Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
''استاذی و ملاذی حضرت صدر الشریعہ الحاج مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان کے فیضانِ علمی سے اس ناچیز نے آپ کی مصنفہ کتاب ''بہارشریعت ''کے بقایا ابواب فِقہ میں سے انیسواں حصہ کتاب الوصایاکے نام سے مرتب و مولف کیا۔ اس نسبت کی سعادت نے قلب میں تحریک پیدا کی کہ اظہارِ تشکر و امتنان کے جذبہ کے ماتحت حضرت کے صاحبزادگان میں جن سے اس حقیر کو گہری وابستگی اور خصوصی ربط وتعلق رہا ان کا ذکر بھی مختصر انداز میں بطور زیب تالیف کردیا جائے۔
قارئین کرام حضرت علامہ عبد المصطفٰی الازہری شیخ الحدیث دارالعلوم امجدیہ کراچی پاکستان مرحوم و مغفور ومولانا الحاج قاری رضاء المصطفٰے خطیب نیو میمن مسجد بولٹن مارکیٹ کراچی پاکستان زادَ عُمْرُہ، وَشَرَفُہ، سے تعارف حاصل کریں اور اس ناچیز کے حق میں دعائے خیر و استغفار فرمائیں۔
الفقیرظہیر احمد زیدی القادری غفرلہ،
اﷲتبارک و تعالیٰ جل وعلا نے قرآنِ پاک میں یہ فرما کر''
وَتِلْکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ ۚ
'' اس امر کی طرف راہنمائی فرمائی کہ علم ہو، دولت ہو یا حکومت ، عظمت ہو یا اقتداردنیا میں یہ کسی ایک فرد یا ایک خاندان یا ایک ہی گروہ یا ایک ہی بستی اور علاقہ کے ساتھ مخصوص نہیں کی گئی ہے۔ ان کے مراکز بدلتے رہتے ہیں اﷲ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اس کو اپنے فضل سے نوازتا ہے، تاریخ بتلاتی ہے کہ ماضی میں علم کے مراکز بھی مختلف علاقے اور مختلف خاندا ن رہے ہیں ،سمرقند،بخارا، شیرازو عراق سے جب علمی مراکز ہندوستان منتقل ہوئے تو مرکز کبھی پنجاب رہا، کبھی سندھ، کبھی دہلی اور کبھی یوپی وغیرہ ،صوبہ یوپی میں لکھنؤ، جونپور، خیر آباد ، اِلٰہ آباد ، بدایوں، بریلی وغیرہ اپنے اپنے وقت میں مرکز علم رہے، ایسا ہی ایک مرکزِ علم قصبہ گھوسی ضلع اعظم گڑھ بنا جہاں کی خاک سے صدرالشریعۃ ابوالعلٰی حضرت مولانا الحاج امجد علی علیہ الرحمۃ ایسے فقیہ العصر،علامۃ الدھر فاضل اَجل مُتَبَحِّر عالم پیدا ہوئے۔ ان کے علم کی تابانیوں نے ہندوستان وپاکستان کے مشرق و مغرب کو روشن کردیا، بالخصوص ان کی فقہی ضیاء پاشیوں نے علماء ہی کو نہیں عامۃ المسلمینکو بھی نور علم سے فیضیاب فرمایا۔ آپ نے فقہ حنفی اردو زبان میں منتقل فرمایا، ہندو پاک کے مسلمانوں پر آپ کا یہ وہ احسان ہے جو رہتی دنیا تک باقی رہے گا۔اﷲ تبارک و تعالیٰ آپ کو اپنے فضل و کرم سے اس کا اجر عظیم عطافرمائے، اور آپ کی قبر پر اپنی ہزار ہزار بلکہ بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور اعلیٰ علیین میں آپ کو مقام عطا فرمائے ۔آمین۔
حضرت صدر الشریعۃ کے علمی فیوض و برکات نے سرزمین گھوسی کو مرکز علم و فن بنادیا۔ اس خطّہ سے ایسے ایسے علماء و فضلا پیدا ہوئے جنہوں نے بین الاقوامی دنیا میں عظیم شہرت و نیک نامی پیدا کی ان میں مدرسین بھی ہیں ، فقہاء بھی اور صاحبِ فہم وبصیرت مفتی بھی، اب اس چھوٹے سے خطہ ارض میں کئی دارالعلوم ہیں جو ہر سال علماء کی ایک معتدبہ تعداد کو علم و فضل سے شرف
بخشتے ہیں، حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ کو علمِ دین سے کتنا شغف تھا اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کی اولاد امجاد میں سات صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں تھیں۔ آپ نے ان میں سے ہر ایک کو علمِ دین کی تعلیم دی اور علومِ دینیہ کے حصول میں لگایا ان میں سے اس وقت میں آپ کے دو صاحبزادوں کا ذکر کروں گا، جنہوں نے آپ کی وراثتِ علم کی نہ صرف حفاظت کی بلکہ اس علم کی ترویج و ترقی میں حصہ لیا اور دین کی قابل قدر خدمات انجام دیں۔
آپ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ کے تیسرے صاحبز ادے ہیں۔ آپ کے بڑے دو بھائیوں کا انتقال ہوگیا تھا۔ آپ کی ولادت چودھویں صدی ہجری کی چوتھی دھائی میں ہوئی، قرآن پاک کی تعلیم دارالعلوم منظر اسلام محلہ سودا گران بریلی میں حاصل کی، پھر اپنے والدِ محترم کے ساتھ اجمیر شریف جامعہ معینیہ عثمانیہ چلے گئے اور وہاں درسِ نظامی عربی کی تعلیم حاصل کی۔ دورئہ حدیث بریلی شریف میں کیا، آپ کے اساتذہ میں حضرت صدر الشریعہ، مولانا عبدالحمید و مولانا مفتی امتیا ز احمد علیہم الرحمۃ ہیں۔ احادیث کی سند اجازت آپ کو حضرت صدر الشریعہ ابوالعلیٰ مولانا امجد علی صاحب مصنف بہار شریعت وحجۃ الاسلام سیدی مولانا شاہ حامد رضا خاں مفتی اعظم ہند، حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی علیہم الرحمۃ والرضوان سے حاصل ہے۔ درس نظامی کی تکمیل کے بعد آپ مزید تعلیم کے لیے مصر تشریف لے گئے وہاں جامعہ ازہر میں آپ نے تین سال تعلیم حاصل کی۔ اوائل 1937 میں آپ واپس تشریف لائے اور تدریس کا سلسلہ شروع فرمایا، سب سے پہلے آپ نے دادوں ضلع علی گڑھ کے مشہور و معروف دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ میں درس دیا۔اس وقت آپ کے والد محترم حضرت صدر الشریعہ وہاں صدر مدرس اورشیخ الحدیث تھے، اس کے بعد آپ بریلی تشریف لے گئے اور دارالعلوم مظہر اسلام مسجد بی بی جی محلہ بہاری پور بریلی میں پھر جامعہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور ضلع اعظم گڑ ھ میں درس دیا۔ آزادی کے بعد 1948 میں آپ جامعہ محمدی شریف ضلع جھنگ پنجاب پاکستان میں بحیثیت شیخ الحدیث تشریف لائے۔
1952 میں آپ حکومتِ پنجاب کے محکمہ اسلامیات میں مقرر ہوئے۔ اس محکمہ میں آپ کے ذوقِ علمی کی تسکین کا کوئی ماحول اور سامان نہ تھا۔ تو آپ اس محکمہ کو چھوڑ کر جامعہ رضویہ مظہر اسلام بھاول نگر پنجاب میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائزہوئے، یہاں آپ کی آمد سے مدرسہ کو بڑی ترقی ہوئی۔ اب اس عمارت میں رضویہ کالج ہے اور مدرسہ کی عمارت دوسری جگہ بنادی گئی ہے۔ 1958 میں آپ دارالعلوم امجدیہ آرام باغ میں صدر مدرس اور شیخ الحدیث کی حیثیت سے تشریف لائے اور تادمِ تحریر ہذا اسی دار العلوم کو فیض بخش رہے ہیں۔(1)جس وقت آپ کراچی میں تشریف لائے دارالعلوم امجدیہ کا آغاز ہی ہوا تھا اس کی نہ کوئی خاص عمارت تھی نہ اس کے پاس کوئی زمین ، دو2 کشادہ دکانیں کرائے پر حاصل کرکے اس میں مدرسہ قائم کردیا گیا۔
اور تعلیم شروع کردی گئی، آج بحمدہ تعالیٰ اس کی عظیم الشان عمارت ہے، تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کی بڑی تعداد ہے، اور تقریباً
1 ۔جس وقت یہ مضمون لکھا گیا مرحوم حیات تھے اور بوقت اشاعت وطباعت اس دنیا سے سفر آخرت فرما چکے ہیں ۔
پانچسو کی تعداد میں اقامتی اور غیر اقامتی طلبہ میں تین ساڑھے تین سو طلبہ کے لیے مع ناشتہ دونوں وقت کھانے کا انتظام ہے اور ہر طالب علم کو لباس کی صفائی اور دیگر اخراجات کے لیے نقد و ظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔ یہ دار العلوم کراچی کے ان علمی مراکز میں ہے جن پر بجا طور پر فخر کیا جاسکتا ہے جو دینی تعلیم کو مروج کرنے میں عظیم کردار ادا کررہے ہیں، اس دار العلوم کے قیام اور ترقی میں بڑا حصہ مفتی ظفر علی نعمانی (1)کا ہے۔جن کی پرخلوص اورشب وروز کی محنت اور لگن نے اس ادارہ کو یہ عظمت بخشی اﷲتعالیٰ انہیں اس کا اجر دے آمین۔لیکن علامہ ازہری صاحب کا ایثار ، اُن کا خلوص اور اُن کاخونِ جگر بھی اس میں شامل ہے کسی ادارہ کا قائم کردینا کوئی بڑا مشکل کام نہیں اس کی بقاء و ترقی جوئے شِیر لانے سے کم نہیں، اس کے لیے سخت جدوجہد اور بڑی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی کے ساتھ عزم و استقلال حوصلہ اور صبر و قناعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلا شبہ علامہ ازہری ان مقامات سے بڑی سلامتی اور جوانمردی کے ساتھ گزرے اور اپنے صدق و صفا کا ثبوت فراہم کیا اگر علامہ ازہری تشریف نہ لاتے تو دارالعلوم اتنی جلدی ترقی کی منازل طے نہ کرتا ممکن تھا کہ اس کا وجود بھی غیر یقینی کی حالت میں آجاتا۔
علامہ ازہری دو مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر بھی رہے اگرچہ وہ قطعاً سیاسی آدمی نہیں ہیں، اور ایک بوریا نشیں قانع اور دین ودینی تعلیم سے شغف رکھنے والے کو یہ فرصت بھی کہاں کہ وہ پارلیمنٹری سیاست میں حصہ لے، لیکن اپنی بے لوث خدمات، اپنے خلوص، اپنے تقویٰ اور اپنی ایمانداری کی وجہ سے انہیں عوام میں اتنی مقبولیت حاصل ہے کہ پبلک نے ان کا الیکشن خود ہی لڑا اور کامیاب کردیا اس خصوصیت میں بھی وہ اپنے معاصرین میں ممتاز ہیں۔
علامہ ازہری اپنے علم و فضل اور تدریس و تعلیم میں بھی ایک اعلیٰ اور امتیازی مقام رکھتے ہیں، علم حدیث میں آ پ کو کافی عبور حاصل ہے، طلبہ آپ پر جاں نثار کرتے ہیں آپ کا طریقہ تعلیم طلبہ میں نہایت مقبول ہے۔آپ دورئہ حدیث میں طلبہ کو کتب احادیث کی تلاوت و قراء ت ہی نہیں کراتے بلکہ ایک ایک حدیث کی اس کے مفہوم و مطلب کے ساتھ وضاحت و تشریح بیان فرماتے ہیں اور جہاں جہاں مناسب اور ضروری خیال فرماتے ہیں رجال حدیث سے بھی متعارف کراتے ہیں، کس راوی کا فنِ
1 ۔مفتی ظفر علی نعمانی حضرت صدرالشریعہ کے بڑے صاحبزادہ مولوی حکیم شمس الہدیٰ مرحوم کے داماد ہیں، مرحوم کی لڑکی شریف النساء ان کی زوجیت میں ہیں، یہ ایک صاحبِ فکر و نظر اور عملی شخصیت کے مالک ہیں دینی خدمت کا جذبہ ان میں زبردست ہے۔ دارالعلوم امجدیہ کراچی کا
قیام اور اس کو ترقی کی اس منزل پر لانا انہیں کی محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے، آپ ہی کی کوشش سے علامہ ازہری اس دارالعلوم میں تشریف لائے اور کراچی میں قیام پذیر ہوئے، آپ پاکستان کی متعدد مذہبی سماجی و سیاسی اور معاشی انجمنوں کے ممبر ہیں ایوانِ بالا سینٹ کے ممبر رہے ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر بھی ہیں،آپ نے پاکستان میں سب سے پہلے قرآن پاک کنزالایمان مع تفسیر خزائن العرفان کے شائع کیا۔ آپ دارالعلوم امجدیہ کے مہتمم بھی ہیں اور اس وقت مجلس اتحاد بین العلماء کے صدر بھی ہیں منکسرالمزاج، امانت دارا ور بڑیوضعدار ہیں۔ معاملات کو سمجھتے ہیں اور بہتر فیصلہ لیتے ہیں۔
حدیث میں کیا درجہ اور کیا مقام ہے، طلبہ کو اس سے بھی آگاہی بخشتے ہیں آپ کے درس میں طلباء نہ کبھی تھکتے ہیں نہ کبھی بے کیف ہوتے ہیں، ازاول تاآخر یکساں دلچسپی یکساں لذتِ علم محسوس کرتے ہیں یہی خصوصیات آپ کو طلبہ میں مقبول و ہر دلعزیز بنائے ہوئے ہیں ایک اور خصوصیت جو آپ کو اپنے معاصرین میں امتیاز بخشتی ہے وہ آپ کا توکل اور غناء نفس ہے، آپ نے اپنے تمام معاملات دینی و دنیوی میں اﷲتعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کیا آپ دین کی خدمت میں یکسوئی کے ساتھ مشغول رہے اور جو کچھ وظیفہ ملتا رہا اسی پر قناعت کی ، رزق کے حصول میں آپ نے کبھی بے صبری نہیں کی ، نہ اہل ثروت سے اپنی غرض کے لیے کوئی ربط قائم کیا، نہ دولت کے حصول کے لیے ادھر ادھر نگاہ ڈالی بڑے صبر و سکون سے اﷲکے دین کی خدمت میں لگے رہے اور جو کچھ بارگاہِ الٰہی سے ملتا رہا برضا و رغبت اسی پر قناعت کی،اﷲتعالیٰ آپ کی ہر ضرورت کا کفیل ہوا۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو اپنے فضل سے یہ حصہ عطا فرمایا ہے کہ آپ کو نہ سرمایہ دار اور دولتمند بننے کی تمنا ہوئی اور نہ آپ نے ایسے ذرائع اختیار کیے جو شرعی قباحتوں کے ساتھ آپ کو مال و دولت سے ہم آغوش کریں، آپ دوبار قومی اسمبلی کے ممبر رہے، اس درمیان میں بڑے بڑے صنعتکاروں، تاجروں اور سرمایہ داروں سے آپ کا ربط و ضبط رہا، کافی تعداد میں ایسے لوگ آپ کے پاس آتے جاتے تھے لیکن یہ آپ کا تَدَیُّن تقویٰ اورقناعت اور ایثار نفس تھا کہ آپ نے ان سب سے خود کو محفوظ رکھا اور مالدار بننے کی کوئی خواہش اپنے اندر نہ پیدا ہونے دی، آپ جس مکان میں رہتے تھے اسی میں رہتے رہے۔
ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَن یَّشَاءُ
آپ نے اس قول کا عملی نمونہ پیش فرمایا ہے ؎
r درمیان قعر دریا تختہ بندم کردئہ بازمی گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش(1) rبلاشبہ آپ دریائے مال و منفعت اور دولت و ثروت کے سمندر میں قناعت کے ایک تختہ پر تیرتے رہے، مگر اپنے اس تقویٰ پر خواہشاتِ نفس کے چھینٹے بھی نہ آنے دیئے۔ اب اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آپ کو غناء نفس، قناعت صبرو توکل کا ایک مقام عطا فرمایا ہے جو ہر ایک کا نصیب نہیں، آپ نہایت متواضع ، خلیق، مہمان نواز، خوش مزاج اور خندہ جبیں ہیں، عالمانہ کمال و جلال کے ساتھ فقرو درویشی آپ کی خصوصیت ہے۔ اﷲتعالیٰ نے آپ کو اپنی جن نعمتوں سے سرفراز فرمایا ان میں سے ایک عظیم نعمت یہ ہے کہ آپ کی ذات میں ریاء و نفاق نہیں ہے جو آپ کا ظاہر ہے وہی باطن ہے، عبادت میں ،ریاضت اور اورادو وظائف میں، تعلیم و تعلُّم میں، آپ کی رفتار و گفتار میں، نشست و برخاست میں، خلوت ہو یا جلوت ،ہر حالت میں آپ کے عمل میں یکسانیت ملے گی، ظاہر و باطن کا کوئی تضاد آپ کی زندگی میں نہیں ہے۔سلسلہ روحانی میں آپ کی بیعت وارادت اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان سے ہے، آپ کی عمر مبارک اُس وقت پانچ سال کی ہوگی، آپ کا سلسلہ قادریہ رضویہ ہے، آپ کا نام بھی اعلیٰ حضرت نے ہی ''عبدالمصطفیٰ''رکھا جب کہ حضرت صدر الشریعہ نے آپ کا نام
1 ۔ترجمہ: تہِ دریا میں ا یک تختے پر باندھ کرپھر تو مجھ سے کہتاہے کہ دامن بھی تر نہ ہو ہوشیار رہوں۔
''ماجدعلی ''رکھا تھا۔ سنِ شعور کو پہنچ کر جب آپ درسِ نظامی سے فارغ ہوئے اور شعر گوئی کا ذوق پیدا ہوا آپ نے اپنا تخلص ''ماجد''رکھا۔ یہ وہی نام ہے جو آپ کے والدِ محترم حضرت صدر الشریعہ نے ابتداء ً آپ کا رکھا تھا۔شعر گوئی میں آپ نے اصناف ِ سخن میں ''صنف نعت''کو اختیارفرمایا ۔ آپ کی مشقِ سخن کا میدان نعت گوئی ہے، آپ نے اپنا کوئی دیوان مرتب فرمایا یا نہیں اس کا مجھے علم نہیں البتہ یہ ضرور معلوم ہے کہ آپ نے بہت سی نعتیں کہی ہیں۔تدریسی مشغلہ جاری رہنے کی وجہ سے آپ تصانیف کتب کے لئے تو وقت نہیں نکال سکے، جمعیت علماء پاکستا ن کے صدربھی رہے، ان مصروفیات نے تصنیف وتالیف کا موقعہ نہیں دیا۔ صرف تفسیر قرآن کریم کی طرف توجہ فرمائی جس میں آپ نے پانچ پاروں کی تفسیر مکمل فرمائی ہے، اﷲتعالیٰ آپ سے یہ خدمت لے لے اور یہ تفسیر مکمل ہوجائے، آمین۔
اﷲتبارک وتعالیٰ نے آپ کو نورانی صورت عطا فرمائی ہے، بڑی بڑی غزالی آنکھیں، گول چہرہ تقریباً بلالی رنگ، قدمیانہ، جسم موزوں ، لباس شریعت کے مطابق سادہ اور دیدہ زیب، مزاج میں خوش خلقی، آپ کی مجلس باغ و بہار، آپ کی مجلس میں کوئی رنجیدہ دل اور ملول نہیں ہوتا بلکہ محزون ومغموم اپنا غم بھلا دیتے ہیں، دینی اور دنیاوی لحاظ سے آپ کی مجلس و صحبت کے لیے بلا مبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے ؎
یہ ہیں علامہ عبدالمصطفٰی ازہری شیخ الحدیث دارالعلوم امجدیہ کراچی مقبول عوام و خواص
14 جنوری 1986
آنکھیں روشن اور پُرنور ، اونچی ناک و گلفام لب، بیضاوی چہرہ، کشادہ پیشانی، ہلکا پھلکا چاق و چوبند جسم اور میانہ قد، خندہ رو، خندہ جبیں، سانولا رنگ، شگفتہ مزاج اور صاحبِ صدق وصفاء ، یہ ہیں الحاج قاری مولانا رضاء المصطفیٰ۔ آپ صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی صاحب بہارِ شریعت علیہ الرحمہ کے پانچویں صاحبزادے اور علامہ عبدالمصطفٰی ازہری شیخ الحدیث دارالعلوم امجدیہ کراچی کے برادر خورد، آبائی وطن قصبہ گھوسی ضلع اعظم گڑھ(انڈیا)اپنا وطن شہر کراچی (پاکستان ) 1925 میں اپنے آبائی وطن میں پیداہوئے۔ 1936 میں دارالعلوم عربیہ حافظیہ سعیدیہ دادوں ضلع علی گڑھ ( انڈیا) میں حفظ قرآن کیا، آپ کے استاد مولوی حافظ صوفی عبدالرحیم مرحوم ہی تھے، جو نہایت نیک متقی اور پاک باز تھے، بڑی محنت اور خلوص کے ساتھ طلبہ کو قرآن حفظ کراتے اور صحت تلفظ کا خیال رکھتے تھے۔ درسِ نظامیہ کی تعلیم کا آغاز دادوں ہی میں ہوگیا تھا۔ اس وقت حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ دادوں کے مدرسہ میں ہی صدر مدرس اور شیخ الحدیث تھے، آواخر 1943 میں حضرت صدر الشریعہ نے دادوں چھوڑ دیا، اس کے بعد قاری صاحب نے بریلی ، مبارک پور، الٰہ آباد اور میرٹھ میں علم کی تکمیل کی، الٰہ آباد مدرسہ سُبحانیہ میں تجوید و قرأ ت حاصل کی، آپ کے
مشہور اساتذہ میں حضرت صدر الشریعہ وحافظ ملت مولانا عبدالعزیز ،مولانا عبدالرؤف ،مولاناعبدالمصطفٰی اعظمی، مولانا سید غلام جیلانی صاحبِ بشیر القاری میرٹھی علیہم الرحمۃ و الرضوان اور علامہ عبدالمصطفٰی ازہری ہیں۔
r اپنی دُنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے سِرّآدم ہے ضمیرِ کُن فکاں ہے زندگی rقاری صاحب کی زندگی کا اگر مطالعہ کیا جائے تو وہ جہد ِمسلسل اور عمل پیہم اور اپنی دنیا آپ بنانے کی بہترین تفسیر ہے۔ آپ ابتدا ہی سے سخت جفا کش رہے اور بڑے ہی صبر آزما حالات سے دو چار رہے لیکن کسی بھی دشواری اور پریشانی نے آپ کا حوصلہ پست نہ کیا۔ آپ کی والدہ محترمہ مرحومہ کا انتقال ابتدائی عمر میں ہی ہوگیا تھا، آپ نے ہوش سنبھالا تو ماں کی شفقت و رحمت کا کوئی حصہ آپ کو نہ ملا، تعلیم کا آغاز حفظ قرآن سے ہوا جو بڑی ہی محنت طلب ہے اور سخت جدوجہدکی طالب ہے۔ دن و رات کی محنت سے بحمدہٖ تعالیٰ آپ بہت جلد اس کوشش میں کامیاب ہوگئے اور صرف دس گیارہ سال کی عمر میں آپ کو حفظ قرآن کریم کی عظیم نعمت حاصل ہوگئی۔ پھر آپ درسِ نظامی کے حصول وتکمیل کی طرف متوجہ ہوگئے اور علم کی طلب اور اس کے حصول میں آپ کو جن دشواریوں اور پریشانیوں سے گزرنا پڑا ا ن سے آپ مایوس ہوئے اور نہ حوصلہ ہارا، جدوجہد جاری رہی منزل کی طرف قدم بڑھتے رہے اور عزم و ارادوں کا کارواں برابر چلتا رہا، آخر کار منزل سے ہمکنار ہوئے اور درسِ نظامی سے سند فراغت حاصل کی، اس درمیان میں والد محترم حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا سایہ عاطفت بھی اُٹھ گیا۔ علامہ ازہری پہلے ہی پاکستان تشریف لے جاچکے تھے، قاری صاحب نے درس نظامیہ سے فراغت کے بعد دارالعلوم سے باہر قدم نکالا تو آپ نے معرکہ وجود اورکار گاہِ ہستی میں خود کو تنہا پایا بجز جبہ و دستار اور سند الفراغ کے اور کوئی آپ کا رفیق اور مونس ودمساز نہ تھا لیکن آپ کی ہمت بلند اور عزم جواں تھا۔ علم وعرفان کی شمع ہاتھ میں لئے آپ سب سے پہلے ظلمت وجہالت سے تاریک و سیاہ سرزمین پچھڑوا ضلع د یوریا میں تشریف لے گئے اور وہاں علم کی روشنی پھیلانے کے لئے ایک چھوٹاسا دینی مدرسہ قائم کیا، اور اسے اپنی محنت و جانفشانی سے بہت جلد ترقی کے راستے پر ڈال دیا، آج وہ ایک بڑا مدرسہ بن گیا ہے جو الٰہ آباد بورڈ یوپی سے منظورشدہ ہے۔تقریباً ایک لاکھ روپیہ سالانہ گورنمنٹ سے امداد مل رہی ہے آپ نے پچھڑوا کے لوگوں کا شعور بیدار کیا ان میں علمی ذوق پیدا کیا اور علم حاصل کرنے کی طرف مائل ہوئے اورپچھڑوا علم کی روشنی سے جگمگانے لگا۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے وہاں کے لوگوں کی معاشی اور سماجی خدمات کیں، آج بھی وہاں کے لوگ دینی و دنیاوی دونوں معاملوں میں آپ کے احسان مند ہیں اور آپ کے گیت گاتے ہیں۔اﷲتبارک وتعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک ہی شکل و صورت ، ایک ہی رنگ و روپ، ایک ہی عقل و فہم، ایک ہی اہلیت و صلاحیت اور ایک ہی عادت و خلق پر پیدا نہیں فرمایا۔ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انسان کی معاشی و معاشرتی اور سیاسی وذاتی، مقامی و آفاقی، اصلاحی و عرفانی اور روحانی ضرورتیں الگ الگ ہیں یہ وہ ضرورتیں ہیں جن پر انسانی زندگی کی بقا و نشوونما اور ترقی کا دارومدار ہے۔ اس لیے اﷲ تعالیٰ نے ہر ایک انسان کو
جدا گانہ شاکلہ عطا فرمایا۔ جس کے مطابق وہ عمل کرتا ہے قرآن کریم میں فرمایا:
( قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ؕ )
ہر ایک اپنی اہلیت، صلاحیت اپنی استعداد اور قابلیت کے مطابق عمل کرتا ہے۔اﷲ تبارک و تعالیٰ جس سے جو کام لینا چاہتا ہے اسی اعتبار سے اس کا شاکلہ پیدا فرماتا ہے، اور اس میں اسی مناسبت سے قابلیت اور اہلیت عطا فرماتا ہے، انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃوالسلام ہوں یا اولیاء اﷲرحمہم اللہ تعالٰی یا علماء و دانشوران ہوں یا اصحاب صنعت و حرفت، اہل سیاست ہوں یا سلاطین و اصحاب حکومت، ''ہرکسے رابہر کارے ساختند''(1)کا اُصول ہر طبقہ اور ہر فرد میں نظر آئے گا، قاری رضاء المصطفیٰ کو بھی اﷲ تعالیٰ نے ایک شاکلہ عطا فرمایا ہے اسی کے مطابق آپ کا عمل جاری ہے۔ آپ نہایت متحرک، فعال ، سیماب پا، جفا کش، طباع اورذہین ہیں۔ دینی وملی خدمات کا جذبہ رکھتے ہیں اور قومی مسائل سے بھی ایک گونہ دلچسپی ہے۔ قرآن پاک سے آپ کو بے حد شغف ہے اور وقت کے قدر شناس ۔یہ ہے وہ شاکلہ اور صلاحیتیں جو قدرت نے آپ کو عطا فرمائی ہیں۔ اس شاکلہ کے ساتھ جب آپ امامت اور خطابت کے منصب پر فائز ہوئے تو آپ نے اس کی ذمہ داریوں کو بوجہ احسن ادا کیا، آپ کے مقتدی آپ سے مطمئن اورمسرور اور آپ ان میں مقبول وہر دلعزیز 1958 سے آپ نیو میمن مسجد بولٹن مارکیٹ کراچی میں یہ خدمت انجام دے رہے ہیں اور آپ کی مقبولیت روزافزوں ہے۔ حکام، افسران، تجار اور جملہ خواص و عوام آپ کا احترام کرتے ہیں یہ آپ کے اخلاص عمل کی دلیل ہے۔
آپ نے دارالعلوم امجدیہ کراچی میں 1958 سے 1983 تک تدریسی خدمات انجام دیں,اسی درمیان میں آپ نے ایک نئے ادارہ کی بنیاد قائم کی جو دارالعلوم نوریہ رضویہ کے نام سے معروف ہے، کہکشاں میں آپ نے اس کی شاندار عمارت تعمیر کرائی نہایت خوبصورت اور جدید رہائشی تقاضوں کو پورا کرنے والی یہ عمارت فی الحال دو2 منزلہ ہے، تاکہ علمِ دین حاصل کرنے والے طلبہ زندگی کے جدید تقاضوں سے نا آشنا نہ رہیں اور اپنی زندگی میں احساسِ کمتری کا نشانہ نہ بنیں، اسی کے ساتھ ایک خوبصورت مسجد بھی زیر تعمیر ہے جو ہر مسلمان کی ایک لازمی و بنیادی ضرورت ہے، یہ درس گاہ 1981 میں تعمیر ہوئی ، قاری صاحب اس کے مینجنگ ٹرسٹی بھی ہیں اور اس میں اپنے مخصوص انداز میں تعلیم بھی دیتے ہیں، عربی زبان آپ ڈائریکٹ میتھڈ سے پڑھاتے ہیں، جس سے محنتی طلبا بہت جلد باصلاحیت ہوجاتے ہیں، قاعدہ خواں بچوں کا تلفظ صحیح کرانے میں آپ کو کمال حاصل ہے، چند ہی دنوں میں آپ قرآن پڑھنے والے بچوں میں اتنا شعور پیدا کردیتے ہیں کہ وہ بآسانی بہت جلد قرآن پاک ختم کرلیتے ہیں اور صحیح تلفظ کے ساتھ قرآن پڑھنے لگتے ہیں۔
آپ حافظ قرآن مجید بھی ہیں، آپ کا شمار جید حفاظ وقراء میں ہے۔ قرآن پاک کا ورد کرنے میں بھی آپ نے اپنا ایک مخصوص طریقہ اپنایا ہے، آپ روزانہ ہی ورد کرتے ہیں، آپ کے ورد کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ قرآن پاک کو برائے تلاوت
1 ۔جو شخص جس کے قابل تھا اﷲتعالیٰ نے اس کو ویسی ہی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا۔
تین حصوں میں تقسیم کرلیتے ہیں اور ہر ثلث سے ترتیب وار روزانہ ایک ایک پارہ تلاوت کرتے ہیں۔ قرآن شریف پڑھانے کا بھی آپ کو بہت زیادہ شوق ہے اس طرح آپ اس فضیلت کے حامل ہیں جس کے متعلق حدیث میں فرمایا:
''خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ''
تم میں سے سب سے بہتر قرآن سیکھنے اور سکھانے والا ہے۔
1957 میں اشاعت و طباعت قرآن پاک کے لئے ایک مکتبہ قائم ہوا جو مکتبہ رضویہ آرام باغ کے نام سے متعارف ہے۔ اس مکتبہ کا جملہ انتظام و انصرام آپ کی ذمہ دار ی ہے۔ اس مکتبہ سے آپ نے بہت بڑی تعداد میں قرآن پاک کی طباعت کرائی اب تک تیس ہزار کی تعداد میں قرآنِ پاک آپ نے رفاہ ِ عام کے لیے بلا قیمت تقسیم کراچکے ہیں اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اسی مکتبہ سے آپ نے قرآنِ پاک معہ ترجمہ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمۃوالرضوان کنزالایمان و تفسیر نعیمی موسوم بہ خزائن العرفان ہزاروں کی تعداد میں طبع کرکے شائع کیا۔جس سے امت مسلمہ کو عظیم دینی فائدہ حاصل ہوا، اس کی طباعت میں آپ ہر بار نئے نئے افادات کا اضافہ کرتے ہیں، مثلاً تلاوت قرآن کے قواعد، فضائل قرآن ،مسائل تلاوت قرآن ، تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ وغیرھا، اس قسم کے افادات مقدمہ اشاعت و طباعت میں بیان کرتے ہیں تاکہ اُمتِ مسلمہ کی رغبت مزید ہو۔ اس مکتبہ کو آپ نے دینی خدمت کے لئے وقف کردیا ہے اور اس سے ایسی کتابیں شائع کرتے ہیں جس سے ملّت بیضاء کے عوام و خواص کو زیادہ سے زیادہ دینی فائدے پہونچیں۔ اسی مکتبہ سے آپ بہار ِ شریعت مکمل شائع کررہے ہیں، اور اسی مکتبہ سے امام الفقہ مجدد دین و ملّت، فقیہ الزماں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ والرضوان کی معرکۃ الاراء و بے مثال تصنیف ''فتاویٰ رضویہ''شائع کی اور اس کی اِشاعت برابر جاری ہے، تزکیہ نفس اورروحانی سکون حاصل کرنے والوں کے لئے نیز اپنے دینی و دنیاوی مقاصد کے حصول کے لئے آپ نے مجموعہ وظائف بھی شائع کیا ہے جو بہت بڑی تعداد میں بلا قیمت تقسیم کرتے ہیں۔
آپ وقت کے بہت بڑے قدر شناس ہیں۔ اپنا زیادہ تر وقت تو دین کی خدمت میں صرف کرتے ہیں اور بقیہ اپنی ذاتی، خانگی، خاندانی اورمعاشرتی جائز ضرورتوں میں، آپ کا نظام الاوقات کچھ اس طرح ہے، علی الصبح اُٹھنا ضروریات سے فارغ ہو کر نماز فجر پڑھانا، کچھ تلاوت کرنا، بعدہ، ناشتہ سے فارغ ہو کر فوراً دار العلوم نوریہ رضویہ کلفٹن جانا وہاں تعلیم دینا اور اس کا انتظام دیکھنا، ساڑھے بارہ بجے وہاں سے روانہ ہو کر ایک بجے تک نیو میمن مسجد پہنچ کر امامت کا فرض انجام دینا، نماز سے فراغت کے معاً بعد مکتبہ رضویہ آرام باغ چلا جانا اور وہاں قرآن پاک اور دینی کتب کی اشاعت و طباعت سے متعلق کام دیکھنا، وہاں سے آکر نماز عصر پڑھانا، عصر و مغرب کے درمیان اپنے کمرہ میں قیام رکھتے ہیں، اور منصب قاضی نکاح سے متعلق امورکی انجام دہی کرتے ہیں اور بعد نماز مغرب مابین مغرب و عشاء بھی فرائض انجام دیتے ہیں، عشاء کی نماز پڑھا کر اپنے گھر تشریف لے جاتے ہیں اور رات کا ایک حصہ خانگی امور اور اعزّہ سے ملاقات میں صرف کرتے ہیں، آپ اپنے وقت کی کتنی قدر کرتے ہیں اوراسے کس طرح کارآمد بناتے ہیں اس کا اندازہ آپ اس طرح سے لگا سکتے ہیں کہ گھر سے دارالعلوم نوریہ جانے تک راستہ میں
اوروہاں سے واپسی میں، پھر مکتبہ رضویہ جانے اورآنے میں راستہ میں جو وقت ملتا ہے اس میں آپ طبع کی جانے والی کتابوں کی تصحیح کرتے ہیں اس طرح یہ وقت بھی بے کار امور میں ضائع نہیں ہونے دیتے۔ ان عظیم مشاغل اور مصروفیتوں کے باوجود آپ جماعت قراء پاکستان کے صدر بھی ہیں یہ ذمہ داری 1980 سے آپ کے پاس ہے اور آپ پوری توجہ اور للہیت کے ساتھ قر اء ت کے ملکی اور بین الاقوامی مقابلوں میں شریک ہوتے ہیں اور ان اجتماعات کی صدارت کے فرائض انجام دیتے ہیں، قومی و ملکی مسائل سے دلچسپی اور وطن کی خدمت کے جذبہ نے آپ کو آمادہ کیا کہ آپ ''جماعت اہل سنت پاکستان''کے نائب صدر ہونے کا منصب قبول کرلیں۔ بین الاقوامی جماعت ''ورلڈاسلامک مشن''کراچی شاخ کی ذمہ داریاں آپ کے سپرد ہیں۔اس کا دفتر بھی آرام باغ میں مکتبہ رضویہ کے ساتھ ساتھ ہے آپ کی ذہانت وذکاوتِ طبع کا تَیَّقُن اس طرح سے کیا جاسکتا ہے آپ واقف ہفت زبان ہیں، اردو تو آپ کی مادری زبان ہے، عربی ادب و دیگر علوم عربیہ کی آپ نے دس سال تعلیم حاصل کی، عربی و فارسی میں آپ بلا تکلُّف کلام کرلیتے ہیں۔پنجابی، سندھی ، پشتو، ان کے ساتھ گجراتی اور بنگالی میں بات کرلیتے ہیں۔ بلاشبہ قدرت نے آپ کو عظیم صلاحیتوں سے نوازا ہے اور اپنی بے شمار نعمتیں بھی عطا کی ہیں' اخلاص و للہیت کے ساتھ شگفتہ مزاجی کی نعمت بھی آپ کو مبدء فیاضی سے عطا ہوئی ہے، احباب کے ساتھ حسنِ سلوک شرعاً ایک محمود صفت ہیں اور آپ اسی سے متصف ہیں، آپ کے دو صاحبزادے ہیں(1)مصطفی انور(2)مصطفی سرور اول الذکر لندن میں انجینئر ہیں اور چھوٹے صاحبزادے حافظ مولوی مصطفی سرور کو آپ نے اولاً حفظِ قرآن کرایا اور پھر درسِ نظامیہ کی تکمیل کرائی اور ان کو دین کی خدمت کے لیے وقف کردیا، مولوی حافظ مصطفی سرور بھی نہایت سعادت مند اور فرمانبردار فرزند ہیں، اپنے والدِ محترم کے اشاروں پر چلتے ہیں اور والدین کی خدمت کی سعادت حاصل کررہے ہیں، مکتبہ رضویہ سے دین کی تبلیغ و تعلیم سے متعلق جو کتابیں شائع ہوتی ہیں ان سب کی دیکھ بھال یہی کرتے ہیں، اﷲتعالیٰ ان کی عمر میں برکت دے اور انہیں دین کی خدمت کی توفیق و اہلیت عطا فرمائے۔(آمین)
قاری صاحب اب تک آٹھ مرتبہ حج بیت اﷲادا کرنے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں اور نو مرتبہ عمرہ ادا کرچکے ہیں۔ اس طرح آپ سترہ بار زیارت بیت اﷲشریف اور زیارت روضہ مبارک سے فیوضِ روحانی حاصل کرتے رہے۔
میری دعا ہے کہ رب کریم رؤف و رحیم انہیں دنیا و آخرت کی سعادتیں اورنعمتیں عطا فرمائے ان کی زندگی میں برکتیں دے اور امت مسلمہ کے لیے انہیں مفید اور باعث ِ برکت بنائے۔
آمین بِجاہِ النَّبِیِّ الاُمِّیِّ ا لْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اُلُوْفُ التَّحِیَّۃِ وَالتَّسْلِیْم وَصَلَّی اللہُ عَلٰی خَیْرِخَلْقِہٖ
وَنُوْرِعَرْشِہٖ سَیِّدِ نَا وَمَوْلانا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن۔
7 جنوری 1989
٭٭٭٭٭
نوٹ : ڈاکٹر مولانا غلام یحیٰی انجم بستوی استاد شعبہ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑ ھ نے یہ مضمون بعنوان مولانا سید ظہیر احمد زیدی ، ایک تعارف تحریر فرمایا جس میں مصنف سے متعلق اپنے تاثرات، تجربات اور مشاہدات مختصر انداز میں بیان کیے ہیں، ان کی خواہش پر اس کو شایع کیا جارہا ہے ،قارئین کرام دعائے خیر فرمائیں۔
______________________
فروری 1926 میں جب شعبہ اسلامیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے نصاب کی تشکیل ہورہی تھی تو اس میں ملک کے جن متبحر علماء کو دعوت دی گئی تھی ان میں نواب صدر یار جنگ ،مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی ،مولانا سید سلیمان اشرف صدر شعبہ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ،مولانا مناظر احسن گیلانی استاذ دینیات جامعہ عثمانیہ حیدر آباد، مولانا عبدالعزیز المیمن یراجکوٹی صدر شعبہ عربی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، مولانا سید سلیمان ندوی کے علاوہ حضرت صدر الشریعہ مولانا حکیم امجد علی اعظمی بھی تھے۔''
(معارف فروری 1926 ص 2 مرتبہ سید سلیمان ندوی)
صدر الشریعہ نے اس اجلاس میں جب شرکت کی تھی تو ان دنوں دارالعلوم معینیہ اجمیر میں عہدئہ صدارت پر مامور تھے، پھر بریلی شریف آکر تدریسی خدمات میں مصروف ہوئے، وہاں تقریباً تین سال کا ہی عرصہ گزرا ہوگا کہ 1936 میں نواب حاجی غلام محمد خاں شیروانی رئیس ریاست دادوں مرحوم کی دعوت پر بحیثیت صدر مدرس دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ دادوں ضلع علی گڑھ تشریف لائے، دادوں اس زمانے میں مذہبی علوم کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کررہا تھا۔ علی گڑھ کے علاوہ دوسرے کئی اضلاع میں اس کی شہرت پھیل چکی تھی، اقصائے عالم سے تشنگانِ علوم کا وہاں جھمگٹا ہوگیا تھا، جن جن لوگوں نے حضرت صدر الشریعہ کے علمی پنگھٹ سے سیرابی حاصل کی وہ اپنے زمانے کے تشنگانِ علوم کے لیے ابر کرم ثابت ہوئے اُن ہی علمی پیاس بجھانے والوں میں مولانا مبین الدین امروہوی مرحوم، مولانا مفتی محمد خلیل خاں مرحوم مارہروی اور وقت کے دوسرے اجلہ علمائے کرام کے علاوہ مولانا سید ظہیر احمد زیدی بھی تھے۔
مولانا سید ظہیر احمد زیدی نسبی شرافت ، علمی وجاہت اور جسمانی شکل و شباہت میں اپنی مثال آپ ہیں، خاندانی اعتبار سے ان کا پایہ بہت بلند ہے، والد کے توسُّط سے ان کا تعلق مظفر نگر کے سادات بارہہ (1)اور پھر ان سے ہوتے ہوئے زید شہید
1 ۔سادات بارہہ سے متعلق بعض ثقہ حضرات کا خیال ہے کہ ان کے مورثِ اعلیٰ ابوالفرح واسطی بیرون ہند یعنی ملک عراق سے آئے تھے اس لئے ان کی نسل کو '' سادات باہرہ'' کے نام سے موسوم کیا گیا جو بعد میں کثرتِ استعمال سے'' ساداتِ بارہہ'' میں تبدیل ہوگیا۔اس سلسلہ میں ایک دوسرا قیاس یہ بھی ہے کہ ان سادات میں سے کچھ لوگ مذہبی عقیدہ کی بناء پر اثناء عشری شیعہ ہیں، یعنی بارہ اماموں کے ماننے والے ہیں اس لیے یہ لوگ ''سادات بارہ'' کہلائے جو بعد میں کثرتِ استعمال کے باعث سادات بارہہ مشہور ہوگیا۔( سید سلیمان علی خان سادات بارہہ کا تاریخی جائزہ ص ۱۲ دہلی ۱۹۸۰ء ) =
بن امام زین العابدین علی بن حسین بن علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے جا ملتا ہے جب کہ ماں کی نسبت سے ان کا سلسلہ سید شاہ کمال الدین ترمذی نزیل ہانسی پنجاب سے ہوتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہے، شاہ کمال الدین ترمذی علیہ الرحمہ اپنے زمانے کے جلیل القدر بزرگ تھے، آج بھی ان کا مزار اقدس مرجع انام ہے، حضرت زید شہیدرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی نسبت سے سید صاحب اپنے نام کے ساتھ زیدی لکھتے ہیں۔سادات بارہہ میں سے کچھ بزرگ منصور پور ضلع مظفر نگر یوپی سے ترک وطن کرکے نگینہ ضلع بجنور میں آبسے، سید ظہیر احمد کی ولادت 1339ھ یا 1340ھ میں عالی جناب سید دائم علی زیدی مرحوم کے گھر ہوئی، خاندان متدین پاکباز تھا اس لئے گھر والوں نے بچے کو حصولِ علمِ دین کی طرف لگادیا، پہلے تو انہوں نے مسجد کفر توڑ اور مدرسہ قاسمیہ نگینہ بجنور ہی میں درس لیا۔1935 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مدرسہ حافظیہ سعیدیہ دادوں علی گڑھ سے وابستہ ہوگئے اور ایسا وابستہ ہوئے کہ پھر ہمیشہ کے لیے علی گڑھ ہی کے ہو کر رہ گئے دارالعلوم حافظیہ کا نصاب تعلیم دس سال کاتھا مگر سید صاحب نے اسے آٹھ ہی سال میں مکمل کرلیا۔دورانِ تعلیم دوبار دہری ترقی ملی اور اس طرح درسِ نظامی کی تکمیل کی، صدر الشریعہ اور دیگر اساتذہ دارالعلوم سے اکتسابِ فیض کیا اور 1943 میں سند فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
مولانا سید ظہیر احمد زیدی دورانِ تعلیم دادوں میں اپنے وقت کا بیشتر حصہ صدر الشریعہ کی خدمت میں گزارتے جس کے سبب صدر الشریعہ سے انہیں ایک روحانی تعلق ہوگیا تھا۔ صدر الشریعہ خود بھی سید صاحب سے بہت پیار و محبت فرماتے تھے، اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ مولانا سید ظہیر احمد زیدی صدر الشریعہ کے آخری دور کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ اس کی تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے جس کا اعتراف صدر الشریعہ نے خود کیا ہے۔ فرماتے ہیں:'' محرم 1362ھ میں فقیر نے چند طلبہ خصوصاً عزیزی مولوی مبین الدین صاحب امروہوی و عزیزی مولوی سید ظہیر احمد صاحب نگینوی وحبیبی مولوی حافظ قاری محبوب رضا خاں صاحب بریلوی و عزیزی مولوی محمد خلیل مارہروی کے اصرار پر شرح معانی الآثار معروف بہ طحاوی شریف کا تحشیہ شروع کیا گیا''۔ (مولانا امجد علی، بہار شریعت ، (17:102)مطبوعہ لاہور )
مولانا سید ظہیر احمد زیدی فراغت کے بعد دو2 سال مدرسہ عربیہ خدّام الصوفیہ گجرات پنجاب میں تدریسی خدمات انجام
= سادات بارہہ کے پہلے بزرگ جو ہندوستان آئے وہ سیدعبداللہ الحسن ابوالفرح الواسطی ۱۰۵۵ھ ہیں ۔ ہوا یوں کہ سلطان محمود غزنوی جب آخری بارہندوستان پر حملہ آور ہوا تو مذکورۃ الصدر بزرگ سے اس فوج میں شرکت کے لئے کہا چنانچہ وہ اپنے چار صاحبزادگان سمیت اس فوج میں شریک ہوگئے، جب ہندوستان فتح ہوگیا تو سلطان محمود نے شاندار کامیابی پر مسرور ہو کر اور ان کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے سر ہند اور کلا نور کا علاقہ انہیں بطورِ انعام جاگیر کی صورت میں عطا کیا، سیدعبداللہ خود تو سلطان کے ہمراہ واسط چلے گئے مگر ان کے صاحبزادے ہندوستان رہ گئے۔ پھر انہیں میں سے کچھ لوگ آکر مظفر نگر میں آبسے موجودہ سادات بارہہ انہیں کی نسل سے ہیں۔انہیں میں سے ایک بزرگ امیر سید ابوالمظفر جنھیں نواب خاں سے شہرت حاصل تھی، شاہجہاں کے دور حکومت میں اہم منصب پر فائز تھے انہوں نے اپنا وطن منصور پور کو قرار دیا۔ آج بھی ان کامقبرہ منصور پور ضلع مظفر نگر میں ہے، سید ظہیر احمد زیدی صاحب انہیں کی اولاد میں سے ہیں۔
دیتے رہے ان دنوں اس ادارہ میں مدرس اوّل حضرت مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ پھر ایک سال کے لیے مدرسہ عربیہ مظہر اسلام مسجد بی بی جی بریلی چلے آئے اور مولانا سردار احمدعلیہ الرحمہ محدث پاکستان ، مولانا وقار الدین پیلی بھیتی حال مفتی دار العلوم امجدیہ کراچی کے ساتھ تدریسی فرائض انجام دینے لگے۔ ستمبر 1947 سے ان کا تعلق مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ہوگیا جہاں وہ عبداﷲ کالج میں پہلے لیکچرار رہے پھر 1954 میں اسی یونیورسٹی کے سٹی ہائی اسکول میں دینیات کے استاد مقرر ہوئے اور 1984 تک انتہائی ذمہ داری کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد سبکدوش ہوگئے، اس طرح بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ سید صاحب زندگی کے جس مرحلے پر ہیں بچپن سے لے کر اب تک عمر کا بیشترحصہ دین سیکھنے اور سکھانے میں بسر ہوا ہے۔
علی گڑھ کالج اور اسکول میں جن طلباء نے ان سے دینیات پڑھی ان کی فہرست موجب تطویل ہونے کے ساتھ ساتھ دقت طلب بھی ہے، البتہ مدارس عربیہ میں جن لوگوں نے ان سے اکتساب ِ فیض کیا ہے ان میں درجِ ذیل حضرا ت کافی مشہور ہوئے
(1) مولانا تحسین رضا خاں بریلوی شیخ الحدیث مدرسہ نوریہ بریلی شریف
(2) مولانا سبطین رضا خاں بریلوی مقیم حال مدھ پردیش
(3) مولوی معین الدین بانی مدرسہ نوریہ غوثیہ فیصل آباد پاکستان
(4) مولانا عبدالقادر شہید گجراتی ثم فیصل آبادی
(5) مولانا مفتی لطف اللہ خطیب جامع مسجد متھرا
(6) مولانا مظہر ربانی صاحب باندہ
مولانا سید ظہیر احمد زیدی وعظ و تبلیغ میں بھی اپنی یگانگت بر قر ار ر کھے ہوئے ہیں۔ کما حقہ تبلیغی خدمات اس زمانے میں تو نہ کرسکے جب ان کا یونیور سٹی سے تعلق ر ہا لیکن تدریسی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے بعد بڑے بڑے سیرت کے جلسوں اور کانفرنسوں میں شرکت ہونے لگی، وعظ و تبلیغ میں ان کا لب و لہجہ شستہ ہوتا ہے، ایک ایک بات دلائل کی روشنی میں سمجھا کر کہنے کی عادت ہے ،بے جا الفاظ کا استعمال ان کے یہاں ہر گز نہیں، فتویٰ کی زبان بولتے اور لکھتے بھی ہیں اسی وجہ سے شاید ان کی تقریروں سے عوام سے زیادہ خواص کا طبقہ لطف اندوز ہو تا ہے، بہرحال مولانا کا انداز منفرد و یگانہ ہے، عبرت آمیز نصیحت انگیز اورسبق آموز مقررین میں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔مولانا سید ظہیر احمد زیدی کی تحریری صلاحیتوں کا اندازہ زیر نظر کتاب سے با آسانی کرسکتے ہیں، اس کتاب سے جہاں ان کے قلم کی شستگی اور نپے تلے الفاظ کی بندش کا اندازہ ہوتا ہے وہیں مولانا کی علوم مروجہ و متداولہ میں فقہ سے دلچسپی اور لگاؤ کا ثبو ت بھی فراہم ہوتا ہے۔فقہ اور اس کے اصول و قواعد سے متعلق کچھ رسالے بھی زیب قر طاس بنے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد مقالات و مضامین بھی رسائل و جرائد میں چھپ کر اربابِ فکر و نظر سے خراجِ تحسین حاصل کرچکے ہیں، مقالات کی فہرست تو دستیاب نہ ہوسکی، البتہ مطبوعہ وغیر مطبوعہ کُتب و رسائل کی فہرست جن سے ان کی دقت نظر اور وسعت مطالعہ کا پتا چلتا ہے یہ ہے:
(1) رسالہ مسلم پر سنل لا مطبوعہ فروری 1972 محرم الحرام 1392ھ
(2) مسلم تاریخ تمدن غیر مطبوعہ
(3) بہارِ شریعت کتاب الوصایا انیسواں حصہ
(4) رسالہ الحج غیر مطبوعہ
(5) رسالہ القواعد الفقہیہ والاصول الکلیۃ
مولانا ظہیر احمد صاحب کو زبان و ادب سے گہرا ربط ہے، اردو، فارسی ہو یا عربی انھیں تمام زبانوں پر یکساں قدرت حاصل ہے ان تینوں زبانوں میں مشق سخن کرتے رہتے ہیں، شاعری کا تخلص ''سید''اختیار فرماتے ہیں۔ مولانا کوئی باضابطہ صاحب دیوان شاعر تو نہیں البتہ اردو،فارسی اور عربی نعتوں کا ایک اچھا خاصا ذخیرہ جمع ہوچکا ہے۔ درج ذیل اشعار ان کی سخن گستری اور سخن سنجی کی بین دلیل ہیں۔
فَوَاللہِ لاَ یَمْتَدُّ عُمْرُکَ سَاعَۃً اِذَا جَاءَ اَمْرُ اللہِ لاَقَتْ شَدَائِدُ
لَقَدْ بَعَثْتَ خَیْراً بِالْمَعَاصِیْ وَتَحْسَبْ بِاَنَّکَ تَبْغِیْ دَائِماً لَا تُبَاعِدُ(1)
۔۔
جَعَلَنَا فِی الْخَلائِقِ خَیْراً بَعَثَ فِیْنَا حُبّہٗ خبرا
حَفِظْنَا مِنْ عَدُوِّنَا حِفْظاً نَصَرَنِیْ مِنْ مَعَارِ ضِی نَصْراً (2)
۔۔
اَسْریٰ بِکَ سُبْحَا نَہٗ اَجْلٰی بِکَ بُرْ ھَانَہٗ
قَدْ اَنْزَلَ قُرْآنَہٗ اِسْمَعْ لَنَا اَدْرِکْ لَنَا(3)
۔۔
رَسُوْلَ اللہِ اِنِّیْ مُسْتَجِیْرٌ وَاَنْتَ بِرَحْمَۃِ اللہِ شَھِیْرٌ
نَدِیْمِیْ لَا تَخَفْ مِنْ شَرِّ عَادٍ اَنَا فِیْ حَضْرۃِ الرَّبِّ سَمِیْرٌ(4)
1 ۔ترجمہ:اﷲ کی قسم تجھے ایک لمحے کی مہلت نہیں ملے گی، جب اﷲکا حکم آجائے تو مصائب وآلام آپہنچتے ہیں،نیکیوں کے ساتھ ساتھ تو نے گناہوں کے ڈھیر لگا دیئے اور تیرا خیال ہے کہ تو ہمیشہ زندہ رہے گا مرے گا نہیں۔
2 ۔ترجمہ:ہمیں تمام امتوں میں بہترین امت بنایا، ہم میں اپنا محبوب پیغمبر مبعوث فرمایا،
ہمیں ہمارے دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھا، مصائب و آلام میں ہماری مددونصرت کی۔
3 ۔ترجمہ:اﷲعزوجل نے آپ کو سیر کرائی، اور آپ کے ذریعے اپنی برہان کو واضح کیا،
آپ پر اپنا قرآن نازل فرمایا، اے حبیب ہماری فریاد سنیے، ہماری فریاد رسی کیجئے۔
4 ۔ترجمہ: یارسول اﷲ! میں پناہ کا طلبگار ہوں۔ اور آپ رحمۃ للعَالَمِیْن کے لقب سے مشہور ہیں ،
اے میرے دوست! دشمن کے شر سے خوفزدہ نہ ہو، میں بارگاہِ الٰہی میں شب کو مناجات کرنے والا ہوں۔
فَاَکْرِمْنِیْ بِلُطْفِکَ یَا حَبِیْبِیْ اَنَا مِنْ اَفْقَرِ النَّاسِ حَقِیْرٌ(1)
۔۔
دیدم ہزار بار و لیکن تواں نہ دید صد جلوئہ کمال نقاب محمد است
سیدؔ پناہ دامن محبوب حق بجو حقا کہ ''ھب لی امتی''تاب محمد است(2)
۔۔۔
بہ چشمم زیست نازاں بود شب جائے کہ من بودم بہار وصل ساماں بود شب جائے کہ من بودم
کجا ہستی کجا مستی کجا ہنگامہ آرائی جمال یار مہماں بود شب جائے کہ من بودم
قرار آمد نگار آمد جہاں بادہ خوار آمد نِشاط روئے تاباں بود شب جائے کہ من بودم(3)
۔۔۔
کچھ اس اداء سے وہ سرتاج مہوشاں گزرے مہک رہی ہیں فضائیں جہاں جہاں گزرے
وفور شوق میں گشتہ جمال اَلست کہاں کہاں تجھے پایا کہاں کہاں گزرے
۔۔۔
تو نہ ہوتو بزم سخن نہو،تو نہ ہو تو رنگ چمن نہ ہو کوئی اور تجھ سا حسین نہیں کوئی اور رشک جناں نہیں
تو ہی روحِ بزم وجود ہے تو ہی سِّرجلوئہ ذات ہے تو ضیائے عالم کن فکاں ترا نور حسن کہاں نہیں
۔۔۔
موسیٰ کی تمناکہوں عیسی ٰ کی بشارت اﷲ کا احسان ہو آدم کی صدا ہو
تم رحمتِ باری ہو صدا باد بہاری کلیوں کا تبسّم ہو عنادل کی نوا ہو
مل جائے جو سیدؔ کو ترے در کی حضوری پھر تو مری تقدیر میں جنّت کی ہوا ہو r
1 ۔ترجمہ:اے میرے حبیب(علیہ الصلاۃ والتسلیم )!اپنے لطف و کرم سے میری عزت افزائی کیجئے، میں محتاج ترین لوگوں میں سے حقیر ہوں۔
2 ۔ترجمہ : عرفان ووصل وجام وشراب عشق محمد عربی ہیں، ذوالفضل والکمال آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلَّم کا لقب ہے ،میں نے ہزار بار دیکھا مگر نہ دیکھ سکا، رُخِ مصطفی میں سینکڑوں جلوئہ کمال پنہاں ہیں۔ سیدؔ محبوب خدا کے دامن میں پناہ تلاش کر، بے شک''رب ھب لی اُمَّتی''کہنے کی ہمت محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلَّم ہی کوہے۔
3 ۔ترجمہ:زندگی میری آنکھ پہ نازاں تھی ،آج شب میں جہاں تھا۔سامانِ وصل سے لطف اندوزہوا ہوں آج شب میں جہاں تھا۔
احساسِ وجود کہاں کیفیت جنوں کہاں وجدو بے خودی کہاں،جمال یا رمہماں تھا آج شب میں جہاں تھا۔بڑی پر سکون وآرئش والی جگہ تھی جہاں مے خوار تھا ،روئے تاباں کی شادمانی تھی آج شب میں جہاں تھا۔
1/1پریل 1980 میں جب میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں حصولِ علم کی غرض سے حاضر ہوا تو ان دنوں سید صاحب یونیورسٹی میں استاد تھے، میری ان سے پہلی ملاقات ان کے دولت کدہ ''بیت السادا ت''محب گرامی ڈاکٹر محب الحق کی معیت میں ہوئی، میں موصوف کا ممنون کرم ہوں کہ انہوں نے علی گڑھ کے آخری ایام میں ایسے معزز اور مخلص لوگوں سے تعلقات پیدا کر دیئے جن کی شخصیت آج بھی ہمارے لئے ابر کرم اورترقی درجات کے لیے مشعل راہ ہیں، اگرچہ میں ان دنوں علی گڑھ کے لیے بالکل نیا تھا علی گڑھ کا ہر ذرہ میرے لئے اجنبی تھا، مگر سید صاحب اور ان جیسے دوسرے کرم فرماؤں کی عنایات و نوازشات اس طرح ہوئیں کہ چند ہی دنوں میں اس دیارکے ہر کوچے اور ہر ذرّے سے محبت کی بو آنے لگی۔
سید صاحب سے قربت اس لیے بھی ہوئی کہ اس دور کے چند مخلص طلباء نے ایک با وقار سنجیدہ تنظیم بنائی جس کا نام '' مرکز تعلیمات اسلامی''رکھا گیا جس کے اغراض و مقاصد میں دوباتیں بڑی اہم تھیں ایک تو ہفتہ وار قرآن و حدیث کی تعلیم اور دوسرے ایک موقر''سہ ماہی جریدہ'' تعلیمات کا اجراء۔
میرے علی گڑھ آنے کے بعد اس تنظیم کی تشکیل جدید ہوئی اور اس مجلہ کا مدیر معاون مجھے بنایا گیا، جب کہ ادارت کی ذمہ داری تاجدارمارہرہ حسن میاں کے فرزند ارجمند سید محمد امین کے سپرد کی گئی اور اسی نشست میں حکیم خلیل احمد جائسی اور سید صاحب کو علی الترتیب مربی و مرشد نامزد کیا گیا۔ اگرچہ کچھ اسباب کی بناء پر تنظیم تو کامیاب نہ ہوسکی مگر ملاقات کا سلسلہ کبھی نہیں ٹوٹا اس طویل ملاقات میں میں نے انہیں ہمدرد اور کہتر نواز ، مہمان نواز پایا۔
سید صاحب کی وجیہہ اور پُروقار شخصیت کی بناء پر حضور مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی ر ضا خاں اور حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی علیہماالرحمہ نے شرف خلافت سے نوازا جب کہ حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ حامد رضا خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے بیعت و اِراد ت کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے سے وابستہ کرلیا۔ سید ظہیر احمد زیدی صاحب صوری اور معنوی دونوں حُسن سے مزین ہیں،صاف و شفاف نورانی چہرہ، سفید داڑ ھی جس سے بزرگی کے آثار نمایاں، چمکتی دور بیں آنکھیں، موزوں قد، بڑے مشکلات کی گرہیں کھولنے والی چھوٹی چھوٹی انگلیاں مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ نسبی شرافت، علمی وجاہت اور جسمانی شکل وشباہت ہر اعتبار سے سید ظہیر احمد زیدی منفرد و نمایاں ہیں اور حدیث مبارکہ
اِبْتَغُواالْخَیْرَعِنْدَ حِسَانِ الْوُجُوْہ(1)
کا مصداق ہیں، اﷲتعالیٰ سے دعا ہے کہ سید صاحب کے حسن و جمال میں مزید نکھار پیدا کردے، اور اس کی نورانیت سے لوگوں کے دلوں کو منور وروشن کرے۔
آمین بِجَاہِ حَبِیْبِہ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہِ الطَّیِّبِیْنَ وَالطَّاھِرِیْن.
1 ۔''مصنف''لابن ابی شیبۃ،کتاب الأدب،باب ماذکرفی طلب الحوائج،الحدیث:۲،ج۶،ص۲۰۸.
بہارشریعت میں حدیث ان الفاظ سے مرقوم ہے'' اِبْتَغُواالْخَیْرَفِی وُجُوْہِ الْحِسَانِ'' ترجمہ:۔''خوبصورت چہروں کے ہاں بھلائی تلاش کرو'،'جبکہ کتب حدیث میں یہ حدیث ان الفاظ سے ہمیں نہیں ملی لہذاجن الفاظ کے ساتھ ہمیں ملی ان الفاظ کے ساتھ متن میں ذکر کر دیا گیا ، مزیدتفصیل کے لیے فتاوی رضویہ، ج۲۱، ص۳۱۱ تا ۳۱۶ ملا حظہ کیجئے۔...علمیہ
اَلْحَمْدُلِوَلِیِّہٖ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ عَلٰی نَبِیِّہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ اما بعد:
بہارِ شریعت کا انیسواں حصہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں، رب تبارک و تعالیٰ قبول فرمائے اور میرے لئے اس کو ذخیرئہ آخرت بنائے، آمین۔ فقیہِ وقت مصنف بہار ِ شریعت ابو العلیٰ صدر الشریعہ حضرت مولانا الحاج امجد علی علیہ الرحمۃ و الرضوان نے مکمل فقہ حنفی کو عام فہم اردو زبان میں منتقل کرنے کا جو عظیم الشان کارنامہ انجام دیا اس کی نہ ماضی میں کوئی مثال ہے اور نہ مستقبل میں کوئی ایسی امید، حضرت ممدوح علیہ الرحمہ کا مقصد یہ تھا کہ برصغیر کے مسلمان اپنے دین کے مسائل سے بہ سہولت مستفید ہوجائیں، حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ اخلاصِ فکر و عمل کے ساتھ ارادہ رکھتے تھے کہ جملہ ابواب فقہ سے ضروری اور روزمرہ پیش آنے والے مسائل سے متعلق مفتی بہ شرعی احکام اردو زبان میں بیان فرمادیں۔ان کی حیاتِ مبارکہ میں کتاب بہارِ شریعت کے سترہ حصے مرتب ہو کر طبع ہوچکے تھے کہ آپ مقام ابتلا و آزمائش سے گزرے، بِحمدِ اللہ تعالٰی مژدئہ ''
وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾
''سے سرفراز ہوئے ، جیسا کہ مقربین بارگاہ کا طرئہ امتیاز ہے، اس وقت تک بہارِ شریعت کے سترہ حصے مکمل ہوچکے تھے صرف حدود وقصاص، وصایا اور میراث میں تین حصے اور تصنیف ہونا باقی تھے کہ موانع پیش آگئے، حضرت نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا کہ بقیہ یہ تین حصے میرے تلامذہ مکمل کریں گے، چنانچہ دو2 حصے حضرت علامہ عبدالمصطفےٰ ازہری شیخ الحدیث اور حضرت مولانامفتی وقار الدین صاحب دارالعلوم امجدیہ کراچی وقاری محبوب رضا خاں صاحب وقاری رضاء المصطفےٰ صاحب خطیب نیومیمن مسجد بولٹن مارکیٹ کراچی نے تالیف فرمادیئے ، یعنی اٹھارہواں حصہ کتاب الحدودوالقصاص میں اور بیسواں حصہ کتاب المیراث میں، باقی رہا انیسواں حصہ کتاب الوصایا، اس کی تالیف و ترتیب اس ناچیز کے حصے میں آئی، اس سلسلے میں بہ خلوص قلب شکر گزار ہوں اپنے استاذ زادہ مولانا الحاج قاری رضاء المصطفیٰ زاد شرفہ کا کہ ان کے پیہم اصرار اور تعاون نے مجھے مجبور کردیا کہ میں یہ سعادت و فضیلت حاصل کروں۔
جَزَاہُ اللہُ تَعَالٰی خَیْرَالْجَزَا فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ
ترتیب کے لحاظ سے اگرچہ بیسواں حصہ آخری حصہ ہے جو مسائل میراث میں ہے، لیکن تالیف کے اعتبار سے انیسواں حصہ آخری ہے جو سب سے آخر میں ا س ناچیز نے مرتب کیا ہے۔ یہ حصہ مسائل وصیت میں ہے، اس میں 450مسائل بیان کئے گئے ہیں۔ وصیت کے مسائل بھی اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتے ہیں،شریعت مطہرہ نے وصیت کو بڑی اہمیت دی ہے اور بعض مقامات پر اسے ضروری اور واجب قرار دیا۔
شریعت میں اس کی اہمیت یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس شخص کو جو وصیت کرکے وفات کر گیا متقی ، شہیداور عامل بالسنۃ فرمایا اورا سکی مغفرت کی بشارت دی۔ (1)(مشکوٰۃ)اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا:''تیرا اپنے ورثا کو غنی چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں محتاج چھوڑے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔''(2)اس سے معلوم ہوا کہ اپنے مفلس و نادار غیر وارث کے لیے وصیت کرنی چاہیئے تاکہ انہیں بھی مال کا ایک حصہ مل جائے اور ان کی غربت و ناداری اور افلاس دور ہو اور وہ ایک باعزت زندگی گزار سکیں اور خود وصیت کرنے والوں کو تقویٰ وشہادت اورمغفرت کا مقام مل جائے، ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑی نعمت اور کیا ہوسکتی ہے کہ اس کی مغفرت ہوجائے، اور شہادت کا درجہ مل جائے اور یہ بات بھی اس کے لیے کس درجہ عزت، اجر اور نیک نامی کی ہے کہ اس کے غیر وارث اَعِزَّہ غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر ذلیل و رسوا نہ ہوں اور معاشرہ میں آبرو مندانہ زندگی بسر کریں۔
(1)یہ ہے کہ متوفی کے ایسے اعزہ جو وارثوں میں شامل نہیں ہیں مگر نادار اور حاجتمند ہیں، ان کو اس کے مال سے نفع پہنچے اور کسبِ معا ش کے لئے سہارا مل جائے، جیسے وہ بچہ جس کے باپ کا انتقال اس کے دادا کی حیات میں ہوگیا اور دادا کا انتقال بعد میں ہوا اور دادا نے وارثوں میں بیٹا بھی چھوڑا تو بچہ محروم ہوجائے گا۔اس کے لیے دادا کو انتقال سے پہلے وصیت کرنا چاہیے۔
(2) ایسے پڑوسی یا احباب یا دیگر حضرات جو نہ رشتہ دار ہیں اور نہ وارث مگر سخت احتیاج و تنگدستی اور پریشانی میں ہیں ان کو متوفی وصیت کے ذریعے اپنے مال کے ایک حصہ کا مالک بنادے اور اس طرح ان کی مدد ہوجائے۔
(3) متوفی اگر مدرسہ ، مسجد، سرائے ، قبرستان یا دیگر امور خیر اپنی موت کے بعد بھی کرنا چاہتا ہے اور وہ رفاہِ عامہ اور خدمتِ خلق کے کام انجام دینا چاہے تو بذریعہ وصیت اپنے مال کا ایک حصہ ان کی انجام دہی کے لیے مقرر کردے، لیکن شریعت نے متوفی کو ورثاء کی موجودگی میں اپنے تمام مال کی وصیت کرنے کی اجازت نہیں دی کہ اس سے وارثوں کو ضرر پہنچتا ہے، اور ان کا حق ضائع ہوتا ہے، قرآن پاک میں ''
مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصٰی بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ۙ غَیۡرَ مُضَآرٍّ ۚ
''(3)فرما کر یہی ہدایت فرمائی
1 ۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الوصایا،باب الحث علی الوصیۃ،الحدیث:۲۷۰۱،ج۳،ص۳۰۴.
2 ۔''صحیح البخاری''،کتاب الوصایا،باب ان یترک ورثتہ،...إلخ،الحدیث۲۷۴۲،ج۲،ص۲۳۲.
3 ۔پ۴،النساء:۱۲.
کہ وصیت تو کرو مگر وارثوں کو نقصان پہنچا کر نہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا:''جو شخص اپنے وارث کی میرات کاٹے گا اﷲتعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کو کاٹے گا۔''(1)(مشکوٰۃ)
شریعت اسلامیہ نہ یہ اجازت دیتی ہے کہ وارث کو اس کی میراث سے محروم کردیا جائے ، نہ یہ گوارا کرتی ہے کہ اہلِ ثروت اپنے غیر وارث اعزہ کو محتاجی و ناداری کی حالت میں چھوڑ کر وفات پائیں، بلکہ ایسے محتاج غیر وارث اعزہ کے لیے وصیت کے ذریعے اپنے مال کا ایک حصہ ان کو پہنچادیں۔مسلمان اگر شریعتِ مطہرہ کے احکام کے مطابق وصیت کے طریقے کو اپنائیں تو اس سے عظیم فائدے اور فیوض و برکات حاصل ہوں ، اور دشمنانِ اسلام نے بیٹے کی موجودگی میں یتیم پوتے کے محروم الارث ہونے پر شریعت اسلامیہ کے خلاف جو طوفان بدتمیزی اُٹھایا اور آج بھی اُٹھایا جاتا ہے وہ نہ اٹھا سکتے، اگرچہ اس کا مدلل و معقول جواب بارہا دیا جاچکا ہے، لیکن مخالفینِ اسلام ،اسلام دشمنی میں شرپھیلانے سے نہیں تھکتے ، ان کا مقصد حق و صداقت کو سمجھنا نہیں بلکہ اسلام کو بدنام کرنا ہے، اگر مسلمان بذریعہ وصیت یتیم اور محروم الارث پوتے کو اپنی حیثیت کی مناسبت سے مال کا ایک حصہ دیا کرتے تو معترضین اسلام کو یہ ایک عملی جواب بھی ہوتا ، وہ عند اللہ ماجور بھی ہوتے اور ایک بہتر معاشرہ بھی وجود میں آتا۔
مغربی اقوام میں بھی رائج ہے، اگرچہ وہ اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں ، اُن کی اپنی خواہشات کے مطابق ہے اسی لیے اس کا نام بھی Will جس کے معنی ہیں ''خواہش''عام طور سے وہاں لوگ مرنے سے بہت پہلے Will لکھ چھوڑتے ہیں لیکن اس ول Will اور وصیت میں زبردست فرق ہے، وصیت اسلامی احکام کے مطابق ہوتی ہے اور وِلWill اپنی خواہشات نفس کے مطابق، ول لکھنے والا قطعاً یہ نہیں سوچتا کہ وہ جو کچھ لکھ رہا ہے وہ اخلاقی اقدار کے مطابق ہے یا نہیں، اس سے معاشرہ میں فلاح و بہبود آئے گی یا تباہی و بربادی ،اس کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ میرا مال میرے مرنے کے بعد بھی صرف میری خواہش کے مطابق خرچ کیا جائے اس میں وہ اچھے بُرے، جائز و ناجائز اورحرام و حلال میں کوئی فرق نہیں کرتا، جب کہ اسلام نے وصیت کرنے والے کو کچھ ہدایات دی ہیں اور وصیت کا مقصد معاشرہ کی فلاح اور اعمالِ خیرکا اجراء مقرر کیا ہے۔ اسی لیے اس نے معصیت کے کاموں کے لیے اور معاشرے کو بگاڑنے والی چیزوں کے لیے وصیت کرنے کی اجازت نہیں دی۔
ناانصافی ہوگی اگر میں الحاج مولانا قاضی عبدالرحیم ،(2)مفتی آستانہ رضویہ رضا نگر محلہ سودا گران بریلی کا شکریہ نہ ادا
1 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب الوصایا،باب الحیف فی الوصیۃ،الحدیث:۲۷۰۳،ج۳،ص۳۰۴.
2 ۔قاضی عبدالرحیم صدیقی موضع جگجوا تحصیل ڈومریا گنج پر گنہ رسول پور ضلع بستی کے ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ ۱۹۳۶ء میں اپنے آبائی وطن میں پیدا ہوئے، مڈل پاس کرنے کے بعد عربی کی ابتدائی تعلیم دارالعلوم فضل رحمانیہ پچھپڑوابازار ضلع دیوریا میں =
کروں، عزیز موصوف نے اپنا بیش قیمت وقت خالصتاً لوجہ اللہ تعالٰی اس کتاب پر نظر ثانی کرنے کے لئے دیا، ان کے اس تعاون سے میں اس قابل ہوسکا کہ اس میں مندرجہ مسائل کے لیے کتب فقہ کے حوالوں میں اضافہ کروں جس نے کتاب کے اعتبار واستناد میں اضافہ کیا ہے۔ موصوف ایک صاحبِ نظر اور ذہین عالم ہیں، فقہ میں بصیرت رکھتے ہیں، آپ کے پاس اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قلمی حاشیہ جدالممتار ہے، جوردالمحتارپر تحریر فرمایا گیا ہے، اس کے حوالے بھی اس کتاب میں ملیں گے، اﷲتعالیٰ موصوف کے علم، عمر اور صحت میں برکت عطا فرمائے اور ان سے اپنے دین کی خدمت لے۔ آمین۔ اسی کے ساتھ عزیز گرامی قدر مولوی عطاء المصطفیٰ زاد علمہ مدرس دارالعلوم امجدیہ کراچی بھی شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کا اصل سے مقابلہ کرنے میں مدد دی، جس سے نقل میں جو اغلاط تھے وہ صحیح ہوگئے۔ موصوف ایک باشرع، صالح، سعادت مند اور باادب عالمِ دین ہیں۔ حضرت صدرالشریعہ صاحبِ بہار شریعت کے پوتے ہیں اور خدمتِ دین کرنے کا بااخلاص جذبہ رکھتے ہیں۔اﷲتعالیٰ ان کے علم و عمل صالح میں ترقی عطا فرمائے اور ان کی عمر میں برکت دے آمین۔
آخر میں اﷲجل وعلا تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ اپنے اس عاجز و حقیر بندے کی اس خدمت کو قبولیت عطا فرمائے اور میرے لئے اسے ذخیرہ آخرت بنائے اور دین کی خدمت کرنے کی مزید توفیق و اہلیت عطا فرمائے۔ آمین۔
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِخَلْقِہٖ وَنُوْرِعَرْشِہٖ سَیِّدِ نَا وَمَولَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن۔
اَلْفَقِیْر اِلَی اللہِ الصَّمَد
ظہیر احمد زیدی غفرلہ ولوالدیہ
جمادی الاولیٰ 1409ھ
مطابق 5 جنوری 1986
٭٭٭٭٭
= مولانا رضاء المصطفےٰ پسر حضرت صدر الشریعہ مولانا امجد علی علیہ الرحمۃ سے حاصل کی۔ آخر میں ۱۹۵۶ء سے ۱۹۶۰ء تک مدرسہ اسلامیہ عربیہ محلہ اندر کوٹ میر ٹھ میں عالم شہیر امام النحو حضرت مولانا سید غلام جیلانی سہسوانی ثم میرٹھی کی خدمت میں حاضر ہو کر علوم عربیہ کی تکمیل اور ۱۹۶۱ء سے مرکزی دارالافتاء محلہ سودا گران بریلی میں زیر تربیت و نگرانی حضرت مفتی اعظم مولانا مصطفی رضا خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ افتاء نویسی کی خدمت ۱۹۶۹ء تک انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد آج تک اکتیس ۳۱ سال ہوئے جارہے ہیں آپ اسی مرکزی دارالافتاء سے افتاء نویسی کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اکتیس سال میں آپ نے ہر قسم کے فتوے تحریر کئے ہیں۔ ہندوستان کے مفتیان کرام میں فی الوقت آپ غالباً سب سے کہنہ مشق اور صاحبِ تحریر مفتی ہیں۔
وصیّت کرنا قرآن مجید اور احایث نبویہ علی صاحبہا الصلوٰ ۃ والسلام سے ثابت ہے۔ رب تبارک و تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
(یُوۡصِیۡکُمُ اللہُ فِیۡۤ اَوْلَادِکُمْ ٭ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ فَاِنۡ کُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیۡنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ۚ وَ اِنۡ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصْفُ ؕ وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ لَّمْ یَکُنۡ لَّہٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَہٗۤ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہٗۤ اِخْوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡ بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ؕ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبۡنَآؤُکُمْ ۚ لَا تَدْرُوۡنَ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۱﴾
)
(1)
(جز،سورۃ النساء،رکوع2)
ترجمہ اس کا یہ ہے''اﷲتمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے پھر اگر صرف لڑکیاں ہوں اگر چہ دو سے اوپر، تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اُس کے لئے آدھا، اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا حصہ اگر میت کے اولاد ہو، پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی حصہ، پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ، بعد اس وصیّت کے جو کرگیا اور بعد دین کے، تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا، یہ حصہ باندھا ہوا ہے اﷲکی طرف سے بیشک اﷲعلم والا حکمت والا ہے۔''
قرآن مجید کے چوتھے پارے میں سورئہ نساء کے اس دوسرے رکوع میں اﷲتعالیٰ نے وصیّت کا ذکر چار مرتبہ فرمایا جس میں تقسیم وراثت کو ادائیگی وصیّت اور ادائیگی قرض کے بعد رکھا اسی رکوع کی آخری آیات سے کچھ پہلے فرمایا:
(مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصٰی بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ۙ غَیۡرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِیَّۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿ؕ۱۲﴾)
(2)
''میت کی وصیّت اور دَین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو، یہ اﷲکا ارشاد ہے اوراﷲعلم والا حلم والا ہے۔''
اور فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا شَہَادَۃُ بَیۡنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیۡنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنۡکُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیۡرِکُمْ اِنْ اَنۡتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الۡاَرْضِ فَاَصَابَتْکُمۡ مُّصِیۡبَۃُ الْمَوْتِ ؕ)
(3) (سورہ مائدہ، پ7)
1 ۔پ 4،النساء:11. 2 ۔پ4،النساء:12.
3 ۔پ7،المائدہ:106
''یعنی اے ایمان والو!تمہاری آپس کی گواہی، جب تم میں کسی کو موت آئے وصیّت کرتے وقت، تم میں کے دو معتبر شخص ہیں یا غیروں میں کے د و2جب تم ملک میں سفر کوجاؤ پھر تمہیں موت کا حادثہ پہنچے۔''
حدیث 1: حضرت عبداﷲبن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے کسی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے پاس وصیّت کے قابل کوئی شے ہو اور وہ بلاتاخیر اس میں اپنی وصیّت تحریر نہ کردے۔ (1) (مشکوٰۃ،باب الوصایا ،ص265)
حدیث 2: صحیح بخاری و صحیح مسلم سعد بن ابی وقاص رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی، وہ فرماتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال اس قدر بیمار ہوا کہ موت کے قریب ہوگیا تو میرے پاس رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم عیادت فرمانے کے لئے تشریف لائے میں نے عرض کیا: یارسول اﷲ!(صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم )میرے پاس کثیر مال ہے اور میری بیٹی کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں (اصحاب فرائض میں سے)تو کیا میں اپنے کل مال کی وصیّت کردوں، آپ نے جواب ارشاد فرمایا:''نہیں''، میں نے عرض کیا:تو کیا دو ثلث کی وصیّت کردوں، آپ نے فرمایا:''نہیں''، میں نے عرض کیا :تو کیا آدھے مال کی، آپ نے فرمایا:''نہیں''، میں نے عرض کیا کہ کیا تہائی مال کی وصیّت کردوں، آپ نے فرمایا:''تہائی مال''اور تہائی مال بہت ہے۔ تیرا اپنے ورثاء کو غنی چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں محتاج چھوڑے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں اور بلاشبہ تو اﷲکی راہ میں اﷲکی رضا جوئی کے لئے کچھ خرچ نہیں کریگا مگر یہ کہ تجھے اس کااجر دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تواپنی بیوی کے مونھ میں اٹھا کر رکھے۔(2)(متفق علیہ،مشکوٰۃ،باب الوصایا،ص265)
حدیث 3: امام ترمذی نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا انھوں نے کہا کہ حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم میری بیماری میں عیادت کے لئے تشریف لائے آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے وصیّت کردی؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں، آپ نے فرمایا:کتنے مال کی وصیّت کی؟ میں نے عرض کیا:راہ خدا میں اپنے کل مال کی، آپ نے فرمایا:اپنی اولاد کے لئے کیا چھوڑا؟ میں نے عرض کیا: وہ لوگ اغنیا یعنی صاحب مال ہیں، آپ نے فرمایا:دسویں حصہ کی وصیّت کرو۔ تو میں برابر کم کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:ثلث مال کی وصیّت کرو اور ثلث مال بہت ہے۔(3) (مشکوٰۃ،ص265)
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الوصایا، باب الوصایا...إلخ، الحدیث:2738، ج2، ص230.
2 ۔''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الفرائض والوصایا، باب الوصایا، الحدیث:3071، ج1، ص566.
3 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الجنائز، باب ماجاء في الوصیۃ بالثلث...إلخ،الحدیث:977،ج2،ص292.
حدیث 4: ابو داود اور ابن ماجہ حضرت ابو امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، انھوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے سال اپنے خطبہ میں ارشاد فرماتے سنا کہ بے شک اﷲتعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق عطا فرمادیا پس وارث کے لئے کوئی وصیّت نہیں۔(1) (مشکوٰۃ،ص265) ترمذی کی ر وایت میں یہ الفاظ مزید ہیں کہ ''بچہ عورت کا ہے اور زانی کے لئے سنگساری، اور ان کا حساب اﷲپر ہے۔''(2)دار قطنی کی روایت میں ہے آپ نے فرمایا:''وارث کے لئے کوئی وصیّت نہیں مگر یہ کہ ورثہ چاہیں۔''(3)(مشکوٰۃ،ص265)
حدیث 5: امام ترمذی، ابو داود، ابن ماجہ اور امام احمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مردو عورت اﷲجل جلالہ کی اطاعت و فرمانبرداری ساٹھ سال(لمبے زمانہ)تک کرتے رہیں پھر ان کا وقت موت قریب آجائے اور وصیّت میں ضرر پہنچائیں توان کے لئے دوزخ کی آگ واجب ہوتی ہے، پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ نے آیت تلاوت فرمائی۔
(مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصٰی بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ۙ غَیۡرَ مُضَآرٍّ ۚ
اﷲتعالیٰ کے کلام
وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیۡمُ)
تک۔(4)(مشکوٰۃ،ص265)
حدیث 6: ابن ماجہ حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس کی موت وصیّت پر ہو(جوو صیت کرنے کے بعد انتقال کرے)وہ عظیم سنت پر مرا اور اس کی موت تقویٰ اور شہادت پر ہوئی اور اس حالت میں مرا کہ اس کی مغفرت ہوگئی۔(5) (مشکوٰۃ،باب الوصایا،ص266)
حدیث 7: ابو داود حضرت عمرو بن شعیب سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے باپ شعیب سے اور شعیب اپنے باپ عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت بیان کرتے ہیں کہ عاص بن وائل نے وصیّت کی کہ ا س کی جانب سے سو 100 غلام آز اد کئے جائیں تو اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کئے پھر اس کے بیٹے عمرو نے چاہا کہ اس کی جانب سے بقایا پچاس غلام آزاد کردے پس اس نے(اپنے بھائی یا ساتھیوں یا اپنے دل میں)کہا کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے دریافت کرلوں پس وہ آئے نبی
1 ۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الوصایا، باب لا وصیۃ لوارث،الحدیث:2713،ج3،ص310.
2 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الوصایا،باب ما جاء لا وصیۃ لوارث،الحدیث: 2127،ج4،ص42.
3 ۔''سنن الدار قطني''،کتاب الفرائض...إلخ،الحدیث:4104،ج4،ص112.
4 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الوصایا،باب ما جاء فی الضرارفی الوصیۃ،الحدیث:2124،ج4،ص41.
5 ۔ ''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الوصایا،باب الحث علی الوصیۃ،الحدیث:2701،ج3،ص304.
صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں اور عرض کیا:یارسول اﷲ!(صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم )میرے باپ نے وصیّت کی تھی کہ اس کی جانب سے سو 100 غلام آزاد کئے جائیں اور یہ کہ ہشام نے اس کی جانب سے پچاس غلام آزاد کردیئے ہیں اور اس پر پچاس باقی رہ گئے ہیں تو کیا میں اس کی طرف سے (اپنے باپ کی طرف سے)یہ پچاس آزاد کردوں؟ تو رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ مسلمان ہوتا پھر تم اس کی طرف سے غلام آزاد کرتے یا صدقہ کرتے یا حج ادا کرتے تو اس کو یہ پہنچتا۔ (1) (مشکوٰۃ،ص266)
حدیث 8: ابن ماجہ و بیہقی حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے:''جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا اﷲتعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کو کاٹ دے گا۔''(2) (مشکوٰۃ،ص266)
وصیّت کرنا جائز ہے قرآن کریم سے، حدیث شریف سے اور اجماع امت سے اس کی مشروعیت ثابت ہے۔ حدیث شریف میں وصیت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ (3)(جوہر ہ نیرہ ج2، و بدائع ج7،ص330)شریعت میں ایصاء یعنی وصیّت کرنے کامطلب یہ ہے کہ بطور احسان کسی کو اپنے مرنے کے بعد اپنے مال یا منفعت کا مالک بنانا(4)(تبیین از عالمگیری ج6، ص90)وصیّت کا رکن یہ ہے کہ یوں کہے ''میں نے فلاں کے لئے اتنے مال کی وصیّت کی یا فلاں کی طرف میں نے یہ وصیّت کی۔(5) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص90)وصیّت میں چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ (1) موصِی یعنی وصیّت کرنے والا (2) موصی ا لہ یعنی جس کے لئے وصیّت کی جائے (3) موصٰی بہ یعنی جس چیز کی وصیّت کی جائے(4) وصی یعنی جس کو وصیّت کی جائے۔(6) (کفایہ، عنایہ وعالمگیری، کفایہ از عالمگیری ج6،ص90مطبوعہ کوئٹہ پاکستان ،مصری چھاپہ)
مسئلہ 1: وصیّت کرنا مستحب ہے جب کہ ا س پر حقوق اﷲکی ادائیگی باقی نہ ہو،اگر اس پر حقوق اﷲکی ادائیگی باقی ہے جیسے اس پر کچھ نمازوں کا ادا کرنا باقی ہے یااس پر حج فرض تھا ادا نہ کیا یا روزہ رکھنا تھا نہ رکھا تو ایسی صورت میں ان کے لئے وصیّت کرنا واجب ہے۔(7) (تبیین از عالمگیری ج6، ص90 و قدوری، در مختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الوصایا، باب ما جاء في وصیۃ الحربي...إلخ، الحدیث:2883،ج3، ص163.
2 ۔ ''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الوصایا،باب الحیف فی الوصیۃ،الحدیث:2703،ج3،ص304.
3 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الوصایا، ج 6،ص422.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6،ص90.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 2: وصیّت چار قسم کی ہے۔(1) واجبہ جیسے زکوٰۃ کی وصیّت اور کفارات واجبہ کی وصیّت اور صدقہ، صیام و صلوٰۃ کی وصیّت(2) مباحہ، جیسے وصیّت اغنیا کے لئے(1) (3) وصیّت مکروہہ، جیسے اہل فسق و معصیت کے لئے وصیّت جب یہ گمان غالب ہوکہ وہ مال وصیّت گناہ میں صرف کریگا۔ (در مختار و ردالمحتارج5،ص453) (4)اس کے علاوہ کے لئے وصیّت مستحب ہے۔ (2)
مسئلہ 3: وصیّت کا رکن ایجاب و قبول ہے، ایجاب وصی کی طرف سے اور قبول موصی لہ کی طرف سے، امام اعظم اور صاحبین کے نزدیک۔(3) (بدائع ج7،ص331)
مسئلہ 4: موصٰی لہ صراحۃً یا دلالۃًموصی کی وصیّت کو قبول کرلے، صراحۃً یہ ہے کہ صاف الفاظ میں کہہ دے کہ میں نے قبول کیا اور دلالۃً یہ ہے کہ مثلاً موصٰی لہ وصیّت کو منظور یا نا منظور کرنے سے قبل انتقال کرجائے تو اس کی موت اس کی قبولیت سمجھی جائے گی اور وہ چیز اس کے ورثاء کو وراثت میں دیدی جائے گی۔ (4)(الوجیز لکردری از عالمگیری ج6،ص90)
مسئلہ 5: وصیّت قبول کرنے کا اعتبار موصی کی موت کے بعد ہے اگر موصیٰ لہنے موصی کی زندگی ہی میں اسے قبول کیا یا رد کیا تو یہ باطل ہے، موصی ا لہ کو اختیار رہے گا کہ وہ موصِی کے انتقال کے بعد وصیّت کو قبول کرے۔(5) (سراجیہ از عالمگیری ج6،ص90)
مسئلہ 6: وصیّت کو قبول کرنا کبھی عملاً بھی ہوتا ہے جیسے وصی کا وصیّت کو نافذ کرنا یا موصی کے ورثاء کے لئے کوئی چیز خریدنا یا موصی کے قرضوں کو اداکرنا وغیرہ۔(6) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص90)
مسئلہ 7: وصیّت کی شرط یہ ہے کہ موصی مالک بنانے کا اہل ہو اور موصی ا لہ مالک بننے کا اہل ہو اور موصی ا بہ موصی کی موت کے بعد قابل تملیک مال یا منفعت ہو۔(7) (کفایہ، عالمگیری ج6،ص90، بدائع ج7،ص432، ردالمحتارج5،ص454)
مسئلہ 8: ایصاء کا حکم یہ ہے کہ مال وصیّت(8)موصیٰ لہ کی ملکیت میں اسی طرح داخل ہوجاتا ہے جیسے ہبہ کیا ہوامال۔(9)(کفایہ از عالمگیری ج6،ص90، در مختار و بدائع ج7،ص233)
1 ۔یعنی مالدار وں کے لیے۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الوصایا، ج10، ص354.
3 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الوصایا،ج 6ص425.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب الاول فی تفسیرھا... إلخ، ج6، ص90.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
8 ۔یعنی جس مال کے متعلق وصیت کی گئی ہے۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا، الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ، ج6،ص90.
مسئلہ 9: مستحب یہ ہے کہ انسان اپنے تہائی مال سے کم میں وصیّت کرے خواہ ورثاء مالدار ہوں یا فقراء۔(1) (ہدایہ و عالمگیری ج6،ص90، قدوری، جوہرہ نیرہ)
مسئلہ 10: جس کے پاس مال تھوڑا ہو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ وصیّت نہ کرے جب کہ اس کے وارث موجود ہوں اور جس شخص کے پاس کثیر مال ہو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ اپنے ثلث مال(2)سے زیادہ کی وصیّت نہ کرے۔(3) (ردالمحتارج5، بدائع ج7،خزانۃ المفتییناز عالمگیری ج6،ص90)
مسئلہ 11: موصیٰ لہ (4)وصیّت قبول کرتے ہی موصی ا بہ کا مالک بن جاتا ہے خواہ اس نے موصیٰ بہ کو قبضہ میں لیا ہو یا نہ لیا ہو اور اگر موصیٰ لہ نے وصیّت کو قبول نہ کیا رد کردیا تو وصیّت باطل ہوجائے گی۔ (5)(کافی از عالمگیری ج6،ص90)
مسئلہ 12: وصیّت ثلث مال سے زیادہ کی جائز نہیں مگر یہ کہ وارث اگر بالغ ہیں اور نابالغ یا مجنون نہیں،اور وہ موصِی(6)کی موت کے بعد ثلث مال سے زائد کی وصیّت جائز کردیں تو صحیح ہے۔ موصی کی زندگی میں اگر وارثوں نے اجازت دی تو اس کا اعتبار نہیں۔ موصی کی موت کے بعد اجازت معتبر ہے۔(7) (عالمگیری ج6،ص90 وہدایہ)
مسئلہ 13: وارثوں کی اجازت کے بغیر اجنبی شخص کے لئے تہائی مال میں وصیّت صحیح ہے۔ (8)(تبیین از عالمگیری ج6،ص90)
مسئلہ 14: موصی نے اگر اپنے کل مال کی وصیّت کردی اور اس کا کوئی وارث نہیں ہے تو وصیّت نافذ ہوجائے گی بیت المال سے اجازت لینے کی حاجت نہیں۔ (9)(خزانۃ المفتییناز عالمگیری ج6،ص90 )
مسئلہ 15: احناف کے نزدیک وارث کے لئے وصیّت جائز نہیں مگر اس صورت میں جائز ہے کہ وارث اس کی اجازت
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا، الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ، ج 6،ص 90.
2 ۔یعنی تہائی مال۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا، الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ، ج 6،ص 90.
4 ۔جس کے لئے وصیت کی گئی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا، الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ، ج 6،ص 90.
6 ۔وصیت کرنے والا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6،ص90.
8 ۔المرجع السابق. 9 ۔المرجع السابق.
دیدیں اور اگر کسی نے وارث اور اجنبی دونوں کے لئے وصیّت کی تو اجنبی کے حق میں صحیح ہے اور وارث کے حق میں ورثہ کی اجازت پر موقوف رہے گی اگر انھوں نے جائز کردی تو جائز ہے اور اجازت نہیں دی تو باطل، اوریہ اجازت موصِی کی حیات میں معتبر نہیں یہاں تک کہ اگر وارثوں نے موصی کی حیات میں اجازت دی تھی پھر بھی انھیں موصِی کی موت کے بعد رجوع کرلینے کا حق ہے۔(1) (فتاویٰ قاضی خان از عالمگیری ج6،ص90)
مسئلہ 16: وارث اور غیر وارث ہونے کا اعتبار موصی کی موت کے وقت ہے نہ کہ بوقت وصیّت یعنی اگر موصی ا لہ بوقت وصیّت موصی کا وارث تھا اور موصی کی موت کے وقت وارث نہ رہا تو وصیّت صحیح ہوگی اور بوقت وصیّت وارث نہیں تھا پھر بوقت موت وارث ہوگیا تو وصیّت باطل ہوجائے گی۔ مثال کے طور پر اگر موصی نے اپنے بھائی کے لئے وصیّت کی اس حال میں کہ بھائی وارث تھا پھر موت سے پہلے موصِی کے لڑکا پیدا ہوگیا تو بھائی کے حق میں وصیت صحیح ہوگئی۔ اور اگر اس نے اپنے بھائی کے لیے اس حال میں وصیت کی کہ موصی کا لڑکا موجود ہے پھر موت سے پہلے اس کے لڑکے کا انتقال ہوگیا تو بھائی کے حق میں وصیّت باطل ہوجائے گی۔(2) (تبیین از عالمگیری ج6،ص91)
مسئلہ 17: وارثوں کی اجازت سے جب وصیّت جائز ہوگئی تو جس کے حق میں وصیّت جائز کی گئی وہ موصیٰ بہ کا مالک ہوجائے گا خواہ اس نے قبضہ نہ لیا ہو وارث کو اب رجوع کرنے کا حق نہیں رہا، وارث کی اجازت صحیح ہونے کے لئے شیوع مانع نہیں (یعنی موصی ا بہ کا مشترک ہونا)۔ (3)(کافی از عالمگیری ج6،ص91)
مسئلہ 18: کسی نے وارث کے لئے وصیّت کی دوسرے وارث نے اس کی اجازت دیدی اگر یہ اجازت دینے والا وارث بالغ مریض ہے تو اگر یہ اپنے مرض سے صحت یاب ہوگیاتو اس کی اجازت صحیح ہوگئی اور اگر اس بیماری میں فوت ہوگیا تو اس کی یہ اجازت بمنزلہ ابتدائے وصیّت کے قرار پائے گی یہاں تک کہ اگر موصی ا لہ اس متوفیٰ(4)اجازت دینے والے کا وارث ہے تو یہ وصیّت جائز نہ ہوگی مگر یہ کہ متوفٰی کے دوسرے ورثاء اس کی اجازت دیدیں اور اگر اس صورت میں موصی ا لہ وارث نہیں بلکہ اجنبی تھا تو یہ وصیّت صحیح ہوگی مگر ثلث مال میں جاری ہوگی۔(5) (محیط از عالمگیری ج6،ص91مطبوعہ پاکستان)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6، ص90.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص91.
4 ۔فوت شدہ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6،ص91.
مسئلہ 19: جس وصیّت کا جواز و نفاذ(1)ورثہ کی اجازت پر ہے اُن میں اگر بعض ورثہ نے اجازت دے دی اور بعض نے اجازت نہ دی یعنی بعض نے رد کردی تو اجازت دینے والے ورثہ کے حصہ میں نافذ ہوگی اور دوسرے کے حق میں باطل۔(2)(کافی از عالمگیری ج6،ص91)
مسئلہ 20: ہر وہ مقام جہاں ورثہ کی اجازت کی حاجت ہے اس اجازت میں شرط یہ ہے کہ مجیز اہل اجازت سے ہو مثلاً بالغ اور عاقل اور صحیح یعنی غیر مریض ہو۔ (3)(خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص91)
مسئلہ 21: موصی کی وصیّت اپنے قاتل کے لئے جائز نہیں خواہ موصی کا قتل اس نے عمداً کیا ہو یا خطاء ً، خواہ موصی نے اپنے قاتل کے لئے وصیّت زخمی ہونے سے قبل کی ہو یا بعد میں لیکن اگر وارثوں نے اس وصیّت کو جائز کردیا تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہم اللہ کے نزدیک جائزہے۔(4) (مبسوط از عالمگیری ج6،ص91 وقدوری)
مسئلہ 22: ان صورتوں میں قاتل کے لئے وصیّت جائز ہے جب کہ قاتل نابالغ بچہ یا پاگل ہو اگر چہ ورثہ اس کو جائز نہ کریں یا یہ کہ قاتل کے علاوہ موصی کا کوئی دوسرا وارث نہ ہو یہ امام ابو حنیفہ اور امام محمدرحمہم اللہ تعالٰی کے نزدیک ہے۔ (5)(عالمگیری ج6ص91)
مسئلہ 23: کسی عورت نے مرد کو کسی دھار دار لوہے کی چیز سے یا بغیر دھار چیز سے مارا پھر اُسی مرد نے اس قاتلہ کے لئے وصیّت کی پھر اس سے نکاح کرلیا تو اس عورت کو اس مردکی میراث نہ ملے گی نہ وصیّت،اس کو صرف اس کا مہر مثل ملے گا، مہر مثل مہر معین سے جس قدر زیادہ ہوگا وہ و صیت شمار ہوکر باطل قرار پائے گا۔(6) (عالمگیری ج6،ص91)
مسئلہ 24: عمداً (7)قتل میں معاف کردینا جائز ہے اور اگر خطاء ً قتل ہوا اور معاف کردیا تو یہ وصیّت شمار ہوگا لہٰذا ثُلث مال میں نافذ ہوگا۔(8) (عالمگیری ج6،ص91)
مسئلہ 25: موصِی نے کسی شخص کے لئے وصیّت کی پھرموصیٰ لہ کے خلاف دلیل قائم ہوگئی کہ وہ موصِی کا قاتل ہے اور
1 ۔یعنی جائز ونافذ ہونا۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6، ص91.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6، ص91.
7 ۔ارادۃ،جان بوجھ کر۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6،ص91.
بعض ورثاء نے اس کی تصدیق کی اور بعض نے تکذیب، تو موصی ا لہ مقتول کی دیت ادا کرنے میں تکذیب کرنے والے وارثوں کے بقدر حصہ بری ہوگا اور موصی کی وصیت ان کے حصہ میں بقدر ثلث نافذ ہوگی اور تصدیق کرنے والے ورثہ کو موصی ا لہ بقدر ان کے حصہ کے دیت ادا کریگا اور ان کے حصہ میں اُس کے لئے وصیّت باطل ہوگی۔(1) (عالمگیری ج6،ص91)
مسئلہ 26: وصیّت جائز ہے اپنے وارث کے بیٹے کے لئے اور جائز ہے وصیّت قاتل کے باپ دادا کے لئے اور قاتل کے بیٹے پوتے کے لئے۔ (2)(فتاویٰ قاضی خان از عالمگیری ج6،ص91)
مسئلہ 27: اگر یہ وصیّت کی کہ فلاں کے گھوڑے پر ہر ماہ دس روپے خرچ کئے جائیں تو وصیّت صاحب فرس(یعنی گھوڑے کے مالک)کے لئے ہے لہٰذا اگر مالک نے گھوڑا بیچ دیا تو وصیّت باطل ہوجائے گی۔(3) (ظہیریہ از عالمگیری ج6،ص91)
مسئلہ 28: مسلم کی وصیّت ذمی کے لئے اور ذمی کی وصیّت مسلمان کے لئے جائز ہے۔ (4)(کافی ازعالمگیری ج6،ص91)
مسئلہ 29: ذمی کی وصیّت کافر حربی غیر مستامن کے لئے (جو دار الاسلام میں امان لئے نہ ہو)صحیح نہیں۔(5) (بدائع از عالمگیری ج6،ص91)
مسئلہ 30: کافر حربی دار الحرب میں ہے اور مسلمان دار الاسلام میں ہے اس مسلمان نے اس کافر حربی کے لئے وصیّت کی تو یہ وصیّت جائز نہیں اگرچہ ورثہ اس کی اجازت دیں اور اگر حربی موصیٰ لہ دار الاسلام میں امان لے کر داخل ہوا اور اپنی وصیّت حاصل کرنے کا قصد و ارادہ کیا تو اسے مال وصیّت سے کچھ لینے کا اختیار نہیں خواہ ورثاء اس کی اجازت دیں اور اگر موصی بھی دار الحرب میں ہو تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ (6)(محیط از عالمگیری ج6،ص92)
مسئلہ 31: کافر حربی دار الاسلام میں امان لے کر آیا مسلمان نے اس کے لئے وصیّت کی تو یہ وصیّت ثُلث مال میں جائز ہوگی خواہ ورثاء اس کی اجازت دیں یا نہ دیں لیکن ثُلث مال سے زائد میں ورثہ کی اجازت کی ضرورت ہے، کافر حربی مستامن کے لئے یہی حکم ہبہ کرنے اور صدقہ نافلہ دینے کا ہے۔ (7)(تاتار خانیہ از عالمگیری ج6،ص92)
مسئلہ 32: مسلمان کی وصیّت مرتد کے لئے جائز نہیں۔ (8)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص92)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6،ص91.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق، ص92 .
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 33: کسی شخص نے وصیّت کی لیکن اس پر اتنا قرض ہے کہ اس کے پورے مال کو محیط ہے(1)تو یہ وصیّت جائز نہیں مگر یہ کہ قرض خواہ اپنا قرض معاف کردیں۔ (2) (ہدایہ از عالمگیری ج6،ص92)
مسئلہ 34: وصیّت کرنا اس کا صحیح ہے جو اپنا مال بطور احسان و حسن سلوک کسی کو دے سکتا ہو لہٰذا پاگل، دیوانے اور مکاتب و ماذون کا وصیّت کرنا صحیح نہیں اور یونہی اگر مجنون نے وصیّت کی پھر صحت پاکر مرگیا یہ وصیّت بھی صحیح نہیں کیونکہ بوقت وصیّت وہ اہل نہیں تھا۔ (3)(ہدایہ والاختیار شرح المختار از عالمگیری ج6،ص92)
مسئلہ 35: بچہ کی وصیّت خواہ وہ قریب البلوغ ہوجائز نہیں۔ (4)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص92)
مسئلہ 36: وصیّت مذاق میں، جبر و اکراہ کی حالت میں اور خطاء ً مونھ سے نکل جانے سے صحیح نہیں۔ (5) (بدائع از عالمگیری ج6،ص92)
مسئلہ 37: آزاد عاقل خواہ مرد ہو یا عورت اس کی وصیّت جائز ہے اور وہ مسافر جو اپنے مال سے دور ہے اس کی وصیّت جائز ہے۔ (6) (فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص92)
مسئلہ 38: پیٹ کے بچہ کی اور پیٹ کے بچے کے لئے وصیّت جائز ہے بشرطیکہ وہ بچہ وقت وصیّت سے چھ ماہ سے پہلے پہلے پیدا ہوجائے۔(7)(عالمگیری ج6،ص92)
مسئلہ 39: اگر کسی شخص نے یہ وصیّت کی کہ ''میری یہ لونڈی فلاں کے لئے ہے مگر اس کے پیٹ کا بچہ نہیں'' تو یہ وصیّت اور استثناء دونوں جائز ہیں۔ (8) (کافی از عالمگیری ج6،ص92)
مسئلہ 40: موصی نے اپنی بیوی کے پیٹ میں بچہ کے لئے وصیّت کی پھر وہ بچہ موصِی کے انتقال اور اسکی وصیّت کے ایک ماہ بعد مرا ہوا پیدا ہوا تو اس کے لئے وصیّت صحیح نہیں اور اگر زندہ پیدا ہوا پھرمرگیا تو وصیّت جائز ہے موصی کے تہائی مال میں نافذ ہوگی اور اس بچہ کے وارثوں میں تقسیم ہوگی، اورا گر موصِی کی بیوی کے دو جڑواں بچے ہوئے یعنی ایک ہی حمل میں اور ان میں سے ایک زندہ اور ایک مردہ ہے تو وصیّت زندہ کے حق میں نافذ ہوگی اور اگر دونوں زندہ پیدا ہوئے پھر ایک انتقال کرگیا تو وصیّت ان دونوں کے درمیان نصف نصف نافذ ہوگی اور جس بچہ کا انتقال ہوگیا اس کا حصہ
1 ۔یعنی گھیرے ہوئے ہے۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا، الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ، ج6، ص92.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق.
اس کے وارثوں کی میراث ہوگا۔ (1)(عالمگیری ج6،ص92)
مسئلہ 41: موصِی نے یہ وصیّت کی کہ اگر فلاں عورت کے پیٹ میں لڑکی ہے تو اس کے لئے ایک ہزار روپے کی وصیّت ہے اور اگر لڑکا ہے تو اس کے لئے دو ہزار روپے کی وصیّت ہے پھر اس عورت نے چھ ماہ سے ایک یوم قبل لڑکی کو جنم دیااور اس کے دو دن یا تین دن بعد لڑکا جنا تو دونوں کے لئے وصیّت نافذ ہوگی اور موصِی کے تہائی مال سے دی جائے گی۔ (2)(عالمگیری ج6،ص92)
مسئلہ 1: وصیّت کرنے والے کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی وصیّت سے رجوع کرلے، یہ رجوع کبھی صریحا ًہوتا ہے اور کبھی دلالۃً۔ صریحاً کی صورت یہ ہے کہ صاف لفظوں میں کہے کہ میں نے وصیّت سے رجوع کرلیا یا اسی قسم کے اور کوئی صریح لفظ بولے اور دلالۃًرجوع کرنے کی صورت یہ ہے کہ کوئی ایسا عمل کرے جو رجوع کرلینے پر دلالت کرے، اس کے لئے اصل کلی(3)یہ ہے کہ ہر ایسا فعل جسے ملکِ غیر(4)میں عمل میں لانے سے مالک کا حق منقطع(5)ہوجائے، اگر موصی ایسا کام کرے تو یہ اس کااپنی وصیّت سے رجوع کرنا ہوگا۔ اسی طرح ہر وہ فعل جس سے موصی ا بہ میں زیادتی اور اضافہ ہوجائے اور ا س زیادتی کے بغیرموصٰی بہٖ(6)کو موصی ا لہ(7)کے حوالے نہ کیا جاسکے تو یہ فعل بھی رجوع کرنا ہے، اسی طرح ہر وہ تصرف جو موصیٰ بہ کو موصِی کی ملکیت سے خارج کردے یہ بھی رجوع کرنا ہے۔(8) (عالمگیری ج6،ص92)ان اصولوں سے مندرجہ ذیل مسائل نکلتے ہیں:
مسئلہ 2: موصِی نے کسی کپڑے کی وصیّت کی پھر اس کپڑے کو کاٹا اور سی لیا یا روئی کی وصیّت کی پھر اسے سوت بنالیا یاسوت کی وصیّت کی پھر اسے بُن لیایا لوہے کی وصیّت کی پھر اُسے برتن بنالیا تو یہ سب صورتیں وصیّت سے رجوع کرلینے کی ہیں۔(9) (عالمگیری ج6،ص93)
مسئلہ 3: چاندی کے ٹکڑے کی وصیّت کی پھر اس کی انگوٹھی بنالی یا سونے کے ٹکڑے کی وصیت کی پھر اس کا کوئی زیور
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا، الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6،ص92.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی قاعدہ کلیہ۔ 4 ۔یعنی دوسرے کی ملکیت۔ 5 ۔ختم۔
6 ۔جس چیز کی وصیت کی گئی ۔ 7 ۔جس کے لیے وصیت کی گئی۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا، الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6،ص92.
9 ۔المرجع السابق،ص92،93.
بنالیا یہ رجوع صحیح نہیں ہے۔ (1)(محیط از عالمگیری ج6،ص93)
مسئلہ 4: اگر موصِی نے موصی ا بہ کو فروخت کردیا پھر اس کو خرید لیایا اس نے موصی ا بہ کو ہبہ کردیاپھر اس سے رجوع کرلیا تو وصیّت باطل ہوجائے گی۔ (2)(عالمگیری ج6،ص93)
مسئلہ 5: جس بکری کی وصیّت کردی تھی اُسے ذبح کرلیا یہ بھی وصیّت سے رجوع کرلینا ہے لیکن جس کپڑے کی وصیّت کی تھی اسے دھویا تو یہ رجوع نہیں۔ (3)(عالمگیری ج6،ص93)
مسئلہ 6: پہلے وصیّت کردی پھر اس سے منکر ہوگیا تو اس کا یہ انکار اگر موصیٰ لہ کی عدم موجودگی میں ہو تو یہ رجوع نہیں لیکن اگر موصی ا لہ کی موجودگی میں انکار کیا تو یہ وصیّت سے رجوع ہے۔(4) (مبسوط از عالمگیری ج6،ص93)
مسئلہ 7: موصِی نے کہا کہ میں نے فلاں کے لئے جو بھی وصیّت کی وہ حرام ہے یا ربوٰ(سود)ہے تو یہ رجوع نہیں لیکن اگر یہ کہا کہ وہ باطل ہے تو یہ رجوع ہے۔(5) (کافی از عالمگیری ج6،ص93)
مسئلہ 8: لوہے کی وصیّت کی پھر اس کی تلوار یا زرہ(6)بنالی تو یہ رجوع ہے۔(7) (عالمگیری ج6،ص93)
مسئلہ 9: گیہوں کی وصیّت کی پھر اس کا آٹا پسوالیا یا آٹے کی وصیّت کی پھر اس کی روٹی پکالی تو یہ وصیّت سے رجوع کرلینا ہے۔(8) (عالمگیری ج6،ص93)
مسئلہ 10: گھر کی وصیّت کی پھر اس میں گچ کرایا(9)یااس کو گرادیا تو یہ رجوع نہیں اگر اس کی بہت زیادہ لہسائی(10)کرائی تو یہ رجوع ہے۔ (11)(قاضی خاں ازعالمگیری ج6،ص93)
مسئلہ 11: زمین کی وصیّت کی پھر اس میں انگور کا باغ لگایا یا دیگر پیڑ لگادیئے تو یہ رجوع ہے اور اگر زمین کی وصیّت کی پھر اس میں سبزی اگائی تو یہ رجوع نہیں۔ (12)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص93)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6،ص93.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔جنگ میں پہنا جانے والا لوہے کا لباس ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا، الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6،ص93.
8 ۔المرجع السابق.
9 ۔یعنی چونے کا پلستر کرایا۔ 10 ۔گیلی مٹی یا گارے سے دیواروں کو لیپ کر ہموار کرنا،لپائی۔
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6،ص93.
12 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 12: انگور کی وصیّت کی پھر وہ منقّٰی ہوگیا یا چاندی کی وصیّت کی پھر وہ انگوٹھی میں تبدیل ہوگئی یا انڈے کی وصیّت کی پھر اس سے بچہ نکل آیا، گیہوں کی بال کی وصیّت کی پھر وہ گیہوں ہوگیا اگر یہ تبدیلیاں موصِی کی موت سے پہلے وقوع میں آئیں تو وصیّت باطل ہوگئی اور اگر موصی کے انتقال کے بعد یہ تبدیلیاں ہوئیں تو وصیّت نافذ ہوگی۔(1) (عالمگیری ج6،ص94،مطبوعہ پاکستان)
مسئلہ 13: ایک شخص نے دوسرے کے مال میں ایک ہزار روپے کی وصیّت کسی کے لئے کردی یااُس کے کپڑے کی وصیّت کردی اور اس دوسرے شخص یعنی مالک نے وصیّت کرنے والے کی موت سے پہلے یا موت کے بعد اسے جائز کردیا تواس مالک کے لئے اس وصیّت سے رجوع کرلینا جائز ہے جب تک موصٰی لہ کے سپرد نہ کردے لیکن اگر موصٰی لہ نے قبضہ لے لیاتو وصیّت نافذ ہوجائے گی کیونکہ مالِ غیر کی وصیّت ایسی ہے جیسے مالِ غیر کو ہبہ کرنا لہٰذا بغیر تسلیم اور قبضہ کے صحیح نہیں۔(2)(مبسوط از عالمگیری ج6،ص94)
''کن الفاظ سے وصیّت ثابت ہوتی ہے اور کن الفاظ سے نہیں نیز کونسی وصیّت جائز ہے اور کونسی نہیں۔''
مسئلہ 1: کسی شخص نے دوسرے سے کہا کہ تو میرے مرنے کے بعد میرا وکیل ہے تو وہ اس کا وصی ہوگا اور اگر یہ کہا کہ تو میری زندگی میں میرا وصی ہے تو وہ اس کا وکیل ہوگا۔(3) (ظہیریہ از عالمگیری ج6،ص94)
مسئلہ 2: اگر کسی نے دوسرے شخص سے کہا کہ تجھے سو100 روپے اجرت ملے گی اس شرط پر کہ تو میرا وصی بن جائے، تو یہ شرط باطل ہے سو100روپے اس کے حق میں وصیّت ہیں اور وہ اس کا وصی مانا جائے گا۔(4) (خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص94)
مسئلہ 3: ایک شخص نے کہا کہ تم لوگ گواہ رہو کہ میں نے فلاں شخص کے لئے ایک ہزار روپے کی وصیّت کردی اور میں نے وصیّت کی کہ میرے مال میں فلاں کے ایک ہزار روپے ہیں تو پہلی صورت وصیّت کی ہے اور دوسری صورت اقرار کی ہے۔(5) (عالمگیری ج6،ص94)
مسئلہ 4: کسی نے وصیّت میں یہ لفظ کہے کہ میرا تہائی مکان فلاں کے لئے ہے میں اس کی اجازت دیتا ہوں، تو یہ وصیّت ہے اور اگر یہ الفاظ کہے کہ میرے مکان میں فلاں شخص کا چھٹا حصہ ہے تو یہ اقرار ہے۔(6) (عالمگیری ج6ص94) اسی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الاول فی تفسیرھا...إلخ،ج6،ص94.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص94.
4 ۔المرجع السابق،ص94. 5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
اصول پر اگر اس نے وصیّت کے موقع پر یوں کہا کہ فلاں کے لئے میرے مال سے ہزار درہم ہیں تو یہ استحساناً وصیّت ہے اور اگر یوں کہا کہ فلاں کے میرے مال میں ہزار درہم ہیں تو یہ اقرار ہے۔(1) (عالمگیری ج6،ص94)
مسئلہ 5: اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ میرا یہ مکان (گھر)فلاں کے لئے اور اس وقت وصیّت کا کوئی ذکر نہ تھا نہ یہ کہا کہ میرے مرنے کے بعد، تو یہ ہبہ ہے اگر موہوب لہ نے ہبہ کرنے والے کی زندگی ہی میں قبضہ لے لیا تو صحیح ہوگیا اور اگر قبضہ نہ لیا تھا کہ ہبہ کرنے والے کی موت واقع ہوگئی تو ہبہ باطل ہوگیا۔(2)(عالمگیری ج6،ص94)
مسئلہ 6: وصیّت کرنے والے نے کہا کہ میں نے وصیت کی کہ فلاں شخص کو میرے مرنے کے بعد میرا تہائی مکان ہبہ کردیا جائے تو یہ وصیت ہے اور اس میں موصی کی زندگی میں قبضہ لینا شرط نہیں ہے۔(3) (عالمگیری ج6،ص94)
مسئلہ 7: مریض نے کسی شخص سے کہا کہ میرے ذمہ کا قرض ادا کردے تو یہ شخص اس کا وصی بن گیا۔(4) (خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص94)
مسئلہ 8: کسی شخص نے حالت مرض یا حالت صحت میں کہا کہ اگر میرا حادثہ ہوجائے تو فلاں کے لئے اتنا ہے تو یہ وصیّت ہے، اور حادثہ کا مطلب موت ہے،اسی طرح اگر اس نے یہ کہا کہ فلاں کے لئے میر ے ثلث مال سے ہزار درہم ہیں تو یہ وصیّت شما رہوگی۔ (5)(عالمگیری ج6،ص94)
مسئلہ 9: کسی شخص نے یہ وصیّت کی کہ میرے والد کی وصیّت سے جو تحریر شدہ وصیّت ہے اور میں نے اسے نافذ نہ کیا ہو تو تم اسے نافذ کردینا یا اس نے بحالت مرض اپنے نفس پر اس کا اقرار کیا (یعنی یہ اقرار کیا کہ میرے والد کی وصیّت کا نفاذ میرے ذمہ باقی ہے) تو وصیّت ہے اگر ورثہ اس کی تصدیق کردیں اور اگر ورثہ نے اس کی تکذیب کی تو یہ موصِی کے ثلث مال میں نافذ ہوگی۔ (6)(ظہیریہ از عالمگیری ج6،ص94)
مسئلہ 10: مریض نے صرف اتنا کہا کہ میرے مال سے ایک ہزار نکال لو یا یہ کہا ''ایک ہزار درہم نکال لو''اور اس کے علاوہ کچھ نہ کہا پھر وہ مرگیا تو اگر یہ الفاظ وصیّت میں کہے تو وصیّت صحیح ہوگئی، اتنا مال فقراء پر صرف کیا جائے گا۔ اسی طرح کسی مریض سے کہا گیا کہ کچھ مال کی وصیّت کردو اس نے کہا ''میرا تہائی مال''، اس سے زیادہ نہ کہا، تو اگر یہ سوال کے فوراً بعد کہا تو اس کا تہائی مال فقراء پر صرف کیا جائے گا۔ (7)(عالمگیری ج6،ص95)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص94.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق ،ص95.
مسئلہ 11: ایک شخص نے وصیّت کی کہ لوگوں کو ایک ہزار درہم دیئے جائیں تو یہ وصیّت باطل ہے اگر اس نے یہ کہا ایک ہزار درہم صدقہ کردو تو یہ جائز ہے فقراء پر خرچ کئے جائیں۔ (1)(عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 12: ایک شخص نے یہ کہا کہ اگر میں اپنے اس سفر میں مرجاؤں تو فلاں شخص کے مجھ پر ہزار درہم قرض ہیں تو یہ وصیّت شمار ہوگی اور اس کے تہائی مال میں نافذ ہوگی۔ (2)(محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 13: کسی شخص نے وصیّت کی کہ میرا جنازہ فلاں بستی یا شہر میں لے جایا جائے اور وہاں دفن کیا جاوے اور وہاں میرے تہائی مال سے ایک رباط(سرائے)(3)تعمیر کیا جائے تو یہ رباط تعمیر کرنے کی وصیّت جائز ہے اور جنازہ وہاں لے جانے کی وصیّت باطل اور اگر وصی بغیر ورثہ کی اجازت و رضا مندی کے اُس کا جنازہ وہاں لے گیا تو اس کے اخراجات کا ضامن خود ہوگا۔ (4)(عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 14: اگر کسی شخص نے اپنی قبر کو پختہ خوبصورت بنانے کی وصیّت کی تو یہ وصیّت باطل ہے۔ (5)(عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 15: کوئی شخص یہ وصیّت کرے کہ میرے مرنے کے بعد کھانا تیار کیا جائے اور تعزیت کرنے کے لئے آنے والوں کو کھلایا جائے تو یہ وصیّت ثلث مال میں نافذ ہوگی یہ کھانا ان لوگوں کے لئے ہوگا جو میت کے مکان پر طویل قیام رکھتے ہیں یا وہ دور دراز علاقے سے آئے ہوں اور اس میں غریب امیر سب برابر ہیں سب کو یہ کھانا جائز ہے لیکن جو لمبی مسافت طے کرکے نہیں آیا یا اس کا قیام طویل نہیں ہے ان کے لئے یہ کھانا جائز نہیں، اگر وصی نے کھانا زیادہ تیار کرادیا کہ یہ لوگ کھاچکے اور کھانا بہت زیادہ بچ رہا تو وصی اس زیادہ خرچ کا ضامن ہوگا اور کھانا بہت تھوڑا بچا تو وصی ضامن نہ ہوگا۔(6) (عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 16: ایک شخص نے وصیّت کی کہ میرے مرنے کے بعد لوگوں کے لئے تین دن کھانا پکوایا جائے تو یہ وصیّت باطل ہے۔(7) (عالمگیری ج6،ص95، جد الممتار حاشیہ ردالمحتار مخطوطہ)
فائدہ: اہل مصیبت یعنی جس کے گھر میں موت ہوئی ان کو کھانا پکا کردینا اور کھلانا پہلے دن میں جائز ہے کیونکہ وہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص95.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔مسافر خانہ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص95.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
میت کی تجہیز و تکفین میں مشغولیت اور شدتِ غم کی وجہ سے کھانا نہیں پکا سکتے ہیں لیکن موت کے بعد تیسرے دن غیر مستحب مکروہ ہے۔ (1)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص95، کشف الغطاء و تاتار خانیہ از فتاویٰ رضویہ)اور اگر تعزیت کے لئے عورتیں جمع ہوں کہ نوحہ کریں تو انہیں کھانا نہ دیا جائے کہ گناہ پر مدد دینا ہے۔ (2) (فتاویٰ قاضی خاں)
مسئلہ 17: کسی شخص نے یہ وصیّت کی کہ اسے ایک ہزار دینا ریا دس ہزار درہم کی قیمت کا کفن دیا جائے تو یہ وصیّت نافذ نہ ہوگی اسے اوسط درجہ کا کفن دیا جائے گا جس میں نہ فضول خرچی ہو اور نہ بخل اور نہ تنگی۔ (واقعات الناطفی از عالمگیری ج6،ص95)اسی میں دوسری جگہ بیان کیا گیا ہے کہ ایسے شخص کو کفن مثل دیا جائے گا اور کفن مثل یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں جمعہ و عیدین اور شادیوں میں شرکت کے لئے جس قسم کا اور جس قیمت کا کپڑا پہنتا تھا اسی قیمت اور اسی قسم کے کپڑے کا کفن اُسے دیا جائے گا۔ (3) (تاتار خانیہ از عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 18: عورت نے اپنے شوہر کو وصیّت کی کہ اس کا کفن وہ اس کے مہر میں سے دے جو شوہر پر واجب ہے تو عورت کا اپنے کفن کے بارے میں کچھ کہنا یامنع کرنا باطل ہے۔ (4) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 19: اپنے گھر میں دفن کرنے کی وصیّت کی تو یہ وصیّت باطل ہے لیکن اگر اس نے یہ وصیّت کی کہ میرا گھر مسلمانوں کے لئے قبرستان بنادیا جائے تو پھر اس گھر میں اس کا دفن کرنا جائز و صحیح ہے۔ (5) (عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 20: یہ وصیّت کی کہ مجھے اپنے کمرے میں دفن کیا جائے تو یہ وصیّت صحیح نہیں، اسے مقابر مسلمین میں دفن کیا جائے گا۔ (6)(الفتاویٰ الخلاصہ از عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 21: یہ وصیّت کی کہ میرے جنازے کی نماز فلاں شخص پڑھائے تو یہ وصیّت باطل ہے۔ (7)(العیون والفتاویٰ الخلاصہ از عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 22: کسی نے وصیّت کی کہ میرا ثلث مال مسلمان میتوں کے کفن یا اُن کی گورکنی میں(8)یا مسلمانوں کو پانی پلانے میں خرچ کیا جائے، تو یہ وصیّت باطل ہے اور اگر وصیّت کی کہ میرا ثلث مال فقرائے مسلمین کے کفن میں خرچ کیا جائے یا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص95.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوصایا،ج2،ص422.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص95.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
8 ۔یعنی قبریں کھودنے میں۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص95.
ان کی قبریں کھودوانے میں خرچ کیا جائے تو یہ جائز ہے وصیّت صحیح ہے۔(9) (عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 23: موصی نے وصیّت کی کہ میرا گھر قبرستان بنادیا جائے پھر اس کے کسی وارث کا انتقال ہوا تواس میں اس وارث کو دفن کرنا جائز ہے۔(1) (عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 24: کسی شخص نے وصیّت کی کہ میر اگھر لوگوں کو ٹھہرانے کے لئے سرائے بنادیا جائے تو یہ وصیّت صحیح نہیں۔ (2) (فتاویٰ الفضلی از عالمگیری ج6، ص95)بخلاف اس کے کہ اگر یہ وصیّت کی کہ میرا گھر سقایہ (3)بنادیا جائے تو وصیّت صحیح ہے۔(4) (تاتار خانیہ از عالمگیری ج6،ص95)
مسئلہ 25: مرنے والے نے وصیّت کی کہ میرے مرنے کے بعد مجھے اسی ٹاٹ یا کمبل میں دفن کیا جائے یا میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگادی جائے یا میرے پاؤں میں بیڑی ڈال دی جائے تو یہ وصیّت خلاف شرع اور باطل ہے۔ (5)(عالمگیری ج6،ص96)اور اسے کفن مثل دیا جائے گا اور اسے عام مسلمانوں کی طرح دفن کیا جائے گا۔
مسئلہ 26: اپنی قبر کو مٹی گارے سے لیپنے کی وصیّت کی یا اپنی قبر پر قبہ(6)تعمیر کرنے کی وصیّت کی تو یہ وصیّت باطل ہے لیکن اگر قبر ایسی جگہ ہے جس کو درندوں اور جانوروں کے خوف سے لیپنے کی ضرورت ہے تو وصیّت نافذ ہوگی۔ (7)(عالمگیری ج6،ص96)
مسئلہ 27: اپنے مرض الموت میں کسی نے اپنی لڑکی کو پچاس روپے دیئے اور کہا کہ اگر میری موت ہوجائے تو میری قبر تعمیر کرانا اور اسی کے قریب رہنا اور اس میں سے تیرے لئے پانچ روپے ہیں باقی روپے سے گیہوں خرید کرکے صدقہ کردینا تو اس لڑکی کو یہ پانچ روپے لینا جائز نہیں اور اگر قبر کو مضبوطی کے لئے بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ زینت و آرائش کے لئے تو بقدر ضرورت اسے تعمیر کرایا جائے گا اور باقی فقراء پرصدقہ کردیا جائے گا۔(8) (عالمگیری ج6،ص96)
مسئلہ 28: یہ وصیّت کی کہ میرے مال سے کسی آدمی کو اتنا مال دیا جائے کہ وہ میری قبر پر قرآن پاک کی تلاوت
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص95.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔پانی کی سبیل ،پانی پلانے کی جگہ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص95.
5 ۔المرجع السابق،ص95.
6 ۔یعنی گنبد۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص96.
8 ۔المرجع السابق.
کرے تو یہ وصیّت باطل ہے۔(1) (عالمگیری ج6،ص96)
مسئلہ 29: کسی نے وصیّت کی کہ اس کی کتابیں دفن کردی جائیں تو ان کتابوں کو دفن کرنا جائز نہیں مگر یہ کہ ان کتابوں میں ایسی چیزیں ہوں جو کسی کی سمجھ میں نہ آتی ہوں یا ان کتابوں میں ایسا مواد ہو جس سے فساد پیدا ہوتا ہو۔(2)(محیط )فساد معاشرہ کا ہو یا عقیدہ و مذہب کا۔(عالمگیری ج6،ص96)
مسئلہ 30: بیت المقدس کے لئے اپنے ثلث مال کی وصیّت کی تو جائز ہے اور یہ مال بیت المقدس کی عمارت اور چراغ بتی و روشنی وغیرہ پرخرچ ہوگا۔ (عالمگیری ج6،ص96)فقہاء نے اس مسئلہ سے وقف مسجد کی آمدنی سے مسجد کے اندر روشنی کرنے کے جواز کا قول کیا ہے۔ (3)(عالمگیری ج6،ص96)
مسئلہ 31: موصِی نے اپنے مال سے جہاد فی سبیل اﷲکرنے کی وصیّت کی تو وصی کو جہاد کرنے والے شخص کو اس کے کھانے پینے آنے جانے اور مورچہ پر رہنے کا خرچہ موصی کے مال سے دینا ہوگا، لیکن مجاہد کے گھر کا خرچ اس میں نہیں، اگر مجاہد پر خرچ کرنے سے کچھ مال بچ گیا تو وہ موصِی کے ورثہ کو واپس کردیا جائے گا اورمناسب یہ ہے کہ موصی کی طرف سے جہاد کے لئے موصِی کے گھر سے روانہ ہو جیسے کہ حج کی وصیّت میں موصی کے گھر سے روانہ ہونا ہے۔(4) (عالمگیری ج6،ص96)
مسئلہ 32: مسلمان کی وصیّت عیسائی فقراء کے لئے جائز ہے لیکن ان کے لئے گر جا تعمیر کرنے کی وصیّت جائز نہیں کیوں کہ یہ گناہ ہے اور جو شخص اس گناہ میں اعانت کریگا گناہگار ہوگا۔(5) (عالمگیری ج6،ص96)
مسئلہ 33: یہ وصیّت کی کہ میر اثلث مال مسجد پر خرچ کیا جائے تو یہ جائز ہے اور یہ مال مسجد کی تعمیر اور اس کے چراغ و بتی وغیرہ پر خرچ ہوگا۔(6) (عالمگیری ج6،ص96)
مسئلہ 34: ایک شخص نے اپنی اس زمین کی وصیّت کی جس میں کھیتی(7)کھڑی ہے لیکن کھیتی کی وصیّت نہیں کی تو یہ جائز ہے اور یہ کھیتی کٹنے کے وقت تک اس میں باقی رہے گی اور اس کا معاوضہ دیا جائے گا۔(8) (فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص96)
مسئلہ 35: کسی نے وصیّت کی کہ میرا گھوڑا میری طرف سے اﷲکی راہ میں جہاد کرنے میں استعمال کیاجائے تو یہ وصیّت جائز ہے اور اسے غزوہ میں استعمال کیا جائے گا، استعمال کرنے والا امیر ہو یا غریب اور جب غازی غزوہ سے واپس آئے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص96.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔یعنی فصل۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص96.
تو گھوڑا ورثہ کو واپس کردے اور ورثہ اس گھوڑے کو ہمیشہ غزوہ کے لئے دیتے رہیں گے۔(1) (محیط از عالمگیری ج6،ص96)
مسئلہ 36: اگر کسی نے یہ وصیّت کی کہ میرا گھوڑا اور میرے ہتھیار فی سبیل اﷲہیں تو اس کامطلب کسی کو مالک بنادینا ہے لہٰذا کوئی غریب و فقیر آدمی ان کا مالک بنادیا جائے گا۔(2) (عالمگیری ج6،ص96)
مسئلہ 37: کسی شخص نے یہ وصیّت کی کہ اس کی آراضی(3)مساکین کے لئے قبرستان کردی جائے یا یہ وصیّت کی کہ اسے آنے جانے والوں کے لئے سرائے بنادیا جائے تو یہ وصیّت باطل ہے۔ (4)(عالمگیری ج6،ص97)
مسئلہ 38: مصحف (5)کی وصیّت کی کہ وہ مسجد میں وقف کردیا جائے تو یہ وصیّت جائز ہے۔ (6)(عالمگیری ج6،ص97)
مسئلہ 39: یہ وصیّت کی کہ اس کی زمین مسجد بنادی جائے تو یہ بلا اختلاف جائز ہے۔ (7)(عالمگیری ج6،ص97)
مسئلہ 40: وصیّت کرنے والے نے کہاکہ میرا تہائی مال اﷲتعالیٰ کے لئے ہے تو یہ وصیّت جائز ہے اور یہ مال نیکی و بھلائی کے راستے میں خرچ ہوگا اور فقراء پرصرف کیا جائے گا۔ (8)(عالمگیری ج6،ص97)
مسئلہ 41: وصیّت کرنے والے نے کہا میرا تہائی مال فی سبیل اﷲ(راہ خدا میں)ہے یہاں فی سبیل اﷲکا مطلب
غزوہ ہے۔ (9)(عالمگیری ج6،ص97)
مسئلہ 42: اگر یہ کہا کہ میرا تہائی مال نیک کاموں کے لئے ہے تو اسے تعمیر مسجد اور اسکی چراغ و بتی میں خرچ کرنا جائز ہے لیکن مسجد کی آرائش و زیبائش میں خرچ کرنا جائز نہیں۔ (10)(عالمگیری ج6،ص97)
مسئلہ 43: اگر کسی نے اپنے تہائی مال کی وجوہ خیر میں خرچ کرنے کی وصیّت کی تو اُسے پل بنانے،مسجد بنانے اور طالبانِ علم پر خرچ کیا جائے گا۔(11) (تاتار خانیہ از عالمگیری ج6،ص97)
مسئلہ 44: کسی نے وصیّت کی کہ میرا تہائی مال گاؤں کے مصالح میں خرچ کیا جائے تو یہ وصیّت باطل ہے۔ (12) (عالمگیری ج6،ص97)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص96.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔زمین۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص97.
5 ۔قرآن شریف۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا، الباب الثانی فی بیان الالفاظ التی تکون وصیۃ...إلخ،ج6،ص97.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق. 9 ۔المرجع السابق.
10 ۔المرجع السابق. 11 ۔المرجع السابق. 12 ۔المرجع السابق.
''وصیت ثُلث مال کی یا زیادہ یا کم کی، ورثہ نے اس کی اجازت دی یا نہ دی یا بعض نے اجازت دی، بعض نے نہ دی، بٹیی یا بیٹے کے حصہ کے برابر کی وصیّت وغیرہ۔''
مسئلہ 1: مرنے والے نے کسی آدمی کے حق میں اپنے چوتھائی مال کی وصیّت کی اور ایک دوسرے آدمی کے حق میں اپنے نصف مال کی، اگر ورثہ نے اس وصیّت کو جائز رکھا تو نصف مال اس کو ملے گا جس کے حق میں نصف مال کی وصیّت ہے اور چوتھائی مال اسے دیا جائے گا جس کے لئے چوتھائی مال کی وصیت کی اور باقی مال وارثوں کے درمیان مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا اور اگر وارثوں نے اس کی وصیّت کو جائز نہ رکھاتو اس صورت میں مرنے والے موصِی کی وصیّت اس کے ثلث مال میں صحیح ہوگی اور اس کا ثلث مال سات حصوں میں منقسم(1)ہوکر چار حصے نصف مال کی وصیّت والے کو اور تین حصے چوتھائی مال کی وصیّت والے کو ملیں گے۔(2) (خزانۃ المفتیینازعالمگیری ج6،ص97)
مسئلہ 2: ایک شخص کے حق میں اپنے ثُلث مال(تہائی مال)کی وصیّت کی اور دوسرے کے حق میں اپنے سد س مال کی(چھٹے حصے کی)تو اس صورت میں اس کے ثلث مال کے تین حصے کئے جائیں گے اس میں سے دو2 حصے ثلث مال کی وصیّت والے کے لئے اور ایک حصہ اسے جس کے حق میں سدس مال کی وصیّت کی۔(3) (ہدایہ از عالمگیری ج6،ص97)
مسئلہ 3: ایک شخص نے وصیّت کی کہ میر اکل مال فلاں شخص کو دیدیا جائے اور ایک دوسرے شخص کے لئے وصیت کی کہ اسے میرے مال کا تہائی حصہ دیا جائے تو اگر اس کے وارث نہیں ہیں یا ہیں مگر انھوں نے اس وصیت کوجائز کردیا تو اس کا مال دونوں(موصیٰ لہما)(4)کے درمیان بطریقِ منازعت تقسیم ہوگا اور اس کی صورت یہ ہے کہ ثلث مال نکال کر بقیہ کل اس کو دیدیا جائے گا جس کے حق میں کل مال کی وصیّت ہے رہا ثلث مال تو وہ دونوں کے مابین نصف نصف تقسیم کردیا جائے گا۔ (5) (عالمگیری ج6،ص98)
مسئلہ 4: موصِی نے ایک شخص کے لئے اپنے ثلث مال کی وصیّت کی اور دوسرے شخص کے لئے بھی اپنے ثلث مال کی
1 ۔تقسیم۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ ،ج6،ص97.
3 ۔المرجع السابق،ص98.
4 ۔یعنی جن دونوں کے لئے وصیت کی گئی ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ ،ج6،ص98.
وصیّت کردی ا ور ورثہ اس کے لئے راضی نہ ہوئے تو اس کا ثلث مال دونوں کے مابین تقسیم ہوگا۔ (1)(کافی از عالمگیری ج6،ص98)
مسئلہ 5: کسی نے وصیّت کی کہ میرے مال کا ایک حصہ یا میرا کچھ مال فلاں شخص کو دیدیا جائے تو اسکی تشریح کا حق موصی کو ہے اگر وہ زندہ ہے اور اسکی موت کے بعد اس کی تشریح کا حق ورثہ کو ہے۔ (2) (شرح الطحاوی از عالمگیری ج6،ص98)
مسئلہ 6: کسی نے اپنے مال کے ایک جزو کی وصیت کی تو ورثہ سے کہا جائے گا کہ تم جتنا چاہو موصیٰ لہ کو دیدو۔ (3) (عالمگیری ج6،ص98)
مسئلہ 7: اپنے مال کے ایک حصہ کی وصیّت کی پھر اُس کا انتقال ہوگیا اور اس کا کوئی وارث بھی نہیں ہے تو موصی ا لہ کو نصف ملے گا اور نصف بیت المال(4)میں جمع ہوگا۔(5) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص99)
مسئلہ 8: ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے وارثوں میں ایک ماں اور ایک بیٹا چھوڑا اوریہ وصیّت کرگیا کہ فلاں کو میرے مال سے بیٹی کا حصہ ہے (اگر بیٹی ہوتی اور اُسے حصہ ملتا)تو وصیّت جائز ہے اور اس کا مال سترہ حصوں میں منقسم ہوکر موصی ٰلہ کو پانچ حصے ملیں گے دو2 حصے ماں کو اور دس حصے بیٹے کو ملیں گے۔ (6) (عالمگیری ج6،ص99)
مسئلہ 9: اگر میت نے اپنے ورثہ میں ایک بیوی اور ایک بیٹا چھوڑا اورایک دوسرے بیٹے کے برابر حصہ کی وصیّت کسی کے لئے کی(اگر دوسرا بیٹا ہوتا)اور وارثوں نے اس کی وصیّت کو جائز رکھا تو اس کا ترکہ پندرہ حصوں میں منقسم ہوگا، موصیٰ لہ(جس کے حق میں وصیّت کی)کو سات حصے، بیوہ بیوی کو ایک حصہ اور بیٹے کو سات حصے دیئے جائیں گے۔(7)(عالمگیری ج6،ص99)
مسئلہ 10: ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے وارثوں میں ایک لڑکی اور ایک بھائی چھوڑا اور کسی شخص کے لئے بقدر حصہ بیٹے کے وصیّت کی(اگر ہوتا)اور وارثوں نے اس وصیّت کو جائز رکھاتو اس صورت میں موصیٰ لہ کو اس کے مال کے دو ثلث (دو تہائی)حصے ملیں گے اور ایک ثلث بھائی اور بیٹی کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوگا اور اگر وارثوں نے اس کی وصیّت کو جائز نہ رکھا تو اس صور ت میں موصیٰ لہ کو ایک ثلث ملے گا اور دو ثلث بھائی اور بیٹی میں نصف نصف تقسیم ہوں گے۔(8)(عالمگیری ج6،ص100)
مسئلہ 11: ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے ورثہ میں ایک بھائی اور ایک بہن چھوڑے اور یہ وصیّت کی کہ فلاں کو میرے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ ،ج6،ص98.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔آج کل بیت المال کا وجود نہیں اس لئے یہ مال کسی مسلم مسکین یا مدارس دینیہ میں دے دیا جائے۔ 12عطاء المصطفےٰ قادری ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ ،ج6،ص99.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق،ص100.
مال سے بقدربیٹے کے حصے کے دینا(اگر بیٹا ہوتا)اور وارثوں نے اس کی اجازت دیدی تو اس صور ت میں کل مال موصیٰ لہ کو ملے گا اور بھائی اور بہن کو اس کے مال سے کچھ حصہ نہ ملے گا اور اگر یہ وصیّت کی کہ فلاں کو بیٹے کے حصے کے مثل دینا تو اس صورت میں موصی ا لہ کو اس کے مال کا نصف ملے گا او رباقی نصف میں بھائی بہن شریک ہوں گے بھائی کو دو2 حصے اور بہن کا ایک حصہ۔(1) (عالمگیری ج6،ص100)
مسئلہ 12: وصیّت کرنے والے نے وصیّت کی کہ میرے مال سے فلاں کو بقدر بیٹی کے حصے کے دیا جائے اور وارثوں میں اس نے ایک بیٹی، ایک بہن چھوڑی تو اس صورت میں موصٰی لہ کو اس کا تہائی مال ملے گا ورثہ اجازت دیں یا نہ دیں۔ (2) (عالمگیری ج6،ص100)
مسئلہ 13: ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے اپنے وارثوں میں ایک بیٹا اور باپ چھوڑے اور وصیّت کی کہ فلاں شخص کو میرے بیٹے کے حصہ کے مثل حصہ دیا جائے تو اگر وارثوں نے اس کی وصیت کو جائز رکھا تو اس کا مال گیارہ حصوں میں تقسیم ہوکر موصی ٰ لہ کو پانچ حصے، باپ کو ایک حصہ اور بیٹے کو پانچ حصے ملیں گے اور اگر وارثوں نے اس کی وصیّت کو جائز نہ رکھا تو موصیٰ لہ کو اس کے مال کا تہائی حصہ ملے گا اور باقی باپ اور بیٹے کے درمیان حصہ رسدی تقسیم ہوگا باپ کو ایک حصہ، بیٹے کو پانچ، یعنی کل مال کے نو حصے کئے جائیں گے، تین حصے موصیٰ لہ کو، ایک حصہ با پ کو اور پانچ حصے بیٹے کو دیئے جائیں گے۔(3) (عالمگیری ج6،ص100)مذکورہ بالا صورتوں میں میت کے وارثوں میں سے اگر ایک نے میت کی وصیّت کو جائز نہ کیا اور ایک نے جائز کردیا تو جائز کرنے والے وارث کے حصے میں موصیٰ لہ کو حصہ ملے گا اور جائز نہ کرنے والے وارث کے حصے میں سے نہیں ملے گا بلکہ اس کا پورا پورا حصہ ملے گا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ اگر ایک وارث نے وصیّت کو جائز کیا اور دوسرے وارث نے جائز نہ کیا تو دیکھا جائے گا کہ دونوں وارثوں کے اجازت دینے کی صورت میں مسئلہ کا حساب گیارہ حصوں سے ہوا تھا اور اجازت نہ دینے کی صورت میں مسئلہ کا حساب نو9سے ہوا تھا، ان دونوں کو باہم ضرب کیا جائے9x11=99ہوئے، اب دونوں کے وصیّت کو جائز نہ کرنے کی صورت میں نناوے99 میں سے ایک ثلث یعنی 33 حصے موصی ٰلہ کو ملیں گے اور بقیہ66 حصوں میں سے ایک سدس (چھٹا حصہ)یعنی گیارہ باپ کوملیں گے اور بقیہ پانچ سدس یعنی 55 حصے بیٹے کو ملیں گے کل میزان 99۔ اور وارثوں کے اس وصیّت کو جائز کرنے کی صورت میں موصیٰ لہ کو گیارہ میں سے 5x9=45، باپ کو گیارہ میں سے1x9=9، اور بیٹے کو بقیہ 5x9=45 حصے ملیں گے (کل میزان 99)اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ان دونوں حالتوں کے درمیان موصیٰ لہ کو بارہ حصے زیادہ ملے جن میں سے دو حصے باپ کے حق میں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ ،ج6،ص100.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
سے اور دس حصے بیٹے کے حق میں سے، کیونکہ اجازت نہ دینے کی صورت میں باپ کو گیارہ حصے ملے اور اجازت دینے کی صورت میں نو9، فر ق دو حصوں کا ہوا اور بیٹے کو اجازت دینے کی صورت میں 45 حصے ملے اور اجازت نہ دینے کی صورت میں 55، فرق دس حصوں کا ہوا۔ اس طرح دس 10 اور دو2 بار ہ12 حصے موصیٰ لہ کو زیادہ ملتے ہیں۔ اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ موصی ا لہ کو باپ کے حق میں سے دو حصے اور بیٹے کے حق میں سے دس حصے ملے لہٰذا اگر باپ نے وصیّت کو جائز رکھا اور بیٹے نے نہیں تو باپ کے حق میں سے دو حصے موصیٰ لہ کو مل جائیں گے اور بیٹے کو اس کا پورا حق ملے گا۔ اس طرح ننانوے میں سے 33 + 2 =35 حصے موصیٰ لہ کو، نو9 حصے باپ کو اور 55 حصے بیٹے کو ملیں گے، کل میزان99ہوا۔ اور اگر بیٹے نے وصیّت کو جائز رکھا اورباپ نے نہیں تو بیٹے کے حق میں سے دس حصّے موصی ٰلہ کو مل جائیں گے باپ کو اس کا پورا حق ملے گا یعنی ننانوے میں سے 33 + 10 = 43 حصّے موصیٰ لہ کو، گیارہ حصے باپ کو اور 45 حصے بیٹے کو ملیں گے کل میزان 99 ہوا۔(1) (عالمگیری ج6،ص100)
فائدہ: اس سلسلہ میں ضابطہ یہ ہے کہ مسئلہ کی تصحیح ایک بار کی جائے۔ اس صورت میں کہ سب وارثوں نے اجازت دیدی اور دوسری بار مسئلہ کی تصحیح کی جائے اس صورت میں کہ کسی وارث نے اجازت نہیں دی پھر دونوں تصحیحوں کو ایک مبلغ سے کردیا جائے (یعنی دونوں تصحیحوں کو باہم ضرب دیدی جائے)پھر اس صورت میں کہ ایک وارث نے اس وصیّت کو جائز کردیا اور دوسرے نے جائز نہ کیا یا اس کی اجازت معتبر نہ ہو جیسے بچہ اور پاگل کی اجازت معتبر نہیں، تو جائز کرنے والے وارثوں کے سہام کو مسئلہ اجازت سے لیا جائے اور باقی دوسروں کے سہام کو مسئلہ عدم اجازت سے لیا جائے وہ ہر وارث کا حصہ ہوگا اور جو باقی بچے گا وہ موصیٰ لہ کے لئے ثلث پر زیادہ ہوگا (یعنی موصیٰ لہ کے ثلث میں بڑھا دیا جائے گا) (2) (جد الممتار حاشیہ رد المحتا راز افادات اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں (رحمۃ اللہ علیہ)ص 639) اس کی مثال یہ ہے موصی نے باپ اور بیٹے کو چھوڑا او موصیٰ لہ کے لئے بیٹے کے مثل حصہ کی وصیّت کی۔
ورثہ کے اجازت دینے کی صورت میں مسئلہ گیا رہ سے ہوگا۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ ،ج6،ص100.
2 ۔''جدالممتار''علی''ردالمحتار''،کتاب الوصایا،ج5،ص135،136.(مخطوطہ)
ضابطہ کے مطابق دونوں تصحیحوں کا مبلغ واحد کیا 11x9=99 مبلغ واحد ہوا۔
مجیز(1) اگرباپ ہو تو اجازت کی صورت میں باپ کا حصہ 9 سہام ہے اور اجازت نہ دینے کی صورت میں باقی دوسروں کا حصہ 88 سہام ہے دونوں کو جمع کیا 9+88=97، فرق 99-97=2 سہام لہٰذا موصیٰ لہ کو دو سہام زائد علی الثلث ملیں گے یعنی 33+2=35 سہام او رمجیز اگر بیٹا ہو تو اجازت کی صورت میں اس کا حصہ 45 سہام ہے اور اجازت نہ دینے کی صورت میں باقی دوسروں کا حصہ44 سہام ہے، دونوں کو جمع کیا 45+44=89 فرق 99-89=10 لہٰذا موصیٰ لہ کو دس 10سہام زائد علی الثلث ملیں گے، 33+10=43 سہام۔
مسئلہ 14: مرنے والے نے دو بیٹے چھوڑے اور ایک شخص کے لئے اپنے ثلث مال (تہائی مال) کی وصیّت کی اور ایک دوسرے شخص کے لئے مثل ایک بیٹے کے حصے کی وصیّت کی اور دونوں وارث بیٹوں نے مرنے والے باپ کی دونوں وصیّتوں کو جائز رکھا تو اس صورت میں جس کے لئے تہائی مال کی وصیّت کی اسے میت کے مال کا تہائی حصہ ملے گا اور بقیہ دو ثلث دونوں بیٹوں اور اس شخص کے درمیان جس کے لئے بیٹے کے مثل حصّہ کی وصیّت کی تہائی تہائی تقسیم ہوگا۔ حساب اس کا اس طرح ہوگا کہ کل مال نو حصوں میں منقسم ہوگا اس میں سے تین حصے اُسے ملیں گے جس کے لئے ثلث مال(تہائی مال)کی وصیّت ہے باقی رہے چھ حصے تودو2 دو2 حصے دونوں بیٹوں کے درمیان اور دو2 حصے اُس کے جس کے لئے بیٹے کے حصے کے مثل وصیّت کی ہے۔ (عالمگیری ج6،ص100)اور اگران دونوں بیٹوں نے باپ کی وصیّت کو جائز نہ کیا تو ایک تہائی مال اُن دونوں موصیٰ لہ کو دیا جائے گا جن کے حق میں وصیّت ہے اور بقیہ دو ثلث(دو تہائی)دونوں بیٹوں کو مل جائے گا۔ (عالمگیری ج6،ص100)اور اگر دونوں بیٹوں نے ثلث مال کی وصیّت کو جائز نہ رکھا اور اس وصیّت کو جائز جو اس نے دوسرے شخص کے لئے مثل ایک بیٹے کے حصے کے کی تھی تو اس صورت میں صاحب ثلث یعنی ثلث مال کی وصیّت والے کو نصف ثلث یعنی سدس (چھٹا حصہ)ملے گا اور صاحب ِ مثل یعنی جس شخص کے حق میں مثل حصہ بیٹے کے وصیّت کی اسے بقیہ مال کاایک ثلث ملے گا۔ اس صورت میں حساب ایسے عدد سے ہوگا جس میں سے اگر سدس(چھٹا حصہ)نکالا جائے تو بقیہ مال ایک ایک تہائی کے حساب سے تقسیم ہوجائے اور ایسا چھوٹے سے چھوٹا عدد اٹھارہ ہے لہٰذا کل مال وصیّت اٹھارہ حصوں میں تقسیم ہوگا، چھٹا حصہ یعنی تین حصے ثلث مال کی وصیّت والے کو، باقی پندرہ حصوں میں ایک ثلث یعنی پانچ حصے اس شخص کو جس کے لئے مثل بیٹے کے حصے کی وصیّت کی بقیہ ایک ثلث یعنی پانچ پانچ حصے دونوں بیٹوں کو۔(2) (عالمگیری ج6،ص100)اور اگر یہ صورت ہے کہ ایک بیٹے نے صاحب مثل کے حق میں وصیّت کو جائز رکھا اور صاحب ثلث کے حق میں وصیّت کو رد کردیا اور دوسرے بیٹے نے دونوں وصیّتوں کو رد کردیا تو مسئلہ اس طرح ہوگا کہ صاحب مثل کو چارحصے اور
1 ۔یعنی اجازت دینے والا۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ ،ج6،ص100.
صاحب ثلث کو تین حصے اور جس بیٹے نے ایک وصیّت کو جائز کیا اس کو پانچ حصے اور جس بیٹے نے دونوں وصیّتوں کو رد کردیا اس کو چھ6 حصے، کل میزان اٹھارہ حصے، اس طرح صاحب مثل کے حق میں وصیّت جائز رکھنے والے بیٹے کا ایک حصہ صاحب مثل کو ملا اور اُس کا حصہ بجائے تین کے چار ہوگیا اور اس بیٹے کے چھ کے بجائے پانچ حصے رہ گئے۔(1) (محیط از عالمگیری ج6،ص100)
مسئلہ 15: ایک شخص کے پانچ بیٹے ہیں اس نے وصیّت کی........کہ فلاں شخص کو میرے ثلث مال میں سے میرے ایک بیٹے کے حصے کے مثل دینا اور ثلث مال میں سے یہ حصہ نکال کر بقیہ کا ثلث ایک دوسرے شخص کو دیا جائے،تو اس وصیّت کرنے والے کا کل مال اکیاون 51 حصوں میں تقسیم ہوکر ان میں سے آٹھ حصے اس موصیٰ لہ کو ملیں گے جس کے حق میں بیٹے کے حصہ کے مثل کی وصیّت کی اور تین حصے دوسرے موصیٰ لہ کو ملیں گے جس کے حق میں ثلث ما بقی من الثلث کی وصیّت کی (یعنی جس کے حق میں باقی ماندہ ثلث مال سے ایک ثلث کی وصیّت کی)۔(2) (عالمگیری ج6،ص100)اور ہر بیٹے کو آٹھ آٹھ حصے ملیں گے۔ (مؤلف)
مسئلہ 16: ایک شخص کے پانچ بیٹے ہیں اس نے وصیت کی کہ فلاں شخص کو میرے ثلث مال سے میرے ایک بیٹے کے حصے کے مثل دیا جائے اور اس ثلث مال سے یہ حصہ نکال کر جو باقی بچے اس کا ثلث(یعنی تہائی)ایک دوسرے شخص کو دیا جائے تو اس صورت میں اس وصیّت کرنے والے کا مال اکیاون 51 حصوں میں تقسیم ہوکر جس کے لئے بیٹے کے حصے کے مثل کی وصیّت کی ہے اسے آٹھ حصے ملیں گے، اور اسکے ثلث مال میں سے یہ آٹھ نکال کر جو باقی بچے گا اس کا ایک ثلث یعنی تین حصے اس کو ملیں گے، جس کے لئے ثلث مابقی من الثلث(یعنی اس کے تہائی مال سے آٹھ حصے نکال کر جو باقی بچا اس کا تہائی حصہ)کی وصیّت کی تھی اور پانچ بیٹوں میں سے ہر ایک کو آٹھ آٹھ حصے ملیں گے۔ مسئلہ کی تخریج اس طرح ہوگی کہ پانچ بیٹوں کو بحساب فی کس ایک حصہ =پانچ حصے اور ایک حصہ اس میں صاحب مثل کا بڑھایا(یعنی اس کا جس کے لئے بیٹے کے حصے کے مثل کی وصیّت کی)اس طرح کل چھ حصے ہوئے چھ کو تین میں ضرب دیا جائے6x3=18 ہوئے، اٹھارہ 18 میں ایک کم کیا جو زیادہ کیا گیا تھا تو سترہ17 رہ گئے یہ سترہ17 اس کے کل مال کا ایک ثلث ہے اس کے دو ثلث چونتیس34 ہوئے، اس طرح کل حصے اکیاون 51 ہوئے، جب یہ معلوم ہوگیا کہ ثلث مال (تہائی مال)سترہ17 حصے ہیں تو اس میں سے صاحب مثل کا حصہ(یعنی جس کے لئے ایک بیٹے کے حصہ کی مثل کی وصیّت کی)معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اصل حصہ کی طرف دیکھا جائے وہ پانچ بیٹوں کے پانچ اور صاحب مثل کا ایک تھا، اس ایک کو تین سے ضرب کیا تو تین ہوئے پھر تین کو تین سے ضرب کیا تو نو 9 ہوئے،نو 9میں سے ایک جو بڑھایا تھا کم کیا تو آٹھ باقی رہے، یہ حصہ ہوا صاحب مثل کا، پھر اس آٹھ کو سترہ میں سے گھٹایا تو نو9 باقی رہے اس کا ایک تہائی یعنی تین حصے دوسرے شخص کے جس کے حق میں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا، الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ ،ج6،ص100.
2 ۔المرجع السابق.
ثُلُثْ مَا بَقِیَ مِنَ الثُّلُثْ
کی(بقیہ تہائی مال کے تہائی کی)وصیّت کی تھی، نو میں سے تین نکال کر چھ بچے، ان چھ کو دو تہائی مال یعنی چونتیس حصوں میں جمع کیا تو چالیس ہوگئے اور یہ چالیس پانچ بیٹوں میں برابر برابر بحساب فی کس آٹھ حصے تقسیم ہوں گے یہ کل ملا کر اکیاون 51 ہوئے یعنی موصیٰ لہ نمبرایک کو آٹھ، موصیٰ لہ نمبر2 کو تین اور پانچ بیٹوں کو چالیس=کل اکیاون 51 (1)(عالمگیری ج6،ص101)
مسئلہ 17: کسی شخص نے وصیّت کی کہ ''میرے مال کا چھٹا حصہ فلاں شخص کے لئے ہے''پھر اسی مجلس میں یا دوسری مجلس میں کہا کہ اسی کے لئے میرے مال کا تہائی حصہ ہے اور وارثوں نے اسے جائز کردیا تو اسے تہائی مال ملے گا اور چھٹا حصہ اسی میں داخل ہوجائے گا۔ (2)(ہدایہ ج4، عالمگیری ج6،ص101)
مسئلہ 18: کسی نے وصیّت کی کہ فلاں شخص کے لئے ایک ہزار روپیہ ہے اور اس کا کچھ مال نقد ہے اور کچھ دوسروں کے ذمہ ادھار ہے، تو اگر یہ ایک ہزار روپیہ اس کے نقد مال سے نکالا جاسکتا ہے تو یہ ایک ہزار روپیہ موصیٰ لہ کو ادا کردیا جائے گا اور اگر یہ روپیہ اس کے نقد مال سے نہیں نکالا جاسکتا تو نقد مال کا ایک تہائی جس قدر رہتا ہے وہ فی الوقت ادا کردیا جائے گا اور ادھار میں پڑا ہوا روپیہ جیسے جیسے اور جتنا جتنا وصول ہوتا جائے گا وصول شدہ روپیہ کا ایک تہائی موصیٰ لہ کو دیا جاتا رہے گا تا آنکہ اس کی ایک ہزار کی رقم پوری ہوجائے جو کہ مرنے والے نے اس کے لئے وصیّت کی تھی۔(3)(ہدایہ ج4، عالمگیری ج6،ص105)
مسئلہ 19: زید نے وصیّت کی کہ اس کا ایک تہائی مال عمرو اور بکر کے لئے ہے او ربکر کا انتقال ہوچکا ہے خواہ اس کا علم موصِی یعنی وصیّت کرنے والے کو ہو یا نہ ہو، یا یہ وصیّت کی کہ میرا تہائی مال عمرو اور بکر کے لئے ہے اگر بکر زندہ ہو حالانکہ وہ انتقال کرچکا ہے یا یہ وصیّت کی کہ میرا تہائی مال عمرو کے لئے اور اس شخص کے لئے ہے جو اس گھر میں ہو اور
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ،ج6،ص100.
2 ۔المرجع السابق،ص104. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق،ص105.
اس گھر میں کوئی نہیں ہے یا یہ وصیّت کی کہ میرا تہائی مال عمرو کے لئے اور اس کے بعد ہونے والے بیٹے کے لئے، یا یہ کہا کہ میرا تہائی مال عمرو کے لئے اور بکر کے بیٹے کے لئے اور بکر کا بیٹا وصیّت کرنے والے سے پہلے مرگیا تو ان تمام صورتوں میں اس کا تہائی مال پورا پورا صرف اکیلے عمرو کو ملے گا۔(4) (عالمگیری ج6،ص105)
مسئلہ 20: کسی نے وصیّت کی کہ میرا تہائی مال زید اور بکر کے مابین تقسیم کردیا جائے اور بکر کا اس وقت انتقال ہوچکا ہو، یا یہ کہا کہ میر اتہائی مال زید اور بکر کے درمیان تقسیم کیا جائے اگر وہ میرے بعد زندہ ہو، یا یہ کہا کہ میرا تہائی مال زید اور فقیر کے مابین تقسیم ہوپھر اس کا انتقال ہوگیا اور فقیر زندہ ہے یا مرچکا یا یہ کہا کہ میرا تہائی مال زید اور بکر کے مابین تقسیم ہو اگر بکر گھر میں ہو اور وہ گھر میں نہیں ہے، یا یہ کہا کہ میرا تہائی مال زید اور بکر کے لڑکے کے درمیان تقسیم ہو اور بکر کے یہاں لڑکا پیدا ہوا یا لڑکا موجود تھا پھر مرگیا اور دوسرا لڑکا پیدا ہوگیا، یا یہ کہا کہ میر اتہائی مال زید اور فلاں کے لڑکے کے مابین تقسیم ہو اگر وہ لڑکا فقیر ہو اور وہ لڑکا فقیر و محتاج نہ ہوا تھا یہاں تک کہ موصی کا انتقال ہوگیا، یا یہ وصیّت کی کہ میرا تہائی مال زیداور اس کے وارث کے لئے ہے، یا زید اور اس کے دو بیٹوں کے لئے ہے اور اس کے بیٹا صرف ایک ہے تو ان تمام صورتوں میں زید کو نصف ثلث یعنی اس کے مال کا چھٹا حصہ ملے گا۔(1) (عالمگیری ج6،ص105)
مسئلہ 21: موصی (وصیّت کرنے والا)نے زید اور عمرو کے لئے اپنے ثلث مال(تہائی مال)کی وصیّت کی، یا یہ کہا کہ میرا ثلث مال زید اور عمرو کے مابین تقسیم کیا جائے پھر موصی کا انتقال ہوگیا اس کے بعد زید اور عمرو دونوں میں سے کسی ایک کا انتقال ہوگیا تو جو زندہ رہا اس کو ثلث مال(تہائی مال)کا آدھا ملے گا اور آدھا مرنے والے کے وارثوں کو ملے گا یہی حکم اس وقت ہے جب موصِی کے انتقال کے بعد موصیٰ لہ ما یعنی زید اور عمرو میں سے کسی کے وصیّت قبول کرنے سے پہلے ایک کا انتقال ہوجائے اور دوسرا جو زندہ رہا اس نے وصیّت کو قبول کرلیا تو دونوں وصیّت کے مال کے مالک ہوں گے آدھا زندہ کو اورآدھا مرنے والے کے وارثوں کو ملے گا، اور اگر ان دونوں میں سے ایک وصیّت کرنے والے سے پہلے انتقال کرگیا تو اس کا حصہ موصی کو واپس ہوجائے گا۔(2) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص105)
مسئلہ 22: یہ وصیّت کی کہ میر اثلث مال (تہائی مال)زید کے لئے ہے اور اس کے لئے جوعبداللہ کے بیٹوں میں سے محتاج و فقیر ہو پھر موصی (وصیّت کرنے والے)کا انتقال ہوگیا اور عبداللہ کے سب بیٹے اس وقت غنی اور مالدار ہیں تو اس کا ثلث مال سب کا سب زید کو مل جائے گا، اور اگر موصی کی موت سے قبل عبداللہ کے کچھ بیٹے (یعنی سب نہیں)غریب و فقیر ہوگئے تو اس کا ثلث مال زید اور عبداللہ کے غریب بیٹوں کے درمیان بحصہ مساوی ان کی تعداد کے مطابق تقسیم ہوگا اور اگر عبداللہکے سب ہی بیٹے غریب و فقیر ہیں تو ان کو کچھ حصہ نہ ملے گا وصیّت کا کل مال زید کو مل جائے گا۔(3) (عالمگیری ج6،ص105)
مسئلہ 23: ایک عورت کا انتقال ہوا اس نے اپنے وارثوں میں صرف اپنا شوہرچھوڑا اور اپنے نصف مال کی وصیّت کردی کسی اجنبی شخص کے لئے، تو یہ وصیّت جائز ہے اس صورت میں شوہر کو ثلث ملے گا، اجنبی کو نصف، بچا سدس (چھٹا حصہ)وہ بیت المال میں جمع ہوگا، تقسیم اس طرح ہوگی کہ پہلے متوفیہ کے مال سے بقدر ثلث مال کے نکال لیا جائے گا کیونکہ وصیّت وراثت پر مقد م ہے، تہائی مال نکالنے کے بعد دو تہائی مال باقی بچا اس میں سے نصف شوہر کو وراثت میں دیا جائے گا جو کہ کل مال کے ایک
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ ،ج6،ص105.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
ثلث کے برابر ہے اب باقی رہا ایک ثلث اس کا کوئی وارث ہے ہی نہیں لہٰذا متوفیہ کی باقی وصیّت اس میں جاری ہوگی اور موصی ٰلہ جس کو ثلث ملا تھا اس کا نصف پورا کرنے کے لئے اس بقیہ ثلث میں سے ایک حصہ دے کر اس کا نصف پورا کردیا جائے گا، ا ب باقی بچا ایک سدس(چھٹا حصہ)وہ بیت المال میں جمع ہوگا کیونکہ اس کا کوئی وارث نہیں ہے۔(1) (عالمگیری ج6،ص105)
مسئلہ 24: شوہر کا انتقال ہوا،وارثوں میں اس نے ایک بیوی چھوڑی اور اپنے کل مال کی کسی اجنبی کے لئے وصیّت کردی لیکن اس کی زوجہ نے اس وصیّت کو جائز نہ کیا تو اس کا کل مال چھ حصوں میں تقسیم ہوکر ایک حصہ زوجہ کو اور پانچ حصے اجنبی کو ملیں گے جس کے حق میں کل مال کی وصیّت کی تھی، مال ترکہ کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل مال کے چھ حصے کرکے پہلے اس میں سے ایک ثلث یعنی دو حصے اجنبی کو ملیں گے کیونکہ وصیّت وراثت پر مقدم ہے بقیہ چار حصوں میں سے ایک ربع یعنی ایک حصہ بیوی کو ملے گا باقی رہے تین حصے، یہ بھی اجنبی کو مل جائیں گے کیونکہ وصیّت بیت المال پر بھی مقدم ہے۔(2)(محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص105)
مسئلہ 25: یہ وصیّت کی کہ میرا ثلث مال فلاں کے بیٹوں کے لئے ہے اور بوقت وصیّت فلاں کے بیٹے نہیں تھے بعد میں پیدا ہوئے اس کے بعد موصی (وصیّت کرنے والے)کا انتقال ہوا تو اس کا تہائی مال اس فلاں کے بیٹوں میں تقسیم ہوگا اور اگر بوقت وصیّت فلاں کے بیٹے موجود تھے لیکن وصیّت کرنے والے نے نہ اُن بیٹوں کے نام لئے نہ ان کی طرف اشارہ کیا۔ (یعنی اس طرح کہنا کہ ان بیٹوں کے لئے)تو یہ وصیت ان بیٹوں کے حق میں نافذ ہوگی جو موصی کی موت کے وقت موجود ہوں گے خواہ یہ بیٹے وہی ہوں جو بوقت وصیّت موجود تھے یا وہ بیٹے مرگئے ہوں اور دوسرے پیدا ہوئے اور اگربوقت وصیّت فلاں کے بیٹوں میں سے ہر ایک کا نام لیا تھا یا ان کی طرف اشارہ کردیا تھا تو یہ وصیّت خاص انہی کے حق میں ہوگی، اگر ان کا انتقال موصی کی موت سے پہلے ہوگیا تو وصیّت باطل ٹھہرے گی۔(3) (عالمگیری ج6،ص105)
مسئلہ 26: یہ وصیّت کی کہ میرا ثلث مال عبداللہ اور زید اور عمرو کے لئے ہے اور عمرو کو اس میں سے سو روپے دیں اور اس کا تہائی مال کل سو100 ہی روپے ہے تو یہ کل عمرو کو ملے گا اور اگر اس کا تہائی مال ایک سو150پچاس روپے ہے تو اس صورت میں سو100 روپے عمرو کو اور باقی پچاس میں آدھے آدھے عبداللہ اور زید کو ملیں گے۔(4) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص105)
مسئلہ 27: کسی کے لئے ثلث مال کی وصیّت کردی اور وصیّت کرنے والے کی ملکیت میں بوقت وصیّت کوئی مال ہی نہ تھا بعد میں اس نے کما لیا تو بوقت موت وہ جتنے مال کا مالک ہے اس کا ثلث موصی ٰلہ(جس کے حق میں وصیّت کی) کو ملے گا جب
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ،ج6،ص105.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
کہ موصٰی بہ شئے معین اور نوع معین نہ ہو۔(1)(عالمگیری ج6،ص106)
مسئلہ 28: اگر کسی نے اپنے مال میں سے کسی خاص قسم کے مال کے ثلث حصہ کی وصیّت کی مثلاً کہا کہ میری بکریوں یا بھیڑوں کا تہائی حصہ فلاں کو دیا جائے اور یہ بکریاں یا بھیڑیں موصی کی موت سے پہلے ہلاک ہوجائیں تو یہ وصیّت باطل ہوجائے گی حتیٰ کہ اس نے ان کے ہلاک ہونے کے بعد دوسری بکریاں یا بھیڑیں خریدیں توموصٰی لہ کا ان بکریوں یا بھیڑوں میں کوئی حصہ نہیں۔(2) (عالمگیری ج6،ص106)
مسئلہ 29: وصیّت کرنے والے نے وصیّت کی کہ فلاں کے لئے میرے مال سے ایک بکری ہے اور اس کے مال میں بکری موجود نہیں توموصٰی لہ کو بکری کی قیمت دی جائے گی اور اگر یہ کہا تھا کہ فلاں کے لئے ایک بکری ہے یہ نہیں کہا تھا کہ "میرے مال سے"اور اس کی ملکیت میں بکری نہیں ہے تو بقول بعض وصیّت صحیح نہیں اور بقول بعض وصیّت صحیح ہے اور اگر یوں وصیّت کی کہ فلاں کے لئے میری بکریوں میں سے ایک بکری ہے اور اس کی ملکیت میں بکری نہیں ہے تو وصیّت باطل ٹھہرے گی اسی اصول پر گائے، بھینس اور اونٹ کے مسائل کا استخراج کیا جائے گا۔ (3) (عالمگیری ج6،ص106)
مسئلہ 30ـ: یہ وصیّت کی کہ میرے مال کا تہائی حصہ صدقہ کردیا جائے اور کسی شخص نے وصی سے وہ مال غصب کرلیا اور ضائع کردیا اور وصی یہ چاہتا ہے کہ وصیّت کے اس مال کو اس غاصب پر بھی صدقہ کردے اور غاصب اس مال کا اقراری ہے تو یہ جائز ہے۔(4) (عالمگیری بحوالہ محیط السرخسی ج6،ص106)
مسئلہ 31: وصیّت کرنے والے نے کہا کہ میں نے تیرے لئے اپنے مال سے ایک بکری کی وصیّت کی تو اس وصیّت کا تعلق اس بکری سے نہ ہوگا جو وصیّت کرنے کے دن اس کی ملکیت میں تھی بلکہ اس کا تعلق اس بکری سے ہوگا جو موصِی کی موت کے دن اس کی ملکیت میں ہوگی اور جب یہ وصیّت صحیح ہے تو موصِی کی موت کے بعد اگر اس کے مال میں بکری ہے تو وارثوں کو اختیار ہے اگر وہ چاہیں تو موصی ا لہ کو بکری دیدیں یا چاہیں تو بکری کی قیمت دیدیں۔ (5) (محیط از عالمگیری ج6،ص106)
مسئلہ 32: ایک شخص نے کہا کہ میرا سرخ رنگ کا عجمی النسل گھوڑا فلاں کے لئے وصیّت ہے تو یہ وصیّت اس میں جاری ہوگی جس کا وہ وصیّت کے دن مالک تھا نہ کہ اس میں جو وہ بعد میں حاصل کر لے ہاں اگر اس نے یہ کہا کہ میرے گھوڑے فلاں کے لئے وصیّت ہیں اور ان کی تعیین یا تخصیص نہ کی تو اس صورت میں وصیّت بوقتِ وصیّت موجود گھوڑوں اور بعد میں حاصل کئے جانے والے گھوڑوں دونوں کو شامل ہوگی۔(6) (عالمگیری ج6،ص106)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ ،ج6،ص105.
2 ۔المرجع السابق،ص106 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 33: اگر کسی نے اپنے ثلث مال کی فلاں شخص اور مساکین کے لئے وصیّت کی تو اس ثلث مال کا نصف فلاں کو دیا جائے گا اور نصف مساکین کو۔ (1)(ہدایہ جلد4 از عالمگیری ج6،ص106)
مسئلہ 34: کسی نے اپنے ثلث مال کی وصیّت ایک شخص کے لئے کی، پھر دوسرے شخص سے کہا کہ میں نے تجھے اس وصیّت میں اس کے ساتھ شریک کر دیا تو یہ ثلث ان دونوں کے لئے ہے اور اگر ایک کے لئے سو روپے کی وصیّت کی اور دوسرے کے لئے سو کی پھر تیسرے شخص سے کہا کہ میں نے تجھے ان دونوں کے ساتھ شریک کیا تو اس تیسرے کے لئے ہر سو100 میں تہائی حصہ ہے۔(2) (عالمگیری ج6،ص106)
مسئلہ 35: کسی اجنبی شخص اور وارث کے لئے وصیّت کی تو اجنبی کو وصیّت کا نصف حصہ ملے گا اور وارث کے حق میں وصیّت باطل ٹھہرے گی، اس طرح اپنے قاتل اور اجنبی کے حق میں وصیّت کی تھی تو وصیّت قاتل کے حق میں باطل اور اجنبی کو نصف حصہ ملے گا۔ (عالمگیری ج6،ص106)اس کے برخلاف اجنبی یا وارث کے لئے عین (نقد)یا دین کا اقرار کیا تو اجنبی کے لئے صحیح نہیں اور وارث کے لئے صحیح ہے۔ (3)(تبیین از عالمگیری ج6،ص106)
مسئلہ 36: متعدد کمروں پر مشتمل ایک مکان دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہے ان میں سے ایک نے کسی کے لئے ایک معین کمرے کی وصیّت کر دی تو مکان تقسیم کیا جائے گا پس اگر وہ معین کمرہ موصِی کے حصہ میں آگیا تو وہ موصیٰ لہ کو دے دیا جائے گا اور اگر وہ معیّن کمرہ دوسرے شریک کے حصہ میں آیا توموصیٰ لہ کو بقدر کمرے کے زمین ملے گی۔ (4)(عالمگیری ج6، ص107، درمختار، ردالمحتارج5،ص473)
مسئلہ 37: وارث نے اقرار کیا کہ اس کے باپ نے فلاں کے لئے ثلث مال کی وصیّت کی اور کچھ گواہوں نے گواہی دی کہ اس کے باپ نے کسی دوسرے کے لئے ثلث مال کی وصیّت کی تو فیصلہ گواہوں کی گواہی کے مطابق ہوگا اور وارث نے جس کے لئے اقرار کیا اسے کچھ نہ ملے گا۔(5) (عالمگیری ج6،ص107)
مسئلہ 38: اگر کسی وارث نے اقرار کیا کہ اس کے باپ نے اپنے ثلث مال کی وصیّت فلاں کے لئے کی پھر اس کے بعد کہا کہ بلکہ اس کی وصیّت فلاں کے لئے کی، تو اس صورت میں جس کے لئے پہلے اقرار کیا اس کو ملے گا اور دوسرے کے لئے کچھ نہیں۔(عالمگیری ج6،ص107)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ،ج6،ص106.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق، ص107.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
اور اگر اس نے دونوں کے لئے متصلاً بلافصل اقرار کیاتو ثلث مال دونوں کے مابین نصف نصف کر دیا جائے گا۔(6) (عالمگیری ج6،ص107)
مسئلہ 39: وارث تین ہیں اور مال تین ہزار ہے ہر وارث نے ایک، ایک ہزار پایا پھر اُن میں سے ایک نے اقرار کیا کہ اس کے باپ نے فلاں کے لئے ثلث مال کی وصیّت کی تھی اور باقی دو وارثوں نے انکار کیا تو اقرار کرنے والا اپنے حصے میں سے ایک تہائی اس کو دے گا جس کے لئے اس نے اقرار کیا۔(1) (عالمگیری ج6،ص107)
مسئلہ 40: اگر دو بیٹوں میں سے ایک نے تقسیم ترکہ کے بعد اقرار کیا کہ مرحوم باپ نے ثلث مال کی وصیّت فلاں کے لئے کی تھی تو اس کا اقرار صحیح ہے اور اس اقرار کرنے والے ہی کے حصے کے ثلث میں نافذ ہوگی۔ (2)(درمختار)اور یہی حکم اس صورت میں ہے جبکہ اس کے کئی بیٹوں میں سے ایک نے اقرار کیا ہو تو اقرار کرنے والے کے حصہ کے ثلث میں وصیّت نافذ ہوگی۔ (3)(مجمع و ردالمحتار ج5،ص473)
مسئلہ 41: وارث دو ہیں اور مال ایک ہزار نقد ہے اور ایک ہزار ان میں سے ایک پر اُدھار ہے پھر اس وارث نے جس پر اُدھار نہیں ہے اقرار کیا کہ اس کے باپ نے کسی کے حق میں ایک ثلث کی وصیّت کی تھی تو اس ایک ہزار نقد میں سے تہائی حصہ لے کر موصی ا لہ کو دیا جائے گا اور اقرار کرنے والے کو باقی دو تہائی ملے گا۔(4) (عالمگیری ج6،ص107)
تنبیہ: موصٰی بہ(5)سے پیدا ہونے والی کوئی بھی زیادتی جیسے بچہ، یا غلہ وغیرہ اگر موصِی کی موت کے بعد اور موصی ٰلہ کے قبول وصیّت سے پہلے ہو تو وہ زیادتی اور اضافہ موصٰی بہ میں شمار ہوگا اور ثلث مال میں شامل ہوگا لیکن اگر یہ اضافہ اور زیادتی موصٰی لہ کے قبول وصیّت کے بعد مگر مال تقسیم ہونے سے پہلے ہو تب بھی وہ موصٰی بہ میں شامل ہوگی۔(6)(عالمگیری بحوالہ محیط السرخسی ج6،ص107)مثال کے طور پر ایک شخص کے پاس چھ600 سو درہم اور ایک لونڈی قیمتی تین سو درہم کی ہیں اس نے کسی آدمی کے لئے لونڈی کی وصیّت کی اور مر گیا پھر لونڈی نے ایک بچہ جنا جس کی قیمت تین سو درہم کے برابر ہے پس یہ ولادت اگر تقسیم مال اور قبول وصیّت سے پہلے ہوئی توموصٰی لہ کو وصیّت میں وہ لونڈی ملے گی اور اس بچہ کا تہائی حصہ، اور اگرموصٰی لہ کے وصیّت قبول کرنے کے بعد اور مال تقسیم ہو جانے کے بعد ولادت ہوئی تو بلا اختلاف موصی ٰلہ کی ملکیت ہے اور اگرموصٰی لہ نے وصیّت قبول کر لی تھی اور مال ابھی تقسیم نہ ہوا تھا کہ لونڈی کے بچہ پیدا ہوگیا تب بھی وہ موصٰی بہ میں شامل ہوگا جیسا کہ قبول وصیّت سے قبل
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ،ج6،ص107.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوصایا،باب الوصیۃ بثلث المال،ج10،ص401.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوصایا،باب الوصیۃ بثلث المال،ج10،ص401.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ،ج6،ص107.
5 ۔جس چیز کی وصیت کی گئی۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ،ج6،ص107.
کی صورت میں وہ موصٰی بہ میں شامل کیا گیا تھا، اور اگر لونڈی نے موصی کی مو ت سے پہلے بچہ جنا تو وہ وصیّت میں داخل نہ ہوگا۔ (1) (کافی از عالمگیری ج6،ص108)
مسئلہ 1: ایک شخص کاانتقال ہوا اور اس نے تین ہزار روپے اور ایک بیٹا چھوڑا اور دو ہزار روپے کی کسی شخص کے لئے وصیّت کی پھر بیٹے نے اپنے مرض الموت میں اس وصیّت کو جائز کر دیا اور مرگیا اور بیٹے کا بجز اس وراثت کے اور کوئی مال بھی نہیں تو اس صورت میں موصیٰ لہ ایک ہزار روپے تو بیٹے کی اجازت کے بغیر ہی پانے کا مستحق ہے اور بقیہ دو ہزار میں سے ایک ثلث اور پائے گا جو کہ بیٹے کے مال کا تہائی حصہ ہوتا ہے۔(2) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص108)
مسئلہ 2: وارث کی طرف سے مرض الموت میں اپنے مورث کی وصیّت کو جائز کرنا بمنزلہ وصیّت کرنے کے ہے اسی طرح مرض الموت میں اپنی موت کے بعد غلام کو آزاد کرنا بھی بمنزلہ وصیّت کے ہے اور جب دو وصیّتیں جمع ہوں جن میں سے ایک عتق (آزاد کرنا)ہو تو عتق مقدم و اولیٰ ہے اور دَین (یعنی ادھار)مقدم ہے وصیّت پر۔(3) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص108)
مسئلہ 3: وارث نے اگر بحالت صحت و تندرستی اپنے مورث کی وصیّت کو جائز کر دیا تو وہ اولیٰ اور مقدم ہے عتق سے، اور ادھار کے اقرار سے اور وصیّت سے۔ (4)(عالمگیری ج6،ص108)
مسئلہ 4: وارث نے اگر بحالت صحت اپنے باپ کی وصیّت کو جائز کر دیا پھر اپنے باپ پر ادھار ہونے کا اقرار کیا تو پہلے باپ کی وصیّت پوری کی جائے گی اس کے بعد اگر کچھ بچے گا تو ادھار والوں کو ادا کیا جائے گا لیکن وارث کمی کی صورت میں ان اُدھار والوں کے ادھار کی کامل ادائیگی کا ذمہ دار نہ ہوگا ہاں اگر وصیّت پوری کرنے کے بعد اتنا مال بچ رہا کہ ادھار کی کامل ادائیگی ہو جائے تو اُدھار کا اقرار کرنے کے بعد وہ اس کی کامل ادائیگی کا ذمہ دار ہے اور اگر وہ بچا ہوا مال قرض کی ادائیگی کے لئے پورا نہ ہو تو اقرار کرنے والا وارث اتنا ادا کرنے کا ضامن ہوگا جتنے کا اُس نے اقرار کیا ہے۔(5) (عالمگیری ج6،ص108)
مسئلہ 5: ایک شخص نے اپنے باپ پر دَین کا دعوٰی کیا اور موصیٰ لہ نے میت کی طرف سے دعوٰی کیا کہ اس نے اپنے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثالث فی الوصیۃ بثلث المال...إلخ،ج6،ص108.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الرابع فی اجازۃ الولد من وصیۃ...إلخ ،ج6،ص108.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
باپ کی وصیّت کو جائز کر دیا ہے اور اس شخص نے ان دونوں باتوں کی تصدیق کی تو دَین کی ادائیگی مقدم ہوگی اور وہ صاحب اجازت کے لئے کسی چیز کا ذمہ دار نہ ہوگاخواہ اس نے یہ تصدیق بحالت صحت کی ہو یا بحالت مرض۔ (1)(عالمگیری ج6،ص108)
مسئلہ 6: مریض وارث نے اپنے باپ کی وصیّت کو جائز کیا پھر اس نے اپنے باپ پر دَین (اُدھار)کا اقرار کیا اوراپنی ذات پربھی دَین کا اقرار کیا تو پہلے باپ کا دَین ادا کیاجائے گاپھر اس کااپنا دَین ادا کیاجائے گا۔(2) (محیط السرخسی ازعالمگیری ج6،ص108)
مسئلہ 7: وارث نے اپنے باپ کی وصیّت کی اجازت دے دی پھر اپنی ذات پر دَین کا اقرار کیا تو دین مقدم و اولیٰ ہے، پہلے دین ادا ہوگا اس کے بعد دیکھا جائے گا اگر دَین کی ادائیگی کے بعد کچھ بچ رہا تو اگر اس وارث کے ورثہ نے اس وصیّت کو جائز نہیں کیا جس کو وارث نے جائز کر دیا تھا تو بقیہ مال کا ثلث اس وصیّت میں دیا جائے گا۔(3) (محیط از عالمگیری ج6،ص108)
مسئلہ 8: ایک مریض جس کے پاس دو ہزار روپے ہیں اور اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال نہیں، اس کا انتقال ہوا اس نے کسی شخص کے لئے ان میں سے ایک ہزار روپے کی وصیّت کر دی اور ایک دوسرے شخص کے لئے بقیہ ایک ہزار کی وصیّت کر دی اور اس کے وارث بیٹے نے اس کی ان دونوں وصیّتوں کو یکے بعد دیگرے اپنی بیماری کی حالت میں جائز کر دیا اور اس وارث بیٹے کے پاس سوائے ان دو ہزار روپے کے جو وراثت میں ملے اور مال نہیں ہے تو اس صورت میں ان دو ہزار کا تہائی حصہ ان دونوں کو نصف نصف تقسیم کر دیا جائے گا جن کے لئے میت اول نے وصیّت کی تھی۔ (4)(محیط از عالمگیری ج6،ص108)
مسئلہ 9: ایک شخص کے پاس ایک ہزار درہم ہیں اس نے ان کی کسی شخص کے لئے وصیّت کر دی اور انتقال کر گیا اس کا وارث جو اس کے مال کا مالک ہوا اس کی ملکیت میں بھی ایک ہزار درہم تھے۔ (یعنی اس کے پاس کل دو ہزار درہم ہوگئے)پھر اس وارث نے کسی شخص کے لئے اپنے ذاتی ایک ہزار درہم کی اور ان ایک ہزار درہم کی جو وراثت میں ملے تھے دونوں کی وصیّت کر دی پھر اس وارث کا انتقال ہوگیا اور اس نے اپنا ایک وارث چھوڑا اس نے اپنے باپ اور اپنے دادا کی وصیّت کو اپنے مرض الموت میں جائز کر دیا اور مرگیا اور اس مرنے والے کا بجز اس ترکہ کے اور کوئی مال نہیں تو اس صورت میں پہلے والے موصیٰ لہ کو یعنی دادا کے موصیٰ لہ کو پہلے ایک ہزار درہم کا ایک ثلث وصیّت جائز کئے بغیر ہی ملے گا پھر باقی دو تہائی کو دوسرے ایک ہزار درہم میں ملا دیا جائے گا اور اس مجموعہ کا ایک ثلث موصیٰ لہ دوم کو یعنی اس میت کے باپ کے موصیٰ لہ کو ملے گا اور یہ بھی وصیّت کو جائز کئے بغیر ہی دے دیا جائے گا۔ یہ ثلث ادا کرنے کے بعد اس تیسری میّت کے بقیہ مال کو دیکھا جائے اور اسے موصیٰ لہ اول اور موصیٰ لہ دوم
کے درمیان وصیّت جائز کر دینے کے بعد بقدر اپنے اپنے بقیہ حصے کے تقسیم کر دیا جائے گا۔ (5)(محیط از عالمگیری ج6،ص109)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الرابع فی اجازۃ الولد من وصیۃ... إلخ،ج6،ص108.
2 ۔المرجع السابق.3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.5 ۔المرجع السابق،ص109.
مسئلہ 1: مریض نے کسی عورت کے لئے دَین (اُدھار)کا اقرار کیا یا اس کے لئے وصیّت کی یا اُسے کچھ ہبہ کیا اس کے بعد پھر اس سے نکاح کر لیا اس کے بعد اس مریض کا انتقال ہوگیا تو اس کا اقرار جائزہے اور وصیّت اور ہبہ باطل ہے۔ (1) (عالمگیری ج6،ص109)
مسئلہ 2: مریض نے اپنے کافر بیٹے یا غلام کے لئے وصیّت کی یا اسے کچھ ہبہ کیا اور اسے سونپ دیا، یا اس کے لئے دَین کا اقرار کیا، بعد میں وہ کافر بیٹا مسلمان ہوگیا یا غلام آزاد ہوگیا اور یہ مریض کی موت سے پہلے پہلے ہوگیا تو یہ وصیّت یا ہبہ یااقرار باطل ہو جائے گا۔(2) (کافی از عالمگیری ج6،ص109)
مسئلہ 3: مریض نے وصیّت کی اس حالت میں کہ وہ ضعف و ناطاقتی کی وجہ سے بات کرنے پر قادر نہ تھا، اس نے سر سے اشارہ کیا اور یہ معلوم ہو کہ اگر اس کا اشارہ سمجھ لیا گیا تو وہ جان لے گا کہ اس کا اشارہ سمجھ لیا گیا ہے تو اس کی وصیّت جائز ہے ورنہ نہیں۔ یہ اس صورت میں ہے کہ وہ مریض کلام کرنے پر قدرت حاصل ہونے سے قبل ہی انتقال کر جائے کیوں کہ اس صورت میں یہ ظاہر ہوگا کہ اس کے کلام کرنے سے ناامیدی ہوگئی ہے لہٰذا وہ اخرس یعنی گونگے کی طرح ہے۔(3) (خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص109)
مسئلہ 4: جس کے ہاتھ مارے گئے ہوں یا جس کے پیر مارے گئے ہوں، فالج زدہ اور تپ دق(4)کا مارا جبکہ ان کے امراض کو لمبی مدت گزر جانے اور ان مرحلوں کی وجہ سے موت کا اندیشہ نہ رہے تو یہ سب صحیح الجسم(5)کے حکم میں ہیں کہ اگر یہ اپنا تمام مال ہبہ کر دیں تو یہ ہبہ کرنا صحیح ہے لیکن اگر دوبارہ ان کو مرض ہو تو وہ بمنزلہ نئے مرض کے ہے اگر اس وقت ان کی موت کا اندیشہ ہو تو یہ ان کا مرض الموت ہوگا لہٰذا ایسی صورت میں ان کا ہبہ کرنا صرف تہائی مال میں معتبر ہوگا یعنی وہ اپنا تہائی مال ہبہ کرسکتے ہیں زیادہ نہیں۔ (کافی از عالمگیری ج6،ص109)اگر اُسے ان امراض میں سے کوئی مرض لاحق ہوا اور وہ صاحبِ فراش ہوا تو یہ اس کا مرض الموت ہوگا اور اُس کا ہبہ ثلث مال میں جاری ہوگا۔(6)(کافی از عالمگیری ج6،ص109)
مسئلہ 5: کسی نے وصیّت کی پھر اس پر جنون طاری ہوگیا اگر اس کا جنون مطبق ہے (یعنی ہمہ وقت مستقل ہے) تو معاملہ قاضی کی رائے پر ہے اگر وہ اس کی وصیّت کو جائز قرار دے توجائز ہے ورنہ باطل، اور اگر جنون سے اچھا ہونے کی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الرابع فی اجازۃ الولد...إلخ،فصل فی اعتبارحالۃالوصیۃ،ج6،ص109.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔ٹی بی کا بخار۔ 5 ۔یعنی غیر مریض۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الرابع فی اجازۃ الولد...إلخ،فصل فی اعتبارحالۃالوصیۃ،ج6،ص109.
میعادمقرر کرنے کی ضرورت ہو تو فتویٰ اس پر ہے کہ حق تصرفات میں جنون مطبق کی مدت ایک سال مقرر کی جاتی ہے۔ (1)(خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص109)
مسئلہ 6: جو شخص قید خانے میں محبوس ہے، قصاص میں قتل کیا جائے یا رجم (سنگسار)کیا جائے وہ مریض کے حکم میں نہیں ہے۔ (عالمگیری )لیکن جب وہ قتل کرنے کے لئے نکالا جائے اس حالت میں وہ مریض کے حکم میں داخل ہے۔ (2)(عالمگیری ج6،ص109)
مسئلہ 7: جو شخص میدان کار زار میں قتال کرنے والوں کی صف میں ہو وہ صحیح و تندرست کے حکم میں ہے لیکن جب وہ جنگ و قتال شروع کر دے تو وہ مریض کے حکم میں ہے۔ (3)(عالمگیری ج6،ص109)
مسئلہ 8: جو شخص کشتی میں سفر کررہا ہے اس کا حکم صحیح و تندرست آدمی کا ہے لیکن اگر دریا میں زبردست تمو ّج ہوکہ کشتی ڈوب جانے کا اندیشہ ہو تو اس حالت میں وہ مریض کے حکم میں ہے۔(4) (عالمگیری ج6،ص109)
مسئلہ 9: قیدی قتل کے لئے لایا گیا لیکن قتل نہیں کیا گیا قیدخانہ واپس بھیج دیا گیا یا جنگ کرنے والا جنگ کے بعد بخیریت اپنی صف میں واپس آگیا یا دریا کا تموج ٹھہر گیا اور کشتی سلامت رہی تو ان صورتوں میں اس شخص کا حکم اس مریض جیسا ہے جو اپنے مرض سے شفا پاگیا اچھا ہوگیا اب اس کے تمام تصرفات اس کے تمام مال میں نافذ ہوں گے۔ (5)(شرح الطحاوی از عالمگیری ج6،ص109)
مسئلہ 10: مجذوم (کوڑھی) اور باری سے بخار والا خواہ چوتھے دن بخار آتا ہو یا تیسرے دن، یہ لوگ اگر صاحب فراش ہوں تو اس مریض کے حکم میں ہیں جو مرض الموت میں ہے۔(6) (عینی شرح الہدایہ از عالمگیری ج6،ص109)
مسئلہ 11: کسی شخص پر فالج گرا اور اس کی زبان جاتی رہی یعنی بیکار ہوگئی یا کوئی شخص بیمار ہوا اور کلام کرنے پر قدرت نہیں پھر اس نے کچھ اشارے سے کہا یا کچھ لکھ دیا اور اس کا یہ مرض طویل ہوا یعنی ایک سال تک چلتا رہا تو وہ بمنزلہ گونگے کے ہے۔(7) (خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص109)
مسئلہ 12: عورت کو دردزہ(8)ہوا، اس حالت میں وہ جو کچھ کرے اس کا نفاذ ثلث مال میں ہوگا اور اگر وہ اس دردزِہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الرابع فی اجازۃ الولد...إلخ، فصل فی اعتبارحالۃالوصیۃ،ج6،ص109.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
8 ۔یعنی بچے کی پیدائش کا درد۔
سے جانبر ہوگئی (1)تو جو کچھ اس نے کیا پورا پورا نافذ ہوگا۔(2)(شرح الطحاوی از عالمگیری ج6،ص109)
مسئلہ 1: جب متعدد وصیّتیں جمع ہوجائیں تو اس میں بہت سی صورتیں ہیں،اگر ثلث مال سے وہ تمام وصیّتیں پوری ہوسکتی ہیں تو وہ پوری کردی جائیں گی اور اگر ثلث مال میں وہ تمام وصیّتیں پوری نہیں ہوسکتیں لیکن ورثہ نے ان کو جائز کردیا تب بھی وہ تمام وصیّتیں ادا کی جائیں گی لیکن اگر ورثہ نے اجازت نہ دی تو دیکھا جائے گا کہ آیا وہ تمام وصیّتیں اﷲتعالیٰ کے لئے ہیں یابعض تَقَرُّبْ اِلَی اﷲکے لئے اور بعض بندوں کے لئے یا کل وصیّتیں بندوں کے لئے ہیں، اگر کُل وصیّتیں اﷲعزوجل کے لئے ہیں تو دیکھا جائے گا کہ آیا وہ کُل ایک ہی درجہ کے فرائض سے ہیں یا کُل وصیّتیں واجبات سے ہیں یا کُل کی کُل نوافل سے ہیں، اگر کُل وصیّتیں ایک ہی درجہ کے فرائض سے ہیں تو پہلے وہ وصیّت پوری کی جائے گی جس کا ذکر موصِی نے پہلے کیا۔(3) (بدائع از عالمگیری ج6،ص114)
مسئلہ 2: حج اور زکوٰۃ میں اگر حج فرض ہے تو وہ زکوٰۃ پر مقدم ہے خواہ موصِی نے زکوٰۃ کا ذکر پہلے کیا ہو، اور کفارہ قتل اور کفارہ یمین (4) میں اس کو مقدم کیا جائے گا جس کو موصی نے مقدم کیا اور ماہِ رمضان کے روزے توڑنے کے کفارہ میں اور قتل خطاء کے کفارہ میں کفارہ قتل خطاء مقدم ہوگا۔(5) (خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص115)
مسئلہ 3: حج اور زکوٰۃ مقدم ہیں کفارات پر، اور کفارات مقدم ہیں صدقۃ الفطر پر، اور صدقۃ الفطر مقدم ہے قربانی پر، اور اگر قربانی سے پہلے منذور بہ(6)کو ذکر کیا تو منذور بہ مقدم ہے قربانی پر، اور قربانی مقدم ہے نوافل پر۔ (عالمگیری) اور ان سب پر اعتاق مقدم ہے خواہ اعتاق منجز ہو یا اعتاق معلق بالموت ہو۔ (7) (عالمگیری ج6،ص115)
مسئلہ 4: حج کی وصیّت کی اور کچھ دیگرتَقَرُّب اِلی اﷲتعالیٰچیزوں کی وصیّت کی اور مسجد معیّن کے مصالح کے لئے اور کسی قوم کے کچھ مخصوص و مشخص(8)لوگوں کے لئے وصیّت کی اور ثلث مال میں یہ سب پوری نہیں ہوئی تو ثلث مال کو ان کے مابین
1 ۔یعنی زندہ بچ گئی۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الرابع فی اجازۃ الولد...إلخ،فصل فی اعتبارحالۃالوصیۃ،ج6،ص109.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الخامس فی العتق والمحاباۃ...إلخ،ج6،ص114،115.
4 ۔قسم کا کفارہ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الخامس فی العتق والمحاباۃ...إلخ،ج6،ص115.
6 ۔جس کی منت مانی گئی۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الخامس فی العتق والمحاباۃ...إلخ،ج6،ص115.
8 ۔معلوم و معین۔
تقسیم کردیا جائے گا، جتنا مال مشخص و معین لوگوں کو ملے گا اس میں سے وہ اپنا اپنا حصہ لے لیں گے اور جتنا مال تَقَرُّب اِلی اﷲکے حصہ میں آئے گا اگر ان میں سوائے حج کے کوئی دوسرا واجب نہیں ہے تو حج مقدم ہے اگر یہ تمام مال حج ہی کے لئے پورا ہوگیا تو تقرُّبْ الی اﷲتعالیٰ کی بقیہ وصیّتیں باطل ٹھہریں گی اور اگر کچھ بچ گیا تو تقرب کی وہ وصیّت مقدم ہے جس کو موصِی نے پہلے ذکر کیا۔(1) (خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6، ص115)
مسئلہ 5: کچھ وصیّتیں اﷲتعالیٰ کے لئے ہیں اور کچھ بندوں کے لئے تو اگر موصی نے قوم کے خاص خاص معیّن لوگوں کے لئے وصیّت کی تو وہ ثلث مال میں شریک ہیں، ان کو ثلث مال میں جو حصہ ملے گا وہ بلاتقدیم و تاخیر ان سب کے لئے ہے اور جو حصہ ثُلث مال میں سے اﷲ تعالیٰ کے تقرب کے لئے ملے گا اس میں فرائض مقدم ہوں گے پھر واجبات پھر نوافل۔ (2)(عالمگیری ج6،ص115)
مسئلہ 6: اگر یہ وصیّت کی کہ میرا تہائی مال حج،زکوٰۃ، کفارات میں اور زید کے لئے ہے اس صورت میں ثلث مال چار حصوں میں تقسیم ہوگا ایک حصہ موصی ا لہ زید کے لئے، ایک حصہ حج کے لئے، ایک حصہ زکوٰۃ کے لئے اور ایک حصہ کفارات کے لئے۔ (3)(بدائع ا ز عالمگیری ج6،ص115)
مسئلہ 7: کل وصیّتیں بندوں کے لئے ہیں اس صورت میں اقویٰ غیر اقویٰ پر مقدم ہوگی، اس کا لحاظ نہ کیا جائے گا کہ میت نے کس کا ذکر پہلے کیا تھا اور کس کا بعد میں، اگر وہ سب قوت میں برابر ہوں تو ہر ایک کو ثلث مال میں سے بقدر اس کے حق کے ملے گا اور اول و آخرکا لحاظ نہ ہوگا۔(4) (عالمگیری ج6،ص115)
مسئلہ 8: اگر تمام وصیّتیں ا ز قسم نوافل ہوں اور ان میں کوئی چیز مخصوص و معیّن نہ ہو تو ایسی صورت میں میت نے جس کا ذکر پہلے کیا وہ مقدم ہوگی۔ (ظاہر الروایہ از عالمگیری ج6،ص115)جیسے اس نے وصیّت کی کہ میرا نفلی حج کرادینا یا ایک جان میری طرف سے آزاد کردینا یا اُس نے وصیّت کی کہ میری طرف سے غیر معیَّن فقراء پر صدقہ کردینا تو ان صورتوں میں جس کا ذکر پہلے کیا وہ پوری کی جائے گی۔(5) (عالمگیری ج6،ص115)
مسئلہ 9: ایک شخص نے وصیّت کی کہ سو100 درہم فقراء کو دیئے جائیں اور سو100درہم اقرباء کو اور اس کی چھوٹی ہوئی نمازوں کے بدلے میں کھانا کھلایا جائے، پھر اس کا انتقال ہوگیا اور اس پر ایک ماہ کی نمازیں باقی تھیں اور اس کا ثلث مال تمام وصیّتوں کے لئے ناکافی ہے تو اس صورت میں ثلث مال کو اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ سو درہم فقراء پراور سو درہم اقرباء پر اور اس کی ہر نماز
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الخامس فی العتق والمحاباۃ...إلخ،ج6،ص115.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
کے بدلے نصف صاع گیہوں کی جو قیمت ہو اس پر، پس جو حصہ اقرباء کو پہنچے گا وہ ان کو دیدیا جائے گا اور جو حصہ فقراء اور کھانے کا ہے اس سے کھانا کھلایا جائے اور جو کمی پڑے گی وہ فقراء کے حصہ میں آئے گی۔ (1)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص116)
مسئلہ 10: حَجَّۃُ الْاِسْلام یعنی حج فرض کی وصیّت کی تو یہ حج مرنے والے کے شہر سے سواری پر کرایا جائے گا لیکن اگر وصیّت کے لئے خرچ پورا نہ ہو تو وہاں سے کرایا جائے جہاں سے خرچ پورا ہوجائے اور اگر کوئی شخص حج کرنے کے لئے نکلا اور راستہ میں انتقال ہوگیا اور اس نے اپنی طرف سے حج ادا کرنے کی وصیّت کی تو اس کا حج اس کے شہر سے کرایا جائے، یہی حکم اس کے لئے ہے جو حجِ بدل کرنے والا حج کے راستہ میں مرگیا وہ حجِ بدل پھر اُس کے شہرسے کرایا جائے۔(2) (کافی از عالمگیری ج6،ص116)
مسئلہ 1: اقارب کے لئے وصیّت کی تو وہ اس کے ذی رحم محرم میں سے درجہ بدرجہ زیادہ قریب کے لئے ہے اور اس میں والدین داخل نہیں اور یہ وصیّت ایک سے زیادہ کے لئے ہے۔(3)(ہدایہ ج4، عالمگیری ج6،ص116) امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲتعالٰی عنہ نے اس سلسلہ میں چھ چیزوں کا اعتبار فرمایا ہے۔ پہلی یہ کہ اس لفظ کے مستحق موصِی کے ذی رحم محرم ہیں، دوسری یہ کہ ان کے باپ اور ماں کی طرف سے ہونے میں کوئی فرق نہیں، تیسری یہ کہ وہ وارثوں میں سے نہ ہوں، چوتھی یہ کہ زیادہ قریب مقدم ہوگااور اَبْعَدْ(4)اَقْرَبْ(5)سے محجوب(محروم) ہوجائے گا، پانچویں یہ کہ مستحق دو2 یادو2 سے زیادہ ہوں، اور چھٹی یہ کہ اس میں والد اور ولد (6)داخل نہیں۔ (7)(ہدایہ مع الکفایہ ج4 و در مختار)
مسئلہ 2: اقارب کے لئے وصیّت کی تو اس میں دادا اور پوتا داخل نہیں۔ (8)(عالمگیری ج6ص116 و ہدایہ مع الکفایہ ج4)
مسئلہ 3: اقارب کے لئے وصیّت کی تو اگردو2چچا اوردو2 ماموں ہیں اور وہ وارث نہیں کہ مرنے والے کا بیٹا موجود ہے تو اس صورت میں یہ وصیّت دونوں چچاؤں کے لئے ہے، دونوں ماموؤں کے لئے نہیں۔(9) (بدائع از عالمگیری ج6،ص116)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الخامس فی العتق والمحاباۃ...إلخ،ج6،ص115.
2 ۔المرجع السابق،ص116.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوصایا،باب الوصیۃ للأقارب وغیرہم،ج2،ص530.
4 ۔دور کا رشتہ دارجس کے بیچ میں کسی رشتے کا فاصلہ ہومثلاًباپ کے ہوتے ہوئے دادا۔
5 ۔قریب کا رشتہ دارجس کے بیچ میں کسی رشتے کا فاصلہ نہ ہومثلاًباپ۔ 6 ۔بیٹا۔
7 ۔''الکفایۃ''علی ھامش''الفتح القدیر''،کتاب الوصایا،باب الوصیۃ للأقارب وغیرہم،ج9،ص401.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السادس فی الوصیۃ للأقارب...إلخ،ج6،ص116.
9 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 4: اقارب کے لئے وصیّت کی اور ایک چچا اور دو ماموں ہیں تو چچا کو ثلث کا نصف ملے گا اور نصفِ آخر دونوں ماموؤں کو۔ (ہدایہ ج4، عالمگیری ج6،ص116 و بدائع)اور اگر فقط ایک ہی چچا ہے اور ذی رحم محرم میں سے کوئی اور نہیں تو چچا کو نصف ثُلث اور باقی نصف ثلث ورثہ پر رد ہوگا۔(1)(بدائع)
مسئلہ 5: اقارب کے لئے وصیّت کی اور ایک چچا اور ایک پھوپھی، ایک ماموں اور ایک خالہ چھوڑے تو یہ وصیّت چچا اور پھوپھی کے درمیان برابر تقسیم کی جائے گی۔ (2)(ہدایہ ج4وعالمگیری ج6،ص116)
مسئلہ 6: اپنے ذی قرابت یا اپنے ذی رحم کے لئے وصیّت کی اور ایک چچا اور ایک ماموں چھوڑے تو اس صورت میں اکیلا چچا کل وصیّت کا مالک ہوگا۔(3) (محیط السرخسی و ہدایہ ج4از عالمگیری ج6،ص116)
مسئلہ 7: اپنے اہل بیت کے لئے وصیّت کی تو اس میں اس کے مورث اعلیٰ (اقصی الاب فی الاسلام)کی تمام اولاد شامل ہوگی حتی کہ اگر موصی علوی ہے تو اس کی وصیّت میں ہر وہ شخص شامل ہوگاجو اپنے باپ کی طرف سے حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے منسوب ہے۔ (4)(عالمگیری ج6، ص116)
مسئلہ 8: اپنے نسب یا حسب کے لئے وصیّت کی تو وہ اس کے ہر اس رشتہ دار کے لئے ہے جس کا نسب اس کے مورث اعلیٰ (اقصیٰ الاب)سے ثابت ہے۔(5) (عالمگیری ج6،ص116)
مسئلہ 9: اپنے ثلث مال کی وصیت کی اپنے اہل کے لئے یاکسی(6)کے اہل کے لئے کی تو یہ خاص طور سے زوجہ کے لئے ہے مگر استحساناً تمام گھر والوں کے لئے ہے جو اس کی عیال داری میں ہیں(7)اور جن کے نفقہ کا وہ کفیل ہے لیکن اس میں اس کے غلام شامل نہیں۔(عالمگیری ج6،ص116)اور اگر اُس کے اہل دو شہروں میں یا دو گھروں میں رہتے ہیں وہ بھی اس وصیّت میں داخل ہیں۔ (8)(تاتار خانیہ از عالمگیری ج6،ص117)
مسئلہ 10: کسی نے یہ کہا کہ میں نے اپنے ثلث مال کی وصیّت اپنے قرابت داروں اور غیر کے لئے کی تو یہ کل وصیّت قرابت داروں کے لئے ہے۔ (9)(عالمگیری ج6،ص117)
1 ۔''بدائع الصنائع''،کتاب الوصایا،وصایااہل الذمۃ،ج6،ص453.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السادس فی الوصیۃ للأقارب...إلخ،ج6،ص116.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر''دونوں کے اہل کے لئے'' لکھاہواہے،جبکہ فتاوی عالمگیری کے مطابقعبارت یوں ہونی چاہے''یاکسی
کے اہل کے لئے ''،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
7 ۔یعنی پرورش میں ہیں۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السادس فی الوصیۃ للأقارب...إلخ،ج6،ص117.
9 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 11: اپنے بھائیوں کے لئے اپنے ثلث مال کی وصیّت کی تو ان تمام بھائیوں کو ملے گی جو اس کے بھائیوں کی حیثیت سے مشہور ہیں اور اس کی طرف منسوب ہیں۔(1) (خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص117)
مسئلہ 12: ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے زوجہ چھوڑی اور اس زوجہ کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں، اس نے کسی اجنبی کے لئے اپنے تمام مال کی وصیّت کی اور اپنی زوجہ کے لئے جمیع مال کی وصیّت کی تو اس صورت میں اجنبی کو پہلے اس کے تمام مال کا ثلث حصہ مل جائے گا بقیہ دو ثلث کا ربع(چوتھائی)میراث میں بیوی کو ملے گا جو کہ کل کا چھٹا حصہ بنتا ہے باقی رہ گیا نصف مال تو وہ اس بیوی اور اجنبی میں برابر برابر آدھا آدھا تقسیم ہوگا۔(2)(عالمگیری ج6،ص117)مثال کے طور پر موصِی نے بارہ روپے چھوڑے اس میں سے ایک ثلث یعنی چار روپے تو اجنبی کو بلا منازعت پہلے ہی مل جائیں گے باقی رہے دو ثلث یعنی آٹھ روپے اس کا ربع یعنی دو روپے بیوی کو میراث میں مل جائیں گے جو کہ کُل کا چھٹا حصہ ہے، اب باقی رہا نصف مال یعنی چھ روپے تو یہ اجنبی اور بیوی کے مابین آدھے آدھے تقسیم ہوں گے اس طرح بیوی کو اس کے مال سے پانچ حصے اور اجنبی کو سات حصے ملیں گے۔ (مؤلف)
مسئلہ 13: عورت کا انتقال ہوا اس نے اپنے تمام مال کی شوہر کے لئے وصیّت کی اور اس کا کوئی دوسرا وارث نہیں اور کسی اجنبی کے لئے بھی تمام مال کی وصیّت کی یا دونوں کے لئے نصف نصف مال کی وصیّت کی اس صورت میں اجنبی کو پہلے کل مال کا ایک ثلث ملے گا بقیہ دو ثلث میں سے آدھا میراث میں شوہر کو ملے گا باقی رہا ایک ثلث، اس کے تین حصے کئے جائیں گے اُن میں سے ایک حصہ اجنبی کو اور دو حصے شوہرکو ملیں گے۔ (3)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص117)اس صورت میں اس کا کل مال اٹھارہ حصوں میں تقسیم ہوگا، پہلے اجنبی کو چھ حصے یعنی ایک تہائی ملے گا، باقی رہے دو تہائی یعنی بارہ حصے اس میں سے آدھا یعنی چھ حصے شوہر کو ملیں گے باقی رہے چھ حصے جو کہ کل مال کا ایک ثلث ہیں اس میں سے اجنبی کو ایک ثلث یعنی دو2 حصے اور شوہر کو دو ثلث یعنی چار حصے ملیں گے، اس طرح شوہر کو بیوی کے کل مال میں سے دس 10 حصے اور اجنبی کو آٹھ 8 حصے ملیں گے۔ (مؤلف)
مسئلہ 14: اولادِ فُلاں کے لئے وصیّت کی اور فلاں کے لئے کوئی صلبی اولاد ہی نہیں تو اس وصیّت میں اس کے بیٹوں کی اولاد داخل ہوگی۔ (4)(محیط از عالمگیری ج6،ص118)
مسئلہ 15: فلاں کے ورثہ کے لئے وصیّت کی تو وصیّت اس طرح تقسیم ہوگی کہ مذکر کو دو حصے اور مونث کو ایک حصہ۔(5)(ہدایہ، عالمگیری ج6،ص118)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السادس فی الوصیۃ للأقارب...إلخ،ج6،ص117.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق،ص117،118. 5 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 16: فلاں کی بیٹیوں (بنات)کے لئے وصیّت کی اور ا س کے بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہیں تو وصیّت خاص طور سے بیٹیوں کے لئے ہے اور اگر ا س کے بیٹے ہیں اور پوتیاں ہیں تو وصیّت پوتیوں کے لئے ہے۔ (1)(عالمگیری ج6،ص118)
مسئلہ 17: فُلاں فُلاں کے آباء کے لئے وصیّت کی اور ان کے آباء و اُمّہات(2)دونوں ہیں تو یہ دونوں وصیّت میں داخل ہیں لیکن اگر ان کے آباء اور اُمّہات نہیں بلکہ داد ا اور دادیاں ہیں تو یہ وصیّت میں داخل نہیں۔ (3)(عالمگیری ج6،ص118)
مسئلہ 18: آلِ فُلاں کے لئے وصیّت کی تو یہ اس کے تمام گھر والوں کے لئے ہے۔(4) (ہدایہ، جلد4) مگر اس میں بیٹیوں اور بہنوں کی اولاد داخل نہیں نہ ہی ماں کے قرابت دار داخل ہیں۔(5) (زیلعی از حاشیہ ہدایہ)
مسئلہ 19: اپنے پڑوسیوں کے لئے وصیّت کی تو اس میں امام اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اس کے گھر سے ملے ہوئے ہوں لیکن صاحبین کے نزدیک وہ تمام لوگ شامل ہیں جو محلہ کی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔(6)(درمختارج5،ص476)
مسئلہ 20: اپنے پڑوسیوں کے لئے ثلث مال کی وصیّت کی اگر وہ گنتی کے ہیں تو یہ ثلث مال ان کے اغنیاء و فقراء دونوں میں تقسیم کیا جائے گا یہی حکم اس وصیّت کا ہے جو اہل مسجد کے لئے کی جائے۔(7) (عالمگیری ج6،ص119)
مسئلہ 21: بنی فلاں کے یتامٰی(یعنی فلاں خاندانوں کے یتیموں)کے لئے وصیّت کی اور وہ گنتی کے ہیں تو وصیّت صحیح ہے، ان سب پر خرچ کی جائے گی۔ یہی حکم اس وقت ہے جب یہ کہے کہ میں نے اس گلی کے یتامٰی یا اس گھر کے یتامٰی کے لئے وصیّت کی، اگر وہ گنتی کے ہیں تو غنی وفقیر دونوں پر خرچ ہوگی اور اگر وہ ان گنت ہیں تو وصیّت جائز ہے اس صورت میں صرف فقراء پر خرچ ہوگی۔(8) (عالمگیری ج6،ص119)کتنی تعداد کو ان گنت کہیں گے، بعض علماء نے اس کو رائے قاضی پر رکھا ہے اور اسی پر فتویٰ ہے، امام محمد (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)فرماتے ہیں کہ سو 100سے زیادہ تعداد تو لا تحصٰی (ان گنت)ہے اور یہ سہل ہے۔(9) (فتاویٰ قاضی خاں)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السادس فی الوصیۃ للأقارب...إلخ،ج6،ص118.
2 ۔ یعنی باپ اور مائیں۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السادس فی الوصیۃ للأقارب...إلخ،ج6،ص118.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوصایا، باب الوصیۃ للأقارب وغیرہم،ج2،ص531.
5 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الوصایا، باب الوصیۃ للأقارب وغیرہم،ج7،ص412،413.
6 ۔''الدر المختار''،کتاب الوصایا، باب الوصیۃ للأقارب وغیرہم،ج10،ص407.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السادس فی الوصیۃ للأقارب...إلخ،ج6،ص119.
8 ۔المرجع السابق.
9 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوصایا،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج2،ص429.
مسئلہ 22: فلاں خاندان کی بیواؤں کے لئے وصیّت کی وہ خواہ گنتی کی ہوں یا ان گنت ہوں دونوں صورتوں میں وصیّت جائز ہے،اگر گنتی کی ہیں تو وصیّت اُن پر خرچ ہوگی اور اگر ان گنت ہیں تو جو مل جائیں ان پر خرچ ہوگی۔(1) (عالمگیری ج6،ص119)
مسئلہ 23: اپنے پڑوس یا فلاں کے پڑوسی کے لئے وصیّت کی اور وہ پڑوسی ان گنت ہیں تو وصیّت باطل ہے ایسے ہی اگر اس نے اہل مسجد کے لئے وصیّت کی یا اہل جیل خانہ (قیدیوں)کے لئے وصیّت کی وہ اَن گنت ہیں تو وصیت باطل ہے۔ (2)(تاتار خانیہ از عالمگیری ج6،ص119)
مسئلہ 24: فلاں خاندان کے اندھوں کے لئے وصیّت کی یا فلاں خاندان کے لنُجوں(یعنی اعضا سے اپاہج)کے لئے وصیّت کی یا قرض دار یا مسافرین یا قیدیوں کے لئے، اگر وہ قابلِ شمار ہیں تو غنی اور فقیر دونوں شامل ہوں گے اور اگر بے شمار ہیں تو صرف فقراء کے لئے مالِ وصیّت خرچ ہوگا۔ (3)(عالمگیری ج6،ص119)
مسئلہ 25: اپنے اصہار یعنی سسرال والوں کے لئے وصیّت کی تو یہ وصیّت اس کی بیوی کے ہر ذی رحم محرم کے لئے ہے، اسی طرح اُس میں اس کے باپ کی بیوی کے ذی رحم محرم بھی داخل ہوں گے اور اُس کے ہر ذی رحم محرم کی زوجہ بھی داخل ہے، یہ سب اس وقت داخل ہوں گے جب موصِی کی موت کے دن یہ اس کے صہر ہوں۔(4) (عالمگیری ج6،ص120)، یعنی موصِی کی زوجہ اس کی زوجیت میں ہو، طلاقِ بائن یا طلاقِ مغلظہ سے عدّت میں نہ ہو، اگر طلاقِ رجعی سے عدّت میں ہے تو وہ زوجیت میں داخل ہے۔ (5)(در مختار، ردالمحتار ج5،ص473)
مسئلہ 26: اپنے اَختان یعنی دامادوں کے لئے وصیّت کی تو اس میں اس کے ہر ذی رحم محرم کا شوہر داخل ہے، جیسے بیٹیوں کے شوہر، بہنوں کے شوہر، پھوپھیوں کے شوہر اور خالاؤں کے شوہر۔ (محیط از عالمگیری ج6،ص120)بیوی کی لڑکی جو اس کے شوہر اول سے ہے اس کا شوہر موصِی کے دامادوں میں شامل نہیں۔ (6)(تاتار خانیہ از عالمگیری ج6،ص120)
مسئلہ 27: اولاد رسول پاک علیہ الصلوٰۃ والسّلام کے لئے وصیّت کی تو اس وصیّت میں صرف اولاد امام حسن اور امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہماداخل ہوگی۔ (7)(عالمگیری ج6،ص120)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السادس فی الوصیۃ للأقارب...إلخ،ج6،ص119.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق،ص120.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوصایا،باب الوصیۃ للأقارب وغیرہم،ج10،ص408.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السادس فی الوصیۃ للأقارب...إلخ،ج6،ص120.
7 ۔المرجع السابق،ص121.
مسئلہ 28: علویوں (1)کے لئے وصیّت کی تو یہ وصیّت جائز نہیں کیونکہ وہ بے شمار ہیں اور وصیّت میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو فقیر و حاجت مندی کا اشارہ کرے، ہاں اگر فقراء علویوں کے لئے وصیّت کی تو جائز ہے۔ (2) (عالمگیری ج6،ص121)
مسئلہ 29: فقہاء کے لئے وصیّت کی تو جائز نہیں اور اگر ان کے فقراء کے لئے وصیّت کی تو جائز ہے اسی طرح اگر طلبائے علم کے لئے وصیّت کی تو ناجائز اور اگر ان کے فقراء کے لئے کی تو جائز ہے۔ (3) (عالمگیری ج6،ص121)
مسئلہ 30: کسی شہر کے اہل علم کے لئے وصیّت کی، اس میں اہل فقہ اور اہل حدیث شامل ہیں، لیکن اہل منطق و اہل فلسفہ شامل نہیں، نہ ہی اس میں علم کلام پڑھنے والے داخل ہیں۔ حضرت ابو القاسم فقیہ سے روایت ہے کہ کتبِ کلام کتبِ علم نہیں۔(4)(عالمگیری ج6،ص121)
مسئلہ 31: اپنے ثلث مال کی وصیّت کی کہ میرا ثلث مال فلاں کے لئے ہے اور مسلمانوں میں سے ایک شخص کے لئے، تو نصف ثلث فُلاں کو دیا جائے گا اور اس شخص کے لئے کچھ نہیں۔ (5) (عالمگیری ج6،ص121)
مسئلہ 32: قبر کو لیپنے پوتنے کی(6)وصیّت کی اگر یہ حفاظتِ قبر کے لئے ہے تو جائز اور اگر تزئین کے لئے(7)ہے تو ناجائز، اور یہی حکم مزارات پر قبہ(8)بنانے کا ہے خصوصاً اولیاء اﷲکے مزارات پر بہ نیتِ آسائش زائرین(9)و تحصینِ قبر(10)۔ (11)(فتاویٰ رضویہ ج11،ص151 بحوالہ درمختار، عالمگیری و بزازیہ)
مسئلہ 33: اپنی قبر پر قرآن شریف پڑھنے کی وصیّت کی یہ وصیّت جائز ہے مگر اجرت پر جائز نہیں۔(12)(درمختار، ردالمحتار ج5،ص485)
مسئلہ 34: وصیّت کی کہ مجھے میرے گھر میں دفن کریں تو یہ وصیّت باطل ہے کہ یہ خاص ہے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسّلام کے لئے، امت کے حق میں مشروع نہیں۔(13) (فتاویٰ رضویہ ج11،ص152 بحوالہ خلاصہ، بزازیہ، تاتار خانیہ و ہندیہ)
1 ۔عُلَوی کی جمع ،حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وہ اولاد جو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکے بطن مبارک سے نہ ہو۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السادس فی الوصیۃ للأقارب...إلخ،ج6،ص121.
3 ۔المرجع السابق 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔یعنی پلستر وغیرہ کرنے کی۔ 7 ۔سجاوٹ و خوبصورتی کے لیے۔ 8 ۔گنبد۔
9 ۔یعنی زیارت کرنے والوں کے سکون و آرام کے لیے۔ 10 ۔یعنی حفاظت قبر کے لیے۔
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوصایا،باب الوصیۃ للأقارب وغیرھم،ج10،ص419.
و''الفتاوی الرضویۃ''،کتاب الوصایۃ،ج25،ص424.
12 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الوصایا،باب الوصیۃ للأقارب وغیرھم،ج10،ص420.
13 ۔''الفتاوی الرضویۃ''،کتاب الوصایۃ،ج25،ص425.
مسئلہ 1: گھر کے کرایہ کی آمدنی کی وصیّت کی تو موصیٰ لہ کو اس میں رہنے کا حق نہیں اور اگر زید کے لئے ایک سال تک اپنے دار (گھر)میں سکونت کی وصیّت کی اور دار کے موصِی کا اور کچھ مال نہیں ہے تو زید اس میں سے تہائی دار میں رہے گا اور ورثہ دو تہائی دار میں، ورثہ کو اختیار نہیں کہ وہ اپنا مقبوضہ فروخت کر دیں۔(1) (بدائع ازعالمگیری ج6،ص122)
مسئلہ 2: یہ کہا یہ بھوسا فُلاں کے جانوروں کے لئے ہے، تو یہ وصیت باطل ہے اور اگر یہ وصیّت کی کہ فلاں کے جانوروں کو کھلایا جائے تو وصیّت جائز ہے۔ (2)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص122)
مسئلہ 3: کسی شخص کے لئے اپنے گھر میں رہنے کی وصیّت کی اور مدت اور وقت مقرر نہیں کیا تو یہ وصیّت تاحیاتِ موصی ا لہ ہے۔(3) (المنتقٰی از عالمگیری ج6،ص122)
مسئلہ 4: کسی شخص کے لئے اپنے گھر میں رہنے کی وصیّت کی تو اسے اس گھر کو کرایہ پر دینے کا حق نہیں۔(4) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص122)
مسئلہ 5: کسی نے اپنے باغ کے محاصل و پیداوار کی وصیّت کی تو موصٰی لہ کے لئے اس کے موجودہ محاصل و پیداوار ہیں اور جو کچھ آئندہ ہوں۔(5) (کافی از عالمگیری ج6،ص122)ملحوظ رہے کہ عربی زبان میں بستان اس باغ کو کہتے ہیں جس کی چار دیواری بنی ہو، اس چہار دیواری کے اندر جو درخت یا زراعت ہو وہ سب بستان میں شامل ہے اور باغ سے ان مسائل میں مراد ایسا ہی باغ ہے۔ (مؤلف)
مسئلہ 6: کسی کے لئے اپنے باغ کے پھلوں کی وصیّت کی تو اس کی دو صورتیں ہیں یا یہ کہا کہ ہمیشہ کے لئے یا ہمیشہ کا لفظ نہیں کہا۔ اگر ہمیشہ کا لفظ نہیں کہا تو اس کی بھی دو صورتیں ہیں اگر اس کے باغ میں اس کی موت کے دن پھل لگے ہیں تو موصٰی لہ کے لئے اس کے ثلث مال میں سے صرف ان ہی پھلوں سے دیا جائے گا اور اس کے بعد جو پھل آئیں گے موصٰی لہ کا ان میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ اور اگر موصِی کی موت کے دن باغ میں پھل نہیں لگے تھے تو قیاس یہ ہے کہ یہ وصیّت باطل مگر استحسان میں وصیّت باطل نہیں بلکہ موصٰی لہ کو اس کی تاحیات اس باغ کے پھل ملتے رہیں گے بشرطیکہ وہ بستان اس کے ثلث مال سے زائد نہ ہو، یہ تمام صورتیں اس وقت ہیں جب موصِی نے وضاحت نہیں کی ا ور اگر اس نے وضاحت کر دی اور یوں کہا کہ میں نے تیرے لئے ہمیشہ کے واسطے اپنے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص122.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص122.
باغ کے پھلوں کی وصیّت کی تو اسے موجودہ پھل بھی ملیں گے اور جو بعد میں پیدا ہوتے رہیں وہ بھی۔(1)(عالمگیری ج6ص122)
مسئلہ7: اپنے باغ کے پھلوں و پیداوار کی ہمیشہ کے لئے کسی کے لئے وصیّت کی پھر اس کے کھجور کے درختوں کی
جڑوں سے اور درخت پیدا ہوگئے تو ان کی پیداوار اور محاصل بھی وصیّت میں داخل ہوں گے۔(2) (المنتقٰی از عالمگیری ج6ص122)
مسئلہ 8: اپنے باغ کے پھلوں کے ثلث کی وصیّت کی اور موصِی کا اور کوئی مال سوائے اس بستان (باغ)کے نہیں ہے تو یہ وصیّت جائز ہے اورموصٰی لہ اس کا ثلث پانے کا مستحق ہے اگرموصیٰ لہ نے باغ کا تہائی حصہ ورثہ سے تقسیم کر لیا پھر اس حصہ سے آمدنی ہوئی جو موصیٰ لہ کے پاس آیا اور ورثہ کے حصے میں آمدنی نہیں ہوئی یا ورثہ کے حصہ میں آمدنی ہوئی اور موصیٰ لہ کے حصہ میں آمدنی نہیں ہوئی تو دونوں صورتوں میں وہ ورثہ اورموصیٰ لہ ایک دوسرے کے شریک ہوں گے۔(3) (عالمگیری ،ج6،ص122)
مسئلہ 9: کسی کے لئے ثلث بستان کی وصیّت کی تو ورثہ کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے حصہ کا دو ثلث بستان فروخت کردیں، ایسی صورت میں دو ثلث کا خریدار موصیٰ لہ کے ساتھ شریک ہو جائے گا۔(4) (عالمگیری ج6،ص123)
مسئلہ 10: ایک شخص نے کسی کے لئے اپنی زمین کی پیداوار کی وصیّت کی اور اس زمین میں کھجور کے درخت ہیں اور نہ اور کوئی درخت ہے اور موصِی کا اس کے سوا اور مال بھی نہیں ہے تو اس کو کرایہ پر اٹھایا جائے گا اور اس کرایہ کا ایک ثلث موصیٰ لہ کو دیا جائے گا اور اگر اس میں کھجور کے درخت ہیں اوراور بھی درخت ہیں تو ان درختوں کی پیداوار کا ثلث موصیٰ لہ کو ملے گا۔(5)(عالمگیری ج6،ص123)
مسئلہ 11: وصیّت کرنے والے نے کسی کے لئے اپنی بکریوں کی اُون کی یا اپنی بکریوں کے بچوں کی یا ان کے دودھ کی ہمیشہ کے لئے وصیّت کی تو ان تمام صورتوں میں موصیٰ لہ کو ان بکریوں کا وہی اون ملے گا جو وصیّت کرنے والے کی موت کے دن ان کے جسم پر ہے اور وہی بچے ملیں گے جو موصِی کی موت کے دن ان کے پیٹوں میں ہیں اور وہی دودھ ملے گا جو موصی کی موت کے دن ان کے تھنوں میں ہے خواہ موصی نے وصیّت میں ہمیشہ کا لفظ کہا یا نہ کہا۔ (6)(ہدایہ از عالمگیری ج6،ص123)
مسئلہ 12: کسی شخص نے اپنے بستان (باغ)کی پیداوار کی وصیت کی پھر موصیٰ لہ نے میت کے ورثہ سے غلہ کے عو ض پورا باغ خرید لیا تو یہ جائز ہے اس صورت میں وصیّت باطل ہو جائے گی اسی طرح اگر ورثہ نے باغ اس کو فروخت نہیں کیا لیکن انھوں نے کچھ مال دے کر موصیٰ لہ کو اپنے حصہ کے غلّہ سے بری ہونے پر راضی کر لیا تو یہ بھی جائز ہے۔ (7)(عالمگیری ج6،ص123)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص122،123.
2 ۔المرجع السابق،ص123. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 13: اپنے گھر کے کرایہ کی مساکین میں تقسیم کرنے کی وصیّت کی تو یہ اس کے ثلث مال میں سے جائز ہے اور اگر مساکین کے لئے اپنے گھر میں رہنے یا اپنی سواری پر سوار ہونے کی وصیّت کی تو یہ جائز نہیں مگر یہ کہ موصی ا لہ معلوم ہو۔ (1)(محیط از عالمگیری ج6،ص123)
مسئلہ 14: مساکین کے لئے اپنے انگور کے باغ کی بہار کی تین سال تک کے لئے وصیّت کی اور مر گیا اور تین سال تک اس کے انگور کے باغ میں انگور کی بہار نہ آئی تو بعض کے قول پر یہ باغ موقوف رہے گا جب تک اس کی تین سال کی بہار مساکین پر صدقہ نہ کر دی جائے، فقیہ ابو اللیث رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا یہ قول ہمارے اصحاب کے مطابق ہے۔(2)(عالمگیری ج6ص123)
مسئلہ 15: اپنے جسم کے لباس کی وصیّت کی تو یہ جائز ہے اور موصیٰ لہ کو اس کے جُبّے، قمیص، چادریں اور پاجامے ملیں گے، اس کی ٹوپیاں، موزے، جرابیں اس میں شامل نہ ہوں گے۔ (3)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص123)
مسئلہ 16: یہ وصیّت کی کہ یہ کپڑے صدقہ کر دو تو یہ جائز ہے کہ وہ کپڑے فروخت کر کے ان کی قیمت صدقہ کر دیں یا چاہیں تو کپڑے فروخت نہ کریں رکھ لیں اور ان کی قیمت دے دیں۔(4) (عالمگیری ج6،ص123)
مسئلہ 17: کسی آدمی کو یہ وصیّت کی کہ میری زمین سے دس جریب(گٹھ)زمین ہر سال کاشت کرے اس صورت میں بیج، خراج (مالگذاری)اور آبپاشی(5)موصٰی لہ(6)کے ذمہ ہوگی اور اگر وصیّت میں یہ کہا کہ ہر سال میری دس جریب زمین میرے لئے کاشت کرے اس صورت میں بیج،مالگذاری اور آبپاشی متوفٰی موصی کے مال سے دیئے جائیں گے۔(7)(عالمگیری ج6،ص124)
مسئلہ 18: کسی شخص کے لئے کھجور کے باغ کی کھجوروں کی وصیّت کی جو کہ تیارتھیں یا کاشت کی وصیّت کی جو کاٹے جانے کے قریب تھیں لیکن فصل کاٹی نہیں گئی تھی تو مال گزاری موصیٰ لہ پر ہے لیکن اگر باغ کے پھل توڑ لئے گئے اور کھیتی کاٹ لی گئی تو متوفیٰ موصیٰ لہ کے مال سے مال گزاری دی جائے گی۔(8)(تاتار خانیہ از عالمگیری ج6،ص124)
مسئلہ 19: موصِی نے کسی کے لئے اپنی تلوار کی وصیّت کی تو اس میں تلوار کا پرتلہ(9)اور حمائل(10)داخل ہے۔ (11)(عالمگیری ج6،ص124)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص123.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔یعنی زمین کو پانی دینا۔ 6 ۔جس کے لیے وصیت کی۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص124.
8 ۔المرجع السابق.
9 ۔وہ پیٹی یا تسمہ جس میں تلوار لٹکی رہتی ہے۔ 10 ۔وہ پرتلاجو شانے پر ترچھا پڑتا ہے۔
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص124.
مسئلہ 20: کسی کے لئے مصحف (قرآن پاک)کی وصیّت کی اور مصحف کا غلاف بھی ہے تو اس کو مصحف ملے گا غلاف نہیں۔ (1)(قدوری از عالمگیری ج6،ص124)
مسئلہ 21: سرکہ کے مٹکے کی وصیّت کی تو اس میں مٹکا شامل ہے اور اگر جانوروں کے گھر (یعنی وہ گھر جس میں جانور رکھے جاتے ہیں) کی وصیّت کی تو وصیّت دار (گھر)کی ہے اس میں جانور شامل نہیں، ایسے ہی کھانے کی کشتی (ٹرے)کی وصیّت کی تو اس میں کا کھانا دیا جائے گا کشتی (ٹرے)نہیں۔ (2)(محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص124)
مسئلہ 22: کسی کے لئے میزان (ترازو)کی وصیّت کی تو اس میں اس کا عمود (ڈنڈی)پلڑے اور ا س کی ڈسیں(3)شامل ہیں، باٹ،(4)بٹہ اور مٹھیہ(علاق)(5)شامل نہیں لیکن اگر ترازو معین کر دی تو اس میں باٹ اور علاق بھی شامل ہوں گے۔(6) (عالمگیری ج6،ص124)
مسئلہ 23: اپنی بکریوں میں سے کسی کے لئے ایک بکر ی کی وصیّت کی اور یہ نہیں کہا کہ میری ان بکریوں میں سے، پھر وارثوں نے اسے وہ بکری دی جس نے موصِی کی موت کے بعد بچہ جنا تو یہ بچہ بکری کے ساتھ شامل نہ ہوگا یعنی فقط بکری ملے گی۔(7) (عالمگیری ج6،ص124)
مسئلہ 24: اور اگر یہ کہا کہ میں نے فلاں کے لئے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کی وصیّت کی اور وارثوں نے اس موصٰی لہ کو وہ بکری دی جس نے موصِی کی موت کے بعد بچہ دیا تو وہ بچہ اس بکری کا تابع ہوگا یعنی بکری مع بچہ کے موصٰی لہ کو دی جائے گی اور اگر وارثوں نے بکری معیّن کرنے سے پہلے پہلے بچہ کو ضائع کر دیا یعنی ہلاک کر دیا تو ان پر اس کا ضمان نہیں۔ (8)(عالمگیری ج6،ص124)
مسئلہ 25: دار (گھر) کی ایک شخص کے لئے وصیّت کی اور اس کی بنیاد کی دوسرے کے لئے، یا یہ کہا کہ یہ انگوٹھی فلاں کے لئے ہے اور اس کا نگینہ دوسرے کے لئے یا یہ کہا کہ یہ کنڈیا (زنبیل)(9)فلاں کے لئے اور اس میں کے پھل فلاں کے لئے، تو ان تمام صورتوں میں اگر اس نے مُتَّصِلاً بلافصل کہا تو ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی وصیّت اس کے لئے کی اور اگر مُتَّصِلاً نہیں کہا بلکہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص124.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔ترازو کی ڈوریاں۔ 4 ۔اشیاء تولنے کے لیے ترازو پر رکھا جانے والاپتھر وغیرہ۔
5 ۔موٹھ جہاں سے ترازو کو پکڑتے ہیں۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص124.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق.
9 ۔پھلوں کی ٹوکری ۔
فصل کیا تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک یہی حکم ہے اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ اصل (یعنی دار یا انگوٹھی یاکنڈیا)تنہا پہلے کو ملے گی اور تابع میں دونوں شریک ہوں گے۔(1) (عالمگیری ج6،ص125بحوالہ کافی) یعنی اس صورت میں گھرتنہا پہلے کو ملے گا بناء مشترک ہوگی، کنڈیا پہلے کو ملے گی پھل مشترک ہوں گے اور انگوٹھی پہلے کو ملے گی اور نگینہ مشترک ہوگا۔
مسئلہ 26: اور اگر یہ وصیّت کی کہ یہ گھر فلاں کے لئے ہے اور اس میں رہائش فلاں کے لئے یا یہ درخت فلاں کے لئے ہے اور اس کا پھل فلاں کے لئے یا یہ بکری فلاں کے لئے اور اس کی اُون فلاں کے لئے تو جس کے لئے جو وصیّت کی اس کو بلا اختلاف وہی ملے گا خواہ اس نے یہ مُتَّصِلاً کہا ہو یا درمیان میں فصل کیا ہو۔ (2)(عالمگیری ج6،ص124)
مسئلہ 27: کسی شخص کے لئے اپنے دار (مکان)کی وصیّت کی اور اس میں بنے ہوئے ایک خاص بیت (کمرہ) کی وصیّت کسی دوسرے کے لئے کی تو وہ خاص بیت ان دونوں کے درمیان بقدر ان کے حصہ کے مشترک ہوگا۔(3)(عالمگیری ج6،ص125)
مسئلہ 28: کسی کے لئے معینہ ایک ہزار درہم کی وصیّت کی اور ان میں سے ایک سو درہم کی دوسرے کے لئے وصیّت کی تو ایک ہزار والے کو نو سو درہم ملیں گے اور سو درہم دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوں گے۔(4)(عالمگیری ج6،ص125)
مسئلہ 29: اگر ایک شخص کے لئے مکان کی وصیّت کی اور اس کی بناء(5)کی دوسرے کے لئے تو بناء ان دونوں کے درمیان حصہ رسدی (6)تقسیم ہوگی۔ (7)(بدائع از عالمگیری ج6،ص125)
مسئلہ 30: موصی نے اپنے جانور کی ایک شخص کے لئے وصیّت کی ا ور اس کی سواری اور منفعت کی دوسرے کے لئے وصیّت کی تو ہر موصی ٰلہ کے لئے وہی ہے جس کی اس کے لئے وصیّت کی۔(8) (مبسوط از عالمگیری ج6،ص125)
مسئلہ 31: ایک شخص کے لئے اپنے گھر کے کرایہ کی وصیّت کی اور دوسرے کے لئے اس میں رہنے کی وصیّت کی اورتیسرے شخص کے لئے اس کے رقبہ کی وصیّت کی ا ور یہ ایک ثلث ہے پس کسی شخص نے موصِی کی موت کے بعد اس کو منہدم کر دیاتو جتنا اس نے گرایا ہے اس کی قیمت کا تاوان اُس پر ہے پھر اس قیمت سے مکان بناءے جائیں جیسے بنے ہوئے تھے اور کرایہ پر دیا جائے، تو جس کے لئے کرایہ کی وصیّت کی اسے کرایہ اور جس کے لئے سکونت کی وصیّت کی اسے حق سکونت ملے گا، یہی حکم بستان (باغ)کی وصیّت کا ہے کہ اس نے ایک شخص کے لئے بستان کی پیداوار کی وصیّت کی اور دوسرے کے لئے اس کے رقبہ کی، پھر کسی شخص نے اس میں سے درخت کاٹ لئے تو اس پر درختوں کی قیمت کا تاوان ہے اس قیمت سے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص125.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔بنیاد۔ 6 ۔جو حصے میں اتا ہے اس کے مطابق۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص125.
8 ۔المرجع السابق،ص126.
درخت خرید کر لگائے جائیں گے۔(1) (عالمگیری ج6،ص127)
مسئلہ 32: موصِی نے ایک شخص کے لئے اپنے باغ کی آمدنی کی وصیّت کی اور دوسرے کے لئے باغ کے رقبہ کی وصیّت کی اور یہ اس کا ثلث مال ہے تو باغ کا رقبہ اس کے لئے ہے جس کے واسطے رقبہ کی وصیّت کی اور اس کی آمدنی اس کے لئے جس کے واسطے اس کی آمدنی کی وصیّت کی جب تک موصی ٰلہ زندہ ہے اور اس صورت میں باغ کی آبپاشی، مال گذاری اور اس کی اصلاح و مرمت آمدنی والے پر ہے۔ (2) (عالمگیری ج6،ص127)
مسئلہ 33: موصی نے ہمیشہ کے لئے اپنی بکریوں کی اُون کی یا ان کے دودھ کی یا ان کے گھی کی یا ان کے بچوں کی کسی کے لئے وصیّت کی تو یہ وصیّت صرف اس اون میں جاری ہوگی جو موصی کی موت کے دن ان بکریوں کی پیٹھوں پر ہے یا وہ دودھ جو ان کے تھنوں میں ہے یا وہ گھی جو ان کے تھنوں کے دودھ سے برآمد ہو یا وہ بچے جو ان کے پیٹ میں ہوں جس دن کہ موصی کی موت ہوئی، اس کی موت کے بعد پھر جو کچھ پیدا ہوگا اس میں وصیّت جاری نہ ہوگی۔ (3) (عالمگیری ج6،ص127)
مسئلہ 34: موصی نے کسی کے لئے ہمیشہ کے واسطے اپنے کھجوروں کے باغ کے محاصل (آمدنی)کی وصیّت کی اور دوسرے کے لئے اس باغ کے رقبہ کی وصیّت کی اور اس باغ میں بہار (پھل)نہیں آئی تو اس صورت میں اس کی آبپاشی اور اس کی اصلاح کا خرچہ و مرمت صاحب رقبہ پر ہے پھر جب اس پر پھل آجائیں تو یہ خرچہ آمدنی لینے والے پر ہے اور اگر ایک سال پھل آئے پھر نہ آئے تب بھی اس کی اصلاح و خرچہ کی ذمہ داری آمدنی لینے والے پر ہے، اگر آمدنی لینے والے نے خرچہ نہ کیا اور صاحب رقبہ نے خرچہ کیا یہاں تک کہ باغ میں پھل آگئے تو صاحب رقبہ اس سے اپنا خرچہ وصول کریگا۔ (4) (مبسوط از عالمگیری ج6،ص127)
مسئلہ 35: یہ وصیّت کی کہ ان تِلوں کا تیل فلاں کے لئے اور اس کی کَھلی(5)دوسرے کے لئے ہے تو تیل نکالنے کی ذمہ داری اس کی ہے جس کے لئے تیل کی وصیّت کی۔(6) (فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص127)
مسئلہ 36: انگوٹھی کے حلقہ(7)کی ایک شخص کے لئے وصیّت کی اور اس کے نگینہ کی دوسرے کے لئے تویہ وصیّت جائزہے اگر اس کانگ نکالنے میں انگوٹھی کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو دیکھا جائے گا اگر حلقہ کی قیمت نگ سے زیادہ ہے توحلقہ والے سے کہا جائے گا کہ وہ نگ والے کو نگ کی قیمت ادا کرے اور اگر نگ کی قیمت زیادہ ہے تو نگ والے سے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص127.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔تیل نکالنے کے بعد تلوں کا بچا ہو اپھوک۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص127.
7 ۔نگینے کے علاوہ دھات کی بقیہ انگوٹھی۔
کہاجائے گاکہ وہ انگوٹھی کے حلقہ کی قیمت ادا کرے۔(1) (عالمگیری ج6،ص127)
مسئلہ 37: ایک شخص نے کسی کے لئے اپنے بستان (باغ)کے ان پھلوں کی وصیّت کی جو اُس میں موجود ہیں اوراس نے اس کے لئے اس کے پھلوں کی ہمیشہ کے لئے بھی وصیّت کی، اس کے بعد موصی کا انتقال ہوگیا اور موصِی کا اس کے سوااورمال نہیں ہے اور باغ میں پھل سو100 روپے کی قیمت کے ہیں اور پورے باغ کی قیمت تین سو300 روپے کے مساوی ہے، اس صورت میں موصٰی لہ کے لئے باغ میں موجود پھلوں کا تہائی حصہ ہے اور آئندہ جو پھل آئیں گے ان میں سے ہمیشہ اس کو ایک ثلث ملتارہے گا۔(2) (عالمگیری ج6،ص127)
مسئلہ 38: یہ وصیّت کی کہ میرے مال سے فلاں شخص پر ہر ماہ پانچ درہم خرچ کئے جائیں تو اس کے مال کا ایک ثلث رکھ لیا جائے گا تاکہ موصی ٰلہ پر ہر ماہ پانچ درہم خرچ کئے جاتے رہیں جیسا کہ موصِی نے وصیّت کی ہے۔ (3)(مبسوط از عالمگیری ج6،ص128)
مسئلہ 39: ایک شخص نے دو آدمیوں کے لئے وصیّت کی کہ ان میں سے ہر ایک پر میرے مال سے اتنا اتنا خرچ کیا جائے تو اس کا ایک ثلث مال ان دونوں پر خرچ کے لئے رکھ لیا جائے گا پھر اگر وارثوں نے ان میں سے کسی ایک سے کچھ دے کر مصالحت کر لی اور وہ وصیّت سے دستبردار ہوگیا تو اس صورت میں موصی کا کل ثلث مال دوسرے پر خرچ کرنے کے لئے رکھ لیا جائے گا اور وارثوں کے حق میں دستبرداری دینے والے کا حق وارثوں کو نہ ملے گا۔ (4)(محیط از عالمگیری ج6،ص127)
مسئلہ 40: ایک شخص نے وصیّت کی کہ میرے مال میں سے فلاں شخص پر اس کی تاحیات ہر ماہ پانچ درہم خرچ کئے جائیں اور ایک دوسرے شخص کے لئے اپنے ثلث مال کی وصیّت کی اور ورثہ نے اس کی اجازت دے دی تو اس صورت میں اس کا مال چھ حصوں میں تقسیم ہو کر ایک حصہ موصی ٰلہ ثلث(5)کو ملے گا اور باقی پانچ حصے محفوظ رکھے جائیں گے ان میں سے پانچ درہم والے پر ہر ماہ پانچ درہم خرچ کئے جائیں گے اور اگر یہ شخص جس کے لئے پانچ درہم ہر ماہ خرچ کرنے کی وصیّت کی تھی اپنے حصہ کا محفوظ روپیہ خرچ ہونے سے پہلے ہی مرگیا تو جس کے لئے ثلث مال کی وصیّت کی تھی اس کا ثلث پورا کیا جائے گا اور یہ ثلث مال اس دن کے حساب سے لگایا جائے گا جس دن کہ موصی کی(6)موت ہوئی لیکن اگر مال کا دو ثلث حصہ سے زیادہ خرچ ہوچکا تھا اور اب جو باقی بچا اس سے موصٰی لہ ثلث کا ثلث پورا نہیں ہوتا تو اس صورت میں اس مرنے والے کے حصہ میں سے جو نفقہ بچا ہے وہ اسے دے دیا جائے گا اور اس کا ثلث پورا نہیں کیا جائے گا اور اگر مال اتنا بچ گیا تھا کہ موصٰی لہ ثلث کا ثلث پورا ہو کر بچ گیا تو جو باقی بچا وہ موصِی کے ورثہ کو ملے گا نہ کہ اس کے ورثہ کو جس کے لئے پانچ درہم ماہانہ خرچ کرنے کی وصیّت کی تھی۔(7) (عالمگیری ج6،ص128)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص127.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص128. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔یعنی جس کے لیے ثلث مال کی وصیت کی ہے۔ 6 ۔وصیت کرنے والے کی۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنٰی...إلخ،ج6،ص128.
مسئلہ 41: اگر دو آدمیوں کے لئے یہ وصیّت کی کہ ان دونوں پر ان کی تاحیات میرے مال سے ہر ماہ دس درہم خرچ کئے جائیں اور ایک تیسرے کے لئے اپنے ثلث مال کی وصیّت کی تو اگر ورثہ نے اس کی اجازت دی تو اس کا مال چھ حصوں میں تقسیم ہوگا اور اگر ورثہ نے اجازت نہ دی تو دو برابر حصوں میں تقسیم ہوگا اور اگر ان دونوں آدمیوں سے جن کے لئے تاحیات دس درہم ماہانہ کی وصیّت کی تھی ایک آدمی کا انتقال ہوگیا تو اس کا حصہ اس کو نہیں ملے گا جس کے لئے ثلث مال کی وصیّت کی تھی بلکہ جو کچھ ان دو آدمیوں کے لئے محفوظ رکھا تھا وہ ویسے ہی محفوظ رہے گا اور اسے اس ایک پر خرچ کیا جائے گا جو ان دونوں میں سے زندہ باقی ہے۔(1) (عالمگیری ج6،ص128،کتاب الوصایا)
مسئلہ 42: اگر میت نے یہ وصیّت کی کہ میں نے فلاں کے لئے اپنے ثلث مال کی وصیّت کی اور فلاں کے لئے اس پر تاحیات ہر ماہ پانچ درہم خرچ کرنے کی وصیّت کی اور ایک دوسرے کے لئے تاحیات اُس کی اُس پر پانچ درہم خرچ کرنے کی وصیّت کی تو اگر ورثہ نے اس کی اجازت دے دی تو اس کا مال نو حصوں میں منقسم ہوگا، جس کے لئے ثلث مال کی وصیّت کی اس کو ایک حصہ اور بقیہ بعد والے دونوں موصیٰ لہما کے لئے چار چار حصے محفوظ رکھے جائیں گے اور ان پر ہر ماہ خرچ ہوں گے۔ (2)(عالمگیری ج6،ص128)
مسئلہ 43: اگر میت نے وصیّت کی کہ میرے مال سے فلاں پر اس کی تاحیات پانچ درہم ماہانہ خرچ کیا جائے اور فلاں اور فلاں پر ان کی تاحیات دس درہم ماہانہ خرچ کئے جائیں، ہر ایک کے لئے پانچ درہم، اور ورثہ نے اس کی اجازت دے دی تو مال موصیٰ لہ اور موصیٰ لہما کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوگا اس طرح کہ جس کے لئے پانچ درہم ماہانہ کی وصیّت کی اسے ایک نصف اورجن دو کے لئے دس درہم ماہانہ کی وصیّت کی انھیں دوسرا نصف، اس طرح نصف مال پہلے ایک کے لئے اور نصف مال دوسرے دو کے لئے محفوظ رکھا جائے گا اور ان پر ماہ بماہ خرچ ہوگا۔(3) (عالمگیری ج6،ص128)اور اگر اس ایک کا انتقال ہوگیا جس ایک کے لئے پانچ درہم ماہانہ کی وصیّت کی تھی تو جو کچھ بچا وہ ان دو پر خرچ ہوگا جن دو کے لئے دس 10 درہم ماہانہ کی وصیّت کی تھی اور اگر ان دونوں میں سے ایک کا انتقال ہوگیا جن کے لئے ایک ساتھ دس درہم ماہانہ کی وصیّت کی تھی اور پانچ درہم والا زندہ رہا تو اس صورت میں مرنے والے کا حصہ اس کے شریک ِ وصیّت کے لئے محفوظ رکھا جائے گا اور اس پر خرچ کیا جائے گا، یہ اس صورت میں ہے جب ورثہ نے اجازت دے دی اور اگر ورثہ نے اجازت نہیں دی تو میت کا ثلث مال نصف نصف دو برابر حصوں میں تقسیم ہوگا، نصف ثلث اس کو ملے گا جس ایک کے لئے پانچ درہم ماہانہ کی وصیّت کی اور نصف ثلث ان دونوں کو ملے گا جن دونوں کو ایک ساتھ ملا کر ان کے لئے دس درہم ماہانہ کی وصیّت کی۔(4) (عالمگیری ج6،ص129)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنی...إلخ،ج6، ص128.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق، ص129. 4 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 44: ایک شخص نے وصیّت کی کہ میرا ثلث مال فلاں کے لئے رکھا جائے اور اس پر اس میں سے ہر ماہ چار درہم خرچ کئے جائیں جب تک کہ وہ زندہ رہے اور میں نے وصیّت کی کہ میرا ثلث مال فلاں فلاں کے لئے ہے ان دونوں پر ہر ماہ تاحیات ان کی دس درہم خرچ کئے جائیں تو اگر ورثہ نے اس کی اجازت دے دی تو چار درہم والے کو اس میت کے مال کاکامل ثلث (پورا تہائی حصہ)ملے گا وہ جو چاہے کرے اور دس درہم والے دونوں کو اس میت کے مال کا دوسرا ثلثِ کامل ملے گا اور یہ ثلث ان دونوں کے درمیان برابر برابر تقسیم ہوگا اور محفوظ کچھ نہ رکھا جائے گا، اور اگر ان تینوں موصیٰ لہم (جن کے لئے وصیّت کی گئی)میں سے کسی کا انتقال ہوگیا تو اس کے حصہ کا مال اس انتقال کر جانے والے کے وارثوں کو ملے گا اور اگر ورثہ نے میت کی اس وصیّت کو جائز نہیں کیا تو اس صورت میں چار درہم والے کو نصف ثلث (تہائی مال کا آدھا)ملے گا اور ان دونوں کو جن کے لئے دس درہم ماہانہ کی وصیّت کی تھی نصف ثلث ملے گا اور یہ نصف ثلث ان دونوں کے مابین آدھا آدھا بٹے گا۔ (1)(بحوالہ جامع الصغیر از عالمگیری ج6،ص129)
مسئلہ 45: میت نے کہا میں نے فلاں کے لئے ایک ثلث مال کی وصیّت کی اس پر اس میں سے ہر ماہ چار درہم خرچ کئے جائیں اور میں نے فلاں فلاں کے لئے وصیّت کی کہ فلاں پر پانچ درہم ماہانہ اور فلاں پر تین درہم، پس اگر ورثہ نے اس کی اجازت دے دی تو چار درہم والے کو ماہانہ اس کے کل مال کا ایک ثلث ملے گا اور بقیہ دو کو دو ثلث ملیں گے اور یہ دو ثلث ان دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوں گے، یہ لوگ اپنے اپنے حصہ کو جیسے چاہیں استعمال کریں، اور اگر ورثہ نے اس کی اس وصیّت کو جائز نہ کیا تو چار درہم والے کو نصف ثلث ملے گا اور بقیہ دو کو دوسرا نصف ثلث ملے گا اور یہ ان کے مابین آدھا آدھا بٹ جائے گا اور اگر ان میں سے کسی کا انتقال ہوگیا تو اس کا حصہ اس کے وارثوں کو میراث میں ملے گا۔(2) (محیط از عالمگیری ج6،ص129)
مسئلہ 46: میت نے وصیّت کی کہ فلاں پر میرے مال سے ہر ماہ چار درہم خرچ کئے جائیں اور ایک دوسرے پر ہر ماہ پانچ درہم میرے بستانی (چہار دیواری والا باغ) کی آمدنی سے خرچ کئے جائیں اور میت نے بجز بستان کے اور کوئی مال نہیں چھوڑا تو اس صورت میں میت کا ثلث (تہائی)بستان ان دونوں کے لئے نصف نصف ہے پھر بستان (باغ) کی ثلث پیداوار فروخت کی جائے گی اور اس کی قیمت وصی کے قبضہ میں یا اگر وصی نہیں ہے تو کسی ایماندار و ثقہ آدمی کے قبضہ میں دے دی جائے گی، وہ وصی اور ثقہ ان دونوں پر حصہ رسدی ماہ بماہ خرچ کریگا اور اگر ان دونوں کا انتقال ہوگیا تو جو کچھ رہے گا وہ موصی کے ورثہ کو ملے گا۔(3) (عالمگیری ج6،ص129)
مسئلہ 47: یہ وصیّت کی کہ فلاں شخص پر میرے مال سے چار روپے ماہانہ خرچ کئے جائیں اور فلاں اور فلاں پر پانچ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنی...إلخ،ج6، ص129.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
روپے ماہانہ تو اس صورت میں تنہا ایک کے لئے مال وصیّت کا چھٹا حصہ اور دوسرے دونوں کے لئے، دوسرا چھٹا حصہ خرچ کرنے کے لئے محفوظ رکھا جائے گا۔(1) (عالمگیری ج6،ص130)یعنی میت کا مال بارہ حصوں میں تقسیم ہوگا اس میں سے ایک ثلث یعنی چار حصے وصیّت میں دیئے جائیں گے باقی دو ثلث یعنی آٹھ حصے ورثہ کو ملیں گے پھر ثلث مال کی وصیّت کے ان چار حصوں میں سے دو حصے تنہا پہلے موصیٰ لہ کے لئے اور دوسرے دو حصے دوسرے دونوں موصی ٰلہما کے لئے، اور ان پر ہر ماہ خرچ ہوگا۔
مسئلہ 48: میت نے اپنی آراضی کی پیداوار کی کسی ایک شخص کے لئے وصیّت کی اور دوسرے شخص کے لئے اس آراضی کے رقبہ کی وصیّت کی اوروہ ثلث مال میں ہے پھر اس کو صاحب ِرقبہ نے (یعنی جس کے لئے رقبہ کی وصیّت کی تھی)فروخت کر دیا اور اس شخص نے اس بیع کو تسلیم کر لیا جس کے لئے پیداوار کی وصیّت کی تھی تو بیع جائز ہوگئی، اور پیداوار کی وصیّت جس کے لئے تھی وہ وصیّت باطل ہوگئی اب اس کا اس پیداوار کی قیمت میں بھی کوئی حصہ نہیں۔(2) (عالمگیری ج6،ص130)
مسئلہ 49: مریضنے اپنے بستان کی پیداوار کی وصیّت کسی کے لئے کی اور موصِی کی موت سے قبل کئی سال اس میں پیداوار ہوئی پھر موصِی کا انتقال ہوگیا تو موصی ا لہ کا اس پیداوار میں حصہ ہے جو موصِی کی موت کے وقت یا اس کے بعد پیداہو۔(3)(مبسوط از عالمگیری ج6،ص130)جو پیداوار موصِی کی موت سے پہلے ہوئی اس میں کوئی حصہ نہیں۔
مسئلہ 50: یہ کہا کہ میں نے ان ایک ہزار کی فلاں کے لئے وصیّت کی اور میں نے فلاں کے لئے اس میں سے سو 100 کی وصیّت کر دی ہے تو یہ رجوع نہیں ہے، اس صورت میں نو سو 900 پہلی وصیّت والے کے لئے ہیں اور سو 100میں دونوں آدھے آدھے کے شریک ہیں۔(4) (عالمگیری ج6،ص130)
مسئلہ 51: مریض نے کہا کہ میرا ثلث مال فلاں اور فلاں کے لئے اور فلاں کے لئے اس میں سے ایک سو ہے اور اس کا ثلث مال کل سترہ17 درہم ہی ہے تو یہ کل ثلث اسی کو ملے گا جس کے لئے سو100 مقرر کئے۔ (5) (عالمگیری ج6،ص130)
مسئلہ 52: یہ وصیّت کی کہ میرا ثلث مال عبداللہ کے لئے زید وعَمْرْوکے لئے اور عمرو کے لئے اس میں سے سو100 روپے، اور اس کا ثلث مال کل سو 100 روپے ہی ہے تو یہ سو 100 روپے عَمْرْو کو ملیں گے اور اگر اس کا ثلث مال ڈیڑھ سو 150 روپے تھے تو عمرو کو سو روپے ملیں گے اور جو بچا اس میں عبداللہ اور زید نصف نصف کے شریک ہیں۔(6)(عالمگیری ج6،ص130)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنی...إلخ،ج6، ص129.
2 ۔المرجع السابق، ص130.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنی...إلخ،ج6، ص130.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 53: یہ وصیّت کی کہ یہ ایک ہزار فلاں اور فلاں کے لئے، فلاں کے لئے اس میں سے سو 100 روپے، تو وہ اس طرح تقسیم ہوں گے فلاں کو سو 100 روپے اور دوسرے کو نو سو روپے، اگر اس میں سے کچھ ضائع ہوگئے تو باقی کے دس حصے کر کے ایک حصہ سو 100 والے کو اور باقی نو حصے دوسرے کو دیئے جائیں گے۔ (عالمگیری ج6،ص130)اور اگر اس نے ایک تیسرے شخص کے لئے دیگر ایک ہزار روپے کی وصیّت کر دی اور اس کا ثلث مال کل ایک ہزار روپے ہے تو اس صورت میں نصف ہزار تیسرے موصیٰ لہ کو ملے گا اور نصف ہزار پہلے دو موصیٰ لہما کو دیا جائے گا اور وہ دس حصوں میں تقسیم ہو کر پہلے کو ایک حصہ اور دوسرے کو نو9 حصے ملیں گے۔ (1)(عالمگیری ج6،ص130)
مسئلہ 54: اگر کہا کہ یہ ایک ہزار فلاں اور فلاں کے لئے، اس میں سے پہلے فلاں کے لئے سو روپے اور دوسرے کے لئے مابقی یعنی نو سو روپے، تو پہلے والے کو سو روپے ملیں گے اور اگر تقسیم سے پہلے ہزار میں سے نو سو ہلاک ہوگئے تو پہلے کے لئے سو روپے ہیں اور دوسرے کے لئے کچھ نہیں اور اگر یہ کہا کہ میں نے اپنے ثلث مال سے فلاں کے لئے سو روپے کی وصیّت کی اور فلاں کے لئے بقیہ کی اور میں نے فلاں کے لئے ایک ہزار روپے کی وصیّت کر دی اس صورت میں بقیہ والے کو کچھ نہ ملے گا اور میت کا ثلث مال پہلے والے موصیٰ لہ اور تیسرے والے موصیٰ لہ میں گیارہ حصوں میں تقسیم ہو کر ایک حصہ پہلے والے کو اور دس حصے ایک ہزار والے کو یعنی تیسرے والے کو ملیں گے۔(2) (عالمگیری ج6،ص130)
مسئلہ 55: یہ کہا کہ میں نے اس ایک ہزار کی فلاں فلاں کے لئے وصیّت کی اور فلاں کے لئے سات سو اور فلاں کے لئے چھ سو تو اس صورت میں یہ ایک ہزار ان دونوں کے درمیان تیرہ حصوں میں تقسیم ہوگا، سات حصے سات سو والے کو اور چھ حصے چھ سو والے کو ملیں گے۔ (3)(عالمگیری ج6،ص131 محیط السرخسی)
مسئلہ 56: یہ کہا کہ فلاں کے لئے اس ایک ہزار میں سے ہزار اور فلاں کے لئے ہزار، تو اس صورت میں یہ ایک ہزار ان دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوگا۔ (4)(محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص131)
مسئلہ 57: یہ کہا کہ میں نے اس ایک ہزار کی فلاں اور فلاں کے لئے وصیّت کی فلاں کے لئے اس میں سے ایک ہزار، تو اس صورت میں ایک ہزار سب کے سب دوسرے موصیٰ لہ کو ملیں گے۔(5) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص131)
مسئلہ 58: ایک شخص نے کچھ لوگوں کے لئے کچھ وصیّتیں کیں، اُن میں سے کوئی آیا اور اس نے اپنے لئے وصیّت کا ثبوت پیش کیا اور یہ چاہا کہ اس کا حصہ اسے دے دیا جائے تو اس کا حصہ اسے دے دیا جائے اور باقی لوگوں کا حصّہ محفوظ رکھا جائے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنی...إلخ،ج6، ص130.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
پس اگر ان باقی لوگوں کا حصہ صحیح و سالم رہا تو وہ ان کو دے دیا جائے گا اور اگر ضائع ہوگیا تو یہ سب اس کے حصّہ میں شریک ہوں گے جس نے اپنا حصّہ لے لیا تھااور اس کو حصّہ دے دینا بقیہ لوگوں کے لئے تقسیم کا حکم نہیں رکھتا۔ (1)(محیط از عالمگیری ج6،ص131)
مسئلہ 59: کسی نے وصیّت کی کہ فلاں شخص کو ایک ہزار درہم دے دیئے جائیں جن سے وہ قیدیوں کو خرید لے پس اگر وہ شخص روپے لینے سے قبل ہی انتقال کر گیا تو حاکم کو یہ روپیہ دے دیا جائے گا وہ اس کام کے لئے لوگوں میں سے کسی کو ولی بنا دے گا تاکہ وہ اس روپے سے قیدیوں کو خریدلے۔ (2)(خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص131)
مسئلہ 60: ایک شخص نے یہ وصیّت کی کہ میرا گھر فروخت کیا جائے اور اس کی قیمت سے دس بوجھا گیہوں (مثلا دس کوئنٹل) اور ایک ہزار من روٹیاں خریدی جائیں۔ (من 2ــ1 67 تولہ کا ایک پیمانہ تھا،(3)فتاویٰ رضویہ ج4)اور اس نے کچھ اور وصیّتیں بھی کیں، پس اس کا گھر فروخت کیا گیا اور اس کی قیمت مذکورہ مقدار گیہوں اور روٹیوں کے لئے پوری نہیں ہوئی اور اس گھر کے علاوہ اس کا اور بھی مال ہے تو اگر اس کا ثلث مال اس کی تمام وصیّتوں کے لئے گنجائش رکھتا ہو تو وہ تمام وصیّتیں اس کے ثلث مال سے پوری کر دی جائیں گی۔(4) (عالمگیری ج6،ص131)
مسئلہ 61: ایک شخص نے کچھ وصیّتیں کیں اس کے ورثہ کو معلوم ہوا کہ ان کے باپ نے کچھ وصیّتیں کی ہیں، لیکن یہ نہیں معلوم کہ کس چیز کی ہیں انھوں نے کہا کہ ہمارے باپ نے جس چیز کی وصیّت کی ہم نے اس کو جائز کیا تو ان کی یہ اجازت صحیح نہیں، صرف اس صورت میں اجازت صحیح ہوگی جب کہ انھیں علم ہو جائے۔ (5)(المنتقیاز عالمگیری ج6،ص131)
مسئلہ 62: ایک شخص نے کسی آدمی کے لئے کچھ مال کی وصیّت کی اور فقراء کے لئے کچھ مال کی وصیّت کی اور موصیٰ لہ محتاج ہے تو اس کو فقراء کا حصہ بھی دیا جاسکتا ہے۔ (6)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص131)
مسئلہ 63: ایک شخص نے کچھ وصیّتیں کیں پھر کہا اور باقی فقراء پر صدقہ کیا جائے پھر اپنی کچھ وصیّتوں سے رجوع کر لیا جن کے لئے وصیّتیں کی تھیں (موصیٰ لہم)، یا ان میں سے بعض موصیٰ لہم موصی کی موت سے پہلے ہی مرگئے تو باقی مال فقراء پر صدقہ کیا جائے گا اگر اُس نے فقراء کے لئے وصیّت سے رجوع نہیں کیا ہے۔(7) (محیط از عالمگیری ج6،ص131)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنی...إلخ،ج6، ص131.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی رضویہ''،ج10،ص298.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب السابع فی الوصیۃ بالسکنی...إلخ،ج6، ص131.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 1: ایک شخص نے قسم کھائی کہ وہ کوئی وصیّت نہیں کریگا پھر اس نے اپنے مرض الموت میں کوئی چیز ہبہ کی یا اس نے اس حالت میں اپنا غلام بیٹا خریدا جو کہ آزاد ہوگیا تو اس کی قسم نہیں ٹوٹی اور وہ حانث نہیں ہوا۔ (1)(عالمگیری ج6،ص132)
مسئلہ 2: ایک مریض نے کچھ وصیّتیں کیں لیکن یہ الفاظ نہیں کہے کہ اگر میں اپنے اس مرض سے مر جاؤں یا یہ کہ اگر میں اس مرض سے اچھا نہ ہوں تو میری یہ وصیّتیں ہیں، وصیّتیں کرنے کے بعد وہ اس مرض سے اچھا ہوگیا اور کئی سال زندہ رہا تو مرض سے اچھا ہونے کے بعد اس کی وصیّتیں باطل ہو جائیں گی۔(2) (فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص133)
مسئلہ 3: مریض نے کہا اگر میں اسی بیماری سے مر جاؤں تو میرے مال سے فلاں کو اتنا روپیہ اور میری طرف سے حج کرایا جائے پھر اپنی بیماری سے اچھا ہوگیا پھر دوبارہ بیمار ہوگیا اور اس نے ان گواہوں سے جن کو پہلی وصیّت پر گواہ بنایا تھا، کہا یا دوسرے لوگوں سے کہا:''تم گواہ ہو جاؤ کہ میں اپنی پہلی وصیّت پر قائم ہوں''تو یہ استحساناً جائز ہے۔(3) (عالمگیری ج6،ص133)
مسئلہ 4: کسی نے وصیّتیں کیں اور دستاویز لکھ دی اور اچھا ہوگیا پھر اس کے بعد بیمار ہوا اور کچھ وصیّتیں کیں اور دستاویز لکھ دی، اگر اس نے اس دوسری دستاویز میں یہ واضح نہیں کیا کہ اس نے پہلی وصیّتوں سے رجوع کر لیا ہے تو ایسی صورت میں دونوں وصیّتوں پر عمل کیا جائے گا۔ (4)(خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص133)
مسئلہ 5: ایک شخص نے وصیّت کی پھر اسے وسوسوں اور وہم نے گھیرلیا اور فاتر العقل ہوگیا اور ایک زمانہ تک اسی حالت پر رہا پھر انتقال ہوگیا تو اس کی وصیّت باطل ہے۔ (5)(عالمگیری ج6،ص133)
مسئلہ 6: ایک شخص نے کسی کو ایک ہزار روپیہ دیا اور کہا کہ یہ فلاں کے لئے ہے جب میں مر جاؤں تو اُس کو دے دینا، پھر مرگیا تو وہ شخص میت کی وصیّت کے مطابق وہ ایک ہزار روپے فلاں شخص کو دے گا اور اگر مرنے والے نے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ روپے فلاں کے لئے ہیں صرف اتنا کہا کہ اس کو دے دینا پھر وہ مرگیا، اس صورت میں یہ روپیہ فلاں شخص کو نہیں دیا جائے گا۔(6)(عالمگیری ج6،ص133)
مسئلہ 7: ایک شخص نے کہا کہ یہ روپے یا کپڑے فلاں کو دے دو اور یہ نہیں کہا کہ یہ اس کے لئے ہیں نہ یہ کہا کہ یہ اس کے لئے وصیّت ہے تو یہ باطل ہے، یہ نہ وصیّت ہے نہ اقرار۔(7) (عالمگیری ج6،ص133)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، مسائل شتی، ج6، ص132.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق، ص133. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 8: ایک شخص نے کچھ وصیّتیں کیں، لوگوں نے اس کی وصیّتیں کھوٹے اور ردی درہموں سے پوری کر دیں اس صورت میں اگر وصیّت معین لوگوں کے لئے تھی اور وہ علم و اطلاع کے باوجود ان کھوٹے درہموں سے راضی ہیں تو جائز ہے اور اگر غیر معین فقیروں کے لئے وصیّت تھی تب بھی جائز ہے۔(1) (عالمگیری ج6،ص133)
مسئلہ 9: ایک شخص نے کچھ وصیّتیں کیں اور مختلف سکوں کا چلن ہے تو خرید و فروخت میں جن سکوں کا چلن غالب ہے ان سکوں سے وصیّتوں کو پورا کیا جائے گا۔(2) (عالمگیری ج6،ص133)
مسئلہ 10: مریض سے لوگوں نے کہا کہ تو وصیّت کیوں نہیں کر دیتا، اس نے کہا کہ میں نے وصیّت کی کہ میرے ثلث مال سے نکالا جائے پھر ایک ہزار روپیہ مسکینوں پر صدقہ کر دیا جائے اور ابھی کچھ زیادہ نہ کہہ پایا تھا کہ مرگیا اور اس کا ثلث مال دو ہزار روپے ہے، اس صورت میں صرف ایک ہزار روپیہ صدقہ کیا جائے گا۔(3) (عالمگیری ج6،ص133)
مسئلہ 11: مریض نے اگر یہ کہا کہ میں نے وصیّت کی کہ میرے ثلث مال سے نکالا جائے اور کچھ نہ کہہ پایا تو اس کا کل تہائی مال فقیروں پر صدقہ کیا جائے گا۔(4) (عالمگیری ج6،ص133)
مسئلہ 12: مریض نے کہا کہ میں نے فلاں کے لئے اپنے ثلث مال کی وصیّت کی جو ایک ہزار ہے لیکن ثلث ایک ہزار سے زیادہ ہے تو امام حسن بن زیاد کے نزدیک موصی ا لہ کو ثلث مال ملے گا وہ جتنا بھی ہو۔(5) (عالمگیری ج6،ص133)
مسئلہ 13: ایسے ہی اگر یہ کہا کہ میں نے اس گھر سے اپنے حصہ کی وصیّت کی اور وہ تہائی ہے پھر دیکھا تو اس کا حصہ نصف تھا تو موصی ا لہ کو نصف گھر ملے گا اگر نصف گھر میت کے کل مال کا تہائی حصہ یا اس سے کم ہے۔ (6)(عالمگیری ج6،ص133)
مسئلہ 14: اگر اس نے یہ کہا کہ میں نے فلاں کے لئے ایک ہزار روپے کی وصیّت کی اور وہ میرے مال کا دسواں حصہ ہے تو موصی ٰلہ کو صرف ایک ہزار روپیہ ملے گا اس کے مال کا دسواں حصہ کم ہو یا زیادہ۔ (7)(عالمگیری ج6،ص133)
مسئلہ 15: یہ کہا کہ اس تھیلی میں جو کچھ ہے میں نے فلاں کے لئے وصیّت کی اور وہ ایک ہزار درہم ہیں اور یہ ایک ہزار درہم آدھا ہے جو اس تھیلی میں ہے پھر دیکھا تو تھیلی میں تین ہزار درہم ہیں تو موصیٰ لہ کو صرف ایک ہزار ملیں گے اور اگر تھیلی میں ایک ہزار ہی ہیں تو وہ کل موصیٰ لہ کو ملیں گے، اور اگر تھیلی میں صرف پانچ سو درہم تھے تو موصیٰ لہ کو یہی ملیں گے اس کے علاوہ نہیں، اور اگر تھیلی میں درہم نہیں ہیں بلکہ جواہرات اور دینار ہیں تو مناسب ہے کہ موصیٰ لہ کو اس سے ایک ہزار روپے دیئے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، مسائل شتی، ج6، ص133.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
جائیں۔(1) (فتاویٰ قاضی خان از عالمگیری ج6،ص134)
مسئلہ 16: مریض نے کہا کہ جو کچھ اس گھر میں ہے میں نے اس تمام کی وصیّت کی اور وہ ایک پیمانہ کھانا ہے پھر دیکھا تو اس میں کئی پیمانے کھانا ہے اور اس میں گیہوں اور جو بھی ہیں تو یہ سب موصیٰ لہ کے لئے ہیں اگر ثلث مال کے اندر اندر ہیں۔(2) (خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص134)
مسئلہ 17: اگر کسی نے مخصوص اور معیّن ایک ہزار درہم صدقہ کرنے کی وصیّت کی اور وصی نے ان کے بدلے متوفی موصی کے مال سے دوسرے ایک ہزار درہم صدقہ کر دیئے تو جائز ہے لیکن اگر وصی کے صدقہ کرنے سے پہلے ہی وہ پہلے والے معین درہم ضائع ہوگئے اور وصی نے موصِی کے اور مال سے ایک ہزار درہم صدقہ کر دیئے تو وصی ایک ہزار درہم کا ورثہ کے لئے ضامن ہے اور اگر موصی نے ایک ہزار معین درہم صدقہ کرنے کی وصیّت کی پھر وہ ہلاک ہوگئے تو وصیّت باطل ہو جائے گی۔ (3)(عالمگیری ج6،ص134)
مسئلہ 18: ایک آدمی نے وصیّت کی کہ اُس کے مال میں سے کچھ حاجی فقیروں پر صرف کیا جائے تو اگر وہ مال حاجی فقیروں کے سوا دوسرے فقیروں پر صدقہ کر دیا جائے تو جائز ہے۔(4) (عالمگیری ج6،ص134)
مسئلہ 19: ایک آدمی نے اپنے ثلث مال کو صدقہ کرنے کی وصیّت کی پھر وصی سے کسی نے اس مال کو غصب کرلیا چھین لیا اور اس مال کو ہلاک کر دیا اب وصی یہ چاہتا ہے کہ وہ اس مال کو اس غاصب پر ہی صدقہ کر دے اور غاصب یعنی مال چھیننے والا بھی غریب و تنگدست ہے تو یہ جائز ہے۔(5) (عالمگیری ج6،ص134)
مسئلہ 20: ایک شخص کو حرام مال ملا اس نے وصیّت کی کہ اسے مال کے مالک کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے اگر مال کا مالک معلوم ہے تو یہ مال اسے واپس کیا جائے گا اور اگر معلوم نہیں تو اس کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے گا اور اگر موصی کے ورثہ نے اس کے اس اقرار کو (یہ حرام مال ہے)جھٹلایا اور نہ مانا تو وصیّت کے مطابق اس میں سے ایک تہائی صدقہ کر دیا جائے گا۔(6) (عالمگیری ج6،ص134)
مسئلہ 21: ایک آدمی نے اپنے ثلث مال کی مسکینوں کے لئے وصیّت کی اور وہ اپنے وطن سے باہر کسی دوسرے شہر میں ہے اگر مال اس کے ساتھ ہے تو جس شہر میں وہ ہے وہ مال اسی شہر کے مسکینوں پر خرچ کیا جائے گا اور اس کا جو مال اس کے وطن میں ہے وہ وطن کے فقیروں و مسکینوں پر خرچ ہوگا۔(7) (عالمگیری ج6،ص134)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، مسائل شتی، ج6، ص134.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 22: اگر کسی نے وصیّت کی کہ اس کا ثلث مال فقرائے بلخ پر صدقہ کیا جائے تو افضل یہ ہے کہ ان پر ہی خرچ کیاجائے اور اگر وہ مال ان کے علاوہ دوسروں پر صدقہ کر دیا تو جائز ہے، امام ابو یوسف کے نزدیک اسی پر فتویٰ ہے۔(1) (شرنبلالیہ خلاصہ درمختار از عالمگیری ج6،ص134)
مسئلہ 23: یہ وصیّت کی کہ اس کا مال دس دن میں خرچ کر دیا جائے اس نے ایک ہی دن میں خرچ کر دیا تو جائز ہے۔(2)(نوازل از عالمگیری ج6،ص134)
مسئلہ 24: اگر یہ وصیّت کی کہ ہر فقیر کو ایک درہم دیا جائے، وصی نے ہر فقیر کو آدھا درہم دیا پھر آدھا درہم اور دے دیا اور اس وقت تک فقیر نے آدھا خرچ کر لیا تھا تو جائز ہے وصی ضامن نہ ہوگا۔(3) (نوازل و خلاصہ از عالمگیری ج6،ص134)
مسئلہ 25: موصِی نے وصیّت کی کہ میری طرف سے کفارہ میں دس مسکین کھلا دیئے جائیں، وصی نے دس مسکینوں کو صبح کا کھانا کھلایا پھر دسوں مرگئے تو وصی دوسرے دس کو صبح و شام کا کھانا کھلائے گا اور اس پر ضمان نہیں، اور اگر اس نے یہ کہا کہ میری طرف سے دس مسکینوں کو صبح و شام کا کھانا کھلا دیا جائے کفارہ کا ذکر نہیں کیا اور وصی نے دس مسکینوں کو صبح کا کھانا کھلایا تھا کہ وہ مرگئے تو اس صورت میں بھی مفتیٰ بہ یہی ہے کہ وصی دوسرے دس مسکینوں کو صبح و شام کا کھانا کھلائے گا اور پہلے دس کے کھلانے کا تاوان نہ دے گا۔ (4)(خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص135)
مسئلہ 26: ایک آدمی نے وصیّت کی کہ میرے مرنے کے بعد تین سو قفیز گیہوں صدقہ کیا جائے (قفیز گیہوں ناپنے کے ایک پیمانہ کا نام ہے)وصی نے موصی کی زندگی ہی میں دو سو قفیز گیہوں صدقہ میں تقسیم کر دیئے تو وصی اس کا ضامن ہوگا موصی کے مرنے کے بعد حاکم کے حکم سے تقسیم کرے، اگر اس نے موصی کی موت کے بعد بغیر حاکم کے حکم تقسیم کر دیئے تب بھی وہ تاوان دینے سے نہ بچے گا اور اگر موصی کے انتقال کے بعد وصی نے ورثہ کے حکم سے تقسیم کئے تو اگر ورثہ میں نابالغ بھی ہیں تو ان کا حکم کرنا جائز نہیں، اگر سب بالغ ہیں تو حکم صحیح ہے اگر تقسیم کر دے گا تو اس پر تاوان نہیں، اگر ورثہ میں نابالغ بھی ہیں اور بالغ ورثہ نے گیہوں تقسیم کرنے کا حکم دیا تو یہ بالغوں کے حصہ میں صحیح اور نابالغوں کے حصہ میں صحیح نہ ہوگا۔ (5)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص135)
مسئلہ 27: یہ وصیّت کی کہ میرے مال سے گیہوں اور روٹی خریدی جائے اور انھیں مسکینوں پر صدقہ کیا جائے تو اگر موصِی نے گیہوں اور روٹی اٹھا کر لانے والے حمّالوں (بوجھ برداروں)کی اُجرت دینے کی بھی وصیّت کی تو وہ متوفیٰ موصِی کے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، مسائل شتی، ج6، ص134.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق، ص135.
مال سے دی جائے گی اور اگر موصی نے اپنی وصیّت میں اس اُجرت کے دینے کو نہیں کہا تو ایسی صورت میں وصی کے لئے مناسب ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے اٹھوا کر لائے جو بغیر اُجرت کے اٹھا لائیں پھر اس گیہوں اور روٹی میں سے بطور صدقہ کچھ دے دے اور اگر موصی نے یہ وصیّت کر دی تھی کہ ان کو مساجد میں لے جایا جائے تو اس کی اُجرت متوفیٰ موصِی کے مال سے ادا کی جائے گی۔(1)(عالمگیری ج6،ص135)
مسئلہ 28: موصی نے ایک شخص کو وصیّت کی اور اسے اپنا ثلث مال صدقہ کرنے کا حکم دیا تو اگر اس شخص نے وہ مال خود ہی رکھ لیا تو جائز نہیں لیکن اگر اس نے اپنے بالغ بیٹے کو دیا یا ایسے چھوٹے بیٹے کو دیا جو قبضہ کرنا جانتا ہے تو جائز ہے اور اگر وہ چھوٹا بیٹا قبضہ کرنا نہیں جانتا تو جائز نہیں۔ (2)(عالمگیری ج6،ص135)
مسئلہ 29: بادشاہ کے عامل (محاصل وصول کرنے والے)نے وصیّت کی کہ فقیروں کو اس کے مال سے اتنا اتنا دے دیا جائے تو اگر یہ معلوم ہے کہ اس کا مال اس کا نہیں دوسرے کا ہے تو اس کا لینا حلال نہیں اور اگر اس کا مال دوسرے کے مال سے ملاجلا ہے تو اس کا لینا جائز ہے بشرطیکہ متوفیٰ موصِی کا بقیہ مال اس قدر ہو کہ اس سے دعویداروں کے مطالبات ادا ہوجائیں۔(3)(عالمگیری ج6،ص135)
مسئلہ 30: ایک شخص نے اپنے ثلث مال کی فقراء کے لئے وصیّت کی اور وصی نے وہ مال لاعلمی میں اغنیاء کو دے دیا تو یہ جائز نہیں وصی فقراء کو اتنا مال دینے کا ضامن ہے۔(4) (تاتار خانیہ از عالمگیری ج6،ص135)
مسئلہ 31: ایک شخص کے پاس سو100 درہم نقد ہیں اور سو100درہم کسی اجنبی پر ادھار ہیں اس نے ایک آدمی کے لئے اپنے ثلث مال کی وصیّت کی تو موصی ٰلہ نقد مال کا ثلث لے لے گا۔(5) (ظہیریہ از عالمگیری ج6،ص136)
مسئلہ 32: ایک شخص کا کسی آدمی پر ادھار تھا اس نے وصیّت کی کہ اسے ثواب کے کاموں میں صرف کیا جائے تو اس وصیّت کا تعلق صرف ادھار سے ہے اگر موصی نے اپنے ادھار میں سے کچھ حصہ مقروض کو ہبہ کر دیا تو جس قدر ہبہ کر دیا اتنے مال میں وصیّت باطل ہے۔ (6)(فتاویٰ الفضلی از عالمگیری ج6،ص136)
مسئلہ 33: اپنے جسم کے سامان کی وصیّت کی تو اس میں ٹوپی، موزے، لحاف، بستر، قمیص، فرش اور پردے شامل ہیں۔(7) (سیر از عالمگیری ج6،ص136)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، مسائل شتی، ج6، ص135.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق،ص 136. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 34: حریر کے جُبّہ کی وصیّت کی اور موصِی کا ایک جُبّہ ہے جس کا بالائی کپڑا بھی حریر ہے اور استر بھی حریر ہے تو وہ وصیّت میں شامل ہے اور اگر بالائی حصہ حریر ہے اور استر غیر حریر تب بھی وصیّت میں داخل ہے اور اگر استر حریر ہے اور بالائی کپڑا حریر نہیں تو موصی ٰلہ کو نہیں ملے گا۔(1) (عالمگیری ج6،ص136)
مسئلہ 35: اگر زیورات کی وصیّت کی تو اس میں ہر وہ چیز داخل ہے جس پر زیور کا لفظ بولا جائے خواہ یاقوت(2)
و زمرد (3)سے جڑاؤ ہو یا نہ ہو، اور یہ سب موصی ٰلہ کو ملے گا۔(4) (عالمگیری ج6،ص136)
مسئلہ 36: زیور کی وصیّت کی تو اس میں سونے کی انگوٹھی داخل ہے اور اس میں چاندی کی وہ انگوٹھی بھی داخل ہے جو عورتیں پہنتی ہیں لیکن اگر چاندی کی انگوٹھی ایسی ہے جس کو مرد پہنتے ہیں وہ اس میں داخل نہیں اور اگر لُؤلُؤ اور زمرد وغیرہ چاندی سونے کے ساتھ مرکب ہیں تو یہ بھی زیور میں داخل ہیں ورنہ نہیں۔(5) (محیط از عالمگیری ج6،ص136)
آدمی کو وصیّت قبول کرنا مناسب بات نہیں کیونکہ یہ خطرات سے پُر ہے۔ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں:پہلی بار وصیّت قبول کرنا غلطی ہے دوسری بار خیانت اور تیسری بار سرقہ ہے۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:وصیّت میں نہیں داخل ہوتا ہے مگر بے وقوف اور چور۔(6)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص137)
وصی: اس شخص کو کہتے ہیں جس کو وصیّت کرنے والا (موصی)اپنی وصیّت پوری کرنے کے لئے مقرر کرے۔ وصی تین طرح کے ہوتے ہیں۔ (1)ایک وصی وہ ہے جو امانت دار ہو اور وصیّت پوری کرنے پر قادر ہو، قاضی کے لئے اس کو معزول اور برطرف کرنا جائز نہیں۔ (2)دوسرا وصی وہ ہے جو امانت دار تو ہو مگر عاجز ہو یعنی وصیّت کو پورا کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو، قاضی اس کی مدد کے لئے کوئی مددگار مقرر کر دے گا۔ (3)تیسرا وصی وہ ہے جو فاسق و بدعمل ہو یا کافر ہو یا غلام ہو، قاضی کے لئے ضروری ہے کہ اسے برطرف اور معزول کر دے اور اس کی جگہ کسی دوسرے امانت دار مسلمان کو مقرر کرے۔ (7)(خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص137)
مسئلہ 1: ایک شخص نے کسی کو اس کے سامنے اپنا وصی بنایا یا موصٰی الیہ یعنی وصی نے کہا کہ میں قبول نہیں کرتا تو اس کا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، مسائل شتی، ج6، ص136.
2 ۔ایک قیمتی پتھر جو سرخ،نیلا، زرد،یا سفید ہوتاہے۔ 3 ۔ایک قیمتی پتھر جو سبز رنگ کا ہوتا ہے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، مسائل شتی، ج6، ص136.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب التاسع فی الوصی وما یملکہ،ج6، ص136.
7 ۔المرجع السابق.
انکار اور رد کرنا صحیح ہے اور وہ وصی نہیں ہوگا پھر اگر موصی نے موصی الیہ سے یہ کہا کہ میرا خیال تمہارے بارے میں ایسا نہ تھا کہ تم قبول نہ کرو گے اس کے بعد موصی الیہ نے کہا:''میں نے وصیّت قبول کی''تو یہ جائز ہے اور اگر وہ موصی کی حیات میں خاموش رہا، نہ قبول کیا نہ انکار پھر موصی کا انتقال ہوگیا تو اسے اختیار ہے چاہے تو اس کی وصیّت قبول کرلے یا رد و انکار کر دے۔(1)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص137)
مسئلہ 2: موصی نے کسی کو وصی بنایا، وہ غائب (موجود نہ)تھا اسے موصی کی موت کے بعد یہ خبر پہنچی، اس نے کہا مجھے قبول نہیں پھر کہا قبول کر لیا میں نے، اگر بادشاہ نے ابھی اسے وصی ہونے سے خارج نہیں کیا تھااور اس نے پہلے ہی قبول کر لیا تو جائز ہے۔(2) (السراج الوہاج از عالمگیری ج6،ص137)
مسئلہ 3: موصِی نے کسی کو وصیّت کی اس نے موصی کی زندگی میں قبول کر لیا تو اس کے لئے وصی ہونا لازم ہوگیااب اگر وہ موصِی کی موت کے بعد اس سے نکلنا چاہے تو اس کے لئے یہ جائز نہیں اور اگر اس نے موصی کی زندگی میں ا س کے علم میں لاکر قبول کرنے سے انکار کر دیا تو صحیح ہے اور اگر انکار کر دیا مگر موصی کو اس کا علم نہیں ہوا تو صحیح نہیں۔(3)(محیط از عالمگیری ج6،ص137)
مسئلہ 4: کسی کو وصیّت کی اور یہ اختیار دیا کہ جب وہ چاہے وصی ہونے سے نکل جائے تو یہ جائز ہے اور وصی کو یہ حق ہے کہ جس وقت چاہے اور جب چاہے وصی ہونے سے نکل جائے۔(4) (خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص137)
مسئلہ 5: کسی کو وصیّت کی، اس نے کہا میں قبول نہیں کرتا پھر موصی خاموش ہوگیا اور انتقال کر گیا پھر موصی الیہ یعنی اس شخص نے جس کو وصیّت کی تھی کہا کہ میں نے قبول کیا تو صحیح نہیں، اور اگر موصی الیہ نے سکوت اختیار کیا اور موصی کے سامنے یہ نہ کہا کہ میں قبول نہیں کرتا پھر اس کی پس پشت موصی کی زندگی میں یا اس کی موت کے بعد ایک جماعت کی موجودگی میں کہا کہ میں نے قبول کر لیا تو اس کا قبول کرنا جائز ہے اور یہ وصی بن جائے گا خواہ اس کا یہ قبول کرنا قاضی کے سامنے ہو یا اس کی عدم موجودگی میں، اور اگر قاضی نے اسے اس کے یہ کہنے کے بعد کہ میں قبول نہیں کرتا، وصی ہونے سے خارج کر دیا پھر اس نے کہا میں قبول کرتا ہوں تو یہ قبول کرنا صحیح نہیں۔(5) (عالمگیری ج6،ص137)
مسئلہ 6: موصی نے کسی کو وصی بنایا اس نے موصی کی عدم موجودگی میں کہا کہ میں قبول نہیں کرتا اور اس انکار کی اطلاع کے لئے اس نے موصی کے پاس قاصد بھیجا یا خط بھیجا اور وہ موصی تک پہنچ گیا پھر اس نے کہا کہ میں قبول کرتا ہوں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب التاسع فی الوصی وما یملکہ،ج6، ص137.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
تویہ قبول کرنا صحیح نہیں۔(1) (عالمگیری ج6،ص137)
مسئلہ 7: موصی الیہ (وصی)نے موصی کے سامنے وصیّت کو قبول کر لیا پھر جب وصی چلا گیا، موصی نے کہا گواہ رہو میں نے اسے وصیّت سے خارج کر دیا تو یہ اخراج صحیح ہے اور اگر وصی نے موصی کی عدم موجودگی میں وصی بننے کو رد کر دیا قبول نہیں کیا تو اس کا یہ رد کرنا باطل ہے۔ (2)(عالمگیری ج6،ص137)
مسئلہ 8: موصی نے کسی شخص کو اپنا وصی بنایا اور اسے اپنا وصی ہونا معلوم نہیں پھر اس وصی نے موصی کی موت کے بعد اس کے ترکہ سے کوئی چیز فروخت کی تو اس کا فروخت کرنا جائز ہے اور اسے وصی ہونا لازم ہوگیا۔(3) (فتاویٰ قاضی خاں ازعالمگیری ج6، ص137)
مسئلہ 9: موصی نے د وآدمیوں کو وصیّت کی ایک نے قبول کر لیا، دوسرا خاموش رہا پھر موصی کی موت کے بعد قبول کرنے والے نے سکوت کرنے والے سے کہا کہ موصی کی میت کے لئے کفن خرید لے اس نے خرید لیا یا کہا ''ہاں اچھا''تو یہ صورت وصیّت قبول کرنے کی ہے۔ (4)(خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص137)
مسئلہ 10: وصی نے وصیّت قبول کرلی پھر اس نے ارادہ کیا کہ وصیّت سے نکل جائے، یہ بغیر حاکم کی اجازت کے جائز نہیں موصی الیہ یعنی وصی کو جب وصیّت لازم ہوگئی پھر وہ حاکم کے پاس حاضر ہوا اور اس نے اپنے آپ کو وصی ہونے سے خارج کیا تو حاکم معاملہ پر غور کریگا اگر وہ وصی امانت دار اور وصیّت نافذ کرنے پر قادر ہے تو اسے وصی ہونے سے نہیں نکالے گا اوراگر وہ عاجز ہے اور اس کے مشاغل کثیر ہیں تو نکال دے گا۔(5) (السراج الوہاج از عالمگیری ج6،ص137)
مسئلہ 11: کسی فاسق کو وصی بنایا جس سے اس کے مال کو خطرہ ہے تو یہ وصیّت یعنی اس کو وصی بنانا باطل ہے یعنی اُسے قاضی وصی ہونے سے خارج کر دے گا۔(6) (عالمگیری ج6،ص137)
مسئلہ 12: فاسق کو وصی بنایا تو قاضی کو چاہیے کہ اس کو وصی ہونے سے خارج کر دے اور اس کے غیر کو وصی بنا دے، اگر یہ قاضی وصی ہونے کے لائق نہیں ہے اور اگر قاضی نے وصیت کو نافذ کیا اور اس فاسق وصی نے اس سے پہلے کہ قاضی اسے وصی ہونے سے خارج کر دے، میت کے دَین (اُدھار)کو ادا کر دیا اور بیع و شریٰ کی تو اس نے جو کچھ کر دیا جائز ہے اور اگر اسے قاضی نے نہیں نکالا تھا کہ اس فاسق نے توبہ کی اور صالح ہوگیا تو قاضی اسے بدستور وصی بنائے رکھے گا۔(7)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص137)
مسئلہ 13: اگر قاضی کو معلوم نہ تھا کہ میت کا کوئی وصی ہے اور پہلے وصی کی موجودگی میں اس نے ایک دوسرے شخص کو
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب التاسع فی الوصی وما یملکہ،ج6، ص137.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق، ص138. 7 ۔المرجع السابق.
وصی مقرر کر دیا پھر پہلے وصی نے وصیّت میں داخل ہونا چاہا یعنی وصیّت کو نافذ کرنا چاہا تو اسے اس کا حق ہے اور قاضی کا یہ فعل اسے وصی ہونے سے خارج نہیں کرتا ہے۔(1) (فتاویٰ خلاصہ از عالمگیری ج6،ص138)
مسئلہ 14: قاضی کو علم نہ تھا کہ میت کا وصی ہے اور وصی غائب ہے قاضی نے کسی اور شخص کو وصی بنا دیا تو قاضی کا بنایا ہوا یہ وصی میت ہی کا وصی ہوگا قاضی کا نہیں۔(2) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص138)
مسئلہ 15: مسلمان نے حربی کافر کو خواہ وہ مستامن ہے یا غیر مستامن اپنا وصی بنایا تو یہ باطل ہے یہی حکم مسلمان کا ذمی کو وصی بنانے کا ہے۔ (3)(عالمگیری ج6،ص138)
مسئلہ 16: حربی کافر امان لے کر دارالاسلام میں داخل ہوا اس نے کسی مسلمان کو اپنا وصی بنایا تو یہ جائز ہے۔(4)(محیط از عالمگیری ج6،ص138)
مسئلہ 17: مسلم نے حربی کو وصی بنایا پھر حربی اسلام لے آیا تو وہ بدستور وصی رہے گا اور یہی حکم مرتد کا بھی ہے۔(5)(عالمگیری ج6،ص138)
مسئلہ 18: عاقل کو وصی بنایا پھر اس عاقل کو جنونِ مطبق ہوگیا(جنون مطبق یہ ہے کہ وہ کم از کم ایک ماہ تک مسلسل پاگل رہے)تو قاضی کو چاہیے کہ اس کی جگہ کسی اور کو وصی مقرر کر دے اگر قاضی نے ابھی کسی دوسرے کو وصی مقرر نہیں کیا تھا کہ اس کا پاگل پن جاتا رہا اور صحیح ہوگیا تو یہ بدستور وصی بنا رہے گا۔(6) (عالمگیری ج6،ص138)
مسئلہ 19: اگر کسی نے بچے کو یا معتوہ (پاگل)کو وصی بنایا تو یہ جائز نہیں خواہ بعد میں وہ اچھا ہو جائے یا نہ ہو۔(7)(عالمگیری ج6،ص138)
مسئلہ 20: کسی شخص نے عورت کو یا اندھے کو وصی بنایا تو یہ جائز ہے، اسی طرح تہمتِ زنا میں سزا یافتہ کو بھی وصی بنانا جائز ہے۔ (8)(عالمگیری ج6،ص138)
مسئلہ 21: نابالغ بچہ کو وصی بنایا تو قاضی اس کو وصی ہونے سے خارج کر دے گا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا وصی بنا دے گا اگر قاضی کے اس کو وصی ہونے سے خارج کرنے سے قبل اس نے تصرف کر دیا تو نافذ نہ ہوگا۔ (9)(عالمگیری ج6،ص138)
مسئلہ 22: کسی شخص کو وصی بنایا اور کہا کہ اگر تو مر جائے تو تیرے بعد فلاں شخص وصی ہے پھر پہلا وصی جنون مطبق (لمبا پاگل پن)میں مبتلا ہوگیا تو قاضی اس کی جگہ دوسرا وصی مقرر کر دے گا اور جب یہ پاگل مرجائے تب وہ فلاں شخص وصی بنے گا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب التاسع فی الوصی وما یملکہ،ج6، ص138.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق. 9 ۔المرجع السابق.
جس کو موصی نے پہلے کے بعد نامزد کیا تھا۔ (1)(عالمگیری ج6،ص138)
مسئلہ 23: کسی شخص نے اپنے نابالغ بیٹے کو وصی بنایا تو قاضی اس کے لئے دوسرے کو وصی مقرر کریگا، جب یہ نابالغ لڑکا بالغ ہو جائے تو اسے وصی بنا دے گا اور اگر چاہے تو اس کو خارج کر دے جسے لڑکے کی نابالغی کی وجہ سے وصی بنا دیا تھا لیکن وہ بغیر قاضی کے نکالے ہوئے نکل نہیں سکتا۔(2) (محیط از عالمگیری ج6،ص138)
مسئلہ 24: وصی امین ہے اور تصرّف کرنے پر قادر ہے تو قاضی اسے معزول نہیں کرسکتا اور اگر سب وارثوں نے یا بعض نے قاضی سے وصی کی شکایت کی تو قاضی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اسے معزول کر دے جب تک قاضی پر اس کی خیانت ظاہر نہ ہو جائے اگر خیانت ظاہر ہو جائے تو معزول کر دے۔(3) (کافی از عالمگیری ج6،ص138)
مسئلہ 25: اگر قاضی کے نزدیک وصی متہم ہو جائے (4)تو قاضی اس کے ساتھ دوسرے کو مقرر کر دے گا یہ امام اعظم کے نزدیک ہے لیکن امام ابو یوسف کے نزدیک قاضی اس متہم کو وصیّت سے نکال دے گا۔(5) (عالمگیری ج6،ص139)
مسئلہ 26: وقف کے لئے وصی تھا یا میت کے ترکہ کے لئے وصی تھا وہ ترکہ میں میت کی وصیّت پوری کرنے میں یا وقف کا انتظام قائم رکھنے میں عاجز رہا تو حاکم ایک اور قیم مقرر کریگا پھر وصی نے کچھ دنوں کے بعد کہا کہ اب میں ان چیزوں کو قائم کرنے پر قادر ہوگیا ہوں جو موصی نے میرے سپرد کی تھیں تو وہ بدستور وصی ہے، حاکم کو دوبارہ مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔(6) (محیط از عالمگیری ج6،ص139)
مسئلہ 27: موصی نے دو آدمیوں کو اپنا وصی بنایا تو دونوں میں سے ایک تنہا تصرف نہیں کرسکتا اور اس کا تصرف بغیردوسرے کی اجازت کے نافذ نہیں ہوگا لیکن چند چیزوں میں ہوسکتا ہے جیسے میت کی تجہیز و تکفین، میت کے دَین کی ادائیگی،ودِیعت (امانت)کی واپسی اور غصب کردہ چیز کی واپسی، حقوق میت سے متعلق مقدمات، نابالغ وارث کے لئے ہبہ قبول کرنا اور جس چیز کی ہلاکت کا اندیشہ ہے اسے فروخت کرنا، لیکن وہ تنہا میت کی ودیعت (امانت)پر قبضہ نہیں کرسکتا نہ میت کادَین وصول کر کے قبضہ کرسکتا ہے۔ (7)(عالمگیری ج6،ص139)
مسئلہ 28: موصی نے وصیّت کی اور دو آدمیوں کو وصی بنایا کہ اس کا اتنا اتنا مال اس کی طرف سے صدقہ کر دیں اور کسی فقیر کو معین نہیں کیا تو دونوں میں سے کوئی وصی اکیلے صدقہ نہیں کریگا اور اگر موصی نے فقیر کو معین کر دیا تھا تو ایک وصی اکیلے ہی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب التاسع فی الوصی وما یملکہ،ج6، ص138.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق، ص139.
4 ۔یعنی اس پر خیانت کی تہمت لگے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب التاسع فی الوصی وما یملکہ،ج6، ص139.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
صدقہ کرسکتا ہے۔(1) (عالمگیری ج6،ص139)
مسئلہ 29: موصی نے دو آدمیوں کو وصی بنایا اور کہا کہ تم دونوں میں سے ہر ایک پورا پورا وصی ہے تو ہر ایک کے لئے تنہا تصرف کرنا جائز ہے۔(2) (خزانۃ المفتیین از عالمگیری ج6،ص139)
مسئلہ 30: ایک شخص نے ایک آدمی کو کسی مخصوص و معیّن شے میں وصی بنایا اور دوسرے آدمی کو کسی دوسری قسم کی چیز میں وصی بنایا مثلاً یہ کہا کہ میں نے تجھے اپنے قرضوں کی ادائیگی میں وصی بنایا اور دوسرے سے کہا کہ میں نے تجھے اپنے امورِ مالیہ کے قیام میں وصی بنایا تو ان میں سے ہر وصی تمام کاموں میں وصی ہے۔ (3) (فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص139)
مسئلہ 31: کسی آدمی کو اپنے بیٹے پر وصی بنایا اور ایک دوسرے آدمی کو اپنے دوسرے بیٹے پر وصی بنایا یا اس نے ایک وصی بنایا اپنے موجودہ مال میں، اور دوسرے کو وصی بنایا اپنے غائب مال میں تو اگر اس نے یہ شرط لگا دی تھی کہ ان دونوں میں سے کوئی اس معاملہ میں وصی نہیں ہوگا جس کا وصی دوسرا ہے تو جیسی اس نے شرط لگائی بالاتفاق ایسا ہی ہوگا اور اگر یہ شرط نہیں لگائی تھی تو اس صورت میں ہر وصی پورے پورے معاملات میں وصی ہوگا۔ (4) (محیط از عالمگیری ج6،ص139)
مسئلہ 32: ایک شخص نے دو آدمیوں کو وصی بنایا پھر ایک وصی کا انتقال ہوگیا تو زندہ باقی رہنے والا وصی اس کے مال میں تصرف نہیں کریگا وہ معاملہ قاضی کے سامنے لے جائے گا اگر قاضی مناسب خیال کریگا تو تنہا اس کو وصی بنا دے گا اور تصرف کا اختیار دے دے گا یا اگر مناسب سمجھے گا تو اس کے ساتھی مرنے والے وصی کے بدلہ میں کوئی دوسرا وصی مقرر کریگا۔(5)(عالمگیری ج6،ص139)
مسئلہ 33: ایک شخص نے دو آدمیوں کو وصی بنایا تو ان دونوں وصیوں میں سے کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے ساتھی سے یتیم کے مال سے کچھ خریدے، اسی طرح دو یتیموں کے لئے دو وصی تھے ان میں سے کسی کو یتیم کا مال خریدنا جائز نہیں۔(6) (عالمگیری ج6،ص140)
مسئلہ 34: ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے دو وصی بنائے تھے پھر ایک شخص آیا اور اس نے میت پر اپنے دَین (قرض) کا دعویٰ کیا دونوں وصیوں نے بغیر دلیل قائم ہوئے اس کا دَین ادا کر دیا پھر ان دونوں وصیوں نے قاضی کے پاس جاکر اس دعوائے ادھار پر شہادت دی تو ان کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی اور جو کچھ انھوں نے مدعی کو دیا ہے وہ اس کے ضامن ہیں اور اگر انھوں نے اس کا دین (ادھار)ادا کرنے سے پہلے شہادت دی پھر قاضی نے انھیں دَین ادا کرنے کا حکم دیا اور انھوں نے ادا کر دیا تو اب ان پر ضمان نہیں۔ (7)(عالمگیری ج6،ص140)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الوصایا، الباب التاسع فی الوصی وما یملکہ،ج6، ص139.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق،ص 140. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 35: میت کے وصی نے میت کا دَین شاہدوں کی شہادت کے بعد ادا کیا تو جائز ہے اور اس پر ضمان نہیں اور اگر بغیر قاضی کے حکم کے بعض کا دَین ادا کر دیا تو میت کے قرض خواہوں کے لئے ضامن ہوگا اور اگر قاضی کے حکم سے ادا کیا تو ضامن نہیں۔(1) (عالمگیری ج6،ص140)
مسئلہ 36: ایک شخص نے دو آدمیوں کو وصی بنایا ان میں سے ایک کا انتقال ہوا پھر مرتے وقت اس نے اپنے ساتھی کو وصی بنا دیا تو یہ جائز ہے اور اب اس کو تنہا تصرف کرنے کا حق ہے۔(2) (فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص140)
مسئلہ 37: وصی جب مرنے کے قریب ہو تو اس کو حق ہے کہ وہ دوسرے کو وصی بنا دے چاہے موصی نے اسے وصی بنانے کا اختیار نہ دیا ہو۔ (3)(ذخیرہ از عالمگیری ج6،ص140)
مسئلہ 38: ایک شخص نے وصیّت کی اور انتقال کر گیا اور اس کے پاس کسی کی ودیعتیں (امانتیں)رکھی ہیں پھر ایک وصی نے دوسرے وصی کی اجازت کے بغیر میت کے گھر سے امانتیں قبضہ میں کر لیں یا کسی ایک وارث نے دونوں وصیوں کی اجازت کے بغیر یا بقیہ وارثوں کی اجازت کے بغیر ان ودیعتوں پر قبضہ کر لیا اور اس کے قبضہ میں آکر وہ مال امانت ہلاک ہوگیا تو اس پر ضمان نہیں۔(4) (عالمگیری ج6،ص140)
مسئلہ 39: دو وصی ہیں ان میں سے ایک نے قبرستان تک جنازہ اٹھانے کے لئے مزدور کرایہ پر لئے اوردوسرا وصی بھی موجود ہے لیکن خاموش رہا تو یہ جائز ہے، یہ اجرت میت کے مال سے ادا کی جائے گی۔ (عالمگیری ج6،ص140)یا وارثوں میں سے کسی نے دونوں وصیوں کی موجودگی میں جنازہ اٹھانے کے لئے مزدور کرایہ پر لئے اور دونوں وصی خاموش ہیں تو جائز ہے ان کی مزدوری میت کے مال سے دی جائے گی۔ (5)(عالمگیری ج6،ص140)
مسئلہ 40: میت نے دو وصیوں کو جنازہ اٹھانے سے قبل فقراء کو گند م صدقہ کرنے کی وصیّت کی ان میں سے ایک وصی نے گندم صدقہ کردیا، اگر یہ گندم میت کے مال متروکہ میں موجود تھا تو جائز ہے اور دوسرے وصی کو منع کرنے کا حق نہیں، اگر خرید کر صدقہ کیا تو خود اس کی طرف سے ہوگا، یہی حکم کپڑے اور کھانے کا ہے۔(6) (عالمگیری ج6،ص141)
مسئلہ 41: ایک شخص نے دو آدمیوں کو وصی بنا یا اور ان سے کہا کہ میرا ثلث مال جہاں چاہو دیدو یا جس کو چاہو دیدو پھر ان میں سے ایک وصی کا انتقال ہوگیا تو یہ وصیّت باطل ہوجائے گی اور یہ ثلث مال ورثہ کو مل جائے گا اور اگر یہ وصیّت کی تھی کہ میں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص140.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق،ص140،141.
نے ثلث مال مساکین کے لئے کردیا پھر ایک وصی کا انتقال ہوگیا تو قاضی اس کی جگہ اگر چاہے تو دوسرا وصی بنادے اگر چاہے تو زندہ رہنے والے وصی سے کہے، تو تنہااس کو تقسیم کردے۔(1) (عالمگیری ج6،ص141)
مسئلہ 42: دو نابالغوں کے گھروں کے بیچ میں ایک دیوار ہے اس دیوار پر ان کا اپنا اپنا حمولہ(بوجھ)یعنی وزنی سامان ہے اور دیوار کے گرنے کا اندیشہ ہے اور ہر نابالغ کے لئے ایک وصی ہے ان میں سے ایک کے وصی نے دوسرے کے وصی سے دیوار کی مرمت کا مطالبہ کیا اور دوسرے نے انکار کردیا تو قاضی امین کو بھیجے گا کہ اگر دیوار کو اسی حالت میں چھوڑدینے سے نقصان کا خطرہ ہے تو انکار کرنے والے وصی کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ دوسرے وصی کے ساتھ مل کر دیوار کی مرمت کرائے۔(2) (عالمگیری ج6،ص141)
مسئلہ 43: کسی شخص کو یہ وصیّت کی کہ میرا ثلث مال جہاں تو پسند کرے رکھ دے تو اس وصی کے لئے جائز ہے کہ وہ اس مال کو اپنی ذات کے لئے کرے اور اگر یہ وصیّت کی تھی کہ جس کو چاہے دیدے تو اس صورت میں وہ یہ مال خود کو نہیں دے سکتا۔(3) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص141)
مسئلہ 44: ایک شخص نے کسی کو وصی بنایا اس سے کہا کہ تو فلاں کے علم کے ساتھ عمل کر، تو وصی کے لئے جائز ہے کہ وہ فلاں کے علم کے بغیر ہی عمل کرے، اور اگر یہ کہا تھا کہ کوئی کام نہ کر مگر فُلاں کے علم کے ساتھ تو وصی کے لئے جائز نہیں کہ وہ فلاں کے علم کے بغیر عمل کرے۔ (4)(عالمگیری ج6،ص141)
مسئلہ 45: اگر میت نے وصی سے یہ کہا کہ فلاں کی رائے سے عمل کر یا کہا عمل نہ کرنا مگر فلاں کی رائے سے تو پہلی صورت میں صرف وصی مخاطب ہے وہ تنہا وصی رہے گا اور دوسری صورت میں وہ دونوں وصی ہیں۔ (5)(خزانۃ المفتییناز عالمگیری ج6،ص141)
مسئلہ 46: کسی شخص نے اپنے وارث کو وصی بنایا تو یہ جائز ہے اگر یہ وصی اپنے مورث کی موت کے بعد مرگیا اور ایک شخص سے یہ کہا تھا کہ میں نے تجھے اپنے مال میں وصی بنایا اور اس میت کے مال میں وصی بنایا جس میں میں وصی ہوں تو یہ دوسرا وصی دونوں کے مال میں وصی ہوگا۔ (6)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص141)
مسئلہ 47: ایک شخص نے کسی کو اپنا وصی بنایا پھر ایک اور شخص نے اس موصی کو اپنا وصی بنادیا پھر یہ دوسرا موصی انتقال کرگیا تو موصی اول اس کا وصی ہے، پھر اس کے بعد اگر موصی اول بھی مرجائے تو اس کا وصی ان دونوں مرنے والوں کا وصی ہوگا، مثال کے طور پر زید نے خالد کو اپنا وصی بنایا اور کلیم نے زید کو اپنا وصی بنایا پھر دوسراموصی یعنی کلیم انتقال کرگیا تو زید اس کا وصی ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص141.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
اور موصئ اول زید بھی اس کے بعد انتقال کرگیا تو اس کا وصی خالد ان دونوں کا وصی ہوگا۔(1)(شرح الطحاوی از عالمگیری ج6،ص141)
مسئلہ 48: مریض نے ایک جماعت کو مخاطب کرکے کہا کہ میرے مرنے کے بعد ایسا کرنا، اگر انھوں نے قبول کرلیا تو وہ سب وصی بن گئے، اور اگر خاموش رہے پھر اس کے مرنے کے بعد بعض نے قبول کرلیا تو اگر قبول کرنے والے دو یا زیادہ ہیں تووہ اس کے وصی بن جائیں گے اور انھیں اس کی وصیت نافذ کرنے کا حق ہے لیکن اگر قبول کرنے والا ایک ہے تو وہ بھی وصی بن جائے گا لیکن اسے تنہا وصیّت نافذ کرنے کا اختیار نہیں تاوقتیکہ وہ حاکم سے رجوع نہ کرے، حاکم اس کے ساتھ ایک اور وصی مقرر کریگا۔(2) (عالمگیری ج6،ص141)
مسئلہ 49: دو وصیوں میں اس امر میں اختلاف ہو اکہ مال کس کے پاس رہے گا تو اگر مال قابل تقسیم ہے تو دونوں کے پاس آدھا آدھا رہے گا اوراگر قابل تقسیم نہ ہو تو اگر دونوں چاہیں تو کسی دوسرے کے پاس ودیعت رکھ دیں اور چاہیں تو دونوں میں سے کسی ایک کے پاس رہے، سب صورتیں جائز ہیں۔ (3)(عالمگیری ج6،ص142)
مسئلہ 50: یتیموں کے لئے دو وصی تھے ان میں سے ایک نے مال تقسیم کرلیا تو جائز نہیں جب تک دونوں ایک ساتھ موجود نہ ہوں یا جو غائب ہے اس کی اجازت حاصل ہو۔ (عالمگیری ج6، ص142) یہی حکم نابالغ کے مال کے فروخت کرنے کاہے کہ دونوں وصی حاضر ہوں تو فروخت کرنا جائز ہے، اگر ایک غائب ہے تو دوسرا اس سے اجازت لئے بغیر فروخت نہیں کرسکتا۔(4)(عالمگیری ج6، ص142)
مسئلہ 51ـ: وصی نے میت کی زمین فروخت کی تاکہ اس کا دین ادا کردے اور وصی کے قبضہ میں اتنا مال ہے کہ اس سے میت کا ادھار بیباق کردے(5)، اس صور ت میں بھی یہ بیع جائز ہے۔(6) (خزانۃ المفتیین از عالمگیر ی ج6،ص142)
مسئلہ 52: باپ کی طرف سے مقرر کردہ وصی نابالغ کے لئے مال کا مقاسمہ کرسکتا ہے چاہے مال منقولہ جائداد ہو یا جائداد غیر منقولہ، اس میں اگر معمولی گڑبڑ ہو(یعنی معمولی غبن ہو)تب بھی جائز ہے لیکن اگر غبن فاحش ہے (بڑا غبن ہے)تو جائز نہیں، اس قسم کے مسائل میں اصل و قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص کسی چیز کو فروخت کرنے کا اختیاررکھتا ہے اسے اس میں مقاسمہ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ (7)(محیط از عالمگیری ج6،ص142)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص141.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص142. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔یعنی ادا کردے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص142.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 53: وصی کے لئے جائز ہے کہ موصی ٰلہ کے حصہ کی تقسیم کردے سوائے عقار کے(1)اور نابالغوں کا حصہ روک لے اگر چہ بعض بالغ اور غائب ہوں۔ (2)(عالمگیری ج6،ص142)
مسئلہ 54: وصی نے ورثہ کے لئے موصی کامال تقسیم کیا اور ترکہ میں کسی شخص کے لئے وصیّت بھی ہے اور موصٰی لہ غائب ہے تو وصی کی تقسیم غائب موصی ٰلہ پر جائز نہیں موصیٰ لہ اپنی وصیّت میں ورثہ کا شریک ہوگا اور اگر تمام ورثہ نابالغ ہیں اور وصی نے موصی ٰلہ سے مال تقسیم کیا اور اسے ثلث مال دے کر دو ثلث ورثہ کے لئے روک لیا تو یہ جائز ہے اب اگر وصی کے پاس سے وہ مال ہلاک ہوگیا تو ورثہ موصی ٰلہ کے حصہ میں شریک نہ ہوں گے۔ (3) (فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص142)
مسئلہ 55: قاضی نے یتیم کے لئے ہر چیز میں وصی مقرر کرلیا پھر اس نے جائداد غیر منقولہ میں اور سامان میں تقسیم کی تو جائز ہے جبکہ قاضی نے ہر چیز میں وصی مقرر کیا ہو لیکن اگر اسے یتیم کے نفقہ اور کسی خاص شے کی حفاظت کے لئے وصی مقرر کیا تو اسے تقسیم کرنا جائز نہیں۔ (4) (عالمگیری ج6،ص142)
مسئلہ 56: کسی نے ایک ہزار درہم کے ثلث کی وصیّت کی، ورثہ نے یہ قاضی کے حوالہ کردیئے قاضی نے اس کو تقسیم کیا اور موصیٰ لہ غائب ہے تو قاضی کی تقسیم صحیح ہے یہاں تک کہ اگرموصیٰ لہ کے حصہ کے یہ درہم ہلاک ہوگئے بعدمیں موصیٰ لہ حاضر ہواتو ورثہ کے حصہ میں وہ شریک نہ ہوگا۔ (5) (کافی از عالمگیر ی ج6،ص143)
مسئلہ 57: دو 2 یتیموں کے لئے ایک وصی ہے اس نے یتیموں کے بالغ ہوجانے کے بعد ان سے کہا کہ میں تم دونوں کو ایک ہزار درہم دے چکاہوں ان میں سے ایک نے وصی کی تصدیق کی اور دوسرے نے تکذیب کی اورانکار کیا تو اس صورت میں انکار کرنے والا اپنے بھائی سے ڈھائی سو درہم لینے کا حقدار ہے اور اگر دونوں نے وصی کی بات تسلیم کرنے سے انکار کردیا تووصی پر ان کے لئے کچھ نہیں، اور اگر وصی نے یہ کہا تھا کہ میں نے تم میں سے ہر ایک کو پانچ پانچ سو درہم علیحدہ علیحدہ دیئے تھے اوران میں سے ایک نے تصدیق کی دوسرے نے انکار کیا تو اس صورت میں انکار کرنے والا وصی سے ڈھائی سو درہم لے لے گا۔(6)(عالمگیری ج6،ص143)
مسئلہ 58: ایک شخص نے دو چھوٹے لڑکے چھوڑے اور ان کے لئے وصی بنادیا، انھوں نے بالغ ہونے کے بعد وصی سے اپنی میراث طلب کی، وصی نے کہا کہ تمہارے باپ کا کل ترکہ ایک ہزار درہم تھا اور میں تم میں سے ہر ایک پر پانچ پانچ سو درہم خرچ کرچکا ہوں۔ ان دونوں بیٹوں میں سے ایک نے وصی کی تصدیق کی اور دوسرے نے انکار کیا تو انکار کرنے والا تصدیق
1 ۔یعنی غیر منقولہ جائداد کے علاوہ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص142.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق،ص143. 6 ۔المرجع السابق.
کرنے والے سے ڈھائی سو درہم لے لے گا وصی سے کچھ نہیں۔ (1)(محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص143)
مسئلہ 59: جو وصی بچہ کی ماں نے مقرر کیا وہ اس بچہ کے لئے اس کی وہ منقولہ جائداد تقسیم کرنے کا حقدار ہے جو بچہ کو اس کی ماں کی طرف سے ملی ہے، یہ حق اس وقت ہے جب بچہ کا باپ زندہ نہ ہو اور نہ باپ کا وصی، لیکن ان دونوں میں سے اگر ایک بھی ہے تو ماں کے وصی کو تقسیم کا حق نہیں لیکن ماں کا وصی کسی حال میں بھی بچہ کے لئے اس کی جائداد غیر منقولہ (2)تقسیم نہیں کرسکتا اور نہ اسے اس جائداد کی تقسیم کا اختیار ہے جو بچہ کی ماں کے علاوہ کسی اور سے ملی چاہے وہ جائداد منقولہ ہو یا غیر منقولہ۔ یہی حکم نابالغ کے بھائی کے وصی اور اس کے چچا کے وصی کا ہے۔(3) (عالمگیری ج6،ص143)
مسئلہ 60: باپ کے وصی نے باپ کے ترکہ سے کچھ فروخت کیا تو اس کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ میت پر دَین نہ ہو اور نہ وصیّت ہو، دوسری صورت یہ ہے کہ میت پر دین ہویا اس نے وصیّت کی ہو تو پہلی صورت میں حکم یہ ہے۔ (کتاب الصغیر میں ہے)وصی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ ہر چیز فروخت کرسکتا ہے خواہ وہ زمین ہو یا اسبا ب جبکہ ورثہ نابالغ ہوں،دوسری صورت یہ ہے کہ اگر میت پر دَین ہے اور پورے ترکہ کے برابر ہے تو کل ترکہ فروخت کرنا بالاجماع جائز ہے۔ اگر دَین پورے ترکہ کے برابر نہیں تو بقدر ِدَین ترکہ فروخت کریگا۔ (4)(کافی ازعالمگیر ی ج6،ص145)
مسئلہ 61: اگر وصی نے اپنے مال سے میت کو کفن دیا تو وہ میت کے مال سے لے گا اور یہی حکم وارث کا بھی ہے۔(5)(عقود الدریہ بزازیہ برہامش ہندیہ ج6،ص446)
مسئلہ 62: اگر وصی یا وارث نے میت کا دین اپنے مال سے ادا کیا تو وہ میت کے مال سے لینے کا مستحق ہے۔(6) (عقود الدریہ بزازیہ برہامش ہندیہ ج6،ص446)
مسئلہ 63: باپ کی طرف سے چھوٹے بچہ کے لئے جو وصی مقرر ہے اسے بچہ کی جائیداد غیر منقولہ صرف اس صورت میں فروخت کرنے کا اختیار و اجازت ہے جب میت پردَین ہو جو صرف زمین کی قیمت سے ہی ادا کیا جاسکتا ہے یا بچہ کے لئے زمین کی قیمت کی ضرورت ہو یا کوئی خریدار زمین کی دوگنی قیمت ادا کرنے کو تیار ہو۔ (7)(کافی از عالمگیری ج6،ص145)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص143.
2 ۔وہ جائداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوسکے۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص143.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''البزازیۃ''علی ہامش ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الفصل السادس فی تصرفات الوصی،ج6،ص446.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص144.
مسئلہ 64: وصی نے یتیم کے لئے کوئی چیز خریدی اگر اس میں غبنِ فاحش ہے یعنی کھلی بے ایمانی ہے تو یہ خریداری جائز نہیں۔(1) (عالمگیری ج6،ص145)
مسئلہ 65: ورثہ اگر بالغ و حاضر ہیں تو ان کی اجازت کے بغیر وصی کو میت کے ترکہ سے کچھ فروخت کرنا جائز نہیں اگر بالغ ورثہ موجود نہیں ہیں تو ان کی عدم موجودگی میں وصی کو جائیداد غیر منقولہ کو فروخت کرنا جائز نہیں، جائیداد غیر منقولہ کے علاوہ اور چیزوں کی بیع جائز ہے، جائیداد غیر منقولہ کو صرف اس صورت میں وصی کو فروخت کرنا جائز ہے جب کہ اس کے ضائع و ہلاک ہونے کا خطرہ ہو۔ اگر میت نے وصیّت مرسلہ (مطلقہ)کی تو وصی بقدر وصیّت بیع کرنے کا بالاتفاق مالک ہے اور امام اعظم کے نزدیک کل کی بیع کرسکتا ہے۔ (2)(عالمگیری ج6،ص145)
مسئلہ 66: اگر ورثہ میں کوئی نابالغ بچہ ہے اور باقی سب بالغ ہیں اور میت پر کوئی دَین اور اس کی کوئی وصیّت بھی نہیں اور ترکہ سب ہی از قسم مال و اسباب ہے (یعنی جائیداد غیرمنقولہ نہیں)تو وصی نابالغ بچہ کا حصہ فروخت کرسکتا ہے۔ امام اعظم رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ کے نزدیک وہ وصی باقی ماندہ بڑوں کے حصہ کو بھی بیع کرسکتا ہے اور اگر وہ کل کی بیع کریگا تو اس کی بیع جائز ہوگی۔(3) (عالمگیری ج6،ص144)
مسئلہ 67: ماں کا انتقال ہوا اس نے نابالغ بچہ چھوڑا اور اس کے لئے وصی بنایا تو اس وصی کو بجز جائیداد غیر منقولہ اس کے ترکہ سے ہر چیز بیع کرنا جائز ہے اور اس وصی کو اس بچہ کے لئے کھانے کپڑے کے علاوہ کوئی اور چیز خریدنا جائز نہیں۔(4)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص144)
مسئلہ 68: ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے اپنے نابالغ بچے چھوڑے اور اپنے باپ کو چھوڑا اور کسی کو اپنا وصی نہیں بنایا اس صور ت میں میت کاباپ (یعنی بچوں کا دادا)بجائے وصی متصور ہوگا اسے بچوں کی حفاظت اور مال میں ہر قسم کے تصرفات(5)کا اختیار ہے لیکن اگر میت پر دَین کثیر ہو تو اس میت کے باپ کو دین کی ادائیگی کے لئے اس کا ترکہ فروخت کرنے کا اختیار نہیں۔(6) (عالمگیری ج6،ص145)
مسئلہ 69: میت کے وصی نے دیون کی(7)ادائیگی کے لئے اس کا ترکہ فروخت کیا اور دین ترکہ کو محیط نہیں ہے تو جائزہے لیکن اگر ترکہ میں دین نہیں ہے اور وارثوں میں چھوٹے بچے بھی ہیں اور قاضی نے کل ترکہ فروخت کردیا تو یہ بیع
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص144.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔معاملات،لین دین۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص145.
7 ۔یعنی قرضوں کی۔
نافذہوجائے گی۔(1) (عالمگیری ج6،ص146)
مسئلہ 70: میت نے باپ چھوڑا اور وصی بھی چھوڑا توو صی زیادہ مستحق ہے باپ سے اگر اس نے وصی نہیں بنایا تھا تو باپ مستحق ہے اور باپ بھی نہیں تو دادا پھردادا کاوصی پھر قاضی کی طرف سے مقرر کیا ہوا صی۔(2)(عالمگیری ج6،ص146)
مسئلہ 71: بچہ ماں کا وارث ہوا اور اس کا باپ نہایت فضول خرچ ہے اور وہ ممنوع التصرف ہونے کے لائق ہے(3) تو اس صورت میں اس باپ کو اس کے مال میں ولایت نہیں۔(4) (عالمگیری ج6،ص146)یعنی وہ بچہ کے مال میں تصرف کا مالک نہیں ہوگا۔
مسئلہ 72: قاضی نے یتیم بچہ کے لئے وصی مقرر کیا تو قاضی کا یہ وصی اس کے باپ کے وصی کی جگہ ہوگا اگر قاضی نے اسے تمام معاملات میں وصی عام بنایا ہے اور اگر قاضی نے اسے کسی خاص معاملہ میں وصی بنایا تو وہ اس معاملہ کے ساتھ خاص رہے گا دوسرے معاملات میں اسے کچھ اختیار نہیں بخلاف اس وصی کے جس کو باپ نے مقرر کیا کہ اسے کسی معاملہ کے ساتھ خاص نہیں کیا جاسکتا یعنی اگر اس نے کسی کو ایک معاملہ میں وصی بنایا تو وہ ہر معاملہ میں وصی رہے گا۔ (5)(فتاویٰ قاضی خان از عالمگیری ج6،ص146)
مسئلہ 73: وصی نے میت کے ترکہ سے کوئی چیز ادھار فروخت کی اگراس میں یتیم کے نقصان کا اندیشہ ہو مثلاً یہ کہ خریدار قیمت دینے سے انکار کردے یا میعاد مقررہ پر اس سے قیمت وصول نہ ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں یہ بیع جائز نہیں اور اگر اندیشہ نہ ہو تو جائز ہے۔(6) (عالمگیری ج6،ص146)
مسئلہ 74: یتیم کا ایک گھر ہے ایک شخص نے اسے آٹھ روپے ماہانہ پر کرایہ پر لینا چاہا اور دوسرا اسے دس روپے ماہانہ کرایہ پر لینا چاہتا ہے لیکن آٹھ روپے ماہانہ دینے والا مالدار و قادر ہو(یعنی کرایہ دیتا رہے گا)تو گھر اس کو دیا جائے گا دس روپے ماہانہ والے کو نہیں جب کہ اس سے کرایہ نہ دینے کا اندیشہ ہو۔ (7)(عالمگیری ج6،ص146)
مسئلہ 75: وصی نے یتیم کے مال میں سے کوئی چیز صحیح قیمت پر فروخت کی، دوسرا اس سے زیادہ دے کرلینا چاہتا ہے تو قاضی یہ معاملہ ایماندار ماہرین ِقیمت کے سپرد کردے گا، اگر ان میں سے دو صاحبِ امانت لوگوں نے کہہ دیا کہ وصی نے اسے صحیح قیمت پر فروخت کیا ہے اور اس کی قیمت یہی ہے تو قاضی زیادہ قیمت دینے والے کی طرف توجہ نہ کریگا یہی حکم مال وقف کو اجارہ پر دینے کا ہے۔ (8)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص146)
مسئلہ 76: ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے ثلث مال کی وصیّت کی اور مختلف قسم کی جائیداد غیر منقولہ چھوڑیں اب وصی ان میں سے کسی ایک جائیداد کو میت کی وصیّت پوری کرنے کے لئے فروخت کرنا چاہتا ہے تو ورثہ کو یہ حق ہے کہ وہ صرف اس
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص146.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی معاملات ،لین دین وغیرہ کرنے کے قابل نہیں۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص146.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق.
صورت میں اپنی رضا مندی دیں جب میت کی ہر قسم کی جائیدادغیر منقولہ میں سے ایک ثلث فروخت کیا جائے، اگر اس کی ہر جائیداد میں سے اس کا ثلث فروخت کرنا ممکن ہو۔(1) (فتاویٰ ابی اللیث از عالمگیری ج6،ص147)
مسئلہ 77: ایک عورت کا انتقال ہوا اس نے وصیّت کی کہ میرا مال و متاع فروخت کیا جائے اور اس کی قیمت کا ثلث (تہائی حصہ)فقراء پر خرچ کیا جائے، اس کے بالغ ورثہ بھی ہیں اب وصی نے چاہا کہ اس کا تمام ساز وسامان فروخت کردے، ورثہ نے انکار کیا اور بقدرِ مقدارِ وصیّت فروخت کرنے کو کہا اگر ثلث مال کی خریداری میں نقص و خرابی ہے اور اس سے ورثہ اور اہل وصیّت (موصیٰ لہم)کو نقصان پہنچتا ہے تو وصی کو کل مال فروخت کردینے کا اختیار ہے ورنہ نہیں، صرف اتنا فروخت کریگا جس میں وصیّت پوری کی جاسکے۔(2) (ذخیرہ از عالمگیری ج6،ص147)
مسئلہ 78: وصی کو مال یتیم سے تجارت کرنا جائز ہے۔(3) (مبسوط از عالمگیری ج6،ص147)
مسئلہ 79: وصی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ یتیم یا میت کے مال سے اپنی ذات کے لئے تجارت کرے اگر اس نے تجارت کی اور منافع ہوا تو وہ یتیم یا میت کے اصل مال کا ضامن ہوگا اور منافع کو صدقہ کریگا۔ (4)(فتاویٰ قاضی خاں ازعالمگیری ج6،ص147)
مسئلہ 80: وصی مال یتیم سے یتیم کو فائدہ پہنچانے کے لئے تجارت کرسکتا ہے۔ (5)(المبسوط از عالمگیری ج6،ص147)
مسئلہ 81: وصی نے میت کے ترکہ کا کچھ حصہ طویل مدت کے لئے اجارہ پر دیا تاکہ اس سے میت کا دَین(ادھار)ادا کردے تو یہ جائز نہیں۔(6) (عالمگیری ج6،ص147)
مسئلہ 82: ایک شخص کا انتقال ہوا وہ مدیون ہے (یعنی اس پر اُدھا ر ہے)اس نے وصی بنایا اورو صی غائب ہے، کسی وارث نے اس کا ترکہ(7)فروخت کیا اور اس کا دین(8)ادا کردیا اور اس کی وصیّتوں کو نافذ کردیا تو یہ بیع فاسد ہوگی لیکن اگر قاضی کے حکم سے بیع کیا تھا تو بیع جائز ہے، یہ اس صورت میں ہے جب کہ پورا ترکہ دین میں مستغرق ہو(9)، اگر ترکہ دین میں مستغرق نہیں ہے تو وارث کا تصرف صرف اسی کے حصہ میں نافذ ہوگا۔(10) (عالمگیری ج6،ص147)مگر یہ کہ مبیع (11)اگر بیت معین (12)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا، الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص146.
2 ۔المرجع السابق،ص147. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔یعنی میت کا چھوڑا ہوا مال۔ 8 ۔قرض،ادھار۔ 9 ۔یعنی قرض میں گھرا ہوا ہو۔
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص147.
11 ۔بیچی گئی چیز۔ 12 ۔یعنی مخصوص گھر۔
ہو تو اس صورت میں وارث کا تصرف اُسی کے حصہ میں ہی نافذ ہوگا۔
مسئلہ 83: بالغ وارث نے میت کے ترکہ سے یا اس کی غیر منقولہ جائیداد سے کچھ فروخت کیا پھر بھی میت پر دین اور وصےّتیں باقی رہ گئیں وصی نے چاہا کہ وارث کی بیع کو رد کردے تو اگر وصی کے قبضہ میں اس کے علاوہ بھی میت کا کچھ مال ہے جسے فروخت کرکے وہ میت کا قرضہ اور وصےّتیں بے باق کرسکتا ہے تو وہ وارث کی بیع کو رد نہیں کریگا۔(1)(عالمگیری ج6،ص147)
مسئلہ 84: وصی اگر یتیم کا مال کسی کو قرض دینا چاہے تو اس کو یہ اختیار نہیں ہے۔ (2)(محیط از عالمگیری ج6،ص147) اگر قرض دے گا تو ضامن ہوگا۔
مسئلہ 85: میت کے وصی یا باپ نے یتیم کا مال اپنے دَین (ادھار)میں رہن کردیا تو یہ استحساناً جائز ہے اگر وصی نے یتیم کے مال سے اپنا قرض ادا کیا تو جائز نہیں اگر باپ نے ایسا کیا تو جائز ہے۔ (3)(عالمگیری ج6،ص147)
مسئلہ 86: وصی نے بچہ کو کسی عمل خیر کے لئے اجرت پر رکھا تو یہ جائز ہے۔(4) (عالمگیری ج6،ص148)
مسئلہ 87: وصی نے یتیم کے لئے کوئی اجیر اس سے زیادہ اجرت پر لیا جو اس کی ہے تو یہ اجارہ جائز ہے لیکن اسے اتنی ہی اجرت دی جائے گی جو اس کی ہوتی ہے اور جو زیادہ ہے وہ اس یتیم بچہ کوو اپس کردی جا ئے گی۔(5)(عالمگیری ج6،ص148)
مسئلہ 88: وصی نے نابالغ بچہ کا مکان اس سے کم کرایہ پر دیا جتنا کرایہ اس کا لینا چاہیے تھا تو مستاجر کو یعنی مکان کرایہ پر لینے والے کو اس کاپورا کرایہ دینا لازم ہے (یعنی اتنا کرایہ جتنے کرایہ کا اس جیسا مکان ملتا ہے)لیکن اگر کم کرایہ لینے میں یتیم کا فائدہ ہے تو کم کرایہ پر مکان دینا واجب ہے۔ (6)(ذخیرہ از عالمگیری ج6،ص148)
مسئلہ 89: وصی اپنی ذات کو نابالغ یتیم کا آجر (7)نہیں بناسکتا لیکن باپ یعنی یتیم کا داد ا اجیر(8)بن سکتا ہے اور اس یتیم کو اپنا اجیر بناسکتا ہے۔(9) (قدوری از عالمگیری ج6،ص148)
مسئلہ 90: وصی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ یتیم کے مال کو بالمعاوضہ یا بلا معاوضہ ہبہ کرے باپ کے لئے بھی یہی حکم ہے۔(10) (فتاویٰ قاضی خان از عالمگیری ج6،ص148)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص147.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق،ص148.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔اجرت پر کام لینے والا۔ 8 ۔اجرت پر کام کرنے والا،مزدور،ملازم۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص147.
10 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 91: وصی نے نابالغ یتیم کا مال خود اپنے ہاتھ فروخت کیا یا اپنا مال یتیم نابالغ کے ہاتھ فروخت کیا تو اگر ان سودوں (خرید و فروخت)میں یتیم کے لئے کھلا ہوانفع ہے تو جائز ہے اور اگر منفعتِظاہر(کھلا ہوا نفع)نہیں ہے تو جائز نہیں منفعتِ ظاہر کی تشریح بعض مشائخ علماء نے یہ کی ہے کہ یتیم کا سو100 کا مال سوا125سو میں فروخت کرے یا اپنا سو100 کا مال پچہتر75 روپے میں یتیم کو دیدے۔(1) (عالمگیری ج6،ص148)
مسئلہ 92: دو یتیموں کے ایک وصی نے ایک یتیم کا مال دوسرے یتیم کو فروخت کیا تو یہ جائز نہیں۔(2) (ذخیرہ از عالمگیری ج6،ص148)
مسئلہ 93: میت کے باپ نے یا اس کے وصی نے نابالغ کو تجارت کی اجازت دیدی تو صحیح ہے اور اس نابالغ کے خرید و فروخت کرتے وقت ان کا سکوت بھی اجازت ہے اور اگر نابالغ کے بالغ ہونے سے پہلے میت کے باپ کا یا وصی کا انتقال ہوگیا تو ان کی اجازت باطل ہو جائے گی ۔اگر نابالغ بالغ ہوگیا اور باپ یا وصی زندہ ہے تو اجازت باطل نہیں ہوگی۔(3)(عالمگیری ج6،ص148)
مسئلہ 94: نابالغ کا مال فروخت کرنے کے لئے باپ نے یا وصی نے وکیل بنایا پھر باپ کا انتقال ہوگیا یا نابالغ بالغ ہوگیا تو وکیل معزول ہوجائے گا۔(4) (عالمگیری ج6،ص149)
مسئلہ 95: قاضی نے نابالغ کو یا کم سمجھ کو تجارت کی اجازت دیدی تو صحیح ہے۔ (5)(عالمگیری ج6،ص149)
مسئلہ 96: قاضی نے نابالغ کو تجارت کی اجازت دیدی اور باپ یا وصی نے منع کیا تو ان کا منع کرنا باطل ہے اور ایسے ہی اگر اجازت دینے والے قاضی کا انتقال ہوگیا تو یہ اجازت اس وقت تک ممنوع نہ ہوگی جب تک دوسرا قاضی ممنوع نہ قرار دے۔(6)(فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص149)
مسئلہ 97: وصی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ یتیم کے مال سے اس کا صدقہ فطر ادا کردے یا اس کے مال سے اُ س کی طرف سے قربانی کرے جب کہ یتیم مالدار ہو۔(7) (عالمگیری ج6،ص149)
مسئلہ 98: وصی کو اختیار نہیں کہ وہ مَیت کے قرضداروں کو بَری کردے(8)یا ان کے ذمہ قرض میں سے کچھ کم کردے یا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص148.
2 ۔المرجع السابق،ص148، 149. 3 ۔المرجع السابق،ص149. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
8 ۔یعنی ان کے قرض ادا کردے۔
قرض کی ادائیگی کے لئے میعاد(1)مقرر کرے جب کہ وہ دَین میت کے خود اپنے کئے ہوئے معاملہ کا ہو اور اگر معاملہ وصی نے کیا تھا اس کا دین ہے تو وصی کو مدیون(2)کو بری کرنے یا دین کو کم کرنے یا اس کی مدّ ت مقرر کرنے کا اختیار ہے لیکن اس کے نقصان کا ضامن ہوگا۔ (3) (عالمگیری ج6،ص149)
مسئلہ 99: وصی نے میت کے کسی قرضدار سے میت کے دَین میں مصالحت کرلی، اگر میت کی طرف سے اس دَین کا ثبوت ہے یا قرضدار خود اقراری ہے یا قاضی کو اس کے حق کا علم ہے تو ان تمام صورتوں میں وصی کی یہ مصالحت جائز نہیں، اگر اس حق (دین)پر دلیل وبیّنہ قائم نہیں ہے تو وصی کا مصالحت کرلینا جائز ہے لیکن اگر وصی نے اس دَین میں صلح کی جو میت پر واجب تھا یا یتیم پر تھا تو اگر مدعی کے پاس دلیل وبیّنہ ہے یا قاضی نے مدعی کے حق میں فیصلہ کردیا تو وصی کا صلح کرلینا جائز ہے اور اگر مدعی کے لئے اس کے حق میں دلیل نہیں ہے اور نہ قاضی نے مدعی کے حق میں فیصلہ دیا تو صلح کرنا جائز نہیں۔(4)(عالمگیری ج6،ص149)
مسئلہ 100: وصی یتیم کا مال لے کر کسی ظالم و جابر کے پاس سے گزرا اور اُسے اندیشہ ہے کہ اگر اس نے اس کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا یعنی اسے کچھ نہ دیا تو یہ سب مال اس کے قبضہ سے نکل جائے گا۔ اس نے یتیم کے مال سے اس کو کچھ دیدیا تو استحساناً جائز ہے یہی حکم مضارب کے لئے ہے مال مضاربت میں۔ (5)(عالمگیری ج6،ص150)
مسئلہ 101: وصی نے قاضی کی عدالت میں مقدمات پر خرچ کیا اور بطور اجارہ کچھ دیا تو وصی اس کا ضامن نہیں لیکن بطور رشوت کچھ خرچ کیا ہے تو اس کا ضامن ہے، فقہاء فرماتے ہیں اپنی جان اور مال سے رفع ظلم کے لئے (6)مال خرچ کرنا اس کے حق میں رشوت دینے میں داخل نہیں لیکن اگر دوسرے پر کوئی حق ہے اس حق کو نکلوانے میں مال خرچ کرنا رشوت ہے۔(7) (عالمگیری ج6،ص150)
مسئلہ 102: ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس نے اپنی عورت کو وصی بنایا اور نابالغ بچے اور ترکہ چھوڑا(8)پھر اس کے گھر ظالم حکمراں آیا، اس وصی عورت سے کہا گیا اگر تو اس کو کچھ نہیں دے گی تو یہ گھر اور جائیداد غیر منقولہ (9)پر قبضہ اور غلبہ کریگا اس
1 ۔مدت۔ 2 ۔مقروض۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص149.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق،ص150.
6 ۔یعنی اپنی جان ومال کوظلم سے بچانے کے لئے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص150.
8 ۔یعنی مال وجائیداد چھوڑا۔ 9 ۔وہ جائیداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوسکے۔
وصی عورت نے جائیداد غیر منقولہ سے اسے کچھ دیدیا تو یہ معاملہ صحیح ہے۔ (1) (فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص150)
مسئلہ 103: وصی نے یتیم کا مال یتیم کی تعلیم قرآن اور ادب میں خرچ کیا، اگر بچہ اس کی (یعنی تعلیم ادب کی) صلاحیت رکھتا تھا تو جائز ہے بلکہ وصی ثواب پائے گا اور اگر بچہ میں علم حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں تو بقدر ضرورتِ نماز قرآن مجید کی تعلیم دلائے۔ (2)(عالمگیری ج6،ص150، در مختارج5،ص504 علی ہامش ردالمحتار )
مسئلہ 104: وصی کو چاہیے کہ وہ بچہ کے نفقہ میں وسعت کرے (3)، نہ فضول خرچی کرے نہ تنگی، یہ وسعت بچے کے مال اور حال کے لحاظ سے ہوگی، وصی بچہ کے مال اور حال کو دیکھ کر اس کے لائق خرچہ کریگا۔ (4) (عالمگیری ج6،ص150)
مسئلہ 105: وصی اگر یتیم کے کاموں کے لئے جائے گا اور یتیم کے مال سے سواری کرایہ پر لے گا اور اپنے اوپر خرچ کریگا تو استحساناً یہ اس کے لئے جائز ہے بشرطیکہ وہ خرچہ ضروری و ناگزیر ہو۔(5)(عالمگیری ج6،ص150، درمختار علی ردالمحتارج5،ص504)
مسئلہ 106: وصی نے میت کے ترکہ سے اگر کوئی چیز اپنے لئے خریدی اور میت کا چھوٹا بڑا کوئی وارث نہیں تو جائز ہے۔ (6) (فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص150)
مسئلہ 107ـ: ایک شخص کا انتقال ہوا اورا س کے پاس مختلف لوگوں کی ودیعتیں(امانتیں)تھیں اس نے ترکہ میں مال چھوڑا لیکن اس پر دَین ہے جو اس کے پورے مال کو محیط ہے اور وصی نے میت کے گھر سے تمام ودیعتوں پر قبضہ کرلیا تاکہ وہ ودیعت رکھنے والوں کو واپس کردے یا اس نے میت کے تمام مال پر قبضہ کرلیا تاکہ اس سے میت کا دَین ادا کردے پھر وہ ما ل یا ودیعتیں وصی کے قبضہ میں ہلاک ہوگئیں تو وصی پر کوئی ضمان نہیں، اسی طرح اگر میت پر دین نہ تھا اور وصی نے میت کے تمام مال کو قبضہ میں لیا پھر وہ مال ہلاک ہوگیا تو بھی وصی پر کوئی ضمان نہیں۔ (7)(ذخیرہ از عالمگیری ج6،ص151)
مسئلہ 108: ایک شخص نے اپنا مال کسی کے پاس امانت رکھا اور کہا کہ اگر میں مرجاؤں تو یہ مال میرے بیٹے کو دیدینا اور ا س نے وہ مال بیٹے کو دیدیا اور اس کے دوسرے وارث بھی ہیں تو وصی وارث کے حصہ کا ضامن ہوگا اور ان الفاظ سے وہ وصی نہیں بن جائے گا۔ (8)(عالمگیری ج6،ص151)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص150.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی خرچ میں میانہ روی کرے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص150.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق،ص150،151.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص151.
مسئلہ 109: مریض کے پا س اس کے عزیز و اقارب ہیں جو ا س کے مال سے کھاپی رہے ہیں اگر مریض ان کی آمدورفت کا اپنے مرض میں محتاج ہے اور وہ اُس کے اور اُس کے عیال کے ساتھ بغیر اسراف کے کھاتے پیتے ہیں تو استحساناً ان پرکوئی ضمان نہیں، اگر مریض ان کا محتاج نہیں ہے تو اگر وہ مریض کے حکم سے کھاتے پیتے ہیں تو جو اُن میں سے وارث ہیں اُن پراُن کے کھانے پینے کے خرچہ کا ضمان ہے اور جو وارث نہیں ان کا خرچہ میت کے ثلث مال میں محسوب ہوگا(1)اگر مریض نے اس کا حکم دیا تھا۔(2) (عالمگیری ج6،ص151، رد المحتار بحوالہ بزازیہ کتاب الوصایا ص457)
مسئلہ 110: وصی نے دعویٰ کیا کہ میت کے ذمہ میر ادَین ہے تو قاضی اس کے دَین کی ادائیگی کے لئے ایک وصی مقرر کریگا جو ثبوت قائم ہونے کے بعد اس کا دَین ادا کردے گا اور قاضی میت کے وصی کو وصی ہونے سے خارج نہیں کریگا اسی پر فتویٰ ہے۔ (3)(عالمگیری ج6،ص151)
مسئلہ 111: میت نے اپنی بیوی کو وصی بنایا او رمال چھوڑا اور بیوی کا میت پرمَہْرہے تو اگر میت نے اس کے مَہْرکے برابر سونا چاندی چھوڑا ہے تو بیوی کے لئے جائز ہے کہ وہ اس سونے چاندی سے اپنا مہر لے لے، اور اگر میت نے سونا چاندی نہیں چھوڑا ہے تو بیوی کے لئے جائز ہے کہ وہ اس چیز کو فروخت کردے جو فروخت کرنے کے لئے زیادہ مناسب ہے اور اس کی قیمت سے اپنا مہر لے لے۔(4)(عالمگیری ج6،ص153)
مسئلہ 112: میت پر دَین ہے اور جس کا دَین ہے وہ اس کا وارث یا وصی ہے تو اس کو یہ حق ہے کہ وارثوں کے علم میں لائے بغیر اپنا حق لے لے۔(5)(عالمگیری ج6،ص153)
مسئلہ 113: ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے نابالغ بچے چھوڑے اور کسی کو وصی نہیں بنایا پھر قاضی نے کسی شخص کو وصی مقرر کیا پھر ایک آدمی نے میت پر اپنے دین کا یا ودیعت کا دعویٰ کیا اور بیوی نے اپنے مہر کا دعویٰ کیا اس صورت میں دَین یا ودیعت کی ادائیگی تو ثبوت ہوجانے کے بعد کی جائے گی،لیکن نکاح اگر معروف ہے تو مہر کے بارے میں عورت کا قول معتبر ہے اگر وہ مہر مثل کے اندر ہے، وہ مہر عورت کو ادا کیا جائے گا۔(6) (فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص154)
مسئلہ 114: وصی نے میت کی وصیّت اپنے مال سے ادا کردی اگر یہ وصی وارث ہے تو میت کے ترکہ سے لے لے گا
1 ۔یعنی تہائی مال میں شمار ہوگا۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص151.
3 ۔المرجع السابق،ص153. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق،ص153،154.
ورنہ نہیں۔ (عالمگیری ج6،ص155)اور فتویٰ یہ ہے کہ وصی ہر حال میں میت کے ترکہ سے اپنا مال لے لے گا۔(1)
مسئلہ 115: وصی نے اقرار کیا کہ میں نے میت کا دین جو لوگوں پر تھا قبضہ کرلیا پھر ایک مقروض آیا اور وصی سے کہا کہ میں نے تجھے میت کے دین کا اتنا اتنا روپیہ دیا، وصی نے انکار کیا اور کہا کہ میں نے تجھ سے کچھ بھی نہیں لیا اور نہ مجھے علم ہے کہ تجھ پر میت کا قرضہ تھا تو اس صورت میں وصی کا قول قسم لے کر تسلیم کرلیا جائے گا۔(2) (محیط از عالمگیری ج6،ص154)
مسئلہ 116: وصی نے نابالغ بچوں کے لئے کپڑا خریدا یاجو کچھ ان کا خرچ ہے وہ خریدتا رہتا ہے اپنے مال سے تو وہ یہ روپیہ میت کے مال اور ترکہ سے لے لے گا یہ وصی کی طرف سے تَطَوُّعاً یا احسان کے طور پر نہیں ہے۔(3)(عالمگیری ج6،ص155)
مسئلہ 117: کوئی مسافر کسی آدمی کے گھر آیا اور اس کا انتقال ہوگیا اس نے کسی کو وصی بھی نہیں بنایا اور جو کچھ روپے چھوڑے تو معاملہ حاکم کے سامنے پیش ہوگا اور اس کو حاکم کے حکم سے درمیانی درجہ کا کفن دیا جائے گا اور اگر حاکم نہ ملے تو بھی درمیانی درجہ کا کفن دیا جائے گااور اگر اس میت پر دَین ہے تو یہ شخص ا س کے مال کو دین کی ادائیگی کے لئے فروخت نہ کریگا۔(4) (فتاویٰ قاضی خاں از عالمگیری ج6،ص155)
مسئلہ 118: عورت نے اپنے ثلث مال کی وصیّت کی اور کسی کو اپنا وصی بنادیا، اس وصی نے اس کی کچھ وصیّتوں کو نافذ کردیا اور کچھ ورثہ کے قبضہ میں باقی رہ گئیں اگر ورثہ دیانتدار ہیں اور وصی کو ان کی دیانت کاعلم ہے کہ وہ میت کے ثلث مال سے ان باقی ماندہ وصیّتوں کو پورا کردیں گے تو اس کو ان کے لئے چھوڑ دینا جائز ہے اور اس کا علم اس کے خلاف ہے تو وصی ان کے لئے نہ چھوڑے گا بشرطیکہ وہ ورثہ سے مال برآمد کرسکتا ہو۔(5) (عالمگیری ج6،ص155)
مسئلہ 119: وصی نے یتیم سے کہا کہ میں نے تیرا مال تیرے نفقہ میں خرچ کردیا، فلاں فلاں چیز میں فُلاں فُلاں سامان میں، اگر اتنی مدت میں اتنا مال نفقہ میں خرچ ہوجاتا ہے تو وصی کی تصدیق کردی جائے گی زیادہ میں نہیں، نفقہ مثل کا مطلب یہ ہے کہ بین بین ہو نہ اسراف نہ تنگی۔ (6)(محیط از عالمگیری ج6،ص155)
مسئلہ 120: وصی نے دعویٰ کیا کہ اس نے یتیم کو ہر ماہ سو 100روپے دیئے اور یہ مقررہ تھا اور یتیم نے اس کو ضائع کردیا پھر میں نے اسے اسی ماہ دوسرے سو روپے دیئے، اس صورت میں وصی کی تصدیق کی جائے گی جب تک وصی سراسر اور کھلی ہوئی غلط بات نہ کہے مثلاً یہ کہے کہ میں نے اس یتیم کو ایک ماہ میں بہت بارسو100،،سو100روپے دیئے اور اس نے ضائع کردیئے تو ایسی بات وصی کی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص154،155.
2 ۔المرجع السابق،ص154. 3 ۔المرجع السابق،ص155.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
نہیں مانی جائے گی۔(1) (عالمگیری ج6،ص156)
مسئلہ 121: وصی نے یتیم سے یہ کہا کہ تونے اپنے چھُٹپن (2)میں اس شخص کا اتنا اتنا مال ہلاک کردیا پھر میں نے اپنی طرف سے ادا کردیا یتیم نے اس کی تکذیب کی اور نہیں مانا تو یتیم کی بات قبول کرلی جائے اور وصی اتنے مال کا ضامن ہوگا۔(3)(نوازل از عالمگیری ج6،ص156)
مسئلہ 122: میت کے وصی نے اقرار کیا کہ میت کا فلاں شخص پر جتنا واجب تھا وہ تمام میں نے پورا وصول پایا اور و ہ سو روپے تھے، جس پر دَین تھا اس نے کہا مجھ پر اس کا ایک ہزار روپے کا دَین تھا اور وہ تونے لے لیا تو قرضدار اپنے تمام دَین سے بری ہے اب وصی اس سے کچھ بھی نہیں لے سکتا اور وصی ورثہ کے لئے اتنے ہی کا ذمہ دار ہوگا جتنے کے وصول کرنے کا اس نے اقرار کیا ہے۔(4) (عالمگیری ج6،ص157)
مسئلہ 123: قرضدار نے اولاً ایک ہزار روپے قرض ہونے کا اقرار کیا پھر وصی نے اقرار کیا کہ جوکچھ اس پر قرض تھا وہ میں نے پورا وصول پالیا اور وہ ایک سو 100 روپے تھے اس صو رت میں قرضدار بری ہوگیا اور وصی ورثہ کے لئے باقی نو سو روپے کا ضامن ہوگا۔(5) (عالمگیری ج6،ص157)
مسئلہ 124: وصی نے اقرار کیا کہ اس نے فلاں شخص سے سوروپے پورے وصول کرلئے اور یہ کل قیمت ہے، مشتری یعنی خریدار نے کہاکہ نہیں بلکہ قیمت ڈیڑھ سوروپے ہے تو وصی کو حق ہے کہ وہ بقیہ پچاس روپے اس سے اور طلب کرے۔(6) (عالمگیری ج6،ص157)
مسئلہ 125: وصی نے اقرار کیا کہ اُس نے میت کے گھر میں جو کچھ مال و متاع اور میراث تھی اس پر قبضہ کرلیا، پھر کہا کہ وہ کل سو روپے اور پانچ کپڑے تھے اور وارثوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے زیادہ تھا اور ثبوت دیدیا کہ جس دن میت کا انتقال ہوا اس کی میراث اس دن اس گھر میں ایک ہزار روپے اور سو 100 کپڑے تھی تو وصی کو اتنا ہی دینالازم ہے جتنے کا اس نے اقرار کیا ہے۔(7) (محیط از عالمگیری ج6،ص158)
مسئلہ 126: وصی نے میت پر دَین کا اقرار کیا تو اس کا اقرار صحیح نہیں۔ (8)(ذخیرہ از عالمگیری 6،ص158)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص156.
2 ۔بچپن۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ،ج6،ص156.
4 ۔المرجع السابق،ص157. 5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔المرجع السابق،ص158. 8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 1: دو وصیّوں نے گواہی دی کہ میت نے ان کے ساتھ فلاں کو وصی بنایا ہے اور خود وہ بھی وصی ہونے کا دعویدار ہے تو یہ شہادت قبول کرلی جائے گی اور اگر وہ فلاں دعویدار نہیں ہے تو ان کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی۔(1) (محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص158)
مسئلہ 2: میت کے دو بیٹوں نے گواہی دی کہ ان کے باپ نے فلاں کو وصی بنایا اور وہ فلاں بھی اس کا مدعی ہے تو یہ شہادت استحساناً قبول کرلی جائے گی لیکن اگر وہ فلاں مدعی نہیں ہے بلکہ انکاری ہے اورباقی ورثہ اس کے وصی ہونے کا دعوٰی نہیں کررہے تو ان (بیٹوں)کی شہادت مقبول نہیں۔(2)(عالمگیری ج6،ص158)
مسئلہ 3: دو آدمیوں نے جن کا میت پر قرضہ ہے گواہی دی کہ میت نے فلاں کو وصی بنایا ہے اور اس نے وصی ہونا قبول کرلیا ہے اور فلاں بھی اس کا مدعی ہے تو یہ شہادت استحساناً مقبول ہے لیکن اگر وہ مدعی نہیں ہے تو یہ شہادت قبول نہ ہوگی۔ (3)(عالمگیری ج6،ص159)
مسئلہ 4: ایسے دو آدمیوں نے جن پر میت کا قرضہ ہے گواہی دی کہ میت نے فلاں کو وصی بنایا ہے اور وہ فلاں بھی مدعی ہے تو استحساناً ان کی گواہی مقبول ہے اور اگر وہ فلاں مدعی نہیں تو مقبول نہیں۔(4)(عالمگیری ج6،ص159)
مسئلہ 5: وصی کے دو بیٹوں نے گواہی دی کہ فلاں نے ہمارے باپ کو وصی بنایا ہے اور وصی بھی دعویدار ہے لیکن ورثہ اس کے مدعی نہیں ہیں تو یہ شہادت نا مقبول ہے قاضی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس کو وصی مقرر کرے۔ (5)(عالمگیری ج6،ص159)
مسئلہ 6: دو وصیّوں میں سے ایک وصی کے دوبیٹوں نے گواہی دی کہ میت نے ہمارے باپ کووصی بنایا اور ساتھ ہی فلاں کو بھی وصی بنایا تو اگر باپ اس کا مدعی ہے تو اُن کی شہادت نہ باپ کے حق میں قابلِ قبول ہے نہ اجنبی کے حق میں قابلِ قبول، ہاں اگرباپ وصی ہونے کا مدعی نہیں بلکہ دعویٰ ورثہ کی طرف سے ہے اس صورت میں اُن کی شہادت قبول کرلی جائے گی۔(6)(عالمگیری ج6،ص159)
مسئلہ 7: دو گواہوں نے گواہی دی کہ میت نے اس شخص کو وصی بنایا اور اس سے رجوع کرکے اس دوسرے کو وصی بنایا تو یہ شہادت قبول کرلی جائے گی۔ (7)(عالمگیری ج6،ص159)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب العاشر فی الشہادۃ علی الوصیۃ،ج6،ص158.
2 ۔المرجع السابق . 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق،ص159.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ 8: دو گواہوں نے گواہی دی کہ میت نے اس شخص کو وصی بنایا پھر وصی کے دو بیٹوں نے گواہی دی کہ موصی نے ان کے باپ کو معزول کردیا اور فلاں کو وصی بنادیا تو ان دونوں بیٹوں کی گواہی مقبول ہے۔ (1)(عالمگیری ج6،ص159)
مسئلہ 9: دو گواہوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ میت نے جمعرات کے دن وصیّت کی اور دوسرے گواہ نے گواہی دی کہ ا س نے جمعہ کے دن وصیّت کی تو یہ شہادت مقبول ہے۔(2) (عالمگیری ج6،ص159)
مسئلہ 10: دو وصیوں نے نابالغ وارث کے حق میں شہادت دی کہ میت نے اُن کے لئے اپنے کچھ مال کی وصیّت کی ہے یا کسی دوسرے کے کچھ مال کی وصیّت کی ہے تو ان کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی یہ شہادت باطل ہے، اگر انھوں نے یہ شہادت بالغ وارث کے حق میں دی تو امام اعظم علیہ الرحمۃ کے نزدیک میت کے مال میں نا مقبول ہے اور غیر کے مال میں قبول کرلی جائے گی، او رصاحبین (3)کے نزدیک دونوں قسم کے مال میں شہادت جائز ہے۔ (4)(ہدایہ از عالمگیری ج6،ص159)
مسئلہ 11: موصیٰ لہ معلوم ہے لیکن موصٰی بہ معلوم نہیں، گواہوں نے موصیٰ لہ کے لئے اس کی وصیّت کی گواہی دی تو یہ گواہی مقبول ہے اور موصٰی بہ کی تفصیل ورثہ سے معلوم کی جائے گی۔ (5)(محیط از عالمگیری ج6،ص159)
مسئلہ 12: دو شخصوں نے دوسرے دو آدمیوں کے حق میں گواہی دی کہ اُن کا میت پر ایک ہزار روپے دَین ہے اور ان دونوں نے پہلے دو شخصوں کے حق میں گواہی دی کہ ان کا میت پر ایک ہزار روپے دَین ہے تو ان دونوں فریقوں کی شہادت ایک دوسرے کے حق میں قبول کرلی جائے گی لیکن اگر ان دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے لئے ایک ایک ہزار کی وصیّت کی گواہی دی تو اس صورت میں اُن کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔(6) (عالمگیری ج6کتاب الوصایا،ص159)
مسئلہ 1: یہودی یا نصرانی نے صومعہ (7)یا کنیسہ(8)بحالت صحت بنایا پھر اس کا انتقال ہوگیا تو وہ میراث ہے ورثہ میں تقسیم ہوگا۔(9) (جامع الصغیر از ہدایہ ج4 و عالمگیری ج6،ص132)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب العاشر فی الشہادۃ علی الوصیۃ،ج6،ص159.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دو مشہور شاگرد امام محمد اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہماکو صاحبین کہتے ہیں ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب العاشر فی الشہادۃ علی الوصیۃ،ج6،ص159.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔یہودیوں کی عبادت گاہ۔ 8 ۔نصرانیوں کی عبادت گاہ۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثامن فی وصیۃ الذمی والحربی،ج6،ص132.
مسئلہ 2: یہودی یا عیسائی نے بوقت موت اپنے گھر کو گرجا بنانے کی متعین و معدود لوگوں کے لئے وصیّت کردی تو اس کی یہ وصیّت اس کے ثلث حصہ میں جاری ہوگی۔(1) (جامع الصغیر و عالمگیری ج6،ص132)
مسئلہ 3: اگر اس نے اپنے گھر کو غیر محصور و غیر معدود لوگوں کے لئے کنیسہ بنانے کی وصیّت کی تو یہ وصیّت جائز ہے۔(2)(جامع صغیر از ہدایہ ج4)
مسئلہ 4: ذمی کی وصیّت کی چار قسمیں ہیں(1) ایک یہ کہ وہ ایسی شے کی وصیّت کرے جو اس کے اعتقاد میں قربت و عبادت ہو اور مسلمانوں کے نزدیک قُربت و عبادت نہ ہو جیسے کہ ذمی وصیّت کرے کہ اس کے خنزیر کاٹے جائیں اور مشرکوں کو کھلائے جائیں تو اگر وصیّت متعین و معدود لوگوں کے لئے ہے تو جائز ہے ورنہ نہیں، (2) دوسرے یہ کہ ذمی ایسی چیز کی وصیّت کرے جو مسلمانوں کے نزدیک قربت و عبادت ہو اور خود ذمیوں کے نزدیک عبادت نہ ہو جیسے وہ حج کرنے کی وصیّت کرے یا مسجد تعمیر کرانے کی وصیّت کرے یا مسجد میں چراغ روشن کرنے کی وصیّت کرے تو اس کی یہ وصیّت بالاجماع باطل ہے لیکن اگر مخصوص و متعین لوگوں کے لئے ہوتو جائز ہے،(3) تیسرے یہ کہ ذمی ایسی چیز کی وصیّت کرے جو مسلمانوں کے نزدیک بھی عبادت وقربت ہو اور ان کے نزدیک بھی جیسے بیت المقدس میں چراغ روشن کرنے کی وصیّت کرے تو یہ وصیّت جائز ہے، (4)چوتھے یہ کے وہ ایسی چیز کی وصیّت کرے جو نہ مسلمانوں کے نزدیک قربت و عبادت ہو اور نہ ذمیوں کے نزدیک جیسے وہ گانے بجانے والی عورتوں یا نوحہ گر عورتوں کے لئے وصیّت کرے تو یہ وصیّت جائز نہیں۔ (3)(ہدایہ ج4، عالمگیری ج6، کتاب الوصایا ص131)
مسئلہ 5: فاسق فاجر بدعتی جس کا فسق و فجور حدِ کفر تک نہ پہنچا ہو وصیّت کے معاملہ میں بمنزلہ مسلمانوں کے ہے اور اگر اس کا فسق و فجور کفر کی حد تک ہے تو وہ بمنزلہ مرتد کے ہے جو حکم مرتد کی وصیّت کاہے وہی اس کی وصیّت کا ہے کہ اس کی وصیّت موقوف رہے گی، اگر اس نے اپنے کفر و ارتداد سے توبہ کرلی تو وصیت نافذ ہوگی ورنہ نہیں۔(4)(ہدایہ ج4 و عالمگیری ج6،ص131)
مسئلہ 6: حربی کافر امان لے کر دار الاسلام میں داخل ہوا اور اس نے اپنے کل مال کی وصیّت کسی مسلمان یا ذمی کے لئے کی تو اس کی وصیّت کل مال میں جائز ہے۔ (5)(جامع صغیر از ہدایہ و عالمگیری ج6،ص132)
مسئلہ 7: حربی کافر امان لے کر دار الاسلام میں داخل ہوا اور اس نے اپنے مال کے ایک حصہ کی وصیّت کسی مسلمان یا ذمی کے لئے کی تو یہ وصیّت جائز ہے اس کا بقیہ مال اس کے ورثہ کو واپس دیا جائے گا۔(6) (ہدایہ ج4 و محیط السرخسی از عالمگیری ج6،ص132)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثامن فی وصیۃ الذمی والحربی،ج 6،ص132.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوصایا،باب وصیۃ الذمی،ج2،ص536.
و''الجامع الصغیر''،کتاب الوصایا،باب وصیۃالذمی ببیعۃاوکنیسۃ،ص528.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوصایا،باب وصیۃ الذمی،ج2،ص536.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثامن فی وصیۃ الذمی والحربی،ج 6،ص132.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق،ص132.
مسئلہ 8: حربی مُستامن کے لئے کسی مسلمان یا ذمی نے وصیّت کی تو یہ جائز ہے۔(1) (ہدایہ) مستامن اس شخص کو کہتے ہیں جو امان لے کر دار الاسلام میں داخل ہوا۔
مسئلہ 9: ذمی نے اپنے ثلث مال سے زیادہ میں وصیّت کی یا اپنے بعض وارثوں کے لئے وصیّت کی تو جائز نہیں۔(2)(ہدایہ) اور اگر اپنے غیر مذہب والے کے لئے وصیّت کی تو جائز ہے۔(3) (عالمگیری ج6،ص132)
مسئلہ 10: مسلمان یا ذمی نے دار الاسلام میں ایسے کافر حربی کے لئے وصیّت کی جو دار الاسلام میں نہیں ہے تو یہ وصیّت جائزہے۔(4)(ہدایہ ج4 و مستصفٰی از عالمگیری ج6،ص132)
مسئلہ 11: اگر مسلمان مرتد ہوگیا(معاذ اﷲ)پھر وصیّت کی، امامِ اعظم علیہ الرحمۃ کے نزدیک یہ موقوف رہے گی، اگر اسلام لے آیا اور وصیّت اسلام میں صحیح ہے تو جائز ہے اور جو اسلام کے نزدیک صحیح نہیں وہ باطل ہوجائے گی۔(5)(عالمگیری ج6،ص132)
٭٭٭٭٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن
کہ بہار شریعت کے انیسویں حصّہ کی تالیف مورخہ 29شوال المکرم 1400ھ مطابق 10ستمبر 1980 یوم چہار شنبہ اختتام کو پہنچی مولیٰ تعالیٰ قبول فرمائے اور اس میں اپنی کم علمی کی وجہ سے اگر کچھ خامیاں ہوں تو مجھے معاف فرمائے اور اس کتاب کو میرے لیے ذخیرہ آخرت بنائے۔ آمین
میں اس سلسلہ میں ہدیہ شکر پیش کرتا ہوں حضرت مولانا قاری رضاء المصطفےٰ صاحب خطیب نیو میمن مسجد بولٹن مارکیٹ کراچی کو، جن کی محبت اور خلوص نے مجھ سے دین کی یہ خدمت لے لی۔ بلاشبہ اگر اُن کے مخلصانہ اصرار کا زبردست دباؤ نہ ہوتا تو شاید میں دین کی اِس خدمت سے محروم رہتا۔ اﷲتعالیٰ ان کو اس پر ماجور فرمائے اور سعادتِ دارین سے سرفراز فرمائے۔
الفقیر الی اللہ الصّمد ظہیر احمد بن سیّد دائم علی زیدی
از ساداتِ قصبہ نگینہ ضلع بجنور
وائس پرنسپل مسلم یونیورسٹی سِٹی ہائی اسکول علی گڑھ
غَفَرَ اللہُ لَہٗ وَلِوَالِدَیْہِ وَلِمَشَائِخِہٖ وَاَسَاتِذَتِہٖ وَاِخوانِہٖ وَاَوْلادِہٖ اَجْمَعِیْنَ.
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوصایا،باب وصیۃ الذمی،ج2،ص537.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثامن فی وصیۃ الذمی والحربی،ج6،ص132.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوصایا،الباب الثامن فی وصیۃ الذمی والحربی،ج6،ص132.
5 ۔المرجع السابق.