Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اسلافِ کرام اور سابق عُلماء مصنفین اصحاب نفوس قدسیہ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنی تصنیفات میں حمد و ثناء وصلوۃ وسلام کے بعد خطبۃ الکتاب میں اپنا تعارف کراتے ہیں اس لئے کہ قارئین صرف کتاب ہی نہیں پڑھتے بلکہ کتاب لکھنے والے سے بھی واقف ہونا چاہتے ہیں اور یوں بھی کلام کی عظمت اور اس کی تاثیر متکلم و مصنف کی عظمت اور اس کے صالح کردار کے تابع ہے۔ اگر مصنف و متکلم صاحبِ فکر و نظر، صاحبِ عقل و تدبیر، صاحبِ علم و فضل اور صاحبِ عمل صالح ہے تو اس کی تصنیف کی قوتِ تاثیر اتنی ہی زیادہ ہوگی اور پڑھنے والوں پر اس بات کے گہرے اثرات ہوں گے۔
یہ کم علم و بے بضاعت اگرچہ ان بزرگوں کے شمار و قطار میں تو کجا ان کی گرد ِپا بھی نہیں ہے مگر ان کا عقیدت مند ہے اور ان سے روحانی تعلق رکھتا ہے اور ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہے۔ ان کے اس طریقہ کی اتباع میں مناسب خیال کیا کہ اپنے نام و نسبت سے قارئین کو روشناس کرے اِس اُمید کے ساتھ کہ اِس کتاب کو پڑھنے والے اِس گنہگار کے لئے دعائے مغفرت فرمائیں۔ اہلِ علم سے عاجزانہ گزارش ہے کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ بہ نظر غائر فرمائیں اور مخلصانہ اصلاح و عفو ودر گزر سے نوازیں۔
اس ناچیز کا نام ظہیر احمد زیدی ابن سید دائم علی زیدی ابن سید عالم علی زیدی رحمہم اللہ تعالٰی ہے۔ حضرت مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فقیرکا نام ظہیر الدین احمد فرماتے تھے۔ آبائی وطن قصبہ نگینہ ضلع بجنور (یوپی )حال متوطن شہر علی گڑھ محلہ دودھ پور بیت السادات۔ دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ ریاست دادوں ضلع علی گڑھ سے درسِ نظامیہ سے فراغت حاصل کی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شعبہ دینیات میں تدریس کی خدمت انجام دی اور پھر اسی کو وطن بنالیا۔
فقیر کے دامن میں اگر کچھ فضل و کمال ، علمی جاہ و جمال یا کچھ مکارم و محاسن ہوں تو ان کا اظہار حقیقت پسندی وصداقت شعاری سے کیا جائے مگر یہاں تو تہی دامانی اپنا طرئہ امتیاز بن گیا ہے۔ دارالعلوم ریاست دادوں میں سرتاج علمائ، منبع الاساتذہ، صدر الشریعۃ،ابُوالْمَجْدِ وَالْعُلٰی حضرت مولانا امجد علی علیہ الرحمہ صاحبِ بہار ِشریعت سے علم و فضل کا جو خزانہ ملا تھا مسلم یونیورسٹی کی مخصوص تدریسی بے قرار فضاؤں میں اس کا بہت سا حصہ تحلیل ہوگیا۔ اب کیا رہا کہ پیش کیا جائے اور بے اصل وغیرواقعی اور خلافِ حقیقت ستائش سخت مذموم بلکہ ممنوع، رب فرماتا ہے۔
(لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَفْرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا وَّیُحِبُّوۡنَ اَنۡ یُّحْمَدُوۡا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوۡا فَلَا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸۸﴾)
ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کئے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کئے ان کی تعریف ہو، ایسوں کو ہر گز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔(پ۴، آل عمران آیت ۱۸۸)
اسی لئے میں ڈاکٹر مولوی یحییٰ انجم ریڈر فیکلٹی اسلامک اسٹڈیز ہمدرد یونیورسٹی نئی دھلی نے جب اپنی محبت و حسن خلوص میں میرے بارے میں کچھ لکھنا چاہا تو میں نے سختی کے ساتھ ہدایت کی کہ وہ ہر گز کسی مبالغہ یا غیر واقعی ستائش سے کام نہ لیں۔ اور لفظ ''علامہ''بھی استعمال نہ کریں۔ ان کا وہ مقالہ کتاب بہار ِ شریعت حصہ انیسویں میں شائع ہوگیا ہے۔اس ناچیز کو اگر کچھ حاصل ہے تو چند عظیم و اعظم نسبتیں ہیں جن پر مجھے فخر ہے ان شاء اﷲتعالیٰ دنیا و آخرت میں سر بلند رکھیں گی۔
(۱) پہلی نسبت تو مجھے باعث تخلیق کا ئنات، افضل الخلق، رحمۃ للعالمین، سید الانبیاء والمرسلین، محبوب رب العالمین ،احمد مجتبیٰ ،محمد مصطفٰے
صَلَوٰتُ اللہِ وسَلامُہٗ عَلَیْہِ
کی ذات اقدس و اطہر سے ہے اور یہ نسبت نسبی ہے۔ بلاشبہ میں اپنے اسلاف و مشائخ کے واسطے سے حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سایہ رحمت و عاطفت میں ہوں اور اس جناب کی بارگاہِ منبعِ علم و قاسمِ نعمت سے مجھے اپنے رب کی نعمتیں و برکتیں بے شمار حاصل ہیں جو بیان نہیں کی جاسکتی۔
فَا لْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدً ا کَثِیْرًا طَیِّبًا
(۲) دوسری نسبت اس ناچیز کو سیدالفقہاء والعلماء، صاحب الاخلاص و الاحسان و العمل،استاذی و استاذ علماء برصغیر، صدر الشریعۃ حضرت مولانا الحاج ابوالعلیٰ امجد علی اعظمی رضوی
طَابَ اللہُ ثَرَاہُ وَجَعَلَ الْجَنَّۃَ مَثْوَاہُ
سے ہے جن کے نورِ علم سے ہندو پاک کی سرزمین منور و روشن ہے اور جن کی تصنیف بہارِ شریعت نے دِین سے شغف رکھنے والوں کے لئے چمنستانِ علم و فقہ کے دریچے کھول دیئے ہیں اس ذاتِ گرامی سے مجھے شرف ِتلمذ حاصل ہے اور یہ تصنیف انہیں کا کرم انہیں کا فیضان اور انہیں کی عطا ہے۔
(۳)تیسری نسبت مجھے سید الاصفیاء، صاحب الصدق والصفا، مظہر حسن مصطفی علیہ التحیۃ والثناء سید ی وسندی شیخ العلماء و حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ حامد رضا علیہ الرحمہ سے ہے جن کوآقائے نعمت ، سید الکونین،
نُوْرٌمِّنْ نُّوْرِاللہ،
سلطان الکائنات، قدسی صفات،
صاحبِ اَعْظَمِ ا لْمُعْجِزات، مِنَّۃُ اللہِ عَلَی الْمُؤمِنِیْن، شَفِیْعُ الْمُذْ نِبِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن
علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ حسن و جمال سے وہ حصہ ملا تھا کہ دل ان کی طرف کھنچتے تھے اور نگاہیں ان سے آسودہ ہوتی تھیں اور نفوس ان سے روحانی راحت و سکون حاصل کرتے تھے۔ حسن و جمال و شیریں مقال، صاحبِ فضل و کمال، مرشد ملکوتی خصال، قدوۃ السالکین، زُبْدَۃُالعارِفین،
راحَۃُ الطَّالِبِیْن، ھادِی الْمُرِیْدِیْن،
یہ تمام خصائص و کمالات آپ کو بارگاہِ قاسمِ نعمت محبوبِ ربّ العالمین علیہ التحیۃ والسلام سے حاصل تھے۔ اس فقیر کو ایسے شیخ کامل سے بیعت وارادت کی سعادت حاصل ہے۔
(۴)چوتھی نسبت مجھے قطب الارشاد، سید الاتقیاء والزھاد، مختار العباد،افضل الامجاد، شانِ جمال مصطفائی، عکس کمال مرتضائی، سیدی و مولائی، صدر نشین منصب افتاء ،مفتی اعظم ہند حضرت مولانا الحاج مصطفی رضا علیہ الرحمہ سے ہے جن کے ظاہری و باطنی فیوض و برکات سے ہندو پاک کے تشنگانِ مئے طریقت و شریعت سیراب ہورہے ہیں اور ہزاروں ہزار نفوس داخلِ سلسلہ ہو کر آپ سے فیضیاب ہیں اس خادم کو ایسی پاکیزہ و مقرب بارگاہ سے اجازت و خلافت حاصل ہے۔
(۵) پانچویں نسبت راقم السطور کو شہ ضیا، حاضر دربار مصطفے ا ، حضرت مولانا الحاج ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ سے حاصل ہے جو مدینۃُ الرسولو جوار روضہ رحمۃللعالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں بعمر۱۸ سال حاضر ہوئے اور تقریباً بَہَتّر حج ادا کئے۔ سوائے زمانہ حج ادا کرنے کے مدینہ منورہ کی پاک زمین سے باہر قدم نہ رکھا۔ قریب قریب بَہَتّر۷۲ سال بارگاہِ رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام میں حاضر رہے اور آپ کے فیوض و برکات اور رحمتوں سے حصہ پاتے رہے نہایت درجہ صالح العمل اور صاحبِ تقویٰ و طہارت اور پاکیزہ صورت و سیرت تھے سعودی حکومت انہیں مرعوب نہ کرسکی۔ ان کی نگاہِ کرم نے مجھے بھی اِجازت و خلافت کے لئے انتخاب فرمایا۔
اب میرے پاس ان عظیم مقدس اورمُطَہَّر نسبتوں کے سواکچھ نہیں جو کچھ ہے وہ ان کے فیوض و برکات سے ہے۔ یہ انہیں کا فیضانِ کرم ہے کہ اہلِ سنت کے علمی حلقوں میں اس ذرئہ بے مقدار کو معرفت حاصل ہے اور اہلِ علم ودانش نگاہِ احترام سے دیکھتے ہیں۔ جملہ اصحاب علم و معرفت سے دعائے مغفرت کا طالب ہوں۔ یہی نسبتیں میری دنیا و آخرت کی فلاح و نجات کا مستحکم سہارا ہیں۔
ایک واقعہ کا اظہار اپنے لئے باعثِ رحمت و سعادت تصور کرتاہوں۔ آج مورخَہ ۲۱ جمادی الاولیٰ ۱۴۱۲ھ یوم جمعۃالمبارک ہے، گزشتہ شب یعنی ۲۰ و ۲۱ جمادی الاولیٰ کی درمیانی رات یعنی شب ِ جمعۃ المبارک میں ۴ بجے شب کے بعد میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں ایک ایسے مقام پر ہوں جہاں اعمال کا حساب ہورہا ہے ،بہت سے لوگ ہیں اور میں بھی اپنے نمبر کا منتظر ہوں کہ مجھے میرے اعمال کا حساب لینے کے لئے طلب کیا گیا،میں حاضر ہوا لیکن حساب لینے والی ذات نظر نہیں آرہی تھی۔ تھوڑی دیر میں حساب لے کر مجھے حکم ہوا کہ ''جاؤ تم جنت میں''میں وہاں سے رخصت ہوا تو میں نے دیکھا کہ جنت میں جانے والے کچھ اور لوگ بھی اس جگہ بیٹھے ہیں جو جنت میں جانے و الوں کے لئے ہے ،میں بھی ان ہی کے پاس چلا گیا ،اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی ۔ اس خواب سے مجھے کافی روحانی سرور حاصل ہوا اور میں نے دعا کی کہ ''اے رب العالمین اگریہ خواب شیطان کی طرف سے ہے تو مجھے اس کے مکرو فریب سے اپنی حفاظت میں رکھ اور میرے ایمان و یقین کو سلامت رکھ اور ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ رکھ اور اگر یہ خواب تیری جانب سے ایک بشارت ہے تو مجھے توفیق توبہ و انابت عطا فرما اور زیادہ سے ز یادہ اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرما۔ آمین ثم آمین۔
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِخَلْقِہٖ وَنُوْرِعَرْشِہٖ سَیِّدِ نَا وَمَوْلانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن
خادمُ العلماوالفقراء
الفقیر ظہیر احمد زیدی ابن سید دائم علی زیدی غفرلہما
۲۱ جمادی الاول ۱۴۱۲ھ یوم جمعۃ المبارک ۲۹ نومبر ۱۹۹۱
بیت السادات دودھ پور علی گڑھ ۔ انڈیا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
بِاسْمِہٖ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی جَلَّ وَ عَلا فَلَہُ الْحَمْدُ وَالثَّنَاءُ وَالسَّلامُ عَلٰی نَبِیِّہٖ صَاحِبِ الشَّفَاعَۃِ وَالدَّرَجَاتِ الْعُلٰی وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ ذَوِی الصِّدْقِ وَالصَّفَا.
سیدالفقہاء ،استاذ العلماء ،افضل الاصفیاء، صدر الشریعۃ ابوالعلی ا حضرت مولانا امجد علی صاحب رحمہ اللہ تعالٰی مصنفِ ''بہارِشریعت''نے بہ توفیقِ الٰہی عزم فرمایا کہ جملہ ابوابِ فقہ کو بہ شمول عقائد اسلام علمِ دین سے شغف رکھنے والوں کے لئے ان کی مادری زبان میں منتقل فرما کر مرتب فرمادیں۔ ابھی آپ نے ابوابِ فقہ میں سے کل سترہ ابواب کے مسائل ضروریہ عامۃ الورود کو مکمل فرمایا تھا کہ سفرِ آخرت کا دعوت نامہ مل گیا اور آپ اپنے رب سے واصل ہوگئے۔باقی ابوابِ فقہ تشنہ تکمیل رہ گئے جن کے بارے میں آپ نے اپنے تلامذہ سے توقع فرمائی کہ ان میں سے کوئی سعادت مند ان کی تکمیل کرے ۔ اﷲتبارک و تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنے فضل وکرم سے نوازتا ہے یہ اس بندہ ناچیز کی خوش نصیبی ہے کہ ''بہارِ شریعت''کے انیسویں حصہ ''باب الوصیۃ''کی تالیف وترتیب کی سعادت میرے حصہ میں آئی
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلّٰہ
(رب تعالیٰ قبول فرمائے)
''بہارِ شریعت ''وہ منفرد اور عجوبہ روزگار کتاب ہے جس میں جملہ ابواب فقہ کے مسائل ضروریہ کو اردوداں مسلمانوں کے لئے ان کی مادری زبان میں منتقل کردیاگیاہے۔ ہندوستان و پاکستان کے مسلمانوں پر حضرت ممدوح علیہ الرحمہ کایہ وہ احسان ہے جس کا شکر وہ تاصبح قیامت ادا نہیں کرسکتے۔رب کریم مصنف علیہ الرحمہ کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔(آمین)
۱۹۸۰ میں جب میں نے ''بہار ِشریعت ''کے انیسویں حصہ کا کام شروع کیا اس وقت ذہن میں یہ بات اِلقاء ہوئی کہ ''بہارِ شریعت ''کو اب یہ مقام حاصل ہوگیا ہے کہ ملت کے نوجوان علماء جو مدارس عربیہ سے تحصیل علم کی فراغت کرکے نکلتے ہیں وہ روزمرہ پیش آنے والے مسائل سے متعلق فتویٰ''بہار ِشریعت ''کے مطالعے سے لکھتے ہیں۔ صرف تحقیقی اور دشوار طلب مسائل میں اکابرین سابق اور مستند علماء فقہ کی تصانیف کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اسی لئے مناسب ہے کہ نو خیز علماء کو فتویٰ نویسی کے آداب وقواعد سے متعارف کرایا جائے اور''بہارِ شریعت ''کی طرح وہ بھی مادری زبان اردو میں ہو۔ چنانچہ انیسویں حصہ کی تالیف سے فراغت کے بعد فتویٰ نویسی سے متعلق قواعد وضوابط اور اس سے متعلق مفتی کے لئے ضروری اور اہم اُمور کی معلومات کی تالیف کا کام شروع کردیا اور قواعد فقہیہ و اُصول کلیہ میں سے بھی کچھ اُصول و ضوابط بیان کئے جو دورِ جدید کے مفتیانِ کرام کی
معلومات میں اضافہ کریں اور انہیں ان قواعد و اُصول کی روشنی میں فتویٰ لکھنے میں سہولت ہو ۔بارگاہِ حق تعالیٰ میں دست بَدُعا ہوں کہ وہ میری اس کوشش کو قبول فرمائے اور اس کو علماء و طلباء و عوام کے لئے نافع بنائے ۔آمین
بلاشک اس سے دینی رجحان رکھنے والے عامۃ المسلمین بھی اپنے علم میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اور اپنے دینی جذبے اور علم کی تشنگی کو تسکین دے سکتے لیکن مسائل کے احکام بیان کرنے اور فتویٰ دینے کا حق صرف ان ہی علماء کو حاصل ہے جنہوں نے علوم دینیہ عربیہ مستند صحیح العقیدہ علماء سے معیاری مدارس عربیہ میں حاصل کیے ہوں۔ قرآن پاک کا ترجمہ پڑھنے اور یاد کرلینے سے یا احادیث کا ترجمہ اردو زبان میں پڑھ لینے سے عام مسلمان احکام کی روح اور مسائل کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے۔ خلفائے راشدین کے زمانہ مسعودو مبارک میں بھی مخصوص افراد صحابہ و تابعین میں سے ایسے تھے جن سے مسائل کے احکام معلوم کرنے میں رجوع کیا جاتا تھا۔ ہر صحابی یا ہر تابعی کو یہ مقام حاصل نہ تھا۔ ا س لئے احکامِ شرعیہ کو حاصل کرنے میں اور دوسروں کو بتلانے میں فقہی کتابوں کے مطالعے کے ساتھ صاحبِ فہم و اِدراک صحیح العقیدہ دینی عالم سے رجوع کرنا بہرحال ضروری ہے غیر عالم عامۃ المسلمین کے لئے قرآن کریم کا یہی حکم ہے۔ فرمایا :
( فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾ )
(1)
تعلیمات اسلام کی روشنی میں علماء اسلام نے دنیا کو جن علوم سے آشنا کیا ان میں سے علم حدیث، علم اسماء الرجال اور علم فقہ وہ علوم ہیں جن کی کوئی مثال ونظیر نہیں۔ ان علوم کی تدوین میں محققین اسلام نے جو محنتیں، کاوشیں کیں، دور دراز سفر کی جو مشقتیں برداشت کیں اور جس طرح خدمتِ دین کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا اور خالصاً لوجہ اﷲ دن رات اسی میں لگے رہے یہ بھی اپنی نظیر آپ ہے۔
احکامِ فقہیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسانی زندگی کے ہر پہلو کو محیط ہیں۔ افعال و اعمال انسانی کا کوئی فعل ایسا نہیں ہے جس کے لئے فقہ اسلام میں جو از یا عدم جواز کا حکم نہ بیان کیا گیا ہو۔ اگر کسی مسئلہ اجنبی سے متعلق صراحۃً حکم نہ ملے تو ایسے اصول وقواعد ضرور ملیں گے جن کے ذریعہ حکم معلوم کیا جاسکتا ہے۔ فقہ اسلام نے اپنے وسیع مفہوم کے ساتھ عالمی تمدن و معاشرت پر بھی گہرے نقوش قائم کئے ہیں اور ایک بہتر صالح اور فلاحی معاشرہ قائم کیا ہے اور دنیا کی اس کی طرف راہ نمائی کی ہے۔ بہت سے غیر مسلم محققین بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں اور انہوں نے اس کی جامعیت اور ہمہ گیری کا اعتراف بھی کیا ہے۔جن غیر مسلم اہل علم اور قانون داں محققین نے فقہ اسلامی کی عظمت ،جامعیت اور ہمہ گیری کا اعتراف کیاہے ان میں سے کچھ کے نام یہ ہیں۔
(۱) فرانسیسی پروفیسر لامبیر(۲) پروفیسر لیوی اوکان یہ پیرس کے کالج میں استاد تھے(۳) ڈاکٹر انتر یکوانسایا (۴)
1 ۔ترجمہ کنزالایمان:تو اے لوگو!علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔(پ۱۴،النحل:۴۳)
پروفیسر بیوار کا زیللی (۵) عظیم عیسائی رہنما فارس الخوری(۶) مشہور مستشرق سانتیلانا (۷) لبنان کے عیسائی عالم سلیم باز (۸) جرمن کے مشہور قانون داں جوزف کو سلر (۹) وائنا یونیورسٹی کے لاء کالج کے پرنسپل شپرل(۱۰) پروفیسر و مبری (۱۱) امریکن ہارورڈ یونیورسٹی میں فلسفہ کے پروفیسر ہوکنگ اپنی کتاب میں ایک مقام پر لکھتے ہیں:''میں اپنے آپ کو حق و صداقت پر محسوس کرتا ہوں جب یہ اندازہ لگاتا ہوں کہ اسلامی شریعت میں وہ تمام اصول و مبادیات موجود ہیں جو ترقی کے لئے ضروری ہیں۔''یہ کتاب عربی میں ترجمہ ہو کر ''روح السیاسۃالعالیہ'' کے نام سے شائع ہوئی۔ (فقہ ا لاسلام مصنفہ حسن احمد الخطیب باب ہفتم فصل ہفتم)
بعض مستشرقین نے اسلام دشمنی کے اندھے تعصب کا شکار ہو کر یہ الزام تراشا کہ ''اسلامی فقہ رومی قانون سے ماخوذ ہے۔''اس قسم کے خیالات کا اظہار گولڈز یہر، سانتیلانا، شیرمان اور ایمولس کی تحریروں میں کیا گیا بعد میں دیگر غیر مسلم عیسائی مصنفوں نے بھی اس کو ہوا دی۔ اور اس دعویٰ کو دور از کار، بے سرو پادلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی انہوں نے اس سے یہ تو فائدہ حاصل کیا کہ عیسائی رائے عامہ کو گمراہ کیا لیکن کاغذ کی ناؤ دیر تک باقی نہیں رہ سکتی اور دیر تک چل نہیں سکتی۔ بہت جلد اس دعویٰ کی قلعی کھل گئی اور حقیقت صادقہ صاف صاف سامنے آگئی۔
(۱) رومی قوانین بقول پروفیسر گبن اپنے دورِ اول میں صرف بارہ تختیوں کی تدوین پر مشتمل تھے۔ پھر یہ وقتاً فوقتاً شہنشاہوں کی خواہشات کے مطابق مختلف ادوار میں تبدیل ہوتے رہے ارتقاء رومی قانون کے مورخین نہایت صراحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ رومی شہنشاہِ جستنیان کے دور میں اس پر زوال آیا اور اس شہنشاہ کی وفات ۵۶۵ کے بعد تو یہ بدترین اضم حلال کا شکارہوا اور پھر اس کا چراغ ہی بجھ گیا۔ اس کے بعد یہ رومی قانون کلیساؤں میں محدود ہو کر رہ گیا خود اہل یورپ بھی اس سے آشنا نہ رہے تقریباً ساڑھے چار سو سال کے بعد پھر اس کی نشاۃِثانیہ ہوئی۔(کتاب مبادی قانون روما)یعنی قانون روما چھٹی صدی عیسوی کے نصف آخر سے لے کر گیارھویں صدی کے ربع اول تک گوشہ گمنامی میں رہا جب کہ فقہ اسلامی کی ابتداء ساتویں صدی عیسوی کی دوسری دہائی سے ہوئی اور دسویں صدی عیسوی تک اپنے عروج کو پہنچ کر مکمل ہوگئی اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ جو زمانہ رومی قانون کے اضم حلال اور گوشہ گمنامی میں رہنے کا ہے۔ عین وہی زمانہ فقہ اسلامی کی ابتداء ،نشوونما اور عروج و کمال تک پہنچنے کا ہے۔لہٰذا فقہائے اسلام کا رومی قانون سے واقف ہونے اور اِستفادہ کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ایسے تاریخی شواہد موجود ہیں کہ رومی قانون کے علماء نے اس کی نشاۃ ثانیہ کے دور میں فقہ اسلامی سے استفادہ کیا اور اس کی چاپ رومی قانون میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ جرمن مورخ موسیہم اپنی کتاب ''تاریخ کلیساء''میں لکھتا ہے کہ''پاپائے روم ہر برٹ فرانسیسی اپنی تعلیم میں اُندلس کے عربوں کی کتابوں اور ان کے مدارس کا مرہونِ منت ہے۔ وہ ۱۰۳۵ میں علم حاصل کرنے کے لئے ہسپانیہ گیا
اور وہاں قرطبہ اور اشبیلہ میں عرب علماء کا شاگرد رہا۔''تفصیلات بیان کرتے ہوئے وہ آگے لکھتا ہے:''لہٰذا انہوں نے یعنی پوپ ہربرٹ اور اس کے ساتھ اندلس میں عرب علماء سے علم حاصل کرنے والے عیسائیوں نے اس وقت جو دیوانی یا فوجداری قوانین فقہ اسلامی سے اَخذ کئے یہ وہی قوانین تھے جنہیں انہوں نے جدید رومی قانون سے موسوم کیا تھا۔'' (فقہ اسلام بحوالہ تاریخ کلیساء)
(۲)''ہدایہ''کی شرح''النہایہ''کے حواشی میں ابوالولید عبداللہ نے جو بیا ن کیا ہے اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور یہی ثابت ہوتا ہے کہ رومی قوانین فقہ اسلامی سے مستفاد ہیں۔ ابوالولیداس حاشیہ میں بیان کرتے ہیں کہ یورپ کے طلباء جو اندلس کے شہر غرناطہ میں تحصیل علم کے لئے آتے تھے فقہ اسلامی کواپنی زبان میں منتقل کرنے کے لئے بہت سرگرمی کا اظہار کرتے تھے کیونکہ چوتھی و پانچویں صدی ہجری میں ان کے ملکی قوانین بہت خراب تھے اس لئے وہ چاہتے تھے کہ اسلامی قوانین ان کے ممالک میں رائج ہوں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے فقہ اسلامی کو اپنے طور پر مرتب کرلیا تھا اور اپنے ملک کے حالات کے مطابق اس میں تبدیلی کرلی تھی۔(فقہ الاسلام ۵۲۸)
(۳) مِلَلُ واَدیان کا تقابلی مطالعہ کرنے والے عُلماء مذاہب عالم، مورخین اور اہل دانش خوب جانتے ہیں کہ قانون روما کوئی مکمل قانون نہیں ہے ۔دورِ اوّل میں وہ صرف بارہ تختیوں پر تحریر تھا ۔ گیارھویں صدی کی چوتھی دہائی کے بعد اس کی نشاۃ ثانیہ میں اسلامی اثرات سے اس میں توسیع کی گئی رفتہ رفتہ اس کی ضخامت میں اضافہ ہوا پھر بھی وہ جملہ حقوق انسانی اور اس کی قانونی ضرورتوں کا کفیل نہ ہوسکا نہ آج تک اس میں اتنی وسعت پیدا ہوسکی کہ وہ انسانی معاشرہ کی جملہ انواع و اقسام اور عدل و انصاف کے جملہ تقاضوں کو پورا کرسکے اور انفرادی و اجتماعی حقوق انسانی کا تحفظ کرسکے۔ وہ ایک محدود دائرے میں محدود ہے جس میں انسانی زندگی کی وسیع تر ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتیں۔ اس کے مقابلے میں فقہ اسلامی ایک بحرنا پیدا کنار ہے جس میں انسانی زندگی کے جملہ امور و معاملات خواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی و جماعتی حیات سے متعلق ہوں یاموت سے،صحت وتندرستی سے متعلق ہوں یا امراض واسقام اور ادویات ومعالجات سے ،حکومت ومملکت سے متعلق ہوں یا رعایا اور محکوموں سے، جنگوں سے متعلق ہوں یا صلح و امن سے، مفاد عامہ سے ان کا تعلق ہو یا شخصی و ذاتی مفادسے یا طہارت جسم، طہارت نفس اور طہارتِ فکر و خیال سے، غرض ہر شے کے فقہ اسلامی میں احکام بیان کئے گئے ہیں اور کسی بھی چیز کو چھوڑا نہیں گیا ہے۔ یہ خصوصیت و امتیاز قوانین روما کو کہاں حاصل ہے۔
یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن و حدیث کی اپنی ایک زبان ہے۔ اپنا مخصوص اندازِ بیان ہے۔ اپنی اصطلاح ہے جو کسی دوسرے سے نہ مستعار ہے نہ مستفاد۔ رومی قوم قانون اور قوانین کا لفظ استعمال کرتی ہے جب کہ قرآن وحدیث اس لفظ کو
استعمال نہیں کرتے قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں کہیں یہ لفظ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اس کی بجائے وہ اپنی اصطلاح استعمال کرتا ہے اور وہ ہے احکام ، امرونہی، حرام و حلال ، اثم ومعصیت اور حدود و شعائر وشرائع وغیرھا، فقہ اسلامی نے بھی قرآن و احادیث کی ان ہی اصطلاح کو استعمال کیا ہے۔ یہ سب کچھ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ فقہ اسلامی قوانینِ روما سے قطعاً مستفاد نہیں۔ یہ مستشرقین کا خود ساختہ خیال ہے اور اس خیال کے پردے میں وہ اپنی چوری اور کمزوری کی پر دہ پوشی کرنا چاہتے ہیں۔
(۱) میں نے اس کتاب میں کوشش کی ہے کہ میں علماء فقہ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کروں کہ انہیں مسائل بیان کرتے وقت اور کسی استفتاء کا جواب لکھنے میں کن کن اُمور کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے اور یہ کہ مسائل شرعیہ بیان کرنے اور فتویٰ نویسی کے لئے معیار علم کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ انہیں اُن اکابر فقہا ء و مجتہدین کی عظیم شخصیتوں کی معرفت بھی حاصل ہونی چاہے جن کے اقوال و تصنیفات مستند اورمُفتیٰ بہا ہیں اور جن پر اعتماد کیا جاتا ہے اس سلسلے میں مَیں نے سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی عظمت وفضائل کو خاص طور سے بیان کیا ہے اور ان کے مُعتَمَدتلامذہ اور ان کی مستند تصنیفات سے بھی روشناس کرادیا ہے۔
(۲) قرآنِ کریم کا دعویٰ ہے کہ وہ
(تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ)
(1)ہے یعنی اس میں ہر شے کا بیان ہے اور یہ کہ دین ودنیا کی تمام خشک و تر چیزوں کا بیان قرآنِ مبین میں ہے۔
(وَلَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۹﴾
)
(2) اس سلسلہ میں، میں نے کوشش کی ہے کہ اس امر کی وضاحت کروں کہ ہمارے اکابر فقہائے کرام خصوصاً مجتہدین فقہ نے فقہ اسلام مدون و مرتب فرما کر قرآن مجید کے اس دعویٰ کو بقدرِ استطاعت ثابت کردیا ہے۔ انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں طاقت بشری کے مطابق شمار و اندازہ سے زیادہ اتنے مسائل و احکام بیان کردیئے ہیں کہ کوئی چیز بیان کرنے سے رہ نہیں گئی ہے۔ا نہوں نے مسائل شرعیہ وفقہیہ میں اتنی کثیر تعداد میں اور اتنی ضخیم اور جامع کتابیں تصنیف فرمائی ہیں جن کی صحیح تعداد بھی شمار میں نہیں پھر ان میں اتنے کثیر مسائل بیان فرمادیئے ہیں جن کا نہ کوئی شمار نہ حدو نہایت ،اُمتِ مسلم ان کے احسان سے سبکدوش نہیں ہوسکتی۔
فَجَزٰھُمُ اللہُ خَیْرَ الْجَزَا
صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ اور جدید مسائل کا حکمِ شرعی معلوم کرنے کے لئے قرآن کریم اور احادیث شریفہ کی روشنی میں کچھ ایسے اصول کلیہ مرتب فرمادیئے جن سے علمائے دین جدید مسائل کا علم حاصل کرسکیں۔ ان کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے میں نے علمائے فقہ کے لئے اُن میں سے
1 ۔ترجمہ کنزالایمان:(اس قرآن پاک میں)ہر چیز کا روشن بیان ہے ۔( پ۱۴،النحل:۸۹)
2 ۔ترجمہ کنزالایمان:اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔(پ۷،الانعام:۵۹)
کچھ بیان کئے ہیں تاکہ ہمارے علماء کو سہولت ہواور یہ سب کچھ فیضان ہے میرے اساتذہ خصوصاً حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ اور میرے اَکابر کا جن کے فیوض وبرکات سے میں اس قابل ہوسکا کہ یہ تصنیف پیش کرسکوں ورنہ ''من آنم کہ من دانم''۔(3)
اصحابِ علم و علمائے کرام سے گزارش ہے کہ اس تصنیف میں میری کم مائیگی اور بے بضاعتی کی وجہ سے جو کوتاہیاں اور خامیاں ہوں ازراہ کرم ان پر مجھے مطعون نہ کریں اور ہدف ملامت نہ بنائیں بلکہ اخلاص کے ساتھ اصلاح فرمادیں اور میرے لئے دعائے خیر و استغفار فرمائیں ربّ کریم انہیں اس کا اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔
وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلاَّ بِاﷲِ الْعَظِیْمِ اِلَیْہِ الْمَرْجِعُ وَاِلَیْہِ مَآبُ
وَاَسْتَغْفِرُ اللہَ لِیْ وَلَکُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلِمِیْنَ
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِخَلْقِہٖ وَنُوْرِ عَرْشِہٖ سَیِّدِنَا وَمَوْلانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ
وَعَلٰی جَمِیْعِ عُلَمَاءِ اُمَّتِہٖ اَجْمَعِیْنَ آمِیْنَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ؕ
اَلْفَقِیْرُالْعَبْد اِلَی اللہِ الصَّمَد
العبد الضعیف ظہیر احمد زیدی القادری
ابن السید دائم علی زیدی غفرلہ ولوالدیہ
متوطن قصبہ نگینہ ضلع بجنور محلہ سیدواڑہ ساکن حال
بیت السادات دودھ پورعلی گڑھ
مورخہ ۱۷صفر المظفر ۱۴۱۲ھ مطابق ۲۸ اگست ۱۹۹۱ یوم چہار شنبہ
1 ۔فارسی محاور ہ ہے جس کا مطلب ہے کہ ''میں اپنے بارے میں جانتا ہوں کہ میں کیا ہوں۔''
جنتی اعرابی
حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ایک اَعرابی نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا :''یا رسول اﷲ (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم)!ایسے عمل کی طرف میری راہنمائی فرمائیے کہ جب میں وہ عمل کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں ؟''تو رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفرمایا :''اﷲتعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ کسی کواس کا شریک نہ ٹھہراؤ او ر فرض نَماز ادا کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور رمضان کے روزے رکھا کرو۔ '' یہ سن کر اعرابی نے کہا ''اس ذات پاک کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے میں اس پر زیادتی نہ کروں گا۔'' پھرجب وہ اَعرابی لوٹا تونبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:''جو کسی جنتی کو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۔ ''(صحیح بخاری،کتاب الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ، الحدیث:۹۷ ۱۳،ج۱، ص ۴۷۲)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
رَبِّ یَسِّرْ وَلا تُعَسِّرْ وَتَمِّمْ بِالْخَیْر ؕ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
سَیِّدِنَا وَمَوْلانَا مُحَمَّدٍوَّعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن اَمَّابَعْدُ:
دنیا کے تمام مِلَلُ و اَدیان میں صرف اسلام ہی وہ دین ہے جس کو یہ فخر وشرف حاصل ہے کہ اس نے اپنے ہر ماننے والے کے لئے علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے۔ سب سے پہلی وحی جو رسول کل وسید الکائنا ت حضرت محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر غار حرا میں نازل ہوئی اس کا پہلا لفظ یہی ہے۔ اقراء (پڑھو)یعنی علم حاصل کرو۔ پہلی وحی یہ ہے۔
(اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾خَلَقَ الْاِنۡسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾اِقْرَاۡ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۙ﴿۳﴾الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۙ﴿۴﴾عَلَّمَ الْاِنۡسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ؕ﴿۵﴾)
(1)
ترجمہ :پڑھو اپنے ربّ کے نام سے جس نے پیدا فرمایا ،آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے جس نے قلم سے لکھنا پڑھنا سیکھایا۔ آدمی کو سکھادیا جو نہ جانتا تھا۔
آیتِ کریمہ کا ایک ایک لفظ ظاہر کررہا ہے کہ اسلام میں علم کی اہمیت کس درجہ ہے کہ ایک ہی مقام پر دوبار علم حاصل کرنے کا حکم دیا پھر اس احسان کا اظہا رفرمایا کہ یہ اس کا کرم ہے اس نے انسان کو علم بھی عطا فرمایا اور لکھنا بھی سکھایا۔ علم حاصل کرنے کا حکم دینے کے بعد قرآن نے دیگر جگہ علم حاصل کرنے والوں اور اہلِ علم کی عظمت و فضیلت بیان فرمائی اور جہالت کی سخت مذمت بیان فرمائی صاف صاف الفاظ میں فرمادیا کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔فرمایا:
(ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ ؕ)
(2)
کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہیں۔
مطلب یہ کہ ہر گز ہر گز عالِم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔ جاہل تو کندئہ ناتراش ہے اور علماء کو کتاب الٰہی اور انبیاء کرام علیہم السلام کا وارث بنایا گیا ہے۔
1 ۔ ''صحیح البخاری''، کتاب التفسیر، سورۃ (اقرأ باسم ربّک الذی خلق )، باب ۱، الحدیث: ۴۹۵۳،ج۳،ص ۳۸۴.
پ۳۰، العلق : ۱۔۵.
2 ۔پ ۲۳،الزمر:۹.
قرآن فرماتا ہے:
(ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصْطَفَیۡنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ)
(1)
ترجمہ :پھر ہم نے اپنے منتخب اور چنیدہ بندوں کو قرآن کا وارث بنایا۔
یعنی کہ اولاً کتاب ہم نے اپنے پیارے رسول اور حبیب علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل فرمائی اور انہیں ماکان ومایکون کا علم(2)عطا فرمایا۔پھر آپ کے بعد ہم نے اپنی کتاب کا وارث ان کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا۔ اس لئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:
''اِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَاءِ''
بے شک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں۔انبیاء کی وراثت درہم و دینار نہیں ہوتی ان کی وراثت تو علم الہٰی اور علمِ دین ہے تو جو اِسے پالے گا وہ علم کا بڑا حصہ پالے گا۔ (3)
ایک اور مقام پر قرآن پاک میں فرمایا۔
(یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕ)
(4)
اﷲتعالیٰ تمہارے ایمان لانے والوں کو اور ان ایمان والوں کو جو تم میں سے علم دیئے گئے درجوں بلند فرماتا ہے۔
ظاہر ہے کہ ایمان لانے کا دارومدار بھی علم و معرفت ہی پر ہے اور پھر ایمان لانے کے بعد مزید علم حاصل کرنا درجوں بلند ہونے کا سبب ہے یہ رفعت و بلندی ، یہ عظمت و فضیلت ہر گز کسی جاہل، بے علم وبے شعور کا نصیب نہیں ہوسکتی۔
ان آیاتِ کریمہ کی تشریح میں علم کی اہمیت کے اِظہار کے لئے نیز ایک مسلمان کو سچا اور پختہ مسلمان ہونے کے لئے رسول پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا :
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ(5) وَمُسْلِمَۃٍ
علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرضِ عین ہے۔
دوسری جگہ فرمایا :
اُطْلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَھْدِ إِلَی اللَّحْدِ(6)
علم حاصل کرو پیدائش سے لے کر قبر میں جانے تک۔
اورفرمایا:
اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ کَانَ بِالصِّیْنِ(7)
1 ۔ پ ۲۲، فاطر : ۳۲.
2 ۔یعنی جو کچھ ہوچکا اور جو کچھ ہوگا اس کا علم۔
3 ۔''جامع الترمذی''، کتاب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ ۔۔۔ إلخ، الحدیث : ۲۶۹۱،ج ۴، ص ۳۱۲.
4 ۔ پ ۲۸، المجادلۃ :۱۱.
5 ۔''سنن ابن ماجہ''، کتاب السنۃ، باب فضل العلماء إلخ،الحدیث:۲۲۴،ج۱،ص۱۴۶.
6 ۔''روح البیان''،الجزء الخامس عشر،سورۃالکھف،تحت الآیۃ:۶۶،ج۵، ص۲۷۴.
7 ۔ ''الجامع الصغیر''، الحدیث : ۱۱۱۰،۱۱۱۱، ص ۷۲.
علم حاصل کرو چاہے تمہیں اس کے لئے چین تک جانا پڑے۔
ان تمام آیات اور احادیث سے بلاشک و شبہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نے علم حاصل کرنے کو ہر چیز پر ترجیح دی ہے اور اسلام قطعاً یہ اجازت نہیں د یتا کہ کوئی بھی مسلمان خود کو علم سے محروم رکھے۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سا علم ہے جس کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض قرار دیا گیا ہے اور جس کو حاصل کرنے کا پیدائش سے لے کر موت تک حکم دیا گیا ہے اور اگر اس کے حصول میں چین جیسے دور دراز ملک میں جانے کی مشقت اور تکلیف بھی اٹھانا پڑے تو ضرور اٹھائے مگر علم حاصل کرے۔ ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ تمام علوم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے۔ کیونکہ اول تو علوم کی تعداد ہی شمار سے باہر ہے پھر ہر علم کی وسعت اس قدر ہے کہ اس کا احاطہ ناممکن، تو اگر تمام علوم کا حاصل کرنا فرض قرار دیا جائے تو یہ تکلیف مالایطاق ہوگی، یعنی یہ ایسا حکم ہوگا جس کا پورا کرنا انسان کی طاقت و قدرت سے باہر ہوگا اور شریعت ہر گز ہر گز کوئی ایسا حکم نہیں دیتی جو انسان کی قوت و استطاعت سے باہر ہو۔ نہ ہی اس حکم کا یہ مطلب ہے کہ علم حاصل کرو خواہ وہ کوئی سا بھی علم ہو کیونکہ بہت سے علم ایسے ہیں جن کا حاصل کرنا شریعت حرام یا ناجائز قرار دیتی ہے۔ بلکہ بعض علم ایسے ہیں جن کا حاصل کرنا کفر ہے۔ یعنی جو علوم انسان کو گمراہی کی طرف لے جائیں فسق و فجور اور معصیت الٰہی میں مبتلا کریں، ان کا حاصل کرنا سخت حرام ہے اور جو علوم انکار خدا اور کفر و اِلحاد و غیرہ میں مبتلا کردیں، ان کاحاصل کرناکفر ہے۔ تو حدیث پاک میں جس علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا ہے اس سے مرادنہ کلی علوم ہیں اور نہ یہ کہ کوئی سا بھی علم حاصل کرو تو لازمی طور سے اس علم سے وہی علم مراد ہوسکتا ہے جو انسان کو حق و صداقت کی طرف لے جائے ۔ شرک و کفر اور ہر قسم کی گمراہی سے بچائے اوراللہ کا فرمانبردار اور اطاعت شعار بندہ بنائے کیونکہ اسلامی تعلیمات اور بعثت و رسالت کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسان اپنے خالق کو پہچانے، اس کی وحدانیت کا اقرار کرے، کفر و شرک اور ہر قسم کی گمراہی و معصیت سے بچے ،اپنے رب کے احکام سے واقفیت حاصل کرے تاکہ ا ن پر عمل کرکے اس کی رضا اور خوشنودی حاصل کرے اور انسانی معاشرت کو پاک و صاف بنائے اور ایسا علم سوائے علم شریعت و علم دین کے کوئی دوسرا علم نہیں ہوسکتا۔ اس تشریح سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو علم حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے وہ صرف علمِ دین ہے باقی علوم فرض کا درجہ نہیں رکھتے۔ اگر وہ گمراہی کی طرف نہیں جاتے تو ان کا حاصل کرنا جائز ہے ، جیسا کہ آئندہ بیان کیا جائے گا ۔ علمِ دین حاصل کرنے والوں کی فضیلت میں بہت سی احادیث ہیں۔''مشتے نمونہ از خروارے''یہ چند احادیث بیان کی جاتی ہیں۔(1)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :
1 ۔یعنی علم کی فضیلت میں احادیث بہت کثرت سے واردہوئی ہیں لیکن یہاں بطورِ نمونہ چند احادیث پیش کی جاتی ہیں۔
مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَّلْتَمِسُ فِیْہِ عِلْمًا سَھَّلَ اللَّہُ لَہٗ طَرِیْقًا إلَی الْجَنَّۃِ
جس نے تلاش علم کی راہ اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کی راہ آسان فرمادے گا ۔ رواہ ُمشکوٰۃ(1)
حضرت ابودرداء کی روایت میں اس حدیث میں مزید تفصیل ہے اس میں مذکورہ بالا حدیث کے ساتھ یہ بھی روایت ہے کہ''ملائکہ علم حاصل کرنے والے کی رضا اور خوشی کے لئے اپنے پر بچھاتے ہیں اور عالِم کے لئے زمین و آسمان کی ہر چیز دعائے مغفرت کرتی ہے حتی کہ سمندر کی تہہ کی مچھلیاں بھی اس کے لئے دعائے استغفار کرتی ہیں اور عالم کی عظمت اور علو مرتبت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے ماہِ تمام کو باقی تمام ستاروں پر۔(2)
ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا:
فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِیْ عَلٰی أَدْنَاکُمْ
عالم کو عابد پر اتنی ہی فضیلت ہے جتنی مجھے تمہارے کمتر درجے کے آدمی پر۔ رواہ مشکوٰۃ(3)
ابوداؤد اور ابن ما جہ نے حضرت عبداللہ بن عَمْرْو(4)رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
اَلْعِلْمُ ثَلَاثَۃٌ آیَۃٌ مُّحْکَمَۃٌ أَوْ سُنَّۃٌ قَائِمَۃٌ أَوْ فَرِیضَۃٌ عَادِلَۃٌ وَمَاسِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ فَضْلٌ(5)
یعنی یہ کہ علم دین تین چیزیں ہیں:(۱) قرآن پاک کی آیات محکمہ جو منسوخ نہیں ہیں(۲) صحیح وثابت شدہ احادیث (۳) وہ احکام جو قیاس و اجتہاد سے مستنبط ہوں اور جو ان کے علاوہ علوم ہیں وہ مد زائد ہیں۔یعنی علم دین اور علم شریعت تو یہی تین علوم ہیں۔ رہے دیگر علوم تو ان کا حاصل کرنا اگر جائز بھی ہو وہ علمِ شریعت میں داخل نہیں مد زائد میں شامل ہیں کہ اگر کسب معاش کے لئے کوئی علم حاصل کیا جائے اور اس کاحاصل کرنا شرعاً ممنوع نہ ہو اور وہ حاصل کیا جاتاہے، وہ ایک مد زائد ہے۔ ان تفصیلات سے ان حضرات کی یہ غلط فہمی دور ہونی چاہیے کہ حدیث:
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ وَّمُسْلِمَۃٍ(6)
میں طلب العلم سے مراد کوئی سا بھی علم حاصل کرنا ہے اگر ایسا ہو تو پھر قرآنِ پاک کانزول اور رسول پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
1 ۔سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ،باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم،الحدیث۲۲۳،ج۱،ص۱۴۵.
2 ۔''جامع الترمذی''،کتاب العلم، با ب ماجاء فی فضل الفقہ علی العباد،الحدیث:۲۶۹۱،ج۴،ص۳۱۲.
3 ۔المرجع السابق،الحدیث:۲۶۹۴،ج۴،ص۳۱۳.
4 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''عبداللہ بن عمر''رضی اللہ تعالٰی عنھم ا لکھاہواتھا،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ''ابوداؤداورابن ماجہ ''میں''عبداللہ بن عَمْرْو''رضی اللہ تعالٰی عنھم ا مذکورہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
5 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب السنۃ، باب إجتناب الرأی والقیاس،الحدیث:۵۴،ج ۱،ص۴۱.
و''سنن ابی داؤد''،کتاب الفرائض،باب(ماجاء)فی تعلیم الفرائض،الحدیث:۲۸۸۵،ج۳،ص۱۶۴.
6 ۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۰۴۳۹،ج۱۰،ص۱۹۵.
و''روح البیان''،الجزء الحادی عشر،سورۃالتوبۃ،تحت الآیۃ۱۲۲،ج۳، ص۵۳۶.
کے ارشادات یعنی ذخیرہ حدیث بے مقصد ہو کر رہ جائیں گے کیونکہ نزول قرآن کا مقصد ہی یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کے احکام اس کے بندوں تک پہنچیں ارشادات رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان کی تشریح و عملی تفسیر بیان کریں تاکہ امت ان کا علم حاصل کرے اور ان پر رضائے الہٰی حاصل کرنے کے لئے عمل پیرا ہو۔
لغت میں فقہ کے معنی ہیں کسی شے کا جاننا پھر یہ لفظ علم الشریعہ کے ساتھ خاص ہوگیا۔علماء اُصول کی اصطلاح میں علم فقہ کی تعریف یہ ہے کہ فقہ وہ علم ہے جس میں احکامِ شرعیہ فرعیہ کا علم ان کے تفصیلی دلائل کے ساتھ حاصل کیا جائے اور فقہاء کے یہاں علم فقہ کی جو تعریف بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ علم فقہ نام ہے احکامِ شرعیہ اور مسائل شرعیہ کا علم حاصل کرکے ان کو حفظ کرلینا اور اہل حقیقت و معرفت نے علم فقہ کی تعریف ان لفظوں میں بیان فرمائی ہے کہ علم فقہ کا مطلب ہے علم احکام شریعت کو عمل میں لانا۔ بقول سیدنا حسن بصری رضی اللہ عنہ کے فقیہ تو وہی ہے جو دنیا سے اعراض کرے اور آخرت کی طرف راغب ہو اور اپنے عیوب پر نظر رکھے۔(1)(درمختار و ردالمحتار)
فقہ کی تعریف سے یہ امر واضح ہوگیا کہ فقہ کا مطلب احکام و مسائل شریعت سے واقفیت حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ درحقیقت فقہ ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے۔ سید الکل، ختم الرسل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مقاصد بعثت ہی میں اللہ عزوجل نے اس طرف اشاہ فرمایا:
(لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤۡمِنِیۡنَ اِذْ بَعَثَ فِیۡہِمْ رَسُوۡلًا مِّنْ اَنۡفُسِہِمْ یَتْلُوۡا عَلَیۡہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ۚ)
(2)
یقینا اللہ تعالیٰ نے مومنین پر یہ احسان عظیم فرمایا کہ ان میں انہیں کے نفوس میں سے ایک عظمت والا رسول مبعوث فرمایا جو ان پراللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے)یعنی احکامِ الٰہیہ بیان کر تا ہے(اور ان کا تزکیہ نفس فرماتا ہے اور ان کو کتاب (یعنی قرآنِ پاک )اور حکمت و دانائی کی تعلیم دیتا ہے۔
مطلب یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم خاص سے مومنین پر یہ انعام واحسان فرمایا کہ اپنے احکام و مرضیات اور اپنی کتاب و حکمت کی تعلیم کے لئے اپنا ایک عظمت والا رسول بھیجا تاکہ وہ تمہارے سامنے اﷲتعالیٰ کے احکام بیان فرمائے اور
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،المقدمۃ،ج۱،ص۹۷،۱۰۰.
2 ۔ پ۴،آل عمران:۱۶۴.
ان پر عمل کراکے تمہارے نفوس کو پاکیزہ تر بنائے۔ اور احکامِ الٰہیہ کے جاننے کا نام ہی فقہ ہے اس آیتِ کریمہ میں اللہ عزوجل نے مقصدِ رسالت کی وضاحت کے ساتھ آپ کی مقدس ذات کی عظمت و رفعت کو بھی بیان فرمایا جس کا اظہار لفظ
''مَنَّ''
سے ہوتا ہے۔ دوسری آیت میں تمام امت کو یہ حکم دیا کہ
(وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ)
(1)
جو کچھ تمہیں عظمت والے رسول دیں وہ لے لو( یعنی اس پر عمل کرو)اور جس چیز سے یہ تمہیں روکیں منع فرمائیں اس سے باز رہو(یعنی اس پر عمل نہ کرو اس سے رک جاؤ)۔
اس آیت سے بھی مراد احکام الٰہی ہی ہیں اور انہیں کا دوسرا نام علم فقہ ہے۔ ایک جگہ قرآن کریم میں اﷲ تبارک و تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خطاب کرکے فرمایا:
(یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسٰلَتَہٗ ؕ)
(2)
اے رسول(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے تمہارے رب کی طرف سے تم اس کی تبلیغ کردو یعنی دوسروں تک پہنچا دو اور اگر تم نے یہ نہ کیا اور پیغام الٰہی کو امت تک نہ پہنچایا تو تم نے کار رسالت کو(3)انجام نہ دیا۔''
خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور سید الکائنات رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بعثت وتشریف آوری کو احسان ِ عظیم قرار دیا اور احکامِ الٰہی اور کتاب وحکمت کی تعلیم اور ان پر عمل کرکے تزکیہ نفس کرنا مقصدِ رسالت بیان فرمایا۔ امت کو حکم دیا کہ وہ آپ کی تعلیمات کو حاصل کرے اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان سے باز رہے پھر جوان احکام الٰہیہ پر عمل کرے آپ کی اتباع اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اس کے لئے فوز عظیم کی خوشخبری سنائی، فرمایا:
(وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیۡمًا ﴿۷۱﴾)
(4)
اور جو اللہ جل وعلا اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اطاعت و فرمانبرداری کرے تو اس نے عظیم کامیابی حاصل کی۔
اس سے معلوم ہوا کہ علم فقہ حاصل کیے بغیر نہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جاسکتی ہے نہ رسول پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی فرمانبرداری اور اتباع کی جاسکتی ہے نہ حکمت حاصل ہوسکتی ہے اور نہ تزکیہ نفس، اس لئے علم فقہ تمام امت کے لئے ایک لازمی ضرورت ہے جو اسے حاصل کریگا وہ فائز المرام ہوگا اور جو اس سے جاہل و نابلد رہے گا اسے اپنے ایمان کو قائم رکھنا اور اس کی
1 ۔پ۲۸،الحشر:۷. 2 ۔پ۶،المآئدہ :۶۷.
3 ۔یعنی رسالت کے کام کو۔
4 ۔پ۲۲،الأحزاب:۷۱.
حفاظت کر نا بھی مشکل ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ لازمی طور پر فقہ کا علم حاصل کرے کُل نہ سہی تو بقدر ضرورت ہی فقہ کا علم حاصل کرے تاکہ اپنے ایمان کا تحفظ تو کرسکے۔
علماء کرام فرماتے ہیں کہ کتب فقہ کا مطالعہ کرنا قیام اللیل سے(1) بہتر ہے۔ (2)( خلاصہ از درمختار) صاحب ملتقط نے حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے یہ روایت کیا ہے کہ حضرت امام محمد علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں کہ انسان کو سب سے پہلے حلال و حرام اور احکام شرعیہ ومسائل فقہیہ کا علم حاصل کرنا چاہیے اس کے مقابلے میں اسے دیگر علوم کو ترجیح نہیں دینی چاہیے صرف ان ہی میں انہماک مناسب ہے ۔(3)
تمام علوم میں علم فقہ ہی اپنے وسیع مفہوم کے ساتھ اشرف و اعلیٰ ہے۔ کسی صاحبِ ذوق نے کیا خوب کہا ہے ؎
إِذَا مَا اعْتَزَّ ذُو عِلْمٍ بِعِلْمٍ فَعِلْمُ الْفِقْہِ أَوْلٰی بِاِعْتِزَازٍ
فَکَمْ طِیْبٍ یَّفُوْحُ وَلا کَمِسْکٍ وَکَمْ طَیْرٍ یَّطِیْرُ وَلا کَبَازِی(4)
جب کوئی ذی علم کسی علم سے عزوشرف حاصل کرنا چاہے تو صرف علم فقہ ہی کو یہ عظمت حاصل ہے کہ اس سے عزوشرف حاصل کیا جائے کیونکہ خوشبوئیں تو ساری مہکتی ہیں لیکن مشک جیسی کوئی خوشبو نہیں اورپرندے تو سب ہی اڑتے ہیں لیکن ہر ایک کا اڑنا باز جیسا نہیں ہے۔
علم فقہ کی عظمت و فضیلت یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تعریف فرمائی اور اس کو لفظ ''خیر''سے تعبیر فرمایا جو کسی شے کی مدح میں ایک جامع اور وسیع المفہوم لفظ ہے فرمایا :
(وَمَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ؕ)
(5)
یعنی جس کو حکمت دی گئی اسے یقیناً خیر کثیر عطا کی گئی ۔ ارباب تفسیر نے لفظ حکمت کی تفسیر فقہ سے فرمائی ہے اس تفسیر کی روشنی
1 ۔یعنی رات کی عبادت سے۔
2 ۔''الدرالمختار''،المقدمۃ،ج۱،ص ۱۰۱.
3 ۔''الملتقط''،کتاب المخارج،باب الفوائد والحکایات،ص۴۵۹.
4 ۔''الدرالمختار''، المقدمۃ، ج ۱،ص ۱۰۳.
5 ۔ پ ۳، البقرہ : ۲۶۹.
6 ۔''صحیح البخاری''،کتاب العلم، باب من یرداﷲ بہٖ...إلخ،الحدیث:۷۱،ج۱،ص۴۲.
میں علم فقہ خیر کثیر ہے اور فقہائے کرام کو اللہ تعالیٰ نے خیر کثیر سے نوازا ہے حضور شافع یوم النشور، شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
مَن یُّرِدِ اللہُ بہٖ خَیْرًا یُّفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ(6)
اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں فقیہ بنادیتا ہے۔
علامہ ابن نجیم ''الاشبا ہ والنظائر ''میں فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن بندوں سے ہر شے کے بارے میں سوال کیا جائے گا لیکن علم نافع جو موصل اِلَی اللہ ہو اور حسن نیت اور اخلاص عمل کے ساتھ آفات نفس سے بچنے کے لئے حاصل کیا گیا اور اس کے بارے میں کوئی سوال نہ ہوگا کیونکہ وہ خیر محض ہے۔(1)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے:اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندوں کو اٹھائے گا پھر علماء کو اٹھائے گا پھر فرمائے گا:اے علماء میں نے تمہیں اپنا علم نہیں دیا مگر اس لئے کہ میں تمہیں جانتا تھا اور میں نے تمہیں اپنا علم اس لئے نہیں دیا کہ میں تمہیں عذاب دوں۔ جاؤ میں نے تم سب کو بخش دیا۔(2)
یہ وہ لوگ ہیں جن کا علم و عمل خالصتاً لو جہ اللہ ہے اور جنہوں نے
(وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ)
(3)کے مقتضی کو سمجھا اور اس پر عمل فرمایا۔ علماء فرماتے ہیں کہ ایسے علماء صالحین سے قیامت میں ان کے علم سے متعلق سوال اس لئے بھی نہ ہوگا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دعا کرنے کا حکم دیا
(رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا)
(4) اے رب تو مجھے علم عظیم عطا فرما کر درجات بلند فرما۔تو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے پیارے حبیب سے اور آپ کی اتباع میں آپ کی امت سے زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کا طالب ہے اس لئے یہ اس کی شان کرم نہیں ہے کہ یہ حکم دینے کے بعد پھر علماء سے ان کے علم کے بارے میں سوال کرے۔ اس لئے فقہ کی مدح و ثناء اور اس کی فضیلت میں کہا گیا ہے۔
وَخَیْرُ عُلُوْمٍ عِلْمُ فِقْہٍ ِلاَ نَّہٗ یَکُوْنُ إِلٰی کُلِّ الْعُلُوْمِ تَوَسُّلا
فَإِنَّ فَقِیْھًا وَّاحِداً مُّتَوَرِّعًا عَلٰی أَلْفِ ذِیْ زُھْدٍ تَفَضَّلَ وَاعْتَلٰی(5)
ترجمہ : تمام علوم کے مقابلہ میں علم فقہ ہی سب سے بہتر علم ہے کیونکہ یہی علم تمام عظمتوں اور بلندیوں کے لئے وسیلہ و
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الثالث:الجمع والفرق، فائدہ:کل شییئ یسأل عنہ...إلخ،ص ۳۳۸.
2 ۔''المعجم الأوسط''، الحدیث:۴۲۶۴،ج۳،ص۱۸۴.
و''إحیاء علوم الدین''،کتاب العلم،الباب الأول فی فضل العلم...إلخ،ج۱،ص۲۲،
3 ۔پ۳۰،البینۃ :۵.
ترجمہ کنزالایمان:۔اور ان لوگوں کوتویہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پرعقیدہ لاتے۔
4 ۔ پ ۱۶، طٰہٰ:۱۱۴.
ترجمہ کنزالایمان:۔اے میرے رب مجھے علم زیادہ دے۔
5 ۔''الدرالمختار''،المقدمۃ،ج۱،ص۱۰۳.
ذریعہ ہے بلاشبہ ایک صاحب ورع وتقویٰ فقیہ ہزار عابدوں، زاہدوں پر فضیلت و بلند ی رکھتا ہے۔
سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایاجو علم و معرفت کی عظمتوں کے حامل ہیں:
مَا الْفَضْلُ إِلَّا لِأَھْلِ الْعِلْمِ اَنَّھُمْ عَلَی الْھُدٰ ی لِمَنِ اسْتَھدٰ ی أَدَّلَاءُ
وَوَزْنُ کُلِّ امْرِیئٍ مَّا کَانَ یُحْسِنُہٗ وَالْجَاھِلُوْنَ لِأَھْلِ الْعِلْمِ أَعْدَاءُ
فَفُزْ بِعِلْمٍ وَّلَا تَجْھَلْ بِہٖ أَبَداً اَلنَّاسُ مَوْتٰی وَأَھْلُ الْعِلْمِ أَحْیَاءُ(1)
فضل و شرف تو صرف علمائے شریعت کے لئے ہی ہے کیونکہ یہی علماء رشد و ہدایت چاہنے والوں کی ہدایت کے راہ نماہیں۔ ہر شخص کی قدرو قیمت اس کے حسن عمل سے ہے اور جاہل و بے علم لوگ اہلِ علم کے دشمن ہیں۔ پس تم حصول علم میں کامیابی حاصل کرو اور جہالت سے ہمیشہ بچتے رہو کیونکہ اہلِ علم حیات اَبدی پاتے ہیں اور جاہل عوام بحالت زندگی بھی مردہ ہیں۔
حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ''احیاء العلوم''میں فرماتے ہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے کہ ''حکمت
(یعنی تَفَقُّہ فِی الدِّیْن)
اہل شرف کے شرف کو بڑھاتی ہے غلام کا درجہ بلند کرتی ہے اور اسے شاہوں کی مجلسوں میں بٹھا دیتی ہے۔''(2)اور یہ بھی ایک مشہور مقولہ ہے:
لَوْلا الْعُلَمَاءُ لَھَلَکَ الْاُمَرَاءُ (3)
اگر علماء نہ ہوتے تو امراء ہلاک ہوجاتے ۔مطلب یہ کہ امراء جب اپنی انانیت ، امارت اور حکومت کے زعم میں اللہ و رسول(عزوجل وصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی نافرمانی اور خواہش نفس کی پیروی میں کفر و ضلالت کا راستہ اختیار کرتے ہیں اس وقت علماء حق ہی انہیں اس سے روکتے ہیں اور عذاب آخرت سے انہیں بچاتے ہیں۔
شرعی نقطہ نگاہ سے حصولِ علم کی کئی قسمیں ہیں۔ پہلی قسم تو وہ علم ہے جس کا حاصل کرنا شریعت میں ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض عین ہے جیسے عقائد اسلام کا علم کہ اگر وہ اسلام کے ضروری عقائد کو نہ جانے گا جو کہ اسلام کی بنیاد ہیں تو وہ کس طرح اسلام پر قائم رہے گا اور جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جو اسلام کے پانچ ارکان سے ہیں ان پر عمل کرنے کے لئے ان کے فرائض وواجبات اورضروری مسائل کا علم، یہ علم کہ شریعت میں حلال کیا ہے اور اس چیز کا علم کہ کن کن چیزوں سے دین ختم اور برباد ہوجاتا ہے تاکہ ایسی چیزوں سے بچے اور دور رہے اور فرائض و واجبات کی ادائیگی صحیح طریقہ سے انجام دے اور متشابہات میں مبتلا نہ ہو
1 ۔ ''الدرالمختار''،المقدمۃ،ج ۱، ص ۱۰۵.
2 ۔''احیاء علوم الدین''،کتاب العلم، الباب الأول فی فضل العلم...إلخ،ج۱،ص۲۰.
و''حلیۃ الأولیاء''،الحدیث:۸۲۳۵،ج۶،ص۱۸۵.
3 ۔''الدرالمختار''،المقدمۃ،ج۱،ص ۱۰۶.
جیسا کہ''تبیین ''میں ہے کہ ''بلاشک وشبہ اسلام کے بنیادی ارکان خمسہ کا علم حاصل کرنا فرض عین ہے اور علم الاخلاص کا حاصل کرنا بھی کیونکہ عمل کے صحت و ثواب کا دارو مدار اسی پر ہے اسی طرح حلال و حرام اور ریاء و سمعہ کا علم بھی کیونکہ اگر عمل میں ریاء شامل ہوجائے تو ہر عبادت بے روح اور عابد ثواب سے محروم ہوجاتا ہے اورعجب (1)و غرور اور حد کا علم حاصل کرنا بھی فرض عین کیونکہ یہ چیزیں بھی اعمال کو سوخت اور ضائع کردیتی ہیں اوربیع و شرا کا علم،(2)نکاح و طلاق اور دیگر معاملات کا علم ان لوگوں کو حاصل کرنا ضروری ہے جو ان معاملات سے متعلق ہوں اورمحرمات الفاظ کا علم اورکفریہ کلمات کا علم بھی حاصل کرناضروری ہے۔''فرماتے ہیں:بخدا یہ اہم ترین چیز ہے اس زمانے میں محرمات الفاظ اورمُکَفَّر کلمات کا علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ اب عوام بلا خوف و بلا جھجک ایسے الفاظ اور ایسے جملے بے تکلف بول دیتے ہیں جو انہیں دائرہ اسلام سے خارج کردیتے ہیں اور وہ اپنی غفلت، لا علمی اور بے توجہی سے ان کی خطرناکی کو نہیں سمجھتے اور اپنا ایمان ضائع کربیٹھتے ہیں اس لئے احتیاط کا تقاضا ہے کہ وہ روزانہ ہی اپنے ایمان کی تجدید کرلیا کریں کہ کہیں لا علمی میں کوئی کفری کلمہ یا کفری عمل کا صدور تو نہیں ہوگیا۔(3)
علم کی وہ ہے جس کا حاصل کرنا شریعت میں فرض کفایہ ہے یعنی جس کا حاصل کرنا اور بجالانا ضروری تو ہو مگر ہر فرد پر نہیں یعنی یہ ضروری نہیں کہ ہر آدمی کرے بلکہ اگر کچھ لوگ بھی اسے کرلیں گے تو مقصود حاصل اور فرض کی ادائیگی ہوجائے گی، باقی لوگ گنہگار اور تارک فرض نہ ہوں گے۔ ''تبیین ''میں فرض کفایہ کی یہ تشریح کی گئی ہے کہ فرض کفایہ وہ علم ہے کہ انسانی معاشرت اور امور دنیا کو قائم رکھنے میں اس سے استغناو صرف نظر نہ کیا جاسکے جیسے علم طب، علم لغت، علم قراء ت، اسناد احادیث کا علم، وصایا وراثت کی تقسیم،کتابت، معانی و بدیع و بیان، معرفت ، ناسخ ومنسوخ اور علم عام ،خاص، نص اور ظاہر کا ،یہ علوم تفسیر و حدیث کے لئے ضروری ہیں۔ا یسے ہی علم الاثار والاخبار، علم اسماء الرجال،(4)علم اسماء صحابہ ان کے فضائل اور ان کے عدالت فی الروایۃ،ان کی عمریں اور علوم صنعت و حرفت، فلاحت و کاشت وغیرہا یہ تمام علوم فرض کفایہ میں داخل ہیں۔(5)
علم کی وہ ہے جس کا حاصل کرنا شرعاً مندوب و مستحسن ہے اور وہ ہے فقہ میں تبحرو مہارت پیدا کرنا اور اس پر عبور حاصل کرنا، اور علم القلب میں مہارت پیدا کرنا۔تبحر فی ا لفقہ کا مطلب یہ ہے کہ فقہ میں اس کی معلومات زیادہ سے زیادہ ہوں اور اس کی
1 ۔خود پسندی۔ 2 ۔یعنی خریدوفروخت کا علم۔
3 ۔''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب: فی فرض الکفایۃ وفرض العین،ج۱،ص۱۰۷۔۱۰۸.
4 ۔احادیث کے راویوں کے بارے میں جاننے کا علم۔
5 ۔''ردالمحتار''، المقدمۃ،مطلب:فی فرض الکفایۃ وفرض العین، ص ۱۰۸.
گہرائیوں ا ور باریکیوں پر نظر رکھتا ہو اور اس سے متعلق دیگر علوم شرعیہ میں بھی اسے مہارت تامہ اور ملکہ حاصل ہو۔علم القلب سے مراد علم الاخلاق ہے اور علم الاخلاق کا مطلب ہے کہ انواع فضائل اخلاق کون کون سی ہیں اور ان فضائل کو حاصل کرنے کے کیاطریقے ہیں اورر ذائل اخلاق کی قسمیں کیا کیا ہیں اور ان سے بچنے اور محفوظ رہنے کے راستے کون کون سے ہیں۔(1)
علم کی وہ ہے جو حرام ہے جیسے فلسفہ کا وہ حصہ جس میں عالَم کے قدیم ہونے، خدا کا انکار کرنے، آسمانوں کے وجود کا انکار کرنے اور دیگر کفریات و محرمات کی تعلیم دی جاتی ہو لیکن اگر کوئی شخص اپنے اسلام کی پختگی کے ساتھ ان کا رد کرنے کے لئے اور لوگوں کو اس علم کی گمراہی سے بچانے کے لئے اس کا علم حاصل کرے تو یہ جائز ہے۔ شعبدہ بازی، سحر، کہانت اور منطق کے علم کا وہ حصہ جس سے ضلالت و گمراہی پیدا ہو ان سب کا حاصل کرنا حرام ہے اسی طرح علم تَنْجِیْم (2)بھی ہے کہ اگر اِس علم سے مقصود یہ ہو کہ اس کے ذریعہ سے ماہ و سال، اوقات صلوٰۃ و سمتوں اور موسموں کی اقسام کا حال معلوم کیا جائے اور زکوۃ و حج کے اوقات کو جانا جائے تومضائقہ نہیں یہ جائز ہے اور اگر علم تنجیم سے مقصود یہ ہو کہ اس کے ذریعہ سے آنے والے حوادث کو معلوم کیا جائے اور غیبی امور بتانے کے لئے استعمال کیا جائے اور ستاروں کی گردش کے دنیا پر اثرات ظاہر کرنے کے لئے حاصل کیا جائے توحرام ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :''نجوم کا اتنا علم حاصل کرو جس سے تم اپنے بحری و بری سفر میں راستوں کی شناخت کرسکو اس سے زیادہ نہیں۔''علم نجوم اگرچہ آسمانی علم ہے جو سیّدنا حضرت ادریس علیہ السلام کو دیا گیا تھا اور وہ ان کا معجزہ تھا اس میں ظن و تخمین(3)یا حسابیات کو دخل نہ تھاوہ ایک روحانی قوت تھی جو منجانب اﷲعطا کی گئی تھی وہ علم باقی نہیں رہا بعد میں لوگوں نے ظن و تخمین اور حسابیات سے کام لینا شروع کردیا اور ستاروں کے اثرات کو موثر بالذات مان لیا جو اسلام کے قطعا ًمنافی ہے۔(4)
علم رمل(5)بھی انہیں علوم میں شامل ہے جن کا حاصل کرنا حرام ہے علامہ ابن حجر اپنے فتاویٰ میں بیان فرماتے ہیں کہ ''اس علم کا سیکھنا سخت حرام ہے کیونکہ اس علم سے عوام کے دماغوں میں یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ اس علم کا جاننے والا اللہ عالم الغیب کا شریک ہے۔''(6)
علم سحر، علم کہانت، علم الحروف اور علم الموسیقی وغیرہ بھی علوم محرمات میں داخل ہیں اور علم طبیعی کا وہ حصہ حرام علم میں داخل
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:فرض العین افضل من فرض الکفایۃ،ج۱،ص۱۰۸.
2 ۔یعنی علم نجوم۔ 3 ۔یعنی گمان واندازہ۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار'' المقدمۃ،ج۱،ص۱۰۹۔۱۱۰.
5 ۔ایک علم جس میں ہندسوں اور خطوط وغیرہ کے ذریعہ سے غیب کی بات دریافت کرتے ہیں۔
6 ۔''الفتاوی الحدیثیۃ''،مطلب:ماحکم علم الرمل،ص۱۶۰.
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار'' المقدمۃ،ج ۱، ص ۱۱۰،۱۱۴.
ہے جو فلاسفہ کے باطل نظریات کے مطابق ہو جو اسلامی اعتقادات کو فاسد کرتے ہوں۔ جیسے عالَم کے قدیم ہونے کا اعتقاد کہ یہ سراسر باطل اور کفر ہے۔(7)
علم کی وہ ہے جو مکروہ ہے جیسے شعراء مولدین کے وہ عشقیہ اشعار جن میں عورتوں اور نوخیز نوجوانوں کے حسن، نازوادا،ان کے ہجرو وصال اور شراب و کباب کی باتیں ہوں یا لغوگوئی اور کذب بیانی ہو یا ان میں مسلمان کی ہجو کی گئی ہوجیسا کہ صاحب فتح القدیر علیہ الرحمہ نے بیان فرمایا، ایسے ہی اشعار کے لئے حدیث پاک میں ہے:''
لأن یَّمْتَلِیءَ جَوْفُ أَحَدِکُمْ قَیْحًاخَیْرٌلَّہٗ مِنْ أَن یَّمْتَلِیءَ شِعْراً
'' یعنی تمہارے پیٹ میں قے بھری ہو وہ بہتر ہے اس سے کہ شعر بھرے ہوں۔''
عربی شعراء بلغا اور خطباء کے عربی ادب میں چھ طبقات بیان کیے گئے ہیں:
(۱)اَلْجَاھِلِیَّۃُالاولٰی(۲)اَلْمُخْضَرَمُوْنَ(۳)اَلْإِسْلامِیُّوْنَ (۴)اَلْمُوَلَّدُ وْن(۵) اَلْمُحْدَثُوْنَ اور (۶) اَلْمُتَأَخِّرُوْنَ
ان میں سے پہلے تین طبقات کے بارے میں فقہائے اسلام فرماتے ہیں کہ ان تین طبقات کا کلام چونکہ عربی ادب میں سند کی حیثیت رکھتا ہے اورفصاجت و بلاغت اور جزالت(1)میں اس کا وہ مقام ہے کہ قواعد زبان عربی انہیں کے کلام سے مرتب کیے گئے اور قواعد عربیہ پر ہی قرآن کریم اور احادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو سمجھنے کا دارو مدار ہے اس لئے ان تینوں طبقات کے اشعار کی روایت اور ان کے ادب و لغت کی معرفت فرض کفایہ کا درجہ رکھتی ہے ۔ فقہاء فرماتے ہیں۔'' کلام جاہلیت کے معانی و مفاہیم اور مطالب ناپسندیدہ لغو اور خلاف شریعت اگر ہوں بھی تاہم الفاظ و تراکیب میں لسانی اعتبار سے کوئی غلطی نہیں ہے اہلِ زبان کے نزدیک وہ نہایت فصیح و بلیغ اور مستند ہیں۔''(2)(ردالمحتار،ج ا،مقدمہ)
علم کی وہ ہے جس کا حاصل کرنا مباح ہے جیسے شعراء کے وہ اشعار جن میں نہ کسی مسلمان کی ہجو ہو نہ اس کی عزت و آبرو پر حملہ ہو نہ اس کا استخفاف یا تذلیل ہو اور وہ تمام علوم جن کے حصول میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو مباح علم کے زمرے میں آتے ہیں۔(3)
بہرحال ان تمام علوم کی شرعی حیثیت ہمیں علم فقہ سے معلوم ہوئی اور یہ صرف علم فقہ ہے جس کے ذریعہ سے ہم کسی بھی علم کے
1 ۔فصاحت،روانی۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:فی الکلام علی إنشاد الشعر،ج۱،ص۱۱۴۔ ۱۱۶.
و''فتح القدیر''،کتاب الشھادات،باب من تقبل شھادتہ ومن لا تقبل ،ج۶،ص۴۸۲.
و''صحیح البخاری''، کتاب الأدب، باب مایکرہ أن یکون الغالب علی الإنسان...إلخ، الحدیث ۶۱۵۴،ج۴،ص۱۴۲.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:فی الکلام علی إنشاد الشعر،ج۱،ص۱۱۶.
جائز یا ناجائز ہونے کو معلوم کرسکتے ہیں اور یہ ہمارے فقہاء کرام ہیں جنہوں نے شریعت اسلامیہ کی روشنی میں افعالِ مکلفین کے ہر ہر فعل کے جواز یا عدم جواز کو بیان فرمادیا ہے۔
ان کی فقہی خدمات نے یہ ثابت کردیا کہ اسلام ایک ہمہ گیر اور جامع نظام زندگی ہے جو انسانی حیات کے ہر پہلو کی اصلاح کرتا ہے اور قرآن پاک کا یہ فرمان:
(وَلَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۹﴾
)
(1) یعنی قرآن کریم میں ہر شے کا بیان ہے ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی صداقت شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ یہ ہے فقہ کی عظمت و فضیلت ''الاشباہ والنظائر'' میں ہے کہ فقہ حدیث کا ثمرہ ہے اور فقیہ کا اجر و ثواب محدث سے کم نہیں ہے۔(2) بلکہ درحقیقت فقیہ قرآن ،حدیث تفسیر اور فقہ کا جامع ہوتا ہے۔
''اشباہ'' میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انبیاء کرام کے علاوہ کوئی دوسراانسان یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ جب اس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے تو اسے کیا اور کتنا ثواب دے گا اور اللہ اسے کیا کیا صفات حمیدہ عطا فرمائے گا کیونکہ ارادہ الٰہی مغیبات میں سے ہے مگر فقہائے کرام اس ارادہ کو جانتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:جب اﷲ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین میں فقیہ بنادیتا ہے۔(3)
شارح مسلم شریف امام نووی فرماتے ہیں'' حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا تمام علم ان چھ حضرات میں تھا سیدنا حضرت علی، سیدنا حضرت عمر، سیدنا حضرت ابی بن کعب، سیدناحضرت ابودرداء، حضرت زید اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم(4)(تقریب ازردالمحتار ج ۲/۳۴)
علماء محققین فرماتے ہیں ، فقہ کی کاشت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمائی، حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے اس کی آبیاری کی ۔ حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کھیتی کو کاٹا، حضرت حماد علیہ الرحمۃ نے اس کا دانہ جدا کیا، حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس کو باریک پیسا، حضرت امام ابویوسف نے اس کا آٹا گوندھا اور حضرت امام محمدرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس کی روٹیاں پکائیں اب تمام اُمت ان روٹیوں سے شکم سیر ہورہی ہے اور حضرت امام محمدرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی عظمت اور جلالت علم ان کی تصانیف سے ظاہر ہے جیسے جامع صغیر ،جامع کبیر، مبسوط ،زیادات اور النوادر وغیرہ۔
ایک روایت کے مطابق فقہ میں امام محمد علیہ الرحمۃکی تصنیفات کی تعداد نو سو۹۹۹ ننانوے ہے آپ کے ہی تلامذہ میں سے
1 ۔ترجمہ کنزالایمان:اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔(پ۷،الانعام:۵۹)
2 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الثالث:الجمع والفرق،ص۳۳۰.
3 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الثالث:الجمع والفرق،ص۳۳۷.
و''صحیح البخاری''،کتاب العلم، باب من یرداﷲ بہٖ ...إلخ،الحدیث:۷۱،ج۱،ص۴۲.
4 ۔''ردالمحتار''، المقدمۃ،مطلب:یجوزتقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۲۱.
امام شافعی علیہ الرحمہ ہیں۔ آپ نے حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ کی بیوہ ماں سے عقد کرلیا تھا اور امام شافعی علیہ الرحمہ ہی کو اپنا تمام مال اور کتب خانہ دے دیا تھا۔ امام شافعی کے فقیہ و مجتہد ہونے کا سب سے بڑا اور حقیقی سبب یہی ہے خود امام شافعی فرماتے ہیں کہ جو شخص علم فقہ حاصل کرنا چاہے اسے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے تلامذہ و اصحاب(رحمہم اللہ تعالٰی )کا دامن تھام لینا چاہیے کیونکہ حقائق ان پر منکشف کردیئے گئے ہیں اور معانی، مفاہیم تک رسائی ان کے لئے سہل بنادی گئی ہے پھر فرمایا واﷲمیں ہر گز فقیہ نہ ہوتا اگر میں محمد بن الحسن شیبانی کا دامن نہ تھام لیتا اور ان کی کتابیں میرے پاس نہ ہوتیں۔
حضرت اسمٰعیل بن ابی رجاء فرماتے ہیں:میں نے حضرت امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو خواب میں دیکھا میں نے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا انہوں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرمادی اور فرمایا اگر میں تجھے عذاب دینے کا ارادہ رکھتا تو یہ علم تجھے نہ دیتا۔ حضرت اسماعیل نے دوسرا سوال کیا کہ ابو یوسف(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کہاں ہیں جواب میں فرمایا ہم سے دودرجہ اوپر، پھر میں نے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بارے میں سوال کیا فرمایا:وہ تو بہت ہی بلند اعلیٰ علیین میں ہیں۔
صاحبِ درمختار علامہ علاؤ الدین الحصکفی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی کااعلیٰ علیین میں ہونا قطعاً تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ آپ اس درجہ عابد و زاہد، متقی اور صاحب ورع تھے کہ چالیس سال تک آپ نے عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا فرمائی اور آپ (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)نے اپنے رب (عزوجل)کا سوبار خواب میں دیدار فرمایا، آپ نے اپنے آخری بار حج میں حِجَبَۃُ الْکَعْبَہ(محافظین کعبہ)سے کعبہ کے اندر داخل ہو کر اندرون عمارت کعبہ نماز ادا کرنے کی اجازت چاہی آپ اندر داخل ہوئے اور دوستونوں کے درمیان عالَمِ شوق میں صرف داہنے پیر پر کھڑے ہو کر بایاں پیر سیدھے پیر کے اوپر رکھ لیا یہاں تک کہ اسی حالت میں قرآن پاک نصف پڑھ لیاپھر رکوع و سجدہ کیا دوسری رکعت میں بائیں پیر پر کھڑے ہو کر داہنا پیر اٹھا کر بائیں پیر پر رکھا اور نصف آخر قرآن پاک ختم فرمایا، جب سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوئے تو بے ساختہ روتے ہوئے اپنے رب(عزوجل)سے مناجات کی اور عرض کیا:اے میرے معبود !اس کمزور و ضعیف بندے نے تیرا کچھ بھی حقِ عبادت ادا نہیں کیا لیکن تیری معرفت حاصل کرنے میں حق معرفت ادا کیا پس تو اس کے حقِ عبادت کی ادائیگی میں نقصان کو اس کے کمال معرفت کے بدلے بخش دے۔ اس وقت خانہ کعبہ کے ایک گوشہ سے یہ غیبی آواز آئی:اے ابوحنیفہ !بے شک تو نے حقِ معرفت ادا کیا اور ہماری عبادت کی اور بہترین عبادت کی یقیناً ہم نے تیری مغفرت فرما دی اور اس کی بھی جس نے تیری اتباع کی اور جس نے تیرا مسلک اختیار کیا یہاں تک کہ قیامت آجائے۔حضرت امام ابوحنیفہ (رحمہ اللہ تعالٰی )سے کسی نے سوال کیا کہ آپ اس بلند مقام پر کیسے پہنچے آپ (رحمہ اللہ تعالٰی )نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے میں کبھی بخل نہیں کیا اور جو مجھے نہیں آتا تھا اس میں دوسروں سے استفادہ کرنے سے میں کبھی نہیں رکا۔(1)
1 ۔''الدرالمختار''،المقدمۃ،ج۱، ص۱۲۰۔۱۲۷.
امام ابو یوسف (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کی روایت یہ ہے کہ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے کسی نے سوال کیا کہ آپ نے علم کا یہ درجہ کس طرح حاصل کیا۔ آپ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)نے فرمایا کہ میں نے علم حاصل کرنے میں سخت محنت کی اور بیش از بیش شکر الٰہی ادا کیا کہ جب بھی مجھے کسی چیز کی فہم ملی اور علم و حکمت حاصل ہوا تو میں نے الحمد للہ کہا تواللہ تعالیٰ میرا علم زیادہ فرماتا رہا۔(1)
مسافر بن کرام یا بقول امام شامی مِسعر بن کدام کہتے ہیں جس نے امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کو اپنے اوراللہ (عزوجل)کے درمیان میں لے لیا مجھے اُمید ہے کہ پھر اسے کوئی خوف نہ رہے گا۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام نے مجھ پر فخر فرمایااور میں اپنی اُمت میں سے ایک شخص پر فخر کروں گا جس کا نام نعمان اور اس کی کنیت ابو حنیفہ ہے۔ ایک دوسری روایت یہ ہے کہ تمام انبیاء کرام مجھ پر فخر کریں گے اور میں ابو حنیفہ پر فخر کروں گا جو اس سے محبت کریگا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے اس سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا(تقدمہ شرح مقدمہ ابی اللیث)علامہ ابن جوزی نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا کہ یہ موضوع حدیث ہے۔ لیکن
''اَلضِّیَاءُ الْمَعْنَوِی''
میں ابن جوزی کے اس قول کو تعصُّب پر محمول کیا ہے کیونکہ یہ حدیث متعدد اور مختلف طریقہ پر روایت کی گئی ہے۔(2)
علامہ ابن حجر مکی شافعی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب
''اَلْخَیْرَاتُ الْحَسَان فِیْ تَرْجَمَۃِ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ النَّعْمَان''
میں فرمایا:امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے حالات، کرامات اور اخلاق و سیرت جو اس کتاب میں بیان کئے گئے ہیں جو شخص بھی ان کا مطالعہ کرے گا وہ جان لے گا کہ آپ کی عظیم بلند شخصیت اس امر سے بے نیاز ہے کہ آپ کے فضائل میں موضوع احادیث کا سہارا لے۔ نیز فرمایا کہ جو چیز آپ کی عظمت شان اور علو مرتبت کے لئے استدلال کا کام دیتی ہے وہ یہ حدیث ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:۱۵۰ھ میں زینت دنیا اٹھائی جائے گی۔شمس الائمہ کردری فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت امام ابوحنیفہ (رحمۃاللہ علیہ )کی ذات پر محمول ہے کیونکہ آپ کا وصال ۱۵۰ ھ میں ہوا۔(3)
علامہ ابن حجر مکی (رحمۃاللہ تعالٰی علیہ)فرماتے ہیں کہ اور احادیث صحیحہ بھی آپ کی شان میں وارد ہیں جو آپ کی فضیلت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ بخاری و مسلم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ،او ر شیرازی و طبرانی قیس بن سعد بن عبادہ سے ان الفاظ میں روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :اگر علم ثریا کے پاس معلق ہوتا تو بھی
1 ۔''ردالمحتار''،المقدمۃ، مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص ۱۲۷.
2 ۔''الدرالمختار''،المقدمۃ،ج۱،ص۱۲۷۔۱۲۹.
3 ۔''مسند أبی یعلی'' ،مسند عبدالرحمن بن عوف،الحدیث:۸۴۸،ج۱،ص۳۵۲.
و''الخیرات الحسان فی مناقب الإمام الأعظم أبی حنیفۃ النعمان''،المقدمۃ الثالثۃ،ص۲۵ .
ابنائے فارس اسے حاصل کرلیتے ۔(1)اور طبرانی کے لفظ بروایت قیس یہ ہیں کہ عرب اسے نہ پائیں گے ابنائے فارس ضرورحاصل کرلیں گے۔(2)روایت مسلم ابوہریرہ سے ہے :اگر ایمان ثریا کے پاس ہوتا تو بھی ابنائے فارس جاتے حتی کہ اسے حاصل کرلیتے۔(3)اور روایت شیخین میں(4)حضرت ابوہریرہ(رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے ہے :قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر دین ثریا پر معلق ہوتا تو بھی فارس کا ایک شخص اس کو حاصل کرلیتا ۔(5)اور فارس سے مراد اس کے مشہور شہر نہیں ہیں بلکہ عجمی قوم مراد ہے اور وہ فارس کے لوگ ہیں کیونکہ دیلمی کی روایت ہے،
''خَیْرُ الْعَجَمِ فَارِسٌ''
(6)اور امام ابوحنیفہ کے دادا فارس ہی سے تھے،اکثر علماء کی یہی تحقیق ہے(7)
علامہ حافظ سیوطی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں یہ حدیث جس کی امام بخاری نے روایت کی ہے اصل ہے صحیح ہے اس پر اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اشارہ حضرت امام ابوحنیفہ (علیہ الرحمۃ)کی طرف ہے اور
''حاشیہ شَبْرَامَلِّسِیْ عَلَی الْموَاھِبْ''
میں علامہ شامی جو کہ حافظ سیوطی کے تلمیذہیں ،فرماتے ہیں کہ ہمارے شیخ کا یہ جزم کہ اس حدیث سے امام ا بوحنیفہ (علیہ الرحمۃ)مراد ہیں یہ وہ جزم و یقین ہے کہ جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں کیونکہ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ابنائے فارس میں آج تک کوئی فرد بھی علم کی اس بلندی اور مقام پر نہیں پہنچا جس پر امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ ہیں۔(8)علامہ جرجانی امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کے فضائل ومناقب میں بحوالہ سند حضرت سہل بن عبداللہ التستری(رحمۃاللہ تعالٰی علیہ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اگر امت موسٰی اور عیسٰی میں امام ابوحنیفہ(رحمۃاللہ تعالٰی علیہ)جیسے ہوتے تو ان کی اُمت یہود اور نصاری نہ بن سکتی۔(9)
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب فضائل الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم ،باب فضل فارس،الحدیث:۲۳۰۔ (۲۵۴۶)،ص۱۳۷۸.
و''کنزالعمال''،کتاب الفضائل،القبائل وذکرھم،الحدیث:۳۴۱۲۶،ج۱۲،ص ۴۲.
2 ۔ ''المعجم الکبیر''، ما أسند قیس بن سعد،الحدیث:۹۰۰،ج۱۸،ص۳۵۳.
و''کنزالعمال''،کتاب الفضائل،القبائل وذکرہم،الحدیث:۳۴۱۲۴،ج۱۲،ص۴۲.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب فضائل الصحابۃرضی اﷲ تعالٰی عنھم ، باب فضل فارس،الحدیث:۲۳۰،۲۳۱۔ (۲۵۴۶)،ص۱۳۷۸.
4 ۔یعنی بخاری ومسلم میں۔
5 ۔''صحیح مسلم''،کتاب فضائل الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم ، باب فضل فارس، الحدیث:۲۳۰۔ (۲۵۴۶)،ص ۱۳۷۸.
و''کشف الخفاء''،حرف الواو،الحدیث:۶۲۲۹،ج۲،ص۳۱۳.
6 ۔ ''فردوس الاخبار''، الحدیث ۲۷۱۴، ج۱، ص ۳۶۶.
7 ۔''الخیرات الحسان''، فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان، المقدمۃ الثالثۃ،ص۲۳۔۲۴.
8 ۔''ردالمحتار''، المقدمۃ، مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۳۰.
9 ۔''الدر المختار''، المقدمۃ،،ج۱،ص۱۳۱.
یعنی اُن کی امت میں اس طرح کے عقائد ضالہ باطلہ داخل نہ ہوسکتے اگر ان امتوں میں امام اعظم ابوحنیفہ (رحمۃاللّہ تعالٰی علیہ)جیسا روشن دماغ،صاحبِ فہم و اِدراک ،صاحبِ عقل وبصیرت،علومِ دینیہ کا ماہر و کامل، صاحبِ صدق و صفااور عارف بالحق ہوتا تو وہ ان کے عقائد باطلہ اور نظریات فاسدہ ضالہ کا رد کرتا اور ان امتوں کو ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روک دیتا۔(1)
امام الائمہ حضرت امام ابوحنیفہ(رحمۃاللہ تعالٰی علیہ)کے فضائل و مناقب اور کمالات احاطہ شمار سے زیادہ ہیں سبط ابن جوزی نے دو بڑی جلدوں میں ان مناقب کو بیان کیا ہے اور ان کا نام
''اَلا نْتِصَارلِإِمَامِ آئِمَّۃِ الأ مْصَار''
رکھا۔(2)جن علماء عظام نے آپ کے فضائل و مناقب میں تصنیفات کیں اور آپ پر حاسدوں کی طرف سے کئے جانے والے(اعتراضات کے)(3)جوابات دیئے ان میں علامہ سیوطی علیہ الرحمہ ہیں ۔انہوں نے ''تَبْیِیْضُ الصَّحِیْفَۃ'' تصنیف کی اور علامہ ابن حجر المکی الشافعی نے جو کتاب لکھی اس کا نام''خَیْرَاتُ الْحَسَان''رکھا جس کا ذکر کچھ ہی پہلے کیا جاچکا ہے۔ اسی موضوع پر علامہ یوسف ابن عبدالہادی کی کتاب'' تَنْوِیْرُ الصَّحِیْفَۃ''ہے اس میں علامہ یوسف بن عبدالہادی نے ابن عبدالبر کا یہ قول بیان کیا :''حضرت امام ابوحنیفہ (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کی شان میں کوئی برا لفظ ہر گز نہ کہا جائے اور نہ کسی ایسے شخص کی تصدیق یا موافقت کی جائے جو آپ کی شان میں بدگوئی کرے بخدا میں نے آپ(رحمۃ اللّہ تعالٰی علیہ)سے زیادہ افضل ،متورّع اور آپ سے زیادہ فقیہ کسی کو نہیں پایا۔ آگے چل کر مزید فرمایا کہ کوئی شخص خطیب کے کلام سے جو انہوں نے امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کے خلاف لکھا ہے، دھوکہ نہ کھائے کیونکہ خطیب تو بہت سے علماء کے خلاف شدید عصبیت کا شکار ہیں، نہ ان کی عصبیت سے امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)محفوظ رہے ،نہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ اور نہ ان کے اصحاب ،انہوں نے سب ہی پر بھرپور حملے اور تنقیدیں کی ہیں۔ خطیب کی ان تحریروں اور تنقیدوں کے جوابات بھی لکھے گئے اور
''اَلسَّھْمُ الْمُصِیْبُ فِیْ کَبْدِ الْخَطِیْب''
نام کا رسالہ خطیب بغدادی کے جواب ہی میں ہے۔ رہا معاملہ ابن الجوزی کا، انہوں نے حضرت امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)پر طعن وتنقید میں جو کچھ کہا وہ خطیب بغدادی کی آواز بازگشت ہے خود ابن الجوزی کے پوتے نے اپنی کتاب ''مِرْآۃُ الزَّمَان''میں اپنے دادا کے کلام پر حیرت کا اظہار کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ علامہ خطیب بغداد ی اگر طعن کرتے ہیں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ انہوں نے بہت سے علماء پرطعن کیا ہے،(گویا یہ ان کی عادت ہے)تعجب تو اپنے جد محترم ابن الجوزی پر ہے کہ انہوں نے خطیب کا اسلوب و طریقہ کیوں اختیار کیا اور اتنی بڑی بات کہی۔ سبط ابن الجوزی فرماتے ہیں ۔ اما م ابوحنیفہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے تعصب رکھنے والوں میں دار قطنی اور ابو نعیم (صاحب الدلائل)بھی ہیں کیونکہ انہوں نے کتاب''حلیہ''میں ان علماء کا ذکر کیا جو حضرت امام اعظم
1 ۔''ردالمحتار''، المقدمۃ، مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۳۱.
2 ۔''الدر المختار''،المقدمۃ،ج۱،ص۱۳۱،۱۳۲.
3 ۔اس بریکٹ کی عبارت،تقاضہ عبارت کی وجہ سے لکھ دی گئی۔...علمیہ
(رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں کمتر ہیں لیکن امام اعظم (رضی اللہ تعالٰی عنہ)کا ذکر نہیں کیا۔(1)
علامہ تاج السبکی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :جن لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ انہیں رشد و ہدایت حاصل ہوجائے انہیں چاہے کہ وہ تمام ائمہ سابقین کے ساتھ ادب و احترام کا طریقہ اپنائیں اور ان کے باہمی مکالمات کی طرف توجہ نہ دیں مگر جب کہ ان ائمہ میں سے کسی کا کلام کسی واضح اور مضبوط دلیل کا حامل ہو۔ پھر بھی اگر تم ان اقوال میں کوئی بہتر تاویل اور حسنِ ظن قائم کرسکتے ہو تو اسی پر محمول کرو بصورت دیگر اسے نظر انداز کردو (یعنی ان کی مذمت ومنقصت نہ کرو اور انہیں مطعون نہ کرو)ہر گز ہر گز تم ان مکالمات کی طرف کان نہ لگاؤ جو حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیھماکے درمیان وقوع پذیر ہوئے یا حضرت امام مالک اور حضرت ابن ابی الذئب (رحمہمااللہ تعالٰی)کے درمیان ہوئے یا حضرت امام احمدبن صالح(2)اور امام نسائی یا امام احمد اور حضرت حارث المحاسبی کے مابین ہوئے(رحمہم اللہ تعالٰی)۔(3)
علامہ تاج السبکی علیہ الرحمۃ والرضوان نے اس کے بعد حضرت امام مالک علیہ الرحمۃ پر تنقید کرنے والوں اور حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ پر ابن معین کے اعتراض و کلام کو ذکر کرکے فرمایا کہ ایسے ایسے ائمہ کرام اور اکابرین پر اعتراض کرنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی نادان پہاڑ کے پتھروں سے اپنا سر ٹکرائے۔ ظاہر ہے کہ نقصان خود اس کے سر کا ہوگا پتھر کا کچھ نہ بگڑے گا۔
جیسا کہ حسن بن ہانی نے کہا ہے۔
یَانَاطِحَ الْجَبَلِ الْعَالِیِ لِیَکْلِمَہٗ أَشْفِقْ عَلَی الرَّأْسِ لا تُشْفِقْ عَلَی الْجَبَلِ(4)
ترجمہ :''اے پہاڑ سے سر ٹکرانے والے تاکہ پہاڑ کو پھوڑ دے اپنا سر پھٹ جانے سے ڈر پہاڑ کی فکر نہ کر۔''
ائمہ سلف نے اور علمائے متأخرین نے حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف میں اور آپ کے علم و فضل ، فہم و فراست، عقل و درایت، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت اور احتیاط و خشیت الٰہی کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے وہ ایک عظیم ذخیرہ ہے اسے اگر مرتب کیا جائے تو صد ہا کتابیں مولف ہوجائیں ۔علامہ تاج السبکی نے اس کو بالتفصیل بیان فرمایا ہے حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کے خلاف لکھا ہے یہ قطعاً غلط ہے اس کی تردید کے لیے یہ کافی ہے کہ حضرت امام غزالی(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)نے اپنی مشہور و مستند کتاب ''احیاء العلوم ''میں جہاں ائمہ اربعہ کے تراجم و حالات بیان فرمائے ہیں وہاں اما م ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ان کے الفاظ یہ ہیں:''آپ نہایت درجہ
1 ۔''ردالمحتار''، المقدمۃ، مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۳۲،۱۳۳.
2 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''امام احمدابن ابی صالح'' لکھاہواتھا،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل میں یہ''امام احمدبن صالح ''ہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے۔...علمیہ
3 ۔''ردالمحتار''،المرجع السابق،ص۱۳۴.
4 ۔المرجع السابق،ص۱۳۴،۱۳۵.
عابد و زاہد اور عارف باللہ تھے، اﷲ(عزوجل)سے ڈرنے والے اوراﷲ(عزوجل)کی خوشنودی اور رضا چاہنے والے تھے۔(1)
علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :اگر بزرگانِ سلف باہم ایک دوسرے کے بارے میں کوئی کلام یا اعتراض کریں تو کوئی تعجب کی بات ہے ،نہ قابلِ اعتراض اور قابلِ مواخذہ جیسا کہ ہمارے مقتدیٰ و ذو الاحترام صحابہ(رضوان اللہ تعالٰی علیہم)کے درمیان واقعات پیش آئے کیونکہ وہ سب ہی مجتہدین کے درجہ اور مقام میں تھے ،اس لئے یہ فطری امر ہے کہ وہ اپنے مخالف قول پر گرفت کریں اور اسے ناپسند خیال فرمائیں خاص طور سے اس صورت میں جبکہ ان کے پاس دوسرے کے خطا پر ہونے کی دلیل بھی ہو اس سے ان کاحقیقی مقصد دین کی خیر خواہی اور دین کی مدد ہی ہوتا ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ لوگ اس زمانے میں بھی (چھوٹا منہ بڑی بات)سیدنا امام اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اور ان کے تلامذہ و اصحاب پر زبان طعن دراز کرنے سے باز نہیں آتے حالانکہ ان کے پاس علم ہے نہ عمل اور اپنے کھانے پینے ،پہننے اوڑھنے اور معمولات زندگی میں امام اعظم علیہ الرحمۃ کی تقلید پر خواہی نہ خواہی مجبور بھی ہیں۔ ان لوگو ں کی مثال اس مکھی کی سی ہے جو گھوڑے کی دم سے جنگ کرتی ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ خود ان مخالفین کے اکابر اور ان کے امام مذہب نے سیدنا امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کی جلالت علم، عظمت شان ان کی مدح و توصیف اور ادب و احترام میں کیا فرمایا کس طرح ان کی صداقت و حقانیت کو تسلیم کیا ہے۔ محققین علماء کرام نے اپنی تالیفات میں آئمہ ثلثہ اور دیگر علماء کے وہ اقوال بیان کردیئے ہیں جو انہوں نے حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲعلیہ کی تعریف و توصیف میں کہے ہیں خاص طور سے حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا حضرت امام اعظمرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی شان بلند نشان میں اظہارِ عقیدت و محبت ۔بے شک نیک و کامل سے نیکی و کمال کا ہی ظہور ہوتا ہے اور ناقص و بداعمال سے نقص و بدی ہی کا ظہور ہوگا۔ معترض اور بدخواہ کے لئے یہی سزا کافی ہے کہ وہ اس کامل کے فیوض و برکات سے محروم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر محرومی سے محفوظ رکھے۔(2) آمین۔
امام شافعی علیہ الرحمہ کا بارگاہِ امام ابوحنیفہ(علیہ الرحمہ)میں ادب و احترام کا یہ عالم تھا کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ سے برکت حاصل کرتا ہوں اور آپ کی قبر پر حاضری دیتا ہوں اور جب مجھے کوئی ضرورت پیش آتی ہے تومیں دو رکعت نماز نفل ادا کرتا ہوں اور ان کی قبر کے قریب آکر اس کے حل کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں تو میری حاجت جلد پوری ہوجاتی ہے۔(3)(ردالمحتار)اور ایک مستند روایت یہ ہے کہ حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ نے نماز فجر امام اعظم علیہ الرحمہ کی قبر کے نزدیک ادا کی تو اس میں قنوت نہیں کیا۔ جبکہ شوافع کے یہاں قنوت نماز فجر میں پڑھی جاتی ہے کسی نے آپ سے سوال کیا کہ حضور
1 ۔''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۳۵.
و''إحیاء علوم الدین''،کتاب العلم،الباب الثانی فی العلم المحمود...إلخ،القسم الثانی،ج۱،ص۴۴.
2 ۔''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۳۵.
3 ۔المرجع السابق.
یہ کیا کیا، آپ نے فجر میں قنوت نہیں کیا۔ آپ نے جواب میں فرمایا کہ یہ صاحبِ قبر کا ادب و احترام ہے۔(1)
حضرت سیدنا علی الخواص رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا :آئمہ مجتہدین کے متبعین پر ضروری و لازم ہے کہ وہ ہر اس عالم کی تعظیم و احترام کریں جس کی مدح و توصیف ان کے امام مذہب نے کی ہے تقلید و اتباع اور اعتماد کا تقاضا تو یہی ہے۔ (2)
علامہ سبط ابن الجوزی کے علاوہ بھی دیگر علمائے عظام نے حضرت امام اعظم (علیہ رحمۃ اللہ اکبر)کی ذاتِ مقدسہ کی توصیف و تکریم میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں جیسے امام طحاوی، الحافظ الذہبی اور علامہ کردری رحمہم اللہ تعالٰی اجمعین۔
حاصل کلام یہ ہے کہ سیدنا امام اعظم حضرت ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سیدالکل، فخر الرسل، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عظیم معجزات میں سے ایک معجزہ ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کے بارے میں پہلے ہی خبر دے دی تھی جیسا کہ ہم نے ان احادیث میں بیان کردیا ہے جو اس سے قبل تحریر کی ہیں۔(3)جس طرح علمائے محدثین کے نزدیک یہ حدیث :
لا تَسُبُّوْا قُرَیْشًا فَإِنَّ عَالِمَھَا یَمْلأ الارْضَ عِلْماً(4)
قریش کو بُرا نہ کہو کیونکہ ان میں کا ایک عالم زمین کو علم سے بھردے گا۔
حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پر محمول کی جاتی ہے اور ایک اور حدیث حضرت امام مالک رحمۃاللہ علیہ پر محمول کی جاتی ہے۔ جس میں فرمایا گیا:
یُوْشِکُ أنْ یَّضْرِبَ النَّاسُ أَکْبَادَ الْإبِلِ یَطْلُبُوْنَ الْعِلْمَ فَلا یَجِدُوْنَ أَحَداً أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِیْنَۃِ(5)
یعنی عنقریب لوگ طلبِ علم کے لئے لمبے لمبے سفر کریں گے لیکن وہ مدینہ منورہ کے عالم کے مقابلہ میں زیادہ علم والا کہیں اور نہ پائیں گے۔
علماء فرماتے ہیں کہ پہلی حدیث کا اشارہ امام شافعی علیہ الرحمۃ کی طرف اور دوسری حدیث کا اشارہ امام مالک علیہ الرحمہ کی طرف ہے لیکن اس میں احتمال غیر بھی ہے مگر وہ حدیثیں جو سیدنا امام ابوحنیفہ امام الائمہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کی گئی ہیں ان میں مراد حضرت امام ابو حنیفہ(رحمۃاللہ تعالٰی علیہ)ہیں۔ان میں احتمال غیر نہیں ہے کیونکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ اگرچہ حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے بلاشک و شبہ بہت بلند اور افضل ہیں کیونکہ وہ صحابی رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں لیکن یہ بھی
1 ۔''ردالمحتار''، المقدمۃ، مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۳۵.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۳۶.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، المقدمۃ، مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۳۶.
4 ۔''حلیۃ الأولیاء''،الحدیث:۱۳۱۵۴،ج۹،ص۷۳.
5 ۔''جامع الترمذی''، کتاب العلم، باب ماجاء فی عالم المدینۃ، الحدیث ۲۶۸۹، ج۴،ص ۳۱۱.
مُسَلَّمَات میں سے ہے کہ ان کا مقامِ علْم، اِجتہاد ، نشرِدین اور تدوینِ احکامِ شرعیہ میں امام اعظم جیسا نہیں اور یہ اﷲ (عزوجل)کافضل ہے کہ وہ مفضول کو وہ مقام عطا فرمادے جو افضل کو نہ ملے ۔(1)
آپ کے مناقب و فضائل کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کا مسلک و مذہب اس درجہ شائع و ذائع ہے کہ دنیا کے تمام ممالک، بلادو اَمصار میں پھیلا ہوا ہے بعض ممالک اور علاقے ایسے ہیں جہاں آپ کے مسلک کو ماننے والے بھاری اکثریت میں ہیں اور دیگر ائمہ ثلاثہ کے متبعین کی تعداد اقل قلیل ہے نیز علمائے احناف کی کثرت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ علاقہ ماوراء النہر اور سمرقند میں ایک ایسا قبرستان تھا جس میں فقہ حنفی کے ماہر علماء جن میں سے ہر ایک کا نام محمد تھا چار سو کی تعداد میں دفن ہوئے اس قبرستان کا نام ہی'' تُرْبَۃُ الْمُحَمَّدِین'' تھا اسی لئے جب صاحب ہدایہ علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینانی کا وصال ہوا تو وہاں کے لوگوں نے انہیں'' تُرْبَۃُ الْمُحَمَّدِین'' میں دفن نہیں ہونے دیا کیونکہ آپ کا نام محمد نہیں تھا حالانکہ آپ اپنے وقت کے جلیل القدر اورماہر و کامل عالم تھے، مجبوراً آپ کو اسی قبرستان کے قریب دوسری جگہ دفن کیا گیا۔ایک روایت یہ ہے کہ جن علماء نے امام اعظم علیہ الرحمہ کے مسلک و مذہب کونقل کیا اور پھیلایا ان کی تعداد چار ہزار ہے پھران میں سے ہر ایک کے تلامذہ اور روایت کرنے والے ان کی تعداد بھی اس قدر ہے اس سے بھی فقہ حنفی کی عظمت و مقبولیت اور اس کے علماء کی کثرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ (2)
علامہ ابن حجر مکی(3)فرماتے ہیں کہ کچھ ائمہ کرام نے فرمایا کہ اسلام کے مشہور ترین ائمہ میں سے کسی سے اس درجہ دین کی خدمت نظر نہیں آتی جتنی امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ اور ان کے اصحاب وتلامذہ نے کی اور جس درجہ علم کے فیوض و برکات اور دین کا نفع علماء اور عوام نے آپ سے اور آپ کے تلامذہ سے حاصل کیا کسی دوسرے سے حاصل نہیں ہوا۔ اس معاملے میں کوئی بھی حضرت امام ابوحنیفہ(رضی اللہ تعالٰی عنہ)کا مثیل و نظیرنہیں ہے ۔بعض علماء نے فقہ حنفی کے تقریباً آٹھ سو ماہرین کے تراجم (حالاتِ زندگی)اپنی کتاب میں بیان فرمائے ہیں جن میں ان کے نام اور نسب تک محفوظ کردیئے ہیں۔(4)اور یہ اس دعویٰ کی دلیل ہے کہ واقعۃً آپ کی ذات سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک عظیم معجزہ ہے آپ کے مسلک و مذہب کو اﷲ جل وعلا نے وہ فضیلت و عظمت اور قبولیت عطا فرمائی کہ صدیوں تک عہدہ قضا اَحناف ہی کے پاس رہا بلکہ ایسی مثالیں شاذو نادر ملیں گی کہ عہدہ قضا کسی غیر حنفی عالم کو ملا ہو ،حکومت عباسیہ کے پورے دور میں یہ عہدہ حنفی علماء کے پاس ہی رہا حالانکہ بنی عباس مسلکاً حنفی نہ تھے۔
1 ۔''ردالمحتار''، المقدمۃ، مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۳۶.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، المقدمۃ، مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۳۷.
3 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر'' شارح بخاری'' لکھاہواتھا،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ شارح بخاری علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃاﷲتعالٰی علیہ ہیں نہ کہ علامہ ابن حجرمکی رحمۃاﷲتعالٰی علیہ،اسی وجہ سے ہم نے متن میں''مکی''لکھ کر تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
4 ۔''الخیرات الحسان فی مناقب الإمام الأعظم أبی حنیفۃ النعمان''، الفصل الثامن،ص۳۷.
پھر ان کے بعد سلاطینِ سلجوقی اور خوارزمی کے زمانے میں بھی عہدہء قضا پر علماء احناف ہی مقرر تھے اور ان کے بعد سلاطین آل عثمان نے بھی عہدہء قضاء پر حنفی علماء ہی کو مقرر کیا۔ ہندوستان میں بھی اسلامی حکومت کے پورے دور میں حنفی علماء ہی اس عہدہ پر رہے اور یہ پورا زمانہ ہزار سال پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد تو حکومتِاسلام اِنتشار کا شکار ہوگئی صرف ایک مصر کا علاقہ ایسا تھا جس میں عہدہء قضا شافعی المسلک علماء کے ساتھ خاص رہا وہ بھی سلطان بیبرس کے زمانے تک۔(1)( ردالمحتار)
فقہ حنفی کی فضیلت میں بعض علماء کا ایک قول یہ ہے کہ سیدنا حضرت عیسٰی علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰ ۃوالسلام اس مذہب کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ فقہ حنفی کے پیرو ہوں گے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قرآنی احکام کا استفادہ براہِ راست حضرت خاتم المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمائیں گے، کیونکہ آپ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہی خلیفہ ہوں گے لیکن حنفی مسلک اس اِستفادہ کے عین مطابق ہوگا۔ اسی طرح سیدنا حضرت امام مہدی شرفہ اللہ تعالٰی جب ظہور فرمائیں گے تو چونکہ وہ خود مجتہد مطلق ہوں گے اس لیے وہ خود مسائل کا استنباط فرمائیں گے، لیکن ان کا استنباط بھی فقہ حنفی پر مُنطَبق ہوگا۔ یہ تمام اُمور اس امرکے شاہد ہیں کہ اﷲتبارک و تعالیٰ نے جمیع علماء اسلام میں آپ کو وہ فضیلت و شرافت اور وہ امتیاز و خصوصیت عطا فرمائی تھی جو آپ کے سوا کسی دوسرے امام کو نہ ملی۔(2)
آپ(رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے فقہ حنفی کی تدوین کی اور اس کو ایک مستقل علم کی شکل عطا فرمائی اور قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے اصولوں پر اس کے احکام کو مُتَفَرّع کیا اور قیامت تک کے لئے امت کو بے نیاز کردیا ۔بعض علماء نے آپ کو اس فضیلت میں سیدنا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے تشبیہ دی ہے کہ جس طرح وہ اول شخص ہیں جنہوں نے بمشورہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ قرآن پاک کو ایک جگہ جمع فرمادیا، اسی طرح حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے سب سے پہلے قرآن و حدیث سے اصول مستخرج فرمائے پھر ان پر احکامِ شرعیہ متفرع کرکے فقہ کی تدوین کی اور اس علم کی بنیاد قائم کی بالیقین حضرت امام ابوحنیفہ کو خود اس پر عمل کرنے، فقہ کی تدوین کرنے اور مسائل متفرع کرنے کا اجر ملے گا اور اس کو بھی قیامت تک اجر ملتا رہے گا جس نے اس کی تدوین و تفریع میں تالیفات کیں اور مسائل کا استخراج کیا تاکہ امت بہ سہولت مسائل شرعیہ سے آگاہی حاصل کرکے اس پر عمل کرے۔(3)حدیث شریف میں ہے :جس نے نیک اور اچھا راستہ ایجاد کیا اسے اس کا اجر ہے اور جو اس پر عمل کریگا اس کا بھی اجر ہے اور یہ اجرا سے قیامت تک ملتا رہے گابغیر اس کے کہ اس پر عمل کرنے والوں کے اجر میں کمی ہو اور جس نے برا راستہ
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۳۷.
2 ۔''الدرالمختار''،المقدمۃ،ج۱،ص۱۳۸۔۱۳۹.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،المقدّمۃ، مطلب: یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۳۹۔۱۴۰.
نکالا تو اس پر اس کا گناہ ہے اور جو اس برے راستہ پر چلے اس کا گناہ ہے بغیر اس کے کہ بعد میں اس پر چلنے والوں کے گناہ میں کمی ہو۔(1)نیز حدیث پاک ہے کہ جو شخص خیر کی طرف رہنمائی کرے اس کو بھی اتنا ہی ثواب ہے جتنا اس پر عمل کرنے والے کو(2)یہ حدیثیں دراصل قواعد شرعیہ اسلامیہ کی بنیاد ہیں جن سے بڑی تعداد میں مسائل متفرع ہوتے ہیں جو نص، سنت ،قیاس اور اجماع سے ثابت نہیں ہیں۔ (3)( عمدۃ المرید للقانی)
امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک و مذہب کی ایک عظیم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس مسلک کو اولیاء کرام کی بہت بڑی تعداد نے اختیار فرمایا جو اپنے سخت مجاہدہ میں ثابت قدم رہے اور مشاہدہ حق سے سرفراز ہوئے جیسے حضرت ابراہیم ابن ادھم بن منصور البَلخی،شقیق البَلخیبن ابراہیم الزاہد تلمیذ امام ابویوسف القاضی متوفی ۱۹۴ ھ ،حضرت معروف الکرخی بن فیروز استاذ سری السقطی متوفی ۲۰۰ ھ(یہ وہ بزرگ ہیں جن کی قبر سے بارانِ رحمت طلب کیا جاتا تھا)،ابی یزید بسطامی آپ کا نام طیفور بن عیسیٰ ہے آپ کے دادا مجوسی سے مسلمان ہوئے متوفی ۱۶۱ ھ ، فضیل بن عیاض الخراسانی متوفی ۱۸۷ ھ، یہ امام ابوحنیفہ کے شاگرد اور حضرت امام شافعی کے استاد ہیں اور بخاری و مسلم نے ان سے روایت کی ہے۔ حضرت داؤد طائی ابن نصر بن نصیر بن سلیمان الکوفی تلمیذ امام اعظم متوفی ۱۶۰ ھ، خلف بن ایوب تلمیذ حضرت امام محمد و زفر علیہما الرحمہ متوفی ۲۱۵ ھ یہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا علم محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عطا فرمایا(جتنا چاہا)آپ سے وہ علم صحابہ کو منتقل ہوا، پھر تابعین کو، ان کے بعد حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو اب جو چاہے خوش ہو اور جو چاہے وہ ناخوش و ناراض ۔ ابی حامد اللفاف ان کا نام احمد بن خضرویہ البلخی ہے متوفی ۲۶۰ ھ ،کبار مشائخ خراسان سے ہیں۔عبد اللہ بن المبارک، آپ نہایت عابد و زاہد، فقیہ اور محدث تھے۔ ادب ونحو، لغت اور فصاحت و بلاغت میں بھی ماہر و کامل تھے۔ آئمہ اربعہ میں سے حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کے اساتذہ میں سے ہیں اورحضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے تلامذہ میں سے ہیں ۱۸۱ھ میں وفات پائی ۔ وکیع بن الجراح بن ملیح بن عدی الکوفی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)صائم الدھر تھے، ہر رات ایک بار ختم قرآن فرماتے۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے تلامذہ میں سے ہیں اور حضرت امام شافعی کے شیوخ میں ہیں ۱۹۸ھ میں وفات پائی۔ ابو بکر الوراق ان کا نام محمد بن عَمْرْو الترمذی ہے، اولیاء کرام سے ہیں، ان اَکابر اولیاء کرام کے علاوہ حاتم اصم اور سید محمد الشاذلی بکری حنفی صاحب کشف و کرامت ہیں ۔(4)
غرض ساڑھے بارہ سو سال میں مسلک احناف کے جس قدر اولیائے کرام گزرے ان کا شمار کرنا مشکل ہے ان میں سے
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ...إلخ ، الحدیث ۶۹۔(۱۰۱۷).ص ۵۰۸.
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الإمارۃ، باب فضل إعانۃ الغازی...إلخ ،الحدیث ۱۳۳۔(۱۸۹۳)، ص ۱۰۵۰.
3 ۔''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:یجوزتقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۴۰.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۴۰۔۱۴۴.
ہر ایک صاحبِ علم و فضل تھے اور صاحبِ زہد و تقویٰ بھی اور صاحبِ مجاہدہ وریاضت بھی اور صاحبِ کشف وکرامت بھی۔
(ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ)
(1) اگر ان حضرات کا ملین کو امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے مذہب میں ذرا بھی شک وشبہ ہوتا کہ اس کی کوئی بات بھی جادہ حق کے خلاف ہے تو اپنے کشف و کرامت کے ہوتے ہوئے ہر گز ہر گز اس مذہب کو اختیار نہ فرماتے۔ علامہ ابوالقاسم قشیری(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)حالانکہ نہایت درجہ شافعی المذہب ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد ابوعلی الدقاق (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے طریقت و معرفت ابوالقاسم النصر أباذی سے حاصل کی، ابوالقاسم فرماتے ہیں مَیں نے اس کو شبلی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیا اور انہوں نے سری سقطی(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)سے اور انہوں نے حضرت معروف کرخی(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)سے اور انہوں نے داؤد طائی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)سے اور داؤد طائی نے یہ علم و طریقت حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے حاصل کیا جو کہ اس میدان کے شہسوار ہیں کیونکہ علم حقیقت کامبنٰی علم شریعت اور عمل بالشریعہ اور تہذیب و تصفیہ نفس ہے اور تمام بزرگانِ اسلاف نے اعتراف کیا ہے کہ امام اعظم علم شریعت و طریقت اور تہذیب و تزکیہ نفس میں کامل تھے۔ امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ''امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)علم ،ورع اور زہد و ایثار کے اس مقام پر تھے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں۔''عبداللہ بن مبارک(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)فرماتے ہیں :امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کے مقابلہ میں کسی کو یہ حق نہیں کہ اس کی اقتداء کی جائے کیونکہ آپ نہایت متورّع ، متقی ، پاکیزہ تر اور عالم و فقیہ تھے آپ نے علم میں وہ انکشاف کئے جو دوسروں کی دسترس سے باہر تھے۔ امام ثوری (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)نے اس شخص سے جو امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کے پاس ہو کر آیا تھا فرمایا کہ بلاشبہ تو ایسے شخص کے پاس سے آیا ہے جو تمام روئے زمین میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہے۔(2)
غرض تمام ہی علماء اصفیاء عرفاء نے آپ کی مدح سرائی کی ہے اور آپ کے فضل کا اقرار کیا ہے پس جو لوگ حضرت امام الائمہ ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر اعتراض کرتے ہیں ان کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ اگر آپ کی ذاتِ اقدس اس قدر کامل، افضل، اعلم اور اتقی ا نہ ہوتی تو یہ عارفین کاملین اور ماہرین علم شریعت و طریقت کس طرح آپ کے جلالت علم، کمال تفقہ، زہدو ورع اور فضیلت و شرف کا اقرار کرتے اور کیوں آپ کی قصیدہ خوانی کرتے اور آپ کی ذاتِ مقدسہ کو صد باعث افتخار سمجھتے اور آج تک آپ کی عظمت و جلالت کا اقرار پوری ملت اسلامیہ کو ہے یقیناً آپ اپنے فضل وکمال میں منفرد ہیں ۔حضرت عبداللہ بن مبارک علیہ الرحمۃ نے آپ کی شان میں جو مدحیہ اشعار کہے اور ان میں جن خیالات کا اظہار کیا اس میں انہوں نے قطعاً مبالغہ نہیں کیا بلکہ فی الحقیقت وہ امام اعظم(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کی مدح کا حق ادانہ کر پائے۔
اس امر میں اختلاف ہے کہ امام اعظم علیہ الرحمۃ نے صحابہ (رضوان اللہ تعالٰی علیہم)سے روایت کی یا نہیں ،تاریخ ابن خلکان
1 ۔ترجمہ کنزالایمان: یہ اﷲ کافضل ہے جسے چاہے دے۔پ ۶، المائد: ۵۴.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،المقدمۃ، مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۴۴،۱۴۶.
میں بروایت خطیب حضرت امام اعظم(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کے پوتے کا بیان ہے کہ میں اسمٰعیل بن حماد بن النعمان بن ثابت بن النعمان بن المر زبان ابناء فارس سے ہوں اور احرار میں سے ......ہم کبھی غلام نہیں رہے۔ میرے جد محترم امام ابوحنیفہ ۸۰ھ میں پیدا ہوئے اور ثابت بن النعمان بن المرزبان حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت وہ (یعنی ثابت)صغیر ُالسِّن تھے تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ (یعنی ثابت)کے لئے دعائے خیر و برکت دی اور ان کی اولاد کے لیے برکت کی دعا کی، ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے بارے میں وہ دعا قبول فرمائی۔(1)
حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہکو دیکھا اور کچھ اورصحابہ(رضوان اللہ تعالٰی علیہم)کا زمانہ بھی پایا لیکن ان سے روایت نہیں کی اور ان کی رویت سے مشرف ہوئے، جن صحابہ کا زمانہ آپ نے پایا ان سے عدم سماع (یعنی روایت نہ کرنے )کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ ابتداء ً اس علم کی طرف متوجہ نہ تھے بلکہ اپنے کسبِ معاش میں مشغول رہتے تھے۔ جب حضرت علامہ شعبی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے آپ کی ذہانت و فطانت اور ذکاوت طبع کو دیکھا تو علامہ موصوف نے آپ کو علمِ دین کے حصول کی طرف متوجہ کیا اس وقت غالباً صحابہ کی وہ جماعت باقی نہ رہی ہوگی یا ان سے ملاقات نہ ہوسکی کہ آپ ان سے احادیث کا سماع کرتے۔(2)(ردالمحتار ۳۴ ج۱)
سیدنا امام الائمہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وفات بغداد کے جیل خانے میں ہوئی جس میں آپ کو خلیفہ منصور عباسی نے اس جرم میں قید کردیا تھا کہ آپ نے اس کے حکم کی خلاف ورزی کی اور عہدئہ قضاء قبول نہ فرمایا۔ روزانہ آپ(رحمۃ اللہ علیہ)کو قید خانے سے باہَر لایا جاتا، کوڑے لگائے جاتے، سر بازار گشت کرایا جاتا۔ ایک دن آپ کو اتنا مارا گیا کہ کمر سے خون کے فوارے چھوٹ گئے اور سخت ترین اذیت پہنچائی گئی خوردو نوش بھی بند کردیا گیا۔ آپ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)نے بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائی جو قبول ہوئی اور اس کے پانچ دن بعد آپ کا وصال ہوگیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ منصور کی موجودگی میں آپ کو زہر کا پیالہ پینے کے لیے دیا گیا آپ نے انکار فرمایا کہ میں اپنے نفس کو خود قتل نہ کروں گا۔ پھر زبردستی آپ کے حلق میں انڈیل دیا گیا جب آپ کو اپنی موت کا یقین ہوگیا آپ نے نماز ادا فرمائی اور بحالتِ سجدہ آپ کا وصال ہوا۔(3)
اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
r بِنا کردَنْد خوش رسمے بخاک وخوں غَلطِیدَن خدا رحمت کندایں عاشقانِ پاک طینت را(4) r
1 ۔''وفیات الأعیان''، أبوحنیفۃ (۷۶۵)،ج۴،ص۵۷۷.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب: فیما إختلف فیہ من روایۃ...إلخ،ج۱،ص۱۴۷۔۱۵۳.
3 ۔المرجع السابق،مطلب:یجوز تقلید المفضول...إلخ،ج۱،ص۱۵۶۔۱۵۷.
4 ۔ترجمہ :ایک اچھی رسم کی بنیاد ڈال کرخاک وخون میں لتھڑگئے،اللہ عزوجل ان عاشق بزرگ ہستیوں پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
آپ (رحمۃاللہ تعالٰی علیہ)کی ولادت ۸۰ھ میں ہوئی وفات ۱۵۰ھ میں عمر مبارک ۷۰ سال تھی۔ باقی آئمہ ثلاثہ کی تاریخ ولادت ووفات بالترتیب یہ ہے۔ حضرت سیدنا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ۹۰ھ میں ہوئی اور وفات ۱۷۹ھ میں، نواسی سال عمر مبارک ہوئی۔ حضرت سیدنا امام شافعی رحمۃاللہ علیہ کی ولادت ۱۵۰ھ میں ہوئی اور وفات ۲۰۴ھ میں ،چون۵۴ سال عمر مبارک پائی۔ سیدنا حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ۱۶۴ھ میں ہوئی اور وفات ۲۴۱ھمیں ،ستتر سال عمر مبارک ہوئی۔(1)
سیدنا امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اور آپ کے اصحاب و تلامذہ کے مابین اختلاف کی حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک بار حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ایک ر استہ سے گزررہے تھے آپ نے دیکھا کہ ایک کم سن بچہ کیچڑ میں کھیل رہا ہے آپ نے ازراہ تَلَطُّف فرمایا:کہیں گر نہ جانا۔ اس بچہ نے برجستہ جواب دیا:آپ بچئے کہیں آپ پھسل کر گر نہ جائیں کیونکہ اگر آپ گریں گے تو عالَم کے گرجانے کا اندیشہ ہے۔ کم سن بچہ کے اس معنی خیز جواب سے آپ متاثر ہوئے اور آپ نے اپنے اصحاب وتلامذہ سے فرمایا : اگر تمہیں مسائل شرعیہ میں میرے قول کے خلاف کوئی قوی دلیل ملے تو اسے اختیار کرلو۔ آپ کی اس ہدایت کے بعد آپ کے تلامذہ میں سے ہر ایک آپ ہی کی روایت سے مسائل اخذ کرتا تھا۔(2)اس طرح آپ کے اصحاب کا کوئی قول ایسا نہیں ہے جو امام اعظم(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کے قول سے باہَر ہو۔''ولوالجیہ''کتاب الجنایات میں ہے امام ابویوسف علیہ الرحمہ نے فرمایا:میں نے کوئی بات ایسی نہیں کہی جس میں، مَیں نے امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کی مخالفت کی ہو ۔میں نے وہی بات کہی جو آپ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)نے فرمائی تھی۔ حضرت امام زُفر علیہ الرحمہسے بھی یہی منقول ہے کہ میں نے کبھی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مخالفت نہیں کی مگر یہ کہ قولِ امام بیان کیا پھر آپ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)نے اس سے رجوع فرمایا۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اصحابِ امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)آپ کے طریقہ کے خلاف نہیں گئے بلکہ انہوں نے جو کچھ کہا وہ اجتہاد اور رائے اور قیاس سے کہا اور اسی قول کا اتباع کیا جو ان کے استاد نے فرمایا۔''(3)
''اَلْحَاوِیُ الْقُدْسِی''کے اواخر میں ہے:جب اصحاب امام اعظم (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)میں سے کسی کے قول کو اخذ کیاجائے تو یقین سے جان لینا چاہیے کہ ان کا یہ قول امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)ہی سے اخذ کیا گیاہے۔ کیونکہ آپ کے تمام اکابر تلامذہ سے یہی روایت ہے( جیسے امام ا بویوسف، امام محمد،امام زُفر اور امام حسن رحمہم اللہ تعالٰی )کہ ہم نے کسی مسئلہ میں وہی قول کیا ہے
1 ۔''ردالمحتار''المقدمۃ،مطلب : فی مولدالآئمۃ...إلخ ، ج۱،ص۱۵۷.
2 ۔''الدرالمختار''،المقدمۃ،ج۱،ص۱۵۸.
3 ۔''ردالمحتار''المقدمۃ،مطلب : فی مولدالآئمۃ...إلخ،ج۱،ص۱۵۹.
جو ہم نے امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)سے روایت کیا ہے اور یہ بات انہوں نے بڑی یقین دہانی کے ساتھ بیان کی ہے لہٰذا فقہ میں کوئی مسئلہ اور مذہب، مذہب امام کے علاوہ نہیں ہے اور جس قول کی نسبت کسی دوسرے کی طرف ہے وہ مجازاً ہے اور ظاہر میں ہے فی الحقیقت وہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کا قول ہی ہے۔(1) خصوصاً جب امام اعظم علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ جب کسی مسئلہ پر تمہیں اقویٰ دلیل مل جائے اسے اختیار کرلو۔ تو اگرچہ یہ الفاظ اپنے قول سے رجوع کرنا ثابت کرتے ہیں، تاہم چونکہ آپ کے اصحاب نے قوی دلیل سے مسئلہ کے علم کو انہیں اصول و قواعد سے ثابت کیا ہے جو آپ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)نے خود مقرر فرمادیئے ہیں اس لئے درحقیقت آپ کے اصحاب کا وہ قول بھی امام اعظم ابوحنیفہ (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کا قول ہی مانا جائے گا اور وہ مرجوع عنہ نہ ہوگا۔
علامہ بیر ی نے اپنی کتاب ''شرح الاشباہ ''میں بیان کیا ہے کہ کوئی حدیث ایسی ملے جو مذہب امام کے خلاف ہو تو حدیث ہی پر عمل کیا جائے اور یہی حدیث امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کا مذہب ہے کیونکہ صحیح روایت سے آپ سے مروی ہے ۔
''اِذَا صَحَّ الْحَدِیْثُ فَھُوَمَذْ ھَبِیْ''
حدیث اگر صحیح ہے تو یہی میرا مذہب ہے۔(2)
حضرت امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اصحاب وتلامذہ نے ایک ہی مسئلہ میں آپ سے مختلف روایات بیان کی ہیں اور یہی ایک وجہ ان کے مابین مسائل میں اختلاف حکم کی ہے امام ابوبکر البلیغی اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے ''درر''میں فرماتے ہیں کہ حضرت امام ا عظم (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)سے اختلاف روایت کئی وجوہات سے ہوسکتاہے:اوّل یہ کہ سامع کو سننے میں غلطی ہوگئی ہو۔دو م یہ کہ امام نے اپنے قول سے رجوع فرمالیا ہو کسی نے یہ رجوع خود اپنے کانوں سے سن لیا اور کسی نے نہیں سنا تو اسے رجوع کا علم نہ ہوا۔ سوم یہ کہ امام نے ایک قول علی وجہ القیاس فرمایا اور دوسرا قول بروجہ استحسان فرمایا تو جس نے جو سنا روایت کردیا۔چہارم یہ کہ کسی مسئلہ کے مختلف پہلو تھے آپ نے ایک پہلو سامنے رکھ کر ایک جواب دیا اور دوسرے پہلو کو مدنظر رکھ کر دوسرا جواب دے دیا، ان کے علاوہ بھی علامہ شامی علیہ الرحمہ نے اپنے رسالہ ''شرح عقود رسم المفتی المنظوم''میں کچھ اور صورتیں بھی اختلاف روایات کی وجوہ میں بیان فرمائی ہیں۔(3) (رسائل ابن عابد ین شرح عقود رسم المفتی المنظوم ۲۳)
1 ۔''الحاوی القدسی''،کتاب الحیل، فصل اذا إختلف الروایات...إلخ،ص۱۸۱.
2 ۔''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:صح عن الإمام أنہ قال...إلخ،ج۱،ص۱۵۹،۱۶۰.
3 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،الرسالۃ الثانیۃ:شرح ''عقود رسم المفتی''،ج۱،ص۲۲.
مفتی کے لئے ضروری ہے کہ مسائل شرعیہ اور کتب فقہیہ میں اس کا مطالعہ وسیع ہو، اُصولِ فقہ اور قواعدِ فقہیہ سے واقف ہو، اس کے ساتھ ساتھ قرآنی احکام، احادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام اور تفسیر پر بھی اس کی نگاہ ہو، نیز استدلال اور روایت و درایت سے بھی اسے حصہ ملا ہو کیونکہ بغیر علم شریعت فتویٰ لکھنا سراسر جہالت ہے اس لئے ضروری ہے کہ مفتی کو یہ علم حاصل ہو کہ طبقاتِ مسائل کتنے ہیں اور کون کون سے ہیں نیز طبقات الفقہاء کتنے ہیں اور کون کون سے ہیں اس لئے سب سے پہلے ہم ان دونوں کو بیان کریں گے اس کے بعد آداب الافتاء پر روشنی ڈالیں گے۔
علماء احناف کے نزدیک مسائل تین طبقات پر ہیں ۔
(۱) مسائل الاصول:ان کو ظاہر الروایۃ بھی کہتے ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو اصحاب المذہب سے مروی ہیں۔ یعنی سیدنا حضرت حسن بن زیاد رحمہ اللہ تعالٰی وغیرہ اور وہ حضرات جنہوں نے حضرت امام ابوحنیفہ ، سیدنا حضرت امام ابویوسف ، سیدنا امام محمد علیہم الرحمۃ والرضوان سے روایت کی، لیکن مشہور واغلب ظاہر الروایہ کے بارے میں یہ ہے کہ ظاہر ا لروایہ حضرت امام اعظم،امام ابویوسف اور امام محمد علیہم الرحمہ کے اقوال ہی کو کہتے ہیں اور ظاہر الروایہ کا اطلاق جن کتابوں پر ہے وہ حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی یہ چھ کتابیں ہیں:
(۱) مبسوط (۲) جامع صغیر (۳) جامع کبیر (۴) زیادات (۵) سیر صغیر (۶) سیر کبیر۔ان کو ظاہر الروایہ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کتابیں حضرت امام محمدرحمۃاللہ علیہ سے ثقہ راویوں نے روایت کی ہیں اس لئے یہ آپ سے بہ تواتر ثابت یا مشہور ہیں۔(1)
یہ وہ مسائل ہیں جن کے راوی تو مذکورہ بالا اصحاب ہی ہیں لیکن یہ مسائل مذکورہ بالا چھ کتابوں میں نہیں ہیں جن کو ظاہر الروایہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے بلکہ یہ مسائل یا تو امام محمد علیہ الرحمہ کی دوسری کتابوں میں مذکور ہیں جی سے کیسانیات، ہارونیات، جرجانیات اور رقیات۔ ان کتابوں کو غیر ظاہر الروایہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ کتابیں امام محمد علیہ الرحمۃ سے ایسی روایات صحیحہ ثابتہ اور ظاہرہ سے مروی نہیں ہیں جیسی کہ پہلی چھ کتابیں ہیں یا پھر وہ مسائل ان کتابوں کے علاوہ دوسری کتابوں میں مذکور ہیں جی سے حسن بن زیاد کی''اَلْمُجَرَّد''وغیرہا اور کتب الامالی جو حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالٰی نے املاء کرائی تھیں۔(2)
1 ۔''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:رسم المفتی،ج۱،ص۱۶۳.
2 ۔المرجع السابق.
طبقات مسائل کی یہ تیسری قسم ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کو بعد کے مجتہدین نے مرتب و مولف فرمایا (1)جو کہ امام ابویوسف اور امام محمد کے تلامذہ یا ان کے تلامذہ کے تلامذہ ہیں ان کی بہت بڑی تعداد ہے صاحبین ( امام ابویوسف و امام محمد)کے تلامذہ میں عصام بن یوسف، ابن رستم، محمد بن سماعۃ، ابو سلیمان جرجانی، ابوحفص البخاری وغیرہم ہیں اور ان کے بعد کاگروہ محمد بن مسلمہ، محمد بن مقاتل ، نصیر بن یحییٰ، ابوالنصر القاسم بن سلام وغیرہم پر مشتمل ہے کبھی ایسا ہوا ہے کہ ان حضرات نے اپنے قوی دلائل و اسباب کی بناء پر اصحاب مذہب کے خلاف کسی مسئلہ کو ثابت کیا ہے ان کے فتاویٰ میں جو کتاب سب سے پہلے منظر عام پرآئی وہ کتاب النوازل ہے جو فقیہ ابواللیث سمر قندی کی ہے ان کے بعددیگر فقہاء نے بہت سے مجموعے مرتب فرمائے جی سے مجموع النوازل،واقعات الناطفی اورواقعات صدر الشہید وغیرہا۔ پھر بعد کے فقہاء نے ان کے مسائل کو مخلوط وغیر متمیز طور پر بیان فرمایا جیساکہ''فتاویٰ قاضی خان''اور''الخلاصہ''وغیرہمامیں ہیں اور بعض فقہاء نے ان کو ترتیب و تمیز کے ساتھ بیان فرمایا جی سے رضی الدین السرخی کی کتاب''المحیط''انہوں نے اس کی ترتیب میں اولاً مسائل الاصول بیان فرمائے پھر نو ادر پھر فتاویٰ کو ذکر کیا۔ یہ ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ مسائل اصول میں الحاکم الشہید کی تصنیف کتاب''الکافی''نقل مذہب میں بڑی معتمد کتاب ہے اس کو قبول عام حاصل ہو ااور بڑے بڑے اکابر علماء ،فقہا ء نے اس کی شرحیں لکھیں جی سے امام شمس الائمہ السرخسی کی''مبسوط سرخسی''اس کے بارے میں علامہ طرسوسی کا بیان ہے کہ''مبسوط سرخسی''کا مقام یہ ہے کہ اسی پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق فتویٰ دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف پر عمل نہیں کیا جاتا۔ کتب مذہب میں ایک اور کتاب''الْمُنْتَقٰی '' بھی ہے یہ بھی انہیں کی ہے لیکن اس کا وہ مقام نہیں ،اس میں کچھ نوادر بھی ہیں''المبسوط'' جو حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی گئی ہے اس کے متعدد نسخے ہیں ان میں سب سے بہتر وہ نسخہ ہے جو ابو سلیمان جوزجانی سے مروی ہے متاخرین علماء فقہ نے مبسوط کی بہت سی شروح لکھی ہیں۔(2)
امام محمد علیہ الرحمہ کی ہر وہ تصنیف جس میں لفظ صغیر لگا ہوا ہے اس میں وہ مسائل ہیں جن کی روایت حضرت امام اعظم علیہ الرحمۃ والرضوان سے آپ کے شاگرد امام محمد نے بواسطہ حضرت امام ابو یوسف رحمہما اللہ تعالٰی کی ہے لیکن جن مسائل کی روایت ا مام محمد(رحمۃاللہ تعالٰی علیہ)نے بلاواسطہ اور براہ راست حضرت امام اعظم علیہ الرحمۃو الرضوان سے کی ان کے ساتھ''کبیر''کا لفظ لگایا گیا۔(3) اسی طرح نوادران مسائل کے لئے استعمال کیا گیا جن کی روایت امام محمد علیہ الرحمۃ نے ان مذکورہ چھ۶ کتابوں کے علاوہ دوسری کتابوں میں امام اعظم اورامام ابویوسف رحمھمااللہ تعالٰی سے کی ان کو
''الکیسانیات''،''الھارونیات''،''الجرجانیات''
1 ۔یعنی استنباط کیا۔
2 ۔''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب: رسم المفتی،ج۱،ص۱۶۴۔۱۶۶.
3 ۔المرجع السابق،ص۱۶۷.
اور
''الرقیات''
سے مو سوم کیا(1)اور نوازل ان مجموعہ مسائل کو کہا گیا ہے جن مسائل کو مشائخ مجتہدین مذہب سے دریافت کیا گیا اور انہوں نے ان مسائل میں کوئی نص نہ پائی اور اپنے اجتہاد سے ان مسائل کی تخریج کی اور ان کے احکام بیان فرمائے۔(2)
صاحب البحر نے فرمایا :محمد بن الحسن کی ہروہ تصنیف جس میں لفظ''صغیر''لگا ہوا ہے اس میں امام محمد اور امام ابویوسف(رحمۃاللہ تعالٰی علیہما)متفق ہیں بخلاف اس تصنیف کے جس میں لفظ ''کبیر''لگا ہوا ہے وہ امام ابویوسف(علیہ الرحمہ)پر پیش نہیں کی گئی۔ (3)(مبحث التشہد)
(امام محمد علیہ الرحمۃ کی)کتاب ''اصل''کا نام اس لئے اصل رکھا گیا کہ امام محمد علیہ الرحمہ نے اسے سب سے پہلے تصنیف فرمایااس کے بعد''الجامع الصغیر''پھر''الجامع الکبیر''،(4)صاحب البحر نے فرمایا کہ''الجامع الصغیر''کو امام محمد علیہ الرحمۃنے''اصل''کے بعد تصنیف فرمایا اس میں جو کچھ ہے وہ معتمد علیہ ہے۔ (5)(باب الصلوۃ)
اس کتاب کی وجہ تصنیف یہ ہے کہ حضرت امام ابو یوسف علیہ الرحمہ نے امام محمد علیہ الرحمہ سے فرمایا کہ تم میرے لئے وہ تمام روایات ایک کتاب میں جمع کردو جو تم نے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے کی ہیں۔ اس حکم کی تعمیل میں حضرت امام محمد علیہ الرحمہ نے وہ تمام مرویات ایک جگہ جمع فرمادیں اور ان کو حضرت امام ابویوسف علیہ الرحمہ کے سامنے پیش کیا جن کو انہوں نے بے حد پسند فرمایا یہ کتاب (یعنی الجامع الصغیر)۱۵۳۲ پندرہ سو بتیس مسائل پر مشتمل ایک مبارک کتاب ہے، بقول علامہ بزدوی :امام ابویوسف (رحمۃاللہ تعالٰی علیہ)اپنے جلالت علم و عظمت کے باوجود اس کتاب کو ہمیشہ سفرو حضر میں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ علی الرازی فرماتے ہیں : جس شخص نے اس کتاب کو سمجھ لیا وہ ہمارے تمام ساتھیوں میں سب سے زیادہ صاحبِ فہم مانا جاتا ہے۔ اس دور میں کسی شخص کو اس وقت تک قاضی نہیں بنایا جاتا جب تک اسے پرکھ نہ لیا جائے کہ وہ الجامع الصغیر کو سمجھتا ہے اور پڑھتا ہے۔(6)
امام شمس الائمہ سرخسی''السیر الکبیر''کی شرح میں فرماتے ہیں کہ''السیرالکبیر''امام محمد علیہ الرحمہ کی آخری تصنیف ہے
1 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''، الرسالۃ الثانیۃ:شرح ''عقود رسم المفتی''،ج۱،ص۱۶،۱۷.
2 ۔''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:رسم المفتی،ج۱،ص۱۶۴.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،ج۱،ص۵۷۹.
4 ۔''النھرالفائق''،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ العیدین،ج۱،ص۳۶۶.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین،ج۲،ص۲۷۶.
6 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''، الرسالۃ الثانیۃ:شرح''عقود رسم المفتی''،ج۱،ص۱۹.
اس کی وجہ تصنیف یہ تھی کہ آپ کی کتاب''السیرالصغیر''اہل شام کے ایک جلیل القدر عالم حضرت عبدالرحمن بن عَمْرْو الاوزاعی کے پاس پہنچی۔ انہوں نے پوچھا یہ کس کی تصنیف ہے بتایا گیا کہ امام محمد بن الحسن عراقی کی برجستہ ان کی زبان سے نکلا ''اہلِ عراق کو اس موضوع میں تصنیف سے کیا لگاؤ وہ علم السیراور مغازی رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کیا جانیں کیونکہ غزوات زیادہ تر شام میں ہوئے۔ غزوات کا علم وہاں کے لوگو ں کو زیادہ ہے اور حجاز کے لوگوں کو ، نہ کہ عراق والوں کو ۔ امام اوزاعی کی یہ بات جب امام محمد علیہ الرحمۃ کو پہنچی آپ کو بہت شاق گزری اور اس کا عملی جواب دینے کے لئے''السیرالکبیر''تصنیف فرمائی۔ آپ کی یہ کتاب جب عبدالرحمن بن عمرو الاوزاعی نے مطالعہ فرمائی تو وہ حیرت زدہ رہ گئے اور فرمایا:اگر اس کتاب میں احادیث صحیحہ نہ ہوتیں تو میں کہہ دیتا کہ وہ من گھڑت علم سے کام لیتے ہیں بے شک اﷲ تعالیٰ نے آپ کی رائے کو صحیح جواب کے لئے متعین فرمایا ہے۔اﷲ رب العزت نے صحیح فرمایا
(وَفَوْقَ کُلِّ ذِیۡ عِلْمٍ عَلِیۡمٌ ﴿۷۶﴾)
(1)اس کتاب کو تصنیف فرمانے کے بعد حضرت امام محمد علیہ الرحمہ نے اس کوساٹھ جلدوں (دفتروں) میں لکھوایا اور اس کو خلیفہ وقت کے دربار میں بھجوایا۔ خلیفہ وقت نے اسے بے حد پسند کیا اور اس کو اپنے زمانہ حکومت کا عظیم اور قابلِ فخر کارنامہ قرار دیا۔(مجموعہ رسائل ابن عابدین ،ج ۱)(2)
ایک مفتی کے لئے جس طرح طبقات المسائل اور معتبر و مستند کتب فقہیہ اور فتاویٰ کا علم ہونا ضروری ہے اسی طرح اس کے علم میں یہ بات بھی ہونی چاہے کہ طبقات الفقہاء کتنے ہیں اور کس فقیہ کا درجہ کیا ہے تاکہ اسے یہ معلوم ہوسکے کہ کس فقیہ کا قول معتبر اور قابلِ اِستناد ہے اور کون درجہ اعتبار میں نہیں اس لئے ہم طبقات الفقہاء کا بیان کرنا بھی ضروری خیال کرتے ہیں۔
علمائے ماہرین فقہ و شریعت نے فقہاء کے سات طبقات بیان فرمائے ہیں۔
جی سے ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم)اور وہ لوگ جو قواعد اصول کی تاسیس میں نیز اَدِلہ اربعہ (قرآن پاک ،احادیث، قیاس اور اجماع )سے احکام فرعیہ کے استنباط میں اصول و فروع میں بغیر کسی اور کی تقلید کے ان ہی ائمہ اربعہ کے مسلک پر ہی رہے۔(3)
1 ۔پ ۱۳،یوسف:۷۶.
2 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''، الرسالۃ الثانیۃ:شرح''عقود رسم المفتی''،ج۱،ص۱۹،۲۰.
3 ۔المرجع السابق، ص ۱۱.
جی سے امام ابو یوسف، امام محمد اور جملہ تلامذہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہم ،یہ حضرات اس امر کی قدرت رکھتے تھے کہ ادلہ اربعہ سے اپنے استاد حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ علیہ کے مستخرجہ قواعد واُصول کے مطابق احکام شرعیہ کا استخراج کرسکیں۔(1)
یہ وہ حضرات ہیں جو ای سے مسائل کا استنباط جن کے بارے میں کوئی روایت صاحبِ المذہب سے نہیں ملتی اپنے آئمہ کرام کے مقرر کردہ قواعد و اُصول کے مطابق کرتے ہیں جی سے علامہ خصاف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ متوفی ۲۶۱ ھ، علامہ ابوجعفر الطحاوی متوفی ۳۲۱ ھ، حضرت ابوالحسن الکرخی متوفی ۳۴۰ ھ، حضرت شمس الائمہ الحلوانی متوفی ۴۵۶ ھ، حضرت شمس الائمہ السرخسی متوفی ۵۰۰ ھ، حضرت فخر الاسلام بزدوی متوفی ۴۸۲ ھ، علامہ فخر الدین قاضی خان متوفی ۵۹۳ھ وغیرہم ،یہ حضرات نہ اصول میں نہ فروع میں کسی میں بھی اپنے امام کی مخالفت نہیں کرسکتے۔(2)
جی سے امام رازی متو فی ۳۷۰ھ وغیرہ یہ حضرات اجتہاد پر بالکل قادر نہیں لیکن چونکہ یہ جملہ قواعد واُصول کا پورا علم اور مسائل و قواعد کے ماخذ سے پوری واقفیت رکھتے تھے اس لئے ان میں یہ صلاحیت تھی کہ ای سے اُمور کی تفصیل بیان کردیں جہاں امام مذہب سے ایسا قول مروی ہو جو مجمل ہے اور اس میں دو۲ صورتیں نکل رہی ہوں یا کوئی ایسا قول جو دو چیزوں کا محتمل ہے اور وہ صاحب ِ مذہب سے یا ان کے تلامذئہ مجتہدین میں سے کسی ایک سے مروی ہے اس کی تشریح و تفصیل اُصول و قیاس اور امثال و نظائر کی روشنی میں بیان کردیں صاحبِ ہدایہ نے جہاں کہیں کہا ہے کذا فی تخریج الکرخییا کذا فی تخریج الرازی ،اس کا یہی مطلب ہے جوابھی بیان کیا گیا ہے۔(3)
جی سے ابوالحسن قدوری متوفی ۴۲۸ھ ،صاحب الہدایہ متوفی ۵۹۳ھ وغیرہما۔ ان کا مقام یہ ہے کہ یہ حضرات بعض روایات کو بعض پر تفضیل دینے کی اہلیت رکھتے تھے جی سے وہ کسی روایت کی تفضیل میں فرماتے ہیں: ھذا أولٰییا ھذا أصح یا ھذا أوضح یا ھذا أوفق للقیاس وغیرھا۔(4)
1 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''، الرسالۃ الثانیۃ:شرح''عقود رسم المفتی''،ج۱،ص۱۱.
2 ۔المرجع السابق، ص۱۲. 3 ۔المرجع السابق، ص۱۲.
4 ۔المرجع السابق.
جی سے صاحب کنز، صاحب المختار ، صاحب الوقایہ،اور صاحب المجمع اور اصحاب المتون المعتبرۃ ۔ ان کا درجہ یہ ہے کہ یہ حضرات اپنی کتابوں میں ضعیف و مردود اقوال بیان نہیں کرتے اور روایات میں قوی، اقویٰ ، ضعیف ، ظاہر الروایۃ، ظاہر المذہب اور روایت نادرہ میں امتیاز و تمیز کرنے کے اہل ہیں۔(1)
یہ حضرات کھرے کھوٹے، کمزور و قوی اور دائیں بائیں میں امتیاز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ انہیں جہاں سے بھی جو کچھ مواد مل جاتا ہے اسے جمع کرتے ہیں اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں یہ لوگ ہر گز ہرگز اس قابل نہیں کہ ان کی تقلید کی جائے یا ان سے مسائل میں رجوع کیا جائے۔(2)(شرح عقود رسم المفتی المنظوم لابن عابدین ۱۱ ،ردالمحتار ۵۱۔ ۵۲ ج ۱)
۱۔احکام شریعت کا علم حاصل کرنے کے لئے افتاء ایک لازمی اور ضروری امر ہے۔اﷲتعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا :
( فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۷﴾)
(3)اگر تم نہیں جانتے ہو تو جاننے والوں یعنی اہل علم سے پوچھ لو۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایک طبقہ ملت کا ایسا ہوگا جسے علمِ دین پر عبور حاصل نہ ہوگا اور ایک طبقہ ایسا ہوگا جو صاحبِ علم وفضل ہوگا اور اسے علمِ دین میں بصیرت حاصل ہوگی چونکہ ہر مسلمان کے لئے وہی ر استہ اختیار کرنا ضروری ہے جواﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پسندیدہ راستہ ہے اس لئے ہر شخص کو اپنا ہر عمل اسلام کے احکام کے مطابق رکھنا چاہیے اور اگر کسی کو کسی معاملہ میں شریعت کا حکم معلوم نہیں ہے تو اسے اہلِ علم کی طرف رجوع کرنا چاہے اور ان سے سوال کرکے حکم شرعی معلوم کرنا چاہے اسی اُصول کے مطابق زمانہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے آج تک مسلمانوں کا یہی طریقہ رہا ہے کہ اگر انہیں کسی چیز کے جواز یا عدم جواز کا علم نہیں ہے تو انہوں نے بلا تأمل اہل علم سے اس کا حکمِ شرعی معلوم کرلیا ہے ہر زمانہ میں لوگ علمائے شریعت کی طرف مسائل شرعیہ کا علم حاصل کرنے کے لئے رجوع کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ دارالافتاء کا قیام عمل میں آیا اور اب وہ یہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ مفتی کون ہے۔
صاحب فتح القدیرشارح ہدایہ فرماتے ہیں:''اصولیین مضبوطی کے ساتھ یہ رائے رکھتے ہیں کہ مفتی کا درجہ صرف مجتہد
1 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''، الرسالۃ الثانیۃ:شرح''عقود رسم المفتی''،ج۱،ص۱۲.
2 ۔المرجع السابق.
و''ردالمحتار''، المقدمۃ، مطلب :فی طبقات الفقھاء،ج۱،ص۱۸۱۔۱۸۴.
3 ۔پ ۱۷، الانبیاء :۷.
کوحاصل ہوتا ہے۔ جو شخص خود مجتہد نہیں ہے لیکن اسے مجتہد کے اقوال زبانی یاد ہیں وہ مفتی نہیں ہے اس سے جب مسئلہ دریافت کیا جائے تو اسے بطورِ نقل و حکایت کسی مجتہد کا قول جواب میں بتانا چاہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ہمارے زمانے میں (یعنی زمانہ مصنف فتح القدیر میں)جو علماء فتویٰ دیتے ہیں حقیقت میں وہ فتویٰ نہیں ہے بلکہ اصل میں کسی مجتہد مفتی کا قول ہے جو نقل کردیا گیا ہے تاکہ مُستَفْتِی اس پر عمل کرے۔ مجتہد سے اس کا قول نقل کرنے کے دو طریقے ہیں اول یہ کہ یا تو وہ قول اس کے پاس کسی صحیح سند سے پہنچا ہو۔ دوم یہ کہ اس نے مجتہد کا وہ قول کسی ایسی مشہور کتاب سے لیا ہو جو دیگر علماء کے ہاتھوں میں رہتی ہو جی سے امام محمد بن الحسن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی کتابیں اور ای سے ہی دوسری کتب فقہیہ جو اپنی روایت و اسناد کے اعتبار سے خبر متواتر یا خبرمشہور کے درجہ میں ہیں۔(1)(ردالمحتار ۴۷ ج۱)
۲۔ آداب الافتاء کے سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ علمائے احناف روایات ظاہرہ میں جن مسائل پر متفق ہیں فتویٰ یقیناً انہیں پر ہوگا لیکن اگر روایات ظاہرہ میں ہمارے علماء کا اتفاق نہیں ہے تو واضح یہ ہے کہ فتویٰ علی الاطلاق امام اعظم علیہ الرحمہ کے قول پر ہوگالیکن اگر حضرت امام اعظم رحمۃاللہ تعالٰی علیہ سے اس مسئلہ میں کوئی روایت نہ ملے تو پھر فتویٰ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر دیا جائے گا اور اگر ان سے بھی کوئی قول نہ ملے تو پھر فتویٰ حضرت امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے قول پردیا جائے۔(2)
''سراجیہ''میں ہے:ایک قول یہ ہے کہ اگر کسی مسئلہ میں امام ابوحنیفہ(رحمۃ اللہ علیہ)ایک جانب اور آپ کے صاحبین دوسری جانب ہوں تو مفتی کو اختیار ہے کہ وہ جس قول کو چاہے اختیار کرے اور اگر مفتی مجتہد نہ ہو تواول قول اصح ہے۔(3)ان تینوں کے بعد پھر امام زُفر رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کے قول پر فتویٰ دیاجائے گا اور پھر امام حسن بن زیاد کے قول پر (4)(درمختار)اور ''الحاوی القدسی''میں اس امر کی تصحیح فرمائی ہے کہ اگر ان میں سے کسی کے قول کی تائید میں قوۃ مدرکہ یعنی قوی دلیل موجود ہے تو ایسی صورت میں وہ قول اختیار کیا جائے ورنہ یہی ترتیب قائم رکھی جائے گی۔(5)اسی وجہ سے علمائے احناف کبھی کبھی حضرت امام اعظم رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کے بعض اصحاب کے قول کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ اس کی تائید میں دلیل قوی موجود ہو جی سے کہ سترہ ۱۷ مسائل(6)میں علماء نے امام زُفررحمۃاللہ تعالٰی علیہ کے قول کو ترجیح دی ہے لہٰذا وہ ہمارے لئے بھی قابل ترجیح ہیں کیونکہ وہ دلیل
1 ۔''ردالمحتار''، المقدمۃ، مطلب : رسم المفتی ، ج ۱، ص ۱۶۲.
و''فتح القدیر''،کتاب أدب القاضی،ج۶،ص۳۶۰.
2 ۔''الدرالمختار''، المقدمۃ ،ج۱،ص۱۶۲۔۱۶۹.
3 ۔''الفتاوی السراجیۃ''، کتاب أدب المفتی والتنبیہ علی الجواب، ص۱۵۷.
تفصیلات کے لیے ''فتاوی رضویہ ''(مُخَرَّجہ)،ج۱،حصہ الف،ص۱۰۵تا۱۰۸ملاحظہ فرمالیں۔
4 ۔''الدرالمختار''،المقدمۃ ،ج۱،ص۱۶۹.
5 ۔''الحاوی القدسی''،کتاب الحیل، فصل إذا اختلف الروایات...إلخ،ص۱۸۱.
و''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''، الرسالۃ الثانیۃ:شرح''عقود رسم المفتی''،ج۱،ص۲۶.
6 ۔یہاں۱۷مسائل کاذکرہے جبکہ علامہ شامی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے دالمحتار،ج۵،ص۳۳۸،میں۲۰ایسے مسائل کی صراحت ذکرکی ہے جہاں امام زفررحمۃاللہ تعالٰی علیہ کے قول پرفتوی ہے۔...علمیہ
میں گہری نظر رکھتے ہیں۔(1)(مجموعہ رسائل ابن عابدین)
۳۔ جب امام اعظم رحمۃاللہ تعالٰی علیہ سے کسی مسئلہ میں روایات مختلف ہوں یا اس مسئلہ میں آپ سے یا آپ کے اصحاب سے کوئی روایت نہ ملے تو پہلی صورت میں جو روایت حجت و دلیل کے اعتبار سے ا قوی ہو اُسے اختیار کیا جائے اور دوسری صورت میں یعنی جبکہ امام اعظم اور آپ کے اصحاب سے اس مسئلہ میں کوئی روایت ہی موجود نہ ہو دیکھے کہ متأخرین کا اس میں کیا قول ہے اگر متأخرین ایک ہی قول پر متفق ہیں تو اس قول کو اختیار کرے اور اگر متأخرین میں اختلاف ہے تو جس قول پر اکثر ہیں،پھر اسے اختیار کرے جس پر کہ مشہور اکابرین نے اعتماد کیا ہو جی سے امام ابوحفص، امام ابوجعفر، ابواللیث اور امام طحاوی وغیرہم، اگر مسئلہ ایسا ہے کہ اس پر کوئی نص نہیں ملتی، نہ قولِ مجتہد، نہ اقوال متأخرین، تو پھر مفتی خود ہی اس پر علم شریعت کی روشنی میں غور و فکر کرے اور تدبّر سے کام لے اور حتی الوسع کوشش کرے کہ اس کا حکم نکل آئے تاکہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو۔ لیکن جزاف یعنی اٹکل اور بے تکی باتوں سے کام نہ لے،(2)اللہ (عزوجل)سے ڈرتا رہے اور گہرا غور و فکر کرے کیونکہ یہ نہایت عظیم ذمہ داری ہے اس میں جزاف کی جسارت وہی کرسکتا ہے جو جاہل اور بدبخت ہے(3) (ردالمحتار ۴۸ ج۱)
علامہ شامی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:''علماء کرام نے بیان فرمایا ہے عبادات کے مسائل میں فتویٰ مطلقاً قول امام اعظم پر ہے۔ مسائل ذوی الارحام میں فتویٰ قول امام محمد پر ہے اور مسائل قضا میں فتویٰ قول امام ابویوسف پر ہے جیسا کہ''قنیہ''اور ''بزازیہ''میں مذکور ہے اور ''شرح بیری''میں مزید یہ ہے کہ مسائل شہادت میں بھی فتوی قول امام ابویوسف رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ پر ہے اور صرف سترہ ۱۷ مسائل(4)میں فتویٰ قول امام زفر پر ہے رحمۃاللہ تعالٰی علیھم اجمعین۔(5)
۴۔ جب کسی مسئلہ میں قیاس ہو اور استحسان ہو تو معدودے چند مسائل کو چھوڑ کر عمل استحسان پر ہوگا۔
۵۔ جب کوئی مسئلہ ظاہر الروایۃ میں مذکور نہ ہو بلکہ کسی دوسری روایت سے ثابت ہو تو اس کا حوالہ دینا چاہے۔
۶۔ حضرت امام نسفی(رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ)نے''مُسْتَصْفٰی''میں بیان فرمایا ہے جب فقہاء کسی مسئلہ میں تین اقوال بیان فرمائیں تو ان میں راجح قول اول ہے یا قول آخر، درمیانی قول راجح نہ ہوگا''شرح المنیہ''میں ہے کہ اگر روایت درایت کے مطابق ہے تو اس سے عدول نہ کیا جائے۔(6) (ردالمحتار۴۹)
1 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''، الرسالۃ الثانیۃ:شرح''عقود رسم المفتی''، ج۱،ص ۲۸.
2 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''بے تکی باتوں سے کام لے'' لکھاہواتھا،جوواضح کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
3 ۔''ردالمحتار''،المقدمۃ، مطلب:إذا تعارض التصحیح،ج۱،ص۱۷۰.
4 ۔اس کی وضاحت کے لئے گزشتہ صفحہ کاحاشیہ نمبر۶ملاحظہ فرمائیں۔...علمیہ
5 ۔''ردالمحتار''،المرجع السابق،ص۱۷۰،۱۷۱.
6 ۔المرجع السابق،ص۱۷۱.
۷۔ ''بحر ''کے باب الوقف میں ہے جب مسئلہ میں دو قول ہوں اور دونوں صحیح ہوں تو ان میں سے کسی بھی ایک کو افتاؤقضاء کے لئے اختیار کیا جاسکتا ہے(1)بشرطیکہ دونوں قول برابر حیثیت کے ہوں لیکن اگر ایک قول لفظ تصحیح سے موکد ہو(2) تواسے اختیار کیا جائے۔(3)
۸۔جب فتویٰ ایک قول پر ہو اور تصحیح دوسرے قول کی تو اولیٰ یہ ہے کہ وہ قول اختیار کیا جائے جو متون کے موافق ہو۔(4) (بحر )اور اگر ایک قول شروح میں ہے اور اس کے خلاف دوسرا قول فتاویٰ میں تو وہ قول اختیار کیا جائے جو شروح میں ہے کیونکہ فقہائے کرام کی تصریح ہے کہ متون مقدم ہیں(شروح پراور شروح مقدم ہیں)(5)فتاوی پر، یہ صورت اسی وقت اختیار کی جائے گی جب ان دونوں اقوال میں سے ہر ایک کی تصحیح کی گئی ہو یا دونوں میں سے کسی کی بھی تصحیح منقول نہ ہو لیکن اگر مسئلہ متون میں ہے(اور اس کی تصحیح بالتصریح نہیں کی گئی بلکہ اس کے مقابل ) (6)کی تصحیح بالتصریح کی گئی ہے تو وہ ہی مسئلہ اختیار کیا جائے جس کی تصحیح بالتصریح کی گئی ہے کیونکہ تصحیح بالتصریح تصریح التزامی پر مقدم ہے اگرچہ متون میں یہ التزام کیا گیا ہے کہ وہ مذہب صحیح ہی بیان کریں گے تاہم یہ تصحیح سے کم تر درجہ ہے اور اگر ایک مسئلہ میں دو قول ہیں اور دونوں کی تصحیح کی گئی ہے تو اگر ان میں سے ایک قولِ امام ہے اور دوسرا قول کسی اور مجتہد کا، تو مفتی کو قولِ امام ہی اختیار کرنا چاہے اس لئے کہ دونوں تصحیح متعارض ہو کر ساقط ہوجائیں گی پھر اصل کی طرف رجوع کیا جائے گا اور اصل یہ ہے کہ قولِ امام مقدم ہے۔(7) (ردالمحتار ۴۹)
(۱) وَعَلَیْہِ الْفَتْوٰی(۲)وَبِہٖ یُفْتٰی(۳)وبِہٖ نَأْخُذُ(۴)وَعَلَیْہِ الإعْتِمَادُ (۵)وَعَلَیْہِ عَمَلُ الْیَوْمِ اَیْ عَلَیْہِ عَمَلُ النَّاسِ فِیْ ھٰذَا الزَّمَانِ الْحَاضِرِ(۶) عَلَیْہِ عَمَلُ الأمَّۃِ (۷)وَھُوَالصَّحِیْحُ(۸)وَھُوَالاصَحُّ(۹)وَھُوَالاظْھَرُ (۱۰)وَھُوَالاَشْبَہُ
بِالْمَنْصُوْصِ رِوَایَۃً وَالرَّاجِحُ دِرَایَۃً فَیَکُوْنُ عَلَیْہِ الْفَتْوٰی(۱۱) وَھُوَالأوْجَہُ (۱۲) وَھُوَالْمُخْتَارُ (۱۳) وَبِہٖ جَرَی الْعُرْفُ
1 ۔ '' البحرالرائق''،کتاب الوقف،ج۵،ص۳۳۷.
2 ۔یعنی دونوں قول صحیح ہو ں لیکن ایک قول اصح (زیادہ صحیح) ہو۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:إذا تعارض التصحیح ،ج۱،ص۱۷۱.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت،ج۲،ص۱۵۲.
5 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر'' متون مقدم ہیں فتاوٰی پر'' لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے،کیونکہ اصل عبارت اس طرح ہے(متون مقدم ہیں شروح پراور شروح مقدم ہیں فتاوی پر)اسی وجہ سے بریکٹ میں اس کااضافہ کردیاگیا ہے۔. . . علمیہ
6 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر(اور اس کی تصحیح بالتصریح نہیں کی گئی بلکہ اس کے مقابل)،لکھنے سے رہ گیاتھا جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے،لہذابریکٹ میں اس کااضافہ کردیاگیا ہے ۔ . . . علمیہ
7 ۔''ردالمحتار''، المقدمۃ، مطلب : اذا تعارض التصحیح، ج ۱، ص ۱۷۱.
(۱۴) وَھُوَالْمُتَعَارِفُ (۱۵) وَبِہٖ اَخَذَ عُلَمَاءُ نَا۔
مندرجہ بالا الفاظ سے بقول صاحب الفتاویٰ الخیریہ للشیخ الرَّمْلِی:بعض الفاظ بعض پر فضیلت رکھتے ہیں مثلاً لفظ فتویٰ زیادہ موکدوجاندار ہے، لفظ صَحِیْح،أَصَحُّاور اَشْبَہُ وغیرھا سے اور لفظ وَبِہٖ یُفْتٰی زیادہ موکدوباوَزْن ہے لفظ''اَلْفَتْوٰی عَلَیْہِ''سے اور لفظ اَصَحُّ،صحیح کے مقابلہ میں زیادہ قوت والا ہے اوراَلاحْوَطُ زیادہ موکد ہے اَلإحْتِیَاطُ سے۔(1) (ردالمحتار ۵۰ ج ۱)
۱۰۔ اگر ائمہ ترجیح میں سے دو اماموں کے اقوال متعارض ہوں ایک نے اپنے قول کو ''ھُوَالصَّحِیْحُ''سے تعبیر کیا اور دوسرے نے اپنے قول کو''ھُوَالأصَحُّ''سے۔ اس صورت میں''ھُوَالصَّحِیْحُ''والے قول کو اختیار کرنا بہتر ہے کیونکہ ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ صحیح پر دونوں متفق ہیں اورأصح میں اختلاف ہے تو متفق قول کو اختیار کرنا بہتر ہے۔(2)
۱۱۔ صاحب درمختارنے''رسالہ آداب المفتی''سے نقل فرمایا کہ ''جب کوئی قول یا روایت کسی معتبر کتاب میں أَصَحُّ، اَوْلٰی،اَوْفَقُ اور اسی قسم کے کسی لفظ سے مخصوص کی جائے تو مفتی کے لئے جائز ہے کہ وہ اس قول یا روایت کو اختیار کرے یا اس کے مقابل قول کو، لیکن اگر وہ قول یا روایت صحیح یا الماخوذ بہ یا بہٖ یفتٰی سے مزین ہے تو مفتی کے لئے ضروری ہے کہ اسی قول کو اختیار کرے، مخالف قول کو اختیار کرنا جائز نہیں کیونکہ اس صورت میں صحت اسی قول میں محصور ہے اور پہلی صورت میں جبکہ کسی روایت یاقول کو أَصَحُّ کہا تو اس کا مطلب ہے کہ مخالف قول بھی صحیح ہے اس لئے مفتی کو اختیار ہے کہ وہ أَصَح پر فتوٰی دے یا صحیح پر۔(3)
۱۲۔ علامہ علاء الدین الحصکفیمؤلف درمختار شیخ قاسم کی کتاب''اَلتَّصْحِیْحُ وَالتَّرْجِیْحُ''کے حوالہ سے بیان فرماتے ہیں کہ مفتی اور قاضی میں کوئی فرق نہیں سوائے اس کے کہ مفتی احکام شریعت بیان کرتا ہے اور قاضی احکامِ شریعت کو لازم و نافذ کرتا ہے اور یہ کہ قولِ مرجوح پر فتویٰ دینا سخت جہالت ہے اور خلافِ اجماع ہے اور یہ کہ حکم ملفق(یعنی باطل سے مزین)بِالْاجْماع باطل ہے اور یہ کہ عمل کرنے کے بعد تقلید سے رجوع کرنا بالاتفاق باطل ہے۔(4)
۱۳۔مفتی کے لئے ضروری ہے کہ وہ جس فقیہ کے قول کے مطابق فتویٰ دے رہا ہے اس سے کماحَقُّہٗ واقف ہو کہ اس فقیہ کا روایت و درایت میں کیا درجہ اور مقام ہے اور وہ طبقاتِ فقہاء میں سے کس طبقہ سے ہے تاکہ وہ اقوالِ مختلفہ میں سے کسی قول کو علم و بصیرت کی روشنی میں ترجیح دے سکے۔(5)(ردالمحتار ۵۱ ج۱)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب :إذا تعارض التصحیح،ج ۱،ص ۱۷۲.
و''الفتاوی الخیریۃ''،مسائل شتّی،الجزء الثانی،ص۲۳۱.
2 ۔''الدرالمختار''،المقدمۃ،ج۱،ص ۱۷۴.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق،ص۱۷۵۔۱۷۶.
5 ۔''ردالمحتار''،المقدمۃ،مطلب:فی طبقات الفقھاء ،ج۱،ص۱۸۱.
۱۴۔''فتاویٰ خیریہ''کے آخر میں ہے کہ مفتی اور قاضی کے لئے راجح و مرجوح اور قوی و ضعیف اقوال کا علم رکھنا ضروری ہے۔ ان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مسئلہ کا جواب دینے اور قضیہ کا فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔ بلکہ حقیقت کی جستجو کریں یعنی تَثَبُّت سے کام لیں۔ اور اپنے نفس کی خواہش اور اس کی اِتباع پر کسی حلال شے کو حرام اور کسی حرام شے کو حلال نہ بنائیں کہ اﷲ تعالیٰ پر افتراء کرنا سب سے بڑا گناہ ہے ایسا وہی کرسکتا ہے جو عاقبت سے بے خوف ہے اور جاہل و بدبخت ہے۔(1)
۱۵۔ علامہ شامی فرماتے ہیں کہ ناقابلِ اِعتماد کتابوں سے فتویٰ نہیں لکھنا چاہے۔ خَواہ اس لئے ناقابل اعتماد ہوں کہ ان کی نقل و کتابت میں اغلاط و خامیاں ہیں یا اس لئے ناقابلِ اِعتماد ہوں کہ ان کے مصنف مُعْتَمَدعَلَیْہ نہیں یا اس لئے کہ وہ بے حد پیچیدہ اور ان کا فہم دشوار طلب ہوا ور ان کی عبارات انجلک غیر واضح الدَّلالۃہوں کیونکہ ایسی کتابوں کے سمجھنے میں کم علم لوگوں کے غلط فہمیوں میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہے اور اس سے فتویٰ دینے میں غلطیوں کا قوی امکان ہے۔ ماضی میں ایسا ہوا ہے اور فتوے غلط ہوگئے ہیں۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنے رسالہ''شرح عقود رسم المفتی''میں اس کی کچھ مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں۔(2)(شرح عقود رسم المفتی المنظوم ۱۳،۱۵)
۱۶۔ جب امام اعظم رحمۃ اللہ علیہاور صاحبین علیہما الرحمہ کسی قول پر متفق ہوں تو پھر بغیر کسی شدید تر ضرورت کے اس سے عدول نہیں کیا جاسکتالیکن اگر امام صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ایک طرف اور صاحبین علیہما الرحمہ دوسری طرف ہوں ،اس وقت اگر صاحبین کی رائے بھی الگ الگ ہے تو فتویٰ قولِ امام پر ہوگا لیکن اگرصاحبین ایک رائے پر ہیں اور امام اعظم علیہ الرحمہ دوسری رائے پر تو عبداللہ بن مبارک کے نزدیک اس صورت میں بھی فتویٰ قولِ امام پر ہوگا۔ دیگر علماء کا قول یہ ہے کہ اس صورت میں مفتی کو اختیار ہے کہ جس کے قول پر چاہے فتویٰ دے صاحبین کے قول پر یا امام اعظم کے قول پر۔ اس اختیار کا مطلب یہ ہے کہ وہ یعنی مفتی دلیل میں غور کرے اور جو دلیل قوی ہو اس پر فتویٰ دے۔ (سراجیہ از شر ح عقود رسم المفتی)''الحاوی''میں بھی یہی ہے کہ اعتبار قوت دلیل کا ہے کیونکہ مفتی کی شان یہی ہے وہ قوتِ دلیل پر نظر رکھے۔(3)
۱۷۔ مجموعہ رسائل ابن عابدین ۱۳۱ پر ہے:مفتی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ صرف ان ہی امور کو سامنے رکھے جو کہ کتب ظاہر الروایہ میں منقول ہیں اور زمانہ اور اہل زمانہ کے حالات کو نگاہ میں نہ رکھے اگروہ ایسا کریگا توا س سے بہت سے
1 ۔''الفتاوی الخیریۃ ''، مسائل شتی، ج۲، ص ۲۳۱.
2 ۔ ''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،الرسالۃ الثانیۃ:شرح''عقود رسم المفتی''،ج۱،ص۱۳.
3 ۔المرجع السابق، ص ۲۶.
و''الفتاوی السراجیۃ''،مسائل شتّٰی،الجزء الثانی،ص۱۵۷.
و''الحاوی القدسی''،کتاب الحیل، فصل اذا اختلف الروایات...إلخ،ص۱۸۱.
تفصیلات کے لیے ''فتاوی رضویہ ''(مُخَرَّجہ)،ج۱،حصہ الف،ص۱۰۵تا۱۰۸ملاحظہ فرمالیں۔
حقوق ضائع ہوجائیں گے اور اس کا نقصان نفع کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہوگا۔(1)کیونکہ یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ ایک شخص کبھی اس لئے کوئی حکم شرعی حاصل کرنا چاہتا ہے کہ دوسروں کو نقصان پہنچائے تو اگر مفتی اس کو حالات و زمانے کو ملحوظ رکھے بغیر فتویٰ دے گا تو گویا وہ بھی ایک طرح سے اس گناہ میں شریک ہوگیا کیونکہ مفتی کے اس فتوے کی وجہ سے دوسروں کو یہ نقصان اٹھانا پڑا مثلاً ایک شخص اپنی بہن یا بیٹی کو جواس کی ماں یا اس کی بیوی کی پرورش میں ہے چاہتا ہے کہ ان کی مدت حضانت ختم ہوتے ہی وہ اپنی اس بہن یا بیٹی کو اپنی ماں یا بیوی سے لے لے اور اس فعل سے اس کا مقصد اپنی ماں یا بیوی کو اذیت پہنچانا یا اس کے مال پر قبضہ کرنا یا اس کا نکاح کسی دوسرے سے کردینا ہو تو مفتی کو چاہیے کہ جب وہ ای سے حالات کا اندازہ کرلے تو جواب میں اس کا لحاظ رکھے اور مستفتی کو بتلادے کہ اضرار جائز نہیں ہے اگر وہ اپنی اس بہن یا بیٹی کو اپنی ماں یا بیوی سے حاصل کریگا تو گنہ گار ہوگا۔
آداب الافتاء کے ان اصول و قواعد اور احکام سے معلوم ہوا کہ فتویٰ دینا اور حکم شریعت قرآن کریم یا احادیث پاک یاکتب فقہ سے بیان کرنا کوئی سہل کام نہیں کہ جس کو ہر عالم یا عامی و جاہل یا کم علم اور قلیل البصیرت انجام دے سکے قرون اولیٰ میں افتاء کے لئے اجتہاد کی شرط تھی غیر مجتہد، مفتی نہ ہوتا تھا نہ کہلایا جاتا تھا اس دور میں جب کہ علم کا زوال اور علماء کمیاب ہیں بے علم لوگ چند احادیث کا ترجمہ یاد کرکے احکام شرعیہ بیان کرنے لگتے ہیں اور اﷲ(عزوجل)کا خوف ان کے دل میں نہیں آتا۔ کچھ لوگ محض اپنی عقل کی بنیاد پر کسی امر کے جائز یا ناجائز ہونے کا حکم کردیتے ہیں۔ قرآنِ کریم کا ترجمہ پڑھ کر اس کی تفصیل اور اصول و قواعد کا علم حاصل کئے بغیر بڑی بے باکی سے حکم شرعی بیان کردیتے ہیں ای سے لوگوں کو اﷲ واحد قہار(عزوجل) سے خوف کھانا چاہے اور اپنا دین و عاقبت برباد نہیں کرنا چاہیے آج کل کے نو آموز علماء بلا خوف ریا و نفاق خود اپنے قلم سے خود کو مفتی اعظم، شیخ الحدیث، فقیہ العصر اور محدث کبیر و غیرہا اعظم المرتبت الفاظ اپنے نام کے ساتھ لکھتے ہیں یا لکھواتے ہیں اور اگر ان کے نام کے ساتھ یہ ضخیم الفاظ وہ خطابات نہ لکھے جائیں تو اپنی توہین محسوس کرتے ہیں اور اس کا برا مناتے ہیں۔ یہ سب کچھ ان کی کم علمی اور ظرف کے چھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔ انہیں اﷲ(عزوجل)سے ڈرنا چاہے اور اپنی اصلاح کرنی چاہے اگر وہ صاحبِ علم صحیح ہوتے تو اس آیت کا مصداق ہوتے
(اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ)
(2)اﷲ (عزوجل)کے بندوں میں علماء ہی کو خوف ِ الٰہی ہوتا ہے اﷲتعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھے ہمیں عملِ صالح کی توفیق دے اور ہماری عاقبت بخیر فرمائے۔ آمین
وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلاَّبِاللہِ وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلٰی خَیْرِخَلْقِہٖ وَنُوْرِعَرْشِہٖ سَیِّدِ نَا وَمَوْلانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن ۔
1 ۔ ''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،الرسالۃ الثانیۃ:شرح''عقود رسم المفتی''،ج۱،ص۴۶،۴۷.
2 ۔پ۲۲،فاطر:۲۸.
شریعت اسلامیہ کے جملہ احکام و مسائل کا سرچشمہ ، منبع اور مآخذ دو قسم کے امور ہیں ایک وہ جو تمام آئمہ اور جمہور علماء کے نزدیک متفق علیہا ہیں اور وہ چار چیزیں ہیں:
شریعت اسلامیہ کے جملہ احکام و مسائل کا سرچشمہ ، منبع اور مآخذ دو قسم کے امور ہیں ایک وہ جو تمام آئمہ اور جمہور علماء کے نزدیک متفق علیہا ہیں اور وہ چار چیزیں ہیں:
(۱) کتاب اللہ العظیم(۲) سنت نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام (۳) اجماع امت(۴) قیاس ،ان چاروں پر تمام آئمہ کرام اور علماء فقہ کا اجماع ہے کہ یہ شریعت مطہرہ کے جملہ احکام و مسائل کی بنیادیں ہیں۔(1)
دوسری قسم وہ ہے جو ان کے علاوہ ہیں اگرچہ یہ امور بھی نورِ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے منور ہیں اور ان ہی کے فیضان سے مستفیض ہیں لیکن وہ اصول ایسے ہیں جن کو احکام شریعت و مسائل فقہیہ کی بنیاد تسلیم کرنے اور حجت شرعیہ اور قابل استدلال ماننے میں علماء فقہ باہم اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ نیز ان کے مفہوم کی تحدید و تعریف اور ان کے دائرہ عمل کی توسیع میں بھی اختلاف ہے ایسے اصولوں کو فقہ کی اصطلاح میں ''استدلال''سے موسوم کیا جاتا ہے ان کی تعداد پانچ ہے:
(۱) استحسان(۲) مصالح مرسلہ (۳) استصحاب (۴) سابقہ شرائع(۵) صحابی کا مسلک، تفصیلات کے لیے اصول فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کریں۔(2)ہمارے آئمہ ذوی الاحترام و مجتہدین عظام اور ماہرین علم فقہ علیہم الرحمۃ و الرضوان نے مذکورہ بالا تمام ہی بنیادی اصولوں کی روشنی میں ان کو منبع و ماخذ بنا کر مسائل فقہ و احکام شریعت کا استخراج کیا ،فقہ کی کتابیں اور فتاویٰ مرتب فرمائے جن میں بے شمار احکام، مسائل اور جزئیات فقہیہ کو بیان فرمایا جن سے آنے والی نسلیں مستفید ہوئیں اور ہو تی ر ہیں گی تاہم وہ اپنی مدۃ العمر کوششوں کے باوجود تمام جزئیات کا احاطہ نہ کرسکے بے شمار مسائل ایسے ابھر کر آئے جن سے متعلق صریح حکم ان کتابوں میں نہیں ملتا اور قیامت تک نئے نئے مسائل پیدا ہوتے ہی رہیں گے اسلام چونکہ ایک مکمل مذہب ہے اور قرآن کا یہ نہایت سچا دعویٰ ہے کہ وہ
(تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ)
(3)ہے اس لئے یہ علماء اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر نئے ابھرنے والے مسئلہ کا حکم قرآن کریم،احادیث نبویہ اور ان سے ماخوذمنابع و مآخذ سے بیان کریں بلاشبہ ہمارے عظیم علماء کرام نے ان نو مولود مسائل کے احکام شریعہ معلوم کرنے کے لئے بھی نیک کوششیں فرمائیں اور مذکورہ بالا منابع و مآخذ کے سایہ میں فقہ کے کچھ ایسے
1 ۔ ''اُصول الشاشی''، مقدمۃالکتاب، ص۲.
2 ۔کتبِ اصول میں ان کی تعدادآٹھ،چھ اورپانچ سے کم بھی بیان کی گئی ہیں تفصیل کے لیے کتبِ اصول،مثلاً''التقریروالتحبیر شرح التحریر''،ج۳،ص۳۸۲،و''فواتح الرحموت''،ج۲،ص۴۰۱ ملاحظہ فرمائیں۔
3 ۔پ۱۴،النحل:۸۹.
قواعد و ضوابط اور اصول کلیہ مرتب فرمادئیے جن کے ذریعہ سے ہر دور اور ہر زمانے کے مفتیان کرام (بشرطیکہ وہ فقہ میں مہارت و کمال رکھتے ہوں)ہر نومولود مسئلہ کا حکم شرعی بیان کرسکیں۔ الحمد لِلّٰہ کہ ہمارے علمائے فقہ کی یہ عظیم کوشش قرآنِ کریم کے اس دعویٰ کی کہ وہ
(تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ)
ہے ایک مستحکم دلیل اور حجت قاطعہ ہے اﷲ تعالیٰ ان کی ارواح طیبات پر اپنی رحمت و نور کی بارش برسائے، آمین!
بے شک اُمت اسلامیہ ان کے احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتی صرف اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل و کرم سے اجر عظیم عطا فرمائے گا۔اس مختصر میں یہ فقیر فقہ کے ان ہی قواعد و ضوابط اور اصول کلیہ میں سے کچھ کو بیان کررہا ہے جو ہمارے فقہائے کرام نے نومولود مسائل احکامِ شریعہ سے معلوم کرنے کے لئے بیان فرمائے ہیں اُمید ہے کہ دورِ حاضر اور بعد میں آنے والے مفتیان کرام اور علماء فقہ کے لئے بیان احکام میں یہ معاون و مددگار ثابت ہوں گے یہ سب کچھ اس ناچیز نے اپنے اساتذہ اور اپنے علماء کرام کی کتابوں سے حاصل کئے ہیں ان میں جو صحیح ہیں وہ ان کی طرف سے ہیں اور اگر ان میں کوئی نقص یا غلطی ہے تو وہ یقیناً اس فقیر کی ہے اصحابِ علم تصحیح فرمادیں اور اس خطا کا ر کو معاف فرمادیں۔ اسی کے ساتھ یہ بندہ ناچیز تمام پڑھنے والوں اور استفادہ کرنے والوں سے امید رکھتا ہے اور درخواست کرتا ہے کہ وہ ضرور ہی اسے پڑھ کر رب کریم وعفو، غفور کی بارگاہ میں میرے لئے دعائے حسن عاقبت کریں گے اور میرے لئے بے حساب مغفرت کی دعا فرمائیں گے۔
ذیل میں ان قواعد فقہیہ اور اصول کلیہ کو بیان کیا جاتا ہے جن کے ذریعہ سے ہر اس نومولود مسئلہ کا حکم شرعی معلوم کیا جاسکتا ہے جس کا ذکر نہ کتبِ فقہیہ میں ہے نہ اس پر کوئی نص شرعی ہے نہ اس پر کوئی استدلال شرعی ہے؟جن مسائل کا حکم کتب فقہ میں بیان کردیا گیا یا اس سے متعلق کوئی نص شرعی موجود ہے یا اس پر استدلال شرعی موجود ہے ایسے مسائل کا حکم وہی ہے جو ان کتابوں میں ہے ان قواعد فقہیہ اور اصول کلیہ کو وہاں استعمال نہیں کیا جائے گا۔ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ نصوص شرعیہ کو چھوڑ کر استدلال کو نظر انداز کرکے ان قواعد فقہیہ سے حکم بیان کرے اگر وہ ایسا کریگا تو یہ اس کی اتباع نفس اور جہالت ہوگی۔
العَیَاذُ بِاللہِ تَعَالٰی ۔
یہ قاعدہ حدیث
''اَلأعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ''
(1)سے ماخوذ ہے مطلب یہ کہ ثواب اُخروی کا مدار اخلاص نیت پر ہے یہ قاعدہ فقہیہ تمام اعمال و افعال پرحاوی ہے۔ عبادت خواہ مقصودہ ہو یا غیر مقصودہ اگر ان کا فاعل اخلاص نیت نہیں رکھتا تو وہ ماجورو مثاب نہ ہوگاجیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے ،
''اَلأعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ''
یعنی اعمال کا حکم نیت پر موقوف ہے تمام عبادات مقصودہ کی صحت ادائے نیت پر موقوف ہے جیسے نماز، روزہ ،زکوٰۃ اور حج میں اگر نیت نہیں کرے گا تو ان میں سے کوئی عبادت صحیح ادا نہ ہوگی اور
1 ۔''صحیح البخاری''،کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء الوحی...إلخ،الحدیث:۱،ج۱،ص۶.
جب عبادت صحیح ادا نہ ہوئی تو ثواب اخروی کیسے مرتب ہوگا ۔نماز، روزہ ، زکوٰۃ اور حج اپنے تمام اقسام کے ساتھ عبادات مقصودہ میں داخل ہیں لہٰذا ان میں سے کوئی بھی بغیر نیت کئے صحیح ادا نہ ہوں گے وضو اگرچہ نماز کے لئے فرض اور شرط ہے مگر یہ عبادت غیر مقصودہ ہے اس لئے یہ نیت کے بغیر بھی صحیح ہوجائے گی لیکن اگر کوئی شخص بغیر نیت کئے ہوئے وضو کریگا وہ مستحق ثواب نہیں ہے اسی طرح وہ اپنے کسی عمل میں بھی بغیر نیت کے ثواب کا مستحق نہ ہوگا۔فقہ کا یہ قاعدہ بے شمار مسائل کا حل ہے اور انسان کے مذہبی معاشرتی اعمال کی فلاح و بہبود اور بہت سے علوم کے اباحت حصول کی بنیاد اسی پر ہے اور مباح میں بہت سی چیزوں کا جواز یا عدم جواز یا ثواب یا عدم ثواب اسی سے متعلق ہے۔(1)
یعنی اعمال اور معاملات کا دار ومدار ان کے مقاصد پر ہے یعنی کسی چیز کے جائز یا ناجائز ہونے، حلال یا حرام ہونے یا کسی عمل پراجریا سزا ملنے کا دارومدار اس کے مقصد اور نیت پر ہے جیسے کسی نے ناراض ہو کر اپنے مسلمان بھائی سے ترک سلام و کلام کیا اگر بلا سببِ شرعی اس نے تین دن سے زیادہ اس عمل کو جاری رکھا تو حرام ہے کیونکہ حدیث شریف میں تین دن سے زیادہ ترک سلام و کلام کی مُمانعت ہے(2)اور اگر سببِ شرعی کی وجہ سے تین دن سے زیادہ بھی ترک سلام و کلام کیا کہ وہ بدکار ، یا شرابی یا تارک الصلوٰۃ(3)ہے تو جائز ہے۔ اسی طرح شِیرے کی بیع(4)جائز ہے لیکن اگربائع نے شیرہ شراب بنانے والے کو اس مقصد سے فروخت کیا کہ وہ شراب بنائے تو اس بیع پر وہ گناہ گار ہوگا اور اس کا یہ فعل حرام ہے اور ناجائز ورنہ نہیں، کوئی پڑی ہوئی چیز ملی اگر اس مقصد سے اٹھائی کہ مالک کو پہنچادے گا تو جائز ورنہ ناجائز۔ سکہ پر اسم جلالت نقش کرایا اگر بقصد علامت ہے تو جائز اگر بقصدِتہاون واہانت ہے تو ناجائز و حرام بلکہ کفر۔ نماز کی کوئی آیت تلاوت کی جو کسی سائل کا جواب بھی ہوسکتی ہے اگر اس سے مقصد جواب دینا ہے تو یہ فعل حرام اور نماز فاسد،ورنہ نہیں۔اصل میں یہ دونوں قاعدے تقریباً ہم معنی ہیں اور بے شمار مسائل ان سے مستخرج ہیں۔(5)
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول:القواعد الکلیۃ،النوع الاول،القاعدۃ الأولی،ص۱۷،۱۸.
2 ۔''سنن ابی داود''،کتاب الأدب،فیمن یھجراخاہ المسلم،الحدیث:۴۹۱۳،ج۴،ص۳۶۴.
3 ۔یعنی بلاعذر شرعی نماز نہیں پڑھتا ۔ 4 ۔یعنی انگور وغیرہ کے رس کی فروخت۔
5 ۔''الأشباہ والنظائر''، الفن الأول:القواعد الکلیۃ،النوع الاول،القاعدۃ الثانیۃ،ص۲۳.
و''غمزعیون البصائر''،الفن الأوّل فی القواعد الکلیۃ،النوع الأوّل،القاعدۃ الثانیۃ،ج۱،ص۱۰۲۔۱۰۸.
یعنی یقین شک سے زائل نہیں ہوتا ۔ یہ قاعدہ اس حدیث مبارکہ سے ماخوذ ہے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔
إِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ فِیْ بَطْنِہٖ شَیْئًا فَأَشْکَلَ عَلَیْہِ أَخَرَجَ شَیْءٌ أَمْ لا؟فَلا یَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتًا اَوْیَجِدَ(1) رِیْحًا''
(2)یعنی جب کوئی شخص اپنے پیٹ میں کچھ محسوس کرے اور یہ یقین مشکل ہوجائے کہ اس میں سے کچھ نکلا یا نہیں یعنی ریح وغیرہ خارج ہوئی یا نہیں تو اس وقت تک مسجد سے باہر نہ آئے جب تک وہ ریح خارج ہونے کو محسوس نہ کرے (3)یا اس کی آواز نہ سن لے۔''جیسے کسی شخص کو اپنے باوضو ہونے کا یقین ہے اور وضو ٹوٹنے میں شک ہے تو وہ باوضو مانا جائے گا (4)اور جیسے کسی شخص کے زندہ ہونے کا یقین ہے اور مرنے میں شک ہو تو اسے زندہ ہی مانا جائے گا اور اس کی وراثت تقسیم نہ کی جائے گی۔ اس قاعدہ کے ماتحت اوربھی احکام شرعیہ ہیں۔
اصل یہ ہے کہ ہر شخص بری الذمہ ہے جب تک اس پر کوئی حق یا دعویٰ ثابت نہ ہو جیسے مدعی کادعویٰ ہے کہ اس پر میرا قرض ہے اور مدعیٰ علیہ کہتا ہے کہ مجھ پر کوئی قرض نہیں اور مدعی کے پاس کوئی دلیل اور شہادت بھی ثبوت قرض کے لئے نہیں ہے تو اس صورت میں مدعیٰ علیہ کا قول تسلیم کیا جائے گا اور وہ بری الذمہ ہے کیونکہ بری الذمہ ہونا یعنی اس پر قرض نہ ہونا اصل ہے اسی لئے ثبوت اور دلیل ہمیشہ مدعی پر ہوتی ہے کیونکہ مدعی کا قول اور دعویٰ اصل کے خلاف ہوتا ہے۔(5)
یعنی اگر کسی کو یہ شک ہو کہ اس نے یہ کام کیا یا نہیں کیا تو اصل یہ ہے کہ اس نے وہ کام نہیں کیا ۔مثلاً یہ شک ہوا کہ میں نے اس وقت کی نماز پڑھی یا ابھی نہیں پڑھی تو اگر اس نماز کا وقت باقی ہے جس میں شک کررہا ہے تو نماز دوبارہ پڑھے اور اگر اس
1 ۔بہار شریعت میں اس مقام پرحدیث کے الفاظ اس طرح ہیں''یسمع صوتًااورِیحًا''جبکہ مسلم شریف اور دیگر کتب احادیثمیں اس طرح ہیں''یسمع صوتًااویجد رِیحًا''اسی لیے ہم نے متن میں ''یجد''کا اضافہ کردیاہے۔...علمیہ
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الحیض،باب الدلیل علی من تیقن...إلخ،الحدیث:۹۹۔(۳۶۲)،ص۱۹۳.
3 ۔یعنی جب تک ہواکی بومحسوس نہ کرے۔
4 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول:القواعد الکلیۃ،النوع الاول،القاعدۃ الثالثۃ،ص۴۷،۴۹.
5 ۔''الأشباہ والنظائر''،المرجع السابق،ص۵۰.
نے شک کیا نماز کا وقت گزر جانے کے بعد تو اعادہ نہیں۔(1)
جیسے کسی کو عمل کرنے کا تو یقین ہے لیکن شک یہ ہے کہ وہ کام زیادہ کیا یا کم کیا تو اس کا فعل کم پر محمو ل کیا جائے گا کیونکہ کم کا تو یقین ہے۔ مثلاً یہ شک ہوا کہ نماز میں کتنی رکعتیں پڑھیں اگر پہلی بار ایسا ہواہے تو نماز ازسر نو پڑھے اور اگر بکثرت ایسا ہوتاہے تو تحری کرے ورنہ اقل رکعت قرار دے۔ یہ اس وقت ہے جب شبہ نماز کی حالت میں ہو اگر نماز سے فراغت کے بعد یہ شبہ ہوا تو اس پر کچھ نہیں۔(2)
یعنی جو چیز یقین سے ثابت ہوتی ہے وہ صرف یقین ہی سے زائل ہوسکتی ہے(3)جیسے کسی کو اپنے باوضو ہونے کا یقین ہے اور وضو ٹوٹ جانے کا شک ہے تو وہ باوضو ہی ہے محض شک سے باوضو ہونے کا یقین زائل نہیں ہوسکتا۔ کنواں پاک ہونے کا یقین ہے اور ناپاک ہونے کا شک ہے تو کنواں پاک ہی قرار دیاجائے گا۔
ان دونوں کی مثال یہ ہے کہ کسی نے ایک غلام خریدا اس شرط پر کہ روٹی پکانا جانتاہے یعنی خباز ہے یا وہ کتابت جانتا ہے۔ پھر خریدار نے کہاکہ وہ خباز نہیں یا کاتب نہیں تو قول مشتری کا مانا جائے گا کیونکہ خباز اور کاتب ہونا صفات عارضہ سے ہے اور اصل اس میں عدم ہے۔دوسرے قاعدہ کی مثال یہ ہے کہ کسی نے باندی خریدی اس شرط پر کہ وہ باکرہ(کنواری)ہے پھر مشتری نے اس میں بکارت کا انکار کیا اور بائع کہتا ہے کہ باکرہ ہے تو اس صورت میں بائع کا قول تسلیم کیا جائے گا کیونکہ بکارت صفات اصلیہ سے ہے اور اصل اس میں وجود ہے۔ (5)(فتح القدیر ،باب خیار الشرط)
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول:القواعد الکلیۃ،النوع الاول،القاعدۃ الثالثۃ،ص۵۰،۵۱.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص۵۱. 4 ۔المرجع السابق،ص۵۳،۵۴.
5 ۔''الفتح القدیر''،کتاب البیوع،باب خیار الشرط،ج۵،ص۵۲۹.
و''الأشباہ والنظائر''، الفن الأول:القواعد الکلیۃ،النوع الاول،القاعدۃ الثالثۃ،ص۵۴.
یعنی ہر چیز اصل میں مباح و جائز ہے۔ یہ اصل حضرت امام شافعی اور احناف میں حضرت امام کرخی کے نزدیک ہے(1)متاخرین احناف نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضاعلیہ الرحمۃ والرضوان بھی اس کو سند لائے ہیں۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ اﷲعزوجل نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا :
(ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا ٭)
(2)
اﷲ ہی نے تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے پیدا فرمایا ۔
لہٰذا ہر چیز مباح اور جائز ہے جب تک اس کے عدم جواز یا تحریم پر کوئی دوسرا حکم نہ ہو صاحبِ ہدایہ علیہ الرحمہ کا بھی یہی مسلک ہے۔(3)حدیث شریف میں ہے:
اَلْحَلالُ مَا أحَلَّ اللہُ فِیْ کِتَابِہٖ وَالْحَرَامُ مَاحَرَّمَ اللہُ فِیْ کِتَابِہٖ وَمَاسَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ مِمَّا عَفَا عَنْہُ(4)
''حلال وہ ہے جواﷲعزوجل نے اپنی کتاب میں حلال فرمادیا اور حرام وہ ہے جواﷲعزوجل نے اپنی کتاب میں حرام فرمادیا اور جن چیزوں سے سکوت اختیار فرمایا وہ معاف ہیں اور مباح''۔
لہٰذا ہر وہ چیز جس سے اﷲعزوجل نے سکوت اختیار فرمایا وہ جائز و مباح ہے اگر اسے کوئی شخص ناجائز یا حرام یا گناہ کہے اس پر لازم ہے کہ وہ دلیل شرعی لائے کیونکہ مسکوت عنہا(جس سے سکوت کیا گیا)کو مباح و جائز کہنے کے لئے یہ حدیث ہی کافی ہے۔ قرآنِ پاک کی ایک آیت اس مفہوم کو ثابت کرنے و الی اوپر بیان ہوچکی ہے دوسری آیت جس سے یہ مفہوم اور زیادہ وضاحت سے ثابت ہوتا ہے یہ ہے!
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسْـَٔلُوۡا عَنْ اَشْیَآءَ اِنۡ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ ۚ)
(5)
''اے ایمان والو تم ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جن کا حکم نازل نہیں کیا گیاکہ اگر ان کا حکم ظاہر کردیا جائے تو تمہیں تکلیف پہنچے '' اسی لئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے شرعی احکام میں کثرت سوال سے منع فرمایا کہ اس سے شریعت کے احکام کے
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول:القواعد الکلیۃ،النوع الاول،القاعدۃ الثالثۃ،ص۵۶،۵۷.
2 ۔پ۱،البقرۃ:۲۹.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الطلاق،باب العدۃ ،ج۱،ص۲۷۸.
و''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول:القواعد الکلیۃ،النوع الاول،القاعدۃ الثالثۃ،ص۵۷.
4 ۔''سنن ابن ماجۃ''، کتاب الأطعمۃ، باب أکل الجبن والسمن ، الحدیث: ۳۳۶۷، ج ۴، ص ۵۶.
5 ۔پ۷،المآئدۃ:۱۰۱.
سخت ہونے کا اندیشہ ہے اس آیت کا واضح مفہوم یہی ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا وہ عفو میں داخل ہیں۔ اگر ان کی ممانعت یا فرضیت کا حکم نازل ہوگیا تو تمہیں تکلیف پہنچے گی۔ لہٰذا جن چیزوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہواوہ آیت مذکورہ
(ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا ٭)
کی روسے جائزومباح ہیں
(تِلْکَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تَعْتَدُوۡہَا ۚ)
(1) ''اور یہ اﷲعزوجل کی بیان کردہ حدود ہیں تو ان سے تجاوز نہ کرو۔''لہٰذاجوان مسکوت عنہا کو ناجائز یا حرام یا بدعت سیئہ یا فرض یا واجب کہے وہ قرآن یا حدیث یا قواعد فقہیہ سے دلیل لائے ورنہ یہ اﷲعزوجل کی بیان کر دہ حدود سے آگے بڑھنا ہے اوراﷲعزوجل اور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام اور شریعت کاملہ پر افتراء ہوگا۔ جس کی قرآن میں شدید مذمت آئی ہے اور سخت ممانعت و تہدید کی گئی ہے لہٰذا میت کو ایصالِ ثواب کے لئے تعین وقت کے ساتھ قرآن خوانی یا سوالاکھ بار کلمہ شریف پڑھنا یا پڑھوانا فاتحہ و درود ، انعقاد محافل میلاد شریف اور صلوٰۃ وسلام اور بیعت و ارادت وغیرہا کے عدم جواز و بدعت کے قائلین کو قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اَقَل درجہ میں قواعد فقہیہ سے ان کے عدم جواز پر دلیل لانا چاہیے۔ بلا دلیل شرعی ان کے عدم جواز کا قول اﷲعزوجل اور رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر افتراء ہے،
وَالْعِیَاذُ بِاللہِ تَعَالٰی ۔
یہ امر بھی ملحوظ رکھنا اشد ضروری ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قول و فعل اور صحابہ کرام کا قول و فعل تو حجت شرعیہ ہے مگر ان کا عدم قول اور عدم فعل، عدم جواز کے لئے حجت شرعیہ نہیں وہ اسی قاعدہ کے مطابق جائز و مباح ہے کہ
اَلأصْلُ فِی اَلأشْیَاءِ الإبَاحَۃُ
بلکہ امر مباح بہ نیت خیر باعث اجرو ثواب ہے اور مستحسن کہ
''اَلأعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ''
حدیث صحیح ہے بلکہ وہ تمام امور مباح جن سے دین کی ترقی یا تعلیماتِ اسلام کی اشاعت اور شریعت کا تحفظ ہوتا ہے سب مستحسن ہیں۔
اصل اور قاعدہ یہ ہے کہ ہر واقعہ کو اس کے قریب تر وقت کی طرف منسوب کیا جائے۔جیسے کوئی عورت یہ دعویٰ کرے کہ اس کے شوہر نے اس کو اپنے مرض الموت میں طلاق دی ہے اور دیگر ورثہ کہتے ہیں کہ حالتِ صحت میں طلاق دی ہے تو ایسی صورت میں عورت کا قول مانا جائے گا کیونکہ اس کا قول اقرب کی طر ف منسوب ہے اور وہ متوفی شوہر کی وارث ہوگی۔(2)
1 ۔پ۱،البقرۃ:۲۹.
2 ۔''الأشباہ والنظائر''، الفن الأول:القواعد الکلیۃ،النوع الاول،القاعدۃ الثا لثۃ،ص۵۵.
یعنی مشقت آسانی لاتی ہے(1)اس قاعدہ کا ماخذ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
(یُرِیۡدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ۫)
(2)
اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتا ہے تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا۔
دوسر ی جگہ فرماتا ہے:
(وَمَا جَعَلَ عَلَیۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ مِنْ حَرَجٍ ؕ)
(3)
اللہ تعالیٰ نے تم پر دین میں تنگی اور حرج نہیں رکھا۔
اس لئے شریعت نے مسائل کثیرہ میں مسلمانوں کے لئے آسانیاں فراہم کی ہیں حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے فرمایا:
لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِیْ لَفَرَضْتُ عَلَیْھِمُ(4)السِّوَاکَ(5)
''اگر میں اپنی امت پر مسواک کرنے کی پابندی باعثِ مشقت نہ جانتا تو میں مسواک کرنے کو واجب کردیتا۔''جب حج فرض ہونے کی آیت نازل ہوئی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کردیا ہے تو ایک صحابی حضرت عکاشہ بن محصن(6)یا سراقہ بن مالک نے عرض کیا کہ یارسول اللہ کیا ہر سال ؟یہ سوال آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر گراں گزرا فرمایا خدا کی قسم اگر میں ہاں کہہ دوں تو ہر سال فرض ہوجائے گا۔(7)اسی طرح نمازِ تہجد صرف آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)پر واجب تھی امت پر واجب نہیں ہے، روزہ بھی سال میں ایک ہی ماہ کا فرض کیا گیا۔ان آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ اور اس کے رسول رحمت علیہ السلام مسلمانوں کو آسانیاں عطا فرماتے ہیں اسی کی روشنی میں فقہ کا یہ قاعدہ ہے کہ مشقت آسانیاں لاتی ہے۔
علامہ ابن نجیم مصری علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب''الاشباہ والنظائر''میں عبادات وغیرہا میں سات قسم کے اسباب تخفیف بیان فرمائے ہیں۔صاحب نورالانوار نے اس کی دوقسمیں کی ہیں اور اٹھارہ اسباب بیان فرمائے ہیں جو بعد میں بیان کئے جائیں گے۔
1 ۔''الأشباہ والنظائر''، الفن الأول:القواعد الکلیۃ،النوع الاول،القاعدۃ الرابعۃ،ص۶۴.
2 ۔پ۲،البقرۃ:۱۸۵. 3 ۔پ۱۷،الحج:۷۸.
4 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر'' لَأوجبتُ المسوَاکَ'' لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ کتب ِحدیث میں اصل عبارت اس طرح ہے''لَفرضتُ علیھم السِّوَاکَ'' یا''لَأمرتُہم بالسِّوَاک''،اسی وجہ سے ہم نے متن کے الفاظ کو حدیث کے مطابق کر دیا۔. . . علمیہ
5 ۔''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،حدیث تمام بن العباس،الحدیث:۱۸۳۵،ج۱،ص۴۵۹.
6 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر'' عکاشہ بن محض'' لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ حدیث پاک میں''عکاشہ بن محصن'' مذکورہے، اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
7 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الحج،باب فرض الحج مرۃ فی العمر،الحدیث۴۱۲۔(۱۳۳۷)،ص۶۹۸.
و''التفسیرالکبیر''،سورۃ المآئدۃ،تحت الآیۃ:۱۰۱،ج۴،ص۴۴۴.
سفر کی دوقسمیں ہیں پہلی قسم یہ ہے کہ اتنا طویل فاصلہ طے کیا جائے جو درمیانی رفتارِ انسانی سے تین دن تین رات میں طے ہو اس کو سفر طویل کہتے ہیں اور اس کی تخفیفات شرعیہ یہ ہیں کہ اتنا طویل سفر کرنے والا مسافر نماز قصر ادا کریگا (1)اسے روزہ چھوڑ دینے کی اجازت ہے اور موزوں پر تین دن اورتین رات مسح کرسکتا ہے۔ دورانِ سفر اس پر قربانی واجب نہیں وغیرہ وغیرہ دوسری قسم سفر کی یہ ہے کہ اتنا طویل نہ ہو اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے شہر سے باہر نکل جائے خواہ چند میل باہر ہی سہی اس کو شریعت کی طرف سے جو تخفیف و تیسیر دی گئی ہے وہ یہ ہیں کہ وہ جمعہ چھوڑ سکتا ہے اس پر نماز باجماعت موکدہ نہیں اور وہ سواری پر نفل نماز ادا کرسکتا ہے اور پانی میسر نہ ہو تو تیمم کرسکتا ہے وغیرہا۔
اسباب تخفیف میں سے دوسری قسم مرض ہے اس کی شرعی رخصت اور تخفیفات بھی بہت زیادہ ہیں۔ اگر بیماری بڑھ جانے یا جان کا اندیشہ ہو تو غسل اور وضو کے بجائے تیمم کرسکتا ہے۔ اگر کھڑا نہیں ہوسکتا تو بیٹھ کر نماز ادا کرے گا اور بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو لیٹ کر نماز ادا کرنے کی اجازت ہے، نماز جماعت میں شریک نہ ہونے کی اجازت ہے، اسی طرح جمعہ و عیدین میں نہیں جاسکتا تو اجازت ہے کوئی گناہ نہیں، رمضان کے روزے بھی قضا کرنے کی اجازت ہے وغیرہا۔
تخفیف کا تیسرا سبب اکراہ ہے۔
عسر اور عموم بلویٰ پر بھی شریعت کے بہت سے مسائل و احکام متفرع ہیں ،عسر کا مطلب ہے تنگی اور دشواری اور عموم بلویٰ کا مطلب ہے ایسا ابتلاء عام جس سے بچنا دشوار اور مشکل ہو جیسے اس کپڑے سے نماز پڑھنے کی اجازت ہے جس پر چوتھائی کپڑے سے کم میں نجاست خفیفہ لگی ہو یا بقدر درہم نجاست غلیظ لگی ہو، یا جیسے معذور کے جسم سے برابر نجاست خارج ہورہی ہے۔ جب بھی وہ کپڑا دھوئے نجاست نکل کر پھر لگ جائے اسے اس کپڑے میں نماز کی اجازت ہے، وہ نجاست جس کا زائل ہونا دشوار
1 ۔یعنی چار رکعت فرض والی نماز کی ادائیگی دو رکعت سے کرے گا۔
ہو یا زائل نہ ہوسکے وہ بھی عفو میں داخل ہے جیسے کپڑے پر نجس پختہ رنگ ہو یا نجس مہندی ہاتھوں پر لگائی اب دھونے سے اس
نجاست کا اثر زائل نہیں ہوتا اس حالت میں اس کا حکم پاکی کا ہے اور نماز اس سے جائز ہے اونٹ کی مینگنی اگر دودھ میں پڑ جائے اور پھوٹنے سے قبل فوراً نکال لی جائے وہ دودھ نجس نہیں،کپڑے کو نجس بخارات لگے تو صحیح یہ ہے کہ کپڑا نجس نہیں۔ مُشْک(1)حالانکہ وہ خون ہے مگر اس کے پاک ہونے کا حکم ہے، پاک مٹی ناپاک پانی میں یا ناپاک مٹی پاک پانی میں ملا کر گارا بنایاجائے تو اس کے پاک ہونے کا حکم ہے، بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بلا وضو قرآن کو چھونا جائز ہے، میت کو غسل دینے والے پر اگر میت کے غسالہ (غسل کا پانی )کی چھینٹیں آجائیں تو نجاست کا حکم نہیں۔ راستے کی کیچڑاگر کپڑے یا پیر پر لگے تو کپڑا یا پیر نجس نہیں، شریعت نے مکلف و مامور سے عسر دفع کرنے کے لئے یہ سہولت دی کہ شہر سے باہر نوافل سواری پر اشارے سے پڑھ سکتا ہے اور نوافل بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے بلا کسی عذر کے اور ظہر کی نماز کے لئے ابراد (وقت کو ٹھنڈا کرنا)مستحب قرار دیا اور جمعہ اور جماعت کو بارش کی وجہ سے ترک کرنے کو جائز قرار دیا۔پتھر سے استنجا مشروع فرمایا حالانکہ پتھر مزیل نجاست(2)نہیں، وصی اور ولی کے لئے یہ جائز قرار دیا کہ وہ مال یتیم سے اتنا لے لیں جو ان کے عمل کے بقدر معاوضہ ہو،طبیب اورشاہد (گواہ)کو بوقتِ ضرورت مستور اعضاء یا شکل و صورت پردہ دار کی دیکھنا جائز ہے، اسی طرح دایہ کے لئے عورتوں کے اندام نہانی میں نگاہ کرنا جائز ہے۔ بوقت موت مرنے والے کو وصیت کرنا جائز رکھا تاکہ وہ تلافی مافات کرسکے اور ورثاء کو ضرر سے بچانے کے لئے ثلث مال سے زائد میں وصیت کو جائز و نافذ نہ فرمایا۔ اور شریعت نے ترکہ پر میت کی ملکیت اس وقت تک باقی رکھی جب تک میت کے قرضوں ووصیت اور تجہیز و تکفین و حوائج ضروریہ پورے نہ کردیئے جائیں اور مجتہدین سے خطا پر گناہ نہیں رکھا ان کے لئے ظن غالب پر اکتفا جائز رکھا اور اخذ بالیقین کی تکلیف نہ دی کیونکہ کسی اجتہاد میں یقین کامل حاصل کرنا سخت دشوار ہے مذکورہ تمام مسائل دفع عسر(3)اور عموم بلوی سے تعلق رکھتے ہیں جو تفصیلات معلوم کرنا چاہے ان کتابوں کا مطالعہ کرے۔
اسباب تیسیر میں سے یہ بھی ایک سبب ہے جیسے صبی و مجنون کو تکلیفات شرعیہ سے مکلف نہیں کیا گیا جب تک وہ اس حالت میں رہیں ان کا معاملہ ان کے ولی کے سپرد کیا گیا اور عورتوں کو نماز باجماعت، نماز جمعہ و عیدین اور جہاد کی تکلیف نہیں دی گئی وغیرہا(4)صاحب نورالانوار علیہ الرحمہ نے اسباب تخفیف و تیسیر کو مبحث اہلیۃکے زیر عنوان بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے ان اسباب کو زیادہ تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اولاً ان کو دو قسموں میں تقسیم فرمایا:
1 ۔خوشبودار سیا ہ رنگ کا مادّہ جو ایک قسم کے ہرن کی ناف سے نکلتا ہے۔2 ۔ یعنی نجاست زائل کرنے والا۔3 ۔یعنی تنگی کو دور کرنے۔
4 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول:القواعد الکلیۃ،النوع الاول،القاعدۃ الرابعۃ،ص۶۴،۷۰.
(۱) اسباب تخفیف عوارض سماویہ کی وجہ سے ۔
(۲) اسباب تخفیف عوارض مکتسبہ کی وجہ سے۔
عوارض سمٰویہ کی وجہ سے جن اسباب پر شریعت نے جو آسانیاں دی ہیں وہ اسباب یہ ہیں:
۱۔ صغر : عبادات، حدود اور کفارات صغیرپر واجب نہیں لیکن فرضیت ایمان ساقط نہیں۔ ''۲۸۷''
۲۔ جنون : جنون ممتد(1)میں صاحبِ جنون پر عبادات فرض نہیں، اس کی طلاق بھی نافذ نہیں۔''۲۸۸ ''
۳۔عتہ: یعنی دماغی خلل کبھی عقل کی بات کرے اور کبھی پاگلوں کی سی اس کی طلاق نافذ نہیں اس پر عبادات اور عقوبات بھی نہیں ہیں۔
۴۔ نسیان : ناسی کا روزہ میں بھول کر کھالینا ،ذبح کے وقت تسمیہ پڑھنا بھول جانا اور بھول کر دوسری رکعت پر سلام پھیر دینا معافی میں ہے۔
۵۔ نوم(2):نائم کی(3)طلاق اور اس کا ارتداد نافذ نہیں اور نماز میں نائم کا کام کرنا مفسد صلوٰۃ نہیں نہ اس کا نماز میں قہقہہ ناقض وضو ہے۔
۶۔ اغماء : یہ از قسم بیہوشی ایک مرض ہے جس میں انسان کی قوتیں مضمحل ہوجاتی ہیں(4)اس میں عقل و تمیز اور شعور نہیں رہتا اس حالت میں اس کی طلاق نافذ نہیں نہ اس سے کلمہ کفر صادر ہوجانے سے ارتداد کا حکم دیا جائے گا اگر اغماء چوبیس گھنٹہ یا اس سے زیادہ دیر تک رہے تو اس سے نمازیں ساقط ہوجاتی ہیں یعنی جن اوقات میں وہ اغماء میں رہا ان اوقات کی نمازیں ساقط ہوں گی۔
۷۔ رق : یعنی غلامی، غلام کے تصرفات نافذ نہیں،اس پر حج فرض نہیں، شریعت نے اس کو اور بھی تخفیفات دی ہیں جو فقہ کی کتابوں میں ہیں۔
۸۔ مرض : مریض حالت مرض و ضعف (5)میں بیٹھ کریا لیٹ کر اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ روزہ اور حج مؤخر کرسکتا ہے وغیرہ ۔
۹۔ حیض : اس حالت میں عورتوں کو نمازیں معاف ہیں اور روزہ مؤخر کریں گی وغیرہ۔(حیض کا مطلب ہے ماہواری کا خون)۔
۱۰۔نفاس : یہ وہ خون ہے جو بچہ کی ولادت کے بعد عورتوں کے جسم سے جاری ہوتا ہے۔ اس عرصہ کی نمازیں ان عورتوں سے معاف ہیں اور وہ روزہ مؤخر کریں گی دورانِ حج اگر ایسی حالت ہوئی تو دونوں حالتوں میں طواف زیارت مؤخر کریں گی۔
۱۱۔ موت : اگر کسی پر حج فرض ہوا لیکن ابھی حج کا وقت نہیں آیا تھا کہ موت واقع ہوگئی تو اس پر حج ادا نہ کرنے کا گناہ نہیں یا حج کا زمانہ بھی آگیا اور اس نے سفر حج کی تیاری بھی کرلی تھی کہ موت آگئی تو بھی حج نہ کرنے کا گناہ نہیں ہاں ان دونوں صورتوں میں اگر حج بدل کی وصیت کرے تو بہتر ہے۔اسی طرح بقدر نصاب مال کا مالک ہوگیا اور وہ حوائج اصلیہ سے زائد بھی ہے لیکن سال
1 ۔وہ جنون جو مسلسل ایک ماہ تک رہے۔ 2 ۔نیند۔ 3 ۔یعنی سونے والے کی۔
4 ۔یعنی کمزور ہوجاتی ہیں۔ 5 ۔کمزوری۔
گزرنے میں کچھ دن باقی تھے کہ انتقال ہوگیا توا س پر زکوٰۃ ادا نہ کرنے کا گناہ نہیں۔ (1) ''۲۹۷''
۱۔جہل : جہل کئی قسم کا ہوتا ہے جن میں بعض جہل تیسیر و تخفیف کے لیے عذر نہیں اور بعض جہل عذر مسموع ہیں(2)کافر کا جہل اس کے عدم ایمان کے لئے عذر مسموع نہیں ایسے ہی اصحاب الہوٰی کا جہل صفات الٰہیہ اور احکام آخرت نہ ماننے میں عذر نہیں اور امام برحق کے خلاف بغاوت کرنے میں باغی کا جہل عذر ِ مسموع نہیں جب کہ وہ دلیل فاسد کا سہارا لے کر بغاوت کررہا ہو۔
وہ امور جن میں شرع نے جہل کو عذر مسموع تسلیم کیا ہے اور اس بنیاد پر تخفیف دی ہے، یہ ہیں:
(۱) جیسے وہ مسلمان جو دارالحرب میں ہے اور وہاں سے ہجرت کرنے سے معذور رہا۔ وہ اپنے جہل کی وجہ سے اسلام کے احکام و عبادات پر عمل نہ کرسکے تو نہ وہ گنہگار ہے نہ اس پر قضا واجب۔(۲)ایسے ہی وہ شخص جو دارالحرب میں مسلمان ہوا اور احکام اسلام پر اپنے جہل کی وجہ سے عمل نہ کرسکے تو اس پر گناہ نہیں۔ (۳)حق شفعہ رکھنے والا متعلقہ جائیداد کی بیع سے جاہل رہا تو اس کایہ جہل عذر ہے اسے شفعہ حاصل ر ہے گا۔(۴) باندی اپنے آزاد ہونے یا صاحب خیار ہونے سے جاہل رہی(3) تو اس کاجہل عذر مسموع ہے اس کوخیار حاصل رہے گا۔(۵) وہ صغیر وصغیرہ جن کا نکاح ان کے باپ یا دادا کے علاوہ کسی اور نے کیا ہو، بالغ ہوتے ہی انھیں اسے جائز یا باطل کرنے کا اختیار ہے لیکن اگر وہ بلوغ کے وقت اس نکاح سے جاہل رہے تو یہ جہل عذر مسموع ہے ان کو اختیار حاصل رہے گا وغیرہا اس قسم کے صد ہا مسائل ہیں۔''۳۰۱۔۳۰۰''
۲۔ سکر : یعنی نشہ کی حالت، کسی حلال و مباح شے کے استعمال سے سکرونشہ کی حالت پیدا ہوئی یا جبروا کراہ کی وجہ سے (4) نشہ آور چیز استعمال کی یا جان بچانے کے لئے شراب پی اور حالت سکر ہوئی تو ان صورتوں میں اس کا حکم اغماء جیسا ہے یعنی جس طرح حالتِ اغمامی والے کی طلاق و عتاق اور دیگر تصرفات نافذ نہیں ہوتے مذکورہ سکر کی حالت میں بھی اس کی طلاق وعتاق اور دیگر تصرفات نافذنہ ہوں گے لیکن اگر کوئی حرام و ممنوع شے یا شراب بغیر عذر شرعی پی جیسے شراب پی اور نشہ ہوا تو اس کے تصرفات نافذ ہوں گے اور اس کے طلاق و عتاق،(5) بیع و شرا(6) اور اقرار کے الفاظ صحیح تسلیم کئے جائیں گے مگر ارتداد اور اقرار حدود میں اس کے الفاظ پر حکم ارتداد یا حکم نفاذ حدود نہ دیا جائے گا۔''۳۰۱ن''
۳۔ ہزل : ہزل کا مطلب یہ ہے کہ مذاق میں ایسے الفاظ استعمال کرنا جن کے حقیقی یا مجازی معنی مقصود نہ ہوں بلکہ محض
1 ۔''نورالأنوار''، بیان الأھلیۃ،ج۲،ص۱۵۵،۱۷۷.
2 ۔یعنی قابل قبول ہیں۔ 3 ۔یعنی خیار عتق سے۔ 4 ۔یعنی زور وزبردستی کی وجہ سے۔
5 ۔یعنی غلام یا باندی کو آزاد کرنا۔ 6 ۔خریدوفروخت۔
لہوو لعب(1)اور تفریح میں استعمال کئے جائیں ہازل یعنی مذاق میں بات کہنے والا الفاظ تو اپنے اختیار سے اپنی مرضی سے استعمال کرتا ہے لیکن ان کے اصل مفہوم اور ان کے حکم شرعی سے راضی نہیں ہوتا۔امور غیر مالیہ جیسے طلاق و عتاق، یمین،(2)کفراور ارتداد میں ہزل کے الفاظ نافذ ہوں گے اور بیع، اجارہ اوراقرار میں بعض صورتوں میں نافذ ہوں گے اور بعض میں نہیں ۔(3)''۳۰۵ن''(د ر مختا ر )
۴۔ سَفَہ : یعنی مقتضائے شرع یامقتضائے عقل کے خلاف مال کو تبذیر سے ضائع کرنا(4)سفیہ پر جملہ احکام شرع نافذ ہوں گے لیکن اسے مال خرچ کرنے سے روکا جائے گا اور صاحبین کے نزدیک(5)اسے بیع، اجارہ ،ہبہ اور دیگر تصرفات مالیہ جیسے صدقات و خیرات سے روکا جائے گا کیونکہ وہ اسراف و تبذیر کریگا (6)پھر مسلمانوں یا بیت المال پر بوجھ بنے گا۔ ''۳۰۸ن''
۵۔ سفر : شریعت کی مقررہ مسافت طے کرنے والامسافر چار رکعت والی نماز میں قصر کریگا، روزہ مؤخر کریگا، تین دن تین رات موزوں پر مسح کریگا اور سننِ واجب کو(7) سواری پر اشارہ سے بھی ادا کرسکتا ہے۔ قبلہ رو ہونا بھی اس کے لیے ضروری نہیں۔'' ۹ ۰ ۳ ن''
۶۔ خطاء : خطا کا مطلب ہے کوئی کام بلا ارادہ ہوجانا یا ارادہ کے خلاف ہوجانا لہٰذا اگر مجتہد سے اپنی تمام تر مخلصانہ کوشش کے بعد استخراج مسائل و حکم شرعی میں خطا ہوجائے تو وہ آثم و ماخوذ نہیں(8)بلکہ ایک گونہ اجر وثواب کا مستحق ہے۔ قتل اگر خطاء ًہوا ہو تواس پر حدیا قصاص نہیں۔ اسی طرح زفاف میں (9)اگر خطاء ً کسی اجنبی عورت سے وطی کرلی(10)تو اس پر حد زنا نہیں لیکن خطاء ً حقوق العباد میں عذر مسموع نہیں خاطی کی طلاق واقع ہوجائے گی۔''۳۱۰ن''
۷۔اکراہ : مکرَہ (11)کے لئے حالت اکراہ میں بعض صورتوں میں عمل فرض ہوتا ہے جیسے اپنی جان بچانے کے لئے مردار کھانا اور شراب پی لینا اور بعض صورتوں میں اس پر عمل کرنا حرام جیسے زنا کرنا اور کسی بے گناہ کو قتل کرنا اور بعض صورتوں میں عمل مباح ہے جیسے روزہ توڑنا اور بعض صورتوں میں عمل کرنا رخصت ہے جیسے بہ کراہتِقلب و بعدمِ رضا بادلِ ناخواستہ اپنی جان بچانے کی خاطر فقط زبان سے کلمہ کفر ادا کردینا۔ (12)''۳۱۱ن''
1 ۔یعنی کھیل کود۔ 2 ۔قسم۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،مطلب:فی حکم البیع مع الھزل،ج۷،ص۱۷.
4 ۔یعنی فضول خرچی سے ضائع کرنا۔ 5 ۔یعنی امام ابویوسف وامام محمدرحمہمااللہ تعالٰی۔
6 ۔یعنی فضول خرچی کرے گا۔
7 ۔سننِ واجب سے مرادسننِ مؤکدہ ہیں اوراس میں سنّتِ مؤکدہ وغیرِمؤکدہ اورنفل سب شامل ہیں سوائے سنّتِ فجرکے،کہ ایک روایت میں سنّتِ فجرکوواجب بھی کہاگیاہے،تفصیل کے لیے ''البحرا لرا ئق '' ، ج ۲ ، ص ۱۱۳ ، ۱۱۴ ، ''ردالمحتار ''، ج۲ ،ص۵۸۸ ،بہارِشریعت ،ج۱،حصہ دوم،ص۲۸۳،حصہ چہارم ،ص۶۷۱،۶۷۳ملاحظہ فرمالیں۔ . . . علمیہ
8 ۔یعنی گنہگار و قابل مؤاخذہ نہیں۔ 9 ۔یعنی سہاگ رات میں ۔ 10 ۔یعنی ہم بستری کرلی۔
11 ۔یعنی جس پر اکراہ کیا گیا۔ 12 ۔''نورالأنوار''،بیان الأھلیۃ،ج۲،ص۱۸۳۔۲۱۱.
تخفیفاتِ شرعیہ :۷ اسباب تخفیف و تیسیر بیان کرنے کے ساتھ ساتھ شریعت مطہرہ نے وہ تخفیفات اور سہولتیں بھی معین فرمادی ہیں جو ان اسباب میں سے کسی سبب تخفیف کے موجود ہونے کی صورت میں دی گئی ہیں یہ سہولتیں بھی سات قسم کی ہیں:
(۱) بوقتِ عذر شرعی اسقاط عبادت کی تخفیف و سہولت جیسے جنون واغماء ممتد کی صورت میں فرضیت نماز کا سقوط وغیرہا (۲)تخفیف تنقیص (کم کرنا)جیسے حالت سفر میں نماز قصر کرنا(۳)تخفیف ابدال جیسے وضو اور غسل کے بدلے میں تیمم، نماز میں قیام کے بدلے قعود اور روزہ کے بدلے فدیہ وغیرہا(۴)تخفیف تقدیم جیسے حج کے موقع پر عرفات میں ظہر کی نماز سے ملا کر نماز عصر ادا کرنا اور زکوٰۃ و صدقہ فطر کو پہلے ہی ادا کرنا(۵)تخفیف تاخیر جیسے حج کے دنوں میں مزدلفہ میں نماز مغرب کو موخر کرکے وقتِ عشاء میں پڑھنا اور مریض و مسافر کے لئے روزہ موخر کرنا اور کسی ڈوبنے والے کو بچانے کے لئے نماز موخر کردینا(۶)تخفیف ترخیص جیسے نجاست خفیفہ ربع ثوب سے کم تک(1) لگ جانے کی صورت میں یا نجاست غلیظ بقدر ایک درہم لگی ہونے کی صورت میں نماز پڑھنے کی رخصت (۷)تخفیف تغییر جیسے بوقت جہاد دشمن کے خوف سے نماز کے نظم میں تغییر۔(2)''۵۷''
یعنی مشقت اور حرج کا اعتبار اس جگہ ہے جہاں نص شرعی موجودنہ ہو اگر کسی مسئلہ میں نص موجود ہے تو پھر اس کااعتبارنہ کیا جائیگا ۔ جیسے حرم کی گھاس اُکھاڑنا کہ اس پر نص موجود ہے کہ یہ جائز نہیں لہٰذا یہاں اس قاعدہ کا اعتبار نہیں۔(3)
یعنی معاملہ جب تنگ و دشوار ہوجائے تو وسعت ملتی ہے اور جب وسیع ہو تو سخت کیا جاتا ہے۔ بعض فقہاء نے ان دونوں قاعدوں کو ایک جملہ میں جمع کردیا ہے
''کُلٌّ مَّاتَجَاوَزَعَنْ حَدِّہٖ اِنْعَکَسَ اِلٰی ضِدِّہٖ''
ہر وہ چیزجو اپنی حد سے آگے بڑھ جائے اپنی ضد کی طرف لوٹ جاتی ہے(4)جیسے نماز کا وقت اگر زیادہ تنگ ہوجائے اس وقت وضو کی سنن ترک کی جاسکتی ہیں اور اگر وقت میں گنجائش ہے تو وضو میں زیادہ پانی بہانا یا وضو کے فرائض و سنن اور مستحبات پر اضافہ جائز نہیں۔
1 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر'' نجاستِ خفیفہ ربع ثوب تک'' لکھاہواتھا،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل میں عبارت اس طرح ہے '' نجاستِ خفیفہ ربع ثوب سے کم تک''،اسی وجہ سے ہم نے متن میں''سے کم''کااضافہ کردیا ہے،تفصیل کے لیے بہارشریعت ج۱،حصہ دوم،ص۳۸۹،۳۹۰ملاحظہ فرمائیے۔...علمیہ
2 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول:القواعدالکلیۃ،النوع الأول،القاعدۃ الرابعۃ،ص۷۱،۷۲.
3 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول:القواعدالکلیۃ،النوع الأول،القاعدۃ الرابعۃ،ص۷۲.
4 ۔المرجع السابق.
یعنی ضررو نقصان کو دور کیا جائے ۔ اس قاعدہ کی بنیاد یہ حدیث پاک ہے
''لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ''
(1)اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مسلمان اپنے بھائی کو نہ ابتداء ً ضرر پہنچائے نہ ضرر کے انتقام اور بدلہ میں انتہاء ًاس قاعدہ پر بھی بہت سے مسائل فقہیہ کی بنیاد ہے۔ اس قاعدہ کے پیش نظر مشتری کو خیار عیب حاصل ہے کہ اگر اس کی خریدی ہوئی چیز میں عیب ہے تو اسے واپس کرنے کا اختیار ہے اور شریک اور پڑوسی کو اپنے سے دفع ضرر کے لئے حق شفعہ حاصل ہے۔ اس قاعدہ کی رو سے وہ وقف جائز نہیں جس کا مقصد قرض خواہوں کو محروم کرنا ہو۔ کسی ایسی بلند جگہ پر چڑھنا جہاں سے دوسروں کی عورتوں کی بے پردگی ہو یہ با آواز بلند اعلان کئے بغیر جائز نہیں۔(2)
یعنی ضرورتیں ممنوعات کو جائز کردیتی ہیں اس قاعدہ کی اصل قرآن پاک کی یہ آیت ہے:
( اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنۡزِیۡرِ وَمَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللہِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیۡہِ ؕ)
(3)
اس قاعدہ کے ماتحت بہ حالت اضطرارمردار سے بقدر ضرورت کچھ کھالینا یا شراب کا گھونٹ پی لینا یا اکراہ کی حالت میں جان بچانے کے لئے بکراہت قلب(4)کلمہ کفر ادا کردینا جائز ہے۔ اسی طرح اس قاعدہ کے مطابق اگر کشتی میں اتنا سامان بھر دیا کہ اس کے ڈوبنے کا خطرہ ہے اور اس میں مسافروں کی جان کا خطرہ ہے تو اس میں سے مال نکال کر سمندر میں پھینک دینا جائز ہے اور کشتی کو بچانا جائز ہے حالانکہ عام حالات میں دوسرے کا مال ضائع کرنا حرام ہے۔ (5)''۵۸''
1 ۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الأحکام، باب من بنٰی فی حقہٖ...إلخ،الحدیث:۲۳۴۰،ج۳،ص۱۰۶.
2 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ الخامسۃ،ص۷۲،۷۳.
3 ۔پ۲،البقرۃ:۱۷۳.
ترجمہ کنزالایمان:اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر خداکا نام لے کر ذبح کیا گیا تو جو ناچار ہو نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں بیشک اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔
4 ۔یعنی دلی ناپسندیدگی کے ساتھ۔
5 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعد الکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ الخامسۃ،ص۷۳.
و''غمزعیون البصائر''،الفن الاول فی القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ الخامسۃ،ج۱،ص۲۵۱،۲۵۲.
یعنی جو چیز ضرورت کے تحت جائز ہے وہ صرف بقدر ضرورت ہی جائز ہے۔ مردار کھانا یا شراب پی لینا صرف اتنا ہی جائز ہے جس سے جان بچ جائے ۔ زیادہ بالکل نہیں۔ اسی طرح طبیب کو بوقتِ ضرورت شرعی پردہ کی جگہ کا صرف وہ حصہ دیکھنا جائز ہے جس کے دیکھنے کی ضرورت ہے زیادہ نہیں اسی طرح دایہ کو، دارالحرب میں بقدر ضرورت دشمن کے مال سے کھانا حاصل کیا جائے گا اور جانوروں کا چارہ، جلانے کے لئے لکڑی اور ہتھیار وغیرہ لینا جائز ہے جب کہ مال غنیمت کی ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو اور اگر ضرورت سے بچ رہا تو مال غنیمت میں واپس کردیا جائے گا۔(1)(کنز) ''۵۹''
یعنی جو چیز کسی عذر کی وجہ سے جائز ہوئی تو اگر عذر زائل ہوجائے تو اس کا جواز بھی باطل ہوجائے گا جیسے پانی کے استعمال کرنے پر قادر نہ تھا تو تیمم کرنا جائز ہے اورپانی کے استعمال پر قادر ہوگیا تیمم باطل ہوجائے گا۔(2)
یعنی نقصان کو نقصان پہنچا کر زائل نہ کیا جائے گا جیسے ایک شخص جو حالت اضطرار میں ہے دوسرے ایسے اشخاص کا کھانا نہیں کھاسکتا جو خود بھی حالتِ اضطرار میں ہے۔(3)
یعنی ضرر خاص کو برداشت کرلیا جائے گا ضرر عام سے بچنے کے لئے جیسے ان کافروں پر گولہ باری یا تیر اندازی کی جائے گی جو خود کو بچانے کے لئے مسلمانوں کے بچوں کو ڈھال بنالیں۔ اسی طرح اس بوسیدہ دیوار کو گرا دیا جائے گا جو راستہ کی طرف جھک گئی ہو اور جس کے گرنے سے راہگیروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہواگرچہ اس کا مالک رضا مند نہ ہو۔ ایسے ہی نان فروش اگرروٹیوں کی قیمت زیادہ بڑھادیں تو بھاؤ مقرر کیا جائے گا اگر غلہ فروش قحط کے زمانے میں مہنگا بیچنے کے لیے غلہ اسٹور کریں تو ان کا
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ الخامسۃ،ص۷۳،۷۴.
و''کنزالدقائق''،کتاب السیروالجھاد،باب الغنائم وقسمتھا،ص۲۰۳.
2 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ الخامسۃ،ص۷۴.
3 ۔ المرجع السابق.
غلہ جبراً فروخت کردیا جائے گا۔ اسی طرح اگر باپ اولاد کا واجب الادا نفقہ نہ دے اور انھیں فاقہ کشی پر مجبور کرے تو باپ کو ان کے نفقہ کی ادائیگی کے لئے قید کیا جائے گا۔ غیر سنجیدہ و عدیم الحیا مفتی کو اور جاہل طبیب کو فتویٰ دینے اور علاج کرنے سے روکنا جائز ہے۔ اسی طرح اگر کسی نے زمین غصب کرلی اور اس پر عمارت بنالی یا پیڑ لگادیئے تو اگر زمین کی قیمت عمارت یاپیڑوں کی قیمت سے زیادہ ہے تو عمارت گرادی جائے گی یا پیڑاکھڑ وادیئے جائیں ورنہ زمین غصب کرنے والا زمین کی پوری قیمت کا ضامن ہوگا اس سے مالک کو زمین کی قیمت دلوائی جائے گی۔ (1)
اگر کوئی شخص دو مصیبتوں میں گرفتار ہوجائے اور دونوں برابر کی ہوں تو جس کو چاہے اختیار کرے اوراگر دونوں برابر کی نہ ہوں تو ان میں سے جو ہلکی ہو اُسے اختیار کرے کیونکہ حرام کا ارتکاب بو جہ مجبوری جائز کیا گیا ہے لہٰذا کم سے کم ہو اس لئے بڑی مصیبت کو ترک کردے کہ اس میں بلا ضرورت زیادہ حرام کرنا پڑے گا۔ جیسے کسی کے جسم میں زخم ہے اگر وہ سجدہ کرتا ہے تو زخم بہنے لگتا ہے اور زخم بہے گا تو وضو ٹوٹے گا جسم ناپاک ہوگا اور سجدہ نہیں کرتا تو زخم نہیں بہتا اس صورت میں نماز کا سجدہ ترک کرنا پڑے گا تو وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے اور رکوع و سجدہ اشارہ سے ادا کرے کیونکہ سجدہ ترک کردینا اس سے کمتر ہے اور آسان ہے کہ نماز حالتِ حدث اور نجس جسم کے ساتھ پڑھے۔ ایسے ہی اگر کوئی ضعیف و ناتواں بوڑھا ہے اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو قراء ت قرآن نہیں کرسکتا اور بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو قراء ت کرلیتا ہے وہ بیٹھ کر نماز ادا کریگا اور قیام ترک کردے گا کیونکہ ترک قیام تو نوافل میں بھی جائز ہے مگر ترک قراء ت قرآن جائز نہیں ایسے ہی کوئی جاں بلب فاقہ زدہ ہے(2)اس کے پاس کھانے کے لیے مردار ہے اور کسی دوسرے کا کھانا ہے تو اسے مال غیر حلال نہیں بقدر ضرورت مردار کھائے گا یہ اَھْوَن ہے۔ بعض فقہاء کا قول ہے کہ مردار نہیں کھائے گا مال غیر کھائے گاابن سماعہ وطحاوی اور امام کرخی رحمۃ اللہ علیہ کا یہی قول ہے(3)ابن سماعہ فرماتے ہیں:مال غیر کو غصب کرنا مردار کھانے سے اَھْوَن ہے۔(4)
''یعنی خرابیوں کو دور کرنا زیادہ بہتر ہے حصولِ منافع سے''پس جب مفاسد اور مصالح میں تضاد واقع ہو تومصالح کو ترک
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ الخامسۃ،ص۷۴،۷۵.
2 ۔یعنی بھوک کی وجہ سے اس کی جان پر بنی ہوئی ہے۔
3 ۔''اشباہ'' اور دیگر کتب فقہ میں ہے کہ امام کرخی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاایسی صورت میں مضطر کو اختیار ہے چاہے تو مردار کھا لے چاہے تو مال غیر۔...علمیہ
4 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ الخامسۃ،ص۷۶،۷۷.
کرکے مفاسد کو دور کیا جائے گا کیونکہ شریعت مطہرہ کی تو جہ محرمات و ممنوعات و مفاسد کو دور کرنے میں زیادہ سخت ہے بہ نسبت مامورات و مصالح کو بروئے کار لانے کے، سید الکائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْءٍ فَأْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَھَیْتُکُمْ عَنْ شَیْءٍ فَاجْتَنِبُوْہُ (1)
یعنی جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو حتی المقدور اسے بجالاؤ اور جب کسی شے سے منع کروں تو ا س سے دور رہو۔
صاحب الکشف نے یہ حدیث روایت کی ہے:
لَتَرْکُ ذَرَّۃٍ مِّمَّا نَھَی اللہُ عَنْہُ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَۃِ الثَّقَلَیْنِ(2)
یعنی منہیات الٰہیہ میں سے ایک ذرہ سے بھی اجتناب کرنا اور بچنا جن و انس کی عبادت سے افضل ہے۔
فتاویٰ بزازیہ نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے:
مَنْ لَّمْ یَجِدْ سُتْرَۃً تَرَکَ الإسْتِنْجَاءَ وَلَوْ عَلٰی شَطِّ نَھْرٍ(3)
جسے سترہ نہ ملے (یعنی پردہ کرنے کی چیز)وہ استنجاء کو ترک کرے خواہ وہ نہر کے کنارے پر ہو۔
عورت پر غسل واجب ہوا اور وہ مردوں سے پردہ کی جگہ نہ پائے تو غسل موخر کرے گی اور مرد پر اگر غسل واجب ہے اور اسے مردوں سے پردے کی جگہ نہ ملے تو غسل کو موخر نہ کریگا کیسے بھی ہو غسل کریگا لیکن اگر مرد کو استنجاء کے لئے پردہ کی جگہ نہ ملے تو استنجاء موخر کریگا۔ غسل اور استنجاء میں یہ فرق ا س لئے ہے کہ نجاست حکمیہ نجاست ظاہری سے اقوٰی ہے۔ ایسے ہی اگرچہ وضو میں کلی کرنے اور ناک صاف کرنے میں مبالغہ کرنا مسنون ہے لیکن بحالت روزہ یہ عمل مکروہ ہے مبادا پانی اندر پہنچ جائے اور روزہ کو توڑ دے۔ کبھی مصالح مفاسد پر بدرجہا غالب ہوتے ہیں ایسی صورت میں مصالح کو اختیار کیا جائے جیسے متحارب گروہوں(4)کے درمیان صلح کرانے کے لیے دروغ بیانی(5)کرنا جائز ہے حالانکہ دروغ منہیات شرع سے ہے(6)۔(7)
یعنی حاجت ضرورت کا مقام حاصل کرلیتی ہے۔ اسی قاعدہ کے ماتحت اجارہ کا جواز ہے اگرچہ اجارہ داری خلاف قیاس
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الحج،باب فرض الحج مرۃ فی العمر،الحدیث:۴۱۲۔(۱۳۳۷)،ص۶۹۸.
و''صحیح البخاری''،کتاب الاعتصام...إلخ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،الحدیث:۷۲۸۸،ج۴،ص۵۰۲.
2 ۔''کشف الأسرار''،المتشابہ،ج۱،ص۱۵۴.
3 ۔
4 ۔یعنی آپس میں دو لڑنے والے گروہ۔ 5 ۔یعنی جھوٹ بولنا۔ 6 ۔یعنی جھوٹ ممنوعات شرعیت میں سے ہے۔
7 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ الخامسۃ،ص۷۸.
ہے مگر یہ ایک حاجت ہے جو ضرورت بن گیاہے۔ ایسے ہی بیع سلم کا جواز خلاف قیاس ہے کیونکہ یہ معدوم شے کی بیع ہے(1)مگرغرباء کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اس کا جواز ہے۔ اسی قاعدہ کے ماتحت جب حاجت شدید داعی ہوئی تو بیع الوفاء کے جواز کا فتویٰ ہوا۔(2)
یعنی عادت حکم شرعی کی بنیاد ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جو چیز عرف و عادت کے لحاظ سے درست ہو شریعت اسے جائز قرار دیتی ہے۔ (3)یہ قاعدہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اس حدیث سے ماخوذ ہے۔
مَارَآہُ الْمُسْلِمُوْنَ حَسَناً فَھُوَ عِنْدَ اللہِ حَسَنٌ(4)
یعنی وہ چیز جس کو مسلمان(اہلِ علم و اہل تقویٰ )اچھا سمجھیں وہ اﷲکے نزدیک بھی اچھی ہے۔
یہ حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے جس کو حضرت امام احمد رحمہ اللہ تعالٰی نے اپنی مسند میں روایت کی ہے بعض محدثین اسے مرفوع کہتے ہیں اور بعض اس کو موقوف کہتے ہیں ۔(5)عرف و عادت کی تعریف علامہ ابن عابدین علیہ الرحمہ اپنی کتاب''شرح عقود رسم المفتی المنظوم''میں فرماتے ہیں:
قَالَ فِی''الْمُسْتَصْفٰی'':أَلْعَادَۃُ مَااسْتقَرَّفِی النُّفُوْسِ مِنْ جِھَۃِ الْعُقُوْلِ وَتَلَقَّتْہُ الطِّبَاعُ السَّلِیْمَۃُ بِالْقُبُوْلِ وَفِیْ''شَرْحِ التَّحْرِیْرِ''أَلْعَادَۃُ ھِیَ الأمْرُالْمُتَکَرِّرُمِنْ غَیْرِعِلاقَۃِ عَقْلَیَّۃٍ(6)
اور''الأشباہ والنظائر''میں علامہ زین الدین ابن نجیم الحنفی المصری فرماتے ہیں:
وذکرالامام الھندی فی''شرح المغنی''أَلْعَادَۃُ عِبَارَۃٌ عَمَّا یَسْتَقِرُّفِی النُّفُوْسِ مِنَ الأمُوْرِالْمُتَکَرَّرَۃِ الْمَقْبُوْلَۃِ عِنْدَالطِّبَاعِ السَّلِیْمَۃِ(7)
ان سب کا مفہوم و مطلب یہ ہے کہ انسان دیدہ و دانستہ کسی کام کو بار بار کرتے ہوئے اس درجہ پر پہنچ جائے کہ بلا تکلف
1 ۔یعنی ایسی چیز کی بیع ہے جو ابھی موجود نہیں۔
2 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃالخامسۃ،ص۷۸،۷۹.
3 ۔المرجع السابق،القاعدۃ السادسۃ،ص۷۹.
4 ۔''المسند''الامام احمد بن حنبل،مسند عبداﷲ بن مسعود،الحدیث:۳۶۰۰،ج۲،ص۱۶.
5 ۔''کشف الخفائ''،حرف المیم،الحدیث:۲۲۱۲،ج۲،ص۱۶۸.
و''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۷۹.
6 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،الرسالۃ الثانیۃ شرح عقود رسم المفتی،الجزالاول،ص۴۴.
7 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۷۹.
اس سے اس کا م کا صدور ہونے لگے وہ اگر قول ہے تو وہ بلا تکلف اسی معنی میں سمجھاجانے لگے جس میں وہ حقیقت کے برخلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ صاحب الاشباہ نے عرف و عادت کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں:
(۱)أَلْعُرْفِیَّۃُ الْعَامَّۃُ (۲) وَالْعُرْفِیَّۃُ الْخَاصَّۃُ (۳) وَالْعُرْفِیَّۃُ الشَّرْعِیَّۃُ (1) ''۶۴۰''
عرف اور عادت کو فقہائے کرام نے بڑی اہمیت دی ہے فقہ کے کثیر مسائل کا حکم عرف و عادت پر مبنی ہے ''مبسوط''میں ہے:جو چیز عادت اور عرف کے ذریعہ ثابت ہوجائے وہ ایسی ہے جیسے نص شرعی سے ثابت ہو۔''ردالمحتار''جلد پنجم میں جہاں نابالغوں کے سن بلوغ سے بحث کی گئی ہے اسی موقع پر فرمایا کہ ''ان معاملات میں جہاں نص شرعی موجود نہ ہو عرف و عادت ہی شرعی حجت ہے۔''(2)
امام شہاب الدین القرافی فرماتے ہیں:''احکام عرف اور عادت کے ساتھ ساتھ نافذ ہوتے رہتے ہیں۔''
۱۔ کبھی عادت ایک ہی دفعہ سے ثابت و تسلیم ہوجاتی ہے جیسے وہ لڑکی جسے پہلی بار حیض آیا تو جتنے دن یہ رہے گا اتنے ہی دن اس کی عادت شمار ہوگی لیکن تربیت کئے ہوئے شکاری کتے کی عادت اس وقت تسلیم ہوگی جب وہ مسلسل تین بار شکار کرکے اسے نہ کھائے۔
۲۔ عرف و عادت کا اعتبار اس وقت ہے جب وہ عام ہو اور غالب ہو۔جب تک عام لوگوں میں اس کا رواج عام نہ ہوجائے اس کو حکم شرعی کی بنیاد نہیں بنایاسکتا۔
۳۔ عادت اور عرف جب عام رواج ہوجائیں تو کیا وہ شرط کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں۔
فتاویٰ ظہیر یہ مبحث الاجارہ میں ہے:
اَلْمَعْرُوْفُ عُرْفاً کَا لْمَشْرُوْطِ شَرْعًا ۔
بزازیہ میں ہے:
اَلْمَشْرُوطُ عُرْفاً کَالْمَشْرُوْطِ شَرْعًا
۴۔ الفاظ کا مفہوم حقیقت کے خلاف عرف پر اس وقت محمول کیا جائے گاجب وہ عرف ایک زمانے سے چلا آرہا ہو کسی نئے رواج وعرف پر الفاظ کوحقیقت کے خلاف محمول نہ کیاجائے گا اسی لئے فقہاء فرماتے ہیں کہ
''لَا عِبْرَۃَبِالْعُرْفِ الطَّارِیءِ ''
نیز یہ کہ عرف کا اعتبار معاملات میں ہے تعلیق میں نہیں ۔ تعلیق میں وہ اپنے حقیقی معنی اور اصلی مفہوم میں لیا جائے گا جیسے کسی ظالمہ بیوی نے اپنے شوہر سے کہلوایا کہ میں اگر تیرے اوپر کسی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق اس نے یہ کہہ دیا اور نیت یہ کی کہ
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۷۹.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحجر،فصل بلوغ الغلام...إلخ،ج۹،ص۲۶۰.
اگر میں تیرے اوپر یعنی تیرے کندھوں پر یا کمر پر بٹھا کر کسی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق ،تو اس کی یعنی شوہر کی نیت کے مطابق عمل کیا جائے گا کیونکہ اس نے اپنے الفاظ سے حقیقی معنی مراد لئے ہیں اور اس کی بیوی نے ظلماً اسے یہ قسم دلائی تھی اور مظلوم کی نیت اس کی قسم میں معتبرہے نیز اس کا یہ کلام از قسم تعلیق ہے اور تعلیق میں عرف کا اعتبار نہیں اس لئے اس کا کلام عرف پر محمول نہیں کیا جائے گا اور اگر وہ کسی عور ت سے نکاح کریگا تو اسے طلاق واقع نہ ہوگی۔
۵۔ عرف اور شرع میں جب تضاد ہوگا تو عرف الاستعمال مقدم رکھاجائے گا خصوصاً اَیْمَان میں لہٰذا اگر کسی نے یہ قسم کھائی کہ وہ فرش یا بساط پر نہیں بیٹھے گا یا یہ قسم کھائی کہ وہ سراج ( چراغ )سے روشنی حاصل نہیں کریگا پھر وہ زمین پر بیٹھا یا سورج سے روشنی حاصل کی تو وہ حانث نہیں ہوگا(یعنی اس کی قسم نہ ٹوٹے گی)اگرچہ قرآن کریم میں زمین کو فراش اور بساط فرمایا گیا ہے اور سورج کو سراج فرمایا گیا ہے مگر یہاں اس کے عرفی معنی مراد لئے جائیں گے۔ اسی طرح اگر اس نے قسم کھائی کہ وہ گوشت نہیں کھائےگا پھر اس نے مچھلی کھائی تو حانث نہ ہوگا کیونکہ عرف میں گوشت کا استعمال مچھلی کے گوشت میں نہیں ہوتا۔ا گرچہ قرآن کریم نے مچھلی کے لئے
لَحْماً طَرِیّاً(1)
کا لفظ استعمال کیا ہے اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں۔(2)
۶۔ عرف اور لغوی معنی میں جب تضاد ہوگا تو عرف میں اگر شرائط معتبرہ پائی گئیں تو لفظ کو عرف پر محمول کیا جائے گا لغوی معنی پر نہیں زیلعی وغیرہ نے یہ تصریح فرمائی ہے:
إِنَّ الأیْمَانَ مَبْنِیَّۃٌ عَلَی الْعُرْفِ لا عَلَی الْحَقَائِقِ اللُّغْوِیَّۃِ(3)
اَیمان عرف پر مبنی ہوتے ہیں نہ کہ لغوی معنی پر۔ اس پر مسائل متفرعہ میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کسی نے قسم کھائی کہ وہ روٹی نہیں کھائے گا تو وہ صرف اس صورت میں حانث ہوگا جب وہ روٹی کھائے جو اس کے شہر میں بالعموم کھائی جاتی ہے جیسے مغربی یوپی اور پنجاب میں گیہوں کی روٹی ،اور بقول صاحب الاشباہ والنظائر ان کے زمانے میں قاہرہ(4)میں گیہوں کی روٹی ،طبرستان میں چاول کی روٹی، زبید(5)میں باجرہ کی روٹی کھانے سے حانث ہوجائے گا اگر ان تمام علاقوں میں مروج روٹی کے علاوہ کسی اور چیز سے بنی ہوئی روٹی کھائی تو حانث نہ(6)ہوگا۔(7)
1 ۔یعنی تازہ گوشت۔
2 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۸۲.
3 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الأیمان،باب فی الدخول...إلخ،ج۳،ص۴۳۹.
و''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۸۳.
4 ۔مصر کا دارالحکومت۔ 5 ۔یمن کے ایک شہر کانام۔
6 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر'' حانث ہوگا'' لکھاہواتھا،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل کتاب میں عبارت اس طرح ہے ''حانث نہ ہوگا''،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے۔...علمیہ
7 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۸۳.
عرف و عادت پر شریعت کے بے شمار احکام و مسائل کا دارومدار ہے اور یہ تمام غیر منصوص علیھا مسائل میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں لیکن عرف و عادت اور ایسے ہی عموم بلوٰی کو سمجھنے کے لئے بڑے وسیع مطالعہ اور دقت نظر کی ضرورت ہے۔ مفتیان کرام کو ان تمام اُمور سے واقفیت رکھنا ضروری ہے ورنہ وہ مسئلہ کا حکم بیان کرنے میں اکثر و بیشتر غلطیوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔ فقہ کی کتابوں میں عرف اور اس سے مستخرجہ مسائل پر سیر حاصل اور مفصل بحثیں کی گئی ہیں۔ مفتی کے لئے ان کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ فقہائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں عرف وعادت کے مقابلہ میں کسی شے کے مفہوم کی وضاحت و تعین میں حقیقت کو ترک کردیا جائے گا۔(1)''الاشباہ ''میں ہے:عادت و عرف وہی معتبر ہے جب اس کا استعمال عرف و عادت میں غالب ہوگیا ہو۔ اسی لئے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی شہر میں مختلف قسم کے درہم و دینار چَل رہے ہوں(یعنی مختلف قسم کے سکے چل رہے ہوں)وہاں اگر کسی نے کوئی چیز دس ۱۰ درہم یا دس دینار میں خریدی یا فروخت کی تو بائع وہ درہم یا دینا رلینے کا مستحق ہوگا جن کا غالب چلن وہاں کا عرف و عادت ہو۔ اگرخریدار کوئی دوسرا سکہ یا دوسرے قسم کے درہم و دینار دینا چاہے تو بائع کو (بیچنے والے کو )انکار کا حق ہوگا۔(2)''شرح بیری''میں بہ حوالہ''مبسوط ''بیان کیا گیا ہے جو چیز عرف سے ثابت ہو وہ ایسی ہے جیسے نص سے ثابت ہو۔(3)(رسائل ابن عابدین)
بہت سے وہ احکام جن پر صاحب مذہب مجتہد نے اپنے زمانے کے عرف و عادت کی بنیاد پر نص قائم کی زمانہ اور حالات کے بدل جانے سے تبدیل ہوگئے ہیں اہل زمانہ میں فساد آجانے کی وجہ سے یا عموم ضرورت کی وجہ سے جیسے تعلیم القرآن کی اجرت کا جواز اور ظاہری عدالت پر اکتفاء نہ کرنا(4)اور غیر سلطان سے اکراہ کا تحقق کیونکہ فقہائے متقدمین کے زمانہ میں اکراہ صرف بادشاہ ہی سے متحقق ہوسکتا تھاغیر سلطان سے اکراہ نہیں ہوسکتا تھا لیکن بعض عوام الناس میں سے لوگ قتل و خونریزی پر اتنے جری ہوگئے کہ ان سے بھی اکراہ کا تحقق ہوگیا فقہائے متقدمین ضمان مباشر پر واجب کرتے تھے متسبب پر نہیں لیکن بعد میں ضمان متسبب پر عائد کیا گیا اس کی وجہ فساد اہل زمانہ اور حالات کا متغیر ہونا بیان کیا گیا ایسے ہی وصی اب مال یتیم میں مضاربت نہیں کرسکتا اور وقف اور یتیم کی زمین کا غاصب ضمان دے گا اور مکان موقوفہ ایک سال سے زیادہ اور وقف زمین کو تین سال سے زیادہ مدت کے لئے اجارہ پر نہیں دیا جائے گا اور قاضی کو اپنے ذاتی علم کی بنا پر فیصلہ دینے سے روکا جائے گا اور
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۷۹.
2 ۔المرجع السابق،ص۸۱.
3 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،الرسالۃ الثانیۃ شرح عقود رسم المفتی،ج۱،ص۴۴.
4 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر'' عدالت پراکتفاء کرنا''لکھاہواتھا،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل کتاب میں عبارت اس طرح ہے''عدالت پراکتفاء نہ کرنا''،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے۔...علمیہ
شوہر کو روکا جائے گا اس سے کہ وہ اپنی بیوی کو سفر میں ساتھ لے جائے(جبکہ بیوی رضا مندہو)اگرچہ شوہر نے اس کا مہر معجل ادا کردیا ہو۔ (نشرالعرف فی بناء بعض الاحکام علی العرف، مجموعہ رسائل ابن عابدین و شرح عقود رسم المفتی ) (1)
عرف و عادت کی بنیاد پر یہ حکم ہے کہ دخول کے بعد بیوی اگر یہ کہے کہ اس نے قبل دخول اپنا مہر معجل وصول نہیں کیا تو اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اور اگر شوہر نے کہا کہ ہر حلال چیز مجھ پر حرام ہے تو اس کی بیوی مطلّقہ ہوجائے گی بشرطیکہ یہ جملہ اور الفاظ اس علاقے میں طلاق کے لئے استعمال کئے جاتے ہوں(یعنی وہاں کا عرف یہ ہو) ایسی صورت میں اس کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر عرف و عادت میں ان الفاظ کا استعمال طلاق کے لیے نہیں ہے تو اس کی نیت کا اعتبار کرلیا جائے گا۔ اگر باپ یہ کہے کہ میں نے اپنی بیٹی کو جو سامان جہیز دیا، میں نے اپنی بیٹی کو اس کی تملیک نہیں کی (2)تو اس کا مدار عرف پر ہے اگر اس علاقہ کا عرف تملیک ہے تو جہیز کی ہر چیز بیٹی کی ملکیت قرار دی جائے گی ورنہ جیسا عرف ہو ویسا ہی حکم ہوگا۔ غرض یہ اور اس قسم کے صد ہا مسائل کے جواز یا عدم جوا ز کا مدار عرف و عادت ، فساد زمان، عموم بلویٰ،ضرورت اور قرائن احوال پر ہے ان میں سے کوئی حکم نہ مذہب سے خارج ہے نہ خلاف،کیونکہ مجتہد اگر اس زمانہ میں حیات ہوتے تو بلاشبہ یہی حکم شرعی بیان فرماتے یہی وہ نکتہ ہے جس نے مجتہدین فی المذاہب اور متاخرین میں سے صحیح وصواب پر نگاہ رکھنے والوں کو جرأت دلائی کہ وہ صاحب المذہب سے منقول کتب ظاہر الروایہ میں منصوص مسائل سے اختلاف کریں۔عرف و عادت اگر زمانے کے تغیر سے تبدیل ہوجائیں اور نیا عرف و عادت بن جائے تو مفتیِ زمانہ کو نئے عرف و عادت کا لحاظ کرکے اس کے مطابق حکم شرعی بیان کرنا چاہیے مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ چونکہ متقدمین فقہاء نے مفتی کے لئے اجتہاد کی شرط رکھی تھی جواب مفقود ہوچکی ہے کیونکہ فی زمانہ کوئی فقیہ شرائط اجتہاد کو پورا نہیں کرتا اس لئے مجتہد مفتی تو اب معدوم ہوچکے ہیں پھر بھی عرف و عادت کے مطابق فتویٰ دینے کے لئے کم سے کم یہ شرط رکھی گئی ہے کہ مفتی وقت مسائل کی معرفت ان کی شروط و قیود کے ساتھ رکھتا ہو نیز اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے کے عرف سے کما حقہ، واقف ہو اور اہل زمانہ کے حالات سے بھی واقفیت رکھتا ہو اور کسی ماہر استاذ سے اس نے مسائل کے استخراج کا طریقہ بھی سیکھا ہو''مُنْیَۃُ المُفْتِی'اور''قنیہ'' میں بھی اس کی تصریح موجود ہے۔(3)(شرح عقودرسم المفتی المنظوم لابن عابدین)''۴۶''
قرینہ حال بھی حکم شرعی کی بنیاد بن سکتا ہے اس کا ثبوت قرآن پاک کی یہ آیت ہے:
1 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،الرسالۃ الثانیۃ شرح عقود رسم المفتی،الجزء الأول،ص۴۴.
و''مجموعۃ رسائل ابن عابدین،نشرالعرف''،الجزء الثانی،ص۱۲۶.
2 ۔یعنی ملکیت میں نہیں دیا۔
3 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،الرسالۃ الثانیۃ شرح عقود رسم المفتی،الجزء الأول،ص۴۴،۴۶.
(اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیۡنَ ﴿۷۵﴾)
(1)
یعنی بے شک اس میں نشانیاں ہیں اہل فراست کے لیے یعنی جو قرائن سے علم حاصل کرلیتے ہیں۔
دوسری آیت اس کے ثبوت کی یہ ہے:
(وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ)
الآیۃ
(2)
یعنی اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر ان کا کرتا آگے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کیااور اگر ان کا کرتا یعنی(یوسف علیہ السلام کا)پیچھے سے چاک ہوا (3)توعورت جھوٹی ہے اوریہ سچے ہیں۔یہ گواہی قطعاً قرینہ حال کی بنیاد پر تھی اور علاماتِ ظاہری سے علم حاصل کرکے گواہی دی گئی جو شرعاً قبول ہوئی اس لئےقرینہ حال اور علامات ظاہری بھی حکم شرعی کی ایک بنیاد تسلیم کئے گئے۔(4)
یعنی ایک اجتہاد دوسرے اجتہاد سے ساقط نہیں ہوتا یعنی ٹوٹتا نہیں ہے اس قاعدہ کی بنیاد صحابہ کرام کا عمل ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے چند مسائل کے سلسلے میں حکم صادر فرمایا جس کی مخالفت سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کی مگر سیدنا حضرت ابوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ کا حکم اس سے نہ ساقط ہوا نہ کالعدم اسی طرح فدک کے بارے میں خلیفہ اول کا حکم حضرت عباس حضرت فاطمہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے اجتہاد سے نہ ٹوٹا نہ ساقط ہوا۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کے خلاف فیصلہ دیا اس نے یہ بات حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بتلائی آپ نے فرمایا اگر میں فیصلہ کرتا تو تمہارے حق میں کرتا۔ اس شخص نے عرض کیا کہ اب کیا چیز مانع ہے کہ آپ فیصلہ دیں آپ نے فرمایا چونکہ اس معاملہ میں کوئی نص شرعی ہے نہیں لہٰذا رائے اور اجتہاد دونوں برابر ہیں۔ اس قاعدہ پر جو مسائل متفرع ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ سمت قبلہ کے بارے میں کسی نے اجتہاد تحری کرکے اس طرف نماز شروع کی۔ درمیان میں اس کی رائے و اجتہاد بدل گیا اس نے رخ دوسری طرف کرلیا اسی طرح اس نے اگر چار رکعتیں چار سمت کی طرف رخ کرکے پڑھیں تو نماز درست ہے اس کی قضا نہیں دوسرے اجتہاد نے پہلے اجتہاد کو کالعدم و ساقط نہیں کیااس لئے ہر رکعت صحیح ادا ہوئی اور وہ نماز قضا نہیں کریگا۔ اگر قاضی نے کسی فاسق کی شہادت کو اس کے فسق و فجور کی
1 ۔پ۱۴،الحجر:۷۵. 2 ۔پ۱۲،یوسف:۲۶.
3 ۔یعنی پھٹا ہوا۔
4 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،الرسالۃ نشرالعرف...إلخ،الجزء الثانی،ص۱۲۸.
وجہ سے رد کردیا پھر اس نے اپنے فسق سے توبہ کرکے اس شہادت کو دوبارہ دیا تو قبول نہیں کی جائے گی۔(الاشباہ ۷۳وغیرہا )(1)
یعنی حلال اور حرام جب جمع ہوں گے تو غلبہ حرام کو ہوگا اس قاعدہ کے ماتحت اگر کتے اور بکری کے اختلاط سے بکری کے بچہ ہوا تو وہ حرام ہے اور سکھایا ہوا کتا جب بِسْمَ اللہ پڑھ کر شکار پر چھوڑا گیاپھر اس کے ساتھ کلب غیر معلم (یعنی غیر تربیت یافتہ کتا)شریک ہوگیا یا وہ کتا شریک ہوگیا جس کوبِسْمِ اللہ پڑھ کر نہ چھوڑا تھا تو وہ شکار حرام ہے(اگر وہ ذبح سے قبل مرگیا)شکار پر تیر چلایا،وہ پانی میں گرا،یا چھت پر گر ا پھر چھت سے زمین پر گرا تو وہ شکار حرام ہے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ پانی کی وجہ سے یا زمین پر گرنے کی وجہ سے مرا ہو۔ ایسے ہی اگر پالتو بکرا ہرنی سے ملا اور ہرنی سے بچہ ہوا توا س کی قربانی جائز نہیں۔مسلم نے شکار پر تیر چلایا اور مجوسی یا مشرک نے مسلم کے ہاتھ کو تیر چلانے میں مدد دی تو وہ شکار حرام ہے اگر درخت کا ایک حصہ حرم میں ہے اور ایک حصہ حل میں ہے تو اس درخت کو کاٹنا جائز نہیں۔(2)
اسی قاعدہ میں یہ قاعدہ بھی شامل ہے:
إِذَا تَعَارَضَ الْمَانِعُ وَالْمُقْتَضٰی فَإِنَّہٗ یُقَدِّ مُ الْمَانِعُ
یعنی مانع اور مقتضی میں جب تعارض ہوگا تو مانع مقدم کیا جائے گااس صورت میں حکم عدم جواز کا ہوگا لہٰذا اگر وقت تنگ ہے یا پانی کی مقدار کم ہے اس صورت میں سنن وضو ادا کرتا ہے تو وقت نماز ختم ہوجائے گایا پانی پورا نہ ہوگا تو سنن ادا کرنا جائز نہیں اس قاعدے کے بھی کچھ مستثنیات ہیں۔(3)
یعنی قربات و عبادات میں ایثار نہیں ہے۔ سیدنا شیخ عز الدین علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ چونکہ قربات و عبادات میں ایثار نہیں ہے اس لئے اگر کسی کے پاس صرف اتنا کپڑا ہے کہ جس سے اپنا مفروضہ ستر(4)چھپا سکے اسے یہ کپڑا دوسرے کو ستر چھپانے کے لیے دینا جائز نہیں۔ اسی طرح اگر نماز کا وقت آگیا اور اس کے پاس صرف اتنا پانی ہے کہ اپنا وضو کرے اور وہ پانی کسی دوسرے کو وضو کے لئے دیدے تو یہ جائز نہیں کیونکہ ایثار ان معاملات میں ہے جن کا تعلق نفوس سے ہے نہ ان معاملات میں جن
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ الأولی،ص۸۹،۹۰،وغیرھا.
2 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ الثانیۃ،ص۹۳۔۹۵.
3 ۔المرجع السابق،ص۱۰۰.
4 ۔یعنی جسم کا وہ حصہ جسے چھپانا فرض ہے۔
کاتعلق قربات و عبادات سے ہے۔(1)''شرح المہذب'' باب الجمعۃ میں یہ جزئیہ بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص صف میں جہاں بیٹھا ہے وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھایا جائے گا کہ دوسرا آدمی اس کی جگہ بیٹھے ہاں اگر وہ بااختیار خود اٹھے تو کراہت نہیں۔(2) اگر کوئی جاں بلب بھوکا (مضطر)اپناکھانادوسرے مضطر کو کھلادے تویہ ایثار محمودہے اوراس پروہ ماجورہوگا(3)یہ اپناایثارفی النفس ہے اورآیت
(وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ؕ۟)
(4)کے تحت میں آتا ہے۔(5)
یعنی تابع متبوع کے حکم میں داخل ہے۔ جیسے حمل والے جانور کی بیع میں حمل اپنی ماں کے تابع ہے اس کی بیع الگ سے نہ ہوگی ایسے ہی راستے اور پانی زمین کے تابع ہیں ان کی بیع الگ سے نہ ہوگی۔(6)
متبوع کا حکم ساقط ہونے سے تابع کا حکم بھی ساقط ہوجاتاہے۔ جیسے جس کی نمازیں ایام جنون میں جنون کی وجہ سے ساقط ہوگئیں وہ ان نمازوں کے ساتھ کی سنتوں کی قضا بھی نہ کریگا وہ بھی ساقط ہوجائیں گی۔ اسی طرح جس کا حج فوت ہوگیا اور اس نے عمرہ اد اکرکے احرام کھول دیا اس پر منٰی میں رمی جمار(7)اورشب گزارنا بھی نہیں رہا۔ کیونکہ یہ دونوں چیزیں وقوف عرفہ کے تابع ہیں اوروہ ساقط ہوگیا اس کے برعکس دیوان خراج سے جن لوگوں کے وظائف مقرر ہیں جیسے مجاہدین، علماء کرام، طلبہ اور مفتیان عظام اور فقہاء یہ لوگ اگر وفات پاجائیں تو ان کے وظائف ان کی اولاد کے لئے مقرر کردیئے جائیں گے۔ ۱سی قاعدے کے قریب قریب یہ قاعدہ بھی ہے:
یَسْقُطُ الْفَرْعُ إِذَا سَقَطَ الأصْلُ
اس پر یہ مسئلہ متفرع ہے کہ جب اصیل بری ہوجائے گا تو اس کا کفیل بھی بری ہوجائے گا۔(8)
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ الثالثۃ،ص۱۰۱.
2 ۔''المجموع شرح المھذب''،کتاب الجمعۃ،باب ھیئۃ الجمعۃ،ج۴،ص۵۴۵.
3 ۔یعنی اس پر اسے اجر ملے گا۔
4 ۔پ۲۸،الحشر:۹.
5 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ الثالثۃ،ص۱۰۱.
6 ۔المرجع السابق،القاعدۃ الرابعۃ،ص۱۰۲.
7 ۔یعنی شیطان کو کنکریاں مارنا۔
8 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ الرابعۃ،ص۱۰۳.
یعنی تابع اپنے متبوع پر مقدم نہ ہوگا لہٰذانماز کی تکبیر افتتاح میں مقتدی امام سے پہلے تکبیر تحریمہ نہیں کہہ سکتا۔ اسی طرح ارکان نماز کی ادائیگی میں امام پر تقدیم نہیں کرسکتا، لہٰذا مقتدی کو چاہیے کہ وہ امام کے ساتھ نماز ادا کرنے میں امام سے پہلے رکوع و سجود میں نہ جائے نہ امام سے پہلے سجدہ سے سر اٹھائے۔(1)فتاویٰ قاضی خان میں اس کی تفریعات موجودہیں۔(2)
یعنی غیر منصوص اُمور میں امام کا تصرف رعایا پر مصلحت پر موقوف ہے یہ قاعدہ فقہ کی متعدد کتابوں میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے بھی اپنی کتاب ''الخراج ''میں اس کا متعدد مقامات پر ذکر فرمایا ہے لہٰذا امام، سلطان یا خلیفہ کے لیے یہ صحیح نہیں ہے کہ وہ ایسے قاتل کو معاف کردے جس کا مقتول لاوارث ہو یعنی اس کا کوئی ولی و وارث نہ ہو بلکہ اسے رعایا کی مصلحت کی خاطریا قصاص لینا چاہیے یا دیت۔عامۃ المسلمین کے مصالح کے پیش نظر امام زیلعی نے بیت المال کے سرمایہ کو چار شعبوں میں تقسیم فرمایا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ا مام کو چاہیے کہ وہ ان چار شعبوں کے اموال کو الگ الگ رکھے تاکہ ایک دوسرے کا مال مل نہ سکے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے احکام و مسائل جداگانہ ہیں جو اسی شعبہ کے ساتھ خاص ہیں۔(3)
''محیط''کی کتاب الزکوٰۃ میں بیان کیا گیا ہے کہ عامۃ المسلمین کی مصلحتوں کے تقاضہ کے مطابق یہ بات رائے امام پر ہے کہ وہ کسی کو امدا دزیادہ د یدے اور کسی کو کم یا سب کو برابر برابر لیکن اس فرق یا تسویہ میں اس کی خواہش نفس یا اغراض فاسدہ کو دخل نہ ہونا چاہیے لیکن ہر ایک کو اتنا ہی حلال ہے جو اس کی ضروریات اور اس کے عیال و اعوان کی ضروریات کو کفایت کرے اگربیت المال میں اہل حقوق کی ادائیگی کے بعد بھی کچھ روپیہ بچ جائے تو اس کو عامۃ المسلمین کے کام میں لائے اگر اس نے اس عمل میں کوتاہی کی تو اس کا حساب اﷲتعالیٰ لے گا۔امام زیلعی فرماتے ہیں امام پر واجب ہے کہ وہ اﷲسے ڈرے اورہر مستحق کو اس کی ضرورت کے مطابق دے نہ کم نہ زیادہ اگر وہ اس میں کوتاہی کریگا تو اﷲتعالیٰ اس سے حساب لے گا ۔(4)
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعد الکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ الرابعۃ،ص۱۰۳.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلوۃ،باب افتتاح الصلوۃ،ج۱،ص۴۲.
3 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب السیر،باب العشروالخراج والجزیۃ،ج۴،ص۱۷۱.
و''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ الخامسۃ،ص۱۰۵.
4 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب السیر،باب العشروالخراج والجزیۃ،ج۴،۱۷۱.
حضرت سعید بن منصور نے حضرت یرفارضی اللہ تعالٰی عنہ(1)سے روایت بیان کی وہ حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہ قول بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ میں خود کواللہ کے مال کا(یعنی بیت المال و اموال غنائم و اموال عشرو خراج و زکوٰۃ وغیرہاکا)ایسا ہی ذمہ دار سمجھتاہوں جیسے کوئی یتیم کا والی اس کے مال کا ذمہ دار ہوتاہے(جب تنگدست ہوتا ہوں تواس سے بقدرِکفایت لے لیتا ہوں اور جب خوشحال ہوتاہوں)(2)تواسے بیت المال کو واپس کردیتا ہوں اور جب غنی ہوتا ہوں تو اس سے بچتاہوں۔(3)اسی قاعدہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول و عمل کے مطابق یہ مسئلہ ہے کہ اگر امام یا سلطان یا خلیفہ یا اُوْلی الامر اُمور عامۃ المسلمین کے پیش نظر کوئی حکم دے تو وہ اسی وقت نافذہوگا جب وہ شرعاًمصلحت عامہ کے مطابق ہو ورنہ نہیں۔(4)
''فتاویٰ قاضی خان''کتاب الوقف میں یہ جزیہ مذکور ہے کہ اگربادشاہ نے مسلمانوں کو یہ اجازت دی کہ مقبوضہ شہر کی کسی اراضی پر دوکانیں بنوا کر مسجدپروقف کر دیں یا مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی مسجد میں برابر کی زمین لے کر توسیع کرلیں تو اگر یہ شہر جنگ سے فتح کیا گیا تھا اور مسجد کی یہ توسیع یا دوکانوں کی تعمیر گزرنے والوں اور راستہ چلنے والوں کے لئے تکلیف دہ ثابت نہ ہوگی، اس صورت میں بادشاہ کا حکم نافذ ہوجائے گا اور اگر یہ شہر بذریعہ جنگ نہیں بلکہ بذریعہ صلح قبضہ میں آیا تھا تو وہ اراضی علیٰ حالہ اپنے مالک کی ملکیت میں باقی رہے گی اور بادشاہ کا حکم نافذ نہ ہوگا۔''(5)اسی طرح قاضی کا تصرّف اموال یتامی اور ترکات اور اوقاف میں مصلحت سے مقید ہے یعنی اگر اس میں مصلحت شرعیہ ہے اورشریعت اسے جائز کرتی ہے تو قاضی کا تصرف نافذ ہوگا ورنہ نہیں۔''ذخیرہ''و''ولواجیہ''میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر قاضی بغیر شرط واقف کسی مسجد میں فراش (6)مقرر کردے تو یہ اس کے لئے جائز نہیں اور نہ فراش کو وہ تنخواہ کھانی حلال ہے جو اسے اس وقف سے ملی ہو۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بلا شرطِ واقف وقف میں سے وظائف دینا بطریق اولیٰ ناجائز ہے حالانکہ مسجد کو فراش کی ضرورت ہے پھر بھی بغیر شرط واقف اس میں فراش مقرر نہیں کیا جاسکتا پھر اس میں سے وظائف کیسے مقرر کئے جاسکتے ہیں۔ (7) (الاشباہ۸۹)
1 ۔کتبِ حدیث وتراجم اعلام کی مراجعت کے بعدیہ ہی ثابت ہواکہ مذکورہ حدیث کے راوی ''برائ''نہیں بلکہ ''یرفا''ہیں جوحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے غلام ہیں،اس کی وضاحت خود''سنن سعیدبن منصور''میں اسی مقام پرموجودہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے۔...علمیہ
2 ۔بہارشریعت میں اس مقام پرکچھ عبارت لکھنے سے رہ گئی تھی جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے،لہذابریکٹ میں ہم نے''سنن سعید بن منصور''سے اصل حدیث کو دیکھ کر مذکورہ عبارت کا اضافہ کر دیا۔ . . . علمیہ
3 ۔''سنن سعید بن منصور''،تفسیرسورۃ المآئدۃ،الحدیث:۷۸۸،ج۴،ص۱۵۳۸.
4 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ الخامسۃ،ص۱۰۶.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوقف،باب الرجل یجعل دارہ،...إلخ،ج۲،ص۲۹۸.
6 ۔خادم مسجدیعنی مسجد میں صفائی ،ستھرائی کی خدمت کرنے والا ۔
7 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ الخامسۃ،ص۱۰۴،۱۰۷.
یعنی حدود شک وشبہ سے ساقط ہوجاتے ہیں۔ یہ حدیث ہے جس کو علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے روایت کیا ہے (1)اورابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی
''اِدْفَعُوا الْحُدُوْدَ مَااسْتَطَعْتُمْ''(2)
جہاں تک ممکن ہو حدود کو دورکرو ، امام ترمذی و حاکم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث بیان کی
''اِدْرَؤُاالْحُدُوْدَ عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ مَااسْتَطَعْتُمْ فَإِنْ وَّجَدْ تُّمْ لِمُسْلِمٍ مَّخْرَجًا فَخلُّوْاسَبِیْلَہٗ''(3)
مسلمانوں سے حدود کو دور کرو جہاں تک ممکن ہو اور اگر تم کسی مسلمان کے لئے اس سے نکلنے کا راستہ پاؤ تو اس کا راستہ چھوڑ دو کیونکہ امام اگر معاف کردینے میں خطا کرے یہ اس سے بہتر ہے کہ سزا دینے میں غلطی کرجائے۔''
صاحبِ فتح القدیر فرماتے ہیں:فقہائے امصار و بلاد کا اس پر اجماع ہے کہ حدود شبہات سے ساقط ہوجاتے ہیں۔شبہ وہ ہے جو ثابت تو نہ ہو لیکن ثابت کے مشابہ ہو، علمائے احناف نے شبہ کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں:
(۱) شُبْھَۃٌ فِی الْفِعْل اس کو شُبْھَۃُ الإِشْتِبَاہ بھی کہتے ہیں۔(۲) شُبْھَۃٌ فِی الْمَحَل(۳) شُبْھَۃٌ فِی الْعَقْد
پہلی قسم شُبْھَۃُ الاشْتِبَاہ کی صورت یہ ہے کہ جیسے کسی پر اس شے کی حلت و حرمت مشتبہ ہوجائے جیسے وہ یہ بدگمانی کرے اس کی بیوی کی لونڈی سے مجامعت ووطی کرنا حلال ہے یا اپنے باپ ماں یا دادا کی باندی سے وطی کرنا اس کے لیے جائز ہے یا یہ گمان کرے کہ اسے اپنی مطلقہ ثَلٰثہ سے دورانِ عدت وطی کرنا جائز ہے۔ ان صورتوں میں اگر اس نے وطی کرلی تو اس پر حد قائم نہ ہوگی لیکن اگر اس نے یہ کہا کہ مجھے اس کا علم تھا کہ یہ حرام ہیں تو اس پر حد قائم کردی جائے گی ۔
دوسری قسم شُبْھَۃٌ فِی الْمَحَل کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی باندی، طلاق بالکنایہ سے مطلقہ، فروخت کردہ باندی جس کو ابھی خریدار کے قبضہ میں نہیں دیا ہے اور وہ باندی جو اپنی بیوی کے مہر میں دی لیکن ابھی اس کو بیوی کے قبضہ میں نہیں دیا ہے وغیرہا ان تمام صورتوں میں اگر وہ ان کے ساتھ وطی کریگا تواس پر حد قائم نہ ہوگی اگرچہ وہ یہ اقرار کرے کہ میں ان کے حرام ہونے کو جانتا تھا۔
تیسری قسم شُبْھَۃٌ فِی الْعَقْد کی صورتیں یہ ہیں کہ کسی ایسی عورت سے نکاح کیا جس سے نکاح کرنا حرام تھا بعد عقد نکاح اس سے وطی کی اگر وہ یہ کہے کہ مجھے اس کے حرام ہونے کا علم تھا تو فتویٰ اس پر ہے کہ اس پر حد قائم کی جائے گی ا ور ا گر اسے علم نہ تھا حد
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ السادسۃ،ص۱۰۸.
2 ۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الحدود،باب السّرعلی المؤمن...إلخ،الحدیث:۲۵۴۵،ج۳،ص۲۱۹.
و''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ السادسۃ،ص۱۰۸.
3 ۔''سنن الترمذی''،کتاب الحدود،باب ماجاء فی درء الحدود،الحدیث:۱۴۲۹،ج۳،ص۱۱۵.
و''المستدرک''للحاکم،کتاب الحدود،باب ان وجدتم لمسلم...إلخ،الحدیث:۸۲۲۴،ج۵،ص۵۴۹.
قائم نہ ہوگی۔ایسے ہی اس عورت سے وطی کرنا جس کے ساتھ نکاح صحیح ہونے میں اختلاف ہے۔ اسی طرح شراب کو دوا کے طور پر پیا (بشرطیکہ معالج نے ضروری قرار دیا ہو)ان تمام صورتوں میں حد قائم نہ کی جائے گی۔چونکہ حدود شبہ سے ساقط ہوجاتی ہیں اسی لئے حدود عورتوں کی شہادت سے ثابت نہیں ہوتیں نہ
کتابُ الْقاضِی اِلَی الْقاضِی
سے اور نہ
شَھادَت عَلَی الشَّھادَت
سے نہ حالت نشہ میں حدود خالصہ کے اقرار سے کہ ان تمام صورتوں میں شبہات ہیں ان کے علاوہ شبہات کی اور صورتیں بھی ہیں۔(1)
حدود میں متَرْجِمْ(2)کا قول قبول کرلیا جائے گا جس طرح دیگر معاملات میں مترجم کا قول قابلِ قبول ہے اور قصاص بھی شبہ سے ساقط ہوجاتا ہے جس طرح کہ حدود شبہات سے ساقط ہوجاتے ہیں اور قصاص بھی انہیں چیزوں سے ثابت ہوتا ہے جن سے حدود ثابت ہوتے ہیں برخلاف تعزیر کے کہ وہ شبہ کی موجودگی میں بھی ثابت ہوجاتی ہے، اس میں قسم بھی لی جاتی ہے جب کہ حدودو قصاص میں قسم نہیں لی جاتی، تعزیر میں انکارِ جرم کے باوجود فیصلہ دیا جاتا ہے۔(3)
یعنی آزاد مرد و عورت پر کوئی قبضہ نہیں ہوسکتا لہٰذا اگر کوئی شخص کسی آزاد مردو عورت یا بچہ کو غصب کرکے لے گیا اور پھر وہ اس کے قبضہ میں اچانک قدرتی موت مرگیا تو غاصب اس کی جان کا ضمان دینے کا ذمہ دارنہ ہوگا۔(4)اس کے برخلاف اگر وہ ان کو غصب کرکے ہلاکت کی جگہ لے گیا جہاں خونخوار درندے یا زہریلے سانپ رہتے ہوں یا وہاں بالعموم بجلیاں گرتی ہوں یا وہاں مہلک بیماریاں پھیلی ہوں اور وہاں ہلاک ہوگئے تو اس صورت میں غاصب کے عاقلہ پر (ورثاء پر)ان کی دیت واجب ہوگی لیکن یہ ضمان اتلاف جان ہے، ضمانِ غصب نہیں ۔اس قاعدہ سے زوجہ خارج ہے۔(5)
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ السادسۃ،ص۱۰۸،۱۰۹.
و''الفتح القدیر''،کتاب الحدود، باب الوطء الذی یوجب الحد...إلخ، ج۵، ص ۳۲،۳۳.
2 ۔یعنی ترجمان۔
3 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ السادسۃ،ص۱۰۸۔۱۱۱.
4 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''ضمان دینے کاذمہ دارہوگا'' لکھاہواتھا،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل کتاب میں عبارت اس طرح ہے''ضمان دینے کاذمہ دارنہ ہوگا ''،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے۔...علمیہ
5 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ السابعۃ،ص۱۱۱.
یعنی جب دو چیزیں ایک ہی جنس کی جمع ہوجائیں اور ان کا مقصد بھی مختلف نہ ہو تو وہ ایک دوسرے میں داخل ہوجاتی ہیں جیسے حدث و جنابت جب ایک ہی شخص میں جمع ہوں یا جنابت اور حیض ایک ہی عورت میں جمع ہوں تو ان پر ایک ہی غسل فرض ہوگا اور ایک ہی غسل دونوں کے لیے کافی ہے اور جیسے اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز فرض و سنت ادا کی تو یہی نمازتَحِیَّۃُ الْمَسْجِد کے لئے بھی کافی ہے یا جیسے کسی سے ایک ہی نماز میں دو واجب یا ایک واجب کئی بار سہواً ترک ہوا تو اس کے لئے ایک ہی بار سجدئہ سہو کرلینا کافی ہے۔(1)
یعنی جہاں تک ممکن ہو کلام کو بامعنی بنایا جائے مہمل قرار نہ دیا جائے ہاں اگر اسے بامعنی بنانا ممکن نہ ہو توپھر اسے مہمل قرار دیا جائے۔اسی بنیاد پر ہمارے علمائے اصول اس امر پر متفق ہیں کہ کسی کلام کو اگر اس کی حقیقت پر محمول کرنا متعذر ہو (2)تو وہ مجاز پر محمول کیا جائے گا اسے مہمل قرار نہ دیا جائے گا اگر وہ حقیقت اور مجاز میں سے کسی پر بھی محمول نہ کیاجاسکے تو اسے مہمل قرار دیا جائے گایا اگر یہ صورت ہے کہ کوئی لفظ ایسا ہو جو حقیقت اور مجاز میں مشترک ہواور وجہ ترجیح موجود نہ ہو تب بھی وہ مہمل قرار دیا جائے گا۔
اس قاعدہ کے مطابق اگر کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ میں اس درخت سے کچھ نہیں کھاؤں گا پھر اس نے اس کا پھل کھایا یا اس کو فروخت کرکے اس کی قیمت سے کوئی کھانے کی چیز خرید کر کھائی تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور کفارہ واجب ہوگا یا اس نے یہ قسم کھائی کہ میں یہ آٹا نہیں کھاؤں گا پھر اس نے اس آٹے سے پکی ہوئی روٹی کھائی تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور کفارہ واجب ہوگا کیونکہ ان دونوں صورتوں میں کلام کو حقیقت پر محمول کرنا متعذر ہے لہٰذا مجازی معنی لیے گئے اور اگر اس نے اپنی بیوی سے جس کا باپ معلوم و معروف ہے کہا کہ یہ میری بیٹی ہے تو وہ عورت اس پر حرام نہ ہوگی کیونکہ یہاں حقیقت و مجاز دونوں متعذر ہیں لہٰذا یہ کلام مہمل قرار دیا جائے گا۔ اگر کسی شخص نے اپنی دو بیویوں میں سے ایک سے کہاتجھے چارطلاقیں ہیں اس نے کہامجھے توتین ہی کافی ہیں اس پرشوہرنے کہا(3)تین طلاقیں تیرے لئے اور باقی تیری ساتھی پر اس صورت میں پہلی پر طلاقیں ہوجائیں گی اور دوسری پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ اس صورت میں کلام کو عمل میں لانا ممکن نہیں لہٰذا مہمل قرار دیاجائے گا کیونکہ شریعت نے صرف تین طلاقیں مقرر فرمائی ہیں اور زیادہ کو باطل کیا ہے لہٰذ ا چوتھی طلاق واقع کرناممکن نہیں اس لئے باقی تیری ساتھی پر اس کا یہ کلام مہمل قرار دیا جائے گااور دوسری بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی(4)اسی قاعدہ میں یہ قاعدہ شامل ہے''
اَلتَّاسِیْسُ خَیْرٌمِّنَ التَّاکِیْد''
تاکید کے مقابلے میں تاسیس بہتر ہے یعنی کسی کلام کو تاکید قرار دینے
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ الثامنۃ،ص۱۱۲.
2 ۔یعنی مشکل ہو۔
3 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر(تجھے چارطلاقیں ہیں،اس نے کہامجھے توتین ہی کافی ہیں اس پرشوہرنے کہا)،لکھنے سے رہ گیاتھا جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے،لہذابریکٹ میں اس کااضافہ کردیاگیا ہے ۔ . . . علمیہ
4 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ التاسعۃ،ص۱۱۴.
کے مقابلے میں اصل بنیاد اور بناء کلام قرار دینا مختار ہے لہٰذا اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا تجھے طلاق طلاق طلاق تو اسے تین طلاقیں واقع ہوں گی اگر شوہر یہ کہے کہ میں نے تاکید مراد لی تھی تو دیانۃًا س کی تصدیق کردی جائے گی لیکن قضاء ً نہیں۔(1)
یعنی منافع ضامن ہونے کے عوض ہیں یعنی کسی شے سے نفع حاصل کرلینے کا کوئی معاوضہ دینا نہ ہوگا لیکن نفع حاصل کرنے والا اس شے کے ہلاک ہوجانے کی صورت میں اس کی قیمت کا ضامن ہوگا۔''الخَراج بالضّمان''حدیث صحیح ہے جس کو امام احمد، ابوداؤد، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ و ابن حبان رضی اللہ عنہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت کیا ہے بعض راویوں نے اس کا سبب بھی بیان فرمایا ہے واقعہ یہ تھا کہ ایک صحابی(رضی اللہ عنہ)نے ایک غلام خریدا کچھ دنوں وہ ان کے پاس رہا پھر انھیں اس غلام میں کوئی نقص اور عیب معلوم ہوا انہوں نے معاملہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں پیش کیا، خیارعیب کی وجہ سے آپ نے اس غلام کو واپس کرادیا۔ بائع نے عرض کیا :''یارسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! اس مشتری(خریدار)نے میرے غلام سے منافع حاصل کئے ہیں ۔''(مطلب یہ تھا کہ ان منافع کا معاوضہ مجھے دلایا جائے)آپ(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:'' الخَراج بِالضَّمان'' یعنی منافع ضمان کے عوض میں ہیں۔(2)
حضرت ابوعبید(رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے فرمایا اس حدیث میں الخَراج کا مطلب غلام کے منافع ہیں کہ خریدار نے غلام خریدا اور اسے اپنے کام میں استعمال کیا اور ایک مدت کے بعد اس کے عیب پر پر مطلع ہوا جو کہ بائع نے اسے نہیں بتلایا تھا تو وہ اسے بائع کو واپس کردے گااور اس کی پوری قیمت واپس لے لے گا اور اس کے منافع سے فیضیاب ہوگا کیونکہ غلام اس کی ذمہ داری اور ضمان میں تھا کہ اگر وہ اس مدت میں ہلاک ہوجاتا تو یہ اس مشتری کا مال ہلاک ہوتا بائع پر کوئی ضمان و ذمہ داری نہ ہوتی۔ کتاب ''الفائق''میں الخراج کی تشریح میں بتایا کہ کسی چیز سے جو بھی فائدہ پہنچے وہ اس کا خراج ہے ۔درخت کا خراج اس کا پھل ہے اور جانوروں کا خراج ان کا دودھ اور ان کی نسل ہے۔ علامہ فخر الاسلام فرماتے ہیں یہ حدیث پاک جوامع الکلم میں سے ہے لہٰذا اس کی روایت بالمعنی جائز نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث کثیر المعنی ہے اس لئے اس کو ایک معنی میں متعین نہیں کرسکتے اور روایت بالمعنی میں ایک معنی کے ساتھ خاص اور متعین ہوجائے گی۔(3)
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأول فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ التاسعۃ،ص ۱۲۶.
2 ۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب التجارات، باب الخراج بالضمان،الحدیث:۲۲۴۳،ج۳،ص۵۷.
3 ۔''أصول البزدوی''،باب شرط نقل المتون،ص۱۹۱.
و''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃ العاشرۃ،ص۱۲۷.
یعنی سوال کے جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے۔ علامہ بزازی اپنے''فتاویٰ بزازیہ''میں مسائل و کالت کے آخر میں بیان فرماتے ہیں کہ کسی نے کہا کہ زید کی بیوی مطلّقہ ہے اگر وہ اس گھر میں داخل ہویا(1)اس پر بیت اللہ جانا ہے۔ زید نے یہ سن کر کہا ہاں تو زید ان دونوں باتوں کا حالف قرار دیا جائے گا کیونکہ یہ جواب اس مضمون کے اعادہ کو متضمن ہے جس کا سوال میں ذکر ہے ایسے ہی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں طلاق والی ہوں(مطلقہ ہوں)شوہر نے کہا!ہاں، تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی۔ (2)''قنیہ''میں ہے ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ میرا تجھ پر اتنا قرضہ ہے وہ مجھے ادا کر دوسرے نے مذاق و استہزا ء میں کہا ہاں بہت خوب تو یہ اس کا اقرار ہے، یہ قرضہ اس سے لے لیا جائے گا۔(3)
اس قاعدہ کی توضیحی مثالیں یہ ہیں کہ اگر مالک نے دیکھا کہ کوئی اجنبی اس کا مال فروخت کررہا ہے اور وہ دیکھ کر خاموش رہا اسے منع نہیں کیا تو اس کے سکوت سے وہ اس کا وکیل بالبیع(4)نہیں بنے گا۔ ایسے میں قاضی نے اپنے زیرولایت نابالغ بچے یا معتوہ بے عقل یا کم عقل کو دیکھا کہ وہ خرید و فروخت کررہا ہے اور یہ دیکھ کر قاضی نے سکوت اختیار کیا(5)تو قاضی کا یہ سکوت ان کے حق میں اذن فی التجارۃ نہیں ہوگا۔(6)ایسے ہی اگر کسی نے دیکھا کہ کوئی شخص اس کا مال تلف اور ضائع کررہا ہے اور وہ خاموش رہا تواس کی یہ خاموشی مال کے تلف کرنے کی اجازت نہیں قرار دی جائے گی۔ اگر عورت نے بغیر اجازت ولی غیر کفو سے نکاح کرلیا تو ولی کا سکوت اس کی رضا نہیں تسلیم کیا جائے گا اگرچہ لمبی مدت گزر جائے عنین(نامرد)کی عورت کا سکوت اس کی رضا نہ مانا جائے گا خواہ وہ اس عنین کے ساتھ برسوں گزار دے۔(7)(جامع الفصولین)
علامہ ابن نجیم حنفی مصری صاحب الاشباہ والنظائر نے اس قاعدہ کے کچھ مستثنیات فرمائے ہیں جن کو ''جامع الفصولین''
1 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''اگر وہ اس گھر میں داخل ہوتو'' لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل کتاب میں عبارت اس طرح ہے''اگر وہ اس گھر میں داخل ہویا''،اسی وجہ سے ہم نے متن میں سے ''تو''کی جگہ ''یا''کردیا ہے۔...علمیہ
2 ۔''الفتاوی البزازیۃ''علی ھامش الھندیۃ،کتاب الوکالۃ،الفصل السابع فی الطلاق والعتاق،ج۵،ص۴۹۰.
3 ۔''القنیۃ''،کتاب الاقرار،باب الجواب الذی یکون اقراراً،ص۴۳۹.
و''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃالحادیۃ عشرۃ،ص۱۲۸،۱۲۹.
4 ۔یعنی بیچنے کا وکیل۔ 5 ۔یعنی خاموش رہا۔ 6 ۔یعنی تجارت کی اجازت نہیں سمجھا جائے گا۔
7 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃالثانیۃ عشرۃ،ص۱۲۹.
و''جامع الفصولین''،الفصل الرابع والثلاثون فی الأحکامات:الجزء الثانی،ص۱۴۰.
سے نقل کیا ہے ان کی تعداد تیس ہے پھر مزید سات کااضافہ فرمایا دو''قنیہ''سے نقل فرمائے اور پانچ اپنی طرف سے کل ۳۷ سینتیس مستثنیات فرمائے ہیں۔(1)لیکن ان میں اکثر ایک دوسرے قاعدہ کے اندر آجاتے ہیں اور وہ قاعدہ ہے۔
یعنی مقام اظہار و بیان میں سکوت اختیار کرنا اظہار و بیان ہی ماناجائے گا جیسے نکاح سے قبل ولی (2)نے باکرہ
(کنواری)سے اس کے نکاح کی اجازت طلب کی اور وہ ساکت رہی تو یہ اس کا نطق(3)و بیان مانا جائے گا اور اس کی اجازت شمار ہوگی ایسے ہی غیر باپ نے کسی نابالغہ باکرہ کا نکاح کردیا اور وہ بوقتِ بلوغ خاموش رہی تو اس کی یہ خاموشی اس کی اجازت شمار ہوگی۔ کسی عورت نے قسم کھائی کہ وہ نکاح نہیں کرے گی پھر اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا اور وہ خاموش رہی تو وہ حانث ہوجائے گی ۔ (یعنی اس کی قسم ٹوٹ جائے گی )حق شفعہ رکھنے والے کو جائیداد غیر منقولہ کی بیع کا علم ہوا اور وہ ساکت رہا تو اس کا حق شفعہ باطل ہو جائے گا اس کا یہ سکوت ا س کی رضا مانا جائے گا۔ باکرہ (کنواری ) لڑکی کو خبر دی گئی کہ تمہارے و لی نے تمہارا نکاح کردیا ہے یہ سن کر اس نے سکوت اختیار کیا تو یہ اس کی رضا ہے ماں نے اپنی بیٹی کا جہیز باپ کے مال و متاع سے دیا اور باپ نے سکوت اختیارکیا تو یہ اس کی رضا ہے اب اسے واپس لینے کا اختیار نہیں وغیرہا۔۱۱۳(4)
درحقیقت ان دونوں قاعدوں کی صورتوں میں امتیاز کرنا مفتی وفقیہ کے لئے کثرت مطالعہ اوردقت نظر کا طالب ہے۔ لہٰذا مفتی کے لئے لازم ہے کہ وہ خوب غور و فکر اور کتب فقہیہ کا عمیق مطالعہ کرکے ایسے مسائل کا جواب تحریر کرے جس طرح عرف پر موقوف مسائل کا جواب بھی دقت نظر ، مفتی کی ذہانت اور عرف زمانہ سے واقفیت کا طالب ہے۔
یعنی فرض وواجب نفل سے افضل ہے اس کی صد ہا مثالیں ہیں جو اظہر من الشمس ہیں لیکن اس میں کچھ مستثنی مسائل بھی ہیں جیسے نادار و تنگ دست مقروض کو اس کے قرض سے بری کردینا یہ اس کو مہلت دینے سے افضل ہے جب کہ بری کردینا مستحب
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃالثانیۃ عشرۃ،ص ۱۲۹۔۱۳۱.
و''جامع الفصولین''،الفصل الرابع والثلاثون فی الأحکامات،الجزء الثانی،ص۱۳۸.
2 ۔یہاں ولی سے مرادولی اقرب ہے،تفصیل کے لیے بہارشریعت ،ج۲،حصہ ۷،ص۵۰ملاحظہ فرمائیے۔...علمیہ
3 ۔یعنی بولنا۔
4 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃالثانیۃ عشرۃ،ص۱۲۹،۱۳۱،وغیرھا.
ہے اور مہلت دینا واجب ہے۔ ایسے ہی سلام میں پہل کرنا سنت ہے مگر یہ افضل ہے سلام کا جواب دینے سے جو کہ واجب ہے ، اسی طرح وقت سے پہلے وضو کرنا مستحب و مندوب ہے مگریہ افضل ہے اس وضو کرنے سے جو نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد نماز ادا کرنے کے لئے کیا جائے حالانکہ یہ وضو فرض ہے۔(1)
یعنی جس چیز کا لینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے۔ جیسے سود، زنا کی اجرت، کاہن اور نجومی کی فیس، رشوت اور گانے والے کی اجرت وغیرہا کہ ان میں سے ہر ایک کا لینا بھی حرام ہے اور دینا بھی حرام ہے لیکن قیدی کو قید سے چھڑانے کے لیے یا اپنی عزت و آبرو بچانے کے لئے یا کسی کو اپنی ہجو سے روکنے کے لئے رشوت دینا جب کہ اس کے بغیر کام نہ چلے، دینے والے پر گناہ نہیں۔(2)لیکن لینے والے کے لئے بہر حال حرام و گناہ ہے ۔(3)کہ یہ صورتیں
اَلضَّرُوْرَاتُ تُبِیْحُ الْمَحْذُوْرَاتِ
کے ماتحت آتی ہیں،اسی قاعدہ کے قریب یہ قاعدہ بھی ہے، یعنی قاعدہ نمبر ۴۱۔
جس چیز کا کرنا حرام ہے اس کی طلب بھی حرام ہے۔ ذمی کو جزیہ دینا حرام ہے مگر اس سے طلب کرنا جائز ہے یہ مسئلہ اس قاعدہ سے مستثنی ہے۔(4)
یعنی جو شخص کسی شے کو وقت سے پہلے حاصل کرنے میں جلدی کرے تو سزاء ً وہ اس شے سے محروم کردیا جائے گا جیسے اگر کوئی وارث اپنے مورث کو قتل کردے تاکہ جلد ہی اسے وراثت مل جائے تو قاتل وارث، مقتول مورث کی وراثت سے محروم ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شوہر اپنے مرض الموت میں اپنی بیوی کو بغیر اس کی طلب اور رضا مندی کے تین طلاقیں دیدے تاکہ وہ
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃالثالثۃ عشرۃ،ص۱۳۱.
2 ۔المرجع السابق،القاعدۃالرابعۃ عشرۃ،ص۱۳۲.
3 ۔''غمزعیون البصائر''،الفنن الأوّل فی القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃالرابعۃ عشرۃ،ج۱،ص۳۹۱.
4 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃالرابعۃ عشرۃ،ص۱۳۲.
وراثت سے محروم ہوجائے تو وہ عورت اس کی وراثت سے محروم نہ قرار دی جائے گی یہ شوہر اپنا مقصد حاصل کرنے میں محروم ہوگا۔(1)
یعنی ولایت خاصہ ولایت عامہ سے قوی تر ہوتی ہے جیسے قاضی کو کسی یتیم لڑکی یا لڑکے کے نکاح و تزویج (2)کا حق نہیں اگر اس کا ولی ہے خواہ وہ ولی عصبات میں سے ہو یا ذَوی الارحام میں سے کیونکہ ولی کو ولایت خاصہ حاصل ہے اور قاضی کو ولایت عامہ، ولی خاص کو قصاص لینے صلح کرنے اور قاتل کو بلا معاوضہ معاف کرنے کا حق ہے، امام کو معاف کرنے کاحق نہیں۔
ولی خاص تین قسم کے ہیں:
(۱) مال اور نکاح میں ولی، یہ صرف باپ دادا ہی ہوسکتے ہیں یہ ان کا ذاتی وصف ہے یہ اگر خود کو ولایت سے معزول بھی کرنا چاہیں تو یہ معزول نہ ہوں گے۔
(۲) فقط نکاح میں ولی ،یہ تمام عصبات ہوسکتے ہیں اور ماں اور ذوی الارحام نیز ولایت وکیل، اس کی ولایت کو مؤکل معزول کرسکتا ہے اور وکیل اور ذوی الارحام بھی خود کو ولایت سے معزول کرسکتے ہیں۔
(۳) فقط مال میں ولی، اور وہ وہ اجنبی ہے جو وصی بنایا گیا ہو۔ وصی کی ولایت کو وصی بنانے والا معزول کرسکتا ہے اور غیر ایماندار و بددیانت وصی کو قاضی بھی معزول کرسکتا ہے۔ لیکن وصی خود کو معزول نہیں کرسکتا ۔(3)(الاشباہ والنظائر ۱۱۵)قاضی وصی کی موجودگی میں مال یتیم میں تصرف کا حق نہیں رکھتا۔
یعنی جس گمان کا غلط ہونا ظاہر ہوگیا پھر اس کا اعتبار نہیں۔باب قضاء الفوائت میں اسی قاعدے کے ماتحت یہ جزیہ ہے اگر کسی صاحب ترتیب کی نماز عشاء قضاء ہوئی نماز فجر کے وقت اس نے گمان کیا کہ وقت فجر تنگ ہوگیا ہے اس نے فجر کی نماز ادا کرلی پھر یہ معلوم ہوا کہ وقت میں گنجائش ہے تو اس کی فجر کی نماز باطل (4) ہوجائے گی پھر یہ دیکھے کہ وقت میں گنجائش ہے تو پہلے نماز
1 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃالخامسۃ عشرۃ،ص ۱۳۲،۱۳۳.
2 ۔یعنی شادی کرانے کا۔
3 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃالسادسۃ عشرۃ،ص۱۳۳،۱۳۴.
4 ۔یہاں لفظِ باطل سے مرادنمازکاموقوف ہوناہے ورنہ نفل نمازمیں تبدیل ہوجانا، تفصیل بہارشریعت،ج ۱،حصہ چہارم ،ص۷۰۶،مطبوعہ مکتبۃالمدینہ پرملاحظہ فرمائیے۔...علمیہ
عشاء ادا کرے کیونکہ یہ صاحب ترتیب ہے پھر فجر کی نماز پڑھے اور اگر وقت میں گنجائش نہ رہی ہوتو فقط فجر کی نماز کا اعادہ کرے۔(1)(شرح الزیلعی)اسی قاعدہ کے ماتحت دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کسی نے پانی کو نجس گمان کیا اور اس سے وضوکرلیا پھر معلوم ہوا کہ وہ پانی پاک تھا تو اس کا وضو جائز ہے۔(2)(خلاصہ)اسی طرح اگر صاحبِ نصاب زکوٰۃ نے مال زکوٰۃ اد اکرتے وقت زکوٰۃ دیئے جانے والے کو غیر مصرف زکوٰۃ(3)گمان کیا اور اس کو زکوٰۃ دے دی پھر معلوم ہوا کہ وہ مصرف ہے (4) تو جائز ہے بالاتفاق زکوٰۃ ادا ہوگئی۔ اس کے برعکس اگر اس نے کسی کو مصرف زکوٰۃ گمان کیا پھر معلوم ہو اکہ وہ غنی ہے یا خود اس کا بیٹا ہے تو طرفین کے نزدیک ادا ہوگئی ،امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک ادا نہ ہوئی۔ اگر اس نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور گمان یہ کیا کہ یہ کپڑا نجس ہے پھر معلوم ہو اکہ کپڑا پاک ہے تو نماز کا اعادہ کرے۔ اگر اس نے نماز پڑھی اور خود کو محدث(5)گمان کیا پھر معلوم ہوا کہ وہ باوضو ہے تو نماز جائز نہ ہوئی ۔ایسے ہی اگر کسی نے فرض نماز پڑھی اور اس کا گمان یہ ہے کہ ابھی وقت نہیں ہوا پھر معلوم ہوا کہ وقت ہوگیا ہے تو اس کی نماز جائز نہیں(6)(کما فی فتح القدیر)آخر کے چاروں مسائل میں مکلف کے گمان کا اعتبار کیا گیا ہے نہ کہ نفس حقیقت کا اور اِن چار مسائل سے قبل کے مسائل میں اعتبار نفس الامر اور حقیقت واقعیہ کا ہے(7)اس لئے اگرچہ یہ تمام مسائل ظاہری طور پر ہم شکل سے نظر آتے ہیں لیکن ان کے حکم شرعی میں فرق ہے اور یہ وہ باریکیاں ہیں جن پر فقیہ کی نظر رہنی چاہیے۔
یعنی ایسی چیز جس کی تجزی نہیں ہوتی اگر اس کے بعض کا ذکر کیا جائے تو کل کا ذکر کرنا ہے جیسے کسی نے اپنی بیوی کو نصف طلاق دی تو ایک طلاق واقع ہوگی یا اس نے نصف عورت کو طلاق دی تو کل کو طلاق واقع ہوگی۔ قاتل کے ایک حصہ جسم کو معاف کیا تو کل کو معاف ہوجائے گا اسی طرح اگر بعض وارثوں نے معاف کردیا تو کل کی جانب سے قصاص ساقط ہوجائے گا مگر اس صورت میں باقی وارثوں کا حصہ مال میں تبدیل ہوجائے گاجوقاتل کے اولیاء کو ادا کرنا ہوگا۔(8)
1 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الصلاۃ،باب قضاء الفوائت،ج۱،ص۴۶۰.
2 ۔''خلاصۃ الفتاوی''،کتاب الطھارۃ،الجزء الأول،ج۱،ص۵.
3 ۔یعنی جس کو زکوٰۃ دیناجائز نہیں۔ 4 ۔یعنی اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ 5 ۔بے وضو۔
6 ۔''فتح القدیر''،کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ التی تتقدمھا،ج۱،ص۲۳۶.
7 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃالسابعۃ عشرۃ،ص۱۳۴،۱۳۵.
8 ۔المرجع السابق،النوع الثانی،القاعدۃالثامنۃ عشرۃ،ص۱۳۵.
یعنی مباشر اور متسبب یعنی کسی فعل کا مرتکب اور سبب بننے والا دونوں جمع ہوں تو حکم مباشر کی طرف منسوب کیا جائے گا۔ مثلاً کسی شخص نے زیادتی کرتے ہوئے ایک کنواں کھودا اور اس میں کسی دوسرے شخص نے کسی شے کو ڈال کر ضائع کردیا تو ضمان کنواں کھودنے والے پر نہیں بلکہ کنوئیں میں ڈالنے والے پر ہے کیونکہ ڈالنے والا ہی فعل کا مرتکب ہے ۔ایسے ہی ایک شخص نے چور کو کسی کے مال کی مخبری اور راہ نمائی کی اور چور نے اسے چرالیا تو سار ق(1)ضا من ہے بتلانے والے پر کچھ نہیں ۔ایسے ہی اگر کسی نے ناسمجھ بچے کو چھری دے دی یا ہتھیار دیا کہ وہ اسے تھامے رہے بچہ نے خود کو ہلاک کرلیا تو چھری یا ہتھیار دینے والے پر ضمان نہیں ہے لیکن بعض صورتیں ایسی بھی ہیں کہ جن میں ضمان مباشر پر نہیں بلکہ متسبب پر ہے جیسے ودیعت جس کے پاس رکھی گئی ہے اس نے خود چور کو اس امانت اور ودیعت کی جگہ بتلائی اور چور نے اسے چرالیا تو اس صورت میں امانت دار ضامن ہوگا۔
کسی عورت کے ولی نے کہا کہ وہ عورت آزاد ہے اس سے نکاح کرلو یا اس عورت کے وکیل نے یہی کہا کہ وہ عورت آزاد ہے اس سے نکاح کرلو پھر بچہ پیدا ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ دوسرے کی باندی(2) ہے تو مباشر، متسبب سے بچہ کی قیمت واپس لے گا۔
بچہ کو چھری دی کہ وہ اسے رکھ لے وہ چھری بچہ پر گری اور اسے زخم پہنچا تو اس کا ضمان دافع( دینے والے) یعنی متسبب پر ہوگا۔(3)
متاخرین علماء فقہ نے تغیر احوال زمانہ کے پیش نظر بہت سی صورتوں میں ضمان مباشر کی بجائے متسبب پر رکھا ہے جس کا ذکر ہم کرچکے ہیں۔(4)
فائدہ : مفہوم مخالف مع اپنی اقسام کے امام شافعی علیہ الرحمۃ کے نزدیک معتبر ہے(سوائے مفہومِ لقب کے)(5) اور احناف کے نزدیک کلام شارع میں مفہوم مخالف معتبر نہیں ''شرح تحریر''میں ہے:
فَقَدْ نَقَلَ الشَّیْخُ جَلالُ الدِّیْنِ الْخَبَّازِیْ فِیْ حَاشِیَۃِ الْھِدَایَۃِ عَنْ شَمْسِ الأئِمَّۃِ الْکُرْدَرِیِّ أَنَّ تَخْصِیْصَ الشَّیْءِ بِالذِّکْرِ لا یَدُلُّ عَلٰی نَفْیِ الْحُکْمِ عَمَّا عَدَاہُ فِیْ خِطَابَاتِ الشَّارِعِ فَأَمَّا فِیْ مُتَفَاھِمِ النَّاسِ وَعُرْفِھِمْ وَفِی الْمُعَامَلاتِ وَالْعَقْلِیَاتِ یَدُلُّ اِنْتَھٰی وَتُدَاوِلُہُ الْمُتَأَخِّرُوْنَ.(6)
(رسائل ابن عابدین، ج ۱ ص ۴۱)
1 ۔چور۔ 2 ۔لونڈی۔
3 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''ضمان دافع(دینے والے)یعنی متسبب پرنہ ہوگا'' لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل کتاب میں عبارت اس طرح ہے''ضمان دافع(دینے والے)یعنی متسبب پر ہوگا''،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے۔...علمیہ
4 ۔''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الثانی،القاعدۃالتاسعۃ عشرۃ،ص۱۳۵،۱۳۶.
5 ۔مفھوم مخالف کی پانچ قسمیں ہیں،مفھوم الصفۃ،مفہو م الشرط،مفھوم الغایۃ،مفھوم العدد،مفھوم اللقب،امام شافعی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک مفھوم اللقب معتبرنہیں ہے جیساکہ علامہ شامی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے وضاحت فرمائی ہے اسی لئے ہم نے متن میں بریکٹ لگاکراضافہ کردیاہے۔...علمیہ
6 ۔''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،شرح عقود رسم المفتی،الجزء الاول،ص۴۱.
و''التقریروالتحبیرشرح التحریر''،مفھوم المخالفۃ،ج۱،ص۱۵۴.
یعنی شیخ جلال الدین خبازی نے''ہدایہ''کے حاشیہ میں شمس الائمہ کردری سے نقل کیا کہ خطابات شارع میں کسی حکم میں کسی شے کو خصوصیت کے ساتھ بیان کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس حکم کی اس شے کے ماسوا سے نفی کردی گئی ہاں لوگوں کے عرف اور فہم ، معاملات اور عقلیات میں کسی شے کے خصوصیت سے ذکر کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ماسوا سے اس حکم کی نفی ہے اس پر متاخرین کا عمل ہے۔
قواعد کلیہ اور اصول فقہیہ میں سے ہم نے یہ صرف چھیالیس قواعدمشتے نمونہ از خروارے بیان کئے ہیں ورنہ ایسے قواعد کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے مشہور مالکی فقیہ امام قرافی نے اس قسم کے ۵۴۸ قواعد جمع فرمائے ہیں۔جن کو انہوں نے اپنی کتاب
''أَنْوَارُالْبُرُوْق فِیْ أَنْوَاءِ الْفُرُوْق''
میں بیان فرمایا ہے۔
بہت سی احادیث اور آیاتِ قرآنیہ ایسی ہیں جن سے اس قسم کے قواعد کلیہ اخذ کئے جاسکتے ہیں جیسے۔
(۱)اِتَّقُوْامَوَاضِعَ التُّھْمَۃِ(1) (۲)مَارَآہ الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَھُوَعِنْدَاللہِ حَسَنٌ(2) (۳)اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ(3) (۴)
وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ۪
(4)(۵)کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ(5)(۶) اَللہُ فِی عَوْنِ عَبْدِہٖ مَا کَانَ ا لْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ أَخِیْہِ(6) (۷)
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا ۚ
(7) (۸)
وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ
(8)(۹)مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ(9) (۱۰)کُلُّ قَرْضٍ جَرَّنَفْعاً فَھُوَرِ بًا(10) (۱۱) دَمُ الْمُسْلِمِ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ حَرَامٌ (11) (۱۲) لاطَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ
1 ۔''اتحاف السادۃ المتقین''،کتاب عجائب القلب،بیان تفضیل مداخل...إلخ،ج۸،ص۵۲۴.
2 ۔''المعجم الأوسط''،الحدیث:۳۶۰۲،ج۲،ص۳۸۳.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب البروالصلۃ...إلخ،باب المرء مع من أحب، الحدیث:۱۶۵۔(۲۶۴۰)،ص۱۴۲۰.
4 ۔پ۶،المآئدۃ:۲.
5 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب بیان أن کل مسکرخمر...إلخ،الحدیث:۷۲۔ (۲۰۰۲)،ص۱۱۰۹.
6 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الذکروالدعاء...إلخ،باب فضل الاجتماع...إلخ،الحدیث:۳۸۔(۲۶۹۹)،ص۱۴۴۸.
7 ۔پ۲۵،الشورٰی:۴۰.
8 ۔پ۲،البقرۃ:۲۲۸.
9 ۔''سنن أبی داؤد''،کتاب اللباس،باب فی لبس الشھرۃ،الحدیث:۴۰۳۱،ج۴،ص۶۲.
10 ۔''کنزالعمال''،کتاب الدین والمسلم، قسم الاقوال ، فضل فی الواحق کتاب الدین، الحدیث: ۱۵۵۱۲،ص ۹۹.
و''کشف الخفاء''،حرف الکاف،الحدیث:۱۹۸۹،ج۲،ص۱۱۵.
11 ۔''صحیح مسلم''،کتاب البروالصلۃ...إلخ،باب تحریم ظلم المسلم، الحدیث ۳۲۔(۲۵۶۴) ص ۱۳۸۷.
یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ حدیث کی کسی کتاب میں ہمیں نہیں ملی،''صحیح مسلم''میں یہ حد یث ان الفاظ کے ساتھ''کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ'' ملی ،لہذااس کاحوالہ دیاگیا۔...علمیہ
مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ(1) (۱۳) مَنْ سَنَّ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہٗ أَجْرُھَا وَأَجْرُمَنْ عَمِلَ بِھَا(2) (۱۴) مَنْ سَنَّ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَعَلَیْہِ وِزْرُھَاوَوِزْرُمَنْ عَمِلَ بِھَا(3) (۱۵) بَشِّرُوْا وَلاتُعَسِّرُوْا(4) (۱۶) دَوَاعِیُ الْحَرَامِ حَرَامٌ(5) (۱۷) خَیْرُ الأمُوْرِ أَوْسَطُھَا(6) (۱۸) اَلدَّالُّ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ(7)
ان تمام قواعد کے ماتحت بے شمار جزئیات ہیں مفتی اور فقیہ غیر منصوص مسائل میں جن پر کوئی شرعی استدلال نہ ہو نئے پیش آنے والے مسائل میں ان اصول و قواعد کی روشنی میں حکمِ شرعی کی تخریج کرسکتا ہے بشرطیکہ فقہ پر اس کی نظر ہو۔ بارھویں صدی کے بعد سوائے علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے کسی فقیہ نے ان قواعد فقہیہ اور اصول کلیہ سے مسائل کا استنباط نہیں کیا اور یہ بات علامہ شامی کی خصوصیات میں سے ہو کر رہ گئی۔ تیرھویں اور چودھویں صدی کے ہندوستانی علماء فقہ میں واحد شخصیت علامہ احمد رضا علیہ الرحمہ کی ہے جنہوں نے مسائل کے استنباط میں بہ کثرت ان قواعد فقہیہ سے استنباط و استخراج فرمایا۔ ان کے فتاویٰ رضویہ میں بڑی تعداد میں ان اصول اور قواعد فقہیہ کا ذکر ملے گا یہ س امر کا شاہد عادل ہے کہ علامہ شامی کی طرح امام احمد رضا علیہ الرحمہ بھی فقہ میں مہارت کاملہ رکھتے تھے جن کی نظیر گزشتہ دو صدیوں میں نظر نہیں آتی۔
ھٰذَا مَا وَفَّقَنِیَ اﷲُ تَعَالٰی جَلَّ وَعَلٰی بِفَضْلِہٖ وَکَرَمِہٖ وَالْحَمْدُ ِﷲِ تَعَالٰیٗرَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِخَلْقِہٖ وَ نُوْرِ عَرْشِہٖ سَیِّدِ نَاوَمَوْلانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَأَھْلِ بَیْتِہٖ أَجْمَعِیْنَ.مُحِبُّ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَعُلَمَاءِ مِلَّتِہٖ
الفقیرظہیرالدین احمدزیدی غفرلہ
۲۱ ذی الحجہ ۱۴۰۸ھ یوم
٭٭٭٭٭
1 ۔''المعجم الکبیر''، ھشام بن حسان علی الحسن عن عمران، الحدیث ۳۸۱،ج۱۸،ص۱۷۰.
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ...إلخ، الحدیث:۶۹ (۱۰۱۷)، ص ۵۰۸.
و''الترغیب والترہیب''،کتاب الجھاد،الترغیب فی الرباط...إلخ،الحدیث:۱۹۱۰،ج۲،ص۱۲۹.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔
5 ۔
6 ۔''شعب الایمان''،باب فی الملابس والأوانی،فصل فی کراھیۃبس الشھرۃ...إلخ،الحدیث:۶۲۲۸،ج۵،ص۱۶۹.
و''کشف الخفاء''،حرف الخاء المعجمۃ،الحدیث:۱۲۴۵،ج۱،ص۳۴۶.
7 ۔''سنن الترمذی''،کتاب العلم، باب ماجاء الدال علی الخیرکفاعلہ،الحدیث:۲۶۷۹،ج۴،ص۳۰۵.