Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
یہ بہارِ شریعت کی کتاب الجنایات کا وہ حصّہ ہے جو حضرت استاد نا المکرم فقیہ العصر صدر الشریعہ عَلّامہ مولانا مفتی ابوالعلامحمد امجد علی صاحب رضوی اعظمی قدس سِرّہ العزیز مکمل نہ کرسکے تھے اور جس کے متعلق مُصنّف علیہ الرحمۃ نے ''عرضِ حال'' میں تفصیل بیان کی ہے اور بایں الفاظ وصیت فرمائی ہے کہ''اس کا آخری حصّہ تھوڑا سا باقی رہ گیا ہے جو زیادہ سے زیادہ تین حصوں پر مشتمل ہوتا، اگر توفیقِ الہٰی سعادت کرتی اور یہ بقیہ مضامین بھی تحریر میں آجاتے تو فقہ کے جمیع ابواب پر یہ کتاب مشتمل ہوتی ، اور کتاب مکمل ہوجاتی اور اگر میری اولاد یا تلامذہ یا عُلماء اہلِ سنت میں سے کوئی صاحب اِس کا قلیل حصہ جو باقی رہ گیا ہے اس کی تکمیل فرمادیں تو میری عین خوشی ہے''۔
الحمدللہ(عزوجل)کہ حضرت مصنف علیہ الرحمۃ کی وصیت کے مطابق ہم نے یہ سعادت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، اور اس میں یہ اہتمام بالالتزام کیا ہے کہ مسائل کی مآخذ کتب کے صفحات کے نمبر اور جلد نمبر بھی لکھ دیئے ہیں۔ تاکہ اہلِ علم کو ماخذ تلاش کرنے میں آسانی ہو، اکثر کتب فقہ کے حوالہ جات نقل کردیئے ہیں، جن پر آج کل فتویٰ کا مدار ہے۔ حضرت مُصنف علیہ الرحمۃ کے طرز تحریر کو حتی الامکان برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، فقہی موشگافیوں اور فقہاء کے قیل و قال کو چھوڑ کر صرف مفتٰی بہ اقوال کو سادہ اور عام فہم زبان میں لکھا گیا ہے تاکہ کم تعلیم یافتہ سُنّی بھائیوں کو بھی اس کے پڑھنے اور سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئے۔ تصحیح کتابت میں حتی المقدور دیدہ ریزی سے کام لیا گیا ہے، پھر بھی اگر کہیں اغلاط رہ گئی ہوں تو اس کے لیے قارئین کرام سے معذرت خواہ ہیں، آخر میں محب مکرم حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری مدظلہ العالی شیخ الحدیث دارالعلوم امجدیہ و ممبر قومی اسمبلی پاکستان و عزیز مکرم مولانا حافظ قاری رضاء المصطفےٰ صاحب اعظمی سلمہ، خطیب نیو میمن مسجد بولٹن مارکیٹ کراچی کے شگر گزار ہیں کہ ان حضرات نے اپنے والدِ ماجد حضرت مصنف علیہ الرحمۃ کی وصیت کی تکمیل کے لیے ہمارا انتخاب فرمایا، ہم اپنی اس حقیر خدمت کو حضرت صدرالشریعہ بدرالطریقہ استاذ ناالعلام ابوالعلی ا محمد امجد علی صاحب رضوی قدس سرہ العزیز، مصنف ''بہار ِ شریعت''کی بارگاہ میں بطورِ نذرانہ عقیدہ پیش کرتے ہیں اور اس کا ثو اب واجران کی رُوحِ پُرفتوح کو ایصال کرتے ہیں اور بارگاہِ ایزد متعال میں دست بہ دُعا ہیں کہ اس کتاب کے بقیہ دو حصوں کی تکمیل و تصنیف کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
محمد وقار الدین قادری رضوی بریلوی غفرلہ ، نائب شیخ الحدیث دارالعلوم امجدیہ عالمگیر روڈ کراچی نمبر5،
فقیر محبوب رضا غفرلہ مفتی دارالعلوم امجدیہ کراچی یکم جنوری 1977
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ؕ
حَامِداً لِوَلِیِّہ وَ مُصَلِّیاً وَ مُسَلِّماً عَلٰی حَبِیْبِہ وَعَلٰی اٰلِہ وَصَحْبِہ اَجْمَعِیْن
امّا بعد فقیر پُر تقصیر ابوالعلا محمد امجد علی اعظمی عفی عنہ متوطن گھوسی محلہ کریم الدین پور ضلع اعظم گڑھ عرض پر داز ہے کہ ضرورتِ زمانہ نے اِس طرف توجّہ دلائی کہ مسائل فقہیہ، صحیحہ ورجیحہ کا ایک مجموعہ اردو زبان میں بردارانِ اسلام کی خدمت میں پیش کیا جائے، اس طرح پر کہ ہمارے عوام بھائی اردو خواں بھی منتفِع ہوسکیں، اور اپنی ضروریات میں اس سے کام لیں سکیں۔ اردو زبان میں اب تک کوئی ایسی کتاب تصنیف نہیں ہوئی تھی جو صحیح مسائل پر مشتمل ہو اور ضروریات کے لیے کافی و وافی ہو، فقیر بوجہ کثرتِ مشاغل دینیہ اتنی فرصت نہیں پاتا تھا کہ اس کام کو پورے طور پر انجام دے سکے، مگر حالتِ زمانہ نے مجبور کیا اور اس کے لیے تھوڑی فرصت نکالنی پڑی، جب کبھی فرصت ہاتھ آجاتی اس کام کو قدرے انجام دے لیتا۔ تدریس کی مشغولیت اور افتاء وغیرہ چند دینی کام ایسے انجام دینے پڑتے جن کی وجہ سے تصنیف کتاب کے لیے فرصت نہ ملتی، مگر اﷲپر توکل کرکے جب یہ کام شروع کردیا گیا تو بزرگانِ کرام اور مشائخ عظام واساتذئہ اعلام کی دعاؤں کی برکت سے ایک حد تک اس میں کامیابی حاصل ہوئی، اس کتاب کا نام ''بہارِ شریعت'' رکھا جس کے بفضلہ تعالیٰ سترہ حصے مکمل ہوچکے، اور بحمدہٖ تعالیٰ یہ کتاب مسلمانوں میں حد درجہ مقبول ہوئی، عوام تو عوام اہل علم کے لیے بھی نہایت کار آمد ثابت ہوئی۔ اس کتاب کی تصنیف میں عموماً یہی ہوا ہے کہ ماہِ رمضان مبارک کی تعطیلات میں جو کچھ دوسرے کاموں سے وقت بچتا اس میں کچھ لکھ لیا جاتا ، یہاں تک کہ جب 1939 کی جنگ شروع ہوئی اور کاغذ کا ملنا نہایت مشکل ہوگیا اور اس کی طبع میں دشواریاں پیش آگئیں تو اس کی تصنیف کا سلسلہ بھی جو کچھ تھا وہ بھی جاتا رہا، اور یہ کتاب اُس حد تک پوری نہ ہوسکی جس کا فقیر نے ارادہ کیا تھا، بلکہ اپنا ارادہ تو یہ تھا کہ اس کتاب کی تکمیل کے بعد اسی نہج پر ایک دوسری کتاب اور بھی لکھی جائے گی جو تصوف اور سلوک کے مسائل پر مشتمل ہوگی جس کا اظہار ا س سے پیشتر نہیں کیا گیا تھا۔ ہوتا وہی ہے جو خدا چاہتا ہے، چند سال کے اندر متعدد حوادث پیہم ایسے درپیش ہوئے جنہوں نے اس قابل بھی مجھے باقی نہ رکھا کہ بہارِ شریعت کی تصنیف کو حد تکمیل تک پہنچاتا۔
7 شعبان 1358ھ کو میری ایک جوان لڑکی کا انتقال ہوا اور 25 ربیع الاول 1359ھ کو میرا منجھلا لڑکا مولوی محمدیحیٰی کا انتقال ہوا۔ شب دہم، رمضان المبارک 1359ھ کو بڑے لڑکے مولوی حکیم شمس الہدیٰ نے رحلت کی 20 رمضان المبارک 1362ھ کو میرا چوتھا لڑکا عطاء المصطفی کا دادوں ضلع علی گڑھ میں انتقال ہوا اور اسی دوران میں مولوی شمس الہُدیٰ مرحوم کی تین جوان لڑکیوں کا
اور ان کی اہلیہ کا اور مولوی محمد یحییٰ مرحوم کے ایک لڑکے کا اور مولوی عطا ء المصطفیٰ مرحوم کی اہلیہ اور بچی کا انتقال ہوا، اِن پیہم حوادث نے قلب و دماغ پر کافی اثر ڈالا۔ یہاں تک کہ مولوی عطاء المصطفیٰ مرحوم کے سوم کے روز جب کہ فقیر تلاوتِ قرآن مجید کررہا تھا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا معلوم ہونے لگااور اس میں برابر ترقی ہوتی رہی اور نظر کی کمزوری اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لکھنے پڑھنے سے معذور ہوں، ایسی حالت میں بہارِ شریعت کی تکمیل میرے لیے بالکل دشوار ہوگئی او رمیں نے اپنی اس تصنیف کو اس حد پر ختم کردیا گویا اب اس کتاب کو کامل و اکمل بھی کہا جاسکتا ہے ، مگر ابھی اس کا تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا ہے جو زیادہ سے زیادہ تین حصوں پر مشتمل ہوتا۔ اگر توفیقِ الہی سعادت کرتی اور بقیہ مضامین بھی تحریر میں آجاتے تو فقہ کے جمیع ابواب پر یہ کتاب مشتمل ہوتی۔ اور کتاب مکمل ہوجاتی، اور اگر میری اولاد یا تلامذہ یا علمائے اہل سُنّت میں سے کوئی صاحب اس کا قلیل حصہ جو باقی رہ گیا ہے اس کی تکمیل فرمائیں تو میری عین خوشی ہے۔ محرم 1362ھ میں فقیر نے چند طلباء خصوصاً عزیزی مولوی مبین الدین صاحب امروہوی وعزیزی مولوی سید ظہیر احمد صاحب نگینوی وحبیبی مولوی حافظ قاری محبوب رضا خان صاحب بریلوی و عزیزی مولوی محمد خلیل مارہروی کے اصرار پر شرح معانی الآثار معروف بطحاوی شریف کا تحشیہ شروع کیا تھا کہ یہ کتاب نہایت معرکۃ الآراء حدیث وفقہ کی جامع حواشی سے خالی تھی۔ استاذ نا المعظم حضرت مولیٰنا وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس کتاب پر کہیں کہیں کچھ تعلیقات تحریر فرمائے ہیں جو بالکل طلبہ کے لیے ناکافی ہیں، مکمل اور مفصل حاشیہ کی اشد ضرورت تھی، اس تحشیہ کا کام سنہ مذکورہ میں تقریباً سات ماہ تک کیا مگر مولوی عطاء المصطفی کی علالتِ شدیدہ ، پھر اُن کے انتقال نے اس کام کا سلسلہ بند کرنے پر مجبور کیا، جلد اول کا نصف بفضلہ تعالیٰ محشٰی ہوچکا ہے جس کے صفحات کی تعداد باریک قلم سے 450 ہیں اور ہر صفحہ35 یا36 سطر پر مشتمل ہے، اگر کوئی صاحب اس کام کو بھی آخر تک پہنچائیں تو میری عین خوشی ہے، خصوصاً اگر میرے تلامذہ میں سے کسی کو ایسی توفیق نصیب ہو اور اس کتاب کےتحشیہ کی خدمت انجام دیں تو ان کی عین سعادت اور میری قلبی مسرت کا باعث ہوگی۔
سب سے آخر میں ان تمام حضرات سے جو اس کتاب سے فائدہ حاصل کریں، فقیر کی التجا ہے کہ وہ صمیمِ قلب سے اس فقیر کے لیے حُسنِ خاتمہ اور مغفرتِ ذنوب کی دُعا کریں، مولیٰ تبارک و تعالیٰ ان کو اور اس فقیر کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھے اور اتباع نبی کریم
عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْم
کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
وَالْحَمْدُ للہ رَبِّ الْعٰلَمِیْن وَصَلَّی اﷲُ تَعالٰی عَلٰی خَیرِخَلْقِہٖ وَقَاسِمِ رِزْقِہٖ سَیِّدِ نَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ
وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ وَاٰخِرُدَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہ رَبِّ الْعٰلَمِین
فقیر امجد علی عفی عنہ
قادری منزل بڑا گاؤں ، گھوسی اعظم گڑھ یوپی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالۡاُنۡثٰی بِالۡاُنۡثٰی ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیۡہِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَیۡہِ بِاِحْسَانٍ ؕ ذٰلِکَ تَخْفِیۡفٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ ؕ فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۸﴾ۚوَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الۡاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾)
(1) (پ2،ع6)
ترجمہ:''اے ایمان والو !قصاص یعنی جو ناحق قتل کئے گئے ان کا بدلہ لینا تم پر فرض کیا گیا۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔ تو جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہو تو بھلائی سے تقاضا کرے اور اچھی طرح سے اس کو ادا کر دے۔ یہ تمہارے رب کی جانب سے تمہارے لیے آسانی ہے اور تم پر مہربانی ہے، اب اس کے بعد جو زیادتی کرے اُس کے لیے دردناک عذاب ہے اور تمہارے لیے خون کا بدلہ لینے میں زندگی ہے۔ اے عقل والو تاکہ تم بچو۔''
اور فرماتا ہے:
(وَکَتَبْنَا عَلَیۡہِمْ فِیۡہَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ ۙ وَالْعَیۡنَ بِالْعَیۡنِ وَ الۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ وَالۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوۡحَ قِصَاصٌ ؕ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ؕ وَمَنۡ لَّمْ یَحْکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾
)
(2 )
ترجمہ:''اور ہم نے توریت میں اُن پر واجب کیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے۔ پھر جو معاف کر دے تو وہ اس کے گناہ کا کفارہ ہے اور جو اﷲ کے نازل کئے پر حکم نہ کرے (3)وہ ہی لوگ ظالم ہیں۔''
حدیث:۔امام بخاری اپنی صحیح میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں قصاص کاحکم تھااوران میں دیت(4)نہ تھی تواﷲتعالیٰنے اس امت کے لیے فرمایا
کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی ؕ
(الاٰیۃ)
ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہمافرماتے ہیں، عفو(5)یہ ہے کہ قتلِ عمد میں دیت قبول کرے اور اتباع بالمعروف یہ ہے کہ
1 ۔پ 2،البقرۃ:178،179. 2 ۔پ 6،المائدۃ:45.
3 ۔یعنی فیصلہ نہ کرے۔ 4 ۔ خون بہا۔ 5 ۔یعنی معاف کرنا۔
بھلائی سے طلب کرے اور قاتل اچھی طرح ادا کرے۔ (1)
اور فرماتاہے:
(مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ۚۛؔ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیۡرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الۡاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ)
(2)(پ6،ع9)
''اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئے توگویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو زندہ رکھا تو گویا اس نے سب انسانوں کو زندہ رکھا۔
اور فرماتا ہے:
(وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنۡ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَأً ۚ وَمَنۡ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّصَّدَّقُوۡا ؕ فَاِنۡ کَانَ مِنۡ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِنۡ قَوْمٍۭ بـَیۡنَکُمْ وَبَیۡنَہُمْ مِّیۡثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ وَتَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ۚ فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ ۫ تَوْبَۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَکَانَ اللہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۹۲﴾وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾)
(3)(پ5،ع10)
ترجمہ:۔''اور مسلمان کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے مگر غلطی کے طور پر اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے تو اس پر ایک غلام مسلم کا آزاد کرنا ہے اور خوں بہا کہ مقتول کے لوگوں کو دیا جائے مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں۔ پھر وہ اگر اس قوم سے ہے جو تمہاری دشمن ہے اور وہ خود مسلمان ہے تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا ہے اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں اور ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خون بہا سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان مملوک کو آزاد کیا جائے۔ پھر جو نہ پائے وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ اﷲسے اس کی توبہ ہے اﷲ (عزوجل)جاننے والا حکمت والا ہے اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ اس میں مدتوں رہے اور اﷲ(عزوجل)نے اس پر غضب فرمایا اور اس پر لعنت کی اور اس پر بڑا عذاب تیار رکھا ہے۔''
حدیث 1: امام بخاری و مسلم نے صحیحین میں عبد اﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ''کسی مسلمان مرد کا جو
لااِلٰہَ اِلاَّ اللہ
کی گواہی اور میری رسالت کی شہادت دیتا ہے۔ خون صرف
1 ۔''صحیح البخاری''،کتاب الدیات،باب من قتل لہ قتیل...إلخ،الحدیث:6881،ج4،ص362.
2 ۔پ 6،المائدۃ:32.
3 ۔پ5،النساء:92،93.
تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں حلال ہے۔1نفس کے بدلے میں نفس، 2 ثیب زانی(1)اور 3 اپنے مذہب سے نکل کرجماعت اہل اسلام کو چھوڑ دے (مرتد ہو جائے یا باغی ہو جائے)۔'' (2)
حدیث 2: امام بخاری اپنی صحیح میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''مسلمان اپنے دین کے سبب کشادگی میں رہتا ہے جب تک کوئی حرام خون نہ کر لے۔''(3)
حدیث 3: صحیحین میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲصَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''قیامت کے دن سب سے پہلے خون ناحق کے بارے میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔'' (4)
حدیث 4: امام بخاری اپنی صحیح میں عبداللہ بن عَمْرْورضی اللہ تعالٰی عنہما(5)سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''جس نے کسی معاہد (ذمی)کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھے گا اور بے شک جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک پہنچتی ہے۔ ''(6)
حدیث 5 و 6: امام ترمذی اور نسائی عبداﷲ بن عَمْرْو رضی اللہ تعالٰی عنہما(7)سے اور ابن ماجہ براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲصَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''بے شک دنیا کا زوال اﷲپر آسان ہے۔ ایک مرد مسلم کے قتل سے ۔'' (8)
حدیث 7 و 8: امام ترمذی ابو سعید اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ اگر آسمان و زمین والے ایک مرد مومن کے خون میں شریک ہو جائیں تو سب کو اﷲتعالیٰ جہنم میں اوندھا کر کے ڈال دے گا۔ (9)
1 ۔ شادی شدہ زانی۔
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الدیات،باب قول اللہ تعالی( ان النفس بالنفس...إلخ)،الحدیث:6878،ج4،ص361.
3 ۔المرجع السابق،باب قول اللہ تعالی (ومن یقتل مؤمناً متعمداً...إلخ )،الحدیث: 6862،ج4،ص356.
4 ۔المرجع السابق،الحدیث:6864،ج4،ص357.
5 ۔بہارشریعت کے نسخوں میں اس مقام پر''عبداللہ بن عمر''رضی اللہ تعالٰی عنھما لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ''بخاری شریف''اوردیگرکتب ِحدیث میں''عبداللہ بن عَمْرْو''رضی اللہ تعالٰی عنھما مذکورہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
6 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الجزیۃوالموادعۃ،باب إثم من قتل معاھدا بغیرجرم،الحدیث: 3166،ج2،ص365.
7 ۔بہارشریعت کے نسخوں میں اس مقام پر''عبداللہ بن عمر''رضی اللہ تعالٰی عنھما لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ''جامع الترمذی اور سنن نسائی''اوردیگرکتب ِحدیث میں''عبداللہ بن عَمْرْو''رضی اللہ تعالٰی عنھما مذکورہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
8 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الدیات،باب ماجاء في تشدید قتل المؤمن،الحدیث: 1400،ج3،ص99.
9 ۔ المرجع السابق،باب الحکم في الدماء،الحدیث: 1403،ج3،ص100.
حدیث 9: امام مالک نے سعید بن مسیب رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی کہ عمربن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پانچ یاسات نفرکو(1)ایک شخص کو دھوکا دے کر قتل کرنے کی وجہ سے قتل کر دیا اور فرمایا کہ اگر صنعا (2)کے سب لوگ اس خون میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کر دیتا۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں اسی کے مثل ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی ہے۔ (3)
حدیث 10: دار قطنی حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ رسول اﷲصَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''جب ایک مرد دوسرے کو پکڑ لے اور کوئی اور آ کر قتل کر دے تو قاتل قتل کر دیا جائے گا اور پکڑنے والے کو قید کیا جائے گا۔''(4)
حدیث 11: امام ترمذی اور امام شافعی حضرت ابی شریح کعبی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا:''پھر تم نے اے قبیلہ خزاعہ(5)ہذیل کے آدمی کو قتل کر دیا اب میں اس کی دیت خود دیتا ہوں، اس کے بعد جو کوئی کسی کو قتل کرے تو مقتول کے گھر والے دو چیزوں میں سے ایک چیز اختیار کریں اگر پسند کریں تو قتل کریں اور اگر وہ چاہیں تو خوں بہا لیں۔''(6)
حدیث 12: صحیحین میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ حضرت ربیع نے جو انس بن مالک(رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی پھوپھی تھیں ایک انصاریہ عورت کے دانت توڑ دیئے تو وہ لوگ نبی صَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم کے پاس حاضر ہوئے۔ حضور(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے قصاص کا حکم فرمایا۔ حضرت انس(رضی اللہ تعالٰی عنہ)کے چچا انس بن النضرنے عرض کی یا رسول اﷲ(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)، قسم اﷲ(عزوجل)کی ان کے دانت نہیں توڑے جائیں گے تو رسول اﷲصَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ اے انس !اﷲ(عزوجل)کا حکم قصاص کا ہے، اس کے بعد وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے دیت قبول کر لی، رسول اﷲصَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''اﷲ(عزوجل)کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر اﷲ(عزوجل)پر قسم کھائیں تو اﷲ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا کر دیتا ہے۔''(7)
حدیث 13: امام بخاری اپنی صحیح میں ابوجُحَیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ،کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ
1 ۔یعنی آدمیوں کو۔
2 ۔ یمن کا دارالحکومت۔
3 ۔''الموطأ''،للإمام مالک،کتاب العقول،باب ماجاء في الغیلۃ والسحر،الحدیث: 1671،ج2،ص377.
4 ۔ ''سنن الدار قطني''،کتاب الحدود والدیات... إلخ،الحدیث: 3243،ج3،ص167.
5 ۔عرب کا ایک قبیلہ ۔
6 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الدیات،باب ماجاء في حکم ولی القتیل...إلخ،الحدیث: 1410،ج3،ص104.
7 ۔''صحیح البخاري''،کتاب التفسیر،باب قولہ (والجروح قصاص)،الحدیث: 4611،ج3،ص125.
سے پوچھا، کیا تمہارے پاس کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو قرآن میں نہیں، تو انہوں نے فرمایا:''قسم اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا فرمایا، ہمارے پاس وہی ہے جو قرآن میں ہے مگر اﷲ نے جو قرآن کی سمجھ کسی کو دے دی اور ہمارے پاس وہ ہے جو اس صحیفہ میں ہے''۔ میں نے کہا، اس صحیفہ میں کیا ہے ؟ تو فرمایا:دیت اور اس کے احکام اور قیدی کو چھڑانا اور یہ کہ کوئی مسلم کسی کافر (حربی)کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔ (1)
حدیث 14: ابو داود و نسائی حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور ابن ماجہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ رسول اﷲصَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''مسلمانوں کے خون برابر ہیں اور ان کے ادنیٰ کے ذمہ کو پورا کیا جائے گا اور جو دور والوں نے غنیمت حاصل کی ہو وہ سب لشکریوں کو ملے گی اور وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک ہیں۔ خبردار کوئی مسلمان کسی کافر (حربی)کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ کوئی ذمی، جب تک وہ ذمہ میں باقی ہے۔ (2)
حدیث 15: ترمذی اور دارمی ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ حدیں مسجد میں قائم نہ کی جائیں اور اگر باپ نے اپنی اولاد کو قتل کیا ہو تو باپ سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (3)
حدیث 16: ترمذی سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا، حضور(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) باپ کے قصاص میں بیٹے کو قتل کرتے اور بیٹے کے قصاص میں باپ کو قتل نہ کرتے یعنی اگربیٹے نے باپ کو قتل کیا تو بیٹے سے قصاص لیتے اور باپ نے بیٹے کو قتل کیا ہو تو باپ سے قصاص نہ لیتے۔ (4)
حدیث 17: ابو داود و نسائی ابو رمثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضور اقدس صَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے دریافت کیا، یہ کون ہے ؟ میرے والد نے کہا، یہ میرا لڑکا ہے آپ اس کے گواہ رہیں۔ حضور(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:'' خبردار نہ یہ تمہارے اوپر جنایت کر سکتا ہے اور نہ تم اس پر جنایت کر سکتے ہو۔(5) (بلکہ جو جنایت کریگا وہی ماخوذ ہوگا)
حدیث 18: امام ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گھر کا جب باغیوں نے محاصرہ کیا تو کھڑکی سے جھانک کر فرمایا کہ میں تم کو خدا(تعالیٰ)کی قسم
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الدیات،باب لایقتل المسلم بالکافر،الحدیث: 6915،ج4،ص374.
2 ۔''سنن أبی داود''،کتاب الدیات،باب إیقاد المسلم بالکافر،الحدیث:4530،4531،ج4،ص238،239.
3 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الدیات،باب ماجاء في الرجل یقتل ابنہ... إلخ،الحدیث:1406،ج3،ص101.
4 ۔ المرجع السابق،الحدیث: 1404،ج3،ص100.
5 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الدیات،باب لایؤخذ أحد بجریرۃ أخیہ أوأبیہ،الحدیث: 4495،ج4،ص223.
دلاتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اﷲصَلَّی اللہُ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایاہے کہ ''کسی مرد مسلم کا خون حلال نہیں ہے۔ مگر تین وجہوں سے ، احصان کے بعد(1)زنا سے یا اسلام کے بعد کفر سے یا کسی نفس کو بغیر کسی نفس کے قتل کر دینے سے''انہیں وجوہ سے قتل کیا جائے گا۔ قسم خدا کی ،نہ میں نے زمانہ کفر میں زنا کیا اور نہ زمانہ اسلام میں اور جب سے میں نے رسول اﷲصَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم سے بیعت کی مرتد نہیں ہوا اور کسی ایسی جان کو جسے اﷲتعالیٰ نے حرام فرمایا، قتل نہیں کیا پھر تم مجھے کیوں قتل کرتے ہو۔ (2)
حدیث 19: ابو داود حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲصَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ مومن تیزرو (3)اور صالح رہتا ہے جب تک حرام خون نہ کر لے اور جب حرام خون کر لیتا ہے تو اب وہ تھک جاتا ہے(4)۔(5)
حدیث 20: ابو داود انہیں سے اور نسائی معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲصَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''امید ہے کہ گناہ کو اﷲ(عزوجل)بخش دے گا مگر اس شخص کو نہ بخشے گا جو مشرک ہی مر جائے یا جس نے کسی مرد مومن کو قصداً ناحق قتل کیا۔(6) (اس کی تاویل آگے آئے گی)
حدیث 21: امام ترمذی نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت کی کہ رسول اﷲصَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''اس نے ناحق جان بوجھ کر قتل کیا وہ اولیائے مقتول کو دے دیا جائے گا۔ پس وہ اگر چاہیں قتل کریں اور اگر چاہیں دیت لیں۔ (7)
حدیث 22: دارمی نے ابن شریح خزاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تعالٰی علَیہ وسلَّم کو فرماتے سنا ہے کہ''جو اس بات کے ساتھ مبتلا ہو کہ اس کے یہاں کوئی قتل ہوگیا یا زخمی ہوگیا تو تین چیزوں میں سے ایک اختیار کرے۔ اگر چوتھی چیز کا ارادہ کرے تو اس کے ہاتھ پکڑ لو (یعنی روک دو)یہ اختیار ہے کہ قصاص لے یا معاف کرے یا دیت لے پھر ان تینوں باتوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کے بعد اگر کوئی زیادتی کرے تو اس کے لیے جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔''(8)
1 ۔ یعنی شادی شدہ ہونے کے بعد۔
2 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الفتن،باب ما جاء لایحل دم إمریئ مسلم... إلخ،الحدیث: 2165،ج4،ص64.
3 ۔یعنی مؤمن نیکی میں جلدی کرنے والا ہوتا ہے۔
4 ۔ یعنی قتل ناحق کی نحوست سے انسان توفیق خیر سے محروم رہ جاتاہے اسی کو تھک جانے سے تعبیرفرمایا۔
5 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الفتن والملاحم،باب في تعظیم قتل المؤمن،الحدیث:4270،ج4،ص139.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الدیات،باب ماجاء في الدیۃ کم ھی من الإبل،الحدیث:1392،ج3،ص95.
8 ۔''سنن الدارمي''،کتاب الدیات،باب الدیۃ في قتل العمد،الحدیث:2351،ج2،ص247.
حدیث 23: ابو داود جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں کہ رسول اﷲصَلَّی اللہُ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا ''کہ میں اس کو معاف نہیں کروں گا جس نے دیت لینے کے بعد قتل کیا۔''(1)
حدیث 24: امام ترمذی و ابن ماجہ نے ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں، میں نے رسول اﷲصَلَّی اللہُ تعالٰی علَیہ وسلَّم کو فرماتے سنا ہے کہ ''جس کے جسم میں کوئی زخم لگ جائے پھر وہ اس کا صدقہ کر دے (معاف کر دے) تو اﷲ(عزوجل)اس کا ایک درجہ بڑھاتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے۔'' (2)
حدیث 25: امام بخاری اپنی صحیح میں عبد اﷲ بن مسعود (رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرد نے عرض کی یا رسول اﷲصَلَّی اللہُ تعالٰی علَیہ وسلَّم !کون سا گناہ اﷲ(عزوجل)کے نزدیک بڑا ہے ؟ فرمایا کہ اﷲ (عزوجل) کا کوئی شریک بتائے، حالانکہ اﷲ(عزوجل)ہی نے تم کو پیدا کیا۔ عرض کی پھر کون سا گناہ ؟ فرمایا پھر یہ کہ اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔ کہا۔ پھر کون سا ؟ ارشاد فرمایا، پھر یہ کہ اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ پس اﷲ(عزوجل)نے اس کی تصدیق نازل فرمائی:
(وَالَّذِیۡنَ لَا یَدْعُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوۡنَ النَّفْسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوۡنَونَ ؕ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا ﴿ۙ۶۸﴾
(3) یُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ یَخْلُدْ فِیۡہٖ مُہَانًا ﴿٭ۖ۶۹﴾اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾)
(4)
''اور وہ جو اﷲکے ساتھ کسی اور کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جسے اﷲنے حرام کیا ناحق قتل نہیں کرتے، اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا، اس کے لیے چند در چند (5)عذاب کیا جائے گاقیامت کے دن۔(6)اور وہ اس میں مدتوں ذلت کے ساتھ رہے گا، مگر جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اوراچھے کام کرے۔ اﷲ ایسے لوگوں کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دے گا اور اﷲمغفرت والا رحم والا ہے۔''
حدیث 26: امام بخاری نے اپنی صحیح میں عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں ان نُقَبا سے ہوں جنہوں نے (لیلۃ العقبہ(7)میں)رسول اﷲصَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم سے بیعت کی۔ ہم نے اس بات پر بیعت کی
1 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الدیات،باب من یقتل بعد أخذ الدیۃ،الحدیث: 4507،ج4،ص229.
2 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الدیات،باب ماجاء في العفو،الحدیث:1398،ج3،ص97.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الدیات باب قول اللہ تعالی (ومن یقتل مؤمنا متعمداً...إلخ)،الحدیث:6861،ج4،ص356.
4 ۔الفرقان:68۔70. 5 ۔بہت زیادہ۔
6 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''یوم القیٰمۃ'' کاترجمہ ''قیامت کے دن'' موجودنہیں تھا، لہذامتن میں کنزالایمان سے اس کااضافہ کردیاگیاہے۔...علمیہ
7 ۔ عقبہ سے مراد جمرۃ العقبہ ہے جو منی میں واقع ہے،اس مقام پر رات کے وقت چند انصار صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی جن میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی شامل تھے۔
تھی کہ اﷲ(عزوجل)کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے اور زنا نہ کریں گے اورچوری نہ کریں گے اور ایسی جان کو قتل نہ کریں گے جس کو اﷲ(عزوجل)نے حرام فرمایااور لوٹ نہ کریں گے اور خدا (تعالیٰ)کی نافرمانی نہ کریں گے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم کو جنت دی جائے گی اور اگر ان میں سے کوئی کام ہم نے کیا تو اس کا فیصلہ اﷲ(عزوجل)کی طرف ہے۔ (1)
حدیث 27: امام بخاری اپنی صحیح میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا:''اﷲ(عزوجل)کے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ مبغوض تین شخص ہیں۔ 1حرم میں الحاد کرنے والا اور 2 اسلا م میں طریقہ جاہلیت کا طلب کرنے والا اور 3 کسی مسلمان شخص کا ناحق خون طلب کرنے والاتاکہ اسے بہائے۔ (2)
حدیث 28: امام ابو جعفر طحاوی نے اپنی کتاب شرح معانی الآثار میں نعمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصَلَّی اللہُ تعالٰی علَیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''قصاص میں قتل تلوار ہی سے ہوگا۔''(3)
مسئلہ 1: قتل ناحق کی پانچ صورتیں ہیں۔(1)قتل عمد (2)قتل شبہ عمد (3)قتل خطا (4)قائم مقام خطا (5)قتل بالسبب۔ قتل عمد یہ ہے کہ کسی دھار دار آلے سے قصداً قتل کرے۔ آگ سے جلا دینا بھی قتل عمد ہی ہے۔ دھار دار آلہ مثلاً تلوار، چھری یا لکڑی اور بانس کی کَھپَچِّی(4)میں دھار نکال کر قتل کیا یا دھار دار پتھر سے قتل کیا، لوہا، تانبا اور پیتل وغیرہ کی کسی چیز سے قتل کریگا، اگر اس سے جرح یعنی زخم ہوا تو قتل عمد ہے، مثلاً چھری، خنجر، تیر، نیزہ، بلّم(5)وغیرہ کہ یہ سب آلہ جارحہ (6)ہیں۔ گولی اورچَھرے سے قتل ہوا، یہ بھی اسی میں داخل ہے۔ (7)(ہدایہ ص559جلد4، درمختار و شامی ص 466 جلد 5، بحرالرائق ص 287،جلد 8، تبیین الحقائق ص 97 ج 6، طحطاوی ص 257 جلد 4)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الدیات،باب قول اللہ تعالٰی(ومن احیاھا)،الحدیث:6873،ج4،ص359.
2 ۔المرجع السابق،باب من طلب دم إمریئ بغیرحق،الحدیث:6882،ج4،ص362.
3 ۔''شرح معاني الآثار''،کتاب الجنایات،باب الرجل یقتل رجلا کیف یقتل؟،الحدیث:4917،ج3،ص81.
4 ۔ بانس کا چرا ہوا ٹکڑا۔
5 ۔ لمبی لاٹھی جس کے سرے پر نوک دار بھال ہوتی ہے،بھالا،برچھا ۔
6 ۔یعنی زخمی کرنے والے آلے ہیں۔
7 ۔''الھدایۃ''کتاب الجنایات،ج 2،ص 442.
و''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،ج10،ص155۔157.
مسئلہ 2: قتل عمد کا حکم یہ ہے کہ ایسا شخص نہایت سخت گنہ گار ہے۔ (1)(درمختاروشامی ص 467ج 5، تبیین ص 98 جلد 6، بحرالرائق ص 288 جلد 8، طحطاوی ص 258 جلد 4، دررغرر ص 89جلد 2،عالمگیری ص2جلد6)
کفر کے بعد تمام گناہوں میں سب سے بڑا گناہ قتل ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا :
(وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا)
(2)(پ5،ع10)
''جو کسی مومن کو قصداً قتل کرے اس کی سزا جہنم میں مدتوں(3)رہنا ہے۔''
ایسے شخص کی توبہ قبول ہوتی ہے یا نہیں اس کے متعلق صحابہ کرام(رضی اللہ تعالٰی عنہم)میں اختلاف ہے جیسا کہ کتب حدیث میں یہ بات مذکور ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اس کی توبہ بھی قبول ہو سکتی ہے اور صحیح یہ ہے کہ ایسے قاتل کی بھی مغفرت ہو سکتی ہے۔ اﷲتعالیٰ کی مشیت میں ہے۔ اگر وہ چاہے تو بخش دے(4)جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا:
(اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ)
(5)(پ5،ع4)
''بے شک اﷲ(عزوجل)(6)شرک یعنی کفر کو تو نہیں بخشے گا۔ اس سے نیچے جتنے گناہ ہیں جس کے لیے چاہے گا مغفرت فرما دے گا۔''
اور پہلی آیت کا یہ مطلب بیان کیا جاتا ہے کہ مومن کو جو بحیثیت مومن قتل کریگا یا اس کے قتل کو حلال سمجھے گا وہ بے شک ہمیشہ جہنم میں رہے گا یا خلود سے مراد بہت دنوں تک رہنا ہے۔
مسئلہ 3: قتل عمد کی سزا دنیا میں فقط قصاص ہے یعنی یہی متعین ہے۔ ہاں اگر اولیائے مقتول معاف کر دیں یا قاتل سے مال لے کر مصالحت کر لیں تو یہ بھی ہو سکتا ہے مگر بغیر مرضی قاتل اگر مال لینا چاہیں تونہیں ہو سکتا۔ یعنی قاتل اگر قصاص کو کہے تو اولیائے مقتول اس سے مال نہیں لے سکتے۔ مال پر مصالحت کی صورت میں دیت کے برابر یا کم یا زیادہ تینوں ہی صورتیں جائز ہیں۔ یعنی مال لینے کی صورت میں یہ ضروری نہیں کہ دیت سے زیادہ نہ ہو اور جس مال پر صلح ہوئی وہ دیت کی قسم سے ہو یا دوسری جنس سے ہو دونوں صورتوں میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔(7)(عالمگیری ص 3 جلد6، طحطاوی ص 258 جلد 4، تبیین ص 98 جلد6، بحرالرائق ص 290 جلد8، درمختار و شامی ص 467 ج5)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،ج10،ص158.
2 ۔پ5،النساء:93.
3 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''خالداً'' کاترجمہ ''مدتوں''موجودنہیں تھا، لہذامتن میں کنزالایمان سے اس کااضافہ کر دیا گیا ہے ۔ . . . علمیہ
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،ج10،ص158.
5 ۔ پ5،النساء:48.
6 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر ''اِنَّ اللہَ'' کاترجمہ ''بے شک اﷲ (عزوجل)''موجودنہیں تھا، لہذامتن میں کنزالایمان سے اس کااضافہ کردیاگیاہے۔...علمیہ
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،ج10،ص158.
مسئلہ 4: قتل عمد میں قاتل کے ذمے کفارہ واجب نہیں۔ (1)(طحطاوی ص 258ج4، بحرالرائق ص 291 ج 8، تبیین ص 99 ج 6، درمختار و شامی ص 467ج 5، دررغررص 89 ج2،عامہ متون)
مسئلہ 5: اگر اولیاء میں سے کسی ایک نے معاف کر دیا تو بھی باقی کے حق میں قصاص ساقط ہو جائے گا لیکن دیت واجب ہو جائے گی۔(2) (تبیین الحقائق ص 99 ج6)
مسئلہ 6: اولیائے مقتول نے اگر نصف قصاص معاف کر دیا تو کل ہی معاف ہوگیا، یعنی اس میں تجزی نہیں ہو سکتی، اب اگر یہ چاہیں کہ باقی نصف کے مقابل میں مال لیں، یہ نہیں ہو سکتا۔(3) (شلبی بر تبیین ص 99ج6)
مسئلہ 7: قتل کی دوسری قسم شبہ عمد ہے۔ وہ یہ کہ قصداً قتل کرے مگر اسلحہ سے یا جو چیزیں اسلحہ کے قائم مقام ہوں ان سے قتل نہ کرے مثلاً کسی کو لاٹھی یا پتھر سے مار ڈالا یہ شبہ عمد ہے اس صورت میں بھی قاتل گنہ گار ہے اور اس پر کفارہ واجب ہے اور قاتل کے عصبہ پر دیت مغلظہ واجب جو تین سال میں ادا کریں گے۔ دیت کی مقدار کیا ہوگی اس کو آئندہ ان شاء اﷲ بیان کیا جائے گا۔(4) (طحطاوی ص 258 جلد 4، بحرالرائق ص 291 ج 8 ، تبیین ص 100 ج 6 ، درمختار و شامی ص 468 ج 5 ،دررغرر ص 90 ج2)
مسئلہ 8: شبہ عمد مار ڈالنے ہی کی صورت میں ہے۔ اور اگر وہ جان سے نہیں مارا گیا بلکہ اس کا کوئی عضوتلف ہوگیا مثلاً لاٹھی سے مارا اور اس کا ہاتھ یا انگلی ٹوٹ کر علیحدہ ہوگئی تو اس کو شبہ عمد نہیں کہیں گے بلکہ یہ عمد ہے اور اس صورت میں قصاص ہے۔ (5) (دُررغررص90،جلد2بحرالرائق،ص287ج8،درمختاروشامی ص468ج5،طحطاوی ص259جلد4،عالمگیری ص3جلد6)
مسئلہ 9: تیسری قسم قتل خطا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ اس کے گمان میں غلطی ہوئی، مثلاً اس کو شکار سمجھ کرقتل کیا اور یہ شکار نہ تھا بلکہ انسان تھا یا حربی یا مرتد سمجھ کر قتل کیا حالانکہ کہ وہ مسلم تھا دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے فعل میں غلطی ہوئی مثلاً شکار پر یا چاند ماری پر گولی چلائی اور لگ گئی آدمی کو کہ یہاں انسان کو شکار نہیں سمجھا بلکہ شکار ہی کو شکار سمجھا اور شکار ہی پرگولی چلائی مگر ہاتھ بَہک گیا۔ گولی شکار کو نہیں لگی بلکہ آدمی کو لگی، اسی کی یہ دو صورتیں بھی ہیں۔ نشانہ پر گولی لگ کر لوٹ آئی اور کسی آدمی کو لگی یا نشانہ سے پار ہو کر کسی آدمی کو لگی یا ایک شخص کو مارنا چاہتا تھا دوسرے کو لگی یا ایک شخص کے ہاتھ میں مارنا
1 ۔''کنزالدقائق''،کتاب الجنایات،ص448.
2 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الجنایات،ج7،ص212.
3 ۔''حاشیۃ الشلبی''علی''تبیین الحقائق''،کتاب الجنایات،ج7،ص212.
4 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،ج10،ص 161.
5 ۔''دررالحکام''شرح''غررالأحکام''،کتاب الجنایات،الجزء الثانی،ص90.
چاہتا تھا دوسرے کی گردن میں لگی یا ایک شخص کو مارنا چاہتا تھا مگر گولی دیوار پر لگی پھر ٹپا کھا کر لوٹی اور اس شخص کو لگی یا اس کے ہاتھ سے لکڑی یا اینٹ چھوٹ کر کسی آدمی پر گری او ر وہ مرگیا یہ سب صورتیں قتل خطا کی ہیں۔(1) (درمختار و شامی ص 469 جلد5 ،طحطاوی ص 259 جلد 4، تبیین ص 101 جلد 6 ، بحرالرائق ص 292 جلد8)
مسئلہ 10: قتل خطا کا حکم یہ ہے کہ قاتل پر کفارہ واجب ہے اور اس کے عصبہ پر دیت واجب ہے جو تین سال میں
اداکی جائے گی۔ قتل خطا کی دو صورتیں ہیں اور ان میں اس کے ذمے قتل کا گناہ نہیں۔ یہ تو ضرور گناہ ہے کہ ایسے آلہ کے استعمال میں اس نے بے احتیاطی برتی، شریعت کا حکم ہے کہ ایسے موقعوں پر احتیاط سے کام لینا چاہیے۔(2) (دررغررص 90،ج2، طحطاوی ص 260 ج4 ، بحرالرائق ص 292 ج8 ، تبیین ص 101 ج6، درمختار و شامی ص469 ج 5)
مسئلہ 11: مقتول کے جسم کے جس حصہ پر وار کرنا چاہتا تھا وہاں نہیں لگا۔ دوسری جگہ لگا یہ خطا نہیں ہے بلکہ عمد ہے اور اس میں قصاص واجب ہے۔(3) (بحرالرائق ص 291، ج8 ، تبیین ص 101 ج 6 ، درمختار ص 469 ج 5، عالمگیری ص 3 ج6وہدایہ)
مسئلہ 12: قتل کی ان تینوں قسموں میں قاتل میراث سے محروم ہوتا ہے یعنی اگر کسی نے اپنے مورث کو قتل کیا تو اس کا ترکہ اس کو نہیں ملے گا بشرطیکہ جس سے قتل ہوا وہ مکلف (4)ہو اور اگر مجنوں یا بچہ ہے تو میراث سے محروم نہیں ہوگا۔(5)(عالمگیری ص 3 ج 6، بحرالرائق ص 293 ، ج8 ، تبیین ص 102ج 6،درمختار و شامی ص 470ج5 ، شلبی برتبیین ص 98 ج 6، طحطاوی ص 260 جلد 4)
مسئلہ 13: چوتھی قسم قائم مقام خطا جیسے کوئی شخص سوتے میں کسی پر گر پڑا اور یہ مر گیا اسی طرح چھت سے کسی انسان پر گرا اور مر گیا قتل کی اس صورت میں بھی وہی احکام ہیں جو خطا میں ہیں یعنی قاتل پر کفارہ واجب ہے اور اس کے عصبہ پر دیت اور قاتل میراث سے محروم ہوگا اور اس میں بھی قتل کرنے کا گناہ نہیں، مگر یہ گناہ ہے کہ ایسی بے احتیاطی کی جس سے ایک انسان کی جان ضائع کی۔(6) (عالمگیری ص 3 جلد 6 ، بحرالرائق ص 292، ج 8 ، درمختار و شامی ص 469 جلد 5، تبیین ص 101 جلد 6 ، دررغر رص 91 جلد 2 )
مسئلہ 14: پانچویں قسم قتل بالسبب، جیسے کسی شخص نے دوسرے کی ملک میں کنواں کھدوایا، یا پتھر رکھ دیا، یا راستہ میں لکڑی رکھ
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،ج10،ص161،162.
2 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،ج10،ص 160،161.
3 ۔المرجع السابق،ص162.
4 ۔یعنی عاقل ،بالغ ہو۔
5 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،ج10،ص164.
6 ۔المرجع السابق.
دی اور کوئی شخص کنویں میں گر کر یا پتھروغیرہ یا لکڑی سے ٹھوکر کھا کر مر گیا۔ اس قتل کا سبب وہ شخص ہے جس نے کنواں کھودا تھا اور پتھر وغیرہ رکھ دیا تھا۔ اس صورت میں اس کے عصبہ کے ذمے دیت ہے۔ قاتل پر نہ کفارہ ہے نہ قتل کا گناہ، اس کا گناہ ضرور ہے کہ پرائی ملک میں کنواں کھدوا یایا وہاں پتھر رکھ دیا۔(1) (درمختارص469 جلد 5 ، تبیین ص 102 جلد 6، بحرالرائق ص 293ج 8، عالمگیری ص 3 جلد 6)
مسئلہ 1: قتل عمد میں قصاص واجب ہوتا ہے کہ ایسے کو قتل کیا جس کے خون کی محافظت ہمیشہ کے لیے ہو۔ جیسے مسلم یا ذمی کہ اسلام نے ان کی محافظت کا حکم دیا ہے۔ بشرطیکہ قاتل مکلف ہو، یعنی عاقل بالغ ہو۔ مجنون یا نابالغ سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ بلکہ اگر قتل کے وقت عاقل تھا اور بعد میں مجنون ہوگیا۔ اگر قتل کے لیے ابھی تک حوالے نہیں کیا گیا ہے۔ قصاص ساقط ہو جائے گا اور اگر قصاص کا حکم ہوچکا اور قتل کرنے کے لیے دیا جاچکا ہے اس کے بعد مجنون ہوگیا تو قصاص ساقط نہیں ہوگا اور ان صورتوں میں بجائے قصاص اس پر دیت واجب ہوگی۔ (2)( بحرالرائق ص 294 جلد8، شامی ص 470 جلد5)
مسئلہ 2: جو شخص کبھی مجنون ہو جاتا ہے اور کبھی ہوش میں آجاتا ہے۔ اس نے اگر حالتِ افاقہ میں کسی کو قتل کیا ہے تواس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ ہاں اگر قتل کے بعد اسے جنون مطبق ہوگیا تو قصاص ساقط ہوگیا اور جنون مطبق نہیں ہے تو قتل کیا جائے گا۔(3) (بزازیہ برہندیہ ص 381 ج 6 ، درمختار شامی ج 5ص 470، قاضی خان برہندیہ ص 381 ج 3)
مسئلہ 3: قصاص کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ قاتل و مقتول کے مابین شبہ نہ پایا جاتا ہو۔ مثلاً باپ بیٹااورآقا و غلام کہ یہاں قصاص نہیں اور اگر مقتول نے قاتل کو کہہ دیا کہ مجھے قتل کر ڈال، اس نے قتل کر دیا اس میں بھی قصاص واجب نہیں۔(4) (درمختار و شامی ص 470 جلد 5)
مسئلہ 4: آزاد کو آزاد کے بدلے میں قتل کیاجائے گااور غلام کے بدلے میں بھی قتل کیا جائے گا اور غلام کو(5) غلام کے بدلے میں اور آزاد کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ مرد کو عورت کے بدلے میں اور عورت کو مرد کے بدلے میں قتل کیا جائے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،ج10،ص163.
2 ۔''رد المحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود...إلخ10،ص164.
3 ۔''الدرالمختار'' و''رد المحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود...إلخ10،ص164.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔جبکہ غلام کامالک نہ ہوجیساکہ مسئلہ نمبر3 ،اورمسئلہ نمبر8 میں مذکور ہے۔
گا۔ مسلم کو ذمی کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ حربی اور مستامن کے بدلے میں نہ مسلم سے قصاص لیا جائے گا نہ ذمی سے، اسی طرح مستامن سے مستامن کے مقابل میں قصاص نہیں۔ ذمی نے ذمی کو قتل کیا، قصاص لیا جائے گا اور قتل کے بعد قاتل مسلمان ہوگیا جب بھی قصاص ہے۔(1) (شامی ودرمختار ص 471 جلد 5 ، بحرالرائق ص 296 جلد 8، عالمگیری ص 3 جلد 6)
مسئلہ 5: مسلم نے مرتد یا مرتدہ کو قتل کیا اس صورت میں قصاص نہیں۔ دو مسلمان دارالحرب میں امان لے کر گئے اورایک نے دوسرے کو وہیں قتل کر دیا قصاص نہیں۔ (2)(قاضی خان بر عالمگیر ی ص 441 جلد 3 ، بحرالرائق ص 296 جلد 8، عالمگیری ص 3 ج6)
مسئلہ 6: عاقل سے مجنوں کے بدلے میں اور بالغ سے نابالغ کے بدلے میں اور انکھیارے سے اندھے کے بدلے میں اور ہاتھ پاؤں والے سے لنجے(3)یا جس کے ہاتھ پاؤں نہ ہوں اس کے بدلے میں تندرست سے بیمار کے بدلے میں اور مردسے عورت کے بدلے میں قصاص لیا جائے گا۔(4)(درمختاروشامی،ص472جلد5،بحرالرائق ص296جلد8، عالمگیری ص3 جلد6 ، قاضی خان برعالمگیری،ص436،جلد3)
مسئلہ 7: اصول نے فروع کو قتل کیا مثلاً باپ ماں، دادا دادی، نانا نانی نے بیٹے یا پوتے یا نواسے کو قتل کیا اس میں قصاص نہیں بلکہ خود اس قاتل سے دیت دلوائی جائے گی بلکہ باپ کے ساتھ اگر بیٹے کے قتل میں کوئی اجنبی بھی شریک تھا تواس اجنبی سے بھی قصاص نہیں لیا جائے گا بلکہ اس سے بھی دیت ہی لی جائے گی۔ اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ دو شخصوں نے مل کراگر کسی کو قتل کیا اور ان میں ایک وہ ہے کہ اگر وہ تنہا کرتا تو قصاص واجب ہوتا اور دوسرا وہ ہے کہ تنہا قتل کرتا تو اس پر قصاص واجب نہیں ہوتا تو اس پہلے سے بھی قصاص واجب نہیں، مثلاً اجنبی اور باپ دونوں نے قتل کیا یا ایک نے قصداً قتل کیا اور دوسرے نے خطا کے طور پر، ایک نے تلوار سے قتل کیا دوسرے نے لاٹھی سے، ان سب صورتوں میں قصاص نہیں ہے بلکہ دیت واجب ہے۔ (5)(عالمگیری ج 6، ص 4، بحرالرائق ج 8 ص 297، قاضی خان برھندیہ ج 3 ص 441 ،شامی ج 5 ص 472)
مسئلہ 8: مولیٰ نے اپنے غلام کو قتل کیا اس میں قصاص نہیں۔ اسی طرح اپنے مدبر یا مکاتب یا اپنی اولاد کے غلام کو قتل
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی فیمن یقتل قصاصاً..إلخ،ج6،ص3.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی ہاتھ پاؤں سے معذور۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود...إلخ،ج10،ص168.
5 ۔المرجع السابق،ص168،169.
کیا یا اس غلام کو قتل کیا جس کے کسی حصہ کا قاتل مالک ہے۔ (1)(درمختارص472، ج 5، عالمگیری ص 4 ، ج6، بحرالرائق ص 297 ج 8، تبیین ص 105، ج 6)
مسئلہ 9: قتل سے قصاص واجب تھا مگر اس کا وارث ایسا شخص ہوا کہ وہ قصاص نہیں لے سکتا تو قصاص ساقط ہوگیا
مثلاً وہ قاتل اس وارث کے اصول میں سے ہے تو اب قصاص نہیں ہوسکتا۔ جیسے ایک شخص نے اپنے خسر کو قتل کیا اور اس کی وارث صرف اس کی لڑکی ہے یعنی قاتل کی بیوی۔ پھر یہ عورت مرگئی اور اس کا لڑکا وارث ہوا جو اسی شوہر سے ہے تو قصاص کی صورت میں بیٹے کا باپ سے قصاص لینا لازم آتا ہے، لہٰذا قصاص ساقط۔ (2)(درمختارو شامی ص 473 ج 5،تبیین ص106جلد6)
مسئلہ 10: مسلم نے اگر مسلم کو مشرک سمجھ کر قتل کیا، مثلاً جہاد میں ایک مسلم کو کافر سمجھا اور مار ڈالا، اس صورت میں قصاص نہیں ہے بلکہ دیت و کفارہ ہے کہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا ہے اور اگر مسلم صف کفار میں تھا اور کسی مسلم نے قتل کر ڈالا تو دیت و کفارہ بھی نہیں۔ (3)(درمختار و شامی ص 474جلد 5)
مسئلہ 11: جن اگر ایسی شکل میں آیا جس کا قتل جائز ہے۔ مثلاً سانپ کی شکل میں آیا تو اس کے قتل میں کوئی مؤاخذہ نہیں۔ (4)(درمختار و شامی ص4 47، جلد5)
مسئلہ 12: قصاص میں جس کو قتل کیا جائے تو یہ ضرور ہے کہ تلوار ہی سے قتل کیا جائے اگرچہ قاتل نے اسے تلوار سے قتل نہ کیا ہو بلکہ کسی اور طرح سے مار ڈالا ہو جس سے قصاص و اجب ہوتا ہو۔ خنجر یا نیزہ سے یا دوسرے اسلحہ سے قتل کرنا بھی تلوار ہی کے حکم میں ہے۔ لہٰذا اگر اسلحہ کے سوا کسی اور طرح سے قصاص میں قتل کیا، مثلاً کنویں میں گرا کر مار ڈالا یا پتھر وغیرہ سے قتل کیا تو ایسا کرنے سے تعزیر کا مستحق ہے۔ (5)(ہدایہ ص 563، جلد 4، درمختار و شامی ص 474 جلد5)
مسئلہ 13: کسی کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے اور وہ مرگیا تو قاتل کی گردن تلوار سے اڑا دی جائے یہ نہیں کہ اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر چھوڑ دیں۔ اسی طرح اگر اس کا سر توڑ ڈالا اور مرگیا تو قاتل کی گردن تلوار سے کاٹ دی جائے۔ (6)(عالمگیری ص 4جلد 6 ، درمختار و شامی ص 477 جلد5)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود...إلخ،ج10،ص169.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود... إلخ،ج10،ص171.
3 ۔المرجع السابق،ص172. 4 ۔المرجع السابق،ص 173.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،فصل فیمایوجب القود...إلخ،ج10،ص 173.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی فیمن یقتل قصاصاً...إلخ ،ج6،ص4.
مسئلہ 14: بعض اولیائے مقتول نے قصاص لے لیا تو باقی اولیاء اس سے ضمان نہیں لے سکتے۔ (1)(درمختار وشامی ص 477 جلد 5)
مسئلہ 15: دو شخص ولی مقتول تھے، ان میں سے ایک نے معاف کر دیا اور دوسرے نے قاتل کو قتل کر ڈالا، اگر اسے یہ معلوم تھا کہ بعض اولیاء کے معاف کر دینے سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے تو اس سے قصاص لیا جائے گا اور اگر نہیں معلوم تھا تو اس سے دیت لی جائے گی۔(2) (قاضی خان برہند یہ ص 441 جلد 3، درمختار و شامی ص 477 جلد 5)
مسئلہ 16: مقتول کے بعض اولیاء بالغ ہیں اور بعض نابالغ تو قصاص میں یہ انتظار نہیں کیا جائے گا کہ وہ نابالغ بالغ ہوجائیں بلکہ جو ورثا بالغ ہیں وہ ابھی قصاص لے سکتے ہیں۔ (3)(ہدایہ ص 565جلد 4 ، درمختار و شامی ص 476جلد5 ، بحرالرائق ص 300 جلد 8، عالمگیری ص 8 جلد 6، قاضی خان برہندیہ ص 442 جلد3)
مسئلہ 17: قاتل کو کسی اجنبی شخص نے (یعنی اس نے جو مقتول کا ولی(4)نہیں ہے)قتل کر ڈالا، اگر اس نے عمداً قتل کیا ہے تو اس قاتل سے قصاص لیا جائے گا۔ اور خطا کے طور پر قتل کیا ہے تو اس قاتل کے عصبہ سے دیت لی جائے گی، کیو نکہ اس اجنبی کے لیے اس کا قتل حلال نہ تھا، اب اگر مقتول اول کا ولی یہ کہتا ہے کہ میں نے اس اجنبی سے قتل کرنے کو کہا تھا لہٰذا اس سے قصاص نہ لیا جائے تو جب تک گواہ نہ ہوں۔ اس کی بات نہیں مانی جائے گی اور اس اجنبی سے قصاص لیا جائے اور بہرصورت جب کہ قاتل کو اجنبی نے قتل کر ڈالا تو ولی مقتول کا حق ساقط ہوگیا یعنی قصاص تو ہو ہی نہیں سکتا کہ قاتل رہا ہی نہیں اور دیت بھی نہیں لی جاسکتی کہ اس کے لیے رضامندی درکار ہے اور وہ پائی نہیں گئی۔ جس طرح قاتل مر جائے تو ولی مقتول کا حق ساقط ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہاں۔ (5)(درمختارو شامی ص 476 جلد 5)
مسئلہ 18: اولیائے مقتول نے گواہی سے یہ ثابت کیا کہ زید نے اسے زخمی کیا اور قتل کیا ہے اور زید نے گواہوں سے یہ ثابت کیا کہ خود مقتول نے یہ کہا ہے کہ زید نے نہ مجھے زخمی کیا نہ قتل کیا تو انھیں گواہوں کو ترجیح دی جائے گی۔ (6)(درمختارو شامی ص 477 جلد 5)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،ج10،ص178.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الجنایات،باب مایوجب القصاص ومالایوجبہ،ج2،ص446.
4 ۔یعنی وارث۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،ج10،ص177.
6 ۔المرجع السابق،ص179.
مسئلہ 19: مجروح نے یہ کہا کہ فلاں نے مجھے زخمی نہیں کیا ہے، یہ کہہ کر مرگیا تو اس کے ورثہ اس شخص پر قتل کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ مجروح نے یہ کہا کہ فلاں شخص نے مجھے قتل کیا۔ یہ کہہ کر مرگیا اب اس کے ورثاء دوسرے شخص پر دعویٰ کرتے ہیں کہ اس نے قتل کیا ہے۔ یہ دعویٰ مسموع(1)نہیں ہوگا۔ (2)(درمختار و شامی ص 478جلد5)
مسئلہ 20: جس کو زخمی کیا گیا۔ اس نے مرنے سے پہلے معاف کر دیا یا اس کے اولیاء نے مرنے سے پہلے معاف کر دیا یہ معافی جائز ہے۔ یعنی اب قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (3)(درمختارص 478 جلد 5)
مسئلہ 21: کسی کو زہر دے دیا۔ اسے معلوم نہیں اور لاعلمی میں کھا پی گیا تو اس صورت میں نہ قصاص ہے نہ دیت، مگر زہر دینے والے کو قید کیا جائے گا اور اس پر تعزیر ہوگی اور اگر خود اس نے اس کے منھ میں زبردستی ڈال دیا یا اس کے ہاتھ میں دیا اور پینے پر مجبور کیا تو دیت واجب ہوگی۔ (4)(درمختارو شامی ص 478 ج5، بزازیہ برہندیہ ص 385 جلد 6 بحرالرائق ص 294 جلد 8)
مسئلہ 22: یہ کہا کہ میں نے اپنی بددعا سے فلاں کو ہلاک کر دیا یا باطنی تیروں سے ہلاک کیا یا سورہ ئانفال پڑھ کر ہلاک کیا تویہ اقرار کرنے والے پر قصاص وغیرہ لازم نہیں۔ اسی طرح اگر وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے اﷲ تعالٰی کے اسمائے قہر یہ پڑھ کر اس کو ہلاک کر دیا، اس کہنے سے بھی کچھ لازم نہیں۔ نظر بد سے ہلاک کرنے کا اقرار کرے اس کے متعلق کچھ منقول نہیں۔(5) ( شامی ص 478 جلد5)
مسئلہ 23: کسی نے اس کا سر توڑ ڈالا اور خود اس نے بھی اپنا سر توڑا اور شیر نے اسے زخمی کیا اور سانپ نے بھی کاٹ کھایا اور یہ مرگیا تو اس شخص پر جس نے سر توڑا ہے تہائی دیت واجب ہوگی۔(6) (عالمگیری ص4،جلد 6)
مسئلہ 24: ایک شخص نے کئی شخصوں کو قتل کیا اور ان تمام مقتولین کے اولیاء نے قصاص کا مطالبہ کیا تو سب کے بدلے میں اس قاتل کو قتل کیا جائے گا اور فقط ایک کے ولی نے مطالبہ کیا اور قتل کر دیا گیا تو باقیوں کا حق ساقط ہوجائے گا۔ یعنی اب ان کے مطالبہ پر کوئی مزید کارروائی نہیں ہوسکتی۔(7) (عالمگیری ص 4 جلد 6)
1 ۔یعنی قابل سماعت ۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،مبحث شریف،ج10،ص179.
3 ۔ المرجع السابق.4 ۔المرجع السابق،ص 180.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،مبحث شریف،ج10،ص181.
6 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی فیمن یقتل قصاصاً...إلخ،ج6،ص4.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 25: ایک شخص کو چند شخصوں نے مل کر قتل کیا تو اس کے بدلے میں یہ سب قتل کئے جائیں گے۔ (1) (عالمگیری ص 5 جلد 6، بزازیہ برہندیہ ص 382 جلد 6، قاضی خان برہندیہ ص 440 جلد 3)
مسئلہ 26: ایک سے زیادہ مرتبہ جس نے گلا گھونٹ کر مار ڈالا اس کو بطور سیاست قتل کیا جائے اور گرفتاری کے بعد اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ مقبول نہیں اور اس کا وہی حکم ہے جو جادوگر کا ہے۔(2) (درمختارو شامی ص 481 ج 5، بحرالرائق ص 294 ج8)
مسئلہ 27: کسی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر شیر یا درندے کے سامنے ڈال دیا اس نے مار ڈالا، ایسے شخص کو سزا دی جائے اور مارا جائے (3)اور قید میں رکھا جائے یہاں تک کہ وہیں قید خانہ ہی میں مرجائے اسی طرح اگر ایسے مکان میں کسی کو بند کر دیا جس میں شیر ہے جس نے مار ڈالا یا اس میں سانپ ہے جس نے کاٹ لیا۔ (4)(درمختار وشامی ص 480 جلد 5)
مسئلہ 28: بچہ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر دھوپ یا برف پر ڈال دیا اور وہ مرگیا توان دونوں صورتوں میں دیت ہے اوراگر آگ میں ڈال کر نکال لیااور تھوڑی سی زندگی باقی ہے مگر کچھ دنوں بعد مر گیا تو قصاص ہے اور اگر چلنے پھرنے لگا پھر مر گیا توقصاص نہیں ہے۔(5)( عالمگیری ص 6 ج 6 ، بحرالرائق ص 294 ج8)
مسئلہ29: ایک شخص نے دوسرے کا پیٹ پھاڑ دیا کہ آنتیں نکل پڑیں۔ پھر کسی اور نے اس کی گردن اڑا دی تو قاتل یہی ہے جس نے گردن ماری۔ اگر اس نے عمداً کیا ہے تو قصاص ہے اور خطا کے طور پر ہو تو دیت واجب ہے اور جس نے پیٹ پھاڑا اس پر تہائی دیت واجب ہے اور اگر پیٹ اس طرح پھاڑا کہ پیٹھ کی جانب زخم نفوذ کر گیا تو دیت کی دو تہائیاں۔ یہ حکم اس وقت ہے کہ پیٹ پھاڑنے کے بعد وہ شخص ایک دن یا کچھ کم زندہ رہ سکتا ہو، اور اگر زندہ نہ رہ سکتا ہو اور مقتول کی طرح تڑپ رہا ہو تو قاتل وہ ہے جس نے پیٹ پھاڑا، اس نے عمداً کیا ہو تو قصاص ہے اور خطا کے طور پر ہو تو دیت ہے اور جس نے گردن ماری اس پر تعزیر ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص نے ایسا زخمی کیا کہ امید زیست (6)نہ رہی۔ پھر دوسرے نے اسے زخمی کیا توقاتل وہی پہلا شخص ہے۔ اگر دونوں نے ایک ساتھ زخمی کیا تو دونوں قاتل ہیں۔ اگرچہ ایک نے دس وار کئے اور دوسرے نے
1 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی،فیمن یقتل قصاصاً...إلخ،ج6،ص5.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،مبحث شریف،ج10،ص183.
3 ۔یعنی پٹائی کی جائے۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،مبحث شریف،ج10،ص183.
5 ۔المرجع السابق،ص 184.
6 ۔یعنی زندگی کی امید۔
ایک ہی وار کیا ہو۔(1) ( بزازیہ برہندیہ ص 381 جلد 6، عالمگیری ص 6 ، جلد 6 ، شامی ص 480 جلد 5، بحرالرائق ص 295 جلد 8)
مسئلہ 30: کسی شخص کا گلا کاٹ دیا۔ صرف حلقوم(2) کا کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے اور ابھی جان باقی ہے دوسرے نے اسے قتل کر ڈالا تو قاتل پہلا شخص ہے دوسرے پر قصاص نہیں کیوں کہ اس کا میت میں شمار ہے لہٰذا اگر مقتول اس حالت میں تھا اور مقتول کا بیٹا مرگیا تو بیٹا وارث ہوگا یہ مقتول اپنے بیٹے کا وارث نہیں ہوگا۔(3) (عالمگیری ص 6 جلد6، بحرالرائق ص 295 جلد8)
مسئلہ 31: جو شخص حالت نزع میں تھا اسے قتل کر ڈالا اس میں بھی قصاص ہے۔ اگرچہ قاتل کو یہ معلوم ہو کہ اب زندہ نہیں رہے گا۔ (4)(درمختار و شامی ص 480 جلد 5)
مسئلہ 32: کسی کو عمداً زخمی کیا گیا کہ وہ صاحب فراش ہوگیا(5) اور اسی میں مرگیا تو قصاص لیا جائے گا۔ ہاں اگر کوئی ایسی چیز پائی گئی جس کی وجہ سے یہ کہا گیا ہو کہ اسی زخم سے نہیں مرا ہے تو قصاص نہیں۔ مثلاً کسی دوسرے نے اس مجروح کی گردن کاٹ دی تو اب مرنے کو اس کی طرف نسبت کیا جائے گایا وہ شخص اچھا ہو کر مرگیا تو اب یہ نہیں کہا جائے گا کہ اسی زخم سے مرا۔ (6)(درمختار و شامی ص 480 ج 5 ، تبیین ص 109 جلد 6)
مسئلہ33: جس نے مسلمانوں پر تلوار کھینچی ایسے کو اس حالت میں قتل کر دینا واجب ہے یعنی اس کے شر کو دفع کرنا واجب ہے، اگرچہ اس کے لیے قتل ہی کرنا پڑے اسی طرح اگر ایک شخص پر تلوار کھینچی تو اسے بھی قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں خواہ وہی شخص قتل کرے جس پر تلوار اٹھائی یا دوسرا شخص۔ اسی طرح اگر رات کے وقت شہر میں لاٹھی سے حملہ کیا یا شہر سے باہر دن یا رات میں کسی وقت بھی حملہ کیا اور اس کو کسی نے مار ڈالا تو اس کے ذمہ کچھ نہیں۔(7) (ہدایہ ص 567 ج 4، درمختار و شامی ص 481 جلد 5،عالمگیری ص 7 جلد 6، بحرالرائق ص 302 جلد8 ، تبیین ص 110 ، جلد 6)
مسئلہ 34: مجنوں نے کسی پر تلوار کھینچی اور اس نے مجنون کو قتل کر دیا تو قاتل پر دیت واجب ہے جو خود اپنے مال سے ادا کرے۔ یہی حکم بچہ کا ہے کہ اس کی بھی دیت دینی ہوگی اور اگر جانور نے حملہ کیا اور جانور کو مار ڈالا تو اس کی قیمت کا تاوان دینا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی فیمن یقتل قصاصاً... إلخ،ج6،ص6.
2 ۔گلے میں سانس آنے جانے والی رگ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی فیمن یقتل قصاصاً... إلخ،ج6،ص6.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،مبحث شریف،ج10،ص184.
5 ۔ یعنی ایسا زخمی کردیا کہ وہ چلنے پھرنے کے قابل نہ رہااور صرف بستر پر لیٹا رہا۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،مبحث شریف،ج10،ص185.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الجنایات،باب مایوجب القصاص ومالایوجبہ ،فصل،ج2،ص 448.
ہوگا۔(1) (ہدایہ ص 568 ج4،درمختاروشامی ص482ج5،عالمگیری ص7جلد6،بحرالرائق ص203جلد8،تبیین ص110جلد6)
مسئلہ 35: جو شخص تلوار مار کر بھاگ گیا کہ اب دوبارہ مارنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ پھر اسے کسی نے مار ڈالا تو قاتل سے قصاص لیا جائے گا۔ یعنی اسی وقت اس کو قتل کرنا جائز ہے جب وہ حملہ کر رہا ہو یا حملہ کرنا چاہتا ہے بعد میں جائز نہیں۔ (2)(تبیین ص 110 جلد6، عالمگیری ص 7 جلد 6، بحرالرائق ص 302 جلد8، ہدایہ ص 568 ج4)
مسئلہ 36: گھر میں چور گھسا اور مال چرا کر لے جانے لگا صاحب خانہ نے پیچھا کیا اور چور کو مار ڈالا۔ تو قاتل کے ذمہ کچھ نہیں مگر یہ اس وقت ہے کہ معلوم ہے کہ شور کریگااور چلائے گا تو مال چھوڑ کر نہیں بھاگے گا اور اگر معلوم ہے کہ شور کریگا تو مال چھوڑ کر بھاگ جائے گا تو قتل کرنے کی اجازت نہیں بلکہ اس وقت قتل کرنے سے قصاص واجب ہوگا۔ (3)(عالمگیری ص 7 ، جلد6، بحرالرائق ص 302 جلد8، تبیین ص 111 جلد 6 ، ہدایہ ص 568 ج 4)
مسئلہ 37: مکان میں چور گھسا اور ابھی مال لے کر نکلا نہیں اس نے شور و غل کیا مگر وہ بھاگا نہیں یا اس کے مکان میں یا دوسرے کے مکان میں نقب لگا رہا ہے(4)اور شور کرنے سے بھاگتا نہیں، اس کو قتل کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ چور ہونا اس کا مشہور ومعروف ہو۔ (5) (درمختار و شامی ص 482 جلد 5)
مسئلہ 38: ولی مقتول نے قاتل کو یا کسی دوسرے کو قصاص ہبہ کر دیا۔ یہ ناجائز ہے۔ یعنی قصاص ایسی چیز نہیں جس کا مالک دوسرے کو بنایا جاسکے اور اس کو ہبہ کرنے سے قصاص ساقط نہیں ہوگا۔(6) (درمختارو شامی ص 483 جلد5)
مسئلہ 39: ولی مقتول نے معاف کر دیا یہ صلح سے افضل ہے اور صلح قصاص سے افضل ہے اور معاف کرنے کی صورت میں قاتل سے دنیا میں مطالبہ نہیں ہوسکتا ہے نہ اب قصاص لیا جاسکتا ہے نہ دیت لی جاسکتی ہے۔ (7)(درمختار و شامی ص484 ج5) رہا مواخذہ اخروی(8)، اس سے بری نہیں ہوا، کیوں کہ قتل ناحق میں تین حق اس کے ساتھ متعلق ہیں۔
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،مبحث شریف،ج10،ص188.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الجنایات،ج2،ص448، 449.
3 ۔المرجع السابق،ص449.
4 ۔یعنی چوری کے ارادے سے دیوار میں سوراخ کررہا ہے۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،مبحث شریف،ج10،ص 189.
6 ۔المرجع السابق،ص192.
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،مبحث شریف،ج10،ص 192.
8 ۔ یعنی آخرت کی پکڑ۔
ایک حق اﷲ، دوسرا حق مقتول، تیسرا حق ولی مقتول، ولی کو اپنا حق معاف کرنے کا اختیار تھا سو اس نے معاف کر دیا مگر حق اﷲا ور حق مقتول بدستور باقی ہیں۔ ولی کے معاف کرنے سے وہ معاف نہیں ہوئے۔ (1)(درمختار و شامی ص 484 ج 5)
مسئلہ 40: مجروح کا معاف کرنا صحیح ہے یعنی معاف کرنے کے بعد مرگیا تو اب ولی کو قصاص لینے کا اختیار نہیں رہا۔ (2)(درمختار ص484جلد5)
مسئلہ41: قاتل کی توبہ صحیح نہیں جب تک وہ اپنے کو قصاص کے لیے پیش نہ کر دے۔ یعنی اولیائے مقتول کوجس طرح ہوسکے راضی کرے۔ خواہ وہ قصاص لے کر راضی ہوں یا کچھ لے کر مصالحت(3)کریں یا بغیر کچھ لیے معاف کر دیں۔ اب وہ دنیا میں بری ہوگیا اور معصیت (4)پر اقدام کرنے کا جرم و ظلم یہ توبہ سے معاف ہو جائے گا۔ (5) (درمختار وشامی ص 484 جلد 5)
مسئلہ 1: اعضا میں قصاص وہیں ہوگا جہاں مماثلت(6)کی رعایت کی جاسکے۔ یعنی جتنا اس نے کیا ہے اتنا ہی کیا جائے۔ یہ احتمال نہ ہو کہ اس سے زیادتی ہو جائے گی۔(7) (درمختار ص 485 ج5)
مسئلہ 2: ہاتھ کو جوڑ پر سے کاٹ لیا ہے، اس کا قصاص لیا جائے گا، جس جوڑ پر سے کاٹا ہے اسی جوڑپر سے اس کا بھی ہاتھ کاٹ لیاجائے۔ اس میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کا ہاتھ چھوٹا تھا اور اس کا بڑا ہے کہ ہاتھ ہاتھ دونوں یکساں قرار پائیں گے۔ (8)(درمختارو شامی ص 485 جلد 5)
مسئلہ 3: کلائی یا پنڈلی درمیان میں سے کاٹ دی یعنی جوڑ پر سے نہیں کاٹی بلکہ آدھی یا کم و بیش کاٹ
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،مبحث شریف،ج10،ص192.
2 ۔المرجع السابق.ص179.
3 ۔یعنی صلح۔ 4 ۔ گناہ۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود...إلخ،مبحث شریف،ج10،ص192.
6 ۔برابری،مساوات۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص195.
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص195.
دی اس میں قصاص نہیں کہ یہاں مماثلت ممکن نہیں اس طرح ناک کی ہڈی کل یا اس میں سے کچھ کاٹ دی یہاں بھی قصاص نہیں۔ (1)(درمختار وشامی ص 485 جلد 5)
مسئلہ 4: پاؤں کاٹا یا ناک کا نرم حصہ کاٹا یا کان کاٹ دیا۔ ان میں قصاص ہے اور اگر ناک کے نرم حصہ میں سے کچھ کاٹا ہے تو قصاص واجب نہیں اور ناک کی نوک کاٹی ہے تو اس میں حکومت عدل ہے۔ کاٹنے والے کی ناک اس کی ناک سے چھوٹی ہے۔ تو جس کی ناک کاٹی ہے اس کو اختیار ہے کہ قصاص لے یا دیت اور اگر کاٹنے والے کی ناک میں کوئی خرابی ہے مثلاً وہ اخشم ہے جسے بو محسوس نہیں ہوتی یا اس کی ناک کچھ کٹی ہوئی ہے یا اور کسی قسم کا نقصان ہے تو اس کو اختیار ہے کہ قصاص لے یا دیت۔ (2)(درمختار و شامی ص 485 ج 5)
مسئلہ 5: کان کاٹنے میں قصاص اس وقت ہے کہ پورا کاٹ لیا ہو۔ یا اتنا کاٹا ہو جس کی کوئی حد ہوتا کہ اتنا ہی اس کا کان بھی کاٹا جائے۔ اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو قصاص نہیں کہ مماثلت ممکن نہیں۔ کاٹنے والے کا کان چھوٹا ہے اور اس کابڑا تھا۔ یا کاٹنے والے کے کان میں چھید(3)ہے یا یہ پھٹا ہوا ہے اور اس کا کان سالم تھا(4)، تو اسے اختیار ہے کہ قصاص لے یا دیت۔(5) (شامی ص365 جلد 5 ،بحرالرائق ص345 جلد 8)
ھٰذا مَا تَیَسَّرَلِیْ اِلَی الْاٰن وَمَاتَوْفِیْقِیْ اِلاَّ بِاللہِ وَھُوَ حَسْبِیْ وَنِعْمَ الْوَکِیْل نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْر وَاللہُ الْمَسْئُوْلُ اَنْ یُوَفِّقَنِیْ لِعَمَلِ اَھْلِ السَّعَادَۃِ وَ یَرْزُقَنِیْ حُسْنَ الْخَاتِمَۃِ عَلَی الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ وَاَنَا الْفَقِیْرُ الْحَقِیْرُ اَبُوالْعَلاء مُحَمَّدُ اَمْجَدْ عَلِی الاَعْظَمِی غُفِرَلُہٗ وَلِوَالِدَیْہٖ وَلِمُحِبِّیْہٖ وَلِاَسَاتِذَتِہٖ۔
٭٭٭٭٭
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص195.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص195،196.
3 ۔یعنی سوراخ۔
4 ۔یعنی پورا تھاکٹاہوا نہ تھا۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص196.
مسئلہ 1: زخموں کا قصاص صحت کے بعد لیا جائے گا۔ (1)(شامی،ص485،جلد5، تبیین الحقائق،ص128،جلد6، بحرالرائق ص 340 جلد 8، بدائع صنائع ص310،جلد 7، طحطاوی ص 268جلد4)
مسئلہ 2: داہنے ہاتھ کی جگہ بایاں ہاتھ اور تندرست کی جگہ ایسا شل ہاتھ جو ناقابل انتفاع ہو اور عورت کے ہاتھ کے بدلے مرد کا ہاتھ اور مرد کے ہاتھ کے بدلے میں عورت کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (2)(عالمگیری ،ص9 جلد6، درمختار و شامی ص88 4 ج5، قاضی خاں علی الھندیہ ص 433ج3، بحرالرائق ص 303ج8، تبیین الحقائق ص 112ج6، مبسوط ص 136ج26، بدائع صنائع ص 297ج7)
مسئلہ 3: آزاد کا ہاتھ غلام کے ہاتھ کے بدلے میں اور غلام کا ہاتھ آزاد کے ہاتھ کے بدلے میں نہیں کاٹا جائے گا اور غلام کے ہاتھ کے بدلے میں غلام کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ (3)(عالمگیری ص9 جلد6، درمختار و شامی ص 488جلد5، تبیین الحقائق ص 112جلد6، بحرالرائق ص306 جلد8، فتح القدیر ص271 جلد8، مبسوط ص 136جلد26، بدائع صنائع ص 308جلد7، مجمع الانہر ص 625جلد2، قاضی خان علی الھندیہ ص 433جلد3)
مسئلہ 4: مسلمان اور ذمی ایک دوسرے کے اعضاء کاٹ دیں تو ان میں قصاص لیا جائے گا اور یہی حکم ہے دو آزاد عورتوں اور مسلمہ و کتابیہ اور دونوں کتابیہ عورتوں کا۔(4) (عالمگیری ص 9جلد6،شامی ص 488جلد5، تبیین الحقائق ص112ج6، مجمع الانہر ص626 جلد2)
مسئلہ 5: بالوں،سر اوربدن کی کھال اور رخساروں اور ٹھڈی، پیٹ اور پیٹھ کے گوشت میں قصاص نہیں ہے۔ (5)(عالمگیری ص 9جلد6، طحطاوی علی الدر ص267 جلد4، بدائع صنائع ص299 جلد7)
مسئلہ 6: تھپڑ مارا یا گھونسہ مارا یا دبوچا تو ان کا قصاص نہیں ہے۔(6) (عالمگیری ص9جلد6)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص195.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص9.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج4ص267.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص9.
مسئلہ 7: دانت کے سوا کسی ہڈی میں قصاص نہیں ہے۔ (1)(عالمگیری ص9 جلد6، درمختار و شامی ص486 جلد5، بحرالرائق ص306 جلد8، تبیین الحقائق ص111 ،ج6، عنایہ و فتح القدیر ص 270جلد8، مبسوط ص 135جلد26، دررغرر غنیہ ص 96جلد2)
مسئلہ 8: کسی نے کسی کی آنکھ پر ایسی ضرب لگائی کہ جس سے صرف روشنی جاتی رہی اور بظاہر آنکھ میں اور کوئی عیب نہیں ہے تو اس طرح قصاص لیا جائے گا کہ مارنے والے کی آنکھ کی روشنی زائل ہو جائے اور کوئی دوسرا عیب پیدا نہ ہو۔ (2)(بزازیہ علی الھندیہ ص390 جلد6، عالمگیری ص9 جلد6، درمختار و شامی ص 486جلد5، تبیین الحقائق ص111 جلد6، بحرالرائق ص 303جلد8،فتح القدیر ص270 جلد8وہدایہ ، قاضی خان علی الھندیہ ص483 جلد3 ، مجمع الانہر ص 625جلد2، طحطاوی علی الدر ص268 جلد4، مبسوط ص152 جلد26، بدائع صنائع ص308 جلد7، درر غرر شرنبلالی ص65 جلد2)
مسئلہ 9: اگر آنکھ نکال لی یا اس طرح مارا کہ اندر دھنس گئی تو قصاص نہیں ہے، کیوں کہ مماثلت (3)نہیں ہوسکتی۔ (4)(درمختار ص 486 جلد5، عالمگیری ص9 جلد6، قاضی خاں علی الھندیہ ص 438جلد3، بحرالرائق ص303 جلد8، تبیین الحقائق ص111 جلد6، ہدایہ، فتح القدیر ص270 جلد8، مبسوط ص152 جلد26)
مسئلہ 10: اعضاء میں جہاں قصاص واجب ہوتا ہے وہاں ہتھیار سے مارنا اور غیر ہتھیار سے مارنا برابر ہے۔ (5)(عالمگیری ص9 جلد6، درمختار و شامی ص 468جلد5، بدائع صنائع ص 310جلد7، بحرالرائق ص 287جلد8، عنایہ ص 253جلد8، علی الہدایہ و فتح القدیر ، بزازیہ علی الھندیہ ص390 ج6)
مسئلہ 11: اگر ضرب لگا کر آنکھ کا ڈھیلا(6)نکال دیا اور جس کا ڈھیلا نکالا گیا وہ کہتا ہے کہ میں اس پر تیار ہوں کہ جانی کی (7)آنکھ پھوڑ دی جائے اور ڈھیلا نہ نکالا جائے تو بھی ایسا نہیں کیا جائے گا۔ (8)(عالمگیری ص 9جلد6، بدائع صنائع ص308 جلد7)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص9.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔برابری۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص9.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔ آنکھ کی پتلی ۔ 7 ۔یعنی ضرب لگانے والے کی۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص9.
مسئلہ 12: اگر کسی نے کسی کی داہنی آنکھ ضائع کر دی ا ور جانی کی(1)بائیں آنکھ نہیں ہے تو بھی اس کی داہنی آنکھ پھوڑ کر اس کو اندھا کر دیا جائے گا۔(2) (عالمگیری ص 9جلد6، درمختار ص 486جلد5، قاضی خان علی الھندیہ ص 438جلد3، بزازیہ علی الھندیہ ص 390جلد6)
مسئلہ 13: بھینگے کی ایسی آنکھ جس میں پوری روشنی تھی، قصداً پھوڑ دی تو اس کا قصاص لیا جائے گا اور اگر اتنا بھینگا ہے کہ کم دیکھتا ہے تو اس صورت میں انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔(3) (عالمگیری ص 9جلد6، قاضی خان علی الھندیہ ص 439جلد3، درمختار و شامی ص486 ج5، طحطاوی علی الدر ص268 جلد4، بزازیہ علی الھندیہ ص390 جلد6)
مسئلہ 14: کم نظر بھینگے نے کسی کی اچھی آنکھ پھوڑ دی تو اس شخص کو اختیار ہے چاہے تو قصاص لے اور نقصان پر راضی ہو جائے اور چاہے تو جانی کے مال سے آدھی دیت لے لے۔ (4) (عالمگیری ص 9جلد6، قاضی خان علی الھندیہ ص 439جلد3، طحطاوی علی الدر ص 269جلد4، بزازیہ علی الھندیہ ص 390جلد6)
مسئلہ 15: جس شخص کی داہنی آنکھ میں جالا ہے اور وہ اس سے کچھ دیکھتا ہے اس نے کسی شخص کی داہنی آنکھ ضائع کر دی تو جس کی آنکھ ضائع کی گئی ہے اس کو اختیار ہے کہ اس کی ناقص آنکھ ضائع کر دے یا آنکھ کی دیت لے لے اور اگر وہ جالے والی آنکھ سے کچھ نہیں دیکھتا تو قصاص نہیں ہے۔ اور اگر اس شخص نے جس کی آنکھ ضائع ہوئی تھی ابھی کچھ اختیار نہیں کیا تھا کہ کسی اور شخص نے اس آنکھ پھوڑنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو پہلے والے کا حق اس کی آنکھ میں باطل ہوگیا اور اگر پہلے جس کی آنکھ پھوڑی گئی تھی۔ اس نے دیت اختیار کر لی تھی، پھر کسی شخص نے جانی کی آنکھ پھوڑ دی تو اگر اس کا اختیار صحیح تھا تو اس کا حق آنکھ سے دیت کی طرف منتقل ہو جائے گا اور آنکھ کے ضائع ہونے سے اس کا حق باطل نہیں ہوگا اور اگر اس کا اختیار صحیح نہیں تھا تو اس کا حق باطل ہو جائے گا۔ اختیار صحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جنایت کرنے والے نے اختیار دیا ہو اور اگر اس نے خود ہی دیت کو اختیار کر لیا ہے تو اختیار صحیح نہیں ہے اور اس صورت میں جس میں اختیار صحیح نہیں ہے اگر جانی کی جالے والی آنکھ میں روشنی آگئی تو پھر قصاص لے سکتا ہے اور اس صورت میں جس میں اختیار صحیح ہے قصاص کی طرف رجوع نہیں کرسکتا۔(5) (عالمگیری ص 10 ج6)
1 ۔آنکھ ضائع کرنے والے کی۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص9.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص196.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص9.
5 ۔المرجع السابق،ص9،10.
مسئلہ 16: کسی کی جالے والی ایسی آنکھ کو نقصان پہنچایا جس میں روشنی ہے اور جانی کی آنکھ بھی ایسی ہے تو قصاص نہیں ہے۔(1) (شامی ص486 ج5، عالمگیری ص10 ج6، طحطاوی علی الدراز محیط ص 268ج4)
مسئلہ 17: اگر کسی کی آنکھ پر اس طرح ضرب لگائی کہ کچھ پتلی پر جالا(2)آگیا یا آنکھ کو زخمی کر دیا یا اس میں چھالا یا جالا آگیا یا آنکھ میں کوئی ایسا عیب پیدا کر دیا کہ اس سے روشنی کم ہوگئی تب بھی انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (3)(شامی عن تاتار خانیہ ص 486ج5، عالمگیری ص 10ج6،درمختاروشامی ازخانیہ ص486ج5،مجمع الانہر ص625ج2،طحطاوی علی الدرص268 ج4، بدائع صنائع ص308 ج7)
مسئلہ 18: اگر کسی کی بائیں آنکھ پھوڑ دی تو جانی کی(4)داہنی آنکھ سے اور اگر داہنی آنکھ پھوڑ دی تو بائیں آنکھ سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔(5) (شامی ص486 ج5، عالمگیری ص 10ج6، بزازیہ علی الھندیہ ص360 ج6، مجمع الانہر ص625 ج2، قاضی خان علی الھندیہ ص 433ج2، بحرالرائق ص 303ج8)
مسئلہ 19: کسی کی آنکھ پر مارا کہ جالا آگیا پھر جالا جاتا رہا اور وہ دیکھنے لگا تو مارنے والے پر کچھ نہیں ہے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب پوری نظر واپس آجائے لیکن اگر بینائی میں نقصان رہا تو انصاف سے تاوان لیا جائے گا۔ (6) (عالمگیری ص 10ج6، مجمع الانہر ص125 ج2، طحطاوی علی الدر ص268 ج4، شامی ص 486ج5)
مسئلہ 20: اگر کسی بچے کی آنکھ پیدائش کے فوراً بعد یا چند روز بعد پھوڑ دی اور جانی کہتا ہے کہ بچہ آنکھ سے نہیں دیکھتا تھا یا کہتا ہے کہ مجھے اس کے دیکھنے یا نہ دیکھنے کا علم نہیں تو اس کی بات مان لی جائے گی اور اسے تاوان دینا ہوگا جس کا فیصلہ انصاف سے کیا جائے گا اور اگر یہ علم ہو جائے کہ بچے نے اس آنکھ سے دیکھا ہے۔ اس طرح کہ دو گواہ بچے کی آنکھ کی سلامتی کی گواہی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص10.
2 ۔آنکھ کی سیاہ پتلی پر چھانے جانے والی سفید جھلی جو روشنی کو کم یا زائل کر دیتی ہے۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص10.
4 ۔یعنی آنکھ پھوڑنے والے کی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص10.
و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص196.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص10.
و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات، باب القود فیمادون النفس،ج6،ص197.
دیں تو غلطی سے پھوڑنے کی صورت میں نصف دیت اور قصداً پھوڑنے کی صورت میں قصاص ہے۔ (1)(عالمگیری ص10 ج6، قاضی خان ص 439ج3، بحرالرائق ص 337ج8، قاضی خان علی الھندیہ ص439 ج3، تبیین الحقائق ص 135ج6)
مسئلہ 21: جس کی آنکھ پھوڑی گئی اس کی آنکھ پھوڑنے والے کی آنکھ سے چھوٹی ہو یا بڑی بہرصورت قصاص لیا جائے گا۔(2) (شامی ص 486جلد5، عالمگیری ص 10جلد6، مجمع الانہر ص 625جلد2، طحطاوی علی الدر ص 268جلد4، بحرالرائق ص 303جلد8، تبیین الحقائق ص 111جلد6، بزازیہ ص390 جلد6)
مسئلہ 22: کسی کی آنکھ میں چوٹ لگ گئی یا زخم آگیا ڈاکٹر نے اس شرط پر علاج کیا کہ اگر روشنی چلی گئی تو میں ضامن ہوں پھر اگر روشنی چلی گئی تو وہ ضامن نہیں ہوگا۔(3) (بزازیہ علی الھندیہ ص 391ج6)
مسئلہ 23: جب کسی کا پورا کان قصداً کاٹ دیا جائے تو قصاص ہے اور اگر کان کا بعض حصہ کاٹ دیا جائے اور اس میں برابری کی جاسکتی ہو تو بھی قصاص ہے ورنہ نہیں۔(4) (عالمگیری ص10 جلد6، شامی ص486جلد5، طحطاوی علی الدر ص268 جلد4، بحرالرائق ص302جلد8، بدائع صنائع ص 308جلد7، غنیہ ص 95ج2، بزازیہ علی الھندیہ ص 398جلد6)
مسئلہ 24: کسی نے کسی کا کان قصداً کاٹا اور کاٹنے والے کا کان چھوٹا یا پھٹا ہوا یا چرا ہوا ہے اور جس کا کان کاٹا گیا اس کا کان بڑا یا سالم ہے تو اس کو اختیار ہے کہ چاہے وہ قصاص لے اور چاہے تو نصف دیت لے اور اگر جس کا کان کاٹا گیا ہے اس کا کان ناقص تھا تو انصاف کے ساتھ تاوان ہے۔(5) (شامی ص 486جلد5، عالمگیری ص 10جلد6 ، بحرالرائق ص303 جلد8،طحطاوی علی الدر ص 468جلد4)
مسئلہ 25: اگر کسی شخص نے کان کھینچا اور کان کی لَو جدا کر لی تو اس میں قصاص نہیں۔ اس پر اپنے مال میں دیت ہے۔ (6) (عالمگیری ص 10جلد6، بحرالرائق ص 303جلد8، طحطاوی علی الدر ص 268ج4)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص10.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''البزازیۃ ''علی''الھندیۃ''،کتاب الجنایات،(الفصل)الثالث فی الأطراف،ج6،ص391 .
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیما دون النفس،ج6،ص10.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 26: اگر ناک کا نرم حصہ پورا قصداً کاٹ دیا تو اس میں قصاص ہے اور اگر بعض حصہ کاٹا تو اس میں قصاص نہیں ہے۔(1) (شامی ص 485جلد5، عالمگیری ص10 جلد6،طحطاوی علی الدرص268ج4، بدائع صنائع ص 308جلد7 )
مسئلہ 27: اگر ناک کے بانسے یعنی ہڈی کا کچھ حصہ عمداً کاٹ دیا تو قصاص نہیں ہے۔ (2)(شامی ص485 جلد5، عالمگیری ص 10جلد6، بدائع صنائع ص 308جلد7، قاضی خان علی الھندیہ ص 435جلد3، طحطاوی علی الدر ص 268جلد 4)
مسئلہ 28: اگر ناک کی پھنک یعنی نرم حصہ کا بعض کاٹ دیا تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (3) (عالمگیری ص 10جلد6،شامی ص485 جلد5، قاضی خان علی الھندیہ ص 435جلد3، طحطاوی علی الدر ص268ج4، بدائع صنائع ص308جلد7)
مسئلہ 29: اگر ناک کاٹنے والے کی ناک چھوٹی ہے تو مقطوع الانف کو(4)اختیار ہے کہ چاہے قصاص اور چاہے اَرش (5)لے۔(6) (عالمگیری ص10 جلد6، شامی ص485 جلد5، طحطاوی علی الدر ص 268جلد4 )
مسئلہ 30: اگر ناک کاٹنے والے کی ناک میں سونگھنے کی طاقت نہیں یا اس کی ناک کٹی ہوئی ہے یا اس کی ناک میں اور کوئی نقص ہے تو جس کی ناک کاٹی گئی ہے اس کو اختیار ہے کہ چاہے تو اس کی ناک کاٹ لے اور چاہے تو دیت لے لے۔ (7)(عالمگیری ص10 جلد6، شامی ص 485جلد5، طحطاوی علی الدر ص 268جلد4)
مسئلہ 31: اگر کسی نے کسی کا پورا ہونٹ قصدا ًکاٹ دیا تو قصاص ہے، اوپر کے ہونٹ میں اوپر کے ہونٹ سے، اور نیچے کے ہونٹ میں نیچے کے ہونٹ سے قصاص لیا جائے گا اور اگر بعض ہونٹ کاٹ دیا تو قصاص نہیں ہے۔(8) (عالمگیری ص 11ج6، ہدایہ ص555 جلد4، بحرالرائق ص303 جلد8، تبیین الحقائق ص 112ج4، طحطاوی علی الدر ص270 جلد4، بدائع صنائع ص308،ج 7)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیما دون النفس،ج6ص10.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیما دون النفس،ج6ص10.
و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیما دون النفس،ج10،ص196.
4 ۔یعنی جس کی ناک کاٹی اس کو۔ 5 ۔یعنی وہ مال لے لےجومادون النفس(قتل کے علاوہ)میں لازم ہوتا ہے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیما دون النفس،ج6،ص10.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق،ص11.
مسئلہ 32: زبان پوری کاٹی جائے یا بعض اس میں قصاص نہیں ہے۔(1) (عالمگیری ص11 جلد6، بحرالرائق ص306 جلد8، تبیین الحقائق ص112 جلد6، قاضی خاں علی الھندیہ ص437 جلد3، درمختار و شامی ص489 جلد5، مجمع الانہر ص 626جلد2، طحطاوی علی الدر ص 270جلد4، بدائع صنائع ص 308جلد7)
مسئلہ 33: دانت میں مماثلت (2)کے ساتھ قصاص ہے یعنی داہنے کے بدلے میں بایاں اور بائیں کے بدلے میں دایاں اوپر والے کے بدلے میں نیچے والا اور نیچے والے کے بدلے میں اوپر والا نہیں توڑا جائے گا۔ سامنے والے کے بدلے میں سامنے والا،کِیلے(3)کے بدلے میں کیلااور ڈاڑھ کے بدلے میں ڈاڑھ توڑی جائے گی۔(4) (عالمگیری ص 11جلد6 ، درمختار وشامی ص 488جلد5، بحرالرائق ص 304جلد8، بزازیہ علی الھندیہ ص 391جلد6)
مسئلہ 34: دانت میں چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں ہے۔ چھوٹے کے بدلے میں بڑا اور بڑے کے بدلے میں چھوٹا توڑا جائے گا۔(5) (عالمگیری ص 11جلد6، درمختار و شامی ص486 جلد5، قاضی خان علی الھندیہ ص438 جلد3، بحرالرائق ص 304جلد8، مجمع الانہر ص625 جلد2، طحطاوی علی الدر ص269 جلد4، بزازیہ علی الھندیہ ص 392جلد6)
مسئلہ 35: سِنِ زائد(فالتودانت)میں قصاص نہیں ہے۔ اس میں انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (6)(عالمگیری ص 11جلد6، شامی ص486 جلد5، طحطاوی علی الدر ص269 جلد4، بزازیہ علی الھندیہ ص391 جلد6، بحرالرائق ص304 جلد8)
مسئلہ 36: اگر کسی نے دانت کا بعض حصہ قصداً توڑ دیا تو اگر مماثلت کے ساتھ قصاص ممکن ہو تو قصاص لیا جائے گا ورنہ دیت لازم ہوگی۔ (7)(عالمگیری ص 11جلد6، شامی ص487 جلد5، طحطاوی ص269 جلد4، بزازیہ علی الھندیہ ص 392جلد6، بحرالرائق ص 304،جلد8)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص11.
2 ۔برابری۔ 3 ۔یعنی نوکیلے دانت۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص197۔199.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیما دون النفس،ج6،ص11.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 37: اگر کسی کے دانت کا بعض حصہ توڑ دیا اور بعد میں بقیہ بعض خود گر گیا تو اس صورت میں قصاص نہیں ہے۔ (1)(شامی ص487جلد5، تبیین الحقائق ص 137جلد6، بزازیہ علی الھندیہ ص394 جلد6، عالمگیری ص 11جلد6)
مسئلہ 38: کسی شخص کے دانت کو ایسا مارا کہ دانت ہل گیا مگر اکھڑا نہیں۔ پھر دوسرے شخص نے اس کو اکھیڑ دیا تو اس صورت میں ہر ایک پر انصاف کے ساتھ تاوان ہے۔(2) (شامی ص 487جلد5، بزازیہ علی الھندیہ ص 392جلد6)
مسئلہ 39: دانت کا بعض حصہ توڑ دیا۔ پھر باقی حصہ کالا یا سرخ یا سبز ہوگیا یا اس میں کوئی عیب اس کے توڑنے کی وجہ سے پیدا ہوگیا تو قصاص نہیں ہے دیت ہے۔ (3)(عالمگیری ص11 جلد6، طحطاوی ص 269جلد4، درمختار و شامی ص 487 جلد5 ، مجمع الانہر ص 647 جلد2، بزازیہ علی الھندیہ ص391 جلد6، بحرالرائق ص304 جلد8، تبیین الحقائق ص137،جلد6)
مسئلہ 40: دو شخص اکھاڑے میں(4)اس لیے اترے تھے کہ مکے بازی کریں گے پس ایک نے دوسرے کو اس طرح مارا کہ اس کا دانت اکھڑ گیا تو مارنے والے پر قصاص ہے اور اگر ہر ایک نے دوسرے سے کہا کہ مار مار اور ایک نے دوسرے کو مکہ مار کر دوسرے کا دانت توڑ دیا تو اس پر کچھ نہیں ہے۔(5)(عالمگیری ص11 جلد6، بحرالرائق ص 305جلد8، تبیین الحقائق ص 137 جلد6)
مسئلہ 41: اگر کسی نے قصداً کسی کے سامنے کے دانت اکھیڑ دیئے اور اکھیڑنے والے سے قصاص لے لیا گیا۔ پھر جس سے قصاص لیا گیا تھا اس کے دانت دوبارہ نکل آئے تو اس کے دانت دوبارہ نہیں اکھیڑے جائیں گے۔ (6)(عالمگیری ص11جلد6، بحرالرائق ص 305جلد 8)
مسئلہ 42: زید نے بکر کا دانت اکھیڑ دیا اور بکر نے قصاص میں زید کا دانت اکھیڑ دیا اس کے بعد بکر کا دانت اُگ گیاتو زید کو بکر دانت کی دیت دے گا۔ اور اگر دانت ٹیڑھا اُگا تو بکر انصاف کے ساتھ زید کو تاوان دے گا اور اگر آدھا اُگا تو نصف دیت دے گا۔(7) (عالمگیری ص11 جلد6، قاضی خان برحاشیہ عالمگیری ص 437جلد3،بحرالرائق ص305جلد8،بزازیہ علی الھندیہ ص 395جلد6، فتح القدیر،ہدایہ عنایہ ص 320جلد8، تبیین الحقائق ص 137جلد6)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص198.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص11.
4 ۔ کشتی کے میدان میں ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص11.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 43: کسی کے دانت کو ایسا مارا کہ دانت کالا ہوگیا اور مارنے والے کے دانت کالے یا پیلے یا سرخ یا سبز ہیں تو جس پر جنایت کی گئی ہے اس کو اختیار ہے کہ چاہے قصاص لے لے اور چاہے تو دیت لے لے۔(1) (شامی ص486 جلد5، قاضی خان برحاشیہ عالمگیری ص438جلد3، عالمگیری ص 12جلد6، بحرالرائق ص 305جلد8)
مسئلہ 44: کسی کے دانت کو ایسا مارا کہ دانت کالا ہوگیا پھر دوسرے شخص نے یہ دانت اکھیڑ دیا تو پہلے والے پر پوری دیت لازم ہے اور دوسرے پر انصاف کے ساتھ تاوان ہے۔(2) (شامی ص 487جلد5، قاضی خان برحاشیہ عالمگیری ص438 جلد3، بحرالرائق ص 305جلد8)
مسئلہ 45: کسی شخص کا عیب دار دانت توڑا تو اس میں انصاف کے ساتھ تاوان ہے۔(3) (شامی ص 486جلد5، عالمگیری ص12 جلد6، بزازیہ علی الھندیہ ص 392جلد6، بحرالرائق ص 305جلد8)
مسئلہ 46: اگر کسی کے دانت پر مارا اور دانت گر گیا تو قصاص لینے میں زخم کے مندمل ہونے کا(4)انتظار کیا جائے گا، لیکن ایک سال تک انتظار نہیں ہوگا۔ (5)(عالمگیری ص11 ج6، شامی ص 487ج5، بزازیہ علی الھندیہ ص 392ج6، طحطاوی علی الدر ص269 ج4، تبیین الحقائق ص 137ج6، فتح القدیر ص 320ج8)
مسئلہ 47: اگر کسی نے بچے کے دانت اکھیڑ دیئے تو ایک سال تک انتظار کیا جائے گا اور چاہیے کہ جنایت کرنے والے سے ضامن لے لیں پھر اگر اکھڑے دانت کی جگہ سے دوسرا دانت اگ آئے تو کچھ نہیں اور اگر دانت نہیں اگا تھا اور ایک سال پورا ہونے سے پہلے بچہ مرگیا تو بھی کچھ نہیں ہے۔ (6)(شامی ص 487جلد5، عالمگیری ص11 جلد6، طحطاوی علی الدر ص269جلد4، بزازیہ علی الھندیہ ص392 جلد6، فتح القدیرص321جلد 8)
مسئلہ 48: کسی نے کسی کے دانت پر ایسا مارا کہ دانت ہل گیا تو ایک سال تک انتظار کیا جائے گا۔ عام ازیں کہ جس کو مارا ہے وہ بالغ ہو یا نابالغ، ایک سال تک اگر دانت نہ گرا تو مارنے والے پر کچھ نہیں اور اگر سال کے اندر گر گیا اور قصداً مارا تھا تو قصاص واجب ہے اور اگر خطاً مارا ہے تو دیت واجب ہے۔(7) (عالمگیری ص11 جلد6، طحطاوی علی الدر ص 269جلد4)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص197.
و''البحرالرائق''،کتاب الجنایات،باب القصاص فیمادون النفس،ج 9،ص37.
2 ۔المرجع السابق،ص198. 3 ۔المرجع السابق،ص197.
4 ۔یعنی زخم کے ٹھیک ہونے کا ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص11.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص198،199.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیما دون النفس،ج6،ص11.
مسئلہ 49: دانت ہلنے کی صورت میں قاضی نے ایک سال کی مہلت دی تھی اور سال پورا ہونے سے پہلے مضروب (1)کہتا ہے کہ اسی ضرب کی وجہ سے میرا دانت گر گیا۔ مگر ضارب(2)کہتا ہے کہ کسی دوسرے کے مارنے سے اس کا دانت گرا ہے تو مضروب کا قول معتبر ہے اور اگر سال پورا ہونے کے بعد مضروب نے یہ دعویٰ کیا تو ضارب کا قول معتبر ہوگا۔(3) (عالمگیری ص12 جلد6، بحرالرائق ص 304جلد8، بدائع صنائع ص 316ج7، تبیین الحقائق ص 137جلد6)
مسئلہ 50: کسی کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اس کے دانت اکھڑ گئے تو دانتوں کا تاوان نہیں ہے۔(4) (قاضی خان علی الھندیہ ص 437جلد3، بزازیہ علی الھندیہ ص395 جلد6)
مسئلہ 51: کسی شخص کے کپڑے کو دانتوں سے پکڑ لیا اور اس نے اپنا کپڑا کھینچا اور کپڑا پھٹ گیا تو دانتوں سے پکڑنے والا کپڑے کا نصف تاوان دے گا اور اگر کپڑا دانتوں سے پکڑ کر کھینچا کہ پھٹ گیا تو کپڑے کا کل تاوان دے گا۔ (5)(قاضی خان علی الھندیہ ص 437جلد3)
مسئلہ 52: کسی نے کسی کا دانت اکھیڑ دیا اس کے بعد نصف دانت اگ آیا تو قصاص نہیں ہے بلکہ نصف دیت ہے اور اگر پیلا اگا یا ٹیڑھا اگا تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔(6) (درمختار و شامی ص 515جلد5، بحرالرائق ص 305جلد8، طحطاوی ص284 جلد4، مجمع الانہر و ملتقی الابحر ص647 ج2)
مسئلہ 53: اگر کسی نے کسی کے بتیسوں دانت توڑ دیئے تو اس پر-3 5 1دیت لازم ہوگی۔(7) (بحرالرائق ص 304جلد8، درمختار و شامی ص 509جلد5، طحطاوی علی الدر ص281 جلد4، مجمع الانہر و ملتقی الابحر ص642 جلد2، عالمگیری ص 25جلد6، بزازیہ ص 391جلد6،بدائع صنائع ص315 جلد7، تبیین الحقائق ص 131جلد6)
مسئلہ 54: اگر کسی نے کسی کا دانت اکھیڑ دیا اس کے بعد اس کا پورا دانت صحیح حالت میں دوبارہ نکل آیا تو جانی پرقصاص و دیت نہیں ہے مگر علاج معالجہ کا خرچہ اس سے وصول کیا جائے گا۔ (8)(بحرالرائق ص305 ج8، طحطاوی علی الدر ص 269ج4، درمختار و شامی ص 515جلد5، بزازیہ ص 391ج6،مبسوط ص 71جلد 26،ہدایہ و عنایہ علی الفتح ص 320ج8، تبیین الحقائق ص 137ج6)
1 ۔جسے ماراتھا۔ 2 ۔مارنے والا۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیما دون النفس،ج6،ص12.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،ج 2،ص387.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فی الشجاج،ج10،ص255.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثامن فی الدیات،ج6،ص25.
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الجنایات،باب القصاص فیمادون النفس،ج9،ص36.
مسئلہ 55: اگر کسی نے کسی کا کوئی دانت اکھیڑ دیا اور اس وقت اکھیڑنے والے کا وہ دانت نہیں تھا مگر جنایت کے بعد نکل آیا تو قصاص نہیں ہے، دیت ہے، خواہ جنایت کے وقت جانی کا (1)یہ دانت نکلا ہی نہ ہو، یا نکلا ہو مگر اکھڑ گیا ہو۔(2) (بحرالرائق ص305 جلد8)
مسئلہ 56: مریض نے ڈاکٹر سے دانت اکھیڑنے کو کہا، اس نے ایک دانت اکھیڑ دیا، مگر مریض کہتا ہے کہ میں نے دوسرے دانت کو اکھیڑنے کے لیے کہا تھا تو مریض کا قول یمین کے ساتھ مان لیا جائے گا اور مریض کے قسم کھانے کے بعد ڈاکٹر پر دانت کی دیت واجب ہوگی۔ (3)(بحرالرائق ص 305جلد8)
مسئلہ 57: کسی نے کسی کا دانت قصداً اکھیڑ دیا اور جانی کے دانت کالے یا پیلے یا سرخ یا سبز ہیں تو جس کا دانت اکھیڑا گیا ہے اس کو اختیار ہے کہ چاہے قصاص لے اور چاہے دیت لے لے۔ (4)(بحرالرائق ص 305جلد8، عالمگیری ص12جلد6)
مسئلہ 58: کسی بچے نے بچے کا دانت اکھیڑ دیا تو جس کا دانت اکھیڑا گیا ہے اس کے بالغ ہونے تک انتظار کیا جائے گا، بلوغ کے بعد اگر صحیح دانت نکل آیا تو کچھ نہیں اور اگر نہیں نکلا یا عیب دار نکلا تو دیت لازم ہے۔ (5)(درمختار و شامی ص 516جلد5، بزازیہ علی الھندیہ ص392جلد6)
مسئلہ 59 (الف): کسی نے کسی کے دانت پر ایسی ضرب لگائی کہ دانت کالایا سرخ یا سبز ہوگیا یا بعض حصہ ٹوٹ گیا اور بقیہ کالا یا سرخ یا سبز ہوگیا تو قصاص نہیں ہے، دانت کی پوری دیت واجب ہے۔(6) (تبیین الحقائق ص137 جلد6، طحطاوی ص369 جلد4، بدائع صنائع ص315 جلد7، بحرالرائق ص304ج8)
مسئلہ 59 (ب):انگلیاں اگر جوڑ پر سے کاٹی جائیں تو ان میں قصاص لیا جائے گا اور اگر جوڑ پر سے نہ کاٹی جائیں تو قصاص نہیں ہے۔ (7)(عالمگیری ص 12جلد6، قاضی خاں علی الھندیہ ص 438جلد3، بحرالرائق ص307 جلد8)
1 ۔اکھیڑنے والے کا۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الجنایات، باب القصاص فیمادون النفس،ج9،ص36.
3 ۔المرجع السابق،ص37.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص12.
5 ۔''البزازیۃ''علی''الھندیۃ''،کتاب الجنایات،(الفصل)الثالث فی الأطراف،ج6،ص392.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فی الشجاج،ج10،ص255.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الجنایات،باب القصاص فیما دون النفس،ج9،ص35.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص12.
مسئلہ 60: ہاتھ کی انگلی کے بدلے میں پیر کی انگلی اور پیر کی انگلی کے بدلے میں ہاتھ کی انگلی نہیں کاٹی جائے گی۔(1)(عالمگیری ص12 جلد6)
مسئلہ 61: داہنے ہاتھ کی انگلی کے بدلے میں بائیں ہاتھ کی اور بائیں ہاتھ کی انگلی کے بدلے میں دائیں ہاتھ کی انگلی نہیں کاٹی جائے گی۔(2) (عالمگیری ص 12جلد6، بزازیہ علی الھندیہ ص393 جلد6، طحطاوی علی الدر ص268 جلد4، بدائع صنائع ص297 جلد7)
مسئلہ 62: ناقص انگلیوں والے ہاتھ کے بدلے میں صحیح ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔(3) (عالمگیری ص 12جلد6)
مسئلہ 63: کسی نے چھٹی انگلی کو کاٹ دیا اور کاٹنے والے کے ہاتھ میں بھی چھٹی انگلی ہے تو بھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔(4) (عالمگیری ص12 جلد6، بدائع صنائع ص303 جلد7، بحرالرائق ص 306جلد8)
مسئلہ 64: اگر ایسی ہتھیلی کاٹ دی جس کی گرفت میں حارج(5) زائد انگلی تھی تو قصاص نہیں ہے۔ اور اگر گرفت میں انگلی حارج نہیں تھی تو قصاص لیا جائے گا۔ (6)(عالمگیری عن المحیط ص 12جلد6،بدائع صنائع ص 303جلد7)
مسئلہ 65: اگر کوئی شخص کسی کے ہاتھ کی انگلی کاٹ لے جس سے اس کی ہتھیلی شل ہو جائے یا جوڑ سے انگلی کا ایک پوراکاٹ لے جس سے بقیہ انگلی یا ہتھیلی شل ہو جائے تو انگلی کا قصاص نہیں ہے۔ ہاتھ یا شل انگلی کی دیت ہے۔ (7)(بدائع صنائع ص 306ج7)
مسئلہ 66: اگر کسی کا ایسا زخمی ہاتھ کاٹا گیا جس کا زخم گرفت میں حارج نہ تھا تو قصاص لیا جائے گا اور اگر زخم گرفت میں حارج تھا تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (8)(عالمگیری ص 12جلد6، شامی ص 490جلد5)
مسئلہ 67: اگر کالے ناخن والا ہاتھ کاٹا تو اس کا قصاص لیا جائے گا۔(9) (عالمگیری ص 12جلد2، شامی ص490 جلد5)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص12.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الجنایات، باب القصاص فیمادون النفس،ج9،ص39.
5 ۔حائل،رکاوٹ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص12.
7 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الجنایات،ج6،ص402.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص12.
9 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 68: اگر کسی کا صحیح ہاتھ کاٹ دیا اور کاٹنے والے کا ہاتھ شل(1) یا ناقص ہے تو مقطوع الیدکو(2)اختیار ہے، چاہے تو ناقص ہاتھ کاٹ دے یا چاہے تو پوری دیت لے لے یہ اختیار اس صورت میں ہے کہ ناقص ہاتھ کارآمد ہو(3) ورنہ دیت پر اکتفا کیا جائے گا۔(4) (عالمگیری ص 12جلد6، درمختار و شامی ص489 جلد5، تبیین الحقائق ص 112جلد6)
مسئلہ 69: زید نے بکر کا ہاتھ کاٹا اور زید کا ہاتھ شل یا ناقص تھا اور بکر نے ابھی اختیار سے کام نہیں لیا تھا کہ کسی شخص نے زید کا ناقص ہاتھ ظلماً کاٹ دیا یا کسی آفت سے ضائع ہوگیا تو بکر کا حق باطل ہو جائے گا۔ اور اگر زید کا ناقص ہاتھ قصاص یا چوری کے جرم میں کاٹ دیا گیا تو بکر دیت کا حق دار ہے۔ (5)(عالمگیری ص 12جلد6)
مسئلہ 70: اگر کسی نے کسی کی انگلی یا ہاتھ کا کچھ حصہ کاٹ دیا پھر دوسرے شخص نے باقی ہاتھ کاٹ دیا اور زخمی مرگیا تو جان کا قصاص دوسرے شخص پر ہے، پہلے پر نہیں، پہلے کی انگلی یا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ (6)(عالمگیری ص15 جلد6)
مسئلہ 71: کسی کا ہاتھ قصداً کاٹا پھر کاٹنے والے کا ہاتھ آکلہ(7)کی وجہ سے یا ظلماً کاٹ دیا گیا تو قصاص اور دیت دونوں باطل ہو جائیں گے اور اگر کاٹنے والے کا ہاتھ کسی دوسرے قصاص یا چوری کی سزا میں کاٹا گیا تو پہلے مقطوع الید کو دیت دے گا۔(8) (قاضی خاں علی الھندیۃ ص 43جلد3 )
مسئلہ 72: کسی شخص کی دو انگلیاں کاٹ دیں اور کاٹنے والے کی صرف ایک انگلی ہے تو یہ ایک انگلی کاٹ دی جائے گی اور دوسری انگلی کی دیت واجب ہوگی۔(9) (عالمگیری ص 13جلد6)
مسئلہ 73: کسی شخص کا ہاتھ پہنچے سے(10)کاٹ دیا اور قاطع سے(11)اس کا قصاص لے لیا گیا اور زخم بھی اچھا ہو گیاپھر ان میں سے کسی نے دوسرے کا پہنچے سے کٹا ہوا ہاتھ کہنی سے کاٹ دیا تو قصاص نہیں لیا جائے گا۔(12)(عالمگیری ص 13جلد6)
1 ۔یعنی بے حس وبے حرکت۔ 2 ۔یعنی جس کاہاتھ کٹاہے اس کو ۔ 3 ۔یعنی اس سے کام وغیرہ کرسکتا ہو۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص12.
5 ۔المرجع السابق،ص12. 6 ۔المرجع السابق،ص15.
7 ۔ایک قسم کی بیماری جو متاثرہ عضو کو کھاتی اور گلاتی ہے ۔
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،ج2،ص386.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص،ج6،ص13.
10 ۔ کلائی سے ۔ 11 ۔ہاتھ کاٹنے والے سے۔
12 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص13.
مسئلہ 74: کسی شخص نے کسی کے داہنے ہاتھ کی انگلی جوڑ سے کاٹی پھر اسی قاطع نے کسی دوسرے شخص کا داہنا ہاتھ کاٹ دیا، یا پہلے کسی کا داہنا ہاتھ کاٹا، پھر دوسرے کے داہنے ہاتھ کی انگلی کاٹ دی اس کے بعد دونوں مقطوع آئے اور انھوں نے دعویٰ کیا تو قاضی پہلے قاطع کی انگلی کاٹے گا اس کے بعد مقطوع الید کو اختیار ہے کہ چاہے تو مابقی ہاتھ کو کاٹ دے اور چاہے تو دیت لے لے اور اگر مقطوع الید پہلے آیا اور اس کی وجہ سے قاطع کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر انگلی کٹا آیا تو اس کے لیے دیت ہے۔(1)(عالمگیری ص 13جلد6، مبسوط ص 143جلد26، بدائع صنائع ص 300جلد7)
مسئلہ 75: اگر کسی نے کسی کی انگلی کا ناخن والا پَورا کاٹ دیا، پھر دوسرے شخص کی اسی انگلی کو جوڑ سے کاٹ دیا اور پھر تیسرے شخص کی اسی انگلی کو جڑ سے کاٹ دیا اور تینوں انگلیوں کے لیے قاضی کے پاس حاضر ہوئے اور اپنا حق طلب کیا تو قاضی پہلے پورے والے کے حق میں قاطع کا پہلا پَورا یعنی ناخن والا کاٹ دے گا پھر درمیان والے کو اختیار دے گا کہ چاہے تو درمیان سے قاطع کی انگلی کاٹ دے اور پہلے پورے کی دیت نہ لے اور چاہے تو انگلی کی دیت میں سے -32 دوتہائی لے لے۔ پھر جب درمیان والے نے انگلی کاٹ دی تو تیسرے کو یعنی جس کی انگلی جڑ سے کاٹی گئی تھی اس کو اختیار ہے کہ چاہے تو قاطع کی انگلی جڑ سے کاٹ دے اور دیت کچھ نہ لے اور چاہے تو پوری انگلی کی دیت قاطع کے مال سے لے لے اور اگر تین میں سے قاضی کے پاس ایک آیا اور دو غائب اور جو آیا وہ پہلے پورے والا ہے تو اس کے حق میں قاطع کی انگلی کا پہلاپَورا کاٹا جائے گا۔ پورا کاٹنے کے بعد اگر دونوں غائبین بھی آگئے تو ان کو مذکورہ بالا اختیار ہوگا۔ اور اگر پہلے وہ آیا جس کی پوری انگلی کاٹی تھی دوسرے دونوں نہیں آئے اور قاضی نے قاطع کی پوری انگلی کاٹ دی پھر دوسرے دونوں آگئے تو ان کے لیے دیت ہے۔ (2)(عالمگیری ص 13جلد6)
مسئلہ 76: اگر کسی کا پہنچا کاٹ دیا پھر اسی قاطع نے دوسرے شخص کا وہی ہاتھ کہنی سے کاٹ دیا پھر دونوں مقطوع قاضی کے پاس آئے تو قاضی پہنچے والے کے حق میں قاطع کا پہنچا کاٹ دے گا۔ پھر کہنی والے کو اختیار دے گا کہ چاہے تو باقی ہاتھ کہنی سے کاٹ دے اور چاہے تو دیت لے لے اور اگر دونوں مقطوعوں میں سے ایک حاضر ہوا اور دوسرا غائب تو حاضر کے حق میں قصاص کا حکم دے گا۔ (3)(عالمگیری ص 13جلد6، مبسوط ص 145جلد26، بدائع صنائع ص 301جلد7)
مسئلہ 77: کسی نے کسی کے ہاتھ کی انگلی کاٹ دی، پھر انگلی کٹے نے قاطع کا ہاتھ جوڑ سے کاٹ دیا تو مقطوع الید کو اختیار ہے کہ چاہے تو اس کا ناقص ہاتھ ہی کاٹ دے اور چاہے تو دیت لے لے اور انگلی کا حق باطل ہے۔ (4)(عالمگیری ص 13جلد6)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیمادون النفس،ج6،ص13.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 78 (الف):کسی شخص نے دو آدمیوں کے داہنے ہاتھ قصداً کاٹ دیئے پھر ایک نے بحکم قاضی قصاص لے لیا تو دوسرے کو دیت ملے گی اور اگر دونوں ایک ساتھ قاضی کے پاس آئے تو دونوں کے لیے قصاص میں قاطع کا داہنا ہاتھ کاٹ دے گا اور ہر ایک کو ہاتھ کی نصف دیت بھی ملے گی۔(1) (قاضی خان ص 436جلد3،درمختار ردالمحتار ص491 جلد5،بدائع صنائع ص 299 جلد7،درر غرر ص97ج 2)
مسئلہ 78 (ب):کسی شخص نے دو افراد کے سیدھے ہاتھ قصداً کاٹ دیئے اور قاضی نے دونوں کے قصاص میں قاطع کا ہاتھ کاٹنے اور پا نچ ہزار درہم ہاتھ کی دیت دینے کا حکم دیا۔ دونوں نے پانچ ہزار درہم پر قبضہ کر لیا پھر ایک نے معاف کر دیا تو جس نے معاف نہیں کیا ہے اس کو نصف دیتِ یدیعنی ڈھائی ہزار درہم ملیں گے۔ (2)(قاضی خان بر عالمگیری ص 436 جلد3،شامی ص 491ج5)
مسئلہ 79: کسی نے دو آدمیوں کے داہنے ہاتھ قصداً کاٹ دیئے۔ قاضی نے دونوں کے حق میں قصاص اور دیت کا حکم دیا۔ دیت پر قبضہ سے پہلے ایک نے معاف کر دیا تو دوسرے کو صرف قصاص کا حق ہے۔ دیت معاف ہو جائے گی۔(3) (درمختار و شامی ص491 ج5،عالمگیری ج6 ص14)
مسئلہ 80: کسی کا ناخن والا پورا قصداً کاٹ دیا وہ اچھا ہوگیا اور قصاص نہیں لیا گیا تھا کہ اسی انگلی کا اور ایک پورا کاٹ دیا تو قصاص میں ناخن والا پورا کاٹ دیا جائے گا اور دوسرے پورے کی دیت ملے گی اور اگر پہلا زخم اچھا نہیں ہوا تھا کہ دوسرا پورا کاٹ دیا تو دونوں پورے ایک ساتھ کاٹ کر قصاص لیا جائے۔ (4)(عالمگیری ص 14ج6)
مسئلہ 81: کسی کا ناخن والا پورا قصدا کاٹ دیا اور زخم اچھا ہوگیا اور اس کا قصاص بھی لے لیا گیا پھر اسی قاطع نے اسی انگلی کا دوسرا پورا کاٹ دیا اور زخم اچھا ہوگیا تواس کا قصاص بھی لیا جائے گا۔ یعنی قاطع کا دوسرا پورا پورا کاٹ دیا جائے گا۔(5)(عالمگیری ص 14جلد6،بدائع صنائع ص 303ج7)
مسئلہ 82: کسی شخص کا نصف پورا قصداً ٹکڑے کر کے کاٹ دیا اور زخم اچھا ہوگیا پھر بقیہ پورا جوڑ سے کاٹ دیا تو اس صورت میں قصاص نہیں ہے اور اگر درمیان میں زخم اچھا نہیں ہوا تھا تو جوڑ سے پورا کاٹ کر قصاص لیا جائے گا۔(6) (عالمگیری ص 14جلد6،بدائع صنائع ص 302جلد7)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،ج2،ص386.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیما دون النفس،ج6،ص14.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 83: قصداً کسی کی انگلیاں کاٹ دیں پھر زخم اچھا ہونے سے پہلے جوڑ سے پہنچا کاٹ دیا تو قاطع کا پہنچا جوڑ سے کاٹ کر قصاص لیا جائے گاانگلیاں نہیں کاٹی جائیں گی اور اگر درمیان میں زخم اچھا ہوگیا تھا تو ا نگلیوں میں قصاص لیا جائے گا اور پہنچے کا انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (1)(عالمگیری ص 14جلد6)
مسئلہ 84: کسی شخص کی انگلی کا ناخن والا پورا قصداً کاٹ دیا،پھر زخم اچھا ہونے سے پہلے دوسرے پورے کا نصف کاٹ دیا تو قصاص واجب نہیں ہے اور اگر درمیان میں زخم اچھا ہوگیا تھا تو پہلے پورے کا قصاص لیا جائے گا اور باقی کی دیت لی جائے گی۔ (2)(عالمگیری ص 14جلد6)
مسئلہ 85: اگر کسی کی انگلی قصداً کاٹ دی اور اس کی وجہ سے اس کی ہتھیلی شل ہوگئی تو انگلی کا قصاص نہیں ہے ہاتھ کی دیت لی جائے گی۔ (3)(عالمگیری ص 14جلد6)
مسئلہ 86: کسی کی انگلی قصداً کاٹی اور چھری نے پھسل کر دوسری انگلی کو بھی کاٹ دیا تو پہلی کا قصاص لیا جائے گا اور دوسری کی دیت لی جائے گی۔(4) (عالمگیری ص15 جلد6،بدائع صنائع ص 306جلد7)
مسئلہ 87: چند آدمیوں نے ایک ہی چھری کو پکڑ کر کسی شخص کا کوئی عضو قصداً کاٹ دیا تو قصاص نہیں لیا جائے گا۔(5)(درمختار و شامی ص 491جلد5،طحطاوی علی الدر ص271 جلد4،درر غرر شرنبلالی ص 97جلد2)
مسئلہ 88: عورت اور مرد اگر ایک دوسرے کے اعضا کاٹ دیں تو ان میں قصاص نہیں ہے اسی طرح اگر غلام اور آزاد ایک دوسرے کا عضو کاٹ دیں یا دو غلام ایک دوسرے کا کوئی عضو کاٹیں تو قصاص نہیں ہے۔ چونکہ ان کے اعضا میں مماثلت (6) نہیں ہے۔ (7)(درمختار و شامی ص 488 جلد5،بدائع صنائع ص302ج7)
مسئلہ 89: ذَکر(8)کو اگر جڑ سے کاٹ دیا یا صرف پوری سپاری کوکاٹ دیا تو قصاص لیا جائے گا یعنی قاطع (9)کا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیما دون النفس،ج6،ص14.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص15. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''دررالحکام''شرح''غررالأحکام''،کتاب الجنایات،باب القود فیما دون النفس،الجزء الثانی،ص97.
6 ۔برابری۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص199.
8 ۔یعنی مردکے پیشاب کاعضو۔ 9 ۔ کاٹنے والا۔
ذَکر جڑ سے کاٹ دیا جائے گا اور سپاری کی صورت میں سپاری کاٹی جائے گی اور درمیان سے کاٹے جانے کی صورت میں قصاص نہیں ہے۔چونکہ اس صورت میں مماثلت ممکن نہیں ہے۔(1)(شامی ودرمختار ص489جلد5،تبیین الحقائق ص112جلد6، بحرالرائق ص 306جلد8،قاضی خان علی الھندیہ ص434 جلد3،طحطاوی علی الدر ص270 جلد4،مجمع الانہر ص626 ج2)
مسئلہ 90: خصی(2)یاعنین(3)کا ذَکر کاٹ دیا تو اس میں انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (4)(شامی و درمختار ص 489جلد5)
مسئلہ 91: بچے کا ذکر کاٹ دیا گیا۔ اگر انتشار ہوتا تھا تو قصداً کاٹنے میں قصاص اور خطاء ً کاٹنے میں دیت واجب ہوگی اور اگر انتشار نہیں ہوتا تھا تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (5)(شامی و درمختار ص 489جلد5)
مسئلہ 92: اگر عورت نے کسی کا ذکر کاٹ دیا تو اس میں قصاص نہیں ہے۔ (6)(شامی ص 489جلد5)
مسئلہ 93: اگر کسی نے کسی کا خصیہ پکڑ کر مسل دیا جس سے وہ نامرد ہوگیا تو دیت لازم ہوگی۔(7) (بزازیہ علی الھندیہ ص394 جلد6)
مسئلہ 94: کسی شخص کو عضو کاٹ کر قتل کر دیا جائے تو اس میں عقلی وجوہ سولہ نکلیں گی مثلاً دونوں فعل یعنی قتل اور قطع عمداً (8)ہوں گے یا خطاً یا قتل خطاء ً ہوگا اور قطع عمداً یا قتل عمداً ہوگا اور قطع خطاء ً تو یہ چار صورتیں ہوئیں۔ پھر ہر ایک صورت میں دونوں فعلوں کے درمیان میں صحت واقع ہوئی یا نہیں تو یہ آٹھ صورتیں ہوگئیں۔ پھر یہ دونوں فعل ایک شخص سے صادر ہوں گے یا
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،ج2،ص385،386.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص202.
2 ۔جس کے خصیے نکال دیے ہوں یا بیکار کر دیے ہوں۔ 3 ۔یعنی نامرد۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص201.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،ج10،ص202.
7 ۔''البزازیۃ''علی''الھندیۃ''،کتاب الجنایات،فصل الثالث فی الأطراف،ج6،ص394.
8 ۔یعنی جان بوجھ کر کاٹنا۔
دو اشخاص سے اس طرح کل سولہ صورتیں بنیں۔ ان سولہ صورتوں میں سے آٹھ صورتیں وہ ہیں جن میں قاطع(1)اور قاتل دو مختلف اشخاص ہوں۔ ان کاحکم یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ اس کے فعل کے بموجب قصاص یا دیت لی جائے گی۔ (2)(درمختار و شامی،ص494ج5)
مسئلہ 95: بقیہ آٹھ صورتیں جن میں فاعل ایک شخص ہو ان کا حکم یہ ہے کہ نمبر1 قطع اور قتل جب دونوں قصداً ہوں اور درمیان میں صحت واقعہ ہوگئی ہو تو دونوں کا قصاص لیا جائے گا۔(3) (شامی،ص494ج5)
مسئلہ 96: قتل و قطع جب دونوں قصداً ہوں اور درمیان میں صحت واقع نہ ہوئی ہو تو ولی کو اختیار ہے کہ چاہے تو پہلے عضو کاٹے پھر قتل کرے اور چاہے تو قتل پر اکتفا کرے۔ (4)(عنایہ و فتح القدیر،ص284جلد8)
مسئلہ 97: قطع اور قتل اگر دونوں خطاء ًہوں اور درمیان میں صحت ہوگئی تو دونوں کی دیت لی جائے گی۔ (5)(تبیین الحقائق،ص117جلد6)
مسئلہ 98: قطع اور قتل اگر دونوں خطاء ً ہوں اور درمیان میں صحت واقع نہ ہوئی ہو تو صرف دیت نفس واجب ہوگی۔(6)(تبیین،ص117جلد6)
مسئلہ 99: اگر قطع قصداً ہو اور قتل خطاء ً اور درمیان میں صحت واقع ہوگئی ہو تو قطع کا قصاص اور قتل کی دیت لی جائے گی۔(7) (تبیین الحقائق،ص117جلد6)
مسئلہ 100: اگر قطع عمداً اور قتل خطاء ً ہو اور درمیان میں صحت واقع نہ ہوئی ہو تو قطع میں قصاص اور قتل میں دیت لی جائے گی۔(8) (تبیین،ص117ج6)
مسئلہ 101: اگر قطع خطاً اور قتل عمداً ہو اور درمیان میں صحت واقع ہوگئی ہو تو قطع کی دیت اور قتل کا قصاص لیا جائے گا۔(9)(تبیین،ص117جلد6)
1 ۔یعنی کاٹنے والا۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فی الفعلین ،ج10،ص211.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فی الفعلین،ج10،ص211.
4 ۔''العنایۃ''و''فتح القدیر''،کتاب الجنایات،فصل فی حکم الفعلین،ج9،ص184.
5 ۔''تبین الحقائق''،کتاب الجنایات،باب القصاص فیمادون النفس،فصل،ج 7،ص248،249.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق،ص248.
8 ۔المرجع السابق. 9 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 102: اگر قطع خطاً اور قتل عمداً ہو اور درمیان میں صحت واقع نہ ہوئی ہو تو قطع کی دیت اور قتل کا قصاص واجب ہوگا۔(1) (تبیین،ص117ج6)
مسئلہ 103: اگر کسی شخص کو نوے کوڑے ایک جگہ مارے وہ جگہ اچھی ہوگئی ہو اور ضربات کے(2)نشانات بھی باقی نہ رہے پھر دس کوڑے دوسری جگہ مارے اس سے وہ مرگیا تو اس صورت میں صرف دیت نفس واجب ہے۔(3) (درمختار و شامی ص 494جلد5،فتح القدیر ص284 جلد8،تبیین الحقائق ص 118جلد6،عنایہ ص284جلد8)
مسئلہ 104: اگر کسی شخص کو نوے کوڑے مارے اور اس کے زخم اچھے ہوگئے مگر نشانات باقی رہ گئے پھر دس کوڑے مارے جن سے وہ مرگیا تو دیت نفس اور انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔(4) (تبیین الحقائق ص118جلد7)
مسئلہ 105: اگر کسی نے کسی کا عضو کاٹا یا اس کو زخمی کر دیا اور زخمی نے جنایت کرنے والے کو معاف کر دیا اور اس کے بعد وہ زخمی اس زخم یا قطع عضو کی وجہ سے مرگیا تو اس میں چار صورتیں بنیں گی۔
(1) یہ جنایت اگر قصداً تھی اور معاف کرنے والے نے کہا کہ میں نے قطع عضو اور جنایت اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کو معاف کر دیا تو عام معافی ہو جائے گی اور جانی کے ذمے کچھ واجب نہ ہوگا۔(5) (طحطاوی ص273 جلد4،مجمع الانہر ص630 جلد2،دررغررص98ج2)
(2) اور اگر معاف کرنے والے نے کہا کہ میں نے قطع عضو اور جنایت کو معاف کر دیا اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کا کچھ ذکر نہیں کیا تو استحساناً دیت واجب ہوگی۔ (6)(طحطاوی علی الدر ص 273جلد4،بحرالرائق ص316جلد8)
(3) اور اگر قطع عضو یا زخم خطاء ً تھا اور مرنے والے نے یہ کہا کہ میں نے قطع عضو سے معاف کر دیا اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کا ذکر نہیں کیا تو سرایت کی معافی نہیں ہوگی اور دیت نفس واجب ہوگی۔
(4) اور اگر قطع عضو یا زخم خطاء ً تھا اور مرنے والے نے کہا کہ میں نے قطع عضو اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات
1 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الجنایات،باب القصاص فیمادون النفس،ج7،ص249.
2 ۔یعنی مارنے کے۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فی الفعلین،ج10،ص212.
4 ۔'' تبیین الحقائق''،کتاب الجنایات،باب القصاص فیمادون النفس،ج7،ص250.
5 ۔''دررالحکام''شرح''غررالأحکام''،کتاب الجنایات،باب القود فیمادون النفس،الجزء الثانی،ص98.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الجنایات،باب القصاص فیمادون النفس،ج9،ص56.
کو بھی معاف کر دیا تو بالکل معافی ہو جائے گی اور جانی پر کچھ واجب نہ ہوگا۔(1) (عالمگیری ص 26جلد6،فتح القدیر و عنایہ ص285جلد8،درمختار و شامی ص 495جلد5،تبیین الحقائق ص 118ج6،بحرالرائق ص316ج8)
مسئلہ 106: اگر ماں نے اپنے بچے کو تادیب کے لیے مارا اور بچہ مرگیا تو ماں ضامن ہے۔ (2)(شامی ص 499جلد5،طحطاوی ص275جلد4)
مسئلہ 107: کسی نے کسی شخص کے عمداً تیر مارا اور وہ تیر اس شخص کے جسم کے پار ہو کر کسی دوسرے شخص کو لگ گیا اور دونوں مرگئے تو پہلے کا قصاص لیا جائے گا اور دوسرے کی دیت قاتل کے عاقلہ پر واجب ہوگی۔ (3)(درمختار و شامی ص492 جلد5،طحطاوی ص 272جلد4،بدائع صنائع ص 306جلد7،دررغرر ص97 جلد2،مجمع الانہر و درالملتقی ص629جلد2)
مسئلہ 108: کسی شخص پر سانپ گرا اس نے اس کو پھینک دیا اور وہ دوسرے شخص پر جاگرا اسی طرح اس نے بھی پھینکا اور وہ تیسرے شخص پر جاگرا اور اس کو کاٹ لیا اور وہ مرگیا تو اگر سانپ نے گرتے ہی کاٹ لیا تھا تو اس آخری پھینکنے والے کے عاقلہ پر دیت ہے اور اگر گرنے کے کچھ دیر بعد کاٹا تو کسی پر کچھ نہیں ہے۔ (4)(درمختار و شامی ص492 جلد5،طحطاوی ص272،ج 4)
مسئلہ 109: کسی شخص نے راستہ میں سانپ یا بچھو ڈال دیا اور ڈالنے کے فوراً بعد اس نے کسی کو کاٹ لیا اور وہ مرگیا تو ڈالنے والے کے عاقلہ پر دیت ہے اور اگر کچھ دیر کے بعد یا اپنی جگہ سے ہٹ کر کاٹا تو کسی پر کچھ نہیں۔ (5)(درمختار و شامی ص492 جلد5،طحطاوی علی الدرص272جلد4)
مسئلہ 110: کسی شخص نے راستے میں تلوار رکھ دی اور کوئی اس پر گر پڑا اور مرگیا اور تلوار بھی ٹوٹ گئی تو مرنے والے کی دیت تلوار رکھنے والے پر ہے اور تلوار کی قیمت مرنے والے کے مال سے ادا کی جائے گی۔(6) (درمختار و شامی ص 493 جلد5، طحطاوی ص 272جلد 4)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الجنایات،باب القصاص فیما دون النفس،ج9،ص56.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،مطلب:الصحیح ان الوجوب علی القاتل...إلخ،ج10،ص220.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیما دون النفس،ج10،ص208.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق،ص209.
6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 111: عمداً قتل کرنے والے نے ایسے شخص کے ساتھ مل کر قتل کیا جس پر قصاص نہیں ہوتا۔ مثلاً اجنبی نے باپ کے ساتھ مل کر بیٹے کو قتل کیا یا عاقل نے مجنون کے ساتھ مل کر یا بالغ نے نابالغ کے ساتھ مل کر قتل کیا تو کسی پر قصاص نہیں ہے۔ (1)(درمختار و شامی ص493 جلد5،طحطاوی،ص272جلد4)
مسئلہ 112: اگر کسی نے اپنی بیوی یا باندی کے ساتھ کسی کو ناجائز حالت میں دیکھا اور للکارنے کے باوجود نہیں بھاگا تو اس نے اس کو قتل کر دیا تو اس پر قصاص بھی نہیں اور کوئی گناہ بھی نہیں ہے۔(2) (درمختار ص 493جلد5،طحطاوی علی الدر، ص 272 جلد 4)
مسئلہ 113: کسی شخص نے کسی بچے کو اپنا گھوڑا دیا کہ اس کو باندھ دے اور گھوڑے نے لات مار دی جس سے بچہ مرگیا تو گھوڑا دینے والے کے عاقلہ پر دیت ہے۔ اسی طرح بچہ کو لاٹھی یا کوئی اسلحہ دیا اور کہا کہ اس کو پکڑے رہو بچہ تھک گیا اور وہ اسلحہ اس کے جسم کے کسی حصہ پر گر پڑا جس کے صدمے سے بچہ مرگیا اسلحہ والے کے عاقلہ پر بچہ کی دیت ہے۔ (3)(درمختار و شامی ص 493جلد5،طحطاوی،ص272جلد4)
مسئلہ 114: اگر کسی نے کسی کا پورا حشفہ (سپاری)قصداً کاٹ دیا تو اس میں قصاص ہے اور اگر بعض کاٹا تو قصاص نہیں ہے۔(4) (عالمگیری ص 15جلد6،تبیین الحقائق ص 112جلد6،بحرالرائق ص 306ج8،درمختار و شامی ص489 ج5،مجمع الانہر ص626 جلد2،ہدایہ ص 555جلد4،بدائع صنائع،ص308جلد7)
مسئلہ 115: کوئی بچہ دیوار پر چڑھا ہوا تھا کہ کوئی شخص نیچے سے اچانک چیخا جس سے بچہ گر کر مرگیا تو اس چیخنے والے پر دیت ہے۔ اور اسی طرح اگر اچانک کسی شخص نے چیخ ماری جس سے کوئی شخص مرگیا تو اس پر اس کی دیت واجب ہے۔(5)(درمختار و شامی،ص493جلد5)
مسئلہ 116: کسی نے صورت تبدیل کر کے بچہ کو ڈرایا جس سے بچہ ڈر کر پاگل ہوگیا تو ڈرانے والا دیت دے گا۔(6)(درمختار و شامی،ص493جلد5)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیما دون النفس،ج10،ص210.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،باب القود فیما دون النفس،ج10،ص210.
و''حاشیۃ الطحطاوی''علی''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،باب القود فیما دون النفس،ج4،ص272.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیما دون النفس،ج10،ص210.
4 ۔المرجع السابق،ص202. 5 ۔المرجع السابق،ص211. 6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 117: کسی نے کسی سے کہا پانی یا آگ میں کود جا اور وہ کود گیا اور مرگیا تو یہ دیت دے گا۔ (1)(شامی ص 493جلد5،طحطاوی،ص272جلد4)
مسئلہ 118: کسی نے کسی کو زخمی کر دیا اور وہ کمائی کرنے کے قابل نہ رہا تو زخمی کرنے والے پر اس کا نفقہ علاج معالجہ کے مصارف واجب الادا ہوں گے۔(2) (درمختارص493ج5)
مسئلہ 119: کسی ظالم حاکم نے پولیس سے کسی کو اتنا پٹوایا کہ وہ کمائی سے عاجز ہوگیا تو اس کا نفقہ اور علاج کے مصارف اس حاکم پرلازم ہیں۔(3) (درمختار و شامی،ص494جلد5)
مسئلہ 120: کسی کے تلوار مارنا چاہتا تھا اور کسی نے تلوار کو پکڑ لیا تلوار والے نے تلوار کھینچی جس سے پکڑنے والے کی انگلیاں کٹ گئیں۔ اگر جوڑ سے کٹی ہیں تو قصاص ہے ورنہ دیت لازم ہے۔(4) (بزازیہ علی الھندیہ ،ص393جلد6)
مسئلہ 121: زید نے عمرو کا ہاتھ کاٹا اور اس کے قصاص میں زید کا ہاتھ کاٹا گیا پھر عمرو ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے مرگیا تو زید کو قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ (5)(طحطاوی ص274 جلد4،درمختار و شامی ص497 جلد5،تبیین ص120 جلد6،عالمگیری ص15 جلد6،فتح القدیر و عنایہ ص290 جلد8،مجمع الانہرص632جلد2)
مسئلہ 122: زید نے عمرو کا ہاتھ کاٹا اور اس کے قصاص میں زید کا ہاتھ کاٹا گیا اور اس ہاتھ کے کاٹنے کی وجہ سے زید مرگیا تو اگر زید کا ہاتھ بلاحکم حاکم کاٹا گیا ہے تو عمرو کے عاقلہ پر زید کی دیت واجب ہوگی اور اگر حاکم کے حکم سے ہاتھ کاٹا گیا ہے تو کچھ لازم نہیں ہوگا۔ (6)(درمختار و شامی ص497 جلد5،عالمگیری ص15 جلد6،تبیین الحقائق ص120 جلد6،طحطاوی ص275 ج4،مجمع الانہرص632ج2)
مسئلہ 123: کسی شخص نے کسی کو قتل کر دیا ۔مقتول کے ولی نے قاتل کا ہاتھ کاٹ لیا اس کے بعد قاتل کو معاف کر دیا تو اس ولی پر ہاتھ کاٹنے کی دیت لازم ہوگی۔(7) (بحرالرائق ص 319ج8،تبیین الحقائق ص121 جلد6،شامی و درمختارص498جلد5)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود فیما دون النفس،ج10،ص211.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات، فصل فی الفعلین،ج10،ص213.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات، فصل فی الفعلین،ج10،ص213.
4 ۔''البزازیۃ''علی''الھندیۃ''،کتاب الجنایات، (الفصل)الثالث فی الأطراف،ج6،ص393.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الرابع فی القصاص فیما دون النفس،ج6،ص15.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فی الفعلین، مطلب:الصحیح ان الوجوب...إلخ،ج10،ص218،219.
7 ۔المرجع السابق،ص220.
مسئلہ 124: اسی طرح اگر معلم نے بچہ کو باپ کی اجازت کے بغیر مارا اور بچہ مرگیا تو معلم پر ضمان ہے اور اگر باپ کی اجازت سے مارا اور بچہ مرگیا تو ضمان نہیں ہے اور اسی طرح شوہر نے اپنی بیوی کو تادیب کے لیے مارا اور وہ مرگئی تو شوہر پر ضمان ہے۔(1) (درمختار و شامی ص498 جلد5،طحطاوی ص 275جلد4،مجمع الانہرص632ج2)
مسئلہ 125: اگر قاضی نے چور کا ہاتھ کاٹا اور چور مرگیا تو قاضی پر کچھ نہیں ہے۔ (2)(درمختار و شامی ص497 جلد5،طحطاوی ص 275جلد4،مجمع الانہر،ص632جلد2)
مسئلہ 126: کسی اجنبی عورت کو اس طرح مارا کہ اس کے مخرج بول و حیض(3)ایک ہوگئے۔ یا مخرج حیض و مقعد (4)ایک ہوگئے تو اگر وہ پیشاب کو روک سکتی ہے تو جانی پر(5)تہائی دیت واجب ہوگی اور اگر پیشاب کو نہیں روک سکتی ہے تو جانی پر کل دیت واجب ہوگی۔ (6)(درمختار و شامی ص499 جلد5،طحطاوی،ص275،جلد 4)
مسئلہ 127: اگر کسی شخص نے باکرہ (7)سے زنا کیا جس سے اس کے مخرجین(8)ایک ہوگئے اگر یہ فعل عورت کی رضامندی سے تھا تو دونوں کو حد لگائی جائے گی اور تاوان نہیں ہوگا اور اگر بالجبر تھا تو مرد پر حد اور دیت دونوں واجب ہیں۔ (9)(درمختار و شامی ،ص499جلد5)
مسئلہ 128: اگر اپنی زوجہ بالغہ سے وطی کی جو اس کی استطاعت رکھتی تھی اور اس کی وجہ سے مخرجین کی درمیانی جگہ پھٹ کر ایک ہوگئی تو شوہر پر کوئی تاوان نہیں ہے اور اگر زوجہ نابالغہ سے یا ایسی زوجہ سے جو اس کی استطاعت نہیں رکھتی تھی یا کسی عورت سے جبراً وطی کی اور مخرجین ایک ہوگئے یا موت واقع ہوگئی تو عاقلہ پر دیت لازم ہوگی۔(10) (درمختار و شامی ص499 جلد5)
مسئلہ 129: جراح (11)نے آنکھ کا آپریشن کیا اور آنکھ پھوٹ گئی اور جراح اس فن کا ماہر نہ تھا تو اس پر نصف دیت لازم ہے۔ (12)(درمختار و شامی ص499جلد5)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فی الفعلین، مطلب:الصحیح ان الوجوب...إلخ،ج10،ص220،221.
2 ۔المرجع السابق،ص219.
3 ۔پیشاب اورحیض کا مقام۔ 4 ۔آگے اور پیچھے کا مقام۔ 5 ۔مارنے والے پر۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فی الفعلین، مطلب:الصحیح ان الوجوب...إلخ،ج10،ص222.
7 ۔کنواری ۔ 8 ۔آگے اور پیچھے کا مقام۔
9 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فی الفعلین، مطلب:الصحیح ان الوجوب...إلخ،ج10،ص223.
10 ۔المرجع السابق،ص222.
11 ۔سرجن ،آپریشن کرنے والا۔
12 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فی الفعلین، مطلب:الصحیح ان الوجوب...إلخ،ج10،ص223.
مسئلہ نمبر130: بچہ چھت سے گر پڑا اور اس کا سر پھٹ گیا اکثر جراحوں نے یہ رائے دی کہ اگر اس کا آپریشن کیا گیا تو مر جائے گا اور ایک نے کہا کہ اگر آپریشن نہیں کیا گیا تو مر جائے گا لہٰذا میں آپریشن کرتا ہوں اور اس نے آپریشن کر دیا اور دو ایک دن بعد بچہ مرگیا تو اگر آپریشن صحیح طریقے پر ہوا اور ولی کی اجازت سے ہوا تو جراح ضامن نہیں ہے۔ اور اگر ولی کی اجازت کے بغیر تھا یا غلط طریقے سے ہوا تھا تو ظاہر یہ ہے کہ قصاص لیا جائے گا۔ (1)(درمختار و شامی ص499جلد5)
مسئلہ 131: کسی کا ناخن اکھیڑ دیا اگر پہلے جیسا دوبارہ اگ آیا تو کچھ نہیں ہے اور اگر نہ اگا یا عیب دار اگا تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا لیکن عیب دار اگنے کا تاوان نہ اگنے کے تاوان سے کم ہوگا۔(2) (بزازیہ علی الھندیہ ص393جلد6)
مسئلہ 132: مستور الحال دو آدمیوں نے کسی کے خلاف قتل کی گواہی دی تو اس کو قید کر لیا جائے یہاں تک کہ گواہوں کے متعلق معلومات کی جائیں۔ اسی طرح اگر ایک عادل آدمی نے کسی کے خلاف قتل کی شہادت دی تو اس کو چند دن قید میں رکھا جائے گا۔ اگر مدعی دوسرا گواہ پیش کرے تو مقدمہ چلے گا ورنہ رہا کر دیا جائے گا۔(3) (عالمگیری ص 15جلد6،شامی ص500 جلد5،قاضی خان علی الھندیہ ص451جلد3)
مسئلہ 133: کسی نے دعویٰ کیا کہ فلاں شخص نے میرے باپ کو خطاء ًقتل کر دیاہے اور کہتا ہے کہ گواہ شہر میں ہیں اور قاضی سے مطالبہ کرتا ہے کہ مدعیٰ علیہ سے ضمانت لے لی جائے تو قاضی مدعیٰ علیہ سے تین دن کے لیے ضمانت طلب کریگا اور اگر مدعی کہتا ہے کہ میرے گواہ غائب ہیں اور گواہوں کے حاضر ہونے کے وقت تک کے لیے ضمانت کا مطالبہ کرتا ہے تو قاضی مدعی کی بات نہیں مانے گا اور اگر دعویٰ کرتا ہے کہ میرے باپ کو عمداً قتل کیا گیا ہے اور ضمانت کا مطالبہ کرتا ہے تو قاضی ضمانت نہیں لے گا۔ (4)(مبسوط ص106 جلد26،قاضی خان ص396 جلد4،عالمگیری ص16جلد6)
مسئلہ 134: مقتول کے ایک بیٹے نے دعویٰ کیا کہ میرے باپ کو عمداً زید نے قتل کر دیا اور اس پر گواہ بھی پیش کر دیئے مگر مقتول کا دوسرا بیٹا غائب ہے تو قاضی شہادت کو قبول کر لے گا اور قاتل کو قید کر دے گا لیکن ابھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔ جب
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فی الفعلین،مطلب:الصحیح ان الوجوب...إلخ،ج10،ص223.
2 ۔''البزازیۃ''علی''الھندیۃ''،کتاب الجنایات،(الفصل)الثالث فی الأطراف،ج6،ص393.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والاقراربہ...إلخ،ج6،ص15.
4 ۔المرجع السابق.
دوسرا بیٹا حاضر ہو کر دوبارہ شہادت پیش کریگا تو قصاص لیا جائے گا۔ (1)(عالمگیری ص 16جلد6،درمختار و شامی ص500 جلد5،فتح القدیر و عنایہ ص 292جلد8،تبیین ص121 جلد6،بحرالرائق،ص320جلد8)
مسئلہ 135: اور اگر مقتول کے ایک بیٹے نے دعویٰ کیا کہ میرے باپ کو زید نے خطاء ً قتل کر دیا اور گواہ بھی پیش کر دیئے اور دوسرا بیٹا غائب ہے تو قاضی زید کو قید کر دے گا اور جب دوسرا بیٹا حاضر ہوگا تو اس کو دوبارہ شہادت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی حاضری پر مقدمہ کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ (2)(عالمگیری ص 16جلد6،درمختار و شامی ص500 جلد5،تبیین الحقائق ص 121جلد6،بحرالرائق ص320جلد8)
مسئلہ 136: ورثا نے دو اشخاص پر اپنے باپ کے قتل عمد کا الزام لگایا اور گواہ پیش کئے مگر ایک قاتل غائب ہے تو حاضر کے مقابلہ میں یہ گواہی قبول کر لی جائے گی اور اس کو قصاص میں قتل کر دیا جائے گا۔ پھر جب دوسرا آئے اور قتل کا انکار کرے تو ورثاء کو دوبارہ گواہی پیش کرنا ہوگی۔ (3)(عالمگیری،ص16جلد6)
مسئلہ 137: دو گواہوں نے کسی کے خلاف گواہی دی کہ اس نے فلاں شخص کو تلوار سے زخمی کر دیا تھا اور وہ زخمی صاحب فراش رہ کر مرگیا تو قاتل سے قصاص لیا جائے گا اور قاضی کو گواہوں سے یہ سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ان زخموں کی وجہ سے مرا یا کسی اور وجہ سے۔ اور اگر گواہوں نے صرف یہ کہا کہ اس نے تلوار سے زخمی کیا یہاں تک کہ مجروح مرگیا۔ یہ بھی عمداً قتل مانا جائے گا۔ بہتر یہ ہے کہ قاضی گواہوں سے سوال کرے کہ اس نے قصداً ایسا کیا ہے یا نہیں؟ (4)(عالمگیری ص 16 جلد 6 ،شامی ص501 جلد5،بحرالرائق ص 323جلد8،مبسوط ص167 جلد26،قاضی خان،ص398جلد4)
مسئلہ 138: دو آدمیوں نے گواہی دی کہ زید نے فلاں شخص کو تلوار سے خطاء ً قتل کر دیا تو یہ شہادت قبول کر لی جائے گی اور عاقلہ پر دیت واجب ہوگی اور اگر گواہوں نے یہ کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ قصدا ًقتل کیا ہے یا خطا ء ً،تب بھی یہ گواہی مقبول ہوگی اور قاتل کے مال میں سے دیت دلائی جائے گی۔(5) (عالمگیری،ص16جلد6)
مسئلہ 139: ایک گواہ نے کسی کے خلاف گواہی دی کہ اس نے خطاء ً قتل کیا ہے اور دوسرے گواہ نے کہا کہ قاتل نے اس کا اقرار کیا ہے کہ اس سے یہ فعل خطاء ً سرزد ہوا ہے تو یہ گواہی باطل ہے۔(6) (عالمگیری ص16 جلد6،قاضی خان ص395 جلد4،تبیین ،ص123جلد6،مبسوط ص 104جلد26،مجمع الانہرص635جلد2)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والاقراربہ...إلخ،ج6،ص16.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 140: اگر دونوں گواہ زمان و مکان میں اختلاف کرتے ہیں تو گواہی باطل ہے مگر جب دونوں جگہیں قریب قریب ہیں۔ مثلاً ایک گواہ کسی چھوٹے مکان کے ایک حصہ میں وقوع قتل کی گواہی دیتا ہے اور دوسرا اسی مکان کے دوسرے حصے میں تو یہ گواہی مقبول ہوگی۔ (1)(بحرالرائق ص 323جلد8،عالمگیری ص16 جلد6،فتح القدیر و عنایہ ص 295جلد8،درمختار و شامی،ص501جلد5)
مسئلہ 141: اگر دو گواہوں میں موضع زخم میں(2)اختلاف ہے تب بھی گواہی باطل ہے۔ (3)(عالمگیری،ص16جلد6)
مسئلہ 142: اگر دو گواہوں میں آلہ قتل میں اختلاف ہو،ایک کہے کہ تلوار سے قتل کیا دوسرا کہے کہ پتھر سے قتل کیا۔ یا ایک کہے کہ تلوار سے قتل کیا اور دوسرا کہے کہ چھری سے قتل کیا یا ایک کہے کہ پتھر سے قتل کیا اور دوسرا کہے کہ لاٹھی سے قتل کیا تو یہ گواہی باطل ہے۔(4)(عالمگیری ص16 جلد6،درمختار و شامی ص501 جلد5،تبیین ص123جلد6،بحرالرائق ص 323جلد8،مبسوط ص168 جلد26،قاضی خان ص395 ج4،مجمع الانہر،ص634جلد2)
مسئلہ 143: ایک گواہ نے گواہی دی کہ قاتل نے تلوار سے قتل کرنے کا اقرار کیا تھا اور دوسرے گواہ نے کہا کہ قاتل نے چھری سے قتل کرنے کا اقرار کیا تھا اور مدعی کہتا ہے کہ قاتل نے دونوں باتوں کا اقرار کیا تھا لیکن اس نے قتل کیا ہے نیزہ مار کر تو یہ گواہی قبول کی جائے گی اور قاتل سے قصاص لیا جائے گا۔(5) (عالمگیری،ص16جلد6)
مسئلہ 144: ایک گواہ نے گواہی دی کہ اس نے تلوار یا لاٹھی سے قتل کیا ہے اور دوسرے گواہ نے کہا کہ اس نے قتل کیا ہے مگر میں یہ نہیں جانتا کہ کس چیز سے قتل کیا ہے۔ تو یہ گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔(6) (عالمگیری ص 16جلد6،قاضی خان ص395جلد4،درمختار و شامی ص 501جلد5،تبیین ص123جلد6،فتح القدیر و عنایہ ص 295جلد8،مجمع الانہر634 ج 2)
مسئلہ 145: دو شخصوں نے گواہی دی کہ زید نے عمرو کو قتل کیا ہے اور ہم یہ نہیں جانتے کہ کس چیز سے قتل کیا ہے تو یہ گواہی قبول کر لی جائے گی اور قاتل کے مال سے دیت دلائی جائے گی قصاص نہیں لیا جائے گا۔(7) (عالمگیری ص 16ج6، قاضی خان ص395 ج4،درمختار و شامی ص 502ج5،فتح القدیر ص 147،عنایہ ص 295ج8،تبیین ص123ج6،بحرالرائق ص223،ج8،طحطاوی ص278 ج4،مجمع الانہر ،ص635ج2،و ملتقی الابحرص635ج2)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والاقراربہ...إلخ،ج6،ص16.
2 ۔یعنی زخم کی جگہ میں ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والاقراربہ...إلخ،ج6،ص16.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 146: اگر دو آمی دو اشخاص کے متعلق گواہی دیں کہ انھوں نے زید کے ایک ہی ہاتھ کی ایک ایک انگلی کاٹی ہے اور یہ نہ بتائیں کہ کس نے کونسی انگلی کاٹی ہے تو یہ شہادت باطل ہے۔ (1)(عالمگیری ص 16ج6،مبسوط ص171ج26)
مسئلہ 147: دو آدمی دو اشخاص کے متعلق گواہی دیتے ہیں کہ ان دونوں نے ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ ایک نے تلوار سے اور ایک نے لاٹھی سے اور گواہ یہ نہیں بتاتے کہ کس نے لاٹھی سے اور کس نے تلوار سے قتل کیا ہے تو یہ گواہی باطل ہے۔ (2)(عالمگیری،ص16،ج6)
مسئلہ 148: دو آدمیوں نے گواہی دی کہ زید نے عَمْرْو کا ہاتھ پہنچے سے(3) قصداً کاٹا ہے اور ایک تیسرے گواہ نے کہا کہ زید نے عمرو کا پاؤں ٹخنے سے کاٹا ہے۔ پھر تینوں نے یہ گواہی دی کہ مجروح صاحب فراش رہ کر مرگیا(4) اور مقتول کا ولی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ دونوں فعل عمداً ہوئے ہیں تو قاتل کے مال سے نصف دیت دلائی جائے گی۔(5)(عالمگیری،ص 16جلد6، مبسوط ص168جلد26)
مسئلہ 149: دو آدمیوں نے کسی کے خلاف گواہی دی کہ اس نے فلاں شخص کا ہاتھ پہنچے سے قصداً کاٹا پھر اس کو قصداًقتل کر دیا تو مقتول کے ورثاء کو یہ حق ہے کہ پہلے ہاتھ کاٹ کر قصاص لیں اور پھر قتل کریں۔ ہاں قاضی کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ ان سے کہے کہ صرف قتل پر اکتفاء کرو ہاتھ کا قصاص مت لو۔(6) (عالمگیری،ص17جلد6)
مسئلہ 150: دو آدمیوں نے زید کے خلاف گواہی دی کہ اس نے عمرو کو خطاء ًقتل کیا ہے اور قاضی نے اس پر دیت کا فیصلہ کر دیا۔ اس کے بعد عمرو جس کے قتل کی گواہی دی گئی تھی زندہ آگیا تو جن لوگوں نے دیت ادا کی تھی ان کو اختیا رہے کہ چاہیں تو عمرو کے ولی کو ضامن قرار دیں یا گواہوں کو،اگر گواہوں کو ضامن بنائیں اور وہ تاوان دے دیں تو پھر وہ گواہ ولی سے دیت واپس لے لیں۔ (7)(عالمگیری،ص17 جلد6،درمختار و شامی،ص502 جلد5،مجمع الانہر،ص635جلد2)
مسئلہ 151: دو آدمیوں نے زید کے خلاف گواہی دی کہ اس نے عمرو کو قصداً قتل کیا ہے اور زید کو قصاص میں قتل کر دیا گیا اس کے بعد عَمْرْو زندہ واپس آگیا تو زید کے ورثا کو اختیار ہے کہ عَمْرْو کے ولی سے دیت لیں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والإقراربہ...إلخ،ج6،ص16.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی کلائی سے۔ 4 ۔یعنی زخمی ہونے کے بعد بستر پر پڑے پڑے مرگیا ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والإقراربہ...إلخ،ج6،ص16.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق،ص17.
یا گواہوں سے۔(1)(عالمگیر ی ص 17 ج6،درمختار و شامی ص 503ج5،مجمع الانہر،ص635جلد2)
مسئلہ 152: دو آدمیوں نے ایک شخص کے خلاف گواہی دی کہ اس نے قتل خطایا عمد کا اقرار کیا ہے اور اس پر فیصلہ کر دیاگیا اس کے بعد وہ شخص زندہ پایا گیا تو گواہوں پر کوئی تاوان نہیں۔ البتہ دونوں صورتوں میں ولی مقتول پر تاوان ڈالا جائے گا۔ (2)(ہندیہ ،ص17 ج6،درمختار و شامی ،ص 503ج5،مجمع الانہر،ص636جلد2)
مسئلہ 153: دو آدمیوں نے گواہی دی کہ فلاں دو اشخاص نے ہم کو گواہ بنایا ہے کہ زید نے عمرو کو خطاء ً قتل کر دیا ہے ان کی گواہی پر دیت کا حکم دے دیا گیا ا س کے بعد عمرو زندہ پایا گیا تو ولی پر دیت واپس کرنا واجب ہے اور ان شاہدین فرع (3)پر کچھ تاوان نہیں ہے۔ اگرچہ اصل گواہ آکر ان کو گواہ بنانے سے انکار کریں اور اگر اصل گواہ آکر یہ اقرار کریں کہ ہم نے جان بوجھ کر غلط بات پر ان کو گواہ بنایا تھا تب بھی ان شاہدین فرع پرکچھ تاوان نہیں ہے۔ (4)(ہندیہ،ص17 ج6،درمختار و شامی،ص503ج5)
مسئلہ 154: کسی نے دعویٰ کیا کہ فلاں شخص نے میرے ولی کا سر پھاڑ دیا اور اسی سے اس کی موت واقع ہوگئی اور دو گواہوں نے زخم کی گواہی دی اور یہ کہا کہ وہ مرنے سے پہلے اچھا ہوگیا تھا۔ تو زخم کے بارے میں ان کی شہادت مان لی جائے گی۔ اور صرف زخم کے قصاص کا حکم دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر ایک گواہ نے کہا کہ وہی زخم موت کا سبب بنا تھا اور دوسرے نے کہا کہ وہ مرنے سے پہلے اچھا ہوگیا تھا تب بھی صرف زخم کے قصاص کا حکم دیا جائے گا۔(5) (ہندیہ،ص17ج6)
مسئلہ 155: کسی مقتول نے دو بیٹے چھوڑے ان میں سے ایک نے کسی شخص کے خلاف گواہ پیش کئے کہ اس نے میرے باپ کو عمداً قتل کیا ہے اور دوسرے بیٹے نے گواہ پیش کئے کہ اس نے اور دوسرے شخص نے مل کر میرے باپ کو قصداً قتل کیا ہے تو اس صورت میں قصاص نہیں ہے۔ (6)(ہندیہ،ص17جلد6)
مسئلہ 156: کسی مقتول کے دو بیٹے ہیں ان میں سے ایک نے گواہ پیش کئے کہ فلاں شخص نے میرے باپ کو عمداً قتل کیا ہے اور دوسرے بیٹے نے گواہ پیش کئے کہ اس کے غیر فلاں شخص نے میرے باپ کو خطاء ً قتل کیا ہے تو کسی سے بھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔ پہلے بیٹے کے لیے اس کے مدعیٰ علیہ کے مال سے 3 سال میں نصف دیت لی جائے گی اور دوسرے بیٹے کے لیے مدعی ا علیہ کے عاقلہ سے بقیہ نصف دیت 3 سال میں لی جائے گی۔ (7)(ہندیہ از زیادات،ص17ج6)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والإقرار بہ...إلخ،ج6،ص17.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی وہ گواہ جنہیں دو گواہوں نے گواہ بنایا تھا ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والإقرار بہ...إلخ،ج6،ص17.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 157: کسی مقتول نے دو بیٹے اور ایک موصیٰ لہ (جس کے لیے وصیت کی گئی)چھوڑے۔ پھر ایک بیٹے نے دعوےٰ کیا کہ فلاں شخص نے میرے باپ کو عمداً قتل کیا ہے اور اس پر گواہ پیش کئے اور دوسرے بیٹے نے اسی قاتل یا دوسرے شخص پر خطاء ً قتل کا الزام لگا کر گواہ پیش کئے اور موصیٰ لہ قتل خطا کے مدعی کی تصدیق کرتا ہے تو اس بیٹے اور موصیٰ لہ کے لیے قاتل کے عاقلہ پر 3 سال میں 23دیت ہے اور قتل عمد کے مدعی بیٹے کے لیے قاتل کے مال میں 3 سال میں 13دیت ہے اور اگر موصیٰ لہ نے قتل عمد کے مدعی کی تصدیق کی تو قتل خطا کے مدعی کے لیے ایک تہائی دیت قاتل کے عاقلہ پر 3 برس میں ہے۔ اور نصف دیت کا تہائی موصیٰ لہ کے لیے اور نصف دیت کا دو تہائی قتلِ عمد کے مدعی کے لیے قاتل کے مال میں ہے اور اگر موصیٰ لہ نے دونوں کی تصدیق یا تکذیب کی(1)تو موصیٰ لہ کو کچھ نہیں ملے گا اور اگر موصیٰ لہ کہتا ہے کہ مجھ کو یہ معلوم نہیں کہ قتل خطاء ً ہوا ہے یا عمداً تو اس کا حق ابھی باطل نہیں ہوگا۔ جس وقت بھی موصی ٰ لہ کسی ایک بیٹے کی تصدیق کر دے گا تو مذکورہ بالاتفصیل کے مطابق موصی ٰ لہ کو حق مل جائے گا اور اگر بجائے موصیٰ لہ کے مقتول کا تیسرا بیٹا ہو اور تصدیق و تکذیب میں مذکورہ بالا صورتیں اختیار کرے، تو ایک صورت کے سوا باقی تمام صورتوں میں وہی حکم ہے اور وہ ایک صورت یہ ہے کہ اگر تیسرے بیٹے نے مدعیِ قتل عمد کی تصدیق کی تو اس کو اورمدعیِ قتلِ عمد کو ایک تہائی دیت ملے گی۔ (2) (ہندیہ ص17جلد6)
مسئلہ 158: مقتول کے دو بیٹوں میں سے بڑے نے چھوٹے کے خلاف گواہ پیش کئے کہ اس نے باپ کو قتل کیا ہے اور چھوٹے نے گواہ پیش کئے کہ فلاں اجنبی نے قتل کیا ہے تو بڑے کو چھوٹے سے نصف دیت دلائی جائے گی اور چھوٹے کو اس اجنبی سے نصف دیت دلائی جائے گی۔ (3)(ہندیہ ص18ج6، بحرالرائق ص323جلد8)
مسئلہ 159: مقتول کے تین بیٹوں میں سے بڑے نے منجھلے کے خلاف گواہ پیش کئے کہ اس نے باپ کو قتل کیا ہے اورمنجھلے نے چھوٹے کے خلاف گواہ پیش کئے کہ اس نے باپ کو قتل کیا ہے اور چھوٹے نے بڑے کے خلاف قتل کے گواہ پیش کئے توسب شہادتیں قبول کر لی جائیں گی، لیکن قصاص کسی سے بھی نہیں لیا جائے گا۔ بلکہ ہر مدعی اپنے مدعی ا علیہ سے ایک تہائی دیت لے گا۔(4) (ہندیہ،ص18جلد6)
مسئلہ 160: مقتول نے زید،عَمْرْو اور بکر تین بیٹے چھوڑے ،زید نے گواہ پیش کئے کہ عمرو و بکر نے باپ کو قتل کیا ہے اور عمرو و بکر نے زید کے قاتل ہونے پر گواہ پیش کئے تو قول امام پر(5)زید دونوں بھائیوں سے ان کے مال میں سے نصف دیت
1 ۔یعنی جھٹلایا۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الجنایات، الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والإقراربہ...إلخ،ج6،ص17،18.
3 ۔المرجع السابق،ص 18. 4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔یعنی حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے قول کے مطابق۔
لے گا اگر قتل عمد کا دعویٰ تھا ،اور ان کے عاقلہ سے نصف دیت لے گا اگر قتل خطاء ًکا دعویٰ تھا، اور عمرو و بکر زید کے مال سے نصف دیت لیں گے اگر قتلِ عمد کا دعویٰ تھا اور اگر قتل خطاء کا دعویٰ تھا تو زید کے عاقلہ سے نصف دیت لیں گے۔(1) (ہندیہ ص18جلد6)
مسئلہ 161: مقتول نے ایک بیٹا اور ایک بھائی چھوڑا ان میں سے ہر ایک دوسرے پر قتل کا دعویٰ کر کے اس کے خلاف گواہ پیش کرتا ہے تو بھائی کے گواہ لغو قرار پائیں گے(2)اور بیٹے کے گواہوں کی گواہی پر بھائی کے خلاف فیصلہ کر دیا جائے گا۔ (3)(ہندیہ ص18ج6، بحرالرائق ص324جلد8)
مسئلہ 162: دو آدمیوں میں سے ہر ایک نے زید کے قتل کا اقرار کیا اور ولی زید کہتا ہے کہ تم دونوں نے قتل کیا ہے۔ تو قصاص میں دونوں کو قتل کر دیا جائے گا۔(4) (ہندیہ ص18جلد6، بحرالرائق ص325 جلد8 ، تبیین الحقائق ص124جلد6 ، مجمع الانہرص635ج2 ، ملتقی الابحرص635جلد2)
مسئلہ 163: اگر چند گواہوں نے گواہی دی کہ زید کو فلاں شخص نے قتل کیا ہے اور دوسرے چند گواہوں نے گواہی دی کہ زید کا قاتل دوسرا شخص ہے اور ولی نے کہا کہ دونوں نے قتل کیا ہے تو یہ دونوں شہادتیں باطل ہیں۔(5) (ہندیہ ص19جلد6 ، فتح القدیر ص297جلد8 و عنایہ، تبیین الحقائق ص124جلد6، مجمع الانہرص236جلد2)
مسئلہ 164: کسی شخص نے اقرار کیا کہ میں نے فلاں شخص کو قصداً قتل کیا ہے اور مقتول کے ولی نے اس کی تصدیق کر کے قصاص میں اس کو قتل کر دیا، پھر ایک دوسرے شخص نے آکر اقرار کیا کہ میں نے اس کو قصداً قتل کیا ہے تو ولی اس کو بھی قتل کر سکتا ہے اور اگر پہلے قاتل کے اقرار کے وقت ولی نے اس سے یہ کہا تھا کہ تو نے تنہا عمداً قتل کیا تھا اور اس کو قصاص میں قتل کر دیا پھر دوسرے نے آکر یہ اقرار کیا کہ میں نے تنہا عمداً قتل کیا ہے اور ولی نے اس کی تصدیق بھی کر دی تو ولی پر پہلے قاتل کے قتل کی دیت واجب ہوگی اور دوسرے قاتل پر ولی کے لیے دیت لازم ہوگی۔ (6)(ہندیہ از محیط ص19جلد6 ، بحرالرائق ص325جلد8)
مسئلہ 165: کسی نے کسی کے قتل خطاء کا اقرار کیا اور ولیِ مقتول قتلِ عمد کا دعویٰ کرتا ہے تو قاتل کے مال سے ولی کو دیت دلوائی جائے گی۔(7) (ہندیہ ص19جلد6 ، مبسوط ص105جلد26)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الجنایات، الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والإقراربہ...إلخ،ج6،ص18.
2 ۔یعنی قابل قبول نہیں ہوں گے۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والإقراربہ...إلخ،ج6،ص18.
4 ۔المرجع السابق، ص 19. 5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 166: اگر قاتل قتل عمد کا اقرار کرے اور ولی مقتول قتل خطا کا مدعی ہو تو مقتول کے ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا اور اگر ولی نے بعد میں قاتل کے قول کی تصدیق کر دی اور کہہ دیا کہ تو نے قصداًقتل کیا ہے تو قاتل پر دیت لازم ہے۔(1) (عالمگیری ازمحیط و قاضی خان ص19جلد6)
مسئلہ 167: کسی شخص نے دو آدمیوں پر دعویٰ کیا کہ انھوں نے میرے باپ کو عمداً آلہ دھار دار سے قتل کر دیا ہے ان میں سے ایک شخص نے تنہا عمداً قتل کا اقرار کیا اور دو گواہوں نے گواہی دی کہ دوسرے مدعی ا علیہ نے تنہا قصداًقتل کیا ہے تو یہ شہادت قبول نہیں کی جائے گی اور اقرار کرنے والے سے قصاص لیا جائے گا اور اگر خطاء ً قتل کا دعویٰ ہو تو اقرار کرنے والے سے نصف دیت لی جائے گی اور دوسرے مدعی ا علیہ پر کچھ لازم نہیں ہے۔(2) (عالمگیری ص19جلد6)
مسئلہ 168: اگر دو مدعی ا علیہ میں سے ایک نے تنہا عمداً قتل کرنے کا اقرار کیا اور دوسرے نے انکار۔ اور مدعی کے پاس گواہ نہیں ہیں تو اقرار کرنے والے سے قصاص لیا جائے گا اور اگر دونوں میں سے ایک نے خطاً قتل کا اور دوسرے نے عمداً قتل کا اقرار کیا تو دونوں پر دیت لازم ہوگی۔(3) (عالمگیری ص19جلد6)
مسئلہ 169: کسی نے دو آدمیوں پر دعویٰ کیا کہ انھوں نے میرے ولی کو دھار دار آلے سے قتل کیا ہے ان میں سے ایک نے مدعی کی تصدیق کی اور دوسرے نے کہا کہ میں نے خطاً لاٹھی سے مارا تھا تو ان دونوں کے مال میں سے ولی کو تین 3 سال میں دیت دلائی جائے گی۔ اور اگر ولی کا دعویٰ قتل خطاکا تھا اور ان دونوں نے قتلِ عمد کا اقرار کیا تومدعی ا علیہ بری کر دیئے جائیں گے اور اگر دعویٰ قتل خطاکا تھا اور مدعی علیہ نے مدعی کی تصدیق کی تو دیت واجب ہوگی اور اگر دعویٰ قتل خطا کا تھا اور ایک قاتل نے عمداً قتل کا اقرار کیا اور دوسرے نے قتل خطاکا، تب بھی د ونوں پر دیت لازم ہوگی۔(4) (عالمگیری از محیط ص19ج6،بحرالرائق ص325ج8)
مسئلہ 70 1: کسی نے دو اشخاص پر دعویٰ کیا کہ انھوں نے میرے ولی کو عمداً قتل کیا ہے ان میں سے ایک نے کہا کہ ہم نے عمداً قتل کیا ہے اور دوسرے نے قتل ہی کا انکار کر دیا تو اقرار کرنے والے سے قصاص لیا جائے گا اور اگر دعویٰ قتل خطا کا ہو اور ایک مدعی ا علیہ کہے کہ ہم نے عمداً قتل کیا ہے اور دوسرا قتل ہی کا انکار کرے تو ملزم بری کر دیئے جائیں گے۔ (5)(عالمگیری ص19ج6)
مسئلہ 171: کسی نے زید سے کہا کہ میں نے اور فلاں شخص نے تیرے ولی کو عمداً قتل کیا ہے اور اس کے ساتھی نے کہا کہ ہم نے خطاً قتل کیا ہے اور زید نے اقرار کرنے والے سے کہا کہ تنہا تو نے عمداً قتل کیا ہے تو زید قتلِ عمد کا اقرار کرنے والے سے قصاص لے گا اور اگر زید نے قتلِ خطا کا دعویٰ کیا تو دونوں بری کر دیئے جائیں گے۔ (6)(ہندیہ ص19ج6 ، بحرالرائق ص325ج8)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والإقراربہ...إلخ،ج6،ص19.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق،ص19،20.
مسئلہ 72 1: کسی نے زید سے کہا کہ میں نے تیرے ولی کا ہاتھ قصداً کاٹا تھا اور فلاں شخص نے اس کا پیر قصداً کاٹا تھا اور اسی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی تھی اور زیدیہ کہتا ہے کہ تو نے تنہا اس کے ہاتھ پیر عمداً کاٹے ہیں اور دوسرا شخص اس جرم میں شرکت کا انکار کرتا ہے۔ تو اقرار کرنے والے سے قصاص لیا جائے گا اور اگر زید نے کہا کہ تو نے عمداً اس کا ہاتھ کاٹا تھا اور پیر کاٹنے والے کا مجھ کو علم نہیں تو ابھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔ ہاں اگر کسی وقت زید اس ابہام کو دور کر دے اور یہ کہے کہ مجھے یاد آگیا کہ تیرے ساتھی نے قصداًپیر کاٹا تھا تو اقرار کرنے والا قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ لیکن اگر قاضی اس کے ابہام کو دور کرنے سے پہلے بطلان حق کا فیصلہ کرچکا ہے تو اس کا ابہام دور کرنے سے حق واپس نہیں ملے گا۔ (1)(ہندیہ ص20جلد6 ، بحرالرائق ص325جلد8)
مسئلہ 173: کوئی شخص مقتول پایا گیا کہ اس کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے تھے اور ولی نے دعویٰ کیا کہ فلاں شخص نے اس کا داہنا ہاتھ قصداً کاٹا تھا اور فلاں شخص نے اس کا بایاں ہاتھ قصداً کاٹا تھا اور ان دونوں ہاتھوں کے کاٹنے سے اس کی موت واقع ہوئی تھی۔ بایاں ہاتھ کاٹنے والے نے قصدا ًہاتھ کاٹنے اور صرف اسی سبب سے موت واقع ہونے کا اقرار کیا اور دایاں ہاتھ کاٹنے والے نے قطع ید کا انکار کیا تو اقرار کرنے والے سے قصاص لیا جائے گا۔ اور اگر ولی نے کہا کہ فلاں شخص نے بایاں ہاتھ قصدا ًکاٹا تھا اور داہنا ہاتھ بھی قصداً کاٹا گیا ہے مگر اس کے کاٹنے والے کا مجھے علم نہیں ہے اور موت دونوں ہاتھوں کے کٹنے سے واقع ہوئی ہے بایاں ہاتھ کاٹنے والا اقرار کرتا ہے کہ میں نے عمداً بایاں ہاتھ کاٹا ہے اور صرف اسی وجہ سے موت واقع ہوئی ہے، تو اقرار کرنے والا بھی بری ہو جائے گا۔ اور اگر ولی نے کہا کہ فلاں نے داہنا ہاتھ قصداً کاٹا اور فلاں نے بایاں قصداً کاٹا اور بائیں ہاتھ کا کاٹنے والا کہتا ہے کہ میں نے بایاں ہاتھ قصداً کاٹا ہے اور داہنا ہاتھ کاٹنے والے کا مجھے علم نہیں ہے لیکن یہ جانتا ہوں کہ داہنا ہاتھ قصداً کاٹا گیا اور موت اسی سے واقع ہوئی ہے، تو قصاص نہیں لیا جائے گا۔ اقرار کرنے والے پر نصف دیت لازم ہوگی۔ (2)(عالمگیری از محیط ص20جلد6 ، بحرالرائق ص325جلد8)
مسئلہ 174: کسی مقتول کے دو بیٹوں میں سے ایک حاضر اور دوسرا غائب ہے۔ حاضر نے کسی شخص پر اپنے باپ کے قتل عمد کا دعویٰ کیا اور گواہ پیش کر دیئے لیکن قاتل نے اس بات کے گواہ پیش کئے کہ غائب بیٹے نے مجھے معاف کر دیا ہے تو قصاص ساقط ہو جائے گا اور مدعی کو نصف دیت دلائی جائے گی۔(3) (درمختار و شامی ص 500جلد5 ، بحرالرائق ص320جلد8 ، تبیین ص122جلد 6، فتح القدیر و عنایہ ص293جلد8)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الخامس فی الشھادۃ فی القتل والإقراربہ...إلخ،ج 6،ص20.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات، باب الشھادۃ فی القتل وإعتبارحالتہ،ج10،ص225، 226.
مسئلہ 175: قتل خطا اور ہر ایسے قتل میں جس میں قصاص واجب نہ ہو ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت قبول کر لی جائے گی۔ (1)(خانیہ ص395جلد 4، طحطاوی علی الدر ص276جلد4)
مسئلہ 176: کسی بچے نے یہ اقرار کیا کہ میں نے اپنے باپ کو عمداً قتل کر دیا ہے تو اس پر قصاص واجب نہیں ہوگا اور مقتول کی دیت بچہ کے عاقلہ پر واجب ہوگی اور بچہ وارث بھی ہوگا۔ مجنون کا حکم بھی یہی ہے۔ (2)(خانیہ ص395جلد4)
مسئلہ 177: اگر نابالغ بچے کے کسی ایسے قریبی رشتے دار کو قتل کر دیا گیا یا اعضاء کاٹ دیئے گئے جس کے قصاص کا حق بچے کو تھا، تو اس بچے کے باپ کو قصاص لینے اور دیت کے مساوی یا اس سے زیادہ مال پر صلح کرنے کا حق ہے اور اگر مقدار دیت سے کم پر صلح کر لے گا تب بھی صلح صحیح ہو جائے گی لیکن پوری دیت لازم ہوگی مگر معاف کرنے کا حق نہیں ہے اور وصی کو نفس کے قصاص و عفو کا (3)حق نہیں ہے۔ صرف دیت کے مساوی یا اس سے زیادہ مال پر صلح کا حق ہے اور مادون النفس میں(4)قصاص و صلح کا حق ہے، عفوکا حق نہیں ہے۔(5) (شامی ص475جلد5 ، قاضی خان ص442ج3 ، دررغرر ص94ج 2، طحطاوی ص263ج4)
مسئلہ 178: قاتل اور اولیائے مقتول اگر مال پر صلح کر لیں تو قصاص ساقط ہو جائے گا اور جس مال پر صلح کی ہے وہ لازم ہوگا اور اگر نقد و ادھار کا ذکر نہیں کیا تو فوراً ادا کرنا واجب ہوگا۔(6) (عالمگیری ص20ج6 ، فتح القدیر و عنایہ ص275ج8)
مسئلہ 179: اگر قتل خطائً تھا اور مال معین پر صلح کی اور اس کا کوئی وقت معین نہیں کیا تو اگر قاضی کی قضا اور دیت کی کسی خاص قسم پر فریقین کی رضامندی سے پہلے یہ صلح ہے تو یہ مال موجل ہوگا۔(7) (ہندیہ ص20جلد6)
مسئلہ 180: اگر ایک حر(8)اور ایک غلام نے مل کر کسی کو قتل کیا پھر حر نے اور غلام کے مالک نے کسی شخص کو مصالحت کے لیے وکیل بنایا۔ اس نے جس رقم پر مصالحت کی وہ حر اور غلام کے مالک پر نصف نصف واجب ہوگی۔ (9)(عالمگیری ص20ج6 ، ہدایہ ص571ج4)
1 ۔''الفتاوی الخانیہ''، کتاب الجنایات، باب الشھادۃ علی الجنایۃج 2، ص 395.
2 ۔المرجع السابق،ص396.
3 ۔یعنی معاف کرنے کا ۔ 4 ۔یعنی قتل سے کم جسمانی نقصان میں مثلاًہاتھ پاؤں توڑناوغیرہ۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،فصل فیما یوجب القود ومالایوجبہ ،ج10،ص174،175.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السادس فی الصلح والعفو...إلخ،ج6،ص20.
7 ۔المرجع السابق.
8 ۔آزادیعنی جو غلام نہ ہو۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السادس فی الصلح والعفو...إلخ،ج6، ص20.
مسئلہ 181: قتل خطاء میں دیت کی کسی خاص قسم پر قضائے قاضی ہوچکی یا فریقین راضی ہوچکے تو اس کے بعد اسی نوع کی زیادہ مقدار پر صلح کرنا جائز نہیں ہے اور کم پر جائز ہے صلح نقد اور ادھار دونوں طرح جائز ہے اور اگر کسی دوسری قسم کے مال پر صلح کرنا چاہیں تو زیادہ پر بھی صلح جائز ہے لیکن اگر قاضی نے دراہم پر فیصلہ کیا اور انھوں نے اس سے زیادہ قیمت کے دنانیر(1)پرصلح کی تو نقد جائز ہے اور ادھار ناجائز ہے اور اگر کسی غیر معین جانور پر صلح کی تو ناجائز ہے اور معین پر جائز ہے۔ اگرچہ مجلس میں قبضہ نہ کیا جائے۔ اور اگر ان دراہم سے کم مالیت کے دنانیر پر صلح کی تو ادھار ناجائز ہے اور نقد جائز ہے۔ اسی طرح اگر قاضی کافیصلہ دراہم پر تھا اور انھوں نے غیر معین سامان پر صلح کی تو ناجائز ہے اور معین پر جائز ہے، مجلس میں قبضہ کریں یا نہ کریں۔ (2)(عالمگیری ص20ج 6، بحرالرائق ص318ج8)
مسئلہ 182: قضاء قاضی اور فریقین کی دیت معین پر رضامندی سے پہلے اگر فریقین ان اموال پر صلح کرنا چاہیں جو دیت میں لازم ہوتے ہیں تو دیت کی مقدار سے زائد پر صلح ناجائز ہے اگرچہ نقد پر ہو اور کم پر نقد و ادھار دونوں طرح جائز ہے اور اگر دیت کے مقررہ اموال کے علاوہ کسی دوسری چیز پر صلح کرنا چاہیں تو ادھار ناجائز ہے اور نقد جائز ہے۔(3) (عالمگیری از محیط ص20ج6)
مسئلہ 183: کسی شخص نے عمداً قتل کیا اور مقتول کے دو ولی ہیں۔ ایک ولی نے کل خون کے بدلے میں پچاس ہزار 000,50 پر صلح کر لی تو اس کو پچیس ہزار 000,25 ملیں گے اور دوسرے کو نصف دیت ملے گی۔(4) (عالمگیری ص20جلد6)
مسئلہ 184: مقتول کے ورثاء میں سے مرد ،عورت ،ماں، دادی وغیرہ کسی ایک نے قصاص معاف کر دیا یا بیوی کا قصاص شوہر نے معاف کر دیا تو قاتل سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (5) (عالمگیری ص20جلد6)
مسئلہ 185: اگر ورثاء میں سے کسی نے قصاص کے اپنے حق کے بدلے میں مال پر صلح کر لی یا معاف کر دیا تو باقی ورثاء کے قصاص کا حق ساقط ہو جائے گااور دیت سے اپنا حصہ پائیں گے اور معاف کرنے والے کو کچھ نہیں ملے گا۔(6) (عالمگیری ص21ج6)
مسئلہ 186: قصاص کے دو مستحق اشخاص میں سے ایک نے معاف کر دیا تو دوسرے کو نصف دیت تین سال میں قاتل کے مال سے ملے گی۔(7) (عالمگیری از کافی ص21ج6)
1 ۔سونے کے سکے ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السادس فی الصلح والعفو...إلخ،ج6،ص20.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق،ص20،21.
6 ۔المرجع السابق،ص 21. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 187: دو اولیاء میں سے ایک نے قصاص معاف کر دیا دوسرے نے یہ جانتے ہوئے کہ اب قاتل کو قتل کرنا حرام ہے، قتل کر دیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ اور اس کو اصل قاتل کے مال سے نصف دیت ملے گی اور اگر حرمت قتل کا علم نہ تھا تو اس پر اپنے مال میں اصل قاتل کے لئے دیت ہے۔ دوسرے ولی کے معاف کرنے کو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ (1) (ہندیہ ازمحیط ص21ج6 )
مسئلہ 188: کسی نے دو اشخاص کو قتل کر دیا اور ان دونوں کا ولی ایک شخص ہے اس نے ایک مقتول کا قصاص معاف کر دیا تو اسے دوسرے مقتول کے قصاص میں قتل کرنے کا حق نہیں ہے۔(2) (عالمگیری ص21جلد6 از جوہرہ نیرہ)
مسئلہ 189: دو قاتلوں میں سے ولی نے ایک کو معاف کر دیا تو دوسرے سے قصاص لیا جائے گا۔ (3)(عالمگیری از محیط ص21جلد6 ، قاضی خان ص390جلد4)
مسئلہ 190: کسی نے دو اشخاص کو قتل کر دیا ایک مقتول کے ولی نے قاتل کو معاف کر دیا تو دوسرے مقتول کا ولی اس کو قصاص میں قتل کرسکتا ہے۔(4) (عالمگیری از سراج الوہاج ص21جلد6 ،قاضی خان ص390ج4)
مسئلہ 191: مجروح کی موت سے قبل ولی نے معاف کر دیا تو استحسانا ًجائز ہے۔(5) (عالمگیری ،ص21جلد6از محیط)
مسئلہ 192: کسی نے کسی کو قصداً قتل کر دیا اور ولی مقتول کے لئے قاضی نے قصاص کا فیصلہ کر دیا اور ولی نے کسی شخص کو اس کے قتل کا حکم دیا۔ پھر کسی شخص نے ولی سے معافی کی درخواست کی اور ولی نے قاتل کو معاف کر دیا مامور کو اس معافی کا علم نہیں ہوا اور اس نے قتل کر دیا تو مامور پر دیت لازم ہے اور وہ ولی سے یہ دیت وصول کر لے گا۔(6) (عالمگیری از ظہیریہ ص21ج6 )
مسئلہ 193: ولی یا وصی کو نابالغ مقتول کے خون کو معاف کرنے کا حق نہیں۔ (7)(عالمگیری از محیط سرخسی ص21جلد6 ، قاضی خان ص390ج4)
مسئلہ 194: کسی نے کسی کے بھائی کو عمداً قتل کر دیا اور مقتول کے بھائی نے گواہ پیش کئے کہ اس کے سوا مقتول کا کوئی اور وارث نہیں ہے اور قاتل نے گواہ پیش کئے کہ مقتول کا بیٹا زندہ ہے تو ابھی فیصلہ ملتوی رہے گا۔ اگر قاتل نے گواہ پیش کئے کہ مقتول کے بیٹے نے دیت پر صلح کر کے قبضہ بھی کر لیا ہے یا اس نے معاف کر دیا ہے تو قاتل کے گواہوں کی شہادت قبول ہوگی۔ اس کے بعد بیٹا اگر اس کا انکار کرے تو قاتل کو بیٹے کے مقابلے میں دوبارہ گواہ پیش کرنے ہوں گے اور بھائی کے مقابلے میں جو شہادت پیش کی تھی کافی نہیں ہوگی۔(8) (قاضی خان ص397جلد4 ، عالمگیری ص21جلد6)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السادس فی الصلح والعفو...إلخ،ج6،ص21.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 195: مقتول کے دو بھائی ہیں اور قاتل نے گواہ پیش کئے کہ ایک غائب بھائی نے مال پر مجھ سے صلح کر لی ہے تو یہ شہادت قبول کر لی جائے گی پھر اگر اس غائب بھائی نے آکر صلح کا انکار کیا تو دوبارہ گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس صورت میں حاضر بھائی کو نصف دیت مل جائے گی اور غائب کو کچھ نہیں ملے گا۔(1) (قاضی خان ص398جلد4 ، ہندیہ ص21جلد6)
مسئلہ 196: مقتول کے دو اولیاء میں سے ایک غائب ہے اور قاتل نے گواہ پیش کئے کہ غائب نے معاف کر دیا ہے تو یہ شہادت قبول کر لی جائے گی اور غائب کے حق میں معافی مان لی جائے گی اور اس عفو کے فیصلے کے بعد غائب کے آنے پر دوبارہ شہادت کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر قاتل غائب کی معافی کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے پاس گواہ نہیں ہیں لیکن چاہتا ہے کہ حاضر کو قسم دی جائے تو یہ فیصلہ غائب کے آنے تک ملتوی رکھا جائے گا۔ پھر اگر غائب نے آکر معافی کا انکار کیا اور قسم کھائی تو قاتل سے قصاص لیا جائے گا۔ (2)(عالمگیری ص21جلد 6، مبسوط ص162جلد26)
مسئلہ 197: قاتل کہتا ہے کہ ولی غائب کے معاف کرنے کے گواہ میرے پاس ہیں تو قاضی گواہوں کو پیش کرنے کے ليے اپنی صوابدید کے مطابق مہلت دے دے اور ابھی فیصلہ نہ کرے۔ مقررہ مدت گزرنے کے بعد یا ابتداء مقدمہ ہی میں قاتل نے گواہوں کے غائب ہونے کی بات کہی تو استحساناً اب بھی فیصلہ ملتوی رکھے۔ ہاں اگر قاضی کا گمان غالب یہ ہو کہ قاتل جھوٹا ہے اس کے پاس گواہ نہیں ہیں تو قصاص کا حکم دے سکتا ہے۔(3) (ہندیہ ص21جلد6 ، مبسوط ص162جلد26)
مسئلہ 198: دو اولیاء میں سے ایک نے دوسرے کے عفو کی شہادت پیش کی تو اس کی پانچ صورتیں ہوں گی۔
1۔ قاتل اور دوسرا ولی اس کی تصدیق کریں۔
2۔ دونوں اس کی تکذیب کریں ۔(4)
3۔ ولی تکذیب کرے اور قاتل تصدیق کرے۔
4۔ ولی تصدیق کرے اور قاتل تکذیب کرے۔
5۔ دونوں سکوت اختیار کریں۔(5)
تو قصاص ہر صورت میں معاف ہو جائے گا۔ لیکن دیت میں سے عفو کی گواہی دینے والے کو نصف دیت ملے گی۔ اگر عفو پر تینوں متفق تھے اور اگر قاتل اور ولی آخر نے اس کی تکذیب کی تھی تو اس کو کچھ نہیں ملے گا اور سکوت کرنے کی صورت میں ولی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السادس فی الصلح والعفو...إلخ،ج6،ص21.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔یعنی اس کو جھٹلائیں۔ 5 ۔یعنی خاموش رہیں۔
آخر کو نصف دیت ملے گی اور اگر ولی آخر نے اس کی تکذیب کی تھی اور قاتل نے تصدیق کی تھی تو ہر ایک ولی کو نصف نصف دیت ملے گی۔ اور اگر قاتل نے شہات دینے والے ولی کی تکذیب کی اور ولی آخر نے تصدیق کی تو ولی اول کو نصف دیت ملے گی اور ولی آخر کو کچھ نہیں ملے گا۔ (1)(مبسوط ص155جلد26 ، عالمگیری ص21ج6)
مسئلہ 199: اگر دو اولیاء میں سے ہر ایک دوسرے کے معاف کرنے کی گواہی دیتا ہے تو دونوں کی گواہی بیک وقت ہے یا اوقات مختلفہ میں۔ اگر دونوں نے بیک وقت گواہی دی تو دونوں کا حق باطل ہو جائے گا۔ قاتل ان کی تکذیب کرے یا بیک وقت تصدیق کرے۔ اور اگر قاتل نے مختلف اوقات میں دونوں کی تصدیق کی تو دونوں کو نصف نصف دیت ملے گی۔ اور اگر قاتل نے ایک کی تصدیق کی اور ایک کی تکذیب کی تو جس کی تصدیق ہے اس کو نصف دیت ملے گی۔ اور اگر دونوں نے مختلف اوقات میں شہادت دی تھی اور قاتل نے دونوں کی تکذیب کی تو بعد کے شہادت دینے والے کے ليے نصف دیت ہے اور پہلے شہادت دینے والے کے ليے کچھ نہیں ہے۔ اسی طرح اگر قاتل نے دونوں کی بیک وقت تصدیق کی تب بھی پہلے گواہی دینے والے کو کچھ نہیں ملے گا۔ اور بعد میں گواہی دینے والے کو نصف دیت ملے گی۔ اور اگر قاتل نے مختلف اوقات میں دونوں کی تصدیق کی تو دونوں کو نصف نصف دیت ملے گی اور اگر قاتل نے پہلے گواہی دینے والے کی تصدیق کی اور دوسرے کی تکذ یب، جب بھی دونوں کے ليے پوری دیت کا ضامن ہوگا، اور اگر بعد کے شہادت دینے والے کی تصدیق کی ا ور پہلے والے کی تکذیب تو بعد والے کو نصف دیت ملے گی اور پہلے کو کچھ نہیں ملے گا۔ (2)(عالمگیری از محیط ص22جلد6)
مسئلہ 200: مقتول کے تین ولی ہیں۔ ان میں سے دو نے گواہی دی کہ تیسرے نے معاف کر دیا ہے تو اس کی چار صورتیں ہیں۔
(1) قاتل اور تیسرا ولی ان دونوں کی تصدیق کریں تو تیسرے کا حق باطل ہو جائے گا اور دونوں گواہی دینے والوں کا حق قصاص سے مال کی طرف منتقل ہو جائے گا۔
(2) اور اگر قاتل اور تیسرا وہ دونوں گواہی دینے والوں کی تکذیب کریں تو گواہی دینے والوں کا حق باطل ہو جائے گا اور تیسرے کا حق قصاص سے مال کی طرف منتقل ہو جائے گا۔
(3) اور اگر صرف تیسرے ولی نے دونوں گواہی دینے والوں کی تصدیق کی تو قاتل دونوں گواہی دینے والوں کے ليے ایک تہائی دیت کا ضامن ہوگا۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السادس فی الصلح والعفو...إلخ،ج 6،ص21.
2 ۔المرجع السابق،ص21،22.
(4) اور اگر صرف قاتل نے دونوں گواہی دینے والوں کی تصدیق کی تو تینوں اولیاء کو ایک ایک تہائی دیت ملے گی۔(1)(عالمگیری از محیط ص22ج6 ، تبیین الحقائق ص122ج6 ، بحرالرائق ص321ج8)
مسئلہ 201: مقتولِ خطاکے وارثوں میں سے دو نے گواہی دی کہ بعض وارثوں نے اپنا حصہ دیت معاف کر دیا ہے اگر یہ گواہی دینے سے پہلے اپنے حصہ پر انھوں نے قبضہ نہیں کیا ہے تو یہ گواہی قبول کر لی جائے گی۔ (2) (عالمگیری ص22ج6)
مسئلہ 202: بہت سے لوگ جمع ہو کر ایک باؤلے (3)کتے کو تیر مار رہے تھے کہ ایک تیر غلطی سے کسی بچے کو لگ گیا اوروہ مرگیا، لوگوں نے گواہی دی کہ یہ تیر فلاں شخص کا ہے لیکن یہ گواہی نہیں دیتے کہ فلاں شخص نے یہ تیر مارا ہے بچہ کے باپ نے اس تیر والے سے صلح کر لی تو اگر یہ جانتے ہوئے صلح کی ہے کہ اسی کا پھینکا ہوا تیر بچے کو لگ کر اس کی موت کا سبب بنا ہے تو یہ صلح جائز ہے اور اگر تیر کی شناخت کے سوا اور کوئی دلیل نہ ہو تو صلح باطل ہے اگر تیر انداز کا علم تو ہے مگر تیر لگنے کے بعد باپ نے بڑھ کر بچہ کو طمانچہ مارا اور بچہ گر کر مرگیا۔ یہ معلوم نہ ہوسکا کہ موت کا سبب تیر ہوا یا طمانچہ، تو اس صورت میں اگر دوسرے ورثا مقتول کی اجازت سے باپ نے صلح کی تو یہ صلح جائز ہے اور صلح کا مال سب ورثاء میں تقسیم ہوگا اور باپ کو کچھ نہیں ملے گا۔ اور اگر ورثاء کی اجازت کے بغیر صلح کی ہے تو یہ صلح باطل ہے۔ (4)(عالمگیری ص22ج6 ، بحرالرائق ص218ج8)
مسئلہ 203: کسی نے کسی کے سر پر خطاء ًدو گہرے زخم لگائے۔ زخمی نے ایک زخم اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کو معاف کر دیا اس کے بعد زخمی مرگیا تو اگر جرم کا ثبوت اقرار مجرم سے ہوا تھا تو یہ عفو باطل ہے اور مجرم کے مال میں دیت لازم ہوگی۔ اور اگر جرم کا ثبوت گواہی سے ہوا تھا تو یہ عفو عاقلہ کے حق میں وصیت مانا جائے گا اور نصف دیت عاقلہ پر معاف ہوجائے گی اگر مقتول کے کل ترکہ کے تہائی سے زیادہ نہ ہو اور اگر یہ دونوں زخم قصداً لگائے ہوں اور صورت یہی ہو تو مجرم پر کچھ لازم نہیں ہوگا نہ قصاص نہ دیت۔(5) (عالمگیری ص23ج6)
مسئلہ 204: اگر کسی نے کسی کا سر قصداً پھاڑ دیا۔ مجروح نے(6)مجرم کو زخم اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات سے معاف کر دیا۔ اس کے بعد مجرم نے عمداً(7)ایک اور زخم لگا دیا۔ زخمی نے اس کو معاف نہیں کیا اور مرگیا تو قصاص نہیں لیا جائے گا۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السادس فی الصلح والعفو...إلخ،ج 6،ص22.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔پاگل۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السادس فی الصلح والعفو...إلخ،ج6،ص22.
5 ۔المرجع السابق،ص23.
6 ۔یعنی زخمی نے۔ 7 ۔یعنی جان بوجھ کر،ارادۃً۔
لیکن پوری دیت 3 سال میں لی جائے گی۔(1) (عالمگیری ص23ج6)
مسئلہ 205: کسی نے کسی کو قصداً گہرا زخم لگایا۔ پھر مجروح سے زخم اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات سے معین مال پر صلح کر لی اور مجروح نے مال پر قبضہ بھی کر لیا اس کے بعد کسی دوسرے شخص نے اس مجروح کو گہرا زخم قصداً لگایا۔ مجروح دونوں زخموں کی وجہ سے مرگیا تو دوسرے جارح (2)سے قصاص لیا جائے گا اور پہلے پر کچھ لازم نہیں ہے اور اگر مجروح نے دونوں زخم کھانے کے بعد مجرم اول سے صلح کی تب بھی یہی حکم ہے۔ (3)(عالمگیری ص23ج6)
مسئلہ 206: کسی نے کسی کو قصداً گہرا زخم لگایا پھر زخم اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کے بدلہ میں دس ہزار10,000درہم پر صلح کر کے مجروح کو ادا بھی کر دیے۔ پھر کسی دوسرے شخص نے اسی مجروح کو خطاً زخمی کر دیا اور مجروح دونوں زخموں سے مرگیا تو دوسرے جارح کے عاقلہ پر نصف دیت لازم ہوگی۔ اور پہلا جارح مقتول کے مال میں سے پانچ ہزار درہم واپس لے لے گا۔ (4)(عالمگیری ص23ج6)
مسئلہ 207: کسی نے بچے کا دانت اکھیڑ دیا یا کسی عورت کا سر مونڈ دیا اس کے بعد مجرم نے بچہ کے باپ سے یا اس عورت سے مال پر صلح کر لی۔ اس کے بعد عورت کے سر پر بال نکل آئے یا بچہ کا دانت نکل آیا تو اس مال کا واپس کر دینا لازمی ہے اور یہی صورت اس صورت میں بھی ہے جب کسی کا ہاتھ توڑ دیا ہو اور اس سے مال پر صلح کر لی ہو اور اس کے بعد پلاسٹر کر دیا گیا ہو اور ہڈی جڑ گئی ہو۔ پھر اگر ہاتھ ٹوٹنے والا یہ کہے کہ میرا ہاتھ پہلے سے کمزور ہوگیا ہے اور جیسا تھا ویسا نہیں ہوا تو کسی ماہر فن سے تحقیقات کرائی جائے گی۔(5) (بحرالرائق ص318ج8)
مسئلہ 208: قصاص کا حق ہر اس وارث کو ہے جس کا حصں م میراث قرآن میں معین کر دیا گیا ہے۔ اور دیت کا بھی یہی حکم ہے۔ (6)(قاضی خان ص390ج4)
مسئلہ 209: اگر سب ورثاء بالغ ہوں تو سب کی موجودگی میں قصاص لیا جائے گا۔ صرف بعض کو قصاص لینے کا حق
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السادس فی الصلح والعفو...إلخ،ج6،ص23.
2 ۔زخمی کرنے والا۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السادس فی الصلح والعفو...إلخ،ج6،ص23.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔تکملۃ ''البحرالرائق''،کتاب الجنایات، باب القصاص فیما دون النفس،ج9،ص60 .
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، فصل فیمن یستوفی فی القصاص،ج2، ص390.
نہیں ہے۔ اور اگر بعض ورثاء بالغ ہیں اور بعض نابالغ ہیں تو بالغ ورثاء ابھی قصاص لے لیں گے اور نابالغوں کے بلوغ کا انتظار نہیں کریں گے۔(1) (قاضی خان ص390جلد4)
مسئلہ 210: مقتول فی العمدکےبعض ورثاء نے قاتل کو معاف کر دیا پھر باقی ورثاء نے یہ جانتے ہوئے قاتل کو قتل کر دیا کہ بعض کے معاف کر دینے سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے تو ان سے قصاص لیا جائے گا اور اگر یہ حکم ان کو معلوم نہیں اور قاتل کو قتل کر دیا اگرچہ بعض کے معاف کر دینے کو جانتے ہوں تو ان سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔(2)(قاضی خان ص389جلد4)
مسئلہ 211: قتل میں آلہ قتل کے استعمال کرنے کے وقت کی حالت معتبر ہے۔ (3)(بحرالرائق ص326ج8 ، تبیین ص134ج6 ، درمختار و شامی ص503ج5)
مسئلہ 212: کسی شخص نے مسلمان کو تیر مارا قبل اس کے کہ تیر اسے لگے معاذاللہ وہ مرتد ہوگیا اس کے بعد تیر لگا اور وہ مرگیا تو مقتول کے ورثاء کے ليے تیر مارنے والے پر دیت واجب ہے اور اگر مرتد کو تیر مارا اور تیر لگنے سے پہلے وہ مسلمان ہوگیا اور پھر تیر لگنے سے مرگیا تو تیر مارنے والے پر کچھ تاوان نہیں ہے۔(4)(عالمگیری ص23ج6 ، تبیین الحقائق ص124جلد 6، درمختار و شامی ص503ج5 ، بحرالرائق ص326ج8 ، فتح القدیر و عنایہ ص292ج8)
مسئلہ 213: کسی شخص نے غلام کو تیر مارا تیر لگنے سے قبل اس کے مولا نے اسے آزاد کر دیا تو تیر مارنے والے پر غلام کی قیمت لازم ہوگی۔(5)(عالمگیری ص23ج6، تبیین الحقائق ص124ج6، درمختاروشامی ص503ج5،بحرالرائق ص326ج 8، فتح القدیر و عنایہ ص292ج8)
مسئلہ 214: اگر کسی نے کسی قاتل کو قصاص معاف کر دینے کے بعد قتل کر دیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔(6) (بدائع صنائع ص247ج7)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، فصل فیمن یستوفی فی القصاص،ج2،ص390.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، فصل فی المستوفی فی القصاص،ج2،ص389.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات، باب الشھادۃ فی القتل وإعتبار حالتہ،ج10،ص224.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السابع فی اعتبارحالۃ القتل،ج 6، ص 23.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الجنایات،فصل وأما بیان مایسقط القصاص...إلخ،ج6، ص293.
مسئلہ 215: کسی کافر نے شکار کو تیر مارا اور شکار کو تیر لگنے سے پہلے وہ مسلمان ہوگیا تو وہ گوشت حرام ہے اور اگر مسلمان نے مارا اورمعاذاللہ لگنے سے پہلے وہ مرتد ہوگیا تو وہ گوشت حلال ہے۔(1) (بحرالرائق ص326جلد8 ، تبیین الحقائق ص125جلد 6، فتح القدیر ص300جلد8 ، عالمگیری ص23ج6 ، درمختار و شامی ص503جلد5)
مسئلہ 216: حکومت عدل یعنی انصاف کے ساتھ تاوان لینے کا طریقہ یہ ہے کہ اس شخص کو غلام فرض کر کے یہ اندازہ کیا جائے کہ جنایت کے اثر کی وجہ سے اس کی قیمت میں کس قدر کمی آگئی۔ یہ کمی حکومت عدل کہلائے گی۔ مثلاً غلام کی قیمت کا دسواں حصہ کم ہوگیا تو وہاں دیت کا دسواں حصہ لازم ہوگا۔ یا قیمت نصف رہ گئی تو نصف دیت لازم ہوگی۔(2) (قاضی خان ص385جلد 4، شامی ص494جلد5)
مسئلہ 217: یا ان زخموں میں سے جن میں شارع نے اَرش معین کیا ہے کسی قریب ترین جگہ کے زخم کے ساتھ اس زخم کا مقابلہ دو ماہر عادل جراحوں(3)سے کرا کے یہ معلوم کیا جائے گا کہ اس زخم کو اس زخم سے کیا نسبت ہے؟ اور قاضی ان کے قول کے مطابق اس زخم سے اس زخم کو جو نسبت ہو اسی نسبت سے اَرش کا حصہ متعین کر دے۔ مثلاً یہ زخم اس زخم کا نصف ہے تو نصف اور ربع ہے تو ربع اَرش۔ (4)(بدائع صنائع ص324ج7)
مسئلہ 218: حکومت عدل جنایات مادون النفس میں سے جن میں قصاص نہیں اور شارع نے کوئی اَرش بھی معین نہیں کیا ہے ان میں جو تاوان لازم آتا ہے اس کو حکومت عدل کہتے ہیں۔(5) (بدائع صنائع ص323جلد 7، شامی ص511جلد5)
مسئلہ 219: دیت اس مال کو کہتے ہیں جو نفس کے بدلے میں لازم ہوتا ہے۔ اور اَرش اس مال کو کہتے ہیں جومادون النفس میں(6)لازم ہوتا ہے۔ اور کبھی ارش اور دیت کو بطور مترادف بھی بولتے ہیں۔(7) (عالمگیری ص24جلد6 ، درمختار و شامی ص504ج5)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السابع فی إعتبارحالۃ القتل،ج6،ص23.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،ج2،ص385.
3 ۔طبیبوں ،سرجنوں ،ڈاکٹروں۔
4 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الجنایات،فصل وأما الذی یجب فیہ أرش...إلخ،ج6،ص413.
5 ۔المرجع السابق،ص412.
6 ۔یعنی قتل سے کم جسمانی نقصان میں مثلاًہاتھ پاؤں وغیرہ توڑنا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص24.
مسئلہ 220: قطع و قتل کی چار صورتوں میں دیت واجب ہوتی ہے۔(1)قتل خطا (2)شبہ عمد(3)قتل بالسبب (4)قائم مقام خطا۔ ان سب صورتوں میں دیت عصبات پر واجب ہوتی ہے۔ سوائے اس صورت میں کہ باپ اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو اس کو اپنے مال میں دیت واجب ہوگی اور ہر اس قتل و قطع عمد میں جس میں کسی شبہ کی وجہ سے قصاص ساقط ہو جائے مجرم کے اپنے مال میں دیت واجب ہوگی اور جنایت عمد کی صلح کا مال بھی مجرم کے مال سے ادا کیا جائے گا ۔ (1) (ہندیہ ص24ج6 ، قاضی خان ص392ج4)
مسئلہ 221: دیت صرف تین قسم کے مالوں سے ادا کی جائے گی۔ (1)اونٹ ایک سو (2) دینار ایک ہزار (3)دراہم دس ہزار۔ قاتل کو اختیار ہے کہ ان تینوں میں سے جو چاہے ادا کرے۔(2)(عالمگیری از محیط ص24ج6)
مسئلہ 222: اونٹ سب ایک عمر کے واجب نہیں ہوں گے بلکہ مختلف العمر لازم آئیں گے۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ خطاً قتل کی صورت میں پانچ قسم کے اونٹ دیئے جائیں گے۔ بیس بنت مخاض یعنی اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو دوسرے سال میں داخل ہوچکا ہو اور بیس ابن مخاضیعنی اونٹ کے وہ نر بچے جو دوسرے سال میں داخل ہوچکے ہوں(3)اور بیس بنت لبون یعنی اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو تیسرے سال میں داخل ہوچکا ہو اور بیس حقے یعنی اونٹ کے وہ بچے جو عمر کے چوتھے سال میں داخل ہوچکے ہوں اور بیس جذعہ یعنی وہ اونٹنی جو پانچویں سال میں داخل ہوچکی ہے اور شبہ عمد میں، پچیس بنت مخاض اور پچیس بنت لبون اور پچیس حقے اور پچیس جذعے صرف یہ چار قسمیں دی جائیں گی۔(4) (عالمگیری ص24ج6 ، درمختار و شامی ص504ج5)
مسئلہ 223: مسلم ،ذمی، مستامن سب کی دیت ایک برابر ہے اور ''عورت کی دیتِ نفس،مادون النفس میں مرد کی دیت کی نصف دی جائے گی'' اور وہ جنایات جن میں کوئی دیت معین نہیں ہے بلکہ انصاف کے ساتھ تاوان دلایا جاتا ہے ان میں مرد و عورت کا تاوان برابر ہوگا۔(5) (شامی ص505جلد5 ، عالمگیری ص24جلد6)
مسئلہ 224: خنثٰی کاہاتھ عمداً کاٹنے والے سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ اگرچہ قاطع عورت ہو اورخنثٰی سے بھی قصاص نہیں لیا جائے گا اور اگر اس کو کسی نے خطاً قتل کر دیا، یا ہاتھ پیر کاٹ دیئے تو عورت کی دیت یعنی مرد کی نصف دیت دے دی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص24.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر'' بیس ابن لبون یعنی اونٹ کے وہ نر بچے جو تیسرے سال میں داخل ہوچکے ہوں'' لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل کتب میں عبارت اس طرح ہے بیس ابن مخاض یعنی اونٹ کے وہ نر بچے جو دوسرے سال میں داخل ہوچکے ہوں ''،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6،ص24.
و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،ج10،ص236.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج 6، ص 24.
جائے گی،جب آثار رجولیت ظاہر ہوں گے(1)تو بقیہ نصف بھی اس کو دے دی جائے گی۔ (2)(شامی ازالاشباہ والنظائرص505جلد5)
مسئلہ 225: مقتول کی دیت کے مستحقین میں ایک نابالغ بچہ اور ایک بالغ شخص ہے جو آپس میں باپ بیٹے ہیں تو باپ کل دیت پر قبضہ کر لے گا اور اگر وہ آپس میں بھائی بھائی یا چچا بھتیجے ہیں اور بالغ نابالغ کا ولی نہیں ہے تو بالغ صرف اپنے حصے پر قبضہ کریگا، نابالغ کے حصے پر نہیں۔ (3)(عالمگیری ص24ج6)
مسئلہ 226: اگر کوئی کسی کا سر بالجبر مونڈ دے تو ایک سال تک انتظار کیا جائے گا،اگر ایک سال میں سر پر بال اُگ آئیں تو حالق پر(4)کچھ تاوان نہیں ہے۔ ورنہ پوری دیت واجب ہوگی۔ اس میں مرد، عورت، صغیر و کبیر سب کا حکم یکساں ہے اور اگر جس کا سر مونڈا گیا تھا، وہ سال گزرنے سے پہلے مرگیا اور اس وقت تک اس کے سر پر بال نہیں اگے تھے تو حالق کے ذمے کچھ نہیں ہے۔(5) (عالمگیری ص24ج6 ، بحرالرائق ص331ج8 ، عنایہ و ہدایہ ص309ج8)
مسئلہ 227: اگر کسی نے کسی کی دونوں بھنوؤں کو اس طرح اکھیڑا یا مونڈا کہ آئندہ بال اُگنے کی امید نہ رہی تو پوری دیت لازم ہوگی اور ایک میں نصف دیت۔ (6)(ہدایہ و عنایہ ص309جلد8 ، درمختار و شامی ص507جلد5 ، عالمگیری ص24جلد 6، تبیین الحقائق ص129جلد6)
مسئلہ 228: چاروں پپوٹوں سے پلک اس طرح اکھیڑ دیئے جائیں کہ آئندہ بال نہ جمیں تو پوری دیت واجب ہے۔ دو پلکوں میں نصف دیت اور ایک پلک میں ربع دیت واجب ہے۔ (7)(درمختار و شامی ص508جلد5 ، بحرالرائق ص331ج8 ، عالمگیری ص24جلد6 ، ہدایہ و عنایہ ص310جلد 8، تبیین الحقائق ص129ج6)
مسئلہ 229: اگر کسی مرد کی پوری داڑھی اس طرح مونڈ دی کہ ایک سال تک بال نہ اُگے تو پوری دیت واجب ہے اور نصف میں نصف دیت اور نصف سے کم میں انصاف کے ساتھ تاوان لیاجائے گا اور سال سے پہلے مرگیا تو کچھ تاوان نہیں لیا جائے گا۔ سر اور داڑھی کے مونڈنے میں عمد و خطا میں کوئی فرق نہیں ہے۔(8) (درمختار و شامی ص507جلد 5، عالمگیری ص24جلد6)
1 ۔یعنی جبخنثٰی کامرد ہونا ظاہرہوجائے گا۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،ج10،ص237.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج 6، ص 24.
4 ۔یعنی سرمونڈنے والے پر۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج 6، ص 24.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج 6، ص 24.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،ج10،ص240.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج 6، ص 24.
مسئلہ 230: کوسج، یعنی جس کی داڑھی نہ اُگے، اگر اس کی ٹھڈی پر چند بال تھے اور وہ کسی نے مونڈ دیئے تو کچھ لازم نہیں ہے۔ اور اگر ٹھڈی اور رخساروں پر چند متفرق بال ہیں تو ان کے مونڈنے والے پر انصاف کے ساتھ تاوان ہے اور اگر ٹھڈی اور رخساروں پر چِھدرے بال ہیں(1)تو پوری دیت ہے۔ کیونکہ یہ کوسج ہی نہیں ہے یہ حکم اس صورت میں ہے کہ مونڈنے کے بعد ایک سال تک بال نہ اُگیں، لیکن اگر سال کے اندر حسبِ سابق بال اُگ آئیں تو کچھ تاوان نہیں ہے، لیکن تنبیہ کے طور پر سزا دی جائے گی اور اگر سال تمام ہونے سے پہلے مرگیا اور اس وقت تک بال نہ اُگے تو کچھ نہیں اور اگر دوبارہ سفید بال اُگے تو اگر سفیدی کی عمر ہے تو کچھ نہیں اوراگر اس عمر سے پہلے سفید نکلے تو آزاد اور غلام دونوں میں انصاف کے ساتھ تاوان واجب ہوگا سر اور داڑھی وغیرہ ہر جگہ کے بالوں میں صرف اس صورت میں تاوان لازم ہوتا ہے کہ ایک سال تک نہ اُگیں ورنہ نہیں، اور سال تمام ہونے سے پہلے مر جانے کی صورت میں کوئی تاوان لازم نہیں آتا ہے۔(2) (تبیین الحقائق ص129ج6 ، فتح القدیر و ہدایہ وعنایہ،ص309جلد8 ،شامی و درمختار ص507جلد5 ، عالمگیری ص24جلد6)
مسئلہ 231: کسی کی داڑھی بالجبر مونڈ دی پھر چھدری اُگی، یعنی کہیں بال اُگے اور کہیں نہیں اُگے تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (3)(قاضی خان ص385جلد4 ،عالمگیری ص24جلد6)
مسئلہ 232: اگر مونچھیں اور داڑھی دونوں مونڈ دیں تو صرف ایک دیت واجب ہوگی۔ اور اگر صرف مونچھیں مونڈیں تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (4)(شامی ص507جلد5 ، تبیین الحقائق ص130جلد6)
مسئلہ 233: اگر عورت کی داڑھی مونڈدی تو کچھ نہیں ہے۔ (5)(شامی از جوہرہ نیرہ ص507جلد5)
مسئلہ 234: اگر سر مونڈنے والا کہتا ہے کہ جس کا سر میں نے مونڈا ہے وہ چندلا تھا۔(6) اس ليے چندلی جگہوں پربال نہیں اُگے ہیں تو جتنی جگہ پر بال ہونے کا اقرار کرتا ہے اس کے بقدر حصہ دیت دے گااور یہی حکم اس صورت میں بھی ہے کہ داڑھی مونڈنے کے بعد کہے کہ کوسج تھااور اس کے رخساروں پر بال نہ تھے یا بھنویں اور پلکیں مونڈنے کے بعد کہے کہ بال نہ تھے۔ ان سب صورتوں میں مونڈنے والے کا قول قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں
1 ۔یعنی کہیں کہیں بال ہیں ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج 6، ص 24.
و''الدرالمختار''و''رد المحتار''،کتاب الدّیات،ج10،ص240.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6،ص24.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، فصل فی یستوفی فی القصاص،ج 2، ص385.
4 ۔''رد المحتار''،کتاب الدّیات،ج10،ص240.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔یعنی کہیں کہیں پیدائشی بال نہ تھے،گنجا تھا ۔
اوراگر گواہ ہیں تو اس کی بات مانی جائے گی۔ (1)(عالمگیری ص25جلد6)
مسئلہ 235: اعضاء کی دیت میں قاعدہ یہ ہے کہ اعضاء پانچ قسم کے ہیں۔(1) ایک ایک جیسے ناک، زبان ،ذکر (2) دو دو جیسے آنکھیں، کان، بھنویں، ہونٹ، ہاتھ، پیر، عورت کے پستان، خصیتین (3) چار ہوں جیسے پپوٹے (4) دس ہوں جیسے ہاتھوں کی انگلیاں، پیروں کی انگلیاں (5) دس سے زائد ہوں جیسے دانت۔ اگر جنایت کی وجہ سے حسن صورت یا منفعت عضوی بالکل فوت ہو جائے تو پوری دیت نفس لازم ہوگی۔(2) (تبیین ص129ج6، شامی ص505ج5)اور اگر حسن صوری یا منفعت عضوی پہلے ہی ناقص تھی۔ اس کو ضائع کر دیا جیسے گونگے کی زبان یا خصی یا عنین کا ذکر یا کسی کا شل ہاتھ یا لنگڑے کا پیر یا کسی کی اندھی آنکھ یا کسی کا کالا دانت اکھیڑ دیا تو ان اعضاء میں قصداً جنایت کی صورت میں بھی قصاص نہیں ہے اور خطاً میں دیت بھی نہیں بلکہ حکومت عدل ہے۔ (3)(عنایہ ہدایہ ص307ج8 ، شامی ص506جلد5)
مسئلہ 236: اگر قسم اول کا عضو کاٹا تو اس میں پوری دیت ہے اور اگر قسم ثانی کے دونوں عضو کو کاٹا تو پوی دیت ہے اور ایک میں نصف دیت اور اگر تیسری قسم کے چاروں اعضاء کو ضائع کیا تو پوری دیت ہے۔ دو میں نصف دیت اور ایک میں چوتھائی دیت ہے اور اگر چوتھی قسم کے دسوں انگلیوں کو کاٹا تو پوری دیت ہے۔ اور ایک میں دسواں حصہ ہے اور اگر پانچویں قسم یعنی سب دانت توڑ دیئے تو پوری دیت ہے اور ایک میں بیسواں حصہ۔ (4)(تبیین الحقائق ص130ج 6، شامی ص505ج5 ، مبسوط ص68ج26)
مسئلہ 237: اگر دونوں کان خطاًکاٹ دیئے تو پوری دیت لازم ہوگی۔ ایک میں نصف دیت ہے۔ اور اگر بوچہ بنا دیا(5)تو حکومت عدل ہے۔(6) (عالمگیری ص25جلد6)
مسئلہ 238: اگر کان پر ایسی ضرب لگائی کہ بہرا ہوگیا تو پوری دیت واجب ہوگی۔ (7)(تبیین ص131جلد6 ، عالمگیری ص25جلد6)
مسئلہ 239: خطاء ًدونوں آنکھیں پھوڑ دینے کی صورت میں پوری دیت اور ایک میں نصف دیت ہے اور یہی حکم اس صورت میں بھی ہے کہ آنکھیں نہ پھوٹیں مگر بینائی جاتی رہے۔ (8)(عالمگیری ص25ج6)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص25.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،ج10،ص238.
و''تبیین الحقائق''،کتاب الدّیات،فصل فی النفس والمارن ...إلخ،ج7،ص272
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،ج 10،ص239.
4 ۔المرجع السابق،ص238.
5 ۔ کن کٹا بنا دیایعنی پورا کان نہیں کاٹا بلکہ تھوڑا کاٹا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص25.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 240: کانے کی اچھی آنکھ پھوڑ دینے سے نصف دیت لازم ہوگی۔(1) (عالمگیری ص25ج6)
مسئلہ 241: اگر پپوٹوں کو مع پلکوں کے کاٹ دیا تب بھی ایک ہی دیت ہے۔(2) (تبیین ص131ج6 ، ہدایہ فتح القدیر و عنایہ ص310جلد8 ، عالمگیری ص25جلد 6، درمختار و شامی ص508جلد5)
مسئلہ 242: اگر ایسے پپوٹے کو کاٹا جس پر بال نہ تھے تو حکومت عدل ہے اور اگر ایک نے پلک کاٹے اور پپوٹے دوسرے نے، تو پپوٹے کاٹنے والے پر پوری دیت ہے اور پلک کاٹنے والے پر حکومت عدل ہے۔(3) (عالمگیری از محیط ص25جلد6)
مسئلہ 243: اگر کسی نے کسی کی پوری ناک کاٹ دی یا ناک کا نرم حصہ کاٹ دیا یا نرم حصے میں سے کچھ کاٹ دیا تو پوری دیت واجب ہے۔ (4)(بدائع صنائع،ص308جلد7 ، بحرالرائق ص329جلد8 ، قاضی خان ص385جلد4 ،درمختار و شامی ص506ج5 ، عالمگیری ص25جلد6)
مسئلہ 244: اگر ناک کی نوک کاٹ دی تو اس میں حکومت عدل ہے۔ (5)(درمختار ص506ج5)
مسئلہ 245: کسی نے کسی کی ناک توڑ دی یا اس پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ ناک سے سانس لینے کے قابل نہیں رہا۔ صرف مونھ سے سانس لے سکتا ہے تو اس میں حکومت عدل ہے۔(6) (عالمگیری ص25ج6 ، بحرالرائق ص329ج8)
مسئلہ 246: کسی کی ناک پر ایسی ضرب لگائی کہ سونگھنے کی قوت ضائع ہوگئی تو پوری دیت واجب ہوگی۔(7) (قدوری ہدایہ ص587جلد4 ، عالمگیری ص25ج6 ، بحرالرائق ص329ج8 ، قاضی خان ص385ج4)
مسئلہ 247: کسی نے پہلے ناک کا نرم حصہ کاٹا پھر اچھا ہونے کے بعد پوری ناک کاٹ دی تو نرم حصے کی پوری دیت اور باقی میں حکومت عدل ہے۔ اور اگر اچھے ہونے سے پہلے پوری ناک کاٹ دی تو ایک ہی دیت ہے۔(8) (عالمگیری ص25جلد 6، بحرالرائق ص229جلد8)
مسئلہ 248: اگر دونوں ہونٹ کاٹ دیئے تو پوری دیت واجب ہوگی اور ایک میں نصف دیت اور اوپر نیچے کے ہونٹوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (9)(عالمگیری ص25ج6،درمختار ص507ج5، تبیین الحقائق ص129ج6، بدائع صنائع ص314ج7)
مسئلہ 249: بچہ کے کان اور ناک میں بھی پوری دیت ہے۔(10) (عالمگیری ص25ج6)
مسئلہ 250: ہر دانت کے ضائع کرنے پر دیت کا بیسواں حصہ ہے۔ سامنے کے دانتوں، کِیلوں اور ڈاڑھوں میں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص25.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدّیات،ج 10، ص 238.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج 6، ص 25.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق. 9 ۔المرجع السابق. 10 ۔المرجع السابق.
کوئی فرق نہیں ہے۔ (1)(عالمگیری ص25ج6 ، بحرالرائق ص332ج8 ، تبیین الحقائق ص131ج 6، مبسوط ص71ج26)
مسئلہ 251: کسی نے کسی کا دانت اکھیڑ دیا اس کے بعد دوسرا اس جیسا دانت اُگ آیا تو دیت ساقط ہو جائے گی اور اگر دوسرادانت کالااُگا تودیت ساقط نہیں ہوگی۔(2)(تبیین الحقائق ص137جلد6 ، عالمگیری ص26ج6 ، بحرالرائق ص340ج8)
مسئلہ 252: کسی نے کسی کا دانت اکھیڑ دیا جس کا دانت اکھڑا تھا اس نے اکھڑا ہوا دانت اپنی جگہ پر لگا دیا اور وہ جم گیا تو اگر حسن صوری اور منفعت میں کوئی فرق نہیں آیا تو دیت نہیں ہے ورنہ دانت کی پوری دیت واجب ہے۔(3) (عالمگیری ص26جلد6 ، درمختار و شامی ص515جلد 5، تبیین الحقائق ص137جلد 6، مجمع الانہر ملتقی الابحر، ص647،ج 6،طحطاوی ص284جلد4)
مسئلہ 253: کسی نے کسی کے دانت پر ایسی ضرب لگائی کہ دانت ہل گیا تو ایک سال کی مہلت دی جائے۔ اگر اس مدت میں دانت سرخ، سبز یا سیاہ پڑ گیا اور چبانے کے قابل نہیں رہا تو دانت کی پوری د یت واجب ہوگی اور اگر چبانے کے قابل ہے لیکن رنگ بدل گیا تو سامنے کے دانتوں میں حسن صوری فوت ہو جانے کی وجہ سے دانت کی پوری دیت واجب ہوگی اور ڈاڑھوں اور کیلوں میں نہیں ہے۔ اور اگر چبانے کے قابل ہے لیکن رنگ پیلا پڑ گیا تو دیت واجب نہیں ہوگی۔ (4)(عالمگیری ص26ج 6، قاضی خان ص287ج 4، تبیین ص137ج6 ، بحرالرائق ص340ج8)
مسئلہ 254: اگر ضارب (5)کہتا ہے کہ میری ضرب سے رنگ نہیں بدلا بلکہ میری ضرب کے بعد کسی دوسری ضرب سے رنگ بدلا ہے اور مضروب(6)اس کی تکذیب کرتا ہے تو اگر ضارب اپنے قول پر گواہ پیش کر دے تو اس کی بات مان لی جائے گی ورنہ قسم کے ساتھ مضروب کا قول معتبر ہوگا۔(7) (عالمگیری ص26ج6 ، تبیین الحقائق ص137ج6)
مسئلہ 255: کسی نے کسی کی پوری زبان کاٹ دی یا اس قدر کاٹ دی کہ کلام پر قادر نہ رہا تو پوری دیت نفس واجب ہے اور اگر بعض حروف کے ادا کرنے پر قادر ہے اور بعض پر نہیں تو یہ دیکھا جائے گا کہ کتنے حروف ادا کر سکتا ہے۔ جتنے حروف ادا کرسکتا ہے اس کے بقدر دیت ساقط ہو جائے گی مثلاً اگر آدھے حروف ہجا ادا کرسکتا ہے تو آدھی دیت ساقط ہو جائے گی۔ اور اگر چوتھائی حروف ادا کرسکتا ہے تو چوتھائی دیت ساقط ہو جائے گی۔ وعلی ہذا القیاس۔(8)(عالمگیری ص26ج6 ، شامی و درمختار ص506ج5، فتح ص 308ج 8،بحرالرائق ص330ج8)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج 6، ص 25.
2 ۔المرجع السابق،ص25،26. 3 ۔المرجع السابق،ص 26. 4 ۔المرجع السابق،ص26.
5 ۔ مارنے والا۔ 6 ۔جس کو مارا ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج 6، ص 26.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 256: اگر زبان کاٹنے والے اور اس شخص میں جس کی زبان کاٹی گئی، یہ اختلاف ہے کہ کلام پر قدرت ہے یانہیں تو خفیہ طریقے سے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ وہ کلام کرسکتا ہے یا نہیں۔(1) (عالمگیری ص26، ج6 ، بحرالرائق ص330 جلد8)
مسئلہ 257: گونگے کی زبان کو کاٹنے کی صورت میں حکومت عدل ہے۔(2) (عالمگیری ص26 جلد6 ، بحرالرائق ص330 جلد8)
مسئلہ 258: ایسے بچے کی زبان کاٹ دی جس نے ابھی بولنا نہیں شروع کیا، صرف روتا ہے تو حکومت عدل ہے او راگر بولنے لگا ہے تو دیت ہے۔ (3)(عالمگیری ص226 جلد6 ، تبیین الحقائق ص134، جلد6)
مسئلہ 259: دونوں ہاتھ خطاء ً کاٹنے کی صورت پوری دیت نفس واجب ہے اور ایک میں نصف۔ اور اس میں داہنے بائیں ہاتھ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (4)(عالمگیری ص26 جلد6 ، فتح القدیر و ہدایہ ص310 جلد8 ، تبیین ص131 ج6)
مسئلہ 260: خنثیٰ کا ہاتھ کاٹنے والے پر عورت کے ہاتھ کی دیت واجب ہوگی۔ (5)(عالمگیری ص26 جلد6)
مسئلہ 261: ہر انگلی میں دیت نفس کا دسواں حصہ ہے۔ اور جن انگلیوں میں تین جوڑ ہیں۔ ایک جوڑ پر انگلی کی دیت کا تہائی حصہ ہے اور جن میں دو جوڑ ہیں ان میں ایک جوڑ پر انگلی کی د یت کا نصف حصہ ہے۔ (6)(عالمگیری ص26 جلد6 ، تبیین الحقائق ص131، جلد6 ، درمختار و شامی ص508جلد5 ، بحرالرائق ص332 ج8 ، مبسوط ص75، جلد26 ، قاضی خان ص385 ج4)
مسئلہ 262: زائد انگلی کاٹنے پر حکومت عدل ہے۔(7) (عالمگیری ص26 جلد6 ، درمختار و شامی ص513جلد5 ، ہدایہ فتح القدیر ص316 جلد8 ، بحرالرائق،ص337 جلد8)
مسئلہ 263: شل ہاتھ یا لنگڑا پیر کاٹنے پر حکومت عدل ہے۔(8) (عالمگیری ص26 جلد6 ، قاضی خان،ص386 جلد4)
مسئلہ 264: کسی نے کسی کی ایسی ہتھیلی کو کاٹ دیا جس میں پانچوں انگلیاں یا چار یا تین یا دو یا ایک انگلی یا کسی انگلی کا صرف ایک پورا لگا ہوا تھا تو انگلیوں یا پورے کی دیت ہوگی اور ہتھیلی کی کچھ دیت نہیں ہوگی۔ (9)(عالمگیری ص26 جلد6 ، بحرالرائق ص336 ج8 ، مبسوط ص82، ج26 ، شامی و درمختار ص512جلد5 ، ہدایہ و فتح القدیر ص316 ج8 ، بدائع صنائع ص318 ج7)
مسئلہ 265: اور اگر ایسی ہتھیلی کو کاٹا جس میں نہ کوئی انگلی تھی اور نہ کسی انگلی کا جوڑ تھا تو ایسی ہتھیلی میں حکومت عدل
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص26.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.7 ۔المرجع السابق.
8 ۔المرجع السابق،ص26۔27. 9 ۔المرجع السابق،ص26.
ہے اور یہ تاوان ایک انگلی کی دیت سے کم ہوگا۔(1) (بحرالرائق ص337 جلد8 ، شامی ص512جلد5 ، مبسوط،ص82، جلد26)
مسئلہ 266: کسی کے ہاتھ پر ایسا مارا کہ ہاتھ شل ہوگیا، تو ہاتھ کی پوری دیت واجب ہوگی جو دیت نفس کی نصف ہوگی۔(2) (عالمگیری ص26 جلد6 ، درمختار و شامی،ص509جلد5)
مسئلہ 267: اگر کلائی یا بازو توڑ دیا تو حکومت عدل ہے۔(3) (عالمگیری ص26 جلد 6، مبسوط ص80، جلد26 ، قاضی خان ص386 جلد4)
مسئلہ 268: کسی کی انگلی کا ایک پورا کاٹ دیا جس کی وجہ سے باقی انگلی یا پورا ہاتھ ایسا شل ہوگیا کہ قابل انتفاع نہیں رہا تو پوری انگلی کی یا پورے ہاتھ کی دیت ہوگی اور اگر قابل انتفاع ہے تو پورے کی دیت اور شل حصہ میں حکومتِ عدل ہوگی۔(4) (شامی ص513جلد5 ، عالمگیری ص26 جلد6 ، فتح القدیر، ہدایہ عنایہ ص318 جلد8 ، تبیین الحقائق ص136، جلد6 ، بحرالرائق،ص339 ج8)
مسئلہ 269: انگلی کے پورے کا بعض حصہ کاٹنے میں حکومت عدل ہے اگر ناخن جدا کر دیا اور پھر دوسرا ناخن مثل پہلے کے اُگ گیا تو ناخن میں کچھ نہیں اور اگر نہ اُگا تو حکومت عدل ہے۔ اور اگر خراب اُگا تو بھی حکومت عدل ہے۔ مگر نہ اُگنے کی صورت سے کم ہوگی۔(5) (عالمگیری ص27 جلد6 ، بدائع صنائع،ص323 جلد7)
مسئلہ 270: ایسے کمزور چھوٹے بچے کا ہاتھ یا پیر یا ذکر کاٹ دیا جس نے ابھی ہاتھ پیر ہلائے تک نہ تھے اور ذکر میں حرکت نہ تھی تو حکومت عدل ہے اور اگر ہاتھ پیر ہلاتا تھا اور ذکر میں حرکت تھی تو پوری دیت ہے۔(6) (عالمگیری ازسراج الوہاج ص27ج6 ، بدائع صنائع ص323 ج7 ، قاضی خان،ص382 ج4)
مسئلہ 271: مرد کے دونوں پستان کاٹنے میں حکومت عدل ہے اور اگر صرف گھنڈیاں(7) کاٹی ہیں تواس سے کم
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدیات،فصل فی الشجاج،ج10،ص251.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6،ص26.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6،ص26.
و''ردالمحتار''،کتاب الدیات،فصل فی الشجاج،ج10،ص251۔152.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص27.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔یعنی پستان کے سر ۔
حکومت عدل ہے اور اگر ایک پستان کاٹا تو اس کا نصف ہے اور ایک گھنڈی کاٹی تو اس کا نصف ہے۔ (1)(عالمگیری ص27 ج6 ، شامی ص508ج5 ، تبیین الحقائق ص131ج6)
مسئلہ 272: ہنسلی یا پسلی کی ہڈی توڑ دینے میں حکومت عدل ہے۔(2) (عالمگیری از ذخیرہ ص27ج6، قاضی خان ص386 ج4)
مسئلہ 273: عورت کے دونوں پستان یا دونوں گھنڈیاں کاٹ دیں تو پوری دیت نفس ہے اور ایک میں نصف دیت نفس ہے اور اس حکم میں صغیرہ و کبیرہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔(3) (عالمگیری ص27 جلد6 ، قاضی خان ص385 ج4 ، بدائع صنائع ص314 ج7 ، تبیین الحقائق ص129جلد6)
مسئلہ 274: کسی کی پیٹھ پر ایسی ضرب لگائی کہ قوت جماع جاتی رہی یا رطوبت نخاعیہ(4)خشک ہوگئی یا کبڑا ہوگیا تو پوری دیت ہے۔ (5)(تبیین الحقائق ص132 جلد6 ، عالمگیری ص27 جلد6)
مسئلہ 275: اور اگر کبڑا نہ ہوا اور منفعتِ جماع بھی فوت نہ ہوئی مگر نشان زخم باقی رہا تو حکومت عدل ہے اور اگر نشان بھی باقی نہ رہا تو اُجرتِ طبیب (6)ہے۔(7) (عالمگیری ص27 جلد6 ، درمختار و شامی ص509جلد5)
مسئلہ 276: اگر کبڑا تھا مگر ضرب کے بعد سیدھا ہوگیا تو کچھ نہیں۔ (8)(تبیین ا لحقائق ص132 جلد6)
مسئلہ 277: عورت کے سینے کی ہڈی توڑ دی جس سے پانی خشک ہوگیا تو دیتِ نفس ہے۔ (9)(عالمگیری ص27 ج6)
مسئلہ 278: ذَکر(10) کاٹنے کی صورت میں پوری دیت ہے اور خصی کا ذکر کاٹنے کی صورت میں حکومت عدل ہے۔ خواہ اس میں حرکت ہوتی ہو یا نہ ہوتی ہو۔ اور جماع پر قادر ہو یا نہ ہو۔ اور عنین اور ایسا شیخ کبیر جوجماع پر قادر نہ ہو، ان کا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص 27.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔وہ رطوبت جو مادہ منویہ کا سبب بنتی ہے ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص 27.
و''تبیین الحقائق''،کتاب الدّیات،فصل فی النفس...إلخ،ج7،ص277.
6 ۔ یعنی علاج کاخرچہ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص 27.
8 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الدیات،فصل فی النفس...إلخ،ج7،ص278.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص 27.
10 ۔آلہ تناسل ،مرد کاعضوِمخصوص۔
بھی یہی حکم ہے۔(1) (عالمگیری ص27 جلد6 ، قاضی خان،ص386 جلد4)
مسئلہ 279: حشفہ(2)کاٹنے کی صورت میں پوری دیت نفس ہے اور اگر پہلے حشفہ کاٹا اس کے بعد مابقی عضو(3) بھی کاٹ دیا تو اگر درمیان میں صحت نہیں ہوئی تھی تو ایک ہی دیت ہے اور اگر درمیان میں صحت ہوگئی تھی تو حشفہ میں پوری دیت نفس اور باقی میں حکومت عدل ہے۔ (4)(عالمگیری ص28، ج6 ، تبیین الحقائق ص129، ج6 ، بدائع صنائع،ص311 جلد7)
مسئلہ 280: خصیتین کاٹنے کی صورت میں پوری دیت نفس ہے۔(5) (بدائع صنائع ص314 ج7 ، عالمگیری ص28 ج6)
مسئلہ 281: تندرست آدمی کے خصیتین و ذکر خطا ء ً کاٹنے کی صورت میں اگر پہلے ذکر کاٹا اور بعد میں خصیتین تو دو دیتیں لازم ہوں گی اور اگر پہلے خصیتین کاٹے اور پھر ذکر تو خصیتین میں پوری دیت نفس اور ذکر میں حکومت عدل ہے۔ اور اگر رانوں کی جانب سے اس طرح کاٹا کہ سب ایک ساتھ کٹ گئے تب بھی دو دیتیں لازم ہوں گی۔(6) (عالمگیری ص28 جلد6 ، بدائع صنائع ص324 جلد7)
مسئلہ 282: اگر خصیتین میں سے ایک کاٹا کہ پانی منقطع ہوگیا تو پوری دیت ہے اور اگر پانی منقطع نہیں ہوا تو نصف دیت ہے۔ (7)(عالمگیری ص28 جلد6)
مسئلہ 283: اگر دونوں چوتڑ (8)خطاءً ا س طرح کاٹے کہ کولھے کی ہڈی پر گوشت نہ رہا تو پوری دیت نفس ہے اور اگر گوشت باقی رہ گیا تو حکومت عدل ہے۔(9) (قاضی خان ص385 ج4)
مسئلہ 284: پیٹ پر ایسا نیزہ مارا کہ اِمساکِ غذا(10) ناممکن ہوگیا یا مقعدپر (11) ایسا نیزہ مارا کہ پیٹ میں غذا نہیں ٹھہر سکتی یا پیشاب روکنے پر قادر نہ رہا اور سلس البول(12) میں مبتلا ہوگیا یا عورت کے دونوں مخرج(13) پھٹ کر ایک ہوگئے، اور پیشاب روکنے کی قدرت نہ رہی تو ان سب صورتوں میں پوری دیت نفس ہے۔(14) (عالمگیری ص28 جلد 6، قاضی خان ص385 جلد4)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص27.
2 ۔آلہ تناسل کاسر۔ 3 ۔یعنی باقی آلہ تناسل۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص 27،28.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
8 ۔سُرین کے دونوں اطراف۔
9 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،ج2،ص385.
10 ۔یعنی پیٹ میں غذا کا رکنا۔ 11 ۔ یعنی پیچھے کے مقام پر،سُرین پر۔
12 ۔ایک بیماری جس میں وقفے وقفے سے پیشاب کے قطرے گرتے رہتے ہیں ۔
13 ۔عورت کے آگے اورپیچھے کے مقام۔
14 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثامن فی الدّیات،ج6،ص28.
مسئلہ 285: عورت کی شرم گاہ کو خطاءً ایسا کاٹ دیا کہ اس میں پیشاب روکنے کی قدرت نہ رہی یا وہ جماع کے قابل نہ رہی تو پوری دیت نفس ہے۔(1) (عالمگیری،ص28 جلد6)
مسئلہ 286: عورت کو ایسا مارا کہ وہ مستحاضہ ہوگئی تو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ اگر اس دوران اچھی ہوگئی تو کچھ نہیں ورنہ پوری دیت ہے۔(2) (عالمگیری ص28 جلد6)
مسئلہ 287: ایسی صغیرہ سے جماع کیا جو اس قابل نہ تھی اور وہ مرگئی تو اجنبیہ(3)ہونے کی صورت میں عاقلہ پر دیت ہے اور منکوحہ ہونے کی صورت میں عاقلہ پر دیت ہے اور شوہر پر مہر۔(4) (عالمگیری ص28 ج6)
مسئلہ 288: ازالہ عقل، سمع، بصر، شم، کلام، ذوق(5)، اِنزال، کُبھ (6)پیدا کرنے، سر اور داڑھی کے بال مونڈنے، دونوں کان، دونوں بھنوؤں، دونوں آنکھوں کے پپوٹوں، دونوں ہاتھوں یا دونوں پیروں کی انگلیوں یا عورت کے پستانوں کی دونوں گھنڈیوں کے کاٹنے میں، عورت کے مخرجین کا اس طرح ایک کر دینا کہ پیشاب یا پاخانے کے اِمساک کی قدرت نہ رہے۔ حشفہ، ناک کے نرم حصے، دونوں ہونٹوں، دونوں جبڑوں، دونوں چوتڑوں، زبان کے کاٹنے، چہرے کے ٹیڑھا کر دینے۔ عورت کی شرم گاہ کو اس طرح کاٹ دینے میں کہ جماع کے قابل نہ رہے اور پیٹ پر ایسی ضرب لگانے میں کہ پانی منقطع ہوجائے، پوری دیت نفس ہے۔ بشرطیکہ یہ جرائم خطاءً صادر ہوں۔ (7)(قاضی خان ص386 جلد4)
مسئلہ 289: کسی باکرہ لڑکی کو دھکا دیا کہ وہ گر پڑی اور اس کی بکارت زائل ہوگئی(8)تو دھکا دینے والے پرمَہرِ مثل لازم ہے۔ (9)(قاضی خان ص386 جلد4،عالمگیری ص28 جلد6)
مسئلہ 290: کسی رسی پر دو آدمیوں نے جھگڑا کیا اور ہر آدمی ایک ایک سرا پکڑ کر کھینچ رہا تھا، تیسرے نے آکر درمیان سے رسی کاٹ دی اور وہ دونوں شخص گر پڑے اور مرگئے، رسی کاٹنے والے پر نہ قصاص ہے نہ دیت۔ (10)(قاضی خان ص387 جلد4)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص 28.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی غیر منکوحہ ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،ج6، ص 28.
5 ۔عقل،سننے کی قوت،دیکھنے کی صلاحیت،سونگھنے کی صلاحیت،بولنے کی
صلاحیت،چکھنے کی صلاحیت کوختم کردینا۔
6 ۔یعنی پیٹھ میں ٹیڑھا پن۔
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،ج2،ص385،386.
8 ۔کنوارہ پن ختم ہوگیا۔
9 ۔المرجع السابق،ص386. 10 ۔المرجع السابق،ص387.
(چہرے اور سر کے زخموں کو شجاج کہتے ہیں)
مسئلہ 291: اس کی دس10 قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ (1)حارصہ (2) دامعہ(3) دامیہ(4) باضعہ(4) متلاحمہ(5) سمحاق(6) موضحہ(7) ہاشمہ(8)منقلہ آمہ۔
(1) حارصہ: جلد کے اس زخم کو کہتے ہیں جس میں جلد پر خراش پڑ جائے مگر خون نہ چھنکے۔
(2)دامعہ: سر کی جلد کے اس زخم کو کہتے ہیں جس میں خون چھنک آئے مگر بہے نہیں۔
(3) دامیہ: سر کی جلد کے اس زخم کو کہتے ہیں جس میں خون بہہ جائے۔
(4) باضعہ: جس میں سر کی جلد کٹ جائے۔
(5)متلاحمہ: جس میں سر کا گوشت بھی پھٹ جائے۔
(6) سمحاق: جس میں سر کی ہڈی کے اوپر کی جھلی (1)تک زخم پہنچ جائے۔
(7) موضحہ: جس میں سر کی ہڈی نظر آجائے۔
(8) ہاشمہ: جس میں سر کی ہڈی ٹوٹ جائے۔
(9) منقلہ: جس میں سر کی ہڈی ٹوٹ کر ہٹ جائے۔
(10) اٰمّہ: وہ زخم جو ام الدماغ، یعنی دماغ کی جھلی تک پہنچ جائے۔
ان کے علاوہ زخموں کی ایک قسم جائفہ بھی کی گئی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ زخم جوف تک پہنچے اور یہ زخم پیٹھ، پیٹ اور سینے میں ہوتا ہے۔ اور اگر گلے کا زخم غذائی نالی تک پہنچ جائے تو وہ بھی جائفہ ہے۔ (2)(عالمگیری ص28ج6، شامی ص510 جلد5، بحرالرائق ص333 جلد8)
مسئلہ 292: موضحہ اور اس سے کم زخم اگر قصداً لگائے گئے ہوں تو ان میں قصاص ہے اور اگر خطاء ًہوں تو موضحہ سے کم زخموں میں حکومت عدل ہے اور موضحہ میں دیتِ نفس کا بیسواں حصہ ہے اور ہاشمہ میں دیت نفس کا دسواں حصہ ہے اور منقلہ میں دیت نفس کا پندرہ فیصد حصہ اور آمّہ اور جائفہ میں دیت کا تہائی حصہ ہے۔ ہاں اگر جائفہ آرپار ہوگیا تو دو تہائی
1 ۔ یعنی باریک کھال،باریک پردہ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثامن فی الدّیات،فصل فی الشجاج،ج6،ص28.
دیت ہے۔ (1)(عالمگیری ص 29 جلد6، بحرالرائق ص334 ، جلد8، ہدایہ و فتح القدیر ص312 ، جلد8، بدائع صنائع ص316 ، جلد 7)
مسئلہ 293: ہاشمہ، منقلہ، آمّہ اگر قصداً بھی لگائے تو قصاص نہیں ہے چوں کہ مساوات ممکن نہیں ہے اس لیے ان میں خطاء ًاور عمداً دونوں صورتوں میں دیت ہے۔(2) (عالمگیری ص29ج 6،شامی ص510 ج5، مبسوط ص 74 جلد26، بحرالرائق ص335 ج8)
مسئلہ 294: اگر کسی نے کسی کے چہرے یا سر کے کسی حصہ پر ایسا زخم لگایا کہ اچھا ہونے کے بعد اس کا اثر بھی زائل ہوگیا تو اس پر کچھ نہیں۔ (3)(عالمگیری ص29 ، ج6، تبیین الحقائق ص 138، جلد6، بدائع صنائع ص316 ، جلد7، بحرالرائق ص340 ، جلد8 )
مسئلہ 295: چہرے اور سر کے علاوہ جسم کے کسی اور حصہ پر جو زخم لگایا جائے اس کو جراحت(4)کہتے ہیں اور اس میں حکومت عدل ہے۔ (5)(شامی ودرمختار ص 510جلد5، فتح القدیرو ہدایہ ص312جلد8 )
مسئلہ 296: سر اور چہرے کے علاوہ جسم کے دوسرے زخموں میں حکومت عدل اسی وقت ہے جب زخم اچھے ہونے کے بعد اس کے نشانات باقی رہ جائیں ورنہ کچھ نہیں ہے۔(6) (عالمگیری ص29 جلد6، درمختار و شامی ص511 جلد 5)
مسئلہ 297: شجاج کی جن صورتوں میں قصاص واجب ہے ان میں زخم کی لمبائی چوڑائی میں مساوات کے ساتھ قصاص لیا جائے گا اور سر کے مقدم یا موخر حصہ یا وسط میں جس جگہ بھی زخم ہوگا زخمی کرنے والے کے اسی حصے میں مساوات کے ساتھ قصاص لیا جائے گا۔ (7)(عالمگیری ص 29 جلد6، بدائع صنائع ص309 جلد7، قاضی خان ص386 جلد 4)
مسئلہ 298: اگر قرنَین (8)کے مابین پیشانی پر ایسا موضحہ (9) لگایا کہ قرنین سے مل گیااور زخم لگانے والے کی پیشانی بڑی ہونے کی وجہ سے اتنا لمبا زخم لگانے سے اس کے قرنین تک نہیں پہنچتا ہے تو زخمی کو اختیار دیا جائے گا کہ چاہے تو قصاص لے لے اور جس قرن سے چاہے شروع کر کے اتنا لمبا زخم اس کی پیشانی پر لگا دے اور اگر چاہے تو اَرش لے لے۔ اور اگر زخمی کرنے والے کی پیشانی چھوٹی ہے کہ مساوات سے قصاص لینے کی صورت میں زخم قرنین سے تجاوز کر جاتا ہے، تب زخمی کو اختیار ہے کہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،فصل فی الشجاج،ج6،ص 29.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔یعنی زخمی کرنا۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات، فصل فی الشجاج،ج10،ص245.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات، فصل فی الشجاج،ج6،ص29.
7 ۔المرجع السابق.
8 ۔یعنی پیشانی کے دونوں اطراف۔ 9 ۔ایسازخم جس سے سر کی ہڈی نظر آئے۔
چاہے ارش لے لے اور چاہے تو صرف قرنین کے درمیان زخم لگا کر قصاص لے لے۔ قرنین سے زخم متجاوز نہیں ہونا چاہیئے۔ (1)(بدائع صنائع ،ص 309 جلد7، عالمگیری ص 29 جلد 6، مبسوط ص 145، جلد26)
مسئلہ 299: اگر اتنا لمبا زخم لگایا کہ پیشانی سے گدی تک پہنچ گیا تو زخمی کو حق ہے کہ اسی جگہ پر اتنا ہی بڑا زخم لگا کر قصاص لے یا ارش لے، اگر زخمی کرنے والے کا سر بڑا ہے لہٰذا اتنا بڑا زخم لگانے سے اس کی قفا یعنی گدی تک نہیں پہنچتا ہے۔ تو بھی زخمی کو اختیار ہے کہ چاہے ارش لے لے اور چاہے اتنا لمبا زخم لگا کر قصاص لے لے۔ خواہ پیشانی کی طرف سے شروع کرے خواہ گدی کی طرف سے۔ (2)(عالمگیری از محیط و ذخیرہ ص29 جلد 6 ، بدائع صنائع ص 10 جلد7، مبسوط ص146 جلد 26)
مسئلہ 300: اگر بیس 20 موضحہ زخم لگائے اور درمیان میں صحت نہ ہوئی تو پوری دیت نفس تین سال میں ادا کی جائے گی اور اگر درمیان میں صحت واقع ہوگئی تو ایک سال میں پوری دیت نفس ادا کرنا ہوگی۔(3) (عالمگیری از کافی ص 29 جلد 6)
مسئلہ 301: کسی کے سر پر ایسا موضحہ لگایا کہ اس کی عقل جاتی رہی۔ یا پورے سر کے بال ایسے اڑے کہ پھر نہ اُگے تو صرف دیت نفس واجب ہوگی اور اگر سر کے بال مختلف جگہوں سے اڑ گئے تو بالوں کی حکومت عدل اور موضحہ کی ارش میں سے جو زیادہ ہوگا وہ لازم آئے گا۔ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ بال پھر نہ اُگیں، لیکن اگر دوبارہ پہلے کی طرح بال اُگ آئیں تو کچھ لازم نہیں ہے۔(4) (شامی و درمختار ص 513جلدج5، عالمگیری ص 29 جلد 6)
مسئلہ 302: کسی کی بھنوں پر خطاءً ایسا موضحہ لگایا کہ بھنوں کے بال گر گئے اور پھر نہ اُگے تو صرف نصف دیت لازم ہوگی۔ (5)(عالمگیری ص 30 جلد6)
مسئلہ 303: کسی کے سر پر ایسا موضحہ لگایا کہ اس سے سننے یا دیکھنے یا بولنے کے قابل نہ رہا۔ تو اس پر نفس کی دیت کے ساتھ موضحہ کا ارش بھی واجب ہے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ اس زخم سے موت نہ ہوئی ہو، اور اگر موت واقع ہوگئی تو ارش ساقط ہو جائے گا۔ اور عمد کی صورت میں جنایت کرنے والے کے مال سے تین سال میں دیت ادا کی جائے گی اور بصورت خطا عاقلہ پر تین سال میں دیت ہے۔(6) (شامی و درمختار ص513 ، جلد 5)
مسئلہ 304: کسی نے کسی کے سر پر ایسا موضحہ عمداً لگایا کہ اس کی بینائی جاتی رہی تو ذہاب بصر(7)اور موضحہ دونوں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات، فصل فی الشجاج،ج6،ص29.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق، ص30.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات، فصل فی الشجاج،ج10،ص253.
7 ۔یعنی نظرکے ختم ہوجانے ۔
کی دیتیں واجب ہوں گی۔(1) (عالمگیری ص 30 جلد6، درمختار و شامی ص513 ، جلد5، تبیین ص136 ، جلد6، بحرالرائق ص 339 ج 8)
مسئلہ 305: کوئی شخص بڑھاپے کی وجہ سے چندلا ہوگیا تھا۔ اس کے سر پر کسی نے عمداً موضحہ لگایا تو قصاص نہیں لیا جائے گا دیت لازم ہوگی اور اگر زخم لگانے والا بھی چندلا ہے تو قصاص لیا جائے گا۔ (2)(عالمگیری ص 30 جلد6 )
مسئلہ 306: ہر وہ جنایت جو بالقصد ہو لیکن شبہ کی وجہ سے قصاص ساقط ہوگیا ہو اور دیت واجب ہوگئی ہو تو جنایت کرنے والے کے مال سے دیت ادا کی جائے گی اور عاقلہ سے مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ اور یہی حکم ہر اس مال کا ہے جس پر بالقصد جنایت کی صورت میں صلح کی گئی ہو۔(3)(تبیین ص 138جلد6، درمختار و شامی ص468 جلد5، فتح القدیر ص322 جلد8)
مسئلہ 307: حکومت عدل سے جو مال لازم آتا ہے وہ جنایت کرنے والے کے مال سے ادا کیا جائے گا۔ عاقلہ سے اس کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔ (4)(درمختار و شامی ص516 ج 5)
مسئلہ 308: کسی نے کسی حاملہ عورت کو ایسا مارا، یا ڈرایا، یاد ھمکایا، یا کوئی ایسا فعل کیا جس کی وجہ سے ایسا مرا ہوا بچہ ساقط ہوا جو آزاد تھا۔ اگرچہ اس کے اَعضاء کی خِلقت(5)مکمل نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف بعض اَعضاء ظاہر ہوئے تھے تو مارنے والے کے عاقلہ پر مرد کی دیت کا بیسواں حصہ یعنی پانچ سو درہم ایک سال میں واجب الادا ہوں گے۔ ساقط شدہ بچہ مذکر ہو یا مؤنث اور ماں مسلمہ ہو یا کتابیہ یا مجوسیہ،سب کا ایک ہی حکم ہے۔(6) (شامی و درمختار ص 516جلد5، تبیین الحقائق ص139 ج6، عالمگیری ص34 جلد6، بحرالرائق ص 341 جلد8، فتح القدیر ص324 جلد8، مبسوط ص87 جلد 26)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات،فصل فی الشجاج،ج6،ص30.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثامن فی الدّیات، فصل فی الشجاج،ج6، ص30.
3 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الدّیات،فصل فی الشجاج،ج7،ص289.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات، فصل فی الشجاج، ج10، ص 257.
5 ۔بناوٹ ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب العاشرفی الجنین،ج6 ، ص 34.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات، فصل فی الجنین،ج10،ص257،258.
و''الھدایۃ''،کتاب الدّیات، فصل فی الجنین،ج2،ص471،472.
مسئلہ 309: اگر مذکورۃ الصدر اسباب کے تحت (1)زندہ بچہ ساقط ہوا، پھر مرگیا تو پوری دیت نفس عاقلہ پر واجب ہوگی اور کفارہ ضارب پر واجب ہے اور اگر مردہ ساقط ہوا اور اس کے بعد ماں بھی مرگئی تو ماں کی پوری دیت اور بچہ کی دیتِ غرۃ یعنی پانچ سو درہم عاقلہ پر واجب ہوں گے۔(2) (درمختار و شامی ص517 جلد5، عالمگیری ص 34ج6، بحرالرائق ص 342 جلد8، فتح القدیر ص 327 ج 8 ، تبیین الحقائق ص 140جلد 6 ، مبسوط ص 89 جلد26 )
مسئلہ 310: اگر مذکورہ اسباب کے تحت حاملہ مر گئی پھر مرا ہوا بچہ خارج ہوا تو صرف عورت کی دیتِ نفس عاقلہ پر واجب ہے ۔(3)(درمختار و شامی ص 517جلد5، عالمگیری ص35 ، جلد6، تبیین ،ص 140، جلد 6،بحرالرائق ص 342 جلد8، فتح القدیر ص 327 جلد8، مبسوط ص 89 جلد 26)
مسئلہ 311: اگر مذکورہ اسباب کی بناء پر دو مردہ بچے ساقط ہوئے تو دو غرے یعنی ایک ہزار درہم عاقلہ پر واجب ہوں گے۔ اور اگر ایک زندہ پیدا ہو کر مر گیا اور دوسرا مردہ پیدا ہوا تو زندہ پیدا ہونے والے کی دیت نفس اور مردہ پیدا ہونے والے کا غرہ یعنی پانچ سو درہم عاقلہ پر ہیں اور اگر ماں مر گئی پھر دو 2 مردہ بچے پیدا ہوئے توصرف ماں کی دیت نفس عاقلہ پر واجب ہوگی اور اگر ماں کے مرنے کے بعد دو2 بچے زندہ پیدا ہو کر مر گئے تو عاقلہ پر تین دیتیں واجب ہوں گی اور اگر ایک مردہ بچہ ماں کی موت سے پہلے خارج ہوا اور دوسرا مردہ بچہ ماں کی موت کے بعد تو پہلے پیدا ہونے والے کا غرہ اور ماں کی دیت نفس عاقلہ پر ہے اور بعد میں پیدا ہونے والے کا کچھ نہیں۔(4) (شامی ص 517جلد5، عالمگیری ص 35 جلد6، مبسوط ص 90 جلد26)
مسئلہ 312: اگر ماں کی موت کے بعد زندہ بچہ ساقط ہو کر مر گیا تو ماں اور بچہ دونوں کی دو دیتیں عاقلہ پر واجب ہیں۔ (5)(درمختار و شامی ص518 جلد5، مبسوط ص 90جلد26، عالمگیری ص35 جلد6، قاضی خان ص393 جلد4)
مسئلہ 313: اسقاط کی ان سب صورتوں میں جن میں جنین کا غرہ یا دیت لازم ہوگی وہ جنین کے ورثاء میں تقسیم کی جائے گی۔ اور اس کی ماں بھی اس کی وارث ہوگی، ساقط کرنے والا(6)وارث نہیں ہوگا۔(7) (درمختار و شامی ص 518ج5، تبیین الحقائق ص 141 ج6، عالمگیری ص 34 ج6، بحرالرائق ص 342 جلد8، فتح القدیر ص328 ج8، بدائع صنائع ص326 ج7، مبسوط ص 90 ج26)
1 ۔یعنی پیچھے ذِکر کئے گئے اَسباب کے تحت۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات ،الباب العاشرفی الجنین،ج6، ص34،35.
3 ۔المرجع السابق، ص 35.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات ،الباب العاشرفی الجنین،ج6،ص35.
و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات، فصل فی الجنین،ج10،ص259.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب العاشرفی الجنین،ج6، ص35.
6 ۔یعنی حمل گرانے والا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب العاشرفی الجنین،ج6،ص34.
مسئلہ 314: کسی نے حاملہ کے پیٹ پر تلوار ماری کہ رحم کو کاٹ کر دو جنینوں کو مجروح کر گئی اور ایک مجروح زندہ ساقط ہوا اور دوسرا مجروح مردہ ساقط ہوا اور عورت بھی مر گئی تو عورت کا قصاص لیا جائے گا اور زندہ ساقط ہونے والے بچے کی دیت اور مردہ پیدا ہونے والے بچہ کا غرہ عاقلہ پر واجب ہوگا۔ (1)(درمختار ص 540جلد 5)
مسئلہ 315: کسی نے حاملہ کے پیٹ پر چھری ماری جس کی وجہ سے رحم میں بچہ کا ہاتھ کٹ گیا اور وہ زندہ پیدا ہوا اور ماں بھی زندہ رہی تو بچے کے ہاتھ کی وجہ سے نصف دیت نفس عاقلہ پر واجب ہوگی۔ (2)(عالمگیری ص 36 جلد 6)
مسئلہ 316: شوہر نے اپنی حاملہ بیوی کو ایسا ڈرایا، دھمکایا ،یا مارا کہ مردہ بچہ ساقط ہوگیا تو شوہر کے عاقلہ پر غرہ لازم ہے اور یہ اس بچہ کا وارث نہیں ہوگا۔(3) (درمختار و شامی ص518 جلد5، بدائع صنائع ص 326 جلد7، تبیین الحقائق ص126 ،جلد6، بحرالرائق ص342 جلد8، فتح القدیر ص 328 جلد8 )
مسئلہ 317: کسی نے اپنی حاملہ بیوی کو ڈرایا، دھمکایا ،یا ایسا مارا کہ ایک بچہ زندہ ساقط ہو کر مر گیا۔ پھر دوسرا مردہ ساقط ہوا پھر وہ عورت بھی مرگئی تو اس شخص کے عاقلہ پر بیوی اور زندہ پیدا ہونے والے بچے کی دو دیتیں اور مردہ ساقط ہونے والے بچے کا غرہ واجب ہوگا اور اس شخص پر دو کفارے واجب ہوں گے۔ (4)(عالمگیری ص 35 جلد 6)
مسئلہ 318: بچہ کا سر ظاہر ہوا اور وہ چیخا کہ ایک شخص نے اس کو ذبح کر دیا تو اس پر غرہ ہے۔(5) (عالمگیری
ازخزانۃ المفتین ص35 ج6)
مسئلہ 319: اگر حاملہ باندی کو ڈرایا، دھمکایا ،یا ایسا مارا کہ اس کا ایسا حمل ساقط ہوگیا جو زندہ پیدا ہوتا تو غلام ہوتا تو اس کے زندہ رہنے کی صورت میں اس کی جو قیمت ہوتی مذکر میں اس کی قیمت کا بیسواں اور مؤنث میں قیمت کا دسواں مارنے والے کے مال میں نقد لازم آئے گا۔(6)(درمختار و شامی ص518ج5، عالمگیری ص35 ج6، بحرالرائق ص 342 ج8، تبیین الحقائق ص140 جلد6، فتح القدیر ص328 ج8)
مسئلہ 320: اگر مذکورہ بالا صورت میں مذکر و مؤنث ہونے کا پتہ نہ چلے تو جس کی قیمت کم ہوگی وہ لازم ہوگی اوراگر
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدّیات، فصل فی الجنین،ج10،ص264.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب العاشرفی الجنین،ج6،ص36.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدّیات،فصل فی الجنین،ج10،ص260.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب العاشرفی الجنین،ج6،ص35.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
باندی کے مالک اور ضارب(1)میں ساقط شدہ حمل کی قیمت کی تعیین میں اختلاف ہو تو ضارب کی بات مانی جائے گی۔ (2)(شامی ص 518جلد5، عالمگیری ص 35 جلد6، عنایہ ص328 جلد8)
مسئلہ 321: اگر مذکورہ بالا صورت میں زندہ بچہ پیدا ہوا جس سے باندی میں کوئی نقص پیدا ہو کر اس کی قیمت گھٹ گئی تو ضارب پر جنین کی قیمت لازم ہوگی اور یہ قیمت اگر باندی کی قیمت میں جو کمی واقع ہوئی اس سے کم ہو تو اس کمی کو جنین کی قیمت میں اضافہ کر کے پورا کر دیا جائے گا۔ (3)(درمختار و شامی ص518 ، جلد5)
مسئلہ 322: مذکورہ بالا صورت میں باندی کے مردہ حمل گرا پھر باندی بھی مرگئی تو ضارب پر باندی کی قیمت تین سال میں واجب الادا ہوگی۔ (4)(عالمگیری ص 35 جلد6 )
مسئلہ 323: مذکورہ بالا صورت میں ضرب کے بعد مولیٰ نے حمل کو آزاد کر دیا۔ اس کے بعد زندہ بچہ پیدا ہو کر مرگیا تو اس بچے کے زندہ ہونے کی صورت میں جو قیمت ہوتی وہ ضارب پر لازم ہوگی۔(5) (عالمگیری ص 35 جلد6، درمختار و شامی ص518 جلد5، تبیین ص141ج6، بحرالرائق ص343 ج8، فتح القدیر ص 329 ج8)
مسئلہ 324: کسی نے غیر کی باندی سے زنا کیا جس سے وہ حاملہ ہوگئی پھر زانی اور اس کی بیوی نے کوئی تدبیر کر کے حمل گرا دیا اس سے باندی مرگئی تو باندی کی قیمت، اور اگر حمل مردہ ساقط ہوا تھا تو غرہ اور اگر ساقط ہو کر مرا تو اس کی پوری قیمت واجب ہوگی اور اگر مضغہ تھا تو کچھ نہیں۔(6) (بحرالرائق ص322 جلد8 )
مسئلہ 325: ضرب واقع ہونے کے بعد باندی کے مالک نے باندی کو بیچ دیا اس کے بعد اسقاط ہوا تو غرہ بیچنے والے کو ملے گا اور اگر بچہ کا باپ ضرب کے وقت غلام تھا پھر آزاد ہوگیا اس کے بعد حمل ساقط ہوا تو باپ کو کچھ نہیں ملے گا۔ (7)(عالمگیری ص 35 جلد 6)
1 ۔یعنی مارنے والے۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب العاشرفی الجنین، ج6، ص35.
و''فتح القدیر''،کتاب الدّیات، فصل فی الجنین،ج9،ص237.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،فصل فی الجنین،ج10،ص260.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب العاشرفی الجنین،ج6،ص35.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔تکملۃ''البحرالرائق''،کتاب الدیات،فصل فی الجنین،ج9،ص103.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب العاشرفی الجنین،ج6 ،ص 35.
مسئلہ 326: مولیٰ نے باندی کے حمل کو آزاد کر دیا اس کے بعد کسی شخص نے باندی کے پیٹ پر ضرب لگائی کہ مردہ حمل ساقط ہوا اور اس بچے کا باپ آزاد تھا تو ضارب پر غرہ لازم ہے اور غرہ باپ کو ملے گا۔ (1)(عالمگیری ص 35 جلد 6)
مسئلہ 327: حمل کے والدین میں سے جو ضرب سے پہلے آزاد ہوچکا ہوگا وہ حمل کے معاوضہ کا حق دار ہوگا، مولیٰ نہیں ہوگا۔(2) (عالمگیری ص35 ، جلد 6)
مسئلہ 328: کسی نے حاملہ باندی خریدی اور قبضہ نہیں کیا تھا کہ اس کے حمل کو آزاد کر دیا۔ پھر کسی نے اس کے پیٹ پر ضرب لگائی جس سے مردہ بچہ پیدا ہوا تو مشتری کو اختیار ہے کہ باندی کو پوری قیمت میں لے لے اور ضارب سے آزاد بچہ کا ارش وصول کرے اور اگر چاہے تو باندی کی بیع کو فسخ کر دے اور بچے کے حصہ کی قیمت اس پر لازم ہوگی۔(3) (عالمگیری ص36 جلد6، بحرالرائق ص342 ج 6)
مسئلہ 329: کسی نے اپنی باندی سے کہا جو کسی اور سے حاملہ تھی، کہ تیرے پیٹ میں جو دو بچے ہیں ان میں سے ایک آزاد ہے اور یہ کہہ کر مولیٰ مرگیا۔ پھر کسی نے اس حاملہ کو ایسی ضرب لگائی جس سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی مردہ پیدا ہوئے تو ضرب لگانے والے پر لڑکے کا نصف غرہ اور اس کو غلام مان کر اس کی قیمت کا چالیسواں حصہ اور لڑکی کا نصف غرہ اور اس کو باندی مان کر جو قیمت ہوگی اس کا بیسواں حصہ لازم ہوگا۔(4)(عالمگیری ص 35 جلد6 )
مسئلہ 330: کسی حاملہ عورت نے اپنے پیٹ پر ضرب لگا کر یا دوا پی کر، یا کوئی اور تدبیر کر کے عمداً اپنے حمل کو ساقط کر دیا تو اگر بغیر اجازت شوہر ایسا کیا تو اس عورت کے عاقلہ پر غرہ لازم ہوگا اور اگر عاقلہ نہ ہوں تو اس کے مال سے غرہ ایک سال میں ادا کیا جائے گا۔ اوراگر شوہر کی اجازت سے ایسا کیا ہے تو کچھ لازم نہیں ہے۔ اسی طرح اس نے اگر کوئی دوا پی جس سے اسقاط مقصود نہ تھا مگر اسقاط ہوگیا تو بھی کچھ لازم نہ ہوگا۔(5)(عالمگیری ص35جلد6،شامی ص519جلد5،تبیین ص 142 ج6،بحرالرائق ص 343 جلد8، قاضی خان ص 392 جلد4 )
مسئلہ 331: اگر شوہر نے بیوی کو اسقاط کی اجازت دی اور بیوی نے کسی دوسری عورت سے اسقاط کرا لیا تو یہ دوسری عورت بھی ضامن نہیں ہوگی۔ (6)(شامی و درمختار ص520 ج 5)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب العاشرفی الجنین،ج6،ص35.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص36. 4 ۔المرجع السابق،ص35.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب العاشرفی الجنین،ج6،ص35.
و''تبیین الحقائق''،کتاب الدّیات،فصل فی الجنین،ج7،ص297،
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،فصل فی الجنین،ج10،ص262،263.
مسئلہ 332: اُمّ ولد نے خود اپنا حمل ساقط کر لیا تو اس پر کچھ لازم نہیں ہے۔(1)(درمختار و شامی ص 520جلد5، بحرالرائق ص 343 ج8)
مسئلہ 333: کسی حاملہ نے عمداً اسقاط کی دوا پی اس سے زندہ بچہ پیدا ہو کر مر گیا، تو اس کے عاقلہ پر دیت لازم ہوگی اور اس پر کفارہ لازم ہے اور وہ وارث نہیں ہوگی اور اگر مردہ بچہ ساقط ہوا تو اس کے عاقلہ پر غرہ ہے اور اس پر کفارہ ہے اور یہ محروم الاِرث ہے(2)۔ اور اگر مضغہ ساقط ہوا تو استغفار و توبہ کرے۔ (3) (بحرالرائق ص344 ، جلد8)
مسئلہ 334: خلع کرنے والی حاملہ نے عدت ختم کرنے کے لیے اسقاط حمل کر لیا تو اس پر شوہر کے لیے غرہ واجب ہے۔ (4)(بحرالرائق ص 344 ج8، عالمگیری ص 36 جلد 6)
مسئلہ 335: اگر کسی نے کسی کے جانور کا حمل گرا دیا تو اگر مردہ بچہ پیدا ہوا ہے اور اس سے ماں کی قیمت میں نقصان آگیا تو یہ شخص اس نقصان کا ضامن ہوگا۔ اگر قیمت میں نقصان نہیں آیا تو اس پر کچھ نہیں ہے اور اگر زندہ بچہ پیدا ہو کر مرگیا تو مارنے والے کے مال میں سے بچے کی قیمت نقد ادا کی جائے گی۔ (5) (درمختار و شامی ص 520جلد5، مبسوط ص87 ، جلد26)
مسئلہ 336: جنین کے اِتلاف میں کفارہ نہیں ہے اور جس حمل میں بعض اعضا بن چکے ہوں اس کا حکم تام الخلقت کی طرح ہے۔ (6) (بحرالرائق ص343 ، جلد8، فتح القدیر ص329 ، جلد8، تبیین الحقائق ص141 ، جلد 6)
مسئلہ 337: اگر ایسے مضغہ کا اسقاط کیا جس میں اعضا نہیں بنے تھے اور معتبر دائیوں نے یہ شہادت دی کہ یہ مضغہ بچہ بننے کے قابل ہے اگر باقی رہتا تو انسانی صورت اختیار کر لیتا تو اس میں حکومتِ عدل ہے۔ (7)(شامی ص519 ، جلد5)
مسئلہ 338: کسی شخص نے کسی آزاد بچے کو اغوا کر لیا اور بچہ اس کے پاس سے غائب ہوگیا تو اس اغوا کرنے والے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدّیات،فصل فی الجنین،ج10،ص263،
2 ۔یعنی وراثت سے محروم ہے۔
3 ۔تکملۃ''البحرالرائق''،کتاب الدّیات،فصل فی الجنین،ج9،ص105.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات ،الباب العاشرفی الجنین،ج6 ، ص 35،36.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،فصل فی الجنین،ج10،ص264،
6 ۔تکملۃ''البحرالرائق''،کتاب الدّیات،فصل فی الجنین،ج9،ص104،105.
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،فصل فی الجنین،ج10،ص262،
کو قید کیا جائے گا تاوقتیکہ بچہ واپس آجائے یا اس کی موت کا علم ہو جائے۔ (1)(قاضی خان ص 393 ج4، درمختار ص547ج5، طحطاوی علی الدر ص303 جلد4)
مسئلہ 339: کسی نے کسی آزاد بچہ کو اغوا کیا اور وہ بچہ اس کے پاس اچانک یا کسی بیماری سے مر گیا تو اس پر ضمان نہیں ہے۔ اور اگر کسی سبب سے مثلاً سخت سردی یا بجلی گرنے، پانی میں ڈوبنے، چھت سے گرنے یا سانپ کے کاٹنے سے مرگیا تو اغوا کرنے والے کے عاقلہ پر دیت لازم ہوگی(2)۔ (شامی و درمختار547ج5، فتح القدیر ص382 ج8، تبیین الحقائق ص167 جلد6، بحرالرائق ص390 جلد8، مبسوط ص 186جلد26، عالمگیری ص34جلد6) اور اگر بچہ نے غاصب کے پاس خودکشی کر لی یا کسی کو قتل کر دیا تو غاصب پر ضمان نہیں ہے۔(3) (مبسوط ص 86 1جلد26، عالمگیری ص34 جلد6)
مسئلہ 340: اسی طرح اگر آزاد کو اغوا کر کے پابہ زنجیر کر دیا(4)اور وہ مذکورہ بالا اسباب میں سے کسی سبب سے مر گیا تو بھی اغوا کرنے والے کے عاقلہ پر دیت ہے اور اگر اس کو پابہ زنجیر نہیں کیا تھا اور وہ ان اسباب مذکورہ سے خود کو بچا سکتا تھا مگر اس نے بچنے کی کوشش نہیں کی اور مر گیا تو اغوا کرنے والے پر نفس کا ضمان نہیں ہے۔(5) (عنایہ ص 382 جلد8، درمختار و شامی ص547 جلد5، بحرالرائق ص390 جلد8 )
مسئلہ 341: ختنہ کرنے والے سے کہا کہ بچے کی ختنہ کر دے۔ غلطی سے بچہ کا حشفہ کٹ گیا اور بچہ مر گیا تو ختنہ کرنے والے کے عاقلہ پر نصف دیت ہوگی اور اگر زندہ رہا تو پوری دیت لازم ہوگی۔(6) (درمختار و شامی ص 548جلد5، عالمگیری ص 34 جلد6، طحطاوی علی الدر ص303 جلد4، قاضی خان علی الھندیہ ص 47 جلد3 )
مسئلہ 342: کسی نے بچے کو جانور پر سوار کر کے کہا کہ اس کو روکے رہنا اور بچہ نے جانور کو چلایا نہیں لیکن گر کر مرگیا تو اس سوار کرنے والے کے عاقلہ پر بچہ کی دیت لازم ہوگی۔(7) (درمختار و شامی ص548 ج5، طحطاوی علی الدر ص304 جلد4، عالمگیری ص 33 جلد6، مبسوط ص186 جلد26، قاضی خان علی الھندیہ ص 447 جلد3)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، فصل فی إتلاف الجنین...إلخ،ج2،ص393.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،فصل فی غصب القن،ج10،ص314.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب التاسع فی الامر بالجنایۃ...إلخ،ج6،ص34.
4 ۔یعنی پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیں۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،فصل فی غصب القن وغیرہ،ج10،ص314.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب التاسع فی الامر بالجنایۃ...إلخ،ج6،ص34.
7 ۔المرجع السابق،ص33.
مسئلہ 343: کسی نے بچہ کو جانور پر سوار کر کے کہا کہ اس کو میرے لیے روکے رہو۔ اس بچہ نے جانور کو چلایا اور اس جانور نے کسی شخص کو کچل کر ہلاک کر دیا تو بچہ کے عاقلہ پر اس مرنے والے کی دیت لازم ہوگی اور سوار کرنے والے پر کچھ نہیں ہے اور اگر بچہ اتنا خوردسال(1)ہے کہ جانور پر سواری نہیں کرسکتا ہے تو اس صورت میں مرنے والے کی دیت کسی پر لازم نہیں ہوگی۔ (2) (درمختار و شامی ص548 ج5، عالمگیری ص33 ج6، طحطاوی علی الدر ص 304 ج4، مبسوط ص186ج26، قاضی خان علی الھندیہ ص447 ج3 )
مسئلہ 344: کسی نے بچہ کو جانور پر سوار کر دیا اور اس سے کہا کہ اس کو روکے رہو۔ بچہ نے جانور کو چلا دیا اور گر کر مر گیا تو سوار کرنے والے کے عاقلہ پر بچہ کی دیت نہیں ہے۔(3)(شامی ص 548جلد5، طحطاوی علی الدر ص304جلد4، عالمگیری ص33 جلد6، مبسوط ص187 جلد26، قاضی خان علی الھندیہ ص447 جلد3)
مسئلہ 345: بچہ کسی دیوار یا پیڑ پر چڑھا ہوا تھا، نیچے سے کسی نے چیخ کر کہا گر مت جانا جس سے بچہ گر کر مر گیا تو چیخنے والے پر کچھ نہیں ہے اور اگر اس نے کہا کہ کود جا اور بچہ کودا اور مر گیا تو اس کہنے والے پر بچہ کی دیت ہے۔(4) (عالمگیری ص 33 ج6، قاضی خان علی الھندیہ ص 444، ج 3)
مسئلہ 346: اگر کسی نے اتنے چھوٹے بچے کو جانور پر اپنے ساتھ سوار کر لیا جو تنہا جانور پر سوار نہیں ہوسکتا اور چلا بھی نہیں سکتا، اس جانور نے کسی کو کچل کر ہلاک کر دیا تو مرنے والے کی دیت صرف اس سوار کے عاقلہ پر ہوگی اور سوار پر کفارہ بھی ہے۔ بچہ کے عاقلہ پر کچھ نہیں ہے اور اگر بچہ سواری کو چلا سکتا ہے تو دونوں کے عاقلہ پر دیت لازم ہوگی۔(5) (خانیہ علی الھندیہ ص447 ، ج3، عالمگیری ص 33 ج6، مبسوط ص187 ، ج 26)
مسئلہ 347: باپ اپنے بچہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا اس بچہ کو کسی شخص نے کھینچا اور باپ اس بچہ کا ہاتھ پکڑے رہا اور اس شخص کے کھینچنے کی وجہ سے بچہ مر گیا تو اس بچہ کی دیت کھینچنے والے پر ہے اور باپ بچہ کا وارث ہوگا اور اگر دونوں نے کھینچا اور بچہ مر گیا تو دونوں پر دیت لازم ہوگی اور باپ وارث نہیں ہوگا۔(6) (عالمگیری ص33 ، ج6، خانیہ علی الھندیہ ص 445، ج3)
1 ۔یعنی اتنا کم سن ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب التاسع فی الامر بالجنایۃ...إلخ،ج6، ص33.
و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،فصل فی غصب القن،ج10،ص316.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب التاسع فی الامر بالجنایۃ...إلخ،ج6، ص33.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب التاسع فی الامر بالجنایۃ...إلخ،ج6، ص33.
6 ۔المرجع السابق،ص33.
مسئلہ 348: اتنا چھوٹا بچہ جو اپنے نفس کی حفاظت کرسکتا ہے اگر پانی میں ڈوب کر یا چھت سے گر کر مر جائے تو ماں باپ پر کچھ نہیں ہے اور اگر اپنے نفس کی حفاطت نہیں کرسکتا تھا تو جس کی نگرانی میں تھا اس پر توبہ و استغفار لازم ہے اور اگر اس کی گود سے گر کر مر گیا تو کفارہ بھی لازم ہے۔(1) (عالمگیری ص 33 ج6، قاضی خان علی الھندیہ ص 447ج3، شامی ص 529ج5)
مسئلہ 349: ماں شیرخوار بچہ کو باپ کے پاس چھوڑ کر چلی گئی اور بچہ دوسری عورتوں کا دودھ پی لیتا تھا۔ لیکن باپ نے کسی دودھ پلانے والی کا انتظام نہ کیااور بچہ بھوک سے مر گیا تو باپ پر کفارہ اور توبہ لازم ہے اور اگر بچہ دوسری عورت کا دودھ قبول نہیں کرتا تھا اور ماں یہ بات جانتی تھی تو گناہ ماں پر ہے ماں توبہ کرے اور کفارہ بھی دے۔(2) (عالمگیری از محیط ص 33 ج6، خانیہ علی الھندیہ ص 447، جلد3)
مسئلہ 350: چھ سال کی بچی کو بخار تھا اور آگ کے پاس بیٹھی تاپ رہی تھی۔ باپ گھر میں نہ تھا ماں اسی حالت میں بچی کو چھوڑ کر کہیں چلی گئی اور بچی جل کر مر گئی تو ماں پر دیت نہیں ہے لیکن توبہ و استغفار کرے اور مستحب یہ ہے کہ کفارہ بھی دے۔ (3)(عالمگیری از ظہیریہ ص33 ، ج6 )
مسئلہ 351: کسی نے کسی بچہ سے کہا کہ درخت پر چڑھ کر میرے پھل توڑ دے بچہ درخت سے گر کر مر گیا تو چڑھانے والے کے عاقلہ پر دیت لازم ہوگی اسی طرح کوئی چیز اٹھانے کو کہا یا لکڑی توڑنے کو کہا اور بچہ اس چیز کو اٹھانے سے یا پیڑ سے گر کر مر گیا تو اس حکم دینے والے کے عاقلہ پر بچہ کی دیت لازم ہوگی۔(4) (عالمگیری ص32 ج6، قاضی خان علی الھندیہ ص 445 ج3)
مسئلہ 352: کسی نے بچہ کو حکم دیا کہ فلاں شخص کو قتل کر دے بچہ نے قتل کر دیا تو بچہ کے عاقلہ پر دیت لازم ہوگی پھر وہ عاقلہ اس دیت کو حکم دینے والے کے عاقلہ سے وصول کر یں گے۔ (5)(قاضی خاں علی الھندیہ ص 444ج3،عالمگیری ازخزانۃ المفتین ص30 ج6، مبسوط ص 185ج26)
مسئلہ 353: کسی بچہ نے دوسرے بچہ کو حکم دیا کہ فلاں شخص کو قتل کر دے اور اس نے قتل کر دیا تو قتل کرنے والے کے عاقلہ پر دیت لازم ہے اور یہ دیت حکم دینے والے کے عاقلہ سے وصول نہیں کریں گے۔(6) (قاضی خان علی الھندیہ ص 445ج3، عالمگیری ص 30 جلد6، مبسوط ص185 ج26)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب التاسع فی الامر بالجنایۃ...إلخ،ج6، ص33.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق، ص 32،33.
5 ۔المرجع السابق،ص30. 6 ۔المرجع السابق،ص30.
مسئلہ 354: بچے نے کسی بالغ کو حکم دیا کہ فلاں کو قتل کر دے اور اس نے قتل کر دیا، تو حکم دینے والا بچہ ضامن نہیں ہوگا۔(قاضی خان علی الھندیہ 445ج3)اسی طرح بالغ نے اگر کسی دوسرے بالغ کو حکم دیا اور اس نے قتل کر دیا تو قاتل پر ضمان ہے حکم دینے والے پر نہیں۔ (1)(خانیہ علی الھندیہ ص 445 جلد3، عالمگیری ص30 جلد 6)
مسئلہ 355: کسی شخص نے بچہ کو حکم دیا کہ فلاں شخص کا کھانا کھالے یا مال جلا دے یا اس کے جانور کو ہلاک کر دے تواس مال کا ضمان اس بچے کے مال میں لازم ہے اور بچے کے اولیاء اس ضمان کو ادا کرنے کے بعد حکم دینے والے سے وصول کریں۔ (2)(خانیہ علی الھندیہ ص 445ج3، عالمگیری ص30ج6)اور اگر بچے نے بالغ کو ان کاموں کا حکم دیا اور اس نے عمل کر لیا تو بچے پر ضمان نہیں ہے۔ (3)(عالمگیری ص 30 ج 6)
مسئلہ 356: اگر کسی نابالغ نے نابالغہ سے زنا کیا اور اس کی بکارت زائل کر دی تو اس پر مہر مثل لازم آئے گا اور اگر بالغہ کی بکارت زبردستی زنا کر کے نابالغ نے زائل کر دی تو بھی اس پر مہر مثل لازم آئے گا اور اگر بالغہ سے نابالغ نے برضا زنا کیا تھا تو مہر لازم نہیں ہے۔ (4)(خانیہ علی الھندیہ ص 446، ج3 )
مسئلہ 357: بچے تیر اندازی کا کھیل کھیل رہے تھے کسی نو برس تک کے بچے کا تیر کسی شخص کی آنکھ میں لگ گیا جس سے وہ شخص کانا ہوگیا تو اس کی آنکھ کا تاوان بچہ کے مال سے ادا کیا جائے گا اس کے باپ پر کچھ نہیں ہے اور اگر بچے کے پاس مال نہیں ہے تو جب مال ملے گا اس وقت تاوان ادا کر دے گا مگر شرط یہ ہے کہ یہ بات شہادت سے ثابت ہو کہ اسی بچے کا تیر اس شخص کی آنکھ میں لگا ہے صرف بچے کا اقرار یا اس کے تیر کا پایا جانا تاوان کے لیے کافی نہیں ہے۔(5) (قاضی خاں علی الھندیہ ص 447، ج3)
مسئلہ 358: کسی نے اپنے کسی کام کے لیے کسی کے بچے کو ولی کی اجازت کے بغیر کہیں بھیجا۔ راستے میں بچہ دوسرے بچوں کے ساتھ چھت پر چڑھ گیا اور چھت پر سے گر کر مرگیا تو بھیجنے والے پر ضمان لازم ہوگا۔(6) (قاضی خاں علی الھندیہ ص447 ج 3)
مسئلہ 359: کسی نے بچے کو اغواء کر کے قتل کر دیا یا اس کے پاس درندہ نے پھاڑ کھایا یا دیوار سے گر کر مرگیا تو غاصب ضامن ہوگا۔ (7)(قاضی خان علی الھندیہ ص447ج3، عالمگیری ص 34 ج6، مبسوط ص 186ج 26)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، فصل فی القتل الذی یوجب الدّیۃ،ج2،ص392.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، فصل فی إتلاف الجنین،ج2،ص393.
6 ۔المرجع السابق،ص393. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 360: کسی غلام نے آزاد بچے کو سواری پر سوار کر دیا بچہ سواری سے گر کر مر گیا تو اس بچہ کی دیت غلام پر ہے۔ مولیٰ غلام ہی کو اس کی دیت میں دے دے یا فدیہ دے دے اور اگر سواری پر غلام بھی سوار ہوا اور سواری کو چلایا، سواری نے کسی کو کچل دیا اور وہ مرگیا تو نصف دیت بچے کے عاقلہ پر ہے اور نصف غلام پر۔(1) (عالمگیری ص 33 ج6، قاضی خان علی الھندیہ ص 448 ج3، مبسوط ص 187ج26 )
مسئلہ 361: کسی آزاد شخص نے ایسے نابالغ غلام بچے کو سواری پر سوار کر دیا جو سواری پر ٹھہر سکتا ہے اور اس کو چلا بھی سکتا ہے پھر اس کو حکم دیا کہ وہ جانور کو چلائے اس نے کسی آدمی کو کچل کر مار دیا تو اس کا تاوان غلام بچہ پر ہے اس کی دیت میں مولیٰ یا تو غلام کو دے دے یا اس کا فدیہ دے دے پھر وہ مولیٰ حکم دینے والے سے یہ رقم وصول کرے۔ (2)(قاضی خاں علی الھندیہ ص 448 جلد3، مبسوط ص188 ج26)
مسئلہ 362: کسی عبد ماذون نے کسی بچے کو حکم دیا کہ فلاں کے کپڑے پھاڑ دے یا بچہ کو اپنے کام کے لیے بھیجا اور بچہ ہلاک ہوگیا تو حکم دینے والا ضامن ہوگا۔(3) (عالمگیری ص 31 ج6 )
مسئلہ 363: کسی بچے کے پاس غلام کو ودیعت رکھا اور اس بچے نے غلام کو قتل کر دیا تو بچے کے عاقلہ پر غلام کی قیمت ہے۔(4) (تبیین الحقائق ص 168ج6، بحرالرائق ص390 ج8، عالمگیری ص34 ج6، شامی ص 548 ج5 ) اور اگر مادون النفس میں جنایت کی ہے تو اس کا ارش بچہ کے مال سے ادا کیا جائے گا۔(5) (شامی و درمختار ص 548، ج 5)
مسئلہ 364: اگر کسی بچہ کے پاس کھانا بلااجازتِ ولی امانت رکھا گیا اور بچہ نے اس کو کھا لیا تو اس پر ضمان نہیں ہے۔ (6) (تبیین الحقائق ص168 ، ج6، بحرالرائق ص390 ج8، عالمگیری ص 34 ج6، شامی و درمختارص 568 ج5)اور اگر ولی کی اجازت سے رکھا تھا تو ضامن ہوگا جب کہ بچہ عاقل ہو ورنہ نہیں ہوگا۔(7) (ہدایہ و عنایہ ص383 ، ج 8)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،فصل فی إتلاف الجنین،ج2،ص393،394.
2 ۔المرجع السابق،ص394.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب التاسع فی الامر بالجنایۃ...إلخ،ج6، ص30،31.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدیات،فصل فی غصب القن وغیرہ،ج10،ص316.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب التاسع فی الامر بالجنایۃ...إلخ،ج6، ص34.
7 ۔''العنایۃ''و''فتح القدیر''،کتاب الدیات،باب غصب العبد...إلخ،ج9،ص302.
مسئلہ ۳۶۵: ماں یا باپ یا وصی نے بچے کو تعلیم قرآن کے لیے معتاد طریقے سے مارا جس سے بچہ مر گیا تو ان پر ضمان نہیں ہے اور یہی حکم معلم کا بھی ہے جب کہ اس نے ان کی اجازت سے مارا ہو اور اگر انھوں نے غیر معتاد طریقے سے مارا اور بچہ مر گیا تو یہ لوگ ضامن ہوں گے۔ (1)(درمختار و شامی ص ۴۹۸ ج۵)
مسئلہ ۳۶۶: باپ یا وصی نے بچہ کو تادیباً مارا اور بچہ مر گیا تو ان پر ضمان نہیں ہے جب کہ معتادطریقے پر مارا ہو(2)اور اگر غیر معتاد طریقے سے مارا تو ضمان ہے۔(3) (درمختار و شامی ص۴۹۸ ، ج ۵)
مسئلہ ۳۶۷: ماں نے اگر اپنے بچہ کو تادیباً(4)مارا اور بچہ مر گیا تو بہرحال ماں ضامن ہوگی۔(5) (درمختار و شامی ص۴۹۸ ، ج۵)
مسئلہ ۳۶۸: کسی نے بچے کو ہتھیار دیئے، بچہ اس کو اٹھانے سے تھک گیا اور ہتھیار اس کے ہاتھ سے اس پر گرا اور بچہ مر گیا تو اسلحہ دینے والے کے عاقلہ پر دیت واجب ہوگی اور اگر بچہ نے اس اسلحہ سے خودکشی کر لی یا کسی دوسرے کو قتل کر دیا تو دینے والے پر ضمان نہیں ہے۔ (6)(عالمگیری ص ۳۲ ج۶، قاضی خان علی الھندیہ ص ۴۴۴ ج۳، مبسوط ص۸۵ ج۲۶)
مسئلہ ۳۶۹: کسی آزاد بچے کو ایسے غلام بچے نے جو محجور تھاحکم دیا کہ فلاں شخص کو قتل کر دے اور اس نے قتل کر دیا تو قاتل بچہ ضامن ہوگا اور حکم دینے والے غلام بچے سے اس کا تاوان اس کے آزاد ہونے کے بعد بھی واپس نہیں لے سکے گا۔ (7)(قاضی خان علی الھندیہ ص۴۴۵ ج۳)
مسئلہ ۳۷۰: اور اگر بالغہ باندی نے نابالغ کو دعوت زنا دی ا ور اس نے زنا کر کے اس کی بکارت زائل کر دی تو بچہ پر اس کا مہر لازم ہے۔ (8)(قاضی خان علی الھندیہ ص ۴۴۶ ج۳)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود...إلخ،فصل فی الفعلین،مطلب:الصحیح...إلخ،ج10،ص220.
2 ۔یعنی جیسا کہ عام طورپرمارا جاتا ہے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،باب القود...إلخ،فصل فی الفعلین،ج10،ص220.
4 ۔یعنی ادب سکھانے کے لیے۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب القود...إلخ،فصل فی الفعلین،مطلب:الصحیح...إلخ،ج10،ص220.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب التاسع فی الامر بالجنایۃ...إلخ،ج6،ص32.
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،فصل فی القتل الذی یوجب الدیۃ،ج2،ص392.
مسئلہ 371: یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسی دیوار جو سلامی میں ہو یعنی ٹیڑھی ہو، اگر بناتے وقت اس کے بنانے والے نے ٹیڑھی بنائی پھر وہ کسی انسان پر گر گئی اور وہ مر گیا یا کسی کے مال پر گر پڑی اور وہ مال تلف ہوگیا تو دیوار کے مالک کو ضمان دینا ہوگا خواہ اس دیوار کو گرانے کا مطالبہ کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو، اور اگر اس دیوار کو سیدھا بنایا تھا مگر بعد میں ٹیڑھی ہوگئی مرور زمانہ کی وجہ سے(1)، پھر کسی انسان پر گر پڑی یا مال پر گر پڑی اور اس کو تلف کر گئی تو کیا دیوار کے مالک پر ضمان ہے؟ ہمارے علمائے ثلاثہ کے نزدیک اگر مطالبہ نقض سے پہلے(2)گری ہے تو اس کا ضمان نہیں ہے، اور مطالبہ نقض سے اتنے بعد گری ہے جس میں اس کا گرانا ممکن تھا، مگر اس نے اس کو نہیں گرایا تو قیاس چاہتا ہے کہ ضمان نہ ہو۔ مگر استحساناً ضامن ہوگا۔
ھٰکَذا فِی الذَّخِیْرۃ۔
پھر جو جان تلف ہوئی اس کی دیت صاحب دیوار کے عاقلہ پر ہے۔ اور جو مال تلف ہوا اس کا ضمان دیوار کے مالک پر
ہے۔(3)(عالمگیری ص36 ج6، مبسوط ص 9 ج27، تبیین الحقائق ص 147ج6،درمختار و شامی ص 526 ج5، مجمع الانہر ص 657 ج2، فتح القدیر وعنایہ ص 341 ج8،بحرالرائق ص 354 ج8)
مسئلہ 372: تقدّم کی تفسیر یہ ہے کہ صاحب حق دیوار کے مالک سے کہے کہ تیری دیوار خطرناک ہے یا کہے کہ سلامی میں ہے یعنی ٹیڑھی ہے، تو اس کو گرا دے تاکہ کسی پر گر نہ پڑے اور اس کو تلف نہ کر دے اور اگر یہ کہا کہ تجھ کو چاہیے کہ تو اس کو گرا دے، تو یہ مشورہ ہوگا مطالبہ نہ ہوگا۔ بحوالہ قاضی خان۔ تقدم میں مطالبہ شرط ہے اِشہاد شرط نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس کے گرانے کا مطالبہ کیا بغیر اِشہاد کے اور مالک دیوار نے امکان کے باوجود دیوار نہیں گرائی یہاں تک کہ وہ خود گر گئی اور اس سے کوئی چیز تلف ہوگئی اور وہ تلف کا اقرار کرتا ہے تو ضمان دے گا۔ گواہ بنانے کا فائدہ یہ ہے کہ اگر مالکِ دیوار انکارِ طلب کرے تو گواہوں کے ذریعے سے طلب کو ثابت کیا جاسکے۔ (4)(عالمگیری از کافی ص 36ج6،مجمع الانہرص 656ج2، بحرالرائق ص384 ج8، قاضی خاں علی الھندیہ ص 354 ج3، مبسوط ص9 ج27، شامی ص526 ج5، تبیین ص147 ج6)
مسئلہ 373: دیوار کے متعلق دیوار گرانے کا مطالبہ کرنا دیوار کے مالک سے یہی ملبہ ہٹانے کا مطالبہ ہے یہاں تک کہ اگر تقدم کے بعد دیوار گر پڑے اور اس کے ملبے سے ٹکرا کر کوئی مر جائے تو دیوار کے مالک پر اس کی دیت لازم ہوگی۔ (5)(عالمگیری از ذخیرہ ص 36 ج6، تبیین الحقائق ص147ج6،عنایہ فتح القدیر ص 341 ج8،درمختار و شامی ص 528ج5 بحرالرائق ص 354 ج8، قاضی خاں علی الھندیہ ص 464 ج3)
8 ۔المرجع السابق.
1 ۔یعنی طویل وقت گزرنے کی وجہ سے۔ 2 ۔یعنی گرانے کا مطالبہ کرنے سے پہلے۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص36.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 374: مکان کی زیریں منزل(1)ایک شخص کی ہے اور بالائی دوسرے کی اور پورا مکان گراؤ ہے اور دونوں سے گرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پھر بالائی حصہ گرا اور اس سے کوئی آدمی ہلاک ہوگیا تو اس کا ضمان بالائی حصہ کے مالک پر ہے۔ (2)(قاضی خان علی الھندیہ ص 467 ج 3)
مسئلہ 375: مالک ِدیوار سے گراؤ دیوار(3)کے اِنہدام کا مطالبہ(4)کیا گیا اس نے نہیں گرائی اور مکان بیچ دیا تو مشتری ضامن نہیں ہوگا۔ ہاں اگر خریدنے کے بعد اس سے مطالبہ نقض کر لیا گیا تھا اور اس پر گواہ بنا لیے گئے تھے تو یہ ضامن ہوگا۔ (5)(عالمگیری ص 37 ج6، بحرالرائق ص355 ج8، ہدایہ فتح القدیر ص 342 ج 8)
مسئلہ 376: لقیط (لاوارث، ملا ہوا بچہ)کی گراؤ دیوار کے اِنہدام کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اس نے نہیں گرائی تھی پھر وہ دیوارگری جس سے کوئی آدمی مر گیا تو اس کی دیت بیت المال دے گا۔ اسی طرح وہ کافر جو مسلمان ہوگیا تھا۔ اس نے کسی سے عقد موالاۃ نہیں کیا تھا۔ اس کی دیوار کے گرنے سے ہلاک ہونے والے کی دیت بھی بیت المال ہی دے گا۔ (6)(قاضی خان علی الھندیہ ص 466 ج3، بحرالرائق ص 354 ج8 )
مسئلہ 377: کسی کی گراؤ دیوار مطالبہ انہدام سے پہلیگر پڑی پھر اس سے راستہ پر سے ملبہ ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا اور اس نے نہ اٹھایا یہاں تک کہ اس سے ٹکرا کر کوئی آدمی یا جانور ہلاک ہوگیا تو یہ ضامن ہوگا۔(7) (قاضی خان علی الھندیہ ص467 ج3، بحرالرائق ص 354ج8)
مسئلہ 378: مطالبہ نقض کی صحت کے لیے یہ شرط ہے کہ یہ اس سے کیا جائے جس کو گرانے کا حق حاصل ہے یہاں تک اگر کرایہ دار یا عاریت کے طور پر اس میں رہنے والے سے مطالبہ کیا اور اس نے دیوار کو نہیں گرایا، حتیٰ کہ وہ دیوار کسی انسان پر گر پڑی تو اس صورت میں کسی پر ضمان نہیں ہے۔(8) (ہندیہ از ذخیرہ ص 37ج 6بحرالرائق ص 353 ج8، درمختارص 527 ج5، خانیہ علی الھندیہ ص64 4 ج3، تبیین الحقائق ص 148ج6، فتح القدیر ص 342ج8)
1 ۔نچلی منزل ۔
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،فصل فی جنایۃ الحائط،ج2،ص406.
3 ۔جھکی ہوئی دیوار،گرنے والی دیوار۔ 4 ۔گرانے کامطالبہ ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط... إلخ،ج6،ص37.
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،فصل فی جنایۃ الحائط،ج2،ص405.
7 ۔المرجع السابق،ص406.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص37.
و''تبیین الحقائق''کتاب الدّیات،باب مایحدثہ الرجل فی الطریق،ج7،ص308.
مسئلہ 379: دیوار گرنے کے وقت تک اس شخص کا مالک رہنا بھی شرط ہے جس پر مطالبہ کے وقت گواہ بنائے گئے تھے۔ یہاں تک کہ اگر اس کی ملک سے وہ دیوار بیع کے ذریعہ خارج ہوگئی اور دوسرے کی ملک میں آنے کے بعد گر پڑی تو اس پر کچھ نہیں ہے۔ (1)(تبیین الحقائق ص 148ج6، عالمگیری ص 37 ج6، بحرالرائق ص 354 ج8، درمختار ص 527ج5،فتح القدیر ص 342 ج 8)
مسئلہ 380: دیوار کے گراؤ ہونے سے قبل اشہاد صحیح نہیں ہے، چونکہ تعدی معدوم ہے۔ (2)(عالمگیری ازخزانۃ المفتین ص 37 ج6،درمختار و شامی ص 529 ج5، تبیین الحقائق ص 148ج6 )
مسئلہ 381: اگر گراؤ دیوار کے مالک سے اس کے گرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ درآں حالیکہ وہ عاقل بالغ مسلمان تھا اور اس مطالبہ نقض پر گواہ بھی بنا لیے گئے۔ پھر اس مالک دیوار کو طویل المیعاد شدید قسم کا جنون ہوگیا۔ یا معاذاللہ وہ مرتد ہوگیا اوردارالحرب میں چلا گیا اور قاضی نے اس کے دارالحرب میں چلے جانے کی تصدیق کر دی اور پھر وہ مسلمان ہو کر واپس آگیا اوروہ گھر جس کی دیوار گراؤ تھی اس کو واپس مل گیا اس کے بعد وہ گراؤ دیوار کسی انسان پر گر پڑی جس سے وہ مرگیا تو اس کا خون ہدر ہے یعنی اس کا ضمان کسی پر نہیں ہے۔ اسی طرح جنون سے صحت کے بعد کی صورت کا حکم ہے۔ ہاں اگر مرتد کے مسلمان ہونے یامجنون کے افاقہ کے بعد ان پر اشہاد کر لیا ہے تو یہ ضامن ہوں گے۔(3) (خانیہ علی الھندیہ ص464 ج3، عالمگیری ص 37ج6، بحرالرائق ص354 ج 8)
مسئلہ 382: اسی طرح اگر گھر کو بیچ دیا، بعد اس کے کہ اس سے گراؤ دیوار کے گرانے کا مطالبہ کیا جاچکا تھا اور اس پر گواہ بھی قائم کر لیے گئے تھے۔ پھر وہ مکان کسی عیب کی وجہ سے قضائے قاضی یا بلاقضائے قاضی سے اس کی ملک میں لوٹ آیا یا خیار رویت یا خیار شرط کی وجہ سے جو مشتری (4)کو تھا پھر وہ دیوار گر پڑی اور کوئی چیز تلف ہوگئی(5) تو مالک دیوار پر ضمان نہیں ہے۔ ہاں اگر ردکے بعد دوبارہ اس سے دیوار کے گرانے کا مطالبہ کیا گیا اور اس پر گواہ بھی پیش کئے گئے تو ضامن ہوگا۔ یا بائع کو اختیار تھا اور اس نے بیع کو فسخ کر دیا اور اس کے بعد دیوار گر پڑی اور اس سے کوئی چیز تلف ہوگئی تو بائع ضامن ہوگا۔(6) (عالمگیری از ظہیریہ ص 37ج6، خانیہ علی الھندیہ ص464 ج3، بحرالرائق ص 354 ج8 ،شامی ص 528 ج5)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص37.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔خریدار۔ 5 ۔ضائع ہوگئی۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص37.
مسئلہ 383: اگر بائع نے اپنا خیار ساقط کر دیا اور بیع کو واجب کر دیا تو اشہاد باطل ہوجائے گا۔ چونکہ اس نے دیوار کو اپنی ملک سے نکال دیا۔(1) (قاضی خاں علی الھندیہ ص 464 ج3، بحرالرائق ص 355 ج8، عالمگیری ص 37 ج6، درمختار و شامی ص 527، ج5 )
مسئلہ 384: کسی دیوار کا بعض حصہ گراؤ اور بعض صحیح تھا۔ صحیح حصہ گر پڑا جس سے کوئی مر گیا اور گراؤ حصہ نہیں گراخواہ اس پر اشہاد کر لیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔ یہ خون رائیگاں جائے گا۔ (2)(بحرالرائق ص 354 ج 8)
مسئلہ 385: مطالبہء نقض کے بعد اگر کسی شخص پر دیوار گر پڑے اور وہ مر جائے یا دیوار گرنے کے بعد اس کے ملبے سے ٹکرا کر کوئی گر پڑے اور مر جائے تو اس کی دیت مالک دیوار کے عاقلہ پر ہے اور اگر اس میت سے ٹکرا کر کوئی گرے اور مرجائے تو اس کی دیت نہ مالک دیوار پر ہے نہ اس کے عاقلہ پر ہے۔ اگر کسی نے راستے کی طرف چھجہ(3) نکالا اور وہ راستے میں گر پڑا۔ اس کے گرنے سے کوئی مر گیا یا اس کے ملبہ سے ٹکرا کر مر گیا یا اس مردے کی لاش سے ٹکرا کر کوئی گر پڑا اور مر گیا تو ہر صورت میں چھجہ کے مالک پر دیت واجب ہوگی۔(4) (عالمگیری ص36 ج6، عنایہ علی الھدایہ و فتح القدیر ص 343 ج8، بحرالرائق ص354 ج8)
مسئلہ 386: مطالبہ ثابت کرنے کے لیے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی چاہیے۔ اگر ایسے گواہ بنائے گئے جن میں شہادت کی اہلیت نہیں، مثلاً دو غلام یا دو کافر یا دو بچے۔ اس کے بعد یہ دیوار گر گئی اور کوئی آدمی دب کر مر گیا اور جب شہادت کا وقت آیا تو یہ کافر مسلمان ،یا غلام آزاد، یا بچے بالغ ہوچکے ہیں۔ ان کی شہادت قبول ہوگی اور دیوار کا مالک ضامن ہوگا۔ خواہ ان کی گواہی کی اہلیت دیوار گرنے سے پہلے پائی گئی ہو یا دیوار گرنے کے بعد۔(5) (خانیہ علی الھندیہ ص464 ج3، عالمگیری ص36 ج6، مبسوط ص 12ج27، درمختار و شامی ص529 ج5 )
مسئلہ 387: اور اگر اس گھر کے مشتری سے جس کی دیوار گراؤ تھی، دیوار گرانے کا مطالبہ کیا اور اس کو تین دن کا خیار تھا پھر اس نے اس گھر کو خیار کی وجہ سے بائع کو لوٹا دیا تو اشہاد باطل ہوگیا اور اگر اس نے بیع کو واجب کر لیا تو اشہاد صحیح ہے باطل
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص37.
2 ۔ تکملۃ''البحرالرائق''،کتاب الدّیات،باب مایحدث الرجل فی الطریق،ج9،ص123.
3 ۔چھت سے آگے بڑھایا ہواوہ حصہ جو بارش سے حفاظت یا دھوپ سے بچاؤکے لئے ہوتا ہے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص36.
5 ۔المرجع السابق،ص36،37.
نہیں ہوا، اور اگر اس حالت میں بائع پر اشہاد کیا تو بائع ضامن نہیں ہوگا اور اگر بائع کو خیار تھا اور اس سے دیوار گرانے کا مطالبہ کیا اور اس نے بیع کو فسخ کر دیا تو اشہاد صحیح ہے۔ اور اگر بیع کو لازم کر دیا تو اشہاد باطل ہے اور اگر اس حالت میں مشتری سے مطالبہ کیا گیا تو مطالبہ صحیح نہیں ہے۔(1) (عالمگیری از مبسوط ص37 ، ج6 )
مسئلہ 388: ضمان کے لیے یہ شرط ہے کہ مالکِ دیوار کو اشہاد کے بعد اتنا وقت مل جائے کہ وہ اسکو گرا سکے۔ ورنہ اگر مطالبہ انہدام کے فوراً بعد دیوار گر پڑے اور مالک کو اتنا وقت نہ ملے جس میں گرانا ممکن تھا اور اس سے کوئی چیز تلف ہو جائے تو ضمان واجب نہیں ہوگا۔(2) (تبیین الحقائق ص148 ج6،عالمگیری 37ج6،درمختاروشامی ص527ج5، فتح القدیر ص341 ج8، مبسوط ص 9 ج27)
مسئلہ 389: تقدّم اور طلب کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ یہ صاحب حق کی طرف سے ہو اور عام راستہ میں عوام کا حق ہے۔ لہٰذا کسی ایک کا تقدم اور مطالبہ صحیح ہے۔(3) (عالمگیری از ذخیرہ ص 37 ج6، تبیین الحقائق ص 148ج6، خانیہ علی الھندیہ ص466 ج3)
مسئلہ 390: گراؤ دیوار کے گرانے کا مطالبہ کرنے میں مسلمان اور ذمی دونوں برابر ہیں۔ اگر دیوار عام راستے کی طرف جھک گئی ہو تو ہر گزرنے والے کو تقدم کا حق ہے۔ مسلمان ہو یا ذمی۔ بشرطیکہ آزاد، عاقل، بالغ ہو۔ یا اگر بچہ ہو تو اس کے ولی نے اس کو اس مطالبے کی اجازت دی ہو۔ اسی طرح اگر غلام ہو تو اس کے مولیٰ نے اس کو مطالبے کی اجازت دی ہو۔ (4)(عالمگیری از کفایہ ص37 ج6، تبیین الحقائق ص 148ج6، بحرالرائق ص354 ، ج8، درمختار و شامی ص 527، ج5، مبسوط ص 9، ج27، عنایہ علی الھدایہ ص 342 ج8 )
مسئلہ 391: خاص گلی میں اس گلی والوں کو مطالبہ کا حق ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا مطالبہ کرنا بھی کافی ہے اور جس گھر کی طرف دیوار گراؤ ہے تو اس گھر کے مالک کا یا اس میں رہنے والے کا مطالبہ کرنا شرط ہے۔(5) (عالمگیری از ذخیرہ ص 37 ج6، درمختار و شامی ص 528 ج5، تبیین الحقائق ص 148ج6، بحرالرائق ص 355 ج8، فتح القدیر ص 342 ج 8)
مسئلہ 392: کسی کے گھر کی طرف کسی شخص کی دیوار جھک گئی اس گھر والے نے اس سے دیوار کے گرانے کا مطالبہ کیا اس نے قاضی سے دو تین دن یا اس کے مثل مہلت مانگی۔ قاضی نے مہلت دے دی پھر وہ دیوار گر پڑی او ر اس سے کوئی چیز
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص37.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
تلف ہوگئی تو دیوار کے مالک پر ضمان واجب ہے۔(1) (عالمگیری از محیط ص 37 ج6، بحرالرائق ص 354 ج 8)
مسئلہ 393: اور اگر گھر کے مالک نے دیوار والے کو مہلت دے دی تھی یا مطالبہ سے اس کو بری کر دیا تھا یا یہ مہلت و برأت گھر کے رہنے والوں کی طرف سے تھی اور دیوار گر پڑی جس سے کوئی چیز تلف ہوگئی تو دیوار کے مالک پر ضمان نہیں۔ (2)(عالمگیری ازکافی ص37 ، ج6، بحرالرائق ص 354 ج8، درمختار و شامی ص 528، ج5، تبیین الحقائق ص 148ج6، فتح القدیر ص 342 ج8)
مسئلہ 394: اور اگر مہلت کی مدت گزرنے کے بعد دیوار گری تو اس سے جو نقصان ہوا اس کا ضمان دیوار والے پر واجب ہے۔(3) (عالمگیری از محیط ص37 ، ج6، بحرالرائق ص 354 ج8 )
مسئلہ 395: اگر راستے کی طرف دیوار گراؤ تھی اور اس سے انہدام کا مطالبہ ہوچکا تھا مگر قاضی نے اس کو مہلت دے دی تو یہ باطل ہے۔ (4)(عالمگیری از خزانۃ المفتین ص37 ، ج6، بحرالرائق ص 354 ج8، تبیین الحقائق ص 148ج6، درمختار و شامی ص 528، ج5، مجمع الانہر ص659 ، ج2، فتح القدیر ص342 ، ج 8)
مسئلہ 396: اور اگر قاضی نے تو اس کو مہلت نہیں دی، مگر مطالبہ کرنے والے نے مہلت دے دی تو یہ صحیح نہیں ہے۔ نہ اس کے اپنے حق میں نہ کسی دوسرے کے حق میں۔(5) (عالمگیری از محیط ص 37 ج5، بحرالرائق ص354 ج8، درمختار ص 528 ج5،تبیین الحقائق ص 148ج6، مجمع الانہر ص 659 ج2 )
مسئلہ 397: اگر دیوار رہن تھی اور گرانے کا مطالبہ مرتہن سے کیا گیا تو نہ راہن ضامن ہوگا نہ مرتہن۔ اور اگر مطالبہ راہن سے کیا گیا ہے تو راہن ضامن ہوگا۔ (6)(عالمگیری از شرح مبسوط ص 37 ج6، قاضی خان علی الھندیہ ص464 جلد3، مبسوط ص10 ج27، درمختار و شامی ص 526 ج5، بحرالرائق ص353 ج8، فتح القدیر ص342 ج8)
مسئلہ 398: اور اگر گھر کسی نابالغ کا ہو تو اس کے ماں باپ یا وصی سے گرانے کا مطالبہ کرنا اور اس پر گواہ بنانا صحیح ہے۔ اگر مطالبہ کے بعد دیوار گر پڑی جس سے کسی کی کوئی چیز تلف ہوگئی تو ضمان نابالغ پر واجب ہوگا۔(7) (خانیہ علی الھندیہ ص 464 ج3، عالمگیری ص 37ج8، عنایہ علی الھدایہ ص343 ج8، درمختار و شامی ص526 ج5، مبسوط ص 10ج27، فتح القدیر ص 342 ج8، بحرالرائق ص 353 جلد8، تبیین الحقائق ص147 ج 6)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص37.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 399: اگر اشہاد کے بعد نابالغ بچہ کے قبلِ بلوغ باپ یا وصی مر جائے تو اشہاد باطل ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ اگر ان کی موت کے بعد دیوار گر پڑے جس سے کوئی چیز تلف ہو جائے تو کسی پر کچھ نہیں ہے۔ چوں کہ موت نے ان کی ولایت کو منقطع کر دیا۔ (1)(خانیہ علی الھندیہ ص465 ج3، عالمگیری ص 37 ج6، شامی ص526 ج 5)
مسئلہ 400: اور اگر نابالغ کے بالغ ہونے تک دیوار نہیں گری اس کے بالغ ہونے کے بعد گری جس سے کوئی آدمی مر گیا تو اس کا خون رائیگاں گیا۔ (عالمگیری از محیط ص38ج6 ،شامی ص526ج5)اور اگر نابالغ کے بلوغ کے بعد اس سے نئے سرے سے دیوار گرانے کا مطالبہ کیا گیا اس کے بعد دیوار گر پڑی جس سے کوئی آدمی مر گیا تو اس کی دیت مالک دیوار کے عاقلہ پر ہوگی۔ (2)(عالمگیری از محیط ص38 جلد6)
مسئلہ 401: مسجد کی دیوار اگر گراؤ ہو جائے تو اس کے انہدام کا مطالبہ اس کے بنانے والے سے کرنا چاہیے۔ (3)(عالمگیری ازخزانۃ المفتین ص 38 ج6، درمختار و شامی ص529 ج5 )
مسئلہ 402: کسی نے مساکین پر گھر وقف کیا جس کی دیوار گراؤ تھی اور اس کا قبضہ ایک شخص کو دے دیا۔ جو اس کی آمدنی مساکین پر خرچ کرتا تھا اس وکیل سے دیوار گرانے کا مطالبہ کیا گیا اور اس پر اشہاد کیا گیا اور وہ دیوار کسی پر گر پڑی جس سے وہ مرگیا تو اس کی دیت واقف کے عاقلہ پر ہے اور اگر مساکین سے دیوار گرانے کا مطالبہ کیا تو کسی پر کچھ نہیں۔ (4)(عالمگیری از محیط بحوالہ منتقٰی ص 38 ج6، درمختار و شامی ص529 ج5)
مسئلہ 403: گراؤ دیوار کا مالک تاجر غلام تھا اس سے دیوار گرانے کا مطالبہ کیا گیا وہ دیوار کسی پر گر پڑی جس سے وہ مرگیا تو اس کی دیت غلام تاجر کے مولا کے عاقلہ پر واجب ہوگی۔ غلام مقروض ہو یا نہ ہو، اور اگر دیوار گرنے سے کسی کا مال تلف ہوگیا تو اس مال کا ضمان غلام پر واجب ہے اس میں اس کو بیچا جائے گا اور اگر اس کے مولا سے دیوار گرانے کا مطالبہ کیا گیا تب بھی صحیح ہے۔ (5)(خانیہ علی الھندیہ ص466ج3،عالمگیری ص38 ج6، درمختار ص529ج5، مبسوط ص 10ج27، تبیین ص 147ج6، فتح القدیر ص343 ج8)
مسئلہ 404: اگر کسی مکان کی گراؤ دیوار کے گرانے کا مطالبہ اس شخص سے کیا جس کے قبضہ میں وہ گھر ہے جس کی دیوار گراؤ تھی اور اس نے مطالبے کے باوجود دیوار نہیں گرائی یہاں تک کہ وہ خود کسی پر گر پڑی جس سے وہ مرگیا اور اس کے عاقلہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ ،ج6،ص38.
2 ۔المرجع السابق،ص37،38. 3 ۔المرجع السابق،ص38.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
کہتے ہیں کہ، یہ گھر جس کی دیوار گری ہے اس کا ہے ہی نہیں۔ یا عاقلہ کہتے ہیں کہ ہم کو نہیں معلوم کہ یہ گھر اس کا ہے یا کسی اور کاہے تو مرنے والے کی دیت اس کے عاقلہ پر نہیں ہوگی۔ ہاں اگر اس پر گواہ پیش کر دیئے جائیں کہ یہ گھر اسی کا ہے تو اس کے عاقلہ پر دیت واجب ہوگی۔ اس لیے کہ اگرچہ مکان پر قابض ہونا بظاہر مالک ہونے کی دلیل ہے مگر یہ عاقلہ پر وجوب مال کے لیے حجت نہیں ہوسکتی۔ عاقلہ پر مال واجب ہونے کے لیے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ اول اس بات کا ثبوت کہ یہ گھر اسی کا ہے۔ دوم یہ کہ دیوار گرانے کا مطالبہ کرنے کے وقت اس پر گواہ بھی بنا لے۔ تیسرے یہ کہ مقتول پر یہ دیوار گری تھی جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔(1) (خانیہ علی الھندیہ ص465 ج3، مبسوط ص11 ج27)
مسئلہ 405: اگر قبضہ کرنے والا اقرار کرے کہ یہ گھر اسی کا ہے تو عاقلہ پر دیت کے لزوم کے لئے اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اور ان پر ضمان نہیں ہے۔ جیسے کہ کوئی شخص اس مکان میں جس میں وہ رہتا ہے۔ چھجہ (2) نکالے اور وہ چھجہ کسی آدمی پر گر پڑے جس سے وہ آدمی مر جائے اور اس کے عاقلہ کہیں کہ یہ اس گھر کا مالک نہیں ہے۔ اس نے چھجہ گھر کے مالک کے کہنے سے نکالا تھا اور قبضہ والا اس بات کا اقرار کرے کہ وہ اس گھر کا مالک ہے تو یہ اپنے مال سے دیت دے گا۔ اسی طرح یہاں بھی اس پر دیت واجب ہوگی۔ (3)(خانیہ علی الھندیہ ص 465 جلد3، عالمگیری ص 39 ج6، مبسوط ص11 ج27)
مسئلہ 406: کسی کی دیوار گراؤ تھی، اس سے انہدام کا مطالبہ کیا گیا مگر اس نے دیوار نہیں گرائی پھر وہ دیوار خودبخود پڑوس کی دیوار پر گر پڑی جس سے پڑوسی کی دیوار بھی گر پڑی تو اس پر پڑوسی کی دیوار کا ضمان واجب ہے اور پڑوسی کو اختیار ہے کہ چاہے تو وہ اپنی دیوار کی قیمت اس سے بطور ضمان وصول کرے اور ملبہ ضامن کو دے دے اور چاہے تو ملبہ اپنے پاس رکھے اور نقصان پڑوسی سے وصول کرے اور اگر وہ ضامن سے یہ مطالبہ کرے کہ اس کی دیوار جیسی تھی ویسی ہی نئی بنا کر دے، تو یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ اور اگر پہلی گری ہوئی دیوار سے ٹکرا کر کوئی شخص گر پڑا تو اس کا ضمان پہلی دیوار کے مالک کے عاقلہ پر ہے۔ اور اگر دوسری دیوار کے ملبہ سے ٹکرا کر کوئی شخص گر پڑا تو اس کا ضمان کسی پر نہیں ہے۔ اگر دوسری دیوار کا مالک بھی وہی ہے جو پہلی دیوار کا مالک ہے تو دوسری دیوار سے مرنے والے کا ضامن بھی وہی ہوگا۔ (4)(عالمگیری از محیط ص39 ج6، بحرالرائق ص 355 جلد8 )
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،فصل فی جنایۃ الحائط،ج2،ص405.
2 ۔چھت سے آگے بڑھا یاہواوہ حصہ جو بارش سے حفاظت یا دھوپ سے بچاؤکے لئے ہوتا ہے۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،فصل فی جنایۃ الحائط،ج2،ص405.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص39.
مسئلہ 407: اگر پہلی دیوار کے مالک نے چھجہ نکالا اور وہ دوسری دیوار پر گرا جس سے دوسری دیوار گر گئی اور اس سے ٹکرا کر کوئی شخص گرا اور کچلا گیا تو اس کا ضمان پہلی دیوار کے مالک پر ہے اور اگر دوسری دیوار بھی اس کی ملک ہے تب بھی اس پر ضمان واجب ہے۔ (1)(قاضی خان علی الھندیہ ص 467 ج3، عالمگیری ص39 ج6، درمختار و شامی ص 529 ج5)
مسئلہ 408: اگر دیوار گرانے کا مطالبہ بعض ورثا سے کیا تو حکم یہ ہے کہ جس وارث سے مطالبہ ہوا ہے۔ وہ بقدر اپنے حصہ کے ضامن ہوگا۔(2) (مبسوط ص 10ج27، عالمگیری ص 38 ج6، درمختار و شامی ص 527ج5، عنایہ ص 343 ج8)
مسئلہ 409: کسی گراؤ دیوار کے پانچ مالک تھے۔ ان میں سے کسی ایک سے دیوار گرانے کا مطالبہ ہوا تھا اور وہ دیوار کسی آدمی پر گر پڑی جس سے وہ مرگیا تو جس سے مطالبہ ہوا تھا وہ دیت کے پانچویں حصے کا ضامن ہوگا۔ اور یہ پانچواں حصہ بھی اس کے عاقلہ سے لیا جائے گا اسی طرح کسی گھر میں اگر تین آدمی شریک ہیں ان میں سے ایک نے اس گھر میں اپنے دوسرے دونوں شریکوں کی اجازت کے بغیر کنواں کھودا، یا دیوار بنائی اور اس سے کوئی شخص ہلاک ہوگیا تو اس کے عاقلہ پر دو تہائی دیت واجب ہوگی۔ (3)(عالمگیری ص 38 ج6، فتح القدیر و عنایہ ص344 ج8، درمختار و شامی ص 528 ج5، بحرالرائق ص 355 ج8، تبیین الحقائق ص 448 ج6، مجمع الانہر ص 659ج 6)
مسئلہ 410: اور اگر کنواں یا دیوار اپنے شریکوں کے مشورے سے بنائی گئی تھی تو یہ جنایت متصور نہیں ہوگی۔(4) (عالمگیری از سراج الوہاج ص38 ج 6)
مسئلہ 411: کسی شخص نے صرف ایک بیٹا اور ایک مکان چھوڑا اور اس پر اتنا قرض تھا جو مکان کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ تھا اور اس مکان کی دیوار راستہ کی طرف گراؤ تھی۔ اس کے انہدام کا مطالبہ اس کے بیٹے سے کیا جائے گا۔ اگرچہ وہ اس کا مالک نہیں ہے، اور اگر اس کی طرف تقدم کے بعد(5)دیوار گر پڑے تو باپ کے عاقلہ پر دیت ہوگی۔ بیٹے کے عاقلہ پر دیت واجب نہیں ہوگی۔(6) (عالمگیری از محیط ص 38 ج6، بحرالرائق ص 356 ج8، درمختار و شامی ص527 جلد 5)
مسئلہ 412: غلام مکاتب گراؤ دیوار کا مالک تھا، اس سے دیوار گرانے کا مطالبہ کیا گیا اور اس پر گواہ بھی بنا لیے گئے تو اگر غلام کے لیے دیوار کے انہدام(7)کے امکان سے پہلے ہی دیوار گر پڑی تو غلام ضامن نہیں ہوگا۔ اور اگر تمکن کے بعد(8)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص39.
2 ۔المرجع السابق،ص38. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔گرانے کا مطالبہ کرنے کے بعد۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط... إلخ،ج6،ص38.
7 ۔گرنے۔ 8 ۔یعنی دیوارگرانا، ممکن تھا اس کے بعد۔
گری ہے تو ضامن ہوگا۔ اور یہ استحساناً ہے اور قتیل (1)کے ولی کے لیے اپنی قیمت اور قتیل کی دیت سے کم کا ضامن ہوگا۔ اور اگر دیوار اس کے آزاد ہونے کے بعد گری ہے تو اس کے عاقلہ پر دیت واجب ہوگی۔ اور اگر وہ غلام مکاتب زر کتابت ادا نہ کرسکا اور پھر غلامی میں لوٹ آیا، پھر دیوار گری تو دیت نہ اس پر واجب ہے نہ اس کے مولا پر۔ اور اسی طرح اگر دیوار بیچ دی پھر گر پڑی تو کسی پر کچھ نہیں ہے۔ اور اگر بیچی نہ تھی کہ گر پڑی اور اس سے ٹکرا کر کوئی آدمی گر پڑا اور مر گیا تو یہ غلام ضامن ہوگا۔ اور اگر زر کتابت ادا کرنے سے عاجز رہا اور غلامی میں لوٹ آیا تو مولا کو اختیار ہے چاہے غلام اس کو دے دے چاہے فدیہ دے دے۔ اور اگر کوئی آدمی اس قتیل سے ٹکرا کر گرپڑا اور مر گیا تو صاحب دیوار پر ضمان نہیں ہے۔ (2) (فتاویٰ عالمگیری از شرح زیادات للعتابی ص 38 ج6، درمختار و شامی ص526جلد5)
مسئلہ 413: اور اگر غلام مکاتب نے راستے کی طرف کوئی بیت الخلاء وغیرہ نکالا اور پھر اس کے مولا نے اس کو بیچ دیا یا آزاد ہوگیا۔ پھر وہ دیوار گر پڑی تو اپنی قیمت اور اَرش سے کم کا ضامن ہوگا۔ اور اگر زرِ کتابت ادا کرنے سے عاجز رہا اور غلامی میں لوٹ آیا تو مولا کو اختیار ہے چاہے غلام کو دے دے اور چاہے اس کا فدیہ دے دے اور اگر کوئی آدمی بیت الخلاء کے ملبہ سے ٹکرا کر ہلاک ہوگیا ہو تو بیت الخلاء کا نکالنے والا غلام ضامن ہوگا۔ اور اسی طرح اگر اس قتیل سے ٹکرا کر کوئی دوسرا آدمی گرا اور مرگیا تو بھی یہی ضامن ہوگا۔ (3) (عالمگیری از کافی ص 38 ج 6)
مسئلہ 414: اگر کسی ایسے شخص کی دیوار گراؤ تھی جس کی ماں کسی کی مولاۃ عتاقہ (آزاد کردہ باندی)تھی اور اس کا باپ غلام۔ اس سے کسی نے دیوار گرانے کا مطالبہ کیا اور اس نے نہیں گرائی۔ یہاں تک کہ اس کا باپ آزاد ہوگیا پھر وہ دیوار گر پڑی جس سے کوئی آدمی مر گیا تو اس کی دیت باپ کے عاقلہ پر ہے اور اگر باپ کے آزاد ہونے سے قبل دیوار گر پڑی تو ماں کے عاقلہ پر دیت واجب ہے۔ اسی طرح اگر راستے کی طرف بیت الخلاء نکالا پھر اس کا باپ آزاد ہوگیا پھر بیت الخلاء کسی پر گِرپڑا اور وہ مر گیا تو اس کی دیت ماں کے عاقلہ پر ہے چونکہ راستے کی طرف بیت الخلاء نکالنا ہی جنایت ہے اور اس وقت عاقلہ موالی ام تھے۔ (4) (عالمگیری از محیط ص 38 ج6، بحرالرائق ص 354 ج 8)
مسئلہ 415: کوئی شخص اپنی دیوار پر چڑھا ہوا تھا۔ قطع نظر اس سے کہ دیوار گراؤ تھی یا نہ تھی پھر یہ دیوار گر پڑی جس سے ایک آدمی مرگیا۔ اور دیوار گرنے میں دیوار کے مالک کا کوئی عمل نہ تھا، تو اگر وہ دیوار گراؤ تھی اور اس کے گرانے کا مطالبہ بھی اس سے کیا جاچکا تھا تو وہ ضامن ہوگا۔ اور اس کے سوا کسی صورت میں ضامن نہیں ہوگا اور اگر وہ خود دیوار پر سے کسی آدمی پر گر پڑا
1 ۔مقتول۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص38.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
اور دیوار نہیں گری اور وہ آدمی مر گیا تو بھی ضامن ہوگا۔ اور اگر دیوار سے گرنے والا مر گیا تو نیچے والے کو دیکھیں گے، اگر وہ چل رہا تھا تو یہ ضامن نہیں ہوگا۔(1) (بحرالرائق ص354ج8)اور اگر وہ ٹھیرا ہوا تھا راستے میں، یا بیٹھا ہوا تھا یا کھڑا ہوا تھا یا سویا ہوا تھا تو یہ گرنے والے کی دیت کا ضامن ہوگا۔ اور اگر نیچے والا اپنی ملک میں تھا تو یہ ضامن نہیں ہوگا اور ان حالات میں اوپر سے گرنے والے پر نیچے والے کا ضمان واجب ہوگا۔ اگر نیچے والا مر جائے۔ اور اسی طرح اگر وہ غافل تھا کہ گر پڑا یا سوگیا تھا اور کروٹ بدلی اور گر پڑا تو یہ نیچے والے کے نقصان کا ضامن ہوگا اور اس صورت میں اس پر کفارہ بھی واجب ہوگا۔ اور اسی طرح اگر پہاڑ پر سے پھسل پڑا کسی شخص پر جس سے وہ شخص ہلاک ہوگیا تو اس کا ضمان پھسلنے والے پر ہوگا اور اس صورت میں مرنے والے کا اپنی ملک میں ہونا نہ ہونا برابر ہے اور اسی طرح اگر کنویں میں جو اپنی ملک میں کھودا تھا گر پڑا، اس میں کوئی آدمی تھا، یہ اس پر گر پڑا اور وہ مر گیا تو اس کی دیت کا ضامن ہوگا۔ اور اگر کنواں راستے میں تھا تو کنویں کا مالک دیت کا ضامن ہوگا۔ ساقط(2)اور مسقوط علیہ(3)دونوں کا نقصان اس پر واجب ہوگا۔(4) (مبسوط ص 12ج27، عالمگیری ص 38 ج6، قاضی خان علی الھندیہ ص 465 ج3)
مسئلہ 416: کسی نے دیوار پر مٹکا رکھا، وہ کسی شخص پر گر پڑا جس سے وہ مر گیا تو اس پر اس کا ضمان نہیں ہے۔ (5)(عالمگیری از فصول عمادیہ ص 39 ج6، عنایہ علی الفتح ص 344 ج8، تبیین الحقائق ص149 ج 6 )
مسئلہ 417: اگر کسی شخص نے دیوار کے اوپر کوئی چیز اس کے طول میں رکھی اور وہ کسی آدمی پر گر پڑی تو اس پر اس کا ضمان نہیں ہے۔ اور اگر عرض میں رکھی کہ اس کا ایک سرا راستے کی طرف نکلا ہوا تھا اور وہ کسی چیز پر نکلی ہوئی طرف سے گری تو رکھنے والا ضامن ہوگا۔ اور اگر دوسری طرف سے کسی چیز پر گری تو وہ ضامن نہیں ہوگا۔ اور اسی طرح اگر دیوار گراؤ تھی اور اس پر کسی نے شہتیر رکھا، لمبائی میں اس طرح کہ اس کا کوئی حصہ راستے کی طرف نکلا ہوا نہیں تھا، پھر وہ شہتیر کسی پر گر پڑا اور اس کو قتل کر دیا تو اس پر ضمان نہیں ہے۔ (6)(عالمگیری ص39 ج6، بحرالرائق ص 356 ج8)
مسئلہ 418: گراؤ دیوار جس کے گرانے کا مطالبہ اس کے مالک سے کیا جاچکا تھا اس پر دیوار کے مالک یا کسی اور نے مٹکا رکھا اور دیوار گر پڑی اور مٹکا کسی آدمی کے لگا جس سے وہ مر گیا تو دیوار کے مالک پر ضمان ہے اور اگر مٹکے سے ٹکرا کر کوئی شخص گرپڑایا اس کے ملبے سے ٹکرا کر گر پڑا تو اگر مٹکا کسی اور کا تھا تو کسی پر کچھ نہیں ہے۔ (7)(بحرالرائق ص354 ج8)
1 ۔تکملۃ''البحرالرائق''،کتاب الدیات،باب مایحدث الرجل فی الطریق،ج9،ص123،124.
2 ۔یعنی گرنے والا۔ 3 ۔یعنی جس پر گرا ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط ... إلخ ،ج 6 ،ص38.
5 ۔المرجع السابق،ص39. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔تکملۃ''البحرالرائق''،کتاب الدیات،باب مایحدث الرجل فی الطریق،ج9،ص125.
اور اگر مٹکا دیوار کے مالک کا تھا تو وہ ضامن ہوگا۔(1) (عالمگیری از کافی ص39 ج 6)
مسئلہ 419: گراؤ دیوار جس کے گرانے کا مطالبہ کیا جاچکا تھا مگر دیوار کے مالک نے اس کو نہیں گرایا۔ پھر ہوا سے گر پڑی تو دیوار کا مالک نقصان کا ضامن ہوگا۔(2) (عالمگیری از محیط ص 39 ج6، بحرالرائق ص 355 ج8 )
مسئلہ 420: دو گراؤ دیواریں تھیں جن کے گرانے کا مطالبہ کیا جاچکا تھا ان میں سے ایک دوسری پر گر پڑی جس سے وہ بھی ڈھے گئی(3)تو پہلی یا دوسری دیوار کے گرنے سے جو اتلاف ہوا (4)یا پہلی کے ملبے سے جو اتلاف ہوا اس کا ضامن پہلی دیوار کا مالک ہوگا اور دوسری کے گرنے سے اور اس کے ملبے سے جو اتلاف ہوا اس کا ضمان کسی پر نہیں ہوگا۔(5) (عالمگیری از کافی ص 39 ج6)
مسئلہ 421: ایسا چھجہ جو کسی شخص نے نکالا تھا وہ چھجہ کسی ایسی گراؤ دیوار پر گر پڑا جس کے گرانے کا مطالبہ اس کے مالک سے کیا جاچکا تھا اور وہ دیوار کسی شخص پر گر پڑی جس سے وہ مر گیا یا اس دیوار کے زمین پر گرنے کے بعد کوئی شخص اس سے ٹکرا کر گر پڑا تو ان سب صورتوں میں چھجہ نکالنے والے پر ضمان واجب ہے۔(6) (عالمگیری از محیط ص 39 ج 6)
مسئلہ 422: کسی کی دیوار کا کچھ حصہ راستے کی طرف اور کچھ حصہ لوگوں کے مکان کی طرف جھکا ہوا تھا اور دیوار کے مالک سے دیوار گرانے کا مطالبہ گھر والوں نے کر دیا تھا، مگر دیوار راستہ کی طرف گر پڑی، یا مطالبہ راستہ والوں نے کیا تھا، مگر دیوار گھر والوں پر گر پڑی تو دیوار کا مالک ضامن ہوگا۔ (7) (مبسوط ص13 ، ج27، ہندیہ ص39 ، ج6، قاضی خاں علی الھندیہ ص 366 ج3، درمختار و شامی ص 528، ج5)
مسئلہ 423: کسی شخص کی لانبی دیوار تھی جس کا بعض حصہ گراؤ تھا اور بعض گراؤ نہیں تھا اور اس سے مطالبہ نقض (8)کیا گیا تھا۔ پھر پوری دیوار کسی پر گر پڑی جس سے وہ مر گیا تو دیوار کا مالک گراؤ حصے کے نقصان کا ضامن ہوگا۔ اور جو حصہ دیوار کا گراؤ نہیں تھا اس کے حصے کے نقصان کا ضامن نہیں ہوگا۔ اور اگر دیوار چھوٹی تھی تو پوری دیوار کے نقصان کا ضامن ہوگا۔ (9)(عالمگیری از ظہیریہ ص39 ، ج6، بحرالرائق ص 354 ج8، مبسوط ص 13ج27، قاضی خاں علی الھندیہ ص366 ، ج3، شامی و درمختار ص529 ، ج5)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص39.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی گرگئی۔ 4 ۔یعنی جو کچھ نقصان ہوا۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص39.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
8 ۔یعنی گرانے کا مطالبہ ۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص39.
مسئلہ 424: کسی شخص کی دیوار گراؤ تھی، قاضی نے اس کو گرانے کے مطالبے میں پکڑا کسی دوسرے نے اس کی ضمانت دی کہ اس کے حکم سے یہ دیوار گرا دے گا تو یہ ضمانت جائز ہے۔ اور جس نے یہ ضمانت دی ہے اس کو حق ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر گرا دے۔ (1)(عالمگیری بحوالہ منتقی از محیط، ص 39 ج6، مبسوط ص 13ج27)
مسئلہ 425: کسی کی گراؤ دیوار پر دو گواہ بنائے کہ اس کی دیوار گراؤ ہے پھر وہ دیوار کسی ایک گواہ پر یا اس کے باپ یااس کے غلام یا اس کے مکاتب پر گر پڑی اور دیوار کے مالک کے خلاف ان دو گواہوں کے سوا اور کوئی گواہ نہیں ہے تو اس صورت میں اس ایک کی گواہی معتبر نہیں ہے جو اس گواہی سے خود یا اس کا متعلق فائدہ اٹھائے۔(2) (مبسوط ص12ج27، عالمگیری ص 39ج 6)
مسئلہ 426: لقیط کی دیوار جھکی ہوئی تھی اور اس سے دیوار گرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ وہ دیوار کسی پر گر پڑی جس سے وہ مر گیا تو قتیل کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ اسی طرح اگر کوئی کافر مسلمان ہوا اور اس نے کسی سے موالاۃ نہیں کی ہے تو وہ بھی لقیط کے حکم میں ہے۔(3)(قاضی خاں علی الھندیہ ص 466ج3، عالمگیری ص 40ج6، مبسوط ص12ج27، بحرالرائق ص354 ج8)
مسئلہ 427: ایک گراؤ دیوار کے دو مالک تھے ایک اوپری حصے کا، دوسرا نیچے کے حصے کا ان میں سے کسی ایک سے دیوار گرانے کا مطالبہ کیا گیا پھر پوری دیوار گر پڑی تو جس سے مطالبہ کیا گیا تھا۔ وہ نصف دیت کا ضامن ہوگا اور اگر اوپر والی دیوار گری اور اسی کے مالک سے مطالبہ بھی کیا گیا تھا تو یہ ضامن ہوگا، نیچے والی کا مالک ضامن نہیں ہوگا۔ (4)(عالمگیری از محیط سرخسی، ص40 جلد6، مبسوط ص13 ج27، بحرالرائق ص 354 ج8، خانیہ علی الھندیہ ص 466 جلد3)
مسئلہ 428: کسی شخص نے دیوار گرانے کے لیے کچھ مزدور مقرر کئے ان کے دیوار گرانے سے ایک شخص ان ہی میں سے مر گیا یا کوئی غیر شخص مر گیا تو کفارہ و ضمان ان ہی پر ہوگا دیوار کے مالک پر کچھ نہیں۔(5) (مبسوط ص14 ج27 ، عالمگیری ص 40 ج 6)
مسئلہ 429: کسی کی دیوار اِشہاد سے پہلے (6)گر پڑی پھر اس سے مطالبہ کیا گیا کہ اس کا ملبہ راستے سے اٹھائے مگراس نے نہیں اٹھایا۔ یہاں تک کہ کوئی آدمی یا جانور اس کے ساتھ ٹکرا کر گر پڑا اور ہلاک ہوگیا تو دیوار کا مالک ضامن ہوگا۔(7) (قاضی خاں علی الھندیہ ص 467 ج 3، عالمگیری ص 41 ج6)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط،ج6،ص39.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص40.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔یعنی دیوار گرانے کا مطالبہ کرنے سے پہلے ۔
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،فصل فی جنایۃ الحائط،ج2،ص406.
مسئلہ 430: کسی نے اپنی دیوار سے باہر کی طرف بیت الخلاء وغیرہ بنایا اگر وہ بڑا تھا اور اس سے کسی کو نقصان پہنچا تو ضامن ہوگا اور اگر چھوٹا تھا تو ضامن نہیں ہوا۔(1) (عالمگیری از محیط ص 40 ج6 )
مسئلہ 431: کسی کی دو دیواریں تھیں ایک گراؤ ایک صحیح، گراؤ کے انہدام کا مطالبہ کیا گیا تھا وہ نہ گری لیکن صحیح گر گئی جس سے کوئی چیز تلف ہوگئی تو اس کا ضمان کسی پر نہیں ہے۔(2)(درمختارص529ج5،خانیہ علی الھندیہ ص 466 ج3 بحرالرائق ص 354 ج 8)
مسئلہ 432: کسی شخص کی ایسی جھکی ہوئی دیوار گرانے کا اس سے مطالبہ کیا گیا جس میں راستہ کی طرف چھجہ نکلا ہوا تھا اور اس کو اس نے نکالا تھا جس نے یہ گھر بیچا تھا پھر وہ دیوار اور چھجہ گر پڑے اور صورت یہ ہوئی کہ دیوار کے گرنے کی وجہ سے چھجہ گرا تو دیوار کے مالک پر نقصان کا ضمان ہے اور اگر فقط چھجہ گرا ہے تو بیچنے والا نقصان کا ضامن ہوگاجس نے راستہ کی طرف اس کو نکالا تھا۔ (3)(مبسوط ص14 ج27 ، ہندیہ ص40ج6)
مسئلہ 433: ایک شخص ایک مکان کے زیریں حصہ کا(4)مالک تھا اور اس کے بالائی حصہ کا(5)دوسرا شخص مالک تھا اور دونوں حصے گراؤ تھے اور دونوں کے مالکوں سے ان کے گرانے کا مطالبہ بھی کیا جاچکا تھا مگر انھوں نے نہیں گرایا۔ اس کے بعد زیریں حصہ گر پڑا اور اس کے گرنے سے اوپر کا حصہ بھی کسی پر گر پڑا جس سے وہ مر گیا تو اس مقتول کی دیت زیریں حصے کے مالک کے عاقلہ پر ہے اور جو شخص نیچے کے ملبے سے ٹکرا کر گرے اس کا ضمان بھی اور اگر بالائی حصے کے گرے ہوئے ملبے سے ٹکرا کر کوئی شخص ہلاک ہوگیا تو کسی پر کچھ نہیں ہے۔(6) (عالمگیری از محیط ص 40ج6)
مسئلہ 434: ایک مکان کا بالائی حصہ ایک شخص کا ہے اور زیریں حصہ دوسرے کا اور کل مکان کمزور ہے۔ بالائی حصہ کسی پر گر پڑا اور وہ مر گیا اور اس مکان کے گرانے کا مطالبہ دونوں سے کیا جاچکا تھا تو بالائی حصہ کا مالک ضامن ہوگا۔ (7)(قاضی خاں علی الھندیہ ص467ج3، عالمگیری ص40 ج 6)
مسئلہ 435: کسی شخص سے اس کی ایسی گراؤ دیوار کے گرانے کا مطالبہ کیا گیا جس کا راستہ کی طرف گرنے کا خطرہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص40.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،فصل فی جنایۃ الحائط،ج2،ص406.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص40.
4 ۔یعنی نچلی منزل کا ۔ 5 ۔یعنی اوپروالی منزل کا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص40.
نہیں تھا۔ لیکن یہ اندیشہ تھا کہ یہ دیوار اسی شخص کی ایسی صحیح دیوار پر گر سکتی ہے، جس کے گرنے کا اندیشہ نہیں ہے ہاں یہ ممکن ہے کہ اگر گراؤ دیوار صحیح دیوار پر گر پڑی تو صحیح دیوار بھی راستے میں گر پڑے گی۔ لیکن وہ گراؤ دیوار جس کے گرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا نہ گری اور صحیح دیوار خود بخود راستے میں گر پڑی جس سے کوئی انسان ہلاک ہوگیا یا اس کے ملبے سے ٹکرا کر کوئی آدمی مر گیا تو اس کا خون رائیگاں جائے گا۔ (1) (عالمگیری ص 40 ج6)
مسئلہ 436: عام راستے کی طرف بیت الخلاء یا پرنالہ یا برج یا شہتیر(2)یا دکان وغیرہ نکالنا جائز ہے بشرطیکہ اس سے عوام کو کوئی ضرر نہ ہو اور گزرنے والوں میں سے کوئی مانع نہ ہو اور اگر کسی کو کوئی تکلیف ہو یا کوئی معترض ہو تو ناجائز ہے۔ (3)(درمختار و شامی ص 521ج5 ، بحرالرائق ص347 ج8 ،تبیین الحقائق ، ص 142، ج6، ہدایہ ص585 ج4 ، عالمگیری ص40 ج6)
مسئلہ 437: اگر کوئی شخص عام راستے پر مذکورہ بالا تعمیرات اپنے لئے امام کی اجازت کے بغیر کرے تو شروع کرتے وقت ہر عاقل بالغ مسلمان مرد عورت اور ذمی کو اس کے روکنے کا حق ہے۔ غلام اور بچوں کو اس کا حق نہیں ہے اور بن جانے کے بعد اس کے انہدام کے مطالبے کا بھی حق ہے۔ بشرطیکہ اس مطالبہ کرنے والے نے عام راستے پر اس قسم کی کوئی تعمیر نہ کر رکھی ہو۔ خواہ اس تعمیر سے کسی کو ضرر ہو یا نہ ہو۔(4) (درمختار و شامی ص521 ج5 ، بحرالرائق ص 347 ج8 ، ہدایہ ص585 ج 4، تبیین الحقائق142،ج6، عالمگیری ص40 ج6 ، فتح القدیر ص330 ج8)
مسئلہ 438: عام راستہ پر خرید و فروخت کے لیے بیٹھنا جائز ہے جبکہ کسی کے لیے تکلیف دہ نہ ہو اور اگر کسی کو تکلیف دے تو وہ ناجائز ہے۔ (5)(بحرالرائق ص 347 ج8 ، درمختار و شامی ص521 ج5 ، تبیین الحقائق، ص 142، ج6)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص39.
2 ۔بڑی کڑی ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص40.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،باب مایحدثہ الرجل...إلخ،ج10،ص265.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،باب مایحدثہ الرجل...إلخ،ج10،ص265.
وتکملۃ''البحرالرائق''،کتاب الدّیات،باب مایحدث الرجل فی الطریق،ج9،ص110.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،باب مایحدثہ الرجل...إلخ،ج10،ص267.
مسئلہ 439: اور اگر یہ تعمیرات امام کی اجازت سے کی گئی ہیں تو کسی کو ان پر اعتراض کا حق نہیں ہے۔ لیکن امام کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ ان تصرفات کی اجازت دے جبکہ لوگوں کو ان سے تکلیف ہو اور اگر اس نے کسی مصلحت کی بناء پر اجازت دے دی تو جائز ہے۔(1)(شامی ص 521ج5 ، عالمگیری ص41 ج6)
مسئلہ 440: عام راستے پر اگر یہ تعمیرات پرانی ہیں تو ان کے ہٹوانے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ اور اگر ان کا حال معلوم نہ ہو تو نئی فرض کر کے امام ان کو ہٹوا دے گا۔ (2) (عالمگیری از محیط ص40 ج6 ، بحرالرائق ص347 ج8، شامی ص522 ج5)
مسئلہ 441: اگر عام راستے پر مسلمانوں کے فائدے کے لیے مسجد وغیرہ کوئی عمارت بنا دی جائے اور اس سے کسی کو کوئی ضرر بھی نہ ہو تو نہیں توڑی جائے گی۔ (3) (عالمگیری ص 40 ج6 ، بحرالرائق ص346 ج8 ، تبیین الحقائق ص 146، ج 6، درمختار و شامی ص521 ج5)
مسئلہ 442: ایسے خاص راستے پر جو آگے سے بند ہو کسی کو کچھ بنانا جائز نہیں ہے خواہ اس میں لوگوں کا ضرر ہو یا نہ ہو مگر یہ کہ اس گلی کے رہنے والے اجازت دے دیں اور یہ تعمیرات اگر جدید ہیں تو امام کو حق ہے کہ ان کو ڈھا دے اور قدیم ہیں تو یہ حق نہیں ہے اور اگر ان کا حال معلوم نہ ہو تو قدیم مان کر باقی رکھی جائیں گی۔ (4) (درمختار و شامی ص522 ،ج5،بحرالرائق ص 347 ج8 ، تبیین الحقائق ص 143 ج 6، عالمگیری ص 40 ج 6)
مسئلہ 443: اگر کسی نے راستے میں کوڑا ڈالا اور اس سے کوئی پھسل کر گرا اور مر گیا اس پر ضمان نہیں ہے مگر جبکہ کوڑا جمع کر کے اکٹھا کر دیا جس سے ٹکرا کر کوئی گرا اور مر گیا تو کوڑا ڈالنے والا ضامن ہوگا۔ (5) (عالمگیری از ذخیرہ ص41 ج6 ، قاضی خاں علی الھندیہ، ص458 ج3)
مسئلہ 444: کسی شخص نے شارع عام پر(6)کوئی بڑا پتھر رکھا یا اس میں کوئی عمارت بنا دی یا اپنی دیوار سے شہتیریا پتھر وغیرہ باہر راستے کی طرف نکال دیا یا بیت الخلاء یا چھجہ یا پرنالہ یا سائبان نکالا یا راستہ میں شہتیر رکھا اس سے اگر کسی چیز کو کوئی نقصان پہنچے یا وہ تلف ہو جائے(7)تو یہ اس کا تاوان ادا کریگا اور اگر اس سے کوئی آدمی مر جائے تو اس کی دیت اس کے عاقلہ
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،باب مایحدثہ الرجل...إلخ،ج10،ص266.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص41.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص40.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق،ص41.
6 ۔ عام راستے پر۔ 7 ۔ضائع ہوجائے۔
پر ہوگی۔ اور اگر کوئی انسان زخمی ہوا مگر مرا نہیں تو اگر اس زخم کا اَرش موضحہ(1)کے ارش کے برابر ہو تو یہ ارش اس کے عاقلہ پر ہوگا اور اگر اس سے کم ہو تو بنانے والے کے مال سے دیا جائے گا۔ اور اس سبب سے اگر کوئی مر گیا تو اس پر کفارہ نہیں ہے اور اگر مرنے والا اس کا مورث تھا تو یہ اس کا وارث بھی ہوگا جانور اور مال کے نقصان کا ضامن یہ خود ہوگا۔ ان سب صورتوں میں ضمان اس پر اس وقت واجب ہوگا جب اس نے امام کی اجازت کے بغیر یہ تصرفات کئے ہوں۔ ورنہ یہ ضامن نہیں ہوگا۔ (2)(عالمگیری ص 40 ج6، درمختار و شامی ص522 ج5 ، بحرالرائق ص 347 ج 8، فتح القدیر ص 331 ج8 ، مبسوط ص6 ، ج27 ، تبیین الحقائق، ص143 ، ج 6)
مسئلہ 445: سر بند گلی(3)میں جن رہنے والوں کے دروازے کھلتے ہیں ان کو اس راستے میں کسی قسم کی تعمیر کی اجازت نہیں مگر اس گلی کے سب رہنے والوں کی اجازت سے تعمیر کی جاسکتی ہے۔ ہاں اس گلی کے رہنے والے اس قسم کے تصرفات کرسکتے ہیں۔ مثلاًجانور باندھنا، لکڑی رکھنا، وضو کرنا، گارا بنانا یا کوئی چیز عارضی طور پر رکھنا وغیرہ، بشرطیکہ گلی والوں کے لیے راستہ چھوڑ دیا گیا ہو اور جو کام نہیں کرسکتے وہ یہ ہیں: مثلاً پرنالہ نکالنا، دوکان بنانا، چھجہ نکالنا، برج بنانا(4)، بیت الخلاء بنانا وغیرہ مگر جب سب گلی والے اجازت دے دیں تو یہ چیزیں بھی بنائی جاسکتی ہیں۔ (5)(درمختار و شامی ص 522 ج 5، عالمگیری ص42 ج6 ، بحرالرائق ص347 ج 8، تبیین الحقائق ص143 ج6)
مسئلہ 446: سر بند گلی میں جو کام جائز تھے، اس کی وجہ سے کسی نقصان کا ضامن نہیں ہوگا اور جو کام ناجائز ہیں اور بغیر اجازت سکان(6)کئے تو ان سے جو نقصان ہوگا وہ سب رہنے والوں پر تقسیم ہوگا اور تصرف کرنے والا اپنے حصہ کے سوا دوسروں کے حصوں کا تاوان ادا کریگا۔(7) (عالمگیری ص 41 ج6 ، شامی ص522 ج5 ، قاضی خاں علی الھندیہ ص458 ج3 ، تبیین الحقائق ص 145جلد 6، مبسوط ص8 ج27)
مسئلہ 447: راہن(8)نے دارِمر ہو نہ میں(9)مرتہن کی(10)اجازت کے بغیر کچھ تعمیر کی یا کنواں کھودا، یاجانور
1 ۔سر کا وہ زخم جس میں سر کی ہڈی دکھائی دے۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص40.
3 ۔یعنی وہ گلی جوایک طرف سے بند ہو۔ 4 ۔یعنی گنبد نما عمارت بنوانا۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص40،42.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،باب مایحدثہ الرجل...إلخ،ج10،ص267.
6 ۔یعنی رہنے والوں کی اجازت کے بغیر ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص41.
8 ۔گروی رکھنے والا۔ 9 ۔یعنی گروی رکھے ہوئے گھر میں ۔ 10 ۔جس کے پا س رَہن رکھااس کی ۔
باندھے، تو اس سے جو نقصان ہوگا راہن اس کا ضامن نہیں ہوگا۔(1) (عالمگیری ص41 ج 6)
مسئلہ 448: کسی نے مزدوروں کو سائبان یا چھجہ (2)بنانے کے لیے مقرر کیا اگر اثنائے تعمیر میں عمارت کے گرنے سے کوئی ہلاک ہوگیا تو اس کا ضمان مزدوروں پر ہوگا اور ان سے دیت کفارہ اور وراثت سے محرومی لازم ہوگی اور اگر تعمیر سے فراغت کے بعد یہ صورت ہو تو مالک پر ضمان ہوگا۔ (3)(عالمگیری از جوہر ہ نیرہ ص 41 ج6 ، مبسوط ص 8 ج27 ، سراج الوہاج و بحرالرائق ص 348 ج8 ، تبیین الحقائق ص 144ج 6)
مسئلہ 449: ان مزدوروں میں سے کسی کے ہاتھ سے اینٹ، پتھر یا لکڑی گر پڑی جس سے کوئی آدمی مر گیا تو جس کے ہاتھ سے گری ہے اس پر کفارہ اور اس کے عاقلہ پر دیت واجب ہے۔ (4)(عالمگیری ص 41 ج6 )
مسئلہ 450: کسی نے دیوار میں راستے کی طرف پرنالہ لگایا وہ کسی پر گرا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ اگر یہ معلوم ہے کہ دیوار میں گڑا ہوا حصہ لگ کر ہلاک ہوا تو ضمان نہیں ہے اور اگر بیرونی حصہ لگ کر ہلاک ہوا تو ضمان ہے اور اگر دونوں حصے لگ کر ہلاک ہوا تو نصف ضمان ہے اور اگر یہ معلوم نہ ہوسکے تب بھی نصف ضمان ہے۔(5) (عالمگیری از محیط ص 41 ج6 ، تبیین الحقائق ص143 ج6 ، مبسوط ص6 ج27 ، بحرالرائق ص 347 ج 8، قاضی خاں علی الھندیہ ص458 ج3 ، درمختار و شامی ص522 ج5)
مسئلہ 451: کسی نے راستے کی طرف چھجہ نکالا تھا پھر وہ مکان بیچ دیا اس کے بعد چھجہ گرا اور کوئی آدمی ہلاک ہوگیا یا کسی نے راستے میں لکڑی رکھی پھر اس کو بیچ کر مشتری (6)کو قبضہ دے دیا مشتری نے وہیں رہنے دی اور اس سے کوئی آدمی ہلاک ہوگیا تو دونوں صورتوں میں بیچنے والے پر ضمان ہے مشتری پر کچھ نہیں۔(7) (عالمگیری ص 41 ج 6، مبسوط ص 8 ج27 ، قاضی خان علی الھندیہ ص408 ج3 ، بحرالرائق ص 347 ج8 ، تبیین ص143 ج6 ،شامی و درمختار ص 522ج 5)
مسئلہ 452: کسی نے راستے میں لکڑی رکھ دی جس سے کوئی ٹکرا گیا تو رکھنے والا ضامن ہے۔ اگر گزرنے والا اس لکڑی پر چڑھا اور گر کر مرگیا تو بھی رکھنے والا ضامن ہوگا بشرطیکہ چڑھنے والے نے اس پر سے پھسلنے کا ارادہ نہ کیا ہو اور
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص41.
2 ۔چھت کے اوپر سے آگے بڑھا یاہوا حصہ جو بارش سے حفاظت یا دھوپ سے بچاؤکے لئے ہوتا ہے۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص41.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔خریدار۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص41.
لکڑی بڑی ہو لیکن اگر لکڑی اتنی چھوٹی ہے کہ اس پر چڑھا ہی نہیں جاسکتا تو رکھنے والے پر کوئی ضمان نہیں ہے۔(1) (عالمگیری ص41 ج6 ، شامی و درمختار ص 525ج5 ، مبسوط ص8 ج27)
مسئلہ 453: کسی نے شارع عام پر اتنا پانی چھڑکا کہ اس سے پھسلن ہوگئی جس سے پھسل کر کوئی آدمی گرا اور مرگیا تو پانی چھڑکنے والے کے عاقلہ پر دیت واجب ہے۔ اور اگر کوئی جانور پھسل کر گرا اور مرگیا یا کسی کا کوئی مالی نقصان ہوگیا تو اس کا تاوان چھڑکنے والے کے مال سے ادا کیا جائے گا۔ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ پورے راستہ میں پانی چھڑکا ہو اور گزرنے کے لیے جگہ نہ رہے۔ لیکن اگر بعض حصہ میں چھڑکا ہے اور بعض قابل گزر چھوڑ دیا ہے تو اگر پانی والے حصے سے گزرنے والا اندھا ہے اور اسے پانی کا علم نہ تھا یا گزرنے والا جانور ہے تب بھی یہی حکم ہے۔ اور اگر علم کے باوجود بینا یا نابینا پانی والے حصے سے بالقصد گزرا اور پھسل کر ہلاک ہوگیا تو کسی پر کچھ نہیں ہے۔ (2)(عالمگیری ص41 ج6 ، مبسوط ص 7جلد 27، بحرالرائق ص 350 ج8 ، شامی ص532 ج5 ، تبیین الحقائق ص 145 ج 6، ہدایہ ص 586ج 3، فتح القدیر ص 333 جلد8 ، قاضی خاں علی الھندیہ ص458 ج 3)
مسئلہ 454: شربت بیچنے والے یا کسی ریڑھی والے نے اتنا پانی اپنی دکان کے سامنے بہا دیا کہ پھسلن ہوگئی تو پانی چھڑکنے والے کے عاقلہ پر دیت واجب ہے اگر کوئی شخص اس سے پھسل کر ہلاک ہو جائے۔ بشرطیکہ وہ زمین اس کی ملک نہ ہو۔(3) (قاضی خاں علی الھندیہ ص 458 ج3 ، تبیین الحقائق ص 145 ج6 ، عالمگیری ص 41 ج 6، ہدایہ ص 587ج 4، بحرالرائق ص 350 ج8 ، درمختار و شامی ص 526ج 5)
مسئلہ 455: کسی نے شارع عام پر اتنا پانی چھڑکا کہ پھسلن ہوگئی۔ اس پر سے کوئی شخص دو گدھے لے کر گزرا ایک کی ڈوری اس کے ہاتھ میں تھی اور دوسرا اس کے ساتھ جارہا تھا۔ ساتھ جانے والا گدھا پھسل کر گرا جس سے اس کا پیر ٹوٹ گیا۔ گدھے والا اگر دونوں کو پیچھے سے ہانک رہا تھا تو کسی پر کچھ نہیں اور اگر پیچھے سے نہیں ہانک رہا تھا تو پانی چھڑکنے والے پر تاوان ہے۔ (4)(عالمگیری ص 42 ج 6)
مسئلہ 456: کسی نے شارع عام پر اتنا پانی بہایا کہ جمع ہو کر برف بن گیا۔ یا برف راستے میں ڈال دی۔ اس سے پھسل کر کوئی آدمی ہلاک ہوگیا یا راستے میں کیچڑ سے بچنے کے لیے پتھر رکھ دئیے تھے اس پر سے پھسل کر گر پڑا اور ہلاک ہوگیا تو
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص41.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص41.
و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،باب مایحدثہ الرجل...إلخ،ج10،ص267.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص41.
4 ۔المرجع السابق،ص42.
اگر امام کی اجازت سے یہ کام کیا تھا تو ضامن نہیں ہوگا اور اگر بلااجازت امام کیا تھا تو ضامن ہوگا۔ (1)(عالمگیری ص42 جلد6)
مسئلہ 457: کسی شارع عام پر دو پتھر رکھے ہوئے تھے۔ گزرنے والا ایک سے ٹکرا کر دوسرے پر گرا اور مر گیا پہلا پتھر رکھنے والا ضامن ہوگا اور اگر پہلے کا واضع معلوم نہ ہو تو دوسرا پتھر رکھنے والا ضامن ہوگا۔ (2)
مسئلہ458: کسی نے شارع عام پر بلااجازت امام یا شارع خاص پر اس گلی کے رہنے والوں کی اجازت کے بغیر کوئی جدید تعمیر کی جس سے ٹکرا کر کوئی کسی دوسرے آدمی پر گرا اور جس پر گرا وہ مر گیا تو تعمیر کرنے والا ضامن ہوگا۔ گرنے والا ضامن نہیں ہوگا۔ (3)(عالمگیری ص 42 ج 6، مبسوط ص 7 ج27 ، قاضی خاں علی الھندیہ، ص458 ج 3)
مسئلہ 459: کسی نے راستے میں کوئی چیز رکھی۔ دوسرے نے اس کو ہٹا کر دوسری طرف رکھ دیا اور اس سے ٹکرا کر کوئی شخص ہلاک ہوگیا تو ہٹانے والا ضامن ہوگا۔ رکھنے والا ضامن نہیں ہوگا۔(4) (عالمگیری ص42 ج6 ، مبسوط ص 7ج27 ، قاضی خاں علی الھندیہ ص 458 ج 3، تبیین الحقائق ص 145 ج 6، ہدایہ ص 587ج 4، درمختار و شامی ص 523ج 5)
مسئلہ 460: کسی نے شارع عام پر بلااجازت امام یا شارع خاص پر اس گلی کے رہنے والوں کی اجازت کے بغیر کچھ جدید تعمیر کی جس سے ٹکرا کر کوئی آدمی دوسرے آدمی پر گرا اور دونوں مر گئے تو تعمیر کرنے والے کے عاقلہ پر دونوں کی دیت واجب ہے۔ (5)(بحرالرائق ص 347 ج 8، تبیین الحقائق، ص 145، ج 6)
مسئلہ 461: کسی نے راستے میں انگارہ رکھ دیا اس سے کوئی چیز جل گئی تو رکھنے والا اس کا ضامن ہوگا۔ اور اگر ہوا سے اڑ کر وہ آگ دوسری جگہ چلی گئی اور کسی چیز کو جلا دیا تو اگر رکھتے وقت ہوا چل رہی تھی تو رکھنے والا ضامن ہوگا ورنہ نہیں۔ (6)(خانیہ علی الھندیہ ص 458 ج3 ، مبسوط ص8 ، ج27 ، عالمگیری ص 42 ج6 ، ہدایہ ص 586ج4 ، تبیین الحقائق، ص144،ج6)
مسئلہ 462: لوہار نے اپنی دکان میں بھٹی سے لوہا نکال کر ایرن (نہائی (7))پر رکھ کر کوٹا جس سے چنگاری نکل کر شارع عام پر چلنے والے کسی آدمی پر گری جس سے وہ جل کر مر گیا یا اس کی آنکھ پھوٹ گئی تو اس کی دیت لوہار کے عاقلہ پر ہے اور اگر کسی کا کپڑا جلا دیا یا کوئی مالی نقصان کر دیا تو اس کا تاوان لوہار کے مال سے دیا جائے گا اور اگر اس کے کوٹنے سے چنگاری
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص42.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔تکملۃ''البحرالرائق''،کتاب الدیات،باب مایحدث الرجل فی الطریق،ج9،ص112.
و''التبیین الحقائق''،کتاب الدیات،باب مایحدث الرجل فی الطریق،ج7،ص299.
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الدیات،فصل فیمایحدث فی الطریق...إلخ،ج2،ص400،401.
7 ۔سندان، وہ چیز جس پر لوہار لوہا رکھ کر کوٹتے ہیں ۔
نہیں اڑی بلکہ ہوا سے اڑ کر کسی پر گری تو لوہار پر کچھ نہیں ہے۔ (1)(عالمگیری ص 42 ج6 ، خانیہ علی الھندیہ ص459 ج3)
مسئلہ 463: لوہار نے اپنی دکان میں راستے کی جانب یہ جانتے ہوئے کہ راستے کی ہوا سے آگ بھڑکے گی، بھٹی جلائی اور اس سے راستے میں کوئی چیز جل گئی تو وہ ضامن ہوگا۔(2) (عالمگیری ص 42،ج6ازذخیرہ)
مسئلہ 464: کوئی شخص آگ لے کر ایسی جگہ سے گزرا جہاں سے گزرنے کا اس کو حق تھا۔ اس سے کوئی چنگاری خود گر گئی یا ہوا سے گر گئی اور اس سے کوئی چیز جل گئی تو وہ ضامن نہیں ہے۔ اور اگر ایسی جگہ سے گزرا جہاں سے گزرنے کا اس کو حق نہ تھا تو اگر ہوا سے چنگاری اڑ کر گری تو ضامن نہیں ہوگا، اور اگر خود گری اور اس سے کوئی چیز جل گئی تو وہ ضامن ہوگا۔ (3)(عالمگیری از خزانۃ المفتین، ص43 ج6)
مسئلہ 465: کوئی شخص شارع عام پر (فٹ پاتھ)پر بیٹھ کر حکومت کی اجازت کے بغیر خرید و فروخت کرتا ہے اس کے سامان میں پھنس کر کوئی شخص گر پڑا اور اس کا کچھ نقصان ہوگیا تو بیٹھنے والا ضامن ہوگا اور حکومت کی اجازت سے بیٹھا ہے تو یہ ضامن نہیں ہوگا۔(4) (عالمگیری ص 43 ج 6)
مسئلہ 466: شارع عام کے کنارے بیٹھ کر خرید و فروخت اگر کسی چیز کو ضرر نہ دے اور حکومت کی اجازت سے ہو تو جائز ہے اور اگر مضر ہو تو ناجائز ہے۔ (5)(درمختار و شامی ص 521ج 5)
مسئلہ 467: کوئی آدمی سونے والے کے پاس سے گزرا اور اس کی ٹھوکر سے سونے والے کی پنڈلی ٹوٹ گئی پھر اس پر گر پڑا جس سے اس کی ایک آنکھ پھوٹ گئی۔ اس کے بعد خود مرگیا تو سونے والے پر مرنے والے کی دیت ہے اور مرنے والے پر سونے والے کا اَرش واجب ہوگا اور اگر دونوں ہی مرگئے تو سونے والے پر گرنے والے کی دیت ہے اور گرنے والے پر سونے والے کی نصف دیت ہے۔ (6)(عالمگیری ص 43 ج6)
مسئلہ 468: کوئی آدمی راستے سے گزر رہا تھا کہ اچانک گر کر مرگیا اور اس سے ٹکرا کر دوسرا شخص مر گیا تو کسی پر کچھ نہیں۔ (7)(عالمگیری از ذخیرہ ص 43 ج6)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط ...إلخ،ج6،ص42.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق، ص43. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدیات،باب مایحدثہ الرجل...إلخ،ج10،ص267.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص43.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 469: کوئی راہ چلتا بے ہوش ہو کر یا ضعف کی وجہ سے(1)کسی پر گر پڑا جس سے وہ مرگیا یا راہ چلتا گر کر مرگیا اور اس سے ٹکرا کر کوئی دوسرا شخص مرگیا تو راہ گیر کے عاقلہ پر مرنے والے کی دیت واجب ہے۔ دوسرے کی موت اگر گرنے والے سے دب کر ہوئی ہے تو گرنے والے پر کفارہ بھی ہے جو اس کے مال سے ادا کیا جائے گا۔ اور وراثت سے محروم ہوگا اور اگر راہ گیر زمین پر گرا اور دوسرا اس سے ٹکرا کر مرگیا تو کفارہ اور حرمان میراث(2) نہیں ہے۔(3) (عالمگیری از محیط ص43 ج 6)
مسئلہ 470: کوئی شخص بوجھ اٹھائے راستہ سے گزر رہا تھا کہ اس کا بوجھ کسی شخص پر گرا جس سے وہ شخص مر گیا یا بوجھ زمین پر گرا اور اس سے ٹکرا کر کوئی شخص مرگیا تو بوجھ اٹھانے والا ضامن ہوگا۔ (4)(عالمگیری ص 43 ج 6، خانیہ علی الھندیہ ص458 ج3 ، تبیین الحقائق ص 146ج6 ،درمختار و شامی ص523 جلد 5)
مسئلہ 471: کوئی شخص راستہ میں کوئی ایسی چیز پہن کر گزرا جو عام طور پر پہنی جاتی ہے۔ اس چیز سے الجھ کر کوئی شخص مر گیا یا کسی شخص پر وہ چیز گر پڑی جس سے وہ مرگیا یا راستے میں گر پڑی جس سے ٹکرا کر کوئی مرگیا تو ان سب صورتوں میں گزرنے والے پر ضمان نہیں ہے۔ اور اگر اس قسم کی چیز ہے جو پہنی نہیں جاتی ہے تو اس کا حکم بوجھ اٹھانے والے کا سا ہے اور اس سے جو نقصان ہوگا یہ ضامن ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص جانور کو ہانک رہا تھا یا اس کو کھینچ رہا تھا یا اس پر سوار تھا اور اس کے سامان میں سے کوئی چیز مثلاً زین لگام وغیرہ گر پڑی جس سے کوئی آدمی مرگیا یا جانور یا اس کے سامان میں سے کوئی چیز راستے پر گری اور اس سے ٹکرا کر کوئی آدمی مرگیا تو بہرصورت جانور والا ضامن ہوگا۔(5) (عالمگیری از محیط ص43 ج6 )
مسئلہ 472: دو آدمیوں نے اپنے مٹکے راستہ پر رکھ دیئے تھے ایک لڑھک کر دوسرے سے ٹکرا یا تواگر لڑھکنے والا ٹوٹا تو دوسرے کا مالک اس مٹکے کا ضمان دے گا اور اگر دوسرا ٹوٹا تو لڑھکنے والے کا مالک ضمان نہیں دے گا اور اگر دونوں لڑھکے تو کسی پر کچھ نہیں۔(6) (عالمگیری ص43ج6 ، خانیہ علی الھندیہ ص459 ج3)
مسئلہ 473: دو آدمیوں نے اپنے جانور راستے پر کھڑے کر دیئے تھے۔ ایک بھاگا جس سے دوسرا گرا اور مرگیا تو کسی پر کچھ نہیں ہے اور اگر بھاگنے والا اس سے ٹکرا کر مرگیا تو دوسرے کا مالک ضمان دے گا۔(7) (عالمگیری ص 43 ج 6، قاضی خاں علی الھندیہ ص459 ج 3)
مسئلہ 474: کسی نے راستہ میں کوئی چیز رکھ دی جس کو دیکھ کر ادھر سے گزرنے والا جانور بدک کر بھاگا اس نے کسی
1 ۔یعنی کمزوری کی وجہ سے۔ 2 ۔یعنی وراثت سے محرومی ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط ...إلخ ،ج 6 ، ص43.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
آدمی کو مار دیا تو اس شے کے رکھنے والے پر کوئی ضمان نہیں ہے۔ اسی طرح ایسی ہی گراؤ دیوار(1)جس کے گرانے کا مطالبہ کیا جاچکا تھا زمین پر گری اس سے کوئی جانور بھڑک کر بھاگا، جس سے کچل کر کوئی شخص مرگیا تو دیوار والا ضامن نہیں ہوگا۔ دیوار کا مالک اور راستے میں چیز رکھنے والا صرف اس صورت میں ضامن ہوں گے کہ دیوار یا اس چیز سے لگ کر ہلاکت واقع ہو۔ (2)(عالمگیری ص 44 ج 6)
مسئلہ 475: اہل مسجد نے بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے مسجد میں کنواں کھدوایا، یا بڑا سا مٹکا رکھا یا یاچٹائی بچھائی یا دروازہ لگایا یا چھت میں قندیل(3)لٹکائی یا سائبان ڈالا اور ان سے کوئی شخص ہلاک ہوگیا تو اہل مسجد پر ضمان نہیں۔ اور اگر اہل محلہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے یہ سب کام اہل محلہ کی اجازت سے کئے تھے اور ان سے کوئی ہلاک ہوگیا تب بھی کسی پر کچھ نہیں۔ اور بغیر اجازت یہ کام کئے اور ان سے کوئی ہلاک ہوگیا تو کنواں اور سائبان کی صورت میں ضامن ہوں گے اور بقیہ صورتوں میں ضامن نہیں ہوں گے۔(4) (عالمگیری ص44 ج6 ، مبسوط ص 24، ج27 ، شامی ص523 ج5 ، بحرالرائق ص 352 ج8 ، خانیہ علی الھندیہ، ص 463 ج3)
مسئلہ 476: کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا یا نماز کے انتظار میں بیٹھا تھا یا قراء َت قرآن میں مشغول تھا یا فقہ و حدیث کا درس دے رہا تھا یا اعتکاف میں تھا یا کسی عبادت میں مشغول تھا کہ اس سے ٹکرا کر کوئی شخص گر پڑا اور مرگیا تو فتویٰ یہ ہے کہ اس پر ضمان نہیں۔(5) (عالمگیری ص44 ج6 ، شامی ص524 ج 5، بحرالرائق ص 352 ج8 ، تبیین الحقائق ص 146ج 6، مبسوط ص25 ج27 ، خانیہ علی الھندیہ ص 463 ج 3، ہدایہ ص589 ج4 )
مسئلہ 477: مسجد میں کوئی شخص ٹہل رہا تھا کہ کسی کو کچل دیا یا مسجد میں سو رہا تھا اور کروٹ لی اور کسی پر گر پڑا جس سے وہ مرگیا تو وہ ضامن ہوگا۔(6) (عالمگیری ص 44 ج6)
مسئلہ 478: کسی نے امام(7)کی اجازت سے راستہ میں چہ بچہ(8)کھودا ،یا اپنی ملک میں کھودا ،یا راستے میں کوئی
1 ۔ وہ دیوار جو گرنے کے قریب ہے ،جھکی ہوئی دیوار۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ ،ج 6،ص44.
3 ۔ایک قسم کا فانوس ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ ،ج6،ص44.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدیات،باب مایحدثہ الرجل...إلخ،ج10،ص270.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ ،ج6،ص44.
7 ۔یعنی حاکم وقت یا قاضی۔ 8 ۔چھوٹا حوض جو بارش وغیرہ کا پانی جمع کرنے کے لیے بنا یا جاتاہے۔
لکڑی رکھ دی یا بلااجازت امام پل بنوادیا۔ اس پر سے کوئی شخص قصداً گزرا اور گر کر ہلاک ہوگیا تو فاعل ضامن نہیں ہوگا۔(1) (بحرالرائق ص 350 ج8 ، عالمگیری از محیط ص44 ج6 ، تبیین الحقائق ص 145ج6 ، شامی و درمختار ص524 ج5 ، مبسوط ص22 ج27 ، فتح القدیر ص236 ج8)
مسئلہ 479: کسی نے راستے میں کنواں کھودا اس میں کسی نے گر کر خودکشی کر لی تو کنواں کھودنے والا ضامن نہیں ہے۔(2) (عالمگیری ص 45 ج6 ، خانیہ علی الھندیہ ص 461 ج3 ، مبسوط ص16 ، ج27 ، بحرالرائق، ص348 ج8)
مسئلہ 480: کسی نے مسلمانوں کے راستے میں اپنے گھر کے گرداگرد سے ہٹ کر کنواں کھودا جس میں گر کر کوئی شخص مر گیا تو اس کے عاقلہ پر مرنے والے کی دیت واجب ہوگی اور اس پر کفارہ نہیں ہے اور وہ میراث سے بھی محروم نہیں ہوگا۔ (3)(عالمگیری ص 45 ج6 ، بحرالرائق ص 348 ج8 ، تبیین الحقائق ص 144، ج6 ، شامی و درمختار ص 522ج 5، مبسوط ص14 ، ج27)
مسئلہ 481: اگر کسی دوسرے کے مکان کے گرداگرد کنواں کھودا، یا ایسی جگہ کھودا جو مسلمانوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ یا ایسے راستہ پر کھودا جو آگے جاکر بند ہو جاتا ہے اور ا س کنویں میں کوئی گر کر مرگیا تو یہ ضامن ہوگا اور اپنے گھر کے گرداگرد اپنی مملوکہ زمین پر کھودا، یا ایسی زمین پر کھودا، یا ایسی جگہ کھودا جہاں اس کو پہلے سے کنواں کھودنے کا حق حاصل تھا اور اس میں گر کر کوئی مر گیا تو اس پر ضمان نہیں ہے۔(4) (عالمگیری ص 45 ج 6، تبیین الحقائق، ص145 ، ج 6)
مسئلہ 482: کسی نے راستے میں کنواں کھودا اور اس میں کوئی شخص گر پڑا اور بھوک پیاس یا وہاں کے تعفن کی وجہ سے (5)دم گھٹ گیا اور مر گیا تو کنواں کھودنے والا ضامن نہیں ہوگا۔(6)(عالمگیری ص 45 ج 6، شامی و درمختار ص 522ج 5، تبیین الحقائق ص 145، ج6 ، بحرالرائق ص 348 ج8 ، مبسوط ص15 ، ج27 ، خانیہ علی الھندیہ، ص 461 ج3 )
مسئلہ 483: کسی نے ایسے میدان میں بغیر اجازت امام کنواں کھودا جہاں لوگوں کی گزر گاہ نہیں ہے اور راستہ بھی نہیں ہے اور کوئی اس میں گر گیا تو کنواں کھودنے والا ضامن نہیں ہے۔ اسی طرح اس میدان میں کوئی شخص بیٹھا ہوا تھا یا کسی نے خیمہ لگا لیا تھا۔ اس شخص سے یا خیمہ سے کوئی شخص ٹکرا گیا تو بیٹھنے والا اورخیمہ لگانے والا ضامن نہیں ہے اور اگر یہ صورتیں راستہ میں
1 ۔تکملۃ''البحرالرائق''،کتاب الدیات،باب مایحدث الرجل فی الطریق،ج9،ص117.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص45.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔یعنی بدبو وغیرہ کی وجہ ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص45.
واقع ہوں تو ضامن ہوگا۔(1) (عالمگیری ص 39 ج6 ، خانیہ علی الھندیہ، ص460 ج3)
مسئلہ 484: ایک شخص نے راستہ پر نصف کنواں کھودا پھر دوسرے نے بقیہ حصہ کھود کر اسے تہہ تک پہنچایا اس میں کوئی شخص گر گیا تو پہلا کھودنے والا ضامن ہے۔ (2)(عالمگیری ص 45 ج 6، بحرالرائق ص 349 ج8 ، خانیہ علی الھندیہ ص463 ج3 ، مبسوط ص17 ج27)
مسئلہ 485: کسی نے راستے میں کنواں کھودا پھر دوسرے نے اس کا منھ چوڑا کر دیا تو یہ دیکھا جائے گا کہ اس نے چوڑائی میں کتنا اضافہ کیا ہے اگر اتنا زیادہ اضافہ ہے کہ گرنے والے کا قدم چوڑا کرنے والے کے حصہ پر پڑے گا تو یہ ضامن ہوگا اور اگر اتنا کم اضافہ کیا ہے کہ گرنے والے کا قدم اس کے اضافہ پر نہیں پڑے گا تو پہلا کھودنے والا ضامن ہوگا اور اگر اضافہ اتنا ہے کہ دونوں حصوں پر قدم پڑنے کا احتمال ہو اور یہ معلوم نہ ہوسکے کہ قدم کس حصے پر پڑا تھا تو دونوں نصف نصف کے ضامن ہوں گے۔(3) (عالمگیری ص 45 ج6 ، مبسوط ص17 ، ج 27)
مسئلہ 486: کسی نے راستہ میں کنواں کھودا پھر اس کو مٹی چونا یا جنس ارض(4)میں سے کسی چیز سے پاٹ دیا(5)۔ پھر دوسرے نے آکر یہ چیزیں نکال کر اس کو خالی کر دیا پھر اس میں کوئی شخص گر کر مر گیا تو خالی کرنے والا ضامن ہوگا اور اگر پہلے نے کھانے وغیرہ سے یا کسی ایسی چیز سے پاٹا جو جنس ارض سے نہیں ہے اور دوسرے شخص نے اس کو نکال کر خالی کر دیا پھر اس میں گر کر کوئی آدمی ہلاک ہوگیا، یاکنویں کو پاٹا نہیں تھا، اس کا منہ کسی چیز سے ڈھک دیا تھا(6)۔ پھر دوسرے نے اس کا منہ کھول دیا پھر اس میں گر کر کوئی شخص ہلاک ہوگیا تو پہلے والا ضامن ہوگا۔(7) (عالمگیری ص 45 جلد6 ، خانیہ علی الھندیہ ص460 ج3 ، مبسوط ص 17 ج27)
مسئلہ 487: کسی نے کنویں کے قریب راستے پر پتھر رکھ دیا اور کوئی شخص اس میں پھنس کرکنوئیں میں گر پڑا تو پتھر رکھنے والا ضامن ہوگا اور اگر کسی نے پتھر نہیں رکھا تھا بلکہ سیلاب وغیرہ سے بہہ کر پتھر وہاں آگیا تھا تو کنواں کھودنے والا ضامن ہوگا۔(8) (مبسوط ص 17، ج27 ، عالمگیری ص 45 ج 6، خانیہ علی الھندیہ ص 462 ج3 ، بحرالرائق، ص 349 ج8)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط ...إلخ ،ج6،ص45.
2 ۔المرجع السابق . 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔یعنی زمینی اشیاجیسے مٹی،پتھر وغیرہ۔ 5 ۔یعنی بھر دیا ۔ 6 ۔یعنی اس کے منہ پرکوئی چیز رکھ کربندکردیاتھا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص45.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 488: کسی شخص نے کنویں میں پتھر یا لوہا ڈال دیا۔ پھر اس میں کوئی گر پڑا اور پتھر یا لوہے سے ٹکرا کر مرگیا تو کنواں کھودنے والا ضامن ہوگا۔(1) (مبسوط ص18 ، ج27 ، عالمگیری ص 45 ج6 ، بحرالرائق، ص349 ج 8)
مسئلہ 489: راستے میں کسی نے کنواں کھودا۔ اس کے قریب کسی نے پانی چھڑک دیا جس سے پھسل کر کوئی شخص کنویں میں گر پڑا تو پانی چھڑکنے والا ضامن ہوگا۔ اور اگر پانی چھڑکنے والا کوئی نہیں تھا بلکہ بارش سے پھسلن ہوگئی تھی تو کنواں کھودنے والا ضامن ہوگا۔ (2)(عالمگیری ص 45 جلد 6)
مسئلہ 490: کسی شخص نے کسی کو کنویں میں ڈھکیل دیا تو دھکیلنے والا ضامن ہوگا کنواں اس کی ملک ہو یا نہ ہو۔ (3)(عالمگیری ص5 4 ج6 ، مبسوط ص19 ، ج27 ، بحرالرائق، ص 348 ج8)
مسئلہ 491: کسی نے راستے میں کنواں کھودا۔ اس میں گر کر کوئی ہلاک ہوگیا۔ کنواں کھودنے والا کہتا ہے کہ اس نے خودکُشی کی ہے اس لیے کچھ ضمان نہیں ہے اور مقتول کے ورثاکہتے ہیں کہ اس نے خودکُشی نہیں کی ہے بلکہ اتفاقیہ کنویں میں گر پڑا ہے۔ تو کنواں کھودنے والے کا قول معتبر ہے اور اس پر کوئی ضمان نہیں ہے۔(4) (عالمگیری ص 45 ج 6، مبسوط ص20 ج27 ، خانیہ علی الھندیہ ص 462 ج 3، بحرالرائق، ص 348 جلد8)
مسئلہ 492: کسی نے راستہ میں کنواں کھودا اس میں کوئی آدمی گر گیا مگر چوٹ نہیں آئی پھر کنویں سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کچھ اوپر کو چڑھنے کے بعد گر کر مرگیا تو کنواں کھودنے والے پر کوئی ضمان نہیں۔ اور اگر کنویں کی تہہ میں چلاگیا پھر اورکسی پتھرسے ٹکرا کر ہلاک ہوگیا تو اگر وہ پتھر زمین میں خلقۃً گڑا ہوا ہے(5)تو کنواں کھودنے والا ضامن نہیں ہے اور اگر کنواں کھودنے والے نے یہ پتھر کنویں میں رکھا تھا یا اصل جگہ سے اکھیڑ کر دوسری جگہ پر رکھ دیا تھا تو کنواں کھودنے والا ضامن ہوگا۔ (6)(عالمگیری ص46 ج6)
مسئلہ 493: کسی نے دوسرے شخص کے مکان سے ملحق جگہ پر(7)کنواں کھودنے کے لیے کسی کو مزدور رکھا اور مزدور خود یہ جانتا تھا کہ یہ جگہ مستاجرکی(8)نہیں ہے یا مستاجر نے مزدور کو بتا دیا تھا تو مزدور ضامن ہوگا اگر اس کنویں میں کوئی گر کر
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص45.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔ یعنی قدرتی طورپر زمین میں موجود ہے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص45.
7 ۔یعنی مکان سے ملی ہوئی جگہ پر۔ 8 ۔یعنی کنواں کھودوانے والے کی ۔
مر گیا اور اگر مزدور کو نہیں بتایا گیا اور وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ جگہ مستاجر کی نہیں ہے تو مستاجر ضامن ہوگیا۔اور اگر مستاجر نے اپنے احاطہ سے ملحقہ اپنی زمین میں کنواں کھودنے پر مزدور رکھا اور اس کو یہ بتایا کہ اس جگہ کنواں کھودنے کا مجھے حق حاصل ہے۔ پھر اس کنویں میں کوئی شخص گر کر ہلاک ہوگیا تو مستاجر ضامن ہوگا۔ اور اگر مستاجر نے یہ کہا تھا کہ یہ جگہ میری ہے مگر مجھے کنواں کھودنے کا حق نہیں ہے تو بھی مستاجر ہی ضامن ہوگا۔(1) (عالمگیری ص 46 ج6 ، درمختار و شامی ص524ج5)
مسئلہ 494: چار آدمیوں کو کسی نے کنواں کھودنے کے لیے مزدوری پر رکھا وہ کنواں کھود رہے تھے کہ ان پر کچھ حصہ گر پڑا جس سے ایک مزدور ہلاک ہوگیا تو باقی تین مزدور چوتھائی چوتھائی دیت کے ضامن ہوں گے۔ اور ایک چوتھائی حصہ ساقط ہو جائے گا۔ اور اگر ایک ہی مزدور کنواں کھود رہا تھا اس پر کنواں گر پڑا اور وہ مزدور مر گیا تو اس کا کوئی ضمان نہیں۔(2)(عالمگیری ص 46 جلد 6، مبسوط ص16 جلد27 ، درمختار و شامی ص525 جلد5 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 462 ج3)
مسئلہ 495: کسی شخص نے اپنی زمین میں نہر کھودی جس میں گر کر کوئی انسان یا جانور ہلاک ہوگیا تو یہ شخص ضامن نہیں ہوگا اور اگر پرائی زمین میں نہر کھودی تھی تو یہ ضامن ہوگا۔(3) (عالمگیری ص 47 ج 6، مبسوط ص 22 ج27 ، قاضی خان ص 460 ج3)
مسئلہ 496: کسی نے اپنی زمین میں نہر یا کنواں کھودا جس سے پڑوسی کی زمین سیم زدہ ہوگئی(4)۔ تو یہ دیکھا جائے گا کنواں کھودنے والے کی اپنی زمین عادتاً جتنا پانی برداشت کرسکتی تھی اتنا پانی اس نے دیا ہے یا اس سے زیادہ اگر زیادہ دیا ہے تو ضامن ہوگا۔ اور اگر عادۃً اتنا پانی برداشت کرسکتی تھی تو یہ ضامن نہیں ہوگا۔ اور اس کو کنویں کی جگہ تبدیل کرنے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔(5) (عالمگیری ص47 ج6 ، خانیہ علی الھندیہ، ص461 ج 3)
مسئلہ 497: اگر کسی نے اپنی زمین میں پانی دیا اور وہ اس کی زمین سے بہہ کر دوسرے کی زمین میں پہنچ گیا اور اس کی کسی چیز کو نقصان پہنچایا اور وہ پانی دیتے وقت یہ جانتا تھا کہ یہ پانی بہہ کر دوسرے کی زمین میں چلا جائے گا تو یہ ضامن ہوگا ورنہ نہیں۔ (6) (قاضی خاں علی الھندیہ ص461 ج3 ، عالمگیری ص 47 ج6)
مسئلہ 498: راستے پر کنواں بنا ہوا تھا۔ اس میں کوئی آدمی گر کر مرگیا۔ ایک شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ میں نے یہ کنواں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ ،ج6،ص46.
2 ۔المرجع السابق،ص46،47.
3 ۔المرجع السابق،ص47.
4 ۔یعنی ناقابل کاشت ہوگئی ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط... إلخ،ج6،ص47.
6 ۔المرجع السابق.
کھودا ہے تو اس کے ا س اقرار کی وجہ سے اس کے مال میں سے تین سال میں دیت دی جائے گی اس کے عاقلہ پر نہیں ہوگی۔ (1)(عالمگیری ص46 ج6)
مسئلہ 499: کسی نے دوسرے کی زمین میں کنواں کھودا۔ اس میں گر کر کوئی شخص ہلاک ہوگیا۔ زمین کا مالک کہتا ہے کہ میں نے اس کو کنواں کھودنے کا حکم دیا تھا مگر مقتول کے ورثاء کہتے ہیں کہ اس نے حکم نہیں دیا تھا تو زمین کے مالک کی بات مان لی جائے گی اور کسی پر ضمان لازم نہیں ہوا۔(2) (مبسوط ص 22، ج 27، عالمگیری ص46 ج6 )
مسئلہ 500: کسی نے اپنی ملک میں کنواں کھودا ۔اس میں کوئی آدمی یا جانور گرا اس کے بعد دوسرا شخص گرا۔ اس کے گرنے سے وہ آدمی یا جانور ہلاک ہوگیا۔ تو اوپر گرنے والا ہلاکت کا ضامن ہوگا اور اگر کنواں راستے میں امام کی اجازت کے بغیر کھودا گیا تھا تو کنواں کھودنے والا دونوں کے نقصان کا ضامن ہوگا۔ (3)(عالمگیری ص46 جلد6 ، خانیہ علی الھندیہ ص 361 ج3)
مسئلہ 501: کسی نے دوسرے کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر گڑھا کھودا۔ اس میں کسی کا گدھا گر کر مر گیا تو کھودنے والا ضامن ہوگا۔(4) (عالمگیری از محیط سرخسی ص 46 ج 6)
مسئلہ 502: کسی نے راستے میں کنواں کھودا اس میں کوئی شخص گر گیا اور اس کا ہاتھ کٹ گیا۔ پھر کنویں سے نکلا تو دو شخصوں نے اس کا سر پھاڑ دیا جس سے وہ بیمار ہو کر پڑا رہا پھر مرگیا تو اس کی دیت تینوں پر تقسیم ہو جائے گی۔(5) (مبسوط ص 18 جلد27 ، عالمگیری ص 46 جلد 6)
مسئلہ 503: کسی نے کنواں کھودنے کے لیے کسی کو مزدور رکھا۔ مزدور نے کنواں کھودا۔ اس کے بعد کوئی آدمی اس میں گر کر ہلاک ہوگیا۔ یہ کنواں اگر مسلمانوں کے ایسے عام راستے پر کھودا گیا تھا جس کو ہر شخص عام راستہ خیال کرتا تھا تو مزدور ضامن ہوگا۔ مستاجر نے اس کو یہ بتایا ہو کہ یہ عام راستہ ہے یا نہ بتایا ہو اسی طرح غیر معروف راستہ پر اگر کنواں کھودا گیا اور مستاجر نے مزدور کو یہ بتا دیا تھا کہ یہ عام مسلمانوں کا راستہ ہے تو بھی مزدور ضامن ہوگا۔ اور اگر مزدور کو یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ عام راستہ مسلمانوں کا ہے تو مستاجر ضامن ہوگا۔(6) (عالمگیری ص46 ج 6)
مسئلہ 504: کسی نے اپنی زمین میں پانی دیا۔ وہ پڑوسی کی زمین میں پہنچ گیا تو اگر پانی دیا ہی اس طرح پر ہے کہ پانی اس کی زمین میں ٹھیرنے کے بجائے پڑوسی کی زمین میں جمع ہو جائے تو ضامن ہوگا۔ اور اگر اس کی اپنی زمین میں ٹھیرنے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط...إلخ،ج6،ص46.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
کے بعد فالتو پانی پڑوسی کی زمین میں چلا گیا اور پڑوسی نے پانی دینے سے پہلے اس سے یہ کہا تھا کہ تم اپنا بند مضبوط بناؤ اور اس نے اس کے کہنے پر عمل نہیں کیا تو ضامن ہوگااور اگر پڑوسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا تھا تو ضامن نہیں ہوگا۔ ہاں اگر اس کی زمین بلند تھی اور پڑوسی کی زمین نیچی اور یہ جانتا تھا کہ اپنی زمین میں پانی دینے سے پڑوسی کی زمین میں پانی چلا جائے گا تو ضامن ہوگا اور اس کو یہ حکم دیا جائے گا کہ مینڈھیں باندھ کر پانی دے۔(1) (عالمگیری ص 47 ج 6، قاضی خان علی الھندیہ، ص 461 ج3)
مسئلہ 505: کسی نے اپنی زمین میں پانی دیا اور اس کی اپنی زمین میں چوہوں وغیرہ کے بل تھے اور یہ ان کو جانتا تھا اور ان کو بند نہیں کیا تھا۔ ان سوراخوں کی وجہ سے پانی پڑوسی کی زمین میں چلا گیا اور اس کا کچھ نقصان ہوا تو یہ ضامن ہوگا اور اگر اس کو سوراخوں کا علم نہ تھا تو ضامن نہیں ہوگا۔(2) (عالمگیری ص 47 ج 6، قاضی خان علی الھندیہ، ص 461 ج3)
مسئلہ 506: کسی نے عام نہر سے اپنی زمین کو سیراب کیا اور اس نہر سے چھوٹی چھوٹی نالیاں نکل کر دوسروں کی زمینوں پر جارہی تھیں۔ ان نالیوں کے دہانے کھلے ہوئے تھے۔ اس کے پانی دینے کی وجہ سے ان نالیوں میں پانی چلا گیا تو دوسروں کی زمین کے نقصان کا یہ ضامن ہوگا۔ (3)(عالمگیری ص 47 ج 6، قاضی خان علی الھندیہ، ص 461 ج3)
مسئلہ 507: بہائم کی جنایتوں کی تین صورتیں ہیں :
(1) جس جگہ پر جنایت واقع ہوئی وہ جگہ جانور کے مالک کی ملکیت ہے۔
(2) کسی دوسرے شخص کی ملکیت ہے۔
(3) وہ جگہ شاہراہ عام ہے۔(4) (عالمگیری ص 50ج6 ، عنایہ علی الفتح، ص345 ج 8)
پہلی صورت میں اگر جانور کا مالک جانور کے ساتھ نہ ہو تو وہ کسی نقصان کا ضامن نہیں ہوگا خواہ جانور کھڑا ہو یا چل رہا ہو اور ہاتھ پیر سے کسی کو کچل دے یا دُم یا پیر سے کسی کو نقصان پہنچائے یا کاٹ لے اور اگر جانور کا مالک اس کی رسی پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا یا پیچھے سے ہانک رہا تھاجب بھی مذکورہ بالا صورت میں ضامن نہیں ہے۔(5) (عالمگیری ص 50ج6 ، درمختار و شامی ص 530ج5 ، تبیین الحقائق ص 149 ج 6، بحرالرائق ص 357 ج8 ، عنایہ علی الفتح ص345 ج8 ، مبسوط ص5 ج27)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الحادی عشرفی جنایۃ الحائط...إلخ ،ج6،ص47.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی عشرفی جنایۃ البھائم...إلخ،ج6،ص49.
5 ۔المرجع السابق،ص50.
مسئلہ 508: اگر جانور کا مالک اپنی ملک میں سوار ہو کر چلا رہا تھا اور جانور نے کسی کو کچل کر ہلاک کر ڈالا تو مالک کے عاقلہ پر دیت ہے اور مالک پر کفارہ ہے اور وراثت سے بھی مالک محروم ہوگا۔(1) (عالمگیری ص 50ج6 ، درمختار و شامی ص530 ج5 ، تبیین الحقائق ص 149ج 6، بحرالرائق ص 457 ج 8، عنایہ علی الفتح القدیر ص 345 ج 8، مبسوط ص 5ج27)
مسئلہ 509: اگر مالک اپنی مِلک میں سوار ہو کر جانور کو چلا رہا تھا اور جانور نے کسی کو کاٹ لیا یا لات ماری یا دم مار دی تو مالک پر ضمان نہیں ہے۔(2) (عالمگیری ص50 ج6، درمختار و شامی ص530ج5، تبیین الحقائق ص 149 ج6، بحرالرائق ص357 ج8 ،عنایہ علی فتح القدیر ص345 ج8)
مسئلہ 510: دوسری صورت یعنی اگر جنایت کسی دوسرے شخص کی زمین میں ہوئی اور یہ جانور مالک کے داخل کئے بغیر رسی تڑا کر اس کی زمین میں داخل ہوگیا تو مالک ضامن نہیں ہوگا۔ اور اگر مالک نے خود غیر کی زمین میں جانور کو داخل کیا تھا تو ہر صورت میں مالک ضامن ہوگا۔ خواہ جانور کھڑا ہو یا چل رہا ہو۔ مالک اس پر سوار ہو یا سوار نہ ہو۔ رسی پکڑ کر چلا رہا ہو یا پیچھے سے ہانک رہا ہو یہ حکم اس صورت میں ہے کہ مالک زمین کی اجازت کے بغیر جانور کے مالک نے اس زمین میں جانور کو داخل کیا ہو اور اگر صاحب زمین کی اجازت سے جانور کو داخل کیا تھا تو اس کا حکم وہی ہے جو اپنی زمین کا ہے۔(3) (عالمگیری ص 50ج6 ، تبیین الحقائق ص149 ج6 ، درمختار و شامی ص 530ج5 ، بحرالرائق ص 357 ج8، عنایہ علی فتح القدیر ص 345 ج 8)
مسئلہ 511: جانور کے مالک نے شارع عام پر جانور کو کھڑا کر دیا تھا اور اس نے اسی جگہ کوئی نقصان کر دیا توسب صورتوں میں نقصان کا ضامن ہوگا مگر پیشاب یا لید کرنے کے لیے کھڑا کیا تھا تو ضمان نہیں۔ (4) (عالمگیری ص50ج6 ، تبیین الحقائق ص 149 ج6 ، مبسوط ص5 ج27 ، بحرالرائق ص357 ج8 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 455 ج 3، ہدایہ ص 610 ج4، فتح القدیر، حاشیہ چلپی ص 35 جلد 8، بدائع صنائع ص 273، ج7)
مسئلہ 512: مالک نے جانور کو راستہ پر چھوڑ دیا اور مالک اس کے ساتھ نہیں ہے تو جب تک وہ جانور سیدھا چلتا رہا اورکسی طرف مڑا نہیں تو مالک نقصان کا ضامن ہوگا اور اگر داہنے بائیں مڑ گیا اور راستہ بھی صرف اسی جانب تھا تب بھی مالک ضامن ہوگا اور اگر دوراہے سے کسی طرف مڑا اور اس کے بعد جنایت واقع ہوئی تو مالک ضامن نہیں ہوگا۔(5)(عالمگیری ص 50ج 6، بحرالرائق ص 362 ج8 ، تبیین الحقائق ص 152، ج6 ، بدائع صنائع ص272ج7)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی عشرفی جنایۃ البھائم...إلخ،ج6،ص50.
2 ۔المرجع السابق . 3 ۔المرجع السابق .
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 513: مالک نے جانور کو شارع عام(1)پر چھوڑ دیا۔ جانور آگے جاکر کچھ دیر رکا اور پھر چل پڑا تو ٹھیرنے کے بعد جب چلا اور اس سے کوئی جنایت سرزد ہوئی تو مالک نقصان کا ضامن نہیں ہوگا۔ (2)(عالمگیری ص 50ج6 ، بحرالرائق ص 362 ج 8، تبیین الحقائق، ص152 ، ج 6)
مسئلہ 514: مالک نے راستے پر جانور چھوڑ دیا اور کسی شخص نے اس جانور کو لوٹانے کی کوشش کی مگر جانور نہ لوٹا اور اسی طرف چلتا رہا جس طرف مالک نے چلا کر چھوڑ دیا تھاپھر اس سے جنایت سرزد ہوئی تو اس نقصان کا ضامن جانور کامالک ہوگا اور اگر روکنے والے کے روکنے سے جانور کچھ دیر ٹھیر کر پھر چلا اور اس سے کوئی نقصان ہواتو کوئی ضامن نہیں ہوگا اور اگر روکنے والے کے روکنے سے پلٹا مگر ٹھیرا نہیں تو نقصان کا ضامن لوٹانے والا ہوگا۔(3) (عالمگیری ص50 ج6)
مسئلہ 515: جانور خود رسی تڑا کر شارع عام پر دوڑنے لگا تو اس کے کسی نقصان کا ضامن مالک نہیں ہوگا۔(4)
(عالمگیری ص50 ج8 ، بحرالرائق ص 362 ج8 ، بدائع صنائع ص 273، ج 7)
مسئلہ 516: شارع عام پر چلنے والا سوار اپنی سواری سے ہونے والے نقصان کا ضامن ہوگا۔ سوائے اس نقصان کے جولات مارنے یا دم مارنے سے ہو۔ رسی پکڑ کر آگے چلنے والے کا بھی یہی حکم ہے۔ ہاں کچل دینے کی صورت میں راکب پر کفارہ اور حرمان میراث(5)بھی ہے لیکن قائد(6)پر نہیں ہے۔(7) (عالمگیری ص50 ج6 ، درمختار و شامی ص 530جلد 5،ہدایہ ص610 ج 4، بحرالرائق ص357 ج8 ، تبیین الحقائق ص 149، ج6 ، بدائع صنائع ص 272، ج7)
مسئلہ 517: کسی جانور پر دو آدمی سوار ہیں ایک رسی پکڑ کر آگے سے کھینچ رہا ہے اور ایک پیچھے سے ہانک رہا ہے اور اس جانور نے کسی کو کچل کر ہلاک کر دیا تو چاروں پر دیت برابر تقسیم ہوگی اور دونوں سواروں پر کفارہ بھی ہے۔(8) (عالمگیری بحوالہ محیط ص 50ج6 ، بحرالرائق، ص 359 ج8)
1 ۔لوگوں کے آنے جانے کا عام راستہ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی عشرفی جنایۃ البھائم...إلخ،ج6،ص50.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی عشر فی جنایۃ البھائم...إلخ،ج6،ص50.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔یعنی وراثت سے محرومی۔ 6 ۔آگے سے جانور کو چلانے والا،نکیل پکڑ کر چلانے والا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی عشرفی جنایۃ البھائم...إلخ،ج6،ص50.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 518: جانور نے شارع عام پر چلتے ہوئے گوبر یا پیشاب کر دیا اس سے پھسل کر کوئی آدمی ہلاک ہوگیا تو کوئی ضمان نہیں ہے۔ کھڑے ہوئے اگر گوبر یا پیشاب کیا تب بھی یہی حکم ہے بشرطیکہ جانور پیشاب یا لید کے لیے کھڑا کیا تھا۔ اور اگر کسی دوسرے کام سے کھڑا کیا تھا اور اس نے پیشاب یا لید کر دی تو اس کے نقصان کا ضامن ہوگا۔ (1)(عالمگیری ص 50ج6 ، درمختار و شامی ص530 ج5 ، بحرالرائق ص 358 ج8)
مسئلہ 519: جانور کے چلنے سے کوئی کنکری یا گٹھلی یا گرد و غبار اڑ کر کسی کی آنکھ میں لگا،یاکیچڑ وغیرہ نے کسی کے کپڑے خراب کر دیئے تو اس کا ضمان نہیں ہے اور اگر بڑا پتھر اچھل کر کسی کے لگا تو نقصان کا ضامن ہوگا۔ یہ حکم سوار اور قائد و سائق (یعنی ہانکنے والا)سب کے لیے ہے۔(2)(عالمگیری ص 50ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 455 ج 3، درمختار و شامی ص 530ج 5 ، بحرالرائق ص 357 ج8 ، تبیین الحقائق، ص150 ، ج6)
مسئلہ 520: کسی شخص نے راستہ میں پتھر وغیرہ کوئی چیز رکھ دی تھی یا پانی چھڑک دیا تھا کوئی سوار ادھر سے گزرا۔ اس کے جانور نے ٹھوکر کھائی یا پھسل گیا اور کسی آدمی پر گر پڑا جس سے وہ شخص مرگیا تو اگر سوار نے دیدہ و دانستہ(3) وہاں سے اپنے جانور کو گزارا تو سوار ضامن ہوگا اور اگر سوار کو ان باتوں کا علم نہ تھا تو پانی چھڑکنے والا یا پتھر رکھنے والا ضامن ہوگا۔(4) (عالمگیری ص 50ج6 ، بحرالرائق ص 359 ج8 ، مبسوط ص4 ج27 ، بدائع صنائع ص 272، ج7)
مسئلہ 521: اگر کسی شخص نے مسجد کے دروازے پر اپنا جانور کھڑا کر دیا تھا۔ اس نے کسی کو لات مار دی تو کھڑا کرنے والا ضامن ہے اور اگر مسجد کے دروازے کے قریب جانور کے باندھنے کی کوئی جگہ مقرر ہے اس جگہ کسی نے اپنا جانور باندھ دیا یا کھڑا کر دیا تھا تو اس کے کسی نقصان کا ضمان نہیں ہے لیکن اگر اس جگہ کوئی شخص اپنے جانور کو، سوار ہو کر یا ہانک کر یا آگے سے کھینچ کر چلا رہا تھا تو چلانے والا نقصان کا ضامن ہوگا۔(5) (عالمگیری ص 50ج 6، درمختار و شامی ص530ج5 ، بحرالرائق ص357 ج8 ، بدائع صنائع ص272 ج7)
مسئلہ 522: نخاسہ(6)میں کسی نے اپنے جانور کو کھڑا کیا اس نے کسی کو کوئی نقصان پہنچایا تو مالک ضامن
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی عشرفی جنایۃ البھائم...إلخ،ج6،ص50.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی جان بوجھ کر۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی عشرفی جنایۃ البھائم...إلخ،ج6،ص50.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔یعنی مویشی منڈی۔
نہیں ہوگا۔ (1)(عالمگیری ص51 ج6 ، بحرالرائق ص 357 ج8 ، بدائع صنائع ص 272، ج7)
مسئلہ 523: کسی نے میدان میں اپنا جانور کھڑا کیا تو اس کے نقصان کا ضامن کھڑا کرنے والا نہیں ہوگا لیکن میدان میں لوگوں کے چلنے سے جو راستہ بن جاتا ہے اس پر اگر کھڑا کیا تو ضامن ہوگا۔(2) (عالمگیری ص 50ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص456 ج 3، شامی ص 530ج5 ، بدائع صنائع ص 272ج7)
مسئلہ 524: شارع عام پر اگر کسی نے اپنا جانور بغیر باندھے کھڑا کر دیا جانور نے وہاں سے ہٹ کر کوئی نقصان کر دیا تو ضمان نہیں ہے۔(3) (عالمگیری ص 51ج 6)
مسئلہ525: کسی نے عام راستے میں جانور باندھ دیا اگر اس نے رسی تڑا کر اپنی جگہ سے ہٹ کر کوئی نقصان پہنچایا تو ضمان نہیں ہے اور اگر رسی نہیں تڑائی اور کوئی نقصان کیا تو ضمان ہے۔ (4)(عالمگیری ص51 جلد6 )
مسئلہ526: جانور نے سوار سے سرکشی کی اور سوار نے اسے مارا یا لگام کھینچی اور جانور نے پیر یا دُم سے کسی کو مارا توسوار پر ضمان نہیں ہے۔ اسی طرح اگر سوار گر پڑا اور جانور بھاگ گیا اور راستے میں کسی کو مار ڈالا تب بھی سوار پر کچھ نہیں ہے۔(5)(عالمگیری ص 51ج6)
مسئلہ 527: کسی نے کرائے پر گدھا لیا اور اس کو اہل مجلس کے قریب راستہ پر کھڑا کر دیا اور اہل مجلس سے سلام کلام کیا پھر اس کو چلانے کے لیے مارا یا کوئی چیز اس کے چبھو دی یا اس کو ہانکا اور اس گدھے نے کسی کو لات مار دی تو سوار ضامن ہوگا۔(6)(عالمگیری ص 51ج6)
مسئلہ 528: سوار اپنی سواری پر جارہا تھا کسی نے سواری کو کوئی چیز چبھو دی اس نے سوار کو گرا دیا تو اگر یہ چبھونا سوار کی اجازت سے تھا تو چبھونے والا کسی نقصان کا ضامن نہیں ہے اور اگر بغیر اجازت سوار کوئی چیز چبھو دی تو چبھونے والا ضامن ہوگا۔ اور اگر سواری نے چبھونے والے کو ہلاک کر دیا تو اس کا خون رائیگاں جائے گا۔ (7)(عالمگیری ص 51ج 6، قاضی خان علی الھندیہ ص 456 ج3 ، درمختار و شامی ص534 ج5 ، فتح القدیر و عنایہ ص310 ج 8، ہدایہ ص 615 ج 4، بحرالرائق ص 357 ج8 ، مبسوط ص2 ج27)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی عشر فی جنایۃ البھائم...إلخ،ج6،ص51.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 529: سواری کو سوار کی اجازت کے بغیر کسی نے مارا یا کوئی چیز چبھو دی جس کی وجہ سے سواری نے ہاتھ یا پیر یا جسم کے کسی حصے سے کسی شخص کو فوراً کچل کر ہلاک کر دیا تو چبھونے اور مارنے والا ضامن ہوگا سوار ضامن نہیں ہوگا اور اگر سوار کی اجازت سے ایسا کیا اور سواری نے فورا کسی کو کچل کر ہلاک کر دیا تو سوار اور چبھونے والے دونوں کے عاقلہ پر دیت لازم ہے اور اگر سواری نے کسی کو لات یا دُم مار دی تو اس کا ضمان نہیں ہے۔ (1)(قاضی خان علی الھندیہ ص456 ج3 ، درمختار و شامی ص 534، ج5 ، عالمگیری ص 51 ج 6، فتح القدیر و عنایہ ص 54ج8 ، ہدایہ ص 615ج4 ، بحرالرائق ص 357، ج 8، مبسوط ص2 ج27)
مسئلہ 530: سوار کسی غیر کی ملک میں اپنی سواری کو روکے کھڑا تھا اس نے کسی شخص کو حکم دیا کہ اس کو کوئی چیز چبھو دو۔ اس نے چبھو دی اور اس کی وجہ سے سواری نے کسی کو لات مار دی تو دونوں ضامن ہوں گے اور اگر بغیر اجازت سوار ایسا کیا تھا تو چبھونے والا ضامن ہوگا مگر اس صورت میں کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ (2)(عالمگیری از محیط ص 51 ج 6، شامی ص535 ، ج5 ، بحرالرائق ص 357ج 8)
مسئلہ 531: کوئی شخص جانور کو رسی پکڑ کر کھینچ رہا تھا یا پیچھے سے ہانک رہا تھا کہ کسی نے جانور کے کوئی چیز چبھو دی اور اس کی وجہ سے جانور نے بدک کر چلانے والے کے ہاتھ سے رسی چھڑا لی اور بھاگ پڑا اور فوراً کسی کا کچھ نقصان کر دیا تو چبھونے والا ضامن ہوگا۔(3)(عالمگیری ص 51 ج 6، شامی ص 535 ج 5، ہدایہ ص 617ج4 ، مبسوط ص2 ، ج27 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 456ج 3)
مسئلہ 532: کسی جانور کو ایک آدمی آگے سے کھینچ رہا تھا اور دوسرا پیچھے سے چلا رہا تھا۔ ان دونوں کی اجازت کے بغیر کسی اور شخص نے جانور کو کوئی چیز چبھو دی جس کی وجہ سے جانور نے کسی آدمی کے لات مار دی تو چبھونے والا ضامن ہوگا۔ اور اگر کسی ایک کی اجازت سے ایسا کیا تھا تو کسی پر ضمان نہیں ہے۔(4) (عالمگیری ص 51 جلد6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص456 ج 3، مبسوط ص2 ج27)
مسئلہ 533: راستے میں کسی شخص نے کوئی چیز نصب کر دی تھی کسی کا جانور وہاں سے گزرا اور اس چیز کے چبھنے کی وجہ سے کسی کو لات مار کر ہلاک کر دیا تو نصب کرنے والا ضامن ہوگا۔ (5)(عالمگیری ص 52 ج6 ، شامی ص535 ج5 ، ہدایہ ص617 ج4 ، مبسوط ص 3ج 27)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی، عشر فی جنایۃ البھائم ... إلخ، ج 6،ص51.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، باب جنایۃ البھائم...إلخ،ج2،ص399.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الثانی عشر فی جنایۃ البھائم ...إلخ،ج6،ص51.
3 ۔المرجع السابق . 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق، ص52.
مسئلہ 534: کسی سوار نے اپنی سواری کو راستہ میں روک رکھا تھا پھر اس کے حکم سے کسی نے سواری کو کوئی چیز چبھوئی جس کی وجہ سے سواری نے اسی جگہ کسی کو ہلاک کر دیا تو دونوں ضامن ہوں گے۔ اور اگر سوار کو گرا کر ہلاک کر دیا تو اس کا خون رائیگاں جائے گا اور اگر اس چبھونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہٹ کر کسی کو ہلاک کر دیا تو صرف چبھونے والا ضامن ہوگا۔ (1)(عالمگیری ص 52 ج6 ، شامی ص 535ج5 ، بحرالرائق ص 358 ج8 )
مسئلہ 535: کوئی سوار اپنی سواری کو راستہ پر روکے کھڑا تھا پھر اس کے حکم سے کسی نے اس کو کوئی چیز چبھو دی جس کی وجہ سے سواری نے اسی جگہ پر چبھونے والے کو اور ایک دوسرے شخص کو ہلاک کر دیا تو اجنبی کی دیت سوار اور چبھونے والے دونوں پر واجب الادا ہوگی اور چبھونے والے کی آدھی دیت سوار پر ہے۔(2)(عالمگیری ص52ج6،شامی ص535ج5، بحرالرائق ص358 ج8 )
مسئلہ 536: کسی سوار کی سواری رک کر راستہ میں کھڑی ہوگئی، سوار نے یا کسی دوسرے شخص نے اس کو چلانے کے لیے کوئی چیز چبھوئی اور اس کی وجہ سے سواری نے کسی کے لات مار دی تو کوئی ضامن نہیں ہے۔(3) (عالمگیری ص 52ج6 ، شامی ص 535 ،ج5 ، بحرالرائق ص 358 ج 8)
مسئلہ 537: کسی سوار نے اپنی سواری کو راستہ پر روک رکھا تھا،ایک دوسرا شخص بھی اس پر سوار ہوگیا،اس کی وجہ سے کسی کو جانور نے لات مار دی اور ہلاک کر دیا تو دونوں نصف نصف دیت کے ضامن ہوں گے۔(3) (عالمگیری ص52 ج 6)
مسئلہ 538: کسی نے دوسرے کے جانور کو راستے پر باندھ دیا اور خود غائب ہوگیا، جانور کے مالک نے کسی کو حکم دیا کہ اس کو کوئی چیز چبھو دے اور اس نے چبھو دی جس کی وجہ سے جانور نے حکم دینے والے کو یا اور کسی اجنبی کو لات مار کر ہلاک کر دیا تو اس کی دیت چبھونے والے پر ہے اور اگر جانور کو کھڑا کرنے والے ہی نے چبھونے کا حکم دیا تھا اور جانور نے کسی کو مار دیا تو چبھونے والے اور حکم دینے والے دونوں پر نصف نصف دیت ہے۔ (4)(عالمگیری ص 52 ج 6، بحرالرائق ص358 ، ج 8)
مسئلہ 539: کسی شخص نے راستہ پر پتھر رکھ دیا تھا اس سے بدک کر جانور جو نقصان کریگا اس کے احکام وہی ہیں جو چبھونے والے کے ہیں، یعنی پتھر رکھنے والا چبھونے والے کے حکم میں ہے۔(5) (عالمگیری ص 52 ج 6، مبسوط ص4 ج 27)
مسئلہ 540: کسی نے اپنا گدھا چھوڑ دیا، اس نے کسی کی کھیتی کو نقصان پہنچایا تو اگر مالک نے اس کو خود کھیت میں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثانی عشر فی جنایۃ البھائم... إلخ،ج6،ص52.
2 ۔المرجع السابق . 3 ۔المرجع السابق .
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
لے جاکر چھوڑا ہے تو مالک ضامن ہوگا اور اگر مالک ساتھ نہیں گیا لیکن گدھا کھولنے کے فوراً بعد سیدھا چلا گیا۔ داہنے بائیں مڑا نہیں یا مڑا تو صرف اس وجہ سے کہ راستہ صرف اسی طرف مڑتا تھا تب بھی مالک ضامن ہوگا۔ اور اگر کھولنے کے بعد کچھ دیر کھڑا رہا پھر کھیت میں گیا۔ یا اپنی مرضی سے کسی طرف مڑ کر کھیت میں چلا گیا تو مالک نقصان کا ضامن نہیں ہے۔ (1)(عالمگیری ص 52 ج 6، قاضی خان علی الھندیہ ص 455ج 3، شامی و درمختار ص 537 ج 5، ہدایہ ص 614ج4 ، عنایہ ص350 ج8)
مسئلہ 541: اگر کسی نے جانور کو آبادی سے باہر کر کے اپنے کھیت کی طرف ہانک دیا۔ راستہ میں اس جانور نے کسی دوسرے کی زراعت کو نقصان پہنچایا تو اگر راستہ صرف یہی تھا تو ضامن ہوگا اور اگر چند راستے تھے تو ضامن نہیں ہوگا۔(2) (عالمگیری ص 52 ج 6)
مسئلہ 542: باڑہ سے نکل کر جانور خود باہر چلا گیا یا مالک نے چراگاہ میں چھوڑا تھا مگر وہ کسی اور کے کھیت میں گھس گیا اور کوئی نقصان کر دیا تو مالک ضامن نہیں ہوگا۔(3) (عالمگیری ص 52 ج 6)
مسئلہ 543: پالتو بلی اور کتا اگر کسی کے مال کا نقصان کر دے تو مالک ضامن نہیں ہے۔ شکاری پرندہ کا بھی حکم یہی ہے اگرچہ چھوڑنے کے فورا بعد کوئی نقصان کر دے۔(4) (عالمگیری از سراج الوہاج ص 52ج6 ، درمختار و شامی ص534 جلد 5، بحرالرائق ص 359ج 8، بدائع صنائع ص 273 ج 7)
مسئلہ 544 (الف):اگر کسی شخص نے اپنا کتا کسی کی بکری پر چھوڑ دیا مگر کتا کچھ دیر ٹھہر کر اس پر حملہ آور ہوا اور بکری کو ہلاک کر دیا تو ضمان نہیں ہے۔ اگر چھوڑنے کے فوراً بعد حملہ کیا تو ضامن ہوگا۔(5) (عالمگیری ص52 ، ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 455، ج 3)
مسئلہ 545 (ب): اگر کسی آدمی پر کتے کو چھوڑ دیا اور اس نے فوراً اس کو قتل کر دیا یا اس کے کپڑے پھاڑ دیئے یا کاٹ کھایا تو چھوڑنے والا ضامن ہوگا۔ (6) (عالمگیری ص52 ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 455، ج 3)
مسئلہ546: کسی کا کٹکھنا کتا ہے(7)اور گزرنے والوں کو ایذا دیتا ہے تو اہل محلہ کو حق ہے کہ اس کو مار دیں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثانی عشر فی جنایۃ البھائم ...إلخ، ج 6، ص52.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، باب جنایۃ البھائم...إلخ،ج2،ص398.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثانی عشر فی جنایۃ البھائم ...إلخ، ج 6، ص52.
3 ۔المرجع السابق . 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔یعنی کاٹنے والا کتا ہے۔
اوراگر مالک کو تنبیہ کرنے کے بعد اس کتے نے کسی کا کچھ نقصان کیا تو مالک ضامن ہوگاورنہ نہیں۔(1)(عالمگیری ص 52 ج 6، بحرالرائق ص 363ج 8، تبیین الحقائق ص 152 ج 6)
مسئلہ547: کسی نے کتا جانورپر (2)چھوڑا اور مالک ساتھ نہ گیا۔ کتے نے کسی انسان کو ہلاک کر دیا تو مالک ضامن نہیں ہوگا۔(3) (عالمگیری ص 52ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 455 ج 3، بحرالرائق ص 362ج 8)
مسئلہ 548: کسی نے اپنے مست اونٹ کو دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت داخل کر دیا اور اس گھر میں دوسرا اونٹ بھی تھا جس کو مست اونٹ نے مار ڈالا تو ضامن ہوگا اور اگر صاحب خانہ کی اجازت سے داخل کیا تھا تو ضمان نہیں ہے۔ (4)(عالمگیری ص 52، ج6 ، شامی ص 537 ج 5)
مسئلہ 549: اونٹوں کی قطار کو آگے سے چلانے والا پوری قطار کے نقصان کا ضامن ہوگا۔ خواہ کتنی ہی بڑی قطار ہوجب کہ پیچھے سے کوئی ہانکنے والا نہ ہو اور اگر پیچھے سے ہانکنے والا بھی ہو تو دونوں ضامن ہوں گے اور اگر قطار کے درمیان میں تیسرا ہانکنے والا بھی ہے جو قطار کے برابر برابر چل کر ہانک رہا ہے اور کسی کی نکیل کو پکڑے ہوئے نہیں ہے تو تینوں ضامن ہوں گے۔ (5)(عالمگیری ص 53ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 456 ج3 ، درمختار و شامی ص533 ج5 ، ہدایہ ص613 ج4 ، بحرالرائق ص359 ج8 ، مبسوط ص 3ج 27، تبیین الحقائق ص151 ج6)
مسئلہ 550: اگر ایک آدمی نکیل پکڑ کر قطار کے آگے چل رہا ہے اور دوسرا قطار کے درمیان میں کسی اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا ہے تو درمیان والے سے پیچھے کے اونٹوں کے نقصان کا ضمان صرف درمیان والے پر ہے اور درمیان والے سے آگے کے اونٹوں کے نقصان کا ضمان دونوں پر ہے اور اگر یہ دونوں جگہ بدلتے رہتے ہیں یعنی کبھی درمیان والا آگے اور آگے والا درمیان میں آجاتے ہیں تو ہر صورت میں نقصان کا ضمان دونوں پر ہوگا۔(6) (عالمگیری ص 53 ج 6، درمختار و شامی ص 533 ج 5، مبسوط ص3 ج27)
مسئلہ 551: ایک شخص قطار کے آگے آگے نکیل پکڑ کر چل رہا ہے اور دوسرا قطار کے درمیان میں نکیل پکڑ کر اپنے پیچھے والے اونٹوں کو چلا رہا ہے مگر اپنے آگے والوں کو ہانک نہیں رہا ہے تو درمیان والا پچھلے اونٹوں کے نقصان کا ضامن ہے اور اس سے آگے کے اونٹوں کے نقصان کا ضمان اگلے نکیل پکڑنے والے پر ہے۔ (7)(عالمگیری ص 53 ج 6، بحرالرائق ص 359ج 8)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثانی عشر فی جنایۃ البھائم ... إلخ، ج 6، ص52.
2 ۔یعنی شکارپر۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثانی عشر فی جنایۃ البھائم ... إلخ، ج 6، ص52.
4 ۔المرجع السابق،52،53. 5 ۔المرجع السابق ص53. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 552: قطار کے درمیان میں کسی اونٹ پر کوئی شخص سوار تھا لیکن کسی کو ہانک نہیں رہا تھا تو اپنے سے اگلے اونٹوں کے ضمان میں وہ شریک نہیں ہوگا۔ لیکن اپنی سواری اور اپنے سے پچھلے اونٹوں کے نقصان میں شریک ہوگا جب کہ پچھلے اونٹ کی نکیل اس کے ہاتھ میں ہو۔ اور اگر یہ اپنے اونٹ پر سو رہا تھا یا صرف بیٹھا ہوا تھا اور نہ کسی اونٹ کو ہانک رہا تھا نہ کھینچ رہا تھا تو اپنے سے پچھلے اونٹوں کے نقصان کا بھی ضامن نہیں ہوگا۔ صرف اپنی سواری کے اونٹ سے ہونے والے نقصان کے ضمان میں شریک ہوگا۔(1) (عالمگیری ص 53 ج 6، بحرالرائق ص 359 ج 8، مبسوط ص 4 ج 27)
مسئلہ 553: ایک شخص قطار کے آگے نکیل پکڑ کر چل رہا ہے اور دوسرا پیچھے سے ہانک رہا ہے اور تیسرا آدمی درمیان میں کسی اونٹ پر سوار ہے اور سوار کے اونٹ نے کسی انسان کو ہلاک کر دیا تو تینوں ضامن ہوں گے اور اسی طرح راکب سے پیچھے کے اونٹ نے اگر کسی کو ہلاک کر دیا تو بھی تینوں ضامن ہوں گے اور اگر سوار سے آگے کے کسی اونٹ نے کسی کو ہلاک کر دیا تو صرف ہانکنے والے اور آگے سے چلانے والے پر ضمان ہے سوار پر نہیں۔(2) (عالمگیری از محیط ص 53ج6)
مسئلہ 554: ایک شخص اونٹوں کی قطار کو آگے سے چلا رہا تھا یا روکے کھڑا تھاکہ کسی نے اپنے اونٹ کی نکیل کو اس قطار میں اس کی اطلاع کے بغیر باندھ دیا اور اس اونٹ نے کسی شخص کو ہلاک کر دیا تو اس کی دیت آگے سے چلانے والے کے عاقلہ پر ہوگی۔ اور اس کے عاقلہ باندھنے والے کے عاقلہ سے واپس لیں گے اور اگر آگے والے کو باندھنے کا علم تھا تو باندھنے والے کے عاقلہ سے دیت واپس نہیں لیں گے۔ (3)(عالمگیری ص 53ج6 ، قاضی خاں علی الھندیہ ص 456 ج3 ، درمختار و شامی ص 533 ج 5، ہدایہ ص612 ج4 ، عنایہ ص 350ج8 ، مبسوط ص 4ج27 ، بحرالرائق ص 361ج 8، تبیین الحقائق ص 152ج6)
مسئلہ 555: کسی کا جانور دن یا رات میں رسی تڑا کر بھاگا اور کسی مال یا جان کا نقصان کر دیا تو جانور کا مالک ضامن نہیں ہوگا۔(4) (عالمگیری از ہدایہ ص 53ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص457 ج33 ، ہدایہ ص 615ج4 ، فتح القدیر و عنایہ ص 351ج 8)
مسئلہ 556: کسی نے رات کے وقت اپنے کھیت میں دو بیل پائے اور یہ گمان کیا کہ اپنے گاؤں والوں کے ہیں اور وہ ان کو پکڑ کر اپنے مویشی خانے میں لے جانے لگا کہ ان میں سے ایک بھاگ گیا اور دوسرے کو اس نے باندھ دیا۔ اس کے بعد بھاگنے والے کو تلاش کیا مگر نہ ملا اور درحقیقت یہ دونوں بیل کسی دوسرے گاؤں والے کے تھے چنانچہ بیلوں کے مالک نے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثانی عشر فی جنایۃ البھائم ... إلخ، ج 6،ص 53.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثانی عشر فی جنایۃ البھائم ... إلخ، ج 6،ص 53.
4 ۔المرجع السابق.
آکر اپنے گم شدہ بیل کا ضمان طلب کیا تو اگر بیل پکڑنے والے کی نیت پکڑتے وقت لوٹانے کی نہ تھی تو ضامن ہوگا اور اگر نیت یہ تھی کہ مالک جب آئے گا تو واپس کر دوں گا لیکن اپنے اس ارادے پر اس کو گواہ بنانے کا موقع نہیں ملا تو ضامن نہیں ہوگا۔(1) (عالمگیری از قاضی خان ص 53 ج6 ،قاضی خان علی الھندیہ ص 457 ج 3، بحرالرائق ص 353ج 8)
مسئلہ 557: اور اگر وہ بیل اسی گاؤں والوں کے تھے اور اس نے صرف اپنی کھیتی سے ان کو نکال دیا اور کچھ نہ کیا توبیل کے گم ہو جانے کی صورت میں یہ ضامن نہیں ہوگا اور اگر اس نے کھیت سے نکال کر کسی طرف کو ہانک دیا تھا تو یہ ضامن ہوگا۔ (2)(عالمگیری ص53 ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 457 ج 3)
مسئلہ 558: کسی نے اپنی کھیتی میں کسی کا جانور پایا اور اس کو اپنے کھیت سے نکال دیا اور کسی طرف کو ہانکا نہیں۔ اس جانور کو کسی درندے نے پھاڑ کھایا تو کھیت والا ضامن نہیں ہے اور اگر کھیت سے نکال کر کسی طرف کو ہانک دیا تھا تو ضامن ہوگا۔ (3)(عالمگیری ص 54ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 457ج 3، شامی ص 538 ج5 ، بحرالرائق ص 360ج8)
مسئلہ 559: کسی نے اپنے کھیت میں کسی کا جانور پایا اس کو ہانکتا ہوا لے چلا تاکہ مالک کے سپرد کر دے۔ راستہ میں جانور ہلاک ہوگیا یا اس کا پیر ٹوٹ گیا تو یہ ضامن ہوگا۔ (4)(عالمگیری ص 54ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 457 ج 3)
مسئلہ 560: کسی نے اپنی چراگاہ میں دوسرے کے جانور کو دیکھا اور اس کو اتنی دور تک ہانکا کہ وہ اس کی چراگاہ سے باہر نکل جائے اس اثناء میں اگر جانور ہلاک ہو جائے یا اس کی ٹانگ ٹوٹ جائے تو یہ ضامن نہیں ہوگا۔ (5)(عالمگیری ص54 ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 457ج3)
مسئلہ 561: کوئی کاشت کار اپنے کھیت میں رہتا تھا۔ اس نے کسی چرواہے سے بکری مانگ لی تاکہ رات میں اس کے پاس رہے اور اس کا دودھ دوھ لیا کرے۔ کاشت کار ایک رات سو رہا تھا کہ اس کی بکری نے پڑوسی کے کھیت میں جاکر نقصان کر دیا تو کوئی ضامن نہیں ہوگا۔(6) (عالمگیری ص54 ج6)
مسئلہ 562: کسی کے جانور نے کھیت یا باغ میں گھس کر کسی کا کچھ نقصان کر دیا کھیت والے نے پکڑ کر جانور کو باندھ دیا اور جانور ہلاک ہوگیا تو یہ جانور کی قیمت کا ضامن ہوگا۔ (7)(عالمگیری ص54 ج6)
مسئلہ 563: کسی نے اپنا جانور کسی دوسرے کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر گھسیڑ دیا اور گھر والا اس کو باہر
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثانی عشر فی جنایۃ البھائم ... إلخ، ج 6،ص53.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص53،54. 4 ۔المرجع السابق،ص54.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
نکال رہا تھا کہ جانور ہلاک ہوگیا تو ضامن نہیں ہوگا۔(1) (عالمگیری ص54 ج6)
مسئلہ 564: کسی نے دوسرے کے مکان میں اس کی اجازت کے بغیر کپڑا رکھ دیا تھا۔ مالک مکان نے کپڑے والے کی عدم موجودگی میں کپڑا نکال کر باہر پھینک دیا اور کپڑا ضائع ہوگیا تو یہ کپڑے کی قیمت کا ضامن ہوگا۔(2)(عالمگیری ص 54 ج6)
مسئلہ 565: کوئی شخص اپنے گدھے پر لکڑی لادے جارہا تھا اور بچو بچو کہہ رہا تھا اس کے آگے ایک شخص چل رہا تھا اس نے اس کی آواز کو نہیں سنا یا سنا مگر اس کو اتنا موقع نہ ملا کہ کسی طرف کو بچ جائے تو گدھے پر لادی ہوئی لکڑی سے اگر اس کا کپڑا پھٹ جائے تو گدھے والا ضامن ہے اور اگر وہ بچ سکتا تھا اور سننے کے باوجود نہ بچا تو گدھے والا ضامن نہیں ہے۔ (3) (عالمگیری ص54 ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 457ج 3، بحرالرائق ص 357 ج8 )
مسئلہ 566: کسی نے دوسرے کے حلال یا حرام جانور کا ہاتھ یا پیر کاٹ دیا تو کاٹنے والا جانور کی قیمت کا ضامن ہے اور مالک کو یہ حق نہیں ہے کہ جانور کو اپنے پاس رکھے اور نقصان کا ضمان لے لے۔ (4) (عالمگیری ص54ج 6)
مسئلہ 567: کسی نے راستہ پر سانپ ڈال دیا جس جگہ ڈالا تھا اسی جگہ پر سانپ نے کسی کو ڈس لیا تو سانپ ڈالنے والا ضامن ہوگا اور اگر اس جگہ سے ہٹ کر ڈسا تو ضامن نہیں ہوگا۔(5)(قاضی خان علی الھندیہ ص 455ج3 ، بدائع صنائع ص 273 ج7 )
مسئلہ 568: راستے پر چلتے ہوئے جانور نے گوبر یا پیشاب کیا یا منھ سے لعاب گرایا یا اس کا پسینہ بہا اور کسی کو لگ گیا یا کسی کی کوئی چیز گندی کر دی تو جانور کا سوار ضامن نہیں ہوگا۔(6)(قاضی خاں علی الھندیہ ص455 ج3 ، بدائع صنائع ص 272 ج7)
مسئلہ 569: کسی نے شارع عام پر لکڑی پتھر یا لوہا وغیرہ کوئی چیز رکھ دی۔ وہاں سے کوئی شخص اپنا جانور ہانکتے ہوئے گزرا اور ان چیزوں سے ٹھوکر کھا کر جانور ہلاک ہوگیا تو رکھنے والا ضامن ہوگا۔(7)(قاضی خان علی الھندیہ ص457ج3)
مسئلہ 570: کوئی شخص اپنا جانور ہانک رہا تھااور جانور کی پیٹھ پر لدا ہوا سامان یا چار جامہ یا زین یا لگام کسی شخص پر گر پڑی جس سے وہ ہلاک ہوگیا تو ہانکنے والا ضامن ہوگا۔ (8)(شامی و درمختار ص533 ج5 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 456 ج 3، ہدایہ ص613 ج4 ، عنایہ ص 349جلد 8، بحرالرائق ص 359 ج 8، تبیین الحقائق ص 151 ج 6، مبسوط ص 4 ج 27)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الثانی عشر فی جنایۃ البھائم...إلخ،ج6،ص54.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، باب جنایۃ البھائم...إلخ،ج2،ص398.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق،ص400 .
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، باب جنایۃ البھائم...إلخ،ج2،ص399.
مسئلہ 571: اندھے کو ہاتھ پکڑ کر کوئی شخص چلا رہا تھا اور اس اندھے نے کسی کو کچل کر ہلاک کر دیا تو اندھا ضامن ہوگا۔ چلانے والا ضامن نہیں ہوگا۔ (1)(شامی ص535 ج 5)
مسئلہ 572: کوئی شخص اپنے گدھے پر لکڑیاں لاد کر لے جارہا تھا اور ہٹو بچو نہیں کہہ رہا تھا۔ یہ گدھا راہ گیروں کے پاس سے گزرا اور کسی کا کپڑا وغیرہ پھاڑ دیا تو گدھے والا ضامن ہوگا۔ اور اگر راہ گیروں نے گدھے کو آتے دیکھا تھا اور بچنے کا موقع بھی ملا تھا مگر نہ بچے تو گدھے والا ضامن نہ ہوگا۔(2) (شامی538ج5)
مسئلہ 3 57: ایک شخص نے اپنا گدھا کسی ستون سے باندھ دیا تھا پھر دوسرے آدمی نے بھی اپنا گدھا وہیں باندھ دیا پہلے والے گدھے کو دوسرے گدھے نے کاٹ کھایا تو ان دونوں کو اگر اس جگہ باندھنے کا حق حاصل تھا تو ضمان نہیں ہے۔ ورنہ دوسرے گدھے والا ضامن ہوگا۔ (3)(شامی ص538 ج5)
مسئلہ 1: دو آدمی رسہ کشی کر رہے تھے کہ درمیان سے رسی ٹوٹ گئی اور دونوں گدی کے بل گر کر مر گئے تو دونوں کا خون رائیگاں جائے گا اور اگر منھ کے بل گر کر مرے تو ہر ایک کی دیت دوسرے کے عاقلہ پر ہے۔ اور اگر ایک مونھ کے بل گر کر مرا اور دوسرا گدی کے بل گر کر مرا تو گدی کے بل گرنے والے کا خون رائیگاں جائے گا اور منہ کے بل گرنے والے کی دیت گدی کے بل گرنے والے کے عاقلہ پر ہے۔ (4)(درمختار و شامی ص 532 ج5 ، بحرالرائق ص 360ج8 ، تبیین الحقائق ص 151 ج 6، بدائع صنائع ص 273 ج 7)
مسئلہ 2: دو آدمی رسہ کشی کر رہے تھے کہ کسی شخص نے درمیان سے رسی کاٹ دی اور دونوں رسہ کش گدی کے بل گر کر مرگئے تو دونوں کی دیت رسی کاٹنے والے کے عاقلہ پر ہے۔(5) (درمختار و شامی ص 532 ج5 ، بحرالرائق ص360 ج8 ، تبیین الحقائق ص 151ج 6، بدائع صنائع ص 273 ج 7)
مسئلہ 3: کسی شخص نے کسی کے پرندے یا بکری یا بلی، یا کتے کی ایک آنکھ پھوڑ دی تو آنکھ کی وجہ سے قیمت کے نقصان کا ضامن آنکھ پھوڑنے والا ہوگا۔ اور اگر دونوں آنکھیں پھوڑ دیں تو جانور کے مالک کو اختیار ہے کہ چاہے تو نقصان
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدیات، باب جنایۃ البھیمۃ والجنایۃ علیھا،ج10 ص 288.
2 ۔المرجع السابق،ص296. 3 ۔المرجع السابق،ص297.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجنایات،باب جنایۃ البھیمۃ والجنایۃ علیھا،ج10،ص287.
5 ۔المرجع السابق.
وصول کر لے اور چاہے تو آنکھ پھوڑنے والے کو جانور دے کر پوری قیمت وصول کر لے۔ (1)(درمختار و شامی ص 535، ج5)
مسئلہ 4: کسی کے اونٹ، گائے، گدھا، گھوڑا، خچر، بھینس یعنی باربرداری ،سواری، اور کاشت کاری کے جانور نر یا مادہ کی ایک آنکھ پھوڑنے کی صورت میں چوتھائی قیمت کا ضامن آنکھ پھوڑنے والا ہوگا۔ اور دونوں آنکھوں کو پھوڑنے کی صورت میں مالک کو اختیار ہے کہ چاہے تو جانور آنکھ پھوڑنے والے کو دے کر پوری قیمت وصول کرے اور چاہے تو دونوں آنکھوں کے ضائع ہونے کی وجہ سے قیمت میں جو نقصان آیا ہے وہ وصول کرلے اور جانور اپنے پاس رکھے۔(2) (درمختار و شامی ص536 ج5 ، ہدایہ، و فتح القدیر و عنایہ ص352 ج8 ، بحرالرائق ص 363 ج 8، تبیین الحقائق ص 153ج6)
مسئلہ 5: دو سوار یا پیدل چلنے والے آپس میں ٹکرا کر مرگئے اگر یہ حادثہ خطاء ًہوا تھا تو ہر ایک کے عاقلہ پر دوسرے کی دیت ہے۔(3) (ہدایہ، فتح ا لقدیر ص 348ج8 ،بحرالرائق ص 359 ج8 ، تبیین الحقائق ص 150ج6 ، بدائع صنائع ص 273 ج 7، عالمگیری ص 87 ج 6، قاضی خان علی الھندیہ ص 444 ج 3)
مسئلہ 6: کسی شخص نے اپنی مِلک میں شہد کی مکھیوں کا چھتہ لگایا۔ ان مکھیوں نے دوسرے لوگوں کے انگور یا دوسرے پھل کھا لیے تو چھتہ والا اس کا ضامن نہیں ہوگا اور چھتہ والے کو اس پر مجبور بھی نہیں کیا جائے گا کہ وہ چھتہ کو وہاں سے ہٹا دے۔ (4) (درمختار و شامی ص 537 ج 8)
مسئلہ 7: کسی شخص نے دوسرے کی ملک میں لمبی رسی سے اپنے جانور کو باندھ دیا تھا جانور نے بندھے بندھے کودپھاند کر کسی کا کچھ نقصان کر دیا تو باندھنے والا ضامن ہوگا۔(5) (بحرالرائق ص 357 ج 8، بدائع صنائع ص 273 ج 7)
مسئلہ 8: جنایت بہائم میں یہ قاعدہ ہے کہ جب جانور اپنی جگہ اور اسی حالت پر رہا جس پر کھڑا کرنے والے نے کھڑا کیا تھا تو مالک اس کے ہر نقصان کا ضامن ہوگا۔ اور اگر جانور نے وہ جگہ اور حالت بدل لی تو مالک اس کے کسی نقصان کا ضامن نہیں ہے۔(6) (بحرالرائق ص 357ج8)
مسئلہ 9: کسی شخص نے کسی کو درندے کے آگے پھینک دیا اور درندے نے اس کو پھاڑ کھایا تو پھینکنے والے پر دیت نہیں
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،باب جنایۃ البھیمۃ...إلخ،ج10،ص293،294.
2 ۔المرجع السابق،ص293.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب السابع عشر فی المتفرقات،ج6،ص87،88.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدّیات،باب جنایۃ البھیمۃ...إلخ،ج10،ص295.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدّیات،باب جنایۃ البھیمۃ...إلخ،ج9،ص129.
6 ۔المرجع السابق،ص130.
لیکن اس کو تعزیر کی جائے گی اور توبہ کرنے تک قید میں رکھا جائے گا۔(1)(بحرالرائق ص 362ج 8، تبیین الحقائق ص 153ج 6)
مسئلہ 10: اگر کوئی شخص کسی آدمی پر سانپ وغیرہ ڈال دے اور وہ اس کو کاٹ لے تو یہ ضامن ہوگا۔ (2) (مبسوط ص 5ج27)
مسئلہ 11: کوئی شخص کسی کے گھر میں گیا ۔اجازت سے گیا ہو یا بلااجازت اور صاحب خانہ کے کتے نے اس کو کاٹ کھایا تو صاحب خانہ ضامن نہیں ہے۔ (3)(بدائع صنائع ص 273ج 7، مبسوط ص 5 ج 27)
مسئلہ 1: قسامت کا مطلب یہ ہے کہ کسی جگہ مقتول پایا جائے اور قاتل کا پتہ نہ ہو اور اولیائے مقتول اہل محلہ پر قتل عمد یاقتل خطا کا دعوےٰ کریں اور اہل محلہ انکار کریں تو اس محلے کے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ نہ ہم نے اس کو قتل کیا ہے اور نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں اور یہ قسم کھانے والے عاقل بالغ آزاد مرد ہوں۔(4) (ہندیہ ص 77 ج 6، شامی ص 549 ج 5)
(1) مقتول کے جسم پر زخم یا ضرب کے نشانات یا گلا گھونٹنے کی علامات پائی جائیں یا ایسی جگہ سے خون بہے جہاں سے عادتاً نہیں نکلتا۔ مثلاً آنکھ، کان۔(5) (قاضی خان علی الھندیہ ص 452ج 3، تبیین الحقائق ص 171ج 6، بحرالرائق ص 392ج8)
(2) قاتل کا پتہ نہ ہو۔ (فتح القدیر ص 390 ج8 ،مبسوط ص114 ج26 ، بدائع صنائع ص 287 ج 7)
(3) مقتول انسان ہو۔(بدائع صنائع ص 288ج 7)
(4) مقتول کے اولیاء دعویٰ کریں۔(6) (بدائع صنائع ص 289ج 7)
(5) اہل محلہ قتل کرنے کا انکار کریں۔ (7)(عالمگیری ص 77 ج 6، شامی ص 549 ج 5)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدّیات،باب جنایۃ البھیمۃ...إلخ،ج9،ص139.
2 ۔''المبسوط''،کتاب الدیات،باب الناخس،ج27،ص6.
3 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الجنایات،کیفیۃ وجوب الفدائ،ج6،ص333.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج6،ص77.
و''ردالمحتار''،کتاب الدیات، باب القسامۃ،ج10،ص318.
5 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الدیات، باب القسامۃ،ج7،ص353.
6 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الجنایات،فصل فی شرائط وجوب القسامۃ والدیۃ،ج6،ص357.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدیات، باب القسامۃ،ج10،ص318.
(6) مدعی قسامت کا مطالبہ کرے۔ (1)(بدائع صنائع ص 289، ج 7)
(7) جس جگہ مقتول پایا گیا وہ کسی شخص کی ملکیت ہو یا کسی کے قبضے میں ہو یا محلہ میں پایا جائے یا آبادی کے اتنا قریب پایا جائے کہ وہاں کی آواز بستی میں سنی جاسکے۔ (2)(شامی ص 553 ج 5، عالمگیری ص 77، ج 6)
(8) مقتول زمین کے مالک یا قابض کا مملوک نہ ہو۔ (3) (ہندیہ ص77 ج6 ، شامی ص549 ج 5، بدائع صنائع ص 287 ج7 ، مبسوط ص106 ج 22، فتح القدیر و عنایہ ص384 ج8 ، بحرالرائق ص 391ج 8)
مسئلہ 2: اگر کسی جگہ ایسا مردہ پایا جائے کہ اس پر ضرب کا کوئی نشان نہ ہو، یا اس کے منھ یا ناک یا پیشاب و پاخانہ کے مقام سے خون بہہ رہا ہو یا اس کے گلے میں سانپ لپٹا ہوا ہو تو وہاں کے لوگوں پر قسامت و دیت کچھ نہیں ہے۔ (4)(درمختار و شامی ص 551 ج 5)
مسئلہ 3: قسامت کا حکم یہ کہ اگر مقتول کے اولیاء نے قتلِ عمد کا دعویٰ کیا ہے اور اہل محلہ نے قسم کھائی کہ نہ انھوں نے قتل کیا ہے نہ ان کو قاتل کا علم ہے تو اہل محلہ پر دیت لازم ہوگی اور اگر اولیائے مقتول نے قتل خطا کا دعوےٰ ا کیا ہے اور اہل محلہ نے قسم کھالی تو اہل محلہ کے عاقلہ پر دیت لازم ہوگی جس کو وہ لوگ تین سال میں ادا کریں گے اور انکار کی صورت میں ان کو قید کیا جائے گا۔ حتی کہ قسم کھائیں۔ (5) (درمختار و شامی ص 550ج5 ، ملتقی الابحرص668 ج2 ، فتح القدیر ص 388 ج 8)
مسئلہ 4: کسی محلہ میں مقتول پایا جائے اور اس کے اولیاء تمام یا بعض اہل محلہ پر دعویٰ کریں کہ انھوں نے اس کو عمداً یاخطائً قتل کیاہے اور اہل محلہ انکار کریں تو ان میں سے پچاس آدمیوں سے اس طرح قسم لی جائے گی کہ ہر آدمی اﷲ (عزوجل)کی قسم کھا کر یہ کہے کہ نہ میں نے اس کو قتل کیا ہے نہ میں قاتل کو جانتا ہوں۔ اگر وہاں کی آبادی میں پچاس سے زیادہ مرد ہیں تو ان میں سے پچاس کے انتخاب کا حق مقتول کے اولیاء کو ہے۔ اگر پچاس سے کم مرد ہیں تو ان سے قسم کی تکرار کرا کر پچاس کے عدد کو پورا کیاجائے گا۔(6) (قاضی خان علی الھندیہ ص451 ج3 ، عالمگیری ص77 ج6 ، درمختار و شامی ص 550جلد 5، بحرالرائق ص 392 ج 8، فتح القدیر و عنایہ ص 384 ج 8)
1 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الجنایات،فصل فی شرائط وجوب القسامۃ والدیۃ،ج6،ص357.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج6،ص77.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدیات، باب القسامۃ،ج10،ص318.
4 ۔''الدرالمحتار''و''ردالمحتار،کتاب الدیات، باب القسامۃج10،ص 323.
5 ۔المرجع السابق،ص321.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج 6،ص 77.
مسئلہ 5: مدعی(1)سے اس بات کی قسم نہیں لی جائے گی کہ اہل محلہ نے قتل کیا ہے۔ خواہ ظاہری حالات مدعی کی تائید میں ہوں مثلاً مقتول اور اہل محلہ کے درمیان کھلی دشمنی تھی یا ظاہری حالات مدعی کی تائید میں نہ ہوں۔ مثلاً مقتول اور اہل محلہ کے درمیان کھلی عداوت(2) کا کوئی ثبوت نہ ہو۔(3)(عالمگیری ص77 ج6 ، درمختار و شامی ص 550 ج 5، بحرالرائق ص 392ج 8)
مسئلہ 6: اگر اولیائے مقتول یہ دعویٰ کریں کہ اہل محلہ میں سے فلاں فلاں اشخاص نے قتل کیا ہے۔ یا بغیر معین کئے یوں کہیں کہ اہل محلہ میں سے بعض لوگوں نے قتل کیا ہے، جب بھی قسامت و دیت کا وہی حکم ہے جو اوپر مذکور ہوا۔(4) (عالمگیری ص77 ج 6، درمختار و شامی ص550 ج 5، بحرالرائق ص 392 ج 8)
مسئلہ 7: اگر ولی مقتول نے یہ دعویٰ کیا کہ اہل محلہ کے غیر کسی شخص نے قتل کیا ہے تو اہل محلہ پر قسامت و دیت کچھ نہیں ہے بلکہ مدعی سے گواہ طلب کئے جائیں گے۔ اگر گواہ پیش کر دیئے تو اس کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا اور اگر گواہ نہ ہوں تو مدعا علیہ سے ایک مرتبہ قسم لی جائے گی۔(5) (عالمگیری ص 77 ج 6، درمختار و شامی ص 552 ج 8، قاضی خان علی الھندیہ ص 453 ج 3، مبسوط ص115 ج26 ، بدائع صنائع ص 295 ج7 )
مسئلہ 8: اولیائے مقتول کو یہ اختیار ہے کہ جس خاندان کے درمیان مقتول پایا جائے اس خاندان کے یا جس محلہ میں پایا جائے تو اس محلے کے صالحین کو قسم کھانے کے لیے منتخب کریں، اگر صالحین کی تعداد پچاس سے کم ہو تو وہ باقی لوگوں میں سے منتخب کر کے پچاس پورے کر لیں۔ ولی کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ ان میں سے جوانوں کو یا فساق کو قسم کھانے کے لیے منتخب کر لیں۔ یہ اختیار صرف ولی کو ہے امام کو نہیں ہے۔ (6) (عالمگیری ص78 ج6 ، شامی ص 550 ج 5، قاضی خان علی الھندیہ ص 451 ج3 ، مبسوط ص 110 ج 26)
مسئلہ 9: قسامت میں بچہ اور پاگل اور عورت اور غلام داخل نہیں ہیں لیکن اندھا اور محدود فی القذف اور کافر قسامت میں داخل ہیں۔(7) (عالمگیری ص 78ج 6، درمختار و شامی ص551 جلد5، بحرالرائق ص 392 ج 8)
مسئلہ 10: جس جگہ مقتول کا پورا جسم یا جسم کا اکثر حصہ یا نصف حصہ بشرطیکہ اس کے ساتھ سر بھی پایا جائے تو اس جگہ کے لوگوں پر قسامت و دیت ہے۔ اور اگر لمبائی میں سے چرا ہوا نصف پایا جائے یا بدن کا نصف سے کم حصہ پایا جائے۔
1 ۔دعویٰ کرنے والا۔ 2 ۔یعنی دشمنی۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج 6،ص 77.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق،ص77،78.
6 ۔المرجع السابق،ص78. 7 ۔المرجع السابق.
اگرچہ عرضاً ہو اور اس کے ساتھ سر بھی ہو یا صرف ہاتھ یا پیر یا سر پایا جائے تو قسامت و دیت کچھ نہیں ہے۔(1) (درمختار و شامی ص 549ج5 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 453ج3 ، تبیین الحقائق ص172ج6 ، بحرالرائق ص392 ج8 ، فتح القدیر ص390 ج 8، مبسوط ص 116ج 26، بدائع صنائع ص 288ج 7)
مسئلہ 11: اگر کسی محلے میں کوئی مردہ بچہ تام الخلقت (2)یا ناقص الخلقت (3)پایا جائے اور اس پر ضرب کے کچھ نشانات نہ ہوں تو اہل محلہ پر کچھ نہیں ہے اور اگر ضرب کے نشانات ہوں اور بچہ تام الخلقت ہو تو قسامت و دیت واجب ہے اور اگر ناقص الخلقت ہو تو کچھ نہیں ہے۔(4) (عالمگیری ص 78ج 6، درمختار و شامی ص 552 ج 5، قاضی خان ص 453ج 3، تبیین الحقائق ص 172ج 6، بحرالرائق ص 394ج8 ، فتح القدیر ص 391ج 8)
مسئلہ 12: اگر کسی کے مکان میں مقتول پایا جائے اور صاحب خانہ کے عاقلہ بھی وہاں موجود ہوں تو قسامت میں سب شریک ہوں گے اور اگر اس کے عاقلہ وہاں موجود نہ ہوں تو گھر والا ہی پچاس مرتبہ قسم کھائے گا اور دیت دونوں صورتوں میں عاقلہ پر ہوگی۔ (5)(عالمگیری ص 78ج 6، درمختار و شامی ص 555 ج 5، بحرالرائق ص 394ج 8)
مسئلہ 13: اگر کسی محلہ میں مقتول پایا جائے اور اہل محلہ دعویٰ کریں کہ محلہ کے باہر کے فلاں شخص نے اس کو قتل کیا ہے اور اس محلے کے باہر کے دو گواہ بھی اس پر شہادت دیں تو اہل محلہ قسامت و دیت سے بری ہو جائیں گے۔ ولی مقتول نے یہ دعویٰ کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ (6)(عالمگیری ص 78 ج 6)
مسئلہ 14: اگر ولی مقتول دعویٰ کرے کہ جس محلے میں مقتول پایا گیا ہے اور اس محلے کے باہر رہنے والے فلاں شخص نے اس کے آدمی کو قتل کیا ہے تو ولی کو اپنا دعویٰ گواہوں سے ثابت کرنا ہوگا۔ ورنہ مدعی علیہ سے ایک مرتبہ قسم لی جائے گی۔ اگر وہ قسم کھالے تو بری الذمہ ہو جائے گا اور اگر قسم سے انکار کرے اور دعویٰ قتلِ خطا کا ہو تو دیت لازم ہوگی اور اگر دعویٰ قتلِ عمد کا تھا تو قید کیاجائے گا۔ یہاں تک کہ قتل کا اقرار کرے یا قسم کھائے یا بھوکا مر جائے۔ (7)(درمختار ص 522 ج5 )
مسئلہ 15: کسی محلہ یا قبیلے میں کوئی شخص زخمی کیا گیا۔ وہاں سے وہ زخمی حالت میں دوسرے محلے میں منتقل کیا گیا اور
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،باب الشھادۃ علی الجنایۃ،ج2،ص397.
2 ۔یعنی اس کے اعضاء مکمل بن چکے ہیں ۔ 3 ۔یعنی اس کے اعضاء مکمل نہیں بنے ہیں۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الخامس عشر فی القسامۃ ، ج 6،ص 78.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدیات،باب القسامۃ،ج10،ص323.
اسی وجہ صاحب فراش رہ کر مرگیا(1)تو قسامت اور دیت پہلے محلے والوں پر ہے۔ (2)(عالمگیری ص 79ج 6، درمختار و شامی ص558 ج5 ، تبیین الحقائق ص 176ج 6، بحرالرائق ص 394ج8 ، مبسوط ص 118ج 26، بدائع صنائع ص 288ج 7)
مسئلہ 16: اگر تین مختلف قبائل کے لوگوں کو کوئی خطہ زمین الاٹ کیا گیا وہاں انھوں نے مکانات یا مسجد بنائی اور اس آبادی یا مسجد میں کوئی مقتول پایا گیا تو دیت تین قبیلوں پر لازم ہوگی۔ ہر قبیلے پر ایک تہائی اگرچہ ان کے افراد کی تعداد کم و بیش ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی قبیلے کا صرف ایک ہی شخص ہو تو اس پر بھی ایک تہائی دیت لازم ہوگی اور یہ دیت ان سب کے عاقلہ ادا کریں گے۔ (3)(عالمگیری ص79 ج6 )
مسئلہ 17: اگر کسی بازار یا مسجد میں کوئی مقتول پایا جائے اور وہ مسجد یا بازار کسی خاص قبیلے کی ملکیت ہو تو قسامت و دیت ان پر لازم ہوگی۔ اور اگر وہ مسجد و بازار حکومت کی ملک میں ہیں تو اس کی د یت بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ (4)(عالمگیری ص 79ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص452 ج3 ، تبیین الحقائق ص 174ج 6، درمختار و شامی ص 556ج5 ، بحرالرائق ص 396ج 8، مبسوط ص 118ج 26، بدائع الصنائع ص 290ج 7)
مسئلہ 18: اگر شارع عام پر یا پل پر مقتول پایا جائے تو اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی۔(5) (عالمگیری ص80 ج6 ، درمختار و شامی ص 556 ج 5، بحرالرائق ص 397ج 8، بدائع صنائع ص290 ج 7)
مسئلہ 19: مسجد حرام یا میدان عرفات میں اژدہام(6) کے بغیر کوئی مقتول پایا جائے تو اس کی دیت بھی قسامت کے بغیر بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ (7)(عالمگیری ص 80ج 6)
مسئلہ 20: اگر کسی ایسی زمین یا مکان میں مقتول پایا جائے جس کو معین لوگوں پر وقف کیا گیا تھا تو قسامت و دیت انہی لوگوں پر ہے جن پر وقف کیا گیا ہے اور اگر مسجد پر وقف کیا گیا تھا تو اس کا حکم مقتول فی المسجد کا ہے۔(8) (عالمگیری از محیط سرخسی ص 80ج6 ، تبیین الحقائق ص176 ج6 ، درمختار و شامی ص 560 ج 5، بحرالرائق ص397 ج 8)
1 ۔یعنی بستر پر پڑے پڑے مرگیا ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج6،ص79.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج6،ص79.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق،ص80.
6 ۔بِھیڑ،ہجوم ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج 6،ص 80.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 21: اگر کسی ایسے گاؤں میں مقتول پایا جائے جو ذمی کفار اور مسلمانوں کی ملکیت ہے تو قسامت اور دیت دونوں فریقوں پر ہے۔ مسلمانوں پر دیت کا جتنا حصہ لازم ہوگا وہ ان کے عاقلہ ادا کریں گے اور کفار پر جتنا حصہ لازم ہوگا، اگر ان کے عاقلہ ہوں تو ان کے عاقلہ ادا کریں گے۔ ورنہ ان کے مال سے وصول کیا جائے گا۔(1) (عالمگیری از مبسوط ص80 ج 6)
مسئلہ 22: اگر دو محلوں یا دو گاؤں کے درمیان مقتول پایا جائے اور یہاں سے دونوں جگہ آواز پہنچتی ہو تو جس آبادی کا فاصلہ کم ہوگا اس آبادی کے لوگوں پر قسامت و دیت ہے اور اگر کسی جگہ آواز نہیں پہنچتی ہے تو کسی پر کچھ نہیں ہے۔ (2)(عالمگیری ص80 ج6 ، قاضی خاں علی الھندیہ ص 451ج3 ، بحرالرائق ص 393ج 8، مبسوط ص 111ج 26، بدائع صنائع ص289 ج7)
مسئلہ 23: اگر دو بستیوں کے درمیان مقتول پایا جائے اور دونوں جگہوں کا فاصلہ وہاں سے برابر ہو اور دونوں جگہ آواز پہنچتی ہو تو دونوں بستیوں والوں پر دیت نصف نصف ہوگی، اگرچہ ان کے افراد کی تعداد مختلف ہو۔(3) (عالمگیری ص 80ج 6)
مسئلہ 24: اگر کسی شخص کے گھر میں مقتول پایا جائے تو اس کے عاقلہ اس وقت دیت ادا کریں گے جب گواہوں سے یہ ثابت کر دیا جائے کہ یہ گھر اس کی ملکیت ہے۔(4) (عالمگیری ص80 ج6 ، تبیین الحقائق ص174 ج 6، درمختار و شامی ص555 ج5 ، بحرالرائق ص 396ج8)
مسئلہ 25: اگر کسی شخص کے گھر میں مقتول پایا جائے اور اس گھر میں مالک کے غلام یا آزاد ملازم رہتے ہوں تو قسامت و دیت گھر کے مالک پر ہوگی۔ ملازمین یا غلاموں پر نہیں۔(5) (عالمگیری ص 80 ج6)
مسئلہ 26: مِلکِ مشترک میں اگر قتیل (6)پایا جائے تو سب مالکوں پردیت برابر برابر لازم ہوگی جس کو ان کے عواقل(7)ادا کریں گے اگرچہ ملک میں ان کے حصے کم و بیش ہوں۔(8) (عالمگیری ص 80ج6 ، قاضی خاں علی الھندیہ ص 452 ج 3، تبیین الحقائق ص 173ج 6، درمختار و شامی ص555 ج5 ، بحرالرائق ص 395ج8 ، مبسوط ص 113 ج 26، بدائع صنائع ص293 ج7)
مسئلہ 27: اگر کسی ایسے شخص کے گھر میں مقتول پایا جائے جس کی شہادت مقتول کے حق میں مقبول نہیں ہوتی ہے یا عورت اپنے شوہر کے گھر میں مقتول پائی جائے تو ان صورتوں میں بھی قسامت و دیت لازم ہوگی اور مالکِ مکان میراث سے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج6،ص80.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔مقتول۔ 7 ۔قاتل کے وہ متعلقین جودیت ادا کرتے ہیں ۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج6،ص80.
محروم نہیں ہوگا۔(1) (عالمگیری از محیط سرخسی ص 81ج 6،بحرالرائق ص 394 ج 8، درمختار و شامی ص 561 ج 5، قاضی خان علی الھندیہ ص 453 ج 3، مبسوط ص 116ج 26)
مسئلہ 28: اگر کسی ایسی عورت کے گھر میں مقتول پایا جائے جو ایسے شہر میں رہتی ہے کہ وہاں اس کا کوئی رشتہ دار نہیں رہتا، تو اس عورت سے پچاس مرتبہ قسم لی جائے گی اس کے بعد اس کے قریب ترین رشتہ داروں پر دیت لازم ہوگی۔ اگر اس کے رشتہ دار بھی اس شہر میں رہتے ہیں تو وہ بھی عورت کے ساتھ قسامت میں شریک ہوں گے۔ (2)(عالمگیری از کفایہ ص81 ج6 ، درمختار و شامی ص559 ج5 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 452ج3 ،مبسوط ص 120ج 26)
مسئلہ 29: اگر کسی بچے یا پاگل کے گھر میں مقتول پایا جائے تو بچے اور پاگل سے قسم نہیں لی جائے گی بلکہ ان کے عاقلہ سے قسم بھی لی جائے گی اور دیت بھی لی جائے گی۔ (3)(عالمگیری از ذخیرہ ص 81ج6 ، درمختار و شامی ص 561ج5)
مسئلہ 30: اگر یتیموں کے گھر میں مقتول پایا جائے یا ان کے محلہ میں پایا جائے تو ان یتیموں میں جو بالغ ہے اس سے قسم لی جائے گی اور دیت سب کے عاقلہ پر ہوگی۔ اور اگر ان میں سے کوئی بالغ نہیں ہے تو قسامت و دیت دونوں سب کے عاقلہ پر واجب ہیں۔ (4)(عالمگیری از محیط سرخسی ص 81ج 6، درمختار و شامی ص 561 ج 5، مبسوط ص 121ج26)
مسئلہ 31: اگر کسی ذمی کے گھر میں مقتول پایا جائے تو اس سے پچاس مرتبہ قسم لی جائے گی۔ اس کے بعد اگر ان ذمیوں میں یہ رواج ہے کہ دیت ان کے عاقلہ ادا کرتے ہیں تو ان کے عاقلہ سے دیت وصول کی جائے گی ورنہ اس کے مال سے ادا کی جائے گی۔ (5)(عالمگیری از ذخیرہ ص 81ج 6، درمختار و شامی ص561 ج5)
مسئلہ 32 (الف): اگر کسی قوم کی مملوکہ چھوٹی نہر میں مقتول پایا جائے تو اس نہر کے مالکوں پر قسامت اور ان کے عاقلہ پر دیت واجب ہے۔(6) (عالمگیری از ذخیرہ ص 82ج6 ، قاضی خان علی الھندیہ ص 453 ج3 ، تبیین الحقائق ص174 ج6 ، درمختار و شامی ص 557ج5، بحرالرائق ص 397ج 8، مبسوط ص 118 ج26 ، بدائع صنائع ص 290 ج 7)
مسئلہ 32 (ب): اگر کسی بڑی بہتی ہوئی نہر میں مقتول بہتا ہوا پایا جائے اور وہ نہر دارالاسلام سے نکلی ہے تو بیت المال سے دیت ادا کی جائے گی اور اگر وہ نہر دارالحرب سے نکلی ہے تو اس کا خون رائیگاں جائے گا۔ اور اگر لاش نہر کے کنارے پر اٹکی ہوئی ہے اور اس کنارے کے اتنے قریب کوئی آبادی ہے جہاں تک اس جگہ کی آواز پہنچ سکتی ہے تو اس آبادی والوں پر
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج6،ص81.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق ص 82.
دیت واجب ہوگی اور اگر وہاں تک آواز نہیں پہنچ سکتی تو بیت المال سے دیت ادا کی جائے گی۔(1) (عالمگیری از ذخیرہ ص82ج6، تبیین الحقائق ص 174ج6 ، درمختار و شامی ص557 ج5 ، بحرالرائق ص 397 ج8 ، مبسوط ص118 ج26)
مسئلہ 33: اگر کسی کشتی میں مقتول پایا جائے تو اس کشتی کے سواروں پر قسامت و دیت ہے جس میں ملاح مسافر اوراگر اس میں مالک بھی ہو تو وہ بھی داخل ہے اور چھکڑے (2) کا حکم بھی یہی ہے۔ (3) (عالمگیری ص82 ج6 ، ہدایہ ص624 ج4، درمختار و ردالمحتار ص556 ج5 ، تبیین الحقائق ص 174ج 6، بحرالرائق ص 296ج 8، مبسوط ص117 ج26 ، بدائع صنائع ص291 ج7)
مسئلہ 34: اگر کسی جانور کی پیٹھ پر مقتول پایا جائے اور اس جانور کا کوئی سائق (4)یا قائد (5)یا اس پر کوئی سوار ہے تو دیت اسی پر ہے، اور اگر سائق و قائد و راکب تینوں ہیں تو تینوں پر برابر برابر دیت واجب ہوگی۔ اور اگر جانور اکیلا ہے تو قسامت و دیت اس محلہ کے لوگوں پر ہے جہاں اس جانور پر مقتول پایا گیا ہے۔(6) (عالمگیری ص 82ج6، تبیین الحقائق ص172 ج 6، بحرالرائق ص 393ج 8، درمختار و شامی ص 553ج5 ، ہدایہ ص 622ج 4، مبسوط ص117 ج 26، بدائع صنائع ص292 ج7)
مسئلہ 35: اگر دو آبادیوں کے درمیان کسی جانور پر مقتول پایا جائے اور جانور اکیلا ہو تو جس بستی تک آواز پہنچ سکتی ہو اس کے رہنے والوں پر اور اگر دونوں جگہ آواز پہنچتی ہو تو دونوں بستیوں میں قریب والی کے باشندوں پر قسامت و دیت واجب ہوگی۔ (7)(عالمگیری ص 82 ج 6، تبیین الحقائق ص 172ج6 ، بحرالرائق ص 393 ج8 ، درمختار و شامی ص 553 ج 5)
مسئلہ 36: اگر کسی کی افتادہ زمین میں مقتول پایا جائے تو زمین کے مالک اور اس کے قبیلے والوں پر قسامت و دیت ہے اور اگر وہ زمین کسی کی ملکیت نہیں ہے اور اس کے اتنے قریب کوئی آبادی ہے جس میں وہاں کی آواز سنی جاسکتی ہے تو اس آبادی والوں پر قسامت و دیت واجب ہوگی اور اگر اس کے قریب کوئی آبادی نہیں ہے یا آبادی اس قدر دور ہے کہ و ہاں کی آواز اس آبادی تک نہیں پہنچتی ہے تو اگر اس زمین سے مسلمان کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں مثلاً وہاں سے لکڑی یا گھاس کاٹتے ہیں۔ یا وہاں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج6،ص82.
2 ۔دو پہیوں کی لمبی گاڑی جس میں بیل جوتے جاتے ہیں جو باربرداری کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج6،ص82.
4 ۔ہانکنے والا۔ 5 ۔آگے سے جانور چلانے والا،نکیل پکڑکر لے جانے والا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج 6،ص 82.
7 ۔المرجع السابق.
جانور چراتے ہیں تو بیت المال سے دیت ادا کی جائے گی۔ اور اگر وہ زمین انتفاع کے قابل ہی نہیں ہے تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا۔ (1)(عالمگیری از محیط سرخسی ص 82ج6 ، بحرالرائق ص393 ج 8، درمختار و شامی ص 554ج5)
مسئلہ 37: اگر کسی پل پر مقتول پایا جائے تو اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی اور اگر شہر کے اردگرد کی خندق میں مقتول پایا جائے تو اس کا حکم شارع عام پر پائے جانے والے مقتول کا سا ہے۔(2) (عالمگیری از محیط سرخسی ص 82ج6)
مسئلہ 38: مسلمان لشکر کسی مباح زمین میں جو کسی شخص کی ملکیت نہ تھی پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ ان میں سے کسی لشکری کے خیمے میں مقتول پایا جائے تو اس خیمے والوں پر دیت و قسامت ہے اور اگر خیمے کے باہر پایا جائے اور لشکریوں کے قبائل الگ الگ ٹھیرے ہوں تو جس قبیلے میں پایا جائے گا اس قبیلے پر دیت و قسامت ہے اور اگر دو قبیلوں کے درمیان پایا جائے تو قریب والے قبیلے پر قسامت و دیت ہے اور اگر دونوں کا فاصلہ برابر ہو تو دونوں پر قسامت و دیت ہے۔(3) (عالمگیری ص 82ج 6، تبیین الحقائق ص 176ج6 ، بحرالرائق ص 394جلد 8، درمختار و شامی ص 560ج5 ، مبسوط ص 119ج 26)
مسئلہ 39: اگر لشکریوں کے قبیلے ملے جلے ٹھیرے ہوں اور مقتول کسی کے خیمے میں پایا گیا تو صرف اس خیمے والوں پر ہی قسامت و دیت واجب ہوگی اور اگر خیمے سے باہر پایا جائے تو سب لشکر پر قسامت و دیت واجب ہوگی۔(4)(عالمگیری از محیط ص82 ج 6، تبیین الحقائق ص 176ج6 ، بحرالرائق ص 394ج 8، درمختار و شامی ص 561 ج 5)
مسئلہ 40: مسلمانوں کا لشکر کسی کی مملوکہ زمین (5)میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا تو ہر صورت میں زمین کے مالک پر قسامت و دیت واجب ہے۔ (6)(عالمگیری از محیط ص 82ج 6، تبیین الحقائق ص 176ج 6، بحرالرائق ص394 ج8 ، بدائع صنائع ص 292ج 7، درمختار و شامی ص 561 ج 5)
مسئلہ 41: اگر مسلمان لشکر کا کافروں سے مقابلہ ہوا پھر وہاں کوئی مسلمان مقتول پایا گیا تو کسی پر قسامت و دیت نہیں اور اگر دو مسلمان گروہوں میں مقابلہ ہوا اور ان میں سے ایک گروہ باغی اور دوسرا حق پر تھا اور جو مقتول پایا گیا وہ اہل حق کی جماعت کا تھا تو کسی پر کچھ نہیں ہے۔(7) (عالمگیری از محیط ص 82ج 6)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج6،ص82.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔یعنی وہ زمین جو کسی کی ملکیت میں ہے ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج6،ص82.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 42: اگر کسی مقفل مکان میں(1)مقتول پایا جائے تو گھر کے مالک کے عاقلہ پر (2)قسامت و دیت ہے۔ (3)(عالمگیری از محیط ص 83ج 6، شامی ص 555 ج 5، بحرالرائق ص 395ج 8)
مسئلہ 43: اگر کوئی شخص اپنے باپ یا ماں کے گھر میں مقتول پایا جائے یا بیوی شوہر کے گھر میں مقتول پائی جائے توا س میں قسامت ہے اور دیت عاقلہ پر ہے۔ مگر مالک مکان میراث سے محروم نہیں ہوگا۔ (4)(قاضی خان علی الھندیہ ص453 ج 3)
مسئلہ 44: اگر کسی ایسے ویران محلے میں جس میں کوئی شخص نہیں رہتا ہے مقتول پایا جائے تو اس کے اتنے قریب کی آبادی پر قسامت و دیت واجب ہے۔ جہاں تک وہاں کی آواز پہنچتی ہے۔ (5)(بحرالرائق ص 394ج 8)
مسئلہ 45: اگر کسی جگہ دو گروہوں میں عصبیت (6)کی وجہ سے تلوار چلی پھر ان لوگوں کے متفرق ہو جانے کے بعد وہاں کوئی مقتول پایا گیا تو اہل محلہ پر قسامت و دیت ہے۔ مگر جب ولی مقتول ان متحاربین پر (7)یا ان میں سے کسی معین شخص پر قتل کا دعویٰ کرے تو اہل محلہ بری ہوجائیں گے اور متحاربین کے خلاف غیر اہل محلہ میں سے دو گواہ اگر اس بات کی گواہی دیں کہ مدعی علیہم نے قتل کیا ہے تو قصاص یا دیت واجب ہوگی ورنہ وہ بھی بری ہو جائیں گے۔(8) (درمختار و شامی ص 558 ج 5، بحرالرائق ص 397ج 8)
مسئلہ 46: اگر کسی کا جانور کسی جگہ مردہ پایا جائے تو اس میں کچھ نہیں ہے۔(9)(قاضی خان علی الھندیہ ص 453ج 3، درمختارص561 ج 5، فتح القدیر ص384 ج8 ، مبسوط ص 116ج 26، بدائع صنائع ص288 ج7)
مسئلہ 47: اگر جیل خانے میں کوئی مقتول پایا جائے تو اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ (10)(ہدایہ ص 625 ج 4، قاضی خان علی الھندیہ ص452 ج3 ، تبیین الحقائق ص 174ج 6، بحرالرائق ص 397ج 8، مبسوط ص 112 ج 26، بدائع صنائع ص 290ج 7)
1 ۔یعنی تالا لگے ہوئے مکان میں ۔
2 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر'' گھر کے مالک پر قسامت و دیت ہے'' لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل کتب میں عبارت اس طرح ہے''گھرکے مالک کے عاقلہ پرقسامت ودیت ہے ''،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات، الباب الخامس عشر فی القسامۃ،ج 6،ص83.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،باب الشہادۃ علی الجنایۃ،ج2،ص397.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدیات، باب القسامۃ،ج9،ص195.
6 ۔یعنی دشمنی۔ 7 ۔یعنی لڑنے والوں پر ۔
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدیات، باب القسامۃ،ج9،ص200.
9 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، باب الشہادۃ علی الجنایۃ،ج2،ص397.
10 ۔المرجع السابق،ص396.
مسئلہ 1: اگر کسی شخص کو عمداً زخمی کیا گیا۔ اس نے دو آدمیوں کو گواہ بنا کر یہ کہا کہ فلاں شخص نے مجھے زخمی نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد وہ مرگیا تو اس میں اگر قاضی اور عام لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ اسی شخص نے زخمی کیا ہے تو ان گواہوں کی شہادت مقبول نہیں ہے اور اگر کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس شخص نے زخمی کیا ہے تو یہ شہادت صحیح ہے اوراس کے بعد اگر اولیائے مقتول گواہوں سے اسی شخص کے زخمی کرنے کا ثبوت فراہم کر دیں تو یہ بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ (1)(عالمگیری، ص 87، ج 6)
مسئلہ 2: اگر کسی زخمی نے یہ اقرار کیا کہ فلاں شخص نے مجھے زخمی کیا ہے پھر وہ مرگیا اور اولیاء نے گواہوں سے کسی دوسرے کو زخمی کرنے والا ثابت کیا تو یہ گواہی مقبول نہیں ہوگی۔ (2)(عالمگیری، ص87 ، ج6)
مسئلہ 3: اگر کسی زخمی نے یہ اقرار کیا کہ فلاں شخص نے مجھے زخمی کیا ہے پھر مرگیا پھر مقتول کے ایک لڑکے نے اس بات پر گواہ پیش کئے کہ مقتول کے دوسرے لڑکے نے اس کو خطاء ًزخمی کیا تھا تو یہ شہادت مقبول ہوگی۔(3)(عالمگیری ص 87ج 6)
مسئلہ 4: اگر کوئی سوار کسی راہ گیر سے پیچھے کی طرف آکر ٹکرایا اور سوار مرگیا تو راہ گیر پر اس کا ضمان نہیں ہے او راہ گیر مرگیا تو سوار پر اس کا ضمان ہے کشتیوں کی ٹکر کی صورت میں بھی یہی حکم ہے۔ (4)(قاضی خان علی الھندیہ، ص 444، ج 3، عالمگیری ص 88 ج6)
مسئلہ 5: اگر دو جانور آپس میں ٹکرا گئے اور ایک مرگیا اور دونوں کے ساتھ ان کے سائق تھے تو دوسرے پر ضمان
واجب ہے۔(5) (قاضی خان علی الھندیہ، ص 444، ج3)
مسئلہ 6: اگر دو ایسے سوار آپس میں ٹکرا گئے کہ ایک ٹھیرا ہوا تھا اور دوسرا چل رہا تھا اور اسی طرح دو آدمی آپس میں ٹکرا گئے کہ ایک چل رہا تھا اور دوسرا کھڑا ہوا تھا اور ٹھیرے ہوئے کو کچھ صدمہ پہنچا تو اس کا تاوان چلنے والے پر واجب ہوگا۔
(6)(قاضی خان علی الھندیہ ص 444 ج3 ، عالمگیری ص88 ج6)
مسئلہ 7: کوئی شخص راستے میں سورہا تھا کہ ایک راہ گیر نے اس کو کچل دیا اور دونوں کی ایک ایک انگلی ٹوٹ گئی توچلنے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب السابع عشرفی المتفرقات،ج6،ص87.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق،ص88.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات،فصل فی القتل الذی یوجب الدیۃ،ج2،ص391.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب السابع عشرفی المتفرقات،ج6،ص88.
والے پر تاوان ہے سونے والے پر کچھ نہیں ہے اور اگر ان میں سے کوئی مر جائے درآں حالیکہ ایک دوسرے کے وارث ہوں تو سونے والا چلنے والے کا ترکہ پائے مگر چلنے والا سونے والے کا ترکہ نہیں پائے گا۔(1) (قاضی خاں علی الھندیہ، ص444 ، ج 3)
مسئلہ 8: دو شخص کسی درخت کو کھینچ رہے تھے کہ وہ ان پر گر پڑا جس سے وہ دونوں مرگئے ہر ایک کے عاقلہ پر دوسرے کی نصف دیت ہے اور اگر ان میں سے کوئی ایک مرگیا تو دوسرے کے عاقلہ پر نصف دیت ہے۔ (2)(قاضی خان علی الھندیہ ص 444، ج 3، عالمگیری، ص 90، ج 6)
مسئلہ 9: اگر کسی نے کسی کا ہاتھ پکڑا اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچا اور ہاتھ کھینچنے والا گر کر مرگیا تو اگر پکڑنے والے نے مصافحہ کرنے کے لیے پکڑا تھا تو کوئی ضمان نہیں ہے اور اگر اس کے موڑنے اور ایذا دینے کے لیے پکڑا تھا تو پکڑنے والا اس کی دیت کا ضامن ہے اور اگر پکڑنے والے کا ہاتھ ٹوٹ گیا تو ہاتھ کھینچنے والا ضامن نہیں ہے۔(3)(عالمگیری، ص 88، ج 6)
مسئلہ 10: ایک شخص نے دوسرے کو پکڑا اور تیسرے شخص نے پکڑے ہوئے آدمی کو قتل کر دیا تو قاتل سے قصاص لیا جائے گا اور پکڑنے والے کو قید کی سزا دی جائے گی۔(4) (عالمگیری ص88 ج 6)
مسئلہ 11: کسی نے دوسرے کو پکڑا اور تیسرے نے آکر پکڑے ہوئے کا مال چھین لیا تو چھیننے والا ضامن ہے پکڑنے والا ضامن نہیں ہے۔(5) (عالمگیری، ص 88، ج6)
مسئلہ 12: کوئی شخص کسی کے کپڑے پر بیٹھ گیا کپڑے والے کو علم نہ تھا وہ کھڑا ہوگیا جس کی وجہ سے کپڑا پھٹ گیا تو بیٹھنے والا کپڑے کی نصف قیمت کا ضامن ہوگا۔ (6)(عالمگیری ص 88ج 6)
مسئلہ 13: اگر کسی نے اپنے گھر میں لوگوں کو دعوت دی اور ان لوگوں کے چلنے یا بیٹھنے سے فرش یا تکیہ پھٹ گیا تو یہ ضامن نہیں ہیں۔ اور اگر کسی برتن کو ان میں سے کسی نے کچل دیا یا ایسے کپڑے کو جو بچھایا نہیں جاتا ہے کچل کر خراب کر دیا تو ضامن ہوں گے اور اگر ان کے ہاتھ سے گر کر کوئی برتن ٹوٹ گیا تو ضامن نہیں ہیں اور اگر ان مہمانوں میں سے کسی کی تلوار لٹکی ہوئی تھی اور اس سے فرش پھٹ گیا تو ضامن نہیں ہے۔(7) (عالمگیری از محیط، ص 88، ج 6)
مسئلہ 14: اگر صاحب خانہ نے مہمانوں کو بستر پر بیٹھنے کی اجازت دی اور وہ بیٹھ گئے بستر کے نیچے صاحب خانہ کا
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الجنایات، فصل فی القتل الذی یوجب الدیۃ،ج2،ص391.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب السابع عشرفی المتفرقات،ج6،ص90.
3 ۔المرجع السابق،ص88. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
چھوٹا بچہ لیٹا ہوا تھا ان کے بیٹھنے سے وہ کچل کر مرگیا تو مہمان اس کی دیت کا ضامن ہے۔ اسی طرح اگر بستر کے نیچے کسی اور کے شیشے وغیرہ کے برتن تھے وہ ٹوٹ گئے تو مہمان کو تاوان دینا ہوگا۔(1) (عالمگیری از ذخیرہ ص 88ج 6)
مسئلہ 15: اگر کسی نے کسی سوئے ہوئے آدمی کی فصد کھول دی جس سے اتنا خون بہا کہ سونے والا مرگیا تو فصد کھولنے والے پر قصاص واجب ہے۔(2) (عالمگیری از قنیہ ص 88ج 6)
مسئلہ 16: اگر کسی نے یہ کہا کہ میں نے فلاں شخص کو قتل کیا ہے لیکن عمداً یا خطاءً کچھ نہیں کہا تو اس کے اپنے مال سے دیت ادا کی جائے گی۔(3) (عالمگیری از منتقی و ذخیرہ، ص 88، ج 6)
مسئلہ 17: اگر کسی نے کسی کو ہاتھ یا پیر سے مارا اور وہ مرگیا تو یہ شبہ عمد کہلائے گا اور اگر تنبیہہ کے لیے کسی ایسی چیز سے مارا تھا جس سے مرنے کا اندیشہ نہیں تھا مگر مرگیا تو قتلِ خطا کہلائے گا اور اگر مارنے میں مبالغہ کیا تھا تو یہ بھی شبہ عمد کہلائے گا۔ (4)(عالمگیری از محیط، ص 88، ج6)
مسئلہ 18: اگر کسی نے کسی کو تلوار مارنے کا ارادہ کیا جس کو مارنا چاہتا تھا اس نے تلوار ہاتھ سے پکڑ لی۔ تلوار والے نے تلوار کھینچی جس سے پکڑنے والے کی انگلیاں کٹ گئیں تو اگر جوڑ سے کٹ گئی ہیں تو قصاص لیا جائے گا۔ اگر جوڑ کے علاوہ کسی جگہ سے کٹی ہیں تو دیت لازم ہوگی۔(5) (عالمگیری از ذخیرہ، ص 89، ج 6)
مسئلہ 19: اگر کسی کے دانت میں درد ہو اور وہ دانت معین کر کے ڈاکٹر سے کہے کہ اس دانت کو اکھیڑ دو اور ڈاکٹر دوسرا دانت اکھیڑ دے پھر دونوں میں اختلاف ہو جائے تو مریض کا قول حلف کے ساتھ معتبر ہوگا اور ڈاکٹر کے مال میں دیت لازم ہوگی۔(6) (عالمگیری از قنیہ، ص 89، ج6)
مسئلہ 20: اگر دو آدمی کسی تیسرے کا دانت خطاءً توڑ دیں تو دونوں کے مال سے دیت ادا کی جائے گی۔ (7)(عالمگیری از قنیہ ص 89ج6)
مسئلہ 21: اگر کسی نے حسب معمول اپنے گھر میں آگ جلائی۔ اتفاقاً اس سے اس کا اور اس کے پڑوسی کا گھر جل گیا تو یہ ضامن نہیں ہوگا۔(8) (عالمگیری از فصول عمادیہ ص 89ج 6)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب السابع عشر فی المتفرقات،ج6،ص88.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق،ص88،89.
5 ۔المرجع السابق،ص89. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 22: اگر کسی نے اپنے گھر کے تنور میں گنجائش سے زیادہ لکڑیاں جلائیں جس سے اس کا اور اس کے پڑوسی کا گھر جل گیا تو یہ ضامن ہوگا۔(1) (عالمگیری از محیط ص 89ج 6)
مسئلہ 23: اگر کسی نے اپنے لڑکے کو اپنی زمین میں آگ جلانے کا حکم دیا، لڑکے نے آگ جلائی جس سے چنگاریاں اڑ کر پڑوسی کی زمین میں گئیں جن سے اس کا کوئی نقصان ہوگیا تو باپ ضامن ہوگا۔(2) (عالمگیری از قنیہ ص 89ج6)
مسئلہ 24: اگر کسی سمجھ دار بچے نے کسی کی بکری پر کتا دوڑایا جس سے بکری بھاگ گئی اور غائب ہوگئی تو یہ بچہ ضامن نہیں ہوگا۔(3) (عالمگیری ازقنیہ ص 90 ج 6)
مسئلہ 25: کسی نے اپنے جانور کو دیکھا کہ دوسرے کا غلہ کھا رہا تھا اور اس کو غلہ کھانے سے نہیں روکا تونقصان کا ضامن ہوگا۔(4) (عالمگیری ص 90ج 6)
مسئلہ 26: کسی کا جانور دوسرے کے کھیت میں گھس کر نقصان کر رہا ہو تو اگر جانور کے مالک کے کھیت میں جانور کو نکالنے کے لیے گھسنے سے بھی نقصان ہوتا ہے مگر جانور کو نہ نکالا جائے تو زیادہ نقصان کا خطرہ ہے تو گھس کر جانور کو نکالنا واجب ہے اور اس کے کھیت میں گھسنے سے جو نقصان ہوگا اس کا ضامن بھی یہی ہوگا اور اگر جانور کسی دوسرے کا ہو تو اس کا نکالنا واجب نہیں ہے۔ پھر بھی اگر نکال رہا تھا کہ جانور ہلاک ہوگیا تو جانور کی قیمت کا یہ ضامن نہیں ہوگا۔(5) (عالمگیری، ص 90، ج 6)
مسئلہ 27: اگر کسی کے خصیتین پر کسی نے چوٹ ماری جس سے ایک یا دونوں خصیتین زخمی ہوگئے تو حکومت عدل ہے۔ (6)(عالمگیری ازقنیہ ص 90ج 6)
مسئلہ 28: اگر کسی نے کسی کا مویشی خانہ غصب کر کے اس میں اپنے جانور باندھے پھر اس کے مالک نے جانوروں کو نکال دیا تو اگر کوئی جانور گم ہوگیا تو مویشی خانے کا مالک ضامن ہوگا۔(7) (عالمگیری از جامع اصغرص90 ج6)
مسئلہ 29: اگر کسی نے جانور کا ہاتھ یا پیر کاٹ کر اسے ہلاک کر دیا یا ذبح کر دیا تو مالک کو اختیار ہے کہ چاہے تو یہ ہلاک شدہ جانور ہلاک کرنے والے کو دے دے اور اس سے قیمت وصول کر لے یا اس جانور کو اپنے پاس رکھ لے اور ضمان وصول نہ(8)کرے ۔(9) (عالمگیری ص 90ج6)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب السابع عشرفی المتفرقات،ج6،ص89.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص90. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
8 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''ضمان وصول کرے''لکھاہواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل کتاب میں عبارت اس طرح ہے''ضمان وصول نہ کرے ''،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب السابع عشرفی المتفرقات،ج6،ص90.
مسئلہ 1: عاقلہ وہ لوگ کہلاتے ہیں جو قتل خطاء یا شبہ عمد میں ایسے قاتل کی طرف سے دیت ادا کرتے ہیں جو ان کے متعلقین میں سے ہے اور یہ دیت اصالۃً واجب ہوئی ہو اور اگر وہ دیت اِصالۃً واجب نہ ہوئی ہو مثلاً قتل عمد میں قاتل نے اولیائے مقتول سے مال پر صلح کر لی ہو تو قاتل کے مال سے ادا کی جائے گی اور اگر باپ نے اپنے بیٹے کو عمداً قتل کر دیا ہو تو گو اصالۃقصاص واجب ہونا چاہیے تھا مگر شبہ کی وجہ سے قصاص کے بجائے دیت واجب ہوگی جو باپ کے مال سے ادا کی جائے گی۔ مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں عاقلہ پر دیت واجب نہ ہوگی۔(1) (درمختار و شامی، ص 561، ج5 ، عالمگیری، ص83 ، ج6 ، بحرالرائق، ص 399، ج 8، فتح القدیر، ص402 ، ج8 ، تبیین الحقائق، ص 176، ج6 ، بدائع صنائع، ص 256، ج 7، قاضی خان علی الھندیہ، ص448 ، ج3)
مسئلہ 2: حکومت کے مختلف محکموں کے ملازمین اور ایسی جماعتیں جن کو حکومت بیت المال سے سالانہ یا ماہانہ وظیفہ دیتی ہے یا ہم پیشہ جماعتیں ایک شہر یا ایک قصبہ یا ایک گاؤں یا ایک محلے کے لوگ یا ایک بازار کے تاجر جن میں یہ معاہدہ یا رواج ہو کہ اگر ان کے کسی فرد پر کوئی افتاد پڑے تو سب مل کر اس کی اعانت و مدد کرتے ہیں تو وہی فریق اس قاتل کا عاقلہ ہوگا جس کا یہ فرد ہے اور اگر ان میں اس قسم کا رواج نہیں ہے تو قاتل کے آبائی رشتہ دار اس کے عاقلہ کہلائیں گے جن میں الاقرب فالاقرب کا اصول جاری ہوگا اور دیت کی ادائیگی میں قاتل بھی عاقلہ کے ساتھ شریک ہوگا لیکن اس زمانہ میں چونکہ اس قسم کا رواج نہیں ہے اور بیت المال کا نظام بھی نہیں ہے لہٰذا آج کل عاقلہ صرف قاتل کے آبائی رشتہ دار ہوں گے اور اگر کسی شخص کے آبائی رشتہ دار بھی نہ ہوں تو قاتل کے مال سے تین سال میں دیت ادا کی جائے گی۔(2)(درمختار و شامی، ص 566، ج 5، عالمگیری، ص 83، ج 6، بحرالرائق، ص 400، ج 8، فتح القدیر، ص 405، ج 8، تبیین الحقائق، ص 178، ج 6، بدائع صنائع، ص 556، ج 7، قاضی خاں علی الھندیہ ، ص 448، ج 3)
آج کل کارخانوں اور مختلف اداروں میں ملازمین اور مزدوروں کی یونینیں(3)بنی ہوئی ہیں جن کے مقاصد میں بھی یہ شامل ہے کہ کسی ممبر پر کوئی افتاد پڑے تو یونین اس کی مدد کرتی ہے لہٰذا کسی یونین کے ممبر کے عاقلہ کے قائم مقام اسی یونین کو مانا جائے گا جس کا یہ ممبر ہے۔
والحَمْدُ للہِ علٰی اٰلائہٖ والصَّلٰوۃُ والسَّلام علٰی اَفْضَلِ اَنْبِیَائِہٖ وعلٰی اٰلہٖ وصَحْبہٖ وَاَوْلِیَائِہٖ
وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن وَاٰخِرُدَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہ ربِّ الْعٰلَمِیْنَ .
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب السادس عشرفی المعاقل،ج6،ص83.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب المعاقل،ج10،ص341،342،346.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الجنایات،الباب السادس عشرفی المعاقل،ج6،ص83.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب المعاقل،ج10،ص350.
3 ۔یونین کی جمع ،ادارہ ،انجمن وغیرہ۔