Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾ ) (1)
اور متقی وہ ہیں کہ ہم نے جو انھیں دیا ہے، اُس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
اورفرماتا ہے:
(خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا ) (2)
ان کے مالوں میں سے صدقہ لو، اس کی وجہ سے انھیں پاک اورستھرا بنا دو۔
اور فرماتا ہے:
(وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴﴾ ) (3)
اور فلاح پاتے وہ ہیں جو زکاۃ ادا کرتے ہیں۔
اور فرماتا ہے:
(وَ مَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَہُوَ یُخْلِفُہٗ ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۳۹﴾ ) (4)
اور جو کچھ تم خرچ کرو گے، اﷲ تعالیٰ اُس کی جگہ اور دے گا اور وہ بہتر روزی دینے والا ہے۔
اورفرماتاہے:
( مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ؕ وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۶۱﴾اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوۡنَ مَاۤ
1 ۔ پ۱، البقرۃ: ۳.
2 ۔ پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۳.
3 ۔ پ۱۸، المؤمنون: ۴.
4 ۔ پ۲۲، سبا: ۳۹.
اَنۡفَقُوۡا مَنًّا وَّلَاۤ اَذًی ۙ لَّہُمْ اَجْرُہُمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿۲۶۲﴾قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ صَدَقَۃٍ یَّتْبَعُہَاۤ اَذًی ؕ وَاللہُ غَنِیٌّ حَلِیۡمٌ ﴿۲۶۳﴾) (1)
جو لوگ اﷲ (عزوجل) کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُن کی کہاوت اس دانہ کی ہے جس سے سات بالیں نکلیں۔ ہر بال میں سو دانے اور اﷲ (عزوجل) جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور اﷲ (عزوجل) وسعت والا، بڑا علم والا ہے۔ جو لوگ اﷲ (عزوجل) کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے، نہ اذیت دیتے ہیں، اُن کے لیے اُن کا ثواب اُن کے رب کے حضور ہے اور نہ اُن پر کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اچھی بات اور مغفرت اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد اذیت دینا ہو اور اﷲ (عزوجل) بے پرواہ حلم والا ہے۔
اور فرماتا ہے:
(لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۹۲﴾ ) (2)
ہرگز نیکی حاصل نہ کرو گے جب تک اس میں سے نہ خرچ کرو جسے محبوب رکھتے ہو اور جو کچھ خرچ کروگے اﷲ (عزوجل) اُسے جانتا ہے۔
اور فرماتا ہے:
(لَیۡسَ الْبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَ الْکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیۡنَ وَ ابْنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَالسَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَالْمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمْ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَالصّٰبِرِیۡنَ فِی الْبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیۡنَ الْبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾ ) (3)
نیکی اس کا نام نہیں کہ مشرق و مغرب کی طرف مونھ کر دو، نیکی تو اُس کی ہے جو اﷲ (عزوجل) اور پچھلے دن اور ملائکہ و کتاب و انبیا پر ایمان لایا اور مال کو اُس کی محبت پر رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور سائلین کو اور گردن چھٹانے میں دیا اور نماز قائم کی اور زکاۃ دی اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی معاہدہ کریں تو اپنے عہد کو پورا کریں اور تکلیف و مصیبت اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے وہ لوگ سچے ہیں اور وہی لوگ متقی ہیں۔
1 ۔ پ۳، البقرۃ: ۲۶۱ ۔ ۲۶۳.
2 ۔ پ۴، اٰلِ عمرٰن: ۹۲.
3 ۔ پ۲، البقرۃ: ۱۷۷.
اور فرماتا ہے:
(وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ ) (1)
جو لوگ بخل کرتے ہیں اُس کے ساتھ جو اﷲ (عزوجل) نے اپنے فضل سے اُنھیں دیا۔ وہ یہ گمان نہ کریں کہ یہ اُن کے لیے بہتر ہے بلکہ یہ اُن کے لیے بُرا ہے۔ اس چیز کا قیامت کے دن اُن کے گلے میں طوق ڈالا جائے گا جس کے ساتھ بخل کیا۔
اور فرماتا ہے۔
( وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۙ فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ۙ۳۴﴾یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیۡہَا فِیۡ نَارِجَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوۡبُہُمْ وَظُہُوۡرُہُمْ ؕ ہٰذَا مَاکَنَزْتُمْ لِاَنۡفُسِکُمْ فَذُوۡقُوۡا مَاکُنۡتُمْ تَکْنِزُوۡنَ ﴿۳۵﴾ ) (2)
جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے اور اُسے اﷲ (عزوجل) کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں، انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو، جس دن آتش جہنم میں وہ تپائے جائیں گے اور اُن سے اُن کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں داغی جائیں گی (3) (اور اُن سے کہاجائے گا) یہ وہ ہے جو تم نے اپنے نفس کے لیے جمع کیا تھا تو اب چکھو جو جمع کرتے تھے۔
نیز زکاۃ کے بیان میں بکثرت آیات وارد ہوئیں جن سے اُس کا مہتم بالشّان ہونا ظاہر۔
احادیث اس کے بیان میں بہت ہیں بعض ان میں سے یہ ہیں:
حدیث ۱،۲: صحیح بخاری شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس کو اﷲ تعالیٰ مال دے اور وہ اُس کی زکاۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی صورت میں کر دیا جائے گا، جس کے سر پر دو چتّیاں ہوں گی۔ وہ سانپ اُس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا پھر اس کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔'' اس کے بعد حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی
(وَلَا یَحْسَبَنَّ
1 ۔ پ۴، اٰلِ عمرٰن: ۱۸۰.
2 ۔ پ۱۰، التوبۃ: ۳۴ ۔ ۳۵.
3 ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کوئی روپیہ دوسرے روپیہ پر نہ رکھا جائے گا۔ نہ کوئی اشرفی دوسری اشرفی پر بلکہ زکاۃ نہ دینے والے کا جسم اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ لاکھوں کروڑوں جمع کیے ہوں تو ہر روپیہ جدا داغ دے گا۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر ۱۲ منہ
''الترغیب و الترہیب''، کتاب الصدقات، الترہیب من منع الزکاۃ، الحدیث: ۲۲، ج۱، ص۳۱۰.
الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ ) (1) الآیہ۔
اسی کے مثل ترمذی و نسائی و ابن ماجہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۳: احمد کی روایت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے یوں ہے، ''جس مال کی زکاۃ نہیں دی گئی، قیامت کے دن وہ گنجا سانپ (2) ہوگا، مالک کو دوڑائے گا، وہ بھاگے گا یہاں تک کہ اپنی انگلیاں اُس کے مونھ میں ڈال دے گا۔'' (3)
حدیث ۴،۵: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو شخص سونے چاندی کا مالک ہو اور اس کا حق ادا نہ کرے تو جب قیامت کا دن ہوگا اس کے لیے آگ کے پتّر بنائے جائیں گے اون پر جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی اور اُن سے اُس کی کروٹ اور پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی، جب ٹھنڈے ہونے پر آئیں گے پھر ویسے ہی کر دیے جائیں گے۔ یہ معاملہ اس دن کا ہے جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے، اب وہ اپنی راہ دیکھے گا خواہ جنت کی طرف جائے یا جہنم کی طرف اور اونٹ کے بارے میں فرمایا: جو اس کا حق نہیں ادا کرتا، قیامت کے دن ہموار میدان میں لٹا دیا جائے گا اور وہ اونٹ سب کے سب نہایت فربہ ہو کر آئیں گے، پاؤں سے اُسے روندیں گے اور مونھ سے کاٹیں گے، جب ان کی پچھلی جماعت گزر جائے گی، پہلی لوٹے گی اور گائے اور بکریوں کے بارے میں فرمایا: کہ اس شخص کو ہموار میدان میں لٹا ئینگے اور وہ سب کی سب آئیں گی، نہ ان میں مُڑے ہوئے سینگ کی کوئی ہوگی، نہ بے سینگ کی، نہ ٹوٹے سینگ کی اورسینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے روندیں گی (4) اور اسی کے مثل صحیحین میں اونٹ اور گائے اور بکریوں کی زکاۃ نہ دینے میں ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی۔ (5)
حدیث ۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد جب صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے، اس وقت اعراب میں کچھ لوگ کافر ہوگئے (کہ زکاۃ کی فرضیت سے انکار کر بیٹھے)، صدیق اکبر نے اُن پر جہاد کا حکم دیا، امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا اُن سے آپ کیونکر قتال کرتے ہیں کہ
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب إثم مانع الزکاۃ، الحدیث: ۱۴۰۳، ج۱، ص۴۷۴.
پ۴، اٰلِ عمرٰن: ۱۸۰.
2 ۔ سانپ جب ہزار برس کا ہوتا ہے تو اس کے سر پر بال نکلتے ہیں اور جب دوہزاربرس کا ہوتا ہے، وہ بال گر جاتے ہیں۔یہ معنی ہیں گنجے
سانپ کے کہ اتنا پرانا ہوگا۔ ۱۲ منہ
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمدبن حنبل، مسندأبی ہریرۃ، الحدیث: ۱۰۸۵۷، ج۳، ص۶۲۶.
یہ حدیث طویل ہے مختصراً ذکر کی گئی۔ ۱۲ منہ
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب إثم مانع الزکاۃ، الحدیث: ۹۸۷، ص۴۹۱.
5 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ البقر، الحدیث: ۱۴۶۰، ج۱، ص۴۹۲.
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تویہ فرمایا ہے، مجھے حکم ہے کہ لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہیں اور جس نے
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہہ لیا، اُس نے اپنی جان اور مال بچا لیا، مگر حق اسلام میں اور اس کا حساب اﷲ (عزوجل) کے ذمہ ہے (یعنی یہ لوگ تو
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہنے والے ہیں، ان پر کیسے جہاد کیا جائے گا) صدیق اکبر نے فرمایا: خدا کی قسم! میں اس سے جہاد کروں گا، جو نماز و زکاۃ میں تفریق کرے (1) (کہ نماز کو فرض مانے اور زکاۃ کی فرضیت سے انکار کرے)، زکاۃ حق المال ہے، خدا کی قسم! بکری کا بچہ جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس حاضر کیا کرتے تھے، اگر مجھے دینے سے انکار کریں گے تو اس پر اُن سے جہاد کروں گا، فاروقِ اعظم فرماتے ہیں: واﷲ میں نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے صدیق کا سینہ کھول دیا ہے۔ اُس وقت میں نے بھی پہچان لیا کہ وہی حق ہے۔ (2)
حدیث ۷: ابو داود نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی، کہ جب یہ آیہ کریمہ
( وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ ) (3)
نازل ہوئی، مسلمانوں پر شاق ہوئی (سمجھے کہ چاندی سونا جمع کرنا حرام ہے تو بہت دقّت کا سامنا ہوگا)، فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں تم سے مصیبت دُور کر دوں گا۔ حاضر خدمت اقدس ہوئے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ آیت حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے اصحاب پر گراں معلوم ہوئی فرمایا: کہ ''اﷲ تعالیٰ نے زکاۃ تو اس لیے فرض کی کہ تمھارے باقی مال کو پاک کر دے اور مواریث اس لیے فرض کیے کہ تمھارے بعد والوں کے لیے ہو (یعنی مطلقاً مال جمع کرنا حرام ہوتا تو زکاۃ سے مال کی طہارت نہ ہوتی، بلکہ زکاۃ کس چیز پر واجب ہوتی اور میراث کا ہے میں جاری ہوتی، بلکہ جمع کرنا حرام وہ ہے کہ زکاۃ نہ دے) اس پر فاروقِ اعظم نے تکبیر کہی۔ (4)
حدیث ۸: بخاری اپنی تاریخ میں اور امام شافعی و بزار و بیہقی اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''زکاۃ کسی مال میں نہ ملے گی، مگر اُسے ہلاک کر دے گی۔'' (5) بعض ائمہ نے اس حدیث کے
1 ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نری کلمہ گوئی اسلام کیلئے کافی نہیں، جب تک تمام ضروریات دین کا اقرار نہ کرے اور امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بحث کرنا اس وجہ سے تھا کہ ان کے علم میں پہلے یہ بات نہ تھی، کہ وہ فرضیت کے منکر ہیں یہ خیال تھا کہ زکاۃ دیتے نہیں اس کی وجہ سے گنہگار ہوئے، کا فر تو نہ ہوئے کہ ان پر جہاد قائم کیا جائے، مگر جب معلوم ہوگیا تو فرماتے ہیں میں نے پہچان لیا کہ وہی حق
ہے، جو صدیق نے سمجھا اور کیا۔ ۱۲ منہ
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الاعتصام، باب الإقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۷۲۸۴، ج۴ ص۵۰۰.
3 ۔ پ۱۰، التوبۃ: ۳۴.
4 ۔ ''سنن أبی داود''، کتاب الزکاۃ، باب في حقوق المال، الحدیث: ۱۶۶۴، ج۲، ص۱۷۶.
5 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الزکاۃ، فصل في الاستعفاف عن المسألۃ، الحدیث: ۳۵۲۲، ج۳، ص۲۷۳.
یہ معنی بیان کیے کہ زکاۃ واجب ہوئی اور ادا نہ کی اور اپنے مال میں ملائے رہا تو یہ حرام اُس حلال کو ہلاک کر دے گا اور امام احمد نے فرمایا کہ معنے یہ ہیں کہ مالدار شخص مالِ زکاۃ لے تویہ مالِ زکاۃ اس کے مال کو ہلاک کر دے گا کہ زکاۃ تو فقیروں کے لیے ہے اور دونوں معنے صحیح ہیں۔ (1)
حدیث ۹: طبرانی نے اوسط میں بُریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو قوم زکاۃ نہ دے گی، اﷲ تعالیٰ اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا۔'' (2)
حدیث ۱۰: طبرانی نے اوسط میں فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''خشکی و تری میں جو مال تلف ہوتا ہے، وہ زکاۃ نہ دینے سے تلف ہوتا ہے۔'' (3)
حدیث ۱۱: صحیحین میں احنف بن قیس سے مروی، سیدنا ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اُن کے سرپستان پر جہنم کا گرم پتھر رکھیں گے کہ سینہ توڑ کرشانہ سے نکل جائے گا اور شانہ کی ہڈی پر رکھیں گے کہ ہڈیاں توڑتا سینہ سے نکلے گا۔'' (4) اور صحیح مسلم شریف میں یہ بھی ہے کہ میں نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا: کہ ''پیٹھ توڑ کر کروٹ سے نکلے گا اور گدی توڑ کر پیشانی سے۔'' (5)
حدیث ۱۲: طبرانی امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ''فقیر ہرگز ننگے بھوکے ہونے کی تکلیف نہ اٹھائیں گے مگر مال داروں کے ہاتھوں، سُن لو! ایسے تونگروں سے اﷲ تعالیٰ سخت حساب لے گا اور انھیں دردناک عذاب دے گا۔'' (6)
حدیث ۱۳: نیز طبرانی انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ''قیامت کے دن تونگروں کے لیے محتاجوں کے ہاتھوں سے خرابی ہے۔'' محتاج عرض کریں گے، ہمارے حقوق جو تُو نے اُن پر فرض کیے تھے، انہوں نے ظلماً نہ دیے، اﷲ عزوجل فرمائے گا: ''مجھے قسم ہے اپنی عزّت و جلال کی کہ تمہیں اپنا قُرب عطا کروں گا اور انھیں دُور رکھوں گا۔'' (7)
1 ۔ ''الترغیب و الترہیب''، کتاب الصدقات، الترہیب من منع الزکاۃ،الحدیث:۱۸، ج۱، ص۳۰۹.
2 ۔ ''المعجم الأوسط''، الحدیث: ۴۵۷۷، ج۳، ص۲۷۵ ۔ ۲۷۶.
3 ۔ ''الترغیب و الترہیب''، کتاب الصدقات، الترہیب من منع الزکاۃ،الحدیث:۱۶، ج۱، ص۳۰۸.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب في الکنازین للأموال والتغلیظ علیھم، الحدیث: (۹۹۲)، ص۴۹۷.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب في الکنازین للأموال والتغلیظ علیھم، الحدیث: ۳۵۔(۹۹۲)، ص۴۹۸.
6 ۔ ''الترغیب والترہیب''، کتاب الصدقات، الحدیث: ۵، ج۱، ص۳۰۶.
و ''المعجم الأوسط''، الحدیث: ۳۵۷۹، ج۲، ص۳۷۴ ۔ ۳۷۵.
7 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب العین، الحدیث: ۴۸۱۳، ج۳، ص۳۴۹.
حدیث ۱۴: ابن خزیمہ و ابن حبان اپنی صحیح میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ''دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے، اُن میں ایک وہ تونگر ہے کہ اپنے مال میں اﷲ عزوجل کا حق ادا نہیں کرتا۔'' (1)
حدیث ۱۵: امام احمد مسند میں عمارہ بن حزم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ ''اﷲ عزوجل نے اسلام میں چار چیزیں فرض کی ہیں، جو ان میں سے تین ادا کرے، وہ اُسے کچھ کام نہ دیں گی جب تک پوری چاروں نہ بجا لائے۔ نماز، زکاۃ ، روزہ رمضان، حج بیت اﷲ۔'' (2)
حدیث ۱۶: طبرانی کبیر میں بسند صحیح راوی، عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں حکم دیا گیا کہ نماز پڑھیں اور زکاۃ دیں اور جو زکاۃ نہ دے، اس کی نماز قبول نہیں۔ (3)
حدیث ۱۷: صحیحین و مسند احمد و سنن ترمذی میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ''صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا اور بندہ کسی کاقصور معاف کرے تو اﷲ تعالیٰ اس کی عزت ہی بڑھائے گا اور جو اﷲ (عزوجل) کے لیے تواضع کرے، اﷲ (عزوجل) اسے بلند فرمائے گا۔'' (4)
حدیث ۱۸: بخاری و مسلم انھیں سے راوی فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو شخص اﷲ (عزوجل) کی راہ میں جوڑا خرچ کرے، وہ جنت کے سب دروازوں سے بلایا جائے گا اور جنت کے کئی دروازے ہیں، جو نمازی ہے دروازہ نماز سے بلایا جائے گا، جو اہل جہاد سے ہے دروازہ جہاد سے بلایا جائے گا اور جو اہل صدقہ سے ہے دروازہ صدقہ سے بلایا جائے گا، جو روزہ دار ہے باب الرّیان سے بلایا جائے گا۔'' صدیق اکبر نے عرض کی، اس کی تو کچھ ضرورت نہیں کہ ہر دروازے سے بلایا جائے (یعنی مقصود دخول جنت ہے، وہ ایک دروازہ سے حاصل ہے) مگر کوئی ہے ایسا جو سب دروازوں سے بلایا جائے؟ فرمایا: ''ہاں اور میں اُمید کرتا ہوں کہ تم اُن میں سے ہو۔'' (5)
حدیث ۱۹: بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص کھجور برابر حلال کمائی سے صدقہ کرے اور اﷲ (عزوجل) نہیں قبول فرماتا مگر حلال کو، تو اسے
1 ۔ ''صحیح ابن خزیمۃ''، کتاب الزکاۃ، باب ذکر إدخال مانع الزکاۃ النار... إلخ، الحدیث: ۲۲۴۹، ج۴، ص۸.
2 ۔ ''المسند''،حدیث زیاد بن نعیم، الحدیث: ۱۷۸۰۴، ج۶، ص۲۳۶.''الترغیب و الترہیب'' ،الحدیث:۱۴، ج۱،ص۳۰۸.
3 ۔ ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۱۰۰۹۵، ج۱۰، ص۱۰۳.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب البر والصلۃ والأدب، باب استحباب العفو والتواضع، الحدیث: ۲۵۸۸، ص۱۳۹۷.
5 ۔ ''صحیح البخاري ''، کتاب فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۳۶۶۶، ج۲، ص۵۲۰.
و ''المسند'' للإمام أحمدبن حنبل، مسندأبی ہریرۃ، الحدیث: ۷۶۳۷، ج۳، ص۹۳.
اﷲ تعالیٰ دستِ راست سے قبول فرماتا ہے پھر اسے اُس کے مالک کے لیے پرورش کرتا ہے، جیسے تم میں کوئی اپنے بچھیرے کی تربیّت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ برابر ہو جاتا ہے۔'' (1)
حدیث ۲۰ و ۲۱: نسائی و ابن ماجہ اپنی سنن میں و ابن خزیمہ و ابن حبان اپنی صحیح میں اور حاکم نے بافادہ تصحیح ابوہریرہ و ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا اور یہ فرمایا: کہ ''قسم ہے! اُس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔'' اُس کو تین بار فرمایا پھر سر جُھکا لیا تو ہم سب نے سر جُھکا لیے اور رونے لگے، یہ نہیں معلوم کہ کس چیز پرقسم کھائی۔ پھر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے سر مبارک اُٹھالیا اور چہرہ اقدس میں خوشی نمایاں تھی تو ہمیں یہ بات سُرخ اونٹوں سے زیادہ پیاری تھی اور فرمایا: ''جو بندہ پانچوں نمازیں پڑھتا ہے اور رمضان کا روزہ رکھتا ہے اور زکاۃ دیتا ہے اور ساتوں کبیرہ گناہوں سے بچتاہے اُس کے لیے جنت کے د روازے کھول دیے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ سلامتی کے ساتھ داخل ہو۔'' (2)
حدیث ۲۲: امام احمد نے بروایت ثقات انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اپنے مال کی زکاۃ نکال، کہ وہ پاک کرنے والی ہے تجھے پاک کر دے گی اور رشتہ داروں سے سلوک کر اور مسکین اور پڑوسی اور سائل کا حق پہچان۔'' (3)
حدیث ۲۳: طبرانی نے اوسط و کبیر میں ابو الدرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''زکاۃ اسلام کا پُل ہے۔'' (4)
حدیث ۲۴: طبرانی نے اوسط میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو میرے لیے چھ چیزوں کی کفالت کرے، میں اُس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔'' میں نے عرض کی، وہ کیا ہیں یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرمایا: ''نمازو زکاۃ و امانت و شرمگاہ و شکم و زبان۔'' (5)
حدیث ۲۵: بزار نے علقمہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''تمھارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ اپنے اموال کی زکاۃ ادا کرو۔'' (6)
1 ۔ ''صحیح البخاري ''، کتاب الزکاۃ، باب لاتقبل صدقۃ من غلول، الحدیث: ۱۴۱۰، ج۱، ص۴۷۶.
2 ۔ ''سنن النسائی''، کتاب الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ، الحدیث: ۲۴۳۵، ص۳۹۹.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمدبن حنبل، مسندانس بن مالک، الحدیث: ۱۲۳۹۷، ج۴، ص۲۷۳.
4 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب المیم، الحدیث: ۸۹۳۷، ج۶، ص۳۲۸.
5 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب الفاء، الحدیث: ۴۹۲۵، ج۳، ص۳۹۶.
6 ۔ ''مجمع الزوائد''، کتاب الزکاۃ، باب فرض الزکاۃ، الحدیث: ۴۳۲۶، ج۳، ص۱۹۸.
حدیث ۲۶: طبرانی نے کبیر میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایمان لاتا ہے، وہ اپنے مال کی زکاۃ ادا کرے اور جو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایمان لاتا ہے، وہ حق بولے یا سکوت کرے یعنی بُری بات زبان سے نہ نکالے اورجو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایمان لاتا ہے، وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔'' (1)
حدیث ۲۷: ابو داود نے حسن بصری سے مرسلاًاور طبرانی و بیہقی نے ایک جماعت صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: کہ ''زکاۃ دے کر اپنے مالوں کو مضبوط قلعوں میں کر لو اور اپنے بیماروں کا علاج صدقہ سے کرو اور بَلا نازل ہونے پر دُعا و تضرع سے استعانت کرو۔'' (2)
حدیث ۲۸: ابن خزیمہ اپنی صحیح اور طبرانی اوسط اور حاکم مستدرک میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی، بیشک اﷲ تعالیٰ نے اُس سے شر دُور فرما دیا۔'' (3)
زکاۃ شریعت میں اﷲ (عزوجل) کے لیے مال کے ایک حصہ کا جو شرع نے مقرر کیا ہے، مسلمان فقیر کو مالک کر دینا ہے اور وہ فقیر نہ ہاشمی ہو، نہ ہاشمی کا آزاد کردہ غلام اور اپنا نفع اُس سے بالکل جدا کر لے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱: زکاۃ فرض ہے، اُس کا منکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار و مردود الشہادۃ ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: مباح کر دینے سے زکاۃ ادا نہ ہوگی، مثلاً فقیر کو بہ نیت زکاۃ کھانا کھلا دیا زکاۃ ادا نہ ہوئی کہ مالک کر دینا نہیں پایا گیا، ہاں اگر کھانا دے دیا کہ چاہے کھائے یالے جائے تو ادا ہوگئی۔ یو ہیں بہ نیت زکاۃ فقیر کو کپڑا دے دیا یا پہنا دیا ادا ہوگئی۔ (6) (درمختار)
1 ۔ ''المجعم الکبیر''، الحدیث: ۱۳۵۶۱، ج۱۲، ص۳۲۴.
2 ۔ ''مراسیل أبي داود'' مع ''سنن أبي داود''، باب في الصائم یصیب أھلہ، ص۸.
3 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب الألف، الحدیث: ۱۵۷۹، ج۱، ص۴۳۱.
4 ۔ ''تنویر الأبصار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۰۳ ۔ ۲۰۶.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۰.
6 ۔ ''الدرالمختار''معہ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۰۴.
مسئلہ ۳: فقیر کو بہ نیت زکاۃ مکان رہنے کو دیا زکاۃ ادا نہ ہوئی کہ مال کا کوئی حصہ اسے نہ دیا بلکہ منفعت کا مالک کیا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴: مالک کرنے میں یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے کو دے جو قبضہ کرنا جانتا ہو، یعنی ایسا نہ ہو کہ پھینک دے یا دھوکہ کھائے ورنہ ادا نہ ہوگی، مثلاً نہایت چھوٹے بچہ یا پاگل کو دینا اور اگر بچہ کو اتنی عقل نہ ہو تو اُس کی طرف سے اس کا باپ جو فقیر ہو یا وصی یا جس کی نگرانی میں ہے قبضہ کریں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: زکاۃ واجب ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں:
(۱) مسلمان ہونا۔
کافر پر زکاۃ واجب نہیں یعنی اگر کوئی کافر مسلمان ہوا تو اُسے یہ حکم نہیں دیا جائے گا کہ زمانہ کفر کی زکاۃ ادا کرے۔ (3) (عامہ کتب) معاذ اﷲ کوئی مرتد ہوگیا تو زمانہ اسلام میں جو زکاۃ نہیں دی تھی ساقط ہوگئی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: کافر دارالحرب میں مسلمان ہوا اور وہیں چند برس تک اقامت کی پھر دارالاسلام میں آیا، اگر اس کو معلوم تھا کہ مالدار مسلمان پر زکاۃ واجب ہے، تو اُس زمانہ کی زکاۃ واجب ہے ورنہ نہیں اور اگر دارالاسلام میں مسلمان ہوا اور چند سال کی زکاۃ نہیں دی تو ان کی زکاۃ واجب ہے، اگرچہ کہتا ہو کہ مجھے فرضیتِ زکاۃ کا علم نہیں کہ دارالاسلام میں جہل عذر نہیں۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
(۲) بلوغ۔
(۳) عقل، نابالغ پر زکاۃ واجب نہیں اور جنون اگر پورے سال کو گھیرلے تو زکاۃ واجب نہیں اور اگر سال کے اوّل آخر میں افاقہ ہوتا ہے، اگرچہ باقی زمانہ جنون میں گذرتا ہے توواجب ہے، اور جنون اگر اصلی ہو یعنی جنون ہی کی حالت میں بلوغ ہوا تو اس کا سال ہوش آنے سے شروع ہوگا۔ یو ہیں اگر عارضی ہے مگر پورے سال کو گھیر لیا تو جب افاقہ ہوگا اس وقت سے سال کی ابتدا ہوگی۔ (6) (جوہرہ، عالمگیری، ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۰۵.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۰۴.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في احکام المعتوہ، ج۳، ص ۲۰۷.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۱.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۱، وغیرہ.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۲.
و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في احکام المعتوہ، ج۳، ص۲۰۷.
مسئلہ ۷: بوہرے پر زکاۃ واجب نہیں، جب کہ اسی حالت میں پورا سال گزرے اور اگر کبھی کبھی اُسے افاقہ بھی ہوتا ہے تو واجب ہے۔ جس پر غشی طاری ہوئی اس پر زکاۃ واجب ہے، اگرچہ غشی کامل سال بھر تک ہو۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
(۴) آزادہونا۔
غلام پر زکاۃ واجب نہیں، اگرچہ ماذون ہو (یعنی اس کے مالک نے تجارت کی اجازت دی ہو) یا مکاتب (2) یا ام ولد (3) یا مُستسعےٰ (یعنی غلام مشترک جس کو ایک شریک نے آزاد کر دیا اور چونکہ وہ مالدار نہیں ہے، اس وجہ سے باقی شریکوں کے حصے کما کر پورے کرنے کا اُسے حکم دیا گیا)۔ (4) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۸: ماذون غلام نے جو کچھ کمایا ہے اس کی زکاۃ نہ اُس پر ہے نہ اُس کے مالک پر، ہاں جب مالک کو دے دیا تو اب ان برسوں کی بھی زکاۃ مالک اداکرے، جب کہ غلام ماذون دَین میں مستغرق نہ ہو، ورنہ اس کی کمائی پر مطلقاً زکاۃ واجب نہیں، نہ مالک کے قبضہ کرنے کے پہلے نہ بعد۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: مکاتب نے جو کچھ کمایا اس کی زکاۃ واجب نہیں نہ اس پر نہ اس کے مالک پر، جب مالک کو دے دے اور سال گذر جائے، اب بشرائط زکاۃ مالک پر واجب ہوگی اور گذشتہ برسوں کی واجب نہیں۔ (6) (ردالمحتار)
(۵) مال بقدر نصاب اُس کی مِلک میں ہونا، اگر نصاب سے کم ہے تو زکاۃ واجب نہ ہوئی۔ (7) (تنویر، عالمگیری)
(۶) پورے طور پر اُس کا مالک ہو یعنی اس پر قابض بھی ہو۔ (8)
مسئلہ ۱۰: جو مال گم گیا یا دریا میں گِر گیا یا کسی نے غصب کر لیا اور اس کے پاس غصب کے گواہ نہ ہوں یا جنگل میں دفن کر دیا تھا اوریہ یاد نہ رہا کہ کہاں دفن کیا تھا یا انجان کے پاس امانت رکھی تھی اور یہ یاد نہ رہا کہ وہ کون ہے یا مدیُون نے دَین
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في احکام المعتوہ، ج۳، ص۲۰۷.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۲.
2 ۔ یعنی وہ غلام جس کا آقا مال کی ایک مقدار مقرر کرکے یہ کہہ دے کہ اتنا ادا کردے تو آزاد ہے اور غلام اسے قبول بھی کرلے۔
3 ۔ یعنی وہ لونڈی جس کے بچہ پیدا ہوا اور مولیٰ نے اقرار کیا کہ یہ میرا بچہ ہے۔
تفصیلی معلومات کے لئے بہارِ شریعت حصہ ۹ میں مدبّر، مکاتب اور ام ولد کا بیان ملاحظہ فرمائیں۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۱، وغیرہ.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۴.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۲.
8 ۔ المرجع السابق.
سے انکار کر دیا اور اُس کے پاس گواہ نہیں پھر یہ اموال مل گئے، تو جب تک نہ ملے تھے، اُس زمانہ کی زکاۃ واجب نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: اگر دین ایسے پر ہے جو اس کا اقرار کرتا ہے مگر ادا میں دیر کرتا ہے یا نادار ہے یا قاضی کے یہاں اس کے مفلس ہونے کا حکم ہو چکا یا وہ منکر ہے، مگر اُس کے پاس گواہ موجود ہیں تو جب مال ملے گا، سالہائے گزشتہ کی بھی زکاۃ واجب ہے۔ (2) (تنویر)
مسئلہ ۱۲: چَرائی کا جانور اگر کسی نے غصب کیا، اگرچہ وہ اقرار کرتا ہو تو ملنے کے بعد بھی اس زمانہ کی زکاۃ واجب نہیں۔ (3) (خانیہ)
مسئلہ ۱۳: غصب کیے ہوئے کی زکاۃ غاصب پر واجب نہیں کہ یہ اس کا مال ہی نہیں، بلکہ غاصب پر یہ واجب ہے کہ جس کا مال ہے اُسے واپس دے اور اگر غاصب نے اُس مال کو اپنے مال میں خلط کر دیا کہ تمیز ناممکن ہو اور اس کا اپنا مال بقدر نصاب ہے تو مجموع پر زکاۃ واجب ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: ایک نے دوسرے کے مثلاً ہزار روپے غصب کر لیے پھر وہی روپے اُس سے کسی اور نے غصب کر کے خرچ کر ڈالے اور ان دونوں غاصبوں کے پاس ہزار ہزار روپے اپنی ملک کے ہیں تو غاصب اوّل پر زکاۃ واجب ہے دوسرے پر نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: شے مرہُون (6) کی زکاۃ نہ مرتہن (7) پر ہے، نہ راہن (8) پر، مرتہن تو مالک ہی نہیں اور راہن کی ملک تام نہیں کہ اس کے قبضہ میں نہیں اور بعد رہن چھڑانے کے بھی ان برسوں کی زکاۃ واجب نہیں۔ (9) (درمختار وغیرہ)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۱۸.
2 ۔ ''تنویر الأبصار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۱۹.
3 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ، کتاب الزکاۃ، ج۱، ص۱۲۴.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب فیما لو صادر السطان رجلا... إلخ، ج۳، ص۲۵۹.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۳.
6 ۔ یعنی جو چیز گروی رکھی گئی ہے۔
7 ۔ یعنی جس کے پاس چیز گروی رکھی گئی ہو۔
8 ۔ یعنی گروی رکھنے والا۔
تفصیلی معلومات کے لئے دیکھئے :بہارِ شریعت حصہ ۱۷ میں رہن کا بیان۔
9 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۱۴، وغیرہ.
مسئلہ ۱۶: جو مال تجارت کے لیے خریدا اور سال بھر تک اس پر قبضہ نہ کیا تو قبضہ کے قبل مشتری پر زکاۃ واجب نہیں اور قبضہ کے بعد اس سال کی بھی زکاۃ واجب ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
(۷) نصاب کا دَین سے فارغ ہونا۔
مسئلہ ۱۷: نصاب کا مالک ہے مگر اس پردَین ہے کہ ادا کرنے کے بعد نصاب نہیں رہتی تو زکاۃ واجب نہیں، خواہ وہ دَین بندہ کا ہو، جیسے قرض، زرثمن (2) کسی چیز کا تاوان یا اﷲ عزوجل کا دَین ہو، جیسے زکاۃ، خراج مثلاً کوئی شخص صرف ایک نصاب کا مالک ہے اور دو سال گذر گئے کہ زکاۃ نہیں دی تو صرف پہلے سال کی زکاۃ واجب ہے دوسرے سال کی نہیں کہ پہلے سال کی زکاۃ اس پر دَین ہے اس کے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہیں رہتی، لہٰذا دوسرے سال کی زکاۃ واجب نہیں۔ یو ہیں اگر تین سال گذر گئے، مگرتیسرے میں ایک دن باقی تھا کہ پانچ درم اور حاصل ہوئے جب بھی پہلے ہی سال کی زکاۃ واجب ہے کہ دوسرے اور تیسرے سال میں زکاۃ نکالنے کے بعد نصاب باقی نہیں، ہاں جس دن کہ وہ پانچ درم حاصل ہوئے اس دن سے ایک سال تک اگر نصاب باقی رہ جائے تو اب اس سال کے پورے ہونے پر زکاۃ واجب ہوگی۔ یو ہیں اگر نصاب کا مالک تھا اور سال تمام پر زکاۃ نہ دی پھر سارے مال کو ہلاک کر دیا پھر اور مال حاصل کیا کہ یہ بقدر نصاب ہے، مگر سال اوّل کی زکاۃ جو اس کے ذمہ دَین ہے اس میں سے نکالیں تو نصاب باقی نہیں رہتی تو اس نئے سال کی زکاۃ واجب نہیں اور اگر اُس پہلے مال کو اُس نے قصداً ہلاک نہ کیا، بلکہ بلا قصد ہلاک ہوگیا تو اُس کی زکاۃ جاتی رہی، لہٰذا اس کی زکاۃ دَین نہیں تو اس صورت میں اس نئے سال کی زکاۃ واجب ہے۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: اگر خود مدیُون (4) نہیں مگر مدیُون کا کفیل (5) ہے اور کفالت کے روپے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہیں رہتی، زکاۃ واجب نہیں، مثلاً زید کے پاس ہزار روپے ہیں اور عمرو نے کسی سے ہزار قرض لیے اور زید نے اس کی کفالت کی تو زید پر اس صورت میں زکاۃ واجب نہیں کہ زید کے پاس اگرچہ روپے ہیں مگر عمرو کے قرض میں مستغرق ہیں کہ قرض خواہ کواختیار ہے زید سے مطالبہ کرے اورروپے نہ ملنے پر یہ اختیار ہے کہ زید کوقید کرا دے تویہ روپے دَین میں مستغرق ہیں، لہٰذا زکاۃ واجب نہیں
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۵.
2 ۔ یعنی کسی خریدی گئی چیز کے دام۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۲۔۱۷۴
و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب: الفرق بین السبب والشرط والعلۃ، ج۳، ص۲۱۰.
4 ۔ یعنی مقروض۔
5 ۔ یعنی مقروض کا ضامن۔
اور اگرعمرو کی دس شخصوں نے کفالت کی اور سب کے پاس ہزار ہزار روپے ہیں جب بھی ان میں کسی پر زکاۃ واجب نہیں کہ قرض خواہ ہر ایک سے مطالبہ کر سکتا ہے اور بصورت نہ ملنے کے جس کوچاہے قید کرا دے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: جو دَین میعادی ہو وہ مذہب صحیح میں وجوب زکاۃ کا مانع نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
چونکہ عادۃً دَینِ مہر کا مطالبہ نہیں ہوتا، لہٰذا اگرچہ شوہر کے ذمہ کتنا ہی دَینِ مہر ہو جب وہ مالکِ نصاب ہے، زکاۃ واجب ہے۔ (3) (عالمگیری) خصوصاً مہر مؤخر جو عام طور پر یہاں رائج ہے جس کی ادا کی کوئی میعاد معیّن نہیں ہوتی، اس کے مطالبہ کا تو عورت کو اختیار ہی نہیں، جب تک موت یا طلاق واقع نہ ہو۔
مسئلہ ۲۰: عورت کا نفقہ شوہر پر دَین نہیں قرار دیا جائے گا جب تک قاضی نے حکم نہ دیا ہو یا دونوں نے باہم کسی مقدار پر تصفیہ نہ کر لیا ہو اور اگریہ دونوں نہ ہوں تو ساقط ہوجائے گا شوہر پر اس کا دینا واجب نہ ہوگا، لہٰذا مانع زکاۃ نہیں۔ عورت کے علاوہ کسی رشتہ دار کانفقہ اس وقت دَین ہے جب ایک مہینہ سے کم زمانہ گزرا ہو یا اُس رشتہ دار نے قاضی کے حکم سے قرض لیا اور اگر یہ دونوں باتیں نہیں تو ساقط ہے اورمانع زکاۃ نہیں۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: دَین اس وقت مانع زکاۃ ہے جب زکاۃ واجب ہونے سے پہلے کا ہو اور اگر نصاب پرسال گزرنے کے بعد ہوا تو زکاۃ پر اس دَین کا کچھ اثر نہیں۔(5) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: جس دَین کا مطالبہ بندوں کی طرف سے نہ ہو اس کا اس جگہ اعتبار نہیں یعنی وہ مانع زکاۃ نہیں مثلاً نذر وکفارہ و صدقہ فطر و حج و قربانی کہ اگر ان کے مصارف نصاب سے نکالیں تو اگرچہ نصاب باقی نہ رہے زکاۃ واجب ہے، عشر و خراج واجب ہونے کے لیے دین مانع نہیں یعنی اگرچہ مدیُون ہو، یہ چیزیں اس پر واجب ہو جائیں گی۔ (6) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۲۳: جو دَین اثنائے سال میں عارض ہوا یعنی شروع سال میں مدیُون نہ تھا پھر مدیُون ہوگیا پھر سال تمام پر
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب: الفرق بین السبب والشرط والعلۃ، ج۳، ص۲۱۰.
2 ۔ المرجع السابق، ص۲۱۱.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۳.
و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب: الفرق بین السبب والشرط والعلۃ، ج۳، ص۲۱۱.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب: الفرق بین السبب والشرط والعلۃ، ج۳، ص۲۱۰.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۳.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب: الفرق بین السبب والشرط والعلۃ، ج۳، ص۲۱۱، وغیرھما.
علاوہ دَین کے نصاب کا مالک ہوگیا تو زکاۃ واجب ہوگئی، اس کی صورت یہ ہے کہ فرض کرو قرض خواہ نے قرض معاف کر دیا تو اب چونکہ اس کے ذمہ دَین نہ رہا اور سال بھی پورا ہو چکا ہے، لہٰذا واجب ہے کہ ابھی زکاۃ دے، یہ نہیں کہ اب سے ایک سال گزرنے پر زکاۃ واجب ہوگی اور اگر شروع سال سے مدیُون تھا اور سال تمام پر معاف کیا تو ابھی زکاۃ واجب نہ ہوگی بلکہ اب سے سال گزرنے پر۔ (1) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۲۴: ایک شخص مدیُون ہے اور چند نصاب کا مالک کہ ہر ایک سے دَین ادا ہو جاتا ہے، مثلاً اس کے پاس روپے اشرفیاں بھی ہیں، تجارت کے اسباب بھی، چرائی کے جانور بھی تو روپے اشرفیاں دَین کے مقابل سمجھے اور اور چیزوں کی زکاۃ دے اور اگر روپے اشرفیاں نہ ہوں اور چرائی کے جانوروں کی چند نصابیں ہوں، مثلاً چالیس بکریاں ہیں اور تیس گائیں اور پانچ اونٹ تو جس کی زکاۃ میں اسے آسانی ہو، اُس کی زکاۃ دے اور دوسرے کو دَین میں سمجھے تو اُس صورتِ مذکورہ میں اگر بکریوں یا اونٹوں کی زکاۃ دے گا تو ایک بکری دینی ہوگی اور گائے کی زکاۃ میں سال بھرکا بچھڑا اور ظاہر ہے کہ ایک بکری دینا بچھڑا دینے سے آسان ہے، لہٰذا بکری دے سکتا ہے اور اگر برابر ہوں تو اسے اختیار ہے۔ مثلاً پانچ اونٹ ہیں اورچالیس بکریاں دونوں کی زکاۃ ایک بکری ہے، اُسے اختیار ہے جسے چاہے دَین کے لیے سمجھے اور جس کی چاہے زکاۃ دے اور یہ سب تفصیل اُس وقت ہے کہ بادشاہ کی طرف سے کوئی زکاۃ وصو ل کرنے والا آئے، ورنہ اگر بطور خود دینا چاہتا ہے تو ہر صورت میں اختیار ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: اس پر ہزار روپے قرض ہیں اور اس کے پاس ہزار روپے ہیں اور ایک مکان اور خدمت کے لیے ایک غلام تو زکاۃ واجب نہیں، اگرچہ مکان و غلام دس ہزار روپے کی قیمت کے ہوں کہ یہ چیزیں حاجت اصلیہ سے ہیں اور جب روپے موجود ہیں تو قرض کے لیے روپے قرار دیے جائیں گے نہ کہ مکان و غلام۔ (3) (عالمگیری)
(۸) نصاب حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو۔ (4)
مسئلہ ۲۶: حاجت اصلیہ یعنی جس کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے اس میں زکاۃ واجب نہیں، جیسے رہنے کا مکان، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے، خانہ داری کے سامان، سواری کے جانور، خدمت کے لیے لونڈی غلام،
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۵، وغیرہ.
2 ۔ ''الدرالمختار''، ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۶.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۳.
4 ۔ المرجع السابق، ص۱۷۲.
آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہلِ علم کے لیے حاجت کی کتابیں ، کھانے کے لیے غلّہ۔ (1) (ہدایہ، عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: ایسی چیز خریدی جس سے کوئی کام کریگا اور کام میں اس کا اثر باقی رہے گا، جیسے چمڑا پکانے کے لیے مازو (2) اور تیل وغیرہ اگر اس پر سال گزر گیا زکاۃ واجب ہے۔ یو ہیں رنگریز نے اُجرت پر کپڑا رنگنے کے لیے کسم، زعفران خریدا تو اگر بقدر نصاب ہے اور سال گزر گیا زکاۃ واجب ہے۔ پُڑیا وغیرہ رنگ کا بھی یہی حکم ہے اور اگر وہ ایسی چیز ہے جس کا اثر باقی نہیں رہے گا، جیسے صابون تو اگرچہ بقدر نصاب ہو اور سال گزر جائے زکاۃ واجب نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: عطر فروش نے عطر بیچنے کے لیے شیشیاں خریدیں، ان پر زکاۃ واجب ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: خرچ کے لیے روپے کے پیسے لیے تو یہ بھی حاجت اصلیہ میں ہیں۔ حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کے روپے رکھے ہیں تو سال میں جو کچھ خرچ کیا کیا اور جو باقی رہے اگر بقدر نصاب ہیں تو ان کی زکاۃ واجب ہے، اگرچہ اسی نیّت سے رکھے ہیں کہ آئندہ حاجتِ اصلیہ ہی میں صَرف ہوں گے اور اگر سال تمام کے وقت حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو زکاۃ واجب نہیں۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: اہلِ علم کے لیے کتابیں حاجت اصلیہ سے ہیں اور غیر اہل کے پاس ہوں، جب بھی کتابوں کی زکاۃ واجب نہیں جب کہ تجارت کے لیے نہ ہوں، فرق اتنا ہے کہ اہلِ علم کے پاس ان کتابوں کے علاوہ اگر مال بقدر نصاب نہ ہو تو زکاۃ لینا جائز ہے اور غیر اہلِ علم کے لیے ناجائز، جب کہ دو سو درم قیمت کی ہوں۔ اہل وہ ہے جسے پڑھنے پڑھانے یا تصحیح کے لیے ان کتابوں کی ضرورت ہو۔ کتاب سے مراد مذہبی کتاب فقہ و تفسیر وحدیث ہے، اگر ایک کتاب کے چند نسخے ہوں تو ایک سے زائد جتنے نسخے ہوں اگر دو سو درم کی قیمت کے ہوں تو اس اہل کو بھی زکاۃ لینا ناجائز ہے، خواہ ایک ہی کتاب کے زائد نسخے اس قیمت کے ہوں یا متعدد کتابوں کے زائد نسخے مل کر اس قیمت کے ہوں۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: حافظ کے لیے قرآن مجید حاجتِ اصلیہ سے نہیں اور غیر حافظ کے لیے ایک سے زیادہ حاجتِ اصلیہ کے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۲.
و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۲.
2 ۔ ایک دوا کا نام۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۲.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۸.
5 ۔ المرجع السابق، ص۲۱۳.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۷.
علاوہ ہے یعنی اگر مصحف شریف دو سو درم قیمت کا ہو تو زکاۃ لینا جائز نہیں۔ (1) (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: طبیب کے لیے طب کی کتابیں حاجتِ اصلیہ میں ہیں، جب کہ مطالعہ میں رکھتا ہو یا اُسے دیکھنے کی ضرورت پڑے، نحو و صرف و نجوم اوردیوان اور قصے کہانی کی کتابیں حاجتِ اصلیہ میں نہیں، اصول فقہ و علم کلام و اخلاق کی کتابیں جیسے احیاء العلوم و کیمیائے سعادت وغیرہما حاجتِ اصلیہ سے ہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: کفار اور بد مذہبوں کے رد اور اہلِ سنت کی تائید میں جو کتابیں ہیں وہ حاجتِ اصلیہ سے ہیں۔ یو ہیں عالم اگر بدمذہب وغیرہ کی کتابیں اس لیے رکھے کہ اُن کا رد کریگا تو یہ بھی حاجتِ اصلیہ میں ہیں اور غیرعالم کو تو ان کا دیکھنا ہی جائز نہیں۔
(۹) مال نامی ہونا یعنی بڑھنے والا خواہ حقیقۃً بڑھے یا حکماً یعنی اگر بڑھانا چاہے تو بڑھائے یعنی اُس کے یا اُس کے نائب کے قبضہ میں ہو، ہر ایک کی دو صورتیں ہیں وہ اسی لیے پیدا ہی کیا گیا ہو اسے خلقی کہتے ہیں، جیسے سونا چاندی کہ یہ اسی لیے پیدا ہوئے کہ ان سے چیزیں خریدی جائیں یا اس لیے مخلوق تو نہیں، مگر اس سے یہ بھی حاصل ہوتا ہے، اسے فعلی کہتے ہیں۔ سونے چاندی کے علاوہ سب چیزیں فعلی ہیں کہ تجارت سے سب میں نُمو ہوگا۔ (3) سونے چاندی میں مطلقاً زکاۃ واجب ہے، جب کہ بقدر نصاب ہوں اگرچہ دفن کر کے رکھے ہوں، تجارت کرے یا نہ کرے اور ان کے علاوہ باقی چیزوں پر زکاۃ اس وقت واجب ہے کہ تجارت کی نیّت ہو یا چرائی پر چھوٹے جانور و بس، خلاصہ یہ کہ زکاۃ تین قسم کے مال پر ہے۔
(۱) ثمن یعنی سونا چاندی۔
(۲) مال تجارت۔
(۳) سائمہ یعنی چرائی پر چھوٹے جانور۔ (4) (عامہ کتب)
مسئلہ ۳۴: نیّت تجارت کبھی صراحۃً ہوتی ہے کبھی دلالۃً صراحۃً یہ کہ عقد کے وقت ہی نیّت تجارت کر لی خواہ وہ عقد خریداری ہو یا اجارہ، ثمن روپیہ اشرفی ہو یا اسباب میں سے کوئی شے دلالۃً کی صورت یہ ہے کہ مال تجارت کے بدلے کوئی چیز
1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، ص۱۴۸ .
و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۷.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۷.
3 ۔ یعنی زیادتی ہوگی۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ۱۷۴.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۱۶۱.
خریدی یا مکان جو تجارت کے لیے ہے اس کو کسی اسباب کے بدلے کرایہ پر دیا تو یہ اسباب اور وہ خریدی ہوئی چیز تجارت کے لیے ہیں اگرچہ صراحۃً تجارت کی نیّت نہ کی۔ یو ہیں اگر کسی سے کوئی چیز تجارت کے لیے قرض لی تو یہ بھی تجارت کے لیے ہے، مثلاً دو سو درم کامالک ہے اورمن بھر گیہوں قرض لیے تو اگر تجارت کے لیے نہیں لیے تو زکاۃ واجب نہیں کہ گیہوں کے دام انھیں دو سو سے مُجرا کیے جائیں گے تو نصاب باقی نہ رہی اور اگر تجارت کے لیے لیے تو زکاۃ واجب ہوگی کہ اُن گیہوں کی قیمت دو سو پر اضافہ کریں اور مجموعہ سے قرض مُجرا کریں تو دو سو سالم رہے لہٰذا زکاۃ واجب ہوئی۔ (1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: جس عقد میں تبادلہ ہی نہ ہو جیسے ہبہ، وصیت، صدقہ یا تبادلہ ہو مگر مال سے تبادلہ نہ ہو جیسے مہر، بدل خلع(2) بدلِ عتق (3) ان دونوں قسم کے عقد کے ذریعہ سے اگر کسی چیز کا مالک ہوا تو اس میں نیّت تجارت صحیح نہیں یعنی اگرچہ تجارت کی نیّت کرے، زکاۃ واجب نہیں۔ یو ہیں اگر ایسی چیز میراث میں ملی تو اس میں بھی نیّت تجارت صحیح نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: مورث کے پاس تجارت کامال تھا، اس کے مرنے کے بعد وارثوں نے تجارت کی نیّت کی تو زکاۃ واجب ہے۔ یو ہیں چرائی کے جانور وراثت میں ملے، زکاۃ واجب ہے چرائی پر رکھنا چاہتے ہوں یا نہیں۔ (5) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۷: نیّت تجارت کے لیے یہ شرط ہے کہ وقت عقد نیّت ہو، اگرچہ دلالۃً تو اگر عقد کے بعد نیّت کی زکاۃ واجب نہ ہوئی۔ یو ہیں اگررکھنے کے لیے کوئی چیز لی اور یہ نیّت کی کہ نفع ملے گا تو بیچ ڈالوں گا توزکاۃ واجب نہیں۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۳۸: تجارت کے لیے غلام خریداتھا پھر خدمت لینے کی نیّت کر لی پھر تجارت کی نیّت کی تو تجارت کا نہ ہوگا جب تک ایسی چیز کے بدلے نہ بیچے جس میں زکاۃ واجب ہوتی ہے۔ (7) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۹: موتی اورجواہر پر زکاۃ واجب نہیں، اگرچہ ہزاروں کے ہوں۔ ہاں اگر تجارت کی نیّت سے لیے تو واجب ہوگئی۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۴۰: زمین سے جو پیداوار ہوئی اس میں نیّت تجارت سے زکاۃ واجب نہیں، زمین عشری ہو یاخراجی، اس کی
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۴.
و ''الدرالمختار''، و ''ردالمحتار''،کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۱.
2 ۔ یعنی وہ مال جس کے بدلے میں نکاح زائل کیا جائے۔
3 ۔ یعنی وہ مال جس کے بدلے میں غلام یا لونڈی کو آزاد کیا جائے۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۴.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۳۱. 7 ۔ المرجع السابق، ص۲۲۸.
8 ۔ ''تنویرالأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۳۰.
مِلک ہو یا عاریت یا کرایہ پر لی ہو، ہاں اگر زمین خراجی ہو اور عاریت یا کرایہ پر لی اور بیج وہ ڈالے جو تجارت کے لیے تھے تو پیداوار میں تجارت کی نیّت صحیح ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: مضارب (2) مالِ مضاربت سے جو کچھ خریدے، اگرچہ تجارت کی نیّت نہ ہو، اگرچہ اپنے خرچ کرنے کے لیے خریدے، اس پر زکاۃ واجب ہے یہاں تک کہ اگر مالِ مضاربت سے غلام خریدے۔ پھر ان کے پہننے کو کپڑا اور کھانے کے لیے غلّہ وغیرہ خریدا تو یہ سب کچھ تجارت ہی کے لیے ہیں اور سب کی زکاۃ واجب۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
(۱۰) سال گزرنا، سال سے مراد قمری سال ہے یعنی چاند کے مہینوں سے بارہ مہینے۔ شروع سال اور آخر سال میں نصاب کامل ہے، مگر درمیان میں نصاب کی کمی ہوگئی تو یہ کمی کچھ اثر نہیں رکھتی یعنی زکاۃ واجب ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: مال تجارت یا سونے چاندی کو درمیان سال میں اپنی جنس (5) یا غیر جنس سے بدل لیا تو اس کی وجہ سے سال گزرنے میں نقصان نہ آیا اور اگر چرائی کے جانور بدل لیے تو سال کٹ گیا یعنی اب سال اس دن سے شمار کریں گے جس دن بدلا ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: جو شخص مالک نصاب ہے اگر درمیان سال میں کچھ اور مال اسی جنس کا حاصل کیا تو اُس نئے مال کا جدا سال نہیں، بلکہ پہلے مال کا ختم سال اُس کے لیے بھی سال تمام ہے، اگرچہ سال تمام سے ایک ہی منٹ پہلے حاصل کیا ہو، خواہ وہ مال اُس کے پہلے مال سے حاصل ہوا یا میراث وہبہ یا اور کسی جائز ذریعہ سے ملا ہو اور اگر دوسری جنس کا ہے مثلاً پہلے اُس کے پاس اونٹ تھے اور اب بکریاں ملیں تو اس کے لیے جدید سال شمار ہوگا۔ (7) (جوہرہ)
مسئلہ ۴۴: مالک نصاب کو درمیان سال میں کچھ مال حاصل ہوا اور اس کے پاس دو نصابیں ہیں اور دونوں کا جُدا جُدا
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۲.
2 ۔ مضاربت، تجارت میں ایک قسم کی شرکت ہے کہ ایک جانب سے مال ہو اور ایک جانب سے کام اور منافع میں دونوں شریک۔ کام کرنے
والے کو مضارب اور مالک نے جو کچھ دیا اسے راس المال (مالِ مضاربت) کہتے ہیں۔
تفصیلی معلومات کے لیے بہارِ شریعت حصہ ۱۴، میں ''مضاربت کا بیان'' دیکھ لیجئے۔
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۱.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۵.
5 ۔ سونا، چاندی تو مطلقاً یہاں ایک ہی جنس ہیں۔ یوہیں ان کے زیور، برتن وغیرہ اسباب، بلکہ مال تجارت بھی انہیں کی جنس سے شمار ہوگا،
اگرچہ کسی قسم کا ہو کہ اس کی زکاۃ بھی چاندی سونے سے قیمت لگا کر دی جاتی ہے۔ ۱۲ منہ
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۵.
7 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، باب الزکاۃ الخیل، ص۱۵۵.
سال ہے تو جو مال درمیان سال میں حاصل ہوا اُسے اس کے ساتھ ملائے، جس کی زکاۃ پہلے واجب ہو مثلاً اس کے پاس ایک ہزار روپے ہیں اور سائمہ کی قیمت جس کی زکاۃ دے چکا تھا کہ دونوں ملائے نہیں جائیں گے، اب درمیان سال میں ایک ہزار روپے اور حاصل کیے تو ان کا سالِ تمام اس وقت ہے جب ان دونوں میں پہلے کا ہو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴۵: اس کے پاس چرائی کے جانور تھے اور سال تمام پر ان کی زکاۃ دی پھر انھیں روپوں سے بیچ ڈالا اور اُس کے پاس پہلے سے بھی بقدر نصاب روپے ہیں جن پر نصف سال گزرا ہے تو یہ روپے اُن روپوں کے ساتھ نہیں ملائے جائیں گے، بلکہ اُن کے لیے اُس وقت سے نیا سال شروع ہوگا یہ اس وقت ہے کہ یہ ثمن کے روپے بقدر نصاب ہوں، ورنہ بالاجماع انھیں کے ساتھ ملائیں یعنی اُن کی زکاۃ انھیں روپوں کے ساتھ دی جائے۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۴۶: سال تمام سے پیشتر اگر سائمہ کو روپے کے بدلے بیچا تو اب ان روپوں کو اُن رُوپوں کے ساتھ ملالیں گے جو پیشتر سے اُس کے پاس بقدر نصاب موجود ہیں یعنی ان کے سال تمام پر ان کی بھی زکاۃ دی جائے، ان کے لیے نیا سال شروع نہ ہوگا۔ یو ہیں اگر جانور کے بدلے بیچا تو اس جانور کو اس جانور کے ساتھ ملائے ،جو پیشتر سے اس کے پاس ہے اگر سائمہ کی زکاۃ دے دی پھر اسے سائمہ نہ رکھا پھر بیچ ڈالا تو ثمن کو اگلے مال کے ساتھ ملا دیں گے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: اونٹ، گائے، بکری میں ایک کو دوسرے کے بدلے سال تمام سے پہلے بیچا تو اب سے اُن کے لیے نیا سال شروع ہوگا۔ یو ہیں اگر اور چیز کے بدلے بہ نیّت تجارت بیچا تو اب سے ایک سال گزرنے پر زکاۃ واجب ہوگی اور اگر اپنی جنس کے بدلے بیچا یعنی اونٹ کو اونٹ اور گائے کو گائے کے بدلے جب بھی یہی حکم ہے اور اگر بعد سال تمام بیچا تو زکاۃ واجب ہو چکی اور وہ اُس کے ذمہ ہے۔ (4) (جوہرہ)
مسئلہ ۴۸: درمیان سال میں سائمہ کو بیچاتھا اورسال تمام سے پہلے عیب کی وجہ سے خریدار نے واپس کر دیا تو اگر قاضی کے حکم سے واپسی ہوئی تو نیا سال شروع نہ ہوگا، ورنہ اب سے سال شروع کیا جائے اوراگر ہبہ کر دیا تھا پھر سال تمام سے پہلے واپس کر لیا تو نیا سال لیا جائے گا، قاضی کے فیصلہ سے واپسی ہو یا بطور خود۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۴۹: اُس کے پاس خراجی زمین تھی، خراج ادا کرنے کے بعد بیچ ڈالی تو ثمن کو اصل نصاب کے ساتھ ملا
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاٰ ۃ، ج۳، ص۲۵۵.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۵.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاٰ ۃ، باب زکاۃ، الابل، ص۱۵۰.
5 ۔ المرجع السابق.
دیں گے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: اس کے پاس روپے ہیں جن کی زکاۃ دے چکا ہے پھر اُن سے چرائی کے جانور خریدے اور اس کے یہاں اس جنس کے جانور پہلے سے موجود ہیں تو اُن کو ان کے ساتھ نہ ملائیں گے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: کسی نے اسے چار ہزار روپے بطور ہبہ دیے اور سال پورا ہونے سے پہلے ہزار روپے اورحاصل کیے پھر ہبہ کرنے والے نے اپنے دیے ہوئے روپے حکم قاضی سے واپس لے لیے تو ان جدید روپوں کی بھی اس پر زکاۃ واجب نہیں جب تک ان پر سال نہ گزرلے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: کسی کے پاس تجارت کی بکریاں ہیں، جن کی قیمت دو سو درم ہے اور سال تمام سے پہلے ایک بکری مرگئی، سال پورا ہونے سے پہلے اُس نے اس کی کھال نکال کرپکالی تو زکاۃ واجب ہے۔ (4) (عالمگیری) یعنی جب کہ وہ کھال نصاب کو پورا کرے۔
مسئلہ ۵۳: زکاۃ دیتے وقت یا زکاۃ کے لیے مال علیحدہ کرتے وقت نیت زکاۃ شرط ہے۔ نیّت کے یہ معنی ہیں کہ اگر پوچھا جائے تو بلا تامل بتا سکے کہ زکاۃ ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: سال بھر تک خیرات کرتا رہا، اب نیّت کی کہ جو کچھ دیا ہے زکاۃ ہے تو ادا نہ ہوئی۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۵: ایک شخص کو وکیل بنایا اُسے دیتے وقت تو نیّت زکاۃ نہ کی، مگر جب وکیل نے فقیر کو دیا اس وقت مؤکل نے نیّت کر لی ہوگئی۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: دیتے وقت نیّت نہیں کی تھی، بعد کو کی تو اگر وہ مال فقیر کے پاس موجود ہے یعنی اسکی ملک میں ہے تو یہ نیّت کافی ہے ورنہ نہیں۔ (8) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۵.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۵ ۔ ۱۷۶.
4 ۔ المرجع السابق، ص۱۷۶.
5 ۔ المرجع السابق، ص۱۷۰.
6 ۔ المرجع السابق، ص۱۷۱.
7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۲۲.
مسئلہ ۵۷: زکاۃ دینے کے لیے وکیل بنایا اوروکیل کو بہ نیّت زکاۃ مال دیا مگر وکیل نے فقیر کو دیتے وقت نیّت نہیں کی ادا ہوگئی۔ یو ہیں زکاۃ کا مال ذمّی کو دیا کہ وہ فقیر کو دے دے اور ذمّی کو دیتے وقت نیّت کر لی تھی تو یہ نیّت کافی ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵۸: وکیل کو دیتے وقت کہا نفل صدقہ یا کفارہ ہے مگر قبل اس کے کہ وکیل فقیروں کو دے، اُس نے زکاۃ کی نیّت کر لی تو زکاۃ ہی ہے، اگرچہ وکیل نے نفل یا کفارہ کی نیّت سے فقیر کو دیا ہو۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۵۹: ایک شخص چند زکاۃ دینے والوں کا وکیل ہے اور سب کی زکاۃ ملا دی تو اُسے تاوان دینا پڑے گا اور جو کچھ فقیروں کو دے چکا ہے وہ تبرع ہے یعنی نہ مالکوں سے اسکا معاوضہ پائے گا نہ فقیروں سے، البتہ اگر فقیروں کو دینے سے پہلے مالکوں نے ملانے کی اجازت دے دی تو تاوان اس کے ذمہ نہیں۔ یو ہیں اگر فقیروں نے بھی اسے زکاۃ لینے کا وکیل کیا اور اُس نے ملا دیا تو تاوان اس پر نہیں مگراس وقت یہ ضرور ہے کہ اگر ایک فقیر کا وکیل ہے اور چند جگہ سے اسے اتنی زکاۃ ملی کہ مجموعہ بقدر نصاب ہے تو اب جو جان کر زکاۃ دے اس کی زکاۃ ادا نہ ہوگی یا چند فقیروں کا وکیل ہے اور زکاۃ اتنی ملی کہ ہر ایک کا حصہ نصاب کی قدر ہے تو اب اس وکیل کو زکاۃ دینا جائز نہیں مثلاً تین فقیروں کا وکیل ہے اور چھ سو ۶۰۰ درم ملے کہ ہر ایک کا حصہ دو سو ۲۰۰ ہوا جو نصاب ہے اور چھ سو ۶۰۰ سے کم ملا تو کسی کو نصاب کی قدر نہ ملا اوراگر ہر ایک فقیر نے اسے علیحدہ علیحدہ وکیل بنایا تو مجموعہ نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ ہر ایک کو جو ملا ہے وہ دیکھا جائے گا اور اس صورت میں بغیر فقیروں کی اجازت کے ملانا جائز نہیں اور ملا دے گا جب بھی زکاۃ ادا ہو جائیگی اور فقیروں کو تاوان دے گا اور اگر فقیروں کا وکیل نہ ہو تو اسے دے سکتے ہیں اگرچہ کتنی ہی نصابیں اُس کے پاس جمع ہوگئیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۰: چند اوقاف کے متولی کو ایک کی آمدنی دوسری میں ملانا جائز نہیں۔ یو ہیں دلال کو زر ثمن یا مبیع کا خلط (4) جائز نہیں۔ یو ہیں اگرچندفقیروں کے لیے سوال کیا تو جو ملا بے اُن کی اجازت کے خلط کرنا جائز نہیں۔ یو ہیں آٹا پیسنے والے کو یہ جائز نہیں کہ لوگوں کے گیہوں ملا دے، مگر جہاں ملا دینے پر عرف جاری ہو تو ملا دینا جائز ہے اور ان سب صورتوں میں تاوان دے گا۔ (5) (خانیہ)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۲۲.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۳.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۳.
4 ۔ یعنی دلال کو خریدی گئی چیز کی قیمت یا خریدی گئی چیز کا ملانا۔
5 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الزکاۃ، فصل في اداء الزکاۃ، ج۱، ص۱۲۵.
مسئلہ ۶۱: اگر مؤکلوں (1) نے صراحتہً ملانے کی اجازت نہ دی مگر عرف ایسا جاری ہوگیا کہ وکیل ملا دیا کرتے ہیں تو یہ بھی اجازت سمجھی جائے گی، جب کہ مؤکل (2) اس عرف سے واقف ہو، مگر دلال کو خلط کی اجازت نہیں کہ اس میں عرف نہیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۲: وکیل کو اختیار ہے کہ مالِ زکاۃ اپنے لڑکے یا بی بی کو دیدے جب کہ یہ فقیر ہوں اور اگر لڑکا نابالغ ہے تو اُسے دینے کے لیے خود اس وکیل کا فقیر ہونا بھی ضروری ہے، مگر اپنی اولاد یا بی بی کو اس وقت دے سکتا ہے، جب مؤکل نے اُن کے سوا کسی خاص شخص کو دینے کے لیے نہ کہہ دیا ہوورنہ انھیں نہیں دے سکتا۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۳: وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ خود لے لے، ہاں اگر زکاۃ دینے والے نے یہ کہہ دیا ہو کہ جس جگہ چاہو صرف کرو تو لے سکتا ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۶۴: اگر زکاۃ دینے والے نے اسے حکم نہیں دیا، خود ہی اُس کی طرف سے زکاۃ دے دی تو نہ ہوئی اگرچہ اب اُس نے جائز کر دیا ہو۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۵: زکاۃ دینے والے نے وکیل کو زکاۃ کا روپیہ دیا وکیل نے اُسے رکھ لیا اور اپنا روپیہ زکاۃ میں دے دیا تو جائز ہے، اگر یہ نیّت ہو کہ اس کے عوض مؤکل کا روپیہ لے لے گا اور اگر وکیل نے پہلے اس روپیہ کو خود خرچ کر ڈالا بعد کو اپنا روپیہ زکاۃ میں دیا تو زکاۃ ادا نہ ہوئی بلکہ یہ تبرع ہے اور مؤکل کو تاوان دے گا۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۶: زکاۃ کے وکیل کو یہ اختیار ہے کہ بغیر اجازت مالک دوسرے کو وکیل بنا دے۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۷: کسی نے یہ کہا کہ اگر میں اس گھر میں جاؤں تو مجھ پر اﷲ (عزوجل) کے لیے ان سو روپوں کا خیرات کر دینا ہے پھرگیا اور جاتے وقت یہ نیّت کی کہ زکاۃ میں دے دوں گا تو زکاۃ میں نہیں دے سکتا۔ (9) (عالمگیری)
1 ۔ وکیل کرنے والوں۔ 2 ۔ یعنی وہ شخص جو وکیل مقرر کرے۔ وکیل کرنے والا۔
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۳.
4 ۔ المرجع السابق، ص۲۲۴.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۲۴.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۲۲۳
7 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۴.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۴.
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۱.
مسئلہ ۶۸: زکاۃ کا مال ہاتھ پر رکھا تھا، فقرا لوٹ لے گئے ادا ہوگئی اور اگر ہاتھ سے گر گیا اور فقیر نے اُٹھا لیا اگر یہ اسے پہچانتا ہے اور راضی ہوگیا اور مال ضائع نہیں ہوا تو ہوگئی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۹: امین کے پاس سے امانت ضائع ہوگئی، اس نے مالک کو دفع خصومت کے لیے کچھ روپے دے دیے اور دیتے وقت زکاۃ کی نیّت کر لی اورمالک فقیر بھی ہے زکاۃ ادا نہ ہوئی۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۰: مال کو بہ نیّت زکاۃ علیحدہ کر دینے سے بری الذّمہ نہ ہوگا جب تک فقیروں کو نہ دیدے، یہاں تک کہ اگر وہ جاتا رہا تو زکاۃ ساقط نہ ہوئی اوراگر مر گیا تو اس میں وراثت جاری ہوگی۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۱: سال پورا ہونے پر کل نصاب خیرات کر دی، اگرچہ زکاۃ کی نیّت نہ کی بلکہ نفل کی نیّت کی یا کچھ نیّت نہ کی زکاۃ ادا ہوگئی اور اگر کل فقیر کو دے دیا اور منّت یاکسی اور واجب کی نیّت کی تو دینا صحیح ہے، مگر زکاۃ اس کے ذمّہ ہے ساقط نہ ہوئی اور اگر مال کا کوئی حصہ خیرات کیا تو اس حصہ کی بھی زکاۃ ساقط نہ ہوگی، بلکہ اس کے ذمّہ ہے اور اگر کل مال ہلاک ہوگیا تو کل کی زکاۃ ساقط (4) ہوگئی اور کچھ ہلاک ہوا تو جتنا ہلاک ہوا اس کی ساقط اور جو باقی ہے اس کی واجب، اگرچہ وہ بقدر نصاب نہ ہو۔ ہلاک کے یہ معنی ہیں کہ بغیر اس کے فعل کے ضائع ہوگیا، مثلاً چوری ہوگئی یا کسی کو قرض و عاریت دی اُس نے انکار کر دیا اور گواہ نہیں یا وہ مر گیا اور کچھ ترکہ میں نہ چھوڑا اور اگر اپنے فعل سے ہلاک کیا مثلاً صرف کر ڈالا یا پھینک دیا یا غنی کو ہبہ کر دیا (5) تو زکاۃ بدستور واجب الادا ہے، ایک پیسہ بھی ساقط نہ ہوگا اگرچہ بالکل نادار ہو۔ (6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۷۲: فقیر پر اُس کا قرض تھا اور کل معاف کر دیا تو زکاۃ ساقط ہوگئی اور جُز معاف کیا تو اس جز کی ساقط ہوگئی اور اگر اس صورت میں یہ نیّت کی کہ پورا زکاۃ میں ہو جائے تو نہ ہوگی اور اگر مالدار پر قرض تھا اور کل معاف کر دیا تو زکاۃ ساقط نہ ہوئی بلکہ اُس کے ذمّہ ہے۔ فقیر پر قرض تھا معاف کر دیا اور یہ نیّت کی کہ فلاں پر جو دَین ہے یہ اُس کی زکاۃ ہے ادا نہ ہوئی۔ (7) (عالمگیری، درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث،الفصل الثاني، ج۱، ص۱۸۳.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۱.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۵.
4 ۔ یعنی معاف۔
5 ۔ یعنی غنی کو تحفے میں دے دیا۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۱.
7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۷۳: کسی پر اُس کے روپے آتے ہیں، فقیر سے کہہ دیا اس سے وصول کرلے اور نیّت زکاۃ کی کی بعد قبضہ ادا ہوگئی۔ فقیر پر قرض ہے اس قرض کو اپنے مال کی زکاۃ میں دینا چاہتا ہے یعنی یہ چاہتا ہے کہ معاف کر دے اور وہ میرے مال کی زکاۃ ہو جائے یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اُسے زکاۃ کا مال دے اور اپنے آتے ہوئے میں لے لے، اگر وہ دینے سے انکار کرے تو ہاتھ پکڑ کرچھین سکتا ہے اور یوں بھی نہ ملے تو قاضی کے پاس مقدمہ پیش کرے کہ اُس کے پاس ہے اور میرا نہیں دیتا۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۷۴: زکاۃ کا روپیہ مُردہ کی تجہیز و تکفین (2) یا مسجد کی تعمیر میں نہیں صرف کر سکتے کہ تملیک فقیر نہیں پائی گئی اور ان امور میں صرف کر نا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیر کو مالک کر دیں اور وہ صرف کرے اور ثواب دونوں کو ہوگا بلکہ حدیث میں آیا، ''اگر سو ہاتھوں میں صدقہ گزرا تو سب کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا دینے والے کے لیے اور اس کے اجر میں کچھ کمی نہ ہوگی۔'' (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۵: زکاۃ علانیہ اور ظاہر طور پر افضل ہے اور نفل صدقہ چُھپا کر دینا افضل۔ (4) (عالمگیری) زکاۃ میں اعلان اس وجہ سے ہے کہ چُھپا کر دینے میں لوگوں کو تہمت اور بدگمانی کا موقع ملے گا، نیز اعلان اوروں کے لیے باعثِ ترغیب ہے کہ اس کو دیکھ کر اور لوگ بھی دیں گے مگر یہ ضرور ہے کہ ریا نہ آنے پائے کہ ثواب جاتا رہے گا بلکہ گناہ و استحقاق عذاب ہے۔
مسئلہ ۷۶: زکاۃ دینے میں اس کی ضرورت نہیں کہ فقیر کو زکاۃ کہہ کر دے، بلکہ صرف نیّت زکاۃ کافی ہے یہاں تک کہ اگر ہبہ یا قرض کہہ کر دے اور نیّت زکاۃ کی ہو ادا ہوگئی۔ (5) (عالمگیری) یو ہیں نذر یا ہدیہ یا پان کھانے یا بچوں کے مٹھائی کھانے یا عیدی کے نام سے دی ادا ہوگئی۔ بعض محتاج ضرورت مند زکاۃ کا روپیہ نہیں لینا چاہتے، انھیں زکاۃ کہہ کر دیا جائے گا تو نہیں لیں گے لہٰذا زکاۃ کا لفظ نہ کہے۔
مسئلہ ۷۷: زکاۃ ادا نہیں کی تھی اوراب بیمار ہے تو وارثوں سے چُھپا کر دے اور اگر نہ دی تھی اور اب دینا چاہتا ہے، مگر مال نہیں جس سے ادا کرے اور یہ چاہتا ہے کہ قرض لے کر ادا کرے تو اگر غالب گمان قرض ادا ہو جانے کا ہے تو بہتر یہ ہے
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۲۶، وغیرہ.
2 ۔ یعنی کفن دفن۔
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۷.
''تاریخ بغداد''، رقم: ۳۵۶۸، ج۷، ص۱۳۵.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۱.
5 ۔ المرجع السابق.
کہ قرض لے کر ادا کرے ورنہ نہیں کہ حق العبد حق اﷲ سے سخت تر ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۸: مالکِ نصاب سال تمام سے پیشتر بھی ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ سال تمام پر بھی اس نصاب کا مالک رہے اور اگر ختم سال پر مالک نصاب نہ رہا یا اثنائے سال میں وہ مالِ نصاب بالکل ہلاک ہوگیا تو جو کچھ دیا نفل ہے اور جوشخص نصاب کا مالک نہ ہو، وہ زکاۃ نہیں دے سکتا یعنی آئندہ اگر نصاب کا مالک ہوگیا تو جو کچھ پہلے دیا ہے وہ اُس کی زکاۃ میں محسوب نہ ہوگا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۹: مالک نصاب اگر پیشتر سے چند نصابوں کی زکاۃ دینا چاہے تو دے سکتا ہے یعنی شروع سال میں ایک نصاب کا مالک ہے اور دو یا تین نصابوں کی زکاۃ دے دی اورختم سال پر جتنی نصابوں کی زکاۃ دی ہے اتنی نصابوں کا مالک ہوگیا تو سب کی ادا ہوگئی اور سال تمام تک ایک ہی نصاب کا مالک رہا، سال کے بعد اور حاصل کیا تو وہ زکاۃ اس میں محسوب نہ ہوگی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۰: مالک نصاب پیشتر سے چند سال کی بھی زکاۃ دے سکتا ہے۔ (4) (عالمگیری) لہٰذا مناسب ہے کہ تھوڑا تھوڑا زکاۃ میں دیتا رہے، ختم سال پر حساب کرے، اگر زکاۃ پوری ہوگئی فبہا اور کچھ کمی ہو تو اب فوراً دیدے، تاخیر جائزنہیں کہ نہ اُس کی اجازت کہ اب تھوڑا تھوڑا کر کے ادا کرے، بلکہ جو کچھ باقی ہے کُل فوراً ادا کر دے اور زیادہ دے دیا ہے تو سال آئندہ میں مُجرا کر دے۔ (5)
مسئلہ ۸۱: ایک ہزار کا مالک ہے اور دو ہزار کی زکاۃ دی اورنیّت یہ ہے کہ سال تمام تک اگر ایک ہزار اور ہوگئے تو یہ اس کی ہے، ورنہ سال آئندہ میں محسوب ہوگی یہ جائز ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۲: یہ گمان کرکے کہ پانسوروپے ہیں، پانسو کی زکاۃ دی پھر معلوم ہوا کہ چار ہی سو تھے تو جو زیادہ دیا ہے، سال آئندہ میں محسوب کر سکتا ہے۔ (7) (خانیہ)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۸.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۶.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ یعنی آئندہ سال میں اس کو شمار کر لے۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۶.
7 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الزکاۃ، فصل في اداء الزکاۃ، ج۱، ص۱۲۶.
مسئلہ ۸۳: کسی کے پاس سونا چاندی دونوں ہیں اور سال تمام سے پہلے ایک کی زکاۃ دی تو وہ دونوں کی زکاۃ ہے یعنی درمیان سال میں ان میں سے ایک ہلاک ہوگیا، اگرچہ وہی جس کی نیّت سے زکاۃ دی ہے تو جو رہ گیا ہے اُس کی زکاۃ یہ ہوگئی اور اگر اس کے پاس گائے بکری اونٹ سب بقدر نصاب ہیں اورپیشتر سے ان میں ایک کی زکاۃ دی توجس کی زکاۃ دی، اُسی کی ہے دوسرے کی نہیں یعنی جس کی زکاۃ دی ہے اگر اثنائے سال میں اُس کی نصاب جاتی رہی تو وہ باقیوں کی زکاۃ نہیں قرار دی جائے گی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۴: اثنائے سال میں جس فقیر کو زکاۃ دی تھی، ختم سال پر وہ مالدار ہوگیا یا مر گیا یا معاذاﷲ مُرتد ہوگیا تو زکاۃ پر اُس کا کچھ اثر نہیں وہ ادا ہوگئی، جس شخص پر زکاۃ واجب ہے اگر وہ مر گیا تو ساقط ہوگئی یعنی اس کے مال سے زکاۃ دینا ضرور نہیں، ہاں اگر وصیّت کر گیا تو تہائی مال تک وصیّت نافذ ہے اور اگر عاقل بالغ ورثہ اجازت دے دیں تو کُل مال سے زکاۃ ادا کی جائے۔ (2) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۸۵: اگر شک ہے کہ زکاۃ دی یا نہیں تو اب دے۔ (3) (ردالمحتار)
سائمہ وہ جانورہے جو سال کے اکثر حصہ میں چر کر گذر کرتا ہو اور اوس سے مقصود صرف دودھ اور بچے لینا یا فربہ کرنا ہے۔ (4) (تنویر) اگر گھر میں گھاس لا کر کھلاتے ہوں یا مقصود بوجھ لادنا یا ہل وغیرہ کسی کام میں لانا یا سواری لینا ہے تو اگرچہ چر کر گذر کرتا ہو، وہ سائمہ نہیں اور اس کی زکاۃ واجب نہیں۔ یو ہیں اگر گوشت کھانے کے لیے ہے تو سائمہ نہیں، اگرچہ جنگل میں چرتاہو اور اگر تجارت کا جانور چرائی پر ہے تو یہ بھی سائمہ نہیں، بلکہ اس کی زکاۃ قیمت لگا کر ادا کی جائے گی۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: چھ مہینے چرائی پر رہتا ہے اور چھ مہینے چارہ پاتا ہے تو سائمہ نہیں اور اگر یہ ارادہ تھا کہ اسے چارہ دیں گے یا اس سے کام لیں گے مگر کیا نہیں، یہاں تک کہ سال ختم ہوگیا تو زکاۃ واجب ہے اور اگر تجارت کے لیے تھا اور چھ مہینے یا زیادہ تک
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۶.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۸.
4 ۔ ''تنویرالأبصار''، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، ج۳، ص۲۳۲.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، ج۳، ص۲۳۳.
چرائی پر رکھا تو جب تک یہ نیّت نہ کرے کہ یہ سائمہ ہے، فقط چرانے سے سائمہ نہ ہوگا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: تجارت کے لیے خریدا تھا پھر سائمہ کر دیا، تو زکاۃ کے لیے ابتدائے سال اس وقت سے ہے خریدنے کے وقت سے نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳: سال تمام سے پہلے سائمہ کو کسی چیز کے بدلے بیچ ڈالا، اگر یہ چیز اس قسم کی ہے جس پر زکاۃ واجب ہوتی ہے اور پہلے سے اس کی نصاب اس کے پاس موجود نہیں، تو اب اس کے لیے اُس وقت سے سال شمار کیا جائے گا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴: وقف کے جانور اور جہاد کے گھوڑے کی زکاۃ نہیں۔ یو ہیں اندھے یا ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے جانور کی زکاۃ نہیں، البتہ اندھا اگر چرائی پر رہتا ہے توواجب ہے۔(4) یو ہیں اگر نصاب میں کمی ہے اور اس کے پاس اندھا جانور ہے کہ اس کے ملانے سے نصاب پوری ہو جاتی ہے تو زکاۃ واجب ہے۔ (عالمگیری)
تین قسم کے جانوروں کی زکاۃ واجب ہے، جب کہ سائمہ ہوں۔
(۱) اونٹ۔
(۲) گائے۔
(۳) بکری۔
لہٰذا ان کی نصاب کی تفصیل بیان کرنے کے بعد دیگراحکام بیان کیے جائیں گے۔
صحیحین میں ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں۔'' (5) اور اس کی زکاۃ میں تفصیل صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں ہے، جو انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی۔ (6)
مسئلہ ۱: پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ واجب نہیں اور جب پانچ یا پانچ سے زیادہ ہوں، مگر پچیس ۲۵ سے کم ہوں تو ہر پانچ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثاني في صدقۃ السوائم، ج۱، ص۱۷۶.
2 ۔ ''تنویرالأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، ج۳، ص۲۳۵.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، ج۳، ص۲۳۵.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، ج۳، ص۲۳۶.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب لیس فیما دون خمسۃ أوسق صدقۃ، الحدیث:۹۷۹، ص۴۸۷.
6 ۔
میں ایک بکری واجب ہے یعنی پانچ ہوں تو ایک بکری، دس ۱۰ ہوں تو دو ۲ ، وعلیٰ ہذا القیاس۔ (1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۲: زکاۃ میں جو بکری دی جائے وہ سال بھر سے کم کی نہ ہو بکری دیں یا بکرا اس کا اختیار ہے۔ (2) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۳: دو نصابوں کے درمیان میں جو ہوں وہ عفو ہیں یعنی اُن کی کچھ زکاۃ نہیں، مثلاً سات آٹھ ہوں، جب بھی وہی ایک بکری ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴: پچیس ۲۵ اونٹ ہوں تو ایک بنت مخاض یعنی اونٹ کا بچہ مادہ جو ایک سال کا ہو چکا، دوسری برس میں ہو۔ پینتیس ۳۵ تک یہی حکم ہے یعنی وہی بنت مخاض دیں گے۔ چھتیس ۳۶ سے پینتالیس ۴۵ تک میں ایک بنت لبون یعنی اونٹ کا مادہ بچہ جو دو سال کا ہو چکا اور تیسری برس میں ہے۔ چھیالیس ۴۶ سے ساٹھ ۶۰ تک میں حِقّہ یعنی اونٹنی جو تین برس کی ہو چکی چوتھی میں ہو۔ اکسٹھ ۶۱ سے پچھتر ۷۵ تک جذعہ یعنی چار سال کی اونٹنی جو پانچویں میں ہو۔ چھہتر ۷۶ سے نوے ۹۰ تک میں دو بنت لبون۔ اکانوے ۹۱ سے ایک سو بیس ۱۲۰ تک میں دو حِقّہ۔ اس کے بعد ایک سو پینتالیس ۱۴۵ تک دو حِقّہ اور ہر پانچ میں ایک بکری، مثلاً ایک سو پچیس ۱۲۵ میں دو حِقّہ ایک بکری اور ایک سو تیس ۱۳۰ میں دو حِقّہ دو بکریاں، (4) وعلیٰ ہذا القیاس (5) ۔ پھر ایک سو پچاس ۱۵۰ میں تین حِقّہ اگر اس سے زیادہ ہوں تو ان میں ویسا
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثاني في صدقۃ السوائم، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۷۷.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب نصاب الابل، ج۳، ص۲۳۸.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب نصاب الابل، ج۳، ص۲۳۸.
4 ۔ مزید آسانی کے لیے ذیل کا نقشہ ملاحظہ کیجئے: اونٹ کا نصاب
تعداد جن پر زکاۃ واجب ہے شرح زکاۃ
۵ سے ۹ تک ایک بکری
۱۰ سے ۱۴ تک دوبکریاں
۱۵ سے ۱۹ تک تین بکریاں
۲۰ سے ۲۴ تک چار بکریاں
۲۵ سے ۳۵ تک ایک سال کی اونٹنی
۳۶ سے ۴۵ تک دو سال کی اونٹنی
۴۶ سے ۶۰ تک تین سال کی اونٹنی
۶۱ سے ۷۵ تک چار سال کی اونٹنی
۷۶ سے ۹۰ تک دو دو سال کی دو اونٹنیاں
۹۱ سے ۱۲۰ تک تین، تین سال کی دو اونٹنیاں
5 ۔ یعنی ایک سو پینتیس ۱۳۵ میں دو حقّہ تین بکریاں، ایک سو چالیس ۱۴۰ میں دو حقّہ چار بکریاں اور ایک سو پینتالیس ۱۴۵ میں دو حقّہ اور ایک بنتِ مخاض۔
ہی کریں جیسا شروع میں کیا تھا یعنی ہر پانچ میں ایک بکری اور پچیس ۲۵ میں بنت مخاض، چھتیس ۳۶ میں بنت لبون، یہ ایک سو چھیاسی ۱۸۶ بلکہ ایک سو پچانوے ۱۹۵ تک کا حکم ہوگیا یعنی اتنے میں تین حِقّہ اور ایک بنتِ لبون۔ پھر ایک سو چھیانوے ۱۹۶ سے دو سو ۲۰۰ تک چار حِقّہ اور یہ بھی اختیار ہے کہ پانچ بنت لبون دے دیں۔ پھر دو سو ۲۰۰ کے بعد وہی طریقہ برتیں، جو ایک سو پچاس ۱۵۰ کے بعد ہے یعنی ہر پانچ میں ایک بکری، پچیس ۲۵ میں بنت مخاض، چھتیس ۳۶ میں بنت لبون۔ پھر دو سو چھیالیس ۲۴۶ سے دو سو پچاس ۲۵۰ تک پانچ حِقّہ وعلیٰ ہذا القیاس۔ (1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۵: اونٹ کی زکاۃ میں جس موقع پر ایک یا دو یا تین یا چار سال کا اونٹ کا بچہ دیا جاتا ہے تو ضرور ہے کہ وہ مادہ ہو، نَر دیں تو مادہ کی قیمت کا ہو ورنہ نہیں لیا جائے گا۔ (2) (درمختار)
ابو داود و ترمذی و نسائی و دارمی معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو یہ فرمایا: کہ ''ہر تیس ۳۰ گائے سے ایک تبیع یا تبیعہ لیں اور ہر چالیس ۴۰ میں ایک مسن یا مسنّہ۔'' (3) اور اسی کے مثل ابو داود کی دوسری روایت امیر المومنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ سے ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ کام کرنے والے جانور کی زکاۃ نہیں۔ (4)
مسئلہ ۱: تیس سے کم گائیں ہوں تو زکاۃ واجب نہیں، جب تیس ۳۰ پوری ہوں تو ان کی زکاۃ ایک تبیع یعنی سال بھر کا بچھڑا یا تبیعہ یعنی سال بھر کی بچھیا ہے اور چالیس ۴۰ ہوں تو ایک مسن یعنی دو سال کا بچھڑا یا مُسِنّہ یعنی دو سال کی بچھیا، انسٹھ ۵۹ تک یہی حکم ہے۔ پھر ساٹھ ۶۰ میں دو تبیع یا تبیعہ پھر ہر تیس ۳۰ میں ایک تبیع یا تبیعہ اور ہر چالیس ۴۰ میں ایک مُسِنّ یا مُسِنّہ، مثلاً ستّر ۷۰ میں ایک تبیع اور ایک مُسِنّ اور اسّی ۸۰ میں دو مُسِنّ (5) ، وعلیٰ ہذا القیاس۔ اور جس جگہ تیس ۳۰ اور چالیس ۴۰ دونوں ہو سکتے ہوں وہاں، اختیار ہے کہ تبیع
1 ۔ ''تبیین الحقائق''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ السوائم، ج۲، ص۳۴.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب نصاب الابل، ج۳، ص۲۳۸ ۔ ۲۴۰،وغیرہما.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب نصاب الابل، ج۳، ص۲۴۰.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب في زکاۃ السائمۃ، الحدیث: ۱۵۷۶، ج۲، ص۱۴۵.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب في زکاۃ السائمۃ، الحدیث: ۱۵۷۲، ج۲، ص۱۴۲.
5 ۔ مزید آسانی کے لیے ذیل کا نقشہ ملاحظہ کیجئے: گائے کا نصاب
تعداد جن پر زکاۃ واجب ہے شرح زکاۃ
۳۰ سے ۳۹ تک ایک سال کا بچھڑا یا بچھیا
زکاۃ میں دیں یا مُسِنّ، مثلاً ایک سو بیس ۱۲۰ میں اختیار ہے کہ چار تبیع دیں یا تین مُسِنّ۔ (1) (عامہ کتب)ّ
مسئلہ ۲: بھینس گائے کے حکم میں ہے اور اگر گائے بھینس دونوں ہوں تو زکاۃ میں ملا دی جائیں گی، مثلاً بیس ۲۰ گائے ہیں اور دس ۱۰ بھینسیں تو زکاۃ واجب ہوگئی اور زکاۃ میں اس کا بچہ لیا جائے جو زیادہ ہو یعنی گائیں زیادہ ہوں تو گائے کا بچہ اور بھینسیں زیادہ ہوں تو بھینس کا اور اگر کوئی زیادہ نہ ہو تو زکاۃ میں وہ لیں جو اعلیٰ سے کم ہو اور ادنیٰ سے اچھا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: گائے بھینس کی زکاۃ میں اختیار ہے کہ نر لیا جائے یا مادہ، مگر افضل یہ ہے کہ گائیں زیادہ ہوں تو بچھیا اور نر زیادہ ہوں تو بچھڑا۔ (3) (عالمگیری)
صحیح بخاری شریف میں انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ صدیقِ اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب انھیں بحرین بھیجا تو فرائض صدقہ جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مقرر فرمائے تھے لکھ کر دیے، ان میں بکری کی نصاب کا بھی بیان ہے اور یہ کہ زکاۃ میں نہ بوڑھی بکری دی جائے، نہ عیب والی نہ بکرا۔
ہاں اگر مصدق (صدقہ وصول کرنے والا) چاہے تو لے سکتا ہے۔ (4) اور زکاۃ کے خوف سے نہ متفرق کو جمع کریں نہ مجتمع کو متفرق کریں۔
مسئلہ ۱: چالیس ۴۰ سے کم بکریاں ہوں تو زکاۃ واجب نہیں اور چالیس ۴۰ ہوں تو ایک بکری اور یہی حکم ایک سو بیس ۱۲۰ تک ہے
۴۰ سے ۵۹ تک پورے دو سال کا بچھڑا یا بچھیا
۶۰ سے ۶۹ تک ایک ایک سال کے دو بچھڑے یا بچھیاں
۷۰ سے ۷۹ تک ایک سال کا بچھڑایا پچھیا اورایک دو سال کا بچھڑ
۸۰ سے ۸۹ تک دو سال کے دو بچھڑے
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ البقر، ج۳، ص۲۴۱.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثانی في صدقۃ السوائم، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۷۸.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، الحدیث: ۱۴۵۴، ۱۴۵۵،ج۱، ص۴۹۰.
یعنی ان میں بھی وہی ایک بکری ہے اور ایک سو اکیس ۱۲۱ میں دو اور دو سو ایک۰۱ ۲ میں تین ۳ اور چار سو ۴۰۰ میں چار ۴ پھر ہر سو پر ایک (1) اور جو دو نصابوں کے درمیان میں ہے معاف ہے۔ (2) (عامہ کتب)
مسئلہ ۲: زکاۃ میں اختیار ہے کہ بکری دے یا بکرا، جو کچھ ہو یہ ضرور ہے کہ سال بھر سے کم کا نہ ہو، اگر کم کا ہو تو قیمت کے حساب سے دیا جا سکتا ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳: بھیڑ دُنبہ بکری میں داخل ہیں، کہ ایک سے نصاب پوری نہ ہوتی ہو تو دوسری کو ملا کر پوری کریں اور زکاۃ میں بھی ان کو دے سکتے ہیں مگر سال سے کم کے نہ ہوں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۴: جانوروں میں نسب ماں سے ہوتا ہے، تو اگر ہرن اور بکری سے بچہ پیدا ہوا تو بکریوں میں شمار ہوگا اورنصاب میں اگر ایک کی کمی ہے تو اُسے ملا کر پوری کریں گے، بکرے اور ہرنی سے ہے تو نہیں۔ یو ہیں نیل گائے اور بیل سے ہے تو گائے نہیں اور نیل گائے نر اور گائے سے ہے تو گائے ہے۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۵: جن جانوروں کی زکاۃ واجب ہے وہ کم سے کم سال بھر کے ہوں، اگر سب ایک سال سے کم کے بچے ہوں تو زکاۃ واجب نہیں اور اگر ایک بھی اُن میں سال بھر کا ہو تو سب اسی کے تابع ہیں، زکاۃ واجب ہو جائے گی، یعنی مثلاً بکری کے چالیس ۴۰ بچے سال سال بھر سے کم کے خریدے تو وقت خریداری سے ایک سال پر زکاۃ واجب نہیں کہ اس وقت قابلِ نصاب نہ تھے بلکہ اُس وقت سے سال لیا جائے گا کہ ان میں کا کوئی سال بھر کا ہوگیا۔ یو ہیں اگر اس کے پاس بقدر نصاب بکریاں تھیں اور چھ
1 ۔ مزید آسانی کے لیے ذیل کا نقشہ ملاحظہ کیجئے: بکری کا نصاب
تعداد جن پر زکاۃ فرض ہے شرح زکاۃ
۴۰ سے ۱۲۰ تک ایک بکری
۱۲۱ سے ۲۰۰ تک دو بکریاں
۲۰۱ سے ۳۹۹تک تین بکریاں
۴۰۰ سے ۴۹۹ تک چار بکریاں
پھر ہر سو پر ایک بکری کا اضافہ
2 ۔ ''تنویر الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج۳، ص۲۴۳.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثاني في صدقۃ السوائم، الفصل الرابع، ج۱، ص۱۷۸.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج۳، ص۲۴۳.
4 ۔ المرجع السابق، ص۲۴۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثاني في صدقۃ السوائم، الفصل الرابع، ج۱، ص۱۷۸، وغیرہ.
مہینے گزرنے کے بعد اُن کے چالیس ۴۰ بچے ہوئے پھر بکریاں جاتی رہیں، بچے باقی رہ گئے تو اب سال تمام پر یہ بچے قابلِ نصاب نہیں، لہٰذا زکاۃ واجب نہیں۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۶: اگر اُس کے پاس اونٹ، گائیں، بکریاں سب ہیں مگر نصاب سے سب کم ہیں یا بعض تو نصاب پوری کرنے کے لیے خلط نہ کریں گے اور زکاۃ واجب نہ ہوگی۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۷: زکاۃ میں متوسط درجہ کا جانور لیا جائے گا چُن کر عمدہ نہ لیں، ہاں اُس کے پاس سب اچھے ہی ہوں تو وہی لیں اور گابھن اوروہ جانور نہ لیں جسے کھانے کے لیے فربہ کیا ہو، نہ وہ مادہ لیں جو اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے نہ بکرا لیا جائے۔ (3) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: جس عمر کا جانور دینا واجب آیا وہ اس کے پاس نہیں اوراس سے بڑھ کر موجودہے تو وہ دے دے اور جو زیادتی ہو واپس لے، مگر صدقہ وصول کرنے والے پر لے لینا واجب نہیں اگرنہ لے اور اُس جانور کو طلب کرے جو واجب آیا یا اس کی قیمت تو اُسے اس کا اختیار ہے جس عمر کا جانور واجب ہوا وہ نہیں ہے اور اس سے کم عمر کا ہے تووہی دیدے اور جو کمی پڑے اُس کی قیمت دے یا واجب کی قیمت دیدے دونوں طرح کر سکتا ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: گھوڑے، گدھے، خچر اگرچہ چرائی پر ہوں ان کی زکاۃ نہیں، ہاں اگر تجارت کے لیے ہوں تو ان کی قیمت لگا کر اُس کا چالیسواں ۴۰ حصہ زکاۃ میں دیں۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۰: دو نصابوں کے درمیان جو عفو ہے اس کی زکاۃ نہیں ہوتی یعنی بعد سال تمام اگر وہ عفو ہلاک ہو جائے تو زکاۃ میں کوئی کمی نہ ہوگی اور واجب ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوگئی تو اس کی زکاۃ بھی ساقط ہوگئی اور ہلاک پہلے عفو کی طرف پھیریں گے، اس سے بچے تو اُس کے متصل جو نصاب ہے اس کی طرف پھر بھی بچے تو اسکے بعد وعلیٰ ہذا القیاس۔ مثلاً اسّی ۸۰ بکریاں تھیں چالیس ۴۰ مر گئیں تو اب بھی ایک بکری واجب رہی کہ چالیس کے بعد دوسرا چالیس عفو ہے اور چالیس اونٹ میں پندرہ مر گئے تو بنتِ مخاض واجب ہے کہ چالیس میں چار عفو ہیں وہ نکالے، اس کے بعد چھتیس ۳۶ کی نصاب ہے وہ بھی کافی نہیں، لہٰذا گیارہ اور نکالے،
1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الخیل، ص ۱۵۴.
2 ۔ ''تنویر الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۸۰. وغیرہ
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج۳، ص۲۵۱.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثاني في صدقۃ السوائم، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۷۷.
5 ۔ ''تنویر الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج۳، ص۲۴۴، وغیرہ.
پچیس رہے ان میں بنتِ مخاض کا حکم ہے بس یہی دیں گے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۱۱: دو بکریاں زکاۃ میں واجب ہوئیں اور ایک فربہ بکری دی جو قیمت میں دو کی برابر ہے زکاۃ ادا ہوگئی۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۲: سال تمام کے بعد مالک نصاب نے نصاب خود ہلاک کر دی تو زکاۃ ساقط نہ ہوگی، مثلاً جانور کو چارا پانی نہ دیا گیا کہ مر گیا زکاۃ دینی ہوگی۔ یو ہیں اگر اُس کا کسی پر قرض تھا اور وہ مقروض مالدار ہے سال تمام کے بعد اس نے معاف کر دیا تو یہ ہلاک کرنا ہے، لہٰذا زکاۃ دے اور اگر وہ نادار تھا اور اس نے معاف کردیا تو ساقط ہوگئی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: مالکِ نصاب نے سال تمام کے بعد قرض دے دیا یا عاریت دی یا مال تجارت کو مال تجارت کے بدلے بیچا اور جس کو دیا تھا اُس نے انکار کر دیا اور اُس کے پاس ثبوت نہیں یا وہ مر گیا اور ترکہ نہ چھوڑا تو یہ ہلاک کرنا نہیں، لہٰذا زکاۃ ساقط ہوگئی۔ اور اگر سال تمام کے بعد مالِ تجارت کو غیر مالِ تجارت کے عوض بیچ ڈالا یعنی اس کے بدلے میں جوچیز لی اُس سے تجارت مقصود نہیں، مثلاً خدمت کے لیے غلام یاپہننے کے لیے کپڑے خریدے یا سائمہ کو سائمہ کے بدلے بیچا اور جس کے ہاتھ بیچا اُس نے انکار کر دیا اور اس کے پا س گواہ نہیں یا وہ مر گیا اور ترکہ نہ چھوڑا تو یہ ہلاک نہیں بلکہ ہلاک کرنا ہے، لہٰذا زکاۃ واجب ہے۔ سال تمام کے بعد مال تجارت کو عورت کے مہر میں دے دیا یا عورت نے اپنی نصاب کے بدلے شوہر سے خلع لیا تو زکاۃ دینی ہوگی۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: اس کے پاس روپے اشرفیاں تھیں جن پر سال گزرا مگر ابھی زکاۃ نہیں دی، ان کے بدلے تجارت کے لیے کوئی چیز خریدی اور یہ چیز ہلاک ہوگئی تو زکاۃ ساقط ہوگئی مگر جب کہ اتنی گراں (5) خریدی کہ اتنے نقصان کے ساتھ لوگ نہ خریدتے ہوں تو اُس کی اصلی قیمت پر جو کچھ زیادہ دیا ہے، اس کی زکاۃ ساقط نہ ہوگی کہ وہ ہلاک کرنا ہے اوراگر تجارت کے لیے نہ ہو، مثلاً خدمت کے لیے غلام خریدا، وہ مر گیا تو اس روپے کی زکاۃ ساقط نہ ہوگی۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: بادشاہِ اسلام نے اگرچہ ظالم یا باغی ہو، سائمہ کی زکاۃ لے لی یا عُشر وصول کر لیا اور انھیں محل پر صرف کیا تو
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج۳، ص۲۴۶، وغیرہما.
2 ۔
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج۳، ص۲۴۷.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج۳، ص۲۴۸ ۔ ۲۵۰.
5 ۔ یعنی مہنگی۔
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج۳، ص۲۴۸.
اعادہ کی حاجت نہیں اور محل پر صرف نہ کیا تو اعادہ کیا جائے اور خراج لے لیا تو مطلقاً اعادہ کی حاجت نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: مُصدّق (زکاۃ وصول کرنے والے) کے سامنے سائمہ بیچ ڈالا تو مُصدّق کو اختیار ہے چاہے بقدر زکاۃ اس میں سے قیمت لے لے اور اس صورت میں بیع تمام ہوگئی اور چاہے جو جانور واجب ہوا وہ لے لے اور اس وقت جو لیا اس کے حق میں بیع باطل ہوگی اور اگر مُصدّق وہاں موجود نہ تھا بلکہ اس وقت آیا کہ مجلس عقد سے وہ دونوں جُدا ہوگئے تو اب جانور نہیں لے سکتا،جو جانور واجب ہوا، اُس کی قیمت لے لے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: جس غلہّ پر عشر واجب ہوا اُسے بیچ ڈالا تو مُصدّق کو اختیار ہے چاہے بائع (3) سے اس کی قیمت لے یا مشتری (4) سے اُتنا غلّہ واپس لے، بیع اس کے سامنے ہوئی ہو یا دونوں کے جُدا ہونے کے بعد مُصدّق آیا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: اسّی ۸۰ بکریاں ہیں تو ایک بکری زکاۃ کی ہے، یہ نہیں کیا جاسکتا کہ چالیس ۴۰ چالیس ۴۰ کے دو ۲ گروہ کر کے دو ۲ زکاۃ میں لیں اور اگر دو ۲ شخصوں کی چالیس ۴۰ چالیس ۴۰ بکریاں ہیں تو یہ نہیں کر سکتے کہ انھیں جمع کر کے ایک گروہ کر دیں کہ ایک ہی بکری زکاۃ میں دینی پڑے، بلکہ ہر ایک سے ایک ایک لی جائے گی۔ یو ہیں اگر ایک کی انتالیس ۳۹ ہیں اور ایک کی چالیس ۴۰ تو انتالیس ۳۹ والے سے کچھ نہ لیں گے، غرض نہ مجتمع کو متفرق کریں گے، نہ متفرق کو مجتمع۔ (6) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۹: مویشی میں شرکت سے زکاۃ پرکچھ اثر نہیں پڑتا، خواہ وہ کسی قسم کی ہو۔ اگر ہر ایک کا حصہ بقدر نصاب ہے تو دونوں پر پوری پوری زکاۃ واجب اور ایک کا حصہ بقدر نصاب ہے دوسرے کا نہیں تو اس پر واجب ہے، اس پرنہیں مثلاً ایک کی چالیس ۴۰ بکریاں ہیں دوسرے کی تیس ۳۰ تو چالیس والے پر ایک بکری تیس والے پر کچھ نہیں اگر اور کسی کی بقدر نصاب نہ ہوں مگر مجموعہ بقدر نصاب ہے تو کسی پر کچھ نہیں۔ (7) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۰: اسّی ۸۰ بکریوں میں اکاسی ۸۱ شریک ہیں، یوں کہ ایک شخص ہر بکری میں نصف کا مالک ہے اور ہر بکری کے دوسرے نصف کا ان میں سے ایک ایک شخص مالک ہے تو اُس کے سب حصوں کا مجموعہ چالیس ۴۰ کے برابر ہوا اور یہ سب صرف
1 ۔ ''الدرالمختار'' کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج۳، ص۲۵۵.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث، في زکاۃ الذھب والفضۃ والعروض مسائل شتی، ج۱، ص۱۸۱.
3 ۔ یعنی فروخت کرنے والے۔
4 ۔ یعنی خریدنے والے۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث، في زکاۃ الذھب والفضۃ والعروض مسائل شتی، ج۱، ص۱۸۱.
6 ۔ المرجع السابق، وغیرہ.
7 ۔ المرجع السابق.
آدھی آدھی بکری کے حصہ دار ہوئے، مگر زکاۃ کسی پر نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: شرکت کی مویشی میں زکاۃ دی گئی تو ہر ایک پر اُس کے حصہ کی قدر ہے، جو کچھ حصہ سے زائد گیا وہ شریک سے واپس لے، مثلاً ایک کی اکتالیس ۴۱ بکریاں ہیں، دوسرے کی بیاسی ۸۲ ، کل ایک سو تیئس ۱۲۳ ہوئیں اور دو ۲ زکاۃ میں لی گئیں، یعنی ہر ایک سے ایک مگرچونکہ ایک ایک تہائی کا شریک ہے اور دوسرا دو کا، لہٰذا ہر بکری میں دو تہائی والے کی دو تہائیاں گئیں، جن کا مجموعہ ایک تہائی اور ایک بکری ہے اور ایک تہائی والے کی ہر بکری میں ایک ہی تہائی گئی کہ مجموعہ دو تہائیاں ہوا اور اُس پر واجب ایک بکری ہے، لہٰذا دو تہائیوں والا ایک تہائی والے سے تہائی لینے کا مستحق ہے اور اگر کُل اسّی ۸۰ بکریاں ہیں، ایک دو تہائی کا شریک ہے، دوسرا ایک تہائی کا اور زکاۃ میں ایک بکری لی گئی تو تہائی کا حصہ دار اپنے شریک سے تہائی بکری کی قیمت لے کہ اس پر زکاۃ واجب نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
حدیث ۱: سنن ابی داود و ترمذی میں امیرا لمومنین مولیٰ علی کرم اﷲ وجہہ سے مروی، رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''گھوڑے اور لونڈی غلام کی زکاۃ میں نے معاف فرمائی تو اب چاندی کی زکاۃ ہر چالیس درہم سے ایک درہم ادا کرو، مگر ایک سو نوے ۱۹۰ میں کچھ نہیں، جب دو سو ۲۰۰ درہم ہوں تو پانچ درہم دو۔'' (3)
حدیث ۲: ابو داود کی دوسری روایت انھیں سے یوں ہے، کہ ہر چالیس ۴۰ درہم سے ایک درہم ہے، مگر جب تک دو سو ۲۰۰ درہم پورے نہ ہوں کچھ نہیں جب دو سو ۲۰۰ پورے ہوں تو پانچ درہم اور اس سے زیادہ ہوں تو اسی حساب سے دیں۔ (4)
حدیث ۳: ترمذی شریف میں بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہٖ مروی، کہ دو عورتیں حاضرِخدمت اقدس ہوئیں، اُن کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے، ارشاد فرمایا: ''تم اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ عرض کی نہیں۔ فرمایا: تو کیا تم اُسے پسند کرتی ہو کہ اﷲ تعالیٰ تمھیں آگ کے کنگن پہنائے، عرض کی نہ۔ فرمایا: تو اس کی زکاۃ ادا کرو۔'' (5)
حدیث ۴: امام مالک و ابو داود و ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں فرماتی ہیں: میں سونے کے
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۸۱.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۸۰.
3 ۔ ''جامع الترمذی''، أبواب الزکاۃ، باب ما جاء في زکاۃ الذھب والورق، الحدیث: ۶۲۰، ج۲، ص۱۲۲.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب في زکاۃ السائمۃ، الحدیث: ۱۵۷۲، ج۲، ص۱۴۲.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزکاۃ، باب ماجاء في زکاۃ الحلی، الحدیث: ۶۳۷، ج۲، ص۱۳۲.
زیور پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کی یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا یہ کنز ہے (جس کے بارے میں قرآن مجید میں وعید آئی) ؟ ارشاد فرمایا: ''جو اس حد کو پہنچے کہ اس کی زکاۃ ادا کی جائے اور ادا کر دی گئی تو کنز نہیں۔'' (1)
حدیث ۵: امام احمد باسناد حسن اسما بنت یزید سے راوی، کہتی ہیں۔ میں اور میری خالہ حاضرِخدمتِ اقدس ہوئیں اور ہم سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے۔ ارشاد فرمایا: ''اس کی زکاۃ دیتی ہو، عرض کی نہیں۔ فرمایا: کیا ڈرتی نہیں ہو کہ اﷲ تعالیٰ تمھیں آگ کے کنگن پہنائے، اس کی زکاۃ ادا کرو۔'' (2)
حدیث ۶: ابو داود و سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ہم کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حکم دیا کرتے کہ ''جس کو ہم بیع (تجارت) کے لیے مہیا کریں، اس کی زکاۃ نکالیں۔'' (3)
مسئلہ ۱: سونے کی نصاب بیس ۲۰ مثقال ہے یعنی ساڑھے سات تولے اور چاندی کی دو سو ۲۰۰ درم یعنی ساڑھے باون تولے یعنی وہ تولہ جس سے یہ رائج روپیہ سوا گیارہ ماشے ہے۔ سونے چاندی کی زکاۃ میں وزن کا اعتبار ہے قیمت کا لحاظ نہیں، مثلاً سات تولے سونے یا کم کا زیور یا برتن بنا ہو کہ اس کی کاریگری کی وجہ سے دو سو ۲۰۰ درم سے زائد قیمت ہو جائے یا سونا گراں ہو کہ ساڑھے سات تولے سے کم کی قیمت دو سو درم سے بڑھ جائے، جیسے آج کل کہ ساڑھے سات تولے سونے کی قیمت چاندی کی کئی نصابیں ہوں گی، غرض یہ کہ وزن میں بقدر نصاب نہ ہو تو زکاۃ واجب نہیں قیمت جو کچھ بھی ہو۔ یو ہیں سونے کی زکاۃ میں سونے اور چاندی کی زکاۃ میں چاندی کی کوئی چیز دی تو اس کی قیمت کا اعتبار نہ ہوگا، بلکہ وزن کا ا گرچہ اس میں بہت کچھ صنعت ہو جس کی وجہ سے قیمت بڑھ گئی یا فرض کرو دس آنے بھری چاندی بک رہی ہے اور زکاۃ میں ایک روپیہ دیا جو سولہ آنے کا قرار دیا جاتا ہے تو زکاۃ ادا کرنے میں وہ یہی سمجھا جائے گا کہ سوا گیارہ ماشے چاندی دی، یہ چھ آنے بلکہ کچھ اُوپر جو اس کی قیمت میں زائد ہیں لغو ہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: یہ جو کہا گیا کہ ادائے زکاۃ میں قیمت کا اعتبار نہیں، یہ اسی صورت میں ہے کہ اُس کی جنس کی زکاۃ اُسی جنس سے ادا کی جائے اور اگر سونے کی زکاۃ چاندی سے یا چاندی کی سونے سے ادا کی تو قیمت کا اعتبار ہوگا، مثلاً سونے کی زکاۃ میں چاندی کی کوئی چیز دی جس کی قیمت ایک اشرفی ہے تو ایک اشرفی دینا قرار پائے گا، اگرچہ وزن میں اس کی چاندی پندرہ روپے
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب الکنز ما ھو؟ وزکاۃ الحلی، الحدیث: ۱۵۶۴، ج۲، ص۱۳۷.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، من حدیث أسماء ابنۃ یزید، الحدیث: ۲۷۶۸۵، ج۱۰، ص۴۴۶.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب العروض اذا کانت للتجارۃ ھل فیھا زکاۃ؟، الحدیث: ۱۵۶۲، ج۲، ص۱۳۶.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۶۷ ۔ ۲۷۰.
بھر بھی نہ ہو۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: سونا چاندی جب کہ بقدر نصاب ہوں تو ان کی زکاۃ چالیسواں حصہ ہے، خواہ وہ ویسے ہی ہوں یا اُن کے سکّے جیسے روپے اشرفیاں یا ان کی کوئی چیز بنی ہوئی خواہ اس کا استعمال جائز ہو جیسے عورت کے لیے زیور، مرد کے لیے چاندی کی ایک نگ کی ایک انگوٹھی ساڑھے چار ماشے سے کم کی یا سونے چاندی کے بلا زنجیر کے بٹن یا استعمال ناجائز ہو جیسے چاندی سونے کے برتن، گھڑی، سُرمہ دانی، سلائی کہ ان کا استعمال مرد و عورت سب کے لیے حرام ہے یا مرد کے لیے سونے چاندی کا چھلّا یا زیور یا سونے کی انگوٹھی یا ساڑھے چار ماشے سے زیادہ چاندی کی انگوٹھی یا چند انگوٹھیاں یا کئی نگ کی ایک انگوٹھی، غرض جو کچھ ہو زکاۃ سب کی واجب ہے، مثلاً ۷ ــــ ۱ ۲ تولہ سونا ہے تو دو ماشہ زکاۃ واجب ہے یا ۵۲ تولہ ۶ ماشہ چاندی ہے تو ایک تولہ ۳ ماشہ ۶ رتی۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴: سونے چاندی کے علاوہ تجارت کی کوئی چیز ہو، جس کی قیمت سونے چاندی کی نصاب کو پہنچے تو اس پر بھی زکاۃ واجب ہے یعنی قیمت کا چالیسواں ۴۰ حصہ اور اگر اسباب کی قیمت تو نصاب کو نہیں پہنچتی مگر اس کے پاس ان کے علاوہ سونا چاندی بھی ہے تو اُن کی قیمت سونے چاندی کے ساتھ ملا کر مجموعہ کریں، اگر مجموعہ نصاب کو پہنچا زکاۃ واجب ہے اور اسباب تجارت کی قیمت اُس سکّے سے لگائیں جس کا رواج وہاں زیادہ ہو، جیسے ہندوستان میں روپیہ کا زیادہ چلن ہے، اسی سے قیمت لگائی جائے اور اگر کہیں سونے چاندی دونوں کے سکّوں کا یکساں چلن ہو تو اختیار ہے جس سے چاہیں قیمت لگائیں، مگر جب کہ روپے سے قیمت لگائیں تو نصاب نہیں ہوتی اور اشرفی سے ہو جاتی ہے یا بالعکس تو اُسی سے قیمت لگائی جائے جس سے نصاب پوری ہو اور اگر دونوں سے نصاب پوری ہوتی ہے مگر ایک سے نصاب کے علاوہ نصاب کا پانچواں حصہ زیادہ ہوتا ہے، دوسرے سے نہیں تو اس سے قیمت لگائیں جس سے ایک نصاب اور نصاب کا پانچواں حصہ ہو۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵: نصاب سے زیادہ مال ہے تو اگر یہ زیادتی نصاب کا پانچواں حصہ ہے تو ا س کی زکاۃ بھی واجب ہے، مثلاً دو سو چالیس ۲۴۰ درم یعنی ۶۳ تولہ چاندی ہو تو زکاۃ میں چھ درم واجب، یعنی ایک تولہ ۶ ماشہ ــــ ۱ ۵ رتی یعنی ۵۲ تولہ ۶ ماشہ کے بعد ہر ۱۰ تولہ ۶ ماشہ پر ۳ ماشہ ۱ ــــ ۱ ۵ رتی بڑھائیں اور سونا نو تولہ ہو تو دو ۲ ماشہ ۵ ــــ ۳ ۵ رتی یعنی ۷ تولہ ۶ ماشہ کے بعد ہر ایک تولہ ۶ ماشہ پر ۳ ــــ ۳ ۵ رتی بڑھائیں اور پانچواں حصہ نہ ہو تو معاف یعنی مثلاً نو تولہ سے ایک رتی کم اگر سونا ہے تو زکاۃ وہی ۷ تولہ ۶ ماشہ
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۷۰.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۷۰، وغیرہ.
3 ۔ المرجع السابق، ص۲۷۰ ۔ ۲۷۲، وغیرہ.
کی واجب ہے یعنی ۲ ماشہ۔ یو ہیں چاندی اگر ۶۳ تولہ سے ایک رتی بھی کم ہے تو زکاۃ وہی ۵۲ تولہ ۶ ماشہ کی ایک تولہ ۳ ماشہ ۶ رتی واجب۔ یو ہیں پانچویں حصہ کے بعد جو زیادتی ہے، اگر وہ بھی پانچواں حصہ ہے تو اُس کا چالیسواں حصہ واجب ورنہ معاف وعلیٰ ہذا القیاس۔ مال تجارت کا بھی یہی حکم ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۶: اگر سونے چاندی میں کھوٹ ہو اور غالب سونا چاندی ہے تو سونا چاندی قرار دیں اور کل پر زکاۃ واجب ہے۔ یو ہیں اگر کھوٹ سونے چاندی کے برابر ہو تو زکاۃ واجب اور اگر کھوٹ غالب ہو تو سونا چاندی نہیں پھر اس کی چند صورتیں ہیں۔ اگر اس میں سونا چاندی اتنی مقدار میں ہو کہ جُدا کریں تو نصاب کو پہنچ جائے یا وہ نصاب کو نہیں پہنچتا مگر اس کے پاس اور مال ہے کہ اس سے مل کر نصاب ہو جائے گی یا وہ ثمن میں چلتا ہے اور اس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہے تو ان سب صورتوں میں زکاۃ واجب ہے اور اگر ان صورتوں میں کوئی نہ ہو تو اس میں اگر تجارت کی نیّت ہو تو بشرائط تجارت اُسے مالِ تجارت قرار دیں اور اس کی قیمت نصاب کی قدر ہو، خود یا اوروں کے ساتھ مل کر تو زکاۃ واجب ہے ورنہ نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۷: سونے چاندی کو باہم خلط کر دیا تو اگر سونا غالب ہو، سونا سمجھا جائے اور دونوں برابر ہوں اور سونا بقدرِ نصاب ہے، تنہا یا چاندی کے ساتھ مل کر جب بھی سونا سمجھا جائے اور چاندی غالب ہو تو چاندی ہے، نصاب کو پہنچے تو چاندی کی زکاۃ دی جائے مگر جب کہ اس میں جتنا سونا ہے وہ چاندی کی قیمت سے زیادہ ہے تو اب بھی کُل سونا ہی قرار دیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: کسی کے پاس سونا بھی ہے اور چاندی بھی اور دونوں کی کامل نصابیں تو یہ ضرور نہیں کہ سونے کو چاندی یا چاندی کو سونا قرار دے کر زکاۃ ادا کرے، بلکہ ہر ایک کی زکاۃ علیحدہ علیحدہ واجب ہے۔ ہاں زکاۃ دینے والا اگر صرف ایک چیز سے دونوں نصابوں کی زکاۃ ادا کرے تو اسے اختیار ہے، مگر اس صورت میں یہ واجب ہوگا کہ قیمت وہ لگائے جس میں فقیروں کا زیادہ نفع ہے مثلاً ہندوستان میں روپے کا چلن بہ نسبت اشرفیوں کے زیادہ ہے تو سونے کی قیمت چاندی سے لگا کر چاندی زکاۃ میں دے اور اگر دونوں میں سے کوئی بقدر نصاب نہیں تو سونے کی قیمت کی چاندی یا چاندی کی قیمت کا سونا فرض کر کے ملائیں پھر اگر ملانے پر بھی نصاب نہیں ہوتی تو کچھ نہیں اور اگر سونے کی قیمت کی چاندی چاندی میں ملائیں تو نصاب ہو جاتی ہے اور چاندی کی قیمت کا سونا سونے میں ملائیں تو نہیں ہوتی یا بالعکس تو واجب ہے کہ جس میں نصاب پوری ہو وہ کریں اور اگر دونوں
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۷۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۷۳ ۔ ۲۷۵.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۷۵ ۔ ۲۷۷.
صورت میں نصاب ہو جاتی ہے تو اختیار ہے جو چاہیں کریں مگر جب کہ ایک صورت میں نصاب پر پانچواں حصہ بڑھ جاتا ہے تو جس میں پانچواں حصہ بڑھ جائے وہی کرنا واجب ہے، مثلاً سوا چھبیس ۲۶ تولے چاندی ہے اور پونے چار تولے سونا، اگر پونے چار تولے سونے کی چاندی سوا چھبیس تولے آتی ہے اور سوا چھبیس تولے چاندی کا پونے چار تولے سونا آتا ہے تو سونے کو چاندی یا چاندی کو سونا جو چاہیں تصور کریں اور اگر پونے چار تولے سونے کے بدلے ۳۷ تولے چاندی آتی ہے اور سوا چھبیس تولے چاندی کا پونے چار تولے سونا نہیں ملتا تو واجب ہے کہ سونے کو چاندی قرار دیں کہ اس صورت میں نصاب ہو جاتی ہے، بلکہ پانچواں حصہ زیادہ ہوتا ہے اور اُس صورت میں نصاب بھی پوری نہیں ہوتی۔ یو ہیں اگر ہر ایک نصاب سے کچھ زیادہ ہے تو اگر زیادتی نصاب کا پانچواں ہے تو اس کی بھی زکاۃ دیں اور اگر ہر ایک میں زیادتی پانچواں حصہ نصاب سے کم ہے تو دونوں ملائیں، اگر مل کر بھی کسی کی نصاب کا پانچواں حصہ نہیں ہوتا تو اس زیادتی پر کچھ نہیں اور اگر دونوں میں نصاب یا نصاب کا پانچواں حصہ ہو تو اختیار ہے، مگر جب کہ ایک میں نصاب ہو اور دوسرے میں پانچواں حصہ تو وہ کریں جس میں نصاب ہو اور اگر ایک میں نصاب یا پانچواں حصہ ہوتا ہے اور دوسرے میں نہیں تو وہی کرنا واجب ہے، جس سے نصاب ہو یا نصاب کا پانچواں حصہ۔ (1) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۹: پیسے جب رائج ہوں اور دو سو ۲۰۰ درم چاندی (2) یا بیس مثقال سونے (3) کی قیمت کے ہوں تو ان کی زکاۃ واجب ہے (4)، اگرچہ تجارت کے لیے نہ ہوں اور اگر چلن اُٹھ گیا ہو تو جب تک تجارت کے لیے نہ ہوں زکاۃ واجب نہیں۔ (فتاویٰ قاری الہدایہ) نوٹ کی زکاۃ بھی واجب ہے، جب تک ان کا رواج اورچلن ہو کہ یہ بھی ثمنِ اصطلاحی (5) ہیں اور پیسوں کے حکم میں ہیں۔
مسئلہ ۱۰: جو مال کسی پر دَین (6) ہو، اس کی زکاۃ کب واجب ہوتی ہے اور ادا کب اس میں تین صورتیں ہیں۔ اگر دَین قوی ہو، جیسے قرض جسے عرف میں دستگرداں کہتے ہیں اور مالِ تجارت کا ثمن مثلاً کوئی مال اُس نے بہ نیتِ تجارت خریدا، اُسے کسی کے ہاتھ اُدھار بیچ ڈالا یا مالِ تجارت کا کرایہ مثلاً کوئی مکان یا زمین بہ نیّت تجارت خریدی، اُسے کسی کو سکونت یا زراعت کے
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۷۸، وغیرہما.
2 ۔ یعنی ساڑھے باون تولے۔
3 ۔ یعنی ساڑھے سات تولے۔
4 ۔ ''فتاوی قاریئ الھدایۃ''، ص۲۹.
5 ۔ یعنی وہ ثمن ہے جو درحقیقت متاع (سامان) ہے لیکن لوگوں کی اصطلاح نے اسے ثمن بنادیا۔
6 ۔ یہاں دَین سے مراد مطلقاً قرض ہی نہیں، بلکہ ہر وہ مال ہے جو کسی بھی سبب سے کسی شخص کے ذمہ واجب ہو۔
لیے کرایہ پر دے دیا ،یہ کرایہ اگر اُس پر دَین ہے تو دَین قوی ہوگا اور دَین قوی کی زکاۃ بحالتِ دَین ہی سال بہ سال واجب ہوتی رہے گی، مگر واجب الادا اُس وقت ہے جب پانچواں حصہ نصاب کا وصول ہو جائے، مگر جتنا وصول ہوا اتنے ہی کی واجب الادا ہے یعنی چالیس درم وصول ہونے سے ایک درم دینا واجب ہوگا اور اسّی ۸۰ وصول ہوئے تو دو،وعلیٰ ہذا القیاس۔ دوسرے دَین متوسط کہ کسی مالِ غیر تجارتی کا بدل ہو مثلاً گھر کا غلّہ یا سواری کا گھوڑا یا خدمت کا غلام یا اور کوئی شے حاجت اصلیہ کی بیچ ڈالی اور دام خریدار پر باقی ہیں اس صورت میں زکاۃ دینا اس وقت لازم آئے گا کہ دو سو درم پر قبضہ ہو جائے۔ یو ہیں اگر مُورث کا دَین اُسے ترکہ میں ملا اگرچہ مالِ تجارت کا عوض ہو، مگر وارث کو دو سو درم وصول ہونے اور مُورث کی موت کو سال گزرنے پر زکاۃ دینا لازم آئے گا۔ تیسرے دَین ضعیف جو غیر مال کا بدل ہو جیسے مہر، بدل خلع، دیت، بدلِ کتابت یا مکان یا دوکان کہ بہ نیتِ تجارت خریدی نہ تھی اس کا کرایہ کرایہ دار پر چڑھا، اس میں زکاۃ دینا اس وقت واجب ہے کہ نصاب پر قبضہ کرنے کے بعد سال گزر جائے یا اس کے پاس کوئی نصاب اس جنس کی ہے اور اس کا سال تمام ہو جائے تو زکاۃ واجب ہے۔
پھر اگر دَین قوی یا متوسط کئی سال کے بعد وصول ہو تو اگلے سال کی زکاۃ جو اس کے ذمہ دَین ہوتی رہی وہ پچھلے سال کے حساب میں اسی رقم پر ڈالی جائے گی، مثلاً عمرو پر زید کے تین سو درم دَین قوی تھے، پانچ برس بعد چالیس درم سے کم وصول ہوئے تو کچھ نہیں اور چالیس وصول ہوئے تو ایک درم دینا واجب ہوا، اب انتالیس باقی رہے کہ نصاب کے پانچویں حصہ سے کم ہے، لہٰذا باقی برسوں کی ابھی واجب نہیں اور اگر تین سو درم دَین متوسط تھے تو جب تک دو سو درم وصول نہ ہوں کچھ نہیں اور پانچ برس بعد دو سو وصول ہوئے تو اکیس ۲۱ واجب ہوں گے، سال اوّل کے پانچ اب سال دوم میں ایک سو پچانوے رہے ان میں سے پینتیس کہ خمس سے کم ہیں معاف ہوگئے، ایک سو ساٹھ رہے اس کے چار درم واجب لہٰذا سال سوم میں ایک سو اکانوے رہے، ان میں بھی چار درم واجب، چہارم میں ایک سو ستاسی رہے، پنجم میں ایک سو تراسی رہے ان میں بھی چار چار درم واجب، لہٰذا کُل اکیس درم واجب الادا ہوئے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۱۱: اگر دَین سے پہلے سال نصاب رواں تھا تو جو دَین اثنائے سال میں کسی پر لازم آیا، اس کا سال بھی وہی قرار دیا جائے گا جو پہلے سے چل رہا ہے، وقت دَین سے نہیں اور اگر دَین سے پہلے اس جنس کی نصاب کا سالِ رواں نہ ہو تو وقتِ دَین سے شمار ہوگا۔ (2) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، مطلب في وجوب الزکاۃ في دین المرصد، ج۳،
ص۲۸۱ ۔ ۲۸۳، وغیرہما.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في وجوب الزکاۃ في دین المرصد، ج، ۳ص۲۸۳.
مسئلہ ۱۲: کسی پر دَین قوی یا متوسط ہے اور قرض خواہ کا انتقال ہوگیا تو مرتے وقت اس دَین کی زکاۃ کی وصیّت ضرور نہیں کہ اس کی زکاۃ واجب الادا تھی ہی نہیں اور وارث پر زکاۃ اس وقت ہوگی جب مُورث کی موت کو ایک سال گزر جائے اور چالیس درم دَین قوی میں اور دو سو درم دَین متوسط میں وصول ہو جائیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: سال تمام کے بعد دائن نے دَین معاف کر دیا یا سال تمام سے پہلے مالِ زکاۃ ہبہ کر دیا تو زکاۃ ساقط ہوگئی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: عورت نے مہر کا روپیہ وصول کر لیا سال گزرنے کے بعد شوہر نے قبل دخول طلاق دے دی تو نصف مہر واپس کرنا ہوگا اور زکاۃ پورے کی واجب ہے اور شوہر پر واپسی کے بعد سے سال کا اعتبار ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: ایک شخص نے یہ اقرار کیا کہ فلاں کا مجھ پر دَین ہے اور اُسے دے بھی دیا پھر سال بھر بعد دونوں نے کہا دَین نہ تھا تو کسی پر زکاۃ واجب نہ ہوئی۔ (4) (عالمگیری) مگر ظاہر یہ ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب کہ اُس کے خیال میں دَین ہو، ورنہ اگر محض زکاۃ ساقط کرنے کے لیے یہ حیلہ کیا تو عنداﷲ مواخذہ کا مستحق ہے۔
مسئلہ ۱۶: مالِ تجارت میں سال گزرنے پر جوقیمت ہوگی اس کا اعتبار ہے، مگر شرط یہ ہے کہ شروع سال میں اس کی قیمت دو سو درم سے کم نہ ہو اور اگر مختلف قسم کے اسباب ہوں تو سب کی قیمتوں کا مجموعہ ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونے کی قدر ہو۔ (5) (عالمگیری) یعنی جب کہ اس کے پاس یہی مال ہو اور اگر اس کے پاس سونا چاندی اس کے علاوہ ہو تو اسے ملا لیں گے۔
مسئلہ ۱۷: غلّہ یا کوئی مالِ تجارت سال تمام پر دو سو درم کا ہے پھر نرخ بڑھ گھٹ گیا تو اگر اسی میں سے زکاۃ دینا چاہیں تو جتنا اس دن تھا اس کا چالیسواں حصہ دے دیں اور اگر اس قیمت کی کوئی اور چیز دینا چاہیں تو وہ قیمت لی جائے جو سال تمام کے دن تھی اور اگر وہ چیز سال تمام کے دن تر تھی اب خشک ہوگئی، جب بھی وہی قیمت لگائیں جو اس دن تھی ا ور اگر اس روز خشک تھی، اب بھیگ گئی تو آج کی قیمت لگائیں۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، مطلب في وجوب الزکاۃ في دین المرصد، ج، ۳ص۲۸۳.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۸۳ ۔ ۲۸۵.
3 ۔ المرجع السابق، ص۲۸۵.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، في مسائل شتی، ج۱، ص۱۸۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث في زکاۃ الذہب والفضۃ والعروض، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۷۹.
6 ۔ المرجع السابق، ص۱۷۹۔۱۸۰.
مسئلہ ۱۸: قیمت اس جگہ کی ہونی چاہیے جہاں مال ہے اور اگر مال جنگل میں ہو تو اُس کے قریب جو آبادی ہے وہاں جو قیمت ہو اس کا اعتبار ہے۔ (1) (عالمگیری) ظاہر یہ ہے کہ یہ اس مال میں ہے جس کی جنگل میں خریداری نہ ہوتی ہو اور اگر جنگل میں خریدا جاتا ہو، جیسے لکڑی اور وہ چیزیں جو وہاں پیدا ہوتی ہیں تو جب تک مال وہاں پڑا ہے، وہیں کی قیمت لگا ئی جائے۔
مسئلہ ۱۹: کرایہ پر اٹھانے کے لیے دیگیں ہوں، اُن کی زکاۃ نہیں۔ یو ہیں کرایہ کے مکان کی۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: گھوڑے کی تجارت کرتا ہے، جُھول (3) اور لگام اور رسیاں وغیرہ اس لیے خریدیں کہ گھوڑوں کی حفاظت میں کام آئیں گی تو اُن کی زکاۃ نہیں اور اگر اس لیے خریدیں کہ گھوڑے ان کے سمیت بیچے جائیں گے تو ان کی بھی زکاۃ دے۔ نان بائی نے روٹی پکانے کے لیے لکڑیاں خریدیں یا روٹی میں ڈالنے کو نمک خریدا تو ان کی زکاۃ نہیں اور روٹی پر چھڑکنے کو تِل خریدے تو تِلوں کی زکاۃ واجب ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: ایک شخص نے اپنا مکان تین سال کے لیے تین سو درم سال کے کرایہ پر دیا اور اس کے پاس کچھ نہیں ہے اور جو کرایہ میں آتا ہے، سب کو محفوظ رکھتا ہے تو آٹھ مہینے گزرنے پر نصاب کا مالک ہوگیا کہ آٹھ ماہ میں دو سو درم کرایہ کے ہوئے، لہٰذا آج سے سال زکاۃ شروع ہوگا اور سال پورا ہونے پر پانسو ۵۰۰ درم کی زکاۃ دے کہ بیس ماہ کا کرایہ پانسو ہوا، اب اس کے بعد ایک سال اور گزرا تو آٹھ سو ۸۰۰ کی زکاۃ دے، مگر سال اوّل کی زکاۃ کے ساڑھے بارہ درم کم کیے جائیں۔ (5) (عالمگیری) بلکہ آٹھ سو میں چالیس کم کی زکاۃ واجب ہوگی کہ چالیس سے کم کی زکاۃ نہیں بلکہ عفو ہے۔
مسئلہ ۲۲: ایک شخص کے پاس صرف ایک ہزار درم ہیں اور کچھ مال نہیں، اس نے سو درم سالانہ کرایہ پر دس ۱۰ سال کے لیے مکان لیا اور وہ کُل روپے مالک مکان کو دے دیے تو پہلے سال میں نو سو کی زکاۃ دے کہ سو کرایہ میں گئے، دوسرے سال آٹھ سو کی بلکہ پہلے سال کی زکاۃ کے ساڑھے بائیس درم آٹھ سو میں سے کم کر کے باقی کی زکاۃ دے۔ اسی طرح ہر سال میں سو روپے اور سالِ گزشتہ کی زکاۃ کے روپے کم کر کے باقی کی زکاۃ اُس کے ذمہ ہے اور مالک مکان کے پاس بھی اگر اس کرایہ کے ہزار کے سوا کچھ نہ ہو تو دو سال تک کچھ نہیں۔ دو سال گزرنے پر اب دو سو کا مالک ہوا، تین برس پر تین سو کی زکاۃ دے۔ یوہیں ہر سال سو درم کی زکاۃ بڑھتی جائے گی، مگر اگلی برسوں کی مقدار زکاۃ کم کرنے کے بعد باقی کی زکاۃ واجب ہوگی۔ صورت مذکورہ
ـ1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث في زکاۃ الذہب والفضۃ والعروض، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۸۰.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ یعنی گھوڑے کے اوپر ڈالنے کا کپڑا۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث في زکاۃ الذہب والفضۃ والعروض، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۸۰.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، في مسائل شتی، ج۱، ص۱۸۱.
میں اگر اس قیمت کی کنیز کرایہ میں دی تو کرایہ دار پر کچھ واجب نہیں اور مالکِ مکان پر اُسی طرح وجوب ہے، جو درم کی صورت میں ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: تجارت کے لیے غلام قیمتی دو سو درم کا دو سو میں خریدا اور ثمن بائع کو دے دیا، مگر غلام پر قبضہ نہ کیا یہاں تک کہ ایک سال گزر گیا، اب وہ بائع کے یہاں مر گیا تو بائع و مشتری دونوں پر دو دو سو کی زکاۃ واجب ہے اور اگر غلام دو سو درم سے کم قیمت کا تھا اور مشتری نے دو سو پر لیا تو بائع دو سو کی زکاۃ دے اور مشتری پر کچھ نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: خدمت کا غلام ہزار روپے میں بیچا اور ثمن پر قبضہ کر لیا، سال بھر بعد وہ غلام عیب دار نکلا اس بنا پر واپس ہوا، قاضی نے واپسی کا حکم دیا ہو یا اُس نے خود اپنی خوشی سے واپس لے لیا ہو تو ہزار کی زکاۃ دے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: روپے کے عوض کھانا غلّہ کپڑا وغیرہ فقیر کو دے کر مالک کر دیا تو زکاۃ ادا ہو جائے گی، مگر اس چیز کی قیمت جو بازار بھاؤ سے ہوگی وہ زکاۃ میں سمجھی جائے، بالائی مصارف مثلاً بازار سے لانے میں جو مزدور کو دیا ہے یا گاؤں سے منگوایا تو کرایہ اور چونگی وضع نہ کریں گے یا پکوا کر دیا تو پکوائی یا لکڑیوں کی قیمت مُجرا نہ کریں، بلکہ اس پکی ہوئی چیز کی جو قیمت بازار میں ہو، اس کا اعتبار ہے۔ (4) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱: عاشِر اُس کوکہتے ہیں جسے بادشاہِ اسلام نے راستہ پر مقرر کر دیا ہو کہ تجار (5) جو اموال لے کر گزریں، اُن سے صدقات وصول کرے۔ عاشر کے لیے شرط یہ ہے کہ مسلمان حُر (6) غیر ہاشمی ہو، چور اور ڈاکوؤں سے مال کی حفاظت پر قادر ہو۔ (7) (بحر)
مسئلہ ۲: جو راہ گیر یہ کہے کہ میرے اس مال پر نیز گھر میں جو موجود ہے کسی پر سال نہیں گزرا یا کہتا ہے کہ میں نے اس میں تجارت کی نیّت نہیں کی یا کہے یہ میرا مال نہیں بلکہ میرے پاس امانت یا بطور مضاربت ہے، بشرطیکہ اس میں اتنا نفع نہ ہو کہ اس
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، في مسائل شتی، ج۱، ص۱۸۱ ۔ ۱۸۲.
2 ۔ المرجع السابق، ص۱۸۲.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق، ص۱۸۰، ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۳، ص۲۰۴.
5 ۔ یعنی تجارت کرنے والے۔ 6 ۔ یعنی جو غلام نہ ہو۔
7 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۲، ص۴۰۲.
کا حصہ نصاب کو پہنچ جائے یا اپنے کو مزدور یا مکاتب یا ماذون بتائے یا اتنا ہی کہے کہ اس مال پر زکاۃ نہیں، اگرچہ وجہ نہ بتائے یا کہے مجھ پر دَین ہے جو مال کے برابر ہے یا اتنا ہے کہ اُسے نکالیں تو نصاب باقی نہ رہے یا کہے دوسرے عاشِر کو دے دیا ہے اور جس کو دینا بتاتا ہے واقع میں وہ عاشِر ہے اور اس عاشِر کو بھی اس کا عاشِر ہونا معلوم ہو یا کہے شہر میں فقیروں کو زکاۃ دے دی اور اپنے بیان پر حلف کرے تو اُس کا قول مان لیا جائے گا، اس کی کچھ ضرورت نہیں کہ اس سے رسید طلب کریں کہ رسید کبھی جعلی ہوتی ہے اور کبھی غلطی سے رسید نہیں لی جاتی اور کبھی گُم ہو جاتی ہے اور اگر رسید پیش کی اور اس میں اس عاشِر کا نام نہیں جسے اُس نے بتایا، جب بھی حلف لے کر اُس کا قول مان لیں گے اور اگر چندسال گزرنے پر معلوم ہوا کہ اُس نے جھوٹ کہا تھا تو اب اُس سے زکاۃ لی جائے گی۔ (1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: اگر اس مال پر سال نہیں گزرا مگراس کے مکان پر جو مال ہے اس پر سال گزر گیا ہے اور اس مال کو اس مال کے ساتھ ملا سکتے ہوں تو اس کا قول نہیں مانا جائے گا۔ یوہیں اگر ایسے عاشِر کو دینا بتائے جو اُسے معلوم نہیں یا کہے کسی بد مذہب کو زکاۃ دے دی یاکہے شہر میں فقیر کو نہیں دی بلکہ شہر سے باہر جا کر دی تو ان سب صورتوں میں اس کا قول نہ مانا جائے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: سائمہ اور اموالِ باطنہ میں اس کا قول نہیں مانا جائے گا اور جن امور میں مسلمان کا قول ماناجاتا ہے، ذمی کافر کا بھی مان لیا جائے گا، مگر اس صورت میں کہ شہر میں فقیر کو دینا بتائے تو اس کا قول معتبر نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۵: حربی کافر کا قول بالکل معتبر نہیں، اگرچہ جو کچھ کہتا ہے اُس پر گواہ پیش کرے اور اگر کنیز کو ام ولد بتائے یا غلام کو اپنا لڑکا کہے اور اس کی عمر اس قابل ہو کہ یہ اس کا لڑکا ہوسکتا ہے یاکہے میں نے دوسرے کو دے دیا ہے اور جسے بتاتا ہے وہ وہاں موجود ہے تو ان امور میں حربی کا بھی قول مان لیا جائے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: جو شخص دو سو درم سے کم کا مال لے کر گزرا تو عاشر اُس سے کچھ نہ لے گا، خواہ وہ مسلمان ہو یا ذمّی یا حربی، خواہ اُس کے گھر میں اور مال ہونا معلوم ہو یا نہیں۔ (5) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الرابع فیمن یمر علی العاشر، ج۱، ص۱۸۳.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، مطلب: لاتسقط الزکاۃ... إلخ، ج۳، ص۲۸۹ ۔ ۲۹۱.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، مطلب: لاتسقط الزکاۃ... إلخ، ج۳، ص۲۹۰.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۳، ص۲۹۱.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۳، ص۲۹۳.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الرابع فیمن یمر علی العاشر، ج۱، ص۱۸۳.
مسئلہ ۷: مسلمان سے چالیسواں حصہ لیا جائے اور ذمّی سے بیسواں اور حربی سے دسواں حصہ۔ (1) (تنویر) حربی سے دسواں حصہ لینا اس وقت ہے جب معلوم نہ ہو کہ حربیوں نے مسلمانوں سے کتنا لیا تھا اور اگر معلوم ہو تو جتنا انہوں نے لیا مسلمان بھی حربیوں سے اتنا ہی لیں، مگر حربیوں نے اگر مسلمانوں کا کُل مال لے لیا ہو تو مسلمان کُل نہ لیں، بلکہ اتنا چھوڑ دیں کہ اپنے ٹھکانے پہنچ جائے اور اگر حربیوں نے مسلمانوں سے کچھ نہ لیا تو مسلمان بھی کچھ نہ لیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: حربی بچے اور مکاتب سے کچھ نہ لیں گے، مگر جب مسلمانوں کے بچوں اورمکاتب سے حربیوں نے لیا ہو تو مسلمان بھی اُن سے لیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۹: ایک بار جب حربی سے لے لیا تو دو بارہ اس سال میں نہ لیں، مگر جب لینے کے بعد دارالحرب کو واپس گیا اور اب پھر دارلحرب سے آیا تو دوبارہ لیں گے۔ (4) (تنویر الابصار)
مسئلہ ۱۰: حربی دارالاسلام میں آیا اور واپس گیا مگر عاشر کو خبر نہ ہوئی پھر دوبارہ دارالحرب سے آیا تو پہلی مرتبہ کا نہ لیں اور اگر مسلمان یا ذمّی کے آنے اور جانے کی خبر نہ ہوئی اور اب دوبارہ آیا تو پہلی بار کا لیں گے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: ماذُون (6) کے ساتھ اگر اس کا مالک بھی ہے اور اس پر اتنا دَین نہیں، جو ذات و مال کو مستغرق (7) ہو تو عاشر اس سے لے گا۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: عاشِر کے پاس ایسی چیز لے کر گزرا جو جلد خراب ہونے والی ہے، جیسے میوہ، ترکاری، خربزہ، تربز، دودھ وغیرہا، اگرچہ اُن کی قیمت نصاب کی قدر ہو مگر عشر نہ لیا جائے، ہاں اگر وہاں فقرا موجود ہوں تو لے کر فقرا کو بانٹ دے۔ (9) (عالمگیری، درمختار)
1 ۔ ''تنویر الأبصار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۳ ص۲۹۴.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۳، ص۲۹۵.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۳، ص۲۹۵.
4 ۔ ''تنویر الأبصار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشرج۳ ص۲۹۵.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۳، ص۲۹۶.
6 ۔ یعنی وہ غلام جسے اس کے مالک نے تجارت کی اجازت دے دی ہو۔
7 ۔ یعنی گھیرے ہوئے۔
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۳، ص۲۹۹.
9 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۳: عاشِر نے مال زیادہ خیال کر کے زکاۃ لی پھر معلوم ہوا کہ اتنے کا مال نہ تھا تو جتنا زیادہ لیا ہے سال آئندہ میں محسوب ہوگا اور اگر قصداً زیادہ لیا تو یہ زکاۃ میں محسوب نہ ہوگا کہ ظلم ہے۔ (1) (خانیہ)
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''رکاز (کان) میں خمس ہے۔'' (2)
مسئلہ ۱: کان سے لوہا، سیسہ، تانبا، پیتل، سونا چاندی نکلے، اس میں خمس (پانچواں حصہ) لیا جائے گا اور باقی پانے والے کا ہے۔ خواہ وہ پانے والا آزاد ہو یا غلام، مسلمان ہو یا ذِمّی، مرد ہو یا عورت، بالغ ہو یا نابالغ، وہ زمین جس سے یہ چیزیں نکلیں عشری ہو یا خراجی۔ (3) (عالمگیری) یہ اُس صورت میں ہے کہ زمین کسی شخص کی مملوک نہ ہو، مثلاً جنگل ہو یا پہاڑ اور اگر مملوک ہے تو کُل مالکِ زمین کو دیا جائے خمس بھی نہ لیا جائے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲: فیروزہ و یاقوت و زمرد و دیگر جواہر اور سرمہ، پھٹکری، چونا، موتی میں اور نمک وغیرہ بہنے والی چیزوں میں خمس نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مکان یا دکان میں کان نکلی تو خمس نہ لیا جائے، بلکہ کُل مالک کو دیا جائے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۴: فیروزہ، یاقوت، زمّرد وغیرہ جواہر سلطنت اسلام سے پیشتر کے دفن تھے اور اب نکلے تو خمس لیا جائے گا یہ مالِ غنیمت ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۵: موتی اور اس کے علاوہ جو کچھ دریا سے نکلے، اگرچہ سونا کہ پانی کی تہ میں تھا،سب پانے والے کا ہے بشرطیکہ اس میں کوئی اسلامی نشانی نہ ہو۔ (8) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الزکاۃ، فصل في اداء الزکاۃ، ص۱۲۶.
2 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحدود، باب جرح العجماء والمعدن... إلخ، الحدیث: ۱۷۱۰، ص۹۴۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الخامس في المعادن و الرکاز، ج۱، ص۱۸۴.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب الرکاز، ج۳، ص۳۰۵.
5 ۔ المرجع السابق، ص۳۰۱.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب الرکاز، ج۳، ص۳۰۵.
7 ۔ المرجع السابق، ص۳۰۶.
8 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۶: جس دفینہ (1) میں اسلامی نشائی پائی جائے خواہ وہ نقد ہو یا ہتھیار یا خانہ داری کے سامان وغیرہ، وہ پڑے مال کے حکم میں ہے یعنی مسجدوں، بازاروں میں اس کا اعلان اتنے دنوں تک کرے کہ ظن غالب ہو جائے، اب اس کا تلاش کرنے والا نہ ملے گا پھرمساکین کو دے دے اور خود فقیر ہو تو اپنے صرف میں لائے اور اگر اس میں کفر کی علامت ہو، مثلاً بُت کی تصویر ہو یا کافر بادشاہ کا نام اس پر لکھا ہو، اُس میں سے خمس لیا جائے، باقی پانے والے کو دیا جائے، خواہ اپنی زمین میں پائے یا دوسرے کی زمین میں یا مباح زمین میں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: حربی کافر نے دفینہ نکالا تو اُسے کچھ نہ دیا جائے اور جو اُس نے لے لیا ہے واپس لیا جائے، ہاں اگر بادشاہ ِ اسلام کے حکم سے کھو د کر نکالا تو جو ٹھہرا ہے وہ دیں گے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: دفینہ نکالنے میں دو شخصوں نے کام کیا تو خمس کے بعد باقی اُسے دیں گے جس نے پایا، اگرچہ دونوں نے شرکت کے ساتھ کام کیا ہے کہ یہ شر کت فاسدہ ہے اور اگر شرکت کی صورت میں دونوں نے پایا اور یہ نہیں معلوم کہ کتنا کس نے پایا تو نصف نصف کے شریک ہیں اور اس صورت میں اگر ایک نے پایا اور دوسرے نے مدد کی تو وہ پانے والے کا ہے اور مددگار کو کام کی مزدوری دی جائے گی اور اگر دفینہ نکالنے پر مزدور رکھا تو جو برآمد ہوگا مزدور کو ملے گا، مستاجر کو کچھ نہیں کہ یہ اجارہ فاسد (4) ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: دفینہ میں نہ اسلامی علامت ہے، نہ کفر کی تو زمانہ کفر کا قرار دیا جائے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: صحرائے دارالحرب میں سے جوکچھ نکلا معدنی ہو یا دفینہ اُس میں خمس نہیں، بلکہ کُل پانے والے کو ملے گا اور اگربہت سے لوگ بطور غلبہ کے نکال لائے تو اس میں خمس لیا جائے گاکہ یہ غنیمت ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: مسلمان دارالحرب میں امن لے کر گیا اور وہاں کسی کی مملوک زمین سے خزانہ یا کان نکالی تو مالکِ زمین کوواپس دے اور اگر واپس نہ کیا بلکہ دارالاسلام میں لے آیا تو یہی مالک ہے مگر مِلک خبیث ہے، لہٰذا تصدق کرے اور بیچ ڈالا تو
1 ۔ یعنی دفن کیے ہوا مال۔
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب الرکاز، ج۳، ص۳۰۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الخامس في المعادن والرکاز، ج۱، ص۱۸۴.
4 ۔
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب الرکاز، ج۳، ص۳۰۸.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الخامس في المعادن والرکاز، ج۱، ص۱۸۵.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب الرکاز، ج۳، ص۳۰۹.
بیع صحیح ہے، مگر خریدار کے لیے بھی خبیث ہے اور اگر امان لے کر نہیں گیا تھا تو یہ مال اس کے لیے حلال ہے، نہ واپس کرے نہ اس میں خمس لیا جائے۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۲: خمس مساکین کا حق ہے کہ بادشاہِ اسلام اُن پر صرف کرے اور اگر اُس نے بطور خود مساکین کو دے دیا جب بھی جائز ہے، بادشاہِ اسلام کو خبر پہنچے تو اُسے برقرار رکھے اور اُس کے تصرف کو نافذ کر دے اور اگر یہ خود مسکین ہے تو بقدرِ حاجت اپنے صرف میں لا سکتا ہے اور اگر خمس نکالنے کے بعد باقی دو سو درم کی قدر ہے تو خُمس اپنے صرف میں نہیں لا سکتا کہ اب یہ فقیرنہیں ہاں اگر مدیُون ہو کہ دَین نکالنے کے بعد دو سو درم کی قدر باقی نہیں رہتا تو خُمس اپنے صرف میں لا سکتا ہے اور اگر ماں باپ یا اولاد جو مساکین ہیں، اُن کو خُمس دیدے تو یہ بھی جائز ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(وَاٰتُوۡا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ ۫ۖ) (3)
کھیتی کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو۔
حدیث ۱: صحیح بخاری شریف میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس زمین کو آسمان یا چشموں نے سیراب کیا یا عشری ہو یعنی نہر کے پانی سے اسے سیراب کرتے ہوں، اُس میں عشر ہے اور جس زمین کے سیراب کرنے کے لیے جانور پر پانی لاد کر لاتے ہوں، اُس میں نصف عشر (4) یعنی بیسواں حصہ۔''
حدیث ۲: ابن نجار انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: کہ ''ہر اُس شے میں جسے زمین نے نکالا، عشر یا نصف عشر ہے۔'' (5)
زمین تین قسم ہے:
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب الرکاز، ج۳، ص۳۰۹.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب الرکاز، ج۳، ص۳۱۱.
3 ۔ پ۸، الانعام: ۱۴۱.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب في العشر فیما من ماء السماء... الخ، الحدیث: ۱۴۸۳، ج۱، ص۵۰۱.
5 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الزکاۃ، زکاۃ النبات والفواکہ، الحدیث: ۱۵۸۷۳، ج۶، ص۱۴۰.
(۱) عشری۔ (۲) خراجی۔ (۳) نہ عشری، نہ خراجی۔
اوّل و سوم دونوں کا حکم ایک ہے یعنی عشر دینا۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی زمینیں خراجی نہ سمجھی جائیں گی، جب تک کسی خاص زمین کی نسبت خراجی ہونا دلیل شرعی سے ثابت نہ ہو لے۔ عشری ہونے کی بہت سی صورتیں ہیں مثلاً مسلمانوں نے فتح کیا اور زمین مجاہدین پر تقسیم ہوگئی یا وہاں کے لوگ خودبخود مسلمان ہوگئے، جنگ کی نوبت نہ آئی یا عشری زمین کے قریب پڑتی تھی، اسے کاشت میں لایا یا اُس پڑتی کو کھیت بنایا جو عشری و خراجی دونوں سے قرب و بعد کی یکساں نسبت رکھتی ہے یا اس کھیت کو عشری پانی سے سیراب کیا یا خراجی و عشری دونوں سے یا مسلمان نے اپنے مکان کو باغ یا کھیت بنا لیا اور اسے عشری پانی سے سیراب کرتا ہے ۔یا عشری و خراجی دونوں سے یا عشری زمین کافر ذمّی نے خریدی، مسلمان نے شفعہ میں اُسے لے لیا یا بیع فاسد ہوگئی یا خیار شرط یا خیار رویت کی وجہ سے واپس ہوئی یا خیار عیب (1) کی وجہ سے قاضی کے حکم سے واپس ہوئی ۔
اور بہت صورتوں میں خراجی ہے مثلاً فتح کر کے وہیں والوں کو احسان کے طور پر واپس دی یا دوسرے کافروں کو دے دی یا وہ ملک صلح کے طور پر فتح کیا گیا یا ذمّی نے مسلمان سے عشری زمین خرید لی یا خراجی زمین مسلمان نے خریدی یا ذمّی نے بادشاہِ اسلام کے حکم سے بنجرکو آباد کیا یا بنجر زمین ذمّی کو دے دی گئی یا اسے مسلمان نے آباد کیا اور وہ خراجی زمین کے پاس تھی یا اسے خراجی پانی سے سیراب کیا۔ خراجی زمین اگرچہ عشری پانی سے سیراب کی جائے، خراجی ہی رہے گی
اور خراجی و عشری دونوں نہ ہوں، مثلاً مسلمانوں نے فتح کر کے اپنے لیے قیامت تک کے لیے باقی رکھی یا اس زمین کے مالک مر گئے اور زمین بیت المال کی مِلک ہوگئی۔
مسئلہ ۱: خراج دو قسم ہے:
(۱) خراج مقاسمہ کہ پیداوار کا کوئی حصہ آدھا یا تہائی یا چوتھائی وغیرہا مقرر ہو، جیسے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہودِ خیبر پر مقرر فرمایا تھا۔ اور
(۲) خراج مؤظف کہ ایک مقدار معیّن لازم کر دی جائے خواہ روپے، مثلاً سالانہ دو روپے بیگھہ یا کچھ اور جیسے فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مقرر فرمایا تھا۔
مسئلہ ۲: اگر معلوم ہو کہ سلطنت اسلامیہ میں ا تنا خراج مقرر تھا تووہی دیں، بشرطیکہ خراج مؤظف میں جہاں جہاں فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مقدار منقول ہے، اس پر زیادت نہ ہو اور جہاں منقول نہیں اس میں نصف پیداوار سے زیادہ
1 ۔ بیع فاسد، خیار شرط، خیار رویت اور خیار عیب کی تفصیلی معلومات کے لیے بہارِ شریعت حصہ ۱۱، ملاحظہ فرمائیں۔
نہ ہو۔ یوہیں خراج مقاسمہ میں نصف سے زیادت نہ ہو اور یہ بھی شرط ہے کہ زمین اُتنے دینے کی طاقت بھی رکھتی ہو۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: اگر معلوم نہ ہو کہ سلطنتِ اسلام میں کیا مقرر تھا تو جہاں جہاں فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مقرر فرمادیا ہے، وہ دیں اور جہاں مقرر نہ فرمایا ہو نصف دیں۔ (2) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۴: فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ مقرر فرمایا تھا کہ ہر قسم کے غلّہ میں فی جریب ایک درم اور اُس غلّہ کا ایک صاع اور خربوزے، تربوز کی پالیز اور کھیرے، ککڑی، بیگن وغیرہ ترکاریوں میں فی جریب پانچ درم انگور و خرما کے گھنے باغوں میں جن کے اندر زراعت نہ ہو سکے۔ دس درم پھر زمین کی حیثیت اور اس شخص کی قدرت کا اعتبار ہے، اس کا اعتبار نہیں کہ اُس نے کیا بویا یعنی جو زمین جس چیز کے بونے کے لائق ہے اور یہ شخص اُس کے بونے پر قادر ہے تو اس کے اعتبار سے خراج ادا کرے، مثلاً انگور بو سکتا ہے تو انگور کا خراج دے، اگرچہ گیہوں بوئے اور گیہوں کے قابل ہے تو اس کا خراج ادا کرے اگرچہ جَو بوئے۔ جریب کی مقدار انگریزی گز سے ۳۵ گز طول، ۳۵ گز عرض ہے اور صاع دو سو اٹھاسی ۲۸۸ روپیہ بھر اور دس درم کے ۹ ــــ ۳ ۵ پائی پانچ درم ۶ عہ / ۴ ــــ ۴ ۵ پائی اور ایک درم ۴ / ۵ ۱۹ ۲۵ پائی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۵: جہاں اسلامی سلطنت نہ ہو، وہاں کے لوگ بطورِ خود فقرا وغیرہ جو مصارفِ خراج ہیں، اُن پر صرف کریں۔
مسئلہ ۶: عشری زمین سے ایسی چیز پیدا ہوئی جس کی زراعت سے مقصود زمین سے منافع حاصل کرنا ہے تو اُس پیداوار کی زکاۃ فرض ہے اور اس زکاۃ کا نام عشر ہے یعنی دسواں حصہ کہ اکثر صورتوں میں دسواں حصہ فرض ہے، اگرچہ بعض صورتوں میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ لیا جائے گا۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: عشر واجب ہونے کے لیے عاقل، بالغ ہونا شرط نہیں، مجنون اور نابالغ کی زمین میں جو کچھ پیدا ہوا اس میں بھی عشر واجب ہے۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۸: خوشی سے عشر نہ دے تو بادشاہِ اسلام جبراً لے سکتا ہے اور اس صورت میں بھی عشر ادا ہو جائے گا، مگر ثواب کا
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الجہاد، باب العشر و الخراج و الجزیۃ، مطلب في خراج المقاسمۃ، ج۶،
ص۲۹۲ ۔ ۲۹۴.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱۰، ص۲۳۸.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الجہاد، باب العشر و الخراج و الجزیۃ، ج۶، ص۲۹۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زکاۃ الزرع والثمار، ج۱، ص۱۸۵.
5 ۔ المرجع السابق، وغیرہ.
مستحق نہیں اور خوشی سے ادا کرے تو ثواب کا مستحق ہے۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۹: جس پر عشر واجب ہوا، اُس کا انتقال ہوگیا اور پیداوار موجود ہے تو اس میں سے عشر لیا جائے گا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: عشر میں سال گزرنا بھی شرط نہیں، بلکہ سال میں چند بار ایک کھیت میں زراعت ہوئی تو ہر بار عشر واجب ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: اس میں نصاب بھی شرط نہیں، ایک صاع بھی پیداوار ہو تو عشر واجب ہے اور یہ شرط بھی نہیں کہ وہ چیز باقی رہنے والی ہو اور یہ شرط بھی نہیں کہ کاشتکار زمین کا مالک ہو یہاں تک کہ مکاتب و ماذون نے کاشت کی تو اس پیداوار پر بھی عشر واجب ہے، بلکہ وقفی زمین میں زراعت ہوئی تو اس پر بھی عشر واجب ہے، خواہ زراعت کرنے والے اہلِ وقف ہوں یا اُجرت پر کاشت کی۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: جو چیزیں ایسی ہوں کہ اُن کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو اُن میں عشر نہیں، جیسے ایندھن، گھاس، نرکل، سنیٹھا، جھاؤ، کھجور کے پتّے، خطمی، کپاس، بیگن کا درخت، خربزہ، تربز، کھیرا، ککڑی کے بیج۔ یوہیں ہر قسم کی ترکاریوں کے بیج کہ اُن کی کھیتی سے ترکاریاں مقصود ہوتی ہیں، بیج مقصود نہیں ہوتے۔ یوہیں جو بیج دوا ہیں مثلاً کندر، میتھی، کلونجی اوراگر نرکل، گھاس، بید، جھاؤ وغیرہ سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لیے خالی چھوڑ دی تو اُن میں بھی عشر واجب ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۱۳: جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے، اس میں عُشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے اور جس کی آبپاشی چرسے (6) یا ڈول سے ہو، اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب اور پانی خرید کر آبپاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی مِلک ہے، اُس سے خرید کر آبپاشی کی جب بھی نصف عشر واجب ہے اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں مینھ کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زکاۃ الزرع والثمار، ج۱، ص۱۸۵.وغیرہ.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۳.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۵، وغیرہما.
6 ۔ یعنی چمڑے کا بڑا ڈول۔
اور کچھ دنوں ڈول چر سے سے تو اگر اکثر مینھ (1) کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول چرسے سے تو عشر واجب ہے، ورنہ نصف عشر۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: عشری زمین یا پہاڑ یا جنگل میں شہد ہوا، اس پر عشر واجب ہے۔ یوہیں پہاڑ اور جنگل کے پھلوں میں بھی عشر واجب ہے، بشرطیکہ بادشاہِ اسلام نے حربیوں اور ڈاکوؤں اور باغیوں سے اُن کی حفاظت کی ہو، ورنہ کچھ نہیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: گیہوں، جَو، جوار، باجرا، دھان (4) اور ہر قسم کے غلّے اور السی، کسم، اخروٹ، بادام اور ہر قسم کے میوے، روئی، پھول، گنا، خربزہ، تربز، کھیرا، ککڑی، بیگن اور ہر قسم کی ترکاری سب میں عشر واجب ہے(5)، تھوڑا پیدا ہو یا زیادہ۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: جس چیز میں عشر یا نصف عشر واجب ہوا اس میں کُل پیداوار کا عشر یا نصف عشر لیاجائے گا، یہ نہیں ہوسکتا کہ مصارف زراعت، ہل بیل، حفاظت کرنے والے اور کام کرنے والوں کی اُجرت یا بیج وغیرہ نکال کر باقی کا عشر یا نصف عشر دیا جائے۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: عشر صرف مسلمانوں سے لیا جائے گا، یہاں تک کہ عشری زمین مسلمان سے ذمّی نے خرید لی اور قبضہ بھی کر لیا تو اب ذمّی سے عشر نہیں لیا جائے گا بلکہ خراج لیا جائے گا اور مسلمان نے ذمّی سے خراجی زمین خریدی تو یہ خراجی ہی رہے گی۔ اُس مسلمان سے اس زمین کا عشر نہ لیں گے بلکہ خراج لیا جائے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: ذمّی نے مسلمان سے عشری زمین خریدی پھر کسی مسلمان نیشفعہ میں وہ زمین لے لی یا کسی وجہ سے بیع فاسد ہوگئی تھی اور بائع کے پاس واپس ہوئی یا بائع کو خیار شرط تھا یا کسی کو خیار رویت تھا اس وجہ سے واپس ہوئی یا مشتری کو خیار عیب
1 ۔ بارش۔
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۳ ۔ ۳۱۶.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۱ ۔ ۳۱۳.
4 ۔ چاول۔
5 ۔ مثلاً دس مَن میں ایک مَن، دس سیر میں ایک سیر یا دس پھل میں ایک پھل۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زکاۃ الزرع والثمار، ج۱، ص۱۸۶.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، مطلب مہم: في حکم اراضی مصر... إلخ، ج۳، ص۳۱۷.
8 ۔ المرجع السابق، ص۳۱۸.
تھااور حکم قاضی سے واپس ہوئی، ان سب صورتوں میں پھر عشری ہی ہے اور اگر خیار عیب میں بغیر حکم قاضی واپس ہوئی تو اب خراجی ہی رہے گی۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: مسلمان نے اپنے گھر کو باغ بنا لیا، اگر اس میں عشری پانی دیتا ہے تو عشری ہے اور خراجی پانی دیتا ہے تو خراجی اور دونوں قسم کے پانی دیتا ہے، جب بھی عشری اور ذمّی نے اپنے گھر کو باغ بنایا تو مطلقاً خراج لیں گے۔ آسمان اور کوئیں اور چشمہ اور دریا کا پانی عشری ہے اور جو نہر عجمیوں نے کھودی اس کا پانی خراجی ہے۔ کافروں نے کوآں کھودا تھا اور اب مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا یا خراجی زمین میں کھودا گیا وہ بھی خراجی ہے۔ (2) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: مکان یا مقبرہ میں جو پیداوار ہو، اُس میں نہ عشر ہے نہ خراج۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: زفت اور نفط کے چشمے عشری زمین میں ہوں یا خراجی میں اُن میں کچھ نہیں لیا جائے گا، البتہ اگر خراجی زمین میں ہوں اور آس پاس کی زمین قابل زراعت ہو تو اس زمین کا خراج لیا جائے گا، چشمہ کا نہیں اور عشری زمین میں ہوں تو جب تک آس پاس کی زمین میں زراعت نہ ہو کچھ نہیں لیا جائے گا، فقط قابلِ زراعت ہونا کافی نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: جو چیز زمین کی تابع ہو،جیسے درخت اور جو چیز درخت سے نکلے جیسے گوند اس میں عشر نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: عشر اس وقت لیا جائے جب پھل نکل آئیں اور کام کے قابل ہو جائیں اور فساد کا اندیشہ جاتا رہے، اگرچہ ابھی توڑنے کے لائق نہ ہوئے ہوں۔ (6) (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۲۴: خراج ادا کرنے سے پیشتر اُس کی آمدنی کھانا حلال نہیں۔ یوہیں عشر ادا کرنے سے پیشتر مالک کو کھانا حلال نہیں، کھائے گا تو ضمان دے گا۔ یوہیں اگر دوسرے کو کھلایا تو اتنے کے عشر کا تاوان دے اور اگر یہ ارادہ ہے کہ کُل کا عشر ادا کر دے گا تو کھانا حلال ہے۔ (7) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، مطلب مہم: في حکم اراضی مصر... إلخ، ج۳، ص۳۱۸.
2 ۔ المرجع السابق، ص۳۱۹، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زکاۃ الزرع والثمار، ج۱، ص۱۸۶.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۲۰. 4 ۔ المرجع السابق، ص۳۲۱.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زکاۃ الزرع والثمار، ج۱، ص۱۸۶.
6 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الزروع و الثمار، ص۱۶۲.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زکاۃ الزرع والثمار، ج۱، ص۱۸۷.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، مطلب مہم: في حکم اراضی مصر... إلخ، ج۳، ص۳۲۱.
مسئلہ ۲۵: بادشاہِ اسلام کو اختیار ہے کہ خراج لینے کے لیے غلّہ کو روک لے مالک کو تصرف نہ کرنے دے اور اس نے کئی سال کا خراج نہ دیا ہو اور عاجز ہو تو اگلی برسوں کا معاف ہے اور عاجز نہ ہو تو لیں گے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: زراعت پر قادر ہے اور بویا نہیں تو خراج واجب ہے اور عشر جب تک کاشت نہ کرے اور پیداوار نہ ہو واجب نہیں۔ (2) (درمختار )
مسئلہ ۲۷: کھیت بویا مگر پیداوار ماری گئی مثلاً کھیتی ڈوب گئی یا جل گئی یا ٹیری کھا گئی یا پالے اور لُو سے جاتی رہی تو عشر و خراج دونوں ساقط ہیں، جب کہ کُل جاتی رہی اور اگر کچھ باقی ہے تو اس باقی کا عشر لیں گے اور اگر چوپائے کھا گئے تو ساقط نہیں اور ساقط ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ اس کے بعداس سال کے اندراس میں دوسری زراعت طیار نہ ہو سکے اور یہ بھی شرط ہے کہ توڑنے یا کاٹنے سے پہلے ہلاک ہو ورنہ ساقط نہیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: خراجی زمین کسی نے غصب کی اور غصب سے انکار کرتا ہے اور مالک کے پاس گواہ بھی نہیں، تو اگر کاشت کرے خراج غاصب پر ہوگا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: بیع وفا یعنی جس بیع میں یہ شرط ہو کہ بائع جب ثمن مشتری کو واپس دے گا تو مشتری مبیع پھیر دے گا تو جب خراجی زمین اس طور پر کسی کے ہاتھ بیچے اور بائع کے قبضہ میں زمین ہے تو خراج بائع پر اور مشتری کے قبضہ میں ہو اور مشتری نے بویا بھی تو خراج مشتری پر۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: طیار ہونے سے پیشتر زراعت بیچ ڈالی تو عشر مشتری پر ہے، اگرچہ مشتری نے یہ شرط لگائی کہ پکنے تک زراعت کاٹی نہ جائے بلکہ کھیت میں رہے اور بیچنے کے وقت زراعت طیار تھی تو عشر بائع پر ہے اور اگر زمین و زراعت دونوں یا صرف زمین بیچی اور اس صورت میں سال پورا ہونے میں اتنا زمانہ باقی ہے کہ زراعت ہو سکے، تو خراج مشتری پر ہے ورنہ بائع پر۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، مطلب مہم: في حکم اراضی مصر... إلخ، ج۳، ص۳۲۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۲۳.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، مطلب مہم: في حکم اراضی مصر... إلخ، ج۳، ص۳۲۳.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۲۳.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، مطلب مہم: في حکم اراضی مصر... إلخ، ج۳، ص۳۲۴.
6 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۳۱: عشری زمین عاریۃً دی تو عشر کاشتکار پر ہے مالک پر نہیں اور کافر کو عاریت دی تو مالک پر عشر ہے۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۳۲: عشری زمین بٹائی پر دی تو عشر دونوں پر ہے اور خراجی زمین بٹائی پر دی تو خراج مالک پر ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: زمین جو زراعت کے لیے نقدی پر دی جاتی ہے، امام کے نزدیک اُس کا عشر زمیندار پر ہے اور صاحبین (3) کے نزدیک کاشتکار پر اور علامہ شامی نے یہ تحقیق فرمائی کہ حالت زمانہ کے اعتبار سے اب قول صاحبین پر عمل ہے۔ (4)
مسئلہ ۳۴: گورنمنٹ کو جو مالگذاری دی جاتی ہے، اس سے خراج شرعی نہیں ادا ہوتا بلکہ وہ مالک کے ذمہ ہے اُس کا ادا کرنا ضروری اور خراج کا مصرف صرف لشکر اسلام نہیں، بلکہ تمام مصالح عامہ مسلمین ہیں جن میں تعمیر مسجد و خرچ مسجد و وظیفہ امام و مؤذن و تنخواہ مدرسینِ علمِ دین و خبر گیری طلبہ علمِ دین و خدمتِ علمائے اہلسنت حامیانِ دین جو وعظ کہتے ہیں اور علمِ دین کی تعلیم کرتے اور فتوے کے کام میں مشغول رہتے ہوں اور پُل و سرا بنانے میں بھی صرف کیا جا سکتا ہے۔ (5) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۳۵: عشر لینے سے پہلے غلّہ بیچ ڈالا تو مصدق کو اختیار ہے کہ عشر مشتری سے لے یا بائع سے اور اگر جتنی قیمت ہونی چاہیے اُس سے زیادہ پر بیچا تو مصدق کو اختیار ہے کہ غلّہ کا عشر لے یا ثمن کا عشر اور اگر کم قیمت پر بیچا اور اتنی کمی ہے کہ لوگ اتنے نقصان پر نہیں بیچتے تو غلّہ ہی کا عشر لے گا اور وہ غلّہ نہ رہا تو اُس کا عشر قرار دے کر بائع سے لیں یا اُس کی واجبی قیمت۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: انگور بیچ ڈالے تو ثمن کا عشر لے اور شیرہ کر کے بیچا تو اسکی قیمت کا عشر لے۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زکاۃ الزرع والثمار، ج۱، ص۱۸۷.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، مطلب: ھل یجب العشرعلی المزارعین في الاراضی السلطانیۃ، ج۳،
ص۳۲۷ ۔ ۳۲۸.
3 ۔ فقہ حنفی میں امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیھما کو کہتے ہیں۔
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، مطلب مہم: في حکم اراضی مصر وشام السلطانیۃ، ج۳، ص۳۲۵.
5 ۔ ''الفاوی الرضویۃ'' (الجدیدۃ)، کتاب الزکاۃ، رسالہ افصح البیان، ج۱۰، ص۲۲۳.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زکاۃ الزرع والثمار، ج۱، ص۱۸۷.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زکاۃ الزرع والثمار، ج۱، ص۱۸۷.
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیۡنِ وَ الْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیۡنَ وَفِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۶۰﴾ ) (1)
صدقات فقرا و مساکین کے لیے ہیں اور انکے لیے جو اس کام پر مقرر ہیں اور وہ جن کے قلوب کی تالیف مقصود ہے اور گردن چھڑانے میں اور تاوان والے کے لیے اور اﷲ (عزوجل) کی راہ میں اور مسافر کے لیے، یہ اﷲ (عزوجل) کی طرف سے مقرر کرنا ہے اور اﷲ (عزوجل) علم و حکمت والا ہے۔
حدیث ۱: سنن ابی داود میں زیاد بن حارث صدائی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''اﷲ تعالیٰ نے صدقات کو نبی یا کسی اور کے حکم پر نہیں رکھا بلکہ اُس نے خود اس کا حکم بیان فرمایا اور اُس کے آٹھ حصے کیے۔'' (2)
حدیث ۲: امام احمد و ابو داود و حاکم ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''غنی کے لیے صدقہ حلال نہیں مگر پانچ شخص کے لیے:
(۱) اﷲ (عزوجل) کی راہ میں جہاد کرنے والا یا
(۲) صدقہ پر عامل یا
(۳) تاوان والے کے لیے یا
(۴) جس نے اپنے مال سے خرید لیا ہو یا
(۵) مسکین کو صدقہ دیا گیا اور اس مسکین نے اپنے پڑوسی مالدار کو ہدیہ کیا۔'' (3) اور احمد و بیہقی کی دوسری روایت میں مسافر کے لیے بھی جواز آیا ہے۔ (4)
حدیث ۳: بیہقی نے حضرت مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ فرمایا: ''صدقہ مفروضہ میں اولاد اور والد کا
1 ۔ پ۱۰، التوبۃ : ۶۰.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب یعطیٰ من الصدقۃ وحدالغنی، الحدیث: ۱۶۳۰، ج۲، ص۱۶۵.
3 ۔ ''المستدرک'' للحاکم، کتاب الزکاۃ، باب مقدار الغنی الذی یحرم السؤال، الحدیث: ۱۵۲۰، ج۲، ص۲۹.
4 ۔ انظر: ''السنن الکبری'' للبیہقي، کتاب قسم الصدقات، باب العامل علی الصدقۃ یاخذ منھا بقدر عملہ... إلخ،
الحدیث: ۱۳۱۶۷، ج۷، ص۲۳.
حق نہیں۔'' (1)
حدیث ۴: طبرانی کبیر میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اے بنی ہاشم! تم اپنے نفس پر صبر کرو کہ صدقات آدمیوں کے دھوون ہیں۔'' (2)
حدیث ۵تا۷: امام احمد و مسلم مطلب بن ربیعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: آلِ محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیے صدقہ جائز نہیں کہ یہ تو آدمیوں کے مَیل ہیں۔'' (3)
اور ابن سعد کی روایت امام حسن مجتبےٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر اور میری اہلِ بیت پر صدقہ حرام فرما دیا۔'' (4)
اور ترمذی و نسائی و حاکم کی روایت ابو رافع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں اور جس قوم کا آزاد کردہ غلام ہو، وہ انھیں میں سے ہے۔'' (5)
حدیث ۸: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ امام حسن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے صدقہ کا خرما لے کر منھ میں رکھ لیا۔ اس پر حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''چھی چھی کہ اُسے پھینک دیں، پھر فرمایا: کیا تمھیں نہیں معلوم کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔'' (6) طہمان وبہز بن حکیم و براء و زید بن ارقم و عمرو بن خارجہ و سلمان وعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ و میمون و کیسان و ہرمزو خارجہ بن عمرو و مغیرہ و انس وغیرہم رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے بھی روایتیں ہیں کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی اہلِ بیت کے لیے صدقات ناجائز ہیں۔ (7)
مسئلہ ۱: زکاۃ کے مصارف سات ہیں:
(۱) فقیر
1 ۔ ''السنن الکبری''، کتاب قسم الصدقات باب المراۃ تصیرف من زکاتھا في زوجھا، الحدیث: ۱۳۲۲۹، ج۷، ص۴۵.
2 ۔ ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۱۲۹۸۰، ج۱۲، ص۱۸۲.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب ترک استعمال آل النبی علی الصدقۃ، الحدیث: ۱۰۷۲، ص۵۳۹.
4 ۔ ''الطبقات الکبری''لابن سعد، ج۱،ص۲۹۷
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزکاۃ، باب ماجاء في کراہیۃ الصدقۃ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم وأھل بیتہٖ وموالیہ،
الحدیث: ۶۵۷، ج۲، ص۱۴۲.
6 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب مایذکر في الصدقۃ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم وآلہ، الحدیث: ۱۴۹۱، ج۱، ص۵۰۳.
7 ۔ انظر: ''کنز العمال''، کتاب الزکاۃ، ج۶، ص۱۹۵ ۔ ۱۹۶.
(۲) مسکین
(۳) عامل
(۴) رقاب
(۵) غارم
(۶) فی سبیل اﷲ
(۷) ابن سبیل۔ (1)
مسئلہ ۲: فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ ہو مگر نہ اتنا کہ نصاب کو پہنچ جائے یا نصاب کی قدر ہو تو اُس کی حاجتِ اصلیہ میں مستغرق ہو، مثلاً رہنے کا مکان پہننے کے کپڑے خدمت کے لیے لونڈی غلام، علمی شغل رکھنے والے کو دینی کتابیں جو اس کی ضرورت سے زیادہ نہ ہوں جس کا بیان گزرا۔ یوہیں اگر مدیُون ہے اور دَین نکالنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے، تو فقیر ہے اگرچہ اُس کے پاس ایک تو کیا کئی نصابیں ہوں۔ (2) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۳: فقیر اگر عالم ہو تو اُسے دینا جاہل کو دینے سے افضل ہے۔ (3) (عالمگیری) مگر عالم کو دے تو اس کا لحاظ رکھے کہ اس کا اعزاز مدّنظر ہو، ادب کے ساتھ دے جیسے چھوٹے بڑوں کو نذر دیتے ہیں اور معاذاﷲ عالمِ دین کی حقارت اگر قلب میں آئی تو یہ ہلاکت اور بہت سخت ہلاکت ہے۔
مسئلہ ۴: مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں تک کہ کھانے اور بدن چھپانے کے لیے اس کا محتاج ہے کہ لوگوں سے سوال کرے اور اسے سوال حلال ہے، فقیر کو سوال ناجائز کہ جس کے پاس کھانے اور بدن چھپانے کو ہو اُسے بغیر ضرورت و مجبوری سوال حرام ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: عامل وہ ہے جسے بادشاہِ اسلام نے زکاۃ اور عشر وصول کرنے کے لیے مقرر کیا، اسے کام کے لحاظ سے اتنا دیا جائے کہ اُس کو اور اُس کے مددگاروں کا متوسط طور پر کافی ہو، مگر اتنا نہ دیا جائے کہ جو وصول کر لایا ہے اس کے نصف سے زیادہ ہوجائے۔ (5) (درمختار وغیرہ)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۳ ۔ ۳۴۰.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۳. وغیرہ
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۷.
4 ۔ المرجع السابق، ص۱۸۷ ۔ ۱۸۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۴ ۔ ۳۳۶، وغیرہ.
مسئلہ ۶: عامل اگرچہ غنی ہو اپنے کام کی اُجرت لے سکتا ہے اور ہاشمی ہو تو اس کو مالِ زکاۃ میں سے دینا بھی ناجائز اور اُسے لینا بھی ناجائز ہاں اگر کسی اور مد سے دیں تو لینے میں بھی حرج نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: زکاۃ کا مال عامل کے پاس سے جاتا رہا تو اب اسے کچھ نہ ملے گا ،مگر دینے والوں کی زکاتیں ادا ہوگئیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: کوئی شخص اپنے مال کی زکاۃ خود لے کر بیت المال میں دے آیا تو اُس کا معاوضہ عامل نہیں پائے گا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: وقت سے پہلے معاوضہ لے لیا یا قاضی نے دے دیا یہ جائز ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ پہلے نہ دیں اور اگرپہلے لے لیا اور وصول کیا ہوا مال ہلاک ہوگیا تو ظاہر یہ کہ واپس نہ لیں گے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: رقاب سے مراد مکاتب غلام کو دینا کہ اس مالِ زکاۃ سے بدلِ کتابت ادا کرے اور غلامی سے اپنی گردن رہا کرے۔ (5) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱۱: غنی کے مکاتب کو بھی مالِ زکاۃ دے سکتے ہیں اگرچہ معلوم ہے کہ یہ غنی کا مکاتب ہے۔ مکاتب پورا بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز ہوگیا اور پھر بدستور غلام ہوگیا تو جو کچھ اُس نے مالِ زکاۃ لیا ہے، اس کو مولیٰ تصرف میں لا سکتا ہے اگرچہ غنی ہو۔ (6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۲: مکاتب کو جو زکاۃ دی گئی وہ غلامی سے رہائی کے لیے ہے، مگر اب اسے اختیار ہے دیگر مصارف میں بھی خرچ کر سکتا ہے، اگر مکاتب کے پاس بقدرِ نصاب مال ہے اور بدلِ کتابت سے بھی زیادہ ہے، جب بھی زکاۃ دے سکتے ہیں مگر ہاشمی کے مکاتب کو زکاۃ نہیں دے سکتے۔ (7) (عالمگیری، ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۴.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۶.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۷، وغیرہ .
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸.
و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۷.
مسئلہ ۱۳: غارم سے مُراد مدیُون ہے یعنی اس پر اتنا دَین ہو کہ اُسے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے، اگرچہ اس کا اَوروں پر باقی ہو مگر لینے پر قادر نہ ہو، مگر شرط یہ ہے کہ مدیُون ہاشمی نہ ہو۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۴: فی سبیل اﷲ یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنا اس کی چند صورتیں ہیں، مثلاً کوئی شخص محتاج ہے کہ جہاد میں جانا چاہتا ہے، سواری اور زادِ راہ اُس کے پاس نہیں تو اُسے مالِ زکاۃ دے سکتے ہیں کہ یہ راہِ خدا میں دینا ہے اگرچہ وہ کمانے پر قادر ہو یا کوئی حج کو جانا چاہتا ہے اور اُس کے پاس مال نہیں اُس کو زکاۃ دے سکتے ہیں، مگر اسے حج کے لیے سوال کرنا جائز نہیں۔
یا طالب علم کہ علمِ دین پڑھتا یا پڑھنا چاہتا ہے، اسے دے سکتے ہیں کہ یہ بھی راہِ خدا میں دینا ہے بلکہ طالبعلم سوال کر کے بھی مالِ زکاۃ لے سکتا ہے، جب کہ اُس نے اپنے آپ کو اسی کام کے لیے فارغ کر رکھا ہو اگرچہ کسب پر قادر ہو۔ یوہیں ہر نیک بات میں زکاۃ صَرف کرنا فی سبیل اﷲ ہے، جب کہ بطور تملیک (2) ہو کہ بغیر تملیک زکاۃ ادا نہیں ہوسکتی۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۵: بہت سے لوگ مالِ زکاۃ اسلامی مدارس میں بھیج دیتے ہیں ان کو چاہیے کہ متولّی مدرسہ کو اطلاع دیں کہ یہ مالِ زکاۃ ہے تاکہ متولّی اس مال کو جُدا رکھے اور مال میں نہ ملائے اور غریب طلبہ پر صَرف کرے، کسی کام کی اُجرت میں نہ دے ورنہ زکاۃ ادا نہ ہوگی۔
مسئلہ ۱۶: ابن السّبیل یعنی مسافر جس کے پاس مال نہ رہا زکاۃ لے سکتا ہے، اگرچہ اُس کے گھر مال موجود ہو مگر اُسی قدر لے جس سے حاجت پوری ہو جائے، زیادہ کی اجازت نہیں۔ یوہیں اگر مالک نصاب کا مال کسی میعاد تک کے لیے دوسرے پر دَین ہے اور ہنوز میعاد پوری نہ ہوئی اور اب اُسے ضرورت ہے یا جس پر اُس کا آتا ہے وہ یہاں موجود نہیں یا موجود ہے مگر نادار ہے یا دَین سے منکر ہے، اگرچہ یہ ثبوت رکھتا ہوتو ان سب صورتوں میں بقدرِ ضرورت زکاۃ لے سکتا ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ قرض ملے تو قرض لے کر کام چلائے۔ (4) (عالمگیری، درمختار) اور اگر دَین معجل ہے یا میعاد پوری ہوگئی اور مدیُون غنی حاضر ہے اور اقرار بھی کرتا ہے تو زکاۃ نہیں لے سکتا ،کہ اُس سے لے کر اپنی ضرورت میں صَرف کر سکتا ہے لہٰذا حاجت مند نہ ہوا۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ قرض جسے عرف میں لوگ دستگرداں کہتے ہیں، شرعاً ہمیشہ معجل ہوتا ہے کہ جب چاہے اس کا مطالبہ کر سکتا ہے، اگرچہ ہزار عہد و پیمان و وثیقہ و تمسک کے ذریعہ سے اس میں میعاد مقرر کی ہو کہ اتنی مدت کے بعد دیا جائے گا، اگرچہ یہ لکھ دیا ہو کہ اُس میعاد
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۹، وغیرہ.
2 ۔ یعنی جس کو دے، اسے مالک بنا دے۔
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۹، وغیرہ.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸.
و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۰.
سے پہلے مطالبہ کا اختیار نہ ہوگا اگر مطالبہ کرے تو باطل و نامسموع ہوگا کہ سب شرطیں باطل ہیں اور قرض دینے والے کو ہر وقت مطالبہ کا اختیار ہے۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۷: مسافر یا اس مالکِ نصاب نے جس کا اپنا مال دوسرے پر دَین ہے، بوقتِ ضرورت مالِ زکاۃ بقدرِ ضرورت لیا پھر اپنا مال مِل گیا مثلاً مسافر گھر پہنچ گیا یا مالکِ نصاب کا دَین وصول ہوگیا، تو جو کچھ زکاۃ میں کا باقی ہے اب بھی اپنے صَرف میں لاسکتا ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: زکاۃ دینے والے کو اختیار ہے کہ ان ساتوں قسموں کو دے یا ان میں کسی ایک کو دیدے، خواہ ایک قسم کے چند اشخاص کو یا ایک کو اور مالِ زکاۃ اگر بقدرِ نصاب نہ ہو تو ایک کو دینا افضل ہے اور ایک شخص کو بقدرِ نصاب دے دینا مکروہ، مگر دے دیا تو ادا ہوگئی۔ ایک شخص کو بقدرِ نصاب دینا مکروہ اُس وقت ہے کہ وہ فقیر مدیُون نہ ہو اور مدیُون ہو تو اتنا دے دینا کہ دَین نکال کر کچھ نہ بچے یا نصاب سے کم بچے مکروہ نہیں۔ یوہیں اگر وہ فقیر بال بچوں والا ہے کہ اگرچہ نصاب یا زیادہ ہے، مگر اہل و عیال پر تقسیم کریں تو سب کو نصاب سے کم ملتا ہے تو اس صورت میں بھی حرج نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: زکاۃ ادا کرنے میں یہ ضرور ہے کہ جسے دیں مالک بنا دیں، اباحت کافی نہیں، لہٰذا مالِ زکاۃ مسجد میں صَرف کرنا یا اُس سے میّت کو کفن دینا یا میّت کا دَین ادا کرنا یا غلام آزاد کرنا، پُل، سرا، سقایہ ، سڑک بنوا دینا، نہر یا کوآں کھدوا دینا ان افعال میں خرچ کرنا یا کتاب وغیرہ کوئی چیز خرید کر وقف کر دینا ناکافی ہے۔ (4) (جوہرہ، تنویر، عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: فقیر پر دَین ہے اس کے کہنے سے مالِ زکاۃ سے وہ دَین ادا کیا گیا زکاۃ ادا ہوگئی اور اگر اُس کے حکم سے نہ ہو تو زکاۃ ادا نہ ہوئی اور اگر فقیر نے اجازت دی مگر ادا سے پہلے مر گیا ،تو یہ دَین اگر مالِ زکاۃ سے ادا کریں زکاۃ ادا نہ ہوگی۔ (5) (درمختار) ان چیزوں میں مالِ زکاۃ صَرف کرنے کا حیلہ ہم بیان کر چکے، اگر حیلہ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔
مسئلہ ۲۱: (۱) اپنی اصل یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی وغیرہم جن کی اولاد میں یہ ہے (۲) اور اپنی اولاد بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی وغیرہم کو زکاۃ نہیں دے سکتا۔ یوہیں صدقہ فطر و نذر و کفّارہ بھی انھیں نہیں دے سکتا۔ رہا صدقہ نفل وہ دے
1 ۔
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸.
و ''تنویر الأبصار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۱ ۔ ۳۴۳.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۲.
سکتا ہے بلکہ بہتر ہے۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۲۲: زنا کا بچہ جو اُس کے نطفہ سے ہو یا وہ بچہ کہ اُس کی منکوحہ سے زمانہ نکاح میں پیدا ہوا، مگر یہ کہہ چکا کہ میرا نہیں انھیں نہیں دے سکتا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: بہو اور داماد اور سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ یا زوجہ کی اولاد یا شوہر کی اولاد کو دے سکتا ہے اور رشتہ داروں میں جس کا نفقہ اُس کے ذمہ واجب ہے، اُسے زکاۃ دے سکتا ہے جب کہ نفقہ میں محسوب نہ کرے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: ماں باپ محتاج ہوں اورحیلہ کر کے زکاۃ دینا چاہتا ہے کہ یہ فقیر کو دے دے پھر فقیر انھیں دے یہ مکروہ ہے۔ (4) (ردالمحتار) یوہیں حیلہ کر کے اپنی اولاد کو دینا بھی مکروہ ہے۔
مسئلہ ۲۵: (۳) اپنے یا اپنی اصل یا اپنی فرع یا اپنے زوج یا اپنی زوجہ کے غلام یا مکاتب (5) یا مدبّر (6) یا ام ولد (7) یا اُس غلام کو جس کے کسی جُز کایہ مالک ہو، اگرچہ بعض حصہ آزاد ہو چکا ہو زکاۃ نہیں دے سکتا۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: (۴) عورت شوہر کو (۵) اور شوہر عورت کو زکاۃ نہیں دے سکتا، اگرچہ طلاق بائن بلکہ تین طلاقیں دے چکا ہو، جب تک عدّت میں ہے اور عدّت پوری ہوگئی تو اب دے سکتا ہے۔ (9) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: (۶) جو شخص مالک نصاب ہو (جبکہ وہ چیز حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو یعنی مکان، سامان خانہ داری، پہننے کے کپڑے، خادم، سواری کا جانور، ہتھیار،اہلِ علم کے لیے کتابیں جو اس کے کام میں ہوں کہ یہ سب حاجتِ اصلیہ سے ہیں اور وہ چیز ان کے علاوہ ہو، اگرچہ اس پر سال نہ گزرا ہو اگرچہ وہ مال نامی نہ ہو) ایسے کو زکاۃ دینا جائز نہیں۔
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۴،وغیرہ.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۴.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۴.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ یعنی آقا اپنے غلام سے مال کی ایک مقدار مقرر کرکے یہ کہہ دے کہ اتنا ادا کردے تو آزاد ہے اور غلام اس کو قبول بھی کرلے۔
6 ۔ یعنی وہ غلام جس کی نسبت مولیٰ نے کہا کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے۔
7 ۔ یعنی وہ لونڈی جس کے بچہ پیدا ہوا اور مولیٰ نے اقرار کیا کہ یہ میرا بچہ ہے۔
تفصیلی معلومات کے لئے بہارِ شریعت حصہ ۹ میں مدبّر، مکاتب اور ام ولد کا بیان ملاحظہ فرمائیں۔
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۹.
9 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۵.
اور نصاب سے مرادیہاں یہ ہے کہ اُس کی قیمت دو سو ۲۰۰ درم ہو، اگرچہ وہ خود اتنی نہ ہو کہ اُس پر زکاۃ واجب ہو مثلاً چھ تولے سونا جب دو سو ۲۰۰ درم قیمت کا ہو تو جس کے پاس ہے اگرچہ اُس پر زکاۃ واجب نہیں کہ سونے کی نصاب ساڑھے سات تولے ہے مگر اس شخص کو زکاۃ نہیں دے سکتے یا اس کے پاس تیس بکریاں یا بیس گائیں ہوں جن کی قیمت دو سو ۲۰۰ درم ہے اسے زکاۃ نہیں دے سکتا، اگرچہ اس پر زکاۃ واجب نہیں یا اُس کے پاس ضرورت کے سوا اسباب ہیں جو تجارت کے لیے بھی نہیں اور وہ دو سو ۲۰۰ درم کے ہیں تو اسے زکاۃ نہیں دے سکتے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: صحیح تندرست کو زکاۃ دے سکتے ہیں، اگرچہ کمانے پر قدرت رکھتا ہو مگر سوال کرنا اسے جائز نہیں۔ (2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۹: (۷) جو شخص مالک نصاب ہے اُس کے غلام کو بھی زکاۃ نہیں دے سکتے، اگرچہ غلام اپاہج ہو اور اُس کا مولیٰ کھانے کو بھی نہیں دیتا یا اُس کا مالک غائب ہو، مگر مالکِ نصاب کے مکاتب کو اور اُس ماذون کودے سکتے ہیں جو خود اور اُس کا مال دَین میں مستغرق ہو۔ (۸) یوہیں غنی مرد کے نابالغ بچّے کو بھی نہیں دے سکتے اور غنی کی بالغ اولاد کو دے سکتے ہیں جب کہ فقیر ہوں۔ (3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۰: غنی کی بی بی کو دے سکتے ہیں جب کہ مالکِ نصاب نہ ہو۔ یوہیں غنی کے باپ کو دے سکتے ہیں جبکہ فقیر ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: جس عورت کا دَین مہر اس کے شوہر پر باقی ہے، اگرچہ وہ بقدر نصاب ہو اگرچہ شوہر مالدار ہو ادا کرنے پر قادر ہو اُسے زکاۃ دے سکتے ہیں۔ (5) (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۳۲: جس بچہ کی ماں مالک نصاب ہے، اگرچہ اس کا باپ زندہ نہ ہو اُسے زکاۃ دے سکتے ہیں۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: جس کے پاس مکان یا دکان ہے جسے کرایہ پر اٹھاتا ہے اور اُس کی قیمت مثلاً تین ہزار ہو مگر کرایہ اتنا
ـ1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، مطلب في حوائج الأصلیۃ، ج۳، ص۳۴۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۹، وغیرہ.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص ۳۴۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۹.
5 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، باب من یجوز دفع الصدقۃ الیہ ومن لا یجوز، ص۱۶۷.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص ۳۴۹.
نہیں جو اُس کی اور بال بچوں کی خورش کو کافی ہو سکے تو اُس کو زکاۃ دے سکتے ہیں۔ یوہیں اس کی مِلک میں کھیت ہیں جن کی کاشت کرتا ہے، مگر پیداوار اتنی نہیں جو سال بھر کی خورش کے لیے کافی ہو اُس کو زکاۃ دے سکتے ہیں، اگرچہ کھیت کی قیمت دو سو ۲۰۰ درم یا زائد ہو۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: جس کے پاس کھانے کے لیے غلّہ ہو جس کی قیمت دو سو ۲۰۰ درم ہو اور وہ غلّہ سال بھر کو کافی ہے، جب بھی اس کو زکاۃ دینا حلال ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: جاڑے (3) کے کپڑے جن کی گرمیوں میں حاجت نہیں پڑتی حاجت اصلیہ میں ہیں، وہ کپڑے اگرچہ بیش قیمت ہوں زکاۃ لے سکتا ہے، جس کے پاس رہنے کا مکان حاجت سے زیادہ ہو یعنی پورے مکان میں اس کی سکونت نہیں یہ شخص زکاۃ لے سکتا ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: عورت کو ماں باپ کے یہاں سے جو جہیز ملتا ہے اس کی مالک عورت ہی ہے، اس میں دو طرح کی چیزیں ہوتی ہیں ایک حاجت کی جیسے خانہ داری کے سامان، پہننے کے کپڑے، استعمال کے برتن اس قسم کی چیزیں کتنی ہی قیمت کی ہوں ان کی وجہ سے عورت غنی نہیں، دوسری وہ چیزیں جو حاجتِ اصلیہ سے زائد ہیں زینت کے لیے دی جاتی ہیں جیسے زیور اور حاجت کے علاوہ اسباب اور برتن اور آنے جانے کے بیش قیمت بھاری جوڑے، ان چیزوں کی قیمت اگر بقدر نصاب ہے عورت غنی ہے زکاۃ نہیں لے سکتی۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۷: موتی وغیرہ جواہر جس کے پاس ہوں اور تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان کی زکاۃ واجب نہیں، مگر جب نصاب کی قیمت کے ہوں تو زکاۃ لے نہیں سکتا۔ (6) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۳۸: جس کے مکان میں نصاب کی قیمت کا باغ ہو اور باغ کے اندر ضروریات مکان باورچی خانہ، غسل خانہ وغیرہ نہیں تو اسے زکاۃ لینا جائز نہیں۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۹.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، مطلب في حوائج الأصلیۃ، ج۳، ص۳۴۶.
3 ۔ یعنی سردی۔
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۷.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، مطلب في جہاز المرأۃ ہل تصیر بہ غنیۃ، ج۳، ص۳۴۷.
6 ۔ المرجع السابق، وغیرہ.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۹.
مسئلہ ۳۹: (۹) بنی ہاشم کوزکاۃ نہیں دے سکتے۔ نہ غیر انھیں دے سکے، نہ ایک ہاشمی دوسرے ہاشمی کو۔
بنی ہاشم سے مُراد حضرت علی و جعفر و عقیل اور حضرت عباس و حارث بن عبدالمطلب کی اولادیں ہیں۔ ان کے علاوہ جنھوں نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اعانت نہ کی، مثلاً ابو لہب کہ اگرچہ یہ کافر بھی حضرت عبدالمطلب کا بیٹا تھا، مگر اس کی اولادیں بنی ہاشم میں شمار نہ ہوں گی۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۴۰: بنی ہاشم کے آزاد کیے ہوئے غلاموں کو بھی نہیں دے سکتے تو جو غلام اُن کی مِلک میں ہیں، اُنھیں دینا بطریق اَولیٰ ناجائز۔ (2) (درمختار وغیرہ، عامہ کتب)
مسئلہ ۴۱: ماں ہاشمی بلکہ سیدانی ہو اور باپ ہاشمی نہ ہو تو وہ ہاشمی نہیں کہ شرع میں نسب باپ سے ہے، لہٰذا ایسے شخص کو زکاۃ دے سکتے ہیں اگر کوئی دوسرا مانع نہ ہو۔
مسئلہ ۴۲: صدقہ نفل اور اوقاف کی آمدنی بنی ہاشم کو دے سکتے ہیں، خواہ وقف کرنے والے نے ان کی تعیین کی ہو یا نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: (۱۰) ذمّی کافر کو نہ زکاۃ دے سکتے ہیں، نہ کوئی صدقہ واجبہ جیسے نذر و کفّارہ و صدقہ فطر (4) اور حربی کو کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں نہ واجبہ نہ نفل، اگرچہ وہ دارالاسلام میں بادشاہِ اسلام سے امان لے کر آیا ہو۔ (5) (درمختار) ہندوستان اگرچہ دارالاسلام ہے مگریہاں کے کفّار ذمّی نہیں، انھیں صدقات نفل مثلاً ہدیہ وغیرہ دینا بھی ناجائز ہے۔
فائدہ: جن لوگوں کو زکاۃ دینا ناجائز ہے انھیں اور بھی کوئی صدقہ واجبہ نذر و کفّارہ و فطرہ دینا جائز نہیں، سوا دفینہ اور معدن کے کہ ان کا خمس اپنے والدین و اولاد کو بھی دے سکتا ہے، بلکہ بعض صورت میں خود بھی صَرف کر سکتا ہے جس کا بیان
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۹،وغیرہ.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۵۱، وغیرہ.
3 ۔ المرجع السابق، ص۳۵۲.
4 ۔ فتاویٰ قاضی خان میں ہے، صدقہ فطر ذمی فقراء کو دینا جائز ہے مگر مکروہ ہے۔
(''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الصوم، فصل في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۱۱).
فتاویٰ عالمگیری میں ہے ،ذمی کافروں کو زکوۃ دینا بالاتفاق جائز نہیں اور نفلی صدقہ ان کو دینا جائز ہے۔ صدقہ فطر، نذر اور کفارات میں اختلاف ہے امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیھما فرماتے ہیں کہ جائز ہے مگر مسلمان فقراء کو دینا ہمیں زیادہ محبوب ہے۔
(''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸).
انظر: ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، مطلب في حوائج الأصلیۃ، ج۳، ص۳۵۳.
و ''المبسوط''، کتاب الصوم، فصل في صدقۃ الفطر، ج۲، ص۱۲۳.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۵۳.
گزرا۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۴۴: جن لوگوں کی نسبت بیان کیا گیا کہ انھیں زکاۃ دے سکتے ہیں، اُن سب کا فقیر ہونا شرط ہے، سوا عامل کے کہ اس کے لیے فقیر ہونا شرط نہیں اور ابن السبیل اگرچہ غنی ہو، اُس وقت حکم فقیر میں ہے، باقی کسی کو جو فقیر نہ ہو زکاۃ نہیں دے سکتے۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴۵: جو شخص مرض الموت میں ہے اس نے زکاۃ اپنے بھائی کو دی اور یہ بھائی اس کا وارث ہے تو زکاۃ عنداﷲ ادا ہوگئی، مگر باقی وارثوں کو اختیار ہے کہ اس سے اس زکاۃ کو واپس لیں کہ یہ وصیت کے حکم میں ہے اور وارث کے لیے بغیر اجازت دیگر ورثہ وصیت صحیح نہیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۶: جو شخص اس کی خدمت کرتا اور اس کے یہاں کے کام کرتا ہے اسے زکاۃ دی یا اس کو دی جس نے خوشخبری سنائی یا اُسے دی جس نے اُس کے پاس ہدیہ بھیجا یہ سب جائز ہے، ہاں اگر عوض کہہ کر دی تو ادا نہ ہوئی۔ عید، بقر عید میں خدّام مرد وعورت کو عیدی کہہ کر دی تو ادا ہوگئی۔ (4) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: جس نے تحری کی یعنی سوچا اور دل میں یہ بات جمی کہ اس کو زکاۃ دے سکتے ہیں اورزکاۃ دے دی بعد میں ظاہر ہوا کہ وہ مصرف زکاۃ ہے یا کچھ حال نہ کُھلا تو ادا ہوگئی اور اگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غنی تھا یا اُس کے والدین میں کوئی تھا یا اپنی اولاد تھی یا شوہر تھا یا زوجہ تھی یا ہاشمی یا ہاشمی کا غلام تھا یا ذمّی تھا، جب بھی ادا ہوگئی اور اگر یہ معلوم ہوا کہ اُس کا غلام تھا یا حربی تھا تو ادا نہ ہوئی۔ اب پھر دے اور یہ بھی تحری ہی کے حکم میں ہے کہ اُس نے سوال کیا، اس نے اُسے غنی نہ جان کر دے دیا یا وہ فقیروں کی جماعت میں انھیں کی وضع میں تھا اُسے دے دیا۔ (5) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۸: اگر بے سوچے سمجھے دے دی یعنی یہ خیال بھی نہ آیا کہ اُسے دے سکتے ہیں یا نہیں اور بعد میں معلوم ہوا کہ اُسے نہیں دے سکتے تھے تو ادا نہ ہوئی، ورنہ ہوگئی اور اگر دیتے وقت شک تھا اور تحری نہ کی یا کی مگر کسی طرف دل نہ جما یا تحری کی اور غالب گمان یہ ہوا کہ یہ زکاۃ کا مصرف نہیں اور دے دیا تو ان سب صورتوں میں ادا نہ ہوئی مگر جبکہ دینے کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ واقعی
1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، ص۱۶۷.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۴ ۔ ۳۴۱، وغیرہ.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۴.
4 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، باب من یجوز دفع الصدقۃ... إلخ، ص۱۶۹.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۹۰.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق، ص۱۸۹، و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۵۳.
وہ مصرفِ زکاۃ تھا تو ہوگئی۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۴۹: زکاۃ وغیرہ صدقات میں افضل یہ ہے کہ اوّلاً اپنے بھائیوں بہنوں کو دے پھر اُن کی اولاد کو پھر چچا اور پھوپیوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر ماموں اور خالہ کو پھر اُن کی اولاد کو پھر ذوی الارحام یعنی رشتہ والوں کو پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے پیشہ والوں کو پھر اپنے شہر یا گاؤں کے رہنے والوں کو۔ (2) (جوہرہ، عالمگیری)
حدیث میں ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے اُمتِ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! قسم ہے اُس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، اﷲ تعالیٰ اس شخص کے صدقہ کو قبول نہیں فرماتا، جس کے رشتہ دار اس کے سلوک کرنے کے محتاج ہوں اور یہ غیروں کو دے، قسم ہے اُس کی جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اﷲ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر نہ فرمائے گا۔'' (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۰: دوسرے شہر کو زکاۃ بھیجنا مکروہ ہے، مگر جب کہ وہاں اُس کے رشتے والے ہوں تو اُن کے لیے بھیج سکتا ہے یا وہاں کے لوگوں کو زیادہ حاجت ہے یا زیادہ پرہیزگار ہیں یا مسلمانوں کے حق میں وہاں بھیجنا زیادہ نافع ہے یا طالبِ علم کے لیے بھیجے یا زاہدوں کے لیے یا دارالحرب میں ہے اور زکاۃ دارالاسلام میں بھیجے یا سال تمام سے پہلے ہی بھیج دے، ان سب صورتوں میں دوسرے شہر کو بھیجنا بلاکراہت جائز ہے۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۵۱: شہرسے مراد وہ شہر ہے جہاں مال ہو، اگرخود ایک شہر میں ہے اور مال دوسرے شہر میں تو جہاں مال ہو وہاں کے فقرا کو زکاۃ دی جائے اور صدقہ فطر میں وہ شہر مراد ہے جہاں خود ہے، اگر خود ایک شہر میں ہے اُس کے چھوٹے بچے اور غلام دوسرے شہر میں تو جہاں خود ہے وہاں کے فقرا پر صدقہ فطر تقسیم کرے۔ (5) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: بدمذہب کو زکاۃ دینا جائز نہیں۔ (6) (درمختار) جب بدمذہب کا یہ حکم ہے تو وہابیہ زمانہ کہ توہینِ خدا
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۹۰، وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۹۰.
3 ۔ ''مجمع الزوائد''، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ... إلخ، ج۳، ص۲۹۷.
و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، مطلب في حوائج الأصلیۃ، ج۳، ص۳۵۵.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۹۰.
و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۵۵.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۵۶.
و تنقیص شانِ رسالت کرتے اور شائع کرتے ہیں، جن کو اکابر علمائے حرمین طیبین نے بالاتفاق کافر و مرتد فرمایا۔ (1) اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں، انھیں زکاۃ دینا حرام و سخت حرام ہے اور دی تو ہرگز ادا نہ ہوگی۔
مسئلہ ۵۳: جس کے پاس آج کھانے کو ہے یا تندرست ہے کہ کما سکتا ہے اُسے کھانے کے لیے سوال حلال نہیں اور بے مانگے کوئی خود دے دے تو لینا جائز اور کھانے کو اُس کے پاس ہے مگر کپڑا نہیں تو کپڑے کے لیے سوال کر سکتا ہے۔ یوہیں اگر جہاد یا طلبِ علمِ دین میں مشغول ہے تو اگرچہ صحیح تندرست کمانے پر قادر ہو اُسے سوال کی اجازت ہے، جسے سوال جائز نہیں اُس کے سوال پر دینا بھی ناجائز دینے والا بھی گنہگار ہوگا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۵۴: مستحب یہ ہے کہ ایک شخص کو اتنا دیں کہ اُس دن اُسے سوال کی حاجت نہ پڑے اور یہ اُس فقیر کی حالت کے اعتبار سے مختلف ہے، اُس کے کھانے بال بچوں کی کثرت اور دیگر امور کا لحاظ کرکے دے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے زکاۃ فطر ایک صاع خرما یا جَو، غلام و آزاد مرد وعورت چھوٹے اور بڑے مسلمانوں پر مقرر کی اور یہ حکم فرما یا: کہ ''نماز کوجانے سے پیشتر ادا کردیں۔'' (4)
حدیث ۲: ابو داود ونسائی کی روایت میں ہے کہ عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما نے آخررمضان میں فرمایا: اپنے روزے کا صدقہ ادا کرو، اس صدقہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا، ایک صاع خُرما یا جَو یا نصف صاع گیہوں۔ (5)
1 ۔ تفصیلی معلومات کے لیے اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت ،مجددِ دین و ملت، علامہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کی کتاب''حُسَّامُ الْحَرَمَیْنِ عَلٰی مَنْحَرِ الْکُفْرِ وَالمَیْن'' کا مطالعہ فرمالیجئے۔''حُسَّامُ الْحَرَمَیْن'' کی اہمیت کے پیش نظر،ا میر اہلسنت، بانیئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: تَمْہِیْدُ اْلِایْمَان اور حُسَّامُ الْحَرَمَیْن کے کیا کہنے! واللہ العظیم جلّ جلالہٗ میرے آقا امام احمد رضا علیہ رحمۃ الرحمن نے یہ کتابیں لکھ کر دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی کر دیا۔ تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے میری مَدَنی التجاء ہے کہ پہلی فرصت میں ان کتابوں کا مطالعہ فرما لیں۔'' آپ کے عطا کردہ مدنی انعامات میں سے ایک مدنی انعام ہے کہ: ''کیا آپ نے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کی کُتُب تَمْہِیْدُ اْلِایْمَان اور حُسَّامُ الْحَرَمَیْن پڑھ یاسن لی ہیں؟''
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۵۷.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، مطلب في حوائج الأصلیۃ، ج۳، ص۳۵۸.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، أبواب صدقۃ الفطر، باب فرض صدقۃ الفطر، الحدیث: ۱۵۰۳، ج۱، ص۵۰۷.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب من روی نصف صاع من قمح، الحدیث: ۱۶۲۲، ج۲، ص۱۶۱.
حدیث ۳: ترمذی شریف میں بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جد ہٖ مروی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا کہ مکہ کے کوچوں میں اعلان کر دے کہ صدقہ فطر واجب ہے۔ (1)
حدیث ۴: ابو داود و ابن ماجہ و حاکم ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے زکاۃ فطر مقرر فرمائی کہ لغو اور بیہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہو جائے اورمساکین کی خورش (2) ہو جائے۔ (3)
حدیث ۵: دیلمی و خطیب و ابن عساکر انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''بندہ کا روزہ آسمان و زمین کے درمیان معلّق رہتا ہے ،جب تک صدقہ فطر ادا نہ کرے۔'' (4)
مسئلہ ۱: صدقہ فطر واجب ہے، عمر بھر اس کا وقت ہے یعنی اگر ادا نہ کیا ہو تو اب ادا کر دے۔ ادا نہ کرنے سے ساقط نہ ہوگا، نہ اب ادا کرنا قضا ہے بلکہ اب بھی ادا ہی ہے اگرچہ مسنون قبل نمازِ عید ادا کر دینا ہے۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: صدقہ فطر شخص پر واجب ہے مال پر نہیں، لہٰذا مر گیا تو اس کے مال سے ادا نہیں کیا جائے گا۔ ہاں اگر ورثہ بطورِ احسان اپنی طرف سے ادا کریں تو ہوسکتا ہے کچھ اُن پر جبر نہیں اور اگر وصیّت کر گیا ہے تو تہائی مال سے ضرور ادا کیا جائے گا اگرچہ ورثہ اجازت نہ دیں۔ (6) (جوہرہ وغیرہ)
مسئلہ ۳: عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے مر گیا یاغنی تھا فقیر ہوگیا یا صبح طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب نہ ہوا اور اگر صبح طلوع ہونے کے بعد مرا یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: صدقہ فطر ہر مسلمان آزاد مالکِ نصاب پر جس کی نصاب حاجت اصلیہ سے فارغ ہو واجب ہے۔ اس میں عاقل بالغ اور مال نامی ہونے کی شرط نہیں۔ (8) (درمختار) مال نامی اور حاجت اصلیہ کا بیان گزر چکا، اس کی صورتیں
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزکاۃ، باب ماجاء في صدقۃ الفطر، الحدیث: ۶۷۴، ج۲، ص۱۵۱.
2 ۔ یعنی خوراک۔
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الفطر، الحدیث: ۱۶۰۹، ج۲، ص۱۵۷.
4 ۔ ''تاریخ بغداد''، رقم: ۴۷۳۵، ج۹، ص۱۲۲.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۲، وغیرہ.
6 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ص۱۷۴، وغیرہ.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۲ ۔ ۳۶۵.
وہیں سے معلوم کریں۔
مسئلہ ۵: نابالغ یا مجنون اگر مالکِ نصاب ہیں تو ان پر صدقہ فطر واجب ہے، اُن کا ولی اُن کے مال سے ادا کرے، اگر ولی نے ادا نہ کیا اور نابالغ بالغ ہوگیا یا مجنون کا جنون جاتا رہا تو اب یہ خود ادا کر دیں اور اگر خود مالکِ نصاب نہ تھے اور ولی نے ادا نہ کیا تو بالغ ہونے یا ہوش میں آنے پر اُن کے ذمہ ادا کرنا نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: صدقہ فطر ادا کرنے کے لیے مال کا باقی رہنا بھی شرط نہیں، مال ہلاک ہونے کے بعد بھی صدقہ واجب رہے گا ساقط نہ ہوگا، بخلاف زکاۃ و عشر کہ یہ دونوں مال ہلاک ہو جانے سے ساقط ہو جاتے ہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۷: مردمالکِ نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنے چھوٹے بچہ کی طرف سے واجب ہے، جبکہ بچہ خود مالکِ نصاب نہ ہو، ورنہ اس کا صدقہ اسی کے مال سے ادا کیا جائے اور مجنون اولاد اگرچہ بالغ ہو جبکہ غنی نہ ہو تو اُس کا صدقہ اُس کے باپ پر واجب ہے اور غنی ہو تو خود اس کے مال سے ادا کیا جائے، جنون خواہ اصلی ہو یعنی اسی حالت میں بالغ ہوا یا بعد کو عارض ہوا دونوں کاایک حکم ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: صدقہ فطر واجب ہونے کے لیے روزہ رکھنا شرط نہیں، اگر کسی عذر، سفر، مرض، بڑھاپے کی وجہ سے یا معاذ اﷲ بلاعذر روزہ نہ رکھا جب بھی واجب ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: نابالغ لڑکی جو اس قابل ہے کہ شوہر کی خدمت کر سکے اس کا نکاح کر دیا اور شوہر کے یہاں اُسے بھیج بھی دیا تو کسی پر اس کی طرف سے صدقہ واجب نہیں، نہ شوہر پر نہ باپ پر اور اگر قابل خدمت نہیں یا شوہر کے یہاں اُسے بھیجا نہیں تو بدستور باپ پر ہے پھر یہ سب اس وقت ہے کہ لڑکی خود مالکِ نصاب نہ ہو، ورنہ بہرحال اُس کا صدقہ فطر اس کے مال سے ادا کیا جائے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: باپ نہ ہو تو دادا باپ کی جگہ ہے یعنی اپنے فقیر و یتیم پوتے پوتی کی طرف سے اس پر صدقہ دینا واجب ہے۔ (6) (درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۵.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۶.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۷.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۷.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸.
مسئلہ ۱۱: ماں پراپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقہ دینا واجب نہیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: خدمت کے غلام اور مدبر و ام ولد کی طرف سے ان کے مالک پر صدقہ فطر واجب ہے، اگرچہ غلام مدیُون ہو، اگرچہ دَین میں مستغرق ہو اور اگر غلام گروی ہو اور مالک کے پاس حاجتِ اصلیہ کے سوا اتنا ہوکہ دَین ادا کر دے اور پھر نصاب کا مالک رہے تو مالک پر اُس کی طرف سے بھی صدقہ واجب ہے۔ (2) (درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۱۳: تجارت کے غلام کا فطرہ مالک پرواجب نہیں اگرچہ اس کی قیمت بقدرِ نصاب نہ ہو۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: غلام عاریۃً (4) دے دیا یا کسی کے پاس امانۃً رکھا تو مالک پر فطرہ واجب ہے اور اگر یہ وصیت کر گیا کہ یہ غلام فلاں کا کام کرے اور میرے بعد اس کا مالک فلاں ہے تو فطرہ مالک پر ہے، اُس پر نہیں جس کے قبضہ میں ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: بھاگا ہوا غلام اور وہ جسے حربیوں نے قید کر لیا ان کی طرف سے صدقہ مالک پر نہیں۔ یوہیں اگر کسی نے غصب کر لیا اور غاصب انکار کرتا ہے اور اس کے پاس گواہ نہیں تو اس کا فطرہ بھی واجب نہیں، مگر جب کہ واپس مل جائیں تو اب ان کی طرف سے سالہائے گزشتہ کا فطرہ دے، مگر حربی اگر غلام کے مالک ہوگئے تو واپسی کے بعد بھی اس کا فطرہ نہیں۔ (6) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: مکاتب کا فطرہ نہ مکاتب پر ہے، نہ اس کے مالک پر۔ یوہیں مکاتب اور ماذُون کے غلام کا اور مکاتب اگر بدلِ کتابت ادا کرنے سے عاجز آیا تو مالک پر سالہائے گزشتہ کا فطرہ نہیں۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: دو یا چند شخصوں میں غلام مشترک ہے تو اُس کا فطرہ کسی پر نہیں۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: غلام بیچ ڈالا اور بائع یا مشتری یا دونوں نے واپسی کا اختیار رکھا عیدالفطر آگئی اور میعاد اختیار ختم نہ ہوئی تو
ـ1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۹.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲، وغیرہما.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۹.
4 ۔ یعنی ادھار۔
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۹.
6 ۔ المرجع السابق، ص۳۷۰.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۳.
8 ۔ المرجع السابق.
اُس کا فطرہ موقوف ہے، اگر بیع قائم رہی تومشتری دے ورنہ بائع۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: اگر مشتری نے خیار عیب یا خیار رویت کے سبب واپس کیا تو اگر قبضہ کر لیا تھا تو مشتری پر ہے، ورنہ بائع پر۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: غلام کو بیچا مگر وہ بیع فاسد ہوئی اور مشتری نے قبضہ کر کے واپس کر دیا یا عید کے بعد قبضہ کر کے آزاد کر دیا تو بائع پر ہے اور اگر عید سے پہلے قبضہ کیا اور بعد عید آزاد کیا تو مشتری پر۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: مالک نے غلام سے کہا جب عید کا دن آئے تو آزاد ہے۔ عید کے دن غلام آزاد ہو جائے گا اور مالک پر اس کا فطرہ واجب۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: اپنی عورت اور اولاد عاقل بالغ کا فطرہ اُس کے ذمہ نہیں اگرچہ اپاہج ہو، اگرچہ اس کے نفقات اس کے ذمہ ہوں۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۳: عورت یا بالغ اولاد کا فطرہ ان کے بغیر اِذن ادا کر دیا تو ادا ہوگیا، بشرطیکہ اولاد اس کے عیال میں ہو یعنی اس کا نفقہ وغیرہ اُس کے ذمہ ہو، ورنہ اولاد کی طرف سے بلا اِذن (6) ادا نہ ہوگا اور عورت نے اگر شوہر کا فطرہ بغیر حکم ادا کر دیا ادا نہ ہوا۔ (7) (عالمگیری، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۲۴: ماں باپ، دادا دادی، نابالغ بھائی اور دیگر رشتہ داروں کا فطرہ اس کے ذمہ نہیں اور بغیر حکم ادا بھی نہیں کرسکتا۔ (8) (عالمگیری، جوہرہ)
مسئلہ ۲۵: صدقہ فطر کی مقدار یہ ہے گیہوں یا اس کا آٹا یا ستّو نصف صاع، کھجور یا منقے یا جَو یا اس کا آٹا یا ستّو ایک صاع۔ (9) (درمختار، عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۳.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۰، وغیرہ.
6 ۔ یعنی بغیر اجازت۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۳.
و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۰، وغیرہما.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۳.
9 ۔ المرجع السابق، ص۱۹۱، و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۲.
مسئلہ ۲۶: گیہوں، جَو، کھجوریں، منقے دیے جائیں تو ان کی قیمت کا اعتبار نہیں، مثلاً نصف صاع عمدہ جَو جن کی قیمت ایک صاع جَو کے برابر ہے یا چہارم صاع کھرے گیہوں جو قیمت میں آدھے صاع گیہوں کے برابر ہیں یا نصف صاع کھجوریں دیں جو ایک صاع جَو یا نصف صاع گیہوں کی قیمت کی ہوں یہ سب ناجائز ہے جتنا دیا اُتنا ہی ادا ہوا، باقی اس کے ذمہ باقی ہے ادا کرے۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۷: نصف صاع جَو اور چہارم صاع گیہوں دیے یا نصف صاع جَو اور نصف صاع کھجور تو بھی جائز ہے۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: گیہوں اور جَو ملے ہوئے ہوں اور گیہوں زیادہ ہیں تو نصف صاع دے ورنہ ایک صاع۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: گیہوں اور جَو کے دینے سے اُن کا آٹا دینا افضل ہے اور اس سے افضل یہ کہ قیمت دیدے، خواہ گیہوں کی قیمت دے یا جَو کی یا کھجور کی مگر گرانی میں خود ان کا دینا قیمت دینے سے افضل ہے اور اگر خراب گیہوں یا جَو کی قیمت دی تو اچھے کی قیمت سے جو کمی پڑے پوری کرے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: ان چار چیزوں کے علاوہ اگر کسی دوسری چیز سے فطرہ ادا کرنا چاہے، مثلاً چاول، جوار، باجرہ یا اور کوئی غلّہ یا اور کوئی چیز دینا چاہے تو قیمت کا لحاظ کرنا ہوگا یعنی وہ چیز آدھے صاع گیہوں یا ایک صاع جَو کی قیمت کی ہو، یہاں تک کہ روٹی دیں تو اس میں بھی قیمت کا لحاظ کیا جائے گا اگرچہ گیہوں یا جَو کی ہو۔ (5) (درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۳۱: اعلیٰ درجہ کی تحقیق اور احتیاط یہ ہے، کہ صاع کا وزن تین سو اکاون ۳۵۱ روپے بھر ہے اور نصف صاع ایک سو پچھتر ۱۷۵ روپے اٹھنی بھر اوپر۔ (6) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۳۲: فطرہ کا مقدم کرنا مطلقاً جائز ہے جب کہ وہ شخص موجود ہو، جس کی طرف سے ادا کرتا ہو اگرچہ رمضان سے پیشتر ادا کر دے اور اگر فطرہ ادا کرتے وقت مالک نصاب نہ تھا پھر ہوگیا تو فطرہ صحیح ہے اور بہتر یہ ہے کہ عید کی صبح صادق
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲، وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۳.
4 ۔ المرجع السابق، ص۳۷۶، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۱ ۔ ۱۹۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق، ص۱۹۱، و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۳، وغیرہما.
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۲۹۵.
ہونے کے بعد اور عید گاہ جانے سے پہلے ادا کر دے۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: ایک شخص کا فطرہ ایک مسکین کو دینا بہتر ہے اور چند مساکین کو دے دیا جب بھی جائز ہے۔ یوہیں ایک مسکین کو چند شخصوں کا فطرہ دینا بھی بلاخلاف جائز ہے اگرچہ سب فطرے ملے ہوئے ہوں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: شوہر نے عورت کو اپنا فطرہ ادا کرنے کا حکم دیا، اُس نے شوہر کے فطرہ کے گیہوں اپنے فطرہ کے گیہووں میں ملا کر فقیر کو دے دیے اور شوہر نے ملانے کا حکم نہ دیا تھا تو عورت کا فطرہ ادا ہوگیا شوہر کا نہیں مگر جب کہ ملا دینے پر عرف جاری ہو تو شوہر کا بھی ادا ہو جائے گا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: عورت نے شوہر کو اپنا فطرہ ادا کرنے کا اذن دیا، اس نے عورت کے گیہوں اپنے گیہووں میں ملا کر سب کی نیّت سے فقیر کو دے دیے جائز ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: صدقہ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکاۃ کے ہیں یعنی جن کو زکاۃ دے سکتے ہیں، انھیں فطرہ بھی دے سکتے ہیں اور جنھیں زکاۃ نہیں دے سکتے، انھیں فطرہ بھی نہیں سوا عامل کے کہ اس کے لیے زکاۃ ہے فطرہ نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۷: اپنے غلام کی عورت کو فطرہ دے سکتے ہیں، اگرچہ اُس کا نفقہ اُسی پر ہو۔ (6) (درمختار)
آج کل ایک عام بلا یہ پھیلی ہوئی ہے کہ اچھے خاصے تندرست چاہیں تو کما کر اوروں کو کھلائیں، مگر انہوں نے اپنے وجود کو بیکار قرار دے رکھا ہے، کون محنت کرے مصیبت جھیلے،بے مشقت جو مل جائے تو تکلیف کیوں برداشت کرے۔ ناجائز طور پر سوال کرتے اور بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اور بہتیرے ایسے ہیں کہ مزدوری تو مزدوری، چھوٹی موٹی تجارت کو ننگ و عار خیال کرتے اور بھیک مانگنا کہ حقیقۃً ایسوں کے لیے بے عزتی و بے غیرتی ہے مایہ عزت جانتے ہیں اور بہتوں نے تو بھیک
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۶.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، مطلب في مقدار الفطرۃ بالمد الشامی، ج۳، ص۳۷۷.
3 ۔ المرجع السابق، ص۳۷۸. 4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، مطلب في مقدار الفطرۃ بالمد الشامی، ج۳، ص۳۷۹.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۸۰.
مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے، گھر میں ہزاروں روپے ہیں سود کا لین دین کرتے زراعت وغیرہ کرتے ہیں مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے، اُن سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ ہمارا پیشہ ہے واہ صاحب واہ! کیا ہم اپنا پیشہ چھوڑ دیں۔ حالانکہ ایسوں کو سوال حرام ہے اور جسے اُن کی حالت معلوم ہو، اُسے جائز نہیں کہ ان کو دے۔
اب چند حدیثیں سنیے! دیکھیے کہ آقائے دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایسے سائلوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔
حدیث ۱: بخاری و مسلم عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''آدمی سوال کرتا رہے گا، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اُس کے چہرہ پر گوشت کا ٹکڑا نہ ہوگا۔'' (1) یعنی نہایت بے آبرو ہوکر۔
حدیث ۲تا۴: ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن حبان سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''سوال ایک قسم کی خراش ہے کہ آدمی سوال کر کے اپنے مونھ کو نوچتا ہے، جو چاہے اپنے مونھ پر اس خراش کو باقی رکھے اورجو چاہے چھوڑ دے، ہاں اگر آدمی صاحبِ سلطنت سے اپنا حق مانگے یا ایسے امر میں سوال کرے کہ اُس سے چارہ نہ ہو (2) (تو جائز ہے)۔'' اور اسی کے مثل امام احمد نے عبداﷲ بن عمر اور طبرانی نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے روایت کی۔
حدیث ۵: بیہقی نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص لوگوں سے سوال کرے، حالانکہ نہ اُسے فاقہ پہنچا، نہ اتنے بال بچے ہیں جن کی طاقت نہیں رکھتا تو قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اُس کے مونھ پر گوشت نہ ہوگا۔'' اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جس پر نہ فاقہ گزرا اور نہ اتنے بال بچے ہیں جن کی طاقت نہیں اور سوال کا دروازہ کھولے اﷲ تعالیٰ اُس پر فاقہ کا دروازہ کھول دے گا، ایسی جگہ سے جو اس کے دل میں بھی نہیں۔'' (3)
حدیث ۶ و ۷: نسائی نے عائذ بن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ سوال کرنے میں کیا ہے تو کوئی کسی کے پاس سوال کرنے نہ جاتا۔'' (4) اسی کی مثل طبرانی نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی۔
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، با ب کراہۃ المسألۃ للناس، الحدیث: ۱۰۴۔(۱۰۴۰)، ص۵۱۸.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب ماتجوز فیہ المسألۃ، الحدیث: ۱۶۳۹،ج۲، ص۱۶۸.
3 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الزکاۃ، فصل في الاستعفاف عن المسألۃ، الحدیث: ۳۵۲۶، ج۳، ۲۷۴.
4 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الزکاۃ، باب المسألۃ، الحدیث: ۲۵۸۳، ص۴۲۵.
حدیث ۸و۹: امام احمد بہ سند جید و طبرانی و بزار عمران بن حصین رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''غنی کا سوال کرنا، قیامت کے دن اس کے چہرہ میں عیب ہوگا۔'' (1) اور بزار کی روایت میں یہ بھی ہے کہ ''غنی کا سوال آگ ہے، اگر تھوڑا دیا گیا تو تھوڑی اور زیادہ دیا تو زیادہ۔'' (2) اور اسی کے مثل امام احمد و بزار و طبرانی نے ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۱۰: طبرانی کبیر میں اور ابن خزیمہ اپنی صحیح میں اور ترمذی اور بیہقی حبشی بن جنادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص بغیر حاجت سوال کرتا ہے، گویا وہ انگارا کھاتا ہے۔'' (3)
حدیث ۱۱: مسلم و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو مال بڑھانے کے لیے سوال کرتا ہے، وہ انگارے کا سوال کرتا ہے تو چاہے زیادہ مانگے یا کم کا سوال کرے۔'' (4)
حدیث ۱۲: ابو داود و ابن حبان و ابن خزیمہ سہل بن حنظلیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا ہے جو اُسے بے پرواہ کرے، وہ آگ کی زیادتی چاہتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی، وہ کیا مقدار ہے، جس کے ہوتے سوال جائز نہیں؟ فرمایا: صبح و شام کا کھانا۔'' (5)
حدیث ۱۳: ابن حبان اپنی صحیح میں امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص لوگوں سے سوال کرے، اس لیے کہ اپنے مال کو بڑھائے تو وہ جہنم کا گرم پتھر ہے، اب اسے اختیار ہے، چاہے تھوڑا مانگے یا زیادہ طلب کرے۔'' (6)
حدیث ۱۴و۱۵: امام احمد و ابو یعلیٰ و بزار نے عبدالرحمن بن عوف اور طبرانی نے صغیر میں اُم المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا اور حق معاف کرنے سے قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ بندہ کی عزت بڑھائے گا اور بندہ سوال کا دروازہ نہ کھولے گا، مگر اﷲ تعالیٰ اس پر محتاجی کا دروازہ کھولے گا۔'' (7)
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث عمران بن حصین، الحدیث: ۱۹۸۴۲، ج۷، ص۱۹۳.
2 ۔ ''مسند البزار''، مسند عمران بن حصین، الحدیث: ۳۵۷۲، ج۹، ص۴۹.
3 ۔ ''المعجم الکبیر''، باب الحاء، الحدیث: ۳۵۰۶، ج۴، ص۱۵.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب کراہۃ المسألۃ للناس، الحدیث: ۱۰۴۱، ص۵۱۸.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب من یعطیٰ من الصدقۃ وحدالغنی، الحدیث: ۱۶۲۹، ج۲، ص۱۶۴.
6 ۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الزکاۃ، باب المسألۃ... إلخ، الحدیث: ۳۳۸۲، ج۵، ص۱۶۶.
7 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث عبدالرحمن بن عوف، الحدیث: ۱۶۷۴، ج۱، ص۴۱۰.
حدیث ۱۶: مسلم و ابو داود و نسائی قبیصہ بن مخارق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں: مجھ پر ایک مرتبہ تاوان لازم آیا۔ میں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا، فرمایا: ''ٹھہرو ہمارے پاس صدقہ کا مال آئے گا تو تمھارے لیے حکم فرمائیں گے، پھر فرمایا: اے قبیصہ! سوال حلال نہیں، مگر تین باتوں میں کسی نے ضمانت کی ہو (یعنی کسی قوم کی طرف سے دیت کا ضامن ہوا یا آپس کی جنگ میں صلح کرائی اور اس پر کسی مال کا ضامن ہوا) تو اسے سوال حلال ہے، یہاں تک کہ وہ مقدار پائے پھر باز رہے یا کسی شخص پر آفت آئی کہ اُس کے مال کو تباہ کر دیا تو اسے سوال حلال ہے، یہاں تک کہ بسر اوقات کے لیے پاجائے یا کسی کو فاقہ پہنچا اور اُس کی قوم کے تین عقلمند شخص گواہی دیں (1) کہ فلاں کو فاقہ پہنچا ہے تو اسے سوال حلال ہے، یہاں تک کہ بسر اوقات کے لیے حاصل کرلے اور ان تین باتوں کے سوا اے قبیصہ سوال کرنا حرام ہے کہ سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔'' (2)
حدیث ۱۷و۱۸: امام بخاری و ابن ماجہ زبیر بن عوّام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کوئی شخص رسّی لے کر جائے اور اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا لا کر بیچے اور سوال کی ذلّت سے اﷲ تعالیٰ اس کے چہرہ کو بچائے یہ اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے کہ لوگ اُسے دیں یا نہ دیں۔'' (3) اسی کے مثل امام بخاری و مسلم و امام مالک و ترمذی و نسائی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۱۹: امام مالک و بخاری و مسلم و ابو داود و نسائی عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، صدقہ کا اور سوال سے بچنے کا ذکر فرما رہے تھے، یہ فرمایا: کہ ''اوپروالا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اورنیچے والا مانگنے والا۔'' (4)
حدیث ۲۰: امام مالک و بخاری و مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ انصارمیں سے کچھ لوگوں نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے سوال کیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے عطا فرمایا، پھر مانگا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے عطا فرمایا، پھر مانگا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے عطا فرمایا، یہاں تک وہ مال جو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے پاس تھا ختم ہوگیا پھر فرمایا: ''جو کچھ میرے پا س مال ہوگا، اُسے میں تم سے اُٹھا نہ رکھوں گا اور جو سوال سے بچنا چاہے گا، اﷲ تعالیٰ اُسے بچائے گا اور
1 ۔ تین شخصوں کی گواہی جمہورکے نزدیک بطور استحباب ہے اور یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جس کا مالدار ہونا معلوم و مشہور ہے تو بغیر گواہ اس کا
قول مسلم نہیں اور جس کا مالدار ہونا معلوم نہ ہو تو فقط اس کا کہہ دینا کافی ہے۔ ۱۲ منہ
2 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب من تحل لہ المسألۃ، الحدیث: ۱۰۴۴، ص۵۱۹.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، الحدیث: ۱۴۷۱، ج۱، ص۴۹۷.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان الید العلیا خیرٌ من الید السفلی... إلخ، الحدیث: ۱۰۳۳، ص۵۱۵.
جوغنی بننا چاہے گا، اﷲ (عزوجل) اُسے غنی کر دے گا اور جو صبر کرنا چاہے گا، اﷲ تعالیٰ اُسے صبر دے گا اور صبر سے بڑھ کر اور اس سے زیادہ وسیع عطا کسی کو نہ ملی۔'' (1)
حدیث ۲۱: حضرت امیر المومنین فاروقِ اعظم عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کہ لالچ محتاجی ہے اور نا اُمیدی تونگری۔ آدمی جب کسی چیز سے نا امید ہو جاتا ہے تو اس کی پرواہ نہیں رہتی۔ (2)
حدیث ۲۲: امام بخاری و مسلم فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں: کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے عطا فرماتے تو میں عرض کرتا، کسی ایسے کو دیجیے جو مجھ سے زیادہ حاجت مند ہو، ارشاد فرمایا: ''اسے لو اور اپنا کر لو اور خیرات کردو، جو مال تمھارے پاس بے طمع اور بے مانگے آجائے، اسے لے لو اور جو نہ آئے تو اُس کے پیچھے اپنے نفس کو نہ ڈالو۔'' (3)
حدیث ۲۳: ابو داود انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک انصاری نے حاضرِ خدمت اقدس ہو کر سوال کیا، ارشاد فرمایا: ''کیا تمھارے گھر میں کچھ نہیں ہے؟ عرض کی، ہے تو، ایک ٹاٹ ہے جس کا ایک حصہ ہم اوڑھتے ہیں اور ایک حصہ بچھاتے ہیں اور ایک لکڑی کا پیالہ ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں، ارشاد فرمایا: میرے حضور دونوں چیزوں کو حاضر کرو، وہ حاضر لائے، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اپنے دستِ مبارک میں لے کر ارشاد فرمایا: انھیں کون خریدتا ہے؟ ایک صاحب نے عرض کی، ایک درہم کے عوض میں خریدتا ہوں، ارشاد فرمایا: ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے؟ دو یا تین بار فرمایا، کسی اور صاحب نے عرض کی، میں دو درہم پر لیتا ہوں، انھیں یہ دونوں چیزیں دے دیں اور درہم لے لیے اور انصاری کو دونوں درہم دے کر ارشاد فرمایا: ایک کا غلّہ خرید کر گھر ڈال آؤ اور ایک کی کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاؤ، وہ حاضر لائے، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اپنے دستِ مبارک سے اُس میں بنےٹ ڈالا اور فرمایا: جاؤ لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور پندرہ دن تک تمھیں نہ دیکھوں (یعنی اتنے دنوں تک یہاں حاضر نہ ہونا) وہ گئے، لکڑیاں کاٹ کر بیچتے رہے، اب حاضر ہوئے تو اُنکے پاس دس درہم تھے، چند درہم کا کپڑا خریدا اور چند کا غلّہ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اس سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن سوال تمھارے مونھ پر چھالا ہو کر آتا۔ سوال درست نہیں، مگر تین شخص کے لیے، ایسی محتاجی والے کے لیے جو اُسے زمین پر لٹا دے یا تاوان والے کے لیے جو رسوا کر دے یا خون والے (دیت) کے لیے جو اُسے تکلیف پہنچائے۔'' (4)
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب التعفف والصبر... إلخ، الحدیث: ۱۰۵۳، ص۵۲۴.
2 ۔ ''حلیۃ الأولیاء و طبقات الأصفیاء''، رقم: ۱۲۵، ج۱، ص۸۷.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الأحکام، باب رزق الحکام والعاملین علیھا، الحدیث: ۷۱۶۴، ج۴، ص۴۶۱.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب ماتجوز فیہ المسألۃ، الحدیث: ۱۶۴۱، ج۲، ص۱۶۸.
حدیث ۲۴،۲۵: ابو داود و ترمذی بافادہ تصحیح و تحسین و حاکم بافادہ تصحیح عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جسے فاقہ پہنچا اور اُس نے لوگوں کے سامنے بیان کیا تو اُس کا فاقہ بند نہ کیا جائے گا اور اگر اس نے اﷲ تعالیٰ سے عرض کی تو اﷲ عزوجل جلد اُسے بے نیاز کر دے گا، خواہ جلد موت دے دے یا جلد مالدار کر دے۔'' (1) اور طبرانی کی روایت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ ''حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو بھوکا یا محتاج ہوا اور اس نے آدمیوں سے چھپایا اور اﷲ تعالیٰ کے حضور عرض کی تو اﷲ تعالیٰ پر حق ہے کہ ایک سال کی حلال روزی اس پر کشادہ فرمائے۔'' (2)
بعض سائل کہہ دیا کرتے ہیں کہ اﷲ (عزوجل) کے لیے دو، خدا کے واسطے دو، حالانکہ اس کی بہت سخت ممانعت آئی ہے۔ ایک حدیث میں اُسے ملعون فرمایا گیا ہے۔ اور ایک حدیث میں بدترین خلائق اور اگر کسی نے اس طرح سوال کیا تو جب تک بُری بات کا سوال نہ ہو یا خود سوال بُرا نہ ہو (جیسے مالدار یا ایسے شخص کا بھیک مانگنا جو قوی تندرست کمانے پر قادر ہو) اور یہ سوال کو بلا دقت پورا کر سکتا ہے تو پورا کرنا ہی ادب ہے کہ کہیں بروئے ظاہر حدیث یہ بھی اُسی وعید کا مستحق نہ ہو(3) ، وہاں اگر سائل مُتعنّت ہو (4) تو نہ دے۔ نیز یہ بھی لحاظ رہے کہ مسجد میں سوال نہ کرے، خصوصاً جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر کہ یہ حرام ہے، بلکہ بعض علما فرماتے ہیں: کہ ''مسجد کے سائل کو اگر ایک پیسہ دیا تو ستّر پیسے اور خیرات کرے کہ اس ایک پیسہ کا کفارہ ہو۔'' (5) مولیٰ علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے ایک شخص کو عرفہ کے دن عرفات میں سوال کرتے دیکھا، اُسے دُرّے لگائے اور فرمایا: کہ اس دن میں اور ایسی جگہ غیر خدا سے سوال کرتا ہے۔ (6)
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب في الاستعفاف، الحدیث: ۱۶۴۵، ج۲، ص۱۷۰.
2 ۔ ''المعجم الصغیر''للطبرانی ، الحدیث: ۲۱۴،ج۱، ص۱۴۱.
3 ۔ طبرانی معجم کبیر میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اللہ صلی تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
((ملعون من سال بوجہ اللہ و ملعون من سئِل بوجہ اللہ ثم منع سائلہ مالم یسال ہجرا )).
(''الترغیب و الترھیب''، کتاب الصدقات، ترہیب السائل أن یسأل بوجہ اللہ غیر الجنۃ... إلخ، الحدیث: ۱، ج۱، ص۳۴۰).
تجنیس ناصری پھر تا تار خانیہ پھر ہندیہ میں ہے:
اذا قال السا ئل بحق اللہ تعالیٰ اوبحق محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم ان تعطینی کذا لا یحب علیہ فی الحکم
والاحسن فی المروء ۃ ان یعطیہ. وعن ابن المبارک قال یعجبنی اذا سأل سائل بوجہ اللہ تعالیٰ ان لا یعطی۔ ۱۲ منہ
(انظر: ''ردالمحتار''، کتاب الہبۃ، مطلب في معنی التملیک، ج۱۲، ص۶۴۹.)
4 ۔ یعنی سوال کرنے والا خود اپنی ذلّت کے درپے ہو یعنی پیشہ ور بھکاری ہو۔
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الہبۃ، مطلب في معنی التملیک، ج۱۲، ص۶۴۹.
6 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ، الحدیث: ۱۸۵۵، ج۱، ص۵۱۴.
ان چند احادیث کے دیکھنے سے معلوم ہوا ہوگا کہ بھیک مانگنا بہت ذلّت کی بات ہے بغیر ضرورت سوال نہ کرے اور حالت ضرورت میں بھی اُن امور کا لحاظ رکھے، جن سے ممانعت وارد ہے اور سوال کی اگر حاجت ہی پڑ جائے تو مبالغہ ہرگز نہ کرے کہ بے لیے پیچھا نہ چھوڑے کہ اس کی بھی ممانعت آئی ہے۔
اﷲ تعالیٰ کی راہ میں دینا نہایت اچھا کام ہے، مال سے تم کو فائدہ نہ پہنچا تو تمھارے کیا کام آیا اور اپنے کام کا وہی ہے جو کھا پہن لیا یا آخرت کے لیے خرچ کیا، نہ وہ کہ جمع کیا اور دوسروں کے لیے چھوڑ گئے۔ اس کے فضائل میں چند حدیثیں سُنیے اور ان پر عمل کیجیے ، اﷲ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''بندہ کہتا ہے، میرا مال ہے، میرا مال ہے اور اُسے تو اس کے مال سے تین ہی قسم کا فائدہ ہے، جو کھا کر فنا کر دیا، یا پہن کر پُرانا کر دیا، یا عطا کر کے آخرت کے لیے جمع کیا اور اُس کے سوا جانے والا ہے کہ اوروں کے لیے چھوڑ جائے گا۔'' (1)
حدیث ۲: بخاری و نسائی ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''تم میں کون ہے کہ اُسے اپنے وارث کا مال، اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے؟ صحابہ نے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! ہم میں کوئی ایسا نہیں، جسے اپنا مال زیادہ محبوب نہ ہو۔ فرمایا: اپنا مال تو وہ ہے، جو آگے روانہ کر چکا اور جو پیچھے چھوڑ گیا، وہ وارث کا مال ہے۔'' (2)
حدیث ۳: امام بخاری ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اگر میرے پاس اُحد برابر سونا ہو تو مجھے یہی پسند آتا ہے کہ تین راتیں نہ گزرنے پائیں اور اُس میں کا میرے پاس کچھ رہ جائے، ہاں اگر مجھ پر دَین ہو تو اُس کے لیے کچھ رکھ لوں گا۔'' (3)
حدیث ۴و۵: صحیح مسلم میں انھیں سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کوئی دن ایسا نہیں کہ صبح ہوتی ہے، مگر دو فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان میں ایک کہتا ہے، اے اﷲ (عزوجل) ! خرچ کرنے والے کو بدلہ دے اور دوسرا
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزھد والرقائق، باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ للکافر، الحدیث: ۲۹۵۹، ص۱۵۸۲.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الرقائق، باب ماقدم من مالہ فھو لہ، الحدیث: ۶۴۴۲، ج۴، ص۲۳۰.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الرقائق، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما یسرنی أن عندی مثل احد ہذا ذہبا، الحدیث: ۶۴۴۵، ج۴، ص۲۳۲.
کہتا ہے، اے اﷲ (عزوجل) ! روکنے والے کے مال کو تلف کر۔'' (1) اور اسی کے مثل امام احمد و ابن حبان و حاکم نے ابودرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۶: صحیحین میں ہے کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسماء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: ''خرچ کر اور شمار نہ کر کہ اﷲ تعالیٰ شمار کرکے دے گا اور بند نہ کر کہ اﷲ تعالیٰ بھی تجھ پر بند کر دے گا۔ کچھ دے جو تجھے استطاعت ہو۔'' (2)
حدیث ۷: نیز صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابنِ آدم! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔'' (3)
حدیث ۸: صحیح مسلم و سنن ترمذی میں ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے ابنِ آدم! بچے ہوئے کا خرچ کرنا، تیرے لیے بہتر ہے اور اُس کا روکنا، تیرے لیے بُرا ہے اور بقدر ضرورت روکنے پر ملامت نہیں اور اُن سے شروع کر جو تیری پرورش میں ہیں۔'' (4)
حدیث ۹: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ان دو شخصوں کی ہے جو لوہے کی زرہ پہنے ہوئے ہیں، جن کے ہاتھ سینے اور گلے سے جکڑے ہوئے ہیں تو صدقہ دینے والے نے جب صدقہ دیا وہ زرہ کشادہ ہوگئی اور بخیل جب صدقہ دینے کا ارادہ کرتا ہے، ہر کڑی اپنی جگہ کو پکڑ لیتی ہے وہ کشادہ کرنا بھی چاہتا ہے تو کشادہ نہیں ہوتی۔'' (5)
حدیث ۱۰: صحیح مسلم میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ظلم سے بچو کہ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہے اور بخل سے بچو کہ بخل نے اگلوں کو ہلاک کیا، اسی بخل نے اُنھیں خون بہانے اور حرام کو حلال کرنے پر آمادہ کیا۔'' (6)
حدیث ۱۱: نیز اُسی میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، ایک شخص نے عرض کی یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب في المنفق والممسک، الحدیث: ۱۰۱۰ ص۵۰۴.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ فیما استطاع، الحدیث: ۱۴۳۴، ج۱، ص۴۸۳.
کتاب الھبۃ، باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا... إلخ، الحدیث: ۲۵۹۱، ص۲۰۴.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب النفقات، باب فضل النفقۃ علی الأھل، الحدیث: ۵۳۵۲، ج۳، ص۵۱۱.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب بیان أن الید العلیا خیر من الید السفلی... إلخ، الحدیث: ۱۰۳۶، ص۵۱۶.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب مثل المنفق والبخیل، ۷۶۔(۱۰۲۱)، ص۵۱۰.
6 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب البر والصلۃ والأدب، باب تحریم الظلم، الحدیث: ۲۵۷۸، ص۱۳۹۴.
کس صدقہ کا زیادہ اجر ہے؟ فرمایا: اس کا کہ صحت کی حالت میں ہو اور لالچ ہو، محتاجی کا ڈر ہو اور تونگری کی آرزو، یہ نہیں کہ چھوڑے رہے اور جب جان گلے کو آجائے تو کہے اتنا فلاں کو اور اتنا فلاں کو دینا اور یہ تو فلاں کا ہوچکا یعنی وارث کا۔'' (1)
حدیث ۱۲: صحیحین میں ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کعبہ معظمہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے، مجھے دیکھ کر فرمایا: ''قسم ہے رب کعبہ کی! وہ ٹوٹے میں ہیں۔ میں نے عرض کی، میرے باپ ماں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر قربان وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: زیادہ مال والے، مگر جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کرے آگے پیچھے دہنے بائیں یعنی ہر موقع پر خرچ کرے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔'' (2)
حدیث ۱۳: سنن ترمذی میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سخی قریب ہے اﷲ (عزوجل) سے، قریب ہے جنت سے، قریب ہے آدمیوں سے، دُور ہے جہنم سے اور بخیل دورہے اﷲ (عزوجل) سے، دور ہے جنت سے، دور ہے آدمیوں سے، قریب ہے جہنم سے اورجاہل سخی اﷲ (عزوجل) کے نزدیک زیادہ پیارا ہے، بخیل عابد سے۔'' (3)
حدیث ۱۴: سُنن ابو داود میں ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''آدمی کا اپنی زندگی (یعنی صحت) میں ایک درم صدقہ کرنا، مرتے وقت کے سو درہم صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔'' (4)
حدیث ۱۵: امام احمد و نسائی و دارمی و ترمذی ابودرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص مرتے وقت صدقہ دیتا یا آزاد کرتا ہے، اُس کی مثال اُس شخص کی ہے کہ جب آسودہ ہو لیا تو ہدیہ کرتا ہے۔'' (5)
حدیث ۱۶: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ایک شخص جنگل میں تھا، اُس نے اَبر میں ایک آواز سُنی کہ فلاں کے باغ کوسیراب کر، وہ اَبر ایک کنارہ کو ہوگیا اور اُس نے پانی سنگستان میں گِرایا اور ایک نالی نے وہ سارا پانی لے لیا، وہ شخص پانی کے پیچھے ہو لیا، ایک شخص کو دیکھا کہ اپنے باغ میں کھڑا ہوا کُھرپیا سے پانی پھیر رہا ہے۔ اُس نے کہا، اے اﷲ (عزوجل) کے بندے! تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے کہا، فلاں نام، وہی نام جو
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان افضل الصدقۃ صدقۃ الصحیح الشحیح، الحدیث: ۱۰۳۲، ص۵۱۵.
2 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب تغلیظ عقوبۃ من لایؤدی الزکاۃ، الحدیث: ۹۹۰، ص۴۹۵.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب البر والصلۃ، باب ماجاء في السخائ، الحدیث: ۱۹۶۸، ج۳، ص۳۸۷.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الوصایا، باب ماجاء في کراہیۃ الإضرار في الوصیۃ، الحدیث: ۲۸۶۶، ج۳، ص۱۵۵.
5 ۔ ''سنن الدارمي''، کتاب الوصایا، باب من أحب الوصیۃ ومن کرہ، الحدیث: ۳۲۲۶، ج۲، ص۵۰۵.
و ''جامع الترمذي''، ابواب الوصایا... الخ، باب ماجاء في الرجل یتصدق ... الخ، الحدیث: ۲۱۲۳، ج۴، ص۴۴.
اُس نے اَبر میں سے سُنا۔ اُس نے کہا، اے اﷲ (عزوجل) کے بندے! تُو میرا نام کیوں پوچھتا ہے؟ اُس نے کہا، میں نے اُس اَبر میں سے جس کا یہ پانی ہے، ایک آواز سُنی کہ وہ تیرا نام لے کر کہتا ہے، فلاں کے باغ کو سیراب کر، تو تُو کیا کرتا ہے (کہ تیرا نام لے کر پانی بھیجا جاتا ہے)؟ جواب دیا کہ جو کچھ پیدا ہوتا اس میں سے ایک تہائی خیرات کرتا ہوں اور ایک تہائی میں اور میرے بال بچے کھاتے ہیں اور ایک تہائی بونے کے لیے رکھتا ہوں۔'' (1)
حدیث ۱۷: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''بنی اسرائیل میں تین شخص تھے۔ ایک برص والا، دوسرا گنجا، تیسرا اندھا۔ اﷲ عزوجل نے ان کا امتحان لینا چاہا، ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا، وہ فرشتہ برص والے کے پاس آیا۔ اس سے پوچھا، تجھے کیا چیز زیادہ محبوب ہے؟ اُس نے کہا: اچھا رنگ اور اچھا چمڑا اور یہ بات جاتی رہے، جس سے لوگ گھن کرتے ہیں۔ فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا، وہ گھن کی چیز جاتی رہی اور اچھا رنگ اور اچھی کھال اسے دی گئی، فرشتے نے کہا: تجھے کونسا مال زیادہ محبوب ہے؟ اُس نے اونٹ کہا یا گائے (راوی کا شک ہے، مگر برص والے اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ کہا، دوسرے نے گائے)۔ اُسے دس ۱۰ مہینے کی حاملہ اونٹنی دی اور کہا کہ اﷲ تعالیٰ تیرے لیے اس میں برکت دے۔
پھر گنجے کے پاس آیا، اُس سے کہا: تجھے کیا شے زیادہ محبوب ہے؟ اُس نے کہا: خوبصورت بال اور یہ جاتا رہے، جس سے لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا، وہ بات جاتی رہی اور خوبصورت بال اُسے دیے گئے، اُس سے کہا: تجھے کون سا مال محبوب ہے؟ اُس نے گائے بتائی۔ ایک گابھن گائے اُسے دی گئی اور کہا اﷲ تعالیٰ تیرے لیے اس میں برکت دے۔
پھر اندھے کے پاس آیا اور کہا: تجھے کیا چیز زیادہ محبوب ہے؟ اُس نے کہا: یہ کہ اﷲ تعالیٰ میری نگاہ واپس دے کہ میں لوگوں کو دیکھوں۔ فرشتہ نے ہاتھ پھیرا، اﷲ تعالیٰ نے اُس کی نگاہ واپس دی۔ فرشتہ نے پوچھا، تجھے کونسا مال زیادہ پسند ہے؟ اُس نے کہا: بکری۔ اُسے ایک گابھن بکری دی۔ اب اونٹنی اور گائے اور بکری سب کے بچے ہوئے، ایک کے لیے اونٹوں سے جنگل بھر گیا۔ دوسرے کے لیے گائے سے، تیسرے کے لیے بکریوں سے۔
پھر وہ فرشتہ برص والے کے پاس اُس کی صورت اور ہیئات میں ہوکر آیا (یعنی برص والا بن کر) اور کہا: میں مرد مسکین ہوں، میرے سفر میں وسائل منقطع ہوگئے، پہنچنے کی صورت میرے لیے آج نظر نہیں آتی، مگر اﷲ (عزوجل) کی مدد سے پھر تیری مدد سے، میں اُس کے واسطے سے جس نے تجھے خوبصورت رنگ اور اچھا چمڑا اور مال دیا ہے۔ ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں، جس سے
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزھد و الرقائق، باب فضل الانفاق علی المساکین وابن السبیل، الحدیث: ۲۹۸۴، ص۱۵۹۳.
میں سفر میں مقصد تک پہنچ جاؤں۔ اُس نے جواب دیا: حقوق بہت ہیں۔ فرشتے نے کہا: گویا میں تجھے پہچانتا ہوں، کیا تو کوڑھی نہ تھا کہ لوگ تجھ سے گھن کرتے تھے، فقیر نہ تھا۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے تجھے مال دیا، اُس نے کہا: میں تو اس مال کا نسلاً بعد نسلٍ وارث کیا گیا ہوں۔ فرشتہ نے کہا: اگر تو جھوٹا ہے تو اﷲ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا تُو تھا۔
پھر گنجے کے پاس اُسی کی صورت بن کر آیا، اُس سے بھی وہی کہا: اُس نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔ فرشتے نے کہا: اگر تو جھوٹا ہے تو اﷲ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے، جیسا تُو تھا۔
پھر اندھے کے پاس اس کی صورت وہیئات بن کر آیا اور کہا: میں مسکین شخص اور مسافر ہوں، میرے سفر میں وسائل منقطع ہوگئے، آج پہنچنے کی صورت نہیں، مگر اﷲ (عزوجل) کی مدد سے پھر تیری مدد سے میں اس کے وسیلہ سے جس نے تجھے نگاہ واپس دی، ایک بکری کا سوال کرتا ہوں جس کی وجہ سے میں اپنے سفر میں مقصد تک پہنچ جاؤں۔ اُس نے کہا: میں اندھا تھا، اﷲ تعالیٰ نے مجھے آنکھیں دیں تُو جو چاہے لے لے اور جتنا چاہے چھوڑ دے۔ خدا کی قسم! اﷲ (عزوجل) کے لیے تُو جو کچھ لے گا، میں تجھ پر مشقت نہ ڈالوں گا۔ فرشتے نے کہا: تُو اپنا مال اپنے قبضہ میں رکھ، بات یہ ہے کہ تم تینوں شخصوں کا امتحان تھا، تیرے لیے اﷲ (عزوجل) کی رضا ہے اور ان دونوں پر ناراضی۔'' (1)
حدیث ۱۸: امام احمد و ابو داود و ترمذی ام بجید رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہتی ہیں: میں نے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)! مسکین دروازہ پر کھڑا ہوتا ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ گھر میں کچھ نہیں ہوتا کہ اُسے دوں، ارشاد فرمایا: ''اُسے کچھ دیدے، اگرچہ کُھر جلا ہوا۔'' (2)
حدیث ۱۹: بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کی، کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں گوشت کا ٹکڑا ہدیہ میںآیا اور حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو گوشت پسند تھا۔ انہوں نے خادمہ سے کہا: اسے گھر میں رکھ دے، شاید حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تناول فرمائیں، اُس نے طاق میں رکھ دیا۔ ایک سائل آکر دروازہ پر کھڑا ہوا اور کہا صدقہ کرو، اﷲ تعالیٰ تم میں برکت دے گا۔ لوگوں نے کہا، اﷲ (عزوجل) تجھ میں برکت دے۔ (3) سائل چلا گیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا: تمھارے یہاں کچھ کھانے کی چیز ہے؟ اُم المومنین نے عرض کی، ہاں اور خادمہ سے فرمایا: جا وہ گوشت لے آ۔
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزھد... الخ، باب الدنیا سجن للمؤمن... إلخ، الحدیث:۲۹۶۴، ص۱۵۸۴.
و ''صحیح البخاري''، کتاب احادیث الأنبیاء، باب حدیث أبرص وأعمی وأقرع في بنی إسرائیل، الحدیث: ۳۴۶۴،
ج۲، ص۴۶۳.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أم بجید، الحدیث: ۲۷۲۱۸، ج۱۰، ص۳۲۸.
3 ۔ سائل کو واپس کرنا ہوتا تو یہ لفظ بولتے۔ ۱۲ منہ
وہ گئی تو طاق میں ایک پتھر کا ایک ٹکڑا پایا۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''چونکہ تم نے سائل کو نہ دیا، لہٰذا وہ گوشت پتھر ہوگیا۔'' (1)
حدیث ۲۰: بیہقی شعب الایمان میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سخاوت جنت میں ایک درخت ہے، جو سخی ہے، اُس نے اُسکی ٹہنی پکڑ لی ہے، وہ ٹہنی اُس کو نہ چھوڑے گی جب تک جنت میں داخل نہ کر لے اور بخل جہنم میں ایک درخت ہے، جو بخیل ہے، اُس نے اس کی ٹہنی پکڑ لی ہے، وہ ٹہنی اُسے جہنم میں داخل کیے بغیر نہ چھوڑے گی۔'' (2)
حدیث ۲۱: رزین نے علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''صدقہ میں جلدی کرو کہ بَلا صدقہ کو نہیں پھلانگتی۔'' (3)
حدیث ۲۲: صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ہر مسلمان پر صدقہ ہے۔ لوگوں نے عرض کی، اگر نہ پائے؟ فرمایا: اپنے ہاتھ سے کام کرے، اپنے کو نفع پہنچائے اور صدقہ بھی دے۔ عرض کی، اگر اس کی استطاعت نہ ہو یا نہ کرے؟ فرمایا: صاحبِ حاجت پریشان کی اعانت کرے۔ عرض کی، اگر یہ بھی نہ کرے؟ فرمایا: نیکی کا حکم کرے۔ عرض کی، اگر یہ بھی نہ کرے؟ فرمایا: شر سے باز رہے کہ یہی اُس کے لیے صدقہ ہے۔'' (4)
حدیث ۲۳: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''دو شخصوں میں عدل کرنا صدقہ ہے، کسی کو جانور پر سوار ہونے میں مدد دینا یا اُس کا اسباب اُٹھا دینا صدقہ ہے اور اچھی بات صدقہ ہے اور جو قدم نماز کی طرف چلے گا صدقہ ہے، راستہ سے اذیت کی چیز دور کرنا صدقہ ہے۔'' (5)
حدیث ۲۴: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو مسلمان پیڑ لگائے یا کھیت بوئے، اُس میں سے کسی آدمی یا پرند یا چوپایہ نے کھایا، وہ سب اُس کے لیے صدقہ ہے۔'' (6)
1 ۔ ''دلائل النبوۃ'' للبیہقي، باب ماجاء في اللحم الذی صا رحجرا... إلخ، ج۶، ص۳۰۰.
و ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الزکاۃ، باب الانفاق وکراہیۃ الامساک، الحدیث: ۱۸۸۰، ج۱، ص۵۲۱.
2 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الجودوالسخاء، الحدیث: ۱۰۸۷۷، ج۷، ص۴۳۵.
3 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الزکاۃ، باب الانفاق وکراہیۃالأمساک، الحدیث: ۱۸۸۷، ج۱، ص۵۲۲.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الأدب، باب کل معروف صدقۃ، الحدیث: ۶۰۲۲، ج۴، ص۱۰۵.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب بیان أن اسم الصدقۃ یقع... إلخ، الحدیث: ۱۰۰۹، ص۵۰۴.
6 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل الغرس والزرع، الحدیث: ۱۵۵۳، ص۸۴۰.
حدیث ۲۵ و ۲۶: سنن ترمذی میں ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے، نیک بات کا حکم کرنا بھی صدقہ ہے، بری بات سے منع کرنا صدقہ ہے، راہ بھولے ہوئے کو راہ بتانا صدقہ ہے، کمزور نگاہ والے کی مدد کرنا صدقہ ہے، راستہ سے پتھر، کانٹا، ہڈی دور کرنا صدقہ ہے، اپنے ڈول میں سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے۔'' (1) اسی کے مثل امام احمد و ترمذی نے جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۲۷: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ایک درخت کی شاخ بیچ راستہ پر تھی، ایک شخص گیا اور کہا: میں اُس کو مسلمانوں کے راستہ سے دُور کر دوں گا کہ اُن کو ایذا نہ دے، وہ جنت میں داخل کر دیا گیا۔'' (2)
حدیث ۲۸: ابو داود و ترمذی ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو مسلمان کسی مسلمان ننگے کو کپڑا پہنا دے، اﷲ تعالیٰ اُسے جنت کے سبز کپڑے پہنائے گا اور جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے، اﷲ تعالیٰ اُسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کوپانی پلائے، اﷲ تعالیٰ اُسے رحیق مختوم (یعنی جنت کی شراب سر بند) پلائے گا۔'' (3)
حدیث ۲۹: امام احمد و ترمذی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو مسلمان کسی مسلمان کو کپڑا پہنا دے تو جب تک اُس میں کا اُس شخص پر ایک پیوند بھی رہے گا، یہ اﷲ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا۔'' (4)
حدیث ۳۰ و ۳۱: ترمذی و ابن حبان انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''صدقہ رب العزت کے غضب کو بجھاتا ہے اور بُری موت کو دفع کرتا ہے۔'' (5) نیز اس کے مثل ابوبکر صدیق و دیگر صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے مروی۔
حدیث ۳۲: ترمذی نے بافادہ تصحیح ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، لوگوں نے ایک بکری ذبح کی تھی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''اس میں سے کیا باقی رہا؟ عرض کی، سوا شانہ کے کچھ باقی نہیں، ارشاد فرمایا: شانہ
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب البر والصلۃ، باب ماجاء في صنائع المعروف، الحدیث: ۱۹۶۳، ج۳، ص۳۸۴.
2 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب البر والصلۃوالأدب، باب فضل إزالۃ الأذی عن الطریق، الحدیث: ۱۲۸۔(۱۹۱۴)،(۲۶۱۸) ص۱۴۱۰،۱۴۱۱.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب في فضل سقی الماء، الحدیث: ۱۶۸۲، ج۲، ص۱۸۰.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب صفۃ القیامۃ، باب ماجاء في ثواب من کسا مسلما، الحدیث: ۲۴۹۲، ج۴، ص۲۱۸.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزکاۃ، باب ماجاء في فضل الصدقۃ، الحدیث: ۶۶۴، ج۲، ص۱۴۶.
کے سوا سب باقی ہے۔'' (1)
حدیث ۳۳: ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن خزیمہ و ابن حبان ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''تین شخصوں کو اﷲ (عزوجل) محبوب رکھتا ہے اور تین شخصوں کو مبغوض۔ جن کو اﷲ (عزوجل) محبوب رکھتا ہے، ان میں ایک یہ ہے کہ ایک شخص کسی قوم کے پاس آیا اور اُن سے اﷲ (عزوجل) کے نام پر سوال کیا، اس قرابت کے واسطے سے سوال نہ کیا، جو سائل اور قوم کے درمیان ہے، انہوں نے نہ دیا، اُن میں سے ایک شخص چلا گیا اور سائل کو چھپا کر دیا کہ اس کو اﷲ (عزوجل) جانتا ہے اور وہ شخص جس کو دیا اور کسی نے نہ جانا۔ اور ایک قوم رات بھر چلی، یہاں تک کہ جب اُنھیں نیند ہر چیز سے زیادہ پیاری ہوگئی، سب نے سر رکھ دیے (یعنی سو گئے)، اُ ن میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر دُعا کرنے لگا اور اﷲ (عزوجل) کی آیتیں پڑھنے لگا۔ اور ایک شخص لشکر میں تھا، دشمن سے مقابلہ ہوا اور ان کو شکست ہوئی، اُس شخص نے اپنا سینہ آگے کر دیا، یہاں تک کہ قتل کیا جائے یا فتح ہو۔ اور وہ تین جنھیں اﷲ (عزوجل) ناپسند فرماتا ہے۔ ایک بوڑھا زناکار، دوسرا فقیر متکبر، تیسرا مال دار ظالم۔'' (2)
حدیث ۳۴: ترمذی نے انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب اﷲ (عزوجل) نے زمین پیدا فرمائی تو اُس نے ہلنا شروع کیا تو پہاڑ پیدا فرما کر اس پر نصب فرما دیے اب زمین ٹھہر گئی، فرشتوں کو پہاڑ کی سختی دیکھ کر تعجب ہوا، عرض کی، اے پروردگار! تیری مخلوق میں کوئی ایسی شے ہے کہ وہ پہاڑ سے زیادہ سخت ہے؟ فرمایا: ہاں، لوہا۔ عرض کی، اے رب (عزوجل) ! لوہے سے زیادہ سخت کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں، آگ۔ عرض کی، آگ سے بھی زیادہ کوئی سخت ہے؟ فرمایا: ہاں، پانی۔ عرض کی، پانی سے بھی زیادہ سخت کچھ ہے؟ فرمایا: ہاں ہَوا۔ عرض کی، ہَوا سے بھی زیادہ سخت کوئی شے ہے؟ فرمایا: ہاں، ابنِ آدم کہ دہنے ہاتھ سے صدقہ کرتا ہے اور اُسے بائیں ہاتھ سے چھپاتا ہے۔'' (3)
حدیث ۳۵: نسائی نے ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو مسلمان اپنے کُل مال سے اﷲ (عزوجل) کی راہ میں جوڑا خرچ کرے، جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے۔ ہر ایک اُسے اُس کی طرف بلائے گا، جو اُس کے پاس ہے۔ میں نے عرض کی، اس کی کیا صورت ہے؟ فرمایا: ''اگر اُونٹ دے تو دو اُونٹ اور گائے دے تو دو گائیں۔'' (4)
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب صفۃ القیامۃ... إلخ، ۳۳۔باب، الحدیث: ۲۴۷۸، ج۴، ص۲۱۲.
2 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الزکاۃ، باب ثواب من یعطی، الحدیث: ۲۵۶۷، ص۴۲۲.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب تفسیر القرآن، باب في حکمۃ خلق الجبال... إلخ، الحدیث: ۳۳۸۰، ج۵، ص۲۴۲.
4 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الجہاد، باب فضل النفقۃ في سبیل اللہ تعالیٰ، الحدیث:۳۱۸۲، ص۵۱۹.
حدیث ۳۶: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''صدقہ خطا کو ایسے دور کرتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔'' (1)
حدیث ۳۷: امام احمد بعض صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: کہ ''مسلمان کا سایہ قیامت کے دن اُس کا صدقہ ہوگا۔'' (2)
حدیث ۳۸: صحیح بخاری میں ابوہریرہ و حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''بہتر صدقہ وہ ہے کہ پُشتِ غنیٰ سے ہو یعنی اُس کے بعد تونگری باقی رہے اور ان سے شروع کرو جو تمھاری عیال میں ہیں یعنی پہلے اُن کو دو پھرا وروں کو۔'' (3)
حدیث ۳۹: ابومسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے صحیحین میں مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''مسلمان جو کچھ اپنے اہل پر خرچ کرتا ہے، اگر ثواب کے لیے ہے تو یہ بھی صدقہ ہے۔'' (4)
حدیث ۴۰: زینب زوجہ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے صحیحین میں مروی، انہوں نے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے دریافت کرایا، شوہر اور یتیم بچے جو پرورش میں ہیں ان کو صدقہ دینا کافی ہوسکتا ہے؟ ارشاد فرمایا: ان کو دینے میں دُونا اجر ہے، ایک اجر قرابت اور ایک اجر صدقہ۔'' (5)
حدیث ۴۱: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ و دارمی سلیمان بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مسکین کو صدقہ دینا، صرف صدقہ ہے اور رشتہ والے کو دینا، صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔'' (6)
حدیث ۴۲: امام بخاری و مسلم ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: گھر میں جو کھانے کی چیز ہے، اگر عورت اُس میں سے کچھ دیدے مگر ضائع کرنے کے طور پر نہ ہو تو اُسے دینے کا ثواب ملے گا اور شوہر کو کمانے کا ثواب ملے گا اور خازن (بھنڈاری) کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا۔ ایک کا اجر دوسرے کے اجر کو کم نہ کریگا (7) یعنی اس صورت میں کہ جہاں ایسی عادت جاری ہو کہ عورتیں دیا کرتی ہوں اور شوہر منع نہ کرتے ہوں اور اُسی حد تک جو عادت
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الإیمان، باب ماجاء في حرمۃ الصلاۃ، الحدیث: ۲۶۲۵، ج۴، ص۲۸۰.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث رجل من أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۱۸۰۶۵، ج۶، ص۳۰۲.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب لاصدقۃ إلا عن ظھر غنی، الحدیث: ۱۴۲۶، جٍ۱، ص۴۸۱.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب النفقات، باب فضل النفقۃ علی الأھل... إلخ، الحدیث: ۵۳۵۱، ج۳، ص۵۱۱.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب فضل النفقۃ والصدقۃ... إلخ، الحدیث: ۱۰۰۰، ص۵۰۱.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، ابواب الزکاۃ، باب ماجاء في الصدقۃ علی ذی القرابۃ، الحدیث: ۶۵۸، ج۲، ص۱۴۲.
7 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب من أمرخادمہ... إلخ، الحدیث: ۱۴۲۵، ج۱، ص۴۸۱.
کے موافق ہے مثلاً روٹی دو روٹی، جیسا کہ ہندوستان میں عموماً رواج ہے اور اگر شوہر نے منع کر دیا ہو یا وہاں کی ایسی عادت نہ ہو تو بغیر اجازت عورت کو دینا جائز نہیں۔ ترمذی میں ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا: عورت شوہر کے گھر سے بغیر اجازت کچھ نہ خرچ کرے۔ عرض کی گئی، کھانا بھی نہیں؟ فرمایا: یہ تو بہت اچھا مال ہے۔ (1)
حدیث ۴۳: صحیحین میں ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''خازن مسلمان امانت دار کہ جو اُسے حکم دیا گیا، پورا پورا اُس کو دے دیتا ہے، وہ دو صدقہ دینے والوں میں کا ایک ہے۔'' (2)
حدیث ۴۴: حاکم اور طبرانی اوسط میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ ''ایک لقمہ روٹی اور ایک مُٹھی خرما اور اس کی مثل کوئی اور چیز جس سے مسکین کو نفع پہنچے۔ اُن کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ تین شخصوں کو جنت میں داخل فرماتا ہے۔ ایک صاحب خانہ جس نے حکم دیا، دوسری زوجہ کہ اسے تیار کرتی ہے، تیسرے خادم جو مسکین کو دے آتا ہے پھر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: حمد ہے اﷲ (عزوجل) کے لیے جس نے ہمارے خادموں کو بھی نہ چھوڑا۔'' (3)
حدیث ۴۵: ابن ماجہ جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہتے ہیں کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے خطبہ میں فرمایا: ''اے لوگو! مرنے سے پہلے اﷲ (عزوجل) کی طرف رجوع کرو اور مشغولی سے پہلے اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرو اور پوشیدہ و علانیہ صدقہ دے کر اپنے اور اپنے رب کے درمیان تعلقات کو ملاؤ تو تمھیں روزی دی جائے گی اور تمھاری مدد کی جائے گی اور تمھاری شکستگی دُور کی جائے گی۔'' (4)
حدیث ۴۶: صحیحین میں عدی بن حاتم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''تم میں ہر شخص سے اﷲ عزوجل کلام فرمائے گا، اس کے اور اﷲ تعالیٰ کے مابین کوئی ترجمان نہ ہوگا، وہ اپنی دہنی طرف نظر کریگا تو جوکچھ پہلے کر چکا ہے، دکھائی دے گا، پھر بائیں طرف دیکھے گا تو وہی دیکھے گا، جو پہلے کر چکا ہے، پھراپنے سامنے نظر کریگا تو مونھ کے سامنے آگ دکھائی دے گی تو آگ سے بچو، اگرچہ خرمے کا ایک ٹکڑا دے کر۔'' (5) اور اسی کے مثل عبداﷲ بن مسعود و صدیق اکبر و اُم المومنین صدیقہ وانس و ابوہریرہ و ابو امامہ و نعمان بن بشیر وغیرہم صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے مروی۔
حدیث ۴۷: ابویعلیٰ جابر اور ترمذی معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزکاۃ، باب ماجاء في نفقۃ المرأۃ من بیت زوجہا، الحدیث: ۶۷۰، ج۲، ص۱۴۹.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب اجر الخادم... إلخ، الحدیث: ۱۴۳۸، ج۱، ص۴۸۴.
3 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب المیم، الحدیث: ۵۳۰۹، ج۴، ص۸۹.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب إقامۃ الصلوات، باب في فرض الجمعۃ، الحدیث: ۱۰۸۱، ج۲، ص۵.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ... إلخ، الحدیث: ۶۷۔(۱۰۱۶)، ص۵۰۷.
فرمایا: ''صدقہ خطا کو ایسے بجھاتا ہے جیسے پانی آگ کو۔'' (1)
حدیث ۴۸: امام احمد و ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ہر شخص قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا، اُس وقت تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔'' (2) اور طبرانی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ صدقہ قبر کی حرارت کودفع کرتا ہے۔'' (3)
حدیث ۴۹: طبرانی و بیہقی حسن بصری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مرسلاً راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: رب عزوجل فرماتا ہے: ''اے ابنِ آدم! اپنے خزانہ میں سے میرے پاس کچھ جمع کر دے، نہ جلے گا، نہ ڈوبے گا، نہ چوری جائے گا۔ تجھے میں پورا دوں گا، اُس وقت کہ تو اُس کا زیادہ محتاج ہوگا۔'' (4)
حدیث ۵۰ و ۵۱: امام احمد و بزار و طبرانی و ابن خزیمہ و حاکم و بیہقی بریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اور بیہقی ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ''آدمی جب کچھ بھی صدقہ نکالتا ہے تو ستّر ۷۰ شیطان کے جبڑے چیر کر نکلتا ہے۔'' (5)
حدیث ۵۲: طبرانی نے عمرو بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ''مسلمان کا صدقہ عمر میں زیادتی کا سبب ہے اور بُری موت کو دفع کرتا ہے اور اﷲ تعالیٰ اس کی وجہ سے تکبر و فخر کو دور فرما دیتا ہے۔'' (6)
حدیث ۵۳: طبرانی کبیر میں رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ''صدقہ بُرائی کے ستّر ۷۰ دروازوں کو بند کر دیتا ہے۔'' (7)
حدیث ۵۴: ترمذی و ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم حارث اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ ''اﷲ عزوجل نے یحییٰ بن زکریا علیھما الصلوٰۃ والسلام کو پانچ باتوں کی وحی بھیجی کہ خود عمل کریں اور بنی اسرائیل کو حکم فرمائیں کہ وہ ان پر عمل کریں۔ ان میں ایک یہ ہے کہ اس نے تمھیں صدقہ کا حکم فرمایا ہے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کو دشمن نے قید
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الإیمان، باب ماجاء في حرمۃ الصلاۃ، الحدیث: ۲۶۲۵، ج۴، ص۲۸۰.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الشامیین، حدیث عقبہ بن عامر، الحدیث: ۱۷۳۳۵ج۶، ص۱۲۶.
3 ۔ ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۷۸۷، ج۱۷، ص۲۸۶.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الزکاۃ، التحریض علی صدقۃ التطوع، الحدیث: ۳۳۴۲، ج۳، ص۲۱۱.
5 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث بریدۃ الأسلمی، الحدیث: ۲۳۰۲۳، ج۹، ص۱۲.
6 ۔ ''المعجم الکبیر''، ، الحدیث: ۳۱، ج۱۷، ص۲۲.
7 ۔ ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۴۴۰۲، ج۴، ص۲۷۴.
کیا اور اس کا ہاتھ گردن سے ملا کر باندھ دیا اور اُسے مارنے کے لیے لائے، اُس وقت تھوڑا بہت جو کچھ تھا، سب کو دے کر اپنی جان بچائی۔'' (1)
حدیث ۵۵: ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جس نے حرام مال جمع کیا پھر اُسے صدقہ کیا تو اُس میں اُس کے لیے کچھ ثواب نہیں، بلکہ گناہ ہے۔'' (2)
حدیث ۵۶: ابو داود و ابن خزیمہ و حاکم اُنھیں سے راوی، عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! کونسا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ''کم مایہ شخص کا کوشش کرکے صدقہ دینا۔'' (3)
حدیث ۵۷: نسائی و ابن خزیمہ و ابن حبان اُنھیں سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ایک درہم لاکھ درہم سے بڑھ گیا۔'' کسی نے عرض کی، یہ کیونکر یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ؟ فرمایا: ''ایک شخص کے پاس مالِ کثیر ہے، اُس نے اُس میں سے لاکھ درہم لے کر صدقہ کیے اور ایک شخص کے پاس صرف دو ۲ ہیں، اُس نے اُن میں سے ایک کو صدقہ کر دیا۔'' (4)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۳﴾ۙاَیَّامًا مَّعْدُوۡدٰتٍ ؕ فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ وَعَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیۡنٍ ؕ فَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ ؕ وَ اَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿۱۸۴﴾شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلْیَصُمْہُ ؕ وَمَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیۡدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ۫ وَ لِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلْیَسْتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلْیُؤْمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوۡنَ ﴿۱۸۶﴾اُحِلَّ لَکُمْ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الأمثال، باب ماجاء في مثل الصلاۃ والصیام والصدقۃ، الحدیث: ۲۸۷۲، ج۴، ص۳۹۴.
2 ۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الزکاۃ، باب التطوع، الحدیث: ۳۳۵۶، ج۵، ص۱۵۱.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب الرخصۃ في ذلک، الحدیث: ۱۶۷۷، ج۲، ص۱۷۹.
4 ۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ التطوع، الحدیث: ۳۳۳۶، ج۵، ص۱۴۴.
نِسَآئِکُمْ ؕ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنۡتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ؕ عَلِمَ اللہُ اَنَّکُمْ کُنۡتُمْ تَخْتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیۡکُمْ وَعَفَا عَنۡکُمْ ۚ فَالۡـٰٔنَ بَاشِرُوۡہُنَّ وَابْتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللہُ لَکُمْ ۪ وَکُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیۡطُ الۡاَبْیَضُ مِنَ الْخَیۡطِ الۡاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَاَنۡتُمْ عٰکِفُوۡنَ فِی الْمَسٰجِدِ ؕ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾ ) (1)
اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسا ان پر فرض ہوا تھا جو تم سے پہلے ہوئے، تاکہ تم گناہوں سے بچو چند دنوں کا۔ پھر تم میں جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو، وہ اور دنوں میں گنتی پوری کرلے اور جو طاقت نہیں رکھتے، وہ فدیہ دیں۔ ایک مسکین کا کھانا پھر جو زیادہ بھلائی کرے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمھارے لیے بہتر ہے، اگرتم جانتے ہو۔ ماہِ رمضان جس میں قرآن اُتارا گیا۔ لوگوں کی ہدایت کو اور ہدایت اور حق و باطل میں جدائی بیان کرنے کے لیے تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے تو اس کا روزہ رکھے اور جو بیمار یا سفرمیں ہو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے۔ اﷲ (عزوجل) تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے، سختی کا ارادہ نہیں فرماتا اور تمھیں چاہیے کہ گنتی پوری کرو اور اﷲ (عزوجل) کی بڑائی بولو، کہ اُس نے تمھیں ہدایت کی اور اس امید پر کہ اس کے شکر گزار ہو جاؤ۔ اور اے محبوب (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں نزدیک ہوں، دُعا کرنے والے کی دُعا سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارے تو اُنھیں چاہیے کہ میری بات قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں، اس اُمید پر کہ راہ پائیں۔ تمھارے لیے روزہ کی رات میں عورتوں سے جماع حلال کیا گیا، وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس۔ اﷲ (عزوجل) کو معلوم ہے کہ تم اپنی جانوں پرخیانت کرتے ہو تو تمھاری توبہ قبول کی اور تم سے معاف فرمایا تو اب اُن سے جماع کرو اور اسے چاہو جو اﷲ (عزوجل) نے تمھارے لیے لکھا اور کھاؤ اور پیو اس وقت تک کہ فجر کا سُپید ڈورا سیاہ ڈورے سے ممتاز ہو جائے پھر رات تک روزہ پورا کرو اور ان سے جماع نہ کرو اس حال میں کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔ یہ اﷲ (عزوجل) کی حدیں ہیں، اُن کے قریب نہ جاؤ، اﷲ (عزوجل) اپنی نشانیاں یوہیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ بچیں۔
روزہ بہت عمدہ عبادت ہے، اس کی فضیلت میں بہت حدیثیں آئیں۔ ان میں سے بعض ذکر کی جاتی ہیں۔
حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب رمضان آتا ہے، آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔'' (2)
1 ۔ پ۲، البقرۃ: ۱۸۳ ۔ ۱۸۷.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب ہل یقال رمضان أوشھر رمضان... إلخ، الحدیث: ۱۸۹۹، ج۱، ص۶۲۶.
ایک روایت میں ہے، کہ ''جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔'' (1)
ایک روایت میں ہے، کہ ''رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں۔'' (2)
اور امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ کی روایت میں ہے، ''جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنّ قید کر لیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں تو اُن میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں تو اُن میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور منادی پکارتا ہے، اے خیر طلب کرنے والے! متوجہ ہو اور اے شر کے چاہنے والے! باز رہ اور کچھ لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہیں اور یہ ہر رات میں ہوتا ہے۔'' (3)
امام احمد ونسائی کی روایت انھیں سے ہے، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''رمضان آیا، یہ برکت کا مہینہ ہے، اﷲ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ، اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور سرکش شیطانوں کے طوق ڈال دیے جاتے ہیں اور اس میں ایک رات ا یسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس کی بھلائی سے محروم رہا، وہ بیشک محروم ہے۔'' (4)
حدیث ۲: ابن ماجہ انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں۔ رمضان آیا تو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''یہ مہینہ آیا، اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس سے محروم رہا، وہ ہر چیز سے محروم رہا اور اس کی خیر سے وہی محروم ہوگا، جو پورا محروم ہے۔'' (5)
حدیث ۳: بیہقی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہتے ہیں: جب رمضان کا مہینہ آتا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سب قیدیوں کو رہا فرما دیتے اور ہر سائل کو عطا فرماتے۔'' (6)
حدیث ۴: بیہقی شعب الایمان میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جنت ابتدائے سال سے سال آئندہ تک رمضان کے لیے آراستہ کی جاتی ہے، جب رمضان کا پہلا دن آتاہے تو جنت کے پتّوں سے
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب ہل یقال رمضان أوشھر رمضان... إلخ، الحدیث: ۱۸۹۸، ج۱، ص۶۲۵.
2 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب فضل شہر رمضان، الحدیث: ۲۔(۱۰۷۹)، ص۵۴۳.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم، با ب ماجاء في فضل شہر رمضان، الحدیث: ۶۸۲، ج۲، ص۱۵۵.
4 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الصیام، باب ذکر الاختلاف علی معمر فیہ، الحدیث: ۲۱۰۳، ص۳۵۵.
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الصیام، باب ماجاء في فضل شھر رمضان، الحدیث: ۱۶۴۴، ج۲، ص۲۹۸.
6 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، فضائل شہر رمضان، الحدیث: ۳۶۲۹، ج۳، ص۳۱۱.
عرش کے نیچے ایک ہوا حور عین پرچلتی ہے، وہ کہتی ہیں، اے رب! تُو اپنے بندوں سے ہمارے لیے ان کو شوہر بنا، جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور اُن کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔'' (1)
حدیث ۵: امام احمد ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''رمضان کی آخر شب میں اِس اُمّت کی مغفرت ہوتی ہے۔ عرض کی گئی، کیا وہ شبِ قدر ہے؟ فرمایا: نہیں ولیکن کام کرنے والے کو اس وقت مزدوری پوری دی جاتی ہے، جب کام پورا کرلے۔'' (2)
حدیث ۶: بیہقی شعب الایمان میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر دن میں وعظ فرمایا۔ فرمایا: ''اے لوگو! تمھارے پاس عظمت والا، برکت والا مہینہ آیا، وہ مہینہ جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس کے روزے اﷲ تعالیٰ نے فرض کیے اور اس کی رات میں قیام (نماز پڑھنا) تطوع (یعنی سنت) جو اس میں نیکی کا کوئی کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض ادا کیا اور اس میں جس نے فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستّر ۷۰ فرض ادا کیے ۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مہینہ مواسات (3) کا ہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے، جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے، اُس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جائے گی اور اس افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا بغیر اس کے کہ اُس کے اجر میں سے کچھ کم ہو۔'' ہم نے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! ہم میں کا ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا، جس سے روزہ افطار کرائے؟ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو دے گا، جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک خُرما یا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کرائے اور جس نے روزہ دار کو بھر پیٹ کھانا کھلایا، اُس کو اﷲ تعالیٰ میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ اُس کا اوّل رحمت ہے اور اس کا اوسط مغفرت ہے اور اس کا آخر جہنم سے آزادی ہے جو اپنے غلام پر اس مہینے میں تخفیف کرے یعنی کام میں کمی کرے، اﷲ تعالیٰ اُسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرما دے گا۔'' (4)
حدیث ۷: صحیحین و ترمذی و نسائی و صحیح ابن خزیمہ میں سہل بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
1 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، فضائل شہر رمضان، الحدیث: ۳۶۳۳، ج۳، ص۳۱۲ ۔ ۳۱۳.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسندأبي ہریرۃ، الحدیث: ۷۹۲۲، ج۳، ص۱۴۴.
3 ۔ یعنی غمخواری اور بھلائی۔
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، فضائل شہر رمضان، الحدیث: ۳۶۰۸، ج۳، ص۳۰۵.
و ''صحیح ابن خزیمۃ''، کتاب الصیام، باب فضائل شہر رمضان... إلخ، الحدیث: ۱۸۸۷، ج۳، ص۱۹۱.
فرماتے ہیں: ''جنت میں آٹھ دروازے ہیں، ان میں ایک دروازہ کا نام ریّان ہے، اس دروازہ سے وہی جائیں گے جو روزے رکھتے ہیں۔'' (1)
حدیث ۸: بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو ایمان کی وجہ سے اور ثواب کے لیے رمضان کا روزہ رکھے گا، اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور جو ایمان کی وجہ سے اور ثواب کے لیے رمضان کی راتوں کا قیام کریگا، اُس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور جو ایمان کی وجہ سے اور ثواب کے لیے شبِ قدر کا قیام کریگا، اُس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔'' (2)
حدیث ۹: امام احمد و حاکم اور طبرانی کبیر میں اور ابن ابی الدُنیا اور بیہقی شعب الایمان میں عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''روزہ و قرآن بندہ کے لیے شفاعت کریں گے، روزہ کہے گا، اے رب (عزوجل) ! میں نے کھانے اور خواہشوں سے دن میں اسے روک دیا، میری شفاعت اُس کے حق میں قبول فرما۔ قرآن کہے گا، اے رب (عزوجل) ! میں نے اسے رات میں سونے سے باز رکھا، میری شفاعت اُس کے بارے میں قبول کر۔ دونوں کی شفاعتیں قبول ہوں گی۔'' (3)
حدیث ۱۰: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''آدمی کے ہر نیک کام کا بدلہ دس ۱۰ سے سات سو ۷۰۰ تک دیا جاتا ہے، اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: ''مگر روزہ کہ وہ میرے لیے ہے اور اُس کی جزا میں دوں گا۔ بندہ اپنی خواہش اور کھانے کو میری وجہ سے ترک کرتاہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب (عزوجل) سے ملنے کے وقت اور روزہ دار کے مونھ کی بُو اﷲ عزوجل کے نزدیک مُشک سے زیادہ پاکیزہ ہے اور روزہ سپر ہے اور جب کسی کے روزہ کا دن ہو تو نہ بے ہودہ بکے اور نہ چیخے پھر اگر اِس سے کوئی گالی گلوچ کرے یا لڑنے پر آمادہ ہو تو کہہ دے، میں روزہ دار ہوں۔'' (4) اسی کے مثل امام مالک و ابو داود و ترمذی و نسائی اور ابن خزیمہ نے روایت کی۔
حدیث ۱۱: طبرانی اوسط میں اور بیہقی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ عزوجل کے نزدیک اعمال سات ۷ قسم کے ہیں۔ دو عمل واجب کرنے والے اور دو کا بدلہ ان کے برابر ہے اور ایک عمل کا بدلا دس ۱۰ گنا
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ أبواب الجنۃ، الحدیث: ۳۲۵۷، ج۲، ص۳۹۴.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب صلاۃ التراویح، باب فضل من قام رمضان، الحدیث: ۲۰۰۹، ج۱، ص۶۵۸.
و ''صحیح البخاري، کتاب فضل لیلۃ القدر، باب فضل لیلۃ القدر، الحدیث: ۲۰۱۴، ج۱، ص۶۶۰.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص، الحدیث: ۶۶۳۷، ج۲، ص۵۸۶.
4 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الصوم، الفصل الأول، الحدیث: ۱۹۵۹، ج۱، ص۵۴۱.
اور ایک عمل کا معاوضہ سات سو ہے اور ایک وہ عمل ہے، جس کا ثواب اﷲ (عزوجل) ہی جانے۔ وہ دو جو واجب کرنے والے ہیں ان میں:
(۱) ایک یہ کہ جو خدا سے اس حال میں ملے کہ خالص اسی کی عبادت کرتا تھا، کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرتا تھا، اُس کے لیے جنت واجب۔
(۲) دوسرا یہ کہ جو خدا سے ملا اس حال میں کہ اُس نے شرک کیا ہے تو اس کے لیے جہنم واجب اور
(۳) جس نے برائی کی، اس کو اسی قدر سزا دی جائے گی اور
(۴) جس نے نیکی کاارادہ کیا، مگر عمل نہ کیا تو اُس کو ایک نیکی کا بدلا دیا جائے گا اور
(۵) جس نے نیکی کی، اُسے دس گنا ثواب ملے گا اور
(۶) جس نے اﷲ (عزوجل) کی راہ میں خرچ کیا، اُس کو سات سو ۷۰۰ کا ثواب ملے گا۔ ایک درہم کا سات سو درہم اور ایک دینار کا ثواب سات سو ۷۰۰ دینار اور روزہ اﷲ عزوجل کے لیے ہے، اس کا ثواب اﷲ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔'' (1)
حدیث ۱۲تا۱۵: امام احمد باسناد حسن اوربیہقی روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''روزہ سپر ہے اور دوزخ سے حفاظت کا مضبوط قلعہ۔'' (2) اُسی کے قریب جابر و عثمان بن ابی العاص و معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے مروی۔
حدیث ۱۶ و ۱۷: ابو یعلیٰ و بیہقی سلمہ بن قیس اور احمد و بزار ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے اﷲ عزوجل کی رضا کے لیے ایک دن کا روزہ رکھا، اﷲ تعالیٰ اس کو جہنم سے اتنا دور کر دے گا جیسے کوّا کہ جب بچہ تھا، اس وقت سے اُڑتا رہا یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر مرا۔'' (3)
حدیث ۱۸: ابویعلیٰ و طبرانی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اگر کسی نے ایک دن نفل روزہ رکھا اور زمین بھر اُسے سونا دیا جائے، جب بھی اس کا ثواب پورا نہ ہوگا۔ اس کا ثواب تو قیامت ہی کے دن ملے گا۔'' (4)
حدیث ۱۹: ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہر شے کے لیے
1 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، فضائل الصوم، الحدیث: ۳۵۸۹، ج۳، ص۲۹۸.
و ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الصوم، الحدیث: ۸، ج۲، ص۴۹.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسندأبي ہریرۃ، الحدیث: ۹۲۳۶، ج۳، ص۳۶۷.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسندأبي ہریرۃ، الحدیث: ۱۰۸۱۰، ج۳، ص۶۱۹.
4 ۔ ''مسند أبي یعلی''، مسند أبي ہریرۃ، الحدیث: ۶۱۰۴، ج۵، ص۳۵۳.
زکاۃ ہے اور بدن کی زکاۃ روزہ ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔'' (1)
حدیث ۲۰: نسائی و ابن خزیمہ و حاکم ابوامامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! مجھے کسی عمل کا حکم فرمائیے؟ فرمایا: ''روزہ کو لازم کر لو کہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں۔'' میں نے عرض کی، مجھے کسی عمل کا حکم فرمائیے؟ ارشاد فرمایا: ''روزہ کو لازم کر لو کہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں۔'' انھوں نے پھر وہی عرض کی، وہی جواب ارشاد ہوا۔ (2)
حدیث ۲۱تا۲۶: بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ اﷲ (عزوجل) کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے، اﷲ تعالیٰ اُس کے مونھ کو دوزخ سے ستّر ۷۰ برس کی راہ دور فرما دے گا۔'' (3) اور اسی کی مثل نسائی و ترمذی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، اور طبرانی ابودرداء اور ترمذی ابوامامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کرتے ہیں، فرمایا: کہ ''اُس کے اور جہنم کے درمیان اﷲ تعالیٰ اتنی بڑی خندق کر دے گا، جتنا آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔'' (4)
اور طبرانی کی روایت عمرو بن عبسہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ ''دوزخ اس سے سو برس کی راہ دُور ہوگی۔'' (5) اور ابو یعلیٰ کی روایت معاذ بن انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ ''غیر رمضان میں اﷲ (عزوجل) کی راہ میں روزہ رکھا تو تیز گھوڑے کی رفتار سے سو برس کی مسافت پر جہنم سے دور ہوگا۔'' (6)
حدیث ۲۷: بیہقی عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: روزہ دار کی دُعا، افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی۔'' (7)
حدیث ۲۸: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ و ابن حبان ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے: ''تین شخص کی دُعا ردنہیں کی جاتی۔ روزہ دار جس وقت افطار کرتا ہے اور بادشاہ عادل اور مظلوم کی
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الصیام، باب في الصوم زکاۃ الجسد، الحدیث: ۱۷۴۵، ج۲، ص۳۴۶.
2 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الصیام، باب ذکر الاختلاف... إلخ، الحدیث: ۲۲۲۰، ص۳۷۱.
و ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الصوم، الحدیث: ۲۱، ج۲، ص۵۲.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب فضل الصیام في سبیل اللہ... إلخ، الحدیث: ۱۶۸۔(۱۱۵۳)، ص۵۸۱.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب فضائل الجہاد، باب ماجاء في فضل الصوم... إلخ، الحدیث: ۱۶۳۰، ج۳، ص۲۳۳.
5 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب الباء، الحدیث: ۳۲۴۹، ج۲، ص۲۶۸.
6 ۔ ''مسند أبي یعلیٰ ''، مسندمعاذ بن أنس، الحدیث: ۱۴۸۴، ج۲، ص۳۶.
7 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، فصل فیما یفطر الصائم علیہ، الحدیث: ۳۹۰۴، ج۳، ص۴۰۷.
دُعا، اِس کو اﷲ تعالیٰ ابرسے اوپر بلند کرتا ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔'' اور رب عزوجل فرماتا ہے: ''مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! ضرور تیری مدد کروں گا، اگرچہ تھوڑے زمانہ بعد۔'' (1)
حدیث ۲۹: ابن حبان و بیہقی ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے رمضان کا روزہ رکھا اور اُس کی حدود کو پہچانا اور جس چیز سے بچنا چاہیے اُس سے بچا تو جو پہلے کر چکا ہے اُس کا کفارہ ہوگیا۔'' (2)
حدیث ۳۰: ابن ماجہ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے مکّہ میں ماہِ رمضان پایا اور روزہ رکھا اوررات میں جتنا میّسر آیا قیام کیا تو اﷲ تعالیٰ اُس کے لیے اور جگہ کے ایک لاکھ رمضان کا ثواب لکھے گا اور ہر دن ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب اور ہر رات ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب اور ہر روز جہاد میں گھوڑے پر سوار کر دینے کا ثواب اور ہر دن میں حسنہ اور ہر رات میں حسنہ لکھے گا۔'' (3)
حدیث ۳۱: بیہقی جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''میری اُمّت کوماہِ رمضان میں پانچ باتیں دی گئیں کہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملیں۔ اوّل یہ کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے، اﷲ عزوجل ان کی طرف نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف نظر فرمائے گا، اُسے کبھی عذاب نہ کریگا۔ دوسری یہ کہ شام کے وقت اُن کے مونھ کی بُو اﷲ (عزوجل) کے نزدیک مُشک سے زیادہ اچھی ہے۔ تیسری یہ ہے کہ ہر دن اور ہر رات میں فرشتے ان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ چوتھی یہ کہ اﷲ عزوجل جنت کو حکم فرماتا ہے، کہتا ہے: مستعد ہو جا اور میرے بندوں کے لیے مزّین ہو جا قریب ہے کہ دنیا کی تعب سے یہاں آکر آرام کریں۔ پانچویں یہ کہ جب آخر رات ہوتی ہے تو ان سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ کسی نے عرض کی، کیا وہ شبِ قدر ہے؟ فرمایا: نہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ کام کرنے والے کام کرتے ہیں، جب کام سے فارغ ہوتے ہیں اُس وقت مزدوری پاتے ہیں۔'' (4)
حدیث ۳۲تا۳۴: حاکم نے کعب بن عجرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سب لوگ منبر کے پاس حاضر ہوں، ہم حاضر ہوئے، جب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے، کہا: آمین۔ دوسرے پر چڑھے، کہا: آمین۔ تیسرے پر چڑھے، کہا: آمین۔'' جب منبر سے تشریف لائے، ہم نے عرض کی، آج ہم نے
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الصیام، باب في الصائم لاترددعوتہ، الحدیث: ۱۷۵۲، ج۲، ص۳۴۹.
2 ۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الصوم، باب فضل رمضان، الحدیث: ۳۴۲۴، ج۵، ص۱۸۲۔۱۸۳.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المناسک، باب الصوم شھر رمضان بمکۃ، الحدیث: ۳۱۱۷، ج۳، ص۵۲۳.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، فضائل شھر رمضان، الحدیث: ۳۶۰۳، ج۳، ص۳۰۳.
حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے ایسی بات سُنی کہ کبھی نہ سُنتے تھے۔ فرمایا: جبرئیل نے آکرعرض کی، ''وہ شخص دور ہو، جس نے رمضان پایا اور اپنی مغفرت نہ کرائی۔ میں نے کہا آمین۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھا تو کہا وہ شخص دور ہو، جس کے پاس میرا ذکر ہو اور مجھ پر درود نہ بھیجے۔ میں نے کہا آمین۔ جب میں تیسرے درجہ پر چڑھاکہا وہ شخص دور ہو، جس کے ماں باپ دونوں یا ایک کو بڑھاپا آئے اور اُن کی خدمت کر کے جنت میں نہ جائے۔ میں نے کہا آمین۔'' (1) اسی کے مثل ابوہریرہ و حسن بن مالک بن حویرث رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے ابن حبان نے روایت کی۔
حدیث ۳۵: اصبہانی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے، اﷲ عزوجل اپنی مخلوق کی طرف نظر فرماتا ہے اور جب اﷲ (عزوجل) کسی بندہ کی طرف نظر فرمائے تو اُسے کبھی عذاب نہ دے گا اور ہر روز دس ۱۰ لاکھ کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے اور جب انتیسویں ۲۹ رات ہوتی ہے تو مہینے بھر میں جتنے آزاد کیے ، اُن کے مجموعہ کے برابر اُس ایک رات میں آزاد کرتا ہے پھر جب عیدالفطر کی رات آتی ہے، ملئکہ خوشی کرتے ہیں اور اﷲ عزوجل اپنے نور کی خاص تجلّی فرماتا ہے، فرشتوں سے فرماتا ہے: ''اے گروہ ملئکہ! اُس مزدور کا کیا بدلہ ہے، جس نے کام پورا کر لیا۔'' فرشتے عرض کرتے ہیں، اُس کو پورا اجر دیا جائے۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے: ''میں تمھیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا۔'' (2)
حدیث ۳۶: ابن خزیمہ نے ابومسعود غفاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ایک طویل حدیث روایت کی، اُس میں یہ بھی ہے، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری اُمّت تمنا کرتی کہ پورا سال رمضان ہی ہو۔'' (3)
حدیث ۳۷: بزار و ابن خزیمہ و ابن حبان عمرو بن مرہ جہنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک شخص نے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! فرمائیے تو اگر میں اُس کی گواہی دوں کہ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اﷲ (عزوجل) کے رسول ہیں اور پانچوں نمازیں پڑھوں اور زکاۃ ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور اس کی راتوں کا قیام کروں تو میں کن لوگوں میں سے ہوں گا؟ فرمایا: ''صدیقین اور شہدا میں سے۔'' (4)
1 ۔ ''المستدرک''، کتاب البرو الصلۃ، باب لعن اللہ العاق لوالدیہ... إلخ، الحدیث: ۷۳۳۸، ج۵، ص۲۱۲.
2 ۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصوم، الحدیث: ۲۳۷۰۲، ج۸، ص۲۱۹.
3 ۔ ''صحیح ابن خزیمۃ''، کتاب الصیام، باب ذکرتزیین الجنۃ لشھر رمضان... إلخ، الحدیث: ۱۸۸۶، ج۳، ص۱۹۰.
4 ۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الصوم، باب فضل رمضان، الحدیث: ۳۴۲۹، ج۵، ص۱۸۴.
روزہ عرف شرع میں مسلمان کا بہ نیّت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے جماع سے باز رکھنا، عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا شرط ہے۔ (1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱: روزے کے تین درجے ہیں۔ ایک عام لوگوں کا روزہ کہ یہی پیٹ اور شرم گاہ کو کھانے پینے جماع سے روکنا۔ دوسرا خواص کا روزہ کہ انکے علاوہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ پاؤں اور تمام اعضا کو گناہ سے باز رکھنا۔ تیسرا خاص الخاص کا کہ جمیع ماسوی اﷲ (2) سے اپنے کو بالکلیہ جُدا کرکے صرف اسی کی طرف متوجہ رہنا۔ (3) (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۲: روزے کی پانچ قسمیں ہیں:
(۱) فرض۔
(۲) واجب۔
(۳) نفل۔
(۴) مکروہِ تنزیہی۔
(۵) مکروہِ تحریمی۔
فرض و واجب کی دو قسمیں ہیں: معیّن و غیر معیّن۔ فرض معیّن جیسے ادائے رمضان۔ فرض غیر معیّن جیسے قضائے رمضان اور روزہ کفارہ۔ واجب معیّن جیسے نذر معیّن۔ واجب غیر معیّن جیسے نذر مطلق۔
نفل دو ۲ ہیں: نفل مسنون، نفل مستحب جیسے عاشورا یعنی دسویں محرم کاروزہ اور اس کے ساتھ نویں کا بھی اور ہر مہینے میں تیرھویں، چودھویں، پندرھویں اور عرفہ کا روزہ، پیر اور جمعرات کا روزہ، شش عید کے روزے صوم داود علیہ السلام، یعنی ایک دن روزہ ایک دن افطار۔
مکروہِ تنزیہی جیسے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنا۔ نیروز و مہرگان کے دن روزہ۔ صومِ دہر (یعنی ہمیشہ روزہ رکھنا)، صومِ سکوت (یعنی ایسا روزہ جس میں کچھ بات نہ کرے)، صومِ وصال کہ روزہ رکھ کر افطار نہ کرے اور دوسرے دن پھر روزہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الأول، ج۱، ص۱۹۴.
2 ۔ یعنی اﷲ عزوجل کے سوا کائنات کی ہر چیز۔
3 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۵.
رکھے، یہ سب مکروہِ تنزیہی ہیں۔ مکروہِ تحریمی جیسے عید اور ایّام تشریق (1) کے روزے۔ (2) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: روزے کے مختلف اسباب ہیں، روزہ رمضان کا سبب ماہِ رمضان کاآنا، روزہ نذر کا سبب منت ماننا، روزہ کفارہ کا سبب قسم توڑنا یا قتل یا ظہار وغیرہ۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: ماہِ رمضان کا روزہ فرض جب ہوگا کہ وہ وقت جس میں روزہ کی ابتدا کر سکے پا لے یعنی صبح صادق سے ضحوہ کبریٰ تک کہ اُس کے بعد روزہ کی نیّت نہیں ہوسکتی، لہٰذا روزہ نہیں ہوسکتا اور رات میں نیّت ہوسکتی ہے مگر روزہ کی محل نہیں، لہٰذا اگر مجنون کو رمضان کی کسی رات میں ہوش آیا اور صبح جنون کی حالت میں ہوئی یا ضحوہ کبریٰ کے بعد کسی دن ہوش آیا تو اُس پر رمضان کے روزے کی قضا نہیں، جبکہ پورا رمضان اسی جنون میں گزر جائے اور ایک دن بھی ایسا وقت مل گیا، جس میں نیّت کر سکتا ہے تو سارے رمضان کی قضا لازم ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: رات میں روزہ کی نیّت کی اور صبح غشی کی حالت میں ہوئی اور یہ غشی کئی دن تک رہی تو صرف پہلے دن کا روزہ ہوا باقی دنوں کی قضا رکھے، اگرچہ پورے رمضان بھر غشی رہی اگرچہ نیّت کا وقت نہ ملا۔ (5) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۶: ادائے روزہ رمضان اور نذر معین اور نفل کے روزوں کے لیے نیّت کا وقت غروب آفتاب سے ضحوہ کبریٰ تک ہے، اس وقت میں جب نیّت کر لے، یہ روزے ہو جائیں گے۔ لہٰذا آفتاب ڈوبنے سے پہلے نیّت کی کہ کل روزہ رکھوں گا پھر بے ہوش ہوگیا اورضحوہ کبریٰ کے بعد ہوش آیا تو یہ روزہ نہ ہوا اور آفتاب ڈوبنے کے بعد نیّت کی تھی تو ہوگیا۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ضحوہ کبریٰ نیّت کا وقت نہیں، بلکہ اس سے پیشتر نیّت ہو جانا ضرور ہے اور اگر خاص اس وقت یعنی جس وقت آفتاب خطِ نصف النہار شرعی پر پہنچ گیا، نیّت کی تو روزہ نہ ہوا۔ (7) (درمختار)
1 ۔ یعنی عید الفطر، عید الاضحی اور گیارہ، بارہ، تیرہ ذی الحجہ، ان پانچ دنوں۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الأول، ج۱، ص۱۹۴.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، ج۳، ص ۳۸۸ ۔ ۳۹۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الأول، ج۱، ص۱۹۴.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، ج۳، ص ۳۸۵ ۔ ۳۸۷.
5 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۵.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۳۸۸.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، ج۳، ص ۳۹۳.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص ۳۹۴.
مسئلہ ۸: نیّت کے بارے میں نفل عام ہے، سنت و مستحب و مکروہ سب کو شامل ہے کہ ان سب کے لیے نیّت کا وہی وقت ہے۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جس طرح اور جگہ بتایا گیا کہ نیّت دل کے ا رادہ کا نام ہے، زبان سے کہنا شرط نہیں۔ یہاں بھی وہی مراد ہے مگر زبان سے کہہ لینا مستحب ہے، اگر رات میں نیّت کرے تو یوں کہے:
نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ غَدًا لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ فَرْضِ رَمَضَانَ ھٰذَا .
''یعنی میں نے نیّت کی کہ اﷲ عزوجل کے لیے اس رمضان کا فرض روزہ کل رکھوں گا۔''
اور اگر دن میں نیّت کرے تو یہ کہے:
نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ ھٰذَا الْیَوْمَ لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ فَرْضِ رَمَضَانَ .
''میں نے نیّت کی کہ اﷲ تعالیٰ کے لیے آج رمضان کا فرض روزہ رکھوں گا۔''
اور اگر تبرک و طلب توفیق کے لیے نیّت کے الفاظ میں انشاء اﷲ تعالیٰ بھی ملا لیا تو حرج نہیں اور اگر پکا ارادہ نہ ہو، مذبذب ہو تو نیّت ہی کہاں ہوئی۔ (2) (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۱۰: دن میں نیّت کرے تو ضرور ہے کہ یہ نیّت کرے کہ میں صبح صادق سے روزہ دار ہوں اور اگر یہ نیّت ہے کہ اب سے روزہ دار ہوں، صبح سے نہیں تو روزہ نہ ہوا۔ (3) (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: اگرچہ ان تین قسم کے روزوں کی نیّت دن میں بھی ہوسکتی ہے، مگر رات میں نیّت کر لینا مستحب ہے۔ (4) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۲: یوں نیّت کی کہ کل کہیں دعوت ہوئی تو روزہ نہیں اور نہ ہوئی تو روزہ ہے یہ نیّت صحیح نہیں، بہرحال وہ روزہ دار نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: رمضان کے دن میں نہ روزہ کی نیّت ہے نہ یہ کہ روزہ نہیں، اگرچہ معلوم ہے کہ یہ مہینہ رمضان کا ہے تو
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، ج۳، ص ۳۹۳.
2 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۵.
3 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۵.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، ج۳، ص ۳۹۴.
4 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۵.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الأول في تعریفہ... إلخ، ج۱، ص۱۹۵.
روزہ نہ ہوا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: رات میں نیّت کی پھر اس کے بعد رات ہی میں کھایا پیا، تو نیّت جاتی نہ رہی وہی پہلی کافی ہے پھر سے نیّت کرنا ضرور نہیں۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۵: عورت حیض و نفاس والی تھی، اُس نے رات میں کل روزہ رکھنے کی نیّت کی اور صبح صادق سے پہلے حیض و نفاس سے پاک ہوگئی تو روزہ صحیح ہوگیا۔ (3) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۶: دن میں وہ نیّت کام کی ہے کہ صبح صادق سے نیّت کرتے وقت تک روزہ کے خلاف کوئی امر نہ پایا گیا ہو، لہٰذا اگر صبح صادق کے بعد بھول کر بھی کھا پی لیا ہو یا جماع کر لیا تو اب نیّت نہیں ہوسکتی۔ (4) (جوہرہ) مگر معتمد یہ ہے کہ بھولنے کی حالت میں اب بھی نیّت صحیح ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: جس طرح نماز میں کلام کی نیّت کی، مگر بات نہ کی تو نماز فا سد نہ ہوگی۔ یوہیں روزہ میں توڑنے کی نیّت سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، جب تک توڑنے والی چیز نہ کرے۔ (6) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۸: اگر رات میں روزہ کی نیّت کی پھر پکّا ارادہ کر لیا کہ نہیں رکھے گا تو وہ نیّت جاتی رہی۔ اگر نئی نیّت نہ کی اور دن بھر بھوکا پیاسا رہا اورجماع سے بچا تو روزہ نہ ہوا۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: سحری کھانا بھی نیّت ہے، خواہ رمضان کے روزے کے لیے ہو یا کسی اور روزہ کے لیے، مگر جب سحری کھاتے وقت یہ ارادہ ہے کہ صبح کو روزہ نہ ہوگا تو یہ سحری کھانا نیّت نہیں۔ (8) (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: رمضان کے ہر روزہ کے لیے نئی نیّت کی ضرورت ہے۔ پہلی یا کسی تاریخ میں پورے رمضان کے روزہ کی نیّت کر لی تو یہ نیّت صرف اُسی ایک دن کے حق میں ہے، باقی دنوں کے لیے نہیں۔ (9) (جوہرہ)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الأول في تعریفہ... إلخ، ج۱، ص۱۹۵.
2 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۵.
3 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۵.
4 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۶.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ، ج۳، ص۴۱۹.
6 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۵.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۳۹۸.
8 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۶.
9 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۶.
مسئلہ ۲۱: یہ تینوں یعنی رمضان کی ادا اور نفل و نذر معین مطلقاًروزہ کی نیّت سے ہو جاتے ہیں، خاص انھیں کی نیّت ضروری نہیں۔ یوہیں نفل کی نیّت سے بھی ادا ہو جاتے ہیں، بلکہ غیر مریض و مسافر نے رمضان میں کسی اور واجب کی نیّت کی جب بھی اسی رمضان کا ہوگا۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: مسافر اور مریض اگر رمضان شریف میں نفل یا کسی دوسرے واجب کی نیّت کریں تو جس کی نیّت کریں گے، وہی ہوگا رمضان کا نہیں۔ (2) (تنویرالابصار) اور مطلق روزے کی نیّت کریں تو رمضان کا ہوگا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: نذر معین یعنی فلاں دن روزہ رکھوں گا، اس میں اگر اُس دن کسی اورواجب کی نیّت سے روزہ رکھا تو جس کی نیّت سے روزہ رکھا، وہ ہوا منت کی قضا دے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: رمضان کے مہینے میں کوئی اور روزہ رکھا اور اُسے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ ماہِ رمضان ہے، جب بھی رمضان ہی کا روزہ ہوا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: کوئی مسلمان دارالحرب میں قید تھا اور ہر سال یہ سوچ کر کہ رمضان کا مہینہ آگیا، رمضان کے روزے رکھے بعد کو معلوم ہوا کہ کسی سال بھی رمضان میں نہ ہوئے بلکہ ہر سال رمضان سے پیشتر ہوئے تو پہلے سال کا تو ہوا ہی نہیں کہ رمضان سے پیشتر رمضان کا روزہ ہو نہیں سکتا اور دوسرے تیسرے سال کی نسبت یہ ہے کہ اگر مطلق رمضان کی نیّت کی تھی تو ہر سال کے روزے سال گزشتہ کے روزوں کی قضا ہیں اور اگر اس سال کے رمضان کی نیّت سے رکھے توکسی سال کے نہ ہوئے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: اگر صورت مذکورہ میں تحری کی یعنی سوچا اور دل میں یہ بات جمی کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے اور روزہ رکھا، مگر واقع میں روزے شوال کے مہینے میں ہوئے تو اگر رات سے نیت کی تو ہوگئے، کیونکہ قضا میں قضا کی نیت شرط نہیں، بلکہ ادا کی نیت سے بھی قضا ہو جاتی ہے پھر اگر رمضان و شوال دونوں تیس ۳۰ تیس ۳۰ دن یا انتیس ۲۹ انتیس ۲۹ دن کے ہیں تو ایک روزہ اور رکھے کہ عید کا روزہ ممنوع ہے اور اگر رمضان تیس ۳۰ کا اور شوال انتیس ۲۹ کا تو دو اور رکھے اور رمضان انتیس ۲۹ کا تھا اور یہ تیس ۳۰ کا تو پورے ہوگئے اور اگر وہ
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۳۹۳، وغیرہ.
2 ۔ ''تنویر الأبصار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۳۹۵.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الأول، ج۱، ص۱۹۵ ۔ ۱۹۶.
4 ۔ المرجع السابق، ص۱۹۶.
5 ۔ ''الدرالمختار''،
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۳۹۷.
مہینہ ذی الحجہ کا تھا تو اگر دونوں تیس ۳۰ یا انتیس ۲۹ کے ہیں تو چار روزے اور رکھے اور رمضان تیس کا تھا یہ انتیس کا تو پانچ اور بالعکس تو تین رکھے۔ غرض ممنوع روزے نکال کر وہ تعداد پوری کرنی ہوگی جتنے رمضان کے دن تھے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: ادائے رمضان اور نذر معیّن اور نفل کے علاوہ باقی روزے، مثلاً قضائے رمضان اور نذر غیر معیّن اور نفل کی قضا (یعنی نفلی روزہ رکھ کر توڑ دیا تھا اس کی قضا) اور نذر معیّن کی قضا اور کفّارہ کا روزہ اور حرم میں شکار کرنے کی وجہ سے جو روزہ واجب ہوا وہ اور حج میں وقت سے پہلے سر منڈانے کا روزہ اور تمتع کا روزہ، ان سب میں عین صبح چمکتے وقت یا رات میں نیّت کرنا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ جو روزہ رکھنا ہے، خاص اس معیّن کی نیّت کرے اور اُن روزوں کی نیّت اگر دن میں کی تو نفل ہوئے پھر بھی ان کا پورا کرنا ضرور ہے توڑے گا تو قضا واجب ہوگی۔ اگرچہ یہ اس کے علم میں ہو کہ جو روزہ رکھنا چاہتا ہے یہ وہ نہیں ہوگا بلکہ نفل ہوگا۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۸: یہ گمان کر کے کہ اس کے ذمّہ روزے کی قضا ہے روزہ رکھا۔ اب معلوم ہوا کہ گمان غلط تھا تو اگر فوراً توڑ دے تو توڑ سکتا ہے، اگرچہ بہتر یہ ہے کہ پورا کرلے اور فوراً نہ توڑا تو اب نہیں توڑ سکتا، توڑے گا تو قضا واجب ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: رات میں قضا روزے کی نیّت کی، صبح کو اُسے نفل کرنا چاہتا ہے تو نہیں کر سکتا۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: نماز پڑھتے میں روزہ کی نیّت کی تو نیّت صحیح ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: کئی روزے قضا ہوگئے تو نیّت میں یہ ہونا چاہیے کہ اس رمضان کے پہلے روزے کی قضا، دوسرے کی قضا اور اگر کچھ اس سال کے قضا ہوگئے، کچھ اگلے سال کے باقی ہیں تو یہ نیّت ہونی چاہیے کہ اس رمضان کی اور اُس رمضان کی قضا اور اگر دن اور سال کو معیّن نہ کیا، جب بھی ہو جائیں گے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: رمضان کا روزہ قصداً توڑا تھا تو اس پر اس روزے کی قضا ہے اور (7) ساٹھ روزے کفارہ کے۔ اب اُس
ـ1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الأول، ج۱، ص۱۹۶.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۳۹۳، وغیرہ.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، ج۳ ص۳۹۹.
4 ۔ المرجع السابق، ص۳۹۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۳۹۸.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الأول، ج۱، ص۱۹۶.
7 ۔ اگر کفّارے کی شرائط پائی گئیں تو۔
نے اکسٹھ روزے رکھ لیے، قضا کا دن معیّن نہ کیا تو ہوگیا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: یوم الشّک یعنی شعبان کی تیسویں تاریخ کو نفل خالص کی نیّت سے روزہ رکھ سکتے ہیں اور نفل کے سوا کوئی اور روزہ رکھا تو مکروہ ہے، خواہ مطلق روزہ کی نیّت ہو یا فرض کی یا کسی واجب کی، خواہ نیّت معیّن کی کِی ہو یا تردد کے ساتھ یہ سب صورتیں مکروہ ہیں۔ پھر اگر رمضان کی نیّت ہے تو مکروہ تحریمی ہے، ورنہ مقیم کے لیے تنزیہی اور مسافر نے اگر کسی واجب کی نیّت کی تو کراہت نہیں پھر اگر اس دن کا رمضان ہونا ثابت ہو جائے تو مقیم کے لیے بہرحال رمضان کا روزہ ہے اور اگر یہ ظاہر ہو کہ وہ شعبان کا دن تھا اور نیّت کسی واجب کی کی تھی تو جس واجب کی نیّت تھی وہ ہوا اور اگر کچھ حال نہ کُھلا تو واجب کی نیّت بے کار گئی اور مسافر نے جس کی نیّت کی بہرصورت وہی ہوا۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: اگر تیسویں تاریخ ایسے دن ہوئی کہ اس دن روزہ رکھنے کا عادی تھا تو اُسے روزہ رکھناافضل ہے، مثلاً کوئی شخص پیر یا جمعرات کا روزہ رکھا کرتا ہے اور تیسویں اسی دن پڑی تو رکھنا افضل ہے۔ یوہیں اگر چند روز پہلے سے رکھ رہا تھا تو اب یوم الشّک میں کراہت نہیں۔ کراہت اُسی صورت میں ہے کہ رمضان سے ایک ۱ یا دو ۲ دن پہلے روزہ رکھا جائے یعنی صرف تیس ۳۰ شعبان کو یا انتیس ۲۹ اور تیس ۳۰ کو۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳۵: اگر نہ تو اس دن روزہ رکھنے کا عادی تھا نہ کئی روز پہلے سے روزے رکھے تو اب خاص لوگ روزہ رکھیں اور عوام نہ رکھیں، بلکہ عوام کے لیے یہ حکم ہے کہ ضحوہ کبریٰ تک روزہ کے مثل رہیں، اگر اس وقت تک چاند کا ثبوت ہو جائے تو رمضان کے روزے کی نیّت کر لیں ورنہ کھا پی لیں۔ خواص سے مراد یہاں علما ہی نہیں، بلکہ جو شخص یہ جانتا ہو کہ یوم الشّک میں اس طرح روزہ رکھا جاتا ہے، وہ خواص میں ہے ورنہ عوام میں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: یوم الشّک کے روزہ میں یہ پکا ارادہ کر لے کہ یہ روزہ نفل ہے تردد نہ رہے، یوں نہ ہو کہ اگر رمضان ہے تو یہ روزہ رمضان کا ہے، ورنہ نفل کا یا یوں کہ اگر آج رمضان کا دن ہے تو یہ روزہ رمضان کا ہے، ورنہ کسی اورواجب کا کہ یہ دونوں صورتیں مکروہ ہیں۔ پھر اگر اس دن کا رمضان ہونا ثابت ہو جائے تو فرض رمضان ادا ہوگا۔ ورنہ دونوں صورتوں میں نفل ہے اور گنہگار بہرحال ہوا اور یوں بھی نیّت نہ کرے کہ یہ دن رمضان کا ہے تو روزہ ہے، ورنہ روزہ نہیں کہ اس صورت میں تو نہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الأول، ج۱، ص۱۹۶.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مبحث في صوم یوم الشک، ج۳، ص۳۹۹.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۰.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۲.
نیّت ہی ہوئی، نہ روزہ ہوا اور اگرنفل کا پورا ارادہ ہے مگر کبھی کبھی دل میں یہ خیال گزر جاتا ہے کہ شاید آج رمضان کا دن ہو تو اس میں حرج نہیں۔ (1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۷: عوام کو جو یہ حکم دیا گیا کہ ضحوہ کبریٰ تک انتظار کریں، جس نے اس پر عمل کیا مگر بھول کر کھا لیا پھر اُس دن کا رمضان ہونا ظاہر ہوا تو روزہ کی نیت کر لے ہو جائے گا کہ انتظار کرنے والا روزہ دار کے حکم میں ہے اور بھول کر کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (2) (درمختار)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(٪یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَہِلَّۃِ ؕ قُلْ ہِیَ مَوَاقِیۡتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ؕ ) (3)
اے محبوب ! تم سے ہلال کے بارہ میں لوگ سوال کرتے ہیں، تم فرما دو وہ لوگوں کے کاموں اور حج کے لیے اوقات ہیں۔
حدیث ۱ـ: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''روزہ نہ رکھو، جب تک چاند نہ دیکھ لو اور افطار نہ کرو، جب تک چاند نہ دیکھ لو اور اگر اَبر ہو تو مقدار پوری کرلو۔'' (4)
حدیث ۲ـ: نیز صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''چاند دیکھ کر روزہ رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اور اگر اَبر ہو تو شعبان کی گنتی تیس ۳۰ پوری کرلو۔'' (5)
حدیث ۳ـ: ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، ایک اعرابی نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے۔ فرمایا: ''تُو گواہی دیتا ہے کہ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں۔'' عرض کی، ہاں۔ فرمایا: ''تُو گواہی دیتا ہے کہ محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ (عزوجل) کے رسول ہیں۔''
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الأول، ج۱، ص۲۰۰.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مبحث في صوم یوم الشک، ج۳، ص۴۰۳.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۴.
3 ۔ پ۲، البقرۃ: ۱۸۹.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم، إذا رأیتم الھلال فصوموا... إلخ،
الحدیث: ۱۹۰۶، ج۱، ص۶۲۹.
5 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم، إذارأیتم ... إلخ، الحدیث: ۱۹۰۹، ج۱، ص۶۳۰.
اُس نے کہا، ہاں۔ ارشاد فرمایا: ''اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل روزہ رکھیں۔'' (1)
حدیث ۴ـ: ابو داود و دارمی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ لوگوں نے باہم چاند دیکھنا شروع کیا، میں نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (2)
حدیث ۵: ابو داود اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شعبان کا اس قدر تحفظ کرتے کہ اتنا اور کسی کا نہ کرتے پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے اور اگر اَبر ہوتا توتیس دن پورے کر کے روزہ رکھتے۔ (3)
حدیث ۶ـ: صحیح مسلم میں ابی البختری سے مروی، کہتے ہیں ہم عمرہ کے لیے گئے، جب بطن نخلہ میں پہنچے تو چاند دیکھ کر کسی نے کہا تین رات کا ہے، کسی نے کہا دو رات کا ہے۔ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے ہم ملے اور ان سے واقعہ بیان کیا، فرمایا: تم نے دیکھا کس رات میں؟ ہم نے کہا، فلاں رات میں، فرمایا :کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اُس کی مدّت دیکھنے سے مقرر فرمائی، لہٰذا اس رات کا قرار دیا جائے گا جس رات کو تم نے دیکھا۔ (4)
مسئلہ ۱: پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا، واجب کفایہ ہے۔
(۱) شعبان۔
(۲) رمضان۔
(۳) شوال۔
(۴) ذیقعدہ۔
(۵) ذی الحجہ۔
شعبان کا اس لیے کہ اگر رمضان کا چاند دیکھتے وقت اَبر یا غبار ہو تو یہ تیس پورے کر کے رمضان شروع کریں اور رمضان کاروزہ رکھنے کے لیے اور شوال کا روزہ ختم کرنے کے لیے اورذیقعدہ کا ذی الحجہ کے لیے (5) اور ذی الحجہ کا بقرعید کے لیے۔ (6) (فتاویٰ رضویہ)
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصیام، باب في شھادۃ الواحد علی رؤیۃ ھلال رمضان، الحدیث: ۲۳۴۰، ج۲، ص۴۴۰.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصیام، باب في شھادۃ الواحد علی رؤیۃ ھلال رمضان، الحدیث: ۲۳۴۲، ج۲، ص۴۴۱.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصیام، باب إذا أغمي الشھر، الحدیث: ۲۳۲۵، ج۲، ص۴۳۴.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب بیان أنہ لااعتبار بکبر الھلال وصفرہ... إلخ، الحدیث: ۱۰۸۸، ص۵۴۹.
5 ۔ کہ وہ حج کا خاص مہینہ ہے۔ 6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱۰ ص۴۴۹ ۔ ۴۵۱.
مسئلہ ۲: شعبان کی انتیس ۲۹ کو شام کے وقت چاند دیکھیں دکھائی دے تو کل روزہ رکھیں، ورنہ شعبان کے تیس ۳۰ دن پورے کر کے رمضان کا مہینہ شروع کریں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: کسی نے رمضان یا عید کا چاند دیکھا مگر اس کی گواہی کسی وجہ شرعی سے ردکر دی گئی مثلاً فاسق ہے یا عید کا چاند اس نے تنہا دیکھا تو اُسے حکم ہے کہ روزہ رکھے، اگرچہ اپنے آپ عید کا چاند دیکھ لیا ہے اور اس روزہ کو توڑنا جائز نہیں، مگر توڑے گا تو کفّارہ لازم نہیں (2) اور اس صورت میں اگر رمضان کا چاند تھا اور اُس نے اپنے حسابوں تیس روزے پورے کیے، مگر عید کے چاند کے وقت پھر اَبر یا غبار ہے تو اُسے بھی ایک دن اور رکھنے کا حکم ہے۔ (3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴: تنہا اُس نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا پھر روزہ توڑ دیا یا قاضی کے یہاں گواہی بھی دی تھی اور ابھی اُس نے اُس کی گواہی پر حکم نہیں دیا تھا کہ اُس نے روزہ توڑ دیا تو بھی کفّارہ لازم نہیں، صرف اُس روزہ کی قضا دے اور اگر قاضی نے اُس کی گواہی قبول کر لی۔ اُس کے بعد اُس نے روزہ توڑ دیا تو کفّارہ لازم ہے اگرچہ یہ فاسق ہو۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۵: جوشخص علم ہیأت جانتا ہے، اُس کا اپنے علم ہیئات کے ذریعہ سے کہہ دینا کہ آج چاند ہوا یا نہیں ہوا کوئی چیز نہیں اگرچہ وہ عادل ہو، اگرچہ کئی شخص ایسا کہتے ہوں کہ شرع میں چاند دیکھنے یا گواہی سے ثبوت کا اعتبار ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: ہر گواہی میں یہ کہنا ضرور ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بغیر اس کے شہادت نہیں، مگر اَبر میں رمضان کے چاند کی گواہی میں اس کہنے کی ضرورت نہیں، اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں نے اپنی آنکھ سے اس رمضان کا چاند آج یا کل یا فلاں دن دیکھا ہے۔ یوہیں اس کی گواہی میں دعویٰ اور مجلس قضا اور حاکم کا حکم بھی شرط نہیں، یہاں تک کہ اگر کسی نے حاکم کے یہاں گواہی دی تو جس نے اُس کی گواہی سُنی اور اُس کو بظاہر معلوم ہوا کہ یہ عادل ہے اس پر روزہ رکھنا ضروری ہے، ا گرچہ حاکم کا حکم اُس نے نہ سُنا ہو مثلاً حکم دینے سے پہلے ہی چلا گیا۔ (6) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۷: اَبر اور غبار میں رمضان کا ثبوت ایک مسلمان عاقل بالغ، مستور یا عادل شخص سے ہو جاتا ہے، وہ مرد ہو خواہ عورت، آزاد ہو یا باندی غلام یا اس پر تہمت زنا کی حد ماری گئی ہو، جب کہ توبہ کر چکا ہے۔
1 ۔ ''الفتاوی الہندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثاني في رؤیۃ الہلال، ج۱، ص۱۹۷.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۴.
3 ۔
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۴.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثاني في رویۃ الھلال، ج۱، ص۱۹۷.
6 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۶.
عادل ہونے کے معنے یہ ہیں کہ کم سے کم متقی ہو یعنی کبائر گناہ سے بچتا ہو اور صغیرہ پر اصرار نہ کرتا ہو اور ایسا کام نہ کرتا ہو جو مروت کے خلاف ہو مثلاً بازار میں کھانا۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: فاسق اگرچہ رمضان کے چاند کی شہادت دے اُس کی گواہی قابل قبول نہیں رہا یہ کہ اُس کے ذمّہ گواہی دینا لازم ہے یا نہیں۔ اگر اُمید ہے کہ اُس کی گواہی قاضی قبول کرلے گا تو اُسے لازم ہے کہ گواہی دے۔ (2)
مستور یعنی جس کا ظاہر حال مطابق شرع ہے، مگر باطن کا حال معلوم نہیں، اُس کی گواہی بھی غیرِ رمضان میں قابلِ قبول نہیں۔ (درمختار)
مسئلہ ۹: جس شخص عادل نے رمضان کا چاند دیکھا، اُس پر واجب ہے کہ اسی رات میں شہادت ادا کر دے، یہاں تک کہ اگر لونڈی یا پردہ نشین عورت نے چاند دیکھا تو اس پر گواہی دینے کے لیے اسی رات میں جانا واجب ہے۔ لونڈی کو اس کی کچھ ضرورت نہیں کہ اپنے آقا سے اجازت لے۔ یوہیں آزاد عورت کو گواہی کے لیے جانا واجب، اس کے لیے شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، مگر یہ حکم اُ س وقت ہے جب اُس کی گواہی پر ثبوت موقوف ہو کہ بے اُس کی گواہی کے کام نہ چلے ورنہ کیا ضرورت۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: جس کے پاس رمضان کے چاند کی شہادت گزری، اُسے یہ ضرور نہیں کہ گواہ سے دریافت کرے تم نے کہاں سے دیکھا اور وہ کس طرف تھا اور کتنے اونچے پر تھا وغیرہ وغیرہ۔ (4) (عالمگیری وغیرہ) مگر جب کہ اس کا بیان مشتبہ ہو تو سوالات کرے خصوصاً عید میں کہ لوگ خواہ مخواہ اس کا چاند دیکھ لیتے ہیں۔
مسئلہ ۱۱: تنہا امام (بادشاہِ اسلام) یا قاضی نے چاند دیکھا تو اُسے اختیار ہے، خواہ خود ہی روزہ رکھنے کا حکم دے یا کسی کو شہادت لینے کے لیے مقرر کرے اور اُس کے پاس شہادت ادا کرے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: گاؤں میں چاند دیکھا اوروہاں کوئی ایسا نہیں جس کے پاس گواہی دے تو گاؤں والوں کو جمع کر کے شہادت ادا کرے اور اگر یہ عادل ہے تو لوگوں پر روزہ رکھنا لازم ہے۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مبحث في صوم یوم الشک، ج۳، ص۴۰۶.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۶.
3 ۔ المرجع السابق، ص۴۰۷.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثاني في رؤیۃ الھلال، ج۱، ص۱۹۷، وغیرہ.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثاني في رؤیۃ الھلال، ج۱، ص۱۹۷.
6 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۳: کسی نے خود تو چاند نہیں دیکھا، مگر دیکھنے والے نے اپنی شہادت کا گواہ بنایا تو اُس کی شہادت کا وہی حکم ہے جو چاند دیکھنے والے کی گواہی کا ہے، جبکہ شہادۃ علی الشہادۃ کے تمام شرائط پائے جائیں۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۴: اگر مطلع صاف ہو تو جب تک بہت سے لوگ شہادت نہ دیں چاند کا ثبوت نہیں ہوسکتا، رہا یہ کہ اس کے لیے کتنے لوگ چاہیے یہ قاضی کے متعلق ہے، جتنے گواہوں سے اُسے غالب گمان ہو جائے حکم دیدے گا، مگر جب کہ بیرونِ شہر یا بلند جگہ سے چاند دیکھنا بیان کرتا ہے تو ایک مستور کا قول بھی رمضان کے چاند میں قبول کر لیا جائے گا۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۵: جماعتِ کثیرہ کی شرط اُس وقت ہے جب روزہ رکھنے یا عید کرنے کے لیے شہادت گزرے اور اگر کسی اور معاملہ کے لیے دو مرد یا ایک مرد اوردو عورتوں ثقہ کی شہادت گزری اورقاضی نے شہادت کی بنا پر حکم دے دیا تو اب یہ شہادت کافی ہے۔ روزہ رکھنے یا عیدکرنے کے لیے بھی ثبوت ہوگیا، مثلاً ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ میرا اس کے ذمہ اتنا دَین ہے اور اس کی میعادیہ ٹھہری تھی کہ جب رمضان آجائے تو دَین ادا کر دے گا اور رمضان آگیا مگر یہ نہیں دیتا۔ مدعی علیہ (3) نے کہا، بیشک اس کا دَین میرے ذمّہ ہے اور میعاد بھی یہی ٹھہری تھی، مگر ابھی رمضان نہیں آیا اس پر مدعی نے دو گواہ گزارے جنھوں نے چاند دیکھنے کی شہادت دی، قاضی نے حکم دے دیا کہ دَین ادا کر، تو اگرچہ مطلع صاف تھا اور دو ۲ ہی کی گواہیاں ہوئیں، مگراب روزہ رکھنے اور عید کرنے کے حق میں بھی یہی دو گواہیاں کافی ہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: یہاں مطلع صاف تھا، مگر دوسری جگہ ناصاف تھا، وہاں قاضی کے سامنے شہادت گزری، قاضی نے چاند ہونے کا حکم دیا، اب دو یا چند آدمیوں نے یہاں آکر جہاں مطلع صاف تھا، اس بات کی گواہی دی کہ فلاں قاضی کے یہاں دو شخصوں نے فلاں رات میں چاند دیکھنے کی گواہی دی اور اس قاضی نے ہمارے سامنے حکم دے دیا اور دعوے کے شرائط بھی پائے جاتے ہیں تویہاں کا قاضی بھی ان شہادتوں کی بنا پر حکم دیدے گا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: اگر کچھ لوگ آکر یہ کہیں کہ فلاں جگہ چاند ہوا، بلکہ اگر شہادت بھی دیں کہ فلاں جگہ چاند ہوا، بلکہ اگر یہ شہادت دیں کہ فلاں فلاں نے دیکھا، بلکہ اگر یہ شہادت دیں کہ فلاں جگہ کے قاضی نے روزہ یا افطار کے لیے لوگوں سے کہا یہ سب طریقے ناکافی ہیں۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثاني في رؤیۃ الھلال، ج۱، ص۱۹۷، وغیرہ.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۹. وغیرہ 3 ۔ یعنی وہ شخص جس پر دعویٰ کیا جائے۔
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب: ما قالہ السبکی من الاعتماد علی قول... إلخ، ج۳، ص۴۱۱.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۱۲.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب: ما قالہ السبکی من الاعتماد علی قول... إلخ، ج۳، ص۴۱۳.
مسئلہ ۱۸: کسی شہر میں چاند ہوا اور وہاں سے متعدد جماعتیں دوسرے شہر میں آئیں اورسب نے اس کی خبر دی کہ وہاں فلاں دن چاند ہوا ہے اور تمام شہر میں یہ بات مشہور ہے اور وہاں کے لوگوں نے رویت کی بنا پر فلاں دن سے روزے شروع کیے تو یہاں والوں کے لیے بھی ثبوت ہوگیا۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: رمضان کی چاند رات کو اَبر تھا، ایک شخص نے شہادت دی اور اس کی بنا پر روزے کا حکم دے دیا گیا، اب عید کا چاند اگر بوجہ اَبر کے نہیں دیکھا گیا تو تیس روزے پورے کر کے عید کر لیں اور اگر مطلع صاف ہے تو عید نہ کریں، مگر جبکہ دو عادلوں کی گواہی سے رمضان ثابت ہوا ہو۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: مطلع ناصاف ہے تو علاوہ رمضان کے شوال و ذی الحجہ بلکہ تمام مہینوں کے لیے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں اور سب عادل ہوں اور آزاد ہوں اور ان میں کسی پر تہمت زنا کی حد نہ قائم کی گئی ہو، اگرچہ توبہ کر چکا ہو اوریہ بھی شرط ہے کہ گواہ گواہی دیتے وقت یہ لفظ کہے میں گواہی دیتا ہوں۔ (3) (عامہ کتب)
مسئلہ ۲۱: گاؤں میں دو شخصوں نے عید کا چاند دیکھا اور مطلع نا صاف ہے اور وہاں کوئی ایسا نہیں جس کے پاس شہادت دیں تو گاؤں والوں سے کہیں، اگر یہ عادل ہوں تو لوگ عید کر لیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: تنہا امام یا قاضی نے عید کا چاند دیکھا تو انھیں عید کرنا یا عیدکا حکم دینا جائز نہیں۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۳: انتیسویں ۲۹ رمضان کو کچھ لوگوں نے یہ شہادت دی کہ ہم نے لوگوں سے ایک دن پہلے چاند دیکھا جس کے حساب سے آج تیس ۳۰ ہے تو اگر یہ لوگ یہیں تھے تو اب ان کی گواہی مقبول نہیں کہ وقت پر گواہی کیوں نہ دی اور اگر یہاں نہ تھے اور عادل ہوں تو قبول کر لی جائے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: رمضان کا چاند دکھائی نہ دیا، شعبان کے تیس ۳۰ دن پورے کر کے روزے شروع کر دیے، اٹھائیس ۲۸ ہی روزے رکھے تھے کہ عید کا چاند ہوگیا تو اگرشعبان کا چاند دیکھ کر تیس ۳۰ دن کا مہینہ قرار دیا تھا تو ایک روزہ رکھیں اور اگر شعبان کا بھی
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب: ما قالہ السبکی من الاعتماد علی قول الحساب مردود، ج۳، ص۴۱۳.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب: ما قالہ السبکی من الاعتماد علی قول الحساب مردود،
ج۳، ص۴۱۳ .
3 ۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثاني في رؤیۃ الھلال، ج۱، ص۱۹۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۸، وغیرہ.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثاني في رؤیۃ الھلال، ج۱، ص۱۹۸.
چاند دکھائی نہ دیا تھا، بلکہ رجب کی تیس ۳۰ تاریخیں پوری کر کے شعبان کا مہینہ شروع کیا تو دو روزے قضا کے رکھیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: دن میں ہلال دکھائی دیازوا ل سے پہلے یا بعد، بہرحال وہ آئندہ رات کاقرار دیا جائے گا یعنی اب جو رات آئے گی اس سے مہینہ شروع ہوگا تو اگر تیسویں رمضان کے دن میں دیکھا تو یہ دن رمضان ہی کا ہے شوال کا نہیں اور روزہ پورا کرنا فرض ہے اور اگر شعبان کی تیسویں تاریخ کے دن میں دیکھا تو یہ دن شعبان کا ہے رمضان کا نہیں لہٰذا آج کا روزہ فرض نہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: ایک جگہ چاند ہوا تو وہ صرف وہیں کے لیے نہیں، بلکہ تمام جہان کے لیے ہے۔ مگر دوسری جگہ کے لیے اس کا حکم اُس وقت ہے کہ اُن کے نزدیک اُس دن تاریخ میں چاند ہونا شرعی ثبوت سے ثابت ہو جائے (3) یعنی دیکھنے کی گواہی یا قاضی کے حکم کی شہادت گزرے یا متعدد جماعتیں وہاں سے آکر خبر دیں کہ فلاں جگہ چاند ہوا ہے اور وہاں لوگوں نے روزہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثاني في رؤیۃ الھلال، ج۱، ص۱۹۹.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب في اختلاف المطالع، ج۳، ص۴۱۷.
3 ۔ مجددِ اعظم، اعلیٰ حضرت ،امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن فرماتے ہیں: کہ رویت ہلال کے ثبوت کے لیے شرع میں سات طریقے ہیں:
(۱) خود شہادتِرویت یعنی چاند دیکھنے والوں کی گواہی۔
(۲) شہادۃ علی الشہادۃ ۔یعنی گواہوں نے چاند خود نہ دیکھا بلکہ دیکھنے والوں نے ان کے سامنے گواہی دی اور اپنی گواہی پر انہیں گواہ کیا۔ انہوں نے اس گواہی کی گواہی دی۔ یہ وہاں ہے کہ گواہانِ اصل حاضری سے معذور ہوں۔
(۳) شہادۃ علی القضاء یعنی دوسرے کسی اسلامی شہر میں حاکم اسلام کے یہاں رویت ہلال پر شہادتیں گزریں اور اس نے ثبوتِہلال کا حکم دیا اور دو عادل گواہوں نے جواس گواہی کے وقت موجود تھے، انہوں نے دوسرے مقام پر اس قاضیئ اسلام کے روبرو گواہی گزرے اور قاضی کے حکم پر گواہی دی۔
(۴) کتاب القاضی الی القاضی یعنی قاضی شرع جسے سلطانِ اسلام نے مقدمات کا اسلامی فیصلہ کرنے کے لیے مقرر کیا ہو وہ دوسرے شہر کے قاضی کو، گواہیاں گزرنے کی شرعی طریقے پر اطلاع دے۔
(۵) استفاضہ یعنی کسی اسلامی شہر سے متعد دجماعتیں آئیں اور سب یک زبان اپنے علم سے خبر دیں کہ وہاں فلاں دن رویتِ ہلال کی بنا پر روزہ ہوا یا عید کی گئی۔
(۶) اکمالِ مدت یعنی ایک مہینے کے جب تیس۳۰ دن کامل ہو جائیں تو دوسرے ماہ کا ہلال آپ ہی ثابت ہو جائے گا کہ مہینہ تیس ۳۰سے زائدکا نہ ہونا یقینی ہے۔
(۷) اسلامی شہر میں حاکمِ شرع کے حکم سے انتیس۲۹ کی شام کو مثلاً توپیں داغی گئیں یا فائر ہوئے تو خاص اس شہر والوں یا اس شہر کے گرد اگر دیہات والوں کے واسطے توپوں کی آوازیں سننا بھی ثبوت ہلال کے ذریعوں میں سے ایک ذریعہ ہے۔
(انظر: ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۴۰۵ ۔ ۴۲۰، ملخصاً ).
رکھا یا عیدکی ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: تار یا ٹیلیفون سے رویت ہلال نہیں ثابت ہوسکتی، نہ بازاری افواہ اور جنتریوں اور اخباروں میں چھپا ہونا کوئی ثبوت ہے۔ آج کل عموماً دیکھا جاتا ہے کہ انتیس ۲۹ رمضان کو بکثرت ایک جگہ سے دوسری جگہ تار بھیجے جاتے ہیں کہ چاند ہوا یا نہیں، اگر کہیں سے تار آگیا بس لو عید آگئی یہ محض ناجائز و حرام ہے۔
تار کیا چیز ہے؟ اولاً تو یہی معلوم نہیں کہ جس کا نام لکھا ہے واقعی اُسی کا بھیجا ہوا ہے اور فرض کرو اُسی کا ہو تو تمھارے پاس کیا ثبوت اور یہ بھی سہی تو تار میں اکثر غلطیاں ہوتی ہی رہتی ہیں، ہاں کا نہیں نہیں کا ہاں معمولی بات ہے اور مانا کہ بالکل صحیح پہنچا تو یہ محض ایک خبر ہے شہادت نہیں اور وہ بھی بیسوں واسطہ سے اگر تار دینے والا انگریزی پڑھا ہوا نہیں تو کسی اور سے لکھوائے گا معلوم نہیں کہ اُس نے کیا لکھوایا اُس نے کیا لکھا، آدمی کو دیا اُس نے تار دینے والے کے حوالہ کیا، اب یہاں کے تار گھر میں پہنچا تو اُس نے تقسیم کرنے والے کو دیا اُس نے اگر کسی اور کے حوالے کر دیا تو معلوم نہیں کتنے وسائط سے اُس کوملے اور اگر اسی کو دیا جب بھی کتنے واسطے ہیں پھر یہ دیکھیے کہ مسلمان مستور جس کا عادل و فاسق ہونا معلوم نہ ہو اُس تک کی گواہی معتبر نہیں اور یہاں جن جن ذریعوں سے تار پہنچا اُن میں سب کے سب مسلمان ہی ہوں، یہ ایک عقلی احتمال ہے جس کا وجود معلوم نہیں ہوتا اور اگر یہ مکتوب الیہ (2) صاحب بھی انگریزی پڑھے نہ ہوں تو کسی سے پڑھوائیں گے، اگر کسی کافر نے پڑھاتو کیا اعتبار اور مسلمان نے پڑھا تو کیا اعتماد کہ صحیح پڑھا۔ غرض شمار کیجیے تو بکثرت ایسی وجہیں ہیں جو تار کے اعتبار کو کھوتی ہیں فقہا نے خط کا تو اعتبار ہی نہ کیا اگرچہ کاتب کے دستخط تحریر پہچانتا ہو اور اُس پر اُس کی مہر بھی ہو کہ الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور مُہر مُہر کے۔ تو کجاتار۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۸: ہلال (3) دیکھ کر اُس کی طرف انگلی سے اشارہ کرنا مکروہ ہے(4)، اگرچہ دوسرے کو بتانے کے لیے ہو۔ (5) (عالمگیری، درمختار)
حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۱۹.
2 ۔ یعنی جسے خط پہنچا۔ 3 ۔ یعنی چاند۔
4 ۔ کیونکہ یہ اہلِ جاہلیت کا عمل ہے۔
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب في اختلاف المطالع، ج۳، ص۴۱۹.
روزہ دارنے بھول کر کھایا یا پیا، وہ اپنے روزہ کو پورا کرے کہ اُسے اﷲ (عزوجل) نے کھلایا اور پلایا۔'' (1)
حدیث ۲: ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ و دارمی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس پر قے نے غلبہ کیا، اس پر قضا نہیں اور جس نے قصداً قے کی، اس پر روزہ کی قضا ہے۔'' (2)
حدیث ۳: ترمذی انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک شخص نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی، میری آنکھ میں مرض ہے، کیا روزہ کی حالت میں سرمہ لگاؤں؟ فرمایا: ''ہاں۔'' (3)
حدیث ۴: ترمذی ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تین چیزیں روزہ نہیں توڑتیں، پچھنا اور قے اور احتلام۔'' (4)
تنبیہ: اس باب میں ان چیزوں کا بیان ہے، جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ رہا یہ امر کہ اُن سے روزہ مکروہ بھی ہوتا ہے یا نہیں اس سے اس باب کو تعلق نہیں، نہ یہ کہ وہ فعل جائز ہے یا ناجائز۔
مسئلہ ۱: بھول کر کھایا یا پیا یا جماع کیا روزہ فاسد نہ ہوا۔ خواہ وہ روزہ فرض ہو یا نفل اورروزہ کی نیّت سے پہلے یہ چیزیں پائی گئیں یا بعد میں، مگر جب یاد دلانے پر بھی یاد نہ آیا کہ روزہ دار ہے تو اب فاسد ہو جائے گا، بشرطیکہ یاد دلانے کے بعد یہ افعال واقع ہوئے ہوں مگراس صورت میں کفارہ لازم نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: کسی روزہ دارکو ان افعال میں دیکھے تو یاد دلانا واجب ہے، یاد نہ دلایا تو گنہگار ہوا، مگر جب کہ وہ روزہ دار بہت کمزور ہو کہ یاد دلائے گا تو وہ کھانا چھوڑ دے گا اور کمزوری اتنی بڑھ جائے گی کہ روزہ رکھنا دشوار ہوگا اور کھا لے گا تو روزہ بھی اچھی طرح پورا کر لے گا اور دیگر عبادتیں بھی بخوبی ادا کر لے گا تو اس صورت میں یاد نہ دلانا بہتر ہے۔
بعض مشایخ نے کہا جوان کو دیکھے تو یاد دلادے اور بوڑھے کو دیکھے تو یاد نہ دلانے میں حرج نہیں۔ مگر یہ حکم اکثر کے لحاظ سے ہے کہ جوان اکثر قوی ہوتے ہیں اور بوڑھے اکثر کمزور اور اصل حکم یہ ہے کہ جوانی اور بڑھاپے کو کوئی دخل نہیں، بلکہ قوت و ضعف (6) کا لحاظ ہے، لہٰذا اگر جوان اس قدر کمزور ہو تو یاد نہ دلانے میں حرج نہیں اوربوڑھا قوی ہو تو یاد دلانا
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب أکل الناسي وشربہ وجماعہ لایفطر، الحدیث: ۱۱۵۵، ص۵۸۲.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم... إلخ، باب ماجاء فیمن استقاء عمدا، الحدیث: ۷۲۰، ج۲، ص۱۷۳.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، ابواب الصوم، باب ماجاء في الکحل للصائم، الحدیث: ۷۲۶، ج۲، ص۱۷۷.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، ابواب الصوم، باب ماجاء في الصائم یذرعہ القیئ، الحدیث: ۷۱۹، ج۲، ص۱۷۲.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۱۹.
6 ۔ یعنی طاقت اور جسمانی کمزوری۔
واجب۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مکّھی یا دُھواں یا غبارحلق میں جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ خواہ وہ غبار آٹے کا ہو کہ چکّی پیسنے یا چھاننے میں اڑتا ہے یا غلّہ کا غبار ہو یا ہوا سے خاک اُڑی یاجانوروں کے کُھر یا ٹاپ سے غبار اُڑ کر حلق میں پہنچا، اگرچہ روزہ دار ہونا یاد تھا اور اگر خود قصداً دھواں پہنچایا تو فاسد ہوگیا جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو، خواہ وہ کسی چیز کا دھواں ہو اور کسی طرح پہنچایا ہو، یہاں تک کہ اگر کی بتی وغیرہ خوشبو سُلگتی تھی، اُس نے مونھ قریب کر کے دھوئیں کو ناک سے کھینچا روزہ جاتا رہا۔ یوہیں حقّہ پینے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اگر روزہ یاد ہو اور حقّہ پینے والا اگر پیے گا تو کفارہ بھی لازم آئے گا۔ (2) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۴: بھری سنگی لگوائی (3) یا تیل یا سُرمہ لگایا تو روزہ نہ گیا، اگرچہ تیل یا سُرمہ کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو بلکہ تھوک میں سرمہ کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہو، جب بھی نہیں ٹوٹا۔ (4) (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: بوسہ لیا مگر انزال نہ ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹا۔ یوہیں عورت کی طرف بلکہ اس کی شرم گاہ کی طرف نظر کی مگر ہاتھ نہ لگایا اور انزال ہوگیا، اگرچہ بار بار نظر کرنے یا جماع وغیرہ کے خیال کرنے سے انزال ہوا، اگرچہ دیر تک خیال جمانے سے ایسا ہوا ہو ان سب صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹا۔ (5) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۶: غسل کیا اور پانی کی خنکی (6) اندر محسو س ہوئی یا کُلّی کی اور پانی بالکل پھینک دیا صرف کچھ تری مونھ میں باقی رہ گئی، تھوک کے ساتھ اُسے نگل گیا یا دوا کوٹی اور حلق میں اُس کا مزہ محسوس ہوا یا ہڑ چوسی اور تھوک نگل گیا، مگر تھوک کے ساتھ ہڑ (7) کا کوئی جُز حلق میں نہ پہنچا یا کان میں پانی چلا گیا یا تنکے سے کان کھجایا اور اُس پر کان کا میل لگ گیا پھر وہی میل لگا ہوا تنکا کان میں ڈالا، اگرچہ چند بار کیا ہو یا دانت یا مونھ میں خفیف چیز بے معلوم سی رہ گئی کہ لعاب کے ساتھ خود ہی اُتر جائے گی اور وہ
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۰.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۰. وغیرہما
3 ۔ جہاں سنگی لگانی ہوتی ہے پہلے اس جگہ کو تیز دھار آلے (استرے) وغیرہ سے زخم لگاتے ہیں، پھر کسی جانور کے سینگ کا چوڑا حصہ زخم پر رکھ
کر اس کا باریک حصہ اپنے منہ میں لے کر زور سے چوستے ہیں، پھر اس سوراخ کو آٹے وغیرہ سے بند کردیتے ہیں، پھر جب اکھیڑتے ہیں
تو فاسد خون نکل جاتا ہے۔
4 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۹.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب: یکرہ السھر... إلخ، ج۳، ص۴۲۱.
5 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۸.
و ''الدرالمختار'' کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۱.
6 ۔ ٹھنڈک۔ 7 ۔ ایک دوا کا نام۔
اُتر گئی یا دانتوں سے خون نکل کر حلق تک پہنچا، مگر حلق سے نیچے نہ اُترا تو ان سب صورتوں میں روزہ نہ گیا۔ (1) (درمختار، فتح القدیر)
مسئلہ ۷: روزہ دار کے پیٹ میں کسی نے نیزہ یا تیر بھونک دیا، اگرچہ اس کی بھال یا پیکان (2) پیٹ کے اندر رہ گئی یا اس کے پیٹ میں جھلّی تک زخم تھا، کسی نے کنکری ماری کہ اندر چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹا اور اگر خود اس نے یہ سب کیا اور بھال یا پیکان یا کنکری اندر رہ گئی تو جاتا رہا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: بات کرنے میں تھوک سے ہونٹ تر ہوگئے اور اُسے پی گیا یا مونھ سے رال ٹپکی، مگر تار ٹوٹا نہ تھا کہ اُسے چڑھا کر پی گیا یا ناک میں رینٹھ آگئی بلکہ ناک سے باہر ہوگئی مگر منقطع نہ ہوئی تھی کہ اُسے چڑھا کر نگل گیا یا کھنکار مونھ میں آیا اور کھا گیا اگرچہ کتنا ہی ہو، روزہ نہ جائے گا مگر ان باتوں سے احتیاط چاہیے۔ (4) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: مکھی حلق میں چلی گئی روزہ نہ گیا اور قصداً نگلی تو جاتا رہا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: بھولے سے جماع کر رہا تھا یاد آتے ہی الگ ہوگیا یا صبح صادق سے پیشتر جماع میں مشغول تھا صبح ہوتے ہی جدا ہوگیا روزہ نہ گیا، اگرچہ دونوں صورتوں میں جدا ہونے کے بعد انزال ہوگیا ہو اگرچہ دونوں صورتوں میں جُدا ہونا یاد آنے اور صبح ہونے پر ہوا کہ جدا ہونے کی حرکت جماع نہیں اور اگر یاد آنے یا صبح ہونے پر فوراً الگ نہ ہوا اگرچہ صرف ٹھہر گیا اور حرکت نہ کی روزہ جاتا رہا۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: بھولے سے کھانا کھا رہا تھا، یاد آتے ہی فوراً لقمہ پھینک دیا یا صبح صادق سے پہلے کھا رہا تھا اور صبح ہوتے ہی اُگل دیا، روزہ نہ گیا اور نگل لیا تو دونوں صورتوں میں جاتا رہا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: غیر سبیلین (8) میں جماع کیا تو جب تک انزال نہ ہو روزہ نہ ٹوٹے گا۔ یوہیں ہاتھ سے منی نکالنے میں
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۱.
و ''فتح القدیر''، کتاب الصوم، باب ما یوجب القضاء و الکفارۃ، ج۲، ص۲۵۷ ۔ ۲۵۸.
2 ۔ تیر یا نیزے کی نوک۔
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۳.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم... إلخ، مطلب في حکم الاستمناء بالکف، ج۳، ص۴۲۸.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۳.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۴.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۳.
8 ۔ یعنی آگے اور پیچھے کے مقام کے علاوہ۔
اگرچہ یہ سخت حرام ہے کہ حدیث میں اسے ملعون فرمایا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: چوپایہ یا مُردہ سے جماع کیا اورانزال نہ ہوا تو روزہ نہ گیا اورانزال ہوا تو جاتا رہا۔ جانور کا بوسہ لیا یا اس کی فرج کو چُھوا تو روزہ نہ گیا اگرچہ انزال ہوگیا ہو۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: احتلام ہوا یا غیبت کی تو روزہ نہ گیا (3)، اگرچہ غیبت بہت سخت کبیرہ ہے۔
قرآن مجید میں غیبت کرنے کی نسبت فرمایا: ''جیسے اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا۔'' (4)
اور حدیث میں فرمایا: ''غیبت زنا سے بھی سخت تر ہے۔'' (5) اگرچہ غیبت کی وجہ سے روزہ کی نورانیت جاتی رہتی ہے۔ (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۵: جنابت (6) کی حالت میں صبح کی بلکہ اگرچہ سارے دن جنب رہا روزہ نہ گیا (7) مگر اتنی دیر تک قصداً غسل نہ کرنا کہ نماز قضا ہو جائے گناہ و حرام ہے۔ حدیث میں فرمایا: کہ جنب جس گھر میں ہوتا ہے، اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ (8) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۶: جِنّ یعنی پری سے جماع کیا تو جب تک انزال نہ ہو، روزہ نہ ٹوٹے گا۔ (9) (ردالمحتار) یعنی جب کہ انسانی شکل میں نہ ہو اور انسانی شکل میں ہو تو وہی حکم ہے جو انسان سے جماع کرنے کا ہے۔
مسئلہ ۱۷: تِل یا تِل کے برابر کوئی چیز چبائی اور تھوک کے ساتھ حلق سے اُتر گئی تو روزہ نہ گیا، مگر جب کہ اس کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو تو روزہ جاتا رہا۔ (10) (فتح القدیر)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۶.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۷.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۱، ۴۲۸.
4 ۔ پ۲۶، الحجرات: ۱۲.
5 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، الحدیث: ۶۵۹۰، ج۵، ص۶۳.
6 ۔ یعنی غسل فرض ہونے۔
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۸.
8 ۔ انظر: ''سنن أبي داود''، کتاب الطہارۃ، باب في الجنب یؤخر الغسل، الحدیث: ۲۲۷، ج۱، ص۱۰۹.
9 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب في جواز الافطار بالتحری، ج۳، ص۴۴۲.
10 ۔ ''فتح القدیر''، کتاب الصوم، باب ما یوجب القضاء و الکفارۃ، ج۲، ص۲۵۹.
حدیث ۱: بخاری و احمد و ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ و دارمی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے رمضان کے ایک دن کا روزہ بغیر رخصت و بغیر مرض افطار کیا تو زمانہ بھر کا روزہ اس کی قضا نہیں ہوسکتا، اگرچہ رکھ بھی لے۔'' (1) یعنی وہ فضیلت جو رمضان میں رکھنے کی تھی کسی طرح حاصل نہیں کر سکتا تو جب روزہ نہ رکھنے میں یہ سخت وعید ہے رکھ کر توڑ دینا تو اس سے سخت تر ہے۔
حدیث ۲: ابن خزیمہ و ابن حبان اپنی صحیح میں ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سُنا کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: میں سو رہا تھا، دو شخص حاضر ہوئے اور میرے بازو پکڑکرایک پہاڑ کے پاس لے گئے اور مجھ سے کہا چڑھیے۔ میں نے کہا: مجھ میں اس کی طاقت نہیں، انہوں نے کہا: ہم سہل کر دیں گے، میں چڑھ گیا، جب بیچ پہاڑ پر پہنچا تو سخت آوازیں سنائی دیں، میں نے کہا: یہ کیسی آوازیں ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ جہنمیوں کی آوازیں ہیں پھر مجھے آگے لے گئے، میں نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ لوگ اُلٹے لٹکائے گئے ہیں اور اُ ن کی باچھیں چیری جا رہی ہیں، جن سے خون بہتا ہے۔ میں نے کہا: ''یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: ''یہ وہ لوگ ہیں کہ وقت سے پہلے روزہ افطارکر دیتے ہیں۔'' (2)
حدیث ۳: ابو یعلیٰ باسناد حسن ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ'' اسلام کے کڑے اور دین کے قواعد تین ہیں، جن پر اسلام کی بنا مضبوط کی گئی، جو اِن میں ایک کو ترک کرے وہ کافر ہے، اُس کا خون حلال ہے، کلمہ توحید کی شہادت اور نمازِ فرض اور روزہ رمضان۔'' (3)
اور ایک روایت میں ہے، ''جو اِن میں سے ایک کو ترک کرے، وہ اﷲ (عزوجل) کے ساتھ کفر کرتا ہے اور اس کا فرض و نفل کچھ مقبول نہیں۔'' (4)
مسئلہ ۱: کھانے پینے،جماع کرنے سے روزہ جاتا رہتا ہے، جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔ (5) (عامہ کتب)
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم، باب ماجاء في الإفطار متعمدا، الحدیث: ۷۲۳، ج۲، ص۱۷۵.
2 ۔ ''صحیح ابن خزیمۃ''، أبواب صوم التطوع، باب ذکرتعلیق المفطرین قبل وقت الإفطار... إلخ، الحدیث: ۱۹۸۶،
ج۳، ص۲۳۷.
3 ۔ ''مسند أبي یعلی''، مسند ابن عباس، الحدیث: ۲۳۴۵، ج۲، ص۳۷۸.
4 ۔ ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الصوم، الترہیب من إفطار شئی من رمضان من غیر عذر، الحدیث: ۳، ج۲، ص۶۶.
5 ۔
مسئلہ ۲: حُقّہ، سگار، سگریٹ، چرٹ پینے سے روزہ جاتا رہتا ہے، اگرچہ اپنے خیال میں حلق تک دھواں نہ پہنچاتا ہو، بلکہ پان یا صرف تمباکو کھانے سے بھی روزہ جاتا رہے گا، اگرچہ پیک تھوک دی ہو کہ ا س کے باریک اجزا ضرور حلق میں پہنچتے ہیں۔
مسئلہ ۳: شکر وغیرہ ایسی چیزیں جو مونھ میں رکھنے سے گھل جاتی ہیں، مونھ میں رکھی اور تھوک نگل گیا روزہ جاتا رہا۔ یوہیں دانتوں کے درمیان کوئی چیز چنے کے برابر یا زیادہ تھی اُسے کھا گیا یا کم ہی تھی (1)، مگر مونھ سے نکال کر پھر کھالی یا دانتوں سے خون نکل کر حلق سے نیچے اُترا اور خون تھوک سے زیادہ یا برابر تھا یا کم تھا، مگر اس کا مزہ حلق میں محسوس ہوا تو ان سب صورتوں میں روزہ جاتا رہا اور اگر کم تھا اور مزہ بھی محسوس نہ ہوا، تو نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴: روزہ میں دانت اکھڑوایا اورخون نکل کر حلق سے نیچے اُترا، اگرچہ سوتے میں ایسا ہوا تو اس روزہ کی قضا واجب ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: کوئی چیز پاخانہ کے مقام میں رکھی، اگر اس کا دوسرا سرا باہر رہا تو نہیں ٹوٹا، ورنہ جاتا رہا لیکن اگر وہ تر ہے اور اس کی رطوبت اندر پہنچی تو مطلقاً جاتا رہا، یہی حکم شرم گاہ زن (4) کا ہے، شرمگاہ سے مراد اس باب میں فرج داخل (5) ہے۔ یوہیں اگر ڈورے میں بوٹی باندھ کر نگل لی، اگر ڈورے کا دوسرا کنارہ باہر رہا اور جلد نکال لی کہ گلنے نہ پائی تو نہیں گیا اور اگر ڈورے کا دوسرا کنارہ بھی اندر چلا گیا یا بوٹی کا کچھ حصہ اندر رہ گیا تو روزہ جاتا رہا۔ (6) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۶: عورت نے پیشاب کے مقام میں روئی کا کپڑا رکھا اور بالکل باہر نہ رہا، روزہ جاتا رہا اور خشک انگلی پاخانہ کے مقام میں رکھی یا عورت نے شرمگاہ میں تو روزہ نہ گیا اور بھیگی تھی یا اس پر کچھ لگا تھا تو جاتا رہا، بشرطیکہ پاخانہ کے مقام میں اُس جگہ رکھی ہو جہاں عمل دیتے وقت حقنہ کا سرا رکھتے ہیں۔ (7) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ مگر فتح القدیر میں فرمایا کہ اگر اتنی ہو کہ بغیر تھوک کے مدد کے حلق سے نیچے اتر سکتی ہے تو اس سے بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اور اگر اتنی
خفیف ہو کہ لعاب کے ساتھ اتر سکتی ہے ورنہ نہیں تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ ۱۲ منہ
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۲.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم... إلخ، مطلب: یکرہ السھر اذا خاف فوت الصبح، ج۳، ص۴۲۲.
4 ۔ عورت کی شرمگاہ۔ 5 ۔ یعنی شرمگاہ کا اندرونی حصہ۔
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۳.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۴.
7 ۔ ''الفتاوی الہندیۃ''، المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، المرجع السابق، ص۴۲۴.
مسئلہ ۷: مبالغہ کے ساتھ استنجا کیا، یہاں تک کہ حقنہ رکھنے کی جگہ تک پانی پہنچ گیا، روزہ جاتا رہا اوراتنا مبالغہ چاہیے بھی نہیں کہ اس سے سخت بیماری کا اندیشہ ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۸: مرد نے پیشاب کے سوراخ میں پانی یا تیل ڈالا تو روزہ نہ گیا، اگرچہ مثانہ تک پہنچ گیا ہو اور عورت نے شرمگاہ میں ٹپکایا تو جاتا رہا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: دماغ یا شکم کی جھلّی تک زخم ہے، اس میں دوا ڈالی اگر دماغ یا شکم تک پہنچ گئی روزہ جاتا رہا، خواہ وہ دوا تر ہویا خشک اور اگر معلوم نہ ہو کہ دماغ یا شکم تک پہنچی یا نہیں اور وہ دوا تر تھی، جب بھی جاتا رہا اور خشک تھی تو نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: حقنہ (4) لیا یا نتھنوں سے دوا چڑھائی یا کان میں تیل ڈالا یا تیل چلا گیا، روزہ جاتا رہا اورپانی کان میں چلا گیا یا ڈالا تو نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: کلی کر رہا تھا بلا قصد پانی حلق سے اُتر گیا یا ناک میں پانی چڑھایا اور دماغ کو چڑھ گیا روزہ جاتا رہا، مگر جبکہ روزہ ہونا بھول گیا ہو تو نہ ٹوٹے گا اگرچہ قصداً ہو۔ یوہیں کسی نے روزہ دار کی طرف کوئی چیز پھینکی، وہ اُس کے حلق میں چلی گئی روزہ جاتا رہا۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: سوتے میں پانی پی لیا یا کچھ کھا لیا یا مونھ کھولا تھا اور پانی کا قطرہ یا اولا حلق میں جا رہا روزہ جاتا رہا۔ (7) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: دوسرے کا تھوک نگل گیا یا اپنا ہی تھوک ہاتھ پر لے کر نگل گیا روزہ جاتا رہا۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مونھ میں رنگین ڈورا رکھا جس سے تھوک رنگین ہوگیا پھر تھوک نگل لیا روزہ جاتا رہا۔ (9) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: ڈورا بٹا اسے تر کرنے کے لیے مونھ پر گزارا پھر دوبارہ، سہ بارہ۔ یوہیں کیا روزہ نہ جائے گا مگر جبکہ
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۲۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۴.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ یعنی کسی دوا کی بتی یا پچکاری پیچھے کے مقام میں چڑھانا جس سے ا جابت ہوجائے۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۴.
6 ۔ المرجع السابق، ص۲۰۲.
7 ۔ المرجع السابق. و ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۷۸.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۳.
9 ۔ المرجع السابق.
ڈورے سے کچھ رطوبت جُدا ہو کر مونھ میں رہی اور تھوک نگل لیا تو روزہ جاتا رہا۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۶: آنسو مونھ میں چلا گیا اور نگل لیا، اگر قطرہ دو قطرہ ہے تو روزہ نہ گیا اور زیادہ تھا کہ اس کی نمکینی پورے مونھ میں محسوس ہوئی تو جاتا رہا۔ پسینہ کا بھی یہی حکم ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: پاخانہ کا مقام باہر نکل پڑا تو حکم ہے کہ کپڑے سے خوب پونچھ کر اُٹھے کہ تری بالکل باقی نہ رہے اوراگر کچھ پانی اُس پر باقی تھا اور کھڑا ہوگیا کہ پانی اندر کو چلا گیا تو روزہ فاسد ہوگیا۔ اسی وجہ سے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ روزہ دار استنجا کرنے میں سانس نہ لے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: عورت کا بوسہ لیا یا چُھوا یا مباشرت کی یا گلے لگایا اوراِنزال ہوگیا تو روزہ جاتا رہا اور عورت نے مرد کو چُھوا اور مرد کو انزال ہوگیا تو روزہ نہ گیا۔ عورت کو کپڑے کے اوپر سے چُھوا اور کپڑا اتنا دبیز ہے کہ بدن کی گرمی محسوس نہیں ہوتی تو فاسد نہ ہوا اگرچہ انزال ہوگیا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: قصداً بھر مونھ قے کی اور روزہ دار ہونا یاد ہے تو مطلقاً روزہ جاتا رہا اور اس سے کم کی تو نہیں اور بلا اختیار قے ہوگئی تو بھر مونھ ہے یا نہیں اور بہر تقدیر وہ لوٹ کر حلق میں چلی گئی یا اُس نے خود لوٹائی یا نہ لوٹی، نہ لوٹائی تو اگر بھر مونھ نہ ہو تو روزہ نہ گیا، اگرچہ لوٹ گئی یا اُس نے خود لوٹائی اور بھر مونھ ہے اور اُس نے لوٹائی، اگرچہ اس میں سے صر ف چنے برابر حلق سے اُتری تو روزہ جاتا رہا ورنہ نہیں۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۰: قے کے یہ احکام اُس وقت ہیں کہ قے میں کھانا آئے یا صفرا (6) یا خون اوربلغم آیا تو مطلقاً روزہ نہ ٹوٹا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: رمضان میں بلا عذر جو شخص علانیہ قصداً کھائے تو حکم ہے کہ اُسے قتل کیا جائے۔ (8) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۱.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۳.
3 ۔ المرجع السابق، ص۲۰۴.
4 ۔ المرجع السابق، ص۲۰۴ ۔ ۲۰۵.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، ج۳، ص۴۵۰، وغیرہ.
6 ۔ یعنی کڑوا پانی۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۴.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، مطلب في الکفارۃ، ج۳، ص۴۴۹.
مسئلہ ۱: یہ گمان تھا کہ صبح نہیں ہوئی اور کھایا پیا یا جماع کیا بعد کومعلوم ہوا کہ صبح ہو چکی تھی یا کھانے پینے پر مجبور کیا گیا یعنی اکراہِ شرعی (1) پایا گیا، اگرچہ اپنے ہاتھ سے کھایا ہو تو صرف قضا لازم ہے یعنی اُس روزہ کے بدلے میں ایک روزہ رکھنا پڑھے گا۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: بھول کر کھایا یا پیا یا جماع کیا تھا یا نظر کرنے سے انزال ہوا تھا یا احتلام ہوا یا قے ہوئی اور ان سب صورتوں میں یہ گمان کیا کہ روزہ جاتا رہا اب قصداً کھا لیا تو صرف قضا فرض ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳: کان میں تیل ٹپکایا یا پیٹ یا دماغ کی جھلّی تک زخم تھا، اس میں دوا ڈالی کہ پیٹ یا دماغ تک پہنچ گئی یا حقنہ لیا یا ناک سے دوا چڑھائی یا پتھر، کنکری، مٹی، روئی، کاغذ، گھاس وغیرہا ایسی چیز کھائی جس سے لوگ گھن کرتے ہیں یا رمضان میں بلا نیّتِ روزہ روزہ کی طرح رہا یا صبح کو نیّت نہیں کی تھی، دن میں زوال سے پیشتر نیّت کی اور بعد نیّت کھا لیا یا روزہ کی نیّت تھی مگر روزہ رمضان کی نیّت نہ تھی یا اس کے حلق میں مینھ کی بوند یا اولا جارہا یا بہت سا آنسو یا پسینہ نگل گیا یا بہت چھوٹی لڑکی سے جماع کیا جو قابلِ جماع نہ تھی یا مردہ یا جانور سے وطی کی یا ران یا پیٹ پر جماع کیا یا بوسہ لیا یا عورت کے ہونٹ چُوسے یا عورت کا بدن چُھوا اگرچہ کوئی کپڑا حائل ہو، مگر پھر بھی بدن کی گرمی محسوس ہوتی ہو۔
اور ان سب صورتوں میں انزال بھی ہوگیا یا ہاتھ سے منی نکالی یا مباشرت فاحشہ سے انزال ہوگیا یا ادائے رمضان کے علاوہ اور کوئی روزہ فاسد کر دیا، اگرچہ وہ رمضان ہی کی قضا ہو یا عورت روزہ دار سو رہی تھی، سوتے میں اس سے وطی کی گئی یا صبح کو ہوش میں تھی اور روزہ کی نیّت کرلی تھی پھر پاگل ہوگئی اور اسی حالت میں اس سے وطی کی گئی یا یہ گمان کر کے کہ رات ہے، سحری کھالی یا رات ہونے میں شک تھا اور سحری کھا لی حالانکہ صبح ہو چکی تھی یا یہ گمان کرکے کہ آفتاب ڈوب گیا ہے، افطار کر لیا حالانکہ ڈوبا نہ تھا یا دو شخصوں نے شہادت دی کہ آفتاب ڈوب گیا اور دو نے شہادت دی کہ دن ہے اور اُس نے روزہ افطار کر لیا، بعد کو معلوم ہوا کہ غروب نہیں ہوا تھا ان سب صورتوں میں صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔ (4) (درمختار وغیرہ)
1 ۔ اکراہِ شرعی یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو صحیح دھمکی دے کہ اگر تو روزہ نہ توڑے گا تومیں تجھے مار ڈالوں گا یا ہاتھ پاؤں توڑ دوں گا یا ناک، کان
وغیرہ کوئی عضو کاٹ ڈالوں گا یا سخت مار ماروں گا۔ اور روزہ دار یہ سمجھتا ہو کہ یہ کہنے والا جو کچھ کہتا ہے، کر گزرے گا۔
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۳۰، ۴۳۶، وغیرہ.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۳۱.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۳۱ ۔ ۴۳۹، وغیرہ.
مسئلہ ۴: مسافر نے اقامت کی، حیض و نفاس والی پاک ہوگئی، مجنون کو ہوش ہوگیا، مریض تھا اچھا ہوگیا، جس کا روزہ جاتا رہا اگرچہ جبراً کسی نے توڑوا دیا یا غلطی سے پانی وغیرہ کوئی چیز حلق میں جا رہی۔ کافر تھا مسلمان ہوگیا، نابالغ تھا بالغ ہوگیا، رات سمجھ کر سحری کھائی تھی حالانکہ صبح ہو چکی تھی، غروب سمجھ کر افطار کر دیا حالانکہ دن باقی تھا ان سب باتوں میں جو کچھ دن باقی رہ گیا ہے، اُسے روزے کے مثل گزارنا واجب ہے اور نابالغ جو بالغ ہوا یا کافر تھا مسلمان ہوا اُن پر اس دن کی قضا واجب نہیں باقی سب پر قضا واجب ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵: نابالغ دن میں بالغ ہوا یا کافر دن میں مسلمان ہوا اور وہ وقت ایسا تھا کہ روزہ کی نیّت ہوسکتی ہے اور نیّت کر بھی لی پھر وہ روزہ توڑ دیا تو اس دن کی قضا واجب نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: بچہ کی عمر دس ۱۰ سال کی ہو جائے اور اس میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو تو اس سے روزہ رکھوایا جائے نہ رکھے تو مار کر رکھوائیں، اگر پوری طاقت دیکھی جائے اور رکھ کر توڑ دیا تو قضا کا حکم نہ دیں گے اور نماز توڑے تو پھر پڑھوائیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: حیض و نفاس والی عورت صبح صادق کے بعد پاک ہوگئی، اگرچہ ضحوہ کبریٰ سے پیشتر اور روزہ کی نیت کر لی تو آج کا روزہ نہ ہوا، نہ فرض نہ نفل اور مریض یا مسافر نے نیّت کی یا مجنون تھا ہوش میں آکر نیّت کی تو ان سب کاروزہ ہوگیا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۸: صبح سے پہلے یا بھول کر جماع میں مشغول تھا، صبح ہوتے ہی یا یاد آنے پر فوراً جدا ہوگیا تو کچھ نہیں اور اسی حالت پر رہا تو قضا واجب ہے کفارہ نہیں۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: میّت کے روزے قضا ہوگئے تھے تو اُس کا ولی اس کی طرف سے فدیہ ادا کر دے یعنی جب کہ وصیت کی اور مال چھوڑا ہو، ورنہ ولی پر ضروری نہیں کر دے تو بہتر ہے۔
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۴۰.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، مطلب في جواز الإفطار بالتحری،
ج۳، ص۴۴۱.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، مطلب في جواز الإفطار بالتحری،
ج۳، ص۴۴۲.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۴۱.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، مطلب یکرہ السہر... إلخ، ج۳، ص۴۲۵.
مسئلہ ۱: رمضان میں روزہ دار مکلّف مقیم نے کہ ادائے روزہ رمضان کی نیّت سے روزہ رکھا اور کسی آدمی کے ساتھ جو قابلِ شہوت ہے، اُس کے آگے یا پیچھے کے مقام میں جماع کیا، انزال ہوا ہو یا نہیں یا اس روزہ دار کے ساتھ جماع کیا گیا یا کوئی غذا یا دوا کھائی یا پانی پیا یا کوئی چیز لذّت کے لیے کھائی یا پی یا کوئی ایسا فعل کیا، جس سے افطار کا گمان نہ ہوتا ہو اور اس نے گمان کر لیا کہ روزہ جاتا رہا پھر قصداً کھا پی لیا، مثلاً فصد یا پچھنا لیا یا سُرمہ لگایا یا جانور سے وطی کی یا عورت کو چُھوا یا بوسہ لیا یا ساتھ لٹایا یا مباشرت فاحشہ کی، مگر ان سب صورتوں میں انزال نہ ہوا یا پاخانہ کے مقام میں خشک انگلی رکھی، اب ان افعال کے بعد قصداً کھا لیا۔
تو ان سب صورتوں میں روزہ کی قضا اور کفّارہ دونوں لازم ہیں اور اگر ان صورتوں میں کہ افطار کا گمان نہ تھا اور اس نے گمان کر لیا اگر کسی مفتی نے فتویٰ دے دیا تھا کہ روزہ جاتا رہا اور وہ مفتی ایسا ہو کہ اہلِ شہر کا اس پر اعتماد ہو، اُس کے فتویٰ دینے پر اُس نے قصداً کھا لیا یا اُس نے کوئی حدیث سُنی تھی جس کے صحیح معنی نہ سمجھ سکا اور اُس غلط معنی کے لحاظ سے جان لیا کہ روزہ جاتا رہا اور قصداً کھا لیا تو اب کفّارہ لازم نہیں، اگرچہ مفتی نے غلط فتویٰ دیا یا جو حدیث اُس نے سُنی وہ ثابت نہ ہو۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: جس جگہ روزہ توڑنے سے کفارہ لازم آتا ہے اس میں شرط یہ ہے کہ رات ہی سے روزہ رمضان کی نیّت کی ہو، اگر دن میں نیّت کی اور توڑ دیا تو کفارہ لازم نہیں۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۳: مسافر بعد صبح کے ضحوہ کبریٰ سے پہلے وطن کو آیا اور روزہ کی نیّت کر لی پھر توڑ دیا یا مجنون اس وقت ہوش میں آیا اور روزہ کی نیّت کر کے پھر توڑ دیا تو کفارہ نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: کفّارہ لازم ہونے کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ روزہ توڑنے کے بعد کوئی ایسا امر واقع نہ ہوا ہو، جوروزہ کے منافی ہو یا بغیر اختیارایسا امر نہ پایا گیا ہو، جس کی وجہ سے روزہ افطار کرنے کی رخصت ہوتی، مثلاً عورت کو اُسی دن میں حیض یا نفاس آگیا یا روزہ توڑنے کے بعد اُسی دن میں ایسا بیمار ہوگیا جس میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے تو کفارہ ساقط ہے اور سفر سے ساقط نہ ہوگا کہ یہ اختیاری امر ہے۔ یوہیں اگر اپنے کو زخمی کر لیا اور حالت یہ ہوگئی کہ روزہ نہیں رکھ سکتا، کفّارہ ساقط نہ
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۴۲ ۔ ۴۴۶.
2 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۰ ۔ ۱۸۱.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۶.
ہوگا۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۵: وہ کام کیا جس سے کفارہ واجب ہوتا ہے پھر بادشاہ نے اُسے سفر پر مجبور کیا کفارہ ساقط نہ ہوگا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: مرد کو مجبور کر کے جماع کرایا یا عورت کو مرد نے مجبور کیا پھر اثنائے جماع میں اپنی خوشی سے مشغول رہا یا رہی تو کفّارہ لازم نہیں کہ روزہ تو پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے۔ (3) (جوہرہ) مجبوری سے مراد اکراہِ شرعی ہے، جس میں قتل یا عضو کاٹ ڈالنے یا ضربِ شدید (4) کی صحیح دھمکی دی جائے اور روزہ دار بھی سمجھے کہ اگر میں اس کا کہا نہ مانوں گا تو جو کہتا ہے، کر گزرے گا۔
مسئلہ ۷: کفارہ واجب ہونے کے لیے بھر پیٹ کھانا ضرور نہیں، تھوڑا سا کھانے سے بھی واجب ہو جائے گا۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۸: تیل لگایا یا غیبت کی پھر یہ گمان کر لیا کہ روزہ جاتا رہا یا کسی عالم ہی نے روزہ جانے کا فتویٰ دے دیا، اب اس نے کھا پی لیا جب بھی کفّارہ لازم ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۹: قے آئی یا بھول کر کھایا یا پیا یا جماع کیا اور ان سب صورتوں میں اسے معلوم تھا کہ روزہ نہ گیا پھر اس کے بعد کھا لیا تو کفّارہ لازم نہیں اور اگر احتلام ہوا اور اسے معلوم تھا کہ روزہ نہ گیا پھر کھا لیا تو کفّارہ لازم ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: لعاب تھوک کر چاٹ گیا یا دوسرے کا تھوک نگل گیا تو کفّارہ نہیں، مگر محبوب کا لذت یا معظم دینی (8) کا تبرک کے لیے تھوک نگل گیاتو کفّارہ لازم ہے۔ (9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱ ۱: جن صورتوں میں روزہ توڑنے پرکفّارہ لازم نہیں ان میں شرط ہے ،کہ ایک ہی بار ایسا ہوا ہو اور معصیت کا قصد نہ کیا ہو، ورنہ اُن میں کفّارہ دینا ہوگا۔ (10) (درمختار)
1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۱.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۶.
3 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۰ ۔ ۱۸۱.
4 ۔ یعنی سخت مار۔
5 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۰.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۴۶.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم... إلخ، مطلب في حکم الاستمناء بالکف، ج۳، ص۴۳۱، وغیرہ.
8 ۔ یعنی بزرگ۔
9 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في جواز الإفطار بالتحري، ج۳، ص۴۴۴.
10 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۴۰.
مسئلہ ۱۲: کچا گوشت کھایا اگرچہ مردار کا ہو تو کفارہ لازم ہے، مگر جبکہ سڑا ہو یا اُس میں کیڑے پڑ گئے ہوں تو کفارہ نہیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: مٹی کھانے سے کفارہ واجب نہیں، مگر گل ارمنی یا وہ مٹی جس کے کھانے کی اُسے عادت ہے، کھائی تو کفارہ واجب ہے اور نمک اگر تھوڑا کھایا تو کفارہ واجب ہے، زیادہ کھایا تو نہیں۔ (2) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: نجس شوربے میں روٹی بھگو کرکھائی یا کسی کی کوئی چیز غصب کر کے کھالی تو کفارہ واجب ہے اور تھوک میں خون تھا اگرچہ خون غالب ہو، نگل لیا یا خون پی لیا تو کفارہ نہیں۔ (3) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۵: کچی بِہی کھائی یا پستہ یا اخروٹ مسلّم یا خشک یا بادام مسلّم نگل لیا یا چھلکے سمیت انڈا یا چھلکے کے ساتھ انار کھا لیا تو کفارہ نہیں اور خشک پستہ یا خشک بادام اگر چبا کر کھایا اور اس میں مغز بھی ہو تو کفارہ ہے اور مسلّم نگل لیا ہو تو نہیں، اگرچہ پھٹا ہو اور تر بادام مسلّم نگلنے میں بھی کفارہ ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: چنے کا ساگ کھایا تو کفارہ واجب، یہی حکم درخت کے پتوں کا ہے جبکہ کھائے جاتے ہوں ورنہ نہیں۔
مسئلہ ۱۷: خرپزہ یا تربز کا چھلکا کھایا، اگر خشک ہو یا ایسا ہو کہ لوگ اس کے کھانے سے گھن کرتے ہوں تو کفارہ نہیں ورنہ ہے۔ کچے چاول، باجرا، مسور، مونگ کھائی تو کفارہ نہیں، یہی حکم کچے جَو کا ہے اور بھنے ہوئے ہوں توکفارہ لازم۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: تِل یا تِل کے برابر کھانے کی کوئی چیز باہر سے مونھ میں ڈال کر بغیر چبائے نگل گیا تو روزہ گیا اور کفارہ واجب۔ (6) (درمختار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في جواز الإفطار بالتحري، ج۳،
ص۴۴۴ ۔ ۴۴۵
2 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۱.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۲، ۲۰۵.
3 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۱.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۲، ۲۰۵.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۲، ۲۰۵.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۵۳.
مسئلہ ۱۹: دوسرے نے نوالہ چبا کر دیا، اُس نے کھا لیا یا اُس نے خود اپنے مونھ سے نکال کر کھا لیا تو کفارہ نہیں۔ (1) (عالمگیری) بشرطیکہ اس کے چبائے ہوئے کو لذات یا تبرک نہ سمجھتا ہو۔
مسئلہ ۲۰: سحری کا نوالہ مونھ میں تھا کہ صبح طلوع ہوگئی یا بھول کر کھا رہا تھا، نوالہ مونھ میں تھا کہ یاد آگیا اور نگل لیا تو دونوں صورتوں میں کفارہ واجب، مگر جب مونھ سے نکال کر پھر کھایا ہو تو صرف قضا واجب ہوگی کفارہ نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: عورت نے نابالغ یا مجنون سے وطی کرائی یا مرد کو وطی کرنے پر مجبور کیا ،تو عورت پر کفارہ واجب ہے مرد پر نہیں۔ (3) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: مُشک، زعفران، کافور، سرکہ کھایا یا خرپزہ، تربز، ککڑی، کھیرا، باقلا کا پانی پیا تو کفارہ واجب ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: رمضان میں روزہ دار قتل کے لیے لایا گیا اُس نے پانی مانگا، کسی نے اُسے پانی پلا دیا پھر وہ چھوڑ دیا گیا تو اُس پر کفارہ واجب ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: باری سے بخار آتا تھا اورآج باری کا دن تھا۔ اُس نے یہ گمان کر کے کہ بخار آئے گا روزہ قصداً توڑ دیا تو اس صورت میں کفارہ ساقط ہے۔ (6) یوہیں عورت کو معیّن تاریخ پر حیض آتا تھا اورآج حیض آنے کا دن تھا، اُس نے قصداً روزہ توڑ دیا اور حیض نہ آیا تو کفارہ ساقط ہوگیا۔ یوہیں اگر یقین تھا کہ دشمن سے آج لڑنا ہے اور روزہ توڑ ڈالا اور لڑائی نہ ہوئی تو کفارہ واجب نہیں۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ممکن ہو تو ایک رقبہ یعنی باندی یا غلام آزاد کرے اور یہ نہ کر سکے مثلاً اس کے پاس نہ لونڈی غلام ہے، نہ اتنا مال کہ خریدے یا مال تو ہے مگر رقبہ میسر نہیں جیسے آج کل یہاں ہندوستان میں، تو پے درپے ساٹھ روزے رکھے، یہ بھی نہ کرسکے تو ساٹھ ۶۰ مساکین کو بھر بھر پیٹ دونوں وقت کھانا کھلائے اور روزے کی صورت میں اگر درمیان میں
1 ۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۵، وغیرہ.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج۱، ص۲۰۵.
5 ۔ المرجع السابق، ص۲۰۶.
6 ۔ یعنی کفارہ کی ضرورت نہیں۔
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۴۸.
ایک دن کا بھی چھوٹ گیا تو اب سے ساٹھ ۶۰ روزے رکھے، پہلے کے روزے محسوب نہ ہوں گے اگرچہ اُنسٹھ ۵۹ رکھ چکا تھا، اگرچہ بیماری وغیرہ کسی عذر کے سبب چُھوٹا ہو، مگر عورت کوحیض آجائے تو حیض کی وجہ سے جتنے ناغے ہوئے یہ ناغے نہیں شمار کیے جائیں گے یعنی پہلے کے روزے اور حیض کے بعد والے دونوں مِل کر ساٹھ ۶۰ ہو جانے سے کفارہ ادا ہوجائے گا۔ (1) (کتب کثیرہ)
مسئلہ ۲۶: اگر دو روزے توڑے تو دونوں کے لیے دو کفارے دے، اگرچہ پہلے کا ابھی کفارہ نہ ادا کیا ہو۔ (2) (ردالمحتار) یعنی جب کہ دونوں دو رمضان کے ہوں اور اگر دونوں روزے ایک ہی رمضان کے ہوں اور پہلے کا کفارہ ادا نہ کیا ہو تو ایک ہی کفارہ دونوں کے لیے کافی ہے۔ (3) (جوہرہ)
کفارہ کے متعلق دیگر جزئیات کتاب الطلاق باب الظہار میں انشاء اﷲ تعالیٰ معلوم ہوں گی۔
مسئلہ ۲۷: آزاد و غلام، مرد و عورت، بادشاہ وفقیر سب پر روزہ توڑنے سے کفارہ واجب ہوتا ہے، یہاں تک کہ باندی کو اگر معلوم تھا کہ صبح ہوگئی اُس نے اپنے آقا کو خبر دی کہ ابھی صبح نہ ہوئی اس نے اس کے ساتھ جماع کیا تو لونڈی پرکفارہ واجب ہوگا اور اُس کے مولیٰ پر صرف قضا ہے کفارہ نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
حدیث ۱ و ۲: بخاری و ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو بُری بات کہنا اور اُس پر عمل کرنا نہ چھوڑے ،تو اﷲ تعالیٰ کو اس کی کچھ حاجت نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔'' (5) اور اسی کے مثل طبرانی نے انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۳ و ۴: ابن ماجہ و نسائی و ابن خزیمہ و حاکم و بیہقی ودارمی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ انھیں روزہ سے سوا پیاس کے کچھ نہیں اور بہت سے رات میں قیا م
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في الکفارۃ، ج۳، ص۴۴۷.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۵۹۵،وغیرہما.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في الکفارۃ، ج۳، ص۴۴۹.
3 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۲.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في الکفارۃ، ج۳، ص۴۴۷.
5 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب من لم یدع قول الزور والعمل بہٖ في الصوم، الحدیث: ۱۹۰۳، ج۱، ص۶۲۸.
کرنے والے ایسے کہ انھیں جاگنے کے سوا کچھ حاصل نہیں۔'' (1) اور اُسی کے مثل طبرانی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی۔
حدیث ۵ و ۶: بیہقی ابو عبیدہ اور طبرانی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''روزہ سپر ہے، جب تک اسے پھاڑا نہ ہو۔ عرض کی گئی، کس چیز سے پھاڑے گا؟ ارشاد فرمایا: جھوٹ یا غیبت سے۔'' (2)
حدیث ۷: ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''روزہ اس کا نام نہیں کہ کھانے اور پینے سے باز رہنا ہو، روزہ تویہ ہے کہ لغو و بیہودہ باتوں سے بچا جائے۔'' (3)
حدیث ۸: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے روزہ دار کو مباشرت کرنے کے بارے میں سوال کیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے انھیں اجازت دی پھر ایک دوسرے صاحب نے حاضر ہوکر یہی سوال کیا تو انھیں منع فرمایا اور جن کو اجازت دی تھی، بوڑھے تھے اور جن کو منع فرمایا: جوان تھے۔'' (4)
حدیث ۹: ابو داود و ترمذی عامر بن ربیعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں میں نے بے شمار بار نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو روزہ میں مسواک کرتے دیکھا۔ (5)
مسئلہ ۱: جھوٹ، چغلی، غیبت، گالی دینا، بیہودہ بات، کسی کو تکلیف دینا کہ یہ چیزیں ویسے بھی ناجائز و حرام ہیں روزہ میں اور زیادہ حرام اور ان کی وجہ سے روزہ میں کراہت آتی ہے۔
مسئلہ ۲: روزہ دار کو بلاعذر کسی چیز کا چکھنا یا چبانا مکروہ ہے۔ چکھنے کے لیے عذر یہ ہے کہ مثلاً عورت کا شوہر یا باندی غلام کا آقا بدمزاج ہے کہ نمک کم و بیش ہوگا تو اس کی ناراضی کا باعث ہوگا اس وجہ سے چکھنے میں حرج نہیں، چبانے کے لیے یہ عذر ہے کہ اتنا چھوٹا بچہ ہے کہ روٹی نہیں کھا سکتا اور کوئی نرم غذا نہیں جو اُسے کھلائی جائے، نہ حیض و نفاس والی یا کوئی اور بے روزہ ایسا ہے جو اُسے چبا کر دیدے، تو بچہ کے کھلانے کے لیے روٹی وغیرہ چبانا مکروہ نہیں۔ (6) (درمختار وغیرہ)
چکھنے کے وہ معنی نہیں جو آج کل عام محاورہ ہے یعنی کسی چیز کا مزہ دریافت کرنے کے لیے اُس میں سے تھوڑا کھا لینا کہ
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الصیام، باب ماجاء في الغیبۃ والرفث للصائم، الحدیث: ۱۶۹۰، ج۲، ص۳۲۰.
و ''السنن الکبری''، کتاب الصیام، باب الصائم... الخ، الحدیث: ۸۳۱۳، ج۴، ص۴۴۹.
2 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب العین، الحدیث: ۴۵۳۶، ج۳، ص۲۶۴.
3 ۔ ''المستدرک'' للحاکم، کتاب الصوم، باب من أفطر في رمضان ناسیا... إلخ، الحدیث: ۱۶۱۱، ج۲، ص۶۷.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصیام، باب کراہیۃ للشاب، الحدیث: ۲۳۸۷، ج۲، ص۴۵۷.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، ابواب الصوم، باب ماجاء في السواک للصائم، الحدیث: ۷۲۵، ج۲، ص۱۷۶.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ، ج۳، ص۴۵۳، وغیرہ.
یوں ہو تو کراہت کیسی روزہ ہی جاتا رہے گا، بلکہ کفارہ کے شرائط پائے جائیں تو کفارہ بھی لازم ہوگا۔ بلکہ چکھنے سے مراد یہ ہے کہ زبان پررکھ کر مزہ دریافت کر لیں اور اُسے تھوک دیں اس میں سے حلق میں کچھ نہ جانے پائے۔
مسئلہ ۳: کوئی چیز خریدی اور اس کا چکھنا ضروری ہے کہ نہ چکھے گا تو نقصان ہوگا، تو چکھنے میں حرج نہیں ورنہ مکروہ ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴: بلاعذر چکھنا جو مکروہ بتایا گیا یہ فرض روزہ کا حکم ہے نفل میں کراہت نہیں، جبکہ اس کی حاجت ہو۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: عورت کا بوسہ لینا اور گلے لگانا اور بدن چھونا مکروہ ہے، جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ انزال ہو جائے گا یا جماع میں مبتلا ہوگا اور ہونٹ اورزبان چوسنا روزہ میں مطلقاً (3) مکروہ ہے۔ یوہیں مباشرت فاحشہ۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: گلاب یا مشک وغیرہ سونگھنا داڑھی مونچھ میں تیل لگانا اور سُرمہ لگانامکروہ نہیں، مگر جبکہ زینت کے لیے سُرمہ لگایا یا اس لیے تیل لگایا کہ داڑھی بڑھ جائے، حالانکہ ایک مُشت (5) داڑھی ہے تو یہ دونوں باتیں بغیر روزہ کے بھی مکروہ ہیں اور روزہ میں بدرجہ اَولیٰ۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۷: روزہ میں مسواک کرنا مکروہ نہیں، بلکہ جیسے اور دنوں میں سنّت ہے روزہ میں بھی مسنون ہے۔ مسواک خشک ہو یا تر اگرچہ پانی سے تَر کی ہو، زوال سے پہلے کرے یا بعد کسی وقت مکروہ نہیں۔ (7) (عامہ کتب) اکثر لوگوں میں مشہور ہے کہ دوپہر بعد روزہ دار کے لیے مسواک کرنا مکروہ ہے، یہ ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔
مسئلہ ۸: فصد کھلوانا، پچھنے لگوانا مکروہ نہیں جب کہ ضعف کا اندیشہ نہ ہو اور اندیشہ ہو تو مکروہ ہے، اُسے چاہیے کہ
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۵۳.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد ما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۵۳.
3 ۔ یعنی چاہے انزال و جماع کا ڈر ہو یا نہ ہو۔
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب: فیما یکرہ للصائم، ج۳، ص۴۵۴.
5 ۔ یعنی ایک مٹھی۔
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۵۵.
7 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۲، ص۴۹۱.
مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں کہ اگر مسواک چبانے سے رَیشے چھوٹیں یا مزہ محسوس ہو تو ایسی مسواک روزے میں نہیں کرنا چاہیے۔ (''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱۰، ص۵۱۱).
غروب تک مؤخر کرے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: روزہ دار کے لیے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے۔ کلی میں مبالغہ کرنے کے یہ معنی ہیں کہ بھر مونھ پانی لے اور وضو و غسل کے علاوہ ٹھنڈ پہنچانے کی غرض سے کلی کرنا یا ناک میں پانی چڑھانا یا ٹھنڈ کے لیے نہانا بلکہ بدن پر بھیگا کپڑا لپیٹنا مکروہ نہیں۔ ہاں اگر پریشانی ظاہر کرنے کے لیے بھیگا کپڑا لپیٹا تو مکروہ ہے کہ عبادت میں دل تنگ ہونا اچھی بات نہیں۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۱۰: پانی کے اندر (3) ریاح خارج کرنے سے روزہ نہیں جاتا، مگر مکروہ ہے اور روزہ دار کو استنجے میں مبالغہ کرنا بھی مکروہ ہے۔ (4) (عالمگیری) یعنی اور دِنوں میں حکم یہ ہے کہ استنجا کرنے میں نیچے کو زور دیا جائے اور روزہ میں یہ مکروہ ہے۔
مسئلہ ۱۱: مونھ میں تھوک اکٹھا کر کے نگل جانا بغیر روزہ کے بھی ناپسند ہے اور روزہ میں مکروہ۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: رمضان کے دنوں میں ایسا کام کرنا جائز نہیں، جس سے ایسا ضعف آجائے کہ روزہ توڑنے کا ظن غالب ہو۔ لہٰذا نانبائی کو چاہیے کہ دوپہر تک روٹی پکائے پھر باقی دن میں آرام کرے۔ (6) (درمختار) یہی حکم معمار و مزدور اورمشقت کے کام کرنے والوں کا ہے کہ زیادہ ضعف کا اندیشہ ہو تو کام میں کمی کر دیں کہ روزے ادا کرسکیں۔
مسئلہ ۱۳: اگر روزہ رکھے گا تو کمزور ہو جائے گا، کھڑے ہو کر نما ز نہ پڑھ سکے گا تو حکم ہے کہ روزہ رکھے اور بیٹھ کر نماز پڑھے۔ (7) (درمختار) جب کہ کھڑا ہونے سے اتنا ہی عاجز ہو جو باب صلاۃالمریض میں گزرا۔
مسئلہ ۱۴: سحری کھانا اور اس میں تاخیر کرنا مستحب ہے، مگر اتنی تاخیر مکروہ ہے کہ صبح ہوجانے کا شک ہو جائے۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے، مگر افطار اس وقت کرے کہ غروب کا غالب گمان ہو، جب تک گمان
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثالث، فیما یکرہ للصائم وما لا یکرہ، ج۱، ص۱۹۹ ۔ ۲۰۰.
2 ۔ المرجع السابق، ص۱۹۹، و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في حدیث
التوسعۃ علی العیال والاکتعال یوم عاشورائ، ج۳، ص۴۵۹. وغیرہما
3 ۔ مثلاً نہر، ندی، تالاب وغیرہ میں نہاتے وقت۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثالث فیمایکرہ للصائم وما لا یکرہ، ج۱، ص۱۹۹.
5 ۔ المرجع السابق، وغیرہ.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۶۰.
7 ۔ المرجع السابق، ص۴۶۱.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثالث، فیمایکرہ للصائم وما لا یکرہ، ج۱، ص۲۰۰.
غالب نہ ہو افطار نہ کرے، اگرچہ مؤذن نے اذان کہہ دی ہے اور اَبر کے دنوں میں افطار میں جلدی نہ چاہیے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: ایک عادل کے قول پر افطار کرسکتا ہے، جب کہ اس کی بات سچی مانتا ہو اور اگر اس کی تصدیق نہ کرے تو اس کے قول کی بنا پر افطار نہ کرے۔ یوہیں مستور کے کہنے پر بھی افطار نہ کرے اور آج کل اکثر اسلامی مقامات میں افطار کے وقت توپ چلنے کا رواج ہے، اس پر افطار کر سکتا ہے، اگرچہ توپ چلانے والے فاسق ہوں جب کہ کسی عالم محقق توقیت دان محتاط فی الدین کے حکم پر چلتی ہو۔(2)
آج کل کے عام علما بھی اس فن سے ناواقف محض ہیں اور جنتریاں کہ شائع ہوتی ہیں اکثر غلط ہوتی ہیں ان پر عمل جائز نہیں۔ یوہیں سحری کے وقت اکثر جگہ نقارہ بجتا ہے، انھیں شرائط کیساتھ اس کا بھی اعتبار ہے اگرچہ بجانے والے کیسے ہی ہوں۔
مسئلہ ۱۷: سحری کے وقت مرغ کی اذان کا اعتبار نہیں کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ صبح سے بہت پہلے اذان شروع کر دیتے ہیں، بلکہ جاڑے کے دنوں میں تو بعض مرغ دو بجے سے اذان کہنا شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ اس وقت صبح ہونے میں بہت وقت باقی رہتا ہے۔ یوہیں بول چال سُن کر اورروشنی دیکھ کر بولنے لگتے ہیں۔ (3) (ردالمحتار مع زیادۃ)
مسئلہ ۱۸: صبح صادق کو رات کامطلقاً چھٹا یا ساتواں حصہ سمجھنا غلط ہے، رہا یہ کہ صبح کس وقت ہوتی ہے اُسے ہم حصہ سوم باب الاوقات میں بیان کر آئے وہاں سے معلوم کریں۔
حدیث ۱: بخاری ومسلم و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سحری کھاؤ کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔'' (4)
حدیث ۲: مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن خزیمہ عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں میں فرق سحری کا لقمہ ہے۔'' (5)
حدیث ۳: طبرانی نے کبیر میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا:
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم... إلخ، مطلب في حدیث التوسعۃ علی العیال... إلخ، ج۳، ص۴۵۹.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في جواز الإفطار التحری، ج۳، ص۴۳۹، وغیرہ.
3 ۔
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، بابرکۃ السحور من غیر ایجاب، الحدیث: ۱۹۲۳، ج۱، ص۶۳۳.
5 ۔ '' صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب فضل السحور... إلخ، الحدیث: ۱۰۹۶، ص۵۵۲.
''تین چیزوں میں برکت ہے، جماعت اور ثرید اور سحری میں۔'' (1)
حدیث ۴: طبرانی اوسط میں اور ابن حبان صحیح میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''اﷲ (عزوجل) اور اُس کے فرشتے، سحری کھانے والوں پر دُرود بھیجتے ہیں۔'' (2)
حدیث ۵: ابن ماجہ و ابن خزیمہ و بیہقی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سحری کھانے سے دن کے روزہ پر استعانت کرو اور قیلولہ سے رات کے قیام پر۔'' (3)
حدیث ۶: نسائی باسناد حسن ایک صحابی سے راوی، کہتے ہیں میں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سحری تناول فرما رہے تھے، ارشاد فرمایا: ''یہ برکت ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمھیں دی تو اسے نہ چھوڑنا۔'' (4)
حدیث ۷: طبرانی کبیر میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تین شخصوں پر کھانے میں انشاء اﷲ تعالیٰ حساب نہیں، جبکہ حلال کھایا۔ روزہ دار اور سحری کھانے والا اور سرحد پر گھوڑا باندھنے والا۔'' (5)
حدیث ۸تا۱۰: امام احمد ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سحری کُل کی کُل برکت ہے اُسے نہ چھوڑنا، اگرچہ ایک گھونٹ پانی ہی پی لے کیونکہ سحری کھانے والوں پر اﷲ (عزوجل) اور اس کے فرشتے دُرود بھیجتے ہیں۔'' (6) نیز عبداﷲ بن عمرو سائب بن یزید و ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے بھی اسی قسم کی روایتیں آئیں۔
حدیث ۱۱: بخاری و مسلم و ترمذی سہل بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ہمیشہ لوگ خیر کے ساتھ رہیں گے، جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔'' (7)
حدیث ۱۲: ابن حبان صحیح میں انھیں سے راوی، کہ فرمایا: ''میری اُمت میری سنت پر رہے گی، جب تک افطار میں ستاروں کا انتظار نہ کرے۔'' (8)
1 ۔ ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۶۱۲۷، ج۶، ص۲۵۱.
2 ۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الصوم، باب السحور، الحدیث: ۳۴۵۸، ج۵، ص۱۹۴.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الصیام، باب ماجاء في السحور، الحدیث: ۱۶۹۳، ج۲، ص۳۲۱.
4 ۔ ''السنن الکبری'' للنسائي، کتاب الصیام، باب فضل السحور، الحدیث: ۲۴۷۲، ج۲، ص۷۹.
5 ۔ ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۱۲۰۱۲، ج۱۱، ص۲۸۵.
6 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي سعید الخدری، الحدیث: ۱۱۰۸۶، ج۴، ص۲۶.
7 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب تعجیل الإفطار، الحدیث: ۱۹۵۷، ج۱، ص۶۴۵.
8 ۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الصوم، باب الإفطار و تعجیلہ، الحدیث: ۳۵۰۱، ج۵، ص۲۰۹.
حدیث ۱۳: احمد و ترمذی و ابن خزیمہ و ابن حبان ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ اﷲ عزوجل نے فرمایا: ''میرے بندوں میں مجھے زیادہ پیارا وہ ہے، جو افطار میں جلدی کرتا ہے۔'' (1)
حدیث ۱۴: طبرانی اوسط میں یعلی بن مرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرمایا: ''تین چیزوں کو اﷲ (عزوجل) محبوب رکھتا ہے۔ افطار میں جلدی کرنا اور سحری میں تاخیر اور نماز میں ہاتھ پر ہاتھ رکھنا۔'' (2)
حدیث ۱۵: ابو داود و ابن خزیمہ و ابن حبان ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''یہ دین ہمیشہ غالب رہے گا، جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے کہ یہود و نصاریٰ تاخیر کرتے ہیں۔'' (3)
حدیث ۱۶: امام احمد و ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ و دارمی سلمان بن عامر ضبی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب تم میں کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور یا چھوہارے سے افطار کرے کہ وہ برکت ہے اور اگر نہ ملے تو پانی سے کہ وہ پاک کرنے والا ہے۔'' (4)
حدیث ۱۷: ابو داود و ترمذی انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نماز سے پہلے تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے، تر کھجوریں نہ ہوتیں تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو چند چلّو پانی پیتے۔'' (5) ابو داود نے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) افطار کے وقت یہ دُعا پڑھتے۔
اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَ عَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ. (6)
حدیث ۱۸: نسائی و ابن خزیمہ زید بن خالد جہنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرمایا: ''جو روزہ دار کا روزہ افطار کرائے یا غازی کا سامان کر دے تو اوسے بھی اتنا ہی ملے گا۔'' (7)
حدیث ۱۹: طبرانی کبیر میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے حلال کھانے یا پانی سے روزہ افطار کرایا۔ فرشتے ماہِ رمضان کے اوقات میں اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم ، باب ماجاء في تعجیل الإفطار، الحدیث: ۷۰۰، ج۲، ص۱۶۴.
2 ۔ ''المعجم الأوسط''، الحدیث: ۷۴۷۰، ج۵، ص۳۲۰.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصیام، باب ما یستحب من تعجیل الفطر، الحدیث: ۲۳۵۳، ج۲، ص۴۴۶.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم باب ماجاء ما یستحب علیہ الإفطار، الحدیث: ۶۹۵، ج۲، ص۱۶۲.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، ابواب ا لصوم، باب ماجاء ما یستحب علیہ الافطار، الحدیث: ۶۹۶، ج۲، ص۱۶۲.
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصیام، باب القول عند الإفطار، الحدیث: ۲۳۵۸، ج۲، ص۴۴۷.
7 ۔ ''شعب الایمان''، باب في الصیام، فصل فیمن فطر صائما، الحدیث: ۳۹۵۳، ج۳، ص۴۱۸.
جبرئیل علیہ الصلاۃ والسّلام شبِ قدر میں اُس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔'' (1)
اور ایک روایت میں ہے، ''جو حلال کمائی سے رمضان میں روزہ افطار کرائے، رمضان کی تمام راتوں میں فرشتے اس پر دُرود بھیجتے ہیں اور شبِ قدر میں جبرئیل اس سے مصافحہ کرتے ہیں۔'' (2)
اور ایک روایت میں ہے، ''جو روزہ دار کو پانی پلائے گا، اﷲ تعالیٰ اُسے میرے حوض سے پلائے گا کہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔'' (3)
حدیث ۱: صحیحین میں اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہتی ہیں حمزہ بن عمرو اسلمی بہت روزے رکھا کرتے تھے، انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے دریافت کیا، کہ سفر میں روزہ رکھوں؟ ارشاد فرمایا: ''چاہو رکھو، چاہے نہ رکھو۔'' (4)
حدیث ۲: صحیح مسلم میں ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں سولھویں رمضان کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ہم جہاد میں گئے۔ ہم میں بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا تو نہ روزہ داروں نے غیر روزہ داروں پر عیب لگایا اورنہ انھوں نے ان پر۔ (5)
حدیث ۳: ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ انس بن مالک کعبی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''اﷲ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز معاف فرما دی (یعنی چار رکعت والی دو پڑھے گا) اور مسافر اور دُودھ پلانے والی اور حاملہ سے روزہ معاف فرما دیا۔'' (6) (کہ اُن کو اجازت ہے کہ اُس وقت نہ رکھیں بعد میں وہ مقدار پوری کرلیں)۔
مسئلہ ۱: سفر و حمل اور بچہ کو دودھ پلانا اور مرض اور بڑھاپا اور خوف ہلاک و اکراہ و نقصانِ عقل اور جہاد یہ سب روزہ نہ رکھنے کے لیے عذر ہیں، ان وجوہ سے اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو گنہگار نہیں۔ (7) (درمختار)
1 ۔ ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۶۱۶۲، ج۶، ص۲۶۱.
2 ۔ ''کنز العمال''، کتاب الصوم، الحدیث: ۲۳۶۵۳، ج۸، ص۲۱۵.
3 ۔ ''شعب الایمان''، باب في الصیام، فضائل شھر رمضان، الحدیث: ۳۶۰۸، ج۳، ص۳۰۵ ۔ ۳۰۶.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب الصوم في السفر والإفطار، الحدیث: ۱۹۴۳، ج۱، ص۶۴۰.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب جواز الصوم والفطرفي الشھر رمضان... إلخ، الحدیث: ۱۱۱۶، ص۵۶۴.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم، باب ماجاء في الرخصۃ في الإفطار للحبلی والمرضع، الحدیث: ۷۱۵، ج۲، ص۱۷۰.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۲.
مسئلہ ۲: سفر سے مراد سفر شرعی ہے یعنی اتنی دُور جانے کے ارادہ سے نکلے کہ یہاں سے وہاں تک تین دن کی مسافت ہو، اگرچہ وہ سفر کسی ناجائز کام کے لیے ہو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳: دن میں سفر کیا تو اُس دن کا روزہ افطار کرنے کے لیے آج کا سفر عذر نہیں۔ البتہ اگر توڑے گا تو کفارہ لازم نہ آئے گا مگر گنہگار ہوگا اور اگر سفر کرنے سے پہلے توڑ دیا پھر سفر کیا تو کفارہ بھی لازم اور اگر دن میں سفرکیا اور مکان پر کوئی چیز بھول گیاتھا، اُسے لینے واپس آیا اور مکان پر آکر روزہ توڑ ڈالا تو کفارہ واجب ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: مسافر نے ضحوہ کبریٰ سے پیشتر اقامت کی اور ابھی کچھ کھایا نہیں تو روزہ کی نیّت کر لینا واجب ہے۔ (3) (جوہرہ)
مسئلہ ۵: حمل والی اور دودھ پلانے والی کو اگر اپنی جان یا بچہ کا صحیح اندیشہ ہے، تو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھے، خواہ دودھ پلانے والی بچہ کی ماں ہو یا دائی اگرچہ رمضان میں دودھ پلانے کی نوکری کی ہو۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر میں اچھا ہونے یا تندرست کو بیمار ہو جانے کا گمان غالب ہو یا خادم و خادمہ کو ناقابل برداشت ضعف کا غالب گمان ہو تو ان سب کو اجازت ہے کہ اس دن روزہ نہ رکھیں۔ (5) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۷: ان صورتوں میں غالب گمان کی قید ہے محض وہم ناکافی ہے۔ غالب گمان کی تین صورتیں ہیں۔
(۱) اس کی ظاہر نشانی پائی جاتی ہے یا
(۲) اس شخص کا ذاتی تجربہ ہے یا
(۳) کسی مسلمان طبیب حاذق مستور یعنی غیر فاسق نے اُس کی خبر دی ہو اور اگر نہ کوئی علامت ہو نہ تجربہ نہ اس قسم کے طبیب نے اُسے بتایا ،بلکہ کسی کافر یا فاسق طبیب کے کہنے سے افطار کر لیا تو کفارہ لازم آئے گا۔ (6) (ردالمحتار) آج کل کے اکثر اطبا اگر کافر نہیں تو فاسق ضرور ہیں اور نہ سہی تو حاذق طبیب فی زمانہ نایاب سے ہو رہے ہیں، ان لوگوں کا کہنا کچھ قابلِ
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۳.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الخامس في الاعذار التی تبیح الافطار، ج۱، ص۲۰۶ ۔ ۲۰۷.
3 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۶.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۳.
5 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۳.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۳.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۴.
اعتبار نہیں نہ ان کے کہنے پر روزہ افطار کیا جائے۔ ان طبیبوں کو دیکھا جاتا ہے کہ ذرا ذرا سی بیماری میں روزہ کو منع کر دیتے ہیں، اتنی بھی تمیز نہیں رکھتے کہ کس مرض میں روزہ مُضر ہے کس میں نہیں۔
مسئلہ ۸: باندی کو اپنے مالک کی اطاعت میں فرائض کا موقع نہ ملے تو یہ کوئی عذر نہیں۔ فرائض ادا کرے اور اتنی دیر کے لیے اُس پر اطاعت نہیں۔ مثلاً فرض نماز کا وقت تنگ ہو جائے گا تو کام چھوڑ دے اور فرض ادا کرے اور اگر اطاعت کی اور روزہ توڑ دیا تو کفارہ دے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: عورت کو جب حیض و نفاس آگیا تو روزہ جاتا رہا اور حیض سے پورے دس دن رات میں پاک ہوئی تو بہرحال کل کا روزہ رکھے اور کم میں پاک ہوئی تو اگر صبح ہونے کو اتنا عرصہ ہے کہ نہا کر خفیف سا وقت بچے گا تو بھی روزہ رکھے اور اگر نہا کر فارغ ہونے کے وقت صبح چمکی تو روزہ نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: حیض و نفاس والی کے لیے اختیار ہے کہ چھپ کر کھائے یا ظاہراً، روزہ کی طرح رہنا اس پر ضروری نہیں۔ (3) (جوہرہ) مگر چھپ کر کھانا اَولیٰ ہے خصوصاً حیض والی کے لیے۔
مسئلہ ۱۱: بھوک اور پیاس ایسی ہو کہ ہلاک کا خوف صحیح یا نقصانِ عقل کا اندیشہ ہو تو روزہ نہ رکھے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: روزہ توڑنے پر مجبور کیا گیا تو اسے اختیار ہے اور صبر کیا تو اجر ملے گا۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: سانپ نے کاٹا اور جان کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں روزہ توڑ دیں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: جن لوگوں نے ان عذروں کے سبب روزہ توڑا، اُن پر فرض ہے کہ ان روزوں کی قضا رکھیں اور ان قضا روزوں میں ترتیب فرض نہیں۔ فلہٰذا اگر ان روزوں کے پہلے نفل روزے رکھے تو یہ نفلی روزے ہوگئے، مگر حکم یہ ہے کہ عذر جانے کے بعد دوسرے رمضان کے آنے سے پہلے قضا رکھ لیں۔
حدیث میں فرمایا: ''جس پر اگلے رمضان کی قضا باقی ہے اور وہ نہ رکھے اس کے اس رمضان کے روزے قبول نہ ہوں گے۔'' (7)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الخامس في الاعذار التی تبیح الإفطار، ج۱، ص۲۰۷.
3 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۶.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الخامس في الاعذار التی تبیح الإفطار، ج۱، ص۲۰۷.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۲. 6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہریرۃ، الحدیث: ۸۶۲۹، ج۳، ص۲۶۶.
اور اگر روزے نہ رکھے اور دوسرا رمضان آگیا تو اب پہلے اس رمضان کے روزے رکھ لے، قضا نہ رکھے، بلکہ اگر غیر مریض و مسافر نے قضا کی نیّت کی جب بھی قضا نہیں بلکہ اُسی رمضان کے روزے ہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: خود اس مسافر کو اور اُس کے ساتھ والے کو روزہ رکھنے میں ضرر نہ پہنچے تو روزہ رکھنا سفر میں بہتر ہے ورنہ نہ رکھنا بہتر۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: اگر یہ لوگ اپنے اُسی عذر میں مر گئے، اتنا موقع نہ ملا کہ قضا رکھتے تو ان پر یہ واجب نہیں کہ فدیہ کی وصےّت کر جائیں پھر بھی وصیّت کی تو تہائی مال میں جاری ہوگی اور اگر اتناموقع ملا کہ قضا روزے رکھ لیتے، مگر نہ رکھے تو وصیّت کرجانا واجب ہے اور عمداً نہ رکھے ہوں تو بدرجہ اَولیٰ وصیّت کرنا واجب ہے اور وصیّت نہ کی، بلکہ ولی نے اپنی طرف سے دے دیا تو بھی جائز ہے مگر ولی پر دینا واجب نہ تھا۔ (3) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: ہر روزہ کا فدیہ بقدر صدقہ فطر ہے اور تہائی مال میں وصیّت اس وقت جاری ہوگی، جب اس میت کے وارث بھی ہوں اور اگر وارث نہ ہوں اورسارے مال سے فدیہ ادا ہوتا ہو تو سب فدیہ میں صرف کر دینا لازم ہے۔ یوہیں اگر وارث صرف شوہر یا زوجہ ہے تو تہائی نکالنے کے بعد ان کا حق دیا جائے، اس کے بعد جوکچھ بچے اگر فدیہ میں صرف ہوسکتا ہے تو صرف کر دیا جائے گا۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: وصیّت کرنا صرف اتنے ہی روزوں کے حق میں واجب ہے جن پر قادر ہوا تھا، مثلاً دس قضا ہوئے تھے اور عذر جانے کے بعد پانچ پر قادر ہوا تھا کہ انتقال ہوگیا تو پانچ ہی کی وصیّت واجب ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: ایک شخص کی طرف سے دوسرا شخص روزہ نہیں رکھ سکتا۔ (6) (عامہ کتب)
مسئلہ ۲۰: اعتکاف واجب اور صدقہ فطرکا بدلہ اگر ورثہ ادا کر دیں تو جائز ہے اور اُن کی مقدار وہی بقدر صدقہ فطر
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۵.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۵.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۶.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الخامس في الاعذار التی تبیح الإفطار، ج۱، ص۲۰۷.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۷.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۷.
6 ۔ انظر: ''فح القدیر''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۲، ص۲۷۹.
ہے اور زکاۃ دیناچاہیں تو جتنی واجب تھی اُس قدر نکالیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روزبروز کمزور ہی ہوتا جائے گا، جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے نہ آئندہ اُس میں اتنی طاقت آنے کی اُمید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا، اُسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اورہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھاناکھلانا اس پرواجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقہ فطر کی مقدار مسکین کو دیدے۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: اگر ایسا بوڑھا گرمیوں میں بوجہ گرمی کے روزہ نہیں رکھ سکتا، مگر جاڑوں (3) میں رکھ سکے گا تو اب افطار کرلے اور اُن کے بدلے کے جاڑوں میں رکھنا فرض ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: اگر فدیہ دینے کے بعد اتنی طاقت آگئی کہ روزہ رکھ سکے ،تو فدیہ صدقہ نفل ہوکر رہ گیا ان روزوں کی قضا رکھے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: یہ اختیار ہے کہ شروع رمضان ہی میں پورے رمضان کا ایک دم فدیہ دے دے یا آخر میں دے اور اس میں تملیک (6) شرط نہیں بلکہ اباحت بھی کافی ہے اور یہ بھی ضرور نہیں کہ جتنے فدیے ہوں اتنے ہی مساکین کو دے بلکہ ایک مسکین کو کئی دن کے فدیے دے سکتے ہیں۔ (7) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۵: قسم (8) یا قتل (9) کے کفارہ کا اس پر روزہ ہے اور بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا تو اس روزہ کافدیہ نہیں اور روزہ توڑنے یا ظہار (10) کا کفارہ اس پر ہے ،تو اگر روزہ نہ رکھ سکے ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلا وے۔ (11) (عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۱.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۱، وغیرہ.
3 ۔ سردیوں۔
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الخامس في الاعذار التی تبیح الإفطار، ج۱، ص۲۰۷.
6 ۔ یعنی مالک بنا دینا۔
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۲، وغیرہ.
8 ۔ قسم کے کفارے میں تین روزے ہیں۔
9 ۔ یعنی قتل خطا کے کفارے میں دو ماہ کے روزے ہیں۔
10 ۔ ظہار کے کفارے میں دو ماہ کے روزے ہیں۔ ( ''النتف في الفتاوی''، کتاب الصوم، ص۹۳ ۔ ۹۴ ).
11 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الخامس في الاعذار التی تبیح الإفطار، ج۱، ص۲۰۷.
مسئلہ ۲۶: کسی نے ہمیشہ روزہ رکھنے کی منّت مانی اور برابر روزے رکھے تو کوئی کام نہیں کر سکتا جس سے بسر اوقات ہو تو اُسے بقدر ضرورت افطار کی اجازت ہے اور ہرروزے کے بدلے میں فدیہ دے اور اس کی بھی قوت نہ ہو تو استغفار کرے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: نفل روزہ قصداً شروع کرنے سے لازم ہو جاتا ہے کہ توڑے گا تو قضا واجب ہوگی اور یہ گمان کر کے کہ اس کے ذمّہ کوئی روزہ ہے، شروع کیا بعد کومعلوم ہوا کہ نہیں ہے، اب اگر فوراً توڑ دیا تو کچھ نہیں اور یہ معلوم کرنے کے بعد نہ توڑا تو اب نہیں توڑ سکتا، توڑے گا تو قضا واجب ہوگی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: نفل روزہ قصداً نہیں توڑا بلکہ بِلااختیار ٹوٹ گیا، مثلاً اثنائے روزہ میں حیض آگیا، جب بھی قضا واجب ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: عیدین یا ایام تشریق میں روزہ نفل رکھا تو اس روزہ کا پورا کرنا واجب نہیں، نہ اُس کے توڑنے سے قضا واجب، بلکہ اس روزہ کا توڑ دینا واجب ہے اور اگر ان دنوں میں روزہ رکھنے کی منّت مانی تو منّت پوری کرنی واجب ہے مگر ان دنوں میں نہیں بلکہ اور دنوں میں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: نفل روزہ بلاعذر توڑ دینا ناجائز ہے، مہمان کے ساتھ اگرمیزبان نہ کھائے گا تو اسے ناگوار ہوگا یا مہمان اگر کھانا نہ کھائے تو میزبان کو اذیت ہوگی تو نفل روزہ توڑ دینے کے لیے یہ عذر ہے، بشرطیکہ یہ بھروسہ ہو کہ اس کی قضا رکھ لے گا اور بشرطیکہ ضحوہ کبریٰ سے پہلے توڑے بعد کو نہیں۔ زوال کے بعد ماں باپ کی ناراضی کے سبب توڑ سکتا ہے اور اس میں بھی عصر کے قبل تک توڑ سکتا ہے بعد عصر نہیں۔ (5) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: کسی نے یہ قسم کھائی کہ اگر تو روزہ نہ توڑے تو میری عورت کو طلاق ہے، تو اُسے چاہیے کہ اس کی قسم سچی کر دے یعنی روزہ توڑ دے اگرچہ روزہ قضا ہو (6) اگرچہ بعد زوال ہو۔ (درمختار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۳.
3 ۔ المرجع السابق، ص۴۷۴.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۴.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۵ ۔ ۴۷۷.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الخامس في الاعذار التی تبیح الإفطار، ج۱، ص۲۰۸.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۶.
مسئلہ ۳۲: اُس کی کسی بھائی نے دعوت کی تو ضحوہ کبریٰ کے قبل روزہ نفل توڑ دینے کی اجازت ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: عورت بغیر شوہر کی اجازت کے نفل اور منّت و قسم کے روزے نہ رکھے اور رکھ لیے تو شوہر توڑوا سکتا ہے مگر توڑے گی تو قضا واجب ہوگی، مگر اس کی قضا میں بھی شوہر کی اجازت درکار ہے یا شوہر اور اُس کے درمیان جدائی ہو جائے یعنی طلاق بائن دیدے یا مر جائے ہاں اگر روزہ رکھنے میں شوہر کا کچھ حرج نہ ہو مثلاً وہ سفر میں ہے یا بیمار ہے یا احرام میں ہے تو ان حالتوں میں بغیر اجازت کے بھی قضا رکھ سکتی ہے، بلکہ اگر وہ منع کرے جب بھی اور ان دنوں میں بھی بے اس کی اجازت کے نفل نہیں رکھ سکتی۔ رمضان اور قضائے رمضان کے لیے شوہر کی اجازت کی کچھ ضرورت نہیں بلکہ اس کی ممانعت پر بھی رکھے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: باندی غلام بھی علاوہ فرائض کے مالک کی اجازت بغیر نہیں رکھ سکتے۔ ان کا مالک چاہے تو توڑوا سکتا ہے۔ پھر اُس کی قضامالک کی اجازت پر یا آزاد ہونے کے بعد رکھیں۔ البتہ غلام نے اگر اپنی عورت سے ظہار کیا تو کفارہ کے روزے بغیر مولیٰ کی اجازت کے رکھ سکتا ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: مزدور یا نوکر اگر نفل روزہ رکھے تو کام پورا ادا نہ کر سکے گا تو مستاجر یعنی جس کا نوکر ہے یا جس نے مزدوری پر اُسے رکھا ہے، اُس کی اجازت کی ضرورت ہے اور کام پورا کر سکے تو کچھ ضرورت نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: لڑکی کو باپ اور ماں کو بیٹے اور بہن کو بھائی سے اجازت لینے کی کچھ ضرورت نہیں اور ماں باپ اگر بیٹے کو روزہ نفل سے منع کر دیں، اس وجہ سے کہ مرض کا اندیشہ ہے تو ماں باپ کی اطاعت کرے۔ (5) (ردالمحتار)
(۱) عاشورا یعنی دسویں محرم کا روزہ اور بہتر یہ ہے کہ نویں کو بھی رکھے۔
حدیث ۱: صحیحین میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے عاشورا کا روزہ خود رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم فرمایا۔ (6)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۷.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۷.
3 ۔ المرجع السابق، ص۴۷۸.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۸. 5 ۔ المرجع السابق، ص۴۷۸.
6 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب ای یوم یصام في عاشوراء، الحدیث: ۱۱۳۴، ص۵۷۳.
حدیث ۲: مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''رمضان کے بعد افضل روزہ محرم کاروزہ ہے اور فرض کے بعد افضل نماز صلاۃ اللّیل ہے۔'' (1) 0
حدیث ۳: صحیحین میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، فرماتے ہیں: میں نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کسی دن کے روزہ کو اور دن پر فضیلت دے کر جستجو فرماتے نہ دیکھا مگر یہ عاشورا کا دن اور یہ رمضان کا مہینہ۔ (2)
حدیث ۴: صحیحین میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے، یہود کو عاشورا کے دن روزہ دار پایا، ارشاد فرمایا: یہ کیا دن ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟ عرض کی، یہ عظمت والا دن ہے کہ اس میں موسیٰ علیہ الصلاۃ و السّلام اور اُن کی قوم کو اﷲ تعالیٰ نے نجات دی اور فرعون اور اُس کی قوم کو ڈبو دیا، لہٰذا موسیٰ علیہ السّلام نے بطور شکر اُس دن کا روزہ رکھا تو ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: موسیٰ علیہ الصلاۃ والسّلام کی موافقت کرنے میں بہ نسبت تمھارے ہم زیادہ حق دار اور زیادہ قریب ہیں تو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے خود بھی روزہ رکھا اور اُس کا حکم بھی فرمایا۔ (3)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں ابوقتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''مجھے اﷲ (عزوجل) پر گمان ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال قبل کے گناہ مٹا دیتا ہے۔'' (4)
حدیث ۶تا۱۰: صحیح مسلم و سنن ابی داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ میں ابو قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''مجھے اﷲ (عزوجل) پر گمان ہے، کہ عرفہ کا روزہ ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم، الحدیث: ۱۱۶۳، ص۵۹۱.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب صوم یوم عاشوراء، الحدیث: ۲۰۰۶، ج۱، ص۶۵۷.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء، الحدیث: ۱۲۸۔(۱۱۳۰)، ص۵۷۱.
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ عزوجل کوئی خاص نعمت عطا فرمائے اس کی یادگار قائم کرنا درست و محبوب ہے کہ وہ نعمت خاصہ یاد آئیگی اور اس کا شکر ادا کرنے کا سبب ہوگا۔ خود قرآنِ عظیم میں ارشاد فرمایا: ( وَذَکِّرْھُمْ بِاَیـّٰمِ اللہِ ) (پ۱۳، ابرٰہیم: ۵)
''خدا کے انعام کے دنوں کو یاد کرو۔''
اور ہم مسلمانوں کے لیے ولادت اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کون سا دن ہوگا، جس کی یادگار قائم کریں کہ تمام نعمتیں انہیں کےطفیل میں ہیں اور یہ دن عید سے بھی بہتر کہ انہیں کے صدقہ میں تو عید عید ہوئی اسی وجہ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کا سبب ارشاد فرمایا:
کہ ((فِیْہِ وُلِدْتُ)) (''صحیح مسلم''،کتاب الصیام، الحدیث:۱۹۸۔(۱۱۶۲)،ص۵۹۱) اس دن میری ولادت ہوئی۔ ۱۲ منہ
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام من کل شھر... إلخ، الحدیث: ۱۱۶۲، ص۵۸۹.
دیتا ہے۔'' (1) اور اس کے مثل سہل بن سعد و ابوسعید خدری و عبداﷲ بن عمرو زید بن ارقم رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے مروی۔
حدیث ۱۱: ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے بیہقی و طبرانی روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم عرفہ کے روزہ کو ہزار دن کے برابر بتاتے۔ (2) مگر حج کرنے والے پر جو عرفات میں ہے، اُسے عرفہ کے دن کا روزہ مکروہ ہے۔ کہ ابو داود و نسائی و ابن خزیمہ و ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے عرفہ کے دن عرفہ میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ (3)
حدیث ۱۲ و ۱۳: مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و طبرانی ابو ایوب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر ان کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو ایسا ہے جیسے دہر کا روزہ رکھا۔'' (5) اور اسی کے مثل ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی۔
حدیث ۱۴ و ۱۵: نسائی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ وابن حبان ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اور امام احمد و طبرانی و بزار جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے عیدالفطر کے بعد چھ روزے رکھ لیے تو اُس نے پورے سال کا روزہ رکھا، کہ جو ایک نیکی لائے گا اُسے دس ملیں گی تو ماہِ رمضان کا روزہ دس مہینے کے برابر ہے اور ان چھ دنوں کے بدلے میں دو مہینے تو پورے سال کے روزے ہوگئے۔'' (6)
حدیث ۱۶: طبرانی اوسط میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسے نکل گیا، جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔'' (7)
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام من کل شھر... إلخ، الحدیث: ۱۱۶۲، ص۵۸۹.
2 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب المیم، الحدیث: ۶۸۰۲، ج۵، ص۱۲۷.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصیام، باب في صوم یوم عرفۃ بعرفۃ، الحدیث: ۲۴۴۰، ج۲، ص۴۷۹.
4 ۔ بہتر یہ ہے کہ یہ روزے متفرق رکھے جائیں اور عید کے بعد لگاتار چھ دن میں ایک ساتھ رکھ لیے، تب بھی حرج نہیں۔ کذا فی الدر ۱۲ منہ
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب استحباب صوم ستۃ ایام من شوال اتباعا لرمضان، الحدیث: ۱۱۶۴، ص۵۹۲.
6 ۔ ''السنن الکبری'' للنسائي، کتاب الصیام، باب صیام ستۃ ایام من شوال، الحدیث: ۲۸۶۰ ۔ ۲۸۶۱، ج۲، ص۱۶۲۔۱۶۳.
7 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب المیم، الحدیث: ۸۶۲۲، ج۶، ص۲۳۴.
حدیث ۱۷: طبرانی و ابن حبان معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''شعبان کی پندرھویں شب میں اﷲ عزوجل تمام مخلوق کی طرف تجلّی فرماتاہے اور سب کو بخش دیتا ہے، مگر کافر اور عداوت والے کو۔'' (1)
حدیث ۱۸ و ۱۹: بیہقی نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''میرے پاس جبرئیل آئے اور یہ کہا: یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے، اس میں اﷲ تعالیٰ جہنم سے اتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بنی کلب (2) کے بکریوں کے بال ہیں، مگر کافر اور عداوت والے اور رشتہ کاٹنے والے اور کپڑا لٹکانے والے اور والدین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کی مداومت کرنے والے کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا۔'' (3) امام احمد نے ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے جو روایت کی، اس میں قاتل کا بھی ذکر ہے۔
حدیث ۲۰: بیہقی نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ عزوجل شعبان کی پندرھویں شب میں تجلّی فرماتا ہے، استغفار کرنے والوں کو بخش دیتا ہے اور طالبِ رحمت پر رحم فرماتا ہے اور عداوت والوں کو جس حال پر ہیں، اسی پر چھوڑ دیتا ہے۔'' (4)
حدیث ۲۱: ابن ماجہ مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے راوی، نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب شعبان کی پندرھویں رات آجائے تو اُس رات کو قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کہ رب تبارک و تعالیٰ غروبِ آفتاب سے آسمان دنیا پر خاص تجلّی فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کہ ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ اسے بخش دوں، ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ اُسے روزی
1 ۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الحظروالإباحۃ، باب ماجاء في التباغض... إلخ، الحدیث: ۵۶۳۶،
ج۷، ص۴۷۰.
جن دو شخصوں میں کوئی دنیوی عداوت ہو تو اس رات کے آنے سے پہلے انہیں چاہیے کہ ہر ایک دوسرے سے مل جائے اور ہر ایک دوسرے کی خطا معاف کر دے تاکہ مغفرت الٰہی انہیں بھی شامل ہو۔ انہیں احادیث کی بنا پر بحمدہ تعالیٰ یہاں بریلی میں اعلیٰ حضرت قبلہ مد ظلہم الاقدس نے یہ طریقہ مقرر فرمایاکہ ۱۴ چودہ شعبان کو رات آنے سے پہلے مسلمان آپس میں ملتے اور عفو تقصیر کراتے اور جگہ کے مسلمان بھی ایسا ہی کریں تو نہایت انسب و بہتر ہو۔ ۱۲ منہ
2 ۔ عرب میں بنی کلب ایک قبیلہ ہے، جن کے یہاں بکریاں بکثرت ہوتی تھیں۔ ۱۲ منہ
3 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، ماجاء في لیلۃ النصف من شعبان، الحدیث: ۳۸۳۷، ج۳، ص۳۸۳.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، ماجاء في لیلۃ النصف من شعبان، الحدیث: ۳۸۳۵، ج۳، ص۳۸۲.
دُوں، ہے کوئی مبتلا کہ اُسے عافیت دُوں، ہے کوئی ایسا، ہے کوئی ایسا اور یہ اس وقت تک فرماتا ہے کہ فجر طلوع ہو جائے۔'' (1)
حدیث ۲۲: اُم المومنین صدیقہ فرماتی ہیں: حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ رکھتے میں نے نہ دیکھا۔ (2)
حدیث ۲۳ و ۲۴: بخاری و مسلم و نسائی ابوہریرہ اور مسلم ابودرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیّت فرمائی، ان میں ایک یہ ہے کہ ہر مہینے میں تین روزے رکھوں۔ (3)
حدیث ۲۵ و ۲۶: صحیح بخاری و مسلم میں عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :''ہر مہینے میں تین دن کے روزے ایسے ہیں جیسے دہر (ہمیشہ) کا روزہ۔'' (4) اسی کے مثل قرہ بن ایاس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی۔
حدیث ۲۷ و ۲۸: امام احمد و ابن حبان ابن عباس اور بزار مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''رمضان کے روزے اور ہر مہینے میں تین دن کے روزے سینہ کی خرابی کو دُور کرتے ہیں۔'' (5)
حدیث ۲۹: طبرانی میمونہ بنت سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جس سے ہوسکے، ہر مہینے میں تین روزے رکھے کہ ہر روزہ دس گناہ مٹاتا ہے اور گناہ سے ایسا پاک کر دیتا ہے جیسا پانی کپڑے کو۔'' (6)
حدیث ۳۰: امام احمد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب مہینے میں تین روزے رکھنے ہوں تو تیرہ، چودہ ، پندرہ کو رکھو۔'' (7)
حدیث ۳۱: نسائی نے ام المومنین حفصہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم چار چیزوں کو
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب إقامۃ الصلوات... إلخ، باب ماجاء في لیلۃ النصف من شعبان، الحدیث: ۱۳۸۸، ج۲، ص۱۶۰.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم، باب ماجاء في وصال شعبان برمضان، الحدیث: ۷۳۶، ج۲، ص۱۸۲.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب صیام البیض ثلاث عشرۃ... إلخ، الحدیث: ۱۹۸۱، ج۱، ص۶۵۱.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب النھی عن صوم الدھر... إلخ، الحدیث: ۱۸۷۔(۱۱۵۹)،۱۹۷۔(۱۱۶۲)،
ص۵۸۷،۵۹۰.
5 ۔ ''مسند البزار''، مسند علی بن طالب، الحدیث: ۶۸۸، ج۲، ص۲۷۱.
6 ۔ ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۶۰، ج۲۵، ص۳۵.
7 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم، باب ماجاء في صوم ثلاثۃ ایام من کل شھر... إلخ، الحدیث: ۷۶۱، ج۲، ص۱۹۳.
نہیں چھوڑتے تھے۔ عاشورا اور عشرہ ذی الحجہ اور ہر مہینے میں تین دن کے روزے اور فجر کے پہلے دو رکعتیں۔ (1)
حدیث ۳۲: نسائی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایام بیض میں بغیر روزہ کے نہ ہوتے، نہ سفر میں، نہ حضر میں۔ (2)
حدیث ۳۳تا۳۵: سنن ترمذی میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''پیر اورجمعرات کو اعمال پیش ہوتے ہیں تو میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس وقت پیش ہو کہ میں روزہ دار ہوں۔'' (3) اسی کے مثل اسامہ بن زید و جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے مروی۔
حدیث ۳۶: ابن ماجہ انھیں سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پیر اور جمعرات کو روزے رکھا کرتے تھے، اس کے بارے میں عرض کی گئی تو فرمایا: ان دونوں دِنوں میں اﷲ تعالیٰ ہر مسلمان کی مغفرت فرماتا ہے، مگر وہ دو شخص جنھوں نے باہم جدائی کر لی ہے، ان کی نسبت ملائکہ سے فرماتا ہے:'' انھیں چھوڑو، یہاں تک کہ صلح کر لیں۔'' (4)
حدیث ۳۷: ترمذی شریف میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کو خیال کر کے روزہ رکھتے تھے۔ (5)
حدیث ۳۸: صحیح مسلم شریف میں ابوقتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے پیر کے دن روزے کا سبب دریافت کیا گیا، فرمایا: ''اسی میں میری ولادت ہوئی اور اسی میں مجھ پر وحی نازل ہوئی۔'' (6)
حدیث ۳۹: ابو یعلیٰ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو چہار شنبہ اور
1 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الصیام، باب کیف یصوم ثلاثۃ ایام من کل شھر... إلخ، الحدیث: ۲۴۱۳، ص۳۹۵.
2 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الصیام، باب صوم النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بأبي ھو وامي... إلخ، الحدیث: ۲۳۴۲،
ص۳۸۶.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم، باب ماجاء في صوم یوم الاثنین و الخمیس، الحدیث: ۷۴۷، ج۲، ص۱۸۷.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ما جاء في الصیام، باب صیام یوم الاثنین و الخمیس، الحدیث: ۱۷۴۰، ج۲، ص۳۴۴.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم، باب ماجاء في صوم یوم الاثنین و الخمیس، الحدیث: ۷۴۵، ج۲،ص۱۸۶.
6 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام من کل شھر... إلخ، الحدیث: ۱۹۸۔(۱۱۶۲)، ص۵۹۱.
پنج شنبہ کو روزے رکھے، اس کے لیے دوزخ سے براء ت لکھ دی جائے گی۔'' (1)
حدیث ۴۰تا۴۲: طبرانی اوسط میں انھیں سے راوی، کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے چہار شنبہ و پنجشنبہ و جمعہ کو روزے رکھے، اﷲ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک مکان بنائے گا، جس کا باہر کا حصہ اندر سے دکھائی دے گا اور اندر کا باہر سے۔'' (2)
اور انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے، کہ ''جنت میں موتی اور یاقوت و زبرجد کا محل بنائے گا اور اس کے لیے دوزخ سے برأت لکھ دی جائے گی۔'' (3)
اور ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما کی روایت میں ہے، کہ ''جو ان تین دنوں کے روزے رکھے پھر جمعہ کو تھوڑا یا زیادہ تصدق کرے تو جو گناہ کیا ہے، بخش دیا جائے گا اور ایسا ہو جائے گا جیسے اُس دن کہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔'' (4) مگر خصوصیت کے ساتھ جمعہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
حدیث ۴۳: مسلم و نسائی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کے لیے اور دِنوں میں جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص نہ کرو، ہاں کوئی کسی قسم کا روزہ رکھتا تھا اور جمعہ کا دن روزہ میں واقع ہوگیا تو حرج نہیں۔'' (5)
حدیث ۴۴: بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ انھیں سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جمعہ کے دن کوئی روزہ نہ رکھے، مگر اس صورت میں کہ اس کے پہلے یا بعد ایک دن اور روزہ رکھے۔'' (6) اور ابن خزیمہ کی روایت میں ہے، ''جمعہ کا دن عید ہے، لہٰذا عید کے دن کور وزہ کا دن نہ کرو، مگر یہ کہ اس کے قبل یا بعد روزہ رکھو۔'' (7)
حدیث ۴۵: صحیح بخاری و مسلم میں محمد بن عباد سے ہے کہ جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے، میں نے ان سے پوچھا، کیا نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جمعہ کے روزہ سے منع فرمایا؟ کہا: ہاں، اس گھر کے رب کی قسم۔ (8)
1 ۔ ''مسند أبي یعلیٰ''، مسند عبد اللہ بن عمر، الحدیث: ۵۶۱۰، ج۵، ص۱۱۵.
2 ۔ ''المعجم الأوسط''، الحدیث: ۲۵۳، ج۱، ص۸۷. 3 ۔ ''المعجم الأوسط''، الحدیث: ۲۵۴، ج۱، ص۸۷.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، صوم شوال والأربعاء والخمیس والجمعۃ، الحدیث: ۳۸۷۲، ج۳، ص۳۹۷.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب کراھیۃ إفراد یوم الجمعۃ... إلخ، الحدیث: ۱۴۸۔(۱۱۴۴)، ص۵۷۶.
6 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب کراھیۃ إفراد یوم الجمعۃ... إلخ، الحدیث: ۱۱۴۴، ص۵۷۶.
7 ۔ ''صحیح ابن خزیمۃ''، کتاب الصیام، باب الدلیل علی ان یوم الجمعۃ یوم عید... إلخ، الحدیث: ۲۱۶۱، ج۳، ص۳۱۵.
8 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب کراھیۃ إفراد یوم الجمعۃ... إلخ، الحدیث: ۱۱۴۳، ص۵۷۵.
شرعی منّت جس کے ماننے سے شرعاً اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے، اس کے لیے مطلقاً چند شرطیں ہیں۔
(۱) ایسی چیز کی منّت ہو کہ اس کی جنس سے کوئی واجب ہو، عیادتِ مریض اور مسجد میں جانے اور جنازہ کے ساتھ جانے کی منت نہیں ہو سکتی۔
(۲) وہ عبادت خود بالذات مقصود ہو کسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو، لہٰذا وضو و غسل و نظرِ مصحف کی منّت صحیح نہیں۔
(۳) اس چیز کی منّت نہ ہو جو شرع نے خو د اس پر واجب کی ہو، خواہ فی الحال یا آئندہ مثلاً آج کی ظہر یا کسی فرض نماز کی منّت صحیح نہیں کہ یہ چیزیں تو خود ہی واجب ہیں۔
(۴) جس چیز کی منّت مانی وہ خود بذاتہٖ کوئی گناہ کی بات نہ ہو اور اگر کسی اور وجہ سے گناہ ہو تو منّت صحیح ہو جائے گی، مثلاً عید کے دن روزہ رکھنا منع ہے، اگر اس کی منّت مانی تومنّت ہو جائے گی اگرچہ حکم یہ ہے کہ اُس دن نہ رکھے، بلکہ کسی دوسرے دن رکھے کہ یہ ممانعت عارضی ہے یعنی عید کے دن ہونے کیوجہ سے، خود روزہ ایک جائز چیز ہے۔
(۵) ایسی چیز کی منت نہ ہو جس کا ہونا محال ہو، مثلاً یہ منت مانی کہ کل گزشتہ میں روزہ رکھوں گا یہ منت صحیح نہیں۔ (1)
مسئلہ ۱: منت صحیح ہونے کے لیے کچھ یہ ضرور نہیں کہ دل میں اس کا ارادہ بھی ہو، اگر کہنا کچھ چاہتا تھا زبان سے منت کے الفاظ جاری ہوگئے منت صحیح ہوگئی یا کہنا یہ چاہتا تھا کہ اﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر ایک دن کاروزہ رکھنا ہے اور زبان سے ایک مہینہ نکلا مہینے بھر کا روزہ واجب ہوگیا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: ایّام منہیّہ یعنی عید و بقرعید اور ذی الحجہ کی گیارھویں بارھویں تیرھویں کے روزے رکھنے کی منت مانی اور انھیں دِنوں میں رکھ بھی لیے تو اگرچہ یہ گناہ ہوا مگر منت ادا ہوگئی۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳: اس سال کے روزے کی منت مانی تو ایّام منہیّہ چھوڑ کر باقی دنوں میں روزے رکھے اور ان دنوں کے بدلے کے اور دنوں میں رکھے اور اگر ایّام منہیّہ میں بھی رکھ لیے تو منت پوری ہوگئی مگر گنہگار ہوا۔ یہ حکم اُس وقت ہے کہ ایّام
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السادس في النذر، ج۱، ص۲۰۸.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب في الکلام علی النذر، ج۳، ص۴۸۲.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السادس في النذر، ج۱، ص۲۰۹.
3 ۔ ''الدرالمختار'' کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۸۱ ۔ ۴۸۳، وغیرہ.
منہیّہ سے پہلے منت مانی اور اگر ایّام منہیّہ گزرنے کے بعد مثلاً ذی الحجہ کی چودھویں شب میں اس سال کے روزے کی منت مانی تو ختم ذی الحجہ تک روزہ رکھنے سے منت پوری ہوگئی کہ یہ سال ختم ذی الحجہ پر ختم ہو جاتا ہے اور رمضان سے پہلے اس سنہ کے روزے کی منت مانی تھی تو رمضان کے بدلے کے روزے اس کے ذمّہ نہیں۔
اور اگر منّت میں پے در پے روزہ کی شرط یا نیّت کی جب بھی جن دنوں میں روزہ کی ممانعت ہے، اُن میں روزہ نہ رکھے۔ مگر بعد میں پے در پے ان دنوں کی قضا رکھے اور اگر ایک دن بھی بے روزہ رہا تو اس دن کے پہلے جتنے روزے رکھے تھے، ان سب کا اعادہ کرے اور اگر ایک سال کے روزے کی منّت کی تو سال بھر روزہ رکھنے کے بعد پینتیس ۳۵ یا چونتیس ۳۴ دن کے اور رکھے یعنی ماہِ رمضان اور پانچ دن ایّام ممنوعہ کے بدلے کے، اگرچہ ان دنوں میں بھی اُس نے روزے رکھے ہوں کہ اس صورت میں یہ ناکافی ہیں۔ البتہ اگر یوں کہا کہ ایک سال کے روزے پے درپے رکھوں گا تو اب ان پینتیس ۳۵ دنوں کے روزوں کی ضرورت نہیں، مگر اس صورت میں اگر پے درپے نہ ہوں گے تو سرے سے پھر رکھنے ہوں گے، مگر ایّام ممنوعہ میں نہ رکھے بلکہ سال پورا ہونے پر پانچ دن علی الاتصال رکھ لے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: منّت کے الفاظ میں یمین (2) کا بھی احتمال ہے، لہٰذا یہاں چھ صورتیں ہوں گی۔
(۱) ان لفظوں سے کچھ نیّت نہ کی نہ منّت کی نہ یمین کی۔
(۲) فقط منت کی نیّت کی یعنی یمین ہونے نہ ہونے کسی کا ارادہ نہ کیا۔
(۳) منت کی نیّت کی اور یہ کہ یمین نہیں۔
(۴) یمین کی نیّت کی اور یہ کہ منّت نہیں۔
(۵) منت اور یمین دونوں کی نیّت کی۔
(۶) فقط یمین کی نیّت کی اور منت ہونے یا نہ ہونے کسی کی نہیں۔
پہلی تین صورتوں میں فقط منت ہے کہ پوری نہ کرے تو قضا دے اورچوتھی صورت میں یمین ہے کہ اگر پوری نہ کی تو کفارہ دینا ہوگا۔ پانچویں اور چھٹی صورتوں میں منت اور یمین دونوں ہیں، پوری نہ کرے تو منّت کی قضا دے اور یمین کا کفارہ۔ (3) (تنویرالابصار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب في الکلام علی النذر، ج۳، ص۴۸۲ ۔ ۴۸۴.
2 ۔ یعنی قسم۔
3 ۔ ''تنویرالأبصار'' ، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۸۴.
مسئلہ ۵: اس مہینے کے روزے کی منت مانی اور اس میں ایّام منہیّہ ہیں تو اُن میں روزے نہ رکھے، بلکہ اُن کے بدلے کے بعد میں رکھے اور رکھ لیے تو گنہگار ہوا مگر منت پوری ہوگئی اور اس صورت میں پورے ایک مہینے کے روزے واجب نہیں، بلکہ منت ماننے کے وقت سے اُس مہینے میں جتنے دن باقی ہیں اُن دنوں میں روزے واجب ہیں اور اگر وہ مہینہ رمضان کاتھا تو منت ہی نہ ہوئی کہ رمضان کے روزے تو خود ہی فرض ہیں۔ ہاں اگر ماہِ رمضان کے روزوں کی منت مانی اور رمضان آنے سے پہلے انتقال ہوگیا تو ایک ماہ تک مسکین کو کھانا کھلانے کی وصیت واجب ہے۔
اور اگر کسی معیّن مہینے کی منت مانی، مثلاً رجب یا شعبان کی توپورے مہینہ کا روزہ ضرور ہے، و ہ مہینہ اونتیس کا ہو تو اونتیس روزے اور تیس کا ہو تو تیس اور ناغہ نہ کرے پھر اگر کوئی روزہ چھوٹ گیا تو اس کو بعد میں رکھ لے پورے مہینے کے لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ (1) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۶: ایک مہینے کے روزے کی منت مانی تو پورے تیس ۳۰ دن کے روزے واجب ہیں، اگرچہ جس مہینے میں رکھے وہ انتیس ہی کا ہو اور یہ بھی ضرور ہے کہ کوئی روزہ ایّام منہیّہ میں نہ ہو کہ اس صورت میں اگر ایّام منہیّہ میں روزے رکھے تو گنہگار تو ہوا ہی، وہ روزے بھی ناکافی ہیں اور پے درپے کی شرط لگائی یا دل میں نیّت کی تو یہ بھی ضرور ہے کہ ناغہ نہ ہونے پائے اگر ناغہ ہوا، اگرچہ ایّام منہیّہ میں تو اب سے ایک مہینے کے علی الاتصال روزے رکھے یعنی یہ ضرور ہے کہ ان تیس دنوں میں کوئی دن ایسا نہ ہو، جس میں روزہ کی ممانعت ہے اور پے در پے کی نہ شرط لگائی، نہ نیّت میں ہے تو متفرق طور پر تیس روزے رکھ لینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی۔
اور اگرعورت نے ایک ماہ پے در پے روزے رکھنے کی منّت مانی تو اگر ایک مہینہ یا زیادہ طہارت کا زمانہ اُسے ملتا ہے تو ضرور ہے کہ ایسے وقت شروع کرے کہ حیض آنے سے پیشتر تیس دن پورے ہو جائیں، ورنہ حیض آنے کے بعد اب سے تیس پورے کرنے ہوں گے اور اگر مہینہ پورا ہونے سے پہلے اُسے حیض آجایا کرتا ہے تو حیض سے پہلے جتنے روزے رکھ چکی ہے، انھیں حساب کر لے جو باقی رہ گئے، انھیں حیض ختم ہونے کے بعد متصلاً بلاناغہ پورا کرلے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۷: پے در پے روزے کی منت مانی تو ناغہ کرنا جائز نہیں اور متفرق طور پر مثلاً دس ۱۰ روزے کی منت مانی تو لگاتار رکھنا جائز ہے۔ (3) (بحر)
ـ1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۸۴، ۴۸۶، وغیرہ.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب في صوم الست من شوال، ج۳، ص ۴۸۶، وغیرہما.
3 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الصوم، فصل في النذر، ج۲، ص۵۱۹.
مسئلہ ۸: منت دو قسم ہے۔
ایک معلّق کہ میرافلاں کام ہو جائے گا یا فلاں شخص سفر سے آجائے تو مجھ پر اﷲ (عزوجل) کے لیے اتنے روزے یا نماز یا صدقہ وغیرہا ہے۔
دوسری غیر معلّق جو کسی چیز کے ہونے، نہ ہونے پر موقوف نہیں بلکہ یہ کہ اﷲ (عزوجل) کے لیے میں اپنے اوپر اتنے روزے یا نماز یا صدقہ وغیرہا واجب کرتا ہوں۔ غیر معلّق میں اگرچہ وقت یا جگہ وغیرہ معیّن کرے، مگر منت پوری کرنے کے لیے یہ ضرور نہیں کہ اس سے پیشتر یا اس کے غیر میں نہ ہوسکے، بلکہ اگر اس وقت سے پیشتر روزے رکھ لیے یا نماز پڑھ لی وغیرہ وغیرہ تو منت پوری ہوگئی۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۹: اس رجب کے روزے کی منت مانی اور جمادی الآخرہ میں روزے رکھ لیے اور یہ مہینہ انتیس کا ہوا، اگر یہ رجب بھی انتیس کا ہو تو پوری ہوگئی ایک اور روزہ کی ضرورت نہیں اور تیس کا ہوا تو ایک روزہ اور رکھے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: اس رجب کے روزہ کی منت مانی اور رجب میں بیمار رہا تو دوسرے دنوں میں ان کی قضا رکھے اور قضا میں اختیار ہے کہ لگاتار روزے ہوں یا ناغہ دے کر۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: معلّق میں شرط پائی جانے سے پہلے منت پوری نہیں کر سکتا، اگر پہلے ہی روزے رکھ لیے بعد میں شرط پائی گئی تو اب پھر رکھنا واجب ہوگا، پہلے کے روزے اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: ایک دن کے روزے کی منت مانی تو اختیار ہے کہ ایّام منہیّہ کے سوا جس دن چاہے روزہ رکھ لے۔ یوہیں دو دن، تین دن میں بھی اختیار ہے، البتہ اگر ان میں پے درپے کی نیّت کی تو پے درپے رکھنا واجب ہوگا، ورنہ اختیار ہے کہ ایک ساتھ رکھے یا ناغہ دے کر اور متفرق کی نیت کی اور پے درپے رکھ لیے جب بھی جائز ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: ایک ساتھ دس ۱۰ روزوں کی منّت مانی اور پندرہ روزے رکھے، بیچ میں ایک دن افطار کیا اور یہ یاد نہیں کہ کون سے دن روزہ نہ تھا تو لگاتار پانچ دن اور رکھ لے۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب في صوم الست من شوال، ج۳، ص ۴۸۷.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۸۹.
4 ۔ المرجع السابق. ص۴۸۸.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السادس في النذر، ج۱، ص۲۰۹.
6 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۴: مریض نے ایک ماہ روزہ رکھنے کی منت مانی اور صحت نہ ہوئی مر گیا تو اُس پر کچھ نہیں اور اگر ایک دن کے لیے بھی اچھا ہوگیا تھا اور روزہ نہ رکھا تو پورے مہینے بھر کے فدیہ کی وصیّت کرنا واجب ہے اور اس دن روزہ رکھ لیا جب بھی باقی دنوں کے لیے وصیّت چاہیے۔ یوہیں اگر تندرست نے منّت مانی اور مہینہ پورا ہونے سے پہلے مر گیا تو اس پر بھی وصیّت کرنا واجب ہے اور اگر رات میں منّت مانی تھی اور رات ہی میں مر گیا جب بھی وصیّت کر دینی چاہیے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: یہ منّت مانی کہ جس دن فلاں شخص آئے گا، اس دن اﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر روزہ رکھنا واجب ہے تو اگر ضحوہ کبریٰ سے پیشتر آیا اور اُس نے کچھ کھایا پیا نہیں ہے تو روزہ رکھ لے اور اگر رات میں آیا تو کچھ نہیں۔ یوہیں اگر زوال کے بعد آیا یا کھانے کے بعد آیا یا منت ماننے والی عورت تھی اور اُس دن اُسے حیض تھا تو ان صورتوں میں بھی کچھ نہیں اور اگر یہ کہا تھا کہ جس دن فلاں آئے گا، اُس دن کا اﷲ (عزوجل) کے لیے مجھے ہمیشہ روزہ رکھنا ہے اورکھانا کھانے کے بعد آیا تو اُس دن کا روزہ تو نہیں، مگر آئندہ ہر ہفتہ میں اُس دن کاروزہ اُس پر واجب ہوگیا، مثلاً پیر کے دن آیا تو ہر پیر کو روزہ رکھے۔ (2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۶: یہ منت مانی کہ جس دن فلاں آئے گا، اُس روز کا روزہ مجھ پر ہمیشہ ہے اور دوسری منت یہ مانی کہ جس دن فلاں کو صحت ہو جائے اس دن کاروزہ مجھ پرہمیشہ ہے۔ اتفاقاً جس دن وہ آیا، اُسی دن وہ اچھا بھی ہوگیا تو ہر ہفتہ میں صرف اُسی ایک دن کا روزہ رکھنا اس پر ہمیشہ واجب ہوا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: آدھے دن کے روزے کی منت مانی تو یہ منت صحیح نہیں۔ (4) (عالمگیری)
اﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
( وَلَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَاَنۡتُمْ عٰکِفُوۡنَ فِی الْمَسٰجِدِ ؕ ) (5)
عورتوں سے مباشرت نہ کرو، جب کہ تم مسجدوں میں اعتکاف کیے ہوئے ہو۔
حدیث ۱: صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم رمضان کے آخر
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب في صوم الست من شوال، ج۳، ص ۴۸۸.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السادس في النذر، ج۱، ص۲۰۸،۲۰۹، وغیرہ.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السادس في النذر، ج۱، ص۲۰۹.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ پ۲، البقرۃ: ۱۸۷.
عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے۔ (1)
حدیث ۲: ابو داود انھیں سے راوی، کہتی ہیں: معتکف پر سنت (یعنی حدیث سے ثابت) یہ ہے کہ نہ مریض کی عیادت کوجائے نہ جنازہ میں حاضر ہو، نہ عورت کو ہاتھ لگائے اور نہ اس سے مباشرت کرے اور نہ کسی حاجت کے لیے جائے، مگر اس حاجت کے لیے جا سکتا ہے جو ضروری ہے اور اعتکاف بغیر روزہ کے نہیں اور اعتکاف جماعت والی مسجد میں کرے۔ (2)
حدیث ۳: ابن ماجہ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے معتکف کے بارے میں فرمایا: ''وہ گناہوں سے باز رہتا ہے اور نیکیوں سے اُسے اُس قدر ثواب ملتا ہے جیسے اُس نے تمام نیکیاں کیں۔'' (3)
حدیث ۴: بیہقی امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے رمضان میں دس ۱۰ دنوں کا اعتکاف کرلیا تو ایساہے جیسے دو ۲ حج اور دو ۲ عمرے کیے۔'' (4)
مسئلہ ۱: مسجد میں اﷲ (عزوجل) کے لیے نیّت کے ساتھ ٹھہرنا اعتکاف ہے اور اس کے لیے مسلمان، عاقل اور جنابت و حیض و نفاس سے پاک ہونا شرط ہے۔ بلوغ شرط نہیں بلکہ نابالغ جو تمیز رکھتا ہے اگر بہ نیّت اعتکاف مسجد میں ٹھہرے تو یہ اعتکاف صحیح ہے، آزاد ہونا بھی شرط نہیں لہٰذا غلام بھی اعتکاف کر سکتا ہے، مگر اسے مولیٰ سے اجازت لینی ہوگی اور مولیٰ کو بہرحال منع کرنے کا حق حاصل ہے۔ (5) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: مسجد جامع ہونا اعتکاف کے لیے شرط نہیں بلکہ مسجد جماعت میں بھی ہوسکتا ہے۔ مسجد جماعت وہ ہے جس میں امام و مؤذن مقرر ہوں، اگرچہ اس میں پنجگانہ جماعت نہ ہوتی ہو اور آسانی اس میں ہے کہ مطلقاً ہر مسجد میں اعتکاف صحیح ہے اگرچہ وہ مسجد جماعت نہ ہو، خصوصاً اس زمانہ میں کہ بہتیری مسجدیں ایسی ہیں جن میں نہ امام ہیں نہ مؤذن۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: سب سے افضل مسجد حرم شریف میں اعتکاف ہے پھر مسجد نبوی میں علی صاحبہا الصلاۃ والتسلیم پھر مسجد اقصیٰ (7) میں
ـ1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الاعتکاف، باب اعتکاف العشرالأوخر من رمضان، الحدیث: ۱۱۷۲، ص۵۹۷.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصیام، باب المعتکف یعود المریض، الحدیث: ۲۴۷۳، ج۲، ص۴۹۲.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ما جاء في الصیام، باب في ثواب الاعتکاف، الحدیث: ۱۷۸۱، ج۲، ص۳۶۵.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الاعتکاف، الحدیث، ۳۹۶۶، ج۳، ص۴۲۵.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۲ ۔ ۴۹۴.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۱.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۳.
7 ۔ یعنی بیت المقدّس۔
پھر اُس میں جہاں بڑی جماعت ہوتی ہو۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۴: عورت کومسجد میں اعتکاف مکروہ ہے، بلکہ وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے مگر اس جگہ کرے جو اُس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کر رکھی ہے جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں اور عورت کے لیے یہ مستحب بھی ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کے لیے کوئی جگہ مقرر کر لے اور چاہیے کہ اس جگہ کو پاک صاف رکھے اور بہتر یہ کہ اس جگہ کو چبوترہ وغیرہ کی طرح بلند کرلے۔ بلکہ مرد کو بھی چاہیے کہ نوافل کے لیے گھر میں کوئی جگہ مقرر کر لے کہ نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: اگرعورت نے نماز کے لیے کوئی جگہ مقرر نہیں کر رکھی ہے تو گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی، البتہ اگر اس وقت یعنی جب کہ اعتکاف کا ارادہ کیا کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص کر لیا تو اس جگہ اعتکاف کر سکتی ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: خنثیٰ (4) مسجد بیت میں اعتکاف نہیں کر سکتا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۷: اعتکاف تین قسم ہے۔
(۱) واجب، کہ اعتکاف کی منّت مانی یعنی زبان سے کہا، محض دل میں ارادہ سے واجب نہ ہوگا۔
(۲) سنت مؤکدہ، کہ رمضان کے پورے عشرہ اخیرہ یعنی آخر کے دس دن میں اعتکاف کیا جائے یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت بہ نیّت اعتکاف مسجد میں ہو اور تیسویں کے غروب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے۔ اگر بیسویں تاریخ کو بعد نماز مغرب نیّت اعتکاف کی تو سنت مؤکدہ ادا نہ ہوئی اور یہ اعتکاف سنت کفایہ ہے کہ اگر سب ترک کریں تو سب سے مطالبہ ہوگا اور شہر میں ایک نے کر لیا تو سب بری الذمہ۔
(۳) ان دو ۲ کے علاوہ اور جو اعتکاف کیا جائے وہ مستحب و سنت غیر مؤکدہ ہے۔ (6) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۸: اعتکافِ مستحب کے لیے نہ روزہ شرط ہے، نہ اس کے لیے کوئی خاص وقت مقرر، بلکہ جب مسجد میں اعتکاف کی نیّت کی، جب تک مسجد میں ہے معتکف ہے، چلا آیا اعتکاف ختم ہوگیا۔ (7) (عالمگیری وغیرہ) یہ بغیر محنت ثواب مل رہا
1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ص۱۸۸.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۴.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ہیجڑا۔
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۴.
6 ۔ المرجع السابق، ص۴۹۵، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۱.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۱، وغیرہ.
ہے کہ فقط نیّت کر لینے سے اعتکاف کا ثواب ملتا ہے، اسے تو نہ کھونا چاہیے۔ مسجد میں اگر دروازہ پر یہ عبارت لکھ دی جائے کہ اعتکاف کی نیّت کر لو، اعتکاف کا ثواب پاؤ گے تو بہتر ہے کہ جو اس سے ناواقف ہیں انھیں معلوم ہو جائے اور جوجانتے ہیں اُن کے لیے یاد دہانی ہو۔
مسئلہ ۹: اعتکافِ سنت یعنی رمضان شریف کی پچھلی دس تاریخوں میں جوکیا جاتا ہے، اُس میں روزہ شرط ہے، لہٰذا اگر کسی مریض یا مسافر نے اعتکاف تو کیا مگر روزہ نہ رکھا تو سنت ادا نہ ہوئی بلکہ نفل ہوا۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: منت کے اعتکاف میں بھی روزہ شرط ہے، یہاں تک کہ اگر ایک مہینے کے اعتکاف کی منت مانی اور یہ کہا کہ روزہ نہ رکھے گا جب بھی روزہ رکھنا واجب ہے اور اگر رات کے اعتکاف کی منت مانی تو یہ منت صحیح نہیں کہ رات میں روزہ نہیں ہوسکتا اور اگر یوں کہا کہ ایک دن رات کا مجھ پر اعتکاف ہے تو یہ منت صحیح ہے اور اگر آج کے اعتکاف کی منت مانی اور کھانا کھا چکا ہے تو منت صحیح نہیں۔ (2) (درمختار، عالمگیری) یوہیں اگر ضحوہ کبریٰ کے بعد منت مانی اور روزہ نہ تھا تو یہ منت صحیح نہیں کہ اب روزہ کی نیّت نہیں کر سکتا، بلکہ اگر روزہ کی نیّت کر سکتا ہو مثلاً ضحوہ کبریٰ سے قبل جب بھی منت صحیح نہیں کہ یہ روزہ نفل ہوگا اور اس اعتکاف میں روزہ واجب درکار۔
مسئلہ ۱۱: یہ ضرور نہیں کہ خاص اعتکاف ہی کے لیے روزہ ہو بلکہ روزہ ہونا ضروری ہے، اگرچہ اعتکاف کی نیّت سے نہ ہو مثلاً اس رمضان کے اعتکاف کی منت مانی تو وہی رمضان کے روزے اس اعتکاف کے لیے کافی ہیں اور اگر رمضان کے روزے تو رکھے مگر اعتکاف نہ کیا تو اب ایک ماہ کے روزے رکھے اور اس کے ساتھ اعتکاف کرے اور اگر یوں نہ کیا یعنی روزے رکھ کر اعتکاف نہ کیا اور دوسرا رمضان آگیا تو اس رمضان کے روزے اس اعتکاف کے لیے کافی نہیں۔
یوہیں اگر کسی اور واجب کے روزے رکھے تو یہ اعتکاف ان روزوں کے ساتھ بھی ادا نہیں ہوسکتا، بلکہ اب اُس کے لیے خاص اعتکاف کی نیّت سے روزے رکھنا ضروری ہے اور اگر اس صورت میں کہ رمضان کے اعتکاف کی منت مانی تھی نہ روزے رکھے، نہ اعتکاف کیا اب ان روزوں کی قضا رکھ رہا ہے تو ان قضا روزوں کے ساتھ وہ اعتکاف کی منت بھی پوری کرسکتا ہے۔ (3) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۶.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۶.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۱.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۷.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۱.
مسئلہ ۱۲: نفلی روزہ رکھا تھا اور اُس دن کے اعتکاف کی منت مانی تو یہ منت صحیح نہیں کہ اعتکاف واجب کے لیے نفلی روزہ کافی نہیں اور یہ روزہ واجب ہو نہیں سکتا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: ایک مہینے کے اعتکاف کی منت مانی تو یہ منت رمضان میں پوری نہیں کر سکتا بلکہ خاص اُس اعتکاف کے لیے روزے رکھنے ہوں گے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: عورت نے اعتکاف کی منت مانی تو شوہر منت پوری کرنے سے روک سکتا ہے اور اب بائن ہونے یا موتِ شوہر کے بعد منت پوری کرے۔ یوہیں لونڈی غلام کو ان کا مالک منع کر سکتا ہے، یہ آزاد ہونے کے بعد پوری کریں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: شوہر نے عورت کو اعتکاف کی اجازت دے دی اب روکنا چاہے تو نہیں روک سکتا اور مولیٰ نے باندی غلام کو اجازت دیدی جب بھی روک سکتا ہے اگرچہ اب روکے گا تو گنہگار ہوگا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: شوہر نے ایک مہینے کے اعتکاف کی اجازت دی اور عورت لگاتار پورے مہینے کا اعتکاف کرنا چاہتی ہے تو شوہر کو اختیار ہے کہ یہ حکم دے کہ تھوڑے تھوڑے کر کے ایک مہینہ پورا کر لے اور اگر کسی خاص مہینے کی اجازت دی ہے تو اب اختیار نہ رہا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: اعتکاف واجب میں معتکف کو مسجد سے بغیر عذر نکلنا حرام ہے، اگر نکلاتو اعتکاف جاتا رہا اگرچہ بھول کر نکلا ہو۔ یوہیں اعتکافِ سنت بھی بغیر عذر نکلنے سے جاتا رہتا ہے۔ یوہیں عورت نے مسجد بیت میں اعتکاف واجب یامسنون کیا تو بغیر عذر وہاں سے نہیں نکل سکتی، اگر وہاں سے نکلی اگرچہ گھر ہی میں رہی اعتکاف جاتا رہا۔ (6) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دو عذر ہیں۔
ایک حاجت طبعی کہ مسجد میں پوری نہ ہو سکے جیسے پاخانہ، پیشاب، استنجا، وضو اور غسل کی ضرورت ہو تو غسل، مگر غسل و وضو میں یہ شرط ہے کہ مسجد میں نہ ہو سکیں یعنی کوئی ایسی چیز نہ ہو جس میں وضو و غسل کا پانی لے سکے اس طرح کہ مسجد میں پانی کی
ـ1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۱.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق، ص۲۱۲، و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۱.
کوئی بوند نہ گرے کہ وضو و غسل کا پانی مسجد میں گرانا ناجائز ہے اور لگن وغیرہ موجود ہو کہ اس میں وضو اس طرح کر سکتا ہے کہ کوئی چھینٹ مسجدمیں نہ گرے تو وضو کے لیے مسجد سے نکلنا جائز نہیں، نکلے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا۔یوہیں اگر مسجد میں وضو و غسل کے لیے جگہ بنی ہو یا حوض ہو تو باہر جانے کی اب اجازت نہیں۔
دوم حاجت شرعی مثلاً عید یا جمعہ کے لیے جانا یا اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا، جبکہ منارہ پر جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ ہو اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہو تو غیر مؤذن بھی منارہ پر جا سکتا ہے مؤذن کی تخصیص نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: قضائے حاجت کو گیا تو طہارت کرکے فوراً چلا آئے ٹھہرنے کی اجازت نہیں اور اگر معتکف کا مکان مسجد سے دُور ہے اور اس کے دوست کا مکان قریب تو یہ ضرور نہیں کہ دوست کے یہاں قضائے حاجت کوجائے، بلکہ اپنے مکان پر بھی جا سکتا ہے اور اگر اس کے خود دو مکان ہیں ایک نزدیک دوسرا دُور تو نزدیک والے مکان میں جائے کہ بعض مشایخ فرماتے ہیں دُور والے میں جائے گا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ (2) (ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: جمعہ اگر قریب کی مسجد میں ہوتا ہے تو آفتاب ڈھلنے کے بعد اس وقت جائے کہ اذان ثانی سے پیشتر سنتیں پڑھ لے اور اگر دُور ہو تو آفتاب ڈھلنے سے پہلے بھی جا سکتا ہے، مگر اس انداز سے جائے کہ اذان ثانی کے پہلے سنتیں پڑھ سکے زیادہ پہلے نہ جائے۔
اور یہ بات اس کی رائے پر ہے جب اس کی سمجھ میں آجائے کہ پہنچنے کے بعد صرف سنتوں کاوقت باقی رہے گا، چلا جائے اور فرض جمعہ کے بعد چار یا چھ رکعتیں سنتوں کی پڑھ کر چلا آئے اور ظہر احتیاطی پڑھنی ہے تو اعتکاف والی مسجد میں آکر پڑھے اور اگر پچھلی سنتوں کے بعد واپس نہ آیا، وہیں جامع مسجد میں ٹھہرا رہا، اگرچہ ایک دن رات تک وہیں رہ گیا یا اپنا اعتکاف وہیں پورا کیا تو بھی وہ اعتکاف فاسد نہ ہوا مگر یہ مکروہ ہے اور یہ سب اس صورت میں ہے کہ جس مسجد میں اعتکاف کیا، وہاں جمعہ نہ ہوتا ہو۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: اگر ایسی مسجد میں اعتکاف کیا جہاں جماعت نہیں ہوتی تو جماعت کے لیے نکلنے کی اجازت ہے۔ (4) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۱.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۱.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۲.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۲.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۳، ۵۰۵.
مسئلہ ۲۲: اعتکاف کے زمانہ میں حج یا عمرہ کا احرام باندھا تو اعتکاف پورا کر کے جائے اور اگر وقت کم ہے کہ اعتکاف پورا کریگا تو حج جاتا رہے گا تو حج کو چلا جائے پھر سرے سے اعتکاف کرے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: اگر وہ مسجد گر گئی یا کسی نے مجبور کر کے وہاں سے نکال دیا اور فوراً دوسری مسجد میں چلا گیا تو اعتکاف فاسد نہ ہوا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: اگر ڈوبنے یا جلنے والے کے بچانے کے لیے مسجد سے باہر گیا یا گواہی دینے کے لیے گیا یا جہاد میں سب لوگوں کا بلاوا ہوا اور یہ بھی نکلا یا مریض کی عیادت یا نمازِ جنازہ کے لیے گیا، اگرچہ کوئی دوسرا پڑھنے والا نہ ہو تو ان سب صورتوں میں اعتکاف فاسد ہوگیا۔ (3) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۵: عورت مسجد میں معتکف تھی، اسے طلاق دی گئی تو گھرچلی جائے اور اسی اعتکاف کو پورا کرلے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: اگر منت مانتے وقت یہ شرط کر لی کہ مریض کی عیادت اور نماز جنازہ اور مجلس علم میں حاضر ہوگا تو یہ شرط جائز ہے۔ اب اگر ان کاموں کے لیے جائے تو اعتکاف فاسد نہ ہوگا، مگر خالی دل میں نیّت کر لینا کافی نہیں بلکہ زبان سے کہہ لینا ضروری ہے۔ (5) (عالمگیری، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۲۷: پاخانہ پیشاب کے لیے گیا تھا، قرض خواہ نے روک لیا اعتکاف فاسد ہوگیا۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: معتکف کو وطی کرنا اور عورت کا بوسہ لینا یا چھونا یا گلے لگانا حرام ہے۔ جماع سے بہرحال اعتکاف فاسد ہوجائے گا، انزال ہو یا نہ ہو قصداً ہو یا بھولے سے مسجد میں ہو یا باہر رات میں ہو یا دن میں، جماع کے علاوہ اوروں میں اگر انزال ہو تو فاسد ہے ورنہ نہیں، احتلام ہوگیا یا خیال جمانے یا نظر کرنے سے انزال ہوا تو اعتکاف فاسد نہ ہوا۔ (7) (عالمگیری وغیرہ)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۳.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۲.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۲.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۶. وغیرہما
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۲.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۳، وغیرہ.
مسئلہ ۲۹: معتکف نے دن میں بھول کر کھالیا تو اعتکاف فاسد نہ ہوا، گالی گلوچ یا جھگڑا کرنے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا مگر بے نور و بے برکت ہوتا ہے۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۳۰: معتکف نکاح کر سکتا ہے اورعورت کو رجعی طلاق دی ہے تو رجعت بھی کر سکتا ہے، مگر ان امور کے لیے اگر مسجد سے باہر ہوگا تو اعتکاف جاتا رہے گا۔ (2) (عالمگیری، درمختار) مگر جماع اور بوسہ وغیرہ سے اس کو رجعت حرام ہے، اگرچہ رجعت ہو جائے گی۔
مسئلہ ۳۱: معتکف نے حرام مال یا نشہ کی چیز رات میں کھائی تو اعتکاف فاسد نہ ہوا۔ (3) (عالمگیری) مگر اس حرام کا گناہ ہوا توبہ کرے۔
مسئلہ ۳۲: بے ہوشی اور جنون اگر طویل ہوں کہ روزہ نہ ہو سکے تو اعتکاف جاتا رہا اور قضا واجب ہے، اگرچہ کئی سال کے بعد صحت ہو اور اگر معتوہ یعنی بوہرا ہوگیا، جب بھی اچھے ہونے کے بعد قضا واجب ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: معتکف مسجد ہی میں کھائے پیے سوئے ان امور کے لیے مسجد سے باہر ہوگا تو اعتکاف جاتا رہے گا۔ (5) (درمختار وغیرہ) مگر کھانے پینے میں یہ احتیاط لازم ہے کہ مسجد آلودہ نہ ہو۔
مسئلہ ۳۴: معتکف کے سوا اور کسی کو مسجد میں کھانے پینے سونے کی اجازت نہیں اور اگر یہ کام کرنا چاہے تو اعتکاف کی نیّت کر کے مسجد میں جائے اور نماز پڑھے یا ذکر الٰہی کرے پھر یہ کام کر سکتا ہے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: معتکف کو اپنی یا بال بچوں کی ضرورت سے مسجد میں کوئی چیز خریدنا یا بیچنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ چیز مسجد میں نہ ہو یا ہو تو تھوڑی ہو کہ جگہ نہ گھیرے اور اگر خریدوفروخت بقصد تجارت ہو تو ناجائز اگرچہ وہ چیز مسجد میں نہ ہو۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: معتکف اگر بہ نیّت عبادت سکوت کرے یعنی چپ رہنے کو ثواب کی بات سمجھے تو مکروہِ تحریمی ہے اور اگر
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۳، وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۳.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۶.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۳.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۶، وغیرہ.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۶.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۶.
چُپ رہنا ثواب کی بات سمجھ کر نہ ہو تو حرج نہیں اور بری بات سے چُپ رہا تو یہ مکروہ نہیں، بلکہ یہ تو اعلیٰ درجہ کی چیز ہے کیونکہ بری بات زبان سے نہ نکالنا واجب ہے اور جس بات میں نہ ثواب ہو نہ گناہ یعنی مباح بات بھی معتکف کو مکروہ ہے، مگر بوقت ضرورت اور بے ضرورت مسجد میں مباح کلام نیکیوں کو ایسے کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۷: معتکف نہ چُپ رہے، نہ کلام کرے تو کیا کرے۔ یہ کرے قرآن مجید کی تلاوت، حدیث شریف کی قراء ت اور درود شریف کی کثرت، علم دین کا درس و تدریس، نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم و دیگر انبیا علیھم الصلوٰۃ والسلام کے سیرو اذکار اور اولیا و صالحین کی حکایت اور امورِ دین کی کتابت۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳۸: ایک دن کے اعتکاف کی منت مانی تو اس میں رات داخل نہیں۔ طلوع فجر سے پیشتر مسجد میں چلا جائے اور غروب کے بعد چلا آئے اور اگر دو دن یا تین دن یا زیادہ دنوں کی منت مانی یا دو یا تین یا زیادہ راتوں کے اعتکاف کی منت مانی تو ان دونوں صورتوں میں اگر صرف دن یا صرف راتیں مراد لیں تو نیّت صحیح ہے، لہٰذا پہلی صورت میں منت صحیح ہے اور صرف دنوں میں اعتکاف واجب ہوا اور اس صورت میں اختیار ہے کہ اتنے دنوں کا لگاتار اعتکاف کرے یا متفرق طور پر۔ اور دوسری صورت میں منت صحیح نہیں کہ اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے اور رات میں روزہ ہو نہیں سکتا اور اگر دونوں صورتوں میں دن اور رات دونوں مراد ہیں۔ یا کچھ نیّت نہ کی تو دونوں صورتوں میں دن اور رات دونوں کا اعتکاف واجب ہے اور علی الاتصال اتنے دنوں میں اعتکاف ضروری ہے، تفریق نہیں کرسکتا۔
نیز اس صورت میں یہ بھی ضرور ہے کہ دن سے پہلے جو رات ہے، اس میں اعتکاف ہو، لہٰذا غروب آفتاب سے پہلے جائے اعتکاف میں چلا جائے اور جس دن پورا ہو غروبِ آفتاب کے بعد نکل آئے اور اگر دن کی منت مانی اورکہتا یہ ہے کہ میں نے دن کہہ کر رات مراد لی ،تو یہ نیّت صحیح نہیں دن اور رات دونوں کا اعتکاف واجب ہے۔ (3) (جوہرہ، عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۹: عید کے دن کے اعتکاف کی منت مانی تو کسی اور دن میں جس دن روزہ رکھنا جائز ہے، اس کی قضا کرے اور اگر یمین کی نیّت تھی تو کفارہ دے اور عید ہی کے دن کر لیا تو منت پوری ہوگئی مگر گنہگار ہوا۔ (4) (عالمگیری)
ـ1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۷.
2 ۔ المرجع السابق، ص۵۰۸.
3 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ص۱۹۰.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۳ ۔ ۲۱۴.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۱۰.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۴.
مسئلہ ۴۰: کسی دن یا کسی مہینے کے اعتکاف کی منت مانی تو اس سے پیشتر بھی اس منت کو پورا کر سکتا ہے یعنی جبکہ معلّق نہ ہو اور مسجد حرم شریف میں اعتکاف کرنے کی منّت مانی تو دوسری مسجد میں بھی کر سکتا ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: ماہِ گزشتہ کے اعتکاف کی منت مانی تو صحیح نہیں۔ منت مان کر معاذ اﷲ مرتد ہوگیا تو منّت ساقط ہوگئی پھر مسلمان ہوا تو اُس کی قضا واجب نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: ایک مہینے کے اعتکاف کی منت مانی اور مر گیا تو ہر روز کے بدلے بقدر صدقہ فطر کے مسکین کو دیا جائے یعنی جبکہ وصیّت کی ہو اور اس پر واجب ہے کہ وصیّت کر جائے اور وصیّت نہ کی، مگر وارثوں نے اپنی طرف سے فدیہ دے دیا، جب بھی جائز ہے۔ مریض نے منت مانی اور مر گیا تو اگر ایک دن کو بھی اچھا ہوگیا تھا تو ہر روز کے بدلے صدقہ فطر کی قدر دیا جائے اور ایک دن کو بھی اچھا نہ ہوا تو کچھ واجب نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: ایک مہینے کے اعتکاف کی منت مانی تو یہ بات اس کے اختیار میں ہے کہ جس مہینے کا چاہے اعتکاف کرے، مگر لگاتار اعتکاف میں بیٹھنا واجب ہے اور اگر یہ کہے کہ میری مراد ایک مہینے کے صرف دن تھے، راتیں نہیں تو یہ قول نہیں مانا جائے گا۔ دن اور رات دونوں کا اعتکاف واجب ہے اور تیس دن کہا تھا جب بھی یہی حکم ہے۔ ہاں اگر منت مانتے وقت یہ کہا تھا کہ ایک مہینے کے دنوں کا اعتکاف ہے، راتوں کا نہیں تو صرف دنوں کا اعتکاف واجب ہوا اور اب یہ بھی اختیار ہے کہ متفرق طور پر تیس دن کااعتکاف کرلے اور اگر یہ کہا تھا کہ ایک مہینے کی راتوں کا اعتکاف ہے دِنوں کا نہیں تو کچھ نہیں۔ (4) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۴۴: اعتکاف نفل اگر چھوڑ دے تو اس کی قضا نہیں ،کہ وہیں تک ختم ہوگیا اور اعتکاف مسنون کہ رمضان کی پچھلی دس تاریخوں تک کے لیے بیٹھا تھا، اسے توڑا تو جس دن توڑا فقط اس ایک دن کی قضا کرے، پورے دس دنوں کی قضا واجب نہیں اورمنّت کا اعتکاف توڑا تو اگر کسی معّین مہینے کی منت تھی تو باقی دنوں کی قضاکرے، ورنہ اگرعلی الاتصال واجب ہوا تھا تو سِرے سے اعتکاف کرے اور علی الاتصال واجب نہ تھا تو باقی کا اعتکاف کرے۔ (5) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۴.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ص۱۹۰، ۱۹۱.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۱۰.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۹، ۵۰۱، ۵۰۳.
مسئلہ ۴۵: اعتکاف کی قضا صرف قصداً توڑنے سے نہیں بلکہ اگر عذر کی وجہ سے چھوڑا مثلاً بیمار ہوگیا یا بلا اختیار چھوٹا مثلاً عورت کو حیض یا نفاس آیا یا جنون و بے ہوشی طویل طاری ہوئی، ان میں بھی قضا واجب ہے اور ان میں اگر بعض فوت ہو تو کُل کی قضا کی حاجت نہیں، بلکہ بعض کی قضا کر دے اور کُل فوت ہوا تو کُل کی قضا ہے اورمنّت میں علی الاتصال واجب ہوا تھا اور تو علی الاتصال (1) کُل کی قضا ہے۔ (2) (ردالمحتار)
وَالْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی اٰلائِہٖ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی اَفْضَلِ اَنْبِیَائِـہٖ وَعَلیٰ اٰلِـہٖ وَصَحْبِہٖ وَاَوْلِیَائِـہٖ وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ یٰاَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ؕ
1 ۔ یعنی مسلسل بلا ناغہ۔
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۳.