Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
عتق (یعنی غلام آزاد کرنے) کے مسائل کی ہندوستان میں ضرورت نہیں پڑتی کہ یہاں نہ لونڈی ،غلام ہیں نہ ان کے آزاد کرنے کا موقع۔ یوہیں فقہ کے اور بھی بعض ایسے ابواب ہیں جن کی زمانہ حال میں یہاں کے مسلمانوں کو حاجت نہیں اس وجہ سے خیال ہوتا تھا کہ ایسے مسائل اس کتاب میں ذکر نہ کیے جائیں مگر ان چیزوں کو بالکل چھوڑ دینا بھی ٹھیک نہیں کہ کتاب ناقص رہ جائے گی۔ نیز ہماری اس کتاب کے اکثر بیانات میں باندی ،غلام کے امتیازی مسائل کا تھوڑا تھوڑا ذکر ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس جگہ بالکل پہلوتہی کی جائے(1) لہٰذا مختصراً چند باتیں گزارش کروں گا کہ اس کے اقسام و احکام پر قدرے اطلاع ہوجائے۔ غلام آزاد کرنے کی فضیلت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(فَکُّ رَقَبَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾اَوْ اِطْعٰمٌ فِیۡ یَوْمٍ ذِیۡ مَسْغَبَۃٍ ﴿ۙ۱۴﴾ (2)
احادیث اس بارے میں بکثرت ہیں بعض احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔
حدیث ۱: صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی حضوراقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص مسلمان غلام کو آزاد کریگا اسکے ہر عضو کے بدلے میں اﷲتعالیٰ اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرمائے گا۔'' سعید بن مرجانہ کہتے ہیں میں نے یہ حدیث علی بن حسین (امام زین العابدین) رضی اﷲتعالیٰ عنہما کو سنائی اونھوں نے اپنا ایک ایسا غلام آزاد کیا جس کی قیمت عبداﷲ بن جعفر دس ۱۰ ہزار دیتے تھے۔ (3)
حدیث ۲: نیز صحیحین میں ابو ذر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی کہتے ہیں،
۔۔۔
1 ۔یعنی غلام آزادکرنے کابیان چھوڑ دیا جائے۔
2 ۔پ۳،البلد:۱۳،۱۴.
ترجمہ کنزالایمان :کسی بندے کی گردن چھڑانا،یا بھوک کے دن کھانا دینا۔
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب العتق،باب فی العتق وفضلہ،الحدیث:۲۵۱۷،ج۲،ص۱۵۰.
میں نے حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)سے عرض کی، کس گردن(1) کو آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے؟ فرمایا: ''جس کی قیمت زیادہ ہو اور زیادہ نفیس ہو۔'' میں نے کہا، اگر یہ نہ کرسکوں؟ فرمایا: کہ ''کام کرنے والے کی مدد کرو یا جو کام کرنا نہ جانتا ہو، اس کا کام کر دو۔'' میں نے کہا، اگر یہ نہ کروں؟ فرمایا:''لوگوں کو ضرر پہنچانے سے بچو کہ اس سے بھی تم کو صدقہ کا ثواب ملے گا۔'' (2)
حدیث ۳: بیہقی شعب الایمان میں براء بن عازب رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، ایک اعرابی(3)نے حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی، مجھے ایسا عمل تعلیم فرمائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے۔ ارشاد فرمایا:''اگرچہ تمھارے الفاظ کم ہیں، مگر جس بات کا سوال کیا ہے وہ بہت بڑی ہے (وہ عمل یہ ہے) کہ جان کو آزاد کرو اور گردن کو چھوڑاؤ۔''عرض کی، یہ دونوں ایک ہی ہیں؟ فرمایا: ''ایک نہیں۔ جان کو آزاد کرنا یہ ہے کہ تو اوسے تنہا آزاد کر دے اور گردن چھوڑانا یہ کہ اوس کی قیمت میں مدد کرے۔'' (4)
حدیث ۴: ابو داود و نسائی واثلہ بن اسقع رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں ہم حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص کے متعلق دریافت کرنے حاضر ہوئے، جس نے قتل کی وجہ سے اپنے اوپر جہنم واجب کرلیا تھا۔ ارشاد فرمایا: ''اس کی طرف سے آزاد کرو، اس کے ہر عضو کے بدلے میں اﷲتعالیٰ اوس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کریگا۔'' (5)
حدیث ۵: بیہقی شعب الایمان میں سمرہ بن جندب رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''افضل صدقہ یہ ہے کہ گردن چھوڑانے(6) میں سفارش کی جائے۔'' (7)
غلام کے آزاد ہونے کی چند صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اوس کے مالک نے کہہ دیا کہ تو آزاد ہے
۔۔۔
1 ۔یعنی غلام لونڈی۔
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب العتق،باب أیّ الرقاب أفضل، الحدیث:۲۵۱۸،ج۲،ص۱۵۰.
3 ۔دیہاتی۔
4 ۔''شعب الإیمان''، باب فی العتق ووجہ التقرب إلی اللہ عزوجل،الحدیث:۴۳۳۵،ج۴،ص۶۵،۶۶.
5 ۔''سنن أبي داود''،کتاب العتق،باب فی ثواب العتق،الحدیث:۳۹۶۴،ج۴،ص۴۰.
6 ۔یعنی غلام آزادکروانے۔
7 ۔ ''شعب الإیمان''،باب فی التعاون علی البروالتقوی، الحدیث:۷۶۸۳،ج۶،ص۱۲۴.
یا اس کے مثل اور کوئی لفظ جس سے آزادی ثابت ہوتی ہے۔دوسری یہ کہ ذی رحم محرم اوس کا مالک ہوجائے تومِلک میں آتے ہی آزاد ہوجائے گا۔ سوم یہ کہ حربی کافر مسلمان غلام کو دارالاسلام سے خرید کر دارالحرب میں لے گیا تو وہاں پہنچتے ہی آزاد ہوگیا۔(1)(درمختار)
مسئلہ ۱: آزاد کرنے کی چار قسمیں ہیں: واجب، مندوب، مباح، کفر۔
قتل و ظہار و قسم اور روزہ توڑنے کے کفارے میں آزاد کرنا واجب ہے، مگر قسم میں اختیار ہے کہ غلام آزاد کرے یا دس۱۰ مساکین کو کھانا کھلائے یا کپڑے پہنائے، یہ نہ کرسکے تو تین روزے رکھ لے۔ باقیؔ تین میں اگر غلام آزاد کرنے پر قدرت ہو تو یہی متعین ہے۔
مندوبؔ وہ ہے کہ اﷲ (عزوجل) کے لیے آزاد کرے اوس وقت کہ جانب شرع (2)سے اوس پر یہ ضروری نہ ہو۔
مباحؔ یہ کہ بغیر نیت آزاد کیا۔
کفروہ کہ بتوں یا شیطان کے نام پر آزاد کیا کہ غلام اب بھی آزاد ہوجائے گا ،مگر اوس کا یہ فعل کفر ہوا کہ ان کے نام پر آزاد کرنا دلیل تعظیم ہے اور ان کی تعظیم کفر۔ (3)(عالمگیری، جوہرہ)
مسئلہ ۲: آزاد کرنے کے لیے مالک کا حر،(4) عاقل، بالغ ہونا شرط ہے یعنی غلام اگرچہ ماذون یا مکاتب ہو، آزادنہیں کرسکتا اور مجنون یا بچہ نے اپنے غلام کو آزاد کیا تو آزاد نہ ہوا، بلکہ جوانی میں بھی اگر کہے کہ میں نے بچپن میں اسے آزاد کردیا تھا یا ہوش میں کہے کہ جنون کی حالت میں، میں نے آزاد کردیا تھا اور اوس کا مجنون ہونا معلوم ہو تو آزاد نہ ہوا، بلکہ اگربچہ یہ کہے کہ جب میں بالغ ہوجاؤں تو تُو آزاد ہے تو اس کہنے سے بھی بالغ ہونے پرآزاد نہ ہوگا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: اگر نشہ میں یا مسخرہ پن (6)سے آزاد کیا یا غلطی سے زبان سے نکل گیا کہ تو آزاد ہے تو آزاد ہوگیا یا یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ میرا غلام ہے اور آزاد کردیا جب بھی آزاد ہوگیا۔ (7) (درمختار)
۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق،ج۵،ص۳۸۸،۳۹۳،۴۰۳.
2 ۔شریعت کی طرف سے ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العتاق،الباب الاول فی تفسیرہ شرعًا... إلخ،ج۲،ص۲.
و''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب العتا ق،الجزء الثانی،ص۱۳۲.
4 ۔آزاد۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ ''،کتاب العتاق،الباب الاول فی تفسیرہ شرعًا... إلخ،ج۲،ص۲.
6 ۔ہنسی مذاق ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق،ج۵،ص۳۹۰،۴۰۶.
مسئلہ ۴: آزاد کرنے کو اگرمِلک(1) یا سببِ ملک(2) پر معلق کیا مثلاً جو غلام کہ فی الحال اس کی ملک میں نہیں اوس سے کہا کہ اگر میں تیرا مالک ہوجاؤں یا تجھے خریدوں تو تُو آزاد ہے اس صورت میں جب اوس کی ملک میں آئیگا آزاد ہوجائے گا۔ اوراگر مورث(3) کی موت کی طرف اضافت کی یعنی جو غلام مور ث کی مِلک میں ہے اوس سے کہا کہ اگر میرا مورث مرجائے تو تُوآزاد ہے تو آزاد نہ ہوگا کہ موتِ مورث سببِ ملک نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۵: زبان سے کہنا شرط نہیں بلکہ لکھنے سے اور گونگا ہو تو اشارہ کرنے سے بھی آزاد ہوجائیگا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۶: طلاق کی طرح اس میں بھی بعض الفاظ صریح ہیں بعض کنایہ۔ صریح میں نیت کی ضرورت نہیں بلکہ اگر کسی اور نیت سے کہے جب بھی آزاد ہوجائیگا۔ صریح کے بعض الفاظ یہ ہیں:
تُو آزاد ہے۔ حُر ہے۔ اے آزاد۔ اے حُر۔ میں نے تجھ کو آزاد کیا، ہاں اگر اوس کا نام ہی آزاد ہے اور اے آزادکہا یا نام حُر ہے اور اے حُر کہہ کر پُکارا تو آزاد نہ ہوا اور اگر نام آزاد ہے اور اے حُر کہہ کر پکارا یا نام حُر ہے اور اے آزاد کہہ کر پکارا تو آزاد ہوجائے گا۔ یہ الفاظ بھی صریح کے حکم میں ہیں۔ نیت کی ضرورت نہیں، میں نے تجھے تجھ پر صدقہ کیایا تجھے تیرے نفس کو ہبہ کیا، میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا ان میں اس کی بھی ضرورت نہیں کہ غلام قبول کرے۔ اور اگریوں کہا کہ میں نے تجھے تیرے ہاتھ اتنے کو بیچا تو اب قبول کی ضرورت ہوگی اگر قبول کریگا تو آزاد ہوگااو ر اوتنے دینے پڑینگے۔ آزادی کو کسی ایسے جز کی طرف منسوب کیا جو پورے سے تعبیر ہے مثلاً تیرا سر۔ تیری گردن۔ تیری زبان آزاد ہے توآزاد ہوگیا اور اگر ہاتھ یا پاؤں کو آزاد کہا تو آزاد نہ ہوا اور اگر تہائی ،چوتھائی، نصف وغیرہ کو آزادکیاتو اوتنا آزاد ہوگیااگر غلام کو کہا یہ میرا بیٹا ہے یا لونڈی کو کہا یہ میری بیٹی ہے اگر چہ عمر میں زیادہ ہوں یا غلام کو کہا یہ میرا باپ یا دادا ہے یالونڈی کو کہا کہ یہ میری ماں ہے اگرچہ ان کی عمر اتنی نہ ہوکہ باپ یا دادا یا ماں ہونے کے قابل ہوں تو ان سب صورتوں میں آزاد ہیں اگرچہ اس نیت سے نہ کہا ہو۔ اور اگر کہا اے میرے بیٹے، اے میرے بھائی، اے میری بہن، اے میرے باپ تو بغیر نیت آزاد نہیں۔
کنایہ کے بعض الفاظ یہ ہیں۔ تو میری ملک نہیں۔ تجھ پر مجھے راہ نہیں۔ تو میری ملک سے نکل گیا
۔۔۔
1 ۔مالک ہونا۔
2 ۔مالک ہونے کاسبب۔
3 ۔میراث چھوڑنے والا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق،ج۵،ص۳۹۱.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب العتق،ج۵،ص۳۹۰.
ان میں بغیر نیت آزاد نہ ہوگا۔ اگر کہا تو آزاد کی مثل ہے تو اس میں بھی نیت کی ضرورت ہے۔ (1)(عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۷: الفاظ طلاق سے آزاد نہ ہوگا اگرچہ نیت ہو یعنی یہ آزادی کے لیے کنایہ بھی نہیں۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۸: ذی رحم محرم یعنی ایسا قریب کا رشتہ والا کہ اگر ان میں سے ایک مرد ہو اور ایک عورت ہو تو نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو جیسے باپ ،ماں، بیٹا ،بیٹی، بھائی ،بہن، چچا ،پھوپھی ،ماموں ،خالہ، بھانجہ ،بھانجی ان میں کسی کا مالک ہو تو فوراً ہی آزاد ہوجائیگا اور اگر ان کے کسی حصہ کا مالک ہوا تواوتنا آزاد ہوگیا۔ اس میں مالک کے عاقل بالغ ہونے کی بھی شرط نہیں بلکہ بچہ یا مجنون بھی ذی رحم محرم کا مالک ہو تو آزاد ہوجائیگا۔(3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۹: اگر آزادی کو کسی شرط پر معلق کیا (4)مثلاً اگر تو فُلاں کام کرے تو آزاد ہے اور وہ شرط پائی گئی تو غلام آزاد ہے جبکہ شرط پائی جانے کے وقت اوسکی ملک میں ہو اور اگر ایسی شرط پر معلق کیا جو فی الحال موجودہے مثلاً اگرمیں تیرا مالک ہوجاؤں تو آزاد ہے تو فوراً آزاد ہوجائے گا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: لونڈی حاملہ تھی اوسے آزاد کیا تو اوس کے شکم (6)میں جو بچہ ہے وہ بھی آزاد ہے اور اگر صرف پیٹ کے بچہ کو آزاد کیا تو وہی آزاد ہوگا لونڈی آزاد نہ ہوگی، مگر جب تک بچہ پیدا نہ ہولے لونڈی کو بیچ نہیں سکتا۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: لونڈی کی اولاد جو شوہر سے ہوگی وہ اوس لونڈی کے مالک کی مِلک ہوگی اور جو اولاد مولیٰ (8)سے ہوگی وہ آزاد ہوگی۔ (9) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱۲: یہ اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ اگر کسی حصہ کو آزاد کیا تو اوتنا ہی آزاد ہوگا یہ اوس صورت میں ہے
۔۔۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العتا ق،الباب الاول فی تفسیرہ شرعًا...إلخ، ج۲،ص۳.
و''الدرالمختار''،کتاب العتق،ج۵،ص۳۹۲۔۴۰۱،وغیرہما.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق، ج۵،ص۴۰۱.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق، ج۵،ص۴۰۳،وغیرہ.
4 ۔یعنی موقوف۔
5 ۔''الدر المختار''،کتاب العتق ،ج۵،ص ۴۰۶.
6 ۔ پیٹ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق ،ج۵ ،ص۴۰۷.
8 ۔مالک۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق ،ج۵، ص۴۱۴.
کہ جب وہ حصہ معین ہومثلاً آدھا۔ تہائی۔ چوتھائی۔ اور اگر غیرمعین ہو مثلاً تیر ا ایک حصہ آزاد ہے تو اس صورت میں بھی آزادہوگامگر چونکہ حصہ غیر معین ہے، لہٰذا مالک سے تعیین کرائی جائے گی کہ تری مراد کیا ہے جو وہ بتائے اوتنا آزاد قرار پائے گا اور دونوں صورتوں میں یعنی بعض معین یا غیرمعین میں جتنا باقی ہے اوس میں سعایت کرائیں گے یعنی اوس غلام کی اوس روز جو قیمت بازار کے نرخ (1)سے ہو اوس قیمت کا جتنا حصہ غیر آزاد شدہ کے مقابل ہو اوتنا مزدوری وغیرہ کراکر وصول کریں جب قیمت کا وہ حصہ وصول ہوجائے اوس وقت پورا آزاد ہوجائیگا۔ (2)(عامہ کتب)
مسئلہ ۱۳: یہ غلام جس کا کوئی حصہ آزاد ہوچکا ہے اس کے احکام یہ ہیں کہ(۱) اس کو نہ بیچ سکتے ہیں۔(۲)نہ یہ دوسرے کا وارث ہوگا۔(۳) نہ اس کا کوئی وارث ہو۔ (۴)نہ دوسے زیادہ نکاح کرسکے۔(۵)نہ مولیٰ (3)کی بغیر اجازت نکاح کرسکے۔(۶)نہ اُن معلاملات میں گواہی دے سکے جن میں غلام کی گواہی نہیں لی جاتی۔(۷)نہ ہبہ کرسکے۔(۸) نہ صدقہ دے سکے مگرتھوڑی مقدار کی اجازت ہے۔ (۹)اور نہ کسی کو قرض دے سکے۔(۱۰)نہ کسی کی کفالت کرسکے۔(۱۱)اور نہ مولیٰ اس سے خدمت لے سکتا ہے۔(۱۲)نہ اس کو اپنے قبضہ میں رکھ سکتا ہے۔ (4)(ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: جو غلام دوشخصوں کی شرکت میں ہے اون میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کردیا تو دوسرے کو اختیا ر ہے کہ اگر آزاد کرنے والا مالدار ہے (یعنی مکان و خادم و سامان خانہ داری اور بدن کے کپڑوں کے علاوہ اوس کے پاس اتنا مال ہو کہ اپنے شریک کے حصہ کی قیمت ادا کرسکے) تو اوس سے اپنے حصہ کا تاوان لے یا یہ بھی اپنے حصہ کو آزاد کردے یا یہ اپنے حصہ کی قدرسَعایت کرائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو مدبر کردے مگر اس صورت میں بھی فی الحال سعایت کرائی جائے اور مولیٰ کے مرنے کے پہلے اگرسَعایت سے قیمت ادا کرچکا تو ادا کرتے ہی آزاد ہوگیا ورنہ اوس کے مرنے کے بعد اگر تہائی مال(5) کے اندر ہو توآزاد ہے۔ (6)(درمختار وغیرہ)
۔۔۔
1 ۔بھاؤ۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب العتق ،با ب عتق البعض،ج۵،ص۴۱۶.
3 ۔آقا،مالک۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب العتق ، باب عتق البعض،ج۵،ص۴۱۶.
و''الفتا وی الھندیۃ ''،کتاب العتاق ، الباب الثانی فی العبد الذی یعتق بعضہ، ج۲،ص۹.
5 ۔مال کے تیسرے حصہ۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق ،با ب عتق البعض،ج۵،ص ۴۱۸،وغیرہ.
مسئلہ ۱۵: جب ایک شریک (1)نے آزاد کردیا تو دوسرے کو اوس کے بیچنے یا ہبہ کرنے یا مَہر میں دینے کاحق نہیں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: شریک کے آزاد کرنے کے بعد اس نے سَعایت(3) شروع کرادی تو اب تاوان نہیں لے سکتا ہاں اگر غلام اثنائے سَعایت میں مرگیا تو بقیہ کا اب تاوان لے سکتا ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: تاوان لینے کا حق اوس وقت ہے کہ اوس نے بغیر اجازت شریک آزاد کردیا اور اجازت کے بعد آزاد کیاتو نہیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: کسی نے اپنے دوغلاموں کو مخاطب کرکے کہا تم میں کا(6) ایک آزاد ہے تو اوسے بیا ن کرنا ہوگا جس کوبتائے کہ میں نے اُسے مراد لیا وہ آزاد ہوجائے گا۔ اور بیان سے قبل ایک کو بیع کیا (7)یا رہن رکھا (8)یا مکاتب یا مدبر کیا تودوسراآزادہونے کے لیے معین ہوگیا۔ اور اگر نہ بیان کیا نہ اس قسم کا کوئی تصرف کیا (9)اور ایک مرگیا تو جو باقی ہے وہ آزاد ہوگیا اور اگر مولیٰ خود مرگیا تو وارث کو بیان کرنے کا حق نہیں بلکہ ہر ایک میں سے آدھا آدھا آزاد اور آدھے باقی میں دونوں سَعایت کریں۔ (10)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: غلام سے کہا تو اتنے مال پر آزاد ہے اور اُس نے اوسی مجلس میں یا جس مجلس میں اس کا علم ہوا قبول کرلیا تواوسی وقت آزاد ہوگیا۔ یہ نہیں کہ جب ادا کریگا اوسوقت آزاد ہوگا اور اگر یوں کہا کہ تو اتنا ادا کردے تو آزاد ہے تو یہ غلام ماذون ہوگیا یعنی اسے تجارت کی اجازت ہوگئی اور اس صورت میں قبول کرنے کی حاجت نہیں بلکہ اگر انکار کردے جب بھی ماذون رہے گا اور جب تک اوتنے ادانہ کردے مولیٰ اوسے بیچ سکتا ہے۔ (11)(درمختار)
۔۔۔
1 ۔ایک غلام کے دو یازیادہ مالک آپس میں شریک کہلاتے ہیں۔
2 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب العتاق ، الباب الثانی فی العبد الذی یعتق بعضہ،ج۲،ص ۹.
3 ۔یعنی قیمت ادا کرنے کے لیے محنت مزدوری ۔
4 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب العتاق ، الباب الثانی فی العبد الذی یعتق بعضہ،ج۲،ص۱۰.
5 ۔المرجع السابق،ص۱۲.
6 ۔یعنی تم میں سے۔
7 ۔ بیچ دیا۔
8 ۔یعنی گروی رکھا۔
9 ۔نہ اس قسم کاکوئی عمل کیا۔
10 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب العتاق ، الباب الثالث فی عتق احدالعبدین، ج ۲،ص۱۸۔۲۰.
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق ، باب العتق علی جعل ... إلخ ،ج ۵ ، ص ۴۴۴۔۴۴۶.
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(وَالَّذِیۡنَ یَبْتَغُوۡنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیۡمَانُکُمْ فَکَاتِبُوۡہُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیۡہِمْ خَیۡرًا ٭ۖ وَّاٰتُوۡہُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللہِ الَّذِیۡۤ اٰتٰىکُمْ ؕ ) (1)
جن لوگوں کے تم مالک ہو (تمھارے لونڈی غلام) وہ کتابت چاہیں تواونھیں مکاتب کردو، اگر اون میں بھلائی دیکھو اوراوس مال میں سے جو خدا نے تمھیں دیا ہے، کچھ اونھیں دیدو۔
حدیث ۱: ابو داود بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''مکاتب پر جب تک ایک درہم بھی باقی ہے، غلام ہی ہے۔'' (2)
حدیث ۲: ابو داود وترمذی وابن ماجہ ام سلمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں:''جب تم میں کسی کے مکاتب کے پاس پورا بدل کتابت جمع ہوجائے تو اوس سے پردہ کرے۔'' (3)
حدیث ۳: ابن ماجہ و حاکم ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں: جس کنیز (4)کے بچہ اوس کے مولیٰ (5) سے پیدا ہو، وہ مولیٰ کے مرنے کے بعد آزاد ہے۔ (6)
حدیث ۴: دارقطنی و بیہقی ابن عمررضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''مدبرنہ بیچا جائے، نہ ہبہ کیا جائے، وہ تہائی مال سے آزاد ہے۔'' (7)
مدبر اوس کو کہتے ہیں جس کی نسبت مولیٰ نے کہا کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے یایوں کہا کہ اگرمیں مرجاؤں یاجب میں مروں توتُو آزاد ہے غرض اسی قسم کے وہ الفاظ جن سے مرنے کے بعد اوس کا آزاد ہونا ثابت ہوتا ہے۔ (8)
۔۔۔
1 ۔پ ۱۸،النور:۳۳.
2 ۔''سنن أبي داود''،کتاب العتق، باب فی المکاتب یؤدّی... إلخ،الحدیث: ۳۹۲۶، ج ۴،ص۲۸.
3 ۔''سنن أبي داود''،کتاب العتق، باب فی المکاتب یؤدّی... إلخ،الحدیث: ۳۹۲۸، ج ۴،ص۲۸.
4 ۔لونڈی۔
5 ۔ مالک۔
6 ۔''سنن ابن ماجہ''،أبواب العتق، باب امھات الاولاد... إلخ،الحدیث: ۲۵۱۵،ج،ص۲۰۲.
7 ۔''السنن الکبری''،للبیہقي،کتاب المدبر، باب من قال لا یباع المدبر الحدیث:۲۱۵۷۲،ج۱۰،ص۵۲۹.
8 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب العتاق ،باب التدبیر،الجزء الثانی،ص ۱۳۶.
مسئلہ ۱: مدبر کی دو۲ قسمیں ہیں: مدبر مطلق۔ مدبر مقید۔ مدبر مطلق وہ جس میں کسی ایسے امر کا اضافہ نہ کیا ہو جس کاہونا ضروری نہ ہو یعنی مطلقاً موت پر آزاد ہونا قرار دیا مثلاً اگرمیں مروں تو تُو آزاد ہے اور اگر کسی وقتِ معین پر یا وصف کے ساتھ موت پر آزاد ہونا کہا تو مقید ہے مثلاً اس سال مروں یا اس مرض میں مروں کہ اُس سال یا اِس مرض سے مرنا ضرورنہیں اور اگر کوئی ایسا وقت مقرر کیا کہ غالب گمان اس سے پہلے مرجانا ہے مثلاً بوڑھا شخص کہے کہ آج سے سو۱۰۰ برس پرمروں توتُو آزاد ہے تو یہ مدبر مطلق ہی ہے کہ یہ وقت کی قید بیکار ہے کیونکہ غالب گمان یہی ہے کہ اب سے سو۱۰۰ برس تک زندہ نہ رہے گا۔(1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲: اگر یہ کہا کہ جس دن مروں تو آزاد ہے تو اگر چہ رات میں مرے وہ آزاد ہوگا کہ دن سے مراد یہاں مطلق وقت ہے ہاں اگر وہ کہے کہ دن سے میری مراد صبح سے غروب آفتاب تک کا وقت ہے یعنی رات کے علاوہ تو یہ نیت اس کی مانی جائیگی مگر اب یہ مدبر مقید ہوگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳: مدبرکرنے کے بعد اب اپنے اس قول کو واپس نہیں لے سکتا۔ مدبر مطلق کو نہ بیچ سکتے ہیں۔ نہ ہبہ کرسکتے نہ رہن رکھ سکتے نہ صدقہ کرسکتے ہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: مدبرغلام ہی ہے یعنی اپنے مولیٰ کی مِلک ہے(4) اس کو آزاد کرسکتا ہے مکاتب بناسکتا ہے اوس سے خدمت لے سکتا ہے مزدوری پر دے سکتا ہے، اپنی ولایت سے اوس کا نکاح کرسکتا ہے اور اگر لونڈی مدبرہ ہے تو اوس سے وطی (5)کرسکتا ہے۔ اوس کا دوسرے سے نکاح کرسکتا ہے اور مدبرہ سے اگر مولیٰ کی اولاد ہوئی تو وہ ام ولدہوگئی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۵: جب مولیٰ مرے گا تواوس کے تہائی مال(7) سے مدبر آزاد ہو جائے گا یعنی اگریہ تہائی مال ہے یااس سے کم تو بالکل آزاد ہوگیا اور اگر تہائی سے زائد قیمت کا ہے تو تہائی کی قدر آزاد ہوگیا باقی کے لیے سَعایت کرے اوراگراس کے علاوہ مولےٰ کے پاس اور کچھ نہ ہو تو اس کی تہائی آزاد ،باقی دوتہائیوں میں سعایت کرے۔(8)
۔۔۔
1 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب العتا ق ، الباب السادس فی التد بیر ،ج۲، ص۳۷،وغیرہ.
2 ۔''الدرالمختار''،کتا ب العتق، باب التدبیر،ج ۵،ص۴۵۶.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العتاق، الباب السادس فی التد بیر، ج ۲ ،ص۳۷.
4 ۔اپنے آقاکی ملکیت میں ہے۔
5 ۔مجامعت،ہمبستری۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق ، باب التد بیر،ج ۵ ، ص ۴۶۰،۴۶۳.
7 ۔مال کے تیسرے حصہ۔
8 ۔یعنی باقی دوحصوں کی قیمت اداکرنے کے لیے محنت مزدوری کرے ۔
یہ اوس وقت ہے کہ وُرَثہ(1)اجازت نہ دیں اور اگر اجازت دیدیں یا اس کا کوئی وارث ہی نہیں توکُل آزاد ہے۔ اور اگر مولیٰ پردَین ہے کہ یہ غلام اوس دین میں مُستَغرق(2) ہے توکل قیمت میں سعایت کرکے قرض خواہوں کو ادا کرے۔(3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶: مدبر مقید کا مولیٰ مرا اور اوسی وصف پر موت واقع ہوئی مثلاً جس مرض یا وقت میں مرنے پر اس کاآزادہونا کہا تھا وہی ہوا تو تہائی مال سے آزاد ہوجائیگا ورنہ نہیں۔اور ایسے مدبر کو بیع وہبہ وصدقہ وغیرہا کرسکتے ہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: مولیٰ نے کہا تو میرے مرنے سے ایک مہینہ پہلے آزاد ہے اور اس کہنے کے بعد ایک مہینہ کے اندرمولیٰ مرگیا تو آزاد نہ ہوا اور اگر ایک مہینہ یا زائد پر مرا تو غلام پورا آزاد ہوگیا اگرچہ مولیٰ کے پاس اس کے علاوہ کچھ مال نہ ہو۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: مولیٰ نے کہا تو میرے مرنے کے ایک دن بعد آزاد ہے تو مدبر نہ ہوا، لہٰذا آزاد بھی نہ ہوگا۔(6)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: مدبرہ کے بچہ پیدا ہو ا تو یہ بھی مدبر ہے، جبکہ وہ مدبرہ مطلقہ ہو اور اگر مقیدہ ہو تو نہیں۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: مدبرہ لونڈی کے بچہ پیدا ہوا اور وہ بچہ مولیٰ کا ہو تو وہ اب مدبر ہ نہ رہی بلکہ ام ولد ہوگئی کہ مولیٰ کے مرنے کے بعد بالکل آزاد ہوجائے گی اگرچہ اوس کے پاس اس کے سوا کچھ مال نہ ہو۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: غلام اگر نیک چلن ہو(9) اور بظاہر معلوم ہوتاہو کہ آزاد ہونیکے بعد مسلمانوں کو ضرر نہ پہنچائیگا تو ایسا غلام اگر مولیٰ سے عقد کتابت کی درخواست کرے تو اوس کی درخواست قبول کر لینا بہتر ہے۔ عقد کتابت کے یہ معنےٰ ہیں کہ آقا اپنے غلام سے مال کی ایک مقدار مقرر کرکے یہ کہدے کہ اتنا ادا کردے تو آزاد ہے اور غلام اسے قبول بھی کرلے اب یہ مکاتب ہوگیا
۔۔۔
1 ۔ میت کے مال میں سے حصہ پانے والے۔
2 ۔گھراہوا۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق ، با ب التد بیر ،ج۵،ص ۴۶۱، وغیرہ.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب العتاق ، الباب السادس فی التد بیر،ج ۲، ص۳۷.
5 ۔المرجع السابق.ص ۳۸.
6 ۔المرجع السابق.ص ۳۸.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق ، باب التد بیر ، ج۵ ،ص ۴۶۳.
8 ۔المرجع السابق.
9 ۔ یعنی بااخلاق اوراچھے کرداروالاہو۔
جب کل ادا کردیگا آزاد ہوجائیگا اور جب تک اوس میں سے کچھ بھی باقی ہے غلام ہی ہے۔ (1)(جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۲: مکاتب نے جو کچھ کمایا اوس میں تصرف کرسکتا ہے (2)جہاں چاہے تجارت کے لیے جاسکتا ہے مولےٰ اوسے پردیس جانے سے نہیں روک سکتا اگرچہ عقدِ کتابت میں یہ شرط لگا دی ہو کہ پردیس نہیں جائیگا کہ یہ شرط باطل ہے۔ (3) (مبسوط)
مسئلہ ۱۳: عقد کتابت میں مولیٰ کو اختیار ہے کہ معاوضہ فی الحال اداکرنا شرط کردے یا اوس کی قسطیں مقرر کردے اور پہلی صورت میں اگر اسی وقت ادا نہ کیا اور دوسری صورت میں پہلی قسط ادانہ کی تو مکاتب نہ رہا۔ (4) (مبسوط)
مسئلہ ۱۴: نابالغ غلام اگر اتنا چھوٹا ہے کہ خریدنا بیچنا نہیں جانتا تو اوس سے عقد کتابت نہیں ہوسکتا اور اگر اتنی تمیز ہے کہ خریدو فروخت کرسکے تو ہوسکتا ہے۔(5) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۵: مکاتب کو خریدنے بیچنے سفر کرنے کا اختیار ہے اور مولیٰ کی بغیر اجازت اپنایا اپنے غلام کا نکاح نہیں کرسکتا اور مکاتبہ لونڈی بھی بغیر مولیٰ کی اجازت کے اپنانکاح نہیں کرسکتی اور ان کو ہبہ اور صدقہ کرنے کا بھی اختیار نہیں، ہاں تھوڑی سی چیز تصدق (6)کرسکتے ہیں جیسے ایک روٹی یا تھوڑا سانمک اور کفالت(7) اور قرض کا بھی اختیار نہیں۔(8) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۶: مولیٰ نے اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کردیا پھردونوں سے عقد کتابت کیا اب اون کے بچہ پیدا ہوا تو یہ بچہ بھی مکاتب ہے اور یہ بچہ جو کچھ کمائے گا اس کی ماں کو ملے گا اور بچہ کا نفقہ(9) اس کی ماں پر ہے اور اس کی ماں کا نفقہ اس کے باپ پر۔(10) (جوہرہ)
۔۔۔
1 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب المکاتب الجزء الثانی ، ص ۱۴۲۔۱۴۳، وغیرہ.
2 ۔یعنی اپنی مرضی سے خرچ کرسکتاہے۔
3 ۔'' المبسوط''للسرخسي،کتاب المکاتب ، ج ۴ ، الجزء الثامن ،ص۳.
4 ۔المرجع السابق، ص ۴ ،۵.
5 ۔''الجوھرۃالنیرۃ''،کتاب المکاتب،الجزء الثانی ، ص۱۴۳.
6 ۔صدقہ ،خیرات۔
7 ۔ ضمانت۔
8 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب المکاتب ، الجزء الثانی ، ص ۴۳ ۱۔ ۱۴۴.
9 ۔کھانے پینے وغیرہ کے اخراجات۔
10 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب المکاتب ، الجزء الثانی ،ص۱۴۴،۱۴۵.
مسئلہ ۱۷: مکاتبہ لونڈی سے مولیٰ وطی نہیں کرسکتا اگر وطی کریگا تو عقر لازم آئیگا اور اگر لونڈی کے مولیٰ سے بچہ پیدا ہوتو اوسے اختیار ہے کہ عقد کتابت باقی رکھے اور مولیٰ سے عقر لے یا عقد کتابت سے انکار کرکے ام ولد ہوجائے۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۸: مولےٰ نے مکاتب کا مال ضائع کردیا تو تاوان لازم ہوگا۔ (2)(جوہرہ)
مسئلہ ۱۹: ام ولد کو بھی مکاتبہ کرسکتا ہے اور مکاتب کو آزاد کردیا تو بدل کتابت ساقط ہوگیا۔(3) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۰: ام ولد اوس لونڈی کو کہتے ہیں جس کے بچہ پیدا ہوا اور مولیٰ نے اقرار کیا کہ یہ میرا بچہ ہے خواہ بچہ پیدا ہونے کے بعد اوس نے اقرار کیا یا زمانہ حمل میں اقرار کیا ہو کہ یہ حمل مجھ سے ہے اور اس صورت میں ضروری ہے کہ اقرار کے وقت سے چھ مہینے کے اندر بچہ پیدا ہو۔ (4) (درمختار، جوہرہ)
مسئلہ ۲۱: بچہ زندہ پیدا ہوا یا مُردہ بلکہ کچا بچہ پیدا ہوا جس کے کچھ اعضابن چکے ہیں سب کا ایک حکم ہے یعنی اگرمولیٰ اقرار کرلے تو لونڈی ام ولد ہے۔ (5)(جوہرہ)
مسئلہ ۲۲: ام ولدکے جب دوسرابچہ پیدا ہو تو یہ مولےٰ ہی کا قرار دیا جائیگا جبکہ اُس کے تصرف میں ہو اب اس کے لیے اقرار کی حاجت نہ ہوگی البتہ اگرمولےٰ انکار کردے اور کہہ دے کہ یہ میرا نہیں تو اب اوس کا نسب مولیٰ سے نہ ہوگا اور اوس کا بیٹا نہیں کہلائے گا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: ام ولد سے صحبت (7)کرسکتا ہے خدمت لے سکتا ہے اوس کو اجارہ پردے سکتا ہے یعنی اور وں کے کام کاج مزدوری پر کرے اور جو مزدوری ملے اپنے مالک کو لاکردے ام ولد کا کسی شخص کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے مگر اس کے لیے استبرا (8) ضرور ہے اور ام ولد کو نہ بیچ سکتا ہے نہ ہبہ کرسکتا ہے نہ گروی رکھ سکتا ہے نہ اوسے خیرات کرسکتا ہے
۔۔۔
1 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب المکاتب ، الجزء الثانی ، ص ۱۴۵،۱۴۸،۱۴۹.
2 ۔المرجع السابق،ص،۱۴۵.
3 ۔المرجع السابق،ص ۱۴۸.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق ، باب الإستیلاد ،ج ۵ ، ص۲۴۸.
و''الجوھرۃالنیرۃ''،کتاب العتاق ،باب الإستیلا د،الجزء الثانی ،ص۱۳۹.
5 ۔''الجوھرۃالنیرۃ''،کتاب العتاق ،باب الإستیلا د،الجزء الثانی ،ص۱۳۸،۱۳۹.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب العتق، باب الإستیلاد، ج۵، ص ۴۷۳.
7 ۔ ہمبستری۔
8 ۔ رحم کانطفہ سے خالی ہونا۔
بلکہ کسی طرح دوسرے کی ملک میں نہیں دے سکتا۔(1) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مولیٰ کی موت کے بعد اُم ولد بالکل آزاد ہوجائے گی اوس کے پاس اور مال ہو یا نہ ہو۔ (2)(عامہ کتب)
اﷲعزوجل فرماتا ہے :
( وَ لَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لِّاَیۡمَانِکُمْ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَتَتَّقُوۡا وَتُصْلِحُوۡا بَیۡنَ النَّاسِ ؕ وَاللہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۲۴﴾ (3)
اﷲ (عزوجل) کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو کہ نیکی اور پرہیزگاری اور لوگوں میں صلح کرانے کی کھالو (یعنی ان امور کے نہ کرنے کی قسم نہ کھالو) اور اﷲ (عزوجل) سُننے والا، جاننے والا ہے۔
اور فرماتا ہے:
(اِنَّ الَّذِیۡنَ یَشْتَرُوۡنَ بِعَہۡدِ اللہِ وَاَیۡمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیۡلًا اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللہُ وَلَا یَنۡظُرُ اِلَیۡہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیۡہِمْ ۪ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۷﴾ (4)
جو لوگ اﷲ (عزوجل) کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں اون کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اﷲ (عزوجل) نہ اون سے بات کرے، نہ اون کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ اونھیں پاک کرے اور اون کے لیے دردناک عذاب ہے۔
اور فرماتا ہے:
( وَ اَوْفُوۡا بِعَہۡدِ اللہِ اِذَا عٰہَدۡتُّمْ وَلَا تَنۡقُضُوا الۡاَیۡمَانَ بَعْدَ تَوْکِیۡدِہَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللہَ عَلَیۡکُمْ کَفِیۡلًا ؕ اِنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوۡنَ ﴿۹۱﴾ (5 )
۔۔۔
1 ۔''الجوھرۃالنیرۃ''،کتاب العتاق،باب الإستیلاد ، الجزء الثانی ،ص ۱۳۸.
و''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب العتاق ، الباب السابع فی الإستیلاد ،ج ۲،ص ۴۵.
2 ۔''الجوھرۃالنیرۃ''،کتاب العتاق،باب الإستیلاد ، الجزء الثانی،ص ۱۳۹.
3 ۔پ۲،البقرۃ:۲۲۴.
4 ۔پ۳،اٰل عمران: ۷۷.
5 ۔پ۱۴،النحل:۹۱.
اﷲ (عزوجل) کا عہد پورا کرو جب آپس میں معاہدہ کرو اور قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو حالانکہ تم اﷲ (عزوجل) کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو، جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ (عزوجل) جانتا ہے۔
اور فرماتا ہے:
( وَلَا تَتَّخِذُوۡۤا اَیۡمَانَکُمْ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوۡتِہَا ) (1)
اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بناؤ کہ کہیں جمنے کے بعد پاؤں پھسل نہ جائے۔
اور فرماتا ہے:
(وَ لَا یَاۡتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنۡکُمْ وَ السَّعَۃِ اَنۡ یُّؤْتُوۡۤا اُولِی الْقُرْبٰی وَ الْمَسٰکِیۡنَ وَالْمُہٰجِرِیۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۖ وَلْیَعْفُوۡا وَلْیَصْفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۲﴾ (2)
تم میں سے فضیلت والے اور وسعت والے اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اﷲ (عزوجل) کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دینگے، کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اﷲ (عزوجل) تمھاری مغفرت کرے اور اﷲ (عزوجل) بخشنے والا مہربان ہے۔
حدیث ۱: صحیحین میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اﷲتعالیٰ تم کو باپ کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے، جو شخص قسم کھائے تو اﷲ (عزوجل) کی قسم کھائے یا چپ رہے۔'' (3)
حدیث ۲: صحیح مسلم شریف میں عبدالرحمن بن سمرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ ''بتوں کی اور اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ۔'' (4)
حدیث ۳: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص لات و عزی کی قسم کھائے (یعنی جاہلیت کی عادت کی وجہ سے یہ لفظ اوسکی زبان پر جاری ہوجائے) وہ لآ اِلٰہ اِلاَّ اللہُ کہہ لے
۔۔۔
1 ۔پ۱۴،النحل:۹۴.
2 ۔پ۱۸،النور:۲۲.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الأیمان والنذور، باب لا تحلفوا بآبائکم، الحدیث: ۶۶۴۶، ج۴،ص۲۸۶.
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأیمان، باب من حلف باللات والعزی... إلخ، الحدیث: ۶۔(۱۶۴۸) ص۸۹۵.
اور جو اپنے ساتھی سے کہے آؤ جوا کھیلیں، وہ صدقہ کرے۔'' (1)
حدیث ۴: صحیحین میں ثابت بن ضَحاک رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص غیر ملّتِ اسلام پر جھوٹی قسم کھائے (یعنی یہ کہے کہ اگر یہ کام کرے تو یہودی یا نصرانی ہوجائے یا یوں کہے کہ اگر یہ کام کیا ہو تو یہودی یا نصرانی ہے) تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اوس نے کہا (یعنی کافر ہے) اور ابن آدم پر اوس چیز کی نذر نہیں جس کا وہ مالک نہیں اور جو شخص اپنے کو جس چیز سے قتل کریگا، اوسی کے ساتھ قیامت کے دن عذاب دیا جائیگا اور مسلمان پر لعنت کرنا ایساہے جیسا اوسے قتل کردینا اور جوشخص جھوٹا دعویٰ اس لیے کرتا ہے کہ اپنے مال کو زیادہ کرے، اﷲتعالیٰ اوس کے لیے قلت میں اضافہ کریگا(2)۔'' (3)
حدیث ۵: ابو داود و نسائی و ابن ماجہ بریدہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''جوشخص یہ کہے (کہ اگرمیں نے یہ کام کیاہے یا کروں) تواسلام سے بری ہوں، وہ اگر جھوٹا ہے تو جیسا کہا ویساہی ہے اور اگرسچا ہے جب بھی اسلام کی طرف سلامت نہ لوٹے گا۔'' (4)
حدیث ۶: ابن جریر ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جھوٹی قسم سے سودا فروخت ہوجاتا ہے اور برکت مٹ جاتی ہے۔'' (5)
حدیث ۷: دیلمی اونھیں سے راوی، کہ فرمایا: ''یمینِ غموس مال کو زائل کردیتی ہے اور آبادی کو ویرانہ کردیتی ہے۔''(6)
حدیث ۸: ترمذی و ابو داود و نسائی و ابن ماجہ و دارمی عبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص قسم کھائے اور اس کے ساتھ انشاء اﷲ کہہ لے تو حانث نہ ہوگا۔'' (7)
حدیث ۹: بخاری ومسلم وابو داود وابن ماجہ ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی،
۔۔۔
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الأیمان والنذور، باب لا یحلف باللات... إلخ، الحدیث: ۶۶۵۰،ج۴،ص۲۸۸.
2 ۔ یعنی مال میں بہت کمی کرے گا۔
3 ۔''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم قتل الانسان نفسہ... إلخ، الحدیث: ۱۷۶۔(۱۱۰) ،ص ۶۹.
4 ۔ ''سنن النسائي''،کتاب الأیمان والنذور، باب الحلف بالبراء ۃ من الاسلام، الحدیث: ۳۷۷۷، ص۶۱۶.
5 ۔''کنزالعمال''،کتاب الیمین والنذر، الحدیث: ۴۶۳۷۶، ج۱۶، ص۲۹۷.
6 ۔''کنزالعمال''،کتاب الیمین والنذر، الحدیث: ۴۶۳۷۸، ج۱۶، ص۲۹۷.
7 ۔ ''جامع الترمذي''،ابواب النذوروالأیمان، باب ما جاء فی الإستثناء فی الیمین، الحدیث: ۱۵۳۶،ج۳، ص۱۸۳.
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''خدا کی قسم! انشاء اﷲتعالیٰ میں کوئی قسم کھاؤں اور اوسکے غیر میں بھلائی دیکھوں تو وہ کام کرونگا جو بہترہے اور قسم کا کفارہ دیدونگا۔'' (1)
حدیث ۱۰: امام مسلم و امام احمد و ترمذی ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص قسم کھائے اور دوسری چیز اوس سے بہتر پائے توقسم کا کفارہ دیدے اور وہ کام کرے۔'' (2)
حدیث ۱۱: صحیحین میں اونھیں سے مروی، حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''خدا کی قسم! جو شخص اپنے اہل کے بارے میں قسم کھائے اور اوس پر قائم رہے تو اﷲ (عزوجل) کے نزدیک زیادہ گنہگار ہے، بہ نسبت اس کے کہ قسم توڑ کر کفارہ دیدے۔'' (3)
حدیث ۱۲: قسم اوس پر محمول ہوگی، جو قسم کھلانے والے کی نیت میں ہو۔ (4)
قسم کھانا جائز ہے مگر جہاں تک ہو کمی بہتر ہے اور بات بات پر قسم کھانی نہ چاہیے اور بعض لوگوں نے قسم کو تکیہ کلام بنا رکھاہے (5) کہ قصد و بے قصد(6) زبان سے جاری ہوتی ہے اور اس کابھی خیال نہیں رکھتے کہ بات سچی ہے یا جھوٹی یہ سخت معیوب ہے (7)اور غیر خدا کی قسم مکروہ ہے اور یہ شرعاً قسم بھی نہیں یعنی اس کے توڑنے سے کفارہ لازم نہیں۔ (8)(تبیین وغیرہ)
مسئلہ ۱: قسم کی تین قسم ہے(۱)غموس۔(۲)لغو۔(۳) منعقدہ۔ اگر کسی ایسی چیز کے متعلق قسم کھائی جو ہوچکی ہے یا اب ہے یا نہیں ہوئی ہے یا اب نہیں ہے مگروہ قسم جھوٹی ہے مثلاً قسم کھائی فلاں شخص آیا اور وہ اب تک نہیں آیا ہے یا قسم کھائی کہ نہیں آیا اور وہ آگیا ہے یا قسم کھائی کہ فلاں شخص یہ کام کر رہا ہے اور حقیقتہً وہ اس وقت نہیں کر رہا ہے یا قسم کھائی کہ یہ پتھر ہے اور واقع میں وہ پتھر نہیں، غرض یہ کہ اس طرح جھوٹی قسم کی دوصورتیں ہیں
۔۔۔
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأیمان، باب ندب من حلف یمینًا ...إلخ، الحدیث:۷۔(۱۶۴۹)، ص ۸۹۵.
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأیمان، باب ندب من حلف یمیناً ...إلخ، الحدیث: ۱۱۔(۱۶۵۰)، ص ۸۹۷.
3 ۔''صحیح البخاری''،کتاب الأیمان،باب قول اللہ تعالٰی،الحدیث ۶۶۲۵،ج۴ص۲۸۱.
4 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب الکفارات، باب من ورّی فی یمینہ ،الحدیث۲۱۲۰،ج۲،ص۵۵۱.
5 ۔ یعنی دورانِ گفتگوباربارقسم کھانے کی عادت بنارکھی ہے۔
6 ۔ارادتاً اوربغیرارادہ کے۔
7 ۔بہت بُری بات ہے۔
8 ۔''تبیین الحقا ئق''،کتاب الأیمان ،ج ۳ ،ص ۴۱۸،۴۱۹ ، وغیرہ.
جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی یعنی مثلاً جس کے آنے کی نسبت جھوٹی قسم کھائی تھی یہ خود بھی جانتا ہے کہ نہیں آیاہے تو ایسی قسم کو غموس کہتے ہیں۔ اور اگر اپنے خیال سے تو اوس نے سچی قسم کھائی تھی مگر حقیقت میں وہ جھوٹی ہے مثلاً جانتاتھا کہ نہیں آیا اور قسم کھائی کہ نہیں آیا اور حقیقت میں وہ آگیا ہے تو ایسی قسم کو لغوکہتے ہیں۔ اور اگر آئندہ کے لیے قسم کھائی مثلاً خداکی قسم میں یہ کام کروں گا یا نہ کروں گا تو اس کو منعقدہ کہتے ہیں۔ (1) جب ہرایک کو خوب جان لیا تو ہر ایک کے اب احکام سنیے:
مسئلہ ۲: غموس میں سخت گنہگار ہوا استغفار و توبہ فرض ہے مگر کفارہ لازم نہیں اور لغو میں گناہ بھی نہیں اور منعقدہ میں اگر قسم توڑے گا کفارہ دینا پڑے گا اور بعض صورتوں میں گنہگار بھی ہوگا۔(2) (درمختار ،عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۳: بعض قسمیں ایسی ہیں کہ اون کا پورا کرنا ضروری ہے مثلاً کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھائی جس کا بغیر قسم کرنا ضروری تھا یا گناہ سے بچنے کی قسم کھائی تو اس صورت میں قسم سچی کرناضرورہے۔ مثلاً خدا کی قسم ظہر پڑھوں گا یا چوری یا زنا نہ کروں گا۔ دوسری وہ کہ اوس کا توڑنا ضروری ہے مثلاً گناہ کرنے یا فرائض و واجبات نہ کرنے کی قسم کھائی جیسے قسم کھائی کہ نماز نہ پڑھوں گا یا چوری کروں گا یا ماں باپ سے کلام نہ کروں گا تو قسم توڑ دے۔ تیسری وہ کہ اوس کا توڑنا مستحب ہے مثلاً ایسے امر(3) کی قسم کھائی کہ اوس کے غیر میں بہتری ہے تو ایسی قسم کو توڑ کروہ کرے جو بہتر ہے۔ چوتھی وہ کہ مباح کی قسم کھائی یعنی کرنا اور نہ کرنا دونوں یکساں ہیں اس میں قسم کا باقی رکھنا افضل ہے۔ (4)(مبسوط)
مسئلہ ۴: منعقدہ جب توڑے گا کفارہ لازم آئیگا اگرچہ اوس کا توڑنا شرع (5)نے ضروری قراردیا ہو۔ (6)
مسئلہ ۵: منعقدہ تین قسم ہے: (1)یمین فور۔(2)مرسل۔(3)موقت۔ اگر کسی خاص وجہ سے یا کسی بات کے جواب میں قسم کھائی جس سے اوس کا م کا فوراً کرنایا نہ کرنا سمجھا جاتاہے اوس کو یمین فور کہتے ہیں۔ ایسی قسم میں اگر فوراً وہ بات ہوگئی تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر کچھ دیر کے بعد ہو تو اس کا کچھ اثر نہیں مثلاً عورت گھر سے باہر جانے کا تہیہ کررہی ہے اوس نے کہا اگر تو گھر سے باہرنکلی تو تجھے طلاق ہے اوس وقت عورت ٹھہرگئی پھر دوسرے وقت گئی تو طلاق نہیں ہوئی یا ایک شخص کسی کو مارنا چاہتا تھا
۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان ، ج ۵،ص۴۹۲۔۴۹۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الاول فی تفسیرہاشرعاً...إلخ ،ج ۲ ، ص ۵۲.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الاول فی تفسیرہاشرعاً...إلخ ،ج ۲ ، ص ۵۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الأیمان، ج ۵ ،ص۴۹۲ ۔۴۹۷وغیرہما.
3 ۔ معاملہ،کام۔
4 ۔'' المبسوط''للسرخسي،کتاب الأیمان،ج۴، الجزء الثامن، ص۱۳۳،۱۳۴.
5 ۔ شریعت۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الاول فی تفسیرہاشرعاً...إلخ ،ج ۲،ص ۵۲.
اوس نے کہا اگر تونے اسے مارا تو میری عورت کو طلاق ہے اوس وقت اوس نے نہیں مارا تو طلاق نہیں ہوئی اگرچہ کسی اور وقت میں مارے یا کسی نے اس کو ناشتہ کے لیے کہا کہ میرے ساتھ ناشتہ کرلو اوس نے کہا خدا کی قسم ناشتہ نہیں کروں گا اور اوس کے ساتھ ناشتہ نہ کیا توقسم نہیں ٹوٹی اگرچہ گھر جاکر اوسی روز ناشتہ کیا ہو۔
اور موقت وہ ہے جس کے لیے کوئی وقت ایک دن دودن یا کم و بیش مقرر کردیا اسمیں اگر وقت معین (1) کے اندر قسم کے خلاف کیا تو ٹوٹ گئی ورنہ نہیں مثلاً قسم کھائی کہ اس گھڑے میں جو پانی ہے اوسے آج پیوں گااور آج نہ پیا تو قسم ٹوٹ گئی اور کفارہ دینا ہوگا اور پی لیا تو قسم پوری ہو گئی اور اگر اوس وقت کے پورا ہونے سے پہلے وہ شخص مرگیا یا اوس کاپانی گرادیا گیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ اور اگر قسم کھانے کے وقت اوس گھڑ ے میں پانی تھا ہی نہیں مگر قسم کھانے والے کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس میں پانی نہیں ہے جب بھی قسم نہیں ٹوٹی اور اگر اسے معلوم تھا کہ پانی اس میں نہیں ہے اور قسم کھائی تو قسم ٹوٹ گئی۔
اور اگر قسم میں کوئی وقت مقرر نہ کیا اور قرینہ(2) سے فوراً کرنا یا نہ کرنا نہ سمجھا جاتا ہو تو اوسے مرسل کہتے ہیں۔ کسی کام کے کرنے کی قسم کھائی اور نہ کیا مثلاً قسم کھائی کہ فلاں کوماروں گا اور نہ مارا یہاں تک کہ دونوں میں سے ایک مرگیا تو قسم ٹوٹ گئی اور جب تک دونوں زندہ ہوں تو اگرچہ نہ مارا قسم نہیں ٹوٹی اور نہ کرنے کی قسم کھائی تو جب تک کریگا نہیں قسم نہیں ٹوٹے گی مثلاً قسم کھائی کہ میں فلاں کو نہ ماروں گا اور مارا تو ٹوٹ گئی ورنہ نہیں۔ (3)(جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۶: غلطی سے قسم کھا بیٹھا مثلاً کہنا چاہتا تھا کہ پانی لاؤ یاپانی پیوں گا اور زبان سے نکل گیا کہ خدا کی قسم پانی نہیں پیوں گا یا یہ قسم کھانا نہ چاہتا تھا دوسرے نے قسم کھانے پر مجبور کیا تو وہی حکم ہے جو قصداً (4) اور بلا مجبور کیے قسم کھانے کا ہے یعنی توڑے گا تو کفارہ دینا ہوگا قسم توڑنا اختیار سے ہو یا دوسرے کے مجبور کرنے سے قصداً ہو یا بھول چوک سے ہر صورت میں کفارہ ہے بلکہ اگر بیہوشی یا جنون میں قسم توڑنا ہوا جب بھی کفارہ واجب ہے جب کہ ہوش میں قسم کھائی ہواور اگر بے ہوشی یا جنون میں قسم کھائی تو قسم نہیں کہ عاقل ہونا شرط ہے اور یہ عاقل نہیں۔ (5)(تبیین)
مسئلہ ۷: قسم کے لیے چند شرطیں ہیں، کہ اگر وہ نہ ہوں تو کفارہ نہیں۔ قسم کھانے والا(۱)مسلمان، (۲) عاقل،(۳)بالغ ہو۔ کافر کی قسم، قسم نہیں یعنی اگر زمانہ کفر میں قسم کھائی پھرمسلمان ہوا تواوس قسم کے توڑنے پر کفارہ واجب نہ ہوگا۔
۔۔۔
1 ۔ مقررہ وقت۔
2 ۔یعنی ظاہری صورت حال۔
3 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الأیمان ،الجزء الثانی ،ص ۲۴۷.
4 ۔ جان بوجھ کر۔
5 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الأیمان ،ج ۳، ص۴۲۳.
اورمعاذاﷲقسم کھانے کے بعد مرتد ہوگیا تو قسم باطل ہوگئی یعنی اگر پھرمسلمان ہوا اور قسم توڑ دی تو کفارہ نہیں۔ آزاد ہونا شرط نہیں یعنی غلام کی قسم قسم ہے توڑنے سے کفارہ واجب ہوگا مگر کفارہ مالی نہیں دے سکتا کہ کسی چیز کا مالک ہی نہیں ہاں روزہ سے کفارہ ادا کرسکتاہے مگر مولیٰ اس روزہ سے اوسے روک سکتا ہے لہٰذا اگر روزہ کے ساتھ کفارہ ادانہ کیا ہو تو آزاد ہونے کے بعد کفارہ دے۔(۴)اور قسم میں یہ بھی شرط ہے کہ وہ چیز جس کی قسم کھائی عقلاً ممکن ہو یعنی ہوسکتی ہو، اگرچہ محال عادی ہو۔(۵)اور یہ بھی شرط ہے کہ قسم اور جس چیز کی قسم کھائی دونوں کو ایک ساتھ کہا ہو درمیان میں فاصلہ ہوگا تو قسم نہ ہوگی مثلاً کسی نے اس سے کہلایا کہ کہہ خدا کی قسم اس نے کہا خدا کی قسم اوس نے کہا کہہ فلاں کام کروں گا اس نے کہاتو یہ قسم نہ ہوئی۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: اﷲعزوجل کے جتنے نام ہیں اون میں سے جس نام کے ساتھ قسم کھائے گا قسم ہوجائیگی خواہ بول چال میں اوس نام کے ساتھ قسم کھاتے ہوں یانہیں۔ مثلاً اﷲ(عزوجل)کی قسم، خدا کی قسم، رحمن کی قسم، رحیم کی قسم، پروردگار کی قسم۔ یوہیں خدا کی جس صفت کی قسم کھائی جاتی ہو اوس کی قسم کھائی ہوگئی مثلاًخدا کی عزت وجلال کی قسم، اوس کی کبریائی (2)کی قسم، اوس کی بزرگی یا بڑائی کی قسم،اوس کی عظمت کی قسم، اوس کی قدرت و قوت کی قسم، قرآن کی قسم، کلام اﷲ کی قسم، ان الفاظ سے بھی قسم ہوجاتی ہے حلف(3) کرتا ہوں، قسم کھاتا ہوں، میں شہادت دیتا ہوں، خدا گواہ ہے، خداکو گواہ کرکے کہتا ہوں۔ مجھ پر قسم ہے۔لآاِلٰہ اِلاَّ اﷲ میں یہ کام نہ کروں گا۔ اگر یہ کام کرے یا کیا ہو تو یہودی ہے یا نصرانی یا کافر یا کافروں کا شریک، مرتے وقت ایمان نصیب نہ ہو۔ بے ایمان مرے، کافر ہوکرمرے، اور یہ الفاظ بہت سخت ہیں کہ اگر جھوٹی قسم کھائی یا قسم توڑ دی تو بعض صورت میں کافرہوجائے گا۔ جو شخص اس قسم کی جھوٹی قسم کھائے اوس کی نسبت حدیث میں فرمایا: ''وہ ویسا ہی ہے جیسا اوس نے کہا۔'' یعنی یہودی ہونے کی قسم کھائی تو یہودی ہوگیا۔ یوہیں اگر کہا خدا جانتاہے کہ میں نے ایسا نہیں کیا ہے اور یہ بات اوس نے جھوٹ کہی ہے تو اکثر علماء کے نزدیک کافرہے۔ (4)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار وغیرہا)
مسئلہ ۹: یہ الفاظ قسم نہیں اگرچہ ان کے بولنے سے گنہگار ہوگا جبکہ اپنی بات میں جھوٹا ہے اگر ایسا کروں تومجھ پر اﷲ (عزوجل) کا غضب ہو۔اوس کی لعنت ہو، اوس کا عذاب ہو۔ خدا کا قہرٹوٹے، مجھ پر آسمان پھٹ پڑے، مجھے زمین نگل جائے۔ مجھ پر خدا کی مارہو،
۔۔۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب الاول فی تفسیرہ شرعاً ...إلخ، ج ۲،ص۵۱.
و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان،مطلب: فی یمین الکافر،ج۵، ص۴۹۰.
2 ۔عظمت ،بڑائی۔
3 ۔قسم۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثانی فیما یکون یمیناً...إلخ، الفصل الاول، ج۲ ،ص۵۲۔۵۴.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان،مطلب:فی الفرق ...إلخ،ج۵، ص۴۹۹۔۵۰۳،وغیرہا.
خدا کی پھٹکار (1)ہو،رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی شفاعت نہ ملے، مجھے خدا کا دیدار نہ نصیب ہو، مرتے وقت کلمہ نہ نصیب ہو۔ (2)
مسئلہ ۱۰: جو شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرے مثلاً کہے کہ فلاں چیز مجھ پر حرام ہے تو اس کہہ دینے سے وہ شے حرام نہیں ہوگی کہ اﷲ (عزوجل) نے جس چیز کو حلال کیا اوسے کون حرام کرسکے مگر اوس کے برتنے سے کفارہ لازم آئیگا یعنی یہ بھی قسم ہے۔ (3)(تبیین)
مسئلہ ۱۱: تجھ سے بات کرناحرام ہے یہ یمین (4)ہے بات کریگا تو کفارہ لازم ہوگا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: اگر اس کو کھاؤں تو سوئر کھاؤں یا مُردار کھاؤں یہ قسم نہیں یعنی کفارہ لازم نہ ہوگا۔ (6) (مبسوط)
مسئلہ ۱۳: غیر خدا کی قسم قسم نہیں مثلاً تمھاری قسم، اپنی قسم، تمھاری جان کی قسم، اپنی جان کی قسم، تمھارے سرکی قسم، اپنے سرکی قسم، آنکھوں کی قسم، جوانی کی قسم، ماں باپ کی قسم، اولادکی قسم، مذہب کی قسم، دین کی قسم، علم کی قسم، کعبہ کی قسم، عرش الٰہی کی قسم، رسول اﷲ کی قسم۔ (7)
مسئلہ ۱۴: خدا ورسول کی قسم یہ کام نہ کروں گا یہ قسم نہیں۔ اگر کہا میں نے قسم کھائی ہے کہ یہ کام نہ کروں گا اور واقع میں قسم کھائی ہے تو قسم ہے اور جھوٹ کہا تو قسم نہیں جھوٹ بولنے کاگناہ ہوا۔ اور اگر کہا خدا کی قسم کہ اس سے بڑھ کر کوئی قسم نہیں یااوس کے نام سے بزرگ کوئی نام نہیں یا اوس سے بڑھ کر کوئی نہیں میں اس کام کو نہ کروں گا تو یہ قسم ہوگئی اور درمیان کا لفظ فاصل قرار نہ دیا جائیگا۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: اگر یہ کام کروں تو خدا سے مجھے جتنی اُمیدیں ہیں سب سے نااُمید ہوں، یہ قسم ہے اور توڑنے پر کفارہ لازم۔ (9) (عالمگیری)
۔۔۔
1 ۔لعنت۔
2 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان الباب الثانی فیما یکون یمینًا ...إلخ،الفصل الاول، ج ۲،ص ۵۴.
3 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الأیمان ،ج ۳،ص ۴۳۶.
4 ۔ قسم۔
5 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ،الباب الثانی فیما یکون یمینًا ...إلخ ، الفصل الاول،ج۲،ص۵۸.
6 ۔'' المبسوط''للسرخسي،کتاب الأیمان ،ج۴،الجزء الثانی،ص۱۴۳.
7 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الاول فی تفسیرھا ...إلخ،ج ۲ ، ص۵۱.
8 ۔'المرجع السابق ، الباب الثانی فیما یکون یمینًا ...إلخ ، الفصل الاول ،ج۲ ،ص ۵۷،۵۸.
9 ۔المرجع السابق،ص۵۸.
مسئلہ ۱۶: اگر یہ کام کروں تو کافروں سے بدتر ہوجاؤں تو قسم ہے اور اگر کہا کہ یہ کام کرے تو کافر کو اوس پر شرف ہو(1) تو قسم نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: اگر کسی کام کی چند قسمیں کھائیں اور اوس کے خلاف کیا تو جتنی قسمیں ہیں اوتنے ہی کفارے لازم ہوں گے مثلاً کہا کہ واﷲ باﷲ (3)میں یہ نہیں کروں گا یا کہا خدا کی قسم، پروردگار کی قسم تو یہ دو قسمیں ہیں۔ کسی کام کی نسبت قسم کھائی کہ میں اسے کبھی نہ کرونگا پھر دوبارہ اوسی مجلس میں قسم کھا کر کہا کہ میں اس کام کو کبھی نہ کروں گا پھر اوس کام کو کیا تو دو کفارے لازم۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: واﷲاوس سے ایک دن کلام نہ کرونگا۔ خدا کی قسم اوس سے مہینہ بھر کلام نہ کروں گا۔ خدا کی قسم اوس سے سال بھربات نہ کروں گا پھر تھوڑی دیر بعد کلام کیا تو تین کفارے دے اور ایک دن کے بعد بات کی تو دو کفارے اور مہینہ بھر کے بعد کلام کیا تو ایک کفارہ اور سال بھر کے بعد کیا تو کچھ نہیں۔ قسم کھائی کہ فلاں بات میں نہ کہوں گا نہ ایک دن نہ دودن تو یہ ایک ہی قسم ہے جس کی میعاد (5)دو دن تک ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: دوسرے کے قسم دلانے سے قسم نہیں ہوتی مثلاً کہا تمھیں خدا کی قسم یہ کام کردو تو اس کہنے سے اوس پر قسم نہ ہوئی یعنی نہ کرنے سے کفارہ لازم نہیں ایک شخص کسی کے پاس گیا اوس نے اوٹھنا چاہا اوس نے کہا خداکی قسم نہ اوٹھنا اور وہ کھڑا ہوگیا تو اوس قسم کھانے والے پر کفارہ نہیں۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: ایک نے دوسرے سے کہا تم فلاں کے گھر کل گئے تھے اوس نے کہا ہاں پھر اوس پوچھنے والے نے کہا خدا کی قسم تم گئے تھے اوس نے کہا ہاں تو اس کا ہاں کہنا قسم ہے۔ ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر تم نے فلاں شخص سے بات چیت کی تو تمھاری عورت کو طلاق ہے اوس نے جواب میں کہا مگر تمھاری اجازت سے تو اوس کے کہنے کامقصد یہ ہوا کہ بغیر اوس کی اجازت کے کلام کریگا تو عورت کو طلاق ہے، لہٰذا بغیر اجازت کلام کرنے سے عورت کو طلاق ہوجائے گی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: ایک نے دوسرے سے کہا خدا کی قسم تم یہ کام کروگے اگر اس سے خود قسم کھانا مرادہے تو قسم ہوگئی
۔۔۔
1 ۔ فضیلت ہو۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الثانی فیما یکون یمینًا ...إلخ ، الفصل الاول ،ج۲، ص ۵۸.
3 ۔یہ الفاظِ قسم ہیں،یعنی اللہ کی قسم،اللہ کی قسم۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،المرجع السابق، ص۵۶.
5 ۔ مدت۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الثانی فیما یکون یمینًا ...إلخ ، الفصل الاول ،ج۲،ص۵۷،۵۸.
7 ۔المرجع السابق ،ص۵۹،۶۰.
8 ۔ المر جع السابق ،ص۵۹.
اور اگر قسم کھلانا مقصود ہے یا نہ خودکھانا مقصودہے نہ کھلانا تو قسم نہیں یعنی اگر دوسرے نے اوس کام کو نہ کیا تو کسی پر کفارہ نہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: ایک نے دوسرے سے کہا خدا کی قسم تمھیں یہ کام کرنا ہوگا خدا کی قسم تمھیں یہ کام کرنا ہوگا دوسرے نے کہا ہاں اگر پہلے کا مقصود قسم کھاناہے اور دوسرے کا بھی ہاں کہنے سے قسم کھانا مقصود ہے تو دونوں کی قسم ہوگئی اور اگر پہلے کا مقصود قسم کھلانا ہے اور دوسرے کا قسم کھانا تو دوسرے کی قسم ہوگئی اور اگر پہلے کا مقصود قسم کِھلا نا ہے اور دوسرے کا مقصود ہاں کہنے سے قسم کھانا نہیں بلکہ وعدہ کرنا ہے تو کسی کی قسم نہ ہوئی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: ایک نے دوسرے سے کہاخدا کی قسم میں تمھارے یہاں دعوت میں نہیں آؤنگا تیسرے نے کہا کیا میرے یہاں بھی نہ آؤگے اوس نے کہا ہاں تو یہ ہاں کہنا بھی قسم ہے یعنی اس تیسرے کے یہاں جانے سے بھی قسم ٹوٹ جائے گی۔ (3)(عالمگیری)
اﷲعزوجل فرماتاہے:
(لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللہُ بِاللَّغْوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمْ وَلٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوۡبُکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۲۲۵﴾ (4)
اﷲ (عزوجل) ایسی قسموں میں تم سے مؤاخذہ نہیں کرتا جو غلط فہمی سے ہوجائیں ہاں اون پر گرفت کرتاہے جو تمھارے دلوں نے کام کیے اور اﷲ (عزوجل) بخشنے والا، حلم والا ہے۔
اور فرماتا ہے :
( قَدْ فَرَضَ اللہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیۡمَانِکُمْ ۚ وَ اللہُ مَوْلٰىکُمْ ۚ وَ ہُوَ الْعَلِیۡمُ الْحَکِیۡمُ ﴿۲﴾ (5)
بیشک اﷲ (عزوجل) نے تمھاری قسموں کا کفارہ مقرر کیا ہے اور اﷲ (عزوجل) تمھارا مولیٰ ہے اور وہ علم والا اور حکمت والا ہے۔
اور فرماتا ہے:
(لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللہُ بِاللَّغْوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمْ وَلٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَیۡمَانَ ۚ فَکَفَّارَتُہٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیۡنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوۡنَ اَہۡلِیۡکُمْ اَوْ کِسْوَتُہُمْ اَوْ تَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ ؕ فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ؕ ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیۡمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ ؕ وَاحْفَظُوۡۤا اَیۡمَانَکُمْ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ ﴿۸۹﴾ ) (6)
۔۔۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الثانی فیما یکون یمینًا ...إلخ ، الفصل الاول ،ج۲،ص۶۰.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔پ۲،البقرۃ: ۲۲۵.
5 ۔پ۲۸،التحریم : ۲.
6 ۔پ۷،المآئدہ:۸۹.
اﷲ (عزوجل) تمھاری غلط فہمی کی قسموں پر تم سے مؤاخذہ نہیں کرتا ہاں اون قسموں پر گرفت فرماتاہے جنھیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسموں کاکفارہ دس مسکین کو کھانا دینا ہے اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اوس کے اوسط میں سے یا اونھیں کپڑا دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جوان میں سے کسی بات پر قدرت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے یہ تمھاری قسموں كا کفارہ ہے جب قسم کھاؤ۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح اﷲ (عزوجل) اپنی نشانیاں تمھارے لیے بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔
یہ تو معلوم ہوچکا کہ قسم توڑنے سے کفارہ لازم آتا ہے۔ اب یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ قسم توڑنے کا کیاکفارہ ہے اور اوس کی کیا کیا صورتیں ہیں، لہٰذا اب اوس کے احکام کی تفصیل سنیے:
مسئلہ ۱: قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس ۱۰ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا اون کو کپڑے پہنانا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔ (1)
مسئلہ ۲: غلام آزاد کرنے یا مساکین کو کھانا کھلانے میں اون تمام باتوں کی جو کفارہ ظہار میں مذکور ہوئیں یہاں بھی رعایت کرے مثلاً کس قسم کا غلام آزاد کیا جائے کہ کفارہ ادا ہواور کیسے غلام کے آزاد کرنے سے ادا نہ ہوگا اور مساکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلانا ہوگااور جن مساکین کو صبح کے وقت کھلایا اونھیں کو شام کے وقت بھی کھلائے دوسرے دس ۱۰ مساکین کو کھلانے سے ادانہ ہوگا۔ اور یہ ہوسکتا ہے کہ دسوں کو ایک ہی دن کھلادے یا ہرروزایک ایک کو یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وقت کھلائے۔ اور مساکین جن کو کھلایا ان میں کوئی بچہ نہ ہو اور کھلانے میں اباحت(2) و تملیک(3) دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھلانے کے عوض ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا ایک صاع (4)جَو یا ان کی قیمت کا مالک کردے یا دس ۱۰ روز تک ایک ہی مسکین کو ہر روز بقدر صدقہ فطر دیدیا کرے یا بعض کو کھلائے اور بعض کو دیدے۔ غرض یہ کہ اوس کی تمام صورتیں وہیں سے معلوم کریں فرق اتنا ہے کہ وہاں ساٹھ ۶۰ مسکین تھے یہاں دس ۱۰ ہیں۔ (5)
مسئلہ ۳: کپڑے سے وہ کپڑا مراد ہے جو اکثر بدن کو چھپا سکے اور وہ کپڑا ایسا ہو
۔۔۔
1 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الأیمان ،ج ۳ ،ص۴۳۰.
2 ۔کھانے کی اجازت دے دینا۔
3 ۔مالک بنادینا۔
4 ۔ ایک صاع تقریباً 4کلو100گرام کاہوتاہے اورنصف صاع تقریباً2کلو50گرام کا ہوتاہے۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان ،مطلب: کفارۃ الیمین ، ج ۵ ، ص ۵۲۳.
جس کو متوسط درجہ کے لوگ پہنتے ہوں اور تین مہینے سے زیادہ تک پہنا جاسکے، لہٰذا اگر اتنا کپڑا ہے جو اکثر بدن کو چھپانے کے لیے کافی نہیں مثلاً صرف پاجامہ (1) یاٹوپی یا چھوٹا کرتا(2)۔ یوہیں ایسا گھٹیا کپڑا دینا جسے متوسط لوگ نہ پہنتے ہوں ناکافی ہے۔ یوہیں ایساکمزور کپڑا دینا جو تین ماہ تک استعمال نہ کیا جاسکتا ہو، جائزنہیں۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: کپڑے کی جو مقدار ہونی چاہیے اوس کا نصف دیا اور اس کی قیمت نصف صاع گیہوں (4)یا ایک صاع جَو کے برابر ہے تو جائز ہے۔ یوہیں ایک کپڑا دس ۱۰ ہی مسکینوں کو دیا جو تقسیم ہوکر ہر ایک کو اتنا ملتاہے جس کی قیمت صدقہ فطرکے برابرہے تو جائز ہے۔ یوہیں اگرمسکین کو پگڑی دی اور وہ کپڑا اتنا ہے جس کی مقدار مذکور ہوئی یا اوس کی قیمت صدقہ فطر کے برابر ہے تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ (5)(مبسوط وغیرہ)
مسئلہ ۵: نیا کپڑا ہونا ضروری نہیں پُرانا بھی دیا جاسکتا ہے جبکہ تین مہینے سے زیادہ تک استعمال کرسکتے ہوں اور نیا ہو مگر کمزور ہوتوجائز نہیں۔ (6)(ردالمختار)
مسئلہ ۶: عورت کو اگر کپڑا دیا تو سر پر باندھنے کا رومال یا دوپٹا بھی دینا ہوگا کیونکہ اوسے سر کا چھپانا بھی فرض ہے۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: پانچ مسکینوں کو کھانا کھلایا اور پانچ کو کپڑے دیدیے اگر کھانا کپڑے سے سستاہے یعنی ہر مسکین کا کپڑا ایک کھانے سے زیادہ یا برابر قیمت کا ہے تو جائز ہے یعنی یہ کپڑے پانچ کھانے کے قائم مقام ہوکر کل کھانا دینا قرارپائیگا اور اگرکپڑا کھانے سے ارزاں(8) ہو تو جائز نہیں مگر جبکہ کھانے کا مساکین کو مالک کردیا ہو تو یہ بھی جائز ہے یعنی یہ کھانے پانچ مساکین کے کپڑے کے برابر ہوئے تو گویا دسوں کو کپڑے دیے۔ (9)(ردالمحتار)
۔۔۔
1 ۔شلوار کی ایک قسم۔
2 ۔وہ قمیص جس میں کالر نہ ہو۔
3 ۔''الدرالمختاروردالمحتار''،کتاب الأیمان ، مطلب: کفارۃ الیمین ،ج ۵ ، ص ۵۲۴.
4 ۔ گندم۔
5 ۔'' المبسوط''،للسرخسي،کتاب الأیمان ، باب الکسوۃ ، ج ۴،الجز ء الثامن ص ۱۶۴،وغیرہ.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأیمان،مطلب:کفارۃالیمین،ج۵،ص۵۲۴.
7 ۔المرجع السابق ،ص ۵۲۵.
7 ۔سستا،کم قیمت۔
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأیمان ،مطلب :کفارۃالیمین ،ج ۵،ص ۵۲۴.
مسئلہ ۸: اگر ایک مسکین کو دسوں کپڑے (1) ایک دن میں ایک ساتھ یا متفرق(2) طورپردیدیے تو کفارہ ادانہ ہوا اور دس ۱۰ دن میں دیے یعنی ہرروز ایک کپڑا تو ہوگیا۔(3) (مبسوط)
مسئلہ ۹: مسکین کو کپڑا یا غلہ یا قیمت دی پھر وہ مسکین مرگیا اور اس کے پاس وہ چیز وراثۃً(4) پہنچی یا اوس نے اسے ہبہ کردیا یا اس نے اوس سے وہ شے خریدلی توان سب صورتوں میں کفارہ صحیح ہوگیا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: پانچ صاع گیہوں دس۱۰ مسکینوں کے سامنے رکھ دیے اونھوں نے لُوٹ لیے تو صرف ایک مسکین کو دینا قرار پائے گا۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: کفارہ ادا ہونے کے لیے نیت شرط ہے بغیر نیت ادانہ ہوگا ہاں اگروہ شے جو مسکین کو دی اور دیتے وقت نیت نہ کی مگر وہ چیز ابھی مسکین کے پاس موجود ہے اور اب نیت کرلی تو ادا ہوگیا جیسا کہ زکوٰۃ میں فقیر کو دینے کے بعد نیت کرنے میں یہی شرط ہے کہ ہنوز(7) وہ چیز فقیر کے پاس باقی ہو تو نیت کام کرے گی ورنہ نہیں۔ (8) (طحطاوی)
مسئلہ ۱۲: اگر کسی نے کفارہ میں غلام بھی آزاد کیا اور مساکین کو کھانا بھی کھلایا اور کپڑے بھی دیے خواہ ایک ہی وقت میں یہ سب کام ہوئے یا آگے پیچھے تو جس کی قیمت زیادہ ہے وہ کفارہ قرار پائے گا اور اگر کفارہ دیا ہی نہیں تو صرف اوس کا مؤاخذہ ہوگا جو کم قیمت ہے۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: گیہوں، جَو، خرما(10)، منقے(11) کے علاوہ اگرکوئی دوسرا غلہ دینا چاہے تو آدھے صاع گیہوں یا ایک صاع جَو کی قیمت کا ہونا ضرور ہے اوس میں آدھا صاع یا ایک صاع ہونے کا اعتبار نہیں۔(12) (جوہرہ)
۔۔۔
1 ۔یعنی دس۱۰ کپڑے۔
2 ۔علیحدہ علیحدہ۔
3 ۔''المبسوط''للسرخسي،کتاب الأیمان ، باب الکسوۃ، ج ۴، الجز ء الثامن ،ص ۱۶۵.
4 ۔ یعنی وراثت میں ملی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الثانی فیما یکون یمیناً...إلخ، الفصل الثانی ،ج ۲ ،ص ۶۳.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔ابھی تک۔
8 ۔''حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الکفارۃ ،ج۲ ،ص ۱۹۸ .
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،ج۵،ص ۵۲۵.
10 ۔کھجور،چھوہارا۔
11 ۔سوکھی ہوئی بڑی کشمش۔
12 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الأیمان ، الجزء الثانی ،ص۲۵۲.
مسئلہ ۱۴: رمضان میں اگر کفارہ کا کھانا کھلانا چاہتاہے تو شام اور سحری دونوں وقت کھلائے یا ایک مسکین کو بیس۲۰ دن شام کا کھانا کھلائے۔(1) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۵: اگر غلام آزاد کرنے یادس۱۰ مسکین کو کھانا یا کپڑے دینے پر قادر نہ ہو توپے درپے(2) تین روزے رکھے۔ (3)(عامہ کتب)
مسئلہ ۱۶: عاجز ہونا اوس وقت کامعتبر ہے جب کفارہ ادا کرنا چاہتاہے مثلًا جس وقت قسم توڑی تھی اُوس وقت مالدار تھا مگر کفارہ ادا کرنے کے وقت محتاج ہے تو روزہ سے کفارہ ادا کرسکتا ہے اور اگر توڑنے کے وقت مفلس تھا اور اب مالدار ہے تو روزے سے نہیں ادا کرسکتا۔ (4) (جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۷: اپنا تمام مال ہبہ کردیا اور قبضہ بھی دیدیا اور اوس کے بعد کفارہ کے روزے رکھے پھر ہبہ سے رجوع کی تو کفارہ ادا ہوگیا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: جب غلام اپنی ملک میں ہے یا اتنا مال رکھتا ہے کہ مساکین کو کھانا یا کپڑا دے سکے اگرچہ خود مقروض یامدیون ہو تو عاجز نہیں یعنی ایسی حالت میں روزے سے کفارہ ادا نہ ہوگا ہاں اگر قرض اور دَین ادا کرنے کے بعد کفارہ کے روزے رکھے تو ہوجائیگا۔ اور مبسوط میں امام سرخسی رحمہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ اگر کل مال دَین میں مستغرق(6) ہو تودَین اداکرنے سے پہلے بھی روزہ سے کفارہ اداکرسکتا ہے اور اگر غلام ملک میں ہے مگر اوس کی اِحتیاج(7) ہے تو روزے سے کفارہ ادا نہ ہوگا۔ (8)(جوہرہ)
مسئلہ ۱۹: ایک ساتھ تین روزے نہ رکھے یعنی درمیان میں فاصلہ کردیا تو کفارہ ادا نہ ہوا اگرچہ کسی مجبوری کے سبب ناغہ ہوا ہو یہاں تک کہ عورت کو اگر حیض آگیا تو پہلے کے روزے کا اعتبار نہ ہوگا
۔۔۔
1 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الأیمان،الجزء الثانی، ص ۲۵۳.
2 ۔ لگاتار۔
3 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الأیمان،الجزء الثانی، ص ۲۵۳.
4 ۔المرجع السابق،وغیرہا.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان ،ج۵، ص۵۲۶.
6 ۔یعنی ڈوباہوا،گِھراہوا۔
7 ۔ضرورت۔
8 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الأیمان ،الجزء الثانی، ص۲۵۳.
یعنی اب پاک ہونے کے بعد لگاتار تین روزے رکھے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: روزوں سے کفارہ ادا ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ ختم تک مال پر قدرت نہ ہو یعنی مثلاً اگر دوروزے رکھنے کے بعد اتنا مال مل گیا کہ کفارہ ادا کرے تو اب روزوں سے نہیں ہوسکتابلکہ اگرتیسرا روزہ بھی رکھ لیا ہے اور غروب آفتاب سے پہلے مال پر قادر ہوگیا تو روزے ناکافی ہیں اگرچہ مال پر قادر ہونا یوں ہوا کہ اوس کے مورث (2) کا انتقال ہوگیا اور اوس کو ترکہ اتنا ملے گا جو کفارہ کے لیے کافی ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: کفارہ کا روزہ رکھا تھا اور افطار سے پہلے مال پر قادر ہوگیا تو اوس روزے کا پورا کرنا ضروری نہیں ہاں بہتر پورا کرنا ہے اور توڑدے تو قضا ضرور نہیں۔(4) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۲: اپنی مِلک میں مال تھامگر اسے معلوم نہیں یا بھول گیا ہے اور کفارہ میں روزے رکھے بعد میں یاد آیا توکفارہ ادانہ ہوا۔ یوہیں اگر مورث مرگیا اور اسے اوس کے مرنے کی خبر نہیں اور کفارہ میں روزے رکھے بعد کو اوس کا مرنا معلوم ہوا تو کفارہ مال سے ادا کرے۔ (5)(درمختار ،ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: اس کے پاس خود اس وقت مال نہیں ہے مگر اس کا اور وں پر دین ہے تو اگر وصول کرسکتاہے وصول کرکے کفارہ ادا کرے روزے ناکافی ہیں۔ یوہیں اگر عورت کے پاس مال نہیں ہے مگر شوہر پر دَین مہر باقی ہے اور شوہر دَین مہر دینے پر قادر ہے یعنی اگر عورت لینا چاہے تو لے سکتی ہے تو روزوں سے کفارہ نہ ہوگا اور اگر اس کی ملک میں مال ہے مگر غائب ہے، یہاں موجود نہیں ہے تو روزوں سے کفارہ ہوسکتا ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: عورت مال سے کفارہ ادا کرنے سے عاجز ہواور روزہ رکھنا چاہتی ہو تو شوہر اوسے روزہ رکھنے سے روک سکتا ہے۔ (7)(جوہرہ)
۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،ج۵،ص۵۲۶.
2 ۔وارث بنانے والا۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،ج۵،ص۵۲۶.
4 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الأیمان،الجزء الثانی،ص۲۵۳.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان مطلب: کفارۃ الیمین ،ج۵ ، ص۵۲۶.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب الثانی فیما یکون یمیناً...إلخ، الفصل الثانی ، ج۲ ، ص۶۲.
7 ۔''الجوھرۃ النیر ۃ''،کتاب الأیمان ، الجزء الثانی،ص۲۵۳.
مسئلہ ۲۵: ان روزوں میں رات سے نیت شرط ہے اور یہ بھی ضرور ہے کہ کفارہ کی نیت سے ہوں مطلق روزہ کی نیت کافی نہیں۔ (1)(مبسوط)
مسئلہ ۲۶: قسم کے دوکفارے اس کے ذمہ تھے اس نے چھ روزے رکھ لیےاور یہ معین نہ کیا کہ یہ تین فلاں کے ہیں اور یہ تین فلاں کے تو دونوں کفارے ادا ہوگئے اور اگر دونوں کفاروں میں ہرمسکین کو دوفطرہ کے برابر دیا یا دوکپڑے دیے تو ایک ہی کفارہ ادا ہوا۔ (2)(مبسوط)
مسئلہ ۲۷: اوس کے ذمہ دو کفارے تھے اور فقط ایک کفارہ میں کھانا کھلاسکتا ہے اوس نے پہلے تین روزے رکھیےپھر دوسرے کفارے کے لیےکھانا کھلایا تو روزے پھرسے رکھے کہ کھلانے پر قادر تھا اوس وقت روزوں سے کفارہ ادا کرنا جائزنہ تھا۔(3) (مبسوط)
مسئلہ ۲۸: دو۲ کفارے تھے ایک کے لیےکھانا کھلایا اور ایک کے لیےکپڑے دیے اور معین نہ کیا تو دونوں ادا ہوگئے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: پانچ مسکین کو کھانا کھلایا اب خود فقیر ہوگیا کہ باقی پانچ کو نہیں کھلاسکتا تو وہی تین روزے رکھ لے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: اس کے ذمہ قسم کا کفارہ ہے اور محتاج ہے کہ نہ کھانا دے سکتا ہے نہ کپڑااور یہ شخص اتنا بوڑھا ہے کہ نہ اب روزہ رکھ سکتا ہے، نہ آئندہ روزہ رکھنے کی اُمید ہے تو اگر کوئی چاہے اوس کی طرف سے دس۱۰ مسکین کو کھانا کھلا دے یعنی اس کی اجازت سے کفارہ ادا ہوجائے گا یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے ذمہ چونکہ تین روزے تھے تو ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: مر جانے سے قسم کا کفارہ سا قط نہ ہو گا یعنی اوس پر لازم ہے کہ وصیت کر جائے اور تہائی مال سے کفارہ اداکر نا وارثوں پر لازم ہوگا اور اوس نے خود وصیت نہ کی اور وارث دینا چاہتا ہے تو دے سکتا ہے۔(7) (عالمگیری)
۔۔۔
1 ۔''المبسوط''،للسرخسي،کتاب الأیمان ، باب الصیام،ج ۴ ،الجز ء الثامن، ص ۱۶۶.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۶۷.
3 ۔المرجع السابق ، ص ۱۶۸.
4 ۔'' الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الطلاق، الباب العاشرفی الکفارۃ، ج۱، ص۵۱۴.
5 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب الثانی فیمایکون...إلخ، الفصل الثانی،ج۲، ص ۶۳.
6 ۔ المرجع السابق ، ص ۶۴.
7 ۔ المرجع السابق ، ص ۶۴.
مسئلہ ۳۲: قسم توڑنے سے پہلے کفارہ نہیں اور دیا تو ادا نہ ہوا یعنی اگر کفارہ دینے کے بعد قسم توڑی تو اب پھر دے کہ جو پہلے دیا ہے وہ کفارہ نہیں مگر فقیر سے دیے ہوئے کو واپس نہیں لے سکتا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: کفارہ اونھیں مساکین کو دے سکتاہے جن کو زکوۃ دے سکتا ہے یعنی اپنے باپ ماں اولاد وغیرہم کو جن کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا کفارہ بھی نہیں دے سکتا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳۴: کفارہ قسم کی قیمت مسجد میں صرف (3)نہیں کرسکتا نہ مردہ کے کفن میں لگا سکتا ہے یعنی جہاں جہاں زکوۃ نہیں خرچ کر سکتا وہاں کفارہ کی قیمت نہیں دیجا سکتی۔(4) (عالمگیری)
اﷲتعالیٰ فرماتا ہے :
(وَمَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَۃٍ اَوْ نَذَرْتُمۡ مِّنۡ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللہَ یَعْلَمُہٗ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنْ اَنۡصَارٍ ﴿۲۷۰﴾ )(5)
جوکچھ تم خرچ کرویا منّت مانو، اﷲ (عزوجل) اوس کوجانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
اور فرماتا ہے:
( یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیۡرًا ﴿۷﴾ (6)
نیک لوگ وہ ہیں جو اپنی منّت پوری کرتے ہیں اور اوس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی پھیلی ہوئی ہے۔
حدیث ۱: امام بخاری و امام احمد و حاکم ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو یہ منّت مانے کہ اﷲ (عزوجل) کی اطاعت کریگا تو اوس کی اطاعت کرے یعنی منّت پوری کرے اور جو اوس کی نافرمانی کرنے کی منّت مانے تو اوس کی نافرمانی نہ کرے یعنی اس منّت کو پورانہ کرے۔'' (7)
۔۔۔
1 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثانی فیما یکون ...إلخ، الفصل الثانی،ج۲، ص۶۴.
2 ۔''الدرالمختار''، کتاب الأیمان ،ج۵، ص۵۲۷.
3 ۔خرچ ۔
4 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب الثانی فیمایکون ...إلخ، الفصل الثانی،ج۲، ص ۶۲.
5 ۔پ۳،البقرۃ:۲۷۰.
6 ۔پ۲۹،الدھر:۷.
7 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الأیمان والنذور، باب النذر في الطاعۃ... إلخ، الحدیث: ۶۶۹۶،ج۴، ص۳۰۲.
حدیث ۲: صحیح مسلم شریف میں عمران بن حصین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا:''اوس منّت کو پورانہ کرے، جو اﷲ (عزوجل) کی نافرمانی کے متعلق ہو اور نہ اوس کو جس کابندہ مالک نہیں۔'' (1)
حدیث ۳: ابو داود ثابت بن ضحاک رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں منّت مانی تھی کہ بُوّانہ(2) میں ایک اونٹ کی قربانی کریگا۔ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)کی خدمت میں حاضر ہو کر اوس نے دریافت کیا؟ ارشاد فرمایا: ''کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بُت ہے جس کی پرستش(3)کی جاتی ہے؟'' لوگوں نے عرض کی، نہیں۔ ارشاد فرمایا:''کیا وہاں جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید ہے؟'' لوگوں نے عرض کی، نہیں۔ارشاد فرمایا:''اپنی منّت پوری کر اس لیے کہ معصیت (4)کے متعلق جو منّت ہے اوس کو پور ا نہ کیا جائے اور نہ وہ منّت جس کا انسان مالک نہیں۔'' (5)
حدیث ۴: نسائی نے عمران بن حصین رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی کہتے ہیں، میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا ہے کہ ''منّت دوقسم ہے، جس نے طاعت کی منّت مانی، وہ اﷲ(عزوجل)کے لیے ہے اور اوسے پوراکیا جائے اور جس نے گناہ کرنے کی منّت مانی، وہ شیطان کے سبب سے ہے اور اوسے پورا نہ کیا جائے۔'' (6)
حدیث ۵: صحیح بخاری شریف میں عبداﷲبن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے مروی ہے، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم خطبہ فرمارہے تھے کہ ایک شخص کو کھڑا ہوا دیکھا۔ اوس کے متعلق دریافت کیا؟ لوگوں نے عرض کی، یہ ابواسرائیل ہے اس نے منّت مانی ہے کہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں اور اپنے اوپر سایہ نہ کریگا اور کلام نہ کریگا اور روزہ رکھے گا۔ ارشاد فرمایا کہ ''اسے حکم کر دو کہ کلام کرے اور سایہ میں جائے اور بیٹھے اور اپنے روزہ کو پورا کرے۔''(7)
حدیث ۶: ابو داود و ترمذی و نسائی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ''گناہ کی منّت نہیں (یعنی اس کا پورا کرنا نہیں)اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔'' (8)
حدیث ۷: ابو داود وابن ماجہ عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی
۔۔۔
1 ۔''صحیح مسلم''، کتاب الأیمان، باب لا وفاء لنذر فی معصیۃ اللہ... إلخ، الحدیث: ۱۶۴۱، ص۸۹۱.
2 ۔ایک جگہ کانام ہے۔
3 ۔عبادت۔
4 ۔گناہ۔
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الأیمان و النذور، باب ما یؤمر بہ من الوفاء بالنذر، الحدیث: ۳۳۱۳،ج۳، ص۳۲۲.
6 ۔''سنن النسائي''، کتاب الأیمان و النذور، باب کفارۃ النذر، الحدیث:۳۸۵۰ ، ص۶۲۷.
7 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الأیمان و النذور، باب النذر فیما لا یملک... إلخ،الحدیث: ۶۷۰۴، ج۴، ص۳۰۳.
8 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب النذوروالأیمان، باب ماجاء عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم:ان لا...إلخ، الحدیث: ۱۵۲۹،ج۳،ص۱۷۹.
کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:''جس نے کوئی منّت مانی اور اوسے ذکر نہ کیا (یعنی فقط اتنا کہا کہ مجھ پر نذر ہے اور کسی چیز کو معین نہ کیا، مثلاً یہ نہ کہا کہ اتنے روزے رکھونگا یااتنی نماز پڑھوں گا یا اتنے فقیر کھلاؤں گا وغیرہ وغیرہ) تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جس نے گناہ کی منّت مانی تو اس کا کفارہ ہے اور جس نے ایسی منّت مانی جس کی طاقت نہیں رکھتا تو اسکاکفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جس نے ایسی منّت مانی جس کی طاقت رکھتا ہے تو اسے پورا کرے۔'' (1)
حدیث ۸: صحاح ستہ میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی کہ سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا کہ اون کی ماں کے ذمہ منّت تھی اور پوری کرنے سے پہلے اون کا انتقال ہوگیا۔ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فتویٰ دیا کہ یہ اوسے پورا کریں۔ (2)
حدیث ۹: ابو داود و دارمی جابربن عبداﷲرضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہ ایک شخص نے فتح مکہ کے دن حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، یارسول اﷲ!( صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) میں نے منّت مانی تھی کہ اگر اﷲ تعالیٰ آپ کے لیے مکہ فتح کریگا تو میں بیت المقدس میں دورکعت نماز پڑھوں گا۔ اُنھوں نے ارشاد فرمایا: کہ ''یہیں پڑھ لو۔'' دوبارہ پھر اوس نے وہی سوال کیا، فرمایا: کہ ''یہیں پڑھ لو۔'' پھرسوال کا اعادہ کیا(3)، حضور( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے جواب دیا: ''اب تم جو چاہو کرو۔'' (4)
حدیث ۱۰: ابو داود ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں، کہ عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بہن نے منّت مانی تھی کہ پیدل حج کرے گی اور اوس میں اس کی طاقت نہ تھی۔ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: کہ ''تیری بہن کی تکلیف سے اﷲ (عزوجل) کو کیا فائدہ ہے، وہ سواری پر حج کرے اور قسم کاکفارہ دیدے۔'' (5)
حدیث ۱۱: رزِین نے محمد بن مُنتشِرسے روایت کی کہ ایک شخص نے یہ منّت مانی تھی کہ اگر خدا نے دشمن سے نجات دی تو میں اپنے کو قربانی کر دوں گا۔ یہ سوال حضرت عبداﷲ بن عباس کے پاس پیش ہوا، اونھوں نے فرمایا: کہ مسروق(6) سے پوچھو،
۔۔۔
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الأیمان و النذور، باب من نذر نذراً لا یطیقہ، الحدیث: ۳۳۲۲، ج۳، ص۳۲۶.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الأیمان و النذور، باب من مات وعلیہ نذر، الحدیث: ۶۶۹۸، ج۴، ص۳۰۲.
3 ۔ یعنی تیسری بار پھر اس نے وہی سوال کیا۔
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الأیمان و النذور، باب من نذر أن یصلی فی بیت المقدس، الحدیث: ۳۳۰۵، ص۳۱۹.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الأیمان و النذور، باب من رأی علیہ کفارۃ... إلخ، الحدیث: ۳۲۹۵، ۳۳۰۳، ص۳۱۶ ۔ ۳۱۹.
6 ۔ایک مشہور تابعی بزرگ اورحضرت سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے تلمیذ رشید ہیں۔(تہذیب التہذیب)
مسروق سے دریافت کیا تو یہ جواب دیا کہ اپنے کو ذبح نہ کر اس یےکہ اگر تو مومن ہے تو مومن کو قتل کرنا لازم آئیگا اور اگر تو کافر ہے تو جہنم کو جانے میں جلدی کیوں کرتا ہے، ایک مینڈھا خرید کر ذبح کرکے مساکین کو دیدے۔ (1)
چونکہ منّت کی بعض صورتوں میں بھی کفارہ ہوتا ہے اس یےاسکو یہاں ذکر کیا جاتا ہے اس کے بعد قسم کی باقی صورتیں بیان کی جائیں گی اور اس بیان میں جہاں کفارہ کہا جائیگا اوس سے وہی کفارہ مراد ہے جو قسم توڑنے میں ہوتا ہے۔ روزہ کے بیان میں ہم نے منّت کی شرطیں لکھ دی ہیں اون شرطوں کو وہاں سے معلوم کرلیں۔
مسئلہ ۱: منّت کی دو ۲ صورتیں ہیں: ایک یہ کہ اوس کے کرنے کو کسی چیز کے ہونے پر موقوف رکھے مثلاً میرا فلاں کام ہو جائے تو میں روزہ رکھوں گا یا خیرات کروں گا، دوم یہ کہ ایسا نہ ہو مثلاًمجھ پر اﷲ (عزوجل) کے لیےاتنے روزے رکھنے ہیں یا میں نے اتنے روزوں کی منّت مانی۔ پہلی صورت یعنی جس میں کسی شے کے ہونے پر اوس کام کو معلق کیا ہواس کی دوصورتیں ہیں۔ اگر ایسی چیز پر معلق کیا کہ اوس کے ہونے کی خواہش ہے مثلاً اگر میرا لڑکا تندرست ہوجائے یا پردیس سے آجائے یا میں روزگار سے لگ جاؤں تو اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا خیرات کروں گا ایسی صورت میں جب شرط پائی گئی یعنی بیمار اچھا ہوگیا یا لڑکا پردیس سے آگیا یا روزگار لگ گیا تو اوتنے روزے رکھنا یا خیرات کرنا ضرور ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ کام نہ کرے اور اس کے عوض میں کفارہ دیدے،اور اگر ایسی شرط پر معلق کیا جس کا ہونا نہیں چاہتا مثلاً اگر میں تم سے بات کروں یا تمھارے گھرآؤں تو مجھ پر اتنے روزے ہیں کہ اوس کا مقصد یہ ہے کہ میں تمھارے یہاں نہیں آؤں گا تم سے بات نہ کروں گا ایسی صورت میں اگر شرط پائی گئی یعنی اوس کے یہاں گیا یا اوس سے بات کی تو اختیار ہے کہ جتنے روزے کہے تھے وہ رکھ لے یاکفارہ دے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲: منّت میں ایسی شرط ذکر کی جس کا کرنا گناہ ہے اور وہ شخص بدکار ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوس کا قصد(3) اوس گناہ کے کرنے کا ہے اور پھر اوس گناہ کو کرلیا تومنّت کو پورا کرنا ضرور ہے اور وہ شخص نیک بخت (4)ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منّت اوس گناہ سے بچنے کے لیے ہے مگر وہ گناہ اوس سے ہوگیا تو اختیار ہے کہ منّت پوری کرے یا کفارہ دے۔(5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳: جس منّت میں شرط ہو اوس کا حکم تو معلوم ہوچکا کہ ایک صورت میں منّت پوری کرنا ہےاور ایک صورت
۔۔۔
1 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''، باب فی النذور، الفصل الثالث، الحدیث: ۳۴۴۵، ج۱، ص۶۳۱.
2 ۔'' الدر المختار''،کتاب الأیمان ،ج۵ ،ص۵۳۷،۵۴۲.
3 ۔ارادہ۔
4 ۔ پرہیزگار،متقی۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأیمان ،مطلب: فی أحکام النذر،ج ۵، ص ۵۴۲.
میں اختیار ہے کہ منّت پوری کرے یا کفارہ دے اور اگر شرط کا ذکرنہ ہو تو منّت کا پورا کرنا ضروری ہے حج یا عمرہ یا روزہ یا نماز یاخیرات یا اعتکاف جس کی منّت مانی ہو وہ کرے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: منّت میں اگر کسی چیز کو معین نہ کیا مثلاً کہا اگر میرا یہ کام ہوجائے تو مجھ پر منّت ہے یہ نہیں کہا کہ نماز یا روزہ یاحج وغیرہا تو اگر دل میں کسی چیز کو معین کیا ہو تو جو نیت کی وہ کرے اور اگر دل میں بھی کچھ مقرر نہ کیا تو کفارہ دے۔ (2)(بحر)
مسئلہ ۵: منّت مانی اور زبان سے منّت کو معین نہ کیا مگر دل میں روزہ کا ارادہ ہے تو جتنے روزوں کا ارادہ ہے اوتنے رکھ لے، اور اگر روزہ کا ارادہ ہے مگر یہ مقرر نہیں کیا کہ کتنے روزے تو تین روزے رکھے۔ اور اگرصدقہ کی نیت کی اور مقرر نہ کیا تو دس مسکین کو بقدر صدقہ فطر (3) کے دے۔ یوہیں اگر فقیروں کے کھلانے کی منّت مانی تو جتنے فقیر کھلانے کی نیت تھی اوتنوں کو کھلائے اور تعداد اوس وقت دل میں بھی نہ ہو تو دس(۱۰) فقیر کھلائے اور دونوں وقت کھلانے کی نیت تھی تو دونوں وقت کھلائے اور ایک وقت کا ارادہ ہے تو ایک وقت اور کچھ ارادہ نہ ہو تو دونوں وقت کھلائے یا صدقہ فطر کی مقدار اون کو دے۔ اور فقیرکو کھلانے کی منّت مانی تو ایک فقیر کو کھلائے یا صدقہ فطر کی مقدار دیدے۔(4) (بحر، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۶: یہ منّت مانی کہ اگر بیمار اچھا ہوجائے تو میں ان لوگوں کو کھانا کھلاؤں گا اور وہ لوگ مالدار ہوں تو منّت صحیح نہیں یعنی اُسکا پوراکرنا اوس پر ضرور نہیں۔ (5)(بحر)
مسئلہ ۷: نماز پڑھنے کی منّت مانی اور رکعتوں کو معین نہ کیا تو دورکعت پڑھنی ضروری ہے اور ایک یا آدھی رکعت کی منّت مانی جب بھی دو پڑھنی ضرور ہے اور تین رکعت کی منّت ہے تو چار پڑھے اور پانچ کی تو چھ پڑھے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: بے وضو نماز پڑھنے کی منّت مانی تو صحیح نہ ہوئی اور بغیر قراء ت یا ننگے نماز پڑھنے کی منّت مانی تو منّت صحیح ہے، قراء ت کے ساتھ اور کپڑا پہن کر نماز پڑھے۔(7) (عالمگیری)
۔۔۔
1 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الثانی فیمایکون یمیناومالایکون یمینا...إلخ ، الفصل الثانی ،ج ۲ ،ص۶۵.
2 ۔''البحر الرائق ''،کتاب الأیمان ،ج ۴، ص۴۹۹.
3 ۔ صدقہ فطرکے برابریعنی نصف صاع گندم یااس کاآٹایااس کی قیمت وغیرہ۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان،ج۴،ص۴۹۹.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثانی فیمایکون یمیناومالایکون یمینا...إلخ،الفصل الثانی،ج۲،ص۶۵،وغیرہما.
5 ۔'' البحر الرائق '' ،کتاب الایمان ، ج ۴ ، ص ۵۰۰.
6 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الثانی فیمایکون یمیناومالایکون یمینا...إلخ ، الفصل الثانی ،ج۲،ص۶۵.
7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۹: آٹھ رکعت ظہر کی منّت مانی تو آٹھ واجب نہ ہونگی بلکہ چارہی پڑھنی پڑیں گی اور اگر یہ کہا کہ مجھے اﷲ تعالیٰ دو سو روپے دیدے تو مجھ پر اُنکے دس روپے زکوٰۃ ہے تودس۱۰روپے زکوٰۃ کے فرض نہ ہونگے بلکہ وہی پانچ ہی فرض رہیں گے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: سو ۱۰۰روپے خیرات کرنے کی منّت مانی اور اوس کے پاس اوس وقت اتنے نہیں ہیں تو جتنے ہیں اوتنے ہی کی خیرات واجب ہے ہاں اگر اُسکے پاس اسباب (2)ہے کہ بیچے تو سو روپے ہوجائیں گے تو سو کی خیرات ضرور ہے اور اسباب بیچنے پر بھی سو ۱۰۰ نہ ہونگے تو جوکچھ نقد ہے وہ اور تمام سامان کی جو کچھ قیمت ہو وہ سب خیرات کردے منّت پوری ہوگئی اور اگر اوسکے پاس کچھ نہ ہو تو کچھ واجب نہیں۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: یہ منّت مانی کہ جمعہ کے دن اتنے روپے فلاں فقیر کو خیرات دوں گا اور جمعرات ہی کو خیرات کردیے یا اوس کے سوا کسی دوسرے فقیر کو دیدیے منّت پوری ہوگئی یعنی خاص اوسی فقیر کو دینا ضرور نہیں نہ جمعہ کے دن دینا ضرور۔ یوہیں اگر مکہ معظمہ یامدینہ طیبہ کے فقرا پر خیرات کرنے کی منّت مانی تو وہیں کے فقرا کو دینا ضروری نہیں بلکہ یہاں خیرات کردینے سے بھی منّت پوری ہوجائیگی۔ یوہیں اگرمنّت میں کہا کہ یہ روپے فقیروں پر خیرات کروں گا تو خاص اونھیں روپوں کا خیرات کرنا ضرور نہیں اوتنے ہی دوسرے روپے دیدئیے منّت پوری ہوگئی۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: جمعہ کے دن نماز پڑھنے کی منّت مانی اور جمعرات کو پڑھ لی منّت پوری ہوگئی یعنی جس منّت میں شرط نہ ہو اوس میں وقت کی تعیین کا اعتبار نہیں یعنی جووقت مقرر کیا ہے اس سے پہلے بھی ادا کرسکتا ہے اور جس میں شرط ہے اوس میں ضرور ہے کہ شرط پائی جائے بغیر شرط پائی جانیکے ادا کیا تو منّت پوری نہ ہوئی شرط پائی جانے پر پھر کرنا پڑیگا مثلاً کہا اگر بیمار اچھا ہوجائے تو دس روپے خیرات کرونگا اور اچھا ہونے سے پہلے ہی خیرات کردیے تو منّت پوری نہ ہوئی اچھے ہونے کے بعد پھر کرنا پڑے گا ۔ باقی جگہ اور روپے اور فقیروں کی تخصیص(5) دونوں میں بیکار ہے خواہ شرط ہو یانہ ہو(6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: اگر میرا یہ کام ہوجائے تو دس۱۰ روپے کی روٹی خیرات کروں گا تو روٹیوں کا خیرات کرنا لازم نہیں یعنی کوئی دوسری چیز غلّہ وغیرہ دس۱۰ روپے کا خیرات کرسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دس روپے نقد دیدے۔ (7)(درمختار)
۔۔۔
1 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثانی فیمایکون یمیناومالایکون یمینا...إلخ ، الفصل الثانی ،ج ۲ ،ص۶۵.
2 ۔یعنی سامان وغیرہ۔
3 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الثانی فیمایکون یمیناومالایکون یمینا...إلخ ، الفصل الثانی ،ج ۲ ،ص۶۵.
4 ۔'' الدر المختار''،کتاب الأیمان،ج۵،ص۵۴۵ وج۳،ص۴۸۷.
5 ۔یعنی فقیروں کومخصوص کرنا۔
6 ۔''الدر المختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان ، مطلب: فی احکام النذر ،ج ۵ ص۵۳۷،۵۴۰.
7 ۔''الدر المختار''،کتاب الایمان ، ج ۵ ، ص ۵۴۶.
مسئلہ ۱۴: دس۱۰ روپے دس۱۰ مسکین پر خیرات کرنے کی منّت مانی اور ایک ہی فقیر کو دسوں۱۰ ر وپے دیدیے منّت پوری ہوگئی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: یہ کہا کہ مجھ پر اﷲ (عزوجل) کے لیے دس۱۰ مسکین کا کھانا ہے تو اگر دس۱۰ مسکین کو دینے کی نیت نہ ہو تو اتنا کھانا جو دس۱۰ کے لیےکافی ہو ایک مسکین کو دینے سے منّت پوری ہوجائیگی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: اونٹ یا گائے ذبح کرکے اوسکے گوشت کو خیرات کرنے کی منّت مانی اور اوسکی جگہ سات۷ بکریاں ذبح کرکے گوشت خیرات کردیا منّت پوری ہوگئی اور یہ گوشت مالداروں کو نہیں دے سکتا دیگا تو اتنا خیرات کرنا پڑے گا ورنہ منّت پوری نہ ہوگی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: اپنی اولاد کو ذبح کرنے کی منّت مانی تو ایک بکری ذبح کردے منّت پوری ہوجائیگی اور اگر بیٹے کو مار ڈالنے کی منّت مانی تو منّت صحیح نہ ہوئی اور اگر خود اپنے کو یا اپنے باپ ماں دادا دادی یاغلام کو ذبح کرنے کی منّت مانی تو یہ منّت نہ ہوئی اوسکے ذمہ کچھ لازم نہیں۔(4) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: مسجد میں چراغ جلانے یا طاق بھرنے(5) یا فلاں بزرگ کے مزار پر چادر چڑھانے یا گیارھویں کی نیاز دِلانے یا غوث اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا توشہ (6)یا شاہ عبدالحق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا توشہ کرنے یا حضرت جلال بخاری کا کونڈا کرنے یا محرم کی نیاز یا شربت یا سبیل لگانے یا میلاد شریف کرنے کی منّت مانی تویہ شرعی منّت نہیں مگر یہ کام منع نہیں ہیں کرے تو اچھا ہے۔ ہاں البتہ اس کا خیا ل رہے کہ کوئی بات خلاف شرع اوسکے ساتھ نہ ملائے مثلاً طاق بھرنے میں رت جگا ہوتا ہے(7) جس میں کنبہ(8) اور رشتہ کی عورتیں اکٹھا ہو کر گاتی بجاتی ہیں کہ یہ حرام ہے یا چادر چڑھانے کے لیےبعض لوگ تاشے(9) باجے کے ساتھ جاتے ہیں یہ ناجائز ہے یا مسجد میں چراغ جلانے میں بعض لوگ آٹے کا چراغ جلاتے ہیں یہ خواہ مخواہ مال ضائع کرناہے اور ناجائز ہے مٹی کا چراغ کافی ہے۔ اور گھی کی بھی ضرورت نہیں مقصود روشنی ہے وہ تیل سے حاصل ہے۔
۔۔۔
1 ۔'' الفتا وی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ،الباب الثانی فیمایکون یمیناومالایکون یمینا...إلخ ،الفصل الثانی،ج۲،ص۶۶.
2 ۔ المر جع السابق.
3 ۔ المر جع السابق.
4 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثانی فیمایکون یمیناومالایکون یمینا...إلخ ،الفصل الثانی،ج۲،ص۶۵.
و''الدر المختار''،کتاب الایمان،ج۵،ص۵۴۳-۵۴۴.
5 ۔مسجد یامزار کے طاق میں چراغ جلاکرپھول وغیرہ چڑھانا۔
6 ۔کسی ولی یابزرگ کی فاتحہ کاکھاناجوعرس وغیرہ کے دن تقسیم کیاجاتاہے۔
7 ۔یعنی رات بھرجاگتے ہیں۔
8 ۔خاندان۔
9 ۔ایک قسم کے دف کانام جسے گلے میں ڈال کر بجاتے ہیں۔
رہا یہ کہ میلاد شریف میں فرش و روشنی کا اچھا انتظام کرنا اور مٹھائی تقسیم کرنا یا لوگوں کو بُلاوا دینا اور اس کے لیے تاریخ مقرر کرنا اور پڑھنے والوں کا خوش الحانی سے پڑھنا یہ سب باتیں جائز ہیں البتہ غلط اور جھوٹی روایتوں کا پڑھنا منع ہے پڑھنے والے اور سننے والے دونوں گنہگار ہونگے۔
مسئلہ ۱۹: عَلَم اور تعزیہ بنانے اور پیک بننے اور محرم میں بچوں کو فقیر بنانے اور بدھی پہنانے اور مرثیہ کی مجلس(1) کرنے اور تعزیوں پر نیاز دلوانے وغیرہ خرافات(2) جو روافض اور تعزیہ دار لوگ کرتے ہیں ان کی منّت سخت جہالت ہے ایسی منّت ماننی نہ چاہیے اور مانی ہو تو پوری نہ کرے اور ان سب سے بدتر شیخ سدّو کامرغا اور کڑاہی ہے۔
مسئلہ ۲۰: بعض جاہل عورتیں لڑکوں کے کان ناک چھدوانے اور بچوں کی چوٹیا رکھنے کی منّت مانتی ہیں یا اور طرح طرح کی ایسی منتیں مانتی ہیں جن کا جواز کسی طرح ثابت نہیں اولاً ایسی واہیات(3) منتوں سے بچیں اور مانی ہوتوپوری نہ کریں اور شریعت کے معاملہ میں اپنے لغو خیالات (4) کو دخل نہ دیں نہ یہ کہ ہمارے بڑے بوڑھے یوہیں کرتے چلے آئے ہیں اور یہ کہ پوری نہ کرینگے تو بچہ مرجائیگا بچہ مرنے والا ہوگا تو یہ ناجائز منتیں بچا نہ لیں گی۔ منّت مانا کرو تو نیک کام نماز، روزہ، خیرات، دُرود شریف، کلمہ شریف، قرآن مجید پڑھنے، فقیروں کو کھانا دینے، کپڑا پہنانے وغیرہ کی منّت مانو اور اپنے یہاں کے کسی سنی عالم سے دریافت بھی کرلو کہ یہ منّت ٹھیک ہے یا نہیں، وہابی سے نہ پوچھنا کہ وہ گمراہ بے دین ہے وہ صحیح مسئلہ نہ بتائے گا بلکہ ایچ پیچ (5) سے جائز امر کو ناجائز کہہ دیگا۔
مسئلہ ۲۱: منّت یا قسم میں انشاء اﷲ کہا تواوس کا پورا کرنا واجب نہیں بشرطیکہ ان شاء اﷲ کا لفظ اوس کلام سے متصل ہو اوراگر فاصلہ ہوگیا مثلاً قسم کھا کر چُپ ہوگیا یا درمیان میں کچھ اور بات کی پھر انشاء اﷲ کہا تو قسم باطل نہ ہوئی۔ یوہیں ہر وہ کام جو کلام کرنے سے ہوتا ہے مثلاً طلاق اقرار وغیرہما یہ سب ان شاء اﷲ کہہ دینے سے باطل ہوجاتے ہیں۔ ہاں اگر یوں کہاکہ میری فلاں چیز اگر خدا چاہے تو بیچ دو تو یہاں اوس کو بیچنے کا اختیار رہے گا اور وکالت صحیح ہے یا یوں کہا کہ میرے مرنے کے بعد میرا اتنا مال انشاء اﷲخیرات کردینا تو وصیت صحیح ہے اور جو کام دل سے متعلق ہیں وہ باطل نہیں ہوتے، مثلاً نیت کی کہ کل انشاء اﷲ روزہ رکھوں گا تو یہ نیت درست ہے۔ (6)(درمختار)
۔۔۔
1 ۔وہ مجلس جس میں شھداء کربلاکے مصائب وشھادت کانوحہ خوانی کے ساتھ ذکرہوتاہے ۔
2 ۔یعنی بے ہودہ رسمیں،الٹی سیدھی رسمیں۔
3 ۔لغووناجائز۔
4 ۔فضول خیالات۔
5 ۔یعنی مکروفریب۔
6 ۔''الدر المختار'' و''رد المحتار''،کتاب الأیمان مطلب: النذر غیر المعلق ...إلخ ،ج۵ ، ص ۵۴۸.
یہاں ایک قاعدہ یاد رکھنا چاہیے جس کا قسم میں ہرجگہ لحاظ ضرور ہے وہ یہ کہ قسم کے تمام الفاظ سے وہ معنے لیے جائیں گے جن میں اہل عرف استعمال کرتے ہوں مثلاً کسی نے قسم کھائی کہ کسی مکان میں نہیں جائیگا اور مسجد میں یاکعبہ معظمہ میں گیا تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ یہ بھی مکان ہیں یوں ہی حمام میں جانے سے بھی قسم نہیں ٹوٹے گی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: قسم میں الفاظ کا لحاظ ہوگا اس کا لحاظ نہ ہوگا کہ اس قسم سے غرض کیا ہے یعنی اون لفظوں کے بول چال میں جو معنے ہیں وہ مراد لیےجائیں گے قسم کھانے والے کی نیت اور مقصد کا اعتبار نہ ہوگا مثلاً قسم کھائی کہ فلاں کے لیےایک پیسہ کی کوئی چیز نہیں خریدوں گا اور ایک روپیہ کی خریدی تو قسم نہیں ٹوٹی حالانکہ اس کلام سے مقصد یہ ہوا کرتا ہے کہ نہ پیسے کی خریدوں گا نہ روپیہ کی مگر چونکہ لفظ سے یہ نہیں سمجھا جاتا لہٰذا اس کا اعتبار نہیں یا قسم کھائی کہ دروازہ سے باہرنہ جاؤں گا اور دیوار کود کریا سیڑھی لگا کر باہر چلاگیا تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ اس سے مراد یہ ہے کہ گھرسے باہر نہ جاؤں گا۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: قسم کھائی کہ اس گھرمیں نہ جاؤں گا پھروہ مکان بالکل گرگیا اب اوس میں گیا تو نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر گرنے کے بعد پھر عمارت بنائی گئی اور اب گیا جب بھی قسم نہیں ٹوٹی اور اگر صرف چھت گری ہے دیواریں بدستور باقی ہیں توقسم ٹوٹ گئی۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۳: قسم کھائی کہ اس مسجد میں نہ جاؤں گا پھر وہ مسجد شہید ہوگئی اور گیا تو قسم ٹوٹ گئی۔ یوہیں اگر گرنے کے بعد پھرسے بنی تو جانے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: قسم کھائی کہ اس مسجد میں نہ جاؤں گا اور اوس مسجد میں کچھ اضافہ کیاگیا اور یہ شخص اوس حصہ میں یا جواب بڑھایا گیاہے تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگریہ کہا کہ فلاں محلہ کی مسجد میں نہ جاؤں گا یا وہ مسجد جن لوگوں کے نام سے مشہور ہے اوس نام کوذکر کیا تو اس حصہ میں جو بڑھایا گیا ہے جانے سے بھی قسم ٹوٹ جائے گی۔(5) (عالمگیری)
۔۔۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ ،ج ۲ ،ص ۶۸.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار ''،کتاب الأیمان ، مبحث مھم: فی تحقیق...إلخ،ج۵،ص۵۵۰.
3 ۔''الدر المختار''،کتاب الایمان،ج۵،ص۵۵۴.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،ج ۲،ص ۶۸.
5 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۵: قسم کھائی کہ اس مکان میں نہیں جائے گا اور وہ مکان بڑھایاگیا تو اس حصہ میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹی اور اگر یہ کہاکہ فلاں کے مکان میں نہیں جائے گا تو ٹوٹ جائے گی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: قسم کھائی کہ اس مکان میں نہ جاؤں گا پھر اوس مکان کی چھت یادیوار پر کسی دوسرے مکان پر سے یا سیڑھی لگاکر چڑھ گیا تو قسم نہیں ٹوٹی کہ بول چال میں اسے مکان میں جانا نہ کہیں گے۔ یوہیں اگر مکان کے باہر درخت ہے اوس پر چڑھا اور جس شاخ پر ہے وہ اوس مکان کی سیدھ میں ہے کہ اگر گرے تو اوس مکان میں گرے گا تو اس شاخ پر چڑھنے سے بھی قسم نہیں ٹوٹی ۔ یوہیں کسی مسجد میں نہ جانے کی قسم کھائی اور اوس کی دیوار یا چھت پرچڑھا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(2) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ اس مکان میں نہیں جاؤنگا اور اوس کے نیچے تہ خانہ ہے جس سے گھروالے نفع اُٹھاتے ہیں تو تہ خانہ میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۸: دومکان ہیں اور اون دونوں پر ایک بالاخانہ ہے اگر بالاخانہ کا راستہ اس مکان سے ہو تو اس میں شمار ہوگااور اگر راستہ دوسرے مکان سے ہے تو اوس میں شمار کیا جائیگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: مکان میں نہ جانے کی قسم کھائی تو جس طرح بھی اوس مکان میں جائے قسم ٹوٹ جائے گی خواہ دروازہ سے داخل ہو یا سیڑھی لگا کر دیوار سے اوترے، اور اگر قسم کھائی کہ دروازہ سے نہیں جائیگا تو سیڑی لگاکر دیوار سے اوترنے میں قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگرکسی جانب کی دیوار ٹوٹ گئی ہے وہاں سے مکان کے اندر گیا جب بھی قسم نہیں ٹوٹی ہاں اگر دروازہ بنانے کے لیے دیوار توڑی گئی ہے اوس میں سے گیا تو ٹوٹ گئی اگر یوں قسم کھائی کہ اس دروازہ سے نہ جائیگا تو جو دروازہ بعد میں بنایا پہلے ہی سے کوئی دوسرا دروازہ تھا اس سے گیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (5)(درمختار، طحطاوی)
مسئلہ ۱۰: قسم کھائی کہ مکان میں نہ جائیگا اور اوس کی چوکھٹ(6) پرکھڑا ہوا اگر وہ چوکھٹ اس طرح ہے
۔۔۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ'،کتاب الأیمان ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ ،ج ۲ ،ص ۶۸.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،المرجع السابق.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی الدخول...إلخ، مبحث مھم: فی تحقیق ...إلخ،ج۵، ص۵۵۷.
3 ۔'' الدر المختار'' ،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الدخول ...إلخ ،ج۵، ص۵۵۴، ۵۵۸.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ،الباب الثالث فی الیمین ...إلخ،ج۲،ص ۶۹.
5 ۔'' الدر المختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الدخول ...إلخ، ج۵، ص۵۵۴۔۵۵۹.
و''حاشیۃالطحطاوی علی الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الدخول...إلخ،ج۲، ص۳۴۴.
6 ۔دروازے کافریم جس میں پٹ لگائے جاتے ہیں۔
کہ دروازہ بند کرنے پرمکان سے باہر ہو جیسا عموماً مکان کے بیرونی دروازے ہوتے ہیں تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر دروازہ بند کرنے سے چوکھٹ اندر رہے تو قسم ٹوٹ گئی غرض یہ کہ مکان میں جانے کے یہ معنی ہیں کہ ایسی جگہ پہنچ جائے کہ دروازہ بند کرنے کے بعد وہ جگہ اندر ہو۔ (1)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۱: ایک قدم مکان کے اندر رکھااور دوسرا باہر ہے یا چوکھٹ پرہے تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ اندر کا حصہ نیچا ہو۔ یوہیں اگر قدم باہر ہوں اور سراندر یا ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز مکان میں سے اوٹھالی تو قسم نہیں ٹوٹی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: صورت مذکورہ میں اگر چِت(3) یا پَٹ (4)یا کروٹ سے لیٹ کر مکان میں گیا اگر اکثر حصہ بدن کا اندر ہے تو قسم ٹوٹ گئی ورنہ نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: قسم کھائی تھی کہ مکان میں نہ جائیگا اور دوڑتا ہوا آرہاتھا دروازہ پر پہنچ کر پھسلا اور مکان کے اندر جارہا یا آندھی کے دھکے سے بے اختیار مکان میں جارہا یا کوئی شخص زبردستی پکڑ کر مکان کے اندر لے گیا تو ان سب صورتوں میں قسم نہیں ٹوٹی اور اگر اس کے حکم سے کوئی شخص اسے اوٹھا کر مکان میں لایا یا سواری پر آیا تو ٹوٹ گئی۔(6) (جوہرہ، عالمگیری)مگر پہلی صورت میں کہ بغیر اختیار جانا ہوا ہے اس سے قسم ابھی اس کے ذمہ باقی ہے یعنی اگر مکان سے نکل کر پھرخود جائے تو قسم ٹوٹ جائے گی۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: قسم کھائی کہ اس مکان میں داخل نہ ہوگا اور قسم کے وقت وہ اوس مکان کے اندرہے تو جب تک مکان کے اندر ہے قسم نہیں ٹوٹی مکان سے باہر آنے کے بعد پھرجائیگا توٹوٹ جائیگی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: اگر قسم کھائی کہ اس گھرسے باہر نہ نکلے گااور چوکھٹ پر کھڑا ہوا، اگر چوکھٹ دروازہ سے باہر ہے تو قسم ٹوٹ گئی اور اندر ہے تو نہیں۔ یوہیں اگر ایک پاؤں باہر ہے دوسرا اندر تو نہیں ٹوٹی یا مکان کے اندر درخت ہے اوس پرچڑھا
۔۔۔
1 ۔'' الدر المختار ''،کتاب الأیمان ،ج۵ ،ص ۵۵۹،وغیرہ.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ،الباب الثالث فی الیمین ...إلخ ،ج ۲ ،ص ۶۹.
3 ۔پیٹھ کے بل۔
4 ۔اوندھا۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ،الباب الثالث فی الیمین ...إلخ ،ج ۲ ،ص ۶۹.
6 ۔''الجوھرۃالنیرۃ''،کتاب الأیمان ، الجزء الثانی ،ص۲۵۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ،الباب الثالث فی الیمین ...إلخ ،ج ۲ ،ص۶۸، ۶۹.
7 ۔''الدر المختار ''،کتاب الأیمان،ج ۵ ،ص ۵۶۸.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ،الباب الثالث فی الیمین ...إلخ ،ج ۲،ص ۶۹.
اور جس شاخ پر ہے وہ شاخ مکان سے باہر ہے جب بھی قسم نہیں ٹوٹی۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: ایک شخص نے دوسرے سے کہا، خدا کی قسم! تیرے گھر آج کوئی نہیں آئے گا تو گھر والوں کے سوا اگر دوسرا کوئی آیا یا یہ قسم کھانے والا خود اوس کے یہاں گیا تو قسم ٹوٹ گئی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: قسم کھائی کہ تیرے گھر میں قدم نہ رکھوں گا اس سے مراد گھر میں داخل ہونا ہے نہ کہ صرف قدم رکھنا لہٰذا اگر سواری پر مکان کے اندر گیا یا جوتے پہنے ہوئے جب بھی قسم ٹوٹ گئی اور اگر دروازہ کے باہر لیٹ کر صرف پاؤں مکان کے اندر کر دیے تو قسم نہیں ٹوٹی۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: قسم کھائی کہ مسجد سے نہ نکلے گا اگر خود نکلا یا اس نے کسی کو حکم دیا وہ اسے اوٹھا کر مسجد سے باہر لایا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگرزبردستی کسی نے مسجد سے کھینچ کر باہر کردیا تو نہیں ٹوٹی اگرچہ دل میں نکالنے پر خوش ہو۔زبردستی کے معنے یہاں صرف اتنے ہیں کہ نکلنا اپنے اختیار سے نہ ہو یعنی کوئی ہاتھ پکڑ کر یا اوٹھا کر باہر کردے اگرچہ یہ نہ جانا چاہتا تو وہ باہر نہ کرسکتا ہو اور اگر اوس نے دھمکی دی اور ڈر کر یہ خود نکل گیا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر زبردستی نکالنے کے بعد پھرمسجد میں گیا اور اپنے آپ باہر ہوا تو قسم ٹوٹ گئی اور مکان سے نہ نکلنے کی قسم کھائی جب بھی یہی احکام ہیں۔ (4)(درمختار،ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: قسم کھائی کہ میری عورت فلاں شخص کی شادی میں نہیں جائے گی اور وہ عورت اس کے یہاں شادی سے قبل گئی تھی اور شادی میں بھی رہی تو قسم نہ ٹوٹی کہ شادی میں جانا نہ ہوا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: قسم کھائی کہ تمھارے پاس آؤں گا تو اوس کے مکان یا اوس کی دوکان پر جانا ضرور ہے خواہ ملاقات ہو یا نہ ہو اوسکی مسجد میں جانا کافی نہیں اور اگر اوسکے مکان یا دوکان پر نہ گیا یہاں تک کہ ان میں کا ایک مرگیا تو اوس کی زندگی کے آخر وقت میں قسم ٹوٹے گی کہ اب اوس کے پاس آنا نہیں ہوسکتا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: قسم کھائی کہ میں تمھارے پا س کل آؤنگا اگر آنے پر قادر ہوا تو اس سے مراد یہ ہے کہ بیمار نہ ہوا
۔۔۔
1 ۔''الدر المختار''،کتاب الأیمان ،ج ۵ ،ص ۵۵۹.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ،الباب الثالث فی الیمین ...إلخ ،ج ۲،ص۷۰.
3 ۔''الدر المختار''،کتاب الأیمان،ج۵،ص۵۷۷.
4 ۔'' الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الایمان،باب الیمین فی الدخول...إلخ،مطلب:حلف لایسکن فلانا،ج۵،ص۵۶۷.
و'' الفتاوی الھندیۃ ''،کتاب الأیمان، الباب الرابع فی الیمین ...إلخ، ج۲، ص۷۸.
5 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الأیمان ، ج۵ ، ص ۵۷۲.
6 ۔ المرجع السابق .
یا کوئی مانع مثلاً جنون یا نسیان(1) یا بادشاہ کی ممانعت وغیرہا پیش نہ آئے تو آ ؤں گا لہٰذا اگر بلاوجہ نہ آیا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: عورت سے کہا اگر میری اجازت کے بغیر گھرسے نکلی تو تجھے طلاق ہے تو ہر بار نکلنے کے لیےاجازت کی ضرورت ہے اور اجازت یوں ہوگی کہ عورت اوسے سنے اور سمجھے اگر اوس نے اجازت دی مگر عورت نے نہیں سنا اور چلی گئی تو طلاق ہوگئی۔ یوہیں اگر اوس نے ایسی زبان میں اجازت دی کہ عورت اوس کو سمجھتی نہیں مثلاً عربی یا فارسی میں کہا اور عورت عربی یا فارسی نہیں جانتی تو طلاق ہوگئی۔ یوہیں اگر اجازت دی مگر کسی قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجازت مراد نہیں ہے تو اجازت نہیں مثلاً غصہ میں جھڑکنے کے لیےکہا جا تو اجازت نہیں یا کہا جا مگر گئی تو خدا تیرا بھلا نہ کریگا تو یہ اجازت نہیں یا جانے کے لیےکھڑی ہوئی اوس نے لوگوں سے کہا، چھوڑو اسے جانے دو تو اجازت نہ ہوئی اور اگر دروازہ پر فقیر بولا اوس نے کہا فقیر کو ٹکڑا دیدے اگر دروازہ سے نکلے بغیرنہیں دے سکتی تو نکلنے کی اجازت ہے ورنہ نہیں اور اگر کسی رشتہ دار کے یہاں جانے کی اجازت دی مگر اوس وقت نہ گئی دوسرے وقت گئی تو طلاق ہوگئی اور اگر ماں کے یہاں جانے کے لیےاجازت لی اور بھائی کے یہاں چلی گئی تو طلاق نہ ہوئی اور اگر عورت سے کہا اگر میری خوشی کے بغیر نکلی تو تجھ کو طلاق ہے تو اس میں سننے اور سمجھنے کی ضرورت نہیں اور اگر کہا بغیر میرے جانے ہوئے گئی تو طلاق ہے پھر عورت نکلی اور شوہر نے نکلتے دیکھا یا اجازت دی مگر اوس وقت نہ گئی بعد میں گئی تو طلاق نہ ہوئی۔ (3)(درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: اس کے مکان میں کوئی رہتا ہے اوس سے کہا، خداکی قسم! تُو بغیر میری اجازت کے گھرسے نہیں نکلے گا تو ہر بار نکلنے کے لیےاجازت کی ضرورت نہیں پہلی بار اجازت لے لی قسم پوری ہوگئی۔ ہربار اجازت زوجہ کے لیے درکار ہے اور زوجہ کوبھی اگر ایک بار اجازت عام دیدی کہ میں تجھے اجازت دیتا ہوں جب کبھی تو چاہے جائے تو یہ اجازت ہربار کے لیےکافی ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: قسم کھائی کہ بغیراجازتِ زید میں نہیں نکلوں گا اور زید مرگیا تو قسم جاتی رہی۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: عورت سے کہا، خدا کی قسم! تو بغیر میری اجازت کے نہیں نکلے گی تو ہر بار اجازت کی ضرورت اوسی وقت تک ہے کہ عورت اوس کے نکاح میں ہے نکاح جاتے رہنے کے بعد اب اجازت کی ضرورت نہیں۔(6)(ردالمحتار)
۔۔۔
1 ۔ بھول جانا۔
2 ۔'' الدر المختار ''، کتاب الأیمان ،ج۵، ص۵۷۳.
3 ۔''الدرالمختار'' و'' رد المحتار''،کتاب الأیمان ، مطلب: لاتخرجی الّا با ذنی،ج ۵،ص ۵۷۴.
4 ۔'' رد المحتار''،کتاب الأیمان ، مطلب:لاتخرجی الّا با ذنی، ص ۵۷۵.
5 ۔ المر جع السابق.
6 ۔المرجع السابق،ص ۵۷۵.
مسئلہ ۲۶: اگرمیری اجازت کے بغیر نکلی تو تجھ کو طلاق ہے اور عورت بغیر اجازت نکلی تو ایک طلاق ہوگئی پھر اب اجازت لینے کی ضرورت نہ رہی کہ قسم پوری ہوگئی لہـذا اگر دوبارہ نکلی تو اب پھر طلاق نہ پڑے گی۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: قسم کھائی کہ جنازہ کے سوا کسی کام کے لیے گھر سے نہ نکلوں گا اور جنازہ کے لیے نکلا ،چاہے جنازہ کے ساتھ گیا یانہ گیا تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ گھر سے نکلنے کے بعد اور کام بھی کیے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲۸: قسم کھائی کہ فلاں محلہ میں نہ جائیگا اور ایسے مکان میں گیا جس میں دو دروازے ہیں ایک دروازہ اوس محلہ میں ہے جس کی نسبت قسم کھائی اور دوسرا دوسرے محلہ میں تو قسم ٹوٹ گئی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: قسم کھائی کہ لکھنؤ نہیں جاؤنگا تو لکھنؤ کے ضلع میں جو قصبات یا گاؤں ہیں اون میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر قسم کھائی کہ فلاں گاؤں میں نہ جاؤں گا تو آبادی میں جانے سے قسم ٹوٹے گی اور اوس گاؤں کے متعلق جو اراضی بستی سے باہر ہے وہاں جانے سے قسم نہیں ٹوٹی۔ اور اگر کسی مُلک کی نسبت قسم کھائی مثلاً پنجاب، بنگال، اودھ، روہیل، کھنڈ وغیرہا تو گاؤں میں جانے سے بھی قسم ٹوٹ جائے گی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: قسم کھائی کہ دہلی نہیں جاؤں گا اور پنجاب کے ارادہ سے گھر سے نکلا اور دہلی راستہ میں پڑتی ہے اگر اپنے شہر سے نکلتے وقت نیت تھی کہ دہلی ہوتا ہوا پنجاب جاؤں گا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر یہ نیت تھی کہ دہلی نہ جاؤں گا مگر ایسی جگہ پہنچ کر دہلی ہوکر جانے کا ارادہ ہوا کہ وہاں سے نماز میں قصر شروع ہوگیا(5) تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر قسم میں یہ نیت تھی کہ خاص دہلی نہ جاؤں گااور پنجاب جانے کے لیے نکلا اور دہلی ہوکرجانے کا ارادہ کیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: قسم کھائی کہ فلاں کے گھر نہیں جاؤں گا توجس گھر میں وہ رہتا ہے اوس میں جانے سے قسم ٹوٹ گئی اگرچہ وہ مکان اوسکا نہ ہو بلکہ کرایہ پر یا عاریۃً (7) اوس میں رہتا ہو۔ یوہیں جو مکان اوس کی مِلک میں ہے اگرچہ اوس میں رہتا نہ ہو، اوس میں جانے سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی۔ (8)(عالمگیری)
۔۔۔
1 ۔'' الدر المختار ''، کتاب الأیمان ،ج۵، ص ۵۷۶.
2 ۔المرجع السابق ، ص ۵۶۸.
3 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا ،ج ۲، ص۷۰.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔یعنی ظہر،عصراورعشاء کی فرض رکعتیں چارچار کی بجائے دوپڑھناواجب ہوگیا۔
6 ۔'' الفتا وی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا ،ج ۲، ص۷۰.
7 ۔عارضی طورپر۔
8 ۔'' الفتا وی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا ،ج ۲، ص۷۰.
مسئلہ ۳۲: قسم کھائی کہ فلاں کی دوکان میں نہیں جاؤں گا تو اگر اس شخص کی دو دوکانیں ہیں ایک میں خود بیٹھتا ہے اورایک کرایہ پر دیدی ہے تو کرایہ والی میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹی اور اگر ایک ہی دوکان ہے جس میں وہ بیٹھتا بھی نہیں ہے بلکہ کرایہ پر دے دی ہے تو اب اوس میں جانے سے قسم ٹوٹ جائیگی کہ اس صورت میں دوکان سے مراد سکونت (1) کی جگہ نہیں بلکہ وہ جو اس کی مِلک(2) میں ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: قسم کھائی کہ زید کے مکان میں نہیں جائیگا اور ایسے مکان میں گیا جو زید اور دوسرے کی شرکت میں ہے اگر زید اوس مکان میں رہتا ہے تو قسم ٹوٹ گئی اور رہتا نہ ہو تو نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: ایک شخص کسی مکان میں بیٹھا ہواہے اور قسم کھائی کہ اس مکان میں اب نہیں آؤنگا تو اوس مکان کے کسی حصہ میں داخل ہونے سے قسم ٹوٹ جائے گی خاص وہی دالان (5) جس میں بیٹھا ہوا ہے مراد نہیں اگرچہ وہ کہے کہ میری مراد یہ دالان تھی ہاں اگر دالان یاکمرہ کہا تو خاص وہی کمرہ مراد ہوگاجس میں وہ بیٹھا ہوا ہے۔(6) (بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: قسم کھائی کہ زید کے مکان میں نہیں جائیگا اور زید کے دو۲ مکان ہیں ایک میں رہتا ہے اور دوسرا گودام ہے یعنی اس میں تجارت کے سامان رکھتا ہے خود زید کی اس میں سکونت نہیں تو اس دوسرے مکان میں جانے سے قسم نہ ٹوٹے گی ہاں اگر کسی قرینہ (7) سے یہ بات معلوم ہو کہ یہ دوسرا مکان بھی مراد ہے تو اس میں داخل ہونے سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: قسم کھائی کہ زید کے خریدے ہوئے مکان میں نہیں جائے گا اور زید نے ایک مکان خریدا پھراوس سے اس قسم کھانے والے نے خریدلیا تو اس میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور اگر زید نے خرید کراس کو ہبہ کردیا تو جانے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔ (9)(خانیہ، بحر)
۔۔۔
1 ۔ رہائش۔
2 ۔ملکیت۔
3 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا،ج۲، ص ۷۱.
4 ۔ المر جع السابق.
5 ۔ بڑااورلمباکمراجس میں محراب داردروازے ہوتے ہیں،برآمدہ۔
6 ۔'' البحر الرائق ''، کتاب الأیمان،باب الیمین فی الدخول ...إلخ ،ج ۴ ، ص ۵۱۱.
و'' الفتا وی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا ،ج ۲، ص ۷۱.
7 ۔یعنی ایسی بات جومطلوب کی طرف اشارہ کرے،ظاہری حال۔
8 ۔'' الفتا وی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا ،ج ۲، ص ۷۱.
9 ۔''الخانیۃ''، کتاب الأیمان،فصل في الدخول، ج۱، ص۳۱۹.
و''البحر الرائق ''، کتاب الأیمان،باب الیمین فی الدخول ...إلخ ،ج ۴ ، ص ۵۱۲.
مسئلہ ۳۷: قسم کھائی کہ زید کے مکان میں نہیں جائے گا اور زید نے آدھا مکان بیچ ڈالا تو اگر اب تک زید اوس مکان میں رہتا ہے تو جانے سے قسم ٹوٹ جائے گی اور نہیں تو نہیں اور اگر قسم کھائی کہ اپنی زوجہ کے مکان میں نہیں جاؤنگا اور عورت نے مکان بیچ ڈالا اور خریدار سے شوہر نے وہ مکان کرایہ پرلیا اگر قسم کھانا عورت کی وجہ سے تھا تو اب جانے سے قسم نہیں ٹوٹی اور اگر اوس مکان کی ناپسندی کی وجہ سے تھا تو ٹوٹ گئی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: قسم کھائی کہ زید کے مکان میں نہیں جائے گا اور زید نے لوگوں كو کھانا کھلانے کے لیےکسی سے مکان عاریۃً لیا تو اس میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی، ہاں اگر مالکِ مکان نے اپنا کل سامان وہاں سے نکال لیا اور زید اسباب سکونت (2) اوس مکان میں لے گیا تو قسم ٹوٹ جائے گی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: قسم کھائی کہ زید کے مکان میں نہیں جائیگا اور زید کا خود کوئی مکان نہیں بلکہ زید اپنی زوجہ کے مکان میں رہتا ہے تو اس مکان میں جانے سے قسم ٹوٹ جائے گی اور اگر زید کا خود بھی کوئی مکان ہے تو عورت کے مکان میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر قسم کھائی کہ فلاں عورت کے مکان میں نہیں جائیگااور عورت کا خود کوئی مکان نہیں ہے بلکہ شوہر کے مکان میں رہتی ہے تو اس مکان میں جانے سے قسم ٹوٹ جائے گی اور خود عورت کا بھی مکان ہے تو شوہر والے مکان میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: قسم کھائی کہ حمام میں نہانے کے لیے نہیں جائیگا تو اگر مالک حمام سے ملاقات کرنے کے لیے گیا پھر نہا بھی لیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۴۱: قسم کھائی کہ میں فلاں شخص کو اس مکان میں آنے سے روکوں گا وہ شخص اوس مکان میں جانا چاہتا تھا اس نے روک دیا قسم پوری ہوگئی اب اگر پھر کبھی اوس کو جاتے ہوئے دیکھا اور منع نہ کیا تو اس پر کفارہ وغیرہ کچھ نہیں۔(6) (بحر)
مسئلہ ۴۲: قسم کھائی کہ فلاں کو اس گھر میں نہیں آنے دونگا اگر وہ مکان قسم کھانے والے کی مِلک میں نہیں ہے
۔۔۔
1 ۔''الفتا وی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا ،ج ۲، ص ۷۱.
2 ۔رہنے سہنے کاسازوسامان۔
3 ۔'' الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا ،ج ۲، ص ۷۱.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔'' الفتا وی الخانیۃ''، کتاب الأیمان، فصل فی الدخول،ج۱،ص۳۱۹.
6 ۔''البحر الرائق ''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الدخول والخرو ج ،ج ۴ ،ص ۵۱۳.
توزبان سے منع کرنا کافی ہے اور ملک ہے تو زبان سے اور ہاتھ پاؤں سے منع کرنا ضرور ہے، ورنہ قسم ٹوٹ جائیگی۔ (1)(بحر)
مسئلہ ۴۳: زید و عمر و(2) سفر میں ہیں زید نے قسم کھائی کہ عمرو کے مکان میں نہیں جائیگا عمرو کے ڈیرے (3)اور خیمے یاجس مکان میں اُترا ہے اگر زید گیا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: قسم کھائی کہ اس خیمہ میں نہ جائے گا اور وہ خیمہ کسی جگہ نصب کیا ہوا ہے(5) اب وہاں سے اوکھاڑ کر دوسری جگہ کھڑا کیا گیا اور اس کے اندر گیا تو قسم ٹوٹ گئی۔ یوہیں لکڑی کا زینہ (6) یا منبر ایک جگہ سے اوکھاڑ کر دوسری جگہ قائم کیا گیا تو اب بھی وہی قرار پائیگا یعنی جس نے اوس پر نہ چڑھنے کی قسم کھائی ہے اب چڑھا قسم ٹوٹ گئی۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: زیدنے قسم کھائی کہ میں عمرو کے پاس نہ جاؤں گا اور عمرو نے بھی قسم کھائی کہ میں زید کے پاس نہ جاؤں گااور دونوں مکان میں ایک ساتھ گئے تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگرقسم کھائی کہ میں اوس کے پاس نہ جاؤں گا اور اوس کے مرنے کے بعد گیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: قسم کھائی کہ جب تک زید اس مکان میں ہے میں اس مکان میں نہ جاؤں گا اور زید اپنے بال بچوں کو لیکر اوس مکان سے چلاگیا پھر اوس مکان میں آگیا تو اب اُس میں جانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: قسم کھائی کہ فلاں کے مکان میں نہیں جائے گا اور اوس کے اصطبل (10)میں گیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(11) (بحر)
مسئلہ ۴۸: قسم کھائی کہ اس گلی میں نہ آئے گا اور اوس گلی کے کسی مکان میں گیامگر اوس گلی سے نہیں بلکہ چھت پر چڑھ کر یاکسی اور راستہ سے تو قسم نہیں ٹوٹی بشرطیکہ اوس مکان سے نکلنے میں بھی گلی میں نہ آئے۔ (12)(بحر)
۔۔۔
1 ۔'' البحر الرائق ''، کتاب الأیمان، باب الیمین فی الدخول والخروج ،ج۴، ص ۵۱۴.
2 ۔اِسے عَمْرْ پڑھتے ہیں واونہیں پڑھاجاتا۔
3 ۔قیام گاہ ،گھر۔
4 ۔''الفتا وی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا،ج۲،ص ۷۱.
5 ۔یعنی لگایاہواہے۔
6 ۔سیڑھی۔
7 ۔''الفتا وی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا،ج۲،ص ۷۱.
8 ۔المرجع السابق، ص۷۳.
9 ۔''الفتا وی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا،ج۲،ص ۷۴.
10 ۔ گھوڑے باندھنے کی جگہ۔
11 ۔'' البحر الرائق ''، کتاب الأیمان ، باب الیمین...إلخ،ج۴،ص ۵۰۸.
12 ۔المرجع السابق ، ص ۵۱۱.
مسئلہ ۴۹: قسم کھائی کہ فلاں کے مکان میں نہیں جائیگا اور مالک مکان کے مرنے کے بعد گیا توقسم نہیں ٹوٹی۔ (1)(بحر)
مسئلہ ۵۰: قسم کھائی کہ فلاں مکان میں یا فلاں محلہ یا کوچہ میں نہیں رہے گا اور اوس مکان یا محلہ میں فی الحال رہتا ہے اور اب خود اُس مکان یا محلہ سے چلاگیا بال بچوں اور سامان کو وہیں چھوڑا تو قسم ٹوٹ گئی یعنی قسم اوس وقت پوری ہوگی کہ خود بھی چلاجائے اور بال بچوں کو بھی لے جائے اور خانہ داری کے سامان اوس قدر لے جائے جو سکونت (2)کے لیےضروری ہیں اور اگر قسم کے وقت اوس میں سکونت نہ ہو تو جب خود بال بچے اور خانہ داری کے ضروری سامان کو لے کر اوس مکان میں جائیگا قسم ٹوٹ جائیگی، مگر یہ اوس وقت ہے کہ قسم عربی زبان میں ہو کیونکہ عربی زبان میں اگرخود اوس مکان سے چلاگیا اور بال بچے یا سامان خانہ داری ابھی وہیں ہیں تو وہ مکان اس کی سکونت کا قرار پائیگا اگرچہ اوس میں رہنا چھوڑدیا ہو اور جس مکان میں تنہا جاکر رہتا ہے وہ سکونت کا مکان نہیں اور فارسی یا اُردو میں اگر خود اوس مکان کو چھوڑدیا تو یہ نہیں کہا جائیگا کہ اوس مکان میں رہتا ہے اگرچہ بال بچے وہاں رہتے ہوں یا خانہ داری کا کل سامان اوس مکان میں موجود ہو اور جس مکان میں چلاگیا اوس مکان میں اس کا رہنا قرار دیا جاتا ہے اگرچہ یہاں نہ بال بچے ہوں نہ سامان اور قسم میں اعتبار وہاں کی بول چال کا ہے لہٰذا عربی کا وہ حکم ہے اور فارسی، اردو کا یہ۔ (3)(عالمگیری، بحر، درمختار)
مسئلہ ۵۱: قسم کھائی کہ اس مکان میں نہیں رہے گا اور قسم کے وقت اوسی مکان میں سکونت ہے تو اگر سکونت میں دوسرے کا تابع (4) ہے مثلاً بالغ لڑکا کہ باپ کے مکان میں رہتا ہے یاعورت کہ شوہر کے مکان میں رہتی ہے اور قسم کھانے کے بعد فوراً خود اوس مکان سے چلاگیا اور بال بچوں کو اور سامان کو وہیں چھوڑا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: قسم کھائی کہ اس مکان میں نہیں رہے گا اور نکلنا چاہتا تھا مگر دروازہ بند ہے کسی طرح کھول نہیں سکتا یا کسی نے اوسے مقید کرلیا کہ نکل نہیں سکتا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ پہلی صورت میں اس کی ضرورت نہیں کہ دیوار توڑ کر باہر نکلے
۔۔۔
1 ۔'' البحر الرائق ''،کتاب الایمان، باب الیمین...إلخ، ج ۴ ، ص ۵۱۲.
2 ۔رہائش۔
3 ۔''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا،ج۲،ص ۷۴،۷۵.
و''البحر الرائق ''،کتاب الایمان ، باب الیمین...إلخ، ج۴،ص ۵۱۴،۵۱۶.
و''الدرالمختار''، کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الدخول...إلخ، ج۵،ص ۵۶۱.
4 ۔ماتحت۔
5 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا،ج۲،ص ۷۴.
یعنی اگر دروازہ بند ہے اور دیوار توڑ کر نکل سکتا ہے اور توڑ کرنہ نکلا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر قسم کھانے والی عورت ہے اور رات کا وقت ہے تو رات میں رہ جانے سے قسم نہ ٹوٹے گی اور مردنے قسم کھائی اور رات کا وقت ہے تو جب تک چور وغیرہ کا ڈر نہ ہو عذر نہیں۔(1)
مسئلہ ۵۳: قسم کھائی کہ اس مکان میں نہ رہے گا اگر دوسرے مکان کی تلاش میں ہے تو مکان نہ چھوڑنے کی وجہ سے قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ کئی دن گزر جائیں بشرطیکہ مکان کی تلاش میں پوری کوشش کرتا ہو۔ یوہیں اگر اوسی وقت سے سامان اوٹھوانا شروع کردیا مگر سامان زیادہ ہونے کے سبب کئی دن گزر گئے یا سامان کے لیے مزدور تلاش کیا اور نہ ملا یا سامان خود ڈھوکر (2)لے گیا اس میں دیر ہوئی اور مزدور کرتا تو جلد ڈُھل جاتا(3) اور مزدور کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہے تو ان سب صورتوں میں دیر ہوجانے سے قسم نہیں ٹوٹی اور اردو میں قسم ہے تو اوس کا مکان سے نکل جانا اس نیت سے کہ اب اس میں رہنے کو نہ آؤں گا قسم سچی ہونے کے لیےکافی ہے اگرچہ سامان وغیرہ لیجانے میں کتنی ہی دیر ہو اور کسی وجہ سے دیرہو۔(4) (درمختار، خانیہ)
مسئلہ ۵۴: قسم کھائی کہ اس شہر یا گاؤں میں نہیں رہے گا اور خود وہاں سے فوراً چلاگیا تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ بال بچے اور کل سامان وہیں چھوڑ گیا ہو پھر جب کبھی وہاں رہنے کے ارادہ سے آئیگا قسم ٹوٹ جائیگی اور اگر کسی سے ملنے کو یا بال بچوں اور سامان لینے کو وہاں آئیگا تو اگرچہ کئی دن ٹھہرجائے قسم نہیں ٹوٹی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۵: قسم کھائی کہ میں پورے سال اس گاؤں میں نہ رہوں گا یا اس مکان میں اس مہینے بھر سکونت نہ کروں گا اور سال میں یامہینے میں ایک دن باقی تھا کہ وہاں سے چلاگیا توقسم نہیں ٹوٹی۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: قسم کھائی کہ فلاں شہر میں نہیں رہے گا اور سفر کرکے وہاں پہنچا اگر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرلی قسم ٹوٹ گئی اور اس سے کم میں نہیں۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۷: قسم کھائی کہ فلاں کے ساتھ اس مکان میں نہیں رہے گا اور اوس مکان کے ایک حصہ میں وہ رہا اور دوسرے میں یہ تو قسم ٹوٹ گئی اگرچہ دیواراوٹھوا کر اوس مکان کے دو۲حصے جدا جدا کردیے گئے اور ہر ایک نے اپنی اپنی آمدورفت (8) کا دروازہ
۔۔۔
1 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا ،ج۲،ص ۷۵.
2 ۔ اٹھاکر۔
3 ۔یعنی جلدی دوسری جگہ منتقل ہوجاتا۔
4 ۔ ''الدر المختار''،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الدخول ...إلخ،ج ۵، ص۵۶۳.
و''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الأیمان ، فصل فی المساکنۃ ...إلخ ،ج۱، ص۳۲۵.
5 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان،الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا،ج۲،ص۷۵،۷۶.
6 ۔المر جع السابق،۷۶.
7 ۔المر جع السابق،ص۷۶.
8 ۔ یعنی آنے جانے۔
علیحدہ علیحدہ کھول لیا اور اگر قسم کھانے والا اوس مکان میں رہتا تھا وہ شخص زبردستی اوس مکان میں آکر رہنے لگا اگر یہ فوراً اوس مکان سے نکل گیا تو قسم نہیں ٹوٹی ورنہ ٹوٹ گئی اگرچہ اوس کا اس مکان میں رہنا اسے معلوم نہ ہو اور اگر مکان کو معین نہ کیا مثلاً کہا فلاں کے ساتھ کسی مکان میں یا ایک مکان میں نہ رہے گا اور ایک ہی مکان کی تقسیم کرکے دونوں دومختلف حصوں میں ہوں تو قسم نہیں ٹوٹی جبکہ بیچ میں دیوار قائم کردی گئی یاوہ مکان بہت بڑا ہو کہ ایک محلہ کے برابر ہو۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: قسم کھائی کہ فلاں کے ساتھ نہ رہے گا پھر یہ قسم کھانے والا سفر کرکے اوس کے مکان پر جاکر اُترا اگر پندرہ دن ٹھہرے گا تو قسم ٹوٹ جائے گی اور کم میں نہیں۔ (2)(خانیہ)
مسئلہ ۵۹: قسم کھائی کہ اوس کے ساتھ فلاں شہر میں نہ رہیگا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اوس شہر کے ایک مکان میں دونوں نہ رہیں گے لہٰذا دونوں اگر اوس شہر کے دومکانوں میں رہیں تو قسم نہیں ٹوٹی۔ ہاں اگر اوس قسم سے اُس کی یہ نیت ہو کہ دو نوں اوس شہر میں مطلقاً نہ رہیں گے تو اگرچہ دونوں دومکان میں ہوں تو قسم ٹوٹ گئی۔ یہی حکم گاؤں میں ایک ساتھ نہ رہنے کی قسم کا ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: قسم کھائی کہ فلاں کے ساتھ ایک مکان میں نہ رہیگا اور دونوں بازار میں ایک دوکان میں بیٹھ کر کام کرتے یاتجارت کرتے ہیں تو قسم نہیں ٹوٹی۔ ہاں اگر اوس کی نیت میں یہ بھی ہو کہ دونوں ایک دوکان میں کام نہ کرینگے یا قسم کے پہلے کوئی ایسا کلام ہوا ہے جس سے یہ سمجھا جاتا ہو یا دوکان ہی میں رات کو بھی رہتے ہیں تو قسم ٹوٹ جائیگی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۱: قسم کھائی کہ فلاں کے مکان میں نہ رہے گا اور مکان کو معین (5)نہ کیا کہ یہ مکان اور اوس شخص نے اس کے قسم کھانے کے بعد اپنامکان بیچ ڈالا تو اب اوس میں رہنے سے قسم نہ ٹوٹے گی اور اگر اس کی قسم کے بعد اوس نے کوئی مکان خریدا اور اوس جدید مکان میں قسم کھانے والا رہا تو ٹوٹ گئی اور اگر وہ مکان اوس شخص کا تنہا نہیں ہے بلکہ دوسرے کا بھی اوس میں حصہ ہے تو اس میں رہنے سے نہیں ٹوٹے گی اور اگر قسم میں مکان کو معین کردیا تھا کہ فلاں کے اس مکان میں نہ رہوں گا
۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''و''رد المحتار''، کتاب الأیمان ، مطلب: لا یسکن فلانا،ج۵ ،ص ۵۶۴.
2 ۔'' الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الأیمان ، فصل فی المساکنۃ ...إلخ،ج۱،ص ۳۲۵.
3 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا،ج۲،ص۷۶.
4 ۔المر جع السابق،۷۷.
5 ۔مقرر،مخصوص۔
اور نیت یہ ہے کہ اس مکان میں نہ رہونگا اگرچہ کسی کا ہو تو اگرچہ بیچ ڈالا اوس میں رہنے سے قسم ٹوٹ جائے گی اور اگر یہ نیت ہو کہ چونکہ یہ فلاں کا ہے اس وجہ سے نہ رہوں گا یا کچھ نیت نہ ہو تو بیچنے کے بعد رہنے سے نہ ٹوٹی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۲: قسم کھائی کہ زید جو مکان خریدے گا اوس میں میں نہ رہوں گااور زید نے ایک مکان عمرو کے لیےخریدا قسم کھانے والا اس مکان میں رہیگا تو قسم ٹوٹ جائے گی۔ ہاں اگر وہ کہے کہ میرا مقصد یہ تھاکہ زید جو مکان اپنے یےخریدے میں اوس میں نہ رہونگا اور یہ مکان تو عمرو کے لیےخریدا ہے تو اس کا قول مان لیا جائیگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۳: قسم کھائی کہ سوار نہ ہوگا تو جس جانور پر وہاں کے لوگ سوار ہوتے ہیں اوس پر سوار ہونے سے قسم ٹوٹے گی لہٰذا اگر آدمی کی پیٹھ پر سوار ہوا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں گائے، بیل، بھینس کی پیٹھ پر سوار ہونے سے قسم نہ ٹوٹے گی۔ یوہیں گدھے اور اونٹ پر سوار ہونے سے بھی قسم نہ ٹوٹے گی کہ ہندوستان میں ان پر لوگ سوار نہیں ہوا کرتے۔ ہاں اگر قسم کھانے والا اون لوگوں میں سے ہو جو ان پر سوار ہوتے ہیں جیسے گدھے والے یا اُونٹ والے کہ یہ سوار ہوا کرتے ہیں تو قسم ٹوٹ جائے گی اور گھوڑے ہاتھی پر سوار ہونے سے قسم ٹوٹ جائے گی کہ یہ جانور یہاں لوگوں کی سواری کے ہیں۔یوہیں اگر قسم کھانے والا اون لوگوں میں تو نہیں ہے جو گدھے یا اونٹ پر سوار ہوتے ہیں مگر قسم وہاں کھائی جہاں لوگ ان پر سوار ہوتے ہیں مثلاً ملک عرب شریف کے سفر میں ہے تو گدھے اور اونٹ پر سوار ہونے سے بھی قسم ٹوٹ جائے گی۔ (3)(مستفاد من الدر وغیرہ)
مسئلہ ۶۴: قسم کھائی کہ کسی سواری پر سوار نہ ہوگا تو گھوڑا، خچر، ہاتھی، پالکی (4)، ڈولی ، بہلی (5)، ریل، یکہ، تانگہ ، شکرم(6) وغیرہا ہر قسم کی سواری گاڑیاں اور کشتی پر سوارہونے سے قسم ٹوٹ جائیگی۔ (7)
مسئلہ ۶۵: قسم کھائی کہ گھوڑے پر سوار نہ ہوگا تو زین یا چار جامہ (8) رکھ کر سوار ہوا یا ننگی پیٹھ پر بہر حال قسم ٹوٹ گئی۔(9) (عالمگیری)
۔۔۔
1 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان، الباب الثالث فی الیمین علی الدخول والسکنی وغیرھا،ج۲،ص۷۷.
2 ۔ المر جع السابق.
3 ۔'' الدر المختار ''، کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الدخول ...إلخ،ج ۵ ،ص۵۸۳،وغیرہ.
4 ۔ ایک قسم کی سواری جسے کمہاراٹھاتے ہیں۔
5 ۔دوپہیوں والی بیل گاڑی۔
6 ۔ایک قسم کی چارپہیوں والی گاڑی۔
7 ۔'' الدر المختار '' ،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الدخول ...إلخ،ج ۵ ،ص۵۸۳.
8 ۔ کپڑے کازین جس میں لکڑی نہیں ہوتی۔
9 ۔'' الفتاوی الھندیۃ ''،کتاب الأیمان الباب الرابع فی الیمین علی الخروج ...إلخ،ج ۲،ص۸۰.
مسئلہ ۶۶: قسم کھائی کہ اس زین (1) پر سوار نہ ہوگا پھر اوس میں کچھ کمی بیشی کی جب بھی اوس پر سوار ہونے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۷: قسم کھائی کہ کسی جانور پر سوار نہ ہوگا تو آدمی پر سوار ہونے سے قسم نہ ٹوٹے گی کہ عرف میں(3) آدمی کوجانور نہیں کہتے۔(4) (فتح )
مسئلہ ۶۸: قسم کھائی کہ عربی گھوڑے پرسوار نہ ہوگا تو اور گھوڑوں پر سوار ہونے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۹: قسم کھائی کہ گھوڑے پر سوار نہ ہوگا پھرزبردستی کسی نے سوار کردیا تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر اوس نے زبردستی کی اور اوس کے مجبور کرنے سے یہ خود سوار ہوا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (6)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۷۰: جانور پر سوار ہے اور قسم کھائی کہ سوار نہ ہوگا تو فوراً اتر جائے، ورنہ قسم ٹوٹ جائیگی۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۱: قسم کھائی کہ زید کے اس گھوڑے پر سوار نہ ہوگا پھر زید نے اوس گھوڑے کو بیچ ڈالا تو اب اوس پر سوار ہونے سے قسم نہ ٹوٹے گی۔ یوہیں اگر قسم کھائی کہ زید کے گھوڑے پر سوار نہ ہوگا اور اوس گھوڑے پر سوار ہوا جو زید و عمرو میں مشترک ہے تو قسم نہیں ٹوٹی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: قسم کھائی کہ فلاں کے گھوڑے پر سوار نہ ہوگا اور اوس کے غلام کے گھوڑے پر سوار ہوا اگر قسم کے وقت یہ نیت تھی کہ غلام کے گھوڑے پر بھی سوار نہ ہوگا اور غلام پر اتنا دَین (9) نہیں جو مستغرق (10)ہو تو قسم ٹوٹ گئی، خواہ غلام پر بالکل دَین نہ ہو یا ہے مگر مستغرق نہیں اور نیت نہ ہو تو قسم نہیں ٹوٹی اور دَین مستغرق ہو تو قسم نہیں ٹوٹی، اگرچہ نیت ہو۔ (11)(درمختار)
۔۔۔
1 ۔ گھوڑے کے اوپررکھنے والی کاٹھی،پالان جس پربیٹھتے ہیں۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان الباب الرابع فی الیمین علی الخروج ...إلخ ، ج۲، ص ۸۰.
3 ۔ یعنی عام بول چال میں۔
4 ۔ ''فتح القدیر''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الخروج ...إلخ ،ج۴ ،ص۳۹۴.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان الباب الرابع فی الیمین علی الخروج ...إلخ ، ج۲، ص ۸۰.
6 ۔ المرجع السابق .
و''الدر المختار''، کتاب الأیمان ،ج ۵،ص۵۸۴.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان الباب الرابع فی الیمین علی الخروج ...إلخ ، ج۲، ص ۸۰.
8 ۔المرجع السابق.
9 ۔ قرض۔
10 ۔گھرا ہوا۔
11 ۔''الدر المختار''، کتاب الأیمان، باب الیمین فی الدخول،ج ۵،ص۵۸۲.
جو چیز ایسی ہو کہ چبا کر حلق سے اوتاری جاتی ہو اوس کے حلق سے اوتار نے کو کھانا کہتے ہیں، اگرچہ اس نے بغیر چبائے اوتارلی اور پتلی چیز بہتی ہوئی کو حلق سے اوتار نے کو پینا کہتے ہیں، مگر صرف اتنی ہی بات پر اقتصار نہ کرنا چاہیے(1) بلکہ محاور ات کا ضرور خیال کرنا ہوگا کہ کہاں کھانے کا لفظ بولتے ہیں اور کہاں پینے کا کہ قسم کا دارومدار بول چال پر ہے۔
مسئلہ ۱: اُردو میں دودھ پینے کو بھی دودھ کھانا کہتے ہیں، لہٰذا اگر قسم کھائی کہ دودھ نہیں کھاؤں گا تو پینے سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی اور اگر کوئی ایسی چیز کھائی جس میں دودھ ملا ہوا ہے مگر اوس کا مزہ محسوس نہیں ہوتا تو اوس کے کھانے سے قسم نہیں ٹوٹی۔
مسئلہ ۲: قسم کھائی کہ دودھ یا سرکہ یا شوربا نہیں کھائیگا اور روٹی سے لگا کر کھایا تو قسم ٹوٹ گئی اور خالی سرکہ پی گیا تو قسم نہیں ٹوٹی کہ اس کو کھانا نہ کہیں گے بلکہ یہ پینا ہے۔(2) (بحر)
مسئلہ ۳: قسم کھائی کہ یہ روٹی نہ کھائیگا اور اوسے سُکھا کر کوٹ کر پانی میں گھول کر پی گیا تو قسم نہیں ٹوٹی کہ یہ کھانا نہیں ہے پینا ہے۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۴: اگر کسی چیز کو مونھ میں رکھ کر اوگل دیا(4) تو یہ نہ کھانا ہے نہ پینا مثلاً قسم کھائی کہ یہ روٹی نہیں کھائے گا اور مونھ میں رکھ کر اُگل د ی یایہ پانی نہیں پیے گا اور اوس سے کلی کی تو قسم نہیں ٹوٹی۔(5) (بحر)
مسئلہ ۵: قسم کھائی کہ یہ انڈا یا یہ اخروٹ نہیں کھائیگا اور اوسے بغیر چبائے ہوئے نگل گیا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر قسم کھائی کہ یہ انگور یا انار نہیں کھائیگا اور چوس کر عرق(6) پی گیا اور فضلہ (7)پھینک دیا تو قسم ٹوٹ گئی کہ اس کو عرف میں كھاناکہتے ہیں۔یوہیں اگر شکر نہ کھانے کی قسم کھائی تھی اور اوسے مونھ میں رکھ کر جوگھلتی گئی حلق سے اوتارتا گیا قسم ٹوٹ گئی۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۶: چکھنے کے معنی ہیں کسی چیز کو مونھ میں رکھ کر اوس کامزہ معلوم کرنا اور اُردو محاور ہ میں اکثر مزہ دریافت کرنے
۔۔۔
1 ۔ یعنی صرف اسی کوکافی نہ سمجھیں۔
2 ۔ ''البحر الرائق ''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی الأکل...إلخ ،ج ۴،ص ۵۳۳.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔ منہ سے نکال دیا۔
5 ۔ ''البحر الرائق ''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی الأکل...إلخ ،ج ۴،ص ۵۳۳.
6 ۔رس۔
7 ۔ رس چوسنے کے بعدبچاہواپھوک۔
8 ۔''الدر المختار''، کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج۵ ، ص ۵۸۵.
کے لیے تھوڑا سا کھالینے یا پی لینے کو چکھنا کہتے ہیں اگر قرینہ سے یہ بات معلوم ہو کہ اس کلام میں چکھنے سے مراد تھوڑا سا کھا کر مزہ معلوم کرنا ہے تو یہ مراد لیں گے۔ مثلاً کوئی شخص کچھ کھارہا ہے اوس نے دوسرے کو بلایا اس نے انکار کیااوس نے کہا ذرا چکھ کر تو دیکھو کیسی ہے تو یہاں چکھنے سے مراد تھوڑی سی کھالینا ہے اور اگر قرینہ نہ ہو تو مطلقاً مزہ معلوم کرنے کے لیے مونھ میں رکھنا مراد ہوگا کہ اس معنی میں بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے مگر اگر پانی کی نسبت قسم کھائی کہ اسے نہیں چکھوں گا پھر نماز کے لیےاوس سے کلی کی تو قسم نہیں ٹوٹی کہ کلی کرنا نماز کے لیے ہے مزہ معلوم کرنے کے لیے نہیں اگر چہ مزہ بھی معلوم ہوجائے۔
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ یہ ستو(1) نہیں کھائے گااور اوسے گھول کر پیا یاقسم کھائی کہ یہ ستو نہیں پیے گا اور گوندھ کر کھایا یا ویسا ہی پھانک لیا(2) تو قسم نہیں ٹوٹی۔(3)
مسئلہ ۸: آم وغیرہ کسی درخت کی نسبت کہا کہ اس میں سے کچھ نہ کھاؤں گا تو اوس کے پھل کھانے سے قسم ٹوٹ جائے گی کہ خود درخت کھانے کی چیز نہیں لہٰذا اس سے مراد اوس کا پھل کھانا ہے۔ یوہیں پھل کو نچوڑ کر جو نکلا وہ کھایا جب بھی قسم ٹوٹ گئی اور اگر پھل کو نچوڑ کر اوسکی کوئی چیز بنالی گئی ہو جیسے انگور سے سرکہ بناتے ہیں تو اس کے کھانے سے قسم نہیں ٹوٹی اور اگر صورت مذکورہ میں تکَلُّف (4) کرکے کسی نے اوس درخت کا کچھ حصہ چھال وغیرہ کھالیا تو قسم نہیں ٹوٹی اگر چہ یہ نیت بھی ہو کہ درخت کا کوئی جز نہ کھاؤں گا اور اگر وہ درخت ایسا ہو جس میں پھل ہوتا ہی نہ ہو یاہوتاہے مگر کھایا نہ جاتا ہو تو اوس کی قیمت سے کوئی چیز خرید کر کھانے سے قسم ٹوٹ جائیگی کہ اوسکے کھانے سے مُراد اوس کی قیمت سے کوئی چیز خرید کر کھانا ہے۔(5) (درمختار، بحر وغیرہما )
مسئلہ ۹: قسم کھائی کہ اس آم کے درخت کی کیری(6) نہ کھاؤ نگا اور پکے ہوئے کھائے یا قسم کھائی کہ اس درخت کے انگور نہ کھاؤں گااور منقے(7) کھائے یادودھ نہ کھاؤں گا اور دہی کھایا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(8) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱۰: قسم کھائی کہ اس گائے یا بکری سے کچھ نہ کھائے گا تو اوس کا دودھ دہی یا مکھن
۔۔۔
1 ۔ بھنی ہوئی گندم یاجووغیرہ کاآٹا۔
2 ۔یعنی سوکھاکھالیا۔
3 ۔'' الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الخامس فی الیمین علی الأکل ...إلخ، ج ۲ ،ص۸۱.
4 ۔ مشقت، تکلیف اٹھاکر۔
5 ۔''الدر المختار''، کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج۵ ، ص ۵۸۷۔۵۸۹.
و''البحر الرائق ''، کتاب الأیمان، باب الیمین فی الأکل...إلخ ،ج ۴،ص ۵۳۴، وغیرہما.
6 ۔ چھوٹاکچاآم۔
7 ۔ ایک قسم کی بڑی کشمش۔
8 ۔'' الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الخامس فی الیمین علی الأکل ...إلخ، ج ۲ ،ص۸۲.
یا گھی کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور گوشت کھانے سے ٹوٹ جائے گی۔ (1)(بحر وغیرہ)
مسئلہ ۱۱: قسم کھائی کہ یہ آٹا نہیں کھائیگا اور اوس کی روٹی یا اور کوئی بنی ہوئی چیز کھائی تو قسم ٹوٹ گئی اور خود آٹا ہی پھانک لیا تو نہیں۔(2) (بحر، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: قسم کھائی کہ روٹی نہیں کھائیگا تواوس جگہ جس چیز کی روٹی لوگ کھاتے ہیں اوس کی روٹی سے قسم ٹوٹے گی مثلاًہندوستان میں گیہوں، جو، جوار، باجرا، مکّا(3)کی روٹی پکائی جاتی ہے تو چاول کی روٹی سےقسم نہیں ٹوٹے گی اور جہاں چاول کی روٹی لوگ کھاتے ہوں وہاں کے کسی شخص نے قسم کھائی تو چاول کی روٹی کھانے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔ (4)(بحر)
مسئلہ ۱۳: قسم کھائی کہ یہ سرکہ نہیں کھائے گا اور چٹنی یا سِکَنجبِین(5) کھائی جس میں وہ سرکہ پڑا ہواتھا تو قسم نہیں ٹوٹی یا قسم کھائی کہ اس انڈے سے نہیں کھائے گا اور اوس میں سے بچہ نکلا اور اوسے کھایا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(6) (عالمگیری، بحر)
مسئلہ ۱۴: قسم کھائی کہ اس درخت سے کچھ نہ کھائے گا اور اوس کی قلم لگائی (7)تو اس قلم کے پھل کھانے سے قسم نہیں ٹوٹی۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: قسم کھائی کہ اس بچھیا کا گوشت نہیں کھائیگا پھر جب وہ جوان ہوگئی اُس وقت اُس کا گوشت کھایا تو قسم ٹوٹ گئی۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: قسم کھائی کہ گوشت نہیں کھائیگا تو مچھلی کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور اونٹ، گائے بھینس، بھیڑ، بکری اور پرند وغیرہ جن کا گوشت کھایا جاتا ہے اگر اون کا گوشت کھایا تو ٹوٹ جائے گی، خواہ شوربے دار ہو یا بُھنا ہو ا یاکوفتہ(10)
۔۔۔
1 ۔''البحر الرائق''، کتاب الأیمان، باب الیمین ...إلخ ،ج۴،ص۵۳۴،وغیرہ.
2 ۔'' البحر الرائق''، کتاب الأیمان ، باب الیمین ...إلخ ،ج۴،ص۵۴۰.
و''ردالمحتار''، کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ ، مطلب :اذاتعذرت الحقیقۃ ...إلخ،ج۵ ، ص ۵۸۷.
3 ۔ مکئی۔
4 ۔''البحر الرائق'' ،کتاب الأیمان ، باب الیمین ...إلخ،ج۴،ص۵۴۱.
5 ۔ سرکہ یالیموکے رس کاپکاہواشربت۔
6 ۔'' الفتا وی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الخامس فی الیمین علی الأکل ...إلخ، ج ۲ ،ص۸۱،۸۳.
7 ۔اس درخت کی شاخ دوسرے درخت میں لگائی۔
8 ۔'' رد المحتار'' ،کتاب الأیمان، مطلب فیمالووصل غصن شجرۃ باخری،ج۵،ص ۵۸۸.
9 ۔''الدر المختار''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی الأکل...إلخ ،ج۵،ص ۵۸۹.
10 ۔ قیمے کے گول کباب جوشوربے میں ڈالتے ہیں۔
اور کچا گوشت یا صرف شوربا کھایا تو نہیں ٹوٹی۔ یوہیں کلیجی، تلّی، پھیپڑا، دِل، گُردہ، اوجھڑی، دُنبہ کی چکی(1) کے کھانے سے بھی نہیں ٹوٹے گی کہ ان چیزوں کو عرف میں گوشت نہیں کہتے اور اگر کسی جگہ ان چیزوں کا بھی گوشت میں شمار ہو تو وہاں ان کےکھانے سے بھی ٹوٹ جائے گی۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: قسم کھائی کہ بیل کا گوشت نہیں کھائیگا تو گائے کے گوشت سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور گائے کے گوشت نہ کھانے کی قسم کھائی تو بیل کا گوشت کھانے سے ٹوٹ جائیگی کہ بیل کے گوشت کو بھی لوگ گائے کا گوشت کہتے ہیں اور بھینس کے گوشت سے نہیں ٹوٹے گی اور بھینس کے گوشت کی قسم کھائی تو گائے بیل کے گوشت سے نہیں ٹوٹے گی اور بڑا گوشت کہا تو ان سب کو شامل ہے اور بکری کا گوشت کہا تو بکرے کے گوشت سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی کہ دونوں کو بکری کا گوشت کہتے ہیں۔ یوہیں بھیڑ کا گوشت کہاتو مینڈھے کو بھی شامل ہے اور دُنبہ ان میں داخل نہیں، اگرچہ دُنبہ اسی کی ایک قسم ہے اور چھوٹا گوشت ان سب کو شامل ہے۔(3)
مسئلہ ۱۸: قسم کھائی کہ چربی نہیں کھائیگا تو پیٹ میں اور آنتوں پر جو چربی لپٹی رہتی ہے اوس کے کھانے سے قسم ٹوٹے گی پیٹھ کی چربی جو گوشت کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے اوس کے کھانے سے یا دُنبہ کی چکی کھانے سے نہیں ٹوٹے گی۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: قسم کھائی کہ گوشت نہیں کھائے گا اور کسی خاص گوشت کی نیت ہے تو اوس کے سوا دوسرا گوشت کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔ یوہیں قسم کھائی کہ کھانا نہیں کھائیگا اور خاص کھانا مراد لیا تو دوسرا کھانا کھانے سے قسم نہ ٹوٹے گیـ۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: قسم کھائی کہ تِل نہیں کھائے گا تو تِل کے تیل کھانے سے قسم نہیں ٹوٹی اور گیہوں(6) نہ کھانے کی قسم کھائی تو بُھنے ہوئے گیہوں کھانے سے قسم ٹوٹ جائے گی اور گیہوں کی روٹی یا آٹا یا ستویا کچے گیہوں کھانے سے قسم نہ ٹوٹے گی
۔
1 ۔دنبے کی گول چپٹی دم اور اس کی چربی۔
2 ۔'' الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الأیمان،باب الیمین ...إلخ،مطلب:حلف لایأکل لحماً،ج۵،ص۵۹۳۔۵۹۵.
3 ۔'' البحرالرائق''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی الأکل ...إلخ،ج۴،ص۵۳۹.
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الأیمان،باب الیمین فی الأکل ...إلخ، مطلب:حلف لایأکل لحماً،ج۵،ص۵۹۶.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان، الباب الخامس فی الیمین علی الأکل ...إلخ، ج۲،ص ۸۳.
6 ۔گندم۔
مگر جبکہ اوس کی یہ نیت ہو کہ گیہوں کی روٹی نہیں کھائیگا تو روٹی کھانے سے بھی ٹوٹ جائے گی۔ (1)(بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: قسم کھائی کہ یہ گیہوں نہیں کھائے گا پھر انھیں بویا، اب جو پیدا ہوئے ان کے کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی کہ یہ وہ گیہوں نہیں ہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: قسم کھائی کہ روٹی نہیں کھائیگا تو پراٹھے، پوریاں، سنبو سے(3)، بسکٹ، شیرمال، کلچے، گلگلے، نان پاؤ(4) کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی کہ ان کو روٹی نہیں کہتے اور تنوری روٹی یا چپاتی یا موٹی روٹی یا بیلن(5)سے بنائی ہوئی روٹی کھانے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: قسم کھائی کہ فلاں کا کھانا نہیں کھائے گا اور اوس کے یہاں کاسرکہ یا نمک کھایا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: قسم کھائی کہ فلاں شخص کا کھانا نہیں کھائیگا اور وہ شخص کھانا بیچا کرتا ہے اس نے خرید کر کھالیا تو قسم ٹوٹ گئی کہ اوس کے کھانے سے مراد اوس سے خرید کر کھانا کھانا ہے اور اگر کھانا بیچنا اوس کا کام نہ ہو تو مراد وہ کھا ناہے جو اوس کی مِلک میں ہے، لہٰذا خرید کر کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: فلاں عورت کی پکائی ہوئی روٹی نہیں کھائیگا اور اوس عورت نے خود روٹی پکائی ہے یعنی اوس نے توے پر ڈالی اور سینکی (9) ہے تو اس کے کھانے سے قسم ٹوٹ جائیگی اور اگر اوس نے فقط آٹا گوندھا ہے یا روٹی بنائی ہے اور کسی دوسرے نے توے پر ڈالی اور سینکی اس کے کھانے سے نہیں ٹوٹے گی کہ آٹا گوندھنے یا روٹی بنانے کو پکانا نہیں کہیں گے اور اگر کہا فلاں عورت کی روٹی نہیں کھاؤں گا تو اس میں دو صورتیں ہیں، اگر یہ مراد ہے کہ اوس کی پکائی ہوئی روٹی نہیں کھاؤنگا تو وہی حکم ہے جو بیان کیا گیا اور اگر یہ مطلب ہے کہ اوس کی ملک میں جو روٹی ہے وہ نہیں کھاؤں گا تو اگرچہ کسی اور نے آٹا گوندھا یا روٹی پکائی ہو
۔
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الأکل ...إلخ،ج۴، ص۵۴۰.
و''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الخامس فی الیمین علی الأکل ...إلخ،ج۲،ص۸۳،۸۶.
2 ۔'' الدرالمختار''، کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الأکل ...إلخ، ج۵ ،ص۵۹۸.
3 ۔سموسے۔
4 ۔ڈبل روٹی۔
5 ۔لکڑی کاوہ گول اوزارجس سے روٹی کوبڑھاتے ہیںــ۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الأکل ...إلخ، مطلب: لایأکل ہذاالبرّ،ج ۵،ص۵۹۸.
7 ۔''ردالمحتار''، کتاب الأیمان،باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،مطلب :لایأکل طعامًا ،ج۵ ، ص۶۰۰.
8 ۔''ردالمحتار''، کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،مطلب: حلف لایکلّم عبد فلان ...إلخ، ج ۵،ص ۶۳۴.
9 ۔ یعنی توے سے ہٹاکر آگ پر حرارت پہنچائی،پکائی۔
مگرجب اوس کی ملک ہے تو کھانے سے ٹوٹ جائیگی۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: قسم کھائی کہ یہ کھانا کھائیگا تو اس میں دوصورتیں ہیں کوئی وقت مقرر کردیا ہے یا نہیں اگر وقت نہیں مقرر کیا ہے پھر وہ کھانا کسی اور نے کھا لیا یا ہلاک ہوگیا یا قسم کھانے والا مرگیا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر وقت مقررکردیا ہے مثلاً آج اسکو کھائے گا اور دن گزرنے سے پہلے قسم کھانے والا مرگیا یا کھانا تلف(2) ہوگیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: قسم کھائی کہ کھانا نہیں کھائیگا تو وہ کھانا مراد ہے جس کو عادۃً(4) کھاتے ہیں لہٰذا اگر مُردار کا گوشت کھایا توقسم نہیں ٹوٹی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: قسم کھائی کہ سری نہیں کھائے گا اور اوس کی یہ نیت ہوکہ بکری ،گائے ،مرغ، مچھلی وغیرہ کسی جانور کا سر نہیں کھائیگا تو جس چیز کا سر کھائے گا قسم ٹوٹ جائے گی اور اگر نیت کچھ نہ ہو تو گائے اور بکری کے سرکھانے سے قسم ٹوٹے گی اور چڑیا،ٹڈی(6)، مچھلی وغیرہا جانوروں کے سرکھانے سے نہیں ٹوٹے گی۔(7) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۹: قسم کھائی کہ انڈا نہیں کھائیگا اور نیت کچھ نہ ہو تو مچھلی کے انڈے کھانے سے نہیں ٹوٹے گی۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: میوہ نہ کھانے کی قسم کھائی تو مراد سیب، ناشپاتی، آڑو، انگور، انار، آم، امرود وغیرہا ہیں جن کو عرف میں میوہ کہتے ہیں کھیرا، ککڑی، گاجر، وغیرہا کو میوہ نہیں کہتے۔ (9)
مسئلہ ۳۱: مٹھائی سے مراد اَمرتی(10)، جلیبی، پیڑا، بالوشاہی، گلاب جامن، قلاقند، برفی، لڈو وغیرہا
۔
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الأیمان،باب الیمین فی الأکل ...إلخ، مطلب:لا یأکل خبزًا،ج۵، ص۵۹۹.
2 ۔ضائع۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ،الباب الخامس فی الیمین علی الأکل ...إلخ، ج ۲، ص ۸۴.
4 ۔ عام طورپر۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الأکل...إلخ،ج۵،ص۶۰۰.
6 ۔ایک قسم کاپروں والاکیڑاجودرختوں اورفصلوں کونقصان پہنچاتاہے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ،الباب الخامس فی الیمین علی الأکل...إلخ ،ج۲، ص ۸۷،وغیرہ.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الخامس فی الیمین علی الأکل...إلخ،ج۲، ص۸۷.
9 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الأکل...إلخ ،مطلب:لایأکل فاکھۃ،ج۵،ص۶۰۱.
10 ۔ماش کے آٹے کی مٹھائی جو جلیبی کے مشابہ ہوتی ہے۔
جن کوعرف میں مٹھائی کہتے ہیں ہاں اس طرف بعض گاؤں میں گُڑ کو مٹھائی کہتے ہیں لہٰذا اگر اس گاؤں والے نے مٹھائی نہ کھانے کی قسم کھائی تو گڑ کھانے سے قسم ٹوٹ جائیگی اور جہاں کا یہ محاور ہ نہیں ہے وہاں والے کی نہیں ٹوٹے گی۔ عربی میں حلوا ہر میٹھی چیز کو کہتے ہیں یہاں تک کہ انجیر اور کھجور کو بھی مگر ہندوستان میں ایک خاص طرح سے بنائی ہوئی چیز کو حلوا کہتے ہیں کہ سوجی، میدہ، چاول کے آٹے وغیرہ سے بناتے ہیں اور یہاں بریلی میں اسکو میٹھا بھی بولتے ہیں، غرض جس جگہ کا جو عرف ہو وہاں اُسی کا اعتبار ہے۔ سالن عموماً ہندوستان میں گوشت کو کہتے ہیں جس سے روٹی کھائی جائے اور بعض جگہ میں نے دال کو بھی سالن کہتے سنا اور عربی زبان میں تو سرکہ کو بھی ادام (سالن) کہتے ہیں۔ آلو، رتالو(1)، اروی، ترئی، بھنڈی، ساگ، کدو، شلجم، گوبھی اور دیگر سبزیوں کو ترکاری کہتے ہیں جن کو گو شت میں ڈالتے ہیں یا تنہا پکاتے ہیں اور بعض گاؤں میں جہاں ہندو کثرت سے رہتے ہیں گوشت کو بھی لوگ ترکاری بولتے ہیں۔
مسئلہ ۳۲: قسم کھائی کہ کھانا نہیں کھائیگا اور کوئی ایسی چیز کھائی جسے عرف میں کھانا نہیں کہتے ہیں مثلاً دودھ پی لیا یا مٹھائی کھالی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (2)
مسئلہ ۳۳: قسم کھائی کہ نمک نہیں کھائیگا اور ایسی چیز کھائی جس میں نمک پڑا ہوا ہے توقسم نہیں ٹوٹی اگرچہ نمک کامزہ محسوس ہوتا ہو اور روٹی وغیرہ کو نمک لگا کر کھایا توقسم ٹوٹ جائیگی ہاں اگر اوس کے کلام سے یہ سمجھا جاتا ہو کہ نمکین کھانا مراد ہے تو پہلی صورت میں بھی قسم ٹوٹ جائیگی۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: قسم کھائی کہ مرچ نہیں کھائیگا اور گوشت وغیرہ کوئی ایسی چیز کھائی جس میں مرچ ہے اور مرچ کا مزہ محسوس ہوتا ہے تو قسم ٹوٹ گئی، اس کی ضرورت نہیں کہ مرچ کھائے تو قسم ٹوٹے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۵: قسم کھائی کہ پیاز نہیں کھائیگا اور کوئی ایسی چیز کھائی جس میں پیاز پڑی ہے تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ پیاز کا مزہ معلوم ہوتا ہو۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: جس کھانے کی نسبت قسم کھائی کہ اس کو نہیں کھائے گا یا پانی کی نسبت کہ اس کو نہیں پیے گااگر وہ اتنا ہے کہ
۔
1 ۔کچالو۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ،الباب الخامس فی الیمین علی الأکل ...إلخ، ج ۲، ص ۸۴.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الایمان ،باب الیمین فی الأکل...إلخ، مطلب :حلف لایأکل إدامًا ...إلخ،ج۵ ، ص ۶۰۴.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج۵ ،ص ۶۰۴.
5 ۔المرجع السابق.
ایک مجلس میں کھاسکتا ہے اور ایک پیاس میں پی سکتا ہے تو جب تک کُل نہ کھائے پئے قسم نہیں ٹوٹے گی۔ مثلاً قسم کھائی کہ یہ روٹی نہیں کھائے گا اور روٹی ایسی ہے کہ ایک مجلس میں پوری کھاسکتا ہے تو اوس روٹی کا ٹکڑا کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔ یوہیں قسم کھائی کہ اس گلاس کا پانی نہیں پیے گا تو ایک گھونٹ پینے سے نہیں ٹوٹی۔ اور اگر کھانا اتنا ہے کہ ایک مجلس میں نہیں کھاسکتا تو اس میں سے ذرا سا کھانے سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی مثلاً قسم کھائی کہ اس گائے کا گوشت نہیں کھائیگا اور ایک بوٹی کھائی قسم ٹوٹ گئی۔ یوہیں قسم کھائی کہ اس مٹکے کا پانی نہیں پیوں گا اور مٹکا پانی سے بھرا ہے تو ایک گھونٹ سے بھی ٹوٹ جائیگی۔ اور اگر یوں کہا کہ یہ روٹی مجھ پر حرام ہے تو اگرچہ ایک مجلس میں وہ روٹی کھاسکتا ہو مگر اوس کا ٹکڑا کھانے سے بھی کفارہ لازم ہوگا۔ یوہیں یہ پانی مجھ پر حرام ہے اور ایک گھونٹ پی لیا تو کفارہ واجب ہوگیا، اگرچہ وہ ایک پیاس کا بھی نہ ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: قسم کھائی کہ یہ روٹی نہیں کھائے گا اور کُل کھا گیا ایک ذراسی چھوڑدی تو قسم ٹوٹ گئی کہ روٹی کا ذرا سا حصہ چھوڑ دینے سے بھی عرف میں یہی کہا جائیگا کہ روٹی کھالی، ہاں اگر اوس کی یہ نیت تھی کہ کل نہیں کھائیگا تو ذرا سی چھوڑ دینے سے قسم نہیں ٹوٹی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: قسم کھائی کہ اس انار کو نہیں کھاؤں گا اور سب کھا لیا ایک دو دانے چھوڑ دیے تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر اتنے زیادہ چھوڑ ے کہ عادۃً اوتنے نہیں چھوڑے جاتے تو نہیں ٹوٹی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: قسم کھائی کہ حرام نہیں کھائیگا اور غصب کیے ہوئے روپے سے کوئی چیز خرید کر کھائی تو قسم نہیں ٹوٹی مگر گنہگار ہوا اور جو چیز کھائی اگروہ خود غصب کی ہوئی ہے تو قسم ٹوٹ گئی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: قسم کھائی کہ زید کی کمائی نہیں کھائے گا اور زید کو کوئی چیز وراثت میں ملی تو اس کے کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔اور اگرزید نے کوئی چیز خریدی یاہبہ یاصدقہ میں کوئی چیز ملی اور زید نے اوسے قبول کرلیا تو اسکے کھانے سے قسم ٹوٹ جائیگی۔ اور اگر زید سے میں نے (5)کوئی چیز خرید کر کھائی تو نہیں ٹوٹی۔ اور اگر زید مرگیا اور اوس کی کمائی کا مال زید کے وراث کے یہاں کھایا یا یہ قسم کھانے والا خود ہی وارث ہے اور کھالیا تو قسم ٹوٹ گئی۔(6) (عالمگیری)
۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الخامس فی الیمین علی الأکل ...إلخ،ج ۲،ص۸۴،۸۵.
2 ۔المرجع السابق،ص۸۵.
3 ۔المرجع السابق،ص۸۵.
4 ۔المرجع السابق ،ص ۸۷.
5 ۔یہاں غالباً''میں نے''کتابت کی غلطی کی وجہ سے زائدہوگیاہے ،جبکہ اس مقام پرعالمگیری میں اصل عبارت یوں مذکورہے''فاشترٰی شیئاً الحالف من المحلوف علیہ...لا یحنث''یعنی ''اگرزیدسے کوئی چیزخریدکرکھائی تونہیں ٹوٹی''۔...عِلْمِیہ
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الخامس فی الیمین علی الأکل...إلخ،ج۲،ص ۸۸.
مسئلہ ۴۱: کسی کے پاس روپے ہیں، قسم کھائی کہ ان کو نہیں کھائیگا پھر روپے کے پیسے بُھنا لیے(1) یا اشرفیاں کرلیں پھر ان پیسوں یا اشرفیوں سے کوئی چیز خرید کر کھائی توقسم ٹوٹ گئی اور اگر ان پیسوں یا اشرفیوں سے زمین خریدی پھر اسے بیچ کر کھایا تو نہیں ٹوٹی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: قسم اوس وقت صحیح ہوگی کہ جس چیز کی قسم کھائی ہو وہ زمانہ آئندہ میں پائی جاسکے یعنی عقلاً ممکن ہو اگرچہ عادۃً محال ہو مثلاً یہ قسم کھائی کہ میں آسمان پر چڑھو ں گا یا اس مٹی کو سونا کردوں گا تو قسم ہوگئی اور اُسی وقت ٹوٹ بھی گئی۔ یوہیں قسم کے باقی رہنے کی بھی یہ شرط ہے کہ وہ کام اب بھی ممکن ہو، لہٰذا اگر اب ممکن نہ رہا تو قسم جاتی رہی مثلاً قسم کھائی کہ میں تمھارا روپیہ کل ادا کرونگا اور کل کے آنے سے پہلے ہی مرگیا تو اگر چہ قسم صحیح ہوگئی تھی مگر اب قسم نہ رہی کہ وہ رہاہی نہیں، اس قاعدہ کے جاننے کے بعد اب یہ دیکھیے کہ اگر قسم کھائی کہ میں اس کو زہ کا پانی آج پیوں گا اور کوزہ میں پانی نہیں ہے یا تھا مگر رات کے آنے سے پہلے اوس میں کا پانی گر گیا یا اس نے گرا دیا تو قسم نہیں ٹوٹی کہ پہلی صورت میں قسم صحیح نہ ہوئی اور دوسری میں صحیح تو ہوئی مگر باقی نہ رہی۔ یوہیں اگر کہا میں اس کو زہ کاپانی پیوں گا اور اس میں پانی اوس وقت نہیں ہے تو نہیں ٹوٹی مگر جبکہ یہ معلوم ہے کہ پانی نہیں ہے اور پھر قسم کھائی تو گنہگار ہوا، اگر چہ کفارہ لازم نہیں اور اگر پانی تھا اور گرگیا یا گرا دیا تو قسم ٹوٹ گئی اور کفارہ لازم۔ (3)(درمختار، ردالمحتار، بحر )
مسئلہ ۴۳: عورت سے کہا اگر تو نے کل نماز نہ پڑھی تو تجھ کو طلاق ہے اور صبح کو عورت کو حیض آگیا توطلاق نہ ہوئی۔ یوہیں عورت سے کہا کہ جوروپیہ تونے میری جیب سے لیا ہے اگر اوس میں نہ رکھے گی تو طلاق ہے اور دیکھا تو روپیہ جیب ہی میں موجود ہے طلاق نہ ہوئی۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱: یہ کہا کہ تم سے یافلاں سے کلام کرنا مجھ پر حرام ہے اور کچھ بھی بات کی تو کفارہ لازم ہوگیا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۲: قسم کھائی کہ اس بچہ سے کلام نہ کریگا اور اوسکے جوان یابوڑھے ہونے کے بعد کلام کیا تو قسم ٹوٹ گئی
۔
1 ۔چینج کروا لیے۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الخامس فی الیمین علی الأکل...إلخ، ج ۲،ص۸۹.
3 ۔''الدرالمختار''و''رد المحتار''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی الأکل...إلخ، مطلب:حلف لایشرب ...إلخ ،ج۵،ص۶۱۷۔۶۲۰.
و''البحرالرائق''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی الأکل...إلخ ،ج۴،ص۵۵۲۔۵۵۴.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الأکل...إلخ ،ج ۵،ص ۶۱۸.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،ج۵،ص۵۳۰.
اور اگر کہا کہ بچہ سے کلام نہ کروں گا اور جوان یا بوڑھے سے کلام کیا تو نہیں ٹوٹی۔ (1)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳: قسم کھائی کہ زید سے کلام نہ کریگا اور زید سو رہا تھا، اس نے پکارا اگر پکارنے سے جاگ گیا تو قسم ٹوٹ گئی اور بیدار نہ ہوا تو نہیں اور اگر جاگ رہاتھا اور اوس نے پکارا اگر اتنی آواز تھی کہ سُن سکے اگرچہ بہرے ہونے یا کام میں مشغول ہونے یا شور کی وجہ سے نہ سنا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر دور تھا اور اتنی آواز سے پکارا کہ سُن نہیں سکتا تو نہیں ٹوٹی۔ اور اگر زید کسی مجمع (2)میں تھا اس نے اوس مجمع کو سلام کیا تو قسم ٹوٹ گئی ہاں اگر نیت یہ ہو کہ زید کے سوا اور وں کو سلام کرتاہے تو نہیں ٹوٹی۔ اور نماز کا سلام کلام نہیں ہے، لہٰذا اس سے قسم نہیں ٹوٹے گی خواہ زید دہنی طرف ہو یا بائیں طرف۔ یوہیں اگر زید امام تھا اور یہ مقتدی، اس نے اوس کی غلطی پر سبحان اﷲ کہا یا لقمہ دیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ اور اگر یہ نماز میں نہ تھا اور لقمہ دیا یا اوس کی غلطی پر سبحان اﷲ کہا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۴: قسم کھائی کہ زید سے بات نہ کروں گا اور کسی کام کو اوس سے کہنا ہے اس نے کسی دوسرے کو مخاطب کرکے کہا اور مقصود زید کو سنانا ہے تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگرعورت سے کہا کہ تُو نے اگرمیری شکایت اپنے بھائی سے کی تو تجھ کو طلاق ہے، عورت کا بھائی آیا اور اوس کے سامنے عورت نے بچہ سے اپنے شوہر کی شکایت کی اور مقصود بھائی کو سنانا ہے تو طلاق نہ ہوئی۔(4) (بحر)
مسئلہ ۵: قسم کھائی کہ میں تجھ سے ابتدائً کلام نہ کرونگا اور راستے میں دونوں کی ملاقات ہوئی دونوں نے ایک ساتھ سلام کیا تو قسم نہیں ٹوٹی بلکہ جاتی رہی کہ اب ابتداءً کلام کرنے میں حرج نہیں۔ یوہیں اگر عورت سے کہا اگر میں تجھ سے ابتدائً کلام کروں تو تجھ کو طلاق ہے اور عورت نے بھی قسم کھائی کہ میں تجھ سے کلام کی پہل نہ کروں گی تو مرد کو چاہیے کہ عورت سے کلام کرے کہ اوس کی قسم کے بعد جب عورت نے قسم کھائی تواب مرد کا کلام کرنا ابتدائً نہ ہوگا۔(5) (بحر)
مسئلہ ۶: کلام نہ کرنے کی قسم کھائی تو خط بھیجنے یا کسی کے ہاتھ کچھ کہلاکر بھیجنے یا اشارہ کرنے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: اقرار وبشارت(7)اورخبر دینا یہ سب لکھنے سے ہوسکتے ہیں اور اشارہ سے نہیں
۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب السادس فی الیمین علی الکلام ، ج۲ ،ص۱۰۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج ۵ ،ص ۵۸۹-۵۹۱.
2 ۔ محفل ،مجلس۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ ، ج ۴ ،ص ۵۵۷۔۵۵۹.
4 ۔المرجع السابق،ص۵۵۸،۵۵۹.
5 ۔المرجع السابق،ص۵۵۸.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب السادس فی الیمین علی الکلام ،ج۲،ص۹۷.
7 ۔ خوشخبری دینا۔
مثلاً قسم کھائی کہ تم کو فلاں بات کی خبرنہ دوں گا اور لکھ کر بھیج دیا تو قسم ٹوٹ گئی اور اشارہ سے بتایا تو نہیں اور اگر قسم کھائی کہ تمھارا یہ راز کسی پر ظاہر نہ کرونگا اور اشارہ سے بتایا تو قسم ٹوٹ گئی کہ ظاہرکرنا اشارہ سے بھی ہوسکتاہے۔ (1)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۸: قسم کھائی کہ زید سے کلام نہ کریگا اور زید نے دروازہ پر آکر کُنڈی کھٹکھٹائی اس نے کہا کو ن ہے یا کون توقسم نہیں ٹوٹی اور اگر کہا آپ کون صاحب ہیں یا تم کون ہو تو ٹوٹ گئی۔ یوہیں اگرزید نے پکارا اور اس نے کہا ہاں یا کہا حاضر ہوا یااوس نے کچھ پوچھا اس نے جواب میں ہاں کہا تو قسم ٹوٹ گئی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: قسم کھائی کہ بی بی سے کلام نہ کریگا اور گھر میں عورت کے سوا دوسرا کوئی نہیں ہے یہ گھر میں آیا اور کہا یہ چیز کس نے رکھی ہے یا کہا یہ چیز کہاں ہے تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر گھر میں کوئی اور بھی ہے تو نہیں ٹوٹی یعنی جبکہ اوس کی نیت عورت سے پوچھنے کی نہ ہو۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: کلام نہ کرنے کی قسم کھائی اور ایسی زبان میں کلام کیا جس کو مخاطب نہیں سمجھتا جب بھی قسم ٹوٹ گئی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: قسم کھائی کہ زید سے بات نہ کروں گا جب تک فلاں شخص اجازت نہ دے اور اوس نے اجازت دی مگر اسے خبر نہیں اور کلام کرلیا توقسم ٹوٹ گئی اور اگر اجازت دینے سے پہلے وہ شخص مرگیا توقسم باطل ہوگئی یعنی اب کلام کرنے سے نہیں ٹوٹے گی کہ قسم ہی نہ رہی۔ اور اگر یوں کہا تھا کہ بغیر فلاں کی مرضی کے کلام نہ کروں گا اور اوس کی مرضی تھی مگر اسے معلوم نہ تھا اور کلام کرلیا تو نہیں ٹوٹی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: یہ قسم کھائی کہ فلاں کو خط نہ لکھوں گا اور کسی کو لکھنے کے لیے اشارہ کیا تو اگر یہ قسم کھانے والا اُمراء(6) میں سے ہے تو قسم ٹوٹ گئی کہ ایسے لوگ خود نہیں لکھا کرتے بلکہ دوسروں سے لکھوایا کرتے ہیں اور ان لوگوں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ اشارہ سے حکم کیا کرتے ہیں۔(7) (درمختار، بحر)
۔۔۔
1 ۔''الدر المختار''،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج ۵، ص۶۲۵.
و''البحرالرائق''، کتاب الأیمان، باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج۴،ص۵۵۹.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب السادس فی الیمین علی الکلام ،ج۲،ص۹۸.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الدرالمختار''کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج۵،ص۶۲۴.
6 ۔حکام،بادشاہ وغیرہ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج۵ ،ص۶۲۶.
و''البحرالرائق'' کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج۴، ص ۵۵۹.
مسئلہ ۱۳: قسم کھائی کہ فلاں کا خط نہ پڑھے گا اور خط کو دیکھا اور جو کچھ لکھا ہے اوسے سمجھا تو قسم ٹوٹ گئی کہ خط پڑھنے سے یہی مقصود ہے زبان سے پڑھنا مقصود نہیں، یہ امام محمد رضی اﷲعنہ کا قول ہے اور امام ابو یوسف رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تک زبان سے تلفظ نہ کریگاقسم نہیں ٹوٹے گی اور اسی قولِ ثانی پر(1) فتویٰ ہے۔(2) (بحر)
مگر یہاں کا عام محاور ہ یہی ہے کہ خط دیکھا اور لکھے ہوئے کوسمجھا تو یہ کہتے ہیں میں نے پڑھا۔ لہٰذا یہاں کے محاور ہ میں قسم ٹوٹنے پر فتویٰ(3) ہونا چاہیے واﷲتعالیٰ اعلم۔ یہاں کے محاور ہ میں یہ لفظ کہ زید کا خط نہ پڑھوں گا ایک دوسرے معنے کے لیے بھی بولا جاتا ہے وہ یہ کہ زید بے پڑھا شخص ہے اور اوس کے پاس جب کہیں سے خط آتا ہے تو کسی سے پڑھواتا ہے تو اگر یہ پڑھنا مقصود ہے تواس میں دیکھنا اور سمجھنا قسم ٹوٹنے کے لیے کافی نہیں بلکہ پڑھ کر سنانے سے ٹوٹے گی۔
مسئلہ ۱۴: قسم کھائی کہ کسی عورت سے کلام نہ کریگا اور بچی سے کلام کیا تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر قسم کھائی کہ کسی عورت سے نکاح نہ کریگااور چھوٹی لڑکی سے نکاح کیا تو ٹوٹ گئی۔(4) (بحر)
مسئلہ ۱۵: قسم کھائی کہ فقیروں اور مسکینوں سے کلام نہ کریگا اور ایک سے کلام کرلیا تو قسم ٹوٹ گئی۔ اور اگر یہ نیت ہے کہ تمام فقیروں اور مسکینوں سے کلام نہ کریگا تو نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر قسم کھائی کہ بنی آدم سے(5) کلام نہ کریگا توایک سے کلام کرنے میں قسم ٹوٹ جائے گی اور نیت میں تمام اولاد آدم ہے تو نہیں۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: قسم کھائی کہ فلاں سے ایک سال کلام نہ کروں گا تو اس وقت سے ایک سال یعنی بارہ مہینے تک کلام کرنے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔ اور اگر کہا کہ ایک مہینہ کلام نہ کریگا تو جس وقت سے قسم کھائی ہے اوس وقت سے ایک مہینہ یعنی تیس دن مراد ہیں۔ اور اگر دن میں قسم کھائی کہ ایک دن کلام نہ کرونگا تو جس وقت سے قسم کھائی ہے اوس وقت سے دوسرے دن کے اوسی وقت تک کلام سے قسم ٹوٹے گی۔ اور اگر رات میں قسم کھائی کہ ایک رات کلام نہ کرونگا تو اوس وقت سے دوسرے دن کے بعد والی رات کے اوسی وقت تک مرادہے لہٰذا درمیان کا دن بھی شامل ہے۔ اور ا گر رات میں کہا کہ قسم خدا کی فلاں سے ایک دن کلام نہ کروں گا تو اوس وقت سے غروب آفتاب تک کلام کرنے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔
۔
1 ۔ یعنی امام ابویوسف رحمۃاللہ تعالی علیہ کے قول پر۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج۴ ،ص ۵۵۹.
3 ۔ ثم رأیت فی ردالمحتار قال ''ح'' و قول محمد ہو الموافق لعرفنا کما لا یخفٰی اھ فلِلّٰہِ الحمد. ۱۲ منہ .
4 ۔ البحرالرائق ''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج۴،ص۵۶۰.
5 ۔ آدم علیہ السلام کی اولاد،مراد کسی بھی انسان۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب السادس فی الیمین علی الکلام ،ج۲ ،ص۹۸.
اور اگر دن میں کہا کہ فلاں شخص سے ایک رات کلام نہ کروں گا تو اس وقت سے طلوع فجر تک کلام کرنے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔ اور ایک مہینہ یا ایک دن کے روزہ یااعتکاف کی قسم کھائی تو اوسے اختیار ہے جب چاہے ایک مہینہ یا ایک دن کا روزہ یا اعتکاف کرلے۔ اور اگر کہا اس سال کلام نہ کرونگا تو سال پورا ہونے میں جتنے دن باقی ہیں وہ لیے جائیں گے یعنی اوس وقت سے ختم ذی الحجہ تک۔ یوہیں اگر کہا کہ اس مہینہ میں کلام نہ کرونگا تو جتنے دن اس مہینے میں باقی ہیں وہ لیے جائینگے اور اگر یوں کہا کہ آج دن میں کلام نہ کرونگا تو اس وقت سے غروب آفتاب تک اور اگر رات میں کہا کہ آج رات میں کلام نہ کروں گا تو رات کا جتنا حصہ باقی ہے وہ مراد لیا جائے اوراگر کہاآج اور کل اور پرسوں کلام نہ کروں گا تو درمیان کی راتیں بھی داخل ہیں یعنی رات میں کلام کرنے سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی۔ اور اگر کہا کہ نہ آج کلام کرونگا اور نہ کل اور نہ پرسوں تو راتوں میں کلام کرسکتا ہے کہ یہ ایک قسم نہیں ہے بلکہ تین قسمیں ہیں کہ تین دِنوں کے لیے علیحدہ علیحدہ ہیں۔(1) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۷: قسم کھائی کہ کلام نہ کریگا تو قرآن مجید پڑھنے یا سُبْحٰنَ اﷲ ِ کہنے یا اور کوئی وظیفہ پڑھنے یا کتاب پڑھنے سے قسم نہیں ٹوٹے گی۔ اور اگر قسم کھائی کہ قرآن مجید نہ پڑھے گا تو نماز میں یا بیرون نماز(2)پڑھنے سے قسم ٹوٹ جائے گی اور اگر اس صورت میں بسم اﷲ پڑھی اور نیت میں وہ بِسْمِ اﷲِ ہے جو سورہ نمل کی جز ہے تو ٹوٹ گئی ورنہ نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: قسم کھائی کہ قرآن کی فلاں سورت نہ پڑھے گا اور اوسے اول سے آخرتک دیکھتا گیا اور جو کچھ لکھا ہے اوسے سمجھا تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر قسم کھائی کہ فلاں کتاب نہ پڑھے گا اور یوہیں کیا تو امام محمد رحمہ اﷲتعالیٰ کے نزدیک ٹوٹ جائے گی اور ہمارے یہاں کے عرف سے یہی مناسب۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: قسم کھائی کہ زید سے کلام نہ کریگا جب تک فلاں جگہ پر ہے تو وہاں سے چلے جانے کے بعد قسم ختم ہوگئی، لہٰذا اگر پھر واپس آیا اور کلام کیا تو کچھ حرج نہیں کہ قسم اب باقی نہ رہی۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: قسم کھائی کہ اوسے کچہری(6)میں لیجاکرحلف دوں گا(7)مدعیٰ علیہ نے(8) جاکر اُسکے حق کا اقرار کرلیا حلف کی نوبت ہی نہ آئی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر قسم کھائی کہ تیری شکایت فلاں سے کروں گا پھر دونوں میں صلح ہوگئی
۔
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج۴ ،ص۵۶۱.
2 ۔ نمازسے باہر۔
3 ۔'' الدرالمختار''، کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الأکل ...إلخ، ج۵ ، ص۶۲۷.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الأکل ...إلخ، مطلب مھم : لایکلمہ ...إلخ ،ج۵ ،ص ۶۲۸.
5 ۔المرجع السابق،مطلب :أنت طالق یوم اکلم فلانا ...إلخ ،ص۶۲۹.
6 ۔قاضی کی عدالت۔
7 ۔قسم کھلاؤں گا۔
8 ۔جس پر دعویٰ کیاگیا ہو اس نے۔
اور شکایت نہ کی تو قسم نہیں ٹوٹی یا قسم کھائی کہ اوس کا قرض آج ادا کردیگا اور اوس نے معاف کردیا تو قسم جاتی رہی۔(1) (درمختار، ردالمحتار، بحر)
مسئلہ ۲۱: قسم کھائی کہ فلاں کے غلام یا اوس کے دوست یا اوس کی عورت سے کلام نہ کرونگا اور اوس نے غلا م کو بیچ ڈالایا اور کسی طرح اوس کی ملک سے نکل گیا اور دوست سے عداوت(2) ہوگئی اور عورت کو طلاق دیدی تواب کلام کرنے سے قسم نہیں ٹوٹے گی غلام میں چاہے یوں کہا کہ فلاں کے اس غلام سے یا فلاں کے غلام سے دونوں کا ایک حکم ہے اور اگر قسم کے وقت وہ اوس کا غلام تھااور کلام کرنے کے وقت بھی ہے یا قسم کے وقت یہ اوسکا غلام نہ تھا اور اب ہے دونوں صورتوں میں ٹوٹ جائے گی۔ (3)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۲: اگرکہا فلاں کی اس عورت سے یا فلاں کی فلاں عورت سے یا فلاں کے اس دوست سے یا فلاں کے فلاں دوست سے کلام نہ کروں گا اور طلاق یا عداوت کے بعد کلام کیا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر نہ اشارہ ہو نہ معین کیا ہو اور اوس نے اب کسی عورت سے نکاح کیا یا کسی سے دوستی کی تو کلام کرنے سے قسم ٹوٹ جائیگی۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: قسم کھائی کہ فلاں کے بھائیوں سے کلام نہ کرونگا اور اوس کا ایک ہی بھائی ہے تو اگر اسے معلوم تھا کہ ایک ہی ہے تو کلام سے قسم ٹوٹ گئی ورنہ نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: قسم کھائی کہ اس کپڑے والے سے کلام نہ کریگا اوس نے کپڑے بیچ ڈالے پھر اس نے کلام کیا تو قسم ٹوٹ گئی اور جس نے کپڑے خریدے اوس سے کلام کیا تو نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: قسم کھائی کہ میں اوس کے پاس نہیں پھٹکوں گا تو یہ وہی حکم رکھتا ہے جیسے یہ کہا کہ میں اوس سے کلام نہ کروں گا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: کسی نے اپنی عورت کو اجنبی شخص(8)سے کلام کرتے دیکھا اوس نے کہا
۔
1 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''کتاب الأیمان،باب الیمین فی الأکل...إلخ، مطلب: حلف لایفارقنی ...إ لخ، ج۵ ،ص ۶۳۲.
و'' البحرالرائق ''، کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الضرب ...إلخ ،ج۴ ،ص ۶۱۳.
2 ۔دشمنی۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب السادس فی الیمین علی الکلام ،ج۲،ص۹۹.
و ''الدرالمختار''، کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ،ج ۵، ص۶۳۳.
4 ۔''الدرالمختار''و''رد لمحتار''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ،مطلب:حلف لا یکلم ...إلخ ،ج۵ ،ص۶۳۳.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب السادس فی الیمین علی الکلام ،ج۲، ص ۹۹.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔المرجع السابق.
8 ۔ یعنی غیرمحرم۔
اگر تو اب کسی اجنبی سے کلام کرے گی تو تجھ کو طلاق ہے پھر عورت نے کسی ایسے شخص سے کلام کیا جو اوس گھر میں رہتا ہے مگر محارم (1)میں سے نہیں یا کسی رشتہ دار غیر محرم سے کلام کیا تو طلاق ہوگئی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: کچھ لوگ کسی جگہ بیٹھے ہوئے بات کررہے تھے ان میں سے ایک نے کہا جو شخص اب بولے اوس کی عورت کو طلاق ہے پھرخود ہی بولا تو اوس کی عورت کو طلاق ہوگئی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: قسم کھائی کہ زید سے کلام نہ کروں گا پھر زید نے اوسے خوشی کی کوئی خبر سنائی اوس نے کہا الحمد للہ یا رنج کی سنائی اوس نے کہا اِنَّالِلّٰہِ تو قسم نہیں ٹوٹی اور زید کی چھینک پر یَرْحَمُکَ اﷲُ کہا توٹوٹ گئی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: قسم کھائی کہ جب تک شب قدر نہ گزر لے کلام نہ کروں گا اگر یہ شخص عام لوگوں میں ہے تو رمضان کی ستائیسویں رات گزرنے پر کلام کرسکتا ہے اور اگر جانتا ہو کہ شب قدر میں ائمہ کا اختلاف ہے تو جب تک قسم کے بعد پورا رمضان نہ گزرلے کلام نہیں کرسکتا یعنی اگر رمضان سے پہلے قسم کھائی تو اس رمضان کے گزرنے کے بعد کلام کرسکتا ہے اور رمضان کی ایک رات گزرنے کے بعد قسم کھائی تو جب تک دوسرا رمضان پورانہ گزرجائے کلام نہیں کرسکتا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: اگرکہاکہ پہلا غلام کہ خریدوں آزاد ہے تواس کے کہنے کے بعد جس کو پہلے خریدے گا آزاد ہوجائیگا اور دو۲ غلام ایک ساتھ خریدے تو کوئی آزاد نہ ہوگا کہ ان میں سے کوئی پہلا نہیں۔ اور اگر کہا کہ پہلا غلام جس کا میں مالک ہوں گا آزاد ہے اور ڈیڑھ غلام کا مالک ہوا تو جو پورا ہے آزاد ہے اور آدھا کچھ نہیں۔ یوہیں اگر کپڑے کی نسبت کہا کہ پہلا تھان جو خریدوں صدقہ ہے اور ڈیڑھ تھان ایک ساتھ خریدا تو ایک پورے کو تصدق(6) کرے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۲: اگر کہا کہ پچھلا غلام جس کو میں خریدوں آزاد ہے اور اوسکے بعد چند غلام خریدے تو سب میں پچھلا آزاد ہے۔
۔
1 ۔وہ قریبی رشتے دار جن سے ہمیشہ نکاح حرام ہو۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ،الباب السادس فی الیمین علی الکلام ،ج۲، ص ۱۰۱.
3 ۔المر جع السابق، ۱۰۲.
4 ۔المرجع السابق،ص ۹۹،۱۰۲.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب السادس فی الیمین علی الکلام ،ج۲، ص ۱۰۸.
6 ۔ صدقہ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الطلاق والعتاق، ج۵،ص۶۴۴۔۶۴۶.
اور اوس کا پچھلا ہونا اوس وقت معلوم ہوگا جب یہ شخص مرے اس واسطے کہ جب تک زندہ ہے کسی کو پچھلا نہیں کہہ سکتے۔ اور یہ اب سے آزاد نہ ہوگا بلکہ جس وقت اوس نے خریدا ہے اوسی وقت سے آزاد قرار دیا جائیگا لہٰذا اگر صحت میں خریدا جب تو بالکل آزاد ہے اور مرض الموت میں خریدا تو تہائی مال سے آزاد ہوگا۔ اور اگر اس کہنے کے بعدصرف ایک ہی غلام خریدا ہے تو آزاد نہ ہوگا کہ یہ پچھلا تو جب ہوگا جب اس سے پہلے اوربھی خریدا ہوتا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳: اگر کہاپہلی عورت جو میرے نکاح میں آئے اوسے طلاق ہے تو اس کہنے کے بعد جس عورت سے پہلے نکاح ہوگا اُسے طلاق پڑجائے گی اور نصف مَہر واجب ہوگا۔
مسئلہ ۴: اگرکہا کہ پچھلی عورت جو میرے نکاح میں آئے اوسے طلاق ہے اور دویا زیادہ نکاح کیے تو جس سے آخر میں نکاح ہوا نکاح ہوتے ہی اوسے طلاق پڑجائیگی مگر اس کا علم اوس وقت ہوگا جب وہ شخص مرے کیونکہ جب تک زندہ ہے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ پچھلی ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد اور نکاح کرلے۔لہٰذا اُس کے مرنے کے بعد جب معلوم ہوا کہ یہ پچھلی ہے تونصف مَہر بوجہ طلاق پائے گی۔ اور اگر وطی ہوئی ہے تو پورا مہر بھی لے گی۔ اور اس کی عدت حیض سے شمار ہوگی۔ اور عدت میں سوگ نہ کریگی اور شوہر کی میراث نہ پائے گی۔ اور اگر اس صورت مذکورہ میں اوس نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر دوسری سے کیا پھر پہلی کو طلاق دیدی پھر اس سے نکاح کیا تو اگر چہ اس سے ایک بار نکاح آخر میں کیا ہے مگر اس کو طلاق نہ ہوگی بلکہ دوسری کو ہوگی کہ جب اس سے پہلے ایک بار نکاح کیا تو یہ پہلی ہوچکی اسے پچھلی نہیں کہہ سکتے، اگرچہ دوبارہ نکاح اس سے آخر میں ہوا ہے۔(2) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۵: یہ کہا کہ اگر میں گھر میں جاؤں تو میری عورت کو طلاق ہے پھر قسم کھائی کہ عورت کو طلاق نہیں دیگا اسکے بعد گھر میں گیا تو عورت کو طلاق ہوگئی مگر قسم نہیں ٹوٹی اور اگر پہلے طلاق نہ دینے کی قسم کھائی پھر یہ کہا کہ اگر گھر میں جاؤں تو عورت کوطلاق ہے اور گھر میں گیا تو قسم بھی ٹوٹی اور طلاق بھی ہوگئی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: کسی شخص کو اپنی عورت کو طلاق دینے کا وکیل بنایا پھر یہ قسم کھائی کہ عورت کو طلاق نہیں دیگا، اب اس قسم کے بعد وکیل نے اوس کی عورت کو طلاق دی تو قسم ٹوٹ گئی۔ یوہیں اگر عورت سے کہا تو اگر چاہے توتجھے طلاق ہے،
۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الطلاق والعتاق،ج۵،ص۶۴۶.
2 ۔''البحر الرائق ''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الطلاق والعتاق، ج۴،ص ۵۷۵.
و''الدرالمختار''کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الطلاق والعتاق، ج۵،ص۶۴۶.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان ، الباب السابع فی الیمین فی الطلاق والعتاق، ج۲، ص ۱۱۱.
اس کے بعد قسم کھائی کہ طلاق نہ دے گا، قسم کھانے کے بعد عورت نے کہا میں نے طلاق چاہی تو طلاق بھی ہوگئی اور قسم بھی ٹوٹی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ نکاح نہ کریگا اور دوسرے کو اپنے نکاح کا وکیل کیا تو قسم ٹوٹ جائے گی اگرچہ یہ کہے کہ میرا مقصد یہ تھا کہ اپنی زبان سے ایجاب و قبول نہ کروں گا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: عورت سے کہا اگر تو جنے تو تجھے طلاق ہے اور مردہ یا کچا بچہ پیدا ہوا تو طلاق ہوگئی، ہاں اگر ایسا کچّا بچہ پیدا ہوا جس کے اعضا نہ بنے ہوں تو طلاق نہ ہوئی۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۹: جو میرا غلام فلاں بات کی خوشخبری سنا ئے وہ آزاد ہے اور متفرق طور پر(4) کئی غلاموں نے آکر خبر دی توپہلے جس نے خبردی ہے وہ آزاد ہوگا کہ خوشخبری سنانے کے یہ معنی ہیں کہ خوشی کی خبردینا جس کو وہ نہ جانتا ہو تو دوسرے اور تیسرے نے جو خبر دی یہ جاننے کے بعد ہے، لہٰذا آزاد نہ ہونگے اور جھوٹی خبردی تو کوئی آزاد نہ ہو گا کہ جھوٹی خبر کو خوشخبری نہیں کہتے اور اگر سب نے ایک ساتھ خبر دی تو سب آزاد ہو جائینگے۔ (5)(تنویرالابصار)
مسئلہ ۱: بعض عقد(6)اس قسم کے ہیں کہ اون کے حقوق اوسکی طرف رجوع کرتے ہیں جس سے وہ عقد صادرہو (7) اور اس میں وکیل کو اسکی حاجت نہیں کہ یہ کہے میں فلاں کی طرف سے یہ عقد کرتا ہوں جیسے خریدنا، بیچنا ،کرایہ پردینا کرایہ پر لینا۔ اور بعض فعل ایسے ہیں جن میں وکیل کو موکل(8) کی طرف نسبت کرنے کی حاجت ہوتی ہے جیسے مقدمہ لڑانا کہ وکیل کو کہنا پڑیگا کہ یہ دعویٰ میں اپنے فلاں موکل کی طرف سے کرتاہوں اور بعض فعل ایسے ہوتے ہیں جن میں اصل فائدہ اوسی کو ہوتا ہے جو اوس فعل کا محل ہے یعنی جس پر وہ فعل واقع ہے جیسے اولاد کو مارنا۔ ان تینوں قسموں میں اگر خود کرے تو قسم ٹوٹے گی اور اس کے حکم سے دوسرے نے کیا تو نہیں مثلاً قسم کھائی کہ یہ چیز میں نہیں خریدوں گا اور دوسرے سے خریدوائی یا قسم کھائی کہ گھوڑا کرایہ پر نہیں دونگا
۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب السابع فی الیمین فی الطلاق والعتاق،ج۲،ص۱۱۱.
بہارشریعت کے تمام نسخوں میں یہاں عبارت ایسے ہی مذکورہے،غالباًیہاں کتابت کی غلطی ہے، اصل عبارت یوں ہے ''قسم کھانے کے بعدعورت نے کہامیں نے طلاق چاہی توطلاق بھی ہوگئی اورقسم بھی نہ ٹوٹی'' ۔...عِلْمِیہ
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الأیمان ، الباب السابع فی الیمین فی الطلاق والعتاق،ج۲،ص۱۱۱.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الطلاق والعتاق،ج۴،ص۵۷۳.
4 ۔علیحدہ علیحدہ،باری باری۔
5 ۔'' تنویرالأبصار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الطلاق والعتاق،ج۵،ص۶۴۹.
6 ۔یعنی بعض معاملات۔
7 ۔واقع ہو۔
8 ۔وکیل بنانے والا۔
اور دوسرے سے یہ کام لیا یا دعویٰ نہ کرونگا اور وکیل سے دعوٰے کرایا یا اپنے لڑ کے کو نہیں مارونگا اور دوسرے سے مارنے کو کہا تو ان سب صورتوں میں قسم نہیں ٹوٹی۔ اور جو عقد اس قسم کے ہیں کہ اون کے حقوق اوسکے لیے نہیں جس سے وہ عقد صادر ہوں کہ یہ شخص محض متوسط(1) ہوتا ہے بلکہ حقوق اوسکے لیے ہوں جس نے حکم دیا ہے اور جو مؤکل ہے جیسے نکاح، غلام آزاد کرنا، ہبہ، صدقہ، وصیت، قرض لینا، امانت رکھنا، عاریت دینا، عاریت لینا، یا جو فعل ایسے ہوں کہ اون کا نفع اور مصلحت حکم کرنے والے کے لیے ہے جیسے غلام کو مارنا، ذبح کرنا، دَین کا تقاضا،(2) دَین کا قبضہ کرنا، کپڑا پہننا، کپڑاسلوانا، مکان بنوانا تو ان سب میں خواہ خود کرلے یا دوسرے سے کرائے بہرحال قسم ٹوٹ جائیگی مثلاً قسم کھائی کہ نکاح نہیں کریگا اور کسی کو اپنے نکاح کا وکیل کردیا اوس وکیل نے نکاح کردیا یا ہبہ و صدقہ و وصیت اور قرض لینے کے لیے دوسرے کو وکیل کیا اور وکیل نے یہ کام انجام دیے یا قسم کھائی کہ کپڑا نہیں پہنے گا اور دوسرے سے کہا اوس نے پہنادیایا قسم کھائی کہ کپڑے نہیں سلوائے گا اس کے حکم سے دوسرے نے سلوائے یا مکان نہیں بنائیگا اور اسکے حکم سے دوسرے نے بنایا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (3)(فتح القدیر وغیرہ)
مسئلہ ۲: قسم کھائی کہ فلاں چیز نہیں خریدے گا یا نہیں بیچے گا اور نیت یہ ہے کہ نہ خود اپنے ہاتھ سے خریدے بیچے گا نہ دوسرے سے یہ کام لے گا اور دوسرے سے خریدوائی یا بیچوائی تو قسم ٹوٹ گئی کہ ایسی نیت کرکے اس نے خود اپنے اوپر سختی کرلی۔ یوہیں اگرایسی نیت تو نہیں ہے مگر یہ قسم کھانے والا اُن لوگوں میں ہے کہ ایسی چیز اپنے ہاتھ سے خریدتے بیچتے نہیں ہیں تو اب بھی دوسرے سے خریدوانے بیچوانے سے قسم ٹوٹ جائیگی۔ اور اگر وہ شخص کبھی خود خریدتا اور کبھی دوسرے سے خریدواتا ہے تو اگر اکثر خود خریدتا ہے تو وکیل کے خریدنے سے نہیں ٹوٹے گی اور اگر اکثر خریدواتا ہے تو ٹوٹ جائیگی۔(4) (بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۳: قسم کھائی کہ فلاں چیز نہیں خریدے گا یا نہیں بیچے گا اور دوسرے کی طرف سے خریدی یا بیچی تو قسم ٹوٹ گئی۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: قسم کھائی کہ نہیں خریدے گا یا نہیں بیچے گا اور بیع فاسد کے ساتھ خریدی یا بیچی تو قسم ٹوٹ گئی اگرچہ قبضہ نہ ہوا ہو۔ یوہیں اگر بائع(6) یا مشتری(7) نے اختیار واپسی کا اپنے لیے رکھا ہو جب بھی قسم ٹوٹ گئی۔
۔
1 ۔ معاملہ طے کرانے والا۔
2 ۔قرض کامطالبہ کرنا۔
3 ۔''فتح القدیر''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی البیع ...إلخ ،ج۴، ص۴۴۴،وغیرہ.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی البیع ...إلخ،ج۴،ص۵۸۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثامن فی الیمین فی البیع...إلخ ،ج۲، ص۱۱۳.
5 ۔ ''ردالمحتار''کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ،ج۵،ص۶۵۸.
6 ۔بیچنے والے۔
7 ۔خریدار۔
ہبہ و اجارہ کا بھی یہی حکم ہے کہ فاسد(1) سے بھی قسم ٹوٹ جائیگی۔ (2)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۵: قسم کھائی کہ یہ چیز نہیں بیچے گا اور اوس کو کسی معاوضہ کی شرط پر ہبہ کر دیا اور دونوں جانب سے قبضہ بھی ہوگیا تو قسم ٹوٹ گئی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: صورت مذکورہ میں اگر بیع باطل کے ذریعہ سے خریدی یا بیچی یا خریدنے کے بعد قسم کھائی کہ اسے نہیں بیچے گا اور وہ چیز بائع کو پھیردی یا عیب ظاہر ہو ا اور پھیردی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ نہیں بیچے گا اور کسی شخص نے بے اس کے حکم کے بیچ دی اور اس نے اوس کو جائز کردیا تو قسم نہیں ٹوٹی ہاں اگر وہ قسم کھانے والا ایسا ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے ایسی چیز نہیں بیچتا ہے تو ٹوٹ گئی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: قسم کھائی کہ بیچنے کے لیے غلہ نہ خریدے گا اور گھر کے خرچ کے لیے خریدا پھر کسی وجہ سے بیچ ڈالا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (6)(بحر)
مسئلہ ۹: قسم کھائی کہ مکان نہیں بیچے گا اور اوسے عورت کے مہر میں دیا اس میں دوصورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ یہ مکان ہی مہر ہوکہ نکاح میں یہ کہا ہو کہ بعوض اس مکان کے تیرے نکاح میں دی جب تو نہیں ٹوٹی اور اگر روپے کا مہر بندھا تھا مثلاً اتنے سو یا اتنے ہزار روپے دین مہر کے عوض تیرے نکاح میں دی اور روپے کے عوض اس نے مکان دیدیا تو قسم ٹوٹ گئی۔(7) (بحر، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: قسم کھائی کہ فلاں سے نہیں خریدے گا اور اوس سے بیع سلم کے ذریعہ سے کوئی چیز خریدی توقسم ٹوٹ گئی۔ (8)(بحر)
۔
1 ۔ یعنی ہبہ فاسداوراِجارہ فاسد۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثامن فی الیمین فی البیع... إلخ ،ج۲، ص۱۱۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ،ج۵،ص۶۶۳.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثامن فی الیمین فی البیع ... إلخ ،ج۲، ص۱۱۳.
4 ۔ المر جع السابق .
5 ۔المرجع السابق .
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی البیع...إلخ،ج۴،ص۵۸۱.
7 ۔''البحرالرائق ''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی البیع ...إلخ،ج۴،ص۵۸۱.
و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ،ج۵،ص۶۵۸.
8 ۔''البحرالرائق ''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی البیع ...إلخ،ج۴،ص۵۸۱.
مسئلہ ۱۱: قسم کھائی کہ یہ جانور بیچ ڈالے گا اور وہ چوری ہوگیا تو جب تک اوس کے مرنے کا یقین نہ ہو قسم نہیں ٹوٹے گی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: کسی چیز کا بھاؤکیا(2) بائع نے کہا میں بارہ روپے سے کم میں نہیں دونگا اس نے کہا اگر میں بارہ روپیہ میں لوں تو میری عورت کو طلاق ہے پھر وہی چیز تیرہ میں یا بارہ روپے اور کوئی کپڑا وغیرہ روپے پر اضافہ کرکے خریدی یعنی بارہ سے زیادہ دیے تو طلاق ہوگئی اور اگر گیارہ روپے اور ان کے ساتھ کچھ کپڑا وغیرہ دیا تو نہیں۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: قسم کھائی کہ کپڑا نہیں خریدے گا اور کملی یا ٹاٹ یا بچھونا یا ٹوپی یا قالین خریدا تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر قسم کھائی کہ نیا کپڑا نہیں خریدے گا تو استعمالی کپڑا، بے دُھلا ہوا بھی خریدنے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔ (4)(بحر) مگر بعض کپڑے اس زمانہ میں ایسے ہیں کہ اون کے دُھلنے کی نوبت نہیں آتی وہ اگر اتنے استعمالی ہیں کہ اونھیں پرانا کہتے ہوں تو پرانے ہیں۔
مسئلہ ۱۴: قسم کھائی کہ سونا چاندی نہیں خریدونگا اور ان کے برتن یا زیور خرید ے تو قسم ٹوٹ گئی اور روپیہ یا اشرفی خریدی تو نہیں کہ ان کے خریدنے کو عرف میں سونا چاندی خریدنا نہیں کہتے۔ یوہیں قسم کھائی کہ تانبا نہیں خریدیگا اور پیسے مول لیے(5) تو نہیں ٹوٹی۔ (6)(بحر)
مسئلہ ۱۵: قسم کھائی کہ جَو نہ خریدے گا اور گیہوں خریدے ا ن میں کچھ دانے جَو کے بھی ہیں تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر اینٹ، تختہ، کڑی(7) وغیرہ کے نہ خریدنے کی قسم کھائی اور مکان خریدا، جس میں یہ سب چیزیں ہیں تو نہیں ٹوٹی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: قسم کھائی کہ گوشت نہیں خریدیگا اور زندہ بکری خریدی یا قسم کھائی کہ دودھ نہیں خریدیگا اور بکری وغیرہ کوئی جانور خریدا جس کے تھن میں دودھ ہے تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (9)(بحر)
۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الثامن فی الیمین فی البیع... إلخ ،ج۲، ص۱۱۳.
2 ۔قیمت لگائی۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الثامن فی الیمین فی البیع ... إلخ ،ج۲، ص۱۱۳.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی البیع ...إلخ ج۴،ص۵۸۱.
5 ۔ یعنی تانبے کے بنے ہوئے سکے خریدے۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی البیع ...إلخ ج۴،ص۵۸۱.
7 ۔ شہتیر۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب الثامن فی الیمین فی البیع ... إلخ ،ج۲، ص۱۱۵.
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی البیع ...إلخ ج۴ ،ص۵۸۱.
مسئلہ ۱۷: قسم کھائی کہ پیتل یا تانبا نہیں خریدے گا اور ان کے برتن طشت(1) وغیرہ خریدے تو قسم ٹوٹ گئی۔ (2)(بحر)
مسئلہ ۱۸: قسم کھائی کہ تیل نہیں خریدے گا اور نیت کچھ نہ ہو تو وہ تیل مراد لیا جائیگا جس کے استعمال کی وہاں عادت ہو خواہ کھانے میں یا سر کے ڈالنے میں۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۱۹: قسم کھائی کہ فلاں عورت سے نکاح نہ کریگا اور نکاح فاسد کیا مثلاً بغیر گواہوں کے یا عدت کے اندر تو قسم نہیں ٹوٹی کہ نکاح فاسد نکاح نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: قسم کھائی کہ لڑکے یا لڑکی کا نکاح نہ کریگا اور نابالغ ہوں تو خود کرے یا دوسرے کو وکیل کردے دونوں صورتوں میں قسم ٹوٹ گئی اور بالغ ہوں تو خود پڑھانے سے ٹوٹے گی دوسرے کو وکیل کرنے سے نہیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: قسم کھائی کہ نکاح نہ کریگا پھر یہ پاگل یابوہراہوگیا اور اس کے باپ نے نکاح کردیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: قسم کھائی کہ نکاح نہ کریگا اور قسم سے پہلے فضولی نے نکاح کیاتھا اور بعد قسم اس نے نکاح کو جائز کردیا تو نہیں ٹوٹی اور قسم کے بعد فضولی نے نکاح کر دیا ہے تواگر قول سے جائز کریگا ٹوٹ جائیگی اور فعل سے جائز کیا مثلاً عورت کے پاس مہر بھیج دیا تو نہیں ٹوٹی اور اگر فضولی یا وکیل نے نکاح فاسد کیا ہے تو نہیں ٹوٹے گی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: نکاح نہ کرنے کی قسم کھائی اور کسی نے مجبور کرکے نکاح کرایا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (8)(خانیہ)
مسئلہ ۲۴: قسم کھائی کہ اتنے سے زیادہ مہر پر نکاح نہ کریگا اور اوتنے ہی پر نکاح کیا، بعد کومَہر میں اضافہ کردیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(9) (عالمگیری)
۔
1 ۔ تھال۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی البیع ...إلخ ج۴،ص۵۸۱.
3 ۔ المرجع السابق .
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی البیع ...إلخ ،ج ۵،ص۶۷۳.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی البیع ...إلخ، مطلب:حلف لا یزوج عبدہ،ج ۵ ،ص۶۶۲.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتا ب الأیمان ، الباب الثامن فی الیمین فی البیع ...إلخ ،ج ۲ ،ص۱۱۸.
7 ۔المرجع السابق ،ص۱۱۷.
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الأیمان ،باب من الأیمان، فصل فی التزویج، ج۱، ص ۳۰۰.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتا ب الأیمان ، الباب الثامن فی الیمین فی البیع ...إلخ ،ج۲،ص۱۱۸.
مسئلہ ۲۵: قسم کھائی کہ پوشیدہ نکاح کریگا اور دوگواہوں کے سامنے نکاح کیا تو نہیں ٹوٹی اور تین کے سامنے کیا توٹوٹ گئی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: قسم کھائی کہ فلاں کو قرض نہ دیگااور بغیر مانگے اس نے قرض دیا اوس نے لینے سے انکار کردیا جب بھی قسم ٹوٹ جائیگی۔ یوہیں اگر قسم کھائی کہ فلاں سے قرض نہ لے گا اور اس نے مانگا اوس نے نہ دیا قسم ٹوٹ گئی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: قسم کھائی کہ فلاں سے کوئی چیز عاریت نہ لے گا، اوس نے اپنے گھوڑے پراسے بٹھا لیا تو نہیں ٹوٹی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ۲۸: قسم کھائی کہ اس قلم سے نہیں لکھے گا اور اوسے توڑ کر دوبارہ بنایا اور لکھا قسم ٹوٹ گئی کہ عرف میں اوس ٹوٹے ہوئے کو بھی قلم کہتے ہیں۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱: نماز نہ پڑھنے یا روزہ نہ رکھنے یا حج نہ کرنے کی قسم کھائی اور فاسد ادا کیا تو قسم نہیں ٹوٹی جبکہ شروع ہی سے فاسد ہو مثلاً بغیر طہارت نماز پڑھی یا طلوع فجر کے بعد کھانا کھایا اور روزہ کی نیت کی۔ اور اگر شروع صحت کے ساتھ (5) کیا بعد کو فاسد کردیا مثلاً ایک رکعت نماز پڑھ کر توڑ دی یا روزہ رکھ کر توڑ دیا اگر چہ نیت کرنے کے تھوڑے ہی بعد توڑدیا تو قسم ٹوٹ گئی۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲: نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائی اور قیام و قراء ت و رکوع کرکے توڑ دی تو قسم نہیں ٹوٹی اور سجدہ کرکے توڑی تو ٹوٹ گئی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: قسم کھائی کہ ظہر کی نماز نہ پڑھے گا تو جب تک قعدہ اخیرہ میں التحیات نہ پڑھ لے قسم نہ ٹوٹے گی
۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب الثامن فی الیمین فی البیع ...إلخ، ج ۲ ،ص۱۱۹.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب الثامن فی الیمین فی البیع ...إلخ، ج ۲ ،ص۱۱۹.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی الدخول ...إلخ ،مطلب:الأیمان مبنیۃ...إلخ،ج۵،ص۵۵۷.
5 ۔ یعنی تمام شرائط وارکان کی پابندی کے ساتھ۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأیمان ،باب الیمین فی البیع ...إلخ، مطلب:حلف لایصوم ...إلخ ، ج ۵ ، ص۶۸۲.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب التاسع فی الیمین فی الحج ...إلخ ،ج ۲ ،ص۱۲۱.
یعنی اس سے قبل فاسد کرنے میں قسم نہیں ٹوٹی۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۴: قسم کھائی کہ کسی کی امامت نہ کریگا اور تنہا شروع کردی پھر لوگوں نے اس کی اقتداکرلی مگر اس نے امامت کی نیت نہ کی تو مقتدیوں کی نماز ہوجائیگی اگرچہ جمعہ کی نماز ہو اور اس کی قسم نہ ٹوٹی۔ یوہیں اگر جنازہ یا سجدہ تلاوت میں لوگوں نے اسکی اقتدا کی جب بھی قسم نہ ٹوٹی اور اگر قسم کے یہ لفظ ہوں کہ نماز میں امامت نہ کرونگا تو نماز جنازہ میں امامت کی نیت سے بھی نہیں ٹوٹے گی۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: قسم کھائی کہ فلاں کے پیچھے نماز نہیں پڑھے گا اور اوس کی اقتدا کی مگر پیچھے کھڑا نہ ہوا بلکہ برابر دہنے یا بائیں کھڑے ہو کر نماز پڑھی یا قسم کھائی کہ فلاں کے ساتھ نماز نہ پڑھے گا اور اس کی اقتدا کی اگرچہ ساتھ نہ کھڑا ہوا بلکہ پیچھے کھڑا ہوا قسم ٹوٹ گئی۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۶: قسم کھائی کہ نماز وقت گزار کر نہ پڑھے گااور سوگیا یہاں تک کہ وقت ختم ہوگیااگر وقت آنے سے پہلے سویا اور وقت جانے کے بعد آنکھ کھلی توقسم نہیں ٹوٹی۔ اور وقت ہوجانے کے بعد سویا توٹوٹ گئی۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ فلاں نماز جماعت سے پڑھے گااور آدھی سے کم جماعت سے ملی یعنی چار یا تین رکعت والی میں ایک رکعت جماعت سے پائی یا قعدہ میں شریک ہوا تو قسم ٹوٹ گئی اگرچہ جماعت کا ثواب پائے گا۔(5) (شرح وقایہ)
مسئلہ ۸: عورت سے کہا، اگر تو نماز چھوڑے گی تو تجھ کو طلاق اور نماز قضا ہوگئی مگر پڑھ لی تو طلاق نہ ہوئی کہ عرف میں نماز چھوڑنا اسے کہتے ہیں کہ بالکل نہ پڑھے اگرچہ شرعاً قصداً (6)قضا کر دینے کو بھی چھوڑنا کہتے ہیں۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹: قسم کھائی کہ اس مسجد میں نماز نہ پڑھے گا اور مسجد بڑھائی گئی اوس نے اوس حصہ میں نماز پڑھی جواب زیادہ کیا گیا ہے تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر قسم میں یہ کہا فلاں محلہ کی مسجد یا فلاں شخص کی مسجد میں نماز نہ پڑھیگا اور مسجد میں کچھ اضافہ ہوا اوس نے اس جگہ پڑھی جب بھی ٹوٹ گئی۔(8) (بحر)
۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی البیع ...إلخ ، ج ۵ ،ص ۶۸۶.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان ، ،باب الیمین فی البیع...إلخ، مطلب:حلف لا یؤم أحدًا،ج ۵ ،ص ۶۸۶.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی البیع ...إلخ،ج ۴،ص۶۰۰،۶۰۱.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ، مطلب:حلف لا یؤم أحدًا، ج۵،ص۶۸۸.
5 ۔''شرح الوقایۃ مع حاشیۃعمدۃ الرعا یۃ''،کتاب الأیمان ، ج۲ ،ص۲۶۳.
6 ۔ جان بوجھ کر۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ، مطلب:حلف لا یؤم أحدًا، ج۵،ص۶۸۸.
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی البیع ...إلخ، ج۴، ص۶۰۲.
مسئلہ ۱: قسم کھائی کہ اپنی عورت کے کاتے ہوئے سوت کا کپڑا نہ پہنے گا اور عورت نے سوت کاتا اور وہ بُن کر کپڑا طیارہوا اگر وہ روئی جس کا سوت بنا ہے قسم کھاتے وقت شوہر کی تھی تو پہننے سے قسم ٹوٹ گئی ورنہ نہیں۔ اور اگر قسم کھائی کہ فلاں کے کاتے ہوئے سوت کا کپڑا نہ پہنے گا اور کچھ اوس کا کاتا ہے اور کچھ دوسرے کا دونوں کو ملا کر کپڑا بُنوایا تو قسم نہ ٹوٹی اور اگر کل سوت اوسی کا کاتا ہوا ہے دوسرے کے کاتے ہوئے ڈورے سے کپڑا سیا گیا ہے تو قسم ٹوٹ گئی۔ (1)(بحر، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: انگرکھا(2)، اچکن(3)، شیرو انی(4) تینوں میں فرق ہے لہٰذا اگر قسم کھائی کہ شیروانی نہ پہنے گا تو انگرکھا پہننے سے قسم نہ ٹوٹی۔ یوہیں قمیص اور کُرتے میں بھی فرق ہے لہٰذا ایک کی قسم کھائی اور دوسرا پہنا تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ عربی میں قمیص کُرتے کو کہتے ہیں۔ یوہیں پتلون اور پاجامہ میں بھی فرق ہے اگرچہ انگریزی میں پتلون پاجامہ ہی کو کہتے ہیں۔ یوہیں بوٹ نہ پہننے کی قسم کھائی اور ہندوستانی جوتا پہنا قسم نہ ٹوٹی کہ اس کو بوٹ نہیں کہتے۔
مسئلہ ۳: قسم کھائی کہ کپڑا نہیں پہنے گا یا نہیں خریدے گا تو مراد اتنا کپڑا ہے جس سے ستر چھپاسکیں اور اُس کو پہن کر نماز جائز ہوسکے اس سے کم مثلاً ٹوپی پہننے میں نہیں ٹوٹے گی اور اگر عمامہ باندھا اور وہ اتنا ہے کہ ستر اُس سے چھپ سکے توٹوٹ گئی ورنہ نہیں۔ یوہیں ٹاٹ یا دری یا قالین پہن لینے یا خریدنے سے قسم نہ ٹوٹے گی اور پوستین(5)سے ٹوٹ جائیگی۔ اور اگر قسم کھائی کہ کرُتا نہ پہنے گا اور اس صورت میں کُرتے کو تہبند کی طرح باندھ لیا یا چادر کی طرح اوڑھ لیا تو نہیں ٹوٹی اور اگر کہا کہ یہ کُرتا نہیں پہنے گا تو کسی طرح پہنے قسم ٹوٹ جائیگی۔ (6)(بحر، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: قسم کھائی کہ زیور نہیں پہنے گا تو چاندی سونے کے ہر قسم کے گہنے(7) اور موتیوں یا جواہر کے ہار اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے قسم ٹوٹ جائیگی اور چاندی کی انگوٹھی سے نہیں جبکہ ایک نگ(8) کی ہو اور کئی نگ کی ہو تو اس سے بھی ٹوٹ جائیگی۔
۔
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی البیع ...إلخ، ج۴، ص۶۰۴.
و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ، مطلب:فی الفرق بین تعیین ...إلخ،ج۵،ص۶۹۱.
2 ۔ایک قسم کا لمبا مردانہ لباس جس کے دو حصے ہوتے ہیں چولی اوردامن۔
3 ۔ایک قسم کا لباس جو کوٹ کی طرح ہوتا ہے۔
4 ۔لمبی پٹی یا کالر دار جدید وضع قطع کا لباس۔
5 ۔ چمڑے کاکوٹ۔
6 ۔''رد المحتار''، کتاب الأیمان، باب الیمین فی البیع ...إلخ ،مطلب: حلف لایلبس حلیا،ج۵، ص۶۹۴.
و''البحرالرائق''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی البیع ...إلخ، ج۴، ص۶۰۶.
7 ۔ایک قسم کا زیور ۔ 8 ۔نگینہ ۔
یوہیں اگر اُس پر سونے کا ملمع(1)ہو تو ٹوٹ جائیگی۔ (2)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵: قسم کھائی کہ زمین پر نہیں بیٹھے گا اور زمین پر کوئی چیز بچھا کر بیٹھا مثلاً تختہ یا چمڑا یا بچھونا یا چٹائی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ اور اگر بغیر بچھائے ہوئے بیٹھ گیا اگرچہ کپڑا پہنے ہوئے ہے جس کی وجہ سے اس کا بدن زمین سے نہ لگا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر کپڑے اوتار کرخود اس کپڑے پر بیٹھا تو نہیں ٹوٹی کہ اسے زمین پر بیٹھنا نہ کہیں گے اور اگر گھاس پر بیٹھا تو نہیں ٹوٹی جبکہ زیادہ ہو۔ (3)(درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۶: قسم کھائی کہ اس بچھونے پر نہیں سوئے گا اور اس پر دوسرا بچھونا اور بچھا دیا اور اوس پر سویا توقسم نہیں ٹوٹی اور اگر صرف چادر بچھائی توٹوٹ گئی۔ اس چٹائی پرنہ سونے کی قسم کھائی تھی اس پر دوسری چٹائی بچھا کر سویا تو نہیں ٹوٹی اور اگریوں کہا تھا کہ بچھونے پر نہیں سوئے گا تو اگرچہ اوس پر دوسرا بچھونا بچھا دیا ہو، ٹوٹ جائے گی(4)(درمختار، بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ اس تخت پر نہیں بیٹھے گا اور اُس پر دوسرا تخت بچھا لیا تو نہیں ٹوٹی اور بچھونا یا بوریا بچھا کر بیٹھا توٹوٹ گئی۔ ہاں اگر یوں کہا کہ اس تخت کے تختوں پر نہ بیٹھے گا تو اوس پر بچھاکر بیٹھنے سے نہیں ٹوٹے گی۔ (5)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۸: قسم کھائی کہ زمین پر نہیں چلے گا تو جوتے یا موزے پہن کر یا پتھر پر چلنے سے ٹوٹ جائیگی اور بچھونے پر چلنے سے نہیں۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۹: قسم کھائی کہ فلاں کے کپڑے یا بچھونے پر نہیں سوئے گا اور بدن کا زیادہ حصہ اوس پر کرکے سوگیا ٹوٹ گئی۔ (7)(درمختار)
۔
1 ۔سونے کا پانی چڑھایا ہوا ۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ، ج ۵ ،ص ۶۹۳،وغیرہ.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ،ملطب:حلف لا یجلس ...إلخ،ج ۵،ص۶۹۴.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ، ج ۵ ،ص۶۹۳.
و''البحرالرائق''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی البیع ...إلخ، ج۴، ص۶۰۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان، الباب العاشر فی الیمین فی لبس ...إلخ،ج۲،ص۱۲۷.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ، ج ۵ ،ص۶۹۵.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الأیمان، الباب العاشر فی الیمین فی لبس ...إلخ،ج۲،ص۱۲۷.
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ، ج ۵،ص ۶۹۵.
7 ۔المرجع السابق ،ص۶۹۶.
مسئلہ ۱: جو فعل ایسا ہے کہ اوس میں مردہ و زندہ دونوں شریک ہیں یعنی دونوں کے ساتھ متعلق ہوسکتا ہے تو اس میں زندگی و موت دونوں حالتوں میں قسم کا اعتبار ہے جیسے نہلانا کہ زندہ کو بھی نہلا سکتے ہیں اور مردہ کوبھی۔ اور جو فعل ایسا ہے کہ زندگی کے ساتھ خاص ہے اوس میں خاص زندگی کی حالت کا اعتبار ہوگا مرنے کے بعد کرنے سے قسم ٹوٹ جائیگی یعنی جبکہ اوس فعل کے کرنے کی قسم کھائی۔ اور اگر نہ کرنے کی قسم کھائی اور مرنے کے بعد وہ فعل کیا تو نہیں ٹوٹے گی۔ جیسے وہ فعل جس سے لذت یا رنج یا خوشی ہوتی ہے کہ ظاہر میں یہ زندگی کے ساتھ خاص ہیں اگرچہ شرعًا مردہ بھی بعض چیزوں سے لذت پاتا ہے اور اوسے بھی رنج و خوشی ہوتی ہے مگر ظاہر بیں نگاہیں(1) اوس کے ادراک سے(2) قاصر ہیں اور قسم کا مدار(3) حقیقت شرعیہ پر نہیں بلکہ عرف پر ہے لہٰذا ایسے افعال(4)میں خاص زندگی کی حالت معتبر ہے۔ اس قاعدہ کے متعلق بعض مثالیں سنو: مثلاً قسم کھائی کہ فلاں کو نہیں نہلائے گا یا نہیں اوٹھائے گا یا کپڑا نہیں پہنائے گا اور مرنے کے بعد اوسے غسل دیا یا اوس کا جنازہ اُٹھایا یا اوسے کفن پہنایا تو قسم ٹوٹ گئی کہ یہ فعل اوس کی زندگی کے ساتھ خاص نہ تھے۔ اور اگر قسم کھائی کہ فلاں کو مارونگا یا اوس سے کلام کرونگا یا اوس کی ملاقات کو جاؤں گا یا اوسے پیار کرونگا اور یہ افعال اُس کے مرنے کے بعد کیے یعنی اُسے مارا یا اُس سے کلام کیا یا اُس کے جنازہ یا قبر پر گیا یا اُسے پیارکیا تو قسم ٹوٹ گئی کہ اب وہ ان افعال کا محل نہ رہا۔ (5)(درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۲: قسم کھائی کہ اپنی عورت کو نہیں مارے گا اور اوس کے بال پکڑ کر کھینچے یا اوس کا گلا گھونٹ دیا یا دانت سے کاٹ لیا یا چٹکی لی اگر یہ افعال غصہ میں ہوئے تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر ہنسی ہنسی میں ایسا ہوا تو نہیں۔ یوہیں اگردل لگی میں مرد کا سر عورت کے سر سے لگا اورعورت کا سر ٹوٹ گیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(6) (عالمگیری، بحر)
مسئلہ ۳: قسم کھائی کہ تجھے اتنا مارو ں گا کہ مرجائے۔ ہزاروں گھونسے ماروں گا تو اس سے مراد مبالغہ ہے نہ کہ مار ڈالنا یا ہزاروں گھونسے مارنا۔ اور اگر کہا کہ مارتے مارتے بیہوش کردوں گا یا اتناماروں گا کہ رونے لگے یاچِلانے لگے یا پیشاب کردے تو قسم اوس وقت سچی ہوگی کہ جتنا کہا اوتنا ہی مار ے اور اگر کہا کہ تلوار سے ماروں گا یہاں تک کہ مرجائےتو یہ مبالغہ نہیں بلکہ مار
۔
1 ۔ظاہر و موجود چیزیں دیکھنے والی نگاہیں۔
2 ۔یعنی دیکھنے سے۔
3 ۔انحصار۔
4 ۔ یعنی کام ،معاملات۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الضرب ...إلخ،مطلب:ترد الحیاۃ ...إلخ،ج۵،ص۶۹۶،وغیرہما.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتا ب الأیمان ، الباب الحادی عشر فی الیمین فی الضرب ...إلخ،ج ۲،ص ۱۲۸.
و''البحرالرائق''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی الضرب ...إلخ، ج۴، ص۶۰۹.
ڈالنے سے قسم پوری ہوگی۔ (1)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴: قسم کھائی کہ اوسے تلوار سے ماروں گا اور نیت کچھ نہ ہو اور تلوار پٹ کرکے(2) اوسے مار دی تو قسم پوری ہوگئی اور تلوار میان میں تھی ویسے ہی میان سمیت اوسے ماردی تو قسم پوری نہ ہوئی ہاں اگر تلوار نے میان کو کاٹ کر اوس شخص کو زخمی کردیا تو قسم پوری ہوگئی۔ اور اگر نیت یہ ہے کہ تلوار کی دھار کی طرف سے مارے گا تو پٹ کر کے مارنے سے قسم پوری نہ ہوئی اور اگر قسم کھائی کہ اوسے کلہاڑی یا تبر(3) سے مارونگا اور اوس کے بینٹ(4) سے مارا تو قسم پوری نہ ہوئی۔(5) (عالمگیری، بحر)
مسئلہ ۵: قسم کھائی کہ سو۱۰۰ کوڑے مارو ں گا اور سو۱۰۰ کوڑے جمع کر کے ایک مرتبہ میں مارا کہ سب اوس کے بدن پر پڑے تو قسم سچی ہوگئی جبکہ اوسے چوٹ بھی لگے اور اگر صرف چھوا دیا کہ چوٹ نہ لگی تو قسم پوری نہ ہوئی۔ (6)(بحر)
مسئلہ ۶: کسی سے کہا اگر تم مجھے ملے اور میں نے تمھیں نہ مارا تو میری عورت کو طلاق ہے اور وہ شخص ایک میل کے فاصلہ سے اسے دکھائی دیا یا وہ چھت پر ہے اور یہ اوس پر چڑھ نہیں سکتا تو طلاق واقع نہ ہوئی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ۱: قسم کھائی کہ اوس کا قرض فلاں روز ادا کر دوں گا اور کھونٹے روپے (8)یا بڑی گولی کا روپیہ(9) جو دوکاندار نہیں لیتے اوس نے قرض میں دیا تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر اوس روز روپیہ لیکر اوس کے مکان پر آیا مگر وہ ملا نہیں توقاضی کے پاس داخل کر آئے ورنہ قسم ٹوٹ جائیگی۔ اگر یہ روپے اوسے دیتا ہے مگر وہ انکار کرتا ہے، نہیں لیتا تو اگر اوس کے پاس اتنے قریب رکھ دیے کہ لینا چاہے تو ہاتھ بڑھا کر لے سکتا ہے تو قسم پوری ہو گئی۔(10)(درمختار، بحر)
۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتا ب الأیمان،الباب الحادی عشر فی الیمین فی الضرب...إلخ،ج۲،ص ۱۲۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع...إلخ،ج۵،ص۷۰۰.
2 ۔چوڑی کر کے۔
3 ۔کلہاڑا
4 ۔کلہاڑی میں لگا ہوا لکڑی کا دستہ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتا ب الأیمان،الباب الحادی عشر فی الیمین فی الضرب ...إلخ،ج۲،ص ۱۲۹.
و''البحرالرائق''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الضرب ...إلخ،ج۴،ص۶۱۰.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی الضرب ...إلخ، ج۴، ص۶۰۹.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتا ب الأیمان ، الباب الحادی عشر فی الیمین فی الضرب ...إلخ،ج ۲، ص۱۳۰.
8 ۔کھوٹے روپے۔
9 ۔برصغیر میں برطانیہ کی حکومت میں ملکہ وکٹوریہ کی تصویر کاجوڑے دارروپیہ جو خالص چاندی کاہوتاتھا۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ،ج۵،ص۷۰۳.
و''البحرالرائق''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الضرب ...إلخ،ج۴،ص۶۱۲.
مسئلہ۲: قسم کھائی کہ فلاں روز اوس کے روپے ادا کردونگا اور وقت پورا ہونے سے پہلے اوس نے معاف کردیا یا اوس دن کے آنے سے پہلے ہی اس نے ادا کردیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر قسم کھائی کہ یہ روٹی کل کھائیگا اور آج ہی کھالی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ اگر قرض خواہ نے قسم کھائی کہ فلاں روز روپیہ وصول کرلوں گا اور اوس دن کے پہلے معاف کردیا یا ہبہ کر دیا تو نہیں ٹوٹی اور اگر دن مقرر نہ کیا تھا تو ٹوٹ گئی۔ (1)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ۳: قرض خواہ نے قسم کھائی کہ بغیر اپنا حق لیے تجھے نہ چھوڑونگا پھر قرضدار سے اپنے روپے کے بدلے میں کوئی چیزخریدلی اور چلاگیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر کسی عورت پر روپے تھے اور قسم کھائی کہ بغیر حق لیے نہ ہٹو ں گا اور وہیں رہا یہاں تک کہ اوس روپے کو مہر قرار دےکر عورت سے نکاح کر لیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔(2) (بحر)
مسئلہ۴: قسم کھائی کہ بغیر اپنا لیے تجھ سے جدا نہ ہو ں گا تو اگر وہ ایسی جگہ ہے کہ یہ اُسے دیکھ رہا ہے اور اوس کی حفاظت میں ہے تو اگر چہ کچھ فاصلہ ہو مگر جدا ہونا نہ پایا گیا۔ یوہیں اگر مسجد کا ستون درمیان میں حائل(3) ہو یا ایک مسجد کے اندر ہے دوسرا باہر اور مسجد کا دروازہ کھلا ہوا ہے کہ اوسے دیکھتا ہے تو جدا نہ ہوا اور اگر مسجد کی دیوار درمیان میں حائل ہے کہ اُسے نہیں دیکھتا اور ایک مسجد میں ہے اور دوسرا باہر تو جدا ہوگیا اور قسم ٹوٹ گئی۔ اور اگر قرضدار کو مکان میں کرکے باہر سے قفل (4)بند کردیا اور دروازہ پر بیٹھا ہے اور کنجی اس کے پاس ہے تو جدا نہ ہوا۔ اور اگر قرضدار نے اسے پکڑ کر مکان میں بند کر دیا اور کنجی قرضدار کے پاس ہے تو قسم ٹوٹ گئی۔(5) (بحر)
مسئلہ۵: قسم کھائی کہ اپنا روپیہ اوس سے وصول کرونگا تو اختیار ہے کہ خود وصول کرے یا اس کا وکیل اور خواہ خود اوسی سے لے یا اوس کے وکیل یا ضامن سے یا اوس سے جس پر اوس نے حوالہ کردیا بہر حال قسم پوری ہوجائے گئی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ۶: قرض خواہ قرضدارکے دروازہ پر آیا اور قسم کھائی کہ بغیر لیے نہ ہٹو ں گا اور قرضدار نے آکر اوسے دھکا دیکر ہٹا دیا مگر اوس کے ڈھکیلنے سے ہٹا خود اپنے قدم سے نہ چلا اور جب اُس جگہ سے ہٹا دیا گیا اب اوس کے بعد بغیر لیے چلا گیا
۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ،ج ۵ ،ص۷۰۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتا ب الأیمان ، الباب الثانی عشر فی الیمین فی تقاضی الدراہم،ج۲،ص۱۳۴.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الضرب ...إلخ ،ج۴، ص۶۱۳،۶۱۴.
3 ۔رکاوٹ،آڑ۔
4 ۔تالا۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الضرب ...إلخ،ج۴،ص۶۱۵.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان،الباب الثانی عشر فی الیمین فی تقاضی الدراھم،ج۲،ص ۱۳۴.
تو قسم نہیں ٹوٹی کہ وہاں سے خود نہ ہٹا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ۷: قسم کھائی کہ میں اپنا کُل روپیہ ایک دفعہ لو ں گا تھوڑاتھوڑا نہیں لو ں گا اور ایک ہی مجلس میں دس دس یا پچیس پچیس گن گن کر اسے دیتا گیا اور یہ لیتا گیا توقسم نہیں ٹوٹی یعنی گننے میں جو وقفہ ہوا اس کا قسم میں اعتبار نہیں اور اس کو تھوڑا تھوڑا لینا نہ کہیں گے۔ اور اگر تھوڑے تھوڑے روپے لیے تو قسم ٹوٹ جائیگی مگر جب تک کہ کُل روپیہ پر قبضہ نہ کرلے نہیں ٹوٹے گی یعنی جس وقت سب روپے پر قبضہ ہوجائیگا اوس وقت ٹوٹے گی اوس سے پہلے اگرچہ کئی مرتبہ تھوڑے تھوڑے لیے ہیں مگر قسم نہیں ٹوٹی تھی۔ (2)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ۸: کسی نے کہا اگر میرے پاس مال ہو تو عورت کو طلاق ہے اور اوس کے پاس مکان اور اسباب ہیں جو تجارت کے لیے نہیں تو طلاق نہ ہوئی۔(3) (درمختار)
مسئلہ۹: قسم کھائی کہ یہ چیز فلاں کو ہبہ کرونگا اور اس نے ہبہ کیا مگر اوس نے قبول نہ کیا تو قسم سچی ہو گئی اوراگرقسم کھائی کہ اوس کے ہاتھ بیچوں گا اور اس نے کہا کہ میں نے یہ چیز تیرے ہاتھ بیچی مگر اوس نے قبول نہ کی تو قسم ٹوٹ گئی۔(4) (درمختار)
مسئلہ۱۰: قسم کھائی کہ خوشبو نہ سونگھے گا اور بلا قصد ناک میں گئی تو قسم نہیں ٹوٹی اور قصداً سونگھی تو ٹوٹ گئی۔ (5)(بحر وغیرہ)
مسئلہ۱۱: قسم کھائی کہ فلاں شخص جو حکم د ے گا بجالاؤں گا اور جس چیز سے منع کر ے گا باز رہوں گا اور اوس نے بی بی کے پاس جانے سے منع کردیا اور یہ نہیں مانا اگروہاں کوئی قرینہ ایسا تھا جس سے یہ سمجھا جاتا ہو کہ اس سے منع کریگا تو اس سے بھی باز آؤں گا جب تو قسم ٹوٹ گئی ورنہ نہیں۔(6) (عالمگیری)
۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتا ب الأیمان،الباب الثانی عشر فی الیمین فی تقاضی الدراھم ،ج۲،ص۱۳۴،۱۳۵.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتا ب الأیمان،الباب الثانی عشر فی الیمین فی تقاضی الدراھم ،ج۲،ص۱۳۴،۱۳۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع ...إلخ،ج ۵ ،ص ۷۰۷.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی البیع...إلخ،ج ۵،ص ۷۰۹.
4 ۔المرجع السابق ،ص۷۱۴.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان، باب الیمین فی الضر ب ...إلخ ج ۴ ، ص ۶۲۰،وغیرہ.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان، الباب الثانی عشر فی الیمین فی تقاضی الدراھم ،ج ۲،ص۱۳۹.
اﷲعزوجل فرماتا ہے :
(وَالَّذِیۡنَ لَا یَدْعُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوۡنَ النَّفْسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوۡنَ وَ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا ﴿ۙ۶۸﴾یُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ یَخْلُدْ فِیۡہٖ مُہَانًا ﴿٭ۖ۶۹﴾اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾ (1)
اور اﷲ(عزوجل) کے بندے وہ کہ خداکے ساتھ دوسرے معبود کو شریک نہیں کرتے اور اوس جان کوناحق(2) قتل نہیں کرتے جسے خدانے حرام کیااور زنا نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائیگا قیامت کے دن اُس پر عذاب بڑھایا جائے گا اور ہمیشہ ذلت کے ساتھ اوس میں رہے گا مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو اﷲ (عزوجل) ا ون کی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ بدل دیگا اور اﷲ (عزوجل) بخشنے والا مہربان ہے۔
اور فرماتا ہے:
(وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾ ) (2)
جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بی بیوں یا باندیوں سے اون پر ملامت نہیں اور جو اس کے سوا کچھ اور چاہے تو وہ حد سے گزرنے والے ہیں۔
اور فرماتا ہے :
(وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾ ) (4)
زنا کے قریب نہ جاؤ کہ وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے۔
اور فرماتا ہے:
(اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیۡ فَاجْلِدُوۡا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ ۪ وَّ لَا تَاۡخُذْکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللہِ اِنۡ کُنۡتُمْ تُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ وَ لْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۲﴾ ) (5)
1 ۔پ۱۹،الفرقان: ۶۸۔۷۰.
2 ۔یہاں پربہارشریعت کے نسخوں میں''اِلَّابِالْحَقِّ '' کاترجمہ نہیں تھاجوکہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے لہذاہم نے''کنزالایمان شریف''کی مدد سیمتن میں ترجمہ کی تصحیح لفظ''ناحق''کے ساتھ کر دی ہے۔...علمیہ
3 ۔پ۱۸،المؤمنون:۵۔۷.
4 ۔ پ۱۵،بنی اسرائیل: ۳۲.
5 ۔ پ۱۸،النور: ۲.
عورت زانیہ اور مردزانی ان میں ہر ایک کو سو ۱۰۰ کوڑے مارو اور تمھیں اون پر ترس نہ آئے، اﷲ (عزوجل)کے دین میں اگر تم اﷲ (عزوجل)اور پچھلے دن (قیامت) پر ایمان رکھتے ہو اور چاہیے کہ اون کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو۔
اور فرماتا ہے:
(وَلَا تُکْرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمْ عَلَی الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوۡا عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ؕ وَمَنۡ یُّکْرِہۡہُّنَّ فَاِنَّ اللہَ مِنۡۢ بَعْدِ اِکْرَاہِہِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۳﴾ ) (1)
اپنی باندیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو اگر وہ پارسائی چاہیں (اس لیے مجبور کرتے ہو) کہ دُنیا کی زندگی کا کچھ سامان حاصل کرو اور جو اون کو مجبور کرے تو بعد اس کے کہ مجبور کی گئیں، اﷲ (عزوجل) اون کو بخشنے والا مہربان ہے۔
حدیث ۱: ابن ماجہ عبداﷲ بن عمراور نسائی ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''اﷲ (عزوجل) کی حدود میں سے کسی حد کا قائم کرنا چالیس ۴۰ رات کی بارش سے بہتر ہے۔'' (2)
حدیث ۲: ابن ماجہ عبادہ بن صامت رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اﷲ (عزوجل) کی حدود کو قریب و بعید سب میں قائم کرو اور اﷲ (عزوجل) کے حکم بجا لانے میں ملامت کرنے والے کی ملامت تمھیں نہ روکے۔'' (3)
حدیث ۳: بخاری و مسلم و ابوداود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے راوی، کہ ایک مخزومیہ عورت نے چوری کی تھی، جس کی وجہ سے قریش کو فکر پیدا ہوگئی (کہ اس کو کس طرح حد سے بچایا جائے۔) آپس میں لوگوں نے کہا، کہ اس کے بارے میں کون شخص رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے سفارش کریگا؟ پھرلوگوں نے کہا، سوا اسامہ بن زید رضی اﷲتعالیٰ عنہما کے جو رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے محبوب ہیں، کوئی شخص سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا، غرض اسامہ نے سفارش کی، اس پر حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: کہ تو حد کے بارے میں سفارش کرتا ہے پھر حضور(صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اس خطبہ میں یہ فرمایا: کہ ''اگلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کیا کہ اگراُن میں کوئی شریف چوری کرتا تو اوسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور چوری کرتا تو اوس پر حد قائم کرتے،
1 ۔ پ۱۸، النور:۳۳.
2 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب الحدود، باب اقامۃالحدود، الحدیث: ۲۵۳۷، ج۳،ص۲۱۵.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب الحدود، باب اقامۃ الحدود، الحدیث:۲۵۴۰، ج۳،ص۲۱۷.
قسم ہے خدا کی! اگرفاطمہ بنت محمد صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم (والعیاذ باﷲتعالیٰ) چوری کرتی تو اُس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔'' (1)
حدیث ۴: امام احمدو ابوداود عبداﷲبن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا: کہ ''جس کی سفارش حد قائم کرنے میں حائل ہوجائے(2)، اوس نے اﷲ(عزوجل) کی مخالفت کی اور جو جان کر باطل کے بارے میں جھگڑے، وہ ہمیشہ اﷲتعالیٰ کی ناراضی میں ہے جب تک اُس سے جدا نہ ہوجائے اور جو شخص مومن کے متعلق ایسی چیز کہے جو اوس میں نہ ہو، اﷲتعالیٰ اوسے ردغۃ الخبال میں اوس وقت تک رکھے گا جب تک اوس کے گناہ کی سزا پوری نہ ہولے۔ ردغۃ الخبال جہنم میں ایک جگہ ہے جہاں جہنمیوں کا خون اور پیپ جمع ہوگا۔'' (3)
حدیث ۵: ابو داود و نسائی بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''حد کو آپس میں تم معاف کرسکتے ہو (یعنی جب تک اس کا مقدمہ میرے پاس پیش نہ ہو، تمھیں درگزر کرنے کا اختیارہے) اور میری خدمت میں پہنچنے کے بعد واجب ہوجائے گی (یعنی اب ضرور قائم ہوگی)۔'' (4)
حدیث ۶: ابو داود اُم المومنین عائشہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''(اے ائمہ)! عزت داروں کی لغزشیں دفع کر دو(5)، مگر حدود کہ ان کو دفع نہیں کرسکتے۔'' (6)
حدیث ۷: بخاری و مسلم ابوہریرہ و زید بن خالد رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہ دوشخصو ں نے حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا۔ ایک نے کہا، ہمارے درمیان کتاب اﷲ کے موافق فیصلہ فرمائیے، دوسرے نے بھی کہا ہاں یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) کتاب اﷲ کے موافق فیصلہ کیجئے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجیے۔ ارشاد فرمایا:''عرض کرو۔'' اوس نے کہا میرا لڑکا اس کے یہاں مزدور تھا اوس نے اس کی عورت سے زنا کیا لوگوں نے مجھے خبر دی کہ میرے لڑکے پر رجم ہے، میں نے سو ۱۰۰ بکریاں اور ایک کنیز اپنے لڑکے کے فدیہ میں دی پھر جب میں نے اہلِ علم سے سوال کیا تو اونھوں نے خبر دی کہ میرے لڑکے پر سو ۱۰۰ کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائیگا اور اس کی عورت پر رجم ہے۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''قسم ہے اوس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب أحادیث الأنبیاء، باب (۵۶) ، الحدیث: ۳۴۷۵، ج۲،ص۴۶۸.
2 ۔ یعنی رکاوٹ بن جائے۔
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الأقضیۃ، باب فیمن یعین علی خصومۃ ... إلخ، الحدیث: ۳۵۹۷، ج۳، ص۴۲۷.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الحدود، باب العفو عن الحدود ... إلخ، الحدیث: ۴۳۷۶، ج۴،ص۱۷۸.
5 ۔ یعنی معاف کردو۔
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الحدود، باب فی الحد یشفع فیہ، الحدیث: ۴۳۷۵، ج۴،ص۱۷۸.
میں تم دونوں میں کتاب اﷲ سے فیصلہ کروں گا۔ بکریاں اور کنیز واپس کی جائیں اور تیرے لڑکے کو سو ۱۰۰ کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کو شہر بدر کیا جائے۔'' (اسکے بعد انیس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:) ''اے انیس! صبح کو تم اسکی عورت کے پاس جاؤ، وہ اقرار کرے تو رجم کر دو۔'' عورت نے اقرار کیا اور اوس کو رجم کیا۔ (1)
حدیث ۸: صحیح بخاری شریف میں زید بن خالد رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو حکم فرماتے سنا: کہ ''جو شخص زنا کرے اور محصن نہ ہو، اوسے سو ۱۰۰ کوڑے مارے جائیں اور ایک برس کے لیے شہر بدر کر دیا جائے۔'' (2)
حدیث ۹: بخاری و مسلم راوی، کہ امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا: اﷲتعالیٰ نے محمد صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور اون پر کتا ب نازل فرمائی اور اﷲتعالیٰ نے جو کتاب نازل فرمائی اوس میں آیت رجم بھی ہے، خود رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے رجم کیا اور حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) کے بعد ہم نے رجم کیا اور رجم کتاب اﷲ میں ہے اور یہ حق ہے، رجم اوس پر ہے جو زنا کرے اور محصن ہو، خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ گواہوں سے زنا ثابت ہو یا حمل ہو یا اقرار ہو۔'' (3)
حدیث ۱۰: بخاری و مسلم وغیرہما راوی، کہ یہودیوں میں سے ایک مرد و عورت نے زنا کیا تھا۔ یہ لوگ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں مقدمہ لائے (شاید اس خیال سے کہ ممکن ہے کوئی معمولی اور ہلکی سزا حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)تجویز فرمائیں تو قیامت کے دن کہنے کو ہوجائیگا کہ یہ فیصلہ تیرے ایک نبی نے کیا تھا، ہم اس میں بے قصور ہیں۔) حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: کہ ''تورات میں رجم کے متعلق کیا ہے؟'' یہودیوں نے کہا، ہم زانیوں کو فضیحت(4) اور رُسوا کرتے ہیں اور کوڑے مارتے ہیں (یعنی توریت میں رجم کا حکم نہیں ہے) عبداﷲ بن سلام رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم جھوٹے ہو توریت میں بلاشبہ رجم ہے۔ توریت لاؤ۔ یہودی توریت لائے اور کھول کر ایک شخص پڑھنے لگا اوس نے آیتِ رجم پر ہاتھ رکھ کر ماقبل و مابعد کو پڑھنا شروع کیا (آیتِ رجم کو چھپالیا اور اسکو نہیں پڑھا)عبداﷲبن سلام نے فرمایا: اپنا ہاتھ اوٹھا۔ اوس نے ہاتھ اوٹھایا تو آیتِ رجم اوس کے نیچے چمک رہی تھی۔ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)نے زانی و زانیہ کے متعلق حکم فرمایا، وہ دونوں رجم کیے گئے اور یہودیوں سے دریافت فرمایا: کہ ''جب تمھارے یہاں رجم موجود ہے تو کیوں تم نے اسے چھوڑدیا ہے؟'' یہودیوں نے کہا، وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں جب کوئی شریف و مالدار زنا کرتا تو اوسے چھوڑ دیا کرتے تھے
1 ۔ ''صحیح مسلم''کتاب الحدود،باب من اعترف ...الخ، الحدیث۲۵۔(۱۶۹۷)،ص۹۳۴.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب المحاربین ...الخ، باب البکران یجلدان ...إلخ، الحدیث: ۶۸۳۱، ج۴،ص۳۴۷.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب المحاربین ...الخ، باب رجم الحبلی من الزنا... إلخ، الحدیث: ۶۸۳۰، ج۴،ص ۴۳ ۳، ۳۴۵.
4 ۔ ذلیل ۔
اور کوئی غریب ایسا کرتا تو اوسے رجم کرتے۔ پھر ہم نے مشورہ کیا کہ کوئی ایسی سزا تجویز کرنی چاہیے، جو امیر و غریب سب پر جاری کی جائے، لہٰذا ہم نے یہ سزا تجویز کی کہ اوس کا مونھ کالا کریں اور گدھے پر اُلٹا سوار کرکے شہر میں تشہیر کریں۔ (1)
اب ہم چاہتے ہیں کہ زنا کی مذمت و قباحت میں جوا حادیث وارد ہوئیں، اون میں سے بعض ذکر کریں۔
حدیث ۱۱: بخاری و مسلم و ابو داود و نسائی ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''زنا کرنے والا جس وقت زناکرتا ہے مومن نہیں رہتا اور چور جس وقت چوری کرتا ہے مومن نہیں رہتا اور شرابی جس وقت شراب پیتا ہے مومن نہیں رہتا۔'' اور نسائی کی روایت میں یہ بھی ہے، کہ ''جب ان افعال کو کرتا ہے تو اسلام کا پٹّا اپنی گردن سے نکال دیتا ہے پھر اگر توبہ کرے تو اﷲتعالیٰ اوس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔'' حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے فرمایا: کہ اوس شخص سے نورِ ایمان جدا ہوجاتا ہے۔ (2)
حدیث ۱۲: ابو داود و ترمذی و بیہقی و حاکم اونھیں سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جب مرد زنا کرتا ہے تو اوس سے ایمان نکل کر سر پر مثل سائبان کے ہوجاتا ہے، جب اس فعل سے جدا ہوتا ہے تواوس کی طرف ایمان لوٹ آتا ہے۔'' (3)
حدیث ۱۳: امام احمد عمرو بن عاص رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کہ ''جس قوم میں زنا(4)ظاہر ہوگا، وہ قحط میں گرفتار ہوگی اور جس قوم میں رشوت کا ظہور ہوگا، وہ رعب میں گرفتار ہوگی۔'' (5)
حدیث ۱۴: صحیح بخاری کی ایک طویل حدیث سمرہ بن جندب رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہے، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ ''رات میں نے دیکھا کہ دوشخص میرے پاس آئے اور مجھے زمین مقدس کی طرف لے گئے (اس حدیث میں چند مشاہدات بیان فرمائے اون میں ایک یہ بات بھی ہے) ہم ایک سوراخ کے پاس پہنچے جو تنور کی طرح اوپرتنگ ہے اور نیچے کشادہ، اوس میں آگ جل رہی ہے اور اوس آگ میں کچھ مرد اور عورتیں برہنہ ہیں جب آگ کا شعلہ بلندہوتا ہے تو وہ لوگ اوپر آجاتے ہیں اور جب شعلے کم ہو جاتے ہیں تو شعلے کے ساتھ وہ بھی اندر چلے جاتے ہیں (یہ کون لوگ
1 ۔''صحیح البخاری''.کتاب المحاربین ...الخ، باب أحکام أھل الذمۃ ...الخ، الحدیث۶۸۴۱، ج۴،ص۳۴۹.
و''صحیح مسلم''، کتاب الحدود، باب رجم الیھود ...الخ، الحدیث (۱۶۹۹)و(۱۷۰۰)، ص۹۳۴،۹۳۵،وغیرہما.
2 ۔''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب بیان نقصان الإیمان بالمعاصی... إلخ، الحدیث: ۲۰۲، ص۶۹۰.
و''سنن النسائي''، کتاب قطع السارق، باب تعظیم السرقۃ، الحدیث: ۴۸۷۶، ص۲۴۰۳.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب السنۃ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان و نقصانہ، الحدیث: ۴۶۹۰، ص۱۵۶۷.
4 ۔مسند امام احمد بن حنبل میں یہاں ''زنا'' کے بجائے''ربا'' کا ذکر ہے البتہ (''مشکوٰۃالمصابیح''،کتاب الحدود،الفصل الثالث ،
الحدیث:۳۵۸۲،ج۲ص۳۱۴) میں زنا کا لفظ موجود ہے۔...علمیہ
5 ۔''المسند''للامام احمد بن حنبل،مسند الشامیین،حدیث عمروبن العاص،الحدیث:۱۷۸۳۹،ج۶،ص۲۴۵.
ہیں ان کے متعلق بیان فرمایا) یہ زانی مرد اور عورتیں ہیں۔ (1)
حدیث ۱۵: حاکم ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس بستی میں زنا اور سود ظاہر ہوجائے تو اونھوں نے اپنے لیے اﷲ (عزوجل) کے عذاب کو حلال کرلیا۔'' (2)
حدیث ۱۶: ابو داود و نسائی و ابن حبان ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، اونھوں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کہ ''جو عورت کسی قوم میں اوس کو داخل کردے جو اوس قوم سے نہ ہو (یعنی زنا کرایا اور اوس سے اولاد ہوئی) تو اوسے اﷲ (عزوجل) کی رحمت کا حصہ نہیں اور اوسے جنت میں داخل نہ فرمائے گا۔'' (3)
حدیث ۱۷: مسلم و نسائی ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :''تین شخصوں سے اﷲتعالیٰ نہ کلام فرمائیگا اور نہ اونھیں پاک کریگا اور نہ اون کی طرف نظرِ رحمت فرمائے گا اور اون کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔(۱)بوڑھا زنا کرنے والا اور(۲)جھوٹ بولنے والا بادشاہ اور(۳)فقیر متکبر۔'' (4)
حدیث ۱۸: بزار بریدہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں بوڑھے زانی پر لعنت کرتی ہیں اور زانیوں کی شرمگاہ کی بدبو جہنم والوں کو ایذا دے گی۔'' (5)
حدیث ۱۹: بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا، کہ کونسا گناہ سب میں بڑا ہے؟ فرمایا: ''یہ کہ تو اﷲ (عزوجل) کے ساتھ کسی کو شریک کرے، حالانکہ تجھے اوس نے پیدا کیا۔'' میں نے عرض کی، بیشک یہ بہت بڑا ہے پھر اس کے بعد کونسا گناہ؟ فرمایا: ''یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس لیے قتل کرڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی۔'' میں نے عرض کی پھر کونسا؟ فرمایا: ''یہ کہ تو اپنے پروسی کی عورت سے زنا کرے۔'' (6)
حدیث ۲۰: امام احمد و طبرانی مقداد بن اسود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے صحابہ سے ارشاد فرمایا: ''زنا کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟''لوگوں نے عرض کی، وہ حرام ہے
1 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الجنائز، باب (۹۳) ، الحدیث: ۱۳۸۶، ج۱،ص۴۶۸،والحدیث ۷۰۴۷،ج۴، ص۴۲۵.
2 ۔''المستدرک'' للحاکم، کتاب البیوع، باب اذا اظھر الزنا والربا فی قریۃ، الحدیث: ۲۳۰۸، ج۲، ص۳۳۹.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطلاق، باب التغلیظ فی الانتفائ، الحدیث: ۲۲۶۳،ج۲،ص۴۰۶.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار ... إلخ، الحدیث: ۱۷۲۔(۱۰۷)، ص۶۸.
5 ۔ ''مجمع الزوائد''، کتاب الحدود، باب ذم الزنا، الحدیث: ۱۰۵۴۱، ج۶، ص۳۸۹.
6 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب کون الشرک اقبح الذنوب ...الخ، الحدیث: ۱۴۱۔(۸۶)، ص۵۹.
اﷲ(عزوجل)و رسول (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)نے اوسے حرام کیا، وہ قیامت تک حرام رہے گا۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''دس(۱۰) عورتوں کے ساتھ زنا کرنا اپنے پروسی کی عورت کے ساتھ زنا کرنے سے آسان ہے۔'' (1)
حدیث ۲۱: حاکم و بیہقی ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے جوانانِ قریش! اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، زنا نہ کرو، جو شرمگاہوں کی حفاظت کریگا اوس کے لیے جنت ہے۔'' (2)
حدیث ۲۲: ابن حبان اپنی صحیح میں ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے اور پارسائی کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازہ سے چاہے داخل ہو۔'' (3)
حدیث ۲۳: بخاری و ترمذی سہل بن سعد رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو شخص اوس چیز کا جو جبڑوں کے درمیان ہے (زبان) اور اوس چیز کا جو دونوں پاؤں کے درمیان ہے (شرمگاہ) ضامن ہو، (کہ ان سے خلاف شرع بات نہ کرے) میں اوس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔'' (4)
حدیث ۲۴: امام احمد و ابن ابی الدنیا و ابن حبان و حاکم عبادہ بن صامت رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''میرے لیے چھ۶ چیز کے ضامن ہوجاؤ، میں تمھارے لیے جنت کا ضامن ہوں۔ (۱)بات بولو تو سچ بولو۔ (۲) وعدہ کرو تو پورا کرو۔(۳)تمھارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو اور(۴)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو اور (۵)اپنی نگاہوں کو پست کرو اور(۶)اپنے ہاتھوں کو روکو۔'' (5)
حدیث ۲۵: ترمذی و ابن ماجہ ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس شخص کو قومِ لوط (6)کا عمل کرتے پاؤ تو فاعل اور مفعول بہ(7) دونوں کو قتل کر ڈالو۔'' (8)
1 ۔''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، بقیۃ حدیث المقداد بن الأسود، الحدیث: ۲۳۹۱۵،ج۹،ص۲۲۶.
2 ۔ ''شعب الإیمان'' للبیہقي، باب فی تحریم الفروج، الحدیث: ۵۴۲۵، ج۴، ص۳۶۵.
3 ۔''الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان''،کتاب النکاح،باب معاشرۃ الزوجین، ذکر ایجاب الجنۃ للمرأۃ...الخ،
الحدیث:۱۴۵۱،الجزء السادس،ج۴،ص۱۸۴.
4 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق،باب حفظ اللسان، الحدیث: ۶۴۷۴، ج۴،ص۲۴۰.
5 ۔''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل،حدیث عبادۃ بن الصامت، الحدیث: ۲۲۸۲۱، ج ۸، ص۴۱۲.
6 ۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم لڑکوں کیساتھ بدفعلی کرنے میں مبتلاتھی اوراسی وجہ سے اس قوم پرعذاب کانزول ہوا۔
7 ۔ بدفعلی کرنے والا اورجس کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔
8 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الحدود، باب ماجاء فی حد اللوطي، الحدیث:۱۴۶۱،ج۳،ص۱۳۷.
حدیث ۲۶: ترمذی و ابن ماجہ و حاکم جابر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اپنی اُمت پر سب سے زیادہ جس چیز کا مجھے خوف ہے، وہ عمل قومِ لوط ہے۔'' (1)
حدیث ۲۷: رزین ابن عباس و ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ملعون ہے وہ جو قومِ لوط کا عمل کرے۔'' اور ایک روایت میں ہے، کہ حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے دونوں کو جلا دیا اور ابوبکر رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے اُن پر دیوار ڈھا دی۔ (2)
حدیث ۲۸: ترمذی و نسائی و ابن حبان ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ اُس مرد کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا، جو مرد کے ساتھ جماع کرے یا عورت کے پیچھے کے مقام میں جماع کرے۔'' (3)
حدیث ۲۹: ابو یعلیٰ عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''حیا کرو کہ اﷲتعالیٰ حق بات بیان کرنے سے بازنہ رہے گا اور عورتوں کے پیچھے کے مقام میں جماع نہ کرو۔'' (4)
حدیث ۳۰: امام احمد و ابو داود ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو شخص عورت کے پیچھے میں جماع کرے، وہ ملعون ہے۔'' (5)
حد ایک قسم کی سزا ہے جس کی مقدار شریعت کی جانب سے مقرر ہے کہ اوس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی اس سے مقصودلوگوں کو ایسے کام سے باز رکھنا ہے جس کی یہ سزا ہے اور جس پر حد قائم کی گئی وہ جب تک توبہ نہ کرے محض حد قائم کرنے سے پاک نہ ہوگا۔ (6)
مسئلہ ۱: جب حاکم کے پاس ایسا مقدمہ پہنچ جائے اور ثبوت گزرجائے تو سفارش جائز نہیں
1 ۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الحدود، باب ماجاء فی حد اللوطي، الحدیث: ۱۴۶۲، ج۳،ص۱۳۸.
2 ۔''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الحدود، الفصل الثالث، الحدیث: ۳۵۸۳، ۳۵۸۴، ج۲، ص۳۱۴ ۔ ۳۱۵.
3 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الرضاع، باب ماجاء فی کراھیۃ اتیان النساء فی أدبارہن، الحدیث: ۱۱۶۷،ج۲، ص۳۸۷.
4 ۔ ''الترغیب و الترہیب''، کتاب الحدود... إلخ، الترہیب من اللواط... إلخ، الحدیث: ۱۴، ج۳، ص۱۹۸.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب النکاح، باب فی جامع النکاح، الحدیث: ۲۱۶۲، ج۲،ص۳۶۲.
6 ۔'' الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الحدو د ج ۶ ،ص ۵.
اور اگر کوئی سفارش کرے بھی تو حاکم کو چھوڑنا جائز نہیں اور اگر حاکم کے پاس پیش ہونے سے پہلے توبہ کرلے تو حدساقط ہوجائیگی۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: حد قائم کرنا بادشاہ اسلام یا اوسکے نائب کا کام ہے یعنی باپ اپنے بیٹے پر یا آقا اپنے غلام پر نہیں قائم کرسکتا۔ اور شرط یہ ہے کہ جس پر قائم ہو اوس کی عقل درست ہو اور بدن سلامت ہو لہٰذا پاگل اور نشہ والے اور مریض اور ضعیف الخلقۃ(2) پر قائم نہ کرینگے بلکہ پاگل اور نشہ والا جب ہوش میں آئے اور بیمار جب تندرست ہوجائے اوس وقت حد قا ئم کرینگے۔(3) (عالمگیری)
حد کی چند صورتیں ہیں، اون میں سے ایک حد زنا ہے۔ وہ زنا جس میں حد واجب ہوتی ہے یہ ہے کہ مردکا عورت مشتہاۃ(4) کے آگے کے مقام میں بطور حرام بقدر حشفہ(5) دخول کرنا اور وہ عورت نہ اس کی زوجہ ہو نہ باندی نہ ان دونوں کا شبہہ ہو نہ شبہہ اشتباہ ہو اور وہ وطی کرنے والا مکلف ہو اور گونگا نہ ہو اور مجبور نہ کیا گیا ہو۔ (6) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳: حشفہ سے کم دخول میں حد واجب نہیں۔ اور جس کا حشفہ کٹاہو تو مقدار حشفہ کے دخول سے حدو اجب ہوگی۔ مجنون و نابالغ نے وطی کی تو حد واجب نہیں اگر چہ نابالغ سمجھ وال ہو۔ یوہیں اگر گونگا ہو یا مجبور کیا گیا ہو یا اتنی چھوٹی لڑکی کے ساتھ کیا جو مشتہاۃ نہ ہو۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جس عورت سے بغیر گواہوں کے نکاح کیا یا لونڈی سے بغیر مولیٰ (8)کی اجازت کے نکاح کیا یا غلام نےبغیراذن مولیٰ (9)نکاح کیا اور ان صورتوں میں وطی(10) ہوئی تو حد نہیں۔ یوہیں کسی نے اپنے لڑکے کی باندی(11) یا غلام کی باندی سے جماع کیا تو حد نہیں کہ ان سب میں شبہہ نکاح(12) یاشبہہ مِلک(13) ہے اور جس عورت کو تین طلاقیں دیں
1 ۔ '' الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الحدو د،مطلب: التوبۃتسقط الحد قبل ثبوتہ ، ج ۶،ص ۶.
2 ۔ یعنی پیدائشی کمزور۔
3 ۔'' الفتا وی الھندیۃ'' ،کتاب الحدو د، الباب الاول فی تفسیرہ... الخ ،ج ۲ ،ص۱۴۳.
4 ۔ قابلِ شہوت۔
5 ۔ سرِذَکرکے برابر۔
6 ۔''الدر المختار''، کتاب الحدود ،ج ۶ ، ص۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''کتاب الحدود، الباب الثانی فی الزنا،ج۲،ص۱۴۳.
7 ۔'' رد المحتار''،کتاب الایمان ،مطلب الزنی شرعاً ...الخ، ج ۶، ص ۸.
8 ۔آقا،مالک۔
9 ۔آقاکی اجازت کے بغیر۔
10 ۔مجامعت،ہمبستری۔
11 ۔بیٹے کی لونڈی۔
12 ۔نکاح کاشبہہ۔
13 ۔ملکیت کاشبہہ۔
عدت کے اندر اوس سے وطی کی یا لڑکے نے باپ کی باندی سے وطی کی اگر اوس کا یہ گمان تھا کہ وطی حلال ہے تو حد نہیں، ورنہ ہے۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: حاکم کے نزدیک زنا اوس وقت ثابت ہوگا جب چار مرد ایک مجلس میں لفظ زنا کے ساتھ شہادت ادا کریں یعنی یہ کہیں کہ اس نے زناکیا ہے اگر وطی یا جماع کا لفظ کہیں گے تو زنا ثابت نہ ہوگا۔ (2)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶: اگر چاروں گواہ یکے بعد دیگرے آ کرمجلس قضا میں بیٹھے اور ایک ایک نے اوٹھ اوٹھ کر قاضی کے سامنے شہادت دی تو گواہی قبول کرلی جائے گی۔ اور اگر دارالقضا (3)کے باہر سب مجتمع (4)تھے اور وہاں سے ایک ایک نے آکر گواہی دی تو گواہی مقبول نہ ہوگی اور ان گواہوں پر تہمت کی حد لگائی جائے گی۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: دوگواہوں نے یہ گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے اور دو ۲ یہ کہتے ہیں کہ اس نے زنا کا اقرار کیا تو نہ اوس پر حد ہے نہ گواہوں پر، اور اگر تین نے شہادت دی کہ زنا کیا ہے اور ایک نے یہ کہ اوس نے زنا کااقرار کیاہے تو اون تینوں پر حد قائم کی جائے گی۔(6) (بحر)
مسئلہ ۸: اگر چارعورتوں نے شہادت دی تو نہ اوس پر حد ہے، نہ ان پر۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: جب گواہ گواہی دے لیں تو قاضی اون سے دریافت کریگا کہ زنا کس کو کہتے ہیں۔ جب گواہ اس کو بتالیں گے اور یہ کہیں کہ ہم نے دیکھا کہ اوس کے ساتھ وطی کی جیسے سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے تو اون سے دریافت کریگا کہ کس طرح زنا کیا یعنی اکراہ و مجبوری میں تو نہ ہوا۔ جب یہ بھی بتالیں گے تو پوچھے گا کہ کب کیا کہ زمانہ دراز گزر کر تما دی(8)تونہ ہوئی۔ پھرپوچھے گا کس عورت کے ساتھ کیا کہ ممکن ہے وہ عورت ایسی ہو جس سے وطی پر حد نہیں۔ پھر پوچھے گا کہ کہاں زنا کیا کہ شاید دارالحرب میں ہوا ہو تو حدنہ ہوگی۔ جب گواہ ان سب سوالوں کا جواب دے لیں گے تو اب اگر ان گواہوں کا عادل ہونا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''کتاب الحدود، الباب الثانی فی الزنا،ج۲،ص۱۴۳.
و'' رد المحتار''کتاب الایمان ،مطلب الزنی شرعاً ...الخ، ج ۶،ص ۹.
2 ۔'' الدر المختار''، کتاب الحدود ج ۶ ، ص ۱۱،وغیرہ.
3 ۔ یعنی عدالت ،قاضی کی کچہری۔
4 ۔اکٹھے۔
5 ۔'' رد المحتار''، کتاب الحدود ج ۶ ،ص ۱۱.
6 ۔'' البحر الرائق'' ، کتاب الحدو د ، ج ۵ ،ص۹.
7 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الحدو د ، الباب الثانی فی الزنا، ج ۲، ص ۱۴۳.
8 ۔ اتنی مدت جس کے گزرجانے کے بعد دعویٰ دائر کرنے کاحق نہیں رہتا ۔
قاضی کومعلوم ہے تو خیر ورنہ ان کی عدالت (1)کی تفتیش کریگا یعنی پوشیدہ و علانیہ اس کو دریافت کریگا۔ پوشیدہ یوں کہ ان کے نام اور پورے پتے لکھ کر وہاں کے لوگوں سے دریافت کریگا اگر وہاں کے معتبر لوگ اس امر کو لکھ دیں کہ یہ عادل ہے اسکی گواہی قابل قبول ہے اسکے بعد جس نے ایسا لکھا ہے قاضی اوسے بلاکر گواہ کے سامنے دریافت کریگا کیا جس شخص کی نسبت تم نے ایسا لکھا یا بیان کیا ہے وہ یہی ہے جب وہ تصدیق کرلے گا تو اب گواہ کی عدالت ثابت ہوگئی۔اب اوس کے بعد اُس شخص سے جس کی نسبت زنا کی شہادت گزری قاضی یہ دریافت کریگا کہ تو محصن ہے یا نہیں (احصان کے معنی یہاں پر یہ ہیں کہ آزاد عاقل بالغ ہو جس نے نکاح صحیح کے ساتھ وطی کی ہو)۔ اگر وہ اپنے محصن ہونے کا اقرار کرے یا اس نے تو انکار کیا مگر گواہوں سے اوس کا محصن ہونا ثابت ہوا تو احصان کے معنے دریافت کرینگے یعنی اگرخود اوس نے محصن ہونے کا اقرار کیا ہے تو اوس سے احصان کے معنی پوچھیں گے اور گواہوں سے احصان ثابت ہوا تو گواہوں سے دریافت کرینگے۔ اگر اس کے صحیح معنے بتا دیے تو رجم کا حکم دیا جائیگا اور اگر اوس نے کہا میں محصن نہیں ہوں اور گواہوں سے بھی اوس کا احصان ثابت نہ ہوا تو سو ۱۰۰ دُرے مارنے کا قاضی حکم دیگا۔(2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۰: گواہوں سے قاضی نے جب زنا کی حقیقت دریافت کی تو اونھوں نے جواب دیا کہ ہم نے جوبیان کیا ہے اب اس سے زیادہ بیان نہ کرینگے یا بعض نے حقیقت بیان کی اور بعض نے نہیں تو ان دونوں صورتوں میں حد نہیں نہ اوس پر نہ گواہوں پر۔ یوہیں جب اون سے پوچھا کہ کس عورت سے زنا کیا تو کہنے لگے ہم اوسے نہیں پہچانتے یا پہلے تو یہ کہا کہ ہم نہیں پہچانتے، بعد میں کہا کہ فلاں عورت کے ساتھ، جب بھی حد نہیں۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۱۱: دوسرا طریقہ اس کے ثبوت کا اقرار ہے کہ قاضی کے سامنے چار بار چار مجلسوں میں ہوش کی حالت میں صاف اور صریح لفظ میں زنا کا اقرار کرے اور تین مرتبہ تک ہربار قاضی اُس کے اقرار کو رد کردے جب چوتھی بار اوس نے اقرارکیا اب وہی پانچ سؤال قاضی اس سے بھی کریگا یعنی زنا کس کو کہتے ہیں اور کس کے ساتھ کیا اور کب کیا اور کہاں کیا اور کس طرح کیا اگر سب سوالوں کا جواب ٹھیک طور پر دیدے تو حد قائم کریں گے۔ اور اگر قاضی کے سوا کسی اور کے سامنے اقرار کیا یا نشہ کی حالت میں کیا یا جس عورت کے ساتھ بتاتا ہے وہ عورت انکار کرتی ہے یا عورت جس مرد کو بتاتی ہے وہ مرد انکار کرتاہے یاوہ عورت گونگی یا مرد گونگا ہے یا وہ عورت کہتی ہے میرا اس کے ساتھ نکاح ہوا ہے یعنی جس وقت زنا کرنا بتاتا ہے اوس وقت میں اس کی زوجہ تھی
1 ۔یعنی قابل شہادت ہونے۔
2 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الحدو د،الباب الثانی فی الزنا، ج ۲، ص ۱۴۳، وغیرہ.
3 ۔'' البحر الرئق ''، کتاب الحدود ،ج۵ ،ص۹.
یا مرد کا عضو تناسل بالکل کٹا ہے یا عورت کا سوراخ بند ہے۔ غرض جس کے ساتھ زنا کا اقرار ہے وہ منکر ہے یا خود اقرار کرنے والے میں صلاحیت نہ ہو یا جس کے ساتھ بتاتا ہے اوس سے زنا میں حد نہ ہو تو ان سب صورتوں میں حدنہیں۔ (1)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۱۲: زنا کے بعد اگر ان دونوں کا باہم نکاح ہوا تو یہ نکاح حد کو دفع نہ کریگا۔ یوہیں اگرعورت کنیز تھی اور زنا کے بعد اوسے خریدلیا تو اس سے حد جاتی نہ رہے گی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: اگرایک ہی مجلس میں چار بار اقرار کیا تو یہ ایک اقرار قرار دیا جائیگا اور اگر چار دنوں میں یا چار مہینوں میں چار اقرار ہوئے تو حد ہے جبکہ اور شرائط بھی پائے جائیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: بہتر یہ ہے کہ قاضی اوسے یہ تلقین کرے کہ شاید تو نے بوسہ لیا ہوگا یا چھوا ہوگا یا شبہہ کے ساتھ وطی کی ہوگی یا تونے اوس سے نکاح کیا ہوگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: اقرار کرنے والے سے جب پوچھا گیا کہ تو نے کس عورت سے زنا کیا ہے تو اوس نے کہامیں پہچانتا نہیں یا جس عورت کا نام لیتا ہے وہ اس وقت یہاں موجود نہیں کہ اوس سے دریافت کیا جائے تو ایسے اقرار پر بھی حد قائم کرینگے۔ (5) (بحر)
مسئلہ ۱۶: قاضی کو اگر ذاتی علم ہے کہ اس نے زنا کیا ہے تو اس کی بنا پر حد نہیں قائم کرسکتا جب تک چارمردوں کی گواہیاں نہ گزریں یا زانی چاربار اقرار نہ کرلے۔ اور اگر کہیں دوسری جگہ اوس نے اقرار کیے اور اس اقرار کی شہادت قاضی کے پاس گزری تو اس کی بناپر حد نہیں۔(6) (بحر)
مسئلہ ۱۷: جب اقرار کرلے گا تو قاضی دریافت کریگا کہ وہ محصن ہے یا نہیں اگر وہ محصن ہونے کا بھی اقرار کرے تو احصان کے معنے پوچھے اگر بیان کردے تو رجم ہے اور اگر محصن ہونے سے انکار کیا اور گواہوں سے اوس کا محصن ہونا ثابت ہے جب بھی رجم ہے ورنہ دُرے مارنا۔ (7)(عالمگیری)
1 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الحدو د ، الباب الثانی فی الزنا، ج ۲، ص ۱۴۳.
و''الدرمختار''،کتاب الحدود،ج۶،ص۱۵،وغیرہما.
2 ۔'' الدر المختار''،کتاب الحدو د ،ج۶ ص ۱۶.
3 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الحدو د ، الباب الثانی فی الزنا، ج ۲، ص ۱۴۴.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''ا لبحر الرائق ''،کتاب الحدود ،ج ۵ ،ص ۱۲.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الفتا وی الھندیۃ''، کتاب الحدود، الباب الثانی فی الزنا ،ج ۲ ص ۱۴۳.
مسئلہ ۱۸: اقرار کرچکنے کے بعد اب انکار کرتا ہے حد قائم کرنے سے پہلے یادرمیان حدمیں یا اثنائے حد میں بھاگنے لگا یا کہتا ہے کہ میں نے اقرار ہی نہ کیا تھا تو اُسے چھوڑدینگے حد قائم نہ کرینگے اور اگر شہادت سے زنا ثابت ہوا ہوتو رجوع یا انکار یا بھاگنے سے حدموقوف نہ کریں گے۔ اور اگر اپنے محصن ہونے کا اقرار کیا تھا پھر اس سے رجوع کرگیا(1) تو رجم نہ کرینگے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۹: گواہوں سے زنا ثابت ہوا اور حد قائم کی جارہی تھی اثنائے حد میں بھاگ گیا تو اوسے دوڑ کر پکڑیں اگر فور ا ً مِل جائے تو بقیہ حد قائم کریں اور چند روز کے بعد ملا تو حد ساقط ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: رجم کی صورت یہ ہے کہ اوسے میدان میں لیجا کر اس قدر پتھر ماریں کہ مرجائے اور رجم کے لیے لوگ نماز کی طرح صفیں باندھ کر کھڑے ہوں جب ایک صف مارچکے تو یہ ہٹ جائے اب اور لوگ ماریں۔ اگر رجم میں ہر شخص یہ قصد کرے (4)کہ ایسا ماروں کہ مرجائے تو اس میں بھی حرج نہیں۔ ہاں اگر یہ اوس کا ذی رحم محرم ہے تو ایسا قصد کرنے کی اجازت نہیں اور اگر ایسے شخص کو جس پر رجم کا حکم ہو چکا ہے کسی نے قتل کر ڈالا یا اوس کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر نہ قصاص ہے نہ دیت مگر سزا دینگے کہ اس نے کیوں پیش قدمی کی۔ ہاں اگر حکمِ رجم سے پہلے ایسا کیا تو قصاص یا دیت واجب ہوگی۔ (5)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: اگر زنا گواہوں سے ثابت ہوا ہے تو رجم میں یہ شرط ہے کہ پہلے گواہ ماریں اگر گواہ رجم کرنے سے کسی وجہ سے مجبور ہیں مثلاً سخت بیمار ہیں یا اون کے ہاتھ نہ ہوں تو ان کے سامنے قاضی پہلے پتھر مارے اور اگر گواہ مارنے سے انکار کریں یا وہ سب کہیں چلے گئے یا مرگئے یا اون میں سے ایک نے انکار کیا یا چلاگیا یا مر گیا یا گواہی کے بعد ان کے ہاتھ کسی وجہ سے کاٹے گئے تو ان سب صورتوں میں رجم ساقط ہوگیا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: سب گواہوں میں یااون میں سے ایک میں کوئی ایسی بات پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے وہ اب اس قابل نہیں کہ گواہی قبول کی جائے مثلاً فاسق ہوگیا یا اندھا یا گونگا ہوگیا یا اوس پر تہمت زناکی حد ماری گئی
1 ۔یعنی اپنے محصن ہونے کے اقرار سے مکر گیا۔
2 ۔'' الد ر المختار''،کتاب الحدود ،ج۶،ص۱۶.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الحدو د ،الباب الثانی فی الزنا،ج۲،ص ۱۴۴.
4 ۔ ارادہ کرے۔
5 ۔ '' الدر المختار''، کتاب الحدود،ج۶ ،ص ۱۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الحدو د ،الباب الثانی فی الزنا،ج۲،ص ۱۴۵.
6 ۔ '' الدر المختار''، کتاب الحدود،ج۶ ،ص ۱۷.
اگر چہ یہ عیوب حکم رجم کے بعد پائے گئے تو رجم ساقط ہوجائیگا۔ یوہیں اگر زانی غیر محصن(1)ہو تو کوڑے مارنا بھی ساقط ہے اور گواہ مرگیا یا غائب ہوگیا تو دُرّے مارنے کی حد ساقط نہ ہوگی۔(2) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۳: گواہوں کے بعد بادشاہ پتھر ماریگا پھر اور لوگ اور اگر زنا کا ثبوت زانی کے اقرار سے ہواہو تو پہلے بادشاہ شروع کرے اوس کے بعد اور لوگ۔(3) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۴: اگر قاضی عادل فقیہ نے رجم کاحکم دیاہے تو اس کی ضرورت نہیں کہ جو لوگ حکم دینے کے وقت موجود تھے وہی رجم کریں بلکہ اگرچہ ان کے سامنے شہادت نہ گزری ہو رجم کرسکتے ہیں اور اگر قاضی اس صفت کا نہ ہو تو جب تک شہادت سامنے نہ گزری ہو یا فیصلہ کی تفتیش کرکے موافقِ شرع نہ پالے اوس وقت تک رجم جائز نہیں۔(4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: جس کو رجم کیا گیا، اوسے غسل و کفن دینا اور اوس کی نماز پڑھنا ضروری ہے۔(5) (تنویر)
مسئلہ ۲۶: اگر وہ شخص جس کا زنا ثابت ہو ا محصن نہ ہو تو اوسے دُرّے مارے جائیں، اگر آزاد ہے تو سو ۱۰۰ دُرّے اورغلام یا باندی ہے تو پچاس ۵۰ اور دُرّہ اس قسم کا ہو جس کے کنارہ پر گرہ نہ ہو نہ اُس کا کنارہ سخت ہو اگر ایسا ہو تو اوس کو کوٹ کر ملائم کرلیں اور متوسط طور پر ماریں، نہ آہستہ نہ بہت زور سے۔ نہ دُرّے کو سرسے اُونچا اٹھا کر مارے نہ بدن پر پڑنے کے بعد اوسے کھینچے بلکہ اُوپر کو اوٹھالے اور بدن پر ایک ہی جگہ نہ مارے، بلکہ مختلف جگہوں پر مگر چہرہ اور سر اور شرمگاہ پر نہ مارے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: دُرّہ مارنے کے وقت مرد کے کپڑے اوتارلیے جائیں مگر تہبند یا پاجامہ نہ اوتاریں کہ ستر ضرور ہے اور عورت کے کپڑے نہ اوتارے جائیں ہا ں پوستین(7) یا روئی بھرا ہواکپڑا پہنے ہو تو اسے اوتروالیں مگر جبکہ اوس کے نیچے کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو تو اسے بھی نہ اوتروائیں اور مرد کو کھڑا کرکے اور عورت کو بٹھا کر دُرّے ماریں۔ زمین پر لٹا کر نہ ماریں
1 ۔ جس نے نکاح صحیح کے ساتھ وطی نہ کی ہو۔
2 ۔'' الدر المختار''،کتاب الحدو د،ج ۶، ص ۱۷.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الحدود ،الباب الثانی فی الزنا،ج۲،ص ۱۴۶،وغیرہ.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الحدود ،الباب الثانی فی الزنا،ج۲،ص ۱۴۶.
و''رد المختار''،کتاب الحدود، مطلب الزنی شرعا...الخ، ج۶ ،ص ۱۹.
5 ۔''تنویر الابصار''،کتاب الحدو د،ج ۶،ص۲۰.
6 ۔'' الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الحدود، مطلب الزنی شرعا...الخ، ج ۶، ص۲۰.
7 ۔ چمڑے کاکوٹ۔
اور اگر مرد کھڑا نہ ہو تو اوسے ستون سے باندھ کر یا پکڑ کر کوڑے ماریں۔اور عورت کے لیے اگر گڑھا کھودا جائے تو جائز ہے یعنی جبکہ زنا گواہوں سے ثابت ہوا ہو اور مرد کے لیے نہ کھودیں۔(1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: اگر ایک دن پچاس کوڑے مارے دوسرے دن پھر پچاس مارے تو کافی ہیں اور اگر ہرروز ایک ایک یا دودو کوڑے مارے اور یوں مقدارپوری کی تو کافی نہیں۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوڑے بھی ماریں اور رجم بھی کریں اور یہ بھی نہیں کہ کوڑے مار کر کچھ دنوں کے لیے شہربدر کردیں۔ ہاں اگر حاکم کے نزدیک شہربدر کرنے میں کوئی مصلحت ہو تو کرسکتا ہے مگر یہ حد کے اندر داخل نہیں بلکہ امام کی جانب سے ایک علیحدہ سزا ہے۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: زانی اگر مریض ہے تو رجم کردینگے مگر کوڑے نہ مارینگے جب تک اچھا نہ ہوجائے ہاں اگر ایسا بیمار ہو کہ اچھے ہونے کی امید نہ ہو تو بیماری ہی کی حالت میں کوڑے ماریں مگر بہت آہستہ یا کوئی ایسی لکڑی جس میں سو (۱۰۰)شاخیں ہوں اوس سے ماریں کہ سب شاخیں اوس کے بدن پر پڑیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: عورت کو حمل ہو تو جب تک بچہ پیدا نہ ہولے حد قائم نہ کریں اور بچہ پیدا ہونے کے بعد اگر رجم کرنا ہے تو فوراً کر دیں، ہاں اگربچہ کی تربیت کرنیوالا کوئی نہ ہو تو دو۲برس بچہ کی عمر ہونے کے بعد رجم کریں اور اگر کوڑے مارنے کا حکم ہو تو نفاس کے بعد مارے جائیں۔ عورت کو حد کا حکم ہوا اور اوس نے اپنا حاملہ ہونا بیان کیا تو عورتیں اس کا معاینہ کریں اگر یہ کہہ د یں کہ حمل ہے تو دو۲برس تک قید میں رکھی جائے اگر اس درمیان میں بچہ پیدا ہوگیا تو وہی کریں جو اوپر مذکور ہوا اور بچہ پیدا نہ ہوا تو اب حد قائم کردیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: محصن ہونے کی سات ۷ شرطیں ہیں۔(۱)آزاد ہونا۔(۲)عاقل ہونا۔(۳)بالغ ہونا۔(۴)مسلمان ہونا۔(۵)نکاح صحیح ہونا۔(۶)نکاحِ صحیح کے ساتھ وطی ہونا۔(۷)میاں بی بی دونوں کا وقتِ وطی میں صفات مذکورہ کے ساتھ متصف ہونا۔ لہٰذا اگر باندی سے نکاح کیا ہے یا آزاد عورت نے غلام سے نکاح کیا تو محصن و محصنہ نہیں،
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الحدو د ،الباب الثانی فی الزنا،ج۲،ص ۱۴۶.
و'' الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الحدود ،مطلب الزنی شرعا ...الخ ،ج ۶، ص ۲۱.
2 ۔'' الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الحدود ،مطلب الزنی شرعا ...الخ ،ج ۶، ص ۲۱.
3 ۔'' الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الحدود ،مطلب فی الکلام علی السیاسۃ ،ج ۶، ص ۲۲.
4 ۔المر جع السابق ،ص ۲۴.
5 ۔المر جع السابق.
ہاں اگراوس کے آزاد ہونے کے بعد وطی واقع ہوئی تو اب محصن ہوگئے۔(1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳۳: مرد کے زنا پر چار گواہ گزرے اور وہ کہتا ہے کہ میں محصن نہیں حالانکہ اس کی عورت کے اس کے نکاح میں بچہ پیدا ہوچکا ہے تو رجم کیا جائے گا اور بی بی ہے مگر بچہ پیدا نہیں ہوا ہے تو جب تک گواہوں سے محصن ہونا ثابت نہ ہولے رجم نہ کرینگے۔ (2)(بحر)
مسئلہ ۳۴: مرتدہونے سے احصان جاتا رہتا ہے پھر اس کے بعد اسلام لایا تو جب تک دخول نہ ہو محصن نہ ہوگا۔ اور پاگل اور بوہراہونے سے بھی احصان جاتا رہتا ہے مگر ان دونوں میں اچھے ہونے کے بعد احصان لوٹ آئے گا اگرچہ افاقہ کی حالت میں وطی نہ کی ہو۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: محصن ہونے کا ثبوت دومرد یا ایک مرد دوعورتوں کی گواہی سے ہوجائیگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: محصن رہنے کے لیے نکاح کا باقی رہنا ضرور نہیں، لہٰذا نکاح کے بعد وطی کرکے طلاق دیدی تو محصن ہی ہے، اگرچہ عمر بھر مجرد (5) رہے۔ (6)(درمختار)
ترمذی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جہاں تک ہوسکے مسلمانوں سے حدود دفع کرو (یعنی اگر حدود کے ثبوت میں کوئی شبہہ ہو تو قائم نہ کرو، اگر کوئی راہ نکل سکتی ہو تو اوسے چھوڑ دو) کہ امام معاف کرنے میں خطا کرے، یہ اوس سے بہتر ہے کہ سزا دینے میں غلطی کرے۔'' (7)نیز ترمذی وائل بن حجر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت سے جبراً زنا کیا گیا۔ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے اوس عورت پر حد نہ لگائی اور اوس مرد پر حد قائم کی جس نے اوس کے ساتھ کیا تھا۔(8)
1 ۔'' الدر المختار''، کتاب الحدود ،ج۶،ص۲۵،وغیرہ.
2 ۔''البحر الرائق''، کتاب الحدود ،باب الشھادۃ علی الزنا ...الخ ،ج ۵،ص ۴۱.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ ''، کتاب الحدود ،الباب الثالث فی کیفیۃ الحد، ج ۲،ص۱۴۵.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔ یعنی شادی کے بغیر۔
6 ۔''الدر المختار''،کتاب الحدود،ج ۶ ،ص ۲۸.
7 ۔''سنن الترمذی''،کتاب الحدود،باب ماجاء فی درء الحدود،الحدیث:۱۴۲۹،ج۳،ص۱۱۵.
8 ۔المرجع السابق،باب ماجاء فی المرأۃاذااستُکرِھَت علی الزنا،الحدیث:۱۴۵۸،ج۳،ص۱۳۵.
مسئلہ ۱: یہ ہم اوپر بیان کر آئے کہ شبہہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ وطی حرام کی نسبت یہ کہتا ہے کہ میں نے اسے حلال گمان کیا تھا تو حد ساقط ہوجائیگی اور اگر اوس نے ایسا ظاہرنہ کیا تو حد قائم کی جائیگی اور اوس کا اعتبار صرف اوس شخص کی نسبت کیا جاسکتا ہے جس کو ایسا شبہہ ہوسکتا ہے اور جس کو نہیں ہوسکتا وہ اگر دعویٰ کرے تو مسموع نہ ہوگا اور اس میں گمان کا پایا جانا ضرورہے فقط وہم کافی نہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: اکراہ(2) کا دعویٰ کیا تو محض دعویٰ سے حد ساقط نہ ہوگی جب تک گواہوں سے یہ ثابت نہ کرلے کہ اکراہ پایاگیا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۳: جس عورت سے وطی کی گئی اُس میں مِلک کا شبہہ ہو تو حد قائم نہ ہوگی اگرچہ اوس کو حرام ہونے کا گمان ہو، جیسے(۱)اپنی اولاد کی باندی۔(۲)جس عورت کو الفاظ کنایہ سے طلاق دی اور وہ عدت میں ہو، اگرچہ تین طلاق کی نیت کی ہو۔(۳)بائع (4)کا بیچی ہوئی لونڈی سے وطی کرنا جبکہ مشتری (5)نے لونڈی پر قبضہ نہ کیا ہو بلکہ بیع اگر فاسد ہو تو قبضہ کے بعد بھی۔(۴)شوہر نے نکاح میں لونڈی کامَہر مقرر کیا اور ابھی وہ لونڈی عورت کو نہ دی تھی کہ اوس لونڈی سے وطی کی۔ (۵)لونڈی میں چند شخص شریک ہیں، اون میں سے کسی نے اوس سے وطی کی۔(۶)اپنے مکاتب کی کنیز (6)سے وطی کی۔(۷)غلام ماذون جو خود اور اوس کاتمام مال دَین میں مستغرق ہے(7)، اُس کی لونڈی سے وطی کی۔(۸)غنیمت میں جو عورتیں حاصل ہوئیں تقسیم سے پہلے اون میں سے کسی سے وطی کی۔ (۹)بائع کا اوس لونڈی سے وطی کرنا جس میں مشتری کو خیار(8) تھا۔ (۱۰)یا اپنی لونڈی سے استبرا سے قبل وطی کی۔(۱۱) یااوس لونڈی سے وطی کی جو اس کی رضاعی بہن ہے۔(۱۲) یا اوس کی بہن اس کے تصرف (9)میں ہے۔ (۱۳)یا اپنی اوس لونڈی سے وطی کی جو مجوسیہ(10) ہے۔(۱۴)یا اپنی زوجہ سے وطی کی(11) جو مرتدہ ہوگئی ہے یا اور کسی وجہ سے حرام ہوگئی، مثلاً اس کے بیٹے سے اوس کا تعلق ہوگیا یا اوس کی ماں یا بیٹی سے اس نے جماع کیا۔ (12)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔'' الفتاری الھندیۃ''،کتاب الحدو د،الباب الرابع فی الوطء الذی یوجب الحد ...الخ ،ج ۲،ص ۱۴۷.
2 ۔اس سے مراد اِکراہ شرعی ہے۔
3 ۔''الدر المختار''،کتاب الحدو د، باب الوطء الذی یوجب الحد ...الخ،ج ۶،ص ۲۹.
4 ۔ بیچنے والا۔
5 ۔ خریدار۔
6 ۔لونڈی۔
7 ۔ یعنی قرض تمام مال کوشامل ہو۔
8 ۔ اختیار۔
9 ۔قبضہ ، ملک،نکاح۔
10 ۔آگ کی پوجا کرنے والی۔
11 ۔جماع کیا۔
12 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب الوطء الذی یوجب...الخ،مطلب: فی بیان شبھۃ المحل،ج۶،ص۳۰۔۳۲.
مسئلہ ۴: شبہہ جب محل میں ہو تو حد نہیں ہے اگرچہ وہ جانتاہے کہ یہ وطی حرام ہے بلکہ اگرچہ اس کو حرام بتاتا ہو۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: شبہہ فعل اس کو شبہہ اشتباہ کہتے ہیں کہ محل تو مشتبہ نہیں، مگر اس نے اوس وطی کو حلال گمان کرلیا تو جب ایسا دعویٰ کریگا تو دونوں میں کسی پر حد قائم نہ ہوگی اگرچہ دوسرے کو اشتباہ نہ ہو، مثلاً (۱)ماں باپ کی لونڈی سے وطی کی یا(۲) عورت کو صریح لفظوں میں تین طلاقیں دیں اور زمانہ عدت میں اوس سے وطی کی خواہ ایک لفظ سے تین طلاقیں دیں یا تین لفظوں سے۔ ایک مجلس میں یا متعدد مجلسوں میں۔(۳) یا اپنی عورت کی باندی یا(۴)مولیٰ کی باندی سے وطی کی یا (۵)مرتہن(2) نے اُس لونڈی سے وطی کی جو اس کے پاس گروی ہے یا(۶) دوسرے کی لونڈی اس لیے عاریۃً لایا تھا کہ اوس کو گروی رکھے گا اور اوس سے وطی کی یا(۷) عورت کو مال کے بدلے میں طلاق دی یا مال کے عوض خلع کیا، اُس سے عدت میں وطی کی یا(۸)ام ولد کو آزاد کردیا اور زمانہعدت میں اوس سے وطی کی، ان سب میں حد نہیں جبکہ دعویٰ کرے کہ میرے گمان میں وطی حلال تھی اور اگر اس قسم کی وطی ہوئی اور وہ کہتا ہے کہ میں حرام جانتا تھا اور دوسرا موجود نہیں کہ اوس کا گمان معلوم ہوسکے توجو موجود ہے، اوس پر حد قائم کی جائے گی۔ (3)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۶: بھائی یا بہن یا چچا کی لونڈی یا خدمت کے لیے کسی کی لونڈی عاریۃً لایا تھایا نوکر رکھ کر لایا تھا یا اس کے پاس امانۃًتھی اوس سے وطی کی تو حد ہے اگرچہ حلال ہونے کا دعویٰ کرتا ہو۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: نکاح کے بعد پہلی شب میں جو عورت رخصت کرکے اس کے یہاں لائی گئی اور عورتوں نے بیان کیا کہ یہ تیری بی بی ہے اس نے وطی کی بعد کو معلوم ہوا کہ بی بی نہ تھی تو حد نہیں۔(5)(درمختار)یعنی جبکہ پیشتر سے(6) یہ اوس عورت کو نہ پہچانتا ہو جس کے ساتھ نکاح ہوا ہے اور اگر پہچانتا ہے اور دوسری عورت اس کے پاس لائی گئی
1 ۔'' رد المحتار''،کتاب الحدود،مطلب الزنی شرعا...الخ ،ج ۶، ص۹.
2 ۔جس کے پاس گروی رکھی ہے۔
3 ۔ ''الدرالمختار''کتاب الحدود، باب الوطء الذی یوجب الحد ...الخ، ج۶، ص۳۳۔۳۵.
و'' الفتاری الھندیۃ''، کتاب الحدود،الباب الرابع فی الوطء الذی یوجب الحد ...الخ ،ج ۲،ص ۱۴۸.
4 ۔'' الفتاری الھندیۃ''، کتاب الحدود،الباب الرابع فی الوطء الذی یوجب الحد ...الخ ،ج ۲،ص ۱۴۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحدود ،ج ۶ ،ص ا۴.
6 ۔ پہلے سے۔
تواون عورتوں کا قول کس طرح اعتبار کریگا۔ یوہیں اگر عورتیں نہ کہیں مگر سُسرال والوں نے جس عورت کو اوس کے یہاں بھیج دیا ہے اُس میں بیشک یہی گمان ہوگا کہ اسی کے ساتھ نکاح ہوا ہے جبکہ پیشتر سے دیکھا نہ ہو اور بعض واقعے ایسے ہوئے بھی ہیں کہ ایک گھر میں دوبراتیں آئیں اور رخصت کے وقت دونوں بہنیں بدل گئیں اوس کی اوس کے یہاں اوسکی اس کے یہاں آگئی لہٰذا یہ اشتباہ ضرور معتبر ہوگا واﷲ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۸: شبہہ عقد یعنی جس عورت سے نکاح نہیں ہوسکتا اوس سے نکاح کرکے وطی کی مثلاً دوسرے کی عورت سے نکاح کیا یا دوسرے کی عورت ابھی عدّت میں تھی اوس سے نکاح کیا تو اگرچہ یہ نکاح نکاح نہیں مگر حد ساقط ہوگئی، مگر اسے سزا دی جائے گی۔ یوہیں اگر اوس عورت کے ساتھ نکاح تو ہوسکتا ہے مگر جس طرح نکاح کیا وہ صحیح نہ ہوا مثلاً بغیرگواہوں کے نکاح کیاکہ یہ نکاح صحیح نہیں مگر ایسے نکاح کے بعد وطی کی تو حد ساقط ہوگئی۔ (1)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۹: اندھیری رات میں اپنے بستر پر کسی عورت کو پایا اور اوسے زوجہ گمان کرکے وطی کی حالانکہ وہ کوئی دوسری عورت تھی تو حد نہیں۔ یوہیں اگر وہ شخص اندھا ہے اور اپنے بستر پر دوسری کو پایا اور زوجہ گمان کرکے وطی کی اگر چہ دن کا وقت ہے توحد نہیں۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: عاقل بالغ نے پاگل عورت سے وطی کی یا اتنی چھوٹی لڑکی سے وطی کی، جس کی مثل سے جماع کیا جاتا ہو یاعورت سو رہی تھی اوس سے وطی کی تو صرف مرد پر حد قائم ہوگی، عورت پر نہیں۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: مرد نے چوپایہ سے وطی کی یا عورت نے بندر سے کرائی تو دونوں کو سزا دینگے اور اوس جانور کو ذبح کرکے جلادیں، اوس سے نفع اوٹھانا مکروہ ہے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: اغلام یعنی پیچھے کے مقام میں وطی کی تو اس کی سزا یہ ہے کہ اوس کے اوپر دیوار گرا دیں یا اونچی جگہ سے اوسے اوندھا کرکے گرائیں اور اوس پر پتھر برسائیں یا اوسے قید میں رکھیں یہاں تک کہ مرجائے یا توبہ کرے یا چند بار ایسا کیا ہو تو بادشاہ اسلام اوسے قتل کر ڈالے۔الغرض یہ فعل نہایت خبیث ہے بلکہ زنا سے بھی بدتر ہے، اسی وجہ سے اس میں حد نہیں
1 ۔''الدر المختار''،کتاب الحدود ،ج۶،ص۳۶۔۳۸،وغیرہ.
2 ۔''رد المختار''،کتاب الحدود،باب الوطء الذی یوجب الحد ...الخ،مطلب اذا استحل المحرم ...الخ، ج ۶،ص۴۰.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود، الباب الرابع فی الوطء ...الخ ج۲، ص ۱۴۹.
4 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود، باب الوطء الذی یوجب الحد ...الخ،مطلب فی وطء البھیمۃ، ج۶،ص۴۱.
کہ بعضوں کے نزدیک حد قائم کرنے سے اوس گناہ سے پاک ہوجاتاہے اور یہ اتنا برا ہے کہ جب تک توبہ خالصہ نہ ہو، اس میں پاکی نہ ہوگی اور اغلام کو(1) حلال جاننے والا کافر ہے، یہی مذہب جمہور ہے۔ (2)(درمختار، بحر وغیرہما)
مسئلہ ۱۳: کسی کی لونڈی غصب کرلی اور اوس سے وطی کی پھر اوس کی قیمت کا تاوان دیا تو حد نہیں اور اگر زنا کے بعد غصب کی اور تاوان دیا تو حد ہے۔ یوہیں اگر زنا کے بعد عورت سے نکاح کرلیا تو حد ساقط نہ ہوگی۔ (3)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱: جوامرموجب حد ہے وہ بہت پہلے پایاگیا اور گواہی اب دیتا ہے تو اگر یہ تاخیر کسی عذر کے سبب ہے مثلاً بیمار تھا یا وہاں سے کچہری دورتھی یا اوس کو خوف تھا یا راستہ اندیشہ ناک (4) تھا تو یہ تاخیر مضر(5)نہیں یعنی گواہی قبول کرلی جائے گی اور اگر بلا عذر تاخیر کی تو گواہی مقبول نہ ہو گی مگر حدِ قذف (6)میں اگر چہ بلاعذر تاخیر ہو گواہی مقبول ہے اور چوری کی گواہی دی اور تمادی ہوچکی ہے(7)تو حد نہیں مگر چور سے تاوان دلوائیں گے۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۲: اگر وہ مجرم خود اقرار کرے تو اگر چہ تما دی ہوگئی ہو حد قائم ہوگی مگر شراب پینے کا اقرار کرے اور تمادی ہو تو حد نہیں۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۳: شراب پینے کے بعد اتنا زمانہ گزرا کہ مونھ سے بُو اُڑ گئی تو تمادی ہوگئی اور اس کے علاوہ اور وں میں تمادی جب ہوگی کہ ایک مہینہ کا زمانہ گزر جائے۔(10) (تنویر)
1 ۔یعنی پیچھے کے مقام میں وطی کرنے کو۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود، باب الوطء الذی یوجب الحد ...الخ، ج۶، ص۴۵.
و''البحرالرائق''،کتاب الحدود،باب الوطء الذی یوجب الحد ...الخ، ج۵،ص۲۷،۲۸،وغیرہما.
3 ۔''الدرالمختار''، کتاب الحدود، باب الوطء الذی یوجب الحد ...الخ، ج۶، ص۴۸.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الحادی عشرفیمایلحق العبد المغصوب...إلخ،ج۵،ص۱۴۵.
4 ۔ خطرناک۔
5 ۔نقصان دہ۔
6 ۔تہمتِ زناکی حد۔
7 ۔یعنی اتنی مدت گزر چکی ہے جس کے بعد حد نافذ نہیں ہوتی۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنی والرجوع عنھا،ج۶،ص۵۰.
9 ۔المرجع السابق .
10 ۔''تنویر الأبصار''،کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنی والرجوع عنھا،ج۶،ص۵۱.
مسئلہ ۴: تمادی عارض ہونے کے بعد چار گواہوں نے زنا کی شہادت دی تو نہ زانی پر حد ہے، نہ گواہوں پر۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: گواہی دی کہ اس نے فلاں عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اور وہ عورت کہیں چلی گئی ہے تو مرد پر حد قائم کرینگے۔ یوہیں اگر زانی خود اقرار کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں وہ کون عورت تھی تو حد قائم کی جائے گی۔ اور اگر گواہوں نے کہا معلوم نہیں وہ کون عورت تھی تو نہیں۔ اور اگر گواہوں نے بیان کیا کہ اس نے چوری کی مگر جس کی چوری کی وہ غائب ہے تو حد نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۶: چار گواہوں نے شہادت دی کہ فلاں عورت کے ساتھ اس نے زنا کیا ہے مگر دونے ایک شہر کا نا م لیا کہ فلاں شہر میں اور دو نے دوسرے شہر کا نام لیا۔ یا دو کہتے ہیں کہ اس نے جبراً زنا کیا ہے اور دو کہتے کہ عورت راضی تھی۔ یا دو۲نے کہا کہ فلاں مکان میں اور دو نے دوسرا مکان بتایا۔ یا دو نے کہا مکان کے نیچے والے درجہ میں زنا کیا اور دوکہتے ہیں بالاخانہ پر۔ یا دو نے کہا جمعہ کے دن زنا کیا اور دوہفتہ کا دن بتاتے ہیں۔ یا دو نے صبح کا وقت بتایا اور دونے شام کا۔ یا دو ایک عورت کو کہتے اور دو دوسری عورت کے ساتھ زنا ہونا بیان کرتے ہیں۔ یا چاروں ایک شہر کا نام لیتے ہیں اور چار دوسرے دوسرے شہر میں زنا ہونا کہتے ہیں اور جو دن تاریخ وقت اون چاروں نے بیان کیا وہی دوسرے چاربھی بیان کرتے ہیں تو ان سب صورتوں میں حد نہیں، نہ ان پر نہ گواہوں پر۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: مردو عورت کے کپڑوں میں گواہوں نے اختلاف کیا کوئی کہتا ہے فلاں كپڑا پہنے ہوئے تھا اور کوئی دوسرے کپڑے کا نام لیتا ہے۔ یا کپڑوں کے رنگ میں اختلاف کیا۔ یا عورت کو کوئی دبلی بتاتا ہے کوئی موٹی یا کوئی لمبی کہتاہے اور کوئی ٹھنگنی (4) تو اس اختلاف کا اعتبار نہیں یعنی حد قائم ہوگی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: چارگواہوں نے شہادت دی کہ اس نے فلاں دن تاریخ وقت میں فلاں شہر میں فلاں عورت سے زنا کیا اور چار کہتے ہیں كہ اوسی دن تاریخ وقت میں اس نے فلاں شخص کو (دوسرے شہر کا نام لیکر) فلاں شہر میں قتل کیاتو نہ زنا کی حد قائم ہوگی نہ قصاص۔
1 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنیٰ...إلخ،ج۶،ص۵۱.
2 ۔''الدرالمختار''، کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنی والرجوع عنھا،ج۶،ص۵۱.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب الخامس فی الشھادۃ علی الزناوالرجوع عنھا،ج۲،ص۱۵۲،۱۵۳.
4 ۔چھوٹے قدوالی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب الخامس فی الشھادۃ علی الزناوالرجوع عنھا،ج۲،ص۱۵۳.
یہ اوس وقت ہے کہ دونوں شہادتیں ایک ساتھ گزریں اور اگر ایک شہادت گزری اور حاکم نے اوس کے مطابق حکم کر دیا، اب دوسری گزری تو دوسری باطل ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: چار گواہوں نے زنا کی شہادت دی تھی اور ان میں ایک شخص غلام یا اندھا یا نابالغ یا مجنون ہے یا اوس پر تہمت زنا کی حد قائم ہوئی ہے یا کافر ہے تو اوس شخص پر حد نہیں مگر گواہوں پر تہمت زنا کی حد قائم ہوگی۔ اور اگر ان کی شہادت کے بنا پر حدقائم کی گئی بعد کو معلوم ہوا کہ ان میں کوئی غلام یا محدود فی القذف وغیرہ ہے جب بھی گواہوں پر حد قائم کی جائے گی اور اوس شخص پر جو کوڑے مارنے سے چوٹ آئی بلکہ مر بھی گیا اس کا کچھ معاوضہ نہیں اور اگر رجم کیا بعد کو معلوم ہوا کہ گواہوں میں کوئی شخص ناقابل شہادت تھا تو بیت المال سے دیت دینگے۔ (2)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۰: رجم کے بعد ایک گواہ نے رجوع کی تو صرف اسی پر حدِ قذف جاری کرینگے اور اسے چوتھائی دیت دینی ہوگی اور رجم سے پہلے رجوع کی تو سب پر حدِ قذف قائم ہوگی اور اگر پانچ گواہ تھے اور رجم کے بعد ایک نے رجوع کی تو اس پر کچھ نہیں اور اون چار باقیوں میں ایک نے اور رجوع کی تو ان دونوں پر حدِ قذف ہے اور چوتھائی دیت دونوں ملکر دیں اگر پھر ایک نے رجوع کی تو اس اکیلے پر پوری چوتھائی دیت ہے اور اگر سب رجوع کر جائیں تو دیت کے پانچ حصے کریں، ہر ایک ایک ایک حصہ دے۔(3) (بحر)
مسئلہ ۱۱: جس شخص نے گواہوں كا تزکیہ کیا(4) وہ اگر رجوع کرجائے یعنی کہے میں نے قصداً جھوٹ بولا تھا واقع میں گواہ قابل شہادت نہ تھے تو مرجوم (5)کی دیت اوسے دینی پڑے گی اور اگر وہ اپنے قول پر اڑا ہے یعنی کہتا ہے کہ گواہ قابل شہادت ہیں مگر واقع میں قابل شہادت نہیں تو بیت المال سے دیت دی جائے گی اور گواہوں پر نہ دیت ہے نہ حد قذف۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: گواہوں کا تزکیہ ہوا (7)اور رجم کردیا گیا بعد کومعلوم ہوا کہ قابل شہادت نہ تھے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب الخامس فی الشھادۃ علی الزناوالرجوع عنھا،ج۲،ص۱۵۳.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنٰی ...إلخ،ج۶،ص۵۲،۵۳.
و''البحرالرائق''کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنٰی ...إلخ،ج۵،ص۳۷،۳۸.
3 ۔ ''البحرالرائق''کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنٰی ...إلخ،ج۵،ص۳۸،۳۹.
4 ۔ عادل ومعتبرہونے کی تحقیق کی۔
5 ۔ جسے رجم کیاگیاہو۔
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنٰی ...إلخ،ج۶،ص۵۵.
7 ۔بہارشریعت کے تمام نسخوں میں یہاں عبارت ایسے ہی مذکورہے،غالباًیہاں کتابت کی غلطی ہے کیونکہ '' درمختار میں اس مقام پر''لم یزک الشھود'' یعنی ''گواہوں کاتزکیہ نہ ہوا''مذکورہے ۔...عِلْمِیہ
تو بیت المال سے دیت دی جائے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: گواہوں نے بیان کیا کہ ہم نے قصداً اوس طرف نظر کی تھی تو اس کی وجہ سے فاسق نہ ہونگے اور گواہی مقبول ہے کہ اگرچہ دوسرے کی شرمگاہ کی طرف دیکھنا حرا م ہے مگر بضرورت جائز ہے، لہٰذا بغرض ادائے شہادت جائز ہے جیسے دائی اور ختنہ کرنے والے اور عمل دینے والے(2) اور طبیب کو بوقت ضرورت اجازت ہے اور اگر گواہوں نے بیان کیا کہ ہم نے مزہ لینے کے لیے نظر کی تھی تو فاسق ہوگئے اور گواہی قابل قبول نہیں۔ (3)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۴: مرد اپنے محصن ہونے سے انکار کرے تو دومرد یا ایک مرد اور دوعورتوں کی شہادت سے احصان ثابت ہوگا یا اوس کے بچہ پیدا ہوچکا ہے جب بھی محصن ہے اور اگر خلوت ہوچکی ہے اور مرد کہتا ہے کہ میں نے زوجہ سے وطی کی ہے مگر عورت انکار کرتی ہے تو مرد محصن ہے اور عورت نہیں۔(4) (درمختار)
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجْتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیۡسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلْ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾وَاَطِیۡعُوا اللہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَاحْذَرُوۡا ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمْ فَاعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیۡنُ ﴿۹۲﴾ ) (5)
اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور تیروں سے فال نکالنا یہ سب ناپاکی ہیں، شیطان کے کاموں سے ہیں، ان سے بچو تاکہ فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کی وجہ سے تمھارے اندر عداوت اور بغض ڈالدے اور تم کو اﷲ (عزوجل) کی یاد اور نماز سے روک دے تو کیا تم ہو باز آنے والے اور اطاعت کرو اﷲ (عزوجل) کی اور رسول کی اطاعت کرو
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحدود،باب الشھادۃعلی الزناوالرجوع عنھا، ج۶،ص۵۶.
2 ۔ یعنی حقنہ کرنے والے۔
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنٰی ...إلخ،ج۶،ص۵۶،۵۷.
و''البحرالرائق''،کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنٰی ...إلخ،ج۵،ص۴۰،۴۱.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب الشھادۃ علی الزنٰی ...إلخ،ج۶،ص۵۷.
5 ۔ پ۷، المائدۃ:۹۰۔۹۲.
اور پرہیز کرو اور اگر تم اعراض کرو گے تو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف صاف طور پہنچا دینا ہے۔
شراب پینا حرام ہے اور اس کی وجہ سے بہت سے گناہ پیدا ہوتے ہیں، لہٰذا اگر اس کو معاصی(1) اور بے حیائیوں کی اصل کہا جائے تو بجا ہے۔ احادیث میں اس کے پینے پر نہایت سخت وعیدیں آئی ہیں، چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔
حدیث ۱: ترمذی و ابو داود و ابن ماجہ جابر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ لائے، وہ تھوڑی بھی حرام ہے۔'' (2)
حدیث ۲: ابو داود ام سلمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے مسکر اور مفتر (یعنی اعضا کو سست کرنے والی، حواس کو کند کرنے والی مثلاً افیون) سے منع فرمایا۔ (3)
حدیث ۳: بخاری و مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی و بیہقی ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہر نشہ والی چیز خمر ہے (یعنی خمر کے حکم میں ہے) اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے اور جو شخص دُنیا میں شراب پیے اور اوس کی مداومت کرتا ہوا مرے اور توبہ نہ کرے، وہ آخرت کی شراب نہیں پیے گا۔'' (4)
حدیث ۴ـ: صحیح مسلم میں جابر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ''ہر نشہ والی چیز حرام ہے، بیشک اﷲتعالیٰ نے عہد کیاہے کہ جو شخص نشہ پیے گا اوسے طینۃ الخبال سے پلائیگا۔'' لوگوں نے عرض کی، طینۃ الخبال کیا چیز ہے؟ فرمایا کہ ''جہنمیوں کا پسینہ یا اون کا عصارہ (نچوڑ)۔'' (5)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں ہے کہ طارق بن سوید رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے شراب کے متعلق سوال کیا حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے منع فرمایا۔ اونھوں نے عرض کی، ہم تو اوسے دوا کے لیے بناتے ہیں فرمایا: ''یہ دوا نہیں ہے، یہ تو خود بیماری ہے۔'' (6)
1 ۔ یعنی گناہوں۔
2 ۔''جامع الترمذي''، ابواب الاشربۃ، باب ماجاء ما اسکر کثیرہ ... إلخ، الحدیث: ۱۸۷۲، ج۳، ص۳۴۳.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الاشربۃ ،باب النھی عن المسکر، الحدیث: ۳۶۸۶، ج۳، ص۴۶۱.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الاشربۃ، باب بیان ان کل مسکر خمرا ... إلخ، الحدیث: ۷۳۔(۲۰۰۳)، ص۱۱۰۹.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الاشربۃ، باب بیان ان کل مسکر خمرا ... إلخ، الحدیث: ۷۲۔(۲۰۰۲)، ص۱۱۰۹.
6 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الاشربۃ، باب تحریم التداوی بالخمر... إلخ، الحدیث: ۱۲۔(۱۹۸۴)، ص۱۰۹۷.
حدیث ۶: ترمذی نے عبداﷲ بن عمر اور نسائی و ابن ماجہ و دارمی نے عبدا للہ بن عمرو رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص شراب پیے گا، اوس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی پھر اگر توبہ کرے تو اﷲ (عزوجل) اوس کی توبہ قبول فرمائیگا پھر اگر پیے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو قبول ہے پھر اگر پیے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو اﷲ (عزوجل) قبول فرمائیگا پھر اگر چوتھی مرتبہ پیے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اب اگر توبہ کرے تو اﷲ (عزوجل) اوس کی توبہ قبول نہیں فرمائیگا اور نہر خبال سے اوسے پلائیگا۔'' (1)
حدیث ۷: ابو داود نے ویلم حمیری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں میں نے عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) ہم سرد ملک کے رہنے والے ہیں اور سخت سخت کام کرتے ہیں اور ہم گیہوں (2)کی شراب بناتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں کام کرنے کی قوت حاصل ہوتی ہے اور سردی کا اثر نہیں ہوتا۔ ارشاد فرمایا: ''کیا اُس میں نشہ ہوتا ہے؟'' عرض کی، ہاں۔ فرمایا: ''تو اس سے پرہیز کرو۔''میں نے عرض کی، لوگ اسے نہیں چھوڑینگے۔ فرمایا: ''اگر نہ چھوڑیں تو اُ ن سے قتال کرو۔'' (3)
حدیث ۸: دارمی نے عبداﷲبن عمرو رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا:''والدین کی نافرمانی کرنے والا اور جوا کھیلنے والا اور احسان جتانے والا اور شراب کی مداومت کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔'' (4)
حدیث ۹: امام احمد نے ابوامامہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:''قسم ہے میری عزت کی! میرا جو بندہ شراب کی ایک گھونٹ بھی پیے گا، میں اوسکو اوتنی ہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اوسے چھوڑے گا، میں اوس کو حوض قدس(5) سے پلاؤں گا۔''(6)
حدیث ۱۰: امام احمد و نسائی و بزار و حاکم ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)نے فرمایا:''تین شخصوں پر اﷲ (عزوجل) نے جنت حرام کردی۔ شراب کی مداومت کرنے والا اور والدین کی نافرمانی کرنے والا
1 ۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الاشربۃ ، باب ماجاء في شارب الخمر، الحدیث: ۱۸۶۹، ج۳، ص۳۴۲.
2 ۔گندم۔
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الاشربۃ، باب النھی عن السکر، الحدیث: ۳۶۸۳،ج۳، ص۴۶۰.
4 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الحدود، باب بیان الخمر ...إلخ، الحدیث: ۳۶۵۳، ج۲، ص۳۳۰.
5 ۔اس سے مراد جنت کے حوض ہیں جن میں حوضِ کوثر بھی داخل ہے۔...علمیہ
6 ۔''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث ابی امامۃ الباہلی، الحدیث: ۲۲۲۸۱، ج۸، ص۲۸۶.
اور دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کی بات دیکھے اور منع نہ کرے۔'' (1)
حدیث ۱۱: امام احمد و ابو یعلیٰ و ابن حبان و حاکم نے ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''تین شخص جنت میں داخل نہ ہونگے۔ شراب کی مداومت کرنے والا اور قاطع رحم اور جادو کی تصدیق کرنے والا۔'' (2)
حدیث ۱۲: امام احمد نے ابن عباس سے اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''شراب کی مداومت کرنے والا مرے گا تو خدا سے ایسے ملے گا جیسا بت پرست۔'' (3)
حدیث ۱۳: ترمذی و ابن ماجہ نے انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس ۱۰ شخصوں پرلعنت کی۔ (۱) بنانے والا اور (۲)بنوانے والا اور(۳)پینے والا اور(۴)اُٹھانے والااور(۵)جس کے پاس اُٹھاکر لائی گئی اور(۶)پلانے والا اور(۷)بیچنے والا اور(۸)اس کے دام (4)کھانے والا اور(۹)خرید نے والا اور (۱۰(جس کے لیے خریدی گئی۔ (5)
حدیث ۱۴: طبرانی ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو شخص اﷲ (عزوجل) اور قیامت کے دن پر ایمان لاتا ہے، وہ شراب نہ پیے اور جو شخص اﷲ (عزوجل) اور قیامت کے دن پر ایمان لاتا ہے، وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب پی جاتی ہے۔'' (6)
حدیث ۱۵: حاکم نے ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''شراب سے بچو کہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے۔'' (7)
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمر، الحدیث: ۵۳۷۲، ج۲، ص۳۵۱.
اس حدیث کے تحت مفتی احمدیا رخان علیہ رحمۃ المنان تحریر فرماتے ہیںــ:'' بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں خبیث سے مراد زنا اور اسبابِ زناہیں یعنی جو اپنی بیوی بچوں کے زنا یا بے حیائی ،بے پردگی اجنبی مردوں سے اختلاط ،بازاروں میں زینت سے پھرنا، بے حیائی کے گانے ناچ وغیرہ دیکھ کر باوجود قدرت کے نہ روکے وہ بے حیا دیُّوث ہے مگر مرقات نے یہاں فرمایا کہ تمام بے غیرتی کے گناہ اس میں شامل ہیں جیسے شراب نوشی،غسلِ جنابت نہ کرنا دیگر اس قسم کے جُرم،اللہ تعالیٰ دینی غیرت دے۔
(''مرقاۃ المفاتیح''،ج ۷، ص۲۴۱تحت الحدیث:۳۶۵۵،''مرآۃ المناجیح'' ، ج۵، ص۳۳۷)
2 ۔''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث ابی موسی الاشعری، الحدیث: ۱۹۵۸۶، ج۷، ص۱۳۹.
3 ۔''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن العباس، الحدیث: ۲۴۵۳، ج۱،ص۵۸۳.
4 ۔ قیمت۔
5 ۔''جامع الترمذي''، کتاب البیوع، باب النھی ان یتخذ خلا، الحدیث: ۱۲۹۹، ج۳،ص۴۷.
6 ۔ ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۱۱۴۶۲، ج ۱۱، ص۱۵۳.
7 ۔ ''المستدرک للحاکم''، کتاب الاشربۃ، باب اجتنبو الخمر ...إلخ، الحدیث: ۷۳۱۳، ج۵، ص۲۰۱.
حدیث ۱۶: ابن ماجہ و بیہقی ابودرداء رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں مجھے میرے خلیل صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی: کہ ''خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا، اگرچہ ٹکڑے کر دیے جاؤ، اگرچہ جلا دیے جاؤ اور نماز فرض کو قصداً (1)ترک نہ کرنا کہ جو شخص اسے قصداً چھوڑے، اوس سے ذمہ بری ہے اور شراب نہ پینا کہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے۔'' (2)
حدیث ۱۷: ابن حبان و بیہقی حضرت عثمان رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ام الخبائث(شراب) سے بچو کہ گزشتہ زمانہ میں ایک شخص عابد تھا اور لوگوں سے الگ رہتا تھا ایک عورت اُس پر فریفتہ (3)ہوگئی اس نے اوس کے پاس ایک خادمہ کو بھیجا کہ گواہی کے لیے اوسے بُلا کر لا، وہ بُلا کر لائی، جب مکان کے دروازوں میں داخل ہوتا گیا خادمہ بند کرتی گئی جب اندر کے مکان میں پہنچا دیکھا کہ ایک خوبصورت عورت بیٹھی ہے اور اوس کے پاس ایک لڑکا ہے اور ایک برتن میں شراب ہے، اس عورت نے کہا میں نے تجھے گواہی کے لیے نہیں بلایا ہے بلکہ اس لیے بلایا ہے کہ یا اس لڑکے کو قتل کر یا مجھ سے زنا کر یا شراب کا ایک پیالہ پی اگر تو ان باتوں سے انکار کرتاہے تو میں شور کروں گی اور تجھے رسوا کر دونگی۔ جب اوس نے دیکھا کہ مجھے ناچار کچھ کرنا ہی پڑیگا کہا، ایک پیالہ شراب کا مجھے پلا دے جب ایک پیالہ پی چکا تو کہنے لگا اور دے جب خوب پی چکا تو زنا بھی کیا اور لڑکے کو قتل بھی کیا، لہٰذا شراب سے بچو۔ خدا کی قسم! ایمان اور شراب کی مداومت مرد کے سینہ میں جمع نہیں ہوتے، قریب ہے کہ اون میں کا ایک دوسرے کو نکال دے۔ (4)
حدیث ۱۸: ابن ماجہ و ابن حبان ابو مالک اشعری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ ''میری امت میں کچھ لوگ شراب پئیں گے اور اوس کا نام بدل کر کچھ اور رکھیں گے اور اون کے سروں پر باجے بجائے جائیں گے اور گانے والیاں گائیں گی یہ لوگ زمین میں دھنسا دیے جائیں گے اور ان میں کے کچھ لوگ بندر اور سوئربنا دیے جائیں گے۔'' (5)
حدیث ۱۹: ترمذی و ابو داودنے معاویہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:''جوشراب پیے، اُسے کوڑے مارو اور اگر چوتھی مرتبہ پھر پیے تو اسے قتل کر ڈالو۔''اور یہ حدیث جابر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ چوتھی بار حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)کی خدمت میں شراب خوار(6) لایا گیا، اُسے کوڑے مارے
۔
1 ۔ جان بوجھ کر۔
2 ۔''سنن ابن ماجہ''، أبواب الفتن، باب الصبر علی البلائ، الحدیث: ۴۰۳۴، ج۴،ص۳۷۶.
3 ۔ عاشق۔
4 ۔''صحیح ابن حبان ''،کتاب الاشربۃ، فصل فی الاشربۃ، الحدیث: ۵۳۲۴، ج۷، ص۳۶۷.
5 ۔''سنن ابن ماجہ''، أبواب الفتن، باب العقوبات، الحدیث: ۴۰۲۰، ص۲۷۱۹.
6 ۔ شراب پینے والا۔
اورقتل نہ کیا یعنی قتل کرنا منسوخ ہے۔ (1)
حدیث ۲۰: بخاری و مسلم انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے شراب کے متعلق شاخوں اور جوتیوں سے مارنے کا حکم دیا۔ (2)
حدیث ۲۱: صحیح بخاری میں سائب بن یزید رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے مروی، کہتے ہیں کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)کے زمانہ میں اور حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت میں اور حضرت عمر کے ابتدائی زمانہ خلافت میں شرابی لایا جاتا، ہم اپنے ہاتھوں اور جوتوں اور چادروں سے اوسے مارتے پھر حضرت عمر نے چالیس کوڑے کا حکم دیا پھر جب لوگوں میں سرکشی ہوگئی تو اَسی ۸۰ کوڑے کا حکم دیا۔ (3)
حدیث ۲۲: امام مالک نے ثوربن زید رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ نے حدِ خمر(4)کے متعلق صحابہ سے مشورہ کیا۔ حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا: کہ میری رائے یہ ہے کہ اسے اَسی ۸۰ کوڑے مارے جائیں کیونکہ جب پیے گا نشہ ہوگا اور جب نشہ ہوگا، بیہودہ بکے گا اور جب بیہودہ بکے گا، افترا کریگا، لہٰذا حضرت عمر رضی اﷲعنہ نے اَسی ۸۰ کوڑوں کا حکم دیا۔ (5)
مسئلہ ۱: مسلمان ،عاقل ،بالغ، ناطق، غیر مضطر(6) بلا اکراہ شرعی(7) خمر(8) کا ایک قطرہ بھی پیے تو اوس پر حد قائم کی جائے گی جبکہ اوسے اس کا حرام ہونا معلوم ہو۔ کافر یامجنون یا نابالغ یا گونگے نے پی تو حد نہیں۔ یوہیں اگر پیاس سے مرا جاتا تھا اور پانی نہ تھا کہ پی کر جان بچاتا اور اتنی پی کہ جان بچ جائے تو حد نہیں اور اگر ضرورت سے زیادہ پی تو حدہے۔ یوہیں اگر کسی نے شراب پینے پرمجبور کیا یعنی اکراہ شرعی پایا گیاتوحد نہیں۔ شراب کی حرمت کوجانتا ہو اس کی دو ۲صورتیں ہیں ایک یہ کہ واقع میں اوسے معلوم ہوکہ یہ حرام ہے دوسرے یہ کہ دارالاسلام میں رہتا ہو تو اگرچہ نہ جانتا ہوحکم یہی دیا جائیگا کہ اسے معلوم ہے
۔
1 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الحدود، باب ماجاء من شرب الخمر فاجلدوہ... إلخ، الحدیث:۱۴۴۹،ج۳،ص۱۲۸.
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الحدود، باب ماجاء فی ضرب شارب الخمر، الحدیث:۶۷۷۳،ج۴،ص۳۲۸.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الحدود، باب الضرب بالجریدوالثغال،الحدیث:۶۷۷۹،ج۴،ص۳۲۹.
4 ۔ یعنی شراب کی سزا۔
5 ۔''الموطأ''،لإمام مالک،کتاب الأشربۃ، باب الحد فی الخمر،الحدیث:۱۶۱۵،ج۲،ص۳۵۱.
6 ۔یعنی انتہائی مجبورنہ ہو۔
7 ۔اکراہ شر عی کے بغیر۔
8 ۔شراب۔
کیونکہ دارالاسلام میں جہل (1)عذر نہیں لہٰذا اگر کوئی حربی دارالحرب سے آکر مشرف باسلام ہوا(2) اور شراب پی اور کہتا ہے مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ حرام ہے تو حد نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲: شراب پی اور کہتا ہے میں نے دودھ یا شربت اسے تصور کیاتھا یاکہتا ہے کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ شراب ہے توحد ہے اور اگر کہتا ہے میں نے اسے نبیذسمجھا تھا تو حد نہیں۔ (4) (بحر)
مسئلہ ۳: انگور کا کچا پانی جب خود جوش کھانے لگے اور اوس میں جھاگ پیدا ہوجائے اُسے خمر کہتے ہیں۔ اسکے ساتھ پانی ملادیا ہو اور پانی کم ہو جب بھی خالص کے حکم میں ہے کہ ایک قطرہ پینے پر بھی حد قائم ہوگی اور پانی زیادہ ہے تو جب تک نشہ نہ ہو حد نہیں اور اگر انگور کا پانی پکالیا گیا تو جب تک اسکے پینے سے نشہ نہ ہو حد نہیں۔ اور اگر خمر کا عرق کھینچا (5) تو اس عرق کا بھی وہی حکم ہے کہ ایک قطرہ پر بھی حد ہے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: خمر کے علاوہ اور شرابیں پینے سے حد اوس وقت ہے کہ نشہ آجائے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۵: شراب پی کر حرم میں داخل ہوا تو حد ہے مگر جبکہ حرم میں پناہ لی تو حد نہیں اور حرم میں پی تو حد ہے دارالحرب میں پینے سے بھی حد نہیں۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: نشہ کی حالت میں حد قائم نہ کریں بلکہ نشہ جاتے رہنے کے بعد قائم کریں اور نشہ کی حالت میں قائم کر دی تو نشہ جانے کے بعد پھر اعادہ کریں۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۷: شراب خوار پکڑا گیااور اس کے مونھ میں ہنوز (10)بُو موجود ہے، اگرچہ افاقہ ہو گیا ہو(11) یا نشہ کی حالت میں لایا گیا اور گواہوں سے شراب پینا ثابت ہو گیاتو حد ہے اور اگر جس وقت اونھوں نے پکڑا تھا اوس وقت نشہ تھا اور بُو تھی،
۔
1 ۔ یعنی لاعلمی ۔
2 ۔اسلام لایا،اسلام سے سر فراز ہوا۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حدالشّرب المحرّم،ج۶،ص۵۸۔۶۱.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الحدود،باب حد الشّرب،ج۵،ص۴۳.
5 ۔رس نکالا،رس چوسا۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حد الشّرب المحرّم،ج۶،ص۵۹.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حدالشّرب المحرّم،ج۶،ص۶۰.
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حدالشّرب المحرّم،مطلب:فی نجاسۃ العرق...إلخ،ج۶،ص۶۲.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حدالشرّب المحرّم،ج۶،ص۵۸و۶۲.
10 ۔ ابھی تک۔
11 ۔ ہوش میں آگیاہو۔
مگر عدالت دور ہے وہاں تک لاتے لاتے نشہ اور بو جاتی رہی تو حد ہے، جبکہ گواہ بیان کریں کہ ہم نے جب پکڑا تھا اوس وقت نشہ تھا اور بُو تھی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: نشہ والا اگر ہوش آنے کے بعد شراب پینے کا خود اقرار کرے اور ہنوز(2)بُو موجود ہے تو حد ہے اور بو جاتی رہنے کے بعد اقرار کیاتو حد نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: نشہ یہ ہے کہ بات چیت صاف نہ کر سکے اور کلام کا اکثر حصہ ہذیان(4) ہو اگرچہ کچھ باتیں ٹھیک بھی ہوں (5)(عالمگیری ' درمختار)
مسئلہ ۱۰: شراب پینے کا ثبوت فقط مونھ میں شراب کی سی بدبو آنے بلکہ قے میں شراب نکلنے سے بھی نہ ہو گا یعنی فقط اتنی بات سے کہ بُو پائی گئی یا شراب کی قے کی حد قائم نہ کرینگے کہ ہوسکتا ہے حالت اِضطرار(6)یا اکراہ میں پی ہو مگر بو یا نشہ کی صورت میں تعزیر کرینگے جبکہ ثبوت نہ ہو اور اس کا ثبوت دومردوں کی گواہی سے ہوگا۔ اور ایک مرد اور دو عورتوں نے شہادت دی تو حد قائم کرنے کے لیے یہ ثبوت نہ ہوا۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: قاضی کے سامنے جب گواہوں نے کسی شخص کے شراب پینے کی شہادت دی تو قاضی اون سے چند سوال کریگا۔ خمرکس کو کہتے ہیں۔اس نے کس طرح پی، اپنی خواہش سے یا اِکراہ (8)کی حالت میں ،کب پی ،اور کہاں پی ،کیونکہ تمادی(9) کی صورت میں یا دارالحرب میں پینے سے حدنہیں۔ جب گواہ ان امور کے جواب دے لیں تو وہ شخص جس کے اوپر یہ شہادت گزری روک لیا جائے اور گواہوں کی عدالت کے متعلق سوال کرے اگر ان کا عادل ہونا ثابت ہوجائے توحد کا حکم دیا جائے۔ گواہوں کا بظاہر عادل ہونا کافی نہیں جب تک اس کی تحقیق نہ ہولے۔ (10)(درمختار)
۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السادس فی حد الشرب،ج۲،ص۱۵۹.
2 ۔اب بھی۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السادس فی حد الشرب،ج۲،ص۱۵۹.
4 ۔بے ہودہ باتیں کرنا،بکواس۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السادس فی حد الشرب،ج۲،ص۱۵۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حدالشرّب المحرّم،ج۶،ص۶۵.
6 ۔ایسی حالت جس میں نہ کھائے نہ پیے تو مرجانے کاغالب گمان ہو۔
7 ۔''الدرالمختاروردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حدالشرّب المحرّم،مطلب:فی نجاسۃ العرق...إلخ،ج۶،ص۶۳.
8 ۔یعنی اِکراہ شرعی۔
9 ۔ وہ میعاد جس کے گزرنے کے بعدحدوغیرہ نافذ نہیں ہوتی۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حدالشرّب المحرّم،ج۶،ص۶۳.
مسئلہ ۱۲: گواہوں نے جب بیان کیا، اس نے شراب پی اور کسی نے مجبور نہ کیا تھا تو اس کا یہ کہنا کہ مجھے مجبور کیا گیا، سُنا نہ جائیگا۔ (1)(بحر)
مسئلہ ۱۳: گواہوں میں اگر باہم اختلاف ہوا ایک صبح کا وقت بتاتا ہے دوسرا شام کا یا ایک نے کہا شراب پی دوسرا کہتا ہے شراب کی قے کی یا ایک پینے کی گواہی دیتا ہے اور دوسرا اس کی کہ میرے سامنے اقرار کیاہے تو ثبوت نہ ہوا اور حد قائم نہ ہوگی۔ (2)(درمختار) مگر ان سب صورتوں میں سزا دینگے۔
مسئلہ ۱۴: اگر خود اقرار کرتا ہو تو ایک بار اقرار کافی ہے حد قائم کردیں گے جبکہ اقرار ہوش میں کرتا ہو اور نشہ میں اقرار کیا تو کافی نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: کسی فاسق کے گھر میں شراب پائی گئی یا چند شخص اکٹھے ہیں اور وہاں شراب بھی رکھی ہے اور اون کی مجلس اوس قسم کی ہے جیسے شراب پینے والے شراب پینے بیٹھا کرتے ہیں اگرچہ اُنھیں پیتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا تو ان پر حد نہیں مگر سب کو سزا دیجائے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: اس کی حدمیں اَسی ۸۰ کوڑے مارے جائیں گے اور غلام کو چالیس ۴۰ اور بدن کے متفرق (5) حصوں میں ماریں گے، جس طرح حد زنا میں بیان ہوا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: نشہ کی حالت میں تمام وہ احکام جاری ہوں گے جو ہوش میں ہوتے ہیں، مثلاً اپنی زوجہ کو طلاق دیدی توطلاق ہوگئی یا اپنا کوئی مال بیچ ڈالا تو بیع ہوگئی۔ صرف چند باتوں میں اس کے احکام علیحدہ ہیں۔ (۱)اگر کوئی کلمہ کفر بکا تواوسے مرتد کا حکم نہ دیں گے یعنی اوس کی عورت بائن نہ ہوگی رہا یہ کہ عند اﷲبھی کافر ہوگا یا نہیں اگر قصداً کفر بکا ہے تو عنداﷲکافر ہے، ورنہ نہیں۔ (۲)جو حدود خالص حق اﷲ ہیں اون کا اقرار کیا تو اقرار صحیح نہیں اسی وجہ سے اگر شراب پینے کا نشہ کی حالت میں اقرار کیاتو حد نہیں۔(۳) اپنی شہادت پر دوسرے کو گواہ نہیں بناسکتا۔(۴) اپنے چھوٹے بچہ کا مہرمثل سے زیادہ پر نکاح نہیں کرسکتا۔(۵)اپنی نابالغہ لڑکی کا مہر مثل سے کم پر نکاح نہیں کرسکتا۔ (۶)کسی نے ہوش کے وقت اسے وکیل کیاتھا کہ یہ میرا سامان بیچ دے
۔
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الحدود،باب حد الشّرب،ج۵،ص۴۳.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حدالشرّب المحرّم،ج۶،ص۶۴.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حدالشرّب المحرّم،مطلب:فی نجاسۃ العرق... إلخ،ج۶،ص۶۴.
5 ۔مختلف۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حدالشرّب المحرّم،مطلب:فی نجاسۃ العرق... إلخ،ج۶،ص۶۴.
اورنشہ میں بیچا تو بیع نہ ہوئی۔(۷)کسی نے ہوش میں وکیل کیا تھا کہ تو میری عورت کو طلاق دیدے اور نشہ میں اوس کی عورت کو طلاق دی تو طلاق نہ ہوئی۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: بھنگ اور افیون پینے سے نشہ ہو تو حد قائم نہ کرینگے مگر سزا دی جائے اور ان سے نشہ کی حالت میں طلاق دی تو ہوجائے گی جبکہ نشہ کے لیے استعمال کی ہو اور اگر علاج کے طور پر استعمال کی ہو تو نہیں۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: حد ماری جارہی تھی اور بھاگ گیا پھر پکڑ کر لایا گیا اگر تمادی آگئی ہے تو چھوڑدیں گے ورنہ بقیہ پوری کریں اور اگر دوبارہ پھر پی اور حد قائم کرنے کے بعد ہے تو دوسری مرتبہ پھر حد قائم کریں اور اگر پہلے بالکل نہیں ماری گئی یا کچھ کوڑے مارے تھے کچھ باقی تھے تو اب دوسری بار کے لیے حد ماریں پہلی اسی میں متداخل(3) ہوگئی۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکْتَسَبُوۡا فَقَدِ احْتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۵۸﴾ ) (5)
اور جو لوگ مسلمان مرد اور عورتوں کو ناکردہ باتوں سے ایذا دیتے ہیں اُنھوں نے بہتان اور کھلا ہوا گناہ اوٹھایا۔
اور فرماتا ہے:
( وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَـاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَاءَ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَّلَا تَقْبَلُوْا لَـھُمْ شَھَادَۃً اَبَدًا ج وَاُولٰئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ o لا اِلَّا الَّذیْنَ تَابُوْا مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ وَاصْلَحُوْاج فَاِنَّ اللہَ غَفُوۡررَحِیۡم)
اور جو لوگ پارسا عورتوں کو تہمت لگاتے ہیں پھر چارگواہ نہ لائیں اون کو اَسی ۸۰ کوڑے مارو اور اون کی گواہی کبھی قبول نہ کرو اور وہ لوگ فاسق ہیں مگر وہ کہ اس کے بعد توبہ کریں اور اپنی حالت درست کرلیں تو بیشک اﷲ (عزوجل) بخشنے والا مہربان ہے۔
۔
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حدالشرّب المحرّم،مطلب:فی نجاسۃ العرق ...إلخ،ج۶،ص۶۵.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حدالشرّب المحرّم،مطلب:فی البنج ...إلخ،ج۶،ص۶۶.
3 ۔یعنی اب دوسری بارحدمارنے سے پہلی بھی اداہوجائے گی ،علیحدہ سے پہلی کوپورانہیں کیاجائے گا ۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حدالشرّب المحرّم،مطلب:فی البنج...إلخ،ج۶،ص۶۷.
5 ۔پ۲۲،الاحزاب:۵۸.
6 ۔پ۱۸،النور:۴،۵.
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص اپنے مملوک پر زنا کی تہمت لگائے، قیامت کے دن اوس پر حد لگائی جائے گی مگر جبکہ واقع میں وہ غلام ویسا ہی ہے، جیسا اوس نے کہا۔'' (1)
حدیث ۲: عبدالرزاق عکرمہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ایک عورت نے اپنی باندی کو زانیہ کہا۔ عبداﷲبن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے فرمایا: تو نے زنا کرتے دیکھا ہے؟ اوس نے کہا، نہیں۔ فرمایا:قسم ہے اوس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے!قیامت کے دن اس کی وجہ سے لوہے کے اَسی ۸۰ کوڑے تجھے مارے جائیں گے۔ (2)
مسئلہ ۱: کسی کو زنا کی تہمت لگانے کو قذف کہتے ہیں اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔ یوہیں لواطت کی تہمت بھی کبیرہ گناہ ہے مگر لواطت کی تہمت لگائی تو حد نہیں بلکہ تعزیر ہے اور زنا کی تہمت لگانے والے پر حد ہے۔ حد قذف آزاد پر اَسی ۸۰ کوڑے ہے اور غلام پر چالیس۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: زنا کے علاوہ اور کسی گناہ کے اتہام(4) کو قذف نہ کہیں گے نہ اس پر حدہے البتہ بعض صورتوں میں تعزیر ہے(5) جس کا بیان انشاء اﷲتعالیٰ آئے گا۔(بحر)
مسئلہ ۳: قذف کا ثبوت دو۲مردوں کی گواہی سے ہوگا یا اوس تہمت لگانے والے کے اقرار سے۔ اور اس جگہ عورتوں کی گواہی یا شہادۃ علی الشہادۃ(6) کافی نہیں بلکہ ایک قاضی نے اگر دوسرے قاضی کے پاس لکھ بھیجا کہ میرے نزدیک قذف کاثبوت ہوچکا ہے اور کتاب القاضی کے شرائط بھی پائے جائیں جب بھی یہ دوسرا قاضی حد قذف قائم نہیں کرسکتا۔
۔
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأیمان،باب التغلیظ علی من قذف... إلخ،الحدیث:۳۷۔(۱۶۶۰)،ص۹۰۵.
2 ۔''المصنّف''،لعبدالرزاق،کتاب العقول،[باب قذف الرجل مملوکہ]،الحدیث:۱۸۲۹۱،ج۹،ص۳۲۰.
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۶۹.
4 ۔تہمت لگانا۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۵،ص۴۹.
6 ۔اصل گواہ قاضی کے پاس حاضر نہ ہو سکے وہ کسی دوسرے سے کہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں تم میری طرف سے قاضی کے دربارمیں یہ گواہی دے دینا۔
یوہیں اگرقاذف(1)نے قذف سے انکار کیا اور گواہوں سے ثبوت نہ ہوا تو اوس سے حلف نہ لیں گے اور اگر اوس پر حلف رکھا گیا اور اوس نے قسم کھانے سے انکار کر دیا تو حد قائم نہ کرینگے اور اگر گواہوں میں باہم اختلاف ہوا، ایک گواہ قذف کا کچھ وقت بتاتا ہے اور دوسرا گواہ دوسرا وقت کہتا ہے تو یہ اختلاف معتبر نہیں یعنی حد جاری کرینگے۔ اور اگر ایک نے قذف کی شہادت دی اور دوسرے نے اقرار کی یا ایک کہتا ہے مثلاً فارسی زبان میں تہمت لگائی اور دوسرا یہ بیان کرتا ہے کہ اُردو میں تو حد نہیں۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جب اس قسم کا دعویٰ قاضی کے یہاں ہو اور گواہ ابھی نہیں لایا ہے تو تین دن تک قاذف کو محبوس(3) رکھیں گے اور اوس شخص سے گواہوں کا مطالبہ ہوگا اگر تین دن کے اندر گواہ لایا فبہا (4)ورنہ اوسے رہا کردینگے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۵: تہمت لگانے والے پر حد واجب ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں۔ جس پر تہمت لگائی وہ (۱)مسلمان،(۲)عاقل،(۳) بالغ،(۴)آزاد،(۵) پارساہو اور(۶)تہمت لگانے والے کا نہ وہ لڑکا ہو، نہ پوتا اور(۷) نہ گونگا ہو،(۸)نہ خصی،(۹) نہ اوس کا عضوتناسل جڑسے کٹا ہو،(۱۰)نہ اوس نے نکاح فاسدکے ساتھ وطی کی اور(۱۱)اگر عورت کو تہمت لگائی تو وہ ایسی نہ ہو جس سے وطی نہ کی جاسکے اور(۱۲)وقتِحدتک وہ شخص محصن ہو، لہٰذا معاذاﷲ قذف کے بعد مرتد ہوگیا یا مجنون یا بوہرا ہوگیایا وطی حرام کی یا گونگا ہوگیا تو حد نہیں۔(6) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۶:جس عورت کو اس نے تین طلاقیں یا طلاق بائن دی اور زمانہ عدت میں اوس سے وطی کی یا کسی لونڈی سے وطی کی پھر اوس کے خریدنے یا اوس سے نکاح کرنے کا دعویٰ کیا یا مشترک لونڈی تھی اوس سے وطی کی یاکسی عورت سے جبراً(7) زنا کیایا غلطی سے زوجہ کے بدلے دوسری عورت اس کے یہاں رخصت کردی گئی اور اس نے اوس سے وطی کی یا زمانہ کفر میں زنا کیا تھا پھر مسلمان ہوا۔ یا حالتِ جنون میں زنا کیا۔ یا جو باندی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام تھی اوس سے وطی کی۔
۔
1 ۔زنا کی تہمت لگانے والا۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۷۰.
3 ۔قید۔
4 ۔تو بہتر ۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۷۱.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۷۱ .
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حدالقذف والتعزیر،ج۵،ص۱۶۰،۱۶۱.
7 ۔یعنی زبردستی ۔
یا جو باندی اس کے باپ کی موطوہ تھی اوسے اس نے خریدا اور وطی کی۔ یا اوس کی ماں سے اس نے خود وطی کی تھی اب اس لڑکی کو خریدا اور وطی کی۔ ان سب صورتوں میں اگر کسی نے اس شخص پر زنا کی تہمت لگائی تو اوس پر حد نہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: حرہ(2) اس کے نکاح میں ہے اسکے ہوتے ہوئے باندی سے نکاح کیا۔ یا ایسی دوعورتوں کو نکاح میں جمع کیا جن کا جمع کرنا حرام تھا جیسے دو۲ بہنیں یاپھوپی بھتیجی اور وطی کی۔ یا اس کے نکاح میں چار عورتیں موجود ہیں اور پانچویں سے نکاح کرکے جماع کیا۔ یا کسی عورت سے نکاح کرکے وطی کی بعد کو معلوم ہواکہ یہ عورت مصاہرت کی وجہ سے اس پر حرام تھی۔ پھر کسی نے زنا کی تہمت لگائی تو تہمت لگانے والے پر حد نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: کسی عورت سے بغیر گواہوں کے نکاح کیا۔ یا شوہر والی عورت سے جان بوجھ کر نکاح کیا۔ یا جان بوجھ کر عدّت کے اندر یا اوس عورت سے نکاح کیا جس سے نکاح حرام ہے اور ان سب صورتوں میں وطی بھی کی تو تہمت لگانے والے پر حد نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: جس عورت پر حد زنا قائم ہوچکی ہے اوس کو کسی نے تہمت لگائی۔ یا ایسی عورت پر تہمت لگائی جس میں زنا کی علامت موجود ہے مثلاً میاں بی بی میں قاضی نے لعان کرایا اور بچہ کا نسب باپ سے منقطع کرکے عورت کی طرف منسوب کردیا۔ یا عورت کے بچہ ہے جس کا باپ معلوم نہیں تو ان سب صورتوں میں تہمت لگانے والے پر حد نہیں۔ اور اگر لعان بغیر بچہ کے ہوا۔ یا بچہ موجود تھا مگر اوس کا نسب باپ سے منقطع نہ کیا یا نسب بھی منقطع کر دیا مگر بعد میں شوہر نے اپنا جھوٹا ہونا بیان کیا اور بچہ باپ کی طرف منسوب کردیا گیا تو ان صورتوں میں عورت پر تہمت لگانے سے حد ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: جس عورت کو اس نے شہوت کے ساتھ چھوا یا شرمگاہ کی طرف شہوت کے ساتھ نظر کی اب اوس کی ماں یا بیٹی کو خرید کر یا نکاح کرکے وطی کی۔ یا جس عورت کو اس کے باپ یا بیٹے نے اوسی طرح چھوا یا نظر کی تھی اوس کو اس نے خرید کر یا نکاح کرکے وطی کی اور کسی نے زنا کی تہمت لگائی تو اوس پر حد ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: اپنی عورت سے حیض میں جماع کیا۔ یا عورت سے ظہار کیا تھا اور بغیر کفارہ دیے جماع کیا
۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حدالقذف والتعزیر،ج۲،ص۱۶۱.
2 ۔آزاد عورت جوباندی نہ ہو۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حدالقذف والتعزیر،ج۲،ص۱۶۱.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔المرجع السابق.
یا عورت روزہ دارتھی اور شوہر کو معلوم بھی تھا اور جماع کیا تو ان صورتوں میں تہمت لگانے والے پر حد ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: زنا کی تہمت لگائی اور حد قائم ہونے سے پہلے اوس شخص نے زنا کیا جس پر تہمت لگائی۔ یا کسی ایسی عورت سے وطی کی جس سے وطی حرام تھی۔ یا معاذاﷲ مرتد ہوگیا اگر چہ پھر مسلمان ہوگیا تو ان سب صورتوں میں حد ساقط ہوگئی(2) ۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۱۳: حدِ قذف اوس وقت قائم ہوگی جب صریح لفظ زنا سے تہمت لگائی مثلاً تُوزانی ہے یا تُونے زنا کیا یا تُوزناکار ہے اور اگر صریح لفظ نہ ہو مثلاً یہ کہ تُو نے وطی حرام کی یا تُو نے حرام طور پر جماع کیا تو حد نہیں اور اگر یہ کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تُو زانی ہے یا مجھے فلاں نے اپنی شہادت پر گواہ بنایا ہے کہ تُو زانی ہے یا کہا تُو فلاں کے پاس جاکر اوس سے کہہ کہ تُو زانی ہے اور قاصد نے یوہیں جاکر کہہ دیا تو حد نہیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: اگر کہا کہ تو اپنے باپ کا نہیں یا اوس کے باپ کا نام لے کر کہا کہ تو فلاں کا بیٹا نہیں حالانکہ او س کی ماں پاک دامن عورت ہے اگر چہ یہ شخص جس کو کہا گیا کیسا ہی ہو تو حد ہے جبکہ یہ الفاظ غصہ میں کہے ہوں اور اگر رضا مندی میں کہے تو حد نہیں کیونکہ اس کے یہ معنے بن سکتے ہیں کہ تو اپنے باپ سے مشابہ نہیں(5) مگر پہلی صورت میں شرط یہ ہے کہ جس پر تہمت لگائی وہ حد کا طالب ہو اگرچہ تہمت لگانے کے وقت وہاں موجود نہ تھا۔ اور اگر کہا کہ تو اپنے باپ ماں کا نہیں یا تو اپنی ماں کا نہیں تو حد نہیں۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: اگر دادا یا چچا یا ماموں یا مربی(7) کا نام لیکر کہا کہ تواوس کا بیٹا ہے تو حد نہیں کیونکہ ان لوگوں کو بھی مجازاً باپ کہہ دیا کرتے ہیں۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: کسی شخص کو اوس کی قوم کے سوا دوسری قوم کی طرف نسبت کرنا یا کہنا کہ تو اوس قوم کا نہیں ہے سبب حد نہیں۔
۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حدالقذف والتعزیر،ج۲،ص۱۶۱.
2 ۔یعنی اب حد قائم نہ ہو گی۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۵،ص۵۲.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۷۳.
5 ۔یعنی اپنے باپ جیسانہیں۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۷۵.
7 ۔پرورش کرنے والا۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۷۸.
پھر اگر کسی ذلیل قوم کی طرف نسبت کیا تو مستحقِ تعزیرہے جبکہ حالت غصہ میں کہا ہو کہ یہ گالی ہے اور گالی میں سزا ہے۔ (1)(درمختار، ردالمحتار) اگر کسی شخص نے بہادری کا کام کیا اوس پر کہا کہ یہ پٹھان ہے تو اس میں کچھ نہیں کہ یہ نہ تہمت ہے، نہ گالی۔
مسئلہ ۱۷: کسی عفیفہ(2) عورت کو رنڈی(3) یا کسبی(4) کہا تو یہ قذف ہے اور حد کا مستحق ہے کہ یہ لفظ اُنھیں کے لیے ہے جنھوں نے زنا کو پیشہ کرلیا ہے۔
مسئلہ ۱۸: ولد الزنا(5) یا زناکا بچہ کہا یا عورت کو زانی کہا تو حدہے اور اگر کسی کو حرام زادہ کہا تو حد نہیں کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ وطی حرام سے پیدا ہوا اور وطی حرام کے لیے زنا ہونا ضرور نہیں اس لیے کہ حیض میں وطی حرام ہے اور جب اپنی عورت سے ہے تو زنا نہیں۔(6) (درمختار وغیرہ) اور حرام زادہ میں حدنہ ہونے کی یہ وجہ بھی ہے کہ عرف میں بعض لوگ شریر کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یوہیں حرامی یا حیضی بچہ (7)یا ولدالحرام(8) کہنے پر بھی حد نہیں۔
مسئلہ۱۹: عورت کو اگرجانور بیل۔ گھوڑے۔گدھے سے فعل کرانے کی گالی دی تو اس میں سزا دی جائے گی۔(9)
مسئلہ۲۰: جس کو تہمت لگائی وہ اگر مطالبہ کرے تو حد قائم ہوگی ورنہ نہیں یعنی اوس کی زندگی میں دوسرے کو مطالبہ کا حق نہیں اگرچہ وہ موجود نہ ہو کہیں چلاگیا ہو یا تہمت کے بعد مرگیا بلکہ مطالبہ کے بعد بلکہ چند کوڑے مارنے کے بعد انتقال ہوا تو باقی ساقط ہے۔ ہاں اگر اوس کا انتقال ہوگیا اور اوس کے ورثہ میں وہ شخص مطالبہ کرے
۔
1 ۔''الدرالمختاروردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۷۹.
2 ۔پاکدامن۔
3 ۔یعنی بدکار عورت۔
4 ۔فاحشہ،بازاری عورت۔
5 ۔زنا سے پیدا ہو نے والا ۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۷۹و۸۸،وغیرہ.
7 ۔ حالت حیض میں جماع کرنے سے پیدا ہونے والا بچہ۔ حیض کی حالت میں بیوی سے جماع کرنا حرام ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا:''جو شخص حیض والی عورت سے یا عورت کے پیچھے کے مقام میں جماع کرے یاکاہن کے پاس جائے اس نے اس چیز کا کفرکیا جومحمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر نازل کی گئی''۔(جا مع الترمذی،الحدیث:۱۳۵،ج۱،ص۱۸۵)اگر کوئی ایسا کرے توکفارہ دے،اور استغفارواجب ہے، سنن ابوداودشریف میں روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''جب کوئی شخص اپنی بیوی سے حیض میں جماع کرے تو نصف دینار صدقہ کرے ''۔(الحدیث:۲۶۶،ج۱،ص۱۲۴)نیزجا مع الترمذی شریف میں ہے''جب سرخ خون ہو تو ایک دینار اور زرد ہوتونصف دینار صدقہ کرے ''۔ (الحدیث: ۱۳۷،ج۱،ص۱۸۷)اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرحمن فتاوی رضویہ ج ۴ ص۳۵۶پر فرماتے ہیں:اگر ابتدائے حیض میں ہے توایک دیناراور ختم پر ہے تو نصف دینار،اور دینار دس درم کا ہوتا ہے اور دس درم دو روپے تیرہ آنے کچھ کوڑیاں کم۔ حیض کے تفصیلی احکام بہار شریعت ج اوّل حصہ ۲ میں ملاحظہ فرمائیں۔...عِلْمِیہ
8 ۔حرام وطی سے پیدا ہونے والا ۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۷۹.
جس کے نسب پر اوس تہمت کی وجہ سے حرف آتا ہے(1) تو اوس کے مطالبہ پر بھی حد قائم کردی جائے گی مثلاً اس کے دادا یا دادی یا باپ یا ماں یا بیٹا یا بیٹی پر تہمت لگائی اور جسے تہمت لگائی مرچکا ہے تو اس کو مطالبہ کا حق ہے۔ وارث سے مراد وہی نہیں جسے ترکہ پہنچتاہے بلکہ محجوب(2) یامحروم(3) بھی مطالبہ کرسکتاہے مثلاً میت کا بیٹا اگر مطالبہ نہ کرے تو پوتا مطالبہ کرسکتا ہے اگرچہ محجوب ہے یا اس وارث نے اپنی مورث (4)کو مارڈالا ہے یا غلام یا کافر ہے تو ان کو مطالبہ کا استحقاق ہے(5) اگرچہ محروم ہیں۔ یوہیں نواسہ اور نواسی کو بھی مطالبہ کاحق ہے۔(6) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ۲۱: قریبی رشتہ دار نے مطالبہ نہ کیا یا معاف کردیا تو دور کے رشتہ والے کا حق ساقط نہ ہوگا بلکہ یہ مطالبہ کرسکتا ہے۔(7) (درمختار)
مسئلہ۲۲: کسی کے باپ اور ماں دونوں پر تہمت لگائی اور دونوں مرچکے ہیں تو اس کے مطالبہ پر حد قائم ہوگی مگر ایک ہی حد ہوگی دونہیں۔ یوہیں اگر وہ دونوں زندہ ہیں جب بھی دونوں کے مطالبہ پرایک ہی حد ہوگی کہ جب چند حدیں جمع ہوں توایک ہی قائم کی جائے گی۔(8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۲۳: کسی پر ایک نے تہمت لگائی اور حد قائم ہوئی پھر دوسرے نے تہمت لگائی تو دوسرے پر بھی حد قائم کریں گے۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ۲۴: اگر چند حدیں مختلف قسم کی جمع ہوں مثلاً اوس نے تہمت بھی لگائی ہے اور شراب بھی پی اور چوری بھی کی اور زنا بھی کیا تو سب حدیں قائم کی جائیں گی مگر ایک ساتھ سب قائم نہ کریں کہ اس میں ہلاک ہوجانے کا خوف ہے بلکہ ایک قائم کرنے کے بعد اتنے دنوں اوسے قید میں رکھیں کہ اچھا ہو جائے پھر دوسری قائم کریں اور سب سے پہلے حدِ قذف جاری کریں
۔
1 ۔یعنی عیب لگتاہے۔
2 ۔وہ فرد جس کا حصہ کسی دوسرے وارث کی وجہ سے کم یا بالکل ختم ہو جائے۔
3 ۔وہ فرد ہے جو کسی سبب سے مورث کے ترکہ سے کچھ نہ پائے۔
4 ۔جس کا یہ وارث ہے۔
5 ۔ یعنی حق حاصل ہے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حدالقذف والتعزیر،ج۲،ص۱۶۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۸۰.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۸۰.
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،مطلب:فی الشرف من الأم ،ج۶،ص۸۱.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حدالقذف والتعزیر،ج۲،ص۱۶۵.
اس کے بعد امام کو اختیار ہے کہ پہلے زنا کی حد قائم کرے یا چوری کی بنا پر ہاتھ پہلے کاٹے یعنی ان دونوں میں تقدیم و تاخیرکا اختیار ہے (1) پھر سب کے بعد شراب پینے کی حد ماریں۔(2)(درمختار)
مسئلہ۲۵: اگر اوس نے کسی کی آنکھ بھی پھوڑی ہے اور وہ چاروں چیزیں بھی کی ہیں تو پہلے آنکھ پھوڑنے کی سزادی جائے یعنی اس کی بھی آنکھ پھوڑدی جائے پھر حد قذف قائم کی جائے اس کے بعد رجم کردیا جائے اگرمحصن ہواور باقی حدیں ساقط اور محصن نہ ہو تو اوسی طرح عمل کریں۔ اور اگر ایک ہی قسم کی چند حدیں ہوں مثلاً چند شخصوں پر تہمت لگائی یا ایک شخص پر چند بار تو ایک حد ہے ہاں اگر پوری حد قائم کرنے کے بعد پھر دوسرے شخص پر تہمت لگائی تواب دوبارہ حدقائم ہوگی اور اگر اوسی پر دوبارہ تہمت ہو تو نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ۲۶: باپ نے بیٹے پر زنا کی تہمت لگائی یا مولیٰ نے غلام پر تو لڑکے یا غلام کو مطالبہ کا حق نہیں۔ یوہیں ماں یا دادا یا دادی نے تہمت لگائی یعنی اپنی اصل سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگرمری زوجہ پر تہمت لگائی تو بیٹا مطالبہ نہیں کرسکتا ہاں اگر اوس عورت کا دوسرے خاوند سے لڑکا ہے تو یہ لڑکا یا عورت کا باپ ہے تو یہ مطالبہ کرسکتا ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ۲۷: تہمت لگانے والے نے پہلے اقرار کیا کہ ہاں تہمت لگائی ہے پھر اپنے اقرار سے رجوع کر گیا یعنی اب انکار کرتا ہے تو اب رجوع معتبر نہیں یعنی مطالبہ ہو تو حد قائم کریں گے۔ یوہیں اگر باہم صلح کرلیں اور کچھ معاوضہ لیکر معاف کردے یا بلامعاوضہ معاف کردے تو حد معاف نہ ہوگی یعنی اگرپھر مطالبہ کرے تو کرسکتا ہے اور مطالبہ پر حد قائم ہوگی۔ (5) (فتح القدیر وغیرہ)
مسئلہ۲۸: ایک شخص نے دوسرے سے کہا تو زانی ہے اوس نے جواب میں کہا کہ نہیں بلکہ تو ہے تو دونوں پر حدہے کہ ہر ایک نے دوسرے پر تہمت لگائی اور اگرایک نے دوسرے کو خبیث کہا دوسرے نے کہا نہیں بلکہ تو ہے تو کسی پر سزا نہیں کہ اس میں دونوں برابر ہوگئے اور تہمت میں چونکہ حق اﷲغالب ہے لہٰذا حد ساقط نہ ہوگی کہ وہ اپنے حق کو ساقط کرسکتے ہیں
۔
1 ۔یعنی ان دوحدوں میں سے جو بھی حد پہلے لگائے اُس کا اُسے اختیار ہے ۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۸۲.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حد القذف والتعزیر،ج۲،ص۱۶۵.
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب الحدود، باب حد القذف، ج۵،ص۹۷،وغیرہ.
حق اﷲکو ساقط کرنا ان کے اختیار میں نہیں۔ (1)(بحر وغیرہ)
مسئلہ۲۹: شوہرنے عورت کو زانیہ کہا، عورت نے جواب میں کہا کہ نہیں بلکہ تو، تو عورت پر حد ہے مرد پر نہیں اور لعان بھی نہ ہوگا کہ حدِ قذف کے بعد عورت لعان کے قابل نہ رہی۔ اور اگر عورت نے جواب میں کہا کہ میں نے تیرے ساتھ زنا کیا ہے تو حدو لعان کچھ نہیں کہ اس کلام کے دواحتمال ہیں ایک یہ کہ نکاح کے پہلے تیرے ساتھ زنا کیا دوسرا یہ کہ نکاح کے بعد تیرے ساتھ ہم بستری ہوئی اور اس کو زنا سے تعبیر کیا توجب کلام محتمل ہے تو حد ساقط۔ ہاں اگر جواب میں عورت نے تصریح (2)کردی کہ نکاح سے پہلے میں نے تیرے ساتھ زنا کیا تو عورت پر حد ہے اور اگر اجنبی عورت سے مرد نے یہ بات کہی اور اس عورت نے یہی جواب دیا تو عورت پر حد ہے کہ وہ زنا کا اقرار کرتی ہے اور مرد پر کچھ نہیں۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۳۰: زنا کی تہمت لگائی اور چار گواہ زنا کے پیش کردیے یا مقذوف نے(4) زناکاچار بار اقرار کرلیا تو جس پر تہمت لگائی ہے اوس پر زنا کی حد قائم کی جائے گی اور تہمت لگانے والا بری ہے۔ اور اگرفی الحال گواہ لانے سے عاجز ہے اور مہلت مانگتا ہے کہ وقت دیا جائے تو شہر سے گواہ تلاش کرلاؤں تو اوسے کچہری کے وقت تک مہلت دی جائے گی اور خود اوسے جانے نہ دینگے بلکہ کہا جائیگا کہ کسی کو بھیج کرگواہوں کو بُلالے۔ اور اگر چارفاسق گواہ پیش کردیے تو سب سے حد ساقط ہے نہ قاذف پر (5) حد ہے نہ مقذوف پر نہ گواہوں پر۔ (6)(درمختار)
مسئلہ۳۱: کسی نے دعویٰ کیا کہ مجھ پر فلاں نے زنا کی تہمت لگائی اور ثبوت میں دو۲گواہ پیش کیے مگر گواہوں کے مختلف بیان ہوئے ایک کہتا ہے فلاں جگہ تہمت لگائی دوسرا دوسری جگہ کانام لیتا ہے تو حد قذف قائم کریں گے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ۳۲: حدِ قذف میں سوا پوستین اور روئی بھرے ہوئے کپڑے کے کچھ نہ اوتاریں۔ (8)(بحر)
مسئلہ۳۳: جس شخص پر حد قذف قائم کی گئی اوس کی گواہی کسی معاملہ میں مقبول نہیں
۔
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۵،ص۶۲،وغیرہ.
2 ۔وضاحت۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،مطلب:ھل للقاضی العفو ...إلخ،ج۶،ص۸۶.
4 ۔جس پر زنا کی تہمت لگائی اس نے۔
5 ۔ زناکی تہمت لگانے والے پر۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۶،ص۹۰.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حد القذف والتعزیر،ج۲،ص۱۶۴.
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الحدود،باب حد القذف،ج۵،ص۴۸.
ہاں عبادات میں قبول کرلیں گے۔ یوہیں اگر کافر پر حد قذف جاری ہوئی تو کافروں کے خلاف بھی اس کی گواہی مقبول نہیں۔ ہاں اگر اسلام لائے تواس کی گواہی مقبول ہے اور اگر کفر کے زمانہ میں تہمت لگائی اور مسلمان ہونے کے بعد حد قائم ہوئی تو اسکی گواہی بھی کبھی کسی معاملہ میں مقبول نہیں۔ یوہیں غلام پر حدِ قذف جاری ہوئی پھر آزاد ہوگیا تو گواہی مقبول نہیں۔ اور اگر کسی پر حد قائم کی جا رہی تھی اور درمیان میں بھاگ گیا تو اگر بعد میں باقی حد پوری کرلی گئی تو اب گواہی مقبول نہیں اور پوری نہیں کی گئی تو مقبول ہے۔ حد قائم ہونے کے بعداپنی سچائی پر چار گواہ پیش کیے جنھوں نے زنا کی شہادت دی تو اب اس تہمت لگانے والے کی گواہی آئندہ مقبول ہوگی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ۳۴: بہتر یہ ہے کہ جس پر تہمت لگائی گئی مطالبہ نہ کرے اور اگر دعویٰ کردیا تو قاضی کے لیے مستحب یہ ہے کہ جب تک ثبوت نہ پیش ہومدعی کو درگزر کرنے کی طرف توجہ دلائے۔(2) (عالمگیری)
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسْخَرْ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنْہُنَّ ۚ وَلَا تَلْمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقَابِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوۡقُ بَعْدَ الْاِیۡمَانِ ۚ وَمَنۡ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱﴾) (3)
اے ایمان والو! نہ مرد مرد سے مسخرہ پن کریں، عجب نہیں وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ دو اور بُرے لقبوں سے نہ پکارو کہ ایمان کے بعد فاسق کہلانا برا نام ہے اور جو توبہ نہ کرے، وہی ظالم ہے۔
حدیث ۱: ترمذی نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب ایک شخص دوسرے کو یہودی کہہ کر پکارے تو اوسے بیس ۲۰ کوڑے مارو ا ورمخنث کہہ کر پکارے تو بیس ۲۰ مارو
۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حد القذف والتعزیر،ج۲،ص۱۶۶.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حد القذف والتعزیر،ج۲،ص۱۶۷.
3 ۔پ۲۶،الحجرات:۱۱.
اور اگرکوئی اپنے محارم سے زنا کرے تو اوسے قتل کرڈالو۔'' (1)
حدیث ۲: بیہقی نے روایت کی، کہ حضرت امیر المومنین علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا: کہ اگر ایک شخص دوسرے کو کہے اے کافر، اے خبیث، اے فاسق، اے گدھے تو اس میں کوئی حد مقرر نہیں، حاکم کو اختیار ہے جو مناسب سمجھے سزا دے۔(2)
حدیث ۳: بیہقی نعمان بن بشیر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:''جو شخص غیر حد کو حد تک پہنچا دے (یعنی وہ سزا دے جو حدمیں ہے) وہ حد سے گزرنے والوں میں ہے۔'' (3)
مسئلہ ۱: کسی گناہ پر بغرض تادیب جو سزا دی جاتی ہے اوس کو تعزیرکہتے ہیں شارع نے اس کے لیے کوئی مقدار معین نہیں کی ہے بلکہ اس کو قاضی کی رائے پر چھوڑا ہے جیسا موقع ہو اوس کے مطابق عمل کرے۔ تعزیر کا اختیارصرف بادشاہ اسلام ہی کو نہیں بلکہ شوہر بی بی کو آقا غلام کو ماں باپ اپنی اولاد کو اُستاذشاگرد کو تعزیر کرسکتا ہے۔(4) (ردالمحتار وغیرہ)
اس زمانہ میں کہ ہندوستان میں اسلامی حکومت نہیں اور لوگ بے دھڑک بلاخوف وخطر معاصی(5) کرتے اور اون پر اصرار کرتے ہیں اور کوئی منع کرے تو باز نہیں آتے۔ اگر مسلمان متفق ہوکر ایسی سزائیں تجویز کریں جن سے عبرت ہو اور یہ بیباکی اور جرأت(6) کا سلسلہ بند ہوجائے تو نہایت مناسب واَنسب (7)ہوگا۔ بعض قوموں میں بعض معاصی پر ایسی سزائیں دی جاتی ہیں مثلاً حقہ پانی(8) اوس کا بند کردیتے اور نہ اوس کے یہاں کھاتے نہ اپنے یہاں اوس کو کھلاتے ہیں جب تک توبہ نہ کرلے اور اس کی وجہ سے اون لوگوں میں ایسی باتیں کم پائی جاتی ہیں جن پر اون کے یہاں سزا ہواکرتی ہے مگر کاش وہ تمام معاصی کے انسداد(9) میں ایسی ہی کوشش کرتے اور اپنے پنچائتی قانون(10) کو چھوڑ کر شرع مطہر(11)کے موافق فیصلے دیتے اور احکام سناتے تو بہت بہتر ہوتا۔ نیز دوسری قومیں بھی اگر ان لوگوں سے سبق حاصل کریں اور یہ بھی اپنے اپنے مواقع اقتدار میں ایسا ہی کریں تو بہت ممکن ہے کہ مسلمانوں کی حالت درست ہوجائے بلکہ ایک یہی کیا اگر اپنے دیگر معاملات و منازعات(12 )میں بھی
۔
1 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الحدود، باب ماجاء فیمن یقول لآخر یا مخنّث، الحدیث:۱۴۶۷،ج۳،ص۱۴۱.
2 ۔''السنن الکبرٰی'' للبیھقی،کتاب الحدود،باب من حد فی التعریض،الحدیث ۱۷۱۴۹،۱۷۱۵۰،ج۸،ص۴۴۰.
3 ۔''السنن الکبری''،للبیھقي،کتاب الأشربۃ، باب ماجاء فی التعزیر ... إلخ،الحدیث ۱۷۵۸۴،ج۸،ص۵۶۷.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۹۵،وغیرہ.
5 ۔گناہ۔
6 ۔یعنی سر عام گناہ کرنے اور ان پر دلیر ہونے۔
7 ۔بہت زیادہ مناسب۔
8 ۔یعنی بول چال،لین دین،ملنا جلنا۔
9 ۔روک تھام۔
10 ۔کسی قوم یاگاؤں کی انتظامی مجلس کے قوانین۔
11 ۔یعنی اسلامی قانون۔
12 ۔لڑائی جھگڑے وغیرہ۔
شرع مطہر کا دامن پکڑیں اور روزمرہ کی تباہ کن مقدمہ بازیوں سے دست برداری کریں تو دینی فائدہ کے علاوہ ان کی دُنیوی حالت بھی سنبھل جائے اور بڑے بڑے فوائد حاصل کریں۔ مقدمہ بازی کے مصارف سے زیر بار بھی نہ ہوں(1) اور اس سلسلہ کے دراز ہونیسے بغض و عداوت جودلوں میں گھر کر جاتی ہے(2) اوس سے بھی محفوظ رہیں۔
مسئلہ ۲: گناہوں کی مختلف حالتیں ہیں کوئی بڑا کوئی چھوٹا اور آدمی بھی مختلف قسم کے ہیں کوئی حیادار باعزت اورغیرت والا ہوتا ہے بعض بیباک دلیر(3) ہوتے ہیں لہٰذا قاضی جس موقع پر جو تعزیر مناسب سمجھے وہ عمل میں لائے کہ تھوڑے سے جب کام نکلے تو زیادہ کی کیا حاجت (4)(ردالمحتار، بحر)
مسئلہ ۳: سادات و علما اگر وجاہت(5)و عزت والے ہوں کہ کبیرہ تو کبیرہ صغیرہ بھی نادراً (6) یا بطور لغزش(7) اون سے صادر ہو تو ان کی تعزیر ادنیٰ درجہ(8) کی ہوگی کہ قاضی ان سے اگر اتنا ہی کہدے کہ آپ نے ایسا کیا ایسوں کے لیے اتناکہہ دینا ہی باز آنے کے لیے کافی ہے۔ اور اگریہ لوگ اس صفت پرنہ ہوں بلکہ ان کے اطوار خراب ہوگئے ہوں مثلاً کسی کواس قدر مارا کہ خوناخون ہوگیا یا چند بارجُرم کا ارتکاب کیا یاشراب خواری کے جلسہ(9) میں بیٹھتا ہے یا لواطت(10) میں مبتلا ہے تواب جرم کے لائق سزا دی جائے گی ایسی صورتوں میں دُرے لگائے جائیں یا قید کیا جائے۔ اُون علما و سادات کے بعد دوسرا مرتبہ زمیندارو تجار اور مالداروں کا ہے کہ ان پر دعویٰ کیا جائے گا اور دربار قاضی میں طلب کیے جائیں گے پھر قاضی انھیں متنبہ(11) کریگا کہ کیا تم نے ایسا کیا ہے ایسانہ کرو۔ تیسرا درجہ متوسط لوگوں کا ہے یعنی بازاری لوگ کہ ایسے لوگوں کے لیے قید ہے۔ چوتھا درجہ ذلیلوں اور کمینوں(12) کا ہے کہ اونھیں مارا بھی جائے مگر جرم جب اس قابل ہوجب ہی یہ سزاہے۔ (13)(ردالمحتار)
۔
1 ۔۔۔مقدمہ بازی کے اخراجات بھی نہ اٹھانے پڑیں۔
2 ۔یعنی دلوں میں بس جاتی ہے۔
3 ۔بے پرواہ یعنی ایسے بے حیا جو سر عام گناہ کرنے سے نہیں ڈرتے۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۹۶.
و''البحرالرائق''،کتاب الحدود،فصل فی التعزیر،ج۵،ص۶۸.
5 ۔صاحب مرتبہ،بلند مقام والے۔
6 ۔کبھی کبھار۔
7 ۔بھول چُوک۔
8 ۔سب سے ہلکی،بہت کم۔
9 ۔شراب پینے والوں کی مجلس۔
10 ۔لڑکوں کے ساتھ بد فعلی کرنا۔
11 ۔خبردار،تنبیہ۔
12 ۔کمینہ کی جمع ہے انتہائی گھٹیاقسم کے لوگ۔
13 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۹۷.
مسئلہ ۴: تعزیر کی بعض صورتیں یہ ہیں۔ قید کرنا، کوڑے مارنا، گوشمالی کرنا(1)، ڈانٹنا، ترش روئی سے (2) اوس کی طرف غصہ کی نظر کرنا۔(3) (زیلعی)
مسئلہ ۵: اگر تعزیر ضرب(4) سے ہو تو کم ازکم تین کوڑے اور زیادہ سے زیادہ اونتالیس کوڑے لگائے جائیں، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں یعنی قاضی کی رائے میں اگردس۱۰ کوڑوں کی ضرورت معلوم ہو تو دس ،بیس کی ہو تو بیس، تیس کی ہو توتیس لگائے یعنی جتنے کی ضرورت محسوس کرتا ہو اوس سے کمی نہ کرے۔ ہاں اگر چالیس یا زیادہ کی ضرورت معلوم ہوتی ہے تو اونتالیس سے زیادہ نہ مارے باقی کے بدلے دوسری سزا کرے مثلاً قید کردے۔ کم از کم تین کوڑے یہ بعض متون کا قول ہے اور امام ابن ہمام وغیرہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک کوڑا مارنے سے کام چلے توتین کی کچھ حاجت نہیں اور یہی قرین قیاس(5) بھی ہے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: اگر چند کوڑے مارے جائیں تو بدن پر ایک ہی جگہ ماریں اور بہت سے مارنے ہوں تو متفرق جگہ مارے جائیں کہ عضو بے کار نہ ہوجائے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۷: تعزیر بالمال یعنی جرمانہ لینا جائز نہیں ہاں اگر دیکھے کہ بغیر لیے باز نہ آئیگا تو وصول کرلے پھر جب اوس کام سے توبہ کرلے واپس دیدے(8) (بحر وغیرہ) پنچایت (9)میں بھی بعض قومیں بعض جگہ جرمانہ لیتی ہیں اونھیں اس سے باز آنا چاہیے۔
مسئلہ ۸: جس مسلمان نے شراب بیچی اوس کو سزادی جائے۔ یوہیں گویّااور ناچنے والے اور مخنث اور نوحہ کرنے والی بھی مستحق تعزیر ہے۔ مقیم بلاعذر شرعی رمضان کا روزہ نہ رکھے تومستحق تعزیر ہے اور اگر یہ اندیشہ ہوکہ اب بھی نہیں رکھے گا تو قید کیاجائے۔(10) (عالمگیری)
۔
1 ۔بطور سزاکان مروڑنا ، تنبیہ کرنا۔
2 ۔سخت اور نفرت کے انداز سے۔
3 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الحدود،فصل فی التعزیر،ج۳،ص۶۳۳.
4 ۔مارنا۔ 5 ۔سمجھ میں آنے والی بات۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۹۶.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۹۷.
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الحدود،فصل فی التعزیر،ج۵،ص۶۸،وغیرہ.
9 ۔کسی قوم یا گاؤں کی انتظامی کمیٹی ،جرگہ۔
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حد القذف والتعزیر،فصل فی التعزیر،ج۲،ص۱۶۹.
مسئلہ ۹: کوئی شخص کسی کی عورت یا چھوٹی لڑکی کوبھگالے گیا اور اوس کا کسی سے نکاح کردیا تو اوس پر تعزیر ہے۔ امام محمد رحمہ اﷲتعالیٰ علیہ فرماتے ہیں كہ قید کیاجائے، یہاں تک کہ مرجائے یا او سے واپس کرے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: ایک شخص نے کسی مرد کو اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں دیکھا اگر چہ فعل قبیح میں مبتلا نہ دیکھا تو چاہیے کہ شورکرے یا مارپیٹ کرنے سے بھاگ جائے تویہی کرے اور اگر ان باتوں کا اوس پر اثرنہ پڑے تو اگر قتل کرسکے تو قتل کرڈالے اور عورت اوس کے ساتھ راضی ہے تو عورت کو بھی مارڈالے یعنی اوس کے مارڈالنے پر قصاص نہیں۔ یوہیں اگر عورت کو کسی نے زبردستی پکڑا اور کسی طرح اوسے نہیں چھوڑتا اور آبرو جانے کا(2) گمان ہے تو عورت سے اگر ہوسکے، اسے مارڈالے۔(3) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۱۱: چور کو چوری کرتے دیکھا اور چلانے یاشور کرنے یا مارپیٹ کرنے پر بھی باز نہیں آتا توقتل کرنے کااختیارہے یہی حکم ڈاکو اور عَشَّار(4) اور ہر ظالم اور کبیرہ گناہ کرنے والے کا ہے۔ اور جس گھر میں ناچ رنگ شراب خواری کی مجلسہواوس کا محاصرہ کرکے(5) گھر میں گھس پڑیں(6) اور خم(7)توڑڈالیں اوراونھیں نکال باہر کردیں اور مکان ڈھادیں۔(8) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۲: یہ احکام جو بیان کیے گئے ان پر اوس وقت عمل کر سکتا ہے جب ان گناہوں میں مبتلا دیکھے اور بعد گناہ کر لینے کے اب اسے سزا دینے کا اختیار نہیں بلکہ بادشاہِ اسلام چاہے تو قتل کر سکتا ہے۔ (9)(درمختار)
قتل وغیرہ کے متعلق جو کچھ بیان ہوا یہ اسلامی احکام ہیں جو اسلامی حکومت میں ہو سکتے ہیں مگر اب کہ ہندوستان میں اسلامی سلطنت باقی نہیں اگر کسی کو قتل کرے تو خود قتل کیاجائے، لہٰذا حالت موجودہ میں ان پر کیسے عمل ہو سکے
۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حد القذف والتعزیر،فصل فی التعزیر،ج۲،ص۱۷۰.
2 ۔عصمت بربادہونے کا،عزت لوٹنے کا۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الحدود،فصل فی التعزیر،ج۵،ص۶۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۹۹.
4 ۔ زبردستی ،ناجائزٹیکس وصول کرنے والے۔
5 ۔چاروں طرف سے گھیرا ڈال کر۔
6 ۔اجازت کے بغیر،زبردستی داخل ہوجائیں۔
7 ۔شراب کے مٹکے۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۱۰۲.
و''البحرالرائق''،کتاب الحدود،فصل فی التعزیر،ج۵،ص۷۰.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۱۰۴.
اس وقت جو کچھ ہم کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے مُقاطَعہ (1)کیاجائے اور ان سے میل جول نشست وبرخاست(2) وغیرہ ترک کریں۔
مسئلہ ۱۳: اگر جرم ایسا ہے جس میں حد واجب ہوتی مگر کسی وجہ سے ساقط ہوگئی تو سخت درجہ کی تعزیر ہوگی، مثلاً دوسرے کی لونڈی کو زانیہ کہا تو یہ صورت حدِ قذف کی تھی مگر چونکہ محصنہ نہیں ہے لہٰذا سخت قسم کی تعزیر ہوگی اور اگر اوس میں حد واجب نہیں مثلاً کسی کو خبیث کہا تو اس میں تعزیر کی مقدار رائے قاضی پر ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: دو شخصوں نے باہم مار پیٹ کی تو دونوں مستحق تعزیر ہیں اور پہلے اوسے سزا دیں گے جس نے ابتدا کی۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: چوپایہ کے ساتھ برا کام کیایاکسی مسلمان کو تھپڑمارا یابازار میں اوس کے سر سے پگڑی اوتار لی تو مستحق تعزیرہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: تعزیر کے دُرّے سختی سے مارے جائیں اور زنا کی حد میں اس سے نرم اور شراب کی حد میں اور نرم اور حد قذف میں سب سے نرم۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: جو شخص مسلمان کو کسی فعل یاقول سے ایذا پہنچائے اگرچہ آنکھ یاہاتھ کے اشارے سے وہ مستحق تعزیر ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: کسی مسلمان کو فاسق، فاجر، خبیث، لوطی(8)، سود خوار، شراب خوار، خائن(9)، دیوث، مخنث(10)، بھڑوا چور، حرام زادہ، ولدالحرام(11)، پلید، سفلہ(12)، کمین(13)، جواری کہنے پر تعزیر کی جائے یعنی جبکہ وہ شخص ایسا نہ ہو جیسا اس نے کہا
۔
1 ۔بائیکاٹ،قطع تعلق۔
2 ۔اٹھنا بیٹھنا۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حد القذف والتعزیر، فصل فی التعزیر،ج۲،ص۱۶۷.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۱۰۵.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحدود،الباب السابع فی حد القذف والتعزیر، فصل فی التعزیر،ج۲،ص۱۶۹.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۱۰۶.
7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔یعنی لواطت کرنے والا۔
9 ۔خیانت کرنے والا۔
10 ۔ہیجڑا۔
11 ۔وطیِ حرام سے پیدا ہونے والا ۔
12 ۔گھٹیا نالائق۔
13 ۔کمینہ،نیچی ذات،گھٹیا۔
اور اگر واقع میں یہ عیوب(1) اس میں پائے جاتے ہیں اور کسی نے کہا تو تعز یر نہیں کہ اس نے خود اپنے کو عیبی بنا رکھا ہے، اس کے کہنے سے اسے کیاعیب لگا۔(2) (بحر وغیرہ)
مسئلہ ۱۹: کسی مسلمان کو فاسق کہا اور قاضی کے یہاں جب دعویٰ ہوا اوس نے جواب دیاکہ میں نے اسے فاسق کہا ہے کیونکہ یہ فاسق ہے تو اوس کا فاسق ہونا گواہوں سے ثابت کرنا ہوگا اور قاضی اوس سے دریافت کرے کہ اس میں فِسق کی کیابات ہے اگر کسی خاص بات کا ثبوت دے اور گواہوں نے بھی گواہی میں اوس خاص فِسق کو بیان کیاتو تعزیر ہے اور اگر خاص فِسق نہ بیان کریں صرف یہ کہیں کہ فاسق ہے تو قول معتبر نہیں۔ اور اگر گواہوں نے بیان کیاکہ یہ فرائض کو ترک کرتا ہے تو قاضی اوس شخص سے فرائض اسلام دریافت کریگا اگر نہ بتاسکا تو فاسق ہے یعنی وہ فرائض جن کا سیکھنا اس پر فرض تھا اور سیکھا نہیں تو فاسق ہونے کے لیے یہی بس ہے۔ اور اگر ایسے مسلمان کو فاسق کہا جو علانیہ فِسق کرتا ہے مثلاً ناجائز نوکری کرتا ہے یاعلانیہ سود لیتا ہے وغیرہ وغیرہ تو کہنے والے پر کچھ الزام نہیں۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۰: کسی مسلمان کو کافرکہا تو تعزیر ہے رہا یہ کہ وہ قائل خود کافر ہو گا یانہیں اس میں دو صورتیں ہیں اگر اوسے مسلمان جانتا ہے تو کافر نہ ہوا۔ اور اگر اوسے کافر اعتقاد کرتا ہے تو خود کافر ہے کہ مسلمان کو کافر جاننا دین اسلام کو کفر جاننا ہے اور دینِ اسلام کو کفر جاننا کفر ہے۔ ہاں اگر اوس شخص میں کوئی ایسی بات پائی جاتی ہے جس کی بنا پر تکفیر ہو سکے(4) اور اوس نے اسے کافر کہا اور کافر جانا تو کافر نہ ہوگا۔(5) (درمختار، ردالمحتار) یہ اوس صورت میں ہے کہ وہ وجہ جس کی بنا پر اوس نے کافر کہا ظنی ہو یعنی تاویل ہو سکے تو وہ مسلمان ہی کہا جائیگا مگر جس نے اوسے کافر کہا وہ بھی کافر نہ ہوا۔ اور اگر اوس میں قطعی کفرپایاجاتا ہے جو کسی طرح تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا (6)تو وہ مسلمان ہی نہیں اور بیشک وہ کافر ہے اور اس کو کافر کہنا مسلمان کو کافر کہنا نہیں بلکہ کافر کو کافر کہنا ہے بلکہ ایسے کو مسلمان جاننا یااس کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔
مسئلہ ۲۱: کسی شخص پر حاکم کے یہاں دعویٰ کیاکہ اس نے چوری کی یااس نے کفر کیااور ثبوت نہ دے سکا
۔
1 ۔برائیاں۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الحدود،فصل فی التعزیر،ج۵،ص۶۹،وغیرہ.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۱۰۸،وغیرہ.
4 ۔کافر ہونے کا حکم لگ سکتاہو۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،مطلب:فی الجرح المجرد،ج۶،ص۱۱۱.
6 ۔ یعنی کسی بھی طرح کفرکے سوااوربات مرادنہ لی جاسکتی ہو۔
تو مستحق تعزیر نہیں یعنی جبکہ اس کا مقصود گالی دینایاتوہین کرنا نہ ہو۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲:رافضی، بد مذہب، منافق، زندیق(2)، یہودی، نصرانی، نصرانی بچہ، کافر بچہ کہنے پر بھی تعزیر ہے۔ (3) (درمختار، بحر) یعنی جبکہ سنی کو رافضی یابدمذہب یابدعتی کہا اور رافضی کوکہا تو کچھ نہیں کہ اوس کوتو رافضی کہیں گے ہی۔ یوہیں سُنّی کو وہابی یاخارجی کہنا بھی موجب تعزیر ہے۔
مسئلہ ۲۳: حرامی کا لفظ بھی بہت سخت گالی ہے اور حرام زادہ کے معنی میں ہے اس کا بھی حکم تعزیر ہونا چاہیے، کسی کو بے ایمان کہا تو تعزیرہوگی اگرچہ عرف عام(4) میں یہ لفظ کافر کے معنے میں نہیں بلکہ خائن کے معنی میں ہے اور لفظ خائن میں تعزیر ہے۔
مسئلہ ۲۴: سوئر، کتا، گدھا، بکرا، بیل، بندر، اُلّو کہنے پر بھی تعزیر ہے جبکہ ایسے الفاظ علما وسادات یااچھے لوگوں کی شان میں استعمال کیے۔(5) (ہدایہ وغیرہ) یہ چند الفاظ جن کے کہنے پر تعزیر ہوتی ہے بیان کر دیے باقی ہندوستان میں خصوصاً عوام میں آج کل بکثرت نہایت کریہ وفحش(6) الفاظ گالی میں بولے جاتے یابعض بےباک(7) مذاق اور دل لگی میں کہا کرتے ہیں ایسے الفاظ بالقصد (8)نہیں لکھے اور اون کا حکم ظاہر ہے کہ عزت دار کو کہے جس کی اون الفاظ سے ہتک حرمت(9)ہوتی ہے تو تعزیر ہے یااون الفاظ سے ہر شخص کی بے آبروئی(10) ہے جب بھی تعزیر ہے۔
مسئلہ ۲۵: جس کو گالی دی یااور کوئی ایسا لفظ کہا جس میں تعزیر ہے اور اوس نے معاف کردیاتو تعزیر ساقط ہو جائے گی۔ اور اوس کی شان میں چند الفاظ کہے تو ہر ایک پر تعزیر ہے یہ نہ ہوگا کہ ایک کی تعزیر سب کے قائم مقام ہو۔ یوہیں اگر چند شخصوں کی نسبت کہا مثلاً تم سب فاسق ہو توہر ایک شخص کی طرف سے الگ الگ تعزیر ہو گی۔ (11)(ردالمحتار)
۔
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،مطلب:فی الجرح المجرد،ج۶،ص۱۱۳.
2 ۔وہ شخص جس کا کوئی دِین نہ ہو۔(ردالمحتار،ج۶،ص۱۱۲)
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۱۱۲.
و''البحرالرائق''،کتاب الحدود،فصل فی التعزیر،ج۵،ص۶۹.
4 ۔عام بول چال۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الحدود،باب حد القذف،فصل فی التعزیر،ج۱،ص۳۶۰،وغیرہ.
6 ۔بہت برے اور بے ہودہ۔
7 ۔آوارہ،بے حیا،اوباش۔
8 ۔ ارادۃً۔
9 ۔ذلت ورسوائی۔
10 ۔بے عزتی،توہین۔
12 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،مطلب:فیمالو شتم...إلخ،ج۶،ص۱۱۸.
مسئلہ ۲۶: جس کو گالی دی اگر وہ ثبوت نہ پیش کر سکا تو گالی دینے والے سے حلف لیں گے اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو تعزیر ہوگی۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۷: جہاں تعزیر میں کسی بندہ کا حق متعلق نہ ہو مثلاً ایک شخص فاسقوں کے مجمع میں بیٹھتا ہے یااوس نے کسی عورت کا بوسہ لیااور کسی دیکھنے والے نے قاضی کے پاس اس کی اطلاع کی تو یہ شخص اگر چہ بظاہر مدعی کی صورت میں ہے مگر گواہ بن سکتا ہے لہٰذا اگر اس کے ساتھ ایک اور شخص شہادت دے تو تعزیر کا حکم ہوگا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲۸: شوہر اپنی عورت کو ان امور پر مارسکتا ہے۔ (۱)عورت اگر باوجود قدرت بناؤ سنگار نہ کرے یعنی جو زینت شرعا جائز ہے اوس کے نہ کرنے پر مار سکتا ہے اور اگر شوہر مردانہ لباس پہننے کو یاگودناگودانے(3) کو کہتا ہے اور نہیں کرتی تو مارنے کا حق نہیں۔ یوہیں اگر عورت بیمار ہے یااحرام باندھے ہوئے ہے یاجس قسم کی زینت کو کہتا ہے وہ اوس کے پاس نہیں ہے تو نہیں مار سکتا۔ (۲) غسل جنابت نہیں کرتی۔ (۳)بغیر اجازت گھر سے چلی گئی جس موقع پر اوسے اجازت لینے کی ضرورت تھی۔ (۴)اپنے پاس بلایااور نہیں آئی جبکہ حیض ونفاس سے پاک تھی اور فرض روزہ بھی رکھے ہوئے نہ تھی۔ (۵) چھوٹے ناسمجھ بچہ کے مارنے پر۔ (۶)شوہر کو گالی دی، گدھا وغیرہ کہا۔(۷) یااوس کے کپڑے پھاڑ دیے۔ (۸)غیر محرم کے سامنے چہرہ کھول دیا۔(۹) اجنبی مرد سے کلام کیا۔ (۱۰) شوہر سے بات کی یاجھگڑا کیااس غرض سے کہ اجنبی شخص اس کی آواز سنے یاشوہر کی کوئی چیز بغیر اجازت کسی کو دے دی اور وہ ایسی چیز ہو کہ عادۃً بغیر اجازت عورتیں ایسی چیز نہ دیاکرتی ہوں اور اگر ایسی چیز دی جس کے دینے پر عادت جاری ہے تو نہیں مار سکتا۔ (4)(بحر)
مسئلہ ۲۹: عورت اگر نماز نہیں پڑھتی ہے تو اکثر فقہاء کے نزدیک شوہر کو مارنے کا اختیار ہے اور ماں باپ اگر نمازنہ پڑھیں یااور کوئی معصیت (5) کریں تو اولاد کو چاہیے کہ اونھیں سمجھائے اگر مان لیں فبہا(6)ورنہ سکوت کرے(7)اور اون کے لیے دُعا واستغفار کرے اور کسی کی ماں اگر کہیں شادی وغیرہ میں جانا چاہتی ہے تو اولاد کو منع کرنے کا حق نہیں۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج۶،ص۱۱۹.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۲۰.
3 ۔بدن کے کسی حصہ پر سوئی سے نقش ونگاروغیرہ کرکے اس میں سرمہ یا نیل بھرنا۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الحدود،فصل فی التعزیر،ج۵،ص۸۲.
5 ۔گناہ۔
6 ۔ توصحیح۔
7 ۔خاموش رہے۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،مطلب:فی تعزیر المتھم،ج۶،ص۱۲۵.
مسئلہ ۳۰: چھوٹے بچہ کو بھی تعزیر کر سکتے ہیں اور اوس کو سزا اس کا باپ یادادا یاان کا وصی یامعلم دے گا اور ماں کو بھی سزا دینے کا اختیار ہے۔ قرآن پڑھنے اور ادب حاصل کرنے اور علم سیکھنے کے لیے بچہ کو اوس کے باپ، ماں مجبور کر سکتے ہیں۔ یتیم بچہ جو اس کی پرورش میں ہے اسے بھی اون باتوں پر مار سکتا ہے جن پر اپنے لڑکے کو مارتا۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: عورت کو اتنا نہیں مار سکتا کہ ہڈی ٹوٹ جائے یاکھال پھٹ جائے یانیلا داغ پڑ جائے اور اگر اتنا مارا اور عورت نے دعوٰی کر دیااور گواہوں سے ثابت کر دیاتو شوہر پر اس مارنے کی تعزیر ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: عورت نے اس غرض سے کفر کیاکہ شوہر سے جدائی ہو جائے تو اوسے سزادی جائے اور اسلام لانے اور اوسی شوہر سے نکاح کرنے پر مجبور کی جائے دوسرے سے نکاح نہیں کر سکتی۔ (3) (درمختار)
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۳۸﴾فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللہَ یَتُوۡبُ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۹﴾ ) (5)
چورانے والا مرد اور چورانے والی عورت ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ سزا ہے اون کے فعل کی اﷲ (عزوجل) کی طرف سے سرزنش ہے اور اﷲ (عزوجل) غالب حکمت والا ہے اور اگر ظلم کے بعد توبہ کرے اور اپنی حالت درست کر لے تو بیشک اﷲ (عزوجل) اوس کی توبہ قبول کریگا، بیشک اﷲ (عزوجل) بخشنے والا مہربان ہے۔
حدیث ۱: امام بخاری ومسلم ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ حضورِاقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''چور پر اﷲ (عزوجل) کی لعنت کہ بیضہ (خود)(5) چوراتا ہے، جس پر اوس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور رسی چوراتا ہے، اس پر ہاتھ کاٹا جاتاہے۔'' (6)
۔
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،مطلب:فی تعزیر المتھم،ج۶،ص۱۲۵.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحدود،باب التعزیر،ج ۶،ص۱۲۶.
3 ۔المرجع السابق،ص۱۲۸.
4 ۔پ۶،المائدہ:۳۸،۳۹.
5 ۔لوہے کی بنی ہوئی ایک خاص ٹوپی جو جنگ کے دوران پہنتے ہیں۔
6 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الحدود،باب لعن السارق...إلخ، الحدیث:۶۷۸۳،ج۴،ص۳۳۰.
حدیث ۲: ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ فضالہ بن عبید رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایاگیااوس کا ہاتھ کاٹا گیاپھر حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)نے حکم فرمایا: ''وہ کٹاہوا ہاتھ اوس کی گردن میں لٹکا دیاجائے۔'' (1)
حدیث ۳: ابن ماجہ صفوان بن امیہ سے اور دارمی ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے راوی، کہ صفوان بن امیہ مدینہ میں آئے اور اپنی چادر کا تکیہ لگا کر مسجد میں سوگئے چور آیااور اون کی چادر لے بھاگا، اونھوں نے اوسے پکڑا اور رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر لائے، حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا۔ صفوان نے عرض کی، میرا یہ مطلب نہ تھا، یہ چادر اوس پر صدقہ ہے۔ ارشاد فرمایا: ''میرے پاس حاضر کرنے سے پہلے تم نے ایسا کیوں نہ کیا۔'' (2)
حدیث ۴: امام مالک نے عبداﷲبن عمرو(3)رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ ایک شخص اپنے غلام کو حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر لایااور کہا اس کا ہاتھ کاٹیے کہ اس نے میری بی بی کا آئینہ چورایاہے۔ امیرالمومنین نے فرمایا: اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائیگا کہ یہ تمھارا خادم ہے، جس نے تمھارا مال لیاہے۔ (4)
حدیث ۵: ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی جابر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''خائن اور لوٹنے والے اور اُچک لے(5) جانے والے کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔'' (6)
حدیث ۶: امام مالک و ترمذی و ابو داود و نسائی و ابن ماجہ و دارمی رافع بن خدیج رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضورِاقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''پھل اور گابھے(7)کے چورانے میں ہاتھ کاٹنا نہیں۔'' یعنی جبکہ پیڑ(8)
۔
1 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الحدود باب ماجاء فی تعلیق یدالسارق، الحدیث:۱۴۵۲،ج۳،ص۱۳۱.
2 ۔''سنن الدارمي''،کتاب الحدود، باب السارق یوہب... إلخ، الحدیث:۲۲۹۹،ج۲،ص۲۲۶.
و''سنن ابن ماجہ''،کتاب الحدود،من سرق من الحرز،الحدیث:۲۵۹۵،ج۳،ص۲۴۶.
3 ۔بہار شریعت کے نسخوں میں اس مقام پر ''عبد اللہ بن عمر '' رضی اللہ تعالیٰ عنہما لکھا ہے ،جو کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ حدیث پاک ''موطأ امام مالک ''میں حضرت سیدنا' 'عبد اللہ بن عمرو '' رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے،لہذا اسی وجہ سے ہم نے درست کردیا ہے ۔... عِلْمِیہ
4 ۔''الموطّأ''،لإمام مالک،کتاب الحدود،باب مالا قطع فیہ،الحدیث:۱۶۱۱،ج۲،ص۳۴۹.
5 ۔چھین کر،جھپٹ کر۔
6 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الحدود، باب ماجاء في الخائن...إلخ،الحدیث:۱۴۵۳،ج۳،ص۱۳۲.
7 ۔ کھجور کا خوشہ جو پہلے پہل نکلتا ہے،نیز کھجورکے درخت سے نکلنے والاسفید گوند جوچربی کی طرح کاہوتاہے۔
8 ۔درخت۔
میں لگے ہوں اور کوئی چورائے۔ (1)
حدیث ۷: امام مالک نے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''درختوں پر جو پھل لگے ہوں، اون میں قطع نہیں اور نہ اون بکریوں کے چورانے میں جو پہاڑ پر ہوں، ہاں جب مکان میں آجائیں اور پھل خرمن(2) میں جمع کرلیے جائیں اور سپر(3) کی قیمت کو پہنچیں تو قطع ہے۔'' (4)
حدیث ۸: عبداﷲ بن عمر،و دیگر صحابہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے مروی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے سپر کی قیمت میں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیاہے۔ سپر کی قیمت میں روایات بہت مختلف ہیں، بعض میں تین درہم، بعض میں ربع دینار، بعض میں دس درہم۔ ہمارے امام اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے احتیاطاً دس درہم والی روایت پر عمل فرمایا۔ (5)
چوری یہ ہے کہ دوسرے کا مال چھپا کرنا حق لے لیاجائے اور اس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے مگر ہاتھ کاٹنے کے لیے چند شرطیں ہیں۔
(۱)چورانے والا مکلف ہو یعنی بچہ یامجنون نہ ہو اب خواہ وہ مرد ہو یاعورت آزاد ہو یاغلام مسلمان ہو یاکافر اور اگر چوری کرتے وقت مجنون نہ تھا پھر مجنون ہو گیاتو ہاتھ نہ کاٹا جائے۔
(۲) گونگا نہ ہو(۳)انکھیارا(6)ہواور اگر گونگا ہے تو ہاتھ کاٹنا نہیں کہ ہو سکتا ہے اپنا مال سمجھ کر لیاہو۔ یوہیں اندھے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے کہ شاید اس نے اپنا مال جان کر لیا۔
(۴) دس درم چورائے یااس قیمت کا سونا یااور کوئی چیز چورائے اس سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور
(۵) دس درم کی قیمت چورانے کے وقت بھی ہو اور ہاتھ کاٹنے کے وقت بھی۔
(۶) اور اتنی قیمت اوس جگہ ہو جہاں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ لہٰذا اگر چورانے کے وقت وہ چیز دس درم قیمت کی تھی
۔
1 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الحدود، باب ماجاء لاقطع في ثمرولا کثر،الحدیث:۱۴۵۴،ج۳،ص۱۳۲.
2 ۔وہ جگہ جہاں پھل یاغلہ وغیرہ جمع کرکے صاف کیے جاتے ہیں۔
3 ۔ڈھال۔
4 ۔''الموطأ''،لإمام مالک، کتاب الحدود، باب ما یجب فیہ القطع،الحدیث:۱۵۹۹،ج۲،ص۳۴۱.
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب السرقۃ،ج۵،ص۱۲۲۔۱۲۴.
6 ۔درست آنکھوں والا،بینا۔
مگر ہاتھ کاٹنے کے وقت اس سے کم کی ہوگئی یاجہاں چورایاہے وہاں تو اب بھی دس درم قیمت کی ہے مگر جہاں ہاتھ کاٹا جائے گا وہاں کم کی ہے تو ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ ہاں اگر کسی عیب کی وجہ سے قیمت کم ہو گئی یااوس میں سے کچھ ضائع ہوگئی کہ دس ۱۰ درم کی نہ رہی تو دونوں صورتوں میں ہاتھ کاٹے جائیں گے۔
(۷) اور چورانے میں خود اس شے کا چورانا مقصود ہو لہٰذا اگر اچکن(1) وغیرہ کوئی کپڑا چورایااور کپڑے کی قیمت دس درم سے کم ہے مگر اوس میں دینار نکلا تو جس کوبالقصدچورایاوہ دس درم کا نہیں لہٰذا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں اگر وہ کپڑا ان درموں کے لیے ظرف ہو تو قطع ہے کہ مقصود کپڑا چورانا نہیں بلکہ اوس شے کا چورانا ہے یاکپڑا چورایا اور جانتا تھا کہ اس میں روپے بھی ہیں تو دونوں کو قصداً چورانا قرار دیاجائیگا اگرچہ کہتا ہو کہ میرا مقصود صرف کپڑا چورانا تھا۔ یوہیں اگر روپے کی تھیلی چورائی تو اگرچہ کہے مجھے معلوم نہ تھا کہ اس میں روپے ہیں اور نہ میں نے روپے کے قصد سے چورائی بلکہ میرا مقصود صرف تھیلی کا چورانا تھا تو ہاتھ کاٹا جائیگا اور اوس کے قول کا اعتبار نہ کیاجائیگا۔
(۸)اوس مال کو اس طرح لے گیاہو کہ اُس کا نکالنا ظاہر ہو لہٰذا اگر مکان کے اندر جہاں سے لیاوہاں اشرفی نگل لی تو قطع نہیں بلکہ تاوان لازم ہے۔
(۹)خفیۃً (2)لیاہو یعنی اگر دن میں چوری کی تو مکان میں جانا اور وہاں سے مال لینا دونوں چھپ کر ہوں اور اگر گیاچھپ کر مگر مال کا لینا علانیہ(3)ہو جیسا ڈاکو کرتے ہیں تو اس میں ہاتھ کاٹنا نہیں۔ مغرب وعشا کے درمیان کاوقت دن کے حکم میں ہے۔ اور اگر رات میں چوری کی اور جانا خفیۃً ہو اگرچہ مال لینا علانیۃً یالڑجھگڑ کر ہو ہاتھ کاٹا جائے۔
(۱۰) جس کے یہاں سے چوری کی اوس کا قبضہ صحیح ہوخواہ وہ مال کامالک ہو یاامین(4) اور اگر چور کے یہاں سے چورا لیا(5) تو قطع نہیں یعنی جبکہ پہلے چور کا ہاتھ کاٹا جاچکا ہو، ورنہ اس کا کاٹا جائے۔
(۱۱) ایسی چیز نہ چورائی ہو جو جلد خراب ہو جاتی ہے جیسی گوشت اور ترکاریاں۔
(۱۲)وہ چوری دارالحرب میں نہ ہو۔
(۱۳) مال محفوظ ہو اور حفاظت کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ مال ایسی جگہ ہو جو حفاظت کے لیے بنائی گئی ہو جیسے مکان، دوکان،خیمہ، خزانہ، صندوق۔ دوسری یہ کہ وہ جگہ ایسی نہیں مگر وہاں کوئی نگہبان مقرر ہو جیسے مسجد، راستہ، میدان۔
۔
1 ۔ایک قسم کالباس جوکوٹ کی طرح ہوتا ہے۔
2 ۔چھپاکر۔
3 ۔ظاہراً،سب کے سامنے۔
4 ۔یعنی اس کے پاس مال بطورامانت ہو۔
5 ۔یعنی چور جومال چوری کر کے لایا تھااسے چرایا۔
(۱۴) بقدردس درم کے ایک بار مکان سے باہر لے گیاہو اور اگر چند بار لے گیاکہ سب کا مجموعہ دس درم یازیادہ ہے، مگر ہر بار دس ۱۰ سے کم کم لے گیاتو قطع نہیں کہ یہ ایک سرقہ (1)نہیں بلکہ متعدد(2) ہیں، اب اگر دس درم ایک بارلے گیااور وہ سب ایک ہی شخص کے ہوں یاکئی شخصوں کے مثلاً ایک مکان میں چند شخص رہتے ہیں اور کچھ کچھ ہر ایک کا چورایاجن کا مجموعہ دس درم یازیادہ ہے اگرچہ ہر ایک کا اس سے کم ہے دونوں صورتوں میں قطع ہے(3)۔
(۱۵) شبہہ یاتاویل کی گنجائش نہ ہو، لہٰذا اگر باپ کا مال چورایایاقرآن مجید کی چوری کی تو قطع نہیں کہ پہلے میں شبہہ ہے اور دوسرے میں یہ تاویل ہے کہ پڑھنے کے لیے لیاہے۔ (4) (درمختار، بحر، عالمگیری وغیرہا)
مسئلہ ۱: چند شخصوں نے ملکر چوری کی اگر ہر ایک کو بقدر دس درم کے حصہ ملا تو سب کے ہاتھ کاٹے جائیں خواہ سب نے مال لیاہو یابعضوں نے لیااور بعض نگہبانی کرتے رہے ۔ (5)(عالمگیری، بحر)
مسئلہ ۲: چوری کے ثبوت کے دوطریقے ہیں ایک یہ کہ چور خود اقرار کرے اور اس میں چند بار کی حاجت نہیں صرف ایک بار کافی ہے دوسرا یہ کہ دومرد گواہی دیں اور اگر ایک مرد اور دو عورتوں نے گواہی دی تو قطع نہیں مگر مال کا تاوان دلایاجائے اور گواہوں نے یہ گواہی دی کہ ہمارے سامنے اقرار کیاہے تو یہ گواہی قابل اعتبار نہیں گواہ کا آزاد ہونا شرط نہیں۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۳: قاضی گواہوں سے چند باتوں کا سوال کرے کس طرح چوری کی، اور کہاں کی،اور کتنے کی کی، اور کس کی چیز چورائی،جب گواہ ان امور کا جواب دیں اور ہاتھ کا ٹنے کے تمام شرائط پائے جاہیں تو قطع کا حکم ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۴: پہلے اقرار کیاپھر اقرارسے پھر گیایاچند شخصوں نے چوری کا اقرار کیاتھا ان میں سے ایک اپنے اقرار سے پھر گیایاگواہوں نے اسکی شہادت دی کہ ہمارے سامنے اقرار کیاہے اور چورانکار کرتا ہے کہتا ہے میں نے اقرار نہیں کیاہے
۔
1 ۔ایک بار چوری کرنا۔
2 ۔ زیادہ۔
3 ۔یعنی ہاتھ کاٹا جائے گا۔
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،ج۶،ص۱۳۲۔۱۳۸.
و''البحرالرائق''،کتاب السرقۃ،ج۶،ص۸۴۔۸۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الأول فی بیان السرقۃ ...إلخ،ج۲،ص۱۷۰،وغیرہا.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الأول فی بیان السرقۃ...إلخ،ج۲،ص۱۷۰.
و''البحرالرائق''،کتاب السرقۃ،ج۵،ص۸۹.
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،ج۶،ص۱۳۸.
7 ۔ المرجع السابق،ص۱۳۸.
یاکچھ جواب نہیں دیتا تو ان سب صورتوں میں قطع نہیں مگر اقرار سے رجوع کی تو تاوان لازم ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۵: اقرار کرکے بھاگ گیاتو قطع نہیں کہ بھاگنا بمنزلہ رجوع کے ہے ہاں تاوان لازم ہے۔ اور گواہوں سے ثابت ہو تو قطع ہے اگرچہ بھاگ جائے اگرچہ حکم سنانے سے پہلے بھاگا ہو البتہ اگر بہت دنوں میں گرفتار ہوا تو تمادی عارض ہوگئی مگر تاوان لازم ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۶: مدعی گواہ نہ پیش کرسکا چور پر حلف (3) رکھا اوس نے حلف لینے سے انکار کیاتو تاوان دلایاجائے مگر قطع نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۷: چور کو مار پیٹ کر اقرار کرانا جائز ہے کہ یہ صورت نہ ہو تو گواہوں سے چوری کا ثبوت بہت مشکل ہے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۸: ہاتھ کاٹنے کا قاضی نے حکم دیدیااب وہ مدعی کہتا ہے کہ یہ مال اوسی کاہے یامیں نے اوس کے پاس اما نۃً رکھا تھا یاکہتا ہے کہ گواہوں نے جھوٹی گواہی دی یااوس نے غلط اقرار کیاتو اب ہاتھ نہیں کاٹاجاسکتا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۹: گواہوں کے بیان میں اختلاف ہوا ایک کہتا ہے کہ فلاں قسم کاکپڑا تھا دوسرا کہتا ہے فلاں قسم کا تھا تو قطع نہیں ۔(7) (بحر) اقرار وشہادت کے جزئیات کثیرہیں چونکہ یہاں حدود جاری نہیں ہیں لہٰذا بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ ۱۰: ہاتھ کاٹنے کے وقت مدعی اور گواہوں کا حاضر ہونا ضرور نہیں(8) بلکہ اگر غائب ہوں یامر گئے ہوں جب بھی ہاتھ کاٹ دیاجائے گا۔ (9)(درمختار)
۔
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،ج۶،،ص۱۳۹.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،ج۶،ص۱۴۰.
3 ۔قسم اٹھانا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،ج۶،ص۱۴۰.
5 ۔ المرجع السابق،ص۱۴۱.
6 ۔المرجع السابق،ص۱۴۳.
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب السرقۃ،ج۵،ص۸۸.
8 ۔ بہارشریعت کے تمام نسخوں میں یہاں عبارت ایسے ہی مذکورہے،غالباًیہاں کتابت کی غلطی ہے کیونکہ '' درمختار میں ہے کہ ہاتھ کاٹنے کے وقت مدعی کاحاضرہوناشرط ہے گواہوں کاحاضرہوناشرط نہیں ۔...عِلْمِیہ
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،باب کیفیۃ القطع وإثباتہ،ج۶،ص۱۶۹.
مسئلہ۱: ساکھو(1)، آبنوس(2)، اگر کی لکڑی(3)، صندل، نیزہ، مشک، زعفران، عنبر اور ہر قسم کے تیل، زمرد، یاقوت، زبرجد، فیروزہ، موتی اور ہر قسم کے جواہر۔ لکڑی کی ہر قسم کی قیمتی چیزیں جیسے کرسی، میز، تخت، دروازہ جو ابھی نصب نہ کیا گیا ہو (4)، لکڑی کے برتن۔ یوہیں تانبے، پیتل، لوہے، چمڑے وغیرہ کے برتن، چھری، چاقو، قینچی اور ہر قسم کے غلے گیہوں، جَو، چاول اور ستو، آٹا، شکر، گھی، سرکہ، شہد، کھجور، چھوہارے، منقٰے، روئی، اُون، کتان(5)، پہننے کے کپڑے، بچھونا اور ہر قسم کے عمدہ اور نفیس مال میں ہاتھ کاٹا جائیگا۔
مسئلہ ۲: حقیر چیزیں جو عادۃً محفوظ نہ رکھی جاتی ہوں اور باعتبار اصل کے مباح ہوں اور ہنوز (6)ان میں کوئی ایسی صنعت(7) بھی نہ ہوئی ہو جس کی وجہ سے قیمتی ہو جائیں ان میں ہاتھ نہیں کاٹا جائیگا جیسے معمولی لکڑی، گھاس، نرکل(8)، مچھلی، پرند، گیرو(9)، چونا، کوئلے، نمک، مٹی کے برتن، پکی اینٹیں۔ یوہیں شیشہ اگرچہ قیمتی ہو کہ جلد ٹوٹ جاتا ہے اور ٹوٹنے پر قیمتی نہیں رہتا۔ یوہیں وہ چیزیں جو جلد خراب ہو جاتی ہیں جیسے دودھ، گوشت، تربوز، خربزہ، ککڑی، کھیرا، ساگ، ترکاریاں اور تیار کھانے جیسے روٹی بلکہ قحط کے زمانہ میں غلہ گیہوں، چاول، جَو وغیرہ بھی اور تر میوے جیسے انگور، سیب، ناشپاتی، بہی(10)، انار اور خشک میوے میں ہاتھ کاٹا جائیگا جیسے اخروٹ، بادام وغیرہ جبکہ محفوظ ہوں۔ اگر درخت پر سے پھل توڑے یا کھیت کاٹ لے گیا تو قطع نہیں، اگرچہ درخت مکان کے اندر ہو یا کھیت کی حفاظت ہوتی ہو اور پھل توڑ کریا کھیت کاٹ کر حفاظت میں رکھا اب چورائے گا تو قطع ہے۔
مسئلہ ۳: شراب چورائی تو قطع نہیں ہاں اگر شراب قیمتی برتن میں تھی کہ اوس برتن کی قیمت دس۱۰درم ہے اورصرف شراب نہیں بلکہ برتن چورانا بھی مقصود تھا، مثلاً بظاہر دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ برتن بیش قیمت (11)ہے توقطع ہے۔ (12)(ردالمحتار)
۔۔۔۔
1 ۔ایک درخت کا نام جس کی لکڑی مضبوط اور پائیدارہوتی ہے ۔
2 ۔جنوب مشرقی ایشیا کے ایک درخت کا نام جس کی لکڑی سخت ،وزنی اورسیاہ ہوتی ہے۔
3 ۔ایک خوشبوداردرخت کی لکڑی جسے جلانے سے خوشبو ہوتی ہے۔
4 ۔لگایا نہ گیا ہو۔
5 ۔ایک قسم کا باریک کپڑا جس کی نسبت مشہور ہے کہ چاندنی رات میں ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے۔
6 ۔ابھی تک۔
7 ۔دستکاری۔
8 ۔سرکنڈا۔
9 ۔ایک قسم کی لال مٹی۔
10 ۔ایک پھل کا نام جو ناشپاتی کے مشابہ ہوتا ہے۔
11 ۔زیادہ قیمت والا۔
12 ۔''ردالمحتار''،کتاب السرقۃ،مطلب:فی ضمان الساعی،ج۶،ص۱۴۷،۱۴۸.
مسئلہ ۴: لہو ولعب کی چیزیں جیسے ڈھول، طبلہ (1)،سارنگی(2)وغیرہ ہر قسم کے باجے اگرچہ طبل جنگ (3)چورایا ہاتھ نہیں کاٹا جائیگا۔ یوہیں سونے چاندی کی صلیب (4)یابت اور شطرنج نرد(5)چورانے میں قطع نہیں اور روپے اشرفی پر تصویر ہو جیسے آج کل ہندوستان کے روپے اشرفیاں تو قطع ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: گھاس اور نرکل کی بیش قیمت چٹائیاں کہ صنعت کی وجہ سے بیش قیمت ہوگئیں۔ جیسے آج کل بمبئی کلکتہ سے آیا کرتی ہیں ان میں قطع (7)ہے۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مکان کا بیرونی دروازہ اور مسجد کا دروازہ بلکہ مسجدکے دیگر اسباب جھاڑ فانوس(9)۔ ہانڈیاں۔ قمقمے۔ گھڑی ،جانماز وغیرہ اور نمازیوں کے جوتے چورانے میں قطع نہیں مگر جو اس قسم کی چوری کرتا ہو اوسے پوری سزا دی جائے اور قید کریں یہاں تک کہ سچی توبہ کرلے بلکہ ہر ایسے چور کو جس میں کسی شبہہ کی بنا پر قطع نہ ہو تعزیر کی جائے۔ (10)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ہاتھی دانت یا اس کی بنی ہوئی چیز چورانے میں قطع نہیں اگرچہ صنعت کی وجہ سے بیش قیمت قرار پاتی ہو اور اونٹ کی ہڈی کی بیش قیمت چیز بنی ہو تو قطع ہے۔(11) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: شیر، چیتا وغیرہ درندہ کو ذبح کرکے ان کی کھال کو بچھونا یا جانماز بنا لیاہے تو قطع ہے ورنہ نہیں اور باز، شکرا، کتا، چیتا وغیرہ جانوروں کو چورایا تو قطع نہیں۔(12) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: مصحف شریف چورایا تو قطع نہیں اگرچہ سونے چاندی کا اوس پر کام ہو۔
۔۔۔۔
1 ۔ ایک قسم کاخاص ڈھول جس میں بائیں کامنہ دائیں سے نسبتاچوڑا ہوتاہے،یہ انگلیوں کی ضرب اورہتھیلی کی تھاپ سے بجایاجاتاہے۔
2 ۔ایک ساز جس میں تار لگے ہوتے ہیں اور اسے گز (چھوٹی کمان)سے بجایا جاتا ہے۔
3 ۔اعلان جنگ کے لیے بجائے جانے والا نقارہ،بڑا ڈھول۔
4 ۔عیسائیوں کا ایک مقدس نشان۔
5 ۔شطرنج کامُہرہ۔
6 ۔''الدرالمختاروردالمحتار''،کتاب السرقۃ،مطلب: فی ضمان الساعی،ج۶،ص۱۴۸.
7 ۔ ہاتھ کاٹنا۔
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب السرقۃ،مطلب:فی ضمان الساعی،ج۶،ص۱۴۶.
9 ۔ ایک قسم کا فانوس جو گھروں میں روشنی اورخوبصورتی (Decoration)کیلئے لگاتے ہیں۔
10 ۔''ردالمحتار''،کتاب السرقۃ،مطلب:فی ضمان الساعی،ج۶،ص۱۴۸.
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الثانی فی مایقطع فیہ ومالا ...إلخ،الفصل الأول،ج۲،ص۱۷۶.
12 ۔المرجع السابق.
یوہیں کتب تفسیر وحدیث وفقہ ونحو ولغت و اشعار میں بھی قطع نہیں۔ (1)(عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: حساب کی بہیاں(2) اگر بیکار ہوچکی ہیں اور وہ کاغذات دس درم کی قیمت کے ہیں تو قطع ہے، ورنہ نہیں۔(3)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: آزاد بچہ کو چورایا اگرچہ زیور پہنے ہوئے ہے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ یوہیں اگر بڑے غلام کو جو اپنے کوبتاسکتا ہے چورایا تو قطع نہیں، اگرچہ سونے یا بیہوشی یا جنون کی حالت میں اسے چورایا ہو اور اگر ناسمجھ غلام کو چُرایا تو قطع ہے۔(4)(عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۲: ایک شخص کے دوسرے پر دس درم آتے تھے قرض خواہ نے قرضدار کے یہاں سے روپے یا اشرفیاں چورا لیں تو قطع نہیں اور اگر اسباب (5) چورایا اور کہتا ہے کہ میں نے اپنے روپے کے معاوضہ میں لیا یا بطور رہن اپنے پاس رکھنے کے لیے لایا تو قطع نہیں۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: امانت میں خیانت کی یا مال لوٹ لیا یا اُوچک لیا(7) تو قطع نہیں۔ یوہیں قبر سے کفن چورانے میں قطع نہیں اگرچہ قبر مقفل مکان(8) میں ہو بلکہ جس مکان میں قبر ہے اُس میں سے اگر علاوہ کفن کے کوئی اور کپڑا وغیرہ چورایا جب بھی قطع نہیں بلکہ جس گھر میں میت ہو وہاں سے کوئی چیز چورائی تو قطع نہیں، ہاں اگر اس فعل کا عادی ہو تو بطور سیاست (9) ہاتھ کاٹ دیں گے۔ (10) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: ذی رحم محرم(11) کے یہاں سے چورایا تو قطع نہیں اگرچہ وہ مال کسی اور کا ہو
۔۔۔۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الثانی فی مایقطع فیہ ومالا ...إلخ، الفصل الأول ،ج۲،ص۱۷۷
و''ردالمحتار''،کتاب السرقۃ،مطلب: فی ضمان الساعی، ج۶،ص۱۴۹.
2 ۔بہی کی جمع ،وہ رجسٹر جس میں حساب وغیرہ لکھتے ہیں۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،ج ۶،ص۱۵۰.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الثانی فی مایقطع فیہ ومالا ...إلخ، الفصل الأول ،ج۲،ص۱۷۷،وغیرہ.
5 ۔گھریلو سازو سامان۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الثانی فی مایقطع فیہ ومالاً...إلخ،الفصل الأول ،ج۲،ص۱۷۷.
7 ۔جھپٹ کر چھین لیا۔
8 ۔ تالا لگے ہوئے مکان۔
9 ۔یعنی حکمت عملی کے تحت تا کہ چوری سے باز آ جائے۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،ج ۶ص،۱۵۱،۱۵۰.
11 ۔ایسا قریبی رشتہ دار جس سے نکاح کرنا ہمیشہ کے لیے حرام ہو۔
اور ذی رحم محرم کا مال دوسرے کے یہاں تھا وہاں سے چورایا تو قطع ہے۔ شوہر نے عورت کے یہاں سے یا عورت نے شوہر کے یہاں سے یا غلام نے اپنے مولیٰ یامولیٰ کی زوجہ کے یہاں سے یا عورت کے غلام نے اوس کے شوہر کے یہاں چوری کی تو قطع نہیں۔ یوہیں تاجروں کی دوکانوں سے چورانے میں بھی قطع نہیں ہے جبکہ ایسے وقت چوری کی کہ اوس وقت لوگوں کو وہاں جانے کی اجازت ہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: مکان جب محفوظ ہے تو اب اس کی ضرورت نہیں کہ وہاں کوئی محافظ مقرر ہو اور مکان محفوظ نہ ہو تو محافظ کے بغیر حفاظت نہیں مثلاً مسجد سے کسی کی کوئی چیز چورائی تو قطع نہیں مگر جبکہ اوس کا مالک وہاں موجود ہو اگرچہ سورہا ہو یعنی مالک ایسی جگہ ہو کہ مال کو وہاں سے دیکھ سکے۔ یوہیں میدان یا راستہ میں اگر مال ہے اور محافظ وہاں پاس میں ہے تو قطع ہے ورنہ نہیں۔ (2) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: جو جگہ ایک شے کی حفاظت کے لیے ہے وہ دوسری چیز کی حفاظت کے لیے بھی قرار پائے گی مثلاً اصطبل سے اگر روپے چوری کئے تو قطع ہے اگرچہ اصطبل روپے کی حفاظت کی جگہ نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: اگر چند بار کسی نے چوری کی تو بادشاہ اسلام اُسے سیاسۃًقتل کرسکتا ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ۱: چور کا دہنا ہاتھ گٹے(5) سے کاٹ کر کھولتے تیل میں داغ دینگے (6)اور اگر موسم سخت گرمی یا سخت سردی کا ہو توابھی نہ کاٹیں بلکہ اُسے قید میں رکھیں۔ گرمی یا سردی کی شدت جانے پر کاٹیں۔ تیل کی قیمت اور کاٹنے والے اور داغنے والے کی اجرت اور تیل کھولانے کے مصارف (7)سب چور کے ذمہ ہیں اور اس کے بعد اگر پھر چوری کرے تو اب بایاں پاؤں گٹے سے کاٹ دیں گے اس کے بعد پھر اگر چوری کرے تو اب نہیں کاٹیں گے بلکہ بطور تعزیر ماریں گے اور قید میں رکھیں گے یہاں تک کہ توبہ کرلے یعنی اُس کے بُشرہ(8) سے یہ ظاہر ہونے لگے کہ سچے دل سے توبہ کی اور نیکی کے آثار نمایاں ہوں۔(9) (درمختار وغیرہ)
۔۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،ج ۶،ص،۱۵۳ تا ۱۵۶.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الثانی فی مایقطع ومالا ...إلخ،الفصل الأول ،ج۲،ص۱۷۹.
و''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،ج ۶،ص ۱۵۸.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الثانی فی مایقطع ومالا ...إلخ،الفصل الأول ،ج۲،ص۱۷۹.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،ج ۶،ص۱۶۵.
5 ۔کلائی۔
6 ۔ہاتھ کے کٹے ہوئے حصے کو کھولتے تیل سے جلا دیں گے ۔
7 ۔اخراجات۔
8 ۔چہرہ۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،باب کیفیۃ القطع...إلخ،ج ۶ص،۱۶۷،۱۶۶،وغیرہ.
مسئلہ۲: اگر دہنا ہاتھ اُس کا شل (1)ہوگیا ہے یا اس میں کا انگوٹھا یا اونگلیاں کٹی ہوں جب بھی کاٹ دیں گے اور اگربایاں ہاتھ شل ہو یا اس کا انگوٹھا یا دو اونگلیاں کٹی ہوں تو اب دہنا نہیں کاٹیں گے۔ یوہیں اگر دہنا پاؤں بیکار ہو یا کٹا ہو توبایاں پاؤں نہیں کاٹیں گے، بلکہ قید کریں گے۔(2) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ۳: ہاتھ کاٹنے کی شرط یہ ہے کہ جس کا مال چوری گیا ہے وہ اپنے مال کا مطالبہ کرے، خواہ گواہوں سے چوری کا ثبوت ہو یا چور نے خود اقرار کیا ہو اور یہ بھی شرط ہے کہ جب گواہ گواہی دیں اُس وقت وہ حاضر ہو اور جس وقت ہاٹھ کاٹا جائے اُس وقت بھی موجود ہو لہٰذا اگر چور چوری کا اقرار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص جو غائب ہے اُس کی چوری کی ہے یا کہتا ہے کہ یہ روپے میں نے چورائے ہیں مگر معلوم نہیں کس کے ہیں یا میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ کس کے ہیں تو قطع نہیں (3)اور پہلی صورت میں جبکہ غائب حاضر ہو کر مطالبہ کرے تو اس وقت قطع کریں گے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ۴: جس شخص کا مال پر قبضہ ہے وہ مطالبہ کرسکتا ہے جیسے امین (5)و غاصب (6)و مرتہن (7) و متولی(8) اور باپ اور وصی اور سود خوارجس نے سودی مال پر قبضہ کرلیا ہے۔ اور سود دینے والا جس نے سود کے روپے ادا کر دیے اور یہ روپے چوری گئے تو اس کے مطالبہ پر قطع نہیں۔ (9)(درمختار)
مسئلہ۵: وہ چیز جس کے چورانے پر ہاتھ کاٹا گیا ہے اگر چور کے پاس موجود ہے تو مالک کو واپس دلائیں گے اور جاتی رہی تو تاوان نہیں اگرچہ اس نے خود ضائع کردی ہو۔ اور اگر بیچ ڈالی یا ہبہ کردی اور خریدار یا موہوب لہ نے(10) ضائع کردی تو یہ تاوان دیں اور خریدار چور سے ثمن(11) واپس لے۔ اور اگر ہاتھ کاٹا نہ گیا ہو تو چور سے ضمان لے گا۔(12) (درمختار)
۔۔۔۔
1 ۔بے کار ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الثانی فی مایقطع ومالا...إلخ،الفصل الثالث،ج ۲،ص۱۸۲.
و''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،باب کیفیۃ القطع ...إلخ،ج ۶،ص،۱۶۸،۱۶۷.
3 ۔یعنی ہاتھ کاٹنانہیں۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،باب کیفیۃ القطع ...إلخ،ج ۶،ص۱۶۹،۱۷۰.
5 ۔امانت دار۔
6 ۔غصب کرنے والا۔
7 ۔جس کے پاس مال گروی رکھا ہے۔
8 ۔مالِ وقف کا نگران۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،باب کیفیۃ القطع ...إلخ،ج،۶ص۱۷۰.
10 ۔جس کو چیز ہبہ کر دی ہے اس نے۔
11 ۔مقررہ قیمت۔
12 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،باب کیفیۃ القطع ...إلخ،ج۶،ص۱۷۵.
مسئلہ۶: کپڑا چور ایا اور پھاڑ کر دو ٹکڑے کر دیے، اگر ان ٹکڑوں کی قیمت دس۱۰درم ہے تو قطع ہے اور اگر ٹکڑے کرنے کی وجہ سے قیمت گھٹ کر آدھی ہوگئی تو پوری قیمت کا ضمان لازم ہے اور قطع نہیں۔ (1)
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الۡاَرْضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوْ یُصَلَّبُوۡۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ اَرْجُلُہُمۡ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنۡفَوْا مِنَ الۡاَرْضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۳۳﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبْلِ اَنۡ تَقْدِرُوۡا عَلَیۡہِمْ ۚ فَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۳۴﴾ ) (2)
جو لوگ اﷲ (عزوجل) و رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ قتل کر ڈالے جائیں یا انھیں سولی دی جائے یا اُن کے ہاتھ پاؤں مقابل کے کاٹ دیے جائیں یا جلاوطن کر دیے جائیں۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے، مگر وہ کہ تمھارے قابو پانے سے قبل توبہ کرلیں تو جان لو کہ اﷲ (عزّوجل) بخشنے والا مہربان ہے۔
ابو داود ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو مرد مسلمان اس امر کی شہادت دے کہ اﷲ(عزّوجل) ایک ہے اور محمدصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ (عزوجل) کے رسول ہیں، اس کا خون حلال نہیں مگر تین وجہ سے، محصن ہو کر زنا کرے تو وہ رجم کیا جائے گا اور جو شخص اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) (یعنی مسلمانوں) سے لڑنے کو نکلا تو وہ قتل کیا جائے گا یا اوسے سولی دی جائے گی یا جلاوطن کردیا جائے گا اور جو شخص کسی کو قتل کریگا تو اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔''(3)حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں قبیلہ عُکل و عرینہ کے کچھ لوگوں نے ایسا ہی کیا تھا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا کر سنگستان میں ڈلوا دیا، وہیں تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ (4)
مسئلہ ۱: راہزن (5)جس کے لیے شریعت کی جانب سے سزا مقرر ہے، اُس میں چند شرطیں ہیں۔
۔۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،باب کیفیۃ القطع ....إلخ،ج ۶، ص۱۷۶.
2 ۔پ۶،المائدۃ:۳۳،۳۴.
3 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الحدود، باب الحکم فیمن ارتد ... إلخ، الحدیث:۴۳۵۳،ج ۴،ص۱۶۹.
4 ۔''صحیح البخاری''،کتاب الوضو،باب أبوال الابل ...إلخ،الحدیث۲۳۳،ج۱،ص۱۰۰، والحدیث۵۷۲۷،ج۴،ص۲۸.
5 ۔یعنی ڈاکو۔
(۱) ان میں اتنی طاقت ہو کہ راہ گیر اُن کا مقابلہ نہ کرسکیں اب چاہے ہتھیار کے ساتھ ڈاکا ڈالا یا لاٹھی لے کر یا پتھر وغیرہ سے۔ (۲) بیرون شہر راہزنی کی ہو(1) یا شہر میں رات کے وقت ہتھیار سے ڈاکا ڈالا۔ (۳) دار الاسلام میں ہو۔ (۴) چوری کے سب شرائط پائے جائیں۔ (۵) توبہ کرنے اور مال واپس کرنے سے پہلے بادشاہ اسلام نے اُن کو گرفتار کرلیا ہو۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: ڈاکہ پڑا مگر جان و مال تلف (3)نہ ہوا اور ڈاکو گرفتار ہوگیا تو تعزیزاً اسے زد و کوب(4) کرنے کے بعد قید کریں یہاں تک کہ توبہ کرلے اور اُس کی حالت قابل اطمینان ہوجائے اب چھوڑ دیں اور فقط زبانی توبہ کافی نہیں، جب تک حالت درست نہ ہو نہ چھوڑیں اور اگر حالت درست نہ ہو تو قید میں رکھیں یہاں تک کہ مرجائے اور اگر مال لے لیا ہو تو اُس کا داہنا ہاتھ اور بایاں پیر کاٹیں۔ یوہیں اگر چند شخص ہوں اور مال اتنا ہے کہ ہر ایک کے حصہ میں دس درم یا اس قیمت کی چیز آئے تو سب کے ایک ایک ہاتھ اور ایک ایک پاؤں کاٹ دیے جائیں اور اگر ڈاکووں نے مسلمان یا ذمی کو قتل کیا اور مال نہ لیا ہو تو قتل کیے جائیں اور اگر مال بھی لیا اور قتل بھی کیا ہو تو بادشاہ اسلام کو اختیار ہے کہ(۱)ہاتھ پاؤں کاٹ کر قتل کر ڈالے یا (۲) سولی دیدے یا (۳) ہاتھ پاؤں کاٹ کر قتل کرے پھر اس کی لاش کو سولی پر چڑھا دے یا (۴) صرف قتل کردے یا (۵) قتل کرکے سولی پر چڑھا دے یا (۶) فقط سولی دیدے۔ یہ چھ طریقے ہیں جو چاہے کرے اور اگر صرف سولی دینا چاہے تو اسے زندہ سولی پر چڑھا کر پیٹ میں نیزہ بھونک دیں(5) پھر جب مرجائے تو مرنے کے بعد تین دن تک اُس کا لاشہ سولی پر رہنے دیں پھر چھوڑدیں کہ ُاس کے ورثہ دفن کر دیں اور یہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ڈاکو کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔(6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳: ڈاکووں کے پاس اگر وہ مال موجود ہے تو بہر حال واپس دیا جائے اور نہیں ہے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے یا قتل کر دیے گئے تو اب تاوان نہیں۔ یوہیں جو اونھوں نے راہگیروں کو زخمی کیا یا مار ڈالا ہے اسکا بھی کچھ معاوضہ نہیں دلایا جائے گا۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
۔۔۔۔
1 ۔یعنی شہر سے باہر ڈکیتی کی ہو۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الرابع فی قطاع الطریق،ج۲،ص۱۸۶.
3 ۔ضائع۔
4 ۔مار پیٹ۔
5 ۔یعنی نیزہ ماریں۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الرابع فی قطاع الطریق،ج۲،ص۱۸۶.
و''الدرالمختار''،کتاب ا لسرقۃ ،باب قطع الطریق،ج ۶،ص ۱۸۱،۱۸۲.
7 ۔''الدرالمختاروردالمحتار''،کتاب السرقۃ،باب قطع الطریق،ج۶،ص۱۸۳.
مسئلہ ۴: ڈاکووں میں سے صرف ایک نے قتل کیا یا مال لیا یا ڈرایا یا سب کچھ کیا تو اس صورت میں جو سزا ہوگی وہ صرف اوسی ایک کی نہ ہوگی، بلکہ سب کو پوری سزا دی جائے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: ڈاکووں نے قتل نہ کیا مگر مال لیا اور زخمی کیا تو ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں اور زخم کا معاوضہ کچھ نہیں اور اگر فقط زخمی کیا مگر نہ مال لیانہ قتل کیا یا قتل کیا اور مال لیا مگر گرفتاری سے پہلے توبہ کرلی اور مال واپس دیدیا یا اون میں کوئی غیر مکلف (2)یا گونگا ہو یا کسی راہگیر کا قریبی رشتہ دار ہو تو ان صورتوں میں حد نہیں۔ اور ولیِ مقتول اور قتل نہ کیا ہو تو خود وہ شخص جسے زخمی کیا یا جس کا مال لیا قصاص یا دیت یا تاوان لے سکتا ہے یا معاف کردے۔(3) (درمختار)
اﷲعزوجل فرماتا ہے :
( اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیۡرُۨ ﴿ۙ۳۹﴾الَّذِیۡنَ اُخْرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمْ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللہُ ؕ وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمۡ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیۡہَا اسْمُ اللہِ کَثِیۡرًا ؕ وَ لَیَنۡصُرَنَّ اللہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۴۰﴾ )(4)
اون لوگوں کو جہاد کی اجازت دی گئی جن سے لوگ لڑتے ہیں اس وجہ سے کہ اون پر ظلم کیا گیا اور بیشک اﷲ (عزّوجل) اون کی مدد کرنے پر قادر ہے وہ جن کو ناحق اون کے گھروں سے نکالا گیا محض اس وجہ سے کہ کہتے تھے ہمارا رب اﷲ (عزّوجل) ہے اور اگر اﷲ (عزّوجل) لوگوں کو ایک دوسرے سے دفع نہ کیا کرتا تو خانقاہیں اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں ڈھادی جاتیں جن میں اﷲ (عزّوجل) کے نام کی کثرت سے یاد ہوتی ہے اور ضرور اﷲ (عزّوجل) اوس کی مدد کریگا جو اوس کے دین کی مدد کرتا ہے، بیشک اﷲ (عزّوجل) قوی غالب ہے۔
۔۔۔۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السرقۃ،الباب الرابع فی قطاع الطریق،ج۲،ص۱۸۷ .
2 ۔یعنی عاقل بالغ نہ ہو۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب السرقۃ،باب قطع الطریق،ج۶،ص۱۸۳.
4 ۔پ ۱۷،الحج :۳۹،۴۰.
اور فرماتا ہے:
( وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ ﴿۱۹۰﴾وَاقْتُلُوۡہُمْ حَیۡثُ ثَقِفْتُمُوۡہُمْ وَاَخْرِجُوۡہُمۡ مِّنْ حَیۡثُ اَخْرَجُوۡکُمْ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقٰتِلُوۡہُمْ عِنۡدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوۡکُمْ فِیۡہِ ۚ فَاِنۡ قٰتَلُوۡکُمْ فَاقْتُلُوۡہُمْ ؕ کَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۹۱﴾فَاِنِ انۡتَہَوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۹۲﴾وَقٰتِلُوۡہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوۡنَ الدِّیۡنُ لِلہِ ؕ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۹۳﴾)
اور اﷲ (عزّوجل) کی راہ میں اون سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو بیشک اﷲ (عزّوجل) زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور ایسوں کو جہاں پاؤ مارو اور جہاں سے انھوں نے تمھیں نکالا تم بھی نکال دو اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے اور اون سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں۔ اگر وہ تم سے لڑیں تو اونھیں قتل کرو۔ کافروں کی یہی سزا ہے اور اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اﷲ (عزّوجل) بخشنے والا مہربان ہے اور اون سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین اﷲ (عزّوجل) کے لیے ہوجائے اور اگر وہ باز آجائیں تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر۔
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اﷲ (عزوجل) کی راہ میں صبح کو جانا یا شام کو جانا دنیا و مافیہا(2) سے بہتر ہے۔'' (3)
حدیث ۲: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم: ''سب سے بہتر اوس کی زندگی ہے جو اﷲ (عزّوجل) کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ(4) پکڑے ہوئے ہے، جب کوئی خوفناک آواز سنتا ہے یا خوف میں اوسے کوئی بلاتا ہے تو اوڑ کر پہنچ جاتا ہے (یعنی نہایت جلد) قتل و موت کو اوس کی جگہوں میں تلاش کرتا ہے (یعنی مرنے کی جگہ سے ڈرتا نہیں ہے) یا اوس کی زندگی بہتر ہے جو چند بکریاں لیکر پہاڑ کی چوٹی پر یا کسی وادی میں رہتا ہے، وہاں نماز پڑھتا ہے اور زکاۃ دیتا ہے اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت کرتا ہے۔'' (5)
حدیث ۳: ابو داود و نسائی و دارمی انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مشرکین سے جہاد کرو، اپنے مال اور جان اور زبان سے یعنی دِین حق کی اِشاعت میں ہر قسم کی قربانی کے لیے طیار ہو جاؤ۔'' (6)
۔۔۔۔
1 ۔پ۲،البقرہ:۱۹۰،۱۹۳.
2 ۔دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے۔
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الجھاد، باب الغدوۃ والروحۃ فی سبیل اللہ... إلخ،الحدیث:۲۷۹۲،ج۲،ص۲۵۱.
4 ۔لگام۔
5 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الامارۃ، باب فصل الجھاد و الرباط،الحدیث: ۱۲۵۔(۱۸۸۹)،ص۱۰۴۸.
6 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد، باب کراھیۃ ترک الغزو،الحدیث:۲۵۰۴،ج ۳،ص۱۶.
حدیث ۴: ترمذی و ابو داود فضالہ بن عبید سے اور دارمی عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: ''جو مرتا ہے اوس کے عمل پر مہر لگادی جاتی ہے یعنی عمل ختم ہوجاتے ہیں، مگر وہ جو سرحد پر گھوڑا باندھے ہوئے ہے اگر مرجائے تو اوس کا عمل قیامت تک بڑھایا جاتا ہے اور فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے۔'' (1)
حدیث ۵: صحیح بخاری و مسلم میں سہل بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اﷲ (عزوجل) کی راہ میں ایک دن سرحد پرگھوڑا باندھنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔'' (2)
حدیث ۶ ،۷: صحیح مسلم شریف میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ایک دن اور رات اﷲ (عزوجل) کی راہ میں سرحد پر گھوڑا باندھنا ایک مہینہ کے روزے اور قیام سے بہتر ہے اور مرجائے تو جو عمل کرتا تھا، جاری رہے گا اور اُس کا رزق برابر جاری رہے گا اور فتنۂ قبر سے محفوظ رہے گا۔'' (3)
ترمذی و نسائی کی روایت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''ایک دن سرحد پر گھوڑا باندھنا دوسری جگہ کے ہزار دنوں سے بہتر ہے۔'' (4)
مسئلہ ۱: مسلمانوں پر ضرور ہے کہ کافروں کو دین اسلام کی طرف بلائیں اگر دین حق کو قبول کرلیں زہے نصیب حدیث میں فرمایا ''اگر تیری وجہ سے اﷲ تعالیٰ ایک شخص کو ہدایت فرما دے تو یہ اوس سے بہتر ہے جس پر آفتاب نے طلوع کیا ''یعنی جہاں سے جہاں تک آفتاب طلوع کرتا ہے یہ سب تمھیں مل جائے اس سے بہتر یہ ہے کہ تمھاری وجہ سے کسی کو ہدایت ہوجائے اور اگر کافروں نے دین حق کو قبول نہ کیا تو بادشاہ اسلام اون پر جزیہ مقرر کردے کہ وہ ادا کرتے رہیں اور ایسے کافر کو ذمی کہتے ہیں اور جو اس سے بھی انکار کریں تو جہاد کا حکم ہے۔(5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: مجاہد صرف وہی نہیں جو قتال کرے (6)بلکہ وہ بھی ہے جو اس راہ میں اپنا مال صرف کرے (7) یا نیک مشورہ
۔۔۔۔
1 ۔''جامع الترمذي''،کتاب فضائل الجھاد، باب ماجاء فی فضل من مات مرابطا،الحدیث:۱۶۲۷،ج۳،ص۲۳۲.
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الجھاد، باب فضل رباط یوم... إلخ، الحدیث: ۲۸۹۲،ج ۲، ص۲۷۹.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الامارۃ،باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عزوجل،الحدیث:۱۶۳۔(۱۹۱۳)،ص۱۰۵۹.
4 ۔''جامع الترمذي''،کتاب فضائل الجھاد، باب ما جاء فی فضل المرابط،الحدیث:۱۶۷۳،ج۳،ص ۲۵۲.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۱۹۳،وغیرہ.
6 ۔جہاد کرے،کفار سے جنگ کرے۔
7 ۔خرچ کرے۔
سے شرکت دے یا خود شریک ہو کر مسلمانوں کی تعداد بڑھائے یا زخمیوں کا علاج کرے یا کھانے پینے کا انتظام کرے۔ اور اسی کے توابع (1)سے رباط ہے یعنی بلاد اسلامیہ (2) کی حفاظت کی غرض سے سرحد پر گھوڑا باندھنا یعنی وہاں مقیم رہنا اور اس کا بہت بڑا ثواب ہے کہ اس کی نماز پانسو نماز کی برابر ہے اور اس کا ایک درم خرچ کرنا سات سو درم سے بڑھ کر ہے اور مرجائے گا تو روز مرہ رباط کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں درج ہوگا اور رزق بدستور ملتا رہے گا اور فتنہ قبر سے محفوظ رہے گا اور قیامت کے دن شہید اوٹھایا جائے گا اور فزع اکبر سے مامون(3)رہے گا۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳: جہاد ابتدائً فرض کفایہ ہے کہ ایک جماعت نے کرلیا تو سب بری الذمہ ہیں اور سب نے چھوڑ دیا توسب گنہگار ہیں اور اگر کفار کسی شہر پر ہجوم کریں (5)تو وہاں والے مقابلہ کریں اور اون میں اتنی طاقت نہ ہو تو وہاں سے قریب والے مسلمان اعانت کریں (6)اور ان کی طاقت سے بھی باہر ہو تو جو ان سے قریب ہیں وہ بھی شریک ہوجائیں وعلیٰ ہذا القیاس۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: بچوں اور عورتوں پر اور غلام پر فرض نہیں۔ یوہیں بالغ کے ماں باپ اجازت نہ دیں تو نہ جائے۔ یوہیں اندھے اور اپاہج اور لنگڑے اور جس کے ہاتھ کٹے ہوں ان پر فرض نہیں اور مدیون کے پاس مال ہو تو دین ادا کرے اور جائے ورنہ بغیر قرض خواہ بلکہ بغیر کفیل کی اجازت کے نہیں جاسکتا۔ اور اگر دین میعادی(8)ہو اور جانتا ہے کہ میعاد پوری ہونے سے پہلے واپس آجائے گا تو جانا جائز ہے۔ اور شہر میں جو سب سے بڑا عالم ہو وہ بھی نہ جائے۔ یوہیں اگر اوس کے پاس لوگوں کی امانتیں ہیں اور وہ لوگ موجود نہیں ہیں تو کسی دوسرے شخص سے کہہ دے کہ جن کی جن کی امانت ہے دیدینا تو اب جاسکتا ہے۔ (9)(بحر، درمختار)
مسئلہ ۵: اگر کفار ہجوم کر آئیں تو اس وقت فرض عین ہے یہاں تک کہ عورت اور غلام پر بھی فرض ہے اور اس کی کچھ ضرورت نہیں کہ عورت اپنے شوہر سے اور غلام اپنے مولیٰ سے اجازت لے بلکہ اجازت نہ دینے کی صورت میں بھی جائیں اور شوہر و مولیٰ(10) پر منع کرنے کا گناہ ہوا۔ یوہیں ماں باپ سے بھی اجازت لینے کی اور مدیون کو دائن سے(11) اجازت کی حاجت نہیں
۔۔۔۔
1 ۔متعلقات،اقسام۔
2 ۔اسلامی ممالک۔
3 ۔محفوظ۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۱۹۳۔۱۹۵.
5 ۔اچانک حملہ کر دیں۔
6 ۔مددکریں۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۱۹۶۔۱۹۸.
8 ۔ایسا قرض جس کی ادائیگی کا وقت مقرر ہو۔
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب السیر،ج۵،ص۱۲۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الجہاد،ج ۶،ص ۲۰۱.
10 ۔آقا،مالک۔
11 ۔یعنی مقروض کو اپنے قرض خواہ سے۔
۔۔۔۔
1 ۔''البحرالرائق''کتاب السیر،ج۵،ص۱۲۲.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الأول فی تفسیرہ ...إلخ،ج۲،ص۱۸۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الجہاد،ج ۶،ص۲۰۳.
3 ۔اسلامی حکومت کا خزانہ ۔
4 ۔ خوشدلی سے۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۰۳.
و''الفتاوٰی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الأول فی تفسیرہ ...إلخ،ج ۲،ص ۱۹۱.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۰۵،۲۰۶.
7 ۔ ضائع۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۰۶.
مسئلہ ۱۱: اگر کافروں نے چند مسلمانوں کو اپنے آگے کرلیا کہ گولی وغیرہ ان پر پڑے ہم ان کے پیچھے محفوظ رہیں گے جب بھی ہمیں باز رہنا جائز نہیں گولی چلائیں اور قصد کافروں کے مارنے کا کریں اگر کوئی مسلمان مسلمانوں کی گولی سے مرجائے جب بھی کفارہ وغیرہ لازم نہیں جبکہ گولی چلانے والے نے کافر پر گولی چلانے کا ارادہ کیا ہو۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: کسی شہر کو بادشاہ اسلام نے فتح کیا اور اوس شہر میں کوئی مسلمان یا ذمی ہے تو اہل شہر کو قتل کرنا جائز نہیں ہاں اگر اہلِ شہر میں سے کوئی نکل گیا تو اب باقیوں کو قتل کرنا جائز ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ جانے والا مسلمان یا ذمی ہو۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: جو چیزیں واجب التعظیم ہیں(3) اون کو جہاد میں لے کر جانا جائز نہیں جیسے قرآن مجید، کتب فقہ و حدیث شریف کہ بے حرمتی کا اندیشہ ہے۔ یو ہیں عورتوں کو بھی نہ لے جانا چاہیے اگرچہ علاج و خدمت کی غرض سے ہو۔ ہاں اگر لشکر بڑا ہو کہ خوف نہ ہو تو عورتوں کو لے جانے میں حرج نہیں اور اس صورت میں بوڑھیوں اور باندیوں کو لے جانا اولیٰ ہے اور اگر مسلمان کافروں کے ملک میں امان لے کر گیا ہے تو قرآن مجید لے جانے میں حرج نہیں۔(4) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۴: عہد توڑنا مثلاً یہ معاہدہ کیا کہ اتنے دنوں تک جنگ نہ ہوگی پھر اسی زمانہ عہد میں(5) جنگ کی یہ ناجائز ہے اور اگر معاہدہ نہ ہو اور بغیر اطلاع کیے جنگ شروع کردی تو حرج نہیں۔ (6)(مجمع الانہر)
مسئلہ ۱۵: مُثلہ یعنی ناک کان یا ہاتھ پاؤں کاٹنا یا مونھ کالا کردینا منع ہے یعنی فتح ہونے کے بعد مُثلہ کی اجازت نہیں اور اثنائے جنگ میں اگر ایسا ہو مثلاً تلوار ماری اور ناک کٹ گئی یا کان کٹ گئے یا آنکھ پھوڑ دی یا ہاتھ پاؤں کاٹ دیے تو حرج نہیں۔ (7)(فتح)
مسئلہ ۱۶: عورت اور بچہ اور پاگل اور بہت بوڑھے اور اندھے اور لنجھے(8)اور اپاہج (9) اور راہب(10)اور پوجاری (11) جو لوگوں سے ملتے جلتے نہ ہوں یا جس کا دہنا ہاتھ کٹا ہو یا خشک ہوگیا ہو ان سب کو قتل کرنا منع ہے یعنی جبکہ لڑائی میں کسی قسم کی مددنہ دیتے ہوں۔
۔۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۰۶.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۰۷.
3 ۔جن چیزوں کی تعظیم واجب ہے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۰۷.
و''البحرالرائق''،کتاب السیر ،ج ۵،ص ۱۳۰.
5 ۔معاہدہ کی مدت کے دوران۔
6 ۔''مجمع الانھر''،کتاب السیروالجھاد،ج۲،ص۴۱۴.
7 ۔''فتح القدیر''،کتاب السیر،باب کیفتیۃ القتال،ج۵،ص۲۰۱.
8 ۔ہاتھ پاؤں سے معذور۔
9 ۔چلنے پھرنے سے معذور۔
10 ۔پادری ،عیسائیوں کاپیشوا۔
11 ۔مندر کامجاور۔
اور اگر ان میں سے کوئی خود لڑتا ہو یا اپنے مال یا مشورہ سے مدد پہنچاتا ہو یا بادشاہ ہو تو اُسے قتل کردیں گے۔ اور اگر مجنون کو کبھی جنون رہتا ہے اور کبھی ہوش تو اسے بھی قتل کردیں۔ اور بچہ اور مجنون کو اثنائے جنگ میں(1) قتل کریں گے جبکہ لڑتے ہوں اور باقیوں کو قید کرنے کے بعد بھی قتل کردیں گے۔ اور جنھیں قتل کرنا منع ہے اونھیں یہاں نہ چھوڑیں گے بلکہ قید کرکے دارالاسلام میں لائیں گے۔ (2)(درمختار، مجمع الانہر)
مسئلہ ۱۷: کافروں کے سرکاٹ کر لائیں یا اون کی قبریں کھود ڈالیں اس میں حرج نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: اپنے باپ دادا کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنا ناجائز ہے مگر اوسے چھوڑے بھی نہیں بلکہ اوس سے لڑنے میں مشغول رہے کہ کوئی اور شخص آکر اوسے مار ڈالے۔ ہاں اگر باپ یا دادا خود اس کے قتل کا درپے ہو اور اسے بغیر قتل کیے چارہ نہ ہو تو مار ڈالے اور دیگر رشتہ داروں کے قتل میں کوئی حرج نہیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: اگر صلح مسلمانوں کے حق میں بہتر ہو تو صلح کرنا جائز ہے اگرچہ کچھ مال لے کر یا دے کر صلح کی جائے اور صلح کے بعد اگر مصلحت صلح توڑنے میں ہو تو توڑ دیں مگر یہ ضرور ہے کہ پہلے اونھیں اس کی اطلاع کردیں اور اطلاع کے بعد فوراً جنگ شروع نہ کریں بلکہ اتنی مہلت دیں کہ کافر بادشاہ اپنے تمام ممالک میں اس خبر کو پہنچاسکے۔ یہ اوس صورت میں ہے کہ صلح میں کوئی میعاد نہ ہو اور اگر میعاد ہو تو میعاد پوری ہونے پر اطلاع کی کچھ حاجت نہیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: صلح کے بعد اگر کسی کافر نے لڑنا شروع کیا اور یہ اونکے بادشاہ کی اجازت سے ہے تو اب صلح نہ رہی اور اگر بادشاہ کی اجازت سے نہ ہو بلکہ شخص ِخاص یا کوئی جماعت بغیر اجازتِبادشاہ برسرِپیکار ہے(6) تو صرف انھیں قتل کیا جائے ان کے حق میں صلح نہ رہی باقیوں کے حق میں باقی ہے۔(7) (مجمع الانہر)
مسئلہ ۲۱: کافروں کے ہاتھ ہتھیار اور گھوڑے اور غلام اور لوہا وغیرہ جس سے ہتھیار بنتے ہیں بیچنا حرام ہے اگرچہ صلح کے زمانہ میں ہو۔ یو ہیں تاجروں پر حرام ہے کہ یہ چیزیں اون کے ملک میں تجارت کے لیے لے جائیں
۔۔۔۔
1 ۔جنگ کے دوران۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۱۰،۲۱۱.
و''مجمع الانھر''،کتاب السیروالجھاد،ج۲،ص۴۱۴.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۱۱.
4 ۔''الدرالمختاروردالمختار''،کتاب الجھاد ،مطلب:فی بیان نسخ المثلۃ ، ج۶،ص۲۱۱،۲۱۲.
5 ۔المرجع السابق،ص۲۱۲.
6 ۔یعنی جنگ لڑ رہی ہے۔
7 ۔''مجمع الأنھر''،کتاب السیروالجھاد،ج۲،ص ۴۱۸.
بلکہ اگر مسلمانوں کو حاجت ہو تو غلہ اور کپڑا بھی ان کے ہاتھ نہ بیچا جائے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: مسلمان آزاد مرد یا عورت نے کافروں میں کسی ایک کو یا جماعت یا ایک شہر کے رہنے والوں کو پناہ دیدی تو امان(2)صحیح ہے اب قتل جائز نہیں اگرچہ امان دینے والا فاسق یا اندھا یا بہت بوڑھا ہو۔ اور بچّہ یا غلام کی امان صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ اونھیں قتال(3) کی اجازت مل چکی ہو ورنہ صحیح نہیں۔ امان صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ کفار نے لفظ امان سنا ہو اگرچہ کسی زبان میں ہو اگرچہ اس لفظ کے معنی وہ نہ سمجھتے ہوں اور اگر اتنی دور پر ہوں کہ سن نہ سکیں تو امان صحیح نہیں۔ (4)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: امان میں ضرر کا اندیشہ ہو تو بادشاہ ِاسلام اس کو توڑ دے مگر توڑنے کی اطلاع کردے اور امان دینے والا اگر جانتا تھا کہ اس حالت میں امان دینا منع تھااور پھر دیدی تو اوسے سزادی جائے۔ (5)(مجمع الانہر)
مسئلہ ۲۴: ذمی اور تاجر اور قیدی اور مجنون اور جو شخص دارالحرب میں مسلمان ہوا اور ابھی ہجرت نہ کی ہو اور وہ بچہ اور غلام جنھیں قتال کی اجازت نہ ہو یہ لوگ امان نہیں دے سکتے۔(6) (درمختار)
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
(یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلہِ وَ الرَّسُوۡلِ ۚ فَاتَّقُوا اللہَ وَ اَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ ۪ وَ اَطِیۡعُوا اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱﴾ ) (8)
نفل کے بارے میں تم سے سوال کرتے ہیں تم فرما دو نفل اﷲ (عزوجل) ورسول کے لیے ہیں، اﷲ (عزوجل) سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو اور اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)کی اطاعت کرو، اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
اور فرماتا ہے:
(وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی
۔۔۔۔
1 ۔''الدرالمختاروردالمختار''،کتاب الجھاد ،مطلب:فی بیان نسخ المثلۃ ، ج۶،ص۲۱۳.
2 ۔یعنی حفاظت کی ضمانت دینا،پناہ دینا۔
3 ۔جہاد،جنگ۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۱۴.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الثالث فی الموادعۃ والامان....إلخ،ج ۲،ص ۱۹۸،۱۹۹.
5 ۔''مجمع الانھر''،کتاب السیروالجھاد،ج۲،ص۴۱۹،۴۲۰.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۱۷،۲۱۸.
7 ۔پ ۹،الانفال :۱.
وَالْمَسٰکِیۡنِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ) (1)
اور جان لوکہ جو کچھ تم نے غنیمت حاصل کی ہے اوس میں سے پانچواں حصہ اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم )کے لیے ہے اور قرابت والے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے۔
حدیث ۱: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہم سے پہلے کسی کے لیے غنیمت حلال نہیں ہوئی، اﷲ تعالیٰ نے ہمارا ضعف و عجز دیکھ کر اسے ہمارے لیے حلال کر دیا۔'' (2)
حدیث ۲: سنن ترمذی میں ابوامامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اﷲ (عزوجل) نے مجھے تمام انبیا سے افضل کیا۔'' یا فرمایا: ''میری امت کو تمام امتوں سے افضل کیا اور ہمارے لیے غنیمت حلال کی۔'' (3)
حدیث ۳: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ایک نبی (یوشع بن نون علیہ السلام) غزوہ کے لیے تشریف لے گئے اور اپنی قوم سے فرمایا: کہ ایسا شخص میرے ساتھ نہ چلے، جس نے نکاح کیا ہے اور ابھی زفاف نہیں کیا ہے(4) اور کرنا چاہتا ہے اور نہ وہ شخص جس نے مکان بنایا ہے اور اوس کی چھتیں ابھی تیار نہیں ہوئی ہیں اور نہ وہ شخص جس نے گابھن جانور(5) خریدے ہیں اور بچہ جننے کا منتظر ہے (یعنی جن کے دل کسی کام میں مشغول ہوں وہ نہ چلیں صرف وہ لوگ چلیں جن کو ادھر کا خیال نہ ہو) جب اپنے لشکرکولے کر قریہ (بیت المقدس) کے قریب پہنچے، وقت عصر آگیا (وہ جمعہ کا دن تھا اور اب ہفتہ کی رات آنے والی ہے، جس میں قتال بنی اسرائیل پر حرام تھا) اونھوں نے آفتاب کو مخاطب کرکے فرمایا: تو مامور ہے اور میں مامور ہوں۔ اے اﷲ! (عزوجل) آفتاب کو روک دے، آفتاب رک گیا اور اﷲ (عزوجل) نے فتح دی اب غنیمتیں جمع کی گئیں اوسے کھانے کے لیے آگ آئی، مگر اوس نے نہیں کھایا (یعنی پہلے زمانہ میں حکم یہ تھا کہ غنیمت جمع کی جائے پھر آسمان سے آگ اوترتی اور سب کو جلا دیتی اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ سمجھا جاتا کہ کسی نے کوئی خیانت کی ہے اور یہاں بھی یہی ہوا) نبی نے فرمایا: کہ تم نے خیانت کی ہے، لہٰذا ہر قبیلہ میں سے ایک شخص بیعت کرے بیعت ہوئی ایک شخص کا ہاتھ اون کے ہاتھ سے چپک گیا،
۔۔۔۔
1 ۔ پ ۱۰،الانفال :۴۱ .
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الجھاد، باب تحلیل الغنائم... إلخ،الحدیث:۳۲۔۱۷۴۷،ص۹۵۹.
3 ۔''جامع الترمذي''،کتاب السیر باب ماجاء فی الغنیمۃ،الحدیث:۱۵۵۸،ج ۳،ص۱۹۶.
4 ۔یعنی بیوی سے ہمبستری نہیں کی ہے۔
5 ۔وہ جانور جن کے پیٹوں میں بچے ہوں۔
فرمایا:تمھارے قبیلہ میں کسی نے خیانت کی ہے اس کے بعد وہ لوگ سونے کا ایک سر لائے جو گائے کے سر برابر تھا، اوس کو اس غنیمت میں شامل کر دیا پھر حسب دستور آگ آئی اور کھا گئی۔ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: کہ ہم سے قبل کسی کے لیے غنیمت حلال نہیں تھی اﷲ (عزوجل) نے ہمارے ضعف و عجزکی وجہ سے اسے حلال کر دیا۔'' (1)
حدیث ۴: ابو داود نے ابو موسی اشعری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں ہم حبشہ سے واپس ہوئے اوس وقت پہنچے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے ابھی خیبر کو فتح کیا تھا، حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ہمارے لیے حصہ مقرر فرمایا اور ہمیں بھی عطا فرمایا، جو لوگ فتح خیبر میں موجود نہ تھے اون میں ہمارے سوا کسی کو حصہ نہ دیا، صرف ہماری کشتی والے جتنے تھے حضرت جعفر اور اون کے رفقا (2)انھیں کو حصہ دیا۔ (3)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں یزید بن ہرمز سے مروی کہ نجدہ حروری نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما کے پاس لکھ کر دریافت کیا کہ غلام وعورت غنیمت میں حاضر ہوں تو آیا ان کو حصہ ملے گا؟ یزیدسے فرمایا''کہ لکھ دو کہ ان کے لیے سہم (حصہ) نہیں ہے، مگر کچھ دیدیا جائے''۔ (4)
حدیث ۶: صحیحین میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اگر لشکر میں سے کچھ لوگوں کو لڑنے کے لیے کہیں بھیجتے تو انھیں علاوہ حصہ کے کچھ نفل (انعام) عطا فرماتے۔ (5)
حدیث ۷: نیزصحیحین میں اونھیں سے مروی، کہتے ہیں حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ہمیں حصہ کے علاوہ خمس (6) میں سے نفل دیا تھا،مجھے ایک بڑا اُونٹ ملا تھا۔(7)
حدیث ۸: ابن ماجہ و ترمذی ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے راوی،
۔۔۔۔
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الجھاد، باب تحلیل الغنائم... إلخ،الحدیث:۳۲۔(۱۷۴۷)،ص۹۵۹.
و''صحیح البخاري''،کتاب فرض الخمس،باب قول النبیصلی اللہ علیہ وسلم احلت لکم... إلخ،الحدیث:۳۱۲۴،ج۲،ص۳۴۹.
2 ۔ ساتھی،ہمسفر،ہمراہی۔
3 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد، باب فیمن جاء بعد الغنیمۃ... إلخ،الحدیث:۲۷۲۵،ج ۳، ص۹۸.
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الجھاد، باب النساء الغازیات... إلخ،الحدیث:۱۳۹۔(۱۸۱۲)،ص۱۰۰۷.
5 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الجھاد، باب الانفال،الحدیث:۴۰۔(۱۷۵۰)،ص۹۶۱.
6 ۔ مال غنیمت کا پانچواں حصہ۔
7 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الجھاد، باب الانفال، الحدیث:۳۸۔(۱۷۵۰)، ص۹۶۱.
کہ حضورِ اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی تلوارذوالفقار بدر کے دن نفل میں ملی تھی۔ (1)
حدیث ۹: امام بخاری خولہ انصاریہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے راوی، کہتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ''کچھ لوگ اﷲ (عزوجل) کے مال میں ناحق گھس پڑتے ہیں، اون کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔'' (2)
حدیث ۱۰: ابو داود بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی، حضورِ اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ایک شتر(3) کے پاس تشریف لائے اوس کے کو ہان سے ایک بال لیکر فرمایا: ''اے لوگو! اس غنیمت میں سے میرے لیے کچھ نہیں ہے (بال کی طرف اشارہ کرکے) اور یہ بھی نہیں سوا خمس کے (کہ یہ میں لونگا) وہ بھی تمھارے ہی اوپر رد ہوجائیگا، لہٰذا سوئی اور تاگا جو کچھ تم نے لیا ہے حاضر کرو۔'' ایک شخص اپنے ہاتھ میں بالوں کا گچھا لے کر کھڑا ہوا اور عرض کی، میں نے پالان درست کرنے کے لیے یہ بال لیے تھے۔ حضور( صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم)نے فرمایا: ''اس میں میرا اور بنی عبدالمطلب کا جو کچھ حصہ ہے وہ تمھیں دیا۔'' اوس شخص نے کہا، جب اس کا معاملہ اتنا بڑا ہے تو مجھے ضرورت نہیں یہ کہہ کر واپس کر دیا۔ (4)
حدیث ۱۱: ترمذی نے ابو سعید رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور(صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم )نے قبل تقسیم غنیمت کو خریدنے سے منع فرمایا۔ (5)
غنیمت اوس کو کہتے ہیں جو لڑائی میں کافروں سے بطور قہروغلبہ کے لیا جائے۔ اور لڑائی کے بعد جو اون سے لیا جائے جیسے خراج اور جزیہ اس کو فئے کہتے ہیں۔ غنیمت میں خمس (پانچواں حصہ) نکال کرباقی چار حصے مجاہدین پر تقسیم کر دیے جائیں اور فئے کل بیت المال میں رکھا جائے۔(6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱: دارالحرب میں کسی شہر کے لوگ خود بخود مسلمان ہوگئے وہاں مسلمانوں کا تسلط(7)نہ ہوا تھا تو صرف اون پر عُشرمقرر ہو گا یعنی جو زراعت پیدا ہو اوس کا دسواں حصہ بیت المال کو ادا کر دیں اور اگر خود بخود ذمہ میں داخل ہوئے
۔۔۔۔
1 ۔''جامع الترمذي''،کتاب السیر، باب فی النفل،الحدیث:۱۵۶۷،ج ۳،ص۲۰۲.
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب فرض الخمس، باب قولہ تعالٰی( فان للہ خمسہ وللرسول)یعنی... إلخ،الحدیث:۳۱۱۸،ج۲،ص۳۴۸.
3 ۔اونٹ۔
4 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الجھاد، باب فی فداء الاسیر بالمال، الحدیث: ۲۶۹۴،ج ۳،ص۸۴.
5 ۔''جامع الترمذي''،کتاب السیر،باب فی کراھیۃ بیع المغانم... إلخ، الحدیث: ۱۵۶۹،ج۳، ص۲۰۳.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجہاد،باب المغنم وقسمتہ ،ج۶،ص۲۱۸،وغیرہ.
7 ۔مسلمانوں کاغلبہ۔
تو اون کی زمینوں پر خراج مقرر ہوگا اور اون پر جزیہ اور اگر غالب آنے کے بعد مسلمان ہوئے تو بادشاہ کو اختیار ہے اون پر احسان کرے اورزمینوں کی پیداوار کا عُشر لے یا خراج مقرر کرے یا اون کو اور اون کے اموال کو خمس لینے کے بعد مجاہدین پر تقسیم کردے۔ فتح کرنے کے بعد اگر وہ مسلمان نہ ہوئے تو اختیار ہے اگر چاہے اونھیں لونڈی غلام بنائے اور خمس کے بعد اونھیں اور اون کے اموال مجاہدین پر تقسیم کردے اور زمینوں پر عُشر مقرر کردے اور اگر چاہے تو مردوں کو قتل کر ڈالے اور عورتوں بچّوں اور اموال کو بعدِ خمس تقسیم کر دے اور اگر چاہے توسب کو چھوڑ دے اور ان پر جزیہ اور زمینوں پر خراج مقرر کردے اور چاہے تو انھیں وہاں سے نکال دے اور دوسروں کو وہاں بسائے اور چاہے تو اون کو چھوڑدے اور زمین اونھیں واپس دے اور عورتوں، بچوں اور دیگر اموال کو تقسیم کردے مگر اس صورت میں بقدرِ زراعت اونھیں کچھ مال بھی دیدے ورنہ مکروہ ہے اور چاہے تو صرف اموال تقسیم کردے اور اونھیں اور عورتوں، بچوں اور زمینوں کو چھوڑ دے مگر تھوڑا مال بقدر زراعت دیدے (1) ورنہ مکروہ ہے اور اگر تمام اموال اور زمینیں تقسیم کردیں اور اون کو چھوڑدیا تو یہ ناجائز ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: اگر کسی شہر کو بطور صلح فتح کیا ہو تو جن شرائط پر صلح ہوئی اُن پر باقی رکھیں اُس کے خلاف کرنے کی نہ اُنھیں اجازت ہے نہ بعد والوں کو اور وہاں کی زمین اُنھیں لوگوں کی مِلک(3) رہے گی۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۳: دارالحرب کے جانور قبضہ میں کیے اور اُن کو دارالاسلام تک نہیں لا سکتا تو ذبح کرکے جلا ڈالے۔ یوہیں اور سامان جن کو نہیں لا سکتا ہے جلادے اور برتنوں کو توڑ ڈالے روغن وغیرہ بہادے اور ہتھیار وغیرہ لوہے کی چیزیں جو جلنے کے قابل نہیں اُنھیں پوشیدہ جگہ دفن کردے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۴: دارالحرب میں بغیر ضرورت غنیمت تقسیم نہ کریں اور اگر باربرداری کے جانور نہ ہوں تو تھوڑی تھوڑی مجاہدین کے حوالہ کردی جائے کہ دارالاسلام میں آکر واپس دیں اور یہاں تقسیم کی جائے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۵: مال غنیمت کو دارالحرب میں مجاہدین اپنی ضرورت میں قبلِ تقسیم صرف کرسکتے ہیں مثلاً جانوروں کا چارہ اپنے کھانے کی چیزیں کھانا پکانے کے لیے ایندھن، گھی ،تیل، شکر ،میوے خشک و تر
۔۔۔۔
1 ۔یعنی اتنا مال جس سے کھیتی باڑی کر سکیں۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الرابع فی الغنائم ،الفصل الاول ،ج۲،ص۲۰۵ .
3 ۔ملکیت میں۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجہاد،باب المغنم وقسمتہ،ج۶،ص۲۱۸.
5 ۔المرجع السابق،ص۲۲۳.
6 ۔المرجع السابق،ص۲۲۴.
اور تیل لگانے کی ضرورت ہو تو کھانے کا تیل لگا سکتا ہے اور خوشبودار تیل مثلاً روغنِ گُل(1) وغیرہ اُس وقت استعمال کر سکتا ہے جب کسی مرض میں اس کے استعمال کی حاجت ہو اور گوشت کھانے کے جانور ذبح کرسکتے ہیں مگر چمڑا مالِ غنیمت میں واپس کریں۔ اور مجاہدین اپنی باندی ،غلام اور عورتوں بچوں کوبھی مالِ غنیمت سے کھلا سکتے ہیں۔ اور جو شخص تجارت کے لیے گیا ہے لڑنے کے لیے نہیں گیا وہ اور مجاہدین کے نوکر مال غنیمت کو صرف(2) نہیں کرسکتے ہاں پکا ہوا کھانا یہ بھی کھاسکتے ہیں۔ اور پہلے سے اشیاء اپنے پاس رکھ لینا کہ ضرورت کے وقت صرف کرینگے ناجائز ہے۔ یوہیں جوچیز کام کے لیے لی تھی اور بچ گئی اوسے بیچنا بھی ناجائز ہے اور بیچ ڈالی تودام(3) واپس کرے۔ (4)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مال غنیمت کوبیچنا جائز نہیں اور بیچا تو چیز واپس لی جائے اور وہ چیز نہ ہو تو قیمت مال غنیمت میں داخل کرے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۷: دارالحرب سے نکلنے کے بعد اب تصرف جائز نہیں، ہاں اگر سب مجاہدین کی رضا سے ہو تو حرج نہیں اور جو چیزیں دارالحرب میں لی تھیں اون میں سے کچھ بچا ہے اور اب دارالاسلام میں آگیا تو بقیہ واپس کر دے اور واپسی سے پہلے غنیمت تقسیم ہوچکی تو فقرا پر تصدق کردے(6) اور خود فقیر ہو تو اپنے کام میں لائے اور اگر دارالاسلام میں پہنچنے کے بعد بقیہ کو صرف کر ڈالا ہے تو قیمت واپس کرے اور غنیمت تقسیم ہو چکی ہے تو قیمت تصدق کردے اور خود فقیر ہو تو کچھ حاجت نہیں۔ (7)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۸: مالِ غنیمت میں قبلِ تقسیم خیانت کرنا منع ہے۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۹: جو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گیا وہ خود اور اوس کے چھوٹے بچے اور جو کچھ اوس کے پاس مال ومتاع(9) ہے سب محفوظ ہیں یہ جبکہ اسلام لانا گرفتار کرنے سے پہلے ہو اور اسکے بعد کہ سپاہیوں نے اوسے گرفتار کیا
۔۔
1 ۔پھولوں کا تیل۔
2 ۔خرچ۔
3 ۔قیمت۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المغنم وقسمتہ، مطلب: فی ان معلوم المستحق...إلخ،ج۶،ص۲۲۹.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الرابع فی الغنائم ،الفصل الاول ،ج۲،ص۲۰۹.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجہاد،باب المغنم وقسمتہ،ج۶،ص۲۲۵۔۲۲۶.
6 ۔فقیروں پر صدقہ کر دے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الرابع فی الغنائم ،الفصل الاول ،ج۲،ص۲۱۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الجہاد،باب المغنم وقسمتہ،ج۶،ص۲۳۰.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجہاد،ج۶،ص۲۰۸.
9 ۔سازو سامان وغیرہ۔
اگر مسلمان ہوا تو وہ غلام ہے۔ اور اگر مسلمان ہونے سے پہلے اُس کے بچے اور اموال پر قبضہ ہوگیا اور وہ گرفتاری سے پہلے مسلمان ہوگیا تو صرف وہ آزاد ہے اور اگر حربی امن لیکر دارالاسلام میں آیا تھا اور یہاں مسلمان ہو گیا پھر مسلمان اُس کے شہر پر غالب آئے تو بال بچے اور اموال سب فئے ہیں۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: جو شخص دارالحرب میں مسلمان ہوا اور اُس نے پیشتر(2) سے کچھ مال کسی مسلمان یا ذمی کے پاس امانت رکھ دیا تھا تو یہ مال بھی اُس کوملے گا اور حربی کے پاس تھا تو فئے ہے اور اگر دارالحرب میں مسلمان ہو کر دارالاسلام میں چلا آیا پھر مسلمانوں کا اُس شہر پر تسلط(3) ہوا تو اُس کے چھوٹے بچے محفوظ رہیں گے اور جو اموال اُس نے مسلمان یا ذمی کے پاس امانت رکھے ہیں وہ بھی اُسی کے ہیں باقی سب فئے ہے۔(4) (درمختار، فتح القدیر)
مسئلہ ۱۱: جو شخص دارالحرب میں مسلمان ہوا تو اوسکی بالغ اولاد اور زوجہ اور زوجہ کے پیٹ میں جوبچہ ہے وہ اور جائداد غیر منقولہ (5)اور اوس کے باندی غلام لڑنے والے اور اس باندی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ، یہ سب غنیمت ہیں۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: جو حربی دارالاسلام میں بغیر امان لیے آگیا اور اسے کسی نے پکڑ لیا تو وہ اور اُس کے ساتھ جو کچھ مال ہے سب فئے ہے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱: غنیمت کے پانچ حصے کیے جائیں ایک حصہ نکال کر باقی چار حصے مجاہدین پر تقسیم کر دیے جائیں اور سوار بہ نسبت پیدل کے دونا(8)پائے گا یعنی ایک اوس کا حصہ اور ایک گھوڑے کا اور گھوڑا عربی ہو یا اور قسم کا سب کا ایک حکم ہے۔ سردارِ لشکر اور سپاہی دونوں برابر ہیں یعنی جتنا سپاہی کو ملے گا اوتنا ہی سردار کو بھی ملے گا۔ اونٹ اور گدھے اور خچر کسی کے پاس ہوں تواون کی وجہ سے کچھ زیادہ نہ ملے گا یعنی اسے بھی پیدل والے کے برابر ملے گا اور اگر کسی کے پاس چند گھوڑے ہوں
۔۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد، باب المغنم وقسمتہ،مطلب:فی ان معلوم المستحق...إلخ،ج۶،ص۲۳۱.
2 ۔پہلے ۔
3 ۔قبضہ،غلبہ۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجہاد،باب المغنم وقسمتہ،ج۶،ص۲۳۱.
و''فتح القدیر''،کتاب السیر،باب الغنائم وقسمتھا،ج ۵،ص ۲۳۰.
5 ۔یعنی وہ جائداد جو دوسری جگہ نہیں لے جا سکتامثلاًمکان ،ز مین وغیرہ۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجہاد،باب المغنم وقسمتہ،ج۶،ص۲۳۱.
7 ۔المرجع السابق،ص۲۳۱.
8 ۔دگنا۔
جب بھی اوتنا ہی ملے گا جتنا ایک گھوڑے کے لیے ملتا تھا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: سوار دوچند غنیمت کا اس وقت مستحق ہوگا جب دارالاسلام سے جدا ہونے کے وقت اوس کے پاس گھوڑا ہو لہٰذا جوشخص دارالحرب میں بغیر گھوڑے کے آیا اور وہاں گھوڑا خرید لیا تو پیدل کا حصہ پائے گا اور اگر گھوڑا تھا مگر وہاں پہنچ کر مرگیا تو سوار کا حصہ پائے گا اور سوار کے دو چند(2) حصہ پانے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ اوس کا گھوڑا مریض نہ ہو اور بڑا ہو یعنی لڑائی کے قابل ہواور اگر گھوڑا بیمار تھا اور غنیمت سے قبل اچھا ہو گیا تو سوار کا حصہ پائے گا ورنہ نہیں اور اگر بچھیرا(3) تھا اور غنیمت کے قبل جوان ہوگیا تو نہیں اور اگر گھوڑا لیکر چلا مگر سرحد پر پہنچنے سے پہلے کسی نے غصب کر لیا یا کوئی دوسرا شخص اوس پر سواری لینے لگایا گھوڑا بھاگ گیا اور یہ شخص دارالحرب میں پیدل داخل ہوا تو اگر ان صورتوں میں لڑائی سے پہلے اوسے وہ گھوڑا مل گیا تو سوار کا حصہ پائے گا ورنہ پیدل کا اور اگر لڑائی سے پہلے یا جنگ کے وقت گھوڑا بیچ ڈالاتو پیدل کا حصہ پائے گا۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: سوار کے لیے یہ ضرور نہیں کہ گھوڑا اوس کی ملک ہو بلکہ کرایہ یا عاریت سے لیا ہو (5) بلکہ اگر غصب کرکے (6) لے گیا جب بھی سوار کا حصہ پائیگااور غصب کا گناہ اوس پر ہے اور اگر دوشخصوں کی شرکت میں گھوڑا ہے تو ان میں کوئی سوار کا حصہ نہیں پائیگا مگر جبکہ داخل ہونے سے پہلے ایک نے دوسرے سے اوس کا حصہ کرایہ پر لے لیا۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: غلام اور بچہ اور عورت اور مجنون کے لیے حصہ نہیں ہاں خمس نکالنے سے پہلے پوری غنیمت میں سے انھیں کچھ دیدیا جائے جو حصہ کے برابر نہ ہو مگر اوس وقت کہ انھوں نے قتال کیا ہو یا عورت نے مجاہدین کا کام کیا ہو مثلاً کھانا پکانا بیماروں اور زخمیوں کی تیمارداری کرنا اون کو پانی پلانا وغیرہ۔ (8)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۵: غنیمت کا پانچواں حصہ جو نکالا گیا ہے اوس کے تین حصے کیے جائیں ایک حصہ یتیموں کے لیے اور ایک مسکینوں اور ایک مسافروں كے لیے اور اگر یہ تینوں حصے ایک ہی قسم مثلاً یتامیٰ(9)یا مساکین پر صرف کردیے(10)جب بھی جائز ہے اور مجاہدین کو حاجت ہو تو ان پر صرف کرنا بھی جائز ہے۔(11)(درمختار)
۔۔۔۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''کتاب السیر،الباب الرابع، الفصل الثانی فی کیفیۃ القسمۃ،ج۲،ص۲۱۲.
2 ۔یعنی دگنا۔
3 ۔گھوڑی کا بچہ۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجہاد، فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۶،ص۲۳۲۔۲۳۴.
5 ۔یعنی جنگ کے لیے مانگ کر لایا ہو۔
6 ۔چھین کر۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،فصل فی کیفیۃ القسمۃ،مطلب: مخالفۃ الامیرحرام،ج۶،ص۲۳۳.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۳۵.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الرابع فی الغنائم و قسمتھا،الفصل الثانی،ج ۲،ص ۲۱۴.
9 ۔یتیموں۔
10 ۔خرچ کر دیے۔
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۶،ص۲۳۷.
مسئلہ ۶: بنی ہاشم وبنی مطلب کے یتامیٰ اور مساکین اور مسافر اگر فقیر ہوں تو یہ لوگ بہ نسبت دوسروں کے خمس کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ اور فقراء تو زکاۃ بھی لے سکتے ہیں اور یہ نہیں لے سکتے اور یہ لوگ غنی ہوں تو خمس میں ان کا کچھ حق نہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۷: جوفوج یا جو شخص لڑنے کے ارادہ سے دارالحرب میں پہنچا اور جس وقت پہنچا لڑائی ختم ہو چکی ہے تو یہ بھی غنیمت میں حصہ دار ہے۔ یوہیں جو شخص گیا مگر بیماری وغیرہ سے لڑائی میں شریک نہ ہو سکا تو غنیمت پائیگا اور اگر کوئی تجارت کے لیے گیا ہے تو جب تک لڑنے میں شریک نہ ہو غنیمت کا مستحق نہیں۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: جو شخص دارالحرب میں مرگیا اور غنیمت نہ ابھی تقسیم ہوئی ہے نہ دارالاسلام میں لائی گئی ہے نہ بادشاہ نے غنیمت کو بیچا ہے تو اوس کا حصہ نہیں یعنی اوس کا حصہ اوس کے وارثوں کو نہیں دیا جائیگا اور اگر تقسیم ہوچکی ہے یا دارالاسلام میں لائی جاچکی ہے یا بادشاہ نے بیچ ڈالی ہے تو اوس کا حصہ وارثوں کو ملے گا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۹: تقسیم کے بعد ایک شخص نے دعوٰی کیا کہ میں بھی جنگ میں شریک تھا اور گواہوں سے اس امر(4) کو ثابت بھی کر دیا تو تقسیم باطل نہ کی جائے بلکہ اس شخص کو اس کے حصہ کی قدر بیت المال سے دیا جائے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: غنیمت میں کتابیں ملیں اور معلوم نہیں کہ اون میں کیا لکھا ہے تو نہ تقسیم کریں نہ کافروں کے ہاتھ بیچیں بلکہ موضع احتیاط میں دفن کر دیں کہ کافروں کو نہ مل سکیں اور اگر بادشاہ ِاسلام مسلمان کے ہاتھ بیچنا چاہے تو ایسے مسلمان کے ہاتھ نہ بیچے جو کافروں کے ہاتھ بیچ ڈالے اور قابلِ اِعتماد شخص ہے کہ کافروں کے ہاتھ نہ بیچے گا تو اوس کے ہاتھ بیچ سکتے ہیں۔ اگر سونے یاچاندی کے ہار ملے جن میں صلیب(6) یا تصویریں بنی ہیں تو تقسیم سے پہلے انھیں توڑ ڈالے اور ایسے مسلمان کے ہاتھ نہ بیچے جو کافروں کے ہاتھ بیچ ڈالے گا اور اگر روپے اشرفیوں میں تصویریں ہیں تو بغیر توڑنے کے تقسیم وبیع کر سکتے ہیں۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: شکاری کتے اور باز اور شکرے(8) غنیمت میں ملے تو یہ بھی تقسیم کیے جائیں
۔۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد، فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۶،ص۲۳۷،۲۳۸.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجہاد، باب المغنم وقسمتہ ، مطلب:فی ان معلوم المستحق ...إلخ، ج۶،ص۲۲۶.
3 ۔''الدرالمختار''،باب المغنم وقسمتہ ،کتاب الجھاد،ج۶،ص۲۲۶.
4 ۔دعویٰ،بات۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الرابع،الفصل الثانی فی کیفیۃ القسمۃ،ج۲،ص۲۱۴۔۲۱۵.
6 ۔عیسائیوں کا ایک مقدس نشان۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الرابع،الفصل الثانی فی کیفیۃ القسمۃ،ج۲،ص۲۱۵.
8 ۔باز کی قسم کا ایک چھوٹا سا شکاری پرندہ۔
اور تقسیم سے قبل ان سے شکار مکروہ ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: جو جماعت بادشاہ سے اجازت لیکر دارالحرب میں گئی یا با قوت جماعت بغیر اجازت گئی اور شب خون مار کر(2) وہاں سے مال لائی تو یہ غنیمت ہے خمس لیکر باقی تقسیم ہوگا اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں یعنی نہ اجازت لی نہ باقوت جماعت ہے تو جو کچھ حاصل کیا سب انھیں کا ہے خمس نہ لیا جائے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: اگر کچھ لوگ اجازت سے گئے تھے اور کچھ بغیر اجازت اور یہ لوگ باقوت بھی نہ تھے تو اجازت والے جو کچھ مال پائیں گے اوس میں سے خمس لیکر باقی ان پر تقسیم ہو جائیگا اور دوسرے فریق نے جو کچھ حاصل کیا ہے اوس میں نہ خمس ہے نہ تقسیم بلکہ جس نے جتنا پا یا وہ اوسی کا ہے اوس کا ساتھ والا بھی اوس میں شریک نہیں۔ اور اگر اجازت والے اور بے اجازت دونوں مل گئے اور ان کے اجتماع سے قوت پیدا ہو گئی تو اب خمس لیکر غنیمت کی مثل تقسیم ہو گی یعنی ایک نے بھی جو کچھ پایا ہے وہ سب پر تقسیم ہو جائیگا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: غنیمت کی تقسیم ہوئی اور تھوڑی سی چیز باقی رہ گئی جو قابل تقسیم نہیں کہ لشکر بڑا ہے اور چیز تھوڑی تو با دشاہ کو اختیار ہے کہ فقرا پر تصدق کر دے یا بیت المال میں جمع کر دے کہ ضرورت کے وقت کام آئے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: اجازت لیکر ایک جماعت دارالحرب کو گئی اور اوس سے بادشاہ نے کہہ دیا کہ تم جو کچھ پاؤ گے وہ سب تمھارا ہے اوس میں خمس نہیں لونگا تو اگر وہ جماعت باقوت ہے تو اوس کایہ کہنا جائز نہیں یعنی خمس لیا جائیگا اور باقوت نہ ہو تو کہنا جائز ہے اور خمس نہیں۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: بادشاہ یا سپہ سالار(7) اگر لڑائی کے پہلے یا جنگ کے وقت کچھ سپاہیوں سے یہ کہدے کہ تم جو کچھ پاؤ گے وہ تمھارا ہے یا یوں کہ تم میں جو جس کافر کو قتل کرے اوس کا سامان اوس کے لیے ہے تو یہ جائز بلکہ بہتر ہے کہ اس کی وجہ سے اون سپاہیوں کو ترغیب ہوگی۔ اور اس کو نفل کہتے ہیں اور اس میں نہ خمس ہے نہ تقسیم بلکہ وہ سب اوسی پانے والے کا ہے۔
۔۔۔۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الرابع فی االغنائم وقسمتھا،الفصل الثانی،ج۲،ص۲۱۵.
2 ۔رات کے وقت بے خبری میں دشمن پر حملہ کرکے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۶،ص۲۴۱.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الرابع فی االغنائم وقسمتھا،الفصل الثانی،ج۲،ص۲۱۶.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد، فصل فی کیفیۃ القسمۃ ،ج۶،ص۲۴۱.
7 ۔لشکر کا سربراہ۔
اگر یہ لفظ کہے تھے کہ جو جس کافر کو قتل کریگا اوس مقتول کا سامان وہ لے اور خود بادشاہ یا سپہ سالار نے کسی کافر کو قتل کیا تو یہ سامان لے سکتا ہے اور یہ کہنا بھی جائز ہے کہ یہ سو روپے لو اور فلاں کافر کو مار ڈالو یا یوں کہ اگر تم نے فلاں کافر کومار ڈالا تو تمھیں ہزار روپے دونگا۔ لڑائی ختم ہونے اور غنیمت جمع کرنے کے بعد نفل دینا جائز نہیں ہاں اگر مناسب سمجھے تو خمس میں سے دے سکتا ہے۔(1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: جن لوگوں کو نفل (انعام) دینا کہا ہے اونھوں نے نہیں سنا اور وں نے سن لیا جب بھی اوس انعام کے مستحق ہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: دارالحرب میں لشکر ہے اس میں سے کچھ لوگ کہیں بھیجے گئے اور اون سے یہ کہدیا کہ جو کچھ تم پاؤ گے وہ سب تمھارا ہے تو جائز ہے اور اگر دارالاسلام سے یہ کہہ کر بھیجا تو ناجائز۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: ایسے کو قتل کیا جس کا قتل جائز نہ تھا مثلاً بچہ یا مجنون یا عورت کو تو مستحق انعام نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: نفل کایہ مطلب ہے کہ دوسرے لوگ اوس میں شریک نہ ہوں گے نہ یہ کہ یہ شخص ابھی سے مالک ہوگیا بلکہ مالک اوس وقت ہو گا جب دارالاسلام میں لائے، لہٰذا اگر لونڈی ملی تو جب تک دارالاسلام میں لانے کے بعد استبرا نہ کرے(5)، وطی نہیں کر سکتا، نہ اوسے فروخت کر سکتا ہے۔(6) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱: دارالحرب میں ایک کا فر نے دوسرے کا فر کو قید کرلیا یعنی جنگ میں پکڑلیا وہ اوس کامالک ہو گیا لہٰذا اگر ہم اون سے خرید لیں یا ان قید کر نیوالوں پر مسلمانوں نے چڑ ھائی کی اور اوس کافر کو اون سے لے لیا تو مسلمان مالک ہوگئے یہی حکم اموال کابھی ہے۔ (7)(درمختار وغیرہ)
۔۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجہاد، فصل فی کیفیۃ القسمۃ،مطلب: فی االتنفیل، ج۶،ص۲۴۱۔۲۴۵.
و''الفتاوی الھندیۃ ''،کتاب السیر،الباب الرابع فی الغنائم وقسمتھا،الفصل الثالث،ج ۲،ص ۲۱۶.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۶،ص۲۴۵.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الرابع فی الغنائم وقسمتھا،الفصل الثالث، ج۲،ص۲۱۷.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۶،ص۲۴۵.
5 ۔یعنی جماع سے باز رہے تا کہ رحم کا نطفہ سے خالی ہوناواضح ہوجائے۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،فصل فی کیفیۃ القسمۃ،ج۶،ص۲۵۰.
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب استیلاء الکفار ...الخ،ج ۶،ص ۲۵۳،۲۵۴،وغیرہ.
مسئلہ ۲: اگر حربی کافرذِمی کو دارالاسلام سے پکڑلے گئے تو اس کے مالک نہ ہوں گے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۳: حربی کافر اگر مسلمان کے اموال پر قبضہ کر کے دارالحرب میں لے گئے تو مالک ہو جائیں گے مگر جب تک دارالحرب کو پہنچ نہ جائیں مسلمانوں پر فرض ہے کہ اون کا پیچھا کریں اور اون سے چھین لیں۔ پھر جب کہ دارالحرب میں لے جانے کے بعد اگر وہ حربی جن کے پاس وہ اموال ہیں مسلمان ہو گئے تو اب بالکل ان کی مِلک ثابت ہو گئی کہ اب اون سے نہیں لیں گے اور اگر مسلمان اُن حر بیوں پر دارالحرب میں پہنچنے سے قبل غالب آگئے تو جس کی چیز ہے اوسے دیدیں گے اور کچھ معاوضہ نہ لیں گے اور دارالحرب میں پہنچنے کے بعد غلبہ ہوا اور غنیمت تقسیم ہونے سے پہلے مالک نے آکر کہا کہ یہ چیز میری ہے تو اوسے بلامعاوضہ دیدینگے اور غنیمت تقسیم ہونے کے بعد کہا تو اب بقیمت دینگے اور جس دن غنیمت میں وہ چیز ملی اوس دن جوقیمت تھی وہ لی جائیگی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۴: کافرامان لیکر دارالاسلام میں آیا اور کسی مسلمان کی چیز چورا کر دارالحرب میں لے گیا اور وہاں سے کوئی مسلمان وہ چیز خرید کرلایا تو وہ چیز مالک کو مفت دلادی جائے گی۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: اگر مسلمان غلام بھاگ کر دارالحرب کوچلا گیا اور حربیوں نے اوسے پکڑلیا تو مالک نہ ہونگے، لہٰذا اگر مسلمانوں کا غلبہ ہوا اور وہ غلام غنیمت میں ملا تو مالک کو بلا معاوضہ دیا جائے اگر چہ غنیمت تقسیم ہو چکی ہو ہاں تقسیم کے بعد اگر دلایا گیا تو جس کے حصہ میں غلام پڑا تھا اوسے بیت المال سے قیمت دیں۔ (4)(فتح)
مسئلہ ۶: مسلمان غلام بھاگ کر گیا اور اوس کے ساتھ گھو ڑا اور مال واسباب بھی تھا اور سب پر کافروں نے قبضہ کر لیا پھر اون سے سب چیزیں اور غلام کوئی شخص خرید لایا تو غلام بلا معاوضہ مالک کو دلایا جائے اور باقی چیزیں بقیمت اور اگر غلام مرتد ہو کر دارالحرب کو بھاگ گیا تو حربی پکڑنے کے بعد مالک ہو گئے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ۷: جو کافرامان لیکر دارالاسلام میں آیا اوس کے ہاتھ مسلمان غلام نہ بیچا جائے اور بیچ دیا تو واپس لینا واجب ہے اور اگر واپس بھی نہ لیا یہاں تک کہ غلام کو لے کر دارالحرب کو چلا گیا تو اب وہ آزاد ہے یعنی وہ غلام اگر وہاں سے بھاگ کر آیا
۔۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب استیلاء الکفار...إلخ،ج۶،ص۲۵۴.
2 ۔ المرجع السابق ،ص۲۵۴،۲۵۷.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب استیلاء الکفار ...إلخ،مطلب: فی ان الأصل فی الاشیاء الإباحۃ،ج۶،ص۲۵۷.
4 ۔''فتح القدیر''،کتاب السیر،باب استیلاء الکفار،ج۵،ص۲۶۲.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب استیلاء الکفار...إلخ،ج۶،ص۲۶۰.
یا مسلمانوں کا غلبہ ہوا اور اُس غلام کو وہاں سے حاصل کیا تو نہ کسی کو دیاجائے نہ غنیمت کی طرح تقسیم ہو بلکہ وہ آزاد ہے۔
یوہیں اگر حربی غلام مسلمان ہو گیا اور وہاں سے بھاگ کردارالاسلام میں آگیا یا ہمارا لشکر دارالحرب میں تھا اُس لشکر میں آگیا یا اُس کو کسی مسلمان یا ذمی یا حربی نے دارالحرب میں خریدلیا یا اُس کے مالک نے بیچنا چاہا یا مسلمانوں کا ان پر غلبہ ہوا بہر حال آزاد ہو گیا۔ (1)(درمختار)
مستامن وہ شخص ہے جو دوسرے ملک میں امان لیکر گیا۔ دوسرے ملک سے مراد وہ ملک ہے جس میں غیر قوم کی سلطنت ہو یعنی حربی دارالاسلام میں یا مسلمان دارالکفرمیں امان لیکر گیا تو مستامن ہے۔ (2)
مسئلہ ۱: دارالحرب میں مسلمان امان لیکر گیا تو وہاں والوں کی جان ومال سے تعرض کرنا(3) اس پر حرام ہے کہ جب امان لی تو اُس کا پورا کرنا واجب ہے۔ یوہیں اُن کافروں کی عورتیں بھی اس پر حرام ہیں اور اگر مسلمان قید ہو کر گیا ہے تو کافروں کی جان ومال اس پر حرام نہیں اگرچہ کافروں نے خود ہی اُسے چھوڑ دیا ہو یعنی یہ اگر وہاں سے کوئی چیز لے آیا یا کسی کو مارڈ الا تو گنہگار نہیں کہ اس نے اُن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے جس کا خلاف کرنا جا ئز نہ ہو۔(4) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۲: مسلمان امان لے کر گیا اور وہاں سے کوئی چیز لے کر دارالاسلام میں چلا آیا تو اس شے کا اب مالک ہو گیا مگر یہ مِلکِ حرام وخبیث ہے کہ اس کو ایسا کرنا جائز نہ تھا لہٰذا حکم ہے کہ فقرا پر تصدق کر دے اور اگر تصدق نہ کیا اور اس شے کو بیچ ڈالا تو بیع صحیح ہے اور اگر اس نے وہاں نکاح کیا تھا اور عورت کو جبراً لایا تو دارالاسلام میں پہنچ کر نکاح جاتا رہا اور عورت کنیز ہوگئی۔ (5) (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مسلمان امان لے کر دارالحرب کو گیا اور وہاں کے بادشاہ نے بد عہدی کی مثلاً اس کا مال لے لیا یا قید کرلیایادوسرے نے اس قسم کا کوئی معاملہ کیا اور بادشاہ کو اس کا علم ہوا اور تدارک(6)نہ کیا تو اب ان کے جان ومال سے تعرض کرے توگنہگار نہیں کہ بد عہدی اُن کی جانب سے ہے اِسکی جانب سے نہیں
۔۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجہاد،باب استیلاء الکفار...إلخ،ج۶،ص۲۶۱.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب المستأمن،ج۶،ص۲۶۲.
3 ۔بے جا مداخلت۔
4 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب السیر،الجزء الثانی،ص۳۴۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب المستأمن،ج۶،ص۲۶۲.
5 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب السیر،الجزء الثانی،ص۳۴۵.
و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المستأمن،ج۶،ص۲۶۳.
6 ۔تلافی ،پوچھ گچھ،ازالہ۔
اور اِس صورت میں جو مال وغیر ہ وہاں سے لائے گا حلال ہے۔ (1) (شرح ملتقے)
مسئلہ ۴: مسلمان نے دارالحرب میں کا فر حربی کی رضا مندی سے کوئی مال حاصل کیا تو اس میں کوئی حرج نہیں مثلاً ایک روپیہ دو روپے کے بدلے میں بیچا۔ یوہیں اگر اُس کو قرض دیا اور یہ ٹھہرا لیا کہ مہینہ بھر میں سوکے سواسو(2)لو ں گا یہ جائز ہے کہ کافر حربی کا مال جس طرح ملے لے سکتا ہے مگر معاہدہ کے خلاف کرنا حرام ہے۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: مسلمان دارالحرب میں امان(4) لیکر گیاہے اس نے کسی حربی کو قرض دیا یا کوئی چیز اس کے ہاتھ اُدھار بیچی یا حربی نے اس مسلمان کو قرض دیا یا اس کے ہاتھ کوئی چیز اُدھار بیچی یا ایک نے دوسرے کی کوئی چیز غصب کی پھر یہ دونوں دارالاسلام میں آئے تو قاضی شرع (5)ان میں باہم کوئی فیصلہ نہ کریگا ہاں اب یہاں آنے کے بعد اگر اس قسم کی بات ہوگی تو فیصلہ کیا جائیگا۔ یوہیں اگر دوحربی امان لیکر آئے اور دارالحرب میں ان کے درمیان اس قسم کا معاملہ ہواتھا تو ان میں بھی فیصلہ نہ کیا جائے گا ۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۶: مسلمان تاجر کویہ اجازت نہیں کہ لونڈی غلام بیچنے کے لیے دارالحرب جائے ہاں اگر خدمت کے لیے لے جانا چاہتا ہو تو اجازت ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: حربی امان لیکر دارالاسلام میں آیا تو پورے سال بھر یہاں رہنے نہ دینگے اور اُس سے کہہ د یا جائیگا کہ اگر تو یہاں سال بھر رہیگا تو جزیہ مقرر ہوگا اب اگر سال بھر رہ گیا تو جزیہ لیا جائیگا اور وہ ذمی ہوجائیگا اور اب دارالحرب جانے نہ دینگے، اگرچہ تجارت یا کسی اور کام کے لیے جانا چاہتا ہواور چلا گیا تو بدستور حربی ہوگیا اس کا خون مباح ہے۔ (8)(جوہرہ)
مسئلہ ۸: سال سے کم جتنی چاہے بادشاہ ِاسلام اس کے لیے مدت مقرر کر دے اور یہ کہہ دے کہ اگر تو اس مدت سے زیادہ ٹھہرا تو تجھ سے جزیہ لیا جائے گا اور اُس وقت وہ ذمی ہو جائیگا۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: حربی امان لے کر آیا اور یہاں خراجی یا عُشری زمین خریدی اور خراج اُس پر مقرر ہو گیا تو اب ذمی ہو گیا
۔۔۔۔
1 ۔''مجمع الانھرفی شرح ملتقی الأبحر''،کتاب السیروالجھاد،باب المستأمن،ج۲،ص۴۴۹.
2 ۔سواسویعنی۱۲۵ ۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المستأمن،ج۶،ص۲۶۲.
4 ۔یعنی جان ومال وغیرہ کی حفاظت کا معاہدہ ،پناہ۔
5 ۔اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کرنے والا قاضی۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب المستأمن،ج۶،ص۲۶۴.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب السادس فی المستأمن،الفصل الاول،ج۲،ص۲۳۳.
8 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب السیر،الجزء الثانی،ص۳۴۶.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب السادس فی المستأمن،الفصل الثانی،ج۲،ص۲۳۴.
اور جس وقت خراج مقرر ہوا اُسی وقت سالِ آئندہ کا جزیہ بھی وصول کیا جائے گا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: کتا بیہ عورت امان لیکر دارالاسلام میں آئی اور اس سے کسی مسلمان یا ذمی نے نکاح کر لیا تو اب ذمیہ ہو گئی اب دارالحرب کو نہیں جاسکتی۔ یوہیں اگر میاں بی بی دونوں آئے اور شوہر یہاں مسلمان ہوگیا تو عورت اب نہیں جا سکتی اور اگر مرد حربی نے کسی ذمی عورت سے نکاح کیا تو اس کی وجہ سے ذمی نہ ہوا ہوسکتا ہے کہ طلاق دیکر چلا جائے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: حربی نے اپنے غلام کو تجارت کے لیے دارالاسلام میں بھیجاغلام یہاں آکر مسلمان ہوگیا تو غلام بیچ ڈالا جائے گا اور اس کا ثمن حربی کے لیے محفوظ رکھا جائے گا یہ نہیں ہو سکتا کہ غلام واپس دیا جائے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مستامن جب دارالحرب کو چلا گیا تو اب پھر حربی ہو گیا اور اگر اس نے کسی مسلمان یا ذمی کے پاس کچھ مال رکھا تھا یا اُن پر اُس کا دَین تھا اور اُس کافر کو کسی نے قید کر لیا یا اُس ملک کو مسلمانوں نے فتح کر لیا اور اُس کو مار ڈالا تو دَین ساقط ہوگیا اور وہ امانت فے ہے اور اگر بغیر غلبہ وہ مارا گیا یا مر گیا تو دَین اور امانت اُس کے وارثوں کے لیے ہے۔(4) (ملتقے)
مسئلہ ۱۳: حربی یا مرتد یا وہ شخص جس پر قصاص لازم آیا بھاگ کر حرم شریف میں چلا جائے تو وہاں قتل نہ کریں گے بلکہ اُسے وہاں کھانا پانی کچھ نہ دیں کہ نکلنے پر مجبور ہو اور وہاں سے نکلنے کے بعد قتل کر ڈالیں اور اگر حرم میں کسی نے خون کیا تو اُسے وہیں قتل کر سکتے ہیں اس کی ضرورت نہیں کہ نکلے تو قتل کریں۔ (5)(درمختار ،ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: جو جگہ دارالحرب ہے اب وہ دارالاسلام اُس وقت ہو گی کہ مسلمانوں کے قبضہ میں آجائے اور وہاں احکام اسلام جاری ہو جائیں اور دارالاسلام اُس وقت دارالحرب ہو گا، جبکہ یہ تین باتیں پائی جائیں۔ (۱) کفر کے احکام جاری ہوجائیں اور اسلامی احکام بالکل روک دیے جائیں اور اگر اسلام کے احکام بھی جاری ہیں اور کفر کے بھی تو دارالحرب نہ ہوا۔ (۲)دارالحرب سے متصل ہو کہ اس کے اور دارالحرب کے درمیان میں کوئی اسلامی شہر نہ ہو۔ (۳)اس میں کوئی مسلمان یا ذمی امان اول پرباقی نہ ہو۔ (6)(درمختار، ردالمحتار) اس سے معلوم ہوا کہ ہندوستان بحمدہ تعالیٰ اب تک دارالاسلام ہے
۔۔۔۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب السادس فی المستأمن،الفصل الثانی،ج۲،ص۲۳۵.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد، فصل فی استئمان الکافر،ج۶،ص۲۷۱.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب السادس فی المستأمن،الفصل الثانی،ج۲،ص۲۳۵.
4 ۔''ملتقی الابحرمع مجمع الانھر''،کتاب السیر والجھاد،باب المستأمن،فصل لایمکن مستامن...إلخ،ج۲،ص۴۵۳.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،فصل فی استئمان الکافر،مطلب:مھم الصبی...إلخ،ج۶،ص۲۷۶.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،فصل فی استئمان الکافر،مطلب:فی ما تصیربہ دارالإسلام ...إلخ،ج۶،ص۲۷۶،۲۷۷.
بعضوں نے خواہ مخواہ اسے دارالحرب خیال کر رکھا ہے یہاں کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ باہم رضا مندی سے کوئی قاضی مقرر کریں کہ کم ازکم اسلامی معاملات جن کے لیے مسلمان حاکم ہونا شرط ہے اُس سے فیصلہ کرائیں اور یہ مسلمانوں کی بدنصیبی ہے کہ باوجود اس کے کہ انگریز اُنھیں اُس سے نہیں روکتے پھر بھی اُنھیں احکام شرعیہ کے اجرا(1)کی بالکل پرواہ نہیں۔
زمین عرب اور بصرہ اور وہ زمین جہاں کے لوگ خود بخود مسلمان ہو گئے اور جو شہر قہراً فتح کیا گیا اور وہاں کی زمین مجاہدین پر تقسیم کر دی گئی یہ سب عشری(2) ہیں اور بھی عشری ہونے کی بعض صورتیں ہیں، جن کو ہم کتاب الزکاۃ(3) میں بیان کر آئے اور جو شہر بطور صلح فتح ہو یا جو لڑکر فتح کیا گیا مگر مجاہدین پر تقسیم نہ ہوا بلکہ وہاں کے لوگ برقرار رکھے گئے یا دوسری جگہ کے کافروہاں بسا دیے گئے، یہ سب خراجی(4) ہیں۔ بنجر زمین کو مسلمان نے کھیت کیا، اگر اُس کے آس پاس کی زمین عشری ہے تو یہ بھی عشری اور خراجی ہے تو خراجی۔
مسئلہ: زمین وقف کر دی تو اگر پہلے عشری تھی تواب بھی عشری ہے اور خراجی تھی تو اب بھی خراجی اور اگر بیت المال سے خرید کر وقف کی تو اب خراج نہیں اور عشری تھی تو عُشرہے۔ (5)(ردالمحتار)
عشر وخراج کے مسائل بقدر ضرورت کتاب الزکاۃ میں بیان کر دیے گئے وہاں سے معلوم کر یں اُن سے زائد جزئیات(6) کی حاجت نہیں معلوم ہوتی لہٰذا اُنھیں پر اکتفا کریں۔
تنبیہ: اس زمانہ کے مسلمانوں نے عشروخراج کو عموماً چھوڑرکھا ہے بلکہ جہاں تک میرا خیال ہے بہتیرے(7) وہ مسلمان ہیں جن کے کان بھی ان لفظوں سے آشنا نہیں، جانتے ہی نہیں کہ کھیت کی پیداوار میں بھی شرع (8)نے کچھ دوسروں کا حق رکھا ہے حالانکہ قرآن مجید میں مولیٰ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
( اَنۡفِقُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَکُمۡ مِّنَ الۡاَرْضِ ۪ ) (9)
خرچ کرو اپنی پاک کمائیوں سے اور اُس سے کہ ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالا۔
۔۔۔۔
1 ۔جاری کرنے۔
2 ۔وہ زمین جس کی پیداوار سے عشر ادا کرنا لازم ہو۔
3 ۔بہارشریعت جلد 1 حصہ5 ملاحظہ فرمائیں۔
4 ۔وہ زمین جس کی پیداوار سے خراج ادا کرنا لازم ہو ۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب العشر والخراج،مطلب:اراضی المملکۃ...إلخ،ج۶،ص۲۸۱.
6 ۔یعنی مسائل۔
7 ۔بہت سے۔
8 ۔شریعت اسلامیہ۔
9 ۔پ۳،البقرہ:۲۶۷.
اگر مسلمان ان باتوں سے واقف ہو جائیں تو اب بھی بہتیرے خدا (عزّوجل)کے بندے وہ ہیں جو اتباع شریعت(1) کی کوشش کرتے ہیں جس طرح زکاۃ دیتے ہیں انھیں بھی اداکریں گے، واﷲ ھوالموفق۔
اﷲعزوجل فرماتاہے:
(وَ مَاۤ اَفَآءَ اللہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنْہُمْ فَمَاۤ اَوْ جَفْتُمْ عَلَیۡہِ مِنْ خَیۡلٍ وَّ لَا رِکَابٍ وَّ لٰکِنَّ اللہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۶﴾مَاۤ اَفَآءَ اللہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنْ اَہۡلِ الْقُرٰی فَلِلہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیۡنِ وَ ابْنِ السَّبِیۡلِ ۙ کَیۡ لَا یَکُوۡنَ دُوۡلَۃًۢ بَیۡنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنۡکُمْ ؕ وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ وَ اتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ ۘ﴿۷﴾ ) (2)
اﷲ (عزّوجل) نے کافروں سے جو کچھ اپنے رسول کو دلایا، اُس پر نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ، ولیکن اﷲ (عزوجل) اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے مسلّط فرما دیتا ہے اور اﷲ(عزّوجل) ہر شے پر قادر ہے جو کچھ اﷲ (عزّوجل) نے اپنے رسول کو بستیوں والوں سے دلایا وہ اﷲ (عزّوجل) و رسول کے لیے ہے اور قرابت والے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے (یہ اس لیے بیان کیا گیا کہ) تم میں کے مالدار لوگ لینے دینے نہ لگیں اور جو کچھ رسول تم کودیں، اسے لو اور جس چیزسے منع کریں، اُس سے باز رہو اور اﷲ (عزوجل) سے ڈرو، بیشک اﷲ(عزّوجل) سخت عذاب والا ہے۔
حدیث ۱: ابوداود معاذ بن جبل رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے جب ان کو یمن(کاحاکم بناکر) بھیجا تو یہ فرما دیاکہ ''ہر بالغ سے ایک دینار وصول کریں یا اس قیمت کا معافری۔'' یہ ایک کپڑا ہے جو یمن میں ہوتا ہے۔ (3)
حدیث ۲: امام احمد و ترمذی و ابوداود نے ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ایک زمین میں دو قبلے درست نہیں اور مسلمان پر جزیہ نہیں''۔ (4)
۔۔۔۔
1 ۔اسلامی احکام پر عمل کرنے،شریعت کی پیروی۔
2 ۔پ۲۸،الحشر:۶،۷ .
3 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الخراج... إلخ،باب فی اخذا الجزیۃ،الحدیث:۳۰۳۸،ج۳،ص۲۲۵.
4 ۔''المسند''،للإمام أحمد،مسند عبداللہ بن العباس،الحدیث:۱۹۴۹،ج۱،ص۴۷۹.
حدیث ۳: ترمذی نے عقبہ بن عامر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں میں نے عرض کی، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) ہم کافروں کے ملک میں جاتے ہیں، وہ نہ ہماری مہمانی کرتے ہیں، نہ ہمارے حقوق ادا کرتے ہیں اور ہم خود جبراً(1) لینا اچھا نہیں سمجھتے (اور اس کی وجہ سے ہم کو بہت ضرر ہوتا ہے۔) ارشاد فرمایاکہ ''اگر تمھارے حقوق خوشی سے نہ دیں، توجبراً وصول کرو۔'' (2)
حدیث ۴: امام مالک اسلم سے راوی، کہ امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے یہ جزیہ مقرر کیا، سونے والوں پر چار دینار اور چاندی والوں پر چالیس درہم اور اس کے علاوہ مسلمانوں کی خوراک اور تین دن کی مہمانی اُن کے ذمہ تھی۔ (3)
سلطنت اسلامیہ کی جانب سے ذمی کفار پر جو مقرر کیا جاتا ہے اسے جزیہ کہتے ہیں۔ جزیہ کی دو قسمیں ہیں ایک وہ کہ ان سے کسی مقدار معین پر صلح ہوئی کہ سالانہ وہ ہمیں اتنا دیں گے اس میں کمی بیشی کچھ نہیں ہو سکتی نہ شرع نے اس کی کوئی خاص مقدار مقرر کی بلکہ جتنے پر صلح ہو جائے وہ ہے۔ دوسری یہ کہ ُملک کو فتح کیا اور کافروں کے املاک(4) بدستور چھوڑ دیے گئے ان پر سلطنت (5)کی جانب سے حسب حال کچھ مقرر کیا جائیگا اس میں اُن کی خوشی یا نا خوشی کا اعتبار نہیں اس کی مقدار یہ ہے کہ مالداروں پر اڑتالیس۴۸درہم سالانہ ہر مہینے میں چار درہم۔ متوسط شخص پر چوبیس درہم سالانہ ہر مہینے میں دو درہم۔ فقیر کمانے والے پر بارہ درہم سالانہ ہر ماہ میں ایک درہم۔ اب اختیار ہے کہ شروع سال میں سال بھر کالے لیں یا ماہ بماہ وصول کریں دوسری صورت میں آسانی ہے۔ مالدار اور فقیر اور متوسط کس کو کہتے ہیں یہ وہاں کے عرف اور بادشاہ کی رائے پر ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جو شخص نادار ہو یا دوسو درہم سے کم کا مالک ہو فقیر ہے اور دو سو سے دس ۱۰ہزار سے کم تک کا مالک ہو تو متوسط ہے اور دس ہزار یا زیادہ کا مالک ہو تو مالدار ہے۔ (6)(درمختا، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱: فقیر کمانے والے سے مراد وہ ہے کہ کمانے پر قادر ہو یعنی اعضا سالم ہوں (7)
۔۔۔۔
1 ۔زبردستی۔
2 ۔''جامع الترمذي''،کتاب السیر،باب ماجاء ما یحل من اموال اھل الذمۃ،الحدیث:۱۵۹۵،ج۳،ص۲۱۶.
3 ۔''الموطأ''،لإمام مالک،کتاب الزکاۃ، باب جزیۃ أھل الکتاب والمجوس، الحدیث:۶۲۹،ج۱،ص۲۵۷.
4 ۔جائیداد ،مکانات وغیرہ۔
5 ۔یعنی اسلامی حکومت۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد، فصل فی الجزیۃ،ج۶،ص۳۰۵،۳۰۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الثامن فی الجزیۃ،ج۲،ص۲۴۴.
7 ۔یعنی درست ہو۔
نصف سال یا اکثر میں بیمار نہ رہتا ہو ایسا بھی نہ ہو کہ اُسے کوئی کام کرنا آتا نہ ہو نہ اتنا بیوقوف ہو کہ کچھ کام نہ کر سکے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲: سال کے اکثر حصہ میں مالدار ہے تو مالداروں کا جزیہ لیا جائے گا اور فقیر ہے تو فقیروں کا اور چھ مہینے میں مالدار رہا اور چھ مہینے میں فقیر تو متوسط۔ ابتدائے سال میں جب مقرر کیا جائیگا اُس وقت کی حالت دیکھ کر مقرر کریں گے اور اگر اُس وقت کوئی عذر ہو تو اس کا لحاظ کیا جائے گا پھر اگر وہ عذر اثنا ئے سال (2) میں جاتا رہا اور سال کا اکثر حصہ باقی ہے تو مقرر کر دیں گے۔(3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مرتد سے جزیہ نہ لیا جائے اسلام لائے فبہا (4) ورنہ قتل کر دیا جائے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۴: بچہ اور عورت اور غلام و مکاتب و مدبر ، پاگل، بوہرے، لنجھے (6)، بیدست و پا(7)، اپاہج (8)، فالج کی بیماری والے، بوڑھے عاجز، اندھے، فقیر ناکارہ، پوجاری (9) جو لوگوں سے ملتا جلتا نہیں اور کام پر قادر نہ ہو ان سب سے جزیہ نہیں لیا جائے گا اگرچہ اپاہج وغیرہ مالدار ہوں۔(10) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۵: جو کچھ کماتا ہے سب صرف ہوجاتا ہے بچتا نہیں تو اس سے جزیہ نہ لیں گے۔(11) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: شروع سال میں جزیہ مقرر کرنے سے پہلے بالغ ہوگیا تو اس پر بھی جزیہ مقرر کیا جائے گا اور اگر اس وقت نابالغ تھا، مقرر ہوجانے کے بعد بالغ ہوا تو نہیں۔(12) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: اثنائے سال میں یا سالِ تمام کے بعد مسلمان ہوگیا تو جزیہ نہیں لیا جائے گا اگرچہ کئی برس کا اس کے ذمہ باقی ہو اور اگر دو۲برس کا پیشگی لے لیا ہو توسال آئندہ کا جو لیا ہے واپس کریں اور اگر جزیہ نہ لیا اور دوسرا سال شروع ہوگیا تو سال گذشتہ کا ساقط ہوگیا۔ یوہیں مرجانے، اندھے ہونے، اپاہج ہوجانے، فقیر ہوجانے،
۔۔۔۔
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،فصل فی الجزیۃ،ج۶،ص۳۰۶.
2 ۔سال کے دوران۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الثامن فی الجزیۃ،ج ۲،ص۲۴۶.
و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،فصل فی الجزیۃ ،ج ۶،ص۳۰۷،۳۰۸.
4 ۔تو صحیح،ٹھیک۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،فصل فی الجزیۃ،ج۶،ص۳۰۹.
6 ۔ہاتھ پاؤں سے معذور۔
7 ۔جس کے ہاتھ پاؤں نہ ہو۔
8 ۔چلنے پھرنے سے معذور۔
9 ۔مندر کا مجاور ۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،فصل فی الجزیۃ،ج۶،ص۳۱۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الثامن فی الجزیۃ،ج ۲،ص ۲۴۵.
11 ۔المرجع السابق.
12 ۔المرجع السابق.ص۲۴۵،۲۴۶.
لنجھے ہوجانے سے کہ کام پر قادر نہ ہوں جزیہ ساقط ہوجاتا ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۸: نوکر یا غلام یا کسی اور کے ہاتھ جزیہ بھیج نہیں سکتا بلکہ خود لے کر حاضر ہو اور کھڑا ہوکر ادب کے ساتھ پیش کرے یعنی دونوں ہاتھ میں رکھ کر جیسے نذریں دیا کرتے ہیں اور لینے والا اس کے ہاتھ سے وہ رقم اٹھالے یہ نہیں ہوگا کہ یہ خود اوس کے ہاتھ میں دیدے جیسے فقیر کو دیا کرتے ہیں۔ (2)(عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۹: جزیہ و خراج مصالح عامہ مسلمین میں صرف کیے جائیں(3) مثلاً سرحد پر جو فوج رہتی ہے اوس پر خرچ ہوں اور پل اور مسجد و حوض و سرا(4) بنانے میں خرچ ہوں اور مساجد کے امام و مؤذن پر خرچ کریں اور علما و طلبہ اور قاضیوں اوراون کے ماتحت کام کرنے والوں کو دیں اور مجاہدین اور ان سب کے بال بچوں کے کھانے کے لیے دیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: دارالاسلام ہونے کے بعد ذمی اب نئے گرجے (6)اور بت خانے اور آتش کدہ(7) نہیں بناسکتے اور پہلے کے جو ہیں وہ باقی رکھے جائیں گے۔ اگر لڑ کر شہر کو فتح کیا ہے تو وہ رہنے کے مکان ہوں گے اور صلح کے ساتھ فتح ہوا تو بدستور عبادت خانے رہیں گے۔اگر ان کے عبادت خانے منہدم(8) ہو گئے اور پھر بنانا چاہیں تو جیسے تھے ویسے ہی اوسی جگہ بنا سکتے ہیں نہ بڑھا سکتے ہیں نہ دوسری جگہ اون کے بدلے میں بنا سکتے نہ پہلے سے زیادہ مستحکم بنا سکتے مثلاًپہلے کچّا تھا تو اب بھی کچّا ہی بنا سکیں گے اینٹ کا تھا تو پتھر کا نہیں بنا سکتے اور بادشاہ اسلام یا مسلمانوں نے منہدم کر دیا ہے تو اسے دوبارہ نہیں بنا سکتے اور خود منہدم کیا ہو تو بنا سکتے ہیں اور پیشتر سے اب کچھ زیادہ کر دیا ہو تو ڈھا دینگے۔(9) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: ذمی کافرمسلمانوں سے وضع قطع(10) لباس وغیرہ ہر بات میں ممتاز(11) رکھا جائیگا جس قسم کا لباس مسلمانوں کا ہو گاوہ ذمی نہ پہنے۔ اوس کی زین بھی اور طرح کی ہو گی۔ ہتھیار بنانے کی اوسے اجازت نہیں بلکہ اوسے ہتھیار رکھنے بھی نہ دینگے۔ زنار(12) وغیرہ جو اوس کی خاص علامت کی چیزیں ہیں انھیں ظاہر رکھے کہ مسلمان کو دھوکا نہ ہو۔ عمامہ نہ باندھے۔ ریشم کی زنار نہ باندھے۔
۔۔۔۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،فصل فی الجزیۃ،ج۶،ص۳۱۲.
2 ۔''الفتاوٰی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الثامن فی الجزیۃ ،ج ۲،ص ۳۴۶.وغیرہ
3 ۔عام مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لئے خرچ کئے جائیں۔
4 ۔مسافرخانہ۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،فصل فی الجزیۃ،مطلب: فی مصارف بیت المال،ج۶،ص۳۳۶،۳۳۷.
6 ۔ عیسائیوں کے عبادت خانہ۔
7 ۔مجوسیوں کا عبادت خانہ۔
8 ۔گِرگئے۔
9 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد، فصل فی الجزیۃ، مطلب: فی أحکام الکنائس...إلخ،ص۳۱۴۔۳۲۰.
10 ۔شکل وصورت،چال ڈھال۔
11 ۔جداگانہ ،منفرد ۔
12 ۔وہ دھاگہ یاڈوری جو ہندو گلے سے بغل کے نیچے تک ڈالتے ہیں جبکہ عیسائی ،مجوسی اوریہودی کمر میں باندھتے ہیں۔
لباس فاخرہ (1)جو علما وغیرہ اہل شرف کے ساتھ مخصوص ہے نہ پہنے۔ مسلمان کھڑا ہو تو وہ اُس وقت نہ بیٹھے۔ اُن کی عورتیں بھی مسلمان عورتوں کی طرح کپڑے وغیرہ نہ پہنیں۔ ذمیوں کے مکانوں پر بھی کوئی علامت ایسی ہو جس سے پہچانے جائیں کہ کہیں سائل دروازوں پر کھڑا ہو کر مغفرت کی دعا نہ دے غرض اُس کی ہر بات مسلمانوں سے جدا ہو ۔(2)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
اب چونکہ ہندوستان میں اسلامی سلطنت نہیں لہٰذا مسلمانوں کو یہ اختیار نہ رہا کہ کفار کو کسی وضع وغیرہ کا پابند کریں البتہ مسلمانوں کے اختیار میں یہ ضرور ہے کہ خود اون کی وضع اختیار نہ کریں مگر بہت افسوس ہوتا ہے جبکہ کسی مسلمان کو کافروں کی صورت میں دیکھا جاتا ہے لباس و وضع قطع میں کفار سے امتیاز نہیں رکھتے بلکہ بعض مرتبہ ایسا اتفاق ہوا ہے کہ نام دریافت کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ مسلمان ہے۔ مسلمانوں کا ایک خاص امتیاز ڈاڑھی رکھنا تھا اس کو آج کل لوگوں نے بالکل فضول سمجھ رکھا ہے نصارےٰ کی تقلید(3)میں ڈاڑھی کا صفایا اور سر پر بالوں کا گپّھا(4) مونچھیں بڑی بڑی یا بیچ میں ذراسی جو دیکھنے سے مصنوعی معلوم ہوتی ہیں۔ اگر رکھیں تو نصاریٰ کی سی کم کریں تو نصاریٰ کی طرح۔ اسلامی بات سب نا پسند، کپڑے جوتے ہوں تو نصرانیوں کے سے، کھانا کھائیں تو اون کی طرح اور اب کچھ دنوں سے جو نصاریٰ کی طرف سے منحرف ہوئے (5)توگھر لوٹ کر نہ آئے بلکہ مشرکوں ہندؤں کی تقلید اختیار کی ٹوپی ہندو کے نام کی، ہندو جو کہیں اوس پر دل وجان سے حاضر اگرچہ اسلام کے احکام پسِ پشت ہوں (6) اگر وہ کہے اور جب وہ کہے روزہ رکھنے کو طیار مگر رمضان میں پان کھا کر نکلنا نہ شرم نہ عار، وہ کہے تو دن بھر بازار بند خرید و فروخت حرام اور خدا فرماتا ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہو توخریدو فروخت چھوڑو(7) اس کی طرف اصلاً التفات نہیں(8) غرض مسلمانوں کی جو ابترحالت (9) ہے، اس کا کہاں تک رونا رویا جائے یہ حالت نہ ہوتی تو یہ دن کیوں دیکھنے پڑتے اور جب ان کی قوت منفعلہ(10) اتنی قوی ہے اور قوت فاعلہ (11) زائل ہو چکی تو اب کیا امید ہو سکتی ہے کہ یہ مسلمان کبھی ترقی کا زینہ طے کرینگے غلام بن کر اب بھی ہیں اور جب بھی رہیں گے، والعیاذ باﷲتعالیٰ۔
۔۔۔۔
1 ۔عمدہ لباس ۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،فصل فی الجزیۃ،ج ۶،ص ۳۲۰-۳۲۴
و'' الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الثامن فی الجزیۃ،فصل ،ج ۲،ص ۳۵۰.
3 ۔عیسائیوں کے پیچھے چلنے یعنی اُن کے طریقوں کو اپنانے۔
4 ۔گُچھا۔
5 ۔برگشتہ ہوئے،اکتائے۔
6 ۔چھوڑدیے ہوں۔
7 ۔اذانِ جمعہ کے شروع سے ختمِ نماز تک بیع مکروہ تحریمی ہے اور اذان سے مراد پہلی اذان ہے کہ اُسی وقت سعی واجب ہوجاتی ہے مگر وہ لوگ
جن پر جمعہ واجب نہیں مثلاً عورتیں یا مریض اُن کی بیع میں کراہت نہیں۔ (بہارشریعت،ج۲ حصہ ۱۱ ، ص۷۲۳)
8 ۔توجہ نہیں۔
9 ۔بہت بری حالت۔
10 ۔کسی بات سے متاثر ہونے کی صلاحیت۔
11 ۔کسی بات میں اثر ڈالنے کی قوت۔
مسئلہ ۱۲: نصرانی نے مسلمان سے گرجے کا راستہ پوچھا یا ہندو نے مندر کا تو نہ بتائے کہ گناہ پر اعانت کرنا ہے۔ اگرکسی مسلمان کا باپ یا ماں کافر ہے اور کہے کہ تو مجھے بت خانہ پہنچا دے تو نہ لیجائے اور اگر وہاں سے آنا چاہتے ہیں تولاسکتا ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: کافر کو سلام نہ کرے مگر بضرورت اور وہ آتا ہو تو اُس کے لیے راستہ وسیع نہ کرے بلکہ اُس کے لیے تنگ راستہ چھوڑے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: کافر سنکھ(3) یا ناقوس(4) بجانا چاہیں تو مسلمان نہ بجانے دیں اگرچہ اپنے گھروں میں بجائیں۔ یوہیں اگر اپنے معبودوں کے جلوس وغیرہ نکالیں تو روک دیں اور کفر وشرک کی بات علانیہ بکنے سے بھی روکے جائیں یہاں تک کہ یہودونصاریٰ اگر یہ گڑھی ہوئی تورات وانجیل بلند آواز سے پڑھیں اور اس میں کوئی کفر کی بات ہو تو روک دیے جائیں اور بازاروں میں پڑھنا چاہیں تو مطلقاً روکے جائیں اگر چہ کفر نہ بکیں۔ (5)(عالمگیری) جب تورات و انجیل کے لیے یہ احکام ہیں تو رامائن(6) ، وید(7) وغیرہا خرافاتِ ہنود(8) کہ مجموعہ شرک ہیں ان کے لیے اشد حکم ہوگا مگر یہ احکام تو اسلامی تھے جو سلطنت کے ساتھ متعلق تھے اور جب سلطنت نہ رہی تو ظاہر ہے کہ روکنے کی بھی طاقت نہ رہی مگر اب مسلمان اتنا تو کر سکتے ہیں کہ ایسی جگہوں سے دور بھاگیں نہ یہ کہ عیسائیوں اور آریوں(9) کے لکچروں اور جلسوں میں شریک ہوں اور وہاں اپنی آنکھوں سے احکام اسلام کی بےحرمتی دیکھیں اور کانوں سے خدا و رسول کی شان میں گستاخیاں سنیں اور جانا نہ چھوڑیں مگر نہ علم رکھتے ہیں کہ جواب دیں نہ حیا رکھتے ہیں کہ باز آئیں۔
مسئلہ ۱۵: شہر میں شراب لانے سے منع کیا جائیگا اگر کوئی مسلمان شراب لایا اور گرفتار ہوا اور عذر یہ کرتا ہے کہ میری نہیں کسی اور کی ہے اور نام بھی نہیں بتاتا کہ کس کی ہے یا کہتا ہے سرکہ بنانے کے لیے لایا ہوں تو اگر وہ شخص دیندار ہے چھوڑ دینگے ورنہ شراب بہا دینگے اور اُسے سزا دینگے اور قید کرینگے تا وقتیکہ توبہ نہ کرے اور اگر کافر لایا ہو اور گرفتار ہوا اور یہ نہ جانتا ہو کہ لانا نہیں چاہیے تو اسے شہر سے نکالدیں اور کہہ دیا جائے کہ اگر پھر لایا تو سزادی جائے گی۔(10) (عالمگیری)
۔۔۔۔
1 ۔''الفتاوٰی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الثامن فی الجزیۃ،فصل ،ج ۲،ص ۳۵۰.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔ ایک قسم کا باجا جو قدیم زمانے سے مندروں میں پوجا پاٹ کے وقت یا اس کے اعلان کے لئے بجایا جاتا ہے۔
4 ۔سَنکھ جو ہندو پوجا کے وقت بجاتے ہیں۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الثامن فی الجزیۃ،فصل ،ج ۲،ص ۳۵۰.
6 ۔ایک رزمیہ نظم جس میں رام چندر کے حالاتِ زندگی بیان کئے گئے ہیں۔
7 ۔ہندوؤں کی مقدس کتاب کا نام۔
8 ۔ہندوؤں کی بکواسات،من گھڑت کتابیں۔
9 ۔آریا مذہب کے اعتقاد وطریقے پر چلنے والی ہندوجماعت۔
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب الثامن فی الجزیۃ،فصل ،ج ۲،ص۲۵۱.
اﷲعزوجل فرماتا ہے:
( وَمَنۡ یَّرْتَدِدْ مِنۡکُمْ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَکَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۱۷﴾ (1)
تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہو جائے اور کفر کی حالت میں مرے اسکے تمام اعمال دنیا اور آخرت میں رائیگاں ہیں اور وہ لوگ جہنمی ہیں، اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اور فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ یَّرْتَدَّ مِنۡکُمْ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَسَوْفَ یَاۡتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ ۫ یُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَلَا یَخَافُوۡنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ؕ ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۴﴾ ) (2)
''اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہو جائے تو عنقریب اﷲ (عزوجل) ایک ایسی قوم لائیگا جو اﷲ (عزوجل) کو محبوب ہو گی اور وہ اﷲ (عزوجل) کو محبوب رکھے گی مسلمانوں کے سامنے ذلیل اور کافروں پر سخت ہوگی وہ لوگ اﷲ (عزوجل) کی راہ میں جہاد کرینگے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے یہ اﷲ (عزوجل) کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اﷲ (عزوجل) وسعت والا، علم والا ہے۔''
اور فرماتا ہے:
( قُلْ اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ وَرَسُوۡلِہٖ کُنۡتُمْ تَسْتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶۵﴾لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمَانِکُمْ ؕ (3)
''تم فرما دو! کیا اﷲ (عزوجل) اور اس کی آیتوں اور اُس کے رسول (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کے ساتھ تم مسخرہ پن کرتے تھے، بہانے نہ بناؤ، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے''۔
۔۔۔۔
1 ۔پ۲ ،البقرہ :۲۱۷.
2 ۔پ۶،المائدہ:۵۴.
3 ۔پ۱۰،التوبۃ:۶۵،۶۶.
حدیث ۱: امام بخاری نے ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بندہ کبھی اﷲتعالیٰ کی خوشنودی کی بات کہتا ہے اور اس کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا (یعنی اپنے نزدیک ایک معمولی بات کہتا ہے) اﷲتعالیٰ اس کی وجہ سے اسکے بہت درجے بلند کرتا ہے اور کبھی اﷲ (عزوجل) کی ناراضی کی بات کرتا ہے اور اس کا خیال بھی نہیں کرتا اس کی وجہ سے جہنم میں گرتا ہے۔'' اور ایک روایت میں ہے، کہ ''مشرق ومغرب کے درمیان میں جو فاصلہ ہے، اس سے بھی فاصلہ پر جہنم میں گرتا ہے۔'' (1)
حدیث ۲و۳: صحیح بخاری ومسلم میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو مسلمان اﷲ (عزوجل) کی وحدانیت اور میری رسالت کی شہادت دیتا ہے اس کا خون حلال نہیں، مگر تین وجہ سے وہ کسی کو قتل کرے اور ثیب زانی اور دین سے نکل جانے والا جو جماعت مسلمین کو چھوڑ دیتا ہے۔'' اور ترمذی و نسائی و ابن ماجہ نے اسی کی مثل حضرت عثمان رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کی۔ (2)
حدیث ۴: صحیح بخاری شریف میں عکرمہ سے مروی، کہتے ہیں کہ حضرتِ علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی خدمت میں زندیق (3)پیش کیے گئے انھوں نے ان کو جلا دیا۔ جب یہ خبر عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما کو پہنچی تو یہ فرمایا کہ میں ہوتا تو نہیں جلاتا کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا، فرمایا کہ ''اﷲ (عزوجل) کے عذاب کے ساتھ تم عذاب مت دو۔'' اور میں انھیں قتل کرتا، اس لیے کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے: ''جو شخص اپنے دین کو بدل دے، اُسے قتل کر ڈالو۔'' (4)
مسئلہ ۱: کفر و شرک سے بدتر کوئی گناہ نہیں اور وہ بھی ارتداد کہ یہ کفر اصلی سے بھی باعتبار احکام سخت ترہے جیسا کہ اس کے احکام سے معلوم ہوگا۔ مسلمان کو چاہیے کہ اس سے پناہ مانگتا رہے کہ شیطان ہر وقت ایمان کی گھات(5) میں ہے اور حدیث میں فرمایا کہ شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح تیرتا ہے(6)۔
۔۔۔۔
1 ۔''الصحیح البخاری''،کتاب الرقاق،باب حفظ اللسان ،الحدیث۶۴۷۷،۶۴۷۸،ج۴،ص۲۴۱.
و''صحیح مسلم''،کتاب الزھد... إلخ، باب التکلم بالکلمۃ یھوی...إلخ، الحدیث: ۵۰،۴۹۔۲۹۸۸، ص۱۵۹۵.
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الدیات، باب قول اللہ تعالیٰ ( اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ )... إلخ، الحدیث: ۶۸۷۸،ج ۴، ص۳۶۱.
3 ۔وہ شخص جو اللہ عزوجل کی وحدانیت کا قائل نہ ہو۔
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب استتابۃ المرتدین... إلخ، الحدیث: ۶۹۲۲، ج ۴،ص۳۷۸.
5 ۔تاک ،داؤں۔
6 ۔''سنن الترمذی''،کتاب الرضاع،باب ماجاء کراھیۃ ..الخ،الحدیث۱۱۷۵،ج۲،ص۳۹۱.
آدمی کو کبھی اپنے اوپر یا اپنی طاعت واعمال پر بھروسا نہ چاہیے ہر وقت خدا پر اعتماد کرے اور اسی سے بقائے ایمان کی دعا چاہے کہ اسی کے ہاتھ میں قلب ہے اور قلب کو قلب اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ لَوٹ پَوٹ ہوتا رہتا ہے(1) ایمان پر ثابت رہنا اسی کی توفیق سے ہے جس کے دستِ قدرت میں قلب ہے اور حدیث میں فرمایا کہ شرک سے بچو کہ وہ چیونٹی کی چال سے زیادہ مخفی ہے(2) اور اس سے بچنے کی حدیث میں ایک دعا ارشاد فرمائی اسے ہر روز تین مرتبہ پڑھ لیا کرو، حضورِ اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ شرک سے محفوظ رہوگے، وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیوبِ.(3)
مرتد وہ شخص ہے کہ اسلام کے بعد کسی ایسے امرکا انکار کرے جو ضروریات دین سے ہو یعنی زبان سے کلمہ کفر بکے جس میں تاویل صحیح کی گنجائش نہ ہو۔ یوہیں بعض افعال بھی ایسے ہیں جن سے کافر ہو جاتا ہے مثلاً بت کو سجدہ کرنا۔ مصحف شریف کو نجاست کی جگہ پھینک دینا۔ (4)
مسئلہ ۲: جو بطور تمسخر اور ٹھٹے (5)کے کفر کریگا وہ بھی مرتد ہے اگرچہ کہتا ہے کہ ایسا اعتقاد نہیں رکھتا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۳: کسی کلام میں چند معنے بنتے ہیں بعض کفر کی طرف جاتے ہیں بعض اسلام کی طرف تو اس شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی (7)۔ہاں اگر معلوم ہو کہ قائل نے معنی کفر کا ارادہ کیا مثلاً وہ خود کہتا ہے کہ میری مراد یہی ہے تو کلام کا محتمل ہونا نفع نہ دیگا۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ کلمہ کے کفر ہونے سے قائل کا کافر ہونا ضرور نہیں۔ (8)(ردالمحتار وغیرہ) آج کل بعض لوگوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ کسی شخص میں ایک بات بھی اسلام کی ہو تو اسے کافر نہ کہیں گے یہ بالکل غلط ہے کیا یہود ونصاریٰ میں اسلام کی کوئی بات نہیں پائی جاتی حالانکہ قرآن عظیم میں انھیں کافر فرمایا گیا بلکہ بات یہ ہے کہ علما نے فرمایا یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان نے ایسی بات کہی جس کے بعض معنی اسلام کے مطابق ہیں تو کافر نہ کہیں گے اس کو ان لوگوں نے یہ بنا لیا۔ ایک یہ وبا بھی پھیلی ہوئی ہے کہتے ہیں کہ ''ہم تو کافر کو بھی کافر نہ کہیں گے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہو گا '' یہ بھی غلط ہے
۔۔۔۔
1 ۔یعنی بدلتارہتاہے۔
2 ۔''المسند''،للامام احمدبن حنبل،مسندالکوفیین،حدیث أبی موسی الأشعری،الحدیث۱۹۶۲۵،ج۷،ص۱۴۶.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،مطلب: فی حکم من شتم ...الخ،ج۶،ص۳۵۴.
ترجمہ : اے اللہ !میں تیری پناہ مانگتاہوں کہ جان بوجھ کر تیرے ساتھ کسی کو شریک بناؤں اور تجھ سے بخشش مانگتاہوں (اس شرک سے) جسے میں نہیں جانتا بے شک تو دانائے غیوب ہے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،ج۶،ص۳۴۴.
5 ۔ہنسی مذاق کے طورپر۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد، باب المرتد،ج۶،ص۳۴۳.
7 ۔یعنی اس کوکافرقرارنہیں دیاجائے گا۔
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،مطلب: فی حکم من شتم دین مسلم، ج۶،ص۳۵۴.وغیرہ.
قرآنِ عظیم نے کافر کو کافر کہا اور کافر کہنے کا حکم دیا۔
'' قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ''
اور اگر ایسا ہے تو مسلمان کو بھی مسلمان نہ کہو تمھیں کیا معلوم کہ اسلام پر مرے گا خاتمہ کا حال تو خدا جانے مگر شریعت نے کافر و مسلم میں امتیا ز رکھا ہے اگر کافر کو کافر نہ جانا جائے تو کیا اس کے ساتھ وہی معاملات کروگے جو مسلم کے ساتھ ہوتے ہیں حالانکہ بہت سے امور ایسے ہیں جن میں کفار کے احکام مسلمانوں سے بالکل جدا ہیں مثلاً ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھنا، ان کے لیے استغفار نہ کرنا، ان کو مسلمانوں کی طرح دفن نہ کرنا، ان کو اپنی لڑکیاں نہ دینا، ان پر جہاد کرنا، ان سے جزیہ لینا اس سے انکار کریں تو قتل کرنا وغیرہ وغیرہ۔ بعض جاہل یہ کہتے ہیں کہ ''ہم کسی کو کافر نہیں کہتے، عالم لوگ جانیں وہ کافر کہیں'' مگر کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ عوام کے تو وہی عقائد ہونگے جو قرآن و حدیث وغیرہما سے علما نے انھیں بتائے یا عوام کے لیے کوئی شریعت جدا گا نہ ہے جب ایسا نہیں تو پھر عالمِ دین کے بتائے پر کیوں نہیں چلتے نیزیہ کہ ضروریات کا انکار کوئی ایسا امر نہیں جو علما ہی جانیں عوام جو علما کی صحبت سے مشرف ہوتے رہتے ہیں وہ بھی ان سے بے خبر نہیں ہوتے پھر ایسے معاملہ میں پہلو تہی (1)اور اعراض (2)کے کیا معنی۔
مسئلہ ۴: کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کافر نہ ہوا یعنی جبکہ اس امر سے اظہار نفرت کرے کہ سننے والوں کو بھی معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے اور اگر بات کی پچ کی(3) تو اب کافر ہو گیا کہ کفر کی تائید کرتا ہے۔ (4)
مسئلہ ۵: کفری بات کا دل میں خیال پیدا ہوا اور زبان سے بولنا برا جانتا ہے تو یہ کفر نہیں بلکہ خاص ایمان کی علامت ہے کہ دل میں ایمان نہ ہوتا تو اسے برا کیوں جانتا۔ (5)
مسئلہ ۶: مرتد ہونے کی چند شرطیں ہیں(۱)عقل۔ ناسمجھ بچہ اور پاگل سے ایسی بات نکلی تو حکم کفر نہیں۔(۲)ہوش۔ اگر نشہ میں بکا تو کافر نہ ہوا۔(۳) اختیار مجبوری اور اکراہ(6)کی صورت میں حکم کفر نہیں۔ مجبوری کے یہ معنے ہیں کہ جان جانے یاعضو کٹنے یا ضرب شدید(7) کا صحیح اندیشہ ہو اس صورت میں صرف زبان سے اس کلمہ کے کہنے کی اجازت ہے بشرطیکہ دل میں وہی اطمینان ایمانی ہو
''اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْـبُـہٗ مُطْمَئِـنٌّ بِالْاِیْمَانِ''.(8)
مسئلہ ۷: جو شخص معاذاﷲ مرتد ہو گیا تو مستحب ہے کہ حاکم اسلام اس پر اسلام پیش کرے
۔۔۔۔
1 ۔کنارہ کشی۔
2 ۔روگردانی۔
3 ۔کی ہوئی بات پر اَڑا رہا۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،مطلب: الأسلام یکون بالفصل...إلخ،ج۶،ص۳۵۳.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۸۳.
6 ۔یعنی اکراہِ شرعی ہے ۔
7 ۔بہت سخت مارنا۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۵۳۔۲۷۶.
اور اگر وہ کچھ شبہہ بیان کرے تو اس کا جواب دے اور اگر مہلت مانگے تو تین دن قید میں رکھے اور ہر روز اسلام کی تلقین کرے۔ (1)یوہیں اگر اس نے مہلت نہ مانگی مگر امید ہے کہ اسلام قبول کرلے گا جب بھی تین دن قید میں رکھا جائے پھر اگر مسلمان ہوجائے فبہا ورنہ قتل کر دیا جائے بغیر اسلام پیش کیے اسے قتل کر ڈالنا مکر وہ ہے۔ (2)(درمختار) مرتد کو قید کرنا اور اسلام نہ قبول کرنے پر قتل کر ڈالنا بادشاہ اسلام کا کام ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ ایساشخص اگر زندہ رہا اور اس سے تعرض نہ کیا گیا(3) تو ملک میں طرح طرح کے فساد پیدا ہونگے اور فتنہ کا سلسلہ روز بروز ترقی پذیر ہوگا جس کی وجہ سے امن عامہ میں خلل پڑیگا لہٰذا ایسے شخص کو ختم کر دینا ہی مقتضائے حکمت(4) تھا۔ اب چونکہ حکومت اسلام ہندوستان میں باقی نہیں کوئی روک تھام کرنے والا باقی نہ رہا ہر شخص جو چاہتا ہے بکتا ہے اور آئے دن مسلمانوں میں فساد پیدا ہوتا ہے نئے نئے مذہب پیدا ہوتے رہتے ہیں ایک خاندان بلکہ بعض جگہ ایک گھر میں کئی مذہب ہیں اور بات بات پر جھگڑے لڑائی ہیں ان تمام خرابیوں کا باعث یہی نیا مذہب ہے ایسی صورت میں سب سے بہتر ترکیب وہ ہے جو ایسے وقت کے لیے قرآن وحدیث میں ارشاد ہوئی اگر مسلمان اس پر عمل کریں تمام قصوں سے نجات پائیں دنیا وآخرت کی بھلائی ہاتھ آئے۔ وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے بالکل میل جول چھوڑ دیں، سلام کلام ترک کر دیں، ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا، ان کے ساتھ کھانا پینا، ان کے یہاں شادی بیاہ کرنا، غرض ہر قسم کے تعلقات ان سے قطع (5)کر دیں گو یا سمجھیں کہ وہ اب رہا ہی نہیں، واﷲ الموفق۔
مسئلہ ۸: کسی دین باطل کو اختیار کیا مثلاً یہودی یا نصرانی ہو گیا ایسا شخص مسلمان اس وقت ہو گا کہ اس دین باطل سے بیزاری و نفرت ظاہر کرے اور دین اسلام قبول کرے۔ اور اگر ضروریات دین میں سے کسی بات کا انکار کیا ہو تو جب تک اُس کا اقرار نہ کرے جس سے انکار کیا ہے محض کلمہ شہادت پڑھنے پر اس کے اسلام کا حکم نہ دیا جائے گا کہ کلمہ شہادت کا اس نے بظاہر انکار نہ کیا تھا مثلاً نماز یا روزہ کی فرضیت سے انکار کرے یا شراب اور سوئر کی حرمت نہ مانے تو اس کے اسلام کے لیےیہ شرط ہے کہ جب تک خاص اس امر کا اقرار نہ کرے اس کا اسلام قبول نہیں یا اﷲتعالیٰ اور رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی جناب میں گستاخی کرنے سے کافر ہوا تو جب تک اس سے توبہ نہ کرے مسلمان نہیں ہو سکتا۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: عورت یا نابالغ سمجھ وال بچہ مرتد ہوجائے تو قتل نہ کرینگے بلکہ قید کرینگے
۔۔۔۔
1 ۔اسلام پیش کرے،اسلام کی رغبت دلائے۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،ج ۶،ص۳۴۶،۳۴۸.
3 ۔مزاحمت نہ کی گئی۔
4 ۔دانشمندی کا تقاضا۔
5 ۔ ختم۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،مطلب: فی ان الکفارخمسۃ اصناف...إلخ،ج۶،ص۳۴۹.
یہاں تک کہ توبہ کرے اور مسلمان ہو جائے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مرتد اگر ارتداد(2) سے توبہ کرے تو اس کی توبہ مقبول ہے مگر بعض مرتدین مثلاً کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا کہ اُس کی توبہ مقبول نہیں۔ توبہ قبول کرنے سے مراد یہ ہے کہ توبہ کرنے کے بعد بادشاہ ِاسلام اسے قتل نہ کریگا۔ (3)
مسئلہ ۱۱: مرتد اگر اپنے ارتداد سے انکار کرے تو یہ انکار بمنزلہ توبہ ہے اگرچہ گو اہان عادل سے اسکا ارتداد ثابت ہو یعنی اس صورت میں یہ قرار دیاجائے گا کہ ارتداد تو کیا مگر اب توبہ کرلی لہٰذا قتل نہ کیا جائیگا اور ارتداد کے باقی احکام جاری ہونگے مثلاًاس کی عورت نکاح سے نکل جائے گی، جو کچھ اعمال کیے تھے سب اکارت(4) ہو جائیں گے، حج کی استطاعت رکھتا ہے تو اب پھر حج فرض ہے کہ پہلا حج جو کر چکا تھا بیکار ہوگیا۔ (5)(درمختار، بحرالرائق) اگر اس قول سے انکار نہیں کرتا مگر لایعنی(6) تقریروں سے اس امر کو صحیح بتاتا ہے جیسا زمانہ حال کے مرتدین کا شیوہ ہے تو یہ نہ انکار ہے نہ تو بہ مثلاً قادیانی کہ نبوّت کا دعویٰ کرتا ہے اور خاتم النبیین کے غلط معنے بیان کر کے اپنی نبوّت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے یا حضرتِ سیدنا مسیح عیسیٰ علیہ افضل الصلوۃ والثناکی شانِ پاک میں سخت سخت حملے کرتا ہے پھر حیلے گڑھتا ہے یا بعض عمائد وہابیہ(7) کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ رفیع میں کلماتِ دشنام(8) استعمال کرتے اور تاویل غیرمقبول(9) کرکے اپنے اوپر سے کفر اٹھانا چاہتے ہیں ایسی باتوں سے کفر نہیں ہٹ سکتا کفر اٹھانے کا جو نہایت آسان طریقہ ہے کاش! اسے برتتے تو ان زحمتوں میں نہ پڑتے اور عذاب آخرت سے بھی انشاء اﷲرہائی کی صورت نکلتی وہ صرف توبہ ہے کہ کفر و شرک سب کو مٹا دیتی ہے، مگر اس میں وہ اپنی ذلت سمجھتے ہیں حالانکہ یہ خدا کو محبوب، اُس کے محبوبوں کو پسند، تمام عقلا کے نزدیک اس میں عزت۔
مسئلہ ۱۲: زمانہ اسلام میں کچھ عبادات قضا ہوگئیں اور ادا کرنے سے پہلے مرتد ہوگیا پھر مسلمان ہوا تو ان عبادات کی قضاکرے اور جو ادا کر چکا تھا اگرچہ ارتداد سے باطل ہو گئی مگر اس کی قضا نہیں البتہ اگر صاحبِ استطاعت ہو تو حج دوبارہ فرض ہوگا۔ (10)(درمختار)
۔۔۔۔
1 ۔''الفتاوٰی الھندیۃ''،کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۵۴.
2 ۔ مرتدہونے سے۔
3 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الجھاد،باب المرتد،ج ۶،ص۳۵۶.
4 ۔ضائع۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،ج ۶،ص۳۷۶.
و''بحرالرائق''،کتاب السیر،باب احکام المرتدین،ج۶،ص۲۱۳.
6 ۔فضول جس کا کوئی مقصد نہ ہو۔
7 ۔وہابیوں کے پیشوایان۔
8 ۔نازیبا کلمات۔
9 ۔ایسی تاویل جو ناقابل قبول ہو۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،ج۶،ص۳۸۳-۳۸۵.
مسئلہ۱۳: اگر کفر قطعی (1)ہو تو عورت نکاح سے نکل جائے گی پھر اسلام لانے کے بعد اگر عورت راضی ہو تو دوبارہ اس سے نکاح ہو سکتاہے ورنہ جہاں پسند کرے نکاح کر سکتی ہے اس کا کوئی حق نہیں کہ عورت کو دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے سے روک دے اور اگر اسلام لانے کے بعد عورت کو بدستور رکھ لیا دوبارہ نکاح نہ کیا تو قربت(2) زنا ہوگی اور بچے ولدالزنا اور اگر کفر قطعی نہ ہو یعنی بعض علما کافر بتاتے ہوں اور بعض نہیں یعنی فقہاکے نزدیک کافر ہو اور متکلمین(3)کے نزدیک نہیں تو اس صورت میں بھی تجدید ِاسلام و تجدید ِنکاح کا حکم دیا جائیگا۔(4) (درمختار)
مسئلہ۱۴: عورت کو خبر ملی کہ اس کا شوہر مرتد ہو گیا تو عدت گزار کر نکاح کر سکتی ہے خبر دینے والے دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دوعورتیں بلکہ ایک عادل کی خبر کافی ہے۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۱۵: عورت مرتد ہوگئی پھر اسلام لائی تو شوہرِ اول سے نکاح کرنے پر مجبور کی جائے گی یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ دوسرے سے نکاح کرے اسی پر فتوی ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ۱۶: مرتد کا نکاح بالاتفاق باطل ہے وہ کسی عورت سے نکاح نہیں کر سکتا نہ مسلمہ سے نہ کافرہ سے نہ مرتدہ سے نہ حرہ(7) سے نہ کنیز (8)سے۔( 9) (عالمگیری)
مسئلہ۱۷: مرتد کا ذبیحہ مردار ہے اگرچہ بِسْمِ اللہ کرکے ذبح کرے۔ یوہیں کتے یا باز یا تیر سے جو شکار کیا ہے وہ بھی مردار ہے، اگرچہ چھوڑنے کے وقت بِسْمِ اللہ کہہ لی ہو۔(10) (عالمگیری)
مسئلہ۱۸: مرتد کسی معاملہ میں گواہی نہیں دے سکتا اور کسی کا وارث نہیں ہو سکتا اور زمانہ ارتدار میں جو کچھ کمایا ہے اس میں مرتد کا کوئی وارث نہیں۔ (11)(درمختار، ردالمحتار)
۔۔۔۔
1 ۔یقینی۔
2 ۔یعنی ہمبستری،مجامعت۔
3 ۔علمِ کلام کے ماہرین۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،ج۶،ص۳۷۷.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،مطلب:لوتاب المرتد ...إلخ،ج۶،ص۳۸۶.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجھاد، باب المرتد،ج۶،ص ۳۸۷.
7 ۔ آزاد عورت جو لونڈی نہ ہو۔
8 ۔لونڈی۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی أحکام المرتدین،ج۲،ص۲۵۵.
10 ۔المرجع السابق،ص۲۵۵.
11 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الجھاد،باب المرتد،مطلب:جملۃ من لایقتل...إلخ،ج۶،ص۳۸۱.
مسئلہ۱۹: ارتدارسے مِلک جاتی رہتی ہے یعنی جو کچھ اس کے املاک و اموال(1) تھے سب اس کی ملک سے خارج ہو گئے مگر جبکہ پھر اسلام لائے اور کفر سے توبہ کرے تو بدستور مالک ہو جائیگا اور اگر کفر ہی پر مر گیا یا دارالحرب کو چلا گیا تو زمانہ اسلام کے جو کچھ اموال ہیں ان سے اولاً ان دیون(2) کو ادا کرینگے جو زمانہ اسلام میں اس کے ذمہ تھے اس سے جو بچے وہ مسلمان ورثہ کو ملے گا اور زمانہ ارتداد میں جو کچھ کمایا ہے اس سے زمانہ ارتداد کے دیون ادا کرینگے اس کے بعد جو بچے وہ فئے ہے۔ (3)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ۲۰: عورت کو طلاق دی تھی وہ ابھی عدت ہی میں تھی کہ شوہر مرتد ہوکر دارالحرب کو چلا گیا یا حالت ارتداد میں قتل کیا گیا تو وہ عورت وارث ہوگی۔(4) (تبیین)
مسئلہ۲۱: مرتد دارالحرب کو چلا گیا یا قاضی نے لحاق یعنی دارالحرب میں چلے جانے کا حکم دیدیا تو اس کے مدبر اور ام ولدآزاد ہو گئے اور جتنے دیون میعادی (5)تھے ان کی میعاد پوری ہوگئی یعنی اگرچہ ابھی میعاد پوری ہونے میں کچھ زمانہ باقی ہو مگر اسی وقت وہ دَین واجب الادا ہو گئے اور زمانہ اسلام میں جو کچھ وصیّت کی تھی وہ سب باطل ہے۔(6) (فتح القدیر)
مسئلہ۲۲: مرتد ہبہ قبول کر سکتا ہے۔ کنیز(7) کوام ولد کر سکتاہے، یعنی اس کی لونڈی کو حمل تھا اور زمانہ ارتداد میں بچہ پیدا ہوا تو اس بچہ کے نسب کا دعویٰ کر سکتا ہے، کہہ سکتا ہے کہ یہ میرا بچہ ہے، لہٰذا یہ بچہ اس کا وارث ہوگا اور اس کی ماں ام ولد ہو جائیگی۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ۲۳: مرتد دارالحرب کو چلا گیا پھر مسلمان ہو کر واپس آیا تو اگر قاضی نے ابھی تک دارالحرب جانے کا حکم نہیں دیا تھا تو تمام اموال اس کو ملیں گے اور اگر قاضی حکم دے چکا تھا تو جو کچھ ورثہ (9)کے پاس موجود ہے وہ ملے گا اور ورثہ جو کچھ خرچ کر چکے یا بیع وغیرہ کرکے اِنتقالِ مِلک کر چکے(10)اس میں سے کچھ نہیں ملے گا۔(11) (عالمگیری)
۔۔۔۔
1 ۔مال وجائداد۔
2 ۔قرضے۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب السیر،باب احکام المرتدین،الجزء الثانی،ص۴۰۷،وغیرہا.
4 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب السیر،باب المرتدین،ج۴،ص۱۷۷.
5 ۔وہ قرضے جن کی ادئیگی کا وقت مقرر ہو۔
6 ۔''فتح القدیر''،کتاب السیر،باب احکام المرتدین،ج۵،ص۳۱۶.
7 ۔لونڈی۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۵۵.
9 ۔میت کے وارثین۔
10 ۔یعنی دوسروں کی ملکیت میں دے چکے ۔
11 ۔''الفتاوٰی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۵۵.
تنبیہ: زمانہ حال میں جو لوگ باوجود ادّعائے اسلام(1) کلماتِ کفر بکتے ہیں یا کفری عقائد رکھتے ہیں ان کے اقوال وافعال کا بیان حصّہ اول میں گزرا۔ یہاں چند دیگر کلماتِ کفر جو لوگوں سے صادرہوتے ہیں(2)بیان کیے جاتے ہیں تاکہ ان کا بھی علم حاصل ہو اور ایسی باتوں سے توبہ کی جائے اور اسلامی حدود کی محافظت کی جائے۔
مسئلہ۲۴: جس شخص کو اپنے ایمان میں شک ہو یعنی کہتاہے کہ مجھے اپنے مومن ہونے کا یقین نہیں یا کہتا ہے معلوم نہیں میں مومن ہوں یا کافر وہ کافر ہے ۔ہاں اگر اُس کا مطلب یہ ہو کہ معلوم نہیں میرا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں تو کافر نہیں۔ جو شخص ایمان و کفر کو ایک سمجھے یعنی کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے خدا کو سب پسند ہے وہ کافر ہے۔ یوہیں جو شخص ایمان پر راضی نہیں یا کفر پر راضی ہے وہ بھی کافر ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ۲۵: ایک شخص گناہ کرتا ہے لوگوں نے اسے منع کیا تو کہنے لگا اسلام کا کام اسی طرح کرنا چاہیے یعنی جو گناہ و معصیت(4) کو اسلام کہتا ہے وہ کافر ہے۔ یوہیں کسی نے دوسرے سے کہا میں مسلمان ہوں اس نے جواب میں کہا تجھ پر بھی لعنت اور تیرے اسلام پر بھی لعنت، ایسا کہنے والا کافر ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ۲۶: اگر یہ کہا خدا مجھے اس کام کے لیے حکم دیتا جب بھی نہ کرتا تو کافر ہے۔ یوہیں ایک نے دوسرے سے کہا میں اور تم خدا کے حکم کے موافق کام کریں دوسرے نے کہا میں خدا کا حکم نہیں جانتا یا کہا یہاں کسی کا حکم نہیں چلتا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ۲۷: کوئی شخص بیمار نہیں ہوتا یا بہت بوڑھا ہے مرتا نہیں اس کے لیے یہ کہنا کہ اسے اﷲ میاں بھول گئے ہیں یا کسی زبان دراز آدمی(7)سے یہ کہنا کہ خدا تمھاری زبان کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا میں کس طرح کروں یہ کفر ہے۔ (8)(خلاصۃ الفتاویٰ) ۔ یوہیں ایک نے دوسرے سے کہا اپنی عورت کو قابو میں نہیں رکھتا، اس نے کہا عورتوں پر خدا کو تو قدرت ہے نہیں، مجھ کو کہاں سے ہوگی۔
۔۔۔۔
1 ۔اسلام کا دعویٰ کرنے والے،یعنی مسلمان ہونے کادعویٰ کرنے کے باوجود۔
2 ۔یعنی بولتے ہیں۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۵۷.
4 ۔نافرمانی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۵۷.
6 ۔المرجع السابق،ص۲۵۸.
7 ۔گستاخ ،بہت زیادہ بکواس کرنے والا۔
8 ۔''خلاصۃ الفتاوی''،کتاب الفاظ الکفر،ج۴،ص۳۸۴.
مسئلہ۲۷: خدا کے لیے مکان ثابت کرنا کفر ہے کہ وہ مکان سے پاک ہے یہ کہنا کہ اوپر خدا ہے نیچے تم یہ کلمہ کفرہے۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ۲۸: کسی سے کہا گناہ نہ کر، ورنہ خدا تجھے جہنم میں ڈالے گا اس نے کہا میں جہنم سے نہیں ڈرتا یا کہا خدا کے عذاب کی کچھ پروا نہیں۔ یا ایک نے دوسرے سے کہا تو خدا سے نہیں ڈرتا اُس نے غصہ میں کہا نہیں یا کہا خدا کیا کر سکتا ہے اس کے سوا کیا کر سکتا ہے کہ دوزخ میں ڈا لدے۔ یا کہا خدا سے ڈر اس نے کہا خدا کہاں ہے یہ سب کفر کے کلمات ہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ۲۹: کسی سے کہا انشاء اﷲ تم اس کام کو کرو گے اس نے کہا میں بغیر انشاء اﷲ کرونگا یا ایک نے دوسرے پر ظلم کیا مظلوم نے کہا خدا نے یہی مقدر کیا تھا ظالم نے کہا میں بغیر اﷲ (عزوجل) کے مقدر کیے کرتا ہوں، یہ کفر ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ۳۰: کسی مسکین نے اپنی محتاجی کو دیکھ کر یہ کہا اے خدا ! فلاں بھی تیرا بندہ ہے اس کو تو نے کتنی نعمتیں دے رکھی ہیں اور میں بھی تیرا بندہ ہوں مجھے کس قدر رنج وتکلیف دیتا ہے آخر یہ کیا انصاف ہے ایسا کہنا کفر ہے۔ (4)(عالمگیری)
حدیث میں ایسے ہی کے لیے فرمایا:
''کاَدَ الفَقْرُاَنْ یکونَ کُفْرًا''(5)
محتاجی کفر کے قریب ہے کہ جب محتاجی کے سبب ایسے نا ملائم کلمات صادر ہوں جو کفر ہیں تو گویا خود محتاجی قریب بکفر ہے۔
مسئلہ۳۱: اﷲ عزوجل کے نام کی تصغیر کرنا(6) کفر ہے، جیسے کسی کا نام عبداﷲ یا عبدالخالق یا عبدالرحمن ہو اسے پکارنے میں آخر میں الف وغیرہ ایسے حروف ملا دیں جس سے تصغیر سمجھی جاتی ہے۔(7) (بحرالرائق)
مسئلہ ۳۲: ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے اسکا لڑکا باپ کو تلاش کر رہا تھا اور روتا تھا کسی نے کہا چپ رہ تیرا باپ اﷲ اﷲ کرتا ہے یہ کہنا کفر نہیں کیونکہ اسکے معنی یہ ہیں کہ خدا کی یاد کرتا ہے۔ (8)(عالمگیری)
۔۔۔۔
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب السیر،باب مایکون کفرا...إلخ،ج۲،ص۴۷۰.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۶۰،۲۶۲.
3 ۔المرجع السابق،ص۲۶۱.
4 ۔المرجع السابق،ص۲۶۲.
5 ۔''شعب الایمان''، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد،الحدیث۶۶۱۲،ج۵،ص۲۶۷.
6 ۔یعنی بگاڑنا۔
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب السیر،باب أحکام المرتدین،ج۵،ص۲۰۳.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی أحکام المرتدین،ج۲،ص۲۶۳.
اور بعض جاہل یہ کہتے ہیں ،کہ
لآاِلٰہَ
پڑھتا ہے یہ بہت قبیح(1) ہے کہ یہ نفی محض ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی خدا نہیں اور یہ معنی کفر ہیں۔
مسئلہ ۳۳: انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کی توہین کرنا، ان کی جناب میں گستاخی کرنا یا ان کو فواحش (2)و بے حیائی کی طرف منسوب کرنا کفر ہے، مثلاً معاذاﷲ یوسف علیہ السلام کو زنا کی طرف نسبت کرنا۔ (3)
مسئلہ ۳۴: جو شخص حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو تمام انبیا میں آخر نبی نہ جانے یا حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) کی کسی چیز کی توہین کرے یا عیب لگائے، آپ کے موئے مبارک(4) کو تحقیر(5)سے یاد کرے، آپ کے لباس مبارک کو گندہ اور میلا بتائے، حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) کے ناخن بڑے بڑے کہے یہ سب کفر ہے، بلکہ اگر کسی کے اس کہنے پر کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) کو کدو پسند تھا کوئی یہ کہے مجھے پسند نہیں تو بعض علما کے نزدیک کافر ہے اور حقیقت یہ کہ اگر اس حیثیت سے اُسے ناپسند ہے کہ حضور (صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) کو پسند تھا تو کافر ہے۔ یوہیں کسی نے یہ کہا کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کھانا تناول فرمانے کے بعد تین بار انگشت ہائے مبارک چاٹ لیا کرتے تھے، اس پر کسی نے کہا یہ ادب کے خلاف ہے یا کسی سنت کی تحقیر کرے، مثلاً داڑھی بڑھانا، مونچھیں کم کرنا، عمامہ باندھنا یا شملہ لٹکانا، ان کی اہانت(6) کفر ہے جبکہ سنت کی توہین مقصود ہو۔ (7)
مسئلہ ۳۵: اب جو اپنے کو کہے میں پیغمبر ہوں اور اسکا مطلب یہ بتائے کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں وہ کافر ہے یعنی یہ تاویل مسموع نہیں کہ عرف (8)میں یہ لفظ رسول و نبی کے معنے میں ہے۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: حضراتِ شیخین رضی اﷲتعالیٰ عنہما (10)کی شان پاک میں سب و شتم کرنا(11)، تبرا کہنا (12)یا حضرت صدیق اکبر رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی صحبت یا امامت و خلافت سے انکار کرنا کفر ہے۔ (13)(عالمگیری وغیرہ) حضرت امّ المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کی شان پاک میں قذف جیسی نا پاک تہمت لگانا یقینا قطعاً کفر ہے۔
۔۔۔۔
1 ۔بُرا۔
2 ۔شرمناک باتیں،ایسی باتیں جو بے حیائی پر مبنی ہو۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۶۳.
4 ۔مقدّس بال۔
5 ۔بے ادبی ، توہین،حقارت۔
6 ۔توہین کرنا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۶۳.
8 ۔یعنی عام بول چال۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۶۳.
10 ۔یعنی حضرت ابوبکر صدیق اورحضرت عمر رضی اللہ تعالی عنھما۔
11 ۔لعن طعن کرنا۔
12 ۔یعنی اظہار بیزاری کرنا۔
13 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۶۴،وغیرہ.
مسئلہ ۳۷: دشمن ومبغوض (1)کو دیکھ کر یہ کہنا ملک الموت (2)آگئے یا کہا اسے ویسا ہی دشمن جانتا ہوں جیسا ملک الموت کو، اس میں اگر ملک الموت کو برا کہنا ہے تو کفر ہے اور موت کی نا پسندیدگی کی بنا پر ہے تو کفر نہیں۔ یوہیں جبرئیل یا میکائیل یا کسی فرشتہ کو جو شخص عیب لگائے یا توہین کرے کافر ہے۔(3)
مسئلہ ۳۸: قرآن کی کسی آیت کو عیب لگانا یا اس کی توہین کرنا یا اس کے ساتھ مسخرہ پن(4) کرنا کفر ہے مثلاً داڑھی مونڈانے سے منع کرنے پر اکثر داڑھی منڈے کہہ دیتے ہیں
(کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ۙ﴿۳﴾)
جس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ کلّا صاف کرو یہ قرآن مجید کی تحریف وتبدیل(5) بھی ہے اور اس کے ساتھ مذاق اور دل لگی بھی اور یہ دونوں باتیں کفر ، اسی طرح اکثر باتوں میں قرآن مجید کی آیتیں بے موقع پڑھ دیا کرتے ہیں اور مقصود(6) ہنسی کرنا ہوتا ہے جیسے کسی کو نماز جماعت کے لیے بلایا، وہ کہنے لگا میں جماعت سے نہیں بلکہ تنہا پڑھونگا، کیونکہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:
( اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی ) (7)
مسئلہ ۳۹: مزامیر(8) کے ساتھ قرآن پڑھنا کفر ہے۔ گرامو فون میں قرآن سننا منع ہے اگرچہ یہ باجانہیں بلکہ رکاڈ میں جس قسم کی آواز بھری ہوتی ہے وہی اس سے نکلتی ہے اگر باجے کی آواز بھری جائے تو باجے کی آواز سننے میں آئیگی اور نہیں تو نہیں مگر گرامو فون عموماً لہو و لعب(9)کی مجالس میں بجایا جاتا ہے اور ایسی جگہ قرآن مجید پڑھنا سخت ممنوع ہے۔(10)
مسئلہ ۴۰: کسی سے نماز پڑھنے کو کہا اس نے جواب دیا نماز پڑھتا تو ہوں مگر اس کا کچھ نتیجہ نہیں یا کہا تم نے نماز پڑھی کیا فائدہ ہوا یا کہا نماز پڑھ کے کیا کروں کس کے لیے پڑھوں ماں باپ تو مر گئے یا کہا بہت پڑھ لی اب دل گھبرا گیا یا کہا پڑھنا نہ پڑھنا دونوں برابر ہے غرض اسی قسم کی بات کرنا جس سے فرضیت کا انکارسمجھا جاتا ہو یا نماز کی تحقیر ہوتی ہو یہ سب کفر ہے۔ (11)
مسئلہ ۴۱: کوئی شخص صرف رمضان میں نماز پڑھتا ہے بعد میں نہیں پڑھتا اور کہتا یہ ہے کہ یہی بہت ہے یا جتنی پڑھی یہی زیادہ ہے کیونکہ رمضان میں ایک نماز ستر نماز کے برابر ہے ایسا کہنا کفر ہے
۔۔۔۔
1 ۔ناپسندیدہ شخص،جس سے بغض ہو۔
2 ۔موت کا فرشتہ ،عزرائیل علیہ السلام۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۶۶.
4 ۔ہنسی مذاق۔
5 ۔اصل لفظ یا معنی میں جان بوجھ کر تبدیلی کرنا۔
6 ۔ قصدوارادہ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۶۶.
8 ۔گانے باجے کا ہرساز ،باجا،بانسری وغیرہ۔
9 ۔عیش ونشاط،کھیل کود وغیرہ
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۶۷.
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۶۸.
اس لیے کہ اس سے نماز کی فرضیت کا انکارمعلوم ہوتا ہے۔ (1)
مسئلہ ۴۲: اذان کی آواز سن کر یہ کہنا کیا شور مچا رکھا ہے اگر یہ قول بروجہ انکار ہو کفر ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: روزہ رمضان نہیں رکھتا اور کہتا یہ ہے کہ روزہ وہ رکھے جسے کھانا نہ ملے یا کہتا ہے جب خدانے کھانے کودیا ہے تو بھوکے کیوں مریں یا اسی قسم کی اور باتیں جن سے روزہ کی ہتک وتحقیر(3) ہو کہنا کفر ہے۔
مسئلہ ۴۴: علم دین اور علما کی توہین بے سبب یعنی محض اس وجہ سے کہ عالمِ علمِ دِین ہے کفر ہے۔ یوہیں عالمِ دین کی نقل کرنا مثلاً کسی کو منبر وغیرہ کسی اونچی جگہ پر بٹھائیں اور اس سے مسائل بطور استہزأدریافت کریں(4) پھر اسے تکیہ وغیرہ سے ماریں اور مذاق بنائیں یہ کفر ہے۔(5) (عالمگیری) یوہیں شرع کی توہین کرنا مثلاً کہے میں شرع ورع نہیں جانتا یا عالِمِ دِین محتاط کا فتویٰ پیش کیا گیا اس نے کہا میں فتوی ٰنہیں مانتا یا فتویٰ کو زمین پر پٹک دیا۔
مسئلہ ۴۵: کسی شخص کو شریعت کا حکم بتایا کہ اس معاملہ میں یہ حکم ہے اس نے کہا ہم شریعت پر عمل نہیں کرینگے ہم تو رسم کی پابندی کرینگے ایسا کہنا بعض مشایخ کے نزدیک کفر ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: شراب پیتے وقت یا زنا کرتے وقت یا جوا کھیلتے وقت یا چوری کرتے وقت
''بِسْمِ اللہ''
کہنا کفر ہے۔ دوشخص جھگڑ رہے تھے ایک نے کہا
''لاحَوْلَ وَلا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ''
دوسرے نے کہا
لاحَوْل
کا کیا کام ہے یا
لاحَوْل
کو میں کیا کروں یا
لاحَوْل
روٹی کی جگہ کام نہ دیگا۔ یوہیں
سُبْحَانَ اللہ اور لااِلٰہ اِلاَّ اللہ
کے متعلق اسی قسم کے الفاظ کہنا کفر ہے۔(7)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: بیماری میں گھبرا کر کہنے لگا تجھے اختیار ہے چاہے کافر مار یا مسلمان مار ،یہ کفر ہے۔ یوہیں مصائب(8)میں مبتلا ہو کر کہنے لگا تو نے میرا مال لیا اور اولاد لے لی اور یہ لیا وہ لیا اب کیا کریگا اور کیا باقی ہے جو تونے نہ کیا اسطرح بکنا کفر ہے۔(9)
مسئلہ ۴۸: مسلمان کو کلماتِکفر کی تعلیم وتلقین کرنا کفر ہے اگرچہ کھیل اور مذاق میں ایسا کرے۔
۔۔۔۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۶۸.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۶۹.
3 ۔بے حرمتی۔
4 ۔ہنسی مذاق کے طور پرمسائل پوچھیں۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۷۰.
6 ۔المرجع السابق،ص۲۷۲.
7 ۔المرجع السابق،ص۲۷۳.
8 ۔مصیبتیں ،پریشانیاں۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج۲،ص۲۷۵.
یوہیں کسی کی عورت کو کفر کی تعلیم کی اور یہ کہا تو کافر ہوجا، تاکہ شوہر سے پیچھا چھوٹے تو عورت کفر کرے یا نہ کرے، یہ کہنے والا کافر ہوگیا۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۴۹: ہولی(2) اور دیوالی(3) پوجنا کفر ہے کہ یہ عبادت غیر اﷲ ہے۔ کفار کے میلوں تہواروں میں شریک ہوکر ان کے میلے اور جلوس مذہبی کی شان و شوکت بڑھانا کفر ہے جیسے رام لیلا (4)اور جنم اسٹمی(5) اور رام نومی(6) وغیرہ کے میلوں میں شریک ہونا۔ یوہیں ان کے تہواروں کے دن محض اس وجہ سے چیزیں خریدنا کہ کفار کا تہوار ہے یہ بھی کفر ہے جیسے دیوالی میں کھلونے اور مٹھائیاں خریدی جاتی ہیں کہ آج خریدنا دیوالی منانے کے سوا کچھ نہیں۔ یوہیں کوئی چیز خرید کر اس روز مشرکین کے پاس ہدیہ کرنا جبکہ مقصود اُس دن کی تعظیم ہو تو کفر ہے۔(7) (بحرالرائق)
مسلمانوں پر اپنے دین و مذہب کا تحفظ لازم ہے، دینی حمیت (8) اور دینی غیرت سے کام لینا چاہیے، کافروں کے کفری کاموں سے الگ رہیں، مگر افسوس کہ مشرکین تو مسلمانوں سے اجتناب کریں اور مسلمان ہیں کہ ان سے اختلاط (9)رکھتے ہیں، اس میں سراسر مسلمانوں کا نقصان ہے۔ اسلام خدا کی بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو اور جس بات میں ایمان کا نقصان ہے، اس سے دور بھاگو! ورنہ شیطان گمراہ کردیگا اور یہ دولت تمھارے ہاتھ سے جاتی رہے گی پھر کف افسوس ملنے(10)کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئیگا۔
اے اﷲ! (عزوجل) تُو ہمیں صراط مستقیم پر قائم رکھ اور اپنی ناراضی کے کاموں سے بچا اور جس بات میں تُو راضی ہے، اس کی توفیق دے، تُو ہر دشواری کو دور کرنے والا ہے اور ہر سختی کو آسان کرنے والا۔
وَصَلَّے اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیر خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِین وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِین۔
فقیر ابو العلا محمد امجد علی اعظمی عفی عنہ
۱۲۔ ماہ مبارک رمضان الخیر ۱۳۴۸ھ
۔۔۔۔
2 ۔ہندوؤں کاایک تہوار جوموسمِ بہار میں منایاجاتاہے۔
3 ۔ہندوؤں کے تہوار جس میں وہ لکشمی(ایک بت کانام)کی پوجا کرتے اور خوب روشنی کرتے ہیں۔
4 ۔ہندوؤں کا ایک میلہ جورام چندرکے راون(بت کانام) پر فتح پانے کی یاد میں منایاجاتاہے ۔
5 ۔ہندوؤں کا ایک تہوار جس میں کرشن کے جنم کی خوشی منائی جاتی ہے۔کرشن ہندوؤں کے تین سب سے بڑے دیوتاؤں میں سے تیسرا دیوتا
ہے جسے مہادیو بھی کہتے ہیں۔ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق اس کا کام مخلوق کو موت کے گھاٹ اتارناہے۔
6 ۔ ہندوؤں کا وہ تہوارجورام چندر کے جنم کے دن خوشی کے طورپر مناتے ہیں۔
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب السیر، باب أحکام المرتدین،ج۵،ص۲۰۸.
8 ۔دینی جوش وجذبہ۔ 9 ۔میل جول۔ 10 ۔یعنی افسوس کرنے۔
قسم ,نذْر,غلاموں كی آزادی,اسلامی سزاؤں اور كلماتِ كفرکا بیان
بہار شریعت
حصہ ہشتم (9)
( تسہیل وتخریج شدہ )
صدرالشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی
پیشکش
مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوت اسلامی)
شعبہ تخریج
ناشر
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
نہیں بلکہ مریض بھی جائے ہاں پورانا مریض کہ جانے پر قادر نہ ہو اوسے معافی ہے۔(1)(بحر)
مسئلہ ۶: جہاد واجب ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ اسلحہ اور لڑنے پر قدرت ہو اور کھانے پینے کے سامان اور سواری کا مالک ہو نیز اس کا غالب گمان ہو کہ مسلمانوں کی شوکت بڑھے گی۔ اور اگر اس کی امید نہ ہو تو جائز نہیں کہ اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ (2)(عالمگیر ی، درمختار)
مسئلہ ۷: بیت المال (3)میں مال موجود ہو تو لوگوں پر سامان جہاد گھوڑے اور اسلحہ کے لیے مال مقرر کرنا مکروہ تحریمی ہے اور بیت المال میں مال نہ ہو تو حرج نہیں اور اگر کوئی شخص بطِیب خاطر (4) کچھ دینا چاہتا ہے تو اصلاً مکروہ نہیں بلکہ بہتر ہے خواہ بیت المال میں ہو یا نہ ہو۔ اور جس کے پاس مال ہو مگر خود نہ جاسکتا ہو تو مال دے کر کسی اور کو بھیج دے مگر غازی سے یہ نہ کہے کہ مال لے اور میری طرف سے جہاد کر کہ یہ تو نوکری اور مزدوری ہوگئی اور یوں کہا تو غازی کو لینا بھی جائز نہیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۸: جن لوگوں کو دعوت اسلام نہیں پہنچی ہے اونھیں پہلے دعوت اسلام دی جائے بغیر دعوت اون سے لڑنا جائز نہیں اور اس زمانہ میں ہر جگہ دعوت پہنچ چکی ہے ایسی حالت میں دعوت ضروری نہیں مگر پھر بھی اگر ضرر کا اندیشہ نہ ہو تو دعوت حق کردینا مستحب ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۹: کفار سے جب مقابلہ کی نوبت آئے تو اون کے گھروں کو آگ لگادینا اور اموال اور درختوں اور کھیتوں کو جلادینا اور تباہ کردینا سب کچھ جائز ہے یعنی جب یہ معلوم ہو کہ ایسا نہ کرینگے تو فتح کرنے میں بہت مشقت اوٹھانی پڑے گی اور اگر فتح کا غالب گمان ہو تو اموال وغیرہ تلْف (7)نہ کریں کہ عنقریب مسلمانوں کو ملیں گے۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: بندوق، توپ اور بم کے گولے مارنا سب کچھ جائز ہے۔