ميں نے فلاں شخص سے قرض طلب کیا، اُس نے کفیل مانگا ميں نے کہا کفٰی باللہ کفیلًا وہ تیری کفالت پر راضی ہوگیا پھر اُس نے گواہ مانگا ميں نے کہا کفی باللہ شھیدًا وہ تیری گواہی پر راضی ہوگیا اور ميں نے پوری کوشش کی کہ کوئی کشتی مل جائے تو اُس کا دَین پہنچا دوں، مگر میسر نہ آئی اور اب یہ اشرفیاں ميں تجھ کو سپرد کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ لکڑی دریا ميں پھینک دی اور واپس آیا مگر برابر کشتی تلاش کرتا رہا کہ اُس شہر کو جائے اور دَین ادا کرے۔ اب وہ شخص جس نے قرض دیا تھا ایک دن دریا کی طرف گیا کہ شاید کسی کشتی پر اس کا مال آتا ہوکہ دفعۃً(2) وہی لکڑی ملی جس ميں اشرفیاں بھری تھیں۔ اُس نے یہ خیال کرکے کہ گھر ميں جلانے کے کام آئے گی اُس کو لے لیا، جب اُس کو چیرا تو اشرفیاں اور خط ملا پھر کچھ دنوں بعد وہ شخص جس نے قرض لیا تھا، ہزار دینار لیکر آیا اور کہنے لگا، خدا کی قسم! ميں برابر کوشش کرتا رہا کہ کوئی کشتی مل جائے تو تمھارا مال تم کو پہنچا دوں مگر آج سے پہلے کوئی کشتی نہ ملی۔ اُس نے کہا، کیا تم نے میرے پاس کوئی چیز بھیجی تھی؟ اس نے کہا، ميں کہہ تو رہا ہوں کہ آج سے پہلے مجھے کوئی کشتی نہیں ملی۔ اُس نے کہا، جو کچھ تم نے لکڑی ميں بھیجا تھا، خدا نے اُس کو تمھاری طرف سے پہنچادیا، یہ اپنی ایک ہزار اشرفیاں لیکر بامراد واپس ہوا۔ (3)
لقطہ اُس مال کو کہتے ہیں جو پڑا ہوا کہیں مل جائے۔ (4)
مسئلہ ۱: پڑا ہو امال کہیں ملا اور یہ خیال ہو کہ ميں اس کے مالک کو تلاش کرکے دیدوں گا تو اُٹھا لینا مستحب ہے اور اگر اندیشہ ہوکہ شاید ميں خود ہی رکھ لوں اور مالک کو نہ تلاش کروں تو چھوڑ دینا بہتر ہے اور اگر ظن غالب(5) ہو کہ مالک کو نہ دونگا تو اُٹھا نا نا جائز ہے اور اپنےلیے اُٹھانا حرام ہے اور اس صورت ميں بمنزلہ غصب کے ہے(6) اور اگر یہ ظن غالب ہو کہ ميں نہ
1 ۔قرض۔ 2 ۔اچانک۔
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الکفالۃ،باب الکفالۃ في القرض...إلخ،الحدیث:۲۲۹۱،ج۲،ص۷۳.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۲۱.
5 ۔یعنی غالب گمان۔ 6 ۔یعنی غصب کرنے کی طرح ہے۔
اُٹھا ؤں گا تو یہ چیز ضائع و ہلاک ہو جائے گی تو اُٹھا لینا ضرور ہے لیکن اگر نہ اٹھاوے اور ضائع ہو جائے تو اس پر تاوان نہیں۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: لقطہ کو اپنے تصرف(2)ميں لانے کے ليے اُٹھا یا پھر نادم ہوا کہ مجھے ایسا کرنا نہ چاہیے اور جہاں سے لایا وہیں رکھ آیا تو بری الذمہ نہ ہوگا یعنی اگر ضائع ہوگیا تو تاوان دینا پڑے گا بلکہ اب اس پر لازم ہے کہ مالک کو تلاش کرے اور اُس کے حوالہ کردے اور اگر مالک کو دینے کے ليے لایا تھا پھر جہاں سے لایا تھا رکھ آیا تو تاوان نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳: ہر قسم کی پڑی ہوئی چیز کا اُٹھا لانا جائز ہے مثلاً متاع(4) یا جانور بلکہ اُونٹ کو بھی لا سکتا ہے کیونکہ اب زمانہ خراب ہے یہ نہ لائے گا تو کوئی دوسرا لے جائے گا اور مالک کو نہ دے گا بلکہ ہضم کر جائیگا۔(5) (فتح وغیرہ)
مسئلہ ۴: لقطہ(6) ملتقط(7) کے ہاتھ ميں امانت ہے یعنی تلف(8) ہو جائے تو اس پر تاوان نہیں بشرطیکہ اُٹھا نے والا اُٹھانے کے وقت کسی کو گواہ بنادے یعنی لوگوں سے کہدے کہ اگر کوئی شخص اپنی گٌمی ہوئی چیز تلاش کرتا آئے تو میرے پاس بھیج دینا اور گواہ نہ کیا تو تلف ہونے کی صورت ميں تاوان دینا پڑے گا مگر جبکہ وہاں کوئی نہ ہواور گواہ بنانے کا موقع نہ ملا یا اندیشہ ہو کہ گواہ بنائے تو ظالم چھین لے گا تو ضمان نہیں۔ (9) (تبیین، بحر)
مسئلہ ۵: پڑا مال اوٹھا لایا اور اس کے پاس سے ضائع ہو گیا اب مالک آیا اور چیز کا مطالبہ کرتا ہے اور تاوان مانگتا ہے کہتا ہے کہ تم نے بدنیتی سے اپنے صرف ميں لانے کے ليے اُٹھا یا تھا، لہٰذا تم پر تاوان ہے یہ جواب دیتا ہے کہ ميں نے اپنے لیے نہیں اُٹھا یا تھا بلکہ اس نیت سے لیا تھا کہ مالک کو دوں گا تو محض اس کہنے سے ضمان سے بری نہیں جب تک بصورت امکان گواہ نہ کرے۔ (10) (ہدایہ)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۲۲.
2 ۔استعمال۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۲۲.
4 ۔سامان وغیرہ۔
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۳۵۴،وغیرہ.
6 ۔گری ہوئی گمشدہ چیز۔ 7 ۔اٹھانے والے۔ 8 ۔ضائع۔
9 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب اللقطۃ،ج۴،ص۲۰۹.
و''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۴.
10 ۔''الھدایۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۱،ص۴۱۷.
مسئلہ ۶: دو شخصوں نے لقطہ کو اُٹھایا تو دونوں پر تشہیر(1)لازم ہے اور لقطہ کے جمیع احکام دونوں پر ہیں اور اگر دونوں جارہے تھے ایک نے کوئی چیز دیکھی اس نے دوسرے سے کہا اُٹھالاؤاُس نے اپنے ليے اُٹھائی تو یہ ذمہ دار ہے اور لقطہ کے احکام اس پر ہیں حکم دینے والے پر نہیں۔(2) (جوہرہ)
مسئلہ ۷: ملتقط پر تشہیر لازم ہے یعنی بازاروں اور شارع عام (3)اور مساجد ميں اتنے زمانہ تک اعلان کرے کہ ظن غالب ہو جائے کہ مالک اب تلاش نہ کرتا ہوگا۔ یہ مدت پوری ہونے کے بعد اُسے اختیار ہے کہ لقطہ کی حفاظت کرے یا کسی مسکین پر تصد ق کردے۔(4) مسکین کو دینے کے بعد اگر مالک آگیا تو اسے اختیار ہے کہ صدقہ کو جائز کردے یا نہ کرے اگر جائز کر دیا ثواب پائے گا اور جائز نہ کیا تو اگر وہ چیزموجود ہے اپنی چیز لے لے اور ہلاک ہوگئی ہے تو تاوان لے گا۔ یہ اختیار ہے کہ ملتقط سے تاوان لے یا مسکین سے، جس سے بھی لے گا وہ دوسرے سے رجوع نہیں کرسکتا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: بچہ نے پڑا مال اُٹھایا اور گواہ نہ بنایا تو ضائع ہونے کی صورت ميں اسے بھی تاوان دینا پڑیگا۔(6) (بحر)
مسئلہ ۹: بچہ کو کوئی پڑی ہوئی چیز ملی اور اُٹھا لایا تو اُس کا ولی یا وصی(7) تشہیر کرے اور مالک کا پتا نہ ملا اور وہ بچہ خود فقیر ہے تو ولی یا وصی خود اُس بچہ پر تصدق کرسکتا ہے اور بعد ميں مالک آیا اور تصدق کو اُس نے جائزنہ کیا تو ولی یا وصی کو ضمان دینا ہوگا۔(8) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۰: اگر ملتقط تشہیر سے عاجز ہے مثلاًبوڑھا یا مریض ہے کہ بازار وغیرہ ميں جاکر اعلان نہیں کرسکتا تو دوسرے کو اپنا نائب بناسکتا ہے کہ یہ اعلان کردے اور نائب کو دینے کے بعد اگر واپس لینا چاہے تو واپس نہیں لے سکتا اور نائب کے پاس سے وہ چیز ضائع ہوگئی تو اُس سے تاوان نہیں لے سکتا۔ (9) (بحرالرائق، منحۃ الخالق)
1 ۔اعلان کرنا۔
2 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب اللقطۃ،الجزء الاول،ص۴۵۹.
3 ۔عام راستہ۔ 4 ۔صدقہ کر دے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۲،ص۲۸۹.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۴.
7 ۔یعنی بچے کے باپ نے جس کو وصیت کی ہے۔
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۵،۲۵۶.
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۵،۲۵۶.
و''منحۃ الخالق علی البحرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۶.
مسئلہ ۱۱: اُٹھانے والااگر فقیر ہے تو مدت مذکورہ تک اعلان کے بعد خود اپنے صرف(1) ميں بھی لا سکتا ہے اور مالدار ہے تو اپنے رشتہ والے فقیر کو دے سکتا ہے مثلاًاپنے باپ، ماں، شوہر، زوجہ، بالغ اولاد کو دے سکتا ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: اوٹھانے والا فقیر تھا اور اعلان کے بعد اپنے صرف ميں لایا پھر یہ شخص مالدار ہوگیا تو یہ واجب نہیں کہ اتنا ہی فقرا پرتصدق کرے۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: بادشاہ یا حاکم لقطہ کو قرض دے سکتا ہے چاہے خود ملتقط کو قرض دیدے یا دوسرے کو۔ یوہیں کسی کو بطور مضارَبت بھی دے سکتا ہے۔(4) (فتح القدیر، بحر)
مسئلہ ۱۴: ملتقط کے ہاتھ سے لقطہ ضائع ہو گیا پھر اس چیز کو دوسرے کے پاس دیکھا تو یہ دعویٰ کرکے نہیں لے سکتا۔(5) (شلبی، جوہرہ)
مسئلہ ۱۵: بدمست(6)آدمی راستہ ميں پڑاہوا ہے اور اس کا کوئی کپڑا بھی وہیں گراہے اس کو حفاظت کی غرض سے جو کوئی اُٹھائے گا تاوان دینا پڑے گا کہ اگرچہ وہ نشہ ميں ہے اُس کی چیزوں کے حفظ(7) کی ضرورت نہیں کیونکہ ایسوں سے لوگ خود ڈرتے ہیں ان کی چیزیں نہیں اُٹھاتے۔(8) (شلبی)
مسئلہ ۱۶: جو چیزیں خراب ہوجانے والی ہیں جیسے پھل اورکھانے ان کا اعلان صرف اتنے وقت تک کرنا لازم ہے کہ خراب نہ ہوں اور خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو مسکین کو دیدے۔(9) (درمختار وغیرہ)
1 ۔استعمال،خرچ۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۲۷.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۲۷.
4 ۔''فتح القدیر''،کتاب اللقیط،ج۵،ص۳۵۲.
و''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۷.
5 ۔''حاشیۃ الشلبی علی التبیین''،کتاب اللقطۃ،ج۴،ص۲۱۴.
و''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب اللقطۃ،الجزء الاول،ص۴۵۹.
6 ۔نشہ میں دھت۔ 7 ۔حفاظت۔
8 ۔''حاشیۃ الشلبی علی التبیین''،کتاب اللقطۃ،ج۴،ص۲۱۴.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۲۵،وغیرہ.
مسئلہ ۱۷: کوئی ایسی چیز پائی جو بے قیمت ہے جیسے کھجور کی گٹھلی انار کا چھلکا ایسی اشیاء ميں اعلان کی حاجت نہیں کیونکہ معلوم ہوتا ہے اِسے چھوڑدینا اباحت ہے کہ جو چاہے لے لے اور اپنے کام ميں لائے اور یہ چھوڑنا تملیک(1) نہیں کہ مجہول(2)کی طرف سے تملیک صحیح نہیں، لہٰذا وہ اب بھی مالک کی مِلک ميں باقی ہے۔ (3) (ردالمحتار) اور بعض فقہا یہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم اُسوقت ہے کہ وہ متفرق(4) ہوں اور اگر اکھٹی ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ مالک نے کام کے لیے جمع کر رکھی ہیں، لہٰذا محفوظ رکھے خرچ نہ کرے۔(5) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۸: لقطہ کی نسبت اگر معلوم ہے کہ یہ ذمی کی چیز ہے تو اِسے بیت المال ميں جمع کردے خود اپنے تصرف(6)ميں نہ لائے نہ مساکین کو دے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: اگر مالک کے پتہ چلنے کی اُمید ہے اور ملتقط کے مرنے کا وقت قریب آگیا تو وصیت کرجانا یعنی یہ ظاہر کردینا کہ یہ لقطہ ہے واجب ہے۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: ملتقط کو لقطہ کی کوئی اُجرت نہیں ملے گی اگرچہ کتنی ہی دور سے اُٹھا لایا ہو اور لقطہ اگر جانورہو اور اُس کے کھلانے ميں کچھ خرچ کیا ہو تو اس کامعاوضہ بھی نہیں پائے گا ہاں اگر قاضی کی اجازت سے ہواوراُس نے کہدیا ہو کہ اس پر خرچ کرو جوکچھ خرچ ہوگا مالک سے وصول کرلینا تو اب مصارف(9)لے سکتا ہے۔ (10) (بحرالرائق)
مسئلہ ۲۱: جوکچھ حاکم کی اجازت سے خرچ کیا ہے اسے وصول کرنے کے ليے لقطہ کو مالک سے روک سکتا ہے مصارف دینے کے بعد وہ لے سکتا ہے اورنہ دے تو قاضی لقطہ کو بیچ کر مصارف ادا کردے اور جو بچے مالک کو
1 ۔دوسرے کو مالک بنانا۔ 2 ۔نامعلوم۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب اللقطۃ،مطلب:فیمن وجد حطباً...إلخ،ج۶،ص۴۳۵.
4 ۔ بکھری ہوئی۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۶.
6 ۔استعمال۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۲۸.
8 ۔المرجع السابق.
9 ۔اخراجات۔
10 ۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۶۰.
ديدے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: لقطہ پر خرچ کرنے کی قاضی سے اجازت طلب کی تو قاضی گواہ طلب کریگا اگر گواہوں سے لقطہ ہونا ثابت ہوگیا تو مصارف کی اجازت دے گا ورنہ نہیں اور اگر ملتقط(2) کہتا ہے میرے پاس گواہ نہیں ہیں تو قاضی یہ حکم دے گا کہ اگر تو سچّاہے اس پر خرچ کر ،مالک آئیگا تو وصول کرلینا اور اگر تو غاصب(3)ہے تو کچھ نہ ملے گا۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۳: لقطہ اگر ایسی چیز ہو جس سے منفعت حاصل ہوسکتی ہے مثلاً بیل گدھا گھوڑا کہ ان کو کرایہ پر دیکر اُجرت حاصل کرسکتا ہے تو حاکم کی اجازت سے کرایہ پر دے سکتا ہے اور جو اُجرت حاصل ہو اسی ميں سے اُسے خوراک بھی دیجائے اور اگر ایسی چیز لقطہ ہو جس سے آمدنی نہ ہواور سردست(5)مالک کا پتا نہیں چلتا اور اس پر خرچ کرنے ميں مالک کا نقصان ہے کہ کُچھ دنوں ميں اپنی قیمت کی قدر (6)کھاجائے گا تو قاضی اس کو بیچ کر اسکی قیمت محفوظ رکھے کہ اسی ميں مالک کانفع ہے اور قاضی نے بیع کی یا قاضی کے حکم سے ملتقط نے ،تو یہ بیع نافذ ہے مالک اس بیع کو رد نہیں کرسکتا۔(7) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۲۴: لقطہ ایسی چیز تھی جس کے رکھنے ميں مالک کا نقصان تھا۔ اُسے خود ملتقط نے بغیر اجازت قاضی بیچ ڈالا تو یہ بیع نافذ نہ ہوگی بلکہ اجازتِ مالک پر موقوف رہے گی اگر مالک آیا اور چیز مشتری(8)کے پاس موجود ہے تو اُسے اختیار ہے۔ بیع کو جائز کرے یا باطل کردے اور چیز اُس سے لے لے اور اگر مالک اُس وقت آیا کہ مشتری کے پاس وہ چیز نہ رہی تو اُسے اختیارہے کہ مشتری سے اُس کی قیمت کا تاوان لے یا بائع(9)سے، اگربائع سے تاوان لے گا تو بیع نافذ ہوجائے گی اور زرِثمن(10) بائع کا ہوگا مگر زرِثمن جتنا قیمت سے زائد ہواْسے صدقہ کردے۔(11) (فتح القدیر)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۳۳.
2 ۔گری ہوئی چیز اٹھانے والا۔ 3 ۔نا جائز طریقے سے لینے والا۔
4 ۔''الہدایۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۱،ص۴۱۸،۴۱۹.
5 ۔ فی الحال،اس وقت۔ 6 ۔قیمت کے برابر۔
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۶۱.
و''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،،ص۴۳۲.
8 ۔خریدار۔ 9 ۔بیچنے والے۔
10 ۔یعنی بیع میں جوروپیہ وصول ہواوہ۔
11 ۔''فتح القدیر''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۳۵۵.
مسئلہ ۲۵: لقطہ کا مدعی پیدا ہوگیا(1) اور وہ نشان او ر پتا بتاتا ہے جولقطہ ميں موجود ہے یا خود ملتقط اُس کی تصدیق کرتا ہے تو دیدینا جائز ہے اور قاضی نے حکم کردیا تو دینا لازم او ر بغیر حکم قاضی دیدیا تو اُس کا کفیل یعنی ضامن لے سکتا ہے۔(2) (درمختار) اور علامت بتانے کی صورت ميں اگر دینے سے انکار کرے تو مدعی کو گواہ سے ثابت کرنا ہوگا کہ یہ اُسی کی ملک ہے۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۶: مدعی نے علامت بیان کی یا ملتقط نے اُس کی تصدیق کی اور لقطہ دیدیا اس کے بعد دوسرا مدعی پیدا ہوگیااور یہ گواہوں سے اپنی ملک ثابت کرتا ہے تو اگر چیز موجود ہے اسے دلادی جائے اور تلف ہوچکی ہے تو تاوان لے سکتا ہے۔ اوریہ اختیار ہے کہ ملتقط سے تاوان لے یا مدعی اول سے۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: راستہ پر بھیڑ مری ہوئی پڑی تھی اس نے اُس کی اُون کاٹ لی تو اسے اپنے کام ميں لاسکتا ہے اور مالک آکر اس کا مطالبہ کرے تو لے سکتا ہے اور اگر اُس کی کھال نکال کر پکالی اور مالک لینا چاہے تو لے سکتا ہے مگر پکانے کی وجہ سے جوکچھ قیمت ميں اضافہ ہوا ہے دینا پڑے گا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: خربزہ(6)اور تر بز(7) کی پالیز(8)کو لوگوں نے لوٹ لیا اگر اُس وقت لوٹی جب مالک کی طرف سے اجازت ہوگئی کہ جس کا جی چاہے لے جائے جیسا کہ عام طور پر جب فصل ختم ہو جایا کرتی ہے تھوڑے سے خراب پھل باقی رہ جاتے ہیں مالک اجازت دیدیا کرتے ہیں تو لوٹنے ميں کوئی حرج نہیں۔ (9) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: نکاح ميں چھوہارے لوٹائے جاتے ہیں ایک کے دامن ميں گرے تھے اور دوسرے نے اُٹھا ليے اس کی دوصورتیں ہیں جس کے دامن ميں گرے تھے اگر اُس نے اسی غرض سے دامن پھیلائے تھے تو دوسرے کو لینا جائز نہیں ورنہ جائز ہے۔(10) (عالمگیری)
1 ۔یعنی کسی نے اس کے متعلق دعویٰ کیا کہ یہ میرا ہے۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۳۳.
3 ۔''الھدایۃ''کتاب اللقطۃ،ج۱،ص۴۱۹.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۳۴.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۲،ص۲۹۳.
6 ۔خربوزہ۔ 7 ۔تربوز۔ 8 ۔کھیت۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۲،ص۲۹۳. 10 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۳۰: شادیوں ميں روپے پیسے لٹانے کے لیے جس کو ديے وہ خود لٹائے دوسرے کو لٹانے کے لیے نہیں دے سکتا اور کچھ بچا کر اپنے ليے رکھ لے یا گراہوا خود اُٹھا لے یہ جائز نہیں۔ اور شکر چھوہارے لٹانے کو ديے تو بچا کر کچھ رکھ سکتا ہے اور دوسرے کو بھی لٹانے کے ليے دے سکتا ہے اور دوسرے نے لٹائے تو اب وہ بھی لوٹ سکتا ہے۔ (1) (خانیہ)
مسئلہ ۳۱: کھیت کٹ جانے کے بعد کچھ بالیاں گری پڑی رہ جاتی ہیں اگر کاشتکار نے چھوڑ دی ہیں کہ جس کا جی چاہے اُٹھالیجائے تو لیجانے ميں حرج نہیں مگر مالک کی مِلک اب بھی باقی ہے اور چاہے تو لے سکتا ہے مگر جمع کرنے کے بعد اُس سے لے لینا دناء ت(2)ہے اور اگر کاشتکارنے چند خاص لوگوں سے کہہ دیا کہ جو چاہے لیجائے تو اب جمع کرنے والوں کا ہوگیا۔(3) (بحرالرائق، تبیین وغیرہما)
مسئلہ ۳۲: اگر یتیموں کا کھیت ہے اور بالیاں(4)اتنی زائد ہیں کہ اُجرت پر چنوائی جائیں(5) تومعقول مقدار(6)ميں بچیں گی تو چھوڑنا جائز نہیں اوراتنی ہیں کہ چنوائی جائیں تو اُتنی ہی مزدوری بھی دینی پڑے گی یا مزدوری دینے کے بعد قدر ِقلیل(7) بچیں گی تو چھوڑدینا جائز ہے۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: اخروٹ وغیرہ کے متعدد دانے ملے یوں کہ پہلے ایک ملا پھر دوسرا پھر اور ایک وعلیٰ ہذالقیاس اتنے ملے کہ اب ان کی قیمت ہوگئی تواحوط(9)یہ ہے کہ بہر صورت ان کی حفاظت کرے اور مالک کو تلاش کرے اور سیب ،امرود پانی ميں پڑے ہوئے ملے تو لینا جائز ہے اگرچہ زیادہ ہوں ورنہ پانی ميں خراب ہو جائیں گے۔(10)
مسئلہ ۳۴: بارش ميں اس ليے برتن رکھ دئیے کہ ان ميں پانی جمع ہو تو دوسرے کو بغیر اجازت اُن بر تنوں کا پا نی لینا
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۲،ص۳۵۸.
2 ۔کمینگی،گھٹیا پن۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۶.
و''تبیین الحقائق''،کتاب اللقطۃ،ج۴،ص۲۱۵،وغیرہما.
4 ۔گندم ، چاول ،جوارکی فصل وغیرہ کے خوشے۔ 5 ۔اکٹھی کروائی جائیں۔
6 ۔مناسب مقدار۔ 7 ۔بہتکم مقدارمیں۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۲،ص۲۹۴.
9 ۔زیادہ محتاط بات۔
10 ۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۶.
جائز نہیں اور اگر اس ليے نہیں رکھے ہیں تو جائز ہے۔ یوہیں اگر سُکھانے کے ليے جال پھیلایا اس ميں کوئی جانور پھنس گیا تو جس نے پکڑا اُس کا ہے اور جانور پکڑنے کے ليے جال تانا تو جانور جال والے کا ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: کسی کی زمین ميں محلہ والے راکھ کو ڑا وغیرہ ڈالتے ہیں اگر مالک زمین نے اُس کو اسی ليے چھوڑرکھا ہے کہ جب زیادہ مقدار ميں جمع ہو جائے گی تو اپنے کھیت ميں ڈالوں گا تو دوسرے کو اُٹھانا جائز نہیں اور اگر زمین اس ليے نہیں چھوڑی ہے تو جو پہلے اُٹھا لے اُس کی ہے۔ یوہیں اُونٹ والے کسی کے مکان پر کرایہ کے ليے اپنے اونٹ بٹھاتے ہیں کہ جس کو ضرورت ہو یہاں سے کرایہ پر لیجائے اور یہاں بہت سی مینگنیاں جمع ہوگئیں اگر مالک مکان کا خیال ان کے جمع کرنے کا تھا تو اسکی ہیں دوسرا نہیں لے سکتا ورنہ جس کا جی چاہے لیجائے۔(2) (بحرالرائق، عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: جنگلی کبوتر نے کسی کے مکان ميں انڈے ديے اگر مالک مکان نے پکڑنے کے ليے دروازہ بھیڑ ا تھا(3) کہ دوسرے نے آکر پکڑلیا تو یہ مالک مکان کا ہے ورنہ جو پکڑلے اُس کا ہے ایک کی کبوتری سے دوسرے کے کبوتر کا جوڑا لگ گیااور انڈے بچے ہوئے تو کبوتری والے کے ہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: جنگلی کبوتروں ميں پلاؤ(5)کبوتر مل گیا تو اس کا پکڑنا جائز نہیں اور پکڑلیا تو مالک کو تلاش کرکے دیدے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۳۸: باز یا شکرا وغیرہ پکڑا جس کے پاؤں ميں جُھنْجُھنی(7)بندھی ہے جس سے گھریلو معلوم ہوتا ہے تویہ لقطہ ہے(8) اعلان کرنا ضروری ہے۔ یوہیں ہرن پکڑا جس کے گلے ميں پٹا یا ہار پڑا ہوا ہے یا پالتو کبوتر پکڑا تو اعلان کرے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۲،ص۲۹۴.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۵۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۲،ص۲۹۴.
3 ۔بند کیا تھا۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۲،ص۲۹۴.
5 ۔پالتو۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۳۶.
7 ۔جھانجھن ،پازیب،چھوٹے گھنگھرو جو پاؤں میں ڈالتے ہیں۔
8 ۔گری پڑی چیزکے حکم میں ہے۔
اورمالک معلوم ہوجائے تو اُسے واپس کرے۔(1) (عالمگیری، بحر)
مسئلہ ۳۹: کاشتکار اپنے کھیتوں ميں کئی کئی دن گائیں یا بھیڑیں رات ميں ٹھہراتے ہیں تاکہ ان کے پاخانہ پیشاب سے کھیت درست ہوجائے، لہٰذا یہاں سے گوبر یا مینگنیاں دوسرے کو لینا جائز نہیں۔
مسئلہ ۴۰: مجمعوں یا مساجد ميں اکثر جوتے بدل جاتے ہیں ان کو کام ميں لانا جائز نہیں ہاں اگر یہ کسی فقیر کو اگرچہ اپنی اولاد کو تصدق کردے پھر وہ اِسے ہبہ کردے تو تصرف ميں لاسکتا ہے یا اس کا اچھا جوتا کوئی اُٹھا لے گیا اور اپنا خراب چھوڑ گیاکہ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے اُس نے قصداً(2) ایسا کیا ہے دھوکے سے نہیں ہوا ہے تو جب یہ شخص خراب جوڑا اُٹھالایا اس کو پہن سکتا ہے کہ یہ اُس کا عوض ہے۔(3) (بحرالرائق)
مسئلہ ۴۱: کسی کے مکان پر کوئی اجنبی مسافر آیا اور مرگیا تجہیزو تکفین(4)کے بعد اُس کے ترکہ ميں کچھ روپیہ بچا تو مالک مکان اگرچہ فقیر ہو ان روپوں کو اپنے صرف(5)ميں نہیں لا سکتا کہ یہ لقطہ نہیں۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: کسی نے اپنا جانور قصداًچھوڑدیا اور کہد یا جس کا جی چاہے پکڑلے جیسے توتا میناوغیرہ پالتو جانور اکثر چھوڑ دیا کرتے ہیں اور کہدیتے ہیں جس کا جی چاہے پکڑلے تو اب جو پکڑے گا اُسی کا ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: دریا ميں لکڑی بہتی ہوئی آئی اگر اُس کی قیمت ہے تولقطہ ہے ورنہ لینے والے کے ليے حلال ہے۔(8)(درمختار)
مسئلہ ۴۴: مسافر آدمی کسی کے یہاں ٹھہرا اور مرگیا اگر اُس کا ترکہ پانچ درہم تک ہے تو صاحبِ خانہ ورثہ کو تلاش کرے پتا نہ چلے تو مساکین کو دیدے اور خود فقیر ہو تو اپنے صرف ميں لائے اور پانچ درہم سے زیادہ ہے اور ورثہ کا پتا نہ چلے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۲،ص۲۹۴.
و''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۷.
2 ۔جان بوجھ کر۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۶۵.
4 ۔کفن ،دفن ۔ 5 ۔ استعمال،خرچ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۲،ص۲۹۵.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب اللقطۃ،ج۲،ص۲۹۵.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۳۵.
توبیت المال ميں داخل کردے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۴۵: مسافرت ميں(2) کوئی مرگیا تو اُس کے رفقا (3)کو اختیار ہے کہ سامان بیچ کر دام جو کچھ ملے ورثہ کو پہنچادیں جبکہ خود سامان لادکر لیجانے ميں اتنے مصارف ہوں جو سامان کی قیمت کو پہنچ جائیں کہ اس صورت ميں ورثہ کا فائدہ بیچ ڈالنے ميں ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۶: بیرون شہر درختوں کے نیچے جو پھل گرے ہوں اگر اُن کی نسبت معلوم ہو کہ کھالینے کی صراحۃًیا دلالۃً اجازت ہے جیسے اُن مواقع ميں جہاں کثرت سے پھَل پیدا ہوتے ہیں راہگیروں سے تعرض(5) نہیں کرتے ایسے مواقع ميں کھانے کی اجازت ہے مگر درختوں سے توڑ کر کھانے کی اجازت نہیں مگر جہاں اس کی بھی اجازت ثابت ہوتو توڑ کر بھی کھا سکتا ہے۔(6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴۷: مکان خریدا اور اُس کی دیورا وغیرہ ميں روپے ملے اگر بائع کہتا ہے یہ میرے ہیں تو اُسے دیدے ورنہ لقطہ ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۸: مسجد ميں سویا تھا اس کے ہاتھ ميں کوئی شخص روپے کی تھیلی رکھ کر چلا گیا تو یہ روپے اس کے ہیں اپنے خرچ ميں لاسکتا ہے۔(8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۹: جس کی کوئی چیز گم ہوگئی ہے اُس نے اعلان کیاکہ جو اُس کا پتا بتائے گا اُس کو اتنا دوں گا تو اجارہ باطل ہے۔(9)(بحر، منحۃ الخالق) اور بطور انعام دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
مسئلہ ۵۰: لوگوں کے دَین یا حقوق اس کے ذمہ ہیں مگر نہ اُن کا پتا ہے نہ اُن کے ورثہ کا تو اُتنا ہی اپنے مال ميں سے فقرا پر
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۳۵.
2 ۔یعنی پردیس میں ،سفرکی حالت میں،دورانِ سفر۔ 3 ۔ہمسفردوست احباب،ساتھیوں۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب اللقطۃ،مطلب:فیمن مات فی سفرہٖ...إلخ،ج۶،ص۴۳۵.
5 ۔روک ٹوک۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۳۶،وغیرہ.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب اللقطۃ، مطلب:فیمن وجددراہم...إلخ،ج۶،ص۴۳۷.
8 ۔المرجع السابق.
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۹.
و''منحۃ الخالق علی البحرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۹.
تصدق کرے آخرت کے مؤاخدہ(1)سے بری ہو جائے گا اور اگر قصداً غصب کیا ہے تو توبہ بھی کرے اور اگر کسی کا مطالبہ اس کے ذمہ ہے اور اس کے پاس مال نہیں کہ ادا کرے اور مالک کا پتا بھی نہیں کہ معاف کرائے تو توبہ و استغفار کرے اور مالک کے ليے دعا کرے اُمید ہے کہ اﷲ تعالیٰ بری کردے۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۱: چور نے اگر کسی کو کوئی چیز دیدی اگر مالک معل؟"وم ہے تو مالک کو دیدے ورنہ تصدق کردے خود اُس چور کو واپس نہ دے۔(3) (بحرالرائق)
فائدہ: جب کوئی چیز گم ہوجائے تو یہ دعا پڑھے:
یَا جَامِعَ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ اِنَّ اللہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ اِجْمَعْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ ضَالَّتِیْ۔
ضَالَّتِیکی جگہ پر اُس چیز کا نام ذکر کرے وہ چیز مل جائے گی۔ امام نووی رحمۃ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں اسکو ميں نے آزمایا ہے گمی ہوئی چیز جلد مل جاتی ہے۔ (4)
دوسری ترکیب یہ ہے کہ بلند جگہ قبلہ کو مونھ کرکے کھڑا ہواور فاتحہ پڑھ کر اُسکا ثواب حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو نذر کرے پھر سیدی احمد بن علوان کو ہدیہ کرکے یہ کہے۔
یَا سَیِّدِیْ اَحْمَدْ یَا ابْنَ عَلْوَانَ رُدَّعَلَیَّ ضَالَّتِیْ وَاِلَّا نَزَعْتُکَ مِنْ دِیْوَانِ الْاَوْلِیَائِ۔
ان کی برکت سے چیز مل جائیگی۔
حدیث : دارقطنی مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مفقود کی عورت جب تک بیان نہ آجائے (یعنی اُسکی موت یا طلاق نہ معلوم ہو) اُسی کی عورت ہے۔'' (5) عبدالرزاق نے اپنے مصنف ميں روایت کی، کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مفقود کی عورت کے متعلق فرمایا: کہ وہ ایک عورت ہے جو مصیبت ميں مبتلا کی گئی،
1 ۔یعنی حساب کتاب ،اللہ کی پکڑ،پوچھ گَچھ۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب اللقطۃ،مطلب:فیمن علیہ دیون...إلخ،ج۶،ص۴۳۴.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۶۶.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب اللقطۃ، مطلب:سرق مکعبہ ووجد مثلہ او دونہ،ج۶،ص۴۳۸.
5 ۔''سنن الدار قطني''،کتاب النکاح،الحدیث:۳۸۰۴،ج۳،ص۳۷۱.
اُس کو صبر کرنا چاہیے، جب تک موت یا طلاق کی خبر نہ آئے۔(1) اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے، کہ اُس کو ہمیشہ انتظار کرنا چاہيے(2) اور ابوقلابہ و جابر بن یزید و شعبی و ابراہیم نخعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کا بھی یہی مذہب ہے۔(3)
مفقود اُسے کہتے ہیں جس کا کوئی پتا نہ ہو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ زندہ ہے یا مرگیا۔ (4)
مسئلہ ۱: مفقود خود اپنے حق ميں زندہ قرار پائیگا، لہٰذا اُس کا مال تقسیم نہ کیا جائے اور اُسکی عورت نکاح نہيں کرسکتی اور اُس کا اجارہ فسخ نہ ہوگااور قاضی کسی شخص کو وکیل مقرر کردیگا کہ اُس کے اموال کی حفاظت کرے اور اُسکی جائداد کی آمدنی وصول کرے اور جن دیون کا قرضداروں نے خود اقرار کیا ہے اُنھیں وصول کرے اور اگروہ شخص اپنی موجود گی ميں کسی شخص کو ان امور(5) کے ليے وکیل مقرر کرگیا ہے تو یہی وکیل سب کچھ کریگا قاضی کو بلا ضرورت دوسر ا وکیل مقرر کرنے کی حاجت نہیں۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۲: قاضی نے جسے وکیل کیا ہے اُسکا صرف اتنا ہی کام ہے کہ قبض کرے اور حفاظت ميں رکھے مقدمات کی پیروی نہیں کرسکتا یعنی اگر مفقود پر کسی نے دَین (7)یا ودیعت(8) کا دعویٰ کیا یا اُسکی کسی چیز ميں شرکت کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ وکیل جوابدہی نہیں کرسکتا اور نہ خود کسی پر دعویٰ کرسکتا ہے ہاں اگر ایسا دَین ہو جو اسکے عقد سے لازم ہواہو تو اس کا دعویٰ کرسکتا ہے۔(9)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۳: مفقود کامال جسکے پاس امانت ہے یا جس پر دَین ہے یہ دونوں خود بغیر حکم قاضی ادا نہیں کرسکتے اگر امین نے
1 ۔''المصنف''،لعبد الرزاق،باب التی لا تعلم مہلک زوجہا ،الحدیث:۱۲۳۷۸،ج۷،ص۶۷.
2 ۔المرجع السابق،الحدیث:۱۲۳۸۱.
3 ۔''فتح القدیر''،کتاب المفقود،ج۵،ص۳۷۲.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب المفقود،ج۶،ص۴۴۸.
5 ۔معاملات،ان کاموں۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب المفقود،ج۶،ص۴۴۸.
7 ۔قرض۔ 8 ۔ امانت۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب المفقود،ج۶،ص۴۵۰.
و''الھدایۃ''،کتاب المفقود،ج۱،ص۴۲۳.
خود دیدیا تو تاوان دینا پڑیگا اور مدیون نے دیا تو دَین سے بَری نہ ہوا بلکہ پھر دینا پڑیگا۔ (1) (بحرالرائق)
مسئلہ ۴: مفقود پر جن لوگوں کا نفقہ واجب ہے یعنی اُسکی زوجہ اور اصول(2) و فروع(3) اُن کو نفقہ اُسکے مال سے دیا جائیگا یعنی روپیہ اور اشرفی یا سونا چاندی جو کچھ گھر ميں ہے یا کسی کے پاس امانت یا دَین ہے اِن سے نفقہ دیا جائے اور نفقہ کے ليے جائداد منقولہ یا غیر منقولہ بیچی نہ جائے ہاں اگر کوئی ایسی چیز ہے جس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو قاضی اُسے بیچ کر ثمن محفوظ رکھے گا اور اب اس ميں سے نفقہ بھی دیا جاسکتا ہے۔(4)(عالمگیری،درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: مفقود اور اُسکی زوجہ ميں تفریق اُ س وقت کی جائیگی کہ جب ظن غالب یہ ہو جائے کہ وہ مرگیا ہوگا اور اُسکی مقدار یہ ہے کہ اُسکی عمر سے ستّر ۷۰ برس گزرجائیں اب قاضی اُسکی موت کا حکم دیگا اور عورت عدت وفات گزار کر نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے اور جو کچھ املاک ہیں اُن لوگوں پر تقسیم ہونگے جو اس وقت موجود ہیں۔ (5) (فتح القدیر)
مسئلہ ۶: دوسروں کے حق ميں مفقود مردہ ہے یعنی اس زمانہ ميں کسی کا وارث نہیں ہوگا مثلاً ایک شخص کی دو لڑکیاں ہیں اور ایک لڑکا اور اسکے بھی بیٹے اور بیٹیا ں ہیں لڑکا مفقود ہو گیا اسکے بعد وہ شخص مرا تو آدھامال لڑکیوں کو دیا جائے اور آدھا محفوظ رکھا جائے اگر مفقود آجائے تو یہ نصف اُسکا ہے ورنہ حکمِ موت کے بعد اس نصف کی ایک تہائی مفقود کی بہنوں کو دیں اور دو تہائیاں مفقود کی اولاد پر تقسیم کریں۔ (6) (فتح القدیر)
یعنی دوسروں کے اموال لینے کے ليے مفقود مردہ تصور کیا جائے مورث کی موت کے وقت جو لوگ زندہ تھے وہی وارث ہونگے مفقود کو وارث قرار دیکر اسکے ورثہ کو وہ اموال نہیں ملیں گے۔(7) (درمختار) یہ اُسوقت ہے کہ جب سے گم ہوا ہے اُسکا اب تک کوئی پتہ نہ چلا ہو اور اگر درمیان ميں کبھی اُسکی زندگی کاعلم ہوا ہے تو اس وقت سے پہلے جو لوگ مرے ہیں اُن کا وارث ہے بعد ميں جو مریں گے اُن کا وارث نہیں ہوگا۔(8)(بحرالرائق)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب المفقود،ج۵،ص۲۷۴۔۲۷۶.
2 ۔یعنی ماں ،باپ،دادا،دادی وغیرہ، 3 ۔یعنی بیٹا ،بیٹی،پوتا،پوتی وغیرہ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المفقود،ج۲،ص۳۰۰.
و''الدرالمختاروردالمحتار''،کتاب المفقود،مطلب:قضاء القاضی ثلاثۃ اقسام،ج۶،ص۴۵۱.
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب المفقود،ج۵،ص۳۷۴.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب المفقود،ج۶،ص۴۵۶.
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب المفقود،ج۵،ص۲۷۸.
مسئلہ ۷: مفقود کے ليے کوئی شخص وصّیت کرکے مرگیا تو مالِ وصیت محفوظ رکھا جائے اگر آگیا تو اسے دیدیں ورنہ موصی کے ورثہ کو دینگے اسکے وارث کو نہیں ملے گا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۸: مفقود اگر کسی وارث کا حاجب(2) ہو تو اُس محجوب(3) کو کچھ نہ دینگے بلکہ محفوظ رکھیں گے مثلاًمفقود کا باپ مرا تو مفقود کے بیٹے محجوب ہیں اور اگر مفقود کی وجہ سے کسی کے حصہ ميں کمی ہوتی ہے تو مفقود کو زندہ فرض کرکے سہام(4) نکالیں پھر مردہ فرض کرکے نکالیں دونوں ميں جو کم ہو وہ موجود کو دیا جائے اور باقی محفوظ رکھا جائے۔(5)(درمختار)
حدیث ۱: صحیح بخاری شریف ميں سلمہ بن اکوع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں ایک غزوہ ميں لوگوں کے توشہ(6) ميں کمی پڑگئی، لوگوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہو کر اُونٹ ذبح کرنے کی اجازت طلب کی (کہ اسی کو ذبح کرکے کھالینگے) حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اجازت دیدی۔ پھر لوگوں سے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ملاقات ہوئی، اُنھوں نے خبر دی (کہ اونٹ ذبح کرنے کی ہم نے اجازت حاصل کرلی ہے) حضرت عمر نے فرمایا، اونٹ ذبح کر ڈالنے کے بعد تمھاری بقا کی کیا صورت ہوگی یعنی جب سواری نہ رہے گی اور پیدل چلو گے، تھک جاؤ گے اور کمزور ہو جاؤ گے پھر دشمنوں سے جہاد کیونکر کرسکو گے اور یہ ہلاکت کا سبب ہوگا۔ پھر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوئے او رعرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اونٹ ذبح ہوجانے کے بعد لوگوں کی بقا کی کیا صورت ہوگی؟ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: کہ ''اعلان کر دو کہ جو کچھ توشہ لوگوں کے پاس بچا ہے، وہ حاضر لائیں۔'' ایک دستر خوان بچھا دیا گیا، لوگوں کے پاس جو کچھ توشہ بچا ہوا تھا لا کر اُس دستر خوان پر جمع کر دیا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور دعا کی پھر لوگوں سے فرمایا: ''اپنے اپنے برتن لاؤ۔'' سب نے اپنے اپنے برتن بھر ليے پھر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: کہ ''ميں
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب المفقود،ج۶،ص۴۵۳.
2 ۔یعنی اس کی وجہ سے کسی وارث کو میراث سے حصہ نہ مل رہا ہو یامقررہ حصے سے کم مل رہا ہو۔
3 ۔وہ وارث جوکسی دوسرے وارث کی وجہ سے میراث سے محروم ہو جائے یا اسے مقررہ حصے سے کم ملے۔
4 ۔حصے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب المفقود،ج۶،ص۴۵۶.
6 ۔زادراہ،کھانے پینے کی وہ اشیا جو سفر میں ساتھ رکھتے ہیں۔
گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک ميں اﷲ (عزوجل) کا رسول ہوں۔'' (1)
حدیث ۲: صحیح بخاری شریف ميں ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ ''قبیلہ اشعری کے لوگوں کا جب غزوہ ميں توشہ کم ہو جاتا ہے یا مدینہ ہی ميں اُنکے آل و عیال کے کھانے ميں کمی ہو جاتی ہے تو جو کچھ اُن کے پاس ہوتا ہے سب کو ایک کپڑے ميں اکٹھا کرلیتے ہیں پھر برابربرابر بانٹ لیتے ہیں (اس اچھی خصلت کی وجہ سے) وہ مجھ سے ہیں اور ميں اُن سے ہوں۔'' (2)
حدیث ۳: عبداﷲ بن ہشام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اُنکی والدہ زینب بنت حُمیْد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت ميں حاضر لائیں اور عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اسکو بیعت فرما لیجئے۔ فرمایا: ''یہ چھوٹا بچہ ہے۔'' پھر اِن کے سر پر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ہاتھ پھیرا اور ان کے ليے دعا کی۔ انکے پوتے زہر ہ بن معبد کہتے ہیں، کہ میرے دادا عبداﷲ بن ہشام مجھے بازار لیجاتے اور وہاں غلہ خریدتے تو ابن عمر و ابن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اُن سے ملتے اور کہتے ہميں بھی شریک کرلو کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تمھارے ليے دعائے برکت کی ہے، وہ انھیں بھی شریک کرلیتے اور بسا اوقات ایک مسلّم اونٹ(3) نفع ميں مل جاتا اور اُسے گھر بھیج دیا کرتے۔(4)
حدیث ۴: صحیح بخاری شریف ميں ہے، کہ اگر ایک شخص دام ٹھہرا رہا ہے دوسرے نے اُسے اشارہ کر دیا تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اسکے متعلق یہ حکم دیا کہ یہ اُسکا شریک ہوگیا (5)یعنی شرکت کے ليے اشارہ کافی ہے، زبان سے کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔
حدیث ۵: ابوداود و ابن ماجہ وحاکم نے سائب بن ابی السائب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، اُنھوں نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کی، زمانہ جاہلیت ميں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرے شریک تھے اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) بہتر شریک تھے کہ نہ مجھ سے مدافعت(6) کرتے اور نہ جھگڑا کرتے۔ (7)
ـــ
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الشرکۃ،باب الشرکۃ في الطعام والنّھد...إلخ،الحدیث:۲۴۸۴،ج۲،ص۱۴۰.
2 ۔المرجع السابق،الحدیث:۲۴۸۶.
3 ۔پورا اونٹ۔
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الشرکۃ،باب الشرکۃ في الطعام وغیرہ،الحدیث:۲۵۰۱،ج۲،ص۱۴۵.
5 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الشرکۃ،باب الشرکۃ في الطعام وغیرہ،ج۲،ص۱۴۵.
6 ۔مزاحمت،روک ٹوک۔
7 ۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب التجارات،باب الشرکۃ...إلخ،الحدیث:۲۲۸۷،ج۳،ص۷۹.
حدیث ۶: ابو داود وحاکم و رزین نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: کہ ''دو شریکوں کا ميں ثالث رہتا ہوں، جب تک اُن ميں کوئی اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت نہ کرے اور جب خیانت کرتا ہے تو ان سے جدا ہوجاتا ہوں۔'' (1)
حدیث ۷: امام بخاری و امام احمد نے روایت کی، کہ زیدبن ارقم و براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہما دونوں شریک تھے اور انھوں نے چاندی خریدی تھی، کچھ نقد کچھ اُدھار۔ حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خبر پہنچی تو فرمایا: کہ ''جو نقد خریدی ہے، وہ جائز ہے اور جو اُدھار خریدی، اُسے واپس کر دو۔'' (2)
مسئلہ ۱: شرکت دو قسم ہے: شرکت ملک۔ شرکت عقد۔
شرکت ملک کی تعریف یہ ہے، کہ چند شخص ایک شے کے مالک ہوں ا ور باہم عقد شرکت نہ ہوا ہو۔
شرکت عقد یہ ہے، کہ باہم شرکت کا عقد کیا ہو مثلاًایک نے کہا ميں تیرا شریک ہوں، دوسرے نے کہا مجھے منظور ہے۔
شرکت ملک دو قسم ہے کہ(1) جبری(2) اختیاری۔
جبری یہ کہ دونوں کے مال ميں بلا قصد و اختيار(3) ایسا خلط ہو جائے(4) کہ ہر ایک کی چیز دوسرے سے متمیّز(5) نہ ہوسکے یا ہوسکے مگر نہایت دقت و دشواری سے مثلاًوراثت ميں دونوں کو ترکہ ملا کہ ہر ایک کاحصّہ دوسرے سے ممتاز نہیں یا دونوں کی چیز ایک قسم کی تھی اور مل گئی کہ امتیاز نہ رہا یا ایک کے گیہوں تھے دوسرے کے جَو اور مل گئے تو اگرچہ یہاں علیحدگی ممکن ہے مگر دشواری ضرور ہے۔
اختیاری یہ کہ ان کے فعل و اختيار سے شرکت ہوئی ہو مثلاًدونوں نے شرکت کے طور پر کسی چیز کو خریدا یا ان کو ہبہ اور صدقہ ميں ملی اور قبول کیا یا کسی نے دونوں کو وصیت کی اور انھوں نے قبول کی یا ایک نے قصداًاپنی چیز دوسرے کی چیز ميں ملا دی کہ امتیاز جاتا رہا۔(6)(عالمگیری، درمختار وغیرہما)
1 ۔''سنن أبي داود''،کتاب البیوع،باب الشرکۃ،الحدیث:۳۳۸۳،ج۳،ص۳۵۰.
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الشرکۃ،باب الاشتراک في الذہب...إلخ،الحدیث:۲۴۹۷،ج۲،ص۱۴۴.
3 ۔یعنی خود بخود،بغیرکسی ارادہ کے ۔ 4 ۔آپس میں اس طرح مل جائے۔ 5 ۔ممتاز،فرق،الگ،جدا۔
6 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الأوّل فی بیان انواع الشرکۃ...إلخ،الفصل الأوّل،ج۲،ص۳۰۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۶۰۔۴۶۸،وغیرھما.
مسئلہ ۲: شرکتِ ملک ميں ہر ایک اپنے حصہ ميں تَصَرُّف(1) کرسکتا ہے اور دوسرے کے حصہ ميں بمنزلہ اجنبی(2)ہے، لہٰذا اپنا حصہ بیع کرسکتا ہے اس ميں شریک سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں اُسے اختيار ہے شریک کے ہاتھ بیع کرے یا دوسرے کے ہاتھ مگر شرکت اگر اِس طرح ہوئی کہ اصل ميں شرکت نہ تھی مگر دونوں نے اپنی چیزیں ملادیں یا دونوں کی چیزیں مل گئیں اور غیر شریک کے ہاتھ بیچناچاہتا ہے تو شریک سے اجازت لینی پڑے گی یا اصل ميں شرکت ہے مگر بیع کرنے ميں شریک کو ضرر(3) ہوتا ہے تو بغیر اجازتِ شریک غیر شریک کے ہاتھ بیع نہیں کرسکتا مثلاًمکان یا درخت یا زراعت مشترک ہے تو بغیر اجازت بیع نہیں کرسکتا کہ مشتری تقسیم کرانا چاہے گا اور تقسیم ميں شریک کا نقصان ہے ہاں اگر زراعت طیار ہے یا درخت کاٹنے کے لائق ہوگیااور پھلدار درخت نہیں ہے تو اب اجازت کی ضرورت نہیں کہ اب کٹوانے ميں کسی کا نقصان نہیں۔(4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳: مشترک چیز اگر قابل قسمت(5)نہ ہو جیسے حمام،چکی،غلام،چوپایہ اسکی بیع بغیر اجازت بھی جائز ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۴: شرکت عقد ميں ایجاب وقبول ضرور ہے خواہ لفظوں ميں ہوں یا قرینہ سے ایسا سمجھا جاتا ہو مثلاً ایک نے ہزار روپے دیے اور کہا تم بھی اتنا نکالواور کوئی چیز خریدونفع جو کچھ ہوگا دونوں کا ہوگا، دوسرے نے روپے لے ليے تو اگرچہ قبول لفظاً نہیں مگر روپیہ لے لینا قبول کے قائم مقام ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۵: شرکت عقد ميں یہ شرط ہے کہ جس پر شرکت ہوئی قابل وکالت ہو، لہٰذا مباح اشیا ء(8) ميں شرکت نہیں
1 ۔عمل دخل۔ 2 ۔غیر کی طرح۔ 3 ۔نقصان۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۶۸،وغیرہ.
5 ۔تقسیم کے قابل۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۶۶.
7 ۔''الدرالمختار''کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۶۸.
8 ۔یعنی ایسی چیزیں جن کے لینے دینے میں کوئی ممانعت نہیں ہوتی،مثلاًگری پڑی گٹھلیاں،جنگل کی لکڑیاں وغیرہ۔
ہوسکتی مثلاًدونوں نے شرکت کے ساتھ جنگل کی لکڑیاں کاٹیں کہ جتنی جمع ہونگی دونوں میں مشترک ہونگی یہ شرکت صحیح نہیں ہر ایک اُسی کا مالک ہو گا جو اُس نے کاٹی ہے اور یہ بھی ضرور ہے کہ ایسی شرط نہ کی ہو جس سے شرکت ہی جاتی رہے مثلاًیہ کہ نفع دس روپیہ میں لوں گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کُل دس ہی روپے نفع کے ہوں تو اب شرکت کس چیز میں ہوگی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: نفع میں کم و بیش کے ساتھ بھی شرکت ہوسکتی ہے مثلاًایک کی ایک تہائی اور دوسرے کی دو تہائیاں اور نقصان جو کچھ ہوگا وہ ر اس المال کے حساب سے ہوگا اسکے خلاف شرط کرنا باطل ہے مثلاًدونوں کے روپے برابر برابر ہیں اور شرط یہ کی کہ جو کچھ نقصان ہوگا اُسکی تہائی فلاں کے ذمہ اور دوتہائیاں فلاں کے ذمہ یہ شرط باطل ہے اور اس صورت میں دونوں کے ذمہ نقصان برابر ہوگا۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: شرکت عقد کی چند قسمیں ہیں:1 شرکت بالمال۔ 2 شرکت بالعمل۔3 شرکت وجوہ۔
پھر ہر ایک دوقسم ہے۔ 1مفاوضہ۔ 2 عنان۔
یہ کُل چھ قسمیں ہیں شرکت مفاوضہ یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے کا وکیل و کفیل ہو یعنی ہر ایک کا مطالبہ دوسرا وصول کرسکتا ہے اور ہر ایک پر جو مطالبہ ہوگا دوسرا اُسکی طرف سے ضامن ہے اور شرکتِ مفاوضہ میں یہ ضرور ہے کہ دونوں کے مال برابر ہوں اورنفع میں دونوں برابر کے شریک ہوں اور تصرف و دِین(3) میں بھی مساوات ہو، لہٰذا آزادو غلام میں اور نابالغ وبالغ میں اور مسلمان و کافر میں اور عاقل و مجنون میں اور دو نابالغوں میں اور دو غلاموں میں شرکت مفاوضہ نہیں ہوسکتی۔ (4)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۸: شرکت مفاوضہ کی صورت یہ ہے کہ دوشخص باہم یہ کہیں کہ ہم نے شرکت مفاوضہ کی اور ہم کو اختیار ہے کہ یکجائی خریدو فروخت کریں یا علیٰحدہ علیٰحدہ، نقد بیچیں خریدیں یا اُدھار اور ہر ایک اپنی رائے سے عمل کریگا اور جو کچھ
1 ۔جس پردعوی کیاجائے۔ 2 ۔ قسم لے سکتاہے ۔
3 ۔یعنی انکارکرتاہے۔ 4 ۔یعنی عقد نہ کرنے کی۔
5 ۔ معلوم نہ ہونے۔ 6 ۔دعویٰ کرنے والا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الثالث،ج۲،ص۳۱۰.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فیما یقع کثیرًا فی الفلاحین...إلخ،ج۶،ص ۴۷۳،۴۷۴.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الثالث،ج۲،ص۳۱۰.
نفع نقصان ہوگا اُس میں دونوں برابر کے شریک ہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: جس قسم کے مال میں شرکت مفاوضہ جائز ہے اُس قسم کا مال علاوہ اس راس المال کے جس میں شرکت ہوئی ان دونوں میں سے کسی کے پاس کچھ اور نہ ہو اگر اسکے علاوہ کچھ اور مال ہو تو شرکت مفاوضہ جاتی رہیگی اور اب یہ شرکت عنان ہوگی، (2) جس کا بیان آگے آتا ہے۔(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: شرکت مفاوضہ میں دوصورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ بوقتِ عقدِ شرکت(3) لفظ مفاوضہ بولاجائے مثلاً دونوں نے یہ کہاکہ ہم نے باہم شرکت مفاوضہ کی اگرچہ بعد میں ان میں کا ایک شخص یہ کہتا ہے کہ میں لفظ مفاوضہ کے معنے نہیں جانتا تھا کہ اِس صورت میں بھی شرکت مفاوضہ ہو جائیگی اور اُسکے احکام ثابت ہو جائینگے اور معنی کانہ جاننا عذر نہ ہوگا۔ اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ اگر لفظ مفاوضہ نہ بولیں تو تمام وہ باتیں جو مفاوضہ میں ضروری ہیں ذکر کردیں مثلاً دو ایسے شخص جو شرکت مفاوضہ کے اہل ہوں یہ کہیں کہ جس قدر نقد کے ہم مالک ہیں اُس میں ہم دونوں باہم اِس طرح پر شرکت کرتے ہیں کہ ہرایک دوسرے کو پورا پورا اختیار دیتا ہے کہ جس طرح چاہے خریدو فروخت میں تصرف کرے اور ہم میں ہر ایک دوسرے کا تمام مطالبات میں ضامن ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: ہندوستان میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ باپ کے مرجانے کے بعد اُسکے تمام بیٹے ترکہ پر قابض ہوتے ہیں اور یکجائی شرکت میں کام کرتے رہتے ہیں لینا دینا تجارت زراعت کھانا پینا ایک ساتھ مدتوں رہتا ہے اور کبھی یہ ہوتا ہے کہ بڑا لڑکاخود مختار ہوتا ہے وہ خود جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اُسکے دوسرے بھائی اُسکی ماتحتی میں اُس بڑے کے رائے و مشورہ سے کام کرتے ہیں مگر یہاں نہ لفظ مفاوضہ کی تصریح ہوتی ہے اور نہ اُس کی ضروریات کا بیان ہوتا ہے اور مال بھی عموماًمختلف قسم کے ہوتے ہیں اور علاوہ روپے اشرفی کے متاع اور اثاثہ اور دوسری چیزیں بھی ترکہ میں ہوتی ہیں۔ جن میں یہ سب شریک ہیں، لہٰذا یہ شرکت شرکتِ مفاوضہ نہیں بلکہ یہ شرکت ملک ہے اور اس صورت میں جو کچھ تجارت و زراعت اور کاروبار کے ذریعہ سے اضافہ کریں گے اُس میں یہ سب برابر کے شریک ہیں اگرچہ کسی نے زیادہ کام کیا ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الأول،ج۲،ص۳۰۸.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الأول،ج۲،ص۳۰۸.
3 ۔ شرکت کاعقد کرتے ہوئے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۷۱.
اور کسی نے کم اور کوئی دانائی و ہوشیاری سے کام کرتا ہے اور کوئی ایسا نہیں اور اگر ان شرکا میں سے بعض نے کوئی چیز خاص اپنے لیے خریدی اور اُس کی قیمت مال مشترک سے اداکی تو یہ چیز اُسی کی ہوگی مگر چونکہ قیمت مال ِمشترک سے دی ہے، لہٰذا بقیہ شرکا کے حصہ کا تاوان دینا ہوگا۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: شرکتِ مفاوضہ میں اگر دونوں کے مال ایک جنس(2) اور ایک نوع (3)کے ہوں تو عدد میں برابری ضرورہے۔ مثلاًدونوں کے روپے ہیں یا دونوں کی اشرفیاں ہیں اور اگر دو جنس یا دونوع کے ہوں تو قیمت میں برابری ہو مثلاًایک کے روپے ہیں دوسرے کی اشرفیاں یا ایک کے روپے ہیں دوسرے کی اٹھنّیاں چونّیاں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: عقد مفاوضہ کے وقت دونوں مال برابر تھے مگر ابھی اس مال سے کوئی چیز خریدی نہیں گئی کہ ایک کا مال قیمت میں زیادہ ہوگیا مثلاًاشرفی عقد کے وقت پندرہ ۱۵روپے کی تھی اور اب سولہ ۱۶ کی ہوگئی تو شرکت مفاوضہ جاتی رہی اور اب یہ شرکت عنان ہے۔ یوہیں اگر ان میں کسی ایک کاکسی پر قرض تھا اور بعد شرکت مفاوضہ وہ قرض وصول ہو گیا تو شرکت مفاوضہ جاتی رہی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: ایسے دو شخص جن میں شرکت مفاوضہ ہے ان میں اگر ایک شخص کوئی چیز خریدے تو دوسرا اُس میں شریک ہوگا البتہ اپنے گھر والوں کے لیے کھانا کپڑا خریدا یا کوئی اور چیز ضروریات خانہ داری (6) کی خریدی یا کرایہ کا مکان رہنے کے لیے لیا یا حاجت کے ليے سواری کا جانور خریدا تو یہ تنہا خریدار کا ہوگاشریک کو اس میں سے لینے کا حق نہ ہوگا مگر بائع شریک سے بھی ثمن کا مطالبہ کرسکتا ہے کہ یہ شریک کفیل ہے پھر اگر شریک نے مالِ شرکت سے ثمن ادا کردیا تو اُس خریدار سے اپنے حصہ کے برابرواپس لے سکتا ہے۔ (7) (درمختار)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فیما یقع کثیراً فی الفلاحین...إلخ،ج۶،ص۴۷۲.
2 ۔نسل،ذات ۔ 3 ۔قسم ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الاول،ج۲،ص۳۰۸.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الأول،ج۲،ص۳۰۸.
6 ۔گھریلو ضروریات۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۷۱.
مسئلہ ۱۵: ان میں سے ایک کو اگر میراث ملی یا شاہی عطیہ یا ہبہ یا صدقہ یا ہدیہ میں کوئی چیز ملی تو یہ خاص اسکی ہوگی شریک کا اس میں کوئی حق نہ ہوگا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: شرکت سے پہلے کوئی عقد کیا تھا اور اِس عقد کی وجہ سے بعد شرکت کسی چیز کا مالک ہوا تو اس میں بھی شریک حقدار نہیں مثلاًایک چیز خریدی تھی جس میں بائع نے اپنے ليے خیار لیا تھا (یعنی تین دن تک مجھ کو اختیار ہے کہ بیع قائم رکھوں یا توڑ دوں) اور بعدشرکت بائع نے اپنا خیار ساقط کردیا اور چیز مشتری کی ہوگئی مگر چونکہ یہ بیع پہلے کی ہے اس ليے یہ چیز تنہا اسی کی ہے شرکت کی نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: اگر ایک کے پاس مال مضاربت ہے، اگرچہ عقد مضاربت پہلے ہوا ہے اور اب اس مال سے خرید و فروخت کی اور نفع ہو ا تو جو کچھ نفع ملے گا اُس میں سے شریک بھی اپنے حصہ کی مقدار سے لے گا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: چونکہ اِن میں ہر ایک دوسرے کا کفیل ہے، لہٰذا ایک پر جو دین لازم آیا دوسرااسکا ضامن ہے دوسرے پربھی وہ دین لازم ہے اور اِس دوسرے سے بھی دائن (4) مطالبہ کرسکتا ہے اب وہ دین خواہ تجارت کی وجہ سے لازم آیا ہو یا اُس نے کسی سے قرض (دستگردان) لیا ہو یا کسی کی کوئی چیز غصب کرکے ہلاک کردی ہو یا کسی کی امانت اپنے پاس رکھ کر قصداًاُسے ضائع کر دیا ہو یا امانت سے انکار کر دیا ہو یا کسی کی اسنے اُسکے کہنے سے ضمانت کی ہو اور یہ دین خواہ گواہوں کے ذریعہ سے دائن نے اسکے ذمہ ثابت کيے ہوں یا خود اس نے ان دیون (5) کا اقرار کیا ہو ہر حال میں اسکا شریک بھی ضامن ہے مگر جبکہ اسنے ایسے شخص کے دین کا اقرارکیا ہو جسکے حق میں اسکی گواہی مقبول نہ ہو مثلاًاپنے باپ دادا وغیرہ اصول یا بیٹا پوتا وغیرہ فروع یا زوج یا زوجہ کے حق میں تو اس اقرار سے جو دین ثابت ہوگا اُسکا مطالبہ شریک سے نہیں ہوسکتا۔(6) (درمختار وغيرہ)
مسئلہ ۱۹: مَہریا بدل خلع یا دیت یا دم عمد میں اگر کسی شے پر صلح ہوگئی تو یہ دیون شریک پر لازم نہ ہونگے۔(7) (درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۰۹.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔قرض خواہ۔ 5 ۔قرضوں۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۷۳،وغیرہ.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص ۴۷۴.
مسئلہ ۲۰: جن صورتوں میں ایک پر جو دین لازم آیا وہ دوسرے پر بھی لازم ہوان میں اگر دائن نے ایک پردعویٰ کیا ہے اور گواہ پیش نہ کرسکا تو جس طرح اس مدعی علیہ(1) پر حلف دے سکتا ہے (2) اِسی طرح اسکے شریک سے بھی حلف لے سکتا ہے اگرچہ شریک نے وہ عقد نہیں کیا ہے مگر دونوں سے حلف کی ایک ہی صورت نہیں بلکہ فرق ہے وہ یہ کہ جس پر دعویٰ ہے اُس سے یوں قسم کھلائی جائیگی کہ میں نے اس مدعی سے یہ عقد نہیں کیا ہے مثلاًاگر اُس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نےفلاں چیز مجھ سے خریدی ہے اور اُس کا ثمن اسکے ذمہ باقی ہے اوریہ منکرہے(3) تو قسم کھائے گا کہ میں نے اس سے یہ چیزنہیں خریدی ہے یا میرے ذمہ ثمن باقی نہیں ہے اور شریک سے عدم فعل کی(4) قسم نہیں کھلائی جاسکتی کیونکہ اُس نے خودعقد کیا نہیں ہے وہ قسم کھا جائے گا کہ میں نے نہیں خریدی پھر قسم کھلانے کا کیا فائدہ بلکہ اِس سے عدم علم (5) پرقسم کھلائی جائے یوں قسم کھائے کہ میرے علم میں نہیں کہ میرے شریک نے خریدی پھر اگر دونوں نے یا کسی ایک نے قسم کھانے سے انکار کیا توقاضی دونوں پر دَین لازم کردیگا۔ اور اگر دونوں نے عقد کیا ہے یعنی ایجاب وقبول میں دونوں شریک تھے تو دونوں پرعدم فعل ہی کی قسم ہے کہ اس صورت میں فقط ایک نے نہیں بلکہ دونوں نے خریدا ہے اورقسم سے ایک نے بھی انکار کیاتووہی حکم ہے۔ یوہیں مدعی (6)نے جس پر دعویٰ کیا ہے غائب ہے اور اس کا شریک حاضرہے تومدعی اس حاضرپر حلف دے سکتا ہے پھر جب وہ غائب آجائے تو اُسپر بھی مدعی حلف دے سکتا ہے۔ (7)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: ان دونوں شریکوں میں سے ایک نے کسی پر دعویٰ کیا اور مدعی علیہ سے قسم کھلائی تو دوسرے شریک کو دوبارہ پھر اُس پر حلف دینے کا حق نہیں۔(8)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: ان دونوں میں سے ایک نے کسی شے کی حفاظت کرنے کی نوکری کی یا اُجرت پر کسی کا کپڑا سیا یا کوئی کام
1 ۔جس پردعوی کیاجائے۔ 2 ۔ قسم لے سکتاہے ۔
3 ۔یعنی انکارکرتاہے۔ 4 ۔یعنی عقد نہ کرنے کی۔
5 ۔ معلوم نہ ہونے۔ 6 ۔دعویٰ کرنے والا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الثالث،ج۲،ص۳۱۰.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فیما یقع کثیرًا فی الفلاحین...إلخ،ج۶،ص ۴۷۳،۴۷۴.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الثالث،ج۲،ص۳۱۰.
اُجرت پر کیا تو جو کچھ اُجرت ملے گی وہ دونوں میں مشترک ہوگی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: اگر ایک نے کسی کو نوکر رکھا یا اُجرت پر کسی سے کوئی کام کرایا یا کرایہ پر جانور لیا تو مواجرہر ایک سے اُجرت لے سکتا ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: ان دونوں میں سے ایک کی ملک میں اگر کوئی ایسی چیز آئی جس میں شرکت ہوسکتی ہے خواہ وہ چیز اسے کسی نے ہبہ کی یا میراث میں ملی یا وصیت سے یا کسی اور طریق پر حاصل ہوئی تو اب شرکت مفاوضہ جاتی رہی کہ اس میں برابری شرط ہے اور اب برابری نہ رہی اور اگر میراث میں ایسی چیز ملی جس میں شرکت مفاوضہ نہیں مثلاًسامان واسباب ملے یا مکان اور کھیت وغیرہ جائداد غیرمنقولہ ملی یا دَین ملا مثلاًمورث کا کسی کے ذمہ دین ہے اور اب یہ اُسکا وارث ہوا توشرکت باطل نہیں مگر دین سونا چاندی کی قسم سے ہوتو جب وصول ہوگا شرکت مفاوضہ باطل ہو جائیگی اور مفاوضہ باطل ہوکر اب شرکت عنان ہوجائیگی۔(3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۵: ایک نے اپنا کوئی سامان وغیرہ اس قسم کی چیز بیچ ڈالی جس میں شرکت مفاوضہ نہیں ہوتی یا ایسی کوئی چیز کرایہ پر دی تو ثمن یا اُجرت وصول ہونے پر شرکت مفاوضہ باطل ہو جائیگی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: شرکت عنان کے باطل ہونے کے جو اسباب ہیں اُن سے شرکت مفاوضہ بھی باطل ہوجاتی ہے۔(5) (بدائع)
مسئلہ ۲۷: شرکت مفاوضہ و عنان دونوں نقود (روپیہ اشرفی) میں ہوسکتی ہیں یا ایسے پیسوں میں جن کا چلن ہو(6)اور اگر چاندی سونے غیر مضروب ہوں (سکہ نہ ہوں) مگر ان سے لین دین کا رواج ہو تو اسمیں بھی شرکت
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الثالث،ج۲،ص۳۱۰.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الثالث،ج۲،ص۳۱۰.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۷۴،وغیرہ.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ، الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الرابع،ج۲،ص۳۱۱.
5 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الشرکۃ،حکم شرکۃ المفاوضۃ،ج۵،ص۹۸.
6 ۔رائج الوقت ہو یعنی جس سے خریدوفروخت ہوتی ہو۔
ہوسکتی ہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: اگر دونوں کے پاس روپے اشرفی نہ ہوں صرف سامان ہو اور شرکت مفاوضہ یا شرکت عنان کرنا چاہتے ہوں تو ہر ایک اپنے سامان کے ایک حصہ کو دوسرے کے سامان کے ایک حصہ کے مقابل یا روپے کے بدلے بیچ ڈالے اسکے بعد اِس بیچے ہوئے سامان میں عقد شرکت کرلیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: اگر دونوں میں ایک کا مال غائب ہو (یعنی نہ وقت عقد اُس نے مال حاضر کیا اور نہ خریدنے کے وقت اُس نے اپنا مال دیا اگرچہ وہ مال جس پر شرکت ہوئی اُسکے مکان میں موجود ہو) تو شرکت صحیح نہیں۔ یوہیں اگر اُس مال سے شرکت کی جو اُسکے قبضے میں بھی نہیں بلکہ دوسرے پر دین ہے جب بھی شرکت صحیح نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: جس قسم کا مال شرکت مفاوضہ میں اسکے پاس موجود ہے اُس جنس سے جوچیز چاہے خریدے یہ خریدی ہوئی چیز شرکت کی قرار پائیگی اگرچہ جتنا مال موجود ہے اُس سے زیادہ کی خریدے اور اگر دوسری جنس سے خریدی تو یہ چیز شرکت کی نہ ہوگی بلکہ خاص خریدنے والے کی ہوگی مثلاً اسکے پاس روپیہ ہے تو روپیہ سے خریدنے میں شرکت کی ہوگی اور اشرفی سے خریدے تو خاص اسکی ہے، یوہیں اسکا عکس۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: ان میں سے ہر ایک کو یہ جائز ہے کہ شرکت کے مال میں سے کسی کی دعوت کرے یا کسی کے پاس ہدیہ و تحفہ بھیجے مگر اتنا ہی جسکا تاجروں میں رواج ہوتا جر اُسے اسراف(5) نہ سمجھتے ہوں، لہٰذا میوہ، گوشت روٹی وغیرہ اسی قسم کی چیزیں تحفہ میں بھیج سکتا ہے روپیہ اشرفی ہدیہ نہیں کرسکتا نہ کپڑا دے سکتا ہے نہ غلّہ اور متاع دے سکتا ہے۔ یوہیں اسکے یہاں دعوت کھانا یا اسکا ہدیہ قبول کرنا یا اس سے عاریت لینا(6) بھی جائز ہے اگرچہ معلوم ہو کہ بغیر اجازت شریک مال شرکت
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۷۵.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۷۶.
3 ۔المرجع السابق،ص۴۷۷.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الخامس،ج۲،ص۳۱۱.
5 ۔فضول خرچ۔ 6 ۔عارضی طورپر کوئی چیز لینا۔
سے یہ کام کررہا ہے مگر اس میں بھی رواج و متعارف(1)کی قید ہے ۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: اسکو قرض دینے کا اختیار نہیں ہے ہاں اگر شریک نے صاف لفظوں میں اسے قرض دینے کی اجازت دے دی ہو توقرض دے سکتا ہے اور بغیر اجازت اس نے قرض دیدیا تو نصف قرض کا شریک کے لیے تاوان دینا پڑے گا مگر شرکت بدستور باقی رہے گی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: ایک شریک بغیر دوسرے کی اجازت کے تجارتی کا موں میں وکیل کرسکتا ہے اور تجارتی چیزوں پرصرف کرنے کے لیے مال شرکت سے وکیل کو کچھ دے بھی سکتا ہے پھر اگر یہ وکیل خریدو فروخت و اجارہ کے لیے اس نے کیا ہے تو دوسرا شریک اسے وکالت سے نکال سکتا ہے اوراگر محض تقاضے کے لیے وکیل کیا ہے تو دوسرے شریک کو اسکے نکالنے کااختیار نہیں۔(4) (بدائع، عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: مالِ شرکت کسی پر دَین ہے اور ایک شریک نے معاف کردیا تو صرف اسکے حصہ کی قدر معاف ہوگا دوسرے شریک کا حصہ معاف نہ ہوگا اور اگر دین کی میعاد (5) پوری ہو چکی ہے اور ایک نے میعا د میں اضافہ کر دیا تو دونوں کے حق میں اضافہ ہوگیا اور اگر ان شریکوں پر میعاد ی دین ہے جسکی میعاد ابھی پوری نہیں ہوئی ہے اور ایک شریک نے میعاد ساقط کردی تو دونوں سے ساقط ہو جائے گی۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: شرکت عنا ن یہ ہے کہ دوشخص کسی خاص نوع کی تجارت یا ہر قسم کی تجارت میں شرکت کریں مگر ہرایک دوسرے کا ضامن نہ ہو صرف دونوں شریک آپس میں ایک دوسرے کے وکیل ہونگے، لہٰذا شرکت عنان میں یہ شرط ہے کہ
1 ۔عرف۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الخامس،ج۲،ص۳۱۲.
3 ۔المرجع السابق،ص۳۱۳.
4 ۔''البدائع الصنائع''،کتاب الشرکۃ،دین التجارۃ،ج۵،ص۹۸،۹۹.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الخامس،ج۲،ص۳۱۳.
5 ۔مدت۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل السادس،ج۲،ص۳۱۴.
ہرایک ایسا ہو جو دوسرے کو وکیل بنا سکے۔(1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: شرکت عنان مردو عورت کے درمیان ،مسلم و کافر کے درمیان ،بالغ اور نا بالغ عاقل کے درمیان جبکہ نا بالغ کو اسکے ولی نے اجازت دیدی ہو اور آزادو غلام ماذون کے درمیان ہو سکتی ہے۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۳۷: شرکت عنان میں یہ ہوسکتا ہے کہ اسکی میعاد مقرر کر دیجائے مثلاًایک سال کے لیے ہم دونوں شرکت کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں کے مال کم و بیش(3)ہوں برابر نہ ہوں اور نفع برابر یا مال برابر ہوں اور نفع کم وبیش اور کل مال کے ساتھ بھی شرکت ہوسکتی ہے اور بعض مال کے ساتھ بھی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں کے مال دوقسم کے ہوں مثلاًایک کا روپیہ ہو دوسرے کی اشرفی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صفت میں اختلاف ہو مثلاًایک کے کھوٹے روپے ہوں دوسرے کے کھرے اگرچہ دونوں کی قیمتوں میں تفاوت(4) ہو اور یہ بھی شرط ہے (5) کہ دونوں کے مال ایک میں خلط کردیے جائیں۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۳۸: اگر دونوں نے اسطرح شرکت کی کہ مال دونوں کا ہوگا مگر کام فقط ایک ہی کریگا اور نفع دونوں لیں گے اور نفع کی تقسیم مال کے حساب سے ہوگی یا برابر لیں گے یا کام کرنے والے کو زیادہ ملے گاتو جائز ہے اور اگر کام نہ کرنے والے کو زیادہ ملے گا تو شرکت ناجائز۔ یوہیں اگر یہ ٹھہرا کہ کل نفع ایک شخص لے گا تو شرکت نہ ہوئی اور اگر کام دونوں کریں گے مگر ایک زیادہ کام کریگا دوسرا کم اور جو زیادہ کام کریگا نفع میں اُس کا حصہ زیادہ قرار پایا یا برابر قرار پایا یہ بھی جائز ہے۔ (7) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۹: ٹھہرا یہ تھا کہ کام دونوں کریں گے مگر صرف ایک نے کیا دوسرے نے بوجہ عذر یا بلاعذر کچھ نہ کیا تو دونوں کا کرنا قرار پائے گا۔(8) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص ۴۷۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الأول،ج۲،ص۳۱۹.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الشرکۃ،فصل فی شرکۃ العنان،ج۲،ص۴۹۱.
3 ۔کم زیادہ۔ 4 ۔فرق۔
5 ۔بہارشریعت کے بعض نسخوں میں یہاں عبارت ایسے ہی مذکورہے،غالباًیہاں کتابت کی غلطی ہے کیونکہ '' درست عبارت درمختار میں کچھ
یوں ہے '' اوریہ بھی شرط نہیں ہے کہ دونوں کے مال ایک میں خلط کردیے جائیں''۔...عِلْمِیہ
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۷۸۔۴۸۰.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثالث فی العنان،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۲۰.
و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فی توقیت الشرکۃ،ج۶،ص۴۷۸.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثالث فی العنان،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۲۰.
مسئلہ ۴۰: ایک نے کوئی چیز خریدی تو بائع ثمن کا مطالبہ اسی سے کرسکتا ہے اسکے شریک سے نہیں کرسکتا کیونکہ شریک نہ عاقد ہے نہ ضامن پھر اگر خریدار نے مال شرکت سے ثمن ادا کیا جب تو خیراور اگر اپنے مال سے ثمن ادا کیا تو شریک سے بقدر اُسکے حصہ کے رجوع کرسکتا ہے اور یہ حکم اُس وقت ہے کہ مال شرکت نقد کی صورت میں موجود ہو اور اگر شرکت کامال جو کچھ تھا وہ سامان تجارت خریدنے میں صَرف کیا جاچکا ہے اور نقد کچھ باقی نہیں ہے تو اب جوکچھ خریدیگا وہ خاص خریدار ہی کی ہے شرکت کی چیز نہیں اور اسکا ثمن خریدار کو اپنے پاس سے دینا ہوگا اور شریک سے رجوع کرنے کا حقدار نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: ایک نے کوئی چیز خریدی اسکا شریک کہتا ہے کہ یہ شرکت کی چیز ہے اور یہ کہتا ہے میں نے خاص اپنے واسطے خریدی اور شرکت سے پہلے کی خریدی ہوئی ہے تو قسم کے ساتھ اسکا قول معتبر ہے اور اگر عقد شرکت کے بعد خریدی اور یہ چیز اُس نوع میں سے ہے جسکی تجارت پر عقد شرکت واقع ہوا ہے تو شرکت ہی کی چیز قرار پائیگی اگرچہ خریدتے وقت کسی کو گواہ بنالیا ہوکہ میں اپنے لیے خریدتا ہوں کیونکہ جب اِس نوع تجارت پر عقد شرکت واقع ہوچکا ہے تو اسے خاص اپنی ذات کے لیے خریداری جائز ہی نہیں جو کچھ خریدے گا شرکت میں ہوگا اوراگر وہ چیز اُس جنس تجارت سے نہ ہو تو خاص اسکے لیے ہوگی۔(2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہر ایک شریک اپنی شرکت کی دوکان سے چیز یں خریدتا ہے یہ خریداری جائز ہے اگرچہ بظاہر اپنی ہی چیز خریدنا ہے۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: اگر دونوں کے مال خریداری کے پہلے ہلاک ہوگئے یا ایک کا مال ہلاک ہوا تو شرکت باطل ہوگئی پھرمال مخلوط (4)تھا تو جو کچھ ہلاک ہوا ہے دونوں کے ذمہ ہے اور مخلوط نہ تھا تو جس کا تھا اُسکے ذمہ اور اگر عقد شرکت کے بعد ایک نے اپنے مال سے کوئی چیزخریدی اور دوسرے کا مال ہلاک ہو گیا اور ابھی اِس سے کوئی چیز خریدی نہیں گئی ہے تو شرکت باطل نہیں اور وہ خریدی ہوئی چیز دونوں میں مشترک ہے مشتری اپنے شریک سے بقدر شرکت اُسکے ثمن سے وصول کرسکتا ہے۔ اور اگر عقد شرکت کے بعد خریدامگر خریدنے سے پہلے شریک کا مال ہلاک ہوچکا ہے تو اسکی دو صورتیں ہیں اگر دونوں نے باہم صراحۃً(5) ہرایک کو وکیل کردیا ہے یہ کہدیا ہے کہ ہم میں جو کوئی اپنے اس مال شرکت سے جو کچھ خریدیگا وہ مشترک ہوگی تو اس صورت میں وہ چیز
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فی دعوی الشریک أنہ ادی...إلخ،ج۶،ص۴۸۱.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:ادعی الشراء لنفسہٖ،ج۶،ص۴۸۲.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔ملاہوا۔ 5 ۔صریح طورپر،واضح طورپر۔
مشترک ہوگی کہ اُسکے حصہ کی قدر چیز دیدے اور اِس حصہ کا ثمن لے لے اور اگر صراحۃًوکیل نہیں کیا ہے تو اِس چیز میں دوسرے کی شرکت نہیں کہ مال ہلاک ہونے سے شرکت باطل ہوچکی ہے اور اُسکے ضمن میں جو وکالت تھی وہ بھی باطل ہے اور وکالت کی صراحت نہیں کہ اسکے ذریعہ سے شرکت ہوتی۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۴۴: شرکت عنان میں بھی اگر نفع کے روپے ایک شریک نے معین کردیے کہ مثلاًدس روپے میں نفع کے لونگا تو شرکت فاسد ہے کہ ہوسکتا ہے کل نفع اتنا ہی ہو پھر شرکت کہاں ہوئی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۴۵: اس میں بھی ہر شریک کو اختیار ہے کہ تجارت کے ليے یا مال کی حفاظت کے ليے کسی کو نوکر رکھے بشرطیکہ دوسرے شریک نے منع نہ کیا ہو اور یہ بھی اختیار ہے کہ کسی سے مفت کام کرائے کہ وہ کام کر دے اور نفع اُس کو کچھ نہ دیا جائے اورمال کو امانت بھی رکھ سکتا ہے اور مضاربت کے طورپر بھی دے سکتا ہے کہ وہ کام کرے اورنفع میں اُس کو نصف یا تہائی وغیرہ کاشریک کیا جائے اور جو کچھ نفع ہوگا اس میں سے مضارب کا حصہ نکال کر باقی دونوں شریکوں میں تقسیم ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شریک دوسرے سے مضاربت کے طور پر مال لے پھر اگر یہ مضاربت ایسی چیز میں ہے جو شرکت کی تجارت سے علیحدہ ہے مثلاًشرکت کپڑے کی تجارت میں تھی اور مضاربت پر روپیہ غلہ کی تجارت کے ليے لیا ہے تو مضاربت کا جو نفع ملے گا وہ خاص اس کاہوگا شریک کو اس میں سے کچھ نہ ملے گا اور اگر یہ مضاربت اُسی تجارت میں ہے جس میں شرکت کی ہے مگر شریک کی موجودگی میں مضاربت کی جب بھی مضاربت کا نفع خاص اسی کا ہے اور اگر شریک کی غَیْبت(3) میں ہو یا مضاربت میں کسی تجارت کی قیدنہ ہو تو جو کچھ نفع ملے گا شریک بھی اُس میں شریک ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۴۶: شریک کو یہ اختیار ہے کہ نقد یا اُدھارجس طرح مناسب سمجھے خریدوفروخت کرے مگر شرکت کا روپیہ نقد موجود نہ ہوتواُدھار خریدنے کی اجازت نہیں جو کچھ اس صورت میں خریدے گا خاص اسکا ہوگا البتہ اگر شریک اس پر راضی ہے تواس میں بھی شرکت ہوگی او ر یہ بھی اختیار ہے کہ ارزاں(5) یا گراں (6) فروخت کرے۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۸۳.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۸۴.
3 ۔یعنی شریک کی غیرموجودگی ۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۸۵.
5 ۔سستا۔ 6 ۔مہنگا۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:اشترکاعلی ان مااشتر یا...إلخ،ج۶،ص ۴۸۶.
مسئلہ ۴۷: شریک کو یہ اختیار ہے کہ مال تجارت سفر میں لیجائے جب کہ شریک نے اسکی اجازت دی ہو یا یہ کہہ دیا ہو کہ تم اپنی رائے سے کام کرو اور مصارف سفر مثلاًاپنا یا سامان کا کرایہ اور اپنے کھانے پینے کے تمام ضروریات سب اُسی مال شرکت پر ڈالے جائیں یعنی اگرنفع ہوا جب تو اخراجات نفع سے مجرا دیکر(1) باقی نفع دونوں میں مشترک ہوگا اور نفع نہ ہو ا تو یہ اخراجات راس المال میں سے دئیے جائیں۔ (2)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴۸: ان میں سے کسی کو یہ اختیار نہیں کہ کسی کو اِس تجارت میں شریک کرے،ہاں اگر اس کے شریک نے اجازت دیدی ہے تو شریک کرنا جائز ہے اور اس وقت اس تیسرے کے خریدو فروخت کرنے سے کچھ نفع ہوا تو یہ شخص ثالث اپنا حصہ لے گا اور اسکے بعد جو کچھ بچے گا اُس میں وہ دونوں شریک ہیں اور ان دونوں میں سے جس نے اُس تیسرے کو شریک نہیں کیا ہے اسکی خریدو فروخت سے کچھ نفع ہوا تو یہ انھیں دونوں پر منقسم(3) ہوگا ثالث(4) کو اس میں سے کچھ نہ دیں گے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۹: شریک کو یہ اختیار نہیں کہ بغیر اجازت مال شرکت کو کسی کے پاس رہن رکھدے ہاں مگر اُس صورت میں کہ خود اسی نے کوئی چیز خریدی تھی جس کا ثمن باقی تھا اور اس دَین کے مقابل مال شرکت کو رہن کر دیا تو یہ جائز ہے اور اگر کسی دوسرے سے خریدوایا تھا یا دونوں شریکوں نے مل کر خریدا تھا تو اب تنہا ایک شریک اس دَین کے بدلے میں رہن نہیں رکھ سکتا۔ یوہیں اگر کسی شخص پر شرکت کا دین تھا اُس نے ایک شریک کے پاس رہن رکھ دیا تو یہ رہن رکھ لینا بھی بغیر اجازت شریک جائز نہیں یعنی اگر وہ چیز اس شریکِ مرتہن کے پاس ہلاک ہوگئی اور اُسکی قیمت دَین کے برابر تھی تو دوسرا شریک اُس مدیون سے اپنے حصہ کی قدر مطالبہ کرکے لے سکتا ہے پھر وہ مدیون شریک مرتہن سے یہ رقم واپس لیگا اور اگر چاہے تو غیر مر تہن خود اپنے شریک ہی سے بقدر حصہ کے وصول کرلے اور جس صورت میں رہن رکھ سکتا ہے اوس میں رہن کا اقرار بھی کرسکتا ہے کہ میں نے فلاں کے پاس رہن رکھا ہے یا فلاں نے میرے پاس رہن رکھا ہے اور یہ اقرار دونوں پر نافذ ہوگا اور جہاں رہن رکھ نہیں سکتا
1 ۔ نکال کر۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الخامس،ج۲،ص۳۱۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۸۷.
3 ۔تقسیم۔ 4 ۔تیسرافرد۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:اشترکاعلی ان مااشتر یا...إلخ،ج۶،ص۴۸۷.
رکھ نہیں سکتا اُس میں رہن کا اقراربھی نہیں کرسکتا یعنی اگر اقرار کریگا تو تنہا اسکے حق میں وہ اقرار نافذ ہوگا شریک سے اسکو تعلق نہ ہوگا اور اگر شرکت دونوں نے توڑ دی تو اب رہن کا اقرار شریک کے حق میں صحیح نہیں۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۰: شرکت عنان میں اگر ایک نے کوئی چیز بیع کی ہے تو اسکے ثمن کا مطالبہ اسکا شریک نہیں کرسکتا یعنی مدیون (2) اسکو دینے سے انکار کرسکتا ہے۔ یوہیں شریک نہ دعویٰ کرسکتا ہے نہ اس پر دعویٰ ہو سکتا ہے بلکہ دین کے لیے کوئی میعاد بھی نہیں مقرر کرسکتا جبکہ عاقد(3) کوئی اور شخص ہے یا دونوں عاقدہوں اور خود تنہا یہی عاقد ہے تو میعاد مقرر کرسکتا ہے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۱: شریک کے پاس جو کچھ مال ہے اُس میں وہ امین ہے، لہٰذا اگر یہ کہتا ہے کہ تجارت میں نقصان ہوا یا کل مال یا اتنا ضائع ہوگیا یا اِس قدر نفع ملایا شریک کو میں نے مال دیدیا تو قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر(5) ہے اور اگر نفع کی کوئی مقدار اس نے پہلے بتائی پھر کہتا ہے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی اُتنی نہیں بلکہ اتنی ہے مثلاً پہلے کہا دس ۱۰ روپے نفع کے ہیں پھر کہتا ہے کہ دس۱۰ نہیں بلکہ پانچ ہیں تو چونکہ اقرار کرکے رجوع کررہا ہے، لہٰذا اسکی پچھلی بات مانی نہ جائیگی کہ اقرار سے رجوع کرتا ہے اور اسکا اسے حق نہیں۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۵۲: ایک نے کوئی چیز بیچی تھی اور دوسرے نے اس بیع کا اقالہ (فسخ) کردیا تو یہ اقالہ جائز ہے اور اگر عیب کی وجہ سے وہ چیز خریدار نے واپس کردی اور بغیر قضاء قاضی(7)اُس نے واپس لے لی یا عیب کی وجہ سے ثمن سے کچھ کم کردیا یا ثمن کو مؤخر کردیا تو یہ تصرفات دونوں کے حق میں جائز و نافذ ہوں گے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: ایک نے کوئی چیز خریدی ہے اور اس میں کوئی عیب نکلا تو خود یہ واپس کرسکتا ہے اسکے شریک کو واپس
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:اشترکاعلی ان مااشتر یا...إلخ،ج۶،ص۴۸۷.
2 ۔مقروض۔ 3 ۔عقدکرنے والا۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:یملک الاستدانۃباذن شریکہ،ج۶،ص۴۸۹.
5 ۔قابل اعتبار،قابلِ قبول۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۸۹،۴۹۰.
7 ۔قاضی کے فیصلے کے بغیر۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل السادس،ج۲،ص۳۱۴،۳۱۵.
کرنے کا حق نہیں یا ایک نے کسی سے اُجرت پر کچھ کام کرایا ہے تو اُجرت کا مطالبہ اِسی سے ہوگا شریک سے مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: ایک نے کسی کی کوئی چیز غصب کرلی یا ہلاک کردی تو اسکا مطالبہ ومؤاخذہ اسی سے ہوگا اسکے شریک سے نہ ہوگا اور بطور بیع فاسدکوئی چیز خریدی اور اسکے پاس سے ہلاک ہوگئی تو اسکو تاوان دینا پڑیگا مگر جو کچھ تاوان دیگا اُس کا نصف یعنی بقدر حصّہ شریک سے واپس لے گا کہ وہ چیز شرکت کی ہے اور تاوان دونوں پر ہے۔ (2)(مبسوط)
مسئلہ۵۵: دونوں نے ملکر تجارت کا سامان خریدا تھا پھر ایک نے کہا میں تیرے ساتھ شرکت میں کام نہیں کرتا یہ کہہ کر غائب ہوگیا دوسرے نے کام کیا تو جو کچھ نفع ہوا تنہا اسی کا ہے اور شریک کے حصہ کی قیمت کا ضامن ہے یعنی اُس مال کی اُس روز جو قیمت تھی اُسکے حساب سے شریک کے حصہ کا روپیہ دیدے نفع نقصان سے اِسکو کچھ واسطہ نہیں۔(3) (خانیہ)
مسئلہ۵۶: مال شرکت میں تعدی کی یعنی وہ کام کیا جوکر نا جائز نہ تھا اور اسکی وجہ سے مال ہلاک ہوگیا تو تاوان دینا پڑیگامثلاًاسکے شریک نے کہہ دیا تھا کہ مال لیکر پردیس کو نہ جانا یا فلاں جگہ مال لے کر جاؤ مگر وہاں سے آگے دوسرے شہر کو نہ جانا اور یہ پر دیس مال لیکر چلا گیا یا جو جگہ بتائی تھی وہاں سے آگے چلا گیا یا کہا تھا اُدھار نہ بیچنا اُسنے اُدھار بیچ دیا تو اِن صورتوں میں جو کچھ نقصان ہوگا اس کا ذمہ دار یہ خود ہے شریک کو اس سے تعلق نہیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۵۷: اسکے پاس جو کچھ شرکت کا مال تھا اُسے بغیر بیان کیے مر گیا یا لوگوں کے ذمہ شرکت کی بقایا تھی او ریہ بغیر بیان کیے مرگیا تو تاوان دینا پڑے گا کہ یہ امین تھا او ر بیان نہ کرجانا امانت کے خلاف ہے اور اسکی وجہ سے تاوان لازم ہوجاتا ہے مگر جبکہ ورثہ جانتے ہوں کہ یہ چیز یں شرکت کی ہیں یا شرکت کی تجارت کا فلاں فلاں شخص پر اتنا اتنا باقی ہے تو اس وقت بیان کرنیکی ضرورت نہیں اور تاوان لازم نہیں۔ اور اگر وارث کہتا ہے مجھے علم ہے اور شریک منکر ہے اور وارث تمام اشیا کی تفصیل بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ چیزیں تھیں اور ہلاک و ضائع ہوگئیں تو وارث کا قول مان لیا جائے گا۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل السادس،ج۲،ص۳۱۴.
2 ۔''المبسوط''،للسرخسی،کتاب الشرکۃ،باب خصومۃ المفاوضین فیمابینہما،ج۶،ص۲۲۲.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الشرکۃ،فصل فی شرکۃ العنان،ج۲،ص۴۹۲.
4 ۔''الدرالمختار''و'' ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فی قبول قولہ...إلخ،ج۶،ص۴۹۰.
5 ۔المرجع السابق،ص۴۹۰،۴۹۱.
مسئلہ۵۸: شریک نے اُودھار بیچنے سے منع کردیا تھا اور اُس نے اُدھار بیچ دی تو اسکے حصہ میں بیع نافذ ہے اور شریک کے حصہ کی بیع موقوف ہے اگر شریک نے اجازت دیدی کل میں بیع ہوجائیگی اور نفع میں دونوں شریک ہیں اور اجازت نہ دی تو شریک کے حصہ کی بیع باطل ہوگئی۔(1) (درمختار)
مسئلہ۵۹: شریک نے پردیس میں مال تجارت لیجانے سے منع کر دیا تھا مگر یہ نہ مانا اور لے گیا اور وہاں نفع کے ساتھ فروخت کیا تو چونکہ شریک کی مخالفت کرنے سے غاصب ہوگیا اور شرکت فاسد ہوگئی، لہٰذا نفع صرف اسی کو ملے گا اور مال ضائع ہوگا تو تاوان دینا پڑیگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ۶۰: شریک پر خیانت کا(3) دعویٰ کرے تو اگر دعویٰ صرف اتنا ہی ہے کہ اُس نے خیانت کی یہ نہیں بتایا کہ کیا خیانت کی تو شریک پر حلف نہ دینگے ہاں اگر خیانت کی تفصیل بتا تا ہے تو اُس پر حلف دینگے اور حلف کے ساتھ اُس کا قول معتبر ہوگا۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ۶۱: شرکت بالعمل کہ اسی کو شرکت بالابدان اور شرکت تقبل و شرکت صنائع بھی کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ دوکاریگر لوگوں کے یہاں سے کام لائیں اور شرکت میں کام کریں اور جو کچھ مزدوری ملے آپس میں بانٹ لیں۔ (5)(درمختار)
مسئلہ۶۲: اس شرکت میں یہ ضرور نہیں کہ دونوں ایک ہی کام کے کاریگر ہوں بلکہ دو مختلف کاموں کے کاریگر بھی باہم یہ شرکت کرسکتے ہیں مثلاًایک درزی ہے دوسرا رنگریز، دونوں کپڑے لاتے ہیں وہ سیتا ہے یہ رنگتا ہے اور سلائی رنگائی کی جو کچھ اُجرت ملتی ہے اُس میں دونوں کی شرکت ہوتی ہے اور یہ بھی ضرور نہیں کہ دونوں ایک ہی دوکان میں کام کریں بلکہ دونوں کی الگ الگ دوکانیں ہوں جب بھی شرکت ہوسکتی ہے مگر یہ ضرور ہے کہ وہ کام ایسے ہوں کہ عقداجارہ کی وجہ سے(6) اُس کام کا کرنا ان
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۹۱.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔بد دیانتی کا۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فیما لوادعی علی شریکہ خیانۃ مبھمۃ،ج۶،ص۴۹۲.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۹۲.
6 ۔اجارے کے عقدکی وجہ سے ۔
پر واجب ہو اور اگر وہ کام ایسا نہ ہو مثلاًحرام کام پر اجارہ ہوا جیسے دونوحہ کرنے والیاں کہ اُجرت لیکر نوحہ کرتی ہوں ان میں باہم شرکت عمل ہوتو نہ ان کا اجارہ صحیح ہے نہ ان میں شرکت صحیح۔ (1)(درمختار)
مسئلہ۶۳: تعلیم قرآن و علم دین اور اذان و امامت پر چونکہ بنا بر قول مفتی بہ اُجرت لینا جائز ہے اس میں شرکت عمل بھی ہوسکتی ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ۶۴: شرکت عمل میں ہر ایک دوسرے کا وکیل ہوتا ہے، لہٰذا جہاں توکیل درست نہ ہویہ شرکت بھی صحیح نہیں مثلاًچند گداگروں نے باہم شرکت عمل کی تو یہ صحیح نہیں کہ سوال کی توکیل درست نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ۶۵: اس میں یہ ضرور نہیں کہ جو کچھ کمائیں اُس میں برابر کے شریک ہوں بلکہ کم وبیش کی بھی شرط ہوسکتی ہے اورباہم جو کچھ شرط کرلیں اُسی کے موافق تقسیم ہوگی۔ یوہیں عمل میں بھی برابر ی شرط نہیں بلکہ اگر یہ شرط کرلیں کہ وہ زیادہ کام کریگااور یہ کم جب بھی جائز ہے اور کم کام والے کو آمدنی میں زیا دہ حصہ دینا ٹھہرا لیا جب بھی جائز ہے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۶۶: یہ ٹھہرا ہے کہ آمدنی میں سے میں دو تہائی لوں گا اور تجھے ایک تہائی دوں گا اور اگر کچھ نقصان و تاوان دیناپڑے تو دونوں برابر برابردینگے تو آمدنی اُسی شرط کے بموجب تقسیم ہوگی اور نقصان میں برابری کی شرط باطل ہے اس میں بھی اُسی حساب سے تاوان دینا ہوگا یعنی ایک تہائی والا ایک تہائی تاوان دے اور دوسرادو تہائیاں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ۶۷: جو کام اُجرت کا ان میں ایک شخص لائیگا وہ دونوں پر لازم ہوگا، لہٰذا جس نے کام دیا ہے وہ ہر ایک سے کام کا مطالبہ کرسکتا ہے شریک یہ نہیں کہہ سکتاہے کہ کام وہ لایا ہے اُس سے کہو مجھے اس سے تعلق نہیں۔ یوہیں ہر ایک اُجرت کامطالبہ بھی کرسکتا ہے اور کام والا ان میں جس کو اُجرت دیدیگا بَری ہوجائیگا، دوسرا اُس سے اب اُجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتا یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُس کو تم نے کیوں دیا۔(6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ۶۸: دونوں میں سے ایک نے کام کیا ہے اور دوسرے نے کچھ نہ کیا مثلاًبیمار تھا یا سفر میں چلاگیا تھا جسکی وجہ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۹۳.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص۴۹۴.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فی شرکۃ التقبُّل،ج۶،ص۴۹۴.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الرابع فی شرکۃ الوجوہ وشرکۃ الأعمال،ج۲،ص۳۲۸.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۹۴،وغیرہ.
سے کام نہ کرسکا یا بلاوجہ قصد اً(1)اُس نے کام نہ کیا جب بھی آمدنی دونوں پر معاہدہ کے موافق تقسیم ہوگی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ۶۹: یہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ شرکت عمل کبھی مفاوضہ ہوتی ہے اور کبھی شرکت عنان، لہٰذا اگر مفاوضہ کالفظ یا اسکے معنے کا ذکر کر دیا یعنی کہدیا کہ دونوں کام لائینگے اور دونوں برابر کے ذمہ دار ہیں اورنفع نقصان میں دونوں برابر کے شریک ہیں اور شرکت کی وجہ سے جو کچھ مطالبہ ہوگا اُس میں ہر ایک دوسرے کا کفیل ہے تو شرکت مفاوضہ ہے اور اگر کام اور آمدنی یا نقصان میں برابری کی شرط نہ ہو یا لفظ عنان ذکر کرد یاہوتو شرکت عنان ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ۷۰: مطلق شرکت ذکر کی نہ مفاوضہ ذکر کیا نہ عنان نہ کسی کے معنے کا بیان کیا تو اس میں بعض احکام عنان کے ہونگے مثلاًکسی ایسے دَین (4) کا اقرار کیا کہ شرکت کے کام کے لیے میں فلاں چیز لایا تھا اور وہ خرچ ہوچکی اور اُسکے دام(5) دینے ہیں یافلاں مزدور کی مزدوری باقی ہے یا فلاں گزشتہ مہینہ کا کرایہ دوکان باقی ہے تو اگر گواہوں سے ثابت کردے جب تو اسکے شریک کے ذمہ بھی ہے ورنہ تنہا اسی کے ذمہ ہوگااور بعض احکام مفاوضہ کے ہوں گے مثلاًکسی نے ایک کو یا دونوں کو کوئی کام دیا ہے تو ہر ایک سے وہ مطالبہ کرسکتا ہے اور اگر ایک پر کوئی تاوان لازم ہوگا تو دوسرے سے بھی اس کامطالبہ ہوگا۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ۱ ۷: باپ بیٹے ملکر کام کرتے ہوں اور بیٹا باپ کے ساتھ رہتا ہو تو جوکچھ آمدنی ہوگی وہ باپ ہی کی ہے بیٹا شریک نہیں قرار پائیگا بلکہ مددگار تصور کیا جائیگا یہاں تک کہ بیٹا اگر درخت لگائے تو وہ بھی باپ ہی کا ہے۔ یوہیں میاں بی بی مل کر کریں اور انکے پاس کچھ نہ تھا مگر دونوں نے کام کرکے بہت کچھ جمع کرلیاتو یہ سارا مال شوہر ہی کا ہے اور عورت مددگار سمجھی جائیگی۔ ہاں اگر عورت کا کام جداگانہ ہے مثلاً مرد کتابت کا کام کرتا ہے اور عورت سلائی کرتی ہے تو سلائی کی جو کچھ آمدنی ہے اُسکی مالک عورت ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ۷۲: ایک شخص نے درزی کویہ کہہ کر کپڑا دیا کہ اسے تم خود ہی سینا اور اِس درزی کا کوئی شریک ہے کہ دونوں
1 ۔جان بوجھ کر۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۹۵.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الرابع فی شرکۃ الوجوہ وشرکۃ الأعمال،ج۲،ص۳۲۷.
4 ۔ قرض۔ 5 ۔قیمت۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الرابع فی شرکۃ الوجوہ وشرکۃ الأعمال،ج۲،ص۳۲۹.
7 ۔المرجع السابق.
میں شرکت مفاوضہ ہے تو کپڑا دینے والا ان دونوں میں جس سے چاہے مطالبہ کرسکتا ہے اور اگر شرکت ٹوٹ گئی یا جس کو اُسنے کپڑا
دیا تھا مرگیا تو اب دوسرے سے سینے کا مطالبہ نہیں کرسکتا اور اگر یہ نہیں کہا تھا کہ تم خود ہی سینا تو مرنے اور شرکت جاتی رہنے کے بعد بھی دوسرے سے مطالبہ کر سکتا ہے کہ اُسے سی کردے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ۷۳: دو شریک ہیں اُن پر کسی نے دعویٰ کیا کہ میں نے اُن کو سینے کے ليے کپڑا دیا تھا اُن میں ایک اقرار کرتا ہے دوسرا انکار تو وہ اقرار دونوں کے حق میں ہوگیا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ۷۴: تین شخص جو باہم شریک نہیں ہیں اِن تینوں نے کسی سے کام لیا کہ ہم سب اس کا م کو کرینگے مگر وہ کام تنہاایک نے کیا باقی دونے نہیں کیا تو اسکو صرف ایک تہائی اُجرت ملے گی کہ اس صورت میں ایک تہائی کا م کا یہ ذمہ دار تھا بقیہ دوتہائیوں کا نہ اِس سے مطالبہ ہوسکتا تھا نہ اسکے اجارہ میں ہے تو جو کچھ اسنے کیا بطور تطوع (3) کیا اور اُسکی اُجرت کا مستحق نہیں۔(4) (عالمگیری) یہ حکم کہ صرف ایک تہائی اُجرت ملے گي قضاءً ہے اور دیانت کا حکم یہ ہے کہ پوری اُجرت اسے دیدی جائے کیونکہ اس نے پورا کام یہی خیال کرکے کیا ہے کہ مجھے پوری مزدوری ملے گی اور اگر اسے معلوم ہوتا کہ ایک ہی تہائی ملے گی تو ہر گز پورا کام انجام نہ دیتا۔(5)(ردالمحتار)
مسئلہ۷۵: اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جوکسی کام کا اسُتاد ہوتا ہے وہ اپنے شاگردوں کو دوکان پر بٹھا لیتا ہے کہ ضروری کام اُستاد کرتے ہیں باقی سب کام شاگردوں سے لیتے ہیں اگر اِن اُستادوں نے شاگردوں کے ساتھ شرکت عمل کی مثلاًدرزی نے اپنی دوکان پر شاگرد کو بٹھالیا کہ کپڑوں کو اُستاد قطع کریگا (6) اور شاگرد سیے گا اور اُجرت جو ہوگی اس میں برابر کے دونوں شریک ہونگے یا کاریگر نے اپنی دوکان پر کسی کو کام کرنے کے ليے بٹھا لیا کہ اُسے کام دیتا ہے اور اُجرت نصفانصف(7)بانٹ لیتے ہیں یہ جائز ہے۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الرابع فی شرکۃ الوجوہ وشرکۃ الأعمال،ج۲،ص۳۳۰.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔احسان ،بخشش۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الرابع فی شرکۃ الوجوہ وشرکۃ الأعمال،ج۲،ص۳۳۱.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فی شرکۃ التقبل،ج۶،ص۴۹۴.
6 ۔ کاٹ دے گا۔ 7 ۔ یعنی آدھا آدھا۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الرابع فی شرکۃ الوجوہ وشرکۃ الأعمال،ج۲،ص۳۳۱.
مسئلہ۷۶: اگر یوں شرکت ہوئی کہ ایک کے اوزار ہونگے اور دوسرے کا مکان یا دوکان اور دونوں ملکر کام کرینگے تو شرکت جائز ہے اور یوں ہوئی کہ ایک کے اوزار ہونگے اور دوسرا کام کریگا تو یہ شرکت ناجائز ہے۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ۷۷: شرکت وجوہ یہ ہے کہ دونوں بغیر مال عقد شرکت کریں کہ اپنی وجاہت(2)اورآبرو(3) کی وجہ سے دوکانداروں سے اُدھار خریدلائینگے اور مال بیچ کر اُن کے دام دیدینگے اور جوکچھ بچے گا وہ دونوں بانٹ لینگے اور اسکی بھی دو قسمیں مفاوضہ و عنان ہیں اور دونوں کی صورتیں بھی وہی ہیں جو اوپر مذکورہوئیں اور مطلق شرکت مذکور ہو تو عنان ہوگی اور اس میں بھی اگر مفاوضہ ہے تو ہر ایک دوسرے کا وکیل بھی ہے اور کفیل بھی اور عنان ہے تو صرف وکیل ہی ہے کفیل نہیں۔ (4)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ۷۸: نفع میں یہاں بھی برابری ضرور نہیں اگر شرکت عنان ہے تو نفع میں برابری یا کم و بیش جو چاہیں شرط کرلیں مگر یہ ضرورہے کہ نفع میں وہی صورت ہو جو خریدکی ہوئی چیزمیں ملک کی صورت میں ہومثلاًاگر وہ چیز ایک کی دو تہائی ہوگی اور ایک کی ایک تہائی تو نفع بھی اسی حساب سے ہوگا اور اگرملک میں کم و بیش ہے مگر نفع میں مساوات یا نفع کم و بیش ہے اور ملک میں برابری تو یہ شرط باطل و ناجائز ہے اور نفع اُسی ملک کے حساب سے تقسیم ہوگا۔ (5)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱: مباح چیز کے حاصل کرنے کے ليے شرکت کی یہ ناجائز ہے مثلاًجنگل کی لکڑیاں یا گھاس کاٹنے کی شرکت کی کہ جو کچھ کاٹیں گے وہ ہم دونوں میں مشترک ہوگی یا شکار کرنے یا پانی بھرنے میں شرکت کی یا جنگل اور پہاڑ کے پھل چننے میں شرکت کی یا جاہلیت (یعنی زمانہ کفر) کے دفینہ(6) نکالنے میں شرکت کی یا مباح زمین سے مٹی اُوٹھا لانے میں شرکت کی یا ایسی مٹی کی اینٹ بنانے یا اینٹ پکانے میں شرکت کی یہ سب شرکتیں فاسدو ناجائز ہیں۔ اور اِن سب صورتوں میں جو کچھ جس نے
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فی شرکۃ التقبل،ج۶،ص۴۹۳.
2 ۔رعب ودبدبہ ۔ 3 ۔ مقام ومرتبہ،قدر ومنزلت۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۹۵،وغیرہ.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۹۵.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الرابع فی شرکۃ الوجوہ وشرکۃ الأعمال،ج۲،ص۳۲۷.
6 ۔دفن کیاہوامال ۔
حاصل کیا ہے اُسی کا ہے اور اگر دونوں نے ایک ساتھ حاصل کیا اور معلوم نہ ہو کہ کس کا حاصل کردہ کتنا ہے کہ جو کچھ حاصل کیا وہ ملا دیا ہے اور پہچان نہیں ہے تو دونوں برابر کے حصہ دار ہیں چاہے چیز کی تقسیم کرلیں یا بیچ کر دام برابر برابر بانٹ لیں اِس صورت میں اگر کوئی اپنا حصہ زیادہ بتاتا ہو تو اِسکا اعتبار نہیں جب تک گواہوں سے ثابت نہ کردے۔(1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲: مٹی کسی کی ملک ہے اور دو شخصوں نے اِس سے اینٹ بنانے یا پکانے کی شرکت کی تو یہ صحیح ہے کہ اسکا مطلب یہ ہے کہ اُس سے مٹی خریدکر اینٹ بنائینگے اور اُسکو پکائیں گے اور اینٹیں بیچ کر مالک کو قیمت دیدیں گے اور جو نفع ہوگا وہ ہمارا ہے اور اس صورت میں یہ شرکت وجوہ ہوگی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: دو شخصوں نے مباح چیز کے حاصل کرنے میں عقد شرکت کیا اور ایک نے اُس کو حاصل کیا اور دوسرا اس کا معین و مددگار رہا مثلاًایک نے لکڑیاں کاٹیں دوسراجمع کرتا رہا اسکے گٹھے باندھے اُسے اُٹھا کر بازار وغیرہ لے گیا یا ایک نے شکار پکڑا دوسرا جال اوٹھا کرلے گیا یا اور کام کیے تو اِس صورت میں بھی چونکہ شرکت صحیح نہیں مالک وہی ہے جس نے حاصل کیا یعنی مثلاًجس نے لکڑیاں کاٹیں یا جس نے شکار پکڑا اور دوسرے کو اسکے کام کی اُجرت مثل دی جائیگی اور اگرجال تاننے میں شریک نے مدد کی اور شکار ہاتھ نہیں آیا جب بھی اُسکی اُجرت مثل ملے گی۔ (3)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۴: شکار کرنے میں دونوں نے شرکت کی اور دونوں کا ایک ہی کتاہے جس کو دونوں نے شکار پر چھوڑایا دونوں نے ملکر جال تانا(4) تو شکار دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا اور اگر کُتا ایک کا تھا اور اُسی کے ہاتھ میں تھامگر چھوڑا دونوں نے تو شکار کا مالک وہی ہے جس کا کُتا ہے مگر اس نے اگر دوسرے کو بطور عاریت کُتا دیدیا ہے تو دوسرا مالک ہوگااور اگر دونوں کے دوکُتے ہیں اور دونوں نے ملکر ایک شکار پکڑا تو برابر برابر بانٹ لیں اور ہر ایک کتّے نے ایک ایک شکار پکڑا تو جس کے کُتے نے جو شکار پکڑا اُسکا وہی مالک ہے۔ (5)(عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''کتاب الشرکۃ،فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۶،ص۴۹۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۲.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۲.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۶،ص۴۹۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۲.
4 ۔یعنی ملکر جال پھیلایا۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۳.
مسئلہ ۵: گداگروں نے عقدشرکت کیا کہ جو کچھ مانگ لائیں گے وہ دونوں میں مشترک ہوگا یہ شرکت صحیح نہیں اور جس نے جوکچھ مانگ کر جمع کیا وہ اُسی کا ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: اگر شرکت فاسدہ میں دونوں شریکوں نے مال کی شرکت کی ہے تو ہر ایک کو نفع بقدر مال کے ملے گا اور کام کی کوئی اُجرت نہیں ملے گی، مثلاًدونوں نے ایک ایک ہزار کے ساتھ شرکت کی اور ایک نے یہ شرط لگادی ہے کہ میں دس ۱۰ روپیہ نفع کے لوں گا، اِس شرط کی وجہ سے شرکت فاسد ہوگئی اور چونکہ مال برابر ہے، لہٰذا نفع برابر تقسیم کرلیں اور فرض کرو کہ صورت مذکورہ میں ایک ہی نے کام کیا ہو جب بھی کام کا معاوضہ نہ ملے گا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۷: شرکت فاسدہ میں اگر ایک ہی کامال ہوتو جو کچھ نفع حاصل ہوگا اِسی مال والے کو ملے گا اور دوسرے کو کام کی اُجرت دی جائیگی مثلاًایک شخص نے اپنا جانور دوسرے کو دیا کہ اس کو کرایہ پر چلاؤاورکرایہ کی آمدنی آدھی آدھی دونوں لینگے یہ شرکت فاسدہے اور کل آمدنی مالک کو ملے گی اور دوسرے کو اجر مثل(3)۔ یوہیں کشتی چند شخصوں کو دیدی کہ اس سے کام کریں اور آمدنی مالک او ر کام کرنے والوں پر برابر برابر تقسیم ہو جائیگی تو یہ شرکت فاسد ہے اور اسکا حکم بھی وہی ہے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: ایک شخص کے پاس اونٹ ہے دوسرے کے پاس خچر ،دونوں نے انھیں اُجرت پر چلانے کی شرکت کی یہ شرکت فاسد ہے اور جو کچھ اُجرت ملے گی اُس کو خچر اور اونٹ پر تقسیم کردینگے اونٹ کی اُجرت مثل اونٹ والے کو اور خچر کی اُجرت مثل خچر والے کو ملے گی اور اگر خچر اور اونٹ کو کرایہ پر چلانے کی جگہ خود ان دونوں نے بار برداری (5) پر شرکت عمل کی کہ بار برداری کریں گے اور آمدنی بحصّہ مساوی بانٹ لیں گے(6) تویہ شرکت صحیح ہے ا ب اگرچہ ایک نے خچر لاکر بوجھا لادااور دوسرے نے اونٹ پر بار کیا دونوں کو حسب شرط برابر حصہ ملے گا۔(7) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: ایک نے دوسرے کو اپنا جانور دیا کہ اس پر تم اپنا سامان لادکر پھیری کرو جو نفع ہوگا اُس کو بحصہ مساوی تقسیم
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۲.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۶،ص۴۹۸.
3 ۔ یعنی عام طور پر بازار میں اس کام کی جو اجرت ہے اُتنی ہی اجرت۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،مطلب:یرجح القیاس،ج۶،ص۴۹۸.
5 ۔ یعنی بوجھ اٹھانے ۔ 6 ۔ آمدنی برابربرابرحصوں کے ساتھ تقسیم کریں گے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۳.
و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،مطلب:یرجح القیاس،ج۶،ص۴۹۹.
کرلینگے یہ شرکت بھی فاسد ہے نفع کا مالک وہ ہے جس نے پھیری کی اور جانوروالے کو اُجرت مثل دینگے۔ یوہیں اپنا جال دوسرے کو مچھلی پکڑنے کے ليے دیا کہ جو مچھلی ملے گی اوسے برابر بانٹ لیں گے تو مچھلی اُسی کو ملے گی جس نے پکڑی اور جال والے کو اُجرت مثل ملے گی۔ (1)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: چند حمالوں نے یوں شرکت کی کہ کوئی بوری میں غلہ بھر یگا اور کوئی اُٹھا کر دوسرے کی پیٹھ پر رکھے گا اور کوئی مالک کے گھر پہنچائے گا اور مزدوری جو کچھ ملے گی اُسے سب بحصّہ مساوی تقسیم کرلینگے تو یہ شرکت بھی فاسد ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: ایک شخص کی گائے ہے اُس نے دوسرے کو دی کہ وہ اسے پالے چارہ کھلائے نگہداشت کرے اور جو بچہ پیدا ہو اُس میں دونوں نصف نصف کے شریک ہونگے تو یہ شرکت بھی فاسد ہے، بچہ اُس کا ہوگا جسکی گائے ہے اور دوسرے کو اُسی کے مثل چارہ دلایا جائیگا، جو اُسے کھلایا اور نگہداشت وغیرہ جو کام کیا ہے اسکی اُجرت مثل ملے گی۔ یوہیں بکریاں چرواہوں کو جو اسطرح دیتے ہیں کہ وہ چرائے اور نگہداشت(3) کرے اور بچہ میں دونوں شریک ہونگے یہ اُجرت بھی فاسد ہے بچہ اُس کا ہے جسکی بکری ہے اور چرواہے کو چرواہی اورنگہداشت کی اُجرت مثل ملے گی یا مرغی دوسرے کو دیدیتے ہیں کہ انڈے جو ہونگے وہ نصف نصف دونوں کے ہونگے یا مرغی اور انڈے بٹھانے کے لیے دوسرے کو دیتے ہیں کہ بچے ہوکر جب بڑے ہو جائینگے تو دونوں بحصئہ مساوی تقسیم کرلینگے یہ شرکت بھی فاسد ہے او ر اِس کا بھی وہی حکم ہے۔ اس کے جواز کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ گائے بکری مرغی وغیرہ میں آدھی دوسرے کے ہاتھ بیچ ڈالیں اب چونکہ ان جانوروں میں شرکت ہوگئی بچے بھی مشترک ہونگے۔(4) (عالمگیری،ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: دونوں شریکوں میں کوئی بھی مرجائے اُسکی موت کا علم شریک کو ہو یا نہ ہو بہر حال شرکت باطل ہوجائے گی یہ حکم شرکت عقد کا ہے اور شرکت ملک اگرچہ موت سے باطل نہیں ہوتی مگر بجائے میت اب اُسکے ورثہ شریک ہونگے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۶،ص۴۹۸.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۴.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۴.
3 ۔پرورش،دیکھ بھال۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۵.
و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،فصل في الشرکۃ الفاسدۃ،مطلب:یرجح القیاس،ج۶،ص۴۹۹.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ، فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،مطلب:یرجح القیاس،ج۶،ص۴۹۹.
مسئلہ ۱۳: تین شخصوں میں شرکت تھی ان میں ایک کا انتقال ہوگیا تو دو باقیوں میں بدستور شرکت باقی ہے۔(1) (بحر)
مسئلہ ۱۴: شریکوں میں سے معاذاﷲ کوئی مرتد ہو کر دارالحرب کو چلا گیا اور قاضی نے اُسکے دارالحرب میں لحوق کاحکم(2) بھی دیدیا تو یہ حکماًموت ہے اور اُس سے بھی شرکت باطل ہوجاتی ہے کہ اگر وہ پھر مسلم ہو کر دارالحرب سے واپس آیاتو شرکت عودنہ کریگی(3) اور اگر مرتد ہوا مگر ابھی دارالحرب کو نہیں گیا یا چلابھی گیا مگر قاضی نے اب تک لحوق کا حکم نہیں دیا ہے تو شرکت باطل ہونیکا حکم نہ دینگے بلکہ ابھی موقوف رکھیں گے اگر مسلمان ہوگیا تو شرکت بدستور ہے اور اگر مرگیایا قتل کیاگیا توشرکت باطل ہوگئی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: دونوں میں ایک نے شرکت کو فسخ(5) کردیا اگرچہ دوسرا اِس فسخ پر راضی نہ ہو جب بھی شرکت فسخ ہوگئی بشرطیکہ دوسرے کو فسخ کرنے کا علم ہو اور دوسرے کو معلوم نہ ہو ا تو فسخ نہ ہوگی اور یہ شرط نہیں کہ مال شرکت روپیہ اشرفی ہو بلکہ اگر تجارت کے سامان موجود ہیں جو فروخت نہیں ہوئے اور ایک نے فسخ کر دیا جب بھی فسخ ہو جائے گی۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: ایک شریک نے شرکت سے انکار کردیا یعنی کہتا ہے میں نے تیرے ساتھ شرکت کی ہی نہیں تو
شرکت جاتی رہی اور جوکچھ شرکت کا مال اُسکے پاس ہے اُس میں شریک کے حصہ کا تاوان دینا ہوگا کہ شریک امین ہوتا ہے اور امانت سے انکار خیانت ہے اور تاوان لازم اور اگر شرکت سے انکار نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے کہ میں تیرے ساتھ کام نہ کرونگا تو یہ بھی فسخ ہی ہے شرکت جاتی رہیگی اور اموال شرکت کی قیمت اپنے حصہ کے موافق شریک سے لیگا اور شریک
نے اموال کوبیچ کر کچھ منافع حاصل کیے تو منفعت سے اسے کچھ نہ ملے گا۔ (7)(درمختار، عالمگیری)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشرکۃ،فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۵،ص۳۰۸.
2 ۔یعنی دارالحرب میں چلے جانے کاحکم۔ 3 ۔یعنی پہلی شرکت دوبارہ قائم نہ ہوگی۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فیالشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۵.
5 ۔باطل ،ختم۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۶،ص۵۰۰.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۶،ص۵۰۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۹.
مسئلہ ۱۷: تین شخصوں میں شرکت مفاوضہ ہے ان میں دوشرکت کو توڑنا چاہتے ہوں تو جب تک تیسرا بھی موجود نہ ہو شرکت توڑ نہیں سکتے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: اگر ایک شریک پاگل ہوگیا اور جنوں بھی مُمتدہے (2)تو شرکت جاتی رہی اور دوسرے شریک نے بعد امتداد جنون (3) جو کچھ تصرف کیا یعنی شرکت کی چیزیں فروخت کیں اور نفع ملا تو سارانفع اسی کا ہے مگر مجنون کے حصہ میں جو نفع آتا اُسے تصدق(4) کردینا چاہيے کہ مِلک غیر(5)میں بغیر اجازت تصرف کرکے نفع حاصل کیا ہے اور بطلان شرکت کی دوسری صورتوں میں بھی ظاہر یہی ہے کہ شریک کے حصہ کے مقابل میں جو نفع ہے اُسے تصدق کردے۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: شریک کو یہ اختیار نہیں کہ بغیر اسکی اجازت کے اسکی طرف سے زکاۃادا کرے اگر زکاۃ دیگا تاوان دینا پڑے گا اور زکاۃ ادا نہ ہو گی اور اگر ہر ایک نے دوسرے کو زکاۃدینے کی اجازت دی ہے اپنی اور شریک دونوں کی زکاۃ دیدی تواگر یہ دینا بیک وقت ہوتو ہر ایک کو دوسرے کی زکاۃکا تاوان دینا ہوگا اور دونوں باہم مقاصہ (ادلابدلا) کرسکتے ہیں کہ نہ میں تم کو تاوان دوں نہ تم مجھ کو جبکہ دونوں نے ایک مقدار سے زکاۃ ادا کی ہو یعنی مثلاًاس نے اُسکی طرف سے دس۱۰ روپے ديے اور اُس نے اسکی طرف سے دس۱۰روپے دیے اور اگر ایک نے دوسرے کی طرف سے زیادہ دیا ہے اور دوسرے نے اسکی طرف سے کم تو زیادہ کو واپس لے اور باقی میں مقاصہ کرلیں اور اگر بیک وقت دینا نہ ہواایک نے پہلے دیدی دوسرے نے بعد کو تو پہلے والا کچھ نہ دیگا اور بعد والا تاوان دے بعد والے کومعلوم ہو کہ اس نے خود زکاۃ دیدی ہے یا معلوم نہ ہو بہر حال تاوان اُسکے ذمہ ہے۔ یوہیں علاوہ شریک کے کسی اور کو زکاۃ یا کفارہ کے ليے اس نے مامور(7) کیا تھا اور اس نے خود اس کے پہلے یا بیک وقت اداکر دیا تو مامور کا ادا کرناصحیح نہ ہوگا اور تاوان دینا پڑیگا۔(8) (درمختار، ردالمحتار، تبیین)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۶.
2 ۔ طویل ہے۔ 3 ۔یعنی جنون کے طویل ہونے کے بعد۔
4 ۔صدقہ۔ 5 ۔دوسرے کی ملکیت۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ، فصل في الشرکۃ الفاسدۃ،مطلب:یرجح القیاس،ج۶،ص۵۰۰۔۵۰۱.
7 ۔مقرر۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ، فصل في الشرکۃ الفاسدۃ،مطلب:یرجح القیاس،ج۶،ص۵۰۱.
و''تبیین الحقائق''،کتاب الشرکۃ،فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۵۰۱-۵۰۲.
مسئلہ ۲: دوشخصوں میں شرکت مفاوضہ ہے ایک نے دوسرے سے وطی کرنے(1) کے لیے کنیز(2)خریدنے کی اجازت مانگی دوسرے نے صریح لفظوں میں اجازت دیدی اُس نے خریدلی تو یہ کنیز مشترک نہ ہوگی بلکہ تنہااُسی کی ہے اور شریک کی طرف سے اسکو ہبہ سمجھا جائیگا مگر بائع ہر ایک سے ثمن کا مطالبہ کرسکتا ہے اور اگر شریک نے صاف لفظوں میں اجازت نہ دی مثلاًسکوت کیا (3) تو یہ اجازت نہیں اور وہ خریدے گاتو کنیز مشترک ہوگی او ر وطی جائز نہیں ہوگی۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۳: ایک شخص نے کوئی چیز خریدی ہے کسی دوسرے شخص نے اُس سے یہ کہامجھے اس میں شریک کرلے مشتری نے کہا شریک کرلیااگر یہ باتیں اُسوقت ہوئیں کہ مشتری نے مبیع(5)پر قبضہ کرلیا ہے تو شرکت صحیح ہے اور قبضہ نہ کیا ہوتو شرکت صحیح نہیں کیونکہ اپنی چیزمیں دوسرے کوشریک کرنا اُسکے ہاتھ بیع کرنا ہے اور بیع اُسی چیز کی ہوسکتی ہے جو قبضہ میں ہواور جب شرکت صحیح ہوگی تو نصف ثمن(6) دینا لازم ہوگا کہ دونوں برابر کے شریک قرار پائیں گے البتہ اگر بیان کر دیا ہے کہ ایک تہائی یا چوتھائی یا اتنے حصہ کی شرکت ہے تو جو کچھ بیان کیاہے اُتنی ہی شرکت ہوگی اور اُسی کے موافق ثمن دینا لازم ہوگا۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: ایک شخص نے کوئی چیز خریدی ہے دوسرے نے کہا مجھے اس میں شریک کرلے اُسنے منظور کرلیا پھر تیسرا شخص اُسے ملا اسنے بھی کہا مجھے اس میں شریک کرلے اور اسکو شریک کرنا بھی منظور کیا تو اگر اس تیسرے کو معلوم تھا کہ ایک شخص کی شرکت ہوچکی ہے تو تیسرا ایک چوتھائی کا شریک ہے اور دوسرانصف کااور اگر معلوم نہ تھاتو یہ بھی نصف کا شریک ہوگیا یعنی دوسرا اورتیسرادونوں شریک ہیں اور پہلا شخص اب اُس چیز کا مالک نہ رہا اور یہ شرکت شرکتِ ملک ہے۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۵: ایک شخص نے دوسرے سے کہا جو کچھ آج یا اس مہینے میں میں خریدوں گا اُس میں ہم دونوں شریک ہیں یاکسی خاص قسم کی تجارت کے متعلق کہا مثلاًجتنی گائیں یا بکریاں خریدوں گا اُن میں ہم دونوں شریک ہیں اور دوسرے نے منظور کیاتو شرکت صحیح ہے۔ (9)(عالمگیری وغیرہ)
1 ۔مجامعت کرنے،ہمبستری کرنے۔ 2 ۔لونڈی۔ 3 ۔خاموش رہا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ، فصل في الشرکۃ الفاسدۃ،ج۶،ص۵۰۱.
5 ۔بیچی گئی چیز۔ 6 ۔آدھی قیمت۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ، فصل في الشرکۃ الفاسدۃ،مطلب:یرجح القیاس،ج۶،ص۵۰۱۔۵۰۲.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ، فصل في الشرکۃ الفاسدۃ،ج۶،ص۵۰۱-۵۰۲.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الاول فی بیان انواع الشرکۃوأرکانھا...إلخ،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۰۲، وغیرہ.
مسئلہ ۶: دو ۲ شخصو ں کا دَین(1) ایک شخص پر واجب ہوا اور ایک ہی سبب سے ہوتو وہ دَین مشترک ہے مثلاًدونوں کی ایک مشترک چیز تھی اور اسے کسی کے ہاتھ اُدھار بیچا یا دونوں نے اپنی چیز ایک عقد کے ساتھ کسی کے ہاتھ بیع کی تو یہ دین مشترک ہے یا دونوں نے اُسے ایک ہزار قرض دیایادونوں کے مورث کا(2) کسی پر دین ہے یہ سب دین مشترک کی صورتیں ہیں اسکاحکم یہ ہے کہ جو کچھ اِس دَین میں کا ایک نے وصول کیا تو اس میں دوسرا بھی شریک ہے اپنے حصہ کے موافق تقسیم کرلیں اور جو چیز وصول کی ہے اُسکی جگہ پر اپنے شریک کو دوسری چیز دینا چاہتا ہے تو بغیر اُسکی مرضی کے نہیں دے سکتا یایہ دوسری چیز لینا چاہتا ہے تو اسکی مرضی کے بغیر نہیں لے سکتا اور جس نے وصول نہیں کیا ہے اسے یہ بھی اختیار ہے کہ وصول کنندہ(3)سے نہ لے بلکہ مدیون(4) سے یہ بھی وصول کرے مگر جبکہ مدیون نے تمام مطالبہ ادا کردیا ہے تو اب مدیون سے وصول نہیں کرسکتا بلکہ شریک ہی سے لے گا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: دوشخصوں کا دین کسی پر واجب ہے مگر دونوں کا ایک سبب نہ ہو بلکہ دو سبب خواہ حقیقۃً دوہوں یا حکماًتو یہ دین مشترک نہیں مثلاًدونوں نے اپنی دو چیزیں ایک شخص کے ہاتھ بیچیں اور ہر ایک نے اپنی چیز کا ثمن علیٰحدہ علیٰحدہ بیان کردیا یا دونوں کی ایک مشترک چیز تھی وہ بیچی اور اپنے اپنے حصہ کا ثمن بیان کردیا تو اب دین مشترک نہ رہا اور ایک نے مشتری(6)سے کچھ وصول کیا تو دوسرا اِس سے اپنے حصہ کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: ایک شخص پر ہزار روپیہ دَین تھا دو شخصوں نے اسکی ضمانت کی اور ضامنوں نے اپنے مشترک مال سے ہزار ادا کرديے پھر ایک ضامن نے مدیون سے کچھ وصول کیا تو دوسرا بھی اس میں شریک ہے اور اگر ضامن نے اُس سے روپیہ وصول نہیں کیا بلکہ اپنے حصہ کے بدلے میں مدیون سے کوئی چیز خریدلی تو دوسرا اُس چیز کا نصف ثمن اُس سے وصول کرسکتا ہے اور اگر دونوں چاہیں تو اُس چیز میں شرکت کرلیں اور اگر ایک ضامن نے چیز نہیں خریدی بلکہ اپنے حصہ دین کے مقابل میں اُس چیز پر مصالحت(8) کی اور چیزلے لی اب دوسرا مطالبہ کرتا ہے تو پہلے کو اختیار ہے کہ آدھی چیز دیدے یا اُسکے حصہ کا آدھادین
1 ۔قرض۔ 2 ۔یہ دونوں جس کے وارث ہیں اس کایعنی مرنے والے کا۔
2 ۔وصول کرنے والا۔ 3 ۔ مقروض۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب السادس فی المتفرقات،ج۲،ص۳۳۶.
5 ۔ خریدار۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب السادس فی المتفرقات،ج۲،ص۳۳۷.
7 ۔صلح۔
ادا کردے اور مال مشترک سے ادانہ کیا ہو تو دوسرا اُس میں شریک نہیں اور اب جو کچھ اپنا حق وصول کریگا دوسرے کو اُس سے تعلق نہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: دوشخصوں کے ایک شخص پر ہزار روپے دین ہیں اُن میں ایک نے پورے ہزار سے سوروپیہ میں صلح کرلی اوریہ سو روپے اُس سے لے بھی ليے اسکے بعد شریک نے جو کچھ اُس نے کیا جائز رکھا تو سومیں سے پچاس اُسے ملیں گے اور اگرقابض کہتا ہے کہ وہ روپے میرے پاس سے ضائع ہوگئے تو شریک کو اسکا تاوان نہیں ملے گاکہ جب اُس نے سب کچھ جائزکردیا تو یہ امین ہوااور امین پر تاوان نہیں اور اگر شریک نے صلح کو جائز رکھا مگر یہ نہیں کہا کہ جو کچھ اُس نے کیا میں نے سب جائز رکھا تو یہ شریک مدیون سے اپنے حصہ کے پچاس وصول کرسکتا ہے اور مدیون یہ پچاس اُس سے واپس لے گا جس کو سوروپے ديے ہیں کہ اس صورت میں صلح کی اجازت ہے قبضہ کی نہیں تو امین نہ ہوا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: ایک مکان دوشخصوں میں مشترک ہے ایک شریک غائب ہوگیا تو دوسرا بقدر اپنے حصہ کے اُس مکان میں سکونت(3) کرسکتا ہے اور اگر وہ مکان خراب ہوگیا او ر اسکی سکونت کی وجہ سے خراب ہوا ہے تو اسکا تاوان دینا پڑے گا۔ (4)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۱: مکان دوشخصوں میں مشترک تھا اور تقسیم ہوچکی ہے اور ہر ایک کا حصہ ممتاز (5)ہے اور ایک حصہ کا مالک غائب ہوگیاتو دوسرا اُس میں سکونت نہیں کرسکتا اور نہ بغیر اجازت قاضی اُسے کرایہ پر دے سکتا ہے اور اگر خالی پڑارہنے میں خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو قاضی اُسکو کرایہ پر دیدے اور کرایہ مالک کے ليے محفوظ رکھے اور دو شخصوں میں مشترک کھیت ہے اور ایک شریک غائب ہوگیا تو اگر کاشت کرنے سے زمین اچھی ہوتی رہے گی تو پوری زمین میں کاشت کرے جب دوسراشریک آجائے تو جتنی مدت اُس نے کاشت کی ہے وہ کرلے اور اگر کاشت سے زمین خراب ہوگی یا کاشت نہ کرنے میں اچھی ہوگی تو کُل زمین میں کاشت نہ کرے بلکہ اپنے ہی حصہ کی قدر میں زراعت کرے۔(6) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب السادس فی المتفرقات،ج۲،ص۳۳۶-۳۳۷.
2 ۔المرجع السابق،ص۳۴۰.
3 ۔رہائش۔
4 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب السادس فی المتفرقات،ج۲،ص۳۴۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ، فصل في الشرکۃ الفاسدۃ،ج۶،ص۵۰۶
5 ۔نمایاں ،ظاہر،معلوم ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب السادس فی المتفرقات،ج۲،ص۳۴۱-۳۴۲.
مسئلہ ۱۲: غلہ یا روپیہ مشترک ہے اور ایک شریک غائب ہے اور جوموجود ہے اُسے ضرورت ہے تو اپنے حصہ کے لائق(1) لے کر خرچ کرسکتا ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: دو شخص شریک ہوں اور ہر ایک کو دوسرے کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہو اور شریک کوکام کرنا اور اُس پر خرچ کرنا ضروری ہو، اگر بغیر اجازت شریک خرچ کریگا تو یہ خرچ کرنا تبرع (3)ہوگا اور اسکا معاوضہ کچھ نہ ملے گا، مثلاً چکی دو۲ شخصوں میں مشترک ہے اور عمارت خراب ہوگئی مرمت کی ضرورت ہے اور بغیر اجازت ایک نے مرمت کرادی تو اُس کا خرچہ شریک سے نہیں لے سکتا یا شریک سے اس نے اجازت طلب کی اُس نے کہہ دیا کہ کام چل سکتا ہے مرمت کی ضرورت نہیں اور اس نے صرف کردیا تو کچھ نہیں پائیگا یا کھیت مشترک ہے اور اُس پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے یا غُلام مشترک ہے اُس کونفقہ وغیرہ دینا ضروری ہے ان میں بھی بغیر اجازت صرف کرنے پر کچھ نہیں پائے گاکیونکہ ان سب شریکوں کو خرچ کرنے پرمجبور کیا جاسکتا ہے اگر وہ اجازت نہیں دیتا قاضی کے پاس دعویٰ کردے قاضی اُسے خرچ کرنے پر مجبور کریگا پھر اسے خرچ کرنے کی کیا حاجت رہی، لہٰذا تبرع ہے۔ اور اگر خرچ کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور یہ بغیر خرچ کيے اپنا کام نہیں چلاسکتا تو بغیر اجازت خرچ کرنا تبرع نہیں مثلاًدو منزلہ مکان ہے اوپر کا ایک شخص کا ہے اور نیچے کا دوسرے کا، نیچے کا مکان گرگیا اور یہ اپنا حصہ نہیں بنواتاکہ بالاخانہ والا اسکے اوپر تعمیر کرائے اور نیچے والا بنوانے پر مجبوربھی نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا اگر بالاخانہ والے نے نیچے کے مکان کی تعمیر کرائی تو متبرع (4)نہیں۔ یوہیں مشترک دیوار ہے جس پر ایک شریک نے کڑیاں (5)ڈال کر اپنے مکان کی چھت پاٹی ہے اور یہ دیوار گرگئی شریک جب تک یہ دیوار تعمیر نہ کرائے اُسکا کام نہیں چل سکتا تو دیواربنانا تبرع نہیں اور اگر شریک کواس کام کا کرنا ضروری نہ ہواور بغیر اجازت کریگا تو تبرع ہے۔ جیسے دو شخصوں میں مکان مشترک ہے اور خراب ہورہا ہے اسکی تعمیر ضروری ہے مگر بغیر اجازت جو صرفہ(6) کریگا اُس کا معاوضہ نہیں ملے گاکہ ہوسکتا ہے مکان تقسیم کراکے اپنے حصہ کی مرمت کرالے پورے مکان کی مرمت کرانے کی اسکو کیا ضرورت ہے۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: تین جگہوں میں شریک کو مرمت و تعمیر پر مجبور کیا جائے گا۔ 1 وصی و2 ناظرِ اوقاف (8)3 اور اُس
1 ۔مطابق۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب السادس فی المتفرقات،ج۲،ص۳۴۲.
3 ۔احسان۔ 4 ۔احسان کرنے والا۔ 5 ۔شہتیر۔ 6 ۔خرچہ۔
7 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب مھم:فیما اذا امتنع الشریک من العمارۃ ...إلخ ،ج۶،ص ۵۰۸.
8 ۔مال وقف کی نگرانی کرنے والا۔
چیزکے قابل قسمت(1) نہ ہونے میں۔ وصی کی صورت یہ ہے کہ دو نا بالغ بچوں میں دیوار مشترک ہے جس پر چھت پٹی ہے(2) اور دیوار کے گرنے کا اندیشہ ہے اور دونوں نا بالغوں کے دو وصی ہیں ایک وصی مرمت کرانے کو کہتا ہے دوسرا انکار کرتا ہے قاضی ایک امین بھیجے گا اگر یہ بیان کرے کہ مرمت کی ضرورت ہے تو جو انکار کرتا ہے اُسے مرمت کرانے پر قاضی مجبور کریگا۔ یوہیں اگر مکان دو وقفوں میں مشترک ہے جسکی مرمت کی ضرورت ہے اور ایک کا متولی انکار کرتا ہے تو قاضی اُسے مجبور کریگا۔ اور غیر قابل قسمت مثلاًنہر یا کوآں یا کشتی اور حمام اور چکی کہ ان میں مرمت کی ضرورت ہوگی تو قاضی جبراً مرمت کرائے گا۔(3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: ایک شخص نے دوسرے کو اِس طور پر مال دیا کہ اس میں کاآدھا اُسے بطور قرض دیا ہے اور دونوں نے اس روپیہ سے شرکت کی اور مال خریدا اور جس نے روپیہ دیا ہے وہ اپنے قرض کا روپیہ طلب کررہا ہے اور ابھی تک مال فروخت نہیں ہوا کہ روپیہ ہوتا اگر فروخت تک انتظارکرے فبہا(4) ورنہ مال کی جو اس وقت قیمت ہواُسکے حساب سے اپنے قرض کے بدلے میں مال لے لے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: مشترک سامان لاد کر ایک شریک لے جارہا ہے اور دوسرا شریک موجود نہیں ہے راستے میں بار برداری کا جانور(6) تھک کر گر پڑا اور مال ضائع ہونے یا نقصان کا اندیشہ ہے اس نے شریک کی عدم موجود گی میں بار برداری کا دوسرا جانور کرایہ پر لیا تو حصہ کی قدر شریک سے کرایہ لے گا اور اگر مشترک جانور تھا جو بیمار ہوگیاشریک کی عدم موجودگی میں ذبح کر ڈالا اگر اُسکے بچنے کی اُمید تھی تو تاوان لازم ہے ورنہ نہیں اور شریک کے علاوہ کوئی اجنبی شخص ذبح کردے تو بہر حال تاوان ہے۔ یوہیں چرواہے نے بیمار جانور کو ذبح کر ڈالا اور اچھے ہونے کی اُمید نہ تھی تو چرواہے پر تاوان نہیں ورنہ تاوان ہے۔ اور اجنبی پر بہر حال تاوان ہے۔ (7)(خانیہ، درمختار، ردالمحتار)
1 ۔تقسیم کے قابل۔ 2 ۔ڈالی ہوئی ہے۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ، مطلب مھم:فیما اذا امتنع الشریک من العمارۃ...إلخ،ج۶،ص۵۰۸.
4 ۔تو صحیح،توٹھیک۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۵۰۵.
6 ۔سامان اٹھاکر لے جانے والا جانور ۔
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الشرکۃ،فصل فی شرکۃ العنان،ج۲،ص۴۹۳.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:دفع الفاً علی أنّ نصفہ قرض...إلخ،ج۶،ص۵۰۶.
مسئلہ ۱۷: مشترک جانور بیمار ہوگیا اور بیطار (جانور کے علاج کرنے والے) نے داغنے کو کہا اور داغ دیا اس سے جانور مرگیا تو کچھ نہیں اور بغیر بیطارکی رائے کے خود کرے تو تاوان ہے۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: کھیت مشترک تھاا سکو ایک شریک نے بغیر اجازت بودیا دوسرا شریک نصف بیج دینا چاہتا ہے تاکہ زراعت مشترک رہے اگر جمنے (2)کے بعد دیا ہے جائز ہے اور پہلے دیا تو ناجائز اور دوسرا شریک کہتا ہے کہ میں اپنا حصہ کچی زراعت کا اوکھاڑلوں گا(3) تو تقسیم کردی جائے اسکے حصہ میں جتنی کھیتی پڑے اوکھڑوا لے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۹: ایک شریک نے مدیون کی کوئی چیز ہلاک کردی اور اسکاتاوان لازم آیا اس نے مدیون سے مقاصہ(5) کرلیا تو اس کا نصف دوسرا شریک اِس شریک سے وصول کرسکتا ہے کیونکہ مقاصہ کی وجہ سے نصف دین وصول ہوگیا۔ یوہیں ایک شریک نے اپنے حصہ دَین کے بدلے میں مدیون کی کوئی چیز اپنے پاس رہن رکھی اور وہ چیز ہلاک ہوگئی تو دوسرا شریک اس کا نصف اس شریک سے وصول کرسکتا ہے۔ یوہیں اگر مدیون نے ایک شریک کو اُسکے حصہ کے لائق کسی کو ضامن دیا یا کسی پر حوالہ کر دیا تو ضامن یا حوالہ والے سے جو کچھ وصول ہوگا دوسرا شریک اس میں سے اپنا حصہ لے گا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: دو شریکوں کے ایک شخص پر ہزار روپے باقی ہیں اور ایک شریک دوسرے کے ليے مدیون کی طرف سے ضامن ہوا تو یہ ضمان باطل ہے اور اِس ضمان کی وجہ سے ضامن نے دوسرے کو اُسکا حصہ ادا کردیا تو اس میں سے اپنا حصہ واپس لے سکتا ہے اور اگر بغیر ضامن ہوئے شریک کو روپیہ ادا کردیا تو ادا کرنا صحیح ہے اور اِس میں سے اپنا حصہ واپس نہیں لے سکتا اور فرض کیا جائے کہ مدیون سے وصول ہی نہ ہوسکا جب بھی شریک سے مطالبہ نہیں کرسکتا اور اگر مدیون خود یا اجنبی نے اسکے شریک کا حصہ ادا کردیا ہے اور اُس نے برقرار رکھا اپنا حصہ اُس میں سے نہ لیا اور مدیون سے اسکا حصہ وصول نہیں ہوسکتا ہے تو شریک کو جوکچھ ملا ہے اُس میں سے اپنا حصہ واپس لے سکتا ہے۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:دفع الفاً علی ان نصفہ قرض ونصفہ...إلخ،ج۶،ص ۵۰۶.
2 ۔ اُگنے۔ 3 ۔یعنی پودے جڑوں سمیت نکال لوں گا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،فصل في الشرکۃ الفاسدۃ،ج۶،ص۵۱۱.
5 ۔ ادلا بدلا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب السادس فی المتفرقات،ج۲،ص۳۳۹.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب السادس فی المتفرقات،ج۲،ص۳۳۶.
ـــ
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:دفع الفاً علی ان نصفہ قرض ونصفہ...إلخ،ج۶،ص ۵۰۶.
2 ۔ اُگنے۔ 3 ۔یعنی پودے جڑوں سمیت نکال لوں گا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،فصل في الشرکۃ الفاسدۃ،ج۶،ص۵۱۱.
5 ۔ ادلا بدلا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب السادس فی المتفرقات،ج۲،ص۳۳۹.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب السادس فی المتفرقات،ج۲،ص۳۳۶.
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب اِنسان مر جاتا ہے اُسکے عمل ختم ہوجاتے ہیں، مگر تین چیزوں سے (کہ مرنے کے بعد اُنکے ثواب اعمال نامہ میں درج ہوتے رہتے ہیں۔) 1صدقہ جاریہ (مثلاً مسجد بنادی، مدرسہ بنایا کہ اسکا ثواب برابر ملتا رہے گا)۔ یا 2 علم جس سے اُسکے مرنے کے بعد لوگوں کو نفع پہنچتا رہتا ہے۔ یا 3 نيک اولاد چھوڑ جائے جو مرنے کے بعد اپنے والدین کے ليے دعا کرتی رہے۔'' (1)
حدیث ۲: صحیح بخاری و صحیح مسلم و ترمذی و نسائی وغیرہا میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو خیبرمیں ایک زمین ملی۔ اُنھوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ عرض کی، کہ یارسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم )مجھ کو ایک زمین خیبر میں ملی ہے کہ اُس سے زیادہ نفیس کوئی مال مجھ کو کبھی نہیں ملا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اسکے متعلق کیا حکم دیتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: ''اگر تم چاہو تو اصل کو روک لو (وقف کردو) اور اسکے منافع کو تصدق کر دو۔'' حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اُس کو اِس طور پر وقف کیا کہ اصل نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے، نہ اُسمیں وراثت جاری ہو اور اُسکے منافع فقرا اور رشتہ والوں اور اﷲ (عزوجل) کی راہ میں اور مسافر و مہمان میں خرچ کيے جائیں اور خود متولی اس میں سے معروف کے ساتھ کھائے یا دوسرے کو کھلائے تو حرج نہیں بشرطیکہ اُس میں سے مال جمع نہ کرے۔ (2)
حدیث ۳: ابن جریر محمد بن عبدالرحمن قرشی سے راوی، کہ حضرت عثمان بن عفان و زبیر بن عوام و طلحہ بن عبیداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے اپنے مکانات وقف کيے تھے۔ (3)
حدیث ۴: ابن عسا کرنے ابی معشر سے روایت کی، کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے وقف میں یہ شرط کی تھی، کہ اُنکی اکابر اولاد سے جو دین دار اورصاحبِ فضل ہو، اُسکو دیا جائے۔ (4)
حدیث ۵: ابوداود و نسائی سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، انھوں نے عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سعد کی ماں کا انتقال ہوگیا (میں ایصال ثواب کے ليے کچھ صدقہ کرنا چاہتا ہوں) تو کون سا صدقہ افضل ہے؟
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الوصیۃ،باب ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ،الحدیث:۱۴-(۱۶۳۱)،ص۸۸۶.
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الوصیۃ،باب الوقف،الحدیث:۱۵۔(۱۶۳۲)،ص۸۸۶.
3 ۔''کنزالعمال''،کتاب الوقف،قسم الافعال،الحدیث:۴۶۱۴۳،ج۱۶،ص۲۷۰.
4 ۔''کنزالعمال''،کتاب الوقف قسم الافعال،الحدیث:۴۶۱۴۴،ج۱۶،ص۲۷۰.
ارشاد فرمایا: ''پانی۔'' (کہ پانی کی وہاں کمی تھی اور اسکی زیادہ حاجت تھی) اُنھوں نے ایک کوآں کھودوا دیا اور کہہ دیا کہ یہ سعد کی ماں کے ليے ہے (1)یعنی اس کا ثواب میری ماں کو پہنچے۔ اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ مُردوں کو ایصال ثواب کرنا جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی چیز کو نامزد کردینا کہ یہ فلاں کے ليے ہے یہ بھی جائز ہے، نامزد کرنے سے وہ چیز حرام نہیں ہوجاتی۔
حدیث ۶: ترمذی و نسائی و دارقطنی ثمامہ بن حزن قشیری سے راوی، کہتے ہیں میں واقعہ دار میں حاضر تھا (یعنی جب باغیوں نے حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان کا محاصرہ کیا تھا جس میں وہ شہید ہوئے) حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے بالا خانہ سے سر نکال کر لوگوں سے فرمایا: میں تم کو اﷲ (عزوجل) اور اسلام کے حق کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ میں تشریف لائے تو مدینہ میں سوا بیر رومہ(2)کے شیریں(3)پانی نہ تھا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''کون ہے جو بیر رومہ کو خرید کر اُس میں اپنا ڈول مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ کر دے (یعنی وقف کردے کہ تمام مسلمان اُس سے پانی بھریں) اور اُس کو اسکے بدلے میں جنت میں بھلائی ملے گی۔'' تو میں نے اُسے اپنے خالص مال سے خریدا اور آج تم نے اُسی کوئیں کا پانی مجھ پر بند کردیا ہے یہاں تک کہ میں کھاری(4) پانی پی رہا ہوں۔ لوگوں نے کہا، ہاں ہم جانتے ہیں یہ بات صحیح ہے۔ پھر حضرت عثمان نے فرمایا: میں تم کو اﷲ (عزوجل) اور اسلام کے حق کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہوکہ مسجد تنگ تھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کون ہے جو فلاں شخص کی زمین خرید کر مسجد میں اضافہ کرے، اسکے بدلے میں اُسے جنت میں بھلائی ملے گی۔'' میں نے خاص اپنے مال سے اُسے خریدا اور آج اُسی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے سے تم مجھے منع کرتے ہو۔ لوگوں نے جواب میں کہا، ہاں ہم جانتے ہیں۔ پھر حضرت عثمان نے فرمایا: کہ اﷲ (عزوجل) اور اسلام کے حق کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کوہِ ثَبِیر(5) پر تھے اورحضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے ہمراہ ابوبکر و عمر تھے اور میں تھا کہ پہاڑ حرکت کرنے لگا، یہاں تک کہ ایک پتھرٹوٹ کر نیچے گرا، حضور(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے پائے اقدس پہاڑ پر مارے اور فرمایا: ''اے ثَبِیر! ٹھہر جا اس ليے کہ تجھ پر نبی( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اور صدیق اور دو شہید ہیں۔'' لوگوں نے کہا، ہاں ہم جانتے ہیں۔ حضرت عثمان نے تکبیر کہی اور کہا کہ کعبہ کے رب کی قسم! ان لوگوں نے گواہی دی کہ میں شہید ہوں۔ (6)
حدیث ۷: صحیح مسلم و بخاری وغیرہما میں عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
1 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الزکاۃ،باب في فضل سقی المائ،الحدیث:۱۶۸۱،ج۲،ص۱۸۰.
2 ۔ایک کنویں کانام ۔ 3 ۔میٹھا ۔ 4 ۔نمکین ۔ 5 ۔مزدلفہ میں ایک پہاڑ کانام ہے ۔
6 ۔''جامع الترمذي''،ابواب المناقب،باب مناقب عثمان بن عفان،الحدیث:۳۷۲۳،ج۵،ص۳۹۲،۳۹۳.
''جو اﷲ (عزوجل) کے ليے مسجد بنائے گا، اﷲ (عزوجل) اُسکے ليے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔'' (1)
حدیث ۸: ابوداود و نسائی ودارمی و ابن ماجہ انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''قیامت کی علامات میں سے یہ ہے، کہ لوگ مساجد کے متعلق تَفَاخُر(2) کریں گے۔'' (3)
حدیث ۹: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے کے ليے بھیجا پھر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے کسی نے عرض کی، کہ ابن جمیل و خالد بن ولیدو عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے زکاۃ نہیں دی۔ ارشاد فرمایا: کہ ''ابن جمیل کا انکار صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ فقیر تھا، اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اُسے غنی کردیا یعنی اُسکا انکار بلا سبب ہے اور قابل قبول نہیں اور خالد پر تم ظلم کرتے ہو (کہ اُس سے زکاۃ مانگتے ہو) اُسنے اپنی زرہیں اور تمام سامانِ حرب(4)اﷲ (عزوجل) کی راہ میں وقف کر دیا ہے یعنی وقف کے سوا کیا ہے جس کی زکاۃ تم مانگتے ہو اور عباس کا صدقہ میرے ذمہ ہے اور اتنا ہی اور یعنی دو سال کی زکاۃاُن کی طرف سے میں ادا کروں گا پھر فرمایا: اے عمر! تمھیں معلوم نہیں کہ چچا بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے''۔(5)
وقف کے یہ معنی ہیں کہ کسی شے کو اپنی ملک سے خارج کرکے خالص اﷲ عزوجل کی ملک کردینا اسطرح کہ اُسکا نفع بند گانِ خدا میں سے جس کو چاہے ملتا رہے۔ (6)
مسئلہ ۱: وقف کو نہ باطل کرسکتا ہے نہ اس میں میراث جاری ہوگی نہ اسکی بیع ہوسکتی ہے نہ ہبہ ہوسکتا ہے۔ (7) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲: وقف میں اگر نیت اچھی ہو اور وہ وقف کنندہ (8)اہل نیت یعنی مسلمان ہو تو مستحق ثواب ہے۔ (9)(درمختار)
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب المساجد...إلخ،باب فضل بناء المساجد...إلخ،الحدیث:۲۵۔(۵۳۳)،ص۲۷۰.
2 ۔یعنی ناموری ، ریاکاری ،اور بڑائی کی نیت سے مساجد تعمیر کریں گے ،مساجد کو بہت خوبصور ت بنائیں گے پھر ان میں بیٹھ کر باہم ایک دوسرے پر فخر
کریں گے ذکر وتلاوتِ قرآن اور نماز میں مشغول نہیں ہوں گے۔(شرح سنن أبی داؤدللعینی ،ج۲،ص۳۴۳)۔...عِلْمِیہ
3 ۔''سنن نسائي''،کتاب المساجد،باب المباہاۃ في المساجد،الحدیث:۶۸۶،ص۱۲۰.
4 ۔جنگی سامان۔
5 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الزکاۃ، باب قول اللہ تعالٰی( وفي الرقاب والغارمین وفي سبیل اللہ )،الحدیث:۱۴۶۸،ج۱،ص۴۹۶.
و''صحیح مسلم''،کتاب الزکاۃ،باب في تقدیم الزکاۃ ومنعھا،الحدیث:۱۱-(۹۸۳)،ص۴۸۹.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفۃ ورکنہ وسببہٖ...إلخ،ج۲،ص۳۵۰.
7 ۔المرجع السابق،وغیرہ.
8 ۔وقف کرنے والا
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۱۹.
مسئلہ ۳: وقف ایک صدقہ جاریہ ہے کہ واقف ہمیشہ اس کا ثواب پاتا رہے گا اور سب میں بہتر وہ وقف ہے جس کی مسلمانوں کو زیادہ ضرورت ہو اور جس کا زیادہ نفع ہو مثلاًکتا بیں خرید کر کتب خانہ بنایا اور وقف کردیا کہ ہمیشہ دین کی باتیں اسکے ذریعہ سے معلوم ہوتی رہیں گی۔(1) (عالمگیری) اور اگر وہاں مسجد نہ ہواور اسکی ضرورت ہو تو مسجد بنوانا بہت ثواب کا کام ہے اور تعلیم علم دین کے ليے مدرسہ کی ضرورت ہو تو مدرسہ قائم کردینا اور اسکی بقاء کے ليے جائداد وقف کرنا کہ ہمیشہ مسلمان اس سے فیض پاتے رہیں نہایت اعلیٰ درجہ کا نیک کام ہے۔
مسئلہ ۴: وقف کی صحت کے ليے یہ ضرورنہیں کہ اُسکے ليے متولی مقرر کرے اور اپنے قبضہ سے نکال کر متولی کا قبضہ دلا دے بلکہ واقف نے اگر اپنے ہی قبضہ میں رکھا جب بھی وقف صحیح ہے اورمشاع کا وقف بھی صحیح ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: وقف کا حکم یہ ہے کہ شے موقوف(3)واقف کی ملک سے خارج ہوجاتی ہے مگر موقوف علیہ (یعنی جس پر وقف کیا ہے اُسکی) مِلک میں داخل نہیں ہوتی بلکہ خالص اﷲ تعالیٰ کی مِلک قرار پاتی ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: وقف کے ليے مخصوص الفاظ ہیں جن سے وقف صحیح ہوتا ہے مثلاًمیری یہ جائداد صدقہ موقوفہ(5)ہے کہ ہمیشہ مساکین پر اس کی آمدنی صرف ہوتی رہے یا اﷲ تعالیٰ کے ليے میں نے اسے وقف کیا۔ مسجد یا مدرسہ یا فلاں نیک کام پر میں نے وقف کیا یا فقرا پر وقف کیا۔ اس چیز کو میں نے اﷲ (عزوجل) کی راہ کے ليے کردیا۔(6)
مسئلہ ۷: میری یہ زمین صدقہ ہے یا میں نے اُسے مساکین پر تصدق کیا(7) اس کہنے سے وقف نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک منت ہے کہ اُس شخص پر وہ زمین یا اُسکی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے صدقہ کردیا تو بری الذّمہ(8)ہے، ورنہ مرنے کے بعد یہ چیز ورثہ(9) کی ہوگی اور منت نہ پورا کرنے کا گناہ اُس شخص پر۔ (10)(فتح القدیر)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الرابع عشر فی المتفرقات،ج۲،ص۴۸۱-۴۸۲.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفۃ ورکنہ وسببہٖ...إلخ،ج۲،ص۳۵۱.
3 ۔ وقف کی گئی چیز۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفہ ورکنہٖ...إلخ،ج۲،ص۳۵۲.
5 ۔وقف شدہ صدقہ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفہ ورکنہٖٖ...إلخ،فصل فی الالفاظ ...إلخ،ج۲،ص۳۵۷.
7 ۔صدقہ کیا۔ 8 ۔ یعنی منت پوری ہو گئی۔ 9 ۔ورثائ، میت کے وارثین۔
10 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۱۸.
مسئلہ ۸: اس زمین کو میں نے فقرا کے ليے کر دیا،گر یہ لفظ وقف میں معروف ہو تو وقف ہے ورنہ اُس سے دریافت کیا جائے اگر کہے میری مراد وقف تھی تو وقف ہے یا مقصود صدقہ تھا یا کچھ ارادہ تھا ہی نہیں تو ان دونوں صورتوں میں نذر ہے مگر فرض کرو اُس شخص نے نذرپوری نہیں کی یعنی نہ وہ چیز صدقہ کی نہ اُسکی قیمت ،اور مرگیا تو اُس میں وراثت جاری ہوگی ورثہ پر منت کا پورا کرنا ضرورنہیں۔ (1)(فتح القدیر)
مسئلہ ۹: کسی نے کہا میں نے اپنے باغ کی پیداوار وقف کی یااپنی جائداد کی آمدنی وقف کی تو وقف صحیح ہوجائے گا کہ مراد باغ کو وقف کرنا یا جائداد کو وقف کرنا ہے، لہٰذا اگر باغ میں اس وقت پھل موجود ہیں تو یہ پھل وقف میں داخل نہ ہونگے۔(2) (فتح القدیر)
مسئلہ ۱۰: کسی مکان کی آمدنی ہمیشہ مساکین کو دینے کے ليے وصیت کی یا جب تک فلاں زندہ رہے اُس کو دیجائے اُسکے بعد ہمیشہ مساکین کے ليے تو اگرچہ صراحۃً (3)یہ وقف نہیں مگر ضرورۃًوقف ہے۔ (4)(فتح القدیر)
مسئلہ ۱۱: یہ کہا کہ میں نے اپنی یہ جائداد وقف کی میری طرف سے حج و عمرہ میں اسکی آمدنی صرف ہوگی تو وقف صحیح ہے اور اگر یہ کہا کہ یہ جائداد صدقہ ہے جس کو بیع نہ کیا جائے تو وقف نہیں بلکہ صدقہ کی منت ہے اور اگر یہ کہا کہ صدقہ ہے جس کو نہ بیع کیا جائے، نہ ہبہ کیا جائے، نہ اس میں میراث جاری ہو تو فقرا پر وقف ہے۔ (5)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۲: یہ کہا کہ میرے اِس مکان کے کرایہ سے ہر مہینہ میں دس ۱۰ روپے کی روٹی خرید کر مساکین کو تقسیم کر دیا کرو تو اِس کہنے سے وہ مکان وقف ہوگیا۔ (6)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۳: وقف چونکہ ایک قسم کا تبرع(7)ہے کہ بغیر معاوضہ اپنا مال اپنی مِلک سے خارج کرنا ہے، لہٰذا تمام وہ شرائط جو تبرعات میں ہیں یہاں بھی معتبر ہیں اور ان کے علاوہ بھی شرطیں ہیں۔ وقف کے شرائط یہ ہیں:
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۱۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔واضح طور پر۔
4 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۱۹.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۱۸.
6 ۔المرجع السابق،ص۳۱۹.
7 ۔نفلی عبادت ،صدقہ،خیرات۔
(۱)واقف کا عاقل ہونا۔
(۲)بالغ ہونا۔ نا بالغ اور مجنون نے وقف کیا یہ صحیح نہیں ہوا۔
(۳)آزاد ہونا۔ غلام نے وقف کیا صحیح نہ ہوا۔ اسلام شرط نہیں، لہٰذا کافر ذمی کا وقف بھی صحیح ہے۔ مثلاً یوں کہ اولاد پر جائداد وقف کی کہ اُس کی آمدنی اولاد کو نسلاًبعد نسل(1) ملتی رہے اور اولادمیں کوئی نہ رہے تو مساکین پر صرف کی جائے یہ وقف جائز ہے اور اگر اُس نے اپنے ہم مذہب مساکین کی تخصیص(2) کی یا یہ شرط لگادی کہ اُس کی اولاد سے جوکوئی مسلمان ہو جائے اُسے اس کی آمدنی نہ دی جائے تو جس طرح اُس نے کہا یا لکھا ہے اُسی کے موافق کیا جائے۔ اور اگراولاد پر اُس نے وقف کیا اور ہم مذہب ہونے کی شرط نہیں کی ہے تو اُسکی اولاد میں جوکوئی مسلمان ہو جائے گا اُسے بھی ملے گا کہ اِس صورت میں اُس کی شرط کے خلاف نہیں۔
(۴) وہ کام جس کے ليے وقف کرتا ہے فی نفسہ ثواب کا کام ہو یعنی واقف کے نزدیک بھی وہ ثواب کا کام ہواور واقع میں بھی ثواب کا کام ہو اگر ثواب کاکام نہیں ہے تو وقف صحیح نہیں مثلاًکسی نا جائز کام کے ليے وقف کیا اور اگر واقف کے خیال میں وہ نیکی کا کام ہو مگر حقیقت میں ثواب کا کام نہ ہو تو وقف صحیح نہیں اور اگر واقع میں ثواب کا کام ہے مگر واقف کے اعتقاد میں کار ثواب(3) نہیں جب بھی وقف صحیح نہیں، لہٰذا اگر نصرانی نے بیت المقدس پر کوئی جائداد وقف کی کہ اس کی آمدنی سے اُس کی مرمت کی جائے یا اُسکے تیل بتی میں صرف کی جائے یہ جائز ہے یا یوں وقف کیا کہ ہرسال ایک غلام خرید کر آزادکیا جائے یا مساکین اہل ذمہ یامسلمین پر صرف کیا جائے یہ جائز ہے اور اگر گرجا(4)یا بُت خانہ کے نام وقف کیا کہ اُس کی مرمت یا چراغ بتی میں صرف کیا جائے یا حربیوں پر صرف کیا جائے تو یہ باطل ہے کہ یہ ثواب کاکام نہیں اور اگر نصرانی نے حج وعمرہ کے ليے وقف کیا جب بھی وقف صحیح نہیں کہ اگرچہ یہ کار ثواب ہے مگر اس کے اعتقاد میں ثواب کا کام نہیں۔(5)(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری، بدائع وغیرہا)
مسئلہ ۱۴: کافر نے گر جا یا بُت خانہ کے ليے وقف کیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اگر یہ گرجا یا بُت خانہ ویران ہو جائے تو
1 ۔یعنی نسل در نسل۔ 2 ۔یعنی اپنے مذہب کے مساکین کے لئے خاص کیا ۔
3 ۔ثواب کاکام ۔ 4 ۔عیسائیوں کی عبادت گاہ۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:لووقف علی الاغنیائ...إلخ،ج۶،ص۵۱۸۔۵۲۲.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفہ ورکنہٖ...إلخ،ج۲،ص۳۵۲-۳۵۳.
و''بدائع الصنائع''،کتاب الوقف والصدقۃ،ج۵،ص ۳۲۸-۳۲۹وغیرہا.
فقرا ومساکین پر اُسکی آمدنی صَرف کی جائے تو گرجا یا بُت خانہ پر آمدنی صرف نہ کی جائے بلکہ فقرا و مساکین ہی پر صرف کریں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: اگر کافر ذمی نے امورِ خیر(2)کے ليے وقف کیا اور تفصیل نہ کی تو اگرچہ اُسکے اعتقاد میں گر جا و بُت خانہ و مساکین پر صرف کرنا سب ہی امورِ خیر ہیں مگر مساکین ہی پر صرف کی جائے دیگر امور میں صرف نہ کریں اور اگر اپنے پڑوسیوں پر صرف کرنے کے ليے اس شرط سے وقف کیا کہ اگر کوئی پڑوس والا باقی نہ رہے تو مساکین پر صرف کیا جائے تو یہ وقف جائز ہے۔ اور اُسکے پروس میں یہود و نصاریٰ وہنود(3)و مسلمان سب ہوں تو سب پر صرف کیا جائے اور مُردوں کے کفن دفن کے ليے وقف کیا تو ان میں صرف کیا جائے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: ذمی نے اپنے گھر کو مسجد بنایا اور اُسکی شکل وصورت بالکل مسجد سی کردی اور اُس میں نماز پڑھنے کی مسلمانوں کو اجازت بھی دیدی اور مسلمانوں نے اُس میں نماز پڑھی بھی جب بھی مسجد نہیں ہوگی اور اُسکے مرنے کے بعدمیراث جاری ہوگی۔ یوہیں اگر گھر کو گرجا وغیرہ بنا دیا جب بھی اُس میں میراث جاری ہوگی۔ (5)(عالمگیری)
(۵) وقف کے وقت وہ چیز واقف کی مِلک ہو۔
مسئلہ ۱۷: اگر وقف کرنے کے وقت اُسکی مِلک نہ ہو بعد میں ہو جائے تو وقف صحیح نہیں مثلاًایک شخص نے مکان یازمین غصب کرلی تھی اُسے وقف کردیا پھر مالک سے اُس کو خرید لیا اور ثمن بھی ادا کردیا یا کوئی چیز دے کر مالک سے مصالحت کرلی تو اگرچہ اب مالک ہوگیا ہے مگر وقف صحیح نہیں کہ وقف کے وقت مالک نہ تھا۔ (6)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۸: ایک شخص نے دوسرے شخص کے ليے اپنے مکان کی وصیت کی اور اُس موصٰی لہ(7) نے ابھی سے اُسے وقف کردیاپھر موصِی(8) مرا تو یہ وقف صحیح نہ ہواکہ وقف کے وقت موصٰی لہ اُس کا مالک ہی نہ تھا۔ یوہیں کسی سے زمین خریدی تھی اور بائع کو خیار شرط تھا مشتری نے وقف کردی پھر بائع نے بیع کو جائز کردیا یہ وقف جائز نہیں اور اگر مشتری کو خیار تھا اور بعد وقف
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفہ ورکنہٖ...إلخ،ج۲،ص۳۵۳.
2 ۔نیکی ،بھلائی کے کام ۔ 3 ۔ہندو ؤں۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف، الباب الاول فی تعریفۃ ورکنہٖ...إلخ،ج۲،ص۳۵۳.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۱۴.
7 ۔جس کے لئے وصیت کی گئی ۔ 8 ۔وصیت کرنے والا۔
مشتری نے خیار(1) ساقط کردیا تو وقف جائز ہے۔ موہوب لہ(2)نے قبضہ سے پہلے وقف کردیا پھر قبضہ کیا تو وقف جائز نہیں اور اگر ہبہ فاسد تھا مگر قبضہ کے بعد موہوب لہ نے وقف کیا تو وقف صحیح ہے اور موہوب لہ پر اُسکی قیمت واجب ہے۔(3) (فتح القدیر)
مسئلہ ۱۹: بیع فاسدسے مکان خریدا تھااور قبضہ کرکے وقف کیا تو وقف صحیح ہے اور قبضہ سے پہلے وقف کیا تو نہیں اور بیع صحیح سے خریدامگر ابھی نہ تو ثمن(4)ادا کیا ہے نہ قبضہ کیا ہے اور وقف کردیا تو یہ وقف موقوف(5) ہے اگر ثمن اداکرکے قبضہ کرلیا جائز ہوگیا اور مرگیا اور کوئی مال بھی ایسا نہیں چھوڑا کہ اس سے ثمن ادا کیا جائے تو وقف صحیح نہیں مکان فروخت کرکے بائع کو ثمن ادا کیا جائے۔ (6)(خانیہ، عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: ایک مکان خرید کر وقف کیا اِس پر کسی نے دعویٰ کیا کہ یہ میرا ہے جس نے بیچا تھا اُس کا نہ تھا اور قاضی نے مدعی کی ڈگری دیدی یا اُس پر شفعہ کا دعویٰ کیا اور شفیع (7)کے حق میں فیصلہ ہوا تو وقف شکست ہوجائیگا(8)اور وہ مکان اصلی مالک یا شفیع کو مل جائے گا اگرچہ خریدار نے اُسے مسجد بنادیا ہو۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: مرتد نے زمانہ ارتداد(10) میں وقف کیا تو یہ وقف موقوف ہے اگر اسلام کی طرف واپس ہوا وقف صحیح ہے ورنہ باطل۔ (11)(عالمگیری)
(۶) جس نے وقف کیا وہ اپنی کم عقلی یا دَین (12)کی وجہ سے ممنوع التصر ف نہ ہو ۔(13)
مسئلہ ۲۲: ایک بیوقوف شخص ہے جسکی نسبت قاضی کو اندیشہ ہے کہ اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو جائداد تباہ و بربادکردیگا
1 ۔اختیار۔ 2 ۔جس کے لیے ہبہ کیا۔
3 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۴۱.
4 ۔قیمت۔ 5 ۔یعنی فی الحال اس پر وقف کاحکم نہیں لگایاجا ئے گا۔
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی وقف المریض،ج۲،ص۳۱۲.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفہ ورکنہٖ وسببہٖ...إلخ،ج۲،ص۳۵۴.
7 ۔شفعہ کا دعویٰ کرنے والے ۔ 8 ۔ یعنی وقف نہ رہے گا۔
9 ۔''الدرالمختار''،
10 ۔ مرتد ہونے کی حالت میں ۔
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفہٖ ورکنہٖ...إلخ،ج۲،ص۳۵۴.
12 ۔ قرض۔ 13 لین دین ودیگر معاملات سے روکا نہ گیا ہو۔
قاضی نے حکم دیدیاکہ یہ شخص اپنی جائداد میں تصرف نہ کرے، اس نے کچھ جائداد وقف کی تو وقف صحیح نہ ہوا۔ (1)(فتح القدیر)
مسئلہ ۲۳: شخصِ مذکور نے اپنی جائداداسطرح وقف کی کہ میں جب تک زندہ ر ہوں اسکے منافع اپنی ذات پر صرف کرتا رہوں اور میرے بعد مساکین یا مسجد یا مدرسہ میں صرف ہوں تو محققین کے نزدیک وقف صحیح ہے اور اس وقف کی صحت کا حاکم نے حکم دیدیا جب تو سبھی کے نزدیک صحیح ہے۔ (2)(فتح القدیر)
مسئلہ ۲۴: مریض پر اتنا دَین ہے کہ اُسکی تمام جائداددَین میں مستغرق (3)ہے اُسکا وقف صحیح نہیں۔ (4)(ردالمحتار)
(۷) جہالت نہ ہونا یعنی جسکو وقف کیا یا جس پر وقف کیا معلوم ہو۔
مسئلہ ۲۵: اپنی جائداد کا ایک حصہ وقف کیا اور یہ تعیین نہیں کی کہ وہ کتنا ہے مثلاً تہائی، چوتھائی وغیرہ تو وقف صحیح نہ ہوا اگرچہ بعد میں اُس حصہ کی تعیین کردے(5)۔ وقف میں تردیدکرنا کہ اِس زمین کو یا اس زمین کو وقف کیا یہ وقف بھی صحیح نہیں۔ (6)(بحر)
مسئلہ ۲۶: وقف صحیح ہونے کے ليے زمین یا مکان کا معلوم ہونا ضروری ہے اسکے حدود ذکرکرنا شرط نہیں۔(7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: ا س مکان مین جتنے سہام (8)میرے ہیں اُن کو میں نے وقف کیا اگرچہ معلوم نہ ہو کہ اسکے کتنے سہام ہیں یہ وقف صحیح ہے کہ اگرچہ اسے اسوقت معلوم نہیں مگر حقیقۃً وہ متعین ہیں مجہول نہیں۔ یوہیں اگر یوں کہا کہ اِس مکان میں میرا جو کچھ حصہ ہے اُسے وقف کیا اور وہ ایک تہائی ہے مگر حقیقۃًاِس کا حصہ تہائی نہیں بلکہ نصف ہے جب بھی وقف صحیح ہے اور کُل حصہ یعنی نصف وقف ہو جائے گا۔(9) (خانیہ، بحر)
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۱۷.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔ڈوبی ہوئی، گھری ہوئی۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:الوقف فی المرض،ج۶،ص۶۰۸ .
5 ۔تخصیصکردے۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۱۵.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:قد یثبت الوقف بالضرورۃ،ج۶،ص۵۲۳.
8 ۔حصے
9 ۔''الفتاوی الخانیۃ ''،کتاب الوقف، فصل فی وقف المشاع،ج۲،ص۳۰۴.
و''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۱۵.
مسئلہ ۲۸: ایک شخص نے اپنی زمین وقف کی جس میں درخت ہیں اور درختوں کو وقف سے مستثنیٰ کیا یہ وقف صحیح نہ ہوا کہ اِس صورت میں درخت مع زمین کے مستثنیٰ ہونگے تو باقی زمین جس کو وقف کررہا ہے مجہول ہو گئی۔ (1)(بحر)
مسئلہ ۲۹: موقوف علیہ(2)اگر مجہول ہے(3) مثلاًاس کو میں نے اﷲ (عزوجل) کے ليے وقف مؤ بد(4)کیا یا اپنی قرابت والے پر وقف کیا یا یہ کہا کہ زید یا عمر و پر وقف کیا، اور اسکے بعد مساکین پر صرف کیا جائے یہ وقف صحیح نہیں۔ (5)(عالمگیری)
(۸) وقف کو شرط پر معلق نہ کیا ہو۔
مسئلہ ۳۰: اگر شرط پر معلق کیا(6)مثلاً میرا بیٹا سفر سے واپس آئے تو یہ زمین وقف ہے یا اگر میں اِس زمین کا مالک ہو جاؤں یا اسے خریدلوں تو وقف ہے یہ وقف صحیح نہیں بلکہ اگر وہ شرط ایسی ہو جس کا ہونا یقینی ہے جب بھی صحیح نہیں مثلاًاگر کل کا دن آجائے تو وقف ہے۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: میری یہ زمین وقف ہے اگر میں چاہوں اسکے بعد فوراً متصلًا(8)یہ کہا کہ میں نے چاہا اور اس کو وقف کردیا تو وقف صحیح ہے اور نہ کہا تو وقف صحیح نہیں اور اگر یہ کہا کہ میری زمین وقف ہے اگر فلاں چاہے اور اُس شخص نے فوراً کہا میں نے چاہا تو وقف صحیح نہیں۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: اگر ایسی شرط پر معلق کیا جو فی الحال موجود ہے تو تعلیق باطل ہے اور وقف صحیح مثلاًیہ کہا کہ اگر یہ زمین میری مِلک میں ہو یا میں اسکا مالک ہو جاؤں تو وقف ہے اوراِس کہنے کے وقت زمین اسکی ملک میں ہے تو وقف صحیح ہے اور اس وقت ملک میں نہیں ہے تو صحیح نہیں۔(10) (خانیہ)
مسئلہ ۳۳: کسی شخص کا مال گم ہو گیا ہے اُس نے یہ کہا کہ اگر میں گمشدہ مال کو پالوں تو مجھ پر اﷲ (عزوجل) کے ليے
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۳۵.
2 ۔جس پر وقف کیا گیا ۔ 3 ۔یعنی متعین نہیں ،معلوم نہیں۔ 4 ۔ہمیشہ کے لئے وقف ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفہٖ ورکنہٖ...إلخ،ج۲،ص۳۵۳.
6 ۔مشروط کیا ۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:قد یثبت الوقف بالضرورۃ،ج۶،ص۵۲۳.
8 ۔ساتھ ہی ، بغیر وقفہ کئے ۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفہٖ ورکنہٖ...إلخ،ج۲،ص۳۵۵.
10 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی مسائل الشرط فی الوقف...إلخ،ج۲، ص۳۰۵.
اِس زمین کا وقف کردینا ہے یہ وقف کی منت ہے یعنی اگر چیز مل گئی تو اُس پر لازم ہو گا کہ زمین کو ایسے لوگوں پر وقف کرے جنھیں زکاۃ دے سکتا ہے اور اگر ایسوں پر وقف کیا جن کو زکاۃ نہیں دے سکتا مثلاًاپنی اولاد پر تو وقف صحیح ہو جائے گا مگر نذر (1)بدستور اُسکے ذمہ باقی ہے۔ (2)(عالمگیری،خلاصہ)
مسئلہ ۳۴: مریض نے کہا اگر میں اس مرض سے مرجاؤں تو میری یہ زمین وقف ہے یہ وقف صحیح نہیں اور اگر یہ کہا کہ میں مرجاؤں تو میری اِس زمین کو وقف کردینایہ وقف کے ليے وکیل کرنا ہے اس کے مرنے کے بعد وکیل نے وقف کیا تو صحیح ہو گیا کہ وقف کے ليے توکیل(3) درست ہے اور توکیل کو شرط پر معلق کرنا بھی درست ہے مثلاًیہ کہا کہ اگر میں اِس گھر میں جاؤں تو میرا مکان وقف ہے یہ وقف صحیح نہیں اور اگر یہ کہتا کہ میں اس گھر میں جاؤں تو تم میرے مکان کو وقف کردینا تو وقف صحیح ہے۔ (جوہرہ نیرہ ،خلاصہ) (4)یعنی اُس صورت میں صحیح ہے کہ وہ زمین اس کے ترکہ کی تہائی کے اندر ہو یا ورثہ اِس وقف کو جائز کردیں اور ورثہ جائز نہ کریں تو ایک تہائی وقف ہے باقی میراث کہ یہ وقف وصیت کے حکم میں ہے اور وصیت تہائی تک جاری ہوگی بغیر اجازت ورثہ تہائی سے زیادہ میں وصیت جاری نہیں ہوسکتی۔
مسئلہ ۳۵: کسی نے کہا اگر میں مر جاؤں تو میرا مکان فلاں پر وقف ہے یہ وقف نہیں بلکہ وصیت ہے یعنی وہ شخص اگر اپنی زندگی میں باطل کرنا چاہے تو باطل ہوسکتی ہے اورمرنے کے بعد یہ وصیت ایک تہائی میں لازم ہوگی ورثہ اس کو رد نہیں کرسکتے اگرچہ وارث ہی پر وقف کیا ہو مثلاًیہ کہا کہ میں نے اپنے فلاں لڑکے اور نسلاًبعد نسل اُسکی اولاد پر وقف کیا اورجب سلسلہ نسل منقطع ہو جائے تو فقرا ومساکین پرصرف کیا جائے تو اس صورت میں دو تہائی ورثہ لینگے اور ایک تہائی کی آمدنی تنہا موقوف علیہ لے گا اُس کے بعد اُس کی اولاد لیتی رہے گی۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
(۹) جائداد موقوفہ کو بیع کرکے ثمن(6) کو صَرف(7) کر ڈالنے کی شرط نہ ہو۔ یوہیں یہ شرط کہ جس کو میں چاہوں گا ہبہ کردوں گایا جب مجھے ضرورت ہوگی اسے رہن رکھدوں گا غرض ایسی شرط جس سے وقف کا ابطال ہوتاہو(8) وقف کو باطل کردیتی
1 ۔منت ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفہٖ ورکنہٖ...إلخ،ج۲،ص۳۵۵.
و''خلاصۃالفتاوی''،کتاب الوقف،الفصل الثالث،ج۴،ص۴۱۲.
3 ۔وکیل بنانا،وکیل کرنا۔
4 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الوقف،الجزء الاول،ص۴۳۳.
و''خلاصۃالفتاوی''،کتاب الوقف،الفصل الثالث،ج۴،ص۴۱۲.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:شرائط الواقف معتبر...إلخ،ج۶،ص۵۲۹.
6 ۔قیمت ۔ 7 ۔خرچ۔ 8 ۔یعنی اس سے وقف باطل ہوتا ہو۔
ہے ہاں وقف کے استبدال کی شرط صحیح ہے۔ یعنی اس جائداد کو بیع کرکے(1) کوئی دوسری جائداد خریدکر اسکے قائم مقام کردی جائے گی اور اسکا ذکر آگے آتا ہے۔
مسئلہ ۳۶: وقف اگر مسجد ہے اور اس میں اس قسم کی شرطیں لگائیں مثلاًاسکو مسجد کیا اور مجھے اختیار ہے کہ اسے بیع کر ڈالوں یا ہبہ کردوں تو وقف صحیح ہے اور شرط باطل۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳۷: امام محمد رحمہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک وقف میں خیار شرط نہیں ہوسکتا اور امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک ہوسکتا ہے مثلاًیہ کہ میں نے وقف کیا اور تین دِن تک کا مجھے اختیار ہے کہ تین دن گزر جانے پر وقف صحیح ہو جائے گا اور مسجد خیار شرط کے ساتھ وقف کی ہے تو بالاتفاق شرط باطل ہے اور وقف صحیح۔(3) (عالمگیری)
(۱۰) تابید یعنی ہمیشہ کے ليے ہونا مگر صحیح یہ ہے کہ وقف میں ہمیشگی کا ذکر کرنا شرط نہیں یعنی اگر وقف مؤبد نہ کہا جب بھی مؤ بد ہی ہے اور اگر مدت خاص کا ذکر کیا مثلاًمیں نے اپنا مکان ایک ماہ کے ليے وقف کیا اور جب مہینہ پورا ہوجائے تو وقف باطل ہو جائیگاتو یہ وقف نہ ہوا اور ابھی سے باطل ہے۔ (4)(خانیہ)
مسئلہ ۳۸: اگر یہ کہا کہ میری زمین میرے مرنے کے بعد ایک سال تک صدقہ موقوفہ(5) ہے تو یہ صدقہ کی وصیت ہے اور ہمیشہ فقرا پر اسکی آمدنی صرف ہوتی رہے گی۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: اگر یہ کہا کہ میری زمین ایک سال تک فلاں شخص پر صدقہ موقوفہ ہے اور سال پوراہونے پر وقف باطل ہے تو ایک سال تک اُسکی آمدنی اُس شخص کو دی جائے گی اور ایک سال کے بعد مساکین پر صرف ہوگی اور اگر صرف اتنا ہی کہا کہ ایک سال تک فلاں شخص پر صدقہ موقوفہ ہے تو ایک سال تک اُس کی آمدنی اُس شخص کو دی جائے گی۔ اور سال پورا ہونے پر ورثہ کا حق ہے۔ (7)(خانیہ)
(۱۱)وقف بالآخر ایسی جہت کے ليے ہو جس میں انقطاع(8) نہ ہومثلاًکسی نے اپنی جائداد اپنی اولاد پر وقف کی
1 ۔بیچ کر۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:قد یثبت الوقف بالضرورۃ،ج۶،ص۵۲۴.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفہٖ ورکنہٖ...إلخ ،ج۲،ص۳۵۶.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی مسائل الشرط فی الوقف،ج۲،ص۳۰۵.
5 ۔یعنی وقف شدہ صدقہ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الاول فی تعریفہٖ ورکنہٖ...إلخ،ج۲،ص۳۵۶.
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی مسائل الشرط فی الوقف،ج۲،ص۳۰۵.
8 ۔اختتام۔
اوریہ ذکر کردیا کہ جب میری اولاد کا سلسلہ نہ رہے تو مساکین پر یا نیک کاموں میں صرف کی جائے تو وقف صحیح ہے کہ اب منقطع (1)ہونے کی کوئی صورت نہ رہی۔
مسئلہ ۴۰: اگر فقط اتنا ہی کہا کہ میں نے اسے وقف کیا اور موقوف علیہ کا ذکر نہ کیا تو عرفاً(2) اسکے یہی معنی ہیں کہ نیک کاموں میں صرف ہوگی اور بلحاظ معنی ایسی جہت ہوگی جس کے ليے انقطاع نہیں، لہٰذا یہ وقف صحیح ہے۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: جائداد کسی خاص مسجد کے نا م وقف کی تو چونکہ مسجد ہمیشہ رہنے والی چیز ہے اسکے ليے انقطاع نہیں، لہٰذا وقف صحیح ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: وقف صحیح ہونے کے ليے یہ ضرور نہیں کہ جائداد موقوفہ کے ساتھ حق غیر کا تعلق نہ ہو بلکہ حق غیر کا تعلق ہو جب بھی وقف صحیح ہے۔ مثلاًوہ جائداد اگر کسی کے اجارہ میں ہے اور وقف کردی تو وقف صحیح ہو گیا جب مدت اجارہ پوری ہوجائے یا دونوں میں کسی کا انتقال ہو جائے تو اب اجارہ ختم ہو جائے گا اور جائداد مَصرف وقف میں(5) صَرف ہوگی۔(6) (بحر)
مسئلہ ۴۳: وقف کا حکم یہ ہے کہ نہ خود وقف کرنے والا اس کا مالک ہے نہ دوسرے کو اس کامالک بناسکتا ہے نہ اسکو بیع کرسکتا ہے(7) نہ عاریت دے سکتا ہے نہ اسکورہن رکھ سکتا ہے۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۴۴: مکان موقوف کو بیع کر دیا یا رہن رکھ دیا اور مشتری یا مرتہن نے اُس میں سکونت(9) کی بعد کو معلوم ہوا کہ یہ وقف ہے تو جب تک اِس مکان میں رہے اس کا کرایہ دینا ہوگا۔ (10)(درمختار)
1 ۔ختم۔ 2 ۔ یعنی وہاں کے لوگوں کی عادات ورسوم کے مطابق،عام بول چال کے مطابق۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:قدیثبت الوقف بالضرورۃ،ج۶،ص۵۲۲.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:قدیثبت الوقف بالضرورۃ،ج۶،ص۵۲۲.
5 ۔یعنی جن کاموں میں مالِ وقف خرچ ہوتا ہے ان میں ۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۱۷.
7 ۔بیچ سکتا ہے۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۱۶۔۵۱۸.
9 ۔رہائش۔
10 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۴۱.
مسئلہ ۴۵: وقف کو مستحقین (یعنی موقوف علیہم(1)) پر تقسیم کرنا جائز نہیں مثلاًکسی شخص نے جائداد اپنی اولاد پر وقف کی تو یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ جائداد اولاد پر تقسیم کردی جائے کہ ہر ایک اپنے حصہ کی آمدنی سے متمتع ہو(2) بلکہ وقف کی آمدنی ان پر تقسیم ہوگی۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۶: جن لوگوں پر زمین وقف ہے وہ لوگ اگر باہم رضامندی کے ساتھ ایک ایک ٹکڑا زراعت کے ليے لے لیں پھر دوسرے سال بدل کر دوسرے دوسرے ٹکڑے لیں تو ہوسکتا ہے مگر ایسی تقسیم جوہمیشہ کے ليے ہو کہ ہر سال وہی کھیت وہ شخص لے دوسرے کو نہ لینے دے یہ نہیں ہوسکتا۔(4) (ردالمحتار)
جائداد غیر منقولہ(5)جیسے زمین، مکان، دوکان ان کا وقف صحیح ہے اور جو چیزیں منقول ہوں(6) مگر غیر منقول کے تابع ہوں اُن کا وقف غیر منقول کا تابع ہو کر صحیح ہے، مثلاًکھیت کو وقف کیا تو ہل بیل اور کھیتی کے جملہ آلات اور کھیتی کے غلام یہ سب کچھ تبعاً (7)وقف ہوسکتے ہیں یا باغ وقف کیا تو باغ کے جملہ سامان بیل اور چرسا (8)وغیرہ کو تبعاً وقف کرسکتا ہے۔ (9)(خانیہ)
مسئلہ۴۷: کھیت کے ساتھ ساتھ ہل بیل وغیرہ بھی وقف کيے تو انکی تعداد بھی بیان کردینی چاہيے کہ اتنے غلام اوراتنے بیل اور اتنی اتنی فلاں چیزیں اور یہ بھی ذکر کر دینا چاہيے کہ بیل اور غلام کا نفقہ بھی اسی جائداد موقوفہ سے دیا جائے اور اگریہ شرط نہ بھی ذکر کرے جب بھی انکے مصارف(10) اُسی سے ديے جائیں گے۔ (11)(عالمگیری)
مسئلہ۴۸: غلام یا بیل اگر کمزور ہو گیا اور کام کے قابل نہ رہا اور واقف(12)نے یہ شرط کردی تھی کہ جب تک زندہ
1 ۔جن پر وقف کیا گیا۔ 2 ۔نفع اٹھائے۔
3 ۔''الدرالمختار''و''رد المحتار''،کتاب الوقف،مطلب:سکن داراً ثم ظہر...إلخ ،ج۶،ص۵۴۱.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی التھایؤ فی ارض الوقف بین المستحقین،ج۶،ص۵۴۲.
5 ۔وہ جائداد جودوسری جگہ منتقل نہ کی جاسکتی ہو۔ 6 ۔ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاسکتی ہوں۔
7 ۔ضمناً۔ 8 ۔چمڑے کا بڑا ڈول۔
9 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی وقف المنقول،ج۲،ص۳۰۹.
10 ۔ اخراجات۔
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوزوقفہ،...إلخ،ج۲،ص۳۶۰.
12 ۔وقف کرنے والا۔
رہے وقف سے خوراک ملتی رہے تو اب بھی دی جائے اور اگر واقف نے کہہ دیا ہو کہ اِس سے کام لیا جائے اور کام کے مقابل کھانے کو دیا جائے تو اب وقف سے نہیں دیا جاسکتا اور ایسی صورت میں کہ وہ کام کا نہ رہا بیچ کر اُسکے بدلے میں دوسرابیل خریدنا جائز ہے اور اگر ان داموں(1) میں دوسرا نہ ملے تو وقف کی آمدنی میں سے کچھ شامل کرکے دوسرا خریداجائے۔ یوہیں دیگر آلات زراعت چرسا،رسا،ہل وغیرہ خراب ہو جائیں تو اُنھیں بیچ کر دوسرے خریدليے جائیں جو وقف کے ليے کار آمد ہوں اور اِس قسم کے تصرفات(2) وقف کا متولی کریگا۔(3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ۴۹: گھوڑے اور اسلحہ کا وقف جائز ہے اور انکے علاوہ دوسری منقولات جنکے وقف کا رواج ہے اُن کو مستقلاً(4) وقف کرنا جائز ہے۔ نہیں تو نہیں۔ رہا تبعاً وقف کرنا وہ ہم پہلے بیان کرچکے کہ جائز ہے۔ بعض وہ چیزیں جن کے وقف کا رواج ہے یہ ہیں: مردہ لے جانے کی چار پائی اور جنازہ پوش(5)، میت کے غسل دینے کا تخت، قرآن مجید، کتابیں، دیگ، دری، قالین، شامیانہ، شادی اور برات کے سامان کہ ایسی چیزوں کو لوگ وقف کردیتے ہیں کہ اہل حاجت ضرورت کے وقت اِن چیزوں کو کام میں لائیں پھر متولی(6)کے پاس واپس کر جائیں۔ یوہیں بعض مدارس اور یتیم خانوں میں سرمائی کپڑے(7)اور لحاف گدے وغیرہ وقف کرکے دیدیئے جاتے ہیں کہ جاڑوں(8)میں طلبہ اور یتیموں کو استعمال کے ليے دیدیے جاتے ہیں اور جاڑے نکل جانے کے بعد واپس لے ليے جاتے ہیں۔ (9)(تبیین، عالمگیری، درمختار)
مسئلہ۵۰: مسجد پر قرآن مجید وقف کیا تو اِس مسجد میں جس کا جی چاہے اُس میں تلاوت کرسکتا ہے دوسری جگہ لے جانے کی اجازت نہیں کہ اسطرح پر وقف کرنے والے کامنشاء(10)یہی ہوتا ہے اور اگر واقف نے تصریح کردی ہے کہ اِسی مسجد
1 ۔ یعنی اتنی قیمت۔. 2 ۔معاملات۔
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیمایجوزوقفہ،...إلخ،ج۲،ص۳۶۰-۳۶۱.
و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:لایشترط التحدید فی وقف العقار،ج۶،ص۵۵۵.
4 ۔ہمیشہ،ہر وقت۔ 5 ۔جنازہ پرڈالی جانے والی چادر۔ 6 ۔مال وقف کانگران۔
7 ۔سردیوں کے کپڑے۔ 8 ۔سر دیوں۔
9 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الوقف،ج۴،ص۲۶۵.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوزوقفہ،...إلخ،ج۲،ص۳۶۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۵۷۔۵۵۹.
10 ۔ مقصد۔
میں تلاوت کی جائے جب تو بالکل ظاہر ہے کیونکہ اُسکی شرط کے خلاف نہیں کیا جاسکتا۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ۵۱: مدارس میں کتا بیں وقف کردی جاتی ہیں اور عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ جس مدرسہ میں وقف کی جاتی ہیں اُسی کے اساتذہ اور طلبہ کے ليے ہوتی ہیں ایسی صورت میں وہ کتابیں دوسرے مدرسہ میں نہیں لیجا ئی جاسکتیں۔ اور اگراِس طرح پر وقف کی ہیں کہ جن کو دیکھنا ہو وہ کتب خانہ میں آکر دیکھیں تو وہیں دیکھی جاسکتی ہیں اپنے گھر پر دیکھنے کے ليے نہیں لا سکتے۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ۵۲: بادشاہ ِ اسلام نے کوئی زمین یا گاؤں مصالح عامہ(3)پر وقف کیا مثلاًمسجد ،مدرسہ، سرائے(4)وغیرہ پر تو وقف جائز ہے۔ اور ثواب پائے گا اور اگر خاص اپنے نفس یا اپنی اولاد پر وقف کیا تو وقف ناجائز ہے جب کہ بیت المال(5) کی زمین ہو کہ اس کو مصلحت خاص کے ليے وقف کرنے کا اُسے اختیار نہیں ہاں اگر اپنی مِلک مثلاًخرید کر وقف کرنا چاہتا ہے تو اسکا اُسے اختیار ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۵۳: زمین کسی نے عاریت یا اجارہ پر لی تھی اُس میں مکان بنا کر وقف کردیا یہ وقف نا جائز ہے اور اگر زمین محتکرہے یعنی اسی ليے اجارہ پر لی ہے کہ اس میں مکان بنائے یا پیڑ(7) لگائے ایسی زمین پر مکان بنا کر وقف کردیا تو یہ وقف جائزہے۔ (8)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۵۴: وقفی زمین میں مکان بنایا اور اُسی کام کے ليے مکان کو وقف کردیا جس کے ليے زمین وقف تھی تو یہ وقف بھی درست ہے اور دوسرے کام کے ليے وقف کیا تو اصح یہ ہے کہ یہ وقف صحیح نہیں۔ (9)(عالمگیری) یہ اُس صورت میں ہے کہ زمین محتکر نہ ہو، ورنہ صحیح یہ ہے کہ وقف صحیح ہے۔
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوز وقفہ،...إلخ،ج۲،ص۳۶۱.
و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:متی ذکر للوقف مصرفاً لابدأن یکون...إلخ،ج۶،ص۵۶۰.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی نقل کتب الوقف من محلّہا،ج۶،ص۵۶۱.
3 ۔عام لوگوں کی فلاح و بہبود ۔ 4 ۔مسافر خانہ۔ 5 ۔اسلامی حکومت کا خزانہ۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی اوقاف الملوک والأمرائ،ج۶،ص۶۰۳.
7 ۔درخت۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوز وقفہ،...إلخ،ج۲،ص۳۶۲.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی زیادۃ اجرۃ الارض المحتکرۃ،ج۶،ص۵۹۸.
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوز وقفہ،...إلخ،ج۲،ص۳۶۲.
مسئلہ۵۵: پیڑلگائے اور انھیں مع زمین وقف کردیا تو وقف جائز ہے اور اگر تنہا درخت وقف کيے زمین وقف نہ کی تو وقف صحیح نہیں اور زمین موقوفہ میں درخت لگائے تو اس کے وقف کا وہی حکم ہے کہ ایسی زمین میں مکان بنا کر وقف کرنے کا ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ۵۶: زمین وقف کی اور اُس میں زراعت طیار (2) ہے یا اُس زمین میں درخت ہیں جن میں پھل موجود ہیں تو زراعت اور پھل وقف میں داخل نہیں جب تک یہ نہ کہے کہ مع زراعت اورپھل کے میں نے زمین وقف کی البتہ وقف کے بعد جو پھل آئیں گے وہ وقف میں داخل ہونگے اور وقف کے مصرف میں صرف کيے جائیں گے۔ اور زمین وقف کی تو اُسکے درخت بھی وقف میں داخل ہیں اگرچہ اسکی تصریح نہ کرے۔ (3)(خانیہ) یوہیں زمین کے وقف میں مکان بھی داخل ہیں اگرچہ مکان کو ذکر نہ کیا ہو۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ۵۷: زمین وقف کی اُس میں نر کل(5)، سنیٹھا(6)، بید(7)، جھاؤ(8) وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو ہرسال کاٹی جاتی ہیں یہ وقف میں داخل نہیں یعنی وقف کے وقت جوموجود ہیں وہ مالک کی ہیں اور جو آئندہ پیدا ہونگی وہ وقف کی ہونگی اور ایسی چیزیں جو دو تین سال پر کاٹی جاتی ہیں جیسے بانس وغیرہ یہ داخل ہیں۔ یوہیں بیگن اور مرچوں کے درخت وقف میں داخل ہیں اور پھلی ہوئی مرچیں او ر بیگن داخل نہیں۔(9) (خانیہ)
مسئلہ۵۸: زمین وقف کی اُ س میں گنے بوئے ہوئے ہیں یہ وقف میں داخل نہ ہونگے اور گلاب، بیلے(10) ، چمیلی کے درخت داخل ہونگے۔ (12)(خانیہ)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیمایجوز وقفہ،...إلخ،ج۲،ص۳۶۲.
2 ۔تیار۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فیمایدخل فی الوقف...إلخ،ج۲،ص۳۰۷.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیمایجوز وقفہ،...إلخ،ج۲،ص۳۶۲.
5 ۔سرکنڈا۔ 6 ۔ایک قسم کاسرکنڈا۔
7 ۔ایک قسم کا درخت جس کی شاخیں نہایت لچک دار ہوتی ہیں ،اس کی لکڑیوں سے ٹوکریاں اور فرنیچر بنایا جاتاہے۔
8 ۔پتلی شاخوں کی ایک خودرو جھاڑی جوعموما دریاؤں کے کناروں پر ہوتی ہے اس کی شاخیں عموما ٹوکریاں بنانے میں کام آتی ہیں ۔
9 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی مایدخل فی الوقف،ج۲،ص۳۰۸.
10 ۔چنبیلی کی قسم کے پودے۔
11 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف، فصل فی مایدخل فی الوقف،ج۲،ص۳۰۸.
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیمایجوز وقفہ،...إلخ،ج۲،ص۳۶۲.
2 ۔تیار۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فیمایدخل فی الوقف...إلخ،ج۲،ص۳۰۷.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیمایجوز وقفہ،...إلخ،ج۲،ص۳۶۲.
5 ۔سرکنڈا۔ 6 ۔ایک قسم کاسرکنڈا۔
7 ۔ایک قسم کا درخت جس کی شاخیں نہایت لچک دار ہوتی ہیں ،اس کی لکڑیوں سے ٹوکریاں اور فرنیچر بنایا جاتاہے۔
8 ۔پتلی شاخوں کی ایک خودرو جھاڑی جوعموما دریاؤں کے کناروں پر ہوتی ہے اس کی شاخیں عموما ٹوکریاں بنانے میں کام آتی ہیں ۔
9 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی مایدخل فی الوقف،ج۲،ص۳۰۸.
10 ۔چنبیلی کی قسم کے پودے۔
11 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف، فصل فی مایدخل فی الوقف،ج۲،ص۳۰۸.
مسئلہ۵۹: حمام وقف کیا تو پانی گرم کرنے کی دیگ اور پانی رکھنے کی ٹنکیاں اور تمام وہ سامان جو حمام میں ہوتے ہیں سب وقف میں داخل ہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ۶۰: کھیت وقف کیا تو پانی اور پانی آنے کی نالی جس سے آبپاشی کی جاتی ہے اور وہ راستہ جس سے کھیت میں جاتے ہیں یہ سب وقف میں داخل ہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ۶۱: مشاع اُس چیز کو کہتے ہیں جسکے ایک جز و غیر متعین کا یہ مالک ہو یعنی دوسرا شخص بھی اس میں شریک ہو یعنی دونوں حصوں میں امتیاز نہ ہو۔ اسکی دوقسمیں ہیں۔ ایک قابل قسمت(3)جو تقسیم ہونے کے بعد قابل انتفاع(4)باقی رہے جیسے زمین، مکان۔ دوسری غیر قابل قسمت کہ تقسیم کے بعد اس قابل نہ رہے جیسے حمام، چکی، چھوٹی سی کوٹھری کہ تقسیم کردینے سے ہرایک کا حصہ بیکار سا ہوجاتا ہے۔ مشاع غیر قابل قسمت کا وقف بالا تفاق جائز ہے اور قابل قسمت ہو اور تقسیم سے پہلے وقف کرے تو صحیح یہ ہے کہ اسکا وقف جائز ہے اور متاخرین نے اِسی قول کو اختیار کیا۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ۶۲: مشاع کو مسجد یا قبرستان بنانا بالاتفاق نا جائز ہے چاہے وہ قابل قسمت ہو یا غیر قابل قسمت کیونکہ مشترک ومشاع میں مہایاۃ ہوسکتی ہے کہ دونوں باری باری سے اُس چیز سے انتفاع حاصل کریں مثلاًمکان میں ایک سال شریک سکونت(6)کرے اور ایک سال دوسرا رہے یا وقف ہے تو وہ شخص رہے جس پر وقف ہوا ہے یا کرایہ پر دیاجائے اور کرایہ مصرف وقف میں صرف کیا جائے مگر مسجد و مقبرہ ایسی چیزیں نہیں کہ ان میں مہایا ۃ ہوسکے یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک سال تک اُس میں نماز ہواور ایک سال شریک اُس میں سکونت کرے یا ایک سال تک قبرستان میں مردے دفن ہوں اور ایک سال شریک اس میں زراعت کرے اِس خرابی کی وجہ سے اِن دونوں چیزوں کے ليے مشاع کا وقف ہی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوزوقفہ...إلخ،ج۲،ص۳۶۴.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوزوقفہ...إلخ،ج۲،ص۳۶۴.
3 ۔تقسیم ہونے کے قابل۔ 4 ۔نفع اٹھانے کے قابل۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوزوقفہ...إلخ،فصل،ج۲،ص۳۶۵.
6 ۔رہائش۔
درست نہیں۔(1) (فتح القدیر، جوہرہ)
مسئلہ۶۳: زمین مشتر ک میں اس نے اپنا حصہ وقف کردیا تو اسکا بٹوارہ (2)شریک سے خود یہ واقف کرائے گا اور واقف کا انتقال ہوگیا ہو تو متولی کا کام ہے اور اگر اپنی نصف زمین وقف کردی تو وقف وغیر وقف میں تقسیم یوں ہوگی کہ وقف کی طرف سے قاضی ہوگا اور غیر وقف کی طرف سے یہ خود یا یوں کرے کہ غیر وقف کو فروخت کردے اور مشتری کے مقابلہ میں وقف کی تقسیم کرائے۔ (3)(ہدایہ)
مسئلہ۶۴: ایک زمین دوشخصوں میں مشترک تھی دونوں نے اپنے حصے وقف کردے تو باہم تقسیم کرکے ہر ایک اپنے وقف کا متولی ہوسکتا ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ۶۵: ایک شخص نے اپنی کُل زمین وقف کردی تھی اِس پر کسی نے نصف کا دعویٰ کیا اور قاضی نے مدعی کو نصف زمین دلوا دی تو باقی نصف بدستور وقف رہے گی اور واقف اِس شخص سے زمین تقسیم کرالے گا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ۶۶: دوشخصوں میں زمین مشترک تھی اور دونوں نے اپنے حصے وقف کردئیے خواہ دونوں نے ایک ہی مقصد کے ليے وقف کيے یا دونوں کے دو مقصد مختلف ہوں مثلاًایک نے مساکین پر صرف کرنے کے ليے دوسرے نے مدرسہ یا مسجد کے ليے اور دونوں نے الگ الگ اپنے وقف کا متولی مقرر کیا یا ایک ہی شخص کو دونوں نے متولی بنایا یاایک شخص نے اپنی کل جائدادوقف کی مگر نصف ایک مقصد کے لیے اور نصف دوسرے مقصد کے ليے یہ سب صورتیں جائز ہیں۔(6) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۶۷: ایک شخص نے اپنی زمین سے ہزار گز زمین وقف کی پیمائش کرنے پر معلوم ہوا کہ کل زمین ہزار ہی گز ہے یا اس سے بھی کم تو کُل وقف ہے اور ہزار سے زیادہ ہے تو ہزار گز وقف ہے باقی غیر وقف اور اگر اِس زمین میں درخت
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۲۶.
و''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الوقف،الجزء الاول،ص۴۳۱.
2 ۔تقسیم۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوقف،ج۲،ص۱۸.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوز وقفہ...إلخ،فصل،ج۲،ص۳۶۵.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق،ص۳۶۵،۳۶۶،وغیرہ.
بھی ہوں تو تقسیم اسطرح ہوگی کہ وقف میں بھی درخت آئیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ۶۸: زمین مشاع میں اپنا حصہ وقف کیا جسکی مقدار ایک جریب(2)ہے مگر تقسیم میں اُس زمین کا اچھا ٹکڑا اسکے حصہ میں آیا اِس وجہ سے ایک جریب سے کم ملایا خراب ٹکڑا ملا اس وجہ سے ایک جریب سے زیادہ ملا یہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ۶۹: چند مکانات میں اسکے حصے ہیں اس نے اپنے کُل حصے وقف کردئیے اب تقسیم میں یہ چاہتا ہے کہ ایک ایک جز نہ لیا جائے بلکہ سب حصوں کے عوض میں ایک پورا مکان وقف کے ليے لیا جائے ایسا کرنا جائز ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ۷۰: مشترک زمین وقف کی اور تقسیم یوں ہوئی کہ ایک حصہ کے ساتھ کچھ روپیہ بھی ملتا ہے اگر وقف میں یہ حصہ مع روپیہ کے لیا جائے کہ شریک اتنا روپیہ بھی دیگا تو وقف میں یہ حصہ لینا جائز نہ ہوگا کہ وقف کو بیع کرنا لازم آتا ہے اور اگر وقف میں دوسرا حصہ لیا جائے اور واقف اپنے شریک کو وہ روپیہ دے تو جائز ہے اور نتیجہ یہ ہوا کہ وقف کے علاوہ اُس روپے سے کچھ زمین خریدلی اور اس روپے کے مقابل جتنا حصہ ملے گا وہ اسکی مِلک ہے وقف نہیں۔ (5)(خانیہ، فتح القدیر)
مسئلہ ۱: وقف کی آمدنی کا سب میں بڑا مصرف(6)یہ ہے کہ وہ وقف کی عمارت پر صرف کی جائے اسکے ليے یہ بھی ضرور نہیں کہ واقف نے اس پر صرف کرنیکی شرط کی ہو یعنی شرائط وقف میں اسکو نہ بھی ذکر کیا ہو جب بھی صرف کریں گے کہ اسکی مرمت نہ کی تو وقف ہی جاتا رہے گا عمارت پر صرف کرنے سے یہ مراد ہے کہ اُسکو خراب نہ ہونے دیں اُس میں اضافہ کرنا عمارت میں داخل نہیں مثلاًمکان وقف ہے یا مسجد پر کوئی جائداد وقف ہے تو اولاًآمدنی کو خود مکان یا جائداد پر صرف کریں گے اور واقف کے زمانہ میں جس حالت میں تھی اُس پر باقی رکھیں۔ اگر اُسکے زمانہ میں سپیدی(7) یا رنگ کیا جاتا تھا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوز وقفہ...إلخ،فصل،ج۲،ص۳۶۶.
2 ۔چار کنال ،اسی مرلے۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوز وقفہ...إلخ،فصل،ج۲،ص۳۶۶-۳۶۷.
4 ۔ المرجع السابق،ص۳۶۷.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف، فصل فی وقف المشاع،ج۲،ص۳۰۴.
و''الفتح القدیر''،کتاب وقف،ج۵،ص۴۳۳.
6 ۔خرچ کرنے کامقام،جس میں خرچ کیاجائے۔ 7 ۔سفیدی،چونا۔
تو اب بھی مال وقف سے کریں ورنہ نہیں۔ یوہیں کھیت وقف ہے اور اس میں کھاد کی ضرورت ہے ورنہ کھیت خراب ہوجائے گا تو اسکی درستی مستحقین سے مقدم ہے۔ (1)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: عمارت کے بعد آمدنی اس چیز پر صرف ہو جو عمارت سے قریب تر اور با عتبار مصالح (2)مفید تر ہو کہ یہ معنوی عمارت ہے جیسے مسجدکے ليے امام اور مدرسہ کے ليے مدرس کہ ان سے مسجد و مدرسہ کی آبادی ہے ان کو بقدر کفایت(3) وقف کی آمدنی سے دیا جائے۔ پھر چراغ بتی اور فرش اورچٹائی اور دیگر ضروریات میں صرف کریں جو اہم ہو اُسے مقدم رکھیں اور یہ اُس صورت میں ہے کہ وقف کی آمدنی کسی خاص مصرف کے ليے معین نہ ہو۔ اور اگر معین ہے مثلاًایک شخص نے وقف کی آمدنی چراغ بتی کے ليے معین کردی ہے یا وضو کے پانی کے ليے تعیین کردی ہے تو عمارت کے بعد اُسی مد میں صرف کریں جسکے ليے معین ہے۔(4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: عمارت میں صر ف کرنے کی ضرورت تھی اور ناظر اوقاف(5)نے وقف کی آمدنی عمارت وقف میں صرف نہ کی بلکہ دیگر مستحقین کو دے دی تو اس کو تاوان دینا پڑیگا یعنی جتنا مستحقین (6)کو دیا ہے اُسکے بدلے میں اپنے پاس سے عمارت وقف پر صرف کرے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۴: عمارت پر صرف ہونے(8) کی وجہ سے ایک یا چند سال تک دیگر مستحقین کو نہ ملا تو اِس زمانہ کا حق ہی ساقط ہوگیایہ نہیں کہ وقف کے ذمہ انکااتنے زمانہ کا حق باقی ہے یعنی بالفرض آئندہ سال وقف کی آمدنی اتنی زیادہ ہوئی کہ سب کودیکر کچھ بچ گئی تو سال گزشتہ کے عوض میں مستحقین اسکا مطالبہ نہیں کرسکتے۔(9) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الاول،ج۲،ص۳۶۷۔۳۶۸.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:عمارۃ الوقف علی صفۃ الذی وقفہ،ج۶،ص۵۶۲۔۵۶۳.
2 ۔مصلحت کے اعتبار سے۔ 3 ۔ اتنی مقدار جس سے گزر بسربآسانی ہوسکے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الاول،ج۲،ص۳۶۸.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:یبدأبعد العمارۃ بما ہواقرب الیہا،ج۶،ص۵۶۳-۵۶۴.
5 ۔اوقاف کی نگرانی کرنے والا۔ 6 ۔مستحق کی جمع یعنی وقف میں جن کا حق ہو۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۶۷.
8 ۔خرچ ہونے۔
9 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی قطع الجہات لاجل العمارۃ،ج۶،ص۵۶۸.
مسئلہ ۵: خود واقف نے یہ شرط ذکر کردی ہے کہ وقف کی آمدنی کواولاً عمارت میں صرف کیا جائے اور جو بچے مستحقین یا فقرا کو دی جائے تو متولی پر لازم ہے کہ ہر سال آمدنی میں سے ایک مقدار عمار ت کے ليے نکال کر باقی مستحقین کو دے اگرچہ اس وقت تعمیر کی ضرورت نہ ہو کہ ہوسکتا ہے دفعۃ(1) کوئی حادثہ پیش آجائے اور رقم موجود نہ ہو، لہٰذا پیشتر ہی سے(2) اس کا انتظام رکھنا چاہيے اور اگر یہ شرط ذکر نہ کرتا تو ضرورت سے قبل اسکے ليے محفوظ نہیں رکھا جاتا بلکہ جب ضرورت پڑتی اُس وقت عمارت کو سب پر مقدم کیا جاتا۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۶: واقف نے اس طور پر وقف کیا ہے کہ اسکی آمدنی ایک یا دوسال تک فلاں کو دی جائے اس کے بعد فقراپر صرف ہو اور یہ شرط بھی ذکر کی ہے کہ اسکی آمدنی سے مرمت وغیرہ کی جائے تو اگر عمارت میں صرف کرنے کی شدید ضرورت ہو کہ نہ صرف کرنے میں عمارت کو ضرر(4) پہنچ جانا ظاہر ہے جب تو عمارت کو مقدم کریں گے، ورنہ مقدم اُس شخص کو دینا ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: وقف کی آمدنی موجود ہے اور کوئی وقتی نیک کام میں ضرورت ہے جسکے ليے جائداد وقف ہے۔ مثلاًمسلمان قیدی کو چُھوڑانا(6)ہے یا غازی کی مدد کرنی ہے اور خود وقف کی دُرستی کے ليے بھی خرچ کرنے کی ضرورت ہے اگر اسکی تاخیر میں وقف کو شدید نقصان پہنچ جانے کا اندیشہ(7)ہے جب تو اسی میں خرچ کرنا ضرورہے اور اگر معلوم ہے کہ دوسری آمدنی تک اس کو مؤخر رکھنے میں وقف کو نقصان نہیں پہنچے گا تو اُس نیک کام میں صرف کردیا جائے۔ (8)(خانیہ)
مسئلہ ۸: اگروقف کی عمارت کو قصداً(9)کسی نے نقصان پہنچایا تو جس نے نقصان پہنچایا اُسے تاوان دینا پڑے گا۔(10) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: اپنی اولاد کے رہنے کے ليے مکان وقف کیا تو جو اس میں رہے گا وہی مرمت بھی کرائے گا اگر مرمت
1 ۔اچانک۔ 2 ۔پہلے ہی سے۔
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۶۸.
4 ۔نقصان۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الاول،ج۲،ص۳۶۸.
6 ۔یعنی آزاد کروانا۔ 7 ۔خوف ،خطرہ،ڈر۔
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،باب الرجل یجعل دارہ، مسجداً...إلخ،ج۲،ص۳۰۳.
9 ۔جان بوجھ کر ۔
10 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:کون التعمیر من الغلۃ...إلخ،ج۶،ص۵۶۲.
کی ضرورت ہے وہ مرمت نہیں کراتا یا اُسکے پاس کچھ ہے ہی نہیں جس سے مرمت کرائے تو متولی یا حاکم اِس مکان کو کرایہ پر دے دیگا۔ اور کرایہ سے اسکی مرمت کرائے گا اورمرمت کے بعد اسکوواپس دے دیگااور خود یہ شخص کرایہ پر نہیں دے سکتا اور اُسکو مرمت کرانے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ (1)(ہدایہ )
مسئلہ ۱۰: مکان اس ليے وقف کیا ہے کہ اُس کی آمدنی فلاں شخص کو دی جائے تو یہ شخص اُس میں سکونت نہیں کرسکتا اور نہ اِس مکان کی مرمت اسکے ذمہ ہے بلکہ اسکی آمدنی اولاًمرمت میں صرف ہوگی اِس سے بچے گی تو اُس شخص کو ملے گی اور اگر خود اُس شخص موقوف علیہ نے اس میں سکونت کی اور تنہا اسی پر وقف ہے تو اس پر کرایہ واجب نہیں کہ اِس سے کرایہ لے کر پھر اِسی کو دینا بے فائدہ ہے اور اگر کوئی دوسرا بھی شریک ہے تو کرایہ لیا جائے گا تاکہ دوسرے کو بھی دیا جائے۔ یوہیں اگراس مکان میں مرمت کی ضرورت ہے جب بھی اِس سے کرایہ وصول کیا جائے گا تاکہ اُس سے مرمت کی جائے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: اگر ایسے مکان کا موقوف علیہ خود متولی بھی ہے اور اُس نے سکونت بھی کی اور مکان میں مرمت کی ضرورت ہے تو قاضی اسے مجبور کریگا کہ جو کرایہ اُس پر واجب ہے اُس سے مکان کی مرمت کرائے اور قاضی کے حکم دینے پر بھی مرمت نہیں کرائی تو قاضی دوسرے کو متولی مقرر کریگاکہ وہ تعمیر کرائے گا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: جو شخص وقفی مکان میں رہتا تھا اُس نے اپنا مال وقفی عمارت میں صرف کیا ہے اگر ایسی چیز میں صرف کیا ہے جو مستقل وجود نہیں رکھتی مثلاًسپیدی کرائی ہے یا دیواروں میں رنگ یا نقش ونگار کرائے تو اسکا کوئی معاوضہ وغیرہ اسکو یا اسکے ورثہ (4) کونہیں مل سکتا اور اگر وہ مستقل وجود رکھتی ہے اور اُس کے جدا کرنے سے وقفی عمارت کو کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا تو اسکو یا اسکے ورثہ سے کہا جائے گا تم اپنا عملہ اُٹھا لو نہ اُٹھائیں تو جبراً (5)اُٹھوادیا جائے گا اور اگر موقوف علیہ سے کچھ لے کر اُنھوں نے مصالحت کرلی تو یہ بھی جائزہے اور اگر وہ ایسی چیز ہے جسکے جدا کرنے سے وقف کو نقصان پہنچے گا مثلاًاُسکی چھت میں کڑیاں(6)ڈلوائی ہیں تو یہ اسکے ورثہ نکال نہیں سکتے بلکہ جس پر وقف ہے اُس سے قیمت دلوائی جائے گی اور قیمت دینے سے وہ انکار کرے تو مکان کو کرایہ پردے کر کرایہ سے قیمت ادا کردی جائے پھر موقوف علیہ کو مکان واپس دیدیاجائے۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الہدایۃ''،کتاب الوقف،ج۲،ص۱۸-۱۹.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۷۳۔۵۷۵.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۷۲.
4 ۔وارثوں۔ 5 ۔زبردستی۔ 6 ۔شہتیر۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الاول،ج۲،ص۳۶۸۔۳۶۹.
مسئلہ ۱۳: ضرورت کے وقت مثلاًوقف کی عمارت میں صرف کرنا ہے اور صرف نہ کریں گے تو نقصان ہوگا یا کھیت بونے کا وقت ہے اور وقف کے پاس نہ روپیہ ہے نہ بیج اور کھیت نہ بوئیں تو آمدنی ہی نہ ہوگی ایسے اوقات میں وقف کی طرف سے قرض لینا جائز ہے مگر اس کے ليے دو شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ قاضی کی اجازت سے ہو، دوم یہ کہ وقف کی چیز کو کرایہ پر دیکر کرایہ سے ضرورت کو پورا نہ کرسکتے ہوں۔ اور اگر قاضی وہاں موجود نہیں ہے دوری پر ہے تو خود بھی قرض لے سکتا ہے خواہ روپیہ قرض لے یا ضرورت کی کوئی چیز اُدھار لے دونوں طرح جائز ہے۔ (1)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۴: وقف کی عمارت منہدم ہوگئی(2) پھر اُسکی تعمیر ہوئی اور پہلے کا کچھ سامان بچا ہوا ہے تو اگریہ خیال ہو کہ آئندہ ضرورت کے وقت اِسی وقف میں کام آسکتا ہے جب تو محفوظ رکھا جائے ورنہ فروخت کرکے قیمت کو مرمت میں صرف کریں اور اگر رکھ چھوڑ نے میں ضائع ہونے کا اندیشہ ہے جب بھی فروخت کر ڈالیں اور ثمن کو محفوظ رکھیں یہ چیزیں خود اُن لوگوں کو نہیں دی جاسکتیں جن پر وقف ہے۔ (3)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ۱۵: متولی نے وقف کے کام کرنے کے ليے کسی کو اجیر رکھا اور واجبی اُجرت سے چھٹاحصہ زیادہ کردیا مثلاًچھ آنے کی جگہ سات آنے ديے تو ساری اُجرت متولی کو اپنے پاس سے دینی پڑے گی اور اگر خفیف زیادتی (4)ہے کہ لوگ دھوکا کھاکر اُتنی زیادتی کردیا کرتے ہیں تو اسکا تاوان نہیں بلکہ ایسی صورت میں وقف سے اُجرت دلائی جائیگی۔(5) (درمختار)
مسئلہ۱۶: کسی نے اپنی جائداد مصالح مسجدکے ليے وقف کی ہے تو امام، مؤذن، جاروب کش(6)، فراش(7)، دربان(8)، چٹائی، جانماز، قندیل(9)، تیل، روشنی کرنیوالا، وضو کا پانی، لوٹے، رسی، ڈول، پانی بھرنے والے کی اُجرت۔ اس قسم کے مصارف مصالح میں شمار ہوں گے۔ (10)(درمختار) مسجد چھوٹی بڑی ہونے سے ضروریات و مصالح کا اختلاف ہوگا، مسجد کی آمدنی کثیر ہے کہ ضروریات سے بچ رہتی ہے تو عمدہ و نفیس(11)جا نماز کا خریدنا بھی جائز ہے چٹائی کی جگہ دری یا
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۷۳-۶۷۴.
2 ۔گرگئی۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الاول،ج۲،ص۳۶۹.
4 ۔معمولی اضافہ۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۶۸.
6 ۔جھاڑو دینے والا۔ 7 ۔دریاں بچھانے والا۔ 8 ۔چوکیدار۔ 9 ۔ایک قسم کافانوس ۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۶۹
11 ۔یعنی اچھے قسم کا۔
قالین کا فرش بچھاسکتے ہیں۔(1) (بحر)
مسئلہ۷ ۱: مدرسہ پر جائداد وقف کی تو مدرس کی تنخواہ، طلبہ کی خوراک، وظیفہ، کتاب، لباس وغیرہا میں جائداد کی آمدنی صرف کی جاسکتی ہے۔ وقف کے نگران، حساب کا دفتر اور محاسب(2) کی تنخواہ، یہ چیزیں بھی مصارف میں داخل ہیں۔ بلکہ وقف کے متعلق جتنے کام کرنے والوں کی ضرورت ہو سب کو وقف سے تنخواہ دی جائے گی۔
مسئلہ۱۸: اوقاف سے جوماہوار وظائف مقرر ہوتے ہیں یہ من وجہ اُجرت ہے اور من وجہ صلہ، اُجرت تو یوں ہے کہ امام و موذن کی اگراثنائے سال میں وفات ہوجائے تو جتنے دن کام کیا ہے اُسکی تنخواہ ملے گی اور محض صلہ ہوتا تو نہ ملتی اور اگرپیشگی تنخواہ ان کو دیجاچکی ہے بعد میں انتقال ہو گیا یا معزول کرديے گئے تو جوکچھ پہلے دے چکے ہیں وہ واپس نہیں ہوگااورمحض اُجرت ہوتی تو واپس ہوتی۔(3) (درمختار)
مسئلہ۱۹: مدرسہ میں تعطیل کے جو ایام ہیں مثلاً جمعہ، منگل یا جمعرات، جمعہ، ماہ رمضان اور عید بقر عید کی تعطیلیں، جو عام طور پر مسلمانوں میں رائج و معمول ہیں ان تعطیلات کی تنخواہ کا مدرس مستحق ہے اور ان کے علاوہ اگر مدرسہ میں نہ آیا یا بلاوجہ تعلیم نہ دی تو اُس روز کی تنخواہ کا مستحق نہیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۲۰: طالبعلم وظیفہ کا اُس وقت مستحق ہے کہ تعلیم میں مشغول ہواور اگر دوسرا کام کرنے لگایا بیکار رہتا ہے تو وظیفہ کا مستحق نہیں اگرچہ اُسکی سکونت مدرسہ ہی میں ہواور اگر اپنے پڑھنے کے ليے کتاب لکھنے میں مشغول ہوگیا جس کا لکھنا ضروری تھا اس وجہ سے پڑھنے نہیں آیا تو وظیفہ کا مستحق ہے اور اگر وہاں سے مسافت سفرپر چلا گیا تو واپسی پر وظیفہ کا مستحق نہیں اور مسافت سفر سے کم فاصلہ کی جگہ پر گیا ہے اور پندرہ دِن وہاں رہ گیا جب بھی مستحق نہیں اور اِس سے کم ٹھہرا مگر جانا سیر و تفریح کے ليے تھا جب بھی مستحق نہیں اور اگر ضرورت کی وجہ سے گیا مثلاًکھانے کے ليے اُسکے پاس کچھ نہیں تھا اِس غرض سے گیا کہ وہاں سے کچھ چندہ وصول کر لائے تو وظیفہ کا مستحق ہے۔ (5)(خانیہ)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۵۹.
2 ۔حساب وکتاب کرنے والا۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۶۹۔۵۷۰.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی استحقاق القاضی...إلخ،ج۶،ص۵۷۰-۵۷۱.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الوقف،ج۲،ص۳۲۱.
مسئلہ۲۱: مدرس یا طالبعلم حجِ فرض کے ليے گیا تو اس غیر حاضری کی وجہ سے معزول کيے جانے کا مستحق نہیں بلکہ اپنا وظیفہ(1) بھی پائے گا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ۲۲: امام اپنے اعزہ (3)کی ملاقات کو چلاگیا اور ایک ہفتہ یاکچھ کم وبیش امامت نہ کرسکا یاکسی مصیبت یا استراحت کی وجہ سے امامت نہ کرسکا تو حرج نہیں اِن دنوں کا وظیفہ لینے کا مستحق ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ۲۳: امام نے اگر چند روز کے ليے کسی کو اپنا قائم مقام مقرر کردیا ہے تو یہ اُس کا قائم مقام ہے مگر وقف کی آمدنی سے اسکو کچھ نہیں دیاجاسکتا کیونکہ امام کی جگہ اِس کا تقرر نہیں ہے اور جوکچھ امام نے اسکے ليے مقرر کیا ہے وہ امام سے لے گا اور خود امام نے اگر سال کے اکثر حصہ میں کام کیا ہے توکل وظیفہ پانے کا مستحق ہے۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ۲۴: امام و موذن کا سالانہ مقرر تھا اور اثناء سال (6)میں انتقال ہو گیا تو جتنے دنوں کام کیا ہے اُتنے دنوں کی تنخواہ کے مستحق ہیں انکے ورثہ کو دی جائے۔ اگرچہ اوقاف کی آمدنی آنے سے پہلے انتقال ہوگیا ہو۔ اور مدرس کا انتقال ہوگیا تو جتنے دنوں کام کیا ہے یہ بھی اتنے دنوں کی تنخواہ کا مستحق ہے اور دوسرے لوگ جن کو وقف سے وظیفہ ملتا ہے وہ اثناء سال میں فوت ہو جائیں اور وقف کی آمدنی ابھی نہیں آئی ہے تو وظیفہ کے مستحق نہیں اور فقرا پر جائداد وقف تھی اور جن فقیروں کو دیناہے اُن کے نام لکھ ليے گئے اور رقم بھی برآمد کرلی گئی تو یہ لوگ جنکے نام پر رقم برآمد ہوئی مستحق ہوگئے، لہٰذا دینے سے پہلے ان میں سے کسی کا انتقال ہوگیا تو اُسکے وارث کو دیا جائے۔ یوہیں مکہ معظمہ یا مدینہ طیبہ کو یا کسی دوسری جگہ کسی معین شخص کے نام جو رقم بھیجی گئی اگر وہاں پہنچنے سے پہلے اُس کاانتقال ہوگیاتو اُسکے ورثہ اس رقم کے مستحق ہیں۔ جو شخص اس رقم کو لے گیا وہ انھيں ورثہ کو دے دوسرے لوگوں کو نہ
1 ۔بہارشریعت کے تمام نسخوں میں یہاں عبارت ایسے ہی مذکورہے،غالباًیہاں کتابت کی غلطی ہے کیونکہ '' درمختار میں اس مقام پر اصل عبارت
یوں ہے '' وظیفہ بھی نہ پا ئے گا''۔اعلیٰ حضرت مولاناشاہ احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمن فرماتے ہیں'' ہمارے ائمہ نے صیغہ ئ تعلیم میں تصریح فرمائی
کہ مدرس معمول کے علاوہ غیرحاضری پرتنخواہ کامستحق نہیں اگرچہ وہ غیرحاضری حج فرض اداکرنے کے لیے ہو''۔(ملخصاً فتاوی رضویہ
،ج۱۶،ص۲۰۹)اورحضرت علامہ مولانامفتی جلال الدین احمدامجدی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں''حج کی ادائیگی میں جوایام صرف ہوئے
ان ایام کی تنخواہ کامطالبہ جائزنہیں اورایسے مطالبہ کامنظورکرنابھی جائزنہیں اس لئے کہ مدرس ان ایام کی تنخواہ کامستحق نہیں''۔
(فتاوی فیض الرسول ،ج۳، ص۱۳۷) ۔...عِلْمِیہ
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۴۲.
3 ۔رشتہ داروں۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،مطلب:فیمااذاقبض المعلوم...إلخ،ج۶،ص۶۴۱.
5 ۔المرجع السابق،ص۶۴۳.
6 ۔سال کے دوران۔
دے۔ (1)(ردالمحتار) امام و مؤذن میں سالانہ کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ ششماہی یا ماہوار تنخواہ ہو (جیسا کہ ہندوستان میں عموماً ماہوار تنخواہ ہوتی ہے سالانہ یا ششماہی اتفاقاًہوتی ہے اور درمیان میں انتقال ہوجائے تو اتنے دنوں کی تنخواہ کا مستحق ہے۔
مسئلہ۲۵: وقف تین طرح ہوتا ہے صرف فقرا کے ليے وقف ہو مثلاًاس جائداد کی آمدنی خیرات کی جاتی رہے یا اغنیاء کے ليے پھر فقرا کے ليے۔ مثلاًنسلاً بعد نسل اپنی اولاد پر وقف کیا اور یہ ذکر کردیا کہ اگر میری اولاد میں کوئی نہ رہے تو اسکی آمدنی فقرا پر صرف کی جائے یا اغنیا و فقرا دونوں کے ليے جیسے کوآں، سرائے، مسافر خانہ، قبرستان، پانی پلانے کی سبیل، پل، مسجد کہ ان چیزوں میں عرفاً فقرا کی تخصیص نہیں ہوتی، لہٰذا اگر اغنیا کی تصریح نہ کرے جب بھی ان چیزوں سے اغنیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور ہسپتال پر جائداد وقف کی کہ اسکی آمدنی سے مریضوں کو دوائیں دی جائیں تو اس دوا کو اغنیا اس وقت استعمال کرسکتے ہیں جب واقف نے تعمیم کردی ہو کہ جو بیمار آئے اُسے دوا دی جائے یا اغنیا کی تصریح کردی ہو کہ امیر و غریب دونوں کو دوائیں دی جائیں۔(2) (درمختار)
مسئلہ۲۶: صرف اغنيا پر وقف جائز نہیں ہاں اگر اغنیا پر ہو انکے بعدفقرا پر اور جن اغنیا پر وقف کیا جائے ان کی تعداد معلوم ہو تو جائز ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ۲۷: مسافروں پر وقف کیا یعنی وقف کی آمدنی مسافروں پر صرف ہو یہ وقف جائز ہے اور اسکے مستحق وہی مسافر ہیں جو فقیر ہوں جو مسافر مالدار ہوں وہ حقدار نہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ۲۸: فقیروں یا مسکینوں پر وقف کیا تو یہ وقف مطلقاً صحیح ہے چاہے موقوف علیہ محصور ہوں یا غیر محصور اور اگر ایسا مصرف ذکر کیا جس میں فقیرو غنی دونوں پائے جاتے ہوں مثلاًقرابت والے پر وقف کیا تو اگر معین ہوں وقف صحیح ہے ورنہ نہیں، ہاں اگر وہ لفظ استعمال کے لحاظ سے حاجت پر دلالت کرتا ہوتو وقف صحیح ہے، مثلاً یتامیٰ پر یا طلبہ پر وقف کیا کہ فقیروغنی دونوں یتیم ہوتے ہیں اور دونوں طالبعلم ہوتے ہیں مگر عرف میں یہ دونو ں لفظ حاجت مندوں پر بولے جاتے ہیں تو ان سے بھی وقف صحیح ہے اور وقف کی آمدنی صرف حاجت مند یتیم اور طلبہ کو دی جائے گی مالدار کو نہیں۔ یوہیں اپاہج(5) اور اندھوں پر وقف بھی صحیح ہے
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،مطلب:فی امام والمؤذن...إلخ،ج۶،ص۶۳۸-۶۴۰.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۶۱۰-۶۱۱.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الاول،ج۲،ص۳۶۹.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الاول،ج۲،ص۳۶۹.
5 ۔چلنے پھرنے سے معذور۔
اور صرف محتاجوں کو دیا جائے گا۔ یوہیں بیوگان(1) پر بھی وقف صحیح ہے اگرچہ یہ لفظ فقیروغنی دونوں کو شامل ہے مگر استعمال میں اس سے عموماًاحتیاج سمجھ آتی ہے۔ یوہیں فقہ و حدیث کے شغل رکھنے والوں پر بھی وقف صحیح ہے کہ یہ لوگ علمی شغل کی وجہ سے کسب میں مشغول نہیں ہوتے اور عموماًصاحب حاجت ہوتے ہیں۔(2) (فتح القدیر)
مسئلہ۲۹: اوقاف میں نیا وظیفہ مقرر کرنے کا قاضی کو بھی اختیار نہیں یعنی ایسا وظیفہ جو واقف کے شرائط میں نہیں ہے تو شرائط کے خلاف مقرر کرنا بدرجہ اولیٰ ناجائز ہوگا اور جسکے ليے مقرر کیا گیا اُسکو لینا بھی نا جائز ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ۳۰: قاضی اگر کسی شخص کے ليے تعلیقی(4)وظیفہ جاری کرے تو ہوسکتا ہے مثلاًیہ کہا کہ اگر فلاں مرجائے یا کوئی جگہ خالی ہو تو میں نے اُس کی جگہ تجھ کو مقرر کردیا تو مرنے پر اسکا تقرر اُسکی جگہ پر ہوگیا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ۳۱: اگر امور خیر(6)کے ليے وقف کیا اور یہ کہا کہ آمدنی سے پانی کی سبیل لگائی جائے(7)یا لڑکیوں اور یتامی(8) ٰ کی شادی کا سامان کردیا جائے یا کپڑے خریدکر فقیروں کو ديے جائیں یا ہرسال آمدنی صدقہ کردی جائے یا زمین وقف کی کہ اسکی آمدنی جہاد میں صرف کی جائے یا مجاہدین کا سامان کردیا جائے یا مُردوں کے کفن دفن میں صرف کی جائے یہ سب صورتیں جائز ہیں۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ۳۲: ایک وقف کی آمدنی کم ہے کہ جس مقصد سے جائداد وقف کی ہے وہ مقصد پورا نہیں ہوتا مثلاًجائداد وقف کی کہ اس کے کرایہ سے امام و موذن کی تنخواہ دی جائے مگر جتنا کرایہ آتا ہے اُس سے امام و مؤذن کی تنخواہ نہیں دی جاسکتی کہ اتنی کم تنخواہ پر کوئی رہتا ہی نہیں تو دوسرے وقف کی آمدنی اس پر صرف کی جاسکتی ہے، جبکہ دوسرا وقف بھی اِسی شخص کا ہو اور اُسی چیز پر وقف ہو مثلاًایک مسجد کے متعلق اس شخص نے دو وقف کيے ایک کی آمدنی عمارت کے ليے اور دوسرے کی امام و مؤذن کی تنخواہ کے ليے اوراسکی آمدنی کم ہے تو پہلے وقف کی فاضل آمدنی امام و مؤذن پر صرف کی جاسکتی ہے اور اگر واقف
اور صرف محتاجوں کو دیا جائے گا۔ یوہیں بیوگان(1) پر بھی وقف صحیح ہے اگرچہ یہ لفظ فقیروغنی دونوں کو شامل ہے مگر استعمال میں اس سے عموماًاحتیاج سمجھ آتی ہے۔ یوہیں فقہ و حدیث کے شغل رکھنے والوں پر بھی وقف صحیح ہے کہ یہ لوگ علمی شغل کی وجہ سے کسب میں مشغول نہیں ہوتے اور عموماًصاحب حاجت ہوتے ہیں۔(2) (فتح القدیر)
مسئلہ۲۹: اوقاف میں نیا وظیفہ مقرر کرنے کا قاضی کو بھی اختیار نہیں یعنی ایسا وظیفہ جو واقف کے شرائط میں نہیں ہے تو شرائط کے خلاف مقرر کرنا بدرجہ اولیٰ ناجائز ہوگا اور جسکے ليے مقرر کیا گیا اُسکو لینا بھی نا جائز ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ۳۰: قاضی اگر کسی شخص کے ليے تعلیقی(4)وظیفہ جاری کرے تو ہوسکتا ہے مثلاًیہ کہا کہ اگر فلاں مرجائے یا کوئی جگہ خالی ہو تو میں نے اُس کی جگہ تجھ کو مقرر کردیا تو مرنے پر اسکا تقرر اُسکی جگہ پر ہوگیا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ۳۱: اگر امور خیر(6)کے ليے وقف کیا اور یہ کہا کہ آمدنی سے پانی کی سبیل لگائی جائے(7)یا لڑکیوں اور یتامی(8) ٰ کی شادی کا سامان کردیا جائے یا کپڑے خریدکر فقیروں کو ديے جائیں یا ہرسال آمدنی صدقہ کردی جائے یا زمین وقف کی کہ اسکی آمدنی جہاد میں صرف کی جائے یا مجاہدین کا سامان کردیا جائے یا مُردوں کے کفن دفن میں صرف کی جائے یہ سب صورتیں جائز ہیں۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ۳۲: ایک وقف کی آمدنی کم ہے کہ جس مقصد سے جائداد وقف کی ہے وہ مقصد پورا نہیں ہوتا مثلاًجائداد وقف کی کہ اس کے کرایہ سے امام و موذن کی تنخواہ دی جائے مگر جتنا کرایہ آتا ہے اُس سے امام و مؤذن کی تنخواہ نہیں دی جاسکتی کہ اتنی کم تنخواہ پر کوئی رہتا ہی نہیں تو دوسرے وقف کی آمدنی اس پر صرف کی جاسکتی ہے، جبکہ دوسرا وقف بھی اِسی شخص کا ہو اور اُسی چیز پر وقف ہو مثلاًایک مسجد کے متعلق اس شخص نے دو وقف کيے ایک کی آمدنی عمارت کے ليے اور دوسرے کی امام و مؤذن کی تنخواہ کے ليے اوراسکی آمدنی کم ہے تو پہلے وقف کی فاضل آمدنی امام و مؤذن پر صرف کی جاسکتی ہے اور اگر واقف
1 ۔بیوہ عورتوں۔
2 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الثانی فی الموقوف علیہ،ج۵،ص۴۵۳.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۶۸.
4 ۔ مشروط۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۷۱.
6 ۔نیکی کے کاموں۔ 7 ۔یعنی راہ گیروں کو مفت پانی پلانے کا بندو بست کیا جائے ۔ 8 ۔یتیموں۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الاول،ج۲،ص۳۶۹،۳۷۰.
دونوں وقفوں کے دو ہوں مثلاًدو شخصوں نے ایک مسجد پر وقف کیا یا واقف(1) ایک ہی ہو مگر جہت وقف مختلف ہو مثلاًایک ہی شخص نے مسجد و مدرسہ بنایا اور دونوں پر الگ الگ وقف کیا تو ایک کی آمدنی دوسرے پر صَرف(2) نہیں کرسکتے۔(3) (درمختار)
مسئلہ۳۳: دو مکان وقف کيے ایک اپنی اولاد کے رہنے کے ليے اور دوسرا اس ليے کہ اِس کا کرایہ میری اولاد پر صرف ہوگا تو ایک کو دوسرے پر صرف نہیں کرسکتے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ۳۴: وقف سے امام کی جو کچھ تنخواہ مقرر ہے اگر وہ ناکافی ہے تو قاضی اُس میں اضافہ کرسکتا ہے اور اگر اتنی تنخواہ پر دوسرا امام مل رہا ہے مگر یہ امام عالم پر ہیز گار ہے اُس سے بہتر ہے جب بھی اضافہ جائز ہے اور اگر ایک امام کی تنخواہ میں اضافہ ہوااسکے بعد دوسراا مام مقرر ہوا تو اگر امام اول کی تنخواہ کا اضافہ اُسکی ذاتی بزرگی کی وجہ سے تھا جو دوسرے میں نہیں تو دوسرے کے ليے اضافہ جائز نہیں اور اگر وہ اضافہ کسی بزرگی و فضیلت کی وجہ سے نہ تھابلکہ ضرورت وحاجت کی وجہ سے تھا تو دوسرے کے ليے بھی تنخواہ میں وہی اضافہ ہوگا یہی حکم دوسرے وظیفہ پانے والوں کا بھی ہے کہ ضرورت کی وجہ سے اُنکی تنخواہوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: یوں کہا کہ اِ س جائداد کو میں نے اپنے اوپر وقف کیا میرے بعد فلاں پر اُسکے بعدفقرا پر یہ وقف جائز ہے۔ یوہیں اپنی اولاد یا نسل پر بھی وقف کرنا جائز ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: اپنی اولاد پر وقف کیا انکے بعد مساکین و فقرا پر تو جو اولاد آمدنی کے وقت موجود ہے اگرچہ وقف کے وقت موجونہ تھی اُسے حصہ ملے گا اور جو وقف کے وقت موجود تھی او را ب مرچکی ہے اُسے حصہ نہیں ملے گا۔(7) ( عالمگیری)
مسئلہ ۳: اولاد نہیں ہے اور اولاد پر یوں وقف کیا کہ جو میری اولاد پیدا ہو وہ آمدنی کی مستحق ہے یہ وقف صحیح ہے اور اِس صورت میں جب تک اولاد پیدا نہ ہو وقف کی جو کچھ آمدنی ہوگی مساکین پر صرف ہوگی اور جب اولاد پیدا ہوگی تو اب جو کچھ
1 ۔وقف کرنے والا۔ 2 ۔خرچ۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۵۳.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی نقل انقاض المسجدونحوہٖ،ج۶،ص۵۵۴.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،مطلب:فی زیادۃ القاضی...إلخ،ج۶،ص۶۶۹.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۷۱.
7 ۔المرجع السابق.
آمدنی ہوگی اس کو ملے گی۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ ۴: اولاد پر وقف کیا تو لڑکے اور لڑکیا ں اورخنثیٰ(2) سب اس میں داخل ہیں اور لڑکوں پر وقف کیا تو لڑکیا ں اور خنثیٰ داخل نہیں اور لڑکیوں پر وقف کیا تو لڑکے اور خنثیٰ داخل نہیں اور یوں کہا کہ لڑکے اور لڑکیوں پر وقف کیا تو خنثیٰ داخل ہے کہ وہ حقیقتہً لڑکا ہے یا لڑکی اگرچہ ظاہر میں کوئی جانب متعین نہ ہو۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: اپنی اُس اولاد پر وقف کیا جو موجود ہے اور نسلاًبعد نسل اسکی اولاد پر تو واقف کی جو اولاد وقف کرنے کے بعد پیدا ہوگی یہ اور اسکی اولاد حقدار نہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: اولاد پر وقف کیا تو اُس اولاد کو حصہ ملے گا جو معروف النسب (5)ہواور اگر اُسکا نسب صرف واقف کے اقرار سے ثابت ہوتا ہو تو آمدنی کی مستحق نہیں اِسکی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے جائداد اولادپر وقف کی اور وقف کی آمدنی آنے کے بعد چھ مہینے سے کم میں اسکی کنیز سے بچہ پیدا ہوا اس نے کہا یہ میرا بچہ ہے تو نسب ثابت ہو جائے گا۔ مگر اس آمدنی سے اسکو کچھ نہیں ملے گا۔ اوراگرمنکوحہ(6) یا ام ولد سے چھ مہینہ سے کم میں بچہ پیدا ہوا تو اپنے حصہ کا مستحق ہے۔ اور آمدنی سے چھ مہینے یا زیادہ میں پیدا ہو تو اِس آمدنی سے اس کو حصہ نہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: اپنی نا بالغ اولاد پر وقف کیا تو وہ مرادہیں جو وقف کے وقت بچے ہوں اگرچہ آمدنی کے وقت جوان ہوں یااندھی یا کانی(8) اولاد پر وقف کیا تو وقف کے دن جو اندھے اور کانے ہیں وہ مراد ہیں اگر وقف کے دن اندھا نہ تھا آمدنی کے دن اندھا ہوگیا تو مستحق نہیں اور اگر یوں وقف کیا کہ اسکی آمدنی کی مستحق میری وہ اولاد ہے جو یہاں سکونت رکھے تو آمدنی کے وقت یہاں جس کی سکونت ہوگی وہ مستحق ہے وقف کے دِن اگرچہ یہاں سکونت نہ تھی۔(9) (عالمگیری، فتح القدیر)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الوقف علی الاولاد...إلخ،ج۲،ص۳۱۶.
2 ۔ہیجڑہ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۷۱.
4 ۔المرجع السابق،ص۳۷۵.
5 ۔جس کا نسب لوگوں کو معلوم ہو۔ 6 ۔بیوی۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۷۱۔۳۷۲.
8 ۔ایک آنکھ والی۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۷۲.
و''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الثانی فی الموقوف علیہ،ج۵،ص۴۵۳.
مسئلہ ۸: اپنی اولاد پر وقف کیا اور شرط کردی کہ جو یہاں سے چلاجائے اُسکا حصہ ساقط تو جانے کے بعد واپس آجائے تو بھی حصہ نہیں ملے گاہاں اگر واقف نے یہ بھی شرط کی ہوکہ واپس ہونے پر حصہ ملے گا تو اب ملے گا۔ یوہیں اگر یہ شرط کی ہے کہ میری اولاد میں جو لڑکی بیوہ ہوجائے اُس کو دیا جائے تو جب تک بیوہ ہونے پر نکاح نہ کریگی ملے گا اور نکاح کرنے پر نہیں ملے گااگرچہ نکاح کے بعد اُسکے شوہر نے طلاق دیدی ہو مگر جب کہ واقف نے یہ شرط کردی ہو کہ پھر بے شوہر والی ہوجائے تو دیا جائے تو اب دیا جائے گا۔(1) (فتح القدیر)
مسئلہ ۹: اولادِ ذکور(2) اور ذکور کی اولاد(3) پر وقف کیا تو اِسی کے موافق تقسیم ہوگی اور اگر اولادِ ذکور کی اولادِ ذکورپر نسلاً بعد نسل وقف کیا تو لڑکیوں کو اس میں سے کچھ نہ ملے گا بلکہ اِس نسل میں جتنے لڑکے ہونگے وہی حقدار ہونگے۔ اورذکور کا سلسلہ ختم ہونے پر فقرا پر صرف ہوگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: اولادمیں جو حاجت مند ہوں اُن پر وقف کیا تو آمدنی کے وقت جو ایسے ہوں وہ مستحق ہونگے، اگرچہ وہ پہلے مالدار تھے اور جو پہلے حاجت مند تھے اور اب مالدار ہوگئے تو مستحق نہیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: محتاج اولاد پر وقف کیا تھااور آمدنی چند سال تک تقسیم نہیں ہوئی یہاں تک کہ مالدار محتاج ہوگئے اور محتاج مالدار تو تقسیم کے وقت جو محتاج ہوں اُن کو دیا جائے۔ (6)(فتح القدیر)
مسئلہ ۱۲: اپنی اولاد میں جو عالم ہواُس پر وقف کیا تو غیر عالم کو نہیں ملے گا اور فرض کرو چھوٹا بچہ چھوڑکر مرگیاجو بعد میں عالم ہوگیا تو جب تک عالم نہیں ہواہے اسے نہیں ملے گا۔ اور نہ اس زمانہ کی آمدنی کاحصہ اسکے ليے جمع رکھا جائے گابلکہ اب سے حصہ پانے کا مستحق ہوگا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: اگر اولا د(8)پر وقف کیا مگر نسلاًبعد نسل نہ کہا تو صرف صلبی(9) کو ملے گا اور صلبی اولاد ختم ہونے پر انکی
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الثانی فی الموقوف علیہ،ج۵،ص۴۵۳.
2 ۔یعنی بیٹے۔ 3 ۔یعنی بیٹوں کی اولاد۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۷۳.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الثانی فی الموقوف علیہ،ج۵،ص۴۵۳.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۷۳.
8 ۔ اُردو میں ایک کو اولاد بولتے ہیں اور یہ لفظ ہمارے یہاں کے محاورے میں ایسی جگہ بولا جاتاہے جہاں عربی میں ولد بولتے ہیں ورنہ
عربی میں اولاد کے لفظ کو صلبی کے ساتھ خصوصیت نہیں ۔۱۲منہ حفظہ ربہ
9 ۔سگی اولاد،یعنی بیٹے،بیٹیاں۔
اولاد مستحق نہیں ہوگی، بلکہ حق مساکین ہے اور اس صورت میں اگر وقف کے وقت اُس شخص کی صلبی اولاد ہی نہ ہو اور پوتا موجود ہے تو پوتا ہی صلبی اولاد کی جگہ ہے کہ جب تک یہ زندہ ہے حقدار ہے اور نواسہ صلبی اولاد کی جگہ نہیں اور وقف کے بعد صلبی اولاد پیدا ہوگئی تو اب سے پوتا نہیں پائے گا، بلکہ صلبی اولاد مستحق ہے اور فرض کرو پوتا بھی نہ ہو مگر پرپوتااورپر پوتے کا لڑکا ہو تو یہ دونوں حقدار ہیں۔(1) (خانیہ وغیرہ)
مسئلہ ۱۴: اولاد اور اولاد کی اولاد پر وقف کیا تو صرف دوہی پشت تک کی اولاد حقدار ہے پوتے کی اولاد مستحق نہیں اور اس میں بھی بیٹی کی اولاد یعنی نواسے نواسیوں کا حق نہیں اور اگریوں کہا کہ اولاد پھر اولاد کی اولاد پھر انکی اولاد یعنی تین پشتیں ذکر کردیں تو یہ ایساہی ہے جیسے نسلاً بعد نسل اور بطناً بعد بطن کہتا کہ جب تک سلسلہ اولاد میں کوئی باقی رہے گا حقدار ہے اورنسل منقطع(2) ہوجائے تو فقرا کو ملے گا۔(3) (خانیہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۵: بیٹوں (صیغہ جمع) پر وقف کیا اور دو یا زیادہ ہوں تو سب برابربرابر تقسیم کرلیں اور ایک ہی بیٹا ہو تو آمدنی میں نصف اسے دیں گے اور نصف فقرا کو اور اگر بیٹے اور بیٹے کی اولاد اوراسکی اولاد کی اولاد پر نسلاًبعد نسل وقف کیا تو بیٹے کی تمام اولادِ ذکوروانا ث پر(4)برابراتقسیم ہوگا اور اگر وقف میں مرد کو عورت سے دونا(5) کہاہو تو برابر نہیں دیں گے بلکہ اُس کے موافق دیں جیسا وقف میں مذکور ہے۔ پوتے اور پر پوتے دونوں کو برابر دیا جائے گا ہاں اگر واقف نے وقف میں یہ ذکر کر دیا ہو کہ بطن اعلی(6) کو دیا جائے وہ نہ ہوں تو اسفل (7)کو تو پوتے کے ہوتے ہوئے پر پوتے کو نہیں دیں گے بلکہ اگر ایک ہی پوتا ہو تو کل کا یہی حقدار ہے اسکے مرنے کے بعد تمام پوتے کی اولاد کو ملے گااس پوتے کی اولاد کو بھی اور جو پوتے اس سے پہلے مرچکے ہیں اُن کی اولاد وں کو بھی اور اگریہ کہہ دیا ہوکہ بطن اعلیٰ میں جو مرجائے اُسکا حصہ اُسکی اولاد کو دیا جائے تو جو پوتا موجود ہے اُسے ملے گا اور جو مرگیا ہے اُوسکا حصہ اُس کی اولاد کو ملے گا۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الوقف علی الاولاد...إلخ،ج۲،ص۳۱۳وغیرہا.
2 ۔ختم۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الوقف علی الاولاد...إلخ،ج۲،ص۳۱۴وغیرہا.
4 ۔یعنی بیٹوں۔ 5 ۔دُگنا،ڈبل۔
6 ۔بطن اعلی سے مراد قریبی نسل جیسے بیٹوں اور پوتوں کے ہوتے ہوئے بیٹے بطن اعلی ہوں گے ۔
7 ۔اسفل سے مراد یہ ہے کہ قریبی نسل کے اعتبار سے دوری پر ہوں جیسے پوتے ،بیٹوں کے ہوتے ہوئے اسفل ہوں گے۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۷۴-۳۷۶.
مسئلہ ۱۶: آمدنی آگئی ہے مگر ابھی تقسیم نہیں ہوئی ہے کہ ایک حقدار مرگیا تو اسکا حصہ ساقط نہیں ہوگا، بلکہ اسکے ورثہ کو ملے گا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: ایک شخص نے کہا میرے مرنے کے بعد میری یہ زمین مساکین پر صدقہ ہے اور یہ زمین ایک تہائی کے اندر ہے تو مرنے کے بعدا سکی آمدنی اس کی اولاد کو نہیں دی جاسکتی اگرچہ فقیر و محتاج ہو اور اگر صحت میں وقف کرے اور ما بعد موت کی طرف مضاف نہ کرے پھر مرجائے اور اسکی اولاد میں ایک یا چند مسکین ہوں تو ان کو دینا بہ نسبت دوسرے مساکین کے زیادہ بہتر ہے مگر ہر ایک کو نصاب سے کم دیا جائے۔(2) (فتاویٰ قاضی خاں)
مسئلہ ۱۸: صحت میں فقرا پر وقف کیا اور واقف کے ورثہ فقیر ہوں تو ان کو دینا زیادہ بہتر ہے مگراس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ کل مال انھيں کو نہ دیا جائے بلکہ کچھ اِن کو دیا جائے اور کچھ غیروں کو اور اگر کل دیا جائے تو ہمیشہ نہ دیاجائے کہ کہیں لوگ یہ نہ سمجھنے لگیں کہ انھيں پر وقف ہے۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۱۹: صحت میں جو وقف فقرا پر کیا گیا اُس کامصرف اولاد کے بعدسب سے بہتر واقف(4)کی قرابت والے(5) ہیں پھراسکے آزاد کردہ غلام پھر اُسکے پروس والے پھر اُسکے شہر کے وہ لوگ جو واقف کے پاس اُٹھنے بیٹھنے والے اُسکے دوست احباب تھے۔ (6)(خانیہ)
مسئلہ ۲۰: اپنی اولاد پر وقف کیا اور انکے بعد فقرا پر اور اُسکی چند اولاد یں ہیں ان میں سے کوئی مرجائے تو وقف کی کُل آمدنی باقی اولاد پر تقسیم ہوگی اور جب سب مرجائیں گے اُس وقت فقرا کو ملے گی۔ اور اگر وقف میں اولاد کانام ذکر کر دیا ہو کہ میں نے اپنی اولاد فلاں و فلاں پر وقف کیا اور انکے بعد فقرا پر تو اِس صورت میں جو مرے گا اُس کا حصہ فقرا کو دیا جائے گا۔ اب باقیوں پر کُل تقسیم نہیں ہوگا۔ (7)(خانیہ)
مسئلہ ۲۱: اپنی اولاد پر مکان وقف کیا ہے کہ یہ لوگ اُ س میں سکونت رکھیں تو اس میں سکونت(8) ہی کرسکتے ہیں کرایہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۷۶.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الوقف علی الاولاد...إلخ،ج۲،ص۳۱۵.
3 ۔المرجع السابق،فصل فی الوقف علی القرابات،ج۲،ص۳۲۰.
4 ۔وقف کرنے والا۔ 5 ۔قریبی رشتہ دار۔
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الوقف علی القرابات،ج۲،ص۳۲۰.
7 ۔المرجع السابق،فصل فی الوقف علی الاولاد...إلخ،ج۲،ص۳۱۶.
8 ۔رہائش۔
پر نہیں دے سکتے۔ اگرچہ اولاد میں صرف ایک ہی شخص ہے اور مکان اسکی ضرورت سے زیادہ ہے۔ اور اگر اسکی اولاد میں بہت سے اشخاص ہوں کہ سب اس میں سکونت نہیں کرسکتے جب بھی کرایہ پر نہیں دے سکتے بلکہ باہمی رضامندی سے نمبر وار ہرایک اس میں سکونت کرسکتا ہے۔ اور اگر مکان موقوف بہت بڑا ہے جس میں بہت سے کمرے اور حجرے ہیں تو مردوں کی عورتیں اور عورتوں کے شوہر بھی رہ سکتے ہیں کہ مرد اپنی عورت اور نوکر چاکر کے ساتھ علیٰحدہ کمرہ میں رہے اور دوسرے لوگ دوسرے کمروں میں اور اگر اتنے کمرے اور حجرے نہ ہوں کہ ہر ایک علیٰحدہ سکونت کرے تو صرف وہی لوگ رہ سکتے ہیں جن پر وقف ہے یعنی اولاد ذکور کی بی بیاں اور اولاد اناث کے خاوند نہیں رہ سکتے۔(1) (فتح القدیر، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: اگر مکان موقوف تمام اولاد کے ليے نا کافی ہے بعض اس میں رہتے ہیں اور بعض نہیں تو نہ رہنے والے ساکنان سے(2) کرایہ نہیں لے سکتے نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اِتنے دِن تم رہ چکے ہو اور اب ہم رہیں گے۔ بلکہ اگر چاہیں تو انھيں کے ساتھ رہ لیں۔(3)(درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: اولاد کی سکونت کے ليے مکان وقف کیا ہے اِن میں سے ایک نے سارے مکان پر قبضہ کررکھا ہے دوسرے کو گھسنے نہیں دیتا تو اس صورت میں ساکن(4) پر کرایہ دینا لازم ہے کہ یہ غاصب ہے اور غاصب کو ضمان دینا پڑتا ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: قرابت والوں پر وقف کیا تو وقف صحیح ہے اور مرد و عورت دونوں برابر کے حقدار ہیں۔ مرد کوعورت سے زیادہ حصہ نہیں دیا جائے گا اور قرابت والوں میں واقف کی اولاد بیٹے پوتے وغیرہ یا اُسکے اصول باپ دادا وغیرہ کا شمار نہ ہوگا یعنی ان کو حصہ نہیں ملے گا۔ (6)(خانیہ)
مسئلہ ۲۵: قرابت والوں پر وقف کیا اور واقف کے چچا بھی ہیں اور ماموں بھی تو چچاؤں کو ملے گا ماموؤں کونہیں اور ایک چچا اور دو ماموں ہوں تو آدھا چچا کو اورآدھے میں دونوں ماموؤں کو یہ جبکہ لفظ جمع (قرابت والوں) ذکر
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص ۴۲۶.
و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فیما اذاضاقت الدارعلی المستحقین،ج۶،ص۵۴۳.
2 ۔مکان میں رہنے والوں سے۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فیما اذاضاقت الدارعلی المستحقین،ج۶،ص۵۴۳-۵۴۵.
4 ۔مکان میں رہنے والے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۴۳.
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الوقف علی القرابات،ج۲،ص۳۱۷.
کیا ہواور اگر لفظ واحد قرابت والا کہا تو فقط چچا کو ملے گا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: اپنی قرابت کے محتاجین و فقرا پر وقف کیا تو وقف صحیح اور قرابت والوں میں اُنھيں کو ملے گا جو محتاج و فقیر ہوں۔ (2)(خانیہ)
مسئلہ ۲۷: مکان وقف کیا اور شرط یہ کردی کہ میری فلاں بیوہ جب تک نکاح نہ کرے اس میں سکونت کرے۔ واقف کے مرنے کے بعد اُ سکی بیوہ نے نکاح کرلیا تو سکونت کا حق جاتا رہا اور نکاح کے بعد پھر بیوہ ہوگئی یا شوہر نے طلاق دیدی جب بھی حق سکونت عودنہ کریگا(3)۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۸: متولی(5) کو وقف نامہ مِلا جس میں یہ لکھا ہے کہ اِس محلہ کے محتاجوں اور دیگر فقرا مسلمین پر صرف کیاجائے تو اِس محلہ کے ہر مسکین کو ایک ایک حصہ دیا جائے اور دوسرے مسکینوں کا ایک حصہ اور محلہ والا کوئی مسکین مرجائے تواسکا حصہ ساقط۔ اور وہ حصہ باقیوں پر تقسیم ہو جائے گا۔ یہ اُسی وقت تک ہے کہ وقف نامہ جب لکھا گیا اُس وقت محلہ میں جو مساکین تھے وہ جب تک زندہ رہیں اور وہ سب کے سب نہ رہے تو جیسے اس محلہ کے مسکین ہیں ویسے ہی دوسرے مساکین یعنی اب جو محلہ میں دوسرے مساکین ہونگے وہ ایک ایک حصہ کے حقدار نہیں ہیں بلکہ جتنا دیگر مساکین کو ملے گا اُتنا ہی اُن کو بھی ملے گا۔ (6)(خانیہ)
مسئلہ ۲۹: اپنے پروس کے فقراپر وقف کیا تو پروسی سے مراد وہ لوگ ہیں جو اُس محلہ کی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، اگرچہ اُن کامکان واقف کے مکان سے متصل نہ ہوا ور ایک شخص اُس محلہ میں رہتا ہے مگر جس مکان میں رہتا ہے اُ س کا مالک دوسرا شخص ہے جویہاں نہیں رہتا تو مالک مکان پروسیوں میں شمار نہ ہوگا بلکہ وہ جس کی یہاں سکونت ہے۔ وقف کے وقت جولوگ محلہ میں تھے وہ مکان بیچ کر چلے گئے تو وہ پروسی نہ رہے بلکہ یہ ہیں جو اب یہاں رہتے ہیں۔ (7)(خانیہ)
مسئلہ ۳۰: پروسیوں پر وقف کیا تھا اور خود واقف دوسرے شہر کو چلا گیا اگر وہاں مکان بنا کر مقیم ہوگیا(8)تو وہاں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الثانی،ج۲،ص۳۷۹.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الوقف علی القرابات،ج۲،ص۳۱۷.
3 ۔یعنی دوبارہ رہائش کاحق حاصل نہ ہوگا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۹۳.
5 ۔وقف کا نگران۔
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الوقف علی القرابات،ج۲،ص۳۲۰.
7 ۔المرجع السابق.
8 ۔یعنی مستقل رہائش اختیار کر لی۔
کے پروس والے مستحق ہیں پہلی جگہ جہاں تھا وہاں کے لوگ اب مستحق نہ رہے۔ اور اگر وہاں مکان نہیں بنایا ہے تو پہلی جگہ والے بدستور مستحق ہیں۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۳۱: ایک شخص نے اپنے شہر کے سادات(2)کے ليے جائداد وقف کی ایک سیّد صاحب وہاں سے دوسرے شہر کو چلے گئے اگر یہاں کامکان بیچا نہیں اور دوسرے شہر میں مکان نہیں بنایا تو یہیں کے ساکن(3)ہیں اور وظیفہ کے مستحق ہیں۔ (4)(خانیہ)
مسئلہ ۳۲: جن لوگوں پر جائدا د وقف کی اُن سب نے انکار کر دیا تو وقف جائز اور آمدنی فقرا پر تقسیم ہوگی اور اگر بعض نے انکار کیا اور واقف نے موقوف علیہ(5) کو جس لفظ سے ذکر کیا ہے وہ لفظ باقیوں پر بولا جاتا ہے توکل آمدنی ان باقی لوگوں کو دی جائے گی۔ اور اگر وہ لفظ نہیں بولا جاتا تو جس نے انکار کردیا ہے اُس کاحصہ فقیر کو دیا جائے مثلاً یہ کہا کہ فلاں کی اولاد پر وقف کیا اور بعض نے انکار کردیاتو سب آمدنی باقیوں کو ملے گی اور اگر کہا زید وعمرو پر وقف کیا اور زیدنے انکار کیا تو اس کا حصہ عمرو کونہیں ملے گا بلکہ فقیر کو دیا جائے اور اگر کسی شخص کی اولاد پر وقف کیا تھا اور سب نے انکار کر دیا اور آمدنی فقیروں کو دیدی گئی پھر نئی آمدنی ہوئی تو اس کو قبول نہیں کرسکتے یا اِن موجود ین(6)نے انکار کردیا تھا مگر اُس شخص کے کوئی اور لڑکا پیدا ہوا اُسنے قبول کرلیا تو ساری آمدنی اِسی کو ملے گی۔ (7)(فتح القدیر)
مسئلہ ۳۳: ایک شخص پر اپنی جائدادنسلاً بعد نسل(8)وقف کی اُس شخص نے کہا نہ میں اپنے ليے قبول کرتا ہوں نہ اپنی نسل کے ليے تو اپنے حق میں انکار صحیح ہے۔ اور اولاد کے حق میں صحیح نہیں۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: موقوف علیہ نے پہلے رد کر دیا تو اب قبول کرکے وقف کو واپس نہیں لے سکتا اور جب ایک سال اس نے قبول کرلیا تو پھر ردنہیں کرسکتا اور اگر یہ کہا کہ ایک سال کا قبول نہیں کرتا ہوں اور اُسکے بعد کا قبول کرتا ہوں تو اِس سال کی آمدنی دیگر مستحقین کو ملے گی پھر اِس کو ملے گی۔ (10)(فتح القدیر)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الوقف علی القرابات،ج۲،ص۳۲۱.
2 ۔سیدزادوں۔ 3 ۔رہنے والے،رہائشی۔
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الوقف علی القرابات،ج۲،ص۳۲۱.
5 ۔جس پر وقف کیا۔ 6 ۔موجود لوگ،حاضرین۔
7 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الثانی فی الموقوف علیہ،ج۵،ص۴۵۱.
8 ۔نسل در نسل۔
9 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃالوقف...إلخ،فصل فی کیفیۃ...إلخ،ج۲،ص۴۳۰.
10 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الثانی فی الموقوف علیہ،ج۵،ص۴۵۱.
مسئلہ ۳۵: واقف ہی متولی بھی ہے وہ آمدنی کو اپنے ہاتھ سے اپنی قرابت والوں پر صرف کرتا ہے کسی کو کم کسی کو زیادہ جو اُسکے خیال میں آتا ہے اُسکے موافق دیتا ہے۔ اب وہ فوت ہوا اُس نے دوسرے کو متولی مقرر کیا اور یہ بیان نہیں کہ کس کو زیادہ دیتا تھا تو یہ متولی دو م اُنھيں لوگوں کو دے اور زیادتی کی رقم کا مصرف معلوم نہیں، لہٰذا اسے فقرا پر صرف کرے۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ ۱: مسجد ہونے کے ليے یہ ضرور ہے کہ بنانے والا کوئی ایسا فعل کرے یا ایسی بات کہے جس سے مسجد ہونا ثابت ہوتا ہو محض مسجد کی سی عمارت بنا دینا مسجد ہونے کے ليے کافی نہیں۔
مسئلہ ۲: مسجد بنائی اور جماعت سے نماز پڑھنے کی اجازت دیدی مسجد ہوگئی اگرچہ جماعت میں دوہی شخص ہوں مگر یہ جماعت علی الاعلان یعنی اذان واقامت کے ساتھ ہو۔ اور اگرتنہا ایک شخص نے اذان واقامت کے ساتھ نماز پڑھی اس طرح نماز پڑھنا جماعت کے قائم مقام ہے اور مسجد ہو جائے گی۔ اور اگر خود اِس بانی نے تنہا اس طرح نماز پڑھی تو یہ مسجد یت (2)کے ليے کافی نہیں کہ مسجدیت کے ليے نماز کی شرط اِس ليے ہے تاکہ عامہ مسلمین کا قبضہ ہو جائے اور اس کاقبضہ تو پہلے ہی سے ہے، عامہ مسلمین کے قائم مقام یہ خود نہیں ہوسکتا۔(3) (خانیہ، فتح القدیر، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: یہ کہا کہ میں نے اس کو مسجد کردیا تو اس کہنے سے بھی مسجد ہو جائے گی۔ (4)(تنویر)
مسئلہ ۴: مکان میں مسجد بنائی اور لوگوں کو اُس میں آنے اور نماز پڑھنے کی اجازت دیدی اگر مسجد کا راستہ علیحدہ کردیا ہے تو مسجد ہوگئی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: مسجد کے ليے یہ ضرور ہے کہ اپنی املاک سے اُسکو بالکل جدا کردے اسکی ملک اُ س میں باقی نہ رہے، لہٰذا نیچے اپنی دوکانیں ہیں یا رہنے کامکان اور اوپر مسجد بنوائی تو یہ مسجد نہیں۔ یا اوپر اپنی دوکانیں یا رہنے کا مکان اورنیچے مسجد
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الوقف علی القرابات،ج۲،ص۳۲۰.
2 ۔مسجد ہونے۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،باب الرجل یجعل دارہ، مسجدًااوخاناً...إلخ،ج۲،ص۲۹۶.
و''فتح القدیر''،کتاب الوقف،فصل اختص المسجد باحکام،ج۵،ص۴۴۳-۴۴۴.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی احکام المسجد،ج۶،ص۵۴۶۔۵۴۸.
4 ۔''تنویر الأبصار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۴۶.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجد،الفصل الاول،ج۲،ص۴۵۴.
بنوائی تو یہ مسجد نہیں بلکہ اُسکی ملک ہے اور اُسکے بعد اُسکے ورثہ کی ،اور اگر نیچے کا مکان مسجد کے کام کے ليے ہو اپنے ليے نہ ہو تو مسجد ہو گئی۔ (1) (ہدایہ، تبیین وغیرہما) یوہیں مسجد کے نیچے کرایہ کی دکانیں بنائی گئیں یا اوپر مکان بنا یا گیاجن کی آمدنی مسجد میں صرف ہوگی تو حرج نہیں یامسجد کے نیچے ضرورت مسجد کے ليے تہ خانہ بنایا کہ اُس میں پانی وغیرہ رکھا جائے گا یا مسجد کاسامان اُس میں رہے گا تو حرج نہیں۔ (2) (عالمگیری) مگر یہ اُس وقت ہے کہ قبل تمام مسجد دکانیں یامکان بنالیا ہو اور مسجد ہو جانے کے بعدنہ اُسکے نیچے دکان بنائی جا سکتی نہ اوپر مکان۔ (3)(درمختار) یعنی مثلاً ایک مسجد کو منہدم کرکے (4)پھر سے اُسکی تعمیر کرانا چاہیں اور پہلے اُسکے نیچے دکانیں نہ تھیں اور اب اس جدید تعمیر میں دکان بنوانا چاہیں تو نہیں بناسکتے کہ یہ تو پہلے ہی سے مسجد ہے اب دکان بنانے کے یہ معنی ہونگے کہ مسجد کو دکان بنایا جائے۔
مسئلہ ۶: مسجد کے ليے عمارت ضرور نہیں یعنی خالی زمین اگر کوئی شخص مسجد کردے تو مسجد ہے، مثلاً مالک زمین نے لوگوں سے کہدیا کہ اس میں ہمیشہ نماز پڑھا کرو تو مسجد ہوگئی اور اگر ہمیشہ کا لفظ نہیں بولا مگر اُس کی نیت یہی ہے، جب بھی مسجد ہے اور اگر نہ لفظ ہے اور نہ نیت، مثلاً نماز پڑھنے کی اجازت دیدی اور نیت کچھ نہیں یا مہینہ یا سال بھر ایک دن کے ليے نماز پڑھنے کو کہا تو وہ زمین مسجد نہیں بلکہ اُسکی ملک (5)ہے، اُسکے مرنے کے بعد اُسکے ورثہ کی ملک ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: ایک مکان مسجد کے نام وقف تھا متولی نے اُسے مسجد بنادیا اور لوگوں نے چند سال تک اُس میں نماز بھی پڑھی پھر نماز پڑھنا چھوڑ دیا اب اُسے کرایہ کا مکان کرنا چا ہتے ہیں تو کرسکتے ہیں۔ کیونکہ متولی کے مسجد کرنے سے وہ مسجد نہیں ہوا۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: مریض نے اپنے مکان کو مسجد کردیا اگر وہ مکان مریض کے تہائی مال کے اندر ہے تو مسجد بنانا صحیح ہے مسجد ہوگیا اور اگر تہائی سے زائد ہے اور ورثہ نے اجازت دے دی جب بھی مسجد ہے اور ورثہ نے اجازت نہیں دی تو کُل کا کُل میراث ہے۔ اورمسجد نہیں ہوسکتا کہ اُس میں ورثہ بھی حقدار ہیں اور مسجد کو حقوق العباد سے جدا ہونا ضروری ہے۔ یوہیں ایک شخص
1 ۔''الہدایۃ''،کتاب الوقف،ج۲،ص۲۰.
و''تبیین الحقائق''،کتاب الوقف،ج۴،ص۲۷۱،وغیرہما.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشرفی المسجد،الفصل الاول،ج۲،ص۴۵۵.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۴۸۔۵۴۹.
4 ۔یعنی شہید کر کے۔ 5 ۔ملکیت۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجد،الفصل الاول،ج۲،ص۴۵۵.
7 ۔المرجع السابق،ص۴۵۵۔۴۵۶.
نے زمین خرید کر مسجد بنائی بائع کے علاوہ کوئی دوسرا شخص بھی اُس میں حقدار نکلا تو مسجد نہیں رہی اور اگر یہ وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میرا تہائی مکان مسجد بنادیا جائے تو وصیت صحیح ہے مکان تقسیم کرکے ایک تہائی کو مسجد کردیں گے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: اہل محلہ یہ چاہتے ہیں کہ مسجد کو توڑ کر پہلے سے عمدہ و مستحکم(2) بنائیں تو بنا سکتے ہیں بشرطیکہ اپنے مال سے بنائیں مسجد کے روپے سے تعمیر نہ کریں اور دوسرے لوگ ایسا کرنا چاہتے ہوں تو نہیں کرسکتے اور اہل محلہ کو یہ بھی اختیار ہے کہ مسجد کو وسیع کریں اُس میں حوض اور کوآں اور ضرورت کی چیزیں بنائیں وضو اور پینے کے ليے مٹکوں میں پانی رکھوائیں، جھاڑ،(3) ہانڈی،(4) فانوس وغیرہ لگائیں۔ بانی مسجد(5) کے ورثہ کو منع کرنے کا حق نہیں جب کہ وہ اپنے مال سے ایسا کرنا چاہتے ہوں اور اگر بانی مسجد اپنے پاس سے کرنا چاہتا ہے اور اہل محلہ اپنی طرف سے تو بانی مسجد بہ نسبت اہل محلہ کے زیادہ حقدار ہے۔ حوض اور کوآں بنوانے میں یہ شرط ہے کہ اُنکی وجہ سے مسجد کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔(6) (ردالمحتار) اور یہ بھی ضرورہے کہ پہلے جتنی مسجد تھی اُسکے علاوہ دوسری زمین میں بنائے جائیں مسجد میں نہیں بنائے جاسکتے۔
مسئلہ ۱۰: امام و مؤذن مقرر کرنے میں بانی مسجد یا اُسکی اولاد کا حق بہ نسبت اہل محلہ کے زیادہ ہے مگر جب کہ اہل محلہ نے جس کو مقرر کیا وہ بانی مسجد کے مقررہ کردہ سے اولیٰ ہے تو اہل محلہ ہی کا مقرر کردہ امام ہوگا۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: اہل محلہ کو یہ بھی اختیار ہے کہ مسجد کا دروازہ دوسری جانب منتقل کردیں اور اگر اِس باب میں رائیں مختلف ہوں تو جس طرف کثرت ہواور اچھے لوگ ہوں اُنکی بات پر عمل کیا جائے۔ (8)(ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مسجد کی چھت پر امام کے ليے بالا خانہ بنانا چاہتا ہے اگر قبل تمام مسجد یت(9) ہو تو بناسکتا ہے اور مسجد ہو
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجد،الفصل الاول،ج۲،ص۴۵۶.
2 ۔خوبصورت اور مضبوط۔
3 ۔ایک قسم کا فانوس جو مکانات میں روشنی اور زیبائش کے لئے لٹکایا جاتاہے۔
4 ۔ایک قسم کاشیشے کابرتن جس میں شمع جلا کر روشنی کرتے ہیں ۔
5 ۔مسجد تعمیر کرانے والے۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب فی احکام المسجد،ج۶،ص۵۴۸.
7 ۔''الدر المختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۵۹-۶۶۰.
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی احکام المسجد،ج۶،ص۵۴۸.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجد،الفصل الاول،ج۲،ص۴۵۶.
9 ۔مسجدکے مکمل ہونے سے پہلے ۔
جانے کے بعد نہیں بناسکتا، اگرچہ کہتا ہو کہ مسجد ہونے کے پہلے سے میری نیت بنانے کی تھی بلکہ اگر دیوار مسجد پر حجرہ بنانا چاہتا ہو تو اسکی بھی اجازت نہیں یہ حکم خود واقف اور بانی مسجد کا ہے، لہٰذا جب اسے اجازت نہیں تو دوسرے بدرجہ اولیٰ نہیں بناسکتے، اگر اس قسم کی کوئی ناجائز عمارت چھت یا دیوار پر بنادی گئی ہو تو اُسے گرا دینا واجب ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: مسجد کا کوئی حصّہ کرایہ پر دینا کہ اسکی آمدنی مسجد پرصَرف(2) ہوگی حرام ہے اگرچہ مسجد کو ضرورت بھی ہو۔ یوہیں مسجد کو مسکن (3)بنانا بھی ناجائز ہے۔ یوہیں مسجد کے کسی جزکو حجرہ میں شامل کرلینا بھی ناجائز ہے۔ (4)(درمختار، فتح القدیر)
مسئلہ ۱۴: مصلیوں(5) کی کثرت کی وجہ سے مسجد تنگ ہوگئی اور مسجد کے پہلو میں کسی شخص کی زمین ہے تو اُسے خرید کر مسجد میں اضافہ کریں اور اگر وہ نہ دیتا ہو تو واجبی قیمت دیکر جبراً اُس سے لے سکتے ہیں۔ یوہیں اگر پہلو ئے مسجد میں کوئی زمین یا مکان ہے جواس مسجد کے نام وقف ہے یا کسی دوسرے کام کے ليے وقف ہے تو اُسکو مسجد میں شامل کرکے اضافہ کرنا جائز ہے البتہ اسکی ضرورت ہے کہ قاضی سے اجازت حاصل کر لیں۔ یوہیں اگر مسجد کے برابر وسیع راستہ ہو اُس میں سے اگر کچھ جز مسجد میں شامل کرلیا جائے جائز ہے۔ جبکہ راستہ تنگ نہ ہو جائے اور اُس کی وجہ سے لوگوں کا حرج نہ ہو۔(6) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: مسجد تنگ ہوگئی ایک شخص کہتا ہے مسجد مجھے دیدو اسے میں اپنے مکان میں شامل کرلوں اور اسکے عوض(7) میں وسیع اور بہتر زمین تمہیں دیتا ہوں تو مسجد کو بدلنا جائز نہیں۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: مسجد بنائی اور شرط کردی کہ مجھے اختیارہے کہ اسے مسجدرکھوں یا نہ رکھوں تو شرط باطل ہے اور وہ مسجد ہوگئی یعنی مسجدیت کے ابطال کا (9)اُسے حق نہیں۔ یوہیں مسجد کو اپنے یا اہل محلہ کے ليے خاص کردے تو خاص نہ ہوگی دوسرے محلہ
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب فی احکام المسجد،ج۶،ص۵۴۹-۵۵۰.
2 ۔خرچ۔ 3 ۔رہنے کی جگہ۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۵۰.
و''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۲۲.
5 ۔ نمازیوں ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجد،الفصل الاول،ج۲،ص۴۵۶-۴۵۷.
و''رد المحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی جعل شیئ من المسجد طریقاً،ج۶،ص۵۷۸-۵۸۱.
7 ۔بدلے ۔
8 ۔الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجد،الفصل الاول،ج۲،ص۴۵۷.
9 ۔مسجدیت کے ختم کرنے کا۔
والے بھی اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں اسے روکنے کا کچھ اختيار نہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: مسجد کے آس پاس جگہ ویران ہوگئی وہاں لوگ رہے نہیں کہ مسجد میں نماز پڑہیں (2) یعنی مسجد بالکل بیکار ہوگئی جب بھی وہ بدستورمسجد ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اُسے توڑ پھوڑ کر اُسکے اینٹ پتھر وغیرہ اپنے کام میں لائے یا اُسے مکان بنالے۔ یعنی وہ قیامت تک مسجد ہے۔(3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۸: مسجد کی چٹائی جانماز وغیرہ اگر بیکار ہوں اور اِس مسجد کے ليے کار آمد نہ ہوں تو جس نے دیاہے وہ جو چاہے کرے اُسے اختیار ہے اور مسجد ویران ہوگئی کہ وہاں لوگ رہے نہیں تو اُس کاسامان دوسری مسجد کو منتقل کردیا جائے بلکہ ایسی منہدم ہوجائے اور اندیشہ ہو کہ اِس کا عملہ(4) لوگ اوٹھا لے جائیں گے اور اپنے صرف میں لائیں گے تو اسے بھی دوسری مسجد کی طرف منتقل کردینا جائز ہے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: جاڑے کے موسم میں مسجد میں پَیال(6) ڈلوایا تھا، جاڑے نکل جانے کے بعد بیکار ہوگئے تو جس نے ڈلوایا اُسے اختیار ہے جو چاہے کرے اور اُس نے مسجد سے نکلواکر باہر ڈلوا ديے تو جو چاہے لے جاسکتا ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: بعض لوگ مسجد میں جو پیال بچھاہے اِسے سقایہ(8) کی آگ جلانے کے کام میں لاتے ہیں یہ ناجائز ہے۔ یوہیں سقایہ کی آگ گھر لےجانا یا اوس سے چلم (9)بھرنا یا سقایہ کا پانی گھر لیجانا یہ سب ناجائز ہے، ہاں جس نے پانی بھر وایا اور گرم کرایا ہے اگر وہ اسکی اجازت دیدے تو لیجاسکتے ہیں، جبکہ اُس نے اپنے پاس سے صرف کیا ہے اور مسجد کا پیسہ صرف کیا ہو تو اسکی اجازت بھی نہیں دے سکتا۔
مسئلہ ۲۱: مسجد کی اشیا مثلاً لوٹا چٹائی وغیرہ کو کسی دوسری غرض میں استعمال نہیں کرسکتے مثلاً لوٹے میں پانی بھر کر اپنے گھر نہیں لیجاسکتے اگرچہ یہ ارادہ ہو کہ پھر واپس کر جاؤں گا اُسکی چٹائی اپنے گھر یا کسی دوسری جگہ بچھانا نا جائز ہے۔ یوہیں مسجد کے
1 ۔الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجد،الفصل الاول،ج۲،ص۴۵۷۔۴۵۸.
2 ۔پڑھیں ۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۵۰وغیرہ.
4 ۔ملبہ،سامان۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطب: فیما لو خرب المسجدأوغیرہ،،ص۵۵۱.
6 ۔چاولوں یا گندم کی سوکھی فصل جس سے غلہ نکال لیا ہو،پرالی،پرال۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجد،الفصل الاول،ج۲،ص۴۵۸-۴۵۹.
8 ۔مسجد میں پانی گرم کرنے کا برتن وغیرہ۔ 9 ۔حقہ ۔
ڈول رسی سے اپنے گھر کے ليے پانی بھر نا یا کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بے موقع اور بے محل استعمال کرنا نا جائز ہے۔
مسئلہ ۲۲: تیل یا موم بتی مسجد میں جلانے کے ليے دی اور بچ رہی تو دوسرے دِن کام میں لائیں اور اگر خاص دِن کے ليے دی ہے مثلاً رمضان یا شبِ قدر کے ليے تو بچی ہوئی مالک کو واپس دی جائے امام مؤذن کو بغیر اجازت لینا جائز نہیں، ہاں اگر وہاں کاعرف(1)ہو کہ بچی ہوئی امام و مؤ ذن کی ہے تو اجازت کی ضرورت نہیں۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: ایک شخص نے اپنے تہائی مال کی وصیت کی کہ نیک کاموں میں صرف کیا جائے تو اس مال سے مسجد میں چراغ جلایا جاسکتا ہے مگر اُتنے ہی چراغ اِس مال سے جلائے جاسکتے ہیں جتنے کی ضرورت ہے ضرورت سے زیادہ محض تزین (3)کے ليے اِ س رقم سے نہیں جلائے جاسکتے۔ (4)(خانیہ)
مسئلہ ۲۴: ایک شخص نے اپنی جائداد اس طرح وقف کی ہے کہ اس کی آمدنی مسجد کی عمارت و مرمت میں لگائی جائے اور جو بچ رہے فقرا پر صرف کی جائے۔ اور وقف کی آمدنی بچی ہوئی موجود ہے اور مسجد کو اس وقت تعمیر کی حاجت بھی نہیں ہے اگر یہ گمان ہو کہ جب مسجد میں تعمیر و مرمت کی ضرورت ہوگی اُس وقت تک ضرورت کے لائق اسکی آمدنی جمع ہو جائے گی تو اس وقت جو کچھ جمع ہے فقرا پر صرف کردیاجائے۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۲۵: مسجد منہدم ہوگئی(6) اور اسکے اوقاف کی آمدنی اتنی موجود ہے کہ اِس سے پھر مسجد بنائی جاسکتی ہے تو اِس آمدنی کو تعمیر میں صرف(7) کرنا جائز ہے۔ (8)(خانیہ)
مسئلہ ۲۶: مسجد کے اوقاف کی آمدنی سے متولی نے کوئی مکان خریدااور یہ مکان مؤذن یا امام کو رہنے کے ليے دیدیا اگر ان کومعلوم ہے تو اس میں رہنا مکروہ و ممنوع ہے۔ یوہیں مسجد پر جو مکان اس ليے وقف ہیں کہ اُن کا کرایہ مسجد میں صرف ہوگایہ مکان بھی امام و مؤذن کو رہنے کے ليے نہیں دے سکتا اور دے دیا تو ان کو رہنا منع ہے۔ (9)(خانیہ)
1 ۔ رسم و رواج،لوگوں کی عادت۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب: فی الوقف اذا خرب ولم یمکن عمارتہ،ج۶،ص۵۷۸.
3 ۔صرف آرائش وخوبصورتی۔
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،باب الرجل یجعل دارہ، مسجداًاوخاناً...إلخ،ج۲،ص۲۹۷.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔شہید ہو گئی۔ 7 ۔خرچ۔
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،باب الرجل یجعل دارہ، مسجداً اوخاناً...إلخ،ج۲،ص۲۹۷.
9 ۔المرجع السابق.ص۲۹۸.
مسئلہ ۲۷: متولی نے اگر مسجد کے ليے چٹائی، جانماز ،تیل وغیرہ خریدا اگر واقف نے متولی کو یہ سب اختیار ات ديے ہوں یا کہہ دیا ہو کہ مسجد کی مصلحت کے ليے جو چاہو خریدو یا معلوم نہ ہو کہ متولی کو ایسی اجازت دی ہے مگر اس سے پہلا متولی یہ چیزیں خریدتا تھا تو اسکا خریدنا، جائز ہے اور اگر معلوم ہے کہ صرف عمارت کے متعلق اختیار دیا ہے توخریدنا، ناجائز ہے۔(1)(خانیہ)
مسئلہ ۲۸: مسجد بنائی اور کچھ سامان لکڑیاں اینٹیں وغیرہ بچ گئیں تو یہ چیزیں عمارت ہی میں صرف کی جائیں انکو فروخت کرکے تیل چٹائی میں صرف نہیں کرسکتے۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۲۹: مسجد کے ليے چندہ کیا اور اس میں سے کچھ رقم اپنے صرف میں لایا اگرچہ یہی خیال ہے کہ اس کامعاوضہ اپنے پاس سے دے دے گاجب بھی خرچ کرنا نا جائز ہے۔ پھر اگر معلوم ہے کہ کس نے وہ روپیہ دیا تھا تو اُسے تاوان دے یا اُس سے اجازت لے کر مسجد میں تاوان صرف کرے اور معلوم نہ ہو کہ کس نے دیا تھا تو قاضی کے حکم سے مسجد میں تاوان صرف کرے اور خود بغیر اِذن قاضی مسجد میں اُس تاوان کو صرف کر دیا تو امید ہے کہ اِس کے وبال سے بچ جائے۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۳۰: مسجد یا مدرسہ پر کوئی جائداد وقف کی اور ہنوز(4)وہ مسجد یا مدرسہ موجود بھی نہیں مگر اس کے ليے جگہ تجویز کرلی ہے تو وقف صحیح ہے اور جب تک اُس کی تعمیر نہ ہو وقف کی آمدنی فقرا پر صرف کی جائے اور جب بن جائے تو پھر اس پر صرف ہو۔ (5)(فتح القدیر)
مسئلہ ۳۱: مسجد کے ليے مکان یا کوئی چیز ہبہ کی(6)تو ہبہ صحیح ہے اور متولی کو قبضہ دلادینے سے ہبہ تمام ہو جائے گا اور اگرکہا یہ سو روپے مسجد کے ليے وقف کيے تو یہ بھی ہبہ ہے بغیر قبضہ ہبہ تمام نہیں ہوگا۔ یوہیں درخت مسجد کو دیا تو اس میں بھی قبضہ ضروری ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: مؤذن و جاروب کش(8) وغیرہ کو متولی اُسی تنخواہ پر نوکر رکھ سکتا ہے جو واجبی طور پر ہونی چائیے اور اگر اتنی زیادہ تنخواہ مقرر کی جودوسرے لوگ نہ دیتے تو مال وقف سے اس تنخواہ کا ادا کرنا جائز نہیں اور دیگا تو تاوان دینا پڑیگابلکہ اگر مؤذن
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،باب الرجل یجعل دارہ، مسجداً اوخاناً...إلخ،ج۲،ص۳۰۰.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الفاظ الوقف،ج۲،ص۲۹۵.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،باب الرجل یجعل دارہ، مسجداً اوخاناً...إلخ،ج۲،ص۳۰۱-۳۰۲.
4 ۔ابھی۔
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۲۹.
6 ۔فی سبیل اللہ دی۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجدوما یتعلق بہ،الفصل الثانی،ج۲،ص۴۶۰.
8 ۔جھاڑو دینے والا۔
وغیرہ کو معلوم ہے کہ مال وقف سے یہ تنخواہ دیتا ہے تو لینا بھی جائز نہیں۔ (1)(فتح القدیر)
مسئلہ ۳۳: متولی مسجد بے پڑھا شخص ہے اُ س نے حساب کتاب کے ليے ایک شخص کو نوکر رکھا تو مال وقف سے اُس کو تنخواہ دینا جائز نہیں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: مسجد کی آمدنی سے دکان یا مکان خریدنا کہ اس کی آمدنی مسجد میں صرف ہوگی اور ضرورت ہوگی تو بیع کردیا جائے گایہ جائز ہے جبکہ متولی کے ليے اس کی اجازت ہو۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: مسجد کے ليے اوقاف ہیں(4) مگر کوئی متولی نہیں اہل محلہ میں سے ایک شخص اس کی دیکھ بھال اور کام کرنے کے ليے کھڑا ہوگیا اور اِس وقف کی آمدنی کو ضروریات مسجد میں صرف کیا تو دیانۃً اس پر تاوان نہیں۔(5) (عالمگیری) اورایسی صورت کا حکم یہ ہے کہ قاضی کے پاس درخواست دیں وہ متولی مقرر کردیگامگر چونکہ آجکل یہاں اسلامی سلطنت(6) نہیں اور نہ قاضی ہے اِس مجبوری کی وجہ سے اگر خود اہل محلہ کسی کو منتخب(7) کرلیں کہ وہ ضروریاتِ مسجد کو انجام دے تو جائز ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے میں وقف کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔
مسئلہ ۳۶: مسجد کا متولی موجود ہو تو اہل محلہ کو اوقاف مسجد میں تصرف کرنا(8)مثلاًدکانات وغیرہ کو کرایہ پردینا جائز نہیں مگر اُنھوں نے ایسا کرلیا اور مسجد کے مصالح(9)کے لحاظ سے یہی بہترتھا تو حاکم اُن کے تصرف کو نافذ کردے گا۔(10)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: مسجد کے اوقاف بیچ کر اُسکی عمارت پر صرف کردینا ناجائز ہے اور وقف کی آمدنی سے کوئی مکان خریدا تھا تو اسے بیچ سکتے ہیں۔(11) (عالمگیری)
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الاول فی المتولی،ج۵،ص۴۵۰.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجدوما یتعلق بہ، الفصل الثانی،ج۲،ص۴۶۱.
3 ۔المرجع السابق،ص۴۶۲.
4 ۔وقف کی جائیداداور دیگر مال وقف وغیرہ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجدوما یتعلق بہ، الفصل الثانی،ج۲،ص۴۶۳.
6 ۔اسلامی حکومت۔ 7 ۔مقرر۔ 8 ۔عمل دخل کرنا۔ 9 ۔تعمیر ومرمت،مصلحتوں۔
10 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجدوما یتعلق بہ،الفصل الثانی،ج۲،ص۴۶۳.
11 ۔المرجع السابق،ص۴۶۱.
مسئلہ ۳۸: مسجد کے نام ایک زمین وقف تھی اور وہ اب کاشت کے قابل نہ رہی یعنی اُس سے آمدنی نہيں ہو تی کسی نے اُ س ميں تالاب کھودوا لیا کہ عامہ مسلمین(1)اِس سے فائدہ اُٹھائيں اُس کا یہ فعل ناجائز ہے اور اُس تالاب ميں نہانا اور دھونا اور اُس کے پانی سے فائدہ اُٹھانا ناجائز ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: مسلمانوں پر کوئی حادثہ آپڑا جس ميں روپیہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے اور اس وقت روپیہ کی کوئی سبیل(3) نہيں ہے مگر اوقاف مسجد کی آمدنی جمع ہے او ر مسجد کو اس وقت حاجت بھی نہيں تو بطور قرض مسجد سے رقم لی جاسکتی ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: قبروں کے ليے زمین وقف کی تو وقف صحیح ہے اور اصح یہ ہے کہ وقف کرنے سے ہی واقف کی ملک سے خارج ہوگئی اگرچہ نہ ابھی مردہ دفن کیا ہو اور نہ اپنے قبضہ سے نکال کر دوسرے کو قبضہ دلالیا ہو۔ (5)
مسئلہ ۲: زمین قبرستان کے ليے وقف کی اوراس ميں بڑے بڑے درخت ہيں تو درخت وقف ميں داخل نہيں واقف یا اُسکے ورثہ کی ملک ہے۔ یوہيں اُس زمین ميں عمارت ہے تو یہ بھی وقف ميں داخل نہيں۔ (6)(خانیہ)
مسئلہ ۳: گاؤں والوں نے قبرستان کے ليے زمین وقف کی اور مردے بھی اس ميں دفن کيے پھر اسی گاؤں کے کسی شخص نے اس زمین ميں اس ليے مکان بنایاکہ تختے وغیرہ قبرستان کے ضروریات اُس ميں رکھے جائینگے اور وہاں حفاظت کے ليے کسی کو مقرر کردیا اگر یہ سب کام تنہا اُسی نے دوسروں کے بغیر مرضی کيے یا بعض دوسرے بھی راضی تھے تو اگر قبرستان ميں وسعت ہے تو کوئی حرج نہيں یعنی جبکہ یہ مکان قبروں پر نہ بنا ہو اورمکان بننے کے بعد اگراِس زمین کی مردہ دفن کرنے کے ليے ضرورت پڑگئی تو عمارت اُٹھوا دی جائے۔ (7)(خانیہ)
مسئلہ ۴: وقفی قبرستان ميں جس طرح غریب لوگ اپنے مردے دفن کرسکتے ہيں، مالدار بھی دفن کرسکتے ہيں فقرا کی
1 ۔عام مسلمان۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشرفی المسجدوما یتعلق بہ،الفصل الثانی،ج۲،ص۴۶۴.
3 ۔کوئی ذریعہ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الحادی عشرفی المسجدوما یتعلق بہ،الفصل الثانی،ج۲،ص۴۶۴.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،باب الرجل یجعل دارہ، مسجداً...إلخ،ج۲،ص۲۹۶.
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی المقابروالرباطا ت،ج۲،ص۳۱۰.
7 ۔المر جع السابق.
تخصیص نہيں۔(1)(تبیین)
مسئلہ ۵: کفار کا قبرستان ہے اُسے مسلمان اپنا قبرستان بنانا چاہتے ہيں اگر اُن کے نشانات مٹ چکے ہيں ہڈیاں بھی گل گئی ہيں تو حرج نہيں اور اگر ہڈیاں باقی ہيں تو کھودکر پھینک ديں اور اب اسے قبرستان بناسکتے ہيں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: مسلمانوں کا قبرستان ہے جس ميں قبرکے نشان بھی مٹ چکے ہيں ہڈیوں کا بھی پتہ نہيں جب بھی اس کو کھیت بنانا یا اس ميں مکان بنانا ناجائز ہے اور اب بھی وہ قبرستان ہی ہے، قبرستان کے تمام آداب بجا لائے جائيں۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: قبرستان ميں کسی نے اپنے ليے قبر کھودوارکھی ہے اگر قبرستان ميں جگہ موجود ہے تو دوسرے کو اُس قبر ميں دفن کرنانہ چاہيے اور جگہ موجود نہ ہو تو دوسرے لوگ اپنا مردہ اس ميں دفن کرسکتے ہيں۔ بعض لوگ مسجد ميں جگہ گھیرنے کے ليے پہلے سے رومال رکھ دیتے ہيں یا مصلّٰی بچھا دیتے ہيں اگر مسجد ميں جگہ ہو تو دوسرے کا رومال یا جانماز ہٹاکر بیٹھنا نہ چاہيے اور جگہ نہ ہو تو بیٹھ سکتا ہے۔(4) (فتاویٰ قاضی خاں)
مسئلہ ۸: زمین مملوک ميں(5) بغیر اجازت مالک کسی نے مردہ دفن کردیا تو مالک زمین کو اختيار ہے کہ مردہ کو نکلوا دے يا زمين برابر کر کے کھيتی کرے۔(6) (خانیہ)
مسئلہ ۹: قبرستان ميں کسی نے درخت لگا ئے تو یہی شخص ان درختوں کا مالک ہے اور درخت خود رو(7)ہيں يا معلوم نہيں کس نے لگائے تو قبرستان کے قرار پائيں گے یعنی قاضی کے حکم سے بیچ کر اسی قبرستان کی درستی ميں صَرف کیا جائے۔(8) (عالمگیری)
1 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الوقف،ج۴،ص۲۷۳.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف، الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر...إلخ،ج۲،ص۴۶۹.
3 ۔المرجع السابق،ص۴۷۱۔۴۷۰.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی المقابر والرباطا ت ،ج۲،ص۳۱۰.
5 ۔جوزمین کسی کی ملکیت میں ہواس میں۔
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی المقابروالرباطا ت،ج۲،ص۳۱۰.
7 ۔قدرتی پیدا ہونے والے درخت،اپنے آپ اُگے ہوئے۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی عشرفی الرباطات والمقابر...إلخ،ج۴،ص۴۷۳۔۴۷۴.
مسئلہ ۱۰: مسجد ميں کسی نے درخت لگائے تو درخت مسجد کا ہے لگانے والے کا نہيں اور زمین موقوفہ ميں کسی نے درخت لگائے اگر یہ شخص اس زمین کی نگرانی کے ليے مقرر ہے يا واقف نے درخت لگایا اور وقف کا مال اس پرصرف کیا یا اپنا ہی مال صرف کیا مگر کہہ دیا کہ وقف کے ليے یہ درخت لگایاتو ان صورتوں ميں وقف کا ہے ورنہ لگانے والے کا۔ درخت کاٹ ڈالے جڑيں باقی رہ گئيں اِن جڑوں سے پھر درخت نکل آیا تو یہ اُسی کی مِلک ہے جسکی مِلک ميں پہلا تھا۔ (1)(خانیہ، فتح القدیر، عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: وقفی زمین کرایہ پر لی اور اس ميں درخت بھی لگاديے تو درخت اِسی کے ہيں اسکے بعد اسکے ورثہ کے اور اجارہ فسخ ہونے پر(2) اس کو اپنا درخت نکال لینا ہو گا۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ ۱۲: مسجد ميں اناریا امرود وغیرہ پھلدار درخت ہے مصلیوں(4) کواسکے پھل کھانا جائز نہيں بلکہ جس نے بویاہے وہ بھی نہيں کھا سکتا کہ درخت اُسکا نہيں بلکہ مسجد کا ہے، پھل بیچ کر مسجد پر صرف کیا جائے۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۱۳: مسافر خانہ ميں پھلدار درخت ہيں، اگر ایسے درخت ہوں جن کے پھلوں کی قیمت نہيں ہوتی تو مسافر کھاسکتے ہيں اور قیمت والے پھل ہوں تو احتیاط یہ ہے کہ نہ کھائے۔ (6)(عالمگیری) یہ سب اُس صورت ميں ہے کہ معلوم نہ ہوکہ درخت لگانے والے کی کیا نیت تھی یا معلوم ہوکہ مسجد یا مسافر خانہ کے ليے لگایا ہے اور اگر معلوم ہو کہ عام مسلمانوں کے کھانے کے ليے لگایا ہے تو جس کاجی چاہے کھالے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: وقفی مکان ميں وقفی درخت ہو تو درخت بیچ کر مکان کی مرمت ميں لگانا جائز نہيں بلکہ مکان کی مرمت خوداس مکان کے کرایہ سے ہوگی۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: وقفی مکان ميں پھلدار درخت ہو تو کرایہ دار کو اُسکے پھل کھاناجائز نہيں جبکہ وقف کے ليے درخت
1 ۔''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب الوقف، فصل فی الأشجار،ج۲،ص۳۰۸.
و''فتح القدیر''،کتاب الوقف،فصل اختص المسجدبأحکام،ج۵،ص۴۴۹.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر...إلخ،ج۲،ص۴۷۴.
2 ۔ٹھیکہ ختم ہونے کے بعد۔
3 ۔''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الأشجار،ج۲،ص۳۰۸.
4 ۔نمازیوں۔
5 ۔''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الأشجار،ج۲،ص۳۰۸.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر...إلخ،ج۲،ص۴۷۳.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف فی إجارتہ،ج۶،ص۶۶۴.
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف فی إجارتہ،مطلب:استأجرداراًفیھاأشجار،ج۶،ص۶۶۴.
لگائے ہوں یا درخت لگانے والے کی نیت معلوم نہ ہو۔ (1)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۶: وقفی درخت کا کچھ حصہ خشک ہوگیا کچھ باقی ہے تو خشک کو اُس مصرف ميں خرچ کريں جہاں اُسکی آمدنی خرچ ہوتی ہے۔(2) (بحر)
مسئلہ ۱۷: سڑک اور گزر گاہ پر درخت اس ليے لگائے گئے کہ راہگیر اِس سے فائدہ اُٹھائيں تو یہ لوگ انکے پھل کھاسکتے ہيں۔ اور امیر و غریب دونوں کھاسکتے ہيں۔ یوہيں جنگل اور راستہ ميں جو پانی رکھا ہو یا سبیل کا پانی(3)ہے ہر ایک پی سکتا ہے جنازہ کی چارپائی امیر و غریب دونوں کام ميں لا سکتے ہيں۔ اور قرآن مجیدميں ہر شخص تلاوت کرسکتا ہے۔ (4) (خانیہ)
مسئلہ ۱۸: کوئيں کے پانی کی روک ٹوک نہيں خود بھی پی سکتے ہيں جانور کو بھی پلاسکتے ہيں۔ پانی پینے کے ليے سبیل لگائی ہے تو اِس سے وضو نہيں کرسکتے اگرچہ کتنا ہی زیادہ ہو اور وضو کے ليے وقف ہو تو اُسے پی نہيں سکتے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: ایک مکان قبرستان پر وقف ہے یہ مکان منہدم ہو کر(6)کھنڈر ہوگیا اور کسی کام کا نہ رہا پھر کسی شخص نے اپنے مال سے اِس جگہ ميں مکان بنایا تو صرف عمارت اسکی ہے، زمین کا مالک نہيں۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: حاجیوں کے ٹھہرنے کے ليے مکان وقف کیا ہے تو دوسرے لوگ اِس ميں نہيں ٹھہرسکتے اور حج کاموسم ختم ہونے کے بعدکرایہ پر دیا جائے اور اُس کی آمدنی مرمت ميں خرچ کی جائے، اس سے بچ جائے تو مساکین پر صرف کر دی جائے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ۲۱: زمین خرید کر راستہ کے ليے وقف کردی کہ لوگ چليں گے یا سڑک بنوادی یہ وقف صحیح ہے۔ اُس کے ورثہ دعوٰی نہيں کرسکتے۔ یوہيں پل بنا کر وقف کیا تو یہ پل کی عمارت وقف ہے۔ (9)(خانیہ)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۴۱،۳۴۲.
2 ۔المرجع السابق،ص۳۴۲.
3 ۔راستے میں مفت پلایا جانے والاپانی۔
4 ۔''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الأشجار،ج۲،ص۳۰۸.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی عشر فی الر باطا ت والمقابر...إلخ،ج۲،ص۴۶۵.
6 ۔گر کر۔
7 ۔''ردالمحتار''،
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر...إلخ،ج۲،ص۴۶۵،۴۶۶.
9 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،باب الرجل یجعل دارہ، مسجداً...إلخ،ج۲،ص۲۹۹.
واقف (1) کو اختیار ہے جس قسم کی چاہے وقف ميں شرط لگائے اور جو شرط لگائے گا اُس کا اعتبار ہو گا۔ ہاں ایسی شرط لگائی جو خلاف شرع (2) ہے تو یہ شرط باطل ہے۔ اور اِس کا اعتبار نہيں۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱: چند جگہوں ميں واقف کی شرط کا اعتبار نہيں بلکہ اُس کے خلاف عمل کیا جائے گا مثلاًاُس نے یہ شرط لکھ دی کہ جائداد اگرچہ بیکار ہو جائے اُس کا تبادلہ نہ کیا جائے تو اگر قابل انتفاع(4) نہ رہے تبادلہ کیا جائے گا اور شرط کا لحاظ نہيں کیا جائے گا۔ یا یہ شرط ہے کہ متولی کو قاضی معزول نہيں کرسکتا یا وقف ميں قاضی وغیرہ کوئی مداخلت نہ کرے کوئی اس کی نگرانی نہ کرے یہ شرط بھی باطل ہے کہ نا اہل کو قاضی ضرور معزول کردے گا۔ وقف کی قاضی کی طرف سے نگرانی ضرور ہوگی یا یہ شرط ہے کہ وقف کی زمین یا مکان ایک سال سے زیادہ کے ليے کسی کو کرایہ پر نہ دیا جائے اور ایک سال کے ليے کرایہ پر کوئی لیتا نہيں، زیادہ دنوں کے ليے لوگ مانگتے ہيں یا ایک سال کے ليے دیا جائے تو کرایہ کی شرح (5) کم ملتی ہے اور زیادہ دنوں کے ليے دیا جائے تو زیادہ شرح سے ملے گا تو قاضی کو جائز ہے واقف کی شرط کی پابندی نہ کرے مگر متولی شرط کے خلاف نہيں کرسکتا یا یہ شرط کی کہ اس کی آمدنی فلاں مسجد کے سائل کو دی جائے تو متولی دوسرے مسجد کے سائل کو یا بیرون مسجد(6) جو سائل ہيں اُن کویا غیر سائل کو بھی دے سکتا ہے یا یہ شرط کی کہ ہر روز فقیر وں کو اِس قدر روٹی گوشت دیا جائے تو روٹی گوشت کی جگہ قیمت بھی دے سکتا ہے۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲: مکان وقف کیا یوں کہ فلاں شخص کواس کی آمدنی دی جائے اوریہ شرط کی کہ مرمت خود موقوف علیہ کے(8) ذمہ ہے۔ تو وقف صحیح ہے اور شرط صحیح نہيں کہ مرمت اس کے ذمہ نہيں بلکہ آمدنی سے کی جائے گی۔(9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: واقف نے یہ شرط کی ہے کہ جب تک ميں زندہ رہوں کُل آمدنی یا اسکے اتنے جز کا ميں مستحق ہوں اور میرے بعد فقرا کو ملے یا یہ شرط کہ آمدنی سے میراقرض ادا کیا جائے پھر فقرا کو۔ یا یہ کہ میری زندگی تک ميں لوں گا پھر قرض ادا ہوگا پھر فقرا کو
1 ۔وقف کرنے والا۔ 2 ۔شریعت کے خلاف۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی نقل کتب...إلخ،ج۶،ص۵۶۱.
4 ۔نفع حاصل کرنے کے قابل۔ 5 ۔مقدار ،بھاؤ۔ 6 ۔مسجد سے باہر۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی اشتراط الإدخال والإخراج،ج۶،ص۵۹۱۔۵۹۳.
8 ۔جس پر مکان وقف کیااس کے۔
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:من لہ إستغلال...إلخ،ج۶،ص۵۷۶.
یہ سب صورتيں جائز ہيں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: فقط اتنا ہی کہا کہ اﷲ (عزوجل) کے ليے یہ صدقہ موقوفہ ہے، اِس شرط پر کہ جب تک ميں زندہ رہوں آمدنی ميں لوں گا تو وقف صحیح ہے کہ اگرچہ اس ميں تابید(2) نہيں ہے، نہ فقرا کا ذکر ہے مگر لفظ صدقہ سے تابید اور بعد ميں فقرا ہی کے ليے ہونا سمجھا جاتا ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: واقف نے اپنے ليے شرط کی کہ اسکی آمدنی ميں خود بھی کھاؤں گااور دوست احباب مہمانوں کو بھی کھلاؤں گا اِس سے جو بچے فقرا کے ليے ہے اور اِسی طرح اپنی اولاد کے ليے نسلاًبعدنسل یہی شرط لگائی تو وقف وشرط دونوں جائز۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: یہ شرط کی ہے کہ اپنے اوپر اور اپنی اولاد وخدام(5) پر خرچ کروں گا اور وقف کا غلہ آیا اسے بیچ ڈالا اور ثمن پرقبضہ بھی کرلیامگر خرچ کرنے سے پہلے مرگیا تو یہ رقم ترکہ(6)ہے وارثوں کا حق ہے فقرا اور وقف والوں کا حق نہيں۔(7)(فتح القدیر)
مسئلہ ۷: وقف ميں یہ شرط کی کہ فلاں وارث کو وقف کی آمدنی سے بقدر کفایت(8) دیا جائے تو جب تک یہ تنہا ہے تنہا کے لائق مصارف(9)دیے جائيں اور جب بال بچوں والا ہو جائے تو اتنا دیا جائے کہ سب کے ليے کافی ہو کہ اِن سب کے مصارف اُسی کے ساتھ شمار ہونگے۔ (10)(عالمگیری)
مسئلہ۸: واقف جائداد موقوفہ کے تبادلہ کی شرط لگا سکتا ہے کہ ميں یا فلاں شخص جب مناسب جانيں گے اس کودوسری جائداد سے بدل ديں گے اِس صورت ميں یہ دوسری جائداد اُس موقوفہ کے قائم مقام ہوگی اور تمام وہ شرائط جووقف نامہ ميں تھے وہ سب اس ميں جاری ہونگے اگرچہ وقف نامہ ميں یہ نہ ہوکہ بدلنے کے بعد دوسری پہلی کے قائم
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الرابع فیما یتعلق با لشرط فی الوقف،ج۲،ص۳۹۸.
2 ۔ہمیشہ کے لیے ہونا۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الرابع فیما یتعلق با لشرط فی الوقف،ج۲،ص۳۹۸.
4 ۔المرجع السابق .
5 ۔نوکر چاکر۔ 6 ۔میت کا چھوڑا ہوا مال،وراثت کامال۔
7 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۳۹.
8 ۔یعنی اتنی مقدار جس سے ضروریات پوری ہو سکیں۔ 9 ۔اخراجات۔
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثالث فی المصارف،الفصل الثامن،ج۲،ص۳۹۷.
مقام ہوگی اوراسکے تمام شرائط اس ميں جاری ہوں گے۔(1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۹: تبادلہ کی شرط وقف نامہ ميں تھی اِس بنا پر تبادلہ کرلیا تو اب دوبارہ اِس جائداد کے بدلنے کا حق نہيں ہے۔ ہاں اگر شرط کے ایسے الفاظ ہو ں جن سے عموم سمجھا جاتا ہے مثلاًميں جب کبھی چاہوں گا تبادلہ کرلیا کروں گا تو ایک بار کے تبادلہ سے حق ساقط نہيں ہوگا۔(2) (فتح القدیر)
مسئلہ۱۰: واقف نے یہ شرط کی کہ ميں جب چاہوں گا اسے بیچ ڈالوں گا یا جتنے داموں(3) ميں چاہوں گا بیچ ڈالوں گا یابیچ کر اُس ثمن(4) سے غلام خریدوں گا تو ان سب صورتوں ميں وقف ہی باطل ہے۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ۱۱: یہ شرط ہے کہ متولی کو اختیار ہے جب چاہے اِس جائداد کو بیچ ڈالے اوراسکے داموں سے دوسری زمین خریدلے تو یہ شرط جائز ہے اور ایک دفعہ تبادلہ کا حق حاصل ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ۱۲: وقف ميں صرف تبادلہ مذکور ہے یہ نہيں ہے کہ مکان یا زمین سے تبادلہ کروں گا تو اختیار ہے مکان سے تبادلہ کرے یازمین سے اور اگر مکان کا لفظ ہے تو زمین سے تبادلہ نہيں کرسکتا اور زمین ہے تو مکان سے نہيں ہوسکتا اور اگر یہ ذکر نہ ہو کہ فلاں جگہ کی جائداد سے تبادلہ کروں گاتو جہاں کی جائداد سے چاہے تبادلہ کرسکتا ہے اور معین کردیا ہے تو وہيں کی جائداد سے تبادلہ ہوسکتا ہے دوسری جگہ کی جائداد سے نہيں۔ (7)(عالمگیری، خانیہ، فتح القدیر)
مسئلہ۱۳: وقفی مکان کو دوسرے مکان سے بدلنا اُس وقت جائز ہے کہ دونوں مکان ایک ہی محلہ ميں ہوں یا وہ محلہ اِس سے بہتر ہو۔ اور عکس ہو یعنی یہ اُس سے بہتر ہے تو ناجائز ہے۔ (8)(بحرالرائق)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الرابع فیما یتعلق با لشرط فی الوقف،ج۲،ص۳۹۹،وغیرہ.
2 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۳۹.
3 ۔قیمت۔ 4 ۔ حاصل ہونے والی رقم۔
5 ۔''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب الوقف، فصل فی مسائل الشرط فی الوقف،ج۲،ص۳۰۶.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۹۰.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الرابع فیما یتعلق با لشرط فی الوقف،ج۲،ص۴۰۰.
و''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی مسائل الشرط فی الوقف،ج۲،ص۳۰۶.
و''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۴۰.
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۷۳.
مسئلہ۱۴: یہ شرط تھی کہ ميں تبادلہ کروں گا اور خود نہ کیا بلکہ وکیل سے کرایا تو بھی جائز ہے اور مرتے وقت وصیّت کرگیا تو وصی تبادلہ نہيں کرسکتا اور اگر یہ شرط تھی کہ ميں اور فلاں شخص مل کر تبادلہ کريں گے تو تنہا وہ شخص تبادلہ نہيں کرسکتا اور یہ تنہاکرسکتا ہے۔(1) (فتح القدیر)
مسئلہ۱۵: اگر وقف نا مہ ميں یہ ہو کہ جو کوئی اِس وقف کا متولی ہو وہ تبادلہ کرسکتا ہے تو ہرایک متولی کو یہ اختیار حاصل رہے گا۔ اور اگر واقف نے یہ شرط کردی کہ فلاں شخص کو اس کے تبادلہ کا اختیار ہے تو واقف کی زندگی تک اُس کو اختیار ہے۔ بعد ميں نہيں ہاں اگر یہ مذکور ہے کہ میری وفات کے بعد بھی اُسے اختیار ہے تو بعد ميں بھی رہے گا۔(2) (خانیہ)
مسئلہ۱۶: متولی(3)کو تبادلہ کا اختیار اُسی وقت حاصل ہوگا کہ متولی کے ليے تبادلہ کی تصریح(4)ہو اور اگر متولی کے ليے تبادلہ کی شرط مذکور ہے اور خود واقف نے اپنے ليے ذکر نہيں کی جب بھی واقف تبادلہ کرسکتا ہے۔ (5)(فتح القدیر)
مسئلہ۱۷: ثمن سے بیع کی اجازت ہو اور اتنی کم قیمت پر بیع کی کہ اور لوگ ایسی چیز اتنی قیمت پر نہيں بیچتے تو بیع باطل ہے۔ اور اگر واجبی قیمت پر بیع ہوئی یا کچھ خفیف کمی(6)ہے تو بیع جائز ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ۱۸: وقفی زمین بیچ ڈالی اور ثمن پر قبضہ بھی کرلیا اس کے بعد مر گیا اور ثمن کی نسبت بیان نہيں کیا کہ کیا ہوا تو یہ ثمن اُس پر دَین ہے اُس کے ترکہ سے وصول کريں گے۔ یوہيں اگر معلوم ہے کہ اُس نے ہلاک کردیا جب بھی دَین ہے اور اگر اُس نے خود نہيں ہلاک کیا ہے بلکہ اُس کے پاس سے ضائع ہوگیا تو تاوان نہيں اور اب وقف باطل ہوگیا۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ۱۹: وقف کو بیع کیا تھا مگر کسی وجہ سے بیع جاتی رہی تو دوبارہ پھر بیع کرسکتا ہے اور اگر پھر اِسی نے اُسے خرید لیا تو دوبارہ بیع نہيں کرسکتا مگر جبکہ عموم کے ساتھ تبادلہ کا اختیار ہو تو دوبارا بھی کرسکتا ہے۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ۲۰: وقفی زمین بیع کر ڈالی اور ثمن سے دوسری زمین خریدی مگر جو زمین بیع کی تھی اُ س ميں کوئی عیب ظاہر
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۴۰.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''کتاب الوقف،فصل فی مسائل الشرط فی الوقف،ج۲،ص۳۰۷.
3 ۔مال وقف کی نگرانی کرنے والا۔ 4 ۔وضاحت،واضح طورپربیان ہو۔
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۳۹.
6 ۔ تھو ڑی سی کمی۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الرابع فیمایتعلق با لشرط،ج۲،ص۴۰۰.
8 ۔المرجع السابق.ص۴۰۱. 9 ۔المرجع السابق.
ہوا جس کی وجہ سے قاضی نے واپس کرنے کاحکم دیا تو یہ بدستور وقف ہے۔ اورجو دوسری زمین خریدی تھی وہ وقف نہيں اُسے جو چاہے کرے اور اگر قاضی نے واپسی کا حکم نہيں دیا تھابلکہ اس نے خود اپنی مرضی سے واپس کرلی تو یہ وقف نہيں ہے بلکہ اس کی ملک ہے اور وقفی زمین وہی ہے جو اسے بیچ کر خریدی تھی۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ۲۱: وقفی زمین کو کسی نے غصب کر لیا اور غاصب ہی کے ہاتھ ميں زمین تھی کہ دریا برد (2)ہوگئی اور غاصب سے تاوان لیا گیا تو اِس روپے سے دوسری زمین خریدی جائے گی۔ اور یہ زمین وقف قرار پائے گی اور اس وقف ميں تمام وہ شرائط ملحوظ ہونگے جو پہلی ميں تھے۔(3) (خانیہ)
مسئلہ۲۲: وقف کو کسی نے غصب کر لیا ہے اور اسکے پاس گواہ نہيں کہ وقف کو ثابت کرے اور غاصب اُسکے معاوضہ ميں روپیہ دینے کو تیار ہے تو روپیہ لے کر دوسری زمین خرید کر وقف کے قائم مقام کرديں۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ۲۳: واقف نے وقف ميں استبدال(5) کو ذکر نہيں کیا یا عدم استبدال(6) کو ذکر کر دیا ہے مگر وقف با لکل قابل انتفاع(7)نہ رہا یعنی اتنی بھی آمدنی نہيں ہوتی جو وقف کے مصارف کے ليے کافی ہو تو ایسے وقف کا تبادلہ جائز ہے مگر اسکے ليے چند شرطيں ہيں۔
1 غبن فاحش کے ساتھ بیع(8)نہ ہو۔
2 تبادلہ کرنے والا قاضی عالم باعمل ہوجس کے تصرفات(9) کی نسبت لوگوں کو اطمینان ہوسکے۔
3 تبادلہ غیر منقول (10)سے ہوروپے اشرفی سے نہ ہو۔
4 ایسے سے تبادلہ نہ کرے جس کی شہادت اس کے حق ميں نا مقبول ہو۔
1 ۔''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب الوقف، فصل فی مسائل الشرط فی الوقف،ج۲،ص۳۰۶.
2 ۔دریا بہا کر لے گیا یعنی ڈوب گئی۔
3 ۔''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب الوقف، فصل فی مسائل الشرط فی الوقف،ج۲،ص۳۰۵.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:لا یستبدل العامرالا فی أربع ،ج۶،ص۵۹۴.
5 ۔تبادلہ کرنے ۔ 6 ۔تبادلہ نہ کرنے۔
7 ۔نفع حاصل کرنے کے قابل۔8 ۔خریدو فروخت۔
9 ۔معاملات۔ 10 ۔یعنی ایسی چیزجو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ کی جا سکے۔
5 ایسے شخص سے تبادلہ نہ کرے، جس کا اس پر دَین ہو۔
6 دونوں جائداديں ایک ہی محلہ ميں ہوں یا وہ ایسے محلہ ميں ہو کہ اِس محلہ سے بہتر ہے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ۲۴: وقف اگر قابل انتفاع ہے یعنی اُسکی آمدنی ایسی ہے کہ مصارف (2)سے بچ رہتی ہے اور اُس کے بدلے ميں ایسی زمین ملتی ہے جس کا نفع زیادہ ہے تو جب تک واقف نے تبادلہ کی شرط نہ کی ہو تبادلہ نہ کريں۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ۲۵: وقف نامہ ميں پہلے یہ لکھا کہ ميں نے اسے وقف کیا اِس کو نہ بیع کیا جائے نہ ہبہ کیا جائے وغیرہ وغیرہ پھرآخر ميں یہ لکھا کہ متولی کو یہ اختیار ہے کہ اسے بیچ کر دوسری زمین خرید کر اِس کی جگہ پر وقف کردے تو اگرچہ پہلے لکھ چکاہے کہ بیع نہ کی جائے مگر اس کی بیع جائز ہے کہ آخر کلام اول کلام کا ناسخ(4) یا موضح (5)ہے اور اگر عکس کیا یعنی پہلے تو یہ لکھا کہ متولی کوبیع و استبدال(6) کا اختیار ہے مگر آخر ميں لکھ دیا کہ بیع نہ کی جائے تو اب بدلنا جائز نہيں۔(7)(عالمگیری)
مسئلہ۲۶: واقف(8)نے یہ شرط کردی ہے کہ جب تک ميں زندہ ہوں متولی کو اسکے تبادلہ کا اختیار ہے تو واقف کے انتقال کے بعد تبادلہ نہيں ہوسکتا۔ (9)(بحرالرائق)
مسئلہ۲۷: واقف نے یہ شرط کی کہ اسکی آمدنی صرف کرنے کا مجھے اختیار ہے ميں جہاں چاہوں گا صرف کروں گا تو شرط جائز ہے اور اُسے اختیار ہے کہ مساکین کو دے یا اُس سے حج کرائے یا کسی مالدار شخص کو دے ڈالے۔ (10)(عالمگیری)
مسئلہ۲۸: وقف ميں یہ شرط ہے کہ اگر ميں چاہوں گا اسے بیچ کر دوسری زمین خریدوں گایہ لفظ نہيں ہے کہ خریدکراُسکی جگہ پر کردوں گا اِس شرط کے ساتھ بھی وقف صحیح ہے اگر زمین بیچے گاتو زرثمن اُسکے قائم مقام ہوگا پھر جب دوسری زمین خریدے گاتو وہ پہلی کے قائم مقام ہو جائے گی۔ (11)(خانیہ)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی اشتراط الإدخال والإخراج،ج۶،ص۵۹۱.
2 ۔اخراجات۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی شروط الإستبدال،ج۶،ص۵۹۲.
4 ۔منسوخ کرنے والا۔ 5 ۔وضاحت کرنے والا۔ 6 ۔خریدو فروخت اور تبادلہ کرنے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الرابع فیما یتعلق با لشرط فی الوقف،ج۲،ص۴۰۲.
8 ۔وقف کرنے والا۔
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۷۲.
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الرابع فیما یتعلق با لشرط فی الوقف،ج۲،ص۴۰۲.
11 ۔''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی مسائل الشرط فی الوقف،ج۲،ص۳۰۵.
مسئلہ۲۹: اپنی جائداد اولاد پر وقف کی اور یہ شرط کردی کہ جو کوئی مذہب امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے منتقل ہوجائے گاوہ وقف سے خارج ہوگا تو اس شرط کی پابندی ہوگی اور فرض کروایک نے دوسرے پر دعوے کیا کہ اس نے مذہب حنفی سے خروج کیا اور مدعی علیہ(1) انکار کرتا ہے تو مدعی(2) کو گواہوں سے ثابت کرنا ہوگا اور گواہوں سے ثابت نہ کرسکے تومدعی علیہ کاقول معتبر ہے اور اگر یہ شرط ہے کہ جو مذہب اہلسنت سے خارج ہو وہ وقف سے خارج اور اُن ميں کوئی رافضی، خارجی، وہابی وغیرہ ہوگیا تو وقف سے نکل گیا۔ یوہيں اگر کھلم کھلا مرتد ہوگیا جب بھی خارج ہے۔ اگر توبہ کرکے پھر مذہب اہلسنّت کو قبول کیا تواب بھی وقف سے محروم ہی رہے گاہاں اگر واقف نے یہ شرط کردی ہو کہ اگر تائب ہوکر مذہب اہلسنّت کو قبول کرے تو وقف کی آمدنی کا مستحق ہو جائے گاتو اب اسے ملے گا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ۳۰: اپنی اولاد پر جائداد وقف کی اور شرط یہ کی کہ جس کو چاہوں گا وقف سے خارج کردوں گا تو بموجب شرط (4)خارج کرسکتا ہے اور خارج کرنے کے بعد پھر داخل کرنا چاہے تو داخل نہيں کرسکتا۔ یوہيں یہ شرط کی کہ جس کو چاہوں گا حصہ زیادہ دوں گا تو شرط کے موافق بعض کو بعض سے زیادہ دے سکتا ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ۳۱: وقف نامہ ميں دوشرطيں متعارض(6) ہوں تو آخروالی شرط پر عمل ہوگا۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱: جو شخص اوقاف کی تولیت کی(8)درخواست کرے ایسے کو متولی نہيں بنانا چاہیے اور متولی ایسے کو مقرر کرنا چاہیے جو امانت دار ہواور وقف کے کام کرنے پر قادر ہو خواہ خود ہی کام کرے یا اپنے نائب سے کرائے اور متولی ہونے کے ليے عاقل بالغ ہونا شرط ہے۔(9) (فتح القدیر، ردالمحتار)
1 ۔جس پر دعویٰ کیا۔ 2 ۔دعویٰ کرنے والا۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الرابع فیما یتعلق با لشرط فی الوقف،ج۲،ص۴۰۶.
4 ۔شرط کی وجہ سے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الرابع فیما یتعلق با لشرط فی الوقف،ج۲،ص۴۰۵.
6 ۔مخالف ،متضاد۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۸۱.
8 ۔منتظم بننے کی،مال وقف کی نگرانی کی۔
9 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الاول فی المتولی،ج۲،ص۴۴۹.
و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی شروط المتولی،ج۶،ص۵۸۴.
مسئلہ ۲: واقف نے وصیت کی کہ میرے بعدمیرالڑکا متولی ہوگا اور واقف کے مرنے کے وقت لڑکا نا بالغ ہے تو جب تک نا بالغ ہے دوسرے شخص کو متولی کیا جائے اور بالغ ہونے پر لڑکے کو تولیت دی جائے گی اور اگر اپنی تمام اولادوں کے ليے تولیت کی وصیت کی ہے اوران ميں کوئی نا بالغ بھی ہے تو نا بالغ کے قائم مقام بالغین(1)ميں سے کسی کو یا کسی دوسرے شخص کو قاضی مقرر کردے۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: عورت کوبھی متولی کرسکتے ہيں اور نابینا کو بھی اور محدودفی القذف(3)نے توبہ کرلی ہوتو اسے بھی۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: واقف نے یہ شرط کی ہے کہ وقف کا متولی میری اولاد ميں سے اُسکو کیا جائے، جو سب ميں ہوشیار نیکوکار ہو تو اِس شرط کو لحاظ رکھتے ہوئے متولی مقرر کیا جائے اسکے خلاف متولی کرنا صحیح نہيں۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: صورتِ مذکورہ ميں اُسکی اولاد ميں جوسب ميں بہتر تھا وہ فاسق ہوگیا تو متولی وہ ہوگا جو اُسکے بعد سب ميں بہتر ہے۔ یوہيں اگر اُس افضل نے تولیت سے انکار کردیا تو جو اُسکے بعد بہتر ہے وہ متولی ہوگا۔ اور اگر سب ہی اچھے ہوں تو جو بڑا ہے وہ ہوگا۔ اگرچہ وہ عورت ہواور اگر اُسکی اولاد ميں سب نااہل ہوں تو کسی اجنبی کو قاضی متولی مقرر کریگااُس وقت تک کے ليے کہ ان ميں کاکوئی اہل ہوجائے۔ (6)(بحرالرائق)
مسئلہ ۶: صورت مذکورہ ميں سب سے بہتر کو قاضی نے متولی کردیا اسکے بعد دوسرا اِس سے بھی بہتر ہوا تو اب یہ متولی ہوگا اور اگر اسکی اولاديں نیکی ميں یکساں ہيں تو وقف کا کام جو سب سے اچھا کرسکے اُس کو متولی کیا جائے اور اگر ایک زیادہ پر ہیز گار ہے دوسرا کم مگریہ دوسرا وقف کے کام کو پہلے کی بہ نسبت زیادہ جانتا ہو تو اسی کو متولی کیا جائے جب کہ اس کی طرف سے خیانت کا اندیشہ نہ ہو۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: واقف نے اپنے ہی کو متولی کررکھا ہے تو اس ميں بھی اُن صفات کا ہونا ضروری ہے، جو دوسرے متولی ميں
1 ۔بالغوں۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی شروط المتولی،ج۶،ص۵۸۴.
3 ۔یعنی جسے تہمت زنا کی شرعی سزا مل چکی ہو ۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی شروط المتولی،ج۶،ص۵۸۴.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فیما شاع فی زماننا من تفویض...إلخ،ج۶،ص۵۸۵.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۸۷،۳۸۹.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۱.
ضروری ہيں یعنی جن وجوہ سے متولی کو معزول کر دیا جاتا ہے اگر وہ وجوہ خود اس ميں پائی جائيں تو اسے بھی معزول کردینا ضرور ہوگا اس بات کا خیال ہرگزنہيں کیا جائے گا کہ یہ تو خود ہی واقف ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۸: متولی اگر امین نہ ہو خیانت کرتا ہو یا کام کرنے سے عاجز ہے یا علانیہ شراب پیتا جوا کھیلتا یا کوئی دوسرا فسق علانیہ کرتا ہو یا اسے کیمیا بنانے کی دَھت(2) ہو تو اُسکو معزول کردینا واجب ہے کہ اگر قاضی نے اُسکو معزول نہ کیا تو قاضی بھی گنہگار ہے اور جس ميں یہ صفات پائے جاتے ہوں، اُسکو متولی بنانا بھی گناہ ہے۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۹: واقف نے اپنے ہی کو متولی کیا ہے اور وقف نامہ ميں یہ شرط لکھ دی ہے کہ ''مجھے اس کی تولیت سے جدا نہيں کیا جاسکتا یا مجھے قاضی یا بادشاہ اسلام بھی معزول نہيں کرسکتے'' اِس شرط کی پابندی نہيں کی جاسکتی اگر خیانت وغیرہ وہ امور(4) ظاہر ہوئے جن سے متولی معزول کردیا جاتا ہے تو یہ بھی معزول کر دیا جائے گا۔ یوہيں واقف نے دوسرے کو متولی کیا ہے اور یہ شرط کردی ہے کہ اسے ميں معزول نہيں کرسکتا تو یہ شرط بھی باطل ہے۔ یوہيں ایک شخص نے دوسرے کو وصی کیاہے اور شرط کردی ہے کہ وصی یہی رہے گا اگرچہ خیانت کرے تو اس وصی کو خیانت ظاہر ہونے پر معزول کر دیا جائیگا۔(5)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: واقف نے جس کو متولی کیا ہے وہ جب تک خیانت نہ کرے قاضی معزول نہيں کرسکتا اور بلاوجہ معزول کرکے قاضی نے دوسرے کو اُسکی جگہ متولی کردیاتو دوسرا متولی نہيں ہوگاکہ وہ پہلا بدستور متولی ہے۔ اور قاضی نے متولی مقرر کیا ہو تو بغیر خیانت بھی اوسے معزول کیا جاسکتا ہے۔ قاضی نے متولی کو معزول کر دیا پھر قاضی کاانتقال ہوگیا یامعزول کردیا گیا اُسکی جگہ پر دوسرا قاضی ہوا اب متولی اسکے پاس درخواست کرتا ہے کہ مجھے بِلاقصور جدا کر دیا گیا ہے تو قاضی ثانی فقط اس کے کہنے پر عمل کرکے متولی نہ کردے بلکہ اُس سے کہہ دے کہ تم ثابت کردو کہ اِس کام کے اہل ہواور کام کو اچھی طرح انجام دے سکتے ہو اگر وہ ایسا ثابت کردے تو دوسرا قاضی اُسے پھر متولی بناسکتا ہے۔ واقف کو اختیار ہے متولی کو مطلقاًجدا کرسکتا ہے۔ (6)(ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۸۲.
2 ۔آسانی سے روزی کمانے کی بُری عادت،دولت زیادہ سے زیادہ کمانے کا جنون،تانبے کو سونا بنانے کا جنون۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۸۳،وغیرہ.
4 ۔ کام،معاملات۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۸۲.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۰۹.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی عزل الناظر،ج۶،ص۵۸۶.
مسئلہ ۱۱: واقف کو اختیار ہے کہ متولی کو معزول کرکے دوسرا متولی مقرر کردے یا خود اپنے آپ متولی بن جائے۔(1) (فتح القدیر)
مسئلہ ۱۲: واقف نے کسی کو متولی نہيں کیا ہے اور قاضی نے مقرر کردیا تو واقف اب اس کو جُدا نہيں کرسکتا اور متولی موجود ہے خواہ واقف نے اُسے مقرر کیا یا قاضی نے تو بلاوجہ قاضی بھی دوسرا متولی نہيں مقرر کرسکتا۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: وقف نامہ ميں تولیت کے متعلق کچھ مذکور نہيں تو تولیت کا حق واقف کو ہے خود بھی متولی ہوسکتا ہے اور دوسرے کو بھی کرسکتا ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: ایک وقف کے متعلق دو وقف نامے ملے ایک ميں ایک شخص کو متولی بنانا لکھا ہے اور دوسرے ميں دوسرے شخص کو اگر دونوں کی تاریخيں بھی آگے پیچھے ہيں جب بھی یہ دونوں اُس وقف کے متولی ہيں شرکت ميں کام کريں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: واقف نے کسی کو متولی نہيں کیا اور مرتے وقت کسی کو وصی کیا تو یہی شخص وصی بھی ہے اور اوقاف کانگران بھی اور اگر خاص وقف کے متعلق اُسے وصی کیا ہے تو علاوہ وقف کے دوسری چیزوں ميں بھی وہ وصی ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: دو زمینيں وقف کيں اور ہر ایک کا متولی علیٰحدہ علیٰحدہ دوشخصوں کو کیا تو الگ الگ متولی ہيں آپس ميں شریک نہيں اور اگر ایک شخص کو متولی کیا اسکے بعد دوسرے کووصی کیا تو یہ وصی بھی تولیت ميں متولی کا شریک ہے ہاں اگر واقف نے یہ کہا ہو کہ اُس کو ميں نے اپنے اوقاف کا متولی کیا ہے اور اسکو اپنے ترکات(6) اور دیگر امور(7) کا وصی کیا ہے تو ہر ایک اپنے اپنے کام ميں منفرد ہوگا۔ (8)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۷: واقف نے اپنی زندگی ميں کسی کو اوقاف کے کام سپرد کر ديے ہيں تو اُسکی زندگی ہی تک متولی رہے گا
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۲۴.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:فی عزل الناظر،ج۶،ص۵۸۶.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۰۸.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۴۷.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۰۹.
6 ۔میراث،وہ مال واسباب جو مرنے والا اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ 7 ۔معاملات،کاموں۔
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۸۷.
مرنے کے بعد متولی نہيں۔ ہاں اگر یہ کہہ دیا ہے کہ میری زندگی ميں اور مرنے کے بعد کے ليے بھی ميں نے تجھ کو متولی کیا تو واقف کے مرنے پر اسکی ولایت(1) ختم نہيں ہو گی۔ قاضی نے کسی کو متولی بنایا اسکے بعد قاضی مرگیا یا معزول ہوگیا تو اس کی وجہ سے متولی پر کچھ اثر نہيں پڑے گا وہ بدستور متولی رہے گا۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: دوشخصوں کو متولی کیا تو ان ميں تنہا ایک شخص وقف ميں کوئی تصرف(3)نہيں کرسکتا جتنے کام ہونگے وہ دونوں کی مجموعی رائے سے انجام پائيں گے اور اِن ميں سے اگر ایک نے کوئی کام کرلیا اور دوسرے نے اُسے جائز کر دیا ایک نے دوسرے کو وکیل کردیا اور اس نے اُس کام کو انجام دیا تو جائز ہے کہ دونوں کی شرکت ہوگئی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: ایک وقف کے دووصی تھے ان ميں ایک نے مرتے وقت ایک جماعت کو وصی کیا تو یہ جماعت اُس وصی کے قائم مقام ہوگی اور اگر اُس نے مرتے وقت دوسرے وصی کو وصی کیا تو اب تنہا یہی پورے وقف پر متصرف(5) ہوگا۔(6) (خانیہ)
مسئلہ ۲۰: واقف نے ایک شخص کو وصی کر دیا(7) ہے اور یہ شرط کردی ہے کہ وصی کو وصی کرنے کا اختیار نہيں تو یہ شرط صحیح ہے اِس وصی کے بعد قاضی اپنی رائے سے کسی کو متولی مقرر کریگا۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: واقف نے یہ شرط کی کہ اس کا متولی عبداﷲ ہوگا اور عبداﷲ کے بعد زید ہوگا مگر عبداﷲ نے اپنے بعد کے ليے علاوہ زید کے دوسرے کو منتخب کیا تو زید ہی متولی ہوگا وہ نہ ہوگا جس کو عبداﷲ نے منتخب کیا۔ یوہيں اگر واقف نے یہ شرط کی ہے کہ میری اولاد ميں جو زیادہ ہوشیار ہووہ متولی ہوگا مگر کسی متولی نے اپنے بعد اپنے داماد کو متولی کیا جو واقف کی اولادميں نہيں تو یہ متولی نہيں ہوگا بلکہ واقف کی اولاد ميں جو مستحق ہے وہ ہوگا۔(9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: دو شخصوں کو واقف نے متولی کیا ہے ان ميں ایک نے قبول کیا اور دوسرے نے تولیت سے(10)انکار کردیا تو قاضی اپنی رائے سے اُس انکار کرنے والے کی جگہ کسی کو مقرر کریگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس نے قبول کیا قاضی
1 ۔ذمہ داری،نگرانی۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۰۹،۴۱۲.
3 ۔عمل دخل،معاملہ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۰.
5 ۔منتظم۔
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف، فصل فی إجارۃ الاوقاف ومزارعتہا،ج۲،ص۳۲۳.
7 ۔یعنی مال وقف کے انتظام کی وصیت کر دی۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۰.
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،مطلب:شرط الواقف النظرلعبداللہ...إلخ،ج۶،ص۶۵۳.
10 ۔متولی بننے سے ،مال وقف کا منتظم بننے سے۔
اُسی کو تمام وکمال اختیارات (1)دیدے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: ایک شخص کو وصیت کی کہ اتنی جائداد خرید کر فلاں کام کے ليے وقف کردیناتو یہی شخص اِس وقف کا متولی بھی ہوگااور اگر ایک شخص کو وقف کامتولی بنایا پھر ایک دوسرا وقف کیا جسکے ليے کسی کو متولی نہيں کیا ہے تو پہلا متولی اس دوسرے وقف کا متولی نہيں مگر جب کہ اُس شخص کو وصی بھی کردیا ہوتو دوسرے وقف کا بھی متولی ہے۔ (3)(بحرالرئق)
مسئلہ ۲۴: واقف نے اپنی اولاد ميں سے دو کے ليے تولیت(4) رکھی ہے اور اُس کی اولاد ميں ایک مرد ہے اور ایک عورت تو یہی دونوں متولی ہوں گے اور اگر واقف نے یہ شرط کی ہے کہ میری اولاد ميں سے دومرد متولی ہونگے تو عورت متولی نہيں ہوسکتی۔(5) (بحرالرائق)
مسئلہ ۲۵: متولی مرگیا اور واقف زندہ ہے تو دوسرا متولی خود واقف ہی مقرر کریگا اور واقف بھی مرچکا ہے تو اُس کا وصی مقرر کریگا اور وصی بھی نہ ہو تو اب قاضی کاکام ہے، یہ اپنی رائے سے مقرر کرے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: واقف کے خاندان والے موجود ہوں اور اہلیت بھی رکھتے ہوں تو انھيں کو متولی کیا جائے اور اگر یہ لوگ نا اہل تھے اور دوسرے کو متولی کر دیا گیا اسکے بعد اُن ميں کوئی تولیت کے لائق ہوگیا تو اس کی طرف تولیت منتقل ہو جائے گی اور اگر خاندان والے اس خدمت کو مفت نہيں کرنا چاہتے اور غیرشخص مفت کرنے کو طیار(7)ہے تو قاضی وہ کرے جو وقف کے ليے بہتر ہو۔(8)(عالمگیری) یہ اُس صورت ميں ہے کہ واقف نے اپنے خاندان کے ليے تولیت مخصوص نہ کی ہواور اگر مخصوص کردی تو دوسرے کو متولی نہيں بنا سکتے مگر اُس صورت ميں کہ خاندان والوں ميں کوئی امین نہ ملتا ہو۔
مسئلہ ۲۷: متولی کو یہ بھی اختیارہے کہ مرتے وقت دوسرے کے ليے تولیت کی وصیت کر جائے اور یہ دوسرا اُسکے بعد متولی ہوگا مگر متولی کو جو وظیفہ ملتا تھا وہ اسے نہيں ملے گا اسکے ليے یہ ضرور ہے کہ قاضی کے پاس درخواست کرے قاضی اسکے کام کے لحاظ سے وظیفہ مقرر کریگایہ ضرور نہيں کہ پہلے متولی کو جو کچھ ملتا تھا وہی اسکو بھی ملے۔ ہاں اگر واقف نے ہر متولی کے ليے
1 ۔مکمل اختیارات۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۰.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۸۷.
4 ۔مال وقف کی نگرانی،سربراہی۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۸۸.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۱.
7 ۔تیار۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۲.
ایک رقم مخصوص کررکھی ہے تو اب قاضی کے پاس درخواست دینے کی ضرورت نہيں بلکہ متولی سابق کی وصیت ہی کی بنا پر یہ متولی ہوگا اور واقف کی شرط کی بنا پر حق تولیت پائے گا۔ اور قاضی نے کسی کو متولی بنایا تو اسکو حق تولیت اُسقدر نہيں ملے گا جو واقف کے مقرر کردہ متولی کو ملتا تھا۔(1) (فتح القدیر)
مسئلہ ۲۸: متولی اپنی حیات وصحت ميں دوسرے کو اپنا قائم مقام کرنا چاہتا ہے یہ جائز نہيں مگر جب کہ عموماًتمام اختیارات اُسے سپرد ہوں تو یہ کرسکتا ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: چند اشخاص معلوم پر ایک جائداد وقف ہے تو خود یہ لوگ اپنی رائے سے کسی کو متولی مقرر کرسکتے ہيں قاضی سے اجازت لینے کی ضرورت نہيں ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: متولی مسجد کا انتقال ہوگیا اہل محلہ نے اپنی رائے سے بغیر اجازت قاضی کسی کو متولی مقرر کیا تو اصح(4) یہ ہے کہ یہ شخص متولی نہيں کہ متولی مقرر کرنا قاضی کا کام ہے مگر اِس متولی نے وقف کی آمدنی اگر عمارت ميں صرف کی ہے تو ضامن نہيں جب کہ وقفی جائداد کو کرایہ پر دیا ہواور کرایہ وصول کرکے خرچ کیا ہو۔ اور فتح القدیر ميں فرمایا: بہر حال تاوان دینا پڑے گا کہ مفتے بہ(5)یہ ہے کہ وقف کو غصب کرکے اُس سے جو کچھ اُجرت حاصل کریگا اُس کا تاوان دینا پڑتا ہے۔(6)ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم سلطنت اسلام کے ليے ہے جہاں قاضی ہوتے ہيں اور وہ ان امور کو انجام دیتے ہيں اور چونکہ اس وقت ہندوستان ميں نہ تو قاضی ہے نہ اسلامی سلطنت ایسی حالت ميں اگر اہل محلہ کا متولی مقرر کرنا صحیح نہ ہوتو اوقاف(7) بغیر متولی رہ کر ضائع ہوجائيں گے، لہٰذا یہاں کی ضرورتوں کا خیال کرتے ہوئے دوسرے قول پر جس کو غیر اصح کہا جاتا ہے فتویٰ دینا چاہيے یعنی اہل محلہ کا متولی مقرر کرنا جائز ہے اورجسے یہ لوگ مقرر کريں گے وہ جائز متولی ہوگا اور اُس کے تصرفات مثلاًکرایہ وغیرہ پر دینا پھراُن کو ضرورت ميں صرف کرنا سب جائز ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۳۱: ایک وقف کے دو متولی ہوگئے اِس طرح کہ ایک شہر کے قاضی نے ایک کو متولی مقرر کیا اور دوسرے شہر کے قاضی نے دوسرے شخص کو متولی کیا تو ایسے دو متولیوں کو یہ ضرور نہيں کہ اجتماع و اتفاق رائے سے تصرف کريں(8) ہر ایک متولی تنہا بھی تصرف کرسکتا ہے اور ایک قاضی کے مقرر کردہ متولی کو دوسرا قاضی معزول بھی کرسکتا ہے جب کہ اسی ميں مصلحت ہو۔(9) (خانیہ)
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الاول فی المتولی،ج۵،ص۴۵۰.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۲.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔صحیح ترین قول۔ 5 ۔یعنی فتوٰی اس پر ہے۔
6 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الاول فی المتولی،ج۵،ص۴۵۰.
7 ۔وقف کی ہوئی چیزیں۔ 8 ۔معاملات طے کریں۔
9 ۔''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی مسائل الشرط فی الوقف،ج۲،ص۳۰۷.
مسئلہ ۳۲: وقف کے کسی جز کو بیع یا رہن کردینا خیانت ہے۔ ایسے متولی کو معزول کردیا جائے گا مگر وہ خود اپنے کو معزول نہيں کرسکتا بلکہ واقف یا قاضی اُسے معزول کریگا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: قاضی کے حکم سے متولی مالِ وقف کو اپنے مال ميں ملا سکتا ہے اور اس صورت ميں اُس پر تاوان نہيں۔(2) (بحر)
مسئلہ ۳۴: متولی نے وقف کی کوئی چیز کرایہ پر دی اسکے بعد وہ متولی معزول ہوگیااور دوسرا اُسکی جگہ مقرر ہوا تو کرایہ دوسراشخص وصول کریگاپہلے کو اب حق نہ رہا اور اگر متولی نے وقف کے مال سے کوئی مکان خریدا پھر اُسے بیع کرڈالا تو یہ متولی مشتری (3)سے اس بیع کا اقالہ(4) کرسکتا ہے جب کہ واجبی قیمت سے زیادہ پر نہ بیچا ہواور اگر اس کو معزول کرکے دوسرا متولی مقرر کیا گیا تو یہ دوسرا بھی اُس کا اقالہ کرسکتا ہے۔ (5)(بحرالرائق)
مسئلہ ۳۵: وقفی زمین ميں درخت ہيں اور ان کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے کہ یہ پرانے ہوگئے تو متولی کو چاہيے کہ نئے پودے نصب کرتا رہے تاکہ باغ باقی رہے۔(6) (خانیہ)
مسئلہ ۳۶: واقف نے متولی کے ليے حق تولیت جو کچھ مقرر کیا ہے اگر بلحاظ خدمت وہ کم مقدار ہے تو قاضی اُجرت مثل تک اضافہ کرسکتا ہے۔(7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۷: دیہاتوں ميں نذر انہ ورسوم وغیرہ لگان(8)کے علاوہ کچھ اور مقرر ہوتے ہيں ان ميں جو چیزيں عرف کے لحاظ سے متولی کے ليے ہوں مثلاًجب کارندہ(9) گاؤں ميں جاتے ہيں تو اُن کو کچھ ملتا ہے اور مالک کے علم ميں یہ بات ہوتی ہے مگر اس پر باز پُرس(10) نہيں کرتا تو ایسی رقميں وغیرہ متولی کو مليں گی اور اگر وہ چیزيں بطور رشوت دی گئی ہيں تاکہ دینے والوں کے ساتھ رعایت کرے مثلاً انڈے، مرغی وغیرہ تو اس کالینانا جائز او ر لیا ہوتو واپس کرے اور اگروہ آمدنی اِس قسم کی ہے کہ اس کو
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۳.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۰۲.
3 ۔خریدار۔ 4 ۔فسخ،واپسی۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۰۱۔۴۰۲.
6 ۔''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب الوقف،باب الرجل یجعل دارہ، مسجداً...إلخ،ج۲،ص۳۰۲.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:المراد من العشر...إلخ،ج۶،ص۶۶۹.
8 ۔زمین کا خراج۔ 9 ۔کارکن۔ 10 ۔پوچھ گچھ۔
ملا کر گویا وقف کے محاصل پورے ہوتے ہيں مثلاًوقف کی زمین زیادہ حیثیت کی ہے اور کاشتکار لگان کے نام سے زیادہ دینا نہيں چاہتا مگر نذرانہ وغیرہ کسی اور نام سے وہ رقم پوری کردیتا ہے تو ایسی آمدنی کو وقف کی آمدنی قرار دینا چاہيے اور محاصل وقف (1) ميں اسے شمار کیا جائے۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۸: متولی نے اپنی اولاد یا اپنے باپ دادا کے ہاتھ وقف کی کوئی چیز بیع کی یا ان کو نوکر رکھا یا اُجرت پر ان سے کام کرایا یہ سب نا جائز ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۳۹: واقف نے اگر متولی کے ليے یہ اجازت دیدی ہے کہ خود بھی وقف کی آمدنی سے کھاسکتا ہے اور اپنے دوست احباب کو بھی کھلاسکتا ہے تو متولی اس شرط کی بموجب احباب کو کھلا سکتا ہے ورنہ نہيں۔ (4)(خلاصہ)
مسئلہ ۴۰: قاضی نے متولی کے ليے مثلاً فیصدی دس روپے(5) مقرر کيے ہيں تو آمدنی سے دس فیصدی لے گا یہ نہيں کہ جملہ مصارف(6)کے بعد فیصدی دس روپے لے۔ (7)(خلاصہ)
مسئلہ ۴۱: متولی کو اختیار ہے کہ زمین وقف کو آباد کرنے کے ليے گاؤں آبادکرائے رَعایا(8)بسائے اس ليے کہ جب تک مزارعین(9) نہيں ہوں گے زمین نہيں اُٹھے گی اور آمدنی نہيں ہوگی، لہٰذا اگر ضرورت ہو تو گاؤں آباد کرسکتا ہے۔ یوہيں اگر وقفی زمین شہر سے متصل ہواور دیکھتا ہے کہ مکانات بنوانے ميں آمدنی زیادہ ہوگی اور کھیت رکھنے ميں آمدنی کم ہے تو مکانات بنواکر کرایہ پر دے سکتا ہے اور اگر مکانات ميں بھی اوتنا ہی نفع ہو جتنا کھیت رکھنے ميں تو مکان بنوانے کی اجازت نہيں۔(10) (فتح القدیر)
مسئلہ ۴۲: شورزمین(11) کو درست کرانے کے ليے وقف کا روپیہ خرچ کرسکتا ہے مسافرخانہ کی کوئی آمدنی نہيں ہے اور اس ميں ملازم رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ صفائی رکھے اور اُس کے کمروں کوکھولے بند کرے تو اُسکے کسی حصہ کو کرایہ پر دے کر
1 ۔وقف سے حاصل ہونے والی آمدنی،وقف کی آمدنی۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،مطلب:فی تحریرحکم...إلخ،ج۶،ص۶۹۱.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۹۹.
4 ۔''خلاصۃ الفتاوی''،کتاب الوقف،الفصل الثانی فی نصب المتولی،ج۴، ص۴۱۱.
5 ۔یعنی سو میں د س روپے،دس فیصد۔ 6 ۔تمام اخراجات۔
7 ۔''خلاصۃ الفتاوی''،کتاب الوقف،الفصل الثانی فی نصب المتولی،ج۴، ص۴۱۱.
8 ۔ لوگ۔ 9 ۔زراعت کرنے والے ،کاشتکار۔
10 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الاول فی المتولی،ج۵،ص۴۵۱.
11 ۔ناقابل زراعت زمین۔
اُسکی آمدنی سے ملازم کی تنخواہ دے سکتا ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: وقفی عمارت جھک گئی ہے جس سے پروس(2) والوں کو اپنی عمارت کے خراب ہونے کا ڈرہے، وہ لوگ متولی(3) سے درست کرانے کو کہتے ہيں مگر متولی درست نہيں کرتا انکار کرتا ہے اور وقف کا روپیہ موجود ہے تو متولی کو درست کرانے پر مجبور کرسکتے ہيں اور اگر وقف کاروپیہ نہيں ہے توقاضی کے پاس درخواست کريں، قاضی حکم دیگا کہ قرض لے کر اُسے ٹھیک کرائے۔(4) (خانیہ)
مسئلہ ۴۴: وقفی زمین ميں متولی نے مکان بنایا چاہے وقف کے روپے سے بنایا یا اپنے روپے سے بنایا مگر وقف کے ليے بنایا یاکچھ نیت نہيں کی اِن صورتوں ميں وہ وقف کا مکان ہے اور اگر اپنے روپے سے بنایا اور اپنے ہی ليے بنایا اور اس پر گواہ بھی کرلیا تو خود اس کا ہے اور دوسراشخص بناتا اور کچھ نیت نہ کرتا جب بھی اُسی کا ہوتا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: متولی نے وقف کی مرمت وغیرہ ميں اپنا ذاتی روپیہ صرف کردیا اور یہ شرط کرلی تھی کہ واپس لے لوں گا تو واپس لے سکتا ہے اور اگر وقف کا روپیہ اپنے کام ميں صرف کردیا پھر اُتنا ہی اپنے پاس سے وقف ميں خرچ کردیا تو تاوان سے بری ہے۔(6) (عالمگیری، فتح القدیر) مگر ایسا کرنا جائز نہيں اور اگر وقف کے روپے اپنے روپے ميں ملا ديے تو کُل کا تاوان دے۔
مسئلہ ۴۶: متولی یا مالک نے کرایہ دار کو عمارت کی اجازت دیدی اُس نے اجازت سے تعمیر کرائی تو جو کچھ خرچ ہوگاکرایہ دار متولی یا مالک سے لے گا جب کہ اُس عمارت کا بیشتر نفع مالک کو پہنچتا ہو اور اِس نئی تعمیر سے مکان کونقصان نہ پہنچے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: وقف خراب ہورہا ہے متولی یہ چاہتا ہے کہ اس کا ایک جزبیع کرکے اُس سے باقی کی مرمت کرائے تو اُس کو اختيار نہيں اور اگر وقفی مکان کا ایک ایساحصہ بیچ دیا جو منہدم(8)نہ تھا اور مشتری(9)اُسے منہدم کرائے گا یا درخت تازہ بیچ دیا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۴.
2 ۔پڑوس۔ 3 ۔مال وقف کا نگران ،دیکھ بھال کرنے والا۔
4 ۔''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب الوقف،باب الرجل یجعل دارہ، مسجداً...إلخ،ج۲،ص۳۰۲.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۵،۴۱۶.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۶.
و''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الاول فی المتولی،ج۵،ص۴۵۰.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۶.
8 ۔گرا ہوا۔ 9 ۔خریدار۔
تو یہ بیع باطل ہے پھر اگر مشتری نے مکان گروا دیا یا درخت کٹوا دیا تو قاضی ایسے متولی کو معزول کرے کہ خائن ہے اور اُس مکان یا درخت کاتاوان لے اور اختیار ہے کہ بائع سے تاوان لے یا مشتری سے اگر بائع سے تاوان لے گا بیع نافذ ہوجائے گی اور مشتری سے لے گا تو باطل رہے گی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۸: وقف کے پھلدار درختوں کو بیچنا جائز نہيں اور کاٹنے کے بعد بیچ سکتا ہے اور نہ پھلنے والے درخت ہوں تو اُنھيں کاٹنے سے پہلے بھی بیچ سکتے ہيں اور بید(2) جھاؤ(3) نرکل(4)وغیرہ جو کاٹنے سے پھر نکل آتے ہيں انھيں تو بیچنا ہی چاہيے کہ یہ خود آمدنی وقف ميں داخل ہيں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: واقف نے متولی کے ليے حق تولیت رکھا ہے تو تولیت کی خدمت انجام دینے پر وہ ملتا رہے گا اور متولی کو وہی کام کرنے ہونگے جو متولی کیا کرتے ہيں مثلاًجائداد کو اجارہ پر دینا وقف ميں کچھ کام کرانے کی ضرورت ہے تو اسے کرانا محاصل وصول کرنا مستحقین پر تقسیم کرنا وغیرہ متولی کو یہ ضرور ہوگا کہ امور تولیت(6) ميں بالکل کوتاہی نہ کرے اور جو کام عادۃًمتولی کے ذمہ نہيں ہوتے بلکہ مزدوروں سے متولی کام لیا کرتے ہيں ایسے کام کا مطالبہ متولی سے نہيں کیا جاسکتا کہ اُس نے خود کیوں نہيں کیا بلکہ اگر عورت متولی ہے تو وہی کام کریگی جو عورتيں کیا کرتی ہيں مردوں کے کام کا بار اُس پر نہيں ڈالا جاسکتا۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: متولی نے اگر مزدوروں کے ساتھ وہ کام کیا جو مزدور کرتے ہيں اور اسکے فرائض سے یہ کام نہ تھا تو اِسکی اُجرت متولی نہيں لے سکتا۔(8) (بحرالرائق)
مسئلہ ۵۱: متولی پر اہل وقف نے دعویٰ کیا کہ یہ کچھ کام نہيں کرتا اور واقف نے حق تولیت اسکے ليے جو کچھ رکھا ہے وہ کام کے مقابلہ ميں ہے، لہٰذا اسکو نہيں ملنا چاہيے تو حاکم متولی پر ایسے کام کا بار نہيں ڈالے گا جو متولی نہ کرتے ہوں۔(9) (بحرالرائق)
مسئلہ ۵۲: متولی اگر اندھا بہراگونگا ہوگیا مگر اِس قابل ہے کہ لوگوں سے کام لے سکتا ہے تو حق تولیت ملے گا ورنہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۷.
2 ۔ایک قسم کا درخت جس کی شاخیں لچکدار ہوتی ہیں اوراس کی لکڑی سے ٹوکریاں وغیرہ بنائی جاتی ہیں۔
3 ۔ایک قسم کا پودا جو دریا کے کنارے اُگتا ہے۔ 4 ۔سرکنڈا۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۷.
6 ۔وقف کے انتظامی معا ملات۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۲۵.
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۰۹.
9 ۔المرجع السابق.
نہيں۔ متولی پر کسی نے طعن کیاکہ مثلاًخائن(1)ہے تو فقط لوگوں کے کہہ دینے سے اُس کا حق تولیت(2)باطل نہيں ہوگا اور نہ اُسے تولیت سے جدا کیا جائے گا بلکہ واقع ميں خیانت ثابت ہو جائے تو برطرف کیا جائے گا۔ اور حق بھی بند ہو جائے گا اور اگر پھر اُسکی حالت درست و قابل اطمینان ہو جائے تو پھر اُوسے متولی کر دیا جائے اور حق تولیت بھی دیا جائے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: اگر قاضی اس کو منا سب جانتا ہے کہ متولی کے ساتھ ایک دوسرا شخص شامل کردے کہ دونوں مل کر کام کريں تو شامل کرسکتا ہے اور حق تولیت ميں سے کچھ اسے بھی دینا چاہے تو دے سکتا ہے اور اگر حق تولیت کم ہے کہ دوسرے کو اُس ميں سے دینے ميں پہلے کے ليے بہت کمی ہو جائے گی تو دوسرے کو وقف کی آمدنی سے بھی دے سکتا ہے۔ (4)(عالمگیری) اور دوسرے شخص کو اس وجہ سے شامل کیا کہ متولی کی نسبت کچھ خیانت کا شبهہ تھاتو تنہا متولی کو تصرف کرنے کا (5) حق نہ رہا اور اگر یہ وجہ نہيں تو متولی تنہا تصرف کر سکتا ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۵۴: واقف نے متولی کے ليے اجر مثل سے زیادہ مقرر کیا تو حرج نہيں قاضی وغیرہ کوئی دوسرا شخص اجر مثل سے زیادہ نہيں مقرر کرسکتا۔(7)(عا لمگیری)
مسئلہ ۵۵: واقف نے کام کرنے والے کے ليے کچھ مال مقرر کیا ہے تو اسے یہ جائز نہيں کہ خود کام نہ کرے اور دوسرے کو اپنی جگہ مقرر کر کے وہ رقم بھی اسکے ليے کردے ہاں اگر واقف نے اسے ایسا اختیار دیا ہے تو ہو سکتا ہے۔(8)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: متولی وقف کے کام کے ليے ملازم نوکر رکھ سکتا ہے اور ان کی تنخواہ دے سکتا ہے اور اُن کو موقوف کر کے اُن کی جگہ دوسرے رکھ سکتا ہے۔ (9)(فتح القدیر)
مسئلہ ۵۷: متولی کو جنون مطبق ہو گیا یعنی ایک سال جنون کو گزر گیا تو تولیت سے علیٰحدہ ہ کر دیا جائے اور اگر یہ شخص
1 ۔خیانت کرنے والا۔ 2 ۔وقف کا منتظم ہونے کا حق۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۲۵.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔وقف کے انتظامی معاملات طے کرنے کا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۷۰۲.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۲۵.
8 ۔المرجع السابق.ص۴۲۶.
9 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الاول فی المتولی،ج۵،ص۴۵۰.
اچھا ہوگیا اور کام کے لائق ہوگیا تو اسے تولیت پر مامور(1) کیاجاسکتا ہے۔ (2)(فتح القدیر)
مسئلہ ۵۸: واقف نے ایک شخص کو متولی کیا اوریہ شرط کردی کہ اگرچہ قاضی اُسے معزول کردے مگر جو وظیفہ ميں نے اُسکے ليے مقرر کیاہے معزولی کے بعد بھی اُسے دیا جائے یا اُسکے بعد اُسکی اولاد کے ليے بعد نسلاً بعد نسل جاری ر ہے یہ شرط صحیح ہے اور اِسی کے موافق عمل ہوگا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۹: وقف کرنے کے بعد مر گیا قاضی نے یہ اوقاف ایک شخص کو سپرد کردئیے اور آمدنی کا دسواں حصہ اس کا رندہ کے ليے مقرر کیا اور اوقاف ميں ایک پن چکی ہے جو بالمقطع ایک شخص کے کرایہ ميں ہے اسکے ليے کارندہ کی ضرورت نہيں وہ وقف والے خودہی اسکا کرایہ وصول کرلیتے ہيں تو چکی کی آمدنی کا دسواں حصہ کا رندہ کو نہيں ملے گا۔(4) (خانیہ)
مسئلہ ۶۰: متولی نے مدتوں تک کام ہی نہيں کیا اور قاضی کو اطلاع بھی نہيں دی کہ اسے معزول کرکے دوسرے کومتولی کرتا پھر بھی وہ متولی ہے بغیر معزول کیے معزول نہ ہوگا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: متولی نے وقفی مکان یا زمین کو اجارہ پر دیا پھر مرگیا تو اجارہ بدستور باقی رہے گا۔ یوہيں واقف نے کرایہ پردیا ہو پھر مرگیا جب بھی یہی حکم ہے۔ جو متولی ہے وقف کی آمدنی بھی خود اُسی پر صرف(6)ہوگی اُس نے وقف کو اجارہ پر دیا اورمدت اجارہ پوری ہونے سے پہلے فوت ہوگیا جب بھی اجارہ نہيں ٹوٹے گا۔ یوہيں اگر قاضی نے مکانات موقوفہ(7) کوکرایہ پردیدیا ہے اسکے بعد معزول ہوگیا تو اجارہ باقی ہے۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: کرایہ دار سے پیشگی کرایہ لیکر مستحقین پر تقسیم کر دیا گیا پھر مدت اجارہ پوری ہونے سے پہلے ان ميں سے کوئی مرگیاتو تقسیم توڑی نہيں جائے گی۔(9) (عالمگیری)
1 ۔مقرر۔
2 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الاول فی المتولی،ج۵،ص۴۵۱.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۲۶.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،باب الرجل یجعل دارہ، مسجداً...إلخ،ج۲،ص۳۰۳.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۲۷.
6 ۔خرچ۔ 7 ۔وقف کیے ہوئے مکانات۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۸.
9 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۳: وقف کا مال کاشتکار نے کھالیا متولی نے اُس سے کچھ کم پر صلح کی اگر کاشتکار غنی ہے تو صلح نا جائز ہے اور فقیر ہے تو جائز ہے، جبکہ وہ وقف فقرا پر ہو اور اگر وقف کے مستحق مخصوص لوگ ہوں تو اگرچہ کاشتکار فقیر ہو کم پر مصالحت جائز نہيں۔ یوہيں اِس صورت ميں وقفی زمین یا مکان کو کم کرایہ پر فقیر کو بھی دینا نا جائز ہے اور فقراپر وقف ہو توجائز ہے۔(1) (خانیہ، بحرالرائق)
مسئلہ ۴: وقفی مکان کو تین سال کے ليے سو روپیہ سال کرایہ پر دیا ا ور تین شخص اِس وقف کی آمدنی کے حقدار ہيں ایک سال گزرنے پر ان ميں کا ایک فوت ہوگیا پھر ایک سال اور گزرنے پر دوسراشخص مرگیا اور تیسرا باقی ہے تو پہلے سال کی رقم پہلے کے ورثہ اور دوسرے اور تیسرے شخص کے درمیان برابر تین حصہ پر تقسیم ہوگی اور دوسرے سال کی رقم دوسرے کے ورثہ اور تیسرے ميں نصفا نصف تقسیم ہوگی۔ پہلی میت کے ورثہ اس ميں سے نہيں پائيں گے اور تیسرے سال کی رقم صِرف اِس تیسرے کو ملے گی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: اوقاف کے اجارہ کی مدت طویل نہيں ہونی چاہيے، تین سال سے زیادہ کے ليے کرایہ پر دینا جائز نہيں۔ (3)(فتح القدیر) اور اگر واقف نے کرایہ کی کوئی مدت بیان کردی ہے تو اُسکی پابندی کی جائے اور نہ بیان کی ہو تومکانات کو ایک سال تک کے ليے اور زمین کو تین سال تک کے ليے کرایہ پر دیا جائے مگر جب کہ مصلحت اسکے خلاف کو مقتضی ہو(4)تو جو تقاضائے مصلحت ہو(5) وہ کیا جائے اور یہ زمانہ اور مواضع (6)کے اعتبار سے مختلف ہے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۶: واقف نے یہ شرط کردی ہے کہ ایک سال سے زیادہ کے ليے کرایہ پرنہ دیا جائے مگر وہاں ایک سال کے ليے کرایہ پر کوئی لیتا ہی نہيں زیادہ مدت کے ليے لوگ مانگتے ہيں تو متولی شرطِ واقف کے خلاف کرکے ایک سال سے زیادہ کے ليے نہيں دے سکتا۔ بلکہ یہ معاملہ قاضی کے پاس پیش کرے اور قاضی سے اجازت حاصل کرکے ایک سال سے زیادہ کے ليے دے اور اگر وقف نامہ ميں یوں ہوکہ ایک سال سے زیادہ کے ليے نہ دیا جائے مگر جب کہ اس ميں نفع ہو
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی إجارۃ الاوقاف ومزارعتھا،ج۲،ص۳۲۵.
و''البحرالر ائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۰۶.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۸.
3 ۔''فتح القدیر''،کتاب الوقف،الفصل الاول فی المتولی،ج۵،ص۴۵۱.
4 ۔یعنی اس کے خلاف میں بہتری ہو۔ 5 ۔یعنی جس میں بھلائی ہو۔ 6 ۔وقت اورعلاقوں۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۱۳.
توخود واقف(1) بھی دے سکتا ہے، قاضی سے اجازت لینے کی ضرورت نہيں۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: اوقاف کو اجر مثل کے ساتھ کرایہ پر دیا جائے یعنی اس حیثیت کے مکان کا جو کرایہ وہاں ہو یا اس حیثیت کے کھیت کا جو لگان(3) اُس جگہ ہواُس سے کم پر دینا جائز نہيں بلکہ جس شخص کو اوقاف کی آمدنی ملتی ہے وہ خود بھی اگر چاہے کہ کرایہ یا لگان کم لے کر د ے دوں تو نہيں دے سکتا۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: وقفی دوکان واجبی کرایہ(5) پر کرایہ دار کو دے دی اسکے بعد دوسرا شخص آتا ہے اور زیادہ کرایہ دیتا ہے تو پہلے اجارہ کو فسخ نہيں کیا جاسکتا۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: تین سال کے ليے زمین اجارہ پر دی ایک سال پورا ہونے پر کرایہ کا نرخ کم ہوگیا تو اجارہ فسخ نہيں ہوگا۔ یوہيں اگر ایک سال کے بعد زیادہ لوگ اسکے خواہشمند ہوئے اور کرایہ کا نرخ(7)بڑھ گیا جب بھی اجارہ فسخ نہيں ہوسکتا۔ (8)(خانیہ)
مسئلہ ۱۰: متولی نے چند سال کے ليے اجارہ پر زمین دی تھی اور متولی فوت ہوگیا پھر مستاجر(9)بھی مرگیا اور اسکے ورثہ نے کاشت کی تو غلہ ان لوگوں (یعنی مستاجر کے ورثہ) کو ملے گا اوران سے زمین کا لگان نہيں لیاجائے گا، کہ مستاجر کی موت سے اجارہ فسخ ہوگیا بلکہ زمین ميں ان کی زراعت سے جو نقصان ہوا ہے وہ لیا جائے گا اور یہ مصالح وقف ميں صرف ہوگا(10)، جن پر وقف ہے اُن کو نہيں دیاجائے گا۔ (11)(خانیہ)
مسئلہ ۱۱: متولی نے اجر مثل سے کم کرایہ پر اجارہ دیا تولینے والے کو اجر مثل دینا ہوگا اور اُجرت کا ذکر نہ کیا جب بھی یہی حکم ہے۔ یوہيں یتیم کی جائداد کو کم کرایہ پر دیدیا تو واجبی کرایہ دینا ہوگا۔ (12)(خانیہ)
1 ۔بہارشریعت کے تمام نسخوں میں یہاں عبارت ایسے ہی مذکورہے،غالباًیہاں کتابت کی غلطی ہے کیونکہ '' ردالمحتار میں اس مقام پر''واقف''کا
ذکر نہیں بلکہ'' متولی '' مذکورہے''۔...عِلْمِیہ
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل: یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۱۲.
3 ۔کاشتکاری کی اجرت،ٹھیکہ۔
4 ۔''الدرالمختاروردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،مطلب:استئجارالدار...إلخ،ج۶،ص۶۱۶.
5 ۔رائج کرایہ جوعموماًلیاجاتاہے ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۱۹.
7 ۔بھاؤ۔
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الإجارۃ الاوقاف ومزارعتھا،ج۲،ص۳۲۲.
9 ۔کرائے پر لینے والا،کاشتکار۔ 10 ۔یعنی وقف کی تعمیر و درستگی میں خرچ ہو گا۔
11 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الإجارۃ الاوقاف ومزارعتھا،ج۲،ص۳۲۲۔۳۲۳.
12 ۔المرجع السابق،ص۳۲۲.
مسئلہ ۱۲: ایک شخص مثلاً آٹھ روپے کرایہ دینے کو کہتا ہے اور دوسرا دس، مگر یہ دس دینے والا نادہند(1)ہے تو اسکو نہ دیا جائے، آٹھ والے کو دیا جائے۔ (2)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۳: وقفی زمین کو متولی خود اپنے اجارہ ميں نہيں لے سکتا کہ خودمکانِ موقوف(3) ميں رہے اور کرایہ دے یا کھیت بوئے اور لگان دے البتہ قاضی اسکو اجارہ پر دے تو ہوسکتا ہے۔ (4)(خانیہ) اور اجر مثل سے زیادہ کرایہ پر لے تو ہوسکتا ہے۔ یوہيں اپنے باپ یا بیٹے کو بھی کرایہ پر نہيں دے سکتا مگر جب کہ بہ نسبت دوسروں کے ان سے زیادہ کرایہ لے۔ (5)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۴: وقفی زمین کرایہ پر لیکر کسی نے اس ميں مکان بنایا اور اب زمین کا کرایہ پہلے سے زیادہ ہوگیا تو اگر مالکِ مکان زیادہ کرایہ دینے کے ليے طیارہے تو زمین اُسی کے کرایہ ميں رہنے ديں ورنہ اُس سے کہيں اپنا عملہ(6) اُٹھا لے اور زمین کو خالی کردے (7)(عالمگیری) اور اگر اجارہ کی مدت پوری ہوچکی ہے تو اختیار ہے چاہے اُسی کو زیادہ کرایہ لے کرديں یا دوسر ے کو۔(8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: مکانِ موقوف کو عاریت دینا بغیر کرایہ کسی کو رہنے کے ليے دیدینا نا جائز ہے اور رہنے والے کو کرایہ دینا پڑیگا۔ یوہيں جو شخص متولی کی بغیر اجازت رہنے لگا اُسے بھی جو کرایہ ہونا چاہيے دینا ہوگا۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: مکانِ موقوف کو متولی نے بیع کردیا(10)پھر یہ متولی معزول ہوگیا اور دوسرا اسکی جگہ متولی ہوا، اس نے مشتری پر دعویٰ کیا اور قاضی نے بیع باطل ہونے کا حکم دیا تو مشتری(11) کو اتنے دنوں کا کرایہ بھی دینا ہوگا۔(12) (خانیہ)
مسئلہ ۱۷: روپے اشرفی یعنی ثمن کے علاوہ مثلاًاسباب(13)کے بدلے ميں اجارہ کیاتوجائز ہے اور اس وقت اس سامان کو بیچ کر وقف کی آمدنی ميں داخل کرے۔ (14) (عالمگیری)
1 ۔ادائیگی میں ٹال مٹول اور تاخیر کرنے والا۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۴۰۰.
3 ۔وقف شدہ مکان۔
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الإجارۃالاوقاف ومزارعتہا،ج۲،ص۳۲۲.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۹۴.
6 ۔عمارت کی تعمیر کا تمام سازوسامان۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۲۲.
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،مطلب مہم:فی معنی قولہم...إلخ،ج۶،ص۶۱۹.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۲۰.
10 ۔بیچ دیا۔ 11 ۔خریدار۔
12 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف، فصل فی الإجارۃالاوقاف ومزارعتھا،ج۲،ص۳۲۵.
13 ۔سامان،اشیائ۔
14 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ،ج۲،ص۴۲۱.
مسئلہ ۱۸: وقفی زمین کو خود متولی بھی وقف کی طرف سے کاشت کرسکتا ہے اور اس صورت ميں مزدوروں کی اُجرت وغیرہ وقف سے ادا کریگا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: وقفی مکان کرایہ پردیا اور شکست ریخت(2) وغیرہ کرایہ دار کے ذمہ رکھی تو اجارہ باطل ہے، ہاں اگر مرمت کے ليے کوئی رقم معین کردی کہ اتنے روپے مرمت ميں صرف کرنا تو جائز ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: فقیروں پرایک مکان وقف ہے کہ اس کی آمدنی فقرا کو دی جائے گی اس مکان کو ایک فقیر نے کرایہ پر لیا تو کرایہ چونکہ فقیر ہی کو دیا جاتا ہے، لہٰذا جتنا اسکو دینا ہے اُتنا کرایہ چھوڑدینا جائز ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: جس شخص پر مکان وقف ہے وہ خود اِس مکان کو کرایہ پر نہيں دے سکتا جبکہ یہ متولی نہ ہو۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: مکان یا کھیت کو کم پر دیدیا تو یہ کمی مستاجر(6)سے پوری کرائی جائے گی متولی سے وصول نہ کريں گے مگرمتولی سے سہواور غفلت کی بنا پر ایسا ہوا تو درگزر کريں گے اور قصداً ایسا کیا تو خیانت ہے، معزول کردیاجائے گا بلکہ خود واقف نے قصداً کم پر دیا ہے تو اسکے ہاتھ سے بھی وقف کو نکال ليں گے۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: وقفی زمین اگر عشری ہے تو عشر کا شتکار پر ہے اور خراجی ہے تو خراج وقف کی آمدنی سے دیا جائے گا۔ (8)
مسئلہ ۲۴: وقف پر کچھ خرچ کرنے کی ضرورت پیش آئی اور آمدنی کا روپیہ موجود نہيں ہے تو قاضی سے اجازت لیکر قرض لیا جاسکتا ہے۔ بطور خودمتولی کو قرض لینے کا اختیار نہيں۔ یوہيں خراج کا روپیہ دینا ہے تو اسکے ليے بھی باجازت قاضی قرض لیا جائے گا یعنی جبکہ اس سال آمدنی ہی نہ ہوئی اور اگر آمدنی ہوئی مگر متولی نے مستحقین پر تقسیم کردی خراج کے ليے نہيں رکھی تو خراج کی قدر متولی کو تاوان دینا ہوگا۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: وقف کی طرف سے زراعت کرنے کے ليے تخم(10) وغیرہ کی ضرورت ہے اور روپیہ خرچ کے ليے موجود
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ ،ج۲،ص۴۲۱.
2 ۔ٹوٹ پھوٹ کی تعمیر ومرمت۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ ،ج۲،ص۴۲۱.
4 ۔المرجع السابق،ص۴۲۱.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۲۲.
6 ۔کرایہ دار،کاشتکار۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،مطلب:اذاآجر...إلخ،ج۶،ص۶۲۳.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ ،ج۲،ص۴۲۴.
9 ۔المرجع السابق.
10 ۔بیج۔
نہيں ہے تو قاضی سے اجازت لے کر اسکے ليے بھی قرض لے سکتا ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: وقفی مکان کے متصل دوسرا مکان ہے بیچ ميں ایک دیوار ہے جو دوسرے مکان والے کی ہے وہ دیوار گرگئی پھر مالک مکان نے دیوار اُٹھوائی(2) مگر وقف کی حد ميں اُٹھائی تو متولی اُس دیوار کو توڑوا دیگا اور متولی یہ چاہے کہ اُسے قیمت دیکر دیوار وقف کی کرلے یہ جائز نہيں۔(3)(خانیہ)
مسئلہ ۲۷: وقف کی زمین ميں درخت تھے جو بیچ ڈالے گئے اورہنوز(4)کاٹے نہيں گئے کہ خریدارکو وہی زمین اجارہ ميں دی گئی اگر درخت جڑ سمیت بیچے گئے تھے تو زمین کا اجارہ جائز ہے اور اگر زمین کے اوپر اوپر سے بیچے گئے تو اجارہ جائز نہيں۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۲۸: گاؤں وقف ہے اور وہاں کے کاشتکار بٹائی(6) پرکھیت بُویا کرتے ہيں اُس گاؤں ميں قاضی کی طرف سے کوئی حاکم آیا جس نے کسی کو لگان(7) پر کھیت دیدیا فصل طیار ہونے پر متولی آیا اور حسب دستور بٹائی کرانا چاہتا ہے لگان کے روپے نہيں لیتاتو جو متولی چاہتا ہے وہی ہوگا۔ (8)(خانیہ)
مسئلہ ۲۹: وقفی زمین کسی نے غصب کر لی اور غاصب نے اپنی طرف سے کچھ اضافہ کیا ہے اگر یہ زیادت(9) مال متقوم نہ ہو مثلاًزمین کو جوت کر(10) ٹھیک کیا ہے یا اُس ميں نہر کھدوائی ہے یا کھیت ميں کھاد ڈلوائی ہے جومٹی ميں مل گئی توغاصب سے زمین واپس لی جائے گی اور ان چیزوں کا کچھ معاوضہ نہيں دیا جائے گااور اگر وہ زیادت مال متقوم ہے مثلاًمکان بنایا ہے یا پیڑ(11) لگائے ہيں تو اگر مکان یا درخت کے نکالنے سے زمین خراب نہ ہو تو غاصب سے(12) کہا جائے گا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الخامس فی ولایۃ الوقف...إلخ ،ج۲،ص۴۲۴.
2 ۔بنوائی۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الإجارۃالاوقاف ومزارعتھا،ج۲،ص۳۲۳.
4 ۔ابھی تک۔
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الإجارۃالاوقاف ومزارعتھا،ج۲،ص۳۲۳،۳۲۴.
6 ۔باہمی تقسیم۔ 7 ۔ٹھیکے پر،اجرت پر۔
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی الإجارۃالاوقاف ومزارعتھا،ج۲،ص۳۲۴.
9 ۔اضافہ۔ 10 ۔ہل چلا کر۔
11 ۔درخت۔ 12 ۔غصب کرنے والے سے۔
اپنا عملہ(1) اُٹھالے یا پیڑ اُکھاڑلے اور زمین خالی کرکے واپس کردے اور اگر مکان یا درخت جدا کرنے میں زمین خراب ہوجائے گی تو اُکھڑے ہوئے درخت یا نکالے ہوئے عملہ کی قیمت غاصب کو دی جائے گی اور غاصب کو یہ بھی اختیار ہے کہ زمین کے اوپر سے درخت کو اسطرح کاٹ لے کہ زمین کو نقصان نہ پہنچے۔ (2)(خانیہ)
مسئلہ ۱: مکان یا زمین بیع کردی اب کہتا ہے اُسکو میں نے وقف کردیا تھا اِس بیان پر اگر گواہ نہیں پیش کرتا ہے اور مدعی علیہ(3)سے حلف(4) لینا چاہتا ہے تو اُسکی بات نہیں مانیں گے اور حلف نہ دیں گے اور گواہ سے وقف ہونا ثابت کردے تو گواہ مقبول ہیں اور بیع باطل۔(5)(عالمگیری) اور مشتری سے اُتنے دنوں کا کرایہ لیا جائے گا جب تک اُس کا قبضہ تھا اورمشتری(6) ثمن کے وصول کرنے کے ليے اِس جائداد کو اپنے قبضہ میں نہیں رکھ سکتا۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۲: وقف کے متعلق بدون دعویٰ(8)کے بھی شہادت قبول کرلی جاتی ہے اِسی وجہ سے باوجود مدعی کے کلام متناقض(9) ہونے کے وقف میں شہادت قبول ہوجاتی ہے کہ تناقض سے دعویٰ جاتا رہا اور شہادت بغیر دعویٰ ہوئی۔ (10)(درمختار)
مسئلہ ۳: اصل وقف میں اگرچہ بغیر دعویٰ بھی شہادت قبول ہوتی ہے مگر کسی شخص کا کسی وقف کے متعلق حق ثابت ہونے کے ليے دعویٰ شرط ہے بغیر دعویٰ گواہی کوئی چیز نہیں مثلاًایک شخص کسی وقف کی آمدنی کا حقدار ہے اور گواہوں سے حقدار ہونا ثابت بھی ہو تو جب تک وہ خود دعویٰ نہ کرے اُس کا حق فقرا کو دیں گے خود اُسکو نہیں دیں گے۔ (11)(درمختار)
1 ۔یعنی عمارت کی تعمیر کا تمام سازوسامان،عمارت کا ملبہ۔
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف، فصل فی إجارۃ الأوقاف ومزارعتہا،ج۲،ص۳۲۴.
3 ۔جس پر دعویٰ کیاجائے۔ 4 ۔قسم۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب السادس فی الدعویٰ والشھادۃ،الفصل الاول،ج۲،ص۴۳۰.
6 ۔خریدار۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۵۵-۶۵۶.
8 ۔دعویٰ کے بغیر۔ 9 ۔متضاد۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج ۶،ص ۶۲۶.
11 ۔المرجع السابق،ص۶۲۷.
مسئلہ ۴: کسی زمین کی نسبت پہلے یہ کہا تھا کہ یہ فلاں پر وقف ہے اب دعوی کرتا ہے کہ مجھ پر وقف ہے تو چونکہ اُسکے قول میں تناقض(1) ہے، لہٰذا دعویٰ باطل ونامسموع(2) ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: کسی جائداد کی نسبت یہ دعویٰ کہ وقف ہے سُنا نہیں جائے گابلکہ اگر دعویٰ میں یہ بھی ہو کہ میں اُسکی آمدنی کا مستحق ہوں جب بھی مسموع نہیں تاوقتیکہ دعویٰ میں یہ نہ ہو کہ میں اُس کا متولی ہوں۔ دعویٰ مسموع نہ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ فقط اسکے دعویٰ کے بنا پرقا بض پر حلف نہیں دیں گے ہاں اگرگواہ گواہی دیں تو گواہی مقبول ہوگی۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶ـ: مشتری نے بائع پر(5) دعویٰ کیا کہ جوزمین تو نے میرے ہاتھ بیع کی ہے یہ وقف ہے تجھ کو اسکے بیچنے کا حق نہ تھا یہ دعویٰ مسموع نہیں بلکہ یہ دعویٰ متولی کی جانب سے ہونا چاہيے اور متولی نہ ہو تو قاضی اپنی طرف سے کسی کو متولی مقررکریگا جو مقدمہ کی پیروی کریگا اور وقف ثابت ہونے پر بیع باطل ہو جائے گی اور مشتری کو ثمن واپس ملے گا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: قاضی نے کسی جائداد کے متعلق وقف کا فیصلہ دیا تو صرف مدعی کے مقابل یہ فیصلہ نہیں بلکہ سب کے مقابل ہے یعنی فیصلے دو قسم کے ہوتے ہیں، بعض فیصلے صرف مدعی اور مدعی علیہ کے درمیان میں ہیں دوسروں سے اسکو تعلق نہیں مثلاًایک شخص نے دوسرے کی کسی چیز پر دعوی کیا کہ یہ میری ہے اور قاضی نے فیصلہ دیدیا تو یہ فیصلہ سب کے مقابل میں نہیں ہے بلکہ تیسرا شخص پھر دعوی کر سکتا ہے اور چوتھا پھر کر سکتا ہے، وعلیٰ ہذا القیاس۔ اور بعض فیصلے سب کے مقابل میں ہوتے ہیں کہ اب دوسرا دعویٰ ہی نہیں ہوسکتا مثلاًایک شخص پر کسی نے دعویٰ کیاکہ یہ میرا غلام ہے اُس نے جواب دیا کہ میں آزاد ہوں اور قاضی نے حریت (7)کا حکم دیا تو اب کوئی بھی اُسکی عبدیت(8) کادعویٰ نہیں کرسکتایا کسی عورت کو قاضی نے ایک شخص کی منکوحہ ہونے کا حکم دیا تو دوسرااپنی منکوحہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
یوہیں کسی بچہ کا ایک شخص سے نسب ثابت ہوگیا تو دوسرا اُسکے نسب کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اِسی طرح سے کسی جائدادپر
1 ۔اختلاف،تضاد۔ 2 ۔سنا نہیں جائے گا۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب السادس فی الدعوی والشھادۃ،الفصل الاول،ج۲،ص۴۳۱.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،مطلب:المواضع التی ...إلخ،ج۶،ص۶۲۸.
5 ۔بیچنے والے پر۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب السادس فی الدعویٰ والشھادۃ،الفصل الاول،ج۲،ص۴۳۱.
7 ۔آزادی۔ 8 ۔غلامی۔
ایک شخص نے اپنی مِلک کا دعویٰ کیا جس کے قبضہ میں ہے اُس نے جواب دیا یہ وقف ہے اور وقف ہونا ثابت کردیاقاضی نے وقف ہونے کا حکم دیا تو اب ملک کا دوسرادعویٰ اس پر ہر گز نہیں ہوسکتا بلکہ یہ فیصلہ تمام جہان کے مقابل میں ہے مگر واقف اگر حیلہ باز آدمی ہو کہ اِس وقف کے حیلہ سے دوسرے کی املاک پر قبضہ کرتا ہو مثلاًدوسرے کی جائداد پر قبضہ کرلیا اور تیسرے سے اپنے اوپر دعویٰ کرادیا اور جواب یہ دیا کہ وقف ہے اور وقف کے گواہ بھی پیش کرديے اور قاضی نے وقف کا حکم دیدیا اگر ایسے حیلہ باز کے وقف کی قضاء ویسی ہی ہو تو بیچارے اصل مالک اپنی جائداد سے ہاتھ دہو بیٹھا کریں(1) اور کچھ نہ کرسکیں، لہٰذا اِس صورت میں یہ فیصلہ سب کے مقابل میں نہیں۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: وقف کے ثبوت کے ليے گواہی دی تو گواہ کو یہ بیان کرنا ضرورنہیں ہے کہ کس نے وقف کیا بلکہ اگر اِس سے لاعلمی بھی ظاہر کرے جب بھی شہادت معتبر ہوسکتی ہے۔(3) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۹: وقف میں شہادۃ علی الشہادۃ معتبر ہے اور وقف ہونا مشہور ہوتو اگرچہ اسکے سامنے واقف نے وقف نہیں کیا ہے محض شہرت کی بنا پر اسکو شہادت دینا جائز ہے بلکہ اگر قاضی کے سامنے تصریح کردے کہ میری شہادت سمعی ہے(4) جب بھی گواہی نا معتبر نہیں۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ یہ زمین مجھ پر وقف ہے زمین جس کے قبضہ میں ہے وہ کہتا ہے یہ میری ملک ہے گواہوں نے واقف کا وقف کرنا بیان کیا اور یہ کہ جس وقت اُس نے وقف کی تھی اُسی کے قبضہ میں تھی تو فقط اتنی ہی بات سے وقف ثابت نہیں ہوگا بلکہ گواہوں کو یہ بیان کرنا بھی ضرور ہے کہ واقف اُس زمین کا مالک بھی تھا۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: پُرانا وقف ہے جس کے مصارف و شرائط کا پتہ نہیں چلتا اس میں بھی سمعی شہادت معتبر ہے اورزمانہ گزشتہ کا اگر عملدرآمد معلوم ہوسکے یا قاضی کے دفتر میں شرائط ومصارف کا ذکر ہے تو اِسی کے موافق عمل کیا
1 ۔یعنی مالک ہی نہ رہیں۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الاستحقاق،ج۷،ص۴۴۹-۴۵۵.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب السادس فی الدعویٰ والشھادۃ،الفصل الاول،ج۲،ص۴۳۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج ۶،ص ۶۲۹.
4 ۔سنی ہوئی بات کی گواہی ہے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۲۹-۶۳۲.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،مطلب:فی دعوَی الوقف بلا بیان...إلخ،ج۶،ص۶۲۹.
جائے۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: ایک شخص کے قبضہ میں جائداد ہے اُس پر کسی نے وقف ہونے کا دعویٰ کیا اور ثبوت میں ایک دستاویز(2) پیش کرتا ہے تو فقط دستاویز کی بنا پر وقف ہونا نہیں قرار پائے گااگرچہ اُس دستا ویز پر گزشتہ قاضیوں کی تحریریں بھی ہوں۔ یوہیں کسی مکان کے دروازہ پر وقف کا کتبہ کندہ ہونے(3)سے بھی قاضی وقف کا حکم نہیں دے گایعنی بغیر شہادت فقط تحریر قابل اعتبار نہیں مگر جبکہ دستاویز کی نقل قاضی کے دفتر میں ہو تو ضرور قابل قبول ہے، خصوصاً جبکہ گزشتہ قاضیوں کے دستخط اُس پر ہوں۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: کسی جائدادکا وقف ہونا معروف و مشہور ہے مگر یہ نہیں معلوم کہ اسکا مصرف کیا ہے تو شہرت کی بنا پر وقف قرار پائے گا اور فقراپر خرچ کیا جائے گا۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: گواہ نے یہ گواہی دی کہ یہ جائداد مجھ پر یا میری اولاد یا میرے باپ دادا پر وقف ہے تو گواہی مقبول نہیں۔ یوہیں اگر یہ گواہی دی کہ مجھ پراور فلاں اجنبی پر وقف ہے جب بھی مقبول نہیں نہ اسکے حق میں وقف ثابت ہوگانہ اُس دوسرے کے حق میں اور اگر دو گواہ ہوں ایک کی گواہی یہ ہے کہ زید پر وقف ہے اور دوسرا گواہی دیتا ہے کہ عمر و پر وقف ہے تونفس وقف کے متعلق چونکہ دونوں متفق ہیں وقف ثابت ہو جائے گا، مگر موقوف علیہ میں چونکہ اختلاف ہے، لہٰذا یہ جائداد فقرا پرصرف ہوگی، نہ زید پر ہوگی، نہ عمرو (6)پر۔ (7)(خانیہ)
مسئلہ ۱۵: ایک گواہ نے بیان کیا کہ یہ ساری زمین وقف ہے دوسرا کہتا ہے آدھی تو آدھی ہی کا وقف ہونا ثابت ہوا۔(8) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،مطلب:فی الشہادۃ...إلخ،ج۶،ص۶۳۰-۶۳۲.
2 ۔رجسٹر، تحریر نامہ۔
3 ۔یعنی دروازے پر وقف کی تختی لگی ہونے ۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،مطلب:احضر صکاًّ...إلخ،ج ۶،ص۶۳۰-۶۳۲.
5 ۔المرجع السابق،ص۶۳۱-۶۳۵.
6 ۔اسے''عَمْرْ'' پڑھتے ہیں،اس میں واوپڑھا نہیں جاتا صرف''عَمْرْو''اور''عُمْرْ''میں فرق کے لیے لکھا جاتا ہے۔
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی دعویٰ الوقف والشھادۃ،ج۲،ص ۳۲۶.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب السادس فی الدعویٰ والشھادۃ،الفصل الثانی،ج۲،ص۴۳۴.
مسئلہ ۱۶: دوشخصوں نے شہادت دی کہ پروس کے فقیروں پر وقف کی اور خود یہ دونوں اُسکے پروس کے فقیر ہوں جب بھی گواہی مقبول ہے یا گواہی دی کہ فلاں مسجد کے محتاجوں پر وقف ہے تو گواہی مقبول ہے اگرچہ یہ دونوں اُس مسجدکے محتاجین(1) سے ہوں۔ یوہیں اہل مدرسہ وقف مدرسہ کے ليے شہادت دیں تو گواہی قبول ہے۔ (2) (خانیہ) یوہیں متولی اور ایک دوسرا شخص دونوں گواہی دیں کہ یہ مکان فلاں مسجد پر وقف ہے تو گواہی مقبول ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۷: ایک مکان ایک شخص کے قبضہ میں ہے دوسرے شخص نے گواہوں سے ثابت کیا کہ اُس پر وقف ہے اور متولی مسجد نے گواہوں سے یہ ثابت کیا کہ مسجد پر وقف ہے اگر دونوں نے وقف کی تاریخیں ذکر کیں تو جس کی تاریخ مقدم ہے اُسکے موافق فیصلہ ہوگا ورنہ دونوں میں نصف نصف کردیا جائے گا۔(4) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۸: گواہوں نے یہ گواہی دی کہ فلاں نے اپنی زمین وقف کی اور واقف نے اُس کے حدود نہیں بیان کيے مگر کہتے ہیں کہ ہم اُس زمین کو پہچانتے ہیں تو گواہی مقبول نہیں کہ ہوسکتا ہے اُس شخص کی اس زمین کے علاوہ کوئی دوسری زمین بھی ہو اوراگر گواہ کہتے ہوں کہ ہمارے علم میں اُس کی دوسری زمین نہیں جب بھی قبول نہیں کہ ہوسکتا ہے زمین ہواور ان کے علم میں نہ ہو ۔ (5) (خانیہ) یہ اُس صورت میں ہے جبکہ واقف نے مطلق زمین کا وقف کرنا ذکر کیا اور اگر ایسے لفظ سے ذکر کیا کہ گواہوں کو معلوم ہوگیا کہ فلاں زمین ہے جس کے یہ حدود ہیں اور قاضی کے سامنے حدود بیان بھی کریں توگواہی مقبول ہوگی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: گواہ کہتے ہیں واقف نے حدود بیان کرديے تھے مگر ہم بھول گئے تو گواہی مقبول نہیں اور اگر گواہوں نے دو حدیں بیان کیں جب بھی قبول نہیں اورتین حدیں بیان کر دیں تو گواہی مقبول ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: گواہوں نے کہا کہ فلاں نے اپنی زمین وقف کی جس کے حدود بھی واقف نے بیان کرديے مگر ہم نہیں جانتے یہ زمین کہاں ہے تو گواہی مقبول ہے وقف ثابت ہو جائے گا مگر مدعی کو گواہوں سے ثابت کرنا ہوگاکہ وہ زمین
1 ۔حاجت مندوں۔
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی دعویٰ الوقف والشھادۃ،ج۲،ص۳۲۶.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،فصل:یراعی شرط الواقف...إلخ،ج۶،ص۶۸۷.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۲.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی دعویٰ الوقف والشھادۃ،ج۲،ص۳۲۶.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب السادس فی الدعوی والشھادۃ،الفصل الثانی،ج ۲،ص۴۳۴.
7 ۔المرجع السابق.
یہ ہے۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۲۱: گواہوں میں اختلاف ہوا ایک کہتا ہے مرنے کے بعد کے ليے وقف کیا دوسرا کہتا ہے وقف صحیح تمام(2) ہے توگواہی مقبول نہیں اور اگر ایک نے کہا صحت میں وقف کیا دوسرا کہتا ہے مرض الموت میں وقف کیا ہے تو یہ اختلاف ثبوت وقف کے منافی نہیں۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۲۲: ایک شخص فوت ہوا اُس نے دولڑکے چھوڑے اور ایک کے ہاتھ میں باپ کی جائداد ہے وہ کہتا ہے میرے باپ نے یہ جائداد مجھ پر وقف کردی ہے اِس کا دوسرابھائی کہتا ہے والد نے ہم دونوں پر وقف کی ہے اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں تو دوسرے کا قول معتبر ہے جو دونوں پر وقف ہونا بتاتاہے۔ (4)(خانیہ)
مسئلہ ۲۳: ایک زمین چند بھائیوں کے قبضہ میں ہے وہ سب بالاتفاق یہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے باپ نے یہ زمین وقف کی ہے مگرہر ایک وقف کا مصرف(5) علیٰحدہ علیٰحدہ بتاتا ہے تو قاضی اسکے متعلق یہ فیصلہ کریگا کہ زمین تو وقف قراردی جائے اور جس نے جو مصرف بیان کیا اس کاحصہ اُس مصرف میں صرف کیا جائے او ر قاضی اُن میں سے جس کو چاہے متولی مقرر کردے اور اگر ان ورثہ میں کوئی نا بالغ یا غائب ہے تو جب تک بالغ نہ ہو یا حاضر نہ ہو اُسکے حصہ کے متعلق کوئی فیصلہ نہ ہوگا۔(6) (خانیہ)
مسئلہ ۲۴: ایک شخص کے قبضہ میں مکان ہے اُس پر کسی نے دعویٰ کیا کہ یہ مکان مع زمین کے میرا ہے قابض نے جواب میں کہا یہ مکان فلاں مسجد پر وقف ہے مگر مدعی نے گواہوں سے اپنی مِلک ثابت کردی قاضی نے اُسکے موافق فیصلہ دیدیااور دفتر میں لکھ دیا اس کے بعد مدعی یہ اقرار کرتا ہے کہ زمین وقف ہے اور صرف عمارت میری ہے تو دعویٰ بھی باطل ہوگیا اور فیصلہ بھی اور قاضی کی تحریر بھی یعنی پورا مکان مع زمین وقف ہی قرار پائے گا۔ (7)(خانیہ)
مسئلہ ۲۵: دو جائدادیں ہیں ایک جائداد جس کے قبضہ میں ہے موجود ہے اور دوسری جس کے قبضہ میں ہے یہ غائب
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف، فصل فی دعویٰ الوقف والشھادۃ،ج۲،ص۳۲۶.
2 ۔ جس میں کسی قسم کی کوئی تعلیق یعنی مرنے وغیرہ کی کوئی قید نہ ہواسے وقف صحیح تمام کہتے ہیں ۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی دعویٰ الوقف والشھادۃ،ج۲، ص۳۲۶.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔خرچ کرنے کامقام۔
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی دعوی الوقف والشھادۃ،ج۲،ص۳۲۶.
7 ۔المرجع السابق.
ہے جو شخص موجود ہے اُس پر کسی نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ دونوں جائدادیں میرے دادا کی ہیں کہ اُس نے اپنی اولاد پر نسلاًبعد نسل وقف کی ہے اگر گواہوں سے یہ ثابت ہوا کہ دونوں جائدادیں واقف کی تھیں اور دونوں کو ایک ساتھ وقف کیا اور دونوں ایک ہی وقف ہے تو قاضی دونوں جائدادوں کے وقف کا فیصلہ دے گااور اگر گواہوں نے ان کا دو ۲ وقف ہونا بیان کیاتو جو موجود ہے اُسکے مقابل فیصلہ ہو گااور اُس کے پاس جو جائداد ہے وقف قرار پائے گی اور غائب کے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوگا آنے پر ہوگا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: دو منزلہ مکان مسجد سے متصل ہے مسجد میں جو صف بندھتی ہے وہ نیچے والی منزل میں متصلاًچلی آتی ہے اور نیچے والی منزل میں گرمی جاڑوں میں نماز بھی پڑھی جاتی ہے اب اہل مسجداور مکان والوں میں اختلاف ہوا مکان والے کہتے ہیں کہ یہ مکان ہمیں میراث میں ملا ہے تو انھيں کا قول معتبر ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: گواہوں نے گواہی دی کہ اس مکان میں جو کچھ اس کا حصہ تھا یا جو کچھ اسے اپنے باپ کے ترکہ سے ملا تھا وقف کردیا مگر گواہوں کو یہ نہیں معلوم کہ حصہ کتنا ہے یا ترکہ میں کتنا ملا ہے جب بھی شہادت مقبول ہے اور اگرواقف کے مقابل میں گواہوں نے بیان کیا کہ اس نے وقف کرنے کا اقرار کیا اور ہم کو نہیں معلوم کہ وہ کونسا مکان یا زمین ہے تو قاضی واقف کو مجبور کریگا کہ جائدادِ موقوفہ(3) کو بیان کرے جو وہ بیان کردے وہی وقف ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کیاکہ اس نے یہ زمین مساکین پر وقف کردی ہے وہ انکارکرتا ہے مدعی نے اقرار کے گواہ پیش کيے تو گواہی مقبول ہے اور وقف صحیح ہے اور اُسکے ہاتھ سے زمین نکال لی جائے گی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: کسی شخص نے مسجد بنائی یا اپنی زمین کو قبرستان یا مسافر خانہ بنایا ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ زمین میری ہے اور بانی (6) کہیں چلا گیا ہے موجود نہیں ہے تو اگر بعض اہل مسجد کے مقابل میں فیصلہ ہوگیا تو سب کے مقابل میں ہوگیااور مسافر خانہ کے ليے یہ ضرور ہے کہ بانی یا نائب کے مقابل میں فیصلہ ہواُنکی عدم موجودگی میں کچھ نہیں کیا جاسکتا۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب السادس فی الدعوی والشھادۃ،ج۲،ص۴۳۲.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔وقف کی ہوئی جائداد۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب السادس فی الدعوی والشھادۃ،ج۲،ص۴۳۵.
5 ۔المرجع السابق،ص۴۳۷.
6 ۔بنانے والا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب السادس فی الدعوی والشھادۃ،الفصل الاول،ج۲،ص۴۳۸.
مسئلہ ۳۰: وقف کے بعض مستحقین دعوی میں سب کے قائم مقام ہوسکتے ہیں یعنی ایک کے مقابل میں جو فیصلہ ہوگا وہی سب کے مقابل میں نافذ ہوگا یہ جب کہ اصل وقف ثابت ہو۔ یوہیں بعض وار ث جمیع ورثہ کے قائم مقام ہیں یعنی اگر میت پر یا میت کی طرف سے دعوی ہوتو ایک وارث پر یا ایک وارث کا دعویٰ کرنا کافی ہے۔ یوہیں اگر مدیون کا دیوالیا(1) ہونا ایک قرض خواہ کے مقابل میں ثابت ہوا تو یہ سبھی کے مقابل ثبوت ہوگیا کہ دوسرے قرض خواہ بھی اسے قید نہیں کراسکتے۔
مسئلہ ۳۱: مسجد پر قرآن مجید وقف کیا کہ مسجد والے یا محلہ والے تلاوت کریں گے اور خود اسی مسجد والے وقف کی گواہی دیتے ہیں تو یہ گواہی مقبول ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: ایک شخص کے ہاتھ میں زمین ہے وہ کہتا ہے یہ فلاں کی ہے کہ اُس نے فلاں کام کے ليے وقف کی ہے اور اُس کے ورثہ کہتے ہیں اسکو ہم پر اور ہماری نسل پر وقف کی ہے اور جب ہماری نسل نہیں رہے گی اُس وقت فقرا اور مساکین پر صَرف ہوگی اور قاضی سابق کے دفتر میں کوئی ایسی تحریر بھی نہیں ہے جس سے اوقاف کے مصارف معلوم ہوسکیں تواس وقت ورثہ کا قول معتبر ہوگا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: زمین وقف کی اور وقف نامہ بھی تحریرکیا جس پر لوگوں کی گواہیاں بھی کرائیں مگر حدود کے لکھنے میں غلطی ہوگئی دو حدیں ٹھیک ہیں اور دو غلط تو جس جانب میں غلطی ہوئی ہے وہ حدیں اُودھراگر موجود ہیں مگر اِس زمین اور اُس حد کے درمیان دوسرے کی زمین،مکان، کھیت وغیرہ ہے تو وقف جائز ہے اور اسکی جتنی زمین ہے وہی وقف ہوگی اور اگر اُس طرف وہ چیز ہی نہیں جس کو حددو میں ذکر کیا ہے نہ متصل اور نہ فاصلہ پر تو وقف صحیح نہیں ہاں اگر یہ جائداد اتنی مشہور ہے کہ حدود ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی تو ا ب وقف صحیح ہے۔ (4)(خانیہ)
مسئلہ ۳۴: جائداد وقف کی اور وقف نامہ لکھودیا اور جوکچھ وقف نامہ میں لکھا ہے اس پر گواہیاں بھی کرائیں مگر وہ واقف اب کہتا ہے کہ میں نے تو یوں وقف کیا تھا کہ مجھے بیع کرنے کا اختیار ہوگا مگرکا تب نے اِس شرط کونہیں لکھا اور مجھے یہ نہیں
1 ۔نقد رقم یا سرمایہ کا ختم ہو جانا۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب السادس فی الدعوی والشھادۃ،الفصل الاول،ج۲،ص۴۳۷.
3 ۔المرجع السابق،ص۴۳۹.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فیما یتعلق بصک الوقف،ج۲،ص ۳۳۷.
معلوم کہ وقف نامہ میں کیا لکھا ہے اگر وقف نامہ ایسی زبان میں لکھا ہے جس کو واقف جانتاہے اور پڑھ کر اُسے سُنا یا گیا ہے اور اُس نے تمام مضمون کا اقرار کیا ہے تو وقف صحیح ہے اور اُس کا قول باطل اور اگر وقف نامہ کی زبان نہیں جانتا اور گواہوں سے یہ ثابت نہیں کہ ترجمہ کرکے اُسے سُنایا گیا تو واقف کا قول معتبرہے اور وقف صحیح نہیں، گواہ یہ کہتے ہیں کہ اسے ترجمہ کرکے پوراوقف نامہ سُنا یا گیا اور اس نے تمام مضمون کا اقرارا کیا اور ہم کو گواہ بنایا جب بھی وقف صحیح ہے۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۳۵: ایک شخص نے یہ چاہا کہ اپنی کل جائداد جو اس موضع میں ہے سب کو وقف کردے اور کاتب سے مرض میں وقف نامہ لکھنے کو کہاکا تب نے دستاویز میں بعض ٹکڑے بھول کر نہیں لکھے اور یہ وقف نامہ پڑھ کر سُنایا کہ فلاں بن فلاں نے اپنے فلاں موضع کے تمام ٹکڑے وقف کرديے جن کی تفصیل یہ ہے اور جو ٹکڑا لکھنا بھول گیاتھا اُسے سُنایابھی نہیں اور واقف نے تمام مضمون کا اقرار کیا تو اگر واقف نے صحت میں یہ خبر دی تھی کہ جو کچھ اس موضع میں اُس کا حصہ ہے سب کو وقف کرنے کا ارادہ ہے تو سب وقف ہوگئے اور اگر واقف کا انتقال ہوگیا مگرانتقال سے پہلے اُس نے بتایا کہ میرا یہ ارادہ ہے تو جو کچھ اُس نے کہا ہے اُسی کا اعتبار ہے۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۳۶: ایک عورت سے محلہ والوں نے یہ کہا کہ تو اپنا مکان مسجد پر وقف کردے اور یہ شرط کردے کہ اگر تجھے ضرورت ہوگی تو اُسے بیچ ڈالے گی عورت نے منظور کیا اور وقف نامہ لکھا گیا مگر اُس میں یہ شرط نہیں لکھی اورعورت سے کہا کہ وقف نامہ لکھوادیا اگر وقف نامہ اُسے پڑھ کر سُنایا گیا اور وقف نامہ کی تحریر عورت سمجھتی ہے اُس نے سُن کر اقرارکیاتو وقف صحیح ہے اور اگر اُسے سُنا یا ہی نہیں یا وقف نامہ کی زبان ہی نہیں سمجھتی تو وقف درست نہیں۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ ۳۷: تولیت نامہ(4) یاوصایت نامہ(5) کسی کے نام لکھا گیا اور اُس میں یہ نہیں لکھا گیا کہ کس کی جانب سے اسکو متولی یا وصی کیا گیا تو یہ دستا ویز بیکار ہے کیونکہ قاضی کی جانب سے متولی مقرر ہو تو اُسکے احکام جدا ہیں اور واقف نے جس کو متولی مقررکیا ہواُسکے احکام علیٰحدہ ہیں۔ یوہیں باپ کی طرف سے وصی ہے یا قاضی کی طرف سے یا ماں دادا وغیرہ نے مقرر کیا ہے کہ ان کے احکام مختلف ہیں لہٰذا یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ کس نے متولی یا وصی کیا ہے کہ یہ معلوم نہ ہوگا تو کس طرح عمل کریں گے۔ اور اگر یہ تصریح کردی ہے کہ قاضی نے متولی یا وصی مقرر کیا ہے مگر اُس قاضی کا نام نہیں تو دستا ویز صحیح ہے
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فیما یتعلق بصک الوقف،ج۲،ص۳۲۷.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔وقف کے متولی کے متعلق دستاویز۔ 5 ۔وصیت نامہ۔
کہ اولاًتو اسکی ضرورت ہی نہیں کہ قاضی کا نام معلوم کیا جائے اور اگر جاننا چاہو تو تاریخ سے معلوم کرسکتے ہو کہ اُس وقت قاضی کون تھا۔(1) (خانیہ، عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: ایک جائداد اشخاص معلومین(2) پر وقف ہے اسکے متولی سے ایک شخص نے زمین اجارہ پر لی اور کرایہ نامہ لکھا گیا اس میں مستاجر(3)اور متولی(4) کا نام لکھا گیا کہ فلاں بن فلاں جو فلاں وقف کا متولی ہے مگر اس میں واقف کا نام نہیں لکھا، جب بھی کرایہ نامہ صحیح ہے۔(5) (خانیہ)
مسئلہ۳۹: جو زمین اس کے قبضہ میں ہے اُوسکی نسبت یہ کہا کہ وقف ہے تو یہ کلام وقف کا اقرار ہے اوروہ زمین وقف قرار پائے گی مگر اسکے کہنے سے وقف کی ابتدا نہ ہوگی تاکہ و قف کے تمام شرائط اس وقت درکار ہوں۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ۴۰: جو زمین اسکے قبضہ میں ہے اُسکے وقف ہونے کااقرار کیا مگر نہ تو واقف کا ذکرکیا کہ کس نے وقف کیا نہ مستحقین کو بتایا کہ کس پر خرچ ہوگی جب بھی اقرار صحیح ہے اور یہ زمین فقرا پر وقف قرار دی جائے گی اور اسکا واقف نہ مقرکو(7) قرار دیں گے اور نہ دوسرے کو ہاں اگر گواہوں سے ثابت ہو کہ اقرار سے پہلے یہ زمین خود اِسی مقرکی تھی تو اب یہی واقف قرار پائے گا اور یہی متولی ہوگا کہ فقرا پر آمدنی تقسیم کریگامگر اسے یہ اختیارنہیں کہ دوسرے کو اپنے بعد متولی قرار دے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ۴۱: وقف کا اقرار کیا اور واقف کا بھی نام بتایا مگر مستحقین کو ذکر نہ کیا مثلاًکہتا ہے یہ زمین میرے باپ کی صدقہ موقوفہ ہے اور اس کا باپ فوت ہوچکا ہے، اگر اس کے باپ پر دین ہے تو یہ اقرار صحیح نہیں، زمین دَین میں بیع کردی جائے گی اور اگر اسکے باپ نے کوئی وصیت کی ہے تو تہائی میں وصیت نافذ ہوگی اسکے بعد جو کچھ بچے وہ وقف ہے کہ اُسکی آمدنی فقرا پر صرف
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فیمایتعلق بصک الواقف،ج۲،ص۳۲۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب السابع فی المسائل التی تتعلق بالصدق،ج۲،ص۴۴۱.
2 ۔معلوم کی جمع یعنی جن پر وقف ہووہ معلوم ہوں ۔ 3 ۔اجرت پرلینے والا۔
4 ۔مال ِوقف کاانتظام سنبھالنے والا۔
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فیما یتعلق بصک الوقف،ج۲،ص۳۲۷.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثامن فی الإقرار،ج۲،ص۴۴۲.
7 ۔اقرار کرنے والے کو۔
8 ۔الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثامن فی الإقرار،ج۲،ص۴۴۲.
ہوگی یہ اُس صورت میں ہے کہ اسکے سواکوئی دوسرا وارث نہ ہواور اگر دوسرا وارث ہے جو وقف سے انکار کرتا ہے تو وہ اپنا حصہ لیگااور جو چاہے کریگا۔(1) (خانیہ،عالمگیری)
مسئلہ۲ ۴: جو زمین قبضہ میں ہے اُسکی نسبت اقرارکیا کہ یہ فلاں فلاں لوگوں پر وقف ہے یعنی چند شخصوں کے نام ليے اسکے بعد دوسرے لوگوں پر وقف بتاتاہے یا اُنھيں لوگوں میں کمی بیشی کرتا ہے تو اس پچھلی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گاپہلی ہی پر عمل ہوگااور اگر یہ کہہ کر کہ یہ زمین وقف ہے سکوت کیا پھر سکوت(2)کے بعد کہا کہ فلاں فلاں پر وقف ہے یعنی چند شخصوں کے نام ذکر کيے تو یہ پچھلی بات بھی معتبرہوگی یعنی جن لوگوں کے نام ليے اُن کو آمدنی ملے گی۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ۴۳: وقف کی اضافت کسی دوسرے شخص کی طرف کرتا ہے کہتا ہے کہ فلاں نے یہ زمین وقف کی ہے اگر وہ کوئی معروف شخص ہے اور زندہ ہے تو اُس سے دریافت کریں گے، اگر وہ اسکی تصدیق کرتا ہے تو دونوں کے تصادق(4)سے سب کچھ ثابت ہوگیااور اگر وہ یہ کہتاہے کہ ملک تو میری ہے مگر وقف میں نے نہیں کیا ہے تو ملک دونوں کے تصادق سے ثابت ہوئی اور وقف ثابت نہ ہوااور اگر وہ شخص مرگیاہے تو اُسکے ورثہ سے دریافت کریں گے اگر سب اُسکی تصدیق کرتے ہیں یا سب تکذیب کرتے ہیں تو جیسا کہتے ہیں اُسکے موافق کیا جائے اور اگر بعض ورثہ وقف مانتے ہیں اور بعض انکار کرتے ہیں تو جو وقف کہتا ہے اُس کاحصہ وقف ہے اور جو انکار کرتا ہے اُس کا حصہ وقف نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ۴۴: واقف کو اقرار میں ذکر نہیں کیا مگر مستحقین کا ذکر کیا مثلاًکہتا ہے یہ زمین مجھ پر اور میری اولاد ونسل پر وقف ہے تو اقرار مقبول ہے اور یہی اس کا متولی ہوگا پھر اگر کسی نے اِس پر دعویٰ کیاکہ یہ مجھ پر وقف ہے اور اُسی مقراول نے تصدیق کی تو خود اسکے اپنے حصہ میں تصدیق کا اثر ہوسکتا ہے اوراولاد ونسل کے حصوں میں تصدیق نہیں کرسکتا۔(6)(عالمگیری)
مسئلہ۴۵: اقرار کیا کہ یہ زمین فلاں کام پر وقف ہے اس کے بعد پھر کوئی دوسرا کام بتایا کہ اس پر وقف ہے تو پہلے جو کہا اُسی کا اعتبار ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ۴۶: ایک شخص نے وقف کا اقرار کیا کہ جو زمین میرے قبضہ میں ہے وقف ہے اقرار کے بعد مرگیا اور وارث
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،
و''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثامن فی الإقرار،ج۲،ص۴۴۲.
2 ۔خاموشی۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی رجل یقر بارض فی یدہ ،ج۲،ص۳۱۲-۳۱۳.
4 ۔سچائی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثامن فی الإقرار،ج۲،ص۴۴۳.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق،ص۴۴۴.
کے علم میں یہ ہے کہ یہ اقرار غلط ہے اس بنا پر عدِم وقف کا (1)دعوی کرتا ہے یہ دعوی مسموع(2) نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ۴۷: ایک شخص کے قبضہ میں زمین ہے، اُسکے متعلق دوگواہ گواہی دیتے ہیں کہ اُس نے اقرار کیا ہے کہ فلاں شخص اور اُسکی اولادونسل پر وقف ہے اور دوشخص دوسرے گواہی دیتے ہیں کہ اُس نے اقرار کیا ہے کہ فلاں شخص (ایک دوسرے کا نام لیا) اور اُسکی اولاد ونسل پر وقف ہے اس صورت میں اگر معلوم ہو کہ پہلا اقرار کونسا ہے اور دوسرا کونساتو پہلا صحیح ہے اور دوسرا باطل اور اگر معلوم نہ ہو کہ کون پہلے ہے کون پیچھے تو دونوں فریق پر آدھی آدھی آمدنی تقسیم کردیں۔(4) (خانیہ)
مسئلہ۴۸: کسی دوسرے کی زمین کے ليے کہاکہ یہ صدقہ موقوفہ ہے اسکے بعد اُس زمین کا یہی شخص مالک ہو گیا تو وقف ہوگئی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ۴۹: ایک شخص نے اپنی جائداد زید اور زید کی اولاد اور زید کی نسل پر وقف کی اور جب اس نسل سے کوئی نہیں رہے گاتو فقرا و مساکین پر وقف ہے اور زید یہ کہتا ہے کہ یہ وقف مجھ پر اور میری اولادونسل پر اور عمر وپر ہے یعنی زید نے عمرو کا اضافہ کیا تو اولاًزیدو اولادِزید پر آمدنی تقسیم ہوگی پھر زید کو جو کچھ ملا اِس میں عمروکو شریک کریں گے، اولاد زید کے حصوں سے عمرو کو کوئی تعلق نہیں ہوگا اور یہ بھی اُس وقت تک ہے جب تک زید زندہ ہے اُسکے انتقال کے بعد عمرو کو کچھ نہیں ملے گاکہ عمرو کو جو کچھ ملتا تھا وہ زید کے اقرار کی وجہ سے اُسکے حصہ سے ملتاتھااور جب زید مرگیا اُسکا اقرار و حصہ سب ختم ہوگیا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ۵۰: ایک شخص کے قبضہ میں زمین یا مکان ہے اُس پر دوسرے نے دعویٰ کیا کہ یہ میرا ہے قابض نے(7) جواب میں کہاکہ یہ تو فلاں شخص نے مساکین پر وقف کیا ہے اور میرے قبضہ میں دیاہے۔ اِس اقرار کی بنا پر وقف کا حکم توہوجائے گا مگر مدعی کا دعویٰ اوس پر بدستورباقی ہے یہاں تک کہ مدعی کی خواہش پر مدعی علیہ سے قاضی حلف لے گااگر حلف سے نکول(8) کریگاتو زمین کی قیمت اس سے مدعی کو دلائی جائے گی اور جائداد وقف رہے گی۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ۵۱: جس کے قبضہ میں مکان ہے اُس نے کہا کہ ایک مسلمان نے اس کو امور خیر پر وقف کیا ہے اور مجھ کو اس کا متولی
1 ۔وقف نہ ہونے کا۔ 2 ۔قابل قبول،قابلِ سماعت۔
3 ۔''الدر المختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۶۱۱.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی رجل یقربارض فی یدہ انہاوقف،ج۲،ص۳۱۳.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثامن فی الإقرار،ج۲،ص۴۴۴.
6 ۔المرجع السابق،ص۴۴۵.
7 ۔قبضہ کرنے والے نے ۔ 8 ۔قسم سے انکار۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثامن فی الإقرار،ج۲،ص۴۴۵.
کیا ہے تھوڑے دنوں کے بعد ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مکان میراتھا میں نے ان امور پر اسکو وقف کیاتھا اور تیری نگرانی میں دیا تھا اور چاہتا یہ ہے کہ مکان اپنے قبضہ میں کرے تو اگر پہلاشخص اسکی تصدیق کرتا ہے کہ واقف یہی ہے تو قبضہ کرسکتا ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ۵۲: ایک شخص نے مکان یا زمین وقف کرکے کسی کی نگرانی میں دے دیااور یہ نگران انکار کرتا ہے کہتا ہے کہ اُس نے مجھے نہیں دیا ہے تو غاصب(2)ہے اسکے ہاتھ سے وقف کو ضرور نکال لیا جائے اور اگر اُس میں کچھ نقصان پہنچایا ہے تو اسکاتاوان دینا پڑے گا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ۵۳: وقفی زمین کو غصب کیا اور اس میں درخت وغیرہ بھی تھے اور غاصب اس کو واپس کرنا چاہتا ہے تو درختوں کی آمدنی بھی واپس کرنی پڑیگی اگر وہ بعینہٖ(4)موجود ہے اور خرچ ہوگئی ہے تو اسکا تاوان دے۔ اورغاصب سے واپس کرنے میں جوکچھ منافع یا ان کا تاوان لیا جائے وہ اُن لوگوں پر تقسیم کردیا جائے جن پر وقف کی آمدنی صرف ہوتی ہے اور خود وقف میں کچھ نقصان پہنچایا اور اسکا تاوان لیا گیا تو یہ تقسیم نہیں کریں گے بلکہ خود وقف کی درستی میں صرف کریں۔ (5)(عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱: مرض الموت میں اپنے اموال کی ایک تہائی وقف کرسکتا ہے اسکو کوئی روک نہیں سکتا۔ تہائی سے زیادہ کا وقف کیا اور اسکا کوئی وارث نہیں تو جتنا وقف کیا سب جائز ہے اور وارث ہو تو ورثہ کی اجازت پرموقوف ہے اگر ورثہ جائز کردیں تو جو کچھ وقف کیا سب صحیح ونافذ ہے اور ورثہ انکار کریں تو ایک تہائی کی قدر کا وقف درست ہے اس سے زیادہ کا باطل اور اگر ورثہ میں اختلاف ہوا بعض نے وقف کو جائز رکھا اور بعض نے رد کردیا تو ایک تہائی وقف ہے اور اس سے زیادہ میں جس نے جائز رکھا اُس کا حصہ وقف ہے اور جس نے رد کردیا اُس کا حصہ وقف نہیں، مثلاًایک شخص کی نو بیگہہ(6)زمین تھی اور کل وقف کر دی، اُسکے تین لڑکے ہیں ایک لڑکا باپ کے وقف کو جائز رکھتا ہے اور دونے ردکردیا تو پانچ بیگہے وقف کے ہوئے اور چار بیگہے دولڑکوں کو ترکہ میں ملیں گے کہ تین بیگہے تو تہائی کی وجہ سے وقف ہوئے اور دو بیگہے اُس لڑکے کے حصہ کے جس نے جائز رکھا ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الثامن فی الإقرار،ج۲،ص۴۴۶.
2 ۔غصب کرنے والا۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب التاسع فی غصب الوقف،ج۲،ص۴۴۷.
4 ۔یعنی وہی آمدنی جو حاصل ہوئی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب التاسع فی غصب الوقف،ج۲،ص۴۴۹،وغیرہ،.
6 ۔بیگہہ زمین کا ایک ناپ ہے جو چار کنال یا اسی مرلے کاہوتاہے ۔
اور اگر اس صورت میں چھ بیگہے وقف کرے تو چار بیگہے وقف ہونگے۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: مریض نے وقف کیا تھا ورثہ نے جائز نہیں رکھا اس وجہ سے ایک تہائی میں قاضی نے وقف کو جائز کیا اور دو تہائی میں باطل کردیا اسکے بعد واقف کے کسی اور مال کا پتہ چلا کہ یہ کل جائداد جس کو وقف کیا ہے اُسکی تہائی کے اندر ہے تو اگر وہ دوتہائیاں جو ورثہ کو دی گئی تھیں ورثہ کے پاس موجود ہوں تو کل وقف ہے اور اگر وارثوں نے بیع کرڈالی ہے تو بیع درست ہے مگراتنی ہی قیمت کی دوسری جائداد خرید کر وقف کردی جائے۔ (2)(عالمگیری، خانیہ)
مسئلہ ۳: مریض نے اپنی کل جائداد وقف کردی اور اُسکی وارث صرف زوجہ ہے اگر اس نے وقف کو جائز کردیا جب تو کل جائداد وقف ہے ورنہ کل مال کا چھٹا حصہ زوجہ پائیگی باقی پانچ حصے وقف ہیں۔(3) (بحرالرائق)
مسئلہ ۴: مریض پر اتنا دَین ہے کہ اُسکی تمام جائداد کو گھیرے ہوئے ہے اس نے اپنی جائداد وقف کردی تو وقف صحیح نہیں بلکہ تمام جائداد بیچ کر دَین ادا کیا جائے گا اور تندرست پر ایسا دَین ہوتا تو وقف صحیح ہوتا مگر جبکہ حاکم کی طرف سے اُسکے تصرفات (4)روک ديے ہوں تو اس کا وقف بھی صحیح نہیں۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۵: راہن نے جائداد مرہونہ وقف کردی اگر اسکے پاس دوسرا مال ہے تو اُس سے دین ادا کرنے کا حکم دیا جائے گا اور وقف صحیح ہوگا اور دوسرا مال نہ ہو تو مرہون کو بیع کرکے دین ادا کیا جائے گا اور وقف باطل ہے۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مریض نے ایک جائداد وقف کی جو تہائی کے اندر تھی مگر اُسکے مرنے سے پہلے مال ہلاک ہوگیاکہ اب تہائی سے زائد ہے یا مرنے کے بعد مال کی تقسیم ہوکر ورثہ کو نہیں ملا تھا کہ ہلاک ہوگیا تو اس کی ایک تہائی وقف ہوگی۔ اور دو تہائیوں میں میراث جاری ہوگی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: مریض نے زمین وقف کی اور اس میں درخت ہیں جن میں واقف کے مرنے سے پہلے پھل آئے تو پھل
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:الوقف فی مرض الموت،ج۶،ص۶۰۷-۶۰۸.
2 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب العاشر فی وقف المریض،ج۲،ص۴۵۱.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،فصل فی وقف المریض،ج۲،ص۳۱۲.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص ۳۲۶-۳۲۷.
4 ۔لین ،دین وغیرہ کے اختیارات۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۶۰۸.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوقف،مطلب:الوقف فی مرض الموت،ج۶،ص۶۰۸.
7 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب العاشر فی وقف المریض،ج۲،ص۴۵۳.
وقف کے ہیں اور اگر جس دن وقف کیا تھا اُسی دن پھل موجود تھے تو یہ پھل وقف کے نہیں بلکہ میراث ہیں کہ ورثہ پر تقسیم ہونگے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: مریض نے بیان کیا کہ میں وقف کا متولی تھا اور اُسکی اتنی آمدنی اپنے صرف میں لایا، لہٰذا یہ رقم میرے مال سے ادا کردی جائے یا یہ کہا کہ میں نے اتنے سال کی زکاۃ نہیں دی ہے میری طرف سے زکاۃاداکی جائے اگرورثہ اُسکی بات کی تصدیق کرتے ہوں تو وقف کا روپیہ جمیع(2)مال سے ادا کیا جائے یعنی وقف کا روپیہ ادا کرنے کے بعد کچھ بچے تو وارثوں کو ملے گاورنہ نہیں اور زکاۃ تہائی مال سے ادا کی جائے یعنی اِس سے زیادہ کے ليے وارث مجبور نہیں کيے جاسکتے اپنی خوشی سے کل مال ادائے زکاۃ میں صرف کردیں تو کرسکتے ہیں اور اگر وارث اسکے کلام کی تکذیب کرتے(3) ہیں کہتے ہیں اس نے غلط بیان کیا تو وقف اور زکاۃ دونوں میں تہائی مال دیا جائے گا مگر تکذیب کی صورت میں وقف کا متولی و منتظم وارثوں پر حلف دے گا کہ قسم کھائیں ہمیں نہیں معلوم ہے کہ جو کچھ مریض نے بیان کیا وہ سچ ہے اگر قسم کھالیں گے تہائی مال تک وقف کے ليے لیا جائے گا اور قسم سے انکار کریں تو وقف کا روپیہ جمیع مال سے لیا جائے گااور زکاۃ بہر صورت ایک تہائی سے ادا کرنی ضروری ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: صحت میں وقف کیا تھا اور متولی کے سپرد کردیا تھا مگر اُس کی آمدنی کو صرف کرنا اپنے اختیار میں رکھا تھا کہ جسے چاہے گادے گا واقف نے مرتے وقت وصی سے یہ کہا کہ اسکی آمدنی کا پچاس روپیہ فلاں کو دینا اور سوروپیہ فلاں کو دینا اور وصی سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم جو مناسب دیکھناکرنا اور واقف مرگیااور اُسکا ایک لڑکا تنگدست ہے تو بہ نسبت اوروں کے اس لڑکے کو دینا بہتر ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: اگر مرنے پر وقف کو معلق کیا ہے تو یہ وقف نہیں بلکہ وصیت ہے، لہٰذا مرنے سے قبل اس میں رجوع کرسکتا ہے اور ایک ہی ثلث(6) میں جاری ہوگی۔(7) (درمختار)
( واﷲ تعالٰی اَعْلَم )
وَعِلْمُہ، جَلَّ مَجْدُہٗ اَتَم وَاَحْکَم
فقیرابو العلا محمد امجد علی اعظمی عُفِی عنہ، ۱۵رمضان المبارک ۱۳۴۹ھ
1 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الوقف،الباب العاشر فی وقف المریض،ج۲،ص۴۵۴.
2 ۔تمام ۔ 3 ۔جھٹلاتے۔
4 ۔''الفتا وی الہندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الرابع عشر فی المتفرقات،ج۲،ص۴۸۷-۴۸۸.
5 ۔''الفتا وی الہندیۃ''،کتاب الوقف،الباب الرابع عشر فی المتفرقات،ج۲،ص۴۸۸.
6 ۔تہائی۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوقف،ج۶،ص۵۲۹-۵۳۴.