Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ ِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
دینی كتاب یا اسلامی سبق پڑھنے سے پہلے ذیل میں دی ہوئی دُعا پڑھ لیجئے
اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ جو كچھ پڑھیں گے یاد رہے گا۔ دُعا یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ افْتَحْ عَلَیْنَا حِكْمَتَكَ وَانْشُرْ عَلَیْنَارَحْمَتَكَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَام
ترجَمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم پر عِلْم و حكمت كے دروازے كھول دے اور ہم پر اپنی رَحمت نازِل فرما!
اے عظمت اور بزرگی والے!
(مستطرف ج 1ص 40دار الفكر بیروت)
hc نوٹ: hcاوّل آخر ایك با دُرُود شریف پڑھ لیجئے۔
طالبِ غم
مدینہ بقیع
و مغفرت
13شوال المكرم1428ھ
فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ واٰلہ وسلَّم: سب سے زیادہ حسرت قِیامت كے دن اُس كو ہوگی جسے دُنیا میں عِلْم حاصل كرنے كا موقع ملا مگر اُس نے حاصِل نہ كیا اور اس شَخصكو ہوگی جس نے عِلْم حاصِل كیا اور دوسروں نے تو اس سے سُن كر نفع اُٹھایا لیكن اس نے نہ اُٹھا یا(یعنی اس علم پر عمل نہ كیا)۔
(تاریخ دمشق لابن عَساكِر ج 51 ص 138 دار الفكر بیروت)
یہ تجارت میں ایک قسم کی شرکت ہے کہ ایک جانب سے مال ہو اور ایک جانب سے کام ،مال دینے والے کو رب المال اور کام کرنے والے کو مضارب اور مالک نے جو دیا اُسے راس المال کہتے ہیں اور اگر تمام نفع رب المال ہی کے لیے دیناقرار پایا تو اُس کو اِبضاع کہتے ہیں اور اگر کل کام کرنے والے کے لیے طے پایا تو قرض ہے، اس عقد کی لوگوں کو حاجت ہے کیونکہ انسان مختلف قسم کے ہیں بعض مالدار ہیں اور بعض تہی دست۔ (1)بعض مال والوں کو کام کرنے کا سلیقہ نہیں ہوتا تجارت کے اُصول وفروع(2)سے ناواقف ہوتے ہیں اور بعض غریب کام کرنا جانتے ہیں مگر ان کے پاس روپیہ نہیں لہٰذا تجارت کیونکر کریں اس عقد کی مشروعیت میں یہ مصلحت ہے کہ امیر وغریب دونوں کو فائدہ پہنچے مال والے کو روپیہ دیکر اور غریب آدمی کو اُس کے روپیہ سے کام کرکے۔
مسئلہ ۱: مضاربت کے لیے چند شرائط ہیں:
(۱)راس المال ازقبیل ثمن ہو۔ عروض (3)کے قسم سے ہوتو مضاربت صحیح نہیں پیسوں کو راس المال قراردیا اور وہ چلتے ہوں تو مضاربت صحیح ہے۔ یوہیں نِکل(4)کی اِکنیاں(5)دوانیاں(6)راس المال ہوسکتی ہیں جب تک اِن کا چلن ہے۔ اگر اپنی کوئی چیز دیدی کہ اسے بیچو اور ثمن پر قبضہ کرو اور اُس سے بطور مضاربت کام کرو اُس نے اُس کو روپیہ یا اشرفی سے بیچ کر کام کرنا شروع کردیا یہ مضاربت صحیح۔
(۲) راس المال معلوم ہو۔ اگرچہ اس طرح معلوم کیا گیا ہو کہ اُس کی طرف اشارہ کردیا۔ پھر اگر نفع کی تقسیم کرتے وقت راس المال کی مقدار میں اختلاف ہوا تو گواہوں سے جو ثابت کردے اُس کی بات معتبر ہے اور دونوں کے گواہ ہوں تو رب المال کے گواہ معتبر ہیں اور اگر کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو قسم کے ساتھ مضارب کی بات معتبر ہوگی۔
1 ۔غریب،نادار۔ 2 ۔قواعدوضوابط،طورطریقے۔
3 ۔نقود(سونا،چاندی اورکرنسی)کے علاوہ دوسری چیزیں۔ 4 ۔ایک قسم کی سفیددھات۔
5 ۔اکنی کی جمع،کانسی کابناہواسکہ جوقیمت میں روپے کاسولہواں حصہ ہوتاہے۔
6 ۔دوانی کی جمع،جوآنے کی قدرکاچاندی یاکانسی کاسکہ۔
(۳) راس المال عین ہو یعنی معیّن ہودَین نہ ہو جوغیر معیّن واجب فی الذمہ(1)ہوتا ہے۔ مضاربت اگر دَین کے ساتھ ہوئی اور وہ دَین مضاربت پر ہے یعنی اُس سے کہہ دیا کہ تمھارے ذمہ جو میرا روپیہ ہے اُس سے کام کرو یہ مضاربت صحیح نہیں جو کچھ خریدے گا اُس کا مالک مضارِب ہوگااور جو کچھ دَین ہوگا اُس کے ذمہ ہوگا اور اگر دوسرے پر دَین ہو مثلاً کہہ دیا کہ فلاں کے ذمہ میرا اتنا روپیہ ہے اُس کو وصول کرواور اُس سے بطورِ مضارَبت تجارت کرو یہ مضاربت جائز ہے اگرچہ اِس طرح کرنا مکروہ ہے اور اگر یہ کہا تھا کہ فلاں پر میرا دَین ہے وصول کرکے پھر اُس سے کام کرو اُس نے کل روپیہ قبضہ کرنے سے پہلے ہی کام کرنا شروع کردیا ضامن ہے یعنی اگر تلف ہوگاضمان دینا ہوگا اور اگر یہ کہا تھا کہ اُس سے روپیہ وصول کرو اور کا م کرو اور اس نے کل روپیہ وصول کرنے سے پہلے کام شروع کردیا ضامن نہیں ہے اور اگر یہ کہا کہ مضاربت پر کام کرنے کے لیے اُس سے روپیہ وصول کرو تو کل وصول کرنے سے پہلے کام کرنے کی اجازت نہیں یعنی ضمان دینا ہوگا۔(2) (بحر، درمختاروغیرہما)
مسئلہ ۲:یہ کہا کہ میرے لیے اُدھار غلام خریدو پھر بیچو اور اُس کے ثمن سے بطور مضاربت کام کرو اِس نے خریدا پھر بیچااور کام کیا یہ صورت جائز ہے۔ غاصب یا امین یا جس کے پاس اِس نے اِبضاع(3)کے طور پر روپیہ دیا تھا اِن سے کہا جوکچھ میرا مال تمھارے پاس ہے اُس سے بطورمضاربت کام کرو نفع آدھا آدھا یہ جائز ہے۔(4) (بحر)
(۴) راس المال مضارِب کودیدیا جائے یعنی اُس کا پورے طور پر قبضہ ہو جائے رب المال کا بالکل قبضہ نہ رہے۔
(۵) نفع دونوں کے مابین شائع ہو یعنی مثلاًنصف نصف یا دوتہائی ایک تہائی یا تین چو تھائی ایک چوتھائی، نفع میں اِس طرح حصہ معیّن نہ کیا جائے جس میں شرکت قطع ہوجانے کا احتمال ہو مثلاً یہ کہہ دیا کہ میں سو۱۰۰روپیہ نفع لوں گااِ س میں ہوسکتا ہے کہ کل نفع سو ہی ہویا اس سے بھی کم تو دوسرے کی نفع میں کیوں کر شرکت ہوگی یا کہہ دیا کہ نصف نفع لوں گا اور اُس کے ساتھ دس۱۰ روپیہ اور لوں گا اِس میں بھی ہوسکتا ہے کہ کل نفع دس۱۰ ہی روپے ہوتو دوسرا شخص کیا پائے گا۔
(۶) ہر ایک کا حصہ معلوم ہو لہٰذا ایسی شرط جس کی وجہ سے نفع میں جہالت پیدا ہو مضاربت کو فاسد کردیتی ہے مثلاًیہ
1 ۔کسی کے ذمہ لازم۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،ج۷،ص۴۴۸.
و''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۵۰۰،وغیرہما.
3 ۔یعنی کسی کوکام کرنے کے لیے مال دیااس طورپرکہ جونفع ہوگاوہ تمام مالک کاہوگا۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،ج۷،ص۴۴۸.
شرط کہ تم کو آدھا یا تہائی نفع دیا جائے گا یعنی دونوں میں سے کسی ایک کو معین نہیں کیا بلکہ تردِیدکے ساتھ بیان کرتا ہے اور اگر اُس شرط سے نفع میں جہالت نہ ہو تو وہ شرط ہی فاسد ہے اور مضارَبت صحیح ہے مثلاًیہ کہ نقصان جو کچھ ہوگا وہ مضارِب کے ذمہ ہوگا یا دونوں کے ذمہ ڈالا جائے گا۔
(۷) مضارِب کے لیے نفع دینا شرط ہو۔ اگر راس المال میں سے کچھ دینا شرط کیا گیا یا راس الما ل اور نفع دونوں سے دینا شرط کیا گیا مضاربت فاسد ہو جائے گی۔ (1) (بحر، درر)
مسئلہ ۳: رب المال نے یہ کہا کہ جو کچھ خدا نفع دے گا وہ ہم دونوں کا ہوگا یا نفع میں ہم دونوں شریک ہوں گے یہ جائز ہے اور نفع دونوں کو برابر برابر ملے گا اور اگر مضارِب کو روپیہ دیتے وقت یہ کہا کہ ہمارے ما بین اُس طرح تقسیم ہوگا جو فلاں و فلاں کے مابین ٹھہرا ہے اگر دونوں کو معلوم ہے جو اُن کے مابین ٹھہرا ہے تو مضاربت جائز ہے اور اگر دونوں کو یا ایک کو معلوم نہ ہو کہ اُن کے مابین کیا ٹھہرا ہے تونا جائز ہے اور مضارَبت فاسد۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: روپیہ دیا اور مضارِب سے کہہ دیا کہ تمھارا جو جی چاہے نفع میں سے مجھے دے دینا یہ مضاربت فاسد ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: ایک ہزار روپے مضارِب کواِس طور پر دیے کہ نفع کی دوتہائیاں مضارب کی ہوں گی(4) بشرطیکہ ایک ہزار روپے اپنے بھی اس میں شامل کرلے اور دوہزار سے کام کرے اُس نے ایسا ہی کیا اور نفع ہوا تو ایک ہزار کا کل نفع مضارب کوملے گااورایک ہزارجورب المال کے ہیں ان کے نفع میں دوتہائیاں مضارِب کی اور ایک تہائی رب المال کی ہوگی۔ اور اگر رب المال نے کہہ دیا کہ کل نفع کی دو تہائیاں میری اور ایک تہائی مضارِب کی تو نفع کو برابر تقسیم کریں اور اس صورت میں مضاربت نہیں ہوئی بلکہ اِبضاع ہے کہ اپنے مال کا سارا نفع خود لینا قرار دید یا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: روپے دیے اور کہہ دیا کہ گیہوں خریدو گے تو آدھا نفع تمھارا اور آٹا خریدو گے تو چوتھائی نفع تمھارا اور جَو
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،ج۷،ص۴۴۹.
و''دررالحکام''،کتاب المضاربۃ،الجزء الثانی،ص۳۱۱.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب المضاربۃ،الباب الثانی فیما یجوز من المضاربۃ ...إلخ،ج۴،ص۲۸۸.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔یعنی نفع کے کل تین حصوں میں سے دوحصے مضارب کے ہونگے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثانی فیما یجوز من المضاربۃ ...إلخ، ج۴،ص۲۸۹.
خریدو گے تو ایک تہائی تمہاری، اِس صورت میں جیسا کہا اُسی کے موافق نفع تقسیم کیا جائے گا، مگر گیہوں خرید چکا تو اب جَو یا آٹا نہیں خریدسکتا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: مالک نے یہ کہا کہ اگر اس شہر میں کام کرو گے تو تمہیں ایک تہائی نفع ملے گااور باہر کام کرو گے تو نصف ،اس میں خریدنے کا اعتبار ہے بیچنے کا اعتبار نہیں اگر اس شہر میں خریداتو ایک تہائی دی جائے گی بیچنا یہاں ہویا باہر۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: مضاربت کا حکم یہ ہے کہ جب مضارِب کو مال دیا گیا اُس وقت وہ امین ہے اور جب اُس نے کام شروع کیا اب وہ وکیل ہے اور جب کچھ نفع ہوا تو اب شریک (3)ہے اور رب المال کے حکم کے خلاف کیا تو غاصب ہے اور مضارَبت فاسد ہوگئی تو وہ اَجیر (4)ہے اور اِجارہ بھی فاسد۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۹: مضاربت میں جو کچھ خسارہ ہوتا ہے وہ رب المال کا ہوتا ہے اگریہ چاہے کہ خسارہ مضارِب کوہو مال والے کو نہ ہو اُس کی صورت یہ ہے کہ کل روپیہ مضارِب کو بطور قرض دیدے اور ایک روپیہ بطور شرکت عنان دے یعنی اُس کی طرف سے وہ کل روپے جو اس نے قرض میں دیے اور اس کا ایک روپیہ اور شرکت اس طرح کی کہ کام دونوں کریں گے اور نفع میں برابر کے شریک رہیں گے اور کام کرنے کے وقت تنہا وہی مُستَقْرِض(6) کام کرتا رہا اس نے کچھ نہیں کیا اِس میں حرج نہیں کیونکہ اگر رب المال کام نہ کرے تو شرکت باطل نہیں ہوتی اب اگر تجارت میں نقصان ہوا تو ظاہر ہے کہ اِس کا ایک ہی روپیہ ہے سارا مال تومستقرض کا ہے اُس کا خسارہ ہوا رب المال کاکیاایسا خسارہ ہوا کیونکہ جو کچھ مستقرض کودیا ہے وہ قرض ہے اُس سے وصول کریگا۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: مضاربت اگر فاسد ہوجاتی ہے تو اجارہ کی طرف منقلب ہوجاتی ہے یعنی اب مضارِب کو نفع جو مقرر ہوا ہے وہ نہیں ملے گا بلکہ اُجرتِ مِثل ملے گی چاہے نفع اس کام میں ہواہو یا نہ ہو مگر یہ ضرورہے کہ یہ اُجرت اُس سے زیادہ نہ ہو جو مضارَبت کی صورت میں نفع ملتا۔(8) (درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثانی فیما یجوز من المضاربۃ...إلخ،ج۴،ص۲۹۰.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔حصّہ دار۔ 4 ۔اُجرت پرکام کرنے والا،ملازم،نوکر۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۴۹۷.
6 ۔قرض لینے والا۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۴۹۷۔۴۹۸.
8 ۔المرجع السابق،ص۴۹۸.
مسئلہ ۱۱: وَصی نے یتیم کامال بطورِ مضارَبت فاسدہ لیامثلاً یہ شرط کہ دس۱۰ روپے نفع کے میں لوں گا اور اُس نے کام کیا اور نفع بھی ہوا مگر وصی کو کچھ نہیں ملے گا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: مضاربت فاسدہ میں بھی مضارِب کے پاس جو مال رہتا ہے وہ بطور امانت ہے اگر کچھ نقصان ہو جائے تاوان اسکے ذمہ نہیں جس طرح مضاربت صحیحہ میں تاوان نہیں۔ دوسرے کو مال دیا اور کل نفع اپنے لیے مشروط کرلیا جس کو اِبضاع کہتے ہیں اِس میں بھی اُس کے پاس جو مال ہے بطور امانت ہے ہلاک ہوجائے تو ضمان نہیں۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: رب المال نے مضارِب کو مال دیا اور شرط یہ کی ہے کہ مضارِب کے ساتھ میں بھی کام کروں گا اس سے مضاربت فاسد ہوگئی اِس میں دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ رب المال ہی نے عقدِ مضارَبت کیا اور اپنے ہی کام کرنے کی شرط کی۔ دوسری یہ کہ عاقد دوسرا ہے اور رب المال دوسرا مثلاً نابالغ بچہ یا معتوہ کا مال ہے اُس کے ولی نے کسی سے عقدِ مضارَبت کیا اور شرط یہ ہے کہ یہ بچہ بھی (جس کا مال ہے)تمہارے ساتھ کام کریگادونوں صورتوں میں مضاربت فاسد ہے یا مثلاًدو شخصوں میں شرکت (3)ہے ایک شریک نے عقد مضارَبت کیا اور مال دیدیا اور شرط یہ ہے کہ مضارِب کے ساتھ میرا شریک بھی کام کریگامضاربت فاسد ہو جائے گی جبکہ راس المال دونوں کی شرکت کا ہو اور اگر راس المال مال مشترک نہ ہواور شرکت عنان ہوتو مضارَبت صحیح ہے اور اگرشرکت مفاوضہ ہو تو مطلقاً صحیح نہیں اور اگر عاقد (جو رب المال نہیں ہے) اس نے اپنے کام کرنے کی شرط کی ہے اِس میں دو صورتیں ہیں وہ عاقد خود اس مال کو بطور مضاربت لے سکتا ہے یا نہیں اگر نہیں لے سکتا تو مضاربت فاسد ہے مثلاً غلام ماذون(4)نے بطور مضارَبت مال د یا اور اپنے عمل کی شرط کر لی یہ فاسد ہے۔ اور اگر وہ خود مضاربت کے طور پر مال کو لے سکتاہے تو فاسد نہیں جیسے باپ یا وصی کہ انہوں نے بچہ کا مال مضاربۃً دیا اور خود اپنے عمل کی شرط کرلی کہ کام کریں گے اور نفع میں سے اتنا لیں گے اس سے مضاربت فاسد نہیں۔ غلام ماذون نے عقد کیا اور اپنے مولیٰ (5)کے کام کرنے کی شرط کی اسکی بھی دو صورتیں ہیں اُس پر دَین ہے یا نہیں اگر دَین نہیں ہے عقد فاسد ہے ورنہ صحیح ہے جس طرح مکاتب نے عقدکیا اور مولیٰ کا کام کرنا شرط کیا یہ مطلقاً صحیح ہے۔(6) (ہدایہ، بحر،درر وغیرہا)
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۴۹۹.
2 ۔ المرجع السابق،ص۵۰۰.
3 ۔حصہ داری۔ 4 ۔ وہ غلام جسے آقاکی طرف سے تجارت کی اجازت ہو۔ 5 ۔آقا،مالک۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،ج۲،ص۲۰۱.
و''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،ج۷،ص۴۴۹.
و''دررالحکام''،کتاب المضاربۃ،الجزء الثانی،ص۳۱۱،وغیرھا.
مسئلہ ۱۴: مضارِب نے رب المال کو مضاربۃً مال دے دیا یہ دوسری مضارَبت صحیح نہیں اور پہلی مضاربت بدستور صحیح ہے اور نفع اُسی طور پر تقسیم ہوگا جو باہم ٹھہرا ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: مضارِب و رب المال میں مضاربت کی صحت و فساد (2)میں اختلاف ہے اس کی دو صورتیں ہیں اگر مضارِب فساد کا مدّعِی (3)ہے تو رب المال کا قول معتبر اور رب المال نے فساد کا دعویٰ کیا تو مضارب کا قول معتبر ،اس کا قاعدہ یہ ہے کہ عقود (4)میں جو مدعی صحت ہے اُس کا قول معتبر ہوتا ہے ہاں اگر رب المال یہ کہتا ہے کہ تمھارے لیے دس ۱۰ کم تہائی نفع شرط تھا مضارِب کہتا ہے تہائی نفع میرے لیے تھا یہاں رب المال کا قول معتبر ہے حالانکہ اُس کے طور پر مضاربت فاسد ہے اور مضارب کے طور پر صحیح ہے کیونکہ یہاں مضارِب زیادت کا مدعی ہے اور رب المال اِس سے منکر۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: مضاربت کبھی مطلق ہوتی ہے جس میں زمان ومکان(6)اور قسم تجارت کی تعیین نہیں ہوتی روپیہ دے دیا ہے کہ تجارت کرو نفع میں دونوں کی اِس طرح شرکت ہوگی اور کبھی مضاربت میں طرح طرح کی قیدیں ہوتی ہیں۔ مضارَبت مُطْلقہ (7)میں مضارِب کو ہر قسم کی بیع کا اختیار ہے نقد بھی بیچ سکتا ہے اودھار بھی ،مگر ایسا ہی اودھار کرسکتا ہے جو تاجروں میں رائج ہے اسی طرح ہر قسم کی چیز خریدسکتا ہے خرید و فروخت میں دوسرے کو وکیل کرسکتا ہے۔ دریا اور خشکی کا سفر بھی کرسکتاہے اگرچہ رب المال نے شہر کے اندر اس کو مال دیا ہو۔ ابضاع بھی کرسکتا ہے یعنی دوسرے کو تجارت کے لیے مال دے دے اور نفع اپنے لیے شرط کرے یہ ہوسکتا ہے بلکہ خود رب المال کو بھی بضاعت کے طور پر مال دے سکتا ہے اور اس سے مضارَبت فاسد نہیں ہوگی۔ مضارب مال کو کسی کے پاس امانت رکھ سکتا ہے۔ اپنی چیز کسی کے پا س رہن رکھ سکتا ہے دوسرے کی چیز اپنے پاس رہن لے سکتا ہے کسی چیز کو اجارہ پر دے سکتا ہے کرایہ پر لے سکتا ہے۔ مشتری (8)نے ثمن کا کسی پر حوالہ کردیا مضارب اِس حوالہ کو قبول کرسکتا ہے کیونکہ یہ ساری باتیں تجار(9)کی عادت میں داخل ہیں کبھی یہاں مال بیچتے ہیں کبھی باہر لے جاتے ہیں اور اس کے لیے گاڑی کشتی جانور وغیرہ کو کرایہ پر لینا ہوتا ہے ورنہ مال کس طرح لے جائے گا۔ دوکان پر کام کرنے کے لیے نوکر رکھنے کی ضرورت ہوتی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المضاربۃ،الباب الرابع فیما یملک المضارب ...إلخ، ج۴،ص۲۹۲.
2 ۔صحیح اورفاسدہونے۔ 3 ۔دعویٰ کرنے والا۔
4 ۔عقدکی جمع،جس کے معنی ہیں ایجاب وقبول کا ایسے مشروع طریقہ پرمربوط ہوناجس کااثراس کے محل میں ظاہرہو۔
5 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۵۰۲.
6 ۔یعنی وقت اورجگہ۔ 7 ۔ایسی مضاربت جس میں کسی قسم کی قیدنہ ہو۔
8 ۔خریدار۔ 9 ۔تاجرکی جمع،تاجرلوگ۔
ہے دکان کرایہ پر لینی ہوتی ہے۔ مال رکھنے کے لیے مکان کرایہ پر لینا ہوتاہے اور اسکی حفاظت کے لیے نوکر رکھنا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ یہ سب باتیں بالکل ظاہر ہیں۔(1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۷: مضارَبت مطلقہ میں بھی مال لے کر سفر اُس وقت کرسکتا ہے جب بظاہر خطرہ نہ ہو اور اگر راستہ خطرناک ہو لوگ اُس راستہ سے ڈر کی وجہ سے نہیں جاتے تو مضارِب بھی مال لے کر اُس راستہ سے نہیں جاسکتا۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: مضارِب نے مال بیع کرنے (3)کے بعد ثمن کے لیے کوئی میعاد مقرر کردی یہ جائز ہے اور اگر مبیع (4)میں عیب تھا اُسکے ثمن سے کچھ کم کردیا جتنا تجار ایسی صورت میں کم کیا کرتے ہیں یہ بھی جائز ہے،اور اگر بہت زیادہ ثمن کم کردیا کہ عادت تجار کے خلاف ہے تویہ کمی مضارِب کے ذمہ ہوگی۔ رب المال سے اس کو تعلّق نہ ہوگا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: مضارِب یہ نہیں کرسکتا کہ دوسرے کو بطور مضارَبت یہ مال دیدے یا اِس مال کے ساتھ کسی سے شرکت کرے یا اِس مال کو اپنے مال میں خلط کرے(6) مگر جبکہ رب المال نے اُس کو ان کاموں کی اجازت دیدی ہو یا یہ کہہ دیا ہو کہ تم اپنی رائے سے کام کرو۔ مضارب کو قرض دینے کا اختیار نہیں اور اِستدا نہ کا بھی اختیار نہیں اگرچہ رب المال نے کہہ دیا ہو کہ اپنی رائے سے کام کرو کیونکہ یہ دونوں چیزیں تجار کی عادت میں نہیں اِستدانہ کے یہ معنٰے ہیں کہ کوئی چیز اودھار خریدی اور مال مضارَبت میں اس ثمن کی جنس سے کچھ باقی نہیں ہے مثلاً جو کچھ روپیہ تھا سب کی چیزیں خریدی جاچکیں اب کچھ روپیہ باقی نہیں ہے اسکے باوجود مضارِب نے دس ۱۰ ،بیس۲۰، سو، پچاس کی کوئی اور چیز خریدلی یہ مضاربت میں داخل نہ ہوگی مضارب کی اپنی ہوگی اپنے پاس سے دام(7) دینے ہوں گے۔ اگر رب المال نے صاف اور صریح لفظوں میں قرض دینے اور اِستدا نہ کی اجازت دیدی ہوتو اب مضارِب ان دونوں کو کرسکتا ہے اور استدانہ کے طور پر جو کچھ خریدے گا وہ رب المال و مضارب کے مابین بطور شرکتِ وجوہ مشترک ہوگی۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: مضارَبت کے طور پر ایک ہزار روپے دیے تھے مضار ِب کو ایک ہزار سے زیادہ کی چیزیں خریدنے کا اختیار
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۵۰۲،وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب المضاربۃ،الباب الرابع فیما یملک المضارب ...إلخ، ج۴،ص۲۹۳.
3 ۔بیچنے۔ 4 ۔بیچی گئی چیز۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب المضاربۃ،الباب الرابع فیما یملک المضارب ...إلخ، ج۴،ص۲۹۲.
6 ۔یعنی مِلائے۔ 7 ۔روپیہ ،رقم۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۵۰۳۔۵۰۵.
نہیں اور اگر اس نے خرید لیں تو ایک ہزارکی چیزیں مضارَبت کی ہیں باقی چیزیں خاص مضارِب کی ہیں نقصان ہوگا تو ان چیزوں کے مقابلہ میں جو کچھ نقصان ہے وہ تنہا مضارِب کے ذمہ ہے اور ان کا نفع بھی تنہا مضارِب ہی کو ملے گا اور ان چیزوں کو مال مضارَبت میں خلط کرنے (1)سے مضارِب پر ضمان لازم نہ ہوگا۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۲۱: رب المال نے روپے دیے تھے اور مضارِب نے اشرفی (3)سے چیزیں خریدیں یا اشرفیاں دی تھیں اور مضارِب نے روپے سے چیزیں خریدیں تو یہ چیزیں مضاربت ہی کی قرار پائیں گی کہ روپیہ اور اشرفی اس باب میں ایک ہی جنس ہیں اور اگر رب المال نے روپیہ یا اشرفی دی تھی اور مضارِب نے غیر نقود(4)سے چیزیں خریدیں تو یہ چیزیں مضاربت کی نہیں بلکہ خاص مضارِب کی ہوں گی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: رب المال نے اشرفیاں دی تھیں مضارِب نے روپے سے چیزیں خریدیں مگر یہ روپے اشرفیوں کی قیمت سے زیادہ ہیں تو جتنے زیادہ ہیں ان کی چیزیں خاص مضارِب کی ملک ہیں اور مضارِب اس صورت میں مضاربت میں شریک ہو جائے گااور اگر وہ روپے اشرفیوں کی قیمت کے تھے مگر خریدنے کے بعد ثمن ادا کرنے سے پہلے اشرفیوں کا نرخ اوتر گیا (6)تو یہ نقصان مال مضاربت میں قرار پائے گا اشرفیاں بھنا کر (7)ثمن ادا کرے اور جو کمی پڑے مال بیچ کر بائع(8)کا بقیہ ثمن ادا کرے۔ (9) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: مضارِب نے پورے مال مضاربت سے کپڑا خریدا اور اُس کو اپنے پاس سے دھلوایا یا مال مضاربت کو لادکر دوسری جگہ لے گیا اور کرایہ اپنے پاس سے خرچ کیا اگر مضارِب سے رب المال نے کہا تھا کہ تم اپنی رائے سے کام کرو یہ مضارِب مُتَبَرِّع ہے یعنی ان چیزوں کا اُسے کوئی معاوَضہ نہیں ملے گا کیونکہ استدانہ(10)کا اُسے اختیار نہ تھا اور اگر کپڑے کو سُرخ رنگ دیا یا دھلوا کر اُس میں کلپ چڑھایا(11)تو اس رنگ یا کلپ کی وجہ سے جو کچھ اُس کی قیمت میں اضافہ ہو گا اُتنے کا یہ شریک
1 ۔مِلادینے ۔
2 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب المضاربۃ،ج۲،ص۲۱۷.
3 ۔سونے کے سکے۔ 4 ۔سونا،چاندی اورکرنسی کے علاوہ دیگرسامان۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب التاسع فی الاستدانۃعلی المضاربۃ،ج۴،ص۳۰۵.
6 ۔یعنی کم ہوگیا۔ 7 ۔کسی سکے کی ریزگاری لے کر، تڑاکر۔ 8 ۔بیچنے والے ۔
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب المضاربۃ،الباب التاسع فی الاستدانۃعلی المضاربۃ، ج۴،ص۳۰۵.
10 ۔یعنی ادھارخریدنے۔ 11 ۔کلف لگایا،یعنی پکاہوالیس دارمادہ جسے پانی میں ملاکرکپڑے کواس میں ڈبوتے ہیں۔
ہے یعنی مضارِب نے اپنے مال کومالِ مضارَبت میں مِلا دیا مگر چونکہ رب المال نے کہہ دیا تھا کہ اپنی رائے سے کا م کرو لہٰذا اس کو ملادینے کا اختیار تھا۔ اب یہ کپڑا فروخت ہوا اس میں رنگ کی قیمت کا جو حصہ ہے وہ تنہا مضارِب کا ہے اور خالی سفید کپڑے کا جو ثمن ہوگا وہ مضارَبت کے طور پر ہوگا مثلاًوہ تھان اس وقت دس۱۰ روپے میں فروخت ہوا اور رنگا ہوانہ ہوتا تو آٹھ روپے میں بکتا، دو روپے مضارِب کے ہیں اور آٹھ روپے مضارَبت کے طور پر اور اگر رب المال نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم اپنی رائے سے کام کرو تو مضارِب شریک نہیں بلکہ غاصب ہوگا۔(1) (درمختار)
اور اس پچھلی صورت میں مالک کو اختیارہے کہ کپڑالے کر زیادتی کا معاوضہ دیدے یا سفید کپڑے کی قیمت مضارب سے تاوان لے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: کل روپے کا کپڑا خریدلیا بار برداری(3)یا دھلائی وغیرہ اپنے پاس سے خرچ کی تو مُتَبَرِّع (4)ہے کہ نہ اس کا معاوضہ ملے گانہ اسکی وجہ سے تاوان دینا پڑے گا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: مضارِب کو یہ اختیار نہیں کہ کسی سے قرض لے اگرچہ رب المال نے صاف لفظوں میں قرض لینے کی اجازت دیدی ہو کیونکہ قرض لینے کے لیے وکیل کرنا بھی درست نہیں اگر قرض لے گا تواس کا ذمہ دار یہ خو د ہوگا رب المال سے اس کا تعلق نہیں ہو گا۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: مضارِب ایسا کام نہیں کرسکتا جس میں ضرر ہو،نہ وہ کام کرسکتا ہے جو تجار نہ کرتے ہوں، نہ ایسی میعادپر بیع کرسکتا ہے جس میعادپر تاجر نہیں بیچتے ہوں اور دو شخصوں کو مضارِب کیا ہے تو تنہا ایک بیع وشرا (7) نہیں کرسکتا، جب تک اپنے ساتھی سے اِجازت نہ لے لے۔(8) (بحر)
مسئلہ ۲۷: اگر بیع فاسد کے ساتھ کوئی چیز خریدی جس میں قبضہ کرنے سے مِلک ہوجاتی ہے یہ مخالفت نہیں ہے اور وہ چیز مضارَبت ہی کی کہلائے گی اور غبن فاحش کے ساتھ خریدی تو مخالفت ہے اور یہ چیز صرف مضارِب کی مِلک ہوگی اگرچہ مالک
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۵۰۵.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المضاربۃ،الباب التاسع فی الاستدانۃ...إلخ، ج۴،ص۳۰۶.
3 ۔مزدوری۔ 4 ۔ احسان کرنے والا۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب المضاربۃ،الباب التاسع فی الاستدانۃ...إلخ، ج۴،ص۳۰۶.
6 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۵۰۶.
7 ۔یعنی خریدو فروخت۔
8 ۔ ''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،ج۷،ص۴۵۰.
نے کہہ دیا ہو کہ اپنی رائے سے کام کرو اور اگر غبن فاحش کے ساتھ بیچ دی تو مخالفت نہیں ہے۔ (1) (بحر)
مسئلہ ۲۸: رب المال نے شہر یا وقت یا قسم تجارت کی تعیین کردی ہو یعنی کہہ دیا ہو کہ اس شہرمیں یا اِس زمانہ میں خرید و فروخت کرنا یا فلاں قسم کی تجارت کرنا تو مضارِب پر اِسکی پابندی لازم ہے اِسکے خلاف نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگر بائع(2)یا مشتری(3)کی تقیید کردی ہو کہہ دیا ہو کہ فلاں دکان سے خریدنا یا فلاں فلاں کے ہاتھ بیچنا اس کے خلاف بھی نہیں کرسکتا اگرچہ یہ پابندیاں اُس نے عقدِ مضارَبت کرتے وقت یا روپے دیتے وقت نہ کی ہوں بعد میں یہ قیود بڑھادی ہوں ،ہاں اگر مضارِب نے سودا خرید لیا اب کسی قسم کی پابندی اُسکے ذمہ کرے مثلاًیہ کہ اودھار نہ بیچنایا دوسری جگہ نہ لے جانا وغیرہ وغیرہ ،مضارِب اِن قیود کی پابندی پر مجبورنہیں مگر جبکہ سودا فروخت ہو جائے اور راس المال نقد کی صورت میں ہوجائے تو رب المال اس وقت قیود لگا سکتا ہے اور مضارِب پر اُن کی پابندی لازم ہوگی۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: مضارِب سے کہہ دیا کہ فلاں شہر والوں سے بیع کرنا اُس نے اُسی شہر میں بیع کی مگر جس سے بیع کی وہ اُس شہر کا باشندہ نہیں ہے یہ جائز ہے کہ اِس شرط سے مقصود اُس شہر میں بیع کرنا ہے۔ یوہیں اگر کہہ دیا کہ صراف(5)سے خرید و فروخت کرنا اس نے صراف کے غیر سے عقد صرف کیا یہ بھی مخالفت نہیں ہے بلکہ جائز ہے کہ اِ س سے مقصود عقد صرف ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: رب المال نے کپڑا خریدنے کے لیے کہہ دیا ہے تو اونی ،سوتی ،ریشمی ،ٹسری (7)جو چاہے خرید سکتا ہے، ٹاٹ(8)دری قالین پردے وغیرہ جواز قبیل ملبوس نہیں ہیں (9)،نہیں خریدسکتا۔(10) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: رب المال نے بے فائدہ قیدیں ذکر کیں مثلاًیہ کہ نقد نہ بیچنا اسکی پابندی مضارب پر لازم نہیں اور ایسی قید جس میں فی الجملہ فائدہ ہو مثلاً اِس شہرکے فلاں بازار میں تجارت کرنا فلاں میں نہ کرنا اس کی پابندی کرنی ہوگی۔(11) (درمختار)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،ج۷،ص۴۵۰.
2 ۔بیچنے والا۔ 3 ۔ خریدار۔
4 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۵۰۶.
5 ۔سونے چاندی کاکام کرنے والا۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المضاربۃ،الباب السادس فیما یشترط...إلخ، ج۴،ص۲۹۸.
7 ۔مصنوعی ریشم سے تیارکیاہواکپڑا۔ 8 ۔بوری کاکپڑا۔ 9 ۔یعنی جولباس کی قسم سے نہیں ہیں۔
10 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب السادس فیما یشترط...إلخ، ج۴،ص۲۹۹.
11 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۵۰۶.
اُدھار کی قید بیکار اُس وقت ہے جب مضارِب نے واجبی قیمت(1)پر یا اُس ثمن پر بیع کی (2) تو رب المال نے بتایا تھااور اگر کم داموں میں بیع کردی تو مخالفت قرار پائے گی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: رب المال نے معین کردیا تھا کہ فلاں شہر میں یا اِس شہر سے مال خریدنا، مضارِب نے اس کے خلاف کیا دوسرے شہر کو مال خریدنے کے لیے چلا گیا ضامن ہوگیا یعنی اگر مال ضائع ہوگا تاوان دینا پڑے گا اور جو کچھ خریدے گا وہ مضارِب کا ہوگامال مضارَبت نہیں ہوگااور اگر وہاں سے کچھ خریدا نہیں بغیر خریدے واپس آگیا تو مضارَبت عود کر آئی یعنی اب ضامن نہ رہا اور اگر کچھ خریدا کچھ روپیہ واپس لایا تو جو کچھ خریدلیا ہے اس میں ضامن ہے اور جو روپیہ واپس لایا ہے یہ مضارَبت پر ہوگیا۔ (4) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۳۳: مال مضارَبت سے جو لو نڈی ،غلام خریدے گا اس کا نکاح نہیں کرسکتا ہے کہ یہ بات تجار کی عادت سے نہیں۔ ایسے غلام کو نہیں خرید سکتا جو خریدنے سے رب المال کی جانب سے آزاد ہو جائے مثلاًرب المال کا ذی رحم محرم (5)ہے کہ اگر اُس کی مِلک میں آجائے گا آزاد ہو جائے گا یا رب المال نے کسی غلام کی نسبت کہا ہے کہ اگر میں اس کا مالک ہو جاؤں تو آزاد ہے کہ ان سب کی خریداری مقصد تجارت کے خلاف ہے اگر خریدے گا تومضارِب ان کا مالک ہو گااور اُس کو اپنے پاس سے ثمن دینا ہوگا راس المال سے ثمن نہیں دے سکتا بخلاف وکیل بالشراء (6)کے کہ اگر قرینہ نہ ہوتویہ ایسے غلاموں کو خریدسکتا ہے اور وہ مؤ کل کی ملک ہوں گے اور آزاد ہوجائیں گے قرینہ کی صورت یہ ہے کہ مؤکل نے کہا ہے ایک غلام میرے لیے خریدو میں اُسے بیچوں گا یا اُس سے خدمت لوں گا یا کنیز(7)خریدو جس کو فراش بناؤں گا(8)ان صورتوں میں وکیل بھی ایسے غلام وکنیز کو نہیں خریدسکتا جو موکل پر آزاد ہوجائیں۔(9)(بحر، درمختار، ہدایہ)
1 ۔رائج قیمت،بازاری قیمت۔ 2 ۔یعنی کم قیمت پربیچی۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المضاربۃ،الباب السادس فیما یشترط...إلخ، ج۴،ص۲۹۸،۲۹۹.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،ج۷،ص۴۵۰.
و''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۵۰۶.
5 ۔یعنی نسب کی روسے ان میں باہم وہ رشتہ ہے جوہمیشہ ہمیشہ حرمت نکاح کاموجب ہوتاہے۔
6 ۔خریدنے کاوکیل۔ 7 ۔لونڈی۔ 8 ۔یعنی اس سے صحبت،مجامعت کروں گا۔
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،ج۷،ص۴۵۱.
و''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۵۰۷.
و''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،ج۲،ص۲۰۳.
مسئلہ ۳۴: اگر مال میں نفع ہو تو مضارِب ایسے غلام کوبھی نہیں خریدسکتا جو خود اُسکی جانب سے آزاد ہوجائے کیونکہ اس وقت بقدر اپنے حصہ کے خود مضارِب بھی اوس کا مالک ہوجائے گا اور وہ آزاد ہو جائے گا، یہاں نفع کا صرف اتنا مطلب ہے کہ اس غلام کی واجبی قیمت راس المال سے زیادہ ہو مثلاً ایک ہزار میں خریدا ہے اور یہی راس المال تھا مگر یہ غلام ایسا ہے کہ بازار میں اس کے بارہ سو ملیں گے معلوم ہواکہ دوسو کانفع ہے جس میں ایک سو مضارِب کے ہیں لہٰذا بارہ حصہ میں سے ایک حصہ کا مضارِب مالک ہے اور یہ آزاد ہے پس اس صورت میں یہ غلام مضارَبت کا نہیں ہے بلکہ تنہا مضارِب کا قرار پائے گا اور پورا آزاد ہو جائے گا۔ اور اگر نفع نہ ہو تو یہ غلام مضاربت کا ہو گا اور آزاد نہیں ہوگا۔(1)
(درمختار، ہدایہ)
مسئلہ ۳۵: مال میں نفع نہیں تھا اور مضارِب نے ایسا غلام خریدا کہ اگر مضارِب اُس کا مالک ہو جائے تو وہ آزاد ہوجائے اس کی خریداری از جانبِ مضارَبت صحیح ہوگئی مگر خریدنے کے بعد بازار کا نرخ تیز ہوگیا اب اس میں نفع ظاہر ہو گیا یعنی جب خریدا تھا اُس وقت ہزار ہی کا تھا اور ہزار میں خریدا مگراب اس کی قیمت بارہ سو ہوگئی تو مضارِب کا حصہ آزاد ہوگیا مگر مضارِب کو تاوان نہیں دینا ہوگا ا س لیے کہ اُس نے قصداً (2)مالک کو نقصان نہیں پہنچایا ہے بلکہ غلام سے سعی (3)کرا کر رب المال کا حصہ پورا کرایا جائے گا۔ اور اگر شریک (4)نے ایسا غلام خریداہوتا جو دوسرے شریک کی طرف سے آزاد ہوتا یا باپ یا وصی (5)نے نابالغ کے لیے ایسا غلام خریدا ہوتا جو نابالغ کی طرف سے آزاد ہوتا تو یہ غلام اُسی خریدنے والے کا قرار پاتا شریک یا نابالغ سے اس کو تعلق نہ ہوتا۔ (6) (ہدایہ ، درمختار)
مسئلہ ۳۶: مضارِب نے ایسے شخص سے بیع وشراء کی (7)جس کے حق میں اس کی گواہی مقبول نہیں مثلاً اپنے باپ یا بیٹے یا زوجہ سے ،اگر یہ بیع واجبی قیمت پر ہوئی تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ (8) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۵۰۶.
و''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،ج۲،ص۲۰۳.
2 ۔جان بوجھ کر۔ 3 ۔محنت مزدوری۔
4 ۔حصہ دار۔ 5 ۔جس کومیت نے اپنی وصیت پوری کرنے کے لیے مقرر کیاہو۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،ج۲،ص۲۰۳.
و''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،ج۸،ص۵۰۷.
7 ۔خریدوفروخت۔
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الرابع فیما یملک المضارب...إلخ،ج۴،ص۲۹۴.
مسئلہ ۳۷: مضارِب نے مالِ مضارَبت سے کوئی چیز خریدی اس کے بعد گواہوں کے سامنے اُسی چیز کو اپنے لیے خریدتا ہے یہ نا جائز ہے اگرچہ رب المال نے کہہ دیا ہو کہ تم اپنی رائے سے کام کرنا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: مضارِب نے بلا اجازتِ رب المال دوسرے شخص کو بطور مضاربت مال دیدیا،محض دینے سے مضارِب ضامن نہیں ہوگا جب تک دوسرا شخص کا م کرنا شروع نہ کردے اور دوسرے نے کام کرنا شروع کردیا تو مضاربِ اول ضامن ہوگیا ہاں ا گر دوسری مضاربت (جو مضارِب نے کی ہے)فاسد ہو تو باوجود مضارِبِ ثانی کے عمل کرنے کے بھی مضاربِ اوّل ضامن نہیں ہے اگرچہ اُس دوسرے نے جو کچھ کا م کیا ہے اُس میں نفع ہو بلکہ اس صورتِ مضاربت فاسدہ میں مضاربِ ثانی کو اُجرت مثل ملے گی جو مضارب دے گا اور رب المال نے جو نفع مضاربِ اول سے ٹھہرا یا ہے وہ لے گا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳۹: صورت مذکورہ میں مضارِب ثانی کے پاس سے عمل کرنے کے پہلے مال ضائع ہوگیا تو ضمان کسی پر نہیں ،نہ مضارِب اول پر،(3)نہ مضارِب ثانی پر(4)اور اگر مضارِب ثانی سے کسی نے مال غصب کر لیا جب بھی اِن دونوں پر ضمان نہیں بلکہ غاصب سے تاوان لیا جائے گا اور اگر مضارِب ثانی نے خود ہلاک کردیا یا کسی کوہبہ کردیا تو خاص اس ثانی سے ضمان لیاجائے گا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۴۰: اگر مضار ِب ثانی نے کام شروع کردیا تو رب المال کو اختیار ہے جس سے چاہے راس المال کا ضمان لے اول سے یا ثانی سے، اگر اول سے ضمان لیا تو ان دونوں کے مابین جو مضاربت ہوئی ہے وہ صحیح ہو جائے گی اور نفع دونوں کے لیے حلال ہوگا اور اگر دوسرے سے ضمان لیا تو وہ اوّل سے واپس لے گا اور مضاربت دونوں کے مابین صحیح ہو جائے گی مگر نفع پہلے کے لیے حلال نہیں ہے دوسرے کے لیے حلال ہے۔ اور اگر مضارِب ثانی نے کسی تیسرے کو مضاربت کے طور پر مال دیدیا اور مضارِب اوّل نے ثانی سے کہہ دیا تھا کہ تم اپنی رائے سے کام کرو تو رب المال کو اختیار ہے، اِن تینوں میں سے جس سے چاہے ضمان لے اگر اُس نے تیسرے سے لیا تو یہ دوسرے سے لے گا اور دوسرا پہلے سے اور پہلا کسی سے نہیں۔(6) (بحر، درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المضاربۃ،الباب الرابع فیما یملک المضارب...إلخ،ج۴،ص۲۹۴.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۰۹.
3 ۔یعنی نہ پہلے مضارِب پر۔ 4 ۔نہ دوسرے مضارِب پر۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۰۹.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،باب المضاربۃیضارب،ج۷،ص۴۵۳.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۰۹.
مسئلہ ۴۱: صورت مذکورہ میں کہ بغیر اجازت مضارِب نے دوسرے کو مال دے دیا ہے مالک تاوان لینا نہیں چاہتا بلکہ نفع لینا چاہتا ہے اس کا اُسے اختیار نہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۴۲: بغیر اجازت مالک مضارِب نے بطور مضاربت کسی کو مال دے دیا اور پہلی مضاربت فاسد تھی دوسری صحیح ہے تو کسی پر ضمان نہیں اور پورا نفع رب المال کو ملے گا اور مضارِب اوّل کو اُجرت مثل دی جائے گی اور مضارِب دوم مضارب اوّل سے وہ لے گا جو دونوں میں طے پایا ہے اور اگر پہلی صحیح ہے دوسری فاسد تو مضارِب اوّل وہ لے گا جو طے پایاہے اور مضارِب دوم کو اُجرت مثل ملے گی جو مضارِب اوّل سے لے گا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: مضارِب دوم نے مال ہلاک کردیا یا ہبہ کردیا تو تاوان صرف اُسی سے لیا جائے گا اوّل سے نہیں لیاجائے گا اور اگر مضارِب دوم سے کسی نے مال غصب کرلیا تو تاوان غاصب سے لیا جائے گا نہ اوّل سے لیا جائے گا نہ دوم سے۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: مضارِب اول کو مضاربت کے طور پر مال دینے کی اجازت تھی اور اُس نے دے دیا اور ان دونوں کے مابین یہ طے پایا ہے کہ مضارِب ثانی کو نفع کی تہائی ملے گی اور اس کی تجارت میں نفع بھی ہوا اگر مضار ِب اوّل اور مالک کے درمیان نصف نصف نفع کی شرط تھی یا مالک نے یہ کہا تھا کہ خدا جو کچھ نفع دے گا وہ میرے تمھارے درمیان نصف نصف ہے یا اتنا ہی کہا تھا کہ نفع میرے اور تمھارے مابین ہوگا تو نفع میں سے آدھا مالک لے گا اور ایک تہائی مضارِب ثانی لے گا اور چھٹا حصہ مضارِب اوّل کا ہے اور اگرمالک نے یہ کہا تھا کہ خدا تمھیں جو کچھ نفع دے گا یا یہ کہا تھا کہ تمھیں جو کچھ نفع ہو وہ میرے اور تمھارے مابین نصف نصف یا اسی قسم کے دیگر الفاظ، اِس صورت میں ایک تہائی مضارِب ثانی کی اور بقیہ میں مالک اور مضارِب اول دونوں برابر کے شریک یعنی ہر ایک کو ایک ایک تہائی ملے گی، یوہیں اگر مضارِب ثانی کے لیے تہائی سے زیادہ یا کم کی شرط تھی تو جو اس کے لیے ٹھہرا تھا یہ لے لے اور باقی ان دونوں میں نصف نصف تقسیم ہو،یوہیں اگر مالک نے کہہ دیا تھا کہ جو کچھ تمھیں نفع ہو وہ ہم دونوں کے مابین نصف نصف اور اس نے دوسرے کو نصف نفع پردے دیا تو جو کچھ نفع ہوگا مضارِب ثانی اس میں سے نصف لے لے گااور ما بقی(4)ان دونوں کے مابین نصف نصف اور اگرمالک نے کہا تھا کہ خدا اس میں جو
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب السابع فی المضارب...إلخ، ج۴،ص۲۹۹.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔یعنی جوکچھ بچے۔
نفع دے گا یا خدا کا جوکچھ فضل ہوگا وہ دونوں کے مابین نصف نصف اور مضارب اوّل نے دوسرے کو نصف نفع پر دے دیا تو جو کچھ نفع ہوگا اُس میں سے آدھا مضارِب ثانی لے گا اور آدھا مالک لے گا اور مضارِب اوّل کے لیے کچھ نہیں بچا اور اگر اس صورت میں مضارِب اوّل نے دوسرے سے دو تہائی نفع کے لیے کہہ دیاتھا تو آدھا نفع مالک لے گا اور دو تہائی مضارِب ثانی کی ہوگی یعنی جو کچھ نفع ہوا ہے اُس کا چھٹا حصہ مضارِب اوّل دوسرے کو اپنے گھر سے دے گا تاکہ دو تہائیاں پوری ہوں۔(1) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۴۵: مضارِب اوّل نے مضارِب دوم کو یہ کہہ کر دیا کہ تم اپنی رائے سے کام کرو اور مضارِب اوّل کو مالک نے بھی یہی کہہ کر دیا تھا تو مضارِب دوم تیسرے شخص کو مضارِبت پر دے سکتا ہے اور اگر مضارِب اوّل نے یہ کہہ کر نہیں دیا تھا کہ اپنی رائے سے کام کروتو مضارِب دوم سوم کو نہیں دے سکتا۔(2) (عا لمگیری)
مسئلہ ۴۶: مضارِب نے یہ شرط کی تھی کہ ایک تہائی مالک کی اور ایک تہائی مالک کے غلام کی وہ بھی میرے ساتھ کام کریگا اور ایک تہائی میری ،یہ بھی صحیح ہے اور نفع اسی طرح تقسیم ہوگا اس کا مَحصل (3)یہ ہوا کہ دو تہائیاں مالک کی اور ایک مضارِب کی۔ اور اگر مضارِب نے اپنے غلام کے لیے ایک تہائی رکھی ہے اور ایک تہائی مالک کی اور ایک اپنی اور غلام کے عمل کی شرط نہیں کی ہے تو یہ نا جائز ہے اور اس کا حصہ رب المال کو ملے گا یہ (4)جبکہ غلام پر دَین ہو، ورنہ صحیح ہے اُس کے عمل کی شرط ہو یا نہ ہو اور اُس کے حصہ کا نفع مضارِب کے لیے ہوگا۔(5) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۴۷: غلام ماذون نے اجنبی کے ساتھ عقدِمضارَبت کیا اور اپنے مولیٰ کے کام کرنے کی شرط کردی اگر ماذون پر دَین نہیں ہے یہ مضارَبت صحیح نہیں ورنہ صحیح ہے اسی طرح یہ شر ط کہ مضارِب اپنے مضارِب کے ساتھ یعنی مضارِب اوّل مضارِب ثانی کے ساتھ کام کریگا یا مضارِب ثانی کے ساتھ مالک کام کریگا جائز نہیں ہے اس سے مضارَبت فاسد ہو جاتی ہے۔ (6) (درمختار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۲،ص۲۰۵.
و''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۰.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب السابع فی المضارب...إلخ،ج۴،ص۳۰۰.
3 ۔حاصل۔ 4 ۔یعنی یہ اُس وقت ہے ۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۰.
و''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۷،ص۴۵۴.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۱.
مسئلہ ۴۸: یہ شرط کی کہ اتنا نفع مسکینوں کو دیا جائے گا یا حج میں دیا جائے گا یا گردن چھڑانے میں یعنی مکاتب کی آزادی میں اس سے مدد دی جائے گی یا مضارِب کی عورت کو یا اُس کے مکاتب کو دیا جائے گا یہ شرط صحیح نہیں ہے مگر مضارَبت صحیح ہے اور یہ حصہ جو شرط کیا گیا ہے رب المال کو ملے گا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴۹: یہ شرط کی کہ نفع کا اتنا حصہ مضارِب جس کو چاہے دے دے اگر اُس نے اپنے لیے یا مالک کے لیے چاہا تو یہ شرط صحیح ہے اور کسی اجنبی کے لیے چاہا تو صحیح نہیں۔ اجنبی کے لیے نفع کا حصہ دینا شرط کیا اگر اُس کا عمل بھی مشروط ہے یعنی وہ بھی کام کریگا اور اتنا اُسے دیا جائے گا تو شرط صحیح ہے اور اُس کا کام کرنا شرط نہ ہو تو صحیح نہیں اور اس کے لیے جو کچھ دینا قرار پایا ہے مالک کو دیا جائے گا۔ یہ شرط ہے کہ نفع کا اتناحصہ دَین کے ادا کرنے میں صرف کیا جائے گا یعنی مالک کا دَین اُس سے ادا کیا جائے گا یا مضارِب کا دَین ادا کیا جائے گا یہ شرط صحیح ہے اور یہ حصہ اُس کا ہے جس کا دَین ادا کرنا شرط ہے اور اُس کو اِس بات پر مجبور نہیں کر سکتے کہ قرض خواہوں کو دے دے۔ (2) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۵۰: دونوں میں سے ایک کے مرجانے سے مضارَبت باطل ہوجاتی ہے، دونوں میں سے ایک مجنون ہوجائے اور جنون بھی مطبق(3)ہو تو مضاربت باطل ہوجائے گی مگر مالِ مضاربت اگر سامانِ تجارت کی شکل میں ہے اور مضارِب مرگیا تو اُس کا وصی ان سب کو بیچ ڈالے اور اگر مالک مرگیااور مالِ تجارت نقد کی صورت میں ہے تو مضارِب اس میں تصرّف نہیں کر سکتا (4)ہے اور سامان کی شکل میں ہے تو اُس کو سفر میں نہیں لے جاسکتا ،بیع کرسکتا ہے۔ (5) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۵۱: مضارِب مرگیا اور مال مضاربت کا پتہ نہیں چلتا کہ کہاں ہے یہ مضارِب کے ذمّہ دَین ہے جو اُس کے ترکہ سے وصول کیا جائے گا۔(6)(درمختار)
مسئلہ ۵۲: مضارِب مرگیااُس کے ذمّہ دَین ہے مگر مالِ مضارَبت معروف ومشہور ہے لوگ جانتے ہیں کہ یہ چیزیں
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۱.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۲.
و''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،باب المضاربۃیضارب،ج۷،ص۴۵۵.
3 ۔ایسا جنون جوایک ماہ مسلسل رہے۔ 5 ۔یعنی اپنے استعمال میں نہیں لاسکتا۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فی العزل والقسمۃ،ج۲،ص۲۰۶.
و''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۲.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۲۴.
مضارَبت کی ہیں دَین والے اس مال سے دَین وصول نہیں کرسکتے بلکہ راس المال اور نفع کا حصہ رب المال لے گا نفع میں جو مضارِب کا حصہ ہے وہ دَین والے اپنے دَین میں لے سکتے ہیں۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۳: رب المال معاذاﷲمرتد ہوکر دارالحرب کو چلاگیاتومضاربت باطل ہوگئی اور مضارِب مرتد ہوگیا تو مضاربت بدستور باقی ہے پھر اگر مرجائے یا قتل کیا جائے یا دارالحرب کو چلاجائے اور قاضی نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ وہ چلاگیا تو اس صورت میں مضاربت باطل ہوگئی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۵۴: مضارِب کو رب المال معزول کرسکتا ہے بشرطیکہ اُس کو معزولی کا علم ہوجائے یہ خبر دو مردوں کے ذریعہ سے اُسے ملی یا ایک عادل نے اُسے خبر دی یا مالک کے قاصد نے خبر دی اگر چہ یہ قاصد بالغ بھی نہ ہو، سمجھ وال ہونا کافی ہے اور اگر مالک نے معزول کردیا مگر مضارِب کوخبر نہ ہوئی تو معزول نہیں جو کچھ تصرّف(3)کریگا صحیح ہوگا۔(4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۵: مضارِب معزول ہوا اور مال نقد کی صورت میں ہے یعنی روپیہ اشرفی ہے تو اس میں تصرّف کرنے کی اجازت نہیں ہاں اگر راس المال روپیہ تھا اور اس وقت اشرفی ہے تو ان کو بھناکر(5)روپیہ کرلے اسی طرح اگر راس المال اشرفی تھا اور اس وقت روپیہ ہے تو ان کی اشرفیاں کرلے تاکہ نفع کا راس المال سے اچھی طرح امتیاز ہوسکے۔ (6)(ہدایہ)یہی حکم رب المال کے مرنے کی صورت میں ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: مضارِب معزول ہوا یا مالک مرگیا اور مال سامان (یعنی غیرنقد)کی شکل میں ہے تو مضارِب ان چیزوں کو بیچ کر نقد جمع کرے اُدھار بیچنے کی بھی اجازت ہے اور جو روپیہ آتا جائے ان سے پھر چیز خریدنی جائز نہیں۔ مالک کو یہ اختیارنہیں کہ مضارِب کو اس صورت میں سامان بیچنے سے روک دے بلکہ یہ بھی نہیں کرسکتا ہے کہ کسی قسم کی قید اس کے ذمّہ لگائے۔ (8) (درمختار)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۲۵.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۲.
3 ۔خریدوفروخت،کام کاج۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۳،وغیرہ.
5 ۔سکے کی ریزگاری لے کر،سکہ تڑاکر۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فی العزل والقسمۃ،ج۲،ص۲۰۷.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثامن عشرفی عزل المضارب ...الخ،ج۴،ص۳۲۹.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۳.
مسئلہ ۵۷: پیسے راس المال تھے مگر اس وقت مضارِب کے پاس روپے ہیں اور مالک نے مضارِب کو خرید وفروخت سے منع کردیا تو مضارِب سامان نہیں خرید سکتا مگر روپے کو بھنا کر پیسے کرسکتا ہے۔(1) (عا لمگیری)
مسئلہ ۵۸: رب المال ومضارِب دونوں جدا ہوتے ہیں مضارَبت کو ختم کرتے ہیں اور مال بہت لوگوں کے ذمّہ باقی ہے اور نفع بھی ہے دَین وصول کرنے پر مضارِب مجبور کیا جائے گا اور اگر نفع کچھ نہیں ہے صرف راس المال ہی بھر ہے یا شاید یہ بھی نہ ہو اس صورت میں مضارِب کو دَین وصول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ نفع نہ ہونے کی صورت میں یہ متبرّع ہے(2)اور متبرّع کو کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہاں اُس سے کہا جائے گا کہ رب المال کو دَین وصول کرنے کے لیے وکیل کردے کیونکہ بیع کی ہوئی مضارب کی ہے اور اُس کے حقوق اُسی کے لیے ہیں، وکیل بالبیع(3)اور مستبضع(4)کا بھی یہی حکم ہے کہ ان کو وصول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا مگر اس پر مجبور کیے جائیں گے کہ موکل(5)و مالک کو وکیل کردیں بخلاف دلال اور آڑھتی (6)کے کہ یہ ثمن وصول کرنے پر مجبور ہیں۔ (7) (ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۵۹: مضارَبت کا مال لوگوں کے ذمّہ باقی ہے مالک نے مضارِب کو وصول کرنے سے منع کردیا اُس کو اندیشہ ہے کہ مضارِب وصول کرکے کھا نہ جائے مالک کہتا ہے کہ میں خود وصول کروں گا تو اگر مال میں نفع ہے تو مضارِب ہی کو وصول کرنے کا حق ہے ا ور نفع نہیں ہے تو مضارِب کو روک سکتاہے پھر نفع کی صورت میں جن لوگوں پر دَین ہے اُسی شہر میں ہیں تو وصولی کے زمانہ کا نفقہ(8)مضارِب کو نہیں ملے گا اور دوسرے شہر میں ہیں تو مضارِب کے سفر کے اخراجات مالِ مضاربت سے دیے جائیں گے۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: مال مضاربت سے جو کچھ خریدا ہے اس کے عیب پر مضارِب کو اطلاع ہوئی تو مضارِب ہی کو دعوےٰ کرناہوگا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثامن عشرفی عزل المضارب...الخ،ج۴،ص۳۲۹.
2 ۔یعنی احسان کرنے والا۔ 3 ۔بیچنے کاوکیل۔
4 ۔جس کوکام کرنے کے لیے اس طورپرمال دیاگیاہوکہ تمام نفع مال والے کوملے گا۔
5 ۔ وکیل کرنے والا۔ 6 ۔ایجنٹ۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فی العزل والقسمۃ،ج۲،ص۲۰۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثامن عشرفی عزل المضارب...إلخ،ج۴،ص۳۲۹،۳۳۰.
8 ۔کھانے،پینے وغیرہ کے اخراجات۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثامن عشرفی عزل المضارب...إلخ،ج۴،ص۳۳۰.
رب المال کو اِس سے تعلّق نہیں اور اگر بائع یہ کہتا ہے کہ عیب پر یہ راضی ہوگیا تھا یا میں نے عیب سے براءت کرلی تھی یا عیب پر مطلع ہونے کے بعد یہ خود بیع کررہاتھا تو مضارِب پر حلف (1)دیاجائے گا پھر اگرمضارِب ان اُمور کا اقرار کرلے یا حلف سے نکول(2)کرے تو بائع پر(3) واپس نہیں کیا جائے گا اور یہ مضارَبت کا مال قرار پائے گا۔(4)(عا لمگیری)
مسئلہ ۶۱: مضارِب نے مال بیچا مشتری(5)کہتا ہے اس میں عیب ہے اور یہ عیب اِس مدت میں مشتری کے یہاں پیدا ہوسکتا ہے اور مضارِب نے اقرارکرلیا کہ یہ عیب میرے یہاں تھا اس کے اقرار کی وجہ سے قاضی نے واپس کردیا یا اس نے بغیر قضائے قاضی(6)خود واپس لے لیا یا مشتری نے اِقالہ چاہا اس نے اقالہ کرلیا یہ سب جائز ہے یعنی اب بھی یہ مضاربت کا مال ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۲: جس چیز کومضارِب نے خریدا اُسے دیکھا نہیں تو مضارِب کو خیار رویت حاصل ہے اگر چہ رب المال دیکھ چکاہے۔ دیکھنے کے بعدمضارِب کو ناپسند ہے واپس کرسکتا ہے اور اگر مضارِب دیکھ چکا ہے تو خیار رویت حاصل نہیں اگر چہ رب المال نے نہ دیکھی ہو۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ۶۳: مال مضارَبت سے جو کچھ ہلاک اور ضائع ہوگا وہ نفع کی طرف شمار ہوگا راس المال میں نقصانات کو نہیں شمار کیا جاسکتا مثلاً سو روپے تھے تجارت میں بیس۲۰روپے کا نفع ہوا اور دس ۱۰ روپے ضائع ہوگئے تو یہ نفع میں منھا کیے جائیں گے یعنی اب دس ۱۰ہی روپے نفع کے باقی ہیں اگر نقصان اتنا ہوا کہ نفع اُس کو پورا نہیں کرسکتا مثلاً بیس۲۰ نفع کے ہیں اور پچاس ۵۰ کانقصان ہوا تویہ نقصان راس المال میں ہوگا مضارِب سے کل یا نصف نہیں لے سکتا کیونکہ وہ امین ہے اور امین پر ضمان نہیں اگر چہ وہ نقصان مضارِب کے ہی فعل سے ہوا ہو ہاں اگر جان بوجھ کر قصداً اُس نے نقصان پہنچایا مثلاًشیشہ کی چیز قصداً (9)اُس نے پٹک دی
1 ۔قسم۔ 2 ۔انکار۔ 3 ۔بیچنے والے پر۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المضاربۃ،الباب العاشر فی خیار العیب،ج۴،ص۳۰۸،۳۰۹.
5 ۔خریدار۔ 6 ۔قاضی کے فیصلے کے بغیر۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب المضاربۃ،الباب العاشر فی خیار العیب،ج۴،ص۳۰۹.
8 ۔المرجع السابق.
9 ۔ارادۃً،جان بوجھ کر۔
اس صورت میں تاوان دینا ہوگاکہ اس کی اُسے اجازت نہ تھی۔(1) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ۶۴: مضارَبت میں نفع کی تقسیم اُس وقت صحیح ہوگی کہ راس المال رب المال کو دے دیا جائے راس المال دینے سے قبل تقسیم باطل ہے یعنی فرض کرو کہ راس المال ہلاک ہوگیا تو نفع واپس کرکے راس المال پورا کریں اس کے بعد اگر کچھ بچے توحسبِ قرارداد تقسیم کرلیں مثلاً ایک ہزار راس المال ہے اور ایک ہزارنفع۔ پان پانسو دونوں نے نفع کے لے لیے اور راس المال مضارب ہی کے پاس رہا کہ اس سے وہ پھر تجارت کریگایہ ہزار ہلاک ہوگئے کام کرنے سے پہلے ہلاک ہوئے یا بعد میں، بہرحال مضارب پانسو کی رقم رب المال کو واپس کردے اور خرچ کرچکا ہے تو اپنے پاس سے پانسو دے، کہ یہ رقم اور رب المال جو لے چکا ہے وہ راس المال میں محسوب(2)ہے اور نفع کاہلاک ہونا تصور ہوگا اور دو ہزارنفع کے تھے ایک ایک ہزار دونوں نے لیے تھے اسکے بعد راس المال ہلاک ہوا توایک ہزار جو مالک کو ملے ہیں ان کو راس المال تصور کیا جائے اور مضارب کے پاس جو ایک ہزار ہیں وہ نفع کے ہیں اِن میں سے رب المال پانسو وصول کرے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۵: راس المال لے لینے کے بعد تقسیم صحیح ہے یعنی اب کوئی خرابی پڑے تو تقسیم پر اس کا کچھ اثر نہ ہوگا مثلاً راس المال لے لینے کے بعدنفع تقسیم کیا گیا پھر وہی راس المال مضارب کو بطور مضاربت دے دیا تو یہ جدید مضاربت ہے کہ مضارب کے پاس راس المال ہلاک ہو تو پہلی تقسیم نہیں توڑی جائے گی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ۶۶: رب المال و مضارِب دونوں سال پر یا ششماہی یا ماہوار حساب کرکے نفع تقسیم کرلیتے ہیں اور مضاربت کوحسبِ دستور باقی رکھتے ہیں اس کے بعد کُل مال یا بعض مال ہلاک ہوجائے تو دونوں نفع کی اتنی اتنی مقدار واپس کریں کہ راس المال پورا ہوجائے اور اگرسارا نفع واپس کرنے پر بھی راس المال پورا نہیں ہوتا تو سارا نفع واپس کر کے مالک کودے دیں اس کے بعد جو اور کمی رہ گئی ہے اُس کا تاوان نہیں اور اگر نفع کی رقم تقسیم کرنے کے بعدمضاربت کو توڑ دیتے ہیں اگر چہ یہ تقسیم راس المال ادا کرنے سے قبل ہوئی ہو اس کے بعد پھر جدید عقد کرکے کام کرتے ہیں توجو نفع تقسیم ہوچکا ہے وہ واپس نہیں لیا جاسکتا بلکہ جتنا نقصان ہوگا وہ نفع کے بعد راس المال ہی پر ڈالا جائے گا کیوں کہ اِس جدید
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فی العزل والقسمۃ،ج۲،ص۲۰۷.
و''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۴.
2 ۔شمار۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب السادس عشر فی قسمۃ الربح،ج۴،ص۳۲۱.
4 ۔المرجع السابق.
مضاربت کو پہلی مضارَبت سے کوئی تعلّق نہیں ہے مضارِب کو نقصان سے بچنے کی یہ اچھی ترکیب ہے۔ (1)(ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۶۷: راس المال دینے کے بعد نفع کی تقسیم ہوئی مگر مالک کا حصہ بھی مضارِب ہی کے پاس رہا اُس نے ابھی قبضہ نہیں کیا تھا کہ یہ رقم ضائع ہوگئی توتنہا مالک کا حصہ ضائع ہونانہیں تصوّر کیا جائے گا بلکہ دونوں کا نقصان قرار پائے گا لہٰذامضارِب کے پاس نفع کی جو رقم ہے اُسے دونوں تقسیم کرلیں اور اگر مضارِب کا حصہ ضائع ہواتو یہ خاص اسی کا نقصان ہے کیونکہ یہ اپنے حصہ پر قبضہ کرچکاتھا اس کی وجہ سے تقسیم نہ توڑی جائے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۸: نفع کے متعلق جو قرارداد ہو چکی ہے مثلاً نصف نصف یا کم و بیش اس میں کمی زیادتی کرنا جائز ہے مثلاً رب المال نے نصف نفع لینے کو کہا تھا اب کہتا ہے میں ایک تہائی ہی لوں گا یعنی مضارِب کا حصہ بڑھا دیا یوہیں مضارِب اپنا حصہ کم کردے یہ بھی جائز ہے اِسی جدید قرارداد پر نفع کی تقسیم ہوگی اگر چہ نفع اس قرارداد سے پہلے حاصل ہوچکا ہو۔(3) (عا لمگیری)
مسئلہ ۶۹: وقتاً فوقتاً مضارِب سے سو ، پچاس ، دس ، بیس روپے لیتا رہا اور دیتے وقت مضارِب یہ کہتا تھا کہ یہ نفع ہے اب تقسیم کے وقت کہتا ہے نفع ہوا ہی نہیں وہ جو میں نے دیا تھا راس المال میں سے دیا تھا مضارِب کی بات قابل قبول نہیں۔ (4) (خانیہ)
مسئلہ ۷۰: مالک نے مضارِب سے کہا میرا راس المال مجھے دے دو جو باقی بچے تمھاراہے اگر مال موجود ہے اِس طرح کہنا ناجائز ہے یعنی مضارِب مابقی(5)کا مالک نہ ہوگا کہ یہ ہبہ مجہولہ(6)ہے اور ایسا ہبہ جائز نہیں اور مضارِب صرف(7)کرچکا ہے تو یہ کہنا جائز ہے کہ اپنا مطالبہ معاف کرنا ہے اور اسکے لیے جہالت مضر نہیں۔ (8)
(عا لمگیری)
مسئلہ ۷۱: مضارِب نے رب المال کو کچھ مال یا کل مال بضاعت کے طور پر دے دیا ہے کہ وہ کام کریگا مگر اس کام کا اُسے بدلہ نہیں دیا جائے گا اور رب المال نے خرید و فروخت کرنا شروع کردیا اس سے مضاربت پر کچھ اثر نہیں پڑتا وہ
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فی العزل والقسمۃ،ج۲،ص۲۰۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب السادس عشر فی قسمۃ الربح،ج۴،ص۳۲۱،۳۲۲.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب السادس عشر فی قسمۃ الربح،ج۴،ص۳۲۲.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب المضاربۃ،ج۲،ص۲۱۹.
5 ۔یعنی جوباقی بچے۔ 6 ۔نامعلوم چیزکاہبہ کرنا۔ 7 ۔خرچ۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب السادس عشر فی قسمۃ الربح،ج۴،ص۳۲۲.
بدستور سابق باقی ہے اور اگر مالک نے مضارِب کی بغیر اجازت مال لے کر خریدو فروخت کی تو مضاربت باطل ہوگئی اگر راس المال نقد ہو اور اگر راس المال سامان ہو اُس کو بغیر اجازت لے گیا اور اس کو سامان کے عوض میں بیع کیا تو مضاربت باطل نہیں ہوئی اور اگر روپے اشرفی کے بدلے میں بیچ دیا تو باطل ہوگئی۔ (1) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۷۲: مضارِب نے رب المال کو مضاربت کے طور پر مال دیا یہ جائز نہیں یعنی یہ دوسری مضاربت صحیح نہیں ہے اور وہ پہلی مضارَبت حسب دستور باقی ہے۔ (2) (ہدایہ)
مسئلہ ۷۳: مضارِب جب تک اپنے شہر میں کام کرتا ہے کھانے پینے اور دیگر مصارِف(3)مال مضاربت میں نہیں ہوں گے بلکہ تمام اخراجات کا تعلق مضارِب کی ذات سے ہوگا اور اگر پردیس جائے گا تو کھانا پینا کپڑا سواری اور عادۃً جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کے متعلق تاجروں کاعرف ہویہ سب مصارِف مالِ مضارَبت میں سے ہوں گے دوا و علاج میں جو کچھ صرف ہوگا وہ مضاربت سے نہیں ملے گا یہ اُس صورت میں ہے کہ مضاربت صحیح ہو اور اگر مضاربت فاسد ہوتو پردیس جانے کے بعد بھی مصارِف اُس کی ذات پر ہوں گے مال مضاربت سے نہیں لے سکتا اور بضاعت (4)کے طور پر جو شخص کام کرتا ہو اُس کے مصارف بھی نہیں ملیں گے۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۷۴: مصارف میں سے کپڑے کی دُھلائی اور اگر خود دھونا پڑے تو صابن بھی ہے ،اگر روٹی پکانے یا دوسرے کام کرنے کے لیے آدمی نوکر رکھنے کی ضرورت ہو تو اس کا صرفہ(6)بھی مضاربت سے وصول کیا جائے گا جانور کا دانہ چارہ بھی اسی میں سے ہوگا اور سواری کرایہ کی ملے کرایہ پر لی جائے اور خریدنے کی ضرورت پڑے مثلاً روز روز کا کام ہے کہاں تک کرایہ پر لے گا یا کرایہ پر ملتی نہیں ہے خریدلے دریائی سفر میں کشتی کی ضرورت ہے کرایہ پر یا مول لے بعض جگہ بدن میں تیل کی مالش کرانی ہوتی ہے اس کا صرفہ بھی ملے گا۔ (7) (ہدایہ)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فیمایفعلہ المضارب،ج۲،ص۲۰۹.
و''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات ،ج۸،ص۵۱۵.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فیمایفعلہ المضارب،ج۲،ص۲۰۹.
3 ۔اخراجات۔ 4 ۔کسی سے مال لیکراس طورپرکام کرناکہ سارانفع مال والے کوملے گا۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فیمایفعلہ المضارب،ج۲،ص۲۰۹.
6 ۔خرچہ۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فیمایفعلہ المضارب،ج۲،ص۲۰۹.
مسئلہ ۷۵: مالک نے اپنے غلام اور اپنے جانور مضارِب کو بطور اِعانت سفر میں لے جانے کے لیے دے دیے اس سے مضاربت فاسد نہیں ہوگی اور غلاموں اور جانوروں کے مصارِف مضارِب کے ذمّہ ہیں مضارَبت سے ان کے اخراجات نہیں دیے جائیں گے اور مضارِب نے مال مضاربت سے ان پر صرف کیا (1)تو ضامن ہے مضارِب کو نفع میں سے جو حصہ ملے گا اُس میں سے یہ مصارف منھا ہوں گے(2)اور کمی پڑے گی تو اُس سے لی جائے گی اور مصارف سے کچھ بچ رہا تو اُسے دے دیا جائے گا ہاں اگر رب المال نے کہہ دیا کہ میرے مال سے ان پر صرف کیا جائے تو مصارف اُسی کے مال سے محسوب (3)ہوں گے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۶: ہزار روپے مضارِب کودیے تھے اُس نے کام کیا اور نفع بھی ہوا اور مالک مرگیا اور اُس پر اتنا دَین ہے جوکُل مال کو مستغرق (5)ہے تو مضارِب اپنا حصہ پہلے لے لے گا اس کے بعد قرض خواہ اپنے دَین وصول کریں گے اور اگر یہ مضاربت فاسد ہو تو مضارِب کو اُجرتِ مثل ملے گی اور وہ رب المال کے ذمّہ ہوگی جس طرح دیگر قرض خواہ اپنے دَین لیں گے یہ بھی حصہ رسد کے موافق(6) پائے گا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۷: خریدنے یا بیچنے پر کسی کو اجیر کیا یعنی نوکر رکھا یہ اجارہ درست نہیں کیونکہ جس کام پر اُس کو اجیر کرتا ہے اُس کے اختیار میں نہیں اگر خریدار نہ لے تو کس کے ہاتھ بیچے اور بائع نہ بیچے تو کیوں کر خریدے لہٰذا اسکے جواز کا طریقہ یہ ہے کہ مدّتِ معین کے لیے کام کرنے پر نوکر رکھے اور اس کام پر لگا دے۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۷۸: مضارِب نے حاجت سے زیادہ صرفہ کیا ایسے مصارف کے لیے جو تجار کی عادت میں نہیں ہیں ان تمام مصارف کا تاوان دینا ہوگا۔ (9) (ہدایہ)
مسئلہ ۷۹: اگر وہ شہر مضارِب کامولدنہیں ہے مگر وہیں کی سکونت(10)اُس نے اختیار کرلی ہے تو مالِ مضاربت
1 ۔خرچ کیا۔ 2 ۔کٹوتی کر لیے جائیں گے ۔ 3 ۔شمار۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ، الباب الثانی عشر فی نفقۃ المضارب،ج۴،ص۳۱۳.
5 ۔گھیرے ہوئے ۔ 6 ۔جتنا اس کے حصہ میں آئے گا اس کے موافق۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ، الباب الثالث والعشرون فی المتفرقات،ج۴،ص۳۳۴.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۸،ص۵۱۴ .
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فیما یفعلہ المضارب،ج۲،ص۲۰۹.
10 ۔رہائش۔
سے مصارف نہیں لے سکتا اور اگر وہاں نیت اقامت کرکے مقیم ہوگیا مگر وہاں کی سکونت نہیں اختیار کی ہے تو مال مضاربت سے وصول کریگا۔ یہاں پردیس جانے یا سفر سے مراد سفرِشرعی نہیں ہے بلکہ اتنی دور چلاجانا مراد ہے کہ رات تک گھر لوٹ کرنہ آئے اور اگر رات تک گھر لوٹ کر آجائے تو سفر نہیں مثلاً دیہات کے بازار کہ دوکاندار وہاں جاتے ہیں مگر رات میں ہی گھر واپس آجاتے ہیں۔(1) (بحر)
مسئلہ۰ ۸: ایک شخص دوسرے شہر کا رہنے والا ہے اور مال مضاربت دوسرے شہرمیں لیا مثلاً مراد آباد کا رہنے والا ہے اور بریلی میں آکر مال لیا تو جب تک بریلی میں ہے اُس کو مصارف نہیں ملیں گے اور جب بریلی سے چلا اب مصارف ملیں گے جب تک مراد آباد پہنچ نہ جائے۔ اور جب مراد آباد میں ہے یہ اُس کا وطنِ اصلی ہے یہاں نہیں ملیں گے اب اگر یہاں سے بغرض تجارت چلے گا توملیں گے بلکہ پھر بریلی پہنچ گیا اور کاروبار کے لیے جب تک ٹھہرے گا مصارف ملتے رہیں گے کیونکہ یہاں تجارت کے لیے ٹھہرنا ہے ہاں اگر بریلی بھی اُس کا وطن ہو مثلاً اُس کے بال بچے یہاں بھی رہتے ہیں،یہاں اُس نے شادی کرلی ہے تو جب تک یہاں رہے گا خرچ نہیں ملے گا کہ یہ بھی وطن ہے۔ (2) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۸۱: کسی شہر کو مال خریدنے گیا اور وہاں پہنچ بھی گیا مگر کچھ خریدا نہیں ویسے ہی واپس آیا تو اس صورت میں بھی مصارف مال مضاربت سے ملیں گے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۲: مالک نے مضارِب سے کہہ دیا تھا کہ تم اپنی رائے سے کام کرو اور مضارِب نے کسی دوسرے کو مضاربت کے طور پر مال دے دیا یہ مضارِبِ دوم ا گر سفر کریگا تو مصارف مال مضاربت سے ملیں گے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ۸۳: مضارِب کچھ اپنا مال اور کچھ مال مضاربت دونوں کو لے کر سفر میں گیا یا اس کے پاس دو شخصوں کے مال ہیں اِن صورتوں میں بقدر حصہ دونوں پر خرچہ ڈالا جائے گا۔ (5) (درمختار)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۷،ص۴۵۸.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،ج۷،ص۴۵۸.
و''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۱۶.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثانی عشر فی نفقۃ المضارب،ج۴،ص۳۱۳.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۱۶.
مسئلہ۸۴: مضارِب نے سفر میں ضرورت کی چیزیں خریدیں اور خرچ کرتا رہا یہاں تک کہ اپنے وطن میں پہنچ گیا اور کچھ چیزیں باقی رہ گئی ہیں تو حکم یہ ہے کہ جو کچھ بچے سب مال مضاربت میں واپس کرے کیوں کہ اُن چیزوں کا صرف کرنا اب جائز نہیں۔ (1) (ہدایہ)
مسئلہ ۸۵: مضارِب نے اپنے مال سے تمام مصارف کیے اور قصد (2)یہ ہے کہ مالِ مضاربت سے وصول کریگاایسا کرسکتا ہے یعنی وصول کرسکتا ہے اور اگر مال مضاربت ہی ہلاک ہوگیا تو رب المال سے ان مصارف کو نہیں لے سکتا۔(3) (درمختار)
مسئلہ۸۶: جو کچھ نفع ہوا پہلے اس سے وہ اخراجات پورے کیے جائیں گے جو مضارِب نے راس المال سے کیے ہیں جب راس المال کی مقدار پوری ہوگئی اُس کے بعد کچھ نفع بچا تو اُسے دونوں حسبِ شرائط تقسیم کرلیں اور نفع کچھ نہیں ہے تو کچھ نہیں مثلاً ہزار روپے دیے تھے سو۱۰۰ روپے مضارب نے اپنے اوپر خرچ کر ڈالے اور سو ہی روپے بالکل نفع کے ہیں کہ یہ پورے خرچ میں نکل گئے اور کچھ نہیں بچا اور اگر نفع کے سو سے زیادہ ہوتے تو وہ تقسیم ہوتے۔(4)
(درمختار)
مسئلہ ۸۷: جو کچھ مصارف ہوئے نفع کی مقدار اُس سے کم ہے تو مصارف کی بقیہ رقم راس المال سے پوری کی جائے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۸: مضارب مرابحہ کرنا چاہتاہے تو جو کچھ مال پر خرچ ہوا ہے ، بار برداری ،(6)دلالی، (7)اُن تھانوں کی دُھلائی، رنگائی اور ان کے علاوہ وہ تمام چیزیں جن کو راس المال میں شامل کرنے کی عادت ہے اِن سب کو ملا کر مرابحہ کرے اور یہ کہے اتنے میں یہ چیز پڑی ہے یہ نہ کہے کہ میں نے اتنے میں خریدی ہے کہ یہ غلط ہے اور جو کچھ مصارف مضارِب نے اپنے متعلق کیے ہیں وہ بیع مرابحہ میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔ (8) (درمختار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فیما یفعلہ المضارب،ج۲،ص۲۰۹.
2 ۔ارادہ۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۱۷.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثانی عشر فی نفقۃ المضارب،ج۴،ص۳۱۳.
6 ۔مزدوری۔ 7 ۔یعنی دلال کی اُجرت۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۱۷.
مسئلہ ۸۹: مضارِب نے ایک چیز رب المال سے ہزارروپے میں خریدی جس کو رب المال نے پانسو میں خریدا تھااس کا مرابحہ پانسو پر ہوگا نہ کہ ہزار پر یعنی مرابحہ میں یہ بیع کالعدم سمجھی جائے گی۔ اسی طرح اس کا عکس یعنی رب المال نے مضارِب سے ایک چیز ہزارمیں خریدی جس کو مضارِب نے پانسومیں خریدا تھا تو مرابحہ پانسو پر ہوگا۔ (1) (ہدایہ)
بیع مرابحہ وتولیہ کے مسائل کتاب البیوع(2)میں مفصل مذکور ہوچکے ہیں وہاں سے معلوم کیے جائیں۔
مسئلہ ۹۰: مضارِب کے پاس ہزار روپے آدھے نفع پر ہیں اس نے ہزار روپے کا کپڑا خریدا اور دو ہزار میں بیچ ڈالا پھر دو ہزار کی کوئی چیز خریدی اور ثمن ادا کرنے سے پہلے کل روپے یعنی دونوں ہزار ضائع ہوگئے پندرہ سو روپے مالک بائع کو دے اور پانسو مضارِب دے کیونکہ دو ہزار میں مالک کے پندرہ سو تھے اور مضارِب کے پانسو لہٰذا ہر ایک اپنے اپنے حصہ کی قدر بائع کو ادا کرے اس مبیع میں ایک چوتھائی مضارِب کی مِلک ہے کیونکہ ایک چوتھائی اس نے قیمت دی ہے اور یہ چوتھائی مضاربت سے خارج ہے اور باقی تین چوتھائیاں مضاربت کی ہیں اور راس المال کل وہ رقم ہے جو مالک نے دی ہے یعنی دو ہزار پانسو مگر مضارِب اس چیز کامرابحہ کریگا تو دوہی ہزار پر کریگا زیادہ پر نہیں کیوں کہ یہ چیز دو ہی ہزار میں خریدی ہے لیکن فرض کرو اس چیز کو دوچند قیمت پر اگر فروخت کیا یعنی چار ہزار میں تو ایک ہزار صرف مضارِب لے گا کہ چوتھائی کا یہ مالک تھا اور پچیس سو ۲۵۰۰ راس المال کے نکالے جائیں اور باقی پانسو دونوں نصف نصف تقسیم کرلیں یعنی ڈھائی ڈھائی سو۔ (3) (ہدایہ)
مسئلہ ۹۱: مضارب نے راس المال سے ابھی چیز خریدی بھی نہیں کہ راس المال تلف (4)ہوگیا تو مضاربت باطل ہوگئی اور چیز خریدلی ہے اور ابھی ثمن ادا نہیں کیا ہے کہ مضارب کے پاس سے روپیہ ضائع ہوگیا رب المال سے پھر لے گا پھر ضائع ہو جائے تو پھر لے گا وعلیٰ ھٰذالقیاس (5)اور راس المال تمام وہ رقم ہوگی جو مالک نے یکے بعد دیگرے دی ہے بخلافوکیل بالشراء (6)کہ اگر اس کو روپیہ پہلے دے دیا تھا اور خریدنے کے بعد روپیہ ضائع ہوگیا تو ایک مرتبہ موکل سے لے سکتا ہے اب اگر ضائع ہوجائے تو موکل سے نہیں لے سکتا اور اگر پہلے وکیل کونہیں دیا تھا خریدنے کے بعد دیا اور ضائع ہوگیا تو اب بالکل موکل سے نہیں لے سکتا۔ (7) (ہدایہ، عالمگیری)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل آخر،ج۲،ص۲۱۰.
2 ۔بہارشریعت،جلد ۲،حصہ۱۱،بیع کابیان۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل آخر،ج۲،ص۲۱۰.
4 ۔ضائع۔ 5 ۔یعنی روپیہ ضائع ہوتا رہے توپھر لیتا رہے گا۔ 6 ۔خریدنے کا وکیل۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل آخر،ج۲،ص۲۱۱.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المضاربۃ،الباب الرابع عشر فی ہلاک مال المضاربۃ...إلخ،ج۴،ص۳۱۸،۳۱۹.
مسئلہ ۹۲: مضارِب کے پاس دو ہزار روپے ہیں اور کہتا یہ ہے کہ ایک ہزار تم نے دیے تھے اور ایک ہزار نفع کے ہیں اور رب المال یہ کہتا ہے کہ میں نے دو ہزار دیے ہیں اگر کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو مضارِب کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اور اگر اس کے ساتھ ساتھ نفع کی مقدار میں بھی اختلاف ہو مضارِب کہتا ہے کہ میرے لیے آدھے نفع کی شرط تھی اور رب المال کہتا ہے ایک تہائی نفع تمھارے لیے تھا تو اس میں رب المال کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اور اگر دونوں میں سے کسی نے اپنی بات کو گواہوں سے ثابت کیا تو اُسی کی بات مانی جائے گی اور اگر دونوں گواہ پیش کریں تو راس المال کی زیادتی میں رب المال کے گواہ معتبرہیں اور نفع کی زیادتی میں مضارِب کے گواہ معتبر۔(1) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ۹۳: مضارِب کہتا ہے راس المال میں نے تمھیں دے دیا اور یہ جو کچھ میرے پاس ہے نفع کی رقم ہے اس کے بعد پھر کہنے لگا میں نے تمھیں نہیں دیا بلکہ ضائع ہوگیا تو مضارِب کو تاوان دینا ہوگا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ۹۴: ایک ہزار روپے اُس کے پاس کسی کے ہیں مالک کہتا ہے یہ بطوربضاعت دیے تھے(3)اس میں ایک ہزار نفع ہوا ہے یہ خاص میرا ہے اور وہ کہتا ہے مضاربت بالنصف کے طور پر مجھے دیے تھے(4)لہٰذا آدھا نفع میرا ہے اِس صورت میں مالک کا قول معتبر ہے کہ یہی منکر ہے۔ یوہیں اگر مضارِب کہتا ہے کہ یہ روپے تم نے مجھے قرض دیے تھے لہٰذا کل نفع میرا ہے اور مالک کہتا ہے میں نے امانت یا بضاعت یا مضاربت کے طور پر دیے تھے اس میں بھی رب المال ہی کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اور دونوں نے گواہ پیش کیے تومضارِب کے گواہ معتبر ہیں اور اگر مالک کہتا ہے میں نے قرض دیے تھے اور مضارِب کہتا ہے بطور مضاربت دیے تھے تو مضارب کا قول معتبر ہے اور جو گواہ قائم کردے اُس کے گواہ معتبر ہیں اور اگر دونوں نے گواہ پیش کیے تومالک کے گواہ معتبر ہوں گے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۹۵: مضارِب کہتا ہے تم نے ہر قسم کی تجارت کی مجھے اجازت دی تھی یا مضاربت مطلق تھی یعنی عام یا خاص
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب المضاربۃ،باب المضارب یضارب،فصل فی الإختلاف،ج۲،ص۲۱۱.
و''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۲۲.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المضاربۃ،الباب السابع عشر فی الإختلاف...إلخ،النوع الرابع،ج۴،ص۳۲۵.
3 ۔یعنی سارا نفع میرے لئے مقرر تھا۔ 4 ۔یعنی آدھا آدھا نفع مقرر تھا۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۲۳.
کسی کا ذکر نہ تھا اور مالک کہتا ہے میں نے خاص فلاں چیز کی تجارت کے لیے کہہ دیا تھا اس میں مضارِب کا قول معتبر ہے۔ اور اگر دونوں ایک ایک چیز کو خاص کرتے ہوں مضارِب کہتا ہے مجھے کپڑے کی تجارت کے لیے کہہ دیا تھا مالک کہتا ہے میں نے غلّہ کے لیے کہا تھا تو قول مالک کا معتبر ہے اور گواہ مضارِب کے۔ اور اگر دونوں کے گواہوں نے وقت بھی بیان کیا مثلاً مضارِب کے گواہ کہتے ہیں کہ کپڑے کی تجارت کے لیے رمضان میں کہا تھا اور مالک کے گواہ کہتے ہیں غلّہ کی تجارت کے لیے دیے تھے اور شوال کا مہینہ مقرر کردیا تھا تو جس کے گواہ آخروقت بیان کریں وہ معتبر۔(1) درمختار)
یہ اُس وقت ہے کہ عمل کے بعد اختلاف ہو اور اگر عمل کرنے سے قبل باہم اختلاف ہوا مضارِب عموم یا مطلق کا دعویٰ کرتا ہے اور رب المال کہتا ہے میں نے فلاں خاص چیز کی تجارت کے لیے کہا ہے تو رب المال کا قول معتبر ہے اِس انکار کے معنی یہ ہیں کہ مضارِب کو ہر قسم کی تجارت سے منع کرتا ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۹۶: مضارِب کہتا ہے میرے لیے آدھا یا تہائی نفع ٹھہرا تھا اور مالک کہتا ہے تمھارے لیے سو روپے ٹھہرے تھے یا کچھ شرط نہ تھی لہٰذامضاربت فاسد ہوگئی اور تم اُجرت مثل کے مستحق ہو اس میں رب المال کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹۷: وصی (4)نے نابالغ کے مال کو بطورِ مضارَبت خود لیا یہ جائز ہے بعض علماء اس میں یہ قید اضافہ کرتے ہیں کہ اپنے لیے اُتنا ہی نفع لینا قرار دیا ہو جو دوسرے کو دیتا۔(5) (درمختار)
مسئلہ۹۸: مضارِب نے راس المال سے کوئی چیز خریدی ہے اور کہتا ہے اسے ابھی نہیں بیچوں گا جب زیادہ ملے گا اُس وقت بیع کروں گا اور مالک یہ کہتاہے کچھ نفع مل رہا ہے اسے بیع کر ڈالو مضارِب بیچنے پر مجبور کیا جائے گا ہاں اگر مضارِب یہ کہتا ہے میں تمھارا راس المال بھی دوں گا اور نفع کا حصہ بھی دوں گا اس وقت مالک کو اِس کے قبول پر مجبور کیا جائے گا۔ (6) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۲۴.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب السابع عشرفی الإختلاف...إلخ،النوع الثانی،ج۴،ص۳۲۳.
3 ۔المرجع السابق،النوع الثالث،ص۳۲۴.
4 ۔وہ شخص جسے مرنے والا اپنی وصیت پوری کرنے کے لیے مقررکرے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب المضاربۃ،فصل فی المتفرقات،ج۸،ص۵۲۴.
6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱: مضارِب کو روپے دیے کہ کپڑے خرید کر اُسے قطع کر کے سی کر فروخت کرے اور جو کچھ نفع ہوگا وہ دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوجائے گا یہ مضارَبت جائز ہے یوہیں مضارِب سے یہ کہا کہ یہ روپے لو اور چمڑا خرید کر موزے یا جوتے طیار کرو اور فروخت کرو یہ مضاربت بھی جائز ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: ایک ہزار روپے مضاربت پر ایک ماہ کے لیے دیے اور کہہ دیا کہ مہینہ گزر جائے گا تو یہ قرض ہوگا تو جیسا اُس نے کہا ہے وہی سمجھا جائے گامہینہ گزر گیا اور روپے بدستور باقی ہیں تو قرض ہیں اور سامان خرید لیا تو جب تک انھیں بیچ کر روپے نہ کرلے قرض نہیں۔ (2) (عا لمگیری)
مسئلہ ۳: مضارِب کو مالک نے پیسے دیے تھے کہ ان سے تجارت کرے ابھی سامان خریدا نہ تھا کہ اُن کا چلن بند ہوگیا مضاربت فاسد ہوگئی پھر اگر مضارِب نے ان سے سودا خرید کر نفع یا نقصان اُٹھایا وہ رب المال کا ہو گا اور مضارِب کو اُجرتِ مثل ملے گی اور اگر مضارِب کے سامان خریدلینے کے بعد وہ پیسے بند ہوئے تو مضاربت بدستور باقی ہے پھر سامان بیچنے کے بعد جو رقم حاصل ہوگی اس سے پیسوں کی قیمت رب المال کو ادا کرے اس کے بعد جو بچے اُسے حسبِ قرار داد تقسیم کیا جائے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: باپ نے بیٹے کے لیے کسی شخص سے مضاربت پر مال لیا یوں کہ اِس مال سے بیٹے کے لیے باپ کام کریگا چنانچہ اُس نے کام کیا اور نفع بھی ہوا تو یہ نفع رب المال اور باپ میں حسب قرارداد تقسیم ہوگابیٹے کو کچھ نہیں ملے گا اگر بیٹا اتنا بڑا ہے کہ اس کے ہم جولی (4)خریدو فروخت کرتے ہیں اور باپ نے اس طور پر مال لیا ہے کہ لڑکا خریدو فروخت کریگا اور نفع آدھا آدھا دونوں کو ملے گا یہ مضاربت جائز ہے اور جو کچھ نفع ہوگا وہ رب المال اور لڑکے میں آدھا آدھا تقسیم ہوجائے گا۔ یوہیں اگر اس صورت میں لڑکے کے کہنے سے باپ نے کام کیا ہے تو آدھا نفع لڑکے کو ملے گا اور اُس کے بغیر کہے اس نے کام کیا تو مال کا ضامن ہے اور نفع اسی کو ملے گا مگر اسے صدقہ کردے۔ وصی کے لیے بھی یہی احکام ہیں۔ (5) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثالث والعشرون فی المتفرقات،ج۴،ص۳۳۴.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص۳۳۵.
4 ۔ہم عمر۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثالث والعشرون فی المتفرقات،ج۴،ص۳۳۷.
مسئلہ ۵: رب المال نے مال مضاربت کو واجبی قیمت (1)یا زائد پر بیع کرڈالا تو جائز ہے اور واجبی سے کم پر بیچا تو ناجائز ہے جب تک مضارِب بیع کی اجازت نہ دے دے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: مضارِب اپنے چند ہمراہیوں کے ساتھ کسی سرا میں ٹھہرا اُن میں سے ایک یہیں حجرہ میں رہا باقی ساتھیوں کے ساتھ مضارِب باہَر چلاگیا کچھ دیر بعد یہ ایک بھی دروازہ کھلا چھوڑ کر چلاگیا اور مالِ مضارَبت ضائع ہوگیا اگر مضارِب کو اس پر اعتماد تھا تو مضارِب ضامن نہیں یہ ضامن ہے اور اگر مضارِب کو اس پر اعتماد نہ تھا تو خود مضارِب ضامن ہے۔ (3) (خانیہ)
مسئلہ ۷: مضارِب کو ہزار روپے دیے کہ اگر خاص فلاں قسم کامال خریدو گے تو نفع جو کچھ ہوگا نصف نصف تقسیم ہوگا اور فلاں قسم کا مال خریدو گے تو کل نفع رب الما ل کا ہوگا اور فلاں قسم کا خریدو گے تو سا را نفع مضارِب کا ہوگا تو جیسا کہا ہے ویسا ہی کیا جائے گا یعنی قسم اول میں مضاربت ہے اور نفع نصف نصف ہوگا اور قسمِ دوم کا مال خریدا تو بضاعت ہے نفع رب المال کا اور نقصان ہوتو وہ بھی اُسی کا اور قسمِ سوم کا مال خریدا تو روپے مضارِب پر قرض ہیں نفع بھی اسی کا نقصان بھی اسی کا۔ (4) (عا لمگیری)
ودیعت رکھنا جائز ہے قرآن وحدیث سے اس کا جواز ثابت ۔
اﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
(اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُکُمْ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ)
(5)
''اﷲ(عزوجل) حکم فرماتا ہے کہ امانت جس کی ہو اُسے دے دو۔''
اور فرماتا ہے:
(وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَ عَہۡدِہِمْ رَاعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾)
(6)
''اور فلاح پانے والے وہ ہیں جو اپنی امانتوں اور عہد کی رعایت رکھتے ہیں۔''
1 ۔رائج قیمت جوبازارمیں متعین ہوتی ہے۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثالث والعشرون فی المتفرقات،ج۴،ص۳۳۷.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب المضاربۃ،فصل فیما یجوز للمضارب...إلخ،ج۲،ص۲۲۲.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المضاربۃ،الباب الثالث والعشرون فی المتفرقات،ج۴،ص۳۳۷،۳۳۸.
5 ۔پ۵،النساء:۵۸. 6 ۔پ۱۸،المؤمنون:۸.
اور فرماتاہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللہَ وَالرَّسُوۡلَ وَتَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۷﴾)
(1)
''اے ایمان والو اﷲورسول کی خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں جان بوجھ کر خیانت کرو۔''
حدیث صحیح میں ہے کہ منافق کی علامت میں یہ ہے کہ جب اُس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔(2)
مسئلہ ۱: دوسرے شخص کو اپنے مال کی حفاظت پر مقرر کردینے کو ایداع کہتے ہیں اور اُس مال کو ودیعت کہتے ہیں جس کو عام طور پر امانت (3)کہا جاتا ہے جس کی چیز ہے اُسے مودِع اور جس کی حفاظت میں دی گئی اُسے مودَع کہتے ہیں ایداع کی دو صورتیں ہیں کبھی صراحۃً کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے یہ چیز تمھاری حفاظت میں دی اور کبھی دلالۃًبھی ایداع ہوتا ہے مثلاًکسی کی کوئی چیز گرگئی اور مالک کی غیر موجودگی میں لے لی یہ چیز لینے والے کی حفاظت میں آگئی اگر لینے کے بعد اُس نے چھوڑدی ضامن ہے اور اگر مالک کی موجودگی میں لی ہے ضامن نہیں۔ (4)
مسئلہ ۲: ودیعت کے لیے ایجاب وقبول ضروری ہیں خواہ یہ دونوں چیزیں صراحۃً ہوں یا دلالۃً۔ صراحۃً ایجاب مثلاًیہ کہے کہ میں یہ چیز تمھارے پاس ودیعت رکھتا ہوں امانت رکھتا ہوں۔ ایجاب دلالۃً یہ کہ مثلاً ایک شخص نے دوسرے سے کہا مجھے ہزار روپے دے دو، یہ کپڑا مجھے دے دو اُس نے کہا میں تم کو دیتا ہوں کہ اگر چہ دینے کا لفظ ہبہ کے واسطے بھی بولا جاتاہے مگرودیعت اُس سے کم مرتبہ کی چیز ہے اسی پر حمل کریں گے۔ اور کبھی فعل بھی ایجاب ہوتاہے مثلاً کسی کے پاس اپنی چیز رکھ کر چلا گیا اور کچھ نہ کہا۔ صراحۃً قبول مثلاً وہ کہے میں نے قبول کیا اور دلالۃً یہ کہ اُس کے پاس کسی نے چیز رکھ دی اور کچھ نہ کہا یاکہہ دیا کہ تمھارے پاس یہ چیز امانت رکھتا ہوں اور وہ خاموش رہا مثلاً حمام میں جاتے ہیں اور کپڑے حمامی کے پاس رکھ کراندر نہانے کے لیے چلے جاتے ہیں اور سرائے(5)میں جاتے ہیں بھٹیارے (6)سے پوچھتے ہیں گھوڑا کہاں باندھوں اُس نے کہا یہاں یہ ودیعت ہوگئی اُس کے ذمّہ حفاظت لازم ہوگئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے حفاظت کا ذمّہ نہیں لیا تھا۔ (7) (درمختار)
1 ۔پ۹،الأنفال:۲۷.
2 ۔''صحیح البخاری''،کتاب الإیمان،باب علامۃ المنافق،الحدیث:۳۳،ج۱،ص۲۴.
3 ۔امانت اُسے کہتے ہیں جس میں تلف پر ضمان نہیں ہوتا ہے عاریت اور کرایہ کی چیز کو بھی امانت کہتے ہیں مگر ودیعت خاص اُس کا نام ہے جو
حفاظت کے لیے دی جاتی ہے۔ ہم نے بیانات سابقہ میں ودیعت کو امانت اس لیے لکھا ہے کہ لوگ آسانی سے سمجھ لیں۔۱۲ منہ
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۲۶.
5 ۔مسافرخانہ۔ 6 ۔مسافر خانے کامالک ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۲۶.
مسئلہ ۳: حمامی کے سامنے(1)کپڑے رکھ کر نہانے کو اندر گیا دوسرا شخص اندر سے نکلا اور اُس کے کپڑے پہن کر چلا گیاحمامی سے جب اُس نے کہا توکہنے لگا میں نے سمجھا تھا کہ اُسی کے کپڑے ہیں اِس صورت میں حمامی کے ذمہ تاوان ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اُن کے پاس کتاب رکھ کر چلا گیا اور وہ سب وہاں سے کتاب چھوڑ کر چلے گئے اور کتاب جاتی رہی اُن لوگوں کے ذمّہ تاوان واجب ہے اور اگر ایک ایک کرکے وہاں سے اُٹھے تو پچھلا شخص ضامن ہے کہ حفاظت کے لیے یہ متعین ہوگیا تھا۔(3) (بحر)
مسئلہ ۵: کسی مکان میں چیز بغیر اُس کے کہے رکھ دی اُس نے حفاظت نہیں کی چیز ضائع ہوگئی ضمان نہیں۔ یوہیں اس نے ودیعت کہہ کر دی اُس نے بلند آواز سے کہہ دیا میں حفاظت نہیں کروں گا وہ چیز ضائع ہوگئی اُس پر تاوان نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: ودیعت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ مال اِس قابل ہو جو قبضہ میں آسکے لہٰذا بھاگے ہوئے غلام کے متعلق کہہ دیامیں نے اُس کو ودیعت رکھایا ہوا میں پرند اُڑرہا ہے اوس کو ودیعت رکھا ان کا ضمان واجب نہیں۔ یہ بھی شرط ہے کہ جس کے پاس امانت رکھی جائے وہ مکلّف ہو تب حفاظت واجب ہوگی اگر بچہ کے پاس کوئی چیز امانت رکھ دی اُس نے ہلاک کردی ضمان واجب نہیں اور غلام محجور(5)کے پاس رکھ دی اس نے ہلاک کردی توآزاد ہونے کے بعد اُس سے ضمان لیا جاسکتا ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۷: ودیعت کا حکم یہ ہے کہ وہ چیز مودَع کے پاس امانت ہوتی ہے اُس کی حفاظت مودَع پر واجب ہوتی ہے اور مالک کے طلب کرنے پر دینا واجب ہوتا ہے۔ ودیعت کا قبول کرنا مستحب ہے۔ ودیعت ہلاک ہوجائے تو اس کا ضمان واجب نہیں۔(7) (بحر)
1 ۔حمام والے کے سامنے۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الاول فی تفسیر الإیداع...إلخ،ج۴،ص۳۳۹.
3 ۔''البحرالرائق''، کتاب الودیعۃ،ج۷،ص۴۶۴.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الاول فی تفسیر الإیداع...إلخ،ج۴،ص۳۳۸.
5 ۔وہ غلام جسے مالک نے تصرفات ومعاملات سے روک دیا ہو۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۲۸.
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الودیعۃ،ج۷،ص۴۶۵.
مسئلہ ۸: ودیعت کو نہ دوسرے کے پاس امانت رکھ سکتا ہے نہ عاریت یا اجارہ پر دے سکتا ہے نہ اس کو رہن رکھ سکتا ہے اس میں سے کوئی کام کریگا تاوان دینا ہوگا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: امین پر ضمان کی شرط کردینا کہ اگر یہ چیز ہلاک ہوئی تو تاوان لوں گا یہ باطل ہے۔ مودَع کو اختیار ہے کہ خود حفاظت کرے یا اپنی عیال سے حفاظت کرائے جیسے وہ خود اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے کہ ہر وقت اُسے اپنے ساتھ نہیں رکھتا اہل وعیال کے پاس چھوڑ کر باہر جایا کرتا ہے۔ عیال سے مُراد وہ ہیں جو اُس کے ساتھ رہتے ہوں حقیقۃً اُس کے ساتھ ہوں یا حکماً لہٰذا اگر سمجھ والے بچہ کو دے دی جو حفاظت پر قادر ہے یا بی بی کو دے دی اور یہ دونوں اُس کے ساتھ نہ ہوں جب بھی ضمان واجب نہیں یو ہیں عورت نے خاوند کی حفاظت میں چیز چھوڑدی ضامن نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: بی بی اور نابالغ بچہ یا غلام یہ اگر چہ اُس کے ساتھ نہ رہتے ہوں مگر عیال میں شمار ہوں گے فرض کرو یہ شخص ایک محلہ میں رہتا ہے اور اس کی زوجہ دوسرے محلہ میں رہتی ہے اور اُس کو نفقہ (3)بھی نہیں دیتا ہے پھر بھی اگر ودیعت ایسی زوجہ کو سپرد کردی اور تلف ہوگئی تاوان لازم نہیں ہوگا اور بالغ لڑکا یا ماں باپ جو اس کے ساتھ رہتے ہوں اِن کو ودیعت سپرد کرسکتا ہے اور ساتھ نہ رہتے ہوں تو نہیں سپرد کرسکتا کہ تلف ہونے پر ضمان لازم ہوگا۔ (4)
(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: زوجہ کا لڑکا دوسرے شوہر سے ہے جبکہ اس کے ساتھ رہتا ہے تو عیال میں ہے اُس کے پاس ودیعت کو چھوڑ سکتا ہے۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: جو شخص اس کی عیال میں ہے اُس کی حفاظت میں امانت کو اُس وقت رکھ سکتا ہے جب یہ امین ہو اور اگر اس کی خیانت معلوم ہو اور اس کے پاس چھوڑ دی تو تاوان دینا ہوگا۔ اس نے اپنی عیال کی حفاظت میں چھوڑدی اور وہ اپنے بال بچوں کی حفاظت میں چھوڑے یہ بھی جائز ہے۔ (6) (درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الاول فی تفسیر الإیداع...إلخ،ج۴،ص۳۳۸.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۲۹.
3 ۔کھانے پینے اورکپڑے کے اخراجات۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الثانی فی حفظ الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۳۳۹.
5 ۔المرجع السابق،ص۳۴۰.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۲۹.
مسئلہ ۱۳: مالک نے منع کردیا تھا کہ اپنی عیال میں سے فلاں کے پاس مت چھوڑنا باوجود ممانعت اس نے اُس کے پاس امانت کی چیز رکھی اگر اس سے بچنا ممکن تھا کہ اُس کے علاوہ دوسرے ایسے تھے کہ اُن کی حفاظت میں رکھ سکتا تھا تو ضمان واجب ہے ورنہ نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: دکان میں لوگوں کی ودیعتیں تھیں دکاندار نماز کو چلا گیا اور ودیعت ضائع ہوگئی تاوان واجب نہیں کہ دکان میں ہونا ہی حفاظت ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: اہل وعیال کے علاوہ دوسروں کی حفاظت میں چیز کو چھوڑنے سے یا اُن کے پاس ودیعت رکھنے سے ضمان واجب ہے ہاں اگر اُن کے علاوہ ایسوں کی حفاظت میں دی ہے جو خود اس کے مال کی حفاظت کرتے ہیں جیسے اس کا وکیل اورماذون اور شریک جس کے ساتھ شرکت مفاوضہ یا شرکت عنان ہے ان سب کی حفاظت میں دینا جائز ہے۔(3) (درمختار،درر)
مسئلہ ۱۶: نوکر کی حفاظت میں ودیعت کو دے سکتا ہے کیونکہ خود اپنا مال بھی اس کی حفاظت میں دیتا ہے۔(4) (درر)
مسئلہ ۱۷: مودَع(5)کے مکان میں آگ لگ گئی اگر ودیعت دوسرے لوگوں کو نہیں دیتا ہے جل جاتی ہے یا کشتی میں ودیعت ہے اور کشتی ڈوب رہی ہے اگر دوسری کشتی میں نہیں پھینکتا ہے ڈوب جاتی ہے اِس صورت میں دوسرے کو دینا یا دوسری کشتی میں پھینکنا جائز ہے بشرطیکہ اپنی عیال کی حفاظت میں دینا اِس وقت ممکن نہ ہو اور اگر آگ لگنے کی صورت میں اسکے گھر کے لوگ قریب ہی میں ہیں کہ اُن کو دے سکتا ہے یا کشتی ڈوبنے کی صورت میں اسکے گھر والوں کی کشتی پاس میں ہے کہ اُن کو دے سکتا ہے تودوسروں کو دینا جائزنہیں ہے دے گا تو ضمان واجب ہوگا۔ (6) (درمختار، درر)
مسئلہ ۱۸: کشتی ڈوب رہی تھی اِس نے دوسری کشتی میں ودیعت پھینکی مگر کشتی میں نہیں پہنچی بلکہ دریامیں گر ی یا کشتی
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۲۹.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون تضییعاً...إلخ،ج۴،ص۳۴۶.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۰.
و''دررالحکام''شرح''غررالأحکام''،کتاب الودیعۃ،الجزء الثانی،ص۲۴۷.
4 ۔''دررالحکام''شرح''غررالأحکام''،کتاب الودیعۃ،الجزء الثانی،ص۲۴۷.
5 ۔امین،جس کے پاس امانت رکھی گئی ۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۰.
و''دررالحکام''شرح''غررالأحکام''،کتاب الودیعۃ،الجزء الثانی،ص۲۴۵.
میں پہنچ گئی تھی مگر لڑھک کر دریا میں چلی گئی مودَع ضامن ہے۔ یوہیں اگر قصداً اس نے ودیعت کو ڈوبنے سے نہیں بچایا اتنا موقع تھا کہ دوسری کشتی میں دے دیتا مگر ایسا نہیں کیا یا مکان میں آگ لگی تھی موقع تھا کہ ودیعت کونکال لیتااور نہیں نکالی ان صورتوں میں ضامن ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: یہ کہتا ہے کہ میرے مکان میں آگ لگی تھی یا میری کشتی ڈوب گئی اور پروسی کو دیدی یا دوسری کشتی میں ڈال دی اگر آگ لگنا یا کشتی ڈوبنا معلوم ہو تو اسکی بات مقبول ہے اور اگر معلوم نہ ہو تو گواہوں سے ثابت کرنا ہو گا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: آگ لگنے کی وجہ سے ودیعت پروسی کو دیدی تھی آگ بجھنے کے بعد اُس سے واپس لینی ضروری ہے اگر واپس نہ لی اور اُسکے پاس ہلاک ہوگئی تو تاوان دینا ہوگا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: مودَع کا انتقال ہورہا ہے اور اسکے پاس اِس کی عیال میں سے کوئی موجود نہیں ہے جس کی حفاظت میں ودیعت کو دیتا اس حالت میں اس نے پڑوسی کی حفاظت میں دیدی تو ضمان واجب نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: جس کی چیز تھی اُس نے طلب کی مودَع کو منع کرنا جائز نہیں بشرطیکہ اُسکے دینے پر قادر ہو خود مالک نے چیزمانگی یا اُس کے وکیل نے، قاصد کے مانگنے پر نہ دے ا گرچہ کوئی نشانی پیش کرتا ہو۔ اور اگر اس وقت دینے سے عاجز ہے مثلاًودیعت یہاں موجود نہیں ہے اور جہاں ہے وہ جگہ دور ہے یا دینے میں اُس کو اپنی جان یا مال کا اندیشہ ہے مثلاً ودیعت کو دفن کررکھا ہے اس وقت کھود نہیں سکتا ہے یا ودیعت کے ساتھ اپنا مال بھی مدفون ہے اندیشہ ہے کہ میرے مال کا لوگوں کو پتہ چل جائے گاان صورتوں میں روکنا جائز ہے۔ اور اگر مالک واپسی نہیں چاہتا ہے ویسے ہی کہتا ہے ودیعت اُٹھا لاؤ یعنی دیکھنا مقصود ہے تو مودَع اس سے انکار کرسکتا ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: ایک شخص نے تلوار امانت رکھی وہ اپنی تلوار مانگتا ہے اور اِس مودَع کو معلوم ہوگیا کہ اس تلوار سے ناحق طور
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۰.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الثانی فی حفظ الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۳۴۰.
4 ۔المرجع السابق،ص۳۴۱.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۰.
پر کسی کو مارے گا تو تلوار نہ دے جب تک یہ نہ معلوم ہوجائے کہ اُس نے اپنی رائے بدل دی اب اس تلوار کو مباح کام کے لیے مانگتاہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: ایک دستا ویز (2)ودیعت رکھی اور مودَع کو معلوم ہے کہ اس کے کچھ مطالبے وصول ہوچکے ہیں اور مودِع(3)مرگیا اُس کے ورثہ مطالبہ وصول پانے سے انکار کرتے ہیں ان ورثہ کو یہ دستاویز کبھی نہ دے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: عورت نے ایک دستاویزودیعت رکھی ہے جس میں اس نے شوہر کے لیے کسی مال کا اقرار کیا ہے یا اُس میں مَہر وصول پانے کا عورت نے اقرار کیا ہے اس کو روکنا جائز ہے کیونکہ اسکے دینے میں شوہرکا حق ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲۶: ایک دستاویز دوسرے کے نام کی کسی نے ودیعت رکھی جس کے نام کی دستاویز ہے اُس نے دعویٰ کیا ہے اور دستاویز پر جن لوگوں کی شہادت ہے وہ کہتے ہیں جب تک ہم دستاویز دیکھ نہ لیں گواہی نہیں دیں گے قاضی مودَع کو حُکم دے گاکہ گواہوں کو دستاویز دکھا دو کہ وہ اپنے دستخط دیکھ لیں مدعی کو یعنی جس کے نام کی دستاویزہے نہیں دے سکتا کہ مودِع کے سِوادوسرے کو ودیعت کیوں کر دے گا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: کسی نے دھوبی کے پاس دوسرے کے ہاتھ دھونے کو کپڑا بھیجا پھر دھوبی کے پاس کہلا بھیجاکہ جو کپڑا دے گیا تھا اُسے مت دینا اگر لانے والے نے دھوبی کو کپڑا دیتے وقت یہ نہیں کہا تھا کہ فلاں کا کپڑا ہے اور دھوبی نے اُسے دے دیا ضامن نہیں اور اگر کہہ دیا کہ فلاں کا ہے اور یہی شخص اُسکے تمام کام کرتاہے اور دھوبی نے اسے دیدیا تو بھی ضامن نہیں اور اُس کے کام یہ شخص نہیں کرتا اور باوجود ممانعت دھوبی نے اسے دیدیا تو ضامن ہے۔ (7)
(عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: مالک نے مودَع سے ودیعت طلب کی اس نے کہا اِس وقت نہیں حاضر کرسکتا ہوں مالک چلاگیا اور اگر مالک کا چلاجانا رضامندی اور خوشی سے ہے اور ودیعت ہلاک ہوگئی تو تاوان نہیں کہ یہ دوبارہ امانت رکھنا ہے اور اگر ناراض
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۱.
2 ۔وہ تحریری ثبوت جس سے اپنا حق ثابت کرسکیں ۔ 3 ۔امانت رکھوانے والا،دستاویز کا مالک۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب العاشر فی المتفرقات،ج۴،ص۳۶۱.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۱.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب العاشرفی المتفرقات،ج۴،ص۳۶۲.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب السادس فی طلب الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۳۵۳.
ہوکر گیا تو ہلاک ہونے پر مودَع کو تاوان دینا ہوگاکہ طلب کے بعد روکنے کی اجازت نہ تھی اور اگر مالک کے وکیل نے مانگا اور مودَع نے وہی جواب دیا تو یہ راضی ہوکر جائے یا ناراض ہوکر دونوں صورتوں میں ضمان واجب ہے کہ اس کو جدیدایداع کا(1)اختیار نہیں۔ (2) (بحر)
مسئلہ ۲۹: مالک نے ودیعت مانگی مودَع نے کہا کل لینا دوسرے دن یہ کہتا ہے کہ وہ جو تم میرے پا س آئے تھے اور میں نے اقرار کیا تھا اُس کے بعد وہ ودیعت ضائع ہوگئی اس صورت میں تاوان نہیں اور اگر یہ کہتا ہے کہ اُس سے پہلے ودیعت ضائع ہوچکی تھی تو تاوان واجب ہے۔(3) (بحر)
مسئلہ ۳۰: مالک نے مودَع سے کہا ودیعت واپس کردواُس نے انکارکردیا کہتاہے میرے پاس ودیعت رکھی ہی نہیں اور اُس چیزکو جہاں تھی وہاں سے دوسری جگہ منتقل کردیا حالانکہ وہاں کوئی ایسا بھی نہ تھاجس کی جانب سے یہ اندیشہ ہوکہ اسے پتہ چل جائے گا تو ودیعت کو چھین لے گا اور انکار کے بعد ودیعت کوحاضر بھی نہیں کیا اور اُس کا یہ انکارخود مالک سے ہو اسکے بعد ودیعت کا اقرار کیا تو اب بھی ضامن ہے اور اگر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ چیز تم نے مجھے ہبہ کردی تھی یامیں نے خریدلی تھی اس کے بعد ودیعت کا اقرار کیا تو ضامن نہیں رہااور اگر مالک نے ودیعت واپس نہیں مانگی صرف اُس کا حال پوچھا ہے کہ کس حالت میں ہے اس نے انکار کردیا کہ میرے پا س ودیعت نہیں رکھی ہے پھر اقرارکیا توضمان نہیں۔ اور اگر اُس کو وہاں سے منتقل نہیں کیا جب بھی ضامن نہیں اور اگر وہاں کوئی ایسا تھا جس سے اندیشہ تھا اس وجہ سے انکار کردیا تو ضامن نہیں اور اگر انکار کے بعد چیز کو حاضر کردیا کہ مالک لے سکتا تھا مگر نہیں لی کہہ دیا کہ اسے تم اپنے ہی پاس رکھوتو یہ جدید ایداع ہے اور ضامن نہیں اور مالک کے سوا دوسرے لوگوں سے انکار کیا ہے جب بھی ضامن نہیں۔(4) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۳۱: ودیعت سے مودَع نے انکار کردیا یعنی یہ کہا کہ میرے پاس تمھاری ودیعت نہیں ہے اسکے بعد یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے تمھاری ودیعت واپس کردی تھی اور اس پر گواہ قائم کیے یہ گواہ مقبول ہیں۔(5) (درمختار)
1 ۔دوبارہ امانت رکھنے کا۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الودیعۃ،ج۷،ص۴۶۸.
3 ۔المرجع السابق،ص۴۶۹.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۸.
و''البحرالرائق''،کتاب الودیعۃ،ج۷،ص۴۷۱،۴۷۲.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۹.
مسئلہ ۳۲: ودیعت رکھ کر غائب ہوگیا اُس کی عورت مودَع سے کہتی ہے میرا نفقہ (1)ودیعت میں سے دے دو اُس نے ودیعت ہی سے انکار کردیا اس کے بعد اقرار کرتا ہے اور کہتا ہے ودیعت ضائع ہوگئی تو اس کے ذمہ تاوان ہے۔ یوہیں یتیموں کے ولی اور پروسیوں نے وصی سے کہا کہ ان بچوں کا جو کچھ مال تمھارے پاس ہے اِن پر خرچ کرو وصی نے کہا میرے پاس ان کا کوئی مال نہیں ہے پھر مال کا اقرار کیا اور کہتا ہے کہ تمھارے کہنے کے بعد ضائع ہوگیا تو وصی پر تاوان لازم ہے۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۳۳: ودیعت رکھنے والے کے مکان پر ودیعت لاکر رکھ گیا یا اُس کے بال بچوں کو دے گیا اور ودیعت ضائع ہوگئی تو مودَع پر تاوان لازم ہے اور اپنی عیال کے ہاتھ اُس کے پاس بھیج دی اور ضائع ہوگئی تو ضمان نہیں اور اگر اپنے بالغ لڑکے کے ہاتھ بھیجی جو اُس کی عیال میں نہیں ہے تو ضامن ہے اور نابالغ لڑکے کے ہاتھ بھیجی تو اگر چہ اُس کی عیال میں نہ ہو ضامن نہیں جبکہ یہ نابالغ بچہ ایسا ہو کہ حفاظت کرنا جانتا ہو اور چیزوں کی حفاظت کرتا ہو ورنہ تاوان لازم ہوگا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: ودیعت رکھنے والا غائب ہوگیا معلوم نہیں زندہ ہے یا مرگیا تو ودیعت کو محفوظ ہی رکھناہوگا جب موت کا علم ہو جائے اور ورثہ بھی معلوم ہیں ورثہ کو دیدے ۔ معلوم نہ ہونے کی صورت میں ودیعت کو صدقہ نہیں کرسکتا اور لقطہ میں مالک کا پتہ نہ چلے تو صدقہ کرنے کا حکم ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: ودیعت رکھنے والا مر گیا اور اُس پر دَین مستغرق نہ ہو(5)تو ودیعت ورثہ کو دیدے اور دَین مستغرق ہو تو یہ ودیعت حق غُرَماہے اس صورت میں ورثہ کو نہیں دے سکتادے گا تو غُرَما(6)اس مودَع سے تاوان لیں گے۔ (7)
(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: جس کے پا س ودیعت تھی کہتا ہے کہ میں نے تمھارے پاس ودیعت بھیج دی اور جس کے ہاتھ بھیجنا بتاتا ہے وہ اس کی عیال میں ہے تو اس کا قول معتبر ہے اور اجنبی کے ہاتھ بھیجنا کہتا ہے اور مالک انکار کرتاہے کہتا ہے مجھ کو چیز نہیں ملی تومودَع ضامن ہے ہاں اگر مالک اقرار کرلے یا مودَع گواہوں سے اُسکے پاس پہنچنا ثابت کردے توضامن نہیں۔(8) (عالمگیری)
1 ۔کھانے پینے ،کپڑے وغیرہ کے اخراجات۔
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الودیعۃ، فصل فیما یعد...إلخ،ج۲،ص۳۴۹.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب السابع فی رد الودیعۃ،ج۴،ص۳۵۴.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔یعنی اتناقرض نہ ہوجو اس کے تمام ترکہ کو گھیرلے۔ 6 ۔قرض خواہ یعنی جن کا قرضہ ہے وہ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب السابع فی رد الودیعۃ،ج۴،ص۳۵۴.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۳۷: غاصب نے مغصوب کو ودیعت رکھ دیا تھا مودَع نے غاصب کے پاس چیز واپس کردی یہ مودَع ضمان سے بَری ہوگیا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: مودَع کا انتقال ہوگیا اور اس نے ودیعت کے متعلق تجہیل کی ہے (صاف بیان نہیں کیا ہے جس سے معلوم ہوسکے کہ فلاں فلاں چیز امانت ہے اور وہ فلاں جگہ ہے)یہ بھی منع کرنے کے معنی میں ہے اس صورت میں ودیعت کا تاوان لیا جائے گا اور اُس کے ترکہ سے(2)بطور دَین وصول کیا جائے گا ہاں اگر اُس کا بیان نہ کرنا اس وجہ سے ہو کہ ورثہ کو معلوم ہے کہ فلاں چیز ودیعت ہے بیان کرنے کی کیا ضرورت ہے تو تاوان واجب نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳۹: مودَع مرگیا اور امانت ہلاک ہوگئی مودِع کہتا ہے کہ مودَع نے تجہیل کی ہے لہٰذا ضمان واجب ہے وارث کہتا ہے مجھے معلوم تھا اگر وارث نے اُن چیزوں کو بیان کردیا کہ فلاں فلاں چیز مورث کے پاس (4)ودیعت تھی وارث کا قول معتبر ہے یعنی مودَع کے مرنے کے بعد وارث اُس کے قائم مقام ہے اُس سے ضمان نہیں لیا جائے گا صرف ایک بات میں فرق ہے وارث نے چور کو ودیعت بتادی ضامن نہیں ہے اور مودَع نے بتائی تو ضامن ہے مگرجبکہ اُسے لینے سے بقدر طاقت منع کرے۔ (5) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۴۰: ورثہ کہتے ہیں ودیعت اُس نے اپنی زندگی میں واپس کردی تھی ان کا قول مقبول نہیں بلکہ گواہوں سے واپسی کو ثابت کرنا ہوگا ثابت نہ کرنے پر میّت کے مال سے تاوان وصول کیا جائے اور اگر ورثہ نے گواہوں سے یہ ثابت کیاکہ مودَع نے اپنی زندگی میں یہ کہا تھا کہ ودیعت واپس کرچکا ہوں تو یہ گواہ بھی مقبول ہوں گے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: ودیعت کے علاوہ دیگر امانتوں کا بھی یہی حکم ہے کہ تجہیل کرکے مر جائے گاتو اُس کا تاوان واجب
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب السابع فی رد الودیعۃ،ج۴،ص۳۵۴.
2 ۔چھوڑے ہوئے مال و جائداد سے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۲.
4 ۔یعنی مرنے والے کے پاس ۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۲.
و''البحرالرائق''،کتاب الودیعۃ،ج۷،ص۴۶۸.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب التاسع فی الإختلاف...إلخ،ج۴،ص۳۵۷.
ہوجائے گاامانت باقی نہیں رہے گی صرف بعض امانتوں کا اِس حکم سے استثنا ہے۔
(1)متولی مسجد جس کے پاس وقف کی آمدنی تھی اور بغیر بیان کیے مر گیا۔
(2)قاضی نے یتامیٰ(۱)اموال امانت رکھے اور بغیر بیان مرگیا یہ نہیں بتایا کہ کس کے پاس امانت ہے اور قاضی نے خود اپنے ہی یہاں رکھا تھا اور بغیر بیان مرگیا تو ضامن ہے اُس کے ترکہ سے وصول کریں مگر قاضی نے اگر کہہ دیا تھاکہ مال میرے پاس سے ضائع ہوگیا یا میں نے یتیم پر خرچ کر ڈالا تو اُس پر ضمان نہیں۔
(3)سُلطان نے اموالِ غنیمت بعض غازیوں کے پاس امانت رکھے اور مرگیا اور یہ بیان نہیں کیا کہ کس کے پاس ہیں۔
(4)دو شخصوں میں شرکت مفاوضہ تھی ان میں سے ایک مرگیا اور جو کچھ اموال اس کے قبضہ میں تھے ان کو بیان نہیں کیا۔ (2) (بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: مودَع مجنون ہوگیا اور جنون بھی مطبق ہے اور اس کے پا س بہت کچھ اموال ہیں ودیعت تلاش کی گئی مگر نہیں ملی اور اس کی امید بھی نہیں ہے کہ اُس کی عقل ٹھیک ہوجائے گی تو قاضی کسی کو مجنون کا ولی مقرر کریگاوہ مجنون کے مال سے ودیعت ادا کریگا مگر جس کو دے گا اُس سے ضامن لے لے گا پھر اگر وہ مجنون اچھا ہوگیا اور کہتا ہے میں نے ودیعت واپس کردی تھی یا ضائع ہوگئی یاکہتا ہے مجھے معلوم نہیں کیا ہوئی اُس پر حلف(3)دیا جائے گا بعد حلف جو کچھ اُس کا مال دیا گیا ہے واپس لیا جائے گا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: مودَع نے ودیعت اپنی عورت کو دیدی اور مرگیا تو عورت سے مطالبہ ہوگا اگر عورت کہتی ہے چوری ہوگئی یا ضائع ہوگئی تو قسم کے ساتھ عورت کی بات معتبر ہے اور اس کا مطالبہ اب کسی سے نہ ہوگا اور اگر عورت کہتی ہے میں نے مرنے سے پہلے شوہر کو واپس دیدی تھی تو اس کی بات معتبر ہے اور عورت کو شوہر سے جو کچھ ترکہ ملا ہے اِس میں سے ودیعت کا تاوان لیا جائے گا۔ (5) (عالمگیری)
1 ۔یتیم کی جمع۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الودیعۃ،ج۷،ص۴۶۸.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الخامس فی تجھیل الودیعۃ،ج۴،ص۳۵۰.
3 ۔قسم۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الخامس فی تجھیل الودیعۃ،ج۴،ص۳۵۰.
5 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۴۴: خود مریض سے پوچھا گیاکہ تمھارے پاس فلاں کی ودیعت تھی وہ کیا ہوئی اُس نے کہا میں نے اپنی عورت کو دیدی ہے اُس کے مرنے کے بعد عورت سے پوچھا گیا عورت کہتی ہے مجھے اُس نے نہیں دی ہے اس صورت میں عورت پر حلف دیا جائے گا (1)اور حلف کرلے تو اُس سے مطالبہ نہ ہوگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: مضارب نے یہ کہاکہ میں نے مال مضاربت فلاں کے پاس ودیعت رکھ دیا ہے یہ کہہ کر مرگیا تو نہ مضارب کے مال سے لیا جاسکتا ہے نہ اُس کے ورثہ سے اور جس کا اُس نے نام لیا ہے وہ انکار کرتا ہے تو قسم کے ساتھ اُس کی بات مان لی جائے گی اور اگر یہ شخص بھی مرگیااور اس نے ودیعت کے متعلق کچھ بیان نہیں کیا اور اِس کے پاس ودیعت رکھنا صرف مضارب کے کہنے ہی سے معلوم ہوااور کوئی ثبوت نہیں ہے تو اس کے ترکہ سے وصول نہیں کی جاسکتی اور اگر گواہوں سے اُس کے پاس ودیعت رکھنا ثابت ہے یا اُس نے خود اقرار کیا ہے کہ میرے پاس مضارِب نے ودیعت رکھی ہے اور مضارِب مرگیاپھر وہ شخص بھی مرگیا تو اُس شخص کے مال سے ودیعت وصول کی جائے گی۔ (3)
(عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: ایک شخص کے پاس ایک ہزار روپے ودیعت کے ہیں ان روپوں کے دوشخص دعویدارہیں ہر ایک کہتا ہے میں نے اس کے پا س ودیعت رکھے ہیں اور مودَع کہتا ہے تم دونوں میں سے ایک نے ودیعت رکھے ہیں میں یہ نہیں معین کرکے بتا سکتا کہ کس نے رکھے ہیں تو اگر وہ دونوں مُدَّعِی(4)اس بات پرصلح و اتفاق کرلیں کہ ہم دونوں یہ روپے برابر برابربانٹ لیں تو ایسا کرسکتے ہیں اور مودَع دینے سے انکار نہیں کرسکتااسکے بعد نہ مودَع سے مطالبہ ہوسکتا ہے نہ اُس پر حلف دیا جاسکتا اور اگر دونوں صلح نہیں کرتے بلکہ ہر ایک پورے ہزار کو لینا چاہتا ہے تو مودَع سے دونوں حلف لے سکتے ہیں پھر اگر دونوں کے مقابل میں اُس نے حلف کرلیا تو دونوں کا دعویٰ ختم ہوگیا اور اگر دونوں کے مقابل میں قسم سے انکار کردیا تو اِس ہزار کو دونوں بانٹ لیں اور ایک دوسرے ہزار کا اُس پر تاوان ہوگا جو دونوں برابر لے لیں گے اور اگر ایک کے مقابل میں حلف کرلیا دوسرے کے مقابل میں قسم سے انکار کردیا تو جس کے مقابل میں قسم سے انکار کیا ہے وہ ہزار لے لے اور جس کے مقابل میں حلف کرلیا ہے اُس کا دعویٰ ساقط۔(5) (عالمگیری)
1 ۔قسم دی جائے گی۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الخامس فی تجھیل الودیعۃ،ج۴،ص۳۵۰.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔دعو یٰ کرنے والے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الخامس فی تجھیل الودیعۃ،ج۴،ص۳۵۰،۳۵۱.
مسئلہ ۴۷: ودیعت کو اپنے مال یا دوسرے کے مال میں بدون اجازتِ مالک(1)اِس طرح ملا دینا کہ امتیاز باقی نہ رہے یا بہت دشواری سے جدا کیے جاسکیں یہ بھی موجب ضمان (2)ہے دونوں مال ایک قسم کے ہوں جیسے روپے کو روپے میں ملا دیا گیہوں(3)کو گیہوں میں جَو کو جَو میں یا دونوں مختلف جنس کے ہوں مثلاًگیہوں کو جَومیں ملادیا اس میں اگرچہ امتیاز اور جدا کرنا ممکن ہے مگر بہت دشوار ہے،اِس طرح پرمِلادینا چیز کو ہلاک کردینا ہے مگرجب تک ضمان ادا نہ کرے اُس کا کھانا جائز نہیں یعنی پہلے ضمان ادا کردے اُس کے بعد یہ مخلوط چیز(4)خرچ کرے۔(5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴۸:ایک ہی شخص نے گیہوں اور جَو دونوں کو ودیعت رکھا جب بھی مِلا دینا جائز نہیں مِلادے گا تو تاوان لازم ہوگا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: مالک کی اِجازت سے اس نے دوسری چیز کے ساتھ خلط کیا (7)یا اس نے خود نہیں ملایا بلکہ بغیر اس کے فعل کے دونوں چیزیں مل گئیں مثلاًدو بوریوں میں غلہ تھا بوریاں پھٹ گئیں غلہ مل گیا یا صندوق میں دو تھیلیوں میں روپے رکھے تھے تھیلیاں پھٹ گئیں اور روپے مل گئے ان دونوں صورتوں میں دونوں باہم شریک ہوگئے اگر اس میں سے کچھ ضائع ہوگا تو دونوں کا ضائع ہوگاجو باقی ہے اُسے مطابق حصہ کے تقسیم کرلیں مثلاً ایک کے ہزار روپے تھے دوسرے کے دوہزار تو جو کچھ باقی ہے اُس کے تین حصے کرکے پہلا شخص ایک حصہ لے لے اور دوسرا شخص دو حصے۔(8) (بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: مودَع کے سوا کسی دوسرے شخص نے خلط کردیا اگرچہ وہ نابالغ ہو اگرچہ وہ شخص ہوجو مودَع کی عیال میں ہے وہ خلط کرنے والا ضامن ہے مودَع ضامن نہیں۔ (9) (درمختار، عالمگیری)
1 ۔ مالک کی اِجازت کے بغیر۔ 2 ۔تاوان کو لازم کرنے والا۔
3 ۔گندم۔ 4 ۔ملائی ہوئی چیز۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۶،وغیرہ.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون تضییعًا...إلخ،ج۴،ص۳۴۹.
7 ۔یعنی مِلادیا۔
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الودیعۃ،ج۷،ص۴۷۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون تضییعًا...إلخ،ج۴،ص۳۴۹.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون تضییعًا...إلخ،ج۴،ص۳۴۹.
مسئلہ ۵۱: ودیعت روپیہ یا اشرفی ہے یا مکیل(1)وموزون(2)ہے مودَع نے اس میں سے کچھ خرچ کرڈالا تو جتنا خرچ کیا ہے اُتنے ہی کا ضامن ہے جو باقی ہے اُس کا ضامن نہیں یعنی مابقی(3)اگر ضائع ہوجائے تو اس کا تاوان لازم نہیں اور اگر خرچ کرنے کے لیے نکالا تھا مگر خرچ نہیں کیا پھر اُسی میں شامل کردیا تو تاوان لازم نہیں ا ور اگر جتنا ودیعت میں سے خرچ کرڈالا تھااوتنا ہی باقی میں ملا دیا کہ امتیاز جاتا رہا مثلاًسوروپے میں سے دس خرچ کر ڈالے تھے پھر دس۱۰ روپے باقی میں ملا دیے تو کُل کا ضامن ہوگیا کیوں کہ اپنے مال کو ملا کر ودیعت کو ہلاک کردیا اور اگر اس طرح ملایا ہے کہ امتیاز باقی ہے مثلاًکچھ روپے تھے اور کچھ نوٹ یا اشرفیاں(4)روپے خرچ کرڈالے پھر اُتنے ہی روپے اُس میں شامل کر دیے یا جو کچھ ملایا اُس میں نشان بنا دیاہے کہ جدا کیا جا سکتا ہے یا خرچ کیا اور اُس میں شامل نہیں کیا یا دوو دیعتیں تھیں مثلاً ایک مرتبہ اُس نے دس روپے دیے دوسری مرتبہ دس پھر دیے اور اُن میں سے ایک ودیعت کو خرچ کر ڈالا ان سب صورتوں میں صرف اُس کا ضامن ہے جو خرچ کیا ہے۔ یہ اُس چیز میں ہے جس کے ٹکڑے کرنا مضر نہ ہو مثلاًدس۱۰ سیر گیہوں تھے اُن میں سے پانچ سیر خرچ کیے اور اگر وہ ایسی چیز ہو جس کے ٹکڑے کرنا مضر ہو مثلاً ایک اچکن کا کپڑا تھا یا کوئی زیور تھا اُس میں سے ایک ٹکڑا خرچ کر ڈالا تو کل کا ضامن ہے۔ (5) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: جس شخص نے ملایا ہے وہ غائب ہوگیا اُس کا پتہ نہیں کہ کہاں ہے تو اگر دونوں مالک اس پر راضی ہوجائیں کہ ان میں کا ایک شخص اُس مخلوط چیز (6)کو لے لے اور دوسرے کو اس کی چیز کی قیمت دیدے یہ ہوسکتا ہے اور اس پر بھی راضی نہ ہوں تو مخلوط شے کو بیچ کرہر ایک اپنی اپنی چیز کی قیمت پر ثمن کو تقسیم کرکے لے لے۔ (7)
(عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: ودیعت پر تعدّی کی یعنی اُس میں بیجا تصرُّف کیا مثلاًکپڑا تھا اُسے پہن لیا گھوڑا تھا اُس پر سوار ہوگیا غلام تھا اُس سے خدمت لی یا اُسے کسی دوسرے کے پاس ودیعت رکھ دیا ان سب صورتوں میں اُس پر ضمان لازم ہے مگر پھر اس حرکت سے باز آیا یعنی اُس کو حفاظت میں لے آیا اور یہ نیت ہے کہ اب ایسا نہیں کریگا تو تعدّی کرنے سے جو ضمان کا حکم آگیا تھا زائل ہوگیا یعنی اب اگر چیز ضائع ہو جائے تو تاوان نہیں مگر استعمال سے چیز میں نقصان پیدا ہوجائے تو تاوان دینا ہوگا اور اگر اب بھی
1 ۔ماپ کر بیچی جانے والی چیز۔ 2 ۔وزن سے بیچی جانے والی چیز۔
3 ۔یعنی جوباقی ہے۔ 4 ۔سونے کے سکے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون تضییعًا...إلخ،ج۴،ص۳۴۸.
6 ۔اُس ملی ہوئی چیز۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون تضییعًا...إلخ،ج۴،ص۳۴۹.
نیت یہ ہو کہ پھر ایسا کریگا مثلاًرات میں کپڑا اُتار دیا اور یہ نیت ہے کہ صبح کو پھر پہنے گا ضمان کا حکم بدستور باقی ہے یعنی مثلاًرات ہی میں وہ کپڑا چوری ہوگیا تاوان دینا ہوگا۔(1) (بحر ، عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: مستعیر اور مستاجر نے تعدّی کی(2)پھر اِس سے باز آئے تو ضمان سے(3)بری نہیں جب تک مالک کے پاس چیز پہنچانہ دیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۵۵: مودَع 1 ، بیع۲ کا وکیل اور حفظ۳ کا وکیل اور اُجرت۴ پر دینے یا اُجرت ۵پر لینے کا وکیل یعنی اس کو وکیل کیا تھا کہ اس چیز کو کرایہ پر دے یا کرایہ پر لے اور اس نے خود اُس چیز کو استعمال کیا پھر استعمال چھوڑدیا اورمضارب ۶و مُستبَضِع۷یعنی مضارِب نے چیز کو استعمال کیا یا جس کو بَضاعت کے طور پر دیا تھا اُس نے استعمال کیا پھر استعمال ترک کیا اور شریک۸ عنان اور شریک مفاوضہ اور رہن۱۰کے لیے عاریت لینے والا کہ ایک چیز عاریت لی تھی کہ اُسے رہن رکھے گا اور خود استعمال کی پھر رہن رکھ دی یہ دس قسم کے اشخاص تعدّی کرنے والے اگر تعدّی سے باز آجائیں تو ضمان سے بری ہو جاتے ہیں اور ان کے علاوہ جو امین تعدّی کریگا وہ ضامن ہوگا اگرچہ تعدّی سے باز آجائے۔(5)
(درمختار)
مسئلہ ۵۶: مودَع کو یہ اختیار ہے کہ ودیعت کو اپنے ہمراہ سفر میں لیجائے اگرچہ اس میں بار برداری(6)صرف(7)کرنی پڑے بشرطیکہ مالک نے سفر میں لے جانے سے منع نہ کیا ہو اور لیجانے میں اُس کے ہلاک ہونے کا اندیشہ بھی نہ ہواور اگر مالک نے منع کردیا ہو یالیجانے میں اندیشہ ہو اور سفر میں جانا اس کے لیے ضروری نہ ہواور سفر کیا اور ودیعت ضائع ہوگئی تو تاوان لازم ہے اور اگر سفر میں جاناضروری ہے اور تنہا سفر کیا اور ودیعت کو بھی لے گیا ضامن ہے اور بال بچوں کے ساتھ سفر کیا ہے تو ضامن نہیں، دریائی سفر بھی خوفناک ہے کہ اس میں غالب ہلاک ہے۔(8) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۵۷: دوشخصوں نے مل کر ودیعت رکھی ہے اُن میں سے ایک اپنا حصہ مانگتا ہے دوسرے کی عدم موجودگی میں
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الودیعۃ،ج۷،ص۴۸۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون تضییعًا...إلخ،ج۴،ص۳۴۷،۳۴۸.
2 ۔بیجا تصرّف کیا۔ 3 ۔تاوان سے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۳۷،۵۳۸.
5 ۔المرجع السابق .
6 ۔مزدوری۔ 7 ۔خرچ۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۱.
و''البحرالرائق''،کتاب الودیعۃ،ج۷،ص۴۷۲.
امین کو دینا جائز نہیں اور اگر دیدے گا تو ضامن نہیں ا ور ایک نے قاضی کے پاس دعویٰ کیا کہ میرا حصہ دلا دیا جائے تو قاضی دینے کا حکم نہیں دے گا۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۵۸: دوشخصوں نے ودیعت رکھی تھی ایک نے مودَع سے کہا کہ میرے شریک کو سوروپے دے دو اُس نے دیدیے اس کے بعد بقیہ رقم ضائع ہوگئی تو جو شخص سوروپے لے چکا ہے یہ تنہا اسی کے ہیں اس کا ساتھی اِن میں سے نصف نہیں لے سکتا اور اگر یہ کہا تھاکہ اُس میں سے آدھی رقم اُس کو دے دو اُس نے دیدی اور بقیہ رقم ضائع ہوگئی تو ساتھی جو نصف لے چکا ہے اُس میں سے نصف یہ لے سکتا ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۹: دوشخصوں نے ایک شخص کے پا س ہزار روپے ودیعت رکھے مودَع مر گیا اور ایک بیٹا چھوڑا اُن دونوں میں ایک یہ کہتا ہے کہ باپ کے مرنے کے بعد اس لڑکے نے ودیعت ہلاک کردی دوسرے نے کہا معلوم نہیں ودیعت کیا ہوئی توجس نے بیٹے کا ہلاک کرنا بتایا اُس نے مودَع کو بری کردیا یعنی اس کے قول کا مطلب یہ ہوا کہ مرنے والے نے ودیعت کو بعینہٖ(3)قائم رکھا اور بیٹے سے ضمان لینا چاہتا ہے تو بغیر ثبوت اس کی یہ بات کیوں کر مانی جا سکتی ہے لہٰذا بیٹے پر تاوان کا حکم نہیں ہوسکتا اور دوسرا شخص جس نے کہا معلوم نہیں ودیعت کیا ہوئی اُس کو میت کے مال سے پانسو دلائے جائیں گے کیونکہ وہ میت پرتجہیلِ ودیعت کاالزام(4)رکھتا ہے اور اس صورت میں مالِ میت سے تاوان دلانے کا حکم ہوتا ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: مودَع نے ودیعت رکھنے ہی سے انکار کردیا مالک نے گواہوں سے ودیعت رکھنا ثابت کردیا اس کے بعدمودَع گواہ پیش کرتا ہے کہ ودیعت ضائع ہوگئی مودَع کے گواہ نا مقبول ہیں اور اس کے ذمہ تاوان لازم،چاہے اس کے گواہوں سے انکارکے بعد ضائع ہونا ثابت ہویا انکار سے قبل، بہر صورت تاوان دینا ہوگا اور اگر ودیعت رکھنے سے مودَع نے انکار نہیں کیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ میرے پا س تیری ودیعت نہیں ہے اور گواہوں سے ضائع ہونا ثابت کیا،اگر گواہوں سے یہ ثابت ہوکہ اس کہنے سے پہلے ضائع ہوئی تو تاوان نہیں اور اگر اس کہنے کے بعد ضائع ہونا گواہوں نے بیان کیا تو تاوان لازم ہے اور اگر گواہوں سے مطلقاًضائع ہونا ثابت ہوا قبل یا بعد نہیں ثابت ہے جب بھی ضامن ہے۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۱.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الثامن فیما اذاکان...إلخ،ج۴،ص۳۵۴.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الثامن فیما اذاکان...إلخ،ج۴،ص۳۵۵.
3 ۔ویسے ہی،اسی طرح۔ 4 ۔یعنی ودیعت کے بارے میں نہ بتانے کا الزام۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الثامن فیما اذاکان...إلخ،ج۴،ص۳۵۵.
6 ۔المرجع السابق،ص۳۵۶.
مسئلہ ۶۱: ودیعت سے مودَع نے انکار کردیا اس کے بعد ودیعت واپس کردی اور اس کو گواہوں سے ثابت کردیا توگواہ مقبول ہیں اور یہ بَری اور گواہوں سے یہ ثابت کیا کہ انکار سے پہلے ہی ودیعت دیدی تھی اوریہ کہتا ہے کہ میں نے انکار کرنے میں غلطی کی میں بھول گیا تھا تو یہ گواہ بھی مقبول ہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۲: مودَع کہتا ہے میں نے ودیعت واپس کردی چند روز کے بعد کہتا ہے ضائع ہوگئی اس پر تاوان لازم ہے اور اگر کہا کہ ضائع ہوگئی پھر چند روز کے بعد کہتا ہے میں نے واپس کردی میں نے غلطی سے ضائع ہونا کہہ دیا اِس صورت میں بھی تاوان ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۳: مودَع کہتا ہے ودیعت ہلاک ہوگئی اور مالک اس کی تکذیب کرتاہے(3)مالک کہتا ہے اس پر حلف دیا جائے(4) حلف دیا گیا اس نے قسم کھانے سے انکار کردیا ا س سے ثابت ہواکہ چیز اس کے یہاں موجود ہے لہٰذا اس کو قید کیا جائے گااُس وقت تک کہ چیز دیدے یا ثابت کردے کہ چیز نہیں باقی رہی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۴: کسی کے پاس ودیعت رکھ کر پر دیس چلا گیا واپس آنے کے بعد اپنی چیز ما نگتا ہے مودَع کہتا ہے تم نے اپنے بال بچوں پر خرچ کردینے کے لیے کہا تھا میں نے خرچ کردی مالک کہتا ہے میں نے خرچ کرنے کو نہیں کہا تھا مالک کا قول معتبر ہے۔ یوہیں اگر مودَع یہ کہتا ہے کہ تم نے مساکین پر خیرات کرنے کو کہا تھا میں نے خیرات کردی یا فلاں شخص کو ہبہ کرنے کو کہا تھا میں نے ہبہ کر دیا مالک کہتا ہے میں نے نہیں کہا تھا اس میں بھی مالک ہی کا قول معتبر ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۵: کسی کے پاس روپے ودیعت رکھے مالک اُس سے کہتا ہے میں نے فلاں شخص کو حکم دیدیا تھا کہ وہ تمھارے پاس سے وہ روپے لے لے پھر میں نے اُسے منع کردیا مودَع کہتا ہے وہ تو لے بھی گیا اُس شخص سے پوچھا گیا تو کہنے لگا میں نہ مودَع کے پا س گیانہ میں نے روپے لیے مودَع کی بات معتبر ہے اس پر ضمان لازم نہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۶۶: مودَع نے ودیعت سے انکار کردیا پھر اُس مودَع نے اس کے پاس اسی جنس کی چیز ودیعت رکھی یہ شخص اپنے مطالبہ میں اس ودیعت کو روک سکتا ہے اور اگر اس پر قسم دی جائے تو یوں قسم کھائے کہ اُس کی فلاں چیز میرے ذمہ نہیں ہے یہ قسم نہ کھائے کہ اُس نے ودیعت نہیں رکھی ہے کہ یہ قسم جھوٹی ہوگی۔ یوہیں اگر اس کا کسی کے ذمہ دَین تھا مدیون نے دَین سے انکار
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب التاسع فی الاختلاف...إلخ،ج۴،ص۳۵۶.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔جھوٹابتاتاہے یعنی اس سے انکار کرتاہے ۔ 4 ۔قسم دی جائے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب التاسع فی الإختلاف...إلخ،ج۴،ص۳۵۷.
6 ۔المرجع السابق،ص۳۵۸. 7 ۔المرجع السابق.
کردیا پھر مدیون نے اُسی جنس کی چیز ودیعت رکھی اپنے دَین میں اسے روک سکتا ہے اور اگر ودیعت اُس جنس کی چیز نہ ہو تو نہیں روک سکتا(1)۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۷: ایک شخص سے پچاس روپے قرض مانگے اُس نے غلطی سے پچاس کی جگہ ساٹھ دیدیے اس نے مکان پر آکر دیکھا کہ دس زائد ہیں واپس کرنے کو دس روپے لے گیا راستہ میں یہ ضائع ہوگئے اس پر پانچ سدس کا ضمان ہے اور ایک سدس یعنی دس روپے میں سے چھٹے حصہ کا ضمان نہیں کیونکہ جو روپے اُس نے غلطی سے دیے وہ اس کے پاس ودیعت ہیں اور وہ کل کا چھٹا حصہ ہے لہٰذا ان دس کا چھٹا حصہ بھی ودیعت ہے صرف اس چھٹے حصے کا ضمان واجب نہیں اور اگر کل روپے ضائع ہوئے تو پچاس ہی روپے اس کے ذمہ واجب ہیں کیونکہ دس ودیعت ہیں ان کا تاوان نہیں۔ یوہیں اگر کسی کے ذمہ پچاس روپے باقی تھے اُس نے غلطی سے ساٹھ لے لیے دس روپے واپس کرنے جارہا تھا راستہ میں ضائع ہوگئے تو پانچ سدس کا ضمان اس پر واجب ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۸: شادی میں روپے پیسے نچھاور کرنے کے لیے کسی کو دیے تو یہ شخص اپنے لیے اُن میں سے بچا نہیں سکتا اور نہ خود گرے ہوئے کو لوٹ سکتا ہے اور یہ بھی نہیں کرسکتا کہ دوسرے کو لٹانے کے لیے دیدے ۔ شکر اور چھوہارے جو لٹانے کے لیے دیے جاتے ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۹: مسافر کسی کے مکان پر مرگیا اُس نے کچھ تھوڑا سا مال دو تین روپے کا چھوڑا اور اُس کا کوئی وارث معلوم نہیں اور جس کے مکان پر مرا ہے یہ فقیر ہے اُس مال کو اپنے لیے یہ شخص رکھ سکتا ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۰: ایک شخص نے دوشخصوں کے پا س ودیعت رکھی اگر وہ چیز قابلِ قسمت ہے دونوں اُس چیز کو تقسیم کرلیں
1 ۔جبکہ فی زمانہ دائن اگراپنے دَین کی جنس کے علاوہ کسی اورمال کے حصول پرقادرہوتووہ اسے لے سکتاہے،جس کی صراحت اعلیٰ حضرت مجددِدین وملت مولاناشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمن نے فتاوی رضویہ میں کچھ یوں فرمائی ہے:''فی الشامی والطحطاوی عن شرح الکنز للعلامۃ الحموی عن الامام العلامۃعلی المقدسی عن جدہ الاشقرعن شرح القدوری للإمام الأخصب ان عدم جواز الأخذمن خلاف الجنس کان فی زمانہم لمطاوعتہم فی الحقوق والفتوی الیوم علی جوازالأخذعندالقدرۃمن ای مال کان'' ۔
ترجمہ:۔شامی اورطحطاوی میں علامہ حموی کی شرح کنزسے بحوالہ امام علامہ علی مقدسی منقول ہے، انہوں نے اپنے دادااشقرسے بحوالہ شرح قدوری ازامام اخصب ذکرکیاکہ خلاف جنس سے وصول کرنے کاعدم جوازمشائخ کے زمانے میں تھاکیونکہ وہ لوگ حقوق میں باہم متفق تھے،
آج کل فتویٰ اس پرہے کہ جب اپنے حق کی وصولی پرقادرہوچاہے کسی بھی مال سے ہوتووصول کرلیناجائزہے۔ (فتاوی رضویہ،ج۱۷،ص۵۶۲)
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب العاشر فی المتفرقات،ج۴،ص۳۵۹.
3 ۔المرجع السابق،ص۳۶۰. 4 ۔المرجع السابق،ص۳۶۲. 5 ۔المرجع السابق.
ہرایک اپنے حصہ کی حفاظت کرے اگر ایسا نہیں کیا بلکہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو سپرد کردی تو یہ دینے والا ضامن ہے اور اگر وہ چیز تقسیم کے قابل نہیں تو ان میں سے ایک دوسرے کو سپرد کرسکتا ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۷۱: مودِع نے کہہ دیا تھا کہ ودیعت کو دکان میں نہ رکھنا کیونکہ اُس میں سے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے اگر مودَع کے لیے کوئی دوسری جگہ اس سے زیادہ محفوظ ہے اور یہ اس پر قادر بھی تھا کہ اُٹھا کر وہاں لے جاتااور نہ لے گیا اور دکان سے وہ چیز رات میں چوری گئی تو ضمان دینا ہوگا اور کوئی دوسری جگہ حفاظت کی اس کے پاس نہیں یا اُس وقت چیز کو لے جانے پر قادر نہ تھا تو ضامن نہیں۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: مالک نے یہ کہہ دیا ہے کہ اس چیز کو اپنی عیال کے پاس نہ چھوڑنایا اس کمرے میں رکھنا اور مودَع نے ایسے کو دیا جس کے دینے سے چارہ نہ تھا مثلاًزیور تھا بی بی کو دینے سے منع کیا تھا اُس نے بی بی کو دیدیا ،گھوڑا تھا غلام کو دینے سے منع کیا تھا اس نے غلام کو دیدیا اور اُس کمرے کے سوا دوسرے کمرے میں رکھی اور دونوں کمرے حفاظت کے لحاظ سے یکساں ہیں یا یہ اُس سے بھی زیادہ محفوظ ہے اور ودیعت ضائع ہوگئی تاوان لازم نہیں اور اگر یہ باتیں نہ ہوں مثلاًزیور غلام کو دیدیا یا گھوڑا بی بی کی حفاظت میں دیا یا وہ کمرہ اُتنا محفوظ نہیں ہے تو تاوان دینا ہوگا۔(3)(درمختار)
مسئلہ ۷۳: مودِع نے کہااِ س تھیلی میں نہ رکھنا اُس میں رکھنایا تھیلی میں رکھنا صندوق میں نہ رکھنا یا صندوق میں رکھنا اس گھر میں نہ رکھنا اور اُس نے وہ کیا جس سے مودِع نے منع کیا تھا اِن صورتوں میں ضمان واجب نہیں۔ (4)
(عالمگیری)
قاعدہ کلیہ اس باب میں(5)یہ ہے کہ امانت رکھنے والے نے اگر ایسی شرط لگائی جس کی رعایت ممکن ہے اور مفید بھی ہو تو اُس کا اعتبار ہے اور ایسی نہ ہوتو اُس کا اعتبار نہیں مثلاًیہ شرط کہ اسے اپنے ہاتھ ہی میں لیے رہنا کسی جگہ نہ رکھنا یا دہنے ہاتھ میں رکھنا بائیں میں نہ رکھنا یا اس چیز کو دہنی آنکھ سے دیکھتے رہنا بائیں آنکھ سے نہ دیکھنا اس قسم کی شرطیں بیکار ہیں ان پر عمل کرنا کچھ ضرور نہیں۔(6) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۲.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الثالث فی شروط...إلخ،ج۴،ص۳۴۲.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۲.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الثالث فی شروط...إلخ،ج۴،ص۳۴۱.
5 ۔یعنی اس مسئلہ میں کہ مالک اگر منع کرے اور امین وہی کر دے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الثالث فی شروط...إلخ،ج۴،ص۳۴۱.
مسئلہ ۷۴: ایک شخص کے پاس ودیعت رکھی اُس نے دوسرے کے پاس رکھ دی اور ضائع ہوگئی تو فقط مودَع سے ضمان لے گادوسرے سے نہیں لے سکتا اور اگر دوسرے کودی اور وہاں سے ابھی مودَع جدا نہیں ہوا ہے کہ ہلاک ہوگئی تو مودَع سے بھی ضمان نہیں لے سکتا۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۷۵: مالک کہتا ہے کہ دوسرے کے یہاں سے ہلاک ہوگئی اور مودَع کہتا ہے اُس نے مجھے واپس کردی تھی میرے یہاں سے ضائع ہوئی مودَع کی بات نہیں مانی جائے گی اور اگر مودَع سے کسی نے غصب کی ہوتی اور مالک کہتا غاصب کے یہاں ہلاک ہوئی اور مودع کہتا اُس نے واپس کردی تھی میرے یہاں ہلاک ہوئی تو مودَع کی بات مانی جاتی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۷۶: ایک شخص کو ہزار روپے دیے کہ فلاں شخص کو جو فلاں شہر میں ہے دیدینا اس نے دوسرے کو دیدیے کہ تم اُس شخص کو دیدینا اور راستہ میں روپے ضائع ہوگئے اگر دینے والا مرگیا ہے تو مودَع پر تاوان نہیں ہے کہ یہ وصی ہے اور اگر زندہ ہے تو تاوان ہے کہ وکیل ہے ہاں اگر وہ شخص جس کو دیے ہیں اُسکی عیال میں ہے تو ضامن نہیں۔(3)(رد المحتار)
مسئلہ۷۷: دھوبی نے غلطی سے ایک کاکپڑا دوسرے کو دیدیا اُس نے قطع کر ڈالا دونوں ضامن ہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۷۸: جانور کو ودیعت رکھا تھا وہ بیمار ہو ا علاج کرایا اور علاج سے ہلا ک ہوگیا مالک کو اختیارہے جس سے چاہے تاوان لے مودَع سے بھی تاوان لے سکتا ہے اور معالج سے بھی اگر معالج سے تاوان لیا اور بوقت علاج اس کو معلوم نہ تھا کہ یہ دوسرے کا ہے معالج مودَع سے واپس لے سکتا ہے اور اگر معلوم تھا تو نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۷۹: غاصب نے کسی کے پاس مغصوب چیز ودیعت رکھ دی(6)اور ہلاک ہوگئی مالک کو اختیار ہے دونوں میں سے جس سے چاہے ضمان لے اگر مودَع سے تاوان لیا وہ غاصب سے رجوع کرسکتا ہے۔(7) (درمختار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الودیعۃ،ج۲،ص۲۱۶.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۲.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۲.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۳.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔ناجائززبردستی قبضہ کی ہوئی چیزامانت کے طورپررکھ دی۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۴.
مسئلہ۸۰: ایک شخص کو روپے دیے کہ ان کو فلاں شخص کو آج ہی دیدینا اس نے نہیں دیے اور ضائع ہوگئے تاوان لازم نہیں ا س لیے کہ ا س پر اُسی روز دینا لازم نہ تھا، یوہیں مالک نے یہ کہا کہ ودیعت میرے پا س پہنچاجانا اس نے کہا پہنچادوں گا اور نہیں پہنچائی اس کے پاس سے ضائع ہوگئی تاوان واجب نہیں کیونکہ مودَع کے ذمہ یہاں لا کر دینا نہیں ہے کہ تاوان لازم آئے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ۸۱: مالک نے کہا یہ چیز فلاں شخص کو دیدینا یہ کہتا ہے میں نے دیدی مگر وہ کہتا ہے نہیں دی ہے مودَع کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ۸۲: مودَع نے کہا معلوم نہیں ودیعت کیوں کر جاتی رہی ابتداءً اُس نے یہی جملہ کہا یا یوں کہا کہ چیز جاتی رہی اور معلوم نہیں کیوں کر گئی اس صورت میں ضمان نہیں،اور اگر یوں کہا معلوم نہیں ضائع ہوئی یا نہیں ہوئی یا یوں کہا معلوم نہیں میں نے اُسے رکھ دیا ہے یا مکان کے اندر کہیں دفن کردیا ہے یا کسی دوسری جگہ دفن کیا ہے ان صورتوں میں ضامن ہے،اور اگر یوں کہتا کہ میں نے ایک جگہ دفن کردیا تھا وہاں سے کوئی چورالے گیا اگرچہ اُس جگہ کو نہیں بتایاجہاں دفن کیا تھا اس میں ضمان واجب نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ۸۳: دلال کو(4)بیچنے کے لیے کپڑا دیا تھا دلال کہتا ہے کپڑا میرے ہاتھ سے گرگیا اور ضائع ہوگیا معلوم نہیں کیوں کر ضائع ہوا تو اُس پر تاوان نہیں اور دلال یہ کہتا ہے کہ میں بھول گیا معلوم نہیں کس دکان میں رکھ دیا تھا تو تاوان دینا ہوگا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۴: مودَع کہتا ہے ودیعت میں نے اپنے سامنے رکھی تھی بھول کر چلاگیا ضائع ہوگئی اِس صورت میں تاوان دیناہوگا اور اگر کہتا ہے مکان کے اندر چھوڑ کرچلاگیا اور ضائع ہوگئی اگروہ جگہ حفاظت کی ہے کہ اِس قسم کی چیز وہاں بطورِ حفاظت رکھی جاتی ہے تو تاوان نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۵: مکان کسی کی حفاظت میں دے دیا اور اسی مکان کے ایک کمرہ یا کوٹھری میں ودیعت رکھی ہے اگر اس کو
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۴.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص۵۴۵.
4 ۔کمیشن لے کرمال فروخت کرنے والے کو۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون...إلخ،ج۴،ص۳۴۲.
6 ۔المرجع السابق.
مُقَفَّل کردیا (1)ہے کہ آسانی سے نہ کُھل سکتا ہوتوتاوان نہیں ورنہ ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۶: اسکے مکان میں لوگ بکثرت آتے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود چیز کی حفاظت رہتی ہے اور اس نے حفاظت کی جگہ میں ودیعت رکھ دی ہے ضمان واجب نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۷: مالِ ودیعت کو زمین میں دفن کردیا ہے اور کوئی نشان بھی کر رکھا ہے تو ضائع ہونے پر تاوان نہیں اور نشان نہیں کیا تو تاوان ہے اور جنگل میں دفن کردیا ہے تو بہر صورت تاوان ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۸: مودَع کے پیچھے چور لگ گئے اس نے ودیعت کو دفن کردیا کہ چور اسکے ہاتھ سے کہیں لے نہ لیں اور دفن کرکے اُن کے خوف کی وجہ سے بھاگ گیا پھر آکر تلاش کرتا ہے تو پتا نہیں چلتا کہ کہاں دفن کی تھی اگر دفن کرتے وقت اتنا موقع تھا کہ نشانی کردیتا اور نہیں کی تو ضامن ہے اور اگر نشانی کا موقع نہ ملا تو دوصورتیں ہیں اگر جلد آجاتا تو پتہ چل جاتا اور جلد آنا ممکن تھا مگر نہ آیا جب بھی ضامن ہے اور جلد آنا ممکن ہی نہ تھا اِس وجہ سے نہیں آیا تو ضامن نہیں۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ۸۹: زمانہ فتنہ میں ودیعت کو ویرانہ میں رکھ آیا اگر زمین کے اوپر رکھ دی تو ضامن ہے اور دفن کردی تو ضامن نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ۹۰: مودَع یا وصی سے زبردستی مال لینا کوئی چاہتا ہے اگر جان مارنے یا قطع عضو کی(7)دھمکی دی اس نے ڈر کر کچھ مال دیدیا ضمان نہیں اور اگر اس کی دھمکی دی کہ اُسے بند کردے گا یا قید کردے گااور مال دیدیا تو تاوان واجب ہے اور اگر یہ اندیشہ ہے کہ اگر کچھ تھوڑا مال اسے نہ دیا جائے تو کُل ہی چھین لے گا یہ دینے کے لیے عذر ہے یعنی ضمان لازم نہیں۔ (8) (درمختار)
مسئلہ۹۱: ودیعت کے متعلق یہ اندیشہ ہے کہ خراب ہو جائے گی مالک موجود نہیں ہے یا وہ لے نہیں جاتا مودَع کو چاہیے یہ معاملہ حاکم کے پاس پیش کرے تاکہ وہ بیچ ڈالے اور اگر مودَع نے پیش نہ کیا یہاں تک کہ ودیعت خراب ہوگئی تو اس پر
1 ۔تالا لگادیا۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون...إلخ،ج۴،ص۳۴۳.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔جسم کے کسی حصے کو کاٹ دینے کی۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۵.
ضمان نہیں اور اگر وہاں قاضی ہی نہ ہوتو چیز کو بیچ ڈالے اور ثمن محفوظ رکھے۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ۹۲: ودیعت کے متعلق مودَع نے کچھ خرچ کیا اگر یہ قاضی کے حکم سے نہیں ہے مُتَبَرِّع ہے(2)کچھ معاوضہ نہیں پائے گااور اگر قاضی کے پاس معاملہ پیش کیا قاضی اس پر گواہ طلب کریگاکہ یہ ودیعت ہے اور اس کا مالک غائب ہے پھر اگر وہ چیز ایسی ہے جو کرایہ پر دی جاسکتی ہے تو قاضی حکم دے گا کہ کرایہ پر دی جائے اور آمدنی اس پر صرف کی جائے اور اگر کرایہ پر دینے کی چیز نہ ہوتو قاضی یہ حکم دے گاکہ دو تین دن تم اپنے پاس سے اس پر خرچ کرو شاید مالک آجائے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں دے گا بلکہ حکم دے گاکہ چیز بیچ کر اس کا ثمن محفوظ رکھا جائے۔(3) (درمختار،عالمگیری)
مسئلہ۹۳: مُصحَف شریف (4)کو ودیعت یا رہن رکھا تھا۔ مودَع یا مرتہن اُس میں دیکھ کر تلاوت کررہاتھا اسی حالت میں ضائع ہوگیا تاوان واجب نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ۹۴: کتاب ودیعت ہے اس میں غلطی نظر آئی اگر معلوم ہے کہ درست کرنے سے مالک کو ناگوار ی ہوگی درست نہ کرے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ۹۵: ایک شخص کو دس روپے دیے اور یہ کہا کہ ان میں سے پانچ تمھارے لیے ہبہ ہیں اور پانچ ودیعت اُس نے پانچ خرچ کر ڈالے اور پانچ ضائع ہوگئے ساڑھے سات روپے اُس پر تاوان کے واجب ہیں کیونکہ مشاع کا ہبہ(7) صحیح نہیں ہے اور ہبہ فاسد کے طور پر جس چیز پر قبضہ ہوتا ہے اُس کا ضمان لازم ہوتا ہے اور پانچ روپے جو ضائع ہوئے ان میں ودیعت اور ہبہ دونوں ہیں لہٰذا ان کے نصف کا ضمان ہوگا کہ وہ ڈھائی روپے ہیں اور جو خرچ کیے ہیں اُن کے کل کا ضمان(8)ہے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون...إلخ،ج۴،ص۳۴۴.
2 ۔احسان کرنے والاہے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب العاشرفی المتفرقات،ج۴،ص۳۶۰.
4 ۔قرآن پاک۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإیداع،ج۸،ص۵۴۶.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ، الباب العاشر فی المتفرقات،ج۴،ص۳۶۲.
7 ۔ایسی چیزکاہبہ کرناجس میں دو یا دو سے زیادہ افراد شریک ہوں اور دونوں کے حصوں میں فرق نہ کیا جاسکتا ہو ۔مثلاً چکی وغیرہ ۔
8 ۔کہ اگرچہ ان میں ڈھائی ہبہ کے ہیں اور ڈھائی ودیعت کے، مگر ضمان دونوں کا واجب ہے کہ ودیعت کی چیز خرچ کرنے سے ضمان واجب
ہوتا ہے۔ ۱۲ حفظ ربہ
یوں ساڑھے ساتھ روپے کا تاوان واجب۔ اور اگر دیتے وقت یہ کہا کہ ان میں تین تمھیں ہبہ کرتا ہوں اور سات فلاں شخص کو دے آؤ وہ دینے گیا راستہ میں کل روپے ضائع ہوگئے تو صرف تین روپے کا تاوان واجب ہے کہ یہ ہبہ فاسد ہے اور پانچ پانچ روپے کرکے دیے اور یہ کہہ دیا کہ پانچ ہبہ ہیں اور پانچ امانت اور یہ نہیں بتایا کہ کون سے پانچ ہبہ کے ہیں اس نے سب کو خلط کردیا(1)اور ضائع ہوگئے تو پانچ روپے تاوان واجب۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۹۶: ودیعت ایسی چیز ہے جس میں گرمیوں میں کیڑے پڑجاتے ہیں اس نے اُس چیز کو ہوا میں نہیں رکھا اور کیڑے پڑگئے تو اس پر تاوان واجب نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹۷: ودیعت کوچوہوں نے خراب کردیا اگر اس نے پہلے ہی مودِع سے کہہ دیا تھا کہ یہاں چوہے ہیں توتاوان نہیں اور اسے معلوم ہوگیا کہ یہاں چوہے کے بل ہیں اور نہ بند کیے نہ مالک کو خبر دی تو تاوان واجب ہے۔ (4)
(عالمگیری)
مسئلہ ۹۸: جانور کو ودیعت رکھا اور غائب ہوگیا مودَع نے اُس کا دودھ دوہا اور یہ اندیشہ ہے کہ اُس کے آنے تک دودھ خراب ہوجائے گا اُس کو بیچ ڈالا اگر قاضی کے حکم سے بیچا توضامن نہیں اور بغیر حکم قاضی بیچا تو ضامن ہے یعنی اگر یہ ثمن ضائع ہوگا توتاوان دینا ہوگا مگر جبکہ ایسی جگہ ہو جہاں قاضی نہ ہوتو ضامن نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ۹۹: انگوٹھی ودیعت رکھی مودَع نے چھنگلیا (6)یااس کے پا س والی اُنگلی میں ڈال لی اور اسی میں پہنے ہوئے تھا کہ ہلاک ہوگئی تو تاوان لازم ہے اور انگوٹھے یاکلمہ کی اُنگلی یا بیچ کی اُنگلی میں ڈال لی اور اسی حالت میں ہلاک ہوئی تو تاوان نہیں اور عورت کے پاس ودیعت رکھی تو کسی اُ نگلی میں ڈالے گی ضامن ہوگی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ۱۰۰: تھیلی میں روپے کسی کے پاس ودیعت رکھے مودَع کے سامنے گن کر سپرد نہیں کیے جب واپس لیے تو کہتاہے کہ روپے کم ہیں تو مودَع پر نہ ضمان ہے نہ اُس پر حلف(8)دیا جائے ہاں اگر اُس کے ذمہ خیانت یا ضائع کرنے کا الزام لگاتا ہے تو حلف ہوگا۔(9) (عالمگیری)
1 ۔ملادیا۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون ...إلخ،ج۴،ص۳۴۳.
3 ۔المرجع السابق،ص۳۴۴. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔سب سے چھوٹی انگلی ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون ...إلخ،ج۴،ص۳۴۵.
8 ۔ المرجع السابق،ص۳۴۶.
مسئلہ۱۰۱: کونڈا ودیعت رکھا مودَع کے مکان میں تنورتھا اس نے کونڈا تنور پررکھ دیا اینٹ گری اور کونڈاٹوٹ گیا اگر تنور پر رکھنے سے تنور چھپانا مقصود تھا تو تاوان دے اور یہ مقصد نہ تھا بلکہ محض اُس کو رکھنا مقصود تھا تو تاوان نہیں۔ یوہیں رکابی یاطباق(1)کو ودیعت رکھا مودَع نے اُس کو مٹکے یا گولی (2)پر رکھدیا اگر محض رکھنا مقصود ہے تو تاوان نہیں اور چھپانا مقصود ہے توتاوان ہے اور یہ کیسے معلوم ہوگا کہ چھپانا مقصود تھا یا نہیں اس کی صورت یہ ہے کہ اگر مٹکے یا گولی میں پانی یا آٹایا کوئی ایسی چیز ہے جو ڈھانکی جاتی ہوتو چھپانا مقصود ہے اور خالی ہے یا اُس میں کوئی ایسی چیز ہے جو چھپا کرنہ رکھی جاتی ہو تو محض رکھنا مقصود ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ۱۰۲: بکری ودیعت رکھی مودَع نے اپنی بکریوں کے ساتھ اسے چرنے کو بھیج دیااور بکری چوری گئی اگر یہ چرواہا خاص مودَع کا چرواہا ہے تو تاوان نہیں اور اگر خاص نہیں تو تاوان ہے۔(4) (عالمگیری)
دوسرے شخص کو چیز کی منفعت کا بغیر عوض مالک کردینا عاریت ہے جس کی چیز ہے اُسے معیر کہتے ہیں اور جس کو دی گئی مستعیر ہے اور چیز کو مستعار کہتے ہیں۔
مسئلہ ۱: عاریت کے لیے ایجاب وقبول ہونا ضروری ہے اگر کوئی ایسا فعل کیاجس سے قبول معلوم ہوتا ہو تو یہ فعل ہی قبول ہے مثلاًکسی سے کوئی چیز مانگی اُس نے لاکردیدی اور کچھ نہ کہا عاریت ہوگئی اور اگر وہ شخص خاموش رہا کچھ نہیں بولا تو عاریت نہیں۔(5) (بحر)
مسئلہ ۲: عاریت کا حکم یہ ہے کہ چیز مستعیر کے پاس امانت ہوتی ہے اگرمستعیر نے تعدّی نہیں کی ہے(6) اور چیز ہلاک ہوگئی توضمان(7)واجب نہیں اور اسکے لیے شرط یہ ہے کہ شے مستعار اِنتفاع کے قابل ہو(8)اور عوض لینے کی اس میں شرط نہ ہواگر معاوَضہ شرط ہو تو اجارہ ہوجائے گااگرچہ عاریت ہی کالفظ بولا ہو۔ منافع کی جہالت اس کو فاسد نہیں کرتی اور عین مستعار کی
1 ۔ تھالی۔ 2 ۔مٹی کابنا ہوا برتن جس میں پانی یا غلہ رکھتے ہیں ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الودیعۃ،الباب الرابع فیما یکون ...إلخ،ج۴،ص۳۴۷.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۷۶.
6 ۔بے جاتصرّف نہیں کیا ہے۔ 7 ۔تاوان۔ 8 ۔یعنی اُدھار لی ہوئی چیزکام میں لانے کے قابل ہو۔
جہالت سے عاریت فاسد ہے مثلاً ایک شخص سے سواری کے لیے گھوڑا مانگااُس نے کہا اصطبل(1)میں دو گھوڑے بندھے ہیں اُن میں سے ایک لے لو مستعیر ایک لیکر چلاگیا اگر ہلاک ہوگا ضمان دینا ہوگا اور اگرمالک نے یہ کہااُن میں سے جو تو چاہے ایک لے لے تو ضمان نہیں بغیر مانگے کسی نے کہہ دیا یہ میرا گھوڑا ہے اس پر سواری لویا غلام ہے اِس سے خدمت لو یہ عاریت نہیں یعنی خرچہ مالک کو دینا ہوگا اس کے ذمہ نہیں۔(2) (بحر)
مسئلہ ۳: عاریت کے بعض الفاظ یہ ہیں میں نے یہ چیز عاریت دی، میں نے یہ زمین تمھیں کھانے کو دی،یہ کپڑا پہننے کو دیا، یہ جانورسواری کودیا، یہ مکان تمھیں رہنے کو دیا، یا ایک مہینے کے لیے رہنے کو دیا، یا عمر بھر کے لیے دیا، یہ جانور تمہیں دیتا ہوں اِس سے کام لینا اور کھانے کودینا۔ (3)
مسئلہ ۴: ایک شخص نے کہا اپنا جانور کل شام تک کے لیے مجھے عاریت دے دو اُس نے کہا ہاں دوسرے نے بھی کہا کہ کل شام تک کے لیے اپنا جانور مجھے عاریت دے دو اس سے بھی کہا ہاں تو جس نے پہلے مانگا وہ حقدار ہے اور اگر دونوں کے مونھ سے ایک ساتھ بات نکلی تو دونوں کے لیے عاریت ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: عاریت ہلاک ہوگئی اگر مستعیر نے تعدّی نہیں کی ہے یعنی اُس سے اُسی طرح کام لیا جو کام کا طریقہ ہے اورچیز کی حفاظت کی اور اُس پر جو کچھ خرچ کرنا مناسب تھا خرچ کیا تو ہلاک ہونے پر تاوان نہیں اگرچہ عاریت دیتے وقت یہ شرط کرلی ہو کہ ہلاک ہونے پر تاوان دینا ہوگا کہ یہ باطل شرط ہے جس طرح رہن میں ضمان نہ ہونے کی شرط باطل ہے۔(5)(بحر)
مسئلہ ۶: دوسرے کی چیز عاریت کے طور پر دیدی مستعیر کے یہاں ہلاک ہوگئی تومالک کو اختیار ہے پہلے سے تاوان لے یا دوسرے سے اگر دوسرے سے تاوان لیا تو یہ پہلے سے رجوع کرسکتا یہ اُس وقت ہے کہ مستعیر کو یہ نہ معلوم ہوکہ یہ چیز دوسرے کی ہے اور اگر معلوم ہے کہ دوسرے کی چیز ہے تو مستعیر کو ضمان دینا ہوگااور مالک نے اس سے ضمان لیا تو یہ معیر سے رجوع نہیں کرسکتا اور مالک کو یہ بھی اختیار ہے کہ مُعیر سے ضمان وصول کرے اس سے لیا تو یہ مستعیر سے رجوع نہیں کرسکتا۔(6) (بحر)
1 ۔گھوڑاباندھنے کی جگہ۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۷۶،۴۷۷.
3 ۔المرجع السابق،ص۴۷۶.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب الثانی فی الألفاظ...إلخ،ج۴،ص۳۶۴.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۷۸.
6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۷: تعدّی کی بعض صورتیں یہ ہیں بہت زورسے لگام کھینچی یا ایسا مارا کہ آنکھ پھوٹ گئی یا جانورپراتنا بوجھ لاد دیاکہ معلوم ہے ایسے جانور پر اتنا بوجھ نہیں لاداجاتایا اتنا کام لیا کہ اُتنا کام نہیں لیا جاتا۔ گھوڑے سے اُتر کر مسجدمیں چلاگیا گھوڑاوہیں راستہ میں چھوڑ دیا وہ جاتا رہا، جانور اس لیے لیا کہ فلاں جگہ مجھے سوار ہو کر جانا ہے اور دوسری طرف نہر پر پانی پلانے لے گیا۔ بیل لیا تھا ایک کھیت جو تنے کے لیے اُس سے دوسراکھیت جوتا،اس بیل کے ساتھ دوسر ا اعلیٰ درجہ کا بیل ایک ہل میں جوت دیا اور ویسے بیل کے ساتھ چلنے کی اس کی عادت نہ تھی اور یہ ہلاک ہوگیا۔ جنگل میں گھوڑالیے ہوئے چت سوگیا اور باگ ہاتھ میں ہے اور کوئی شخص چورالے گیا اور بیٹھا ہواسویا تو ضمان نہیں اور اگر سفر میں ہوتا تو چاہے لیٹ کر سوتا یا بیٹھ کر اس پر ضمان نہیں ہوتا۔ (1) (بحر)
مسئلہ ۸: مستعار چیز سریا کروٹ کے نیچے رکھ کر چت سو گیا ضمان نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: گھوڑا یا تلوار اس لیے عاریت لیتا ہے کہ قتال (3)کریگا تو گھوڑا مارا جائے یا تلوار ٹوٹ جائے اس کا ضمان نہیں(4)اور اگر پتھر پر تلوار ماری اور ٹوٹ گئی تو تاوان ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: عاریت کو نہ اُجرت پر دے سکتا ہے اور نہ رہن رکھ سکتاہے مثلاًمکان یا گھوڑا عاریت پر لیا اور اس کو کرایہ پرچلایا یا روپیہ قرض لیا اور عاریت کورہن رکھ دیا یہ نا جائز ہے ہاں عاریت کو عاریت پر دے سکتا ہے بشرطیکہ وہ چیز ایسی ہوکہ استعمال کرنے والوں کے اختلاف سے اُس میں نقصان نہ پیدا ہو جیسے مکان کی سکونت، جانورپر بوجھ لادنا۔ عاریت کو ودیعت رکھ سکتا ہے مثلاًعاریت کی چیز کاخود پہنچانا ضروری نہیں ہے دوسرے کے ہاتھ بھی مالک کے پاس بھیج سکتا ہے۔ (6) (بحر،درمختار،ہدایہ)
مسئلہ اا: مستعیر نے عاریت کو کرایہ پر دیدیا یا رہن رکھ دیا اور چیز ہلاک ہوگئی مالک مستعیر سے تاوان وصول کرسکتا
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۷۸.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب الخامس فی تضییع العاریۃ...إلخ،ج۴،ص۳۶۸.
3 ۔جہاد۔ 4 ۔تاوان نہیں۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب الخامس فی تضییع العاریۃ...إلخ،ج۴،ص۳۶۹.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۷۹.
و''الدرالمختار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۵۲.
و''الھدایۃ''،کتاب العاریۃ،ج۲،ص۲۱۹.
ہے اور یہ کسی سے رجوع نہیں کرسکتا (1)اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مستاجریا مرتہن سے تاوان وصول کرے پھر یہ مستعیر سے واپس لیں کیونکہ اُسی کی وجہ سے یہ تاوان اِن پر لازم آیا یہ اُس وقت ہے کہ مستاجر کو یہ معلوم نہ تھا کہ پرائی چیز کرایہ پر چلارہا ہے اور اگر معلوم تھا تو تاوان کی واپسی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کو کسی نے دھوکا نہیں دیا ہے۔(2)
(ہدایہ)
مسئلہ ۱۲: مُستَعیر نے عاریت کی چیز کرایہ پر دیدی اور چیز ہلاک ہوگئی اس کو تاوان دینا پڑا تو جو کچھ کرایہ میں وصول ہواہے اُس کا مالک یہی ہے مگر اسے صدقہ کردے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: گھوڑا عاریت لیا اور یہ نہیں بتایا کہ کہاں تک اِس پر سوار ہوکر جائے گا تو شہر کے باہر نہیں لے جاسکتا۔ (4)
(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: چیز عاریت پر لینے کے لیے کسی کو بھیجا قاصد کو مالک نہیں ملا اور چیز گھر میں تھی یہ اوٹھا لایا اور مستعیر کو دیدی مگر اُس سے یہ نہیں کہاکہ بے اجازت لایاہوں اگرچیز ضائع ہوجائے تو مالک تاوان لے سکتا ہے اختیار ہے مستعیر سے لے یا قاصد سے اور جس سے بھی لے گا وہ دوسرے سے رجوع نہیں کرسکتا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: نابالغ بچہ کا مال اُس کا باپ کسی کو عاریت کے طور پر نہیں دے سکتا۔ غلام ماذون مولےٰ کا مال(6) عاریت دے سکتا ہے۔ عورت نے شوہر کی چیز عاریت پردیدی اگر یہ چیز اس قسم کی ہے جو مکان کے اندر ہوتی ہے اور عادۃً عورتوں کے قبضہ بلکہ تصرّف(7)میں رہتی ہے اس کے ہلاک ہونے پر تاوان کسی پر نہیں نہ مستعیر پر نہ عورت پر۔ گھوڑایا بیل عورت نے منگنی (8)دیدیامستعیر اور عورت دونوں ضامن ہیں کہ یہ چیزی ورتوں کے قبضہ کی نہیں ہوتیں۔(9)(بحر)
مسئلہ ۱۶: مالک نے مستعیر سے منفعت کے متعلق کہہ دیا ہے کہ اس چیز سے یہ کام لیا جائے یا وقت کی پابندی کردی ہے کہ اتنے وقت تک یا دونوں باتیں ذکر کردی ہیں یہ تین صورتیں ہوئیں عاریت میں چوتھی صورت یہ ہے کہ وقت و مَنْفِعَت
1 ۔ یعنی مستعیر کسی سے تاوان نہیں لے سکتا ۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب العاریۃ،ج۲،ص۲۱۹.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب الثالث فی التصرفات...إلخ،ج۴،ص۳۶۴.
4 ۔المرجع السابق،ص۳۶۴،۳۶۵.
5 ۔المرجع السابق،الباب الخامس فی تضییع العاریۃ...إلخ،ج۴،ص۳۶۹.
6 ۔آقا(مالک) کامال۔ 7 ۔استعمال۔ 8 ۔عاریتاً۔
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۷۸.
دونوں میں کسی بات کی قید نہ ہو اِس میں مستعیر کو اختیار ہے کہ جس قسم کا نفع چاہے اور جس وقت میں چاہے لے سکتا ہے کہ یہاں کوئی پابندی نہیں۔ تیسری صورت میں کہ دونوں باتوں میں تقییدہو(1)یہاں مخالفت نہیں کرسکتا مگر ایسی مخالفت کرسکتاہے کہ جو کام لیتا ہے اُسی کے مثل ہے جو اُس نے کہہ دیا یا اُس چیز کے حق میں اُس سے بہتر ہے۔ مثلاًجانور لیا ہے کہ اس پر یہ دومن گیہوں لاد کر فلاں جگہ پہنچائے گا اور بجائے اُس گیہوں کے دوسرے دومن گیہوں لاد کر اُسی جگہ لے گیا کہ گیہوں، گیہوں دونوں یکساں ہیں یا اُس سے کم مسافت پر لے گیا کہ یہ اُس سے آسان ہے یا گیہوں کی دو بوریاں لادنے کو کہا تھا جَوکی دو بوریاں لادیں کہ یہ اُن سے ہلکے ہوتے ہیں۔ پہلی اور دوسری صورت میں مخالفت نہیں کرسکتا مگرایسی مخالفت کرسکتا ہے کہ جو کہہ دیا ہے اُسی کی مثل ہو یا اُس سے بہتر اور چوتھی صورت میں اُس پر خود سوار ہوسکتاہے دوسرے کو سوار کرسکتا ہے خود بوجھ لادسکتا ہے دوسرے کو لادنے کے لیے دے سکتا ہے مگر یہ ضرور ہے کہ خودسوارہوا تو دوسرے کو اب نہیں سوارکرسکتا اور دوسرے کو سوار کیا تو خود سوار نہیں ہوسکتا کہ اگرچہ مالک کی طرف سے قید نہ تھی مگر ایک کے کرنے کے بعد وہی متعین ہوگیا دوسر ا نہیں کرسکتا۔(2)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۷: اجارہ میں بھی یہی صورتیں اور یہی احکام ہیں اور مخالفت کرنے کی صورت میں اگر وہ مخالفت جائز نہ ہواور چیز ہلاک ہوجائے توعاریت و اجارہ دونوں میں ضمان دینا ہوگا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: مکیل (4)و موزون (5)وعددی متقارب (6)کو عاریت لیا اور عاریت میں کوئی قید نہیں تو عاریت نہیں بلکہ قرض ہے مثلاًکسی سے روپے، پیسے، گیہوں،جَو وغیرہا عاریت لیے ،اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اِن چیزوں کو خرچ کریگااور اسی قسم کی چیز دے گا یعنی روپیہ لیا ہے تو روپیہ دے گا پیسہ لیا ہے تو پیسہ دے گا اور جتنا لیا اُتنا ہی دے دیگایہ عاریت نہیں بلکہ قرض ہے کیونکہ عاریت میں چیز کو باقی رکھتے ہوئے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے اور یہاں ہلاک و خرچ کرکے فائدہ اُٹھانا ہے لہٰذا فرض کروکہ قبلِ اِنتفاع (7)یہ چیز یں ضائع ہو جائیں جب بھی تاوان دینا ہوگا کہ قرض کا یہی حکم ہے کہ لینے والا مالک ہوجاتاہے نقصان ہوگا تو اس کا ہوگادینے والے کا نہیں ہوگا ہاں اگر ان چیزوں کے عاریت لینے میں کوئی ایسی بات ذکر کردی جائے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہوکہ حقیقۃًعاریت ہی ہے قرض نہیں تو اُسے عاریت ہی قرار دیں گے مثلاًروپے یا پیسے مانگتا ہے کہ اس سے کوئی
1 ۔یعنی وقت کی پابندی ہواور چیز سے جوکام لینا ہے وہ بھی بتا دیا ہو۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب العاریۃ،ج۲،ص۲۱۹.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۵۵،۵۵۶.
4 ۔جو چیزیں ماپ کر بیچی جاتی ہیں۔ 5 ۔جو چیزیں وزن کر کے بیچی جاتی ہیں۔
6 ۔گن کر بیچی جانے والی وہ اشیا جن کے افراد میں زیادہ فرق نہ ہو۔ 7 ۔فائدہ حاصل کرنے سے پہلے۔
چیزوزن کریگا یا اس سے تول کر باٹ بنائے گا(1)یا اپنی دوکان کو سجائے گا تو عاریت ہے۔(2) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۹: پہننے کے کپڑے قرض مانگے یہ عرفاًعاریت ہے پیوند مانگا کہ کرتے میں لگائے گا یا اینٹ یاکڑی (3) مکان میں لگانے کے لیے عاریت مانگی اور ان سب میں یہ کہہ دیا ہے کہ واپس دیدوں گا توعاریت ہے اور یہ نہیں کہا ہے تو قرض ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: کسی سے ایک پیا لہ سالن مانگا یہ قرض ہے اور اگر دونوں میں انبساط وبے تکلفی ہو تو اباحت ہے۔ گولی، چھرے عاریت لیے یہ قرض ہے اور اگر نشانہ پر مارنے کے لیے یعنی چاندماری کے لیے گولی لی ہے تو عاریت ہے کیونکہ اُسے واپس دے سکتا ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: عاریت دینے والا جب چاہے اپنی چیز واپس لے سکتا ہے جب یہ واپس مانگے گا عاریت باطل ہوجائے گیعاریت کی ایک مدت مقرر کردی تھی مثلاً ایک ماہ کے لیے یہ چیز دی اور مالک نے مدت پوری ہونے سے قبل مطالبہ کرلیا عاریت باطل ہوگئی اگرچہ مالک کو ایساکرنا مکروہ وممنوع ہے کہ وعدہ خلافی ہے مگر واپس لینے میں اگر مستعیر کا ظاہر نقصان ہو توچیزاُس کے قبضہ سے نہیں نکال سکتا بلکہ چیز اُس مدت تک مستعیر کے پاس بطورِ اجارہ رہے گی مالک کو اُجرت مثل ملے گی مثلاً ایک شخص کی لونڈی کو بچہ کے دودھ پلانے کے لیے عاریت پر لیا اور اندرونِ مدتِ رضاعت(6) مالک لونڈی کو مانگتا ہے اور بچہ دوسری عورت کا دودھ نہیں لیتا جب تک مدت پوری نہ ہو لونڈی نہیں لے سکتا ہاں اس زمانہ کی واجبی اُجرت(7)وصول کرسکتا ہے کیوں کہ عاریت باطل ہوگئی۔ جہاد کے لیے گھوڑا عاریت لیا تھا اور چار ماہ اس کی مدت تھی دو مہینے کے بعد مالک اپنے گھوڑے کوواپس لینا چاہتا ہے اگر اسلامی علاقہ میں ہے مالک کو واپس دے دیاجائے گا اور اگر بلادِشرک میں مطالبہ کرتا ہے ایسی جگہ کہ نہ وہاں کرایہ پر گھوڑا مل سکتا ہے نہ خریدسکتا ہے تو مستعیر واپس دینے سے انکار کرسکتا ہے اور ایسی جگہ تک آنے کا کرایہ دے گا
1 ۔یعنی ترازو کا پتھر بنائے گا۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب العاریۃ،ج۲،ص۲۲۰.
و''الدرالمختار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۵۶.
3 ۔شہتیر۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب الاول فی تفسیرھاشرعاً...إلخ،ج۴،ص۳۶۳ .
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۵۶.
6 ۔دودھ پلانے کی مدت کے دوران۔ 7 ۔رائج اُجرت،رائج معاوضہ۔
جہاں کرایہ پر گھوڑا ملتا ہو یا خریدا جاسکتا ہو۔ (1) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۲۲: پیپا(2)وغیرہ کوئی ظرف(3)مستعار لیا(4)اُس میں گھی تیل وغیرہ بھر کر لے جارہا تھاجب جنگل میں پہنچاتومالک واپس مانگنے لگا جب تک آبادی میں نہ آجائے دینے سے انکار کرسکتا ہے مالک فقط یہ کرسکتا ہے کہ اتنی دیر کی اُجرت لے لے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: زمین عاریت لی کہ اس میں مکان بنائے گایا درخت نصب کریگایہ عاریت صحیح ہے اور مالک زمین کو یہ اختیار ہے کہ جب چاہے اپنی زمین خالی کرالے کیونکہ عاریت میں کوئی پابندی مالک پر لازم نہیں اور اگر مکان یا درخت کھود کر نکالنے میں زمین خراب ہوجانے کا اندیشہ ہوتو اِس ملبہ کی جو مکان کھودنے کے بعد قیمت ہوگی یا درخت کے کاٹنے کے بعد جو قیمت ہوگی مالک ِزمین سے دلادی جائے اور مالکِ مکان و درخت اپنے مکان و درخت کو بجنسہٖ چھوڑ دے(6)۔ مالک ِزمین نے مستعیر کے لیے کوئی مدت مقرر کردی تھی مثلاًدس سال کے لیے یہ زمین مکان بنانے کو یا درخت لگانے کو عاریت دی اور مدت پوری ہونے سے پہلے زمین واپس لینا چاہتا ہے اگرچہ یہ مکروہ ووعدہ خلافی ہے مگر واپس لے سکتا ہے، کیونکہ یہ عقد اُس کے ذمہ قضاءً (7)لازم نہیں مگر اس عمارت اور درخت کی وجہ سے مستعیرکا جو کچھ نقصان ہوگا مالک زمین اُس کو ادا کرے یعنی کھڑی عمارت کی قیمت لگائی جائے اور ملبہ جدا کردینے کے بعد جو قیمت ہوا س میں عمارت کی قیمت سے جو کمی ہومالک ِزمین یہ رقم مستعیر کو دے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: زمین زراعت کے لیے عاریت دی اور واپس لینا چاہتا ہے جب تک فصل طیار نہ ہو اور کھیت کاٹنے کاوقت نہ آئے واپس نہیں لے سکتا وقت مقرر کرکے دی ہو یا مقرر نہ کیا ہو دونوں کا ایک حکم ہے یہ البتہ ہے کہ فصل طیار ہونے تک زمین کی جو اُجرت ہو مالک زمین کو دلادی جائے گی۔ اگر کھیت بولیا ہے مگر ابھی تک جما نہیں ہے(9) مالک زمین یہ کہتا ہے کہ بیج لے لواور جو کچھ صرفہ ہوا (10)ہے وہ لے لو اور کھیت چھوڑ دو یہ نہیں کرسکتا اگرچہ کاشتکاراس پر راضی بھی ہو کیونکہ جمنے سے
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۷۷.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۵۱.
2 ۔کنستر۔ 3 ۔برتن۔ 4 ۔عاریتاًلیا،مانگا۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب السابع فی استرداد العاریۃ...إلخ،ج۴،ص۳۷۱.
6 ۔یعنی نہ درخت کاٹے نہ مکان گرائے بلکہ ویسے ہی رہنے دے ۔ 7 ۔شرعی فیصلے کی رو سے۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۵۶.
9 ۔یعنی اُگا نہیں ہے۔ 10 ۔خرچہ ہوا۔
پہلے زراعت کی بیع نہیں ہوسکتی اور کھیت جم گیا ہے تو ایسا کیاجاسکتا ہے۔(1) (بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: مکان عاریت پر لیا اور مستعیر نے مٹی کی اُس میں کوئی دیوار بنوائی مکان والے نے مکان واپس لیا مستعیر اُس دیوار کی قیمت یا صرفہ لینا چاہتا ہے نہیں لے سکتااور اگر چاہتا ہے کہ دیوارگرادے تو گرا بھی نہیں سکتا اگر دیوار مالک ِمکان کی مٹی سے بنوائی ہے۔ زمین عاریت پر لی کہ اس میں مکان بنائے گا اور رہے گا اور جب یہاں سے چلا جائے گا تو مکان مالک زمین کا ہوجائے گا یہ عاریت نہیں ہے بلکہ اجارہ فاسدہ ہے اس کا حکم یہ ہے کہ جب تک مستعیر وہاں رہے زمین کا واجبی کرایہ اُسکے ذمہ ہے اور جب چھوڑدے تو مکان کا مالک مستعیرہے مالک ِزمین نہیں۔ (2) (بحر)
مسئلہ ۲۶: کسی سے کہا کہ میری اس زمین میں مکان بنالو میں تمھارے پا س اس زمین کو ہمیشہ رہنے دوں گا یا فلاں وقت تک تمھیں نہیں نکالوں گا اور اگر میں نکالوں تو جوکچھ تم خرچ کروگے میں اُس کا ضامن ہوں اور عمارت میری ہوگی اس صورت میں اگر مستعیرکو نکالے گا عمارت کی قیمت دینی ہوگی اور عمارت مالک ِزمین کی ہوگی۔(3)(خانیہ)
مسئلہ ۲۷: جانور عاریت پرلیا ہے تو اُس کا چارہ دانہ گھاس سب مستعیر کے ذمہ ہے یہی حکم لونڈی غلام کا ہے کہ اُنکی خوراک مستعیر کے ذمہ ہے۔ (4) (ردالمحتار)
اور اگر بے مانگے خود مالک نے کہا کہ تم اسے لے جاؤاور اس سے کام لو تو اس صورت میں خوراک مالک کے ذمہ ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: مستعیر کے پاس ایک شخص آکر یہ کہتا ہے کہ فلاں شخص سے فلاں چیز میں نے عاریت لی ہے اور وہ تمھارے یہاں ہے اُس نے کہہ دیا ہے کہ تم وہاں سے لے لو مستعیر نے اُس کو وکیل سمجھ کرچیز دیدی مالک نے انکار کیا کہتا ہے میں نے اُس سے یہ نہیں کہا تھا تو مستعیر کو تاوان دینا ہوگااور اوس شخص سے واپس بھی نہیں لے سکتا جبکہ اُس کی تصدیق کی تھی ہاں اگر اُس کی تصدیق نہیں کی تھی یا تکذیب کی تھی(6)یا شرط کردی تھی کہ ہلاک ہوئی تو تاوان دینا ہوگااس صورت میں جو کچھ مستعیرنے تاوان دیا ہے اِس سے وصول کرسکتا ہے۔ اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جب مستعیر ایسا تصرف کرے جو موجبِ ضمان(7)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۸۱.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب السابع فی استرداد العاریۃ...إلخ،ج۴،ص۳۷۰.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۸۱.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب العاریۃ،فصل فیما یضمن المستعیر،ج۴،ص۳۵۲.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۵۸.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب التاسع فی المتفرقات،ج۴،ص۳۷۲.
6 ۔جھٹلایا تھا۔ 7 ۔تاوان کو لازم کرنے والا۔
ہو اور دعویٰ یہ کرے کہ مالک کی اجازت سے میں نے کیا ہے اور مالک اسکی تکذیب کرے تو مستعیر(1)کو ضمان دینا ہوگا، ہاں اگر گواہوں سے مالک کی اجازت ثابت کردے تو ضمان سے بری ہے۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: عاریت کی واپسی مستعیر کے ذمہ ہے جو کچھ واپس کرنے میں صرفہ(3)ہوگا یہ اپنے پاس سے دے گا۔ عاریت کے لیے کوئی وقت معین کردیاتھا کہ اتنے دنوں کے لیے یا اتنی دیر کے لیے چیز دیتا ہوں وہ وقت گزر گیااور چیز نہیں پہنچائی اور ہلاک ہوگئی مستعیر کے ذمہ تاوان ہے کہ اِس نے وقت پورا ہونے کے بعد کیوں نہیں پہنچائی جبکہ پہنچانا اِس کے ذمہ تھا۔ اگر مستعیر نے عاریت اس لیے لی ہے کہ اُسے رہن رکھے گا اور فرض کرو وہ چیز ایسی ہے کہ اُسکی واپسی میں کچھ صرفہ ہوگا تو یہ صرفہ مستعیر کے ذمہ نہیں ہے بلکہ مالک کے ذمہ ہے پہلے جو بیان کیاگیا ہے کہ واپسی کا خرچہ مستعیر کے ذمہ ہے اِس حکم سے صورت مذکورہ کا استثناہے۔ (4) (بحر)
مسئلہ ۳۰: ایک شخص نے یہ وصیت کی ہے کہ میرا غلام فلاں شخص کی خدمت کرے یعنی وہ وارث کی ملک ہے(5) اور موصیٰ لہ کی اتنے دنوں خدمت کرے اس میں بھی واپسی کا صرفہ موصیٰ لہ کے ذمہ ہے۔ غصب ورہن میں واپسی کی ذمہ داری ومصارف(6)غاصب ومرتہن پر ہیں۔ مالک نے اپنی چیز اُجرت پر دی تو واپسی کی ذمہ داری ومصارف مالک پرہیں۔ یہ اُس وقت ہے کہ وہاں سے لے جانا مالک کی اجازت سے ہو مثلاًکہیں جانے کے لیے ٹٹو (7)کرایہ پر لیا وہاں تک گیا ٹٹوواپس کرنا اس کا کام نہیں بلکہ مالک کاکام ہے اور اگر اُس کے حکم سے نہیں لے گیا ہے تو پہنچانا اس کے ذمہ ہے۔ مثلاًکرسی کرایہ پر لی اور شہر سے باہر لے گیا تو واپس کرنا اس کا کام ہوگا۔ شرکت ومضارَبت اور موہوب شے(8)جس کو مالک نے واپس کرلیا اِن سب کی واپسی مالک کے ذمہ ہے۔ اجیر مشترک جیسے درزی دھوبی کپڑے کی واپسی ان کے ذمہ ہے۔ (9) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔عاریت لینے والا۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۵۸.
3 ۔خرچہ۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۸۱.
5 ۔یعنی وارث ہی اس کامالک ہے ۔ 6 ۔اخراجات۔
7 ۔چھوٹے قد کا گھوڑا۔ 8 ۔ہبہ کی گئی چیز۔
9 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۵۸.
مسئلہ ۳۱: مستعیرنے جانور کو اپنے غلام یا نوکر کے ہاتھ یا مالک کے غلام کے ہاتھ یا نوکر کے ہاتھ واپس کردیا اور مالک کے قبضہ کرنے سے پہلے ہلاک ہوگیا مستعیر تاوان سے بَری ہوگیا کہ جس طرح واپس کرنے کا دستور تھا بجالایا اگر مزدور کے ہاتھ واپس کیا ہوجو روز پر کام کرتاہے وہ مستعیرکا مزدور ہو یا مالک کایا اجنبی کے ہاتھ واپس کیا اور قبضہ سے پہلے ہلاک ہوجائے تو ضمان دینا ہوگایہ اوس صورت میں ہے کہ عاریت کے لیے مدت تھی اور مدت گزرنے کے بعد مزدور یا اجنبی کے ہاتھ بھیجا ہو اور مدت نہ ہو یا مدت کے اندر بھیجا ہوتو اس میں تاوان نہیں کیونکہ مستعیرکو ودیعت رکھنا جائز ہے۔(1)(درمختار)
مسئلہ ۳۲: عمدہ ونفیس اشیاء جیسے زیور موتیوں کا ہاران کو غلام اور نوکر کے ہاتھ واپس کرنے سے تاوان سے بری نہیں ہوگا کیونکہ یہ چیزیں اس طرح واپس نہیں کی جاتیں۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: مستعیر گھوڑے کو مالک کے اصطبل(3)میں باندھ گیا یا غلام کو مکان پر پہنچا گیا بری ہوگیا اور اگر گھوڑا غصب کیا ہوتایا ودیعت کے طور پر ہوتا تواِس طرح پہنچاجاناکافی نہ ہوتا بلکہ مالک کو قبضہ دلانا ہوتا۔(4) (بحر)
اور اگر اصطبل مکان سے باہر ہے وہاں باندھ گیا تو عاریت کی صورت میں بھی بری نہیں۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: چیز واپس کرنے لایا مالک نے کہا اُس جگہ رکھ دو رکھنے میں وہ چیز ٹوٹ گئی مگر اُس نے قصداً (6) نہیں توڑی ضمان واجب نہیں۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: دوشخص ایک کمرہ میں رہتے ہیں ایک جانب ایک دوسری جانب دوسرا ایک نے دوسرے سے کوئی چیز عاریت لی جب معیرنے واپس مانگی تو مستعیرنے کہا کہ تمھاری جانب جو طاق (8)ہے اُس پر میں نے چیز رکھ دی تھی تو مستعیرپر ضمان(9) واجب نہیں جبکہ یہ مکان انھیں دونوں کے قبضے میں ہے۔(10) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۵۹.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔گھوڑاباندھنے کی جگہ۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب العاریۃ،ج۷،ص۴۸۲.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب السادس فی ردالعاریۃ،ج۴،ص۳۶۹.
6 ۔ارادۃً،جان بوجھ کر۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب السادس فی ردالعاریۃ،ج۴،ص۳۶۹.
8 ۔دیوار کے آثار میں خانہ داری کی معمولی چیزیں رکھنے کی محراب دار یا چوکور جگہ۔ 9 ۔تاوان۔
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب الثامن فی الاختلاف...إلخ،ج۴،ص۳۷۲.
مسئلہ ۳۶: سونے کا ہار عاریت مانگ لایا اور بچہ کو پہنا دیا اُس کے پا س سے چوری ہوگیا اگر بچہ ایسا ہے کہ ایسی چیزوں کی حفاظت کرسکتاہے تو تاوان نہیں، ورنہ تاوان دینا ہوگا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۳۷: باپ کو اختیار نہیں ہے کہ نابالغ کی چیز عاریت دے دے قاضی اور وصی بھی نہیں دے سکتے۔(2)
(درمختار)
مسئلہ ۳۸: ایک شخص سے بیل عاریت مانگا اُس نے کہا کل دوں گا دوسرے دن مانگنے والا آیا اور بغیر اجازت بیل کھول لے گیااُسے کام میں لایا اور بیل مرگیا تاوان دینا ہوگا کہ بغیر اجازت لے گیا ہے اور اگر صورت یہ ہے کہ مالک سے یہ کہا کہ مجھ کو کل بیل دے دو مالک نے کہا ہاں اور بغیر اجازت لے گیااور مرگیا تو تاوان نہیں فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں دوسرے دن بیل دینے کا وعدہ کیا ہے ابھی عاریت دیا نہیں اور دوسری صورت میں عاریت ابھی دیدی اور مستعیر کل لے جائے گا اور کل قبضہ کریگا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۹: لڑکی رخصت کی اور جہیزبھی ویسا دیا جیسا ایسے لوگوں کے یہاں دیا جاتا ہے اب یہ کہتا ہے کہ سامان جہیز میں نے عاریت کے طور پر دیا تھا اگر وہاں کاعرف (4)یہ ہے کہ باپ بیٹی کو جوکچھ جہیز دیتا ہے وہ لڑکی کی ملک ہوتا ہے عاریت کے طور پر نہیں ہوتا تواس شخص کی بات کہ عاریت ہے مقبول نہیں اور اگر عرف عاریت ہی کا ہے یا اکثر عاریت کے طور پر دیتے ہیں یا دونوں طرح یکساں چلن ہے توا ُسکی بات مقبول ہے لڑکی کی ماں یا نابالغہ کے ولی نے وہی بات کہی جو باپ نے کہی تھی توان کا بھی وہی حکم ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۴۰: عاریت کی وصیت کی ہے ورثہ اس سے رجوع نہیں کرسکتے۔ عاریت کا حکم اجارہ کی طرح ہے کہ دونوں میں سے ایک مرجائے عاریت فسخ ہوجائے گی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۴۱: جانور کو کسی مقام تک کے لیے کرایہ پر لیا تو صرف وہاں تک جانا ہی کرایہ پر ہے آنا داخل نہیں اور اگر اُس مقام تک کے لیے عاریت پرلیا ہے تو آمدورفت دونوں شامل ہیں۔ کہیں جانے کے لیے جانور کو عاریت پرلیا تھا
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۶۱.
2 ۔المرجع السابق،ص۵۶۲.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۶۲.
4 ۔رواج،دستور۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۶۲.
6 ۔المرجع السابق،ص۵۶۵.
وہاں گیا نہیں بلکہ جانور کو گھر میں باندھ رکھا اور ہلاک ہوگیا توتاوان دینا ہوگا کہ جانور جانے کے لیے لیا تھا نہ کہ باندھنے کے لیے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴۲: کتاب عاریت لی دیکھنے سے معلوم ہواکہ اس میں کتا بت کی غلطیاں ہیں اگرمعلوم ہو کہ غلطی درست کردینے پر مالک راضی ہے تو غلطیوں کی اصلاح کردے(2)اور اگر غلطی کی اصلاح نہ کرے بدستور چھوڑدے تو اِس میں گنہگار نہیں اور قرآن شریف کی کتابت کی غلطیاں درست کرنا ضروری ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: ایک شخص نے انگوٹھی رہن رکھی اور مرتہن سے کہہ دیا اسے پہن لو اُس نے پہن لی تو رہن نہیں بلکہ عاریت ہے کہ اگر ضائع ہوگئی دَین ساقط نہیں ہوگا اور اگر مرتہن نے اوتارلی تو رہن ہوگئی کہ ضائع ہونے سے دَین ساقط ہوگااوراگر راہن نے کلمہ کی اُنگلی میں پہننے کو کہا توعاریت نہیں بلکہ رہن ہے کہ عادۃً(4)اس اُنگلی میں انگوٹھی نہیں پہنی جاتی۔ (5) (عالمگیری)
ہبہ کے فضائل میں بکثرت احادیث آئی ہیں بعض ذکر کی جاتی ہیں۔
حدیث ۱: امام بخاری نے ادب مفرد میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں:''باہم ہدیہ کرو، اس سے آپس میں محبت ہوگی۔'' (6)
حدیث ۲: ترمذی نے اُمُّ المومنین عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی، رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ہدیہ کرو کہ اس سے حسد دور ہوجاتا ہے (7)۔'' (8)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۶۵.
2 ۔درست کر دے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب العاریۃ،ج۸،ص۵۶۵.
4 ۔عام طور پر۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العاریۃ،الباب التاسع فی التفرقات،ج۴،ص۳۷۳.
6 ۔ ''الأدب المفرد''،للبخاري،باب قبول الھدیۃ،الحدیث:۶۰۷،ص۱۶۸.
7 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب البیوع، باب في الھبۃ والھدیۃ، الحدیث: ۳۰۲۷،ج۲، ص۱۸۷.
8 ۔ لم نجدہ فی سنن الترمذی و لکن فی المشکاۃ بھٰذاللفظ فلذا خرّجنامنھا۔..علمیۃ
حدیث ۳: ترمذی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:''ہدیہ کرو کہ اس سے سینہ کا کھوٹ (1)دور ہوجاتا ہے اور پروس والی عورت پروسن کے لیے کوئی چیز حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کا کھر ہو۔''(2)اسی کے مثل بخاری شریف میں بھی اُنھیں سے مروی۔(3)مطلب حدیث کا یہ ہے کہ اگر تھوڑی چیز میسر آئے تو وہی ہدیہ کرے یہ نہ سمجھے کہ ذراسی چیزکیا ہدیہ کی جائے یا یہ کہ کسی نے تھوڑی چیز ہدیہ کی تو اُسے نظرِحقارت سے نہ دیکھے یہ نہ سمجھے کہ یہ کیا ذراسی چیز بھیجی ہے۔ اس حکم میں خاص عورتوں کو ممانعت فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں یہ مادہ بہت پایا جاتا ہے بات بات پر اِس قسم کی نکتہ چینی کیاکرتی ہیں اور عموماًجو چیز یں ہدیہ بھیجی جاتی ہیں وہ عورتوں ہی کے قبضے میں ہوتی ہیں لہٰذا حکم دیا جاتا ہے کہ پروس والی کو چیز بھیجنے میں یہ خیال نہ کرے کہ کم ہے۔
حدیث ۴: صحیح بخاری شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:''اگر مجھے دست یا پایہ کے لیے بلایا جائے تو اس دعوت کو قبول کروں گا اور اگر یہ چیزیں میرے پاس ہدیہ کی جائیں توانھیں قبول کروں گا۔'' (4)
حدیث ۵: صحیح بخاری شریف میں ام المومنین میمونہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے مروی، کہتی ہیں: میں نے ایک کنیز(5)آزاد کردی تھی جب حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے حضور (صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم )کو اس کی اطلاع دی، فرمایا:''اگر تم نے اپنے مامووں کو دے دی ہوتی تو تمھیں زیادہ ثواب ملتا۔''(6)
حدیث ۶: ترمذی نے حضرت انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ جب حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم مدینہ میں تشریف لائے مہاجرین نے خدمت اقدس میں حاضر ہوکر یہ عرض کی:یارسول اللہ!(صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )جن کے یہاں ہم ٹھہرے ہیں(یعنی انصار) ان سے بڑھ کر ہم نے کسی کو زیادہ خرچ کرنے والا نہیں دیکھا اور تھوڑا ہو تو اُسی سے مواساۃ(7)
1 ۔کینہ، میل۔
2 ۔''جامع الترمذي''، کتاب الولاء والھبۃ، باب في حث النبی صلی اللہ علیہ وسلّم علی الھدیۃ،الحدیث:۲۱۳۷،ج۴،ص۴۹.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الھبۃ...إلخ، باب الھبۃ وفضلھا...إلخ،الحدیث:۲۵۶۶،ج۲،ص۱۶۵.
4 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الھبۃ...إلخ، باب القلیل من الھبۃ،الحدیث:۲۵۶۸،ج۲،ص۱۶۶.
5 ۔لونڈی۔
6 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الھبۃ...إلخ، باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا...إلخ،الحدیث:۲۵۹۲،ج۲،ص۱۷۳.
7 ۔دل جوئی،خیر خواہی۔
کرتے ہیں، اُنھوں نے کام کی ہم سے کفایت کی اور منافع میں ہمیں شریک کرلیا یعنی باغات کے کام یہ کرتے ہیں اور جو کچھ پیداوار ہوتی ہے اُس میں ہمیں شریک کرلیتے ہیں ہم کو اندیشہ ہے کہ سارا ثواب یہی لوگ لے لیں گے۔ ارشاد فرمایا: ''نہیں جب تک تم اُن کے لیے دُعا کرتے رہو گے اور اُن کی ثنا کرتے رہوگے (تم بھی اجر کے مستحق بنو گے)۔''(1)
حدیث ۷: ترمذی و ابو داود نے جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس کو کوئی چیز دی گئی اگر اُس کے پاس کچھ ہے تو اُس کا بدلہ دے اور بدلہ دینے پر قادر نہ ہو تو اُس کی ثنا کرے۔''(2)
حدیث ۸: ترمذی میں اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے مروی، کہ رسول اللہ صلی اﷲتعالٰیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:''جس کے ساتھ احسان کیا گیا اور اُس نے احسان کرنے والے کے لیے یہ کہا
جَزَاکَ اللہُ خَیْراً
تو پوری ثنا کر دی۔'' (3)
حدیث ۹: صحیح بخاری شریف میں ہے، ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے پاس جب کسی قسم کا کھانا کہیں سے آتا تو دریافت فرماتے صدقہ ہے یا ہدیہ؟ اگر کہا جاتاصدقہ ہے تو۔ (فقراے)صحابہ سے فرماتے :''تم لوگ اسے کھالو''اور اگر کہا جاتاکہ ہدیہ ہے تو صحابہ کے ساتھ خود بھی تناول فرماتے۔(4)
حدیث ۱۰: انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے امام بخاری نے روایت کی، کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خوشبو کو واپس نہیں فرماتے(5)اور صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسو ل اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:''جس کے پاس پھول پیش کیا جائے تو واپس نہ کرے کہ اُٹھانے میں ہلکا ہے اور بُو اچھی ہے۔''(6) ہلکا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دینے والے کا احسان زیادہ نہیں ہے۔
حدیث ۱۱: ترمذی نے عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:''تین چیزیں واپس نہ کی جائیں، تکیہ اور تیل اور دودھ۔''(7)بعض نے کہا تیل سے مراد خوشبو ہے۔
1 ۔''جامع الترمذي''،کتاب صفۃ القیامۃ... إلخ،باب:۴۴،الحدیث:۲۴۹۵،ج۴،ص۲۲۰.
2 ۔''جامع الترمذي''،کتاب البر والصلۃ،باب ما جاء في المتشبع بما لم یعطہ،الحدیث:۲۰۴۱،ج۳،ص۴۱۷.
3 ۔المرجع السابق،باب ما جاء في الثناء بالمعروف،الحدیث:۲۰۴۲،ج۳،ص۴۱۷.
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الھبۃ...إلخ،باب قبول الھدیۃ،الحدیث:۲۵۷۶،ج۲، ص۱۶۸.
5 ۔المرجع السابق،باب ما لایرد من الھدیۃ،الحدیث:۲۵۸۲،ج۲،ص۱۷۰.
6 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الالفاظ من الأدب وغیرھا،باب إستعمال المسک...إلخ،الحدیث:۲۲۵۳، ص۱۲۳۷.
7 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأدب،باب ما جاء في کراھیۃ رد الطیب، الحدیث:۲۷۹۹،ج۴،ص۳۶۲.
حدیث ۱۲: ترمذی نے ابو عثمان نہدی سے مرسلاً روایت کی، کہ رسو ل اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب کسی کو پھول دیاجائے توواپس نہ کرے کہ وہ جنت سے نکلا ہے۔''(1)
حدیث ۱۳: بیہقی نے دعوات کبیر میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلّم کو دیکھا کہ جب نیا پھل حضور (صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم)کی خدمت میں پیش کیا جاتا اُسے آنکھوں اور ہونٹوں پر رکھتے اور یہ دعا پڑھتے:
اَللّٰھُمَّ کَمَا اَرَیْتَنَا اَوَّلَہٗ فَاَرِنَا آخِرَہٗ.
(اے اللہ!(عزوجل)جس طرح تو نے ہمیں اس کا اوّل دکھایا ہے، اس کا آخر دِکھا۔)اس کے بعدجو چھوٹا بچہ حاضر ہوتا اُسے دے دیتے۔ (2)
حدیث ۱۴: صحیح بخاری میں ہے اُمُّ المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا نے عرض کی:یارسو ل اللہ!(صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میرے دو پروسی ہیں ان میں کس کو ہدیہ کروں؟ ارشاد فرمایا:''جس کا دروازہ تم سے زیادہ نزدیک ہو۔''(3)
حدیث ۱۵: صحیح بخاری میں ہے حضرت عمر بن عبد العزیز (رضی اﷲتعالٰی عنہ)فرماتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں ہدیہ، ہدیہ تھا اور اس زمانہ میں رشوت ہے ۔یعنی حکام کو جو ہدیہ دیا جاتا ہے وہ رشوت ہے۔ (4)
مسئلہ ۱: کسی چیز کا دوسرے کو بلا عوض مالک کردینا ہبہ ہے یعنی اِس میں عوض ہونا شرط و ضروری نہیں۔(5)(درر)
دینے والے کو واہب کہتے ہیں اور جس کو دی گئی اُسے موہوب لہ اور چیز کو موہوب اور کبھی چیز کو ہبہ بھی کہتے ہیں۔
مسئلہ ۲: ہبہ میں واہب کے لیے کبھی دنیا کا نفع ہے کبھی نفع اُخروی(6)۔ نفع دُنیوی مثلاً ہبہ کرکے کچھ عوض لینا یا اس واسطے ہبہ کیاکہ لوگوں میں اس کا ذکر خیر ہوگا۔ امام ابو منصورما تریدی رحمہ اﷲتعالٰی فرماتے ہیں مومن پر اپنی اولاد کو جُودواحسان (7)کی
1 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأدب،باب ما جاء في کراھیۃ رد الطیب،الحدیث:۲۸۰۰،ج۴، ص۳۶۲.
2 ۔''مشکاۃ المصابیح''،کتاب البیوع،باب في الھبۃ والھدیۃ،الحدیث:۳۰۳۲،ج۲،ص۱۸۸.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الھبۃ...إلخ،باب بمن یبدا بالھدیۃ،الحدیث:۲۵۹۵،ج۲،ص۱۷۴.
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الھبۃ...إلخ،باب من لم یقبل الھدیۃ لعلۃ،ج۲،ص۱۷۴.
5 ۔''دررالحکام''شرح''غررالأحکام''،کتاب الھبۃ، الجزء الثانی،ص۲۱۷.
6 ۔آخرت کا نفع۔ 7 ۔سخاوت وبھلائی ۔
تعلیم ویسی ہی واجب ہے جس طرح توحید وایمان کی تعلیم واجب ہے کیونکہ جودو احسان سے دُنیا کی محبت دور ہوتی ہے اور محبت دنیا ہی ہر گناہ کی جڑ ہے۔ ہبہ کا قبول کرنا سنت ہے ہدیہ کرنے سے آپس میں محبت زیادہ ہوتی ہے۔ (1)
(درمختار)
مسئلہ ۳: ہبہ صحیح ہونے کی چند شرطیں ہیں :
واہب کا ۱عاقل ہونا، ۲بالغ ہونا، ۳ مالک ہونا، نابالغ کا ہبہ صحیح نہیں اسی طرح غلام کا ہبہ کرنا بھی کہ یہ کسی چیزکا مالک ہی نہیں ، ۴جو چیز ہبہ کی جائے وہ موجود ہو اور، ۵ قبضہ میں ہو، ۶مشاع (2)نہ ہو، ۷متمیز ہو،(3)۸مشغول نہ ہو۔ اس کے ارکان ایجاب وقبول ہیں اور ا س کا حکم یہ ہے کہ ہبہ کرنے سے چیز موہوب لہ کی مِلک ہوجاتی ہے اگرچہ یہ مِلک لازم نہیں ہے۔ اس میں خیار شرط صحیح نہیں مثلاًہبہ کیا اور موہوب لہ کے لیے تین دن کا اختیار دیا ہاں اگر جدائی سے پہلے اُس نے ہبہ کو اختیار کرلیا ہبہ صحیح ہوگیا ورنہ نہیں۔ اور اگر واہب نے اپنے لیے تین دن کا خیار رکھا ہے تو ہبہ صحیح ہے اور خیار باطل، شروط فاسد ہ (4)سے ہبہ باطل نہیں ہوتا بلکہ خود شرطیں ہی باطل ہو جاتی ہیں مثلاً ایک شخص کو اپناغلام اس شرط پر ہبہ کیا کہ وہ غلام کو آزاد کردے ہبہ صحیح ہے اور شرط باطل۔(5)(بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۴: ہبہ دوقسم ہے ایک تملیک دوسرا اِسقاط مثلاًجس پر مطالبہ تھا مطالبہ اُسے ہبہ کرنا اُس کو ساقط کرنا ہے۔ مدیون(6)کے سوا دوسرے کو دَین(7)ہبہ کرنا اُس وقت صحیح ہے کہ قبضہ کا بھی اُس کو حکم دیدیا ہوا ور قبضہ کا حکم نہ دیا ہو تو صحیح نہیں۔ (8) (بحر)
مسئلہ ۵: ایک شخص نے ہنسی مذاق کے طور پر دوسرے سے چیز ہبہ کرنے کو کہا مثلاًیار دوستوں میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مذاق میں کہتے ہیں مٹھائی کھلاؤ یا یہ چیز دے دو مگر اُس نے سچ مچ کوہبہ کردیا یہ ہبہ صحیح ہے ۔کبھی اِس طرح بھی ہبہ ہوتا ہے کہ بہت سے لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ میں نے یہ چیز تم میں سے ایک کے لیے ہبہ کردی جس کا جی چاہے لے لے اُن میں سے ایک نے
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۶۸.
2 ۔وہ مشترک چیز جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں۔ 3 ۔جدا ہو،نمایاں ہو۔
4 ۔ایسی شرطیں جو کسی عقد کے تقاضے کے خلاف ہوں۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۳.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الھبۃ،الباب الاول فی تفسیر الھبۃ...إلخ،ج۴،ص۳۷۴.
6 ۔مقروض۔ 7 ۔قرض۔
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۳.
لے لی ہبہ درست ہوگیا وہ مالک ہوگیا یا کہہ دیا میں نے اپنے باغ کے پھل کی اجازت دیدی ہے جو چاہے لے لے جو لے گامالک ہوجائے گااور اگر ایسے شخص نے لیا جس کو واہب کے اس ہبہ کی خبر نہیں پہنچی ہے اُس کو لینا جائز نہیں۔ (1) (بحر)اور علم سے پہلے کھایا تو حرام کھایا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: ہبہ کے بہت سے الفاظ ہیں۔ میں نے تجھے ہبہ کیا،یہ چیز تمھیں کھانے کو دی۔ یہ چیز میں نے فلاں کے لیے یا تیرے لیے کردی، میں نے یہ چیز تیرے نام کردی، میں نے اس چیزکا تجھے مالک کردیا،اگر قرینہ ہو(3)تو ہبہ ہے ورنہ نہیں کیونکہ مالک کرنا بیع وغیرہ بہت چیزوں کو شامل ہے۔ عمر بھر کے لیے یہ چیز دیدی، اس گھوڑے پر سوار کردیا، یہ کپڑا پہننے کو دیا، میرا یہ مکان تمھارے لیے عمر بھر رہنے کوہے، یہ درخت میں نے اپنے بیٹے کے نام لگایا ہے۔(4)
(درمختار، بحر)
مسئلہ ۷:ہبہ کے بعض الفاظ ذکر کردیے اور اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر لفظ ایسا بولا جس سے ملک رقبہ سمجھی جاتی ہو یعنی خود اُس شے کی ملک تو ہبہ ہے اور اگر منافع کی تملیک معلوم ہوتی ہو(5)تو عاریت ہے اور دونوں کا احتمال ہے تو نیت دیکھی جائے گی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۸: مرد نے عورت کو کپڑے بنوانے کے لیے روپے دیے کہ بنا کر پہنے یہ ہبہ ہے چھوٹے بچے کے لیے کپڑے بنوائے تو بنواتے ہی بلکہ قطع کراتے ہی اُس کی ملک ہوگئے بچہ کو دے یا نہ دے اور بالغ لڑکے کے لیے بنوائے تو جب تک اُس کو قبضہ نہ دے مالک نہیں ہوگا۔(7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: ہبہ کے لیے قبول ضروری ہے یعنی موہوب لہ جب تک قبول نہ کرے اُس کے حق میں ہبہ نہیں ہوگا اگرچہ واہب کے حق میں فقط ایجاب سے ہبہ ہو جائے گا بخلاف بیع کہ اس میں جب تک ایجاب وقبول دونوں نہ ہوں بائع(8)ومشتری(9)کسی کے حق میں بیع نہیں اس کا حاصل یہ ہواکہ مثلاًقسم کھائی تھی کہ یہ چیز فلاں کو ہبہ کردوں گا اس نے ایجاب کیا مگر
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۴.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثالث فیما...إلخ،ج۴،ص۳۸۲.
3 ۔ایسی بات جوہبہ ہونے پر دلالت کردے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۷۰.
و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۳.
5 ۔یعنی نفع حاصل کرنے کا اختیار معلوم ہوتاہو۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۷۱.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۷۱.
8 ۔بیچنے والا۔ 9 ۔خریدار۔
اُس نے قبول نہ کیا قسم میں سچّا ہوگیا اور اگر قسم کھاتا کہ اسے فلاں کے ہاتھ بیع کروں گا اور ایجاب کیا مگر اُس نے قبول نہیں کیا حانث ہوگیا قسم ٹوٹ گئی۔ (1) (بحر)
مسئلہ ۱۰: ہبہ کا قبول کرنا کبھی الفاظ سے ہوتا ہے اور کبھی فعل سے مثلاً اس نے ایجاب کیا یعنی کہا میں نے یہ چیز تمھیں ہبہ کردی اُس نے لے لی ہبہ تمام ہوگیا۔(2) (بحر)
مسئلہ ۱۱: ہبہ تمام ہونے کے لیے قبضہ کی بھی ضرورت ہے بغیر اس کے ہبہ تمام نہیں ہوتا پھر اگر اُسی مجلس میں قبضہ کرے تو واہب کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں اور مجلس بدل جانے کے بعد قبضہ کرنا چاہتا ہے تو اجازت درکار ہے ہاں اگر جس مجلس میں ہبہ کیا ہے اُس نے کہہ دیا ہے کہ تم قبضہ کرلو تو اب اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں وہی پہلی اجازت کافی ہے۔ (3) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۲: قبضہ پر قادر ہونا بھی قبضہ ہی کے حکم میں ہے مثلاًصندوق میں کپڑے ہیں ا ور کپڑے ہبہ کرکے صندوق اُسے دیدیا اگر صندوق مُقَفَّلْ ہے(4)قبضہ نہیں ہوا اور قفل کھلا ہوا ہے قبضہ ہوگیا یعنی ہبہ تمام ہوگیا کہ قبضہ پر قادر ہوگیا۔ (5) (بحر)
مسئلہ ۱۳: واہب نے موہوب لہ کو قبضہ سے منع کردیا تو اگرچہ قبضہ کر لے یہ قبضہ صحیح نہیں مجلس میں قبضہ کرے یا بعد میں اس صورت میں ہبہ تمام نہیں۔(6)(بحر)
مسئلہ ۱۴: ہبہ کے لیے قبضہ کامل(7)کی ضرورت ہے اگر موہو ب شے (یعنی جو چیز ہبہ کی گئی ہے)واہب کی ملک کو شاغل ہوتو قبضہ کامل ہوگیا اور ہبہ تمام ہوگیا اور اُس کی ملک میں مشغول ہے تو قبضہ کامل نہیں ہوامثلاًبوری میں واہب کا غلّہ ہے بوری ہبہ کردی اور مع غلہ کے قبضہ دیدیا یا مکان میں واہب کے سامان ہیں مکان ہبہ کردیا اور سامان کے ساتھ قبضہ دیا ہبہ تمام نہیں
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۵.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الھبۃ،ج۲،ص۲۲۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۷۲.
4 ۔یعنی تالا لگا ہواہے۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۶.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔مکمل طورپر قبضہ۔
ہوا اور اگر غلّہ ہبہ کیا یا مکان میں جو چیز یں تھیں اُن کو ہبہ کیا اور بوری سمیت قبضہ دیدیا یا مکان اور سامان سب پر قبضہ دیدیا ہبہ تمام ہوگیا۔ یوہیں گھوڑے پر کاٹھی(1)کَسی ہوئی اور لگام لگی ہوئی تھی کاٹھی اور لگام کوہبہ کیا اور گھوڑے پرمع کاٹھی اور لگام کے قبضہ کیا ہبہ تمام نہیں ہوا اور گھوڑے کو ہبہ کیا اور قبضہ دے دیا اگرچہ کاٹھی اور لگام کے ساتھ ہے قبضہ تما م ہوگیا۔ یوہیں کنیز زیور پہنے ہوئے ہے کنیز کوہبہ کیا اور قبضہ دیدیا ہبہ تمام ہوگیا۔ اور زیور کو ہبہ کیا توجب تک زیو ر اوتار کر قبضہ نہ دے گا ہبہ تمام نہیں ہوگا۔ (2) (بحر ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: موہوب چیز ملکِ غیرِ واہب(3)میں مشغول ہواور قبضہ کرلیا ہبہ تمام ہوگیا مثلاًمکان ہبہ کیا جس میں مستحق کی چیزیں ہیں یا اُن چیزوں کو واہب یا موہوب لہ نے غصب کیا ہے اور موہوب لہ نے مع اُن چیزوں کے مکان پر قبضہ کرلیا ہبہ تمام ہوگیا۔ (4) (بحر)
مسئلہ ۱۶: اگر اپنے نابالغ بچہ کو ہبہ کیا اور موہوب شے ملک واہب میں مشغول ہے مثلاًنابالغ لڑکے کو مکان ہبہ کیا جس میں باپ کا سامان موجود ہے یہ مشغولیت مانع تمامیت نہیں یعنی ہبہ تمام ہوگیا۔ یوہیں مکان ہبہ کیا جس میں کچھ لوگ بطور عاریت رہتے ہیں ہبہ تمام ہوگیا اور اگر کرایہ پر رہتے ہوں تو نہیں۔ یوہیں عورت نے اپنا مکان شوہرکو ہبہ کیا اور مکان پر شوہر کو قبضہ دیدیا اگرچہ اُس میں عورت کا اثاثہ موجود ہو قبضہ کامل ہوگیا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: مشغول کو ہبہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ شاغل کو موہوب لہ کے پاس پہلے ودیعت رکھ دے پھر مشغول کو ہبہ کر کے قبضہ دیدے اب ہبہ صحیح ہو جائے گا مثلاًمکان میں جو سامان ہے اِسے ودیعت رکھ کر مکان پر قبضہ دلادے۔(6)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: ہبہ میں یہ ضروری ہے کہ موہوب شے غیر موہوب سے جدا ہواگر غیر کے ساتھ متصل ہو ہبہ صحیح نہیں مثلاًدرخت میں جو پھل لگے ہوں اُن کو ہبہ کرنا درست نہیں۔ جو چیز ہبہ کی گئی اگر وہ قابل تقسیم ہوتو ضرور ہے کہ اُس کی تقسیم ہوگئی
1 ۔ زین۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۸.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۷۳.
3 ۔ہبہ کرنے والے کے علاوہ کی ملکیت۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۹.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۷۵.
6 ۔المرجع السابق.
ہو بغیر تقسیم کیے ہوئے ہبہ درست نہیں اور اگر تقسیم کے قابل ہی نہ ہو یعنی تقسیم کے بعدوہ شے قابلِ انتفاع نہ رہے مثلاًچھوٹی سی کوٹھری یا حمام ان میں ہبہ صحیح ہونے کے لیے تقسیم ضرور نہیں۔(1)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۹: جو چیز تقسیم کے قابل ہے اُس کو اجنبی کے لیے ہبہ کرے یا شریک کے لیے دونوں صورتیں نا جائز ہیں۔ ہاں اگر ہبہ کرنے کے بعد واہب نے اُسے خود یا اُس کے حکم سے کسی دوسرے نے تقسیم کرکے قبضہ دیدیا یا موہوب لہ کو حکم دیدیا کہ تقسیم کرکے قبضہ کرلو اور اُس نے ایسا کرلیاان صورتوں میں ہبہ جائز ہوگیاکیونکہ مانع زائل ہوگیا۔ اگر بغیر تقسیم موہوب لہ کو قبضہ دے دیا موہوب لہ اُس چیز کا مالک نہیں ہوگا اور جوکچھ اُس میں تصرّف کریگا نافذ نہیں ہوگابلکہ اس کے تصرّف سے جو نقصان ہوگا اُس کا ضامن ہوگا اور خود واہب اُس میں تصرف کرے مثلاًبیع کردے اُس کا تصرف نافذ ہو جائے گا۔ (2) (بحر، درمختار)
اس کاحاصل یہ ہے کہ مشاع کاہبہ صحیح نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قبضہ کے وقت شیوع پایا جائے اور اگر ہبہ کے وقت شیوع ہے مگر قبضہ کے وقت شیوع نہ ہو تو ہبہ صحیح ہے مثلاًمکان کا نصف حصہ ہبہ کیا اور قبضہ نہیں دیا پھر دوسرا نصف ہبہ کیااور پورے مکان پر قبضہ دیدیا ہبہ صحیح ہوگیا اور اگر نصف ہبہ کرکے قبضہ دیدیا پھر دوسرا نصف ہبہ کیا اور اُس پر بھی قبضہ دیدیا یہ دونوں ہبہ صحیح نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: مشاع یعنی بغیر تقسیم چیز کو بیع(4)کردیا جائے تو بیع صحیح ہے اور اس کا اجارہ اگر شریک کے ساتھ ہو تو جائز ہے اجنبی کے ساتھ ہو تو جائز نہیں بلکہ یہ اجارہ فاسدہ ہوگا اس میں اُجرتِ مثل لازم ہوگی۔ اور مشاع(5)کا عاریت دینا اگر شریک کو ہے تو جائز ہے اور اجنبی کو عاریت کے طور پر دیا اور کل پر قبضہ دیدیا تو یہ قبضہ دینا ہی عاریت دینا ہے اور کل پر قبضہ نہ دیا تو کچھ نہیں۔ اور اس کو رہن رکھنا نا جائز ہے وہ چیز قابل قسمت (6)ہو یا نہ ہو شریک کے پاس رہن(7)رکھے یا اجنبی کے پا س ہاں اگر دوشخصوں کی چیز ہے دونوں نے رہن رکھ دی تو جائز ہے۔ مشاع کا وقف صحیح ہے۔ مشاع کی ودیعت شریک کے پاس ہوتو جائز ہے۔ مشاع کو قرض دے سکتا ہے مثلاًہزاروپے دیے اور کہہ دیا ان میں سے پانسو قرض ہیں اورپانسو شرکت کے طور پر یہ جائز
1 ۔''الھدایۃ ''،کتاب الھبۃ،ج۲،ص۲۲۳،وغیرھا.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۷.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۷۶.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثانی فیما یجوز...إلخ،ج۴،ص۳۷۶،۳۷۷.
4 ۔فروخت۔ 5 ۔شے مشترک۔
6 ۔تقسیم کے قابل. 7 ۔گروی۔
ہے۔ مشاع کا غصب ہوسکتا ہے یعنی غاصب پر غصب کے احکام جاری ہوں گے۔ مشاع کے صدقہ کا وہی حکم ہے جو ہبہ کا ہے۔ ہاں اگر کل دوشخصوں پر تصدق کردیا یہ جائز ہے۔ (1) (بحرالرائق)
مسئلہ ۲۱: ایک شریک نے دوسرے سے کہا کہ جو کچھ نفع میں میرا حصہ ہے میں نے تم کوہبہ کیااگر مال موجود ہے یہ ہبہ صحیح نہیں کہ مشاع کا ہبہ ہے اور ہلاک ہوچکا ہے تو صحیح ہے کہ یہ اسقاط (2)ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: غیر منقسم (4)چیز میں مشاع کا ہبہ کیا موہوب لہ اُس جز کا مالک ہوگیا مگر تقسیم کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ دونوں اُس چیز سے نوبت بنوبت نفع حاصل کریں مثلاً ایک مہینہ ایک اُس سے کام لے اور دوسرے مہینہ میں دوسرا یہ ہوسکتا ہے مگر اِس پربھی جبر نہیں ہوسکتا کہ یہ ایک قسم کی عاریت ہے اور عاریت پر جبر نہیں۔(5) (بحر)
مسئلہ ۲۳: جو مشاع غیرِ قابلِ قسمت (6)ہے اُس کا ہبہ صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ اُس کی مقدار معلوم ہو یعنی اس چیز میں اس کا حصہ اتنا ہے جس کو ہبہ کرتا ہے اگر معلوم نہ ہوتو ہبہ صحیح نہیں مثلاًغلام دوشخصوں میں مشترک ہے اس کو معلوم نہیں کہ میرا حصہ کتنا ہے اور ہبہ کردیا۔ ایک روپیہ دوشخصوں کو ہبہ کیا یہ صحیح ہے کیونکہ نصف نصف دونوں کاحصہ ہوااور یہ معلوم ہے اور اگر واہب کے پاس دوروپے ہیں اُس نے یہ کہا کہ ان میں سے میں نے ایک روپیہ ہبہ کیا اور اُسے جدا نہ کیا یہ ہبہ صحیح نہیں ہوا۔ ایک غلام دوشخصوں میں مشترک ہے ان میں سے ایک نے اُس غلام کو کوئی چیز ہبہ کردی اگر وہ چیز قابل تقسیم ہے ہبہ بالکل صحیح نہیں اور قابل تقسیم نہیں تو شریک کے حصے میں صحیح ہے یعنی اُس غلام میں جتنا حصہ ا ُس کے شریک کا ہے شے موہوب کے اُتنے ہی حصہ کاہبہ صحیح ہے اور جتنا حصہ اُس غلام میں واہب کاہے اُس کے مقابل میں موہوب کے حصہ کا ہبہ صحیح نہیں۔ مجہول(7)حصہ کاہبہ صحیح نہیں اس سے مراد یہ ہے کہ وہ جہالت باعث نزاع(8)ہوسکے اور اگر باعث نزاع نہ ہو مثلاًیہ کہہ دیا کہ اِس گھر میں جو کچھ میرا حصہ ہے ہبہ کردیا یہ جائز ہے اگرچہ موہوب لہ(9)کو معلوم نہ ہو کہ کیا حصہ ہے کیونکہ یہ جہالت دورہوسکتی ہے اور اگر بہت زیادہ
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۶.
2 ۔یعنی اپنا حق چھوڑنا ہے۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثانی فیما یجوز...إلخ،ج۴،ص۳۸۱.
4 ۔تقسیم نہ ہونے والی۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۷.
6 ۔ناقابل تقسیم۔ 7 ۔نامعلوم۔
8 ۔جھگڑے کاباعث۔ 9 ۔جس کے لیے ہبہ کیا۔
جہالت ہوتو ناجائز ہے مثلاًمیں نے تم کوکچھ ہبہ کردیا۔ (1) (بحر، منحہ)
مسئلہ ۲۴: شیوع جو تمامیت قبضہ کو(2)روکتا ہے وہ شیوع ہے جو عقد کے ساتھ مقارِن(3)ہو عقد کے بعد جو شیوع طاری ہوگاوہ مانع نہیں مثلاًپوری چیز ہبہ کردی اور قبضہ دے دیا اس کے بعد اُس میں سے جز و شائع نصف ربع واپس لے لیا یہاں شیوع پیدا ہوگیاجوپہلے سے نہ تھا یہ مانع نہیں۔ شیوع طاری کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ مرض الموت میں اپنا مکان ہبہ کردیااور اِس مکان کے سوا اُس کے پا س کوئی دوسرا ترکہ نہیں ہے واہب مرگیا ورثہ نے اس کو جائز نہیں کیا اس کا حاصل یہ ہوا کہ ایک تہائی ہبہ ہوا اور دو تہائیاں ورثہ کی ہیں یہاں ہبہ میں شیوع ہے مگر وقت عقدمیں نہیں ہے بعد عقد ہوا جبکہ ورثہ نے جائز نہ کیا۔ جس چیز کوہبہ کیا اُس میں کسی نے استحقاق کا دعویٰ کیا کہ اِس چیز میں اتنے کا میں مالک ہوں اگرچہ یہ دعویٰ بعد میں ہوا مگر شیوع اب نہیں پیدا ہوا بلکہ پہلے ہی سے ہے کہ یہ شخص اُس کے ایک جز کا پہلے سے مالک تھااور اب ظاہر ہوا لہٰذا ایک شخص نے کھیت اور زراعت دونوں چیزیں ایک شخص کو ہبہ کردیں اور قبضہ بھی دیدیا اس کے بعد زراعت میں ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ میری ہے اور ثابت کردیا قاضی نے حکم بھی دیدیا زراعت تو مستحق نے لے ہی لی زمین کا ہبہ بھی باطل ہوگیا کیونکہ محتمل قسمت (4)میں شیوع (5)ہے۔(6) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۲۵: تھن میں دودھ ، بھیڑ کی پیٹھ پر اون، زمین میں درخت، درخت میں پھل، یہ چیزیں مشاع کے حکم میں ہیں کہ ان کا ہبہ صحیح نہیں مگر دودھ دوہ کر، اون کاٹ کر،پھل توڑ کر، موہوب لہ کو تسلیم کردیے تو ہبہ جائز ہوگیا کہ مانع زائل ہوگیا۔(7)زراعت جوکھیت میں ہے، تلوار کا حلیہ، اشرفی جو پہنے ہوئے ہے، ڈھیری میں سے دس پانچ سیر غلّہ کاہبہ کرنا بھی وہی حکم رکھتا ہے کہ جدا کرکے موہوب پر قبضہ دیدیا درست ہے ورنہ نہیں۔(8) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۷.
و''منحۃ الخالق''ھامش علی ''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۷.
2 ۔ قبضہ کے مکمل ہونے کو۔ 3 ۔ملا ہوا۔ 4 ۔جس میں تقسیم کااحتمال ہو۔
5 ۔یعنی زراعت چونکہ زمین کے ساتھ متصل ہے لہٰذازمین وزراعت دونوں مل کر ایک چیز ہیں ان میں سے زراعت کا استحقاق حکماًجزو موہوب
کا استحقاق ہے اس لیے زمین کاہبہ بھی باطل ہوجاتاہے۔۱۲منہ حفظہ ربہ
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۷۷.
و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۷.
7 ۔رکاوٹ ختم ہوگئی۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۷۸.
مسئلہ ۲۶: معدوم شے(1)کا ہبہ باطل ہے قبضہ دینے کے بعد بھی موہوب لہ کی ملک نہیں ہوگی مثلاًکہا ان گیہووں(2)کا آٹاہبہ کردیا تِلوں میں جو تیل ہے ہبہ کیا۔ دودھ میں جو گھی ہے ہبہ کیا۔ لونڈی کے پیٹ میں جو حمل ہے وہ ہبہ کیا ان صورتوں میں اگر آٹا پسواکر، تِلوں کو پلوا کر ، دودھ میں سے گھی نکال کر موہوب لہ کو دے بھی دے جب بھی اُ سکی ملک نہیں ہوگی ہاں اب جدید ہبہ کرے تو ہوسکتا ہے۔ (3) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۲۷: ایک شخص کو ایک چیز ہبہ کی موہوب لہ نے قبضہ نہیں کیا پھر اُس شخص نے دوسرے کو وہی چیز ہبہ کردی اور دونوں سے قبضہ کرنے کو کہہ دیا دونوں نے قبضہ کرلیا تو چیز دوسرے موہوب لہ کی ہوگی پہلے کی نہیں ہوگی اور اگر واہب نے پہلے موہوب لہ کو قبضہ کرنے کے لیے کہہ دیا اُس نے قبضہ کرلیا تو یہ قبضہ باطل ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: ایک چیز خریدی اور قبضہ کرنے سے پہلے کسی کو ہبہ کردی اور موہوب لہ سے کہہ دیا کہ تم قبضہ کرلواس نے کرلیا ہبہ تمام ہوگیا۔ رہن کا بھی یہی حکم ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: یہ کہا کہ اس ڈھیر ی میں سے تم کو اتنا غلہ دیا تم ناپ کر لے لو اُس نے ناپ لیا جائز ہے اور اگر فقط اتنا ہی کہاکہ اتنا غلہ دیا یہ نہ کہا کہ ناپ لواوراُس نے ناپ کرلے لیا تو ناجائز ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: جو چیز ہبہ کی ہے وہ پہلے ہی سے موہوب لہ کے قبضہ میں ہے تو ایجاب وقبول کرتے ہی اُ سکی ملک ہوگئی جدید قبضہ کی ضرورت نہیں موہوب لہ کا وہ قبضہ قبضہ امانت ہویا قبضہ ضمان مثلاً اُس کے پاس عاریت یا ودیعت کے طور پر ہے یا کرایہ پر ہے یا اُس نے غصب کررکھی ہے اس کا قاعدہ کتا ب البیوع میں بیان کیا گیا ہے کہ دو قبضے اگر ایک جنس کے ہوں یعنی دونوں قبضہ امانت ہوں یا دونوں قبضہ ضمان ہوں اِن میں ایک دوسرے کے قائم مقام ہوجائے گا اور اگر دونوں دو جنس کے ہوں تو قبضہ ضمان قبضہ امانت کے قائم مقام ہوجائے گا اور قبضہ امانت قبضہ ضمان کے قائم مقام نہیں ہوگا۔ (7) (بحر، درمختار)
1 ۔ وہ چیز جو موجودنہیں ۔ 2 ۔ گندم۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۷۸.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثانی فیما یجوز...إلخ،ج۴،ص۳۷۷.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۷۹.
مسئلہ ۳۱: مرہون(1)کو مرتہن (2)کے لیے ہبہ کیا ہبہ تما م ہوگیا کیونکہ مرتہن کا قبضہ پہلے ہی سے ہے اور رہن باطل ہوگیا یعنی مرتہن اپنا دَین راہن (3)سے وصول کریگا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: جوشخص نابالغ کا ولی(5)ہے اگرچہ ا س کو نابالغ کے مال میں تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو یہ جب کبھی نابالغ کو ہبہ کردے تو محض عقد کرنے سے یعنی فقط ایجاب سے ہبہ تمام ہوجائے گا بشرطیکہ شے موہوب واہب یا اُس کے مودَع کے قبضہ میں ہو۔ معلوم ہوا کہ باپ کے ہبہ کا جو حکم ہے باپ نہ ہونے کی صورت میں چچا یا بھائی وغیرہما کا بھی وہی حکم ہے بشرطیکہ نابالغ ان کی عیال میں ہو(6)اس ہبہ میں بعض ائمہ کا ارشاد ہے کہ گواہ مقرر کرلے یہ اشہاد(7)ہبہ کی صحت کے لیے شرط نہیں بلکہ اس لیے ہے تاکہ وہ آئندہ انکار نہ کرسکے یا اُس کے مرنے کے بعد دوسرے ورثہ اس ہبہ سے انکار نہ کردیں۔(8) (بحر ، درمختار)
مسئلہ ۳۳: نابالغ لڑکے کو جو مال ہبہ کیا وہ نہ واہب کے قبضہ میں ہے نہ اُس کے مودَع کے قبضہ میں ہے بلکہ غاصب یا مرتہن یا مستاجر کے قبضہ میں ہے تو ہبہ تما م نہیں۔ (9) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: مزروعہ زمین اپنے نابالغ لڑکے کو ہبہ کی اگر زراعت خود اسی کی ہے ہبہ صحیح ہوگیا اور کاشتکار نے کھیت بویا ہے تو ہبہ صحیح نہ ہو ا کہ واہب کے قبضہ میں نہیں ہے۔ (10) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: صدقہ کا بھی یہی حکم ہے کہ نابالغ کو اُس کے ولی نے صدقہ کیا تو قبضہ کی ضرورت نہیں ، اگر نابالغ کا ولی نہ ہوتو اُس کی ماں بھی یہی حکم رکھتی ہے کہ محض ہبہ کردینے سے موہوب لہ مالک ہو جائے گا بالغ لڑکا اگرچہ اس کی عیال میں ہواس کا یہ حکم نہیں ہے وہ جب تک قبضہ نہ کرے مالک نہ ہوگا۔ ماں نے اپنا مَہر لڑکے کوہبہ کردیا یہ ہبہ تمام نہ ہوگا جب تک خود ماں نے اس پر قبضہ نہ کیا ہو اور لڑکے کا قبضہ نہ کرادے۔ (11) (بحر)
1 ۔گروی رکھی ہوئی چیز۔ 2 ۔جس کے پاس گروی رکھی ہے۔ 3 ۔گروی رکھوانے والا۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثانی فیما یجوز...إلخ،ج۴،ص۳۷۷،۳۷۸.
5 ۔ نابالغ کاسرپرست ۔ 6 ۔یعنی ساتھ رہنے والوں میں سے ہو۔ 7 ۔گواہ بنانا۔
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۹،۴۹۰.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۷۹.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب السادس فی الھبۃ للصغیر،ج۴،ص۳۹۱.
10 ۔المرجع السابق،ص۳۹۲.
11 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۹۰.
مسئلہ ۳۶: بیٹے کو تصرف کرنے کے لیے اموال دے رکھے ہیں بیٹا کام کرتا ہے اور مال میں اضافہ ہو۔ اگر یہ ثابت ہو کہ باپ نے اسے ہبہ کردیا ہے جب تو اس کا ہے ورنہ سب کچھ باپ کا ہے اس کے مرنے کے بعد میراث جاری ہوگی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: نابالغ کوکسی اجنبی نے کوئی چیز ہبہ کی یہ اُس وقت تمام ہوگا کہ ولی اُس پر قبضہ کرلے اس مقام پر ولی سے مراد یہ چار شخص ہیں(1)باپ پھر (2)اُس کا وصی پھر(3)داداپھر(4)اُس کا وصی، اس صورت میں یہ ضرورت نہیں کہ نابالغ ولی کی پرورش میں ہوان چار کی موجودگی میں کوئی شخص اُس پر قبضہ نہیں کرسکتا چاہے اس قابض کی عیال میں وہ نابالغ ہو یانہ ہو وہ قابض ذو رحم محرم ہو یا اجنبی ہو موجودگی سے مُراد یہ ہے کہ وہ حاضر ہوں اوراگر غائب ہوں اور غیبت بھی منقطعہ ہو تواُس کے بعد جس کا مرتبہ ہے وہ قبضہ کرے۔ (2) (بحر)
مسئلہ ۳۸: ان چاروں میں سے کوئی نہ ہو تو چچا وغیرہ جس کی عیال میں نابالغ ہو وہ قبضہ کرے ، ماں یااجنبی کی پرورش میں ہو تو یہ قبضہ کریں گے ، اگر وہ بچہ لقیط ہے یعنی کہیں پڑا ہوا ملا ہے اس کے لیے کوئی چیز ہبہ کی گئی تو ملتقط(3) قبضہ کرے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۹: نابالغ اگر سمجھ وال ہومال لینا جانتا ہو تو وہ خود بھی موہوب (5)پر قبضہ کرسکتا ہے اگرچہ اُس کا باپ موجود ہو اور جس طرح یہ نابالغ قبضہ کرسکتا ہے ہبہ کو رد بھی کرسکتا ہے یعنی چھوٹے بچے کو کسی نے کوئی چیز دی تو وہ لے بھی سکتا ہے اور انکار بھی کرسکتا ہے جس نے نابالغ کو ہبہ کیا ہے وہ ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے سکتا ہے ، قاضی کو چاہیے کہ نابالغ کو جو چیز ہبہ کی گئی ہے اُسے بیع کردے تاکہ واہب (6)رجوع نہ کرسکے۔(7) (بحر)
مسئلہ ۴۰: نابالغ کو مٹھائی اور پھل وغیرہ کھانے کی چیزیں ہبہ کی جائیں ان میں سے والدین کھاسکتے ہیں یہ اُ س وقت ہے کہ قرینہ سے معلوم ہو کہ خاص اِس بچہ کوہی دینا نہیں بلکہ والدین کو دینا مقصود ہے مگر اُن کی عزت کا لحاظ کرتے ہوئے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب السادس فی الھبۃ للصغیر،ج۴،ص۳۹۲.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۹۱.
3 ۔یعنی اس بچے کو اٹھانے والا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۸۱.
5 ۔ہبہ کی ہوئی چیز۔ 6 ۔ہبہ کرنے والا۔
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۹۲.
یہ چیز حقیر معلوم ہوتی ہے اُن کو دیتے ہوئے لحاظ معلوم ہوتا ہے بچہ کا نام لے دیتے ہیں اور اگر قرینہ سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ خاص اسی بچہ کو دینا مقصود ہے تو والدین نہیں کھاسکتے مثلاًکوئی چیز کھارہا ہے کسی کا بچہ وہاں پہنچ گیا ذرا سی اُٹھا کر بچہ کو دیدی یہاں معلوم ہورہا ہے کہ والدین کو دینا مقصود نہیں ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو چیز کھانے کی نہ ہو وہ نابالغ کودی جائے تو والدین کو بغیرحاجت استعمال درست نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴۱: ختنہ کی تقریب میں رشتہ داروں کے یہاں سے جوڑے وغیرہ آتے ہیں سہرے پر روپے دیے جاتے ہیں اور جوڑے بھی طرح طرح کے ہوتے ہیں ان میں سے جن چیزوں کی نسبت معلوم ہو کہ بچہ کے لیے ہیں۔ مثلاًچھوٹے کپڑے جو بچہ کے مناسب ہیں یہ اُسی بچہ کے لیے ہیں ورنہ والدین کے لیے ہیں اگر باپ کے اقربا(2)نے ہدیہ کیا ہے تو باپ کے لیے ہیں ماں کے رشتہ داروں نے ہدیہ کیا ہے تو ماں کے لیے ہیں۔ (3) (درمختار)
مگر یہاں ہندوستان کا یہ عرف(4)ہے کہ باپ کے کنُبہ کے لوگ بھی زنانہ جوڑا بھیجتے ہیں جو ماں کے لیے ہوتا ہے اور نانہال(5)سے بھی مردانہ جوڑا بھیجا جاتا ہے جس کا صاف یہی مقصد ہے کہ مرد کے لیے مردانہ جوڑا ہے اور عورت کے لیے زنانہ اگرچہ کہیں سے آیا ہو، دیگر تقریبات مثلاًبسم اﷲکے موقع پر اور شادی کے موقع پر طرح طرح کے ہدایا (6)آتے ہیں اور وہ چیزیں کس کے لیے ہیں اس کے متعلق جو عرف ہواُس پر عمل کیا جائے اور اگر بھیجنے والے نے تصریح کردی ہے تو یہ سب سے بڑھ کر ہے چنانچہ تقریبات میں اکثر یہی ہوتا ہے کہ نام بنام سارے گھر کے لیے جوڑے بھیجے جاتے ہیں بلکہ ملازمین کے لیے بھی جوڑے آتے ہیں اس صورت میں جس کے لیے جو آیا ہے وہی لے سکتا ہے دوسرا نہیں لے سکتا۔
مسئلہ ۴۲: شادی وغیرہ تمام تقریبات میں طرح طرح کی چیزیں بھیجی جاتی ہیں اس کے متعلق ہندوستان میں مختلف قسم کی رسمیں ہیں ہر شہر میں ہر قوم میں جدا جدا رسوم ہیں ان کے متعلق ہدیہ اور ہبہ کا حکم ہے یا قرض کا عموماً رواج سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دینے والے یہ چیزیں بطور قرض دیتے ہیں اِسی وجہ سے شادیوں میں اور ہر تقریب میں جب روپے دیے جاتے ہیں تو ہرایک شخص کا نام اور رقم تحریر کرلیتے ہیں جب اُس دینے والے کے یہاں تقریب ہوتی ہے تو یہ شخص جس کے یہاں دیا جا چکا ہے فہرست نکالتا ہے اور اُتنے روپے ضرور دیتا ہے جو اُس نے دیے تھے اور اس کے خلاف کرنے میں سخت بدنامی ہوتی
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۸۲.
2 ۔قرابت دار،قریب کے رشتہ دار۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۸۲.
4 ۔رواج۔ 5 ۔ماں کاخاندان۔ 6 ۔تحفے،تحائف۔
ہے اور موقع پا کر کہتے بھی ہیں کہ نیوتے (1)کا روپیہ نہیں دیا اگر یہ قرض نہ سمجھتے ہوتے تو ایسا عرف نہ ہوتا جو عموماًہندوستان میں ہے۔
مسئلہ ۴۳: ایک شخص پر دیس سے آیا اور جس کے یہاں اوترا اُس کو کچھ تحائف دیے اور یہ کہا کہ اس کو اپنے گھروالوں میں تقسیم کردو اور خود بھی لے لو اُس سے دریافت کرنا چاہیے کہ کیا چیز کسے دی جائے اور اگر وہ موجود نہ ہوچلاگیا ہو توجو چیز عورتوں کے لائق ہو عورت کو دے اور جو لڑکیوں کے مناسب ہو لڑکیوں کو دے اور جو لڑکوں کے مناسب ہو لڑکوں کو دے اور جو چیز خود اُس کے مناسب ہو وہ خود لے اور جو چیز ایسی ہو کہ مردوعورت دونوں کے لیے یکساں ہوتو دیکھا جائے گا کہ وہ دینے والا مرد کا رشتہ دار ہے تو مرد لے اور عورت کا رشتہ دار ہے تو عورت لے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: بعض اولاد کے ساتھ محبت زیادہ ہو بعض کے ساتھ کم یہ کوئی ملامت کی چیز نہیں کیونکہ یہ فعل غیر اختیاری ہے اور عطیہ (3)میں اگر یہ ارادہ ہو کہ بعض کو ضرر پہنچاوے تو سب میں برابری کرے کم وبیش نہ کرے کہ یہ مکروہ ہے ہاں اگر اولاد میں ایک کودوسرے پر دینی فضیلت وترجیح ہے مثلاً ایک عالم ہے جو خدمت علم دین میں مصروف ہے یا عبادت ومجاہدہ میں اشتغال رکھتا ہے ایسے کو اگر زیادہ دے اور جو لڑکے دنیا کے کاموں میں زیادہ اشتغال رکھتے ہیں انھیں کم دے یہ جائز ہے اِس میں کسی قسم کی کراہت نہیں یہ حکم دیانت کاہے اور قضا کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے مال کا مالک ہے حالت صحت میں اپنا سارا مال ایک ہی لڑکے کو دیدے اور دوسروں کو کچھ نہ دے یہ کرسکتاہے دوسرے لڑکے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرسکتے مگر ایسا کرنے میں گنہگار ہے۔ (4) (بحر الرائق)
مسئلہ ۴۵: اولاد کو ہبہ کرنے میں لڑکی اور لڑکا دونوں کو برابر دے یہ نہیں کہ لڑکے کو لڑکی سے دو چند (5) دے دے جس طرح میراث میں ہوتا ہے کہ لڑکے کو لڑکی سے دونا ملتاہے ہبہ میں ایسا نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: لڑکا اگر فاسق ہے تو اُس کو صرف بقدر ضرورت دے زیادہ دینے کا یہ مطلب ہوگا کہ یہ گناہ کے کام میں اُس کا معین (7)ہے ، لڑ کافاسق ہے یہ گمان ہے کہ اُس کے بعد یہ اموال بدکاری اور گناہ میں خرچ کرڈالے گا۔ تو اُس کے لیے چھوڑ
1 ۔شادی ،بیاہ اور دیگر تقریبا ت میں جو تحفہ یا نقدی دی جاتی ہے اسے نیوتا کہتے ہیں ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثالث فیما یتعلق بالتحلیل،ج۴،ص۳۸۳.
3 ۔تحفہ۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۹۰.
5 ۔دُگنا،ڈبل۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب السادس فی الھبۃ للصغیر،ج۴،ص۳۹۱.
7 ۔مدد گار۔
جانے سے یہ بہتر ہے کہ نیک کاموں میں یہ اموال صَرف (1)کر ڈالے اِس صورت میں اُسے میراث سے محروم کرنے میں گناہ نہیں کہ یہ حقیقۃً میراث سے محروم کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے اموال اور اپنی کمائی کو حرام میں خرچ کرنے سے بچانا ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: باپ کو یہ جائز نہیں کہ نابالغ لڑکے کا مال دوسرے لوگوں کوہبہ کردے اگرچہ معاوضہ لے کر ہبہ کرے کہ یہ بھی نا جائز ہے اور خود بچہ بھی اپنا مال ہبہ کرناچاہے تو نہیں کرسکتایعنی اُس نے ہبہ کردیا اور موہوب لہ کو دیدیا اُس سے واپس لیاجائے گا کہ ہبہ جائز ہی نہیں۔ (3) (درمختار، بحر)
یہی حکم صدقہ کا ہے کہ نابالغ اپنا مال نہ خود صدقہ کرسکتا ہے نہ اُس کا باپ۔ یہ بات نہایت یادرکھنے کی ہے اکثر لوگ نابالغ سے چیز لے کر استعمال کرلیتے ہیں سمجھتے ہیں کہ اُس نے دے دی حالانکہ یہ دینا نہ دینے کے حکم میں ہے بعض لوگ دوسرے کے بچہ سے پانی بھروا کر پیتے یا وضو کرتے ہیں یا دوسری طرح استعمال کرتے ہیں یہ ناجائز ہے کہ اُس پانی کا وہ بچہ مالک ہوجاتا ہے اور ہبہ نہیں کرسکتا پھر دوسرے کواُس کا استعمال کیوں کر جائز ہوگا۔ اگر والدین بچہ کو اس لیے چیز دیں کہ یہ لوگوں کو ہبہ کردے یا فقیر وں کو صدقہ کردے تاکہ دینے اور صدقہ کرنے کی عادت ہواور مال ودنیا کی محبت کم ہو تو یہ ہبہ وصدقہ جائز ہے کہ یہاں نابالغ کے مال کا ہبہ وصدقہ نہیں بلکہ باپ کا مال ہے اور بچہ دینے کے لیے وکیل ہے جس طرح عموماًدروازوں پر سائل جب سوال کرتے ہیں توبچوں ہی سے بھیک دلواتے ہیں۔
مسئلہ ۴۸: بچہ نے ہدیہ پیش کیا اور یہ کہا کہ میرے والد نے یہ ہدیہ آپ کے پاس بھیجا ہے اُس کو لینا اور کھانا جائزہے مگر جب یہ گمان ہو کہ اُس کے باپ نے نہیں بھیجا ہے یہ خود لایا ہے اور یہ غلط ہے کہ اُس کے باپ نے بھیجا ہے تونہ لے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہی کپڑے اِس لیے بنائے کہ جب پیدا ہوگا تو اُن پر رکھا جائے گا مثلاً تکیہ، گدا، وہ پیدا ہوااور اُسی پر رکھا گیا پھر مرگیا یہ کپڑے میراث نہیں قرار پائیں گے جب تک اُس نے یہ اقرار نہ کیا ہو کہ یہ کپڑے لڑکے کی ملک ہیں اور بدن کے کپڑے جو پہننے کے ہیں جب انھیں بچہ نے پہن لیا مالک ہوگیا اور میراث ہیں۔(5)(بحر)
1 ۔خرچ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب السادس فی الھبۃ للصغیر،ج۴،ص۳۹۱.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۸۳.
و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۸۳۔۴۹۲.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثالث فیما یتعلق بالتحلیل،ج۴،ص۳۸۳.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۹۰.
مسئلہ ۵۰: نابالغہ لڑکی شوہر کے یہاں رخصت ہو کر چلی گئی اُس کو اگر کوئی چیز ہبہ کردی جائے اور شوہر قبضہ کرلے ہبہ تمام ہو جائے گا اُس کا باپ زندہ ہو یا مرگیا ہو دونوں صورتوں میں شوہر قبضہ کرسکتا ہے وہ نابالغہ قابلِ جماع(1)ہو یا نہ ہودونوں کاایک حکم ہے اور نابالغہ کے باپ نے یا خود اوس نے جبکہ سمجھ وال ہو قبضہ کیا یہ بھی ہو سکتا ہے یعنی شوہر ہی کا قبضہ کرنا ضروری نہیں اور اگرزوجہ بالغہ ہے تو اُس کے خود قبضہ کی ضرورت ہے شوہر کا قبضہ کافی نہیں اور اگر نابالغہ ہے اور ابھی رخصت بھی نہیں ہوئی ہےتو شوہر کا قبضہ اس صورت میں بھی کافی نہیں بلکہ اُسکے باپ وغیرہ جن کے قبضہ کا اوپرذکر کیا گیا ہے وہ قبضہ کرسکتے ہیں۔(2) (بحر)
مسئلہ ۵۱: ایک شخص نے دو کپڑے ایک شخص کو دیے اور یہ کہا کہ ایک تمھارا ہے اور ایک تمھارے لڑکے کا اور جدا ہونے سے قبل یہ نہیں متعین کیاکہ کون کس کا ہے یہ ہبہ جائز نہیں اور بیان کردیا ہے تو جائز ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۲: دوشخصوں نے ایک شخص کو مکان جو قابلِ قسمت (4)ہے ہبہ کردیا اور قبضہ دیدیا ہبہ صحیح ہے کہ یہاں شیوع نہیں ہے اور اگر ایک نے دوشخصوں کو ہبہ کیا اور یہ دونوں بالغ ہیں یا ایک بالغ ہے دوسرا نابالغ اور یہ نابالغ اُسی بالغ کی پرورش میں ہے اور فقیر بھی نہیں ہیں اور مکان قابلِ تقسیم ہے تو ہبہ صحیح نہیں کہ مشاع کا ہبہ ہے اور اگر ایک نے ایک ہی کوہبہ کیا ہے مگر موہوب لہ نے دوشخصوں کو قبضہ کے لیے وکیل کیا ہے تو یہ ہبہ جائز ہے۔ اور اگر دوشخصوں نے ایک مکان دوشخصوں کو ہبہ کیا یوں کہ ایک نے اپنا حصہ ایک کو ہبہ کیااور دوسرے نے اپنا حصہ دوسرے کو تو یہ ہبہ ناجائزہے اور اگر باپ نے اپنے دو بیٹوں کوہبہ کیا اور دونوں بالغ ہیں یا ایک بالغ دوسر انابالغ تو ہبہ صحیح نہیں اور اگر دونوں نابالغ ہیں تو صحیح ہے۔ (5) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۵۳: دس روپے دو فقیروں پر تصدق کیے یا ہبہ کیے یہ جائز ہے یعنی صدقہ میں شیوع مانعِ صحت نہیں(6)کہ صدقہ میں اﷲ(عزوجل)کی رضا مقصود ہے وہ ایک ہے فقیر کاایک ہونا یا متعددہونا اس کا لحاظ نہیں اور فقیر کو صدقہ کرنا یا ہبہ کرنا دونوں کا ایک مطلب ہے یعنی بہر صورت صدقہ ہے اور دو شخص غنی ہیں اُن کو دس روپے ہبہ کیے یا صدقہ کیے یہ دونوں ناجائز کہ یہاں
1 ۔ہمبستری کے قابل۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۹۲.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۵۸۴.
4 ۔تقسیم کے قابل۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۹۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۸۴.
6 ۔ صحیح ہونے میں رکاوٹ نہیں۔
دونوں لفظوں سے ہبہ ہی مراد ہے اور ہبہ میں شیوع مانع ہے(1) کیونکہ یہاں اغنیا کی رضامندی مقصود ہے اور وہ متعددہیں اور صحیح نہ ہونے کا اِس مقام پر مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں مالک نہیں ہوں گے اگر دونوں کو تقسیم کرکے قبضہ دیدیا دونوں مالک ہوجائیں گے۔(2) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۵۴: دیوار اس کے مکان میں اور پروسی کے مکان میں مشترک ہے اس نے وہ دیوار پروسی کو ہبہ کردی یہ جائزہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۵۵: مریض صرف ثلث مال(4)سے ہبہ کرسکتا ہے اور یہ ہبہ بھی اُس وقت صحیح ہے کہ اُس کی زندگی میں موہوب لہ(5) قبضہ کرلے۔ قبضہ سے پہلے مریض مرگیاتو ہبہ باطل ہوگیا۔(6) (عالمگیری)
کسی کو چیز دے کر واپس لینا بہت بُری بات ہے حدیث میں ارشاد ہوااسکی مثال ایسی ہے جس طرح کتا قے کرکے پھر چاٹ جاتا(7)لہٰذا مسلمان کو اس سے بچنا ہی چاہیے مگر چونکہ ہبہ ایسا تصرف ہے کہ واہب پر لازم نہیں اگر دے کر واپس ہی لینا چاہے تو قاضی واپس کردے گا اُسے نہ واپس لینے پر مجبور نہیں کریگا اور یہ واپس لینے کا حکم بھی حدیث سے ثابت ہے مگر سب جگہ واپس نہیں کرسکتا بعض صورتیں ایسی ہیں کہ اُن میں واپس لے سکتاہے اور بعض میں نہیں یہاں اِسی کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔
مسئلہ ۱: ہبہ میں اگر موہوب لہ کا قبضہ ہی نہیں ہوا ہے تو ابھی ہبہ کی تمامیت ہی نہیں ہوئی ہے اگر واہب نے رجوع کرلیا توہبہ بھی ختم ہوگیا اس کو رجوع نہیں کہتے رجوع یہ ہے کہ تمام ہوچکا ہے موہوب لہ نے قبضہ کرلیا ہے اس کے بعد واپس لے۔ (8) (درمختار)
1 ۔یعنی اشتراک ہبہ کے صحیح ہونے میں رکاوٹ ہے۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۹۳،۴۹۴.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۸۵.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۸۶.
4 ۔تہائی مال۔ 5 ۔جس کے لئے ہبہ کیاگیا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب العاشر فی ھبۃ المریض،ج۴،ص۴۰۰.
7 ۔''سنن أبی داؤد''،کتاب الإجارۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،الحدیث:۳۵۳۹،ج۳،ص۴۰۶.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۸۶.
مسئلہ ۲: جب موہوب لہ کوقبضہ دیدیاتو اب رجوع کرنے کے لیے قاضی کا حکم دینا یا موہوب لہ کا راضی ہونا ضروری ہے اور قبضہ نہ کیا ہو تو اس کی ضرورت نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: واہب نے کہہ دیا ہے کہ میں اس ہبہ کو واپس نہیں لوں گا جب بھی واپس لے سکتا ہے اُس کا یہ کہہ دینا مانعِ رجوع(2)نہیں۔(3) (بحر)
اور اگر حقِ رجوع سے(4)مصالحت کرلی ہے تو رجوع نہیں کرسکتا کہ صلح میں جو چیز دی ہے ہبہ کاعوض ہے۔ (5)
(عالمگیری)
مسئلہ ۴: ایک شخص نے دوسرے سے کہا فلاں کو ایک ہزارروپیہ میری طرف سے ہبہ کردو اُس نے کردیے اور موہوب لہ نے قبضہ بھی کرلیا ہبہ تما م ہوگیا دوسر اشخص واپس نہیں لے سکتا نہ پہلے سے لے سکتا ہے نہ موہوب لہ سے اور وہ پہلا چاہے تو موہوب لہ سے واپس لے سکتا ہے کہ واہب یہی ہے وہ دینے والا متبرع(6)ہے اور اگر پہلے نے یہ کہاہے کہ فلاں کو ایک ہزار ہبہ کردو میں اس کا ضامن ہوں اور اُس نے دیدیے تو پہلا شخص ضامن ہے دوسرا اس سے لے سکتا ہے موہوب لہ سے نہیں لے سکتا اور پہلا شخص موہوب لہ سے واپس لے سکتا ہے۔ (7) (بحر)
مسئلہ ۵: صدقہ دیکر واپس لینا جائز نہیں لہٰذا جس کو صدقہ دیا تھا اُس نے عاریت یا ودیعت سمجھ کر کچھ دنوں کے بعد واپس دیا اس کولینا جائز نہیں اور لے لیا ہوتو واپس کردے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: دَین(9)کے ہبہ میں رجوع نہیں کرسکتا مثلاًدائن(10)نے مدیون(11)کو دَین ہبہ کردیا اور مدیون نے قبول کرلیا دائن واپس نہیں لے سکتا کہ یہ اسقاط ہے مگر قبول کرنے سے پہلے واپس لے سکتا ہے۔ (12) (بحر)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الخامس فی الرجوع...إلخ،ج۴،ص۳۸۵.
2 ۔واپس لینے میں رکاوٹ۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۵.
4 ۔واپسی کے حق سے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الخامس فی الرجوع...إلخ،ج۴،ص۳۹۱.
6 ۔احسان کرنے والا۔
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۵.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثانی عشر فی الصدقۃ،ج۴،ص۴۰۶.
9 ۔قرض۔ 10 ۔قرض خواہ۔ 11 ۔مقروض۔
12 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۵.
مسئلہ ۷: رجوع کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ رجوع کے الفاظ بولے مثلاًرجوع کیا ، واپس لیا، ہبہ کو توڑدیا، باطل کردیااور اگر الفاظ نہیں بولے بلکہ اُس چیز کو بیع کردیا یا اپنی چیز میں خلط کردیا(1)یا کپڑا تھا رنگ دیا یا غلام تھا آزاد کردیا یہ رجوع نہیں بلکہ یہ تصرفات (2)بیکار ہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: واہب کو موہوب لہ سے ہبہ کو خریدنا نہ چاہیے کہ یہ بھی رجوع کے معنے میں ہے کیونکہ موہوب لہ یہ خیال کریگاکہ یہ چیز اسی کی دی ہوئی ہے پورے دام(4)لینے سے اُسے شرم آئے گی مگر باپ نے بیٹے کو کوئی چیز دی ہے پھر خریدنا چاہتا ہے تو خریدسکتا ہے کہ شفقت پدری کم دام دینے سے مانع ہوگی۔(5) (بحر)
مسئلہ ۹: ہبہ میں رجوع کرنے سے سات چیز یں مانع ہیں اُن سات کو اِن الفاظ میں جمع کیا گیاہے۔ ''دمع خزقہ'' دال سے مُرادزیادت متصلہ ہے۔ میم سے مراد موت یعنی واہب وموہوب لہ دونوں میں سے کسی کا مرجانا۔ عین سے مراد عوض۔ خا سے مراد خروج یعنی ہبہ کا ملک موہوب لہ سے خارج ہو جانا۔ زا سے مراد زوجیت۔ قاف سے مرادقرابت۔ ہاسے ہلاک۔
ان سب کے احکام کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے۔
مسئلہ ۱۰: جس چیز کوہبہ کیا اُس میں کچھ زیادت ہوئی اگر یہ موہوب کے ساتھ متصل ہے واہب رجوع نہیں کرسکتا مثلاً ایک نابالغ غلام کسی کو ہبہ کیا اب وہ جوان ہوگیا رجوع نہیں کرسکتا زیادت متصلہ متولدہ ہو یا غیر متولدہ موہوب لہ کے فعل سے ہوئی ہو یا اس کے فعل سے نہ ہوسب کا ایک حکم ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: زمین ہبہ کی موہوب لہ نے اس میں مکان بنایا یا درخت لگائے یہ زیادت متصلہ ہے یا پانی نکالنے کاچرخ نصب کیا(7)اس طرح کہ توابعِ زمین میں(8)شمار ہواور بیع میں بغیر ذکر کیےتبعاً داخل ہوجائے یہ بھی زیادت متصلہ ہے۔ یوہیں
1 ۔ملادیا۔ 2 ۔یہ کام کاج۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الخامس فی الرجوع...إلخ،ج۴،ص۳۸۶.
4 ۔پوری قیمت۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۵.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الخامس فی الرجوع...إلخ،ج۴،ص۶۰۴.
7 ۔کنویں سے پانی کھینچنے کا چرخ لگایایا موٹر وغیرہ لگائی۔
8 ۔زمین سے متعلقہ چیزوں میں۔
اگرمکان ہبہ کیا تھا موہوب لہ نے اُس میں کچھ نئی تعمیر کی یہ زیادت متصلہ ہے۔ اب واپس نہیں لے سکتا۔ (1)
(بحر،درمختار،عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: حمام ہبہ کیا تھا موہوب لہ نے اُسے رہنے کامکان بنایا یامکان ہبہ کیا تھا اُسے حمام بنایا اگر عمارت میں تغییر نہیں کی ہے رجوع کرسکتا ہے اورا گر تغییر کی ہے مثلاًدروازہ لگایا یاگچ کرائی(2)یا کہگل کرائی(3) تورجوع نہیں کرسکتا اور اگر عمارت منہدم کردی(4) صرف زمین باقی ہے تورجوع کرسکتا ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: موہوب میں کچھ نقصان پیدا ہوگیا یہ رجوع کومنع نہیں کرتا خواہ وہ نقصان موہوب لہ کے فعل سے ہو یا اس کے فعل سے نہ ہو مثلاًکپڑا ہبہ کیا تھا اُس کو قطع کرالیا۔ (6) (بحر)
مسئلہ ۱۴: زیادت منفصلہ رجوع سے مانع نہیں مثلاًبکری ہبہ کی تھی اُس کے بچہ پیداہوا یہ زیادت منفصلہ ہے واہب اپنی ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے سکتاہے اور وہ زیادت موہوب لہ کی ہوگی اُس کو واپس نہیں لے سکتا مگر جانور کو اُس وقت واپس لے سکتا ہے جب بچہ اس قابل ہو جائے کہ اُسے اپنی ماں کی حاجت نہ رہے۔(7) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۵: زیادت سے یہ مراد ہے کہ موہوب میں کوئی ایسی بات پیدا ہوجائے جس سے قیمت میں اضافہ ہو جائے لہٰذا اُس چیز کاپہلے سے زیادہ فربہ ہوجانا یا خوبصورت ہوجانا بھی زیادت ہے۔ کپڑا تھا سی دیا یا رنگ دیا یہ بھی زیادت ہے۔ چیز کوایک جگہ سے منتقل کرکے دوسری جگہ لے گیا جبکہ اِس انتقال مکانی(8)سے قیمت میں اضافہ ہو جائے یہ بھی زیادت میں داخل ہے غلام کافر تھا مسلمان ہوگیایا اُس نے کوئی جنایت کی تھی(9)ولی جنایت نے معاف کردی۔ بہر اتھا سننے لگا۔ اندھاتھا دیکھنے لگا یہ سب زیادت متصلہ میں داخل ہیں۔ اور اگر قیمت کی زیادتی نرخ تیز ہو جانے کے سبب سے ہے تو زیادت میں اس کا شمار نہیں۔
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۸۸.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ...إلخ،ج۴،ص۳۸۶.
2 ۔سفیدی اور دریا کی ریت سے تیار کئے ہوئے چونے کا پلسترکروایا۔
3 ۔بھوسا ملی ہوئی مٹی کا پلسترکروایا۔ 4 ۔گرادی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ...إلخ،ج۴،ص۳۸۷.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۶.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۸۹.
و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۶.
8 ۔نقل مکانی۔ 9 ۔ایسا جرم کیا تھا جس سے عقوبت دنیوی(دنیوی سزا)لازم آتی ہے۔
تعلیم وکتابت اور کوئی صنعت سکھادینا بھی زیادت میں داخل ہے۔ کپڑاہبہ کیا تھا اُسے موہوب لہ نے دھلوایا۔ جانور یا غلام جب ہبہ کیا تھا بیمار تھا موہوب لہ نے اُس کا علاج کرایا اب اچھا ہوگیا یہ بھی زیادت میں داخل ہے اور اگرموہوب لہ کے یہاں بیمار ہوااور اُس نے علاج کرایا اور اچھا ہوگیا یہ رجوع سے مانع نہیں ہے۔ (1) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۱۶: زمین میں مکان بنوایا یا درخت لگائے اگر یہ زیادتی اُس پوری زمین میں شمار ہو تو پوری کا رجوع ممتنع ہوجائے گااور اگر فقط اُس قطعہ میں زیادت شمارہو باقی میں نہیں تو اس قطعہ کی واپسی ممتنع ہو جائے گی باقی کی نہیں یعنی اگر بہت زیادہ زمین ہے کہ ایک دو مکان کے بننے سے پوری زمین میں اضافہ نہیں متصورہوتاتو فقط اس حصہ کی واپسی ممتنع ہوجائے گی جس میں مکان بنا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: زمین میں بے موقع روٹی پکانے کا تنور گڑوایا یہ زیادت میں داخل نہیں ہے بلکہ نقصان ہے۔ درخت کاٹ ڈالنا یا اُسے چیر پھاڑ کر جلانے کا ایندھن بنالینا مانع رجوع نہیں اور اُس کوکاٹ کر چوکھٹ ،بازو (3)،کیواڑ (4)،کڑیاں (5)،وغیرہ کوئی چیز بنائی تو رجوع نہیں کرسکتا۔ جانور کو قُربانی کر ڈالنا یا اور طر ح ذبح کرنا بھی واپس کرنے کو منع نہیں کرتا۔ (6) (بحر)
مسئلہ ۱۸: کپڑا ہبہ کیا تھا موہوب لہ نے اُسے دو۲ ٹکڑے کر ڈالا ایک ٹکڑے کی اچکن(7)سلوائی واہب دوسرے ٹکڑے کو واپس لے سکتا ہے۔ چھلا ہبہ کیا موہوب لہ نے اُس پر نگ لگایا اگر نگ جدا کرنے میں نقصان ہوگا تو واپس نہیں لے سکتا ورنہ لے سکتا ہے۔(8) (بحر)
مسئلہ ۱۹: کاغذ ہبہ کیا اُس پر لکھ کر کتاب بنائی واپس نہیں لے سکتا۔ سادی بیاض(9)ہبہ کی تھی موہوب لہ نے اُس
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۶.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۸۸.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۸۸.
3 ۔دروازے وغیرہ کی کھڑی لکڑیوں میں سے ہر ایک کوبازو کہتے ہیں ۔
4 ۔دروازے یا کھڑکی وغیرہ کا پٹ۔ 5 ۔کڑی کی جمع، شہتیر۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۶۔۴۹۷.
7 ۔ایک قسم کا مردانہ لباس۔
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۷.
9 ۔یعنی سادہ اوراق کی مجلد یا غیر مجلد کتاب۔
میں کتاب لکھی جس سے اُس کی قیمت بڑھ گئی واپس نہیں لے سکتا اور اگر حساب وغیرہ ایسی چیزیں لکھی جس کی وجہ سے اس کاردی میں شمار ہے تو واپس لے سکتا ہے۔(1) (بحر)
مسئلہ ۲۰: قرآن مجید ہبہ کیا تھا اُس میں اعراب (زیرزبر)لگائے واپس نہیں لے سکتا۔ لوہا ہبہ کیا تھا اُس کی تلوار یا چھری وغیرہ کوئی چیز بنالی رجوع نہیں کرسکتا سوت ہبہ کیا اُس کا کپڑا بُنوا لیا رجوع نہیں کرسکتا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: واہب(3)اور موہوب لہ(4)میں اختلاف ہواکہ موہوب لہ کے پاس زیادت ہوئی ہے یا نہیں اگر وہ زیادت متولدہ ہے مثلاًچھوٹی چیز ہبہ کی تھی اب وہ بڑی ہوگئی واہب کہتا ہے کہ اتنی ہی بڑی میں نے ہبہ کی تھی اور موہوب لہ کہتا ہے چھوٹی تھی اب بڑی ہوگئی اس میں واہب کا قول معتبر ہے اور اگر وہ زیادت غیر متولدہ ہے جیسے کپڑے کا سل جانا اُس کورنگ دینا اس میں موہوب لہ کا قول معتبر ہے۔(5) (بحر)
مسئلہ ۲۲: موہوب لہ کہتا ہے کہ مکان میں جدید تعمیر ہوئی ہے واہب اِس سے منکر ہے اگر اتنی تعمیر اتنے دنوں میں عموماًنہ ہوتی ہو تو واہب کا قول معتبر اگرچہ یہ زیادت غیر متولدہ ہے۔ واہب کہتا ہے میں نے یہ رنگا ہوا کپڑا ہبہ کیا ہے یا ستومیں گھی ملا کرہبہ کیا ہے موہوب لہ کہتا ہے یہ کپڑا رنگا ہوانہ تھا میں نے رنگا ہے میں نے گھی ستو میں ملایا ہے چونکہ موہوب لہ منکرہے اسی کاقول معتبر ہے۔(6) (بحر)
مسئلہ ۲۳: ہبہ کرکے قبضہ دیدیا اس کے بعد واہب یاموہوب لہ دونوں میں سے کوئی بھی مرجائے ہبہ واپس نہیں ہوسکتا موہوب لہ مرگیا تو اُس کی ملک ورثہ کی طرف منتقل ہوگئی واہب مرگیا تو اس کا وارث اس چیز سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اجنبی ہے لہٰذا واپس نہیں لے سکتا۔(7) (بحر، در مختار)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۷.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الخامس فی الرجوع...إلخ،ج۴،ص۳۸۹.
3 ۔ہبہ کرنے والا۔ 4 ۔جس کو ہبہ کیا گیا۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۶.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۷.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۰.
مسئلہ ۲۴: اگر قبضہ سے پہلے متعاقدین میں سے کسی کا انتقال ہوگیا تو یہ رجوع کو نہیں منع کرتا بلکہ وہ ہبہ ہی باطل ہوگیا وارث کہتا ہے میرے مورِث نے(1)یہ چیز تمھیں ہبہ کی تھی تم نے قبضہ نہیں کیا یہاں تک کہ اُس کا انتقال ہوگیا موہوب لہ کہتا ہے میں نے اُس کے مرنے سے پہلے ہی چیز پر قبضہ کرلیا تھا اگر وہ چیز وارث کے قبضہ میں ہو تو اُسی کا قول معتبرہے۔(2) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۲۵: موہوب لہ نے عوض دیا تو واہب کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ہبہ کا عوض ہے موہوب لہ نے کہا اپنے ہبہ کا عوض لویا اُس کا بدلہ لو یا اُس کے مقابلہ میں یہ چیز لو واہب نے لے لیا رجوع کرنے کا حق ساقط ہوگیا اور اگر عوض ہونا لفظوں سے ظاہر نہیں کیا تو ہر ایک اپنے اپنے ہبہ کو واپس لے سکتا ہے یعنی واہب ہبہ کو اور موہوب لہ عوض کو۔(3)
(ہدایہ ، بحر)
مسئلہ ۲۶: ہبہ کا عوض بھی ہبہ ہے اس میں وہ تمام باتیں لحاظ رکھی جائیں گی جو ہبہ کے لیے ضروری ہیں جن کا ذکر ہوچکا مثلاً اس کا جدا کردینا ،مشاع نہ ہونا،اس پر قبضہ دلادینا۔ (4) (درمختار، بحر)
صرف اتنا فرق ہے کہ ہبہ میں حق رجوع ہوتا ہے جب تک موانع نہ پائے جائیں اور اس میں یہ حق نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: ہبہ کا عوض اوتنا ہی ہونا ضروری نہیں اُس سے کم اور زیادہ بھی ہوسکتا ہے اُس جنس کا بھی ہوسکتا ہے اور دوسری جنس کا بھی ہوسکتا ہے۔ مثلاً اکثر ایساہوتا ہے کہ تھوڑے سے پھل وغیرہ کی ڈالی لگاتے ہیں اور جتنے کی چیزیں ہوتی ہیں اُس سے بہت زیادہ پاتے ہیں۔ (6) (بحر)
مسئلہ ۲۸: بچہ کو کوئی چیزہبہ کی گئی اس کے باپ کو یہ اختیار نہیں کہ اس کے مال سے اُس ہبہ کا معاوضہ دے اگر عوض
1 ۔یعنی مرنے والے نے۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۱.
و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۷.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۲،ص۲۲۶.
و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۷.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۱.
و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۷.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب السابع فی حکم العوض فی الھبۃ،ج۴،ص۳۹۴.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۷.
دیدیا جب بھی واہب ہبہ کو واپس لے سکتا ہے کہ وہ عوض دینا صحیح ہی نہیں ہوا۔(1) (بحر)
مسئلہ ۲۹: نصرانی یا کسی کافر نے مسلمان کو کوئی چیز ہبہ کی مسلمان اس کے عوض میں اُسے سوئر یا شراب دے یہ عوض دینا صحیح نہیں کیونکہ مسلمان اپنی طرف سے کسی کو بھی اِن چیزوں کا مالک نہیں کرسکتا اور جب یہ دینا صحیح نہ ہوا تو واہب اب بھی رجوع کرسکتا ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: عوض دینے کا یہ مطلب ہے کہ موہوب کے سوا دوسری چیز واہب کو دے اگر موہوب کا ایک حصہ باقی کے عوض میں دیدیایہ صحیح نہیں واہب رجوع کرسکتا ہے۔ دو چیزیں ہبہ کی ہیں اگر دو عقد کے ذریعہ سے ہبہ ہوئی ہیں تو ایک کو دوسرے کے عوض میں دے سکتا ہے اور اگر ایک ہی عقد میں دونوں چیزیں واہب نے دی تھیں توایک کو دوسری کا عوض نہیں کہہ سکتے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: گیہوں(4)ہبہ کیے تھے موہوب لہ نے انھیں میں سے تھوڑا آٹا پسوا کر باقی کے عوض میں واہب کودے دیا یہ عوض دینا صحیح ہے یعنی اب واہب بقیہ گیہوں کو واپس نہیں لے سکتا کہ عوض لے چکا ہے۔ یوہیں کپڑا ہبہ کیا تھا اُس میں کا ایک حصہ رنگ کر یا سی کر باقی کے عوض میں دیا یا ستو ہبہ کیا تھا تھوڑا سا اُسی میں سے گھی میں ملا کر واہب کو دیدیا یہ تعویض(5)صحیح ہے۔ ایک شخص نے دو ۲ کنیزیں ہبہ کی تھیں موہوب لہ کے پا س ان میں سے ایک کے بچہ پیدا ہوا یہ بچہ عوض میں دیدیایہ صحیح ہے اور واپس لینا ممتنع ہوگیا۔ جانور کے ہبہ کا بھی یہی حکم ہے۔ (6) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۳۲: اجنبی شخص نے موہوب لہ کی طرف سے بطور تبرع واحسان واہب کو عوض دیا یہ بھی صحیح ہے اگر واہب نے قبول کرلیا رجوع ممتنع ہوگیا اجنبی کا عوض دینا موہوب لہ کے حکم سے ہویا بغیر حکم دونوں کا ایک حکم ہے۔(7)
(ہدایہ، بحر)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۷.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۳.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔گندم۔ 5 ۔عوض دینا۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۳.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۲،ص۲۲۶.
و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۸.
مسئلہ ۳۳: موہوب لہ کی طرف سے دوسرے نے عوض دیدیا یہ موہوب لہ سے رجوع نہیں کرسکتا اگرچہ یہ موہوب لہ کا شریک ہی ہو اگرچہ اس نے اُس کے حکم سے عوض دیا ہو کیونکہ موہوب لہ کے ذمہ عوض دینا واجب نہ تھا لہٰذا اُس کا حکم کرنا ایسا ہی ہے جس طرح تبرع کرنے کا حکم ہوتا کہ اس میں رجوع نہیں کرسکتا ہاں اگر اس نے یہ کہہ دیا ہے کہ تم عوض دے دو میں اس کا ضامن ہوں تو اس صورت میں وہ اجنبی موہوب لہ سے لے سکتا ہے۔(1)
(بحر)
مسئلہ ۳۴: ہبہ کا عوض دے دیا اب دیکھتا ہے کہ موہوب(2)میں عیب ہے تو اسے یہ اختیار نہیں کہ موہو ب کو واپس دے کر عوض واپس لے۔ یوہیں واہب (3)نے عوض پر قبضہ کرلیا تو اُسے بھی یہ اختیار نہیں کہ عوض واپس دے کر موہوب کو واپس لے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: مریض نے ہبہ کیا موہوب لہ نے ہبہ کا عوض دیا اور مریض نے اُس پر قبضہ کرلیا پھر مرگیا اور اُس مریض کے پاس اس کے سوا کوئی مال نہ تھا جسے ہبہ کردیا تو اگر وہ عوض اُس مال کی دوتہائی قیمت کی قدر ہو یا زیادہ ہو توہبہ نافذ ہے اور اگر نصف قیمت کی قدر ہو تو ایک سدس(5)اُس کے ورثہ موہوب لہ سے واپس لے سکتے ہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: عوض دینے کے بعد ہبہ میں کسی نے اپنا حق ثابت کیا اور نصف موہوب کو لے لیا تو موہوب لہ واہب سے نصف عوض واپس لے سکتا ہے اور اگر اس کا عکس ہو یعنی نصف عوض میں مستحق نے حق ثابت کرکے لے لیا تو واہب کویہ حق نہیں کہ نصف ہبہ کو واپس لے لے ہاں اگر اس مابقی کو یعنی جو کچھ عوض اس کے پاس رہ گیا ہے اس کو واپس کرکے ہبہ کا کل یا جز لینا چاہتا ہے تو لے سکتا ہے۔
اس مقام پر عوض سے مُراد وہ ہے کہ ہبہ میں مشروط نہ ہو اگر ہبہ میں عوض مشروط ہوتو وہ مبادلہ کے حکم میں ہے اُس کے اجزا پر اس کی تقسیم ہوگی یعنی نصف عوض کے استحقاق پر نصف ہبہ کو واپس لے سکتا ہے۔(7) (بحر، درمختار، ہدایہ)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۸.
2 ۔ہبہ کی گئی چیز۔ 3 ۔ہبہ کرنے والا۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الھبۃ،الباب السابع فی حکم العوض...إلخ،ج۴،ص۳۹۴ .
5 ۔چھٹا حصہ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الھبۃ،الباب السابع فی حکم العوض...إلخ،ج۴،ص۳۹۵ .
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۴.
و''الھدایۃ''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۲،ص۲۲۶.
مسئلہ ۳۷: موہوب لہ نے نصف ہبہ کا عوض دیا ہے یعنی کہہ دیا کہ یہ نصف کے عوض میں ہے تو جس کاعوض نہیں دیا ہے واہب اُسے واپس لے سکتا ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۸: پورے عوض کو کسی نے اپناثابت کیا اگر موہوب شے موجود ہے تو پوری واپس لے سکتا ہے اور ہلاک ہوگئی ہے توکچھ نہیں اور اگر عوض دینے کے بعد کسی نے پورے ہبہ کو اپنا ثابت کرکے لے لیا تو موہوب لہ عوض کو واپس لے سکتا ہے اگر موجود ہواور ہلاک ہوگیا ہے تو دوصورتیں ہیں مثلی ہے(2)تو اُس کی مثل لے اور قیمی ہے(3) تو قیمت۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۹: ہبہ کاعوض دیا تھا مگر اُس کا کوئی حقدار نکل آیا جس نے اس کو لے لیا اور ادھر موہوب چیز میں زیادت ہوگئی تو واہب واپس نہیں لے سکتاہے۔ (5) (درمختار)
اُس کی ملک سے نکل جانے کی بہت صورتیں ہیں بیع کردے، صدقہ کردے، ہبہ کردے، جوکچھ کردے واہب واپس نہیں لے سکتا۔
مسئلہ ۴۰: موہوب لہ نے موہوب شے کوہبہ کردیاتھا اور واہب کا رجوع ممتنع ہوگیا تھامگر موہوب لہ نے جس کو دیا تھا اُس سے واپس لیا تو واہب اول ا س سے لے سکتا ہے کہ مانع زائل ہوگیا۔ موہوب لہ ثانی سے(6)واپسی جو ہوئی وہ قاضی کے حکم سے ہوئی ہو یا خود اُس کی رضامندی سے کہ اس کے رجوع کرنے کے معنی ہبہ کو فسخ کرنا ہے لہٰذا مانع زائل ہوگیا۔ اور اگر اُس چیز کا اس کی ملک میں آنا نئے سبب سے ہو مثلاً اس نے موہوب لہ ثانی سے خریدلی یا اُس نے اس پر صدقہ کردیا اِس صورت میں واہب اوّل ا س سے واپس نہیں لے سکتا۔ (7) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۴۱: موہوب شے موہوب لہ کی ملک سے خارج ہونے کے بعد اگر پھر اُس کی ملک میں آجائے تو یہ دیکھا
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۴.
2 ۔جس کی مثل بازار میں ملتی ہو۔ 3 ۔جس کی مثل بازار میں نہ ملتی ہو۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۴ .
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔دوسرے موہوب لہ سے۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۵ .
و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۹.
جائے گا کہ یہ ملک میں آجانا کس سبب سے ہے اگر فسخ کی وجہ سے ہے تو واہب کو واپس لینے کا حق لوٹ آئے گا مثلاًبیع کردی تھی پھر وہ بیع قاضی نے فسخ کردی اور اگر ملک میں واپس آنا سبب جدید سے ہے تو واہب کو واپسی کا حق واپس نہیں آئے گا۔(1) (بحر)
مسئلہ ۴۲: مِلک سے نکلنے کے یہ معنے ہیں کہ پوری طرح اس کی مِلک سے خارج ہوجائے لہٰذا اگر یہ صورت نہ ہو بلکہ کچھ لگاؤباقی ہو مثلاً موہوب لہ نے ہبہ کاجانور قربانی کردیا یا بکری کے گوشت کو صدقہ کرنے کی منت مانی اور ذبح ہوچکی ہے گوشت طیار ہے واہب واپس لے سکتا ہے۔ تمتع(2)یاقران(3)یا نذر(4)کا جانور ہبہ کیا ہوا ہے واہب واپس لے سکتا ہے اگرچہ ذبح کردیا ہواور گوشت ہوگیا ہو۔ (5) (بحر ، درمختار)
مسئلہ ۴۳: موہوب لہ نے آدھی چیز بیع کردی ہے آدھی اُس کے پاس باقی ہے جو باقی ہے اس میں رجوع کرسکتا ہے۔(6)(بحر)
مسئلہ ۴۴: زوجیت سے مراد وہ ہے جو وقت ہبہ موجود ہو اور بعد میں پائی گئی تو مانع نہیں مثلاً ایک عورت اجنبیہ کوہبہ کیا تھا ہبہ کے بعد اس سے نکاح کیا واپس لے سکتا ہے اور اگر اپنی عورت کوہبہ کیا تھا اس کے بعد فرقت ہوگئی تو واپس نہیں لے سکتا غرض یہ کہ واپس لینے اور نہ لینے دونوں میں وقت ہبہ ہی کا لحاظ ہے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۴۵: مرد نے عورت کے یہاں چیز یں بھیجی تھیں اور عورت نے مرد کے یہاں جس طرح یہاں بھی رواج ہے کہ طرفین سے چیزیں آتی جاتی رہتی ہیں پھر زِفاف کے بعد(8)دونوں میں فرقت ہوگئی(9)شوہر نے دعویٰ کیا کہ جو کچھ میں نے سامان بھیجا تھا بطور عاریت تھالہٰذا واپس ملنا چاہیے اور عورت بھی کہتی ہے میری چیزیں مجھے واپس مل جائیں ہر ایک دوسرے سے واپس لے لے کیونکہ عورت کا یہ گمان ہے کہ جو کچھ اس نے دیا تھا ہبہ کے عوض میں دیا تھا اور ہبہ ثابت نہیں
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۹.
2 ۔حج تمتع ۔ 3 ۔حج قِران۔ 4 ۔منت۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۵.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۹.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۶.
8 ۔رخصتی کے بعد۔ 9 ۔جدائی ہوگئی۔
لہٰذاعوض بھی واپس۔ (1) (بحر)
قرابت سے مراد اس مقام پر ذی رحم مَحرم ہے یعنی یہ دونوں باتیں ہوں اور حرمت بھی نسب کی وجہ سے ہوتو واپس نہیں لے سکتا اگرچہ وہ ذی رحم مَحرم ذمی یا مستامن ہوکہ اس سے بھی واپس نہیں لے سکتا۔ مثلاًباپ ،دادا، ما ں، دادی اصول (2)اور بیٹا،بیٹی ،پوتا،پوتی، نواسہ، نواسی فروع (3)اور بھائی، بہن اور چچا،پھوپی کہ یہ سب ذی رحم محرم ہیں۔ اگر موہوب لہ محرم ہے یعنی نکاح حرام ہے مگر ذی رحم نہ ہو جیسے رضاعی بھائی (4)یا مصاہَرت (5)کی وجہ سے حرمت ہو جیسے سا س اور بی بی کی دوسرے خاوند سے اولادیں اور داماد اور بیٹے کی بی بی یا موہوب لہ ذی رحم ہے مگر محرم نہیں جیسے چچا زاد بھائی اگرچہ یہ رضاعی بھائی ہو کہ یہاں نسب کی وجہ سے حرمت نہیں ان سب کو چیز ہبہ کرکے واپس لے سکتا ہے۔ (6) (بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: ایک شے غیر منقسم(7)اپنے بھائی اور اجنبی دونوں کو ہبہ کی اور دونوں نے قبضہ کرلیا اجنبی کا حصہ واپس لے سکتا ہے کہ اس میں رجوع سے مانع نہیں ہے اور بھائی کا حصہ واپس نہیں لے سکتا کہ یہاں مانع پایا جاتا ہے۔(8)
(درر)
کہ جب وہ چیز ہی نہیں ہے رجوع کیا کریگا۔
مسئلہ ۴۷: موہوب لہ کہتا ہے کہ چیز ہلاک ہوگئی اور واہب کہتا ہے کہ نہیں ہلاک ہوئی موہوب لہ کی بات بغیر حلف مان لی جائے گی کہ وہی منکر ہے کیونکہ وجوب رد کا وہ منکر ہے اور اگر واہب کہتا ہے کہ جو چیز میں نے ہبہ کی تھی وہ یہ ہے اور موہوب لہ منکر ہے تو موہوب لہ کی بات حلف کے ساتھ معتبر ہوگی اور اگر موہوب لہ کہتا ہے میں واہب کا بھائی ہوں اور واہب منکر ہے تو واہب کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔(9) (بحر)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۹،۵۰۰.
2 ۔باپ،دادا،پڑدادا،پڑدادی وغیرہ اس طرح کے رشتے اصول کہلاتے ہیں۔
3 ۔بیٹا،پوتی،پڑپوتا وغیرہ اس طرح کے رشتے فروع کہلاتے ہیں۔
4 ۔دودھ شریک بھائی ۔ 5 ۔سسرالی رشتہ۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۵۰۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الخامس فی الرجوع...إلخ،ج۴،ص۳۸۶،۳۸۷.
7 ۔ تقسیم کیے بغیر۔
8 ۔''دررالحکام''شرح''غررالأحکام''، کتاب الھبۃ،باب الرجوع فیھا،الجزء الثانی ،ص۲۲۳.
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۵۰۰.
مسئلہ ۴۸: موہوب چیزمیں تغیرپیدا ہوگیا یعنی اب دوسری چیز ہوگئی یہ بھی مانع رجوع ہے مثلاًگیہوں کا آٹا پسوا لیا یا آٹا تھا اس کی روٹی پکالی دودھ تھا اُ سکوپنیر بنالیا یا گھی کرلیا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: کڑیاں(2)ہبہ کی تھیں اُس نے چیر پھاڑ کر ایندھن بنالیا یاکچی اینٹیں ہبہ کی تھیں توڑ کر مٹی بنا لی رجوع کرسکتا ہے اور ا س مٹی کی پھر اینٹیں بنالیں تو رجوع نہیں کرسکتا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: روپیہ ہبہ کیا تھا پھر موہوب لہ سے وہی روپیہ قرض لے لیا اب اس کو کسی طرح رجوع نہیں کرسکتا اور اگر موہوب لہ نے اُس روپیہ کو صدقہ کردیا مگر ابھی فقیر نے قبضہ نہیں کیا ہے تو واہب (4)واپس لے سکتا ہے۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: ہبہ میں رجو ع کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دونوں کی رضامندی سے چیز واپس ہو یا حاکم نے واپسی کا حکم دیدیا ہو لہٰذا قاضی کے حکم کرنے کے بعد اگر واہب نے چیز کو طلب کیا اور موہوب لہ نے انکار کردیا اور اُس کے بعد وہ شے ضائع ہوگئی تو موہوب لہ کو تاوان دینا ہوگا کہ اب اُسے روکنے کا حق نہ تھا اوراگر قاضی کے حکم سے قبل یہ بات ہوئی تو اُس پر تاوان واجب نہیں کہ اوسے روکنے کا حق تھا۔ یوہیں اگر موہوب لہ نے بعد حکم قاضی اُسے روکا نہیں بلکہ ابھی تک واہب نے مانگا نہیں اور موہوب لہ کے پاس ہلاک ہوگئی تو تاوان واجب نہیں۔ (6) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۵۲: قضائے قاضی یا طرفین کی(7)رضا مندی سے جب اُس نے رجوع کرلیا تو عقدہبہ بالکل فسخ ہوگیا اور واہب کی پہلی مِلک عود کرآئی(8)یہ نہیں کہا جائے گاکہ جدید مِلک حاصل ہوئی لہٰذا مالک ہونے کے لیے واہب کے قبضہ کی ضرورت نہیں اور مشاع میں بھی رجوع صحیح ہے مثلاًموہوب لہ نے نصف کو بیع کردیا ہے نِصْف باقی ہے اس نِصْف کو واہب نے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الخامس فی الرجوع...إلخ،ج۴،ص۳۸۶.
2 ۔کڑی کی جمع، شہتیر۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الخامس فی الرجوع...إلخ،ج۴،ص۳۸۶.
4 ۔ہبہ کرنے والا۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الخامس فی الرجوع...إلخ،ج۴،ص۳۹۰.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۷.
و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۵۰۱.
7 ۔دونوں کی یعنی واہب اورموہوب لہ کی۔ 8 ۔یعنی واہب پھراسی طرح مالک ہو گیا جیسے پہلے مالک تھا۔
واپس لیا اگرچہ یہ شائع ہے مگر رجوع صحیح ہے۔(1) (بحر)
مسئلہ ۵۳: موہوب لہ جب تندرست تھا اُس وقت اُسے کسی نے کوئی چیز ہبہ کی اور جب وہ بیمار ہوا واہب نے چیز واپس کرلی اگر یہ واپسی حکم قاضی سے ہے تو صحیح ہے ورثہ یا قرض خواہ کو موہوب لہ کے مرنے کے بعد اُس چیز کے مطالبہ کاحق نہیں اور اگر بغیر حکم قاضی محض واہب کے مانگنے پرموہوب لہ نے چیز دیدی تو اس واپسی کو ہبہ جدید قرار دیا جائے گاکہ ایک ثلث(2) میں واپسی صحیح ہوگی وہ بھی جب کہ اُس پر دَین مستغرق نہ ہو(3)اور اگر اُس پر دَین مستغرق ہو تو واہب سے چیز واپس لے کر قرض والوں کو دی جائے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: ایک چیز خرید کرہبہ کردی پھر موہوب لہ سے واپس لے لی اب ا س میں عیب کا پتہ چلا تو بائع کو مطلقاً واپس دے سکتا ہے خواہ قاضی کے حکم سے واپس لیا ہو یاموہوب لہ کی رضا مندی سے بخلاف بیع یعنی اگرمشتری(5)نے چیز بیع کردی اور مشتری دو م نے بوجہ عیب واپس کردی اور اُس نے رضا مندی سے واپس لے لی تو اپنے بائع پر واپس نہیں کرسکتا کہ یہ حق ثالث میں(6)فسخ نہیں۔ (7) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۵۵: رجوع کرنے سے ہبہ بالکل اصل ہی سے فسخ ہو جاتا ہے اس کامطلب یہ ہے کہ اس ہبہ کا زمانہ مستقبل میں کچھ اثر نہ رہے گا یہ مطلب نہیں کہ زمانہ ء گزشتہ میں بھی اس کا کوئی اثر نہیں رہا ایسا ہوتا تو شے موہوب(8)سے جو زیادت (9)بعد ہبہ کے پیدا ہوگئی ہے وہ بھی ملک واہب(10)کی طرف منتقل ہوجاتی حالانکہ ایسا نہیں مثلاًبکری ہبہ کی تھی اور اُس کے بچہ پیدا ہوا اسکے بعد واہب نے بکر ی واپس کرلی مگر یہ بچہ موہوب لہ ہی کا ہے(11)واہب کا نہیں ہے یا مثلاًمبیع (12)میں عیب ظاہر ہوااور قاضی کے حکم سے مشتری نے بائع کو(13)واپس کردی یہ اصل سے فسخ ہے اور زمانہ گزشتہ میں اس کا اعتبار کیا جائے تو لازم آئے
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۵۰۱.
2 ۔ایک تہائی۔ 3 ۔اتنا قرض نہ ہوجو اس کے چھوڑے ہوئے مال کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب العاشرفی ھبۃ المریض،ج۴،ص۴۰۱.
5 ۔خریدار۔ 6 ۔تیسرے کے حق میں۔
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۵۰۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۷.
8 ۔ہبہ کی گئی چیز۔ 9 ۔اضافہ،بڑھوتری۔ 10 ۔ہبہ کرنے والے کی ملکیت۔
11 ۔جس کے لئے ہبہ کیا گیااسی کا ہے۔ 12 ۔بیچی گئی چیز۔ 13 ۔بیچنے والے کو۔
کہ مشتری نے مبیع سے جو نفع حاصل کیا ہے حرام ہو حالانکہ ایسا نہیں۔(1) (بحر)
مسئلہ ۵۶: ہبہ کرنے کے بعد واہب نے اُس چیز کوہلاک کردیا تاوان دے گا اور اگر غلام تھا اُسے واہب نے آزاد کردیا آزاد نہ ہوگا کیونکہ جب تک واپس نہ کریگا اس کی ملک نہیں ہے۔ (2) (بحر)
مسئلہ ۵۷: جو چیز ہبہ کی تھی وہ ہلاک ہوگئی اُس کے بعد مستحق(3)نے دعویٰ کیا کہ چیز میری تھی اور موہوب لہ سے اُس کا تاوان وصول کرلیا موہوب لہ واہب سے اُس تاوان میں سے کچھ وصول نہیں کرسکتا۔ یہی حکم عاریت کاہے کہ مستعیر کے پاس ہلاک ہوجائے اور مستحق اس سے ضمان(4)وصول کرے تو یہ معیر سے کچھ نہیں لے سکتا اور اگر عقد معاوضہ کے ذریعہ سے(5)چیز اس کے پاس آتی اور ہلاک ہوجاتی اور مستحق ضمان لیتا تو یہ دینے والے سے وصول کرسکتا۔ مثلاً مشتری کے پاس مبیع ہلاک ہوگئی اور مستحق نے اس سے ضمان لیا یہ بائع سے وصول کرسکتا ہے۔ اسی طرح اگر اس کے پاس چیز کا ہونا دینے والے کے نفع کی خاطر ہو تو یہ دینے والے سے ضمان وصول کرسکتا ہے مثلاًمودَع (6)یا مستاجر (7)کے پاس چیز تھی اور ہلاک ہوگئی اور مستحق نے تاوان لیا تو یہ مالک سے وصول کرسکتے ہیں۔(8) (بحر)
مسئلہ ۵۸: جن سات مواضع میں رجوع نہیں ہوسکتا جن کا بیان ابھی گزرا اگر واہب وموہوب لہ رجوع پر اتفاق کرلیں تو یہ اُن کا اتفاق جائز ہے۔(9)(درمختار)
مسئلہ ۵۹: ہبہ بشرط العوض کہ میں یہ چیز تم کوہبہ کرتا ہوں اس شرط پر کہ فلاں چیز تم مجھ کو دو یہ ابتدا کے لحاظ سے ہبہ ہے لہٰذا دونوں عوض پر قبضہ ضروری ہے اگر دونوں نے یا ایک نے قبضہ نہیں کیا توہر ایک رجوع کرسکتا ہے اور دونوں میں سے کسی میں شیوع(10)ہو تو باطل ہوگا مگر انتہاکے لحاط سے یہ بیع ہے لہٰذا اس میں بیع کے احکام بھی ثابت ہونگے کہ اگر اس میں عیب ہے تو واپس کرسکتا ہے خیار رویت بھی حاصل ہوگااس میں شفعہ بھی جاری ہوگا۔(11) (درمختار)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۵۰۱.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔ حق دار۔ 4 ۔تاوان۔ 5 ۔یعنی تبادلہ کے طور پر۔
6 ۔جس کے پاس ودیعت (امانت)رکھی جائے۔ 7 ۔کرایہ دار۔
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۵۰۱.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۷،۵۹۸.
10 ۔ایسی شرکت جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں۔
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۸.
مسئلہ ۶۰: اگر ہبہ کے یہ الفاظ ہوں کہ میں نے یہ چیز فلاں چیز کے مقابل میں تم کوہبہ کی یعنی عوض کالفظ نہیں کہا تو یہ ابتداوانتہا دونوں کے لحاظ سے بیع ہی ہے ہبہ نہیں ہے اور اگر عوض کو معین نہ کیا ہو بلکہ مجہول رکھا مثلاًیہ چیز تم کوہبہ کرتا ہوں بشرطیکہ تم اس کے بدلے میں مجھے کوئی چیز دو تو یہ ابتداوانتہا دونوں کے لحاظ سے ہبہ ہی ہے۔(1)
(درمختار)
مسئلہ ۶۱: موہوب لہ نے موہوب پر قبضہ کرلیا اس کے بعد واہب نے بلااجازتِ موہوب لہ اُس چیز کولیکر ہلاک کرڈالا تو بقدر ِقیمت(2)تاوان دے اور اگر بکری ہبہ کی تھی واہب نے بغیر اجازتِموہوب لہ اُسے ذبح کرڈالا تو ذبح کی ہوئی بکری موہوب لہ لے لے گااور تاوان نہیں اور کپڑا ہبہ کیا تھا واہب نے اُسے قطع کرڈالا(3) تویہ کپڑا دینا ہوگا اور قطع کرنے سے جو کمی ہوئی وہ دے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: کنیز کوہبہ کیا اور اوس کے حمل کا استثنا کیا یا یہ شرط کی کہ تم اسے واپس کردینا یا آزادکردینا یا مدبر کردینا یا ام ولد بنانا یا مکان ہبہ کیا اور یہ شرط کی کہ اس میں سے کچھ جزو معین مثلاًیہ کمرہ یا غیرمعین مثلاً اس کی تہائی چوتھائی واپس کردینا یاہبہ میں یہ شرط کی کہ اس کے عوض میں کوئی شے(غیر معین)مجھے دینا ان سب صورتوں میں ہبہ صحیح ہے اور استثنا یا شرط باطل۔ (5) (ہدایہ ، درمختار)
مسئلہ ۲: کنیز کے شکم میں جو بچہ ہے اُسے آزاد کرکے کنیز کوہبہ کیا ہبہ صحیح ہے اور اگر حمل کو مدبر کرکے جاریہ کوہبہ کیا صحیح نہیں۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۳: بچوں کے معلّمین کو عیدی دی جاتی ہے اگر معلّم نے سوال واِلحاح (7)نہ کیا ہو تو جائز ہے۔ (8) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۹.
2 ۔یعنی قیمت کے برابر۔ 3 ۔یعنی کاٹ دیا۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الحادی عشر فی المتفرقات،ج۴،ص۴۰۲.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۲،ص۲۲۷.
و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۹.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۶۰۰.
7 ۔اصرار۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الحادی عشر فی المتفرقات،ج۴،ص۴۰۴.
مسئلہ ۴: عمریٰ جائز ہے۔ عمریٰ کے معنی یہ ہیں کہ مثلاً مکان عمر بھر کے لیے کسی کو دیدیا کہ جب وہ مرجائے تو واپس لے لے گایہ واپسی کی شرط باطل ہے اب وہ مکان اُسی کا ہوگیا جس کو دیا جب تک وہ زندہ ہے اُس کاہے اور مرجائے گا تو اُسی کے ورثہ لیں گے جس کودیا گیا ہے نہ دینے والا لے سکتا ہے نہ اس کے ورثہ۔ رقبٰے جائز نہیں اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاًکسی کو اس شرط پر دیا کہ اگر میں تجھ سے پہلے مرگیا تومکان تیرا ہے مرنے کے بعد مالک کے ورثہ کا ہوگا، جس کو دیا ہے اُس کانہیں ہوگا۔ (1) (ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۵: دَین(2)کی معافی کو شرط محض پر معلق کرنا مثلاًمدیون(3)سے کہاجب کل آئے گاتو دَین سے بری ہے یا وہ دَین تیرے لیے ہے یا اگر تو نے نصف دَین ادا کردیا تو باقی نصف تیرا ہے یا وہ معاف ہے یا اگر تو مرجائے تیرا دَین معاف ہے یا اگر تو اس مرض سے مرجائے تو دَین معاف ہے یا میں اس مرض سے مرجاؤں تو دَین مہر سے تو معافی میں ہے، یہ سب صورتیں باطل ہیں دَین معاف نہیں ہوگا اور اگر وہ شرط ایسی ہے کہ ہوچکی ہے تو اِبراصحیح ہے مثلاً اگر تیرے ذمہ میرا دَین ہے تو میں نے معاف کیا معاف ہوگیا۔ یوہیں اگر یہ کہا کہ اگر میں مرجاؤں تو دَین سے تو بری ہے یہ جائز ہے اور وصیت ہے۔ (4) (بحر)
مسئلہ ۶: مدیون کو دین ہبہ کردینا ایک وجہ سے تملیک (5)ہے اور ایک وجہ سے اسقاط (6)لہٰذا رد کرنے سے رد ہوجائے گااور چونکہ اسقاط بھی ہے لہٰذا قبول پر موقوف نہ ہوگا۔ کفیل(7)کو دین ہبہ کردینا یہ بالکل تملیک ہے یہاں تک کہ وہ مکفول عنہ (8)سے دَین وصول کرسکتا ہے اور بغیر قبول کے تمام نہیں ہوگا اور کفیل سے دین معاف کردینا بالکل اسقاط ہے کہ رد کرنے سے رد نہیں ہوگا۔ (9) (بحر)
مسئلہ ۷: اِبرا یعنی معاف کرنے میں قبول کی ضرورت نہیں ہوتی مگر بدلِ صرف(10)وبدلِ سلم(11)سے بری کردیا
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۲،ص۲۲۸،وغیرھا.
2 ۔قرض۔ 3 ۔مقروض۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۵۰۳،۵۰۴.
5 ۔مالک بنانا،ملکیت میں دینا۔ 6 ۔اپنا مطالبہ چھوڑدینا۔
7 ۔ضامن۔ 8 ۔جس پر مطالبہ ہے۔
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۵۰۳،۵۰۴.
10 ۔بیع صرف کاعوض۔ 11 ۔بیع سلم کاعوض۔
یا ہبہ کردیا اس میں قبول کی ضرورت ہے۔(1)(بحر)
مسئلہ ۸: ایک شخص پر دَین تھا وہ بغیر ادا کیے مرگیا دائن(2)نے وارث کو وہ دَین ہبہ کردیا یہ ہبہ صحیح ہے یہ دین پورے ترکہ کو مستغرق ہو(3)یا نہ ہو دونوں کا ایک حکم ہے ، اور اگر وارث نے ہبہ کو رد کردیا تو رد ہوگیااور بعض ورثہ کوہبہ کیا جب بھی کُل ورثہ کے لیے ہبہ ہے۔ یوہیں وارث سے ابرا کیا یعنی معاف کردیا یہ بھی صحیح ہے۔(4)
(عالمگیری)
مسئلہ ۹: دائن کے ایک وارث نے مدیون کو تقسیم سے قبل اپنے حصہ کا دین ہبہ کردیا یہ صحیح ہے۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: دائن نے مدیون کو دین ہبہ کردیا اور اُس وقت نہ اُس نے قبول کیانہ رد کیا دو۲ تین ۳ دن کے بعد آکر اُسے رد کرتا ہے صحیح یہ ہے کہ اب رد نہیں کرسکتا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: کسی سے یہ کہا کہ جو کچھ میری چیز کھالوتمھارے لیے معافی ہے یہ کھا سکتا ہے جبکہ قرینہ سے یہ نہ معلوم ہوتا ہوکہ اس نے نفاق سے کہا ہے یعنی محض ظاہر ی طور پر کہہ دیا ہے دل سے نہیں چاہتا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: دائن کو خبرملی کہ مدیون مرگیا اس نے کہامیں نے اپنا دَین معاف کردیا ہبہ کردیا بعد میں پھر پتاچلا کہ وہ زندہ ہے اُس سے دین کا مطالبہ نہیں کرسکتا کہ معافی بلا شرط تھی۔(8) (خانیہ)
مسئلہ ۱۳: کسی سے یہ کہا کہ جو کچھ تمھارے حقوق میرے ذمہ ہیں م عاف کردو اُس نے معاف کردیا صاحب حق کو اپنے جتنے حقوق کا علم ہے وہ تو معاف ہوہی گئے اور جن کا علم نہیں قضاءً (9)وہ بھی معاف ہوگئے اور فتویٰ اس پر ہے کہ دیانۃً بھی معاف ہوگئے۔ (10) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: کسی سے یہ کہا کہ جو کچھ میرے مال میں سے کھالو یا لے لو یا دے دو تمھارے لیے حلال ہے اُس کو کھانا
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۵۰۴.
2 ۔قرض خواہ۔ 3 ۔یعنی گھیرے ہوئے ہو۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الرابع فی ھبۃ الدین...إلخ،ج۴،ص۳۸۴.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثالث فیمایتعلق بالتحلیل،ج۴،ص۳۸۱.
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الھبۃ،فصل فی الرجوع فی الھبۃ،ج۲،ص۲۸۸.
9 ۔شرعی فیصلے کی رو سے۔
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثالث فیمایتعلق بالتحلیل،ج۴،ص۳۸۱.
حلال ہے مگر لینا یا کسی کو دینا حلال نہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: یہ کہا میں نے تمھیں اس وقت معاف کردیا یا دنیا میں معاف کردیا تو ہر وقت کے لیے معافی ہوگئی اور دُنیا و آخرت دونوں میں معافی ہوگئی کہیں بھی اس کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: کسی کی چیز غصب کرلی ہے مالک سے معاف کرالی تو ضمان سے بَری ہوگیا مگر چیز اب بھی مالک ہی کی ہے غاصب کوا س میں تصرف کرنا جائز نہیں یعنی جو چیز ذمہ میں واجب ہے اُس کی معافی ہوتی ہے عین کی معافی نہیں ہوتی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: مدیون(4)سے دَین(5)وصول ہونے کی اُمید نہ ہوتو اُس پر دعویٰ کرنے سے یہ بہترہے کہ معاف کردے کہ وہ عذاب سے بچ جائے گااور اس کو ثواب ملے گا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: جانور بیمار تھا اُس نے چھوڑ دیا کسی نے اُسے پکڑا اور علاج کیاوہ اچھا ہوگیا اگر مالک نے چھوڑ تے وقت یہ کہہ دیا ہے کہ فلاں قوم میں سے جو اسے لے لے اُسی کا ہے تو اگر وہ پکڑنے والااسی قوم سے ہے تو اُس کا ہوگیا اور اگر کچھ نہ کہایایہ کہا کہ جو لے لے اُس کا ہے اور قوم یا جماعت کو معین نہیں کیا ہے تو وہ جانور مالک ہی کا ہے اُس شخص سے لے سکتا ہے پرند چھوڑدیا اس کا بھی یہی حکم ہے اور جنگلی پرند کوپکڑ نے کے بعد چھوڑنا نہ چاہیے جب تک یہ نہ کہے کہ جو پکڑلے اُس کا ہے۔ (7)(عالمگیری)کیونکہ پکڑنے سے اُس کی ملک ہوگیا اور جب چھوڑدیا تو شکار کرنے والوں کو کسی کی ملک ہونا معلوم نہ ہوگا لہٰذا اجازت کی ضرورت ہے تاکہ شکار کرنے والوں کو اُس کالینا نا جائز نہ ہو مگر ظاہریہ ہے کہ اِس میں قوم یا جماعت کی تخصیص کی جائے۔
مسئلہ ۱۹: دَین کا اُسے مالک کردینا جس پر دَین نہیں ہے یعنی مدیون کے سواکسی دوسرے کو مالک کردینا باطل ہے مگرتین صورتوں میں اول حوالہ کہ اپنے دائن کو اپنے مدیون پر حوالہ کردے دوسری وصیت کہ کسی کو وصیت کردی کہ فلاں کے ذمہ جو میرا دَین ہے میرے مرنے کے بعد وہ دَین فلاں کے لیے ہے تیسری صورت یہ ہے کہ جس کو مالک بنائے اُسے قبضہ پر مسلَّط
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثالث فیمایتعلق بالتحلیل،ج۴،ص۳۸۲.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔مقروض۔ 5 ۔قرض۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الرابع عشر فی المتفرقات،ج۵،ص۱۵۷.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثالث فیمایتعلق بالتحلیل،ج۴،ص۳۸۲.
کردے(1)۔ یوہیں عورت کا شوہر کے ذمہ جو دَین تھا اُسے اپنے بیٹے کو جو اُسی شوہر سے ہے ہبہ کردیا یہ بھی صحیح ہے جبکہ اسے قبضہ پر مسلط کردیا ہو۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: دائن نے یہ اقرارکیا کہ یہ دَین فلاں کا ہے میرا نہیں ہے میرا نام فرضی طورپر کاغذ میں لکھ دیا گیا ہے اس کااقرار صحیح ہے لہٰذا مقرلہ(3) اُس دین پر قبضہ کرسکتا ہے۔ یوہیں اگر یوں کہا کہ فلاں پرجو میرا دین ہے وہ فلاں کاہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: دوشخصوں نے اِس بات پر صلح کی کہ رجسٹر میں ایک کا نام لکھا جائے تو جس کا نام لکھا گیا ہے عطا اُسی کے لیے ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: واہب وموہب لہ میں اختلاف ہواواہب کہتا ہے ہبہ تھا دوسراکہتا ہے صدقہ تھا واہب کا قول معتبر ہے۔ (6) (خانیہ)
مسئلہ ۲۳: مرد نے عورت سے کچھ مانگا اس لیے کہ خرچ کی تنگی ہے اگر کچھ دیدے گی وسعت ہوجائے گی عورت نے شوہر کو دیا مگر قرض خواہوں کوپتہ چل گیا کہ اس کے پاس مال ہے اُنھوں نے لے لیااگر عورت نے ہبہ کیا تھا یا قرض دیا تھا تولینے والے سے واپس نہیں لے سکتی کیونکہ ان دونوں صورتوں میں شوہر کی ملک ہوگیا اور قرض خواہ اُسے لے سکتے ہیں اور اگر عورت نے شوہرکو اس طرح دیا تھاکہ ملک عورت ہی کی رہے گی اور شوہر اس میں تصرف کریگا تو مال عورت کا ہے قرض خواہ سے واپس لے سکتی ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: کسی کے پا س برتن میں کھانا بھیجا یہ شخص اُس برتن میں کھاسکتا ہے یا نہیں اگر وہ کھانا ایسا ہے کہ دوسرے برتن میں لوٹنے سے لذت جاتی رہے گی جیسے ثرید(8)تواُس برتن میں کھاسکتا ہے، اسی طرح ہمارے یہاں شِیر برنج(9)ہے کہ
1 ۔یعنی اسے قبضے کامکمل اختیار دیدے۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۸،ص۶۰۳.
3 ۔جس کے لئے اقرار کیا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۸،ص۶۰۴.
5 ۔المرجع السابق،ص۶۰۵.
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الھبۃ،فصل فی الرجوع فی الھبۃ،ج۲،ص۲۸۸.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۸،ص۶۰۶.
8 ۔ایک قسم کاکھاناجو شوربے وغیرہ میں روٹی کامالیدہ بھگو کر تیار کیا جاتاہے۔ 9 ۔چاولوں کی کھیر۔
دوسرے برتن میں لوٹنے سے اس کا ذائقہ خراب ہوجاتا ہے اور اگر دوسرے برتن میں کرنے سے کھانا بدمزہ نہ ہو تو اگر دونوں میں انبساط(میل)ہو تو اُس میں کھا سکتا ہے، ورنہ نہیں۔(1) (درمختار)
اور اگر عرف یہ ہو کہ وہ ظرف بھی واپس نہ لیا جاتا ہو تو ظرف بھی ہدیہ ہے مثلاًمیوے یا مٹھائیاں ٹوکریوں میں بھیجتے ہیں یہ ٹوکر یا ں واپس نہیں لی جاتیں یہ بھی ہدیہ ہیں اور جن ظروف کے واپس دینے کا رواج ہواگر اُن کو واپس نہیں کیا ہے تو اس کے پا س امانت کے طور پر ہیں یعنی اُن کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں صرف اتنا کرسکتا ہے کہ ہدیہ کی چیز اُس میں کھا سکتا ہے جبکہ دونوں کے مابین انبساط ہویا اُس ہدیہ کو دوسرے برتن میں لوٹنے سے چیز بدمزہ ہوجاتی ہو۔ (2) (عالمگیری)
آج کل دیکھا جاتا ہے کہ بہت لوگ دوسرے کے برتنوں کو جن میں کوئی چیز آئی اور اُس وقت برتن کسی وجہ سے واپس نہ گئے اپنے گھر کے کام میں لاتے ہیں اُن کو اس سے احتراز چاہیے۔
مسئلہ ۲۵: ہمارے ملک میں یہ بھی رواج ہے کہ مٹی کے پیالے میں کھیر بھیجا کرتے ہیں اور میلاد شریف اور فاتحہ یاکسی تقریب میں مٹھائی کے حصے مٹی کی طشتریوں (3)میں بھیجتے ہیں اِس میں تمام ملک کا یہی رواج ہے کہ وہ پیالے اور طشتریاں بھی دینا مقصود ہوتا ہے واپس نہیں لیتے لہٰذا موہوب لہ مالک ہے بلکہ بعض لوگ چینی یا تا نبے کی طشتریوں میں حصے بانٹتے ہیں یعنی حصہ مع برتن کے دیدیتے ہیں مگر اس کا رواج نہیں ہے جب تک موہو ب لہ سے کہا نہ جائے اس برتن کونہیں لے سکتا ہے۔
مسئلہ۲۶: بہت سے لوگوں کی دعوت کی اور ان کو متعدد دستر خوانوں پر بٹھا یا ایک دستر خوان والے کسی چیز کو دوسرے دسترخوان والوں کو نہیں دے سکتے مثلاًبعض مرتبہ ایک پر روٹی ختم ہوگئی اور دوسرے پر موجود ہے یہ لوگ اس پر سے روٹی اُٹھا کر اُن کو نہیں دے سکتے ان لوگوں کویہ بھی اختیار نہیں ہے کہ سائل وفقیر کو اس میں سے ٹکڑا دیدیں مثلاًبعض ناواقف ایساکرتے ہیں کہ دوسرے کے مکان پر کھانا کھارہے ہیں اور فقیر نے سوال کیا اُس کھانے میں سے سائل کو دے دیتے ہیں یہ ناجائز ہے کتے اور بلی کو بھی نہیں دے سکتے ہاں اگر بلی خود صاحبِ خانہ کی ہے تو اُسے دے سکتے ہیں اور کتا اگرچہ صاحب خانہ ہی کا ہو نہیں دے سکتے۔ (4) (درمختار)
بلی کتے کا فرق وہاں کے عرف کے لحاظ سے ہے ہمارے یہاں نہ کتے کے دینے کا رواج ہے نہ بلی کے، ہاں دستر خوان پر جو ہڈیاں جمع ہوجاتی ہیں یا روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے یاگرے ہوئے چاول ان کی نسبت دیکھا ہے کہ کتے کو ڈال دیتے ہیں۔
مسئلہ ۲۷: بائع نے چیز بیع کردی اور اُس کا ثمن بھی وصول کرلیا اس کے بعد بائع نے مشتری سے ثمن معاف کردیا یہ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۸،ص۶۰۶.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثالث فیمایتعلق بالتحلیل،ج۴،ص۳۸۳.
3 ۔رکابیوں،پلیٹوں۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۸،ص۶۰۷.
معافی صحیح ہے اور مشتری نے جو کچھ ثمن دیا ہے بائع سے واپس لے گا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ۲۸: ایک شخص نے دوسرے کے پاس خط لکھا اور اُس میں یہ بھی لکھا کہ اس کا جواب پشت پر لکھ دو اُس کا واپس کرنا لازم ہوگا اور اگر یہ نہیں لکھا تو وہ خط مکتوب الیہ کا ہے جو چاہے کرے۔ (2) (جوہرہ)
بلکہ اس زمانہ میں یہ عرف ہے کہ خط دوورقہ کا غذ پر لکھتے ہیں ایک ورق پرلکھنا عیب جانتے ہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خط میں چند سطریں ہوتی ہیں باقی کا غذ سادہ رہتا ہے یہ کاغذ مکتوب الیہ کاہے وہ جو چاہے کرے۔
مسئلہ۲۹: ایک شخص کا انتقال ہوگیا اُس کے بیٹے کے پاس کسی نے کفن بھیجا، اس کفن کا مالک بیٹا ہوسکتا ہے یا نہیں یعنی بیٹے کو یہ اختیار ہے یا نہیں کہ اس کپڑے کوخود رکھ لے اور دوسرے کاکفن دیدے اگر میت اُن لوگوں میں سے ہے کہ اُس کوکفن دینا اپنے لیے باعث برکت جانتے ہیں مثلاًوہ عالم فقیہ ہے یا پیر ہے تو بیٹے کووہ کفن رکھ لینا ااور دوسرا کفن دینا جائز نہیں ورنہ جائز ہے اور پہلی صورت میں کہ اس کو دوسرے کپڑے میں کفن دینا جائزنہ تھا اس نے وہ کپڑا رکھ لیا اور دوسراکفن دیا تو اس کپڑے کو واپس کرناواجب ہوگا۔ (3) (جوہرہ)
اللہ عزوجل فرماتاہے:
(قَالَتْ اِحْدٰىہُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاۡجِرْہُ ۫ اِنَّ خَیۡرَ مَنِ اسْتَاۡجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیۡنُ ﴿۲۶﴾قَالَ اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنْ اُنۡکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ہٰتَیۡنِ عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنۡدِکَ ۚ وَمَاۤ اُرِیۡدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیۡکَ ؕ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللہُ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۲۷﴾)
(4)
''شعیب (علیہ السلام)کی دونوں لڑکیوں میں سے ایک نے کہااے والد انھیں(موسیٰ علیہ السلام کو)نوکر رکھ لیجئے کہ بہتر نوکر وہ ہے جوقوی وامین ہو (شعیب علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے)کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک سے تمھارا نکاح کردوں اس پر کہ آٹھ برس تک تم میرا کام اُجرت پر کرو اور اگردس ۱۰ برس پورے کردو تو یہ تمھاری طرف سے ہوگا میں تم پر مشقت ڈالنا نہیں چاہتا انشاء اللہ (عزوجل)تم مجھے نیکوں میں سے پاؤ گے۔''
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۸،ص۶۰۸.
2 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الھبۃ،الجزء الاول،ص۴۲۹.
3 ۔المرجع السابق ،ص۴۳۰.
4 ۔پ۲۰،القصص:۲۶،۲۷.
حدیث ۱: صحیح بخاری شریف میں ابوہر یرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی، رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے فرمایاکہ ''تین شخص وہ ہیں جن کا قیامت کے دن میں خصم ہوں (اُن سے مطالبہ کروں گا)ایک وہ جس نے میرا نام لے کر معاہدہ کیا پھر اُس عہد کو توڑ دیا اور دوسرا وہ جس نے آزاد کو بیچا اور اُس کا ثمن کھایا اور تیسرا وہ جس نے مزدور رکھااور اس سے کام پورا لیا اور اُس کی مزدوری نہیں دی۔ (1)
حدیث ۲: ابن ماجہ نے عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے روایت کی، رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مزدور کی مزدور ی پسینہ سوکھنے سے پہلے د ے دو۔'' (2)
حدیث ۳: صحیح بخاری شریف میں ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں صحابہ میں کچھ لوگ سفر میں تھے ان کا گزر قبائل عرب میں سے ایک قبیلہ پر ہوا،انھوں نے ضیافت(3)کامطالبہ کیا اُنھوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کردیا، اُس قبیلہ کے سردار کو سانپ یا بچھو نے کاٹ لیا اُس کے علاج میں اُنھوں نے ہر قسم کی کوشش کی مگر کوئی کارگر نہ ہوئی پھر اُنھیں میں سے کسی نے کہا یہ جماعت جویہاں آئی ہے (صحابہ)ان کے پاس چلو شاید ان میں سے کسی کے پا س اس کا کچھ علاج ہو، وہ لوگ صحابہ کے پاس حاضر ہوکر کہنے لگے کہ ہمارے سردارکو سانپ یا بچھو نے ڈس لیا اور ہم نے ہرقسم کی کوشش کی مگر کچھ نفع نہ ہوا کیا تمھارے پا س اس کا کچھ علاج ہے؟ ایک صاحب بولے، ہاں میں جھاڑتاہوں مگر ہم نے تم سے مہمانی طلب کی اور تم نے ہماری مہمانی نہیں کی تو اب اُس وقت میں جھاڑوں گاکہ تم اس کی اُجرت دو، اُجر ت میں بکریوں کاریوڑدینا طے پایا (ایک روایت میں ہے تیس بکریاں دینا طے ہوا)اُنھوں نے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
یعنی سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا شروع کیا، وہ شخص بالکل اچھا ہوگیا اور وہاں سے ایسا ہو کر گیا کہ اُس پر زہر کاکچھ اثر نہ تھا، اُجرت جو مقرر ہوئی تھی اُنھوں نے پوری دے دی۔ ان میں بعض نے کہا کہ اس کو آپس میں تقسیم کرلیا جائے مگر جنھوں نے جھاڑاتھا یہ کہاکہ ایسا نہ کرو بلکہ جب ہم نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہولیں گے اور حضور (صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم)سے تمام واقعات عرض کرلیں گے پھر حضور (صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم)اس کے متعلق جو کچھ حکم دیں گے وہ کیا جائے گا یعنی اُنھوں نے خیال کیا کہ قرآن پڑھ کردم کیا ہے کہیں ایسا نہ ہوکہ اس کی اُجرت حرام ہو۔ جب یہ لوگ رسول اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا، ارشاد
1 ۔''صحیح البخاري''، کتاب البیوع، باب إثم من باع حرًّا، الحدیث: ۲۲۲۷،ج۲، ص۵۲.
2 ۔''سنن ابن ماجۃ''، کتاب الرھون، باب أجر الأجرائ، الحدیث: ۲۴۴۳،ج۳، ص۱۶۲.
3 ۔ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھاکہ جب کسی قوم پر گزرو اور وہ تمھاری مہمانی کریں فبہاورنہ تم ان سے وصول کرلولہٰذاجب حکم شرع یہ تھاتو اپنے
حق کا یہ مطالبہ تھااور اس میں کوئی عیب نہیں۔۱۲منہ حفظہ ربہ
فرمایا کہ ''تمھیں ا س کا رقیہ (جھاڑ)ہونا کیسے معلوم ہوا؟ اور یہ فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیاآپس میں اسے تقسیم کرلو اور (اس لیے کہ اس کے جواز کے متعلق اُن کے دل میں کوئی خدشہ نہ رہے یہ فرمایاکہ)میرابھی ایک حصہ مقرر کرو۔''(1)اس حدیث سے معلوم ہو اکہ جھاڑپھونک کی اُجرت لینا جائز ہے جبکہ کہ قرآن سے ہو یا ایسی دُعاؤں سے ہوجن میں ناجائز و باطل الفاظ نہ ہوں۔
حدیث ۴: صحیح بخاری شریف وغیرہ میں عبداللہ بن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہماسے مروی، کہتے ہیں میں نے رسو ل اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم سے سنا کہ فرماتے ہیں:''اگلے زمانہ کے تین شخص کہیں جارہے تھے، سونے کے وقت ایک غار کے پاس پہنچے اُس میں یہ تینوں شخص داخل ہوگئے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے گری جس نے غار کو بند کردیا اُنھوں نے کہا:اب اس سے نجات کی کوئی صورت نہیں بجز اس کے کہ تم نے جوکچھ نیک کام کیاہو اُس کے ذریعہ سے اللہ (عزوجل)سے دُعا کرو۔ ایک نے کہا اے اللہ!(عزوجل)میرے والدین بہت بوڑھے تھے جب میں جنگل سے بکریاں چرا کر لاتا تو دودھ دوہ کر سب سے پہلے اُن کو پلاتا اُن سے پہلے نہ اپنے بال بچوں کوپلاتا، نہ لونڈی نہ غلام کو دیتا، ایک دن میں جنگل میں دور چلاگیا رات میں جانوروں کو لے کر ایسے وقت آیا کہ والدین سوگئے تھے میں دودھ لیکر اُن کے پاس پہنچا تو وہ سو ئے ہوئے تھے بچے بھوک سے چلا رہے تھے، مگر میں نے والدین سے پہلے بچوں کو پلانا پسند نہ کیا اور یہ بھی پسند نہ کیا کہ انھیں سوتے سے جگادوں دودھ کا پیالہ ہاتھ پر رکھے ہوئے ان کے جاگنے کے انتظار میں رہا یہاں تک کہ صبح چمک گئی اب وہ جاگے اور دودھ پیا، اے اﷲ!(عزوجل)اگر میں نے یہ کام تیری خوشنودی کے لیے کیاہے تو اس چٹان کوکچھ ہٹا دے، اس کا کہنا تھا کہ چٹان کچھ سرک گئی مگر اتنی نہیں ہٹی کہ یہ لوگ غار سے نکل سکیں۔
دوسرے نے کہا:اے اللہ!(عزوجل)میرے چچا کی ایک لڑکی تھی جس کو میں بہت محبوب رکھتا تھا، میں نے اُس کے ساتھ بُرے کام کا ارادہ کیا اُس نے انکار کردیا، وہ قحط کی مصیبت میں مبتلا ہوئی میرے پاس کچھ مانگنے کو آئی میں نے اُسے ایک سو بیس اشرفیاں دیں کہ میرے ساتھ خلوت کرے(2)وہ راضی ہوگئی، جب مجھے اُس پر قابو ملا (3)تو بولی کہ ناجائز طورپر اس مُہر کا توڑنا(4)تیرے لیے حلال نہیں کرتی، اس کام کو گناہ سمجھ کر میں ہٹ گیا اور اشرفیاں جو دے چکا تھا وہ بھی چھوڑ دیں، الٰہی!اگر یہ کام تیری رضا جوئی کے لیے میں نے کیاہے تو اس کو ہٹا دے، اس کے کہتے ہی چٹان کچھ سرک گئی مگر اتنی نہیں ہٹی کہ نکل سکیں۔
تیسرے نے کہا، اے اللہ!(عزوجل)میں نے چندشخصوں کو مزدوری پر رکھا تھا، اُن سب کو مزدوریاں دیدیں ایک شخص
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإجارۃ، باب ما یُعطَی في الرُّقْیۃ ...إلخ، الحدیث: ۲۲۷۶،ج۲، ص۶۹.
وکتاب فضائل القرآن، باب فاتحۃ الکتاب، الحدیث: ۵۰۰۷،ج۳، ص۴۰۴،۴۰۵.
2 ۔یعنی مجھے ہمبستری کرنے دے۔ 3 ۔یعنی اُس پر غالب ہوا۔ 4 ۔پردہ بکارت کو زائل کرنا۔
اپنی مزدوری چھوڑ کرچلاگیا اُس کی مزدوری کومیں نے بڑھایا یعنی اُس سے تجارت وغیرہ کوئی ایساکام کیا جس سے اُس میں اضافہ ہوا اُس کو بڑھاکر میں نے بہت کچھ کرلیا وہ ایک زمانہ کے بعد آیا اور کہنے لگا:اے خدا کے بندہ! میری مزدوری مجھے دیدے۔ میں نے کہا:یہ جو کچھ اونٹ، گائے، بیل، بکریاں، غلام تو دیکھ رہا ہے یہ سب تیری ہی مزدوری کاہے سب لے لے۔ بولا:اے بندہ خدا! مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا:مذاق نہیں کرتا ہوں یہ سب تیر اہی ہے، لے جا، وہ سب کچھ لے کر چلا گیا، الٰہی!اگر یہ کام میں نے تیری رضا کے لیے کیا ہے تو اسے ہٹا دے وہ پتھر ہٹ گیا، یہ تینوں اُس غار سے نکل کر چلے گئے۔''(1)
حدیث ۵: ابو داود وابن ماجہ عبادہ بن صامت رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں، میں نے عرض کی، یارسول اللہ!(صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم)ایک شخص کو میں قرآن پڑھاتا تھا اُس نے کمان ہدیۃً دی ہے یہ کوئی مال نہیں ہے یعنی ایسی چیز نہیں ہے جسے اُجرت کہا جائے، جہاد میں اس سے تیر اندازی کروں گا۔ ارشاد فرمایا:''اگر تمھیں یہ پسند ہو کہ تمھارے گلے میں آگ کا طوق ڈالاجائے تو اسے قبول کرلو۔'' (2)
کسی شے کے نفع کاعوض کے مقابل کسی شخص کو مالک کردینا اجارہ ہے۔(3)مزدوری پر کام کرنا اور ٹھیکہ اور کرایہ اور نوکری یہ سب اجارہ ہی کے اقسام ہیں۔ مالک کو آجر، موجراور مواجر اورکرایہ دار کو مستاجر اور اُجرت پر کام کرنے والے کو اجیر کہتے ہیں۔
مسئلہ۱: جس نفع پر عقد ِاجارہ ہو وہ ایسا ہونا چاہیے کہ اُس چیز سے وہ نفع مقصود ہواور اگرچیز سے یہ منفعت مقصود نہ ہوجس کے لیے اجارہ ہوا تو یہ اجارہ فاسد ہے مثلاًکسی سے کپڑے اور ظروف(4)کرایہ پر لیے مگر اس لیے نہیں کہ کپڑے پہنے جائیں گے ظروف استعمال کیے جائیں گے بلکہ اپنا مکان سجانا مقصود ہے یا گھوڑا کرایہ پر لیا مگر اس لیے نہیں کہ ا س پر سوار ہوگا بلکہ کوتل چلنے کے لیے(5)یامکان کرایہ پر لیا اس لیے نہیں کہ اس میں رہے گابلکہ لوگوں کے کہنے کو ہوگاکہ یہ مکان فلاں کا ہے ان سب صورتوں میں اجارہ فاسد ہے اور مالک کو اُجرت بھی نہیں ملے گی اگرچہ مستاجر نے(6)چیز سے وہ کام لیے جس کے لیے اجارہ کیا تھا۔ (7) (درمختار)
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الإجارۃ، باب من استاجر اجیراً ... إلخ، الحدیث: ۲۲۷۲،ج۲، ص۶۶،۶۷وغیرہ.
2 ۔ ''سنن أبی داود''،کتاب الإجارۃ، باب فيکسب المعلم،الحدیث: ۳۴۱۶،ج۳، ص۳۶۲.
و''سنن ابن ماجۃ''، کتاب التجارات، باب الأجر علی تعلیم القرآن، الحدیث: ۲۱۵۷،ص۱۶،۱۷.
3 ۔''الدر المختار''، کتاب الإجارۃ، ج۹، ص۶،۷.
4 ۔ برتن وغیرہ۔ 5 ۔یعنی اپنے آگے بطور نمودونمائش چلانے کیلئے۔ 6 ۔کرایہ پر لینے والے نے۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۷.
مسئلہ ۲: اجارہ کے ارکان ایجاب وقبول ہیں خواہ لفظ اجارہ ہی سے ہوں یا دوسرے لفظ سے۔ لفظ عاریت سے بھی اجارہ منعقدہوسکتا ہے مثلاً یہ کہا میں نے یہ مکان ایک مہینے کو دس ۱۰روپے کے عوض میں عاریت پر دیا دوسرے نے قبول کرلیا اجارہ ہوگیا۔ یوہیں اگر یہ کہا کہ میں نے اس مکان کے نفع اتنے کے بدلے میں تم کو ہبہ کیے اجارہ ہو جائے گا۔(1) (بحر)
مسئلہ ۳: جو چیز بیع کا ثمن ہوسکتی ہے و ہ اُجرت بھی ہوسکتی ہے مگر یہ ضرورنہیں کہ جو اُجرت ہوسکے وہ ثمن بھی ہوجائے مثلاً ایک منفعت دوسری منفعت کی اُجرت ہوسکتی ہے جبکہ دونوں دو جنس کی ہوں اور منفعت ثمن نہیں ہوسکتی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴: اجارہ کے شرائط یہ ہیں: (۱)عاقل ہونا یعنی مجنون اور ناسمجھ بچہ نے اجارہ کیا وہ منعقدہی نہ ہوگا۔ بلوغ اس کے لیے شرط نہیں یعنی نابالغ عاقل نے اپنے نفس کے متعلق اجارہ کیا یا مال کے متعلق کیا اگر وہ ماذون ہے یعنی اُس کے ولی نے اُسے اجازت دیدی ہے تو اجارہ منعقد ہے اور اگر ماذون نہیں ہے تو ولی کی اجازت پر موقوف ہے جائز کردے گا جائز ہو جائے گا۔ ا ور اگر نابالغ نے بغیر اجازت ولی کام کرنے پر اجارہ کیا اور اُس کا م کو کرلیامثلاًکسی کی مزدوری چار آنے روز پر کی تو اب ولی کی اجازت درکارنہیں بلکہ اُجرت کا یہ مستحق ہوگیا۔(۲)مِلک ووِلایت یعنی اجارہ کرنے والا مالک یا ولی ہو اجارہ کرنے کا اسے اختیار حاصل ہو فضولی نے (3)جواجارہ کیا وہ مالک یا ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا اور وکیل نے عقد ِاجارہ کیا یہ جائز ہے۔ (۳) مستاجرکو وہ چیز سپرد کردینا جبکہ اُس چیز کے منافع پر اجارہ ہوا ہو۔ (۴)اُجرت کا معلوم ہونا۔ (۵)منفعت کا معلوم ہونا اوران دونوں کو اس طرح بیان کردیا ہو کہ نزاع کا(4) احتمال نہ رہے، اگر یہ کہہ دیا کہ ان دومکانوں میں سے ایک کو کرایہ پر دیا یادوغلاموں میں سے ایک کو مزدوری پر دیا یہ اجارہ صحیح نہیں۔ (۶)جہاں اجارہ کا تعلق وقت سے ہووہاں مدت بیان کرنا مثلاً مکان کرایہ پرلیا تو یہ بتانا ضرورہے کہ اتنے دنوں کے لیے لیا یہ بیان کرنا ضروری نہیں ہے کہ اس میں کیا کام کریگا۔ (۷)جانور کرایہ پر لیا اس میں وقت بیان کرنا ہوگا یا جگہ مثلاًگھنٹہ بھر سواری لے گا یا فلاں جگہ تک جائے گااور کام بھی بیان کرنا ہوگا کہ اس سے کون سا کام لیا جائے گا مثلاً بوجھ لادنے کے لیے یا سواری کے لیے۔ (۸)وہ کام ایسا ہوکہ اُس کا استیفا(5)قدرت میں ہو اگر حقیقۃً مقدور نہ ہومثلاً غلام کو اجارہ پر دیا اور وہ بھاگا ہوا ہے یا شرعاً غیر مقدور ہو مثلاً گناہ کی باتوں پر اجارہ یہ دونوں
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۰۶.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۷.
3 ۔بلا اجازت تصرف کرنے والے نے۔ 4 ۔جھگڑے کا۔ 5 ۔پوراکرنا۔
باتوں پر اجارہ صحیح نہیں۔ (۹)وہ عمل جس کے لیے اجارہ ہوا اُس شخص پر فرض و واجب نہ ہو۔ (۱۰)منفعت مقصود ہو۔ (۱۱) اُسی جنس کی منفعت اُجرت نہ ہو۔ (۱۲)اجارہ میں ایسی شرط نہ ہو جو مقتضا ئے عقد(1)کے خلاف ہو۔
مسئلہ ۵: اجارہ کا حکم یہ ہے کہ طرفین(2)بدلین کے(3)مالک ہو جاتے ہیں مگر یہ مِلک ایک دم نہیں ہوتی بلکہ وقتاً فوقتا ہوتی ہے۔ (4) (درمختار)
مگرجبکہ تعجیل یعنی پیشگی لینا شرط ہو تو عقد کرتے ہی اُجرت کامالک ہو جائے گا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: اجارہ کبھی تعاطی سے بھی منعقد ہوجاتا ہے اگر مدت معلوم ہو مثلاً مکان کرایہ پر دیا اُس نے کرایہ دیدیا اور معلوم ہے کہ ایک ماہ کے لیے ہے صحیح ہے طویل مدت کا اجارہ تعاطی سے منعقدنہیں ہوتا۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۷: منفعت کی مقدار کا علم مدت بیان کرنے سے ہوتا ہے مثلاً پانچ روپے میں ایک مہینہ کے لیے مکان کرایہ لیا یا ایک سال کے لیے کھیت اجارہ پر لیا۔ یہ اختیار ہے کہ جس مدت کے لیے اجارہ ہو وہ قلیل مدت ہو مثلاً ایک گھنٹہ یا ایک دن یا طویل دس برس، بیس برس، پچاس برس۔ اگر اتنی مدت کے لیے اجارہ ہوکہ عادۃً اُتنے دنوں تک زندگی متوقع نہ ہوجب بھی اجارہ درست ہے۔ وقف کے اجارہ کی مدت تین سال سے زیادہ نہ ہونی چاہیے مگر جبکہ اتنے دنوں کے لیے کوئی کرایہ دار نہ ملتا ہو یا مدت بڑھا نے میں زیادہ فائدہ ہے تو بڑھا سکتے ہیں۔ (7) (بحروغیرہ)
مسئلہ ۸: کبھی عمل کا بیان خود اُس کا نام لینے سے ہوتا ہے مثلاً اِس کپڑے کی رنگائی یا اس کی سلائی یا اس زیور کی بنوائی مگر کام کو اس طرح بیان کرنا ہوگا کہ جہالت باقی نہ رہے کہ جھگڑا ہو لہٰذا جانور کو سواری کے لیے لیا اس میں فقط فعل بیان کرنا کافی نہیں جب تک جگہ یا وقت کا بیان نہ ہو۔ کبھی اشارہ کرنے سے منفعت کا پتہ چلتا ہے مثلاً کہہ دیا یہ غلہ فلاں جگہ لیجاناہے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۹: اجارہ میں اُجرت محض عقد سے(9)مِلک میں داخل نہیں ہوتی یعنی عقد کرتے ہی اُجرت کامطالبہ درست
1 ۔تقاضہ عقد۔ 2 ۔یعنی مالک مکان اورکرایہ دار۔ 3 ۔یعنی مالک مکان کرایہ کا اورکرایہ دارمنفعت کا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۹.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الاول فی تفسیرالإجارۃ...إلخ،ج۴،ص۴۱۱.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۹،۱۰.
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۰۸،وغیرہ.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۱۶،۱۷.
9 ۔یعنی صرف عقد سے۔
نہیں یعنی فوراً اُجرت دینا واجب نہیں اُجرت ملک میں آنے کی چند صورتیں ہیں:ّ(1) اُس نے پہلے ہی سے عقد کرتے ہی اُجرت دیدی دوسرا اس کا مالک ہوگیا یعنی واپس لینے کا اُس کو حق نہیں ہے، (2)یاپیشگی لینا شرط کرلیا ہواب اُجرت کا مطالبہ پہلے ہی سے درست ہے،(3) یامنفعت کو حاصل کرلیامثلاً مکان تھااُس میں مدتِ مقرر ہ تک رہ لیا یا کپڑا درزی کو سینے کے لیے دیا تھا اُس نے سی دیا، (4)وہ چیزمستاجر کو سپرد کردی کہ اگر وہ منفعت حاصل کرنا چاہے کرسکتا ہے نہ کرے یہ اُس کا فعل ہے مثلاً مکان پر قبضہ دے دیا یااجیر(1)نے اپنے نفس کو تسلیم کردیا کہ میں حاضر ہوں کام کے لیے طیار ہوں کام نہ لیا جائے جب بھی اُجرت کامستحق ہے۔ (2) (بحر، درمختار)
مسئلہ۱۰: اجارہ کا جوکچھ زمانہ مقرر ہوا ہے اس میں سے تھوڑا زمانہ گزر گیا اور باقی،باقی ہے اس باقی زمانہ میں بھی مالک کو چیز دینا اورمستاجر کولینا ضروری ہے یعنی کچھ زمانہ گزر جانا باز رہنے کا سبب نہیں ہوسکتا ہاں جو زمانہ گزر گیا اگر اجارہ سے اصلی مقصود وہی زمانہ ہو یعنی وہی زمانہ زیادہ کار آمد ہو تو مستاجر کو اختیار ہے کہ باقی زمانہ میں لینے سے انکارکردے جیسے مکہ معظمہ میں مکانات کا اجارہ ایک سال کے لیے ہوتا ہے مگر موسم حج ہی ایک بہتر زمانہ ہے کہ معلّمین (3)حجاج کو ان مکانات میں ٹھہرا تے ہیں اور اسی کی خاطر پورے سال کا کرایہ دیتے ہیں اگر موسم حج نکل گیا اور مکان تسلیم نہیں کیا(4) تو کرایہ دار یعنی معلّمین کو اختیار ہے کہ مکانات لینے سے انکار کردیں۔(5) (بحرالرائق)
اسی طرح نینی تال (6)وغیرہ پہاڑوں پر موسم گرما زیادہ مقصود ہوتا ہے اسی کے لیے ایک سال کا کرایہ دیتے ہیں بلکہ جاڑوں میں(7)مکانات اور دکانیں چھوڑ کرلوگ عموماً وہاں سے چلے آتے ہیں اگر یہ موسم گرما ختم ہوگیا اور مکان یا دُکان پر مالک نے قبضہ نہ دیا تو جاڑوں میں جبکہ وہاں رہنا نہیں ہے لیکر کیا کریگا لہٰذا کرایہ دار کو اختیار ہے اگرلینا چاہے لے سکتا ہے نہ لینا چاہے انکار کرسکتا ہے۔ اسی طرح بعض جگہ بعض موسم میں بازار کا حال اچھا ہوتا ہے اُسی کے لیے سال بھر تک دکانیں کرایہ پر رکھتے ہیں و ہ زمانہ نہ ملے تو باقی میں اختیار ہے مثلاً اجمیر شریف میں دوکانداری کا پورا نفع زمانہ عُرس میں ہوتا ہے بلکہ اس زمانہ میں مکانات کے کرایے بھی بہ نسبت دیگر زمانہ کے بہت زیادہ ہوتے ہیں اس زمانہ میں
1 ۔ملازم،نوکر۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۱۷،۱۸.
3 ۔وہ لوگ جو حجاج کو زیارتیں و دعائیں اور دیگر ارکان بتاتے ہیں۔ 4 ۔یعنی مکان پر قبضہ نہیں دیا۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۱.
6 ۔ہند کے ایک پہاڑی علاقے کا نام۔ 7 ۔سردیوں میں۔
مکان یا دکان پر قبضہ نہ ملنا کرایہ دار کے لیے نقصان کا سبب ہے لہٰذا اسے اختیار ہے۔
مسئلہ۱۱: پیشگی اُجرت شرط کرنے سے مستاجر سے اُس وقت مطالبہ ہوگا کہ جب وہ اجارہ منجزہ ہو مثلاً یہ مکان ہم نے تم کو اتنے کرایہ پر دے دیا اور اگر اجارہ مضافہ ہو کہ فلاں مہینہ کے لیے مثلاًکرایہ پر دیا اس میں ابھی سے کرایہ کا مطالبہ نہیں ہوسکتا اگرچہ پیشگی کی شرط ہو۔(1) (بحر)
مسئلہ ۱۲: منفعت حاصل کرنے پر قادر ہونے سے اُجرت واجب ہوجاتی ہے اگرچہ منفعت حاصل نہ کی ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلاًمکان کرایہ دار کو سپرد کردیا جائے اس طرح کہ مالک مکان کے متاع وسامان سے خالی ہواور اُس میں رہنے سے کو ئی مانع (2)نہ ہو نہ اُس کی جانب سے نہ اجنبی کی جانب سے اس صورت میں اگر وہ نہ رہے اور بیکار مکان کو خالی چھوڑ دے تو اُجرت واجب ہوگی لہٰذا اگر مکان سپر دہی نہ کیا یا سپرد کیا مگر اُس میں خود مالک مکان کا سامان واسباب ہے یا مدت کے گزر جانے کے بعد سپرد کیا یا مدت ہی میں سپرد کیا مگر اُسے کوئی عذر ہے یا اُس کو عذر بھی نہیں مگر حکومت کی جانب سے رہنے سے ممانعت ہے یا غاصب نے اُسے غصب کرلیا یا وہ اجارہ ہی فاسد ہے ان سب صورتوں میں مالک مکان اُجرت کا مستحق نہیں۔ جانور کو کرایہ پر لیا اس میں بھی یہ صورتیں ہیں بلکہ اس میں ایک صورت یہ زائد ہے کہ مالک نے اسے جانور دیدیا مگر جہاں سوار ہونے کے لیے لیا تھا وہاں نہیں گیا بلکہ کسی دوسری جگہ جانور کو باندھ رکھا مثلاًلیا تھا اس لیے کہ شہر سے باہر فلاں جگہ سوار ہو کر جائے گااور جانور کو مکان ہی میں باندھ رکھاوہاں گیا ہی نہیں کہ سوار ہوتا اس صورت میں بھی اُجرت واجب نہیں اور اگر شہر میں سوار ہونے کے لیے لیا تھا اور مکان میں باندھ رکھا سوار نہیں ہوا تو اُجرت واجب ہے۔ (3) (طحطاوی)
مسئلہ ۱۳: غصب سے مراد اس جگہ یہ ہے کہ اُس سے منفعت حاصل کرنے سے روک دے حقیقۃًغصب ہویا نہ ہو غصب عام ہے کہ پوری مدت میں ہو یا بعض مدت میں اگرپوری مدت میں ہو تو پورا کرایہ جاتا رہا اور بعض مدت میں ہو تو حساب سے اُتنے دنوں کا جو کرایہ ہوتا ہے وہ نہیں ملے گا۔(4) (بحر)اسی طرح اگرکوئی دوسرا مانع اندرونِ مدت پیدا ہوگیا کہ اُس چیز سے انتفاع نہ ہوسکے (5)تو بقیہ مدت کی اُجرت ساقط ہے مثلاًزمین کاشت کے لیے لی تھی وہ پانی سے ڈوب گئی یا پانی نہ ہونے کی وجہ
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۲.
2 ۔ رکاوٹ۔
3 ۔''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۷.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۲.
5 ۔یعنی نفع نہ اٹھایا جاسکے۔
سے کاشت نہ ہوسکی یا جانور سواری کے لیے کرایہ پر لیا تھاوہ بیمار ہوگیا یا بھاگ گیا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مکان کرایہ پر دیا اور قبضہ بھی دیدیا مگر ایک کوٹھری میں مالک نے اپنا سامان رکھا یا ایک کوٹھری مالک نے مستاجر سے خالی کرائی تو کرایہ میں سے اس کے کرایہ کی مقدار کم کردی جائے گی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: مستاجر نے کرایہ دے دیا ہے اور اندورنِ مدت اجارہ توڑ دیا گیا تو باقی زمانہ کا کرایہ واپس کرنا ہوگا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: کپڑا کرایہ پر پہننے کے لیے لیا کہ ہر روز ایک پیسہ کرایہ دے گااور زمانہ درازتک اپنے مکان پر رکھ چھوڑاپہنا ہی نہیں تو دیکھا جائے گا کہ روزانہ پہنتا تو کتنے روز میں پھٹ جاتااُتنے زمانہ تک کا کرایہ ایک پیسہ یومیہ اس کے ذمہ واجب ہے اُس کے بعد کا کرایہ واجب نہیں مثلاًسال بھر تک اس کے یہاں رہ گیا اور پہنتا تو تین ماہ میں پھٹ جاتا صرف تین ماہ کا کرایہ دینا ہوگا۔ (4)(طحطاوی)اسی طرح یومیہ یا ماہوار پر بہت سی چیزیں کرایہ پر دی جاتی ہیں مثلاًشامیانہ کا کرایہ یومیہ ہوتا ہے کہ فییوم اتنا کرایہ جتنے دنوں اس کے یہاں رہے گاکرایہ دینا ہوگا یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے یہاں تو ایک ہی دن کا کام تھا اُ سکے بعد بیکار پڑا رہا۔ ایسا ہی گیس کے ہنڈے (5)کرایہ پر لایا اس کا کرایہ ہر رات اتناہوگا جتنی راتیں اس کے یہاں ہنڈے رہے اُن کاکرایہ دے یعنی جبکہ اجارہ کی کوئی مدت مقررنہ ہوئی ہو۔
مسئلہ ۱۷: جانور کو کرایہ پرلیا کہ فلاں روز مجھے سوار ہوکر فلاں جگہ جاناہے مالک نے اسے جانور دیدیا مگرجو دن جانے کا مقرر کیا تھا اُس روز نہیں گیا دوسرے روزگیا اُجرت واجب نہیں مگر اگر جانور اسکے مکان پر ہلاک ہوگیا تاوان دینا ہوگا کہ اس نے نا حق اُس کو روک رکھا ہے۔(6) (طحطاوی)
مسئلہ ۱۸: اجارہ فاسدہ میں منفعت حاصل کرنے پر اُجرت واجب ہوتی ہے اگر منفعت حاصل کرنے پر قادر تھا اور حاصل نہیں کی اُجرت واجب نہیں پھراجارہ فاسد میں اگر اُجرت مقرر ہے تو اُجرتِ مثل واجب ہوگی جو مقرر سے زائد نہ ہو یعنی اگر اُجرتِ مثل مقرر سے کم ہے تو اُجرتِمثل دیں گے اور اگر مقرر کے برابریا اُس سے زائد ہے تو جو مقرر ہے وہی دیں گے زیادہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ ...إلخ،ج۴،ص۴۱۳.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۷.
5 ۔ہانڈی کی شکل کا بڑا فانوس۔
6 ۔''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۷.
نہیں دیں گے اور اگر اُجرت کا تقررنہیں ہوا ہے تو اُجرت مثل واجب ہے اُس کی مقدار جو کچھ ہو۔(1) (طحطاوی)
مسئلہ۱۹: زمینِ وقف اور زمینِ یتیم اور جو جائداد کرایہ پر چلانے کے لیے ہے ان کا بھی یہی حکم ہے کہ محض اِنتفاع پر قادر ہونے سے اجارہ فاسد ہ میں اُجرت واجب نہیں ہوگی بلکہ حقیقۃً اِنتفاع ضروری ہے یعنی وقف کی زمین زراعت کے لیے بطور اجارہ فاسدہ لی اگر زراعت کریگا اُجرت واجب ہوگی ورنہ نہیں۔ یوہیں یتیم کی زمین زراعت کے لیے لی یا مکان کرایہ پر رہنے کے لیے بطور اجارہ فاسدہ لیا یا جائداد کرایہ پر چلانے کے لیے ہے اس کو اجارہ ئفاسدہ کے طور پر لیا ان سب میں بھی جب تک منفعت حاصل نہ کرے اُجرت واجب نہیں محض قادر ہونا اُجرت کو واجب نہیں کرتا۔ (2)(طحطاوی)
مسئلہ۲۰: جس چیز کوکرایہ پرلیا تھا اُس کو کسی نے غصب کرلیا کہ یہ انتفاع پر قادر نہیں ہے مگرسفارش کے ذریعہ سے وہ چیز غاصب سے نکال سکتا ہے یا لوگوں کی حمایت سے غاصب کو جدا کرسکتا ہے اور اس نے ایسا نہیں کیا اُجرت ساقط نہیں ہوگی اور اگر غاصب کو اس وجہ سے نہیں نکالا کہ علیٰحدہ کرنے میں کچھ خرچ کرنا پڑے گا تو اُجرت ساقط ہے۔ (3)(درمختار، طحطاوی)
مسئلہ ۲۱: موجر(4)اور مستاجر(5)میں اختلاف ہوا موجرکہتا ہے کسی نے غصب نہیں کیا اور مستاجر کہتا ہے غصب کیا اگر مستاجر کے پاس گواہ نہیں ہیں تو یہ دیکھا جائے گا کہ فی الحال کیا ہے اگر فی الحال مکان میں مستاجر سکونت پذیر ہے تو موجر کی بات مانی جائے گی اور اُجرت دلائی جائے گی اوراگر مستاجرکے سواکوئی دوسرا ساکن ہے تومستاجر کی بات مقبول ہے اُجرت واجب نہیں۔ (6)(بحر)
مسئلہ ۲۲: مالک مکان نے مکان کی کنجی مستاجر کو دیدی مگر کنجی ا س کے پا س سے جاتی رہی اگر مکان کو بلا تکلُّف کھول سکتا ہے اور نہیں کھولا اُجرت واجب ہے ورنہ نہیں اور اگر مستاجر اس کنجی سے قفل(7)نہیں کھول سکتا ہے مکان کا تسلیم کردینا اور قبضہ دینا نہیں پایا گیا اور اُجرت واجب نہیں۔ (8)(درمختار)
1 ۔''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۷.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الدر المختار''، کتاب الإجارۃ، ج۹، ص۲۰،۲۱.
و''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۸.
4 ۔ کرایہ پر دینے والا،مالک۔ 5 ۔کرایہ پر لینے والا۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۲.
7 ۔تالا۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۲۳.
مسئلہ ۲۳: اِجارہ اگر مطلق ہے اُس میں یہ نہیں بیان کیا گیا ہے کہ اُجرت کب دی جائے گی تو مکان اور زمین کا کرایہ روزانہ وصول کرسکتا ہے اور سواری کا ہر منزل پر مثلاًیہ ٹھہرا ہے کہ ہم کو یہاں سے فلاں جگہ جانا ہے اُس کا یہ کرایہ ہے مگریہ نہیں طے ہوا ہے کہ کرایہ پہنچ کر دیاجائے گا یا کب تو ہر منزل پر حساب سے جو کرایہ ہوتا ہے وصول کرسکتا ہے مگر سواری والایہ نہیں کہہ سکتا کہ میں آگے نہیں جاؤں گا جہاں تک ٹھہرا ہے وہاں تک پہنچا نا اُس پر لازم ہے اور اگر بیان کردیا گیا ہے کہ اتنے دنوں میں کرایہ لیا جائے گا مثلاًعموماًمکان کے کرایہ میں یہ ہوتا ہے کہ طے ہوجاتا ہے کہ ماہ بماہ کرایہ دینا ہوگا تو ہر روز یا ہر ہفتہ میں مطالبہ نہیں کرسکتا۔(1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: درزی دھوبی سونا روغیر ہم ان کا ریگر وں نے جب کام کرلیا اور مالک کو چیز سپرد کردی اُجرت لینے کے مستحق ہوگئے یہی حکم ہر اُس کام کرنے والے کا ہے جس کے کام کا اُس شے میں کوئی اثر ہو جیسے رنگریز(2)کہ اُس نے کپڑارنگ کر مالک کو دیدیا اُجرت کا مستحق ہوگیا اوراگر ان لوگوں نے کام تو کیا مگر ابھی تک چیز مالک کو سپرد نہیں کی، اُجرت کے مستحق نہیں ہوئے لہٰذا اگر ان کے یہاں چیز ضائع ہوگئی اُجرت نہیں پائیں گے اگرچہ چیز کا ان کو تاوان بھی دینا نہیں پڑے گا۔ اور اگر کام کا کوئی اثر اُس چیز میں نہیں ہوتا جیسے حمال(3)کہ چیز کویہاں سے اُٹھا کر وہاں لے گیایہ اُجرت کے اُس وقت مستحق ہوں گے جب اُنھوں نے کام کرلیا اس کی ضرورت نہیں کہ مالک کو سپرد کردیں جب استحقاق ہو لہٰذا وہاں پہنچا دینے کے بعد اگر چیز ضائع ہوگئی اُجرت واجب ہے۔(4) (درمختار)بلکہ اگر حمال نے پہنچایا نہ ہو راستہ ہی میں اُجرت مانگتا ہے تو یہاں تک کی جتنی اُجرت حساب سے ہو لے سکتا ہے مگر جہاں تک ٹھہراہے اُس پر وہاں تک پہنچانا لازم ہے اور پہنچانے پر باقی اُجرت کا مستحق ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: دھوبی نے کہا تمھارا کپڑا میں نے دھونے کے لیے لیا ہی نہیں ہے اس کے بعد کپڑے کا اقرار کرلیا اگر انکار سے پہلے دھو چکا ہے دھلائی کا مستحق ہے اور انکار کے بعد دھویا تو دھلائی کا مستحق نہیں اور رنگریز نے کپڑے سے انکار کردیا پھر اقرارکیا اگر انکار سے پہلے رنگ چکا ہے اُجرت کا مستحق ہے اور انکار کے بعد رنگاتو مالک کو اختیار ہے کہ کپڑا لے لے اور رنگ کی وجہ سے جو کچھ کپڑے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے وہ دیدے اور چاہے تو سفید کپڑے کی قیمت تاوان لے۔ ا ور کپڑا بننے والے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۲۴.
و''الفتاوی الہندیۃ''، کتاب الإجارۃ، الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ...إلخ، ج۴، ص۴۱۳.
2 ۔کپڑے رنگنے والا۔ 3 ۔بوجھ اٹھانے والا مزدور۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۲۴،۲۵.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ...إلخ،ج۴،ص۴۱۳.
نے سوت سے انکار کیاپھر اقرار کیا اور انکار سے قبل بُن چکا ہے اُجرت ملے گی اور انکار کے بعد بُنا ہے تو کپڑا اِسی بننے والے کا ہے اور سوت والے کو اُتنا ہی سوت دے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: درزی نے مستاجر کے گھر پر کپڑا سیا تو کام کرنے پر اُجرت واجب ہو جائے گی مالک کو سپرد کرنے کی ضرورت نہیں کہ جب اُس کے مکان پر ہی کام کررہا ہے تو تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں یہ خودہی تسلیم کے حکم میں ہے لہٰذا کپڑا سی رہا تھا چوری ہوگیا اُجرت کا مستحق ہے بلکہ اگر کچھ سیا تھاکچھ باقی تھا یعنی مثلاً پورا کرتہ سیا بھی نہیں تھا کہ جاتا رہا جتنا سی لیا تھا اُس کی اُجرت واجب ہے۔(2) (طحطاوی)
مسئلہ ۲۷: مزدور دیوار بنارہا ہے کچھ بنانے کے بعد گرگئی توجتنی بنا چکا ہے اُس کی اُجرت واجب ہوگئی۔ درزی نے کپڑا سیا تھا مگر کسی نے یہ سلائی توڑدی سلائی نہیں ملے گی ہاں جس نے توڑی ہے اُس سے تاوان لے سکتا ہے اور اب دوبارہ سینا بھی درزی پر واجب نہیں کہ کام کرچکا اور اگر خود درزی ہی نے سلائی توڑدی تو دوبارہ سینا واجب ہے گویا اُس نے کام کیا ہی نہیں۔(3) (بحر)
مسئلہ ۲۸: درزی نے کپڑا قطع کیا اور سیا نہیں بغیر سیے مرگیا قطع کرنے کی کچھ اُجرت نہیں دی جائے گی کہ عادۃًسلائی کی اُجرت دیتے ہیں قطع کرنے کی اُجرت نہیں دی جاتی ہاں اگر اصل مقصود درزی سے کپڑا قطع کرانا ہی ہے سلوانا نہیں ہے تو اس کی اُجرت بھی ہوسکتی ہے۔ (4)(طحطاوی، بحر)
مسئلہ۲۹: دھوبی کو دھونے کے لیے کپڑے دیے اور دُھلائی کا تذکرہ نہیں ہوا کہ کیا ہوگی اُجرت مثل واجب ہوگی کیونکہ اُس کاکام ہی یہ ہے کہ اُجرت پر کپڑا دھوتا ہے۔(5) (بحر)
مسئلہ۳۰: نانبائی(6)اس وقت اُجرت لینے کا حقدار ہوگا جب روٹی تنور سے نکال لے کہ اب اُس کا کام ختم ہوااور اگر
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ...إلخ،ج۴،ص۴۱۴.
2 ۔''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۹.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۲،۵۱۳.
4 ۔''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۹.
و''البحر الرائق''، کتاب الإجارۃ، ج۷،ص۵۱۳.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۳.
6 ۔روٹی پکانے والا۔
کچھ روٹیا ں پکائی ہیں کچھ باقی ہیں تو جتنی پکا چکا ہے حساب کرکے انکی پکوائی لے سکتا ہے یہ اُس صورت میں ہے کہ مستاجر یعنی پکوانے والے کے مکان پر اُس نے روٹی پکائی اور اگر پکنے کے بعد یعنی تنور سے نکالنے کے بعد بغیر اس کے فعل کے کوئی روٹی تنور میں گرگئی اور جل گئی تو اس کی اُجرت منھا نہیں کی جاسکتی کہ تنور سے نکال کر رکھنے کے بعد اُجرت کا حقدار ہوچکا ہے اور اس روٹی کا اس سے تاوان بھی نہیں لیا جاسکتا کہ اِس نے خود نقصان نہیں کیا ہے اور اگر تنور سے نکالنے کے پہلے ہی جل گئی تو اس کی اُجرت نہیں ملے گی بلکہ تاوان دینا ہوگا یعنی اس روٹی کا جتنا آٹا تھا وہ تاوان دے اور اگر روٹی پکوانے والے کے یہاں نہیں پکائی ہے خواہ نانبائی نے اپنے گھر پکائی یا دوسرے کے مکان پر اور روٹی جل جائے یا چوری ہو جائے بہر حال اُجرت کا مستحق نہیں ہے کہ اس کے لیے تسلیم یعنی مستاجر کے قبضہ میں دینے کی ضرورت ہے پھر اگر چوری ہوگئی تو نانبائی پر تاوان نہیں کیوں کہ آٹا اس کے پا س امانت تھا جس میں تاوان نہیں ہوتا اور اگر جل گئی ہے تو تاوان دینا ہوگا کہ اس کے فعل سے نقصان ہوااور مالک کو اختیار ہے کہ روٹی کا تاوان لے یا آٹے کا اگر روٹی کاتاوان لے گا تو پکوائی دینی ہوگی اور آٹالے تو نہیں۔ لکڑی ،نمک، پانی ان میں سے کسی کاتاوان نہیں۔(1) (بحر، درمختار، طحطاوی)
مسئلہ ۳۱: باور چی جوگوشت یا پلاؤ وغیرہ پکاتاہے اگر یہ کھانا اُس نے دعوت کے موقع پر پکایا ہے ولیمہ کی دعوت ہو یا ختنہ کی یا چھٹی کی یا عقیقہ کی یا قرآن مجید ختم کرنے کی، غرض کسی قسم کی دعوت ہو اس میں اُجرت کا اُس وقت مستحق ہوگا جب سالن وغیرہ برتنوں میں نکال دے اور گھر کے لوگوں کے لیے پکایا ہے تو کھانا طیار کرنے پر اُجرت کاحقدار ہوگیا۔ (2)(درمختار، بحر)مگر یہ وہاں کا عرف ہے کہ باور چی ہی کھانا نکالتے ہیں ہندوستان میں عموماًیہ طریقہ ہے کہ باور چی طیار کردیتے ہیں جس نے دعوت کی اُس کے عزیز واقارب دوست احباب کھانا نکالتے ہیں کھلاتے ہیں باور چی سے اس کام کاکوئی تعلق نہیں رہتا لہٰذا یہاں کے عرف کے لحاظ سے کھانا طیار کرنے پر مزدوری کامستحق ہو جائے گانکالنے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ ۳۲: باور چی نے کھانا خراب کردیا یا جلادیا یا کچا ہی اوتار دیا اُسے کھانے کا ضمان دینا ہوگا۔ اور اگر آگ لے کر چلاکہ چولھا جلائے یا تنور روشن کرے چنگاری اوڑی اور مکان میں آگ لگ گئی مکان جل گیا اس کا تاوان دینا نہیں
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۲۶،۲۸.
و''حاشیۃ الطحطاوی''علی ''الدر المختار''، کتاب الإجارۃ، ج۴، ص۹،۱۰.
2 ۔''الدر المختار''، کتاب الإجارۃ، ج۹، ص۲۸.
و''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۳.
ہوگا کہ اس میں اُس کے فعل کو دخل نہیں اِسی طرح کرایہ دار سے اگر مکان جل جائے تو تاوان نہیں کہ اُس نے قصداً ایسا نہیں کیا ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۳۳: اینٹ تھاپنے والا اُجرت کا اُس وقت مستحق ہے جب اینٹ اُس نے کھڑی کردی اس کے بعد اگر اینٹوں کا نقصان ہوا تو مالک کا ہوااس کا نہیں اور اگر اس سے پہلے نقصان ہواتو اسی کا ہواکہ ابھی تک یہ اُجرت کا مستحق نہیں ہے یہ قول امام اعظم رحمہ اللہ تعالٰی کاہے۔ صاحبین (2)یہ فرماتے ہیں کہ اُجرت کامستحق اُس وقت ہوگا جب اینٹوں کا چٹالگادے(3)اسی پر فتوےٰ ہے۔ (4)(درمختار)یہاں کے عرف سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ چٹا لگانے کے بعد اُجرت ملے کیونکہ چٹا لگانا بھی انھیں تھاپنے والوں کاکام ہوتاہے نہ اس کے لیے دوسرے مزدور رکھے جاتے ہیں نہ خود ان کو چٹالگانے کی اُجرت دی جاتی ہے بلکہ جہاں تک دیکھا گیا ہے یہی معلوم ہوا کہ اینٹوں کا شمار ہی اُس وقت کرتے ہیں جب چٹا لگ جائے پہلے ہی سے اُجر ت کیا دی جائے گی۔
مسئلہ ۳۴: اینٹ تھاپنے کا سانچا (5)تھپیر ے(6)کے ذمہ ہے کہ یہ اُس کے کام کا آلہ ہے جیسے درزی کے لیے سوئی ، بڑھئی(7) کے لیے بسولا (8)وغیرہ ہر قسم کے اوزار، مٹی اور ریتا مستاجر کے ذمہ ہے۔ مکان کے اندر غلہ پہنچادینا حمال(9)کا کام ہے یہ نہیں کہہ سکتا کہ دروازہ تک میں نے پہنچا دیا اندر نہیں لے جاؤں گا۔ چھت یادوسری منزل پر لیجانا حمال کا کام نہیں ہے جب تک اُس سے شرط نہ کرلیں وہ اوپر لیجانے سے انکار کرسکتا ہے۔ مٹکے ،گولی (10) اور برتنوں میں غلہ بھر ناحمال کا کام نہیں جب تک اس کی شرط نہ ہو۔ اونٹ یا گھوڑا یا کوئی جانور غلہ لادنے کے لیے کرایہ پرلیا تو غلہ لادنااور اوتارنا جانور والے کے ذمہ ہے اور مکان کے اندر پہنچانا اس کے ذمہ نہیں مگر جبکہ اس کی شرط ہو یاوہاں کا یہی عرف ہو۔(11) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۳۵: بیل گاڑی بہت سی چیزیں لادنے کے لیے کرایہ کرتے ہیں گاڑی والے کے ذمہ وہاں تک پہنچادینا ہے جہاں تک گاڑی جاتی ہو اُس کے بعد مالک کے ذمہ ہے مگر جبکہ یہ شرط ہو کہ مکان کے اندر پہنچانا ہوگا یا وہاں کاعرف ہو جس طرح
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۲۸.
2 ۔یعنی امام ابویوسف اور امام محمد رحمہمااللہ تعالٰی۔ 3 ۔ سلیقے سے رکھ دے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۲۸.
5 ۔اینٹیں بنانے کا آلہ ،قالب۔ 6 ۔اینٹیں تھاپنے والے۔
7 ۔لکڑی کاکام کرنے والا۔ 8 ۔ایک اوزار جس سے بڑھئی لکڑی چھیلتے ہیں۔
9 ۔بوجھ اٹھانے والا مزدور 10 ۔مٹی سے بنایا ہوا ایک بڑابرتن جس میں پانی یاغلہ رکھتے ہیں ۔
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۲۹.
و''البحر الرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۴،۵۱۵.
عموماًشہروں میں یہی طریقہ ہے کہ ٹھیلے والے جو چیزیں لاد کر لاتے ہیں وہ مکان کے اندر تک پہنچاتے ہیں۔
مسئلہ ۳۶: سیاہی کاتب کے ذمہ ہے یعنی لکھنے میں جوکچھ سیاہی صرف ہوگی لکھوانے والا نہیں دے گا اور کاتب کے ذمہ کاغذ شرط کردینا اجارہ ہی کو فاسدہ کردیتا ہے۔ (1)(بحر)یوہیں قلم بھی کاتب ہی کے ذمہ ہے۔
مسئلہ ۳۷: جس کاریگرکے عمل کا اثر چیزمیں پیداہوتا ہے جیسے رنگریز، دھوبی یہ اپنی اُجرت وصول کرنے کے لیے چیز کو روک سکتے ہیں اگر انہوں نے چیز کو روکا اور ضائع ہوگئی تو چیز کاتاوان نہیں دینا ہوگامگر اُجرت بھی نہیں ملے گی۔ یہ روکنے کا حق اُس صورت میں ہے کہ اُجرت ادا کرنے کے لیے کوئی میعاد (2)مقررنہ کی ہو اور اگر کہہ دیا ہے کہ ایک ماہ بعد میں اُجرت دوں گا اور کاریگر نے منظور کرلیا تو اب چیز کے روکنے کا حق جاتارہا اور روکنے کا حق اُس وقت ہے کہ کاریگر نے اپنے مکان یادکان میں کام کیا ہواور اگر خودمستاجر کے یہاں کام کیا تو کام سے فارغ ہونا ہی مستاجر کو تسلیم کردینا ہے اس میں روکنے کی صورت نہیں۔ درزی وغیرہ نے تعدی کی جس سے چیز میں نقصان ہواتو مطلقاً ضامن ہیں اپنے مکان پر کام کیا ہویا مستاجر کے مکان پر یا اور کہیں اور اگر کشتی میں سامان لدا ہے مالک بھی کشتی میں ہے ملاح(3) کشتی کو کھینچے لیجارہا ہے اور کشتی ڈوب گئی ملاح ضمان نہیں دے گا۔(4)(بحرالرائق)
مسئلہ ۳۸: اثرہونے کا کیا مطلب ہے بعض فقہافرماتے ہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ کام کرنے والے کی کوئی چیز اُس میں شامل ہوجائے جیسے رنگریز نے کپڑے میں اپنا رنگ شامل کردیا اور بعض فقہایہ کہتے ہیں کہ اس سے یہ مُرادہے کہ کوئی چیز جونظر نہیں آتی تھی نظر آئے اِس ثانی کی بنا پر دھوبی بھی داخل ہے کیونکہ پہلے کپڑے کی سپیدی نظرنہیں آتی تھی اب آنے لگی اور اگر دھوبی نے کلپ لگایا ہے جب تو پہلی صورت میں بھی داخل ہے۔ پستہ بادام کی گری نکالنے والا، لکڑیاں چیر نے والا، آٹا پیسنے والا، درزی اور موزہ سینے والا جبکہ یہ دونوں ڈور ااپنے پا س سے نہ لگائیں غلام کا سر مونڈنے والا یہ سب اس میں داخل ہیں دونوں قولوں میں اصح قولِ ثانی(5)ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ۳۹: جس کے کام کا اثر اُس چیز میں نہ رہے جیسے حمال کہ غلہ کوایک جگہ سے دوسری جگہ لیجاتا ہے یا ملاح کہ کسی
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۵.
2 ۔مدت۔ 3 ۔کشتی چلانے والا۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۵.
5 ۔یعنی صحیح ترین دوسرا قول ہے۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۳۰.
چیز کو کشتی پر لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچادیتا ہے یاجس نے کپڑے کو پاک کرنے کے لیے دھویا اُس کو سپید نہیں کیا یہ لوگ اُجرت وصول کرنے کے لیے چیز کو روک نہیں سکتے اگر روکیں گے غاصب قرار پائیں گے اور ضمان دینا ہوگا اور مالک کو اختیار ہے عمل کرنے کے بعد جو قیمت ہوئی اُس کا تاوان لے اور اِس صورت میں اُجرت دینی ہوگی اور چاہے تو وہ قیمت تاوان میں لے جو عمل کے بغیر ہے اور اس وقت اُجرت نہیں ملے گی۔ (1)(درمختار)
مسئلہ۴۰: اجیر(2)کے پاس چیز ہلاک ہوگئی مگر نہ تو اُس کے فعل سے ہلاک ہوئی اور نہ اُجرت لینے کے لیے اُس نے چیز روکی تھی اور اجیر وہ ہے جس کے عمل کا اثر پیدا ہوتا ہے جیسے خیاط(3)و رنگریز تو ان کی اُجرت نہیں ملے گی اور اگر عمل کا اثر نہیں پیدا ہوتا جیسے حمال تو اسے اُجرت ملے گی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ۴۱: جس سے کام کرانا ہے اگر اُس سے یہ شرط کرلی ہے کہ تم کو خود کرنا ہوگا یاکہہ دیا کہ تم اپنے ہاتھ سے کرنا اس صورت میں خود اُسی کو کرناضروری ہے اپنے شاگردیا کسی دوسرے شخص سے کام کرانا جائز نہیں اور کرادیاتو اُجرت واجب نہیں اس صورت میں سے دایہ کا استثنا(5)ہے کہ وہ دوسری سے بھی کام لے سکتی ہے۔ اور اگر یہ شرط نہیں ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے کام کریگادوسرے سے بھی کراسکتا ہے اپنے شاگرد سے کرائے یا نوکر سے کرائے یا دوسرے سے اُجرت پر کرائے سب صورتیں جائز ہیں۔ (6)(بحر ، درمختار)
مسئلہ ۴۲: اجارہ مطلق تھا یعنی خود اُس کا ریگر کے اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی شرط نہیں تھی کاریگرنے دوسرے کو بغیر اُجرت چیز سپرد کردی یعنی دوسرے کو کام کرنے کے لیے دیدی جو اجیر نہیں ہے اور وہاں سے چیز ضائع ہوگئی تو اجیر پر ضمان واجب ہے اور اگر یہ دوسرا شخص پہلے کا اجیر ہے مثلاًدرزی کو کپڑاسینے کے لیے دیا درزی نے دوسرے کو اُجرت پر سینے کے لیے دیا اور ضائع ہوگیا تو تاوان واجب نہیں نہ اول پر نہ دوسرے پر۔(7) (بحر)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۳۰،۳۱.
2 ۔مزدور۔ 3 ۔درزی۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ...إلخ،ج۴،ص۴۱۴۔۴۱۵.
5 ۔یعنی دایہ اس حکم سے خارج ہے ۔
6 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإجارۃ، ج۷، ص۵۱۶.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۳۱.
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،ج۷،ص۵۱۶.
مسئلہ ۴۳: اجیر سے کہہ دیا تم اتنی اُجرت پر میرا یہ کام کردو یہ اجارہ مطلق کی صورت ہے اور اگر یہ کہے تم اپنے ہاتھ سے کرویا تم خود کرو تو مقید ہے اب دوسرے سے کرانا جائز نہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۴۴: ایک شخص کو اجیر مقرر کیا کہ میری عیال کو فلاں جگہ سے لے آؤ وہ لینے گیا مگر اُن میں سے بعض کا انتقال ہوگیا جو باقی تھے اُنھیں لے آیا اگر دونوں کو تعداد معلوم تھی تو اُجرت اُسی حساب سے ملے گی یعنی مثلاًچار بچے تھے اور اُجرت چارروپے تھی تین کو لایا تو تین روپے پائے گا اور اگر تعداد معلوم نہیں تھی تو پوری اُجرت پائے گا اور اگر گیااور وہاں سے کسی کو نہیں لایاتو کچھ بھی اُجرت نہیں ملے گی کہ کام کیا ہی نہیں پہلی صورت میں حساب سے اُجرت ملنا اُس صورت میں ہے کہ اُنکے کم، زیادہ ہونے سے محنت میں کمی بیشی ہو مثلاًچھوٹے چھوٹے بچے ہیں کہ گود میں لانا ہوگا زیادہ ہوں گے تکلیف زیادہ ہوگی کم ہوں گے تکلیف کم ہوگی اور اگر کم زیادہ ہونے سے اس کی محنت میں کمی بیشی نہیں ہوگی مثلاًکشتی کرایہ پرلی ہے کہ اُس میں سب کوسوار کرکے لاؤ اگر سب آئیں گے یا بعض آئیں گے دونوں صورتوں میں محنت یکساں ہے اس صورت میں پوری اُجرت ملے گی اوراگر بچوں کے لانے کا مطلب یہ ہے کہ اجیر اُن کے ساتھ ساتھ آئے گا سواری کا خرچ مستاجر کے ذمہ ہے مثلاً کہہ دیا ریل پر یاتانگہ گاڑی پر سوار کرکے لاؤ یا وہ جگہ قریب ہے سب پیدل چلے آئیں گے اس کو صرف ساتھ رہنا ہوگا یا جگہ دور ہے مگروہ سب بڑے ہیں پیدل چلے آئیں گے اس کی محنت میں اُن کے کم وبیش ہونے سے کوئی فرق نہیں تو پوری اُجرت پائے گا۔(2)(درمختار، طحطاوی)
مسئلہ ۴۵: ایک شخص کو اجیر کیا کہ فلاں جگہ فلاں شخص کے پاس میرا خط لے جاؤ اور وہاں سے جواب لاؤ اگریہ خط لے کر نہیں گیا اُجرت کا مستحق نہیں ہے کہ صرف جانے آنے کے لیے اُس نے اجیر نہیں کیاتھا جب اُس نے کام نہیں کیا اُجرت کس چیز کی لے گا اور اگر وہاں خط لیکر گیا مگر مکتوب الیہ(3)کا انتقال ہوگیا تھا خط واپس لایا اس صورت میں بھی اُجرت کا مستحق نہیں اور اگر خط واپس نہیں لایا بلکہ وہیں چھوڑ آیا تو جانے کی اُجرت پائے گاآنے کی نہیں۔ اور اگر مکتوب الیہ وہاں سے کہیں چلا گیا ہے جب بھی یہی صورتیں ہیں۔ اسی طرح اگر مٹھائی وغیرہ کوئی کھانے کی چیز بھیجی تھی جس کے پاس بھیجی تھی وہ مرگیا یا کہیں چلاگیا یہ واپس لایا جب بھی مزدوری کا مستحق نہیں۔(4) (درمختار، طحطاوی)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۳۱.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۳۲.
و''حاشیۃالطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۱۱،۱۲.
3 ۔جس کی طرف خط لکھاگیااس کا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۳۳،۳۵.
و''حاشیۃالطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۱۲.
مسئلہ ۴۶: متولی وقف نے(1)وقف کی جائداد کو اُجرتِ مثل سے کم پر دیدیا مستاجر(2)پراُجرتِ مثل واجب ہے۔ یوہیں نابالغ کے باپ یا وصی نے اس کی جائداد کوکم کرایہ پر دیدیا اُس مستاجرپر اُجرت مثل واجب ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۴۷: ایک مکان خریدا کچھ دنوں اُس میں رہنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ مکان وقف ہے یا کسی یتیم کا ہے مکان تو واپس کرناہی ہوگا جتنے دنوں اُس میں رہا ہے اُس کا کرایہ بھی دینا ہوگا۔ (4)(طحطاوی)
مسئلہ ۴۸: مکان کرایہ پر لیا تھا اور اس کی اُجرت پیشگی دیدی تھی مگر مالک مکان مرگیا لہٰذا اجارہ فسخ ہوگیا کرایہ جو پیشگی دے چکا ہے اُس کے وصول کرنے کے لیے کرایہ دار کو مکان روک لینے کا حق نہیں اور اگر مالک مکان پر دین تھا اور مرگیا دین ادا کرنے کے لیے مکان فروخت کیا گیا تو، بہ نسبت دوسرے قرض خواہوں کے یہ اپنا زر پیشگی(5) وصول کرنے میں زیادہ حقدار ہے یعنی یہ اپنا پورا روپیہ ثمن سے وصول کرلے اس کے بعد کچھ بچے تو دوسرے قرض خواہ اپنے اپنے حصہ کے موافق اُس سے لے سکتے ہیں اور کچھ نہیں بچا تو اس ثمن سے لینے کے حقدار نہیں۔(6) (طحطاوی)
مسئلہ ۴۹: مستاجر نے اُجرت زیادہ کردی مثلاًپانچ روپیہ ماہوار کرایہ کامکان تھا کرایہ دار نے چھ روپے کردیے اگر اندرونِ مدت یہ اضافہ ہے تواصل عقد کے ساتھ لاحق ہوجائے گا جیسے بیع میں ثمن کا اضافہ اور اگر مدت پوری ہونے کے بعد اضافہ کیا جب بھی زیادہ دینا جائز ہے یعنی یہ ایک احسان ہے عقد باقی نہیں رہا اُس کے ساتھ کیوں کرلاحق ہوگا۔ اور آجر یعنی مثلاًمالک مکان نے اُس شے میں اضافہ کردیا جو کرایہ پر تھی مثلاًپہلے ایک مکان تھا اب اُسی کرایہ میں دوسرا مکان بھی دیدیا یہ بھی جائز ہے اور اگر یتیم یاوقف کا مکان ہے تو اس کی اُجرتِ مثل لی جائے گی۔ (7)(درمختار، طحطاوی)
مسئلہ۵۰: درخت خریدا اور چار پانچ برس تک کاٹا نہیں اب یہ درخت پہلے سے بڑا اور موٹا ہوگیا مالک زمین کہتا ہے تم نے اتنے دنوں تک درخت چھوڑرکھا اس کا کرایہ ادا کرو اس مدت کا کرایہ نہیں لے سکتا۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔مال وقف کی نگرانی کرنے والے نے۔ 2 ۔کرایہ دار۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۳۵،۳۶.
4 ۔''حاشیۃالطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۱۲.
5 ۔ایڈوانس۔
6 ۔''حاشیۃالطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۱۲،۱۳.
7 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۳۷.
و''حاشیۃالطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۴،ص۱۳.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ ...إلخ،ج۴،ص۴۱۴.
مسئلہ۵۱: جس کے ذمہ دَین ہے اُس کے مکان کو اپنے دین کے عوض میں کرایہ پر لیا یہ جائز ہے اور اگر مالک مکان پر مستاجر کا دَین ہے کچھ دَین کرایہ میں مُجرا کردیااور کچھ باقی ہے اور مدتِ اجارہ ختم ہوگئی تو مستاجر بقیہ دَین میں مکان کو نہیں روک سکتا بلکہ بعدختم مدت مکان خالی کرنا ہوگا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: دُکان اور مکان کو کرایہ پر دینا جائز ہے اگرچہ یہ بیان نہ کیا ہوکہ مستاجر اس میں کیا کریگا کیونکہ یہ مشہور بات ہے کہ مکان رہنے کے لیے ہوتاہے اور دکان میں تجارت کے لیے بیٹھتے ہیں اور یہ بھی بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ کون رہے گا کیونکہ سکونت(2)ایسی چیز ہے کہ ساکن(3)کے اختلاف سے مختلف نہیں ہوتی۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲: دکان یا مکان کو کرایہ پر لیا اُس میں خود بھی رہ سکتا ہے دوسرے کوبھی رکھ سکتا ہے مفت بھی دوسرے کو رکھ سکتا ہے کرایہ پر بھی اگرچہ مالک مکان یادکان نے کہہ دیا ہوکہ تم اس میں تنہا رہنا۔ کپڑا پہننے کے لیے کرایہ پرلیا تو دوسرے کو نہیں پہنا سکتا اسی طرح ہر وہ کام کہ استعمال کرنے والے کے اختلاف سے مختلف ہوتا ہے وہ دوسرے کے لیے نہیں ہوسکتا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۳: مکان اور دکان میں تمام وہ کام کرسکتا ہے جو عادۃًکیے جاتے ہیں اس کی دیواروں میں کیلیں گاڑ سکتاہے زمین پر میخ اور کھونٹا (6)گاڑسکتا ہے نہانا، دھونا، وضوکرنا، غسل کرنا، کپڑے دھونا، پھینچنا(7)استنجا کرنا،لکڑیا ں چیرنا یہ سب کچھ کرسکتا ہے ہاں اگر لکڑی چیر نے میں عمارت کمزور ہو یعنی بیچنے کے لیے چیرے یامکان کی چھت پر چیرے توجائز نہیں جب تک مالک مکان سے اجازت نہ لے لے۔ مکان کے دروازہ پر گھوڑا وغیرہ جانور باندھ سکتا ہے اور مکان کے اندر یہ نہیں کرسکتا کہ رہنے کے کمروں کو اصطبل کردے۔(8)(بحر، درمختار)بکری مکان کے اندر باندھنے کا عرف ہے اسے کرسکتاہے ، کرایہ کے مکان میں ہاتھ کی چکی سے آٹا پیسا جاسکتا ہے کہ اس سے عمارت میں نقصان نہیں آتا اور اگر عمارت
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الاجرۃ ...إلخ،ج۴،ص۴۱۵.
2 ۔رہائش۔ 3 ۔رہنے والے ۔
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۶.
5 ۔المرجع السابق،ص۴۷.
6 ۔گھوڑے مویشی وغیرہ باندھنے کی بڑی میخ۔ 7 ۔کھنگالنا،نچوڑنا۔
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۷،ص۵۱۷.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۶،۴۷.
کے لیے مضر(1)ہو تو بلا شرط یا بغیر اجازتِمالک جائز نہیں، پن چکی(2)یا مشین کی چکی یا جانور وں کی چکی کے لیے اجازت ضروری ہے کہ یہ عمارت کے لیے مضر ہیں۔ (3)(بحر، درمختار، طحطاوی)
مسئلہ ۴: کرایہ دار کرایہ کے مکان یا دکان میں لوہار اور دھوبی اور چکی والے کو نہیں رکھ سکتا یعنی یہ لوگ اُسی مکان میں اپنا کام کریں مثلاًدھوبی اُسی مکان میں کپڑا دھوئے یہ بغیر اجازتِ مالک درست نہیں اور کرایہ دار خودبھی یہ کام بغیر اجازتِ مالک نہیں کرسکتااور اگر اجارہ ہی میں ان چیزوں کاکرنا طے پاگیا ہے تو کرنا جائز ہے۔ (4)(درمختار)اور اگر دھوبی مکان میں کپڑا نہیں دھوتا بلکہ تالاب سے کپڑا دھو کر لاتا ہے اور مکان میں کلپ دیتا ہے(5)استری کرتا ہے تو حرج نہیں کہ اس سے عمارت پر اثر نہیں پڑتا۔
مسئلہ ۵: مالک اور کرایہ دار میں اختلاف ہوا کہ ان چیزوں کا کرنا اجارہ میں مشروط تھا یا نہیں اس میں مالک کا قول معتبر ہے اور اگر دونوں نے گواہ پیش کیے تو مستاجر (6)کے گواہ مقبول اور اصل اجارہ ہی میں اختلاف ہو جب بھی یہی صورت ہے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۶: مستاجر نے ایک کام کو معین کیا تھا کہ یہ کروں گااگر اس کا مثل یااوس سے کم درجہ کا فعل کرے اس کی اجازت ہے مثلاً لوہاری کے کام(8)کے لیے مکان لیا تھا اور اس میں کپڑے دھونے کاکام کرتا ہے اگر دونوں سے عمارت کایکساں نقصان ہے یا کپڑا دھونے میں کم نقصان ہے کرسکتا ہے۔ ایسا کام کیا جس کی اجازت نہ تھی کرایہ دینا ہوگا اور اگر مکان گرپڑاتوکرایہ نہیں بلکہ مکان کاتاوان دینا ہو گا۔(9) (درمختار)یعنی مکان کا کرایہ نہیں دینا ہوگا مگر زمین کا کرایہ دینا ہوگا۔(10) (ردالمحتار)
1 ۔نقصان دہ۔ 2 ۔پانی کی قوت سے چلنے والی چکی۔
3 ۔''البحرالرائق''، کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ، ج۷،ص۵۱۷.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۶.
و''حاشیۃالطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ...إلخ،باب مایجوز،ج۴،ص۱۵.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۶،۴۷.
5 ۔کلف لگاتاہے۔ 6 ۔کرایہ دار۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۷.
8 ۔یعنی لوہے کے اوزار وغیرہ بنانے کاکام۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۷.
10 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۷.
مسئلہ ۷: مستاجر نے مکان یا دکان کو کرایہ پر دیدیا اگر اُتنے ہی کرایہ پردیا ہے جتنے میں خو دلیا تھا یاکم پر جب تو خیر اور زائد پر دیا ہے تو جوکچھ زیادہ ہے اُسے صدقہ کردے ہاں اگرمکان میں اصلاح کی ہو اُسے ٹھیک ٹھاک کیا ہو تو زائد کا صدقہ کرنا ضرور نہیں یاکرایہ کی جنس بدل گئی مثلاًلیا تھا روپے پردیا ہو اشرفی پر اب بھی زیادتی جائز ہے۔ جھاڑودیکر مکان کو صاف کرلینایہ اصلاح نہیں ہے کہ زیادہ والی رقم جائز ہوجائے اصلاح سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا کام کرے جو عمارت کے ساتھ قائم ہو مثلاًپلاستر کرایا یا مونڈیر بنوائی۔ خود مالک مکان کو مستاجر نے مکان کرایہ پر دیدیا قبضہ کے بعد ایسا کیا یا قبضہ سے قبل یہ جائز نہیں بلکہ اجارہ ہی فسخ ہو جائے گا۔(1) (بحر)مگر صحیح یہ ہے کہ اجارہ فسخ نہیں ہوگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۸: زمین کو زراعت(3)کے لیے اُجرت پر دینا جائز ہے جبکہ یہ بیان ہو جائے کہ اُس میں کیا چیز بوئی جائے گی یا مزارع سے یہ کہہ دے کہ جو تو چاہے بولیا کر ،اگر ان چیزوں کا بیان نہیں ہوگا تو منازعت ہوگی(4)کیونکہ زمین کبھی زراعت کے لیے اجارہ پر دی جاتی ہے کبھی دوسرے کام کے لیے اور زراعت سب چیزوں کی ایک قسم نہیں کہ بیان کرنے کی حاجت نہ ہو بعض چیزوں کی زراعت زمین کے لیے مفید ہوتی ہے اور بعض کی مضر ہوتی ہے اگر ان چیزوں کوبیان نہیں کیاگیا تو اجارہ فاسد ہے مگر جبکہ اُس نے زراعت بودی تو اب صحیح ہوگیا کہ کام کرلینے سے وہ جہالت جو پید ا ہوگئی تھی جاتی رہی اور مستاجر پر اُجرت واجب ہوگئی۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: زراعت کے لیے کھیت لیا تو آمدورفت کاراستہ (6)اور پانی جہاں سے آتا ہے اور جس راستے سے آتا ہے یہ سب چیزیں مستاجر کو بغیر شرط بھی ملیں گی کیونکہ یہ نہ ہوں تو زراعت ہی ناممکن ہے اور کھیت بیع لیا(7)تویہ چیزیں بغیر شرط داخل نہیں۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: کھیت ایک سال کے لیے لیا تو سال کی دونوں فصلیں ربیع(9)وخریف(10)اُس میں بو سکتا ہے اگر اس
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۷،ص۵۱۸.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۱۵۳.
3 ۔کھیتی ،باڑی۔ 4 ۔یعنی جھگڑا ہوگا۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۸.
6 ۔یعنی آنے جانے کاراستہ۔ 7 ۔یعنی خریدا۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۸.
9 ۔موسم بہار کی فصل۔ 10 ۔موسم خزاں کی فصل۔
وقت زراعت نہیں ہوسکتی کیونکہ پانی نہیں ہے مگر مدت کے اندر زراعت ہوسکتی ہے لگان واجب ہے ورنہ نہیں۔ (1)(درمختار)اوروہ زمین جو پانی سے دور ہونے کی وجہ سے زراعت کے قابل نہیں اس کو یا بنجر زمین کو کاشت کے لیے اجارہ پر لینا درست نہیں۔ (2)(طحطاوی)
مسئلہ ۱۱: زمین زراعت کے لیے اجارہ پر دی اور زراعت کو کوئی آفت پہنچی مثلاً کھیت پانی سے ڈوب گیا تو جو حصہ لگان کا آفت پہنچنے سے پہلے کاہے وہ دینا ہوگا اور آفت پہنچنے کے بعد کا جو حصہ ہے وہ ساقط جبکہ دوسری زراعت کاموقع نہ رہے اور اگر پھر کھیت بوسکتا ہے تو لگان ساقط نہیں اگرچہ کھیت نہ بویا کہ یہ اُس کااپنا قصور ہے۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: زمین میں دوسرے کی زراعت لگی ہوئی ہے اور جس نے کھیت بویا ہے جائز طورپربویا ہے مثلاً اُس کے پاس کھیت عاریت ہے یا اُس نے اجارہ پر لیا ہے اگرچہ یہ اجارہ فاسد ہی ہو یہ زمین دوسرے کو اجارہ پر دینا جائز نہیں، اور اگر اجارہ پر دیدی اور فصل کٹ گئی اور مالک زمین نے نئے مزارع (4)کو زمین دیدی تو اجارہ صحیح ہوگیا ہاں ایک شخص نے جائز طورپر بویاتھااور فصل کٹنے کے وقت دوسرے کو دیدی یہ اجارہ جائز ہے مزارع اول سے کہا جائے گاکھیت کاٹ لے پھر یہ کھیت مزارع دوم کو دیدیاجائے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اجارہ کو زمانہ مستقبل کی طرف مضاف کیا مثلاًفلاں مہینہ سے یہ کھیت تم کو اتنے لگان پردیا جبکہ معلوم ہو کہ اُ سوقت تک کھیت خالی ہوجائے گامثلاً بیساکھ(5)سے یا جیٹھ(6)سے یہ صورت مطلقاًجائز ہے مزارع اول نے جائز طورپر بویا ہویا نا جائز طورپر۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ اُس کھیت کو بونے والے نے ناجائز طورپر بویا ہو مالک نے دوسرے کو اجارہ پر دیدیا یہ اجارہ جائز ہے کیونکہ مزارع کویہ کھیت دیدینا ممکن کہ ہے جس نے بویا ہے اُ سکو مجبور کیاجائے گاکہ اپنی زراعت فوراًکاٹ لے طیارہویا نہ ہو۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: مکان اجارہ پر دیا کچھ خالی ہے کچھ مشغول ہے اجارہ صحیح ہے مگر جو حصہ مشغول ہے اُس کی نسبت کہا جائے گاکہ خالی کرکے مستاجر کے حوالہ کردے اور اگر خالی کرنے میں ضررہو مثلاًکھیت اجارہ پر دیا ہے اس کے کچھ حصہ میں زراعت ہے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۸.
2 ۔''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''، کتاب الإجارۃ،باب مایجوز ،ج۴،ص۱۵.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۱۲۸.
4 ۔کاشت کار۔ 5 ۔بکرمی سال کامہینہ جو عموماً وسط اپریل سے وسط مئی تک ہوتاہے۔
6 ۔بکرمی سال کا وہ مہینہ جو عموماً وسط مئی سے وسط جون تک ہوتاہے۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۹.
جو ابھی طیار نہیں ہے تو اس کے خالی کرنے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: مکان جس میں کوئی رہتا ہو وہ دوسرے کو کرایہ پر دینا جائز ہے جبکہ رہنے والا کرایہ پر نہ ہو اور مالک مکان کے ذمہ مکان خالی کراکرکرایہ دار کو دینا ہے ا ور کرایہ کی مدت اُس وقت سے شمار ہوگی، جب سے اس کے قبضہ میں آیا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: زمین کو مکان بنانے یا پیڑ لگانے یا زراعت کرنے اور اُن تما م منافع کے لیے اجارہ پر دے سکتے ہیں جو حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاًمٹی کا برتن بنانے یا اینٹ اور ٹھیکرے بنانے جانور وں کو دوپہر میں یا رات میں وہاں ٹھہرانے کے لیے لینا یہ سب اجارے جائز ہیں۔(3) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۶: زمین مکان بنانے کے لیے یا درخت لگانے کے لیے اُجرت پر لی اور مدت پوری ہوگئی اپنی عمارت کا ملبہ اُٹھالے اور درخت کاٹ کر خالی زمین مالک کو سپرد کردے کیونکہ ان دونوں چیزوں کی کوئی انتہا نہیں کہ مدت میں کچھ اضافہ کیا جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اُس عمارت کو توڑنے کے بعد ملبہ کی جوقیمت ہو یا درخت کاٹنے کے بعد اس کی جوکچھ قیمت ہو مالک زمین اس شخص کو دیدے اور یہ اپنا مکان اور درخت مالک ِزمین کے لیے چھوڑدے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عمارت اور درخت جس کے ہیں اُسی کی ملک پر باقی رہیں یعنی مالک ِزمین اُس کواجازت دیدے کہ تم اپنی عمارت ودرخت رکھوزمین کامیں مالک اور اِن چیزوں کے تم مالک اس کی دوصورتیں ہیں اگر ان چیزوں کے چھوڑنے کی کوئی اُجرت ہے تو اجارہ ہے ورنہ اعارہ (4)ہے مکان والا اور مالک زمین تیسرے کو اجارہ پر دے سکتے ہیں اور اس تیسرے سے جو کچھ کرایہ ملے گاوہ زمین ومکان پر تقسیم ہوگا یعنی زمین بغیر مکان کی قیمت کیا ہے اور صرف مکان کی بغیر زمین کیا قیمت ہے اِن دونوں میں جو نسبت ہو، اُسی نسبت سے دونوں اُجرت کو تقسیم کرلیں۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۷: زمینِ وقف کو اُجرت پرلیا اور اُس میں درخت لگائے یا مکان بنایا اور مدت اجارہ ختم ہوگئی مستاجر اُجرتِ مثل کے ساتھ زمین کو رکھ سکتا ہے جبکہ اس میں وقف کاضرر نہ ہو۔ جن لوگوں پر وہ جائداد وقف ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ مکان کا ملبہ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۱۵۶.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۹.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۹.
و''البحر الرائق''، کتاب الإجارۃ، باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۷،ص۵۱۸.
4 ۔عاریت۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۴۹،۵۰.
اُٹھالیا جائے اس کے سوا دوسری بات پر راضی نہیں ہوتے ان کی ناراضی کالحاظ نہیں کیا جائے گا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: سبزی کے چھوٹے چھوٹے درخت جو اسی لیے لگائے جاتے ہیں کہ ان کے پتے یا پھول سے انتفاع (2) حاصل کیا جائے گااور درخت باقی رہے گا جیسے گلاب، بیلا، چمیلی اور طرح طرح کے پھول کے درخت ان تمام سبزیوں کا وہی حکم ہے جو درخت کاہے اور اگر درخت کی کچھ مدت ہے، جیسے موسمی پھول کہ بوئے جاتے ہیں اور کچھ زمانہ کے بعد پھول کر ختم ہوجاتے ہیں یا وہ سبزیاں جو جڑ ہی سے اُکھاڑلی جاتی ہیں جیسے گاجر، مولی، شلجم، گوبھی یا پھول پھل سے نفع اُٹھاتے ہیں مگر اُس کا زمانہ محدود ہے جیسے بیگن، مرچیں یہ سب چیزیں زراعت کے حکم میں ہیں کہ اگر اجارہ کی مدت پوری ہوگئی اور ان کی فصل نہیں ختم ہوئی توزمین اُس وقت تک کے لیے اُجرت مثل پر کرایہ پر لے لی جائے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۹: مواجر و مستاجر میں سے کوئی مرگیا اور اجارہ فسخ ہوگیا مگر ابھی تک زراعت طیارنہیں ہے کہ کاٹی جائے تو پکنے اور طیا ر ہونے تک کھیت میں رہے گی اور جو اُجرت مقرر ہوئی تھی وہی دی جائے گی اور اگر مدت مقرر ہ ختم ہوگئی مگر زراعت طیار نہیں ہوئی تو اب جتنے دنوں کھیت میں رکھنے کی ضرورت ہواُسکی اُجرتِ مثل دی جائے گی۔ مستعیرنے کھیت عاریت لیکر بویا تھا اور معیر(4) ومستعیر(5)دونوں میں سے کوئی مرگیاتو طیاری تک زراعت کھیت میں رہے گی اور اُجرت مثل دی جائے گی اُجرت مثل پر زراعت کو کھیت میں رہنے دینے کایہ مطلب ہے کہ قاضی نے ایسا حکم دیاہو یاخود ان دونوں نے اس پررضا مندی کرلی ہو اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں یعنی دونوں میں لینے دینے کاکوئی تذکرہ ہی نہیں ہوایہاں تک کہ فصل طیار ہوگئی توکچھ اُجرت نہیں ملے گی۔(6) (بحر ، درمختار)
مسئلہ ۲۰: زمین غصب کرکے اُس میں زراعت بوئی اس کے لیے کوئی مدت نہیں دی جاسکتی نہ اُجرت پر نہ بغیر اُجرت بلکہ یہ حکم دیا جائے گا کہ فوراًزراعت کاٹ کر کھیت خالی کردے۔(7) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ، ج۹،ص۵۲.
2 ۔نفع۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۵۴.
4 ۔ بطورعاریت چیزدینے والا۔ 5 ۔عاریت پر (مانگ کر)چیز لینے والا۔
6 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوزمن الإجارۃ...إلخ،ج۷،ص۵۲۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۵۴.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۵۵.
مسئلہ ۲۱: چوپایہ، اونٹ، گھوڑا، گدھا، خچر، بیل، بھینسا ان جانور وں کوکرایہ پرلے سکتے ہیں خواہ سواری کے لیے کرایہ پر لیں یا بوجھ لادنے کے لیے۔ اس لیے گھوڑے کو کرایہ پر نہیں لے سکتا کہ اُنھیں کوتل رکھے(1)یا اِن جانوروں کو اپنے دروازہ پر باندھ رکھے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوکہ اس کے یہاں اتنے جانور ہیں۔ کپڑے کو پہننے کے لیے کرایہ پرلے سکتا ہے، اپنی دکان یا مکان سجانے کے لیے نہیں لے سکتا۔ مکان کو اس لیے کرایہ پر نہیں لے سکتا کہ اُس میں نماز پڑھے گا۔ خوشبو کو اس لیے کرایہ پر لیا کہ اُسے سونگھے گا۔ قرآن مجید یاکتاب کوپڑھنے کے لیے کرایہ پر لیا یہ ناجائز ہے۔ یوہیں شعرا کے دواوین(2)اور قصے کی کتابیں پڑھنے کے لیے اُجرت پرلینا ناجائز ہے۔(3) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۲۲: سواری کے لیے جانور کرایہ پرلیا اور مالک نے کہہ دیا کہ جس کو چاہوسوار کرو تو مستاجر کو اختیار ہے کہ خود سوار ہو یا دوسرے کو سوار کرائے جو سوار ہو اوہی متعین ہوگیا اب دوسرانہیں سوار ہوسکتا اور اگر فقط اتنا ہی کہا ہے کہ سواری کے لیے جانور کرایہ پر لیانہ سوار ہونے والے کی تعیین ہے نہ تعمیم تواجارہ فاسد ہے یعنی سواری اور کپڑے میں یہ ضرور ہے کہ سوار اور پہننے والے کومعین کردیا جائے یا تعمیم کردی جائے کہ جس کو چاہو سوار کروجس کو چاہو کپڑا پہنا دو اور یہ نہ ہوتو اجارہ فاسد مگر اگر کوئی سوار ہوگیا یعنی خود وہ سوار ہوایا دوسرے کو سوار کردیا یا خود کپڑے کوپہنا یا دوسرے کوپہنا دیاتو اب وہ اجارہ صحیح ہوگیا۔(4) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۲۳: سواری میں معین کردیا تھا کہ فلاں شخص سوار ہوگا اور کپڑے میں معین کردیا تھا کہ فلاں پہنے گا مگر ان کے سوا کوئی دوسراشخص سوار ہوایا دوسرے نے کپڑاپہنا اگر جانور ہلاک ہوگیا یا کپڑا پھٹ گیا تومستاجرکوتاوان دینا ہوگا اور اس صورت میں اُجرت کچھ نہیں ہے اور اگر جانور اور کپڑاضائع وہلاک نہ ہوں تو نہ اُجرت ملے گی نہ تاوان۔ اور اگردکان کو کرایہ پر دیا تھا کرایہ دارنے اُس میں لوہار کو بٹھادیا اگر دکان گرجائے تاوان دینا ہوگا اور دکان سالم رہی تو کرایہ واجب ہوگا۔(5) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۲۴: تمام وہ چیزیں جو استعمال کرنے والوں کے اختلاف سے مختلف ہوں سب کایہی حکم ہے کہ بیان کرنا ضرور
1 ۔یعنی نمائش کے طور پر اپنے آگے چلائے۔ 2 ۔یعنی شاعروں کے کلام کے مجموعے۔
3 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۷،ص۵۲۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۵۵.
4 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۷،ص۵۲۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ ،ج۹،ص۵۷.
5 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۷،ص۵۲۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ، ،ج۹،ص۵۷.
ہے کہ کون استعمال کریگا جیسے خیمہ کہ اسے کون نصب کریگا اور کس جگہ نصب کیا جائے گااور اس کی میخیں کون گاڑے گاان باتوں میں حالات مختلف ہیں۔ (1)(درمختار، طحطاوی)
مسئلہ ۲۵: خیمہ کی طنابین(2)مالک کے ذمہ ہیں جس نے کرایہ پردیا ہے اور اس کی میخیں مستاجر یعنی کرایہ دارکے ذمہ ہیں۔(3) (طحطاوی)
مسئلہ ۲۶: چھولداری(4)یا خیمہ دھوپ یا مینھ (5)میں بغیر اجازت مالک نصب کیا اور خراب ہوگیا تاوان دینا ہوگا اور اس صورت میں اُجرت نہیں اوراگر سلامت ہے تو اُجرت واجب ہوگی۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: خیمہ کے سایہ میں دوسرے لوگ بھی آرام لے سکتے ہیں مالک یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم نے دوسرے کو اس کے نیچے کیوں بیٹھنے دیا۔(7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: خیمہ کی چوبیں(8)یا رسیاں ٹوٹ گئیں کہ نصب نہیں ہوسکاکرایہ واجب نہ ہوا۔ (9)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: جن چیزوں کے استعمال میں اختلاف نہ ہواُن میں یہ قید لگانا کہ فلاں شخص استعمال کرے بیکار ہے جس کومتعین کردیا ہے وہ بھی استعمال کرسکتا ہے اور دوسرابھی استعمال کرسکتا ہے مثلاًمکان میں یہ شرط لگانا کہ اس میں تم خود رہنا دوسرے کو نہ رہنے دینا یاتم تنہا رہنا یہ شرطیں باطل ہیں۔(10) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: اگراجارہ میں ایک نوع یاکسی خاص مقدارکی قید لگائی ہے اس کی مثل یا اس سے مفیداستعمال جائز ہے اور اس سے مضر استعمال کی اجازت نہیں مثلاً ایک بوری گیہوں لادنے کے لیے جانور کو کرایہ پرلیا ایک بوری سے کم گیہوں یا
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ، ،ج۹،ص۵۷.
و''حاشیۃالطحطاوی''علی ''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ، باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ،ج۴،ص۱۸.
2 ۔خیمہ کی رسیاں۔
3 ۔''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ، باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ،ج۴،ص۱۸.
4 ۔چھوٹاخیمہ۔ 5 ۔بارش۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ، مطلب:فی الأرض المحتکرۃ...إلخ،ج۹،ص۵۸.
7 ۔المرجع السابق.
8 ۔بانس۔
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ، مطلب فی الارض المحتکرۃ...إلخ، ج۹،ص۵۸.
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۵۸.
ایک بوری جَوْ لادنا جائز ہے کہ یہ اُس سے زیادہ آسان اور ہلکا ہے اور ایک بوری نمک لادنا جائزنہیں کہ نمک گیہوں سے زیادہ وزنی ہوتا ہے اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ عقد کے ذریعہ سے جب کسی خاص منفعت کا استحقاق ہو(1)تو وہ یا اُس کی مثل یا اُس سے کم درجہ کا حاصل کرنا جائز ہے اور زیادہ حاصل کرنا جائزنہیں مثلاً ایک من گیہوں لادنے کی اجازت ہے توایک من جَولاد سکتا ہے اور ایک من روئی یا لوہایا پتھر یا لکڑی نہیں لادسکتا یاایک من روئی لادنے کے لیے کرایہ پرلیا اور ایک من گیہوں لادا یہ بھی جائز نہیں۔ (2)(بحر)
مسئلہ ۳۱: جانور سواری کے لیے کرایہ پرلیا اُس پر خود سوارہوااور ایک دوسرے شخص کواپنے پیچھے بٹھالیا اگر دوسراایسا ہے کہ اپنے آپ سواری پر رُک سکتا ہے اور جانور ہلاک ہوگیاتونصف قیمت تاوان دے اس میں یہ نہیں لحاظ کیا جائے گاکہ اس کے سوار ہونے سے کتنا بوجھ زیادہ ہوااور یہ نہیں کہا جائے گاکہ قیمت کو دونوں کے وزن پر تقسیم کرکے دوسرے کے وزن کے مقابل میں قیمت کا جو حصہ آئے وہ تاوان میں واجب ہو بلکہ نصف قیمت تاوان میں مطلقاًواجب ہوگی اور اگر اُس شخص نے اپنے پیچھے کسی بچہ کوبٹھالیا ہے جو خود اُس پررک نہیں سکتا اور جانور ہلاک ہوگیا تو تاوان صرف اُتنا ہوگاجتنا اس کے سوار کرنے سے وزن میں اضافہ ہوا۔ یہ تفصیل اُس صورت میں ہے کہ جانور دونوں کو اُٹھاسکتا ہواور اگر جانور میں اتنی طاقت نہ ہوکہ دونوں کو اُٹھاسکے توہرصورت میں پوری قیمت کا تاوان دینا ہوگا۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: گھوڑے کی گردن پر دوسرا آدمی بیٹھ گیااور جانور ہلاک ہوگیا تو پوری قیمت کاتاوان دے اور اگر جانور پر خود سوار ہواا ور کوئی چیز بھی لادلی اگرچہ یہ چیز مالک ہی کی ہوجبکہ اُس کی اجازت سے نہ لادی ہو اور جانور ہلاک ہوگیا تو وزن میں جتنا اضافہ ہوااُس کاتاوان دے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: اِس صورت میں کہ اپنے پیچھے دوسرے کو سوار کیا اگروہ جانور منزلِ مقصود تک پہنچ کر ہلاک ہواپوری اُجرت بھی دینی ہوگی اور تاوان بھی دینا پڑے گا اور اگر جانور سلامت رہاہلاک نہ ہوا تو صرف اُجرت ہی دینی ہوگی۔ پھر ضمان کی سب صورتوں میں مالک کو اختیار ہے کہ مستاجر سے ضمان لے یا اُس سے جو اُسکے ساتھ سوار ہوا ہے اگرمستاجر سے لیا تووہ اپنے ساتھی سے رجوع نہیں کرسکتا اور دوسرے سے لیا تو دوصورتیں ہیں اگر مستاجر نے اُس کوکرایہ پر سوار کیاہے تویہ مستاجر سے رجوع
1 ۔یعنی حق حاصل ہو۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ، باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ،ج۷،ص۵۲۳،۵۲۴.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ، باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۵۹.
4 ۔المرجع السابق،ص۶۰.
کرسکتا ہے اور مفت بٹھایا ہے تو نہیں۔ (1)(بحر، درمختار)
مسئلہ ۳۴: جانور کو بوجھ لادنے کے لیے کرایہ پرلیا اور جتنا لادنا ٹھہرا تھااُس سے زیادہ لاددیا تو جتنا زیادہ لاداہے اُس کا تاوان دے مثلاً دومن ٹھہراتھا اس نے تین من لاد دیا جانور کی ایک تہائی قیمت تاوان دے یہ اُس صورت میں ہے کہ اس نے خود لاد اہواور اگرجانور کے مالک نے زیادہ لاداتو تاوان نہیں اور اگر دونوں نے مل کر لادا تو نصف تاوان یہ دے اور نصف جومالک کے فعل کے مقابل میں ہے ساقط۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳۵: مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے لیے اونٹ کرایہ پر لیے جاتے ہیں اُن پر عموماًدوشخص سوار ہوتے ہیں اور اپنا سامان بھی لادتے ہیں اس کے متعلق حکم یہ ہے کہ اُتنا ہی سامان لادیں جو متعارف ہے اُس سے زیادہ نہ لادیں اور اُس میں بھی بہتر یہ ہے کہ اپنا پورا سامان جمّال کو(3)دکھادیں۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: جانور کے مالک کویہ حق نہیں ہے کہ جانور کو کرایہ پردینے کے بعد مستاجر کے ساتھ کچھ اپنا سامان بھی لاددے مگر اُس نے اپنا سامان رکھ دیا اور جانور منزلِ مقصود تک پہنچ گیا تو مستاجر کو پورا کرایہ دینا ہوگا یہ نہ ہوگا کہ چونکہ اُس نے اپنا سامان بھی رکھ دیا ہے لہٰذا کرایہ سے اُس کی مقدار کم کی جائے۔ اور مکان میں یہ صورت ہوکہ مالک مکان نے ایک حصہ مکان میں اپنا سامان رکھاتو پورے کرایہ سے اُس حصہ کے کرایہ کی کمی کر دی جائے گی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۳۷: ہل جوتنے کے لیے بیل کرایہ پرلیا ایک بیگہہ(6)جو تنا ٹھہرا تھا اُس نے ڈیڑھ بیگہہ جوت لیا اور بیل ہلاک ہوگیا پوری قیمت کاتاوان دینا ہوگا۔ یوہیں چکی چلانے کے لیے بیل کرایہ پر لیا جتنے من پیسنا قرار پایا اُس سے زیادہ پیسا اور بیل ہلاک ہواپوری قیمت کا تاوان دینا ہوگا ان دونوں صورتوں میں صرف زیادتی کے مقابل میں تاوان نہیں بلکہ پورا تاوان ہے۔ (7)(ردالمحتار)
1 ۔''البحر الرائق''، کتاب الإجارۃ،باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ،ج۷، ص۵۲۴.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۶۰.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۶۱.
3 ۔اونٹ والے کو۔
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الإجارۃ،مسائل شتّٰی،ج۹،ص۱۵۱.
5 ۔''ردالمحتار''، کتاب الإجارۃ،باب ما یجوزمن الإجارۃ...إلخ،مطلب:فی الارض المحتکرۃ...إلخ،ج۹،ص۶۴.
6 ۔زمین کاایک حصہ جس کی مقدار عموماًتین ہزار گز مربع ہوتی ہے۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،مطلب:فی الارض المحتکرۃ...إلخ،ج۹،ص۶۳.
مسئلہ ۳۸: سواری کے جانور کو مارنے اور زور زور سے لگام کھینچنے کی اجازت نہیں ہے ایسا کریگاتوضمان دینا پڑے گا خصوصاًجانور کے چہرہ پر مارنے سے بہت زیادہ بچنے کی ضرورت ہے کہ چہرہ پر مارنے کی ممانعت ہے۔(1) (درمختار، ردالمحتار)جب جانور کا یہ حکم ہے کہ اُس کے چہرہ پر نہ مارا جائے تو انسان کے چہرہ پر مارنا بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوگا۔
مسئلہ ۳۹: گھوڑا کرایہ پرلیا کہ زین کَس کر سوارہوگا تو ننگی پیٹھ پر سوار نہیں ہوسکتا اور نہ اُس پر کوئی سامان لاد سکتا ہے اور اُس کی پیٹھ پرلیٹ نہیں سکتا بلکہ اُس طرح سوار ہونا ہوگا، جو عادۃً سوار ہونے کا قاعدہ ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: ایک شخص نے کسی جگہ غلہ پہنچانے کے لیے اجیرکیا (3)اور راستہ معین کردیا کہ اس راستہ سے لیجانا ،اجیر دوسرے راستہ سے لے گیا اگردونوں راستے یکساں ہیں یعنی دونوں کی مسافت میں بھی تفاوت نہیں ہے اور دونوں پرامن ہیں تو جس راستے سے چاہے لیجائے اور اگر دوسرا پر خطر ہے یا اس کی مسافت زیادہ ہے تولے جانے والا ضامن ہے۔ یوہیں اگرجانور کرایہ پرلیا اور مالک ِجانورنے راستہ معین کردیا ہے اس میں بھی دونوں صورتیں ہیں۔ اور اگر مالک ِغلہ نے اجیر سے خشکی کے راستہ سے لیجانے کو کہہ دیا تھا وہ دریائی راستہ سے لے گیا توضامن ہے اور اگر خشکی کاراستہ معین نہیں کیا اور دریائی راستہ سے لے گیاتو ضامن نہیں اور منزلِ مقصود تک اجیر نے سامان پہنچادیاتو اُجرت کامستحق ہے۔ (4)(ہدایہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: گیہوں بونے کے لیے زمین اجارہ پرلی(5)اُس میں ترکاریاں بودیں جس سے زمین خراب ہوگئی اس کے متعلق متقدمین نے یہ حکم دیاہے کہ یہ شخص غاصب ہے اس کے فعل سے زمین میں جوکچھ نقصان پیدا ہوا اُس کاتاوان دے اور زمین کی جوکچھ اُجرت قرار پائی تھی نہیں لی جائے گی مگر متاخرین یہ فرماتے ہیں کہ زمین وقف اور زمین یتیم میں اور وہ زمین جومنافع حاصل کرنے کے لیے ہے جیسے زمیندار وں کے یہاں کی عموماًزمین اسی لیے ہوتی ہے کہ کاشتکار وں کو لگان پردی(6)جائے ان میں اُجرتِ مثل لی جائے۔ اور اگر کاشتکار نے وہ بویا جس میں ضر ر(7)کم ہے مثلاًترکاری بونے کے لیے زمین لی تھی اور گیہوں بوئے تواس صورت میں جو لگان قرار پایا ہے وہ دے۔(8) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،مطلب:فی الارض المحتکرۃ...إلخ،ج۹،ص۶۴.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،مطلب:فی الارض المحتکرۃ...إلخ،ج۹،ص۶۶.
3 ۔یعنی مزدوررکھا۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات، باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۲، ۲۳۶.
و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،مطلب:فی الارض المحتکرۃ...إلخ،ج۹،ص۶۷.
5 ۔یعنی کرایہ پر لی۔ 6 ۔ٹھیکے پر دی۔ 7 ۔نقصان۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،مطلب:فی الارض المحتکرۃ...إلخ،ج۹،ص۶۸.
مسئلہ ۴۲: درزی کواچکن (1)سینے کے لیے کپڑا دیااُس نے کرتہ سی دیا درزی سے اپنے کپڑے کی قیمت لے لے اور وہ سلاہوا کپڑااُسی کے پاس چھوڑ دے اور کپڑے والے کو یہ بھی اختیار ہے کہ کرتہ لے لے اور اُس کی واجبی سلائی دیدے مگریہ اُجرت مثل اگر اُس سے زیادہ ہے جو مقرر ہوئی تو وہی دے گا جو مقرر ہوئی یہی حکم اُس صورت میں ہے کہ کرتہ سینے کوکہا تھااُس نے پاجامہ سی دیا۔(2) (بحر)
مسئلہ ۴۳: درزی سے کہہ دیا کہ اتنالمبا اور اتنا چوڑا ہوگا اور اتنی آستین ہوگی مگر سی کرلایا تو اُس سے کم ہے جتنا بتایا اگرایک آد ھ ا ونگل کم ہے معاف ہے اور زیادہ کم ہے تو اُسے تاوان دینا پڑے گا۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۴۴: درزی سے کہا اس کپڑے میں میری قمیص ہوجائے تواسے قطع کرکے اتنے میں سی دو اُس نے کپڑا کاٹ دیا اب کہتا ہے کہ اس میں تمھاری قمیص نہیں ہوگی درزی کو تاوان دینا ہوگا۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۴۵: درزی سے پوچھا اس کپڑے میں میری قمیص ہو جائے گی اُس نے کہا ہاں اس نے کہا اسے قطع کردو قطع کرنے کے بعد درزی کہتا ہے قمیص نہیں ہوگی اِس صورت میں درزی پر تاوان نہیں کہ مالک کی اجازت سے اس نے کاٹا اور اُس کی اجازت میں شرط بھی نہیں ہے کہ قمیص ہوسکے تب قطع کرو۔ اور اگر صورت مذکور ہ میں درزی کے ہاں کہنے کے بعد مالک نے یوں کہا ہوتاکہ تو کاٹ دو یاتو اب قطع کردوتو بیشک درزی کے ذمہ تاوان ہے کہ اس لفظ (تو) کے زیادہ کرنے سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ قطع کرنے کی اجازت اِس شرط سے ہے کہ قمیص ہو جائے۔ (5)(بحر، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۶: رنگریز(6)کو سُرخ رنگنے کے لیے کپڑا دیا اُس نے زرد رنگ دیا مالک کو اختیار ہے اُس سے سفید کپڑے کی قیمت لے یا وہی کپڑا لے لے اور رنگ کی وجہ سے جوکچھ زیادتی ہوئی ہے وہ دیدے اور اس صورت میں رنگنے کی اُجرت نہیں ملے گی اور اگر وہی رنگ رنگا جس کو اس نے کہا تھا مگر خراب کردیا اگر زیادہ خرابی نہیں ہے تو ضمان واجب نہیں اور بہت زیادہ خراب
1 ۔شیروانی ،ایک قسم کا مردانہ لباس۔
2 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۷،ص۵۲۹.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۶۹.
4 ۔المرجع السابق،ص۷۰.
5 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۷،ص۵۲۹.
و''ردالمحتار''، کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،مطلب: فی الارض المحتکرۃ...إلخ،ج۹،ص۷۰.
6 ۔کپڑے رنگنے والا۔
کردیا ہے توسفید کپڑے کی قیمت تاوان دے۔ (1)(بحرالرائق)
مسئلہ ۴۷: مہر کن(2)کو انگوٹھی دی کہ اس پر میرا نام کھوددو(3)اُس نے دوسرانام کھوددیا مالک کو اختیار ہے انگوٹھی کاتاوان لے یا وہ اپنی انگوٹھی لے لے اور کھودائی کی اُجرت(4) مثل دیدے جو طے شدہ اُجرت سے زیادہ نہ ہو۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۸: بڑھئی(6)کودروازہ نقش کرنے کے لیے دیا جیسا نقش بتایاتھا ویسا نہیں کیا اگر تھوڑافرق ہے تو کچھ نہیں اور زیادہ فرق ہے تو مالک کو اختیار ہے اپنے دروازہ کی قیمت اُس سے لے یا وہ دروازہ لے کر اُجرت مثل دیدے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: سواری کے لیے کرایہ پر جانور لیا اُسے کھڑا کرکے نماز پڑھنے لگاوہ جانوربھاگ گیایا کوئی لے گیا اس نے جاتے یا لے جاتے دیکھا اور نماز نہیں توڑی ضمان دینا ہوگا۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: کرایہ کی سواری پر جارہاتھا راستہ میں خبر ملی کہ اِس راستہ پر چورڈاکوہیں باوجود اس کے یہ اُسی راستہ سے گیا چوروں نے وہ جانور چھین لیا اگر باوجود اُس خبر کے لوگ اُس راستہ سے جارہے تھے توضامن نہیں ورنہ ضامن ہے۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: جس جگہ کے لیے جانور کو کرایہ پر لیا تھا وہاں سے آگے لے گیا اور جانور ہلاک ہوگیاتاوان دینا ہوگا۔(10)(درمختار)
مسئلہ ۵۲: کسی شخص کو اپنی دکان پرکام کرنے کے لیے رکھایا کسی بازاری آدمی کو کوئی چیز بیچنے کے لیے دی یہ اُجرت مانگتے ہیں تو وہاں کا جوعرف(11)ہو اُس کے موافق کیا جائے۔ (12)(درمختار)
مسئلہ۵۳: اپنے لڑکے کو کاریگر کے پاس کا م سکھانے کے لیے بٹھا دیا اور شرط کرلی کہ ماہوار اتنا دیا کریگایہ جائز ہے اور اگر کچھ نہیں طے ہوا جب لڑکا کام سیکھ گیا تو اُستاد اپنی اُجرت مانگتا ہے اور لڑکے کاباپ یہ کہتا ہے تمھارے یہاں لڑکے نے اتنے دنوں کام کیا اس کی اُجرت دواس کے متعلق وہاں کاعرف دیکھاجائے گااگر عرف یہ ہے کہ اُستاد کو اُجرت دی جائے تو اُس کو
1 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۷،ص۵۲۹.
2 ۔انگوٹھی وغیرہ پرنام لکھنے والا۔ 3 ۔یعنی لکھو۔ 4 ۔لکھائی کی اُجرت۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب السابع والعشرون فی مسائل الضمان بالخلاف...إلخ،ج۴،ص۴۹۵.
6 ۔لکڑی کاکام کرنے والا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب السابع والعشرون فی مسائل الضمان بالخلاف...إلخ،ج۴،ص۴۹۵.
8 ۔المرجع السابق،ص۴۹۷. 9 ۔المرجع السابق.
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۷۰.
11 ۔رواج۔
12 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۷۰.
اُجرتِ مثل دی جائے اور اگر عرف یہ ہے کہ اُستاد اُن بچوں کودیا کرتے ہیں جو انکے یہاں کام سیکھتے ہیں تو اُستاد دے۔(1) (درمختار)
مسئلہ۵۴: کرایہ والا سامان لادکر پہنچانے لے جارہا تھا راستہ میں اسے لوگوں نے ڈرادیاکہ اِدھر جانے میں خطرہ ہے وہاں سے واپس لایااُسے مزدوری نہیں ملے گی بلکہ اس کو پہنچانے پر مجبور کیا جائے گا۔(2) (درمختار)
مسئلہ۵۵: باربرداری کے لیے(3)جانور کرایہ پر لیا تھا وہ جانور بیمار ہوگیا اس وجہ سے اُتنا بوجھ نہیں لادا جتنا لادنا قرار پایا تھا بلکہ اُس سے کم لادا اس کی وجہ سے اُجرت میں کمی نہیں ہوگی بلکہ جتنی ٹھہری تھی دینی ہوگی۔ (4)(درمختار)
مسئلہ۵۶: مکان کرایہ پر لیاتھا اُس میں سے کچھ حصہ گرگیا اگر اب بھی قابلِ سکونت (5)ہے اجارہ کو فسخ نہیں کرسکتا اور اگرقابل سکونت نہ رہا فسخ کرسکتا ہے مگر فسخ نہیں کیا تو کرایہ دینا ہوگا اور اجارہ فسخ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مالک مکان کے سامنے فسخ کرے اور اگر مکان بالکل گرگیا تو اُس کی عدم موجودگی میں بھی فسخ کرسکتا ہے مگر بغیر فسخ کیے اپنے آپ فسخ نہیں ہوگا۔(6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۵۷: مکان گرگیا تھا اور فسخ کرنے سے پہلے مالک مکان نے ویسا ہی بنادیا تو مستاجر (7)کو فسخ کرنے کااختیارباقی نہیں رہا اور اگر ویسا نہیں بنایا بلکہ کم درجہ کا بنایا تو اب بھی فسخ کرنے کااختیار باقی ہے۔(8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: جو چیز اُجرت پرلی اور معلوم ہے کہ کچھ دن سال میں ایسے بھی ہیں کہ چیز بیکار رہے گی مثلاًحمام کوکرایہ پرلیا جو گرمیوں میں چالو نہیں رہے گااس میں یہ شرط کردی کہ سال میں دو ماہ کا کرایہ نہیں ہوگا اس شرط سے اجارہ فاسد ہو جائے گا اور اگر یہ شرط کی کہ جتنے دنوں بیکار رہے گا اُس کاکرایہ نہیں دیا جائے گاتو اجارہ صحیح ہے اور شرط بھی صحیح۔(9) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۷۰.
2 ۔المرجع السابق،ص۷۱.
3 ۔بوجھ لادنے کے لئے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۷۱.
5 ۔رہائش کے قابل۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز...إلخ،مطلب: خوّفوہ من اللصوص...إلخ،ج۹،ص۷۲.
7 ۔کرایہ دار۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوزمن الإجارۃ...إلخ،مطلب:خوّفوہ من اللصوص...إلخ،ج۹،ص۷۲،۷۳.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز من الإجارۃ...إلخ،ج۹،ص۷۴.
مسئلہ ۱: دایہ یعنی دودھ پلانے والی کواُجرت پر رکھنا جائز ہے اور اس کے لیے وقت مقرر کرنا بھی ضروری ہوگا یعنی اتنے دنو ں کے لیے یہ اجارہ ہے اور دایہ سے کھانے کپڑے پر اجارہ کیا جاسکتا ہے یعنی اُس سے کہا کہ کھانا کپڑا لیا کر اور بچہ کو دودھ پلااور اس صورت میں متوسط درجہ کا کھانا دینا ہوگا اور کپڑے کی مقدار وجنس وصفت بیان کرنی ہوگی اور اُس کی مدت بھی بیان کرنی ہوگی کہ کب دیا جائے گا اس صورت میں اگرچہ جہالت ہے (1)مگریہ جہالت باعثِ نزاع (2) نہیں ہے کیونکہ بچہ پر شفقت والدین کو مجبور کرتی ہے کہ دایہ کے کھانے کپڑے میں کمی نہ کی جائے۔ (3)(ہدایہ)
مسئلہ ۲: کسی جانور کو دودھ پینے کے لیے اُجرت پرلیا یہ ناجائز ہے۔ یوہیں درخت کوپھل کھانے کے لیے اُجرت پرلیا یہ بھی ناجائز ہے اس صورت میں جتنا دودھ دوہا ہے یاجتنے پھل کھائے ہیں اُن کی قیمت دینی ہوگی۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳: اگر دایہ سے یہ شرط طے پاگئی ہے کہ بچہ کے والدین کے گھرمیں وہ دودھ پلائے تو یہیں اُس کوپلانا ہوگا اپنے گھر نہیں لے جاسکتی مگر جبکہ کوئی عذر ہو مثلاًوہ بیمار ہوگئی کہ یہاں نہیں آسکتی اور اگر یہاں پلانے کی شر ط نہیں ہے تو وہ بچہ کواپنے گھر لے جاسکتی ہے ان کویہ حق نہیں کہ یہاں رہنے پر اُسے مجبور کریں ہاں اگر وہاں کایہی عرف(5) ہے کہ دایہ بچہ کے باپ کے گھر آکر دودھ پلاتی ہے یا یہیں رہتی ہے تو بغیر شرط بھی دایہ کواس رواج کی پابندی کرنی ہوگی۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۴: دایہ کاکھانا بچہ کے باپ کے ذمہ نہیں ہے جبکہ اجارہ میں مشروط نہ ہواور مشروط ہو تو دینا ہوگا کپڑے کابھی یہی حکم ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: دایہ کا شوہر اُس سے وطی (8)کرسکتا ہے مستاجر (9)اُسے اِس اندیشہ سے منع نہیں کرسکتا کہ وطی سے حمل رہ
1 ۔یعنی اُجرت متعین نہیں ہے۔ 2 ۔جھگڑے کا سبب۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۲۳۹.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب مایجوز...إلخ،مطلب: فی حدیث دخولہ علیہ الصّلوۃ والسلام الحمام،ج۹،ص۸۹.
5 ۔رواج۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب العاشرفی إجارۃ الظئر،ج۴،ص۴۳۱.
7 ۔المرجع السابق،ص۴۳۲.
8 ۔ہمبستری۔ 9 ۔اُجرت پر رکھنے والا۔
جائے گا تو دودھ کیوں کرپلائے گی مگر مستاجر کے گھر میں نہیں کرسکتا بلکہ اُس کے مکان میں بغیر اجازت داخل بھی نہیں ہوسکتا۔(1)(درمختار)
مسئلہ ۶: دایہ کے شوہر کومطلقاً یہ حق حاصل ہے کہ اس اجارہ کو فسخ کردے خواہ اس اجارہ سے اُ سکے شوہر کی بدنامی ہو مثلاً وہ شخص ذی عزت ہے اور اُس کی عورت کا اجارہ پر دودھ پلانا باعثِ ذلت ہے یا اس اجارہ میں اُس کی بدنامی نہ ہو کیونکہ اس صورت میں بھی شوہر کے بعض حقوق تلف(2)ہوتے ہیں مگر یہ ضرور ہے کہ اُس شخص کا اس عورت کا شوہر ہونا معلوم ومشہور ہواور اگر محض دونوں کے اقرار سے ہی یہ معلوم ہوا کہ یہ میاں بی بی ہیں اُ ن کا نکاح ظاہر نہ ہوتو اس شوہر کو فسخِ اجارہ کا(3)اختیار نہیں۔(4)(درمختار)
مسئلہ ۷: دایہ بیمار ہوگئی کہ اُس کا دودھ بچہ کو مضر ہوگا یا وہ حاملہ ہوگئی کہ اس کابھی دودھ مضر ہے تو مستاجراجارہ کوفسخ کرسکتا ہے بلکہ یہ خود بھی اجارہ کو فسخ کرسکتی ہے کہ دودھ پلانا اسے بھی مضر ہے۔ یوہیں اگر بچہ کے گھر والے اسے ایذا دیتے ہوں یا اس کی عادت دوسرے کے بچہ کو دودھ پلانے کی نہیں ہے یالوگ اسے عار دلاتے ہوں تواجارہ کو فسخ کرسکتی ہے مگر جبکہ وہ بچہ نہ دوسری عورت کا دودھ پیتا ہونہ غذا کھاسکتا ہو تو اسے اجارہ فسخ کرنے کااختیار نہیں ہے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: دایہ اگر بدکار عورت ہے یا بدزبان ہے یا چوری کرتی ہے یا بچہ اس کا دودھ ڈال دیتا ہے یا اس کی چھاتی مونھ میں نہیں لیتا یا وہ لوگ سفر میں جانا چاہتے ہیں اور یہ اُن کے ساتھ جانے سے انکار کرتی ہے یا بہت دیر دیر تک غائب رہتی ہے ان سب وجوہ سے اجارہ کو فسخ کرسکتے ہیں۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: بچہ مرگیا یادایہ مرگئی اجارہ فسخ ہوگیا بچہ کے باپ کے مرنے سے اجارہ فسخ نہیں ہوگا۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: دایہ کے ذمہ یہ کام بھی ہیں۔ بچہ کا ہاتھ مونھ دھلانا، اُس کو نہلانا، کپڑے پر پیشاب پاخانہ لگا ہو تو اسے دھونا، بچہ کو تیل لگانا اور اُس کویہ بھی کرنا ہوگا کہ ایسی چیز نہ کھائے جس سے بچہ کو ضررپہنچے۔ (8)(درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۹۰.
2 ۔ضائع۔ 3 ۔یعنی اجارے کو ختم کرنے کا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۹۰.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،مطلب:فیحدیث دخولہ علیہ الصّلاۃ والسلام الحمام،ج۹،ص۹۰.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۹۱.
8 ۔المرجع السابق .
مسئلہ ۱۱: دایہ نے بکری کا دودھ بچہ کوپلادیا یا اُسے غذا کھلائی یعنی اپنا دودھ پلانے کی جگہ یہ کیا تو اُجرت کی مستحق نہیں ہوگی کہ اُس کا اصلی کام دودھ پلانا ہے۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۲: دایہ نے اپنی خادمہ سے دودھ پلوایا یاکسی دوسری عورت کو اِس بچہ کے دودھ پلانے کے لیے نوکر رکھا اس نے دودھ پلایا اِس صورت میں اُجرت کی مستحق ہوگی کہ دوسری عورت کا اس کے حکم سے دودھ پلانا گویا اسی کا پلانا ہے مگر جبکہ اس کو نوکر رکھتے وقت یہ شرط ہو کہ خو دتجھی کو دودھ پلانا ہوگا تو دوسری عورت کا نہیں پلواسکتی اور ایسا کرے گی تواُجرت کی مستحق نہیں ہوگی۔ (2)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۳: ایک جگہ بچہ کو دودھ پلانے کی نوکری کی اور ان لوگوں کی لاعلمی میں اُس نے دوسری جگہ بھی بچہ کودودھ پلانے کی نوکری کرلی اور دونوں بچوں کو تا اختتامِ مدت دودھ پلاتی رہی اُس کوایساکرنا ناجائز وگناہ ہے مگر دونوں جگہ سے اپنی پوری اُجرت جو مقرر ہوئی ہے لینے کی مستحق ہے یہ نہیں ہوگا کہ دونوں نصف نصف اُجرت دیں۔ ہاں اگر ناغے کیے ہیں تو ان دنوں کی اُجرت کم کی جاسکتی ہے۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: ایک شخص کے دوبچے ہیں دونوں کو دودھ پلانے کے لیے ایک دایہ کو نوکر رکھا ان میں سے ایک بچہ مرگیا تو دایہ اب سے نصف اُجرت کی مستحق ہوگی کہ جو بچہ مرگیا اُ سکے حق میں اجارہ بھی نہ رہا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: دایہ کے ذمہ یہ نہیں ہے کہ بچہ کے والدین کاکام کرے بطور تبرع واحسان کردے تو اُس کی خوشی اس عقد کی وجہ سے اُس پرلازم نہیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: دایہ کے عزیز واقارب اُس سے ملنے کو آئیں توصاحبِ خانہ اُ ن کویہاں ٹھہرنے سے منع کرسکتا ہے۔ یوہیں بغیر اجازتِ صاحب خانہ اُن لوگوں کو یہاں کا کھانا بھی نہیں کھلاسکتی اور یہ اپنے عزیزوں کے یہاں جاناچاہتی ہو تو جانے سے منع کرسکتے ہیں جبکہ اس کا جانا بچہ کے لیے مضر ہو۔ (6)(عالمگیری)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۲۴۰.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۹۲.
و''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۸،ص۴۱.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،مطلب:فیحدیث دخولہ علیہ الصّلاۃ والسلامالحمامَ،ج۹،ص۹۲.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب العاشر فی إجارۃ الظئر،ج۴،ص۴۳۳.
5 ۔المرجع السابق،ص۴۳۲. 6 ۔المرجع السابق،ص۴۳۳.
مسئلہ ۱۷: حاجت کے وقت دایہ یہاں سے وقتاًفوقتاًجاسکتی ہے مگر دیر دیر تک باہرنہیں رہ سکتی اس سے اُس کو روک دیا جائے گاکہ یہ بچہ کے لیے مضر ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: بچہ کی ماں کو دودھ پلانے کے لیے اُجرت پر مقرر کیااس کی دوصوتیں ہیں اگر وہ نکاح میں ہے تو یہ اجارہ ناجائز ہے اور طلاق دینے کے بعد یہ اجارہ ہوا اور طلاق بھی رجعی ہے تو یہ اجارہ بھی ناجائز ہے اور طلاق بائن کے بعد اجارہ ہواتوجائز ہے اور اگروہ بچہ اس شخص کادوسری عورت سے ہے تواپنی اُس عورت سے جو اس بچہ کی ماں نہیں ہے اُجرت پر دودھ پلواسکتاہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: بچہ کی ماں کو دودھ پلانے کے لیے اُجرت پر رکھا اُس نے کسی سے نکاح کرلیا تواس کی وجہ سے اجارہ فسخ نہیں ہوگا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: اپنے محارم میں سے کسی عورت کو دودھ پلانے کے لیے اجیر رکھناجائز ہے مثلاً اپنی ماں یا بہن یالڑکی کواپنے بچہ کے دودھ پلانے کے لیے مقرر کیا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: کہیں سے پڑا ہوابچہ اُٹھالایا اور اس کے لیے دایہ مقرر کی تو دایہ کی اُجرت خود اسی پرواجب ہوگی اور یہ شخص مُتَبَرِّع(5)ہے کہ اس کو رجوع نہیں کرسکتا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: یتیم بچہ کے لیے مال ہو تو رضاع کے مصارف(7)اُس کے اپنے مال سے دیے جائیں اور مال نہ ہوتو جس کے ذمہ اُس کانفقہ(8)ہو اُسی کے ذمہ یہ بھی ہیں اور اگر کوئی ایسا شخص بھی نہ ہوجس پراس کانفقہ واجب ہوتو بیت المال سے دیے جائیں۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: دایہ کو سوروپے پرایک سال دودھ پلانے کے لیے مقررکیا اور یہ شرط کرلی کہ بچہ اثنا ء سال میں(10)مرجائے گا جب بھی اُس کو سوہی دیے جائیں گے اس شرط کی وجہ سے اجارہ فاسد ہوگیالہٰذا اگربچہ مرگیا تو جتنے دنوں اُس نے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب العاشرفی إجارۃ الظئر،ج۴،ص۴۳۳.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۳۴. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔یعنی احسان کرنے والا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب العاشرفی إجارۃ الظئر،ج۴،ص۴۳۴.
7 ۔دودھ پلانے کے اخراجات۔ 8 ۔کھانے پینے،کپڑے،رہائش وغیرہ کے اخراجات۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب العاشرفی إجارۃ الظئر،ج۴،ص۴۳۴.
10 ۔دورانِ سال ۔
دودھ پلایا ہے اُس کی اُجرتِ مثل ملے گی اور اگر سال بھرکے لیے اس شرط کے ساتھ مقررکیا کہ صرف پہلے مہینہ کے مقابل میں یہ سوروپے ہیں اور اس کے بعد سے سال کی بقیہ مدت میں مفت پلائے گی یہ اجارہ بھی فاسد ہے اگر دو ڈھائی مہینہ دودھ پلانے کے بعد بچہ مرگیا تو اُجرتِ مثل دی جائے گی جو اس مقرر شدہ سے زائدنہ ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مسلمان نے بچہ کے دودھ پلانے کے لیے کسی کافرہ کو مقرر کیایا ایسی عورت کو مقررکیا جو صحیح النسب نہ ہویہ جائز ہے یعنی اجارہ صحیح ہے۔(2)(عالمگیری)مگر تجربہ سے یہ امر ثابت کہ دودھ کااثر بچہ میں ضرور پیدا ہوتا ہے اور شرع مطہر نے بھی اس سے انکار نہیں کیا ہے بلکہ دودھ کی وجہ سے رشتہ قائم ہوجانا قرآن سے ثابت اور حدیث نے بھی بتایا کہ رضاعت سے ویساہی رشتہ پیدا ہوجاتا ہے جس طرح نسب سے ہوتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دودھ کے بھی اثرات ہوتے ہیں لہٰذا د ودھ پلانے کے لیے جو عورت اختیار کی جائے اُس کے صلاح وتقویٰ کالحاظ کیا جائے تاکہ بچہ میں بدعورت کے بُرے اثرات نہ پیداہوں۔ دوسراامر یہ بھی قابل لحاظ ہے کہ دایہ کی صحبت میں بچہ رہتا ہے اور بچہ کی تربیت دایہ کے ذمہ ہوتی ہے اور تربیت وصحبت کے بداثرات کا انکار بدیہی(3)بات کاانکار ہے اور بچپن میں جوخرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں اُن کازائل ہونا نہایت دشوار ہوتا ہے لہٰذا ان کونظر انداز کرنا مصالح کے خلاف(4) ہے اگرچہ اجارہ صحیح ہوجائے گا۔
مسئلہ ۲۵: بچہ کودودھ پلانے کے لیے بکری کواجارہ پرلیا یابکری کابچہ ہے اس کو دودھ پلانے کے لیے بکری کو اجارہ پرلیا یہ ناجائز ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: عقد فاسدوہ ہے جواپنی اصل کے لحاظ سے موافق شرع (6)ہے مگر اُس میں کوئی وصف ایسا ہے جس کی وجہ سے نامشروع(7)ہے اور اگر اصل ہی کے اعتبار سے خلاف شرع ہے تووہ باطل ہے مثلاً مُردار یا خون کو اُجرت قرار دیا یا خوشبو کو سونگھنے کے لیے اُجرت پر لیا یا بُت بنانے کے لیے کسی کو اجیر رکھا کہ ان سب صورتوں میں اجارہ باطل ہے۔ اجارہ فاسدہ کی مثال یہ ہے کہ اجارہ میں کوئی ایسی شرط ذکر کی جس کو عقد اجارہ مقتضی نہ ہوا سی کی صورتیں یہاں ذکر کی جائیں گی۔ (8)(درمختار،ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب العاشرفی إجارۃ الظئر،ج۴،ص۴۳۴.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔روشن و واضح۔ 4 ۔مصلحتوں کے خلاف۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب العاشرفی إجارۃ الظئر،ج۴،ص۴۳۴.
6 ۔شریعت کے مطابق۔ 7 ۔ناجائز۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۷۵.
مسئلہ ۲: اجارہ باطل میں اگر چیز کو استعمال کیا اور وہ کام کردیا جس کے لیے اجارہ ہوا جب بھی اُجرت واجب نہ ہوگی اگرچہ وہ چیز اسی لیے ہے کہ کرایہ پر دی جائے مگر مالِ وقف اور مالِ یتیم کو اگر اجارہ باطلہ کے طور پردیا اور مستاجر نے منفعت حاصل کرلی تو اُجرتِ مثل واجب ہوگی۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: اجارہ فاسدہ کا حکم یہ ہے کہ اس استعمال کرنے پر اُجرت مثل لازم ہوگی اور اس میں تین صورتیں ہیں اگر اُجرت مقرر ہی نہیں ہوئی یا جو مقرر ہوئی معلوم نہیں ان دونوں صورتوں میں جو کچھ اُجرت مثل ہو دینی ہوگی اور اگر اُجرت مقرر ہوئی اور وہ معلوم بھی ہے تو اُجرت مثل اُسی وقت دی جائے گی جب وہ مقرر سے زیادہ نہ ہوا ور اگر مقرر سے اُجرت مثل زائد ہے تو جو مقرر ہے وہی دی جائے گی اُس سے زیادہ نہیں دی جائے گی۔ (2)(بحروغیرہ)
مسئلہ ۴: اجارہ فاسدہ میں محض قبضہ کرنے سے منافع کامالک نہیں ہوگا اور بیع فاسد میں قبضہ کرنے سے مبیع (3)کا مالک ہوجاتا ہے مشتری (4)کے تصرفات قبضہ کے بعد نا فذ ہوجاتے ہیں مستاجر(5)قبضہ کرکے اُسے اجارہ پر دیدے یہ نہیں کرسکتا اور اگر اس نے اجارہ پردے ہی دیا تو اُجرت مثل لازم ہوگی یعنی مستاجر اول مالک کو اُجرت مثل دے گا یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ غاصب ہے اور انتفاع کے مقابل میں اس سے اُجرت نہ لی جائے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۵: جو شرطیں مقتضاے عقد کے خلاف ہیں اُن سے عقد ِاجارہ فاسد ہو جاتا ہے لہٰذا جو شرطیں بیع کو فاسد کرتی ہیں اجارہ کو بھی فاسد کرتی ہیں کیونکہ اجارہ بھی ایک قسم کی بیع ہے فرق یہ ہے کہ بیع میں چیز بیچی جاتی ہے اور اجارہ میں چیز کی منفعت بیچی جاتی ہے۔(7) (بحر)
مسئلہ ۶: جہالت سے اجارہ فاسد ہوجاتا ہے اس کی چند صورتیں ہیں جو چیز اُجرت پر دی جائے وہ مجہول ہویامنفعت کی مقدار مجہول ہو یعنی مدت بیان میں نہیں آئی مثلاًمکان کتنے دنوں کے لیے کرایہ پر دیا یا اُجرت مجہول ہو یعنی یہ نہیں بیان کیا کہ کرایہ کیا ہوگا یاکام مجہول ہو یہ نہیں بیان کیا کہ کیا کام لیا جائے گا مثلاًجانور میں یہ نہیں بیان کیا کہ باربرداری کے لیے ہے یاسواری کے لیے۔(8) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۷۶.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۷،ص۵۲۹۔۵۳۱،وغیرہ.
3 ۔بیچی گئی چیز۔ 4 ۔خریدار۔ 5 ۔کرایہ پر لینے والا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۷۶.
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ ،ج۷،ص۵۳۰.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ،الباب الخامس عشر فی بیان مایجوز،ج۴،ص۴۳۹.
مسئلہ ۷: جانور کرایہ پر لیا اور یہ شرط ہے کہ اس کو دانہ گھاس مستاجردے گایہ اجارہ فاسد ہے کہ جانور کا چارہ مالک کے ذمہ ہے اور مستاجر کے ذمہ کرنا مقتضائے عقد کے خلاف ہے۔ یوہیں مکان کرایہ پر دیا اور شرط یہ ہے کہ اس کی مرمت مستاجر کے ذمہ ہے یا مکان کا ٹیکس مستاجر کے ذمہ ہے یہ اجارہ بھی فاسد ہے کہ ان چیزوں کا تعلق مالک سے ہے مستاجر کے ذمہ شرط کرنا مقتضائے عقد کے خلاف ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۸: جوچیز اجارہ پردی ہے وہ شائع ہے اس سے بھی اجارہ فاسد ہوجاتاہے مثلاًاس مکان کانصف حصہ کرایہ پر دیا کہ نصف مکان جزوشائع ہے یاایک مکان مشترک ہے اس نے اپنا حصہ غیر شریک کو کرایہ پر دیایامکان میں تین شخص شریک ہیں اس نے اپناحصہ ایک شریک کو کرایہ پر دیاسب صورتیں ناجائز ہیں اور اجارہ فاسد ہے۔(2)(درمختار)
مسئلہ ۹: اگر اجارہ کے وقت شیوع نہ تھا بعد میں آگیا تو اس سے اجارہ فاسد نہیں ہوگا مثلاًپورا مکان اجارہ پر دیا تھا پھر اُس کے ایک جزو شائع میں فسخ کردیا اِس شیوع سے اجارہ فاسد نہیں ہوا۔(3) (درمختار)
مسئلہ۱۰: جو چیز اُجرت میں ذکر کی گئی وہ مجہول ہے مثلاً اس کام کی اُجرت ایک کپڑا ہے یا اس میں بعض مجہول ہے مثلاً اتنا کرایہ اور مکان کی مرمت تمھارے ذمہ کہ اس صورت میں مرمت بھی کرایہ میں داخل ہے اور چونکہ معلوم نہیں مرمت میں کیا صرف ہوگا لہٰذا پورا کرایہ مجہول ہوگیا۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: اجارہ کی میعاد اگر یکم تاریخ سے شروع ہوتی ہو تومہینہ میں چاند کا اعتبار ہوگا یعنی دوسراچاند ہو گیا مہینہ پورا ہوگیا اور اگر درمیان ماہ سے مدت شروع ہوتی ہے تو تیس دن کا مہینہ لیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کئی ماہ کے لیے مکان یا کوئی چیز کرایہ پر لی تو پہلی صورت میں چاند سے چاند تک اور دوسری صورت میں ہر مہینہ تیس تیس دن کالیا جائے گا بلکہ ایک سال کے لیے یا کئی سال کے لیے کرایہ پر لیا تو پہلی صورت میں ہلال(چاند)کے بارہ ماہ اور دوسری صورت میں تین سو ساٹھ دن کا سال شمار ہوگا۔(5) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۷۸.
2 ۔ المرجع السابق،ص۷۹. 3 ۔المرجع السابق،ص۷۹.
4 ۔المرجع السابق،ص۸۰.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثالث فی الأوقات...إلخ،ج۴،ص۴۱۵،۴۱۶.
مسئلہ۱۲: یوں اجارہ پرلیا کہ ہرماہ ایک روپیہ کرایہ اور یہ نہیں ٹھہرا کہ کتنے مہینوں کے ليے کرایہ پر لینا دینا ہوا تو صرف پہلے مہینہ کا اجارہ صحیح ہے اور باقی مہینوں کا فاسد پہلا مہینہ ختم ہوتے ہی پہلی ہی تاریخ میں ہرایک اجارہ کو فسخ کرسکتا ہے اور پہلی تاریخ میں فسخ نہیں کیا تو اب اس مہینہ میں خالی نہیں کراسکتا اور اگرمہینوں کی تعدا د ذکر کردی ہے مثلاً چھ ماہ کے ليے اجارہ ہوا تو اجارہ صحیح ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ۱۳: ایک سال کے ليے مکان کرایہ پرلیا اور یہ ٹھہرا کہ ہرماہ کاایک روپیہ کرایہ ہے یہ جائز ہے اورا گر مہینہ کا کرایہ نہیں بیان کیا صرف یہ ٹھہراکہ ایک سال کا کرایہ دس روپے یہ بھی جائز ہے دونوں صورتوں میں اندرون سال بلا عذر کوئی بھی اجارہ کو فسخ نہیں کرسکتا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ۱۴: ایک دن کے ليے مزدور رکھا تو کس وقت سے کس وقت تک کام کریگا اس کے متعلق وہاں کا عرف (3) دیکھاجائے گا اگر عرف یہ ہے کہ طلوع آفتاب سے غروب تک کام کرے تو اس کوبھی کرنا ہوگا اور اگر عرف یہ ہے کہ طلوع آفتاب سے عصر تک کام کرے تویہ لیا جائے گااور اگر دونوں قسم کا رواج ہے تو غروب تک کام کرنا ہوگا کیونکہ اجارہ میں دن کہا ہے اور دن غروب پر ختم ہوتا ہے۔ (4)(عالمگیری)ہندوستان میں اس کے متعلق مختلف قسم کے عرف ہیں معماروں(5)کے متعلق یہ عرف ہے کہ اُنھیں بارہ بجے سے دوبجے تک دوگھنٹے کی کھانے کے ليے اور کچھ تھوڑی دیر آرام کرنے کے ليے چھٹی دی جاتی ہے اور اسی وقت میں جو اُن میں نمازی ہوتے ہیں نماز بھی پڑھ لیتے ہیں اور شام کو غروب آفتاب پر یااس سے کچھ قبل کام ختم کیا جاتا ہے اور صبح کو گھنٹا پون گھنٹا دن نکلنے کے بعد کام شروع ہوتا ہے بالجملہ مزدوروں کے کام کے اوقات وہی ہوں گے جووہاں کا عرف ہے۔
مسئلہ۱۵: دو دن چاردن دس دن کے ليے کسی کو کام پر رکھا تو وہی ایام مراد ليے جائیں گے جو عقد اجارہ سے متصل ہیں اور اگر دنوں کو معین نہیں کیاہے کہہ دیا کہ مثلاً دو دن کا میرے یہاں کام ہے تم کسی دودن میں کردینا تو اجارہ صحیح نہیں کہ اس اجارہ میں وقت کا مقررکرنا ضروری ہے۔ (6)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ،الباب الثالث فی الأوقات...إلخ،ج۴،ص۴۱۶.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔رواج۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ،الباب الثالث فی الأوقات...إلخ،ج۴،ص۴۱۶.
5 ۔تعمیراتی کام کرنے والوں۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ،الباب الثالث فی الأوقات...إلخ،ج۴،ص۴۱۶.
مسئلہ۱۶: حمام کی اُجرت جائز ہے اگرچہ یہاں یہ متعین نہیں ہوتا کہ کتنا پانی صرف کریگا اور کتنی دیر تک حمام میں ٹھہرے گا۔ ہاں اگر حمام میں دوسروں کے سامنے اپنے ستر کو کھولے جیساکہ عموماًحمام میں ایسا ہوتا ہے یا خود اپنا ستر نہیں کھولا تو دوسرو ں کے ستر پر نظر پڑتی ہے اس وجہ سے حمام میں جانا منع ہے خصوصاًعورتوں کواس میں جانے سے بہت زیادہ احتیاط چاہيے اور اگر نہ اپنا سترکھولے نہ دوسرے کے ستر کی طرف نظر کرے تو حمام میں جانے کی ممانعت نہیں۔ (1)(ہدایہ،درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ۱۷: حجامت یعنی پچھنے لگوانا جائز ہے اور پچھنے کی اُجرت دینا لینا بھی جائز ہے پچھنے لگانے والے کے ليے وہ اُجرت حلال ہے اگرچہ اُس کو خون نکالنا پڑتا ہے اور کبھی خون سے آلودہ بھی ہوجاتا ہے مگر چونکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے خود پچھنے لگوائے اور لگانے والے کو اُجرت بھی دی معلوم ہواکہ اس اُجرت میں خباثت (2)نہیں۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۸: نر جانور کو جفتی کرنے کے ليے اُجرت پر دینا ناجائز ہے اور اُجرت بھی لینا ناجائز۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۹: گناہ کے کام پر اجارہ ناجائز ہے مثلاً نوحہ کرنے والی(5)کو اُجرت پر رکھا کہ وہ نوحہ کرے گی جس کی یہ مزدوری دی جائے گی۔ گانے بجانے کے ليے اجیرکیا(6)کہ وہ اتنی دیر تک گائے گا اور اُس کویہ اُجرت دی جائے گی۔ ملاہی یعنی لہو و لعب پراجارہ بھی ناجائز ہے۔ گانا یا باجا سکھانے کے ليے نوکر رکھتے ہیں یہ بھی ناجائز ہے۔ (7)(درمختار، عالمگیری) ان صورتوں میں اُجرت لینا بھی حرام ہے اور لے لی ہوتو واپس کرے اور معلوم نہ رہا کہ کس سے اُجرت لی تھی تو اُسے صدقہ کردے کہ خبیث مال کا یہی حکم ہے۔ (8)(بحر)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۲۳۸،.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،مطلب:فی حدیث دخولہٖ...إلخ ،ج۹،ص۸۷.
2 ۔خرابی۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات، باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۲۳۸.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔میت کے اوصاف مبالغہ کے ساتھ بیان کرکے آواز کے ساتھ رونے والی عورت ۔ 6 ۔یعنی کرائے پر لایا۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۹۲.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ،الباب السادس فی مسائل الشیوع...إلخ،ج۴،ص۴۴۹.
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۸،ص۳۵.
مسئلہ ۲۰: طبلِ غازی(1)کہ اس سے لہو مقصود نہیں ہوتا جائز ہے اور اس کا اجارہ بھی جائز اسی طرح شادیوں میں دف بجانے کی اجازت ہے جس میں جھانج نہ ہوں اس کا اجارہ بھی ناجائز نہیں۔ (2)(ردالمحتار)اس زمانہ میں ملاہی کے اجارات بکثرت پائے جاتے ہیں جیسے سنیما ،بائیسکوپ تھیٹر میں ملازمین گانے اور تماشے کرنے کے ليے نوکررکھے جاتے ہیں یہ اجارے ناجائز ہیں بلکہ تماشا دیکھنے والے اپنے تماشا دیکھنے کی اُجرت دیتے ہیں یعنی اُجرت دے کر تماشا کراتے ہیں یہ بھی ناجائز یعنی تماشا دیکھنا یا تماشاکرنا تو گناہ کاکام ہے ہی پیسے دے کرتماشے کرانا یہ ایک دوسر اگناہ ہے اور حرام کام میں پیسہ صرف کرنا ہے۔
مسئلہ۲۱: مسلمان نے کسی کافر کورہنے کے ليے مکان کرایہ پر دیا یہ اجارہ جائز ہے کوئی حرج نہیں۔ اب اُس گھر میں کافر نے شراب پی یاصلیب کی پرستش کی یہ اُس کافر کا ذاتی فعل ہے اس سے اُس مسلمان پر گناہ نہیں ہاں اگر اُس مکان میں کافر نے گھنٹہ(3)اور ناقوس(4)بجایا یا سنکھ(5)پھونکا یا علانیہ شراب بیچنا شروع کیا توضرور ان امور سے روکا جائے گا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ۲۲: کسبی عورتوں کو(7)بازاروں میں بالا خانے کرایہ پر دینا کہ وہ اُن میں ناچ مجرا کریں یا زنا کرائیں، یہ ناجائز ہے۔
مسئلہ۲۳: طاعت وعبادت کے کاموں پراجارہ کرنا جائز نہیں مثلاً اذان کہنے کے ليے امامت کے ليے قرآن وفقہ کی تعلیم کے ليے حج کے ليے یعنی اس ليے اجیر کیاکہ کسی کی طرف سے حج کرے۔ متقد مین فقہاکایہی مسلک تھا مگر متأخرین نے دیکھا کہ دِین کے کاموں میں سستی پیداہوگئی ہے اگر اِس اجارہ کی سب صورتوں کوناجائز کہا جائے تو دِین کے بہت سے کاموں
1 ۔یعنی جنگ کے موقعے پر جو نقارہ بجایا جاتاہے۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الاجارۃ،باب الإجارۃالفاسدۃ،مطلب فی الإستئجارعلی المعاصی،ج۹،ص۹۲.
3 ۔کسی دھات کاتوا وغیرہ جسے موگری سے بجاتے ہیں۔
4 ۔وہ سنکھ جو ہندو یا دوسرے غیر مسلم پوجا کے وقت بجاتے ہیں۔
5 ۔ایک قسم کا بڑا ناقوس جو مندروں میں بجایا جاتاہے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ، الباب السادس عشر فی مسائل الشیوع...إلخ،ج۴،ص۴۵۰.
7 ۔یعنی طوائفوں کو۔
میں خلل واقع ہوگا (1)اُنھوں نے اس کلیہ سے بعض امور کا استثنا فرمادیا اور یہ فتویٰ دیاکہ تعلیم قرآن وفقہ اور اذان وامامت پر اجارہ جائز ہے کیونکہ ایسا نہ کیاجائے تو قرآن و فقہ کے پڑھانے والے طلبِ معیشت میں(2)مشغول ہو کراس کام کوچھوڑ دیں گے اور لوگ دِین کی باتوں سے ناواقف ہوتے جائیں گے۔ اسی طرح اگرمؤذن وامام کو نوکر نہ رکھا جائے تو بہت سی مساجد میں اذان وجماعت کاسلسلہ بند ہوجائے گااور اس شعار اسلامی میں زبردست کمی واقع ہو جائے گی۔ اسی طرح بعض علمانے وعظ پراجارہ کو بھی جائز کہا ہے اس زمانہ میں اکثر مقامات ایسے ہیں جہاں اہل علم نہیں ہیں ادھر اُدھر سے کبھی کوئی عالم پہنچ جاتا ہے جووعظ وتقریر کے ذریعہ اُنھیں دِین کی تعلیم دے دیتا ہے اگر اس اجارہ کو ناجائز کردیا جائے تو عوام کو جو اس ذریعہ سے کچھ علم کی باتیں معلوم ہو جاتی ہیں اس کا انسداد ہوجائے گا(3)۔ یہاں یہ بتادینا بھی ضرور ی معلوم ہوتا ہے کہ جب اصل مذہب یہی ہے کہ یہ اجارہ ناجائز ہے ایک دینی ضرورت کی بناپر اس کے جواز کا فتویٰ دیاجاتا ہے توجس بندہ خدا سے ہوسکے کہ ان امور کومحض خالصاً لوجہ اللہ(4)انجام دے اور اجراُخْرَوی(5)کا مستحق بنے تو اس سے بہتر کیابات ہے پھراگرلوگ اس کی خدمت کریں بلکہ یہ تصوّر کرتے ہوئے کہ دِین کی خدمت یہ کرتے ہیں ہم ان کی خدمت کرکے ثواب حاصل کریں تو دینے والا مستحق ثواب ہوگا اور اُس کولینا جائز ہوگا کہ یہ اُجرت نہیں ہے بلکہ اعانت وامداد ہے۔
مسئلہ۲۴: فقہائے کرام نے اُس کلیہ سے جن چیزوں کا استثنا فرمایا وہ مذکور ہوئیں اس سے معلوم ہوا کہ تلاوت قرآن پراجارہ جس طرح قد ما کے نزدیک ناجائز ہے متأخرین کے نزدیک بھی نا جائزہے لہٰذا سوم(6)وغیرہ کے موقع پر اُجرت پر قرآن پڑھواناناجائز ہے دینے والا لینے والا دونوں گنہگار،اسی طرح اکثر لوگ چالیس روز تک قبر کے پاس یامکان پر قرآن پڑھوا کرایصال ثواب کراتے ہیں اگر اُجرت پرہو یہ بھی ناجائز ہے بلکہ اس صورت میں ایصال ثواب بے معنی بات ہے کہ جب پڑھنے والے نے پیسوں کی خاطر پڑھاتو ثواب ہی کہاں جس کا ایصال کیا جائے اس کا ثواب یعنی بدلہ پیسہ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اعمال جتنے ہیں نیت کے ساتھ ہیں جب اللہ(عزوجل)کے ليے عمل نہ ہو تو ثواب کی اُمید بیکار ہے۔ (7)(ردالمحتار)مقصد یہ ہے کہ اِیصال ثواب جائز بلکہ مستحسن ہے مگر اُجرت پر تلاوت قرآن مجید یا کلمہ طیبہ پڑھواکر ایصال ثواب نہیں ہوسکتا بلکہ پڑھنے والے اللہ تعالٰی کے ليے پڑھیں اور ایصال ثواب کریں یہ جائز ہے۔
1 ۔حرج واقع ہوگا۔ 2 ۔روزی کی تلاش میں۔
3 ۔ یعنی یہ سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا۔ 4 ۔خالص اللہ عزوجل کی رضا کے لئے۔ 5 ۔آخرت کے اجر۔
6 ۔میت کی روح کو ایصال ثواب کے لیے تیسرے روز قرآن خوانی کی محفل۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،مطلب: تحریر مھم فی عدم جواز الإستئجار...إلخ،ج۹،ص۹۶.
مسئلہ۲۵: ختم پڑھنے کے ليے اجارہ کرنا نا جائز مثلاً کوئی آیہ کریمہ کا ختم کراتا کوئی ختم خواجگان پڑھواتا ہے کوئی کلمہ طیبہ کا ختم کراتا ہے یہ سب کام اُجرت پرناجائز ہیں۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ۲۶: کسی کو سانپ یا بچھو نے کاٹا ہو اُس کے جھاڑنے کی اُجرت لینا جائز ہے اگرچہ قرآن مجید ہی کی آیت یا سورت پڑھ کر جھاڑنا ہوکہ یہ تلاوت نہیں بلکہ علاج کے قبیل سے ہے حدیث میں ایک صحابی کا سورہ فاتحہ پڑھ کردم کرنا اور اُس کا اچھا ہوجانا اور اُن کا پہلے ہی سے اُجرت مقرر کرلینا اور اُس کے اچھے ہونے کے بعد لینا پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پا س معاملہ کو پیش کرنا اور حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم)کا انکار نہ فرمانا بلکہ جائز رکھنا، اس کے جواز کی صریح دلیل ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ۲۷: بہت سے لوگ تعویذ کامعاوضہ لیتے ہیں یہ جائز ہے اس کو اجارہ کی حدمیں داخل نہیں کیا جاسکتا بلکہ بیع میں شمار کرناچاہيے یعنی اُتنے پیسوں یا روپے میں اپنے تعویذ کو بیع کرتا ہے مگر یہ ضرور ہے کہ تعویذ ایسا ہو کہ اُس میں شرعی قباحت نہ ہو جیسے ادعیہ(3)اور آیات یا ان کے اعداد یاکسی اسم کانقش مظہر (4)یا مضمر(5)لکھا جائے اور اگر اُس تعویذ میں نا جائز الفاظ لکھے ہوں یاشرک وکفر کے الفاظ پر مشتمل ہو تو ایسا تعویذ لکھنا بھی نا جائز ہے اور اس کا لینا اور باندھنا سب نا جائز۔ صاحب درمختارنے ردِّسحر(6)کے تعویذلکھنے پر اجارہ کو جائز فرمایا جبکہ مقدارِ کاغذومقدارِ تحریر معلوم ہو کہ اتنا کاغذ ہوگا اور اُس میں اتنی سطریں لکھی جائیں گی مگر ظاہر یہ ہے کہ یہ اُس صورت میں ہوگاکہ جب اُس لکھوانے والے نے یہ کہا کہ فلاں چیز مجھے لکھ کر دے دو اور یہ طریقہ تعویذ دینے والوں کا نہيں ہے بلکہ ناقلین (7)کا ہوسکتا ہے کیوں کہ کاغذ کی مقدار اورتحریر کے لحاظ سے اگر اُجرت ہوتی تو تعویذ کے چھوٹے بڑے ہونے کے اعتبار سے اُجرت میں اختلاف ہوتا حالانکہ یہ نہیں بلکہ امراض اور تعویذ کے زودِ اثر (8) ہونے کے اعتبار سے اس کی قیمتوں میں اختلاف ہوتا ہے اسی وجہ سے پانچ پیسے اور پانچ روپے کے تعویذ میں تحریر و کاغذ کی مقدار میں فرق نہیں ہوتا اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہاں اجارہ نہیں ہے البتہ بیع کی صورت میں ایک خرابی یہ نظر آتی ہے کہ عموماً اُس وقت تعویذ موجود نہیں ہوتا بعد میں لکھا جاتا ہے اور معدوم(9)کی بیع درست نہیں اس کا جواب یہ ہے کہ جب اُس نے تعویذ کی فرمائش کی اُس وقت بیع نہیں بلکہ لکھ لینے کے بعدبطور تعاطی(10)بیع ہوگی اور یہ جائز ہے۔
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،مطلب: تحریر مھم فی عدم جواز الإستئجار...إلخ،ج۹،ص۹۵.
2 ۔المرجع السابق،ص۹۶.
و''صحیح البخاري''،کتاب الإجارۃ، باب ما یُعطَی في الرُّقْیۃ ...إلخ، الحدیث: ۲۲۷۶،ج۲، ص۶۹.
وکتاب فضائل القرآن، باب فاتحۃ الکتاب، الحدیث: ۵۰۰۷،ج۳، ص۴۰۴،۴۰۵.
3 ۔دُعائیں۔ 4 ۔یعنی لفظوں میں ۔ 5 ۔یعنی اعدادمیں ۔ 6 ۔جادو کا توڑ۔
7 ۔نقل کرنے والے۔ 8 ۔فوراًاثر کرنے والا۔ 9 ۔یعنی جو موجود نہ ہو۔ 10 ۔بغیر بولے صرف لینے دینے سے ۔
مسئلہ ۲۸: تعلیم پر جب اُجرت لینا جائز ہے تو جو اُجرت مقرر ہوئی مستاجر کو دینی ہوگی اور اُس سے جبراً(1) وصول کی جائیگی اور اگراجارہ فاسد ہومثلاً مدت نہیں مقرر کی تو اُجرتِ مثل واجب ہوگی اسی طرح بعض سورتوں کے ختم یا شروع پر جو مٹھائی دی جاتی ہے جس کا وہاں عرف(2)ہے وہ بھی دینی ہوگی۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۹: لغت و نحو وصرف و ادب وغیرہا علوم جن کا تعلق زبان سے ہے ان کی تعلیم پر اُجرت لینا بالا جماع جائز ہے اسی طرح قواعد بغدادی پڑھانے یا ہجا کرانے کی اُجرت بھی جائز ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: علم طب اور ریاضی وحساب اور کتابت یا خوشنویسی سکھانے پر نوکر رکھنا جائز ہے منطق کی تعلیم بھی جائز ہے کہ فی نفسہ منطق میں دِین کے خلاف کوئی چیز نہیں اسی وجہ سے متاخرین متکلمین نے منطق کو علمِ کلام کاایک جز قرار دے دیا اور اُصول فقہ میں بھی منطق کے مسائل کو بطور مبادی (5)ذکر کرتے ہیں۔ البتہ فلسفہ دِین اسلام کے بالکل مخالف ہے مگر اُس کو اس ليے پڑھنا تاکہ فلاسفہ (6)کے خیالات معلوم ہوں اور اُن کے استدلالات (7)کا رد کیا جائے جائز ہے اسی طرح دیگر کفار کے اصول و فروع (8)کو جاننا تاکہ اُن کے مذاہب باطلہ کا ابطال کیاجائے(9) جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہے مثلاً جب یہ لوگ اسلام پر حملہ کریں تو بہت سے مواقع پر الزامی جو اب (10) کی ضرورت پڑتی ہے اور جب تک اُن کامذہب معلوم نہ ہو یہ کیونکر ہوسکتا ہے تحقیقی جواب اگرچہ کتنا ہی قوی ہوتا ہے باطل پرست اس کو سُن کرخاموش نہیں ہوتے الزامی جواب کے بعد زبان بند ہوجاتی ہے جس طرح حقائق اشیاء کے منکرین کے متعلق علما نے فرمایا انھيں آگ میں ڈال دیا جائے کہ اپنے جلنے اور آگ کے وجود کا اقرار کریں گے یا جل کر ختم ہو جائیں گے۔
مسئلہ۳۱: بچوں کے پڑھانے کے ليے معلم کو نوکر رکھا اور یہ نہیں بیان کیا کہ کتنے بچے پڑھیں گے یہ جائز ہے۔ (11)(عالمگیری)
1 ۔زبردستی۔ 2 ۔رواج۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۹۴۔۹۶.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ،الباب السادس عشر فی مسائل الشیوع...إلخ،ج۴،ص۴۴۸.
5 ۔ابتدائیات طور پر۔ 6 ۔یعنی فلسفیوں۔ 7 ۔دلائل۔
8 ۔عقائد ومسائل۔ 9 ۔یعنی ان کے باطل مذہب کا رد کیا جائے۔
10 ۔مُعتَرِض(اعتراض کرنے والے )کااعتراض رفع کرنے کی بجائے ویساہی اعتراض اس پر وارد کرناجیسااُس نے کیاہے۔
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ،الباب السادس عشر فی مسائل الشیوع...إلخ،ج۴،ص۴۴۹.
مسئلہ۳۲: مُصحف شریف (1)کو تلاوت یا پڑھنے کے ليے اُجر ت پرلیا یہ اجارہ نا جائز ہے اُس میں پڑھنے سے اُجرت واجب نہیں ہوگی اسی طرح تفسیر وحدیث وفقہ کی کتابوں کا اُجرت پرلینا بھی نا جائز ہے ان میں بھی اُجرت واجب نہیں ہوگی۔ (2)(بحر)
مسئلہ۳۳: قلم اُجرت پرلیا کہ اُس سے لکھے گا اگر مدت مقرر کردی ہے کہ اتنے دنوں کے ليے ہے تو یہ اجارہ جائز۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ۳۴: جنازہ اُٹھانے یا میت کو نہلانے کی اُجرت دینا وہاں جائز ہے جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس کام کے کرنے والے ہوں اور اگر اس کے سوا کوئی نہ ہو تو اُجرت پر یہ کام نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ شخص اس صورت میں اس کام کے ليے متعین ہے۔ (4)(بحر)
مسئلہ۳۵: اجارہ پر کام کرایا گیااور یہ قرار پایا کہ اُسی میں سے اتنا تم اُجرت میں لے لینا یہ اجارہ فاسد ہے مثلاً کپڑا بُننے کے ليے سوت دیا اور یہ کہہ دیا کہ آدھا کپڑا اُجرت میں لے لینا یا غلہ اُٹھا کر لاؤ اُس میں سے دوسیر مزدوری لے لینا یا چکی چلانے کے ليے بیل ليے اور جو آٹا پیسا جائے گااُس میں سے اتنا اُجرت میں دیا جائے گایوہيں بھاڑ(5)میں چنے وغیرہ بھنواتے ہیں اور یہ ٹھہرا کہ اُن میں سے اتنے بھنائی میں ديے جائیں گے یہ سب صورتیں نا جائز ہیں۔ ان سب میں جائز ہونے کی صورت یہ ہے کہ جو کچھ اُجرت میں دینا ہے اُس کو پہلے سے علحد ا ہ کردے کہ یہ تمھاری اُجرت ہے مثلاً سوت کو دوحصہ کرکے ایک حصہ کی نسبت کہا کہ اس کا کپڑا بُن دو اور دوسرادیا کہ یہ تمھاری مزدوری ہے یا غلہ اُٹھانے والے کو اُسی غلہ میں سے نکال کردیدیا کہ یہ مزدوری ہے اور یہ غلہ فلاں جگہ پہنچادے۔ بھاڑوالے پہلے ہی اپنی بھنائی نکال کر باقی کو بھونتے ہیں اسی طرح سب صورتوں میں کیا جاسکتا ہے دوسری صورت جو از کی یہ ہے کہ مثلاً کہہ دے کہ دوسیر غلہ مزدوری دیں گے یہ نہ کہے کہ اس میں سے دیں گے پھر اگر اُسی میں سے دیدے جب بھی حرج نہیں۔ (6)(درمختار)
1 ۔قرآن پاک۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۸،ص۳۴۔۳۵.
3 ۔'الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب السادس عشر فی مسائل الشیوع...إلخ،ج۴،ص۴۴۹.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الإجارۃ ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۸،ص۳۴.
5 ۔اناج کے دانے بھوننے والوں کی بھٹی یاچولہا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۹۷.
مسئلہ۳۶: کھیت کٹتا ہے تو بالیں ٹوٹ کرگرتی ہیں کاشتکار وں کا قاعدہ ہے کہ اُن بالیوں کو چنواتے ہیں اور اُنھیں میں سے نصف مزدوری دیتے ہیں یا کپاس چنواتے ہیں اس کی مزدوری بھی اسی میں سے دی جاتی ہے بلکہ کھیت کاٹنے والے کو بھی اُسی میں سے مزدوری دیتے ہیں یہ سب اجارے نا جائز ہیں۔
مسئلہ۳۷: تل یا سرسوں تیلی کو (1)تیل پیلنے کے ليے دی اور یہ ٹھہر اکہ اُجرت میں اس میں سے آدھا یا تہائی چوتھائی تیل لے لے گایا بکری ذبح کرائی اور اُس میں کا کچھ گوشت اُجرت قرار پایا یہ ناجائز ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ۳۸: زمین دی کہ اس میں درخت نصب کرے درخت اُن دونوں کے مابین نصف نصف ہونگے یہ اجارہ فاسد ہے درخت مالک زمین کے قرار پائیں گے اور پیڑ لگانے والے کو درختوں کی قیمت اور اُس کے کام کی اُجرت مثل مالک زمین دے گا۔ (3)(عالمگیری)اکثر جگہ دیہات میں یوں ہوتا ہے کہ کاشتکار اور رعایا کسی موقع سے درخت لگالیتے ہیں اور اُس درخت میں نصف یا چہارم زمیندارلیتا ہے باقی وہ لیتا ہے جس نے لگایا اس کا حکم بھی وہی ہونا چاہيے۔
مسئلہ ۳۹: کسی کو اپنا جانور دیدیا کہ اس سے کام لو اور اُجرت پر چلاؤ جو کچھ خدادے گا وہ ہم دونوں نصف نصف لیں گے اگر اُس نے لوگوں کو اجارہ پر دیا تو جو اُجرت حاصل ہوگی مالک کی ہوگی اور اُس کو اپنے کام کی اُجرتِمثل ملے گی اور اگر جانور کو اجارہ پر نہیں دیا بلکہ لوگوں سے اُجرت کاکام لے کر اس جانور کے ذریعہ کرتا ہے مثلاً بار برداری کا کام(4)لیا اور اس جانور پر لاد کر پہنچادیا تو جو اُجرت حاصل ہوگی اس کی ہوگی اور مالک کو اُس کے جانور کی اُجرتِ مثل دے گا۔(5)(عالمگیری)بعض لو گ تانگہ یکہ خرید کرتانگہ والوں کو اسی طرح دیتے ہیں کہ وہ خود چلاتے ہیں اس کا حکم یہ ہے کہ جو کچھ اُجرت حاصل ہوئی اس کی ہے مالک کو یہ تانگہ کی اُجرتِ مثل دے گا۔
مسئلہ ۴۰: گائے بھینس خرید کر دوسرے کو دے دیتے ہیں کہ اسے کھلائے پلائے جو کچھ دودھ ہوگا وہ دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگایہ اجارہ بھی فاسد ہے کل دودھ مالک کا ہے اور دوسرے کو اس کے کام کی اُجرت مثل ملے گی اور جوکچھ اپنے پاس سے کھلایا ہے اُس کی قیمت ملے گی اور گائے نے جوکچھ چراہے اُس کا کوئی معاوضہ نہیں اور دوسرے نے جوکچھ دودھ
1 ۔ تیل نکالنے والے کو۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الخامس عشر فی بیان ما یجوز...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۴۴۵.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔یعنی بوجھ اٹھا کرلے جانے کاکام۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الخامس عشر فی بیان ما یجوز...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۴۴۵.
صرف کرلیا ہے اُتنا ہی دودھ مالک کو دے کہ دودھ مثلی چیز ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: کسی کو مرغی دی کہ جو کچھ انڈے دے گی دونوں نصف نصف تقسیم کرلیں گے یہ اجارہ بھی فاسد ہے انڈے اُس کے ہیں جس کی مرغی ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ۴۲: بعض لوگ بکری بٹائی پر دیتے ہیں کہ جو کچھ بچے پیداہوں گے دونوں نصف نصف لیں گے یہ اجارہ بھی فاسدہے بچے اُسی کے ہیں جس کی بکری ہے دوسرے کو اُس کے کام کی اُجرت مثل ملے گی۔
مسئلہ۴۳: اجارہ میں کام اور وقت دونوں چیزیں مذکور ہوں تو اجارہ فاسد ہے یعنی دونوں کو معقودعلیہ نہیں بنا یا جاسکتا بلکہ صرف ایک پر عقد کیا جائے یعنی اجارہ یا کام پر ہونا چاہيے وہ جتنے وقت میں ہو یا وقت پر ہونا چاہيے کہ اتنے وقت میں کام کرنا ہے جتنا کا م اُس وقت میں انجام پائے مثلاً نانبائی (3)سے کہا من بھر آٹا ایک روپیہ میں آج پکادے یہ ناجائز ہے ہاں اگر وقت پر اجارہ نہ ہو یعنی وقت معقود علیہ نہ ہو بلکہ وقت کو محض اس ليے ذکر کردیا گیا ہوتاکہ جلدی سے وہ پکادے یا اس ليے وقت کو ذکر کیا تاکہ معلوم ہوکہ کام فلاں وقت میں کیا جائے گاتو اجارہ صحیح ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ۴۴: زمین زراعت کے ليے دی اور یہ شرط کی کہ کاشتکار اس میں کھات ڈالے یہ اجارہ فاسد ہے جبکہ یہ اجارہ ایک سال کے ليے ہوکہ کھات کا اثر ایک سال سے زائد رہتا ہے اور اس شرط میں مالک زمین کانفع ہے اور اگر کئی سال کے ليے اجارہ ہوتو فاسد نہیں کہ اب یہ شرط مقتضائے عقد کے منافی نہیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۴۵: کاشتکار سے یہ شرط کردی کہ زمین کو جوت کر(6)واپس کرے اس سے بھی اجارہ فاسد ہوجاتا ہے۔ (7) (ہدایہ)
مسئلہ۴۶: زمین زراعت کے ليے دی اور اس کے بدلے میں اس کی زمین زراعت کے ليے لی یہ اجارہ فاسد ہے کہ دونوں منفعتیں ایک ہی قسم کی ہیں۔ (8)(ہدایہ)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الخامس عشر فی بیان ما یجوز...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۴۴۵.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۴۶.
3 ۔روٹی پکانے والا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۹۹.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،مطلب:یخص القیاس...إلخ،ج۹،ص۱۰۱.
6 ۔یعنی ہل دے کر۔
7 ۔''الھدایۃ''، کتاب الإجارات، باب الإجارۃ الفاسدۃ ،ج۲،ص۲۴۱.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ۴۷: دوشخصوں میں غلہ مشترک ہے اس مشترک غلہ کے اُٹھانے کے ليے ایک نے دوسرے کو اجیر کیا(1) دوسرے نے اُٹھایا اس کو کچھ مزدوری نہیں ملے گی کہ جو کچھ یہ اُٹھارہا ہے اُس میں خود اس کا بھی ہے لہٰذا اس کاکام خود اپنے ليے ہو ا مزدوری کا مستحق نہیں ہوا۔ اسی طرح ایک شریک نے دوسرے کے جانور یا گاڑی کو غلہ لادنے کے ليے کرایہ پر لیا اور وہ مشترک غلہ اُس پر لادا کسی اُجرت کا مستحق نہیں اور اگر اُس کی کشتی کرایہ پرلی کہ آدھی میں تمھارے حصہ کا غلہ لادا جائے گا اور آدھی میں میرا، یہ جائز ہے۔ (2)(ہدایہ، عالمگیری)اور اگر غلہ یا مال مشترک کو تقسیم کرنے کے بعد ایک نے دوسرے سے کہا میرا حصہ میرے مکان پر پہنچادو تم کو اتنی مزدوری دی جائے گی اب یہ اجارہ جائز ہے کہ دونوں کی چیزیں جدا جدا ہیں۔
مسئلہ۴۸: راہن (3)نے مرتہن(4)سے اپنی چیز کرایہ پر لی جس کومرتہن کے پاس رہن رکھا ہے مرتہن کواس کی کچھ اُجرت نہیں ملے گی کہ راہن نے خوداپنی چیز سے نفع اُٹھایااُجرت کس چیز کی دے صرف یہ بات ہوئی کہ راہن کو نفع حاصل کرناممنوع تھا اس وجہ سے کہ حق مرتہن اُس چیز کے ساتھ متعلق تھا اور مرتہن نے جب اجارہ پر دیدی توخود اُسنے اپناحق باطل کردیا راہن کاانتفاع(5)جائز ہوگیا۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آجکل بعض لوگ اپنا مکان یاکھیت رہن رکھ دیتے ہیں پھر مرتہن سے کرایہ پر لیتے ہیں اور کرایہ ادا کرتے ہیں اول تو یہ سودہے کہ یہ کرایہ زرِ رہن(7)میں محسوب(8)نہیں ہوتابلکہ قرض کے طورپر جو روپیہ دیا اُس کا یہ سود ہے جو یقینا حرام ہے۔ دوسرے یہ کہ اپنی ہی چیز کا کرایہ دینے کے کوئی معنے نہیں۔
مسئلہ ۴۹: حمام کرایہ پر دیا مالک حمام اپنے احباب کے ساتھ اُس میں نہانے گیا اس کے ذمہ کوئی اُجرت واجب نہیں اور کرایہ میں سے بھی اس کے نہانے کی وجہ سے کوئی جز کم نہیں کیا جائے گا۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۵۰: زمین کو اجارہ پر دیا اور یہ نہیں بیان کیاکہ اس میں زراعت کریگا یایہ کہ کس چیز کی کاشت کریگاتو اجارہ فاسد ہے کیونکہ زمین سے مختلف منافع حاصل کيے جاسکتے ہیں لہٰذا تعیین ضروری ہے یایہ کہ تعمیم کردے کہ تیراجو جی چاہے کر
1 ۔یعنی غلہ لے جانے کے لیے مزدور رکھا ۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۲۴۱.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثامن عشر فی الإجارۃالتی...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۴۵۷.
3 ۔گروی رکھوانے والا۔ 4 ۔جس کے پاس چیزگروی رکھی جائے۔ 5 ۔نفع اٹھانا۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،مطلب:یخص القیاس...إلخ،ج۹،ص۱۰۲.
7 ۔چیز گروی رکھ کر جومال لیا جائے اسے زرِ رہن کہتے ہیں۔ 8 ۔شمار۔
9 ۔''الدرالمختار''، کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۱۰۲ .
اور جب یہ دونوں باتیں نہ ہوں توفاسد ہے پھر مزارع (1)نے کاشت کی اور مدت پوری ہوگئی تویہ اجارہ صحیح ہوگیا اور جو اُجرت مقرر ہوئی تھی دینی ہوگی اوراگر مدت پوری نہ ہوئی تو اجر مثل واجب ہوگا اور کاشت کرنے سے پہلے دونوں میں نزاع (2)پیدا ہوجائے تو اجارہ فسخ کردیا جائے۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۵۱: شکار کرنے کے ليے یا جنگل سے لکڑیا ں کاٹنے کے ليے اجیر کیا اگر وقت مقرر کردیا ہے جائز ہے اور وقت مقرر نہیں کیا ہے نا جائز ہے اور شکار اور لکڑیا ں اس صورت میں اسی اجیر کی ہیں۔ اور اگر وقت مقرر نہیں کیا ہے مگر لکڑیاں معین کردی ہیں یعنی بتادیا ہے کہ ان لکڑیوں کو کاٹو تو اجارہ فاسد ہے لکڑیا ں مستاجرکی(4)ہوں گی اور اُس کے ذمہ اُجرت مثل واجب ہوگی۔(5) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ۵۲: جن لکڑیوں کے کاٹنے کے ليے اجیر کیا ہے وہ خود اسی مستاجر کی ملک ہیں تو اجارہ جائز ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: بی بی کو گھر کی روٹی پکانے کے ليے نوکر رکھا کہ روٹی پکائے ماہوار یا یومیہ اتنی اُجرت دوں گا یہ اجارہ نا جائز ہے وہ کسی اُجرت کی مستحق نہیں۔ یوہیں خانہ داری کے دوسرے کام جو عورتیں کیا کرتی ہیں ان کی اُجرت نہیں لے سکتی کہ یہ کام اُس پر دیانۃً خود ہی واجب ہیں۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۵۴: عورت نے اپنا مملوکہ مکان شوہرکوکرایہ پر دیا عورت بھی اُس مکان میں شوہر کے ساتھ رہتی ہے شوہر کے ذمہ کرایہ واجب ہوگا کہ عورت کی سکونت(8)اُس میں تبعاًہے۔(9) (درمختار)
مسئلہ۵۵: جو اجارہ استہلاکِ عین پر ہوکہ مستاجر عین شے لے لے وہ اجارہ نا جائز ہے مثلاً گائے بھینس کو اجارہ
1 ۔کاشتکار۔ 2 ۔جھگڑا۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،مطلب:یخص القیاس...إلخ،ج۹،ص۱۰۲.
4 ۔یعنی اجیر رکھنے والے کی۔
5 ۔''الدرالمختار''، کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۱۰۵.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب السادس عشر فی مسائل الشیوع...إلخ،ج۴،ص۴۵۱.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب السادس عشر فی مسائل الشیوع...إلخ،ج۴،ص۴۵۱.
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،مطلب:یجب الأجر...إلخ،ج۹،ص۱۰۵.
8 ۔رہائش۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج۹،ص۱۰۶.
پردیا کہ مستاجر اس کا دودھ حاصل کرے۔ نہریا تالاب کو مچھلی پکڑنے کے لیے ٹھیکہ پر دیا یہ ناجائز ہے۔ یوہیں چراگاہ کا ٹھیکہ بھی ناجائز ہے۔ (1)(عالمگیری، ردالمحتار)گاؤں اور بازار اور جنگل کا ٹھیکہ بھی ناجائز ہے کہ ان سب میں استہلاک عین ہے۔
مسئلہ۵۶: مکان اجارہ پر دیا اور یہ شرط کرلی کہ رمضان کا کرایہ ہبہ کردوں گا یا تمھارے ذمہ نہیں ہوگا یہ اجارہ فاسد ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ۵۷: دکان جل گئی ہے اُس کو کرایہ پرلیا اس شرط پر کہ اسے بنوائے گا اور جو کچھ خرچ ہوگا وہ کرایہ میں محسوب ہوگا یہ اجارہ فاسد ہے اور اگرمستاجر اُس میں رہا تو اُس پر اُجرت مثل واجب ہے اور جو کچھ خرچ کیا ہے وہ اور بنوانے کی اُجرت مثل اسے ملے گی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۸: مستاجر کے ذمہ یہ شرط کرنا کہ اس چیز کی واپسی تمھارے ذمہ ہے یعنی کام کرنے کے بعد تم اپنے صرفہ سے چیز کو واپس کر جانا اگر وہ چیز ایسی ہے جس میں بار برداری صرف ہوتی ہے جیسے دیگ شامیانہ تو اس شرط کی وجہ سے اجارہ فاسد ہے اور ایسی نہیں ہے تو فاسد نہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ۵۹: کوئی چیز اُجرت پر لی تھی مثلاً دیگ اور اُس کی مدت دود ن تھی اور مدت پوری ہونے کے بعد بھی چیز اسی کے یہاں پڑی رہی مالک نہیں لے گیا تو صرف اُتنے ہی دنوں کا کرایہ واجب ہوگا جن کا ذکر اجارہ میں ہوا اگرچہ واپس کرنا مستاجر کے ذمہ قرار پایا ہوکہ یہ شرط فاسد ہے اور اگر اس طرح اجارہ ہواکہ فی یوم اتنا کرایہ جیسا کہ شامیانوں اور دیگوں وغیرہا میں اسی طرح عموماًہوتا ہے تو جب وہ چیز اس کے کام سے فارغ ہوگئی اجارہ ختم ہوگیا اس کے بعد کا کرایہ واجب نہیں ہوگا یہ چیز مالک کے یہاں پہنچادے یا اپنے ہی یہاں رہنے دے اور اگر دوپہر میں چیز خالی ہوگئی جب بھی پورے دن کا کرایہ دینا ہوگا۔ یوہیں ایک ماہ کے لیے کرایہ پرلی تھی اور پندرہ دن میں خالی ہوگئی پورے مہینہ بھر کا کرایہ دینا ہوگا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: اجارہ کو دوسرے اجارہ کے فسخ پر معلق کرنا یعنی ایک شخص سے اجارہ کرنے کے بعد دوسرے سے یوں اجارہ کیاکہ اگر وہ پہلا اجارہ فسخ ہو جائے تو تم سے اجارہ ہے، یہ باطل ہے۔(6) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ، الباب الخامس عشر ما یجوز من الإجارۃ وما لایجوز،الفصل الاول،ج۴،ص۴۴۲.
و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،مطلب:الإجارۃ اذا وقعت علی العین...إلخ،ج۹،ص۱۰۶.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الخامس فی الخیار فی الإجارۃ والشرط فیہا،ج۴،ص۴۲۰.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق،ص۴۲۱.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق،ص۴۲۲.
اجیر دو قسم کے ہیں: اجیر مشترک و اجیر خاص۔ اجیر مشترک وہ ہے جس کے لیے کسی وقت خاص میں ایک ہی شخص کا کام کرنا ضروری نہ ہو اُ سوقت میں دوسرے کا بھی کام کرسکتا ہو، جیسے دھوبی، خیاط(1)، حجام، حمال (2)وغیرہم جو ایک شخص کے کام کے پابند نہیں ہیں اور اجیر خاص ایک ہی شخص کا پابند ہوتا ہے۔
مسئلہ ۱: کام میں جب وقت کی قید نہ ہو اگرچہ وہ ایک ہی شخص کا کام کرے یہ بھی اجیر مشترک ہے مثلاًدرزی کو اپنے گھر میں کپڑے سینے کے لیے رکھا اور یہ پابندی نہ ہوکہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک سیے گا اور روز انہ یا ماہوار یہ اُجرت دی جائے گی بلکہ جتنا کام کریگااُسی حساب سے اُجرت دی جائے گی تو یہ اجیر مشترک ہے۔ یوہیں اگر وقت کی پابندی ہے مگر دوسرے کا بھی اس وقت میں کام کرنے کی اجازت ہے مثلاً چرواہے کو بکریاں چرانے کوایک روپیہ ماہوار پر رکھا مگر یہ نہیں کہا ہے کہ دوسرے کی بکریاں نہ چرانا تویہ بھی اجیر مشترک ہے اور اگر یہ طے ہو جائے کہ دوسرے کی بکریاں نہیں چرائے گا تو اجیر خاص ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲: اجیر مشترک میں اجارہ کا تعلق کام سے ہے لہٰذا وہ متعدداشخاص کے کام لے سکتا ہے اور اجیر خاص میں اُس مدت کے منافع کا ایک شخص کو مالک کرچکا لہٰذا دوسرے سے عقد نہیں کرسکتا۔
مسئلہ ۳: اجیر مشترک اُجرت کا اُس وقت مستحق ہے جب کام کرچکے مثلاًدرزی نے کپڑے کے سینے میں سارا وقت صرف کردیا مگر کپڑا سی کر طیار نہیں کیا یا اپنے مکان پر سینے کے لیے تم نے اُسے مقرر کیا تھا دن بھر تمھارے یہاں رہامگر کپڑا نہیں سیا اُجرت کا مستحق نہیں ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۴: جو کام ایسا ہے کہ محل کے مختلف ہونے سے اُس میں اختلاف ہوتا ہے یعنی بعض میں محنت کم ہے بعض میں زائدایسے کاموں میں اجیر مشترک کو خیار رویت حاصل ہوتا ہے دیکھنے کے بعد کام کرنے سے انکار کرسکتا ہے مثلاًدھوبی سے ٹھہرا یاکہ گزی (5)کا ایک تھان ایک آنہ(6)میں دھوئے گا اُس نے تھان دیکھ کر دھونے سے انکار کردیا یہ ہوسکتا ہے۔ یارنگریز سے رنگنا
1 ۔درزی۔ 2 ۔بوجھ اٹھانے والا، مزدور۔
3 ۔''الدرالمختار''کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۰۸.
4 ۔المرجع السابق،ص۱۰۹.
5 ۔ ایک دیسی کپڑاجو موٹا اور گھٹیا قسم کا ہوتاہے ۔ 6 ۔روپے کا سولہواں حصہ۔
طے ہوگیا تھا کپڑا دیکھ کر انکار کرسکتا ہے کہ بعض کپڑے کے رنگنے میں زیادہ محنت ہوتی ہے اور زیادہ رنگ خرچ ہوتا ہے۔ یوہیں درزی بھی کپڑا دیکھ کر سینے سے انکار کرسکتا ہے کیونکہ بعض کپڑوں کے سینے میں زیادہ محنت ہوتی ہے مگر دیکھنے کے بعد راضی ہوگیا تو اب انکار کی گنجائش نہ رہی۔ اگر کام ایسا ہے کہ محل کے اختلاف سے اُس میں اختلاف نہ ہو تو انکار کی گنجائش نہیں مثلاً من بھر گیہوں تولنے کے لیے اجیر کیا یا حجامت بنانے کے لیے طے کیا دیکھنے کے بعد وہ انکار نہیں کرسکتا۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: اجیر مشترک کے پاس چیز امانت ہوتی ہے اگر ضائع ہو جائے ضمان واجب نہیں اگرچہ چیز دیتے وقت یہ شرط کردی ہو کہ ضائع ہوگی تو ضمان لوں گا کہ یہ شرط باطل ہے۔ (2)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۶: اجیر مشترک کے فعل سے اگر چیز ضائع ہوئی تو تاوان واجب ہے مثلاً دھوبی نے کپڑا پھاڑدیا اگرچہ قصداً نہ پھاڑا ہو چاہے اُسی نے خود پھاڑا یا اُس نے دوسرے سے دھلوایا اُس نے پھاڑا بہر حال تاوان واجب ہے اور اس صورت میں دھلائی کا بھی مستحق نہیں۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: حمال سامان لاد کر لارہا ہے پاؤں پھسلا اور سامان ٹوٹ پھوٹ گیا اس پر بھی ضمان واجب ہے یاجانور پر سامان لادکر لارہا تھا جانور پھسلا اور سامان برباد ہوااس میں بھی ضمان واجب ہے اور اگر رسی کے ٹوٹ جانے سے سامان گر کر ضائع ہوا اس میں بھی ضمان واجب مگر جبکہ رسی خود سامان والے کی ہوتو تاوان نہیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: کشتی پر سامان لدا ہواہے ملاح(5)کشتی کھینچ کر لارہا تھا کشتی اس کے کھینچنے سے ڈوب گئی ضمان واجب ہے اور اگر مخالف ہوا یا موج دریا سے یا پہاڑی سے ٹکرا کر ڈوبی تو ضمان واجب نہیں۔ (6)(ہدایہ ، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: چرواہا جانوروں کو تیزی سے ہانک کر لے جارہاتھاپل پر جب جانور پہنچے آپس کے دھکے سے کوئی جانور گرگیایا دریا کے کنارے ایک نے دوسرے کو دھکا دیا وہ پانی میں گرکر مرگیا چرواہے کو تاوان دینا ہوگا کہ اُس نے تیز نہ بھگایا ہوتا
1 ۔''ردالمحتار''، کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،مبحث الأجیر المشترک،ج۹،ص۱۰۹.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات،باب ضمان الأجیر،ج۲،ص۲۴۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۰۹.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،مطلب:یفتی بالقیاس علی قولہ،ج۹،ص۱۱۲.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔کشتی چلانے والا۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات،باب ضمان الأجیر،ج۲،ص۲۴۲.
و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،مطلب:یفتی بالقیاس علی قولہ،ج۹،ص۱۱۲.
توایسا نہ ہوتا۔ یوہیں اگرچرواہے کے مارنے یا ہانکنے سے جانور ہلاک ہویا اُس کے مارنے سے آنکھ پھوٹ گئی یا کوئی عضو ٹوٹ گیا تو اس کا بھی تاوان واجب ہے۔ (1)(ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: کشتی میں آدمی سوار تھے اور ملاح کشتی کوکھینچ کر لیجارہاتھا کشتی ڈوب گئی اور آدمی ہلاک ہوگئے یا جانور پر آدمی سوارہے اور جانور کا مالک اُسے ہانک کریاکھینچ کر لے جارہا تھا آدمی گر کر ہلاک ہوگیا ان صورتوں میں ضمان واجب نہیں۔(2)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: حمال برتن میں کوئی چیز لیے جارہا تھا اور راستہ میں برتن ٹوٹا اور چیز ضائع ہوئی تومالک کو اختیار ہے کہ جہاں سے لارہا تھا وہاں اُس چیز کی جو قیمت تھی وہ تاوان لے اور اس صورت میں مزدوری کچھ نہیں یا جہاں ٹوٹا وہاں کی قیمت تاوان لے اور اس صورت میں یہاں تک کی مزدوری حساب کرکے دیدے ۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: راستہ میں آدمیوں کا ہجوم تھا مزدور کو دھکا لگا اور چیز ضائع ہوئی تو مزدور پر ضمان نہیں اور اگر مزدور ہی نے مزاحمت کی اس وجہ سے نقصان ہوا تو ضمان ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: مکان تک مزدور نے سامان پہنچادیامالک اُس کے سر سے اُتر وارہا تھا چیز دونوں کے ہاتھ سے چھوٹ کر گری اور ضائع ہوئی نصف قیمت مزدور سے تاوان میں لی جائے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: کشتی پر سامان لادکر وہاں تک پہنچادیا جہاں لیجانا تھا مگر مخالف ہوا سے کشتی وہیں چلی آئی جہاں سے گئی تھی یا کہیں اور چلی گئی اگر سامان کا مالک یااس کا وکیل کشتی میں موجود تھا تو کرایہ واجب ہے۔ اور ملاح کو اس پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ پھر وہاں پہنچائے کیونکہ اُ سکا کام پورا ہوچکا ہاں اگرکشتی ایسی جگہ ہے جہاں چیز پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا تو ملاح کو لوٹا کرلانا ہوگا اور اس کی بھی مزدوری دی جائے گی اور اگر مالک یا اس کا وکیل کشتی میں نہ تھا تو ملاح کو اُسی پہلی اُجرت میں چیز پہنچانی ہوگی کہ ابھی اس کاکام ختم نہیں ہوا۔(6) (عالمگیری)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،مطلب:یفتی بالقیاس علی قولہ،ج۹،ص۱۱۲.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثامن والعشرون فی بیان حکم الأجیر...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۵۰۱.
2 ۔''الدرالمختار''، کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۱۵.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ،الباب الثامن والعشرون فی بیان حکم الأجیر...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۵۰۱.
6 ۔المرجع السابق،ص۵۰۳.
مسئلہ ۱۵: ملاح نے کشتی میں اپنی حاجت کے لیے آگ رکھی تھی اس سے سامان جل گیا ملاح پر تاوان واجب نہیں۔(1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: کشتی اپنا سامان لادنے کے لیے کرایہ کی ملاح نے بغیر رضا مندی مستاجر (2)اُس میں کچھ دوسرا سامان بھی لاددیا اور کشتی اتنا بوجھ اُٹھا سکتی ہے کشتی ڈوب گئی اگر مستاجر ساتھ تھاتاوان واجب نہیں۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: دھوبی کوکپڑا دیاتھا اور ایک شخص سے کہہ دیا تھا کہ تم دھوبی سے کپڑا لے لینا دھوبی نے اُسے دوسراکپڑا دے دیا یہ کپڑا اُس کے ہاتھ میں امانت ہے ضائع ہو جائے تو دھوبی اس سے تاوان نہیں لے سکتا اور کپڑے والا دھوبی سے اپنا کپڑا وصول کریگا۔ یہ اُس وقت ہے کہ وہ کپڑا خاص دھوبی ہی کا ہواور اگر کسی دوسرے کا ہے تو جس کا ہے وہ تاوان لے گا اگر دھوبی سے اس نے تاوان لیاجب توکچھ نہیں اور اُس شخص سے لیا تو وہ دھوبی سے تاوان کی قدر وصول کریگا درزی کا بھی یہی حکم ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: دھوبی نے دوسرا کپڑا دے دیا اور اس نے اپنا سمجھ کرلے لیا یہ ضامن ہے یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے علم نہ تھا کہ دوسرے کا ہے اور فرض کرو اس نے کپڑے کو قطع کرلیا اور سی لیا تو جس کاکپڑا ہے وہ دونوں میں سے جس سے چاہے ضمان لے سکتا ہے کاٹنے والے سے لیا توکچھ نہیں اور دھوبی سے ضمان لیا تو وہ کاٹنے والے سے وصول کرسکتا ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: دھوبی نے ایک کاکپڑا دوسرے کو دیدیا مالک نے جب مانگا تو اُس نے کہا میں نے فلاں کو دیدیا یہ سمجھ کر کہ اُسی کا ہے دھوبی کو تاوان دینا ہوگا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: دھوبی نے کپڑا دینا چاہا مالک نے کہا اپنے ہی پاس رکھ لے اس صورت میں مطلقاً ضامن نہیں۔ اُجرت لے لی ہویا نہ لی ہو اور اگر اُجرت لینے کے لیے اُس نے کپڑے کو روک رکھا ہے توضامن ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: دھوبی کو دوسرے کے کپڑے پہننا جائز نہیں کہ امانت میں تصرف کرنا خیانت ہے مگر پہننے کے بعد اُس نے اوتار کر رکھ دیا تو اب ضامن نہیں رہا جس طرح ودیعت کا حکم ہے جس کو پہلے بیان کیا گیا۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ،الباب الثامن والعشرون فی بیان حکم الأجیر...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۵۰۳.
2 ۔یعنی کرایہ پر لینے والے کی مرضی کے بغیر۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ،الباب الثامن والعشرون فی بیان حکم الأجیر...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۵۰۳.
4 ۔المرجع السابق،ص۵۰۶. 5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق،ص۵۰۷.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۲۲: چرواہا خو د بھی بکریاں وغیرہ چرا سکتا ہے اور اُس کے بال بچے اور اجیر(1)بھی چرا سکتے ہیں، اگرکسی اجنبی شخص کو سپرد کرکے چلاگیا اور جانور ضائع ہوگیا تو ضمان واجب ہے مگر جبکہ تھوڑی دیر کے لیے ایسا کیا ہو مثلاً پیشاب کرنے گیا یا کھانے کے لیے گیا تو معاف ہے، اِس صورت میں تاوان واجب نہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: چرواہے نے ایک کی بکریاں دوسرے کی بکریوں میں ملادیں اگر امتیاز ممکن ہے توکچھ حرج نہیں اور کس کی کون ہے کس کی کون ہے اس میں چرواہے کاقول معتبر ہے اور اگر امتیاز نہ رہا چرواہا کہتا ہے مجھے شناخت نہیں ہے تو تاوان واجب ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: چرواہوں کا قاعدہ ہے کہ جانور اُس گلی میں چھوڑجاتے ہیں جس میں مالک کا مکان ہے اُ سکے مکان پر نہیں پہنچا تے نہ مالک کو سپرد کرتے ہیں۔ مکان پر پہنچنے سے پہلے اگر گائے یا بکری ضائع ہوگئی تو چرواہے پر ضمان واجب نہیں۔(4)(عالمگیری)مگر جبکہ مالک نے کہہ دیا ہوکہ میرے مکان پر پہنچاجایا کرنا تو ضمان واجب ہے کہ اُس نے شرط کے خلاف کیا۔
مسئلہ ۲۵: گاؤں کے چرواہے گاؤں کے کنارے پر جانور وں کو لاکرچھوڑ دیتے ہیں اگر چر واہے نے یہ شرط کرلی ہے یا یہ متعارف ہے تو وہاں چھوڑ دینا جائز ہے، ضائع ہونے پر ضمان واجب نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: جنگل میں جھاڑیا ں ہیں جہاں جانور چرتے ہیں کہ سب جانور چرواہے کی پیش نظرنہیں ہوتے جیساکہ اکثر جگہ ڈھاک (6)کے جنگل میں ہوتا ہے کوئی جانوراس صورت میں ضائع ہوگیا تو ضمان واجب نہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: چرواہا کہیں چلا گیا اور گائے نے کسی کا کھیت چرلیا کھیت والا چرواہے سے تاوان نہیں لے سکتا ہاں آگر اس نے خود کھیت میں چھوڑایا یہ ہانک کرلیے جارہاتھا اور گائے نے اس حالت میں چرلیا تو تاوان واجب ہے۔(8) (عالمگیری)
1 ۔نوکر،ملازم۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإجارۃ،الباب الثامن والعشرون فی بیان حکم الأجیر...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۵۰۸.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق،ص۵۱۰،۵۱۱.
5 ۔المرجع السابق،ص۵۱۱.
6 ۔ایک درخت کانام جس کی ٹہنی کے سرے پر بڑے بڑے تین پتے ہوتے ہیں اس کے پھول سرخ ہوتے ہیں ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثامن والعشرون فی بیان حکم الأجیر...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۵۱۰.
8 ۔المرجع السابق،ص۵۱۱.
مسئلہ ۲۸: فصاد(1)نے فصد کھولی یا پچھنا لگانے والے نے پچھنا لگایا جراح نے پھوڑا چیرااور ان سب میں موضع معتاد سے تجاوز نہیں کیا(2)تو ضمان واجب نہیں اور اگر جتنی جگہ پر ہونا چاہیے اُس سے تجاوز کیا اور ہلاک نہیں ہوا تو جتنی زیادتی کی ہے اُس کا تاوان دے اور ہلاک ہوگیا تونصف دیت نفس واجب ہے۔ (3)(ہدایہ ، درمختار)
مسئلہ ۲۹: اجیر خاص جس کی تعریف پہلے ذکر ہوچکی اس کے ذمہ تسلیم نفس واجب ہے یعنی جو وقت اس کے لیے مقرر کردیا گیا ہے اُس وقت میں اس کا حاضر رہنا ضروری ہے اس نے اگرکام نہیں کیا ہے جب بھی اُجرت کا مستحق ہے جیسے کسی کو خدمت کے لیے نوکر رکھا یا جانور وں کے چرانے کے لیے نوکر رکھا اور تنخواہ بھی متعین کردی۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۳۰: اجیر خاص کے پاس جو چیز ہے و ہ امانت ہے اگر تلف ہوجائے (5)تو ضمان واجب نہیں اگرچہ اُس کے فعل کی وجہ سے تلف ہوئی مثلاً اجیر خاص نے کپڑا دھویا اور اُس کے پٹکنے(6)یا نچوڑ نے سے پھٹ گیا اُس پر ضمان واجب نہیں اور اجیر مشترک سے ایسا ہوتو واجب ہے جس کا ذکر مفصل گزراہاں اگر اجیر خاص نے قصداً اُس چیز کو فاسد و خراب کردیا تو اُس پرتاوان واجب ہوگا۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۳۱: اُس کے فعل سے کچھ نقصان ہوتو ضامن نہیں اس سے مُراد وہ فعل ہے جس کی اُسے اجازت دی ہواور اگراُس نے کوئی ایساکام کیا جس کی اُس کو اجازت نہیں دی تھی اور اُس کے فعل سے نقصان ہواتو تاوان اُ سکے ذمہ واجب ہے مثلاً ایک کام پر وہ ملازم ہے اور دوسرا کام کیا جس کی مالک سے اجازت نہیں لی تھی اور اس کام میں چیزکا نقصان ہوا۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: جو چرواہا خاص ایک شخص کا ملازم ہے اُس نے جانوروں کو ہانکا اور اس کی وجہ سے ایک جانور نے دوسرے کو دھکا دیا اور یہ گر پڑا اور مرگیا چرواہے پر تاوان نہیں اور اگر وہ دو۲یا تین شخصوں کا ملازم ہے تو اگرچہ یہ بھی اجیر خاص ہے مگر
1 ۔ رگ سے فاسد خون نکالنے والا۔ 2 ۔یعنی حد سے زیادہ چیرا پھاڑا نہیں ۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات، باب ضمان الأجیر،ج۲،ص۲۴۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ، باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۱۶.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات، باب ضمان الأجیر،ج۲،ص۲۴۳.
5 ۔ضائع ہوجائے۔ 6 ۔باربار پتھر یا تختے وغیرہ پر مارنے سے۔
7 ۔''الدرالمختار''، کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۱۹.
8 ۔''ردالمحتار''، کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،مطلب: لیس للأجیر الخاص...إلخ،ج۹،ص۱۱۹.
اِس صورت میں اس پر تاوان ہے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: بچہ دایہ کے پاس تھا اُس کے زیور کوئی اوتار لے گیا دایہ پر اس کا تاوان واجب نہیں۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳۴: بازار کا چوکیدار اور مسافر خانہ وسرا (3)کے محافظ بھی اجیر خاص ہیں اگر بازار میں چوری ہوگئی یا سرا اور مسافر خانہ سے مال جاتارہا تو ان لوگوں سے تاوان نہیں لیاجاسکتا۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۳۵: اجیر خاص نے اگر دوسرے کا کام کیا تو جتنا کام کیا ہے اُسی حساب سے اُس کی اُجرت کم کردی جائے گی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۳۶: اگرکسی عذر کی وجہ سے اجیر خاص کا م نہ کرسکا تو اُجرت کامستحق نہیں ہے مثلاًبارش ہورہی تھی جس کی وجہ سے کام نہیں کیا اگرچہ حاضر ہوا اُجرت نہیں پائے گا۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۷: اجیر خاص اُس مدت مقرر میں اپنا ذاتی کام بھی نہیں کرسکتا اور اوقات نماز میں فرض اور سنت مؤکدہ پڑھ سکتا ہے نفل نماز پڑھنا اس کے لیے اوقات اجارہ میں جائز نہیں اور جمعہ کے دن نماز جمعہ پڑھنے کے لیے جائے گامگر جامع مسجد اگردور ہے کہ وقت زیادہ صرف ہوگا تو اُتنے وقت کی اُجرت کم کردی جائے گی اور اگر نزدیک ہے تو کچھ کمی نہیں کی جائے گی اپنی اُجرت پوری پائے گا۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳۸: چرواہااگر اجیر خاص ہے اور جتنی بکریاں چرانے کے لیے اُ سے سپرد کیں اُن میں سے کچھ کم ہوگئیں جب بھی وہ پوری اُجرت کا مستحق ہے بلکہ اگرایک بکری بھی باقی نہ رہے جب بھی پوری اُجرت کا مستحق ہے اور اگربکریوں میں آضافہ ہوگیا اور اتنی زیادہ ہوئیں جن کے چرانے کی اُسے طاقت ہے تو چرانی ہوں گی اس سے انکار نہیں کرسکتا اور اُجرت وہی ملے گی جو مقرر ہوئی ہے۔(8) (درمختار ، ردالمحتار)اسی طرح معلِّم کو بچے پڑھانے کے لیے سپرد کیے گئے کچھ لڑکوں کا اضافہ ہواجن کو وہ
1 ۔''ردالمحتار''، کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،مطلب:لیس للأجیر الخاص...إلخ،ج۹،ص۱۱۹.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۲۰.
3 ۔مسافروں کے ٹھہرنے کی جگہ،ریسٹورنٹ،آرام گاہ۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۲۰.
5 ۔المرجع السابق،ص۱۱۹.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،مبحث: الاجیرالخاص،ج۹،ص۱۱۷.
7 ۔المرجع السابق،مطلب:لیس للأجیر الخاص...إلخ،ج۹،ص۱۱۸.
8 ۔المرجع السابق،مطلب:لیس للأجیر الخاص...إلخ،ج۹،ص۱۱۹ .
پڑھاسکتا ہے تو انکار نہیں کرسکتا اور لڑکے کم ہوگئے جب بھی پوری تنخواہ کا مستحق ہے۔
مسئلہ ۳۹: گھوڑا کرایہ پر لیا راستہ میں وہ بھاگ گیا اگر غالب گمان یہ ہے کہ ڈھونڈے سے بھی نہ ملے گا اور نہ ڈھونڈا تو ضمان واجب نہیں۔ یوہیں ریوڑ سے بکری بھاگ گئی چرواہے کو غالب گمان ہے کہ اگر اُسے ڈھونڈنے جائے گا تو باقی بکریاں جاتی رہیں گی اس وجہ سے نہیں گیا توضمان واجب نہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۴۰: کرایہ دار نے مکان میں چولھا بنایا یاتنور گاڑااس سے آگ اوڑی اور یہ مکان یا پڑوسی کامکان جل گیا تاوان واجب نہیں مالک مکان کی اجازت سے چولھا یا تنور بنایا ہویا بغیر اجازت۔ ہاں اگر اس طرح آگ جلائی کہ چولھے اور تنور اُس طرح نہیں جلاتے تو تاوان دیناہوگا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ۴۱: شاگرد اپنے اُستاد کے پاس کام سیکھتا ہے یا بڑے دوکاندار اور کاریگر اپنے یہاں کام کرنے کے لیے کچھ لوگوں کونوکر رکھ لیتے ہیں اور ان سے کام لیتے ہیں ان شاگردوں اور نوکروں کا کام اُسی اُستاداور دوکاندار کا کام سمجھا جاتا ہے اگر شاگرد وں یا نوکروں سے کسی کی چیز میں نقصان پہنچا جو اُس دکان پر بننے کے لیے آئی تھی تو اس کا ذمہ دار وہ اُستا د اور دوکاندار ہے اُسی سے تاوان لیا جائے گا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے نقصان نہیں ہوا مثلاًدرزی کے پاس کپڑا سینے کو دیا اُ سکے نوکر نے کوئی ایسی خرابی کردی جس سے تاوان لازم آتا ہے تو اُسی درزی سے تاوان لیا جائے گا اور وہ اپنے نوکر سے تاوان نہیں لے سکتا کہ نوکر اجیر خاص ہے۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۴۲: ایک شخص سرا میں چند روز رہا یا ایسے مکان میں رہا جو کرایہ پر اُٹھانے کے لیے مالک نے کررکھا ہے اس شخص سے کرایہ مانگا گیا تو کہنے لگا کہ میں بطور غصب اس مکان میں یا سرا میں رہا مجھ پر کرایہ واجب نہیں اوسکی بات نہیں مانی جائے گی اُس سے کرایہ وصول کیا جائے گا اگرچہ وہ شخص اسی طرح کے ظلم کرتا ہو کہ لوگوں کے مکانوں میں بغیر کرایہ زبردستی رہتا ہو اور یہ بات مشہور ہو کیونکہ ایسی جائداد جوکرایہ ہی کے لیے ہے اُس کا بہرحال کرایہ مثل دینا ہوگا اسی طرح جائداد ِموقوفہ (4)اور مال یتیم کا کرایہ مثل دینا ہی ہوگا اگرچہ استعمال کرنے والے نے غصب کے طور پر استعمال کیا ہو۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۲۳.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۲۲.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،مبحث:اختلاف المؤجر...إلخ،ج۹،ص۱۲۷.
4 ۔ وقف شدہ جائداد۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،مبحث:اختلاف المؤجر...إلخ،ج۹،ص۱۲۸.
مسئلہ ۱: درزی سے کہا اگر اس کپڑے کی اچکن(1)سیوگے تو ایک روپیہ سیلائی اور شیروانی سی تو دوروپے یہ صورت جائز ہے جو سی کر لائے گااُس کی سلائی پائے گا۔ یوہیں رنگریز(2)سے کہا کہ اِس کپڑے کو کسم(3)سے رنگوگے تو ایک روپیہ اور زعفران سے رنگو تودو۲روپے۔ اسی طرح اگر یہ کہا کہ اس مکان میں رہو گے تو پانچ روپے کرایہ کے ہیں اور اُس میں رہو گے تو دس ۱۰روپے یہ بھی جائز ہے۔ اگر تانگہ والے سے کہا کہ فلاں جگہ تک لے جاؤگے تو ایک روپیہ کرایہ اور فلاں جگہ تو دوروپے یہ بھی جائز ہے ان سب میں جو صورت پائی گئی اُسی کی اُجرت دی جائے گی۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۲: درزی سے کہا اگر آج سی کر دیا تو ایک روپیہ اور کل دیا تو آٹھ آنے۔ اُس نے آج ہی سی کر دے دیا تو ایک روپیہ دینا ہوگا دوسرے دن دے گا تو اُجرت مثل واجب ہوگی جو آٹھ آنے سے زیادہ نہ ہوگی۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۳: اگر درزی سے یہ کہا ہے کہ آج سی دے گا تو ایک روپیہ اور کل سیا تو کچھ اُجرت نہیں اگر آج سیا تو ایک روپیہ ملے گا اور دوسرے دن سیا تو اُجرت مثل ملے گی جو ایک روپیہ سے زائد نہ ہوگی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: درزی سے کہا اگر تم نے خود سیا تو ایک روپیہ اور شاگرد سے سلوایا تو آٹھ آنے یہ بھی جائز ہے جس نے سیا اُس کے لیے جو مزدوری مقرر ہے وہ ملے گی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: جس طرح دو چیزوں میں اختیار دیا جاسکتا ہے تین چیز و ں میں بھی ہوسکتا ہے چار چیزوں میں اختیار دیا یہ ناجائز ہے۔ (8)(ہدایہ)
مسئلہ ۶: اس دکان یا مکان میں اگر تم نے عطار کو رکھا تو ایک روپیہ کرایہ اورلوہار کو رکھا تو دو روپے یہ بھی جائز ہے۔ (9)(ہدایہ)
1 ۔ایک قسم کامردانہ لباس۔ 2 ۔کپڑے رنگنے والا۔
3 ۔ایک قسم کاپھول جس سے گہرا سرخ رنگ نکلتاہے اوراس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات، باب الإجارۃ علی أحد الشرطین، ج۲،ص۲۴۴.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ،الباب السادس فی الإجارۃ...إلخ،ج۴،ص۴۲۳.
7 ۔المرجع السابق،ص۴۲۲.
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات، باب الإجارۃ علی احد الشرطین...إلخ،ج۲،ص۲۴۴.
9 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱: مرد اپنی خدمت کے لیے عورت کو نوکر رکھے یہ ممنوع ہے وہ عورت آزاد ہویاکنیز دونوں کاایک حکم ہے کہ کبھی دونوں تنہائی میں بھی ہوں گے اور اجنبیہ کے ساتھ خلوت (تنہائی)کی ممانعت ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: عورت نے ایسے شخص کی ملازمت کی جو بال بچوں والا ہے اس میں حرج نہیں جیسا کہ عموماً ہندوستان میں کھانا پکانے اور گھر کے کاموں کے لیے مامائیں نوکر رکھی جاتی ہیں مگر یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ مرد کو اس کے ساتھ تنہائی نہ ہو۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: اپنی عورت کواپنی خدمت کے لیے نوکر رکھے یہ نہیں ہوسکتا کہ عورت پر ،خود ہی اپنے شوہر کی خدمت واجب ہے پھر نوکر ی کے کیا معنی اسی وجہ سے گھر کے جتنے کام عورتیں عموماً کیا کرتی ہیں مثلاً پیسنا ،پکانا،جھاڑو دینا ،برتن دھونا، وغیرہا ان پر اپنی عورت سے اجارہ نہیں ہوسکتا۔ (3) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۴: (کوئی بدنصیب)اگر اپنے والدین یا دادا ،دادی کو خدمت کے لیے نوکررکھے یہ اجارہ ناجائز ہے مگر انہوں نے اگر کام کرلیا تو اُجرت کے مستحق ہوں گے اور وہی اُجرت پائیں گے جو طے ہوچکی ہے اگرچہ اُجرت مثل اس سے کم ہو۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: ان کے علاوہ دیگر رشتہ داروں کو مثلاً بھائی یا چچا وغیرہ کو خدمت کے لیے نوکرکھنا جائز ہے، مگر بعض نے فرمایا کہ بڑے بھائی یا چچا کو جو عمر میں بڑا ہے، ملازم رکھنا جائز نہیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: مسلمان نے کافر کی خدمت گاری کی نوکری کی یہ منع ہے بلکہ کسی ایسے کام پر کافر سے اجارہ نہ کرے جس میں مسلم کی ذلت ہو۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: باپ اپنے نابالغ لڑکے کو ایسے کام کے لیے اُجرت پر دے سکتا ہے جس کے کرنے کی اُسے طاقت ہو اور باپ نہ ہوتو اوس کا وصی ،یہ بھی نہ ہوتو دادا، اور دادا بھی نہ ہو تو اُس کا وصی نابالغ کو اجارہ پر دے سکتا ہے اور اگر ان میں کوئی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ، الباب الحادی عشر فی الاستئجارللخدمۃ،ج۴،ص۴۳۴.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ، الباب الحادی عشر فی الاستئجارللخدمۃ،ج۴،ص۴۳۴،۴۳۵،وغیرہ.
4 ۔المرجع السابق،ص۴۳۵. 5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
نہ ہو توذورحم محرم(1)جس کی پرورش میں وہ بچہ ہے دے سکتا ہے۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۸: ذو رحم محرم نے بچہ کو اجارہ پر دیا اور وہ بچہ اُسی کی پرورش میں ہے توجوکچھ مزدوری ملی ہے اُس بچہ پر خرچ نہیں کرسکتا جس طرح بچہ کو کسی نے ہبہ کیا تووہ رشتہ دار ہبہ کوقبول کرسکتا ہے مگر بچہ پر اُسے خرچ نہیں کرسکتا۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ ۹: قاضی نے اگر حکم دیدیا ہے کہ جو کچھ یہ بچہ کماکر لائے حسب ضرورت اس پر خرچ کیا جائے اُس وقت خرچ کرنا جائز ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: باپ دادا یا ان کے وصی یا قاضی نے نابالغ کو اجارہ پر دیا اور مدت اجارہ ختم ہونے سے پہلے وہ بالغ ہوگیا تو اس کو اختیار ہے کہ اجارہ کو باقی رکھے یا فسخ کردے اور اگر نابالغ کی کسی چیز کو اُنھوں نے اجارہ پر دیدیا ہے اور مدت پوری ہونے سے پہلے یہ بالغ ہوگیا تو اجارہ فسخ نہیں کرسکتا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: نابالغ کو اُس کے باپ نے کھانے کپڑے پرایک سال کے لیے نوکر رکھوادیا جب مدت پوری ہوئی تو اُجرت مثل کامطالبہ کرسکتا ہے کیونکہ جو اجارہ منعقد کیا تھا وہ بوجہ اُجرتِ مجہول(6)ہونے کے فاسد ہے اور سال بھر تک جو مستاجرنے(7)لڑکے کو کھلایا ہے یہ تبرّع ہے اس کو منھا نہیں کیاجاسکتا(8)البتہ جو کپڑے اُ سکے پاس اس کے دیے ہوئے ہوں اُن کو واپس لے سکتا ہے۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: نابالغ لڑکا جس کو ولی نے منع کر دیا ہے اُس نے اُجرت پر کام کرنے کے لیے عقد کیا یہ اجارہ نا جائز ہے مگر کام کرنے کے بعد پوری اُجرت کا مستحق ہوگا اور اگر اُس کام میں ہلاک ہوگیا تو دیت واجب ہوگی۔(10) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: مستاجر نے بچہ کو جس نے بغیر اِذنِ ولی عقد اجارہ کیا ہے پیشگی اُجرت دیدی یہ اُجرت واپس نہیں لے سکتا
1 ۔قریبی رشتہ دار۔
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الإجارات ،فصل فی اجارۃ الوقف ومال الیتیم،ج۲،ص۱۱.
3 ۔المرجع السابق،ص۱۲.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ، الباب الحادی عشر فی الاستئجارللخدمۃ،ج۴،ص۴۳۷.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔نامعلوم اُجرت۔ 7 ۔یعنی اپنانوکر رکھنے والے نے۔
8 ۔یعنی یہ ایک احسان ہے اِسے اُجرت سے کاٹا نہیں جاسکتا۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ، الباب الحادی عشر فی الاستئجارللخدمۃ،ج۴،ص۴۳۷.
10 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر، مطلب: فی الحارس والخاناتی،ج۹،ص۱۲۴.
کیونکہ اگرچہ یہ اجارہ اس وقت نا جائز ہے مگر کا م کرنے کے بعد صحیح ہو جائے گا اسی وجہ سے اِس صورت میں جو اُجرت مقرر ہوئی ہے وہ پوری دلائی جاتی ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱: پن چکی کرایہ پر دی ہے مستاجر کہتا ہے نہر میں پانی تھاہی نہیں اس وجہ سے پن چکی چل نہ سکی لہٰذا کرایہ دینا مجھ پر لازم نہیں اور چکی کا مالک کہتا ہے پانی تھا۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اگر گواہ نہ ہوں تو اِس وقت جوحالت ہو اُسی کے موافق زمانہ گزشتہ کے متعلق حکم دیا جائے گا اگر پانی اس وقت ہے تو مالک کی بات مانی جائے گی اور نہیں ہے تو مستاجر کی بات معتبر ہے اور جس کی بات بھی معتبر ہوگی قسم کے ساتھ معتبر ہوگی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲: پن چکی کا پانی کچھ دنوں بند رہا مگر کتنے دنوں بند رہا اس میں موجر(3) اور مستاجر (4)دونوں کا اختلاف ہے مستاجر کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۳: پن چکی کرایہ پر دی اور یہ شرط کردی کہ پانی رہے یا نہ رہے ہر صورت میں کرایہ دینا ہوگااس شرط کی وجہ سے اجارہ فاسد ہوگا اور جن دنوں میں پانی نہ تھا اُ ن کا کرایہ واجب نہ ہوگا پانی جاری رہنے کے زمانے کی اُجرت مثل واجب ہوگی۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۴: کپڑا سینے کو دیا تھا یہ کہتا ہے میں نے قمیص سینے کو کہا تھادرزی کہتا ہے اچکن سینے کو کہا تھا یا رنگنے کو دیا یہ کہتاہے میں نے سُرخ رنگنے کو کہا تھا رنگریز کہتا ہے زرد رنگنے کے لیے کہاتھا تو کپڑے والے کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اور جب اُس نے قسم کھائی تو اختیار ہے کہ اپنے کپڑے کا تاوان لے یا اسی کو لے لے اور اُجرت مثل دیدے۔(7) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: اگر مالک کہتا ہے میں نے مفت سینے یا رنگنے کے لیے دیا تھا اور سینے والا یا رنگنے والا کہتا ہے اُجرت پر دیا تھا
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۲۴.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۲۶.
3 ۔پن چکی کے مالک۔ 4 ۔پن چکی کو کرایہ پرلینے والے۔
5 ۔''الدرالمختار''، کتاب الإجارۃ، باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۲۶.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ، الباب الخامس فی الخیار...إلخ،ج۴، ص۴۲۱.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات، باب الإختلاف فی الإجارۃ ،ج۲،ص۲۴۶.
تو اس میں بھی کپڑے والے کا قول معتبر ہے مگر جبکہ اُس شخص کا یہ پیشہ ہے اور اُجرت پر کام کرنا معروف ومشہور ہے اور اُس کا حال یہی بتاتا ہے کہ اُجرت پر کام کرتا ہے کہ دکان اُس نے اسی کام کے لیے کھول رکھی ہے تو ظاہر حال یہی ہے کہ اُجرت پر اس نے کام کیا ہے لہٰذا قسم کے ساتھ اسی کا قول معتبر ہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۷: ابھی کام کیا ہی نہیں ہے اور یہی اختلافات ہوئے تو دونوں پر حلف ہے(2)اور پہلے مستاجر پر قسم دی جائے گی۔ قسم کھانے سے جو انکار کریگا اُس کے خلاف فیصلہ ہوگا اور دونوں نے قسمیں کھالیں تو عقد فسخ کردیا جائے گا۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: ایک چیز اُجرت پر لی ہے اور ابھی اُس میں تصرف بھی نہیں کیا ہے کہ مالک اور مستاجر میں اختلاف ہوگیا مستاجر کہتا ہے اُجرت پانچ روپے ہے اور مالک دس روپے بتاتا ہے جو گواہ پیش کرے اُس کے موافق حکم ہوگا اور دونوں نے گواہ پیش کیے تو مالک کے گواہ پر فیصلہ ہوگا اور اگر کسی کے پاس گواہ نہیں تو دونوں پر حلف ہے اور مستاجر سے پہلے قسم کھلائی جائے اگر دونوں قسم کھاجائیں اجارہ کو فسخ کردیا جائے۔(4) (خانیہ)
مسئلہ ۹: مدت اجارہ یا مسافت کے متعلق اختلاف ہے اس کا بھی وہی حکم ہے مگر اس صورت میں مالک کو پہلے قسم دی جائے اور دونوں گواہ پیش کریں تو مستاجر کے گواہ معتبر ہوں گے۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۱۰: مدت اور اُجرت دونوں باتوں میں اختلاف ہے مستاجر کہتا ہے دو مہینے کے لیے میں نے دس روپے کرایہ پرمکان لیا ہے اور مالک کہتا ہے ایک ما ہ کے لیے بیس روپے پر اگر دونوں گواہ پیش کریں تو جس کے گواہ زیادہ بتاتے ہیں اُس کی بات معتبر ہے یعنی دوماہ کے لیے بیس روپے پر اجارہ قرار دیا جائے اور اگر کچھ مدت تک اِنتفاع کے بعد(6) اختلاف ہوا یا کچھ مسافت طے کرلینے کے بعد اختلاف ہوا تو دونوں پر حلف دیکر آئندہ کے متعلق اجارہ فسخ کردیا جائے اور گزشتہ کے متعلق مستاجر کاقول مانا جائے۔(7) (خانیہ)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۲۷.
2 ۔قسم اُٹھاناہے۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب ضمان الأجیر،ج۹،ص۱۲۷.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الإجارات، فصل فی الاختلاف ،ج۳،ص۴۲.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔نفع اٹھانے کے بعد۔
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الإجارات، فصل فی الاختلاف ،ج۳،ص۴۲،۴۳.
مسئلہ ۱۱: مالک مکان نے گواہوں سے ثابت کیا کہ یہ مکان تین ماہ کے لیے تین روپے مہینہ کرایہ پر دیا ہے اور مستاجر کہتا ہے چھ ماہ کے لیے ایک روپیہ مہینہ کرایہ پر لیا ہے اور یہ بھی گواہ پیش کرتا ہے توتین مہینے کا کرایہ نوروپے دینا ہوگا اور تین مہینے کاکرایہ تین روپے ایک روپیہ ماہوار کرایہ دینا ہوگا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: کتنا حصہ مکان کا کرایہ پر دیا ہے اس میں اختلاف ہے اور مکان میں رہنے سے قبل یہ اختلاف ہواتو دونوں پر حلف ہوگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: اُجرت کیا چیز تھی اس میں اختلاف ہے یا اُجرت ازقبیل نقد(3) ہے اُس کی صفت میں اختلاف ہے دونوں پر حلف ہے اور اگراُجرت غیر نقود(4)سے ہو تو اُس کی مقدار یا جنس میں اختلاف کی صورت میں دونوں پر قسم ہے اور اگر اُس کی صفت میں اختلاف ہے تو مستاجر کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: اجارہ میں خیار شرط ہوسکتا ہے لہٰذا مستاجر نے اجارہ میں تین دن کا خیار اپنے لیے رکھا تو اندرون مدت اجارہ کو فسخ کرسکتا ہے۔ مکان کرایہ پر لیا تھا اور مدت کے اندر اُس میں سکونت کی خیار جاتا رہا اب فسخ نہیں کرسکتا۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: مالک مکان نے اپنے لیے خیار شرط رکھاتھا اور اندرون مدت مستاجر اُس مکان میں رہا اس کاکرایہ اُس کے ذمہ لازم نہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: مستاجر کوتین دن کا خیار تھا اُس نے تیسرے دن اجارہ کو فسخ کردیا تو دودن کا کرایہ اُس کے ذمہ لازم نہیں ہوا۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: اجارہ میں خیاررویت بھی ہوسکتا ہے جس مکان کو کرایہ پر لیا اُس کو کرایہ دار نے دیکھا نہیں ہے تو دیکھنے کے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الخامس والعشرون فی الإختلاف الواقع...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۴۷۷.
2 ۔المرجع السابق، ص۴۷۸.
3 ۔یعنی سونے،چاندی وغیرہ کی قسم سے۔ 4 ۔یعنی سونے ،چاندی اور کرنسی کے علاوہ دوسری چیزیں ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الخامس والعشرون فی الإختلاف الواقع...إلخ، الفصل الأول،ج۴،ص۷۸.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ، الباب الخامس فی الخیار...إلخ،ج۴،ص۴۱۹.
7 ۔المرجع السابق.
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ،ج۹،ص۱۲۹.
بعد اجارہ فسخ (1)کرنے کا اُسے خیا ر حاصل ہے اور اگر پہلے کسی وقت میں اس مکان کو دیکھ چکا ہے تو خیار رویت نہیں مگر جبکہ اُس میں کوئی حصہ منہدم ہوگیا (2)ہے جو سکونت کے لیے مضر ہے(3)تواب دیکھنے کے بعد اجارہ کو فسخ کرسکتا ہے۔ (4)(عالمگیری)یہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ جن کاموں میں محل کے اختلاف سے اختلاف ہوتا ہے اُن میں چیز کو دیکھنے کے بعد اجیر کو اختیار ہوتا ہے جیسے کپڑے کا دھونا یا سینا۔
مسئلہ ۵: روئی دھنکنے(5)کے لیے نداف (6)سے طے کیاکہ اتنی روئی کی یہ مزدوری ہوگی اس کو دیکھنے کے بعد نداف کو اختیار نہیں ہوگا ہاں اگر طے کرنے کے وقت اس کے پاس روئی ہی نہیں ہے تو اجارہ صحیح ہی نہ ہوا۔ یوہیں دھوبی سے تھان دھونے کے لیے طے کیا اور تھان اس کے پاس نہیں ہے تو اجارہ جائز نہیں ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: اجارہ میں مستاجر کو خیار عیب بھی ہوتا ہے جس طرح بیع میں مشتری (8)کو خیار عیب ہوتا ہے مگر بیع میں اگر قبضہ کے بعد عیب ظاہر ہوا تو جب تک بائع(9)راضی نہ ہو یا قاضی حکم نہ دیدے مشتری واپس نہیں کرسکتا اور قبضہ سے قبل تنہا مشتری واپس کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور اجارہ میں قبل قبضہ اور بعد قبضہ دونوں صورتوں میں مستاجر واپس کرنے کا اختیار رکھتا ہے نہ مالک کی رضا مندی کی ضرورت ہے نہ قاضی کے حکم کی ضرورت۔(10) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: مکان کرایہ پر لیا اور اُس میں کوئی عیب ہے جو سکونت کے لیے ضرررساں ہے مثلاً اُس کی کوئی کڑی(11)ٹوٹی ہوئی ہے یا عمارت کمزور ہے تو واپس کرسکتا ہے۔ یوہیں اگر قبضہ کرنے کے بعد اس قسم کا عیب پیدا ہوگیا تو اجارہ فسخ کرسکتا ہے۔ (12)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: مستاجر نے باوجود عیب کے اُس چیز سے نفع اُٹھایا توپوری اُجرت دینی ہوگی یہ نہیں ہوسکتا کہ نقصان کے مقابل میں کچھ اُجرت کم کرے اور اگر مالک نے چیز میں جو کچھ نقصان تھا اُسے زائل کردیا مثلاً مکان ٹوٹا پھوٹا تھا ٹھیک کرادیا
1 ۔ختم۔ 2 ۔گرگیا۔ 3 ۔رہنے کے لیے نقصان دہ ہے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ، الباب الخامس فی الخیار...إلخ،ج۴،ص۴۱۹.
5 ۔دھننے۔ 6 ۔روئی دھننے والا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ، الباب الخامس فی الخیار...إلخ،ج۴،ص۴۲۰.
8 ۔خریدار۔ 9 ۔بیچنے والا۔
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ، الباب الخامس فی الخیار...إلخ،ج۴،ص۴۲۰.
11 ۔شہتیر۔
12 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ، الباب الخامس فی الخیار...إلخ،ج۴،ص۴۲۰.
تواب مستاجر کو فسخ کرنے کااختیار نہ رہا۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۹: بیل کرایہ پرلیا تھاکہ اس سے روزانہ اتنا کھیت جوتا جائے گا یا چکی میں اتنا آٹا پیسا جائے گا اب دیکھا تو اُس بیل سے اتنا کام نہیں ہوسکتا مستاجر کو اختیار ہے کہ اُسے رکھے یا واپس کردے اگر رکھے گا تو پوری اُجرت دینی ہوگی واپس کریگاجب بھی اُس دن کا کرایہ پورا دینا ہوگا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: چند قطعات زمین (3)ایک عقد سے اجارہ پرلیے اور بعض کو دیکھا نا پسند آیا سب کا اجارہ فسخ کرسکتا ہے کیونکہ یہاں ایک ہی عقد ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: جس اجارہ میں مستاجر کو اپنی کوئی چیز بغیر عوض ہلاک کرناہوتا ہے بغیر عذر بھی مستاجر کو ایسا اجارہ فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً کتابت یعنی لکھنے پر اجارہ کیا تو لکھوانے والے کو کاغذ اور کاتب کو روشنائی خرچ کرنی ہوگی یا زراعت کے لیے زمین کو اجارہ پر لیاہے کھیت بونے میں غلہ زمین میں ڈالنا ہوگا۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: جس غرض کے لیے اجارہ ہوااگر وہ غرض ہی باقی نہ رہی یا شرعاً ایسا عذر پید ا ہوگیا کہ عقد اجارہ پر عمل نہ ہوسکے توان صورتوں میں اجارہ بغیر فسخ کیے خود ہی فسخ ہو جائے گا مثلاًکسی عضو میں زخم ہے جو سرایت کررہا ہے اندیشہ ہے کہ اگر اس عضو کو نہ کاٹا گیا تو زیادہ خرابی پید ا ہوجائے گی یا دانت میں درد تھااور جراح (6)یا ڈاکٹر سے عضو کاٹنے یا دانت اوکھاڑنے کے لیے اجارہ کیا مگر اس کے عمل سے قبل زخم اچھا ہوگیا اور دانت کا درد جاتا رہا اجارہ فسخ ہوگیا کہ یہاں شرعاًعمل ناجائز ہے کیونکہ بلاوجہ عضو کا ٹنا یا دانت اوکھاڑنا درست نہیں۔ یاکسی نے اپنے مدیون کی تلاش کرنے کے لیے جانور کرایہ پر لیا اُس کو خبر ملی تھی کہ وہ فلاں جگہ ہے یا کوئی لڑکا یاجانور بھاگ گیا ہے اُس کو تلاش کرنے کے لیے سواری کرایہ کی اور جانے سے پہلے مدیون یا و ہ بھاگا ہوا خود ہی آگیا اجارہ فسخ ہوگیا کہ اب وہاں جانے کا سبب ہی باقی نہ رہا۔ یا اس کو گمان ہواکہ مکان کی عمارت کمزور ہوگئی ہے کہیں گرنہ پڑے کسی شخص کو گرانے کے لیے اجیر کیا پھر معلوم ہواکہ عمار ت میں کوئی خرابی نہیں ہے اجارہ فسخ ہوگیا۔
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات، باب فسخ الإجارۃ ،ج۲،ص۲۴۶،۲۴۷.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ، الباب الخامس فی الخیار...إلخ،ج۴،ص۴۲۱ .
3 ۔زمین کے چند ٹکرے۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ،ج۹،ص۱۳۰.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ، الباب التاسع عشر فی فسخ الإجارۃ...إلخ،ج۴،ص۴۵۸.
6 ۔زخموں کا علاج کرنے والا۔
یادعوت ولیمہ کے لیے باور چی کو کھانا پکانے کے لیے مقرر کیا اور دولہن کا انتقال ہوگیا اجارہ فسخ ہوگیا کہ ان صورتوں میں وہ غرض ہی باقی نہ رہی جس کے لیے اجارہ کیا تھا۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۱۳: جس عقد اجارہ پر عمل کرناشرع کے خلاف نہ ہو مگر اجارہ باقی رکھنے میں کچھ نقصان پہنچے گاتووہ خود بخودفسخ نہیں ہوگا بلکہ فسخ کرنے سے فسخ ہوگا پھراس میں دوصورتیں ہیں کہیں تو عذر ظاہر ہوگااور کہیں مشتبہ حالت ہوگی اگر عذربالکل ظاہر ہے جب تو وہ صاحب عذر خودہی فسخ کرسکتا ہے اور مشتبہ حالت ہوتو رضا مندی یا حکم قاضی سے فسخ ہوگا۔ (2)(ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: عیب کی وجہ سے اُسی وقت اجارہ کو فسخ کیا جاسکتا ہے جب منفعت فوت ہوتی ہو مثلاًمکان منہدم ہوگیا پن چکی کا پانی ختم ہوگیا کھیت کے لیے پانی نہ رہا کہ زراعت ہوسکے اور اگر ایسا عیب ہے کہ بلامضرت(3)منفعت حاصل کی جاسکتی ہو تو فسخ کرنے کے لیے یہ عذر نہیں مثلاًخدمت گار کی ایک آنکھ جاتی رہی یا اُس کے بال گرگئے یا مکان کی ایک دیوار گرگئی مگر سکونت کے لیے یہ مضر نہیں۔(4) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: تھوڑا سا پانی ہے کہ تمام کھیتوں کی آب پاشی نہیں کرسکتا مزارع (5)کو اختیار ہے اگر چاہے کل کااجارہ فسخ کردے اور نہیں فسخ کیا تو اُس پانی سے جتنے کھیت کی آبپاشی کرسکتا ہے اُن کالگان(6)واجب ہے باقی کا نہیں۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: پن چکی کا پانی بند ہوگیا اور وہ پن چکی والا مکان سکونت کے قابل بھی ہے جس میں کرایہ دار کی سکونت رہی اور عقد اجارہ میں سکونت بھی داخل تھی تو اگرچہ چکی کا کرایہ نہیں دینا ہوگا مگر سکونت کا کرایہ دینا ہوگا یعنی کرایہ کا جتنا حصہ سکونت کے مقابل ہے وہ دینا ہوگا۔(8) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الإجارات ، فصل فیما ینقص بہ الإجارۃ...إلخ،ج۲،ص۳۸.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ، الباب التاسع عشر فی فسخ الإجارۃ...إلخ،ج۴،ص۴۵۸.
و''رد المحتار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ،ج۹،ص۱۳۶.
3 ۔یعنی نقصان و تکلیف کے بغیر۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ،ج۹،ص۱۳۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ، الباب التاسع عشر فی فسخ الإجارۃ...إلخ،ج۴،ص۴۵۸.
5 ۔کاشتکار۔ 6 ۔خراج،ٹھیکہ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ،ج۹،ص۱۳۱.
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ،ج۹،ص۱۳۳.
مسئلہ ۱۷: مکان کی مرمت، اُس کی چھت پر مٹی ڈلوانا، کھپر یل چھوانا(1)، پرنالہ درست کرانا، زینہ درست کرانا، روشن دان میں شیشہ لگانا اور مکان کے متعلق ہر وہ چیز جو سکونت کے لیے مُخِل(2)ہو ٹھیک کرنا مالک مکان کے ذمہ ہے اگر مالک مکان ٹھیک نہ کرائے تو کرایہ دار مکان چھوڑ سکتا ہے ہاں اگربوقت اجارہ مکان اسی حالت میں تھا اور دیکھ بھال کر کرایہ پرلیا تو فسخ نہیں کرسکتا کہ کرایہ دار ان عیوب پرراضی ہوگیا۔(3) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: کرایہ کے مکان میں کوآں ہے اُس میں سے مٹی نکلوانے کی ضرورت ہے مٹی پٹ جانے کی وجہ سے(4)پانی نہیں دیتا یامرمت کرانے کی ضرورت ہے یہ بھی مالک کے ذمہ ہے مگر مالک کوان کاموں پرمجبور نہیں کیاجاسکتا اور اگر کرایہ دارنے ان کاموں کو خود کرلیا تو مُتَبَرِّع ہے مالک سے معاوضہ نہیں لے سکتا نہ کرایہ سے یہ مصارف وضع کرسکتا ہے یہ البتہ ہے کہ اگر مکان والا ان کاموں کو نہ کرے تویہ مکان چھوڑ سکتا ہے۔ چہ بچہ(5)یا نالیوں کو صاف کرانا کرایہ دار کے ذمہ ہے۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: کرایہ دارنے مکان خالی کردیا دیکھاگیا تو مکان میں مٹی،خاک ،دھول، راکھ، پڑی ہوئی ہے ان کو اوٹھوانا اور صاف کراناکرایہ دار کے ذمہ ہے اور چہ بچہ پٹا پڑا (7)ہے تو اس کو خالی کرانا کرایہ دار کے ذمہ نہیں۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: دومکان ایک عقد میں کرایہ پر لیے تھے ان میں سے ایک گرگیا کرایہ دار دوسرے کو بھی چھوڑ سکتا ہے۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: مالک مکان کے ذمہ دَین (10)ہے جس کا ثبوت گواہوں سے ہویا خود اُس کے اقرار سے اور اُ سکے پاس اس مکان کے سوا کوئی دوسرا مال نہیں جس سے دَین ادا کیا جائے تو اجارہ فسخ کرکے اس مکان کو بیچ کردَین ادا کیا جائے گا۔ یوہیں اگرمالکِ مکان مفلس ہوگیا اُس کے لیے اور بال بچوں کے لیے کچھ کھانے کو نہیں ہے اس مکان کو بیچ سکتا ہے قاضی اس بیع کے
1 ۔کھپریلوں سے چھت بنوانا۔ 2 ۔رہائش کے لیے پریشانی کا باعث۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ،ج۹،ص۱۳۴.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ، الباب السابع عشر فیما یجب علی المستأجر...إلخ،ج۴، ص۴۵۸.
4 ۔یعنی مٹی ،گردوغبار وغیرہ سے بھر جانے کی وجہ سے ۔ 5 ۔گڑھایا چھوٹاحوض جس میں پانی جمع کیاجائے ۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ،ج۹،ص۱۳۴.
7 ۔یعنی مٹی ،گردوغبار وغیرہ سے بھراہوا۔
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ،ج۹،ص۱۳۴.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ،ج۹،ص۱۳۵.
10 ۔قرض۔
نفاذ کا حکم دے گا اُسی کے ضمن میں اجارہ بھی فسخ ہو جائے گا اس کے لیے دوسرے حکم کی ضرورت نہیں ہے۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: مالک مکان پیشگی کرایہ لے چکا ہے اور وہ اتنا ہے کہ مکان کی قیمت کومستغرق(2)ہے تواگرچہ اُس کے ذمہ دیون ہوں ان کے ادا کرنے کے لیے مکان نہیں بیچا جائے گا اور اجارہ فسخ نہیں کیا جائے گا۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: دکاندار مفلس ہوگیا کہ تجارت نہیں کرسکتا دکان کا اجارہ فسخ کرنے کے لیے یہ عذر ہے کہ دکان کو کرایہ پر رکھ کر اب کیا کریگا۔ اسی طرح جو درزی اپنا کپڑا سی کر بیچتا ہے جیسا کہ شہروں میں اس قسم کے درزی بھی ہیں جو صدری (4)وغیرہ سی کربیچا کرتے ہیں اس کا مفلس ہوجانا بھی دکان کا اجارہ فسخ کرنے کے لیے عذر ہے اور جو درزی دکان پر دوسروں کے کپڑے سیتے ہیں اُن کے لیے سوئی اور قینچی کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں ان کا مفلس ہوجانا فسخ اجارہ کے لیے عذر نہیں ہے ہاں اگر لوگوں میں اس کی خیانت مشہور ہوگئی ہو اور کپڑے دینے سے لوگ گریز کرتے ہوں کہ اگر ہضم کرگیا تو اس کے پاس مال بھی نہیں ہے جس سے تاوان وصول کریں تو اب دکان چھوڑنے کے لیے عذر ہوگیا۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: جس بازار میں دکان ہے وہ بازار بند ہوگیا کہ وہاں اب تجارت ہی نہیں ہوسکتی یہ بھی دکان چھوڑنے کے لیے عذر ہے اور اگر بازار چالو ہے مگر یہ دکاندار دوسری دکان میں منتقل ہونا چاہتا ہے جو اس سے زیادہ کُشادہ ہے یا اُس کاکرایہ کم ہے اور اُس دکان میں بھی یہی کام کریگا جو یہاں کررہا ہے تو دکان نہیں چھوڑ سکتا اور اگر دوسرا کام کرنا چاہتا ہے اس لیے اس کو چھوڑ کر دوسری دکان میں جانا چاہتا ہے اور یہ کام پہلی دکان میں نہیں ہوسکتا توعذر ہے اور پہلی میں بھی ہوسکتا ہے توعذر نہیں۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: نہ دکاندار مفلس ہوا نہ بازار بند ہوا بلکہ وہ اب یہ کام کرناہی نہیں چاہتا کہ دکان کی ضرورت ہو یہ بھی دکان چھوڑنے کے لیے عذر ہے۔(7) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب فسخ الإجارۃ،مطلب: فسق المستأجر...إلخ،ج۹،ص۱۳۷.
2 ۔گھیرے ہوئے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ، ج۹،ص۱۳۷.
4 ۔واسکٹ وغیرہ۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ،مطلب: فسق المستأجر...إلخ،ج۹،ص۱۳۷.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ، مطلب: فسق المستأجر...إلخ،ج۹،ص۱۳۸.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ، مطلب: فسق المستأجر...إلخ،ج۹،ص۱۳۸۔۱۳۹.
مسئلہ ۲۶: کرایہ دار اب دوسرے شہرمیں جانا چاہتا ہے یہاں کی سکونت (1)ترک کرنا چاہتا ہے جیسا کہ اکثر ملازمت پیشہ کو پیش آتا ہے کہ کبھی ایک شہر میں رہے پھردوسرے شہر کو چلے گئے یہ فسخ اجارہ کے لیے عذرہے اور مالک مکان اگر پردیس جانا چاہتا ہے تو اس کی جانب سے اجارہ کو فسخ نہیں کیا جاسکتا کہ اُس کی جانب سے یہ عذر نہیں ہے۔ اور اگر مالک مکان یہ کہتا ہے کہ کرایہ دارنے مکان چھوڑنے کا یہ حیلہ تراشا ہے وہ پردیس نہیں جانا چاہتا تو کرایہ دار پر یہ قسم دی جائے گی کہ اُس نے سفر میں جانے کامستحکم ارادہ کرلیا ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: جن دوشخصو ں نے عقد اجارہ کیا اُن میں ایک کی موت سے اجارہ فسخ ہوجاتا ہے جبکہ اُس نے اپنے لیے اجارہ کیااوراگر دوسرے کے لیے اجارہ کیا مثلاً وکیل کہ یہ موکل کے لیے اجارہ کرتا ہے اور وصی(3)کہ یہ یتیم کے لیے یا متولیِ وقف ان کی موت سے اجارہ فسخ نہیں ہوتا۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۸: مکہ معظمہ یا مدینہ طیبہ یا کسی دوسری جگہ کرایہ کے جانور پر جارہا ہے اور سواری کامالک مرگیااگر اجارہ کے فسخ کا حکم دیا جائے تو یہ شخص بیابان اور جنگل میں کیوں کر سفر قطع کریگا(5)اور وہاں قاضی یاحاکم بھی نہیں کہ وہ میت کا قائم مقام ہوکر اجارہ کا حکم دے تو جب تک ایسے مقام پرنہ پہنچ جائے جہاں قاضی وغیرہ ہوں اس وقت تک اجارہ باقی رہے گا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۲۹: عاقدین کے مجنوں ہو جانے سے اجارہ فسخ نہیں ہوتا اگرچہ جنون مطبق ہو۔ یوہیں مرتد ہونے سے فسخ نہیں ہوتا۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: جس چیز کو اجارہ پر لیا تھا مستاجر اُس کامالک ہوگیا اجارہ جاتا رہا مثلاًمالک نے اسے چیز ہبہ کردی یا اس نے خریدلی یا کسی طرح اس کی ملک میں آگئی۔ (8)(ردالمحتار)
1 ۔رہائش۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ ،باب فسخ الإجارۃ،ج۹، ص۱۳۹.
3 ۔مرنے والا جس شخص کو اپنی وصیت پوری کرنے کے لیے مقررکرے۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات،باب فسخ الإجارۃ،ج۲،ص۲۴۷.
5 ۔طے کرے گا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،باب فسخ الإجارۃ،ج۹،ص۱۴۰،۱۴۱.
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،باب فسخ الإجارۃ، مطلب :ارادۃ السفر...إلخ،ج۹،ص۱۴۰.
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ، مطلب:ارادۃ السفر...إلخ،ج۹،ص۱۴۱.
مسئلہ ۳۱: مالک کے مرنے کے بعد کرایہ دار مکان میں رہتا رہا تو جب تک وارث مکان خالی کرنے کے لیے نہ کہے گایادوسری اُجرت کا مطالبہ نہ کریگا اجارہ کافسخ ہونا ظاہر نہ ہوگا اگر وارث نے خالی کرنے کو کہا معلوم ہوا کہ اُس عقد پر راضی نہیں ہے اور اگر دوسری اُجرت طلب کی جب بھی معلوم ہوا کہ عقد سابق کے حکم کو توڑنا چاہتا ہے اور جدیدعقد کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا وارث کے کہنے سے پہلے یاخالی کرنے کو جو کہا ہے اس سے پہلے جتنے دن رہا اُسی حساب سے اُجرت دے گا جو مورث سے طے ہوئی اور اس کہنے کے بعد جتنے دن رہے گا اُس کی اُجرت مثل واجب ہوگی۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: مالک زمین مرگیا اور کھیت ابھی طیارنہیں ہے تو وہی اُجرت دی جائے گی جو طے پاچکی ہے اور اگر مدت اجارہ ختم ہوچکی اور فصل طیارنہیں ہوئی تو جب تک کھیت نہ کٹے گا اُس وقت تک کی اُجرت مثل دلائی جائے گی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: مالک کے مرنے کے بعد وارث اور مستاجر اجارہ سابقہ کے باقی رہنے پر راضی ہو جائیں یہ جائز ہے یعنی تعاطی کے طور پر ان کے مابین اُسی اُجرت سابقہ پر جدید اجارہ قرار پائے گا یہ نہیں کہ وہی پہلا اجارہ باقی رہے کیونکہ وہ تو مالک کے مرنے سے ختم ہوگیا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۳۴: دوموجر ہیں یا دومستاجر، ان میں سے ایک مرگیا تو جو مرگیا اُس کے حصہ کا اجارہ فسخ ہے اور جو زندہ ہے اُس کے حصہ میں اجارہ باقی ہے اور اگرچہ یہاں شیوع پیدا ہوگیا مگر چونکہ طاری ہے اجارہ کے لیے مضر نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۵: آج کل بعض لوگ دوامی اجارہ کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اجارہ موجرو مستاجر کے ورثہ میں منتقل ہوتارہے گا موت سے بھی وہ فسخ نہ ہوگا یہ اجارہ فاسد ہے اسی طرح اجارہ میں ایسے شرائط ذکر کیے جاتے ہیں جو مقتضائے عقد (5)کے مخالف ہوتے ہیں وہ اجارے فاسد ہیں۔
مسئلہ ۳۶: اس زمانہ میں ایک صورت اجارہ کی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ اجارہ کاایک معتدبہ زمانہ (6) گزر نے کے بعدمستاجر اُس چیز پر زبردستی قابض ہوجاتا ہے کہ مالک چاہے بھی تو تخلیہ نہیں کراسکتا(7)۔ اس کی مثال کا شتکاری کی زمین ہے کہ مالک زمین یعنی زمیندار کاشتکار سے اپنی زمین کو واپس نہیں لے سکتانہ کسی کے مرنے سے یہ اجارہ فسخ ہوتاہے(8)بلکہ اس
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ، مطلب:ارادۃ السفر...إلخ،ج۹،ص۱۴۲.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ، باب فسخ الإجارۃ، ج۹،ص۱۴۳.
3 ۔المرجع السابق،ص۱۴۳. 4 ۔المرجع السابق،ص۱۴۷
5 ۔ تقاضہ عقد۔ 6 ۔ اک عرصہ دراز۔
7 ۔یعنی قبضہ نہیں چھڑا سکتا۔ 8 ۔ختم ہوجاتاہے۔
اجارہ میں میراث جاری ہوتی ہے۔ یہ شرع کے خلاف ہے۔
مسئلہ ۳۷: اجارہ کرلینے کے بعد دوسراشخص بہت زیادہ اُجرت دینے کو کہتا ہے یا مستاجر سے دوسر اشخص کم اُجرت پر چیز دینے کو کہتا ہے اجارہ فسخ کرنے کے لیے یہ عذر نہیں اگرچہ وہ بہت زیادہ دیتا ہو یا یہ بہت کم اُجرت مانگتا ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: سواری کا جانور کرایہ کیا تھا اس کے بعد خودایک جانورخریدلیا یہ عذر ہے اور اجارہ فسخ کیا جاسکتا ہے اور اگر اُس سے بہتر سواری کرایہ پرلینا چاہتا ہے یہ فسخ کے لیے عذر نہیں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: کاشتکار نے زراعت کے واسطے کھیت لیے تھے اور بیمار ہوگیا کہ کھیتی نہیں کرسکتا اگر وہ خود اپنے ہاتھ سے کاشت کرتا ہے تو بیماری فسخ اجارہ کے لیے عذر ہے اور اگر اپنے ہاتھ سے نہیں کرتا تو عذر نہیں۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: ایک شخص جوکام کرتا ہے اُسی کام کے لیے کسی سے اجارہ کیا کہ میں تمھارایہ کام کروں گا اب وہ شخص اس کام کو بالکل چھوڑدینا چاہتا ہے اور دوسرا کام اختیار کرناچاہتا ہے فسخ اجارہ کے لیے یہ عذر نہیں ہاں اگر وہ کام ایسا ہوجو اس کے لیے معیو ب سمجھا جاتا ہے مثلاًایک عزت دار شخص نے خدمت گاری کی نوکری کی اور اب اس کام ہی کو چھوڑنا چاہتا ہے تویہ عذر ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: موچی کو جوتے بنانے کے لیے اپنے پاس سے چمڑادیا اور اُس کی پیمائش دیدی اور یہ بتادیا کہ کیسا ہوگا اور کہہ دیا کہ استر اور تلا اپنے پاس سے لگادینا اور اُجرت بھی طے ہوگئی یہ جائز ہے۔ اور درزی کو ابرے کا کپڑادیدیا اور کہہ دیا کہ اپنے پاس سے استر وغیرہ لگادینا اس میں دوروایتیں ہیں ایک یہ کہ جائز ہے دوسری یہ کہ ناجائز ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: کبھی بعض لوگ اجیر(6)سے یوں کام کراتے ہیں کہ تم یہ کام کرو اس کی اُجرت جو کچھ دوسرے لوگ بتادیں گے میں دیدوں گا یا فلاں کے یہاں جو اُجرت ملی ہے میں دیدوں گا یہ اجارے فاسد ہیں کہ اُجرت کا تعین نہیں ہوا پھر اگر کسی شخص نے دونوں کے اتفاق سے اُسکی مزدوری جانچ کر بتائی جس پر اجیر راضی نہیں ہے تو اُجرت مثل دی جائے۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ، الباب التاسع عشر فی فسخ الإجارۃ ...إلخ،ج۴،ص۴۵۹ .
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص۴۶۰.
4 ۔المرجع السابق،ص۴۶۱. 5 ۔المرجع السابق،الباب الحادی والثلاثون فی الاستصناع...إلخ،ج۴،ص۵۱۹.
6 ۔مزدور۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ ،الباب الحادی والثلاثون فی الاستصناع...إلخ،ج۴،ص۵۲۰.
مسئلہ ۳: زمینِ اجارہ میں سینٹھے وغیرہ ایسی چیزیں تھیں جن کو کاٹنے کے بعد جڑیں جو باقی رہ گئی ہیں اُن میں آگ دیدی جاتی ہے اس نے آگ دیدی اور اس سے دوسرے لوگوں کا نقصان ہوا مثلاً آگ اُڑ کر کسی کے کھیت میں گئی اور اُس کا کھیت جل گیا اگر اُس وقت ہوا چل رہی تھی تو آگ دینے والے پر تاوان ہے اور اگر ہوا نہیں تھی اُس وقت اس نے آگ دی بعد میں ہوا چل گئی اور دوسرے کی چیز کو نقصان پہنچاتو اس پر تاوان نہیں۔ عاریت کی زمین کا بھی یہی حکم ہے۔(1) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۴: شبِ برا ت میں یا دوسرے موقع پر بعض لوگ مرے چھچوندر(2)یااور قسم کی آتش بازیاں چھوڑتے ہیں یہ فعل حرام اور صرف بیجا (3)ہے اس سے کبھی کبھی یہ نقصان بھی پہنچ جاتا ہے کہ چھپروں میں آگ لگ جاتی ہے یاکسی کے کپڑے جل جاتے ہیں بلکہ کبھی جانیں بھی تلف (4)ہوجاتی ہیں اس شخص پر تاوان لازم ہوگا کہ جب وہ آتشبازی اُڑنے والی ہے اور اس نے چھوڑی تو ویسا ہی ہے جیسا ہوا چلنے کے وقت کسی نے آگ دی۔
مسئلہ ۵: اگر آگ اُڑ کر اتنی دور پہنچی کہ اُتنی دور عادۃً اُڑ کر نہیں پہنچتی اور نقصان ہوا تو تاوان نہیں ہے۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: راستہ میں آگ کا انگارا ڈال دیا یا ایسی جگہ ڈالا کہ وہاں ڈالنے کا اس کو حق نہ تھا اور نقصان ہوا تو تاوان ہے مگر جبکہ وہاں رکھنے سے نقصان نہیں ہوا بلکہ ہوا اُڑا لے گئی اور کسی کو نقصان پہنچا تو تاوان نہیں۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۷: لوہار نے بھٹی سے لوہا نکال کر کوٹا اس کے کوٹنے سے چنگاری اُڑی اور راہ گیر(7)کاکپڑا جل گیا لوہار کو ضمان دینا ہوگااور اس چنگاری سے کسی کی آنکھ پھوٹ گئی دیت واجب ہوگی اور اگر اس نے لوہا نکال کر رکھا تھا، ہوا سے چنگاری اُڑی اور کسی چیز کو جلایا تو تاوان نہیں۔(8) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات، مسائل منثورۃ،ج۲،ص۲۴۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،مسائل شتّی،ج۹،ص۱۴۷.
2 ۔ایک وضع کی آتش بازی جو بہت تیز بارود سے بنائی جاتی ہے قلم کی شکل کی ہوتی ہے ۔
3 ۔فضول خرچی ۔ 4 ۔ضائع۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،مسائل شتّی،ج۹،ص۱۴۹ .
6 ۔''الدر المختار''، کتاب الإجارۃ، مسائل شتی،ج۹،ص ۱۴۹.
7 ۔راہ چلتا شخص۔
8 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، مسائل شتّی،ج۹،ص ۱۵۰ .
مسئلہ ۸: اپنے کھیت میں پانی بہت زیادہ دیا کہ زمین برداشت نہ کرسکی وہ دوسرے کے کھیت میں پہنچا اور اُس کا نقصان ہوگیا تاوان دیناہوگا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۹: درزی یا اور کسی کام کرنے والے نے اپنی دکان پر دوسرے کو بٹھالیا کہ جو کچھ کا م میرے پاس آئے وہ تم کرو اور اُجرت کو دونوں نصف نصف لے لیں گے یہ جائز ہے۔ (2)(ہدایہ)یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس کو بٹھایا ہے وہ ایک کام کرتا ہے اور خودیہ دوسرا کام کرتا ہے مثلاًرنگریز(3)نے اپنی دکان پر درزی کو بٹھا لیا۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: جَمال(شتر بان)سے مکہ معظمہ یا کہیں جانے کے لیے اونٹ کرایہ کیا کہ اُس پر محمل(5)رکھا جائے گا اور دوشخص بیٹھیں گے یہ اجارہ جائز ہے ایسامحمل اونٹ پر رکھا جائے گا جو وہاں کا عرف(6)ہے اور اگر اجارہ کرتے وقت ہی اُسے محمل دکھادیا جائے تو بہتر ہے۔ یہ بات جمال کے ذمہ ہے کہ محمل کو اونٹ پر لادے اوراوتارے۔ اونٹ کو ہانکے یا نکیل پکڑکرلے چلے۔ پاخانہ پیشاب یا وضو اور نمازِ فرض کے لیے سوار کو اوتروائے۔ عورت اور مریض اور بوڑھے کے لیے اونٹ کو بٹھائے۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: توشہ وغیرہ سامان سفر کے لیے اونٹ کرایہ کیااور راستہ میں سامان خرچ کیا تو جتنا خرچ کیا ہے اُتنا ہی دوسرا سامان اُسی قسم کا اس پر رکھ سکتا ہے۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: غاصب سے کہہ دیا کہ میرا مکان خالی کردے ورنہ اتنے روپے ماہوار اس کی اُجرت دینی ہوگی اگر اُس نے خالی نہ کیا تو اس اُجرت کا مطالبہ ہوسکتا ہے کہ اُس کا سکوت کرنا(9)اجارہ کو قبول کرلیناہے مگر جبکہ غاصب نے اُس کے جواب میں یہ کہہ دیا کہ یہ مکان تمھارا نہیں ہے یامِلک کا اقرار کیامگر اُجرت دینے سے انکار کردیا تو اُجرت واجب نہیں ہوگی ہاں اگر وہ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،مسائل شتّی،ج۹،ص ۱۵۰.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الإجارات،مسائل منثورۃ،ج۲،ص۲۴۹.
3 ۔کپڑے رنگنے والا۔
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الإجارۃ،مسائل شتی،ج۹،ص۱۵۰.
5 ۔ایک قسم کی ڈولی جو اونٹ پر باندھتے ہیں۔ 6 ۔رواج۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،مسائل شتی،ج۹،ص۱۵۱.
8 ۔المرجع السابق، ص۱۵۲.
9 ۔خاموش رہنا۔
مکان وقف ہے یا یتیم کا ہے یا کرایہ ہی پر دینے کے لیے ہے تو غاصب(1)اگرچہ اُجرت دینے سے انکار کرے اُسے کرایہ دینا ہوگا۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: زمین جو کاشتکار کے پاس ہے اور اُسے نہیں چھوڑتا اور مالک یہ چاہتا ہے کہ اگر یہ چھوڑدے تو میں دوسرے کوزیادہ لگان(3)پر دیدوں مالک اُس سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر تو نے نہیں خالی کی تو اتنا لگان لوں گا اس صورت میں یہ اضافہ اس کے لیے جائز ہو جائے گا
مسئلہ ۱۴: کام کرنے والے نے کہہ دیا کہ اس اُجرت پر میں کام نہیں کروں گا میں تو اتنا لوں گا اور کام کرانے والا خاموش رہا وہی اُجرت دینی ہوگی جو کاریگر نے بتائی۔ پھر اُجرت دینے کے وقت جب اجیر نے زیادہ کا مطالبہ کیااور یہ کہا کہ میں کہہ چکا تھا کہ میں اتنے پر نہیں کروں گا اور کام لینے والا کہتا ہے میں نے نہیں سنا تھا کہ تونے یہ کہا اگر یہ شخص بہرا ہے تو خیر ورنہ اُسی مزدور کی بات مقبول ہوگی۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: مستاجر کرایہ کی چیز دوسرے کو کرایہ پر دے سکتا ہے مثلاً ایک مکان کرایہ پر لیا اور دوسرے کو کرایہ پر دیدے یہ ہوسکتا ہے یازمین زراعت کے لیے لگان پر لی دوسرے کاشتکار کو لگان پر دیدے یہ ہوسکتا ہے جیسا کہ اکثر بڑے شہروں میں ایک شخص پورامکان کرایہ پر لے کر دوسرے لوگوں کو ایک ایک حصہ کرایہ پر دیتا ہے یا دیہات میں کاشتکار زمین دوسروں کو دیا کرتے ہیں۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: مستاجر خودمالک کو وہ چیز کرایہ پر دے یہ جائز نہیں اگرچہ بالواسطہ ہو مثلاًزیدنے اپنا مکان عَمْرْو کو کرایہ پر دیا عمرو نے بکر کو دیابکر یہ چاہے کہ زید کو کرایہ پر دیدوں یہ نہیں ہوسکتا رہا یہ کہ مالک کو کرایہ پر دینے سے وہ پہلا اجارہ جو مالک اور مستاجر کے مابین ہے باقی رہے گا یافسخ ہو جائے گافتویٰ اس پر ہے کہ وہ اجارہ بدستور باقی رہے گا فسخ نہیں ہوگا مگر وہ چیز جتنے زمانہ تک اس صورت میں مالک کے پاس رہے گی اِس مدت کا کرایہ مستاجر کے ذمہ واجب نہیں ہوگا۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: ایک شخص نے دوسرے کو اجارہ پر لینے کے لیے وکیل کیا وکیل نے اجارہ کیا اور مالک نے وہ مکان وکیل کو
1 ۔غصب کرنے والا۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ، مسائل شتّی، ج۹، ص۱۵۲.
3 ۔خراج،ٹھیکے پر۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹، مسائل شتّی، ص۱۵۲.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،مسائل شتّی،مطلب: فی إجارۃ المستاجرللمؤجر...إلخ،ج۹،ص۱۵۳.
سپرد کردیا مگر وکیل نے ایک مدت تک موکل کو نہیں دیا اور موکل نے وکیل سے مانگا بھی نہیں تو مالک مکان وکیل سے کرایہ وصول کریگا کیونکہ عقد کے حقوق وکیل ہی کے ذمہ ہوتے ہیں اور وکیل موکل سے وصول کریگا کیونکہ وکیل کا قبضہ موکل ہی کا قبضہ ہے اور اگر موکل نے وکیل سے طلب کیا وکیل نے کہا کہ پیشگی اُجرت دے دو تو مکان پر قبضہ دوں گا اور موکل نے نہ اُجرت دی نہ وکیل نے قبضہ دیا تو اس صورت میں وکیل نے کرایہ جو دیا ہے موکل سے وصول نہیں کرسکتا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: مفتی فتویٰ لکھنے کی یعنی تحریر و کتابت کی اُجرت لے سکتاہے نفس فتویٰ کی اُجرت نہیں لے سکتا اس کا مطلب یہ ہے کہ کاغذ پراُتنی عبارت کسی دوسرے سے لکھواؤ تو جو کچھ اس کی اُجرت عرفاًدی جاتی ہے وہ مفتی بھی لے سکتا ہے کیونکہ مفتی کے ذمہ زبانی جواب دینا واجب ہے لکھ کر دینا واجب نہیں مگر اُجرتِ تحریر لینے سے بھی اگر مفتی پرہیز کرے تویہی بہتر کہ خواہ مخواہ لوگوں کو چہ میگوئی (2)کرنے کا موقع ملے گا۔(3) (درمختار)لو گ یہ کہیں گے کہ فتوے کی اُجرت لی اور فلاں شخص روپیہ لے کر فتوے دیتا ہے وغیرہ وغیرہ اس سے نظر عوام میں فتوے کی بے وقعتی ہوتی ہے اور مفتی کی بھی بے عزتی ہے اور علماء کو خصوصیت کے ساتھ ایسی باتوں سے احتراز کرنا چاہیے خصوصاً اس زمانہ میں کہ جاہل مولویوں نے اس قسم کے رکیک(4)افعال کرکے علماء کو بدنام کررکھا ہے ان کے افعال کو علماء کے افعال قرار دیکر طبقہ علماء کو بدنام کیا جاتا ہے۔
مسئلہ ۱۹: اُجرت پر خط لکھوانا جائز ہے جبکہ کاغذ کی مقدار اور کتنا لکھا جائے گا یہ بیان کردیا ہو۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: مستاجر پریہ دعویٰ نہیں ہوسکتا کہ ہم نے یہ چیز خریدی ہے یا اجارہ پرلی ہے یا ہمارے پاس رہن(6) رکھی گئی ہے لہٰذا یہ چیز ہم کوملنی چاہیے کیونکہ مستاجر مالک نہیں ہے کہ اُس پر عین کا دعوےٰ ہوسکے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: اِجارہ یا فسخِ اِجارہ کی اضافت زمانہ مستقبل کی طرف ہوسکتی ہے کہہ سکتا ہے کہ آئندہ مہینہ کے شروع سے تم کو اجارہ پر دیا یا ختم ما ہ سے اجارہ فسخ کردیا۔(8) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،مسائل شتّی،ج۹،ص۱۵۴.
2 ۔نکتہ چینی،عیب جوئی۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،مسائل شتّی،ج۹،ص۱۵۵.
4 ۔گھٹیا۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،مسائل شتّی،ج۹،ص۱۵۵.
6 ۔گروی۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،مسائل شتّی،ج۹،ص۱۵۵.
8 ۔المرجع السابق،ص۱۵۶.
مسئلہ ۲۲: کرایہ پیشگی دیدیا ہے اور اجارہ فسخ کیا گیا تو مستاجر اُس چیز کو روک سکتا ہے جب تک اپنی کل رقم وصول نہ کرلے۔ اجارہ صحیح وفاسد دونوں کا یہی حکم ہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: کسی کی کوئی چیز گم ہوگئی اُس نے کسی سے کہا کہ اگر تم مجھے بتادو کہ کہاں ہے تو اتنا دوں گا اگر یہ شخص اُس کے ساتھ چل کر گیا اور بتا دیا تو اس کے وہاں تک جانے کی اُجرت مثل ملے گی اور اگر یہیں سے بتادیا کہ تمھاری چیز فلاں جگہ ہے اُس کے ساتھ گیا نہیں تو کچھ نہیں ملے گا اور اگر کسی خاص شخص سے نہیں کہا بلکہ عام طور پرکہاکہ جوکوئی مجھے بتادے اُس کو اتنا دوں گا یہ اجارہ باطل ہے بتانے والا کسی چیز کا مستحق نہیں ہے۔ اور اگر اُسے یہ معلوم ہے کہ میرا جانور یا میری چیز فلاں جگہ ہے مگر اُس جگہ کو نہیں پہچانتا اور اُس جگہ کے بتانے پر اُجرت مقرر کی تو اس صورت میں بتانے والے کو وہ اُجرت ملے گی جو مقرر کی ہے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: جو چیز اُجرت پر دی گئی جب اُس کے اجارہ کی مدت پوری ہو جائے تو مستاجر کے یہاں سے چیز واپس لانا مالک کے ذمہ ہے مستاجر کے ذمہ یہ نہیں کہ وہ چیز پہنچاجائے اور عاریت کے طور پر دی تو واپس کرنا مستعیرکا(3)کام ہے۔ چکی اُجرت پر ایک مہینہ کو آٹا پیسنے کے لیے لے گیا تو چکی کا مالک مستاجر کے گھر سے لائے گااور اگرمستاجر بیرون شہر مالک کی اجازت سے لے گیا جب بھی مالک ہی وہاں سے واپس لائے گا۔(4) (عالمگیری)جیسا کہ گاؤں والے گڑبنانے کے لیے شہر سے کڑھاؤ(5)اور کولو(6)کرایہ پر لے جاتے ہیں اور مالک سے کہہ دیتے ہیں کہ فلاں گاؤں میں ہم لے جائیں گے ان کی واپسی اور اُس کے مصارف(7)مالک کے ذمہ ہیں۔
مسئلہ ۲۵: گھوڑا سواری کے لیے کرایہ پر لیا اس کی واپسی بھی مالک کے ذمہ ہے اگر مالک اس کے یہاں سے نہیں لایا اور مستاجر کے یہاں ہلاک ہوگیا اُس کے ذمہ تاوان نہیں ہے اگرچہ مالک نے کہلا بھیجا ہو کہ اُسے واپس کرجاؤ۔ اور اگر کسی جگہ کی آمدورفت کے لیے کرایہ پرلیا ہے تو مستاجر کو یہاں تک لاناہوگا کیونکہ اُس کی مسافت یہاں پہنچنے پرپوری
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،مسائل شتّی،ج۹،ص۱۵۶.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإجارۃ،مسائل شتّی،مطلب:ضل لہ شيئٌ...إلخ ،ج۹،ص۱۵۹.
3 ۔عاریت پرلینے والے کا۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ، الباب الثالث عشر فی المسائل...إلخ،ج۴،ص۴۳۸.
5 ۔بڑی کڑاہی۔ 6 ۔تیل نکالنے یا گنا پیلنے کاآلہ۔ 7 ۔اخراجات۔
ہوگی اس صورت میں اگر مستاجراپنے گھرلے کرچلاگیا اور باندھ دیا جانور ہلاک ہوا توضمان دیناہوگا۔(1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: اجیر مشترک مثلاً درزی ،رنگریز ،دھو بی کا م کرنے کے بعد چیز کو دیجائیں کہ واپس کر جانا ان کے ذمہ ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: جانور کرایہ پرلیا ہے تو اُس کا دانہ، گھاس ،پانی پلانا مالک کے ذمہ ہے اور مستاجر نے اگر جانور کو کھلایا پلایا تومتبرع ہے معاوضہ نہیں پاسکتا۔ کھیت کی مینڈھ (3)درست کرانا مالک کے ذمہ ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: گھوڑا سواری کے لیے کرایہ پرلیا تھا راستہ میں وہ تھک گیا کسی شخص کے سپرد کردیا کہ اسے کھلاؤپلاؤ اگر اُس کو معلوم ہے کہ گھوڑا اس کا نہیں ہے تو جوکچھ خرچ کریگا متبرع ہے کسی سے نہیں لے سکتا اور اگر معلوم نہ ہوتو اس کہنے والے سے صرفہ(5)وصول کرسکتا ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: کسی کام پر اجارہ منعقد ہوا تو اُس کے توابع میں عرف (7)کا اعتبار ہے مثلاً درزی کو کپڑا سینے کو دیا توتاگا(8)سوئی درزی کے ذمہ ہے اور اگرعرف یہ ہے کہ جس کا کپڑا ہے وہ تاگا دے تو درزی کے ذمہ نہیں چنانچہ ہندوستان میں بھی بعض جگہ کا یہی عرف ہے اور اکثر جگہ پہلا عرف ہے۔ اینٹیں بنوائیں تومٹی مستاجر کے ذمہ ہے اور سانچا اجیر کے ذمہ اور بعض جگہ سانچا بھی مستاجر ہی دیتا ہے۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: کسی گاؤں یا محلہ یاشہر میں جانے کے لیے یکہ، تانگہ کرایہ پر لیا تو اُس کے ذمہ گھر تک پہنچانا ہے گاؤں یا محلہ یا شہرمیں پہنچادینے پرکام ختم نہیں ہوگا۔(10) (عالمگیری)لاری (11)میں یہ عرف ہے کہ اڈے پر جاکررک جاتی ہے اُس کے ذمہ مکان تک پہنچانا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ، الباب الثالث عشر فی المسائل...إلخ،ج۴،ص۴۳۸.
2 ۔المرجع السابق .
3 ۔وہ دیوار یا بند جس سے کھیت کے اندر پانی روکتے ہیں،نیز باڑ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب السابع عشر فیمایجب علی المستأجر...إلخ،ج۴،ص۴۵۵.
5 ۔خرچہ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب السابع عشر فیمایجب علی المستأجر...إلخ،ج۴،ص۴۵۵.
7 ۔رواج۔ 8 ۔دھاگہ۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب السابع عشر فیمایجب علی المستأجر...إلخ،ج۴،ص۴۵۶.
10 ۔''المرجع السابق،ص۴۵۶.
11 ۔یعنی بس ،کوچ وغیرہ۔ 12 ۔یعنی ٹیکسی وغیرہ۔
نہیں ہے ہاں اگر موٹر کار (12)یالاری پوری کرایہ پرلی ہے تو اُس کا کام اڈے تک یا گاؤں تک پہنچانا
نہیں ہے بلکہ گھر تک یا جہاں تک جاسکتی ہو اُسے لیجانا ہوگا کہ اس صورت میں یہی عرف ہے۔
مسئلہ ۳۱: کپڑے دھو بی کو دیے توکلپ اور نیل دینادھو بی کے ذمہ ہے کہ اس میں یہی عرف ہے۔ جلد ساز کو جلد بنانے کے لیے کتابیں دیں تو پُٹھا(1)، چمڑا، اَبری(2)، لئی(3)، ڈورا(4)یہ سب چیزیں جلد ساز کے ذمہ ہیں اور جس قسم کاسامان لگانا اور جس قسم کی جلد بناناٹھہرا ہے وہی کرنا ہوگا۔
مسئلہ ۳۲: کسی کام کے لیے دومزدور کیے مثلاًیہ لکڑیاں تم دونوں میرے مکان تک اتنے میں پہنچادو وہ کل لکڑیاں ایک ہی مزدور نے پہنچائیں دوسر ابیٹھا رہا تو یہ مزدور نصف ہی اُجرت کا مستحق ہے کہ دوسرے کی طرف سے کام کرنے میں متبرِّع (5)ہے لہٰذا اُس کے حصہ کی مزدوری کا مستحق نہیں ہوااور دوسرابھی اپنے حصہ کی مزدوری نہیں لے سکتا کہ اجیر مشترک (6)جب تک کا م نہ کرے اُجرت کا مستحق نہیں ہوتا اور اگر اُن دونوں میں پہلے یہ طے ہے کہ ہم دونوں شرکت میں کام کریں گے جوکچھ مزدور ی ملے گی وہ دونوں بانٹ لیں گے تو دوسرا مزدور بھی اپنی نصف مزدوری کا مستحق ہے کہ اُس کے شریک کا کام کرنا ہی اُس کاکام کرناہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: چند مزدور گڑھا کھود نے کے لیے یا مٹی اوٹھانے کے لیے رکھے اور اس پورے کام کی ایک اُجرت طے ہوگئی اُن مزدور وں میں سے کسی نے کم کام کیا کسی نے زائد سب پر وہ اُجرت برابر برابر تقسیم ہوگی ہاں اگر مزدوروں میں بہت تفاوت ہے مثلاً بعض جوان ہیں بعض بچے اور بچوں نے کم کام کیا ہے تو برابر برابر تقسیم نہیں ہوگی بلکہ اُس پوری اُجرت کو اُجرتِ مثل پر تقسیم کیا جائے گا مثلاً بچوں کو دوآنے یومیہ ملتے ہیں اور جوان کو چار آنے تو اُس اُجرت کی تقسیم اس طرح کی جائے کہ جوان کو بچہ سے دونی ملے اور اگر اُن مزدوروں میں سے بعض نے مرض یا کسی عذر کی وجہ سے کام نہیں کیا تو یہ حصہ لینے کا حقدار نہیں ہے مگر جبکہ کام کرنے میں ان کی شرکت ہوتو نہ کام کرنے کی صورت میں بھی حصہ پائے گا۔(8) (عالمگیری)
1 ۔موٹا اور سخت کاغذ یا گتاجو کتابوں کی جلد بنانے میں کام آتاہے۔
2 ۔ایک قسم کارنگدار کاغذجسے کتابوں کی جلدوں میں استعمال کیاجاتاہے۔
3 ۔ایک قسم کا لیس دار مادہ جو کاغذ وغیرہ جوڑنے کے کام آتا۔
4 ۔موٹا دھاگہ۔ 5 ۔احسان کرنے والا۔ 6 ۔ایک سے زائد لوگوں کاکام کرنے والا مزدور،نوکر۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثامن عشر فی الإجارۃ...إلخ،ج۴،ص۴۵۷.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۳۴: کرایہ دار کے ساتھ مالک مکان بھی گھر میں رہتا رہا تو کرایہ دار اُتنے حصہ مکان کی اُجرت کم کرسکتا ہے جتنے میں مالک مکان رہا۔(1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: مزدورسے کہا فلاں جگہ سے جاکر ایک بوری غلہ کی لے آاتنی مزدوری دوں گا مزدوروہاں گیا مگر غلہ وہاں تھا ہی نہیں جس کولاتا تو اُس مزدوری کو جانے اور آنے اور بوجھ پر تقسیم کیاجائے جانے کی مقابل میں مزدوری کا جو حصہ پڑے وہ مزدور کو دیا جائے کیونکہ مزدور کے تین کا م تھے وہاں جانا اور وہاں سے بوجھ لے کر آنا اس صورت میں صرف ایک کام یعنی جانا مزدور نے کیا اور آنا اُس کا خوداپنا کام ہے مستاجر کا کام نہیں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: مزدور کو کہیں بھیجا کہ وہاں سے فلاں کو بلالاؤ وہ گیا اور وہ شخص نہیں ملا اس کو اُجرت ملے گی کیونکہ مزدور کو جوکچھ اس صورت میں کام کرنا ہے یہی ہے کہ وہاں تک جائے وہ کرچکا۔(3) (عالمگیری)
اللہ عزوجل نے فرمایا:
(وَالَّذِیۡنَ عَقَدَتْ اَیۡمَانُکُمْ فَاٰتُوۡہُمْ نَصِیۡبَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدًا ﴿٪۳۳﴾)
(5)
''جن سے تم نے معاہدے کیے ہیں اُن کا حصہ اُنھیں دو، بیشک اللہ (عزوجل)ہرچیز پر گواہ ہے۔''
حدیث ۱: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ فرمایا رسو ل اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے:''جس نے بغیراجازت اپنے مولیٰ کے کسی قوم سے موالاۃ کی، اوس پر اللہ (عزوجل)کی اور فرشتوں اور تمام اِنسانوں کی لعنت، قیامت کے دن اللہ تعالٰی نہ اُس کے فرض قبول کریگا، نہ نفل۔''(6)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الثامن عشر فی الإجارۃ...إلخ،ج۴،ص۴۵۸.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الإجارۃ،الباب الحادی والعشرون فی الإجارۃ لایوجد فیہا...إلخ،ج۴،ص۴۷۰.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔کتاب المکاتب اور کتاب الوَلا کے مسائل یہاں کی ضرورت سے زائد ہیں اس لئے ہم نے ان کو نہیں لکھا صرف کتاب الولا کی ایک فصل جو
یہاں پائی جاسکتی ہے معرض تحریر میں لائی گئی ۱۲منہ ۔
5 ۔پ۵،النسآء:۳۳.
6 ۔''سنن أبي داود''، کتاب الأدب، باب في الرجل ینتمی إلٰی غیر موالیہ،الحدیث: ۵۱۱۴،ج۴، ص۴۲۶.
حدیث ۲: امام احمد نے جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ فرمایا نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم نے: ''جس شخص نے اپنے مولیٰ کے سوا دوسرے سے موالاۃ کی، اُس نے اسلام کا پٹا اپنے گلے سے نکال دیا۔''(1)
حدیث ۳: طبرانی وابن عد ی ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہ فرمایا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے:''جو شخص کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے، اُس کی وَلا اُسی کے لیے ہے۔''(2)
حدیث ۴: اصحاب سنن اربعہ وامام احمد وحاکم وغیرہم نے تمیم داری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال ہوا کہ ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا؟ فرمایا کہ ''وہ سب سے زیادہ حقدار ہے، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔'' (3)
مسئلہ ۱: ایک شخص عاقل بالغ کسی کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہوا اس نومسلم نے اُس سے یا کسی دوسرے سے موالاۃ کی یعنی یہ کہا کہ اگر میں مرجاؤں تو میرا وارث تو ہے اور مجھ سے کوئی جنایت ہو تو دیت تجھے دینی ہوگی اُس نے قبول کرلیا یہ موالاۃ صحیح ہے اسکا نام مولَی الموالاۃ ہے اور دونوں جانب سے بھی موالاۃ ہوسکتی ہے یعنی ہر ایک دوسرے سے کہے کہ تو میرا وارث ہوگا اور میری جنایت کی دیت دے گا اور دوسر اقبول کرے۔ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ مولیٰ عرب میں سے نہ ہو۔(4) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۲: نابالغ مشرف بَاِسلام ہوااور اُس نے موالاۃ کی یہ ناجائز ہے اگرچہ اپنے باپ یا وصی کی اجازت سے کی ہواور بالغ عاقل نے نابالغ عاقل سے موالاۃ کی اور اس کے باپ یا وصی نے اجازت دیدی ہو تو موالاۃ جائز ہے۔ یوہیں اگر غلام نے موالاۃ کی تو اُس کے مولیٰ کی اجازت پر موقوف ہے، وہ جائز کردیگا جائز ہوگی، ورنہ نہیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: جس شخص سے اس نے موالاۃ کی ہے اب یہ (مولیٰ اسفل)اس وَلا کو فسخ کرنا چاہتا ہے تو اُس کی موجود گی میں فسخ کرسکتا ہے یعنی اُس کوعلْم ہوجانا ضروری ہے کیونکہ یہ عقد غیر لازم ہے تنہا فسخ کرسکتا ہے دوسرے کی رضامندی ضروری
1 ۔''المسند'' للإمام احمدبن حنبل، مسند جابر بن عبد اللہ، الحدیث: ۱۴۵۶۸، ج۵، ص۸۷.
2 ۔''الکامل في ضعفاء الرجال'' لابن عدی ،من اسمہ جعفر، ج۲، ص۳۶۳.
3 ۔''المسند'' للإمام احمدبن حنبل،مسند الشامیین، حدیث تمیم الداری، الحدیث: ۱۶۹۴۲، ج۶، ص۳۴.
4 ۔''الھدایۃ''، کتاب الولائ، فصل فی وَلاءِ المُوالاۃ، ج۲،ص۲۷۰.
و''الدرالمختار''،کتاب الوَلاء ، فصل فی ولاء الموالاۃ،ج۹،ص۲۱۱.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوَلاء ، فصل فی ولاء الموالاۃ،ج۹،ص۲۱۲.
نہیں۔ اور اگر دوسرے سے موالاۃ کرلی تو پہلی موالاۃ فسخ ہوگئی اس میں علم کی ضرورت نہیں کہ دوسرے سے عقد کرنے ہی سے پہلی موالاۃ خود بخود فسخ ہوگئی مگر شرط یہ ہے کہ اُس نے ا سکی طرف سے دیت ادا نہ کی ہواور اگر اُس نے کسی معاملہ میں دیت دیدی ہے تو اب نہ فسخ کرسکتا ہے نہ دوسرے سے موالاۃ کرسکتا ہے بلکہ اس کی اولاد کی طرف سے اگر اُس نے دیت دے دی جب بھی فسخ نہیں کرسکتا نہ دوسرے سے موالاۃ کرسکتا ہے۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۴: موالاۃ کرنے کے وقت جو اس کے نابالغ بچے ہیں یا اس عقد کے بعد جو پید ا ہوئے سب اس ولا میں داخل ہیں بالغ اولادوں سے اس عقد کاتعلق نہیں یعنی یہ دوسرے سے موالاۃ کرسکتے ہیں۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵:مولَی العتاقہ یعنی وہ غلام جسے مولیٰ(مالک)نے آزاد کردیا ہے وہ دوسرے سے موالاۃ نہیں کرسکتا۔(3)(ہدایہ)
مسئلہ ۶: موالاۃ کا حکم یہ ہے کہ اگر جنایت کرے تو دیت لازم ہوگی اور اُن میں سے کوئی مر جائے تو دوسرا وارث ہوجاتا ہے مگر اس کا مرتبہ تمام وارثوں سے مؤخر ہے جب کوئی وارث نہ ہو یعنی ذوی الارحام بھی نہ ہو ں تو یہ وارث ہوگا۔(4)(ہدایہ)
مسئلہ ۷: عورت نے موالاۃ کی یا موالاۃ کا اقرار کیا اور اس کے ساتھ کوئی بچہ مجہول النسب ہے یاموالاۃ کے بعد پیدا ہوا یہ بچہ بھی عقد موالاۃکے حکم میں داخل ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۸: مرد نے اسلام قبول کرکے ایک شخص سے موالاۃ کی اور عورت نے اسلام لاکر دوسرے سے موالاۃ کی توان دونوں سے جو بچہ پیدا ہوگا اُس کاتعلق باپ کے مولیٰ سے ہوگا ماں کے مولیٰ سے نہیں ہوگا۔(6) (عالمگیری)
تمّت بالخیر
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوَلاء، فصل فی ولاء الموالاۃ،ج۲،ص۲۷۰،۲۷۱.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوَلاء ، فصل فی ولاء الموالاۃ،ج۹،ص۲۱۳.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوَلاء، فصل فی ولاء الموالاۃ،ج۲،ص۲۷۱.
4 ۔المرجع السابق،ص۲۷۰.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوَلاء ، فصل فی ولاء الموالاۃ،ج۹،ص۲۱۳.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوَلاء ، الباب الثانی فی ولاء الموالاۃ،الفصل الثانی،ج۵،ص۳۳.
.jpg)
طالبِ غمِ مدینہ
بقیع و مغفرت و
بے حساب
جنّت الفردوس
میں آقا كا پڑوس
6 ربیع الغوث 1427 ھ