Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
( فَانْکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً ) (1)
نکاح کرو جو تمھیں خوش آئیں عورتوں سے دو دو اور تین تین اورچار چار۔ اور اگر یہ خوف ہوکہ انصاف نہ کر سکو گے تو ایک سے۔
اور فرماتا ہے:
(وَ اَنۡکِحُوا الْاَیَامٰی مِنۡکُمْ وَ الصّٰلِحِیۡنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ ؕ اِنۡ یَّکُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ یُغْنِہِمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ؕ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۳۲﴾وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ نِکَاحًا حَتّٰۤی یُغْنِیَہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ؕ ) (2)
اپنے یہاں کی بے شوہر والی عورتوں کا نکاح کر دو اور اپنے نیک غلاموں اور باندیوں کا۔ اگر وہ محتاج ہوں تو اﷲ (عزوجل) اپنے فضل کے سبب اُنھيں غنی کر دے گا۔ اور اﷲ (عزوجل) وسعت والا علم والا ہے اور چاہيے کہ پارسائی کریں وہ کہ نکاح کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اﷲ (عزوجل) اپنے فضل سے انھيں مقدور والا کر دے۔
حدیث ۱: بخاری و مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے جوانو! تم میں جوکوئی نکاح کی استطاعت رکھتا ہے وہ نکاح کرے کہ یہ اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے سے نگاہ کو روکنے والا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جس میں نکاح کی استطاعت نہیں وہ روزے رکھے کہ روزہ قاطع شہوت(3) ہے۔'' (4)
حدیث ۲: ابن ماجہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو خدا سے پاک
1 ۔پ۴،النساء:۳. 2 ۔پ۱۸،النور:۳۲۔۳۳.
3 ۔ یعنی شہوت کو توڑنے والا۔
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب النکاح،باب من لم یستطع الباء ۃ فلیصم،الحدیث:۵۰۶۶،ج۳،ص۴۲۲.
وصاف ہو کر ملنا چاہے، وہ آزاد عورتوں سے نکاح کرے۔'' (1)
حدیث ۳: بیہقی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو میرے طریقہ کو محبوب رکھے، وہ میری سُنت پر چلے اور میری سُنت سے نکاح ہے۔'' (2)
حدیث ۴: مسلم و نسائی عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: دنیا متاع ہے اور دنیا کی بہترمتاع نیک عورت۔'' (3)
حدیث ۵: ابن ماجہ میں ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے تھے، تقوے کے بعد مؤمن کے ليے نیک بی بی سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ اگر اُسے حکم کرتا ہے تو وہ اطاعت کرتی ہے اگر اسے دیکھے تو خوش کر دے اور اس پر قسم کھا بیٹھے تو قسم سچی کر دے اور کہیں کو چلا جائے تو اپنے نفس اور شوہر کے مال میں بھلائی کرے (خیانت و ضائع نہ کرے)۔ (4)
حدیث ۶: طبرانی کبیر و اوسط میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جسے چار چیزیں ملیں اُسے دُنیا و آخرت کی بھلائی ملی۔1دل شکر گزار،2 زبان یادِ خدا کرنے والی اور3بدن بلا پر صابر اور4 ایسی بی بی کہ اپنے نفس اور مالِ شوہر میں گناہ کی جویاں(5) نہ ہو۔'' (6)
حدیث ۷: امام احمد و بزار و حاکم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تین چیزیں آدمی کی نیک بختی سے ہیں اور تین چیزیں بد بختی سے۔ نیک بختی کی چیزوں میں نیک عورت اور اچھا مکان (یعنی وسیع یا اس کے پروسی اچھے ہوں) اور اچھی سواری اور بدبختی کی چیزیں بد عورت، بُرا مکان، بُری سواری۔'' (7)
حدیث ۸: طبرانی و حاکم انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: جسے اﷲ
1 ۔''سنن ابن ماجہ''،أبواب النکاح،باب تزویج الحرائروالولود،الحدیث:۱۸۶۲،ج۲،ص۴۱۷.
2 ۔''کنزالعمال ''،کتاب النکاح،الحدیث:۴۴۴۰۶،ج۱۶،ص۱۱۶.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الرضاع،باب خیر متاع الدنیا...إلخ،الحدیث: ۱۴۶۷،ص۷۷۴.
4 ۔''سنن ابن ماجہ''، أبواب النکاح،باب افضل النساء،الحدیث:۱۸۵۷،ص۴۱۴.
5 ۔یعنی خیانت نہ کرتی ہو۔
6 ۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۱۲۷۵،ج۱۱،ص۱۰۹.
7 ۔ ''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،مسند أبی اسحاق سعد بن أبي وقاص،الحدیث:۱۴۴۵،ج۱،ص۳۵۷.
(عزوجل) نے نیک بی بی نصیب کی اس کے نصف دین پر(1) اعانت(2) فرمائی تو نصف باقی میں اﷲ (عزوجل) سے ڈرے (تقویٰ و پرہیزگاری کرے)۔ (3)
حدیث ۹: بخاری و مسلم و ا بوداود و نسائی و ابن ماجہ ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عورت سے نکاح چار باتوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے (نکاح میں ان کا لحاظ ہوتا ہے)۔ 1مال و 2 حسب و 3 جمال و 4 دِین اور تو دِین والی کو ترجیح دے۔'' (4)
حدیث ۱۰: ترمذی و ابن حبان و حاکم ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تین شخصوں کی اﷲ تعالیٰ مدد فرمائے گا۔ 1 اﷲ (عزوجل) کی راہ میں جہاد کرنے والا اور 2 مکاتب کہ ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور 3 پارسائی کے ارادے سے نکاح کرنے والا۔'' (5)
حدیث ۱۱: ابو داود و نسائی و حاکم معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، یارسول اﷲ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ! میں نے عزت و منصب و مال والی ایک عورت پائی، مگر اُس کے بچہ نہیں ہوتا کیا میں اُس سے نکاح کر لوں؟ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے منع فرمایا۔ پھر دوبارہ حاضر ہو کر عرض کی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے منع فرمایا، تیسری مرتبہ حاضر ہو کر پھر عرض کی، ارشاد فرمایا: ''ایسی عورت سے نکاح کرو، جو محبت کرنے والی، بچہ جننے والی ہو کہ میں تمھارے ساتھ اور اُمتوں پر کثرت ظاہر کرنے والا ہوں۔'' (6)
حدیث ۱۲: ابن ابی حاتم ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، اُنھوں نے فرمایاکہ: اﷲ (عزوجل) نے جو تمھیں نکاح کا حکم فرمایا، تم اُسکی اطاعت کرو اُس نے جو غنی کرنے کا وعدہ کیا ہے پورا فرمائے گا۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: ''اگر وہ فقیر ہوں گے تو اﷲ (عزوجل) اُنھيں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔'' (7)
حدیث ۱۳: ابویعلی جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''جب تم میں کوئی نکاح کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے
1 ۔یعنی آدھے دِین پر۔ 2 ۔مدد۔
3 ۔''المعجم الأوسط''،الحدیث:۹۷۲،ج۱،ص۲۷۹.
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب النکاح،باب الأکفاء في الدین،الحدیث:۵۰۹۰،ص۴۲۹.
5 ۔''جامع الترمذی''،أبواب فضائل الجھاد،باب ماجاء فی المجاھد...إلخ،الحدیث: ۱۶۶۱،ج۳،ص۲۴۷.
6 ۔''سنن أبي داود''،کتاب النکاح،باب النھي عن تزویج من لم یلد من النساء الحدیث:۲۰۵۰،ج۲،ص۳۱۹.
7 ۔''کنزالعمال ''،کتاب النکاح،الحدیث:۴۵۵۷۶،ج۱۶،ص۲۰۳.
ہائے افسوس! ابن آدم نے مجھ سے اپنا دو تہائی دین بچا لیا۔'' (1)
حدیث ۱۴: ایک روایت میں ہے، کہ فرماتے ہیں: ''جو اتنا مال رکھتا ہے کہ نکاح کرلے، پھر نکاح نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔'' (2)
نکاح اُس عقدکو کہتے ہیں جو اِس ليے مقرر کیا گیا کہ مرد کو عورت سے جماع وغیرہ حلال ہو جائے۔
مسئلہ ۱: خنثی مشکل یعنی جس میں مردوعورت دونوں کی علامتیں پائی جائیں اور یہ ثابت نہ ہو کہ مرد ہے یا عورت، اُس سے نہ مرد کا نکاح ہوسکتا ہے نہ عورت کا ۔ اگر کیا گیا تو باطل ہے، ہاں بعد نکاح اگر اُس کا عورت ہونا متعین ہو جائے اور نکاح مرد سے ہوا ہے تو صحیح ہے۔ يوہيں اگر عورت سے نکاح ہوا اور اُس کا مرد ہونا قرار پا گیا، خنثی مشکل کا نکاح خنثی مشکل سے بھی نہیں ہوسکتا مگر اُسی صورت میں کہ ایک کا مرد ہونا دوسرے کا عورت ہونا متحقق (3) ہو جائے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: مرد کا پری سے یا عورت کا جن سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار )
مسئلہ ۳: یہ جو عوام میں مشہورہے کہ بن مانس آدمی کی شکل کا ایک جانور ہوتا ہے اگرواقعی ہے تو اُس سے بھی نکاح نہیں ہوسکتا کہ وہ انسان نہیں جیسے پانی کا انسان (6) کہ دیکھنے سے بالکل انسان معلوم ہوتا ہے اور حقیقۃً وہ انسان نہیں۔
مسئلہ ۴: اعتدال کی حالت میں یعنی نہ شہوت کا بہت زیادہ غلبہ ہو نہ عنین (نامرد) ہو اورمَہر و نفقہ(7) پر قدرت بھی ہو تو نکاح سُنّتِ مؤکدہ ہے کہ نکاح نہ کرنے پر اڑا رہنا گناہ ہے اور اگر حرام سے بچنا یا اتباعِ سُنّت و تعمیلِ حکم یا اولاد حاصل ہونامقصود
1 ۔''کنزالعمال ''،کتاب النکاح،الحدیث: ۴۴۴۴۷،ج۱۶،ص۱۱۸.
2 ۔''المصنف''،لابن أبی شیبۃ،کتاب النکاح، فی التزویج من کان یامر بہ ویحث علیہ،ج۳،ص۲۷۰.
3 ۔ یعنی ثابت۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۶۹.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۷۰.
6 ۔پانی کاانسان یہ ایک قسم کی دریائی مخلوق ہے جس کی شکل انسان کے مشابہ ہوتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ پانی کے انسان کی دم بھی ہوتی ہے۔(حیاۃالحیوان الکبری ،ج۱،ص۶۹)۔...عِلْمِیہ
7 ۔کپڑے ،کھانے پینے وغیرہ کے اخراجات۔
ہے تو ثواب بھی پائے گا اور اگر محض لذّت یا قضائے شہوت(1) منظور ہو تو ثواب نہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: شہوت کا غلبہ ہے کہ نکاح نہ کرے تو معاذ اﷲ اندیشۂ زنا ہے اور مہر ونفقہ کی قدرت رکھتا ہو تو نکاح واجب۔يوہيں جبکہ اجنبی عورت کی طرف نگاہ اُٹھنے سے روک نہیں سکتا یا معاذ اللہ ہاتھ سے کام لینا پڑے گا (3) تونکاح واجب ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: یہ یقین ہو کہ نکاح نہ کرنے میں زنا واقع ہو جائے گا تو فرض ہے کہ نکاح کرے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۷: اگر یہ ا ندیشہ ہے کہ نکاح کریگا تو نان نفقہ نہ دے سکے گا یا جو ضروری باتیں ہیں ان کو پورا نہ کرسکے گا تومکروہ ہے اور ان باتوں کا یقین ہو تو نکاح کرنا حرام مگر نکاح بہرحال ہو جائے گا۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۸: نکاح اور اُس کے حقوق ادا کرنے میں اور اولاد کی تربیت میں مشغول رہنا، نوافل میں مشغولی سے بہتر ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: نکاح میں یہ امور مستحب ہیں :
1علانیہ ہونا۔2 نکاح سے پہلے خطبہ پڑھنا، کوئی سا خطبہ ہو اور بہتر وہ ہے جو حدیث(8) میں وارد ہوا۔3 مسجد میں
1 ۔ یعنی شہوت کو پورا کرنا۔
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:کثیرًا ما یتساھل في اطلاق المستحب علی السنۃ، ج۴، ص۷۳.
3 ۔ہاتھ سے کام لینا پڑے گا:یعنی مشت زنی کرنی پڑے گی ۔اعلی حضرت مولاناشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمن ''فتاوی رضویہ ج۲۲،ص۲۰۲'' پرفرماتے ہیں:یہ فعل ناپاک حرام وناجائزہے حدیث شریف میں ہے ''ناکح الید ملعون '' جلق لگانے والے (مشت زنی کرنے والے ) پراللہ تعالی کی لعنت ہے(کشف الخفاء ،حرف النون،ج۲،ص۲۹۱)۔...عِلْمِیہ
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح، ج۴، ص۷۲.
5 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۷۲.
6 ۔المرجع السابق،ص۷۴.
7 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۶۶.
8 ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہ، وَنَسْتَغْفِرُہ، وَنَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شُرُوْرِاَنْفُسِنَاوَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّہْدِہِ اللہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْہُ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ وَاَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْہَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُولُہٗ اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّنِسَآءً ۚ وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَالۡاَرْحَامَ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیۡکُمْ رَقِیۡبًا ﴿۱﴾)(پ۴،النساء :۱) =
ہونا۔4 جمعہ کے دن۔5گواہانِ عادل کے سامنے۔ 6عورت عمر، حسب (1) ، مال، عزّت میں مرد سے کم ہو اور7 چال چلن اور اخلاق و تقویٰ و جمال میں بیش (2)ہو۔ (3) (درمختار) حدیث میں ہے: ''جو کسی عورت سے بوجہ اُسکی عزت کے نکاح کرے، اﷲ (عزوجل) اسکی ذلّت میں زیادتی (4) کریگا اور جو کسی عورت سے اُس کے مال کے سبب نکاح کریگا، اﷲ تعالیٰ اُسکی محتاجی ہی بڑھائے گا اور اُس کے حسب کے سبب نکاح کریگا تو اُس کے کمینہ پن میں زیادتی فرمائے گا اور جو اس ليے نکاح کرے کہ اِدھر اُدھر نگاہ نہ اُٹھے اور پاکدامنی حاصل ہو یا صلۂ رحم کرے تو اﷲ عزوجل اس مرد کے ليے اُس عورت میں برکت دے گا اور عورت کے ليے مرد میں۔'' (5) (رواہ الطبرانی عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کذا فی الفتح).(6)
مسئلہ ۱۰: جس ۸ سے نکاح کرنا ہو اُسے کسی معتبر عورت کو بھیج کر دکھوالے اور عادت و اطوار و سلیقہ(7) وغیرہ کی خوب جانچ کر لے کہ آئندہ خرابیاں نہ پڑیں۔ کوآری ۹ عورت سے اور جس سے اولاد زیادہ ہونے کی اُمید ہو نکاح کرنا بہتر ہے۔ سِن رسیدہ(8) اوربدخلق(9) اور زانیہ سے نکاح نہ کرنا بہتر۔ (10) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: عورت ۱۰ کو چاہيے کہ مرد دیندار، خوش خلق(11) ، مال دار، سخی سے نکاح کرے، فاسِق بدکار سے نہیں۔ اور ۱۱ یہ بھی نہ چاہيے کہ کوئی اپنی جوان لڑکی کا بوڑھے سے نکاح کر دے۔ (12) (ردالمحتار)
یہ مستحباتِ نکاح بیان ہوئے، اگر اِس کے خلاف نکاح ہوگا جب بھی ہو جائے گا۔
مسئلہ۱۲: ایجاب و قبول یعنی مثلاً ایک کہے میں نے اپنے کو تیری زوجیت میں دیا۔ دوسرا کہے میں نے قبول کیا۔ یہ نکاح کے رکن ہیں۔ پہلے جو کہے وہ ایجاب ہے اور اُس کے جواب میں دوسرے کے الفاظ کو قبول کہتے ہیں۔ یہ کچھ ضرور نہیں کہ
=(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسْلِمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾)(پ۴،آل عمران: ۱۰۲).
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ قُوۡلُوۡا قَوْلًا سَدِیۡدًا ﴿ۙ۷۰﴾ یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوۡبَکُمْ ؕ وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیۡمًا ﴿۷۱﴾) ( پ۲۲،الأحزاب:۷۰۔۷۱) .۱۲ منہ
1 ۔خاندانی شرف۔ 2 ۔ یعنی زیادہ۔
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۷۵.
4 ۔یعنی اضافہ۔
5 ۔''المعجم الاوسط''،الحدیث ۲۳۴۲،ج۲،ص۱۸.
6 ۔ اس حدیث کو امام طبرانی علیہ رحمۃاللہ الھادی نے حضرت سیِّدُناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا،فتح القدیر میں یوں ہی ہے۔...عِلْمِیہ
7 ۔ہنر ،کام ،صلاحیت۔ 8 ۔ یعنی زیادہ عمروالی۔ 9 ۔برے اخلاق والی۔
10 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:کثیرًاما یتساھل في اطلاق المستحب علی السنۃ،ج۴،ص۷۶، وغیرہ.
11 ۔اچھے اخلاق والا۔
12 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:کثیرًاما یتساھل في اطلاق المستحب علی السنۃ،ج۴،ص۷۷.
عورت کی طرف سے ایجاب ہو اور مرد کی طرف سے قبول بلکہ اِس کا اُلٹا بھی ہوسکتا ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۱۳: ایجاب و قبول میں ماضی کا لفظ (2)ہونا ضروری ہے، مثلاً یوں کہے کہ میں نے اپنا یا اپنی لڑکی یا اپنی موکلہ(3) کا تجھ سے نکاح کیا یا اِن کو تیرے نکاح میں دیا، وہ کہے میں نے اپنے ليے یا اپنے بیٹے یا مؤکل(4) کے ليے قبول کیا یا ایک طرف سے امر کا صیغہ ہو (5)دوسری طرف سے ماضی کا، مثلاً یوں کہ تو مجھ سے اپنا نکاح کر دے یا تو میری عورت ہو جا، اُس نے کہا میں نے قبول کیا یا زوجیت میں دیا ہو جائے گا یا ایک طرف سے حال کا صیغہ ہو(6) دوسری طرف سے ماضی کا، مثلاً کہے تُو مجھ سے اپنا نکاح کرتی ہے اُس نے کہا کیا تو ہوگيا یا یوں کہ میں تجھ سے نکاح کرتا ہوں اُس نے کہا میں نے قبول کیا تو ہو جائے گا، اِن دونوں صورتوں میں پہلے شخص کو اس کی ضرورت نہیں کہ کہے میں نے قبول کیا۔ اور اگر کہا تُو نے اپنی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دیا اُس نے کہا کر دیا یا کہا ہاں تو جب تک پہلا شخص یہ نہ کہے کہ میں نے قبول کیا نکاح نہ ہوگا اور ان لفظوں سے کہ نکاح کروں گا یا قبول کروں گا نکاح نہیں ہوسکتا۔ (7) (درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۱۴: بعض ایسی صورتیں بھی ہیں جن میں ایک ہی لفظ سے نکاح ہو جائے، مثلاً چچا کی نابالغہ لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہے اور ولی (8) یہی ہے تو دو گواہوں کے سامنے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں نے اُس سے اپنا نکاح کیا یا لڑکا لڑکی دونوں نابالغ ہیں اورایک ہی شخص دونوں کا ولی ہے یا مرد وعورت دونوں نے ایک شخص کو وکیل کیا ۔ اُس ولی یا وکیل نے یہ کہا کہ میں نے فلاں کا فلاں کے ساتھ نکاح کر دیا ہوگيا۔ اِن سب صورتوں میں قبول کی کچھ حاجت نہیں۔ (9) (جوہرۂ نیرہ)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:کثیراً ما یتساھل في اطلاق المستحب علی السنۃ،ج۴،ص۷۸.
2 ۔یعنی ایسالفظ جس میں زمانہ ماضی کامعنی پایاجائے ۔ 3 ۔وکیل بنانے والی۔
4 ۔وکیل بنانے والا۔ 5 ۔یعنی ایسالفظ جس میں حکم کامعنی پایاجائے۔
6 ۔یعنی ایسالفظ جس میں زمانہ حال کامعنی پایاجائے۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۷۸.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثاني فیما ینعقد بہ النکاح ومالاینعقد،ج۱، ص۲۷۰، وغیرہما.
8 ۔سرپرست ،ولی وہ ہوتا ہے جس کا قول دوسرے پر نافذ ہودوسرا چاہے یا نہ چاہے۔
9 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثاني، ص۱.
مسئلہ ۱۵: دونوں موجود ہیں ایک نے ایک پرچہ پر لکھا میں نے تجھ سے نکاح کیا، دوسرے نے بھی لکھ کر دیا یا زبان سے کہا میں نے قبول کیا نکاح نہ ہوا اور اگر ایک موجود ہے دوسرا غائب، اُس غائب نے لکھ بھیجا اس موجود نے گواہوں کے سامنے پڑھایا کہا فلاں نے ایسا لکھا میں نے اپنا نکاح اُس سے کیا تو ہوگيا اور اگر اُس کا لکھا ہوا نہ سُنایا نہ بتایا فقط اتنا کہہ دیا کہ میں نے اُس سے اپنا نکاح کردیاتونہ ہوا ۔ ہاں اگر اُس میں امر کا لفظ تھا، مثلاً تُو مجھ سے نکاح کر تو گواہوں کو خط سُنانے یامضمون بتانے کی حاجت نہیں اور اگر اس موجود نے اُس کے جواب میں زبان سے کچھ نہ کہا بلکہ وہ الفاظ لکھ ديے جب بھی نہ ہوا۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: عورت نے مرد سے ایجاب کے الفاظ کہے مرد نے اُس کے جواب میں قبول کے لفظ نہ کہے اورمہر کے روپے دیديے تونکاح نہ ہوا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: یہ اقرار کہ یہ میری عورت ہے نکاح نہیں یعنی اگر پیشتر سے نکاح نہ ہوا تھا تو فقط یہ اقرار نکاح قرار نہ پائے گا، البتہ قاضی کے سامنے دونوں ایسا اقرار کریں تو وہ حکم دے دے گا کہ یہ میاں بی بی ہیں اور اگر گواہوں کے سامنے اقرارکیا، گواہوں نے کہا تم دونوں نے نکاح کیا، کہا ہاں تو ہوگيا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: نکاح کی اضافت(4) کُل کی طرف ہو(5) یا ایسے عضو کی طرف جسے بول کر کُل مراد لیتے ہیں مثلاً سر و گردن تو اگر یہ کہا کہ نصف سے نکاح کیا نہ ہوا۔ (6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۹: الفاظِ نکاح دو قسم ہیں:
ایک صریح (7)، یہ صرف دو لفظ ہیں۔ نکاح و تزوّج، باقی کنایہ(8) ہیں۔ الفاظ کنایہ میں اُن لفظوں سے نکاح ہوسکتا ہے
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:التزوج بارسال کتاب،ج۴،ص۸۳.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:کثیرًا مایتساھل في اطلاق المستحب علی السنۃ، ج۴، ص۸۲ .
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح، مطلب: التزوج بارسال کتاب، ج۴، ص۸۴.
4 ۔ یعنی نسبت۔ 5 ۔مثلاًیوں کہے ، میں نے تجھ سے نکاح کیا۔
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴، ص۸۴، وغیرہ.
7 ۔ یعنی ایسا لفظ جس سے نکاح مراد ہونا ظاہر ہو۔
8 ۔یعنی ایسا لفظ جس سے نکاح مراد ہوناتو ظاہر نہیں مگرقرینہ سے معنئ نکاح سمجھا جاتا ہو۔
جن سے خود شے مِلک میں آجاتی ہے، مثلاً ہبہ، تملیک، صدقہ، عطیہ، بیع، شرا(1) مگر ان میں قرینہ کی ضرورت ہے کہ گواہ اُسے نکاح سمجھیں۔ (2) (درمختار،عالمگیری)
مسئلہ۲۰: ایک نے دوسرے سے کہا میں نے اپنی یہ لونڈی تجھے ہبہ کی تو اگر یہ پتا چلتا ہے کہ نکاح ہے، مثلاً گواہوں کو بلا کر اُن کے سامنے کہنا اورمہر کا ذکر وغیرہ تو یہ نکاح ہوگيا اور اگرقرینہ نہ ہو، مگر وہ کہتا ہے میں نے نکاح مرادلیا تھا اور جسے ہبہ کی وہ اس کی تصدیق کرتاہے جب بھی نکاح ہے اوراگر وہ تصدیق نہ کرے تو ہبہ قرار دیاجائے گا اور آزاد عورت کی نسبت یہ الفاظ کہے تو نکاح ہی ہے۔ قرینہ کی حاجت نہیں مگر جب ایسا قرینہ پایا جائے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح نہیں تو نہیں، مثلاً معاذاﷲ کسی عورت سے زنا کی درخواست کی، اُس نے کہا میں نے اپنے کوتجھے ہبہ کر دیا، اس نے کہا قبول کیا تو نکاح نہ ہوا یا لڑکی کے باپ نے کہا یہ لڑکی خدمت کے ليے میں نے تجھے ہبہ کر دی اس نے قبول کیا تو یہ نکاح نہیں، مگر جبکہ اس لفظ سے نکاح مراد لیا تو ہو جائے گا۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: عورت سے کہا تو میری ہوگئی، اُس نے کہا ہاں یا میں تیری ہوگئی یا عورت سے کہا بعوض اتنے کے تو میری عورت ہو جا، اُس نے قبول کیا یاعورت نے مرد سے کہا میں نے تجھ سے اپنی شادی کی مرد نے قبول کیا یا مرد نے عورت سے کہا تُو نے اپنے کو میری عورت کیا، اُس نے کہا کیا تو ان سب صورتوں میں نکاح ہو جائے گا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ۲۲: جس عورت کو بائن طلاق دی ہے، اُس نے گواہوں کے سامنے کہا میں نے اپنے کو تیری طرف واپس کیا، مرد نے قبول کیا نکاح ہوگيا۔(5) (عالمگیری) اجنبی عورت اگریہ لفظ کہے تو نہ ہوگا۔
1 ۔مثلاً عورت نے یوں کہا کہ میں نے اپنی ذات تمہیں ہبہ کردی یا میں نے تجھے اپنی ذات کا مالک بنا دیا،یا میں نے اپنی ذات تمہیں بطور صدقہ دے دی،یامرد یوں کہے کہ میں نے تمہیں اس قدر روپے کے عوض خرید لیا۔
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح، مطلب: التزوج بارسال کتاب، ج۴، ص۸۹۔۹۱.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح، الباب الثاني فیما ینعقد بہ النکاح وما لاینعقد، ج۱، ص۲۷۰، ۲۷۱.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:التزوج بارسال کتاب، ج۴، ص۹۱.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح، الباب الثاني فیما ینعقد بہ النکاح وما لاینعقد، ج۱، ص۲۷۰،۲۷۱.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،المرجع السابق،ص۲۷۱.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح، الباب الثاني فیماینعقد بہ النکاح وما لاینعقد، ج۱، ص۲۷۱.
مسئلہ۲۳: کسی نے دوسرے سے کہا، اپنی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دے، اُس نے کہا اسے اُٹھا لے جا یا تُو جہاں چاہے لے جا تو نکاح نہ ہوا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: ایک شخص نے منگنی کا پیغام کسی کے پاس بھیجا، ان پیغام لے جانے والوں نے وہاں جا کر کہا، تو نے اپنی لڑکی ہمیں دی، اُس نے کہا دی، نکاح نہ ہوا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: لڑکے کے باپ نے گواہوں سے کہا، میں نے اپنے لڑکے کا نکاح فلاں کی لڑکی کے ساتھ اتنے مہر پر کر دیا تم گواہ ہو جاؤ پھر لڑکی کے باپ سے کہا گیا، کیا ایسا نہیں ہے؟ اُس نے کہا ایسا ہی ہے اور اس کے سوا کچھ نہ کہا تو بہتر یہ ہے کہ نکاح کی تجدید کی جائے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: لڑکے کے باپ نے لڑکی کے باپ کے پاس پیغام دیا، اُس نے کہا میں نے تو اس کا فلاں سے کر دیا ہے اس نے کہا نہیں تو اُس نے کہا اگر میں نے اُس سے نکاح نہ کیا ہو تو تیرے بیٹے سے کر دیا، اس نے کہا میں نے قبول کیا بعد کو معلوم ہوا کہ اُس لڑکی کا نکاح کسی سے نہیں ہوا تھا تو یہ نکاح صحیح ہوگيا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: عورت نے مرد سے کہا میں نے تجھ سے اپنا نکاح کیا اِس شرط پر کہ مجھے اختیار ہے جب چاہوں اپنے کو طلاق دے لوں، مرد نے قبول کیا تو نکاح ہوگيا اور عورت کو اختیار رہا جب چاہے اپنے کو طلاق دے لے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: نکاح میں خیار رویت خیار عیب خیار شرط مطلقاً نہیں، خواہ مرد کو خیار (6) ہو یا عورت کے ليے یا دونوں کے ليے۔ تین دِن کا خیار ہو یا کم یا زائد کا مثلاً اندھے، لنجھے(7)، اپاہج (8)نہ ہونے کی شرط لگائی یا یہ شرط کی کہ خوبصورت ہو اور اس کے خلاف نکلا یا مرد نے شرط لگائی کہ کوآری ہو اور ہے اِس کے خلاف تو نکاح ہو جائے گا اور شرط باطل۔ يوہيں عورت نے شرط لگائی کہ مرد شہری ہو نکلا دیہاتی تو اگر کفو ہے نکاح ہو جائے گا اورعورت کو کچھ اختیار نہیں یا اس شرط پرنکاح ہوا کہ باپ کو اختیار ہے تو نکاح ہوگيا اور اُسے اختیارنہیں۔ (9) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثاني فیما ینعقد بہ النکاح وما لاینعقد، ج۱، ص۲۷۲.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثاني فیما ینعقد بہ النکاح وما لاینعقد،ج۱، ص۲۷۲.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق، ص۲۷۳.
5 ۔المرجع السابق،ص۲۷۳.
6 ۔اختیار۔ 7 ۔ جس کے ہاتھ یا پاؤں شل (بے کار)ہوں۔ 8 ۔ ہاتھ پاؤں سے معذور۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح، الباب الثاني فیما ینعقد بہ النکاح وما لاینعقد، ج۱، ص۲۷۳.
مسئلہ ۲۹: نکاح میں مہر کا ذکر ہو تو ایجاب پورا جب ہوگا کہ مہر بھی ذکر کرلے، مثلاً یہ کہتا تھا کہ فلاں عورت تیرے نکاح میں دی بعوض ہزار روپے کے اور مہر کے ذکر سے پیشتر اُس نے کہا میں نے قبول کی، نکاح نہ ہوا کہ ابھی ایجاب پورا نہ ہوا تھااورا گر مہر کا ذکر نہ ہوتا تو ہو جاتا۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: کسی نے لڑکی کے باپ سے کہا، میں تیرے پاس اس لیے آیا کہ تُو اپنی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دے۔ اس نے کہا میں نے اس کو تیرے نکاح میں دیا نکاح ہوگيا، قبول کی بھی حاجت نہیں بلکہ اُسے اب یہ اختیار نہیں کہ نہ قبول کرے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: کسی نے کہا تو نے لڑکی مجھے دی، اُس نے کہا دی، اگرنکاح کی مجلس ہے تو نکاح ہے اورمنگنی کی ہے تو منگنی۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ۳۲: عورت کو اپنی دُلہن یا بی بی کہہ کر پکارا، اُس نے جواب دیا تو اس سے نکاح نہیں ہوتا۔ (4) (ردالمحتار)
نکاح کے ليے چند شرطیں ہیں:
1 عاقل ہونا۔ مجنوں یاناسمجھ بچہ نے نکاح کیا تو منعقد ہی نہ ہوا۔
2 بلوغ۔ نابالغ اگر سمجھ وال ہے تو منعقد ہو جائے گا مگر ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔
3 گواہ ہونا۔ یعنی ایجاب و قبول دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے ہوں۔ گواہ آزاد، عاقل، بالغ ہوں اور سب نے ایک ساتھ نکاح کے الفاظ سُنے۔ بچوں اور پاگلوں کی گواہی سے نکاح نہیں ہوسکتا، نہ غلام کی گواہی سے اگرچہ مدبّر یامکاتب ہو۔
مسلمان مرد کا نکاح مسلمان عورت کے ساتھ ہے تو گواہوں کا مسلمان ہونا بھی شرط ہے، لہٰذا مسلمان مرد و عورت کا نکاح کافر کی شہادت سے نہیں ہوسکتا اور اگر کتابیہ(5) سے مسلمان مرد کا نکاح ہو تو اس نکاح کے گواہ ذمّی کافر بھی ہو سکتے ہیں، اگرچہ عورت کے مذہب کے خلاف گواہوں کا مذہب ہو، مثلاً عورت نصرانیہ (6)ہے اور گواہ یہودی یا بالعکس(7)۔ يوہيں اگر کافر و کافرہ
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب: التزوج بارسال کتاب، ج۴، ص۸۵.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح، مطلب:کثیراً مایتساھل في اطلاق المستحب علی السنۃ، ج۴، ص۸۲.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔ یہودی یا عیسائی عورت۔ 6 ۔عیسائی۔ 7 ۔یعنی عورت یہودی ہے اورگواہ نصرانی ہیں۔
کا نکاح ہو تو اس نکاح کے گواہ کافر بھی ہو سکتے ہیں اگرچہ دوسرے مذہب کے ہوں۔
مسئلہ۳۳: سمجھ وال بچے یا غلام کے سامنے نکاح ہوا اور مجلس نکاح میں وہ لوگ بھی تھے جو نکاح کے گواہ ہو سکتے ہیں پھر وہ بچہ بالغ ہو کر یا غلام آزاد ہونے کے بعد اُس نکاح کی گواہی دیں کہ ہمارے سامنے نکاح ہوا اور اُس وقت ہمارے سوا نکاح میں اورلوگ بھی موجود تھے، جن کی گواہی سے نکاح ہوا تو اُن کی گواہی مان لی جائے گی۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ۳۴: مسلمان کا نکاح ذمیّہ سے ہوا اور گواہ ذمّی تھے، اب اگر مسلمان نے نکاح سے انکار کر دیا تو ان کی گواہی سے نکاح ثابت نہ ہوگا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ۳۵: صرف عورتوں یا خنثے کی گواہی سے نکاح نہیں ہوسکتا، جب تک ان میں کے دو کے ساتھ ایک مرد نہ ہو۔ (3) (خانیہ)
مسئلہ۳۶: سوتے ہوؤں کے سامنے ایجاب و قبول ہوا تو نکاح نہ ہوا۔ يوہيں اگر دونوں گواہ بہرے ہوں کہ اُنھوں نے الفاظِ نکاح نہ سُنے تو نکاح نہ ہوا۔ (4) (خانیہ)
مسئلہ ۳۷: ایک گواہ سُنتا ہوا ہے اور ایک بہرا، بہرے نے نہیں سُنا اور اُس سُننے والے یا کسی اور نے چلّا کر اُس کے کان میں کہا نکاح نہ ہوا، جب تک دونوں گواہ ایک ساتھ عاقدین(5) سے نہ سُنیں۔ (6) (خانیہ)
مسئلہ ۳۸: ایک گواہ نے سُنا دوسرے نے نہیں پھر لفظ کا اعادہ کیا (7)، اب دوسرے نے سُنا پہلے نے نہیں تو نکاح نہ ہوا۔ (8) (خانیہ)
مسئلہ ۳۹: گونگے گواہ نہیں ہو سکتے کہ جو گونگا ہوتا ہے بہرا بھی ہوتا ہے، ہاں اگر گونگا ہو اور بہرا نہ ہو تو
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:الخصاف کبیر في العلم یجوز الاقتداء بہ، ج ۴، ص۹۹.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح، ج ۴، ص۱۰۱.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في شرائط النکاح، ج۱، ص۱۵۶.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔ یعنی معاملہ کے دونوں فریق مثلاً دولہا و وکیل یا دولہا اوردلہن۔
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في شرائط النکاح،ج۱،ص۱۵۶.
7 ۔یعنی اس لفظ کودہرایا۔
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في شرائط النکاح،ج۱،ص۱۵۶.
ہوسکتاہے۔ (1) (ہندیہ)
مسئلہ ۴۰: عاقدین گونگے ہوں تونکاح اشارے سے ہوگا، لہٰذا اِس نکاح کا گواہ گونگا ہوسکتا ہے اور بہرا بھی۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ۴۱: گواہ دوسرے ملک کے ہیں کہ یہاں کی زبان نہیں سمجھتے ،تو اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ نکاح ہو رہا ہے اور الفاظ بھی سُنے اور سمجھے یعنی وہ الفاظ زبان سے ادا کر سکتے ہیں اگرچہ اُن کے معنی نہیں سمجھتے نکاح ہوگيا۔ (3) (خانیہ، عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: نکاح کے گواہ فاسق ہوں یا اندھے یا اُن پر تہمت کی حد(4) لگائی گئی ہو تو ان کی گواہی سے نکاح منعقد ہو جائے گا، مگر عاقدین میں سے اگر کوئی انکار کر بیٹھے تو ان کی شہادت سے نکاح ثابت نہ ہوگا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: عورت یا مرد يا دونوں کے بیٹے گواہ ہوئے نکاح ہو جائے گا مگر میاں بی بی میں سے اگر کسی نے نکاح سے انکار کر دیا ،تو ان لڑکوں کی گواہی اپنے باپ یا ماں کے حق میں مفید نہیں، مثلاً مرد کے بیٹے گواہ تھے اور عورت نکاح سے انکار کرتی ہے، اب شوہر نے اپنے بیٹوں کو گواہی کے ليے پیش کیا ،تو ان کی گواہی اپنے باپ کے ليے نہیں مانی جائے گی اور اگر وہ دونوں گواہ دونوں کے بیٹے ہوں یا ایک ایک کا، دوسرا دوسرے کا تو ان کی گواہی کسی کے ليے نہیں مانی جائے گی۔ (6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴۴: کسی نے اپنی بالغہ لڑکی کا نکاح اُس کی اجازت سے کر دیا اور اپنے بیٹوں کو گواہ بنایا، اب لڑکی کہتی ہے کہ میں نے اذن نہیں دیا اور اس کا باپ کہتا ہے دیا تو لڑکوں کی گواہی کہ اذن دیا تھا مقبول نہیں۔ (7) (خانیہ)
مسئلہ ۴۵: ایک شخص نے کسی سے کہا کہ میری نابالغہ لڑکی کا نکاح فلاں سے کر دے، اس نے ایک گواہ کے سامنے کر دیا تو اگر لڑکی کا باپ وقتِ نکاح موجود تھا تو نکاح ہوگيا کہ وہ دونوں گواہ ہو جائیں گے اور باپ عاقد(8)اور موجود نہ تھا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الأول في تفسیرہ شرعًا وصفۃ...إلخ، ج۱، ص۲۶۸.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:الخصاف کبیر في العلم...إلخ،ج ۴، ص۹۹.
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب: الخصاف کبیر في العلم... إلخ، ج ۴، ص۱۰۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الأول في تفسیرہ شرعًاوصفۃ...إلخ،ج۱، ص۲۶۸.
4 ۔ تہمتِ زنا کی شرعی سزا۔
5 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:الخصاف کبیر في العلم...إلخ،ج ۴،ص۱۰۰.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج ۴،ص۱۰۱،وغیرہ.
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في شرائط النکاح،ج۱،ص۱۸۶.
8 ۔ نکاح کرنے والا،عقد کرنے والا۔
تونہ ہوا۔ يوہيں اگر بالغہ کا نکاح اُس کی اجازت سے باپ نے ایک شخص کے سامنے پڑھایا، اگر لڑکی وقت عقد (1) موجود تھی ہوگيا ورنہ نہیں۔ يوہيں اگر عورت نے کسی کو اپنے نکاح کا وکیل کیا، اُس نے ایک شخص کے سامنے پڑھا دیا تو اگر موکلہ موجود ہے ہوگيا ورنہ نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ موکل اگر بوقتِ عقد موجود ہے تو اگرچہ وکیل عقد کر رہا ہے مگر موکل عاقد قرار پائے گا اوروکیل گواہ مگر یہ ضرور ہے کہ گواہی دیتے وقت اگر وکیل نے کہا، میں نے پڑھایا ہے تو شہادت نا مقبول ہے کہ یہ خود اپنے فعل کی شہادت ہوئی۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴۶: مولیٰ (3)نے اپنی باندی (4) یا غلام کا ایک شخص کے سامنے نکاح کیا ،تو اگرچہ وہ موجود ہو نکاح نہ ہوا اور اگر اُسے نکاح کی اجازت دے دی پھر اُس کی موجودگی میں ایک شخص کے سامنے نکاح کیا تو ہو جائے گا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۴۷: گواہوں کا ایجاب و قبول کے وقت ہونا شرط ہے، فلہذا اگر نکاح اجازت پر موقوف ہے اور ایجاب و قبول گواہوں کے سامنے ہوئے اور اجازت کے وقت نہ تھے ہوگيا اور اس کا عکس ہوا تو نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۸: گواہ اُسی کو نہیں کہتے جو دو شخص مجلسِ عقد میں مقرر کر ليے جاتے ہیں، بلکہ وہ تمام حاضرین گواہ ہیں جنھوں نے ایجاب و قبول سُنا اگر قابلِ شہادت(7) ہوں۔
مسئلہ ۴۹: ایک گھر میں نکاح ہوا اور یہاں گواہ نہیں، دوسرے مکان میں کچھ لوگ ہیں جن کو اُنھوں نے گواہ نہیں بنایا مگر وہ وہاں سے سُن رہے ہیں، اگر وہ لوگ اُنھيں دیکھ بھی رہے ہوں تو اُن کی گواہی مقبول ہے ورنہ نہیں۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: عورت سے اذن لیتے وقت گواہوں کی ضرورت نہیں یعنی اُس وقت اگر گواہ نہ بھی ہوں اور نکاح پڑھاتے وقت ہوں تو نکاح ہوگيا، البتہ اذن کے ليے گواہوں کی یوں حاجت ہے کہ اگر اُس نے انکار کر دیا اوریہ کہا کہ میں نے اذن نہیں دیا تھا تو اب گواہوں سے اس کا اذن دینا ثابت ہو جائے گا۔ (9) (عالمگیری، ردالمحتار وغیرہما)
1 ۔ یعنی نکاح کے وقت۔
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴، ص۱۰۲، وغیرہ.
3 ۔آقا،مالک۔ 4 ۔لونڈی۔
5 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴، ص۱۰۳.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الأول في تفسیرہ شرعًاوصفۃ...إلخ،ج۱، ص۲۶۹.
7 ۔گواہی دینے کے اہل۔
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الأول في تفسیرہ شرعًاوصفۃ...إلخ،ج۱، ص۲۶۸.
9 ۔المرجع السابق،ص۲۶۹.
و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:ہل ینعقد النکاح بالالفاظ المصحفۃ... إلخ، ج۴، ص ۹۸،وغیرہما.
مسئلہ۵۱: یہ جو تمام ہندوستان میں عام طور پر رواج پڑا ہوا ہے کہ عورت سے ایک شخص اذن (1)لے کر آتا ہے جسے وکیل کہتے ہیں، وہ نکاح پڑھانے والے سے کہہ دیتا ہے میں فلاں کا وکیل ہوں آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ نکاح پڑھا ديجيے۔ یہ طریقہ محض غلط ہے۔ وکیل کو یہ اختیارنہیں کہ اُس کام کے ليے دوسرے کو وکیل بنا دے، اگر ایسا کیا تو نکاح فضولی ہوا اجازت پر موقوف ہے، اجازت سے پہلے مرد و عورت ہر ایک کو توڑ دینے کا اختیار حاصل ہے بلکہ یوں چاہيے کہ جو پڑھائے وہ عورت یا اُس کے ولی کا وکیل بنے (2) خواہ یہ خود اُس کے پاس جا کر وکالت حاصل کرے یا دوسرا اس کی وکالت کے ليے اذن لائے کہ فلاں بن فلاں بن فلاں کو تُو نے وکیل کیا کہ وہ تیرا نکاح فلاں بن فلاں بن فلاں سے کر دے۔ عورت کہے ہاں۔
مسئلہ ۵۲: یہ امر بھی ضروری ہے کہ منکوحہ گواہوں کو معلوم ہو جائے یعنی یہ کہ فلاں عورت سے نکاح ہوتا ہے، اس کے دو۲ طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ اگر وہ مجلسِ عقد میں موجود ہے توا س کی طرف نکاح پڑھانے والا اشارہ کر کے کہے کہ میں نے اِس کو تیرے نکاح میں دیا اگرچہ عورت کے مونھ پر نقاب پڑا ہو،(3) بس اشارہ کافی ہے اور اس صورت میں اگر اُس کے یا اُس کے باپ دادا کے نام میں غلطی بھی ہو جائے تو کچھ حرج نہیں، کہ اشارہ کے بعد اب کسی نام وغیرہ کی ضرورت نہیں اور اشارے کی تعیین کے مقابل کوئی تعیین نہیں۔
دوسری صورت معلوم کرنے کی یہ ہے کہ عورت اور اُس کے باپ اور دادا کے نام ليے جائیں کہ فلانہ بنت فلاں بن فلاں اور اگر صرف اُسی کے نام لینے سے گواہوں کو معلوم ہو جائے کہ فلانی عورت سے نکاح ہوا تو باپ دادا کے نام لینے کی ضرورت نہیں پھر بھی احتیاط اِس میں ہے کہ اُن کے نام بھی ليے جائیں اور اس کی اصلاً ضرورت نہیں کہ اُسے پہچانتے ہوں بلکہ یہ جاننا کافی ہے کہ فلانی اور فلاں کی بیٹی فلاں کی پوتی ہے اور اِس صورت میں اگر اُس کے یا اُس کے باپ دادا کے نام میں غلطی ہوئی تو نکاح نہ ہوا اور ہماری غرض نام لینے سے یہ نہیں کہ ضرور اُس کا نام ہی لیا جائے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ تعیین ہو جائے، خواہ نام
1 ۔ یعنی اجازت۔
2 ۔ یا پھر عورت کا وکیل اس بات کی بھی اجازت حاصل کرے کہ وہ نکاح پڑھانے کے لیے دوسرے کو وکیل بناسکتا ہے۔
3 ۔ اعلیٰ حضرت، امامِ احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاویٰ رضویہ'' جلد11صفحہ112پر فرماتے ہیں: احوط یہ ہے کہ وہ چہرہ کھلا رکھے۔...عِلْمِیہ
کے ذریعہ سے یا یوں کہ فلاں بن فلاں بن فلاں کی لڑکی اور اگر اُس کی چند لڑکیاں ہوں تو بڑی یا منجھلی(1) یا سنجھلی (2)یا چھوٹی غرض معین ہو جانا ضرور ہے اور چونکہ ہندوستان میں عورتوں کا نام مجمع میں ذکر کرنا معیوب ہے(3)، لہٰذا یہی پچھلا طریقہ یہاں کے حال کے مناسب ہے۔ (4) (ردالمحتار وغيرہ)
تنبیہ: بعض نکاح خواں کو دیکھا گیا ہے کہ رواج کی وجہ سے نام نہیں لیتے اور نام لینے کو ضروری بھی سمجھتے ہیں، لہٰذا دولہا کے کان میں چپکے سے لڑکی کا نام ذکر کر دیتے ہیں پھر اُن لفظوں سے ایجاب کرتے ہیں کہ فلاں کی لڑکی جس کا نام تجھے معلوم ہے، میں نے اپنی وکالت سے تیرے نکاح میں دی۔ اِس صورت میں اگر اُس کی اور لڑکیاں بھی ہیں تو گواہوں کے سامنے تعیین نہ ہوئی، یہاں تک کہ اگر یوں کہا کہ میں نے اپنی موکلہ تیرے نکاح میں دی یا جس عورت نے اپنا اختیار مجھے دے دیا ہے، اُسے تیرے نکاح میں دیا تو فتویٰ اس پر ہے کہ نکاح نہ ہوا۔
مسئلہ ۵۳: ایک شخص کی دو لڑکیاں ہیں اور نکاح پڑھانے والے نے کہا کہ فلاں کی لڑکی تیرے نکاح میں دی ،تو اُن میں اگر ایک کا نکاح ہو چکا ہے تو ہوگيا کہ وہ جو باقی ہے وہی مراد ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۴: وکیل نے موکلہ کے باپ کے نام میں غلطی کی اور موکلہ کی طرف اشارہ بھی نہ ہو تو نکاح نہیں ہوا۔ يوہيں اگر لڑکی کے نام میں غلطی کرے جب بھی نہ ہوا۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۵۵: کسی کی دو لڑکیاں ہیں، بڑی کا نکاح کر نا چاہتا ہے اور نام لے دیا چھوٹی کا تو چھوٹی کا نکاح ہوا اور اگر کہا بڑی لڑکی جس کا نام یہ ہے اور نام لیا چھوٹی کا تو کسی کا نہ ہوا۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۶: لڑکی کے باپ نے لڑکے کے باپ سے صرف اتنے لفظ کہے، کہ میں نے اپنی لڑکی کا نکاح کیا، لڑکے کے باپ نے کہا میں نے قبول کیا تو یہ نکاح لڑکے کے باپ سے ہوا اگرچہ پیشتر (8)سے خود لڑکے کی نسبت(9) وغیرہ ہو چکی ہو اور اگر یوں کہا، میں نے اپنی لڑکی کا نکاح تیرے لڑکے سے کیا، اُس نے کہا، میں نے قبول کیا تو اب لڑکے سے ہوا، اگرچہ اُس نے یہ نہ
1 ۔ یعنی درمیانی ۔ 2 ۔ یعنی تیسری ۔ 3 ۔ یعنی بُرا سمجھا جاتا ہے۔
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:الخصاف کبیر في العلم...إلخ،ج ۴،ص۹۸،۱۰۴،وغیرہ.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب: التزوج بارسال کتاب،ج۴،ص۸۷.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۱۰۴.
7 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:في عطف الخاص علی العام،ج ۴،ص۱۰۴.
8 ۔پہلے۔ 9 ۔یعنی منگنی۔
کہا کہ میں نے اپنے لڑکے کے ليے قبول کی اور اگر پہلی صورت میں یہ کہتا کہ میں نے اپنے لڑکے کے ليے قبول کی تو لڑکے ہی کا ہوتا۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۷: لڑکے کے باپ نے کہا تو اپنی لڑکی کا نکاح میرے لڑکے سے کر دے، اُس نے کہا میں نے تیرے نکاح میں دی، اس نے کہا میں نے قبول کی تو اسی کا نکاح ہوا، اس کے لڑکے کا نہ ہوا اور ایسا بھی اب نہیں ہوسکتا کہ باپ طلاق دے کر لڑکے سے نکاح کر دے کہ وہ تو ہمیشہ کے ليے لڑکے پر حرام ہوگئی۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: عورت سے اجازت لیں تو اس میں بھی زوج (3) اور اُس کے باپ، دادا کے نام ذکر کر دیں کہ جہالت(4) باقی نہ رہے۔
مسئلہ ۵۹: عورت نے اذن دیا اگر اُس کو دیکھ رہا ہے اور پہچانتا ہے تو اُس کے اذن کا گواہ ہوسکتاہے۔ يوہيں اگرمکان کے اندر سے آواز آئی اور اس گھر میں وہ تنہا ہے تو بھی شہادت دے سکتا ہے اور اگر تنہا نہیں اور اذن دینے کی آواز آئی تواگربعد میں عورت نے کہا کہ میں نے اذن نہیں دیا تھاتو یہ گواہی نہیں دے سکتا کہ اُسی نے اذن دیا تھا مگر واقعی اگر اُس نے اذن دے دیا تھا جب تو پوری طرح سے نکاح ہوگيا، ورنہ نکاح فضولی ہوگا کہ اُس کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ (5)(ردالمحتار وغیرہ) سُناگیا ہے کہ بعض لڑکیاں اذن دیتے وقت کچھ نہیں بولتیں، دوسری عورتیں ہوں کر دیا کرتی ہیں یہ نہیں چاہيے۔
4 ایجاب و قبول دونوں کا ایک مجلس میں ہونا۔ تو اگر دونوں ایک مجلس میں موجود تھے ایک نے ایجاب کیا، دوسرا قبول سے پہلے اُٹھ کھڑا ہو یا کوئی ایسا کام شروع کر دیا، جس سے مجلس بدل جاتی ہے(6)تو ایجاب باطل ہوگيا، اب قبول کرنا بےکار ہے پھر سے ہونا چاہيے۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب في عطف الخاص علی العام،ج ۴،ص۱۰۴.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۰۵.
3 ۔خاوند۔ 4 ۔یعنی لاعلمی۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:الخصاف کبیر في العلم...إلخ،ج۴،ص۹۸،وغیرہ.
6 ۔مثلاًتین لقمے کھانے ،تین گھونٹ پینے ،تین کلمے بولنے ،تین قدم میدان میں چلنے ،نکاح یاخرید وفروخت کرنے ،لیٹ کرسوجانے سے مجلس بدل جاتی ہے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الأول في تفسیرہ شرعًاوصفۃ...إلخ،ج۱، ص۲۶۹.
مسئلہ۶۰: مر د نے کہا میں نے فلانی سے نکاح کیا اور وہ وہاں موجود نہ تھی، اُسے خبر پہنچی تو کہا میں نے قبول کیا یا عورت نے کہا میں نے اپنے کو فلاں کی زوجیت میں دیا اور وہ غائب تھا، جب خبر پہنچی تو کہا میں نے قبول کیا تو دونوں صورتوں میں نکاح نہ ہوا۔ اگرچہ جن گواہوں کے سامنے ایجاب ہوا، اُنھيں کے سامنے قبول بھی ہوا ہو۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ۱ ۶: اگر ایجاب کے الفاظ خط میں لکھ کر بھیجے اور جس مجلس میں خط اُس کے پاس پہنچا، اُس میں قبول نہ کیا بلکہ دوسری مجلس میں گواہوں کو بُلا کر قبول کیا تو ہو جائے گا جب کہ وہ شرطیں پائی جائیں جو اوپر مذکور ہوئیں، جس کے ہاتھ خط بھیجا مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غیر آزاد، بالغ ہو یا نابالغ، صالح ہو یا فاسق۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۲: کسی کی معرفت ایجاب کے الفاظ کہلا کر بھیجے، اس پیغام پہنچانے والے نے جس مجلس میں پیغام پہنچایا، اس میں قبول نہ کیا پھر دوسری مجلس میں قاصد نے تقاضا کیا اب قبول کیا تو نکاح نہ ہوا۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ۶۳: چلتے ہوئے یا جانور پر سوار جارہے تھے اور ایجاب و قبول ہوا نکاح نہ ہوا۔ کشتی پر جا رہے تھے اور اس حالت میں ہوا تو ہوگيا۔ (4) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۶۴: ایجاب کے بعد فوراً قبول کرنا شرط نہیں جب کہ مجلس نہ بدلی ہو، لہٰذا اگر نکاح پڑھانے والے نے ایجاب کے الفاظ کہے اور دولہا نے سکوت کیا پھر کسی کے کہنے پر قبول کیا تو ہوگيا۔ (5) (ردالمحتار وغیرہ)
5 قبول ایجاب کے مخالف نہ ہو، مثلاً اس نے کہا ہزار روپے مہر پر تیرے نکاح میں دی، اُس نے کہا نکاح تو قبول کیا اور مہر قبول نہیں تو نکاح نہ ہوا۔ اور اگر نکاح قبول کیا اور مہر کی نسبت کچھ نہ کہا تو ہزار پر نکاح ہوگيا۔ (6) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۵: اگر کہا ہزار پر تیرے نکاح میں دی، اُس نے کہا دو ہزار پر میں نے قبول کی یا مرد نے عورت سے کہا ہزار
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الأول في تفسیرہ شرعًاوصفۃ...إلخ،ج۱، ص۲۶۹.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب النکاح، مطلب: التزوج بإرسال کتاب، ج۴، ص۸۶.
4 ۔ المرجع السابق، وغیرہ. 5 ۔ المرجع السابق،وغیرہ.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الأول في تفسیرہ شرعًاوصفۃ...إلخ،ج۱، ص۲۶۹.
و''ردالمحتار''،کتاب النکاح، مطلب: التزوج بإرسال کتاب، ج۴، ص۸۷.
روپے مہر پر میں نے تجھ سے نکاح کیا، عورت نے کہا پانسو مہر پر میں نے قبول کیا تو نکاح ہوگيا مگر پہلی صورت میں اگر عورت نے بھی اُسی مجلس میں دو ۲ ہزار قبول کيے تو مَہر دو ہزار ورنہ ایک ہزار اور دوسری صورت میں مطلقاً پانسو مہر ہے۔ اگر عورت نے ہزار کو کہا، مرد نے پانسو پر قبول کیا تو ظاہر یہ ہے کہ نہیں ہوا، اِس ليے کہ ایجاب کے مخالف ہے۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۶: غلام نے بغیر اجازتِ مولیٰ اپنا نکاح کسی عورت سے کیا اور مہر خود اپنے کو کیا اُس کے مولیٰ نے نکاح تو جائز کیا مگر غلام کے مَہر میں ہونے کی اجازت نہ دی تو نکاح ہوگيا اور مہر کی نسبت یہ حکم ہے کہ مہرمثل و قیمت غلام دونوں میں جو کم ہے وہ مَہر ہے غلام بیچ کر مہر ادا کیا جائے۔ (2) (عالمگیری)
6 لڑکی بالغہ ہے تو اُس کا راضی ہونا شرط ہے،(3) ولی کو یہ اختیارنہیں کہ بغیر اُس کی رضا کے نکاح کر دے۔
7 کسی زمانۂ آئندہ کی طرف نسبت نہ کی ہو، نہ کسی شرط نامعلوم پر معلق کیا ہو، مثلاً میں نے تجھ سے آئندہ روز میں نکاح کیا یا میں نے نکاح کیا اگر زید آئے ان صورتوں میں نکاح نہ ہوا۔
مسئلہ ۶۷: جب کہ صریح الفاظ (4)نکاح میں استعمال کيے جائیں تو عاقدین اور گواہوں کا ان کے معنی جاننا شرط نہیں۔ (5) (درمختار)
8 نکاح کی اضافت(6) کُل کی طرف ہو یا اُن اعضا کی طرف جن کو بول کرکُل مراد لیتے ہیں تو اگر یہ کہا، فلاں کے ہاتھ یاپاؤں یا نصف سے نکاح کیا صحیح نہ ہوا۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب النکاح،الباب الأول في تفسیرہ شرعًاوصفۃ...إلخ،ج۱، ص۲۶۹.
و ''ردالمحتار''،کتاب النکاح، مطلب: التزوج بإرسال کتاب، ج۴، ص۸۷.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب النکاح،الباب الأول في تفسیرہ شرعًاوصفۃ...إلخ،ج۱،ص۲۶۹.
3 ۔ اعلیٰ حضرت، امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاویٰ رضویہ'' جلد11 صفحہ 203پر فرماتے ہیں:یعنی اس کی اجازت قول ،فعل صریح یا دلالت سے ہو جاتی ہے اگرچہ بطور جبر ہو۔...عِلْمِیہ
4 ۔ صریح صرف دو لفظ ہیں (۱) نکاح(۲) تزوج۔مثلاً عربی میں کہا: زَوَّجْتُ نَفْسِیْ یا اردو میں کہا:میں نے اپنے کو تیری زوجیت یا تیرے نکاح میں دیا۔...عِلْمِیہ
5 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۸۸.
6 ۔نکاح کی نسبت۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الأول في تفسیرہ شرعًاوصفۃ...إلخ،ج۱، ص۲۶۹.
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
(وَلَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ؕ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا ﴿٪۲۲﴾ حُرِّمَتْ عَلَیۡکُمْ اُمَّہٰتُکُمْ وَبَنٰتُکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ وَعَمّٰتُکُمْ وَخٰلٰتُکُمْ وَبَنٰتُ الۡاَخِ وَبَنٰتُ الۡاُخْتِ وَاُمَّہٰتُکُمُ الّٰتِیۡۤ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰتُکُمۡ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّہٰتُ نِسَآئِکُمْ وَرَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیۡ فِیۡ حُجُوۡرِکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیۡ دَخَلْتُمۡ بِہِنَّ ۫ فَاِنۡ لَّمْ تَکُوۡنُوۡا دَخَلْتُمۡ بِہِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ ۫ وَحَلَآئِلُ اَبْنَآئِکُمُ الَّذِیۡنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ ۙ وَ اَنۡ تَجْمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخْتَیۡنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿ۙ۲۳﴾ وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُکُمْ ۚ کِتٰبَ اللہِ عَلَیۡکُمْ ۚ وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوَالِکُمۡ مُّحْصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ ؕ)(1)
اُن عورتوں سے نکاح نہ کرو، جن سے تمھارے باپ دادا نے نکاح کیا ہو مگر جو گزر چکا ،بیشک یہ بے حیائی اور غضب کاکام ہے اور بہت بُری راہ ۔ تم پر حرام ہیں تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور دُودھ کی بہنیں اور تمھاری عورتوں کی مائیں اور اُن کی بیٹیاں جو تمھاری گود میں ہیں، اُن بیبیوں سے جن سے تم جماع کر چکے ہو اور اگر تم نے اُن سے جماع نہ کیا ہو تو اُن کی بیٹیوں میں گناہ نہیں اورتمھارے نسلی بیٹوں کی بیبیاں اور دو بہنوں کو اکٹھا کرنا مگر جو ہو چکا۔ بیشک اﷲ (عزوجل) بخشنے والا مہربان ہے اور حرام ہیں شوہر والی عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمھاری مِلک میں آجائیں، یہ اﷲ (عزوجل) کا نوشتہ ہے اور ان کے سوا جو رہیں وہ تم پر حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو پارسائی چاہتے، نہ زنا کرتے۔
اور فرماتا ہے:
(وَ لَا تَنۡکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ؕ وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشْرِکَۃٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْکُمْ ۚ وَ لَا تُنۡکِحُوا الْمُشِرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوۡا ؕ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشْرِکٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَکُمْ ؕ اُولٰٓئِکَ یَدْعُوۡنَ اِلَی النَّارِ ۚۖ وَاللہُ یَدْعُوۡۤا اِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِاِذْنِہٖ ۚ وَیُبَیِّنُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۲۱﴾٪) (2)
1 ۔ پ۴،۵النساء:۲۲۔۲۴.
2 ۔ پ۲،البقرۃ:۲۲۱.
مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک ایمان نہ لائیں، بیشک مسلمان باندی مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ تمھیں یہ بھلی معلوم ہوتی ہو اور مشرکوں سے نکاح نہ کرو جب تک ایمان نہ لائیں، بیشک مسلمان غلام مشرک سے بہتر ہے، اگرچہ تمھیں یہ اچھا معلوم ہوتا ہو، یہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اﷲ (عزوجل) بلاتا ہے جنت و مغفرت کی طرف اپنے حکم سے اور لوگوں کے ليے اپنی نشانیاں ظاہر فرماتا ہے تاکہ لوگ نصیحت مانیں۔
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''عورت اور اُس کی پھوپی کو جمع نہ کیا جائے اور نہ عورت اور اُس کی خالہ کو۔'' (1)
حدیث ۲: ابو داود و ترمذی و دارمی و نسائی کی روایت اُنھيں سے ہے، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اِس سے منع فرمایا کہ پھوپی کے نکاح میں ہوتے اُس کی بھتیجی سے نکاح کیا جائے یا بھتیجی کے ہوتے اُس کی پھوپی سے یا خالہ کے ہوتے اُس کی بھانجی سے یا بھانجی کے ہوتے اُس کی خالہ سے۔'' (2)
حدیث ۳: امام بخاری عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو عورتیں ولادت (نسب) سے حرام ہیں، وہ رضاعت سے حرام ہیں۔'' (3)
حدیث ۴: صحیح مسلم میں مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بیشک اﷲ تعالیٰ نے رضاعت سے اُنھيں حرام کر دیا جنھیں نسب سے حرام فرمایا۔'' (4)
محرمات وہ عورتیں ہیں جن سے نکاح حرام ہے اور حرام ہونے کے چند سبب ہیں، لہٰذا اس بیان کو نو قسم پر منقسم(5) کیا جاتا ہے :
قسم اوّل نسب: اس قسم میں سات ۷ عورتیں ہیں:
1 ماں، 2 بیٹی، 3 بہن، 4 پھوپی، 5 خالہ، 6 بھتیجی، 7 بھانجی۔
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب النکاح، باب تحریم الجمع بین المرأۃ...إلخ، الحدیث: ۳۳۔ (۱۴۰۸)، ص۷۳۱.
2 ۔''جامع الترمذی''، أبواب النکاح، باب ماجاء لاتنکح المرأۃ علی عمتھا...إلخ، الحدیث: ۱۱۲۹،ج۲،ص۳۶۷.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب النکاح،باب مایحل من الدخول والنظرالی النساء في الرضاع،الحدیث: ۵۲۳۹،ج۳، ص۴۶۴.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الرضاع، باب تحریم ابنۃ الأخ من الرضاعۃ،الحدیث:۱۱و۱۳۔( ۱۴۴۶)، ص۷۶۱.
و''مشکاۃالمصابیح''،کتاب النکاح،باب المحرمات،الحدیث۳۱۶۳،ج۲،ص۲۱۷.
5 ۔یعنی تقسیم۔
مسئلہ ۱: دادی، نانی، پردادی، پرنانی اگرچہ کتنی ہی اوپر کی ہوں سب حرام ہیں اور یہ سب ماں میں داخل ہیں کہ یہ باپ یا ماں یا دادا، دادی، نانا، نانی کی مائیں ہیں کہ ماں سے مراد وہ عورت ہے، جس کی اولاد میں یہ ہے بلاواسطہ یا بواسطہ۔
مسئلہ ۲: بیٹی سے مراد وہ عورتیں ہیں جو اس کی اولاد ہیں۔ لہٰذا پوتی، پرپوتی، نواسی، پرنواسی اگرچہ درمیان میں کتنی ہی پشتوں کا فاصلہ ہو سب حرام ہیں۔
مسئلہ ۳: بہن خواہ حقیقی ہو یعنی ایک ماں باپ سے یا سوتیلی کہ باپ دونوں کا ایک ہے اور مائیں دو یا ماں ایک ہے اور باپ دو سب حرام ہیں۔
مسئلہ ۴: باپ، ماں، دادا، دادی، نانا، نانی، وغیرہم اصول کی پھوپیاں یا خالائیں اپنی پھوپی اور خالہ کے حکم میں ہیں۔ خواہ یہ حقیقی ہوں یا سوتیلی۔ يوہيں حقیقی یا علاتی پھوپی کی پھوپی یا حقیقی یا اخیافی خالہ کی خالہ۔
مسئلہ ۵: بھتیجی ،بھانجی سے بھائی ،بہن کی اولادیں مراد ہیں، ان کی پوتیاں، نواسیاں بھی اسی میں شمار ہیں۔
مسئلہ ۶: زنا سے بیٹی ، پوتی ، بہن، بھتیجی، بھانجی بھی محرمات میں ہیں۔
مسئلہ ۷: جس عورت سے اس کے شوہر نے لعان کیا اگرچہ اس کی لڑکی اپنی ماں کی طرف منسوب ہوگی مگر پھر بھی اس شخص پر وہ لڑکی حرام ہے۔ (1)(ردالمحتار)
قسم دوم مصاہرت: 1 زوجۂ موطؤہ (2) کی لڑکیاں، 2 زوجہ کی ماں، دادیاں، نانیاں، 3 باپ ،دادا وغیرہما اصول کی بیبیاں، 4 بیٹے پوتے وغیرہما فروع کی بیبیاں۔
مسئلہ ۸: جس عورت سے نکاح کیا اور وطی نہ کی تھی کہ جدائی ہوگئی اُس کی لڑکی اس پر حرام نہیں، نیز حرمت اس صورت میں ہے کہ وہ عورت مشتہاۃ (3)ہو، اس لڑکی کا اس کی پرورش میں ہونا ضروری نہیں اور خلوتِ صحیحہ(4) بھی وطی ہی کے حکم
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات، ج۴، ص۱۰۹.
2 ۔ یعنی وہ بیوی جس سے صحبت کی گئی ہو ۔ 3 ۔ قابل شہوت ہو یعنی نو برس سے کم عمر کی نہ ہو۔
4 ۔خلوت صحیحہ: یعنی میاں بیوی کااس طرح تنہا ہونا کہ جماع سے کوئی مانع شرعی یاطبعی یا حسی نہ ہو۔ مانع حسی سے مراد زوجین سے کوئی ایسی بیماری میں ہو کہ صحبت نہیں کر سکتا ہو ۔مانع طبعی شوہر اور عورت کے درمیان کسی تیسرے کا ہونا۔ اورمانع شرعی کی مثال عورت کا حیض یا نفاس کی حالت میں ہونا یانماز فرض میں ہونا ۔(اس کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔...عِلْمِیہ
میں ہے یعنی اگر خلوتِ صحیحہ عورت کے ساتھ ہوگئی، اس کی لڑکی حرام ہوگئی اگرچہ وطی نہ کی ہو۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: نکاح فاسد سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ،جب تک وطی نہ ہو لہٰذا اگر کسی عورت سے نکاح فاسد کیا تو عورت کی ماں اس پر حرام نہیں اور جب وطی ہوئی تو حرمت ثابت ہوگئی کہ وطی سے مطلقاً حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ خواہ وطی حلال ہو یا شبہہ و زنا سے، مثلاً بیع فاسد سے خریدی ہوئی کنیز سے یا کنیزِ مشترک(2) یا مکاتبہ یا جس عورت سے ظہار کیا یا مجوسیہ باندی یا اپنی زوجہ سے، حیض و نفاس میں یا احرام و روزہ میں غرض کسی طور پر وطی ہو، حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی لہٰذا جس عورت سے زنا کیا، اس کی ماں اور لڑکیاں اس پر حرام ہیں۔ يوہيں وہ عورت زانیہ اس شخص کے باپ ،دادا اور بیٹوں پر حرام ہو جاتی ہے۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: حرمت مصاہرت جس طرح وطی سے ہوتی ہے، يوہيں بشہوت (4) چھونے اور بوسہ لینے اور فرج داخل(5) کی طرف نظر کرنے اور گلے لگانے اور دانت سے کاٹنے اور مباشرت، یہاں تک کہ سر پر جو بال ہوں اُنھيں چھونے سے بھی حرمت ہو جاتی ہے اگرچہ کوئی کپڑا بھی حائل ہو(6) مگر جب اتنا موٹا کپڑا حائل ہو کہ گرمی محسوس نہ ہو۔ يوہيں بوسہ لینے میں بھی اگر باریک نقاب حائل ہو تو حرمت ثابت ہو جائے گی۔ خواہ یہ باتیں جائز طور پر ہوں، مثلاً منکوحہ کنیز ہے یا ناجائز طور پر۔ جو بال سر سے لٹک رہے ہوں انھيں بشہوت چھوا تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوئی۔ (7) (عالمگیری، ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۱۱: فرجِ داخل کی طرف نظر کرنے کی صورت میں اگر شیشہ درمیان میں ہو یا عورت پانی میں تھی اس کی نظر وہاں تک پہنچی جب بھی حرمت ثابت ہوگئی، البتہ آئینہ یا پانی میں عکس دکھائی دیا تو حرمت مصاہرت نہیں۔ (8) (درمختار، عالمگیری)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات، ج۴، ص۱۱۰.
2 ۔ایسی کنیزجس کے مالک دویازیادہ ہوں۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في المحرمات،القسم الثاني،ج۱،ص۲۷۴.
و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات، ج۴، ص۱۱۳.
4 ۔شہوت کے ساتھ۔ 5 ۔عورت کی شرمگاہ کااندرونی حصہ۔ 6 ۔درمیان میں آڑہو۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب النکاح، الباب الثالث في المحرمات، القسم الثاني، ج۱، ص۲۷۴.
و''ردالمحتار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات، ج۴، ص۱۱۴، وغیرہ.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات، ج۴،ص۱۱۴.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات، القسم الثاني، ج۱، ص۲۷۴.
مسئلہ ۱۲: چھونے اور نظر کے وقت شہوت نہ تھی بعد کو پیدا ہوئی یعنی جب ہاتھ لگایا اُس وقت نہ تھی، ہاتھ جدا کرنے کے بعد ہوئی تو اس سے حرمت نہیں ثابت ہوتی۔ اس مقام پر شہوت کے معنی یہ ہیں کہ اس کی وجہ سے انتشار آلہ ہو جائے اور اگر پہلے سے انتشار موجود تھا تو اب زیادہ ہو جائے یہ جوان کے ليے ہے۔ بوڑھے او رعورت کے ليے شہوت کی حد یہ ہے کہ دل میں حرکت پیدا ہو اور پہلے سے ہو تو زیادہ ہو جائے، محض میلان نفس کا نام شہوت نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: نظر اور چھونے میں حرمت جب ثابت ہوگی کہ انزال(2) نہ ہو اور انزال ہوگيا تو حرمت مصاہرت نہ ہوگی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: عورت نے شہوت کے ساتھ مرد کو چھوا یا بوسہ لیا یا اس کے آلہ کی طرف نظر کی تو اس سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی۔ (4) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: حرمت مصاہرت کے ليے شرط یہ ہے کہ عورت مشتہاۃ ہو یعنی نو برس سے کم عمر کی نہ ہو، نیز یہ کہ زندہ ہو تو اگر نو برس سے کم عمر کی لڑکی یا مردہ عورت کو بشہوت چھوا یا بوسہ لیا تو حرمت ثابت نہ ہوئی۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: عورت سے جماع کیا مگر دخول نہ ہوا تو حرمت ثابت نہ ہوئی، ہاں اگر اس کو حمل رہ جائے تو حرمت مصاہرت ہوگئی۔ (6) (عالمگیری) بوڑھیا عورت کے ساتھ یہ افعال واقع ہوئے یا اس نے کيے تو مصاہرت ہوگئی، اس کی لڑکی اس شخص پر حرام ہوگئی نیز وہ اس کے باپ، دادا پر۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: وطی سے مصاہرت میں یہ شرط ہے کہ آگے کے مقام میں ہو، اگر پیچھے میں ہوئی مصاہرت
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات،ج۴، ص۱۱۵.
2 ۔ یعنی منی کا نکلنا۔
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۱۵.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۱۴.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثاني، ج۱، ص۲۷۴.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۱۷.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثاني، ج۱،ص۲۷۴.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح، فصل فی المحرمات ،ج۴، ص۱۱۷.
نہ ہوگی۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: اغلام (2) سے مصاہرت نہیں ثابت ہوتی۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: مراہق یعنی وہ لڑکا کہ ہنوز (4) بالغ نہ ہوا مگر اس کے ہم عمر بالغ ہوگئے ہوں، اس کی مقدار بارہ برس کی عمر ہے، اس نے اگر وطی کی یا شہوت کے ساتھ چھوا یا بوسہ لیا تو مصاہرت ہوگئی۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: یہ افعال قصداً (6)ہوں یا بھول کر یا غلطی سے یا مجبوراً بہرحال مصاہرت ثابت ہو جائے گی، مثلاً اندھیری رات میں مرد نے اپنی عورت کو جماع کے ليے اٹھانا چاہا، غلطی سے شہوت کے ساتھ مشتہاۃ لڑکی(7) پر ہاتھ پڑ گیا، اس کی ماں ہمیشہ کے ليے اُس پر حرام ہوگئی۔ يوہيں اگر عورت نے شوہر کو اٹھانا چاہا اور شہوت کے ساتھ ہاتھ لڑکے پر پڑ گیا، جو مراہق تھا ہمیشہ کو اپنے اس شوہر پر حرام ہوگئی۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: مونھ (9) کا بوسہ لیا تو مطلقاً حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی اگرچہ کہتا ہو کہ شہوت سے نہ تھا۔ يوہيں اگر انتشار آلہ تھا تو مطلقاً کسی جگہ کا بوسہ لیا حرمت ہو جائے گی اور اگر انتشار نہ تھا اور رخسار یا ٹھوڑی یا پيشانی یا مونھ کے علاوہ کسی اور جگہ کا بوسہ لیا اور کہتا ہے کہ شہوت نہ تھی تو اس کا قول مان لیا جائے گا۔ يوہيں انتشار کی حالت میں گلے لگانا بھی حرمت ثابت کرتا ہے اگرچہ شہوت کا انکار کرے۔ (10) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: چٹکی لینے(11) ، دانت کاٹنے کا بھی یہی حکم ہے کہ شہوت سے ہوں تو حرمت ثابت ہو جائے گی۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۱۷.
2 ۔ پیچھے کے مقام میں وطی کرنا۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۱۷.
4 ۔ یعنی ابھی تک۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۱۸.
6 ۔یعنی جان بوجھ کر۔ 7 ۔قابلِ شہوت لڑکی یعنی جس کی عمر نو۹ سال سے کم نہ ہو۔
8 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۱۸.
9 ۔ منہ یعنی لب۔
10 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۱۸.
11 ۔ہاتھ کے انگوٹھے اور اس کے برابرکی انگلی سے دبانا یانوچ لینے۔
عورت کی شرمگاہ کو چھوا یا پستان کو اور کہتا ہے کہ شہوت نہ تھی تو اس کا قول معتبر نہیں۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۳: نظر سے حرمت ثابت ہونے کے ليے نظر کرنے والے میں شہوت پائی جانا ضرور ہے اور بوسہ لینے، گلے لگانے، چھونے وغیرہ میں ان دونوں میں سے ایک کو شہوت ہوجانا کافی ہے اگرچہ دوسرے کو نہ ہو۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: مجنون اور نشہ والے سے یہ افعال ہوئے یا ان کے ساتھ کيے گئے، جب بھی وہی حکم ہے کہ اور شرطیں پائی جائیں تو حرمت ہو جائے گی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: کسی سے پوچھا گیا تو نے اپنی ساس کے ساتھ کیا کیا؟ اس نے کہا، جماع کیا۔ حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی، اب اگر کہے میں نے جھوٹ کہہ دیا تھا نہیں مانا جائے گا بلکہ اگرچہ مذاق میں کہہ دیا ہو جب بھی یہی حکم ہے۔ (4) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۶: حرمت مصاہرت مثلاً شہوت سے بوسہ لینے یا چھونے یا نظر کرنے کا اقرار کیا، تو حرمت ثابت ہوگئی اور اگر یہ کہے کہ اس عورت کے ساتھ نکاح سے پہلے اس کی ماں سے جماع کیا تھا جب بھی یہی حکم رہے گا۔ مگر عورت کا مہر اس سے باطل نہ ہوگا وہ بدستور واجب۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: کسی نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کے لڑکے نے عورت کی لڑکی سے کیا، جو دوسرے شوہر سے ہے تو حرج نہیں۔ يوہيں اگر لڑکے نے عورت کی ماں سے نکاح کیا جب بھی یہی حکم ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: عورت نے دعویٰ کیا کہ مرد نے اس کے اصول یا فروع کو بشہوت چھوا یا بوسہ لیا یا کوئی اور بات کی ہے، جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے اور مرد نے انکار کیا توقول مرد کا لیا جائے گا یعنی جبکہ عورت گواہ نہ پیش
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح، الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثاني،ج۱، ص۲۷۶.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات،ج۴، ص۱۱۹۔۱۲۱.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۲۰.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۲۰.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثاني، ج۱، ص۲۷۶، وغیرہ.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۲۲.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثاني،ج۱،ص۲۷۷.
کرسکے۔ (1) (درمختار)
قسم سوم: جمع بین المحارم ۔
مسئلہ ۲۹: وہ دو عورتیں کہ اُن میں جس ایک کو مرد فرض کریں، دوسری اس کے ليے حرام ہو (مثلاً دو بہنیں کہ ایک کو مرد فرض کرو تو بھائی، بہن کا رشتہ ہوا یا پھوپی ،بھتیجی کہ پھوپی کو مرد فرض کرو تو چچا، بھتیجی کا رشتہ ہوا اور بھتیجی کو مرد فرض کرو تو پھوپی ،بھتیجے کا رشتہ ہو ا یا خالہ ،بھانجی کہ خالہ کو مرد فرض کرو تو ماموں، بھانجی کا رشتہ ہوا اور بھانجی کو مرد فرض کرو تو بھانجے ،خالہ کارشتہ ہوا) ایسی دو ۲ عورتوں کو نکاح میں جمع نہیں کر سکتا بلکہ اگر طلاق دے دی ہو اگرچہ تین طلاقیں تو جب تک عدّت نہ گزرلے، دوسری سے نکاح نہیں کرسکتا بلکہ اگر ایک باندی ہے اور اُس سے وطی کی تو دوسری سے نکاح نہیں کرسکتا۔ يوہيں اگردونوں باندیاں ہیں اور ایک سے وطی کر لی تو دوسری سے وطی نہیں کرسکتا۔ (2) (عامہ کتب)
مسئلہ ۳۰: ایسی دو عورتیں جن میں اس قسم کا رشتہ ہو جو اوپر مذکور ہوا وہ نسب کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دودھ کے ایسے رشتے ہوں جب بھی دونوں کا جمع کرنا حرام ہے، مثلاً عورت اور اس کی رضاعی بہن یا خالہ یا پھوپی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: دو عورتوں میں اگر ایسا رشتہ پایا جائے کہ ایک کو مرد فرض کریں تو دوسری اس کے ليے حرام ہو اور دوسری کومرد فرض کریں تو پہلی حرام نہ ہو تو ایسی دو ۲ عورتوں کے جمع کرنے میں حرج نہیں، مثلاً عورت اور اس کے شوہر کی لڑکی کہ اس لڑکی کو مرد فرض کریں تو وہ عورت اس پر حرام ہوگی، کہ اس کی سوتیلی ماں ہوئی اور عورت کو مرد فرض کریں تولڑکی سے کوئی رشتہ پیدا نہ ہو گا يوہيں عورت اور اس کی بہو۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: باندی سے وطی کی پھر اس کی بہن سے نکاح کیا ،تو یہ نکاح صحیح ہوگيا مگر اب دونوں میں سے کسی سے وطی نہیں کرسکتا، جب تک ایک کو اپنے اوپر کسی ذریعہ سے حرام نہ کرلے، مثلاً منکوحہ کو طلاق دیدے یا وہ خلع کرالے اور دونوں صورتوں میں عدّت گزر جائے یا باندی کو بیچ ڈالے یا آزاد کر دے، خواہ پوری بیچی یاآزاد کی یا اُس کا کوئی حصہ نصف وغیرہ یا اس کو ہبہ کر دے اور قبضہ بھی دلا دے یا اُسے مکاتبہ کر دے یا اُس کا کسی سے نکاح صحیح کر دے اور اگر نکاح فاسد کر دیا تو اس کی بہن یعنی منکوحہ سے وطی نہیں ہوسکتی مگر جبکہ نکاحِ فاسد میں اس کے شوہر نے وطی بھی کر لی تو چونکہ اب اس کی عدّت واجب ہوگی،
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات،ج۴، ص۱۲۱.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۲۲.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثالث،ج۱،ص۲۷۷.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۲۴.
لہٰذا مالک کے ليے حرام ہوگئی اور منکوحہ سے وطی جائز ہوگئی اور بیع (1) وغیرہ کی صورت میں اگر وہ پھر اس کی مِلک میں واپس آئی، مثلاً بیع فسخ ہوگئی یا اس نے پھر خرید لی تو اب پھر بدستور دونوں سے وطی حرام ہو جائے گی، جب تک پھر سبب حرمت (2) نہ پایا جائے۔ باندی کے احرام و روزہ و حیض و نفاس و رہن و اجارہ سے منکوحہ حلال نہ ہوگی اور اگر باندی سے وطی نہ کی ہو تو اس منکوحہ سے مطلقاً وطی جائز ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: مقدمات وطی مثلاً شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا چھوا یا اس باندی نے اپنے مولیٰ کو شہوت کے ساتھ چھوا یا بوسہ لیا تو یہ بھی وطی کے حکم میں ہیں، کہ ان افعال کے بعد اگر اس کی بہن سے نکاح کیا تو کسی سے جماع جائز نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۴: ایسی دو ۲ عورتیں جن کو جمع کرنا حرام ہے اگر دونوں سے بیک عقد (5) نکاح کیا تو کسی سے نکاح نہ ہوا، فرض ہے کہ دونوں کو فوراً جدا کر دے اور دخول نہ ہوا ہو تو مہر بھی واجب نہ ہوا اور دخول ہوا ہو تو مہرِمثل اور بندھے ہوئے مہر میں جو کم ہو وہ دیا جائے، اگر دونوں کے ساتھ دخول کیا تو دونوں کو دیا جائے اور ایک کے ساتھ کیا تو ایک کو۔ (6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۵: اگر دونوں سے دو عقد کے ساتھ نکاح کیا تو پہلی سے نکاح ہوا اور دوسری کا نکاح باطل، لہٰذا پہلی سے وطی جائز ہے مگر جبکہ دوسری سے وطی کر لی تو اب جب تک اس کی عدّت نہ گزر جائے پہلی سے بھی وطی حرام ہے۔ پھر اس صورت میں اگر یہ یاد نہ رہا کہ پہلے کس سے ہوا تو شوہر پر فرض ہے کہ دونوں کو جدا کر دے اور اگر وہ خود جدا نہ کرے تو قاضی پر فرض ہے کہ تفریق (7) کر دے اور یہ تفریق طلاق شمار کی جائے گی پھر اگر دخول سے پیشتر تفریق ہوئی تو نصف مہر میں دونوں برابر بانٹ لیں، اگر دونوں کا برابر برابر مقرر ہو اور اگر دونوں کے مہر برابر نہ ہوں اور معلوم ہے کہ فلانی کا اتنا تھا اور فلانی کا اتنا تو ہر ایک کو اس کے مہر کی چوتھائی ملے گی ۔
اور اگر یہ معلوم ہے کہ ایک کا اِتنا ہے اور ایک کا اُتنا مگر یہ معلوم نہیں کہ کس کا اِتنا ہے اور کس کا اُتنا تو جو کم ہے، اس کے نصف میں دونوں برابر برابر تقسیم کر لیں اور اگر مہر مقرر ہی نہ ہوا تھا تو ایک متعہ(8) واجب ہوگا، جس میں دونوں بانٹ لیں اور اگر
1 ۔ خریدوفروخت۔ 2 ۔ حرام ہونے کاسبب۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۲۵.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات،ج۴، ص۱۲۶.
5 ۔یعنی ایک ہی ایجاب وقبول کے ساتھ۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۲۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثالث،ج۱،ص۲۷۷.
7 ۔ جدائی۔ 8 ۔متعہ کے معنی مہر کے بیان میں آئیں گے۔۱۲ منہ
دخول کے بعد تفریق ہوئی تو ہر ایک کو اس کا پورا مہر واجب ہوگا۔ يوہيں اگر ایک سے دخول ہوا تو اس کا پورا مہر واجب ہوگا اور دوسری کو چوتھائی۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: ایسی دو ۲ عورتوں سے ایک عقد کے ساتھ نکاح کیا تھا پھر دخول سے قبل تفریق ہوگئی، اب اگر ان میں سے ایک کے ساتھ نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے اور دخول کے بعد تفریق ہوئی تو جب تک عدّت نہ گزر جائے نکاح نہیں کر سکتا اور اگر ایک کی عدّت پوری ہو چکی دوسری کی نہیں تو دوسری سے کرسکتا ہے اور پہلی سے نہیں کرسکتا، جب تک دوسری کی عدّت نہ گزرلے اور اگر ایک سے دخول کیا ہے تو اس سے نکاح کر سکتا ہے اور دوسری سے نکاح نہیں کرسکتا جب تک مدخولہ (2)کی عدّت نہ گزر لے اور اس کی عدّت گزرنے کے بعد جس ایک سے چاہے نکاح کرلے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: ایسی دو عورتوں نے کسی شخص سے ایک ساتھ کہا، کہ میں نے تجھ سے نکاح کیا، اس نے ایک کا نکاح قبول کیا تو اس کا نکاح ہوگيا اور اگر مرد نے ایسی دو عورتوں سے کہا، کہ میں نے تم دونوں سے نکاح کیا اور ایک نے قبول کیا، دوسری نے انکار کیا ،تو جس نے قبول کیا اس کا نکاح بھی نہ ہوا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: ایسی دو عورتوں سے نکاح کیا اور ان میں سے ایک عدّت میں تھی تو جو خالی ہے(5) ، اس کا نکاح صحیح ہوگيا اور اگر وہ اسی کی عدّت میں تھی تو دوسری سے بھی صحیح نہ ہوا۔ (6) (عالمگیری)
قسم چہارم: حرمت بالملک۔
مسئلہ ۳۹: عورت اپنے غلام سے نکاح نہیں کرسکتی، خواہ وہ تنہا اسی کی مِلک میں ہو یا کوئی اوربھی اس میں شریک ہو۔ (7) (عالمگیری، درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴، ص۱۲۶۔۱۳۱.
2 ۔ایسی عورت جس سے صحبت کی گئی ہو۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثالث،ج۱،ص۲۷۸.
4 ۔المرجع السابق،ص۲۷۸۔۲۷۹.
5 ۔ یعنی جوعورت عدت میں نہیں ہے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،ج۱،ص۲۷۹.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الرابع،ج۱،ص۲۸۲.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،فصل في المحرمات،ج۴،ص۱۳۱.
مسئلہ ۴۰: مولیٰ(1)اپنی باندی سے نکاح نہیں کرسکتا، اگرچہ وہ ام ولد یا مکاتبہ یا مدبرہ ہو یا اُس میں کوئی دوسرا بھی شریک ہو، مگر بنظرِ احتیاط (2) متأخرین نے باندی سے نکاح کرنا مستحسن بتایا ہے۔ (3) (عالمگیری) مگر یہ نکاح صرف بر بنائے احتیاط ہے کہ اگر واقع میں کنیز (4)نہیں جب بھی جماع جائز ہے، ولہٰذا ثمراتِ نکاح اس نکاح پر مترتب نہیں، نہ مہر واجب ہوگا، نہ طلاق ہو سکے گی، نہ دیگر احکامِ نکاح جاری ہوں گے۔
مسئلہ ۴۱: اگر زن و شو(5) میں سے ایک دوسرے کا یا اس کے کسی جز کا مالک ہوگيا تو نکاح باطل ہو جائے گا۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: ماذون (7)یا مدبر یا مکاتب نے اپنی زوجہ کو خریدا تو نکاح فاسد نہ ہوا۔ يوہيں اگر کسی نے اپنی زوجہ کو خریدا اور بیع میں اختیار رکھا کہ اگر چاہے گا تو واپس کر دے گا تو نکاح فاسد نہ ہوگا۔ يوہيں جس غلام کا کچھ حصہ آزاد ہو چکا ہے وہ اگر اپنی منکوحہ کو خریدے تو نکاح فاسد نہ ہوا۔ (8) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: مکاتب یا ماذون کی کنیز سے مولیٰ نکاح نہیں کر سکتا۔ (9) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: مکاتب نے اپنی مالکہ سے نکاح کیا پھر آزاد ہوگيا تو وہ نکاح اب بھی صحیح نہ ہوا۔ ہاں اگر اب جدید نکاح کرے تو کرسکتا ہے۔ (10) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: غلام نے اپنے مولیٰ کی لڑکی سے اس کی اجازت سے نکاح کیا، تو نکاح صحیح ہوگيا مگر مولیٰ کے مرنے سے یہ نکاح جاتا رہے گا اور اگر مکاتب نے مولیٰ کی لڑکی سے نکاح کیا تھا تو مولیٰ کے مرنے سے فاسد نہ ہو گا۔ اگر بدلِ کتابت ادا
1 ۔آقا، مالک۔ 2 ۔یعنی احتیاط کرتے ہوئے۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثامن،ج۱،ص۲۸۲.
4 ۔لونڈی۔ 5 ۔ یعنی میاں بیوی۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثامن،ج۱، ص۲۸۲.
7 ۔ وہ غلام جسے آقا نے تجارت وغیرہ کی عام اجازت دیدی ہو۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثامن،ج۱،ص۲۸۲.
و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب مہم:في وطء السراری..إلخ،ج۴، ص۱۳۱.
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثامن،ج۱، ص۲۸۲.
10 ۔المرجع السابق.
کر دے گا تو نکاح برقرار رہے گا اور اگر ادا نہ کر سکا اور پھر غلام ہوگيا تو اب نکاح فاسد ہوگيا۔ (1) (عالمگیری)
قسم پنجم: حرمت بالشرک۔
مسئلہ ۴۶: مسلمان کا نکاح مجوسیہ(2) ،بت پرست، آفتاب پرست(3)، ستارہ پرست عورت سے نہیں ہوسکتا خواہ یہ عورتیں حرّہ ہوں یا باندیاں، غرض کتابیہ کے سوا کسی کافرہ عورت سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ (4) (فتح وغیرہ)
مسئلہ ۴۷: مرتد و مرتدہ کا نکاح کسی سے نہیں ہوسکتا، اگرچہ مرد و عورت دونوں ایک ہی مذہب کے ہوں۔(5) (خانیہ وغیرہا)
مسئلہ ۴۸: یہودیہ اور نصرانیہ سے مسلمان کا نکاح ہوسکتا ہے مگر چاہيے نہیں کہ اس میں بہت سے مفاسد کا(6) دروازہ کھلتا ہے۔ (7) (عالمگیری وغیرہ) مگر یہ جواز اُسی وقت تک ہے جب کہ اپنے اُسی مذہبِ یہودیت یا نصرانیت پر ہوں اور اگر صرف نام کی یہودی نصرانی ہوں اور حقیقۃً نیچری اور دہریہ مذہب رکھتی ہوں، جیسے آجکل کے عموماً نصاریٰ کا کوئی مذہب ہی نہیں تواُن سے نکاح نہیں ہوسکتا، نہ ان کا ذبیحہ جائز بلکہ ان کے یہاں تو ذبیحہ ہوتا بھی نہیں۔
مسئلہ ۴۹: کتابیہ سے نکاح کیا تو اُسے گِرجا (8)جانے اور گھر میں شراب بنانے سے روک سکتا ہے۔ (9) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: کتابیہ سے دارالحرب میں نکاح کر کے دارالاسلام میں لایا، تو نکاح باقی رہے گا اور خود چلا آیا اسے وہیں چھوڑ دیا تو نکاح ٹوٹ گیا۔ (10) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثامن،ج۱،ص۲۸۲.
2 ۔ یعنی آگ کی پوجا کرنے والی۔ 3 ۔یعنی سورج کی پوجا کرنے والی۔
4 ۔''فتح القدیر''،کتاب النکاح،فصل في بیان المحرمات،ج۳، ص۱۳۶۔۱۳۸،وغیرہ.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل فی بیان المحرمات،ج۱،ص۱۶۹،وغیرہا.
6 ۔ یعنی بہت سی خرابیوں کا۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،ج۱، ص۲۸۱،وغیرہ.
8 ۔عیسائیوں کاعبادت خانہ۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،ج۱،ص۲۸۱.
10 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۵۱: مسلمان نے کتابیہ سے نکاح کیا تھا ،پھر وہ مجوسیہ ہوگئی تو نکاح فسخ ہوگيا اور مرد پر حرام ہوگئی اور اگر یہودیہ تھی اب نصرانیہ ہوگئی یا نصرانیہ تھی، یہودیہ ہوگئی تو نکاح باطل نہ ہوا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: کتابی مرد کا نکاح مرتدہ کے سوا ہر کافرہ سے ہوسکتا ہے اور اولاد کتابی کے حکم میں ہے۔ مسلمان و کتابیہ سے اولاد ہوئی تو اولاد مسلمان کہلائے گی۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: مرد و عورت کافر تھے دونوں مسلمان ہوئے تو وہی نکاح سابق(3) باقی ہے جدید نکاح کی حاجت نہیں اور اگر صرف مرد مسلمان ہوا تو عورت پر اسلام پیش کریں، اگر مسلمان ہوگئی فبہا (4) ورنہ تفریق کر دیں۔ يوہيں اگر عورت پہلے مسلمان ہوئی تو مرد پر اسلام پیش کریں، اگر تین حیض آنے سے پہلے مسلمان ہوگيا تو نکاح باقی ہے، ورنہ بعد کو جس سے چاہے نکاح کرلے کوئی اسے منع نہیں کرسکتا۔
مسئلہ ۵۴: مسلمان عورت کا نکاح مسلمان مرد کے سوا کسی مذہب والے سے نہیں ہوسکتا اور مسلمان کے نکاح میں کتابیہ ہے، اس کے بعد مسلمان عورت سے نکاح کیا یا مسلمان عورت نکاح میں تھی، اس کے ہوتے ہوئے کتابیہ سے نکاح صحیح ہے۔ (5) (عالمگیری)
قسم ششم: حرّہ (6) نکاح میں ہوتے ہوئے باندی سے نکاح کرنا۔
مسئلہ ۵۵: آزاد عورت نکاح میں ہے اور باندی سے نکاح کیا صحیح نہ ہوا۔ يوہيں ایک عقد میں دونوں سے نکاح کیا، حرّہ کا صحیح ہوا، باندی سے نہ ہوا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: ایک عقد میں آزاد عورت اور باندی سے نکاح کیا اور کسی وجہ سے آزاد عورت کا نکاح صحیح نہ ہوا تو باندی سے نکاح ہو جائے گا۔ (8) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،ج۱،ص۲۸۱.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۸۲.
3 ۔یعنی پہلانکاح۔ 4 ۔یعنی اگروہ عورت مسلمان ہوگئی تووہی پہلانکاح باقی رہے گا۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الثامن،ج۱،ص۲۸۲.
6 ۔ یعنی آزادعورت جوکسی کی لونڈی نہ ہو۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،ج۱،القسم الخامس،ص۲۷۹.
8 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۵۷: پہلے باندی سے نکاح کیا پھر آزاد سے تو دونوں نکاح ہوگئے اور اگر باندی سے بلا اجازتِ مالک نکاح کیا اور دخول(1) نہ کیا تھا پھر آزاد عورت سے نکاح کیا، اب اس کے مالک نے اجازت دی تو نکاح صحیح نہ ہوا۔ يوہيں اگر غلام نے بغیر اجازتِ مولیٰ حرّہ سے نکاح کیا اور دخول کیا پھر باندی سے نکاح کیا، اب مولیٰ نے دونوں نکاح کی اجازت دی تو باندی سے نکاح نہ ہوا۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: آزاد عورت کو طلاق دے دی تو جب تک وہ عدّت میں ہے، باندی سے نکاح نہیں کرسکتا اگرچہ تین طلاقیں دے دی ہوں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۹: اگر حرّہ نکاح میں نہ ہو تو باندی سے نکاح جائز ہے اگرچہ اتنی استطاعت ہے کہ آزاد عورت سے نکاح کرلے۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶۰: باندی نکاح میں تھی اسے طلاق رجعی دے کر آزاد سے نکاح کیا، پھر رجعت کر لی تو وہ باندی بدستور زوجہ ہوگئی۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۶۱: اگر چار باندیوں اور پانچ آزاد عورتوں سے ایک عقد میں نکاح کیا تو باندیوں کا ہوگيا اور آزاد عورتوں کا نہ ہوا اور دونوں چار چار تھیں تو آزاد عورتوں کا ہوا، باندیوں کا نہ ہوا۔ (6) (درمختار)
قسم ہفتم : حرمت بوجہ تعلق حقِ غیر۔
مسئلہ ۶۲: دوسرے کی منکوحہ سے نکاح نہیں ہوسکتا بلکہ اگر دوسرے کی عدّت میں ہو جب بھی نہیں ہوسکتا۔ عدّت طلاق کی ہو یا موت کی یا شبہ نکاح یا نکاح فاسد میں دخول کی وجہ سے۔ (7) (عامہ کتب)
1 ۔جماع۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات ،ج۱، ص ۲۷۹۔۲۸۰.
و''ردالمحتار''، کتاب النکاح،مطلب:مھم في وط ء السراری...إلخ،ج۴،ص۱۳۶.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم الخامس، ج۱، ص۲۷۹.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۱۳۵،وغیرہ.
5 ۔المرجع السابق،ص۱۳۷. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،القسم السادس،ج۱، ص۲۸۰.
مسئلہ ۶۳: دوسرے کی منکوحہ سے نکاح کیا اور یہ معلوم نہ تھا کہ منکوحہ ہے تو عدّت واجب ہے اور معلوم تھا تو عدّت واجب نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۴: جس عورت کو زنا کا حمل ہے اس سے نکاح ہوسکتا ہے، پھر اگر اسی کا وہ حمل ہے تو وطی(2) بھی کر سکتا ہے اوراگردوسرے کا ہے تو جب تک بچہ نہ پيدا ہولے وطی جائز نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۶۵: جس عورت کا حمل ثابت النسب ہے اُس سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۶: کسی نے اپنی ام ولد حاملہ کا نکاح دوسرے سے کر دیا تو صحیح نہ ہوا اور حمل نہ تھا تو صحیح ہوگيا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۷: جس باندی سے وطی کرتا تھا اس کا نکاح کسی سے کر دیا نکاح ہوگيا مگر مالک پر استبرا واجب ہے یعنی جب اس کا نکاح کرنا چاہے تو وطی چھوڑ دے یہاں تک کہ اُسے ایک حیض آجائے بعدِ حیض نکاح کر دے اور شوہر کے ذمہ استبرا نہیں، لہٰذا اگراستبرا سے پہلے شوہر نے وطی کرلی تو جائز ہے مگر نہ چاہیے اور اگر مالک بیچنا چاہتا ہے تو استبرا مستحب ہے واجب نہیں۔ زانیہ سے نکاح کیا تو استبرا کی حاجت نہیں۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۶۸: باپ اپنے بیٹے کی کنیزِ شرعی سے نکاح کرسکتا ہے۔ (7) (عالمگیری)
قسم ہشتم: متعلق بہ عدد۔
مسئلہ ۶۹: آزاد شخص کو ایک وقت میں چار عورتوں اور غلام کو دو سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت نہیں اور آزاد مرد کو کنیز کا اختیار ہے اس کے ليے کوئی حد نہیں۔ (8) (درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،ج۱،ص۲۸۰.
2 ۔جماع،ہمبستری۔
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۱۳۸.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،ج۱،ص۲۸۰.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۱۴۰.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،ج۱، ص۲۸۱.
8 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۱۳۷.
مسئلہ ۷۰: غلام کو کنیز رکھنے کی اجازت نہیں اگرچہ اس کے مولیٰ نے اجازت دے دی ہو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۷۱: پانچ عورتوں سے ایک عقد کے ساتھ نکاح کیا، کسی سے نکاح نہ ہوا اور اگر ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ عقد کیا تو پانچویں کا نکاح باطل ہے، باقیوں کا صحیح۔ يوہيں غلام نے تین عورتوں سے نکاح کیا تو اس میں بھی وہی دو صورتیں ہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: کافر حربی نے پانچ عورتوں سے نکاح کیا، پھر سب مسلمان ہوئے اگر آگے پیچھے نکاح ہوا تو چار پہلی باقی رکھی جائیں اور پانچویں کو جدا کر دے اور ایک عقد تھا تو سب کو علیحدہ کر دے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۳: دو عورتوں سے ایک عقدمیں نکاح کیا اور ان میں ایک ایسی ہے جس سے نکاح نہیں ہوسکتا تو دوسری کا ہوگيا اور جو مہرمذکور ہوا وہ سب اسی کو ملے گا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۷۴: متعہ حرام ہے (5)۔ يوہيں اگر کسی خاص وقت تک کے ليے نکاح کیا تو یہ نکاح بھی نہ ہوا اگرچہ دو سو ۲۰۰ برس کے ليے کرے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۷۵: کسی عورت سے نکاح کیا کہ اتنے دنوں کے بعد طلاق دے دے گا ،تویہ نکاح صحیح ہے یا اپنے ذہن میں کوئی مدّت ٹھہرالی ہو کہ اتنے دنوں کے ليے نکاح کرتا ہوں مگر زبان سے کچھ نہ کہا تو یہ نکاح بھی ہوگيا۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۷۶: حالتِ احرام میں نکاح کر سکتا ہے مگر نہ چاہیے۔ يوہيں محرم (8) اُس لڑکی کا بھی نکاح کر سکتا ہے جو اس کی ولایت (9)میں ہے۔ (10) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۱۳۸.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،ج۱،ص۲۷۷.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴،ص۱۴۲.
5 ۔اعلی حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمن ''فتاوی رضویہ'' ،ج۱۱،ص۲۳۶پر فرماتے ہیں:''متعہ کی حرمت صحیح حدیثوں سے ثابت ہے امیرالمؤمنین مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے ارشادوں سے ثابت ہے ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال شریفہ سے ثابت ہے ، اورسب سے بڑھ کریہ کہ قراٰن عظیم سے ثابت ہے اللہ عزوجل فرماتاہے (والذین ہم لفروجہم حفظون الا علی ازواجھم ...الخ)''
(پ۱۸،المؤمنون:۷،۶،۵)۔...عِلْمِیہ
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،ج۴، ص۱۴۳.
7 ۔المرجع السابق.
8 ۔یعنی جوحالت احرام میں ہو۔ 9 ۔یعنی جس کا یہ ولی ہے۔
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثالث في بیان المحرمات،ج۱،ص۲۸۳.
مسئلہ ۱: بچہ کو دو برس تک دودھ پلایا جائے، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ دودھ پینے والا لڑکا ہو یا لڑکی اور یہ جو بعض عوام میں مشہور ہے کہ لڑکی کو دو برس تک اور لڑکے کو ڈھائی برس تک پلا سکتے ہیں یہ صحیح نہیں۔ یہ حکم دودھ پلانے کا ہے اور نکاح حرام ہونے کے ليے ڈھائی برس کا زمانہ ہے یعنی دو ۲ برس کے بعد اگرچہ دودھ پلانا حرام ہے مگر ڈھائی برس کے اندر اگر دودھ پلا دے گی، حرمت نکاح (1) ثابت ہو جائے گی اور اس کے بعد اگر پیا، تو حرمت نکاح نہیں اگرچہ پلانا جائز نہیں۔
مسئلہ ۲: مدّت پوری ہونے کے بعد بطورعلاج بھی دودھ پینا یا پلانا جائز نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳: رضاع (یعنی دودھ کا رشتہ) عورت کا دودھ پینے سے ثابت ہوتا ہے، مرد یا جانور کا دودھ پینے سے ثابت نہیں اور دودھ پینے سے مراد یہی معروف طریقہ نہیں بلکہ اگر حلق (3)یا ناک میں ٹپکایا گیا جب بھی یہی حکم ہے اور تھوڑا پیا یا زیادہ بہرحال حرمت ثابت ہوگی، جبکہ اندر پہنچ جانا معلوم ہو اور اگر چھاتی مونھ میں لی مگر یہ نہیں معلوم کہ دودھ پیا تو حرمت ثابت نہیں۔ (4) (ہدایہ، جوہرہ وغیرہما)
مسئلہ ۴: عورت کا دودھ اگر حقنہ سے(5) اندر پہنچایا گیا یا کان میں ٹپکایا گیا یا پیشاب کے مقام سے پہنچایا گیا یا پیٹ یادماغ میں زخم تھا اس میں ڈالا کہ اندر پہنچ گیا تو ان صورتوں میں رضاع نہیں۔ (6) (جوہرہ)
مسئلہ ۵: کوآری یا بڑھیا کا دودھ پیا بلکہ مردہ عورت کا دودھ پیا، جب بھی رضاعت ثابت ہے۔ (7) (درمختار)
1 ۔نکاح کاحرام ہونا۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۸۹ .
3 ۔گلا۔
4 ۔''الہدایۃ''،کتاب الرضاع ،ج۱،ص۲۱۷.
و''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۴،وغیرہما.
5 ۔یعنی پیچھے کے مقام سے بطور علاج۔
6 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۴.
7 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۹۹ .
مگرنو برس سے چھوٹی لڑکی کا دودھ پیا تو رضاع نہیں۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۶: عورت نے بچہ کے مونھ میں چھاتی دی اور یہ بات لوگوں کو معلوم ہے مگر اب کہتی ہے کہ اس وقت میرے دودھ نہ تھا اور کسی اور ذریعہ سے بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ دودھ تھا یا نہیں تو اس کا کہنا مان لیا جائے گا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: بچہ کو دودھ پينا چھڑا دیا گیا ہے مگر اُس کو کسی عورت نے دودھ پلا دیا ،اگر ڈھائی برس کے اندر ہے تو رضاع ثابت ورنہ نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: عورت کو طلاق دے دی اس نے اپنے بچہ کو دو ۲ برس کے بعد تک دودھ پلایا تو دو ۲ برس کے بعد کی اُجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتی یعنی لڑکے کا باپ اُجرت دینے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور دو ۲ برس تک کی اُجرت اس سے جبراً لی جا سکتی ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: دو ۲ برس کے اندر بچہ کاباپ اس کی ماں کو دودھ چھڑانے پر مجبور نہیں کرسکتا اور اس کے بعد کرسکتا ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: عورتوں کو چاہيے کہ بلاضرورت ہر بچہ کو دودھ نہ پلا دیا کریں اور پلائیں تو خود بھی یاد رکھیں اور لوگوں سے یہ بات کہہ بھی دیں، عورت کو بغیر اجازت شوہر کسی بچہ کو دودھ پلانا مکروہ ہے، البتہ اگر اس کے ہلاک کا اندیشہ ہے تو کراہت نہیں۔ (6) (ردالمحتار) مگر میعادکے اندر رضاعت بہر صورت ثابت۔(7)
مسئلہ ۱۱: بچہ نے جس عورت کا دودھ پیا وہ اس بچہ کی ماں ہو جائے گی اور اس کا شوہر (جس کا یہ دودھ ہے یعنی اُس کی وطی سے بچہ پیدا ہوا جس سے عورت کو دودھ اترا) اس دودھ پینے والے بچہ کا باپ ہو جائے گا اور اس عورت کی تمام اولادیں اس کے بھائی بہن خواہ اسی شوہر سے ہوں یا دوسرے شوہر سے، اس کے دودھ پینے سے پہلے کی ہیں یا بعد کی یا ساتھ
1 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۷.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۹۲.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرضاع،ج۱،ص۳۴۲۔۳۴۳.
4 ۔المرجع السابق،ص۳۴۳.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۹۱.
6 ۔المرجع السابق،ص۳۹۲.
7 ۔ یعنی ڈھائی سال یا اس سے کم عمرکے بچے کو دودھ پلایا تو حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی ۔
کی اور عورت کے بھائی، ماموں اور اس کی بہن خالہ۔ يوہيں اس شوہرکی اولادیں اس کے بھائی بہن اور اُس کے بھائی اس کے چچا اور اُس کی بہنیں، اس کی پھوپیاں خواہ شوہر کی یہ اولادیں اسی عورت سے ہوں یا دوسری سے۔ يوہيں ہر ایک کے باپ ،ماں اس کے دادا دادی، نانا ،نانی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مرد نے عورت سے جماع کیا اوراس سے اولاد نہیں ہوئی مگر دودھ اتر آیا تو جو بچہ یہ دودھ پيے گا، عورت اس کی ماں ہو جائے گی مگر شوہر اس کا باپ نہیں، لہٰذا شوہر کی اولاد جو دوسری بی بی سے ہے اس سے اس کا نکاح ہوسکتا ہے۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۳: پہلے شوہر سے عورت کی اولاد ہوئی اور دودھ موجود تھا کہ دوسرے سے نکاح ہوا اور کسی بچہ نے دودھ پیا، توپہلا شوہر اس کا باپ ہوگا دوسرا نہیں اور جب دوسرے شوہر سے اولاد ہوگئی تو اب پہلے شوہر کا دودھ نہیں بلکہ دوسرے کا ہے اورجب تک دوسرے سے اولاد نہ ہوئی اگرچہ حمل ہو پہلے ہی شوہر کا دودھ ہے دوسرے کا نہیں۔ (3) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۴: مولیٰ نے کنیز سے وطی کی اور اولاد پیدا ہوئی ،تو جو بچہ اس کنیز کا دودھ پيے گا یہ اس کی ماں ہوگی اور مولیٰ اس کا باپ۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: جو نسب میں حرام ہے رضاع (5)میں بھی حرام مگر بھائی یا بہن کی ماں کہ یہ نسب میں حرام ہے کہ وہ یااس کی ماں ہوگی یا باپ کی موطؤہ (6)اور دونوں حرام اور رضاع میں حرمت کی کوئی وجہ نہیں، لہٰذا حرام نہیں اور اس کی تین صورتیں ہیں۔ رضاعی بھائی کی رضاعی ماں یا رضاعی بھائی کی حقیقی ماں یا حقیقی بھائی کی رضاعی ماں۔ يوہيں بیٹے یا بیٹی کی بہن یا دادی کہ نسب میں پہلی صورت میں بیٹی ہوگی یا ربیبہ(7) اور دوسری صورت میں ماں ہوگی یا باپ کی موطؤہ۔ يوہيں چچایا پھوپی کی ماں یا ماموں یا خالہ کی ماں کہ نسب میں دادی نانی ہو گی اور رضاع میں حرام نہیں اور ان میں بھی وہی تین صورتیں ہیں۔ (8) (عالمگیری، درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرضاع، ج۱،ص۳۴۳.
2 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۵.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۰۵.
5 ۔دودھ کارشتہ۔ 6 ۔ یعنی وہ عورت جس سے باپ نے صحبت کی ہو۔ 7 ۔سوتیلی بیٹی۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرضاع،ج۱،ص۳۴۳.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۹۳۔۳۹۶.
مسئلہ ۱۶: حقیقی بھائی کی رضاعی بہن یا رضاعی بھائی کی حقیقی بہن یا رضاعی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح جائزہے اور بھائی کی بہن سے نسب میں بھی ایک صورت جواز کی ہے، یعنی سوتیلے بھائی کی بہن جو دوسرے باپ سے ہو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: ایک عورت کا دو بچوں نے دودھ پیا اور ان میں ایک لڑکا، ایک لڑکی ہے تو یہ بھائی بہن ہیں اور نکاح حرام اگرچہ دونوں نے ایک وقت میں نہ پیا ہو بلکہ دونوں میں برسوں کا فاصلہ ہو اگرچہ ایک کے وقت میں ایک شوہر کا دودھ تھااوردوسرے کے وقت میں دوسرے کا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: دودھ پینے والی لڑکی کا نکاح پلانے والی کے بیٹوں، پوتوں سے نہیں ہوسکتا، کہ یہ ان کی بہن یا پھوپی ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: جس عورت سے زنا کیا اور بچہ پیدا ہوا، اس عورت کا دودھ جس لڑکی نے پیا وہ زانی پر حرا م ہے۔ (4) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۰: پانی یا دوا میں عورت کا دودھ ملا کر پلایا تو اگر دودھ غالب ہے یا برابر تو رضاع ہے مغلوب ہے تو نہیں۔ يوہيں اگر بکری وغیرہ کسی جانور کے دودھ میں ملا کر دیا تو اگر یہ دودھ غالب ہے تو رضاع نہیں ورنہ ہے اور دو عورتوں کا دودھ ملا کر پلایا تو جس کا زیادہ ہے اس سے رضاع ثابت ہے اور دونوں برابر ہوں تو دونوں سے۔ اور ایک روایت یہ ہے کہ بہرحال دونوں سے رضاع ثابت ہے۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۱: کھانے میں عورت کا دودھ ملا کر دیا، اگر وہ پتلی چیز پینے کے قابل ہے اور دودھ غالب یا برابر ہے تو رضاع ثابت، ورنہ نہیں اور اگر پتلی چیز نہیں ہے تو مطلقاً ثابت نہیں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: دودھ کا پنیر یا کھویا بنا کر بچہ کو کھلایا تو رضاع نہیں۔(7) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۹۸.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق، ص۳۹۹.
4 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۵.
5 ۔المرجع السابق،ص۳۶،۳۷.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۰۱.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۰۱.
مسئلہ ۲۳: خنثے مشکل کو دودھ اترا اُسے بچہ کو پلایا ،تو اگر اُس کا عورت ہونا معلوم ہوا تو رضاع ہے اور مرد ہونا معلوم ہوا تو نہیں اور کچھ معلوم نہ ہوا تو اگر عورتیں کہیں اس کا دودھ مثلِ عورت کے دودھ کے ہے تو رضاع ہے ورنہ نہیں۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۴: کسی کی دو عورتیں ہیں بڑی نے چھوٹی کو جو شیر خوار (2) ہے دودھ پلا دیا تودونوں اس پر ہمیشہ کو حرام ہوگئیں بشرطیکہ بڑی کے ساتھ وطی کر چکا ہو اور وطی نہ کی ہو تو دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ بڑی کو طلاق دے دی ہے اور طلاق کے بعد اس نے دودھ پلایا تو بڑی ہمیشہ کو حرام ہوگئی اور چھوٹی بدستور نکاح میں ہے۔ دوم یہ کہ طلاق نہیں دی ہے اور دودھ پلا دیا تو دونوں کا نکاح فسخ ہوگيا مگر چھوٹی سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے اور بڑی سے وطی کی ہو تو پورا مہر پائے گی اور وطی نہ کی ہو تو کچھ نہ ملے گا مگر جب کہ دودھ پلانے پر مجبور کی گئی یا سوتی تھی سوتے میں چھوٹی نے دودھ پی لیا یا مجنونہ تھی حالتِ جنون میں دودھ پلا دیا یا اس کا دودھ کسی اور نے چھوٹی کے حلق میں ٹپکا دیا تو ان صورتوں میں نصف مہر بڑی بھی پائے گی اور چھوٹی کو نصف مہر ملے گا پھر اگر بڑی نے نکاح فسخ کرنے کے ارادہ سے پلایا تو شوہر یہ نصف مہر کہ چھوٹی کو دے گا، بڑی سے وصول کرسکتا ہے ۔
يوہيں اُس سے وصول کر سکتا ہے جس نے چھوٹی کے حلق میں دودھ ٹپکا دیا بلکہ اُس سے تو چھوٹی اور بڑی دونوں کا نصف نصف مہر وصول کرسکتا ہے جب کہ اُس کا مقصد نکاح فاسد کر دینا ہو اور اگر نکاح فاسد کرنا مقصود نہ ہو تو کسی صورت میں کسی سے نہیں لے سکتا اور اگر یہ خیال کر کے دودھ پلایا ہے، کہ بھوکی ہے ہلاک ہو جائے گی تو اس صورت میں بھی رجوع نہیں۔ عورت کہتی ہے کہ فاسدکرنے کے ارادہ سے نہ پلایا تھا تو حلف(3) کے ساتھ اس کا قول مان لیا جائے۔ (4) (جوہرہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: بڑی نے چھوٹی کو بھوکی جان کر دودھ پلا دیا بعد کو معلوم ہوا کہ بھوکی نہ تھی، تو یہ نہ کہا جائے گا کہ فاسد کرنے کے ارادہ سے پلایا۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۶: رضاع کے ثبوت کے ليے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں عادل گواہ ہوں اگرچہ وہ عورت خود دودھ پلانے والی ہو، فقط عورتوں کی شہادت سے ثبوت نہ ہوگا مگر بہتر یہ ہے کہ عورتوں کے کہنے سے بھی جدائی کرلے۔ (6) (جوہرہ)
1 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۷.
2 ۔دودھ پیتی۔ 3 ۔قسم۔
4 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۷،۳۸.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۰۲۔۴۰۵.
5 ۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۸.
6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۲۷: رضاع کے ثبوت کے ليے عورت کے دعویٰ کرنے کی کچھ ضرورت نہیں مگر تفریق قاضی کے حکم سے ہوگی یا متارکہ سے مدخولہ میں کہنے کی ضرورت ہے، مثلاً یہ کہے کہ میں نے تجھے جدا کیا یا چھوڑا اور غیر مدخولہ میں محض اس سے علیحدہ ہوجانا کافی ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: کسی عورت سے نکاح کیا اور ایک عورت نے آکر کہا، میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اگر شوہر یا دونوں اس کے کہنے کو سچ سمجھتے ہوں تو نکاح فاسد ہے اور وطی نہ کی ہو تو مہر کچھ نہیں اور اگر دونوں اس کی بات جھوٹی سمجھتے ہوں تو بہتر جدائی ہے اگر وہ عورت عادلہ ہے، پھر اگر وطی نہ ہوئی ہو تو مرد کو افضل یہ ہے کہ نصف مہر دے اور عورت کو افضل یہ ہے کہ نہ لے اور وطی ہوئی ہو تو افضل یہ ہے کہ پورا مہر دے اور نان نفقہ بھی اور عورت کو افضل یہ ہے کہ مہر مثل اور مہر مقرر شدہ میں جو کم ہے وہ لے اور اگر عورت کو جدا نہ کرے جب بھی حرج نہیں۔ يوہيں تصدیق کی اور شوہر نے تکذیب تو نکاح فاسد نہیں مگرزوجہ شوہر سے حلف لے سکتی ہے اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو تفریق کر دی جائے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: عورت کے پاس دو عادل نے شہادت دی اورشوہر منکر ہے(3) مگر قاضی کے پاس شہادت نہیں گزری، پھر یہ گواہ مر گئے یا غائب ہوگئے تو عورت کو اس کے پاس رہنا جائز نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: صرف دو عورتوں نے قاضی کے پاس رضاع کی شہادت دی اور قاضی نے تفریق کا حکم دے دیا تو یہ حکم نافذ نہ ہوگا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: کسی عورت کی نسبت کہا کہ یہ میری دودھ شریک بہن ہے پھر اس اقرار سے پِھرگیا (6) اس کا کہنا مان لیا جائے اور اگر اقرار کے ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے، سچی ہے، صحیح ہے ، حق وہی ہے جو میں نے کہہ دیا تو اب اقرار سے پھر نہیں سکتا اور اگر اس عورت سے نکاح کر چکا تھا، اب اس قسم کا اقرار کرتا ہے تو جدائی کر دی جائے اور اگر عورت اقرار کر کے پھر گئی اگرچہ اقرار پر اصرار کیا اور ثابت رہی ہو تو اس کا قول بھی مان لیا جائے۔ دونوں اقرار کر کے پھر گئے جب بھی یہی
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۱۰.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرضاع،ج۱،ص۳۴۷.
3 ۔انکارکرتاہے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۱۰.
5 ۔المرجع السابق،ص۴۱۱.
6 ۔یعنی مکرگیا۔
احکام ہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: مرد نے اپنی عورت کی چھاتی چوسی (2) تو نکاح میں کوئی نقصان نہ آیا اگرچہ دودھ مونھ میں آگیا بلکہ حلق سے اتر گیا۔ (3) (درمختار)
امام احمد و مسلم ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، ر سول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:ثیب ولی سے زیادہ اپنے نفس کی حقدا ر ہے اور بکر (کوآری) سے اجازت لی جائے اور چپ رہنا بھی اس کا اذن ہے۔'' (4)
ابو داود انھيں سے راوی، کہ ایک جوان لڑکی رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی، کہ اس کے باپ نے نکاح کر دیا اور وہ اس نکاح کو ناپسند کرتی ہے۔ حضور( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اسے اختیار دیا ۔ (5) یعنی چاہے تو اس نکاح کو جائز کر دے یا رد کر دے۔
ولی وہ ہے جس کا قول دوسر ے پر نافذ ہودوسرا چاہے یا نہ چاہے۔ ولی کا عاقل بالغ ہونا شرط ہے، بچہ اور مجنون ولی نہیں ہوسکتا۔ مسلمان کے ولی کا مسلمان ہونا بھی شرط ہے کہ کافر کو مسلمان پر کوئی اختیار نہیں، متقی ہونا شرط نہیں۔ فاسق بھی ولی ہوسکتاہے۔ ولایت کے اسباب چار ہیں:
قرابت ۱ (6) ،مِلک ۲ ، وِلا ۳ ، امامت ۴ ۔ (7) (درمختار وغیرہ)
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۰۶۔۴۰۸.
2 ۔اعلی حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمن ''فتاوی رضویہ'' ج۲۳ص۳۷۷پرفرماتے ہیں:''اگرعورت شیردار(دودھ والی)ہوتو
ایسا چوسنا نہ چاہیے جس سے دودھ حلق میں چلاجائے اوراگرمنہ میں آجائے اورحلق میں نہ جانے دے تومضائقہ(حرج)نہیں کہ شیرزن
(عورت کادودھ پینا) حرام ہے''۔...عِلْمِیہ
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۱۱.
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب النکاح،باب استئذان الثیب في النکاح بالنطق...إلخ،الحدیث:۔۶۷(۱۴۲۱)،ص۷۳۸.
5 ۔''سنن أبي داود''،کتاب النکاح،باب في البکر یزوّجھاابوھا...إلخ،الحدیث:۲۰۹۶،ج۲،ص۳۳۸.
6 ۔یعنی قریبی رشتہ ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۴۷۔۱۴۹،وغیرہ.
مسئلہ ۱: قرابت کی وجہ سے ولایت عصبہ بنفسہٖ کے ليے ہے یعنی وہ مرد جس کو اس سے قرابت کسی عورت کی وساطت سے نہ ہو یا یوں سمجھو کہ وہ وارث کہ ذوی الفروض کے بعد جو کچھ بچے سب لے لے اور اگر ذوی الفروض نہ ہوں تو سارا مال یہی لے۔ ایسی قرابت والا ولی ہے اور یہاں بھی وہی ترتیب ملحوظ ہے جو وراثت میں معتبر ہے یعنی سب میں مقدّم بیٹا، پھر پوتا، پھر پرپوتا اگرچہ کئی پشت کا فاصلہ ہو، یہ نہ ہوں تو باپ، پھر دادا، پھر پردادا، وغیرہم اصول اگرچہ کئی پشت اوپر کا ہو، پھر حقیقی بھائی، پھرسوتیلا بھائی، پھر حقیقی بھائی کا بیٹا، پھر سوتیلے بھائی کا بیٹا، پھر حقیقی چچا، پھر سوتیلا چچا، پھر حقیقی چچا کا بیٹا، پھر سوتیلے چچا کا بیٹا، پھرباپ کا حقیقی چچا، پھر سوتیلا چچا، پھر باپ کے حقیقی چچا کا بیٹا، پھر سوتیلے چچا کا بیٹا، پھر دادا کا حقیقی چچا، پھر سوتیلا چچا، پھرداداکے حقیقی چچا کا بیٹا، پھر سوتیلے چچا کا بیٹا۔
خلاصہ یہ کہ اُس خاندان میں سب سے زیادہ قریب کا رشتہ دار جو مرد ہو، وہ ولی ہے اگر بیٹا نہ ہو تو جو حکم بیٹے کا ہے وہی پوتے کا ہے، وہ نہ ہو تو پر پوتے کا اور عصبہ کے ولی ہونے میں اُس کا آزاد ہونا شرط ہے اگر غلام ہے تو اس کو ولایت نہیں بلکہ اس صورت میں ولی وہ ہوگا جو اُس کے بعد ولی ہوسکتا ہے۔ (1) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۲: کسی پاگل عورت کے باپ اور بیٹا یا داداا ور بیٹا ہیں تو بیٹا ولی ہے باپ اور دادا نہیں مگر اس عورت کا نکاح کرنا چاہیں تو بہتر یہ ہے کہ باپ اس کے بیٹے (یعنی اپنے نواسے) کو نکاح کر دینے کا حکم کر دے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: عصبہ نہ ہوں تو ماں ولی ہے، پھر دادی ،پھر نانی، پھر بیٹی ،پھر پوتی ،پھر نواسی، پھر پرپوتی ،پھر نواسی کی بیٹی، پھرنانا، پھر حقیقی بہن، پھر سوتیلی بہن ،پھر اخیافی بھائی بہن یہ دونوں ایک درجے کے ہیں، ان کے بعد بہن وغیرہا کی اولاد اسی ترتیب سے پھر پھوپی، پھر ماموں ،پھر خالہ، پھر چچازاد بہن، پھر اسی ترتیب سے ان کی اولاد۔ (3) (خانیہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جب رشتہ دار موجود نہ ہوں تو ولی مولی الموالاۃ ہے یعنی وہ جس کے ہاتھ پر اس کا باپ مشرف باسلام ہوا اور یہ عہد کیا کہ اس کے بعد یہ اس کا وارث ہوگا یا دونوں نے ایک دوسرے کا وارث ہونا ٹھہرا لیا ہو۔ (4) (خانیہ، ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الفرائض،فصل في العصبات،ج۱۰،ص۵۵۰،وغیرہما.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۳.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الأولیاء،ج۱،ص۱۶۵.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:لایصح تولیۃ الصغیرشیخًاعلی خیرات،ج۴،ص۱۸۴.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، فصل في الأولیاء،ج۱،ص۱۶۵.
و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب: لایصح تولیۃ الصغیرشیخًاعلی خیرات، ج۴، ص۱۸۵.
مسئلہ ۵: ان سب کے بعد بادشاہِ اسلام ولی ہے پھر قاضی جب کہ سلطان کی طرف سے اسے نابالغوں کے نکاح کا اختیار دیا گیا ہو اور اگر اس کے متعلق یہ کام نہ ہو اور نکاح کر دیا پھر سلطان کی طرف سے یہ خدمت بھی اسے سپرد ہوئی اور قاضی نے اس نکاح کو جائز کر دیا تو جائز ہوگيا۔ (1) (خانیہ)
مسئلہ ۶: قاضی نے اگر کسی نابالغہ لڑکی سے اپنا نکاح کر لیا تو یہ نکاح بغیر ولی کے ہوا یعنی اس صورت میں قاضی ولی نہیں۔ يوہيں بادشاہ نے اگر ایسا کیا تو یہ بھی بے ولی کے (2) نکاح ہوا اور اگر قاضی نے نابالغہ لڑکی کا نکاح اپنے باپ یا لڑکے سے کر دیا تو یہ بھی جائز نہیں۔ (3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۷: قاضی کے بعد قاضی کا نائب ہے جب کہ بادشاہ اسلام نے قاضی کو یہ اختیار دیا ہو اور قاضی نے اس نائب کو اجازت دی ہو یا تمام امور میں اس کو نائب کیا ہو۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: وصی کو یہ اختیار نہیں کہ یتیم کا نکاح کرد ے اگرچہ اس یتیم کے باپ دادا نے یہ وصیت بھی کی ہو کہ میرے بعد تم اس کا نکاح کر دینا ،البتہ اگر وہ قریب کا رشتہ دار یا حاکم ہے تو کر سکتا ہے کہ اب وہ ولی بھی ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۹: نابالغ بچے کی کسی نے پرورش کی، مثلاً اسے متبنے کیا(6) یا لاوارث بچہ کہیں پڑا ملا، اُسے پال لیا تو یہ شخص اس کے نکاح کا ولی نہیں۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: لونڈی، غلام کے نکاح کا ولی ان کا مولیٰ ہے، اس کے سوا کسی کو ولایت نہیں اگر کسی اور نے یا اس نے خود نکاح کر لیا تو وہ نکاح مولیٰ کی اجازت پر موقوف رہے گا جائز کر دے گا جائز ہو جائے گا، رد کر دے گا باطل ہو جائے گا اور اگر غلام دو شخص میں مشترک ہے تو ایک شخص تنہا اس کا نکاح نہیں کر سکتا۔ (8) (خانیہ)
مسئلہ ۱۱: مسلمان شخص کافرہ کے نکاح کا ولی نہیں مگر کافرہ باندی کا ولی اس کا مولیٰ ہے۔ يوہيں بادشاہِ اسلام اورقاضی
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، فصل في الأولیاء،ج۱،ص۱۶۵.
2 ۔ولی کے بغیر۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۳.
و''الدرالمختار''، کتاب النکاح، باب الولی، ج۴، ص۱۸۷.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح، مطلب: لایصح تولیۃ الصغیرشیخاًعلی خیرات، ج۴، ص۱۸۵.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح، باب الولي،ج۴، ص۱۸۶.
6 ۔منہ بولابیٹابنایا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۴.
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الاولیاء،ج۱،ص۱۶۵.
بھی کافرہ کے ولی ہیں کہ ان کو اُس کا نکاح کرنے کی اجازت ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: لونڈی، غلام ولی نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ مکاتب اپنے لڑکے کا ولی نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: کافر اصلی، کافر اصلی کا ولی ہے اور مرتد کسی کا بھی ولی نہیں، نہ مسلم کا،نہ کافر کایہاں تک کہ مرتد مرتد کا بھی ولی نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: ولی اگر پاگل ہوگيا تو اس کی ولایت جاتی رہی اور اگر اس قسم کا پاگل ہے کہ کبھی پاگل رہتا ہے اور کبھی ہوش میں تو ولایت باقی ہے، افاقہ کی حالت میں جو کچھ تصرفات کریگا نافذ ہوں گے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: لڑکا معتوہ یا مجنون ہے اور اسی حالت میں بالغ ہوا تو باپ کی ولایت اب بھی بدستور باقی ہے اور اگر بلوغ کے وقت عاقل تھا پھر مجنون یا معتوہ ہوگيا تو باپ کی ولایت پھر عود کر آئے گی(5)اور کسی کا باپ مجنون ہوگيا تو اُس کا بیٹا ولی ہے اپنے باپ کا نکاح کر سکتا ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: اپنے بالغ لڑکے کا نکاح کر دیا اور ابھی لڑکے نے جائز نہ کیا تھا کہ پاگل ہوگيا، اب اس کے باپ نے نکاح جائز کر دیا تو جائز ہوگيا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: نابالغ نے اپنا نکاح خود کیا اور نہ اس کا ولی ہے، نہ وہاں حاکم تو یہ نکاح موقوف ہے بالغ ہو کر اگر جائز کردے گا ہو جائے گا اور اگر نابالغ نے بالغ عورت سے نکاح کیا پھر غائب ہوگيا پھر عورت نے دوسرا نکاح کیا اور نابالغ نے بلوغ کے وقت نکاح جائز کر دیا تھا اگر دوسرا نکاح اجازت سے پہلے کیا تو دوسرا ہوگيا اور بعد میں تو نہیں اور اب پہلا ہوگيا۔(8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: دو برابر کے ولی نے نکاح کر دیا۔ مثلاً اس کے دو۲حقیقی بھائی ہیں دونوں نے نکاح کر دیا ،تو جس نے پہلے کیا وہ صحیح ہے اور اگر دونوں نے ایک ساتھ کیا ہو یا معلوم نہ ہو کہ کون پیچھے ہے، کون پہلے تو دونوں باطل۔ (9) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۸۳.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۴.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔یعنی لوٹ آئے گی۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۴.
7 ۔المرجع السابق.
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:لایصح تولیۃ الصغیرشیخًاعلی خیرات،ج۴،ص۱۸۷.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۸۸.
مسئلہ ۱۹: ولی اقرب غائب ہے اس وقت دُور والے ولی نے نکاح کر دیا تو صحیح ہے اور اگر اس کی موجودگی میں نکاح کیا تو اس کی اجازت پر موقوف ہے محض اس کا سکوت کافی نہیں بلکہ صراحۃً یا دلالۃً اجازت کی ضرورت ہے، یہاں تک کہ اگر ولی اقرب مجلس میں موجود ہو تو یہ بھی اجازت نہیں اور اگر اس ولی اقرب نے نہ اجازت دی تھی، نہ رد کیا اور مر گیا یا غائب ہوگيا کہ اب ولایت اسی دُور والے ولی کو پہنچی تو وہ قبل میں اس کا نکاح کر دینا اجازت نہیں بلکہ اب اس کی جدید اجازت درکار ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: ولی کے غائب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اگر اس کا انتظار کیا جائے تو وہ جس نے پیغام دیا ہے اور کفو بھی ہے، ہاتھ سے جاتا رہے گا اگر ولی قریب مفقود الخبرہو یا کہیں دورہ کرتا ہو کہ اس کا پتا معلوم نہ ہو یا وہ ولی اُسی شہر میں چھپا ہوا ہے مگر لوگوں کو اس کا حال معلوم نہیں اور ولی ابعد نے نکاح کر دیا اور وہ اب ظاہرہوا تو نکاح صحیح ہوگيا۔ (2) (خانیہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۱: ولی اقرب صالح ولایت نہیں، مثلاً بچہ ہے یا مجنون تو ولی ابعد ہی نکاح کا ولی ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: مولیٰ اگر غائب بھی ہو جائے اور اس کا پتا بھی نہ چلے، جب بھی لونڈی، غلام کے نکاح کی ولایت اسی کو ہے اس کے رشتہ دار ولی نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: لونڈی آزاد ہوگئی اور اس کا عصبہ کوئی نہ ہو تو وہ عصبہ ہے، جس نے اسے آزاد کیا اور اسی کی اجازت سے نکاح ہوگا، وہ مرد ہو یا عورت اور ذوی الارحام پر آزاد کنندہ (5)مقدم ہے۔ (6) (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۲۴: کفو نے پیغام دیا اور وہ مَہر مثل بھی دینے پر تیار ہے مگر ولی اقرب لڑکی کا نکاح اس سے نہیں کرتا بلکہ بلاوجہ انکار کرتا ہے تو ولی ابعد نکاح کر سکتا ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: نابالغ اور مجنون اور لونڈی غلام کے نکاح کے ليے ولی شرط ہے، بغیر ولی ان کا نکاح نہیں ہوسکتا اور حرہ بالغہ عاقلہ نے بغیر ولی کفو سے نکاح کیا تو نکاح صحیح ہوگيا اور غیر کفو سے کیا تو نہ ہوا اگرچہ نکاح کے بعد راضی ہوگيا۔ البتہ اگر ولی نے
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:لایصح تولیۃ الصغیرشیخًاعلی خیرات،ج۴،ص۱۸۹.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، فصل في الاولیاء،ج۱،ص۱۶۶،وغیرھا.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۵.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔ آزادکرنے والا۔
6 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح ،الجزء الثانی ،ص۱۳.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح، ج۴،ص۱۹۱.
سکوت کیا اور کچھ جواب نہ دیا اور عورت کے بچہ بھی پیدا ہوگيا تو اب نکاح صحیح مانا جائے گا۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: جس عورت کا کوئی عصبہ نہ ہو، وہ اگر اپنا نکاح جان بوجھ کر غیر کفو سے کرے تو نکاح ہو جائے گا۔ (2) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۲۷: جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دیں بعد عدت اس نے جان بوجھ کر غیر کفو سے نکاح کر لیا اور ولی راضی نہیں یا ولی کو اس کا غیر کفو ہونا معلوم نہیں تو یہ عورت شوہر اوّل کے ليے حلال نہ ہوئی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: ایک درجہ کے چند ولی ہوں۔ بعض کا راضی ہو جانا کافی ہے اور اگر مختلف درجے کے ہوں تو اقرب کا راضی ہونا ضروری ہے کہ حقیقۃً یہی ولی ہے اور جس ولی کی رضا سے نکاح ہوا جب اس سے کہا گیا تو یہ کہتا ہے کہ یہ شخص کفو ہے تو اب اس کی رضا بے کار ہے اس کی رضا سے بقیہ ورثہ کا حق ساقط نہ ہوگا۔ (4) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۲۹: راضی ہونا دو طرح ہے۔ ایک یہ کہ صراحۃً کہہ دے کہ میں راضی ہوں۔ دوسرے یہ کہ کوئی ایسا فعل پایا جائے جس سے راضی ہونا سمجھا جاتا ہو، مثلاً مہر پر قبضہ کرنا یا مہر کا مطالبہ یا دعویٰ کر دینا یا عورت کو رخصت کر دینا کہ یہ سب افعال راضی ہونے کی دلیل ہیں، اس کو دلالۃً رضا کہتے ہیں اور ولی کا سکوت رضا نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: شافعیہ(6) عورت بالغہ کوآری نے حنفی (7)سے نکاح کیا اور اس کا باپ راضی نہیں تو نکاح صحیح ہوگيا۔ يوہيں اس کا عکس۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: عورت بالغہ عاقلہ کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کوئی نہیں کر سکتا۔ نہ اس کا باپ نہ بادشاہِ اسلام ،کوآری ہو یاثیب۔ يوہيں مرد بالغ آزاد اور مکاتب و مکاتبہ کا عقد نکاح بِلا (9)ان کی مرضی کے کوئی نہیں کر سکتا۔ (10) (عالمگیری، درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۴۹۔۱۵۱.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۳،وغیرہ.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۲.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۳،وغیرہ .
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۴.
6 ۔امام شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ کی پیروکار۔ 7 ۔امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃاللہ تعالی علیہ کا پیروکار۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۷.
9 ۔ بغیر۔
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۷.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۵.
مسئلہ ۳۲: کوآری عورت سے اُس کے ولی یا ولی کے وکیل یا قاصد نے اذن مانگا یا ولی نے بلا اجازت ليے نکاح کر دیا۔ اب اس کے قاصد نے یا کسی فضولی عادل نے خبر دی اور عورت نے سکوت کیا یا ہنسی یا مسکرائی یا بغیر آواز کے روئی تو ان سب صورتوں میں اذن سمجھا جائے گا کہ پہلی صورت میں نکاح کر دینے کی اجازت ہے، دوسری میں نکاح کیا ہوا منظور ہے اور اگر اذن طلب کرتے وقت یا جس وقت نکاح ہو جانے کی خبر دی گئی، اس نے سُن کر کچھ جواب نہ دیا بلکہ کسی اور سے کلام کرنا شروع کیا مگر نکاح کو رد نہ کیا تو یہ بھی اذن ہے اور اگر چپ رہنا اس وجہ سے ہوا کہ اسے کھانسی یا چھینک آگئی تو یہ رضا نہیں اس کے بعد رد کر سکتی ہے۔ يوہيں اگر کسی نے اس کامونھ بند کر دیا کہ بول نہ سکی تو رضا نہیں۔ اور ہنسنا اگر بطورِ استہزا کے (1) ہو یا رونا آواز سے ہو تواذن نہیں۔ (2) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: ایک درجہ کے دو ولی نے بیک وقت دو شخصوں سے نکاح کر دیا اور دونوں کی خبر ایک ساتھ پہنچی عورت نے سکوت کیا(3)، تو دونوں موقوف ہیں اپنے قول یا فعل سے جس ایک کو جائز کرے جائز ہے اور دوسرا باطل اور دونوں کو جائز کیا تو دونوں باطل اور دونوں نے اذن مانگا اورعورت نے سکوت کیا تو جو پہلے نکاح کر دے وہ ہو گا۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: ولی نے نکاح کر دیا عورت کو خبر پہنچی اس نے سکوت کیا مگر اس وقت شوہر مر چکا تھا تو یہ اذن نہیں اور اگر شوہر کے مر جانے کے بعد کہتی ہے کہ میرے اذن سے میرے باپ نے اس سے نکاح کیا۔اور شوہر کے ورثہ انکار کریں تو عورت کا قول مانا جائے گا لہٰذا وارث ہوگی اور عدّت واجب۔ اور اگر عورت نے یہ بیان کیا کہ میرے اذن کے بغیر نکاح ہوا مگر جب نکاح کی خبر پہنچی میں نے نکاح کو جائز کیا تو اب ورثہ کا قول معتبر ہے اب نہ مہر پائے گی نہ میراث۔ رہا یہ کہ عدّت گزارے گی يا نہيں اگر واقع میں سچی ہے تو عدّت گزارے ورنہ نہیں مگر نکاح کرنا چاہے تو عدّت تک روکی جائے گی کہ جب اس نے ا پنا نکاح ہونا بیان کیا تو اب بغیر عدّت کیونکر نکاح کرے گی۔ (5) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: عورت سے اذن (6) لینے گئے اس نے کہا کسی اور سے ہوتا تو بہتر تھاتو یہ انکار ہے اور اگر نکاح کے بعد
1 ۔ مذاق کے طور پر۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۵ .
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۷،۲۸۸.
3 ۔ یعنی خاموش رہی۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۶.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۹.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۷.
6 ۔اجازت۔
خبر دی گئی اور عورت نے وہی لفظ کہے تو قبول سمجھا جائے گا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: ولی اس عورت سے خود اپنا نکاح کرنا چاہتا ہے اور اجازت لینے گیا اس نے سکوت کیا تو یہ رضا ہے اور اگر نکاح اپنے سے کر لیا اب خبر دی اور سکوت کیا تو یہ رد ہے رضا نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳۷: کسی خاص کی نسبت عورت سے اذن مانگا اس نے انکار کر دیا مگر ولی نے اسی سے نکاح کر دیا۔ اب خبر پہنچی اور ساکت رہی تو یہ اذن ہوگيا اور اگرکہا کہ میں تو پہلے ہی سے اُس سے نکاح نہیں چاہتی ہوں تو یہ رد ہے اور اگر جس وقت خبر پہنچی انکار کیا پھر بعد کو رضا ظاہر کی تو یہ نکاح جائز نہ ہوا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۸: اذن لینے میں یہ بھی ضروری ہے کہ جس سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اس کا نام اس طرح لیا جائے جس کووہ عورت جان سکے۔ اگر یوں کہا کہ ایک مرد سے تیرا نکاح کر دوں یا یوں کہ فلاں قوم کے ایک شخص سے نکاح کر دوں تو یوں اذن نہیں ہوسکتا۔ اور اگر یوں کہا کہ فلاں یا فلاں سے تیرا نکاح کر دوں اور عورت نے سکوت کیا تو اذن ہوگيا۔ ان دونوں میں جس ایک سے چاہے کر دے یا یوں کہا کہ پڑوس والوں میں سے کسی سے نکاح کر دوں یا یوں کہا کہ چچا زاد بھائیوں میں کسی سے نکاح کر دوں اور سکوت کیا اور ان دونوں صورتوں میں ان سب کو جانتی بھی ہو تو اذن ہوگيا۔ ان میں جس ایک سے کریگا ہو جائے گا اور سب کو جانتی نہ ہو تو اذن نہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۹: عورت نے اذنِ عام دے دیا، مثلاً ولی نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے پیغام بھیجا ہے، عورت نے کہا جو تو کرے مجھے منظور ہے یا جس سے تو چاہے نکاح کر دے تو یہ اذنِ عام ہے جس سے چاہے نکاح کردے مگر اس صورت میں بھی اگر کسی خاص شخص کی نسبت عورت پیشتر انکار کر چکی ہے تو اس کے بارے میں اذن نہ سمجھا جائے گا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: اذن لینے میں مہر کا ذکر شرط نہیں اور بعض مشائخ نے شرط بتایا لہٰذا ذکر ہو جانا چاہيے کہ اختلاف سے بچنا ہے اور اگر ذکر نہ کیا تو ضرور ہے کہ جو مہر باندھا جائے وہ مہر مثل سے کم نہ ہو اور کم ہو تو بغیر عورت کے راضی ہوئے عقد صحیح نہ ہو گا۔ اور اگر زیادہ کمی ہو تو اگرچہ عورت راضی ہو اولیا کو اعتراض کا حق حاصل ہے یعنی جب کہ کسی غیر ولی نے نکاح کیا ہو اور ولی نے خود ایسا کیا تو اب کون اعتراض کرے۔ (6) (ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۷.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۸.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۸.
4 ۔المرجع السابق، ص۱۵۸. 5 ۔المرجع السابق،ص۱۵۹.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۹.
مسئلہ ۴۱: ولی نے عورت بالغہ کا نکاح اس کے سامنے کر دیا اور اُسے اس کا علم بھی ہوا اور سکوت کیا تو یہ رضاہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۴۲: یہ احکام جو مذکور ہوئے ولی اقرب کے ہیں، اگر ولی بعید یا اجنبی نے نکاح کا اذن طلب کیا تو سکوت اذن نہیں بلکہ اگر عورت کوآری ہے تو صراحۃً اذن کے الفاظ کہے یا کوئی ایسا فعل کرے جو قول کے حکم میں ہو، مثلاً مہر یا نفقہ طلب کرنا، خوشی سے ہنسنا ،خلوت پر راضی ہونا، مہر یا نفقہ قبول کرنا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: ولی نے عورت سے کہا میں یہ چاہتا ہوں کہ فلاں سے تیرا نکاح کردوں۔ اس نے کہا ٹھیک ہے، جب چلا گیا تو کہنے لگی میں راضی نہیں اور ولی کو اس کا علم نہ ہوا اور نکاح کر دیا تو صحیح ہوگيا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: بکر (کوآری) وہ عورت ہے جس سے نکاح کے ساتھ وطی نہ کی گئی ہو، لہٰذا اگر زینہ (4) پر چڑھنے یا اترنے یا کودنے یا حیض یا زخم یا بلا نکاح زیادہ عمر ہو جانے یا زنا کی وجہ سے بکارت(5) زائل ہوگئی جب بھی وہ کوآری ہی کہلائے گی۔ يوہيں اگر اس کا نکاح ہوا مگر شوہر نامرد ہے یا اس کا عضو تناسل مقطوع(6) ہے اس وجہ سے تفریق ہوگئی بلکہ اگر شوہر نے وطی سے پہلے طلاق دے دی یا مر گیا اگرچہ ان سب صورتوں میں خلوت ہو چکی ہو جب بھی بکر ہے مگر جب چند بار اس نے زنا کیا کہ لوگوں کو اس کا حال معلوم ہوگيا یا اُس پر حد زنا قائم کی گئی اگرچہ ایک ہی بار واقع ہوا ہو تو اب وہ عورت بکر نہیں قرار دی جائے گی اور جوعورت کوآری نہ ہو اس کو ثیب کہتے ہیں۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۴۵: لڑکی کا نکاح نابالغہ سمجھ کر اس کے باپ نے کر دیا وہ کہتی ہے میں بالغہ ہوں میرا نکاح صحیح نہ ہوا اور اس کا باپ یا شوہر کہتا ہے نابالغہ ہے اور نکاح صحیح ہے تو اگر اس کی عمر نو برس کی ہو اور مراہقہ ہو تو لڑکی کا قول مانا جائے گا اور اگر دونوں نے اپنے اپنے دعوے پر گواہ پیش کيے تو بلوغ کے گواہ کو ترجیح ہے۔ يوہيں اگر لڑکے مراہق (8) نے اپنے بلوغ کا دعویٰ کیا تو اسی کا قول معتبر ہے، مثلاً اس کے باپ نے اس کی کوئی چیز بیچ ڈالی، یہ کہتا ہے میں بالغ ہوں اور بیع صحیح نہ ہوئی اس کا باپ یا خریدار کہتا ہے نابالغ ہے تو بالغ ہونا قرار پائے گاجب کہ اس کی عمر اس قابل ہو۔ (9) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۶۰.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۶۰.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۸،۲۸۹.
4 ۔سیڑھی۔ 5 ۔یعنی کنوار پن۔ 6 ۔کٹاہوا۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۶۱۔۱۶۳.
8 ۔ یعنی وہ لڑکا کہ ہنوز بالغ نہ ہوا مگر اس کے ہم عمر بالغ ہوگئے ہوں، اس کی مقدار بارہ برس کی عمر ہے۔
9 ۔''الدرالمختار''، کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۶۵.
مسئلہ ۴۶: نابالغ لڑکا اور لڑکی اگرچہ ثیب ہو اور مجنون و معتوہ کے نکاح پر ولی کو ولایت اجبار حاصل ہے یعنی اگرچہ یہ لوگ نہ چاہیں ولی نے جب نکاح کر دیا ہوگيا۔ پھر اگر باپ دادا یا بیٹے نے نکاح کر دیا ہے تو اگرچہ مہرِ مثل سے بہت کم یا زیادہ پر نکاح کیا یا غیر کفو سے کیا جب بھی ہو جائے گا بلکہ لازم ہو جائے گا کہ ان کو بالغ ہونے کے بعد یا مجنون کو ہوش آنے کے بعد اُس نکاح کے توڑنے کا اختیار نہیں۔ يوہيں مولیٰ کا نکاح کیا ہوا بھی فسخ نہیں ہوسکتا، ہاں اگر باپ، دادا یا لڑکے کا سوء اختیار معلوم ہوچکا ہو مثلاًاس سے پیشتر اس نے اپنی لڑکی کا نکاح کسی غیر کفو فاسق وغیرہ سے کر دیا اور اب یہ دوسرا نکاح غیر کفو سے کریگا تو صحیح نہ ہوگا۔
يوہيں اگر نشہ کی حالت میں غیر کفو سے یا مہر مثل میں زیادہ کمی کے ساتھ نکاح کیا تو صحیح نہ ہوا اور اگر باپ، دادا یا بیٹے کے سوا کسی اور نے کیا ہے اور غیر کفو یا مہر مثل میں زیادہ کمی بیشی کے ساتھ ہوا تو مطلقاً صحیح نہیں اور اگر کفو سے مہر مثل کے ساتھ کیا ہے تو صحیح ہے مگر بالغ ہونے کے بعد اور مجنون کو افاقہ کے بعداور معتوہ کو عاقل ہونے کے بعد فسخ کا اختیار ہوگا اگرچہ خلوت(1) بلکہ وطی ہو چکی ہو یعنی اگر نکاح ہونا پہلے سے معلوم ہے تو بکر بالغ ہوتے ہی فوراً اور اگر معلوم نہ تھا تو جس وقت معلوم ہوا اسی وقت فوراً فسخ کر سکتی ہے اگر کچھ بھی وقفہ ہوا تو اختیار فسخ جاتا رہا۔ یہ نہ ہوگا کہ آخر مجلس تک اختیار باقی رہے مگر نکاح فسخ اس وقت ہوگا جب قاضی فسخ کا حکم بھی دیدے لہٰذا اسی اثنا میں قبل حکمِ قاضی اگر ایک کا انتقال ہوگيا تو دوسرا وارث ہوگا اورپورا مہر لازم ہوگا۔ (2) (درمختار، خانیہ، جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۴۷: عورت کو خیار بلوغ حاصل تھا جس وقت بالغ ہوئی، اسی وقت اسے یہ خبر بھی ملی کہ فلاں جائداد فروخت ہوئی جس کا شفعہ یہ کر سکتی ہے، ایسی حالت میں اگر شفعہ کرنا ظاہر کرتی ہے تو خیاربلوغ جاتا ہے اور اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے تو شفعہ جاتا ہے اور چاہتی یہ ہے کہ دونوں حاصل ہوں لہٰذا اس کا طریقہ یہ ہے کہ کہے میں دونوں حق طلب کرتی ہوں، پھر تفصیل میں پہلے خیاربلوغ کو ذکر کرے اور ثیب کو ایسا معاملہ پیش آئے تو شفعہ کو مقدم کرے اور اس کی وجہ سے خیار بلوغ باطل نہ ہوگا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴۸: عورت جس وقت بالغہ ہوئی اسی وقت کسی کو گواہ بنائے کہ میں ابھی بالغ ہوئی اور اپنے نفس کو اختیار کرتی ہوں اور رات میں اگر اسے حیض آیا تو اسی وقت اپنے نفس کو اختیار کرے اور صبح کو گواہوں کے سامنے اپنا بالغ ہونا اور اختیار کرنا
1 ۔یعنی خلوت صحیحہ۔
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۶۶۔۱۷۱.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الخیارات التي تتعلق بالنکاح،ج۱،ص۱۹۰.
و''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثانی ،ص۱۰،۱۱،وغیرھا.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولي،ج۴،ص۱۷۸.
بیان کرے مگر یہ نہ کہے کہ رات میں بالغ ہوئی بلکہ یہ کہ میں اس وقت بالغ ہوئی اور اپنے نفس کو اختیار کیا اور اس لفظ سے یہ مراد لے کہ میں اس وقت بالغ ہوں تاکہ جھوٹ نہ ہو۔ (1) (بزازیہ وغیرہا)
مسئلہ ۴۹: عورت کو یہ معلوم نہ تھا کہ اسے خیارِ بلوغ حاصل ہے اس بنا پر اس نے اس پر عملدرآمد بھی نہ کیا، اب اسے یہ مسئلہ معلوم ہوا تو اب کچھ نہیں کر سکتی کہ اس کے ليے جہل عذر نہیں اور لونڈی کسی کے نکاح میں ہے اب آزاد ہوئی تو اسے خیارِ عتق حاصل ہے کہ بعد آزادی چاہے اس نکاح پر باقی رہے یا فسخ کرالے۔ اس کے ليے جہل عذر ہے کہ باندیوں کو مسائل سیکھنے کا موقع نہیں ملتا اور حرّہ کو ہر وقت حاصل ہے اور نہ سیکھنا خود اسی کا قصور ہے لہٰذا قابلِ معذوری نہیں۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۰: لڑکا یا ثیب بالغ ہوئے تو سکوت سے خیارِ بلوغ باطل نہ ہوگا ،جب تک صاف طور پر اپنی رضا یا کوئی ایسا فعل جو رضا پر دلالت کرے (مثلاً بوسہ لینا، چھونا، مہر لینا دینا، وطی پر راضی ہونا) نہ پایا جائے، مجلس سے اٹھ جانا بھی خیار کو باطل نہیں کرتا کہ اس کا وقت محدود نہیں عمر بھر اس کا وقت ہے۔ (3) (خانیہ) رہا یہ امر کہ فسخِ نکاح سے مہر لازم آئے گا یا نہیں اگر اُس سے وطی نہ ہوئی تومہر بھی نہیں اگرچہ فرقت جانب زوج سے ہو اور وطی ہو چکی ہے تو مہر لازم ہوگا اگرچہ فرقت جانب زوجہ سے ہو۔ (4) (جوہرہ)
مسئلہ ۵۱: اگر وطی ہو چکی ہے تو فسخ کے بعد عورت کے ليے عدّت بھی ہے ورنہ نہیں اور اس زمانہ عدّت میں اگر شوہر اسے طلاق دے تو واقع نہ ہوگی اور یہ فسخ طلاق نہیں، لہٰذا اگر پھر انھیں دونوں کا باہم نکاح ہو تو شوہر تین طلاق کا مالک ہو گا۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۲: ثیب کا نکاح ہوا اس کے بعد شوہر کے یہاں سے کچھ تحفہ آیا، اس نے لے لیا رضا ثابت نہ ہوئی۔ يوہيں اگر اس کے یہاں کھانا کھایا یا اس کی خدمت کی اور پہلے بھی خدمت کرتی تھی تو رضا نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: نابالغ غلام کا نکاح نابالغہ لونڈی سے ان کے مولیٰ نے کر دیا پھر ان کو آزاد کر دیا۔ اب بالغ ہوئے تو ان کو خیارِ بلوغ حاصل نہیں اور اگر لونڈی کو آزاد کرنے کے بعد نکاح کیا تو بالغہ ہونے کے بعد اسے خیار حاصل ہے۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی البزازیۃ''ہامش علی''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،نوع في خیارالبلوغ،ج۴،ص۱۲۵،وغیرہا.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولي،ج۴،ص۱۷۰،وغیرہ.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الاولیاء،ج۱،ص۱۶۶.
4 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثانی ،ص۲۹.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۷۲.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۹۔۲۹۰.
7 ۔المرجع السابق،ص۲۸۶.
حدیث ۱: ترمذی و حاکم و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب ایسا شخص پیغام بھیجے، جس کے خُلق و دین کو پسند کرتے ہو تو نکاح کر دو، اگر نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فسادِ عظیم ہوگا۔'' (1)
حدیث ۲: ترمذی شریف میں مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو۔ (1) نماز کا جب وقت آجائے،( 2) جنازہ جب موجود ہو، (3 )بے شوہر والی کا جب کفو ملے۔'' (2)
کفو کے یہ معنی ہیں کہ مرد عورت سے نسب وغیرہ میں اتنا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح عورت کے اولیا کے ليے باعثِ ننگ و عار (3) ہو، کفاء ت (4) صرف مرد کی جانب سے معتبر ہے عورت اگرچہ کم درجہ کی ہو اس کا اعتبار نہیں۔ (5) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱: باپ، دادا کے سوا کسی اور ولی نے نابالغ لڑکے کا نکاح غیر کفوسے کر دیا تو نکاح صحیح نہیں اور بالغ اپنا خود نکاح کرنا چاہے تو غیر کفو عورت سے کر سکتا ہے کہ عورت کی جانب سے اس صورت میں کفاء ت معتبر نہیں اور نابالغ میں دونوں طرف سے کفاء ت کا اعتبار ہے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: کفاء ت میں چھ چیزوں کا اعتبار ہے:
1 نسب، 2 اسلام، 3 حرفہ، (7) 4 حریت، (8) 4 دیانت، 5 مال۔
قریش میں جتنے خاندان ہیں وہ سب باہم کفو ہیں، یہاں تک کہ قرشی غیر ہاشمی ہاشمی کا کفو ہے اور کوئی غیر قرشی قریش کا کفو نہیں۔ قریش کے علاوہ عرب کی تمام قومیں ایک دوسرے کی کفو ہیں، انصار و مہاجرین سب اس میں برابر ہیں، عجمی النسل عربی کا کفو نہیں مگر عالمِ دین کہ اس کی شرافت نسب کی شرافت پر فوقیت رکھتی ہے۔ (9) (خانیہ، عالمگیری)
مسئلہ ۳: جو خود مسلمان ہوا یعنی اس کے باپ، دادا مسلمان نہ تھے وہ اس کا کفو نہیں جس کا باپ مسلمان ہو اور جس کا
1 ۔''جامع الترمذی''،أبواب النکاح،باب ماجاء کم من ترضون دینہ...إلخ،الحدیث:۱۰۸۶،ج۲،ص۳۴۴.
2 ۔ ''جامع الترمذی''، أبواب الجنائز،باب ماجاء فی تعجیل الجنازۃ،الحدیث:۱۰۷۷،ج۲،ص۳۳۹.
3 ۔بے عزتی ورسوائی کاسبب۔ 4 ۔حسب ونسب میں ہم پلہ ہونا۔
5 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۱۹۴.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۱۹۵.
7 ۔ یعنی پیشہ۔ 8 ۔ آزادہو نا۔
9 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الاکفاء،ج۱،ص۱۶۳.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الخامس في الاکفاء،ج۱،ص۲۹۰،۲۹۱.
صرف باپ مسلمان ہو اس کا کفو نہیں جس کا دادا بھی مسلمان ہو اور باپ دادا دو پشت سے اسلام ہو تو اب دوسری طرف اگرچہ زیادہ پشتوں سے اسلام ہو کفو ہیں مگر باپ دادا کے اسلام کا اعتبار غیر عرب میں ہے، عربی کے ليے خود مسلمان ہوا یا باپ، دادا سے اسلام چلا آتا ہو سب برابر ہیں۔ (1) (خانیہ، درمختار)
مسئلہ ۴: مرتد اگر اسلام لایا تو وہ اس مسلمان کا کفو ہے جو مرتد نہ ہوا تھا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۵: غلام، حرّہ کا کفو نہیں، نہ وہ جو آزاد کیا گیا حرّہ اصلیہ(3) کا کفو ہے اور جس کا باپ آزاد کیا گیا، وہ اس کا کفو نہیں جس کا دادا آزاد کیا گیا اور جس کا دادا آزاد کیا گیا وہ اس کا کفو ہے جس کی آزادی کئی پشت سے ہے۔ (4) (خانیہ)
مسئلہ ۶: جس لونڈی کے آزاد کرنے والے اشراف ہوں، اس کا کفو وہ نہیں جس کے آزاد کرنے والے غیر اشراف ہوں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: فاسق شخص متقی کی لڑکی کا کفو نہیں اگرچہ وہ لڑکی خود متقیہ نہ ہو۔ (6) (درمختار وغیرہ) اور ظاہر کہ فسق اعتقادی(7) فسقِ عملی(8) سے بدر جہا بدتر، لہٰذا سُنی عورت کا کفو وہ بد مذہب نہیں ہوسکتا جس کی بدمذہبی حدِ کفر کو نہ پہنچی ہو اور جو بد مذہب ایسے ہیں کہ ان کی بد مذہبی کفر کو پہنچی ہو، ان سے تو نکاح ہی نہیں ہوسکتا کہ وہ مسلمان ہی نہیں، کفو ہونا تو بڑی بات ہے جیسے روافض و وہابیہ زمانہ کہ ان کے عقائد و اقوال کا بیان حصہ اوّل میں ہوچکا ہے۔
مسئلہ ۸: مال میں کفاء ت کے یہ معنی ہیں کہ مرد کے پاس اتنا مال ہو کہ مہر معجل اور نفقہ(9) دینے پر قادر ہو۔ اگر پیشہ نہ کرتا ہو تو ایک ماہ کا نفقہ دینے پر قادر ہو، ورنہ روز کی مزدوری اتنی ہو کہ عورت کے روز کے ضروری مصارف(10) روز دے سکے۔ اس کی ضرورت نہیں کہ مال میں یہ اس کے برابر ہو۔ (11) (خانیہ، درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، فصل في الاکفاء، ج۱،ص۱۶۳.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۱۹۸.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۲۰۰.
3 ۔یعنی جوکبھی لونڈی نہ بنی ہو۔
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، فصل في الاکفاء،ج۱،ص۱۶۳.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الخامس في الاکفاء،ج۱،ص۲۹۰،۲۹۱.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۲۰۱،وغیرہ.
7 ۔عقیدے کابرا ہونا،فاسق ہونا۔ 8 ۔عمل کے لحاظ سے برا ہونا،فاسق ہونا۔
9 ۔کپڑے ،کھانے پینے وغیرہ کے اخراجات۔ 10 ۔یعنی ضروری اخراجات۔
11 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، فصل في الاکفاء،ج۱،ص۱۶۳.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح، باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۲۰۲.
مسئلہ ۹: مرد کے پاس مال ہے مگر جتنا مہر ہے اتنا ہی اس پر قرض بھی ہے اور مال اتنا ہے کہ قرض ادا کر دے یا دَینِ مہر تو کفو ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: عورت محتاج ہے اور اس کے باپ، دادا بھی ایسے ہی ہیں تو اس کا کفو بھی بحیثیت مال وہی ہوگا کہ مہر معجل اور نفقہ دینے پر قادر ہو۔ (2) (خانیہ)
مسئلہ ۱۱: مالدار شخص کا نابالغ لڑکا اگرچہ وہ خود مال کا مالک نہیں مگر مالدار قرار دیا جائے گا کہ چھوٹے بچے، باپ، دادا کے تمول (3)سے غنی کہلاتے ہیں۔ (4) (خانیہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۲: محتاج نے نکاح کیا اور عورت نے مہر معاف کر دیا تو وہ کفو نہیں ہو جائے گا، کہ کفاء ت کا اعتبار وقتِ عقد ہے اور عقد کے وقت وہ کفو نہ تھا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: نفقہ پر قدرت کفو ہونے میں اس وقت ضروری ہے کہ عورت قابلِ جماع ہو، ورنہ جب تک اس قابل نہ ہو شوہر پر اس کا نفقہ واجب نہیں، لہٰذا اُس پر قدرت بھی ضروری نہیں، صرف مہر معجل پر قدرت کافی ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: جن لوگوں کے پیشے ذلیل سمجھے جاتے ہوں وہ اچھے پیشہ والوں کے کفو نہیں، مثلاً جوتا بنانے والے، چمڑا پکانے والے، سا ئیس(7)،چرواہے یہ ان کے کفو نہیں جو کپڑا بیچتے، عطر فروشی کرتے، تجارت کرتے ہیں اور اگر خود جوتا نہ بناتا ہو بلکہ کارخانہ دار ہے کہ اس کے یہاں لوگ نوکر ہیں یہ کام کرتے ہیں یا دکاندار ہے کہ بنے ہوئے جوتے لیتا اور بیچتا ہے تو تاجر وغیرہ کا کفوہے۔ يوہيں اور کاموں میں۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: ناجائز محکموں کی نوکری کرنے والے یا وہ نوکریاں جن میں ظالموں کا اتباع کرنا ہوتا ہے، اگرچہ یہ سب پیشوں سے رذیل(9) پیشہ ہے اور علمائے متقدمین نے اس بارہ میں یہی فتویٰ دیا تھا کہ اگرچہ یہ کتنے ہی مالدار ہوں، تاجر وغیرہ
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۲۰۲.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الاکفاء،ج۱،ص۱۶۳.
3 ۔ یعنی مالداری،دولت مندی۔
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، فصل في الاکفاء، ج۱، ص۱۶۳،وغیرہا.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح، الباب الخامس في الاکفاء، ج۱، ص۲۹۱.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔گھوڑوں کی دیکھ بھال کرنے والاشخص۔
8 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح، باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۲۰۳.
9 ۔گھٹیا۔
کے کفو نہیں مگر چونکہ کفاء ت کا مدار(1) عرف دنیوی پر ہے اور اس زمانہ میں تقویٰ و دیانت پر عزت کا مدار نہیں بلکہ اب تو دنیوی وجاہت(2) دیکھی جاتی ہے اوریہ لوگ چونکہ عرف میں وجاہت والے کہے جاتے ہیں، لہٰذا علمائے متاخرین نے ان کے کفو ہونے کا فتویٰ دیا جب کہ ان کی نوکریاں عرف میں ذلیل نہ ہوں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: اوقاف کی نوکری بھی منجملہ پیشہ کے ہے، اگر ذلیل کام پر نہ ہو تو تاجر وغیرہ کا کفو ہوسکتا ہے۔ يوہيں علم دین پڑھانے والے تاجر وغیرہ کے کفو ہیں، بلکہ علمی فضیلت تو تمام فضیلتوں پر غالب ہے کہ تاجر وغیرہ عالم کے کفو نہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: نکاح کے وقت کفو تھا، بعد میں کفاء ت جاتی رہی تو نکاح فسخ نہیں کیا جائے گا اور اگر پہلے کسی کا پیشہ کم درجہ کا تھا جس کی وجہ سے کفو نہ تھا اور اس نے اس کام کو چھوڑ دیا اگر عار باقی ہے(5) تو اب بھی کفو نہیں ورنہ ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: کفاء ت میں شہری اور دیہاتی ہونا معتبرنہیں جبکہ شرائط مذکورہ پائے جائیں۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: حسن وجمال کااعتبار نہیں مگر اولیا کوچاہيے کہ اس کا بھی خیال کر لیں، کہ بعد میں کوئی خرابی نہ واقع ہو۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: امراض و عیوب مثلاً جذام، جنون، برص، گندہ دہنی(9) وغیرہا کا اعتبار نہیں۔ (10) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: کسی نے اپنا نسب چھپایا اور دوسرا نسب بتا دیا بعد کو معلوم ہوا تو اگر اتنا کم درجہ ہے کہ کفو نہیں تو عورت اوراس کے اولیا کوحق فسخ حاصل ہے اوراگر اتنا کم نہیں کہ کفو نہ ہو تو اولیا کو حق نہیں ہے عورت کو ہے اور اگر اس کانسب اس سے بڑھ کر ہے جو بتایا تو کسی کو نہیں۔ (11) (عالمگیری)
1 ۔انحصار۔ 2 ۔دنیوی عزت ،دنیوی مقام ومرتبہ۔
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۲۰۴.
4 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۲۰۵.
5 ۔یعنی ابھی تک اس کام کی وجہ سے ذلت ورسوائی ہورہی ہے۔
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح، باب الکفاء ۃ،ج۴، ص۲۰۵.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح، باب الکفاء ۃ،ج۴، ص۲۰۷.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح، الباب الخامس في الاکفاء، ج۱، ص۲۹۲.
9 ۔یعنی منہ سے بدبوآنے کی بیماری۔
10 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح، باب الکفاء ۃ، ج۴، ص۲۰۸.
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الخامس في الاکفاء،ج۱،ص۲۹۳.
مسئلہ ۲۲: عورت نے شوہر کو دھوکا دیا اوراپنا نسب دوسرا بتایا تو شوہر کو حق فسخ نہیں، چاہے رکھے یا طلاق دیدے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: اگر غیر کفو سے عورت نے خود یا اس کے ولی نے نکاح کر دیا مگر اس کا غیر کفو ہونا معلوم نہ تھا اورکفو ہونا اس نے ظاہر بھی نہ کیا تھا تو فسخ کا اختیار نہیں۔ پہلی صورت میں عورت کو نہیں، دوسری میں کسی کو نہیں۔ (2) (خانیہ، عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: عورت مجہولۃ النسب (3)سے کسی غیر شریف نے نکاح کیا، بعد میں کسی قرشی نے دعویٰ کیا کہ یہ میری لڑکی ہے اور قاضی نے اس کی بیٹی ہونے کا حکم دے دیا تو اُس شخص کونکاح فسخ کرنے کا اختیار ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: نکاح کی وکالت میں گواہ شرط نہیں۔ (5) (عالمگیری) بغیر گواہوں کے وکیل کیا اور اُس نے نکاح پڑھا دیا ہوگيا۔ گواہ کی یوں ضرورت ہے کہ اگر انکار کر دیا کہ میں نے تجھ کو وکیل نہیں بنایا تھا تواب وکالت ثابت کرنے کے ليے گواہوں کی حاجت ہے۔
مسئلہ ۲: عورت نے کسی کو وکیل بنایا کہ تو جس سے چاہے میرا نکاح کر دے تو وکیل خوداپنے نکاح میں اسے نہیں لاسکتا۔ يوہيں مرد نے عورت کو وکیل بنایا تو وہ عورت اپنا نکاح اس سے نہیں کرسکتی۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: مرد نے عورت کو وکیل کیا کہ تو اپنے ساتھ میرا نکاح کر دے یا عورت نے مرد کو وکیل کیا کہ میرانکاح اپنے ساتھ کرلے، اُس نے کہا میں نے فلاں مرد (موکل کا نام لے کر) یا فلانی عورت (موکلہ کا نام لے کر) سے اپنا نکاح کیا، ہوگيا قبول کی بھی حاجت نہیں۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الخامس في الاکفاء، ج۱، ص۲۹۳.
2 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، فصل في الاکفاء، ج۱، ص۱۶۴.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح، الباب الخامس في الاکفاء،ج۱،ص۲۹۲،۲۹۳.
3 ۔ یعنی وہ عورت جس کانسب معلوم نہ ہو۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الخامس في الاکفاء، ج۱، ص۲۹۳.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج۱،ص۲۹۴.
6 ۔المرجع السابق،ص۲۹۴،۲۹۵. 7 ۔المرجع السابق،ص۲۹۵.
مسئلہ ۴: کسی کو وکیل کیا کہ فلانی عورت سے اتنے مہر پر میرا نکاح کر دے۔ وکیل نے اس مہر پر اپنا نکاح اس عورت سے کر لیا تو اسی وکیل کا نکاح ہوا، پھر وکیل نے اسے مہینے بھر رکھ کر دخول کے بعد اُسے طلاق دے دی اور عدّت گزرنے پرموکل سے نکاح کر دیا تو موکل کا نکاح جائز ہوگيا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: وکیل سے کہا کسی عورت سے میرا نکاح کر دے ،اس نے باندی سے کیا صحیح نہ ہوا۔ يوہيں اپنی بالغہ یا نابالغہ لڑکی یا نابالغہ بہن یا بھتیجی سے کرد یا، جس کا یہ ولی ہے تو نکاح صحیح نہ ہوا اور اگر بالغہ بہن یابھتیجی سے کیا تو صحیح ہے۔ يوہيں عورت کے وکیل نے اس کا نکاح اپنے باپ یا بیٹے سے کر دیا تو صحیح نہ ہوا۔ (2) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۶: عورت نے اپنے کاموں میں تصرفات کا کسی کو وکیل کیا۔ اس نے اس وکالت کی بنا پر اپنا نکاح اس سے کرلیا، عورت کہتی ہے میں نے تو خرید و فروخت کے ليے وکیل بنایا تھا، نکاح کا وکیل نہیں کیا تھا تو یہ نکاح صحیح نہ ہوا کہ اگر نکاح کا وکیل ہوتا بھی تو اسے کب اختیار تھا کہ اپنے ساتھ نکاح کرلے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: وکیل سے کہا فلاں عورت سے میرا نکاح کردے، اس نے دوسری سے کر دیا یا حرّہ سے کرنے کو کہا تھا باندی سے کیا ،یا باندی سے کرنے کو کہا تھا آزاد عورت سے کیا، یا جتنا مہر بتا دیا تھا اس سے زیادہ باندھا ،یا عورت نے نکاح کا وکیل کر دیا تھا اس نے غیر کفو سے نکاح کر دیا، ان سب صورتوں میں نکاح صحیح نہ ہوا۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: عورت کے وکیل نے اس کا نکاح کفو سے کیا، مگر وہ اندھا یا اپاہج یا بچہ یامعتوہ ہے تو ہوگيا۔ يوہيں مرد کے وکیل نے اندھی یا لنجھی(5)یا مجنونہ یا نابالغہ سے نکاح کر دیا صحیح ہوگيا اور اگر خوبصورت عورت سے نکاح کر نے کو کہا تھا، اس نے کالی حبشن سے کر دیایا اس کا عکس،تو نہ ہوا اور اندھی سے نکاح کرنے کے ليے کہا تھا، وکیل نے آنکھ والی سے کر دیا تو صحیح ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: وکیل سے کہا کسی عورت سے میرا نکاح کر دے، اُس نے اُس عورت سے کیا جس کی نسبت موکل کہہ چکا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح، الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا، ج۱، ص۲۹۵،۲۹۶.
2 ۔المرجع السابق.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح، باب الکفاء ۃ، ج۴،ص۲۱۰.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح، الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا، ج۱، ص۲۹۵.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،مطلب:في الوکیل والفضولی في النکاح، ج۴، ص۲۱۱.
5 ۔وہ عورت جس کے ہاتھ پاؤں شل(بے کار)ہوگئے ہوں۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا، ج۱، ص۲۹۵.
تھاکہ اس سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے تو نکاح ہوگيا اور طلاق پڑ گئی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: وکیل سے کہا کسی عورت سے نکاح کر دے، وکیل نے اُس عورت سے کیا جس کو موکل توکیل سے پہلے چھوڑ چکا ہے، اگر موکل نے اسکی بدخلقی(2) وغیرہ کی شکایت وکیل سے نہ کی ہو تو نکاح ہو جائے گا اور اگر جس سے نکاح کیا اسے وکیل بنانے کے بعد چھوڑا ہے تو نہ ہوا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: وکیل سے کہا فلانی یا فلانی سے کر دے تو جس ایک سے کریگا ہو جائے گا اوراگر دونوں سے ایک عقد میں کیا(4) تو کسی سے نہ ہوا۔ (5) (خانیہ)
مسئلہ ۱۲: وکیل سے کہا ایک عورت سے نکاح کر دے، اس نے دو سے ایک عقد میں کیا تو کسی سے نافذ نہ ہوا پھر اگر موکل ان میں سے ایک کو جائز کر دے تو جائز ہوجائے گا اور دونوں کو تو دونوں، اور اگر دو عقد میں دونوں سے نکاح کیا تو پہلا لازم ہو جائے گا اور دوسرا موکل کی اجازت پر موقوف رہے گا اور اگر دو عورتوں سے ایک عقد کے ساتھ نکاح کرنے کوکہا تھا، اس نے ایک سے کیا یا دو سے دو عقدوں میں کیا تو جائز ہوگيا اور اگر کہا تھا فلانی سے کر دے، وکیل نے اس کے ساتھ ایک عورت ملا کر دونوں سے ایک عقد میں کیا تو جس کو بتا دیا تھا اس کا ہوگيا۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: وکیل سے کہا اس سے میرا نکاح کر دے، بعد کومعلوم ہوا کہ وہ شوہر والی ہے پھر اس عورت کا شوہر مر گیا یا اس نے طلاق دے دی اور عدّت بھی گزر گئی، اب وکیل نے اس سے نکاح کر دیا تو ہوگيا۔ (7) (خانیہ)
مسئلہ ۱۴: وکیل سے کہا میری قوم کی عورت سے نکاح کر دے، اس نے دوسری قوم کی عورت سے کیا، جائز نہ ہوا۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: وکیل سے کہا اتنے مہر پر نکاح کر دے اور اس میں اتنا معجل ہو،وکیل نے مہر تووہی رکھا مگر معجل کی
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج۱، ص۲۹۵.
2 ۔بد اخلاقی۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج۱، ص۲۹۵.
4 ۔ یعنی دونوں عورتوں سے ایک ساتھ نکاح کیا۔
5 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، فصل في الوکالۃ، ج۱، ص۱۶۲.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،مطلب:في الوکیل والفضولی في النکاح،ج۴،ص۲۱۲.
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الوکالۃ،ج۱،ص۱۶۲.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج۱، ص۲۹۶.
مقدار بڑھا دی تو نکاح شوہر کی اجازت پر موقوف رہا اور اگر شوہر کو علم ہوگيا اور عورت سے وطی کی تو اجازت ہوگئی اورلا علمی میں کی تو نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: کسی کو بھیجا کہ فلانی سے میری منگنی کر آ۔ وکیل نے جا کر اس سے نکاح کر دیا ہوگيا اور اگر وکیل سے کہا فلاں کی لڑکی سے میری منگنی کر دے، اس نے لڑکی کے باپ سے کہا اپنی لڑکی مجھے دے، اس نے کہا دی،اب وکیل کہتا ہے میں نے اس لفظ سے اپنے موکل کا نکاح مراد لیا تھا تو اگر وکیل کا لفظ منگنی کے طور پر تھا اورلڑکی کے باپ کا جواب بھی عقدکے طور پر نہ تھا تو نکاح نہ ہوااوراگر جواب عقد کے طور پر تھا تو نکاح ہوگيا مگر وکیل سے ہوا موکل سے نہ ہوا اور اگر وکیل اور لڑکی کے باپ میں موکل سے نکاح کے متعلق بات چیت ہو چکنے کے بعد لڑکی کے باپ نے کہا میں نے اپنی لڑکی کا نکاح اتنے مہر پر کر دیا، یہ نہ کہا کہ کس سے وکیل سے یا موکل سے، وکیل نے کہا میں نے قبول کی تو لڑکی کا نکاح اس وکیل سے ہوگيا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: یہ بات توپہلے بتا دی گئی ہے کہ نکاح کے وکیل کویہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے سے نکاح پڑھوادے۔ ہاں اگر عورت نے وکیل سے کہہ دیا کہ تو جو کچھ کرے منظورہے تو اب وکیل دوسرے کو وکیل کر سکتاہے یعنی دوسرے سے پڑھوا سکتا ہے اور اگر دو شخصوں کو مرد یاعورت نے وکیل بنایا، ان میں ایک نے نکاح کر دیا جائز نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: عورت نے نکاح کا کسی کو وکیل بنایا پھر اُس نے بطورِ خود نکاح کرلیا تو وکیل کی وکالت جاتی رہی، وکیل کواس کا علم ہوا یا نہ ہوا اور اگر اس نے وکالت سے معزول کیا تو جب تک وکیل کو اس کا علم نہ ہو معزول نہ ہوگا، یہاں تک کہ معزول کرنے کے بعد وکیل کو علم نہ ہوا تھا، اس نے نکاح کر دیا ہوگيا اور اگر مرد نے کسی خاص عورت سے نکاح کا وکیل کیا تھا پھر موکل نے اس عورت کی ماں یا بیٹی سے نکاح کر لیا تو وکالت ختم ہوگئی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: جس کے نکاح میں چار عورتیں موجود ہیں اُس نے نکاح کا وکیل کیا تو یہ وکالت معطل رہے گی، جب ان میں سے کوئی بائن ہو جائے، اس وقت وکیل اپنی وکالت سے کام لے سکتا ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: کسی کی زبان بند ہوگئی اس سے کسی نے پوچھا، تیری لڑکی کے نکاح کا وکیل ہو جاؤں، اس نے کہا ہاں ہاں، اس کے سوا کچھ نہ کہا اور وکیل نے نکاح کر دیا صحیح نہ ہوا۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: جس مجلس میں ایجاب ہوا اگر اُسی میں قبول نہ ہوا تو وہ ایجاب باطل ہوگيا، بعد مجلس قبول کرنا بے کار ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج۱،ص۲۹۶.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۹۷۔۲۹۸. 3 ۔المرجع السابق،ص۲۹۸.
4 ۔المرجع السابق،ص۲۹۸. 5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
اور یہ حکم نکاح کے ساتھ خاص نہیں بلکہ بیع وغیرہ تمام عقود (1) کا یہی حکم ہے، مثلاً مرد نے لوگوں سے کہا، گواہ ہو جاؤ میں نے فلانی عورت سے نکاح کیا اور عورت کو خبر پہنچی اس نے جائز کر دیا تو نکاح نہ ہوا، یا عورت نے کہا، گواہ ہو جاؤ کہ میں نے فلاں شخص سے جو موجود نہیں ہے نکاح کیا اور اسے جب خبر پہنچی تو جائز کر دیا نکاح نہ ہوا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: پانچ صورتوں میں ایک شخص کا ایجاب قائم مقام قبول کے بھی ہوگا:
1دونوں کا ولی ہو مثلاً یہ کہے میں نے اپنے بیٹے کا نکاح اپنی بھتیجی سے کر دیا یا پوتے کا نکاح پوتی سے کر دیا۔
2دونوں کا وکیل ہو، مثلاً میں نے اپنے موکل کا نکاح اپنی موکلہ سے کر دیا اور اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ جو دو گواہ مرد کے وکیل کرنے کے ہوں، وہی عورت کے وکیل بنانے کے ہوں اور وہی نکاح کے بھی گواہ ہوں۔
3ایک طرف سے اصیل (3) ، دوسری طرف سے وکیل، مثلاً عورت نے اسے وکیل بنایا کہ میرا نکاح تو اپنے ساتھ کر لے اس نے کہا میں نے اپنی موکلہ کا نکاح اپنے ساتھ کیا۔
4ایک طرف سے اصیل ہو دوسری طرف سے ولی، مثلاً چچا زاد بہن نابالغہ سے اپنا نکاح کرے اور اس لڑکی کا یہی ولی اقرب بھی ہے اور اگر بالغہ ہو اور بغیر اجازت اس سے نکاح کیا تو اگرچہ جائز کر دے نکاح باطل ہے۔
5ایک طرف سے ولی ہو دوسری طرف سے وکیل، مثلاً اپنی لڑکی کا نکاح اپنے موکل سے کرے۔
اور ۱ اگر ایک شخص دونوں طرف سے فضولی ہو یا ایک ۲ طرف سے فضولی ہو، دوسری طرف سے وکیل یا ایک ۳ طرف سے فضولی ہو، دوسری طرف سے ولی یا ایک ۴ طرف سے فضولی ہو، دوسری طرف سے اصیل تو ان چاروں صورتوں میں ایجاب و قبول دونوں نہیں کر سکتا اگر کیا تو نکاح نہ ہوا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: فضولی نے ایجاب کیا اور قبول کرنے والا کوئی دوسرا ہے، جس نے قبول کیا خواہ وہ اصیل ہو یا وکیل یا ولی یافضولی تو یہ عقد اجازت پر موقوف رہا، جس کی طرف سے فضولی نے ایجاب یا قبول کیااس نے جائز کر دیا، جائز ہوگيا اور رد کردیا،باطل ہوگيا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: فضولی نے جو نکاح کیا اُس کی اجازت قول و فعل دونوں سے ہو سکتی ہے، مثلاً کہا تم نے اچھا کیا یا اﷲ
1 ۔یعنی معاملات۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴، ص۲۱۳.
3 ۔یعنی جواپنامعاملہ خودطے کرے ۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۲۱۳.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج۱،ص۲۹۹.
(عزوجل) ہمارے ليے مبارک کرے یا تو نے ٹھیک کیا اور اگر اُس کے کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ اجازت کے الفاظ استہزا کے طور پر کہے تو اجازت نہیں۔ اجازتِ فعلی مثلاً مہر بھیج دینا، اُس کے ساتھ خلوت کرنا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: فضولی نے نکاح کیا اور مر گیا، اس کے مرنے کے بعد جس کی اجازت پر موقوف تھا، اس نے اجازت دی صحیح ہوگيا اگرچہ دونوں طرف سے دو فضولیوں نے ایجاب و قبول کیا ہو اور فضولی نے بیع کی ہو تو اس کے مرنے کے بعد جائز نہیں کر سکتا۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: فضولی اپنے کيے ہوئے نکاح کو فسخ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا، نہ قول سے فسخ کر سکتا ہے مثلاً کہے میں نے فسخ کر دیا، نہ فعل سے مثلاً اُسی شخص کا نکاح اس عورت کی بہن سے کر دیا تو پہلا فسخ نہ ہوگا اور اگر فضولی نے مرد کی بغیر اجازت نکاح کر دیا، اس کے بعد اسی شخص نے اس فضولی کو وکیل کیا کہ میرا کسی عورت سے نکاح کر دے، اس نے اس پہلی عورت کی بہن سے نکاح کیا تو پہلا فسخ ہوگيا اور کہتا کہ میں نے فسخ کیا تو فسخ نہ ہوتا۔ (3) (خانیہ)
مسئلہ ۲۷: فضولی نے چار عورتوں سے ایک عقد میں کسی کا نکاح کر دیا، اُس نے ان میں سے ایک کو طلاق دیدی تو باقیوں کے نکاح کی اجازت ہوگئی اور پانچ عورتوں سے متفرق عقد کے ساتھ نکاح کیا تو شوہر کو اختیار ہے کہ ان میں سے چار کو اختیار کر لے اور ایک کو چھوڑ دے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: غلام اور باندی کا نکاح مولیٰ کی اجازت پر موقوف رہتا ہے، وہ جائز کرے تو جائز، رد کرے تو باطل۔ خواہ مدبر ہوں یا مکاتب یا ام ولد یا وہ غلام جس میں کا کچھ حصہ آزاد ہو چکا اور باندی کو جو مہر ملے گا اُس کا مالک مولیٰ ہے مگر مکاتبہ اور جس باندی کا بعض آزاد ہوا ہے ان کو جو مہر ملے گا انھيں کا ہوگا۔ (5) (خانیہ)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( فَمَا اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہٖ مِنْہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ فِیۡمَا تَرٰضَیۡتُمۡ بِہٖ مِنۡۢ بَعْدِ الْفَرِیۡضَۃِ ؕ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج۱،ص۲۹۹.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،مطلب:في الوکیل والفضولی في النکاح،ج۴،ص۲۱۸.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في فسخ عقد الفضولی، ج۱، ص۱۶۱.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج۱،ص۲۹۹.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في نکاح الممالیک،ج۱،ص۱۶۰،۱۶۱.
اِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۲۴﴾ ) (1)
جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہو، ان کے مہر مقرر شدہ اُنھيں دو اور قرار داد کے بعد تمھارے آپس میں جو رضا مندی ہو جائے، اس میں کچھ گناہ نہیں۔ بیشک اﷲ (عزوجل) علم و حکمت والا ہے۔
اور فرماتا ہے:
(وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحْلَۃً ؕ فَاِنۡ طِبْنَ لَکُمْ عَنۡ شَیۡءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوۡہُ ہَنِیۡٓــًٔا مَّرِیۡٓــًٔا ﴿۴﴾ (2)
عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو پھر اگر وہ خوشی دل سے اس میں سے کچھ تمھیں دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا۔
اور فرماتا ہے:
( لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ اِنۡ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوۡہُنُّ اَوْ تَفْرِضُوۡا لَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ۚۖ وَّمَتِّعُوۡہُنَّ ۚ عَلَی الْمُوۡسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوۡفِ ۚ حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۲۳۶﴾وَ اِنۡ طَلَّقْتُمُوۡہُنَّ مِنۡ قَبْلِ اَنۡ تَمَسُّوۡہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیۡضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنۡ یَّعْفُوۡنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیۡ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ؕ وَ اَنۡ تَعْفُوۡۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ؕ وَلَا تَنۡسَوُا الْفَضْلَ بَیۡنَکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲۳۷﴾ ) (3)
تم پر کچھ مطالبہ نہیں اگر تم عورتوں کو طلاق دو، جب تک تم نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو یا مہر نہ مقرر کیا ہو اور ان کو کچھ برتنے کو دو، مالدار پر اس کے لائق اور تنگ دست پر اس کے لائق حسبِ دستور برتنے کی چیز واجب ہے، بھلائی والوں پر اورا گر تم نے عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی اور ان کے ليے مہر مقرر کر چکے تھے تو جتنا مقرر کیا اس کا نصف واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں معاف کر دیں یا وہ زیادہ دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ اور اے مردو! تمھارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے زیادہ نزدیک ہے اور آپس میں احسان کرنا نہ بھولو، بے شک اﷲ (عزوجل) تمھارے کام دیکھ رہا ہے۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ہے ابو سلمہ کہتے ہیں، میں نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا، کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مہر کتنا تھا؟ فرمایا: حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا مہر ازواجِ مطہرات کے ليے ساڑھے بارہ اوقیہ تھا'' ۔(4) یعنی پانسو ۵۰۰ درم۔
1 ۔پ۵،النسآء:۲۴.
2 ۔پ۴،النسآء:۴.
3 ۔پ۲،البقرۃ:۲۳۶۔۲۳۷.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب النکاح،باب الصداق...إلخ،الحدیث:۷۸۔(۱۴۲۶)،ص۷۴۰.
حدیث ۲: ابو داود و نسائی ام المومنین ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ نجاشی نے ان کا نکاح نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ کیا اور چار ہزار مہر کے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی طرف سے خود ادا کيے اور شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ انھیں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں بھیج دیا۔ (1)
حدیث ۳: ابو داود و ترمذی و نسائی و دارمی راوی، کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے نکاح کیا اور مہر کچھ نہیں بندھا اور دخول سے پہلے اس کا انتقال ہوگيا۔ ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: عورت کو مہرِ مثل ملے گا، نہ کم نہ زیادہ اور اس پر عدّت ہے اور اُسے میراث ملے گی۔ معقل بن سنان اشجعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ بروع بنت واشق کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایسا ہی حکم فرمایا تھا۔ یہ سن کر ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خوش ہوئے۔ (2)
حدیث ۴: حاکم و بیہقی عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''بہتر وہ مہر ہے جو آسان ہو۔'' (3)
حدیث ۵: ابو یعلی و طبرانی صہیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو شخص نکاح کرے اور نیت یہ ہو کہ عورت کو مہر میں سے کچھ نہ دے گا، توجس روز مرے گا زانی مرے گا اور جو کسی سے کوئی شے خریدے اور یہ نیت ہو کہ قیمت میں سے اُسے کچھ نہ دے گا تو جس دن مرے گا، خائن مرے گا اور خائن نار میں ہے۔'' (4)
مہر کم سے کم دس ۱۰ درم (5)ہے اس سے کم نہیں ہوسکتا، جس کی مقدار آج کل کے حساب سے ــ ۳ ۵ پائی ہے خواہ سکّہ ہو یا ویسی ہی چاندی یا اُس قیمت کا کوئی سامان ، اگر درہم کے سوا کوئی اور چیز مہر ٹھہری تو اُس کی قیمت عقد کے وقت دس ۱۰ درہم سے کم نہ ہو اور اگر اُس وقت تو اسی قیمت کی تھی مگر بعد میں قیمت کم ہوگئی تو عورت وہی پائے گی پھیرنے کا اُسے حق نہیں اور اگر اس وقت دس ۱۰ درہم سے کم قیمت کی تھی اور جس دن قبضہ کیا قیمت بڑھ گئی تو عقد کے دن جو کمی تھی وہ لے گی، مثلاً اُس روز اس کی قیمت آٹھ درہم تھی اور آج دس ۱۰ درہم ہے تو عورت وہ چیز لے گی اور دو درہم اور اگر اُس چیز میں کوئی نقصان آگیا تو عورت کو اختیار
ـ1 ۔ ''سنن النسائی''،کتاب النکاح،باب القسط فی الأصدقۃ،الحدیث:۳۳۴۷،ص۵۴۵.
2 ۔''جامع الترمذی''،أبواب النکاح،باب ماجاء فی الرجل یتزوج المرأۃ...إلخ،الحدیث:۱۱۴۸،ج۲،ص۳۷۷.
3 ۔''المستدرک''،للحاکم کتاب النکاح،خیر الصداق ایسرہ،الحدیث:۲۷۹۶،ج۲،ص۵۳۷.
4 ۔''المعجم الکبیر''،باب الصاد،الحدیث:۷۳۰۲،ج۸،ص۳۵.
5 ۔ یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ (30.618گرام ) چاندی یا اُس کی قیمت۔
ہے کہ دس درہم لے یا وہ چیز۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱: نکاح میں دس ۱۰ درہم یا اس سے کم مہر باندھا گیا ،تو دس ۱۰ درہم واجب اور زیادہ باندھا ہو تو جو مقرر ہوا واجب۔ (2)(متون)
مسئلہ ۲: وطی یا خلوت صحیحہ یا دونوں میں سے کسی کی موت ہو ان سب سے مہر مؤکد (3)ہو جاتا ہے کہ جو مہر ہے اب اس میں کمی نہیں ہو سکتی۔ يوہيں اگر عورت کو طلاق بائن دی تھی اور عدّت کے اندر اس سے پھر نکاح کر لیا تو یہ مہر بغیر دخول وغیرہ کے مؤکد ہو جائیگا۔ ہاں اگر صاحبِ حق نے کل یا جز معاف کر دیا تو معاف ہو جائے گا اور اگر مہر مؤکد نہ ہوا تھا اور شوہر نے طلاق دے دی تو نصف واجب ہوگا اور اگر طلاق سے پہلے پورا مہر ادا کر چکا تھا تو نصف تو عورت کا ہوا ہی اور نصف شوہر کو واپس ملے گا مگر اس کی واپسی میں شرط یہ ہے کہ یا عورت اپنی خوشی سے پھیر دے یا قاضی نے واپسی کا حکم دے دیا ہو اور یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو شوہر کا کوئی تصرف اس میں نافذ نہ ہوگا، مثلاً اس کو بیچنا، ہبہ کرنا (4)، تصدّق کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا ۔
اور اگر وہ مہر غلام ہے تو شوہر اس کو آزاد نہیں کر سکتا اور قاضی کے حکم سے پیشتر (5) عورت اس میں ہر قسم کا تصرف کر سکتی ہے مگر بعد حکم قاضی اس کی آدھی قیمت دینی ہو گی اور اگر مہر میں زیادتی ہو، مثلاً گائے، بھینس وغیرہ کوئی جانور مہر میں تھا، اس کے بچہ ہوا یا درخت تھا، اس میں پھل آئے یا کپڑا تھا، رنگا گیا یا مکان تھا، اس میں کچھ نئی تعمیر ہوئی یا غلام تھا، اس نے کچھ کمایا تو اگر زوجہ کے قبضہ سے پیشتر اس مہر میں زیادتی(6) متولد ہے، اس کے نصف کی عورت مالک ہے اور نصف کا شوہر ورنہ کل زیادتی کی بھی عورت ہی مالک ہے۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: جو چیز مال متقوم نہیں وہمَہرنہیں ہو سکتی اور مہر مثل واجب ہوگا، مثلاً مہر یہ ٹھہرا کہ آزاد شوہر عورت کی سال بھر تک خدمت کریگا یا یہ کہ اسے قرآن مجید یا علمِ دین پڑھا دے گا یا حج و عمرہ کرا دے گا یا مسلمان مرد کا نکاح مسلمان عورت
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الاول،ج۱،ص۳۰۳،وغیرہ.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۲۲.
3 ۔یعنی لازم۔ 4 ۔تحفہ دینا۔ 5 ۔پہلے۔
6 ۔ زیادت دو قسم ہے متولدہ اور غیر متولدہ اورہر ایک کی دو قسم متصلہ ومنفصلہ، متولدہ متصلہ مثلاًدرخت کے پھل جبکہ درخت میں لگے ہوں۔
متولدہ منفصلہ مثلا جانور کا بچہ یا ٹوٹے ہوئے پھل۔ غیرمتولدہ متصلہ جیسے کپڑے کو رنگنا یامکان میں تعمیر۔ غیر متولدہ منفصلہ جیسے غلام نے
کچھ کمایا اور ہر ایک عورت کے قبضہ سے پیشتر ہے یابعد تو یہ سب آٹھ قسمیں ہوئیں اور تنصیف صرف زیادت متولدہ قبل القبض کی ہے باقی کی
نہیں(ردالمحتار) ۱۲ منہ
(''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۲۷.)
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۲۳۔۲۲۷.
سے ہوا اور مہر میں خون یا شراب یا خنزیر کا ذکر آیا یا یہ کہ شوہر اپنی پہلی بی بی کو طلاق دے دے تو ان سب صورتوں میں مہرِ مثل واجب ہوگا۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴: اگر شوہر غلام ہے اور ایک مدّت معینہ تک عورت کی خدمت کرنا مہر ٹھہرا اور مالک نے اس کی اجازت بھی دے دی ہو تو صحیح ہے ورنہ عقد صحیح نہیں۔ آزاد شخص عورت کے مولیٰ یا ولی کی خدمت کریگا یا شوہر کا غلام یا اس کی باندی عورت کی خدمت کرے گی تو یہ مہر صحیح ہے۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵: اگر مہر میں کسی دوسرے آزاد شخص کا خدمت کرنا ٹھہرا تو اگر نہ اُس کی اجازت سے ایسا ہوا، نہ اس نے جائز رکھا تو اس خدمت کی قیمت مہر ہے اور اگر اُس کے حکم سے ہوا اور خدمت وہ ہے جس میں عورت کے پاس رہنا سہنا ہوتا ہے تو واجب ہے کہ خدمت نہ لے بلکہ اس کی قیمت لے اور اگر وہ خدمت ایسی نہیں تو خدمت لے سکتی ہے اور اگر خدمت کی نوعیت معین نہیں تو اگر اُس قسم کی لے گی تو وہ حکم ہے اور اِس قسم کی تو یہ۔ (3) (فتح القدیر)
مسئلہ ۶: شغار یعنی ایک شخص نے اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح دوسرے سے کر دیا اور دوسرے نے اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح اس سے کردیا اور ہرایک کا مہر دوسرا نکاح ہے تو ایسا کرنا گناہ و منع ہے اورمہرِ مثل واجب ہوگا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۷: کسی شخص کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ میں نے نکاح کیا بعوض اس غلام کے، حالانکہ وہ آزاد تھا یا مٹکے کی طرف اشارہ کر کے کہا بعوض اس سرکہ کے اور وہ شراب ہے تو مہر مثل واجب ہے۔ يوہيں اگر کپڑے یا جانور یا مکان کے عوض کہا اور جنس نہیں بیان کی یعنی یہ نہیں کہا کہ فلاں قسم کا کپڑا یا فلاں جانور تو مہرِ مثل واجب ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۸: نکاح میں مہر کا ذکر ہی نہ ہوا یا مہر کی نفی کر دی کہ بلا مہر نکاح کیا تو نکاح ہو جائے گا اور اگر خلوتِ صحیحہ ہوگئی یادونوں سے کوئی مر گیا تو مہر مثل واجب ہے بشرطیکہ بعد عقد آپس میں کوئی مہر طے نہ پا گیا ہو اور اگر طے ہو چکا تو وہی طے شدہ ہے۔ يوہيں اگر قاضی نے مقرر کر دیا تو جو مقرر کر دیا وہ ہے اور ان دونوں صورتوں میں مہر جس چیز سے مؤکد ہوتا ہے، مؤکد ہو جائے گا اور مؤکد نہ ہوا بلکہ خلوتِ صحیحہ سے پہلے طلاق ہوگئی ،تو ان دونوں صورتوں میں بھی ایک جوڑا کپڑا واجب ہے یعنی کرتہ،
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الاول،ج۱،ص۳۰۲،۳۰۳.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۲۹۔۲۳۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۲۹،وغیرہ.
3 ۔ ''فتح القدیر''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۳،ص۲۲۳،۲۲۴.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۲۸.
5 ۔المرجع السابق،ص۲۳۳.
پاجامہ، دوپٹا جس کی قیمت نصف مہر مثل سے زیادہ نہ ہو اور زیادہ ہو تو مہر مثل کا نصف دیا جائے اگر شوہر مالدار ہو اور ایسا جوڑا بھی نہ ہو جو پانچ درہم سے کم قیمت کا ہو اگر شوہر محتاج ہو اگر مرد و عورت دونوں مالدار ہوں تو جوڑا اعلیٰ درجہ کا ہو اور دونوں محتاج ہوں تو معمولی اور ایک مالدار ہو ایک محتاج تو درمیانی۔ (1) (جوہرہ نیرہ، درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۹: جوڑا دینا اس وقت واجب ہے جب فرقت (2) زوج کی جانب سے ہو، مثلاً طلاق، ایلا، لعان ، نامرد ہونا، شوہر کا مرتد ہونا، عورت کی ماں یا لڑکی کو شہوت کے ساتھ بوسہ دینا اور اگر فرقت جانب زوجہ سے ہو تو واجب نہیں، مثلاً عورت کامرتد ہوجانا یا شوہر کے لڑکے کو بشہوت بوسہ دینا، سوت(3) کو دودھ پلا دینا، بلوغ یا آزادی کے بعد اپنے نفس کو اختیار کرنا۔ يوہيں اگر زوجہ کنیز تھی، شوہر نے یا اس کے وکیل نے مولیٰ سے خرید لی تو اب وہ جوڑا ساقط ہوگيا اور اگر مولیٰ نے کسی اور کے ہاتھ بیچی، اُس سے خریدی تو واجب ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: جوڑے کی جگہ اگر قیمت دیدے ،تو یہ بھی ہوسکتا ہے اور عورت قبول کرنے پر مجبور کی جائے گی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: جس عورت کا مہر معین ہے اور خلوت سے پہلے اسے طلاق دے دی گئی، اُسے جوڑا دینا مستحب بھی نہیں اور دخول کے بعد طلاق ہوئی تو مہر معین ہو یا نہ ہو جوڑا دینا مستحب ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: مہر مقرر ہو چکا تھا، بعد میں شوہر یا اس کے ولی نے کچھ مقدار بڑھا دی، تو یہ مقدار بھی شوہر پر واجب ہوگئی بشرطیکہ اسی مجلس میں عورت نے یا نابالغہ ہو تو اس کے ولی نے قبول کر لی ہو اور زیادتی کی مقدار معلوم ہو اور اگر زیادتی کی مقدار معین نہ کی ہو تو کچھ نہیں، مثلاً کہا میں نے تیرے مہر میں زیادتی کر دی اور یہ نہ بتایا کہ کتنی، اس کے صحیح ہونے کے ليے گواہوں کی بھی حاجت نہیں۔ ہاں اگر شوہر انکار کر دے تو ثبوت کے ليے گواہ درکار ہوں گے اگر عورت نے مہر معاف کر دیا یا ہبہ کر دیا ہے جب بھی زیادتی ہوسکتی ہے۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: پہلے خفیہ نکاح ہوا اور ایک ہزار کا مہر باندھا پھر اعلانیہ ایک ہزار پر نکاح ہوا تو دو ہزار واجب ہو گئے اور اگر
1 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثانی،ص۱۷.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۳۲.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع فی المھر،الفصل الثانی،ج۱،ص۳۰۴.
2 ۔جدائی۔ 3 ۔ سوتن، سوکن۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الثاني،ج۱،ص۳۰۴.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۳۶.
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب المہر،مطلب:في أحکام المتعۃ،ج۴،ص۲۳۷.
محض احتیاطاً تجدید نکاح کی تو دوبارہ نکاح کا مہر واجب نہ ہوا اور اگر مہر ادا کر چکا تھا پھر عورت نے ہبہ کر دیا پھر اس کے بعد شوہر نے اقرار کیا کہ اس کا مجھ پر اتنا ہے تو یہ مقدار لازم ہوگئی، خواہ یہ اقرار بقصدِ زیادتی ہو یا نہیں۔ (1) (درمختار، خانیہ)
مسئلہ ۱۴: مہر مقرر شدہ پر شوہر نے اضافہ کیا مگر خلوتِ صحیحہ سے پہلے طلاق دی، تو اصل مہر کا نصف عورت پائے گی اس اضافہ کا بھی نصف لینا چاہے تو نہیں ملے گا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: عورت کل مہر یا جز معاف کرے تو معاف ہو جائے گا بشرطیکہ شوہر نے انکار نہ کر دیا ہو۔ (3) (درمختار) اور اگر وہ عورت نابالغہ ہے اور اس کا باپ معاف کرنا چاہتا ہے تو نہیں کر سکتا اور بالغہ ہے تو اس کی اجازت پر معافی موقوف ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: خلوتِ صحیحہ یہ ہے کہ زوج زوجہ ایک مکان میں جمع ہوں اور کوئی چیز مانع جماع نہ ہو(5)۔ یہ خلوت جماع ہی کے حکم میں ہے اور موانع تین ہیں:
حسّی ۱ ، شرعی ۲ ، طبعی ۳ ۔
مانع حسّی جیسے مرض کہ شوہر بیمار ہے تو مطلقاً خلوت صحیحہ نہ ہوگی اور زوجہ بیمار ہو تو اس حد کی بیمار ہو کہ وطی سے ضرر(6) کا اندیشہ صحیح ہو اورا یسی بیماری نہ ہو تو خلوتِ صحیحہ ہو جائے گی۔
مانع طبعی جیسے وہاں کسی تیسرے کا ہونا، اگرچہ وہ سوتا ہو یا نابینا ہو، یا اس کی دوسری بی بی ہو یا دونوں میں کسی کی باندی ہو،
ہاں اگر اتنا چھوٹا بچہ ہو کہ کسی کے سامنے بیان نہ کر سکے گا تو اس کا ہونا مانع نہیں یعنی خلوتِ صحیحہ ہو جائے گی۔ مجنون و معتوہ بچہ کے حکم میں ہيں اگر عقل کچھ رکھتے ہیں تو خلوت نہ ہوگی ورنہ ہو جائے گی اور اگر وہ شخص بے ہوشی میں ہے تو خلوت ہو جائے گی۔ اگر وہاں عورت کا کُتّا ہے تو خلوتِ صحیحہ نہ ہوگی اور اگر مرد کا ہے اور کٹکھنا(7) ہے جب بھی نہ ہوگی ورنہ ہو جائے گی۔
مانع شرعی مثلاً عورت حیض یا نفاس میں ہے یا دونوں میں کوئی مُحرم ہو(8)، احرام فرض کا ہو یا نفل کا، حج کا ہو یا عمرہ کا، یا ان میں کسی کا رمضان کا روزہ ادا ہو یا نمازِ فرض میں ہو، ان سب صورتوں میں خلوتِ صحیحہ نہ ہو گی اور اگر نفل یا نذر یا کفارہ یا قضا کا
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۳۸.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،باب في ذکر مسائل المہر،ج۱،ص۱۷۵.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۳۹.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:فی حطّ المھروالابراء منہ،ج۴،ص۲۳۹.
5 ۔یعنی جماع کرنے سے کوئی چیزرکاوٹ نہ ہو۔ 6 ۔تکلیف۔
7 ۔ کاٹنے والا ۔ 8 ۔یعنی حالت احرام میں ہو۔
روزہ ہو یا نفلی نماز ہو تو یہ چیزیں خلوتِ صحیحہ سے مانع نہیں اور اگر دونوں ایک جگہ تنہائی میں جمع ہوئے مگر کوئی مانع شرعی یا طبعی یا حسّی پایا جاتا ہے تو خلوت فاسدہ ہے۔ (1) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۱۷: عورت مرد کے پاس تنہائی میں گئی مرد نے اسے نہ پہچانا، تھوڑی دیر ٹھہر کر چلی آئی یا مرد عورت کے پاس گیا اور اسے نہیں پہچانا، چلا آیا تو خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی، لہٰذا اگر عورت خلوتِ صحیحہ کا دعویٰ کرے اور مرد یہ عذر پیش کرے تو مان لیا جائے گا اور اگر مرد نے پہچان لیا اور عورت نے نہ پہچانا تو خلوتِ صحیحہ ہوگئی۔ (2) (جوہرہ، تبیین)
مسئلہ ۱۸: لڑکا جو اس قابل نہیں کہ صحبت کر سکے مگر اپنی عورت کے ساتھ تنہائی میں رہا یا زوجہ اتنی چھوٹی لڑکی ہے کہ اس قابل نہیں اس کے ساتھ اس کا شوہر رہا تو دونوں صورتوں میں خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: عورت کے اندام نہانی(4) میں کوئی ایسی چیز پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے وطی نہیں ہوسکتی، مثلاً وہاں گوشت آگیا یا مقام جُڑ گیا یا ہڈی پیدا ہوگئی یا غدود (5) ہوگيا تو ان صورتوں میں خلوتِ صحیحہ نہیں ہوسکتی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: جس جگہ اجتماع ہوا (7)وہ جگہ اس قابل نہیں کہ وہاں وطی کی جائے تو خلوتِ صحیحہ نہ ہوگی، مثلاً مسجد اگرچہ اندر سے بند ہو اور راستہ اور میدان اور حمام میں جب کہ اس میں کوئی ہو یا اس کا دروازہ کھلا ہو اور اگر بند ہو تو ہو جائے گی اور جس چھت پر پردہ کی دیوار نہ ہو یا ٹاٹ وغیرہ موٹی چیز کا پردہ نہ ہو یا ہے مگر اتنا نیچا ہے کہ اگر کوئی کھڑا ہو تو ان دونوں کو دیکھ لے تو اس پر بھی نہ ہوگی ورنہ ہو جائے گی اور اگر مکان ایسا ہے جس کا دروازہ کھلا ہوا ہے کہ اگر کوئی باہر کھڑا ہو تو ان دونوں کو دیکھ سکے یا یہ اندیشہ ہے کہ کوئی آجائے تو خلوتِ صحیحہ نہ ہوگی۔ (8) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۲۱: خیمہ میں ہو جائے گی۔ يوہيں باغ میں اگر دروازہ ہے اور وہ بند ہے تو ہو جائے گی، ورنہ نہیں اور محل اگر اس
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الثاني،ج۱،ص۳۰۴،۳۰۵.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۴۰۔۲۴۵،وغیرہما.
2 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثانی،ص۱۹.
و''تبیین الحقائق''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۲،ص۵۴۹.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الثاني،ج۱،ص۳۰۵ .
4 ۔ شرمگاہ۔ 5 ۔گلٹی۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۴۱.
7 ۔یعنی جس جگہ میاں اوربیوی جمع ہوئے۔
8 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثانی،ص۱۹.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۴۳.
قابل ہے کہ اس میں صحبت ہوسکے تو ہو جائے گی ورنہ نہیں۔ (1) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: شوہر کا عضو تناسل کٹا ہوا ہے یا انثیین(2) نکال ليے گئے ہیں یا عنین (3)ہے یا خنثیٰ ہے اور اس کا مرد ہونا ظاہر ہوچکا تو ان سب میں خلوتِ صحیحہ ہو جائے گی۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: خلوتِ صحیحہ کے بعد عورت کو طلاق دی تو مہر پورا واجب ہوگا، جبکہ نکاح بھی صحیح ہو اور اگر نکاح فاسد ہے یعنی نکاح کی کوئی شرط مفقود ہے، مثلاً بغیر گواہوں کے نکاح ہوا یا دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کیا یا عورت کی عدّت میں اس کی بہن سے نکاح کیا یا جو عورت کسی کی عدّت میں ہے اس سے نکاح کیا یا چوتھی کی عدت میں پانچویں سے نکاح کیا یا حرّہ نکاح میں ہوتے ہوئے باندی سے نکاح کیا تو ان سب صورتوں میں فقط خلوت سے واجب نہیں بلکہ اگر وطی ہوئی تو مہر مثل واجب ہوگا اور مہر مقرر نہ تھا تو خلوتِ صحیحہ سے نکاحِ صحیح میں مہر مثل مؤکد ہو جائے گا۔
خلوتِ صحیحہ کے یہ احکام بھی ہیں:
طلاق ۱ دی تو عورت پر عدّت واجب، بلکہ عدّت میں نان و نفقہ اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب ہے۔ بلکہ نکاحِ صحیح میں عدّت تو مطلقاً خلوت سے واجب ہوتی ہے صحیحہ ہو یا فاسدہ البتہ نکاحِ فاسد ہو تو بغیر وطی کے عدّت واجب نہیں۔ خلوت ۲ کا یہ حکم بھی ہے کہ جب تک عدت میں ہے اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا۔ اور ۳ اس کے علاوہ چار عورتیں نکاح میں نہیں ہو سکتیں۔ اگر ۴ وہ آزاد ہے تو اس کی عدّت میں باندی سے نکاح نہیں کر سکتا۔ اور ۵ اس عورت کو جس سے خلوت صحیحہ ہوئی اس زمانہ میں طلاق دے جو موطؤہ کے طلاق کا زمانہ ہے۔ اور ۶ عدّت میں اسے طلاق بائن دے سکتا ہے مگر اس سے رجعت نہیں کر سکتا، نہ طلاق رجعی دینے کے بعد فقط خلوتِ صحیحہ سے رجعت ہو سکتی ہے۔ اور ۷ اس کی عدّت کے زمانہ میں شوہر مر گیا تو وارث نہ ہو گی۔ خلوت ۸ سے جب مہر موکد ہوچکا تو اب ساقط نہ ہوگا اگرچہ جدائی عورت کی جانب سے ہو۔ (5) (جوہرہ، عالمگیری، درمختار وغیرہا)
مسئلہ ۲۴: اگر میاں بی بی میں تفریق ہوگئی، مرد کہتا ہے کہ خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی، عورت کہتی ہے ہوگئی تو عورت کا قول معتبر ہے
1 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثانی،ص۱۹.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،ج۱،ص۳۰۵.
2 ۔ خصيے (فوطے)۔ 3 ۔یعنی نامرد۔
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۴۶.
5 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،ص۱۹.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،ج۱،ص۳۰۶.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح، باب المہر، ج۴، ص۲۶۶،وغیرہا .
اور اگر خلوت ہوئی مگر عورت مرد کے قابو میں نہ آئی اگر کوآری ہے مہر پورا واجب ہو جائے گا اور ثیب ہے تو مہر مؤکد نہ ہوا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: جو رقم مہر کی مقرر ہوئی وہ شوہر نے عورت کو دے دی، عورت نے قبضہ کرنے کے بعد شوہر کو ہبہ کر دی اورقبل وطی کے طلاق ہوئی تو شوہر نصف اس رقم کا عورت سے اور وصول کریگا اور اگر بغیر قبضہ کیے کُل کو ہبہ کر دیا یا صرف نصف پر قبضہ کیا اور کُل کو ہبہ کر دیا یا نصف باقی کو تو اب کچھ نہیں لے سکتا۔ يوہيں اگر مہر اسباب(2) تھا قبضہ کرنے کے بعد یا بغیر قبضہ ہبہ کر دے تو بہر صورت کچھ نہیں لے سکتا۔ ہاں اگر قبضہ کرنے کے بعد اسے عیب دار کر دیا اور عیب بھی بہت ہے اس کے بعد ہبہ کیا، تو جس دن قبضہ کیا اس دن اس چیز کی جو قیمت تھی اس کا نصف شوہر وصول کریگا اور اگر عورت نے شوہر کے ہاتھ وہ چیز بیچ ڈالی جب بھی نصف قیمت لے گا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: خلوت سے پہلے زن و شوہر میں ایک نے دوسرے کو یا کسی دوسرے نے ان میں سے کسی کو مار ڈالا یا شوہر نے خودکشی کر لی یا زوجہ حرّہ نے خودکشی کر لی تو مہر پورا واجب ہو گا اور اگر زوجہ باندی تھی، اس نے خودکشی کر لی تو نہیں۔يوہيں اگر اس کے مولیٰ نے جو عاقل بالغ ہے اس کنیز کو مار ڈالا تو مہر ساقط ہو جائے گا اور اگر نابالغ یا مجنون تھا توساقط نہ ہوا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: عورت کے خاندان کی اس جیسی عورت کا جو مہر ہو، وہ اس کے ليے مہرِ مثل ہے، مثلاً اس کی بہن، پھوپی، چچا کی بیٹی وغیرہا کا مہر۔ اس کی ماں کا مہر اس کے ليے مہر مثل نہیں جبکہ وہ دوسرے گھرانے کی ہو اور اگر اس کی ماں اسی خاندان کی ہو، مثلاً اس کے باپ کی چچا زاد بہن ہے تو اس کا مہر اس کے ليے مہر مثل ہے اور وہ عورت جس کا مہر اس کے ليے مہر مثل ہے وہ کن امور میں اس جیسی ہو ان کی تفصیل یہ ہے:
عمر ۱ ، جمال ۲ ، مال ۳ میں مشابہ ہو، دونوں ۴ ایک شہر میں ہوں، ایک ۵ زمانہ ہو، عقل ۶ و تمیز ۷ و دیانت ۸ و پارسائی ۹ و علم ۱۰ و ادب ۱۱ میں یکساں ہوں، دونوں ۱۲ کوآری ہوں یا دونوں ثیب، اولاد ۱۳ ہونے نہ ہونے میں ایک سی ہوں کہ ان چیزوں کے اختلاف سے مہرمیں اختلاف ہوتا ہے۔ شوہر کا حال بھی ملحوظ ہوتا ہے، مثلاً جوان اور بوڑھے کے مہر میں اختلاف ہوتا ہے۔ عقد کے وقت ان امور میں یکساں ہونے کا اعتبار ہے، بعد میں کسی بات کی کمی بیشی ہوئی تو اس کا اعتبار نہیں، مثلاً ایک کا جب نکاح ہوا تھا
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۵۱.
2 ۔ یعنی سازوسامان۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب المہر،مطلب في أحکام الخلوۃ،ج۴،ص۲۵۴.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الثاني،ج۱،ص۳۰۶ .
اس وقت جس حیثیت کی تھی، دوسری بھی اپنے نکاح کے وقت اسی حیثیت کی ہے مگر پہلی میں بعد کو کمی ہوگئی اور دوسری میں زیادتی یا برعکس ہوا تو اس کا اعتبار نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: اگر اس خاندان میں کوئی ایسی عورت نہ ہو، جس کا مہر اس کے ليے مہرِ مثل ہوسکے تو کوئی دوسرا خاندان جو اس کے خاندان کے مثل ہے اس میں کوئی عورت اس جیسی ہو، اُس کا مہر اس کے ليے مہرِمثل ہوگا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: مہرِ مثل کے ثبوت کے ليے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہانِ عادل چاہيے، جو بلفظ شہادت بیان کریں اور گواہ نہ ہوں تو زوج کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: ہزار روپے کا مہر باندھا گیا اس شرط پر کہ اس شہر سے عورت کو نہیں لے جائے گا یا اس کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح نہ کریگا تو اگر شرط پوری کی تو وہ ہزار مہر کے ہیں اور اگر پوری نہ کی بلکہ اسے یہاں سے لے گیایا اس کی موجودگی میں دوسرا نکاح کر لیا تو مہر مثل ہے اور اگر یہ شرط ہے کہ یہاں رکھے تو ایک ہزار مہر اور باہر لے جائے تو دو ہزار اور یہیں رکھا تو وہی ایک ہزار ہیں اور باہر لے گیا تو مہر مثل واجب مگر مہر مثل اگر دو ہزار سے زیادہ ہے تو دو ہی ہزار پائے گی زیادہ نہیں اور اگر مہر مثل ایک ہزار سے کم ہے تو پورے ایک ہزار لے گی کم نہیں اور اگر دخول سے پہلے طلاق ہوئی تو بہر صورت جو مقرر ہوا اس کا نـصف لے گی یعنی یہاں رکھا تو پانسو اور باہر لے گیا تو ایک ہزار۔
يوہيں اگر کوآری اور ثیب میں دو ہزار اور ایک ہزار کی تفریق تھی تو ثیب میں ایک ہزار مہر رہے گا اور کوآری ثابت ہوئی تو مہر مثل۔ یہ شرط ہے کہ خوبصورت ہے تو دو ہزار اور بدصورت ہے تو ایک ہزار تو اگر خوبصورت ہے، دو ہزار لے گی اور بد صورت ہے تو ایک ہزار اس صورت میں مہرِ مثل نہیں۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳۱: نکاح فاسد میں جب تک وطی نہ ہو مہر لازم نہیں یعنی خلوتِ صحیحہ کافی نہیں اور وطی ہوگئی تو مہرِ مثل واجب ہے، جو مہر مقرر سے زائد نہ ہو اور اگر اس سے زیادہ ہے تو جو مقرر ہوا وہی دیں گے اور نکاحِ فاسد کا حکم یہ ہے کہ اُن میں ہر ایک پر فسخ کر دینا واجب ہے۔ اس کی بھی ضرورت نہیں کہ دوسرے کے سامنے فسخ کرے اور اگر خود فسخ نہ کریں تو قاضی پرواجب ہے کہ تفریق کر دے اور تفریق ہوگئی یا شوہر مر گیا تو عورت پر عدّت واجب ہے جبکہ وطی ہو چکی ہو مگر موت میں بھی عدّت وہی تین حیض ہے، چار مہینے دس دن نہیں۔ (5) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۷۳۔۲۷۶.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الثاني،ج۱،ص۳۰۶ .
3 ۔المرجع السابق،ص۳۰۶.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۵۵۔۲۵۷،وغیرہ.
5 ۔المرجع السابق،ص۲۶۶۔۲۶۸.
مسئلہ ۳۲: نکاح فاسد میں تفریق یامتارکہ کے وقت سے عدّت ہے، اگرچہ عورت کو اس کی خبر نہ ہو۔ متارکہ یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے، مثلاً یہ کہے میں نے اسے چھوڑا، یا چلی جا، یا نکاح کر لے یا کوئی اور لفظ اسی کے مثل کہے اور فقط جانا، آنا ،چھوڑنے سے متارکہ نہ ہوگا، جب تک زبان سے نہ کہے اور لفظ طلاق سے بھی متارکہ ہو جائے گا مگر اس طلاق سے یہ نہ ہوگا کہ اگر پھر اس سے نکاح صحیح کرے، تو تین طلاق کا مالک نہ رہے بلکہ نکاح صحیح کرنے کے بعد تین طلاق کا اسے اختیار رہے گا۔ نکاح سے انکار کر بیٹھا متارکہ نہیں اور اگرچہ تفریق وغیرہ میں اس کا وہاں ہونا ضرور نہیں مگر کسی کا جاننا ضروری ہے اگر کسی نے نہ جانا تو عدّت پوری نہ ہوگی۔ (1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: نکاح فاسد میں نفقہ واجب نہیں، اگر نفقہ پر مصالحت ہوئی جب بھی نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: آزاد مرد نے کنیز سے نکاح کر کے پھر اپنی عورت کو خرید لیا تو نکاح فاسد ہوگيا اور غلام ماذون نے اپنی زوجہ کو خریدا تو نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: مہرِ مسمیٰ تین قسم کا ہے:
اوّل: مجہول الجنس والوصف، مثلاً کپڑا یا چوپایہ یا مکان یا باندی کے پیٹ میں جو بچہ ہے یا بکری کے پیٹ میں جو بچہ ہے یا اس سال باغ میں جتنے پھل آئیں گے، ان سب میں مہرِ مثل واجب ہے۔
دوم :معلوم الجنس مجہول الوصف، مثلاً غلام یا گھوڑا یا گائے یا بکری ان سب میں متوسط درجہ کا واجب ہے یا اس کی قیمت۔
سوم :جنس، وصف دونوں معلوم ہوں تو جو کہا وہی واجب ہے۔ (4) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۳۶: عورت کا ولی اس کے مہر کا ضامن ہوسکتا ہے ،اگرچہ نابالغہ ہو اگرچہ خود ولی نے نکاح پڑھوایا ہو مگر شرط یہ ہے کہ وہ ولی مرض الموت میں مبتلا نہ ہو۔ اگر مرض الموت میں ہے تو دو صورتیں ہیں، وہ عورت اس کی وارث ہے تو کفالت صحیح نہیں اور اگر وارث نہ ہو تو اپنے تہائی مال میں کفالت کرسکتا ہے۔ يوہيں شوہر کا ولی بھی مہر کا ضامن ہوسکتا ہے اور اس میں بھی وہی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثامن في النکاح الفاسد وأحکامہٖ،ج۱،ص۳۳۰.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب المہر،مطلب:في النکاح الفاسد،ج۴،ص۲۶۹.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثامن في النکاح الفاسد وأحکامہٖ،ج۱،ص۳۳۰.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الخامس،ج۱،ص۳۰۹،وغیرہ.
شرط ہے اور وہی صورتیں ہیں اور یہ بھی شرط ہے کہ عورت یا اس کا ولی یا فضولی اُسی مجلس میں قبول بھی کر لے، ورنہ کفالت صحیح نہ ہوگی اور عورت بالغہ ہو تو جس سے چاہے مطالبہ کرے شوہر سے یا ضامن سے، اگر ضامن سے مطالبہ کیا اور اس نے دیدیا توضامن شوہر سے وصول کرے اگر اُس کے حکم سے ضمانت کی ہو اور اگر بطورِ خود ضامن ہوگيا تو نہیں لے سکتا اور اگر شوہر نابالغ ہے تو جب تک بالغ نہ ہو اس سے مطالبہ نہیں کرسکتی اور اگر شوہر نابالغ کے باپ نے کفالت کی اور مہر دے دیا تو بیٹے سے نہیں وصول کر سکتا۔ ہاں اگر ضامن ہونے کے وقت یہ شرط لگا دی تھی کہ وصول کرلے گا تو اب لے سکتا ہے۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۷: زید نے اپنی لڑکی کا نکاح عمرو سے دو ہزار مہر پر کیا۔ یوں کہ ہزار میں دوں گا اور ہزار عمرو پر اور عمرو نے قبول بھی کر لیا تو دونوں ہزار عمرو پر ہیں اور زید ہزار کا ضامن قرار دیا جائے گا۔ اگر عورت نے اپنے باپ زید سے لے ليے تو زید عمرو سے وصول کر لے اور اگر عورت نے زید کے مرنے کے بعد اس کے ترکہ میں سے ہزار لے ليے تو زید کے ورثہ عمرو سے وصول کریں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: شوہر کے باپ کے کہنے سے کسی اجنبی نے ضمانت کر لی پھر ادا کرنے سے پہلے باپ مر گیا تو عورت کواختیار ہے شوہر سے لے یا اس کے باپ کے ترکہ سے، اگر ترکہ سے لیا تو باقی ورثہ شوہر سے وصول کريں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: نکاح کے وکیل نے مہر کی ضمانت کرلی، اگر شوہر کے حکم سے ہے تو واپس لے سکتا ہے ورنہ نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: شوہر نابالغ محتاج ہے تو اس کے باپ سے مہر کا مطالبہ نہیں ہوسکتا اور اگر مالدار ہے تو یہ مطالبہ ہوسکتا ہے کہ لڑکے کے مال سے مہر ادا کر دے، یہ نہیں کہ اپنے مال سے ادا کرے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۴۱: باپ نے بیٹے کا مہر ادا کر دیا اور ضامن نہ تھا تو اگر دیتے وقت گواہ بنا ليے کہ واپس لے لے گا تو لے سکتا ہے، ورنہ نہیں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: مہر تین قسم ہے:
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الرابع عشر،ج۱،ص۳۲۶.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۷۹.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الرابع عشر،ج۱،ص۳۲۶.
3 ۔المرجع السابق،ص۳۲۶. 4 ۔المرجع السابق،ص۳۲۷.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۸۰.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب المہر،مطلب:في ضمان الولی المہر،ج۴،ص۲۸۱.
1معجل کہ خلوت سے پہلے مہر دینا قرار پایا ہے۔اور2مؤجل جس کے ليے کوئی میعاد مقرر ہو۔ اور3مطلق جس میں نہ وہ ہو، نہ یہ (1)اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ حصہ معجل ہو، کچھ مؤجل یا مطلق یا کچھ مؤجل ہو، کچھ مطلق یا کچھ معجل اور کچھ مؤجل اور کچھ مطلق۔
مہرِمعجل وصول کرنے کے ليے عورت اپنے کو شوہر سے روک سکتی ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ وطی و مقدمات وطی (2)سے باز رکھے، خواہ کل معجل ہو یا بعض اور شوہر کو حلال نہیں کہ عورت کو مجبور کرے، اگرچہ اس کے پیشتر عورت کی رضامندی سے وطی و خلوت ہو چکی ہو یعنی یہ حق عورت کو ہمیشہ حاصل ہے، جب تک وصول نہ کر لے۔ يوہيں اگر شوہر سفر میں لے جانا چاہتا ہے تو مہرِ معجل وصول کرنے کے ليے جانے سے انکار کرسکتی ہے۔
يوہيں اگر مہرِ مطلق ہو اور وہاں کا عرف ہے کہ ایسے مہر میں کچھ قبل خلوت ادا کیا جاتا ہے تو اس کے خاندان میں جتنا پیشتر ادا کرنے کا رواج ہے، اس کا حکم مہرِ معجل کا ہے یعنی اس کے وصول کرنے کے ليے وطی و سفر سے منع کر سکتی ہے ۔
اور اگر مہرِ مؤجل یعنی میعادی ہے اور میعاد مجہول ہے، جب بھی فوراً دینا واجب ہے۔ ہاں اگر مؤجل ہے اور میعاد یہ ٹھہری کہ موت یا طلاق پر وصول کرنے کا حق ہے تو جب تک طلاق یا موت واقع نہ ہو وصول نہیں کرسکتی،(3) جیسے عموماً ہندوستان میں یہی رائج ہے کہ مہرِ مؤجل سے یہی سمجھتے ہیں۔ (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴۳: زوجہ نابالغہ ہے تو اس کے باپ یا دادا کو اختیار ہے کہ مہرِ معجل لینے کے ليے رخصت نہ کریں اور زوجہ خود اپنے کو شوہر کے قبضہ میں نہیں دے سکتی اور نابالغہ کا مہرِ معجل لینے سے پہلے صرف باپ یا دادا رخصت کر سکتے ہیں، ان کے سوا اور کسی ولی کو اختیار نہیں کہ رخصت کر دے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: عورت نے جب مہرِ معجل پا لیا تواب شوہر اسے پردیس کو بھی لے جا سکتا ہے، عورت کو اب انکار کا حق نہیں اور اگر مہرِ معجل میں ایک روپیہ بھی باقی ہے تو وطی و سفر سے باز رہ سکتی ہے۔ يوہيں اگر عورت کاباپ مع اہل و عیال پردیس کو جانا چاہتا ہے اور اپنے ساتھ اپنی جوان لڑکی کو لے جانا چاہتا ہے جس کی شادی ہو چکی ہے اور شوہر نے مہرِ معجل ادا نہیں کیا ہے تولے جا سکتا ہے اور مہر وصول ہوچکا ہے تو بغیر اجازت شوہر نہیں لے جا سکتا۔ اگر مہرِ معجل کُل ادا ہوچکا ہے صرف ایک درہم باقی
1 ۔یعنی نہ خلوت سے پہلے دینا قرار پایاہو،نہ ہی اس کے لئے کوئی مدت مقرر ہو ۔ 2 ۔وطی سے پہلے بوس وکناروغیرہ۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۸۳ .
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الحادي عشر،ج۱،ص۳۱۷۔۳۱۸.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب المہر،مطلب:في منع الزوجۃ نفسھا لقبض المہر،ج۴،ص۲۸۳.
ہے تو لے جا سکتا ہے اور شوہر یہ چاہے کہ جو دیا ہے واپس کرلے، تو واپس نہیں لے سکتا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: نابالغہ کی رخصت ہوچکی مگر مہرِ معجل وصول نہیں ہوا ہے، تو اس کا ولی روک سکتا ہے اور شوہر کچھ نہیں کرسکتا جب تک مہرِ معجل ادا نہ کرلے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: باپ اگر لڑکی کا مہر شوہر سے وصول کرنا چاہے تو اس کی ضرورت نہیں کہ لڑکی بھی وہاں حاضر ہو، پھر اگرشوہر لڑکی کے باپ سے رخصت کے ليے کہے اور لڑکی اپنے باپ کے گھر موجود ہو تو رخصت کر دے اور اگر وہاں نہ ہو اور بھیجنے پر بھی قدرت نہ ہو تو مہر پر قبضہ کرنے کا بھی اسے حق نہیں، اگر شوہر مہر دینے پر تیار ہے مگر یہ کہتا ہے کہ لڑکی کا باپ لڑکی کو نہیں دے گا خود لے لے گاتو قاضی حکم دے گا کہ لڑکی کا باپ ضامن دے کہ مہر لڑکی کے پاس پہنچ جائے گا اور شوہر کو حکم دے گا مہر ادا کردے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: مہرِ مؤجل یعنی میعادی تھا اور میعاد پوری ہوگئی تو عورت اپنے کو روک سکتی ہے یا بعض معجل تھا، بعض میعادی اور میعاد پوری ہوگئی تو عورت اپنے کو روک سکتی ہے۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴۸: اگر مہر مؤجل (جس کی میعاد موت یا طلاق تھی) یا مطلق تھا اور طلاق یا موت واقع ہوئی تو اب یہ بھی معجل ہو جائے گا یعنی فی الحال مطالبہ کر سکتی ہے اگرچہ طلاقِ رجعی ہو مگر رجعی میں رجوع کے بعد پھر مؤجل ہوگيا(5) اور اگر مہرمنجم ہے یعنی قسط بقسط وصول کرے گی اور طلاق ہوئی تو اب بھی قسط ہی کے ساتھ لے گی۔ (6) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۹: مہر معجل لینے کے ليے عورت اگر وطی سے انکار کرے تو اس کی وجہ سے نفقہ ساقط نہ ہوگا اور اس صورت میں بلا اجازت شوہر کے گھر سے باہر بلکہ سفر میں بھی جا سکتی ہے جبکہ ضرورت سے ہو اور اپنے میکے والوں سے ملنے کے ليے بھی بلا اجازت جا سکتی ہے اور جب مہر وصول کر لیا تو اب بلا اجازت نہیں جاسکتی مگر صرف ماں باپ کی ملاقات کو ہر ہفتہ میں ایک بار دن بھر کے ليے جا سکتی ہے اور محارم (7) کے یہاں سال بھر میں ایک بار اور محارم کے سوا اور رشتہ داروں یا غیروں کے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الحادي عشر،ج۱،ص۳۱۷.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق،ص۳۱۷،۳۱۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الحادي عشر،ج۱،ص۳۱۸.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۸۳.
5 ۔ بہارشریعت کے تمام نسخوں میں یہاں عبارت ایسے ہی مذکورہے، غالباًیہاں کتابت کی غلطی ہے کیونکہ عالمگیری اورردالمحتارمیں ہے کہ
''رجوع کے بعد پھرمؤجل نہیں ہوگا''۔...عِلْمِیہ
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الحادي عشر،ج۱،ص۳۱۸.
و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب المہر،مطلب:في منع الزوجۃ نفسھا لقبض المہر،ج۴،ص۲۸۴.
7 ۔ وہ رشتہ دارجن سے نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہو۔
یہاں غمی یا شادی کی کسی تقریب میں نہیں جاسکتی، نہ شوہر ان موقعوں پر جانے کی اجازت دے، اگر اجازت دی تو دونوں گنہگار ہوئے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵۰: مہر میں اختلاف ہو تو اس کی چند صورتیں ہیں:
ایک یہ کہ نفس مہر میں اختلاف ہوا، ایک کہتا ہے مہر بندھا تھا، دوسرا کہتا ہے نکاح کے وقت مہر کا ذکر ہی نہ آیا تو جو کہتا ہے بندھا تھا، گواہ پیش کرے، نہ پیش کر سکے تو انکار کرنے والے کو حلف دیا جائے اگر حلف (2) اٹھانے سے انکار کرے تو مدعی (3) کا دعویٰ ثابت اور حلف اٹھالے تو مہرِ مثل واجب ہوگا یعنی جبکہ نکاح باقی ہو یا خلوت کے بعد طلاق ہوئی ہو اور اگر خلوت سے پہلے طلاق ہوئی تو کپڑے کا جوڑا واجب ہوگا۔ اس کا حکم پیشتر بیان ہوچکا۔
دوسری صورت یہ کہ مقدار میں اختلاف ہو تو اگر مہرِ مثل اتنا ہے جتنا عورت بتاتی ہے یا زائد تو عورت کی بات قسم کے ساتھ مانی جائے اور اگر مہرِ مثل شوہر کے کہنے کے مطابق ہے یا کم تو قسم کے ساتھ شوہر کی بات مانی جائے اور اگر کسی نے گواہ پیش کیے تو اس کا قول مانا جائے، مہرِ مثل کچھ بھی ہو تو اگر دونوں نے پیش کیے تو جس کا قول مہرِ مثل کے خلاف ہے، اس کے گواہ مقبول ہیں اور اگر مہرِ مثل دونوں دعووں کے درمیان ہے، مثلاً زوج کا دعویٰ ایک ہزار کا ہے اور عورت کا دو ۲ ہزار کا اور مہرِ مثل ڈیڑھ ہزار ہے تو دونوں کو قسم دیں گے جو قسم کھا جائے، اس کا قول معتبر ہے یا جو گواہ پیش کرے، اس کا قول مانا جائے اور اگر دونوں قسم کھا جائیں یا دونوں گواہ پیش کریں تو مہرِ مثل پر فیصلہ ہوگا۔
یہ تفصیل اس وقت ہے کہ نکاح باقی ہو دخول ہوا ہو یا نہیں یا دونوں میں ایک مر چکا ہو۔ يوہيں اس صورت میں کہ دخول کے بعد طلاق دے دی ہو اور اگر قبل دخول طلاق دی ہو تو متعہ مثل (یعنی جوڑا) جس کے قول کے موافق ہو قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہے اور اگر متعہ مثل دونوں کے درمیان ہو تو دونوں پر حلف رکھیں جو حلف اٹھا لے اس کی بات معتبر ہے اور دونوں اٹھالیں تو متعہ مثل دیں گے اور اگر کوئی گواہ پیش کرے تو اس کا قول معتبر ہے اور دونوں نے پیش کیے تو جس کا قول متعہ مثل کے خلاف ہے وہ معتبر ہے اور اگر دونوں کا انتقال ہو چکا اور دونوں کے ورثہ میں اختلاف ہو تو مقدار میں زوج کے ورثہ کا قول مانا جائے اور نفس مہر میں اختلاف ہوا کہ مقرر ہوا تھا یا نہیں تو مہرِ مثل پر فیصلہ کریں گے۔ (4) (درمختار وغیرہ)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۸۶.
2 ۔قسم۔ 3 ۔دعوٰی کرنے والا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۹۰۔۲۹۵،وغیرہ.
مسئلہ ۵۱: شوہر اگر کابین نامہ (1) لکھنے سے انکار کرے تو مجبور نہ کیا جائے اور اگر مہر روپے کا باندھا گیا اور کابین نامہ میں اشرفیاں لکھی گئیں توشوہر پر روپے واجب ہیں مگر قاضی اشرفیاں دلوائے گا، جبکہ اسے علم نہ ہو کہ روپے کا مہر بندھا تھا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: شوہر نے کوئی چیز عورت کے یہاں بھیجی اگر یہ کہہ دیا کہ ہدیہ ہے تو اب نہیں کہہ سکتا کہ وہ مہر میں تھی اور اگر کچھ نہ کہا تھا اور اب کہتا ہے کہ مہر میں بھیجی اور عورت کہتی ہے کہ ہدیہ ہے اور وہ چیز کھانے کی قسم سے ہے، مثلاًر وٹی، گوشت، حلوا، مٹھائی وغیرہ تو عورت سے قسم لے کر اس کا قول مانا جائے اور اگر کھانے کی قسم سے نہیں یعنی باقی رہنے والی چیز ہو، مثلاً کپڑے، بکری، گھی، شہد وغیرہا تو شوہر کو حلف دیا جائے، قسم کھا لے تو اس کی بات مانیں اور عورت کو اختیار ہوگا کہ اگر وہ چیز از قسم مہر نہیں اور باقی ہے تو واپس دے اور اپنا مہر وصول کرے۔ (3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۵۳: شوہر نے عورت کے یہاں کوئی چیز بھیجی اور عورت کے باپ نے شوہر کے یہاں کچھ بھیجا، شوہر کہتا ہے وہ چیز میں نے مہر میں بھیجی تھی تو قسم کے ساتھ اس کا قول مان لیا جائے گا اور عورت کو اختیار ہوگا کہ وہ شے واپس کرے یا مہر میں محسوب (4)کرے اور عورت کے باپ نے جو بھیجا تھا، اگر وہ شے ہلاک ہوگئی تو کچھ واپس نہیں لے سکتا اور موجود ہے تو واپس لے سکتا ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: جس لڑکی سے منگنی ہوئی اس کے پاس لڑکے کے یہاں سے شکر اور میوے وغیرہ آئے، پھر کسی وجہ سے نکاح نہ ہوا تو اگر وہ چیزیں تقسیم ہو گئیں اور بھیجنے والے نے تقسیم کی اجازت بھی دے دی تھی تو واپس نہیں لے سکتا، ورنہ واپس لے سکتا ہے۔ (6) (عالمگیری) تقسیم کی اجازت صراحۃً ہو یا عرفاً، مثلاً ہندوستان میں اس موقع پر ایسی چیزیں اسی ليے بھیجتے ہیں کہ لڑکی والا اپنے کنبہ اور رشتہ داروں میں بانٹے گا یہ چیزیں اس ليے نہیں ہوتیں کہ رکھ لے گا یا خود کھا جائے گا۔
مسئلہ ۵۵: شوہر نے عورت کے یہاں عیدی بھیجی، پھر یہ کہتا ہے کہ وہ روپے مہر میں بھیجے تھے، اس کا قول نہیں مانا جائے گا۔ (7) (عالمگیری)
ـ1 ۔مہرنامہ،مہرکی تحریر۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الثاني عشر،ج۱،ص۳۲۲.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الثاني عشر،ج۱،ص۳۲۲.
و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۹۷۔۳۰۰.
4 ۔شمار۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الثاني عشر،ج۱،ص۳۲۲.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق،ص۳۲۳.
مسئلہ ۵۶: عورت مر گئی، شوہر نے گائے، بکری وغیرہ کوئی جانور بھیجا کہ ذبح کرکے تیجہ میں کھلایا جائے اور اس کی قیمت نہیں بتائی تھی تو نہیں لے سکتا اور قیمت بتا دی تھی تو لے سکتا ہے اور اگر اختلاف ہو وہ کہتا ہے کہ بتا دی تھی اور لڑکی والا کہتا ہے کہ نہیں بتائی تھی تو اگر لڑکی والا قسم کھا لے تو اس کی بات مان لی جائے گی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۷: کوئی عورت عدّت میں تھی اسے خرچ دیتا رہا، اس امید پر کہ بعد عدّت اس سے نکاح کریگا اگر نکاح ہوگيا تو جو کچھ خرچ کیا ہے، واپس نہیں لے سکتا اور عورت نے نکاح سے انکار کر دیا تو جو اسے بطور تملیک دیا ہے، واپس لے سکتا ہے اور جو بطورِ اباحت دیا ہے، مثلاً اس کے یہاں کھانا کھاتی رہی تو یہ واپس نہیں لے سکتا۔ (2) (تنویر)
مسئلہ ۵۸: لڑکی کو جو کچھ جہیز میں دیا ہے، وہ واپس نہیں لے سکتا اور ورثہ کو بھی اختیار نہیں جبکہ مرض الموت میں نہ دیا ہو۔يوہيں جو کچھ سامان نابالغہ لڑکی کے ليے خریدا اگرچہ ابھی نہ دیا ہو یا مرض الموت میں دیا، اس کی مالک بھی تنہا لڑکی ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۵۹: لڑکی والوں نے نکاح یا رخصت کے وقت شوہر سے کچھ لیا ہو یعنی بغیر ليے نکاح یا رخصت سے انکار کرتے ہوں اور شوہر نے دے کر نکاح یا رخصت کرائی تو شوہر اس چیز کو واپس لے سکتا ہے اور وہ نہ رہی تو اس کی قیمت لے سکتا ہے کہ یہ رشوت ہے۔ (4) (بحر وغیرہ) رخصت کے وقت جو کپڑے بھیجے اگر بطورِ تملیک ہیں، جیسے ہندوستان میں عموماً رواج ہے کہ ڈال بری (5)میں جوڑے بھیجے جاتے ہیں اور عرف یہی ہے کہ لڑکی کومالک کر دیتے ہیں تو انھيں واپس نہیں لے سکتا اور تملیک(6) نہ ہو تو لے سکتا ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: لڑکی کو جہیز دیا پھر یہ کہتا ہے کہ میں نے بطورِ عاریت (8) دیا ہے اور لڑکی یا اُس کے مرنے کے بعد شوہر کہتا ہے کہ بطورِ تملیک دیا ہے تو اگروہ چیز ایسی ہے کہ عموماً لوگ اسے جہیز میں دیا کرتے ہیں تو لڑکی یا اس کے شوہر کا قول مانا جائے اور اگر عموماً یہ بات نہ ہو بلکہ عاریت و تملیک دونوں طرح دی جاتی ہو تو اس کے باپ یا ورثہ کا قول معتبر ہے۔ (9) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الثاني عشر،ج۱،ص۳۲۳.
2 ۔''تنویر الأبصار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۳۰۲۔۳۰۴.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۳۰۴.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۳،ص۳۲۵،وغیرہ.
5 ۔شادی بیاہ کی ایک رسم۔ 6 ۔مالک بنانا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل السادس عشر،ج۱،ص۳۲۷.
8 ۔ یعنی عارضی طور پر۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۳۰۵.
مسئلہ ۶۱: جس صورت میں لڑکی کا قول معتبر ہے اگر اس کے باپ نے گواہ پیش کيے ،جو اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ دیتے وقت اس نے کہہ دیا تھا کہ عاریت ہے تو گواہ مان ليے جائیں گے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۲: بالغہ لڑکی کا نکاح کر دیا اور جہیز کے اسباب بھی معین کر ديے مگر ابھی ديے نہیں اور وہ عقد فسخ ہوگيا پھر دوسرے سے نکاح ہوا تو لڑکی اُس جہیز کا باپ سے مطالبہ نہیں کرسکتی۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۳: لڑکی نے ماں باپ کے مال اور اپنی دستکاری سے کوئی چیز جہیز کے ليے تیار کی اور اس کی ماں مر گئی، باپ نے وہ چیز جہیز میں دے دی تو اُس کے بھائیوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس چیز میں ماں کی طرف سے میراث کا دعویٰ کریں۔ يوہيں اس کا باپ جو کپڑے لاتا رہا اس میں سے یہ اپنے جہیز کے ليے بنا کر رکھتی رہی اور بہت کچھ جمع کر لیا اور باپ مر گیا تو یہ اسباب سب لڑکی کا ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۴: ماں نے بیٹی کے ليے اس کے باپ کے مال سے جہیز تیار کیا یا اس کا کچھ اسباب جہیز میں دے دیا اور اسے علم ہوا اور خاموش رہا اور لڑکی رخصت کر دی گئی تو اب باپ اس جہیز کو لڑکی سے واپس نہیں لے سکتا۔ (4) (تنویر الابصار)
مسئلہ ۶۵: جس گھر میں زن و شو رہتے ہیں اس میں کچھ اسباب ہے، جس کا ہر ایک مدعی ہے تو اگر وہ ایسی شے ہے جو عورتیں برتتی ہیں، مثلاً دوپٹہ، سنگار دان، خاص عورتوں کے پہننے کے کپڑے تو ایسی چیز عورت کو دی جائے گی۔ ہاں اگر شوہر ثبوت دے کہ یہ چیز اس کی ہے تو اسے دیدیں گے اور اگر وہ خاص مردوں کے برتنے کی ہے، مثلاً ٹوپی، عمامہ، انگرکھا (5) اور ہتھیار وغیرہ تو ایسی چیز مرد کو دیں گے مگر جب عورت گواہ سے اپنی ملک ثابت کرے تو اسے دیں گے اور اگر دونوں کے کام کی وہ چیز ہو، مثلاً بچھونا تو یہ بھی مرد ہی کو دیں مگر جب عورت گواہ پیش کرے تو اُسے دیدیں اور اگر ان دونوں میں ایک کا انتقال ہو چکا ہے اس کے ورثہ اور اس میں اختلاف ہواجب بھی وہی تفصیل ہے مگر جو چیز دونوں کے برتنے کی ہو وہ اسے دیں جو زندہ ہے وارث کو نہیں اور اگر مکان میں مال تجارت ہے اور مشہور ہے کہ وہ شخص اس چیز کی تجارت کرتا تھا تو مرد کو دیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۶: جو چیز مسلمان کے نکاح میں مہر ہو سکتی ہے، وہ کافر کے نکاح میں بھی ہوسکتی ہے اور جو مسلمان کے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل السادس عشر،ج۱،ص۳۲۷.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص۳۲۸.
4 ۔''تنویر الأبصار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۳۰۷.
5 ۔ایک قسم کامردانہ لباس۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل السادس عشر،ج۱،ص۳۲۹.
نکاح میں مہر نہیں ہوسکتی، کافر کے نکاح میں بھی نہیں ہو سکتی سوا شراب و خنزیر کے کہ یہ کافر کے مہر میں ہو سکتے ہیں، مسلمان کے نہیں۔ (1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۶۷: کافر کا نکاح بغیر مہر کے ہوا یعنی مہر کا ذکر نہ آیا یا کہا کہ مہر نہیں دیا جائے گا یا مردار کا مہر باندھا اور یہ ان کے مذہب میں جائز بھی ہو یعنی ان صورتوں میں ان کے یہاں مہرِ مثل کا حکم نہ دیا جاتا ہو تو ان صورتوں میں عورت کو مہر نہ ملے گا اگرچہ وطی ہو چکی ہو یا قبل وطی طلاق ہوگئی ہو یا شوہر مر گیا ہو اگرچہ وہ دونوں اب مسلمان ہوگئے یا مسلمانوں کے پاس اس کا مقدمہ پیش کیا ہو، ہاں باقی احکام نکاح ثابت ہوں گے، مثلاً وجوب نفقہ، وقوع طلاق، عدّت، نسب، خیار بلوغ وغیرہ وغیرہ۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۶۸: نابالغ نے بغیر اجازت ولی نکاح کیا اور وطی بھی کر لی پھر ولی نے رد کر دیا تو مہر لازم نہیں۔ (3) (خانیہ)
مسئلہ ۶۹: نابالغہ کے باپ کو حق ہے کہ اپنی لڑکی کا مہرِ معجل شوہر سے طلب کرے اور اگر لڑکی قابلِ جماع ہے توشوہررخصت کرا سکتا ہے اور اس کے ليے کسی سِن (4) کی تخصیص نہیں اور اگر اس قابل نہیں اگرچہ بالغہ ہو تو رخصت پر جبر نہیں کیا جاسکتا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(وَمَنۡ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنۡکُمْ طَوْلًا اَنۡ یَّنۡکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنۡ مَّا مَلَکَتْ اَیۡمَانُکُمۡ مِّنۡ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ؕ وَاللہُ اَعْلَمُ بِاِیۡمَانِکُمْ ؕ بَعْضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْضٍ ۚ فَانۡکِحُوۡہُنَّ بِاِذْنِ اَہۡلِہِنَّ وَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ بِالْمَعْرُوۡفِ ) (6)
اور تم میں قدرت نہ ہونے کے سبب جس کے نکاح میں آزاد عورتیں مسلمان نہ ہوں تو اس سے نکاح کرے، جس کو
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الخامس عشر،ج۱،ص۳۲۷.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۳۰۹.
3 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في النکاح علی الشرط،ج۱،ص۱۶۰.
4 ۔عمر۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب المہر،مطلب:في لابی الصغیرۃ المطالبۃ بالمہر،ج۴،ص۳۱۲.
6 ۔پ۵،النسآء:۲۵.
تمھارے ہاتھ مالک ہیں، ایمان والی باندیاں اور اﷲ (عزوجل) تمھارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو اُن سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے اور حسب دستور ان کے مہر انھيں دو۔
حدیث ۱: امام احمد و ابو داود و ترمذی و حاکم جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو غلام بغیر مولیٰ کی اجازت کے نکاح کرے، وہ زانی ہے۔'' (1)
حدیث ۲: ابو داود ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جب غلام نے بغیر اجازت مولیٰ کے نکاح کیا، تو اس کا نکاح باطل ہے۔'' (2)
حدیث ۳: امام شافعی و بیہقی حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، انھوں نے فرمایا: ''غلام دو عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے، زیادہ نہیں۔'' (3)
مسئلہ ۱: لونڈی غلام نے اگر خود نکاح کر لیا یا ان کا نکاح کسی اور نے کر دیا تو یہ نکاح مولیٰ کی اجازت پر موقوف ہے جائز کر دے گا نافذ ہو جائے گا، رد کر دے گا باطل ہو جائے گا، پھر اگر وطی بھی ہو چکی اور مولیٰ نے رد کر دیا تو جب تک آزاد نہ ہو لونڈی اپنا مہر طلب نہیں کر سکتی، نہ غلام سے مطالبہ ہوسکتا ہے اور اگر وطی نہ ہوئی جب تو مہر واجب ہی نہ ہوا۔ (4) (درمختار، ردالمحتار) یہاں مولیٰ سے مراد وہ ہے جسے اس کے نکاح کی ولایت حاصل ہو، مثلاً مالک نابالغ ہو تو اس کا باپ یا دادا یا قاضی یا وصی اور لونڈی، غلام سے مراد عام ہیں، مدبّر، مکاتب، ماذون، ام ولد یا وہ جس کا کچھ حصہ آزاد ہوچکا سب کو شامل ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: مکاتب اپنی لونڈی کا نکاح اپنے اذن سے کر سکتا ہے اوراپنا یا اپنے غلام کا نہیں کرسکتا اور ماذون غلام، لونڈی کا بھی نہیں کر سکتا۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مولیٰ کی اجازت سے غلام نے نکاح کیا تو مہر و نفقہ خود غلام پر واجب ہے، مولیٰ پر نہیں اور مر گیا تو مہر و نفقہ
1 ۔''جامع الترمذی''،أبواب النکاح،باب ماجاء في نکاح العبد...إلخ،الحدیث:۱۱۱۳،ج۲،ص۳۵۹.
2 ۔''سنن أبي داود''،کتاب النکاح،باب فی نکاح العبد...إلخ،الحدیث:۲۰۷۹،ج۲،ص۳۳۱.
3 ۔''السنن الکبری''،للبیھقي،کتاب النکاح،باب نکاح العبد...إلخ،الحدیث:۱۳۸۹۷،ج۷،ص۲۵۶.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۱۶.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۱۶.
6 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۱۶.
دونوں ساقط اور غلام خالص مہر و نفقہ کے سبب بیچ ڈالا جائے گا اور مدبر مکاتب نہ بیچے جائیں بلکہ انھیں حکم دیا جائے کہ کما کر اداکرتے رہیں۔ ہاں مکاتب اگر بدل کتابت سے عاجز ہو تو اب مکاتب نہ رہے گا اور مہر و نفقہ میں بیچا جائے گا اور غلام کی بیع اُس کا مولیٰ کرے، اگر وہ انکار کرے تو اس کے سامنے قاضی بیع کر دے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جن داموں کو فروخت ہو رہا ہے، مولیٰ اپنے پاس سے اتنے دام دیدے اور فروخت نہ ہونے دے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: مہرمیں فروخت ہوا مگر وہ دام ادائے مہر کے ليے کافی نہ ہوں تو اب دوبارہ فروخت نہ کیا جائے بلکہ بقیہ مہر بعد آزادی طلب کرسکتی ہے اور اگر خود اسی عورت کے ہاتھ بیچا گیا تو بقیہ مہر ساقط ہوگيا اور نفقہ میں بیچا گیا اور اُن داموں سے نفقہ ادا نہ ہوا تو باقی بعد عتق (2) لے سکتی ہے اور بیع کے بعد پھر اورنفقہ(3) واجب ہوا تو دوبارہ بیع ہو، اس میں بھی اگر کچھ باقی رہا تو بعد آزادی۔ يوہيں ہر جدید نفقہ میں بیع ہو سکتی ہے اور بقیہ میں نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۵: کسی نے اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کر دیا تو اصح یہ ہے کہ مہر واجب ہی نہ ہوا یعنی جب کنیز ماذونہ (5) ، مدیونہ(6) نہ ہو، ورنہ مہر میں بیچا جائے گا۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۶: غلام کا نکاح اس کے مولیٰ نے کر دیاپھر فروخت کر ڈالا ،تو مہر غلام کی گردن سے وابستہ ہے یعنی عورت جب چاہے اسے فروخت کرا کر مہر وصول کرے اور عورت کو یہ بھی اختیار ہے کہ پہلی بیع فسخ کرا دے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۷: مولیٰ کو اپنے غلام اور لونڈی پر جبری ولایت ہے یعنی جس سے چاہے نکاح کر دے، ان کو منع کا کوئی حق نہیں مگر مکاتب و مکاتبہ کا نکاح بغیر اجازت نہیں کرسکتا اگرچہ نابالغ ہوں کر دے گا تو ان کی اجازت پر موقوف رہے گا اور اگر نابالغ مکاتب و مکاتبہ نے بدل کتابت ادا کر دیا اور آزاد ہوگئے تو اب مولیٰ کی اجازت پر موقوف ہے جبکہ اور کوئی عصبہ نہ ہو کہ یہ بوجہ نابالغی اجازت کے اہل نہیں اور اگر بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز ہوئے تو مکاتب غلام کا نکاح اجازت مولیٰ پر موقوف ہے اور مکاتبہ کا باطل۔ (9) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۱۷ .
2 ۔یعنی آزادی کے بعد۔ 3 ۔کھانے ،پینے وغیرہ کے اخراجات۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۱۸۔۳۲۰.
5 ۔خریدو فروخت کے معاملے میں اجازت یافتہ۔ 6 ۔ مقروض۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۱۹.
8 ۔المرجع السابق،ص۳۲۰.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب التاسع في نکاح الرقیق،ج۱،ص۳۳۱،۳۳۲.
مسئلہ ۸: غلام نے بغیر اذن مولیٰ نکاح کیا، اب مولیٰ سے اجازت مانگی اس نے کہا طلاق رجعی دیدے تو اجازت ہوگئی اور پہلا نکاح صحیح ہوگيا اور کہا طلاق دیدے یا اُسے علیحدہ کر دے تو یہ اجازت نہیں بلکہ پہلا نکاح رد ہوگيا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۹: مولیٰ سے نکاح کی اجازت لی اورنکاح فاسد کیا تو اجازت ختم ہوگئی یعنی پھر نکاح صحیح کرنا چاہے تو دوبارہ اجازت لینی ہوگی اور نکاح فاسد میں وطی کر لی ہے تو مہر غلام پر واجب یعنی غلام مہر میں بیچا جا سکتا ہے اور اگر اجازت دینے میں مولیٰ نے نکاحِ صحیح کی نیت کی تھی تو اس کی نیت کا اعتبار ہوگا اور نکاحِ فاسدکی اجازت دی تو یہی نکاحِ صحیح کی بھی اجازت ہے بخلاف وکیل کہ اس نے اگر پہلی صورت میں نکاح فاسد کر دیا، تو ابھی وکالت ختم نہ ہوئی دوبارہ صحیح نکاح کر سکتا ہے اور اگر اسے نکاحِ فاسد کا وکیل بنایا ہے تو نکاحِ صحیح کا وکیل نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: غلام کو نکاح کی اجازت دی تھی، اس نے ایک عقد میں دو ۲ عورتوں سے نکاح کیا تو کسی کا نہ ہوا۔ ہاں اگر اجازت ایسے لفظوں سے دی جن سے تعمیم (3)سمجھی جاتی ہے تو ہو جائے گا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: کسی نے اپنی لڑکی کا نکاح اپنے مکاتب سے کر دیا پھر مر گیا تو نکاح فاسد نہ ہوگا۔ ہاں اگر مکاتب بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز آیا تو اب فاسد ہو جائے گا کہ لڑکی اسکی مالکہ ہوگئی۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: مکاتب یا مکاتبہ نے نکاح کیا اور مولیٰ مر گیا تو وارث کی اجازت سے صحیح ہو جائے گا۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: لونڈی کا نکاح ہوا تو جو کچھ مہر ہے مولیٰ کو ملے گا، خواہ عقد سے مہر واجب ہوا ہو یا دخول سے، مثلاً نکاحِ فاسد کہ اس میں نفسِ نکاح سے مہر واجب نہیں ہوتا مگر مکاتبہ یا جس کا کچھ حصہ آزاد ہوچکا ہے، کہ ان کا مہر انھیں کو ملے گا مولیٰ کو نہیں۔ کنیز کا نکاح کر دیا تھا پھر آزاد کر دیا اب اُس کے شوہر نے مہر میں کچھ اضافہ کیا تو یہ بھی مولیٰ ہی کوملے گا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: بغیر اجازت مولیٰ نکاح کیا اور اجازت سے پہلے طلاق دے دی تو اگرچہ یہ طلاق نہیں مگر اب مولیٰ کی اجازت سے بھی جائز نہ ہوگا۔ (8) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۲۱.
2 ۔المرجع السابق،ص۳۲۳۔۳۲۵. 3 ۔یعنی عام اجازت۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب التاسع في نکاح الرقیق،ج۱،ص۳۳۲.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۲۶ .
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب التاسع في نکاح الرقیق،ج۱،ص۳۳۳.
7 ۔المرجع السابق،ص۳۳۲. 8 ۔ المرجع السابق،ص۳۳۲.
مسئلہ ۱۵: کنیز نے بغیر اِذن (1) نکاح کیا تھا اور مولیٰ (2) نے اسے بیچ ڈالا اور وطی ہو چکی ہے تو مشتری (3) کی اجازت سے صحیح ہو جائے گا، ورنہ نہیں اور اگر مشتری ایسا شخص ہو کہ اُس کنیز سے وطی اس کے ليے حلال نہ ہو تو اگرچہ وطی نہ ہوئی ہو اجازت دے سکتا ہے۔ يوہيں غلام نے بغیر اذن نکاح کیا تھا، مولیٰ نے اسے بیچ ڈالا اور مشتری نے جائز کر دیا یا مولیٰ مر گیا اور وارث نے جائز کر دیا ہوگيا اور آزاد کر دیا گیا تو خود صحیح ہوگيا، اجازت کی حاجت ہی نہ رہی۔ (4) (عالمگیری)
1 ۔یعنی اجازت کے بغیر۔ 2 ۔آقا،مالک۔ 3 ۔ خریدار۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب التاسع في نکاح الرقیق،ج۱،ص۳۳۳.
5 ۔ المرجع السابق،ص۳۳۵. 6 ۔ المرجع السابق،ص۳۳۳.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔ المرجع السابق،ص۳۳۴.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب التاسع في نکاح الرقیق،ج۱،ص۳۳۴.
10 ۔المرجع السابق. 11 ۔المرجع السابق،ص۳۳۴.
مسئلہ ۲۳: لونڈی کا نکاح کر دیا تو مولیٰ پر یہ واجب نہیں کہ اسے شوہر کے حوالے کر دے اور خدمت نہ لے (اور اس کوتَبْوِیَہ کہتے ہیں۔) ہاں اگر شوہر کے پاس آتی جاتی ہے اور مولیٰ کی خدمت بھی کرتی ہے تو یوں کر سکتی ہے اور شوہر کو موقع ملے تو وطی کر سکتا ہے اور اگر شوہر نے مہر ادا کر دیا ہے تو مولیٰ پر یہ ضرور ہے کہ اتنا کہہ دے اگر تجھے موقع ملے تو وطی کر سکتا ہے اور اگر عقد میں بتویہ کی شرط تھی جب بھی مولیٰ پر واجب نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: اگر کنیز کو اس کے شوہر کے حوالے کر دیا جب بھی مولیٰ کو اختیار ہے، جب چاہے اس سے خدمت لے اور زمانہ بتویہ میں نفقہ اور رہنے کو مکان شوہر کے ذمہ ہے اور اگر مولیٰ واپس لے تو مولیٰ پر ہے، شوہر سے ساقط ہوگيا اور اگر خود کسی کسی وقت اپنے آقا کا کام کر جاتی ہے، مولیٰ نے حکم نہیں دیا ہے تو نفقہ وغیرہ شوہر ہی پر ہے۔ يوہيں اگر مولیٰ دن میں کام لیتا ہے مگر رات کو شوہر کے مکان پر بھیج دیتا ہے جب بھی نفقہ شوہر پر ہے۔ (2) (درمختاروغیرہ)
مسئلہ ۲۵: زمانہ تَبْوِیَہ میں طلاق بائن دی تو نفقہ وغیرہ شوہر کے ذمہ ہے اور واپس لینے کے بعد دی تو مولیٰ پر۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: جس کنیز کا نکاح کر دیا اسے سفر میں لے جانا چاہتا ہے، تو مطلقاً اسے اختیار ہے اگرچہ شوہر منع کرے بلکہ اگرچہ شوہر نے پورا مہر دے دیا ہو۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: جس کنیز سے وطی کرتا ہے اب اس کا نکاح کرنا چاہتا ہے تو استبرا واجب ہے، اگر نکاح کر دیا اور چھ مہینے سے کم میں بچہ پیدا ہوا تو بچہ مولیٰ کا قرار دیا جائے گا یعنی جبکہ وہ کنیز ام ولد ہو اور مولیٰ نے انکار نہ کیا ہو اور ام ولد نہ ہو تو وہ بچہ مولیٰ کا اس وقت ہے جب اس نے دعویٰ کیا ہو اور اگر لا علمی میں نکاح کیا تو بہر صورت نکاح فاسد ہے۔ شوہر نے وطی کی ہے تو مہر واجب ہے، ورنہ نہیں اور دانستہ(5) نکاح کر دیا تو نکاح ہو جائے گا۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: کنیز کا نکاح کر دیا تو اس سے جو بچہ پیدا ہوگا، وہ آزاد نہیں مگر جبکہ نکاح میں آزادی کی شرط لگا دی ہو تو اس
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۲۷۔۳۲۹.
2 ۔المرجع السابق،ص۳۲۹،وغیرہ.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب التاسع في نکاح الرقیق،ج۱،ص۳۳۵.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،مطلب:في الفرق بین الاذن والاجازۃ،ج۴،ص۳۲۹.
5 ۔جان بوجھ کر۔
6 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،مطلب:في الفرق بین الاذن والاجازۃ،ج۴،ص۳۳۰.
نکاح سے جتنی اولادیں پیدا ہوئیں آزاد ہیں اور اگر طلاق دے کر پھر نکاح کیا تواس نکاحِ ثانی کی اولاد آزاد نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: کنیز کا نکاح کر دیا اور وطی سے پہلے مولیٰ نے اس کو مار ڈالا، اگرچہ خطاً قتل واقع ہوا تو مہر ساقط ہوگيا جبکہ وہ مولیٰ عاقل بالغ ہو اور اگر لونڈی نے خودکشی کی یا مرتدہ ہوگئی یا اس نے اپنے شوہر کے بیٹے کا بشہوت بوسہ لیا یا شوہر کی وطی کے بعد مولیٰ نے قتل کیا تو ان صورتوں میں مہر ساقط نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: وطی کرنے میں اگر انزال باہر کرنا چاہتا ہے تو اس میں اجازت کی ضرورت ہے، اگر عورت حرّہ یا مکاتبہ ہے تو خود اسکی اجازت سے اور کنیز بالغہ ہے تو مولیٰ کی اجازت سے اور اپنی کنیزسے وطی کی تو اصلاً اجازت کی حاجت نہیں۔ (3) (درمختار وغيرہ)
مسئلہ ۳۱: کنیز جو کسی کے نکاح میں ہے اگرچہ اس کا شوہر آزاد ہو جب وہ آزاد ہوگی ،تو اسے اختیار ہے چاہے اپنے نفس کو اختیار کرے تو نکاح فسخ ہو جائے گا اور وطی نہ ہوئی ہو تو مہر بھی نہیں اور چاہے شوہر کو اختیار کرے تو نکاح برقرار رہے گا اور نابالغہ ہے تو وقتِ بلوغ اسے یہ اختیار ہوگا کہ اپنے نفس کو اختیار کرے یا شوہر کو۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: خیارِ عتق سے نکاح فسخ ہونا حکمِ قاضی پر موقوف نہیں اور اگر آزادی کی خبر سن کر ساکت رہی تو خیار(5) باطل نہ ہوگا، جب تک کوئی فعل ایسا نہ پایا جاوے جس سے نکاح کا اختیار کرنا سمجھا جائے اور مجلس سے اٹھ کھڑی ہوئی تو اب اختیار نہ رہا اور اگر اب یہ کہتی ہے کہ مجھے یہ مسئلہ معلوم نہ تھا کہ آزادی کے بعد اختیار ملتا ہے تو اس کا یہ جہل عذر قرار دیا جائے گا، لہٰذامسئلہ معلوم ہونے کے بعد اپنے نفس کو اختیار کیا نکاح فسخ ہوگيا اور یہ اختیار صرف باندی کے ليے ہے، غلام کو نہیں اور خیارِ بلوغ یعنی نابالغ کا نکاح اگر اس کے باپ یا دادا کے سوا کسی اور ولی نے کیا ہو تو وقتِ بلوغ اسے فسخِ نکاح کا اختیار ملتا ہے مگر خیارِ بلوغ سے نکاح فسخ ہونا حکم قاضی پر موقوف ہے اور بالغ ہوتے وقت اگر سکوت کیا تو خیار جاتا رہا، جبکہ نکاح کا علم ہو اور یہ آخر مجلس تک نہیں رہتا بلکہ فوراً فسخ کرے تو فسخ ہوگا ورنہ نہیں اور اس میں جہل عذر نہیں اور خیارِ بلوغ عورت و مرد دونوں کے ليے حاصل۔ (6) (خانیہ وغیرہ)
مسئلہ ۳۳: نکاح کنیز کی خوشی سے ہوا تھا، جب بھی خیارِعتق اسے حاصل ہے اور اگر بغیر اجازت مولیٰ نکاح کیا تھا
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۲۷.
2 ۔المرجع السابق،ص۳۳۲.
3 ۔المرجع السابق،ص۳۳۳۔۳۳۵،وغیرہ.
4 ۔المرجع السابق،ص۳۲۶ .
5 ۔اختیار۔
6 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الأولیاء،ج۱،ص۳۵۷،وغیرہ.
اور مولیٰ نے نہ اجازت دی، نہ رد کیا اور آزاد کر دیا تو نکاح صحیح ہوگيا اور خیار عتق نہیں ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۴: بیٹے کی کنیز سے نکاح کیا اور اس سے اولاد ہوئی تو یہ اولاد اپنے بھائی کی طرف سے آزاد ہے مگر وہ کنیز ام ولد نہ ہوئی۔ يوہيں اگر باپ کی کنیز سے نکاح کیا تو اولاد باپ کی طرف سے آزاد ہوگی اور کنیز ام ولد نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: بیٹے کی باندی سے وطی کی اور اولاد نہ ہوئی تو عقر واجب ہے اور وطی حرام ہے اور عقر یہ ہے کہ صرف باعتبارِ جمال جو اس کی مثل کا مہر ہونا چاہيے، وہ دینا ہوگا اور اولاد ہوئی اور باپ نے اس کا دعویٰ بھی کیا اور وہ باپ حُرّ، مسلم، عاقل ہو تو نسب ثابت ہو جائے گا بشرطیکہ وقتِ وطی سے وقتِ دعویٰ تک لڑکا اس کنیز کا مالک رہے اور کنیز باپ کی ام ولد ہو جائے گی اور اولاد آزاد اور باپ کنیز کی قیمت لڑکے کو دے، عقر اور اولاد کی قیمت نہیں اور اگر اس درمیان میں لڑکے نے اس کنیز کو اپنے بھائی کے ہاتھ بیچ ڈالا، جب بھی نسب ثابت ہوگا اور یہی احکام ہوں گے۔ لڑکے نے اپنی ام ولد کی اولاد کی نفی کر دی یعنی یہ کہ یہ میری نہیں اور باپ نے دعویٰ کیا کہ یہ میری اولاد ہے یا لڑکے کی مدبرہ یا مکاتبہ کی اولاد کا باپ نے دعویٰ کیا تو ان سب صورتوں میں محض باپ کے دعویٰ کرنے سے نسب ثابت نہ ہوگا جب تک لڑکا باپ کی تصدیق نہ کرے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: دادا باپ کے حکم میں ہے جبکہ باپ مر چکا ہو یا کافر یا مجنون یا غلام ہو بشرطیکہ وقتِ علوق سے(4) وقتِ دعویٰ تک دادا کو ولایت حاصل ہو۔ (5) (درمختار)
زہری نے مرسلاً روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے زمانہ میں کچھ عورتیں اسلام لائیں اور ان کے شوہر کافر تھے پھر جب شوہر بھی مسلمان ہو گئے، تو اسی پہلے نکاح کے ساتھ یہ عورتیں ان کو واپس کی گئیں۔(6) یعنی جدید نکاح نہ کیا گیا۔
مسئلہ ۱: جس قسم کا نکاح مسلمانوں میں جائز ہے اگر اُس طرح کافر نکاح کریں تو ان کا نکاح بھی صحیح ہے مگر بعض اس قسم کے نکاح ہیں جو مسلمان کے ليے ناجائز اور کافر کرلے تو ہو جائے گا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ نکاح کی کوئی شرط مفقود ہو،
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۳۹.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب التاسع في نکاح الرقیق،ج۱،ص۳۳۶.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،مطلب:في حکم اسقاط الحمل،ج۴،ص۳۴۰۔۳۴۳.
4 ۔یعنی حاملہ ہونے کے وقت سے۔
5 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۴۳.
6 ۔ ''کنز العمال''،کتاب النکاح،الحدیث:۴۵۸۴۲،ج۱۶،ص۲۳۰.
مثلاً بغیر گواہ نکاح ہوا یا عورت کافر کی عدّت میں تھی، اس سے نکاح کیا مگر شرط یہ ہے کہ کفار ایسے نکاح کے جائز ہونے کے معتقد ہوں۔ پھر ایسے نکاح کے بعد اگر دونوں مسلمان ہو گئے تو اسی نکاحِ سابق پر باقی رکھے جائیں (1) جدید نکاح کی حاجت نہیں۔ يوہيں اگر قاضی کے پاس مقدمہ دائر کیا تو قاضی تفریق نہ کریگا۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: کافر نے محارم سے نکاح کیا، اگر ایسا نکاح ان لوگوں میں جائز ہو تو نکاح کے لوازم نفقہ وغیرہ ثابت ہو جائیں گے مگر ایک دوسرے کا وارث نہ ہوگا اور اگر دونوں اسلام لائے یا ایک تو تفریق کر دی جائے گی۔ يوہيں اگر قاضی یا کسی مسلمان کے پاس دونوں نے اس کا مقدمہ پیش کیا تو تفریق کر دے گا اور ایک نے کیا تو نہیں۔ (3) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۳: دو بہنوں کے ساتھ ایک عقد میں نکاح کیا ،پھر ایک کو جدا کر دیا پھر مسلمان ہوا تو جو باقی ہے اس کا نکاح صحیح ہے، اُسی نکاح پر برقرار رکھے جائیں اور جدا نہ کیا ہو تو دونوں باطل اور اگر دو عقد کے ساتھ نکاح ہوا تو پہلی کا صحیح ہے، دوسری کا باطل۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: کافر نے عورت کو تین طلاقیں دیدیں ،پھر اس کے ساتھ بدستور رہتا رہا نہ اس سے دوسرے نے نکاح کیا، نہ اس نے دوبارہ نکاح کیا یا عورت نے خلع کرایا اور بعد خلع بغیر تجدید نکاح بدستور رہا کیاتو ان دونوں صورتوں میں قاضی تفریق کر دے گا اگرچہ نہ مسلمان ہوا، نہ قاضی کے پاس مقدمہ آیا اور اگر تین طلاقیں دینے کے بعد عورت کا دوسرے سے نکاح نہ ہوا مگر اس شوہر نے تجدید نکاح کی تو تفریق نہ کی جائے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: کتابیہ سے مسلمان نے نکاح کیا تھا اور طلاق دے دی، ہنوز (6)عدّت ختم نہ ہوئی تھی کہ اس سے کسی کافر نے نکاح کیا تو تفریق (7) کر دی جائے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۶: زوج و زوجہ دونوں کافر غیر کتابی تھے، ان میں سے ایک مسلمان ہوا تو قاضی دوسرے پر اسلام پیش کرے اگر مسلمان ہوگيا فبہا(9) اور انکار یا سکوت کیا تو تفریق کر دے، سکوت کی صورت میں احتیاط یہ ہے کہ تین بار پیش کرے۔ يوہيں
1 ۔ یعنی اسی پہلے نکاح پرباقی رکھے جائیں۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۴۷۔۳۵۱، وغیرہ.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب العاشر في نکاح الکفار،ج۱،ص۳۳۷،وغیرہ.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ابھی ۔ 7 ۔جدائی۔
8 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۵۲.
9 ۔ یعنی نکاح سابق پر باقی رکھے جائیں نئے نکاح کی ضرورت نہیں۔
اگر کتابی کی عورت مسلمان ہوگئی تو مرد پر اسلام پیش کیا جائے، اسلام قبول نہ کیا تو تفریق کر دی جائے اور اگر دونوں کتابی ہیں اور مرد مسلمان ہوا تو عورت بدستور اس کی زوجہ ہے۔ (1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۷: نابالغ لڑکا یا لڑکی سمجھ دار ہوں تو ان کا بھی وہی حکم ہے اور نا سمجھ ہوں تو انتظار کیا جائے، جب تمیز آجائے تو اسلام پیش کیا جائے اور اگر شوہر مجنون ہے تو اس کا انتظار نہ کیا جائے کہ ہوش میں آئے تو اس پر اسلام پیش کریں بلکہ اس کے باپ ماں پر اسلام پیش کریں ان میں جو کوئی مسلمان ہو جائے وہ مجنون اس کا تابع ہے اور مسلمان قرار دیا جائے گا۔ اور اگر کوئی مسلمان نہ ہوا تو تفریق کر دیں اور اگر اس کے والدین نہ ہوں تو قاضی کسی کو ا س کے باپ کا وصی قرار دے کرتفریق کر دے۔ یہ سب تفصیل جنون اصلی (2)میں ہے اوراگر وہ پہلے مسلمان تھا تو وہ مسلمان ہی ہے اگرچہ اس کے ماں باپ کافر ہوں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: شوہر مسلمان ہوگيا اور عورت مجوسیہ تھی اور یہودیہ یا نصرانیہ ہوگئی تو تفریق نہیں۔ يوہيں اگر یہودیہ تھی اب نصرانیہ ہوگئی یا بالعکس تو بدستور زوجہ ہے۔ يوہيں اگر مسلمان کی عورت نصرانیہ تھی، یہودیہ ہوگئی یا یہودیہ تھی، نصرانیہ ہوگئی تو بدستور اس کی عورت ہے۔ يوہيں اگر نصرانی کی عورت مجوسیہ ہوگئی تو وہ اس کی عورت ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: یہ تمام صورتیں اس وقت ہیں کہ دارالاسلام میں اسلام قبول کیا ہو اور اگر دارالحرب میں مسلمان ہوا تو عورت تین حیض گزرنے پر نکاح سے خارج ہوگئی اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے گزرنے پر۔ کم عمر ہونے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو یا بڑھیا ہوگئی کہ حیض بند ہوگيا اور حاملہ ہو تو وضع حمل سے نکاح جاتا رہا اور یہ تین حیض یا تین مہینے عدّت کے نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: جو جگہ ایسی ہو کہ نہ دارالاسلام ہو، نہ دارالحرب وہ دارالحرب کے حکم میں ہے۔ (6) (درمختار) اور اگر وہ جگہ دارالاسلام ہو مگر کافر کا تسلط ہو جیسے آج کل ہندوستان تو اس معاملہ میں یہ بھی دارالحرب کے حکم میں ہے، یعنی تین حیض یا تین مہینے گزرنے پر نکاح سے باہر ہوگی۔
مسئلہ ۱۱: ایک دارالاسلام میں آکر رہنے لگا، دوسرا دارالحرب میں رہا جب بھی عورت نکاح سے باہر ہو جائے گی، مثلاً
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۵۴،۳۵۵،۳۶۰.
2 ۔وہ جنون جو بالغ ہونے سے پہلے لاحق ہوا اور بالغ ہونے کے وقت بھی موجود رہا ہو۔
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۵۴.
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،مطلب:في الکلام علی ابو ی النبی صلی اللہ علیہ وسلم...إلخ،ج۴،ص۳۵۴.
5 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،مطلب:الصبی والمجنون لیساباھل...إلخ،ج۴،ص۳۵۸.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۵۹.
مسلمان ہو کر یا ذمی بن کر دارالاسلام میں آیا یا یہاں آکر مسلمان یا ذمی ہوا یا قید کرکے دارالحرب سے دارالاسلام میں لایا گیا تو نکاح سے باہر ہوگئی اور اگر دونوں ایک ساتھ قید کر کے لائے گئے يا دونوں ایک ساتھ مسلمان یا ذمی بن کر وہاں سے آئے یا یہاں آکر مسلمان ہوئے یا ذمہ قبول کیا تو نکاح سے باہر نہ ہوئی یا حربی امن لے کر دارالاسلام میں آیا یا مسلمان یا ذمی دارالحرب کو امان لے کر گیا تو عورت نکاح سے باہر نہ ہوگی۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: باغی کی حکومت سے نکل کر امامِ برحق کی حکومت میں آیا یا بالعکس تو نکاح پر کوئی اثر نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: مسلمان یا ذمی نے دارالحرب میں حربیہ کتابیہ سے نکاح کیا تھا۔ وہ وہاں سے قید کر کے لائی گئی تو نکاح سے خارج نہ ہوئی۔ يوہيں اگر وہ شوہر سے پہلے خود آئی، جب بھی نکاح باقی ہے اور اگر شوہر پہلے آیا اور عورت بعد میں تو نکاح جاتا رہا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: ہجرت کر کے دارالاسلام میں آئی، مسلمان ہو کر یا ذمی بن کر یا یہاں آکر مسلمان یا ذمیہ ہوئی تو اگر حاملہ نہ ہو، فوراً نکاح کر سکتی ہے اور حاملہ ہو تو بعد وضع حمل مگر یہ وضع حمل اس کے ليے عدّت نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: کافر نے عورت اور اس کی لڑکی دونوں سے نکاح کیا، اب مسلمان ہوا، اگر ایک عقد میں نکاح ہوا تو دونوں کا باطل اور علیحدہ علیحدہ نکاح کیا اور دخول کسی سے نہ ہوا تو پہلا نکاح صحیح ہے دوسرا باطل اور دونوں سے وطی کر لی ہے تو دونوں باطل اور اگر پہلے ایک سے نکاح ہوا اور دخول بھی ہوگيا، اس کے بعد دوسری سے نکاح کیا تو پہلا جائز دوسرا باطل اور اگر پہلی سے صحبت نہ کی، مگر دوسری سے کی تو دونوں باطل، مگر جبکہ پہلی عورت ماں ہو اور دوسری اسکی بیٹی اور فقط اس دوسری سے وطی کی تو اس لڑکی سے پھر نکاح کر سکتا ہے اور اس کی ماں سے نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: عورت مسلمان ہوئی اور شوہر پر اسلام پیش کیا گیا، اس نے اسلام لانے سے انکار یا سکوت کیا تو تفریق کی جائے گی اور یہ تفریق طلاق قرار دی جائے، یعنی اگر بعد میں مسلمان ہوا اور اسی عورت سے نکاح کیا تو اب دو ہی طلاق کامالک رہے گا، کہ منجملہ تین طلاقوں کے ایک پہلے ہو چکی ہے اور یہ طلاق بائن ہے اگرچہ دخول ہو چکا ہو یعنی اگر مسلمان ہو کر
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۵۸.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب العاشر في نکاح الکفار،ج۱،ص۳۳۸.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب العاشر في نکاح الکفار،ج۱،ص۳۳۸.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۶۱.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب العاشر في نکاح الکفار،ج۱،ص۳۳۹.
رجعت کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا، بلکہ جدید نکاح کرنا ہوگا اور دخول ہو چکا ہو تو عورت پر عدّت واجب ہے اور عدّت کا نفقہ شوہر سے لے گی اور پورا مہر شوہر سے لے سکتی ہے اور قبل دخول ہو تو نصف مہر واجب ہوا اور عدّت نہیں اور اگر شوہر مسلمان ہوا اور عورت نے انکار کیا تو تفریق فسخ نکاح ہے، کہ عورت کی جانب سے طلاق نہیں ہو سکتی ہے پھر اگر وطی ہو چکی ہے تو پورا مہر لے سکتی ہے ورنہ کچھ نہیں۔ (1) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۷: زن و شو میں سے کوئی معاذ اﷲ مرتد ہوگيا تو نکاح فوراً ٹوٹ گیا اور یہ فسخ ہے طلاق نہیں، عورت موطؤہ (2) ہے تو مہر بہرحال پورا لے سکتی ہے اور غیر موطؤہ ہے تو اگر عورت مرتد ہوئی کچھ نہ پائے گی اور شوہر مرتد ہوا تو نصف مہر لے سکتی ہے اور عورت مرتدہ ہوئی اور زمانہ عدّت میں مر گئی اور شوہر مسلمان ہے تو ترکہ پائے گا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: دونوں ایک ساتھ مرتد ہوگئے پھر مسلمان ہوئے تو پہلا نکاح باقی رہا اور اگر دونوں میں ایک پہلے مسلمان ہوا پھر دوسرا تو نکاح جاتا رہا اور اگر یہ معلوم نہ ہو کہ پہلے کون مرتد ہوا تو دونوں کا مرتد ہونا ایک ساتھ قرار دیا جائے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: عورت مرتدہ ہوگئی تو اسلام لانے پر مجبور کی جائے یعنی اسے قید میں رکھیں، یہاں تک کہ مر جائے یا اسلام لائے اور جدید نکاح ہو تو مہر بہت تھوڑا رکھا جائے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: عورت نے زبان سے کلمہ کفر جاری کیا تاکہ شوہر سے پیچھا چھوٹے یا اس ليے کہ دوسرا نکاح ہوگا تو اس کا مہر بھی وصول کرے گی تو ہر قاضی کو اختیار ہے کہ کم سے کم مہر پر اسی شوہر کے ساتھ نکاح کر دے، عورت راضی ہو یا ناراض اور عورت کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ دوسرے سے نکاح کرلے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: مسلمان کے نکاح میں کتابیہ عورت تھی اور مرتد ہوگيا، یہ عورت بھی اس کے نکاح سے باہر ہوگئی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: بچہ اپنے باپ ماں میں اس کا تابع ہوگا جس کا دین بہتر ہو، مثلاً اگر کوئی مسلمان ہوا تو اولاد مسلمان ہے،
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۵۴.
و''البحر الرائق''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۳،ص۳۶۷-۳۷۰.
2 ۔ایسی عورت جس سے صحبت کی گئی ہو۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۶۲.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب العاشر في نکاح الکفار،ج۱،ص۳۳۹.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۶۳.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب العاشر في نکاح الکفار،ج۱،ص۳۳۹.
7 ۔المرجع السابق.
ہاں اگر بچہ دارالحرب میں ہے اور اس کا باپ دارالاسلام میں مسلمان ہوا تو اس صورت میں اس کا تابع نہ ہوگا اور اگر ایک کتابی ہے، دوسرا مجوسی یا بت پرست تو بچہ کتابی قرار دیا جائے۔ (1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۲۳: مسلمان کا کسی لڑکی سے نکاح ہوا اور اس لڑکی کے والدین مسلمان تھے، پھر مرتد ہو گئے تو وہ لڑکی نکاح سے باہر نہ ہوئی اور اگر لڑکی کے والدین مرتد ہو کر لڑکی کو لے کر دارالحرب کو چلے گئے تو اب باہر ہوگئی اور اگر اس کے والدین میں سے کوئی حالتِ اسلام میں مر چکا ہے یا مرتد ہونے کی حالت میں مرا پھر دوسرا مرتد ہو کر لڑکی کو دارالحرب میں لے گیا تو باہر نہ ہوئی۔ خلاصہ یہ کہ والدین کے مرتد ہونے سے چھوٹے بچے مرتد نہ ہوں گے، جب تک دونوں مرتد ہو کر اسے دارالحرب کو نہ لے جائیں۔ نیز یہ کہ ایک مر گیا تو دوسرے کے تابع نہ ہوں گے اگرچہ یہ مرتد ہو کر دارالحرب کو لے جائے اور تابع ہونے میں یہ شرط ہے کہ خود وہ بچہ اس قابل نہ ہو کہ اسلام و کفر میں تمیز کر سکے اور سمجھ وال ہے تو اسلام و کفر میں کسی کا تابع نہیں۔
مجنون بھی بچہ ہی کے حکم میں ہے کہ وہ تابع قرار دیا جائے گا، جبکہ جنون اصلی ہو اور بلوغ سے پہلے یا بعد بلوغ مسلمان تھا پھر مجنون ہوگيا تو کسی کا تابع نہیں، بلکہ یہ مسلمان ہے۔ بوہرے کا بھی یہی حکم ہے، کہ اصلی ہے تو تابع اور عارضی ہے تو نہیں۔ (2) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۲۴: بالغ ہو اور سمجھ بھی رکھتا ہو مگر اسلام سے واقف نہیں تو مسلمان نہیں یعنی جبکہ ایمان اجمالی بھی نہ ہو۔
مسئلہ ۲۵: مرتد و مرتدہ کا نکاح کسی سے نہیں ہوسکتا، نہ مسلمان سے، نہ کافر سے، نہ مرتدہ و مرتد سے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۶: زبان سے کلمہ کفر نکلا، اس نے تجدید اسلام و تجدید نکاح کی، اگر معاذ اﷲ کئی بار یوہیں ہوا جب بھی اسے حلالہ کی اجازت نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: نشہ والا جس کی عقل جاتی رہی اور زبان سے کلمہ کفر نکلا تو عورت نکاح سے باہر نہ ہوئی۔ (5) (عالمگیری) مگر تجدیدِ نکاح کیجائے۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۶۷۔۳۶۹.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۷۱.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب العاشر في نکاح الکفار،ج۱،ص۳۳۹۔۳۴۰،وغیرہما.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الکافر،ج۴،ص۳۷۲.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب العاشر في نکاح الکفار،ج۱،ص۳۴۰.
5 ۔المرجع السابق.
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُکُمْ ؕ ذٰلِکَ اَدْنٰۤی اَلَّا تَعُوۡلُوۡا ) (1)
اگر تمھیں خوف ہو کہ عدل نہ کرو گے تو ایک ہی سے نکاح کرو یا وہ باندیاں جن کے تم مالک ہو، یہ زیادہ قریب ہے اس سے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔
اور فرماتا ہے:
(وَلَنۡ تَسْتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعْدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیۡلُوۡا کُلَّ الْمَیۡلِ فَتَذَرُوۡہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ؕ وَ اِنۡ تُصْلِحُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۲۹﴾ ) (2)
تم سے ہرگز نہ ہو سکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو، اگرچہ حرص کرو تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جاؤ اور دوسری کو لٹکتی چھوڑ دو اور اگر نیکی اور پرہیزگاری کرو تو بے شک اﷲ (عزوجل) بخشنے والا مہربان ہے۔
حدیث ۱: امام احمد و ابو داود و نسائی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نےفرمایا: ''جس کی دو عورتیں ہوں، ان میں ایک کی طرف مائل ہو تو قیامت کے دن اس طرح حاضر ہوگا کہ اس کا آدھا دھڑمائل ہوگا۔'' (3)
ترمذی اور حاکم کی روایت ہے، کہ ''اگر دونوں میں عدل نہ کریگا تو قیامت کے دن حاضر ہوگا، اس طرح پر کہ آدھادھڑ ساقط (بیکار) ہوگا۔'' (4)
حدیث ۲: ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و ابن حبان نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم باری میں عدل فرماتے اور کہتے: ''الٰہی! میں جس کا مالک ہوں، اس میں میں نے یہ تقسیم کر دی اورجس کا مالک تو ہے میں مالک نہیں (یعنی محبتِ قلب) اس میں ملامت نہ فرما۔'' (5)
1 ۔ پ۴،النساء:۳. 2 ۔ پ۵،النساء:۱۲۹.
3 ۔''سنن أبي داود''،کتاب النکاح،باب فی القسم بین النساء،الحدیث:۲۱۳۳،ج۲،ص۳۵۲.
4 ۔''جامع الترمذی''،أبواب النکاح،باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر،الحدیث:۱۱۴۴،ج۲،ص۳۷۵.
5 ۔''سنن أبي داود''،کتاب النکاح،باب فی القسم بین النساء،الحدیث:۲۱۳۴،ج۲،ص۳۵۳.
حدیث ۳: صحیح مسلم میں عبداﷲ بن عمرو(1) رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بیشک عدل کرنے والے اﷲ (عزوجل) کے نزدیک رحمن کی دہنی طرف نور کے منبر پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دہنے ہیں، وہ لوگ جو حکم کرتے اور اپنے گھر والوں میں عدل کرتے ہیں۔'' (2)
حدیث ۴: صحيحين میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب سفر کاارادہ فرماتے تو ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے، جن کا قرعہ نکلتا انھيں اپنے ساتھ لے جاتے۔'' (3)
جس کی دو یا تین یا چار عورتیں ہوں اس پر عدل فرض ہے، یعنی جو چیزیں اختیاری ہوں، اُن میں سب عورتوں کا یکساں لحاظ کرے یعنی ہر ایک کو اس کا پورا حق ادا کرے۔ پوشاک(4) اور نان نفقہ اور رہنے سہنے میں سب کے حقوق پورے ادا کرے اور جو بات اس کے اختیار کی نہیں اس میں مجبور و معذور ہے، مثلاً ایک کی زیادہ محبت ہے، دوسری کی کم۔ يوہيں جماع سب کے ساتھ برابر ہونا بھی ضروری نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱: ایک مرتبہ جماع قضاءً واجب ہے اور دیانۃً یہ حکم ہے کہ گاہے گاہے(6) کرتا رہے اور اس کے ليے کوئی حد مقرر نہیں مگر اتنا تو ہو کہ عورت کی نظرا وروں کی طرف نہ اُٹھے اوراتنی کثرت بھی جائز نہیں کہ عورت کو ضرر پہنچے اور یہ اس کے جُثّہ(7) اور قوت کے اعتبار سے مختلف ہے۔ (8) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: ایک ہی بی بی ہے مگر مرد اس کے پاس نہیں رہتا بلکہ نماز روزہ میں مشغول رہتا ہے، تو عورت شوہر سے مطالبہ
1 ۔ بہار شریعت کے نسخوں میں اس مقام پر'' عبد اللہ بن عمر''رضی اللہ تعالیٰ عنہما لکھا ہے ،جو کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے
کیونکہ یہ حدیث پاک ''صحیح مسلم''میں حضرت سیدنا''عبد اللہ بن عَمْرو''رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے اسی وجہ سے
ہم نے اس کی تصحیح کردی ۔...عِلْمِیہ
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الامارۃ،باب فضیلۃ الامیر العادل...إلخ،الحدیث:۱۸۔(۱۸۲۷،ص۱۰۱۵.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الشھادات،باب القرعۃ في المشکلات،الحدیث:۲۶۸۸،ج۲،ص۲۰۸.
4 ۔لباس۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۴،ص۳۷۵.
6 ۔یعنی کبھی کبھی۔ 7 ۔جسم ،جسامت۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۴،ص۳۷۶،وغیرہ.
کر سکتی ہے اور اسے حکم دیا جائے گا کہ عورت کے پاس بھی رہا کرے، کہ حدیث میں فرمایا :
(( وَاِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْک حَقًّا ))(1)
''تیری بی بی کا تجھ پر حق ہے۔'' روز مرّہ شب بیداری اور روزے رکھنے میں اس کا حق تلف ہوتا ہے۔ رہایہ کہ اس کے پاس رہنے کی کیامیعاد ہے اس کے متعلق ایک روایت یہ ہے، کہ چار دن میں ایک دن اس کے ليے اور تین دن عبادت کے ليے ۔ اور صحیح یہ ہے کہ اسے حکم دیا جائے کہ عورت کا بھی لحاظ رکھے، اس کے ليے بھی کچھ وقت دے اور اس کی مقدار شوہر کے متعلق ہے۔ (2) (جوہرہ، خانیہ)
مسئلہ ۳: نئی اور پرانی، کوآری اور ثیب، تندرست اور بیمار، حاملہ اور غیرحاملہ اور وہ نابالغہ جو قابلِ وطی ہو، حیض ونفاس والی اور جس سے ایلا یا ظہار کیا ہو اور جس کو طلاق رجعی دی اور رجعت کا ارادہ ہو اور احرام والی اور وہ مجنونہ جس سے ایذا کا خوف نہ ہو، مسلمہ اور کتابیہ سب برابر ہیں،سب کی باریاں برابر ہوں گی۔ يوہيں مرد عنین (3)ہویاخصّی(4)، مریض ہو یاتندرست، بالغ ہو یا نابالغ قابلِ وطی ان سب کا ایک حکم ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: ایک زوجہ کنیز ہے دوسری حرّہ تو آزاد کے ليے دو دن اور دو راتیں اور کنیز کے ليے ایک دن رات اور اگر اس عورت کے پاس جو کنیز ہے، ایک دن رات رہ چکا تھا کہ آزاد ہوگئی تو حرّہ کے پاس چلا جائے۔ يوہيں حرّہ کے پاس ایک دن رات رہ چکا تھا اب کنیز آزاد ہوگئی ،تو کنیزکے پاس چلا جائے کہ اب اس کے یہاں دو دن رہنے کی کوئی وجہ نہیں، جوکنیز اس کی مِلک میں ہے اس کے ليے باری نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: باری میں رات کا اعتبار ہے لہٰذا ایک کی رات میں دوسری کے یہاں بلا ضرورت نہیں جاسکتا۔ دن میں کسی حاجت کے ليے جا سکتا ہے اور دوسری بیمار ہے تو اس کے پوچھنے کو رات میں بھی جا سکتا ہے اور مرض شدید ہے تو اس کے یہاں رہ بھی سکتا ہے یعنی جب اس کے یہاں کوئی ایسا نہ ہو جس سے اس کا جی بہلے اور تیمارداری کرے۔ ایک کی باری میں دوسری سے دن میں بھی جماع نہیں کر سکتا۔ (7) (جوہرہ نیرہ)
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب النکاح،باب لزوجک علیک حق،الحدیث:۵۱۹۹،ج۳،ص۴۶۳.
2 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثاني،ص۳۳.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في القسم،ج۱،ص۲۰۱.
3 ۔ یعنی نامرد۔ 4 ۔ وہ شخص جس کے خصیے نکال دیئے گئے ہوں۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الحادی عشر في القسم،ج۱،ص۳۴۰.
6 ۔المرجع السابق .
7 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثاني،ص۳۲.
مسئلہ ۶: رات میں کام کرتا ہے مثلاً پہرہ دینے پر نوکر ہے تو باریاں دن کی مقرر کرے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۷: ایک عورت کے یہاں آفتاب کے غروب کے بعد آیا۔ دوسری کے یہاں بعد عشا تو باری کے خلاف ہوا۔ یعنی رات کا حصہ دونوں کے پاس برابر صرف کرنا چاہيے۔ رہا دن اس میں برابری ضروری نہیں ایک کے پاس دن کا زیادہ حصہ گزرا، دوسری کے پاس کم تو اس میں حرج نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: شوہر بیمار ہوا اور عورتوں کے مکانات سکونت کے علاوہ بھی اس کا کوئی مکان ہے۔ اور اسی گھر میں ہے تو ہر ایک کو اس کی باری پر اس مکان میں بلائے اور اگر ان میں سے کسی کے مکان میں ہے تو دوسری کی باری میں اس کے مکان پر چلا جائے۔ اور اگر اتنی طاقت نہیں کہ دوسری کے یہاں جائے تو صحت کے بعد دوسری کے یہاں اتنے ہی دن ٹھہرے جتنے دن بیماری میں اس کے یہاں تھا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۹: یہ اختیار شوہر کو ہے کہ ایک ایک دن کی باری مقرر کرے یا تین تین دن کی بلکہ ایک ایک ہفتہ کی بھی مقرر کر سکتا ہے اور یہ بھی شوہر ہی کو اختیار ہے کہ شروع کس کے پاس سے کرے ایک ہفتہ سے زیادہ نہ رہے۔ اور اگر ایک کے پاس جو مقرر کیا ہے اس سے زیادہ رہا تو دوسری کے پاس بھی اتنے ہی دنوں رہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: جب سب عورتوں کی باریاں پوری ہو گئیں تو کچھ دنوں ان میں کسی کے پاس نہ رہنے بلکہ کسی کنیز کے پاس رہنے یا تنہا رہنے کا شوہر کو اختیار ہے یعنی یہ ضرورنہیں کہ ہمیشہ کسی نہ کسی کے یہاں رہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: ایک عورت کے پاس مہینے بھر رہا اور دوسری کے پاس نہ رہا۔ اس نے دعویٰ کیا تو آئندہ کے ليے قاضی حکم دے گا کہ دونوں کے پاس برابر برابر رہے اور پہلے جو ایک مہینہ رہ چکا ہے اس کا معاوضہ نہیں اگرچہ عدل نہ کرنے سے گنہگار ہوا اور قاضی کے منع کرنے پر بھی نہ مانے تو سزا کا مستحق ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: سفر کو جانے میں باری نہیں بلکہ شوہر کو اختیار ہے جسے چاہے اپنے ساتھ لے جائے اور بہتر یہ ہے کہ قرعہ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۴،ص۳۸۵.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۴،ص۳۸۳.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۴،ص۳۸۳.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۴،ص۳۸۳.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۴،ص۳۸۵.
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۴،ص۳۸۰.
ڈالے جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے لے جائے اور سفر سے واپسی کے بعد اور عورتوں کو یہ حق نہیں کہ اس کا مطالبہ کریں کہ جتنے دن سفر میں رہا۔ اُتنے ہی اُتنے دنوں ان باقیوں کے پاس رہے بلکہ اب سے باری مقرر ہوگی۔ (1) (جوہرہ) سفر سے مراد شرعی سفر ہے جس کا بیان نماز میں گزرا۔ عرف میں پردیس میں رہنے کو بھی سفر کہتے ہیں یہ مراد نہیں۔
مسئلہ ۱۳: عورت کو اختیار ہے کہ اپنی باری سَوْت(2) کوہبہ کر دے اور ہبہ کرنے کے بعد واپس لینا چاہے تو واپس لے سکتی ہے۔ (3) (جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۴: دو عورتوں سے نکاح کیا اس شرط پر کہ ایک کے یہاں زیادہ رہے گا یا عورت نے کچھ مال دیا یا مہرمیں سے کچھ کم کر دیا کہ اس کے پاس زیادہ رہے یا شوہر نے ایک کو مال دیا کہ وہ اپنی باری سَوْت کو دے دے یا ایک عورت نے دوسری کو مال دیا کہ یہ اپنی باری اسے دے دے یہ سب صورتیں باطل ہیں اور جو مال دیا ہے واپس ہوگا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: وطی و بوسہ ہر قسم کے تمتع سب عورتوں کے ساتھ یکساں کرنا مستحب ہے واجب نہیں۔ (5) (فتح القدیر)
مسئلہ ۱۶: ایک مکان میں دو یا چند عورتوں کو اکٹھا نہ کرے اور اگر عورتیں ایک مکان میں رہنے پر خود راضی ہوں تورہ سکتی ہيں مگر ایک کے سامنے دوسری سے وطی نہ کرے اگر ایسے موقع پر عورت نے انکار کر دیا، تو نافرمان نہیں قرار دی جائے گی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: عورت کو جنابت و حیض و نفاس کے بعد نہانے پر مجبور کر سکتا ہے مگر عورت کتابیہ ہو تو جبر نہیں۔ خوشبو استعمال کرنے اور موئے زیرِ ناف (7) صاف کرنے پر بھی مجبور کر سکتا ہے اور جس چیز کی بُو سے اسے نفرت ہے مثلاً کچا لہسن، کچی پیاز، مولی وغیرہ کھانے، تمباکو کھانے حقّہ پینے کومنع کر سکتا ہے بلکہ ہر مباح چیز جس سے شوہر منع کرے عورت کو اس کا ماننا واجب۔ (8) (عالمگیری، ردالمحتار)
1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثاني،ص۳۳.
2 ۔ سوتن،سوکن۔
3 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثاني،ص۳۳،وغیرہا.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الحادی عشر في القسم،ج۱،ص۳۴۱.
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۳،ص۳۰۲.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الحادی عشر في القسم،ج۱،ص۳۴۱.
7 ۔یعنی ناف کے نیچے کے بال۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب النکاح،الباب الحادی عشر في القسم،ج۱،ص۳۴۱.
و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۴،ص۳۸۵.
مسئلہ ۱۸: شوہر بناؤ سنگار کو کہتا ہے یہ نہیں کرتی یا وہ اپنے پاس بُلاتا ہے اور یہ نہیں آتی اس صورت میں شوہر کومارنے کا بھی حق ہے اور نماز نہیں پڑھتی تو طلاق دینی جائز ہے اگرچہ مہر ادا کرنے پر قادر نہ ہو۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: عورت کو مسئلہ پوچھنے کی ضرورت ہو ،تو اگر شوہر عالم ہو تو اس سے پوچھ لے اور عالم نہیں تو اس سے کہے وہ پوچھ آئے(2) اور ان صورتوں میں اسے خود عالم کے یہاں جانے کی اجازت نہیں اور یہ صورتیں نہ ہوں تو جا سکتی ہے ۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: عورت کا باپ اپاہج ہو اور اس کا کوئی نگران نہیں تو عورت اس کی خدمت کے ليے جا سکتی ہے اگرچہ شوہر منع کرتا ہو۔ (4) (عالمگیری)
آج کل عام شکایت ہے کہ زن و شو (5)میں نااتفاقی ہے۔ مرد کوعورت کی شکایت ہے تو عورت کو مرد کی، ہر ایک دوسرے کے ليے بلائے جان (6)ہے اور جب اتفاق نہ ہو تو زندگی تلخ(7) اور نتائج نہایت خراب۔ آپس کی نااتفاقی علاوہ دنیا کی خرابی کے دِین بھی برباد کرنے والی ہوتی ہے اور اس نااتفاقی کا اثرِ بد(8) اِنھیں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اولاد پر بھی ا ثر پڑتا ہے اولاد کے دل میں نہ باپ کا ادب رہتا ہے نہ ماں کی عزت اس نا اتفاقی کا بڑا سبب یہ ہے کہ طرفین(9) میں ہر ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ نہیں رکھتے اور باہم رواداری سے کام نہیں لیتے مرد چاہتا ہے کہ عورت کو باندی سے بدتر کر کے رکھے اور عورت چاہتی
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الحادی عشر في القسم،ج۱،ص۳۴۱.
2 ۔امیرِ اہلسنّت، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَ امَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے فیضان سے دعوتِ اسلامی کے41سے زائد شعبہ جات میں سے ایک شعبہ''دار الافتاء اہلسنت'' بھی ہے ،جہاں بالمشافہ اور ٹیلیفون کے ذریعے نیز بذریعہ ڈاک مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ ذیل میں چندپتے ملاحظہ فرما لیجئے:
۔ دارلافتاء اہلسنت کنزالایمان جامع مسجدکنزالایمان بابری چوک( گرومندر)باب المدینہ کرا چی 021-4855174 / 4911779
Email:ahlaysunnat@hotmail.com / Email:ahlaysunnat_12@hotmail.com
ء ۔ دارالافتاء اہلسنت نزد جامع مسجد زینب سوساں روڈ مدینہ ٹاؤن سردارآباد( فیصل آباد) 8555591 041-
ئ ۔ دارالافتاء اہلسنت بالمقابل حاجی احمد جان ،بینک روڈ صدرراولپنڈی 051-5511445
ئ ۔دارالافتاء اہلسنت مرکز الاولیاء لاہور042-7114231
ئ ۔دارالافتاء اہلسنت حیدرآباد سندھ022-2621563
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الحادی عشر في القسم،ج۱،ص۳۴۱.
4 ۔المرجع السابق،ص۳۴۱۔۳۴۲.
5 ۔میاں بیوی۔ 6 ۔یعنی مصیبت۔ 7 ۔مشکل ،تکلیف دہ۔ 8 ۔برااثر۔ 9 ۔ میاں بیوی۔
ہے کہ مرد میرا غلام رہے جومیں چاہوں وہ ہو،چاہے کچھ ہو جائے مگر بات میں فرق نہ آئے جب ایسے خیالاتِ فاسدہ طرفین میں پیداہوں گے تو کیونکر نبھ سکے ۔ دن رات کی لڑائی اور ہر ایک کے اخلاق و عادات میں برائی اور گھر کی بربادی اسی کا نتیجہ ہے۔
قرآن مجید میں جس طرح یہ حکم آیا کہ :
( اَلرِجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ ) (1)
جس سے مردوں کی بڑائی ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی فرمایا کہ:
( وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ط ) (2)
جس کا صاف یہ مطلب ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھی معاشرت کرو۔
اس موقع پر ہم بعض حدیثیں ذکر کریں جن سے ہر ایک کے حقوق کی معرفت حاصل ہو مگر مرد کو یہ دیکھنا چاہيے کہ اس کے ذمہ عورت کے کیا حقوق ہیں انھيں ادا کرے اور عورت شوہر کے حقوق دیکھے اور پورے کرے، یہ نہ ہو کہ ہر ایک اپنے حقوق کا مطالبہ کرے اور دوسرے کے حقوق سے سروکار نہ رکھے اور یہی فساد کی جڑہے اور یہ بہت ضرور ہے کہ ہر ایک دوسرے کی بیجا باتوں کا تحمل کرے(3) اور اگر کسی موقع پر دوسری طرف سے زیادتی ہو تو آمادہ بفساد(4) نہ ہو کہ ایسی جگہ ضد پیدا ہو جاتی ہے اورسُلجھی ہوئی بات اُلجھ جاتی ہے۔
حدیث ۱: حاکم نے امّ المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :''عورت پر سب آدمیوں سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہے اور مرد پر اس کی ماں کا۔'' (5)
حدیث ۲تا۵: نسائی ابوہریرہ سے اور امام احمد معاذ سے اور حاکم بریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اگر میں کسی شخص کوکسی مخلوق کے ليے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔'' (6) اسی کے مثل ابو داود اور حاکم کی روایت قیس بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے، اس میں سجدہ کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ اﷲ تعالیٰ نے مردوں کا حق عورتوں کے ذمہ کر دیا ہے۔ (7)
1 ۔پ۵،النساء:۳۴. 2 ۔ پ۴،النساء:۱۹.
3 ۔یعنی ان باتوں کو برداشت کرے۔ 4 ۔یعنی لڑائی جھگڑے کے لئے تیار۔
5 ۔''المستدرک''،للحاکم،کتاب البروالصلۃ،باب اعظم الناس حقا...إلخ،الحدیث:۷۴۱۸،ج۵،ص۲۴۴.
و''کنزالعمال ''،کتاب النکاح،الحدیث:۴۴۷۶۴،ج۱۶،ص۱۴۱.
6 ۔''المستدرک''،للحاکم،کتاب البروالصلۃ،باب حق الزوجۃ،الحدیث:۷۴۰۶،ج۵،ص۲۴۰.
7 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب النکاح،باب فی حق الزوج علی المرأۃ،الحدیث:۲۱۴۰،ج۲،ص۳۳۵.
حدیث ۶: امام احمد و ابن ماجہ و ابن حبان عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم: اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ غیر خدا کے ليے سجدہ کرے تو حکم دیتا کہ عورت اپنے شوہر کو سجدہ کرے، قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی جان ہے! عورت اپنے پروردگار کا حق ادا نہ کر ے گی جب تک شوہر کے کُل حق ادا نہ کرے۔ (1)
حدیث ۷: امام احمد انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم: اگر آدمی کا آدمی کے ليے سجدہ کرنادرست ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کہ اس کا اس کے ذمہ بہت بڑا حق ہے قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر قدم سے سر تک شوہر کے تمام جسم میں زخم ہوں جن سے پیپ اور کچ لہو(2) بہتا ہو پھر عورت اسے چاٹے تو حقِ شوہر ادانہ کیا۔ (3)
حدیث ۸: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''شوہر نے عورت کو بلایا اس نے انکار کر دیا اور غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک اس عورت پر فرشتے لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔'' (4) اور دوسری روایت میں ہے کہ: ''جب تک شوہر اس سے راضی نہ ہو، اﷲ عزوجل اُس عورت سے ناراض رہتا ہے۔ (5)
حدیث ۹: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :''جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا دیتی ہے تو حورعین کہتی ہیں خدا تجھے قتل کرے ،اِسے ایذا نہ دے یہ تو تیرے پاس مہمان ہے ،عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔'' (6)
حدیث ۱۰: طبرانی معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عورت ایمان کا مزہ نہ پائے گی جب تک حقِ شوہر ادا نہ کرے۔'' (7)
حدیث ۱۱: طبرانی میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ فرمایا: ''جو عورت خدا کی اطاعت کرے اور شوہر کا حق ادا کرے
1
اور اسے نیک کام کی یاد دلائے اور اپنی عصمت اور اس کے مال میں خیانت نہ کرے تو اس کے اور شہیدوں کے درمیان جنت میں ایک درجہ کا فرق ہوگا، پھر اس کا شوہر باایمان نیک خو ہے تو جنت میں وہ اس کی بی بی ہے، ورنہ شہدا میں سے کوئی اس کا شوہر ہوگا۔'' (1)
حدیث ۱۲: ابو داود و طیالسی و ابن عساکر ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''شوہر کا حق عورت پر یہ ہے کہ اپنے نفس کو اس سے نہ روکے اور سوا فرض کے کسی دن بغیر اس کی اجازت کے روزہ نہ رکھے اگر ایساکیا یعنی بغیر اجازت روزہ رکھ لیا تو گنہگار ہوئی اور بدون اجازت (2) اس کا کوئی عمل مقبول نہیں اگر عورت نے کر لیا تو شوہر کو ثواب ہے اور عورت پر گناہ اور بغیر اجازت اس کے گھر سے نہ جائے، اگر ایسا کیا تو جب تک توبہ نہ کرے اﷲ (عزوجل) اور فرشے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ عرض کی گئی اگرچہ شوہر ظالم ہو۔ فرمایا: اگرچہ ظالم ہو۔'' (3)
حدیث ۱۳: طبرانی تمیم داری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عورت پر شوہر کا حق یہ ہے کہ اس کے بچھونے کو نہ چھوڑے اور اسکی قسم کو سچا کرے اور بغیر اس کی اجازت کے باہر نہ جائے اور ایسے شخص کو مکان میں آنے نہ دے جس کا آنا شوہر کو پسند نہ ہو۔'' (4)
حدیث ۱۴: ابونعیم علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرمایا: ''اے عورتو! خدا سے ڈرو اور شوہر کی رضا مندی کی تلاش ميں رہو، اس ليے کہ عورت کو اگر معلوم ہوتا کہ شوہر کا کیا حق ہے تو جب تک اس کے پاس کھانا حاضر رہتا یہ کھڑی رہتی۔'' (5)
حدیث ۱۵: ابونعیم حلیہ میں انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے اور ماہِ رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عفّت کی محافظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔'' (6)
حدیث ۱۶: ترمذی ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''جو عورت اس حال میں مری کہ شوہر راضی تھا، وہ جنت میں داخل ہوگی۔'' (7)
1 ۔ ''المعجم الکبیر''،الحدیث:۲۸،ج۲۴،ص۱۶.
2 ۔بغیراجازت۔
3 ۔''کنزالعمال ''،کتاب النکاح،رقم:۴۴۸۰۱،ج۱۶،ص۱۴۴.
4 ۔''المعجم الکبیر''،باب التاء،الحدیث:۱۲۵۸،ج۲،ص۵۲.
5 ۔''کنزالعمال ''،کتاب النکاح،رقم:۴۴۸۰۹،ج۱۶،ص۱۴۵.
6 ۔''حلیۃ الاولیائ''،الحدیث:۸۸۳۰،ج۶،ص۳۳۶.
7 ۔''جامع الترمذی''،أبواب الرضاع،باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ،الحدیث:۱۱۶۴،ج۲،ص۳۸۶.
حدیث ۱۷: بیہقی شعب الایمان میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''تین شخص ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور ان کی کوئی نیکی بلند نہیں ہوتی: (۱) بھاگا ہوا غلام جب تک اپنے آقاؤں کے پاس لوٹ نہ آئے اور اپنے کو ان کے قابو میں نہ دے دے۔ اور(۲) وہ عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہے اور (۳) نشہ والا جب تک ہوش میں نہ آئے ۔ (1)
یہ چند حدیثیں حقوقِ شوہر کی ذکر کی گئیں عورتوں پر لازم ہے کہ حقوقِ شوہر کا تحفظ کریں اور شوہر کو ناراض کر کے اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا وبال اپنے سر نہ لیں کہ اس میں دنیا و آخرت دونوں کی بربادی ہے نہ دنیا میں چین نہ آخرت میں راحت۔
اب بعض وہ احادیث ذکر کی جاتی ہیں کہ مردوں کو عورتوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہيے ، مردوں پر ضرور ہے کہ ان کا لحاظ کریں اور ان ارشاداتِ عالیہ کی پابندی کریں۔
حدیث ۱۸: بخاری و مسلم ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عورتوں کے بارے میں بھلائی کرنے کی وصیت فرماتا ہوں تم میری اس وصیت کو قبول کرو ۔ وہ پسلی سے پیدا کی گئیں اور پسلیوں میں سب سے زیادہ ٹیڑھی اوپر والی ہے اگر تو اسے سیدھا کرنے چلے تو توڑ دے گا اور اگر ویسی ہی رہنے دے تو ٹیڑھی باقی رہے گی۔'' (2)
اور مسلم شریف کی دوسری روایت میں ہے، کہ ''عورت پسلی سے پیدا کی گئی، وہ تیرے ليے کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی اگر تو اسے برتنا چاہے تو اسی حالت میں برت سکتا ہے اور سیدھا کرنا چاہے گا تو توڑ دے گا اور توڑنا طلاق دینا ہے۔'' (3)
حدیث ۱۹: صحیح مسلم میں انھیں سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مسلمان مرد عورت مومنہ کو مبغوض نہ رکھے اگر اس کی ایک عادت بُری معلوم ہوتی ہے دوسری پسند ہوگی۔'' (4) یعنی تمام عادتیں خراب نہیں ہوں گی جب کہ اچھی بُری ہر قسم کی باتیں ہو ں گی تو مرد کو یہ نہ چاہيے کہ خراب ہی عادت کو دیکھتا رہے بلکہ بُری عادت سے چشم پوشی کرے اور اچھی عادت کی طرف نظر کرے۔
حدیث ۲۰: حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں اچھے وہ لوگ ہیں جو عورتوں سے اچھی طرح پیش آئیں''۔(5)
1 ۔''شعب الایمان''،باب فی حقوق الاولاد والأہلین،الحدیث:۸۷۲۷،ج۶،ص۴۱۷.
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب النکاح،باب الوصاۃ بالنساء،الحدیث:۵۱۸۶،ج۳،ص۴۵۷.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الرضاع،باب الوصیۃ بالنساء،الحدیث:۶۱۔(۱۴۶۸)،ص۷۷۵.
4 ۔المرجع السابق،الحدیث:۶۳۔(۱۴۶۹)،ص۷۷۵.
5 ۔''سنن ابن ماجہ''،أبواب النکاح،باب حسن معاشرۃ النساء،الحدیث:۱۹۷۸،ج۲،ص۴۷۸.
حدیث ۲۱: صحیحین میں عبداﷲ بن زمعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کوئی شخص اپنی عورت کو نہ مارے جیسے غلام کو مارتا ہے پھر دوسرے وقت اس سے مجامعت کریگا۔'' (1)
دوسری روایت میں ہے، ''عورت کو غلام کی طرح مارنے کا قصد کرتا ہے (یعنی ایسا نہ کرے) کہ شاید دوسرے وقت اسے اپنا ہم خواب کرے۔'' (2) یعنی زوجیت کے تعلقات اس قسم کے ہیں کہ ہر ایک کو دوسرے کی حاجت اور باہم ایسے مراسم کہ ان کو چھوڑنا دشوار لہٰذا جوان باتوں کا خیال کریگا مارنے کا ہرگز قصد نہ کریگا۔
شادیوں میں طرح طرح کی رسمیں برتی جاتی ہيں، ہر ملک میں نئی رسوم ہر قوم و خاندان کے رواج اور طریقے جداگانہ جو رسمیں ہمارے ملک میں جاری ہیں ان میں بعض کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ رسوم کی بنا عرف پر ہے یہ کوئی نہیں سمجھتا کہ شرعاً واجب یا سنت یا مستحب ہیں لہٰذا جب تک کسی رسم کی ممانعت شریعت سے ثابت نہ ہواُس وقت تک اُسے حرام و ناجائز نہیں کہہ سکتے کھینچ تان کر ممنوع قرار دینا زیادتی ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ رسوم کی پابندی اسی حد تک کر سکتا ہے کہ کسی فعل حرام میں مبتلا نہ ہو۔
بعض لوگ اِس قدر پابندی کرتے ہیں کہ ناجائز فعل کرنا پڑے تو پڑے مگر رسم کا چھوڑنا گوارا نہیں، مثلاً لڑکی جوان ہے اور رسوم ادا کرنے کو روپیہ نہیں تو یہ نہ ہوگا کہ رسوم چھوڑ دیں اور نکاح کر دیں کہ سبکدوش ہوں(3) اور فتنہ کا دروازہ بند ہو۔ اب رسوم کے پورا کرنے کو بھیک مانگنے طرح طرح کی فکریں کرتے، اس خیال میں کہ کہیں سے مل جائے تو شادی کریں برسیں(4) گزار دیتے ہیں اور بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ بعض لوگ قرض لے کر رسوم کو انجام دیتے ہیں، یہ ظاہر کہ مفلس کو قرض دے کون پھر جب یوں قرض نہ ملا تو بنیوں(5) کے پاس گئے اور سودی قرض کی نوبت آئی سود لینا جس طرح حرام اسی طرح دینا بھی حرام حدیث میں دونوں پر لعنت آئی اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی لعنت کے مستحق ہوتے اور شریعت کی مخالفت کرتے ہیں مگر رسم چھوڑنا گوارا نہیں کرتے۔ پھر اگر باپ دادا کی کمائی ہوئی کچھ جائداد ہے تو اُسے سودی قرض میں مکفول کیا ورنہ رہنے کا جھونپڑا ہی گرو ی رکھا تھوڑے دنوں میں سود کا سیلاب سب کو بہا لے گیا۔ جائداد نیلام ہوگئی مکان بنیے کے قبضہ میں گیا دربدر مارے مارے پھرتے ہیں نہ کھانے کا ٹھکانہ، نہ رہنے کی جگہ اسکی مثالیں ہر جگہ بکثرت ملیں گی کہ ایسے ہی غیر ضروری
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب النکاح،باب مایکرہ من ضرب النساء،الحدیث:۵۲۰۴،ج۳،ص۴۶۵.
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب التفسیر،سورۃ (والشمس وضحٰھا)،الحدیث:۴۹۴۲،ج۳،ص۳۷۸.
3 ۔یعنی بری الذمہ۔ 4 ۔یعنی کئی سال۔ 5 ۔یعنی ہندوتاجروں۔
مصارف کی وجہ سے مسلمانوں کی بیشتر جائدادیں سود کی نذر ہو گئیں، پھر قرضخواہ کے تقاضے اور اُسکے تشدد آمیز(1) لہجہ سے رہی سہی عزت پر بھی پانی پڑ جاتا ہے۔ یہ ساری تباہی بربادی آنکھوں دیکھ رہے ہیں مگر اب بھی عبرت نہیں ہو تی اور مسلمان اپنی فضول خرچیوں سے باز نہیں آتے ،یہی نہیں کہ اسی پر بس ہو اس کی خرابیاں اسی زندگی دنیا ہی تک محدود ہوں بلکہ آخر ت کا وبال الگ ہے۔ بمو جب حدیث صحیح لعنت کا استحقاق والعیاذ باﷲ تعالیٰ۔
اکثر جاہلوں میں رواج ہے کہ محلہ یا رشتہ کی عورتیں جمع ہوتی ہیں اور گاتی بجاتی ہیں یہ حرام ہے کہ اولاً ڈھول بجانا ہی حرام پھر عورتوں کا گانا مزید براں عورت کی آواز نامحرموں کو پہنچنا اور وہ بھی گانے کی اور وہ بھی عشق و ہجر و وصال کے اشعار یا گیت۔ جو عورتیں اپنے گھروں میں چِلّا کر بات کرنا پسند نہیں کرتیں گھر سے باہر آواز جانے کو معیوب جانتی ہیں ایسے موقعوں پر وہ بھی شریک ہو جاتی ہیں گویا ان کے نزدیک گانا کوئی عیب ہی نہیں کتنی ہی دُور تک آواز جائے کوئی حرج نہیں نیز ایسے گانے میں جوان جوان کوآری لڑکیاں بھی ہوتی ہیں ان کا ایسے اشعار پڑھنا یا سننا کس حد تک ان کے دبے ہوئے جوش کو ابھارے گا اور کیسے کیسے ولولے پیدا کریگا اور اخلاق و عادات پر اس کا کہاں تک اثر پڑے گا۔ یہ باتیں ایسی نہیں جن کے سمجھانے کی ضرورت ہو ثبوت پیش کرنے کی حاجت ہو۔
نیز اسی ضمن میں رت جگا (2) بھی ہے کہ رات بھر گاتی ہیں اور گلگلے پکتے ہیں، صبح کو مسجد میں طاق بھرنے جاتی ہیں۔ یہ بہت سی خرافات پر مشتمل ہے۔ نیاز گھر میں بھی ہو سکتی ہے اور اگر مسجد ہی میں ہو تو مرد لے جا سکتے ہیں عورتوں کی کیا ضرورت، پھر اگر اس رسم کی ادا کے ليے عورت ہی ہونا ضرور ہو تو اس جمگھٹے(3) کی کیا حاجت ،پھر جوانوں اور کنواریوں کی اس میں شرکت اور نامحرم کے سامنے جانے کی جرأت کس قدر حماقت ہے، پھر بعض جگہ یہ بھی دیکھا گیا کہ اس رسم کے ادا کرنے کے ليے چلتی ہیں تو وہی گانا بجانا ساتھ ہوتا ہے اسی شان سے مسجد تک پہنچتی ہیں ہاتھ میں ایک چومک ہوتا ہے یہ سب ناجائزجب صبح ہوگئی چراغ کی کیا ضرورت اور اگر چراغ کی حاجت تو مٹی کا کافی ہے آٹے کا چراغ بنانا اور تیل کی جگہ گھی جلانا فضول خرچی ہے۔
دولھا ، دلھن کو بٹنا لگانا (4) ، مائیوں بٹھانا،جائز ہے ان میں کوئی حرج نہیں۔ دولھا کو مہندی لگانا، ناجائز ہے۔ يوہيں کنگنا باندھنا، ڈال بَری کی رسم کہ کپڑے وغیرہ بھیجے جاتے ہیں جائز۔ دولھا کو ریشمی کپڑے پہنانا حرام۔ يوہيں مغرق جوتے(5) بھی ناجائزاور خالص پھولوں کا سہرا جائز بلاوجہ ممنوع نہیں کہا جا سکتا۔
1 ۔سخت ۔ 2 ۔ایک رسم جس میں رات بھرجاگتے ہیں۔ 3 ۔ہجوم ،ٹولی۔
4 ۔شادی بیاہ کی ایک رسم جس میں ایک خوشبودار مسالہ دولہااور دلہن کے جسم کو صاف اورملائم کرنے کے لیے مَلاجاتاہے ،ابٹن لگانا۔
5 ۔وہ جوتے جس پرمکمل سونے چاندی کا کام کیا ہوا ہو۔
ناچ باجے آتش بازی حرام ہیں۔ کون اس کی حرمت سے واقف نہیں مگر بعض لوگ ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ یہ نہ ہوں تو گویا شادی ہی نہ ہوئی ،بلکہ بعض تو اتنے بے باک ہوتے ہیں کہ اگر شادی میں یہ محرمات(1) نہ ہوں تو اُسے غمی اور جنازہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ خیال نہیں کرتے کہ ایک تو گناہ اور شریعت کی مخالفت ہے ،دوسرے مال ضائع کرنا ہے ،تیسرے تمام تماشائیوں کے گناہ کا یہی سبب ہے اور سب کے مجموعہ کے برابر اس پر گناہ کا بوجھ۔آتش بازی میں کبھی کپڑے جلتے کبھی کسی کے مکان یا چھپر میں آگ لگ جاتی ہے کوئی جل جاتا ہے۔
ناچ میں جن فواحش و بدکاریوں اور مخرب اخلاق(2) باتوں کا اجتماع ہے ان کے بیان کی حاجت نہیں، ایسی ہی مجلسوں سے اکثر نوجوان آوارہ ہو جاتے ہیں، دھن دولت برباد کر بیٹھتے ہیں، بازاریوں سے تعلق اور گھر والی سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ کیسے بُرے بُرے نتائج رونما ہوتے ہیں اور اگر ان بیہودہ کاریوں سے کوئی محفوظ رہا تو اتنا ضرور ہوتا ہے کہ حیا و غیرت اٹھا کر طاق پر رکھ دیتا ہے۔ بعضوں کو یہاں تک سنا گیا ہے کہ خود بھی دیکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ جوان بیٹوں کو دکھاتے ہیں۔ ایسی بد تہذیبی کے مجمع میں باپ بیٹے کا ساتھ ہونا کہاں تک حیا و غیرت کا پتا دیتا ہے۔
شادی میں ناچ باجے کا ہونا بعض کے نزدیک اتنا ضروری امر ہے کہ نسبت (3) کے وقت طے کر لیتے ہیں کہ ناچ لانا ہوگا ورنہ ہم شادی نہ کریں گے۔ لڑکی والا یہ نہیں خیال کرتا کہ بیجا صرف نہ ہو تو اُسی کی اولاد کے کام آئے گا۔ ایک وقتی خوشی میں یہ سب کچھ کر لیا مگر یہ نہ سمجھا کہ لڑکی جہاں بیاہ کر گئی وہاں تو اب اُس کے بیٹھنے کا بھی ٹھکانا نہ رہا۔ ایک مکان تھا وہ بھی سود میں گیا اب تکلیف ہوئی تو میاں بی بی میں لڑائی ٹھنی اور اس کا سلسلہ دراز ہوا تو اچھی خاصی جنگ قائم ہوگئی، یہ شادی ہوئی یا اعلانِ جنگ۔ ہم نے مانا کہ یہ خوشی کا موقع ہے اور مدت کی آرزو کے بعد یہ دن دیکھنے نصیب ہوئے بے شک خوشی کرو مگر حد سے گزرنا اور حدودِ شرع سے باہر ہو جانا کسی عاقل کا کام نہیں۔
ولیمہ سنت ہے بنیت اتباعِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ولیمہ کرو خویش و اقارب اور دوسرے مسلمانوں کو کھانا کھلاؤ۔ بالجملہ مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے ہر کام کو شریعت کے موافق کرے، اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی مخالفت سے بچے اسی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے۔
وَھُوَ حَسْبِیْ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ وَاللہُ الْمُسْتَعَانُ وَ عَلَیْہِ التُّکْلَان.
1 ۔ممنوعات شرعیہ۔
2 ۔اخلاق بگاڑنے والی۔
3 ۔یعنی منگنی۔