Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اﷲ عزوجل ارشادفرماتاہے :
(اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّہُدًی لِّلْعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۹۶﴾فِیۡہِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰہِیۡمَ ۬ۚ وَمَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ؕ وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۷﴾ ) (1)
بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور ہدایت تمام جہان کے لیے، اُس میں کھلی ہو ئی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم اور جو شخص اس میں داخل ہو با امن ہے اور اﷲ (عزوجل) کے لیے لوگوں پر بیت اﷲ کا حج ہے، جو شخص باعتبار راستہ کے اس کی طاقت رکھے اور جو کفر کرے تو اﷲ (عزوجل) سارے جہان سے بے نیاز ہے۔
اور فرماتا ہے :
( وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِ ؕ ) (2)
حج و عمرہ کو اﷲ (عزوجل) کے لیے پورا کرو۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا اور فرمایا: ''اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا لہٰذا حج کرو۔'' ایک شخص نے عرض کی، کیا ہر سال یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے سکوت فرمایا(3)۔ انھوں نے تین بار یہ کلمہ کہا۔ ارشاد فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر واجب ہو جاتا اور تم سے نہ ہوسکتا پھر فرمایا: جب تک میں کسی بات کو بیان نہ کروں تم مجھ سے سوال نہ کرو، اگلے لوگ کثرتِ سوال اور پھر انبیا کی مخالفت سے ہلاک ہوئے، لہٰذا جب میں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک ہو سکے اُسے کرو اور جب میں کسی بات سے منع کروں تو اُسے چھوڑ دو۔ (4)
1 ۔ پ۴،آل عمران: ۹۶۔ ۹۷. 2 ۔ پ۲، البقرۃ: ۱۹۶.
3 ۔ یعنی خاموش رہے۔
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب فرض الحج مرّۃ في العمر، الحدیث: ۱۳۳۷، ص۶۹۸.
حدیث ۲: صحیحین میں انھیں سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کی گئی، کون عمل افضل ہے؟ فرمایا: ''اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایمان۔ عرض کی گئی پھر کیا؟ فرمایا: اﷲ (عزوجل) کی راہ میں جہاد۔ عرض کی گئی پھر کیا؟ فرمایا: حجِ مبرور۔'' (1)
حدیث ۳: بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ انھیں سے راوی، رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے حج کیا اور رفث (فحش کلام) نہ کیا اور فسق نہ کیا تو گناہوں سے پاک ہو کر ایسا لوٹا جیسے اُس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔'' (2)
حدیث ۴: بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ انھیں سے راوی، ''عمرہ سے عمرہ تک اُن گناہوں کا کفارہ ہے جو درمیان میں ہوئے اور حجِ مبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔'' (3)
حدیث ۵: مسلم و ابن خزیمہ و غیرہما عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''حج ان گناہوں کو دفع کردیتا ہے جو پیشتر ہوئے ہیں۔'' (4)
حدیث ۶ و ۷: ابن ماجہ اُم المومنین اُم سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''حج کمزوروں کے لیے جہاد ہے۔'' (5)
اور اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے ابن ماجہ نے روایت کی، کہ میں نے عرض کی، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) عورتوں پر جہاد ہے؟ فرمایا: ''ہاں ان کے ذمّہ وہ جہاد ہے جس میں لڑنا نہیں حج و عمرہ۔'' (6)
اور صحیحین میں انھیں سے مروی، کہ فرمایا: ''تمہارا جہاد حج ہے۔'' (7)
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الإیمان، باب من قال ان الایمان ھو العمل، الحدیث: ۲۶، ج۱، ص۲۱.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الحج، باب فضل الحج المبرور، الحدیث: ۱۵۲۱، ج۱، ص۵۱۲.
و ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الحج، الترغیب فی الحج والعمرۃ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲، ج۲، ص۱۰۳.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب العمرۃ، باب وجوب العمرۃ وفضلھا، الحدیث: ۱۷۷۳، ج۱، ص۵۸۶.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب کون الاسلام یھدم ما قبلہ ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۱۲۱، ص۷۴.
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المناسک، باب الحج جھاد النساء، الحدیث: ۲۹۰۲، ج۳، ص۴۱۴.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المناسک، باب الحج جھاد النساء، الحدیث: ۲۹۰۱، ج۳، ص۴۱۳.
7 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الجھاد، باب جھاد النساء، الحدیث: ۲۸۷۵، ج۲، ص۲۷۴.
حدیث ۸: ترمذ ی و ابن خزیمہ و ابن حبان عبداﷲبن مسعودرضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''حج و عمرہ محتاجی اور گناہوں کو ایسے دور کرتے ہیں، جیسے بھٹّی لوہے اور چاندی اور سونے کے میل کو دور کرتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔'' (1)
حدیث ۹: بخاری و مسلم و ابوداود و نسائی و ابن ماجہ وغیرہم ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''رمضان میں عمرہ میرے ساتھ حج کی برابر ہے۔'' (2)
حدیث ۱۰: بزار نے ابو موسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''حاجی اپنے گھر والوں میں سے چار سو کی شفاعت کریگا اور گناہوں سے ایسا نکل جا ئے گا، جیسے اُس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔'' (3)
حدیث ۱۱ و ۱۲: بیہقی ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ میں نے ابو القاسم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا: ''جو خانہ کعبہ کے قصد سے آیا اور اُونٹ پر سوار ہوا تو اُونٹ جو قدم اُٹھاتا اور رکھتا ہے، اﷲتعالیٰ اس کے بدلے اس کے لیے نیکی لکھتا ہے اور خطا کو مٹاتا ہے اور درجہ بلند فرماتا ہے، یہاں تک کہ جب کعبہ معظمہ کے پاس پہنچا اور طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی پھر سرمنڈایا یا بال کتروائے تو گناہوں سے ایسا نکل گیا، جیسے اس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔'' (4) اور اسی کے مثل عبداﷲبن عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی۔
حدیث ۱۳: ابن خزیمہ وحاکم ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو مکہ سے پیدل حج کو جائے یہاں تک کہ مکہ واپس آئے اُس کے لیے ہر قدم پر سات سو نیکیاں حرم شریف کی نیکیوں کے مثل لکھی جائیں گی۔ کہا گیا، حرم کی نیکیوں کی کیا مقدار ہے؟ فرمایا :ہر نیکی لاکھ نیکی ہے۔'' (5) تو اس حساب سے ہر قدم پر سات کرور نیکیاں ہوئیں وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ .
حدیث ۱۴تا۱۶: بزار نے جابررضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''حج و عمرہ کرنے والے اﷲ (عزوجل) کے وفد ہیں، اﷲ (عزوجل) نے انھیں بُلایا، یہ حاضر ہوئے، انھوں نے اﷲ (عزوجل) سے سوال کیا، اُس
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الحج، باب ماجاء فی ثواب الحج و العمرۃ، الحدیث: ۸۱۰، ج۲، ص۲۱۸.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب جزاء الصید، باب حج النساء، الحدیث: ۱۸۶۳، ج۱، ص۶۱۴.
3 ۔ ''مسند البزار''، مسند أبي موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ، الحدیث: ۳۱۹۶، ج۸، ص۱۶۹.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب فی المناسک، باب فضل الحج و العمرۃ، الحدیث: ۴۱۱۵، ج۳، ص۴۷۸.
5 ۔ ''المستدرک'' للحاکم، کتاب المناسک، باب فضیلۃ الحج ماشیا، الحدیث: ۱۷۳۵، ج۲، ۱۱۴.
نے انھیں دیا۔'' (1) اسی کے مثل ابن عُمر و ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے مروی۔
حدیث ۱۷: بزار و طبرانی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''حاجی کی مغفرت ہو جاتی ہے اور حاجی جس کے لیے استغفار کرے اُس کے لیے بھی۔'' (2)
حدیث ۱۸: اصبہانی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''حج فرض جلد ادا کرو کہ کیا معلوم کیا پیش آئے۔'' (3)
اور ابو داود و دارمی کی روایت میں یوں ہے: ''جس کا حج کا ارادہ ہو تو جلدی کرے۔'' (4)
حدیث ۱۹: طبرانی اوسط میں ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ داود علیہ السّلام نے عرض کی، اے اﷲ! (عزوجل) جب تیرے بندے تیرے گھر کی زیارت کو آئیں تو انھیں تو کیا عطا فرمائے گا؟ فرمایا: ''ہر زائر کا اُس پر حق ہے جس کی زیارت کو جائے، اُن کا مجھ پر یہ حق ہے کہ دنیا میں انھیں عافیت دوں گا اور جب مجھ سے ملیں گے تو اُن کی مغفرت فرمادونگا۔'' (5)
حدیث ۲۰: طبرانی کبیر میں اور بزار ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہتے ہیں میں مسجد منیٰ میں نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر تھا۔ ایک انصاری اور ایک ثقفی نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا پھر کہا، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہم کچھ پوچھنے کے لیے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں؟ ارشاد فرمایا: ''اگر تم چاہو تو میں بتادوں کہ کیا پوچھنے حاضر ہوئے ہو اور اگر چاہو تو میں کچھ نہ کہوں، تمھیں سوال کرو۔'' عرض کی، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہمیں بتا دیجیے۔ ارشاد فرمایا: تو اس لیے حاضر ہوا ہے کہ گھر سے نکل کر بیت الحرام کے قصدسے جانے کو دریافت کرے اوریہ کہ اس میں تیرے لیے کیا ثواب ہے اور طواف کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کو اور یہ کہ اس میں تیرے لیے کیا ثواب ہے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کو اور یہ کہ اس میں تیرے لیے کیا ثواب ہے اور عرفہ کی شام کے وقوف کو اور تیرے لیے اس میں کیا ثواب ہے اور جمار کی رَمی کو اور اس میں تیرے لیے کیا ثواب ہے اور قربانی کرنے کواور اس میں تیرے لیے کیا ثواب
ـ1 ۔ ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الحج، الترغیب فی الحج و العمرۃ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۰، ج۲، ص۱۰۷.
2 ۔ ''مجمع الزوائد'' ، باب دعاء الحجاج و العمار، الحدیث: ۵۲۸۷، ج۳، ص۴۸۳.
3 ۔ ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الحج، الترغیب فی الحج و العمرۃ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۶، ج۲، ص۱۰۹.
4 ۔ ''سنن أبي داود'' کتاب المناسک، باب ۵، الحدیث: ۱۷۳۲، ج۲، ص۱۹۷.
5 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب المیم، الحدیث: ۶۰۳۷، ج۴، ص۲۹۷.
ہے اور اس کے ساتھ طواف اِفَاضہ (1) کو۔''
اُس شخص نے عرض کی، قسم ہے! اس ذات کی جس نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا، اِسی لیے حاضر ہوا تھا کہ ان باتوں کو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے دریا فت کروں۔ ارشاد فرمایا: ''جب تو بیت الحرام کے قصد سے گھر سے نکلے گا تو اونٹ کے ہر قدم رکھنے اور ہر قدم اُٹھانے پر تیرے لیے حسنہ لکھا جائے گا اور تیری خطامٹا دی جائے گی اور طواف کے بعد کی دو رکعتیں ایسی ہیں جیسے اولادِ اسماعیل میں کوئی غلام ہو، اُس کے آزاد کرنے کا ثواب اور صفا و مروہ کے درمیان سعی ستر غلام آزاد کرنے کے مثل ہے۔
اور عرفہ کے دن وقوف کرنے کا حال یہ ہے کہ اﷲ عزوجل آسمان دنیا کی طرف خاص تجلّی فرماتا ہے اور تمھارے ساتھ ملائکہ پر مباہات فرماتا ہے، ارشاد فرماتا ہے: ''میرے بندے دُور دُور سے پراگندہ سر میری رحمت کے امیدوار ہو کر حاضر ہوئے، اگر تمھارے گناہ ریتے کی گنتی اور بارش کے قطروں اور سمندر کے جھاگ برابر ہوں تو میں سب کو بخش دوں گا، میرے بندو! واپس جاؤ تمھاری مغفرت ہو گئی اور اس کی جس کی تم شفاعت کرو۔
اور جمروں پر رَمی کرنے میں ہر کنکری پر ایک ایسا کبیرہ مٹادیا جائے گاجو ہلاک کرنے والا ہے اور قربانی کرنا تیرے رب کے حضور تیرے لیے ذخیرہ ہے اور سر منڈانے میں ہر بال کے بدلے میں حسنہ لکھا جائے گا اور ایک گناہ مٹایا جائے گا، اس کے بعد خانہ کعبہ کے طواف کا یہ حال ہے کہ تو طواف کررہا ہے اور تیرے لیے کچھ گناہ نہیں ایک فرشتہ آئے گا اور تیرے شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہے گا کہ زمانہ آئندہ میں عمل کر اور زمانہ گذشتہ میں جو کچھ تھا معاف کردیا گیا۔ (2)
حدیث ۲۱: ابو یعلی ابوہُریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو حج کے لیے نکلا اور مرگیا ۔قیامت تک اُس کے لیے حج کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو عمرہ کے لیے نکلا اور مرگیا اس کے لیے قیامت تک عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو جہاد میں گیا اور مرگیا اُس کے لیے قیامت تک غازی کا ثواب لکھا جائے گا۔'' (3)
حدیث ۲۲: طبرانی و ابو یعلی و دار قطنی و بیہقی اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو اس راہ میں حج یا عمرہ کے لیے نکلا اور مرگیا اُس کی پیشی نہیں ہوگی، نہ حساب ہوگا اور اس سے کہا جائے گا تو جنت
1 ۔ اس کو طوافِ زیارت بھی کہتے ہیں۔
2 ۔ ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الحج، الترغیب فی الحج و العمرۃ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۳۲، ج۲، ص۱۱۰.
3 ۔ ''مسند أبي یعلی''، مسند أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ، الحدیث: ۶۳۲۷، ج۵، ص۴۴۱.
میں داخل ہو جا۔'' (1)
حدیث ۲۳: طبرانی جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''یہ گھر اسلام کے ستونوں میں سے ایک ستون ہے، پھر جس نے حج کیا یا عمرہ وہ اﷲ (عزوجل) کے ضمان میں ہے اگر مرجائے گا تو اﷲتعالیٰ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا اور گھر کو واپس کردے تو اجر و غنیمت کے ساتھ واپس کریگا۔'' (2)
حدیث ۲۴ و ۲۵: دا ر می ا بی امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جسے حج کرنے سے نہ حاجتِ ظاہرہ مانع ہوئی، نہ بادشاہ ظالم، نہ کوئی ایسا مرض جو روک دے، پھر بغیر حج کیے مرگیا تو چاہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔'' (3) اِسی کی مثل ترمذی نے علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۲۶: ترمذی و ابن ماجہ ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، ایک شخص نے عرض کی، کیا چیز حج کو واجب کرتی ہے؟ فرمایا: ''توشہ اور سواری۔'' (4)
حدیث ۲۷: شرح سنّت میں انھیں سے مروی، کسی نے عرض کی، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) حاجی کو کیسا ہونا چاہیے؟ فرمایا: پراگندہ سر، میلا کچیلا۔ دوسرے نے عرض کی، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) حج کا کونسا عمل افضل ہے؟ فرمایا: ''بلند آواز سے لبیک کہنا اور قربانی کرنا۔'' کسی اور نے عرض کی، سبیل کیا ہے؟ فرمایا: ''توشہ اور سواری۔'' (5)
حدیث ۲۸: ابو داود و ابن ماجہ اُم المومنین اُم سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ''جو مسجد اقصیٰ سے مسجدحرام تک حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر آیا، اُس کے اگلے اور پچھلے گناہ سب بخش دیے جائیں گے یا اُس کے لیے جنت واجب ہوگی۔'' (6)
حج نام ہے احرام باندھ کر نویں ذی الحجہ کو عرفات میں ٹھہرنے اورکعبہ معظمہ کے طواف کا اور اس کے لیے ایک خاص
1 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب المیم، الحدیث: ۵۳۸۸، ج۴، ص۱۱۱.
2 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب المیم، الحدیث: ۹۰۳۳، ج۶، ص۳۵۲.
3 ۔ ''سنن الدارمي''، کتاب المناسک، باب من مات ولم یحجّ، الحدیث: ۱۷۸۵، ج۲، ص۴۵.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الحج، باب ماجاء فی ایجاب الحج بالزاد و الراحلۃ، الحدیث: ۸۱۳، ج۲، ص۲۱۹.
5 ۔ ''شرح السنۃ'' للبغوي، کتاب الحج، باب وجوب الحج ...إلخ، الحدیث: ۱۸۴۰، ج۴، ص۹.
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب المناسک، باب فی المواقیت، الحدیث: ۱۷۴۱،ج۲، ص۲۰۱.
وقت مقرر ہے کہ اس میں یہ افعال کیے جائیں تو حج ہے ۔ ۹ ہجری میں فرض ہوا، اس کی فرضیت قطعی ہے، جو اس کی فرضیت کا انکار کرے کافر ہے مگر عمر بھر میں صرف ایک بار فرض ہے۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱: دکھاوے کے لیے حج کرنا اور مالِ حرام سے حج کو جانا حرام ہے۔ حج کو جانے کے لیے جس سے اجازت لینا واجب ہے بغیر اُس کی اجازت کے جا نا مکروہ ہے مثلاًماں باپ اگر اُس کی خدمت کے محتاج ہوں اور ماں باپ نہ ہوں تو دادا، دادی کا بھی یہی حکم ہے۔ یہ حج فرض کا حکم ہے اور نفل ہو تو مطلقاً والدین کی اطاعت کرے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: لڑکا خوبصورت اَمرد ہو تو جب تک داڑھی نہ نکلے، باپ اُسے جانے سے منع کرسکتا ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳: جب حج کے لیے جانے پر قادر ہو حج فوراََ فرض ہوگیا یعنی اُسی سال میں اور اب تاخیر گناہ ہے اور چند سال تک نہ کیا تو فاسق ہے اور اس کی گواہی مردود مگر جب کریگا ادا ہی ہے قضا نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۴: مال موجود تھا اور حج نہ کیا پھر وہ مال تلف ہوگیا ،تو قرض لے کرجائے اگرچہ جانتا ہو کہ یہ قرض ادا نہ ہوگا مگر نیت یہ ہو کہ اﷲ تعالیٰ قدرت دے گا تو ادا کر دوں گا۔ پھر اگر ادانہ ہوسکا اور نیت ادا کی تھی تو امید ہے کہ مولیٰ عزوجل اس پر مؤاخذہ نہ فرمائے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۵: حج کا وقت شوال سے دسویں ذی الحجہ تک(6) ہے کہ اس سے پیشتر(7) حج کے افعال نہیں ہوسکتے، سوا احرام کے کہ احرام اس سے پہلے بھی ہوسکتا ہے اگرچہ مکروہ ہے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: حج واجب ہونے کی آٹھ شرطیں ہیں ،جب تک وہ سب نہ پائی جائیں حج فرض نہیں:
ـ1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ ...إلخ ، ج۱، ص۲۱۶.
و''الدرالمختار''معہ''ردالمحتار''، کتاب الحج، ج۳، ص۵۱۶-۵۱۸.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب فیمن حج بمال حرام، ج۳، ص۵۱۹.
3 ۔ ''الدرالمختار'' کتاب الحج، ج۳، ص۵۲۰.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، ج۳، ص۵۲۰.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، ج۳، ص۵۲۱.
6 ۔ یعنی دو مہینے اور دس دن تک۔ 7 ۔ پہلے۔
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، ج۳، ص۵۴۳.
! اسلام
لہٰذا اگر مسلمان ہونے سے پیشتر استطاعت تھی پھر فقیر ہوگیا اور اسلام لایا تو زمانہ کفر کی استطاعت کی بنا پر اسلام لانے کے بعد حج فرض نہ ہوگا، کہ جب استطاعت تھی اس کااہل نہ تھا اور اب کہ اہل ہوا استطاعت نہیں اور مسلمان کو اگر استطاعت تھی اور حج نہ کیا تھا اب فقیر ہو گیا تو اب بھی فرض ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: حج کرنے کے بعد معاذ اﷲ مُرتد ہوگیا (2) پھر اسلام لایا تو اگر استطاعت ہو تو پھر حج کرنا فرض ہے، کہ مرتد ہونے سے حج وغیرہ سب اعمال باطل ہوگئے۔ (3) (عالمگیری) یوہیں اگر اثنائے حج (4)میں مرتد ہوگیا تو احرام باطل ہوگیا اور اگرکافر نے احرام باندھا تھا، پھر اسلام لایا تو اگر پھر سے احرام باندھا اور حج کیا تو ہوگا ورنہ نہیں۔
@ دارالحرب میں ہو تو یہ بھی ضروری ہے کہ جانتا ہو کہ اسلام کے فرا ئض میں حج ہے۔
لہٰذا جس وقت استطاعت تھی یہ مسئلہ معلوم نہ تھا اور جب معلوم ہوا اس وقت استطاعت نہ ہو تو فرض نہ ہوا اور جاننے کا ذریعہ یہ ہے کہ دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں نے جن کا فاسق ہونا ظاہر نہ ہو، اُسے خبردیں اور ایک عادل نے خبر دی، جب بھی واجب ہو گیا اور دارالاسلام میں ہے تو اگرچہ حج فرض ہونا معلوم نہ ہو فرض ہو جائے گا کہ دارالاسلام میں فرائض کا علم نہ ہونا عذر نہیں۔ (5) (عالمگیری)
# بلوغ
نابالغ نے حج کیا یعنی اپنے آپ جبکہ سمجھ وال(6) ہو یا اُس کے ولی نے اس کی طرف سے احرام باندھا ہو جب کہ ناسمجھ ہو، بہر حال وہ حج نفل ہوا، حجۃ الاسلام یعنی حجِ فرض کے قا ئم مقام نہیں ہوسکتا۔
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب فیمن حج بمال حرام، ج۳، ص۵۲۱.
2 ۔ مرتد وہ شخص ہے کہ اسلام کے بعد کسی ایسے امرکا انکار کرے ،جو ضروریات دین سے ہو یعنی زبان سے کلمہ کفر بکے جس میں تاویل صحیح کی گنجائش نہ ہو۔ یوہیں بعض افعال بھی ایسے ہیں جن سے کافر ہو جاتا ہے مثلا ًبت کو سجدہ کرنا، مصحف شریف کو نجاست کی جگہ پھینک دینا۔
نوٹ: تفصیلی معلومات کے لئے بہار شریعت حصہ9،مرتد کا بیان کا مطالعہ فرمائیں۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۷.
4 ۔ یعنی حج کے دوران۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۸.
6 ۔ سمجھ دار۔
مسئلہ ۸: نا بالغ نے حج کا احرام باندھا اور وقوفِ عرفہ سے پیشتر بالغ ہو گیا تو اگر اسی پہلے احرام پر رہ گیا حج نفل ہوا حجۃالاسلام نہ ہوا اور اگر سرے سے احرام باندھ کر وقوفِ عرفہ کیا تو حجۃالاسلام ہوا۔ (1) (عالمگیری)
4 عاقل ہونا
مجنون پر فرض نہیں۔
مسئلہ ۹: مجنون تھا اور وقوفِ عرفہ سے پہلے جنون جاتا رہا اور نیا احرام باندھ کر حج کیا تو یہ حج حجۃالاسلام ہوگیا ورنہ نہیں۔ بوہرا بھی مجنون کے حکم میں ہے۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: حج کرنے کے بعد مجنون ہوا پھر اچھاہوا تو اس جنون کا حج پر کوئی اثر نہیں یعنی اب اسے دوبارہ حج کرنے کی ضرورت نہیں، اگر احرام کے وقت اچھا تھا پھر مجنون ہوگیا اور اسی حالت میں افعال ادا کیے پھر برسوں کے بعد ہوش میں آیا تو حج فرض ادا ہوگیا۔ (3) (منسک)
5 آزاد ہونا
باندی غلام پر حج فرض نہیں اگرچہ مدبریا مکاتب یا اُم ولد (4) ہوں۔ اگرچہ اُن کے مالک نے حج کرنے کی اجازت دیدی ہو اگرچہ وہ مکہ ہی میں ہوں۔ (5)
مسئلہ ۱۱: غلام نے اپنے مولیٰ کے ساتھ حج کیا تو یہ حج نفل ہوا حجۃ الاسلام نہ ہوا۔ آزاد ہونے کے بعد اگر شرائط پائے جائیں تو پھر کرنا ہوگا اور اگر مولیٰ کے ساتھ حج کو جا تا تھا، راستہ میں اس نے آزاد کردیا تو اگر احرام سے پہلے آزاد ہوا، اب احرام باندھ کر حج
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۷.
2 ۔ 'الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۷.
و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في قولھم یقدم حق العبد علی حق الشرع، ج۳، ص،۵۳۵.
3 ۔ ''لباب المنساسک'' للسندی و'' المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط '' للقاری، (باب شرائط الحج)، ص۳۹.
4 ۔ مدبر: یعنی وہ غلام جس کی نسبت مولیٰ نے کہا کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے۔
مکاتب: یعنی وہ غلام جس کا آقا مال کی ایک مقدار مقرر کرکے یہ کہہ دے کہ اتنا ادا کردے تو آزاد ہے اور غلام اسے قبول بھی کرلے۔
ام ولد: یعنی وہ لونڈی جس کے بچہ پیدا ہوا اور مولیٰ نے اقرار کیا کہ یہ میرا بچہ ہے۔
نوٹ: تفصیلی معلومات کے لئے دیکھیں: بہارِ شریعت حصہ 9، مدبر، مکاتب اور ام ولد کا بیان۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۷.
کیا تو حجۃالاسلام ادا ہو گیا اور احرام باندھنے کے بعد آزاد ہوا تو حجۃالاسلام نہ ہوگا، اگرچہ نیا احرام باندھ کر حج کیا ہو۔ (1) (عالمگیری)
6 تندرست ہو
کہ حج کو جاسکے، اعضاسلامت ہوں، انکھیارا ہو، اپاہج اور فالج والے اور جس کے پاؤں کٹے ہوں اور بوڑھے پر کہ سواری پر خود نہ بیٹھ سکتا ہو حج فرض نہیں۔ یوہیں اندھے پر بھی واجب نہیں اگرچہ ہاتھ پکڑکر لے چلنے والااُسے ملے۔ ان سب پر یہ بھی واجب نہیں کہ کسی کوبھیج کر اپنی طرف سے حج کرا دیں یا وصیت کر جائیں اور اگر تکلیف اُٹھا کر حج کرلیا تو صحیح ہو گیا اور حجۃالاسلام ادا ہوا یعنی اس کے بعد اگر اعضا درست ہوگئے تو اب دوبارہ حج فرض نہ ہوگا وہی پہلا حج کافی ہے۔ (2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۲: اگر پہلے تندرست تھا اور دیگر شرائط بھی پائے جاتے تھے اور حج نہ کیا پھر اپاہج وغیرہ ہو گیا کہ حج نہیں کر سکتا تو اس پر وہ حج فرض باقی ہے۔ خود نہ کرسکے تو حجِ بدل کرائے۔ (3) (عالمگیری وغیرہ)
7 سفرِ خرچ کا مالک ہو اور سواری پر قادر ہو
خواہ سواری اس کی مِلک ہو یا اس کے پاس اتنا مال ہو کہ کرایہ پر لے سکے۔
مسئلہ ۱۳: کسی نے حج کے لیے اس کو اتنا مال مُباح کردیا کہ حج کرلے تو حج فرض نہ ہوا کہ اِباحت سے مِلک نہیں ہوتی اور فرض ہونے کے لیے مِلک درکار ہے، خواہ مباح کرنے والے کا اس پر احسان ہو جیسے غیر لوگ یا نہ ہو جیسے ماں، باپ اولاد۔ یوہیں اگر عاریۃً (4) سواری مِل جائے گی جب بھی فرض نہیں۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۴: کسی نے حج کے لیے مال ہبہ کیا تو قبول کرنا اس پر واجب نہیں۔ دینے والا اجنبی ہو یا ماں، باپ، اولاد وغیرہ مگر قبول کرلے گا تو حج واجب ہو جائے گا۔ (6) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۵: سفر خرچ اور سواری پر قادر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ یہ چیزیں اُس کی حاجت سے فاضل ہوں یعنی مکان و
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۷۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۸، وغیرہ۔
3 ۔ المرجع السابق۔
4 ۔ عاریۃً یعنی عارضی طور پر دی ہوئی چیز۔
5 ۔ المرجع السابق، ص۲۱۷.
6 ۔ المرجع السابق۔
لباس و خادم اور سواری کا جانور اور پیشہ کے اوزار اور خانہ داری کے سامان اور دَین سے اتنا زائد ہو کہ سواری پر مکہ معظمہ جائے اور وہاں سے سواری پر واپس آئے اور جانے سے واپسی تک عیال کا نفقہ اور مکان کی مرمت کے لیے کافی مال چھوڑجائے اور جانے آنے میں اپنے نفقہ اور گھر اہل وعیال کے نفقہ میں قدرِ متوسط کا اعتبار ہے نہ کمی ہو نہ اِسراف۔ عیال سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا نفقہ اُس پر واجب ہے، یہ ضروری نہیں کہ آنے کے بعدبھی وہاں اور یہاں کے خرچ کے بعد کچھ باقی بچے۔ (1)
(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: سواری سے مراد اس قسم کی سواری ہے جو عرفاً اور عادتاً اُس شخض کے حال کے موافق ہو، مثلاً اگر متمول (2) آرام پسند ہو تو اُس کے لیے شقدف(3) درکار ہوگا۔ یوہیں توشہ میں اُس کے مناسب غذائیں چاہیے، معمولی کھانا میسر آنا فرض ہونے کے لیے کافی نہیں، جب کہ وہ اچھی غذا کا عادی ہے۔ (4) (منسک)
مسئلہ ۱۷: جو لوگ حج کو جاتے ہیں، وہ دوست احباب کے لیے تحفہ لایا کرتے ہیں یہ ضروریات میں نہیں یعنی اگر کسی کے پاس اتنا مال ہے کہ جو ضروریا ت بتائے گئے اُن کے لیے اور آنے جانے کے اخراجات کے لیے کافی ہے مگر کچھ بچے گا نہیں کہ احباب وغیرہ کے لیے تحفہ لائے جب بھی حج فرض ہے، اس کی وجہ سے حج نہ کرنا حرام ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: جس کی بسر اوقات تجارت پر ہے اور اتنی حیثیت ہوگئی کہ اس میں سے اپنے جانے آنے کا خرچ اور واپسی تک بال بچوں کی خوراک نکال لے تو اتنا باقی رہے گا، جس سے اپنی تجارت بقدر اپنی گزر کے کرسکے تو حج فرض ہے ورنہ نہیں اور اگر وہ کاشتکار ہے تو ان سب اخراجات کے بعد اتنا بچے کہ کھیتی کے سامان ہل بیل وغیرہ کے لیے کافی ہو تو حج فرض ہے اور پیشہ والوں کے لیے ان کے پیشہ کے سامان کے لائق بچنا ضروری ہے۔ (6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۹: سواری میں یہ بھی شرط ہے کہ خاص اُس کے لیے ہو اگر دو شخصوں میں مشترک ہے کہ باری باری دونوں تھوڑی تھوڑی دُور سوار ہوتے ہیں تو یہ سواری پر قدرت نہیں اور حج فرض نہیں۔ یوہیں اگر اتنی قدرت ہے کہ ایک منزل کے لیے
ـ1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۷.
2 ۔ مالدار 3 ۔ شقدف: یعنی دو چارپائیاں جو اونٹ کے دونوں طرف لٹکاتے ہیں،ہر ایک میں ایک شخص بیٹھتا ہے۔
4 ۔ ''لباب المنساسک'' و ''المسلک المتقسط''، (باب شرائط الحج)، ص۴۶،۴۷.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب فیمن حج بمال حرام، ج۳، ص۵۲۸.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۸.
مثلاً کرایہ پر جانور لے پھر ایک منزل پیدل چلے وعلیٰ ہذاالقیاس(1) تو یہ سواری پر قدرت نہیں۔ (2) (عالمگیری)
آجکل جو شقدف اور شبری کا رواج ہے کہ ایک شخص ایک طرف سوار ہوتا ہے اور دوسرا دوسری طرف اگر یوں دو شخصوں میں مشترک ہو تو حج فرض ہوگا کہ سواری پر قدرت پائی گئی اور پیدل چلنا نہ پڑا۔ (3) (منسک)
مسئلہ ۲۰: مکہ معظمہ یا مکہ معظمہ سے تین دن سے کم کی راہ والوں کے لیے سواری شرط نہیں، اگر پیدل چل سکتے ہوں تو ان پر حج فرض ہے اگرچہ سواری پر قادر نہ ہوں اور اگر پید ل نہ چل سکیں تو اُن کے لیے بھی سواری پر قدرت شرط ہے۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: میقات سے باہر کا رہنے والا جب میقات تک پہنچ جائے اور پیدل چل سکتا ہو تو سواری اُس کے لیے شرط نہیں، لہٰذا اگرفقیر ہو جب بھی اُسے حجِ فرض کی نیت کرنی چاہیے نفل کی نیت کریگا تو اُس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہوگا اور مطلق حج کی نیت کی یعنی فرض یا نفل کچھ معین نہ کیا تو فرض ادا ہوگیا۔ (5) ( منسک،ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: اس کی ضرورت نہیں کہ محمل وغیرہ آرام کی سواریوں کا کرایہ اس کے پاس ہو، بلکہ اگر کجاوے پر بیٹھنے کا کرایہ پاس ہے تو حج فرض ہے، ہاں اگر کجاوے پر بیٹھ نہ سکتا ہو تو محمل وغیرہ کے کرایہ سے قدرت ثابت ہوگی۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: مکّہ اور مکّہ سے قریب والوں کو سواری کی ضرورت ہو تو خچر یا گدھے کے کرایہ پر قادر ہونے سے بھی سواری پر قدرت ہو جائے گی اگر اس پر سوار ہو سکیں بخلاف دور والوں کے کہ اُن کے لیے اونٹ کا کرایہ ضروری ہے کہ دُور والوں کے لیے خچر وغیرہ سوار ہونے اور سامان لادنے کے لیے کافی نہیں اور یہ فرق ہر جگہ ملحوظ رہنا چاہیے۔ (7) (ردالمحتار)
1 ۔ اور اسی پر قیاس کر لیجئے۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۷.
3 ۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۷۔
و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، فیمن حج بمال حرام، ج۳، ص۵۲۵.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج،مطلب فیمن حج بمال حرام، ج۳، ص۵۲۵.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج،مطلب فیمن حج بمال حرام، ج۳، ص۵۲۵.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب فیمن حج بمال حرام، ج۳، ص۵۲۶۔
مسئلہ ۲۴: پیدل کی طاقت ہو تو پیدل حج کرنا افضل ہے۔ حدیث میں ہے: ''جو پیدل حج کرے، اُس کے لیے ہر قدم پر سات سو ۷۰۰ نیکیاں ہیں۔'' (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: فقیر نے پیدل حج کیا پھر مالدار ہو گیا تو اُس پر دوسراحج فرض نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: اتنا مال ہے کہ اس سے حج کرسکتا ہے مگر اُس مال سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو نکاح نہ کرے بلکہ حج کرے کہ حج فرض ہے یعنی جب کہ حج کا زمانہ آگیا ہو اور اگر پہلے نکاح میں خرچ کر ڈالا اور مجردرہنے (3)میں خوفِ معصیت تھا تو حرج نہیں۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۷: رہنے کا مکان اور خدمت کا غلام اور پہننے کے کپڑے اور برتنے کے اسباب ہیں تو حج فرض نہیں یعنی لازم نہیں کہ انھیں بیچ کر حج کرے اور اگر مکان ہے مگر اس میں رہتا نہیں غلام ہے مگر اس سے خدمت نہیں لیتا تو بیچ کر حج کرے اور اگر اس کے پاس نہ مکان ہے نہ غلام وغیرہ اور روپیہ ہے جس سے حج کرسکتا ہے مگر مکان وغیرہ خریدنے کا ارادہ ہے اور خریدنے کے بعد حج کے لائق نہ بچے گا تو فرض ہے کہ حج کرے اور باتوں میں اُٹھانا گناہ ہے یعنی اس وقت کہ اُس شہر والے حج کو جارہے ہوں اور اگر پہلے مکان وغیرہ خریدنے میں اُٹھا دیا تو حرج نہیں۔ (5) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: کپڑے جنھیں استعمال میں نہیں لا تا انھیں بیچ ڈالے تو حج کرسکتا ہے تو بیچے اور حج کرے اور اگر مکان بڑا ہے جس کے ایک حصّہ میں رہتا ہے باقی فاضل پڑا ہے تو یہ ضرور نہیں کہ فاضل کو بیچ کر حج کرے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: جس مکان میں رہتا ہے اگر اُسے بیچ کر اُس سے کم حیثیت کا خریدلے تو اتنا روپیہ بچے گا کہ حج کرلے تو بیچنا ضرور نہیں مگر ایسا کرے تو افضل ہے، لہٰذا مکان بیچ کر حج کر نا اور کرایہ کے مکان میں گزر کر نا تو بدرجہ اَولیٰ ضرور نہیں۔ (7)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب فیمن حج بمال حرام، ج۳، ص۵۲۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۷.
3 ۔ یعنی شادی نہ کرنے۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۷.
و''' الدرالمختار''، کتاب الحج، ج۳، ص۵۲۸.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۷.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۷۔۲۱۸.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۸.
(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۰: جس کے پاس سال بھر کے خرچ کا غلّہ ہو تو یہ لازم نہیں کہ بیچ کر حج کو جائے اور اس سے زائد ہے تو اگر زائد کے بیچنے میں حج کا سامان ہوسکتا ہے تو فرض ہے ورنہ نہیں۔ (1) (منسک)
مسئلہ ۳۱: دینی کتابیں اگر اہل علم کے پاس ہیں جو اُسکے کام میں رہتی ہیں تو انھیں بیچ کر حج کرنا ضروری نہیں اور بے علم کے پاس ہوں اور اتنی ہیں کہ بیچے تو حج کرسکے گا تو اُس پر حج فرض ہے۔ یوہیں طب اور ریاضی وغیرہ کی کتابیں اگرچہ کام میں رہتی ہوں اگر اتنی ہوں کہ بیچ کر حج کرسکتا ہے تو حج فرض ہے۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار)
8 وقت
یعنی حج کے مہینوں میں تمام شرائط پائے جائیں اور اگردُور کارہنے والا ہو تو جس وقت وہاں کے لوگ جاتے ہوں اس وقت شرائط پائے جائیں اور اگر شرائط ایسے وقت پائے گئے کہ اب نہیں پہنچے گا تو فرض نہ ہوا۔ یوہیں اگر عادت کے موافق سفر کر ے تو نہیں پہنچے گا اور تیزی اور رَواروی (3) کرکے جائے تو پہنچ جائے گاجب بھی فرض نہیں اور یہ بھی ضرور ہے کہ نمازیں پڑھ سکے، اگر اتنا وقت ہے کہ نمازیں وقت میں پڑھے گا تو نہ پہنچے گا اور نہ پڑھے تو پہنچ جائے گا تو فرض نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
یہاں تک وجوب کے شرائط کا بیان ہوا اور شرائطِ ادا کہ وہ پائے جائیں تو خود حج کو جانا ضروری ہے اور سب نہ پائے جائیں تو خود جانا ضروری نہیں بلکہ دوسرے سے حج کراسکتا ہے یا وصیت کر جائے مگر اس میں یہ بھی ضرور ہے کہ حج کرانے کے بعد آخر عمر تک خود قادر نہ ہو ورنہ خود بھی کرنا ضرور ہوگا۔ وہ شرائط یہ ہیں:
1 راستہ میں امن ہونا یعنی اگر غالب گمانِ سلامتی ہو تو جانا واجب اور غالب گمان یہ ہو کہ ڈاکے وغیرہ سے جان ضائع ہو جائے گی تو جانا ضرور نہیں، جانے کے زمانے میں امن ہونا شرط ہے پہلے کی بدامنی قابلِ لحاظ نہیں۔ (5)
1 ۔ ''لباب المناسک'' للسندی، ''المسلک المتقسط في المنسک المتوسط'' للقاری، (باب شرائط الحج)، ص۴۵.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۸.
و''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب فیمن حج بمال حرام، ج۳، ص۵۲۸.
3 ۔ یعنی جلدی۔
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في قولھم یقدم حق العبد علی حق الشرع، ج۳، ص۵۳۴.
5 ۔ المرجع السابق، ص۵۳۰. و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول، ج۱، ص۲۱۸.
(ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: اگر بدامنی کے زمانے میں انتقال ہوگیا اور وجوب کی شرطیں پائی جاتی تھیں تو حجِ بدل کی وصیت ضروری ہے اور امن قائم ہونے کے بعد انتقال ہو اتو بطریق اولیٰ وصیت واجب ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: اگر امن کے لیے کچھ رشوت دینا پڑے جب بھی جانا واجب ہے اور یہ اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے مجبور ہے لہٰذا اس دینے والے پر مؤاخذہ نہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: راستہ میں چونگی وغیرہ لیتے ہوں تو یہ امن کے منافی نہیں اور نہ جانے کے لیے عذر نہیں۔ (3) (درمختار) یوہیں ٹیکہ کہ آج کل حجاج کو لگائے جاتے ہیں یہ بھی عذر نہیں۔
2 عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اُس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، خواہ وہ عورت جوان ہو یا بوڑھیا اور تین دن سے کم کی راہ ہو تو بغیر محر م اور شوہر کے بھی جاسکتی ہے۔(4)
محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے ہمیشہ کے لیے اُ س عورت کا نکاح حرام ہے، خواہ نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہو، جیسے باپ، بیٹا، بھائی وغیرہ یا دُودھ کے رشتہ سے نکاح کی حرمت ہو، جیسے رضا عی بھائی، باپ، بیٹا وغیرہ یا سُسرالی رشتہ سے حُرمت آئی، جیسے خُسر، شوہر کا بیٹا وغیرہ۔
شوہر یا محرم جس کے ساتھ سفر کرسکتی ہے اُس کا عاقل بالغ غیر فاسق ہونا شرط ہے۔ مجنون یا نا بالغ یا فاسق کے ساتھ نہیں
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في قولھم یقدم حق العبد علی حق الشرع، ج۳، ص۵۳۰.
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في قولھم یقدم حق العبد علی حق الشرع، ج۳، ص۵۳۰.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، ج۳، ص۵۳۱.
4 ۔ یہ ظاہر الروایہ ہے ۔ مگر ملا علی قاری علیہ رحمۃ اللہ الباری ''المسلک المتتقسط فی المنسک المتوسط'' صفحہ 57پر تحریر فرماتے ہیں:
'' امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمہما اﷲ تعالیٰ سے عورت کو بغیر شوہر یا محرم کے ایک دن کا سفر کرنے کی کراہیت بھی مروی ہے۔ فتنہ و فساد کے زمانے کی وجہ سے اسی قول( ایک دن) پرفتوی دینا چاہیے۔ '' (''المسلک المتقسط''، ص۵۷. '' ردالمحتار''،کتاب الحج ،ج۳ ،ص۵۳۳)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: عورت کو بغیر شوہر یا محرم کے ساتھ لیے سفر کو جانا حرام ہے ، اس میں کچھ حج کی خصوصیت نہیں ، کہیں ایک دن کے راستہ پر بغیر شوہر یامحرم جائے گی تو گناہ گار ہو گی۔(فتاوی رضویہ ، کتاب الحج ،ج۱۰ ص ۶۵۷ )
''بہارِ شریعت'' حصہ 4 ،نماز مسافر کابیان، صفحہ 101 پرہے کہ ''عورت کو بغیر محرم کے تین دن یا زیادہ کی راہ جانا، ناجائز ہے بلکہ ایک دن کی راہ جانا بھی۔'' (عالمگیری وغیرہ) لہذا اسی پر عمل کرنا چاہیے۔
جاسکتی آزاد یا مسلمان ہونا شرط نہیں، البتہ مجوسی جس کے اعتقاد میں محارم سے نکاح جائز ہے اُس کے ہمراہ سفر نہیں کرسکتی۔ مراہق و مراہقہ یعنی لڑکا اور لڑکی جو بالغ ہونے کے قریب ہو ں بالغ کے حکم میں ہیں یعنی مراہق کے ساتھ جاسکتی ہے اور مراہقہ کو بھی بغیر محرم یا شوہر کے سفر کی ممانعت ہے۔ (1) (جوہرہ، عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۵: عورت کا غلام اس کا محرم نہیں کہ اُس کے ساتھ نکاح کی حرمت ہمیشہ کے لیے نہیں کہ اگر آزاد کردے تو اُس سے نکاح کرسکتی ہے۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۳۶: باندیوں کو بغیر محرم کے سفر جائز ہے۔ (3) (جوہرہ)
مسئلہ ۳۷: اگرچہ زنا سے بھی حرمتِ نکاح ثابت ہوتی ہے، مثلاً جس عورت سے معاذ اﷲ زنا کیا اُس کی لڑکی سے نکاح نہیں کرسکتا، مگر اُس لڑکی کو اُس کے ساتھ سفر کرنا جائز نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۸: عورت بغیر محرم یا شو ہر کے حج کو گئی تو گنہگار ہوئی، مگر حج کرے گی تو حج ہو جائے گا یعنی فرض ادا ہوجائے گا۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۳۹: عورت کے نہ شوہر ہے، نہ محرم تو اس پر یہ واجب نہیں کہ حج کے جانے کے لیے نکاح کرلے اور جب محرم ہے تو حج فرض کے لیے محرم کے ساتھ جائے اگرچہ شوہر اجازت نہ دیتا ہو۔ نفل اور منّت کا حج ہو تو شوہر کو منع کرنے کا اختیار ہے۔ (6) (جوہرہ)
مسئلہ ۴۰: محرم کے ساتھ جائے تو اس کا نفقہ عورت کے ذمہ ہے، لہٰذااب یہ شرط ہے کہ اپنے اور اُس کے دونوں کے نفقہ پر قادر ہو۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ '' الجوھرۃ النیرۃ'' ، کتاب الحج، ص۱۹۳. و''الدرالمختار''، کتاب الحج، ج۳، ص۵۳۱.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الأول في تفسیر الحج و فرضیتہ... إلخ، ج۱، ص۲۱۸۔۲۱۹.
2 ۔ '' الجوھرۃ النیرۃ'' ، کتاب الحج، ص۱۹۳.
3 ۔ '' الجوھرۃ النیرۃ'' ، کتاب الحج، ص۱۹۳. ھکذا في الجوھرۃ النیرۃ لکن في شرح اللباب والفتوی : علی أنہ یکرہ
في زماننا.( انظر:'' ردالمحتار''،کتاب الحج ،ج۳ ،ص۵۳۲).
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في قولھم یقدم حق العبد علی حق الشرع، ج۳، ص۵۳۱.
5 ۔ '' الجوھرۃ النیرۃ'' ، کتاب الحج، ص۱۹۳.
6 ۔ المرجع السابق۔
7 ۔''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في قولھم یقدم حق العبد علی حق الشرع، ج۳، ص۵۳۲
3 جانے کے زمانے میں عورت عدّت میں نہ ہو، وہ عدّت وفات کی ہو یا طلاق کی، بائن کی ہو یا رجعی کی۔ (1)
4 قید میں نہ ہو مگر جب کسی حق کی وجہ سے قید میں ہو اور اُس کے ادا کرنے پر قادر ہو تو یہ عذر نہیں اور بادشاہ اگر حج کے جانے سے روکتا ہو تو یہ عذر ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
صحتِ اداکے لیے نو شرطیں ہیں کہ وہ نہ پائی جائیں تو حج صحیح نہیں:
1 اسلام، کافر نے حج کیا تو نہ ہوا۔
2 احرام، بغیر احرام حج نہیں ہوسکتا۔
3 زمان یعنی حج کے لیے جوزمانہ مقرر ہے اُس سے قبل افعالِ حج نہیں ہوسکتے، مثلاً طوافِ قدوم و سعی کہ حج کے مہینوں سے قبل نہیں ہوسکتے اور وقوفِ عرفہ نویں کے زوال سے قبل یا دسویں کی صبح ہونے کے بعد نہیں ہوسکتا اور طواف زیارت دسویں سے قبل نہیں ہوسکتا۔
4 مکان، طواف کی جگہ مسجدالحرام شریف ہے اور وقوف کے لیے عرفات و مُزدلفہ، کنکری مارنے کے لیے منیٰ، قربانی کے لیے حرم، یعنی جس فعل کے لیے جو جگہ مقرر ہے وہ وہیں ہوگا۔
5 تمیز۔
6 عقل، جس میں تمیز نہ ہو جیسے نا سمجھ بچہ یا جس میں عقل نہ ہو جیسے مجنون۔ یہ خودوہ افعال نہیں کرسکتے جن میں نیت کی ضرورت ہے، مثلاًاحرام یا طواف، بلکہ ان کی طرف سے کوئی اور کرے اور جس فعل میں نیت شرط نہیں، جیسے وقوفِ عرفہ وہ یہ خود کرسکتے ہیں۔
7 فرائضِ حج کا بجا لانا مگر جب کہ عذر ہو۔
8 احرام کے بعد اور وقوف سے پہلے جماع نہ ہونا اگر ہوگا حج باطل ہوجائے گا۔
9 جس سال احرام باندھا اُسی سال حج کرنا، لہٰذا اگر اُس سال حج فوت ہو گیا تو عمرہ کرکے احرام کھول دے اور سالِ آئندہ جدید احرام سے حج کرے اور اگر احرام نہ کھولا بلکہ اُسی احرام سے حج کیا تو حج نہ ہوا۔
ـ1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب فیمن حج بمال حرام، ج۳، ص۵۳۴.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في قولھم یقدم حق العبد علی حق الشرع، ج۳، ص۵۲۴.
حج فرض ادا ہونے کے لیے نو شرطیں ہیں :
1 اسلام۔
2 مرتے وقت تک اسلام ہی پررہنا۔
3 عاقل۔
4 بالغ ہونا۔
5 آزاد ہونا۔
6 اگر قادر ہو تو خود ادا کرنا۔
7 نفل کی نیت نہ ہونا۔
8 دوسرے کی طرف سے حج کرنے کی نیت نہ ہونا۔
( فاسد نہ کرنا۔(1) ان میں بہت باتوں کی تفصیل مذکور ہوچکی بعض کی آئندہ آئے گی۔
مسئلہ ۴۱: حج میں یہ چیزیں فرض ہیں:
1 احرام، کہ یہ شرط ہے۔
2 وقوفِ عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ کے آفتاب ڈھلنے سے دسویں کی صبح صادق سے پیشتر تک کسی وقت عرفات میں ٹھہرنا۔
3 طواف زیارت کا اکثر حصہ، یعنی چارپھیرے پچھلی دونوں چیزیں یعنی وقوف و طواف رُکن ہیں۔
4 نیت۔
5 ترتیب یعنی پہلے احرام باندھنا پھر وقوف پھر طواف۔
6 ہر فرض کا اپنے وقت پر ہونا، یعنی وقوف اُس وقت ہونا جومذکورہوا اس کے بعد طواف اس کا وقت وقوف کے بعد سے آخر عمر تک ہے۔
1 ۔ ''لباب المناسک'' (باب شرائط الحج) ص ۲۶۔
7 مکان یعنی وقوف زمینِ عرفات میں ہونا سوا بطنِ عرنہ کے اور طواف کا مکان مسجدالحرام شریف ہے۔ (1)
(درمختار، ردالمحتار)
حج کے واجبات یہ ہیں:
(۱) میقات سے احرام باندھنا، یعنی میقات سے بغیر احرام نہ گزرنا اور اگر میقات سے پہلے ہی احرام باندھ لیا تو جائز ہے۔
(۲) صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا اس کو سعی کہتے ہیں۔
(۳) سعی کو صفا سے شروع کرنا اور اگر مروہ سے شروع کی تو پہلا پھیراشمار نہ کیا جائے، اُس کا اعادہ کرے۔
(۴) اگر عذر نہ ہو تو پیدل سعی کرنا، سعی کا طواف معتدبہ کے بعد یعنی کم سے کم چار پھیروں کے بعد ہونا۔
(۵) دن میں وقوف کیا تو اتنی دیر تک وقوف کرے کہ آفتاب ڈوب جائے خواہ آفتاب ڈھلتے ہی شروع کیا ہو یا بعد میں، غرض غروب تک وقوف میں مشغول رہے اور اگر رات میں وقوف کیا تو اس کے لیے کسی خاص حد تک وقوف کرنا واجب نہیں مگر وہ اُس واجب کا تارک ہوا کہ دن میں غروب تک وقوف کرتا۔
(۶) وقوف میں رات کا کچھ جز آجانا۔
(۷) عرفات سے واپسی میں امام کی متابعت کرنا یعنی جب تک امام وہاں سے نہ نکلے یہ بھی نہ چلے، ہاں اگر امام نے وقت سے تاخیر کی تو اُسے امام کے پہلے چلا جانا جائز ہے اور اگر بھیڑ وغیرہ کسی ضرورت سے امام کے چلے جانے کے بعدٹھہر گیا ساتھ نہ گیا جب بھی جائز ہے۔
(۸) مزدلفہ میں ٹھہرنا۔
(۹) مغرب و عشا کی نماز کا وقت عشا میں مزدلفہ میں آکر پڑھنا۔
(۱۰) تینوں جمروں پر دسویں، گیارہویں، بارھویں تینوں دن کنکریاں مارنا یعنی دسویں کو صرف جمرۃ العقبہ پر اور گیارہویں بارھویں کو تینوں پر رَمی کرنا۔
(۱۱) جمرہ عقبہ کی رَمی پہلے دن حلق سے پہلے ہونا۔
(۱۲) ہر روز کی رَمی کا اسی دن ہونا۔
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في فروض الحج و واجباتہ، ج۳، ص۵۳۶.
(۱۳) سر مونڈانا یا بال کتروانا۔ (۱۴) اور اُس کاایام نحر اور (۱۵) حرم شریف میں ہونا اگرچہ منیٰ میں نہ ہو۔
(۱۶) قِران اور تمتع والے کو قربانی کرنا اور
(۱۷) اس قربانی کا حرم اور ایامِ نحر میں ہونا۔
(۱۸) طوافِ افاضہ کا اکثر حصہ ایام نحر میں ہونا۔ عرفات سے واپسی کے بعد جو طواف کیا جاتا ہے اُس کانام طوافِ اِفاضہ ہے اور اُسے طوافِ زیارت بھی کہتے ہیں۔ طوافِ زیارت کے اکثر حصہ سے جتنا زائد ہے یعنی تین پھیرے ایام نحر کے غیرمیں بھی ہوسکتا ہے۔
(۱۹) طواف حطیم کے باہر سے ہونا۔
(۲۰) دہنی طرف سے طواف کرنایعنی کعبہ معظمہ طواف کرنے والے کی بائیں جانب ہو۔
(۲۱) عذر نہ ہو تو پاؤں سے چل کر طواف کرنا، یہاں تک کہ اگرگھسٹتے ہوئے طواف کرنے کی منت مانی جب بھی طواف میں پاؤں سے چلنا لازم ہے اور طوافِ نفل اگر گھسٹتے ہوئے شروع کیا تو ہو جائے گا مگر افضل یہ ہے کہ چل کر طواف کرے۔
(۲۲) طواف کرنے میں نجاست حکمیہ سے پاک ہونا، یعنی جنب(1) و بے وضو نہ ہونا، اگر بے وضو یا جنابت میں طواف کیا تو اعادہ کرے۔
(۲۳) طواف کرتے وقت ستر چھپا ہونا یعنی اگر ایک عضو کی چوتھائی یا اس سے زیادہ حصہ کھلا رہا تو دَم واجب ہوگا اور چند جگہ سے کھلا رہا تو جمع کریں گے، غرض نماز میں ستر کھلنے سے جہاں نماز فاسد ہوتی ہے یہاں دَم واجب ہوگا۔
(۲۴) طواف کے بعد دورکعت نماز پڑھنا، نہ پڑھی تو دَم واجب نہیں۔
(۲۵) کنکریاں پھینکنے اور ذبح اور سر مُنڈانے اور طواف میں ترتیب یعنی پہلے کنکریاں پھینکے پھر غیر مُفرِد قربانی کرے پھر سر منڈائے پھر طواف کرے۔
(۲۶) طواف صدر یعنی میقات سے باہر کے رہنے والوں کے لیے رخصت کا طواف کرنا۔ اگر حج کرنے والی حیض یا نفاس سے ہے اور طہارت سے پہلے قافلہ روانہ ہو جائے گا تو اس پر طوافِ رخصت نہیں۔
1 ۔۔یعنی جس پر جماع یا احتلام یا شہوت کے ساتھ منی خارج ہونے کی وجہ سے غسل فرض ہوگیاہے۔
(۲۷) وقوف عرفہ کے بعد سر مُنڈانے تک جما ع نہ ہونا۔
(۲۸) احرام کے ممنوعات، مثلاً سِلا کپڑا پہننے اور مونھ یا سر چھپانے سے بچنا۔ (1)
مسئلہ ۴۲: واجب کے ترک سے دَم لازم آتا ہے خواہ قصداًترک کیا ہو یا سہواً خطا کے طور پر ہو یا نسیان کے، وہ شخص اس کا واجب ہونا جانتا ہو یا نہیں، ہاں اگر قصداً کرے اورجانتا بھی ہے تو گنہگاربھی ہے مگر واجب کے ترک سے حج باطل نہ ہوگا، البتہ بعض واجب کا اس حکم سے اِستثنا ہے کہ ترک پر دَم لازم نہیں، مثلاً طواف کے بعد کی دونوں رکعتیں یا کسی عذر کی وجہ سے سر نہ منڈانا یا مغرب کی نماز کا عشا تک مؤخر نہ کرنا یا کسی واجب کا ترک، ایسے عذر سے ہو جس کو شرع نے معتبر رکھا ہو یعنی وہاں اجازت دی ہو اور کفارہ ساقط کر دیا ہو۔
1 طوافِ قدوم یعنی میقات کے باہر سے آنے والا مکہ معظمہ میں حاضر ہو کر سب میں پہلا جو طواف کرے اُسے طواف قدوم کہتے ہیں۔ طواف قدوم مفرد اور قارِن کے لیے سنت ہے، متمتّع کے لیے نہیں۔
2 طواف کا حجرِ اسود سے شروع کرنا۔
3 طواف قدوم یا طوافِ فرض میں رَمَل کرنا۔
4 صفا و مروہ کے درمیان جو دو میل اخضر ہیں، اُن کے درمیان دوڑنا۔
5 امام کا مکّہ میں ساتویں کو اور
6 عرفات میں نویں کو اور
7 منیٰ میں گیارہویں کو خطبہ پڑھنا۔
8 آٹھویں کی فجر کے بعد مکّہ سے روانہ ہونا کہ منیٰ میں پانچ نمازیں پڑ ھ لی جائیں۔
9 نویں رات منیٰ میں گزارنا۔
10 آفتاب نکلنے کے بعد منیٰ سے عرفات کو روانہ ہونا۔
11 وقوف عرفہ کے لیے غسل کرنا۔
1 ۔ ''لباب المناسک'' للسندی، ( فصل فی واجباتہ) ص۶۸۔۷۳۔
و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰ص۷۸۹۔۷۹۱، وغیرہ.
( 12) عرفات سے واپسی میں مزدلفہ میں رات کو رہنا اور
( 13) آفتاب نکلنے سے پہلے یہاں سے منیٰ کو چلا جانا۔
( 14) دس اورگیارہ کے بعد جو دونوں راتیں ہیں اُن کو منیٰ میں گزارنا اور اگر تیرھویں کو بھی منیٰ میں رہا تو بارھویں کے بعد کی رات کو بھی منیٰ میں رہے۔
( 15) ابطح یعنی وادی محَصَّب میں اُترنا، اگرچہ تھوڑی دیر کے لیے ہو اور اِن کے علاوہ اور بھی سنتیں ہیں، جن کا ذکر اثنائے بیان میں آئے گا۔ نیز حج کے مستحبات ومکروہات کا بیان بھی موقع موقع سے آئے گا۔
اب حرمین طیبین کی روانگی کا قصد کرو اور آداب سفر و مقدماتِ حج جو لکھے جاتے ہیں اُن پر عمل کرو۔
(۱) جس کا قرض آتا یا امانت پاس ہو ادا کردے، جن کے مال ناحق لیے ہوں واپس دے یا معاف کرالے، پتا نہ چلے تو اتنا مال فقیروں کو دیدے۔
(۲) نما ز ، روزہ، زکاۃ جتنی عبادات ذمہ پر ہوں ادا کرے اور تائب ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پکا ارادہ کرے۔
(۳) جس کی بے اجازت سفر مکروہ ہے جیسے ماں، باپ، شوہر اُسے رضامند کرے، جس کا اس پر قرض آتا ہے اُس وقت نہ دے سکے تو اُ س سے بھی اجازت لے، پھر حجِ فرض کسی کے اجازت نہ دینے سے روک نہیں سکتا، اجازت میں کوشش کرے نہ ملے جب بھی چلا جائے۔
(۴) اس سفر سے مقصود صرف اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہوں، رِیا و سُمعہ و فخر سے جُدا رہے۔
(۵) عورت کے ساتھ جب تک شوہر یا محرم بالغ قابلِ اطمینان نہ ہو، جس سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے سفر حرام ہے، اگر کرے گی حج ہو جائے گا مگر ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔
(۶) توشہ مالِ حلال سے لے ورنہ قبولِ حج کی امید نہیں اگرچہ فرض اُتر جائے گا، اگر اپنے مال میں کچھ شُبہہ ہو تو قرض لے کر حج کو جائے اور وہ قرض اپنے مال سے ادا کردے۔
(۷) حاجت سے زیادہ توشہ لے کہ رفیقوں کی مدد اور فقیروں پر تصدق کرتا چلے، یہ حجِ مبرور کی نشانی ہے۔
(۸) عالم کتب فقہ بقدرِ کفایت ساتھ لے اور بے علم کسی عالم کے ساتھ جائے۔ یہ بھی نہ ملے تو کم از کم یہ رسالہ ہمراہ ہو۔
(۹) آئینہ، سرمہ، کنگھا، مسواک ساتھ رکھے کہ سُنّت ہے۔
(۱۰) اکیلا سفر نہ کرے کہ منع ہے۔ رفیق دیندار صالح ہو کہ بددین کی ہمراہی سے اکیلا بہتر، رفیق اجنبی کنبہ والے سے بہتر ہے۔
(۱۱) حدیث میں ہے، ''جب تین آدمی سفر کو جائیں اپنے میں ایک کو سردار بنالیں۔'' (1) اس میں کاموں کا انتظام رہتا ہے، سردار اُسے بنائیں جو خوش خلق عاقل دیندار ہو، سردار کو چاہیے کہ رفیقوں کے آرام کو اپنی آسائش پر مقدم رکھے۔
(۱۲) چلتے وقت سب عزیزوں دوستوں سے ملے اور اپنے قصور معاف کرائے اور اب اُن پر لازم کہ دل سے معاف کردیں۔ حدیث میں ہے: ''جس کے پاس اس کا مسلمان بھائی معذرت لائے واجب ہے کہ قبول کرلے، ورنہ حو ضِ کوثر پر آنا نہ ملے گا۔'' (2)
(۱۳) وقتِ رُخصت سب سے دعا کرائے کہ برکت پائے گا کہ دوسروں کی دعا کے قبول ہونے کی زیادہ امید ہے اوریہ نہیں معلوم کہ کس کی دعا مقبول ہو۔ لہٰذا سب سے دعا کرائے اور وہ لوگ حاجی یا کسی کو رُخصت کریں تو وقتِ رخصت یہ دعا پڑھیں:
اَسْتَوْدِعُ اللہَ دِیْنَکَ وَاَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ . (3)
حضور ِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب کسی کو رخصت فرماتے تو یہ دعاپڑھتے اور اگر چاہے اس پر اتنا اضافہ کرے۔
وَغَفَرَ ذَنْبَکَ وَیَسَّرَلَکَ الْخَیْرَ حَیْثُمَا کُنْتَ زَوَّدَکَ اللہُ التَّقْوٰی وَجَنَّبَکَ الرِّدٰی . (4)
(۱۴) اُن سب کے دین، جان، مال، اولاد، تندرستی، عافیت خدا کو سونپے۔
(۱۵) لباسِ سفر پہن کر گھر میں چاررکعت نفل اَلْحَمْدُ و قُلْ سے پڑھکر باہر نکلے۔ وہ رکعتیں واپس آنے تک اُس کے اہل و مال کی نگہبانی کریں گی۔ نماز کے بعد یہ دُعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ بِکَ انْتَشَرْتُ وَاِلَیْکَ تَوَ جَّھْتُ وَبِکَ اعْتَصَمْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ ثِقَتِیْ وَاَنْتَ رِجَاِئیْ اللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ مَا اَھَمَّنِیْ وَمَا لَا اَھْتَمُّ بِہٖ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ عَزَّ جَارُکَ وَلَآ ِالٰہَ غَیْرُکَ اَللّٰھُمَّ زَوِّدْنِی التَّقْوٰی وَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَ وَجِّھْنِیْ اِلَی الْخَیْرِ اَیْنَمَا تَوَجَّھْتُ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَّعْثَآءِ السَّفَرِ
1 ۔ ' 'سنن أبي داود''، کتاب الجھاد، باب فی القوم یسافرون ...إلخ، الحدیث: ۲۶۰۸، ج۳، ص۵۱.
2 ۔
3 ۔ ترجمہ : اللہ کے سپرد کرتاہوں تیرے دین اور تیری امانت کو اور تیرے عمل کے خاتمہ کو۔۱۲
4 ۔ ترجمہ : اور تیرے گناہ کو بخش دے اور تیرے لئے خیر میسر کرے،تو جہاں ہو اور تقوی کو تیرا توشہ کرے اور تجھے ہلاکت سے بچائے۔۱۲
وَکَاٰ بَۃِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ وَسُوْءِ الْمَنْظَرِفِی الْاَھْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ . (1)
(۱۶) گھر سے نکلنے کے پہلے اور بعد کچھ صدقہ کرے۔
(۱۷) جدھر سفر کو جائے جمعرات یا ہفتہ یا پیر کا دن ہو اور صبح کا وقت مبارک ہے اور اہلِ جمعہ کو روزِ جمعہ قبلِ جمعہ سفر اچھا نہیں۔
(۱۸) دروازہ سے باہر نکلتے ہی یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ اللہِ وَبِاللہِ وَتَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا ِباللہِ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ نَّزِلَّ اَوْ نُزَلَّ اَوْ نَضِلَّ اَوْ نُضَلَّ اَوْ نَظْلِمَ اَوْ نُظْلَمَ اَوْ نَجْھَلَ اَوْ یَجْھَلَ عَلَیْنَا اَحَدٌ . (2)
اور درود شریف کی کثرت کرے۔
(۱۹) سب سے رخصت کے بعد اپنی مسجد سے رخصت ہو، وقتِ کراہت نہ ہو تو اس میں دو رکعت نفل پڑھے۔
(۲۰) ضروریات سفر اپنے ساتھ لے اور سمجھدار اور واقف کار سے مشورہ بھی لے، پہننے کے کپڑے وافر ہوں اور متوسط الحال شخص کو چاہیے کہ موٹے اور مضبوط کپڑے لے اور بہتر یہ کہ ان کو رنگ لے اور اگر خیال ہو کہ جاڑوں کا زمانہ آجائے گا تو کچھ گرم کپڑے بھی ساتھ رکھے اور جاڑوں کا موسم ہو اور خیال ہو کہ واپسی تک گرمی آجائے گی تو کچھ گرمیوں کے کپڑے بھی لے لے۔ بچھانے کے واسطے اگر چھوٹا سا روئی کا گدا بھی ہو تو بہت اچھا ہے کہ جہاز میں بلکہ اُونٹ پر بچھانے کے لیے بہت آرام دیتا ہے بلکہ وہاں پہنچ کر بھی اس کی حاجت پڑتی ہے۔ کیونکہ ہندوستانی آدمی عموماً چارپائیوں پر سونے کے عادی ہوتے ہیں۔ چٹائی
1 ۔ ترجمہ : اے اﷲ(عزوجل)! تیری مدد سے میں نکلا اور تیری طرف متوجہ ہوا اور تیرے ساتھ میں نے اعتصام کیا اور تجھی پر توکل کیا، اے اﷲ (عزوجل)! تو میرا اعتماد ہے اور تو میری امید ہے۔ الٰہی تو میری کفایت کر اُس چیز سے جو مجھے فکر میں ڈالے اور اُس سے جس کی میں فکر نہیں کرتا اور اُس سے جس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیری پناہ لینے والا با عزّت ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
الٰہی! تقویٰ کو میرا زادِ راہ کر اور میرے گناہوں کو بخش دے اور مجھے خیر کی طرف متوجہ کر جدھر میں توجہ کروں۔ الٰہی! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی تکلیف سے اور واپسی کی برائی سے اور آرام کے بعد تکلیف سے اور اہل و مال و اولاد میں بُری بات دیکھنے سے۔۱۲
2 ۔ترجمہ : اﷲ (عزوجل) کے نام کے ساتھ اور اﷲ (عزوجل) کی مدد سے اور اﷲ( عزوجل )پر توکل کیا میں نے اور گناہ سے پھرنا اور نیکی کی قوت نہیں مگر اﷲ (عزوجل) سے، اے اﷲ! (عزوجل) ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس سے کہ لغزش کریں یا ہمیں کوئی لغزش دے یا گمراہ ہوں یا گمراہ کیے جائیں یا ظلم کریں یا ہم پر ظلم کیا جائے یا جہالت کریں یا ہم پر کوئی جہالت کرے۔۱۲
وغیرہ پر سونے میں تکلیف ہوتی ہے اور گدّے کی وجہ سے کچھ تلافی ہو جائے گی اور صابون بھی ساتھ لے جائے کہ اکثر اپنے ہاتھ سے کپڑے دھونے پڑتے ہیں کہ وہاں دھوبی میسر نہیں آتے۔
اور ایک دیسی کمّل بھی ہونا چاہیے کہ یہ اُونٹ کے سفر میں بہت کام دیتا ہے جہاں چاہو بچھالو بلکہ بعض مرتبہ جہاز پر بھی کام دیتا ہے اور شقدف پر ڈالنے کے لیے بوری کا ٹاٹ لے لیا جائے، چاقو اور سُتلی اور سُوا ہونا بھی ضروری ہے۔
اور کچھ تھوڑی سی دوائیں بھی رکھ لے کہ اکثر حجاج کو ضرورت پڑتی ہے، مثلاً کھانسی، بخار، زکام، پیچش، بدہضمی کہ ان سے کم لوگ بچتے ہیں۔ لہٰذا گُلِ بنفشہ، خطمی، گاؤ زبان، ملیٹھی کہ یہ بخار، زکام، کھانسی میں کام دیں گی، پیچش کے لیے چاروں تخم یا کم ازکم اسپغول ہو اور بدہضمی کے لیے آلوئے بخارا، نمک سلیمانی ہو اور کوئی چُورن بھی ساتھ ہو کہ اکثر اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً بادیان، پودینہ خشک، ہلیلہ سیاہ، نمک سیاہ کہ انھیں کا چُورن بنالے کافی ہوگا، اور عرق کافورو پیپر منٹ ہو تو یہ بہت امراض میں کام دیتے ہیں۔
دوائیں ضرور ہوں کہ ان کی اکثر ضرورت پڑتی ہے اور میسر نہیں آتیں اگر تم کو خود ضرورت نہ ہوئی اور جس کو ضرورت پڑی اور تم نے دیدی وہ اُس کسم پُرسی کی حالت میں تمھارے لیے کتنی دعائیں دے گا
اور برتنوں کی قسم سے اپنی حیثیت کے موافق ساتھ رکھے، ایک دیگچی ایسی جس میں کم از کم دو۲ آدمیوں کا کھانا پک جائے یہ تو ضروری ہے کیونکہ اگر تنہا بھی ہے جب بھی بدو کو کھانا دینا ہوگا اور اگر چند قسم کے کھانے کھانا چاہتا ہو تو اسی انداز سے پکانے کے برتن ساتھ ہوں اور پیالے رکابیاں بھی اُسی انداز سے ہوں اور ہر شخص کو ایک مشکیزہ بھی ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ اولاً تو جہاز پر بھی پانی لینے میں آسانی ہوگی، دوم اونٹ پر بغیر اس کے کام نہیں چل سکتا کیونکہ پانی صرف منزل پر ملتا ہے پھر درمیان میں ملنا دشوار ہے بلکہ نہیں ملتا، اگر مشکیزہ ساتھ ہوا تو اس میں پانی لے کر اُونٹ پر رکھ لو گے کہ پینے کے بھی کام آئے گا اور وضو و طہارت کے لیے بھی اگر تمھارے پاس خود نہ ہوا تو کس سے مانگو گے اور شاید ہی کوئی دے اِلَّا مَا شَآءَ اللہ .
اور ڈول رسّی بھی ساتھ ہو کیونکہ بعض منزلوں پر بعض وقت خود بھرنا پڑتا ہے اوراکثر جگہ پانی بیچنے والے آجاتے ہیں اور جہاز کا نل بعض مرتبہ بند ہوجاتا ہے اس وقت اگر میٹھا پانی حاجت سے زیادہ نہ ہوا تو وضو وغیرہ دیگر ضروریات میں سمندر سے پانی نکال کر کام چلا سکتے ہو۔
کچھ تھوڑے سے پھٹے پرانے کپڑے بھی ساتھ رکھو کہ جہاز پر استنجا سُکھانے میں کام دیں گے۔
لوہے کا چُولھا بھی ساتھ رکھو کہ جہاز پر اس کی سخت ضرورت پڑتی ہے۔ اگر کوئلے والا چُولھا ہو تو بمبئی سے حسبِ
ضرورت کوئلے بھی خرید لو اور لکڑی والا چُولھا ہو تو لکڑی لے جانے کی حاجت نہیں۔ اس لیے کہ لکڑی جہاز والے کی طرف سے ضرورت کے لائق ملا کرتی ہے مگر اس صورت میں کلہاڑی کی حاجت پڑے گی کیونکہ جہاز پر موٹی موٹی لکڑیاں ملتی ہیں۔ انھیں چیرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اور بمبئی سے کچھ لیمو ضرور لے لو کہ جہاز پر اکثر متلی آتی ہے۔ اُس وقت اس سے بہت تسکین ہوتی ہے، اگر جہاز پر سوار ہونے سے پہلے معمولی تلییں لے لی جائے تو چکر کم آئے گا۔
اور مٹی یا پتھر کی کوئی چیزبھی ہو کہ اگر تیمم کرنا پڑے تو کام دے کہ جہاز میں کس چیز پر تیمم کروگے اور کچھ نہ ہو تو مٹی کا کوئی برتن ہی ہو جس پر روغن نہ کیا ہو کہ وہ اور کام میں بھی آئے گا اور اُس پر تیمم بھی ہوسکے گا۔ بعض حجاج کپڑے پر جس پر غبار کا نام بھی نہیں ہوتا تیمم کرلیا کرتے ہیں نہ یہ تیمم ہوا نہ اس تیمم سے نماز جائز۔
ایک اوگالدان ہونا چاہیے کہ جہاز میں اگر قے کی ضرورت محسوس ہو تو کام دے گا ورنہ کہا ں قے کریں گے اور اس کے علاوہ تھوکنے کے لیے بھی کام دے گا۔ اس کے لیے بمبئی میں خاص اسی مطلب کے اوگالدان ٹین کے ملتے ہیں وہاں سے خریدلے اور ایک پیشاب کا برتن بھی ہو اس کی ضرورت بعض مرتبہ جہاز پر بھی پڑتی ہے۔ مثلاً چکر آتا ہے پاخانہ تک جانا دشوار ہے یہ ہوگا تو جہاں ہے وہیں پر دہ کرکے فراغت کرسکے گا اور اونٹ پر شب میں بعض مرتبہ اترنے میں خطرہ ہوتا ہے یہ ہوگا تو اس کام کے لیے اترنے کی حاجت نہ ہوگی اس کے لیے بمبئی میں ٹین کا برتن جو خاص اِسی کام کے لیے ہوتا ہے خرید لے۔ چائے بھی تھوڑی ساتھ ہو تو آرام دے گی کہ جہاز پر اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ سمندر کی مرطوب ہَوا کے اثر کو دفع کرتی ہے نیز بدو بہت شوق سے پیتے ہیں، اگر تم انھیں چائے پلاؤ گے تو تم سے بہت خوش رہیں گے اور آرام پہنچائیں گے۔ اس کی پیالیاں تام چینی کی زیادہ مناسب ہیں کہ ٹوٹنے کا اندیشہ نہیں بلکہ کھانے پینے کے برتن بھی اسی کے ہوں تو بہتر ہے۔
تھوڑی موم بتیا ں بھی ہوں کہ جہاز پر رات میں پا خانہ پیشاب کو جانے میں آرام دیں گی۔ پانی رکھنے کے لیے ٹین کے پیپے ہونے چاہیے کہ جہاز پر کام دیں گے اور منزل پر بھی۔ اچار چٹنی اگر ساتھ ہوں تو نہایت بہتر کہ ان کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔
اسباب رکھنے کے لیے ایک چیڑ کا بڑا صندوق ہونا چاہیے اور اس میں ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ بعض مرتبہ جہاز میں مسافروں کی کثرت ہوتی ہے اور جگہ نہیں ملتی اگر یہ ہوگا تو تیسرے درجے کے مسافر کو بیٹھنے بلکہ تھوڑی تکلیف کے ساتھ اس پر لیٹ رہنے کی جگہ مل جائے گی۔ اپنے صندوق اور بوری اور دیگراسباب پر نام لکھ لو کہ اگر دوسرے کے سامان میں مل جائیں تو تلاش کرنے میں آسانی ہوگی۔
احرام کے کپڑے یعنی تہبند اور چادر یہیں سے یا بمبئی سے لے لے کیونکہ احرام جہاز ہی پر باندھنا ہو گا اور بہتر یہ کہ دو
جوڑے ہوں کہ اگر میلا ہوا تو بدل سکیں گے۔ مستورات ساتھ ہوں تو اُن کے احرام کی حالت میں مونھ چھپانے کو کھجور کے پنکھے جو خاص اسی کام کے لیے بنتے ہیں بمبئی سے خرید لے کہ احرام میں عورتوں کو کسی ایسی چیز سے مونھ چھپانا جو چہرہ سے چپٹی ہو حرام ہے۔ کفن بھی ساتھ ہو کہ موت کا وقت معلوم نہیں یا اتنا تو ہو گا کہ وہ کپڑا اس زمین پاک پر پہنچ جائے گا اور اسے زمزم میں غوطہ دے لو گے اور گرمی کا موسم ہو تو پنکھا بھی ساتھ ہو۔
اس کے بیان کرنے کی حاجت نہیں کہ کھانے کے لیے کیا لے جائے کیونکہ اس میں ہر شخص کی مختلف حالت ہے اور لوگوں کو معلوم ہے کہ ہمیں کن چیزوں کی ضرورت ہوگی اور ہم کس طرح بسر کرسکتے ہیں پھر بھی اس کے متعلق بعض خاص باتیں عرض کردیتا ہوں۔ آٹا زیادہ نہ لے کیونکہ سمندر کی ہوا سے بہت جلد خراب ہوجاتا ہے اور اس میں سونڈیاں پڑجاتی ہیں صرف اتنا لے کہ جہاز پر کام دیدے یا کچھ زائد بلکہ گیہوں لے لے کہ اس کو جدّہ یا مکہ معظمہ یا مدینہ طیبہ میں جہاں چاہے پِسوا سکتا ہے اور چاول ضرور ساتھ لے کہ اکثر کھچڑی پکانی پڑتی ہے اور آلو بھی ہوں کہ متواتردال دِقت سے کھائی جاتی ہے اور استطاعت ہو تو بکرے، مرغیاں، انڈے ساتھ رکھ لے۔
جہاز پر بعض مرتبہ گوشت مل جاتا ہے مگر اس میں خیال کرلے کہ کسی کافر یا مُرتد کا ذبح کیا ہوا تو نہیں۔(1) مسالے پسے ہوئے ہوں اور پیاز لہسن بھی ہوں، بڑیاں بھی ہوں تو بہتر ہے، مدینہ طیبہ کے راستے میں کئی منزلیں ایسی آتی ہیں جہاں دال نہیں گلتی، اس کے متعلق بھی کچھ انتظام کرلے، نیز مدینہ طیبہ جانے کے لیے مکہ معظمہ سے بھُنے ہوئے چنے لے لے یا یہیں سے لیتا جائے کہ بعض مرتبہ اتنا موقع نہیں ملتا کہ دوسرے وقت کے لیے کھانا پکا یا جائے ایسے وقت کام دیں گے۔ گھی حسبِ حیثیت زیادہ لے کہ بدوؤں کو زیادہ گھی دینا پڑتا ہے اور زیادہ گھی سے وہ خوش بھی ہوتے ہیں۔ مسور کی دال ضرور لے کہ جلد گلتی ہے اور بعض دفعہ ایسا ہی موقع ہوتاہے کہ جلد کھانا تیار ہو جائے۔
(۲۱) خوشی خوشی گھر سے جائے اور ذکرِ الٰہی بکثرت کرے اور ہر وقت خوفِ خدا دل میں رکھے، غضب سے بچے، لوگوں کی بات برداشت کرے ، اطمینان و وقار کو ہاتھ سے نہ دے، بیکار باتوں میں نہ پڑے۔
1 ۔فتاوی عالمگیری میں ہے:مُرتَدکا ذَبیحہ مُردار ہے اگر چِہ بسمِ اﷲ پڑھ کر ذَبح کرے ۔(عالمگیری ج۲ ص ۲۵۵) اور اگر مسلمان کا ذَبح کردہ گوشت ذَبح سے لیکر کھانے تک ایک لمحے کیلئے بھی مسلمان کی نظر سے اَوجھل ہو کر اگر مُرتَد یا غیر کتابی کافِرکے قبضے میں گیا تو اس کا کھانا بھی ناجائز ہے۔چنانچہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشادفرماتے ہیں: ''اگر وقتِ ذبح سے وقتِ خریداری تک وہ گوشت مسلمان کی نگرانی میں رہے، بیچ میں کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو اور یوں اطمینان کافی حاصل ہو کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے ،تو اس کا خریدنا ،جائز اور کھانا حلال ہوگا۔'' (فتاویٰ رضویہ، ج۲۰، ص۲۸۲)
(۲۲) گھر سے نکلے تو یہ خیال کرے جیسے دنیا سے جارہا ہے۔ چلتے وقت یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَّ عْثَـآءِ السَّفَرِ وَکَاٰ بَۃِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوْءِ الْمَنْظَرِ فِی الْمَالِ وَاْلاَ ھْلِ وَالْوَلَدِ .
وا پسی تک مال و اہل و عیال محفوظ رہیں گے۔
(۲۳) اسی وقت آیۃ الکرسی اور قُلْ یاَیھَا الْکٰفِرُوْنَ سے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ تک تَبَّتْ کے سوا پانچ سورتیں سب مع بسم اﷲ پڑھے پھر آخر میں ایک بار بسم اﷲ شریف پڑھ لے، راستہ بھر آرام سے رہے گا۔
(۲۴) نیز اس وقت
(اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ) (1)
ایک بار پڑھ لے، بالخیر واپس آئیگا۔
(۲۵) ریل وغیرہ جس سواری پر سوار ہو، بسم اﷲ تین بار کہے پھر
اَللہُ اَکْبَرُ
اور
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
اور
سُبْحٰنَ اللہ
ہر ایک تین تین بار،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
ایک بار پھرکہے:
( سُبْحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾وَ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾
اُس کے شر سے بچے۔
(۲۶) جب دریا میں سوار ہو یہ کہے:
( بِسْمِ اللہِ مَجْرٖؔؔىھَا وَمُرْسٰىہَا ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۴۱﴾ ( وَ مَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖ ٭ۖ وَ الْاَرْضُ جَمِیۡعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوۡنَ ﴿۶۷﴾
ڈوبنے سے محفوظ رہے گا۔
1 ۔ پ۲۰، القصص: ۸۵.
ترجمہ: بے شک جس نے تجھ پر قرآن فرض کیا تجھے واپسی کی جگہ کی طرف واپس کرنے والا ہے۔۱۲
2 ۔پ۲۵، الزخرف: ۱۳۔۱۴.
ترجمہ: پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے اسے مُسخر کیا اور ہم اس کو فرمانبردار نہیں بنا سکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔۱۲
3 ۔اس دعا میں پہلی آیت سورہ ھود(آیت : ۴۱)کی ہے ،جب کہ دوسری آیت سورہ زمر(آیت:۶۷)کی ہے۔
ترجمہ: اﷲ (عزوجل) کے نام کی مدد سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے بے شک میرارب بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ اور انھوں نے اﷲ (عزوجل) کی قدر جیسی چاہیے نہ کی اور زمین پُوری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہے اور آسمان اس کے ہاتھ میں لِپٹے ہوئے ہیں، پاک اوربرتر ہے اُس سے جسے اُس کا شریک بتا تے ہیں۔۱۲
(۲۷) جہاز پر سوار ہونے میں کوشش کرے کہ پہلے سوار ہو جائے کیونکہ جو پہلے پہنچ گیا اچھی اور کشادہ جگہ لے سکتا ہے اور جو جگہ یہ لے گا پھر اس کو کوئی ہٹانہ سکے گا اور اُترنے میں جلدی نہ کرے کہ اس میں بعض مرتبہ کوئی سامان رہ جاتا ہے۔
(۲۸) تیسرے درجہ میں سفر کرنے والا جہاز پر بچھانے کو چٹائی ضرور لے لے ورنہ بستر اکثر خراب ہو جاتا ہے۔ چند ہمراہی ہوں تو بعض نیچے کے کمرہ میں جگہ لیں اور بعض اُوپر کے، کہ اگر گرمی معلوم ہوئی تو نیچے والے اُوپر کے درجہ میں آکر بیٹھ سکیں گے اور سردی معلوم ہوئی تو یہ اُن کے پاس چلے جائیں گے۔
(۲۹) جب بمبئی سے روانہ ہوں گے قبلہ کی سمت بدلتی رہے گی اس کے لیے ایک نقشہ دیا جاتا ہے، اس سے سمت قبلہ معلوم کرسکو گے۔ قُطب نما پاس رکھا جائے، جدھر وہ قُطب بتائے اسی طرف اس دائرہ کا خط شمال کر دیا جائے پھر جس سمت کو قبلہ لکھا ہے اُس طرف مونھ کر کے نماز پڑھیں۔
.gif)
(۳۰) جدّہ میں جہاز کنارہ پر نہیں کھڑا ہوتا جیسے بمبئی میں گودی بنی ہے وہاں نہیں ہے بلکہ وہاں کشتیوں پر سوار ہو کر کنارے پہنچتے ہیں، یہ بات ضرور خیال میں رکھے کہ جس کشتی میں اپنا سامان ہو اُسی میں خود بھی بیٹھے اگر ایسا نہ کیا بلکہ سامان کسی میں اُترا اور اپنے آپ دوسری پر بیٹھا تو سامان ضائع ہو جانے کا خوف ہے یا کم از کم تلا ش کر نے میں دقّت ہوگی، کشتی والے بطور انعام کچھ مانگتے ہیں انھیں دیدیا جائے۔
(۳۱) اب یہاں سے سامان کی حفاظت میں پوری کوشش کرے، ہر کام میں نہایت چُستی و ہوشیاری رکھے۔ کشتی سے
اُترنے کے بعد چونگی خانہ میں جسے جُمرُک کہتے ہیں سامان کی تفتیش ہوتی ہے اس میں فقط یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز تجارت کی غرض سے تو نہیں لایا ہے۔ اگر تجارتی سامان پائیں گے اُس کی چونگی لیں گے اور تجارتی سامان نہ ہو تو چاہے کتنی ہی کھانے پینے اور دیگر ضرورت کی چیزیں ہوں اُن سے کچھ تعرض (1) نہ کریں گے۔
(۳۲) مکہ معظمہ میں جتنے معلّم ہیں اُن سب کے جدّہ میں وکیل رہتے ہیں جب تم کشتی سے اُترو گے پھاٹک پر حکومت کا آدمی ہو گا کشتی کا کرایہ جو مقرر ہے وصول کرلے گا اوروہ تم سے پوچھے گا معلّم کون ہے جس معلّم کا نام لوگے اس کا وکیل تمھیں اپنے ساتھ لے گا اور وہ تمھارے سامان کو اُٹھوا کر اپنے یہاں یا کسی کرایہ کے مکان میں لے جائے گا اس وقت تمھیں چاہیے کہ اپنے سامان کے ساتھ خود جاؤ اور اگر تم کئی شخص ہو اور سامان زیادہ ہے تو بعض یہاں سامان کی نگرانی کریں بعض سامان کی گاڑی کے ساتھ جائیں۔ اس لیے کہ بعض مرتبہ سامان گاڑی سے گر جاتا ہے اور گاڑی والے خیال بھی نہیں کرتے اس میں ان کا کیا نقصان ہے کوئی ضرورت کی چیز گِر گئی تو تمھیں کو تکلیف ہوگی۔
(۳۳) جدّہ میں پانی اکثر اچھا نہیں ملتا کچھ خفیف کھاری ہوتا ہے، پانی خریدو تو چکھ لیا کرو۔
(۳۴) مکہ معظمہ کے لیے اونٹ کا کرایہ کرنا اُسی وکیل کا کام ہے اور اُس زمانہ میں حکومت کی طرف سے کرایہ مقرر ہو جاتا ہے جس سے کمی بیشی نہیں ہوتی۔ شقدف، شبری جس کی تمھیں خواہش ہو اُس کے موافق وکیل اونٹ کرایہ کردے گا اور کرایہ پیشگی ادا کرنا ہو گا اور اُسی اونٹ کے کرایہ میں دریا کے کنارے سے مکان تک اسباب لانے کی مزدوری اور مکان کا کرایہ اور وکیل کا محنتانہ سب کچھ جوڑ لیا جاتا ہے تمھیں کسی چیز کے دینے کی ضرورت نہیں، ہاں اگر تم پیدل جانا چاہو گے تو یہ تمام مصارف تم سے وکیل وصول کریگا۔
(۳۵) شبری کی پوری قیمت لے لی جاتی ہے۔ اب وہ تمھاری ہوگئی مکہ معظمہ پہنچ کر جو چاہو کرو اگر وہ مضبوط ہے تو مدینہ طیبہ کے سفر میں بھی کام دے گی۔ شقدف کا کرایہ لیا جاتا ہے کہ مکہ معظمہ پہنچ کر اب تمھیں اس سے سروکار نہیں ہاں اگر تم چاہو تو جدّہ میں شقدف خرید بھی سکتے ہو جو پورے سفر میں تمھیں کام دے گا پھر جدہ پہنچ کر تھوڑے داموں پر فروخت بھی ہو سکتا ہے۔ شقدف میں زیادہ آرام ہے کہ آدمی سو بھی سکتا ہے اور شبری میں بیٹھا رہنا پڑتا ہے مگر اس میں سامان زیادہ رکھا جاسکتا ہے اور شقدف میں بہت کم۔
(۳۶) اگر اسباب زیادہ ہو تو مکہ معظمہ تک اس کے لیے الگ اونٹ کر لو اور جو چیزیں ضرورت سے زیادہ ہوں چاہو تو
1 ۔ یہ اس زمانہ میں تھا اب اس زمانہ حکومت نجدیہ میں ایسانہیں۔۱۲
یہیں جدّہ ہی میں وکیل کے سُپرد کر دو جب تم آؤ گے وکیل وہ چیز تمھارے حوالہ کردے گا اور اس کا کرایہ مثلاً فی بوری یا فی صندوق آٹھ آنے یا کم و بیش کے حساب سے لے لے گا اگرچہ تمھاری واپسی چار پانچ مہینے کے بعد ہو۔
(۳۷) اگر جہاز کا ٹکٹ واپسی کا ہے تو اُسے باحتیاط رکھو اور اُس کا نمبربھی لکھ لو کہ شاید ٹکٹ ضائع ہو جائے تو نمبر سے کام چل جائے گا اگرچہ دقّت ہوگی اورتم کو اطمینان ہو تو ٹکٹ وکیل کے پاس رکھ سکتے ہو۔
(۳۸) کرایہ کے اونٹ وغیرہ پر جو کچھ بار کرو اُس کے مالک کو دکھا لو اور اس سے زیادہ بے اس کی اجازت کے کچھ نہ رکھو۔
(۳۹) جانور کے ساتھ نرمی کرو، طاقت سے زیادہ کام نہ لو، بے سبب نہ مارو، نہ کبھی مونھ پر مارو، حتی الوسع اس پر نہ سوؤ کہ سوتے کا بوجھ زیادہ ہوتاہے کسی سے بات وغیرہ کرنے کو کچھ دیر ٹھہرنا ہو تو اُتر لو اگر ممکن ہو۔
(۴۰) صبح و شام اُتر کر کچھ دُور پیادہ چل لینے میں دینی و دنیوی بہت فائدے ہیں۔
(۴۱) بدوؤں اور سب عربیوں سے بہت نرمی کے ساتھ پیش آئے، اگر وہ سختی کریں ادب سے تحمل کرے اس پر شفاعت نصیب ہونے کا وعدہ فرمایا ہے۔ خصوصاً اہلِ حرمین، خصوصاً اہلِ مدینہ، اہلِ عرب کے افعال پر اعتراض نہ کرے، نہ دل میں کدورت لائے، اس میں دونوں جہاں کی سعادت ہے۔
اے کہ حمّال عیب خو یشتنید طعنہ بر عیب د یگراں مکنید (1)
(۴۲) جو عربی نہیں جانتا اُسے بعض تُندخُو جمال وغیرہم گالیاں بلکہ مغلظات تک دیتے ہیں ایسا اتفاق ہو تو شُنیدہ کو محض نا شنیدہ(2) کردیا جائے اور قلب پربھی میل نہ لایا جائے۔ یوہیں عوام اہلِ مکہ کہ سخت خُو و تُند مزاج ہیں اُن کی سختی پر نرمی لازم ہے۔
(۴۳) جمّال یعنی اونٹ والوں کو یہاں کے سے کرایہ والے نہ سمجھے بلکہ اپنا مخدوم جانے اور کھانے پینے میں اُن سے بُخل نہ کرے کہ وہ ایسوں ہی سے ناراض ہوتے ہیں اور تھوڑی بات میں بہت خوش ہو جاتے ہیں اور امید سے زیادہ کام آتے ہیں۔
(۴۴) قبولِ حج کے لیے تین شرطیں ہیں:
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَ ۙ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ ؕ ) (3)
1 ۔ یعنی جو شخص اپنا عیب اٹھائے ہے ،وہ دوسروں کے عیب پر طعنہ نہ دے ۔
2 ۔ یعنی سنی کو ان سنی
3 ۔ پ۲، البقرۃ: ۱۹۷.
حج میں نہ فحش بات ہو، نہ ہماری نافرمانی، نہ کسی سے جھگڑا لڑائی۔
تو ان باتوں سے نہایت ہی دُور رہنا چاہیے، جب غصّہ آئے یا جھگڑا ہو یا کسی معصیت کا خیال ہو فوراً سر جھکا کر قلب کی طرف متوجہ ہوکر اس آ یت کی تلاوت کرے اور دو ایک بار لا حول شریف پڑھے، یہ بات جاتی رہے گی یہی نہیں کہ اسی کی طرف سے ابتدا ہو یا اس کے رُفقا (1) ہی کے ساتھ جدال بلکہ بعض اوقات امتحاناً راہ چلتوں کو پیش کر دیا جاتا ہے کہ بے سبب اُلجھتے بلکہ سب وشتم ولعن وطعن کو تیار ہوتے ہیں، اسے ہر وقت ہوشیار رہنا چاہیے، مبادا (2) ایک دو کلمے میں ساری محنت اور روپیہ برباد ہو جائے۔
(۴۵) کمزور اور عورتوں کو اونٹ پر چڑھنے کے لیے ایک سیڑھی جدّہ میں لے لی جائے تو چڑھنے اُترنے میں آسانی ہوگی۔ جدّہ سے مکہ معظمہ دو دن کا راستہ ہے صرف ایک منزل راستہ میں پڑتی ہے جس کو بحرہ کہتے ہیں، اب جب یہاں سے روانہ ہو تو اِن تمام باتوں پر لحاظ رکھو جو لکھی جا چکیں اور جو آئندہ بیان ہوں گی۔
(۴۶) اونٹ پر عموماً دو شخص سوار ہوتے ہیں۔ شقدف اور شبری میں دونوں طرف بوجھ برابر رہنا ضرور ہے اگر ایک جانب کا آدمی ہلکا ہو تو اُدھر اسباب رکھ کر وزن برابر کرلیں۔ یوں بھی وزن برابر نہ ہو تو ہلکا آدمی اپنے شقدف یا شبری میں کنارہ بیرونی سے قریب ہو جائے اور بھاری آدمی اونٹ کی پیٹھ سے نزدیک ہو جائے۔
(۴۷) بعض مرتبہ کسی جانب کا پلہ جھک جاتا ہے اس کا خیال رکھو جب ایسا ہو تو فوراً اس طرح بیٹھ جاؤ کہ درست ہو جائے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے ا ونٹ کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور شبری ہو تو گرنے کا قوی اندیشہ ہے۔ اس کے درست کرنے کو اونٹ والا میزان میزان کہہ کر تمھیں متنبہ کریگا۔ تمہیں چاہیے کہ فوراًدرست کرلو ورنہ اونٹ والا ناراض ہوگا۔
(۴۸) راہ میں کہیں چڑھائی آتی ہے کہیں اُتار، جب چڑھائی ہو خوب آگے اونٹ کی گردن کے قریب دونوں آدمی ہوجائیں اور جب اُتار ہو خوب پیچھے دُم کے نزدیک ہو جائیں۔ جب راہ ہموار آئے پھر بیچ میں ہو جائیں یہ نشیب و فراز کبھی آدمی کے سوتے میں آتے ہیں یا اُسے اس طر ف التفات نہیں ہوتا، اس وقت جمال جگاتا اور متنبہ کرتاہے اوّل اوّل یا گُدَّام گُدَّام کہے تو آگے کو سرک کر بیٹھ جاؤ اور اگر وراء وراء کہے تو پیچھے ہٹ جاؤ، اور بعض بدو ایک آدھ لفظ ہندی سیکھے ہوئے فِیْشُو فِیْشُو کہتے ہیں یعنی پیچھے پیچھے اور کبھی غلطی سے آگے کہنا ہوتا ہے اور فیشو کہتے ہیں۔ دیکھ کر صحیح بات پر فوراً عمل کیا جائے اور اُس جگانے پر ناراض نہ ہونا چاہیے کہ ایسا نہ ہو تو معاذاﷲ گِر جانے کا احتمال ہے۔
1 ۔ رفیق کی جمع ۔ساتھی ۔دوست۔
2 ۔ یعنی ایسا نہ ہو۔ خدا نہ کرے۔
(۴۹) جب منزل پر پہنچو تو اُترنے میں تاخیر مت کرو کہ دیر کرنے میں اونٹ والے ناراض ہوتے اور پریشان کرتے ہیں اور روانگی کے وقت بالکل تیار رہو۔ تمام ضروریات سے پہلے ہی فارغ ہو لو۔
(۵۰) اُتر نے اور چڑھنے کے وقت خصوصیت کے ساتھ بہت ہوشیاری اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے کہ ان دو وقتوں میں سامان کے ضائع ہونے اور چھوٹ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور اس وقت بعض دفعہ چور بھی آجاتے ہیں جن کو وہاں کی زبان میں حرامی کہتے ہیں۔
(۵۱) منزلوں پر سودا بیچنے والے اور پانی لے کر بکثرت بدو آجاتے ہیں اُن سے بھی احتیاط رکھو کہ بعض اُن میں کے موقع پاکر کوئی چیز اُٹھا لے جاتے ہیں۔
(۵۲) جس منزل میں اُترے، وہاں یہ دعا پڑھ لے :
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّـآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ اَللّٰھُمَّ اَعْطِنَا خَیْرَ ھٰذَا الْمَنْزِلِ و َخَیْرَ مَا فِیْہِ وَاکْفِنَا شَرَّ ھٰذَا الْمَنْزِلِ َوشَرَّ مَا فِیْہِ اَ للّٰھُمَّ اَنْزلْنِیْ مَنْزِلًا مُّبَارَکًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ ؕ (1)
ہر نقصان سے بچے گا اور بہتر یہ ہے کہ وہاں دورکعت نماز پڑھے۔
(۵۳) منزل میں راستہ سے بچ کر اُترے کہ وہاں سانپ وغیرہ مُوذیوں کا گزر ہوتا ہے۔
(۵۴) جب منزل سے کُوچ کرے دورکعت نماز پڑھ کر روانہ ہو۔ حدیث میں ہے، ''روزِ قیامت وہ منزل اُس کے حق میں اس امر کی گواہی دے گی۔'' (2)
نیز انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، ''رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب کسی منزل میں اُترتے دورکعت نماز پڑھ کر وہاں سے رخصت ہوتے۔'' (3)
(۵۵) راستہ پر پیشاب وغیرہ باعثِ لعنت ہے۔
(۵۶) منزل میں متفرق ہو کر نہ اُتریں بلکہ ایک جگہ رہیں۔
(۵۷) اکثر رات کو قافلہ چلتا رہتا ہے اِس حالت میں اگر سوؤ تو غافل ہو کر نہ سوؤ، بلکہ بہتر یہ ہے کہ دونوں آدمیوں
1 ۔ ترجمہ: اﷲ کے کلماتِ تامہ کی پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا الٰہی تو ہم کو اس منز ل کی خیر عطا کر اور اس کی خیر جو کچھ اس میں ہے اور اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے ہمیں بچا۔ الٰہی توہم کو برکت والی منزل میں اُتار اور تو بہتر اُتارنے والا ہے۔ ۱۲
2 ۔
3 ۔' 'المستدرک''، کتاب المناسک،کان لاینزل منزلاإلاودعہ برکعتین ، الحدیث: ۱۶۷۷،ج۲، ص۹۲.
میں جو ایک اونٹ پر سوار ہیں باری باری سے ایک سوئے ایک جاگتا رہے کہ ایسے وقت کہ دونوں غافل سوجائیں بعض مرتبہ چوری ہو جاتی ہے۔ شبری کے نیچے سے چور بوری کاٹ لے جاتے ہیں اور شقدف بھی بغل کی جانب سے چاک کرکے مال نکال لے جاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہر موقع اور ہر محل پر ہوشیاری رکھو اور اﷲ عزوجل پر اعتماد، پھر انشاء اللہ العزیز الجلیل نہایت امن و امان کے ساتھ رہو گے۔
(۵۸) راستہ میں قضائے حاجت کے لیے دُور نہ جاؤ کہ خطرہ سے خالی نہیں اور ایک چھتری اپنے ساتھ ضرور رکھو اگرچہ سردی کا زمانہ ہو کہ قضائے حاجت کے وقت اس سے فی الجملہ پردہ ہو جائے گا اور بہتر یہ کہ تین چار لکڑیاں جن کے نیچے لوہا لگا ہو اورایک موٹی بڑی چادر ساتھ رکھو کہ منزل پر لکڑیاں گاڑکر چادرسے گھیر دو گے تو نہایت پردہ کے ساتھ رفع ضرورت کرسکو گے اور عورتیں ساتھ ہوں تو ایسا انتظام ضرورہے کہ خوف کی وجہ سے وہ دُور نہ جاسکیں گی اور نزدیک میں سخت بے پردگی ہوگی۔
(۵۹) مکہ معظمہ سے جب مدینہ طیبہ کے لیے اونٹ کرایہ کریں تو ایک معلّم کے جتنے حجاج ہیں وہ سب متفق ہوکر یہ شرط کرلیں کہ نماز کے اوقات میں قافلہ ٹھہرانا ہوگا، اس صورت میں نماز جماعت کے ساتھ بآسانی اداکرسکیں گے کہ جب یہ شرط ہوگی تو اونٹ والوں کو وقتِ نماز میں قافلہ روکنا پڑے گا اور اگر کسی وجہ سے نہ روک سکیں گے تو چند بدو حجاج کی حفاظت کریں گے کہ یہ باطمینان نماز ادا کرلیں پھر وہ اونٹ تک پہنچا دیں گے۔
اور اگر شرط نہ کی تو صرف مغرب کے لیے قافلہ روکیں گے باقی نمازوں کے لیے نہیں اور اس صورت میں یہ کرے کہ نماز پڑھنے کے وقت اونٹ سے کچھ آگے نکل جائے اور نماز ادا کرکے پھر شامل ہو جائے اور قافلہ سے دُور نہ ہو کہ اکثر خطرہ ہوتا ہے اور بعض مرتبہ ایسا بھی کرنا پڑتاہے کہ سنت یا فرض پڑھنے تک قافلہ سب آگے نکل گیا تو باقی کے لیے پھر آگے بڑھ جائے ورنہ قافلہ سے زیادہ فاصلہ ہو جائے گا اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فرض و وتر اور صبح کی سنت سواری پر جائز نہیں۔ اُن کو اُتر کر پڑھے باقی سنتیں یا نفل اونٹ کی پیٹھ پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔
تنبیہ: خبردار! خبردار! نماز ہر گزنہ ترک کرنا کہ یہ ہمیشہ بہت بڑا گناہ ہے اور اس حالت میں اور سخت تر کہ جن کے دربار میں جاتے ہو راستہ میں انھیں کی نافرمانی کرتے چلو، تو بتاؤ کہ تم نے اُن کو راضی کیا یا ناراض۔ میں نے خود بہت سے حجاج کو دیکھا ہے کہ نماز کی طرف بالکل التفات نہیں کرتے، تھوڑی تکلیف پر نماز چھوڑدیتے ہیں حالانکہ شرعِ مُطہَّر نے جب تک آدمی ہوش میں ہے نماز ساقط نہیں کی۔
(۶۰) سفرِ مدینہ طیبہ میں بعض مرتبہ قافلہ نہ ٹھہرنے کے باعث بمجبوری ظہر و عصر ملا کر پڑھنی ہوتی ہے اس کے لیے لازم
ہے کہ ظہر کے فرضوں سے فارغ ہونے سے پہلے ارادہ کرلے کہ اسی وقت عصر پڑھوں گا اور فرض ظہر کے بعد فوراً عصر کی نماز پڑھے یہاں تک کہ بیچ میں ظہر کی سنتیں بھی نہ ہوں اسی طرح مغرب کے بعد عشا بھی انھیں شرطوں سے جائز ہے اور اگر ایسا موقع ہوکہ عصر کے وقت ظہر یا عشا کے وقت مغرب پڑھنی ہو تو صرف اتنی شرط ہے کہ ظہر و مغرب کے وقت میں وقت نکلنے سے پہلے ارادہ کرلے کہ ان کو عصر و عشا کے ساتھ پڑھوں گا۔
(۶۱) جب وہ بستی نظر پڑے جس میں ٹھہرنا یا جانا چاہتا ہے یہ کہے:
اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَمَا اَظْلَلْنَ وَرَبَّ الْاَرْضِیْنَ السَّبْعِ وَمَا اَقْلَلْنَ وَ رَبَّ الشَّیٰطِیْنِ وَمَا اَضْلَلْنَ وَرَبَّ اْلاَرْیَاحِ وَمَا ذَرَیْنَ اَللّٰھُمَّ ِانَّا نَسْئَالُکَ خَیْرَ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَخَیْرَ اَھْلِھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا وَ نَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَشَرِّ اَھْلِھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا۔ (1)
یا صرف پچھلی دعا پڑھے، ہر بلا سے محفوظ رہے گا۔
(۶۲) جس شہر میں جائے وہاں کے سُنّی عالموں اور باشرع فقیروں کے پاس ادب سے حاضر ہو، مزارات کی زیارت کرے، فضول سیر و تماشے میں وقت نہ کھوئے۔
(۶۳) جس عالم کی خدمت میں جائے وہ مکان میں ہو تو آوازنہ دے باہر آنے کا انتظارکرے، اُس کے حضور بے ضرورت کلام نہ کرے، بے اجازت لیے مسئلہ نہ پوچھے، اُس کی کوئی بات اپنی نظر میں خلافِ شرع معلوم ہو تو اعتراض نہ کرے اور دل میں نیک گمان رکھے مگر یہ سُنّی عالم کے لیے ہے، بدمذہب کے سایہ سے بھاگے۔
(۶۴) ذکرِ خدا سے دل بہلائے کہ فرشتہ ساتھ رہے گا، نہ کہ شعر و لغویات سے کہ شیطان ساتھ ہوگا۔
(۶۵) رات کو زیادہ چلے کہ سفر جلدطے ہوتا ہے۔
(۶۶) ہر سفر خصوصاً سفرِ حج میں اپنے اور اپنے عزیزوں ، دوستوں کے لیے دعا سے غافل نہ رہے کہ مسافرکی دعا قبول ہے۔
(۶۷) جب کسی مشکل میں مدد کی ضرورت ہو تین بار کہے:
یَا عِبَادَ اللہِ اَعِیْنُوْنِیْ(2)
اے اﷲ (عزوجل) کے نیک بندو! میری مدد کرو۔
1 ۔ ترجمہ: اے اﷲ (عزوجل)! ساتوں آسمانوں کے رب اور ان کے جن کو آسمانوں نے سایہ کیا اور ساتوں زمینوں کے رب اور ان کے جن کو زمینوں نے اُٹھایا اور شیطانوں کے رب اور ان کے جن کو انھوں نے گمراہ کیا اور ہواؤں کے رب اور اُن کے جن کو ہواؤں نے اُڑایا۔ اے اﷲ(عزوجل)! ہم تجھ سے اس بستی کی اور بستی والوں کی اور جو کچھ اس میں ہے اُن کی بھلائی کا سوال کرتے اور اس بستی کے اور بستی والوں کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اُس کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔۱۲
2 ۔ انظر: ''مجمع الزوائد''، کتاب الاذکار، الحدیث: ۱۷۱۰۳، ۱۷۱۰۴ص۱۸۸، ج۱۰.
غیب سے مدد ہوگی یہ حکم حدیث میں ہے۔
(۶۸) جب سواری کا جانور بھاگ جائے اور پکڑنہ سکو یہی پڑھو فوراً کھڑا ہو جائے گا۔
(۶۹) جب جانور شوخی کرے یہ دعا پڑھے:
(اَفَغَیۡرَ دِیۡنِ اللہِ یَبْغُوۡنَ وَلَہٗۤ اَسْلَمَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْہًا وَّ اِلَیۡہِ یُرْجَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾ ) (1)
(۷۰) یَا صَمَدُ ۱۳۴ بار روز پڑھے، بھوک پیاس سے بچے گا۔
(۷۱) اگر دشمن یا رہزن کا ڈر ہو لِاٖلٰفِ پڑھے، ہر بلا سے امان ہے۔
(۷۲) جب رات کی تاریکی پریشان کرنے والی آئے، یہ دعا پڑھے:
یَا اَرْضُ! رَبِّیْ وَرَبُّکِ اللہُ اَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا ِفیْکِ وَشَرِّ مَا خَلَقَ فِیکِ وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَیْکِ وَ اَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شَرِّ اَسَدٍ وَّ اَسْوَدَ وَمِنَ الْحَیَّۃِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ سَاکِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ وَّالِدٍ وَّمَا وَلَدَ . (2)
(۷۳)جب کہیں دشمنوں سے خوف ہو، یہ پڑھ لے:
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ . (3)
(۷۴) جب غم و پریشانی لاحق ہو، یہ دعا پڑھے:
لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ لَآ ِالٰہَ اِلاَّ اللہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ
ـ1 ۔ پ۳، آل عمران:۸۳.
ترجمہ:کیا اﷲ (عزوجل) کے دین کے سوا کچھ اور تلاش کرتے ہیں اور اسی کے فرماں بردار ہیں، خوشی اور ناخوشی سے وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور اُسی کی طرف تم کو لوٹنا ہے۔۱۲
2 ۔ ترجمہ:اے زمین میرا اور تیر اپروردگار اﷲ (عزوجل) ہے، اﷲ (عزوجل) کی پناہ مانگتا ہوں تیرے شر سے اور اُس کے شر سے جو تجھ میں پیدا کی اور جو تجھ پر چلی اور اﷲ (عزوجل) کی پناہ شیر اور کالے اور سانپ اور بچھو اور اس شہر کے بسنے والے سے اور شیطان اور اس کی اولاد سے۔۱۲
3 ۔ ترجمہ:اے اﷲ! (عزوجل) میں تجھ کو ان کے سینوں کے مقابل کرتاہوں اور اُن کی بُرائیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ۱۲
وَالْاَرْضِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ . (1)
اور ایسے وقت
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ ِالَّا بِاللہِ ؕ
اور
حَسْبُنَا اللہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ
کی کثرت کرے۔
(۷۵) اگر کوئی چیز گم ہو جائے تو یہ کہے:
یَا جَامِعَ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ ؕ اِنَّ اللہَ لَا ُیخْلِفُ الْمِیْعَادَ o اِجْمَعْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ ضَالَّتِیْ . (2)
انشاء اﷲ تعالیٰ مل جائے گی۔
(۷۶) ہر بلندی پر چڑھتے اﷲ اکبر کہے اور ڈھال میں اُتر تے سبحان اﷲ۔
(۷۷) سوتے وقت ایک بار آیۃ الکرسی ہمیشہ پڑھے کہ چور اور شیطان سے امان ہے۔
(۷۸) نمازیں دونوں سرکاروں میں وقت شروع ہوتے ہی ہوتی ہیں، معاً شروع وقت پر فوراً اذان اور تھوڑی دیر بعد تکبیر و جماعت ہو جاتی ہے، جو شخص کچھ فاصلہ پر ٹھہرا ہو اتنی گنجائش نہیں پاتا کہ اذان سُن کر وضو کرے پھر حاضر ہو کر جماعت یا پہلی رکعت مل سکے اور وہاں کی بڑی برکت یہی طواف و زیارت اور نمازوں کی تکبیر اول ہے۔ لہٰذا اوقات پہچان رکھیں، اذان سے پہلے وضو طیار رہے، اذان سُنتے ہی فوراً چل دیں تو تکبیر اول ملے گی اور اگر صف اول چاہیں، جس کا ثواب بے نہایت ہے جب تو اذان سے پہلے حاضر ہو جانا لازم ہے۔
(۷۹) واپسی میں بھی وہی طریقے ملحوظ رکھے، جو یہاں تک بیان ہوئے۔
(۸۰) مکان پر آنے کی تاریخ و وقت سے پیشتر اطلاع دیدے، بے اطلاع ہرگز نہ جائے خصوصاً رات میں۔
(۸۱) لو گوں کو چاہیے کہ حاجی کا استقبال کریں اور اس کے گھر پہنچنے سے قبل دعا کرائیں کہ حاجی جب تک اپنے گھر میں قدم نہیں رکھتااس کی دعا قبول ہے۔
(۸۲) سب سے پہلے اپنی مسجد میں آکر دو رکعت نفل پڑھے۔
(۸۳) دو رکعت گھر میں آکر پڑھے پھر سب سے بکشادہ پیشانی ملے۔
1 ۔ترجمہ:اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں جو عظمت والا حِلم والا ہے۔ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں جو بڑے عرش کا مالک ہے۔ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے اور بزرگ عرش کا مالک ہے۔۱۲
2 ۔ترجمہ:اے لوگوں کو اُس دن جمع کرنے والے جس میں شک نہیں، بے شک اﷲ (عزوجل) وعدہ کا خلاف نہیں کرتا، میرے اور میری گُمی چیز کے درمیان جمع کردے۔۱۲
(۸۴) عزیزوں دوستوں کے لیے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور لائے اور حاجی کا تحفہ تبر کاتِ حرمین شریفین سے زیادہ کیا ہے اور دوسرا تحفہ دعا کا کہ مکان میں پہنچنے سے پہلے استقبال کرنے والوں اور سب مسلمانوں کے لیے کرے۔ (1)
میقات اُس جگہ کو کہتے ہیں کہ مکہ معظمہ کے جانے والے کو بغیر احرام وہاں سے آگے جانا جائز نہیں اگرچہ تجارت وغیرہ کسی اور غرض سے جاتا ہو۔ (2) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱: میقات پانچ ہیں:
1 ذُو الحلیفہ: یہ مدینہ طیبہ کی میقات ہے۔ اس زمانہ میں اس جگہ کا نام ابیارِ علی ہے۔ ہندوستانی یااور ملک والے حج سے پہلے اگر مدینہ طیبہ کو جائیں اور وہاں سے پھر مکہ معظمہ کو تو وہ بھی ذُوالحلیفہ سے احرام باندھیں۔
2 ذاتِ عرق: یہ عراق والوں کی میقات ہے۔
3 جحفہ: یہ شامیوں کی میقات ہے مگر جحفہ اب بالکل معدوم سا ہوگیا ہے وہاں آبادی نہ رہی، صرف بعض نشان پائے جاتے ہیں اس کے جاننے والے اب کم ہوں گے، لہٰذا اہلِ شام رابغ سے احرام باندھتے ہیں کہ جحفہ رابغ کے قریب ہے۔
4 قَرن: یہ نجد(3) والوں کی میقات ہے، یہ جگہ طائف کے قریب ہے۔
5 یَلَملَم: اہلِ یمن کے لیے۔
مسئلہ ۲: یہ میقاتیں اُن کے لیے بھی ہیں جن کا ذکر ہوا اور انکے علاوہ جو شخص جس میقات سے گزرے اُس کے لیے وہی میقات ہے اور اگر میقات سے نہ گزرا تو جب میقات کے محاذی آئے اس وقت احرام باندھ لے، مثلاً ہندیوں کی میقات کوہِ یَلَملَم کی محاذات ہے اور محاذات میں آنا اُسے خود معلوم نہ ہو تو کسی جاننے والے سے پوچھ کر معلوم کرے اور اگر کوئی ایسا نہ ملے جس سے دریافت کرے تو تحری کرے اگر کسی طرح محاذات کا علم نہ ہو تو مکہ معظمہ جب دو منزل باقی رہے
ـ1 ۔ انظر:''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹ص۷۲۶۔۷۳۱، وغیرہ.
2 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الحج، ج۱، ص۱۳۳۔۱۳۴، وغیرہ.
3 ۔ یعنی موجودہ ریاض۔
احرام باندھ لے۔ (1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: جو شخص دو میقاتوں سے گزرا، مثلاً شامی کہ مدینہ منورہ کی راہ سے ذُوالحلیفہ آیا اور وہاں سے جحفہ کو تو افضل یہ ہے کہ پہلی میقات پر احرا م باندھے اور دوسری پر باندھا جب بھی حرج نہیں۔ یوہیں اگر میقات سے نہ گزرا اور محاذات میں دو میقاتیں پڑتی ہیں تو جس میقات کی محاذاۃ پہلے ہو، وہاں احرام باند ھنا افضل ہے۔ (2) ( درمختار،عالمگیری)
مسئلہ ۴: مکہ معظمہ جانے کا ارادہ نہ ہو بلکہ میقات کے اندرکسی اور جگہ مثلاً جدّہ جانا چاہتا ہے تو اُسے احرام کی ضرورت نہیں پھر وہاں سے اگر مکہ معظمہ جانا چاہے تو بغیر احرام جاسکتا ہے، لہٰذا جو شخص حرم میں بغیر احرام جانا چاہتا ہے وہ یہ حیلہ کرسکتا ہے بشرطیکہ واقعی اُس کا ارادہ پہلے مثلاً جدّہ جانے کا ہو۔ نیز مکہ معظمہ حج اور عمرہ کے ارادہ سے نہ جاتا ہو، مثلاً تجارت کے لیے جدّہ جاتا ہے اور وہاں سے فارغ ہو کر مکہ معظمہ جانے کا ارادہ ہے اور اگر پہلے ہی سے مکہ معظمہ کا ارادہ ہے تو اب بغیر احرام نہیں جاسکتا۔ جو شخص دوسرے کی طرف سے حجِ بدل کو جاتا ہو اُسے یہ حیلہ جائز نہیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: میقات سے پیشتر احرام باندھنے میں حرج نہیں بلکہ بہتر ہے بشرطیکہ حج کے مہینوں میں ہو اور شوال سے پہلے ہو تو منع ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: جو لوگ میقات کے اندر کے رہنے والے ہیں مگر حرم سے باہر ہیں اُن کے احرام کی جگہ حل یعنی بیرون حرم ہے، حرم سے باہر جہاں چاہیں احرام باندھیں اور بہتر یہ کہ گھر سے احرام باندھیں اور یہ لوگ اگر حج یا عمرہ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو بغیر احرام مکہ معظمہ جاسکتے ہیں۔ (5) (عامہ کتب)
مسئلہ ۷: حرم کے رہنے والے حج کا احرام حرم سے باندھیں اور بہتر یہ کہ مسجد الحرام شریف میں احرام باندھیں اور عمرہ کا بیرون حرم سے اور بہتر یہ کہ تنعیم سے ہو۔ (6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۸: مکہ والے اگر کسی کام سے بیرونِ حرم جائیں تو انھیں واپسی کے لیے احرام کی حاجت نہیں اور میقات سے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثاني في المواقیت، ج۱، ص۲۲۱.
و''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في المواقیت، ج۳، ص۵۴۸۔۵۵۱.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' المرجع السابق. و''الدرالمختار کتاب الحج، مطلب في المواقیت، ج۳، ص۵۵۰. .
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في المواقیت، ج۳، ص۵۵۲.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الحج، ج۱، ص۱۳۴، وغیرہ.
6 ۔ ''الدرالمختار کتاب الحج، مطلب في المواقیت، ج۳، ص۵۵۴، وغیرہ.
باہر جائیں تو اب بغیر احرام واپس آنا انھیں جائز نہیں۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
(اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَّعْلُوۡمٰتٌ ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِیۡہِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَ ۙ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ ؕ وَمَا تَفْعَلُوۡا مِنْ خَیۡرٍ یَّعْلَمْہُ اللہُ ؕؔ وَتَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقْوٰی ۫ وَاتَّقُوۡنِ یٰۤاُولِی الۡاَلْبَابِ ﴿۱۹۷﴾ ) (2)
حج کے چند مہینے معلوم ہیں، جس نے اُن میں حج (اپنے اوپر) لازم کیا (احرام باندھا) تو نہ فحش ہے، نہ فسق، نہ جھگڑنا حج میں اور جو کچھ بھلائی کرو اﷲ (عزوجل) اسے جانتا ہے اور توشہ لو، بے شک سب سے اچھا توشہ تقویٰ ہے اور مجھی سے ڈرو، اے عقل والو!۔
اور فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ اُحِلَّتْ لَکُمۡ بَہِیۡمَۃُ الۡاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیۡکُمْ غَیۡرَ مُحِلِّی الصَّیۡدِ وَاَنۡتُمْ حُرُمٌ ؕ اِنَّ اللہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۱﴾یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآئِرَ اللہِ وَلَا الشَّہۡرَ الْحَرَامَ وَلَا الْہَدْیَ وَلَا الْقَلَآئِدَ وَلَاۤ آٰمِّیۡنَ الْبَیۡتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوۡنَ فَضْلًا مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرِضْوَانًا ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوۡا ؕ ) (3)
اے ایمان والو! عقود پورے کرو، تمھارے لیے چوپائے جانور حلال کیے گئے، سوا اُن کے جن کا تم پر بیان ہوگا مگر حا لتِ احرام میں شکار کا قصد نہ کرو، بیشک اﷲ (عزوجل) جو چاہتاہے حکم فرماتا ہے۔ اے ایمان والو! اﷲ (عزوجل) کے شعائر اور ماہِ حرام اور حرم کی قربانی اور جن جانوروں کے گلوں میں ہار ڈالے گئے (قربانی کی علامت کے لیے) اُن کی بے حُرمتی نہ کرو اور نہ اُن لوگوں کی جو خانہ کعبہ کا قصد اپنے رب کے فضل اور رضا طلب کرنے کے لیے کرتے ہیں اور جب احرام کھولو، اُس وقت شکار کرسکتے ہو۔
حدیث ۱: صحیحین میں ا م المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی ، میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو احرام کے لیے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثاني في المواقیت، ج۱، ص۲۲۱.
و''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في المواقیت، ج۳، ص۵۵۴.
2 ۔پ۲، البقرۃ: ۱۹۷.
3 ۔پ۶، المآئدۃ: ۱-۲.
احرام سے پہلے اور احرام کھولنے کے لیے طواف سے پہلے خوشبو لگاتی جس میں مُشک تھی، اُس کی چمک حضور( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی مانگ میں اِحرام کی حالت میں گویا میں اب دیکھ رہی ہوں۔ (1)
حدیث ۲: ابوداود زید بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے احرام باندھنے کے لیے غسل فرمایا۔ (2)
حدیث ۳: صحیح مسلم شریف میں ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں ہم حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے ساتھ حج کو نکلے، اپنی آواز حج کے ساتھ خوب بلند کرتے۔ (3)
حدیث ۴: تر مذی و ابن ماجہ و بیہقی سہل بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو مسلمان لبیک کہتا ہے تو دہنے بائیں جو پتھر یا درخت یا ڈھیلا ختم زمین تک ہے لبیک کہتا ہے۔'' (4)
حدیث ۵ و ۶: ابن ماجہ و ابن خزیمہ و ابن حبان وحاکم زید بن خالد جہنی سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''جبریل نے آکرمجھ سے یہ کہا کہ اپنے اصحاب کو حکم فرمادیجیے کہ لبیک میں اپنی آواز یں بلند کریں کہ یہ حج کا شعار ہے۔'' (5) اسی کے مثل سائب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی۔
حدیث ۷: طبرانی اوسط میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ لبیک کہنے والا جب لبیک کہتا ہے تو اُسے بشارت دی جاتی ہے، عرض کی گئی جنت کی بشارت دی جاتی ہے؟ فرمایا: ہاں۔ (6)
حدیث ۸: امام احمد و ابن ماجہ جابربن عبداﷲ اور طبرانی و بیہقی عامر بن ربیعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''محرم جب آفتاب ڈوبنے تک لبیک کہتا ہے تو آفتاب ڈوبنے کے ساتھ اُس کے گناہ غائب ہو
1 ۔ ''صحیج مسلم''، کتاب الحج، باب استحاب الطیب،قبیل الاحرام فی البدن...إلخ، الحدیث: ۳۳ ۔ (۱۱۸۹) ،۴۵ ۔ (۱۱۹۰)، (۱۱۹۱)، ص۶۰۷،۶۰۹.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الحج، باب ماجاء فی الإغتسال عند الاحرام، الحدیث: ۸۳۱، ج۲، ص۲۲۸.
3 ۔ ''صحیج مسلم''، کتاب الحج، باب جوازالتمتع فی الحج والقران، الحدیث: ۱۲۴۷، ص۶۵۴.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الحج، باب ماجاء فی فضل التلبیۃ و النحر، الحدیث: ۸۲۹، ج۲، ص۲۲۶.
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المناسک، باب رفع الصوت بالتلبیۃ، الحدیث: ۲۹۲۳، ج۳، ص۴۲۳.
6 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب المیم، الحدیث: ۷۷۷۹، ج۵، ص۴۱۰.
جاتے ہیں اور ایسا ہو جاتا ہے جیسا اُس دن کہ پیدا ہوا۔'' (1)
حدیث ۹: ترمذی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ امیر المومنین صدیقِ اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ کسی نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا، کہ حج کے افضل اعمال کیا ہیں؟ فرمایا: ''بلند آواز سے لبیک کہنا اور قربانی کرنا۔'' (2)
حدیث ۱۰: امام شافعی خزیمہ بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جبلبیک سے فارغ ہوتے تو اﷲ (عزوجل) سے اُس کی رضا اور جنت کا سوال کرتے اور دوزخ سے پناہ مانگتے۔ (3)
حدیث ۱۱: ابو داود و ابن ماجہ اُم المومنین اُم سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا کہ: ''جو مسجدِ اقصیٰ سے مسجد الحرام تک حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر آیا اُس کے اگلے اور پچھلے گناہ بخشدیے جائیں گے یا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔'' (4)
1 یہ تو پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ ہندیوں کے لیے میقات (جہاں سے احرام باندھنے کا حکم ہے) کوہِ یَلَمْلَم کی محاذات ہے۔ یہ جگہ کامران سے نکل کر سمندر میں آتی ہے، جب جدّہ دو تین منزل رہ جاتا ہے جہاز والے اطلاع دیدیتے ہیں، پہلے سے احرام کا سامان طیار رکھیں۔
2 جب وہ جگہ قریب آئے، مسواک کریں اور وضو کریں اور خوب مَل کر نہائیں، نہ نہا سکیں تو صرف وضو کریں یہاں تک کہ حیض ونفاس والی اور بچے بھی نہائیں اور باطہارت احرام باندھیں یہاں تک کہ اگر غسل کیا پھر بے وضو ہوگیا اور احرام باندھ کر وضو کیا تو فضیلت کا ثواب نہیں اور پانی ضرر کرے تو اُس کی جگہ تیمم نہیں، ہاں اگر نمازِ احرام کے لیے تیمم کرے تو ہوسکتا ہے۔
3 مرد چاہیں تو سر مونڈالیں کہ احرام میں بالوں کی حفاظت سے نجات ملے گی ورنہ کنگھا کرکے خوشبودار تیل ڈالیں۔
4 غسل سے پہلے ناخن کتریں، خط بنوائیں، مُوئے بغل و زیرِ ناف دُور کریں بلکہ پیچھے کے بھی کہ ڈھیلا لیتے وقت بالوں کے ٹوٹنے اُکھڑنے کا قصہ نہ رہے۔
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المناسک، باب الظلال للمحرم، الحدیث: ۲۹۲۵، ج۳، ص۴۲۴.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، ابواب الحج، باب ماجاء فی فضل التلبیۃ و النحر، الحدیث: ۸۲۸، ج۲، ص۲۲۶.
3 ۔ ''المسند'' للإمام الشافعي، کتاب المناسک، ص۱۲۳.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب المناسک، باب فی المواقیت، الحدیث: ۱۷۴۱، ج۲، ص۲۰۱.
5 بدن اور کپڑوں پر خوشبو لگائیں کہ سنت ہے، اگر خوشبو ایسی ہے کہ اُس کا جِرم(1) باقی رہے گا جیسے مشک وغیرہ تو کپڑوں میں نہ لگائیں۔
6 مرد سلے کپڑے اور موزے اُتار دیں ایک چادر نئی یا دُھلی اوڑھیں اور ایسا ہی ایک تہبند باندھیں یہ کپڑے سفید اور نئے بہتر ہیں اور اگر ایک ہی کپڑاپہنا جس سے سارا ستر چھپ گیا جب بھی جائز ہے۔ بعض عوام یہ کرتے ہیں کہ اسی وقت سے چادر داہنی بغل کے نیچے کرکے دونوں پلّو بائیں مونڈھے پر ڈال دیتے ہیں یہ خلافِ سنت ہے، بلکہ سنت یہ ہے کہ اس طرح چادر اوڑھنا طواف کے وقت ہے اور طواف کے علاوہ باقی وقتوں میں عادت کے موافق چادر اوڑھی جائے یعنی دونوں مونڈھے اورپیٹھ اور سینہ سب چھپا رہے۔
7 جب وہ جگہ آئے اور وقت مکروہ نہ ہو تو دو رکعت بہ نیت احرام پڑھیں، پہلی میں فاتحہ کے بعد قُلْ یٰۤاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ دوسری میں قُلْ ھُوَ اللہُ پڑھے۔
8 حج تین طرح کا ہوتا ہے ایک یہ کہ نرا حج کرے، اُسے افراد کہتے ہیں اور حاجی کو مُفرد۔ اس میں بعد سلام یوں کہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ نَوَیْتُ الْحَجَّ وَاَحْرَمْتُ بِہٖ مُخْلِصًا لِّلّٰہِ تَعَالٰی . (2)
دوسرا یہ کہ یہاں سے نرے عمرے کی نیت کرے، مکہ معظمہ میں حج کا احرام باندھے اسے تمتع کہتے ہیں اور حاجی کو متمتع۔ اس میں یہاں بعد سلام یوں کہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْہَا لِیْ وَتَقَبَّلْھَا مِنِّیْ نَوَیْتُ الْعُمْرَۃَ وَاَحْرَمْتُ بِھاَ مُخْلِصًا لِّلّٰہِ تَعَالٰی .
تیسرا یہ کہ حج و عمرہ دونوں کی یہیں سے نیت کرے اور یہ سب سے افضل ہے اسے قِران کہتے ہیں اورحاجی کو قارِن۔ اس میں بعد سلام یوں کہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ وَالْحَجَّ فَیَسِّرْہُمَا لِیْ وَتَقَبَّلْ ہُمَا مِنِّیْ نَوَیْتُ الْعُمْرَۃَ وَالْحَجَّ وَاَحْرَمْتُ بِہِمَا مُخْلِصًا لِّلّٰہِ تَعَالٰی .
اور تینوں صورتوں میں اس نیت کے بعد لبیک بآواز کہے لبیک یہ ہے:
1 ۔ جرم: یعنی تہ۔
2 ۔ ترجمہ: اے اﷲ(عزوجل)! میں حج کا اردہ کرتا ہوں اُسے تو میرے لیے میسر کر اور اُسے مجھ سے قبول کر، میں نے حج کی نیت کی اور خاص اﷲ (عزوجل) کے لیے میں نے احرام باندھا(بعد والی دونوں نیتوں کا بھی ترجمہ یہی ہے۔ اتنا فرق ہے کہ حج کی جگہ دوسری میں عمرہ ہے اور تیسری میں حج و عمرہ دونوں) ۱۲ ۔
لَبَّیْکَ ؕ اَللّٰـھُمَّ لَبَّیْکَ ؕ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ ؕ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ؕ لَا شَرِیْکَ لَکَ ؕ (1)
جہاں جہاں وقف کی علامتیں بنی ہیں وہاں وقف کرے۔ لبیک تین بار کہے اور درود شریف پڑھے پھر دعامانگے۔ ایک دعا یہاں پر یہ منقول ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِیْ اَسْأَلُکَ رِضَاکَ وَالْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَضَبِکَ وَالنَّارِ . (2)
اور یہ دعا بھی بزرگوں سے منقول ہے:
اَللّٰھُمَّ اَحْرَمَ لَکَ شَعْرِیْ وَبَشَرِیْ وَعَظْمِیْ وَدَمِیْ مِنَ النِّسَآءِ وَالطِّیْبِ وکُلِّ شَیْءٍ حَرَّمْتَہٗ عَلَی الْمُحْرِمِ اَبْتَغِیْ بِذَالِکَ وَجْھَکَ الْکَرِیْمَ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗ بِیَدَیْکَ وَالرَّغَبَاءُ اِلَیْکَ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ لَبَّیْکَ ذَاالنَّعْمَآءِ وَالْفَضْلِ الْحَسَنِ لَبَّیْکَ مَرْغُوْبًا وَّمَرْھُوْبًا اِلَیْکَ لَبَّیْکَ اِلٰـہَ الْخَلْقِ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ حَقًّا حَقًّا تَعَبُّدًا وَّرِقّاً لَبَّیْکَ عَدَدَ التُّرَابِ َوالْحَصٰی لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ ذَاالْمَعَارِجِ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ مِنْ عَبْدٍ اَبَقَ ِالَیْکَ. لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ فَرَّاجَ الْکُرُوْبِ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ اَنَا عَبْدُکَ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ غَفَّارَ الذُّنُوْبِ لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی اَدَآءِ فَرْضِ الْحَجِّ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لَکَ وَاٰمَنُوا بِوَعْدِکَ وَاتَّبَعُوْا اَمْرَکَ وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّفْدِکَ الَّذِیْنَ رَضِیْتَ عَنْھُمْ وَاَرْضَیْتَھُمْ وَقَبِلْتَھُمْ . (3)
1 ۔ ترجمہ: میں تیرے پاس حاضر ہوا، اے اﷲ (عزوجل)! میں تیرے حضور حاضر ہوا، تیرے حضور حاضر ہو ا،تیر ا کوئی شریک نہیں میں تیرے حضور حاضر ہوا بیشک تعریف اورنعمت اور ملک تیرے ہی لیے ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔۱۲
2 ۔ ترجمہ: اے اﷲ (عزوجل) !میں تیری رضا اور جنت کا سائل ہوں اور تیرے غضب اور جہنم سے تیری ہی پناہ مانگتا ہوں۔۱۲
3 ۔ ترجمہ: اے اﷲ(عزوجل)! تیرے لیے احرام باندھا، میرے بال اور بُشرہ نے اور میری ہڈی اور میرے خون نے عورتوں اور خوشبو سے اور ہر اس چیز سے جس کو تو نے محرم پر حرام کیا اس سے میں تیرے وجہ کریم کا طالب ہوں، میں تیرے حضور حاضر ہوا اور کُل خیر تیرے ہاتھ میں ہے اور رغبت و عملِ صالح تیری طرف ہے، میں تیرے حضور حاضر ہوا اے نعمت اور اچھے فضل والے! میں تیرے حضور حاضر ہو ا تیری طرف رغبت کرتا ہوا اور ڈرتا ہوا، تیرے حضور حاضر ہوا اے مخلوق کے معبود! بار بار حاضر ہوں حق سمجھ کر عبادت اور بندگی جان کر خاک اور کنکریوں کی گنتی کے موافق، لبیک بار بار حاضر ہوں اے بلندیوں والے! بار بار حاضری ہے بھاگے ہوئے غلام کی تیرے حضور، لبیک لبیک اے سختیوں کے دُور کرنے والے! لبیک لبیک میں تیرا بندہ ہوں۔ لبیک لبیک اے گناہوں کے بخشنے والے! لبیک اے اﷲ (عزوجل) !حجِ فرض کے ادا کرنے پر میری مدد کر اور اس کو میری طرف سے قبول کر اور مجھ کو ان لوگوں میں کر جنھوں نے تیری بات قبول کی اور تیرے وعدہ پر ایمان لائے اور تیرے امر کا اتّباع کیا اور مجھ کو اپنے اس وفد میں کر دے جن سے تو راضی ہے اور جن کو تو نے راضی کیا اور جن کو تو نے مقبول بنایا۔۱۲
اور لبیک کی کثرت کریں، جب شروع کریں تین بارکہیں۔
مسئلہ ۱: لبیک کے الفاظ جو مذکور ہوئے اُن میں کمی نہ کی جائے، زیادہ کرسکتے ہیں بلکہ بہتر ہے مگر زیادتی آخر میں ہو درمیان میں نہ ہو۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۲: جو شخص بلند آواز سے لبیک کہہ رہا ہے تو اُس کو اِس حالت میں سلام نہ کیا جائے کہ مکروہ ہے اور اگر کر لیا تو ختم کرکے جواب دے، ہاں اگر جانتا ہو کہ ختم کرنے کے بعد جواب کا موقع نہ ملے گا تو اس وقت جواب دے سکتا ہے۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۳: احرام کے لیے ایک مرتبہ زبان سے لبیک کہنا ضروری ہے اور اگر اس کی جگہ
سُبْحٰنَ اللہِ، یا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
یا کوئی اور ذکرِ الٰہی کیا اور احرام کی نیت کی تو احرام ہوگیا مگر سنت لبیک کہنا ہے۔ (3) (عالمگیری وغیرہ) گونگا ہو تو اُسے چاہیے کہ ہونٹ کو جنبش دے۔
مسئلہ ۴: احرام کے لیے نیت شرط ہے اگر بغیر نیت لبیک کہا احرام نہ ہوا۔ یوہیں تنہا نیت بھی کافی نہیں جب تک لبیک یا اس کے قائم مقام کوئی اور چیز نہ ہو۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: احرام کے وقت لبیک کہے تو اس کے ساتھ ہی نیت بھی ہو یہ بارہا معلوم ہوچکا ہے کہ نیت دل کے ارادہ کو کہتے ہیں۔ دل میں ارادہ نہ ہو تو احرام ہی نہ ہوا اور بہتر یہ کہ زبان سے بھی کہے، مثلاً قِران میں
لَبَّیْکَ بِالْعُمْرَۃِ وَالْحَجِّ
اور تمتع میں
لَبَّیْکَ بِالْعُمْرَۃِ
اور اِفراد میں
لَبَّیْکَ بِالْحَجِّ
کہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: دوسرے کی طرف سے حج کو گیا تو اُس کی طرف سے حج کرنے کی نیت کرے اور بہتر یہ کہ لبیک میں یوں کہے لَبّیک عَنْ فُلَان یعنی فلاں کی جگہ اُس کا نام لے اور اگر نام نہ لیا مگر دل میں ارادہ ہے جب بھی حرج نہیں۔ (6) (منسک)
مسئلہ ۷: سونے والے یا مریض یا بیہوش کی طرف سے کسی اور نے احرام باندھا تو وہ مُحر م ہوگیا جس کی طرف سے
1 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، ، کتاب الحج، ص۱۹۵.
2 ۔ ''لباب المناسک'' و''المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط'' ، (باب الاحرام)، ص۱۰۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثالث في الاحرام، ج۱، ص۲۲۲، وغیرہ.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثالث في الاحرام، ج۱، ص۲۲۲.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، فصل في الاحرام، ج۳، ص۵۶۰.
6 ۔ '' المسلک المتقسط''، (باب الاحرام)، ص۱۰۱.
احرام باندھا گیا مُحرِم کے احکام اس پر جاری ہوں گے، کسی ممنوع کا ارتکاب کیا تو کفارہ وغیرہ اسی پر لازم آئے گا ،اس پر نہیں جس نے اس کی طرف سے احرام باندھ دیا اور احرام باندھنے والا خود بھی مُحرِم ہے اور جرم کیا تو ایک ہی جزا واجب ہوگی دونہیں کہ اس کا ایک ہی احرام ہے۔ مریض اور سونے والے کی طرف سے احرام باندھنے میں یہ ضرور ہے کہ احرام باندھنے کا انھوں نے حکم دیا ہو اور بیہوش میں اس کی ضرورت نہیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: تمام افعالِ حج اداکرنے تک بے ہوش رہا اور احرام کے وقت ہوش میں تھا اور اپنے آپ احرام باندھاتھا تو اُس کے ساتھ والے تمام مقامات میں لے جائیں اور اگر احرام کے وقت بھی بے ہوش تھا انھیں لوگوں نے احرام باندھ دیا تھا تو لے جانابہتر ہے ضرور نہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: احرام کے بعد مجنون ہوا تو حج صحیح ہے اور جرم کریگا تو جزا لازم۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: ناسمجھ بچہ نے خود احرام باندھا یا افعالِ حج ادا کیے تو حج نہ ہوا بلکہ اس کا ولی اُس کی طرف سے بجا لائے مگر طواف کے بعد کی دورکعتیں کہ بچہ کی طرف سے ولی نہ پڑھے گا، اس کے ساتھ باپ اوربھائی دونوں ہوں تو باپ ارکان ادا کرے سمجھ وال بچہ خود افعالِ حج ادا کرے، رمی وغیرہ بعض باتیں چھوڑ دیں تو ان پر کفارہ وغیرہ لازم نہیں۔ یوہیں ناسمجھ بچہ کی طرف سے اس کے ولی نے احرام باندھا اور بچہ نے کوئی ممنوع کام کیا تو باپ پر بھی کچھ لازم نہیں۔ (4)
(عالمگیری، ردالمحتار، منسک)
مسئلہ ۱۱: بچہ کی طرف سے احرام باندھا تو اُس کے سلے ہوئے کپڑے اُتار لینے چاہیے، چادر اور تہبند پہنائیں اور اُن تمام باتوں سے بچائیں جو مُحرِم کے لیے ناجائز ہیں اور حج کو فاسد کردیا تو قضا واجب نہیں اگرچہ وہ بچہ سمجھ وال ہو۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: لبیک کہتے وقت نیت قِران کی ہے تو قِران ہے اور اِفراد کی ہے تو اِفراد، اگرچہ زبان سے نہ کہا ہو۔ حج کے
ـ1 ۔ ''ردالمحتار''، ، کتاب الحج،مطلب في مضاعفۃ الصلاۃ بمکۃ ج۳، ص۶۲۶.
2 ۔ ''الدرالمختار''، و ''ردالمحتار''، کتاب الحج،مطلب في مضاعفۃ الصلاۃ بمکۃ ج۳، ص۶۲۶.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج،مطلب في مضاعفۃ الصلاۃ بمکۃ ج۳، ص۶۲۸.
4 ۔ المرجع السابق.و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، فصل في المتفرقات، ج۱، ص۲۳۶.
و'' المسلک المتقسط'' ، (باب الاحرام ،فصل في احرام الصبی)، ص۱۱۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، فصل في المتفرقات، ج۱، ص۲۳۶.
ارادہ سے گیا اور احرام کے وقت نیت حاضرنہ رہی تو حج ہے اور اگر نیت کچھ نہ تھی تو جب تک طواف نہ کیا ہو اُسے اختیار ہے حج کا احرام قرار دے یا عمرے کا اور طواف کا ایک پھیرا بھی کرچکا تو یہ احرام عمرہ کا ہوگیا۔ یوہیں طواف سے پہلے جماع کیا یا روک دیا گیا (جس کو احصار کہتے ہیں) تو عمرہ قرار دیا جائے یعنی قضا میں عمرہ کرنا کافی ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: جس نے حجۃ الاسلام نہ کیا ہو اور حج کا احرام باندھا، فرض ونفل کی نیت نہ کی توحجۃالاسلام ادا ہوگیا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: دو حج کا احرام باندھا تو دو حج واجب ہوگئے اور دو عمرے کا تو دو عمرے۔ احرام باندھا اور حج یا عمرہ کسی خاص کو معین نہ کیا پھر حج کا احرام باندھا تو پہلا عمرہ ہے اور دو سرا عمرہ کا باندھا تو پہلا حج ہے اور اگر دوسرے احرام میں بھی کچھ نیت نہ کی تو قِران ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: لبیک میں حج کہا اور نیت عمرہ کی ہے یا عمرہ کہا اور نیت حج کی ہے، تو جو نیت ہے وہ ہے لفظ کا اعتبار نہیں اور لبیک میں حج کہا اور نیت دونوں کی ہے تو قِران ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: احرام باندھا اور یا د نہیں کہ کس کا باندھا تھا تو دونوں واجب ہیں یعنی قِران کے افعال بجا لائے کہ پہلے عمرہ کرے پھر حج مگر قِران کی قربانی اس کے ذمّہ نہیں۔ اگر دو چیزوں کا احرام باندھا اور یاد نہیں کہ دونوں حج ہیں یا عمرے یا حج و عمرہ تو قِران ہے اور قربانی واجب۔ حج کا احرام باندھا اوریہ نیت نہیں کہ کس سال کریگا تو اس سال کا مراد لیا جائے گا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: منت و نفل یا فرض و نفل کا احرام باندھا تو نفل ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: اگر یہ نیت کی کہ فُلاں نے جس کا احرام باندھا اُسی چیز کا میرا احرام ہے اور بعد میں معلوم ہوگیا کہ اُس نے کس چیز کا احرام باندھا ہے تو اُس کا بھی وہی ہے اور معلوم نہ ہوا تو طواف کے پہلے پھیرے سے پیشتر جو چاہے معین کرلے اور
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثالث في الاحرام،ومما یتصل بذالک مسائل، ج۱، ص۲۲۳.
2 ۔ المرجع السابق۔
3 ۔المرجع السابق۔
4 ۔ المرجع السابق۔
5 ۔ المرجع السابق۔
6 ۔ المرجع السابق۔
طواف کا ایک پھیرا کرلیا تو عمرہ کا ہوگیا۔ یوہیں طواف سے پہلے جماع کیا یا روک دیا گیا یا وقوفِ عرفہ کا وقت نہ ملا تو عمرہ کا ہے۔ (1) (منسک)
مسئلہ ۱۹: حج بدل یا منت یا نفل کی نیت کی تو جو نیت کی وہی ہے اگرچہ اُس نے اب تک حج فرض نہ کیا ہو اور اگر ایک ہی حج میں فرض و نفل دونوں کی نیت کی تو فرض ادا ہوگا اور اگر یہ گمان کرکے احرام باندھا کہ یہ حج مجھ پر لازم ہے یعنی فرض ہے یا منت، بعد کو ظاہر ہو اکہ لازم نہ تھا تو اس حج کو پور ا کرنا ضروری ہوگیا۔ فاسد کریگا تو قضا لازم ہوگی، بخلاف نماز کہ فرض سمجھ کر شروع کی تھی بعد کو معلوم ہوا کہ فرض پڑھ چکا ہے تو پوری کرنا ضرور نہیں فاسد کریگا تو قضا نہیں۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۲۰: لبیک کہنے کے علاوہ ایک دوسری صورت بھی احرام کی ہے اگرچہ لبیک نہ کہنا بُرا ہے کہ ترک سنت ہے وہ یہ کہ بَدَنہ (یعنی اُونٹ یا گائے) کے گلے میں ہار ڈال کر حج یا عمرہ یا دونوں یا دونوں میں ایک غیر معین کے ارادے سے ہانکتا ہوا لے چلا تومحرم ہوگیا اگرچہ لبیک نہ کہے، خواہ وہ بَدَنہ نفل کا ہو یا نذر کا یا شکار کا بدلہ یا کچھ اور۔ اگر دوسرے کے ہاتھ بَدَنَہ بھیجا پھر خود گیا تو جب تک راستہ میں اُسے پا نہ لے مُحرِم نہ ہوگا، لہٰذا اگر میقات تک نہ پایا تو لبیک کے ساتھ احرام باندھنا ضرورہے۔ ہاں اگر تمتع یا قِران کا جانور ہے تو پالینا شرط نہیں مگر اس میں یہ ضرور ہے کہ حج کے مہینوں میں تمتع یا قِران کا بَدَنَہ بھیجا ہو اور انھیں مہینوں میں خود بھی چلا ہو پیشتر سے بھیجنا کام نہ دے گا اور اگر بکری کو ہا ر پہنا کر بھیجا یا لے چلا یا اونٹ گائے کو ہا ر نہ پہنایا بلکہ نشانی کے لیے کوہان چیر دیا یا جُھول اڑ ھادیا تو مُحرِم نہ ہوا۔ (3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۱: چند شخص بَدَنَہ میں شریک ہیں، اُسے لیے جاتے ہیں سب کے حکم سے ایک نے اُسے ہار پہنایا، سب مُحرِم ہوگئے اور بغیر اُن کے حکم کے اُس نے پہنا یا تو یہ مُحرِم ہوا وہ نہ ہوئے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: ہار پہنانے کے معنی یہ ہیں کہ اُون یا بال کی رسّی میں کوئی چیز باندھ کر اُس کے گلے میں لٹکا دیں کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ حرم شریف میں قربانی کے لیے ہے تاکہ اُس سے کوئی تعرض نہ کرے اور راستے میں تھک گیا اور ذبح کردیا تو اُسے مالدار شخص نہ کھائے۔ (5) (ردالمحتار)
1 ۔ '' المسلک المتقسط'' ، (باب الاحرام)، ص۱۰۷. 2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثالث في الاحرام، ومما یتصل بذالک مسائل، ج۱، ص۲۲۲.
و''الدرالمختار''، کتاب الحج، فصل في الاحرام، ج۳ ،ص۵۶۴۔۵۶۶.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثالث في الاحرام، ومما یتصل بذالک مسائل، ج۱، ص۲۲۲.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب فیما یصیر بہ محرما، ج۳، ص۵۶۴.
مسئلہ ۲۳: اس صورت میں بھی سنت یہی ہے کہ بدنہ کو ہار پہنانے سے پیشتر لبیک کہے۔ (1) (منسک)
( یہ احرام تھا اس کے ہوتے ہی یہ کام حرام ہوگئے:
(۱) عورت سے صحبت۔
(۲) بوسہ۔(۳) مساس۔ (۴) گلے لگانا۔(۵) اُس کی اندام نہانی پر نگاہ جب کہ یہ چاروں باتیں بشہوت ہوں۔
(۶) عورتوں کے سامنے اس کام کا نام لینا۔
(۷) فحش۔(۸) گناہ ہمیشہ حرام تھے اب اور سخت حرام ہوگئے۔
(۹) کسی سے دنیوی لڑائی جھگڑا۔
(۱۰) جنگل کا شکار۔(۱۱) اُس کی طرف شکار کرنے کو اشارہ کرنا۔ (۱۲) یا کسی طرح بتانا۔ (۱۳) بندوق یا بارود یا اُس کے ذبح کرنے کو چُھری دینا۔(۱۴) اس کے انڈے توڑنا۔ (۱۵) پَر اُکھیڑنا۔(۱۶) پاؤں یا بازو توڑنا۔ (۱۷) اُس کا دودھ دوہنا۔(۱۸) اُس کا گوشت ۔یا (۱۹) انڈے پکانا، بھوننا۔ (۲۰) بیچنا۔ (۲۱) خریدنا۔ (۲۲) کھانا۔
(۲۳) اپنا یا دوسرے کا ناخن کتر نا یا دوسرے سے اپنا کتروانا۔
(۲۴) سر سے پاؤں تک کہیں سے کوئی بال کسی طرح جدا کرنا۔
(۲۵) مونھ ،یا(۲۶) سر کسی کپڑے وغیرہ سے چھپانا۔
(۲۷) بستہ یا کپڑے کی بُقچی یا گٹھری سر پر رکھنا۔
(۲۸) عمامہ باندھنا۔
(۲۹) بُرقع (۳۰) دستانے پہننا۔
(۳۱) موزے یا جُرابیں وغیرہ جو وسط ِقدم کو چھپائے (جہاں عربی جوتے کا تسمہ ہوتا ہے) پہننا اگر جوتیاں نہ ہوں تو موزے کاٹ کر پہنیں کہ وہ تسمہ کی جگہ نہ چھپے۔
(۳۲) سِلا کپڑا پہننا۔
(۳۳) خوشبو بالوں ،یا(۳۴) بدن ،یا(۳۵) کپڑوں میں لگانا۔
1 ۔ ''المسلک المتقسط'' للقاری، (باب الاحرام)، ص۱۰۵.
(۳۶) ملا گیری یا کسم ،کیسر غرض کسی خوشبو کے رنگے کپڑے پہننا جب کہ ابھی خوشبو دے رہے ہوں۔
(۳۷) خالص خوشبو مشک، عنبر، زعفران، جاوتری، لونگ، الائچی، دار چینی، زنجبیل وغیرہ کھانا۔
(۳۸) ایسی خوشبو کا آنچل میں باندھنا جس میں فی الحال مہک ہو جیسے مُشک، عنبر، زعفران۔
(۳۹) سر یا داڑھی کو خطمی یا کسی خوشبودار یا ایسی چیز سے دھونا جس سے جوئیں مر جائیں۔
(۴۰) وسمہ یا مہندی کا خضاب لگانا۔
(۴۱) گوند وغیرہ سے بال جمانا۔
(۴۲) زیتون، یا(۴۳) تِل کا تیل اگرچہ بے خوشبو ہو بالوں یا بدن میں لگانا۔
(۴۴) کسی کا سر مونڈنا اگرچہ اُس کا احرام نہ ہو۔
(۴۵) جُوں مارنا۔ (۴۶) پھینکنا۔ (۴۷) کسی کو اس کے مارنے کا اشارہ کرنا۔(۴۸) کپڑا اس کے مارنے کو دھونا۔یا(۴۹) دھوپ میں ڈالنا۔ (۵۰) بالوں میں پارہ وغیرہ اس کے مارنے کو لگانا غرض جُوں کے ہلاک پر کسی طرح باعث ہونا۔ (1)
10 احرام میں یہ باتیں مکروہ ہیں:
(۱) بدن کا میل چھڑانا۔
(۲) بال یا بدن کَھلی یا صابون وغیرہ بے خوشبو کی چیز سے دھونا۔
(۳) کنگھی کرنا۔ (۴) اس طرح کھجانا کہ بال ٹوٹنے یا جُوں کے گرنے کا اندیشہ ہو۔
(۵) انگرکھا کُرتا چغہ پہننے کی طرح کندھوں پر ڈالنا۔
(۶) خوشبو کی دھونی دیا ہو ا کپڑا کہ ابھی خوشبو دے رہا ہو پہننا اوڑھنا۔
(۷) قصداً خوشبو سونگھنا اگرچہ خو شبودار پھل یا پتّا ہو جیسے لیموں، نارنگی، پودینہ، عطر دانہ۔
(۸) عطر فروش کی دوکان پر اس غرض سے بیٹھنا کہ خوشبو سے دماغ معطر ہوگا۔
(۹) سر، یا(۱۰) مونھ پر پٹی باندھنا۔
1 ۔ '' الفتاوی الرضویۃ''،ج۱۰، ص۷۳۲، وغیرہ۔
(۱۱) غلافِ کعبہ معظمہ کے اندر اس طرح داخل ہونا کہ غلاف شریف سر یا مونھ سے لگے۔
(۱۲) ناک وغیرہ مونھ کا کوئی حصّہ کپڑے سے چُھپانا۔
(۱۳) کوئی ایسی چیز کھانا پینا جس میں خوشبو پڑی ہو اور نہ وہ پکائی گئی ہو نہ بو زائل ہوگئی ہو۔
(۱۴) بے سلا کپڑا رفو کیا ہوا یا پیوند لگا ہوا پہننا۔
(۱۵) تکیہ پر مونھ رکھ کر اوندھا لیٹنا۔
(۱۶) مہکتی خوشبو ہاتھ سے چُھونا جب کہ ہاتھ میں لگ نہ جائے ورنہ حرام ہے۔
(۱۷) بازو یا گلے پر تعویذ باندھنا اگرچہ بے سلے کپڑے میں لپیٹ کر۔
(۱۸) بلا عذر بدن پر پٹی باندھنا۔
(۱۹) سنگار کرنا۔
(۲۰) چادر اوڑھ کر اُس کے آنچلوں میں گرہ دے لینا جیسے گانتی باندھتے ہیں اس طرح یا کسی اورطرح پر جب کہ سر کھلا ہو ورنہ حرام ہے۔
(۲۱) یوہیں تہبند کے دونوں کناروں میں گرہ دینا۔
(۲۲) تہبند باندھ کر کمر بند یا رسّی سے کسنا۔ (1)
11 یہ باتیں احرام میں جائز ہیں:
(۱) انگرکھا کُرتہ چُغہ لیٹ کر اوپر سے اس طرح ڈال لینا کہ سر اور مونھ نہ چھپے۔
(۲)اِن چیزوں یا پاجامہ کا تہبند باندھ لینا۔
(۳) چادر کے آنچلوں کو تہبند میں گُھرسنا۔
(۴) ہمیانی، یا (۵) پٹی، یا (۶) ہتھیار باندھنا۔
(۷) بے میل چھڑائے حمام کرنا۔
(۸) پانی میں غوطہ لگانا۔
1 ۔ '' الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۷۳۳، وغیرہ۔
(۹) کپڑے دھونا جب کہ جوں مارنے کی غرض سے نہ ہو۔
(۱۰) مسواک کرنا۔
(۱۱) کسی چیز کے سایہ میں بیٹھنا۔
(۱۲) چھتری لگانا۔
(۱۳) انگوٹھی پہننا۔
(۱۴) بے خوشبو کا سُرمہ لگانا۔
(۱۵) داڑھ اکھاڑنا۔
(۱۶) ٹوٹے ہوئے ناخن کو جدا کر دینا۔
(۱۷) دنبل یا پُھنسی توڑ دینا۔
(۱۸) ختنہ کرنا۔
(۱۹) فصد۔
(۲۰) بغیر بال مونڈے پچھنے کرانا۔
(۲۱) آنکھ میں جو بال نکلے اُسے جُدا کرنا۔
(۲۲) سر یا بدن اس طرح آہستہ کھجا نا کہ بال نہ ٹوٹے۔
(۲۳) احرام سے پہلے جو خوشبو لگائی اُس کا لگا رہنا۔
(۲۴) پالتوجانور اونٹ گائے بکری مرغی وغیرہ ذبح کرنا۔ (۲۵) پکانا۔ (۲۶) کھانا۔(۲۷) اس کا دودھ دوہنا۔(۲۸) اس کے انڈے توڑنا بھُوننا کھانا۔
(۲۹) جس جانور کو غیر مُحرِم نے شکار کیا اور کسی مُحرِم نے اُس کے شکار یا ذبح میں کسی طرح کی مدد نہ کی ہو اُس کا کھانا بشرطیکہ وہ جانور نہ حرم کا ہو نہ حرم میں ذبح کیا گیا ہو۔
(۳۰) کھانے کے لیے مچھلی کا شکار کرنا۔
(۳۱) دوا کے لیے کسی دریائی جانور کا مارنا، دوایا غذا کے لیے نہ ہو نری تفریح کے لیے ہو جس طرح لوگوں میں رائج ہے تو شکار دریا کا ہو یا جنگل کا خود ہی حرام ہے اور احرام میں سخت تر حرام۔
(۳۲) بیرون حرم کی گھاس اُکھاڑنا ،یا
(۳۳) درخت کاٹنا۔
(۳۴) چیل، (۳۵) کوا، (۳۶) چوہا، (۳۷) گرگٹ، (۳۸) چھپکلی، (۳۹) سانپ، (۴۰) بچھو،(۴۱) کھٹمل، (۴۲) مچھر، (۴۳) پِسُّو، (۴۴) مکھی وغیرہ خبیث و موذی جانوروں کا مارنا اگرچہ حرم میں ہو۔
(۴۵) مونھ اور سر کے سوا کسی اور جگہ زخم پر پٹی باندھنا۔
(۴۶) سر ،یا(۴۷) گال کے نیچے تکیہ رکھنا۔
(۴۸) سر ،یا (۴۹) ناک پر اپنا یا دوسرے کا ہاتھ رکھنا۔
(۵۰) کان کپڑے سے چُھپانا۔
(۵۱) ٹھوڑی سے نیچے داڑھی پر کپڑا آنا۔
(۵۲) سر پر سینی یا بوری اُٹھانا۔
(۵۳) جس کھانے کے پکنے میں مشک وغیرہ پڑے ہوں اگرچہ خوشبو دیں۔ یا (۵۴) بے پکائے جس میں کوئی خوشبو ڈالی اور وہ بُو نہیں دیتی اُس کا کھانا پینا۔
(۵۵) گھی یا چربی یا کڑوا تیل یا ناریل یا بادام کدو، کا ہو کا تیل کہ بسایا نہ ہو بالوں یا بدن میں لگانا۔
(۵۶) خوشبو کے رنگے کپڑے پہننا جب کہ اُن کی خوشبو جاتی رہی ہو مگر کسم، کیسر کا رنگ مرد کو ویسے ہی حرام ہے۔ (۵۷)دین کے لیے جھگڑنا بلکہ حسبِ حاجت فرض و واجب ہے۔
(۵۸) جوتا پہننا جو پاؤں کے اُس جوڑ کو نہ چھپائے۔
(۵۹) بے سلے کپڑے میں لپیٹ کرتعویذ گلے میں ڈالنا۔
(۶۰) آئینہ دیکھنا۔
(۶۱) ایسی خوشبو کا چھونا جس میں فی الحال مہک نہیں جیسے اگر، لوبان، صندل، یا(۶۲) اس کا آنچل میں باندھنا۔
(۶۳) نکاح کرنا۔ (1)
1 ۔ '' الفتاوی الرضویۃ''، ج ۱۰، ص۷۳۴، وغیرہ۔
12 ان مسائل مذکورہ میں مرد عورت برابر ہیں، مگر عورت کو چند باتیں جائز ہیں:
سر چھپانا بلکہ نا محرم کے سامنے اور نماز میں فرض ہے تو سر پر بستر بقچہ اُٹھانا بدرجہ اولیٰ۔ یوہیں گوند وغیرہ سے بال جمانا، سر وغیرہ پر پٹی خواہ بازو یا گلے پر تعویذ باندھنا اگرچہ سی کر، غلافِ کعبہ کے اندر یوں داخل ہونا کہ سر پر رہے مونھ پر نہ آئے، دستانے، موزے، سلے کپڑے پہننا، عورت اتنی آواز سے لبیک نہ کہے کہ نا محرم سُنے، ہاں اتنی آواز ہر پڑھنے میں ہمیشہ سب کو ضرور ہے کہ اپنے کان تک آواز آئے۔
تنبیہ: احرام میں مونھ چھپانا عورت کو بھی حرام ہے، نا محرم کے آگے کوئی پنکھا وغیرہ مونھ سے بچا ہوا سامنے رکھے۔
13 جو باتیں احرام میں نا جائز ہیں وہ اگر کسی عُذر سے یا بھول کر ہوں تو گناہ نہیں مگر ان پر جو جُرمانہ مقرر ہے ہر طرح دینا آئے گا اگرچہ بے قصد ہو ں یا سہواً یا جبراً یا سوتے میں۔
14 طوافِ قدوم کے سوا وقتِ احرام سے رمِی جمرہ تک جس کا ذکر آئے گا اکثر اوقات لبیک کی بے شمار کثرت رکھے، اُٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، وضو بے وضو ہر حال میں خصوصاً چڑھائی پر چڑھتے اُترتے، دو قافلوں کے ملتے، صبح شام، پچھلی رات، پانچوں نمازوں کے بعد، غرض یہ کہ ہر حالت کے بدلنے پر مرد بآواز کہیں مگر نہ اتنی بلند کہ اپنے آپ یا دوسرے کو تکلیف ہو اور عورتیں پست آواز سے مگر نہ اتنی پست کہ خود بھی نہ سُنیں۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
( وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَہۡلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْہُمۡ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ ؕ قَالَ وَمَنۡ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیۡلًا ثُمَّ اَضْطَرُّہٗۤ اِلٰی عَذَابِ النَّارِ ؕ وَبِئْسَ الْمَصِیۡرُ ﴿۱۲۶﴾ وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰہٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیۡتِ وَ اِسْمٰعِیۡلُ ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۱۲۷﴾رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیۡنِ لَکَ وَمِنۡ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ ۪ وَاَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیۡنَا ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۲۸﴾) (1)
اور جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار! اس شہر کو امن والا کردے اور اس کے اہل میں سے جو اﷲ (عزوجل) اور پچھلے دن
1 ۔پ۱، البقرۃ: ۱۲۶۔ ۱۲۸.
پر ایمان لائے انھیں پھلوں سے روزی دے۔ فرمایااور جس نے کفر کیااُسے بھی کچھ برتنے کو دُوں گا، پھر اسے آگ کے عذاب کی طرف مضطر کروں گا اور بُرا ٹھکانا ہے وہ۔ اور جب ابراہیم و اسمٰعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں بلند کرتے ہوئے کہتے تھے اے پروردگار! تو ہم سے (اس کام کو) قبول فرما، بیشک تو ہی ہے سُننے والا، جاننے والا اور ہمیں تو اپنا فرما نبردار بنا اور ہماری ذرّیت سے ایک گروہ کو اپنا فرمانبردار بنا اور ہمارے عبادت کے طریقے ہم کو دکھا اور ہم پر رجوع فرما بیشک تو ہی بڑا توبہ قبول فرمانے والا، رحم کرنے والا ہے۔
اور فرماتاہے:
(اَوَ لَمْ نُمَکِّنۡ لَّہُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤی اِلَیۡہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیۡءٍ رِّزْقًا مِّنۡ لَّدُنَّا وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَایَعْلَمُوۡنَ ﴿۵۷﴾ ) (1)
کیا ہم نے اُن کو امن والے حرم میں قدرت نہ دی کہ وہاں ہر قسم کے پھل لائے جاتے ہیں جو ہماری جانب سے رزق ہیں مگر بہت سے لوگ نہیں جانتے۔
اور فرماتا ہے:
(اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ ہٰذِہِ الْبَلْدَۃِ الَّذِیۡ حَرَّمَہَا وَلَہٗ کُلُّ شَیۡءٍ ۫ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوۡنَ مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿ۙ۹۱﴾ ) (2)
مجھے تو یہی حکم ہوا کہ اس شہر کے پروردگار کی عبادت کروں، جس نے اسے حرم کیا اوراسی کے لیے ہر شے ہے اور مجھے حکم ہوا کہ میں مسلمانوں میں سے رہوں۔
حدیث ۱ و ۲: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن یہ ارشاد فرمایا: ''اس شہر کو اﷲ (عزوجل) نے حرم (بزرگ) کردیا ہے جس دن آسمان و زمین کوپیدا کیا تو وہ روز قیامت تک کے لیے اﷲ (عزوجل) کے کیے سے حرم ہے، مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس میں قتال حلال نہ ہوا اور میرے لیے صرف تھوڑے سے وقت میں حلال ہوا، اب پھر وہ قیامت تک کے لیے حرام ہے، نہ یہاں کا کانٹے والا درخت کاٹا جائے نہ اس کا شکار بھگایا جائے اور نہ یہاں کا پڑا ہوامال کوئی اُٹھائے مگر جو اعلان کرنا چاہتا ہو (اُسے اُٹھانا، جائز ہے) اور نہ یہاں کی تر گھاس کاٹی جائے۔'' حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)! مگر اِذخر (ایک قسم کی گھاس ہے کہ اُس
1 ۔پ۲۰، القصص: ۵۷.
2 ۔پ۲۰، النمل: ۹۱.
کے کاٹنے کی اجازت دیجیے) کہ یہ لوہاروں اور گھر کے بنانے میں کام آتی ہے۔ حضور( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)نے اس کی اجازت دیدی۔'' (1) اسی کی مثل ابُو شرَیح َ عدوی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی۔
حدیث ۳: ابن ماجہ عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''یہ امت ہمیشہ خیر کے ساتھ رہے گی جب تک اس حُرمت کی پوری تعظیم کرتی رہے گی اور جب لوگ اسے ضائع کر دیں گے ہلاک ہو جائیں گے۔'' (2)
حدیث ۴: طبرانی اوسط میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کعبہ کے لیے زبان اور ہونٹ ہیں، اُس نے شکایت کی کہ اے رب! میرے پاس آنے والے اور میری زیارت کرنے والے کم ہیں۔ اﷲ عزوجل نے وحی کی کہ: ''میں خشوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے آدمیوں کو پیدا کروں گا جو تیری طرف ایسے مائل ہوں گے جیسے کبوتری اپنے انڈے کی طرف مائل ہوتی ہے۔'' (3)
حدیث ۵: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ میں تشریف لاتے تو ذی طُویٰ میں رات گزارتے، جب صبح ہوتی غسل کرتے اور نماز پڑھتے اوردن میں داخلِ مکہ ہو تے اور جب مکہ سے تشریف لے جاتے تو صبح تک ذی طُویٰ میں قیام فرماتے۔ (4)
1 جب حرم مکہ کے متصل پہنچے سر جھکائے آنکھیں شرم گناہ سے نیچی کیے خشوع و خضوع سے داخل ہو اور ہوسکے تو پیادہ ننگے پاؤں اور لبیک و دعا کی کثرت رکھے اور بہتر یہ کہ دن میں نہا کر داخل ہو، حیض و نفاس والی عورت کو بھی نہانا مستحب ہے۔
2 مکہ معظمہ کے گرد اگرد کئی کوس تک حرم کا جنگل ہے، ہر طرف اُس کی حدیں بنی ہوئی ہیں، ان حدوں کے اندر تر گھاس اُکھیڑنا، خودرو پیڑ کاٹنا، وہاں کے وحشی جانور کو تکلیف دینا حرام ہے۔ یہاں تک کہ اگر سخت دھوپ ہو اور ایک ہی پیڑ ہے اُس کے سایہ میں ہرن بیٹھا ہے تو جائز نہیں کہ اپنے بیٹھنے کے لیے اسے اُٹھائے اور اگر وحشی جانور بیرون حرم کا اُس کے ہاتھ میں
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب تحریم مکۃ وتحریم صیدھا ...إلخ، الحدیث: ۱۳۵۳، ص۷۰۶.
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المناسک، باب فضل مکۃ، الحدیث: ۳۱۱۰، ج۳، ص۵۱۹.
3 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب المیم، الحدیث: ۶۰۶۶، ج۴، ص۳۰۵.
4 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب المناسک، باب دخول مکۃ ...إلخ، الحدیث: ۲۵۶۱، ج۲، ص۸۶.
تھا اُسے لیے ہوئے حرم میں داخل ہوا اب وہ جانور حرم کا ہوگیا فرض ہے کہ فوراً فوراً چھوڑ دے۔ مکہ معظمہ میں جنگلی کبوتر (1) بکثرت ہیں ہر مکان میں رہتے ہیں، خبردار ہرگز ہرگز نہ اڑائے، نہ ڈرائے، نہ کوئی ایذا پہنچائے بعض ادھر ادھر کے لوگ جو مکہ میں بسے کبوتروں کا ادب نہیں کرتے، ان کی ریس نہ کرے مگر بُرا انھیں بھی نہ کہے کہ جب وہاں کے جانور کا ادب ہے تو مسلمان انسان کا کیا کہنا! یہ باتیں جو حرم کے متعلق بیان کی گئیں احرام کے ساتھ خاص نہیں احرام ہو یا نہ ہو بہر حال یہ باتیں حرام ہیں۔
3 جب مکہ معظمہ نظر پڑے ٹھہر کر یہ دُعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِّیْ بِھَا قَرَارًا وَّارْزُقْنِیْ فِیْھَا رِزْقًا حَلَا لًا . (2)
اور درود شریف کی کثرت کرے اور افضل یہ ہے کہ نہا کر داخل ہو اور مدفونینِ جنت الْمَعْلیٰ کے لیے فاتحہ پڑھے اور مکہ معظمہ میں داخل ہوتے وقت یہ دُعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَالْبَلَدُ بَلَدُکَ جِئْتُکَ ھَارِبًا مِّنْکَ اِلَیْکَ لِاُؤَدِّیَ فَرَآئِضَکَ وَاَطْلُبَ رَحْمَتَکَ وَاَلْتَمِسَ رِضْوَا نَکَ اَسْأَلُکَ مَسْئَالَۃَ الْمُضْطَرِّیْنَ اِلَیْکَ الْخَآئِفِیْنَ عُقُوْبَتَکَ اَسْأَلُکَ اَنْ تُقَبِّلَنِیَ الْیَوْمَ بِعَفْوِکَ وَتُدْخِلَنِیْ فِیْ رَحْمَتِکَ وَتَتَجَاوَزَ عَنِّیْ بِمَغْفِرَتِکَ وَتُعِیْنَنِیْ عَلٰی اَدَآءِ فَرَائِضِکَ اَللّٰھُمَّ نَجِّنِیْ مِنْ عَذَابِکَ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَاَدْخِلْنِیْ فِیْھَا وَاَعِذْنِیْ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ؕ (3)
4 جب مَدعیٰ میں پہنچے یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کعبہ معظمہ نظر آتا تھا جب کہ درمیان میں عمارتیں حائل نہ تھیں، یہ عظیم اجابت و قبول کا وقت ہے یہاں ٹھہرے اور صدقِ دل سے اپنے اور تمام عزیزوں ،دوستوں ، مسلمانوں کے لیے مغفرت و عافیت مانگے اور جنت بِلا حساب کی دُعا کرے اور درود شریف کی کثرت اس موقع پر نہایت اہم ہے۔ اس مقام پر تین بار اَللہُ اَکْبَر، اور تین مرتبہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ کہے اور یہ پڑھے:
1 ۔ ترجمہ: کہا جاتا ہے کہ یہ کبوتر اس مبارک جوڑے کی نسل سے ہیں، جس نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت غار ثور میں انڈے دیئے تھے، اللہ عزوجل نے اس خدمت کے صلہ میں ان کو اپنے حرم پاک میں جگہ بخشی۔ ۱۲
2 ۔ ترجمہ:اے اﷲ (عزوجل)! تو مجھے اس میں بر قرار رکھ اور مجھے اس میں حلال روزی دے۔۱۲
3 ۔ ترجمہ:اے اﷲ (عزوجل)! تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور یہ شہر تیرا شہر ہے میں تیرے پاس تیرے عذاب سے بھاگ کر حاضر ہوا کہ تیرے فرائض کو ادا کروں اور تیری رحمت کو طلب کروں اور تیری رضا کو تلاش کروں، میں تجھ سے اس طرح سوال کرتاہوں جیسے مضطر اور تیرے عذاب سے ڈر نے والے سوال کرتے ہیں، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ آج تو اپنے عفو کے ساتھ مجھ کو قبول کر اور اپنی رحمت میں مجھے داخل کراور اپنی مغفرت کے ساتھ مجھ سے درگزر فرما اور فرائض کی ادا پر میری اعانت کر۔ اے اﷲ (عزوجل)! مجھ کو اپنے عذاب سے نجات دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور اس میں مجھے داخل کر اور شیطان مردود سے مجھے پناہ میں رکھ۔۱۲
رَبَّنَا اٰ تِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاَب النَّارِؕ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا سَئَالَکَ مِنْہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَکَ مِنْہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ تَعالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؕ (1)
اور یہ دعا بھی پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اِیْمَانًام بِکَ وَتَصْدِیْقًام بِکِتَابِکَ وَوَفَائًم بِعَھْدِکَ وَاِتِّبَاعًا لِّسُنَّۃِ نَبِیِّکَ سَیِّدِنا وَمَوْلٰـنَا مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلَیْہِ وَسَلِّم اَللّٰھُمَّ زِدْبَیْتَکَ ھٰذَا تَعْظِیْمًا وَّ تَشْرِیْفًا وَّمَھَابَۃً وَّزِدْ مِنْ تَعْظِیْمِہٖ وَتَشْرِیْفِہٖ مَنْ حَجَّہٗ وَاعْتَمَرَہٗ تَعْظِیْمًا وَّتَشْرِیْفًا وَّمَھَابَۃً ؕ (2)
اور یہ دعائے جامع کم از کم تین بار اس جگہ پڑھیں:
اَللّٰہُمَّ ھٰذَا بَیْتُکَ وَاَنَا عَبْدُکَ اَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَاْلاٰخِرَۃِ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلِعُبَیْدِکَ اَمْجَدْ عَلِیْ اَللّٰھُمَّ انْصُرْہُ نَصْرًا(3) عَزِیْزًا۔ اٰمِیْنَ . (4)
مسئلہ ۱: جب مکہ معظمہ میں پہنچ جائے تو سب سے پہلے مسجدالحرام میں جائے۔ کھانے پینے، کپڑے بدلنے، مکان کرایہ لینے وغیرہ دوسرے کاموں میں مشغول نہ ہو، ہاں اگر عذر ہو مثلاً سامان کو چھوڑتا ہے تو ضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو محفوظ جگہ رکھوانے یا اور کسی ضروری کام میں مشغول ہوا تو حرج نہیں اور اگر چند شخص ہوں تو بعض اسباب اُتر وانے میں مشغول ہوں اور بعض مسجدالحرام شریف کو چلے جائیں۔ (5) (منسک)
5 ذکرِ خدا و رسول اور اپنے اور تمام مسلمانوں کے لیے دعائے فلاحِ دارین کرتا ہوا اور لبیک کہتا ہوا باب السّلام تک
1 ۔ ترجمہ:اے رب! تو دنیا میں ہمیں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور جہنم کے عذاب سے ہمیں بچا، اے اﷲ(عزوجل)! میں اس خیر میں سے سوال کرتاہوں، جس کا تیرے نبی محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تجھ سے سوال کیا اور تیری پناہ مانگتا ہوں اُن چیزوں کے شر سے جن سے تیرے نبی محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پناہ مانگی۔۱۲
2 ۔ ترجمہ:اے اﷲ (عزوجل)! تجھ پر ایمان لایا اور تیری کتاب کی تصدیق کی اور تیرے عہد کو پورا کیا اور تیرے نبی محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا اتباع کیا، اے اﷲ(عزوجل)! تو اپنے اس گھر کی تعظیم و شرافت و ہیبت زیادہ کر اور اس کی تعظیم و تشریف سے اس شخص کی عظمت و شرافت و ہیبت زیادہ کر جس نے اس کا حج و عمرہ کیا۔۱۲
3 ۔ ترجمہ:اے اﷲ(عزوجل)! یہ تیرا گھر ہے اور میں تیرا بندہ ہوں عفو و عافیت کا سوال تجھ سے کرتا ہوں، دین و دنیا و آخرت میں میرے لیے اور میرے والدین اور تمام مومنین و مومنات کے لیے اور تیرے حقیر بندہ امجد علی کے لیے، الٰہی! تو اس کی قوی مدد کر۔ آمین۔۱۲
4 ۔(اوراب جب کہ صدر الشریعہ رحمہ اللہ تعالی وصال فرما چکے یوں دعا کرے : اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ مَغْفِرَۃً).
5 ۔ '' المسلک المتقسط''، (باب دخول مکۃ)، ص۱۲۷.
پہنچے اور اس آستانہ پاک کو بوسہ دیکر پہلے داہنا پاؤں رکھ کر داخل ہو اور یہ کہے:
اَعُوْذُ بِاللہِ الْعَظِیْمِ وَ بِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَ سُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی ٰالِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اَزْوَاجِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ . (1)
یہ دعا خوب یاد رکھے، جب کبھی مسجدالحرام شریف یا اور کسی مسجد میں داخل ہو، اسی طرح داخل ہو اور یہ دعا پڑھ لیا کرے اور اس وقت خصوصیت کے ساتھ اس دعا کے ساتھ اتنا اور ملالے:
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ وَاِلَیْکَ یَرْجِعُ السَّلَامُ حَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ وَاَدْخِلْنَا دَارَالسَّلَامِ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ . اَللّٰھُمَّ اِنَّ ھٰذَا حَرَمُکَ وَمَوْضِعُ اَمْنِکَ فَحَرِّمْ لَحْمِیْ وَبَشَرِیْ وَدَمِیْ وَمُخِّیْ وَعِظَامِیْ عَلَی النَّارِ . (2)
اور جب کسی مسجد سے باہر آئے پہلے بایاں قدم باہر رکھے اور وہی دُعا پڑھے مگر اخیر میں رَحْمَتِکَ کی جگہ فَضْلِکَ کہے اور اتنا اور بڑھائے:
وَسَھِّلْ لِّیْ اَبْوَابَ رِزْقِکَ . (3)
اس کی برکات دین و دنیا میں بے شمار ہیں
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ۔
6 جب کعبہ معظمہ نظر پڑے تین بار
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَر
کہے اور درود شریف اور یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ زِدْ بَیْتَکَ ھٰذَا تَعْظِیْماً وَّتَشْرِیْفًا وَّ تَکْرِیْمًا وَّ بِرًّا وَّ مَھَابَۃً اَللّٰھُمَّ اَدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ بِلَا حِسَابٍ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ اَنْ تَغْفِرَلِیْ وَتَرْحَمَنِیْ وَتُقِیْلَ عَثَرَتِیْ وَتَضَعَ وِزْرِیْ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ عَبْدُکَ وَزَائِرُکَ وَعَلٰی کُلِّ مَزُوْرٍ حَقٌّ وَّاَنْتَ خَیْرُ مَزُوْرٍفَاَسْأَلُکَ اَنْ تَرْحَمَنِیْ
1 ۔ ترجمہ:میں خدائے عظیم کی پناہ مانگتاہوں اور اس کے وجہ کریم کی اور قدیم سلطنت کی مردود شیطان سے، اﷲ (عزوجل) کے نام کی مدد سے سب خوبیاں اﷲ (عزوجل) کے لیے اور رسول اﷲ (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر سلام، اے اﷲ(عزوجل)! درود بھیج ہمارے آقا محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اور اُن کی آل اور بیبیوں پر۔ الٰہی! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔۱۲
2 ۔ ترجمہ:اے اﷲ (عزوجل)! تو سلام ہے اور تجھی سے سلامتی ہے اور تیری ہی طرف سلامتی لوٹتی ہے، اے ہمارے رب! ہم کو سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ دارالسلام (جنت) میں داخل کر، اے ہمارے رب! تو برکت والااور بلند ہے، اے جلال و بزرگی والے! الٰہی یہ تیرا حرم ہے اور تیری امن کی جگہ ہے میرے گوشت اور پوست اور خون اور مغز اور ہڈیوں کو جہنم پر حرام کر دے۔۱۲
3 ۔ ترجمہ:اور میرے لیے اپنے رزق کے دروازے آسان کردے۔۱۲
وَتَفُکَّ رَقَـبَتِیْ مِنَ النَّارِ . (1)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
(وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیۡتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا ؕ وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّی ؕ وَعَہِدْنَاۤ اِلٰۤی اِبْرٰہٖمَ وَ اِسْمٰعِیۡلَ اَنۡ طَہِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَالْعٰکِفِیۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ ﴿۱۲۵﴾) (2)
اور یاد کرو جب کہ ہم نے کعبہ کو لوگوں کا مرجع اور امن کیا اور مقام ابراہیم سے نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ اور ہم نے ابراہیم و اسمٰعیل کی طرف عہد کیا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجود کرنے والوں کے لیے پاک کرو۔
اور فرماتا ہے:
( وَ اِذْ بَوَّاۡنَا لِاِبْرٰہِیۡمَ مَکَانَ الْبَیۡتِ اَنۡ لَّا تُشْرِکْ بِیۡ شَیْـًٔا وَّ طَہِّرْ بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الْقَآئِمِیۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ ﴿۲۶﴾وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ ﴿ۙ۲۷﴾لِّیَشْہَدُوۡا مَنَافِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوۡمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الْاَنْعَامِ ۚ فَکُلُوۡا مِنْہَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیۡرَ ﴿۫۲۸﴾ثُمَّ لْیَقْضُوۡا تَفَثَہُمْ وَلْیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمْ وَلْیَطَّوَّفُوۡا بِالْبَیۡتِ الْعَتِیۡقِ ﴿۲۹﴾ذٰلِکَ ٭ وَمَنۡ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللہِ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ ) (3)
اور جب کہ ہم نے ابراہیم کو پناہ دی خانہ کعبہ کی جگہ میں یوں کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کر اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک کر اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے لوگ تیرے پاس پیدل آئیں گے اور لاغر اونٹنیوں پر کہ ہر راہِ بعید سے آئیں گی تا کہ اپنے نفع کی جگہ میں حاضر ہوں اور اﷲ (عزوجل)
ـ1 ۔ ترجمہ: اے اﷲ(عزوجل)! تو اپنے اس گھر کی عظمت و شرافت و بزرگی و نکوئی و ہیبت زیادہ کر، اے اﷲ (عزوجل) !ہم کو جنت میں
بلا حساب داخل کر۔ الٰہی! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت کردے اور مجھ پر رحم کر اور میری لغزش دور کر اور اپنی رحمت سے میرے گنا ہ دفع کر ،اے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان۔ الٰہی! میں تیرا بندہ اور تیرا زائر ہوں اور جس کی زیارت کی جائے اس پر حق ہوتا ہے اور تو سب سے بہتر زیارت کیا ہوا ہے، میں یہ سوال کرتاہوں کہ مجھ پر رحم کر اور میری گردن جہنم سے آزاد کر۔۱۲
2 ۔پ۱، البقرہ: ۱۲۵.
3 ۔پ۱۷، الحج: ۲۶۔۳۰.
ہے اور جو اﷲ (عزوجل) کے کے نام کو یاد کریں معلوم دنوں میں اس پر کہ انھیں چوپائے جانور عطا کیے تو اُن میں سے کھاؤ اور نا اُمید فقیر کو کھلاؤ پھر اپنے میل کچیل اُتاریں اوراپنی منتیں پوری کریں اور اس آزاد گھر (کعبہ) کا طواف کریں بات یہ حُرمات کی تعظیم کرے تو یہ اس کے لیے اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے۔
اور فرماتا ہے:
( اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللہِ ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیۡتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ؕ وَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا ۙ فَاِنَّ اللہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۵۸﴾ ) (1)
بیشک صفا و مروہ اﷲ (عزوجل) کی نشانیوں سے ہیں جس نے کعبہ کا حج یا عمرہ کیا ا س پر اس میں گناہ نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے اور جس نے زیادہ خیر کیا تو اﷲ (عزوجل) بدلا دینے والا، علم والا ہے۔
حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں اُم المومنین صدّیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
حج کے لیے مکّہ میں تشریف لائے، سب کاموں سے پہلے وضو کرکے بیت اﷲ کا طواف کیا۔ (2)
حدیث ۲: صحیح مسلم شریف میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حجرِا سود سے حجرِ اسود تک تین پھیروں میں رَمَل کیا اور چار پھیرے چل کر کیے(3) اور ایک روایت میں ہے پھر صفا ومروہ کے درمیان سعی فرمائی۔ (4)
حدیث ۳: صحیح مسلم میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب مکہ میں تشریف لائے تو حجرِ اسود کے پاس آکر اُسے بوسہ دیا پھر دہنے ہاتھ کو چلے اور تین پھیروں میں رَمَل کیا۔ (5)
حدیث ۴: صحیح مسلم میں ابوا لطفیل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں: میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بیت اﷲ کاطواف کرتے دیکھا اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دستِ مبارک میں چھڑی تھی اُس چھڑی کو حجرِ اسود سے لگا کر بوسہ دیتے۔ (6)
1 ۔ پ۲، البقرہ: ۱۵۸.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الحج، باب من طاف بالبیت ...إلخ، الحدیث: ۱۶۱۴، ج۱، ص۵۴۱.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب استحباب الرمل فی الطواف ...إلخ، الحدیث: ۱۲۶۲، ص۶۵۹.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب استحباب الرمل فی الطواف ...إلخ، الحدیث: ۱۲۶۱، ص۶۵۸.
5 ۔ ''مشکاٰۃ المصابیح'' کتاب المناسک، باب دخول مکۃ ...إلخ، الحدیث: ۲۵۶۶، ج۲، ص۸۶.
6 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب جواز الطواف علی بعیر وغیرہ ...إلخ، الحدیث: ۱۲۷۵، ص۶۶۳.
حدیث ۵: ابوداود نے ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو حجرِ اسود کی طرف متوجہ ہوئے، اُسے بوسہ دیا پھر طواف کیا پھر صفا کے پاس آئے اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اﷲ نظر آنے لگا پھر ہاتھ اُٹھا کر ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے، جب تک خُدا نے چاہا اور دُعا کی۔ (1)
حدیث ۶: اما م احمد نے عبید بن عمیر سے روایت کی، کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے پوچھا کیا وجہ ہے کہ آپ حجرِ اسود و رُکن یمانی کو بوسہ دیتے ہیں؟ جواب دیا، کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا کہ: ان کو بوسہ دینا خطاؤ ں کو گرا دیتا ہے اور میں نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو فرماتے سُنا جس نے سات پھیرے طواف کیا اس طرح کہ اس کے آداب کو ملحوظ رکھا اور دو رکعت نماز پڑھی تو یہ گردن آزاد کرنےکی مثل ہے اور میں نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو فرماتے سُنا کہ طواف میں ہر قدم کہ اُٹھاتا اور رکھتا ہے اس پر دس نیکیا ں لکھی جاتی ہیں او ردس گناہ مٹا ئے جاتے ہیں اور دس درجے بلند کیے جاتے ہیں۔'' (2) اسی کے قریب قریب ترمذی و حاکم و ابن خزیمہ وغیرہم نے بھی روایت کی۔
حدیث ۷: طبرانی کبیر میں محمد بن منکدر سے راوی، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو بیت اﷲ کا سات پھیرے طواف کرے اور اُس میں کوئی لغوبات نہ کرے تو ایسا ہے جیسے گردن آزاد کی۔'' (3)
حدیث ۸: اصبہانی عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہتے ہیں: جس نے کامل وضو کیا پھر حجرِ اسود کے پاس بوسہ دینے کو آیا وہ رحمت میں داخل ہوا، پھر جب بوسہ دیا اور یہ پڑھا
بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَرُ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
. اُسے رحمت نے ڈھانک لیا پھر جب بیت اﷲ کا طواف کیا تو ہر قدم کے بدلے ستر ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور ستر ہزار گناہ مٹا دیے جائیں گے اور ستر ہزار درجے بلند کیے جائیں گے اور اپنے گھر والوں میں ستر کی شفاعت کریگا پھر جب مقام ابراہیم پر آیا اور وہاں دو رکعت نماز ایمان کی وجہ سے اور طلب ثواب کے لیے پڑھی تو اس کے لیے اولادِ اسمٰعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کا ثواب لکھا جائیگا اور گناہوں سے ایسانکل جائے گا جیسے آج اپنی ماں سے پیدا ہوا۔ (4)
حدیث ۹: بیہقی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''بیت الحرام کے حج
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب المناسک، باب فی رفع الید إذا رأی البیت، الحدیث: ۱۸۷۲، ج۲، ص۲۵۵.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۴۴۶۲، ج۲، ص۲۰۲.
3 ۔ ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۸۴۵، ج۲۰، ص۳۶۰.
4 ۔ ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الحج، الترغیب فی الطواف ...إلخ، الحدیث: ۱۱، ج۲، ص۱۲۴.
کرنے والوں پر ہر روز اﷲ تعالیٰ ایک سو بیس رحمت نا زل فرماتا ہے، ساٹھ طواف کرنے والوں کے لیے اور چالیس نماز پڑھنے والوں کے لیے اور بیس نظر کرنے والوں کے لیے۔'' (1)
حدیث ۱۰: ابن ماجہ ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''رُکن یمانی پر ستر فرشتے موکل ہیں، جو یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ .
وہ فرشتے آمین کہتے ہیں اور جو سات پھیرے طواف کرے اور یہ پڑھتا رہے:
سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
اُس کے دس گناہ مٹا دیے جائیں گے اور دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور دس درجے بلند کیے جائیں گے اور جس نے طواف میں یہی کلام پڑھے، وہ رحمت میں اپنے پاؤں سے چل رہا ہے جیسے کوئی پانی میں پاؤں سے چلتا ہے۔'' (2)
حدیث ۱۱: ترمذی نے ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے پچاس مرتبہ طواف کیا، گناہوں سے ایسا نکل گیا جیسے آج اپنی ماں سے پیدا ہوا۔'' (3)
حدیث ۱۲: ترمذی و نسائی و دارمی انھیں سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بیت اﷲ کے گرد طواف نماز کی مثل ہے، فرق یہ کہ تم اس میں کلام کرتے ہوتوجو کلام کرے خیر کے سوا ہر گزکوئی بات نہ کہے۔'' (4)
حدیث ۱۳: امام احمد و ترمذی انھیں سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''حجرِ اسود جب جنت سے نازل ہوا دودھ سے زیادہ سفید تھا، بنی آدم کی خطاؤں نے اُسے سیاہ کر دیا۔'' (5)
حدیث ۱۴: ترمذی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا کہ: ''حجرِ اسود و مقامِ ابراہیم جنت کے یا قوت ہیں، اﷲ (عزوجل) نے ان کے نور کو مٹا دیا اور اگر نہ مٹاتا تو جو کچھ مشرق و مغرب کے درمیان ہے سب کو روشن کر دیتے۔'' (6)
1 ۔ ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الحج، الترغیب فی الطواف ...إلخ، الحدیث:۶، ج۲، ص۱۲۳.
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المناسک، باب فضل الطواف، الحدیث: ۲۹۵۷، ج۳، ص۴۳۹.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الحج، باب ماجاء فی فضل الطواف، الحدیث: ۸۶۷، ج۲، ص۲۴۴.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الحج، باب ماجاء فی الکلام فی الطواف، الحدیث: ۹۶۲، ج۲، ص۲۸۶.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الحج، باب ماجاء فی فضل الحجر الاسود و الرکن و المقام، الحدیث: ۸۷۸، ج۲، ص۲۴۸.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الحج، باب ماجاء فی فضل الحجر الاسود و الرکن و المقام، الحدیث: ۸۷۹، ج۲، ص۲۴۸.
حدیث ۱۵: ترمذی وابن ماجہ و دارمی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''واﷲ! حجرِاسود کو قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اس طرح اٹھائے گا کہ اس کی آنکھیں ہوں گی جن سے دیکھے گا اور زبان ہوگی جس سے کلام کریگا، جس نے حق کے ساتھ اُسے بوسہ دیا ہے اُس کے لیے شہادت دے گا۔'' (1)
مسجد الحرام شریف میں داخل ہونے تک کے احکام معلوم ہوچکے اب کہ مسجدالحرام شریف میں داخل ہوا اگر جماعت قائم ہو یا نماز فر ض یا وتر یا نماز جنازہ یا سنت مؤکدہ کے فوت کا خوف ہو تو پہلے اُن کو ادا کرے، ورنہ سب کاموں سے پہلے طواف میں مشغول ہو۔ کعبہ شمع ہے اور تو پروانہ ،دیکھتا نہیں کہ پروانہ شمع کے گرد کس طرح قربان ہوتا ہے تُو بھی اس شمع پر قربان ہونے کے لیے مستعد ہوجا۔ پہلے اس مقامِ کریم کا نقشہ دیکھیے کہ جو بات کہی جائے اچھی طرح ذہن میں آجائے۔
.gif)
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الحج، باب ماجاء فی الحجر الاسود، الحدیث: ۹۶۳، ج۲، ص۲۸۶.
مسجد الحرام ایک گول وسیع احاطہ ہے، جس کے کنارے کنارے بکثرت دالان اور آنے جانے کے دروازے ہیں اور بیچ میں مطاف (طواف کرنے کی جگہ)۔
مطاف ایک گول دائرہ ہے جس میں سنگ مرمر بچھا ہے، اس کے بیچ میں کعبہ معظمہ ہے۔ حضور ِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد الحرام اسی قدر تھی۔ اسی کی حد پر باب السّلام شرقی قدیم دروازہ واقع ہے۔
رکن مکان کا گوشہ جہاں اُس کی دو دیواریں ملتی ہیں، جسے زاویہ کہتے ہیں۔ اس طرح ا ح ب ا ح ۔ح ب دونوں دیواریں مقام ح پر ملی ہیں یہ رکن و زاویہ ہے، کعبہ معظمہ کے چار رکن ہیں۔
رُکنِ اسود جنوب و شرق (1) کے گوشہ میں اسی میں زمین سے اونچا سنگ اسود شریف نصب ہے۔
رُکنِ عراقی شرق و شمال کے گوشہ میں۔ دروازہ کعبہ انھیں دو رکنوں کے بیچ کی شرقی دیوار میں زمین سے بہت بلند ہے۔
ملتزم اسی شرقی دیوار کا وہ ٹکڑا جو رکن اسود سے دروازہ کعبہ تک ہے۔
رُکنِ شامی اوتر(2) اور پچھم (3)کے گوشہ میں۔
میزابِ رحمت سونے کا پر نالہ کہ رکن عراقی و شامی کی بیچ کی شمالی دیوار پر چھت میں نصب ہے۔
حطیم بھی اسی شمالی دیوارکی طرف ہے۔ یہ زمین(4) کعبہ معظمہہ کی تھی۔ زمانہ جاہلیت میں جب قریش نے کعبہ ازسر نو تعمیر کیا، کمی خرچ کے باعث اتنی زمین کعبہ معظمہ سے باہرچھوڑ دی۔ اس کے گرد اگرد ایک قوسی انداز کی چھوٹی سی دیوار کھینچ دی اور دونوں طرف آمدورفت کا دروازہ ہے اور یہ مسلمانوں کی خوش نصیبی ہے اس میں داخل ہونا کعبہ معظمہ ہی میں داخل ہونا ہے جو بحمد اﷲ تعالیٰ بے تکلف نصیب ہوتا ہے۔
رُکنِ یمانی پچھم اور دکھن(5) کے گوشہ میں۔
مُستجار رُکنِ یمانی و شامی کے بیچ کی غربی دیوار کا وہ ٹکڑا جو ملتزم کے مقابل ہے۔
مُستجاب رُکنِ یمانی و رُکنِ اسود کے بیچ میں جو دیوار جنوبی ہے، یہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہنے کے لیے مقرر ہیں اس لیے اس کا نام مستجاب رکھا گیا۔
1 ۔جنوب اور مشرق۔ 2 ۔شمال۔
3 ۔مغرب ۔ وہ سمت جدھر سورج ڈوبتا ہے۔
4 ۔جنوباً شمالاً چھ ہاتھ کعبہ کی زمین ہے اور بعض کہتے ہیں سات ہاتھ اور بعض کا خیال ہے کہ سارا حطیم۔ ۱۲
5 ۔جنوب کی سمت۔
مقامِ ابراھیم دروازہ کعبہ کے سامنے ایک قبہ میں وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر سید نا ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلاۃ والسلام نے کعبہ بنایا تھا، ان کے قدمِ پاک کا اس پر نشان(1) ہوگیا جو اب تک موجود ہے اورجسے اﷲ تعالیٰ نے ایٰتٌ بَیِّنٰتٌ اللہ کی کھلی نشانیاں فرمایا۔
زَم زَم شریف کا قبہ مقام ابراہیم سے جنوب کو مسجد شریف ہی میں واقع ہے اور اس قبہ کے اندر زَم زَم کا کوآں ہے۔
بابُ الصفا مسجد شریف کے جنوبی دروازوں میں ایک دروازہ ہے جس سے نکل کر سامنے کوہِ صفا ہے۔
صفا کعبہ معظمہ سے جنوب کو ہے یہاں زمانہ قدیم میں ایک پہاڑی تھی کہ زمین میں چھپ گئی ہے۔ اب وہاں قبلہ رُخ ایک دالان سابنا ہے اور چڑھنے کی سیڑھیاں۔
مروہ دوسری پہاڑی صفا سے پورب کو تھی یہاں بھی اب قبلہ رخ دالان سا ہے اور سیڑھیاں، صفا سے مروہ تک جو فاصلہ ہے اب یہاں بازار ہے۔ صفا سے چلتے ہوئے دہنے ہاتھ کو دُکانیں اور بائیں ہاتھ کو احاطہ مسجد الحرام ہے۔
مِیلین اَخضرین اس فاصلہ کے وسط میں جو صفا سے مروہ تک ہے دیوار حرم شریف میں دو سبز میل نصب ہیں جیسے میل کے شروع میں پتھر لگا ہوتا ہے۔
مسعیٰ وہ فاصلہ کہ ان دونوں میلوں کے بیچ میں ہے۔ یہ سب صورتیں رسالہ میں بار بار دیکھ کر خوب ذہن نشین کرلیجئے کہ وہاں پہنچ کر پوچھنے کی حاجت نہ ہو۔ ناواقف آدمی اندھے کی طرح کام کرتا ہے اور جو سمجھ لیاوہ انکھیارا ہے، اب اپنے رب عزوجل کا نام پاک لے کر طواف کیجئے۔
(۱) جب حجراسود کے قریب پہنچے تو یہ دعا پڑھے:
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ صَدَقَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٌ . (2)
ـ1 ۔ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قدم پاک کے نشان میں بے قدرے ،بے ادب لوگ کلام کرتے ہیں یہ معجزہ ابراہیمی ہزاروں برس سے محفوظ ہے اس سے بھی انکار کر دیں ۔۱۲
2 ۔ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنا وعدہ سچا کیا اور اپنے بندہ کی مدد کی اور تنہا اسی نے کفار کی جماعتوں کو شکست دی، اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اُسی کے لیے ملک ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔۱۲
(۲) شروع طواف سے پہلے مرد اضطباع کرلے یعنی چادر کو دہنی بغل کے نیچے سے نکالے کہ دہنا مونڈھا کھلا رہے اور دونوں کنارے بائیں مونڈھے پر ڈال دے۔
(۳) اب کعبہ کی طرف مونھ کرکے حجرِا سود کی دہنی طرف رُکنِ یمانی کی جانب سنگِ اسود کے قریب یوں کھڑا ہو کہ تمام پتھر اپنے دہنے ہاتھ کو رہے پھر طواف کی نیت کرے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ طَوَافَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ . (1)
(۴) اس نیت کے بعد کعبہ کو مونھ کئے اپنی دہنی جانب چلو، جب سنگِ اسود کے مقابل ہو (اور یہ بات ادنیٰ حرکت میں حاصل ہو جائے گی) کانوں تک ہاتھ اس طرح اُٹھا ؤ کہ ہتھیلیاں حجرِاسود کی طرف رہیں اور کہو
بِسْمِ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاللہُ اَکْبَرُ وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ ؕ
اور نیت کے وقت ہاتھ نہ اُٹھاؤ جیسے بعض مطوف کرتے ہیں کہ یہ بدعت ہے۔
(۵) میسر ہوسکے تو حجرِ اسود پر دونوں ہتھیلیاں اور اُن کے بیچ میں مونھ رکھ کر یوں بوسہ دو کہ آوازنہ پیدا ہو، تین بار ایسا ہی کرو یہ نصیب ہو تو کمالِ سعادت ہے۔ یقینا تمھارے محبوب و مولےٰ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے بوسہ دیا اور رُوئے اقدس اس پر رکھا۔ زہے خوش نصیبی کہ تمہارا مونھ وہاں تک پہنچے اور ہجوم کے سبب نہ ہوسکے تو نہ اَوروں کو ایذا دو، نہ آپ دبو کُچلو بلکہ اس کے عوض ہاتھ سے چُھو کر اسے چوم لو اور ہاتھ نہ پہنچے تو لکڑی سے چُھو کر اسے چوم لو اور یہ بھی نہ ہوسکے تو ہاتھوں سے اُس کی طرف اشارہ کرکے انھیں بوسہ دے لو، محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مونھ رکھنے کی جگہ پر نگاہیں پڑ رہی ہیں یہی کیا کم ہے اور حجر کو بوسہ دینے یا ہا تھ یا لکڑی سے چُھو کر چوم لینے یا اشارہ کرکے ہاتھوں کو بوسہ دینے کو استلام کہتے ہیں۔ استلام کے وقت یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَطَھِّرْلِیْ قَلْبِیْ وَاشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ویَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ . (2)
حدیث میں ہے، ''روزِ قیامت یہ پتھر اُٹھا یا جائے گا، اس کی آنکھیں ہو ں گی جن سے دیکھے گا، زبان ہوگی جس سے کلام کریگا، جس نے حق کے ساتھ اُسکا بوسہ دیا اور استلام کیا اُس کے لیے گواہی دے گا۔''
(۶) اَللّٰھُمَّ اِیْمَانًام بِکَ وَتَصْدِ یْقًام بِکِتَابِکَ وَوَفَائًم بِعَھْدِکَ وَاتِّبَاعًا لِّسُنَّۃِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی
1 ۔ اے اﷲ (عزوجل)! میں تیرے عزت والے گھر کا طواف کرنا چاہتا ہوں اس کو تو میرے لیے آسان کر اور اس کو مجھ سے قبول کر۔۱۲
2 ۔ الٰہی! تو میرے گناہ بخش دے اور میرے دل کو پاک کر اور میرے سینہ کو کھول دے اور میرے کام کو آسان کر اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جن کو تو نے عافیت دی۔ ۱۲
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اٰمَنْتُ بِاللہِ وَکَفَرْتُ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ . (1)
کہتے ہوئے دروازہ کعبہ کی طرف بڑھو، جب حجر مبارک کے سامنے سے گزر جاؤ سیدھے ہو لو۔ خانہ کعبہ کو اپنے بائیں ہاتھ پر لے کر یوں چلو کہ کسی کو ایذا نہ دو۔
(۷) پہلے تین پھیروں میں مرد رمل کرتا چلے یعنی جلد جلد چھوٹے قدم رکھتا، شانے ہلاتا جیسے قوی و بہادر لوگ چلتے ہیں، نہ کُودتا نہ دوڑتا، جہاں زیادہ ہجوم ہو جائے اور رمَل میں اپنی یا دوسرے کی ایذا ہو تو اتنی دیر رمَل ترک کرے مگر رَمَل کی خاطر رُکے نہیں بلکہ طواف میں مشغول رہے پھر جب موقع مل جائے، تو جتنی دیر تک کے لیے ملے رَمَل کے ساتھ طواف کرے۔
(۸) طواف میں جس قدر خانہ کعبہ سے نزدیک ہو بہتر ہے مگر نہ اتنا کہ پشتہ دیوار پر جسم لگے یا کپڑا اور نزدیکی میں کثرت ہجوم کے سبب رمل نہ ہوسکے تو دُوری بہتر ہے۔
(۹) جب ملتزم کے سامنے آئے یہ دُعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ ھٰذَا الْبَیْتُ بَیْتُکَ وَالْحَرَمُ حَرَمُکَ وَالْاَمْنُ اَمْنُکَ وھٰذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِکَ مِنَ النَّارِ فَاَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ اَللّٰھُمَّ قَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَـنِیْ وَبارِکْ لِیْ فِیْہِ وَاخْلُفْ عَلٰی کُلِّ غَائِبَۃٍم بِخَیْرٍ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْیئٍ قَدِیْرٌ . (2)
اورجب رُکنِ عراقی کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّکِّ وَالشِّرْکِ وَالشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوْءِ الْاَخْلَاقِ وَسُوْءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ وَالْوَلَدِ . (3)
1 ۔ اے اﷲ(عزوجل)! تجھ پر ایمان لاتے ہوئے اور تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے اور تیرے عہد کو پورا کرتے ہوئے اور تیرے نبی محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا اتباع کرتے ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں، جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اورگواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اﷲ (عزوجل) پرمیں ایمان لایا اور بُت اور شیطان سے میں نے انکار کیا۔۱۲
2 ۔ اے اﷲ (عزوجل)! یہ گھر تیرا گھر ہے اور حرم تیرا حرم ہے اور ا من تیری ہی امن ہے اور جہنم سے تیری پناہ مانگنے والے کی یہ جگہ ہے تو مجھ کو جہنم سے پناہ دے۔ اے اﷲ (عزوجل)! جو تو نے مجھ کو دیا مجھے اس پر قانع کردے اور میرے لیے اس میں برکت دے اور ہر غائب پر خیر کے ساتھ تو خلیفہ ہو جا۔ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں، جو اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اوراسی کے لیے ملک ہے، اُسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔۱۲
3 ۔ اے اﷲ (عزوجل)! میں تیری پناہ مانگتا ہوں شک اور شرک اور اختلاف و نفاق سے اور مال و اہل و اولاد میں واپس ہو کر بُری بات دیکھنے سے۔۱۲
اور جب میزابِ رحمت کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اَظِلَّنِیْ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِکَ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّکَ وَلَا بَاقِیَ اِلَّا وَجْھُکَ وَاسْقِنِیْ مِنْ حَوْضِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم شَرْبَۃً ھَنْیئَۃً لَّا اَظْمَأُ بَعْدَھَا اَبَدًا (1)
اور جب رُکنِ شامی کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ حَجًّا مَّبْرُوْرًا وَّسَعْیًا مَّشْکُوْرًا وّذَنْـبًام مَّغْفُوْرًا وَّتِجَارَۃً لَّنْ تَبُوْرَ یَا عَالِمَ مَا فِی الصُّدُوْرِ اَخْرِجْنِیْ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ. (2)
(۱۰) جب رُکنِ یمانی کے پاس آؤ تو اسے دونوں ہاتھ یا دہنے سے تبرکاً چھوؤ، نہ صرف بائیں سے اور چاہو تو اُسے بوسہ بھی دو اور نہ ہوسکے تو یہاں لکڑی سے چھونا یا اشارہ کرکے ہاتھ چومنا نہیں اور یہ دعا پڑھو:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ.
اور رُکنِ شامی یا عراقی کو چھونا یا بوسہ دینا کچھ نہیں۔
(۱۱) جب اس سے بڑھو تو یہ مُستجاب ہے جہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہیں گے وہی دعائے جامع پڑھو ، یا
رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
یا اپنے اور سب احباب ومسلمین اور اس حقیر ذلیل کی نیت سے صرف درود شریف پڑھے کہ یہ کافی و وافی ہے۔ دعائیں یاد نہ ہوں تو وہ اختیار کرے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سچے وعدہ سے تمام دعاؤ ں سے بہتر و افضل ہے یعنی یہاں اور تمام مواقع میں اپنے لیے دعا کے بدلے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود بھیجے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ایسا کریگا تو اﷲ (عزوجل) تیرے سب کام بنا دے گا اورتیرے گناہ معاف فرمادے گا۔'' (3)
(۱۲) طواف میں دعایا درود شریف پڑھنے کے لیے رکو نہیں بلکہ چلتے میں پڑھو۔
(۱۳) دُعا ودرود چلا چلا کر نہ پڑھو جیسے مطوف پڑھایا کرتے ہیں بلکہ آہستہ پڑھو اس قدر کہ اپنے کان تک آواز آئے۔
1 ۔الٰہی! تو مجھ کو اپنے عرش کے سایہ میں رکھ، جس دن تیرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں اور تیری ذات کے سوا کوئی باقی نہیں اور اپنے نبی محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے حوض سے مجھے خوش گوار پانی پلا کہ اس کے بعد کبھی پیاس نہ لگے۔۱۲
2 ۔اے اﷲ (عزوجل) !تواس کو حجمبرور کر اور سعی مشکور کر اور گناہ کو بخش دے اور اُس کو وہ تجارت کردے جو ہلاک نہ ہو، اے سینوں کی باتیں جاننے والے مجھ کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکال۔۱۲
3 ۔''جامع الترمذی''، ابواب صفۃ القیامۃ، ۲۳۔باب، الحدیث: ۲۴۶۵، ج۴، ص۲۰۷.
(۱۴) اب جو چاروں طرف گھوم کر حجرِ اسود کے پاس پہنچا، یہ ایک پھیرا ہوا اور اس وقت بھی حجرِ اسود کو بوسہ دے یا وہی طریقے برتے بلکہ ہر پھیرے کے ختم پر یہ کرے۔ یوہیں سات پھیرے کرے مگر باقی پھیروں میں نیت کرنا نہیں کہ نیت تو شروع میں ہو چکی اور رمل صرف اگلے تین پھیروں میں ہے، باقی چارمیں آہستہ بغیر شانہ ہلائے معمولی چال چلے۔
(۱۵) جب ساتوں پھیرے پورے ہو جائیں آخر میں پھر حجرِ اسود کو بوسہ دے یا وہی طر یقے ہاتھ یا لکڑی کے برتے اس طواف کو طواف قُدوم کہتے ہیں یعنی حاضری دربار کا مجرا۔ یہ باہر والوں کے لیے مسنون ہے یعنی ان کے لیے جو میقات کے باہر سے آئے ہیں، مکہ والوں یا میقات کے اندر کے رہنے والوں کے لیے یہ طواف نہیں ہاں اگر مکہ والا میقات سے باہر گیا تو اسے بھی طوافِ قدوم مسنون ہے۔
مسئلہ ۱: طواف میں نیت فرض ہے، بغیر نیت طواف نہیں مگر یہ شرط نہیں کہ کسی معین طواف کی نیت کرے بلکہ ہر طواف مطلق نیتِ طواف سے ادا ہوجاتا ہے بلکہ جس طواف کو کسی وقت میں معین کردیاگیا ہے، اگر اس وقت کسی دوسرے طواف کی نیت سے کیا تو یہ دوسرا نہ ہوگا بلکہ وہ ہوگا جو معین ہے۔ مثلاً عمرہ کا احرام باندھ کر باہر سے آیا اور طواف کیا تویہ عمرہ کا طواف ہے اگرچہ نیت میں یہ نہ ہو۔ یوہیں حج کا احرام باندھ کر باہر والا آیا اور طواف کیا تو طوافِ قدوم ہے یا قِران کا احرام باندھ کر آیا اور دو طواف کیے تو پہلا عمرہ کا ہے، دوسرا طوافِ قدوم یا دسویں تا ریخ کو طواف کیا تو طوافِ زیارت ہے، اگرچہ ان سب میں نیت کسی اور کی ہو۔ (1) (منسک)
مسئلہ ۲: یہ طریقہ طواف کا جو مذکورہوا اگر کسی نے اس کے خلاف طواف کیا مثلاً بائیں طرف سے شروع کیا کہ کعبہ معظمہ طواف کرنے میں سیدھے ہاتھ کو رہا یا کعبہ معظمہ کو مونھ یا پیٹھ کر کے آڑا آڑا طواف کیا یا حجرِ اسود سے شروع نہ کیا تو جب تک مکہ معظمہ میں ہے اس طواف کا اعادہ کرے اور اگراعادہ نہ کیا اور وہاں سے چلا آیا تو دَم واجب ہے۔ یوہیں حطیم کے اندر سے طواف کرنا ناجائز ہے لہٰذا اس کا بھی اعادہ کرے۔ چاہیے تو یہ کہ پورے ہی طواف کا اعادہ کرے اور اگر صرف حطیم کا سات بار طواف کر لیا کہ رُکنِ عراقی سے رُکنِ شامی تک حطیم کے باہر باہر گیا اور واپس آیا، یوہیں سات بار کر لیا تو بھی کافی ہے اور اس صورت میں افضل یہ ہے کہ حطیم کے باہر باہر واپس آئے اور اندر سے واپس ہوا جب بھی جائز ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
ـ1 ۔ ''المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط''، (انواع الاطوفۃ و احکامہا)، ص۱۴۵.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في دخول مکۃ، ج۳، ص۵۷۹.
مسئلہ ۳: طواف سات پھیروں پر ختم ہوگیا، اب اگر آٹھواں پھیرا جان بوجھ کر قصداً شروع کر دیا تو یہ ایک جدید طواف شروع ہوا، اسے بھی اب سات پھیرے کرکے ختم کرے۔ یوہیں اگرمحض وہم و وسوسہ کی بنا پر آٹھواں پھیرا شروع کیا کہ شاید ابھی چھ ہی ہوئے ہوں جب بھی اسے سات پھیرے کرکے ختم کرے۔ ہاں اگر اس آٹھویں کو ساتواں گمان کیا بعد میں معلوم ہوا کہ سات ہو چکے ہیں تو اسی پر ختم کردے سات پورے کرنے کی ضرورت نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: طواف کے پھیروں میں شک واقع ہو ا کہ کتنے ہوئے تو اگر طواف فرض یا واجب ہے تو اب سے سات پھیرے کرے اور اگر کسی ایک عادل شخص نے بتا دیا کہ اتنے پھیرے ہوئے تو اُس کے قول پر عمل کرلینا بہتر ہے اور دو عادل نے بتایا تو ان کے کہے پر ضرور عمل کرے اور اگر طواف فرض یا واجب نہیں ہے تو غالب گمان پر عمل کرے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: طوافِ کعبہ معظمہ مسجدالحرام شریف کے اندر ہوگا اگر مسجد کے باہر سے طواف کیا نہ ہوا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۶: جو ایسا بیمار ہے کہ خود طواف نہیں کرسکتا اور سو رہا ہے اُس کے ہمراہیوں نے طواف کرایا، اگر سونے سے پہلے حکم دیا تھا تو صحیح ہے ورنہ نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: مریض نے اپنے ساتھیوں سے کہا، مزدور لا کر مجھے طواف کرا دو پھر سوگیا، اگر فوراً مزدور لاکر طواف کرا دیا تو ہو گیا اور اگر دوسرے کام میں لگ گئے، دیر میں مزدورلائے اور سوتے میں طواف کرایا تو نہ ہوا مگر مزدوری بہر حال لازم ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: مریض کو طواف کرایا اور اپنے طواف کی بھی نیت ہے تو دونوں کے طواف ہوگئے اگرچہ دونوں کے دو قسم کے طواف ہوں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: طواف کرتے کرتے نمازِ جنازہ یا نمازِ فرض یا نیا وضو کرنے کے لیے چلا گیا تو واپس آکر اُسی پہلے طواف پر بِنا کرے یعنی جتنے پھیرے رہ گئے ہوں انھیں کرلے طواف پورا ہوجائے گا، سرے سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں اور سرے
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في طواف القدوم، ج۳، ص۵۸۱.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في طواف القدوم، ج۳، ص۵۸۲.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، مطلب في طواف القدوم، ج۳، ص۵۸۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، فصل في المتفرقات، ج۱، ص۲۳۶.
5 ۔ المرجع السابق۔
6 ۔المرجع السابق۔
سے کیا جب بھی حرج نہیں اور اس صورت میں اس پہلے کو پورا کرنا ضرور نہیں اور بِنا کی صورت میں جہاں سے چھوڑا تھا، وہیں سے شروع کرے حجرِ اسود سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ سب اس وقت ہے جب کہ پہلے چار پھیرے سے کم کیے تھے اوراگر چار پھیرے یا زیادہ کیے تھے تو بِنا ہی کرے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: طواف کررہا تھا کہ جماعت قائم ہوئی اور جانتاہے کہ پھیرا پورا کریگا تو رکعت جاتی رہے گی، یا جنازہ آگیا ہے انتظار نہ ہوگا تو وہیں سے چھوڑ کر نماز میں شریک ہو جائے اور بلا ضرورت چھوڑکر چلا جانا مکروہ ہے مگر طواف باطل نہ ہوگا یعنی آکر پورا کرلے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: معذور طواف کررہا ہے چار پھیروں کے بعد وقتِ نماز جاتا رہا تو اب اسے حکم ہے کہ وضوکرکے طواف کرے کیونکہ وقتِ نماز خارج ہونے سے معذور کا وضو جاتا رہتا ہے اور بغیر وضو طواف حرام اب وضو کرنے کے بعد جو باقی ہے پورا کرے اور چار پھیروں سے پہلے وقت ختم ہوگیا جب بھی وضو کرکے باقی کو پورا کرے اور اس صورت میں افضل یہ ہے کہ سرے سے کرے۔ (3) (منسک)
مسئلہ ۱۲: رَمَل صرف تین پہلے پھیروں میں سنت ہے ساتوں میں کرنا مکروہ لہٰذا اگر پہلے میں نہ کیا تو صرف دوسرے اور تیسرے میں کرے اور پہلے تین میں نہ کیا تو باقی چار میں نہ کرے ، اگر بھیڑ کی وجہ سے رَمَل کا موقع نہ ملے تو رَمَل کی خاطر نہ رکے، بلا رَمَل طواف کرلے اور جہاں جہاں موقع ہاتھ آئے اُتنی دور رمل کرلے اور اگر ابھی شروع نہیں کیا ہے اور جانتا ہے کہ بھیڑ کی وجہ سے رَمَل نہ کرسکے گا اور یہ بھی معلوم ہے کہ ٹھہرنے سے موقع مل جائے گا تو انتظار کرے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: رَمَل اس طواف میں سنت ہے جس کے بعد سعی ہو، لہٰذا اگر طوافِ قدوم کے بعد کی سعی طوافِ زیارت تک مؤخر کرے تو طوافِ قدوم میں رَمَل نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: طواف کے ساتوں پھیروں میں اِضطباع سنت ہے اور طواف کے بعد اِضطباع نہ کرے، یہاں تک کہ طواف کے بعد کی نماز میں اگر اِضطباع کیا تو مکروہ ہے اور اِضطباع صرف اُسی طواف میں ہے جس کے بعد سعی ہو اور اگر طواف
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في طواف القدوم، ج۳، ص۵۸۲.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في طواف القدوم، ج۳، ص۵۸۲.
3 ۔ ''المسلک المتقسط''، (انواع الاطوفۃ و احکامہا، فصل فی مسائل شتی)، ص۱۶۷.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في طواف القدوم، ج۳، ص۵۸۳.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۲۶.
کے بعد سعی نہ ہو تو اِضطباع بھی نہیں۔ (1) (منسک)
میں نے بعض مطوف کو دیکھا کہ حجّاج کو وقتِ احرام سے ہدایت کرتے ہیں کہ اِضطباع کیے رہیں، یہاں تک کہ نماز احرام میں اِضطباع کیے ہوئے تھے حالانکہ نماز میں مونڈھا کھلا رہنا مکروہ ہے۔
مسئلہ ۱۵: طواف کی حالت میں خصوصیت کے ساتھ ایسی باتوں سے پرہیز رکھے جنھیں شرعِ مطہر پسند نہیں کرتی۔ امرد اور عورتوں کی طرف بُری نگاہ نہ کرے، کسی میں اگر کچھ عیب ہو یا وہ خراب حالت میں ہو تو نظرِ حقارت سے اُسے نہ دیکھے بلکہ اُسے بھی نظرِ حقارت سے نہ دیکھے، جو اپنی نادانی کے سبب ارکان ٹھیک ادا نہیں کرتا بلکہ ایسے کو نہایت نرمی کے ساتھ سمجھا دے۔
(۱۶) طواف کے بعد مقامِ ابراھیم میں آکر آیہ کریمہ
(وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّیؕ ) (2)
پڑھ کر دو رکعت طواف پڑھے اور یہ نماز واجب ہے پہلی میں قُلْ یَادوسری میں قُلْ ھُوَ اللہ پڑھے بشرطیکہ وقتِ کراہت مثلاً طلوع صبح سے بلندی آفتاب تک یا دوپہر یا نمازِ عصر کے بعد غروب تک نہ ہو، ورنہ وقتِ کراہت نکل جانے پر پڑھے۔ حدیث میں ہے: ''جو مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھے، اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور قیامت کے دن امن والوں میں محشور ہوگا۔'' (3) یہ رکعتیں پڑھ کر دعا مانگے۔ یہاں حدیث میں ایک دعا ارشاد ہوئی، جس کے فائدوں کی عظمت اس کا لکھنا ہی چاہتی ہے۔
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَانِیَتِیْ فَاقْبَلْ مَعْذِرَتِیْ وَتَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَاَعْطِنِیْ سُؤْلِیْ وَتَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ اِیْمَانًا یُّـبَاشِرُ قَلْبِیْ وَیَقِیْنًا صَادِقاً حَتّٰی اَعْلَمَ اَنَّـہٗ لَا یُصِیْبُنِیْ اِلَّا مَا کَتَبْتَ لِیْ وَرِضًی مِّنَ الْمَعِیْشَۃِ بِمَا قَسَمْتَ لِیْ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ . (4)
1 ۔ المسلک المتقسط''،( فصل فی صفۃ الشروع فی الطواف)، ص۱۲۹.
2 ۔پ۱، البقرہ: ۲۵۔ ترجمہ:اور مقام ابراہیم سے نماز کی جگہ بناؤ۔
3 ۔
4 ۔اے اﷲ (عزوجل)! تو میرے پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے، تو میری معذرت کو قبول کر اور تو میری حاجت کو جانتا ہے، میرا سوال مجھ کو عطا کر اور جو کچھ میرے نفس میں ہے تو اسے جانتا ہے تو میرے گناہوں کو بخش دے۔ اے اﷲ (عزوجل)! میں تجھ سے اُس ایمان کا سوال کرتا ہوں جو میرے قلب میں سرایت کرجائے اور یقین صادق مانگتا ہوں تاکہ میں جان لوں کہ مجھے وہی پہنچے گا جو تو نے میرے لیے لکھا ہے اور جو کچھ تو نے میری قسمت میں کیا ہے اُس پر راضی رہوں، اے سب مہر بانوں سے زیادہ مہربان!۔ ۱۲
حدیث میں ہے، اﷲ عزوجل فرماتا ہے: ''جو یہ دعا کریگا میں اس کی خطا بخش دوں گا، غم دور کروں گا، محتاجی اُس سے نکال لوں گا، ہر تاجرسے بڑھ کر اس کی تجارت رکھوں گا، دنیا ناچار و مجبور اُس کے پاس آئے گی اگرچہ وہ اُسے نہ چاہے۔'' (1) اس مقام پر بعض اور دعائیں مذکور ہیں مثلاً
اَللّٰھُمَّ اِنَّ ھٰذَا بَلَدُکَ الْحَرَامُ وَ مَسْجِدُکَ الْحَرَامُ وَبَیْتُکَ الْحَرَامُ وَ اَنَا عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ اَمَتِکَ اَتَیْتُکَ بِذُنُوْبٍ کَثِیْرَۃٍ وَّخَطَایَا جُمَّۃٍ وَّ اَعْمَالٍ سَیِّئَۃٍ وَّھٰذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِکَ مِنَ النَّارِ اَللّٰھُمَّ عَافِنَا وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ . (2)
مسئلہ ۱۶: اگر بھیڑ کی وجہ سے مقامِ ابراہیم میں نماز نہ پڑھ سکے تو مسجد شریف میں کسی اور جگہ پڑھ لے اور مسجد الحرام کے علاوہ کہیں اور پڑھی جب بھی ہو جائے گی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: مقامِ ابراہیم کے بعد اس نمازکے لیے سب سے افضل کعبہ معظمہ کے اند ر پڑھنا ہے پھر حطیم میں میزابِ رحمت کے نیچے اس کے بعد حطیم میں کسی اور جگہ پھر کعبہ معظمہ سے قریب تر جگہ میں پھر مسجدالحرام میں کسی جگہ پھر حرم مکّہ کے اندر جہاں بھی ہو۔ (4) (لباب)
مسئلہ ۱۸: سنت یہ ہے کہ وقتِ کراہت نہ ہو تو طواف کے بعد فوراً نماز پڑھے، بیچ میں فاصلہ نہ ہو اور اگر نہ پڑھی تو عمر بھر میں جب پڑھے گا ،ادا ہی ہے قضا نہیں مگر بُرا کیا کہ سنت فوت ہوئی۔ (5) (منسک)
مسئلہ ۱۹: فرض نماز ان رکعتوں کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔ (6) (عالمگیری)
(۱۷) نماز و دعا سے فارغ ہو کرملتزم کے پاس جائے اور قریبِ حجر اُس سے لپٹے اور اپنا سینہ اور پیٹ اور کبھی دہنا
1 ۔ ''المسلک المتقسط''، ص۱۳۸.''تاریخ دمشق''لابن عساکر،ج۷، ص۴۳۱.''الفتاوی الرضویۃ''،ج۱۰،ص۷۴۱.
2 ۔اے اﷲ (عزوجل)! یہ تیرا عزت والا شہر ہے اور تیری عزّت والی مسجد ہے اور تیرا عزّت والا گھر ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندہ اور تیری باندی کا بیٹا ہوں بہت سے گناہوں اور بڑی خطاؤں اور بُرے اعمال کے ساتھ تیرے حضور حاضر ہوا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ مانگنے والے کی یہ جگہ ہے۔ اے اﷲ (عزوجل)! تو ہمیں عافیت دے اور ہم سے معاف کر اور ہم کو بخش دے، بیشک تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔۱۲
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس، في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۲۶.
4 ۔ ''لباب المناسک '' للسندی، ص ۱۵۶.
5 ۔ ''المسلک المتقسط''، ( فصل في رکعتي الطواف)، ص۱۵۵.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۲۶.
رخسارہ اور کبھی بایا ں اور کبھی رخسارا اس پر رکھے اور دونوں ہاتھ سر سے اونچے کرکے دیوار پر پھیلائے یا داہنا ہاتھ دروازہ کعبہ اور بایاں حجرِ اسود کی طرف پھیلائے، یہاں کی دعا یہ ہے:
یَا وَاجِدُ یَا مَاجِدُ لَا تُزِلْ عَنِّیْ نِعْمَۃً اَنْعَمْتَھَا عَلَیَّ . (1)
حدیث میں فرمایا: ''جب میں چاہتا ہوں جبریل کو دیکھتا ہوں کہ مُلتَزَم سے لپٹے ہوئے یہ دعا کر رہے ہیں۔'' (2) نہایت خضوع و خشوع و عاجزی و انکسار کے ساتھ دعا کرے اور درود شریف بھی پڑھے اور اس مقام کی ایک دعا یہ بھی ہے:
اِلٰھِیْ وَقَفْتُ بِبَابِکَ وَالْتَزَمْتُ بِاَعْتَابِکَ اَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَاَخْشٰی عِقَابَکَ اَللّٰھُمَّ حَرِّمْ شَعْرِیْ وَجَسَدِیْ عَلَی النَّارِ اَللّٰھُمَّ کَمَا صُنْتَ وَجْھِیْ عَنِ السُّجُوْدِ لِغَیْرِکَ فَصُنْ وَجْھِیْ عَنْ مَسْأَلَۃِ غَیْرِکَ اَللّٰھُمَّ یَا رَبَّ الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ اَعْتِقْ رِقَابَنَا وَرِقَابَ اٰبَآئِنَا وَاُمَّھَاتِنَا مِنَ النَّارِ
یَا کَرِیْمُ یَا غَفَّارُ یَا عَزِیْزُ یَا جَبَّارُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ اَعْتِقْ رِقَابَنَا مِنَ النَّارِ وَاَعِذْنَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ وَاکْفِنَا کُلَّ سُوْۤءٍ وَّقَنِّعْنَا بِمَا رَزَقْتَنَا وَبَارِکْ لَنَا فِیْمَا اَعْطَیْتَنَا اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ اَکْرَمِ وَفْدِکَ عَلَیْکَ اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلٰی نِعْمَاِئکَ وَاَفْضَلُ صَلَا تِکَ عَلٰی سَیِّدِ اَنْبیَآئِکَ م وَجَمِیْعِ رُسُلِکَ وَاَصْفِیَآئِکَ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَاَوْلِیَآئِکَ . (3)
1 ۔اے قدرت والے! اے بزرگ! تو نے مجھے جو نعمت دی، اس کو مجھ سے زائل نہ کر۔۱۲
2 ۔''الفتاوی الرضویۃ''،ج۱۰،ص۷۴۲.
3 ۔الٰہی! میں تیرے دروازہ پر کھڑ ا ہوں اور تیرے آستانہ سے چپٹا ہوں تیری رحمت کا امیدوار اور تیرے عذاب سے ڈرنے والا، اے اﷲ (عزوجل) !میرے بال اور جسم کو جہنم پرحرام کردے، اے اﷲ (عزوجل) !جس طر ح تو نے میرے چہرہ کو اپنے غیر کے لیے سجدہ کرنے سے محفوظ رکھا اسی طرح اس سے محفوظ رکھ کہ تیرے غیر سے سوال کروں، اے اﷲ (عزوجل) !اے اس آزاد گھر کے مالک! تو ہماری گردنوں کو اور ہمارے باپ، دادا اور ہماری ماؤں کی گردنوں کو جہنم سے آزاد کردے۔
اے کریم! اے بخشنے والے! اے غالب! اے جبار! اے رب! تو ہم سے قبول کر، بیشک تو سننے والا، جاننے والا ہے اور ہماری توبہ قبول کر بیشک تو توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ اے اﷲ (عزوجل) !اے اس آزاد گھر کے مالک! ہماری گردنوں کو جہنم سے آزاد کر اور شیطان مردُود سے ہم کو پناہ دے اور ہر بُرائی سے ہماری کفایت کر اور جو کچھ تو نے دیا اُس پر قانع کر اور جو دیا اس میں برکت دے اور اپنے عزّت والے وفد میں ہم کو کردے، الٰہی! تیرے ہی لیے حمد ہے تیری نعمتوں پر اور افضل دُرود انبیا کے سردار پر اور تیرے تمام رسولوں اور برگزیدہ لوگوں پر اور اُن کی آل و اصحاب اور تیرے اولیاء پر۔۱۲
مسئلہ ۲۰: ملتزم کے پاس نمازِ طواف کے بعد آنا اس طواف میں ہے جس کے بعد سعی ہے اور جس کے بعد سعی نہ ہو اس میں نماز سے پہلے مُلتَزَم سے لپٹے پھر مقامِ ابراہیم کے پاس جاکر دو۲ رکعت نماز پڑھے۔ (1) (منسک)
(۱۸) پھر زم زم پر آؤ اور ہوسکے تو خود ایک ڈول کھینچو، ورنہ بھرنے والوں سے لے لو اور کعبہ کو مونھ کر کے تین سانسوں میں پیٹ بھر کر جتنا پیا جائے کھڑے ہو کر پیو، ہر بار بِسْمِ اﷲ ِسے شروع کرو اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ پر ختم اور ہر بار کعبہ معظمہ کی طرف نگاہ اُٹھا کر دیکھ لو، باقی بدن پر ڈال لو یا مونھ اور سر اور بدن پر اس سے مسح کرلو اور پیتے وقت دعا کرو کہ قبول ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''زم زم جس مرادسے پیا جائے اُسی کے لیے ہے۔'' (2) اس وقت کی دعایہ ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّرِزْقًا وَّاسِعًا وَّعَمَلاً مُّتَقَبَّلاً وَّشِفَآءً مِّنْ کُلِّ دَآءٍ . (3)
یا وہی دعا ئے جامع پڑھو اور حاضری مکہ معظمہ تک تو بارہاپینا نصیب ہوگا، کبھی قیامت کی پیاس سے بچنے کو پیو، کبھی عذاب قبر سے محفوظی کو، کبھی محبتِ رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بڑھنے کو، کبھی وسعتِ رزق، کبھی شفائے امراض، کبھی حصولِ علم وغیرہا خاص خاص مُرادوں کے لیے پیو۔
(۱۹) وہاں جب پیو پیٹ بھر کر پیو۔ حدیث میں ہے: ''ہم میں اور منافقوں میں یہ فرق ہے کہ وہ زمزم کوکھ بھر نہیں پیتے۔'' (4)
(۲۰) چاہِ زمزم کے اندر نظربھی کرو کہ بحکمِ حدیث دافعِ نفاق ہے۔ (5)
(۲۱) اب اگر کوئی عذر تکان وغیرہ کا نہ ہو تو ابھی، ورنہ آرام لے کر صفا مروہ میں سعی کے لیے پھر حجرِ اسود کے پاس آؤ اور اسی طرح تکبیر وغیرہ کہہ کر چومو اور نہ ہوسکے تو اس کی طرف مونھ کرکے
اَللہُ اَکْبَرُ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ
اور
1 ۔ ''المسلک المتقسط''، ( فصل في صفۃ الشروع في الطواف)، ص۱۳۸.
2 ۔''سنن ابن ماجۃ''، کتاب الناسک، باب الشرب من زم زم، الحدیث: ۳۰۶۲، ج۳، ص۴۹۰.
3 ۔ اے اﷲ(عزوجل)! میں تجھ سے علم نافع اور کشادہ رزق اور عمل مقبول اور ہر بیماری سے شفاکا سوال کرتا ہوں۔۱۲
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب المناسک ،باب الشرب من زمزم ، الحدیث: ۳۰۶۱، ج۳، ص۴۸۹.
5 ۔''الفتاوی الرضویۃ''،ج۱۰،ص۷۴۲.
درود پڑھتے ہوئے فوراً باب صفا سے جانب صفا روانہ ہو، دروازہ مسجد سے بایا ں پاؤں پہلے نکالو اور دہنا پہلے جوتے میں ڈالو اور یہ ادب ہر مسجد سے آتے ہوئے ہمیشہ ملحوظ رکھو اور وہی دعا پڑھو، جو مسجد سے نکلتے وقت پڑھنے کے لیے مذکور ہوچکی ہے۔
مسئلہ ۲۱: بغیر عذر اس وقت سعی نہ کرنا مکروہ ہے کہ خلافِ سنت ہے۔
مسئلہ ۲۲: جب طواف کے بعد سعی کرنی ہو تو واپس آکر حجرِ اسود کا استلام کرکے سعی کو جائے اور سعی نہ کرنی ہو تو استلام کی ضرورت نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: سعی کے لیے بابِ صفا سے جانا مستحب ہے اور یہی آسان بھی ہے اور اگر کسی دوسرے دروازہ سے جائے گا جب بھی سعی ادا ہو جائے گی۔
(۲۲) ذکر و درود میں مشغول صفا کی سیڑھیوں پر اتنا چڑھو کہ کعبہ معظمہ نظرآئے اور یہ بات یہاں پہلی ہی سیڑھی پر چڑھنے سے حاصل ہے یعنی اگر مکان اور دیواریں درمیان میں نہ ہوتیں تو کعبہ معظمہ یہاں سے نظر آتا، اس سے اوپر چڑھنے کی حاجت نہیں بلکہ مذہبِ اہلِ سنت و جماعت کے خلاف اور بدمذہبوں اور جاہلوں کا فعل ہے کہ بالکل اوپر کی سیڑھی تک چڑھ جاتے ہیں اور سیڑھی پر چڑھنے سے پہلے یہ پڑھو:
اَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللہُ بِہٖ( اِنَّ الصَّفَا وَالمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللہِ ج فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِعْتَمَرَ فَـلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا ؕ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْراً فَاِنَّ اللہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ o) (2)
پھر کعبہ معظمہ کی طرف مونھ کرکے دونوں ہاتھ مونڈھوں تک دعا کی طرح پھیلے ہوئے اُٹھاؤ اور اتنی دیر تک ٹھہرو جتنی دیر میں مفصل کی کوئی سورت یا سورہ بقرہ کی پچیس آیتوں کی تلاوت کی جائے اور تسبیح و تہلیل و تکبیر و درود پڑھو اور اپنے لیے اور اپنے دوستوں اور دیگر مسلمانوں کے لیے دعا کرو کہ یہاں دعا قبول ہوتی ہے، یہاں بھی دعائے جامع پڑھو اور یہ پڑھو:
اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَا ھَدٰنَا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَا اَوْلَانَا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَا اَلْھَمَنَا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰنَا لِھٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْ لَا اَنْ ھَدٰنَا اللہُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ لَـہُ الْمُلْکُ وَلَـہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْیئٍ قَدِیْرٌ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ صَدَقَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَاَعَزَّ جُنْدَہٗ وَھَزَمَ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس، في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۲۶.
2 ۔میں اس سے شروع کرتاہوں جس کو اﷲ (عزوجل) نے پہلے ذکر کیا۔ ''بے شک صفا و مروہ اﷲ (عزوجل) کی نشانیوں سے ہیں جس نے حج یا عمرہ کیا اس پر ان کے طواف میں گناہ نہیں اور جو شخص نیک کام کرے تو بیشک اﷲ (عزوجل) بدلہ دینے والا، جاننے والا ہے۔'' ۱۲
الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّا ہُ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ.
فَسُبْحٰنَ اللہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ وَلَـہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْھِرُوْنَؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَیُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ اَللّٰھُمَّ کَمَا ھَدَیْتَنِیْ لِلْاِسْلَامِ اَسْأَلُکَ اَنْ لَّا تَنْزِعَہٗ مِنِّیْ حَتّٰی تَوَفَّانِیْ وَاَنَا مُسْلِمٌ سُبْحٰنَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ َولَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ َولَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْـعَظِیْمِ .
اَللّٰـھُمَّ اَحْیِنِیْ عَلٰی سُنَّۃِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَوَفَّنِیْ عَلٰی مِلَّتِہٖ وَاَعِذْنِیْ مِنْ مُّضِلاَّتِ الْفِتَنِؕ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ یُّحِبُّکَ وَیُحِبُّ رَسُوْلَکَ واَنْبِیَآم ئَکَ وَمَلٰئِکَتَکَ وَعِبَادَکَ الصّٰلِحِیْنَ اَللّٰھُمَّ یَسِّرْلِیَ الْیُسْرٰی وَجَنِّبْنِیَ الْعُسْرٰی اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ عَلٰی سُنَّۃِ رَسُوْلِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ وَاغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُکَ اِیْمَانًا کَامِلاً وَّقَـلْـبًا خَاشِعًا وَّنَسْئَلُکَ عِلْمًا نَّافِـعًا وَّیَقِیْنًا صَادِقًا وَّدِیْنًا قَـیِّمًا وَّنَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ مِنْ کُلِّ بَلِیَّۃٍ وَّنَسْئَلُکَ تَمَامَ الْعَافِیَۃِ وَنَسْئَلُکَ دَوَامَ الْعَافِیَۃِ وَنَسْئَلُکَ الشُّکْرَ عَلَی الْعَافِیَۃِ وَنَسْئَلُکَ الْغِنٰی عَنِ النَّاسِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَصحْبِہٖ عَدَدَ خَلْقِکَ وَرِضَا نَفْسِکَ وَزِنَۃَ عَرْشِکَ وَمِدَادَ کَلِمَاتِکَ کُلَّمَا ذَکَرَکَ الذَّاکِرُوْنَ وَغَفَلَ عَنْ ذِکْرِکَ الْغَافِلُوْنَ . (1)
1 ۔حمد ہے اﷲ (عزوجل) کے لیے کہ اس نے ہم کو ہدایت کی، حمد ہے اﷲ(عزوجل) کے لیے کہ اس نے ہم کو دیا ، حمد ہے اﷲ(عزوجل) کے لیے کہ اس نے ہم کو الہام کیا، حمد ہے اﷲ(عزوجل) کے لیے جس نے ہم کو اس کی ہدایت کی اور اگر اﷲ(عزوجل) ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ اﷲ(عزوجل)کے سوا کوئی معبود نہیں، جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے مُلک ہے اور اسی کے لیے حمد ہے، وہی زندہ کرتا اور مارتاہے اور وہ خود زندہ ہے مرتا نہیں، اُسی کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں جو اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچا کیا اپنے بندہ کی مدد کی اور اپنے لشکر کو غالب کیا اور کافروں کی جماعتوں کو تنہا اس نے شکست دی۔ اﷲ (عزوجل) کے سواکوئی معبود نہیں ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اگرچہ کافر بُرا مانیں۔
اﷲ(عزوجل) کی پاکی ہے شام و صبح اور اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں اور زمین میں اور تیسرے پہر کو اور ظہر کے وقت، وہ زندہ کو مردہ سے نکالتاہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے، الٰہی! تونے جس طرح مجھے اسلام کی طرف ہدایت کی، تجھ سے سوال کرتاہوں کہ اسے مجھ سے جُدانہ کرنا یہاں تک کہ مجھے اسلام پر موت دے، اﷲ (عزوجل) کے لیے پاکی ہے اور اﷲ (عزوجل) کے لیے حمد ہے اور اﷲ(عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں اور اﷲ(عزوجل) بہت بڑا ہے، اور گناہ سے پھر نا اور نیکی کی طاقت نہیں مگر اﷲ (عزوجل) کی مدد سے جو بر تر و بزرگ ہے۔ الٰہی! تو مجھ کواپنے نبی محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت پر زندہ رکھ اور ان کی ملت پر وفات دے اور فتنہ کی گمراہیوں سے بچا، الٰہی!تو مجھ کو ان لوگوں=
دعامیں ہتھیلیاں آسمان کی طرف ہوں، نہ اس طرح جیسا بعض جاہل ہتھیلیاں کعبہ معظمہ کی طرف کرتے ہیں اوراکثر مطوف ہاتھ کانوں تک اُٹھاتے ہیں پھر چھوڑ دیتے ہیں، یوہیں تین بار کرتے ہیں یہ بھی غلط طریقہ ہے بلکہ ایک بار دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے اور جب تک دعا مانگے اُٹھائے رہے، جب ختم ہو جائے ہاتھ چھوڑ دے پھر سعی کی نیت کرے، اس کی نیت یوں ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ السَّعْیَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَیَسِّرْہٗ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ .
(۲۳) پھر صفا سے اُتر کر مروہ کو چلے ذکر و درود برابر جاری رکھے، جب پہلا میل آئے (اور یہ صفا سے تھوڑے ہی فاصلہ پر ہے کہ بائیں ہاتھ کو سبز رنگ کا میل مسجد شریف کی دیوار سے متصل ہے) یہاں سے مرد دوڑنا شروع کریں (مگر نہ حد سے زائد، نہ کسی کو ایذادیتے) یہاں تک کہ دوسرے سبز میل سے نکل جائیں۔ یہاں کی دعایہ ہے:
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ ؕ وَتَعْلَمُ مَا لَا نَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَکْرَمُ ؕ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَّبْرُوْرًا وَّسَعْیًا مَّشْکُوْرًا وّذَنْـبًام مَّغْفُوْرًا اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ یَا مُجِیْبَ الدَّعْوَاتِ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ؕ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ . (1)
(۲۴) دوسرے میل سے نکل کر آہستہ ہو لو اور یہ دعا بار بار پڑھتے ہوئے
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَـہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْیئٍ قَدِیْرٌ .
مروہ تک پہنچو یہاں پہلی سیڑھی پر چڑھنے بلکہ اس کے قریب زمین پر کھڑے ہونے سے مروہ پر چڑھنا ہوگیا لہٰذا بالکل دیوار سے متصل نہ ہو جائے کہ یہ جاہلوں کا طریقہ ہے یہاں بھی اگرچہ عمارتیں بن جانے سے کعبہ نظر نہیں آتا مگر کعبہ کی طرف مونھ کرکے جیسا صفا پر
=میں کر جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں اور تیرے رسول وانبیاء وملائکہ اور نیک بندوں سے محبت رکھتے ہیں۔ الٰہی! میرے لیے آسانی میسر کر اور مجھے سختی سے بچا، الٰہی! اپنے رسول محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت پر مجھ کو زندہ رکھ اور مسلمان مار اور نیکوں کے ساتھ ملا اور جنت النعیم کا وارث کر اور قیامت کے دن میری خطا بخش دے۔ الٰہی! تجھ سے ایمان کامل اور قلبِ خاشع کا ہم سوال کرتے ہیں اورہم تجھ سے علمِ نافع اور یقینِ صادق اور دینِ مستقیم کا سوال کرتے ہیں اور ہر بلا سے عفووعافیت کا سوال کرتے ہیں اور پوری عافیت اور عافیت کی ہمیشگی اور عافیت پر شکر کا سوال کرتے ہیں اور آدمیوں سے بے نیازی کا سوال کرتے ہیں۔ الٰہی! تو درود و سلام و برکت نازل کر ہمارے سردار محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور ان کی آل واصحاب پر بقدرِ شمار تیری مخلوق اور تیری رضا اور ہموزن تیرے عرش کے اور بقدرِ درازی تیرے کلمات کے جب تک ذکر کرنے والے تیر اذکر کر تے رہیں اور جب تک غافل تیرے ذکر سے غافل رہیں۔۱۲
1 ۔اے پروردگار! بخش اور رحم کر اور درگزر کر اُس سے جسے تو جانتا ہے اور تواسے جانتا ہے جسے ہم نہیں جانتے، بیشک تو عزت و کرم والا ہے۔ اے اﷲ(عزوجل) !تو اسے حج مبرور کر اور سعی مشکور کر اور گناہ بخش، اے اﷲ(عزوجل) !مجھ کو اور میرے والدین اور جمیع مومنین و مومنا ت کو بخش د ے، اے دعاؤں کے قبول کرنے والے! اے رب! تو ہم سے قبول کر، بیشک تو سُننے والا، جاننے والا ہے اور ہماری توبہ قبول کر، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ اے رب! تو ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہم کو عذابِ جہنم سے بچا۔۱۲
کیا تھا تسبیح و تکبیر و حمد و ثنا و درود و دُعا یہاں بھی کرو یہ ایک پھیرا ہوا۔
(۲۵) پھر یہاں سے صفا کو ذکر و دُرود اور دعائیں پڑھتے ہوئے جاؤ، جب سبز میل کے پاس پہنچو اُسی طرح دوڑو اور دونو ں میلوں سے گزر کر آہستہ ہو لو پھر آؤ پھر جاؤ یہاں تک کہ ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہو اور ہر پھیرے میں اُسی طرح کرو اِس کا نام سعی ہے۔ دونو ں میلوں کے درمیان اگر دوڑ کر نہ چلا یا صفا سے مروہ تک دوڑکر گیا تو برا کیا کہ سنت ترک ہوئی، مگر دَم یا صدقہ واجب نہیں اور سعی میں اِضطباع نہیں۔ اگر ہجوم کی وجہ سے مِیلین کے درمیان دوڑنے سے عاجز ہے تو کچھ ٹھہر جائے کہ بھیڑ کم ہو جائے اور دوڑنے کا موقع مل جائے اور اگر کچھ ٹھہرنے سے ہجوم کم نہ ہوگا تو دوڑ نے والوں کی طرح چلے اور اگر کسی عذر کی وجہ سے جانور پر سوار ہوکر سعی کرتا ہے تو اس درمیان میں جانور کو تیز چلائے مگر اس کا خیال رہے کہ کسی کو ایذا نہ ہو کہ یہ حرام ہے۔
مسئلہ ۲۴: اگر مروہ سے سعی شروع کی تو پہلا پھیرا کہ مروہ سے صفا کو ہوا شمار نہ کیا جائے گا، اب کہ صفا سے مروہ کو جائے گا یہ پہلا پھیرا ہوا۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: جو شخص احرام سے پہلے بیہوش ہوگیا ہے اور اُس کے ساتھیوں نے اس کی طرف سے احرام باندھا ہے تو اُس کی طرف سے اُس کے ساتھی نیابۃً سعی کرسکتے ہیں۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۲۶: سعی کے لیے شرط یہ ہے کہ پورے طواف یا طواف کے اکثر حصہ کے بعد ہو، لہٰذا اگر طواف سے پہلے یا طواف کے تین پھیرے کے بعد سعی کی تو نہ ہوئی اور سعی کے قبل احرام ہونا بھی شرط ہے، خواہ حج کا احرام ہو یا عمرہ کا، احرام سے قبل سعی نہیں ہو سکتی اور حج کی سعی اگر وقوفِ عرفہ کے قبل کرے تو وقتِ سعی میں بھی احرام ہونا شرط ہے اور وقوف عرفہ کے بعد ہو تو سنت یہ ہے کہ احرام کھول چکا ہو اور عمرہ کی سعی میں احرا م واجب ہے یعنی اگر طواف کے بعد سر مونڈا لیا پھر سعی کی تو سعی ہوگئی مگر چونکہ واجب ترک ہوا لہٰذا دَم واجب ہے۔ (3) (لباب)
مسئلہ ۲۷: سعی کے لیے طہارت شرط نہیں، حیض والی عورت اور جُنب بھی سعی کرسکتا ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: سعی میں پیدل چلنا واجب ہے جب کہ عذر نہ ہو، لہٰذا اگر سواری یا ڈولی وغیرہ پر سعی کی یا پاؤں سے نہ چلا بلکہ گھسٹتا ہوا گیا تو حالتِ عذر میں معاف ہے اور بغیر عذر ایساکیا تو دَم واجب ہے۔ (5) (لباب)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۲۷.
2 ۔ ''المسلک المتقسط''، (باب سعی بین صفا و المروۃ، فصل في شرائط صحہ السعی)، ص۱۷۴.
3 ۔ ''لباب المناسک''، ص۱۷۴.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۲۷.
5 ۔ ''لباب المناسک''، (باب سعی بین صفا و المروۃ، فصل في واجباتہ)، ص۱۷۸.
مسئلہ ۲۹: سعی میں سترِ عورت سنت ہے یعنی اگرچہ ستر کا چھپانا فرض ہے مگر اس حالت میں فرض کے علاوہ سُنت بھی ہے کہ اگر ستر کھلا رہا تو اس کی وجہ سے کفارہ واجب نہیں مگر ایک گناہ فرض کے ترک کا ہوا، دوسرا ترکِ سنت کا۔ (1) (منسک)
بعض عورتوں کو میں نے خود دیکھا ہے کہ نہا یت بے باکی سے سعی کرتی ہیں کہ اُن کی کلائیاں اور گلا کُھلا رہتاہے اور یہ خیال نہیں کہ مکہ معظمہ میں معصیت کرنا نہایت سخت بات ہے کہ یہاں جس طرح ایک نیکی لاکھ کے برابر ہے۔ یوہیں ایک گناہ لاکھ گناہ کے برابر بلکہ یہاں تو یہاں کعبہ معظمہ کے سامنے بھی وہ اسی حالت سے رہتی ہیں بلکہ اسی حالت میں طواف کرتے دیکھا، حالانکہ طواف میں ستر کا چھپانا علاوہ اُسی فرض دائمی کے واجب بھی ہے تو ایک فرض دوسرے واجب کے ترک سے دوگناہ کیے۔
وہ بھی کہاں بیتُ اﷲ کے سامنے اور خاص طواف کی حالت میں بلکہ بعض عورتیں طواف کرنے میں خصوصاً حجرِ اسود کو بوسہ دینے میں مردوں میں گُھس جاتی ہیں اور اُن کا بدن مردوں کے بدن سے مس ہوتا رہتا ہے مگر ان کو اس کی کچھ پروا نہیں حالانکہ طواف یا بوسہ حجرِ اسود وغیرہما ثواب کے لیے کیا جاتا ہے مگر وہ عورتیں ثواب کے بدلے گناہ مول لیتی ہیں لہٰذا ان امور کی طرف حجاج کو خصوصیت کےساتھ توجہ کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ جو عورتیں ہوں انھیں بتاکید ایسی حرکات سے منع کرنا چاہیے۔
مسئلہ ۳۰: مستحب یہ ہے کہ باوضو سعی کرے اور کپڑا بھی پاک ہو اور بدن بھی ہر قسم کی نجاست سے پاک ہو اور سعی شروع کرتے وقت نیت کرلے۔
مسئلہ ۳۱: مکروہ وقت نہ ہو تو سعی کے بعد دو رکعت نماز مسجد شریف میں جاکر پڑھنا بہتر ہے۔ (2) (درمختار)
امام احمد و ابن ماجہ و ابن حبان، مطلب بن ابی وداعہ سے راوی، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب سعی سے فارغ ہوئے تو حجرکے سامنے تشریف لاکر حاشیہ مطاف میں دو رکعت نماز پڑھی۔ (3)
مسئلہ ۳۲: سعی کے ساتوں پھیرے پے در پے کرے، اگر متفرق طور پر کیے تو اعادہ کرے اور اب سے سات پھیرے کرے کہ پے در پے نہ ہونے سے سنت ترک ہوگئی، ہاں اگر سعی کرتے میں جماعت قائم ہوئی یا جنازہ آیا تو سعی چھوڑ کر نماز میں مشغول ہو، بعد نماز جہاں سے چھوڑی تھی وہیں سے پوری کرلے۔ (4) (عالمگیری)
1 ۔ ''المسلک المتقسط''، (باب سعی بین صفا و المروۃ، فصل في سننہ)، ص۱۷۹.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، ج۳، ص۵۸۹.
3 ۔ ''المسند'' للإمام احمد، الحدیث: ۲۷۳۱۳، ج۱۰، ۳۵۴.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۲۷.
مسئلہ ۳۳: سعی کی حالت میں فضول و بیکار باتیں سخت نازیبا ہیں کہ یہ تو ویسے بھی نہ چاہیے نہ کہ اس وقت کہ عبادت میں مشغول ہو، واضح ہوکہ عمرہ صرف انہیں افعال طواف و سعی کا نام ہے۔ قران و تمتع والے کے لیے یہی عمرہ ہوگیا اور اِفراد والے کے لیے یہ طواف طوافِ قدوم یعنی حاضری دربار کا مجرا۔
مسئلہ ۳۴: حج کرنے والا مکہ میں جانے سے پہلے عرفات میں پہنچا تو طوافِ قدوم ساقط ہو گیا مگر بُرا کیاکہ سنت فوت ہوئی اور دَم وغیرہ واجب نہیں۔ (1) (جوہرہ، ردالمحتار)
(۲۶) قارِن یعنی جس نے قِران کیا ہے اس کے بعد طوافِ قدوم کی نیت سے ایک طواف و سعی اور بجا لائے۔
(۲۷) قَارِن اورمُفرِد یعنی جس نے صرف حج کا احرام باندھا تھا، لبیک کہتے ہوئے مکہ میں ٹھہریں۔ اُن کی لبیک دسویں تاریخ رَمی جمرہ کے وقت ختم ہوگی اور اسی وقت احرام سے نکلیں گے جس کا ذکر انشاء اﷲ تعالیٰ آتا ہے مگر متمتع یعنی جس نے تمتع کیا ہے وہ اور مُعتَمِر یعنی نِرا عمرہ کرنے والا شروع طوافِ کعبہ معظمہ سے سنگ اسود شریف کا پہلابوسہ لیتے ہی لبیک چھوڑ دیں اورطواف وسعی مذکور کے بعد حلق کریں یعنی سارا سر مونڈا دیں یا تقصیر یعنی بال کتروائیں او ر احرام سے باہر آئیں۔
عورتوں کو با ل مونڈانا حرام ہے، وہ صرف ایک پورے برابر بال کتروالیں اور مردوں کو اختیار ہے کہ حلق کریں یا تقصیر اور بہتر حلق ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں حلق کرایا (2) اور سر مونڈانے والوں کے لیے دعائے رحمت تین بار فرما ئی اور کتروانے والوں کے لیے ایک بار (3) اور اگرمتمتع منیٰ کی قربانی کے لیے جانور ساتھ لے گیا ہے تو عمرہ کے بعد احرام کھولنا اُسے جائز نہیں، بلکہ قارِن کی طرح احرام میں رہے اور لبیک کہا کرے یہاں تک کہ دسویں کی رَمی کے ساتھ لبیک چھوڑے پھر قربانی کے بعد حلق یا تقصیر کرکے احرام سے باہر ہو۔ پھر متمتع چاہے تو آٹھویں ذی الحجہ تک بے احرام رہے، مگر افضل یہ ہے کہ جلد حج کا احرام باندھ لے، اگر یہ خیال نہ ہو کہ دن زیادہ ہیں احرام کی قیدیں نہ نبھیں گی۔
(۲۸) تنبیہ: طوافِ قدوم میں اِضطباع و رَمل اور اس کے بعد صفا، مروہ میں سعی ضرور نہیں مگر اب نہ کریگا تو طوافِ زیارت میں کہ حج کا طواف فرض ہے، جس کا ذکر انشاء اﷲ آتا ہے یہ سب کام کرنے ہوں گے اور اس وقت ہجوم بہت ہوتا ہے، عجب نہیں کہ طواف میں رَمَل اور مَسعٰی میں دوڑنا نہ ہوسکے اور اُس وقت ہوچکا تو اِس طواف میں ان چیزوں کی حاجت نہ
1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، الجزء الاؤل، کتاب الحج، ص۲۰۹. و''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۶۵.
2 ۔ ''صحیح البخاری''، کتاب المغازی، باب حجۃ الوداع، الحدیث: ۴۴۱۰، ج۳، ص۱۴۲.
3 ۔''صحیح البخاری''، کتاب الحج، باب الحلق والتقصیر عند الاحلال، الحدیث: ۱۷۲۸، ج۱، ص۵۷۴.
ہوگی لہٰذا ہم نے ان کو مطلقاً ترکیب میں داخل کر دیا۔
(۲۹) مُفرِد و قاَرِن تو حج کے رَمَل و سعی سے طوافِ قدوم میں فارغ ہولیے مگر مُتمتّع نے جو طواف و سعی کیے وہ عمرہ کے تھے، حج کے رَمَل و سعی اس سے ادا نہ ہوئے اور اُس پر طوافِ قدوم ہے نہیں کہ قاَرِن کی طرح اس میں یہ امور کرکے فراغت پالے لہٰذا اگر وہ بھی پہلے سے فارغ ہولینا چاہے ،تو جب حج کا احرام باندھے اس کے بعد ایک نفل طواف میں رمل و سعی کرلے اب اسے بھی طوافِ زیارت میں ان امور کی حاجت نہ ہوگی۔
(۳۰) اب یہ سب حجاج (قَارِن، متمتع، مُفرِد کوئی ہو) کہ منیٰ کے جانے کے لیے مکہ معظمہ میں آٹھویں تاریخ کا انتظار کررہے ہیں، ایامِ اقامت میں جس قدر ہو سکے نرا طواف بغیر اِضطباع و رمل و سعی کرتے رہیں کہ باہر والوں کے لیے یہ سب سے بہتر عبادت ہے اور ہر سات پھیروں پر مقامِ ابراہیم علیہ الصلاۃ والتسلیم میں دو رکعت نماز پڑھیں۔
(۳۱) زیادہ احتیاط یہ ہے کہ عورتوں کو طواف کے لیے شب کے دس گیارہ بجے جب ہجوم کم ہولے جائیں۔ یوہیں صفا و مروہ کے درمیان سعی کے لیے بھی۔
(۳۲) عورتیں نماز فرودگاہ(1) ہی میں پڑھیں۔ نمازوں کے لیے جو دونوں مسجدِکریم میں حاضر ہوتی ہیں جہالت ہے کہ مقصود ثواب ہے اور خود حضورانور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: '' عورت کو میری مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ ثواب گھر میں پڑھنا ہے۔'' (1) ہاں عورتیں مکہ معظمہ میں روزانہ ایک بار رات میں طواف کر لیا کریں اور مدینہ طیبہ میں صبح و شام صلاۃ وسلام کے لیے حاضر ہوتی رہیں۔
(۳۳) اب یامنیٰ سے واپسی کے بعد جب کبھی رات ودن میں جتنی بارکعبہ معظمہ پر نظر پڑے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ تین بار کہیں اور نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر درُود بھیجیں اور دعا کریں کہ وقت قبول ہے۔
(۳۴) طواف اگرچہ نفل ہو اس میں یہ باتیں حرام ہیں:
1 بے وضو طواف کرنا۔
1 ۔یعنی قیام گاہ۔
2 کوئی عضو جو ستر میں داخل ہے اس کا چہارم کھلا ہونا مثلاً ران یا آزاد عورت کا کان یا کلائی۔
3 بے مجبوری سواری پر یا کسی کی گود میں یا کندھوں پر طواف کرنا۔
4 بلا عذر بیٹھ کر سرکنا یا گھٹنوں چلنا۔
5 کعبہ کو دہنے ہاتھ پر لے کر الٹا طواف کرنا۔
6 طواف میں حطیم کے اندر ہوکر گزرنا۔
7 سات پھیروں سے کم کرنا۔(1)
(۳۵) یہ باتیں طواف میں مکروہ ہیں:
1 فضول بات کرنا۔
2 بیچنا۔
3 خریدنا۔
4 حمد و نعت و منقبت کے سوا کوئی شعر پڑھنا۔
5 ذکر یا دعا یا تلاوت یا کوئی کلام بُلند آواز سے کرنا۔
6 ناپاک کپڑے میں طواف کرنا۔
7 رَمَل، یا 8 اضطباع ،یا 9 ( بوسہ سنگِ اسود جہاں جہاں ان کا حکم ہے ترک کرنا۔
10 طواف کے پھیروں میں زیادہ فصل دینا یعنی کچھ پھیرے کرلیے پھر دیر تک ٹھہر گئے یا اور کسی کام میں لگ گئے باقی پھیرے بعد کو کیے مگر وضو جاتا رہے تو کر آئے یا جماعت قائم ہوئی اور اُس نے ابھی نماز نہ پڑھی تو شریک ہو جائے بلکہ جنازہ کی نماز میں بھی طواف چھوڑ کر مل سکتا ہے باقی جہاں سے چھوڑا تھا آکر پورا کرلے۔ یوہیں پیشاب پاخانہ کی ضرورت ہو تو چلا جائے وضو کرکے باقی پورا کرے۔
11 ایک طواف کے بعد جب تک اس کی رکعتیں نہ پڑھ لے دوسرا طواف شروع کردینا مگر جب کہ کراہت نماز کا وقت ہو جیسے صبح صادق سے بلندی آفتاب تک یا نماز عصر پڑھنے کے بعد سے غروب آفتاب تک کہ اس میں متعدد طواف بے فصل
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۷۴۴، وغیرہ.
نماز جائز ہیں۔ وقت کراہت نکل جائے تو ہر طواف کے لیے دو رکعت ادا کرے اور اگر بھول کر ایک طواف کے بعد بغیر نماز پڑھے دوسرا طواف شروع کردیا تو اگر ابھی ایک پھیرا پورا نہ کیا ہو تو چھوڑ کر نماز پڑھے اور پورا پھیرا کر لیا ہے تو اس طواف کو پورا کرکے نماز پڑھے۔
12 خطبہ امام کے وقت طواف کرنا۔
13 جماعت فرض کے وقت کرنا، ہاں اگر خود پہلی جماعت میں پڑ ھ چکا ہے تو باقی جماعتوں کے وقت طواف کرنے میں حرج نہیں اور نمازیوں کے سامنے گزر بھی سکتاہے کہ طواف بھی نماز ہی کی مثل ہے۔
14 طواف میں کچھ کھانا۔
15 پیشاب پاخانہ یا ریح کے تقاضے میں طواف کرنا۔ (1)
(۳۶) یہ باتیں طواف و سعی دونوں میں مباح ہیں:
1 سلام کرنا۔
2 جواب دینا۔
3 حاجت کے لیے کلام کرنا۔
4 فتویٰ پوچھنا۔
5 فتویٰ دینا۔
6 پانی پینا۔
7 حمد و نعت و منقبت کے اشعار آہستہ پڑھنا اور سعی میں کھانا بھی کھا سکتا ہے۔ (2)
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۷۴۴، وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۷۴۵، وغیرہ.
1 بے حاجت اس کے پھیروں میں زیادہ فاصلہ دینا مگر جماعت قا ئم ہو تو چلا جائے۔ یوہیں شرکت جنازہ یا قضائے حاجت یا تجدیدِ وضو کو جانا اگرچہ سعی میں وضو ضرور نہیں۔
2 3خریدو فروخت۔
4 فضول کلام ۔
5 6 صفا یا مروہ پر نہ چڑھنا۔
7 مرد کا مَسعٰے میں بلا عُذر نہ دوڑنا۔
8 طواف کے بعد بہت تاخیر کرکے سعی کرنا۔
9 ستر عورت نہ ہونا۔
10 پریشان نظری یعنی ادھر اُدھر فضول دیکھنا سعی میں بھی مکروہ ہے اور طواف میں اور زیادہ مکروہ۔ (1)
(۳۸) طواف و سعی کے سب مسائل میں عورتیں بھی شریک ہیں مگر1 اِضطباع،2 رَمَل،3 مَسعٰے میں دوڑنا، یہ تینوں باتیں عورتوں کے لیے نہیں۔ 4 مزاحمت کے ساتھ بوسہ سنگِ اسود یا5 رُکنِ یمانی کو چھونا یا 6 کعبہ سے قریب ہونا یا7 زمزم کے اندر نظر کرنا یا 8 خود پانی بھرنے کی کوشش کرنا، یہ باتیں اگر یوں ہو سکیں کہ نا محرم سے بدن نہ چھوئے تو خیر، ورنہ الگ تھلگ رہنا ان کے لیے سب سے بہتر ہے۔ (2)
اﷲ عزوجل فرماتاہے :
( ثُمَّ اَفِیۡضُوۡا مِنْ حَیۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۹۹﴾ ) (3)
پھر تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے اورلوگ واپس ہوئے (یعنی عرفات سے) اور اﷲ (عزوجل) سے مغفرت مانگو، بیشک اﷲ (عزوجل) بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۷۴۵، وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۷۴۵، وغیرہ.
3 ۔پ۲، البقرہ: ۱۹۹.
حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ قریش اور جو لوگ اُن کے طریقے پر تھے مُزدلفہ میں وقوف کرتے اور تمام عرب عرفات میں وقوف کرتے جب اسلام آیا، اﷲ عزوجل نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ: ''عرفات میں جاکر وقوف کریں پھر وہاں سے واپس ہوں۔'' (1)
حدیث ۲: صحیح مسلم شریف میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے حجۃ الوداع شریف کی حدیث مروی، اسی میں ہے کہ یوم الترَوِیہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو لوگ منیٰ کو روانہ ہوئے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے منیٰ میں ظہر و عصر و مغرب و عشا و فجر کی نمازیں پڑھیں پھر تھوڑا توقف کیا یہاں تک کہ آفتاب طلوع ہوا۔
اور حکم فرمایا کہ نمرہ(2) میں ایک قبہ نصب کیا جائے، اس کے بعد حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہاں سے روانہ ہوئے اور قریش کا یہ گمان تھا کہ مزدلفہ میں وقوف فرمائیں گے جیسا کہ جاہلیت میں قریش کیا کرتے تھے مگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مزدلفہ سے آگے چلے گئے یہاں تک کہ عرفہ میں پہنچے یہاں نمرہ میں قبہ نصب ہو چکا تھا ،اس میں تشریف فرماہوئے یہاں تک کہ جب آفتاب ڈھل گیا سواری تیارکی گئی پھر بطنِ وادی میں تشریف لائے اور خطبہ پڑھا پھر بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اذان و اقامت کہی حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے نماز ظہر پڑھی پھر اقامت ہوئی اور عصر کی نماز پڑھی اور دونوں نمازوں کے درمیان کچھ نہ پڑھا پھر موقف میں تشریف لائے اور وقوف کیا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا۔ (3)
حدیث ۳: صحیح مسلم میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: ''میں نے یہاں وقوف کیا اور پورا عرفات جائے وقوف ہے اور میں نے اس جگہ وقوف کیا اور پورا مُزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔'' (4)
حدیث ۴: مسلم و نسائی و ابن ماجہ و رزین امُ المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عرفہ سے زیادہ کسی دن میں اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں کرتا پھر ان کے ساتھ ملائکہ پر مُباہات فرماتا ہے۔'' (5)
حدیث ۵: ترمذی میں بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کی
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب في الوقوف ...إلخ، الحدیث: ۱۲۱۹، ص۶۳۸.
2 ۔ عرفات میں ایک مقام ہے۔ ۱۲
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب حجۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۱۴۷۔(۱۲۱۸)، ص۶۳۴.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب ماجاء ان عرفۃ کلھا موقف، الحدیث: ۱۴۹۔(۱۲۱۸)، ص۶۳۸.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب فضل یوم عرفۃ، الحدیث: ۱۳۴۸،ص۷۰۳.
سب سے بہتر دعااور وہ جو میں نے اور مجھ سے قبل انبیا نے کی یہ ہے:
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ . (1)
حدیث ۶: امام مالک مُرسلاً طلحہ بن عبیداﷲ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عرفہ سے زیادہ کسی دن میں شیطان کو زیادہ صغیر و ذلیل و حقیر اور غیظ میں بھرا ہوا نہیں دیکھا گیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن میں رحمت کا نزول اور اﷲ (عزوجل) کا بندوں کے بڑے بڑے گناہ معاف فرمانا شیطان دیکھتا ہے۔'' (2)
حدیث ۷: ابن ماجہ و بیہقی عباس بن مرداس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی اُمت کے لیے مغفرت کی دعا مانگی اور وہ دعا مقبول ہوئی، فرمایا: ''میں نے انھیں بخش دیا سوا حقوق العباد کے کہ مظلوم کے لیے ظالم سے مواخذہ کروں گا۔'' حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے عرض کی، اے رب! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت عطا کر دے اور ظالم کی مغفرت فرما دے۔ اُس دن یہ دعا مقبول نہ ہوئی پھر مُزدلفہ میں صبح کے وقت حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اسی دعا کا اعادہ کیا اُس وقت یہ دعا مقبول ہوئی، اس پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا۔
صدیق و فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے عرض کی، ہمارے ماں باپ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر قربان اس وقت تبسم فرمانے کا کیا سبب ہے؟ ارشاد فرمایاکہ: ''دشمنِ خدا ابلیس کو جب یہ معلوم ہواکہ اﷲ عزوجل نے میری دعا قبول کی اور میری اُمت کی بخشش فرمائی تو اپنے سر پر خاک اُڑانے لگا اور واویلا کرنے لگا، اُ س کی یہ گھبراہٹ دیکھ کر مجھے ہنسی آئی۔'' (3)
حدیث ۸: ابو یعلی و بزار و ابن خُزیمہ و ابن حبان جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ذی الحجہ کے دس دنوں سے کوئی دن اﷲ (عزوجل) کے نزدیک افضل نہیں۔ ایک شخص نے عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ افضل ہیں یا اتنے دنوں میں اﷲ (عزوجل) کی راہ میں جہاد کرنا؟ ارشاد فرمایا: اﷲ (عزوجل) کی راہ میں اس تعداد میں جہاد کرنے سے بھی یہ افضل ہیں اور اﷲ (عزوجل) کے نزدیک عرفہ سے زیادہ کوئی دن افضل نہیں۔
عرفہ کے دن اﷲ تبارک وتعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف خاص تجلّی فرماتا ہے اور زمین والوں کے ساتھ آسمان والوں پر مباہات کرتا، ان سے فرماتا ہے: ''میرے بندوں کو دیکھو کہ پراگندہ سر گرد آلودہ دھوپ کھاتے ہوئے دُور دُور سے میری رحمت کے
1 ۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الدعوات، باب فی دعاء یوم عرفۃ، الحدیث: ۳۵۹۶، ج۵، ص۳۳۸.
2 ۔ ''الموطأ'' للإمام مالک، کتاب الحج، باب جامع الحج، الحدیث: ۹۸۲، ج۱، ص۳۸۶.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المناسک، باب الدعا بعرفۃ، الحدیث: ۳۰۱۳، ج۳، ص۴۶۶.
اُمیدوار حاضر ہوئے تو عرفہ سے زیادہ جہنم سے آزادہونے والے کسی دن میں دیکھے نہ گئے۔'' (1) اور بیہقی کی روایت میں یہ بھی ہے، کہ اﷲ عزوجل ملائکہ سے فرماتا ہے: ''میں تم کو گواہ کرتا ہو ں کہ میں نے اُنھیں بخش دیا۔ فرشتے کہتے ہیں، ان میں فلاں و فلاں حرام کام کرنے والے ہیں، اﷲ عزوجل فرماتا ہے: میں نے سب کو بخش دیا۔'' (2)
حدیث ۹: امام احمد و طبرانی عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ ایک شخص نے عرفہ کے دن عورتوں کی طرف نظر کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''آج وہ دن ہے کہ جو شخص کان اور آنکھ اور زبان کو قابو میں رکھے، اُس کی مغفرت ہوجائے گی۔'' (3)
حدیث ۱۰: بیہقی جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان عرفہ کے دن پچھلے پہرکو موقف میں وقوف کرے پھر سو۱۰۰ بارکہے:
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔
اور سو۱۰۰ بار قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدٌ پڑھے اور پھر سو۱۰۰بار یہ درود پڑھے:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْراھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے: ''اے میرے فرشتو! میرے اس بندے کو کیا ثواب دیا جائے جس نے میری تسبیح و تہلیل کی اور تکبیر و تعظیم کی مجھے پہچانا اور میری ثنا کی اور میرے نبی پر درود بھیجا۔ اے میرے فرشتو! گواہ رہو کہ میں نے اُسے بخش دیا اور اس کی شفاعت خود اس کے حق میں قبول کی اور اگر میرا یہ بندہ مجھ سے سوال کرے تو اُس کی شفاعت جو یہاں ہیں سب کے حق میں قبول کروں۔'' (4)
حدیث ۱۱: بیہقی ابو سُلیمان دارانی سے راوی، کہ امیرالمومنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ سے وقوف کے بارے میں سوال ہوا کہ اس پہاڑ میں کیوں مقرر ہوا، حرم میں کیوں نہ ہوا؟ فرمایا: کعبہ بیت اﷲ ہے اور حرم اُس کا دروازہ تو جب لوگ اُس کی زیارت کے قصد سے آئے دروازے پر کھڑے کیے گئے کہ تضرع کریں۔ عرض کی، یا امیرالمومنین! پھر وقوفِ مُزدَلِفَہ کا کیا سبب ہے؟ فرمایا کہ جب انھیں آنے کی اجازت ملی تو اب اس دوسری ڈیوڑھی پر روکے گئے پھر جب تضرع زیادہ ہوا تو حکم ہوا کہ منیٰ میں قربانی کریں پھر جب اپنے میل کُچیل اُتار چکے اور قربانیاں کرچکے اور گناہوں سے پاک ہوچکے تو اب با طہارت زیارت کی انھیں اجازت ملی۔
1 ۔ ''مسند أبي یعلی''، الحدیث: ۲۰۸۶، ج۲، ص۲۹۹.
2 ۔ ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الحج، الترغیب فی الوقوف بعرفۃ ...إلخ، الحدیث: ۱، ج۲، ص۱۲۸.
3 ۔ ''شعب الإیمان''، باب فی المناسک، فضل الوقوف بعرفات ...إلخ، الحدیث: ۴۰۷۱، ج۳، ص۴۶۱.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب فی المناسک، فضل الوقوف بعرفات ...إلخ، الحدیث: ۴۰۷۴، ج۳، ص۴۶۳.
عرض کی گئی، یا امیرالمومنین! ایام تشریق میں روزے کیوں حرام ہیں؟ فرمایا کہ وہ لوگ اﷲ (عزوجل) کے زوّار و مہمان ہیں اور مہمان کو بغیر اجازت میزبان روزہ رکھنا جائز نہیں۔ عرض کی گئی، یا امیرالمومنین! غلافِ کعبہ سے لپٹنا کس لیے ہے؟ فرمایا اس کی مثال یہ ہے کہ کسی نے دوسرے کا گنا ہ کیاہے وہ اس کے کپڑوں سے لپٹتا اور عاجزی کرتا ہے کہ یہ اُسے بخش دے۔ (1) جب وقوف کے ثواب سے آگاہ ہوئے تو اب گناہوں سے پاک صاف ہونے کا وقت قریب آیا، اس کے لیے تیار ہو جاؤ اور ہدایات پر عمل کرو۔
(۱) ساتویں تاریخ: مسجدِ حرام میں بعد ظہر امام خطبہ پڑھے گا اُسے سُنو، اس خطبہ میں منیٰ جانے اور عرفات میں نماز اور وقوف اور وہاں سے واپس ہونے کے مسائل بیان کیے جائیں گے۔
(۲) یوم التَّروِیہ میں کہ آٹھویں تاریخ کا نام ہے جس نے احرام نہ باندھا ہو باندھ لے اور ایک نفل طواف میں رمل و سعی کرلے جیسا کہ اوپر گزرا اور احرام کے متعلق جو آداب پیشتر بیان کیے گئے، مثلاً غسل کرنا، خوشبو لگانا وہ یہاں بھی ملحوظ رکھے اور نہا دھو کر مسجدالحرام شریف میں آئے اور طواف کرے، اس کے بعد طواف کی نماز بدستور ادا کرے، پھر دو رکعت سنتِ احرام کی نیت سے پڑھے، اس کے بعد حج کی نیت کرے اور لبیک کہے۔
(۳) جب آفتاب نکل آئے منیٰ کو چلو۔ اگر آفتاب نکلنے کے پہلے ہی چلا گیا جب بھی جائز ہے مگر بعد میں بہتر ہے اور زوال کے بعد بھی جاسکتا ہے مگر ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھے اور ہوسکے تو پیادہ جاؤ کہ جب تک مکہ معظمہ پلٹ کر آؤ گے ہر قدم پر سات کرور نیکیاں لکھی جائیں گی، یہ نیکیاں تخمیناً اٹھتّر کھرب چالیس ارب آتی ہیں اور اﷲ کا فضل اس نبی کے صدقہ میں اس اُمت پر بے شمار ہے۔ جل وعلا وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم والحمدللہ رب العٰلمین۔
(۴) راستے بھر لبیک و دعا و درود و ثنا کی کثرت کرو۔
(۵) جب منیٰ نظر آئے یہ دعا پڑھو:
اَللّٰھُمَّ ھٰذِیْ مِنیً فَامْنُنْ عَلَیَّ بِمَا مَنَنْتَ بِہٖ عَلٰی اَوْلِیَآ ئِکَ . (2)
(۶) یہاں رات کو ٹھہرو۔ آج ظہر سے نویں کی صبح تک پانچ نمازیں یہیں مسجد خیف میں پڑھو، آج کل بعض مطوفوں نے یہ نکالی ہے کہ آٹھویں کو منیٰ میں نہیں ٹھہرتے سیدھے عرفات پہنچتے ہیں، ان کی نہ مانے اور اس سنت عظیمہ کو ہرگز نہ چھوڑے۔
1 ۔ ''شعب الإیمان''، باب فی المناسک، فضل الوقوف بعرفات ...إلخ، الحدیث: ۴۰۸۴، ج۳، ص۴۶۸.
و''الترغیب و الترھیب''، کتاب الحج، الترغیب فی الوقوف بعرفۃ ...إلخ، الحدیث: ۱۶،ج۲، ص۱۳۳.
2 ۔الٰہی یہ منیٰ ہے مجھ پر تو وہ احسان کر جو اپنے اولیا پر تو نے کیا۔۱۲
قافلہ کے اصرار سے ان کو بھی مجبور ہونا پڑے گا۔ شبِ عرفہ منیٰ میں ذکر و عبادت سے جاگ کر صبح کرو۔ سونے کے بہت دن پڑے ہیں اور نہ ہو تو کم از کم عشا و صبح جماعت اولیٰ سے پڑھو کہ شب بیداری کا ثواب ملے گا اور با وضو سوؤ کہ رُوح عرش تک بلند ہوگی۔ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بیہقی و طبرانی و غیر ہما نے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: ''جو شخص عرفہ کی رات میں یہ دعائیں ہزار مرتبہ پڑھے تو جو کچھ اﷲ تعالیٰ سے مانگے گا پائے گا جب کہ گناہ یا قطعِ رحم کا سوال نہ کرے۔''
سُبْحَانَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ عَرْشُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْاَرْضِ مَوْطِئُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْبَحْرِ سَبِیْلُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی النَّارِ سُلْطَانُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْجَنَّۃِ رَحْمَتُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْقَبْرِ قَضَاؤُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْھَوَاءِ رُوْحُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمَآءَ سُبْحٰنَ الَّذِیْ وَضَعَ الْاَرْضَ سُبْحٰنَ الَّذِیْ لَا مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَأَ مِنْہُ اِلَّا اِلَیْہِ . (1)
(۸) صبح: مستحب وقت نماز پڑھ کر لبیک و ذکرو درود شریف میں مشغول رہو یہاں تک کہ آفتاب کوہِ ثبیر پر کہ مسجد خیف شریف کے سامنے ہے چمکے۔ اب عرفات کو چلو دل کو خیالِ غیر سے پاک کرنے میں کوشش کرو کہ آج وہ دن ہے کہ کچھ کا حج قبول کریں گے اور کچھ کو ان کے صدقہ میں بخش دیں گے۔ محروم وہ جو آج محروم رہا، وسوسے آئیں تو اُن سے لڑائی نہ باندھو کہ یوں بھی دشمن کا مطلب حاصل ہے وہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم اور خیال میں لگ جاؤ، لڑائی باندھی جب بھی تو اور خیال میں پڑے بلکہ وسوسوں کی طرف دھیان ہی نہ کرو، یہ سمجھ لو کہ کوئی اور وجود ہے جو ایسے خیالات لارہا ہے مجھے اپنے رب سے کام ہے، یوں انشاء اﷲ تعالیٰ وہ مردُود ناکام واپس جائے گا۔
مسئلہ: اگر عرفہ کی رات مکّہ میں گزاری اور نویں کو فجر پڑھ کر منیٰ ہوتا ہوا عرفات میں پہنچا تو حج ہو جائے گا مگر بُرا کیا کہ سنت کو ترک کیا۔ یوہیں اگر رات کو منیٰ میں رہا مگر صبح صادق ہونے سے پہلے یا نمازِ فجر سے پہلے یا آفتاب نکلنے سے پہلے عرفات کو چلا گیا تو بُرا کیا اور اگر آٹھویں کو جمعہ کا دن ہے جب بھی زوال سے پہلے منیٰ کو جاسکتا ہے کہ اس پر جمعہ فرض نہیں اور جمعہ کا خیال ہو تو منیٰ میں بھی جمعہ ہوسکتا ہے، جب کہ امیر مکّہ وہاں ہویا اس کے حکم سے قائم کیا جائے۔
ـ1 ۔''المسلک المتقسط ''، ( فصل في الرواح من منی الی عرفات)، ص۱۹۰.
ترجمہ: پاک ہے وہ جس کا عرش بلندی میں ہے، پاک ہے وہ جس کی حکومت زمین میں ہے، پاک ہے وہ کہ دریا میں اس کا راستہ ہے، پاک ہے وہ کہ آگ میں اُسی کی سلطنت ہے، پاک ہے وہ کہ جنت میں اُس کی رحمت ہے، پاک ہے وہ کہ قبر میں اُس کا حکم ہے، پاک ہے وہ کہ ہوا میں جو روحیں ہیں اُسی کی مِلک ہیں، پاک ہے وہ جس نے آسمان کو بلند کیا، پاک ہے وہ جس نے زمین کو پست کیا، پاک ہے وہ کہ اُس کے عذاب سے پناہ و نجات کی کوئی جگہ نہیں، مگر اُسی کی طرف۔۱۲
(۹) راستے بھر ذکر و درود میں بسرکرو، بے ضرورت کچھ بات نہ کرو، لبیک کی بے شمار بار بار کثرت کرتے چلو اور منیٰ سے نکل کر یہ دعا پڑھو:
اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ تَوَجَّھْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَلِوَجْھِکَ الْکَرِیْمِ اَرَدْتُّ فَاجْعَلْ ذَنْبِیْم مَغْفُوْرًا وَّحَجِّیْ مَبْرُوْرًا وَّارْحَمْنِیْ وَلَا تُخَیِّبْنِیْ وَبَارِکْ ِلیْ فِیْ سَفَرِیْ وَاقْضِ بِعَرَفَاتٍ حَاجَتِیْ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا اَقْرَبَ غَدْوَۃٍ غَدَوْتُھَا مِنْ رِّضْوَانِکَ وَاَبْعَدَ ھَا مِنْ سَخْطِکَ، اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ غَدَوْتُ وَعَلَیْکَ اعْتَمَدْتُّ وَوَجْھَکَ اَرَدْتُّ فَاجْعَلْنِیْ مِمَّنْ تُبَاھِیْ بِہِ الْیَوْمَ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِّنِّیْ وَاَفْضَلُ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ وَالْمُعَافَاۃَ الدَّآئِمَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَصَلَّی اللہُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ . (1)
(۱۰) جب نگاہ جبلِ رحمت پر پڑے ان امور میں اورزیادہ کوشش کرو کہ انشاء اﷲ تعالیٰ وقتِ قبول ہے۔
(۱۱) عرفات میں اُس پہاڑ کے پاس یا جہاں جگہ ملے شارعِ عام سے بچ کر اُترو۔
(۱۲) آج کے ہجوم میں کہ لاکھوں آدمی ،ہزاروں ڈیرے خیمے ہوتے ہیں۔ اپنے ڈیرے سے جاکر واپسی میں اُس کا ملنا دشوار ہوتا ہے، اس لیے پہچان کا نشان اس پر قائم کر دو کہ دُور سے نظر آئے۔
(۱۳) مستورات ساتھ ہوں تو اُن کے بُرقع پر بھی کوئی کپڑا خاص علامت چمکتے رنگ کا لگا دو کہ دُور سے دیکھ کر تمیز کرسکو اور دل مشوش نہ رہے۔
(۱۴) دو پہر تک زیادہ وقت اﷲ (عزوجل) کے حضور زاری اور خالص نیت سے حسب طاقت صدقہ و خیرات و ذکر و لبیک و درود و دعا و استغفارو کلمہ توحید میں مشغول رہے۔ حدیث میں ہے، نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''سب میں بہتر وہ چیز جو آج کے دن میں نے اور مجھ سے پہلے انبیا نے کہی یہ ہے:
لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ؕ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ ؕ
1 ۔ اے اﷲ (عزوجل)! میں تیری طرف متوجہ ہوا اور تجھ پر میں نے توکل کیا اور تیرے وجہ کریم کا ارادہ کیا، میرے گنا ہ بخش اور میرے حج کو مبرور کر اور مجھ پر رحم کراور مجھے ٹو ٹے میں نہ ڈال اور میرے لیے میرے سفر میں برکت دے اور عرفات میں میری حاجت پوری کر، بے شک تو ہر شے پر قادر ہے۔ اے اﷲ (عزوجل)! میرا چلنا اپنی خوشنودی سے قریب کر اور اپنی نا خوشی سے دُور کر۔ الٰہی! میں تیری طرف چلا اور تجھی پر اعتماد کیا اور تیری ذات کا ارادہ کیا تو مجھ کو اُن میں سے کر جن کے ساتھ قیامت کے دن تو مباہات کریگا، جو مجھ سے بہتر و افضل ہیں۔ الٰہی! میں تجھ سے عفوو عافیت کا سوال کرتا ہوں اور اس عافیت کا جو دنیا و آخرت میں ہمیشہ رہنے والی ہے اور اﷲ (عزوجل) درود بھیجے بہترین مخلوق محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور اُن کی آل و اصحاب سب پر۔۱۲
بِیَدِہِ الْخَیْرُ ؕ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ . (1)
اور چاہے تو اس کے ساتھ یہ بھی کہے:
لَا نَعْبُدُ اِلَّا ِایَّاہُ وَلَا نَعْرِفُ رَبّاً سِوَاہُ ؕ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًااَللّٰھُمَّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَسَاوِسِ الصَّدْرِ وَتَشْتِیْتِ الْاَمْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا یَلِجُ فِی الَّیْلِ وَشَرِّ مَا یَلِجُ فِی النَّھَارِ وَشَرِّ مَا تَھَبُّ بِہِ الرِّیْحُ وَشَرِّ بَوَائِقِ الدَّھْرِ اَللّٰھُمَّ ھٰذَا مَقَامُ الْمُسْتَجِیْرِ الْعَآئِذِ مِنَ النَّارِ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ بِعَـفْوِکَ وَاَدْخِلْنِی الْجَنَّۃَ بِرَحْمَتِکَ یَـآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اِذْ ھَدَیْتَنِی الْاِسْلَامَ فَـلَا تَنْزَعْہُ عَنِّیْ حَتّٰی تَقْبِضَنِیْ وَاَنَا عَلَیْہِ . (2)
(۱۵) دوپہر سے پہلے کھانے پینے وغیرہ ضروریات سے فارغ ہو لے کہ دل کسی طرف لگا نہ رہے۔ آج کے دن جیسے حاجی کو روزہ مناسب نہیں کہ دُعا میں ضعف ہوگا۔ یوہیں پیٹ بھر کھانا سخت زہر اور غفلت و کسل کا باعث ہے، تین روٹی کی بھوک والا ایک ہی کھائے۔ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تو ہمیشہ کے لیے یہی حکم دیا ہے اور خود دنیا سے تشریف لے گئے اور جَو کی روٹی کبھی پیٹ بھر نہ کھائی، حالانکہ اﷲ (عزوجل) کے حکم سے تمام جہاں اختیا ر میں تھا اور ہے۔ انوار و برکات لینا چاہو تو نہ صرف آج بلکہ حرمین شریفین میں جب تک حاضر رہو تہائی پیٹ سے زیادہ ہر گزنہ کھاؤ۔ مانو گے تو اس کا فائدہ اور نہ مانو گے تو اس کا نقصان آنکھوں دیکھ لو گے۔ ہفتہ بھر اس پر عمل کر تو دیکھو اگلی حالت سے فرق نہ پاؤ جبھی کہنا جی بچے تو کھانے پینے کے بہت سے دن ہیں یہاں تو نور و ذوق کے لیے جگہ خالی رکھو۔ ؎
اندروں از طعام خالی دار
تادرو نورِ معرفت بینی
ع ''بھرا برتن دوبارہ کیا بھرے گا۔''
1 ۔'' لباب المناسک'' للسندی، (باب الوقوف بعرفات و أحکامہ)، ص۱۹۱.
2 ۔ اس کے سوا ہم کسی کی عبادت نہیں کرتے اور اُس کے سوا کسی کو رب نہیں جانتے، اے اﷲ (عزوجل)! تو میرے دل میں نور کر اور میرے کان اور نگاہ میں نور کر، اے اﷲ (عزوجل)! میرے سینہ کو کھول دے اور میرے امر کو آسان کر اور تیری پناہ مانگتا ہوں سینہ کے وسوسوں اور کام کی پراگندگی اور عذاب قبر سے، اے اﷲ (عزوجل)! میں تیری پناہ مانگتاہوں اُس کے شر سے جو رات میں داخل ہوتی ہے اوردن میں داخل ہوتی ہے اور اُس کے شر سے جس کے ساتھ ہوا چلتی ہے اور شرسے آفاتِ زمانہ کے۔اے اﷲ (عزوجل)!یہ امن کے طالب اور جہنم سے پناہ مانگنے والے کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے، اپنے عفو کے ساتھ مجھ کو جہنم سے بچا اور اپنی رحمت سے جنت میں داخل کر، اے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان۔ اے اﷲ (عزوجل)!جب تو نے اسلام کی طرف مجھے ہدایت کی تو اس کو مجھ سے جُدا نہ کرنا یہاں تک کہ مجھے اسی اسلام پر وفات دینا۔۱۲
(۱۶) جب دوپہر قریب آئے نہاؤ کہ سنت مؤکدہ ہے اور نہ ہوسکے تو صرف وضو۔
(۱۷) دوپہر ڈھلتے ہی بلکہ اس سے پہلے کہ امام کے قریب جگہ ملے مسجدِ نمرہ جاؤ۔ سُنتیں پڑھ کر خطبہ سُن کر امام کے ساتھ ظہر پڑھو اس کے بعد بے توقف عصر کی تکبیر ہوگی معاً جماعت سے عصر پڑھو، بیچ میں سلام و کلام تو کیا معنی، سنتیں بھی نہ پڑھو اور بعد عصر بھی نفل نہیں، یہ ظہر و عصر ملا کر پڑھنا جبھی جائز ہے کہ نماز یا تو سلطان پڑھائے یا وہ جو حج میں اُس کا نائب ہوکر آتا ہے جس نے ظہر اکیلے یا اپنی خاص جماعت سے پڑھی اُسے وقت سے پہلے عصر پڑھنا جائز نہیں اور جس حکمت کے لیے شرع نے یہاں ظہر کے ساتھ عصر ملانے کا حکم فرمایا ہے یعنی غروبِ آفتاب تک دُعا کے لیے وقت خالی ملنا وہ جاتی رہے گی۔
مسئلہ ۱: ملا کر دونوں نمازیں جو یہاں ایک وقت میں پڑھنے کا حکم ہے اس میں پوری جماعت ملنا شرط نہیں بلکہ مثلاً ظہر کے آخر میں شریک ہوا اور سلام کے بعد جب اپنی پوری کرنے لگا، اتنے میں امام عصر کی نماز ختم کرنے کے قریب ہوا یہ سلام کے بعد عصر کی جماعت میں شامل ہوا جب بھی ہوگئی۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: ملا کر پڑھنے میں یہ بھی شرط ہے کہ دونوں نمازوں میں با احرام ہو، اگر ظہر پڑھنے کے بعد احرام باندھا تو عصر ملا کر نہیں پڑھ سکتا۔ نیز یہ شرط ہے کہ وہ احرام حج کا ہو اگر ظہر میں عمرہ کا تھا عصر میں حج کا ہوا جب بھی نہیں ملا سکتا۔ (2)
(درمختار، عالمگیری)
(۱۸) خیال کرو جب شرع کو یہ وقت دُعا کے لیے فارغ کرنے کا اس قدر اہتمام ہے کہ عصر کو ظہر کے ساتھ ملا کر پڑھنے کا حکم دیا تو اُس وقت اور کام میں مشغولی کس قدر بیہودہ ہے۔ بعض احمقوں کو دیکھا ہے کہ امام تو نماز میں ہے یا نماز پڑھ کر موقف کو گیا اور وہ کھانے، پینے، حُقے، چائے اُڑانے میں ہیں۔ خبردار! ایسا نہ کرو۔ امام کے ساتھ نماز پڑھتے ہی فوراً موقف (یعنی وہ جگہ کہ نماز کے بعد سے غروب آفتاب تک وہاں کھڑے ہو کر ذکر و دعا کا حکم ہے اُس جگہ کو)روانہ ہو جاؤ اور ممکن ہو تو
1 ۔ ''ردالمحتار'' کتاب الحج ، مطلب في شروط الجمع، ج۳، ص۵۹۴.
1 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الحج ، ج۳، ص۵۹۵.
و''الفتاوی الہندیۃ''کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۲۸.
اُونٹ پر کہ سُنت بھی ہے اور ہجوم میں دبنے کچلنے سے محافظت بھی۔
(۱۹) بعض مطوف اس مجمع میں جانے سے منع کرتے اور طرح طرح ڈراتے ہیں اُن کی نہ سُنوکہ وہ خاص نزولِ رحمتِ عام کی جگہ ہے۔ ہاں عورتیں اور کمزور مرد یہیں سے کھڑے ہوئے دعا میں شامل ہوں کہ بطن عرنہ (1) کے سوا یہ سارا میدان موقف ہے اور یہ لوگ بھی یہی تصور کریں کہ ہم اُس مجمع میں حاضر ہیں، اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ نہ سمجھیں۔ اُس مجمع میں یقینا بکثرت اولیا بلکہ اِلیاس و خضر علیھما السلام دو نبی بھی موجود ہیں، یہ تصور کریں کہ انور و برکات جو مجمع میں اُن پر اُتر رہے ہیں اُن کا صدقہ ہم بھکاریوں کو بھی پہنچتا ہے۔ یوں الگ ہو کر بھی شامل رہیں گے اور جس سے ہوسکے تو وہاں کی حاضری چھوڑنے کی چیز نہیں۔
(۲۰) افضل یہ ہے کہ امام سے نزدیک جبلِ رحمت کے قریب جہاں سیاہ پتھر کا فرش ہے، رُو بقبلہ امام کے پیچھے کھڑا ہو جب کہ ان فضائل کے حصول میں دقت یا کسی کو اذیت نہ ہو ورنہ جہاں اور جس طرح ہو سکے وقوف کرے امام کی دہنی جانب اور بائیں رُو برُو سے افضل ہے۔ یہ وقوف ہی حج کی جان اور اُس کا بڑا رکن ہے، وقوف کے لیے کھڑا رہنا افضل ہے شرط یا واجب نہیں، بیٹھا رہا جب بھی وقوف ہوگیا وقوف میں نیت اور رُو بقبلہ ہونا افضل ہے۔
وقوف میں یہ امور سنت ہیں:
1 غسل۔
2 دونوں خطبوں کی حاضری۔
3 دونوں نماز یں ملا کر پڑھنا۔
4 بے روزہ ہونا۔
5 با وضو ہونا۔
6 نمازوں کے بعد فوراً وقوف کرنا۔
(۲۱) بعض جاہل یہ کرتے ہیں کہ پہاڑ پرچڑھ جاتے اور وہاں کھڑے ہو کر رومال ہلاتے رہتے ہیں اس سے بچو اور اُن کی طرف بھی بُراخیا ل نہ کرو، یہ وقت اَوروں کے عیب دیکھنے کا نہیں، اپنے عیبوں پر شرمساری اور گریہ و زاری کا ہے۔
1 ۔ بطن عرنہ عرفات میں حرم کے نالوں میں سے ایک نالہ ہے مسجد نمرہ کے پچھم کی طرف یعنی کعبہ معظمہ کی طرف وہاں وقوف ناجائز ہے۔۱۲
(۲۲) اب وہ کہ یہاں ہیں اور وہ کہ ڈیروں میں ہیں سب ہمہ تن صدقِ دل سے اپنے کریم مہربان رب کی طرف متوجہ ہوجائیں اور میدانِ قیامت میں حساب اعمال کے لیے اس کے حضور حاضری کا تصور کریں۔ نہایت خُشوع و خضوع کے ساتھ لرزتے کانپتے ڈرتے امید کرتے آنکھیں بند کیے گردن جُھکائے، دست دعا آسمان کی طرف سر سے اونچا پھیلائے تکبیر و تہلیل و تسبیح و لبیک و حمد و ذکر و دعا و توبہ و استغفار میں ڈوب جائے، کوشش کرے کہ ایک قطرہ آنسووں کا ٹپکے کہ دلیل اجابت و سعادت ہے، ورنہ رونے کا سا مونھ بنائے کہ اچھوں کی صور ت بھی اچھی۔ اَثنائے دعا و ذکر میں لبیک کی بار بار تکرار کرے۔
آج کے دن دُعائیں بہت منقول ہیں اور دعا ئے جامع کہ اوپر گزری کافی ہے چند بار اُسے کہہ لو اور سب سے بہتر یہ کہ سارا وقت درود و ذکر و تلاوت قرآن میں گزاردو کہ بوعدہ حدیث دُعا والوں سے زیادہ پاؤ گے۔ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دامن پکڑو، غوثِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے توسل کرو، اپنے گناہ اور اس کی قہاری یاد کرکے بید کی طرح لرزو اور یقین جانو کہ اس کی مار سے اسی کے پاس پناہ ہے۔ اُس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے اس کے دَر کے سوا کہیں ٹھکانا نہیں لہٰذا اُن شفیعوں کا دامن پکڑے، اُس کے عذاب سے اُسی کی پناہ مانگو اور اسی حالت میں رہو کہ کبھی اُس کے غضب کی یاد سے جی کانپاجاتا ہے اور کبھی اُس کی رحمت عام کی امید سے مرُجھا یا دل نہال ہو جاتا ہے۔
یوہیں تضرّع و زاری میں رہو یہاں تک کہ آفتاب ڈوب جائے اور رات کا ایک لطیف جُز آجائے، اس سے پہلے کُوچ منع ہے۔ بعض جلد باز دن ہی سے چل دیتے ہیں، اُن کا ساتھ نہ دو۔ غروب تک ٹھہرنے کی ضرورت نہ ہوتی تو عصر کو ظہر سے ملا کر کیوں پڑھنے کا حکم ہوتا اور کیا معلوم کہ رحمتِ الٰہی کس وقت توجہ فرمائے، اگر تمھار ے چل دینے کے بعد اُتری تو معاذاﷲ کیسا خسارہ ہے اور اگر غروب سے پہلے حدودِ عرفات سے نکل گئے جب تو پورا جُرم ہے۔ بعض مطوف یہاں یوں ڈراتے ہیں کہ رات میں خطرہ ہے یہ دو ایک کے لیے ٹھیک ہے اور جب سارا قافلہ ٹھہرے گا تو انشاء اﷲ تعالیٰ کچھ اندیشہ نہیں۔ اس مقام پر پڑھنے کے لیے بعض دعائیں لکھی جاتی ہیں:
اَللہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔
تین بار پھر کلمہ توحید، اس کے بعد
اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ بِالْھُدٰی وَنَقِّنِیْ وَاعْصِمْنِیْ بِالتَّقْوٰی وَاغْفِرْلِیْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْ لٰی . (1)
تین بار
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَّبْرُوْرًا وَّذَنْبًا م مَّغْفُوْرًا اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کَالَّذِیْ نَقُوْلُ وَخَیْرًا مِّمَّا نَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ لَکَ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ وَاِلَیْکَ مَاٰبِیْ وَلَکَ رَبِّ تُرَاثِیْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ
1 ۔اے اﷲ (عزوجل)! مجھ کو ہدایت کے ساتھ رہنمائی کر اور پاک کر اور پرہیز گاری کے ساتھ گناہ سے محفوظ رکھ اور دنیا و آخرت میں میری مغفرت فرما۔۱۲
الْقَبْرِ وَ وَسْوَسَۃِ الصَّدْرِ وَشِتَاتِ الْاَمْرِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَجِیْئُ بِـہِ الرِّیْحُ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِیْئُ بِہِ الرِّیْحُ اَللّٰھُمَّ اھْدِنَا بِالْھُدٰی وَزَیِّنَا بِالتَّقْوٰی وَاغْفِرْلَنَا فِی اْلاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ رِزْقًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا.
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ اَمَرْتَ بِالدُّعَآءِ وقَضَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ بِالْاِجَاَبۃِ وَاِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ وَلَا تَنْکُثُ عَھْدَکَ اَللّٰھُمَّ مَااَحْبَبْتَ مِنْ خَیْرٍ فَحَبِّـبْہُ اِلَیْنَا وَ یَسِّرْہُ لَنَا وَمَا کَرِھْتَ مِنْ شَرٍّ فَکَرِّھْہُ اِلَیْنَا وَجَنِّبْنَاہُ وَلَا تَنْزِعْ مِنَّا الْاِسْلَامَ بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَرٰی مَکَانِیْ وَتَسْمَعُ کَلَامِیْ وَتَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَانِیَتِیْ وَلَا یَخْفٰی عَلَیْکَ شَیْءٍ مِّنْ اَمْرِیْ اَنَا الْـبَـآئِسُ الْفَقِیْرُ الْمُسْتَغِیْثُ الْمُسْتَجِیْرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْبِہٖ م اَسْأَلُکَ مَسْأَلَۃَ الْمِسْکِیْنِ وَاَبْتَھِلُ اِلَیْکَ ابْتِھَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِیْلِ وَ اَدْعُوْکَ دُعَآءَ الْخَائِفِ الْمُضْطَرِّ دُعَاءَ مَنْ خَضَعَتْ لَکَ رَقْبَتُہٗ وَفَاضَتْ لَکَ عَیْنَاہُ وَنَحِلَ لَکَ جَسَدُہٗ وَ رَغِمَ اَنْفُہٗ اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنِیْ بِدُعَائِکَ رَ بِّیْ شَقِیّاً وَّکُنْم بِیْ رَؤُفًا رَّحِیْمًا یَا خَیْرَ الْمَسْئُوْلِیْنَ وَ خَیْرَ الْمُعْطِیْنَ . (1)
اور بیہقی کی روایت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اوپر مذکور ہوچکی اس میں جو دعائیں ہیں انھیں بھی پڑھیں یعنی
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ . سو۱۰۰بار
1 ۔ اے اﷲ (عزوجل)! اس کو حج مبرور کر اور گناہ بخش دے، الٰہی! تیرے لیے حمد ہے جیسی ہم کہتے ہیں اور اس سے بہتر جس کو ہم کہیں، اے اﷲ (عزوجل)! میری نماز و عبادت اور میر ا جینا اور مرنا تیرے ہی لیے ہے اور تیری طرف میری واپسی ہے اور اے پرور دگار! تو ہی میرا وارث ہے، اے اﷲ (عزوجل)!میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذابِ قبر اور سینہ کے وسوسے اور کام کی پراگندگی سے، الٰہی! میں سوال کرتا ہوں اُس چیز کی خیر کا جس کو ہوا لاتی ہے اور اُس چیز کے شر سے پناہ مانگتاہوں جسے ہوا لاتی ہے، الٰہی! ہدایت کی طرف ہم کو رہنمائی کر اور تقویٰ سے ہم کو مزین کر اور آخرت و دنیا میں ہم کو بخش دے، الٰہی! میں رزق پاکیزہ و مبارک کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔
الٰہی! تو نے دعا کرنے کا حکم دیا اور قبول کرنے کا ذمہ تو نے خود لیا اور بے شک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور اپنے عہد کو نہیں توڑتا، الٰہی! جو اچھی باتیں تجھے محبوب ہیں انھیں ہماری محبوب کر دے اور ہمارے لیے میسر کر اور جو بُری باتیں تجھے نا پسند ہیں انھیں ہماری ناپسند کر اور ہم کو اُن سے بچا اور اسلام کی طرف تو نے ہم کو ہدایت فرمائی تو اُس کو ہم سے جدا نہ کر، الٰہی! تو میرے مکان کو دیکھتا ہے اور میراکلام سنتا ہے اور میرے پو شیدہ و ظاہر کو جانتا ہے میرے کام میں سے کوئی شے تجھ پر مخفی نہیں، میں نامراد محتاج فریاد کرنے والا، پناہ چاہنے والا، خوفناک ڈرنے والا اپنے گناہ کا مُقر و معترف ہوں، مسکین کی طرح تجھ سے سوال کرتا ہوں اور گنہگار ذلیل کی طرح تجھ سے عاجزی کرتا ہوں اور ڈرنے والے مُضطِر کی طرح تجھ سے دعا کرتا ہوں، اُس کی مثل دعا جس کی گردن تیرے لیے جھک گئی اور آنکھیں جاری اور بدن لاغر اور ناک خاک میں ملی ہے، اے پروردگار! تو اپنی دعا سے مجھے بدبخت نہ کر اور مجھ پر بہت مہربان اور مہربان ہو جا، اے بہتر سوال کیے گئے اور اے بہتر دینے والے!۔۱۲
قُلْ ھُوَ اللہُ .سو بار
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی سَیِّدِناَ اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ .
سو بار
ابن ابی شیبہ وغیرہ امیرا لمومنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''میری اور انبیا کی دُعا عرفہ کے دن یہ ہے:
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ سَمْعِیْ نُوْراً وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا .
اَللّٰھُمَّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَ یَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَّسَاوِسِ الصَّدْرِ وَ تَشْتِیْتِ الْاَمْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا یَلِجُ فِی اللَّیْلِ وَ شَرِّ مَا یَلِجُ فِی النَّھَارِ وَ شَرِّ مَا تَھَبُّ بِہِ الِرّیْحُ وَ شَرِّ بَوَآئِقِ الدَّھْرِ . (1)
اس مقام پر پڑھنے کی بہت دعائیں کتابوں میں مذکور ہیں مگر اتنی ہی میں کفایت ہے اور درود شریف و تلاوتِ قرآن مجید سب دُعاؤ ں سے زیادہ مفید۔
(۲۳) ایک ادب واجب الِحفظ اس روز کا یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے سچے وعدوں پر بھروسا کرکے یقین کرے کہ آج میں گناہوں سے ایساپاک ہوگیا جیسا جس دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا، اب کوشش کروں کہ آئندہ گناہ نہ ہو ں اور جو داغ اﷲ تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے میری پیشانی سے دھویا ہے پھر نہ لگے۔
(۲۴) یہاں یہ باتیں مکروہ ہیں:
1 غروب آفتاب سے پہلے وقوف چھوڑکر روانگی جب کہ غروب تک حدودِ عرفات سے باہر نہ ہوجائے ورنہ حرام ہے۔
1 ۔ '' المسلک المتقسط''، (باب الوقوف بعرفات و أحکامہ)، ص۲۰۱.
''المصنف'' لابن ابی شیبۃ، کتاب الحج، ما یقال عشیۃ عرفۃ ...إلخ، الحدیث:۳، ج۴، ص۴۷۳،.
ترجمہ: اے اﷲ (عزوجل)! میرا سینہ کھول دے اور میرا کام آسان کر اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں سینہ کے وسوسوں اور کام کی پراگند گی اور عذابِ قبر سے، اے اﷲ (عزوجل)! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اُس کی برائی سے جو رات میں داخل ہوتی ہے اور اُس کی بُرائی سے جو دن میں داخل ہوتی ہے اور اُس کی برائی سے جسے ہوا اُڑا لاتی ہے اور آفات دہر کی بُرائی سے۔۱۲
2 نماز عصر و ظہر ملانے کے بعد موقف کو جانے میں دیر۔
3 اُس وقت سے غروب تک کھانے پینے، یا
4 توجہ بخدا کے سوا کسی کام میں مشغول ہونا۔
5 کوئی دنیوی بات کرنا۔
6 غروب پر یقین ہو جانے کے بعد روانگی میں دیر کرنا۔
7 مغرب یا عشا عرفات میں پڑھنا۔ (1)
تنبیہ: موقف میں چھتری لگانے یا کسی طرح سایہ چاہنے سے حتّی المقدور بچو ہاں جو مجبور ہے معذور ہے۔
تنبیہ ضروری ضروری اشد ضروری ۔ بدنگاہی ہمیشہ حرام ہے نہ کہ احرام میں، نہ کہ موقف یا مسجدالحرام میں، نہ کہ کعبہ معظمہ کے سامنے، نہ کہ طواف بیت الحرام میں۔ یہ تمھارے بہت امتحان کا موقع ہے عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ یہاں مونھ نہ چھپاؤ اور تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ ان کی طرف نگاہ نہ کرو، یقین جانو کہ یہ بڑے غیرت والے بادشاہ کی باندیاں ہیں اور اس وقت تم اور وہ خاص دربار میں حاضر ہو۔ بلا تشبیہ شیر کا بچہ اس کی بغل میں ہو اس وقت کون اس کی طرف نگاہ اُٹھا سکتا ہے تو اﷲ (عزوجل) واحد قہار کی کنیزیں کہ اُس کے خاص دربار میں حاضر ہیں اُن پر بدنگاہی کس قدر سخت ہوگی
(وَلِلّٰہِ الْمَثَلُ الاَعْلٰی )۔(2)
ہاں ہاں ہوشیار! ایمان بچائے ہوئے قلب و نگاہ سنبھالے ہوئے حرم وہ جگہ ہے جہاں گناہ کے ارادہ پر پکڑا جاتا اور ایک گناہ لاکھ گناہ کے برابرٹھہرتا ہے، الٰہی خیر کی توفیق دے۔ آمین۔
مسئلہ ۱: وقوف کا وقت نویں ذی الحجہ کے آفتاب ڈھلنے سے دسویں کی طلوعِ فجر تک ہے۔ اس وقت کے علاوہ کسی اور وقت وقوف کیا تو حج نہ ملا مگر ایک صورت میں وہ یہ کہ ذی الحجہ کا ہلال دکھائی نہ دیا، ذیقعدہ کے تیس دن پورے کرکے ذی الحجہ کا مہینہ شروع کیا اور اس حساب سے آج نویں ہے، بعد کو ثابت ہو ا کہ انتیس کا چاند ہوا تو اس حساب سے دسویں ہوگی اور وقوف
1 ۔''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۷۴۹، وغیرہ.
2 ۔پ۱۴، النحل: ۶۰.
دسویں تاریخ کو ہوا مگر ضرورۃً یہ جائز مانا جائے گا اور اگر دھوکا ہوا کہ آٹھویں کو نویں سمجھ کر وقوف کیا پھر معلوم ہوا تو یہ وقوف صحیح نہ ہوا۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲: اگر گواہوں نے رات کے وقت گواہی دی کہ نویں تاریخ آج تھی اور یہ دسویں رات ہے تو اگر اس رات میں سب لوگوں یا اکثر کے ساتھ امام وقوف کرسکتا ہے ،تو وقوف لازم ہے وقوف نہ کریں تو حج فوت ہوجائے گا اور اگر اتنا وقت باقی نہ ہو کہ اکثر لوگوں کے ساتھ امام وقوف کرے اگرچہ خود امام اور جو تھوڑے لوگ جلدی کرکے جائیں تو صبح سے پیشتروہاں پہنچ جائیں گے مگر جو لوگ پیدل ہیں اور جن کے ساتھ بال بچے ہیں اور جن کے پاس اسباب زیادہ ہے ان کو وقوف نہ ملے گا ،تو اس شہادت کے موافق عمل نہ کرے بلکہ دوسرے دن بعد زوال تمام حجاج کے ساتھ وقوف کرے۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۳: جن لوگوں نے ذی الحجہ کے چاند کی گواہی دی اور اُن کی گواہی قبول نہ ہوئی وہ لوگ اگر امام سے ایک دن پہلے وقوف کریں گے ،تو ان کا حج نہ ہوگا بلکہ اُن پر بھی ضرور ہے کہ اُسی دن وقوف کریں ،جس دن امام وقوف کرے اگرچہ اُن کے حساب سے اب دسویں تاریخ ہے۔ (3) (منسک)
مسئلہ ۴: تھوڑی دیر ٹھہرنے سے بھی وقوف ہوجاتا ہے خواہ اُسے معلوم ہو کہ یہ عرفات ہے یا معلوم نہ ہو، با وضو ہو یا بے وضو، جنب ہو یا حیض و نفاس والی عورت، سوتا ہو یا بیدار ہو، ہوش میں ہو یا جنون و بے ہوشی میں یہاں تک کہ عرفات سے ہوکر جو گزرگیا اُسے حج مل گیا یعنی اب اُس کا حج فاسدنہ ہوگا جب کہ یہ سب احرام سے ہوں۔ بے ہوشی میں احرام کی صورت یہ ہے کہ پہلے ہوش میں تھا اور اسی وقت احرام باندھ لیا تھا اور اگر احرام باندھنے سے پہلے بے ہوش ہوگیا اور اُس کے ساتھیوں میں سے کسی نے یا کسی اور نے اُس کی طرف سے احرام باندھ دیا اگرچہ اس احرام باندھنے وا لے نے خود اپنی طرف سے بھی احرام باندھا ہو کہ اُس کا احرام اس کے احرام کے منافی نہیں تو اس صورت میں بھی وہ مُحرِم ہوگیا دوسرے کے احرام باندھنے کا یہ مطلب نہیں کہ اُس کے کپڑے اُتار کر تہبند باندھ دے بلکہ یہ کہ اُس کی طرف سے نیت کرے اور لبیک کہے۔ (4) (عالمگیری، جوہرہ)
مسئلہ ۵: جس کا حج فوت ہوگیا یعنی اُسے وقوف نہ ملا تو اب حج کے باقی افعال ساقط ہوگئے اور اُس کا احرام عمرہ کی
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۲۹،وغیرہ.
2 ۔ '' لباب المناسک''و''المسلک المتقسط ''، (باب الوقوف بعرفات و أحکامہ، فصل في اشتباہ یوم عرفۃ)، ص۲۱۲.
3 ۔ '' لباب المناسک''، (باب الوقوف بعرفات و أحکامہ، فصل في اشتباہ یوم عرفۃ)، ص۲۱۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۲۹.
والجوھرۃ النیرۃ کتاب الحج، الجزء الأول، ص۲۰۹.
طرف منتقل ہوگیا لہٰذا عمرہ کرکے احرام کھول ڈالے اور آئندہ سال قضا کرے۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۶: آفتاب ڈوبنے سے پہلے ازدحام کے خوف سے حدودِ عرفات سے باہر ہوگیا اُس پر دَم واجب ہے، پھر اگر آفتاب ڈوبنے سے پہلے واپس آیا اور ٹھہرا رہا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا تو دَم معاف ہوگیا اور اگر ڈوبنے کے بعد واپس آیا تو ساقط نہ ہوا اور اگر سواری پر تھا اور جانور اُسے لے کر بھاگ گیا جب بھی دَم واجب ہے۔ یوہیں اگر اُس کا اونٹ بھاگ گیا یہ اُس کے پیچھے چل دیا۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۷: مُحرِم نے نمازِ عشا نہیں پڑھی ہے اور وقت صرف اتنا باقی ہے کہ چار رکعت پڑھے مگر پڑھتا ہے تو وقوف عرفہ جاتا رہے گا تونماز چھوڑے اور عرفات کو جائے۔ (3) (جوہرہ) اور بہتر یہ کہ چلتے میں پڑھ لے بعد کو اعادہ کرے۔ (4) (منسک)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( فَاِذَاۤ اَفَضْتُمۡ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْکُرُوا اللہَ عِنۡدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۪ وَاذْکُرُوۡہُ کَمَا ہَدٰىکُمْ ۚ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿۱۹۸﴾ ) (5)
جب عرفات سے تم واپس ہو تو مشعر حرام (مزدلفہ) کے نزدیک، اﷲ (عزوجل) کا ذکر کرو اور اس کو یا د کرو جیسے اُس نے تمھیں بتایا اور بیشک اس سے پہلے تم گمراہوں سے تھے۔
(حدیث ۱:) صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حجۃ الوداع میں نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم عرفات سے مزدلفہ میں تشریف لائے یہاں مغرب و عشا کی نماز پڑھی پھر لیٹے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوئی، جب صبح ہوگئی اُس وقت اذان و اقامت کے ساتھ نماز فجر پڑھی، پھر قصواء پر سوار ہو کر مشعر حرام میں آئے اور قبلہ کی جانب مونھ کرکے دعا و تکبیر و تہلیل و توحید میں مشغول رہے اور وقوف کیا یہاں تک کہ خوب اُجالا ہو گیا اور طلوعِ آفتاب سے قبل یہاں سے روانہ ہوئے۔ (6)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۲۹.
2 ۔ '' لباب المناسک''، (باب الوقوف بعرفات و أحکامہ، فصل في الدفع قبل الغروب)، ص۲۱۰.
3 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الحج، الجزء الأول، ص۲۰۹.
4 ۔
5 ۔پ۲، البقرہ: ۱۹۸.
6 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۱۲۱۸، ص۶۳۴.
(حدیث ۲:) بیہقی محمد بن قیس بن مخرمہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا اور فرمایاکہ: ''اہل جاہلیت عرفات سے اس وقت روانہ ہوتے تھے جب آفتاب مونھ کے سامنے ہوتا غروب سے پہلے اور مزدلفہ سے بعد طلوع آفتاب روانہ ہوتے جب آفتاب چہرے کے سامنے ہوتا اور ہم عرفات سے نہ جائیں گے جب تک آفتاب ڈوب نہ جائے اور مزدلفہ سے طلوع کے قبل روانہ ہوں گے ہمارا طریقہ بُت پرستوں اور مشرکوں کے طریقہ کے خلاف ہے۔'' (1)
(۱) جب غروب آفتاب کا یقین ہو جائے فوراً مُزدلِفہ کو چلو اور امام کے ساتھ جانا افضل ہے مگر وہ دیر کرے تو اُس کا انتظار نہ کرو۔
(۲) راستے بھر ذکر و دُرود و دُعا و لبیک و زاری و بکا میں مصروف رہو۔ اس وقت کی بعض دعائیں یہ ہیں:
اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَفَضْتُ وَ فِیْ رَحْمَتِکَ رَغِبْتُ وَمِنْ سَخْطِکَ رَھِبْتُ وَمِنْ عَذَابِکَ اَشْفَقْتُ فَاقْـبَلْ نُسُکِیْ وَاَعْظِمْ اَجْرِیْ وَ تَقَبَّلْ تَوْبَتِیْ وَارْحَمْ تَضُرُّعِیْ وَاسْتَجِبْ دُعَائِیْ وَاَعْطِنِیْ سُؤْلِیْ اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ ھٰذَا اٰخِرَ عَھْدِنَا مِنْ ھٰذَا الْمَوْقِفِ الشَّرِیْفِ الْعَظِیْمِ وَا رْزُقْنَا الْعَوْدَ اِلَیْہِ مَرَّاتٍ کَثِیْرَۃً بِلُطْفِکَ الْعَمِیْمِ . (2)
(۳) راستہ میں جہاں گنجائش پاؤ اور اپنی یا دوسرے کی ایذا کا احتمال نہ ہو اتنی دیر اتنی دور تیز چلوپیدل ہوخواہ سوار۔
(۴) جب مزدلِفہ نظر آئے بشرطِ قدرت پیدل ہولینا بہتر ہے اور نہا کر داخل ہونا افضل، مزدلِفہ میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھو:
اَللّٰھُمَّ ھٰذَا جَمْعٌ اَسْأَلُکَ اَنْ تَرْزُقَنِیْ جَوَامِعَ الْخَیْرِ کُلِّہٖ اَللّٰہُمَّ رَبَّ الْمَشْعَرِالْحَرَامِ وَرَبَّ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ وَرَبَّ الْبَلَدِ الْحَرَامِ وَرَبَّ الْمسْجِدِ الْحَرَامِ اَسْأَلُکَ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الْکَرِیْمِ اَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوبِیْ وَتَرْحَمَنِیْ وَتجْمَعَ عَلَی الْھُدٰی اَمْرِیْ وَتَجْعَلَ التَّقْوٰی زَادِیْ وَذُخْرِیْ وَالْاٰخِرَۃَ مَاٰبِیْ وَھَبْ لِیْ رِضَاکَ عَنِّیْ فِی الدُّنْیا وَلْاٰخِرَۃِ یامَنْ م بِیَدِھِ الْخَیْرُ کُلُّـہٗ اَعْطِنِی الْخَیْرَ کُلَّہٗ وَاصْرِفْ عَنِّی الشَّرَّ کُلَّہٗ اَللّٰہُمَّ
1 ۔ ''معرفۃ السنن والآثار''، کتاب المناسک، باب الاختیار في الدفع من المزدلفۃ، الحدیث: ۳۰۴۵، ج۴، ص۱۱۷.
2 ۔اے اﷲ(عزوجل)! میں تیری طرف واپس ہوا اور تیری رحمت میں رغبت کی اور تیری نا خوشی سے ڈر ااورتیرے عذاب سے خوف کیا تو میری عبادت قبول کر اور میرا اجر عظیم کر اور میری توبہ قبول کر اور میری عاجزی پر رحم کر اور مجھے میرا سوال عطا کر۔ اے اﷲ (عزوجل)! اس شریف بزرگ جگہ میں میری یہ حاضری آخری حاضری نہ کر اور تو اپنی مہربانی سے یہاں بہت مرتبہ آنا نصیب کر۔۱۲
حَرِّمْ لَحْمِیْ وَعَظْمِیْ وَشَحْمِیْ وَشَعْرِیْ وَسَائِرَ جَوَارِحِیْ عَلَی النَّارِ یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ ؕ (1)
(۵) وہاں پہنچ کر حتی الامکان جبلِ قزح کے پاس راستہ سے بچ کر اترو ورنہ جہاں جگہ ملے۔
(۶) غالباً وہاں پہنچتے پہنچتے شفق ڈوب جائے گی مغرب کا وقت نکل جائے گا۔ اونٹ کھولنے، اسباب اتارنے سے پہلے امام کے ساتھ مغرب و عشا پڑھو اور اگر وقت مغرب کا باقی بھی رہے جب بھی ابھی مغرب ہرگز نہ پڑھو، نہ عرفات میں پڑھو نہ راہ میں کہ اس دن یہاں نمازِ مغرب وقت مغرب میں پڑھنا گناہ ہے اور اگر پڑھ لو گے عشا کے وقت پھر پڑھنی ہوگی۔ غرض یہاں پہنچ کر مغرب وقت عشا میں بہ نیتِ ادا، نہ بہ نیتِ قضا حتی الامکان امام کے ساتھ پڑھو۔ مغر ب کا سلام پھیرتے ہی معاً عشا کی جماعت ہوگی عشا کے فرض پڑھ لو اس کے بعد مغرب و عشا کی سنتیں اور وتر پڑھو اور اگر امام کے ساتھ جماعت نہ مل سکے تو اپنی جماعت کرلو اور نہ ہوسکے تو تنہا پڑھو۔
مسئلہ ا: یہ مغرب وقت عشا میں پڑھنی اُسی کے لیے خاص ہے جو مزدلِفہ کو آئے اور اگر عرفات ہی میں رات کو رہ گیا یا مزدلِفہ کے سوا دوسرے راستہ سے واپس ہوا تو اسے مغرب کی نماز اپنے وقت میں پڑھنی ضروری ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: اگر مزدلفہ کے آنے والے نے مغرب کی نماز راستہ میں پڑھی یا مزدلفہ پہنچ کر عشا کا وقت آنے سے پہلے پڑھ لی ،تو اسے حکم یہ ہے کہ اعادہ کرے مگر نہ کیا اور فجر طلوع ہوگئی تو وہ نماز اب صحیح ہوگئی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳: اگر مزدلفہ میں مغرب سے پہلے عشا پڑھی تو مغرب پڑھ کر عشا کا اعادہ کرے اور اگر طلوع فجر تک اعادہ نہ کیا تو اب صحیح ہوگئی خواہ وہ شخص صاحبِ ترتیب ہو یا نہ ہو۔ (4) (درمختار، طحطاوی)
1 ۔ اے اﷲ(عزوجل) !یہ جمع (مزدلِفہ) ہے میں تجھ سے تمام خیر کے مجموعہ کا سوال کرتا ہوں،اے اﷲ(عزوجل)! مَشْعَرِ حرام کے رب اور رکن و مقام کے رب اور عزت والے شہر اور عزت والی مسجد کے رب! میں تجھ سے بو سیلہ تیرے وجہ کریم کے نور کے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے گناہ بخش دے اور مجھ پر رحم کر اور ہدایت پر میرے کام کو جمع کردے اور تقویٰ کو میرا توشہ اور ذخیرہ کر اور آخرت میرا مرجع کر اور دنیا اور آخرت میں تو مجھ سے راضی رہ. اے وہ ذات جس کے ہاتھ میں تمام بھلائی ہے! مجھ کو ہر قسم کی خیر عطا کر اور ہر قسم کی بُرائی سے بچا، اے اﷲ (عزوجل)! میرے گوشت اور ہڈی اور چربی اور بال اور تمام اعضا کو جہنم پر حرام کردے، اے سب مہر بانوں سے زیادہ مہربان!۔۱۲
2 ۔ ''ردالمحتار'' ، کتاب الحج، مطلب في الرفع من عرفات، ج۳، ص۶۰۱.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، ج۳، ص۶۰۱.
4 ۔ المرجع السابق، ص۶۰۲.''حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار''، کتاب الحج، ج۱، ص۵۰۴.
مسئلہ ۴: اگر راستہ میں اتنی دیر ہوگئی کہ طلوع فجر کا اندیشہ ہے تو اب راستہ ہی میں دونو ں نمازیں پڑھ لے مزدلِفہ پہنچنے کا انتظار نہ کرے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵: عرفات میں ظہر و عصر کے لیے ایک اذان اور دو اقامتیں ہیں اور مزدلفہ میں مغرب و عشا کے لیے ایک اذان اور ایک اقامت۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۶: دونوں نمازوں کے درمیان میں سنت و نوافل نہ پڑھے۔ مغرب کی سنتیں بھی بعد عشا پڑھے اگر درمیان میں سنتیں پڑھیں یا کوئی اور کام کیا تو ایک اقامت اور کہی جائے یعنی عشا کے لیے۔ (3) (ردا لمحتار)
مسئلہ ۷: طلوعِ فجر کے بعد مزدلفہ میں آیا توسنت ترک ہوئی مگر دَم وغیرہ اس پر واجب نہیں۔ (4) (عالمگیری)
(۷) نمازوں کے بعد باقی رات ذِکر و لبیک و دُرود و دُعا و زاری میں گزارو کہ یہ بہت افضل جگہ اور بہت افضل رات ہے۔ بعض علما نے اس رات کو شبِ قدر سے بھی افضل کہا۔ زندگی ہے تو سونے کو اور بہت راتیں ملیں گی اور یہاں یہ رات خدا جانے دوبارہ کسے ملے اور نہ ہوسکے تو باطہارت سو رہو کہ فضول باتوں سے سونا بہتر اور اتنے پہلے اُٹھ بیٹھو کہ صبح چمکنے سے پہلے ضروریات و طہارت سے فارغ ہو لو، آج نمازِ صبح بہت اندھیرے سے پڑھی جائے گی، کوشش کرو کہ جماعت امام بلکہ پہلی تکبیر فوت نہ ہو کہ عشا و صبح جماعت سے پڑھنے والا بھی پوری شب بیداری کا ثواب پاتا ہے۔
(۸) اب دربارِ اعظم کی دوسری حاضری کا وقت آیا، ہاں ہاں کرم کے دروازے کھولے گئے ہیں، کل عرفات میں حقوق اﷲ معاف ہوئے تھے یہاں حقوق العباد معاف فرمانے کا وعدہ ہے۔
مشعر الحرام میں یعنی خاص پہاڑی پر اور نہ ملے تو اس کے دامن میں اور یہ بھی نہ ہوسکے تو وادیئ محسر(5) کے سوا جہاں گنجائش پاؤ وقوف کرو اور تمام باتیں کہ وقوفِ عرفات میں مذکور ہوئیں ملحوظ رکھو یعنی لبیک کی کثرت کرو اور ذکر و درود و دُعا میں
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، ج۳، ص۶۰۲.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار'' ، کتاب الحج، مطلب في الرفع من عرفات، ج۳، ص۶۰۰.
3 ۔ ''ردالمحتار'' ، کتاب الحج، مطلب في الرفع من عرفات، ج۳، ص۶۰۰.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۳۱.
5 ۔ کہ اس میں وقوف جائز نہیں ۔۱۲
مشغول رہو یہاں کے لیے بعض دُعائیں یہ ہیں:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ وَجَھْلِیْ وَاِسْرَافِیْ فِیْ اَمْرِیْ وَمَآ اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ جِدِّیْ وَھَزْلِیْ وَخَطَأِیْ وَعَمْدِیْ وَکُلُّ ذَالِکَ عِنْدِیْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الفَقْرِ وَالْکُفْرِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلْعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ وَاَسْأَلُکَ اَنْ تَقْضِیَ عَنِّیَ الْمَغْرِمَ وَاَنْ تَعْفُوَ عَنِّیْ مَظَالِمَ الْعِبَادِ وَاَنْ تُرْضِیَ عَنِّیَ الْخُصُوْمَ وَالْغُرَمَآءَ وَاَصْحَابَ الْحُقُوْقِ اَللّٰھُمَّ اَعْطِ نَفْسِیْ تَقْوٰھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکّٰھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلٰھَا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَمِنْ غَلَبَۃِ الْعَدُوِّ وَمِنْم بَوَارٍ لَّآئِمٍ وَمِنْ فِـتْـنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ الَّذِیْنَ اِذَا اَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوْا وَاِذَا اَسَاؤُا اسْتَـغْـفَرُوْا.
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِیْنَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِیْنَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ فِیْ ھٰذَا الْجَمْعِ اَنْ تَجْمَعَ لِیْ جَوَامِعَ الْخَیْرِکُلِّہٖ وَاَنْ تُصْلِحَ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّہٗ وَاَنْ تَصْرِفَ عَنِّیَ السُّوْءَ کُلَّہٗ فَاِنَّہٗ لَا یَفْعَلُ ذَالِکَ غَیْرُکَ وَلَا یَجُوْدُ بِہٖ اِلَّا اَنْتَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہٖ وَمِنْ شَرِّ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ وَمِنْ شَرِّمَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی اَرْبَعٍ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ اَخْشٰکَ کَاَنَّنِیْ اَرٰکَ اَبَدًا حَتّٰی اَلْقٰکَ وَاَسْعِدْنِیْ بِتَقْوٰکَ وَلَا تَشْقِنِیْ بِمَعْصِیَّتِکَ وَخِرْلِیْ مِنْ قَضَآئِکَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْ قَدْرِکَ حَتّٰی لَا اُحِبَّ تَعْجِیْلَ مَا اَخَّرْتَ وَلَا تَاْخِیْرَ مَا عَجَّلْتَ وَاجْعَلْ غِنَایَ فِیْ نَفْسِیْ وَمَتِّعْنِیْ بِسَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَاجْعَلْھُمَا الْوَارِثَ مِنِّیْ وَانْصُرْنِیْ عَلٰی مَنْ ظَلَمَنِیْ وَاَرِنِیْ فِیْہِ ثَـاْرِیْ وَاَقِرَّ بِذٰلِکَ عَیْنِیْ . (1)
1 ۔ اے اﷲ (عزوجل)! میری خطا اور جہل اور زیادتی اور جس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے سب کو بخش دے، اے اﷲ (عزوجل)! میرے تمام گناہ معاف کردے کوشش سے جس کو میں نے کیا یا بلا کوشش اور خطا سے کیا یا قصد سے اور یہ سب میں نے کیے، اے اﷲ (عزوجل)! تیر ی پنا ہ مانگتا ہوں محتاجی اور کفر اور عاجزی و سستی سے اور تیری پناہ غم و حُزن سے اور تیری پنا ہ بزدلی و بخل اور دَین کی گرانی اور مردوں کے غلبہ سے اور سوال کرتا ہوں کہ مجھ سے تاوان ادا کر دے اور حقوق العباد مجھ سے معاف کر اور خصوم و غرما اور حق داروں کو راضی کر دے، اے اﷲ (عزوجل)! میرے نفس کو تقوے ٰ دے اور اس کو پاک کر تو بہتر پاک کرنے والا ہے تو اس کا ولی ومولیٰ ہے، اے اﷲ (عزوجل)! تیری پناہ غلبہ دَین اور غلبہ دشمن سے اور اس ہلاکت سے جو ملامت میں ڈالنے والی ہے اور مسیح دجّال کے فتنہ سے۔
اے اﷲ (عزوجل)! مجھے ان لوگوں میں کر جو نیکی کرکے خوش ہوتے ہیں اور بُرائی کرکے استغفار کرتے ہیں۔ اے اﷲ (عزوجل)! ہم کو اپنے نیک بندوں میں کر جن کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہیں جو مقبول وفد ہیں، اے اﷲ (عزوجل)! اس مزدلِفہ میں میرے لیے ہر خیر کو جمع کر دے اور میری ہر حالت کو درست کر دے اور ہر بُرائی کو مجھ سے پھیر دے کہ تیرے سوا کوئی نہیں کر سکتا اور تیرے سوا کوئی نہیں دے سکتا،=
مسئلہ ۸: وقوف مز دلِفہ کا وقت طلوع فجر سے اُوجالا ہونے تک ہے۔ اس درمیان میں وقوف نہ کیا تو فوت ہوگیا اور اگر اس وقت میں یہاں سے ہوکر گزرگیا تو وقوف ہوگیا اور وقوفِ عرفات میں جو باتیں تھیں وہ یہاں بھی ہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: طلوع فجر سے پہلے جو یہاں سے چلا گیا اُس پر دَم واجب ہے مگر جب بیمار ہو یا عورت یا کمزور کہ ازدحام میں ضرر کا اندیشہ ہے اس وجہ سے پہلے چلا گیا تو اُس پر کچھ نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: نماز سے قبل مگر طلوع فجر کے بعد یہاں سے چلا گیا یا طلوع آفتاب کے بعد گیا تو بُرا کیا مگر اس پر دم وغیرہ واجب نہیں۔ (3) (عالمگیری)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَا سِکَکُمْ فَاذْکُرُو اللہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآئَکُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَمَا لَـہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ o وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَـآ اٰتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ o اُوْلٰۤئِکَ لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا ؕ وَاللہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ o وَاذْکُرُوا اللہَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَـلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ج وَمَنْ تَأَخَّرَ فَـلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ لا لِمَنِ اتَّقٰی ؕ وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوْآ اَ نَّـکُمْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ o ) (4)
= اے اﷲ (عزوجل)! تیری پناہ اس کے شرسے جو پیٹ پر چلتا ہے اور دو۲ پاؤں اور چار۴ پاؤں پر چلنے والے کے شر سے، اے اﷲ (عزوجل)! تو مجھ کو ایسا کردے کہ ہمیشہ تجھ سے ڈرتا رہوں گویا تجھ کو دیکھتا ہوں یہاں تک کہ تجھ سے ملوں اور تقوے ٰ کے ساتھ مجھ کو بہرہ مند کر اور گناہ کرکے بدبخت نہ بنوں اور اپنی قضا میرے لیے بہتر کر اور جو تو نے مقدر کیا ہے اُس میں برکت دے، یہاں تک کہ جو تو نے مؤخر کیا ہے اس کی جلدی کو پسند نہ کروں اور جو تو نے جلد کردیا، اس کی تاخیر کو دوست نہ رکھوں اور میری تونگری میرے نفس میں کر اور کان ،آنکھ سے مجھ کو متمتع کر اور اُن کو میرا وارث کر اور جو مجھ پر ظلم کرے، اُن پر مجھے فتح مند کر اور اس میں میرا بدلہ دکھا دے اور اس سے میری آنکھ ٹھنڈی کر۔۱۲
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۳۰.
2 ۔ المرجع السابق، ص۲۳۱.
3 ۔ المرجع السابق۔
4 ۔پ۲، البقرۃ: ۲۰۰۔۲۰۳۔
پھر جب حج کے کام پورے کر چکو تو اﷲ (عزوجل) کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ اور بعض آدمی یوں کہتے ہیں کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اُس کے لیے کچھ حصہ نہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا۔ یہ لوگ وہ ہیں کہ ان کی کمائی سے ان کا حصہ ہے اور اﷲ (عزوجل) جلد حساب کرنے والا ہے اور اﷲ (عزوجل) کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں تو جو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اُس پر کچھ گناہ نہیں اور جو رہ جائے تو اُس پر کچھ گناہ نہیں پرہیز گار کے لیے اور اﷲ (عزوجل) سے ڈرو اور جان لو کہ تم کو اسی کی طرف اُٹھنا ہے۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مزدلِفہ سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ بطنِ محسر میں پہنچے اور یہاں جانور کو تیزکر دیا پھر وہاں سے بیچ والے راستہ سے چلے جو جَمْرہ کُبرےٰ کو گیا ہے جب اس جمرہ کے پاس پہنچے تو اُس پر سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر تکبیر کہتے اور بطنِ وادی سے رَمی کی پھر منحر میں ا ۤکر تریسٹھ۶۳ اونٹ اپنے دستِ مبارک سے نحر فرمائے پھر علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو دیدیا بقیہ کو انھوں نے نحر کیا اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اپنی قربانی میں انھیں شریک کرلیا۔ پھر حکم فرمایا: کہ ''ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا ہانڈی میں ڈال کر پکایا جائے۔'' دونوں صاحبوں نے اس گوشت میں سے کھایا اور شوربا پیا۔ پھر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سوار ہو کر بیت اﷲ کی طرف روانہ ہوئے اور ظہر کی نماز مکّہ میں پڑھی۔ (1)
حدیث ۲: ترمذی شریف میں انھیں سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مزدَلفہ سے سکون کے ساتھ روانہ ہوئے اور لوگوں کو حکم فرمایاکہ: اطمینان کے ساتھ چلیں اور وادی محسر میں سواری کو تیز کر دیا اور لوگوں سے فرمایاکہ: چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے رَمی کریں اور یہ فرمایا کہ: شاید اس سال کے بعد اب میں تمھیں نہ دیکھوں گا۔ (2)
حدیث ۳: صحیحین میں انھیں سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یومُ النحر (دسویں تاریخ) میں چاشت کے وقت رَمی کی اور اس کے بعد کے دنوں میں آفتاب ڈھلنے کے بعد۔ (3)
حدیث ۴: صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جَمْرہ کُبریٰ کے پا س پہنچے تو کعبہ معظمہ کو
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۱۲۱۸، ص۶۳۴.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الحج، باب ماجاء فی الافاضۃ من عرفات، الحدیث: ۸۸۷، ج۲، ص۲۵۳.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب بیان وقت استحباب الرمی، الحدیث: ۳۱۴۔(۱۲۹۹)، ص۶۷۶.
بائیں جانب کیا اور منیٰ کو دہنی طرف اور سات کنکر یا ں ماریں، ہر کنکری پر تکبیر کہی پھر فرمایاکہ: ''اسی طرح انھوں نے رَمی کی جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔'' (1)
حدیث ۵: امام مالک نافع سے راوی، کہ عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما دونوں پہلے جمروں کے پاس دیر تک ٹھہرتے تکبیر و تسبیح و حمد و دعا کرتے اور جمرہ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرتے۔ (2)
حدیث ۶: طبرانی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ رَمی جمار میں کیا ثواب ہے؟ ارشاد فرمایا: ''تو اپنے رب کے نزدیک اس کا ثواب اُس وقت پائے گا کہ تجھے اس کی زیادہ حاجت ہوگی۔'' (3)
حدیث ۷: ابن خزیمہ و حاکم ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلاۃ والسلام مَناسک میں آئے، جمرہ عقبہ کے پاس شیطان سامنے آیا، اُسے سات کنکریا ں ماریں یہاں تک کہ زمین میں دھنس گیا پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آیا پھر اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ زمین میں دھنس گیا، پھر تیسرے جمرہ کے پاس آیا تو اُسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ زمین میں دھنس گیا۔'' ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں، کہ تم شیطان کو رجم کرتے اور ملّت ابراہیم کا اتباع کرتے ہو۔ (4)
حدیث ۸: بزار انھیں سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جمروں کی رَمی کرنا تیرے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔'' (5)
حدیث ۹: طبرانی و حاکم ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں ہم نے عرض کی، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ جمروں پر جو کنکر یاں ہر سال ماری جاتی ہیں، ہمارا گمان ہے کہ کم ہوجاتی ہیں۔ فرمایاکہ: ''جو قبول ہوتی ہیں اُٹھالی جاتی ہیں، ایسا نہ ہوتا تو پہاڑوں کی مثل تم دیکھتے۔'' (6)
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الحج، باب رمی الجمار بسبع حصیات، الحدیث: ۱۷۴۸،۱۷۵۰، ج۱، ص۵۷۸،۵۷۹.
2 ۔ ''الموطأ'' للإمام مالک، کتاب الحج، باب رمی الجمار، الحدیث: ۹۴۷ج۱، ص۳۷۲.
3 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب العین، الحدیث: ۴۱۴۷، ج۳، ص۱۵۰.
4 ۔ ''المستدرک'' للحاکم، کتاب المناسک، باب رمی الجمار و مقدار الحصی، الحدیث: ۱۷۵۶، ج۲، ص۱۲۲.
5 ۔ ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الحج، الترغیب فی رمی الجمار ...إلخ، الحدیث: ۳، ج۲، ص۱۳۴.
6 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب الالف، الحدیث: ۱۷۵۰، ج۱، ص۴۷۴.
حدیث ۱۰ تا ۱۲: صحیح مسلم میں اُم الحصین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں سر مونڈانے والوں کے لیے تین بار دُعا کی اور کتروانے والوں کے لیے ایک بار۔ (1) اس کے مثل ابو ہریرہ و مالک بن ربیعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی۔
حدیث ۱۳: ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: ''بال مونڈانے میں ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے اور ایک گناہ مٹایا جاتا ہے۔'' (2)
حدیث ۱۴: عُبَادہ بن صامِت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سر مونڈانے میں جو بال زمین پر گرے گا، وہ تیرے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔'' (3)
(۱) جب طلوع آفتاب میں دو رکعت پڑھنے کا وقت باقی رہ جائے، امام کے ساتھ منیٰ کو چلو اور یہاں سے سات چھوٹی چھوٹی کنکریا ں کھجور کی گٹھلی برابر کی پاک جگہ سے اُٹھا کر تین بار دھولو، کسی پتھر کو توڑ کر کنکر یاں نہ بناؤاور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تینوں دن جمروں پر مارنے کے لیے یہیں سے کنکریا ں لے لو یا سب کسی اور جگہ سے لو مگر نہ نجس جگہ کی ہوں، نہ مسجد کی، نہ جمرہ کے پاس کی۔
(۲) راستہ میں پھر بدستور ذِکر کرو، دُعا و دُرود و کثرت لبیک میں مشغول رہو اور یہ دعا پڑھو:
اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَفَضْتُ وَمِنْ عَذَابِکَ اَشْفَقْتُ وَاِلَیْکَ رَجَعْتُ وَمِنْکَ رَھِبْتُ فَاقْبَلْ نُسُکِیْ وعَظِّمْ اَجْرِیْ وَارْحَمْ تَضَرُّعِیْ وَاقْبَلْ تَوْ بَتِیْ وَاسْتَجِبْ دُعَآئِیْ . (4)
(۳) جب وادی محسر(5) پہنچو پانچ سو پینتالیس ہاتھ بہت جلد تیزی کے ساتھ چل کرنکل جاؤ مگر نہ وہ تیزی جس سے کسی کو ایذا ہو اور اس عرصہ میں یہ دعا پڑھتے جاؤ:
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب تفضیل الحلق علی التقصیر ...إلخ، الحدیث: ۱۳۰۳، ص۶۷۷.
2 ۔ ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الحج، الترغیب فی حلق الرأس بمنی، الحدیث: ۳، ج۲، ص۱۳۵.
3 ۔ ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الحج، الترغیب فی حلق الرأس بمنی، الحدیث: ۳، ج۲، ص۱۳۵.
4 ۔ اے اﷲ(عزوجل)! میں تیری طرف واپس ہو ا اور تیرے عذاب سے ڈرا اور تیر ی طرف رجوع کی اور تجھ سے خوف کیا تو میر ی عبادت قبول کر اور میرا اجر زیادہ کر اور میری عاجزی پر رحم کر اور میری توبہ قبول کر اور میری دُعا مستجاب کر۔۱۲
5 ۔ یہ منیٰ ومزدلفہ کے بیچ میں ایک نالہ ہے دونوں کی حدود سے خارج مزدلفہ سے منیٰ کو جاتے ہوئے بائیں ہاتھ کو جو پہاڑ پڑتا ہے اس کی چوٹی سے شروع ہو کر ۵۴۵ ہاتھ تک ہے یہاں اصحاب فیل آکر ٹھہرے اور ان پر عذاب ابابیل اترا تھا لہٰذا اس جگہ سے جلد گزرنا اور عذاب الٰہی سے پناہ مانگنا چاہیے۔
اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَافِنَا قَـبْلَ ذَالِکَ . (1)
(۴) جب منیٰ نظر آئے وہی دعا پڑھو جو مکہ سے آتے منیٰ کو دیکھ کر پڑھی تھی۔
(۵) جب منیٰ پہنچو سب کاموں سے پہلے جمرۃ العقبہ(2) کو جاؤ جو ادھر سے پچھلا جمرہ ہے اور مکہ معظمہ سے پہلا، نالے کے وسط میں سواری پر جمرہ سے کم از کم پانچ ہاتھ ہٹے ہوئے یوں کھڑے ہو کہ منیٰ دہنے ہاتھ پر اور کعبہ بائیں ہاتھ کو اور جمرہ کی طرف مونھ ہو سات کنکر یا ں جدا جدا چٹکی میں لے کر سیدھا ہا تھ خوب اُٹھا کر کہ بغل کی رنگت ظاہر ہو ہر ایک پر
بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَرُ رَغْمًا لِّلشَّیْطٰن رِضًا لِّلرَّحْمٰنِ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَّبْرُوْرًا وَّسَعْیًا مَّشْکُوْرًا وَّذَنْـبًام مَّغْفُوْرًا . (3)
کہہ کر مارو۔(4) بہتر یہ ہے کہ کنکریاں جمرہ تک پہنچیں ورنہ تین ہاتھ کے فاصلہ تک گریں۔ اس سے زیادہ فاصلہ پر گری تو وہ کنکری شمار میں نہ آئے گی، پہلی کنکری سے لبیک موقوف کردو، اﷲ اکبر کے بدلے
سُبْحَانَ اللہِ یا لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ
کہا جب بھی حرج نہیں۔
(۶) جب سات پوری ہو جائیں وہاں نہ ٹھہرو، فوراً ذِکر و دُعا کرتے پلٹ آؤ۔
مسئلہ ۱: سات سے کم جائز نہیں، اگر صرف تین ماریں یا بالکل نہیں تو دَم لازم ہوگا اور اگر چار ماریں تو باقی ہر کنکری کے بدلے صدقہ دے۔(5) (ردالمحتار)
1 ۔ اے اﷲ (عزوجل)! اپنے غضب سے ہمیں قتل نہ کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کر اور اس سے پہلے ہم کو عافیت دے۔۱۲
2 ۔ منیٰ اور مکہ کے بیچ میں تین جگہ ستون بنے ہیں ان کو جمرہ کہتے ہیں پہلا جو منیٰ سے قریب ہے جمرہ اولیٰ کہلاتا ہے اور بیچ کا جمرہ وسطی اور اخیر کاکہ مکہ معظمہ سے قریب ہے جمرۃ العقبہ۔۱۲
3 ۔ اﷲ (عزوجل)کے نام سے، اﷲ (عزوجل) بہت بڑا ہے، شیطان کے ذلیل کرنے کے لیے، اﷲ (عزوجل) کی رضا کے لیے، اے اﷲ (عزوجل)! اسکو حج مبرور کر اور سعی مشکور کر اور گناہ بخش دے۔۱۲
4 ۔ یاصرف بسم اللہ اللہ اکبرکہہ کر مارو۔۱۲ منہ
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في رمي الجمرۃ العقبیٰ، ج۳، ص۶۰۸.
مسئلہ ۲: کنکری مارنے میں پے در پے ہونا شرط نہیں مگر وقفہ خلافِ سنت ہے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳: سب کنکریاں ایک ساتھ پھینکیں تو یہ ساتوں ایک کے قائم مقا م ہوئیں۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: کنکریاں زمین کی جنس سے ہوں اور ایسی چیز کی جس سے تیمم جائز ہے کنکر، پتھر، مٹی یہاں تک کہ اگر خاک پھینکی جب بھی رَمی ہوگئی مگر ایک کنکری پھینکنے کے قائم مقام ہوئی۔ موتی، عنبر، مشک وغیرہا سے رَمی جائز نہیں۔ یوہیں جواہر اور سونے چاندی سے بھی رَمی نہیں ہوسکتی کہ یہ تو نچھاور ہوئی مارنا نہ ہوا، مینگنی سے بھی رَمی جائز نہیں۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: جمرہ کے پاس سے کنکریاں اُٹھا نا مکروہ ہے کہ وہاں وہی کنکر یاں رہتی ہیں جو مقبول نہیں ہوتیں اور مردود ہوجاتی ہیں اور جو مقبول ہو جاتی ہیں اُٹھا لی جاتی ہیں۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: اگر معلوم ہو کہ کنکریاں نجس ہیں تو اُن سے رَمی کرنا مکروہ ہے اور معلوم نہ ہو تو نہیں مگر دھولینا مستحب ہے۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: اس رَمی کا وقت آج کی فجر سے گیارھویں کی فجر تک ہے مگر مسنون یہ ہے کہ طلوع آفتاب سے زوال تک ہو اور زوال سے غروب تک مُباح اور غروب سے فجر تک مکروہ۔ یوہیں دسویں کی فجر سے طلوع آفتاب تک مکروہ اور اگر کسی عُذر کے سبب ہو مثلاً چرواہوں نے رات میں رَمی کی تو کراہت نہیں۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
(۷) اب رَمی سے فارغ ہو کر قربانی میں مشغول ہو، یہ قربانی وہ نہیں جو بقر عید میں ہوا کرتی ہے کہ وہ تو مسافر پر اصلاً نہیں اور مقیم مالدار پر واجب ہے اگرچہ حج میں ہو بلکہ یہ حج کا شکرانہ ہے۔ قارِن اور متمتع پر واجب اگرچہ فقیر ہو اور مُفْرِد کے لیے مستحب اگرچہ غنی ہو۔ جانور کی عمر و اعضا میں وہی شرطیں ہیں جو عید کی قربانی میں۔
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في رمي الجمرۃ العقبیٰ، ج۳، ص۶۰۸.
2 ۔ المرجع السابق، ص۶۰۷۔
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في رمي الجمرۃ العقبیٰ، ج۳، ص۶۰۸.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في رمي الجمرۃ العقبیٰ، ج۳، ص۶۰۹.
5 ۔ المرجع السابق، ص۶۱۰.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في رمي الجمرۃ العقبیٰ، ج۳، ص۶۱۰.
مسئلہ ۱: محتاج محض جس کی ملک میں نہ قربانی کے لائق کوئی جانور ہو، نہ اس کے پاس اتنا نقد یا اسباب کہ اسے بیچ کر لے سکے، وہ اگر قِران یا تمتّع کی نیت کریگا تو اس پر قربانی کے بدلے دس روزے واجب ہوں گے تین تو حج کے مہینوں میں یعنی یکم شوال سے نویں ذی الحجہ تک احرام باندھنے کے بعد، اس بیچ میں جب چاہے رکھ لے۔ ایک ساتھ خواہ جُدا جُدا اور بہتر یہ ہے کہ ۷۔۸۔۹ کو رکھے اور باقی سات تیرھویں ذی الحجہ کے بعد جب چاہے رکھے اور بہتر یہ کہ گھر پہنچ کر ہوں۔
(۸) ذبح کرنا آتا ہو تو خود ذبح کرے کہ سنت ہے، ورنہ ذبح کے وقت حاضر رہے۔
(۹) رُو بقبلہ جانور کو لٹا کر اور خود بھی قبلہ کو مونھ کرکے یہ پڑھو:
اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ حَنِیۡفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾ (1)
اس کے بعد
بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَرُؕ
کہتے ہوئے نہایت تیز چُھری سے بہت جلد ذبح کردو کہ چاروں رگیں کٹ جائیں، زیادہ ہاتھ نہ بڑھاؤکہ بے سبب کی تکلیف ہے۔
(۱۰) بہتر یہ ہے کہ ذبح کے وقت جانور کے دونوں ہاتھ، ایک پاؤں باندھ لو ذبح کرکے کھول دو۔
(۱۱) اونٹ ہو تو اسے کھڑا کرکے سینہ میں گلے کی انتہا پر تکبیر کہہ کر نیزہ مار و کہ سنت یوہیں ہے اسے نحر کہتے ہیں اور اس کا ذبح کرنا مکروہ مگر حلال ذبح سے بھی ہو جائے گا اگر ذبح کرے تو گلے پر ایک ہی جگہ اُسے بھی ذبح کرے۔ جاہلوں میں جو مشہور ہے کہ اونٹ تین جگہ ذبح ہوتا ہے غلط و خلاف سنت ہے اور مُفت کی اذیت و مکروہ ہے۔
(۱۲) جانور جو ذبح کیا جائے جب تک سرد نہ ہولے اس کی کھال نہ کھینچو، نہ اعضا کاٹو کہ ایذا ہے۔
(۱۳) یہ قربانی کرکے اپنے اور تمام مسلمانوں کے حج و قربانی قبول ہونے کی دعا مانگو۔
1 ۔پ۷، الانعام: ۷۹۔
2 ۔ انظر: ''سنن أبي داود''، کتاب الضحایا، باب ما یستحب من الضحایا، الحدیث: ۲۷۹۵، ج۳، ص۱۲۶.
ترجمہ: ''میں نے اپنی ذات کو اس کی طرف متوجہ کیا، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں باطل سے حق کی طرف مائل ہوں اور میں مشرکوں سے نہیں۔ ''
''بیشک میری نماز و قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اﷲ (عزوجل) کے لیے ہے، جو تمام جہان کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اُسی کا حکم ہو ااور میں مسلمانوں میں ہوں۔'' ۱۲
(۱۴) قربانی کے بعد قبلہ مونھ بیٹھ کر مرد حَلق کریں یعنی تمام سر مونڈائیں کہ افضل ہے یا بال کتروائیں کہ رخصت ہے۔ عورتوں کو بال مونڈانا حرام ہے۔ ایک پورہ برابربال کتروا دیں۔ مُفرِد اگر قربانی کرے تو اُسکے لیے مستحب یہ ہے کہ قربانی کے بعد حلق کرے اور اگر حلق کے بعد قربانی کی جب بھی حرج نہیں اور تمتع و قِران والے پر قربانی کے بعد حلق کرنا واجب ہے یعنی اگر قربانی سے پہلے سر مونڈائے گا تو دَم واجب ہوگا۔
مسئلہ ۱: کتروائیں تو سر میں جتنے بال ہیں ان میں کے چہارم بالوں میں سے کتروانا ضروری ہے، لہٰذا ایک پورہ سے زیادہ کتروائیں کہ بال چھوٹے بڑے ہوتے ہیں ممکن ہے کہ چہارم بالوں میں سب ایک ایک پورا نہ ترشیں۔
مسئلہ ۲: سر مونڈانے یا بال کتروانے کا وقت ایام نحر ہے یعنی ۱۰، ۱۱، ۱۲ اور افضل پہلا دن یعنی دسویں ذی الحجہ۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: جب احرام سے باہر ہونے کا وقت آگیا تو اب مُحرم اپنا یا دوسرے کا سر مونڈ سکتا ہے، اگرچہ یہ دوسرا بھی مُحرم ہو۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۴: جس کے سر پر بال نہ ہوں اُسے اُسترہ پھروانا واجب ہے اور اگر بال ہیں مگر سر میں پُھڑیاں ہیں جن کی وجہ سے مونڈا نہیں سکتا اور بال اتنے بڑے بھی نہیں کہ کتروائے تو اس عُذر کے سبب اُس سے مونڈانا اور کتروانا ساقط ہوگیا۔ اُسے بھی مونڈانے والوں، کتروانے والوں کی طرح سب چیزیں حلال ہوگئیں مگر بہتر یہ ہے کہ ایامِ نحر کے ختم ہونے تک بدستور رہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: اگر وہاں سے کسی گاؤں وغیرہ میں ایسی جگہ چلا گیا کہ نہ حجام ملتا ہے، نہ اُسترہ یا قینچی پاس ہے کہ مونڈالے یا کتروائے تو یہ کوئی عُذر نہیں مونڈانا یا کتروانا ضروری ہے۔(4) (عالمگیری)
اور یہ بھی ضرور ہے کہ حرم سے باہر مونڈانا یا کتروانا نہ ہو بلکہ حرم کے اندر ہو کہ اس کے لیے یہ جگہ مخصوص ہے، حرم سے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس، في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۳۱.
2 ۔ ''لباب المناسک''، (باب مناسک منی، فصل في الحلق و التقصیر)، ص۲۳۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ص۲۳۱.
4 ۔ المرجع السابق .
باہر کریگا تو دَم لازم آئے گا۔ (1) (منسک)
مسئلہ ۶: اس موقع پر سر مونڈانے کے بعد مونچھیں ترشوانا، موئے زیر ناف دُور کرنا مستحب ہے اور داڑھی کے بال نہ لے اور لیے تو دَم وغیرہ واجب نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: اگر نہ مونڈائے نہ کتروائے تو کوئی چیز جو احرام میں حرام تھی حلال نہ ہوئی اگرچہ طواف بھی کرچکا ہو۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: اگر بارھویں تک حلق و قصر نہ کیا تو دَم لازم آئے گا کہ اس کے لیے یہ وقت مقرر ہے۔ (4) (ردالمحتار)
(۱۵) حلق ہویا تقصیر دہنی طرف (5)سے شروع کرو اور اس وقت
اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُؕ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ ؕ وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ
کہتے جاؤ اور فارغ ہونے کے بعد بھی کہو اور حلق یا تقصیر کے وقت یہ دُعا پڑھو:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَا ھَدَانَا واَنْعَمَ عَلَیْنَا وقَضٰی عَنَّا نُسُکَنَا اَللّٰھُمَّ ھٰذِہٖ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ فَاجْعَلْ لِّیْ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ نُوْرًا یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَامْحُ عَنِّیْ بِھَا سَیِّئَۃً وَّارْفَعْ لِیْ بِھَا دَرَجَۃً فِی الْجَنَّۃِ الْعَالِیَۃِ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْ نَفْسِیْ وَتَقَبَّلْ مِنِّیْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَ لِلْمُحَلِّقِیْنَ وَالْمُقَصِّرِیْنَ یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ۔ اٰمِیْنَ ؕ. (6)
اور سب مسلمانوں کی بخشش کی دعا کرو۔
مسئلہ ۹: اگر مونڈانے یا کتروانے کے سوا کسی اور طرح سے بال دور کریں مثلاً چونا ہرتال وغیرہ سے جب بھی جائز
1 ۔ ''لباب المناسک''، (باب مناسک منی، فصل فی الحلق و التقصیر)، ص۲۳۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ص۲۳۲.
3 ۔ المرجع السابق .
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في طواف الزیارۃ، ج۳، ص۶۱۶.
5 ۔ یعنی مونڈانے والے کی دہنی جانب یہی حدیث سے ثابت اور امام اعظم نے بھی ایسا ہی کیا لہٰذا بعض کتابوں میں جوحجام کی دہنی جانب سے شروع کرنے کو بتایا صحیح نہیں۔۱۲منہ
6 ۔حمد ہے اﷲ (عزوجل) کے لیے اس پر کہ اس نے ہمیں ہدایت کی اور انعام کیا اور ہماری عبادت پوری کرا دی، اے اﷲ (عزوجل)! یہ میری چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے میرے لیے ہر بال کے بدلے میں قیامت کے دن نور کر اور اس کی وجہ سے میرا گناہ مٹا دے اور جنت میں درجہ بلند کر، الٰہی! میرے لیے میر ے نفس میں برکت کر اور مجھ سے قبول کر، اے اﷲ(عزوجل)! مجھ کو اور سر منڈانے والوں اور بال کتروانے والوں کو بخش دے، اے بڑی مغفرت والے! آمین۔۱۲
ہے۔ (1) (درمختار)
(۱۶) بال دفن کر دیں اورہمیشہ بدن سے جو چیز بال، ناخن، کھال جُدا ہوں دفن کر دیا کریں۔
(۱۷) یہاں حلق یا تقصیر سے پہلے ناخن نہ کترواؤ، نہ خط بنواؤ، ورنہ دَم لازم آئے گا۔
(۱۸) اب عورت سے صحبت کرنے، بشہوت اُسے ہاتھ لگانے، بوسہ لینے، شرم گاہ دیکھنے کے سوا جو کچھ احرام نے حرام کیا تھا سب حلال ہوگیا۔
(۱۹) افضل یہ ہے کہ آج دسویں ہی تاریخ فرض طواف کے لیے جسے طوافِ زیارت و طوافِ افاضہ کہتے ہیں، مکّہ معظمہ میں جاؤ بدستور مذکور پیدل با وضو و سترِ عورت طواف کرو مگر اس طواف میں اِضطباع نہیں۔
مسئلہ ۱: یہ طواف حج کا دوسرا رکن ہے اس کے سات پھیرے کیے جائیں گے، جن میں چار پھیرے فرض ہیں کہ بغیر ان کے طواف ہوگا ہی نہیں اور نہ حج ہوگا اور پورے سات کرنا واجب تو اگر چار پھیروں کے بعد جماع کیا تو حج ہوگیا مگر دَم واجب ہوگا کہ واجب ترک ہوا۔ (2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲: اس طواف کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ پیشتر احرام بندھا ہو اور وقوف کر چکا ہو اور خود کرے اور اگر کسی اور نے اُسے کندھے پر اُٹھا کر طواف کیا تو اُس کا طواف نہ ہوا مگر جب کہ یہ مجبور ہو خودنہ کرسکتا ہو مثلاً بیہوش ہے۔ (3) (جوہر ہ ،ر دالمحتار)
مسئلہ ۳: بیہوش کو پیٹھ پرلاد کر یا کسی اور چیز پر اُٹھا کر طواف کرایا اور اس میں اپنے طواف کی بھی نیت کرلی تو دونوں کے طواف ہوگئے اگرچہ دونوں کے دو قسم کے طواف ہوں۔
مسئلہ ۴: اس طواف کا وقت دسویں کی طلوعِ فجر سے ہے، اس سے قبل نہیں ہو سکتا۔ (4) (جوہرہ)
مسئلہ ۵: اس میں بلکہ مطلق ہر طواف میں نیت شرط ہے، اگر نیت نہ ہو طواف نہ ہوا مثلاً دشمن یا درند ے سے بھاگ
1 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الحج، مطلب في رمي جمرۃ العقبۃ، ج۳، ص۶۱۲.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۳۲،وغیرہ.
3 ۔ ''رد المحتار''، کتاب الحج، مطلب: فی طواف الزیارۃ، ج ۳ ، ص۶۱۴.
4 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''کتاب الحج، ص۲۰۵.
کر پھیرے کیے طواف نہ ہوا بخلاف وقوفِ عرفہ کہ وہ بغیر نیت بھی ہو جاتا ہے مگر یہ نیت شرط نہیں کہ یہ طوافِ زیارت ہے۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۶: عید اضحی کی نماز وہاں نہیں پڑھی جائے گی۔ (2) (ردالمحتار)
(۲۰) قارِن و مُفرد طواف قدوم میں او ر مُتمتع بعد احرام حج کسی طواف نفل میں حج کے رَمَل و سَعی دونوں یا صرف سَعی کرچکے ہوں تو اس طواف میں رَمَل و سعی کچھ نہ کریں اور(1)اگر اس میں رمل و سعی کچھ نہ کیا ہو یا(2) صرف رَمَل کیا ہویا(3) جس طواف میں کیے تھے وہ عمرہ کا تھا جیسے قَارِن و مُتّمتع کا پہلا طواف یا (4)وہ طواف بے طہارت کیا تھا یا(5) شوال سے پیشتر کے طواف میں کیے تھے تو ان پانچوں صورتوں میں رمل وسعی دونوں اس طوافِ فرض میں کریں۔
(۲۱) کمزور اور عورتیں اگر بھیڑ کے سبب دسویں کو نہ جائیں تو اس کے بعد گیارھویں کو افضل ہے اور اس دن یہ بڑا نفع ہے کہ مطاف خالی ملتا ہے گنتی کے بیس تیس آدمی ہوتے ہیں عورتوں کو بھی باطمینان تمام ہر پھیرے میں سنگِ اسود کا بوسہ ملتا ہے۔
(۲۲) جو گیارہویں کو نہ جائے بارھویں کو کرلے اس کے بعد بلا عذر تاخیر گناہ ہے، جرمانہ میں ایک قربانی کرنی ہوگی۔ ہاں مثلاً عورت کو حیض یا نفاس آگیا تو ان کے ختم کے بعد طواف کرے مگر حیض یا نفاس سے اگر ایسے وقت پاک ہوئی کہ نہا دھو کر بارھویں تاریخ میں آفتاب ڈوبنے سے پہلے چار پھیرے کرسکتی ہیتو کرنا واجب ہے، نہ کرے گی گنہگار ہوگی۔ یوہیں اگر اتنا وقت اُسے ملا تھا کہ طواف کرلیتی اور نہ کیا اب حیض یا نفاس آگیا تو گنہگار ہوئی۔ (3) (ردالمحتار)
(۲۳) بہر حال بعد طواف دو رکعت بدستور پڑھیں، اس طواف کے بعد عورتیں بھی حلال ہو جائیں گی اور حج پورا ہوگیا کہ اس کا دوسرا رکن یہ طواف تھا۔
مسئلہ ۷: اگریہ طواف نہ کیا توعورتیں حلال نہ ہوں گی اگرچہ بر سیں گزر جائیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: بے وضو یا جنا بت میں طواف کیا تو احرام سے باہر ہوگیا، یہاں تک کہ اس کے بعد جماع کرنے سے حج فاسد نہ ہوگا اور اگر اُلٹا طواف کیا یعنی کعبہ کی بائیں جانب سے تو عورتیں حلال ہوگئیں مگر جب تک مکہ میں ہے اس طواف کا اعادہ
۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الحج، ص۲۰۵.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب فی طواف الزیارۃ، ج۳، ص۶۱۷.
3 ۔ ''رد المحتار''، کتاب الحج، مطلب فی طواف الزیارۃ، ج۳، ص۶۱۶.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۳۲.
کرے اور اگر نجس کپڑا پہن کر طواف کیا تو مکروہ ہوا اور بقدر مانع نماز ستر کُھلا رہا تو ہو جائے گا مگر دَم لازم ہے۔ (1) (عالمگیری جوہرہ)
(۲۴) دسویں، گیارھویں، بارھویں کی راتیں منیٰ ہی میں بسرکر نا سنت ہے، نہ مزدَلفہ میں نہ مکہ میں نہ راہ میں، لہٰذا جو شخص دس یا گیارہ کو طواف کے لیے گیا واپس آکر رات منیٰ ہی میں گزارے۔
مسئلہ ۹: اگر اپنے آپ منیٰ میں رہا اور اسباب وغیرہ مکہ کو بھیج دیا یا مکہ ہی میں چھوڑ کر عرفات کو گیا تو اگر ضائع ہونے کا اندیشہ نہیں ہے، تو کراہت ہے ورنہ نہیں۔ (2) (درمختار)
(۲۵) گیارہویں تاریخ بعد نماز ظہر امام کا خطبہ سُن کر پھر رَمی کو چلو، ان ایام میں رَمی جَمرہ اولیٰ سے شروع کرو جو مسجد خیف سے قریب ہے، اس کی رَمی کو راہِ مکہ کی طرف سے آکر چڑھائی پر چڑھو کہ یہ جگہ نسبت جمرۃ العقبہ کے بلند ہے، یہاں رُو بقبلہ سات کنکریاں بطور مذکور مار کر جَمرہ سے کچھ آگے بڑھ جاؤ اور قبلہ رو دعا میں یوں ہاتھ اُٹھا ؤ کہ ہتھیلیاں قبلہ کو رہیں۔ حضور قلب سے حمد و درود و دعا و استغفار میں کم سے کم بیس آیتیں پڑھنے کی قدر مشغول رہو، ورنہ پون پارہ یا سورہ بقرہ کی مقدار تک۔
(۲۶) پھر جَمرہ وسطیٰ پر جا کر ایسا ہی کرو(۲۷) پھر جَمرۃ العقبہ پر مگر یہاں رَمی کرکے نہ ٹھہرو معاً پلٹ آؤ، پلٹتے میں دعا کرو۔
(۲۸) بعینہ اسی طرح بارھویں تاریخ بعد زوال تینوں جمرے کی رَمی کرو، بعض لوگ دوپہر سے پہلے آج رَمی کر کے مکہ معظمہ کو چل دیتے ہیں۔ یہ ہمارے اصل مذہب کے خلاف اور ایک ضعیف روایت ہے تم اس پر عمل نہ کرو۔
(۲۹) بارھویں کی رَمی کرکے غروب آفتاب سے پہلے پہلے اختیار ہے کہ مکہ معظمہ کو روانہ ہو جاؤ مگر بعد غروب چلا جانا معیوب۔ اب ایک دن اور ٹھہرنا اور تیرھویں کو بدستور دوپہر ڈھلے رَمی کرکے مکہ جانا ہوگا اور یہی افضل ہے، مگر عام لوگ بارھویں کو چلے جاتے ہیں تو ایک رات دن یہاں اور قیام میں قلیل جماعت کودقت ہے اور اگر تیرھویں کی صبح ہوگئی تو اب بغیر رَمی کیے جانا جائز نہیں، جائے گا تو دَم واجب ہوگا۔ دسویں کی رَمی کا وقت اوپر مذکور ہوا۔
گیارہویں بارھویں کا وقت آفتاب ڈھلنے(3) سے صبح تک ہے مگر رات میں یعنی آفتاب ڈوبنے کے بعد مکروہ ہے اور تیرھویں کی رَمی کا وقت صبح سے آفتاب ڈوبنے تک ہے مگر صبح سے آفتاب ڈھلنے تک مکروہ وقت ہے، اس کے بعد غروب آفتاب
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس، ج۱، ص۲۳۲. و''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الحج، ص۲۰۶.
2 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الحج، ج۳، ص۶۲۱.
3 ۔یعنی ظہر کا وقت شروع ہونے۔
تک مسنون۔ لہٰذا اگر پہلی تین تاریخوں ۱۰، ۱۱، ۱۲ کی رَمی دن میں نہ کی ہو تو رات میں کرلے پھر اگر بغیر عُذر ہے تو کراہت ہے، ورنہ کچھ نہیں اور اگر رات میں بھی نہ کی تو قضا ہوگئی، اب دوسرے دن اس کی قضا دے اور اس کے ذمہ کفارہ واجب اور اس قضا کا بھی وقت تیرھویں کے آفتاب ڈوبنے تک ہے، اگر تیرھویں کو آفتاب ڈوب گیا اور رَمی نہ کی تو اب رَمی نہیں ہوسکتی اور دَم واجب۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱: اگربالکل رَمی نہ کی جب بھی ایک ہی دَم واجب ہوگا۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۲: کنکریاں چاروں دن کے واسطے لی تھیں یعنی ستر اور بارھویں کی رَمی کرکے مکہ جانا چاہتا ہے تو اگر اور کو ضرورت ہو اُسے دیدے، ورنہ کسی پاک جگہ ڈال دے۔ جمروں پر بچی ہوئی کنکریاں پھینکنا مکروہ ہے اور دفن کرنے کی بھی حاجت نہیں۔ (3) (منسک)
مسئلہ ۳: رَمی پیدل بھی جائز ہے اور سوار ہو کر بھی مگر افضل یہ ہے کہ پہلے اور دوسرے جمروں پر پیدل رَمی کرے اور تیسرے کی سواری پر۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴: اگر کنکری کسی شخص کی پیٹھ یا کسی اورچیز پر پڑی اور ہلکی رہ گئی تو اُس کے بدلے کی دوسری مارے اور اگر گر پڑی اور وہاں گری جہاں اُس کی جگہ ہے یعنی جمرہ سے تین ہاتھ کے فاصلہ کے اندر تو جائز ہوگئی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: اگر کنکری کسی شخص پر پڑی اور اُس پر سے جمرہ کو لگی تو اگر معلوم ہو کہ اُس کے دفع کرنے سے جمرہ پر پہنچی تو اس کے بدلے کی دوسری کنکری مارے اور معلوم نہ ہو جب بھی احتیاط یہی ہے کہ دوسری مارے۔ یوہیں اگر شک ہو کہ کنکری اپنی جگہ پر پہنچی یا نہیں تو اعادہ کر لے۔ (6) (منسک)
مسئلہ ۶: ترتیب کے خلاف رَمی کی تو بہتر یہ ہے کہ اعادہ کرلے اور اگر پہلے جمرہ کی رَمی نہ کی اور دوسرے تیسرے کی کی تو پہلے پر مار کر پھر دوسرے اور تیسرے پر مار لینا بہتر ہے اور اگر تین تین کنکریاں ماری ہیں تو پہلے پر چار اور مار ے اور دوسرے
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في رمي الجمرات الثلاث، ج۳، ص۶۱۹.
2 ۔ ''لباب المناسک''، (باب رمي الجمار و أحکامہ ، فصل رمي الیوم الرابع)، ص۲۴۴.
3 ۔ ''لباب المناسک'' و''المسلک المتقسط''، (باب رمي الجمار و أحکامہ ، فصل رمي الیوم الرابع)، ص۲۴۴.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، ج۳، ص۶۲۰، وغیرہ.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس فی کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۳۴.
6 ۔ ''لباب المناسک''، (باب رمي الجمار و أحکامہ ، فصل فی الرمي و شرائطہ و واجباتہ)، ص۲۴۵.
تیسرے پر سات سات اور اگر چار چار ماری ہیں تو ہر ایک پر تین تین اور مارے اور بہتر یہ ہے کہ سرے سے رَمی کرے اور اگر یوں کیا کہ ایک ایک کنکری تینوں پر مار آیا پھر ایک ایک، یوہیں سات بار میں سات سات کنکریاں پوری کیں تو پہلے جمرہ کی رَمی ہوگئی اور دوسرے پر تین اور مارے اور تیسرے پر چھ تو رَمی پوری ہوگی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: جو شخص مریض ہو کہ جمرہ تک سواری پر بھی نہ جا سکتا ہو، وہ دوسرے کو حکم کر دے کہ اس کی طرف سے رَمی کرے اور اُس کو چاہیے کہ پہلے اپنی طرف سے سات کنکریاں مارنے کے بعد مریض کی طرف سے رَمی کرے یعنی جب کہ خود رَمی نہ کرچکا ہو اور اگر یوں کیا کہ ایک کنکری اپنی طرف سے ماری پھر ایک مریض کی طرف سے، یوہیں سات بار کیا تو مکروہ ہے اور مریض کے بغیر حکم رَمی کردی تو جائز نہ ہوئی اور اگر مریض میں اتنی طاقت نہیں کہ رَمی کرے تو بہتر یہ کہ اس کا ساتھی اس کے ہاتھ پر کنکری رکھ کر رَمی کرائے۔ یوہیں بیہوش یا مجنون یا نا سمجھ کی طرف سے اس کے ساتھ والے رَمی کر دیں اور بہتر یہ کہ ان کے ہاتھ پر کنکری رکھ کر رَمی کرائیں۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۸: گن کر اکیس۲۱ کنکریاں لے گیا اور رَمی کرنے کے بعد دیکھتا ہے کہ چار بچی ہیں اور یہ یاد نہیں کہ کون سے جمرہ پر کمی کی تو پہلے پر یہ چار کنکریاں مارے اور دونوں پچھلوں پر سات سات اور اگر تین بچی ہیں تو ہر ایک پر ایک ایک اور اگر ایک یا دو ہوں جب بھی ہر جمرہ پر ایک ایک۔ (3) (فتح القدیر)
(۳۰) رَمی سے پہلے حلق جائز نہیں۔
(۳۱) گیارھویں بارھویں کی رَمی دوپہر سے پہلے اصلاً صحیح نہیں۔
(۳۲) رَمی میں یہ چیزیں مکروہ ہیں:
1 دسویں کی رَمی غروب آفتاب کے بعد کرنا۔
2 تیرھویں کی رَمی دوپہر سے پہلے کرنا۔
3 رَمی میں بڑا پتھر مارنا۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۳۴.
2 ۔ ''لباب المناسک'' و''المسلک المتقسط''، (باب رمي الجمار و أحکامہ )، ص۲۴۷.
3 ۔ ''فتح القدیر''، کتاب الحج، باب الاحرام ،ج۲،ص۳۹۱.
4 بڑے پتھر کو توڑ کر کنکر یاں بنانا۔
5 مسجد کی کنکریاں مارنا۔
6 جمرہ کے نیچے جو کنکر یاں پڑی ہیں اُٹھا کر مارنا کہ یہ مردود کنکریاں ہیں، جو قبول ہوتی ہیں اُٹھا لی جاتی ہیں کہ قیامت کے دن نیکیوں کے پلے میں رکھی جائیں گی، ورنہ جمروں کے گرد پہاڑ ہو جاتے۔
7 ناپاک کنکریاں مارنا۔
8 سات سے زیادہ مارنا۔
9( رَمی کے لیے جو جہت مذکور ہوئی اس کے خلاف کرنا۔(1)
10جمرہ سے پانچ ہاتھ سے کم فاصلہ پر کھڑا ہونا زیادہ کا مضایقہ نہیں۔
11جمروں میں خلاف ترتیب کرنا۔
12مارنے کے بدلے کنکری جمرہ کے پاس ڈال دینا۔
(۳۳) اخیر دن یعنی بارھویں خواہ تیرھویں کو جب منیٰ سے رُخصت ہو کر مکہ معظمہ چلو وادی محصب(2) میں کہ جَنۃُ المعلیٰ کے قریب ہے، سواری سے اُتر لو یا بے اُترے کچھ دیر ٹھہر کر دعا کرو اور افضل یہ ہے کہ عشا تک نمازیں یہیں پڑھو، ایک نیند لے کر مکہ معظمہ میں داخل ہو۔
(۳۴) اب تیرھویں کے بعد جب تک مکہ میں ٹھہرو اپنے اور اپنے پیر، اُستاد، ماں، باپ، خصوصاً حضور پُر نُور سیّد عالم
1 ۔ شیخِ طریقت ،امیر اہلسنّت ،با نی دعوتِاسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دَ امَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ''رفیق الحرمین'' میں تحریر فرماتے ہیں : ''لہٰذا بڑے شیطان کو مارتے وقت کعبہ شریف اُلٹے ہاتھ کی طرف اور مِنٰی سیدھے ہاتھ کی طرف ہونا چاہے باقی دونوں جَمروں کو مارتے وقت آپ کا مُنہ قبلہ کی جانِب ہونا چاہے۔''
2 ۔ جنۃالمعلی کہ مکہ معظمہ کا قبرستان ہے اس کے پاس ایک پہاڑ ہے اور دوسرا پہاڑاس پہاڑ کے سامنے مکہ کو جاتے ہوئے دہنے ہاتھ پر نالہ کے پیٹ سے جدا ہے ان دونوں پہاڑوں کے بیچ کا نالہ وادی محصب ہے جنۃ المعلی محصب میں داخل نہیں ۱۲۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ،
صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب و اہلبیت و حضور غوثِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کی طرف سے جتنے ہوسکیں عُمرے کرتے رہو۔ تَنعیم کو کہ مکہ معظمہ سے شمال یعنی مدینہ طیبہ کی طرف تین میل فاصلہ پر ہے، جاؤ وہاں سے عمرہ کا احرام جس طرح اوپر بیان ہوا باندھ کر آؤ اور طواف و سعی حسب دستور کرکے حلق یا تقصیر کرلو عمرہ ہوگیا۔ جو حلق کر چکا اور مثلاً اُسی دن دوسرا عمرہ لایا، وہ سر پر اُسترہ پھر والے کافی ہے۔ یوہیں وہ جس کے سر پر قدرتی بال نہ ہوں۔
(۳۵) مکہ معظمہ میں کم سے کم ایک ختم قرآن مجید سے محروم نہ رہے۔
(۳۶) جَنۃُ المعلیٰ حاضر ہو کر اُم المومنین خدیجۃ الکبریٰ و دیگر مدفونین کی زیارت کرے۔
(۳۷) مکان ولادت اقدس حضورِ انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم و مکان حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا و مکان ولادتِ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ و جبل ثور و غارِ حِرا و مسجدالجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانات متبرکہ کی بھی زیارت سے مشرف ہو۔
(۳۸) حضرت عبدالمطلب کی زیارت کریں اور ابو طالب کی قبر پر نہ جائیں۔ یوہیں جدّہ میں جو لوگوں نے حضرت اُمُّنا حوّا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا مزار کئی سو ہاتھ کا بنا رکھا ہے وہاں بھی نہ جائیں کہ بے اصل ہے۔
(۳۹) علما کی خدمت سے برکت حاصل کرو۔
(۴۰) کعبہ معظمہ کی داخلی کمال سعادت ہے اگر جائز طور پر نصیب ہو۔محرم میں عام داخلی ہوتی ہے مگر سخت کشمکش رہتی ہے۔ کمزورمرد کا تو کام ہی نہیں، نہ عورتوں کو ایسے ہجوم میں جرأت کی اجازت، زبردست مرد اگر آپ ایذا سے بچ بھی گیا تو اَوروں کو دھکے دیکر ایذا دے گا اور یہ جائز نہیں، نہ اس طرح کی حاضری میں کچھ ذوق ملے اور خاص داخلی بے لین دین میسر نہیں اور اس پر لینا بھی حرام اور دینا بھی حرام۔ حرام کے ذریعہ ایک مستحب ملا بھی تو وہ بھی حرام ہو گیا، ان مفاسد سے نجات نہ ملے تو حطیم کی حاضری غنیمت جانے، اوپر گزرا کہ وہ بھی کعبہ ہی کی زمین ہے۔
اور اگر شاید بن پڑے یوں کہ خدام کعبہ سے صاف ٹھہر جائے کہ داخلی کے عوض کچھ نہ دیں گے، اس کے بعد یا قبل چاہے ہزاروں روپے دیدے تو کمال ادب ظاہر و باطن کی رعایت سے آنکھیں نیچی کیے گردن جُھکائے، گناہوں پر شرماتے، جلال رب العزۃ سے لرزتے کانپتے بسم اﷲ کہہ کر پہلے سیدھا پاؤں بڑھا کر داخل ہو اور سامنے کی دیوار تک اتنا بڑھے کہ تین ہاتھ کا
فاصلہ رہے۔ وہاں دو رکعت نفل غیر وقتِ مکروہ میں پڑھے کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس جگہ نماز پڑھی ہے پھر دیوار پر رخسارہ اور مونھ رکھ کر حمد و دُرود و دُعا میں کوشش کرے۔یوہیں نگاہ نیچی کیے چاروں گوشوں پر جائے اور دعاکرے اور ستونوں سے چمٹے اور پھر اس دولت کے ملنے اور حج و زیارت کے قبول کی دعاکرے اور یوہیں آنکھیں نیچی کیے واپس آئے اوپر یا ادھر ادھر ہرگز نہ دیکھے اور بڑے فضل کی امید کرو کہ وہ فرماتا ہے:
(وَمَنْ دَخَلَہ، کَانَ ٰامِنًا )(1)
''جو اس گھر میں داخل ہوا و ہ امان میں ہے۔'' والحمدﷲ۔
(۴۱) بچی ہوئی بتّی وغیرہ جو یہاں یا مدینہ طیبہ میں خدام دیتے ہیں، ہرگز نہ لے بلکہ اپنے پاس سے بتّی وہاں روشن کرکے باقی اُٹھا لے۔
مسئلہ ۱: غلاف کعبہ معظمہ جو سال بھر بعد بدلا جاتاہے اور جو اُوتارا گیا فقرا پر تقسیم کر دیا جاتا ہے، اس کو ان فقرا سے خرید سکتے ہیں اور جو غلاف چڑھا ہو اہے اس میں سے لینا جائز نہیں بلکہ اگر کوئی ٹکڑا جدا ہوکر گر پڑے تو اسے بھی نہ لے اور لے تو کسی فقیرکو دیدے۔
مسئلہ ۲: کعبہ معظمہ میں خوشبو لگی ہو اسے بھی لینا جائز نہیں ا ور لی تو واپس کردے اور خواہش ہو تو اپنے پاس سے خوشبو لے جا کر مَس کر لائے۔
(۴۲) جب ارادہ رخصت کا ہو طوافِ وداع بے رَمَل و سعی و اِضطباع بجا لائے کہ باہر والوں پر واجب ہے۔ ہاں وقت رُخصت عورت حیض یا نفاس سے ہو تو اس پر نہیں، جس نے صرف عمرہ کیا ہے اس پر یہ طواف واجب نہیں پھر بعد طواف بدستور دو رکعت مقام ابراہیم میں پڑھے۔
مسئلہ ۱: سفر کا ارادہ تھا طواف رخصت کر لیا مگر کسی وجہ سے ٹھہر گیا، اگر اقامت کی نیت نہ کی تو وہی طواف کافی ہے مگر مستحب یہ ہے کہ پھر طواف کرے کہ پچھلا کام طواف رہے۔ (2) (عالمگیری وغیرہ)
1 ۔ پ۳، الانعام: ۹۷۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۳۴،وغیرہ.
مسئلہ ۲: مکہ والے اور میقات کے اندر رہنے والے پر طواف رخصت واجب نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: باہر والے نے مکہ میں یا مکہ کے آس پاس میقات کے اندر کسی جگہ رہنے کا ارادہ کیا یعنی یہ کہ اب یہیں رہے گا تو اگر بارھویں تاریخ تک یہ نیت کرلی تو اب اس پر یہ طواف واجب نہیں اور اس کے بعد نیت کی تو واجب ہوگیا اور پہلی صورت میں اگر اپنے ارادہ کو توڑ دیا اور وہاں سے رخصت ہوا تو اس وقت بھی واجب نہ ہوگا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: طوافِ رُخصت میں نفس طواف کی نیت ضرور ہے، واجب و رُخصت نیت میں ہونے کی حاجت نہیں، یہاں تک کہ اگر بہ نیت نفل کیا واجب ادا ہوگیا۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: حیض والی مکہ معظمہ سے جانے کے قبل پاک ہوگئی تو اس پر یہ طواف واجب ہے اور اگر جانے کے بعد پاک ہوئی تو اُسے یہ ضرور نہیں کہ واپس آئے اور واپس آئی تو طواف واجب ہوگیا جب کہ میقات سے باہر نہ ہوئی تھی اور اگر جانے سے پہلے حیض ختم ہو گیا مگرنہ غسل کیا تھا، نہ نماز کا ایک وقت گزرا تھا تو اُس پر بھی واپس آنا واجب نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: جو بغیر طوافِ رخصت کے چلا گیا تو جب تک میقات سے باہر نہ ہوا واپس آئے اور میقات سے باہر ہونے کے بعد یاد آیا تو واپس ہونا ضرور نہیں بلکہ دَم دیدے اور اگر واپس ہو تو عمرہ کا احرام باندھ کر واپس ہو اور عمرہ سے فارغ ہوکر طوافِ رخصت بجا لائے اور اس صورت میں دَم واجب نہ ہوگا۔ (5) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: طوافِ رُخصت کے تین پھیرے چھوڑ گیا تو ہر پھیرے کے بدلے صدقہ دے۔ (6) (عالمگیری)
(۴۳) طوافِ رخصت کے بعد زمزم پر آکر اُسی طرح پانی پیے، بدن پر ڈالے۔
(۴۴) پھر دروازہ کعبہ کے سامنے کھڑا ہو کر آستانہ پاک کو بوسہ دے اور قبولِ حج و زیارت اور بار بار حاضری کی دعا مانگے اور وہی دُعائے جامع پڑھے یا یہ پڑھے:
اَلسَّآئِلُ بِبَابِکَ یَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ وَمَعْرُوْفِکَ وَیَرْجُوْ رَحْمَتَکَ . (7)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۳۴.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في طواف الصدر، ج۳، ص۶۲۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس في کیفیۃ اداء الحج، ج۱، ص۲۳۵.
5 ۔ المرجع السابق.و''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في طواف الصدر، ج۳، ص۶۲۲.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الخامس، ج۱، ص۲۴۶.
7 ۔تیرے دروازہ پر سائل تیرے فضل و احسان کا سوال کرتا ہے اور تیری رحمت کا امیدوار ہے۔۱۲
(۴۵) پھر مُلتزم پر آکر غلاف کعبہ تھام کر اُسی طرح چمٹو، ذِکر و دُرود و دُعا کی کثرت کرو۔ اس وقت یہ دُعا پڑھو:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدَانَا لِھٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَو لَا اَنْ ھَدَانَا اللہُ اَللّٰھُمَّ فَکَمَا ھَدَیْتَنَا لِھٰذَا فَتَقَبَّلْہُ مِنَّا وَلَا تَجْعَلْ ھٰذَا آخِرَ الْعَھْدِ مِنْ بَیْتِکَ الْحَرَامِ وَارْزُقْنِی الْعَوْدَ اِلَیْہِ حَتّٰی تَرْضٰی بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَصَلَّی اللہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ ؕ. (1)
(۴۶) پھر حجر پاک کو بوسہ دو اور جو آنسو رکھتے ہو گراؤ اور یہ پڑھو:
یَا یَمِیْنَ اللہِ فِیْ اَرْضِہٖ اِنِّیْ اُشْھِدُکَ وَکَفٰی بِاللہِ شَھِیْدًا اَنِّیْ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ وَاَنَا اُوَدِّعُکَ ھٰذِہِ الشَّھَادَۃَ لِتَشْھَدَ لِیْ بِھَا عِنْدَ اللہِ تَعَالٰی فِیْ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ یَوْمَ الْفَزَعِ اْلاَکْبَرِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُشْھِدُکَ عَلٰی ذَالِکَ وَاُشْھِدُ مَلٰئِکَتَکَ الْکِرَامَ وَصَلَّی اللہُ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ ؕ. (1)
(۴۷) پھر اُلٹے پاؤں کعبہ کی طرف مونھ کرکے یا سیدھے چلنے میں پھر پھر کر کعبہ کو حسرت سے دیکھتے، اُس کی جُدائی پر روتے یا رونے کا مونھ بناتے مسجدِ کریم کے دروازہ سے بایاں پاؤں پہلے بڑھا کر نکلو اور دعائے مذکور پڑھو اور اسکے لیے بہتر باب الحذورہ ہے۔
(۴۸) حیض و نفاس والی عورت دروازہ مسجد پر کھڑی ہو کر بہ نگاہ حسرت دیکھے اور دعا کرتی پلٹے۔
(۴۹) پھر بقدر قدرت فقرائے مکہ معظمہ پر تصدق کرکے متوجہ سرکارِ اعظم مدینہ طیبہ ہو وباﷲ التوفیق۔
1 ۔حمد ہے اﷲ(عزوجل) کے لیے جس نے ہمیں ہدایت کی، اﷲ(عزوجل) ہم کو ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، الٰہی! جس طرح ہمیں تو نے اس کی ہدایت کی ہے تو قبول فرما اور بیت الحرام میں یہ ہماری آخری حاضری نہ کراور اس کی طرف پھرلوٹنا ہمیں نصیب کرنا تا کہ تو اپنی رحمت کے سبب راضی ہو جا۔
اے سب مہر بانوں سے زیادہ مہر بان اور حمد ہے اﷲ(عزوجل) کے لیے جو رب ہے تمام جہان کا اور اﷲ(عزوجل) درود بھیجے ہمارے سردار محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اور ان کی آل و اصحاب سب پر۔۱۲
2 ۔ اے زمین میں اﷲ(عزوجل) کے یمین! میں تجھے گواہ کرتا ہوں اور اﷲ(عزوجل) کی گواہی کافی ہے کہ میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اﷲ (عزوجل) کے رسول ہیں۔
اور میں تیرے پاس اس شہادت کو امانت رکھتا ہوں کہ تو اﷲ(عزوجل) کے نزدیک قیا مت کے دن جس دن بڑی گھبراہٹ ہوگی تو میرے لیے اس کی شہادت دے گا، اے اﷲ(عزوجل)! میں تجھ کواور تیرے ملائکہ کو اس پر گواہ کرتا ہوں، اﷲ(عزوجل) درود بھیجے ہمارے سردار محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اور ان کی آل و اصحاب سب پر۔۱۲
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( وَاَ تِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِ ) (1)
اوراﷲ (عزوجل) کے لیے حج و عمرہ کو پورا کرو۔
(حدیث ۱:) ابو داود و نسائی و ابن ماجہ صُبّی بن معبد تغلبی سے راوی، کہتے ہیں میں نے حج و عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا، امیرالمومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تو نے اپنے نبی محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیروی کی۔ (2)
(حدیث ۲:) صحیح بخاری و صحیح مسلم میں انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو سُنا، حج و عمرہ دونوں کو لبیک میں ذکر فرماتے ہیں۔ (3)
(حدیث ۳: ) امام احمد نے ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حج و عمرہ کو جمع فرمایا۔ (4)
مسئلہ ۱: قِران کے یہ معنی ہیں کہ حج و عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھے یا پہلے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور ابھی طواف کے چار پھیرے نہ کیے تھے کہ حج کو شامل کرلیا یا پہلے حج کا احرام باندھا تھا اُس کے ساتھ عمُرہ بھی شامل کرلیا، خواہ طوافِ قدوم سے پہلے عمرہ شامل کیا یا بعد میں۔ طوافِ قدوم سے پہلے اساء ت ہے کہ خلاف سنت ہے مگر دَم واجب نہیں اور طوافِ قدوم کے بعد شامل کیا تو واجب ہے کہ عمرہ توڑ دے اور دَم دے اور عمرہ کی قضا کرے اور عمرہ نہ توڑا جب بھی دَم دینا واجب ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: قِران کے لیے شرط یہ ہے کہ عمرہ کے طواف کا اکثر حصہ وقوفِ عرفہ سے پہلے ہو، لہٰذا جس نے طواف کے چار پھیروں سے پہلے وقوف کیا اُس کا قِران باطل ہوگیا۔ (6) (فتح القدیر)
1 ۔پ۲، البقرہ: ۱۹۶۔
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب المناسک، باب فی الاقران، الحدیث: ۱۷۹۸، ج۲، ص۲۲۷.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب فی الافراد و القران، الحدیث: ۱۲۳۲، ص۶۴۷.
4 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أبي طلحۃ، الحدیث: ۱۶۳۴۶، ج۵، ص۵۰۸.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب القران، ج۳، ص۶۳۳.
6 ۔ ''فتح القدیر''
مسئلہ ۳: سب سے افضل قِران ہے پھر تمتّع پھر اِفراد۔ (1) (ردالمحتار وغیرہ)قِران کے احرام کا طریقہ احرام کے بیان میں مذکور ہوا۔
مسئلہ ۴: قِران کا احرام میقات سے پہلے بھی ہوسکتا ہے اور شوال سے پہلے بھی مگر اس کے افعال حج کے مہینوں میں کیے جائیں، شوال سے پہلے افعال نہیں کرسکتے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۵: قِران میں واجب ہے کہ پہلے سات پھیرے طواف کرے اور ان میں پہلے تین پھیروں میں رَمَل سنت ہے پھر سعی کرے، اب قِران کا ایک جُز یعنی عمرہ پورا ہوگیا مگر ابھی حلق نہیں کرسکتا اور کیا بھی تو احرام سے باہر نہ ہوگا اوراس کے جرمانہ میں دو دَم لازم ہیں۔ عمرہ پورا کرنے کے بعد طوافِ قدوم کرے اور چاہے تو ابھی سعی بھی کرلے، ورنہ طوافِ افاضہ کے بعد سعی کرے۔ اگر ابھی سعی کرے تو طوافِ قدوم کے تین پہلے پھیروں میں بھی رَمَل کرے اور دونوں طوافوں میں اِ ضطباع بھی کرے۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶: ایک ساتھ دو طواف کیے پھر دو سعی جب بھی جائز ہے مگرخلاف سنت ہے اور دَم لازم نہیں، خواہ پہلا طواف عمرہ کی نیت سے اور دوسرا قدوم کی نیت سے ہو یا دونوں میں سے کسی میں تعیین نہ کی یا اس کے سوا کسی اور طرح کی نیت کی۔ بہرحال پہلا عمرہ کا ہوگا اور دوسرا طوافِ قدوم۔ (4) (درمختار، منسک)
مسئلہ ۷: پہلے طواف میں اگر طوافِ حج کی نیت کی، جب بھی عمرہ ہی کا طواف ہے۔ (5) (جوہرہ) عمرہ سے فارغ ہوکر بدستور مُحرِم رہے اور تمام افعال بجا لائے، دسویں کو حلق کے بعد پھر طوافِ افاضہ کے بعد جیسے حج کرنے والے کے لیے چیزیں حلال ہوتی ہیں اُس کے لیے بھی حلال ہوں گی۔
مسئلہ ۸: قارِن پر دسویں کی رَمی کے بعد قربانی واجب ہے اور یہ قربانی کسی جرمانہ میں نہیں بلکہ اس کا شکریہ ہے کہ اﷲ عزوجل نے اسے دو عبادتوں کی توفیق بخشی۔ قارِن کے لیے افضل یہ ہے کہ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے جائے۔ (6) (عالمگیری،
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب القران، ج۳، ص۶۳۱،وغیرہ.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب القران، ج۳، ص۶۳۴.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب القران، ج۳، ص۶۳۵ ،وغیرہ.
4 ۔ المرجع السابق.و''لباب المناسک'' و''المسلک المتقسط''، (باب القران، فصل فی اداء القران)، ص۲۶۲.
5 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الحج، باب القران، ، ص ۲۱۰.
6 ۔ الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السابع فی القران والتمتع، ج۱، ص۲۳۸.
و''الدرالمختار'' ، کتاب الحج، باب القران، ج۳، ص۶۳۶، وغیرہما۔
درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۹: اس قربانی کے لیے یہ ضرور ہے کہ حرم میں ہو، بیرون حرم نہیں ہوسکتی اور سنت یہ کہ منیٰ میں ہو اور اس کا وقت دسویں ذی الحجہ کی فجر طلوع ہونے سے بارھویں کے غروب آفتاب تک ہے مگر یہ ضرور ہے کہ رَمی کے بعدہو، رَمی سے پہلے کریگا تو دَم لازم آئے گا اور اگر بارھویں تک نہ کی تو ساقط نہ ہوگی بلکہ جب تک زندہ ہے قربانی اس کے ذمہ ہے۔ (1) (منسک)
مسئلہ ۱۰: اگر قربا نی پر قادر تھا اور ابھی قربانی نہ کی تھی کہ انتقال ہو گیا تو اس کی وصیت کر جانا واجب ہے اور اگر وصیت نہ کی مگر وارثوں نے خود کر دی جب بھی صحیح ہے۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۱۱: قارِن کو اگر قربانی میسر نہ آئے کہ اس کے پاس ضرورت سے زیادہ مال نہیں، نہ اتنا اسباب کہ اُسے بیچ کر جانور خریدے تو دس روزے رکھے۔ ان میں تین تو وہیں یعنی یکم شوال سے ذی الحجہ کی نویں تک احرام باندھنے کے بعد رکھے، خواہ سات، آٹھ، نو، کو رکھے یا اس کے پہلے اور بہتر یہ ہے کہ نویں سے پہلے ختم کردے اور یہ بھی اختیار ہے کہ متفرق طور پر رکھے، تینوں کا پے در پے رکھنا ضرور نہیں اور سات روزے حج کا زمانہ گزر نے کے بعد یعنی تیرھویں کے بعد رکھے، تیر ھویں کو یا اس کے پہلے نہیں ہوسکتے۔ ان سات روزوں میں اختیار ہے کہ وہیں رکھے یا مکان واپس آکر اور بہتر مکان پر واپس ہو کر رکھناہے اور ان دسوں روزوں میں رات سے نیت ضرور ہے۔ (3) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: اگر پہلے کے تین روزے نویں تک نہیں رکھے تو اب روزے کافی نہیں بلکہ دَ م واجب ہوگا، دَم دے کر احرام سے باہر ہو جائے اور اگر دَم دینے پر قادر نہیں تو سر مونڈا کر یا بال کتروا کر احرام سے جُدا ہو جائے اور دو دَم واجب ہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: قادر نہ ہونے کی وجہ سے روزے رکھ لیے پھر حلق سے پہلے دسویں کو جانور مل گیا، تو اب وہ روزے کافی نہیں لہٰذا قربانی کرے اور حلق کے بعد جانور پر قدرت ہوئی تو وہ روزے کافی ہیں، خواہ قربانی کے دنوں میں قدرت پائی گئی
1 ۔ ''لباب المناسک'' و''المسلک المتقسط''، (باب القران، فصل في ھدی القارن و المتمتع)، ص۲۶۳.
2 ۔ ''لباب المناسک'' و''المسلک المتقسط''، (باب القران، فصل في ھدی القارن و المتمتع)، ص۲۶۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السابع في قران و المتمتع، ج۱، ص۲۳۹.
و''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب القران، ج۳، ص۶۳۶.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب القران، ج۳، ص۶۳۸.
یا بعدمیں۔ یوہیں اگر قربانی کے دنوں میں سر نہ مونڈایا تو اگرچہ حلق سے پہلے جانور پر قادر ہو وہ روزے کافی ہیں۔ (1)
(درمختار ،ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: قارن نے طوافِ عمرہ کے تین پھیرے کرنے کے بعد وقوفِ عرفہ کیا تو وہ طواف جاتا رہا اور چار پھیرے کے بعد وقوف کیا تو باطل نہ ہوا اگرچہ طوافِ قدوم یا نفل کی نیت سے کیے، لہٰذا یوم النحر میں طواف زیارت سے پہلے اُس کی تکمیل کرے اور پہلی صورت میں چونکہ اُس نے عمرہ توڑ ڈالا، لہٰذا ایک دَم واجب ہوا اور وہ قربانی کہ شکر کے لیے واجب تھی ساقط ہو گئی اور اب قارِن نہ رہا اور ایام تشریق کے بعد اس عمرہ کی قضا دے۔ (2) (درمختار)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
( فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیۡسَرَ مِنَ الْہَدْیِ ۚ فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ؕ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ لَّمْ یَکُنْ اَہۡلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ؕ وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ ﴿۱۹۶﴾٪ ) (3)
جس نے عمرہ سے حج کی طرف تمتع کیا، اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے پھر جسے قربانی کی قدرت نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات۷ واپسی کے بعد، یہ دس پورے ہیں۔ یہ اُس کے لیے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو اور اﷲ (عزوجل) سے ڈرو اور جان لو کہ اﷲ (عزوجل) کا عذاب سخت ہے۔
تَمتّع اُسے کہتے ہیں کہ حج کے مہینے میں عمرہ کرے پھر اسی سال حج کا احرام باندھے یا پورا عمرہ نہ کیا، صرف چار پھیرے کیے پھر حج کا احرام باندھا۔
مسئلہ ۱: تَمتّع کے لیے یہ شرط نہیں کہ میقات سے احرام باندھے اس سے پہلے بھی ہو سکتا ہے بلکہ اگر میقات کے بعد احرام باندھا جب بھی تمتع ہے، اگرچہ بلا احرام میقات سے گزرنا گناہ اور دَم لازم یا پھر میقات کو واپس جائے۔ یوہیں تمتع کے لیے یہ شرط نہیں کہ عمرہ کا احرام حج کے مہینے میں باندھا جائے بلکہ شوال سے پیشتر بھی احرام باندھ سکتے ہیں،البتہ یہ ضروری ہے کہ
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب القران، ج۳، ص۶۳۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب القران، ج۳، ص۶۳۹.
3 ۔ پ۲، البقرہ: ۱۹۶۔
عمرہ کے تمام افعال یا اکثر طواف حج کے مہینے میں ہو، مثلاً تین پھیرے طواف کے رمضان میں کیے پھر شوال میں باقی چار پھیرے کرلیے پھر اسی سال حج کر لیا تو یہ بھی تمتع ہے اوراگر رمضان میں چار پھیرے کر لیے تھے اور شوال میں تین باقی تو یہ تمتع نہیں اور یہ بھی شرط نہیں کہ جس سال احرام باندھا اسی سال تمتع کرلے مثلاً اس رمضان میں احرام باندھا اور احرام پر قائم رہا، دوسرے سال عمرہ پھر حج کیا تو تمتع ہوگیا۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
تمتع کی دس شرطیں ہیں:
1 حج کے مہینے میں پورا طواف کرنا یا اکثر حصہ یعنی چار پھیرے۔
2 عمرہ کا احرام حج کے احرام سے مقدم ہونا۔
3 حج کے احرام سے پہلے عمرہ کا پورا طواف یا اکژ حصہ کر لیا ہو۔
4 عمرہ فاسد نہ کیا ہو۔
5 حج فاسد نہ کیا ہو۔
6 اِلمام صحیح نہ کیا ہو۔ اِلمام صحیح کے یہ معنی ہیں کہ عمرہ کے بعد احرام کھول کر اپنے وطن کو واپس جائے اور وطن سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ رہتا ہے پیدائش کا مقام اگرچہ دوسری جگہ ہو، لہٰذا اگر عمرہ کرنے کے بعد وطن گیا پھر واپس آکر حج کیا تو تَمتّع نہ ہوا اور اگر عمرہ کرنے سے پیشتر گیا یا عمرہ کر کے بغیر حلق کیے یعنی احرام ہی میں وطن گیا پھر واپس آکر اسی سال حج کیا تو تمتّع ہے۔ یوہیں اگر عمرہ کرکے احرام کھول دیا پھر حج کا احرام باندھ کر وطن گیا تو یہ بھی اِلمام صحیح نہیں، لہٰذا اگر واپس آکرحج کریگا تو تمتّع ہوگا۔
7 حج و عمرہ دونوں ایک ہی سال میں ہوں۔
8 مکہ معظمہ میں ہمیشہ کے لیے ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو، لہٰذا اگر عمرہ کے بعد پکا ارادہ کرلیا کہ یہیں رہے گا تو تمتع نہیں اور دو ایک مہینے کا ہو تو ہے۔
9 مکہ معظمہ میں حج کا مہینہ آجائے تو بے احرام کے نہ ہو، نہ ایسا ہو کہ احرام ہے مگر چار پھیرے طواف کے اس مہینے
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب التمتع، ج۳، ص۶۴۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السابع فی القران والتمتمع، ج۱، ص۲۴۰.
سے پہلے کر چکا ہے، ہاں اگر میقات سے باہر واپس جائے پھر عمرہ کا احرام باندھ کر آئے تو تمتع ہوسکتا ہے۔
10میقات سے باہر کا رہنے والا ہو۔ مکہ کا رہنے والا تمتّع نہیں کرسکتا۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: تمتع کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لایا، دوسری یہ کہ نہ لائے۔ جو جانور نہ لایا وہ میقات سے عمرہ کا احرام باندھے، مکہ معظمہ میں آکر طواف و سعی کرے اور سر مونڈائے اب عمرہ سے فارغ ہوگیا اور طواف شروع کرتے ہی یعنی سنگِ اَسود کو بوسہ دیتے وقت لبیک ختم کر دے اب مکہ میں بغیر احرام رہے۔ آٹھویں ذی الحجہ کو مسجد الحرام شریف سے حج کا احرام باندھے اور حج کے تمام افعال بجا لائے مگر اس کے لیے طوافِ قدوم نہیں اور طوافِ زیارت میں یا حج کا احرام باندھنے کے بعد کسی طوافِ نفل میں رَمَل کرے اور اس کے بعد سعی کرے اور اگر حج کا احرام باندھنے کے بعد طوافِ قدوم کرلیا ہے (اگرچہ اس کے لیے یہ طواف مسنون نہ تھا) اور اس کے بعد سعی کرلی ہے تو اب طوافِ زیارت میں رَمَل نہیں، خواہ طوافِ قدوم میں رَمَل کیا ہو یا نہیں اور طوافِ زیارت کے بعداب سعی بھی نہیں، عمرہ سے فارغ ہو کر حلق بھی ضروری نہیں۔ اُسے یہ بھی اختیار ہے کہ سر نہ مونڈائے بدستور مُحرم رہے۔
یوہیں مکہ معظمہ ہی میں رہنا اُسے ضرور نہیں، چاہے وہاں رہے یا وطن کے سوا کہیں اور مگر جہاں رہے وہاں والے جہاں سے احرام باندھتے ہیں یہ بھی وہیں سے احرام باندھے، اگر مکہ مکرمہ میں ہے تو یہاں والوں کی طرح احرام باندھے اور اگر حرم سے باہر اور میقات کے اندر ہے تو حِل میں احرام باندھے اور میقات سے بھی باہرہو گیاتو میقات سے باندھے۔ یہ اُس صورت میں ہے، جب کہ کسی اور غرض سے حرم یا میقات سے باہر جانا ہو اور اگر احرام باندھنے کے لیے حرم سے باہر گیا تو اُس پر دَم واجب ہے مگر جب کہ وقوف سے پہلے مکہ میں آگیا تو ساقط ہوگیا اور مکہ معظمہ میں رہا تو حرم میں احرام باندھے اور بہتر یہ ہے کہ مکہ ّ معظمہ میں ہو اور اس سے بہتر یہ کہ مسجد حرم میں ہو اور سب سے بہتر یہ کہ حطیم شریف میں ہو۔ یوہیں آٹھویں کو احرام باندھنا ضرور نہیں، نویں کو بھی ہوسکتا ہے اور آٹھویں سے پہلے بھی بلکہ یہ افضل ہے۔ تمتع کرنے والے پر واجب ہے کہ دسویں تاریخ کو شکرانہ میں قربانی کرے، اس کے بعد سر مونڈائے۔ اگر قربانی کی استطاعت نہ ہو تو اُسی طرح روزے رکھے جوقِران والے کے لیے ہیں۔ (2) (جوہرہ، عالمگیری، درمختار)
1 ۔''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب التمتع، ج۳، ص۶۴۰،۶۴۳.
2 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الحج، باب التمتع، ص۲۱۲۔ ۲۱۳.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السابع في القران و التمتع، ج۱، ص۲۳۸۔۲۳۹.
مسئلہ ۳: اگر اپنے ساتھ جانور لے جائے تو احرام باندھ کر لے چلے اور کھینچ کر لے جانے سے ہانکنا افضل ہے۔ ہاں اگر پیچھے سے ہانکنے سے نہیں چلتا تو آگے سے کھینچے اور اُس کے گلے میں ہار ڈال دے کہ لوگ سمجھیں یہ حرم میں قربانی کو جاتا ہے، اور ہار ڈالنا جُھول ڈالنے سے بہتر ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس جانور کے کوہان میں دہنی یا بائیں جانب خفیف سا شگاف کر دے کہ گوشت تک نہ پہنچے، اب مکہ معظمہ میں پہنچ کرعمرہ کرے اور عمرہ سے فارغ ہو کر بھی مُحرم رہے جب تک قربانی نہ کرلے۔ اُسے سر مونڈانا جائز نہیں جب تک قربانی نہ کرلے ورنہ دَم لازم آئے گا پھر وہ تمام افعال کرے جو اس کے لیے بتائے گئے کہ جانور نہ لایا تھا اور دسویں تاریخ کو رَمی کرکے سر مونڈائے اب دونوں احرام سے ایک ساتھ فارغ ہوگیا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴: جو جانور لایا اور جو نہ لایا دونوں میں فرق یہ ہے کہ اگر جانور نہ لایا اور عمرہ کے بعد احرام کھول ڈالا اب حج کا احرام باندھا اور کوئی جنایت واقع ہوئی تو جرمانہ مثل مُفرِد کے ہے اور وہ احرام باقی تھا تو جرمانہ قارِن کی مثل ہے اور جانور لایا ہے تو بہر حال قارِ ن کی مثل ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: میقات کے اندر والوں کے لیے قِران وتَمتّع نہیں، اگر کریں تو دَم دیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۶: جو جانور لایا ہے اُسے روزہ رکھنا کافی نہ ہوگا اگرچہ نادار ہو۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۷: جانور نہیں لے گیا اور عمرہ کرکے گھر چلا آیا تو یہ اِلمام صحیح ہے اس کا تمتع جاتا رہا، اب حج کریگا تو مُفرِد ہے اور جانور لے گیا ہے اورعمرہ کرکے گھر واپس آیا پھرمُحرِم رہا اور حج کو گیا تو یہ اِلمام صحیح نہیں، لہٰذا اس کا تمتّع باقی ہے۔ یوہیں اگر گھر نہ آیا عمرہ کرکے کہیں اور چلا گیا تو تمتّع نہ گیا۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۸: تَمتّع کرنے والے نے حج یا عمرہ فاسد کر دیا تو اس کی قضا دے اور جرمانہ میں دَم اور تمتع کی قربانی اُس کے ذمہ نہیں کہ تمتع رہا ہی نہیں۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۹: تمتّع کے لیے یہ ضرور نہیں کہ حج و عمرہ دونوں ایک ہی کی طرف سے ہوں بلکہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک اپنی طرف
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب التمتع، ج۳، ص۶۴۵.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب التمتع، ج۳، ص۶۴۵.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب التمتع، ج۳، ص۶۴۶.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب التمتع، ج۳، ص۶۴۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب التمتع، ج۳، ص۶۴۸، وغیرہ.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب التمتع، ج۳، ص۶۵۰.
سے ہو اور دوسرا کسی اور کی جانب سے یا ایک شخص نے اُسے حج کا حکم دیا اور دوسرے نے عمرہ کا اور دونوں نے تَمتّع کی اجازت دیدی تو کرسکتا ہے مگر قربانی خود اس کے ذمہ ہے اور اگر نادار ہے تو روزے رکھے۔ (1) (منسک)
مسئلہ ۱۰: حج کے مہینے میں عمرہ کیا مگر اُسے فاسد کردیا پھر گھر واپس گیا پھر آکر عمرہ کی قضا کی اور اُسی سال حج کیا تو یہ تمتع ہو گیا اور اگر مکہ ہی میں رہ گیا یا مکہ سے چلا گیا مگر میقات کے اندر رہا یا میقات سے بھی باہر ہوگیا مگر گھر نہ گیا اور آکر عمرہ کی قضا کی اور اسی سال حج بھی کیا تو ان سب صورتوں میں تمتع نہ ہوا۔ (2) (جوہرہ)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقْتُلُوا الصَّیۡدَ وَاَنۡتُمْ حُرُمٌ ؕ وَمَنۡ قَتَلَہٗ مِنۡکُمۡ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنۡکُمْ ہَدْیًۢا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیۡنَ اَوۡ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا لِّیَذُوۡقَ وَبَالَ اَمْرِہٖ ؕ عَفَا اللہُ عَمَّا سَلَفَ ؕ وَمَنْ عَادَ فَیَنۡتَقِمُ اللہُ مِنْہُ ؕ وَاللہُ عَزِیۡزٌ ذُوانْتِقَامٍ ﴿۹۵﴾ اُحِلَّ لَکُمْ صَیۡدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَیۡکُمْ صَیۡدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ؕ وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحْشَرُوۡنَ ﴿۹۶﴾) (3)
اے ایمان والو! احرام کی حالت میں شکار نہ کرو اور جو تم میں سے قصداً جانورکو قتل کریگا تو بدلہ دے مثل اُس جانور کے جو قتل ہوا، تم میں کے دو عادل جو حکم کریں و ہ بدلا قربانی ہوگی۔ جو کعبہ کو جائے یا کفارہ مسکین کا کھانا یا اس کے برابر روزے تاکہ اپنے کیے کا وبال چکھے۔ اﷲ (عزوجل) نے اسے معاف فرما دیا، جو پیشتر ہوچکا اور جو پھر کریگا تو اﷲ (عزوجل) اس سے بدلا لے گا اور اﷲ (عزوجل) غالب بدلا لینے والا ہے۔ دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمھارے لیے حلال کیا گیا، تمھارے اور مسافروں کے برتنے کے لیے اور خشکی کا شکار تم پر حرام ہے، جب تک تم مُحرِم ہو اور اﷲ (عزوجل) سے ڈرو جس کی طرف تم اُٹھائے جاؤ گے۔
اور فرماتاہے:
( فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوْ بِہٖۤ اَذًی مِّنۡ رَّاۡسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنۡ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ ۚ ) (4)
1 ۔ ''المسلک المتقسط''، (باب التمتع، فصل ولایشترط الصحۃ التمتع إحرام العمرۃ من المیقات)، ص۲۸۶.
2 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الحج، باب التمتع، ص۲۱۶.
3 ۔پ۷، المائدہ: ۹۵۔۹۶۔ 4 ۔پ۲، البقرہ: ۱۹۶۔
جو تم میں سے بیما رہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور سر مونڈالے) تو فدیہ دے روزے یا صدقہ یا قربانی۔
صحیحین وغیرہما میں کعب بن عجرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اُن کے پاس تشریف لائے اور یہ مُحرم تھے اور ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جُوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، ارشاد فرمایا: کیا یہ کیڑے تمھیں تکلیف دے رہے ہیں؟ عرض کی، ہاں۔ فرمایا: ''سر مونڈا ڈالو اور تین صاع کھانا چھ مسکینوں کو دیدو یا تین روزے رکھو یا قربانی کرو۔'' (1)
تنبیہ: مُحرم اگر بالقصد بلا عُذر جرم کرے تو کفارہ بھی واجب ہے اور گنہگار بھی ہوا، لہٰذا اس صورت میں توبہ واجب کہ محض کفارہ سے پاک نہ ہوگا جب تک توبہ نہ کرے اور اگر نادانستہ یا عذر سے ہے تو کفارہ کافی ہے۔ جرم میں کفارہ بہرحال لازم ہے، یا د سے ہو یا بھول چوک سے، اس کا جرم ہونا جانتا ہو یا معلوم نہ ہو، خوشی سے ہو یا مجبوراً، سوتے میں ہو یا بیداری میں، نشہ یا بے ہوشی میں یا ہوش میں، اُس نے اپنے آپ کیا ہو یا دوسرے نے اُس کے حکم سے کیا۔
تنبیہ: اس بیان میں جہاں دَم کہیں گے اس سے مراد ایک بکری یا بھیڑ ہوگی اور بدنہ اونٹ یا گائے یہ سب جانور انھیں شرائط کے ہوں جو قربانی میں ہیں اور صدقہ سے مراد انگریزی روپے سے ایک سو پچھتّر روپے آٹھ آنہ بھر گیہوں کہ سو۱۰۰ روپے کے سیر سے پونے دو سیر اٹھنی بھر اوپر ہوئے یا ا س کے دُونے جَو یا کھجور یا ان کی قیمت۔
مسئلہ ۱: جہاں دَم کا حکم ہے وہ جرم اگر بیماری یا سخت گرمی یا شدید سردی یا زخم یا پھوڑے یا جُوؤں کی سخت ایذا کے باعث ہوگا تو اُسے جُرمِ غیر اختیاری کہتے ہیں۔ اس میں اختیار ہو گا کہ دَم کے بدلے چھ مسکینوں کو ایک ایک صدقہ دے دے یا دونوں وقت پیٹ بھر کھلائے یا تین روزے رکھ لے، اگر چھ صدقے ایک مسکین کو دیدیے یا تین یا سات مساکین پر تقسیم کر دیے تو کفارہ ادا نہ ہوگابلکہ شرط یہ ہے کہ چھ مسکینوں کو دے اور افضل یہ ہے کہ حرم کے مساکین ہوں اور اگر اس میں صدقہ کا حکم ہے اور بمجبور ی کیا تو اختیار ہوگا کہ صدقہ کے بدلے ایک روزہ رکھ لے۔ کفارہ اس لیے ہے کہ بھول چوک سے یا سوتے میں یا مجبوری سے جر م ہوں تو کفارہ سے پاک ہو جائیں، نہ اس لیے کہ جان بوجھ کر بلا عذر جُرم کرو اور کہو کہ کفارہ دیدیں گے، دینا تو جب بھی آئے گا مگر قصداً حکم الٰہی کی مخالفت سخت تر ہے۔
مسئلہ ۲: جہاں ایک دَم یا صدقہ ہے، قارِن پر دو ہیں۔ (2) (عامہ کتب)
مسئلہ ۳: کفارہ کی قربانی یا قارِن و مُتمتّع کے شکرانہ کی غیر حرم میں نہیں ہوسکتی۔ غیر حرم میں کی تو ادا نہ ہوئی، ہا ں جُرم
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب جواز حلق الرأس ...إلخ، الحدیث: ۸۳۔(۱۲۰۱)، ص۶۱۸.
2 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الحج، باب الجنایات، فصل في جزاء الصید، ج۱، ص۱۷۱.
غیر اختیاری میں اگر اس کا گوشت چھ مسکینوں پر تصدق کیا اور ہر مسکین کو ایک صدقہ کی قیمت کا پہنچا تو ادا ہوگیا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: شکرانہ کی قربانی سے آپ کھائے، غنی کو کھلائے، مساکین کو دے اور کفارہ کی صرف محتاجوں کا حق ہے۔
مسئلہ ۵: اگر کفارے کے روزے رکھے تو اس میں شرط یہ ہے کہ رات سے یعنی صبح صادق سے پہلے نیت کرلے اور یہ بھی نیت کہ فُلاں کفارہ کا روزہ ہے، مطلق روزہ کی نیت یا نفل یا کوئی اور نیت کی تو کفارہ ادا نہ ہوا اور پے در پے ہونا یا حرم میں یا احرام میں رکھنا ضرور نہیں۔ (2) (منسک) اب احکام سنیے:
مسئلہ ۶: خوشبو اگر بہت سی لگائی جسے دیکھ کر لوگ بہت بتائیں اگرچہ عضو کے تھوڑے حصہ پریا کسی بڑے عضو جیسے سر، مونھ، ران، پنڈلی کو پورا سان دیا اگرچہ خوشبو تھوڑی ہے تو ان دونوں صورتوں میں دَم ہے اور اگر تھوڑی سی خوشبو عضو کے تھوڑے سے حصہ میں لگائی تو صدقہ ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: کپڑے یا بچھونے پر خوشبو مَلیتوخود خوشبو کی مقدار دیکھی جائے گی، زیادہ ہے تو دَم اور کم ہے تو صدقہ۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: خوشبو سونگھی پھل ہویا پھول جیسے لیمو، نارنگی، گلاب، چمیلی، بیلے ،جُوہی وغیرہ کے پھول تو کچھ کفارہ نہیں اگرچہ مُحرم کو خوشبو سونگھنا مکروہ ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: احرام سے پہلے بدن پر خوشبو لگائی تھی، احرام کے بعد پھیل کر اور اعضا کو لگی تو کفارہ نہیں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: مُحرِم نے دوسرے کے بدن پر خوشبولگائی مگر اس طرح کہ اس کے ہاتھ وغیرہ کسی عضومیں خوشبو نہ لگی یا اس کو سلا ہو ا کپڑا پہنایا تو کچھ کفارہ نہیں مگر جب کہ مُحرم کو خوشبو لگائی یا سِلا ہوا کپڑا پہنایا تو گنہگار ہوا اور جس کو لگائی یا پہنایا اس پر کفارہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثالث، ج۱، ص۲۴۴.
2 ۔ ''المسلک المتقسط''،(باب فيجزاء الجنایات وکفاراتھا، فصل في احکام الصیام في باب الاحرام)، ص۴۰۱۔۴۰۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۰۔۲۴۱.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۱.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۳.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۳.
واجب ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: تھوڑی سی خوشبو بدن کے متفرق حصوں میں لگائی اگر جمع کرنے سے پورے بڑے عضو کی مقدار کو پہنچ جائے تو دَم ہے ورنہ صدقہ اور زیادہ خوشبو متفرق جگہ لگائی تو بہر حال دَم ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: ایک جلسہ میں کتنے ہی اعضا پر خوشبو لگائے بلکہ سارے بدن پر بھی لگائے تو ایک ہی جُرم ہے اور ایک کفارہ واجب اور کئی جلسوں میں لگائی تو ہر بار کے لیے الگ الگ کفارہ ہے، خواہ پہلی بار کا کفارہ دے کر دوسری بار لگائی یا ابھی کسی کا کفارہ نہ دیا ہو۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: کسی شے میں خوشبو لگی تھی اسے چھوا، اگر اس سے خوشبو چھوٹ کر بڑے عضوِ کامل کی قدر بدن کو لگی تو دَم دے اور کم ہو تو صدقہ اورکچھ نہیں تو کچھ نہیں مثلاً سنگِ اَسود شریف پر خوشبو ملی جاتی ہے اگر بحالتِ احرام بوسہ لیتے میں بہت سی لگی تو دَم دے اور تھوڑی سی تو صدقہ۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: خوشبودار سُرمہ ایک یا دو بار لگایا تو صدقہ دے، اس سے زیادہ میں دَم اور جس سُرمہ میں خوشبو نہ ہو اُس کے استعمال میں حرج نہیں، جب کہ بضرورت ہو اور بلا ضرورت مکروہ۔ (5) (منسک، عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: اگر خالص خوشبو جیسے مشک، زعفران، لونگ، الائچی، دار چینی اتنی کھائی کہ مونھ کے اکثرحصہ میں لگ گئی تو دَم ہے ورنہ صدقہ۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: کھانے میں پکتے وقت خوشبو پڑی یا فنا ہوگئی تو کچھ نہیں، ورنہ اگر خوشبو کے اجزا زیادہ ہوں تو وہ خالص خوشبوکے حکم میں ہے اور کھانا زیادہ ہو تو کفارہ کچھ نہیں مگر خوشبو آتی ہو تو مکروہ ہے۔ (7) (عالمگیری، درمختار ،ردالمحتار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۳، وغیرہ.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۴.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۴.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۱.
5 ۔ المرجع السابق . و''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط''، (باب الجنایات، فصل فی الکحل المطیب)، ص۳۱۴.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۴.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۱.
و''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۶.
مسئلہ ۱۷: پینے کی چیز میں خوشبو ملائی، اگرخوشبو غالب ہے یا تین بار یا زیادہ پیا تو دَم ہے، ورنہ صدقہ۔ (1) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۱۸: تمباکو کھانے والے اس کا خیال رکھیں کہ احرام میں خوشبو دار تمباکو نہ کھائیں کہ پتیوں میں تو ویسے ہی کچی خوشبو ملائی جاتی ہے اور قوام میں بھی اکثر پکانے کے بعد مُشک وغیرہ ملاتے ہیں۔
مسئلہ ۱۹: خمیرہ تمباکو نہ پینا بہتر ہے ،کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے مگر پیا تو کفارہ نہیں۔
مسئلہ ۲۰: اگر ایسی جگہ گیا جہاں خوشبو سُلگ رہی ہے اور اس کے کپڑے بھی بس گئے تو کچھ نہیں اور سُلگا کر اس نے خود بَسائے تو قلیل میں صدقہ اور کثیر میں دَم اور نہ بسے تو کچھ نہیں اور اگر احرام سے پہلے بسایا تھا اور احرام میں پہنا تو مکروہ ہے مگر کفارہ نہیں۔ (2) (عالمگیری، منسک)
مسئلہ ۲۱: سر پر منہدی کا پتلا خضاب کیا کہ بال نہ چھپے تو ایک دَم اور گاڑھی تھوپی کہ بال چھپ گئے اور چار پہر گزرے تو مرد پر دو دَم اور چار پہر سے کم میں ایک دَم اور ایک صدقہ اور عورت پر بہر حال ایک دم، چوتھائی سر چھپنے کا بھی یہی حکم ہے اور چوتھائی سے کم میں صدقہ ہے اور سر پر وسمہ پتلا پتلا لگایا تو کچھ نہیں اور گاڑھا ہو تو مردکو کفارہ دینا ہوگا۔ (3)
(جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: داڑھی میں منہدی لگائی جب بھی دَم واجب ہے، پوری ہتھیلی یا تلوے میں لگائی تو دَم دے، مرد ہویا عورت اور چاروں ہاتھ پاؤں میں ایک ہی جلسہ میں لگائی جب بھی ایک ہی دَم ہے، ورنہ ہر جلسہ پر ایک دَم اور ہاتھ پاؤں کے کسی حصہ میں لگائی تو صدقہ۔ (4) (جوہرہ، ردالمحتار وغیرہما)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۴، وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۱.
و ''لباب المناسک''، (باب الجنایات، فصل في تطیییب الثوب...إلخ)، ص۳۲۱.
3 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الحج، باب الجنایات، ص۲۱۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۱.
4 ۔''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۴، وغیرہما.
مسئلہ ۲۳: خطمی سے سر یا داڑھی دھوئی تو دَم ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: عطر فروش کی دُکان پر خوشبو سونگھنے کے لیے بیٹھا تو کراہت ہے ورنہ حرج نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: چادر یا تہبند کے کنارہ میں مشک، عنبر، زعفران باندھا اگر زیادہ ہے اور چار پہر گزرے تو دَم ہے اور کم ہے تو صدقہ۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: خوشبو استعمال کرنے میں بقصد یا بلا قصد ہونا، یاد کرکے یا بھولے سے ہونا، مجبوراً یا خوشی سے ہونا، مرد و عورت دونوں کے لیے سب کا یکساں حکم ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: خوشبو لگانا جب جُرم قرار پایا تو بدن یا کپڑے سے دُور کرنا واجب ہے اور کفارہ دینے کے بعد زائل نہ کیا تو پھر دَم وغیرہ واجب ہوگا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: خوشبو لگانے سے بہر حال کفارہ واجب ہے، اگرچہ فوراً زائل کردی ہو اور اگر کوئی غیر مُحرم ملے تو اس سے دھلوائے اور اگر صرف پانی بہانے سے دُھل جائے تو یوہیں کرے۔ (6) (منسک)
مسئلہ ۲۹: روغن چمیلی وغیرہ خوشبودار تیل لگا نے کا وہی حکم ہے جو خوشبو استعمال کرنے میں تھا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: تِل اور زیتون کا تیل خوشبو کے حکم میں ہے اگرچہ ان میں خوشبو نہ ہو، البتہ ان کے کھانے اور ناک میں چڑھانے اور زخم پر لگانے اور کان میں ٹپکانے سے صدقہ واجب نہیں۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: مشک، عنبر، زعفران وغیرہ جو خود ہی خوشبو ہیں، ان کے استعمال سے مطلقاً کفارہ لازم ہے اگرچہ دواءً
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۱.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۲.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۴.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۱.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۱۔۲۴۲.
6 ۔ ''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط''، (کتاب الحج، باب الجنایات، فصل لا یشترط بقاء الطیب)، ص۳۱۹.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۰.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۵.
استعمال کیا ہو، یہ اس صورت میں ہے جب کہ ان کو خالص استعمال کریں اور اگر دوسری چیز جو خوشبو دار نہ ہو، اس کے ساتھ ملا کر استعمال کیا تو غالب کا اعتبار ہے اور دوسری چیز میں ملا کر پکا لیا ہو تو کچھ نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: زخم کا علاج ایسی دوا سے کیا جس میں خوشبو ہے پھر دوسرا زخم ہوا، اس کا علاج پہلے کے ساتھ کیا تو جب تک پہلا اچھا نہ ہو اس دوسرے کی وجہ سے کفارہ نہیں اور پہلے کے اچھے ہونے کے بعد بھی دوسرے میں وہ خوشبودار دوا لگائی تو دو کفارے واجب ہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: کُسم یا زعفران کا رنگا ہوا کپڑا چار پہر پہنا تو دَم دے اور اس سے کم تو صدقہ، اگرچہ فوراً اُتار ڈالا۔ (3) (منسک، عالمگیری)
مسئلہ ۱: مُحرِم نے سِلا کپڑا چار پہر(4) کامل پہنا تو دَم واجب ہے اور اس سے کم تو صدقہ اگرچہ تھوڑی دیر پہنا اور لگاتار کئی دن تک پہنے رہا جب بھی ایک ہی دَم واجب ہے ،جب کہ یہ لگا تار پہننا ایک طرح کا ہو یعنی عُذر سے یا بلا عذر اور اگر مثلاً ایک دن بلاعذر تھا، دوسرے دن بعذر یا بالعکس تو دو کفارے واجب ہوں گے۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲: اگر دن میں پہنا رات میں گرمی کے سبب اُتار ڈالا یا رات میں سردی کی وجہ سے پہنا دن میں اُتار ڈالا، باز آنے کی نیت سے نہ اُتارا تو ایک کفارہ ہے اور توبہ کی نیت سے اُتارا تو ہر بار میں نیا کفارہ واجب ہوگا۔ یوہیں کسی ایک دن کُرتا پہنا تھا اور اُتار ڈالا پھر پاجامہ پہنا اُسے بھی اُتار کر ٹوپی پہنی تو یہ سب ایک ہی پہننا ہے اور اگر ایک دن ایک پہنا دوسرے دن دوسرا تو دو کفارے واجب ہیں۔ (6) (عالمگیری، درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۱.
3 ۔ ''لباب المناسک''، (باب الجنایات، فصل في تطیب الثوب اذا کان الطیب في ثوبہ شبراً في شبر)، ص۳۲۰.
4 ۔ چار پہر سے مراد ایک دن یا ایک رات کی مقدار ہے ،مثلاً طلوع آفتاب سے غروب آفتاب یا غروب آفتاب سے طلوع آفتاب یا دوپہر سے آدھی رات یاآدھی رات سے دوپہر تک ۔ ( حاشیہ '' انور البشارۃ''. '' الفتاوی الرضویۃ ''، ج۱۰، ص ۷۵۷).
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴۲، وغیرہ.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴۲.
و''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۷.
مسئلہ ۳: بیماری کے سبب پہنا تو جب تک وہ بیماری رہے گی ایک ہی جرم ہے اور بیماری یقینا جاتی رہی اور نہ اُتارا تو یہ دوسرا جرم اختیاری ہے اور اگر وہ بیماری یقینا جاتی رہی مگر دوسری بیماری معاً شروع ہوگئی اور اُس میں بھی پہننے کی ضرورت ہے جب بھی یہ دوسرا جرم غیر اختیاری ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: باری کے ساتھ بخار آتا ہے اور جس دن بخار آیا کپڑے پہن لیے، دوسرے دن اُتار ڈالے تیسرے دن پھر پہنے ،تو جب تک یہ بخار آئے ایک ہی جرم ہے۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۵: اگر سلا کپڑا پہنا اور اس کا کفارہ ادا کردیا مگر اُتارا نہیں، دوسرے دن بھی پہنے ہی رہا تو اب دوسرا کفارہ واجب ہے۔ یوہیں اگر احرام باندھتے وقت سلا ہوا کپڑا نہ اُتارا تو یہ جُرم ہے۔ (3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۶: بیماری وغیرہ کے سبب اگر سر سے پاؤں تک سب کپڑے پہننے کی ضرورت ہوئی تو ایک ہی جُرم غیر اختیاری ہے اور بلا عُذر سب کپڑے پہنے تو ایک جُرم اختیاری ہے یعنی چار پہر پہنے تو دونوں صورتوں میں دَم ہے اور اس سے کم میں صدقہ اور اگر ضرورت ایک کپڑے کی تھی اُس نے دو پہنے تو اگر اسی موضعِ ضرورت پر دوسرا بھی پہنا تو ایک کفارہ ہے اور گنہگار ہوا۔ مثلاً ایک کُرتے کی ضرورت تھی، دوپہن لیے یا ٹوپی کی ضرورت تھی عمامہ بھی باندھ لیا اور اگر دوسرا کپڑا اس جگہ کے سوا دوسری جگہ پہنا مثلاً ضرورت صرف عمامہ کی ہے اُس نے کُرتا بھی پہن لیا تو دوجرم ہیں، عمامہ کا غیر اختیاری اور کرتے کا اختیاری۔ خلاصہ یہ کہ موضعِ ضرورت میں زیادتی کی تو ایک جُرم ہے اور موضعِ ضرورت کے علاوہ اور جگہ بھی پہنا تو دو۔ (4) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۷: بغیر ضرورت سب کپڑے ایک ساتھ پہن لیے تو ایک جرم ہے، دوجرم اس وقت ہیں کہ ایک بضرورت ہو دوسرا بے ضرورت۔ (5) (منسک)
مسئلہ ۸: دشمن کی وجہ سے کپڑے پہنے ،ہتھیار باندھے اور وہ بھاگا اس نے اُتار ڈالے وہ پھر آگیا، اس نے پھر پہنے تو یہ ایک ہی جُرم ہے۔ یوہیں دن میں دشمن سے لڑنا پڑتا ہے یہ دن میں ہتھیار باندھ لیتا ہے رات میں اُتار ڈالتا ہے تو یہ ہر روز کا
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۸.
2 ۔ ''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط''، (باب الجنایات)، ص۳۰۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴۲.
و ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الأول، ج۱، ص۲۴۲۔۲۴۳، وغیرہ.
5 ۔''لباب المناسک'' ، (باب الجنایات)، ص ۳۰۲۔۳۰۳.
باندھنا ایک ہی جُرم ہے جب تک عُذر باقی ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: مُحرِم نے دوسرے مُحرِم کو سِلا ہوا یا خوشبودار کپڑا پہنایا تو اس پہنانے والے پر کچھ نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مرد یا عورت نے مونھ کی ٹکلی ساری یا چہارم چھپائی یا مرد نے پورا یا چہارم سر چھپایا تو چار پہر یا زیادہ لگاتار چھپانے میں دَم ہے اور کم میں صدقہ اور چہارم سے کم کو چار پہر تک چھپایا تو صدقہ ہے اور چار پہر سے کم میں کفارہ نہیں مگر گناہ ہے۔ (3) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۱: مُحرِم نے سر پر کپڑے کی گٹھری رکھی تو کفارہ ہے اور غلہ کی گٹھری یا تختہ یا لگن وغیرہ کوئی برتن رکھ لیا تو نہیں اور اگر سر پر مٹی تھوپ لی تو کفارہ ہے۔ (4) (عالمگیری، منسک)
مسئلہ ۱۲: سلا ہوا کپڑا پہننے میں یہ شرط نہیں کہ قصداً پہنے بلکہ بھول کر ہو یا نادانی میں بہرحال وہی حکم ہے۔ یوہیں سر اور مونھ چھپانے میں، یہاں تک کہ مُحرِم نے سوتے میں سر یا مونھ چھپالیا تو کفارہ واجب ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: کان اور گدی کے چھپانے میں حرج نہیں ۔یوہیں ناک پر خالی ہاتھ رکھنے میں اور اگر ہاتھ میں کپڑا ہے اور کپڑے سمیت ناک پر ہاتھ رکھا تو کفارہ نہیں مگر مکروہ و گناہ ہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: پہننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کپڑا اس طرح پہنے جیسے عادۃً پہنا جاتا ہے، ورنہ اگر کرتے کا تہبند باندھ لیا یا پاجامہ کو تہبند کی طرح لپیٹا پاؤں پائنچے میں نہ ڈالے تو کچھ نہیں۔ یوہیں انگر کھا پھیلا کر دونوں شانوں پر رکھ لیا، آستینوں میں ہاتھ نہ ڈالے تو کفارہ نہیں مگر مکروہ ہے اور مونڈھوں پر سِلے کپڑے ڈال لیے تو کچھ نہیں۔ (7) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: جوتے نہ ہوں تو موزے کو وہاں سے کا ٹ کر پہنے جہاں عربی جوتے کا تسمہ ہوتا ہے اور بغیر کاٹے ہوئے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴۳.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴۲، وغیرہ.
4 ۔ المرجع السابق .و''لباب المناسک'' و '' المسلک المتقسط''، (باب الجنایات)، ص۳۰۸.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴۲.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۹.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۶.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴۲.
پہن لیا تو پورے چار پہر پہننے میں دَم ہے اور اس سے کم میں صدقہ اور جوتے موجود ہوں تو موزے کاٹ کر پہننا جائز نہیں کہ مال کو ضائع کرنا ہے پھر بھی اگر ایسا کیا تو کفارہ نہیں۔ (1) (منسک)
یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ احرام میں انگریزی جوتے پہننا جائز نہیں کہ وہ اُس جوڑ کو چھپاتے ہیں، پہنے گا تو کفارہ لازم آئے گا۔
مسئلہ ا: سر یا داڑھی کے چہارم بال یا زیادہ کسی طرح دُور کیے تو دَم ہے اور کم میں صدقہ اور اگر چند لاہے یا داڑھی میں کم بال ہیں، تو اگر چوتھائی کی مقدار ہیں تو کُل میں دَم ورنہ صدقہ۔ چند جگہ سے تھوڑے تھوڑے بال لیے تو سب کا مجموعہ اگر چہارم کو پہنچتا ہے تو دَم ہے ورنہ صدقہ۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: پوری گردن یا پوری ایک بغل میں دَم ہے اور کم میں صدقہ اگرچہ نصف یا زیادہ ہو۔ یہی حکم زیرِ ناف کا ہے۔ دونوں بغلیں پوری مونڈائے، جب بھی ایک ہی دَم ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: پورا سر چند جلسوں میں مونڈایا، تو ایک ہی دَم واجب ہے مگر جب کہ پہلے کچھ حصہ مونڈا کر اُس کا کفارہ ادا کر دیا پھر دوسرے جلسہ میں مونڈایا تو اب نیاکفارہ دینا ہوگا۔ یوہیں دونوں بغلیں دو جلسوں میں مونڈائیں تو ایک ہی کفارہ ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: سر مونڈایا اور دَم دیدیا پھر اسی جلسہ میں داڑھی مونڈائی تو اب دوسرا دَم دے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: سر اور داڑھی اور بغلیں اور سارے بدن کے بال ایک ہی جلسہ میں مونڈائے تو ایک ہی کفارہ ہے اور اگر ایک ایک عضو کے ایک ایک جلسہ میں تو اتنے ہی کفارے۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔ ''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط''، (باب الجنایات، فصل في لبس الخفین)، ص۳۰۹۔۳۱۰.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۹.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۹.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۹۔۶۶۱.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثالث، ج۱، ص۲۴۳.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثالث، ج۱، ص۲۴۳.
مسئلہ ۶: سر اور داڑھی اور گردن اور بغل اور زیرِ ناف کے سوا باقی اعضا کے مونڈانے میں صرف صدقہ ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: مونچھ اگرچہ پوری مونڈائے یا کتروائے صدقہ ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: روٹی پکانے میں کچھ بال جل گئے تو صدقہ ہے، وضو کرنے یا کھجانے یا کنگھا کرنے میں بال گرے، اس پر بھی پورا صدقہ ہے اور بعض نے کہا دو تین بال تک ہر بال کے لیے ایک مٹھی ناج یا ایک ٹکڑا روٹی یا ایک چھوہارا۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: اپنے آپ بے ہاتھ لگائے بال گر جائے یا بیماری سے تمام بال گر پڑیں تو کچھ نہیں۔ (4) (منسک)
مسئلہ ۱۰: مُحرِم نے دوسرے مُحرِم کا سر مونڈا اس پر بھی صدقہ ہے، خواہ اُس نے اُسے حکم دیا ہو یا نہیں، خوشی سے مونڈایا ہویا مجبور ہو کر اور غیر مُحرم کا مونڈا تو کچھ خیرات کر دے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: غیر مُحرِم نے مُحرِم کا سر مونڈا اُس کے حکم سے یا بلا حکم تو مُحرِم پر کفارہ ہے اور مونڈنے والے پر صدقہ اور وہ مُحرِم اس مونڈنے والے سے اپنے کفارہ کا تاوان نہیں لے سکتا اور اگر مُحرِم نے غیر کی مونچھیں لیں یا ناخن تراشے تو مساکین کو کچھ صدقہ کھلادے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مونڈنا، کترنا، موچنے سے لینا یا کسی چیزسے بال اُوڑانا، سب کا ایک حکم ہے۔ (7) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۱۳: عورت پورے یا چہارم سر کے بال ایک پورے برابر کترے تو دَم دے اور کم میں صدقہ۔ (8) (منسک)
1 ۔ ''ردالمحتار'' ، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۶۰.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ص۶۶۹.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثالث، ج۱، ص۲۴۳.
و''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ص ۶۷۰.
4 ۔ ''لباب المناسک''، (باب الجنایات، فصل في سقوط الشعر)،ص۳۲۸.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثالث، ج۱، ص۲۴۳.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثالث، ج۱، ص۲۴۳.
7 ۔ ''ردالمحتار'' ، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۶۰، وغیرہ.
8 ۔ ''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط''، (باب الجنایات، فصل في حکم التقصیر)، ص۳۲۷.
مسئلہ ۱۴: بال مونڈا کر پچھنے لیے تو دَم ہے ورنہ صدقہ۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: آنکھ میں بال نکل آئے تو اُن کے اوکھاڑنے میں صدقہ نہیں۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۱: ایک ہاتھ ایک پاؤں کے پانچوں ناخن کترے یا بیسوں ایک ساتھ تو ایک دَم ہے اور اگر کسی ہاتھ یا پاؤں کے پورے پانچ نہ کترے تو ہر ناخن پر ایک صدقہ، یہاں تک کہ اگر چاروں ہاتھ پاؤں کے چار چار کترے تو سولہ صدقے دے مگر یہ کہ صدقوں کی قیمت ایک دَم کے برابر ہو جائے تو کچھ کم کرلے یا دَم دے اور اگر ایک ہاتھ یا پاؤں کے پانچوں ایک جلسہ میں اور دوسرے کے پانچوں دوسرے جلسہ میں کترے تو دو دَم لازم ہیں اور چاروں ہاتھ پاؤں کے چار جلسوں میں تو چار دَم۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: کوئی ناخن ٹوٹ گیا کہ بڑھنے کے قابل نہ رہا، اس کا بقیہ اُس نے کاٹ لیا تو کچھ نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: ایک ہی جلسہ میں ایک ہاتھ کے پانچوں ناخن تراشے اور چہارم سر مونڈایا اور کسی عضو پر خوشبو لگائی تو ہر ایک پر ایک ایک دَم یعنی تین دَم واجب ہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: مُحرِم نے دوسرے کے ناخن تراشے تو وہی حکم ہے جو دوسرے کے بال مونڈنے کا ہے۔ (6) (منسک)
مسئلہ ۵: چاقو اور ناخن گیر سے تراشنا اور دانت سے کھٹکنا سب کا ایک حکم ہے۔
مسئلہ ا: مباشرت فاحشہ اور شہوت کے ساتھ بوس و کنار اور بدن مَس کرنے میں دَم ہے، اگرچہ انزال نہ ہو اور
1 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۵۹.
2 ۔ ''لباب المناسک''، (باب الجنایات، فصل في سقوط الشعر)، ص۳۲۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الثالث، ج۱، ص۲۴۴.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''المسلک المتقسط''، (باب الجنایات، فصل في قلم الاظفار)، ص۳۳۲.
بلا شہوت میں کچھ نہیں۔ یہ افعال عورت کے ساتھ ہوں یا امرد کے ساتھ دونوں کا ایک حکم ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: مرد کے ان افعال سے عورت کو لذت آئے تو وہ بھی دَم دے۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۳: اندامِ نہانی پر نگاہ کرنے سے کچھ نہیں اگرچہ انزال ہوجائے اگرچہ بار بار نگاہ کی ہو۔ یوہیں خیال جمانے سے۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جلق(4) سے انزال ہو جائے تو دَم ہے ورنہ مکروہ اور احتلام سے کچھ نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ا: وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع کیا تو حج فاسد ہوگیا۔ اُسے حج کی طرح پورا کرکے دَم دے اور سال آئندہ ہی میں اس کی قضا کر لے۔ عورت بھی احرام حج میں تھی تو اس پر بھی یہی لازم ہے اور اگر اس بلا میں پھر پڑجانے کا خوف ہو تو مناسب ہے کہ قضا کے احرام سے ختم تک دونوں ایسے جدا رہیں کہ ایک دوسرے کو نہ دیکھے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: وقوف کے بعد جماع سے حج تو نہ جائے گا مگر حلق و طواف سے پہلے کیا تو بدنہ دے اور حلق کے بعد تو دَم اور بہتر اب بھی بدنہ ہے اور دونوں کے بعد کیا توکچھ نہیں۔ طواف سے مُراد اکثر ہے یعنی چار پھیرے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: قصداً جماع ہو یا بھولے سے یا سوتے میں یا اکراہ کے ساتھ سب کا ایک حکم ہے۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: وقوف سے پہلے عور ت سے ایسے بچہ نے وطی کی جس کا مثل جماع کرتا ہے یا مجنون نے تو حج فاسد ہو جائے گا۔ یوہیں مرد نے مشتہاۃ لڑکی یا مجنونہ سے وطی کی حج فاسد ہوگیا مگر بچہ اور مجنون پر نہ دَم واجب ہے، نہ قضا۔ (9)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۶۷.
2 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج، ص، ۲۲۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الرابع، ج۱، ص۲۴۴.
4 ۔ یعنی مشت زنی۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الرابع، ج۱، ص۲۴۴.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الرابع، ج۱، ص۲۴۴.
7 ۔ المرجع السابق ص۲۴۵.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الرابع، ج۱، ص۲۴۴.
9 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۷۲.
(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: وقوفِ عرفہ سے پہلے چند بار جماع کیا اگر ایک ہی مجلس میں ہے تو ایک دَم واجب ہے اور دو مختلف مجلسوں میں تو دو دَم اور اگر دوسری بار احرام توڑنے کے قصد سے جماع کیا تو بہر حال ایک ہی دَم واجب ہے، چاہے ایک ہی مجلس میں ہو یا متعدد میں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: وقوفِ عرفہ کے بعد سر مونڈانے سے پہلے چند با رجماع کیا اگر ایک مجلس میں ہے تو ایک بدنہ اور دو مجلسوں میں ہے تو ایک بدنہ اور ایک دَم اور اگر دوسری بار احرام توڑنے کے ارادہ سے جماع کیا تو اس بار کچھ نہیں۔ (2)
(عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: جانور یا مردہ یا بہت چھوٹی لڑکی سے جماع کیا تو حج فاسد نہ ہوگا، انزال ہو یا نہیں مگر انزال ہوا تو دَم لازم۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: عورت نے جانور سے وطی کرائی یا کسی آدمی یا جانور کا کٹا ہوا آلہ اندر رکھ لیا حج فاسد ہوگیا۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: عمرہ میں چار پھیرے سے قبل جماع کیا عمرہ جاتا رہا، دَم د ے اور عمرہ کی قضا اور چار پھیروں کے بعد کیا تو دَم دے عمرہ صحیح ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: عمرہ کرنے والے نے چند بار متعدد مجلس میں جماع کیا تو ہر بار دَم واجب اور طواف و سعی کے بعد حلق سے پہلے کیا جب بھی دَم واجب ہے اور حلق کے بعد تو کچھ نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱:ـ قِران والے نے عمرہ کے طواف سے پہلے جماع کیا تو حج و عمرہ دونوں فاسد مگر دونوں کے تمام افعال بجا لائے اور دو دَم دے اور سال آئندہ حج و عمرہ کرے اور اگر عمرہ کا طواف کرچکا ہے اور وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع کیا تو عمرہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الرابع، ج۱، ص۲۴۵.
2 ۔ المرجع السابق.و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۷۵.
3 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۷۲.
4 ۔ ''الدر المختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۷۳.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۷۶.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الرابع، ج۱، ص۲۴۵.
فاسد نہ ہوا، حج فاسد ہوگیا دو دَم دے اور سال آئندہ حج کی قضا دے اور اگر وقوف کے بعد کیا تو نہ حج فاسد ہوا ،نہ عمرہ ایک بدنہ اور ایک دَم دے اوران کے علاوہ قِران کی قربانی۔ (1) (منسک)
مسئلہ ۱۲: جماع سے احرام نہیں جاتا وہ بدستور مُحرِم ہے اور جو چیزیں مُحرِم کے لیے نا جائز ہیں وہ اب بھی ناجائز ہیں اور وہی سب احکام ہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: حج فاسد ہونے کے بعد دوسرے حج کا احرام اسی سال باندھا تو دوسرا نہیں ہے بلکہ وہی ہے جسے اُس نے فاسد کردیا، اس ترکیب سے سال آئندہ کی قضا سے نہیں بچ سکتا۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱: طوافِ فرض کُل یا اکثر یعنی چار پھیرے جنابت یا حیض و نفاس میں کیا تو بدنہ ہے اور بے وضو کیا تو دَم اور پہلی صورت میں طہارت کے ساتھ اعادہ واجب، اگر مکہ سے چلا گیا ہو تو واپس آکر اعادہ کرے اگرچہ میقات سے بھی آگے بڑھ گیا ہو مگر بارھویں تاریخ تک اگر کامل طور پر اعادہ کرلیا تو جرمانہ ساقط اور بارھویں کے بعد کیا تو دَم لازم، بدنہ ساقط۔ لہٰذا اگر طوافِ فرض بارھویں کے بعد کیا ہے تودم(4)ساقط نہ ہوگا کہ بارھویں تو گزر گئی اور اگر طوافِ فرض بے وضو کیا تھا تو اعادہ مستحب پھر اعادہ سے دَم ساقط ہوگیا اگرچہ بارھویں کے بعد کیا ہو۔ (5) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۲: چار پھیرے سے کم بے طہارت کیا تو ہر پھیرے کے بدلے ایک صدقہ اور جنابت میں کیا تو دَم پھر اگر بارھویں تک اعادہ کرلیا تو دَم ساقط اور بارھویں کے بعد اعادہ کیا تو ہر پھیرے کے بدلے ایک صدقہ۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔ ''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط''، (باب الجنایات)، ص۳۳۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۷۳.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ بہار شریعت کے نسخوں میں اس جگہ''دم''کے بجائے'' بَدَ نہ'' لکھا ہے ،جو کتابت کی غلطی ہے کیونکہ ''طوافِ فرض بارھویں کے بعد کیاتو بدنہ ساقط ہو جائے گا''،ایسا ہی فتاوی عالمگیری میں ہے،اسی وجہ سے ہم نے لفظ''دم'' کر دیا ہے ۔ لہٰذا جن کے پاس بہار شریعت کے دیگر نسخے ہیں ان کو چاہیے کہ لفظ ''بدنہ'' کو قلم زد کر کے اس جگہ پر لفظ'' دم'' لکھ لیں۔
5 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج، ص ۲۲۱.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الخامس، ج۱،ص۲۴۵.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الخامس، ج۱، ص۲۴۶.
مسئلہ ۳: طوافِ فرض کُل یا اکثر بلا عُذر چل کر نہ کیا بلکہ سواری پر یا گود میں یا گھسٹ کر یا بے سترکیا مثلاً عورت کی چہارم کلائی یا چہارم سر کے بال کھلے تھے یا اُلٹا طواف کیا یا حطیم کے اندر سے طواف میں گزرا یا بارھویں کے بعد کیا تو ان سب صورتوں میں دَم دے اور صحیح طور پر اعادہ کرلیا تو دَم ساقط اور بغیر اعادہ کیے چلا آیا تو بکری یا اُس کی قیمت بھیج دے کہ حرم میں ذبح کردی جائے، واپس آنے کی ضرورت نہیں۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جنابت میں طواف کرکے گھر چلا گیا تو پھر سے نیا احرام باندھ کر واپس آئے اور واپس نہ آیا بلکہ بدنہ بھیج دیا تو بھی کافی ہے مگر افضل واپس آنا ہے اور بے وضو کیا تھا تو واپس آنا بھی جائز ہے اور بہتر یہ کہ وہیں سے بکری یا قیمت بھیج
دے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: طوافِ فرض چار پھیرے کرکے چلا گیا یعنی تین یا دو یا ایک پھیرا باقی ہے تو دَم واجب، اگر خودنہ آیا بھیج دیا تو کافی ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: فرض کے سوا کوئی اور طواف کل یا اکثر جنابت میں کیا تو دَم دے اور بے وضو کیا تو صدقہ اور تین پھیرے یا اس سے کم جنابت میں کیے تو ہر پھیرے کے بدلے ایک صدقہ پھر اگر مکہ معظمہ میں ہے تو سب صورتوں میں اعادہ کرلے، کفارہ ساقط ہو جائے گا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: طوافِ رخصت کُل یا اکثر ترک کیا تو دَم لازم اور چارپھیروں سے کم چھوڑا تو ہر پھیرے کے بدلے میں ایک صدقہ اور طوافِ قدوم ترک کیا تو کفارہ نہیں مگر بُرا کیا اور طوافِ عمرہ کا ایک پھیرا بھی ترک کریگا تو دَم لازم ہوگا اور بالکل نہ کیا یا اکثر ترک کیا تو کفارہ نہیں بلکہ اُس کا ادا کرنا لازم ہے۔ (5) (منسک)
مسئلہ ۸: قارِن نے طوافِ قدوم و طوافِ عمرہ دونوں بے وضو کیے تو دسویں سے پہلے طوافِ عمرہ کا اعادہ کرے اور اگر اعادہ نہ کیا یہاں تک کہ دسویں تاریخ کی فجر طلوع ہوگئی تو دَم واجب اور طوافِ فرض میں رَمَل و سعی کرلے۔ (6) (منسک)
1 ۔ '''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الخامس، ج۱، ص۲۴۷.
و''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۶۲.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الخامس، ج۱، ص ۲۴۵،۲۴۶.
3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط''، (باب الجنایات، فصل في الجنایۃ في طواف الصدر)، ص۳۵۰۔۳۵۳.
6 ۔ المرجع السابق، ص۳۵۳.
مسئلہ ۹: نجس کپڑوں میں طواف مکروہ ہے کفارہ نہیں۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۰: طوافِ فرض جنابت میں کیا تھا اور بارھویں تک اس کا اعادہ بھی نہ کیا، اب تیر ھویں کو طوافِ رُخصت باطہارت کیا تو یہ طوافِ رخصت طوافِ فرض کے قائم مقام ہو جائے گا اور طوافِ رُخصت کے چھوڑنے اور طوافِ فرض میں دیر کرنے کی وجہ سے اس پر دو دَم لازم اور اگر بارھویں کو طوافِ رخصت کیا ہے تو یہ طوافِ فرض کے قائم مقام ہوگا اور چونکہ طوافِ رخصت نہ کیا، لہٰذا ایک دَم لازم اور اگر طوافِ رُخصت دوبارہ کرلیا تو یہ دَم بھی ساقط ہو گیا اور اگر طوافِ فرض بے وضو کیا تھا اور یہ با وضو تو ایک دَم اور اگر طوافِ فرض بے وضو کیا تھا اور طوافِ رُخصت جنابت میں تو دو دَم۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: طوافِ فرض کے تین پھیرے کیے اور طوافِ رُخصت پورا کیا تو اس میں کے چار پھیرے اس میں محسوب ہو جائیں گے اور دو۲ دَم لازم، ایک طواف ِفرض میں دیر کرنے، دوسرا طوافِ رُخصت کے چار پھیرے چھوڑنے کا۔ اور اگر ہر ایک کے تین تین پھیرے کیے تو کل فرض میں شمار ہوں گے اور دو۲ دَم واجب۔ (3) (عالمگیری) اس مسئلہ میں فروع کثیرہ ہیں بخوفِ تطویل ذکر نہ کیے۔
مسئلہ ۱: سعی کے چار پھیرے یا زیادہ بلا عذر چھوڑدیے یا سواری پر کیے تو دَم دے اور حج ہوگیا اور چار سے کم میں ہر پھیرے کے بدلے صدقہ اور اعادہ کرلیا تو دَم و صدقہ ساقط اور عذر کے سبب ایسا ہوا تو معاف ہے۔ یہی ہر واجب کا حکم ہے کہ عذرِ صحیح سے ترک کرسکتا ہے۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: طواف سے پہلے سعی کی اور اعادہ نہ کیا تو دَم دے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳: جنابت میں یا بے وضو طواف کرکے سعی کی تو سعی کے اعادہ کی حاجت نہیں۔ (6) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الخامس، ج۱، ص۲۴۶، وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الخامس، ج۱، ص۲۴۶.
3 ۔ المرجع السابق۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الخامس، ج۱، ص۲۴۷.
و''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۶۵.
5 ۔ ''الدرالمختار'' کتاب الحج، باب فی السعی بین الصفا والمروۃ، ج۳، ص۵۸۷.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۶۱.
مسئلہ ۴: سعی میں احرام یا زمانہ حج شرط نہیں، نہ کی ہو تو جب چاہے کرلے ادا ہو جائے گی۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۱: جو شخص غروب آفتاب سے پہلے عرفات سے چلا گیا دَم دے پھر اگر غروب سے پہلے واپس آیا تو ساقط ہوگیا اور غروب کے بعد واپس ہوا تو نہیں اور عرفات سے چلا آنا خواہ باختیار ہو یا بلا اختیار ہو مثلاً اونٹ پر سوار تھا وہ اسے لے بھاگا دونوں صورت میں دَم ہے۔ (2) (عالمگیری، جوہرہ)
مسئلہ ۱: دسویں کی صبح کو مزدلفہ میں بلا عذر وقوف نہ کیا تو دَم دے۔ ہا ں کمزور یا عورت بخوف ازدحام وقوف ترک کرے تو جرمانہ نہیں۔ (3) (جوہرہ)
مسئلہ ۱: کسی دن بھی رَمی نہیں کی یا ایک دن کی بالکل یا اکثر ترک کر دی مثلاً دسویں کو تین کنکریاں تک ماریں یا گیارھویں وغیرہ کو دس کنکریاں تک یا کسی دن کی بالکل یا اکثر رَمی دوسرے دن کی تو ان سب صورتوں میں دَم ہے اور اگر کسی دن کی نصف سے کم چھوڑی مثلاً دسویں کو چار کنکریاں ماریں، تین چھوڑدیں یا اور دِنوں کی گیارہ ماریں دس چھوڑدیں یا دوسرے دن کی تو ہر کنکری پرایک صدقہ دے اور اگر صدقوں کی قیمت دَم کے برابر ہو جائے تو کچھ کم کردے۔ (4) (عالمگیری، درمختار ،ردالمحتار)
1 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج، ص۲۲۲.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الخامس، ج۱، ص۲۴۷.
و''الجوھرۃ النیرۃ''، ، کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج، ص۲۲۲.
3 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج، ص۲۲۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثامن في الجنایات، الفصل الخامس، ج۱، ص۲۴۷.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۶۶.
مسئلہ ۱: حرم میں حلق نہ کیا، حدود حرم سے باہر کیا یا بارھویں کے بعد کیا یا رَمی سے پہلے کیا یا قارِن و مُتمتّع نے قربانی سے پہلے کیا یا ان دونوں نے رَمی سے پہلے قربانی کی تو ان سب صورتوں میں دَم ہے۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: عمرہ کا حلق بھی حرم ہی میں ہونا ضرور ہے، اس کا حلق بھی حرم سے باہر ہوا تو دَم ہے مگر اس میں وقت کی شرط نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳: حج کرنے والے نے بارھویں کے بعد حرم سے باہر سر مونڈایا تو دو دَم ہیں، ایک حرم سے باہر حلق کرنے کا دوسرا بارھویں کے بعد ہونے کا۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱: خشکی کا وحشی جانور شکار کرنا یا اس کی طرف شکار کرنے کو اشارہ کرنا یا اور کسی طرح بتانا، یہ سب کام حرام ہیں اور سب میں کفارہ واجب اگرچہ اُس کے کھانے میں مُضطر ہو۔ یعنی بھوک سے مرا جاتا ہو اور کفارہ اس کی قیمت ہے یعنی دو عادل وہاں کے حسابوں جو قیمت بتادیں وہ دینی ہوگی اور اگر وہاں اُس کی کوئی قیمت نہ ہو تو وہاں سے قریب جگہ میں جو قیمت ہو وہ ہے اور اگر ایک ہی عادل نے بتا دیا جب بھی کافی ہے۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: پانی کے جانور کو شکار کرنا جائز ہے، پانی کے جانور سے مراد وہ جانور ہے جو پانی میں پیدا ہوا ہو اگرچہ خشکی میں بھی کبھی کبھی رہتا ہو اور خشکی کا جانور وہ ہے جس کی پیدائش خشکی کی ہو اگرچہ پانی میں رہتا ہو۔ (5) (منسک)
مسئلہ ۳: شکار کی قیمت میں اختیار ہے کہ اس سے بھیڑ بکری وغیرہ اگر خرید سکتا ہے تو خرید کر حرم میں ذبح کرکے فقرا کو تقسیم کر دے یا اُس کا غلہ خرید کر مساکین پر صدقہ کردے، اتنا اتنا کہ ہر مسکین کو صدقہ فطر کی قدر پہنچے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس قیمت کے غلّہ میں جتنے صدقے ہو سکتے ہوں ہر صدقہ کے بدلے ایک روزہ رکھے اور اگر کچھ غلہ بچ جائے جو پورا صدقہ نہیں تو
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۶۶، وغیرہ.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۶۶.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۶۶.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۷۶، وغیرہ.
5 ۔ ''لباب المناسک''، (باب الجنایات، فصل في ترک الواجبات بعذر)، ص۳۶۰.
اختیار ہے وہ کسی مسکین کو دیدے یا اس کی عوض ایک روزہ رکھے اور اگر پوری قیمت ایک صدقہ کے لائق بھی نہیں تو بھی اختیار ہے کہ اتنے کا غلہ خرید کر ایک مسکین کو دیدے یا اس کے بدلے ایک روزہ رکھے۔ (1) (درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۴: کفارہ کا جانور حرم کے باہر ذبح کیا تو کفارہ ادا نہ ہوااور اگر اس میں سے خود بھی کھالیا تو اتنے کا تاوان دے اور اگر اس کفارہ کے گوشت کو ایک مسکین پر تصدق کیا جب بھی جائز ہے۔ یوہیں تاوان کی قیمت بھی ایک مسکین کو دے سکتا ہے اور اگر جانور کو باہر ذبح کیا اور اُس کا گوشت ہر مسکین کو ایک ایک صدقہ کی قیمت کا دیا اور وہ سب گوشت اتنی قیمت کا ہے جتنی قیمت کا غلہ خریدا جاتا تو ادا ہوگیا۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: کفارہ کا جانور چوری گیا یا زندہ جانور ہی تصدق کر دیا تو نا کافی ہے اور اگر ذبح کردیا اور گوشت چوری گیا تو ادا ہوگیا۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: قیمت کا غلہ تصدق کرنے کی صورت میں ہر مسکین کو صدقہ کی مقدار دینا ضروری ہے کم و بیش دے گا تو ادا نہ ہوگا۔ کم کم دیا تو کل نفل صدقہ ہے اور زیادہ زیادہ دیا تو ایک صدقہ سے جتنا زیادہ دیا نفل ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ ایک ہی دن میں دیا ہو اور اگر کئی د ن میں دیا اور ہر روز پورا صدقہ تو یوں ایک مسکین کو کئی صدقہ دے سکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر مسکین کو ایک ایک صدقہ کی قیمت دیدے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: مُحرِم نے جنگل کے جانور کو ذبح کیا تو حلال نہ ہوا بلکہ مُردار ہے ذبح کرنے کے بعد اُسے کھا بھی لیا تو اگر کفارہ دینے کے بعد کھایا تو اب پھر کھانے کا کفارہ دے اور اگر نہیں دیا تھا تو ایک ہی کفارہ کافی ہے۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۸: جتنی قیمت اُس شکار کی تجویز ہوئی اُسکا جانور خرید کر ذبح کیا اور قیمت میں سے بچ رہا تو بقیہ کا غلہ خرید کر تصدّق کرے یا ہر صدقہ کے بدلے ایک روزہ رکھے یا کچھ روزے رکھے کچھ صدقہ دے سب جائز ہے۔ یوہیں اگر وہ قیمت دو جانوروں کے خریدنے کے لائق ہے تو چاہے دو۲ جانور ذبح کرے یا ایک ذبح اور ایک کے بدلے کا صدقہ دے یا روزے رکھے ہر
1 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۱.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۴۸، وغیرھما.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،المرجع السابق ص۲۴۸و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۱.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۱.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۱۔۶۸۳.
5 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج، ص۲۲۸.
طرح اختیار ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: احرام والے نے حرم کا جانور شکار کیا تو اس کا بھی یہی حکم ہے، حرم کی وجہ سے دوہرا کفارہ واجب نہ ہوگا اور اگر بغیر احرام کے حرم میں شکار کیا تو اس کا بھی وہی کفارہ ہے جو مُحرِم کے لیے ہے مگر اس میں روزہ کافی نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: جنگل کے جانور سے مراد وہ ہے جو خشکی میں پیداہوتا ہے اگرچہ پانی میں رہتا ہو۔ لہٰذا مرغابی اور وحشی بط کے شکار کرنے کا بھی یہی حکم ہے اور پانی کا جانور وہ ہے جس کی پیدائش پانی میں ہوتی ہے اگرچہ کبھی کبھی خشکی میں رہتا ہو۔ گھریلو جانور جیسے گائے، بھینس، بکری اگر جنگل میں رہنے کے سبب انسان سے وحشت کریں تو وحشی نہیں اور وحشی جانور کسی نے پال لیا تو اب بھی جنگل ہی کا جانور شمار کیا جائے گا، اگر پلاؤ ہرن شکار کیا تو اس کا بھی وہی حکم ہے۔ جنگل کا جانور اگر کسی کی ملک میں ہو جائے مثلاً پکڑ لایا یا پکڑنے والے سے مول لیا تو اس کے شکار کرنے کا بھی وہی حکم ہے۔ (3) (عالمگیری، جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: حرام اور حلال جانور دونوں کے شکار کا ایک حکم ہے مگر حرام جانور کے قتل کرنے میں کفارہ ایک بکری سے زیادہ نہیں ہے اگرچہ اس جانور کی قیمت ایک بکری سے بہت زائد کی ہو مثلاً ہاتھی کو قتل کیا تو صرف ایک بکری کفارہ میں واجب ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: سکھایا ہو ا جانور قتل کیا تو کفارہ میں وہی قیمت واجب ہے جو بے سکھائے کی ہے، البتہ اگر وہ کسی کی مِلک ہے تو کفارہ کے علاوہ اس کے مالک کو سکھائے ہوئے کی قیمت دے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: کفارہ لازم آنے کے لیے قصداً قتل کرنا شرط نہیں بُھول چوک سے قتل ہوا جب بھی کفارہ ہے۔ (6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۴: جانور کو زخمی کردیا مگر مرا نہیں یا اس کے بال یا پر نوچے یا کوئی عضو کاٹ ڈالا تو اس کی وجہ سے جو کچھ اُس
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۴۸.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق ص۲۴۷. و''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۷۶.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۱.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۱.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۷۸، وغیرہ.
جانور میں کمی ہوئی وہ کفارہ ہے اور اگر زخم کی وجہ سے مرگیا تو پوری قیمت واجب۔ (1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱۵: زخم کھا کر بھاگ گیا اور معلوم ہے کہ مر گیا یا معلوم نہیں کہ مرگیا یا زندہ ہے تو قیمت واجب ہے اور اگر معلوم ہے کہ مرگیا مگر اس زخم کے سبب سے نہیں بلکہ کسی اور سبب سے تو زخم کی جزا دے اور بالکل اچھا ہوگیا، جب بھی کفارہ ساقط نہ ہوگا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: جانور کو زخمی کیا پھر اُسے قتل کر ڈالا تو زخم و قتل دونوں کا کفارہ دے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: جانور جال میں پھنسا ہوا تھا یا کسی درندہ نے اسے پکڑا تھا اُس نے چھوڑانا چاہا، تو اگر مر بھی جائے جب بھی کچھ نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: پرند کے پر نوچ ڈالے کہ اُوڑ نہ سکے یا چوپایہ کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے کہ بھاگ نہ سکے تو پورے جانور کی قیمت واجب ہے اور انڈا توڑا یا بھونا تو اس کی قیمت دے مگر جب کہ گندہ ہو تو کچھ واجب نہیں اگرچہ اس کاچھلکا قیمتی ہو جیسے شُتر مرغ کا انڈا کہ لوگ اُسے خرید کر بطور نمائش رکھتے ہیں اگرچہ گندہ ہو۔ انڈا توڑا اس میں سے بچہ مرا ہوا نکلا تو بچہ کی قیمت دے اور جنگل کے جانور کا دودھ دوہا تو دودھ کی اور بال کترے تو بالوں کی قیمت دے۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۹: پرندکے پر نوچ ڈالے یا چوپایہ کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے پھر کفارہ دینے سے پہلے اُسے قتل کر ڈالا تو ایک ہی کفارہ ہے اور کفارہ ادا کرنے کے بعد قتل کیا تو دوکفارے، ایک زخم وغیرہ کا دوسرا قتل کا اور اگر زخمی کیا پھر وہ جانور زخم کے سبب مرگیا تو ایک ہی کفارہ ہے خواہ مرنے سے پہلے دیا ہو یا بعد۔ (6) (منسک، عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: جنگل کے جانور کا انڈا بُھونا یا دودھ دوہا اور کفارہ ادا کر دیا تو اب اس کا کھانا حرام نہیں اور بیچنا بھی جائز مگر مکروہ ہے اور جانور کا کفارہ دیا اور کھا یا تو پھر کفارہ دے اور دوسرے محرم نے کھا لیا تو اس پر کفارہ نہیں اگرچہ کھانا حرام تھا کہ وہ
1 ۔ ''تنویر الابصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۳.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۴۸.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۴.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۴، وغیرہ.
6 ۔ '''المسلک المتقسط''، (باب الجنایات، فصل في الجرح)، ص۳۶۲.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع فی الصید، ج۱، ص۲۴۸.
مُردار ہے۔ (1) (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: جنگل کے جانور کا انڈا اُٹھا لایا اور مرغی کے نیچے رکھ دیا اگر گندہ ہوگیا تو اس کی قیمت دے اور اس سے بچہ نکلا اور بڑاہو کر اُڑ گیا تو کچھ نہیں اور اگر انڈے پر سے جانور کو اڑا دیا اور انڈا گندہ ہوگیا تو کفارہ واجب۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۲۲: ہرنی کو مارا اس کے پیٹ میں بچہ تھا، وہ مرا ہوا گرا تو اس بچہ کی قیمت کفارہ دے اور ہرنی بعد کو مر گئی تو اس کی قیمت بھی اور اگر نہ مری تو اس کی وجہ سے جتنا اس میں نقصان آیا وہ کفارہ میں دے اورا گر بچہ نہیں گرا مگر ہرنی مر گئی تو حالتِ حمل میں جو اس کی قیمت تھی وہ دے۔ (3) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۳: کوّا، چیل، بھیڑیا، بچھو، سانپ، چوہا، گھونس، چھچوندر، کٹکھنا کتّا، پِسُّو، مچھر، کلّی، کچھوا، کیکڑا، پتنگا، کاٹنے والی چیونٹی، مکھی، چھپکلی، بُر اور تمام حشرات الارض بِجو، لومڑی، گیدڑ جب کہ یہ درندے حملہ کریں یا جو درندے ایسے ہوں جن کی عادت اکثر ابتدائً حملہ کرنے کی ہوتی ہے جیسے شیر، چیتا، تیندوا، اِن سب کے مارنے میں کچھ نہیں۔ یوہیں پانی کے تمام جانوروں کے قتل میں کفارہ نہیں۔ (4) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار وغیرہا)
مسئلہ ۲۴: ہرن اور بکری سے بچہ پیدا ہوا تو اس کے قتل میں کچھ نہیں، ہرنی اور بکرے سے ہے تو کفارہ واجب۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: غیر مُحرم نے شکار کیا تو مُحرم اُسے کھا سکتا ہے اگرچہ اُس نے اسی کے لیے کیا ہو، جب کہ اُ س محرم نے نہ اُسے بتایا، نہ حکم کیا، نہ کسی طرح اس کام میں اعانت کی ہو اور یہ شرط بھی ہے کہ حرم سے باہر اُسے ذبح کیا ہو۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۲۶: بتانے والے، اشارہ کرنے والے پر کفارہ اس وقت لازم ہے کہ1جسے بتایا وہ اس کی بات جھوٹی نہ
1 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ '' ،کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج ص۲۲۶ .
و ''ردالمحتار''، کتاب الجنایات، ج۳، ص۶۸۸.
2 ۔ ''لباب المناسک''، (باب الجنایات، فصل فی حکم البیض)، ص۳۶۶.
3 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ '' ، کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج ص۲۲۶ .
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۹۔۶۹۱.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۵۲.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۹۲.
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۹۲.
جانے اور2 بے اس کے بتائے وہ جانتا بھی نہ ہو اور3 اُس کے بتانے پر فوراً اُس نے مار بھی ڈالا ہو اور4 وہ جانور وہاں سے بھاگ نہ گیا اور5 یہ بتانے والا جانور کے مارے جانے تک احرام میں ہو۔ اگر ان پانچوں شرطوں میں ایک نہ پائی جائے تو کفارہ نہیں رہا گناہ وہ بہرحال ہے۔ (1) (درمختار، جوہرہ)
مسئلہ ۲۷: ایک مُحرِم نے کسی کو شکار کا پتا دیا مگر اس نے نہ اُسے سچا جانا نہ جھوٹا پھر دوسرے نے خبر دی، اب اس نے جستجو کی اور جانور کو مارا تو دونوں بتانے والوں پر کفارہ ہے اور اگر پہلے کو جھوٹا سمجھا تو صرف دوسرے پر ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: مُحرِم نے شکار کا حکم دیا تو کفارہ بہر حال لازم اگرچہ جانور خود مارنے والے کے علم میں ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: ایک مُحرِم نے دوسرے مُحرِم کوشکار کرنے کا حکم دیا اور دوسرے نے خودنہ کیا بلکہ اُس نے تیسرے مُحرِم کو حکم دیا، اب تیسرے نے شکار کیا تو پہلے پر کفارہ نہیں اور دوسرے اور تیسرے پر لازم اور اگر پہلے نے دوسرے سے کہا کہ تو فُلاں کو شکار کا حکم دے اور اس نے حکم دیا تو تینوں پر جرمانہ لازم۔ (4) (منسک)
مسئلہ ۳۰: غیر مُحرِم نے مُحرِم کو شکار بتایا یا حکم کیا تو گنہگار ہوا توبہ کرے، اس غیر مُحرِم پر کفارہ نہیں۔ (5) (منسک)
مسئلہ ۳۱: مُحرِم نے جسے بتایا وہ مُحرِم ہو یا نہ ہو بہر حال بتانے والے پر کفارہ لازم۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: کئی شخصوں نے مل کر شکار کیا تو سب پر پورا پورا کفارہ ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: ٹڈّی بھی خشکی کا جانور ہے، اُسے مارے تو کفارہ دے اور ایک کھجور کافی ہے۔ (8) (جوہرہ)
1 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ'' ،کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج ص۲۲۴ .
و''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۷۷.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۷۷.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔''لباب المناسک''، (باب الجنایات، فصل فيالدلالۃ والاشارۃ ونحو ذلک)، ص۳۶۹.
5 ۔ ''لباب المناسک''، (باب الجنایات، فصل فيالدلالۃ والاشارۃ ونحو ذلک)، ص۳۶۹.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۷۷.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۴۹.
8 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ'' ،کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج ص۲۲۷ .
مسئلہ ۳۴: مُحرِم نے جنگل کا جانور خریدا یا بیچا تو بیع باطل ہے پھر بائع و مشتری دونوں مُحرِم ہیں اور جانور ہلاک ہوا تو دونوں پر کفارہ ہے۔ یہ حکم اس وقت ہے کہ احرام کی حالت میں پکڑا اور احرام ہی میں بیچا اور اگر پکڑنے کے وقت مُحرِم نہ تھا اور بیچنے کے وقت ہے تو بیع فاسد ہے اور اگر پکڑنے کے وقت مُحرِم تھا اور بیچنے کے وقت نہیں ہے تو بیع جائز۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۳۵: غیر مُحرِم نے غیر مُحرِم کے ہاتھ جنگل کا جانور بیچا اور مشتری نے ابھی قبضہ نہ کیا تھا کہ دونوں میں سے ایک نے احرام باندھ لیا تو اب وہ بیع باطل ہوگئی۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۳۶: احرام باندھا اور اس کے ہاتھ میں جنگل کا جانور ہے تو حکم ہے کہ چھوڑدے اور نہ چھوڑا یہاں تک کہ مر گیا تو ضمان دے مگر چھوڑنے سے اس کی ملک سے نہیں نکلتا جب کہ احرام سے پہلے پکڑا تھا اور یہ بھی شرط ہے کہ بیرونِ حرم پکڑا ہو فلہٰذا اگر اسے کسی نے پکڑ لیا تو مالک اس سے لے سکتا ہے۔ جب کہ احرام سے نکل چکا ہو اور اگر کسی اور نے اس کے ہاتھ سے چھڑا دیا تو یہ تاوان دے اور اگر جانور اس کے گھر ہے تو کچھ مضایقہ نہیں یا پاس ہی ہے مگر پنجرے میں ہے تو جب تک حرم سے باہر ہے چھوڑنا ضروری نہیں۔ لہٰذا اگر مرگیا تو کفارہ لازم نہیں۔ (3) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: مُحرِم نے جانور پکڑا تو اس کی مِلک نہ ہوا، حکم ہے کہ چھوڑ دے اگرچہ پنجرے میں ہو یا گھر پر ہو اور اُسے کوئی پکڑلے تو احرام کے بعد اس سے نہیں لے سکتا اور اگر کسی دوسرے نے چھوڑ دیا تو اُس سے تاوان نہیں لے سکتا اور دوسرے مُحر م نے مار ڈالا تو دونوں پر کفارہ ہے مگر پکڑنے والے نے جو کفارہ دیا ہے، وہ مارنے والے سے وصول کرسکتا ہے۔ (4) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: مُحرِم نے جنگل کا جانور پکڑا تو اُس پر لازم ہے کہ جنگل میں یا ایسی جگہ چھوڑ دے جہاں وہ پناہ لے سکے، اگر شہر میں لا کر چھوڑا جہاں اس کے پکڑنے کا اندیشہ ہے تو جرمانہ سے بَری نہ ہوگا۔ (5) (منسک)
مسئلہ ۳۹: کسی نے ایسی جگہ شکار دیکھا کہ مارنے کے لیے تیر کمان، غلیل، بندوق وغیرہا کی ضرورت ہے اور مُحرم نے یہ چیزیں اسے دیں تو اس پر پورا کفارہ لازم اور شکار ذبح کرنا ہے اُس کے پاس ذبح کرنے کی چیز نہیں، مُحرم نے چُھری دی تو
1 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ'' ،کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج ص۲۲۹ .
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق.و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۵۰،۲۵۱.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط''، (باب الجنایات، فصل في أخذ الصید و ارسالہ)، ص۳۶۸.
کفارہ ہے اور اگر اس کے پاس ذبح کرنے کی چیز ہے اور مُحرِم نے چھری دی تو کفارہ نہیں مگر کراہت ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: مُحرم نے جانور پر اپنا کتّا یا باز سکھایا ہوا چھوڑا، اُس نے شکار کو مار ڈالا تو کفارہ واجب ہے اور اگر احرام کی وجہ سے تعمیلِ حکمِ شرع کے لیے باز چھوڑ دیا، اُس نے جانور کو مار ڈالا یا سُکھانے کے لیے جال پھیلایا، اس میں جانور پھنس کر مر گیا یا کوآں کھودا تھا اُس میں گر کر مرا تو ان صورتوں میں کفارہ نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: حرم کے جانور کو شکار کرنا یا اُسے کسی طرح ایذا دینا سب کو حرام ہے۔ مُحرِم اور غیر مُحرِم دونوں اس حکم میں یکساں ہیں۔ غیر مُحرم نے حرم کے جنگل کا جانور ذبح کیا تو اس کی قیمت واجب ہے اور اس قیمت کے بدلے روزہ نہیں رکھ سکتا اور مُحرم ہے تو روزہ بھی رکھ سکتا ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲: مُحرِم نے اگر حرم کا جانور مارا تو ایک ہی کفارہ واجب ہوگا دو نہیں اور اگر وہ جانور کسی کا مملوک تھا تو مالک کو اس کی قیمت بھی دے۔ پھر اگر سکھا یا ہوا ہو مثلاً طوطی تو مالک کووہ قیمت دے جو سیکھے ہوئے کی ہے اور کفارہ میں بے سکھائے ہوئے کی قیمت۔ (4) (منسک)
مسئلہ ۳: جو حرم میں داخل ہوا اور اُس کے پاس کوئی وحشی جانور ہو اگرچہ پنجرے میں تو حکم ہے کہ اُسے چھوڑدے، پھر اگر وہ شکاری جانور باز، شکرا، بہری وغیرہا ہے اور اس نے اس حکم شرع کی تعمیل کے لیے اُسے چھوڑا، اُس نے شکار کیا تو اُس کے ذمہ تاوان نہیں اور شکار پر چھوڑا تو تاوان ہے۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴: ایک شخص دوسرے کا وحشی جانور غصب کرکے حرم میں لایا تو واجب ہے کہ چھوڑ دے اور مالک کو قیمت دے اور نہ چھوڑا بلکہ مالک کو واپس دیا تو تاوان دے۔ غصب کے بعد احرام باندھا جب بھی یہی حکم ہے۔ (6) (ردالمحتار وغیرہ)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۵۰.
2 ۔ المرجع السابق ص۲۵۱.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۹۳.
4 ۔ ''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط''، (باب الجنایات، فصل في صید الحرم)، ص۳۷۴.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۹۳، وغیرہ.
6 ۔ ''ردالمحتار'' ، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۹۴.
مسئلہ ۵: دو غیر مُحرِم نے حرم کے جانور کو ایک ضرب میں مار ڈالا تو دونوں آدھی آدھی قیمت دیں۔ یوہیں اگر بہت سے لوگوں نے مارا تو سب پر وہ قیمت تقسیم ہو جائے گی اور اگر اُن میں کوئی محرم بھی ہے تو علاوہ اُس کے جو اُس کے حصہ میں پڑا پوری قیمت بھی کفارہ میں دے اور ایک نے پہلے ضرب لگائی پھر دوسرے نے تو ہر ایک کی ضرب سے اس کی قیمت میں جو کمی ہوئی وہ دے۔ پھر باقی قیمت دونوں پر تقسیم ہو جائے گی اس بقیہ کا نصف نصف دونوں دیں۔ (1) ( عالمگیری ،منسک)
مسئلہ ۶: ایک نے حرم کا جانور پکڑا، دوسرے نے مار ڈالا تو دونوں پوری پوری قیمت دیں اور پکڑنے والے کو اختیار ہے کہ دوسرے سے تاوان وصول کرلے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: چند شخص مُحرم مکہ کے کسی مکان میں ٹھہرے، اس مکان میں کبوتر رہتے تھے۔ سب نے ایک سے کہا، دروازہ بند کر دے، اس نے دروازہ بند کردیا اور سب منیٰ کو چلے گئے، واپس آئے تو کبوتر پیاس سے مرے ہوئے ملے تو سب پورا پورا کفارہ دیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: جانور کا کچھ حصہ حرم میں ہو اور کچھ باہر تو اگر کھڑا ہو اور اس کے سب پاؤں حرم میں ہوں یا ایک ہی پاؤں تو وہ حرم کا جانور ہے، اُس کو مارنا حرام ہے اگرچہ سر حرم سے باہر ہے اور اگر صرف سر حرم میں ہے اور پاؤں سب کے سب باہر تو قتل پر جرمانہ لازم نہیں اور اگر لیٹا سویا ہے اور کوئی حصہ بھی حرم میں ہے تو اسے مارنا حرام۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جانور حرم سے باہر تھا، اس نے تیر چھوڑا وہ جانور بھاگا اور تیر اُسے اس وقت لگا کہ حرم میں پہنچ گیا تھا تو جرمانہ لازم اور اگر تیر لگنے کے بعد بھاگ کر حرم میں گیا اور وہیں مر گیا تو نہیں مگر اس کا کھانا حلال نہیں۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: جانور حرم میں نہیں مگر یہ شکار کرنے والا حرم میں ہے اور حرم ہی سے تیر چھوڑا تو جرمانہ واجب۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' کتاب المناسک، الباب التاسع فی الصید، ج۱، ص۲۴۹.
و''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط''، (باب الجنایات)، ص۳۶۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۵۰.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحج، باب الجنایات،ج۳، ص۶۸۷.
5 ۔ المرجع السابق، ص۶۸۸.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۵۱.
مسئلہ ۱۱: جانور اور شکاری دونوں حرم سے باہر ہیں مگر تیر حرم سے ہوتا ہوا گزرا تو اسمیں بھی بعض علما تاوان واجب کرتے ہیں۔ درمختار میں یہی لکھا مگر بحر الرائق و لباب میں تصریح ہے کہ اس میں تاوان نہیں اور علامہ شامی نے فرمایاکلام علما سے یہی ثابت۔ کتا یا باز وغیرہ چھوڑا اور حرم سے ہوتا ہوا گزرا، اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (1)
مسئلہ ۱۲: جانور حرم سے باہر تھا اس پر کتا چھوڑا ، کتے نے حرم میں جا کر پکڑا تو اُس پر تاوان نہیں مگر شکار نہ کھایا جائے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: گھوڑے وغیرہ کسی جانور پر سوار جا رہا تھا یا اسے ہانکتا یا کھینچتا لیے جا رہا تھا، اُس کے ہاتھ پاؤں سے کوئی جانور دب کر مر گیا یا اس نے کسی جانور کو دانت سے کاٹا اور مر گیا تو تاوان دے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: بھیڑیے پر کتا چھوڑا، اُس نے جاکر شکار پکڑا یا بھیڑیا پکڑنے کے لیے جال تانا، اُس میں شکار پھنس گیا تو دونوں صورتوں میں تاوان کچھ نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: جانور کو بھگایا وہ کوئیں میں گر پڑا یا پھسل کر گرا اور مر گیا یا کسی چیز کی ٹھوکر لگی وہ مرگیا تو تاوان دے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: حرم کا جانور پکڑ لایا اور اسے بیرون حرم چھوڑ دیا، اب کسی نے مار ڈالا تو پکڑنے والے پر کفارہ لازم ہے اور اگر کسی نے نہ بھی مارا تو جب تک امن کے ساتھ حرم کی زمین میں پہنچ جانا معلوم نہ ہو، کفارہ سے بَری نہ ہوگا۔ (6) (منسک)
مسئلہ ۱۷: جانور حرم سے باہر تھا اور اس کا بہت چھوٹا بچہ حرم کے اندر، غیر مُحرِم نے اُس جانور کو مارا تو اس کا کفارہ نہیں مگر بچہ بھوک سے مر جائے گا تو بچہ کا کفارہ دینا ہوگا۔ (7) (منسک)
مسئلہ ۱۸: ہرنی کو حرم سے نکالا وہ بچے جنی پھروہ مر گئی اور بچے بھی تو سب کا تاوان دے اور اگر تاوان دینے کے بعد
1 ۔ انظر:''الدر المختار'' و''رد المحتار''، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۷. و ''البحر الرائق''، کتاب الحج، باب الجنایات، فصل ان قتل محرم صیداً، ج۳، ص۶۹. و ''لباب المناسک'' ، (باب الجنایات، فصل في صید الحرم)، ص۳۷۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۵۱.
3 ۔ المرجع السابق، ص۲۵۲.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''لباب المناسک'' ، (باب الجنایات، فصل في أخذ الصید و ارسالہ)، ص۳۶۸.
7 ۔ ''لباب المناسک'' ، (باب الجنایات، فصل في صید الحرم)، ص۳۷۷.
جنی تو بچوں کا تاوان لازم نہیں۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۹: پرند درخت پر بیٹھا ہوا ہے اور وہ درخت حرم سے باہر ہے مگر جس شاخ پر بیٹھا ہے وہ حرم میں ہے تو اُسے مارنا حرام ہے۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱: حرم کے درخت چار قسم ہیں: 1کسی نے اُسے بویا ہے اور وہ ایسا درخت ہے جسے لوگ بویا کرتے ہیں۔ 2 بویا ہے مگر اس قسم کا نہیں جسے لوگ بویا کرتے ہیں۔3 کسی نے اسے بویا نہیں مگر اس قسم سے ہے جسے لوگ بویا کرتے ہیں۔ 4 بویا نہیں، نہ اس قسم سے ہے جسے لوگ بوتے ہیں۔
پہلی تین قسموں کے کاٹنے وغیرہ میں کچھ نہیں یعنی اس پر جرمانہ نہیں۔ رہا یہ کہ وہ اگر کسی کی ملک ہے تو مالک تاوان لے گا، چوتھی قسم میں جرمانہ دینا پڑے گا اور کسی کی ملک ہے تو مالک تاوان بھی لے گااور جرمانہ اُسی وقت ہے کہ تر ہو اور ٹوٹا یا اُکھڑا ہوا نہ ہو۔ جرمانہ یہ ہے کہ اُس کی قیمت کا غلہ لے کر مساکین پر تصدق کرے، ہر مسکین کو ایک صدقہ اور اگر قیمت کا غلہ پورے صدقہ سے کم ہے تو ایک ہی مسکین کو دے اور اس کے لیے حرم کے مساکین ہو نا ضرور نہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قیمت ہی تصدق کردے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس قیمت کا جانور خرید کر حرم میں ذبح کردے روزہ رکھنا کافی نہیں۔ (3) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۲: درخت اُکھیڑا اور اس کی قیمت بھی دیدی، جب بھی اُس سے کسی قسم کا نفع لینا جائز نہیں اور اگر بیچ ڈالا تو بیع ہو جائے گی مگر اُس کی قیمت تصدق کر دے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: جو درخت سُوکھ گیا اُسے اُکھاڑ سکتا ہے اور اس سے نفع بھی اُٹھا سکتا ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: درخت اُکھاڑا اور تاوان بھی ادا کر دیا پھر اسے وہیں لگا دیا اور وہ جم گیا پھر اسی کو اُکھاڑا تو اب تاوان
ـ1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۷۰۴، وغیرہ.
2 ۔ المرجع السابق ص۶۸۶.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۵۲۔۲۵۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۵۳.
5 ۔ المرجع السابق.
نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: درخت کے پتے توڑے اگر اس سے درخت کو نقصان نہ پہنچا تو کچھ نہیں۔ یوہیں جو درخت پھلتا ہے اُسے بھی کاٹنے میں تاوان نہیں جب کہ مالک سے اجازت لے لی ہو اُسے قیمت دیدے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۶: چند شخصوں نے مل کر درخت کاٹا تو ایک ہی تاوان ہے جو سب پر تقسیم ہو جائے گا، خواہ سب مُحرِم ہوں یا غیر مُحرِم یا بعض مُحرِم بعض غیر مُحرِم۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: حرم کے پیلو یا کسی درخت کی مسواک بنانا جائز نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: جس درخت کی جڑ حرم سے باہر ہے اور شاخیں حرم میں وہ حرم کا درخت نہیں اور اگر تنے کا بعض حصہ حرم میں ہے اور بعض باہر تو وہ حرم کا ہے۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۹: اپنے یا جانور کے چلنے میں یا خیمہ نصب کرنے میں کچھ درخت جاتے رہے تو کچھ نہیں۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: ضرورت کی وجہ سے فتویٰ اس پر ہے کہ وہاں کی گھاس جانوروں کو چرانا جائز ہے۔ باقی کاٹنا، اُکھاڑنا، اس کا وہی حکم ہے جو درخت کا ہے۔ سوا اِذخر اور سوکھی گھاس کے کہ ان سے ہر طرح انتفاع جائز ہے۔ کھنبی کے توڑنے، اُکھاڑنے میں کچھ مضایقہ نہیں۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: اپنی جُوں اپنے بدن یا کپڑوں میں ماری یا پھینک دی تو ایک میں روٹی کا ٹکڑا اور دو یا تین ہوں تو ایک مُٹھی
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۵۳.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۵.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب التاسع في الصید، ج۱، ص۲۵۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السابع عشر فی النذر بالحج، ج۱، ص۲۶۴.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۶، وغیرہ.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۶.
7 ۔ المرجع السابق، ص۶۸۸.
ناج اور اس سے زیادہ میں صدقہ۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲: جُوئیں مرنے کو سر یا کپڑا دھویا یا دھوپ میں ڈالا، جب بھی یہی کفارے ہیں جو مارنے میں تھے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳: دوسرے نے اُس کے کہنے یا اشارہ کرنے سے اُس کی جوں ماری، جب بھی اُس پر کفارہ ہے اگرچہ دوسرا احرام میں نہ ہو۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴: زمین وغیرہ پر گری ہوئی جوں یا دوسرے کے بدن یا کپڑوں کی مارنے میں اس پر کچھ نہیں اگرچہ وہ دوسرا بھی احرام میں ہو۔ (4) (بحر)
مسئلہ ۵: کپڑا بھیگ گیا تھا سُکھانے کے لیے دھوپ میں رکھا، اس سے جوئیں مرگئیں مگر یہ مقصود نہ تھا توکچھ حرج نہیں۔ (5) (منسک متوسط)
مسئلہ ۶: حرم کی خاک یاکنکری لانے میں حرج نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: میقات کے باہر سے جو شخص آیا اور بغیر احرام مکہ معظمہ کو گیا تو اگرچہ نہ حج کا ارادہ ہو، نہ عمرہ کا مگر حج یا عمرہ واجب ہو گیا پھر اگر میقات کو واپس نہ گیا، یہیں احرام باندھ لیا تو دَم واجب ہے اور میقات کو واپس جاکر احرام باندھ کر آیا تو دَم ساقط اور مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے جو اُس پر حج یا عمرہ واجب ہوا تھا اس کا احرام باندھا اور ادا کیا تو بری الذّمہ ہوگیا۔ یوہیں اگر حجۃ الاسلام یا نفل یا منّت کا عمرہ یا حج جو اُس پر تھا، اُس کا احرام باندھا اور اُسی سال ادا کیا جب بھی بری الذّمہ ہوگیا اور اگر اس سال ادانہ کیا تو اس سے بری الذّمہ نہ ہوا، جو مکہ میں جانے سے واجب ہوا تھا۔ (7) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۶۸۹.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الحج، باب الجنایات، فصل ان قتل محرم صیداً، ج۳، ص۶۱.
5 ۔ ''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط''، (باب الجنایات ،فصل في قتل القمل)، ص ۳۷۸.
6 ۔ ''الفتاوی الہندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السابع عشر فی النذر بالحج، ج۱، ص۲۶۴.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب العاشر في مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، ج۱، ص۲۵۳.
و''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، مطلب لایجب الضمان بکسر آلات اللھو، ج۳، ص۷۱۱.
مسئلہ ۲: چند بار بغیر احرا م مکہ معظمہ کو گیا، پچھلی بار میقات کو واپس آکر حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر ادا کیا تو صرف اس بار جو حج یا عمرہ واجب ہوا تھا، اس سے بری الذّمہ ہوا، پہلوں سے نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: حج یا عمرہ کا ارادہ ہے اور بغیر احرام میقات سے آگے بڑھا تو اگر یہ اندیشہ ہے کہ میقات کو واپس جائے گا تو حج فوت ہو جائے گا تو واپس نہ ہو، وہیں سے احرام باندھ لے اور دَم دے اور اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو واپس آئے۔ پھر اگر میقات کو بغیر احرام آیا تو دَم ساقط۔ یوہیں اگر احرام باندھ کر آیا اور لبیک کہہ چکا ہے تو دَم ساقط اور نہیں کہا تو نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: میقات سے بغیر احرام گیا پھر عمرہ کا احرام باندھا اور عمرہ کو فاسد کردیا، پھر میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کی قضا کی تو میقات سے بے احرام گزرنے کا دَم ساقط ہوگیا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۵: مُتمتّع نے حرم کے باہر سے حج کا احرام باندھا، اُسے حکم ہے کہ جب تک وقوفِ عرفہ نہ کیا اور حج فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو حرم کو واپس آئے اگر واپس نہ آیا تو دَم واجب ہے اور اگر واپس ہوا اور لبیک کہہ چکا ہے تو دَم ساقط ہے نہیں تو نہیں اور باہر جاکر احرام نہیں باندھا تھا اور واپس آیا اور یہاں سے احرام باندھا تو کچھ نہیں۔ مکہ میں جس نے اقامت کرلی ہے اس کا بھی یہی حکم ہے اور اگر مکہ والا کسی کام سے حرم کے باہر گیا تھا اور وہیں سے حج کا احرام باندھ کر وقوف کرلیا تو کچھ نہیں اور اگر عمرہ کا احرام حرم میں باندھا تو دَم لازم آیا۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: نابالغ بغیر احرام میقات سے گزرا پھر بالغ ہوگیا اور وہیں سے احرام باندھ لیا تو دَم لازم نہیں اور غلام اگر بغیر احرام گزرا پھر اُس کے آقا نے احرام کی اجازت دے دی اور اُس نے احرام باندھ لیا تو دَم لازم ہے جب آزاد ہو ادا کرے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: میقات سے بغیر احرام گزرا پھر عمرہ کا احرام باندھا اس کے بعد حج کا یا قِران کیا تو دَم لازم ہے اور اگر پہلے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب العاشر في مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، ج۱، ص۲۵۳،۲۵۴.
2 ۔ المرجع السابق ص۲۵۳.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۷۱۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب العاشر في مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، ج۱، ص۲۵۴.
و''ردالمحتار''،
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب العاشر في مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، ج۱، ص۲۵۳.
حج کا باندھا پھر حرم میں عمرہ کا تو دو دَم۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: جو شخص میقات کے اندر رہتا ہے اُس نے حج کے مہینوں میں عمرہ کا طواف ایک پھیرا بھی کرلیا، اُس کے بعد حج کا احرام باندھا تو اسے توڑ دے اور دَم واجب ہے۔ اس سال عمرہ کرلے، سال آئندہ حج اور اگر عمرہ توڑ کر حج کیا تو عمرہ ساقط ہوگیا اور دَم دے اور دونوں کرلیے تو ہوگئے مگر گنہگار ہوا اور دَم واجب۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲: حج کا احرام باندھا پھر عرفہ کے دن یا رات میں دوسرے حج کا احرام باندھا تو اسے توڑ دے اور دَم دے اور حج و عمرہ اُس پر واجب اور اگر دسویں کو دوسرے حج کا احرام باندھا اور حلق کرچکا ہے تو بدستور احرام میں رہے اور دوسرے کو سال آئندہ میں پورا کرے اور دَم واجب نہیں اور حلق نہیں کیا ہے تو دَم واجب۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: عمرہ کے تمام افعال کرچکا تھا صرف حلق باقی تھا کہ دوسرے عمرہ کا احرام باندھا تو دَم واجب ہے اور گنہگار ہوا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۴: باہر کے رہنے والے نے پہلے حج کا احرام باندھا اور طوافِ قدوم سے پیشتر عمرہ کا احرام باندھ لیا تو قارِن ہوگیا مگر اساء ت ہوئی اور شکرانہ کی قربانی کرے اور عمرہ کے اکثر طواف یعنی چار پھیرے سے پہلے وقوف کرلیا تو عمرہ باطل ہوگیا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: طوافِ قدوم کا ایک پھیرا بھی کرلیا تو عمرہ کا احرام باندھنا جائز نہیں پھر بھی اگر باندھ لیا تو بہتر یہ ہے کہ عمرہ توڑ دے اور قضا کرے اور دَم دے اور اگر نہیں توڑا اور دونوں کرلیے تو دَم دے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۶: دسویں سے تیرھویں تک حج کرنے والے کو عمرہ کا احرام باندھنا ممنوع ہے، اگر باندھا تو توڑ دے اور اُس کی قضا کرے اور دَم دے اور کرلیا تو ہوگیا مگر دَم واجب ہے۔ (7) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب العاشر في مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، ج۱، ص۲۵۳.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۷۱۳.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، مطلب لایجب الضمان بکسر آلات اللّھو، ج۳، ص۷۱۵.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۷۱۶.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الجنایات، مطلب لایجب الضمان... إلخ، ج۳، ص۷۱۷.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الجنایات، ج۳، ص۷۱۷.
7 ۔ المرجع السابق ص۷۱۸.
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیۡسَرَ مِنَ الْہَدْیِ ۚ وَلَا تَحْلِقُوۡا رُءُوۡسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ ؕ ) (1)
اگر حج و عمرہ سے تم روک دیے جاؤ تو جو قربانی میسّر آئے کرو اور اپنے سر نہ مُنڈاؤ، جب تک قربانی اپنی جگہ (حرم) میں نہ پہنچ جائے۔
اور فرماتا ہے:
( اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَیَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیۡ جَعَلْنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَآءَۨ الْعَاکِفُ فِیۡہِ وَالْبَادِ ؕ وَمَنۡ یُّرِدْ فِیۡہِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿٪۲۵﴾ ) (2)
بیشک وہ جنھوں نے کفر کیا اور روکتے ہیں اﷲ (عزوجل) کی راہ سے اور مسجدِ حرام سے، جس کو ہم نے سب لوگوں کے لیے مقرر کیا، اس میں وہاں کے رہنے والے اور باہر والے برابر حق رکھتے ہیں اور جو اس میں ناحق زیادتی کا ارادہ کرے، ہم اُسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔
(حدیث ۱:) صحیح بخاری شریف میں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ ہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ چلے، کفارِ قریش کعبہ تک جانے سے مانع ہوئے، نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قربانیاں کیں اور سر مونڈایا اور صحابہ نے بال کتروائے۔(3) نیز بخاری میں مسور بن مخرمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حلق سے پہلے قربانی کی اور صحابہ کو بھی اسی کا حکم فرمایا۔ (4)
(حدیث ۲: ) ابو داود و تر مذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی حجاج بن عمرو انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ
1 ۔ پ۲، البقرۃ: ۱۹۶۔
2 ۔ پ۱۷، الحج: ۲۵۔
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ، الحدیث: ۴۱۸۵، ج۳، ص۷۵.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، أبواب المحصر و جزاء الصید، باب النحر قبل الحلق فی الحصر، الحدیث: ۱۸۱۱، ج۱، ص۵۹۷.
صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے تو احرام کھول سکتا ہے اور سال آئندہ اُس کو حج کرنا ہوگا۔'' (1) اور ابو داود کی ایک روایت میں ہے، یا بیمار ہو جائے۔ (2)
مسئلہ ۱: جس نے حج یا عمرہ کا احرام باندھا مگر کسی وجہ سے پورا نہ کرسکا، اُسے مُحصَر کہتے ہیں۔ جن وجوہ سے حج یا عمرہ نہ کرسکے وہ یہ ہیں: 1 دشمن ۔ 2 درندہ۔ 3 مرض کہ سفر کرنے اور سوار ہونے میں اس کے زیادہ ہونے کا گمان غالب ہے۔
4 ہاتھ پاؤں ٹوٹ جانا۔5 قید۔ 6 عورت کے محرم یا شوہر جس کے ساتھ جارہی تھی اُس کا انتقال ہو جانا۔ 7 عدّت۔
8 مصارف یا سواری کا ہلاک ہو جانا۔ ( شوہر حجِ نفل میں عورت کو اور مولیٰ لونڈی غلام کو منع کر دے۔
مسئلہ ۲: مصارف چوری گئے یا سواری کا جانور ہلاک ہو گیا ،تو اگر پیدل نہیں چل سکتا تو مُحصر ہے ورنہ نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: صورتِ مذکورہ میں فی الحال تو پیدل چل سکتا ہے مگر آئندہ مجبور ہو جائے گا، اُسے احرام کھول دینا جائز ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: عورت کا شوہر یا محرم مر گیا اور وہاں سے مکہ معظمہ مسافتِ سفریعنی تین دن کی راہ سے کم ہے تو مُحصر نہیں اور تین دن یا زیادہ کی راہ ہے تو اگر وہاں ٹھہرنے کی جگہ ہے تو مُحصر ہے ورنہ نہیں۔ (5) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: عورت نے بغیر شوہر یا محرم کے احرام باندھا تو وہ بھی مُحصر ہے کہ اُسے بغیر ان کے سفر حرام ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: عورت نے حج نفل کا احرام بغیر اجازت شوہر باندھا تو شوہر منع کرسکتا ہے، لہٰذا اگر منع کردے تو مُحصر ہے
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب المناسک، باب الاحصار، الحدیث: ۱۸۶۲، ج۲، ص۲۵۱.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب المناسک، باب الاحصار، الحدیث: ۱۸۶۳، ج۲، ص۲۵۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثاني عشر في الاحصار، ج۱، ص۲۵۵.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الاحصار، ج۴، ص۵.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الاحصار، ج۴، ص۵.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثاني عشر في الاحصار، ج۱، ص۲۵۵.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثاني عشر في الاحصار، ج۱، ص۲۵۵.
اگرچہ اس کے ساتھ محرم بھی ہو اور حج فرض کو منع نہیں کر سکتا، البتہ اگر وقت سے بہت پہلے احرام باندھا تو شوہر کھلوا سکتا ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: مولیٰ نے غلام کو اجازت دیدی پھر بھی منع کرنے کا اختیار ہے اگرچہ بغیر ضرورت منع کرنا مکروہ ہے اور لونڈی کو مولیٰ نے اجازت دیدی تو اُس کے شوہر کو روکنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: عورت نے احرام باندھا اس کے بعد شوہر نے طلاق دیدی، تو مُحصرہ ہے اگرچہ محرم بھی ہمراہ موجود ہو۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: مُحصر کو یہ اجازت ہے کہ حرم کو قربانی بھیج دے، جب قربانی ہو جائے گی اس کا احرام کھل جائے گا یا قیمت بھیج دے کہ وہاں جانور خرید کر ذبح کر دیا جائے بغیر اس کے احرام نہیں کھل سکتا ،جب تک مکہ معظمہ پہنچ کر طواف و سعی و حلق نہ کرلے، روزہ رکھنے یا صدقہ دینے سے کام نہ چلے گا اگرچہ قربانی کی استطاعت نہ ہو۔ احرام باندھتے وقت اگر شرط لگائی ہے کہ کسی وجہ سے وہاں تک نہ پہنچ سکوں تو احرام کھول دوں گا، جب بھی یہی حکم ہے اس شرط کا کچھ اثر نہیں۔ (4) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: یہ ضروری امر ہے کہ جس کے ہاتھ قربانی بھیجے اس سے ٹھہرا لے کہ فُلاں دن فُلاں وقت قربانی ذبح ہو اور وہ وقت گزرنے کے بعد احرام سے باہر ہوگا پھر اگر اسی وقت قربانی ہوئی جو ٹھہرا تھا یا اس سے پیشتر فبہا اور اگر بعد میں ہوئی اور اُسے اب معلوم ہوا تو ذبح سے پہلے چونکہ احرام سے باہر ہوا لہٰذا دَم دے۔ مُحصر کو احرام سے باہر آنے کے لیے حلق شرط نہیں مگر بہتر ہے۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۱: مُحصر اگر مُفرِد ہو یعنی صرف حج یا صرف عمرہ کا احرام باندھا ہے تو ایک قربانی بھیجے اور دو بھیجیں تو پہلی ہی کے ذبح سے احرام کھل گیا اور قارِن ہو تو دو بھیجے ایک سے کام نہ چلے گا۔ (6) (درمختار وغیرہ)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الاحصار، ج۴، ص۶.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الاحصار، ج۴، ص۶.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الاحصار، ج۴، ص۶.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الاحصار، ج۴، ص۶.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثاني عشر في الاحصار، ج۱، ص۲۵۵.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثاني عشر في الاحصار، ج۱، ص۲۵۵.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الاحصار، ج۴، ص۶، وغیرہ.
مسئلہ ۱۲: اس قربانی کے لیے حرم شرط ہے بیرونِ حرم نہیں ہوسکتی، دسویں، گیارھویں، بارھویں تاریخوں کی شرط نہیں، پہلے اور بعد کو بھی ہوسکتی ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: قارِن نے اپنے خیال سے دو۲ قربانیوں کے دام بھیجے اور وہاں ان داموں کی ایک ہی ملی اور ذبح کر دی تو یہ ناکافی ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: قارِن نے دو قربانیاں بھیجیں اور یہ معیّن نہ کیا کہ یہ حج کی ہے اور یہ عمرہ کی تو بھی کچھ مضایقہ نہیں مگر بہتر یہ ہے کہ معیّن کردے کہ یہ حج کی ہے اور یہ عمرہ کی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: قارِن نے عمرہ کا طواف کیا اور وقوفِ عرفہ سے پیشتر مُحصر ہوا تو ایک قربانی بھیجے اور حج کے بدلے ایک حج اور ایک عمرہ کرے دوسرا عمرہ اس پر نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: اگر احرام میں حج یا عمرہ کسی کی نیت نہیں تھی تو ایک جانور بھیجنا کافی ہے اور ایک عمرہ کرنا ہوگا اور اگر نیت تھی مگر یہ یاد نہیں کہ کاہے کی نیت تھی تو ایک جانور بھیج دے اور ایک حج اور ایک عمرہ کرے اور اگر دو حج کا احرام باندھا تو دو دَم دے کر احرام کھولے اور دو عمرے کا احرام باندھا اور ادا کرنے کے لیے مکہ معظمہ کو چلا مگر نہ جا سکا تو ایک دَم دے اور چلا نہ تھا کہ مُحصر ہو گیا تو دو دَم دے اور اس کو دو عمرے کرنے ہوں گے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: عورت نے حجِ نفل کا احرام باندھا تھا اگرچہ شوہر کی اجازت سے پھر شوہر نے احرام کھلوا دیا ،تو اس کا احرام کھلنے کے لیے قربانی کا ذبح ہو جانا ضرور نہیں بلکہ ہر ایسا کام جو احرام میں منع تھا اس کے کرنے سے احرام سے باہر ہوگئی مگر اس پر بھی قربانی یا اس کی قیمت بھیجنا ضرور ہے اور اگر حج کا احرام تھا تو ایک حج اور ایک عمرہ قضا کرنا ہوگا اور اگر شوہر یا محرم کے مر جانے سے مُحصرہ ہوئی یا حج فرض کا احرام تھا اور بغیر محرم جارہی تھی شوہر نے منع کردیا تو اس میں بغیر قربانی ذبح ہوئے احرام سے باہر نہیں ہوسکتی۔ (6) (منسک)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الاحصار، ج۴، ص۷.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الاحصار، ج۴، ص۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثاني عشر في الاحصار، ج۱، ص۲۵۵.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق، ص۲۵۵۔۲۵۶.
6 ۔ ''لباب المناسک''و ''المسلک المتقسط''، (باب الاحصار)، ص۴۲۲۔۴۲۳.
مسئلہ ۱۸: مُحصر نے قربانی نہیں بھیجی ویسے ہی گھر کو چلا آیا اور احرام باندھے ہوئے رہ گیا تو یہ بھی جائز ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: وہ مانع جس کی وجہ سے رُکنا ہوا تھا جاتا رہا اور وقت اتنا ہے کہ حج اور قربانی دونوں پالے گا، تو جانا فرض ہے اب اگر گیا اور حج پالیا فبہا، ورنہ عمرہ کرکے احرام سے باہر ہو جائے اور قربانی کا جانور جو بھیجا تھا مل گیا تو جو چاہے کرے۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۰: مانع جاتا رہا اور اسی سال حج کیا تو قضا کی نیت نہ کرے اور اب مُفرِد پر عمرہ بھی واجب نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: وقوفِ عرفہ کے بعد احصار نہیں ہو سکتا اور اگر مکہ ہی میں ہے مگر طواف اور وقوفِ عرفہ دونوں پر قادر نہ ہو تو مُحصر ہے اور دونوں میں سے ایک پر قادر ہے تو نہیں۔ (4) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: مُحصر قربانی بھیج کر جب احرام سے باہر ہو گیا اب اس کی قضا کرنا چاہتا ہے تو اگر صرف حج کا احرام تھا تو ایک حج اور ایک عمرہ کرے اور قِران تھا تو ایک حج دو عمرے اور یہ اختیار ہے کہ قضا میں قِران کرے، پھر ایک عمرہ یا تینوں الگ الگ کرے اور اگر احرام عمرہ کا تھا تو صرف ایک عمرہ کرنا ہوگا۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
(حدیث ۱:) ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی عبد الرحمن بن یعمر دیلی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا: کہ ''حج عرفہ ہے، جس نے مُزدَلِفہ کی رات میں طلوعِ فجر سے قبل وقوفِ عرفہ پا لیا اُس نے حج پا لیا۔'' (6)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الاحصار، ج۴، ص۷.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الاحصار، ج۴، ص۸ ، وغیرہ.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثاني عشر في الاحصار، ج۱، ص۲۵۶.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثاني عشر في الاحصار، ج۱، ص۲۵۶، وغیرہ.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثاني عشر في الاحصار، ج۱، ص۲۵۵، وغیرہ.
6 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب مناسک الحج، باب فرض الوقوف بعرفۃ، الحدیث: ۳۰۱۹، ص۲۲۸۲.
(حدیث ۲: ) دارقطنی نے ابن عُمر و ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس کا وقوفِ عرفہ رات تک میں فوت ہوگیا، اُس کا حج فوت ہوگیا تو اب اسے چاہیے کہ عمرہ کرکے احرام کھول ڈالے اور سال آئندہ حج کرے۔'' (1)
مسئلہ ۱: جس کا حج فوت ہوگیا یعنی وقوفِ عرفہ اسے نہ ملا تو طواف و سعی کر کے سر مونڈا کر یا بال کتروا کر احرام سے باہر ہو جائے اور سال آئندہ حج کرے اور اُس پر دَم واجب نہیں۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۲: قارن کا حج فوت ہوگیا تو عمرہ کے لیے سعی و طواف کرے پھر ایک اور طواف و سعی کرکے حلق کرے اور دَم قِران جاتا رہا اور پچھلا طواف جسے کر کے احرام سے باہر ہو گا اُسے شروع کرتے ہی لبیک موقوف کردے اور سال آئندہ حج کی قضا کرے، عمرہ کی قضا نہیں کیونکہ عمرہ کرچکا۔ (3) (منسک، عالمگیری)
مسئلہ ۳: تَمتّع والا قربانی کا جانور لایا تھاا ور تمتع باطل ہوگیا تو جانور کو جو چاہے کرے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: عمرہ فوت نہیں ہو سکتا کہ اس کا وقت عمر بھر ہے اور جس کا حج فوت ہوگیااس پر طوافِ صدر نہیں۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۵: جس کا حج فوت ہوا اس نے طواف و سعی کرکے احرام نہ کھولا اور اسی احرام سے سال آئندہ حج کیا تو یہ حج صحیح نہ ہوا۔ (6) (منسک)
حدیث ۱: دارقطنی ابن عبا س رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو اپنے والدین کی
1 ۔ ''سنن الدار قطني''، کتاب الحج، باب المواقیت، الحدیث: ۲۴۹۶، ج۲، ص۳۰۵.
2 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الحج، باب الفوات ،ص۲۳۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثالث عشر في فوات الحج، ج۱، ۲۵۶.
و''لباب المناسک''، (باب الفوات)، ص۴۳۰.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثالث عشر في فوات الحج، ج۱، ۲۵۶.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الثالث عشر في فوات الحج، ج۱، ۲۵۶.
6 ۔ ''لباب المناسک''، (باب الفوات)، ص۴۳۱.
طرف سے حج کرے یا ان کی طرف سے تاوان ادا کرے، روزِ قیامت ابرار کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔'' (1)
حدیث ۲: نیز جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کرے تو اُن کا حج پورا کر دیا جائے گا اور اُس کے لیے دس حج کا ثواب ہے۔'' (2)
حدیث ۳: نیز زید بن ارقم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب کوئی اپنے والدین کی طرف سے حج کریگا تو مقبول ہوگا اور اُن کی رُوحیں خوش ہوں گی اور یہ اﷲ (عزوجل) کے نزدیک نیکوکار لکھا جائیگا۔'' (3)
حدیث ۴: ابو حفص کبیر انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ اُنھوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا، کہ ہم اپنے مُردوں کی طرف سے صدقہ کرتے اور اُن کی طرف سے حج کرتے اور ان کے لیے دُعا کرتے ہیں، آیا یہ اُن کو پہنچتا ہے؟ فرمایا: ''ہاں بیشک ان کو پہنچتا ہے اور بے شک وہ اس سے خوش ہوتے ہیں جیسے تمھارے پاس طبق میں کوئی چیز ہدیہ کی جائے تو تم خوش ہوتے ہو۔'' (4)
حدیث ۵: صحیحین میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ ایک عورت نے عرض کی، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرے باپ پر حج فرض ہے اور وہ بہت بوڑھے ہیں کہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے کیا میں اُن کی طرف سے حج کروں؟ فرمایا: ''ہاں۔'' (5)
حدیث ۶: ابوداود و تر مذی و نسائی ابی رزین عقیلی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، یہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرے باپ بہت بوڑھے ہیں حج و عمرہ نہیں کرسکتے اور ہودج پر بھی نہیں بیٹھ سکتے۔ فرمایا: ''اپنے باپ کی طرف سے حج و عمرہ کرو۔'' (6)
1 ۔ ''سنن الدار قطني''، کتاب الحج، باب المواقیت، الحدیث: ۲۵۸۵، ج۲، ص۳۲۸.
2 ۔ ''سنن الدار قطني''، کتاب الحج، باب المواقیت، الحدیث: ۲۵۸۷، ج۲، ص۳۲۹.
3 ۔ ''سنن الدار قطني''، کتاب الحج، باب المواقیت، الحدیث: ۲۵۸۴، ج۲، ص۳۲۸.
4 ۔ ''المسلک المتقسط'' للقاری، (باب الحج عن الغیر) ، ص۴۳۳.
''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب فیمن أخذ فی عبادتہ شیئًا من الدنیا، ج۴، ص۱۵.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب الحج عن العاجز لزمانۃ ...إلخ، ۱۳۳۴،۱۳۳۵، ص۶۹۶،۶۹۷.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الحج، ۸۷۔باب، الحدیث: ۹۳۱، ج۲، ص۲۷۲.
مسئلہ ۱: عبادت تین قسم ہے: 1بدنی۔ 2 مالی۔ 3 مرکب۔
عبادت بدنی میں نیابت نہیں ہو سکتی یعنی ایک کی طرف سے دوسرا ادا نہیں کر سکتا۔ جیسے نماز، روزہ۔
مالی میں نیابت بہر حال جاری ہو سکتی ہے جیسے زکاۃ و صدقہ۔
مرکب میں اگر عاجز ہو تو دوسرا اس کی طرف سے کرسکتا ہے ورنہ نہیں جیسے حج۔
رہا ثواب پہنچانا کہ جو کچھ عبادت کی اُس کا ثواب فلاں کو پہنچے، اس میں کسی عبادت کی تخصیص نہیں ہر عبادت کا ثواب دوسرے کو پہنچا سکتا ہے۔ نماز، روزہ، زکاۃ ، صدقہ، حج، تلاوت قرآن، ذکر، زیارت قبور، فرض و نفل سب کا ثواب زندہ یا مردہ کو پہنچا سکتا ہے اور یہ نہ سمجھا چاہیے کہ فرض کا پہنچا دیا تو اپنے پاس کیا رہ گیا کہ ثواب پہنچانے سے اپنے پاس سے کچھ نہ گیا، لہٰذا فرض کا ثواب پہنچانے سے پھر وہ فرض عود نہ کریگا کہ یہ تو ادا کرچکا، اس کے ذمہ سے ساقط ہوچکا ورنہ ثواب کس شے کا پہنچاتا ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
اس سے بخوبی معلوم ہو گیا کہ فاتحہ مروّجہ جائز ہے کہ وہ ایصالِ ثواب ہے اور ایصالِ ثواب جائز بلکہ محمود، البتہ کسی معاوضہ پر ایصال ثواب کرنا مثلاً بعض لوگ کچھ لے کر قرآن مجید کا ثواب پہنچاتے ہیں یہ ناجائز ہے کہ پہلے جو پڑھ چکا ہے اس کا معاوضہ لیا ،تو یہ بیع ہوئی اور بیع قطعاً باطل و حرام اور اگر اب جو پڑھے گا اس کا ثواب پہنچائے گا تو یہ اجارہ ہوا اور طاعت پر اجارہ باطل سِوا ان تین چیزوں کے جن کا بیان آئے گا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱: حج بدل کے لیے چند شرطیں ہیں:
1 جو حج بدل کراتا ہو اس پر حج فرض ہو یعنی اگر فرض نہ تھا اور حج بدل کرایا تو حج فرض ادا نہ ہوا، لہٰذا اگر بعد میں حج اس پر فرض ہوا تو یہ حج اس کے لیے کافی نہ ہوگا بلکہ اگر عاجز ہو تو پھر حج کرائے اور قادر ہو تو خود کرے۔
2 جس کی طرف سے حج کیا جائے وہ عاجز ہو یعنی وہ خود حج نہ کرسکتا ہو اگر اس قابل ہو کہ خود کر سکتا ہے، تو اس کی طرف سے نہیں ہو سکتا اگرچہ بعد میں عاجز ہوگیا، لہٰذا اس وقت اگر عاجز نہ تھا پھر عاجز ہوگیا تو اب دوبارہ حج کرائے۔
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب في اھداء ثواب الاعمال للغیر، ج۴، ص۱۲۔،۱۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الرابع عشر في الحج عن الغیر ج۱، ۲۵۷.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب فی اہداء ثواب الاعمال، ج۴، ص۱۳.
3 وقتِ حج سے موت تک عذر برابر باقی رہے اگر درمیان میں اس قابل ہو گیا کہ خود حج کرے تو پہلے جو حج کیا جاچکا ہے وہ نا کافی ہے۔ ہاں اگر وہ کوئی ایسا عذر تھا، جس کے جانے کی امید ہی نہ تھی اور اتفاقاً جاتا رہا تو وہ پہلا حج جو اس کی طرف سے کیا گیا کافی ہے مثلاً وہ نابینا ہے اور حج کرانے کے بعد انکھیارا ہوگیا تو اب دوبارہ حج کرانے کی ضرورت نہ رہی۔
4 جس کی طرف سے کیا جائے اس نے حکم دیا ہو بغیر اس کے حکم کے نہیں ہوسکتا۔ ہاں وارث نے مورث کی طرف سے کیا تو اس میں حکم کی ضرورت نہیں۔
5 مصارف اُس کے مال سے ہوں جس کی طرف سے حج کیا جائے، لہٰذا اگر مامور نے اپنا مال صرف کیا حج بدل نہ ہوا یعنی جب کہ تبرّعاً ایسا کیا ہو اور اگر کُل یا اکثر اپنا مال صرف کیا اور جو کچھ اس نے دیا ہے اتنا ہے کہ خرچ اس میں سے وصول کرلے گا تو ہوگیا اور اتنا نہیں کہ جو کچھ اپنا خرچ کیا ہے وصول کرلے تو اگر زیادہ حصہ اس کا ہے جس نے حکم دیا ہے تو ہوگیا ورنہ نہیں۔
مسئلہ ۲: اپنا اور اُس کا مال ایک میں ملا دیا اور جتنا اُس نے دیا تھا اُتنا یا اس میں سے زیادہ حصہ کی برابر خرچ کیا تو حج بدل ہوگیا اور اس ملانے کی وجہ سے اُس پر تاوان لازم نہ آئے گابلکہ اپنے ساتھیوں کے مال کے ساتھ بھی ملا سکتا ہے۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: وصیت کی تھی کہ میرے مال سے حج کرا دیا جائے اور وارث نے اپنے مال سے تبرّعاً کرایا تو حج بدل نہ ہوا اور اگر اپنے مال سے حج کیا یوں کہ جو خرچ ہوگا ترکہ میں سے لے لے گا تو ہوگیا اور لینے کا ارادہ نہ ہو تو نہیں اور اجنبی نے حج بدل اپنے مال سے کرا دیا تو نہ ہوا اگرچہ واپس لینے کا ارادہ ہو اگرچہ وہ خود اسی کو حج بدل کرنے کے لیے کہہ گیا ہو اور اگر یوں وصیت کی کہ میری طرف سے حج بدل کرا دیا جائے اور یہ نہ کہا کہ میرے مال سے اور وارث نے اپنے مال سے حج کرا دیا اگرچہ لینے کا ارادہ بھی نہ ہو، ہوگیا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: میّت کی طرف سے حج کرنے کے لیے مال دیا اور وہ کافی تھا مگر اُس نے اپنا مال بھی کچھ خرچ کیا ہے تو جو خرچ ہوا وصول کرلے اور اگر نا کافی تھا مگر اکثر میّت کے مال سے صرف ہوا تو میّت کی طرف سے ہوگیا، ورنہ نہیں۔ (3) (عالمگیری)
6 جس کو حکم دیا وہی کرے، دوسرے سے اُس نے حج کرایا تو نہ ہوا۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المناسک، الباب الرابع عشر في الحج عن الغیر، ج۱، ص۲۵۷. و''ردالمحتار''،کتاب الحج، باب الحج عن الغیر ،مطلب في الاستئجار علی الحج، ج۴، ص۲۳. 2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحج،ج۴، ص۲۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الرابع عشر في الحج عن الغیر، ج۱، ص۲۵۷.
مسئلہ ۵: میّت نے وصیت کی تھی کہ میری طرف سے فُلاں شخص حج کرے اور وہ مر گیا یا اُس نے انکار کر دیا، اب دوسرے سے حج کرا لیا گیا تو جائز ہے۔ (1) (ردالمحتار)
7 سواری پر حج کو جائے پیدل حج کیا تو نہ ہوا، لہٰذا سواری میں جو کچھ صرف ہوا دینا پڑے گا۔ ہاں اگر خرچ میں کمی پڑی تو پیدل بھی ہو جائے گا۔ سواری سے مراد یہ ہے کہ اکثر راستہ سواری پر قطع کیا ہو۔
8 اس کے وطن سے حج کو جائے۔
9 میقات سے حج کا احرام باندھے اگر اس نے اس کا حکم کیا ہو۔
10 اُس کی نیت سے حج کرے اور افضل یہ ہے کہ زبان سے بھی لَبَّیْکَ عَنْ فُـلَان (2) کہہ لے اور اگر اس کا نام بھول گیا ہے تو یہ نیت کرلے کہ جس نے مجھے بھیجا ہے اس کی طرف سے کرتا ہوں اور ان کے علاوہ اور بھی شرائط ہیں جو ضمناً مذکور ہونگی۔ یہ شرطیں جو مذکور ہوئیں حجِ فرض میں ہیں، حجِ نفل ہو تو ان میں سے کوئی شرط نہیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: احرام باندھتے وقت یہ نیت نہ تھی کہ کس کی طرف سے حج کرتا ہوں تو جب تک حج کے افعال شروع نہ کیے اختیار ہے کہ نیت کرلے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: جس کو بھیجے اس سے یوں نہ کہے کہ میں نے تجھے اپنی طرف سے حج کرنے کے لیے اجیر بنایا یا نوکر رکھا کہ عبادت پر اجارہ کیسا، بلکہ یوں کہے کہ میں نے اپنی طرف سے تجھے حج کے لیے حکم دیا اور اگر اجارہ کا لفظ کہا جب بھی حج ہو جائے گا مگر اُجرت کچھ نہ ملے گی صرف مصارف ملیں گے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: حجِ بدل کی سب شرطیں جب پائی جائیں تو جس کی طرف سے کیا گیا اس کا فرض ادا ہوا اور یہ حج کرنے والا بھی ثواب پائے گا مگر اس حج سے اُس کا حجۃ الاسلام ادا نہ ہوگا۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: بہتر یہ ہے کہ حج بدل کے لیے ایسا شخص بھیجا جائے جو خود حجۃ الاسلام (حجِ فرض) ادا کرچکا ہو اور اگر ایسے کو
1 ۔ ''ردالمحتار'' ، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، مطلب في الفرق بین العبادۃ والقربۃ والطاعۃ، ج۴، ص۱۹.
2 ۔ فلاں کی جگہ جس کے نام پر حج کرنا چاہتا ہے اُس کا نام لے مثلاًلبیک عَنْ عَبْدِ اللہ ۔
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، مطلب شروط الحج عن الغیر عشرون، ج۴، ص۲۰.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، مطلب في الفرق بین العبادۃ والقربۃ والطاعۃ، ج۴، ص۱۸.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر ،مطلب في الاستئجار علی الحج، ج۴، ص۲۲.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، مطلب في الاستئجار علی الحج، ج۴، ص۲۴.
بھیجا جس نے خود نہیں کیا ہے، جب بھی حجِ بدل ہو جائے گا۔ (1) (عالمگیری) اور اگر خود اس پر حج فرض ہو اور ادانہ کیا ہو تو اسے بھیجنا مکروہِ تحریمی ہے۔ (2) (منسک)
مسئلہ ۱۰: افضل یہ ہے کہ ایسے شخص کو بھیجیں جو حج کے طریقے اور اُس کے افعال سے آگاہ ہو اور بہتر یہ ہے کہ آزاد مرد ہو اور اگر آزاد عورت یا غلام یا باندی یا مراہق یعنی قریب البلوغ بچہ سے حج کرایا جب بھی ادا ہو جائے گا۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۱: مجنون یا کافر (مثلاً وہابی زمانہ وغیرہ) کو بھیجا تو ادانہ ہوا کہ یہ اس کے اہل ہی نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: دو شخصوں نے ایک ہی کو حجِ بدل کے لیے بھیجا، اس نے ایک حج میں دونوں کی طرف سے لبیک کہا تو دونوں میں کسی کی طرف سے نہ ہوا بلکہ اس حج کرنے والے کا ہوا اور دونوں کو تاوان دے اور اب اگر چاہے کہ دونوں میں سے ایک کے لیے کر دے تو یہ بھی نہیں کرسکتا اور اگر ایک کی طرف سے لبیک کہا مگر یہ معیّن نہ کیا کہ کس کی طرف سے تو اگر یوہیں مبہم رکھا جب بھی کسی کا نہ ہوا اور اگر بعد میں یعنی افعال حج ادا کرنے سے پہلے معیّن کردیا تو جس کے لیے کیا اُس کا ہوگیا اور اگر احرام باندھتے وقت کچھ نہ کہا کہ کس کی طرف سے ہے نہ معیّن نہ مبہم جب بھی یہی دونوں صورتیں ہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: ماں باپ دونوں کی طرف سے حج کیا تو اُسے اختیار ہے کہ اس حج کو باپ کے لیے کردے یا ماں کے لیے اور اُس کا حج فرض ادا ہوگا یعنی جب کہ ان دونوں نے اُسے حکم نہ کیا اور اگر حج کا حکم دیا ہو تو اس میں بھی وہی احکام ہیں جو اوپر مذکور ہوئے اور اگر بغیر کہے اپنے آپ دو شخصوں کی طرف سے حجِ نفل کا احرام باندھا تو اختیار ہے جس کے لیے چاہے کر دے مگر اس سے اُ س کا فرض ادانہ ہوگا جب کہ وہ اجنبی ہے۔ یوہیں ثواب پہنچانے کا بھی اختیا رہے بلکہ ثواب تو دونوں کو پہنچا سکتا ہے۔ (6) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: حج فرض ہونے کے بعد مجنون ہو گیا تو اُس کی طرف سے حج بدل کرایا جاسکتا ہے۔ (7) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس عشر في الوصیۃ بالحج، ج۱، ص۲۵۷.
2 ۔ ''المسلک المتقسط'' للقاری، (باب الحج عن الغیر)، ص۴۵۳.
3 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، ج۴، ص۲۵، وغیرہ.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، ج۴، ص۲۶.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الرابع عشر في الحج عن الغیر، ج۱، ص۲۵۷.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الرابع عشر فی الحج عن الغیر، ج۱، ص۲۵۷.
و''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر مطلب العمل علی القیاس دون الاستحسان ھنا، ج۴، ص۳۱.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر مطلب شروط الحج عن الغیر عشرون، ج۴، ص۲۱.
مسئلہ ۱۵: صرف حج یا صرف عمرہ کو کہا تھا اُس نے دونوں کا احرام باندھا، خواہ دونوں اُسی کی طرف سے کیے یا ایک اس کی طرف سے، دوسرا اپنی یا کسی اور کی طرف سے بہر حال اس کا حج ادانہ ہوا تاوان دینا آئے گا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: حج کے لیے کہا تھا اُس نے عمرہ کا احرام باندھا ،پھر مکہ معظمہ سے حج کا جب بھی اُس کی مخالفت ہوئی لہٰذا تاوان دے۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: حج کے لیے کہا تھا اُس نے حج کرنے کے بعد عمرہ کیا یا عمرہ کے لیے کہا تھا اس نے عمرہ کر کے حج کیا، تو اِس میں مخالفت نہ ہوئی اُس کا حج یا عمرہ ادا ہوگیا۔ مگر اپنے حج یا عمرہ کے لیے جو خرچ کیا خود اس کے ذمہ ہے، بھیجنے والے پر نہیں اور اگر اُولٹا کیا یعنی جو اُس نے کہا اسے بعد میں کیا تو مخالفت ہوگئی ،اس کا حج یا عمرہ ادا نہ ہوا تاوان دے۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: ایک شخص نے اس سے حج کو کہا دوسرے نے عمرہ کو مگر ان دونوں نے جمع کرنے کا حکم نہ دیا تھا، اس نے دونوں کو جمع کر دیا تو دونوں کا مال واپس دے اور اگر یہ کہہ دیا تھا کہ جمع کرلینا تو جائز ہوگیا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: افضل یہ ہے کہ جسے حجِ بدل کے لیے بھیجا جائے، وہ حج کرکے واپس آئے اور جانے آنے کے مصارف بھیجنے والے پر ہیں اور اگر وہیں رہ گیا جب بھی جائز ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: حج کے بعد قافلہ کے انتظار میں جتنے دن ٹھہرنا پڑے، اِن دنوں کے مصارف بھیجنے والے کے ذمہ ہیں اور اس سے زائد ٹھہرنا ہو تو خود اس کے ذمہ مگر جب وہاں سے چلا تو واپسی کے مصارف بھیجنے والے پر ہیں اور اگر مکہ معظمہ میں بالکل رہنے کا ارادہ کر لیا تو اب واپسی کے اخراجات بھی بھیجنے والے پر نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: جس کو بھیجا وہ اپنے کسی کام میں مشغول ہو گیا اور حج فوت ہوگیا تو تاوان لازم ہے، پھر اگر سال آئندہ اس نے اپنے مال سے حج کر دیا تو کافی ہو گیا اور اگر وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع کیا جب بھی یہی حکم ہے اور اُسے اپنے مال سے سال آئندہ حج و عمرہ کرنا ہو گا اور اگر وقوف کے بعد جماع کیا تو حج ہوگیا اور اُس پر اپنے مال سے دَم دینا لازم اور اگر غیر اختیاری آفت
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الرابع عشر في الحج عن الغیر، ج۱، ص۲۵۸.
2 ۔ المرجع السابق.و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، مطلب العمل علی القیاس... إلخ، ج۴، ص۳۶.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الرابع عشر في الحج عن الغیر، ج۱، ص۲۵۸.
5 ۔ المرجع السابق. 6 ۔ المرجع السابق.
میں مبتلا ہو گیا تو جو کچھ پہلے خرچ ہوچکا ہے، اُس کا تاوان نہیں مگر واپسی میں اب اپنا مال خرچ کرے۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: نزدیک راستہ چھوڑ کر دُور کی راہ سے گیا ،کہ خرچ زیادہ ہوا اگر اس راہ سے حاجی جایا کرتے ہیں تو اس کا اُسے اختیار ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: مرض یا دشمن کی وجہ سے حج نہ کرسکا یا اور کسی طرح پر مُحصر ہوا تو اس کی وجہ سے جو دَم لازم آیا، وہ اُس کے ذمہ ہے جس کی طرف سے گیا اور باقی ہرقسم کے دَم اِس کے ذمہ ہیں۔ مثلاً سلا ہو ا کپڑا پہنا یا خوشبو لگائی یا بغیر احرام میقات سے آگے بڑھا یا شکار کیا یا بھیجنے والے کی اجازت سے قِران و تمتع کیا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: جس پر حج فرض ہو یا قضا یا منّت کا حج اُس کے ذمہ ہو اور موت کا وقت قریب آگیا تو واجب ہے کہ وصیت کر جائے۔ (4) (منسک)
مسئلہ ۲۵: جس پر حج فرض ہے اورنہ ادا کیا نہ وصیت کی تو بالا جماع گنہگار ہے، اگر وارث اُس کی طرف سے حجِ بدل کرانا چاہے تو کرا سکتا ہے۔ انشاء اﷲ تعالیٰ امید ہے کہ ادا ہو جائے اور اگر وصیت کر گیا تو تہائی مال سے کرایا جائے اگرچہ اُس نے وصیت میں تہائی کی قید نہ لگائی۔ مثلاً یہ کہہ مراکہ میری طرف سے حجِ بدل کرایا جائے۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۶: تہائی مال کی مقدار اتنی ہے کہ وطن سے حج کے مصارف کے لیے کافی ہے تو وطن ہی سے آدمی بھیجا جائے، ورنہ بیرونِ میقات جہاں سے بھی اُس تہائی سے بھیجا جاسکے۔ یوہیں اگر وصیت میں کوئی رقم معیّن کردی ہو تو اس رقم میں اگر وہاں سے بھیجا جاسکتا ہے تو بھیجا جائے ورنہ جہاں سے ہوسکے اور اگر وہ تہائی یا وہ رقم معیّن بیرونِ میقات کہیں سے بھی کافی نہیں تو وصیت باطل۔ (6) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الرابع عشر في الحج عن الغیر، ج۱، ص۲۵۸.
و''الدرالمختار'' ، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر ، ج۴، ص۳۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الرابع عشر في الحج عن الغیر، ج۱، ص۲۵۸.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر ، ج۴، ص۳۶۔۳۷.
4 ۔ ''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط'' ، (باب الحج عن الغیر)، ص۴۳۴.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الرابع عشر في الحج عن الغیر، ج۱، ص۲۵۸.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الرابع عشر في الحج عن الغیر، ج۱، ص۲۵۹.
و''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر مطلب العمل علی القیاس... إلخ، ج۴، ص۳۷.
مسئلہ ۲۷: کوئی شخص حج کو چلا اور راستہ میں یا مکہ معظمہ میں وقوفِ عرفہ سے پہلے اُس کا انتقال ہوگیاتو اگر اُسی سال اُس پر حج فرض ہو ا تھا تو وصیت واجب نہیں اور اگر وقوف کے بعد انتقال ہوا تو حج ہوگیا، پھر اگر طوافِ فرض باقی ہے اور وصیت کرگیا کہ اُس کا حج پورا کردیا جائے تو اُس کی طرف سے بدنہ کی قربانی کردی جائے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: راستہ میں انتقال ہوا اور حجِ بدل کی وصیت کرگیا تو اگر کوئی رقم یا جگہ معین کردی ہے تو اس کے کہنے کے موافق کیا جائے، اگرچہ اس کے مال کی تہائی اتنی تھی کہ اُس کے وطن سے بھیجا جاسکتا اور اس نے غیر وطن سے بھیجنے کی وصیت کی یا وہ رقم اتنی بتائی کہ اس میں وطن سے نہیں جایا جاسکتا تو گنہگار ہوا اور معین نہ کی تو وطن سے بھیجا جائے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: وصی نے یعنی جس کو کہہ گیا کہ تو میری طرف سے حج کرا دینا، غیر جگہ سے بھیجا اور تہائی اتنی تھی کہ وطن سے بھیجا جاسکتا ہے تو یہ حج میّت کی طرف سے نہ ہوا بلکہ وصی کی طرف سے ہوا، لہٰذا میّت کی طرف سے یہ شخص دوبارہ اپنے مال سے حج کرائے مگر جب کہ وہ جگہ جہاں سے بھیجا ہے وطن سے قریب ہو کہ وہاں جاکر رات کے آنے سے پہلے واپس آسکتا ہو تو ہو جائے گا۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: مال اس قابل نہیں کہ وطن سے بھیجا جائے تو جہاں سے ہوسکے بھیجیں، پھر اگر حج کے بعد کچھ بچ رہا جس سے معلوم ہوا کہ اور ادہر سے بھیجا جاسکتا تھا تو وصی پر اس کا تاوان ہے، لہٰذا دوبارہ حجِ بدل وہاں سے کرائے جہاں سے ہو سکتا تھا مگر جب کہ بہت تھوڑی مقدار بچی مثلاً توشہ وغیرہ۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: اگر اس کے لیے وطن نہ ہو تو جہاں انتقال ہوا وہاں سے حج کو بھیجاجا ئے اور اگر متعدد وطن ہوں تو ان میں جو جگہ مکہ معظمہ سے زیادہ قریب ہو وہاں سے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: اگر یہ کہہ گیا کہ تہائی مال سے ایک حج کرا دینا تو ایک حج کرا دیں اور چند حج کی وصیت کی اور ایک سے زیادہ نہیں ہو سکتا تو ایک حج کرا دیں اس کے بعد جو بچے وارث لے لیں اور اگر یہ وصیت کی کہ میرے مال کی تہائی سے حج کرایا
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر مطلب في حج الصرورۃ، ج۴، ص۲۷.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر مطلب في حج الصرورۃ، ج۴، ص۲۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس عشر في الوصیۃ بالحج، ج۱، ص۲۵۹.
و''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر مطلب العمل علی القیاس دون الاستحسان ھنا، ج۴، ص۲۷.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس عشر في الوصیۃ بالحج، ج۱، ص۲۵۹.
5 ۔ المرجع السابق.
جائے یا کئی حج کرائے جائیں اور کئی ہو سکتے ہیں تو جتنے ہو سکتے ہیں کرائے جائیں، اب اگر کچھ بچ رہا جس سے وطن سے نہیں بھیجا جا سکتا تو جہاں سے ہو سکے اور کئی حج کی صورت میں اختیار ہے کہ سب ایک ہی سال میں ہوں یا کئی سال میں اور بہتر اول ہے۔ یوہیں اگر یوں وصیت کی کہ میرے مال کی تہائی سے ہر سال ایک حج کرایا جائے تو اس میں بھی اختیار ہے کہ سب ایک ساتھ ہوں یا ہر سال ایک اور اگر یوں کہا کہ میرے مال میں ہزار روپے سے حج کرایا جائے تو اس میں جتنے حج ہوسکیں کرا دیے جائیں۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: اگر وصی سے یہ کہا کہ کسی کو مال دے کر میری طرف سے حج کرا دینا تو وصی خود اُس کی طرف سے حجِ بدل نہیں کرسکتا اور اگر یہ کہا کہ میری طرف سے حجِ بدل کرا دیا جائے تو وصی خودبھی کرسکتا ہے اور اگر وصی وارث بھی ہے یا وصی نے وارث کو مال دے دیا کہ وہ وارث حجِ بدل کرے تو اب باقی ورثہ اگر بالغ ہوں اور ان کی اجازت سے ہو تو ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: حج کی وصیت کی تھی اُس کے انتقال کے بعد حج کے مصارف نکالنے کے بعد ورثہ نے مال تقسیم کرلیا، پھر وہ مال جو حج کے لیے نکالا تھا ضائع ہو گیا تو اب جو باقی ہے اُس کی تہائی سے حج کا خرچ نکالیں پھر اگر تلف ہو جائے تو بقیہ کی تہائی سے وعلیٰ ہذاالقیاس یہاں تک کہ مال ختم ہو جائے اور وہ مال وصی کے پاس سے ضائع ہوا ہو یا اس کے پاس سے جس کو حج کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں دونوں کا ایک حکم ہے۔ (3) (منسک)
مسئلہ ۳۵: جسے حج کرنے کو بھیجا وقوفِ عرفہ سے پیشتر اس کا انتقال ہوگیا یا مال چوری گیا پھر جو مال با قی رہ گیا، اُس کی تہائی سے دو بارہ وطن سے حج کرنے کے لیے کسی کو بھیجا جائے اور اگر اتنے میں وطن سے نہیں بھیجا جاسکتا تو جہاں سے ہوسکے اور اگر دوسرا شخص بھی مر گیا یا پھر مال چوری ہوگیا تو اب جو کچھ مال ہے، اس کی تہائی سے بھیجا جائے اور یکے بعد دیگرے یوہیں کرتے رہیں، یہاں تک کہ مال کی تہائی اس قابل نہ رہی کہ اس سے حج ہوسکے تو وصیت باطل ہوگئی اور اگر وقوفِ عرفہ کے بعد مرا تو وصیت پوری ہوگئی۔ (4) (درمختار وغیرہ)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس عشر في الوصیۃ بالحج، ج۱، ص۲۵۹.
و''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر مطلب العمل علی القیاس دون الاستحسان ھنا، ج۴، ص۲۷.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس عشر في الوصیۃ بالحج، ج۱، ص۲۵۹.
3 ۔ ''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط'' ، (باب الحج عن الغیر)، ص۴۵۴۔۴۵۵.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر ، ج۴، ص۳۷، وغیرہ.
مسئلہ ۳۶: جسے بھیجا تھا وہ وقوف کرکے بغیر طواف کیے واپس آیا تو میّت کا حج ہوگیا مگر اسے عورت کے پاس جانا حلال نہیں، اُسے حکم ہے کہ اپنے خرچ سے واپس جائے اور جو افعال باقی ہیں ادا کرے۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۳۷: وصی نے کسی کو اس سال حجِ بدل کے لیے مقرر کیا اور خرچ بھی دے دیا مگر وہ اس سال نہ گیا، سال آئندہ جاکر ادا کیا تو ہو گیا اُس پر تاوان نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: جسے بھیجا وہ مکہ معظمہ میں جا کر بیمار ہوگیا اور سارا مال خرچ ہوگیا تو وصی کے ذمّہ واپسی کے لیے خرچ بھیجنا لازم نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: جسے حج کے لیے مقرر کیا وہ بیمار ہوگیا تو اُسے یہ اختیار نہیں کہ دوسرے کو بھیج دے، ہاں اگر بھیجنے والے نے اُسے اجازت دیدی ہو تو دوسرے کو بھیج سکتا ہے۔ لہٰذا بھیجتے وقت چاہیے کہ یہ اجازت دیدی جائے۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴۰: اگر اس سے یہ کہہ دیا کہ خرچ ختم ہو جائے تو قرض لے لینا اور اُس کا ادا کرنا میرے ذمہ ہے تو جائز ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: احرام کے بعد راستہ میں مال چوری گیا، اُس نے اپنے پاس سے خرچ کرکے حج کیا اور واپس آیا تو بغیر حکم قاضی بھیجنے والے سے وصول نہیں کرسکتا۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: یہ وصیت کی کہ فُلاں شخص میری طرف سے حج کرے اور وہ شخص مر گیا تو کسی اور کو بھیج دیں مگر جب کہ حصر کر دیا ہو کہ وہی کرے دوسرا نہیں تو مجبوری ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: ایک شخص نے اپنی طرف سے حجِ بدل کے لیے خرچ دے کر بھیجا، بعداس کے اس کا انتقال ہوگیا اور حج کی وصیت نہ کی تو وارث اُس شخص سے مال واپس لے سکتے ہیں اگرچہ احرام باندھ چکا ہو۔ (8) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس عشر في الوصیۃ بالحج، ج۱، ص۲۶۰.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق. و''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر ، ج۴، ص۲۶.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس عشر في الوصیۃ بالحج، ج۱، ص۲۶۰.
6 ۔ المرجع السابق. 7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر ، ج۴، ص۴۰.
مسئلہ ۴۴: مصارفِ حج سے مراد وہ چیزہیں جن کی سفرِ حج میں ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً کھانا پانی، راستہ میں پہننے کے کپڑے، احرام کے کپڑے، سواری کا کرایہ، مکان کا کرایہ، مشکیزہ، کھانے پینے کے برتن، جلانے اور سر میں ڈالنے کا تیل، کپڑے دھونے کے لیے صابون، پہرا دینے والے کی اُجرت، حجامت کی بنوائی غرض جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے اُن کے اخراجات متوسط کہ نہ فضول خرچی ہو، نہ بہت کمی اور اُس کو یہ اختیار نہیں کہ اس مال میں سے خیرات کرے یا کھانا فقیروں کو دیدے یا کھاتے وقت دوسروں کو بھی کھلائے ہاں اگر بھیجنے والے نے ان اُمور کی اجازت دیدی ہو تو کرسکتا ہے۔ (1) (لباب)
مسئلہ ۴۵: جس کو بھیجا ہے اگر وہ اپنا کام اپنے آپ کیا کرتا تھا اور اب خادم سے کام لیا تو اس کا خرچ خود اس کے ذمہ ہے اور اگر خود نہیں کرتا تھا تو بھیجنے والے کے ذمہ۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: حج سے واپسی کے بعد جو کچھ بچا واپس کردے، اُسے رکھ لینا جائز نہیں اگرچہ وہ کتنی ہی تھوڑی سی چیز ہو، یہاں تک کہ توشہ میں سے جو کچھ بچا وہ اور کپڑے اور برتن غرض تمام سامان واپس کردے بلکہ اگر شرط کرلی ہو کہ جو بچے گا واپس نہ کروں گا جب بھی کہ یہ شرط باطل ہے مگر دو۲ صورتوں میں، او۱ ل یہ کہ بھیجنے والا اسے وکیل کردے کہ جو بچے اُسے اپنے کو تو ہبہ کردینا اور قبضہ کرلینا، دوم۲ یہ کہ اگر قریب بمرگ ہو تو اُسے وصیت کر دے کہ جو بچے اُس کی میں نے تجھے وصیت کی اور اگر یوں وصیت کی کہ وصی سے کہہ دیا کہ جو بچے وہ اُس کے لیے ہے جو بھیجا جائے یا تو جسے چاہے دیدے تو یہ وصیت باطل ہے وارث کا حق ہو جائے گا اور واپس کرنا پڑے گا۔ (3) (درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۷: یہ وصیت کی کہ ایک ہزار فُلاں کو دیا جائے اور ایک ہزار مسکینوں کو اور ایک ہزار سے حج کرایا جائے اور ترکہ کی تہائی کل دو ہزار ہے تو دو ہزار میں برابر برابر کے تین حصے کیے جائیں۔ ایک حصہ تو اُسے دیں جس کے لیے کہا اور حج و مساکین کے دونوں حصے ملاکر جتنے سے حج ہوسکے حج کرایا جائے اور جو بچے مسکینوں کو دیا جائے۔ (4) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۴۸: زکاۃ و حج اور کسی کو دینے کی وصیت کی تو تہائی کے تین حصے کریں اور زکاۃ و حج میں جسے اُس نے پہلے کہا اُسے پہلے کریں۔ اُس سے جو بچے دوسرے میں صرف کریں، فرض اور منّت کی وصیت کی تو فرض مقدم ہے اور نفل و نذر میں نذر
1 ۔ ''لباب المناسک''، (باب الحج عن الغیر، فصل فی النفقۃ)، ص۴۵۶۔۴۵۷.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس عشر في الوصیۃ بالحج، ج۱، ص۲۶۰.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر مطلب العمل علی القیاس... إلخ، ج۴، ص۳۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب الخامس عشر في الوصیۃ بالحج، ج۱، ص۲۶۰.
مقدم ہے اور سب فرض یا نفل یا واجب ہیں تو مقدم وہ ہے جسے اُس نے پہلے کہا۔ (1) (ردالمحتار)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾لَکُمْ فِیۡہَا مَنَافِعُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّہَاۤ اِلَی الْبَیۡتِ الْعَتِیۡقِ ﴿٪۳۳﴾وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنۡسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الْاَنْعَامِ ؕ ) (2)
اور جو اﷲ (عزوجل) کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیز گاری سے ہے، تمھارے لیے چوپایوں میں ایک مقرر میعاد تک فائدے ہیں پھر ان کا پہنچنا ہے اِس آزاد گھر تک۔ اور ہر اُمت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقررکی کہ اﷲ (عزوجل) کا نا م ذکر کریں، اُن بے زبان چو پایوں پر جو اُس نے انھیں دیے۔
اور فرماتا ہے:
(وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللہِ لَکُمْ فِیۡہَا خَیۡرٌ ٭ۖ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَیۡہَا صَوَآفَّ ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوۡبُہَا فَکُلُوۡا مِنْہَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرْنٰہَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ ﴿۳۶﴾لَنۡ یَّنَالَ اللہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنۡکُمْ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمْ ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۳۷﴾ ) (3)
اور قربانی کے اونٹ، گائے ہم نے تمھارے لیے اﷲ (عزوجل) کی نشانیوں سے کیے، تمھارے لیے ان میں بھلائی ہے تو اُن پر اﷲ (عزوجل) کا نام لو، ایک پاؤں بندھے، تین پاؤں سے کھڑے پھر جب اُن کی کروٹیں گر جائیں تو اُن میں سے خود کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور بھیک مانگنے والے کو کھلاؤ۔ یوہیں ہم نے ان کو تمھارے قابو میں کردیا کہ تم احسان مانو، اﷲ (عزوجل) کو ہر گز نہ اُن کے گوشت پہنچتے ہیں، نہ اُن کے خون، ہاں اُس تک تمھاری پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ یوہیں اُن کو تمھارے قابو میں کردیا کہ تم اﷲ (عزوجل) کی بڑائی بولو، اُس پر کہ اُس نے تمھیں ہدایت فرمائی اور خوشخبری پہنچا دو نیکی کرنے والوں کو۔
1 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر ، ج۴، ص۴۱.
2 ۔پ۱۷، الحج: ۳۲۔۳۴.
3 ۔پ۱۷، الحج: ۳۶۔۳۷.
حدیث ۱: صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہتی ہیں: میں نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار اپنے ہاتھ سے بنائے پھر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اُن کے گلوں میں ڈالے اور اُن کے کوہان چیرے اور حرم کو روانہ کیں۔ (1)
حدیث ۲: صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ایک گائے ذبح فرمائی۔ اور دوسری روایت میں ہے۔ کہ ازواجِ مُطہرات کی طرف سے حج میں گائے ذبح کی۔ (2)
حدیث ۳: صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا: کہ ''جب تو مجبور ہو جائے تو ہدی پر معروف کے ساتھ سوار ہو، جب تک دوسری سواری نہ ملے۔'' (3)
حدیث ۴: صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سولہ اونٹ ایک شخص کے ساتھ حرم کو بھیجے۔ انھوں نے عرض کی، ان میں سے اگر کوئی تھک جائے تو کیا کروں؟ فرمایا: ''اُسے نحر کردینا اور خون سے اُس کے پاؤ ں رنگ دینا اور پہلو پر اُسکا چھاپا لگا دینا اور اس میں سے تم اور تمھارے ساتھیوں میں سے کوئی نہ کھائے۔'' (4)
حدیث ۵: صحیحین میں علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے جانور وں پر مامور فرمایا اور مجھے حکم فرمایا: کہ ''گوشت اور کھالیں اور جُھول تصدق کردوں اور قصاب کو اس میں سے کچھ نہ دوں۔ فرمایا کہ ہم اُسے اپنے پاس سے دیں گے۔'' (5)
حدیث ۶: ابوداود عبداﷲ بن قرط رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ پانچ یا چھ اونٹ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں قربانی کے لیے پیش کیے گئے، وہ سب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے قریب ہونے لگے کہ کس سے شروع فرمائیں (یعنی ہر
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب استحباب بحث الھدی إلی الحرم ...إلخ، الحدیث: ۳۶۲۔(۱۳۲۱)، ص۶۸۶.
2 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب جواز الاشتراک فی الھدی ...إلخ، الحدیث: ۳۵۶۔(۱۳۱۹)،۳۵۷(۱۳۱۹)، ص۶۸۴،۶۸۵.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب جواز رکوب البدنۃ ...إلخ، الحدیث: ۱۳۲۴، ص۶۸۸.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب مایفعل بالھدی إذا عطب فی الطریق، الحدیث: ۱۳۲۵، ص۶۸۸.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب الصدقۃ بلحوم الھدی ...إلخ، الحدیث: ۱۳۱۷، ص۶۸۳.
ایک کی یہ خواہش تھی کہ پہلے مجھے ذبح فرمائیں یا اس لیے کہ پہلے جسے چاہیں ذبح فرمائیں) پھر جب اُن کی کروٹیں زمین سے لگ گئیں تو فرمایا: ''جو چاہے ٹکڑا لے لے۔'' (1)
مسئلہ ۱: ہَدی اُس جانور کو کہتے ہیں جو قربانی کے لیے حرم کو لے جایا جائے۔ یہ تین قسم کے جانور ہیں: 1 بکری، اس میں بھیڑ اور دُنبہ بھی داخل ہے۔ 2 گائے، بھینس بھی اسی میں شمار ہے۔ 3 اونٹ ہَدی کا ادنیٰ درجہ بکری ہے تو اگر کسی نے حرم کو قربانی بھیجنے کی منّت مانی اور معیّن نہ کی تو بکری کافی ہے۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: قربانی کی نیت سے بھیجا یا لے گیا جب تو ظاہر ہے کہ قربانی ہے اور اگر بَدنہ کے گلے میں ہار ڈال کر ہانکا جب بھی ہَدی ہے اگرچہ نیت نہ ہو۔ اس لیے کہ اس طرح قربانی ہی کو لے جاتے ہیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: قربانی کے جانور میں جو شرطیں ہیں وہ ہدی کے جانور میں بھی ہیں مثلاً اونٹ پانچ سال کا، گائے دو۲سال کی، بکری ایک سال کی مگر بھیڑ دُنبہ چھ۶ مہینے کا اگر سا ل بھر والی کی مثل ہو تو ہو سکتا ہے اور اونٹ گائے میں یہاں بھی سات آدمی کی شرکت ہوسکتی ہے۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴: اونٹ، گائے کے گلے میں ہار ڈال دینا مسنون ہے اور بکری کے گلے میں ہار ڈالنا سنت نہیں مگر صرف شکرانہ یعنی تمتع و قِران اور نفل اور منّت کی قربانی میں سنت ہے، احصار اور جرمانہ کے دَم میں نہ ڈالیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: ہَدی اگر قِران یا تَمتّع کا ہو تو اس میں سے کچھ کھا لینا بہتر ہے۔ یوہیں اگر نفل ہو اور حرم کو پہنچ گیا ہو اور اگر حرم کو نہ پہنچا تو خود نہیں کھا سکتا، فقرا کا حق ہے اور ان تین کے علاوہ نہیں کھا سکتا اور جسے خود کھا سکتا ہے، مالداروں کو بھی کھلا سکتا ہے، نہیں تو نہیں اور جس کو کھا نہیں سکتا اس کی کھال وغیرہ سے بھی نفع نہیں لے سکتا۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۶: تَمتّع و قران کی قربانی دسویں سے پہلے نہیں ہوسکتی اور دسویں کے بعد کی تو ہو جائے گی مگر دَم لازم ہے کہ تاخیر جائز نہیں اور ان دو۲ کے علاوہ کے لیے کوئی دن معیّن نہیں اور بہتر دسویں ہے۔ حرم میں ہونا سب میں ضروری ہے، منیٰ کی
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب المناسک، ۱۸۔باب ، الحدیث: ۱۷۶۵، ج۲، ص۲۱۱.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الھدی، ج۴، ص۴۱، وغیرہ.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الھدی، ج۴، ص۴۲.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الھدی، ج۴، ص۴۲، وغیرہ.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السادس عشر في الھدی، ج۱، ص۲۶۱.
6 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الحج، باب الھدی، ج۴، ص۴۵.
خصوصیت نہیں ہاں دسویں کو ہو تو منیٰ میں ہونا سنت ہے اور دسویں کے بعد مکہ میں۔ منّت کے بدنہ کا حرم میں ذبح ہونا شرط نہیں جبکہ منّت میں حرم کی شرط نہ لگائی۔ (1) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۷: ہَدی کا گوشت حرم کے مساکین کو دینا بہتر ہے، اس کی نکیل اور جُھول کو خیرات کردیں اور قصاب کو اس کے گوشت میں سے کچھ نہ دیں۔ ہاں اگر اُسے بطور تصدق دیں تو حرج نہیں۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۸: ہَدی کے جانور پر بلا ضرورت سوار نہیں ہو سکتا نہ اس پر سامان لاد سکتا ہے اگرچہ نفل ہو اور ضرورت کے وقت سوار ہوا یا سامان لادا اور اس کی وجہ سے اُس میں کچھ نقصان آیا تو اتنا محتاجوں پر تصدّق کرے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: اگر وہ دودھ والا جانور ہے تو دودھ نہ دوہے اور تھن پر ٹھنڈا پانی چھڑک دیا کرے کہ دودھ موقوف ہو جائے اور اگر ذبح میں وقفہ ہو اور نہ دوہنے سے ضرر ہوگا تو دوہ کر دودھ خیرات کر دے اور اگر خود کھا لیا یا غنی کو دیدیا یا ضائع کر دیا تو اتنا ہی دودھ یا اس کی قیمت مساکین پر تصدّق کرے۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: اگر وہ بچہ جنی تو بچہ کو تصدق کردے یا اُسے بھی اُس کے ساتھ ذبح کردے اور اگر بچہ کو بیچ ڈالا یا ہلاک کر دیا تو قیمت کو تصدق کر ے اور اس قیمت سے قربانی کا جانور خرید لیا تو بہتر ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: غلطی سے اُس نے دوسرے کے جانور کو ذبح کردیا اور دوسرے نے اُس کے جانور کو تو دونوں کی قربانیاں ہوگئیں۔ (6) (منسک)
مسئلہ ۱۲: اگر جانور حرم کو لے جا رہاتھا راستہ میں مرنے لگا تو اُسے وہیں ذبح کر ڈالے اور خون سے اُس کا ہار رنگ دے اور کوہان پر چھاپا لگادے تاکہ اُسے مالدار لوگ نہ کھائیں، فقرا ہی کھائیں پھر اگر وہ نفل تھا تو اُس کے بدلے کا دوسرا جانور لے جانا ضرور نہیں اور اگر واجب تھا تو اس کے بدلے کا دوسرا لے جانا واجب ہے اور اگر اس میں کوئی ایسا عیب آگیا کہ قربانی
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الھدی، ج۴، ص۴۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السادس عشر في الھدی، ج۱، ص۲۶۱.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحج، باب الھدی، ج۴، ص۴۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السادس عشر في الھدی، ج۱، ص۲۶۱.
4 ۔ المرجع السابق. و ''ردالمحتار'' کتاب الحج، باب الہدی، ج۴، ص۴۸.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السادس عشر في الھدی، ج۱، ص۲۶۱.
6 ۔ ''لباب المناسک''، (باب الھدایا)، ص۴۷۴.
کے قابل نہ رہا تو اسے جو چاہے کرے اور اُس کے بدلے دوسرا لے جائے جب کہ واجب ہو۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۳: جانور حرم کو پہنچ گیا اور وہاں مرنے لگا تو اسے ذبح کر کے مساکین پر تصدق کرے اور خود نہ کھائے اگرچہ نفل ہو اور اگر اس میں تھوڑا سا نقصان پیدا ہوا ہے کہ ابھی قربانی کے قابل ہے تو قربانی کرے اور خود بھی کھا سکتا ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: جانور چوری گیا اُس کے بدلے کا دوسرا خریدا اور اُسے ہار ڈال کر لے چلا پھر وہ مل گیا تو بہتر یہ ہے کہ دونوں کی قربانی کردے اور اگر پہلے کی قربانی کی اور دوسرے کو بیچ ڈالا تو یہ بھی ہو سکتا ہے اور اگر پچھلے کو ذبح کیا اور پہلے کو بیچ ڈالا تو اگر وہ اُس کی قیمت میں برابر تھا یا زیادہ تو کافی ہے اور کم ہے تو جتنی کمی ہوئی صدقہ کر دے۔ (3) (عالمگیری)
حج کی منت مانی تو حج کرنا واجب ہوگیا، کفارہ دینے سے بری الذمّہ نہ ہوگا۔ خواہ یوں کہا کہ اﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر حج ہے یا کسی کام کے ہونے پر حج کو مشروط کیا اور وہ ہوگیا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: احرام باندھنے یا کعبہ معظمہ یا مکہ مکرمہ جانے کی منّت مانی تو حج یا عمرہ اُس پر واجب ہے اور ایک کو معین کرلینا اُس کے ذمہ ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: پیدل حج کرنے کی منّت مانی تو واجب ہے کہ گھر سے طوافِ فرض تک پیدل ہی رہے اور پورا سفر یا اکثر سواری پر کیا تو دَم دے اور اگر اکثر پیدل رہا اور کچھ سواری پر تو اسُی حساب سے بکری کی قیمت کا جتناحصہ اس کے مقابل آئے خیرات کرے۔ پیدل عمرہ کی منّت مانی تو سر مونڈانے تک پیدل رہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: ایک سال میں جتنے حج کی منّت مانی سب واجب ہوگئے۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الحج، باب الہدی، ج۴، ص۴۹، وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السادس عشر في الھدی، ج۱، ص۲۶۱.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السابع عشر في النذر بالحج، ج۱، ص۲۶۲.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الھدی، ج۴، ص۵۲.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السابع عشر في النذر بالحج، ج۱، ص۲۶۳.
مسئلہ ۴: لونڈی غلام مُحرِم کو خریدنا جائز ہے اور مشتری کو اختیار ہے کہ احرام توڑوا دے اگرچہ انھوں نے اپنے پہلے مولیٰ کی اجازت سے احرام باندھے ہوں اور احرام توڑنے کے لیے فقط یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ احرام توڑ دیا بلکہ کوئی ایسا کام کرنا ضروری ہے جو احرام میں منع تھا مثلاً بال یا ناخن تر شوانا یا خوشبو لگانا۔ اِس کی ضرورت نہیں کہ حج کے افعال بجا لا کر احرام توڑے اور قربانی بھیجنا بھی ضروری نہیں مگر آزادی کے بعد قربانی اور حج و عمرہ واجب ہے اگر حج کا احرام تھا اور عمرہ اگر عمرہ کا احرام تھا۔ (1) (درمختارردالمحتار)
مسئلہ ۵: افضل یہ ہے کہ اس خریدی ہوئی لونڈی کا احرام جماع کے علاوہ کسی اور چیز سے کھلوا دے اور جماع سے بھی احرام کھل جائے گا مگر جب کہ اُسے یہ معلوم نہ ہو کہ احرام سے ہے اور جماع کرلیا تو حج فاسد ہو جائے گا۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: اگر مولیٰ نے احرام کھلوا دیا پھر اس نے باندھا پھر کھلوا دیا، اگر چند بار اسی طرح ہوا پھر اسی سال احرام باندھ کر حج کر لیا تو کافی ہو گیا اوراگر سال آئندہ میں حج کیا تو ہر بار احرام کھولنے کا ایک ایک عمرہ کرے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: احرام کی حالت میں نکاح ہو سکتا ہے کسی احرام والی عورت سے نکاح کیا تو اگر نفل کا احرام ہے کھلوا سکتا ہے اور فرض کا ہے تو دو صورتیں ہیں۔ اگر عورت کا محرم ساتھ میں ہے تو نہیں کھلوا سکتا اور محرم ساتھ میں نہ ہو تو فرض کا احرام بھی کھلوا سکتا ہے اور اگر اس کا مُحرمہ ہونا معلوم نہ ہو اور جماع کر لیا تو حج فاسد ہوگیا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: مسافر خانہ بنانا، حج نفل سے افضل ہے اورحج نفل صدقہ سے افضل یعنی جب کہ اس کی زیادہ حاجت نہ ہو ورنہ حا جت کے وقت صدقہ حج سے افضل ہے۔
علامہ شامی نے نہایت نفیس حکایت اس بیان میں نقل فرمائی کہ ایک صاحب ہزار اشرفیاں لےکر حج کو جارہے تھے، ایک سیّدانی تشریف لائیں اوراپنی ضرورت ظاہر فرمائی۔ انھوں نے سب اشرفیاں نذر کر دیں اور واپس آئے، جب وہاں کے لوگ حج سے واپس ہوئے تو ہر حاجی ان سے کہنے لگا، اﷲ (عزوجل) تمہارا حج قبول فرمائے۔ انھیں تعجب ہو ا کہ کیا معاملہ ہے، میں تو حج کو گیا نہیں، یہ لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ خواب میں زیارتِ اقدس سے مشرف ہوئے، ارشاد فرمایا: کیا تجھے لوگوں کی بات سے تعجب ہوا؟ عرض کی، ہاں یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرمایا کہ: ''تو نے جو میری اہلبیت کی خدمت کی، اس کی عوض میں اﷲ
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الھدی، ج۴، ص۵۲.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الھدی، ج۴، ص۵۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السابع عشر في النذر بالحج ، ج۱، ص۲۶۴.
4 ۔ المر جع السابق.
عزوجل نے تیری صورت کا ایک فرشتہ پیدا فرمایا، جس نے تیری طرف سے حج کیا اور قیامت تک حج کرتا رہے گا۔'' (1)
مسئلہ ۹: حج تمام گناہوں کا کفارہ ہے یعنی فرائض کی تاخیر کا جو گناہ اس کے ذمہ ہے وہ انشا ء اﷲ تعالیٰ محو ہو جائے گا، واپس آکر ادا کرنے میں پھر دیر کی تو پھر یہ نیا گناہ ہوا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: وقوفِ عرفہ جمعہ کے دن ہو تو اس میں بہت ثواب ہے کہ یہ دو عیدوں کا اجتماع ہے اور اسی کو لوگ حجِ اکبر کہتے ہیں۔
اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا زِیَارَۃَ حَـرَمِـکَ وَحَـرَمِ حَبِیْبِکَ بِجَاھِـہٖ عِنْدَکَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَابْنِہٖ وَحِزْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ؕ
حدیث ۱: صحیح مسلم و تر مذی میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''مدینہ کی تکلیف و شدّت پر میری اُمت میں سے جو کوئی صبر کرے، قیامت کے دن میں اس کا شفیع ہوں گا۔'' (3)
حدیث ۲ و ۳: نیزمسلم میں سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''مدینہ لوگوں کے لیے بہتر ہے اگر جانتے، مدینہ کو جو شخص بطور اعراض چھوڑے گا، اﷲ تعالیٰ اس کے بدلے میں اُسے لائے گا جو اس سے بہتر ہوگا اور مدینہ کی تکلیف و مشقت پر جو ثابت قدم رہے گا روزِ قیامت میں اس کا شفیع یا شہید ہو ں گا۔'' (4)
اور ایک روایت میں ہے، ''جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کریگا، اﷲ (عزوجل) اُسے آگ میں اس طرح پگھلائے گا جیسے سیسہ یا اس طرح جیسے نمک پانی میں گُھل جاتا ہے۔'' (5) اسی کی مثل بزار نے عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۴: صحیحین میں سفیان بن ابی زہیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں، میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الحج، باب الھدی، مطلب في تفصیل الحج علی الصدقۃ، ج۴، ص۵۴.
2 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الحج، باب الھدی، مطلب في تکفیر الحج الکبائر، ج۴، ص۵۶.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب الترغیب فی سکنی المدینۃ ...إلخ، الحدیث: ۱۳۷۸، ص۷۱۶.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب فی فضل المدینۃ ...إلخ، الحدیث: ۱۳۶۳، ص۷۰۹.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب فی فضل المدینۃ ...إلخ، الحدیث: ۴۶۰۔(۱۳۶۳)، ص۷۱۰.
فرماتے سُنا: کہ ''یمن فتح ہوگا، اس وقت کچھ لوگ دوڑتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور ان کو جو اُن کی اطاعت میں ہیں لے جائیں گے حالانکہ مدینہ اُن کے لیے بہتر ہے اگر جانتے۔ اور شام فتح ہوگا کچھ لوگ دوڑتے آئیں گے اپنے گھر والوں اور فرمانبرداروں کو لے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر جانتے۔ اور عراق فتح ہوگا کچھ لوگ جلدی کرتے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور فرمانبرداروں کو لے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر جانتے۔'' (1)
حدیث ۵: طبرانی کبیر میں ابی اُسید ساعدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہمراہ حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی قبر پر حاضر تھے (ان کے کفن کے لیے صرف ایک کملی تھی) جب لوگ اسے کھینچ کر اُن کا مونھ چھپاتے قدم کھل جاتے اور قدم پر ڈالتے تو چہرہ کھل جاتا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اس کملی سے مونھ چھپا دو اور پاؤں پر یہ گھاس ڈال دو۔'' پھر حضور( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے سر اقدس اٹھایا، صحابہ کو روتا پایا۔ ارشاد فرمایا: ''لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ سر سبز ملک کی طرف چلے جائیں گے، وہاں کھانا اور لباس اور سواری انھیں ملے گی پھر وہاں سے اپنے گھر والوں کو لکھ بھیجیں گے کہ ہمارے پاس چلے آؤ کہ تم حجاز کی خشک زمین پر پڑے ہو حالانکہ مدینہ اُن کے لیے بہتر ہے اگر جانتے۔'' (2)
حدیث ۶ تا ۸: ترمذی و ابن ماجہ و ابن حبان و بیہقی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس سے ہو سکے کہ مدینہ میں مرے تو مدینہ ہی میں مرے کہ جو شخص مدینہ میں مرے گا، میں اُس کی شفاعت فرماؤں گا۔'' (3) اور اسی کی مثل صمیتہ اور سبیعہ اسلمیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی۔
حدیث ۹: صحیح مسلم وغیرہ میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ لوگ جب شروع شروع پھل دیکھتے، اُسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر لاتے، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اسے لے کر یہ کہتے: الٰہی! تو ہمارے لیے ہماری کھجوروں میں برکت دے اور ہمارے لیے ہمارے مدینہ میں برکت کر اور ہمارے صاع و مُد میں برکت کر، یا اﷲ! (عزوجل) بے شک ابراہیم تیرے بندے اور تیرے خلیل اور تیرے نبی ہیں اور بے شک میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں۔ انھوں نے مکہ کے لیے
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب فضائل المدینۃ، باب من رغب عن المدینۃ، الحدیث: ۱۸۷۵، ج۱، ص۶۱۸.
2 ۔ ''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۵۸۷، ج۱۹، ص۲۶۵.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب المناقب، باب ماجاء فی فضل المدینۃ، الحدیث: ۳۹۴۳، ج۵، ص۴۸۳.
تجھ سے دُعا کی اور میں مدینہ کے لیے تجھ سے دُعا کرتا ہوں، اُسی کی مثل جس کی دعا مکہ کے لیے انھوں نے کی اور اتنی ہی اور (یعنی مدینہ کی برکتیں مکہ سے دوچند ہوں)۔ پھر جو چھوٹا بچہ سا منے ہوتا اُسے بلاکر وہ کھجور عطا فرما دیتے۔ (1)
حدیث ۱۰ تا ۱۳: صحیح مسلم میں اُم المو منین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''یا اﷲ! (عزوجل) تو مدینہ کو ہمارا محبوب بنادے جیسے ہم کو مکہ محبوب ہے بلکہ اس سے زیادہ اور اُس کی آب و ہوا کو ہمارے لیے درست فرما دے اور اُس کے صاع و مُد میں برکت عطا فرما اور یہاں کے بخار کو منتقل کرکے جحفہ میں بھیج دے۔'' (2)
(یہ دعا اُس وقت کی تھی، جب ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائے اور یہاں کی آب و ہوا صحابہ کرام کو ناموافق ہوئی کہ پیشتر یہاں وبائی بیماریاں بکثرت ہوتیں) یہ مضمون کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے مدینہ طیبہ کے واسطے دعا کی کہ مکہ سے دوچند یہاں برکتیں ہوں۔(3) مولیٰ علی و ابو سعید و انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے مروی۔
حدیث ۴ا: صحیح بخاری و مسلم میں سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص اہلِ مدینہ کے ساتھ فریب کریگا، ایسا گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔'' (4)
حدیث ۱۵: ابن حبان اپنی صحیح میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو اہلِ مدینہ کو ڈرائے گا، اﷲ (عزوجل) اُسے خوف میں ڈالے گا۔'' (5)
حدیث ۱۶ و ۱۷: طبرانی عُبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اﷲ (عزوجل) !جو اہلِ مدینہ پر ظلم کرے اور انھیں ڈرائے تو اُسے خوف میں مبتلا کر اور اس پر اﷲ (عزوجل) اور فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت اور اس کا نہ فرض قبول کیا جائے، نہ نفل۔'' (6) اسی کی مثل نسائی و طبرانی نے سائب بن خلاد رضی اﷲ عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۱۸: طبرانی کبیر میں عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ ...إلخ، الحدیث: ۱۳۷۳، ص۷۱۳.
2 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب الترغیب فی سکنی المدینۃ ...إلخ، الحدیث: ۱۳۷۶، ص۷۱۵.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب الترغیب فی سکنی المدینۃ ...إلخ، الحدیث: ۱۳۷۴، ص۷۱۳.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب فضائل المدینۃ، باب اثم من کاد اھل المدینۃ، الحدیث: ۱۸۷۷، ج۱، ص۶۱۸.
5 ۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ، الحدیث: ۳۷۳۰، ج۶، ص۲۰.
6 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، الحدیث: ۳۵۸۹، ج۲، ص۳۷۹.
اہل مدینہ کو ایذا دے گا، اﷲ (عزوجل) اُسے ایذادے گا اور اس پر اﷲ (عزوجل) اور فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت اور اس کا نہ فرض قبول کیا جائے، نہ نفل۔'' (1)
حدیث ۱۹: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مجھے ایک ایسی بستی کی طرف (ہجرت) کا حکم ہوا جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی (سب پر غالب آئے گی) لوگ اسے یثرب(2) کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے، لوگوں کو اس طرح پاک و صاف کرے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو۔'' (3)
حدیث ۲۰: صحیحین میں انھیں سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مدینہ کے راستوں پر فرشتے (پہرا دیتے ہیں) اس میں نہ دجال آئے، نہ طاعون۔'' (4)
حدیث ۲۱: صحیحین میں انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مکہ و مدینہ کے سوا کوئی شہر ایسا نہیں کہ وہاں دجال نہ آئے، مدینہ کا کوئی راستہ ایسا نہیں جس پر ملائکہ پرا باندھ کر پہرا نہ دیتے ہوں، دجال (قریب مدینہ) شور زمین میں آکر اُترے گا، اس وقت مدینہ میں تین زلزلے ہوں گے جن سے ہر کافرو منافق یہاں سے نکل کر دجال کے پاس چلا جائے گا۔'' (5)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾ ) (6)
1 ۔ ''مجمع الزوائد''، کتاب الحج، باب فیمن اخاف اھل المدینۃ ...إلخ، الحدیث: ۵۸۲۶، ج۳، ص۶۵۹.
2 ۔ہجرت سے پیشتر لوگ یثرب کہتے تھے مگر اس نام سے پکارنا جائز نہیں کہ حدیث میں اس کی ممانعت آئی، بعض شاعر اپنے اشعار میں مدینہ طیبہ کو یثرب لکھا کرتے ہیں انھیں اس سے احتراز لازم اور ایسے شعرکو پڑھیں تو اس لفظ کی جگہ طیبہ پڑھیں کہ یہ نام حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے رکھا ہے، بلکہ صحیح مسلم شریف میں ہے، کہ اﷲ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے۔۱۲ منہ حفظہ ربہ.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب فضائل المدینۃ، باب فضل المدینۃ ...إلخ، الحدیث: ۱۸۷۱، ج۱، ص۶۱۷.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب صیانۃ المدینۃ من دخول الطاعون ...إلخ، الحدیث: ۱۳۷۹، ص۷۱۶.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الفتن ...إلخ، باب قصۃ الجساسۃ، الحدیث: ۲۹۴۳، ص۱۵۷۷.
6 ۔ پ۵، النساء: ۶۴.
اگر لوگ اپنی جانوں پر ظلم کریں اور تمھارے حضور حاضر ہو کر اﷲ (عزوجل) سے مغفرت طلب کریں اور رسول بھی اُن کے لیے استغفار کریں تو اﷲ (عزوجل) کو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا پائیں گے۔
حدیث ۱: دار قطنی و بیہقی وغیرہما عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو میری قبر کی زیارت کرے، اس کے لیے میری شفاعت واجب۔'' (1)
حدیث ۲: طبرانی کبیر میں اُنھیں سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو میری زیارت کو آئے سوا میری زیارت کے اور کسی حاجت کے لیے نہ آیا تو مجھ پر حق ہے کہ قیامت کے دن اُس کا شفیع بنوں۔'' (2)
حدیث ۳: دارقطنی و طبرانی اُنھیں سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے حج کیا اور بعد میری وفات کے میری قبر کی زیارت کی تو ایسا ہے جیسے میری حیات میں زیارت سے مشرف ہوا۔'' (3)
حدیث ۴: بیہقی نے حاطب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی تو گویا اُس نے میری زندگی میں زیارت کی اور جو حرمین میں مرے گا، قیامت کے دن امن والوں میں اُٹھے گا۔'' (4)
حدیث ۵: بیہقی عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو میں نے فرماتے سُنا: ''جو شخص میری زیارت کریگا، قیامت کے دن میں اُس کا شفیع یا شہید ہوں گا اور جو حرمین میں مرے گا، اﷲ تعالیٰ اُسے قیامت کے دن امن والوں میں اُٹھائے گا۔'' (5)
حدیث ۶: ابن عدی کا مل میں اُنھیں سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی، اُس نے مجھ پر جفا کی۔'' (6)
(۱) زیارتِ اقدس قریب بواجب ہے۔ بہت لوگ دوست بن کر طرح طرح ڈراتے ہیں راہ میں خطر ہے، وہاں
1 ۔ ''سنن الدار قطني''، کتاب الحج، باب المواقیت، الحدیث: ۲۶۶۹، ج۲، ص۳۵۱.
2 ۔ ''المعجم الکبیر'' للطبراني، باب العین، الحدیث: ۱۳۱۴۹، ج۱۲، ص۲۲۵.
3 ۔ ''سنن الدار قطني''، کتاب الحج، باب المواقیت، الحدیث: ۲۶۶۷، ج۲، ص۳۵۱.
4 ۔ ''شعب الإیمان''، باب فی المناسک، فضل الحج و العمرۃ، الحدیث: ۴۱۵۱، ج۳، ص۴۸۸.
5 ۔ ''السنن الکبری'' للبیہقي، کتاب الحج، باب زیارۃ قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۱۰۲۷۳، ج۵، ص۴۰۳.
6 ۔ ''الکامل فی ضعفاء الرجال''، الحدیث: ۱۹۵۶،ج۸، ص۲۴۸، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما .
بیماری ہے، یہ ہے، وہ ہے۔ خبردار! کسی کی نہ سُنو اور ہرگز محرومی کا داغ لے کر نہ پلٹو۔ جان ایک دن ضرور جانی ہے، اس سے کیا بہتر کہ اُن کی راہ میں جائے اور تجر بہ ہے کہ جو اُن کا دامن تھام لیتا ہے، اُسے اپنے سایہ میں بآرام لے جاتے ہیں، کیل کا کھٹکا نہیں ہوتا۔ ؎
ہم کو تو اپنے سایہ میں آرام ہی سے لائے حیلے بہانے والوں کو یہ راہ ڈر کی ہے
والحمدﷲ (۲) حاضری میں خالص زیارت اقدس کی نیت کرو، یہاں تک کہ امام ابن الہمام فرماتے ہیں: اِس بار مسجد شریف کی نیت بھی شریک نہ کرے۔ (1)
(۳) حج اگر فرض ہے تو حج کرکے مدینہ طیبہ حاضر ہو۔ ہاں اگر مدینہ طیبہ راستہ میں ہو تو بغیر زیارت حج کو جانا سخت محرومی و قساوت قلبی ہے اور اس حاضری کو قبولِ حج و سعادت دینی و دنیوی کے لیے ذریعہ و وسیلہ قرار دے اور حج نفل ہو تو اختیار ہے کہ پہلے حج سے پاک صاف ہو کر محبوب کے دربار میں حاضر ہو یا سرکار میں پہلے حاضری دے کر حج کی مقبولیت و نورانیت کے لیے وسیلہ کرے۔ غرض جو پہلے اختیار کرے اسے اختیار ہے مگر نیت خیر درکار ہے کہ :
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَلِکُلِّ امْرِئٍ مَّانَویٰ . (2)
اعمال کامدار نیت پر ہے اور ہر ایک کے لیے وہ ہے، جو اُس نے نیت کی۔
(۴) راستے بھر درود و ذِکر شریف میں ڈوب جاؤ اور جس قدر مدینہ طیبہ قریب آتا جائے، شوق وذوق زیادہ ہوتا جائے۔
(۵) جب حرم مدینہ آئے بہتر یہ کہ پیادہ ہو لو، روتے، سر جھکائے، آنکھیں نیچی کیے، درود شریف کی اورکثرت کرو اور ہوسکے تو ننگے پاؤں چلو بلکہ ؎
جائے سرست اینکہ تو پامی نہی پائے نہ بینی کہ کجا می نہی
حرم کی زمین اور قدم رکھ کے چلنا ارے سر کا موقع ہے او جانے والے
جب قبہ انور پر نگاہ پڑے، درود سلام کی خوب کثرت کرو۔
(۶) جب شہر اقدس تک پہنچو، جلال و جمال محبوب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے تصور میں غرق ہو جاؤ اور دروازہ شہر میں داخل ہوتے وقت پہلے دہنا قدم رکھو اور پڑھو:
1 ۔''فتح القدیر''، کتاب الحج، مسائل منثورۃ، ج۳، ص۹۴.
2 ۔ ''صحیح البخاری''، ]کتاب بدء الوحی[ الحدیث: ۱،ج۱، ص۵۔
بِسْمِ اللہِ مَاشَآءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ ' اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَارْزُقْنِیْ مِنْ زِیَارَۃِ رَسُوْلِکَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا رَزَقْتَ اَوْلِیَآ ئَکَ وَاَھْلَ طَاعَـتِکَ وَانْقِذْنِیْ مِنَ النَّارِ وَاغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ یَا خَیْرَ مَسْئُوْلٍ . (1)
(۷) حاضری مسجد سے پہلے تمام ضروریات سے جن کا لگاؤ دل بٹنے کا باعث ہو، نہایت جلد فارغ ہو ان کے سوا کسی بیکار بات میں مشغول نہ ہو معاً وضو و مسواک کرو اور غسل بہتر، سفید پاکیزہ کپڑے پہنو اور نئے بہتر، سُر مہ اور خوشبو لگاؤ اور مشک افضل۔
(۸) اب فوراً آستانہ اقدس کی طرف نہایت خشوع و خضو ع سے متوجہ ہو، رونا نہ آئے تو رونے کا مونھ بناؤ اور دل کو بزور رونے پر لاؤ اور اپنی سنگ دلی سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف التجا کرو۔
(۹) جب درِ مسجد پر حاضر ہو، صلوۃ و سلام عرض کرکے تھوڑا ٹھہرو جیسے سرکار سے حاضری کی اجازت مانگتے ہو، بِسْمِ اﷲ کہہ کر سیدھا پاؤں پہلے رکھ کر ہمہ تن ادب ہو کر داخل ہو۔
(۱۰) اس وقت جو ادب و تعظیم فرض ہے ہر مسلمان کا دل جانتا ہے آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں، دل سب خیال غیر سے پاک کرو، مسجد اقدس کے نقش و نگار نہ دیکھو۔
(۱۱) اگر کوئی ایسا سامنے آئے جس سے سلام کلام ضرور ہو تو جہاں تک بنے کترا جاؤ، ورنہ ضرورت سے زیادہ نہ بڑھو پھر بھی دل سرکار ہی کی طرف ہو۔
(۱۲) ہرگز ہرگز مسجد اقدس میں کوئی حرف چِلّا کر نہ نکلے۔
(۱۳) یقین جانو کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سچی حقیقی دنیاوی جسمانی حیات سے ویسے ہی زندہ ہیں جیسے وفات شریف سے پہلے تھے، اُن کی اور تما م انبیا علیھم الصّلاۃ و السلام کی موت صرف وعدہ خدا کی تصدیق کو ایک آن کے لیے تھی، اُن کا انتقال صرف نظر عوام سے چُھپ جانا ہے۔ امام محمد ابن حاج مکی مدخل اور امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ میں اور ائمہ دین رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیھم اجمعین
1 ۔ اﷲ (عزوجل) کے نام سے میں شروع کرتا ہوں جو اﷲ (عزوجل) نے چاہا، نیکی کی طاقت نہیں مگر اﷲ(عزوجل)سے، اے رب! سچائی کے ساتھ مجھ کو داخل کر اور سچائی کے ساتھ باہر لے جا۔ الٰہی! تو اپنی رحمت کے دروازے میرے لیے کھول دے اور اپنے رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت سے مجھے وہ نصیب کر جو اپنے اولیاء اور فرمانبردار بندوں کے لیے تو نے نصیب کیا اورمجھے جہنم سے نجات دے اور مجھ کو بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، اے بہتر سوال کیے گئے۔۱۲
فرماتے ہیں:
لَا فَرْقَ بَیْنَ مَوْتِہٖ وَحَیَا تِہٖ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ مُشَاھِدَتِہٖ لِاُمَّتِہٖ وَمَعْرِفَتِہٖ بِاَحْوَالِھِمْ ونِیَاتِہِمْ وَعَزَائِمِھِمْ وَخَوَاطِرِھِمْ وَذٰلِکَ عِنْدَہٗ جَلِیٌّ لَا خِفَاءَ بِہٖ . (1)
ترجمہ: حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی اُمت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں، اُن کی نیتوں، اُن کے ارادوں، اُن کے دلوں کے خیالوں کو پہچانتے ہیں اور یہ سب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایساروشن ہے جس میں اصلاً پوشیدگی نہیں۔
امام رحمہ اللہ تلمیذ اما م محقق ابن الہمام'' منسک متوسط '' اور علی قاری مکی اس کی شرح ''مسلک متقسط'' میں فرماتے ہیں:
وَاَنَّہٗ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَالِمٌ بِحُضُوْرِکَ وَقِـیَامِکَ وَسَلَامِکَ اَيْ بَلْ بِجَمِیْعِ اَفْعَالِکَ وَاَحْوَالِکَ وَارْتِحَالِکَ وَمَقَامِکَ . (2)
ترجمہ: بے شک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تیری حاضری اور تیرے کھڑے ہونے اور تیرے سلام بلکہ تیرے تمام افعال و احوال و کوچ و مقام سے آگاہ ہیں۔
(۱۴) اب اگر جماعت قائم ہو شریک ہو جاؤ کہ اس میں تحیۃ المسجد بھی ادا ہوجائے گی، ورنہ اگر غلبہ شوق مہلت دے اور وقت کراہت نہ تو دو رکعت تحیۃ المسجد و شکرانہ حاضری دربارِ اقدس صرف قُلْ یَا اور قُلْ ھُوَ اللہُ سے بہت ہلکی مگر رعایت سنت کے ساتھ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ جہاں اب وسطِ مسجد کریم میں محراب بنی ہے اور وہاں نہ ملے تو جہاں تک ہوسکے اُس کے نزدیک ادا کرو پھر سجدہ شکر میں گرو اور دعا کرو کہ الٰہی! اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ادب اور اُن کا اور اپنا قبول نصیب کر، آمین۔
(۱۵) اب کمال ادب میں ڈوبے ہوئے گردن جھکائے، آنکھیں نیچی کیے، لرزتے، کانپتے، گناہوں کی ندامت سے پسینہ پسینہ ہوتے حضور پُر نور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے عفو و کرم کی امید رکھتے، حضورِ والا کی پائیں یعنی مشرق کی طرف سے مواجہہ عالیہ میں حاضر ہو کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مزارِ انور میں رُو بقبلہ جلوہ فرما ہیں، اس سمت سے حاضر ہوگے تو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نگاہِ بیکس پناہ تمھاری طرف ہو گی اور یہ بات تمھارے لیے دونوں جہاں میں کافی ہے، والحمدﷲ۔
(۱۶) اب کمال ادب و ہیبت و خوف و اُمید کے ساتھ زیر قندیل اُس چاندی کی کیل کے سامنے جو حجرہ مطہرہ کی جنوبی
1 ۔''االمدخل''لابن الحاج، فصل فی زیارۃ القبور،ج۱، ص۱۸۷.
2 ۔ ''لباب المناسک'' و ''المسلک المتقسط ''، (باب زیارۃ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)، ص۵۰۸.
دیوار میں چہرہ انور کے مقابل لگی ہے، کم از کم چار ہاتھ کے فاصلہ سے قبلہ کو پیٹھ اور مزارِ انورکو مونھ کرکے نماز کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے ہو۔
لباب و شرحِ لباب و اختیار شرح مختار و فتاویٰ عالمگیری وغیرہا معتمد کتا بوں میں اس ادب کی تصریح فرمائی کہ :
یَقِفُ کَمَا یَقِفُ فِی الصَّلٰوۃِ۔ (1)
حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے سامنے ایساکھڑا ہو، جیسا نماز میں کھڑا ہوتا ہے۔ یہ عبارت عالمگیری و اختیار کی ہے۔
اور لباب میں فرمایا:
وَاضِعًا یَمْیِنَہٗ عَلٰی شِمَالِہٖ. (2)
دست بستہ دہنا ہاتھ بائیں پر رکھ کر کھڑا ہو۔
(۱۷) خبردار! جالی شریف کو بوسہ دینے یاہاتھ لگانے سے بچو کہ خلافِ ادب ہے، بلکہ چار ہاتھ فاصلہ سے زیادہ قریب نہ جاؤ۔ یہ اُن کی رحمت کیا کم ہے کہ تم کو اپنے حضور بُلایا، اپنے مواجہہ اقدس میں جگہ بخشی، ان کی نگاہ کریم اگرچہ ہر جگہ تمھاری طرف تھی، اب خصوصیت اور اس درجہ قرب کے ساتھ ہے، وﷲ الحمد۔
(۱۸) اَلْحَمْدُلِلّٰہ اب دل کی طرح تمھارا مونھ بھی اس پاک جالی کی طرف ہوگیا ،جو اﷲ عزوجل کے محبوبِ عظیم الشان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی آرام گاہ ہے، نہایت ادب و وقار کے ساتھ بآوازِ حزیں و صوتِ درد آگین و دلِ شرمناک و جگر چاک چاک، معتدل آواز سے، نہ بلند و سخت( کہ اُن کے حضور آواز بلند کرنے سے عمل اکارت ہو جاتے ہیں)، نہ نہایت نرم و پست (کہ سنت کے خلاف ہے اگرچہ وہ تمھارے دلوں کے خطروں تک سے آگاہ ہیں جیسا کہ ابھی تصریحات ائمہ سے گزرا)، مجرا و تسلیم بجا لاؤ اور عرض کرو:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ ؕ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَیْرَ خَلْقِ اللہِؕ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَفِیْعَ الْمُذْنِبِیْنَ ؕ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحَابِکَ وَاُمَّتِکَ اَجْمَعِیْنَ ؕ (3)
(۱۹) جہاں تک ممکن ہو اور زبان یاری دے اور ملال وکسل نہ ہو صلاۃ و سلام کی کثرت کرو، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے اپنے اور اپنے ماں باپ، پیر، استاد، اولاد، عزیزوں، دوستوں اور سب مسلمانوں کے لیے شفاعت مانگو، بار بار عرض کرو:
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''، کتاب المناسک، خاتمہ فی زیارۃ قبر النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، ج۱، ص۲۶۵.
2 ۔''لباب المناسک'' للسندی، (باب زیارۃ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم)، ص۵۰۸.
3 ۔المرجع السابق.
اے نبی! آپ پر سلام اور اﷲ(عزوجل)کی رحمت اور برکتیں، اے اﷲ (عزوجل) کے رسول! آپ پر سلام۔ اے اﷲ(عزوجل)کی تمام مخلوق سے بہتر! آپ پر سلام۔ اے گنہگاروں کی شفاعت کرنے والے! آپ پرسلام۔ آپ پراور آپ کی آل و اصحاب پر اور آپ کی تمام اُمت پر سلام۔۱۲
اَسْأَلُکَ الشَّفَاعَۃَ یَارَسُوْلَ اللہِ . (1)
(۲۰) پھر اگر کسی نے عرض سلام کی وصیت کی بجا لاؤ۔ شرعاً اس کا حکم ہے اور یہ فقیر ذلیل ان مسلمانوں کو جو اس رسالہ کو دیکھیں، وصیت کرتا ہے کہ جب انھیں حاضری بارگاہ نصیب ہو، فقیر کی زندگی میں یا بعد کم از کم تین بار مواجہہ اقدس میں ضرور یہ الفاظ عرض کرکے اس نالائق ننگ خلائق پر احسان فرمائیں۔ اﷲ (عزوجل) اُن کو دونوں جہان میں جزائے خیر بخشے آمین۔
اَلصَّلاَ ۃُ والسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ وَعَلٰی ٰاٰلِکَ وَذَوِیْکَ فِیْ کُلِّ اٰنٍ وَّلَحْظَۃٍ عَدَدَ کُلِّ ذَرَّۃٍ ذَرَّۃٍ اَلْفَ اَلْفَ مَرَّۃٍ مِنْ عُبَـیْدِکَ اَمْجَدْ عَلِیْ یَسْئَلُکَ الشَّفَاعَۃَ فَاشْفَعْ لَـہٗ وَلِلْمُسْلِمِیْنَ . (2)
(۲۱) پھر اپنے دہنے ہاتھ یعنی مشرق کی طرف ہاتھ بھر ہٹ کر حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے چہرہ نورانی کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کرو:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَلِیْفَۃَ رَسُوْلِ اللہِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَزِیْرَ رَسُوْلِ اللہِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَاحِبَ رَسُوْلِ اللہِ فِی الْغَارِ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ . (3)
(۲۲) پھر اتنا ہی اور ہٹ کر حضرت فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے رُو برو کھڑے ہو کر عرض کرو:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا اَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُتَمِّمَ الْاَرْبَعِیْنَ َالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عِزَّ الْاِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُـہٗ . (4)
(۲۳) پھر بالشت بھر مغرب کی طرف پلٹو اور صدیق و فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے درمیان کھڑے ہو کر عرض کرو:
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمَا یَا خَلِیْفَتَیْ رَسُوْلِ اللہِ اَلسَّلَامُؕ عَلَیْکُمَا یَا وَزِیْرَیْ رَسُوْلِ اللہِ ؕ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمَا یَا
1 ۔ یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے شفاعت مانگتا ہوں۔۱۲
2 ۔ یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) حضور اور حضور کی آل اور سب علاقہ والوں پر ہر آن اور ہر لحظہ میں ہر ہر ذرہ کی گنتی پر دس دس لاکھ درود سلام حضور کے حقیر غلام امجد علی کی طرف سے، وہ حضور سے شفاعت مانگتا ہے، حضور اس کی اور تمام مسلمانوں کی شفاعت فرمائیں۔۱۲
3 ۔''لباب المناسک'' للسندی، (باب زیارۃ سید المرسلین، صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)، ص۵۱۰.
اے خلیفہ رسول اﷲ! آپ پر سلام، اے رسول اﷲ کے وزیر! آپ پر سلام، اے غارِ ثور میں رسول اﷲ کے رفیق! آپ پر سلام اور اﷲ (عزوجل) کی رحمت اور برکتیں۔۱۲
4 ۔''لباب المناسک'' للسندی، (باب زیارۃ سید المرسلین، صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)، ص۵۱۱،وغیرہ.
اے امیر المومنین! آپ پر سلام، اے چالیس کاعدد پورا کرنے والے! آپ پر سلام، اے اسلام اور مسلمین کی عزت! آپ پر سلام اور اﷲ (عزوجل) کی رحمت اور برکتیں۔۱۲
ضَجِیْعَیْ رَسُوْلِ اللہِ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُۃٗؕ اَسْأَلُکُمَا الشَّفَاعَۃَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ ؕ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلَیْکُمَا وَبَارَکَ وَسَلَّم . (1)
(۲۴) یہ سب حاضریاں محل اجابت ہیں، دُعا میں کو شش کرو۔ دُعائے جامع کرو اور دُرود پر قناعت بہتر اور چاہو تو یہ دُعا پڑھو:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُشْھِدُکَ وَاُشْھِدُ رَسُوْلَکَ وَاَبَابَکْرٍ وَّعُمَرَ وَاُشْھِدُ الْمَلٰئِکَۃَ النَّازِلِیْنَ عَلٰی ھٰذِہٖ الرَّوْضَۃِ الْکَرِیْمَۃِ الْعَاکِفِیْنَ عَلَیْھَا اَنِّیْ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰـہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ مُقِرٌّ بِجَنَایَتِیْ وَمَعْصِیَّتِیْ فَاغْفِرْلِیْ وَامْنُنْ عَلَیَّ بِالَّذِیْ مَنَنْتَ عَلٰی اَوْلِیَآئِکَ فَاِنَّکَ الْمَنَّانُ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ رَبَّـنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ . (2)
(۲۵) پھر منبر اطہر کے قریب دُعا مانگو۔
(۲۶) پھر جنت کی کیاری میں (یعنی جو جگہ منبرو حجرہ منورہ کے درمیان ہے، اسے حدیث میں جنت کی کیاری فرمایا) آکر دو رکعت نفل غیر وقتِ مکروہ میں پڑھ کر دُعا کرو۔
(۲۷) یوہیں مسجد شریف کے ہر ستون کے پاس نماز پڑھو، دُعا مانگو کہ محل برکات ہیں خصوصاً بعض میں خاص خصوصیت۔
(۲۸) جب تک مدینہ طیبہ کی حاضری نصیب ہو، ایک سانس بیکار نہ جانے دو، ضروریات کے سوا اکثر وقت مسجد شریف میں باطہارت حاضر رہو، نماز و تلاوت و دُرود میں وقت گزارو، دنیا کی بات کسی مسجد میں نہ چاہیے نہ کہ یہاں۔
(۲۹) ہمیشہ ہر مسجد میں جاتے وقت اعتکاف (3) کی نیت کرلو، یہاں تمھاری یاد دہانی ہی کو دروازہ سے بڑھتے ہی
1 ۔ اے رسول اﷲ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے پہلو میں آرام کرنے والے! آپ دونوں پر سلام اوراﷲ(عزوجل) کی رحمت اور برکتیں، آپ دونوں حضرات سے سوال کرتا ہوں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے حضور ہماری سفارش کیجئے، اﷲ تعالیٰ ان پر اور آپ دونوں پر دُرود و برکت و سلام نازل فرمائے۔۱۲
2 ۔ترجمہ: اے اﷲ(عزوجل)! میں تجھ کو اور تیرے رسول اور ابوبکر و عمر کو اور تیرے فرشتوں کو جو اس روضہ پر نازل اور معتکف ہیں، اُن سب کو گواہ کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو تنہا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تیرے بندہ اور رسول ہیں، اے اﷲ (عزوجل)! میں اپنے گناہ و معصیت کا اقرار کرتا ہوں تو میری مغفرت فرما اور مجھ پر وہ احسان کر جو تو نے اپنے اولیا پر کیا۔ بیشک تو احسان کرنے والا، بخشنے والا مہر بان ہے۔۱۲
3 ۔ اعتکاف کے معنی ہیں مسجد میں بالقصد نیت کر کے ٹھہرنا اس لیے کہ ذکر الٰہی کروں گا۔ ۱۲
کتبہ ملے گاــ۔
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَافِ .(1)
(۳۰) مدینہ طیبہ میں روزہ نصیب ہو خصوصاً گرمی میں تو کیا کہنا کہ اس پر وعدہ شفاعت ہے۔
(۳۱) یہاں ہر نیکی ایک کی پچاس ہزار لکھی جاتی ہے، لہٰذا عبادت میں زیادہ کوشش کرو، کھانے پینے کی کمی ضرور کرو اور جہاں تک ہوسکے تصدق کرو خصوصاً یہاں والوں پر خصوصاً اس زمانہ میں کہ اکثر ضرورت مند ہیں۔
(۳۲) قرآن مجید کا کم سے کم ایک ختم یہاں اور حطیم کعبہ معظمہ میں کرلو۔
(۳۳) روضہ انور پر نظر عبادت ہے جیسے کعبہ معظمہ یا قرآن مجید کا دیکھنا تو ادب کے ساتھ اسکی کثرت کرو اور دُرود و سلام عرض کرو۔
(۳۴) پنجگانہ یا کم از کم صبح ، شام مواجہہ شریف میں عرض سلام کے لیے حاضر ہو۔
(۳۵) شہر میں خواہ شہر سے باہر جہاں کہیں گنبدِ مبارک پر نظر پڑے، فوراً دست بستہ اُدھر مونھ کرکے صلاۃ و سلام عرض کرو، بے اِس کے ہرگز نہ گزرو کہ خلافِ ادب ہے۔
(۳۶) ترکِ جماعت بلا عذر ہر جگہ گناہ ہے اور کئی بار ہو تو سخت حرام و گناہِ کبیرہ اور یہاں تو گناہ کے علاوہ کیسی سخت محرومی ہے، والعیاذ باﷲ تعالیٰ۔ صحیح حدیث میں ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جسے میری مسجد میں چالیس نمازیں فوت نہ ہوں، اُس کے لیے دوزخ و نفاق سے آزادیاں لکھی جائیں۔'' (2)
(۳۷) حتی الوسع کوشش کرو کہ مسجد اوّل یعنی حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں جتنی تھی اس میں نماز پڑھو اور اس کی مقدار سو ہاتھ طول وسو ہاتھ عرض ہے اگرچہ بعد میں کچھ اضافہ ہوا ہے، اس میں نماز پڑھنا بھی مسجد نبوی ہی میں پڑھنا ہے۔
(۳۸) قبر کریم کو ہر گز پیٹھ نہ کرو اور حتی الامکان نماز میں بھی ایسی جگہ نہ کھڑے ہو کہ پیٹھ کرنی پڑے۔
(۳۹) روضہ انور کا نہ طواف کرو، نہ سجدہ، نہ اتنا جھکنا کہ رکوع کے برابر ہو۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم اُن کی اطاعت میں ہے۔
(۴۰) بقیع کی زیارت سنت ہے، روضہ اقدس کی زیارت کرکے وہاں جائے خصوصاً جمعہ کے دن۔ اس قبرستان میں قریب دس۱۰ ہزار صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم مدفون ہیں اور تابعین و تبع تا بعین و اولیا و علما و صلحا وغیرہم کی گنتی نہیں۔ یہاں جب حاضر ہو پہلے تما م مدفونین مسلمین کی زیارت کا قصد کرے اور یہ پڑھے:
(۴۰) بقیع کی زیارت سنت ہے، روضہ اقدس کی زیارت کرکے وہاں جائے خصوصاً جمعہ کے دن۔ اس قبرستان میں قریب دس۱۰ ہزار صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم مدفون ہیں اور تابعین و تبع تا بعین و اولیا و علما و صلحا وغیرہم کی گنتی نہیں۔ یہاں جب حاضر ہو
1 ۔میں نے سنت اعتکا ف کی نیت کی۔۱۲
2 ۔''المسند'' للامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک، الحدیث:۱۲۵۸۴، ج۴، ص۳۱۱.
پہلے تما م مدفونین مسلمین کی زیارت کا قصد کرے اور یہ پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ اَنْـتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَّ اِنَّا اِنْشَاءَ اللہُ تَعَالٰی بِکُمْ لَاحِقُوْنَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَھْلِ الْبَقِیْعِ بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَـنَا وَلَھُمْ . (1)
اور اگر کچھ اور پڑھنا چاہے تو یہ پڑھے:
رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِوَالِدَیْنَا وَلِاُسْتَاذِیْنَا وَلِاِخْوَانِنَاوَلِاَخَوَاتِنَا وَلِاَوْلَادِنَا وَلِاَحْفَادِنَا وَلِاَصْحَابِنَا وَلِاَحْبَابِنَا وَلِمَنْ لَّـہٗ حَقٌّ عَلَیْنَا وَلِمَنْ اَوْ صَانَا وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ . (2)
اور درود شریف و سورہ فاتحہ و آیۃ الکرسی و قُلْ ھُوَ اﷲ وغیرہ جو کچھ ہوسکے پڑھ کر ثواب اُس کا نذر کرے، اس کے بعد بقیع شریف میں جو مزارات معروف و مشہور ہیں اُن کی زیارت کرے۔ تمام اہلِ بقیع میں افضل امیر المومنین سید نا عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں، اُن کے مزار پر حاضر ہوکر سلام عرض کرے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا اَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثَالِثَ الْخُلَفَآءِ الرَّاشِدِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَاحِبَ الْھِجْرَتَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُجَھِّزَ جَیْشِ الْعُسْرَۃِ بِالنَّقْدِ وَالْعَیْنِ جَزَاکَ اللہُ عَنْ رَّسُوْلِہٖ وَعَنْ سَاِئرِالْمُسْلِمِیْنَ وَرَضِیَ اللہُ عَنْکَ وَعَنِ الصَّحَابَۃِ اَجْمَعِیْنَ . (3)
قبہ ۲حضرت سیدنا ابراہیم ابن سردارِ دو عالم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور اسی قبہ شریف میں ان حضراتِ کرام کے بھی مزارات طیبہ ہیں، حضرت رقیہ (حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی صاحبزادی) حضرت عثمان بن مظعون (یہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی ہیں) عبدالرحمن بن عوف و سعد بن ابی وقاص (یہ دونوں حضرات عشرہ مبشرہ سے ہیں) عبداﷲ بن مسعود (نہایت جلیل القدر صحابی خُلفائے اربعہ کے بعد سب سے اَفقہ) خنیس بن حذافہ سہمی واسعد بن زرارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ ان حضرات کی خدمت میں سلام عرض کرے۔
1 ۔تم پر سلام اے قوم مومنین کے گھر و الو! تم ہمارے پیشوا ہو اور ہم ان شاء اﷲ تم سے ملنے والے ہیں، اے اﷲ (عزوجل)! بقیع والوں کی مغفرت فرما، اے اﷲ(عزوجل) !ہم کو اور انھیں بخش دے۔۱۲
2 ۔اے اﷲ(عزوجل) !ہم کو اور ہمارے والدین کو اور اُستادوں اور بھائیوں اور بہنوں اور ہماری اولاد اور پوتوں اور ساتھیوں اور دوستوں کو اور اُس کو جس کا ہم پر حق ہے اور جس نے ہمیں وصیت کی اور تمام مومنین و مومنات و مسلمین و مسلمات کو بخش دے۔۱۲
3 ۔''المسلک المتقسط''، (باب زیارۃ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)، ص۵۲۰،وغیرہ.
اے امیر المومنین! آپ پر سلام اور اے خلفائے راشدین میں تیسرے خلیفہ! آپ پر سلام، اے دو ہجرت کرنے والے! آپ پر سلام، اے غزوہ تبوک کی نقدو جنس سے طیاری کرنے والے! آپ پر سلام، اﷲ(عزوجل) آپ کو اپنے رسول اورتمام مسلمانوں کی طرف سے بدلا دے، آپ سے اور تما م صحابہ سے اﷲ(عزوجل) راضی ہو۔۱۲
قبہ ۳حضرت سیدنا عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ، اسی قبہ میں حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ و سر مبارک سیدنا امام حسین و امام زین العابدین و امام محمد باقر و امام جعفر صادق رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے مزاراتِ طیبات ہیں، ان پر سلام عرض کرے۔
قبہ ۴ا زواج مطہرات حضرت اُم المومنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہاکا مزار مکہ معظمہ میں اور میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا سرف میں ہے۔ بقیہ تمام ازواج مکرّمات اسی قبہ میں ہیں۔
قبہ ۵حضرت عقیل بن ابی طالب اس میں سفیان بن حارث بن عبدالمطلب و عبداﷲ بن جعفر طیار بھی ہیں اور۶ اس کے قریب ایک قبہ ہے جس میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تین اولادیں ہیں۔ قبہ ۷صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی، قبہ ۸ امام مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ۔ قبہ ۹نافع مولیٰ ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما۔
ان حضرات کی زیارت سے فارغ ہو کر مالک بن سنان و ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہما و اسماعیل بن جعفر صادق و محمد بن عبداﷲ بن حسن بن علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم و سیّد الشہدا امیر حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی زیارت سے مشرف ہو۔
بقیع کی زیارت کس سے شروع ہو، اس میں اختلاف ہے بعض علما فرماتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ابتدا کرے کہ یہ سب میں افضل ہیں اور بعض فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ابن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے شروع کرے اور بعض فرماتے ہیں کہ قبہ سیّدنا عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ابتدا ہو اور قبہ صفیہ پر ختم کہ سب سے پہلے وہی ملتا ہے، تو بغیر سلام عرض کیے وہاں سے آگے نہ بڑھے اور یہی آسان بھی ہے۔(1)
(۴۱) قبا شریف کی زیارت کرے اور مسجد شریف میں دو رکعت نماز پڑھے۔ ترمذی میں مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
''مسجد قبا میں نماز، عمرہ کی مانند ہے۔'' (2) اور احادیث صحیحہ سے ثابت کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہر ہفتہ کو قبا تشریف لے جاتے کبھی سوار، کبھی پیدل۔ اس مقام کی بزرگی میں او ربھی احادیث ہیں۔
1 ۔''المسلک المتقسط''، (باب زیارۃ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)، ص۵۲۱.
2 ۔''جامع الترمذي''، ابواب الصلاۃ،باب ماجاء فی الصلاۃفی مسجد قبائ، الحدیث: ۳۲۴، ج۱، ص۳۴۸.
(۴۲) شہدائے اُحد شریف کی زیارت کرے۔ حدیث میں ہے، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہر سال کے شروع میں قبورِ شہدائے اُحد پر آتے اور یہ فرماتے:
''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ''. (1)
اور کوہ اُحد کی بھی زیارت کرے کہ صحیح حدیث میں فرمایا: ''کوہ اُحد ہمیں محبوب رکھتا ہے اور ہم اُسے محبوب رکھتے ہیں۔'' (2) اور ایک روایت میں ہے کہ: ''جب تم حاضر ہو تو اُس کے درخت سے کچھ کھاؤ اگرچہ ببول ہو۔'' (3)
بہتر یہ ہے کہ پنجشنبہ (4) کے دن صبح کے وقت جائے اور سب سے پہلے حضرت سید الشہدا حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مزار پر حاضر ہو کر سلام عرض کرے اور عبداﷲ بن جحش و مُصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما پر سلام عرض کرے کہ ایک روایت میں ہے یہ دونوں حضرات یہیں مدفون ہیں۔(5)
سید الشہدا کی پائیں جانب اور صحن مسجد میں جو قبر ہے، یہ دونوں شہدائے اُحد میں نہیں ہیں۔
(۴۳) مدینہ طیبہ کے وہ کوئیں جو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی طرف منسوب ہیں یعنی کسی سے وضو فرمایا اور کسی کا پانی پیا اور کسی میں لعاب دہن ڈالا۔ اگر کوئی جاننے بتانے والا ملے تو اُن کی بھی زیارت کرے اور اُن سے وضو کرے اور پانی پیے۔
(۴۴) اگر چاہو تو مسجدِ نبوی میں حاضر رہو۔ سیدی ابن ابی جمرہ قدس سرہ، جب حاضر حضور ہوئے، آٹھوں پہر برابر حضوری میں کھڑے رہتے ایک دن بقیع وغیرہ زیارات کا خیال آیا پھر فرمایا یہ ہے اﷲ (عزوجل) کا دروازہ بھیک مانگنے والوں کے لیے کھلا ہوا، اسے چھوڑ کر کہاں جاؤں۔ ؎
سر ایں جا، سجدہ ایں جا، بندگیایں جا، قرار ایں جا
(۴۵) وقتِ رخصت مواجہہ انور میں حاضر ہو اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے بار بار اس نعمت کی عطاکا سوال کرو اور
1 ۔''المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط''، (باب زیارۃ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)، ص۵۲۵.
2 ۔''صحیح البخاری''، کتاب الجہاد، باب فضل الخدمۃ فی الغزو، الحدیث:۲۸۸۹، ج۲، ص۲۷۸.
3 ۔''المعجم الاوسط'' للطبرانی، الحدیث:۱۹۰۵، ج۱، ص۵۱۶.
4 ۔جمعرات۔
5 ۔''لباب المناسک'' و'' المسلک المتقسط ''، (باب زیارۃ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)، ص۵۲۵.
تمام آداب کہ کعبہ معظمہ سے رخصت میں گزرے ملحوظ رکھو اور سچے دل سے دعا کرو کہ الٰہی! ایمان و سنت پر مدینہ طیبہ میں مرنا اور بقیع پاک میں دفن ہونا نصیب کر۔
اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا اٰمِیْنَ اٰمِیْنَ اٰمِیْنَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِـہٖ وَصَحْبِہٖ وَابْـنِہٖ وحِزْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ اٰمِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔
تــمت
اس کتاب کی تصنیف شب بستم ماہ فاخر ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ کو ختم ہوئی اور تھوڑے دنوں بعد امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ، الاقدس کو سُنابھی دی تھی۔ فقیر جب حرمین طیبین روانہ ہوا اس رسالہ کو اپنے ساتھ رکھا تھا اور بمبئی کے ایک ہفتہ قیام میں مبیضہ کیا(1) مگر اس کی طبع میں موانع پیش آتے گئے، جن کی وجہ سے بہت تاخیر ہوئی خدا کا شکر ہے کہ اب طبع ہوگیا ۔مولیٰ تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے نفع پہونچائے اور ان صاحبوں سے نہایت عجز کے ساتھ التجا ہے کہ اس فقیر کے لیے ایمان پر ثبات اور حسن خاتمہ کی دعا فرمائیں۔
اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ، العزیز کا رسالہ'' انورالبشارہ ''پورا اس میں شامل کر دیاہے یعنی متفرق طور پر مضامین بلکہ عبارتیں داخل رسالہ ہیں کہ اولاً :تبرک مقصود ہے ۔دوم: اُن الفاظ میں جو خوبیاں ہیں فقیر سے ناممکن تھیں لہٰذا عبارت بھی نہ بدلی۔
فقیر ابوالعلا محمد امجد علی اعظمی عفی عنہ ۲۵ رمضان مبارک ۱۳۴۱ھ
(1) یعنی چھپنے کے لیے۔