Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
حدیث ۱: صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ'' اگر لوگوں کو محض دعوے کی وجہ سے دے دیا جایا کرے تو کتنے لوگ خون اور مال کا دعویٰ کر ڈالیں گے و لیکن مدعیٰ علیہ (1)پر حلْف(2) ہے ''اور بیہقی کی روایت میں ہے'' ولیکن مدعی (3)کے ذمٍّہ بَیِّنہ (گواہ) ہے اور مُنکِرپر قسم۔'' (4)
حدیث ۲: امام احمد و بیہقی ابو ذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ''جو شخص اُس چیز کا دعویٰ کرے جو اُس کی نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں اور وہ جہنم کو اپنا ٹھکانا بنائے۔'' (5)
حدیث ۳: طبرا نی واثلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم:''بہت بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ مرد اپنی اولاد سے انکار کردے۔'' (6)
حدیث ۴: امام احمد و طبرانی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم :''جو اپنی اولاد سے انکار کرے کہ اسے دنیا میں رُسوا کرے قیامت کے دن علی رؤس الاشہاد(7) اُس کو اﷲ تعالیٰ رسوا کریگا یہ اُسکا بدلہ ہے۔ ''(8)
حدیث ۵: عبدالرزاق نے ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی میری عورت کے سیاہ بچہ پیدا ہوا ہے (یہ شخص اشارۃً اُس بچہ سے انکار کرنا چاہتا ہے) حضور( صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم ) نے ارشاد فرمایا :''تیرے یہاں اونٹ ہیں۔ ''عرض کی ہاں، فرمایا: ''اُن کے رنگ کیا کیا ہیں؟'' عرض کی سب سرخ
1 ۔جس پردعویٰ کیاگیا ہے۔ 2 ۔قسم۔ 3 ۔دعویٰ کرنے والا۔
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأقضیۃ،باب الیمین علی المدعیٰ علیہ،الحدیث:۱۔(۱۷۱۱)،ص۹۴۱.
و''السنن الکبری''،للبیہقي،کتاب الدعوٰی والبیّنات،باب البیّنۃ علی المدعی...إلخ،الحدیث:۲۱۲۰۱،ج۱۰،ص۴۲۷.
5 ۔''المسند''للإمام احمد بن حنبل،مسند الأنصار/حدیث أبي ذرالغفاري،الحدیث:۲۱۵۲۱،ج۸،ص۱۰۷.
6 ۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۲۳۸،ج۲۲،ص۹۸.
7 ۔علی الاعلان، مخلوق کے سامنے۔
8 ۔''المسند''للإمام احمد بن حنبل،مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب،الحدیث:۴۷۹۵،ج۲،ص۲۵۵.
ہیں۔ فرمایا:''اُن میں کوئی بھورے رنگ کا بھی ہے۔ ''عرض کی چنداونٹ بھورے بھی ہیں۔ فرمایا :''سرخ اونٹوں میں بھورے کہاں سے پیدا ہو گئے۔'' عرض کی مجھے معلوم نہیں شاید رگ نے کھینچ لیا ہو یعنی اُن کی اُوپر کی پشت میں کوئی بھورا ہوگا۔ اُس کا یہ اثر ہو گا۔ فرمایا:''تیرے بیٹے کو بھی شاید رگ نے کھینچ لیا ہو'' (1)یعنی تیرے آبااجداد میں کوئی سیاہ ہو اُس کا یہ اثر ہو۔ اُس شخص کو نسب سے انکار کی اجازت نہیں دی۔
دعویٰ اُس قول کو کہتے ہیں جو قاضی کے سامنے اِس ليے پیش کیا گیا جس سے مقصود دوسرے شخص سے حق طلب کرنا ہے۔ (2)
مسئلہ ۱: دعویٰ میں سب سے زیادہ اہم جو چیز ہے وہ مدعی ومدعیٰ علیہ کا تعیّن ہے اس میں غلطی کرنا فیصلہ کی غلطی کا سبب ہوتا ہے عام لوگ تو اُس کو مدعی جانتے ہیں جو پہلے قاضی کے پاس جاکر دعویٰ کرتا ہے اور اس کے مقابل کو مدعیٰ علیہ۔ مگر یہ سطحی و ظاہری بات ہے بہت مرتبہ یہ ہوتا ہے کہ جو صورۃًمدعی ہے وہ مدعیٰ علیہ ہے اور جو مدعیٰ علیہ ہے وہ مدعی۔ فقہا نے اس کی تعریفات میں بہت کچھ کلام ذکر کیے ہیں اس کی ایک تعریف یہ ہے کہ مدعی وہ ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے کو ترک کردے تو اسے مجبور نہ کیا جائے اور مدعیٰ علیہ وہ ہے جو مجبور کیا جاتا ہو مثلاً ایک شخص کے دوسرے پر ہزار روپے ہیں اگر وہ دائن(3) مطالبہ نہ کرے تو قاضی کبھی اس کو دعویٰ کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا اگر چہ قاضی کو معلوم ہو اور مدیون(4) اُس کے دعوٰے کے بعد مجبور ہے۔ اُس کو لا محالہ(5) جواب دینا ہی پڑے گا۔ ظاہر میں مدعی اور حقیقت میں مدعیٰ علیہ کی ایک مثال یہ ہے ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ فلاں کے پاس میری امانت ہے دلادی جائے۔ امین (6)یہ کہتا ہے کہ میں نے امانت واپس کردی۔ اس کا ظاہر مطلب یہ ہوا کہ اُس کی امانت مجھ کو تسلیم ہے مگر میں دے چکا ہوں یہ امین کا ایک دعویٰ ہے مگر حقیقت میں امین ضمان سے منکر ہے۔ کیونکہ امین جب امانت سے انکار کرے تو امین نہیں رہتا بلکہ اُس پر ضمان واجب ہو جاتا ہے۔ لہٰذا پہلے شخص کے دعوے کا حاصل طلبِ ضمان (7)ہے۔ اور اس کے جواب کا محصل وجوبِ ضمان سے انکار ہے اب اس صورت میں حلف (8)امین کے ذمہ ہوگا
1 ۔''المصنف''،لعبدالرزاق،کتاب الطلاق،باب الرجل ینتفي من ولدہ،الحدیث:۱۲۴۱۹،ج۷،ص۷۴،۷۵.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ ،ج۸،ص۳۲۷.
3 ۔قرض دینے والا۔ 4 ۔مقروض۔
5 ۔یعنی لازمی۔ 6 ۔جس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے ،امانت دار۔
7 ۔تاوان طلب کرنا۔ 8 ۔قسم۔
اور حلف سے کہہ دے گا تو بات اسی کی معتبر ہوگی۔(1) (ہدايہ)
مسئلہ ۲: مدعی اگر اصیل ہے یعنی خود اپنے حق کا دعوٰی کرتا ہے تو اُس کو دعوے میں یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ فلاں کے ذمّہ میرا یہ حق ہے اور اگر اصیل نہیں ہے بلکہ دوسرے شخص کا قائم مقام ہے مثلاً وکیل یا وصی ہے تو یہ بتانا ہوگا کہ فلاں شخص جس کا میں قائم مقام ہوں اُس کا فلاں کے ذمہ یہ حق ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳: دعویٰ وہی کرسکتا ہے جو عاقل تمیزدار ہو مجنون یا اتنا چھوٹا بچہ جس کو کچھ تمیز نہیں ہے دعویٰ نہیں کر سکتا۔ نابالغ سمجھ وال دعویٰ کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ جانبِ ولی سے ماذون ہو۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۴: دعوے میں مدعی کو جزم و یقین کے ساتھ بیان دینا ہوگا۔ اگر یہ کہے گا مجھے ایسا شبہہ ہوتا ہے یا میرا گمان یہ ہے تو دعویٰ قابلِ سماعت(4) نہ ہو گا۔ (5) ( ردالمحتار)
مسئلہ ۵: دعوے کی صحت کے شرائط یہ ہیں:
(۱) جس چیز کا دعویٰ کرے وہ معلوم ہو۔ مجہول شے کا دعویٰ مثلاً فلاں کے ذمہ میں میرا کچھ حق ہے۔ قابلِ سماعت نہیں۔
(۲) دعویٰ ثبوت کا احتمال رکھتا ہو لہٰذا ایسا دعویٰ جس کا وجود محال(6)ہے باطل ہے مثلاً کسی ایسے کو اپنا بیٹا بتاتا ہے کہ اُس کی عمر اس سے زائد ہے یا اُس عمر کا اس کا بیٹا نہیں ہو سکتا یا معروف النسب(7) کو کہتا ہے یہ میرا بیٹا ہے قابلِ سماعت نہیں۔ جو چیز عادۃً محال ہے وہ بھی قابلِ سماعت نہیں مثلاً ایک شخص فقرو فاقہ میں مبتلا ہے سب لوگ اُسکی محتاجی سے واقف ہیں اغنیا سے زکاۃلیتا ہے وہ يہ دعویٰ کرتا ہے کہ فلاں شخص کو میں نے ایک لاکھ اشرفی قرض دی ہے۔ وہ مجھے دلادی جائے۔ یا کہتا ہے فلاں امیرکبیر نے میرے لاکھوں روپے غصب کر لیے وہ مجھ کو دلادیے جائیں۔
(۳) خود مدعی اپنی زبان سے دعویٰ کرے بلا عذر اسکی طر ف سے دوسرا شخص دعو یٰ نہیں کرسکتا اگر مدعی زبانی دعویٰ کرنے سے عاجز ہے تولکھ کر پیش کرے ا و ر اگرقاضی اسکی زبان نہ سمجھتا ہو تو متر جم مقرر کرے۔
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،ج۲،ص۱۵۴.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۲۹.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔سننے کے قابل یعنی مقدمہ چلانے کے قابل۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۰.
6 ۔جس کاپایا جانا ممکن ہی نہیں۔ 7 ۔یعنی جس کاباپ معلوم ہو۔
(۴) مدعیٰ علیہ یا اُس کے نائب کے سامنے اپنے دعوے کو بیان کرے اور اُس کے سامنے ثبوت پیش کرے۔
(۵) دعوے میں تناقض نہ ہو یعنی اس سے پہلے ایسی بات نہ کہی ہو جو اس دعوے کے مناقض ہو مثلاً پہلے مدعیٰ علیہ کی ملک کا خود اقرار کر چکا ہے اب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اُس اقرار سے پہلے میں نے یہ چیز اُس سے خرید لی ہے۔ نسب اور حریت (1) میں تناقض مانع دعویٰ نہیں۔
(۶) دعویٰ ایسا ہو کہ بعد ثبوت خصم پر کوئی چیز لازم کی جاسکے یہ دعویٰ کہ میں اُس کا وکیل ہوں بیکار ہے۔ (2)(خانیہ،بحرالرائق،منحۃالخالق، عالمگیری)
مسئلہ ۶: جب دعویٰ صحیح ہو گیا تومدعیٰ علیہ پر جواب دینا ہاں یا نہ کے ساتھ لازم ہے اگر سکوت کریگا (3) تو یہ بھی انکار کے معنے میں ہے۔ اس کے مقابلے میں مدعی کو گواہ پیش کرنے کا حق ہے یا گواہ نہ ہونے کی صورت میں مدعیٰ علیہ پر حلف ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۷: منقول شے کا دعویٰ ہو تو يہ بھی بیان کرنا ہوگا کہ وہ مدعیٰ علیہ کے قبضہ میں ناحق طور پر ہے کیونکہ ہوسکتاہے کہ چیز مدعی کی ہو اورمدعیٰ علیہ کے پاس مرہون ہو (5) یا ثمن نہ دینے کی وجہ سے اس نے روک رکھی ہو۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۸: ایک چیز میں ملکِ مطلق کا دعویٰ کرتا ہے اور وہ چیز مدعیٰ علیہ کے مستاجر(7) یا مستعیر(8) یا مرتہن (9)کے قبضہ میں ہے اس صورت میں مالک و قابض(10) دونوں کو حاضر ہونا ضروری ہے ہا ں اگر مدعی يہ کہتا ہے کہ مالک کے اجارہ پر
1 ۔آزادہوناغلام نہ ہونا۔
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الدعویٰ والبیّنات،باب الدعویٰ،ج۲،ص۴۸،۴۹.
و''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۲۷.
و''منحۃ الخالق''حاشیۃ ''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۲۸.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الأول،ج۴،ص۲،۳.
3 ۔خاموش رہے گا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۱.
5 ۔گروی رکھی ہو۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۱.
7 ۔کرایہ دار۔ 8 ۔عارضی طورپراستعمال کے لیے کسی سے کوئی چیز لینے والا۔
9 ۔جس کے پاس چیزگروی رکھی جائے۔ 10 ۔جس کا قبضہ ہے اس کوقابض کہتے ہیں۔
دینے سے قبل میں نے خریدی ہے تو تنہا مالک خصم ہے اسی کے حاضر ہو نے کی ضرورت ہے۔ (1)(بحر)
مسئلہ ۹: زمین کے متعلق دعویٰ ہے اور زمین مزار ع کے قبضہ میں ہے اگر بیج اس نے اپنے ڈالے ہیں یا زراعت اوگ چکی ہے تو مزارع(2) کا حاضر ہو نا بھی ضروری ہے و رنہ نہیں۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۱۰: منقول چیز اگر ایسی ہو کہ اسکے حاضر کرنے میں دشواری نہ ہو تو مدعیٰ علیہ کے ذمہ اس کا حاضر کرنا ہے تاکہ دعویٰ اور شہادت اور حلف میں اسکی طرف اشارہ کیا جاسکے اور اگر وہ چيز ہلاک ہو چکی ہے یا غائب ہو گئی ہے تو مدعی اسکی قیمت بیان کردے اوراگر چیز موجود ہے مگر اسکے لانے میں دشواری ہو اگرچہ فقط اتنی ہی کہ اُ س کے لانے میں مزدوری دینی پڑے گی تکلیف ہوگی جیسے چکی اور غلہ کی ڈھیری بکریوں کا ریوڑتو مدعی قیمت ذکر کریگا اور قاضی معاینہ کے لیے اپنا امین بھیجے گا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: دعویٰ کیا کہ فلاں شخص نے میری فلاں چیز غصب کر لی ا ورمدعی اُسکی قیمت نہیں بتا تا ہے جب بھی دعویٰ مسموع ہے یعنی مدعیٰ علیہ منکر ہے تو اُس پر حلف دیا جا ئے گا اور مقر ہے(5)یا قسم سے انکار کرتا ہے توبیان کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: چند جنس و نوع و صفت کی چیزوں کا دعویٰ کیا اور تفصیل کے ساتھ ہر ایک کی قیمت نہیں بتا تا مجموعی قیمت بتا دینا کافی ہے۔ اِس کے ثبو ت کے گوا ہ ليے جائیں گے ا ورحلف کی ضرورت ہو گی تو مجموعہ پر ایک دم حلف دیا جا ئے گا۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: مد عیٰ علیہ نے مد عی کی کوئی چیز ہلا ک کردی ہے۔ اُس کی قیمت دلا پا نے کا دعوٰی ہے تو مدعی اُس کی جنس و نوع بیان کرے تاکہ قاضی کو معلوم ہو سکے کہ کیا فیصلہ دینا چاہیے کیونکہ بعض چیزیں مثلی ہیں جن کا تاوان مثل سے ہے اور بعض قیمی جن کا تاوان قیمت سے دلایا جائے گا۔ (8)(درمختار، عالمگیری)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۳۱.
2 ۔کسان،کاشتکار۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۳۱.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۱.
5 ۔اقرار کرتاہے۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۲.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۲.
8 ۔المرجع السابق،ص۳۳۳.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثانی،ج۴،ص۷.
مسئلہ ۱۴: کُرتے کا دعویٰ ہو تو جنس و نوع وصفت و قیمت بیان کرنے کے علا وہ یہ بھی بیان کرنا ہو گا کہ زنانہ ہے یا مردانہ بڑا ہے یا چھو ٹا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: ودِیعت (امانت) کا دعویٰ ہو تو یہ بیان کر نابھی ضروری ہے کہ یہ چیز فلاں جگہ اُس کے پاس امانت رکھی گئی تھی خواہ وہ چیز ایسی ہو جس کے لیے بار برداری صرف کرنی پڑے(2) یانہ پڑے اور غصب کا دعویٰ ہو تو جگہ بیان کرنے کی وہا ں ضرورت ہے کہ اُس چیز کے جگہ بدلنے میں باربردا ری صرف کرنی پڑے ورنہ جگہ بیان کرنا ضرو ری نہیں۔ غیر مثلی چیز کے غصب کا دعویٰ ہو تو غصب کے د ن جو اُس کی قیمت ہو وہ بیا ن کرے۔ (3)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۶: جائدادِغیرمنقولہ(4) کا دعویٰ ہو تو اُس کے حدود کا بیان کرنا ضرور ہے دعوے میں بھی اور شہادت میں بھی اگریہ جائدا دبہت مشہور ہو جب بھی ا ِس کے حدو د کا بیان کر نا ضروری ہے گواہوں کو وہ مکان جس کے متعلق دعویٰ ہے معلوم ہے یعنی بعینہٖ اُس کو پہچانتے ہوں تو اُن کو حدود کا ذکر کرنا ضروری نہیں اور عقار( غیرمنقولہ) میں یہ بھی بیان کرنا ہو گا کہ وہ کس شہر کس محلہ کس کوچہ میں ہے۔ (5) (ہدايہ، درمختار)
مسئلہ ۱۷: تین حدوں کا بیا ن کر نا کا فی ہے۔ یعنی مدعی یاگواہ چوتھی حد چھو ڑگیا دعویٰ صحیح ہے اور گواہی بھی صحیح اوراگر چوتھی حد غلط بیان کی یعنی جوچیز اُس جانب ہے اُس کے سوا دوسری چیز کو بتا یا تو نہ دعویٰ صحیح ہے نہ شہادت کیونکہ مدعیٰ علیہ یہ کہے گا کہ یہ چیز میرے پاس نہیں ہے پھر مجھ پر دعویٰ کیوں ہے۔ اور اگر مدعیٰ علیہ یہ کہے کہ یہ محدود میرے قبضہ میں ہے مگر تو نے حدود کے ذکر میں غلطی کی یہ بات قابل ا لتفات نہیں یعنی مدعیٰ علیہ پر ڈگری نہ ہو گی ہا ں دونو ں نے بالاتفاق غلطی کا اعتراف کیا تو سرے سے مقدمہ کی سماعت ہوگی (6) ( خانیہ) اور اگر صرف دو ہی حدیں ذکر کیں تو نہ دعویٰ صحیح ہے نہ شہادت۔ رہی یہ بات کہ یہ کیونکر معلوم ہو کہ مدعی یاشا ہد نے حد کے بیان میں غلطی کی ہے اس کا بیان خود اُس کے ا قرار سے ہو گا مدعیٰ علیہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثانی،ج۴،ص۷.
2 ۔یعنی چیز لانے کی مزدوری دینی پڑے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۴.
و''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۳۷.
4 ۔وہ جائداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ کی جاسکتی ہو جیسے زمین وغیرہ۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،ج۲،ص۱۵۴،۱۵۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۴.
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الدعویٰ والبَیّنات،فصل فی دعوی الدورِوالأراضی،ج۲،ص۶۴.
اُس کی غلطی پر گواہ نہیں پیش کریگا۔ (1) (بحر،درمختار)
مسئلہ ۱۸: تین حدیں ذکر کردی ہیں۔ ایک باقی ہے جب یہ صحیح ہے توچو تھی جانب کہا ں تک چیز شمار ہو گی اس کی صورت یہ کی جا ئے گی کہ تیسری حدجہا ں ختم ہوئی ہے وہاں سے پہلی حدکے کنارہ تک ایک خطِ مستقیم کھینچا جائے اور اُ س کو چو تھی حد قر ا ردیا جائے۔ (2) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۹: راستہ حد ہو سکتا ہے اس کا طول و عرض بیان کر نا ضرور نہیں نہر کو حد قرار نہیں دے سکتے۔ شہر پناہ کو حد قرار دے سکتے ہیں اور خندق کو نہیں۔ اگر یہ کہا کہ فلاں جانب فلاں شخص کی زمین یا مکان ہے اگرچہ اس شخص کے اس شہر یا گاؤں میں بہت مکان ،بہت زمینیں ہیں جب بھی یہ دعویٰ اور شہادت صحیح ہے۔ (3) (بحر)
مسئلہ ۲۰: حدود میں جو چیزیں لکھی جا ئیں گی اُن کے مالکو ں کے نام اور اُن کے باپ اوردادا کے نام لکھے جائیں یعنی فلاں بن فلا ں بن فلاں اور اگر وہ شخص معروف و مشہور ہو تو فقط اُس کا ہی نام کا فی ہے اگر کو ئی جائدادِموقوفہ کسی جانب میں واقع ہو تو اُس کو اِس طرح تحریر کیا جائے کہ پوری طرح ممتاز ہوجائے۔ مثلاًاگر وہ واقف کے نام سے مشہور ہے تو اُسکا نام جن لوگوں پر وقف ہے اُن کے نام سے مشہور ہو تو اُن کے نام لکھے جائیں۔ (4)( درمختار ،ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: مکان کا دعویٰ کیا قاضی نے دریافت کیا تم اُس مکان کے حدود کو پہچا نتے ہواُس نے کہا نہیں دعو یٰ خارج ہو گیا ا ب پھر دعویٰ کرتا ہے اور حدود بیا ن کرتا ہے یہ دعویٰ مسموع نہ ہو گا (5)اور اگر پہلی مرتبہ کے دعوے میں اُس نے یہ کہا تھا کہ جن لوگوں کے مکان حدودمیں واقع ہیں اُن کے نام مجھے نہیں معلوم ہیں اس وجہ سے خارج ہوا تھا اور اب دعوے کے ساتھ نام بتاتا ہے تو یہ دعویٰ مسمو ع ہو گا۔ (6) (عا لمگیری)
مسئلہ ۲۲: عقار(7) میں مدعی کو یہ ذکر کرنا ہو گا کہ مدعیٰ علیہ اُس پر قا بض ہے کیونکہ بغیر اس کے خصم(8) نہیں ہو سکتا
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۳۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۵.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۴۰.
3 ۔المرجع السابق،ص۳۳۸.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۵.
5 ۔قابل قبول نہ ہوگا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۱۱.
7 ۔غیرمنقولہ جائیداد جیسے زمین وغیرہ۔ 8 ۔یعنی مدمقابل۔
اور دونوں کا متفق ہو کر مدعیٰ علیہ کا قبضہ ظا ہر کرنا یہ کافی نہیں بلکہ گواہوں سے قبضہ ء مدعیٰ علیہ ثابت کرنا ہو گا یا قاضی کو ذاتی طور پر اس کا علم ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایک مکان کے متعلق زید نے عمرو (1)پر دعویٰ کردیا اور عمرو نے اقرار کرلیا زید کے موافق فیصلہ ہوگیا حالانکہ وہ مکان نہ زید کا ہے نہ عمرو کا بلکہ تیسرے کا ہے اور اُس کے قبضہ میں ہے یہ دونو ں مل گئے ا ن میں ایک مدعی بن گیا ایک مدعیٰ علیہ تا کہ ڈگری کراکے آپس میں بانٹ لیں۔ (2)( درمختار ،ہدایہ)
مسئلہ ۲۳: عقار میں اگر غصب کا دعویٰ ہو کہ میرا مکان فلاں نے غصب کر لیا یا خریداری کا دعویٰ ہو کہ میں نے وہ مکان خریدا ہے تو اس کی ضرورت نہیں کہ گواہو ں سے مدعیٰ علیہ کا قابض ہو نا ثابت کرے کہ فعل کا دعویٰ قابض اور غیرقابض دونوں پر ہوتا ہے۔ فرض کیا جائے کہ وہ قابض نہیں ہے تو دعوے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ (3)( درمختار)
مسئلہ ۲۴: یہ دعویٰ کیا کہ فلاں شخص کے مکان میں میرے مکان کی نالی جاتی ہے یا اُس کے مکان میں پر نالہ(4) گرتا ہے یا آبچک (5)ہے تو یہ بیا ن کرنا ہو گا کہ برساتی پانی جانے کا راستہ ہے یا وہا ں گرتا ہے یا استعمالی پانی بھی اور نالی یا آبچک کی جگہ بھی متعین کرنی ہو گی کہ اُس مکان کے کس حصہ میں ہے۔ (6) (عا لمگیری)
مسئلہ ۲۵: یہ دعویٰ کیا کہ فلاں شخص نے میری زمین میں درخت نصب کیے(7) ہیں تو زمین کو بتانا ہوگاکہ کس زمین میں درخت لگائے اور کیا درخت لگائے ہیں۔ یہ دعویٰ کیاکہ میری زمین میں مکان بنالیاہے تو زمین کو بیان کرے اور مکان کا طول و عرض (8)بیان کرے اور یہ کہ اینٹ کا بنایا ہے یا کچّا مکان ہے۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: دوسرے کا مکان بیع کر دیا اور مشتری کو قبضہ بھی دے دیا اب مالک ا ۤیااور اُس نے بائع پر دعویٰ کیا اُسکی چند صورتیں ہیں اگر مالک کا یہ مقصد ہے کہ مکان واپس لوں تو دعویٰ صحیح نہیں کہ بائع کے پاس مکان کب ہے جو اُس سے لے گا۔
1 ۔اسے عَمْرْ پڑھتے ہیں اس میں واوصِرف لکھاجاتاہے پڑھا نہیں جاتا۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۶.
و''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،ج۲،ص۱۵۵.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۷.
4 ۔بالا خانے یا چھت کی نالی۔ 5 ۔مکان کے پچھواڑے چھت کاپانی گرنے کی جگہ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۱۱.
7 ۔درخت لگادئیے۔ 8 ۔لمبائی، چوڑائی۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۱۱.
اور اگر یہ مقصود ہے کہ اُس سے تاوان لے تو امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا مسلک معلوم ہے کہ عقار میں امام کے نزدیک غصب سے ضمان نہیں مگر چونکہ اس شخص نے بیع کر کے تسلیم مبیع کی ہے اس میں اصح قول یہی ہے کہ ضمان واجب ہے اور اگر مالک یہ چاہتا ہے کہ بیع جائز کر کے بائع سے ثمن وصول کرلے یہ دعویٰ صحیح ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: ایک شخص نے جائدادغیرمنقولہ (2)بیع کی اور بائع(3) کا بیٹایا بی بی یا بعض دیگر قریبی رشتہ دار وہاں حاضر تھے۔ اور مشتری (4) مبیع پر قبضہ کر کے ایک زمانہ تک تصرف کرتارہا پھر ان حاضرین میں کسی نے مشتری پر دعویٰ کیا کہ بائع مالک نہ تھا میں مالک ہوں یہ دعویٰ مسموع نہ ہوگا اور اس کا سکوت (5)ملک بائع کا اقرار متصور ہوگا۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: یہ دعویٰ کیا کہ یہ مکان جو مدعیٰ علیہ کے قبضہ میں ہے یہ میرے باپ کا ہے جو مرگیا اور اس کو ترکہ(7) میں چھوڑا اور میرے باپ نے اس مکان کے علاوہ دوسری اشیا جانور وغیرہ بھی ترکہ میں چھوڑیں اور میں اور میری ایک بہن کل دو وارث چھوڑے ہم نے ترکہ کو باہم تقسیم کر لیا اوریہ مکان تنہا میرے حصہ میں پڑا میری بہن نے اپنا کل حصہ اُن اشیا سے وصول کرلیایہ مکان خاص میری ملک ہے یہ دعویٰ مسموع ہے۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: یہ دعویٰ کیا کہ یہ مکان مجھے اپنے باپ یا ماں سے میراث میں ملا ہے اور مورث(9) کا نام ونسب کچھ نہیں بیان کیا یہ دعویٰ مسموع نہیں۔ (10)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: یوں دعویٰ کیا کہ اس کے پاس جوفلاں چیز ہے وہ میری ہے کیونکہ اُس نے میرے ليے اقرار کیا ہے یا اُس پر میرے ہزار روپے ہیں اس ليے کہ اُس نے ایسا اقرار کیا ہے یعنی اقرار کو دعوے کی بنا قرار دیتا ہے یہ دعویٰ مسموع نہیں ہاں اگر ملک کا دعویٰ کرتا اور اقرار کو ثبوت میں پیش کرتا تو دعویٰ مسموع ہوتا۔ (11) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۱۲.
2 ۔وہ جائدادجو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ کی جاسکتی ہو جیسے زمین وغیرہ۔
3 ۔بیچنے والا۔ 4 ۔خریدار۔ 5 ۔خاموش رہنا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۱۲.
7 ۔وہ مال وجائداد جو میت چھوڑ جائے۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۱۲.
9 ۔وارث بنانے والایعنی میت۔
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۱۳.
11 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۳۱: مدعیٰ علیہ نے اقرارِمدعی کو دفع دعویٰ میں پیش کیا یعنی مدعی کو مجھ پردعویٰ کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ اُس نے خود میرے ليے اقرار کیا ہے یہ مسموع ہے یعنی اس کی وجہ سے دعوٰے مدعی دفع ہوجائے گا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: دَین کا دعویٰ ہو تو وہ مکیل ہو یا موزون نقد ہو یا غیرنقد اُس کا وصف بیان کرنا ہوگا اور مثلی چیزوں میں جنس، نوع، صفت، مقدار، سببِ وجوب(2) سب ہی کو بیان کرنا ہوگا مثلاً یہ دعویٰ کیا کہ فلاں کے ذمہ میرے اتنے گیہوں(3) ہیں اور سببِ وجوب نہیں بیان کرتا کہ اُس نے قرض لیا ہے یا اُس سے میں نے سلم کیا ہے یا اُس نے غصب کیا ہے ایسا دعویٰ مسموع نہیں اور سبب بیان کردے گا تومسموع ہوگا اور قرض کی صورت میں جہاں قرض لیا ہے وہاں دینا ہوگا اور غصب کیا ہے تو جہاں سے غصب کیا ہے وہاں اور سلم ہے تو جو جگہ تسلیم کی قرار پائی ہے وہاں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۳: سلم کا دعویٰ ہو تو شرائط صحت کا بیان کرنا بھی ضرورہے اگر یہ کہہ دیا کہ اتنے من گیہوں سلم صحیح کی رو سے واجب ہیں اسکو بعض مشایخ کافی بتاتے ہیں اسے شرائط صحت کے قائم مقام کہتے ہیں۔ اور بیع کے دعوے میں بیع صحیح کہنا کافی ہے۔ شرائطِ صحت بیان کرنا ضروری نہیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: یہ دعویٰ کیا کہ میرا اس کے ذمہ اتنا چاہيے ہمارے مابین جو حساب تھا اُس کے سبب سے یہ صحیح نہیں کہ حساب سبب وجوب نہیں۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: یہ دعویٰ ہے کہ میت کے ذمّہ اتنا دین ہے اور یہ بیان کردیا کہ وہ بغیر دین ادا کیے مرگیا اور اُس نے اتنا ترکہ چھوڑاہے جس سے میرا دین ادا ہو سکتا ہے اور ترکہ ان وارثوں کے قبضہ میں ہے یہ دعویٰ مسموع ہے مگر وارث کو دین ادا کرنے کا اُس وقت حکم ہوگا جب اُسے ترکہ ملا ہو اور اگر وارث ترکہ ملنے سے انکار کرتا ہوتو مدعی کو ثابت کرنا ہو گا اور یہ بھی بتانا ہوگا کہ ترکہ کی فلاں فلاں چیزیں اسے ملی ہیں۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: دائن نے دین کا دعویٰ کیا مدیون کہتا ہے کہ میں نے اتنے روپے تمھارے پاس بھیج دیے تھے یا فلاں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۱۳.
2 ۔یعنی حق کے لازم ہونے کا سبب۔ 3 ۔گندم۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۸.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۱۳.
6 ۔المرجع السابق،الفصل الأول،ص۴.
7 ۔المرجع السابق،ص۳.
شخص نے بغیر میرے کہنے کے دین ادا کردیا مدیون کی یہ بات مسموع ہوگی اور دائن پرحلف دیا جائیگا اور اگر مدیون قرض کا دعویٰ کرتا ہے کہتا ہے کہ فلاں شخص نے جو تمہیں اتنے روپے قرض دیے تھے وہ میرے روپے تھے یہ بات مسموع نہ ہوگی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: یہ دعویٰ کیا کہ مبیع کا ثمن اسکے ذمہ ہے اور مبیع پر قبضہ کر چکا ہے تو مبیع کیا چیزتھی صحتِ دعویٰ کے ليے اس کابیان کرنا ضرورنہیں اسی طرح مکان بیچا تھا اس کے ثمن کا دعویٰ ہے تو اس دعوے میں اُس کے حدود بیان کرنا ضرور نہیں اوراگرمبیع پرمشتری کا قبضہ نہیں ہواہے تومبیع کابیان کرناضرورہے بلکہ ممکن ہو توحاضرلاناہو گاتاکہ اُسکی بیع ثابت کی جاسکے۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: دعویٰ صحیح ہو گیا تو قاضی مدعیٰ علیہ سے اس دعوے کے متعلق دریافت کریگا کہ اس دعوے کے متعلق تم کیا کہتے ہو اور دعویٰ اگر صحیح نہ ہو تو مدعیٰ علیہ سے کچھ نہیں دریافت کریگاکیونکہ اُس پر جواب دینا واجب نہیں۔ اب مدعیٰ علیہ اقرار کریگا یا انکار اگر اقرار کرلیا بات ختم ہو گئی مدعی کے موافق فیصلہ ہو گا اور مدعیٰ علیہ کے انکار کی صورت میں مدعی کے ذمہ یہ ہے کہ وہ اپنے دعوے کو گواہوں سے ثابت کرے اگر ثابت کردیا مدعی کے موافق فیصلہ کیا جائے گا اور گواہ پیش کرنے سے مدعی عاجز ہے اور مدعیٰ علیہ پر حلف دینے کو کہتا ہے تو اُس پر حلف دیا جائے گا بغیر طلب مدعی حلف نہیں دیا جائے گا کیونکہ حلف دینا مدعی کا حق ہے اُس کا طلب کرناضروری ہے اگر مدعیٰ علیہ نے قسم کھالی مدعی کا دعویٰ خارج اور قسم سے انکار کرتا ہے تو مدعی کا دعویٰ دلا یا جائے گا۔ (3)(ہدايہ، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۳۹: مدعیٰ علیہ یہ کہتا ہے کہ نہ میں اقرار کرتا ہوں نہ انکار تو قاضی حلف(4) نہیں دے گا بلکہ دونوں باتوں میں سے ایک پر مجبور کریگا اُسے قید کردیگا یہاں تک کہ اقرار کرے یا انکار۔ یوہیں اگر مدعیٰ علیہ خاموش ہے کچھ بولتا ہی نہیں اور کسی مرض کی وجہ سے بولنے سے عاجز بھی نہیں تو اُسے مجبور کیا جائے گا مگر امام ابو یو سف یہ فرماتے ہیں کہ سکوت بمنزلہ انکار کے ہے۔(5) اور اس باب میں اُنھیں کے قول پر بیشتر فتویٰ دیا جاتاہے۔ (6) (درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثانی،ج۴،ص۵.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،ج۲،ص۱۵۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۳۹،وغیرھما.
4 ۔ قسم۔ 5 ۔یعنی یہ خاموشی انکارکے قائم مقام ہے۔
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۴۰.
مسئلہ ۴۰: مدعیٰ علیہ نے مدعی سے کہا اگر تم قسم کھا جا ؤ تو میں مال کا ضامن ہوں۔ مدعی نے قسم کھالی مدعیٰ علیہ مال کا ضامن نہ ہوگاکہ یہ تغییر شرع ہے(1) شرع میں مدعی پر حلف نہیں ہے۔ یو ہیں زید نے عمرو پر ہزار روپے کا دعویٰ کیا عمرو نے کہا اگر تم قسم کھا جا ؤ کہ میرے ذمہ تمہاے ہزار روپے ہیں تو ہزار روپے دے دوں گا زید نے قسم کھالی اور عمرو نے اس وجہ سے کہ قسم کھانے پر دینے کو کہا تھادیدیے یہ دینا با طل ہے جو کچھ دیا ہے اُس سے واپس لے سکتا ہے۔ (2)(بحر، درمختار)
مسئلہ ۴۱: مدعی نے مدعیٰ علیہ سے قسم کھانے کو کہا اُس نے قاضی کے سامنے بغیر حکم قاضی قسم کھالی یہ قسم معتبر نہیں کہ اگرچہ قسم کا مطالبہ مدعی کا کام ہے مگر حلف دینا قاضی کا کام ہے جب تک قاضی اُس پر حلف نہ دے اُس کا قسم کھانا بے سود ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: شوہر غائب ہے عورت نے قاضی کے یہاں درخواست کی کہ میرے ليے نفقہ مقررکردیا جائے قاضی عورت پر حلف دے گا کہ قسم کھا کہ تیرا شوہر جب گیا تجھے نفقہ نہیں دے گیا یہ حلف بغیر طلب مدعی ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: میّت پر دَین کا دعویٰ کیا اور ثبوت کے گواہ بھی رکھتا ہے مگر باوجود گواہ قاضی خود بغیر وارث یا وصی کی طلب کے اُس پر یہ قسم دے گا کہ نہ تونے میّت سے دَین وصول پایانہ کسی دوسرے نے اُس کی طرف سے تجھے دَین ادا کیا نہ کسی دوسرے نے تیرے حکم سے دَین پر قبضہ کیا نہ تو نے کل دَین یا اُس کا کوئی جُز معاف کیا نہ کل دَین یا جز کا کسی پر حوالہ تو نے قبول کیا نہ دَین کے بدلہ میں کوئی چیز تیرے پاس رہن ہے۔ یہاں بھی بغیر طلب خود قاضی یہ حلف دیگا بغیر حلف ليے قاضی نے دَین ادا کرنیکا حکم دیدیا یہ حکم نافذ نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: گواہ سے ثبوت ہونے کے بعد قسم نہیں دی جاتی مگر ان مسائل ذیل میں(۱) میت پر دَین کا دعویٰ کیا اور گواہوں سے ثابت کردیا یا ترکہ میں حق کا دعویٰ کیا اور گواہوں سے ثابت کردیا قاضی حلف دے گا کہ قسم کھا کر مدعی یہ کہے کہ میں نے اپنا دَین یا حق وصول نہیں پایاہے۔ یہاں بغیر دعویٰ حلف دیا جائے گا جس طرح حقوق اﷲ میں حلف دیا جاتا ہے۔ (۲) کسی
1 ۔یعنی حکمِ شرعی کو بدلنا ہے۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۴۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۴۱.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثانی فیما تصح بہٖ الدعوٰی...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۱۳.
4 ۔المرجع السابق،ص ۱۴.
5 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۴۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۱۴.
نے مبیع میں اپنا حق ثابت کیا کہ یہ چیز میری ہے اور گواہوں سے اپنی ملک ثابت کردی۔ مشتری مستحق پر یہ حلف دے گا کہ نہ تو نے یہ چیز بیع کی نہ ہبہ کی نہ صدقہ کی نہ یہ چیزتیری ملک سے خارج ہوئی۔ (۳) کسی نے دعویٰ کیا کہ یہ میرا غلام ہے بھاگ گیا ہے اور گواہوں سے ثابت کیا اُس کو قسم کھا کر بتانا ہوگا کہ وہ اب تک اسی کی ملک میں ہے نہ اسے بیچا ہے نہ ہبہ کیا ہے۔ (1) (بحر)
مسئلہ ۴۵: مدعی نے دعوے کو گواہوں سے ثابت کردیا مدعیٰ علیہ قاضی سے یہ کہتا ہے کہ مدعی پر یہ قسم دی جائے کہ وہ اپنے دعوے میں سچا ہے یا اُس کے گواہ پر قسم دی جائے کہ وہ سچے ہیں یا شہادت میں حق پر ہیں۔ قاضی اُسکی بات تسلیم نہ کرے بلکہ اگر گواہوں کو معلوم ہو کہ قاضی اُن پر حلف دیگا اور منسوخ پر عمل کریگا تو گواہی سے باز رہ سکتے ہیں کہ ایسی حالت میں گواہی دینا اُن پر لازم نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴۶: مغصوب منہ(جس کی چیز کسی نے غصب کی) کہتا ہے میرے کپڑے کی قیمت سو روپے ہے اور غاصب یہ کہتا ہے مجھے معلوم نہیں کیا قیمت ہے مگر سو روپے نہیں غاصب کو قیمت بیان کرنے پر مجبور کیا جائے گا اگر وہ نہ بیان کرے تو اُس کو یہ قسم کھانی ہوگی کہ سو روپے اُس کی قیمت نہیں ہے اس کے بعدپھر مغصوب منہ کو حلف دیا جائے گا کہ وہ قسم کھائے سو روپے قیمت ہے اگر یہ بھی قسم کھا جائے تو سو روپے دلواديے جائیں گے اس کے بعد اگر وہ کپڑا مل گیا تو غاصب کو اختیار ہے کہ کپڑا لے لے یا کپڑا مغصوب منہ کو دے کر اپنے سو روپے واپس لے لے۔ (3) (بحرالرائق)
مسئلہ ۴۷: مدعی یہ کہتا ہے میرے گواہ شہر میں موجود ہیں کچہری میں حاضر نہیں ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ مدعیٰ علیہ پر حلف دے دیا جائے قاضی حلف نہیں دے گا بلکہ کہے گا تم اپنے گواہ پیش کرو۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۴۸: مدعی کہتا ہے میرے گواہ شہر سے غائب ہو گئے ہیں یا بیمار ہیں کہ کچہری تک نہیں آسکتے تو مدعیٰ علیہ پر حلف دیا جائے گا مگر قاضی اپنا آدمی بھیج کر تحقیق کر لے کہ وا قعی وہ نہیں ہیں یا بیمار ہیں بغیر اس کے حلف نہ دے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: ملک مطلق کا دعویٰ کیا یعنی مدعی نے اپنی ملک کا کوئی سبب نہیں بیان کیا اور اپنی ملک پر گواہ پیش کرتا ہے ذی الید یعنی مدعیٰ علیہ بھی اپنی ملک کے گواہ پیش کرتا ہے کیونکہ یہ بھی اپنی ملک کا مدعی ہے اس صورت میں ذی الید (قابض)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۴۷.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۴۱.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۴۸.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب الیمین،ج۲،ص۱۵۵.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۱۴.
کے گواہ سے خارج (جسکے قبضہ میں وہ چیز نہیں ہے)اُ س کے گواہ زیادہ ترجیح رکھتے ہیں یعنی خارج کے گواہ مقبول ہیں یہ اُس صورت میں ہے کہ دونوں نے ملک کی کو ئی تاریخ نہیں بیا ن کی یا دونوں کی ایک تاریخ ہے یا خارج کی تاریخ پہلے کی ہے۔ (1)(ہدايہ وغیرہا)
مسئلہ ۵۰: مدعیٰ علیہ نے انکار کیا اُس پر حلف دیاگیا حلف سے بھی انکار کر دیا خواہ یوں کہ اُس نے کہہ دیا میں حلف نہیں اٹھاؤنگا یا سکوت کیا اور معلوم ہے کہ یہ سکوت کسی آفت کی وجہ سے نہیں ہے مثلاًبہرا نہیں ہے کہ سنا ہی نہیں اور یہ انکار یا سکوت مجلسِ قاضی میں ہے تو قاضی فیصلہ کردے گا اور بہتر یہ ہے کہ اس صورت میں تین مرتبہ اُس پر حلف پیش کیا جائے بلکہ قاضی کو چاہے کہ اُس سے پہلے ہی کہہ دے میں تجھ پر تین مرتبہ قسم پیش کروں گا اگر تو نے قسم کھالی تو تیرے موافق فیصلہ کروں گا ورنہ تیرے خلاف فیصلہ کر دو ں گا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۵۱: حلْف سے انکار پر فیصلہ کردیا گیا ا ب کہتا ہے میں قسم کھاؤں گا اس کی طرف ا لتفات نہیں کیا جائے گا۔ فیصلہ جو ہو چکا، ہو چکا مگر جس کے خلاف فیصلہ ہوا ہے وہ اگر ایسی بات پر شہادت پیش کرنا چاہتا ہو جس سے فیصلہ باطل ہو جائے تو گواہ لیے جا سکتے ہیں۔ (3)( بحر،درمختار)
مسئلہ ۵۲: قاضی نے دو مرتبہ قسم پیش کی اُس نے کہا مجھے تین دن کی مہلت دی جائے تین دن کے بعد آکر کہتا ہے میں قسم نہیں کھاؤں گا اُس کے خلاف فیصلہ نہ کیا جائے جب تک پھر قاضی اُس پرقسم پیش نہ کرے اور وہ انکار نہ کرے اور اس وقت بھی تین مرتبہ قسم پیش کرنا اور انکار کرنا ہو۔ (4) (عا لمگیری)
مسئلہ ۵۳: مدعیٰ علیہ کا جواب نہ دینا اس وجہ سے ہے کہ وہ گونگا ہے قاضی حکم دے گا کہ اشارہ سے جواب دے اگر اقرار کا اشارہ کیا اقرار صحیح ہے انکار کا اشارہ کیا اُس پر قسم دی جائے گی۔ قسم کھالینے کا اشارہ کیا قسم ہو گئی قسم سے انکار کا اشارہ کیا نکول ہوگا(5) اور اُس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا ۔ (6)(عا لمگیری)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب الیمین،ج۲،ص۱۵۶،وغیرھا.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۴۲.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۵۰.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۴۳.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۱۵.
5 ۔یعنی قسم سے انکارہوگا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۱۵.
مسئلہ ۵۴: ایک صورت فیصلہ کی یہ بھی ہے کہ دعویٰ قطعی قرا ئن سے ثابت ہو جس میں شبہہ کی گنجائش نہ ہو مثلاًایک خالی مکان سے ایک شخص خون آلودہ چھری لیے ہوئے نکلا جس پر خوف کے آثار ظاہر ہیں لوگ اُس مکان میں فوراًگھسے اور ایک شخص کو پایا جو فوراًذبح کیا گیا ہے اُن کی شہادت پر وہ قاتل قرار پائے گا اگر چہ اُنھو ں نے قتل کرتے نہیں دیکھا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵۵: مدعیٰ علیہ کو شبہہ پیدا ہوگیا کہ شاید مدعی جو کہتا ہے وہ ٹھیک ہو اس صورت میں مدعی سے مصالحت کرلے اور قسم نہ کھائے ا وراگر مدعی راضی نہیں ہوتا وہ کہتا ہے میں تو حلف ہی دوں گا اگر غالب گمان یہ ہے کہ میں برسرِحق ہوں تو حلف کرے ورنہ انکار کر دے۔ (2)(بحر)
مسئلہ ۵۶: ایک شخص پر مال کا دعویٰ ہوا اُس نے نہ انکار کیا نہ اقرار اور کہتا ہے مجھے مدعی نے اس دعوے سے اور حلف سے بری کردیا ہے اور مدعی کہتا ہے میں نے اسے بری نہیں کیا ہے دیکھا جائے گا اگر مدعی نے گواہوں سے دعویٰ ثابت کردیا ہے تو بری نہ کر نے پراُسے قسم دی جائے گی ورنہ مدعیٰ علیہ پر قسم دیں گے۔ (3) (بحر)
مسئلہ ۵۷: بعض دعوے ایسے ہیں کہ اُن میں منکر پر قسم نہیں ہے (۱) نکا ح میں ،مدعی مرد ہو یا عورت۔ (۲) رجعت میں، مرد نے اس سے انکار کیا یا عورت نے مگرعورت اس صورت میں منکر اُس وقت ہو سکتی ہے جب عدت گزرچکی ہو۔ (۳) ایلا میں فے۔مدتِ ایلا گزرنے کے بعد کوئی بھی اس سے منکر ہو عورت ہو یا مرد۔ (۴) استیلا د یعنی ام ولد ہونے کا دعویٰ اس کی صورت یہ ہے کہ باندی ام ولد ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور مولٰے منکر ہے۔ (۵) رقیت یعنی وہ کہتا ہے میں فلاں کا غلام ہوں اور مولٰے (4) منکر ہے یا اس کا عکس۔ (۶) نسب ایک نسب کا مدعی ہے دوسرا منکر۔ (۷)ولا۔ (۸) حد۔ (۹) لعان۔ (5) (ہدايہ وغیرہا)
مسئلہ ۵۸: عورت نے نکاح کا دعویٰ کیا مرد منکر ہے قسم اس صورت میں نہیں ہے جیسا کہ مذکور ہوا۔ لہٰذا قاضی فیصلہ بھی نہیں کر سکتا عورت قاضی سے کہتی ہے میں نکاح کر نہیں سکتی کہ میرا شوہر یہ موجود ہے اور یہ خود نکاح سے انکار کرتا ہے ا ب میں مجبور ہوں کیا کروں اسے یہ حکم دیا جائے کہ مجھے طلاق دیدے تاکہ میں دوسرے سے نکاح کرلوں۔ زوج کہتا ہے اگرمیں طلاق دیتا ہوں تو نکاح کا ا قرار ہوا جاتاہے۔ قاضی حکم دے گا کہ تو یہ کہہ دے کہ اگریہ میری عورت ہے تو اسے طلاق،
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۴۳.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۵۱.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ آقا ،مالک۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب الیمین،ج۲،ص۱۵۶، وغیرہا.
اوراگر مردمدعی نکاح ہے عورت منکر ہے شوہر کہتا ہے میں اسکی بہن سے یا اس کے علاوہ چوتھی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں قاضی اس کی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ جب یہ شخص خود مدعی نکاح ہے تو اسکی بہن سے یا چوتھی عورت سے کیونکر نکاح کر سکتا ہے بلکہ قاضی یہ کہے گا اگر تو نکاح کرنا چاہتا ہے تو اسے طلاق دیدے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۹: یہ جو بیان کیا گیا ہے کہ نکاح وغیرہ فلاں فلاں چیزوں میں منکر پر حلف نہیں ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جب محض انھیں چیزوں کا دعویٰ ہو اور اگر اُس سے مقصود مال ہو تو منکِرپر (2)حلف ہے مثلاًعورت نے مرد پر دعویٰ کیا کہ اتنے مہر پر میرا نکاح اس سے ہوا اور اس نے قبل د خول طلاق دیدی لہٰذا نصف مہر مجھے دلایاجائے مرد کہتا ہے میرا نکاح ہی اس سے نہیں ہوا۔ یا عورت دعویٰ کرتی ہے کہ اس سے میرا نکاح ہوا اس سے نفقہ مجھے دلایا جائے مرد کہتا ہے نکاح ہوا ہی نہیں نفقہ کیونکر دوں ان صورتوں میں منکر پر حلف ہے کہ یہاں مقصود مال کا دعویٰ ہے اگرچہ بظا ہر نکاح کا دعویٰ ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: چور چوری سے انکار کرتاہے اس پر حلف دیا جائے گا مگر حلف سے انکار کریگا تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مال لازم ہو جائے گا اور اقرار کرلے گا تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ چوری کے سوا اور کسی حد کے معاملہ میں حلف نہیں ہے۔ اور اگر ایک نے دوسرے کو کافر،منافق،زندیق وغیرہ الفاظ کہے یا اس کو تھپڑ مارا یااسی قسم کی کوئی دوسری حرکت کی جس سے تعزیر واجب ہوتی ہے اور مدعی حلف دینا چاہتا ہے تو حلف دیا جائے گا۔ (4)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۶۱: حلف میں نیابت نہیں ہوسکتی کہ ایک شخص کی جگہ دوسرا شخص قسم کھا جائے استحلاف میں نیابت ہو سکتی ہے۔ یعنی دوسرا شخص مدعی کے قائم مقام ہو کر حلف طلب کرسکتا ہے مثلاً وکیل مدعی اور وصی اور ولی اور متولی کہ اگر یہ مدعی ہوں حلف کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور مدعیٰ علیہ ہوں تواُن پر حلف عائد نہیں ہوتا ہاں اگر ان پر دعویٰ ایسے عقد کے متعلق ہو جو خود ان کاکیا ہو یا انھوں نے اصیل پر کوئی اقرار کیا ہے اور اب انکار کرتے ہیں تو حلف ہوگا مثلاً ایک شخص وکیل با لبیع(5)ہے یہ موکل پر ا قرار کرے صحیح ہے اور قسم سے انکار کرے یہ بھی صحیح ہے یعنی اسے نکول قرار دیا جائے گا (6)اور فیصلہ کیا جائے گا۔ (7)(درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۱۵،۱۶.
2 ۔انکار کرنے والے پر۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۱۶.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۴۵.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الأول،ج۴،ص۱۶وغیرہما.
5 ۔بیچنے کا وکیل۔ 6 ۔یعنی قسم سے انکارقراردیاجائے گا۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۴۶،۳۴۷.
مسئلہ ۶۲: کسی شخص پر حلف دیا جائے اس کی دو صورتیں ہیں حلف خود اُسی کے فعل کے متعلق ہے یا دوسرے کے فعل کے متعلق اگر اُسی کے فعل پر قسم دی جائے تو بالکل یقینی طور پر ہو اُس سے یہ کہلوایاجائے خدا کی قسم میں نے اس کام کو نہیں کیا ہے اور دوسرے کے فعل کے متعلق ہو تو علم پر قسم کھلائی جائے یعنی واﷲ میرے علم میں یہ نہیں ہے کہ اُس نے ایسا کیا ہے۔ ہاں اگر دوسرے کا فعل ایسا ہو جس کا تعلق خود اسی سے ہے تو ا ب علم پرقسم نہیں ہوگی بلکہ قطعی طور پر انکار کرنا ہوگا۔ مثلاً زید نے دعویٰ کیا کہ جو غلام میں نے خریدا ہے اُس نے چوری کی ہے اور اس کو گواہوں سے ثابت کیا اور زید یہ بھی کہتا ہے کہ بائع (1) کے یہاں بھی اُس نے چوری کی تھی لہٰذا اس عیب کی وجہ سے بائع پر واپس کیا جائے اور بائع منکِرہے زید بائع پر حلف دیتا ہے تو بائع کو یوں قسم کھانی ہوگی کہ واﷲ اُس نے میرے یہاں نہیں چوری کی ہے اس صورت میں اگر چہ چوری کرنا غلام کا فعل ہے مگر چونکہ اس کا تعلق بائع سے ہے لہٰذا فعل کی قسم کھانی ہوگی یوں نہیں کہ میرے علم میں اُس نے چوری نہیں کی اور اگر دوسرے کے فعل سے اس کو تعلق نہ ہو تو فعل کی قسم نہیں کھلائی جائے گی بلکہ یہ قسم کھائے گا کہ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے مثلاًایک چیز کے متعلق زید بھی کہتا ہے میں نے خریدی ہے اورعمرو بھی کہتا ہے میں نے خریدی ہے زید یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ چیز میں نے عمرو کے پہلے خریدی ہے اور گواہ موجود نہیں ہیں توعمروپریہ قسم دی جائے گی خدا کی قسم میں نہیں جانتا ہوں کہ زید نے یہ چیزمجھ سے پہلے خریدی ہے۔ زید نے وارث پر ایک چیز کا دعویٰ کیا کہ یہ میری ہے وارث انکار کرتا ہے تو علم پر قسم کھائے گا اور اگروارث نے دوسرے پر دعویٰ کیا تو وہ قطعی طور پر قسم کھائے گا۔ ایک شخص نے کوئی چیز خریدی یا کسی نے اُسے ہبہ کیا (2) اور دوسرا شخص اس چیز میں اپنی ملک کا دعویٰ کرتا ہے مگر اُس کے پاس کوئی گواہ نہیں اس مشتری یا مو ہوب لہ (3)پریمین ہے کہ منکِر ہے اور یہ قطعی طورپر مدعی کی ملک سے انکار کریگا کیونکہ جب یہ خرید چکا ہے یا اس کو ہبہ کیا گیا تو یقینًامالک ہوگیا۔ (4) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۶۳: مدعیٰ علیہ پر حلف آیا اُس نے مدعی کو کچھ دے دیا کہ یہ چیز حلف کے بدلے میں لے لو اور مجھ پرحلف نہ دو یا کسی چیز پر دونوں نے صلح کرلی یہ صحیح ہے یعنی قسم کے معاو ضہ میں جو چیز لی گئی یا کوئی چیز دے کر مصالحت ہوئی جائز ہے اس کے بعد اب مدعی اُس پر حلف نہیں رکھ سکتا اوراگر مدعی نے یہ کہہ دیا ہے کہ میں نے تجھ سے حلف ساقط کردیا یا تو حلف سے بری ہے یا میں نے تجھے حلف ہبہ کردیا یہ صحیح نہیں پھر اس کے بعد بھی حلف دے سکتا ہے۔ (5)(کنز)
1 ۔بیچنے والا۔ 2 ۔تحفہ دیا۔ 3 ۔جس کو تحفہ دیا۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،ج۷،ص۳۷۰.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۴۷.
5 ۔''کنزالدقائق''،کتاب الدعویٰ،ص۳۱۵.
مسئلہ ۶۴: مدعیٰ علیہ نے پہلے مدعی کے دعوے سے انکار کیا اُس کے ذمہ حلف آیا تو حلف سے بھی انکار کیا اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ مدعیٰ علیہ انکار دعوے میں جھوٹا ہے کیونکہ سچا تھا تو حلف کیوں نہیں اُٹھایا بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ آدمی کبھی سچی قسم سے بھی گریز کرتاہے اپنا اتنا نقصان ہو گیا یہ گوارا مگر قسم کھانا منظور نہیں اگرچہ سچی ہوگی لہٰذا امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نکول(1) کو بذل قرار دیتے ہیں کہ مال دے کر جھگڑا کاٹا یعنی تھا تو ہمارامگر ہم نے چھوڑا اور دَین کا دعویٰ ہو تو مدعی کو لینا جائز اس وجہ سے ہے کہ مدعی اُسے اپنا حق سمجھ کر لیتا ہے نہ یہ کہ حق مدعیٰ علیہ جان کر لیتا ہے۔(2)(ہدايہ وغیرہا)یہ اُس صورت میں ہے کہ مدعی و مدعیٰ علیہ دونوں اپنے اپنے خیال میں سچے ہوں ناجائز طور پر مال لینا نہ چاہتے ہوں ورنہ جو خود اپنا نا حق پر ہونا جانتا ہو اُس کے گنہگار ہونے میں کیا شبہہ۔
مسئلہ ۱: قسم اﷲعزوجل کی کھائی جائے غیر خدا کی قسم نہ کھائی جائے نہ کھلائی جائے اگر قسم میں تغلِیظ (سختی کرنا) چاہیں توصفات کا اضافہ کریں مثلاً واﷲالعظیم۔ قسم ہے خدا کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو عالم الغیب و الشہاد ہ رحمٰن رحیم ہے اس شخص کا میرے ذمہ نہ یہ مال ہے جس کا دعویٰ کرتا ہے نہ اس کا کوئی جز ہے۔ (3) (ہدايہ)
مسئلہ ۲: تغلیظ میں اس سے کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے۔ الفاظِ مذکورہ پر الفاظ بڑھادے یا کم کردے قاضی کو اختیار ہے مگر یہ ضرور ہے کہ صفات کا ذکر بغیر حرف عطف ہو یہ نہ کہے واﷲ والرحمٰن والرحیم کہ اس صورت میں عطف کے ساتھ جتنے اسما ذکر کیے جائیں گے اُتنی قسمیں ہوجائیں گی اور یہ خلاف شرع ہے کیونکہ شرعاًاُس پر ایک یمین کا مطالبہ ہے۔ بعض فقہا یہ کہتے ہیں کہ جو شخص صلاح و تقویٰ کے ساتھ معروف ہو اُس پر تغلیظ نہ کی جائے دوسروں پر کی جائے بعض یہ بھی کہتے ہیں مال حقیر میں تغلیظ نہ کی جائے اور مال کثیر میں تغلیظ کی جائے۔ (4) (ہدايہ)
مسئلہ ۳: طلاق وعِتاق کی یمین نہ ہونی چاہیے یعنی مدعیٰ علیہ سے مثلاًیہ نہ کہلوا یا جائے کہ اگر مدعی کا یہ حق میرے ذمہ ہو تومیری عورت کو طلاق یا میرا غلام آزاد بعض فقہا یہ کہتے ہیں کہ اگر مدعیٰ علیہ بے باک ہے اﷲ عزوجل کی قسم کھانے میں پرواہ نہیں کرتا اور طلاق وعتاق کی قسم میں گھبراتا اور ڈرتا ہے کہ بی بی یا غلام کہیں ہاتھ سے نہ چلے جائیں ایسے
1 ۔قسم سے انکار ۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب الیمین،ج۲،ص۱۵۷،وغیرہا.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب الیمین،فصل فی کیفیۃ الیمین...إلخ،ج۲،ص۱۵۸.
4 ۔المرجع السابق.
لوگوں کو طلاق وعتاق کا حلف دیا جائے مگراس قول پر اگر بضر ورت (1) قاضی نے عمل کیا اور نکول(2) پر مدعی کو مال دِلوادیا یہ قضا(3) نافذنہیں ہوگی۔ (4)(ہدايہ، نتائج الافکار)
مسئلہ ۴: حلف میں تغلیظ زمان یا مکان کے اعتبار سے نہ کی جائے۔ مثلاً عصر کے بعد یا جمعہ کے دن کو مخصوص کرنا یا اس سے کہنا کہ مسجد میں چل کرقسم کھاؤ،منبرپر قسم کھاؤ ،فلاں بزرگ کے مزار کے سامنے چل کر قسم کھاؤ۔ (5)(ہدايہ، درمختار،وغیرہما)
مسئلہ ۵: اس زمانہ میں تغلیظ یا حلف کی ایک صورت بہت زیادہ مشہور ہے کہ قرآن مجید ہاتھ میں دے کر کچھ الفاظ کہلواتے ہیں مثلاًاسی قرآن کی مارپڑے، ایمان پر خاتمہ نصیب نہ ہو، خدا کا دیدار نصیب نہ ہو، شفاعت نصیب نہ ہو، یہ سب باتیں خلافِ شرع (6)ہیں مُصحَف شریف(7) ہاتھ میں اُ ٹھانا حلفِ شرعی نہیں۔ غالباًحلف اُٹھانے کا محاورہ لوگوں نے یہیں سے لیا ہے۔ مدعیٰ علیہ(8) اگر اس قسم سے انکار کر دے تو دعویٰ اُس پر لازم نہیں کیا جائے گا بلکہ انکار ہی کرنا چاہیے۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ میں مسجد میں رکھ دیتا ہوں یا فلاں بزرگ کے مزار پر رکھ دیتا ہوں تمھارا ہو تو چل کر اُٹھا لو اگر حقیقت میں مدعی کا نہیں ہے اوراُٹھالیا تو مدعیٰ علیہ اُس سے واپس لے سکتا ہے کہ استحقا ق کا یہ شرعی طریقہ نہیں ہے۔
مسئلہ ۶: یہودی کو یوں قسم دی جائے قسم ہے خدا کی جس نے موسیٰ علیہ السلام پر توریت نازل فرمائی اور نصرانی کو یوں کہ قسم ہے خدا کی جس نے عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل نازل فرمائی اور دیگر کفار سے یہ کہلوایا جائے خدا کی قسم۔ ان لوگوں سے حلف لینے میں ایسی چیزیں ذکر نہ کرے جن کی یہ لوگ تعظیم کرتے ہیں۔ (9)(ہدايہ)
مسئلہ ۷: ان کفار سے حلف لینے میں ایسا ہرگز نہ کیا جائے کہ اُن کے عبادت خانوں میں جاکر قسم دی جائے کہ مسلمان کو ایسی لعنت کی جگہ جانا منع ہے۔ (10)(ہدايہ وغیرہا)
مسئلہ ۸: معاذ اﷲ ہنود کو اُن کے معبودا ن باطل کی قسم دینا جیسا کہ بعض جاہلو ں میں دیکھا جاتا ہے اس کا
1 ۔ضرورت کے وقت۔ 2 ۔انکار۔ 3 ۔فیصلہ۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب الیمین،فصل فی کیفیۃ الیمین...إلخ،ج۲،ص۱۵۸.
و''نتائج الأفکار''،تکملۃ فتح القدیر،کتاب الدعویٰ،باب الیمین،فصل فی کیفیۃ الیمین...إلخ،ج۷،ص۱۸۳،۱۸۴.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب الیمین،فصل فی کیفیۃ الیمین...إلخ،ج۲،ص۱۵۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۵۲وغیرہما.
6 ۔شریعت کے خلاف۔ 7 ۔قرآن مجید۔ 8 ۔جس پردعویٰ کیاگیا ہے۔
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب الیمین،فصل فی کیفیۃ الیمین...إلخ،ج۲،ص۱۵۸.
10 ۔المرجع السابق،ص۱۵۹،وغیرھا.
حکم سخت ہے تو بہ کرنی چاہيے۔اسی طرح اُن سے کہنا کہ گنگاجل ہا تھ میں لیکر کہہ دو ان کے علاوہ اوربھی ناجائز و باطل صورتیں ہیں جن سے احتراز لازم۔
مسئلہ ۹: جس چیز پر حلف (1) دیا جائے وہ کیا ہے۔ بعض صورتوں میں سبب پر قسم کھلاتے ہیں بعض میں نہیں۔ اگر سبب ایسا ہو جو مرتفع ہو جاتا ہے تو حاصل پر قسم کھلائی جائے اور اگر مرتفع نہ ہو تو سبب پر قسم کھائے۔ اسکی چند صورتیں ہیں مدعی نے دَین (2) کا دعویٰ کیا ہے یا عین میں مِلک کا دعویٰ ہے یا عین میں کسی حق کا دعویٰ ہے پھر ہر ایک میں مطلق کا دعویٰ ہے یا کسی سبب کابیان ہے۔ اگر دین کا دعویٰ ہو اور سبب نہ ہو تو حاصل پر حلف دیں گے یعنی تمھارا میرے ذمہ میں کچھ نہیں ہے۔ عین حاضر میں ملکِ مطلق یا حقِ مطلق کا دعویٰ ہو تو حاصل پر حلف دیں گے مثلاًقسم کھائے گا کہ نہ یہ چیز فلاں کی ہے نہ اس کا کوئی جز ہے اور اگر دعوے کی بنا سبب پر ہو مثلاً کہتا ہے میرا اُس پر دَین ہے اس سبب سے کہ میں نے قرض دیا ہے یا اُس نے مجھ سے کوئی چیز خریدی ہے اُس کے دام باقی ہیں یا یہ چیز میری ملک ہے اس لیے کہ میں نے خریدی ہے یا مجھے فلاں نے ہبہ کی ہے یا اُس شخص نے غصب کرلی ہے یا اُس کے پاس امانت یا عاریت ہے ان سب صورتوں میں حاصل پر حلف دیں گے مثلاًبیع کا مدعی ہے اور وہ منکر ہے قسم یوں کھلائی جائے کہ میرے اور اُس کے درمیان میں بیع قائم نہیں یوں قسم نہ کھلائی جائے کہ میں نے بیچی نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اُس نے بیچ کر اقالہ کر دیا ہو تو بیع نہ کرنے پر قسم دینا مدعیٰ علیہ کے لیے مضر(3) ہوگا۔ غصب میں یوں قسم کھائے اُس چیز کے رد کرنے کا مجھ پر حق نہیں یہ نہیں کہ میں نے غصب نہیں کی کیونکہ کبھی چیز غصب کرلیتے ہیں پھر ہبہ یا بیع کے ذریعہ سے مالک ہوجاتے ہیں۔ طلاق کے دعوے میں یہ قسم کھلائی جائے وہ میرے نکاح سے اس وقت باہر نہیں ہے۔ کیونکہ کبھی بائن طلاق دے کر پھر تجدید نکاح ہوجاتی ہے(4) لہٰذاان سب صورتوں میں حاصل پر قسم دی جائے کیونکہ سبب پر قسم دینے میں مدعیٰ علیہ کا نقصان ہے۔ ہاں اگر حاصل پر قسم دینے میں مدعی کا ضرر ہو تو ایسی صورتوں میں سبب پر حلف دیاجائے مثلاً عورت کو تین طلاقیں دی ہیں وہ نفقہ عدت کا دعوی کرتی ہے اور شوہر شافعی ہے(5) جس کا مذہب یہ ہے کہ ایسی عورت کا نفقہ(6 )واجب نہیں ہے اگر حاصل پر قسم دی جائے گی تو بے شک وہ قسم کھالے گا کہ مجھ پر نفقہ عدت واجب نہیں ہے۔ کیونکہ اُس کا اعتقاد ومذہب یہی ہے یا جوار(7) کی وجہ سے شفعہ کا دعویٰ کیا اور مشتری شافعی المذہب ہے اُس کا مذہب یہ ہے کہ جوار کی وجہ سے شفعہ کا حق نہیں ہے حاصل پر اگر حلف
1 ۔قسم ۔ 2 ۔قرض ۔ 3 ۔نقصان دہ۔
4 ۔دوبارہ نکاح کرلیاجاتاہے۔ 5 ۔یعنی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کامقلد،پیروکارہے۔
6 ۔نفقہ سے مراد کھانا،کپڑا ،رہنے کا مکان ہے۔ 7 ۔پڑوس۔
دیں گے تو وہ قسم کھالے گا کہ اس کو حق شفعہ نہیں ہے اور اس میں مدعی کا نقصان ہے لہٰذا اس کو یہ قسم دیں گے کہ خدا کی قسم جائدادِ مشفوعہ(1) کو اُس نے خریدا نہیں۔ (2) (ہدايہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۰: مدعیٰ علیہ خرید نے کا اقرار کرتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ وہ مکان مدعی کے پروس میں ہے مگر جب اسے خریداری کی اطلاع ہوئی اُس نے طلبِ شفعہ(3) نہیں کیا لہٰذا حقِ شفعہ ساقط ہے۔ شفیع(4) کہتا ہے میں نے طلب کیا اس صورت میں شفیع کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: عورت نے رجعی طلاق کا دعویٰ کیا اس بات پر قسم کھلائی جائے کہ اس وقت مطلقہ نہیں ہے اور بائن یا تین طلاق کا دعوی ہو تو یہ قسم کھائے کہ وہ اس وقت ایک طلاق یا تین طلاق سے با ئن نہیں ہے۔ یو ہیں اگر عورت نے طلاق کا دعویٰ نہیں کیا مگر ایک شخص عادل یا چند اشخاص فساق نے قاضی کے پاس طلاق کی شہادت دی اور شوہر منکر ہے۔ یہاں قاضی شوہر کو قسم دے گا احتیاط کا مقتضٰی یہی ہے کہ شوہر کو قسم دے ۔ (6)( عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: عورت نے دعویٰ کیا کہ میں نے شوہر سے طلاق دینے کی درخواست کی تھی شوہر نے کہا تمھارا امر تمھارے ہاتھ میں ہے یعنی اُس نے تفویض طلاق کی (7)میں نے بمقتضائے تفویض طلاق دے لی اور میں شوہر پر حرام ہوگئی۔ شوہر کہتا ہے میں نے اختیار طلاق دیا ہی نہیں اس صورت میں حاصل پر قسم نہیں کھلائی جائے گی بلکہ سبب پر قسم کھائے یوں کہے واﷲ میں نے سوالِ طلاق کے بعد اُس کا امر اُس کے ہاتھ میں نہیں دیا اور نہ میرے علم میں یہ بات ہے کہ اُس نے مجلس تفویض میں اُس تفویض کی رو سے اپنے نفس کو اختیارکیا۔ اور اگر شوہر تفویضِ طلاق کا اقرار کرتا ہے اور اس سے انکار کرتا ہے کہ عورت نے اپنے نفس کواختیار کیا تو شوہر یوں قسم کھائے کہ واﷲ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ اس نے مجلس تفویض میں اپنے نفس کو اختیار کیا اور اگرشوہر تفویض سے انکار کرتا ہے اور یہ اقرار کرتا ہے کہ عورت نے اپنے نفس کو اختیار کیایوں قسم کھائے واﷲ عورت کے اختیارکرنے سے پہلے میں نے اُس مجلس میں اُسے تفویض طلاق نہیں کی۔ (8) (عالمگیری)
ـــ
1 ۔جس جائداد پرشفعہ کیاگیا۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب الیمین،فصل فی کیفیۃ الیمین...إلخ،ج۲،ص۱۵۹وغیرہا.
3 ۔یعنی شفعہ کامطالبہ۔ 4 ۔ شفعہ کرنے والا۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الثانی،ج۴،ص۲۰.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الثانی،ج۴،ص۱۸.
7 ۔ یعنی بیوی کو طلاق کا اختیار دیا۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الثانی،ج۴،ص۱۸،۱۹.
مسئلہ ۱۳: دعویٰ کیا کہ فلاں چیز میں نے فلاں شخص کے پاس ودیعت رکھی ہے مدعیٰ علیہ کہتا ہے تو نے تنہا نہیں رکھی ہے بلکہ تواور فلاں شخص دونوں نے ودیعت رکھی ہے تو یہ چاہتا ہے کہ کل چیز تجھے دے دوں یہ نہیں کروں گا مدعیٰ علیہ پریہ قسم دی جائے کہ واﷲ اس پوری چیز کا فلاں پر واپس کرنامجھ پر واجب نہیں قسم کھا لے گا دعویٰ خارج ہو جائے گا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: اجارہ یا مزارعت (2)میں نزاع ہے تو منکر یوں قسم کھائے واﷲ میرے اور فلاں کے ما بین اس مکان کے متعلق اجارہ قائم نہیں ہے یا اس کھیت کے متعلق مزارعت قائم نہیں ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: مدعی نے اجرت کا دعویٰ کیا اور مدعیٰ علیہ منکر ہے یوں قسم کھائے واﷲ اس شخص کی میرے ذمہ وہ اُجرت نہیں ہے جس کا وہ مدعی ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: یہ دعویٰ کیا کہ فلاں شخص نے میرا کپڑا پھاڑ دیا اور کپڑا قاضی کے پاس پیش کرتا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ مدعیٰ علیہ پر حلف دے دیا جائے۔ قاضی یہ قسم نہ دے کہ میں نے پھاڑا نہیں کیونکہ کبھی پھاڑنا ایسا ہوتا ہے جس کا حکم یہ ہے کہ پھٹنے سے جو اُس کپڑے میں کمی ہو گئی ہے وہی لے سکتا ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ پھٹا ہوا کپڑا پھاڑنے والے کو دے کر اس سے کپڑے کی قیمت کا تاوان لے مثلاً تھوڑا سا پھاڑا ہو اس صورت میں اچھے کپڑے اور پھٹے ہوئے کی قیمت معلوم کریں جو فرق ہو وہ پھاڑنے والے سے وصول کیا جائے اور یوں قسم کھائے واﷲ مجھ پر اتنے روپے واجب نہیں اور اگر زیادہ پھٹا ہے تو مدعی کو اختیار ہے کپڑا لے لے اور نقصان کا تاوان لے یا کپڑا دے دے اور اُس کی قیمت کا تاوان لے اس صورت میں یہ قسم کھائے کہ میں نے اُس طرح نہیں پھاڑا ہے جس کا مدعی نے دعویٰ کیا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: ایک شخص کے پاس ایک چیز ہے۔ دو شخصوں نے اُس پر دعویٰ کیا ہر ایک کہتا ہے چیز میری ہے اس نے غصب کرلی ہے یا میں نے اس کے پاس امانت رکھی ہے۔ اُس مدعیٰ علیہ نے ایک کے لیے اقرار کرلیا کہ اسکی ہے اور دوسرے کے لیے انکار کردیا۔ حکم ہوگا کہ چیز مقرلہ (6)کو دیدے اب دوسرا شخص مدعیٰ علیہ سے حلف لینا چاہتا ہو نہیں لے سکتا کیونکہ اُس کے قبضہ میں چیز نہیں رہی وہ مدعیٰ علیہ نہیں رہا اس کو اگر خصومت کرنی ہو مقرلہ سے کرے کہ اب وہی قابض ہے اگر یہ شخص یہ کہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الثانی،ج۴،ص۱۹.
2 ۔کسی کواپنی زمین اس طورپرکاشت کے لیے دیناکہ جو کچھ پیداوارہوگی دونوں میں تقسیم ہوجائے گی مثلاًنصف نصف یا ایک تہائی دوتہائیاں۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الثانی،ج۴،ص۱۹.
4 ۔المرجع السابق،ص۱۹،۲۰. 5 ۔المرجع السابق،ص۲۰،۲۱.
6 ۔جس کے لئے اقرار کیا گیا۔
کہ اُس نے دوسرے کے لیے اس غرض سے اقرار کیا کہ اپنے سے یمین کو دفع کرے لہٰذا قسم دی جائے قاضی اس کی بات قبول نہ کر ے۔ اور اگر دونوں کے لیے اُس نے اقرار کیا دونوں کو تسلیم کردی جائے گی اب ان میں سے اگر کوئی یہ چاہے کہ نصف باقی کے متعلق مدعیٰ علیہ پر حلف دیا جائے یہ بات نامقبول ہے اور اگر دونوں کے مقابل میں اُس نے انکار کیا تو دونوں کے مقابل میں حلف دیا جائے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: ایک شخص نے اپنے باپ کے ترکے کی ایک زمین ہبہ کردی اور موہوب لہ کو(2)قبضہ بھی دے دیا اس کے بعد اُس میت کی زوجہ دعویٰ کرتی ہے کہ یہ زمین میری ہے کیونکہ اس زمین کے ہبہ کرنے کے بعد ترکہ تقسیم ہوا اور یہ زمین میرے حصہ میں آئی موہوب لہ یہ کہتا ہے کہ تقسیم کے بعد زمین کا ہبہ ہواہے اور یہ زمین واہب کے حصہ میں پڑی تھی اور موہوب لہ اپنی بات کو گواہوں سے ثابت نہ کرسکا اور عورت نے اپنی بات پر قسم کھالی موہوب لہ دیگر ورثہ پر حلف نہیں دے سکتا حکم یہ ہوگا کہ زمین واپس کرے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: اگر سبب ایسا ہے جومرتفع نہیں ہوتا تو سبب پر حلف دیں گے مثلاً غلامِ مسلم نے مولٰے پر عتق کا دعویٰ کیا اور مولٰے منکر ہے اُسے یہ قسم دیں گے کہ خدا کی قسم اُسے آزاد نہیں کیا ہے ۔ (4)( ہدایہ)
مسئلہ ۲۰: مدعیٰ علیہ پر حلف دیا گیا وہ کہتا ہے اس معاملہ میں ایک مرتبہ مجھ سے قسم کھلوا چکا ہے اگر وہ پہلا حلف کسی حاکم یا پنچ کے سامنے ہوا ہے اور گواہوں سے مدعیٰ علیہ نے یہ ثابت کردیا تو قبول کرلیا جائے گا ورنہ مدعی جو اس حلف سے منکِر ہے اُس کو قسم کھانی ہوگی۔ اور اگرمدعیٰ علیہ یہ کہتا ہے کہ مدعی نے مجھے اس دعوے سے بری کردیا ہے اور مدعی منکِر ہے اور مدعیٰ علیہ اپنی اس بات پر گواہ نہیں پیش کرتا بلکہ مدعی کو حلف دینا چاہتا ہے تو اُس پر حلف نہیں دیا جائے گا کیونکہ دعوے کا جواب اقرار یا انکا رہے اور یہ جو اُس نے کہا یہ جواب نہیں اور اگر مدعیٰ علیہ یہ کہتا ہے کہ مدعی نے مجھے مال سے بری کردیا ہے یعنی معاف کردیا ہے اور گواہوں سے ثابت کردیا تو بری ہوگیا مدعی کادعویٰ ساقط ورنہ مدعی پر حلف دیا جائے گا وہ قسم کھائے کہ میں نے معاف نہیں کیا تو مطالبہ دلایا جائے گا کیونکہ معاف کرنا ثابت نہیں ہوا اور مال واجب ہونے کو خود مدعیٰ علیہ نے معافی کا دعویٰ کرکے تسلیم کرلیا اور اگر قسم سے انکار کرے تو دعویٰ خارج۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۲۹.
2 ۔جسے ہبہ کی اس کو۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الثالث فی الیمین...إلخ،الفصل الثالث،ج۴،ص۳۱.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب الیمین،فصل فی کیفیۃالیمین...إلخ،ج۲،ص۱۵۹.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدعویٰ،ج۸،ص۳۵۶.
مسئلہ ۲۱: مدعیٰ علیہ پرحلف دیا گیا وہ کہتا ہے میں نے یہ حلف کرلیا ہے کہ کبھی قسم نہیں کھاؤں گا اگر قسم کھاؤں تو میری بی بی پر طلاق اس حلف کی وجہ سے قسم کھانے سے مجبور ہوں۔ اس بات کی طرف قاضی التفات نہ کریگا(1) بلکہ تین مرتبہ اُس پر حلف پیش کریگا اگر قسم نہیں کھائے گا اُس کے خلاف فیصلہ کردے گا۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
بعض ایسی صورتیں ہیں کہ مدعی ومدعیٰ علیہ دونوں کو قسم کھانا پڑتا ہے۔ اس کو تحالف کہتے ہیں۔
مسئلہ ۱: بائع(3) ومشتری (4) میں اختلاف ہوا اسکی چند صورتیں ہیں۔1 مقدار ثمن میں اختلاف ہے۔ ایک کہتا ہے پانچ روپیہ ثمن ہے دوسرا کہتا ہے دس روپے ہے 2 وصف ثمن میں اختلاف ہے۔ ایک کہتا ہے کہ اس قسم کا روپیہ ہے دوسرا کہتا ہے اُس قسم کا ہے 3 جنس ثمن میں اختلاف ہے۔ ایک کہتا ہے روپے سے بیع ہوئی دوسرا کہتا ہے اشرفی(5)سے4 مقدارمبیع میں اختلاف ہے۔ ایک کہتا ہے من بھر گیہوں(6) دوسرا کہتا ہے دومن گیہوں ان تمام صورتوں میں حکم یہ ہے کہ جواپنے دعوے کو گواہوں سے ثابت کردے گا اُس کے موافق فیصلہ ہوگا اور اگر دونوں نے اپنے اپنے دعوے کو گواہوں سے ثابت کیاتو اُس کے موافق فیصلہ ہوگا جو زیادتی کا دعوےٰ کرتا ہے۔ اور اگر فرض کیا جائے کہ بائع کہتا ہے دس روپے میں ایک من گیہوں بیچے اور مشتری کہتا ہے کہ پانچ روپے میں دومن خریدے اور دونوں نے گواہ پیش کیے تویہ فیصلہ ہوگا کہ دس روپے مشتری دے اور دومن گیہوں لے یعنی بائع نے ثمن زیادہ بتایا اس میں اُس کا بینہ(7) معتبر اور مشتری نے مبیع زیادہ بتائی اس میں اُس کے گواہ معتبر۔اور اگر صورت یہ ہے کہ دونوں گواہ پیش کرنے سے عاجز ہیں تو مشتری سے کہا جائے گا کہ بائع نے جو ثمن بتایا ہے اُس پر راضی ہو جا ورنہ بیع کو فسخ کردیا جائے گا اور بائع سے کہا جائے گاکہ مشتری جو کچھ کہتاہے اُسے مان لو ورنہ بیع کو فسخ کردیا جائے گا۔ اگر ان میں ایک دوسرے کی بات مان لینے پر راضی ہو جائے تو نزاع (8) ختم اور اگر دونوں میں کوئی بھی اس کے لیے طیار نہیں تو دونوں پر حلف دیا جائے گا۔(9) (ہدايہ، درمختار)
1 ۔یعنی اس بات کی طرف توجہنہ کرے گا ۔
2 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الدعویٰ ،ج ۸،ص ۳۵۶.
3 ۔بیچنے والا۔ 4 ۔خریدار۔ 5 ۔سونے کاسکہ۔
6 ۔گندم۔ 7 ۔گواہ۔ 8 ۔جھگڑا۔
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ ، باب التحالف،ج۲،ص ۱۶۰.
و''الدرالمختار'' ،کتاب الدعویٰ ،باب التحالف ،ج۸ ،ص۳۵۷.
مسئلہ ۲: اگر روپے اشرفی سے بیع ہوئی تو پہلے مشتری کو حلف دیں گے اس کے بعد بائع کو اور بیع مقایضہ ہے یعنی دونوں طرف متاع (1)ہے تو قاضی کو اختیار ہے جس سے چاہے پہلے قسم لے اور جس سے چاہے پیچھے۔اگر قسم سے انکار کردیا تو جوقسم سے انکار کریگا دوسرے کا دعویٰ اُس کے ذمہ لازم کردیا جائے گا اور دونوں نے قسم کھالی تو بیع فسخ کردی جائیگی کہ قطع نزاع کی (2) کوئی صورت اسکے سوا نہیں۔(3) (ہدايہ)
مسئلہ ۳: محض تحالف سے بیع فسخ نہیں ہوگی جب تک دونوں متفق ہو کر فسخ نہ کریں یا اُن میں سے کسی کے کہنے سے قاضی فسخ نہ کردے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۴: تحالف اُس وقت ہوگا جب مبیع موجود ہو اگر ہلاک ہو گئی ہے تو تحالف نہیں بلکہ اگر بائع کے پاس ہلاک ہوئی تو بیع ہی فسخ ہو چکی تحالف سے کیا فائدہ اور اگر مشتری کے یہاں ہلاک ہوئی تو مبیع میں کوئی اختلاف نہیں ثمن کاجھگڑا ہے گواہ نہیں ہیں تو قسم کے ساتھ مشتری کا قول معتبر ہے یوہیں اگرمبیع ملکِ مشتری سے خارج ہو چکی یا اُس میں ایسا عیب پیدا ہوا کہ اب واپس نہ ہو سکے اس صورت میں بھی صرف مشتری پر حلف ہے یامبیع میں کوئی ایسی زیادتی ہو گئی کہ ردکے لیے مانع ہو زیادت متصلہ (5) ہو یا منفصلہ(6) تو تحالف نہیں ہاں اگر مبیع کو بائع کے پاس غیر مشتری نے ہلاک کیا ہو تو اُس کی قیمت مبیع کے قائم مقام ہے اور اس صورت میں تحالف ہے ۔(7)(درمختار، ہدایہ)
مسئلہ ۵: بیع مقایضہ میں دونوں چیزیں مبیع ہیں دونوں میں سے ایک بھی باقی ہو تحالف ہوگا اور دونوں جاتی رہیں تحالف نہیں۔ (8)(ہدايہ)
مسئلہ ۶: مبیع کا ایک حصہ ہلاک ہوچکا یاملک مشتری سے خارج ہوگیا مثلاً دو چیزیں ایک عقد میں خریدی تھیں ان میں سے ایک ہلاک ہوگئی اس صورت میں تحالف نہیں ہے۔ ہاں اگربائع اس پرطیار ہوجائے کہ جو جز مبیع کا ہلاک ہوگیا
1 ۔سامان۔ 2 ۔جھگڑا ختم کرنے کی۔
3 ۔''الھدایۃ''، کتاب الدعویٰ ، باب التحالف ، ج ۲ ،ص ۱۶۰.
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الدعویٰ ، باب التحالف،ج ۸، ص ۳۵۸.
5 ۔یعنی ایسا اضافہ جو مبیع کے ساتھ متصل ہوجیسے کپڑا رنگ دینا ۔
6 ۔یعنی ایسا اضافہ جو مبیع کے ساتھ متصل نہ ہو بلکہ جدا ہوجیسے جانور کا بچہ جننا۔
7 ۔''الدرالمختار''، کتاب الدعویٰ، باب التحالف،ج ۸ ،ص ۳۶۰.
و''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ، باب التحالف،ج۲،ص۱۶۱،۱۶۲.
8 ۔''الھدایۃ''، کتاب الدعویٰ ، باب التحالف ، ج ۲، ص ۱۶۱.
اُس کے مقابل میں ثمن کا جو حصہ مشتری بتاتاہے اُسے ترک کردے تو تحالف ہے۔(1) (ہدايہ)
مسئلہ ۷: اگرمبیع پر مشتری کا قبضہ نہیں ہوا ہے تو تحالف موافق قیاس ہے کہ بائع زیادت ثمن کا دعویٰ کرتا ہے اور مشتری منکر ہے۔ اورمُنکِر پر حلف(2)ہے اور مشتری یہ کہتا ہے کہ اِتنا ثمن لے کر تسلیمِ مبیع کرنا(3) تم پر واجب ہے اور بائع اس کا منکر ہے یعنی دونوں منکر ہیں لہٰذا دونوں پر حلف ہے اورمبیع پر جب مشتری نے قبضہ کرلیا تو اب مشتری کاکوئی دعویٰ نہیں صرف بائع مدعی(4) ہے اور مشتری منکر اس صورت میں تحالُف خلاف ِ قیاس ہے مگر حدیث سے تحالف اس صورت میں بھی ثابت ہے لہٰذا ہم حدیث پر عمل کرتے ہیں۔ اور قیاس کو چھوڑ تے ہیں۔ (5)(ہدايہ)
مسئلہ ۸: تحالُف کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً بائع یہ قسم کھائے واﷲ میں نے اسے ایک ہزار میں نہیں بیچا ہے اور مشتری قسم کھائے کہ واﷲ میں نے اسے دو ہزار میں نہیں خریدا ہے اور بعض علما نفی و اِثبات دونوں کو بطورِتاکید جمع کرتے ہیں مثلاً بائع کہے واﷲ میں نے اسے ایک ہزار میں نہیں بیچا ہے بلکہ دو ہزار میں بیچا ہے اور مشتری کہے واﷲ میں نے اسے دوہزار میں نہیں خریدا ہے بلکہ ایک ہزار میں خریدا ہے۔ مگر پہلی صورت ٹھیک ہے۔ کیونکہ یمین(6) اِثبات کے لیے نہیں بلکہ نفی کے لیے ہے۔(7) (ہدايہ)
مسئلہ ۹: تحالف اُس وقت ہے کہ بدل میں اِختلاف مقصود ہواوراگر ثمن میں اختلاف ضمنی طور پر ہوتو تحالف نہیں مثلاً ایک شخص نے روپیہ سیر کے حساب سے گھی بیچا اور برتن سمیت تول دیا کہ گھی خالی کرنے کے بعد پھربرتن تول لیا جائے گا جو برتن کا وزن ہوگا مِنْہا کردیا جائے گا۔(8) اس وقت گھی برتن سمیت دس سیر ہوا مشتری برتن خا لی کرکے لاتا ہے بائع کہتا ہے یہ برتن میرا نہیں یہ تو دو سیر وزن کا ہے۔ اور میرا برتن سیر بھر کا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بائع نو سیر گھی کے دام مانگتا ہے اور مشتری آٹھ سیر کے دام اپنے اوپر واجب بتاتاہے۔ یہاں ثمن میں اختلاف ہوا مگربرتن کے ضمن میں ہے لہٰذایہاں تحالف نہیں۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: ثمن یا مبیع کے سوا کسی دوسری چیز میں اختلاف ہو تو تحالف نہیں مثلاً مشتری کہتا ہے کہ ثمن کے لیے میعاد تھی اور بائع کہتا ہے نہ تھی بائع منکر ہے اسی کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے یا ثمن کی میعاد ہے مگر بائع کہتا ہے یہ شرط تھی کہ کوئی چیز
1 ۔''الھدایۃ''، کتاب الدعویٰ ، باب التحالف ، ج۲،ص ۱۶۲.
2 ۔قسم۔ 3 ۔بیچی گئی چیزحوالہ کرنا۔ 4 ۔دعوےٰ کرنے والا۔
5 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ ، باب التحالف ، ج۲، ص ۱۶۰.
6 ۔قسم۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ ، باب التحالف ، ج۲، ص ۱۶۱.
8 ۔الگ کردیاجائے گا۔
9 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الدعویٰ ، باب التحالف،ج ۸،ص ۳۵۹.
مشتری رہن(1) رکھے گا مشتری انکار کرتا ہے یا ایک خیار شرط کا مدعی ہے دوسرا منکر ہے یا ثمن کے لیے ضامن کی شرط تھی یا نہ تھی یاثمن یامبیع کے قبضہ میں اختلاف ہے یا ثمن کے معاف کرنے یا اس کا کوئی جز کم کرنے میں اختلاف ہویا مسلم فیہ کی جائے تسلیم(2)میں اختلاف ہے ان سب صورتو ں میں ،منکر پر حلف ہے اور حلف کے ساتھ اُسی کا قول معتبر ۔(3) (درمختار،عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: نفس عقد بیع میں اختلاف ہے ایک کہتا ہے بیع ہوئی ہے دوسرا کہتا ہے نہیں ہوئی اس میں تحالف نہیں بلکہ جو منکر بیع ہے اُسی کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: جنس ثمن کا اختلاف اگر چہ مبیع کے ہلاک ہونے کے بعد ہو ایک کہتا ہے ثمن روپیہ ہے دوسرا اشرفی بتاتا ہے اس میں تحالف ہے اور دونوں قسم کھاجائیں تو مشتری پر مبیع کی واجبی قیمت لازم ہوگی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: بائع کہتا ہے یہ چیز میں نے تمھارے ہاتھ سو روپے میں بیع کی ہے جس کی میعاد دس ماہ ہے یوں کہ ہر ماہ میں دس روپے دواور مشتری یہ کہتا ہے میں نے یہ چیز تم سے پچاس روپے میں خریدی ہے ڈھائی روپے ماہوار مجھے ادا کرنے ہیں یوں کل میعاد بیس ماہ ہے دونوں نے گواہ پیش کردیے اس صورت میں دونوں شہادتیں مقبول ہیں چھ ماہ تک بائع مشتری سے دس روپے ماہوار وصول کر ے گا۔ اور ساتویں مہینے میں ساڑھے سات روپے اسکے بعد ہر ماہ میں ڈھائی روپے یہاں تک کہ سوروپے کی پوری رقم ادا ہوجائے۔ (6)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۴: بیع سلم میں اقالہ کرنے کے بعد راس المال کی مقدار میں اختلاف ہوا اس میں تحالف نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں صرف رب ا لسلم مدعی ہے اور مسلم الیہ منکر جو کچھ مسلم الیہ کہتا ہے اسی کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: بیع میں اقالہ کے بعد ثمن کی مقدار میں اختلاف ہوا مثلاً مشتری ایک ہزار بتاتاہے اور بائع پانسو کہتا ہے اوردونوں کے پاس گواہ نہیں دونوں پر حلف دیا جائے اگر دونوں قسم کھا جائیں اقالہ کو فسخ کیا جائے۔ اب پہلی بیع لوٹ آئے گی۔
1 ۔گروی۔ 2 ۔یعنی مال سُپُرْد کرنے کی جگہ ۔
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ، باب التحالف ، ج ۸ص ۳۵۹.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ ،الباب الرابع فی التحالف ،ج۴،ص۳۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ ،الباب الرابع فی التحالف ،ج۴،ص۳۳.
5 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ ، باب التحالف،ج ۸،ص۳۶۰.
6 ۔ ''البحرالرائق''،کتاب الدعوی، باب التحالف،ج ۷،ص۳۷۶.
7 ۔''الدرالمختار''، کتاب الدعویٰ ، باب التحالف،ج ۸،ص۳۶۱.
یہ حکم اُس وقت ہے کہ بیع کا اقالہ ہوچکا ہے مگر ابھی تک مبیع پر مشتری کا قبضہ ہے اب تک اُس نے واپس نہیں کی ہے اور اگر اقالہ کے بعد مشتری نے مبیع واپس کردی اس کے بعدثمن کی کمی وبیشی میں اختلاف ہوا تو تحالف نہیں بلکہ بائع پر حلف ہوگا کہ یہی ثمن کم بتاتا ہے اور زیادتی کا منکر ہے۔(1) (بحرالرائق،ہدایہ)
مسئلہ ۱۶: زوجین(2)میں مہر کی کمی بیشی میں اختلاف ہوا یا اس میں اختلاف ہوا کہ وہ کس جنس کا تھا دونوں میں جو گواہ پیش کرے اُس کے موافق فیصلہ ہوگا اور اگر دونوں نے گواہوں سے ثابت کیا تو دیکھا جائے گا کہ مہر مثل کسی کی تاییدکرتا ہے مرد کی یا عورت کی مثلاً مرد یہ کہتا ہے کہ مہر ایک ہزار تھا اور عورت دو ہزار بتاتی ہے تو اگر مہر مثل شوہر کی تایید میں ہے یعنی ایک ہزار یا کم تو عورت کے گواہ معتبر اور مہر مثل عورت کی تایید کرتا ہو یعنی دو ہزار یا زیادہ تو شوہرکے گواہ معتبر اور اگر مہر مثل کسی کی تایید میں نہ ہوبلکہ دونوں کے مابین ہو مثلاً ڈیڑھ ہزار تو دونوں کے گواہ بیکار اور مہر مثل دلایا جائے۔ اور اگر دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تو تحالف ہے اور فرض کرو دونوں نے قسم کھالی تو اس کی وجہ سے نکاح فسخ نہیں ہوگا بلکہ یہ قرار پائے گا کہ نکاح میں کوئی مہر مقرر نہیں ہوا اور اسکی وجہ سے نکاح باطل نہیں ہوتا بخلاف بیع کہ وہاں ثمن کے نہ ہونے سے بیع نہیں رہ سکتی لہٰذا فسخ کرنا پڑتا ہے تحالف کی صورت میں پہلے کون قسم کھائے اس میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں بہتر یہ کہ قرعہ ڈالا جائے۔ جس کا نام نکلے وہی پہلے قسم کھائے اور بعض کہتے ہیں کہ بہتر یہ کہ پہلے شوہر پر حلف دیا جائے اور قسم سے جو نکول(3) کریگا اُس پردوسرے کا دعویٰ لازم اور اگر دونوں نے قسم کھالی تو مہر کا مسمّٰی ہونا(4)ثابت نہیں ہوا اور مہر مثل کو جس کے قول کی تایید میں پائیں گے اُسی کے موافق حکم دیں گے یعنی اگر مہر مثل اُتنا ہے جتنا شوہر کہتا ہے یا اُس سے بھی کم تو شوہر کے قول کے موافق فیصلہ ہوگا اور اگر مہر مثل اُتنا ہے جتنا عورت کہتی ہے یا اُس سے بھی زیادہ تو عورت جو کہتی ہے اُس کے موافق فیصلہ کیا جائے اوراگر مہر مثل دونوں کے درمیان میں ہوتو مہر مثل کا حکم دیا جائے۔(5) (ہدايہ، بحر،درمختار)
1 ۔''البحرالرائق''، کتاب الدعویٰ، باب التحالف،ج ۷،ص ۳۷۷.
و''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ ، باب التحالف ، ج۲، ص ۱۶۳.
2 ۔میاں بیوی۔ 3 ۔قسم سے انکار۔ 4 ۔مقرر ہونا،معین ہونا۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ ، باب التحالف،ج۲، ص ۱۶۳-۱۶۴.
و''البحرالرائق''، کتاب الدعویٰ، باب التحالف،ج۷،ص ۳۸۰.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ، باب التحالف،ج۸،ص ۳۶۲.
مسئلہ ۱۷: موجر(1) اور مستاجر(2) میں اُجرت کی مقدار میں اختلاف ہے یا مدتِ اجارہ کے متعلق اختلاف ہے اگر یہ اختلاف منفعت حاصل کرنے سے پہلے ہے اور کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو تحالف ہے کیونکہ اس صورت میں ہر ایک مدعی(3) اور ہر ایک منکر (4)ہے اور دونوں قسم کھاجائیں تو اجارہ کوفسخ کردیاجائے۔ اگر اجرت کی مقدار میں اختلاف ہے تو مستا جرسے پہلے قسم کھلائی جائے اور مدت(5) میں اختلاف ہے تو موجر پہلے قسم کھائے۔ اور اگر دونوں کے پاس گواہ ہوں تو اُجرت میں موجر کے گواہ معتبر ہیں اور مدت کے متعلق مستاجر کے گواہ معتبر اور اگر مدت و اجرت دونوں میں اختلاف ہو اور دونوں نے گواہ پیش کئے تو مدت کے بارے میں مستاجر کے گواہ معتبر اور اجرت کے متعلق موجر کے معتبر۔ اور اگر یہ اختلاف منفعت حاصل کرنے کے بعد ہے تو تحالف نہیں بلکہ گواہ نہ ہونے کی صورت میں مستاجر پر حلف دیا جائے اور قسم کے ساتھ اسی کا قول معتبر اور اگر کچھ تھوڑی سی منفعت حاصل کرلی ہے کچھ باقی ہے۔ مثلاً ابھی پندرہ ہی دن مکان میں رہتے ہوئے گزرے ہیں اور اختلاف ہوا کہ کرایہ کیا ہے پانچ روپے ہے یا دس روپے یا میعاد کیا ہے ایک ماہ یا دو ماہ اس صورت میں تحالف ہے اگر دونوں قسم کھا جائیں تو جو مدت باقی ہے اُس کا اجارہ فسخ کردیا جائے اور گزشتہ کے بارے میں مستاجر کے قول کے موافق فیصلہ ہو۔(6) (ہدايہ)
مسئلہ ۱۸: اجارہ میں منفعت حاصل کرنے کا یہ مطلب ہے کہ اُس مدت میں مستاجر تحصیل منفعت پر قادر ہو مثلاً مکان اجارہ پر دیا اور مستاجر کو سپرد کردیا قبضہ دے دیا تو جتنے دن گزریں گے کرایہ واجب ہوتا جائے گا اور منفعت حاصل کرنا قرار دیا جائے گا مستاجر اُس میں رہے یا نہ رہے اور اگر قبضہ نہیں دیا تو منفعت حاصل نہیں ہوئی اس طرح کتنا ہی زمانہ گزر جائے کرایہ واجب نہیں۔(7) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۹: دو شخصوں نے ایک چیز کے متعلق دعویٰ کیا ایک کہتا ہے میں نے اجارہ پرلی ہے دوسرا کہتا ہے میں نے خریدی ہے اگر مدعی علیہ (8) نے مستاجر کے موافق اقرار کیا تو خریدار اُس کو حلف(9)دے سکتا ہے اور اگر دونوں اجارہ ہی کا دعویٰ کرتے ہوں اور مد عی علیہ نے ایک کے لیے اقرار کردیا تو دوسرا حلف نہیں دے سکتا۔ (10)(بحرالرائق)
1 ۔اجرت پردینے والا۔ 2 ۔اُجرت پرلینے والا،کرائے دار۔ 3 ۔دعوی کرنے والا۔ 4 ۔انکار کرنے والا۔
5 ۔درمختارمیں ایساہی ذکرہے جیساصدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانامحمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃاللہ القوی نے ذکرفرمایا،جبکہ ہدایہ میں
''مدت''کی جگہ ''منفعت ''مذکورہے۔...عِلْمِیہ
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ ، باب التحالف،ج۲، ص ۱۶۴،۱۶۵.
7 ۔''البحرالرائق''، کتاب الدعوی،باب التحالف،ج ۷،ص ۳۸۱.
8 ۔جس پر دعوےٰ کیاگیاہے۔ 9 ۔ قسم۔
10 ۔''البحرالرائق''، کتاب الدعویٰ، باب التحالف، ج ۷،ص۳۸۱.
مسئلہ ۲۰: میاں بی بی کے مابین سامانِ خانہ داری (1)میں اختلاف ہوا اور گواہ نہیں ہیں کہ شوہر کی ملک ثابت ہو یا زوجہ کی تو جو چیز مرد کے لیے خاص ہے جیسے عمامہ، چھڑی، اس کے متعلق قسم کے ساتھ مرد کا قول معتبر ہے۔ اورجو چیز یں عورت کے لیے مخصوص ہیں جیسے زنانے کپڑے اور وہ خاص چیزیں جو عورتوں ہی کے استعمال میں آتی ہیں ان کے متعلق قسم کے ساتھ عورت کا قول معتبر ہے اور وہ چیزیں جو دونوں کے کام کی ہیں جیسے لوٹا ،کٹورا(2)اور استعمال کے دیگر ظروف(3) ان میں بھی مرد کا ہی قول معتبر ہے اور اگر دونوں نے گواہ قائم کیے تو ان چیزوں کے بارے میں عورت کے گواہ معتبر ہیں اور اگر گھر کے ہی متعلق اختلاف ہے مرد کہتا ہے میر ا ہے عورت کہتی ہے میرا ہے اس کے متعلق شوہر کا قول معتبر ہے۔ ہاں اگر عورت کے پاس گواہ ہوں تو وہ عورت ہی کا ماناجائے گا۔ یہ زن وشو(4) کا اختلاف اور اُس کا یہ حکم اُس صورت میں ہے کہ دونوں زندہ ہوں، اور اگر ایک زندہ ہے اور ایک مر چکا ہے اس کے وارث نے زندہ کے ساتھ اختلاف کیا توجو چیز دونوں کے کام کی ہے اُس کے متعلق اُس کا قول معتبر ہوگا جو زندہ ہے۔(5) (ہدايہ، درمختار)
مسئلہ ۲۱: مکان میں جو سامان ایسا ہے کہ عورت کے لیے خاص ہے مگر مرد اُس کی تجارت کرتا ہے یا بناتا ہے تووہ سامان مرد کا ہے یا چیز مرد ہی کے کام کی ہے مگر عورت اُس کی تجارت کرتی ہے یا وہ خود بناتی ہے وہ سامان عورت کا ہے۔ (6)(بحر)
مسئلہ ۲۲: زوجین کا ا ختلاف حالتِبقاء نکاح (7) میں ہو یا فرقت (8)کے بعد دونوں کا ایک حکم ہے یوہیں جس مکان میں سامان ہے وہ زوج(9) کی ملک ہو یا زوجہ کی یا دونوں کی سب کا ایک ہی حکم ہے اور اختلافات کا لحاظ اُس وقت ہوگا جب عورت نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ چیز شوہر نے خریدی ہے اگر اُس کے خریدنے کا اقرار کرلے گی تو شوہر کی ملک کا اُس نے اقرار کرلیا اس کے بعد پھر عورت کی ملک ہو نے کے لیے ثبوت درکار ہے۔(10) (بحر)
مسئلہ ۲۳: ایک شخص کی چند بی بیوں میں یہی اختلاف ہوا اگر وہ سب ایک گھر میں رہتی ہوں تو سب برابر کی شریک ہیں اور اگر علیحدہ علیحدہ مکانات میں سکونت ہے تو ایک کے یہاں جو چیز ہے اُس سے دوسری کو تعلق نہیں بلکہ وہ عورت گھروالی
1 ۔گھریلو سامان۔ 2 ۔بڑاپیالہ۔ 3 ۔ظرف کی جمع برتن۔ 4 ۔میاں بیوی۔
5 ۔''الھدایۃ''، کتاب الدعویٰ ، باب التحالف،ج۲،ص ۱۶۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ، باب التحالف،ج۸،ص ۳۶۳-۳۶۵.
6 ۔''البحرالرائق''، کتاب الدعویٰ۔ باب التحالف، ج ۷ ص۳۸۱-۳۸۲.
7 ۔نکاح کے باقی ہونے کی حالت۔ 8 ۔جدائی۔ 9 ۔شوہر۔
10 ۔''البحرالرائق''، کتاب الدعویٰ، باب التحالف، ج۷ ص۳۸۲،۳۸۳.
اور خاوند کے مابین وہی حکم رکھتی ہے جو اوپر مذکورہوا یو ہیں دوسری عورتوں کے مکانات کی چیزیں اُن میں اور اُس خاوند کے مابین مذکور طریقہ پردلائی جائیں گی۔(1) (بحر)
مسئلہ ۲۴: باپ اور بیٹے میں اختلاف ہوا خانہ داری کے سامان کے متعلق ہر ایک اپنی ملک کا دعویٰ کرتا ہے اگر بیٹا باپ کے یہاں رہتا اور کھاتا پیتا ہے تو سب کچھ باپ کا ہے اور اگر باپ بیٹے کے یہاں رہتا اور کھاتا پیتاہے تو سب چیزیں بیٹے کی ہیں۔ دوپیشے والے ایک مکان میں رہتے ہیں اور اُن آلات میں اختلاف ہوا جن پر قبضہ دونوں کا ہے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ او زار اس کے پیشہ سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا اس کے ہیں بلکہ اگر ملک کا ثبوت دونوں میں سے کسی کے پاس نہ ہو تو نصف نصف دونوں کو دے دیے جائیں۔ (2)(بحر)
مسئلہ ۲۵: مالک مکان اور کرایہ دارمیں ساما ن کے متعلق اختلاف ہوا اس میں کرایہ دار کی بات معتبر ہے کہ مکان اسی کے قبضہ میں ہے جو چیز یں مکان میں ہیں اُن پر بھی اسی کاقبضہ ہے۔(3) (بحر)
مسئلہ ۲۶: عورت جس رات کو رخصت ہوکر میکے سے آئی ہے مرگئی تو اُس گھر کے تمام سامان شوہر کے ليے قرار دینا مستحسن نہیں کیونکہ جب وہ آج ہی آئی ہے تو ضرور حسب حیثیت پلنگ، پیڑھی (4)،میز ،کرسی، صندوق اور ظروف(5) وفروش(6) وغیر ہا کچھ نہ کچھ جہیز میں لائی ہوگی جس کا تقریباًہر شہرمیں ہر قوم اور ہر خاندان میں رواج ہے۔(7) (بحر)
مسئلہ ۲۷: جاروب کش(8) ایک شخص کے مکان میں جھاڑو دے رہا ہے۔ امخملی بیش قیمت چادر(9) اُس کے کندھے پر پڑی ہے مالک مکان کہتا ہے یہ چادر میری ہے مگر وہ جاروب کش کہتا ہے میری ہے۔ صاحب ِخانہ کا قول معتبر ہے۔ دوشخص ایک کشتی میں جارہے ہیں اُس کشتی میں آٹاہے دونوں میں سے ہر ایک یہ کہتا ہے کہ کشتی بھی میری ہے اور آٹا بھی میرا ہی ہے۔ مگر ان میں ایک شخص کی نسبت مشہور ہے کہ یہ آٹے کی تجارت کرتاہے اور دوسرے کی نسبت مشہور ہے کہ یہ ملاح(10) ہے توآٹا اُسے دیا جائے جو آٹے کی تجارت کرتا ہے۔ اور کشتی ملاح کو۔(11) (در مختار)
1 ۔''البحرالرائق''، کتاب الدعویٰ، باب التحالف،ج ۸،ص ۳۸۳.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔ چھوٹی چوکی جس پر بیٹھتے ہیں۔ 5 ۔ظرف کی جمع برتن۔ 6 ۔بستر،بچھونے ،چٹائیاں وغیرہ۔
7 ۔''البحرالرائق''، کتاب الدعوی،باب التحالف،ج۷،ص ۳۸۴.
8 ۔جھاڑو لگانے والا۔ 9 ۔نہایت ملائم روئیں دار کپڑے کی قیمتی چادر۔ 10 ۔کشتی چلانے والا۔
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعوی،باب التحالف،ج ۸،ص۳۶۷.
مسئلہ ۱: عین مرہون(1) کے متعلق دعویٰ ہوتو راہن و مرتہن دونوں کا حاضر ہونا شرط ہے عاریت واجارہ کا بھی یہی حکم ہے یعنی مستعیر(2) ومعیر(3)مستاجر(4) ومواجر (5)دونوں کی حاضری ضروری ہے۔ کھیت کا دعویٰ ہے جو اجارہ میں ہے اگر اُس میں بیج مزارع (6)کے ہیں تو اس کا حاضر ہونا ضرور ہے اور بیج ما لک کے ہیں اور اوگ آئے ہیں جب بھی مزارع کی حاضری ضروری ہے اور اوگے نہ ہوں تو کاشتکار کی حاضری کچھ ضروری نہیں یہ اُس صورت میں ہے کہ ملک مطلق کا دعویٰ ہواور اگر یہ دعویٰ ہوکہ فلاں نے میری زمین غصب کرلی ہے اور وہ مزارع کو دیدی ہے تو مزارع سے کوئی تعلق نہیں۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: مکان کو بیع کردیا ہے مگر ابھی بائع ہی کے قبضہ میں ہے مستحق دعویٰ کرتا ہے کہ یہ مکان میرا ہے اس کا فیصلہ بائع ومشتری دونوں کی موجودگی میں ہونا ضروری ہے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: بیع فاسد کے ساتھ چیز خریدی۔ اگر مشتری نے قبضہ کرلیا ہے تو مشتری(9) مدعیٰ علیہ (10)ہے اور قبضہ نہ کیاہوتو مدعیٰ علیہ بائع ہے اگرمشتری کے لیے شرط خیار ہے تو بائع ومشتری دونوں مدعیٰ علیہ ہوں گے بیع باطل کے ساتھ خریدی ہے تو مشتری کو مدعیٰ علیہ نہیں بنایا جاسکتا ہے۔(11) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: یہ دعویٰ کیا کہ یہ مکان فلاں شخص کا تھا جو غائب ہے اُس نے اس کے ہاتھ بیع کردیا جس کے قبضہ میں ہے میں اس پرشفعہ کا دعویٰ کرتا ہوں مدعیٰ علیہ یعنی جس کے قبضہ میں ہے وہ کہتا ہے کہ مکان میرا ہی ہے اِس کو میں نے کسی سے نہیں خریدا ہے جب تک بائع حاضر نہ ہو کچھ نہیں ہوسکتا۔(12) (عالمگیری)
1 ۔گروی رکھی ہوئی چیز۔ 2 ۔عارضی طور پرکسی سے استعمال کے لیے کوئی چیز لینے والا۔
3 ۔عارضی طورپر اپنی چیز استعمال کے لیے دینے والا۔ 4 ۔کرائے دار،اُجرت پرلینے والا۔
5 ۔اجرت پر دینے والا۔ 6 ۔کسان،کاشتکار۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعوٰی،الباب الخامس فیمن یصلح خصماً ۔ إلخ،ج۴،ص ۳۶.
8 ۔المرجع السابق
9 ۔خریدار۔ 10 ۔جس پردعوی کیاگیاہے۔
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الدعوٰی ، الباب الخامس فیمن یصلح خصماً ۔ إلخ،ج ۴،ص ۳۶.
12 ۔المرجع السابق ،ص ۳۷.
مسئلہ ۵: وکیل نے مکان کوخرید کر اُس پر قبضہ کر لیا ابھی موکل(1) کو نہیں دیا ہے کہ شفعہ کا دعویٰ ہوا وکیل ہی کے مقابل میں فیصلہ ہوگا موکل کی ضرورت نہیں اور اگر وکیل نے قبضہ نہیں کیا ہے تو موکل کی حاضری ضروری ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: مکان خریدا اور ابھی تک قبضہ نہیں کیا بائع سے کسی نے چھین لیا اگر مشتری نے ثمن ادا کردیاہے یاثمن اداکرنے کے لیے کوئی میعاد مقرر ہے تو دعویٰ مشتری کو کرنا ہوگا۔ ورنہ بائع کو۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: مال مضاربت پر اِستحقاق ہوا(4) اگر اُس میں نفع ہے تو بقدرِنفع (5)مدعیٰ علیہ (6) مضارِب ہوگا ورنہ رَبُّ المال۔ (7)(عالمگیری)
دفعِ دعویٰ کا مطلب یہ ہے کہ جس پر دعویٰ کیا گیا وہ ایسی صورت پیش کرتاہے جس سے وہ مدعیٰ علیہ نہ بن سکے لہٰذا اُس پر سے دفع ہو جائے گا۔
مسئلہ ۱: ذوالید (جس کے قبضہ میں وہ چیز ہے جس کا مدعی نے دعویٰ کیا ہے وہ) یہ کہتا ہے کہ یہ چیزجو میرے پاس ہے اس پر میرا قبضہ مالکا نہ نہیں ہے بلکہ زید نے میرے پاس امانت رکھی ہے یا عاریت کے طور پر دی ہے، یا کرایہ پر دی ہے یا میرے پاس رہن رکھی ہے یا میں نے اُس سے غصب کی ہے اور زید جس کا نام مدعیٰ علیہ نے لیا غائب ہے یعنی اُس کا پتہ نہیں کہ کہاں گیا ہے یا اتنی دور چلاگیا ہے کہ اُس تک پہنچنا دشوار ہے یا ایسی جگہ چلاگیا جو نزدیک ہے بہرحال اگر مدعیٰ علیہ اپنی اس بات کو گواہوں سے ثابت کردے تو مدعِی کا دعویٰ دفع ہو جائے گا جبکہ مدعی نے ملک مطلق کا دعویٰ کیا ہو ،یو ہیں اگر مدعیٰ علیہ اس بات کا ثبوت دیدے کہ خود مدعی نے ملک زید کا اقرار کیا ہے تو دعوے خارج ہو جائے گا۔ اور اس میں یہ شرط بھی ہے کہ جس چیز کا دعویٰ ہو وہ موجود ہو ہلاک نہ ہوئی ہو اور یہ بھی شرط ہے کہ گواہ اُس شخص غائب کو نام و نسب کے ساتھ جانتے ہوں اور اُسکی شناخت بھی رکھتے ہوں یہ کہتے ہوں کہ اگر وہ ہمارے سامنے آئے تو ہم پہچان لیں گے۔(8) (ہدايہ ،درمختار)
1 ۔وکیل بنانے والا۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الدعویٰ ، الباب الخامس فیمن یصلح خصماً... إلخ،ج۴،ص ۳۷.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔کسی کا حق ثابت ہوا۔ 5 ۔نفع کے برابر ۔ 6 ۔ جس پردعوےٰ کیاگیاہے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ ، الباب الخامس فیمن یصلح خصماً... إلخ،ج۴،ص ۴۱.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ، فصل فی دفع الدعاوی،ج ۸،ص ۳۶۸.
و''الھدایۃ''، کتاب الدعویٰ ، فصل فیمن لایکون خصماً،ج۲،ص ۱۶۶.
مسئلہ ۲: اگر مدعیٰ علیہ نے اُس شخصِ غائب کی تعیین نہیں کی ہے فقط یہ کہتا ہے کہ ایک شخص نے میرے پاس امانت رکھی ہے جس کا نام و نسب کچھ نہیں بتاتا تو اس کہنے سے دعوے سے بری نہیں ہو گا ۔(1) ( درمختار) امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالیٰ یہ بھی کہتے ہیں کہ مدعیٰ علیہ دعوے سے اُس وقت بری ہوگا کہ وہ حیلہ ساز اور چال باز(2) شخص نہ ہو ایسا ہو گا تو دعویٰ دفع نہیں ہو گا اس ليے کہ چال بازآدمی یہ کر سکتا ہے کہ کسی کی چیز غصب کر کے خفیۃً(3) کسی پردیسی آدمی کو دیدے اور یہ کہدے کہ فلاں وقت میرے پاس یہ چیز لے کر آ نا اور لوگوں کے سامنے یہ کہدینا کہ یہ میری چیز امانت رکھ لو اس نے وقت معین پر معتبر آدمیوں کو کسی حیلہ سے اپنے یہاں بلالیا اُس شخص نے اُن کے سامنے امانت رکھ دی اور اپنا نام و نسب بھی بتادیا اور چلاگیا اب جب کہ مالک نے دعویٰ کیا تو اس شخص نے کہدیا کہ فلاں غائب نے امانت رکھی ہے اور ان لوگوں کو گواہی میں پیش کردیا مقدمہ ختم ہو گیا اب نہ وہ پردیسی آئے گا نہ چیز کا کوئی مطالبہ کریگا یوں پرایا مال(4)ہضم کرلیا جائے گا لہٰذا ایسے حیلہ باز آدمی کی بات قابلِ اعتبار نہیں نہ اُس سے دعویٰ دفع ہو اس قول امام ابو یوسف کو بعض فقہا نے اختیار کیا ہے۔(5) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۳: مدعیٰ علیہ یہ بیان کرتا ہے کہ جس کی چیز ہے اُس نے اس کو میری حفاظت میں دیا ہے یا جس کا مکان ہے اُس نے مجھے اس میں رکھا ہے یا میں نے اُس سے یہ چیز چھین لی ہے یا چرالی ہے یا وہ بھول کر چلاگیا میں نے اُٹھالی ہے یا یہ کھیت اُس نے مجھے مزارعت پر دیاہے ان صورتوں کا بھی وہی حکم ہے کہ گواہوں سے ثابت کردے تو دعویٰ دفع ہو جائے گا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۴: اگر وہ چیز ہلاک ہو گئی ہے یا گواہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اُس شخص کو پہچانتے نہیں یا خود ذوالیدنے ایسا اقرار کیا جس کی وجہ سے وہ مدعیٰ علیہ بن سکتا ہے۔ مثلاً کہتا ہے میں نے فلاں شخص سے خریدی ہے یا اُس غائب نے مجھے ہبہ کی ہے یا مدعی نے اس پر ملک مطلق کا دعویٰ ہی نہیں کیا ہے بلکہ اس کے کسی فعل کا دعویٰ ہے مثلاً اس شخص نے میری یہ چیز غصب کرلی ہے یا یہ چیز میری چوری گئی یہ نہیں کہتا کہ اس نے چرائی تاکہ پردہ پوشی رہے اگرچہ مقصود یہی ہے کہ اس نے چرائی ہے اور ان سب صورتوں میں ذوالید یہ جواب دیتا ہے کہ فلاں غائب نے میرے پاس امانت رکھی ہے وغیرہ وغیرہ تو دعوائے مدعی اس بیان
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعوی، فصل فی دفع الدعاوی، ج ۸ ص ۳۶۸.
2 ۔دھوکہ باز۔ 3 ۔چھپاکر۔ 4 ۔غیر کا مال۔
5 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الدعویٰ ، فصل فیمن لایکون خصماً ،ج۲،ص ۱۶۶.
و''الدرالمختار''، کتاب الدعویٰ، فصل فی دفع الدعاوی، ج ۸ ، ص ۳۶۹.
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ، فصل فی دفع الدعاوی ،ج ۸ ،ص۳۷۰.
سے دفع نہیں ہوگااور اگر مدعی نے غصب میں یہ کہا کہ یہ چیز مجھ سے غصب کی گئی یہ نہیں کہتاکہ اس نے غصب کی تو دعویٰ دفع ہو گا کیونکہ اس صورت میں حد نہیں ہے کہ پردہ پوشی اور اُس پر سے حد دفع کرنے کے ليے عبارت میں یہ کنایہ اختیار کیا جائے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۵: مدعی علیہ(2) کچہری سے باہر یہ کہتا تھا کہ میری ملک ہے اور کچہری میں یہ کہتا ہے کہ میرے پاس فلاں کی امانت ہے یا اُس نے رہن رکھا ہے اور اُس پر گواہ پیش کرتا ہے دعویٰ دفع ہو جائے گا مگر جبکہ مدعی گواہوں سے یہ ثابت کردے کہ اس نے خود اپنی ملک کا اقرار کیا ہے تو دعویٰ دفع نہ ہوگا۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۶: مدعی نے دعویٰ کیا کہ یہ چیز میری ہے اس کو میں نے فلاں شخص غائب سے خریدا ہے مدعیٰ علیہ نے جواب میں کہا اُسی غائب نے خود میرے پاس امانت رکھی ہے تو دعویٰ دفع ہو جائے گا اگرچہ مدعیٰ علیہ اپنی بات پر گواہ بھی پیش نہ کرے اور اگر مدعیٰ علیہ نے اُس کے خود امانت رکھنے کو نہیں کہا بلکہ یہ کہا اس کے وکیل نے میرے پاس امانت رکھی ہے تو بغیر گواہوں سے ثابت کیے دعویٰ دفع نہیں ہوگا اور اگر مدعی یہ کہتا ہے کہ اُس غائب سے میں نے خریدی اور اُس نے مجھے قبضہ کا وکیل کیا ہے اور اُس کو گواہ سے ثابت کردیا تومدعی کو چیز دلادی جائے گی اور اگر مدعیٰ علیہ نے اُس غائب سے مدعی کے خریدنے کا اقرار کیا اس نے گواہوں سے ثابت نہیں کیا تو دیدینے کا حکم نہیں دیا جائیگا۔(4) (ہدايہ، درمختار)
مسئلہ ۷: دعویٰ کیا کہ چیز میری ہے فلاں غائب نے اس کو غصب کرلیا اور اس کو گواہوں سے ثابت کیا اور مدعیٰ علیہ یہ کہتا ہے اُسی غائب شخص نے میرے پاس امانت رکھی ہے دعویٰ دفع ہو جا ئے گا اور اگر غصب کی جگہ مدعی نے چوری کہا اور مدعی علیہ نے وہی جواب دیا دعویٰ دفع نہیں ہوگا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۸: ایک شخص نے اپنی بہن کے یہاں سے کوئی چیز لے جا کر رہن رکھ دی اور غائب ہوگیا اُس کی بہن نے
1 ۔''الدرالمختار''، کتاب الدعوی، فصل فی دفع الدعاوی، ج ۸ ،ص ۳۷۱.
2 ۔جس پر دعوی کیاجائے۔
3 ۔''الدرالمختار''، کتاب الدعوی، فصل فی دفع الدعاوی، ج ۸ ،ص ۳۷۲.
4 ۔''الھدایۃ''، کتاب الدعویٰ ، فصل فیمن لایکون خصماً،ج ۲،ص ۱۶۷.
و''الدرالمختار''، کتاب الدعوی، فصل فی دفع الدعاوی، ج ۸ ،ص ۳۷۳.
5 ۔''الدرالمختار''، کتاب الدعوی، فصل فی دفع الدعاوی، ج ۸ ،ص ۳۷۳،
ذی الید پر دعویٰ کیا اُس نے جواب دیا کہ فلاں نے میرے پاس رہن(1) رکھی ہے اگرعورت نے اپنے بھائی کے غصب کا دعویٰ کیا ہے اور ذی الید نے گواہوں سے رہن ثابت کر دیا دعویٰ دفع ہے اور اگر چوری کا دعویٰ کیا ہے دفع نہیں ہوگا۔(2) (بحر)
مسئلہ ۹: مدعی(3) کہتا ہے یہ چیز فلاں شخص نے مجھے کرایہ پر دی ہے مدعیٰ علیہ(4) بھی یہی کہتا ہے مجھے کرایہ پر دی ہے پہلا شخص دوسرے پر دعویٰ نہیں کر سکتا اور اگر مدعی نے رہن یا خریدنے کا دعویٰ کیا اورمدعی علیہ کہتا ہے میرے کرایہ میں ہے جب بھی اس پر دعویٰ نہیں ہوسکتا اور اگر مدعی نے رہن یا اجارہ یا خریدنے کا دعویٰ کیا اور مدعیٰ علیہ کہتا ہے میں نے خریدی ہے تو اس پر دعویٰ ہوگا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: مدعیٰ علیہ یہ کہتا ہے اس دعوے کا میں مدعیٰ علیہ نہیں بن سکتا میں اس کو دفع کروں گا مجھے مہلت دی جائے اُس کو اتنی مہلت دی جائے گی کہ دوسری نشست میں اس کو ثابت کر سکے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: دعویٰ کیا کہ یہ مکان جو زید کے قبضہ میں ہے میں نے عَمرْو سے خریدا ہے۔ زید نے جواب دیا کہ میں نے خوداسی مدعی سے اس مکان کو خریدا ہے۔ مدعی کہتا ہے کہ ہمارے مابین جو بیع ہوئی تھی اُس کا اقالہ ہوگیا اس سے دعویٰ دفع ہوجائے گا۔(7) ( عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مدعیٰ علیہ نے جواب دیا کہ تو نے خود اقرار کیا ہے کہ یہ چیز مدعیٰ علیہ کے ہاتھ بیع کردی ہے اگر اسے گواہوں سے ثابت کردے یا بصورت گواہ نہ ہونے کے مدعی پر حلف دیا اُس نے انکار کردیا دعویٰ دفع ہوجائے گا۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: عورت نے ورثہ شوہر پر میراث ومہر کا دعویٰ کیا اُنھوں نے جواب میں کہا مورث نے اپنے مرنے سے دوسال پہلے اسے حرام کردیا تھا۔ عورت نے اس کے دفع کرنے کے لیے ثابت کیا کہ شوہر نے مرض الموت میں میرے حلال ہونے کا اقرار کیا ہے ورثہ کی بات دفع ہوجائے گی۔ (9)(عالمگیری)
1 ۔گروی ۔
2 ۔''البحر الرائق''،کتاب الدعویٰ، باب التحالف،ج ۷،ص ۳۹۶.
3 ۔دعوی کرنے والا۔ 4 ۔جس پر دعویٰ کیاجائے۔
5 ۔''الدرالمختار''، کتاب الدعویٰ، فصل فی دفع الدعاوی،ج ۸،ص۳۷۴.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الدعویٰ ، الباب السادس فیما تدفع بہ... إلخ،ج۴،ص۵۱.
8 ۔المرجع السابق. 9 ۔المرجع السابق،ص۵۲.
مسئلہ ۱۴: عورت نے شوہر کے بیٹے پر میراث کا دعویٰ کیا بیٹے نے انکار کردیا اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ بالکل باپ کی منکوحہ(1) ہونے سے انکار کردے کبھی اس کے باپ نے نکاح کیا ہی نہ تھا۔ دوم یہ کہ مرنے کے وقت یہ اس کی منکوحہ نہ تھی۔ عورت نے گواہوں سے اپنا منکوحہ ہونا ثابت کیا اور بیٹے نے یہ گواہ پیش کیے کہ اُس کے باپ نے تین طلاقیں دیدی تھیں اور مرنے سے پہلے عدّت بھی ختم ہوچکی تھی اگر پہلی صورت میں لڑکے نے یہ جواب دیا ہے تو اس کے گواہ مقبول نہیں کہ پہلے قول سے متنا قض ہے۔(2) اور دوسری صورت میں یہ گواہ پیش کئے تو لڑکے کے گواہ مقبول ہیں۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۱۵: دعویٰ کیا کہ میرے باپ کا تم پر اتنا چاہیے اُن کا انتقال ہوا اور تنہا مجھے وارث چھوڑا لہٰذا وہ مال مجھے دو مدعی علیہ نے کہا تمہارے باپ کا مجھ پر جو کچھ چاہیے تھا وہ اس وجہ سے تھا کہ میں نے اُس کے لیے فلاں کی طرف سے کفالت کی تھی اور مکفول عنہ(4)نے تمھارے باپ کی زندگی میں اُسے دین ادا کردیا مدعی نے یہ تسلیم کیا کہ اس سے مطالبہ بحکم کفالت ہے مگر یہ کہ مکفول عنہ نے ادا کردیا تسلیم نہیں لہٰذا اس صورت میں اگر مدعیٰ علیہ اس کو گواہ سے ثابت کردے گا دعویٰ دفع ہوجائے گا یو ہیں اگر مدعی علیہ نے یہ کہا کہ تمھارے والد نے مجھے کفالت سے بری کردیا تھا یا اُس کے مرنے کے بعد تم نے بری کردیا تھا اور اس کو گواہ سے ثابت کردیا دعویٰ دفع ہوگیا۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: یہ دعویٰ کیا کہ میرے باپ کے تم پر سو روپے ہیں وہ مر گئے تنہا میں وارث ہوں مدعی علیہ نے کہا تمھارے باپ کو میں نے فلاں پر حوالہ کردیا اور محتال علیہ(6) بھی تصدیق کرتا ہے خصومت مند فع نہ ہو گی(7) جب تک حوالہ کو گواہوں سے نہ ثابت کرے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: سو تیلی ماں پر دعویٰ کیا کہ یہ مکان جو تمھارے قبضہ میں ہے میرے باپ کا ترکہ ہے۔ عورت نے جواب دیا کہ ہاں تمھارے باپ کا ترکہ ہے مگر قاضی نے اس مکان کو میرے مہر کے بدلے میرے ہی ہاتھ بیع کردیا تم اُس وقت چھوٹے تھے تمہیں خبرنہیں اگر عورت یہ بات گواہوں سے ثابت کردے گی دعویٰ دفع ہوجائے گا۔ (9)(عالمگیری)
1 ۔بیوی۔ 2 ۔یعنی پہلے قول کے مخالف ہے۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ'' کتاب الدعویٰ والبینات،باب ما یبطل دعوی المدعی...إلخ ،ج۲،ص۱۰۲۔۱۰۳.
4 ۔جس پر مطالبہ ہے ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الدعویٰ، الباب السادس فیما تدفع ۔ إلخ،ج۴،ص۵۲.
6 ۔جس پر حوالہ کیا گیا ہے۔ 7 ۔مقدمہ ختم نہ ہوگا۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الدعویٰ، الباب السادس فیما تد فع ... إلخ ،ج۴،ص۵۲.
9 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۸: ایک بھائی نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ یہ مکان جو تمھارے قبضہ میں ہے اس میں میں بھی شریک ہوں کیونکہ یہ ہمارے باپ کی میراث ہے دوسرے نے جواب دیا کہ یہ مکان میرا ہے ہمارے باپ کا اس میں کچھ نہ تھا۔ اس کے بعد مدعیٰ علیہ نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ مکان میں نے اپنے باپ سے خریدا ہے یا میرے باپ نے اس مکان کا میرے لیے اقرار کیا تھا۔ یہ دعویٰ صحیح ہے اور اس پر گواہ پیش کریگا مقبول ہوں گے اور اگر بھائی کے جواب میں یہ کہا تھا کہ یہ ہمارے باپ کا کبھی نہ تھا۔ یا یہ کہ اس میں باپ کا کوئی حق کبھی نہ تھا۔ پھر وہ دعویٰ کیا تو نہ دعویٰ مسموع ،(1)نہ اُس پر گواہ مقبول۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ یہ چیز جو تمھارے پاس ہے میری ہے مدعیٰ علیہ نے کہا میں دیکھوں گا غور کروں گا۔ یہ جواب نہیں ہے۔ جواب دینے پر مجبور کیا جائے گا۔ یوہیں اگر یہ کہا مجھے معلوم نہیں یا یہ کہا معلوم نہیں میری ہے یا نہیں یا کہا معلوم نہیں مدعی کی ملک ہے یا نہیں ان سب صورتوں میں دعوے کا جواب نہیں ہوا جواب دینے پر مجبور کیا جائے گا اور ٹھیک جواب نہ دے تو اُسے منکر قرار دیا جائے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: جائداد کا دعویٰ کیا مدعیٰ علیہ نے جواب دیا اس جائداد میں منجملہ تین سہام(4) دوسہام میرے ہیں جو میرے قبضہ میں ہیں اور ایک سہم فلاں غائب کی ملک ہے جو میرے ہاتھ میں امانت ہے۔ مدعی علیہ کا یہ جواب مکمل ہے مگر خصومت (5)اُس وقت دفع ہوگی کہ ایک سہم کا امانت ہونا گواہ سے ثابت کردے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: مکان کا دعویٰ کیا کہ یہ میرا ہے مدعیٰ علیہ نے غصب کرلیا ہے۔ مدعیٰ علیہ نے کہا کہ یہ پورا مکان میرے ہاتھ میں بوجہ شرعی ہے مدعی کو ہرگز نہیں دونگا۔ یہ جواب غصب کے مقابل میں پورا ہے کہ غصب کا انکار ہے مگر ملک کے متعلق نا کافی ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: مکان کا دعویٰ تھا مدعیٰ علیہ نے کہا مکان میرا ہے پھر کہا وقف ہے یا یوں کہا کہ یہ مکان وقف ہے اور
1 ۔یعنی دعوےٰ نہ سناجائے گا۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ، الباب السادس فیما تدفع... إلخ،ج ۴،ص۵۳.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب السابع فیما یکون جواباً... إلخ،ج۴،ص۶۲.
4 ۔یعنی تین حصوں میں سے۔ 5 ۔مقدمہ،جھگڑا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الدعویٰ،الباب السابع، فیما یکون جواباً... إلخ،ج۴،ص ۶۲.
7 ۔المرجع السابق.
بحیثیت متولی میرے ہاتھ میں ہے یہ مکمل جواب ہے اور مدعی علیہ کو گواہوں سے وقف ثابت کرنا ہوگا۔ (1)(عالمگیری)
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز کے دو حقدار ایک شخص ( یعنی ذی الید) کے مقابل میں کھڑے ہوجاتے ہیں ہر ایک اپنا حق ثابت کرتا ہے۔ یہ بات پہلے بتائی گئی ہے کہ خارج کے گواہ کو ذوالید کے گواہ پر ترجیح ہے مگر جبکہ ذوالید کے گواہوں نے وہ وقت بیان کیا جو خارج کے وقت سے مقدم ہے تو ذوالید کے گواہ کو ترجیح ہوگی مگر بعض صورتیں بظاہر ایسی ہیں کہ معلوم ہوتا ہے ذوالید کی تاریخ مقدم ہے اور غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدم نہیں مثلاً کسی نے دعویٰ کیا کہ یہ چیز میری ہے ایک مہینہ سے میرے یہاں سے غائب ہے ذوالید کہتا ہے یہ چیز ایک سال سے میری ہے مدعی کے گواہوں کو ترجیح ہوگی اور اُسی کے موافق فیصلہ ہوگاکیونکہ مدعی نے ملک کی تاریخ نہیں بیان کی ہے تاکہ ذوالید کے گواہوں کوترجیح دی جائے بلکہ غائب ہونے کی تاریخ بتائی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ملک مدعی کی تاریخ ایک سال سے زیادہ کی ہو۔(2)(درمختار)
مسئلہ ۱: ہر ایک یہ کہتا ہے کہ یہ چیز میرے قبضہ میں ہے اگر ایک نے گواہوں سے اپنا قبضہ ثابت کر دیا تو وہی قابض مانا جائیگا دوسرا خارج قرار دیا جائے گا پھر وہ شخص جس کو قابض قرار دیا گیا اگر گواہوں سے اپنی ملک مطلق ثابت کرنا چاہے گا مقبول نہ ہوں گے کہ ملک مطلق میں ذوالید کے گواہ معتبر نہیں اوراگر قبضہ کے گواہ نہ پیش کرے تو حلف کسی پر نہیں۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۲: ایک شخص نے دوسرے سے چیز چھین لی جب اُس سے پوچھاگیا تو کہنے لگا میں نے اس ليے لے لی کہ یہ چیزمیری تھی اور گواہوں سے اپنی ملک ثابت کی یہ گواہ مقبول ہیں کہ اگرچہ اس وقت یہ ذوالیدہے مگرحقیقت میں ذوالید نہ تھا بلکہ خارج تھا اُس سے لے لینے کے بعد ذوالید ہوا۔(4) (بحر)
مسئلہ ۳: ایک شخص نے زمین چھین کر اُس میں زراعت بوئی دوسرے شخص نے دعویٰ کیا کہ یہ زمین میری ہے اُس نے غصب کرلی اگر گواہوں سے اُس کا غصب کرنا ثابت کریگا ذوالید یہ ہوگا اور کھیت بونے والا خارج قرار پائے گا او راگر اُس کا قبضہ جدید نہیں ثابت کریگا تو ذوالید وہی بونے والا ٹھہرے گا۔ ان مسائل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ظاہری قبضہ کے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب السابع فیما یکون... إلخ،ج۴،ص۶۲.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ، باب دعوی الرجلین،ج ۸،ص۳۷۵،۳۷۶.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ، باب دعوی الرجلین،ج ۷،ص۳۹۸.
4 ۔ المرجع السابق.
اعتبار سے ذوالید نہیں ہوتا۔(1) (بحر)
مسئلہ ۴: دو شخصوں نے ایک معین چیز کے متعلق جو تیسرے کے قبضہ میں ہے دعویٰ کیا ہر ایک اُس شے کو اپنی ملک بتاتا ہے اور سبب ملک کچھ نہیں بیان کرتا اور نہ تاریخ بیان کرتا اور اپنے دعوے کو ہر ایک نے گواہوں سے ثابت کردیا وہ چیز دونوں کو نصف نصف دلادی جائے گی کیونکہ کسی کو ترجیح نہیں ہے۔(2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵: زید کے قبضہ میں مکان ہے عمرو نے پورے مکان کا دعویٰ کیا اور بکرنے آدھے کا اور دونوں نے اپنی ملک گواہوں سے ثابت کی اُس مکان کی تین چوتھائی عمرو کو دی جائے گی اور ایک چوتھائی بکر کو کیونکہ نصف مکان تو عمرو کو بغیر منازعت ملتا ہے اس میں بکر نزاع ہی نہیں کرتا نصف میں دونوں کی نزاع ہے یہ نصف دونوں میں برابر تقسیم کردیا جائے گا۔ اور اگر مکان انھیں دونوں مدعیوں کے قبضہ میں ہے تو مدعی کل کو نصف بغیر قضاملے گا کیونکہ اس نصف میں دوسرا نزاع ہی نہیں کرتا اور نصف دوم اسی کو بطور قضاملے گا کیونکہ یہ خارج ہے اور خارج کے گواہ ذوالید کے مقابل میں معتبر ہوتے ہیں۔ (3)(ہدايہ)
مسئلہ ۶: مکان تین شخصوں کے قبضہ میں ہے ایک پورے مکان کا مدعی ہے دوسرا نصف کا تیسرا ثلث کا یہاں بھی مکان ان تینوں میں بطور منازعت تقسیم ہوگا (4)(درمختار) یعنی اس مکان کے چھتیس ۳۶سہام کیے جائیں گے جو کل کا مدعی ہے اُس کو پچیس سہام ملیں گے اور مدعی نصف کو سات سہام اور مدعی ثلث کو چار سہام۔
مسئلہ ۷: جائداد موقوفہ ایک شخص کے قبضہ میں ہے اس پر دو شخصوں نے دعویٰ کیا اور دونوں نے گواہوں سے ثابت کردیا وہ جائداد دونوں پر نصف نصف کردی جائے گی یعنی نصف کی آمدنی وہ لے اور نصف کی یہ۔ مثلًا ایک مکان کے متعلق ایک شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مجھ پر وقف ہے اور متولی مسجد یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مسجد پر وقف ہے اگر دونوں تاریخ بیان کردیں تو جس کی تاریخ مقدم ہے وہ حقدار ہے ورنہ نصف اُس پر وقف قرار دیا جائے اور نصف مسجد پر یعنی وقف کا دعویٰ بھی ملکِ مطلق کے حکم میں ہے يوہيں اگر ہر ایک کا یہ دعوی ہے کہ وقف کی آمدنی واقف نے میرے لیے قرار دی ہے اور گواہوں سے ثابت کردے تو آمدنی نصف نصف تقسیم ہوجائے گی۔(5) (بحر)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ، باب دعوی الرجلین،ج ۷، ص ۳۹۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ، باب دعوی الرجلین،ج ۷، ص ۳۸۶،وغیرہ.
3 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ، باب مایدعیہ الرجلان ،ج ۲،ص ۱۷۱۔۱۷۲.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ، باب دعوی الرجلین،ج۷، ص ۳۸۶.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ، باب دعوی الرجلین، ج۷، ص ۳۹۷.
مسئلہ ۸: دوشخصوں نے شہادت دی کہ فلاں شخص نے اقرار کیا ہے کہ اُس کی جائداداولادِ زید پر وقف ہے اور دوسرے دو شخصوں نے شہادت دی کہ اُس نے یہ اقرار کیا ہے کہ اُس کی جائداد اولادِعمرو پر وقف ہے اگر دونوں میں کسی کا وقت مقدم ہے تو اُس کے لیے ہے اور اگر وقت کا بیان ہی نہ ہو یا دونوں بیانوں میں ایک ہی وقت ہو تو نصف اولادِ زید پر وقف قرار دی جائے اور نصف اولادِ عمرو پر اور ان میں سے جب کوئی مر جائے گا تو اُس کا حصہ اُسی فریق میں اُن کے لیے ہے جو باقی ہیں مثلًا زید کی اولاد میں کوئی مرا تو بقیہ اولادِ زید میں منقسم ہوگی اولاد ِعمرو کو نہیں ملے گی ہاں اگر ایک کی اولاد بالکل ختم ہوگئی تو دوسرے کی اولاد میں چلی جائے گی کہ اب کوئی مزاحم(1) نہیں رہا۔(2) (بحر)
مسئلہ ۹: دعوائے عین کا یہ حکم جو بیان کیا گیا اُس وقت ہے کہ دونوں نے گواہوں سے ثابت کیا ہواوراگر گواہ نہ ہوں تو ذوالید(3) کو حلف دیا جائے گا اگر دونوں کے مقابل میں اُس نے حلف کرلیا تو وہ چیز اُس کے ہاتھ میں چھوڑ دی جائیگی یوں نہیں کہ اُس کی ملک قرار دی جائے یعنی اگر اُن دونوں میں سے آئندہ کوئی گواہوں سے ثابت کردے گا تو اُسے دلادی جائے گی اور اگر ذوالید نے دونوں کے مقا بل میں نکول(4) کیا تو نصف نصف تقسیم کردی جائے گی اب اس کے بعد اگر ا ن میں سے کوئی گواہ پیش کرنا چاہے گا نہیں سنا جائے گا۔(5) (بحر)
مسئلہ ۱۰: خارج اور ذوالید میں نزاع ہے خارج نے ملک مطلق کا دعویٰ کیا اور ذوالید نے یہ کہا میں نے اسی سے خریدی ہے یا دونوں نے سبب ملک بیان کیا اور وہ سبب ایسا ہے جو دو مرتبہ نہیں ہوسکتا مثلًا ہر ایک کہتا ہے کہ یہ جانور میرے گھر کا بچہ ہے یا دونوں کہتے ہیں کپڑا میرا ہے میں نے اسے بنا ہے یا دونوں کہتے ہیں سُوت میرا ہے میں نے کاتا ہے۔ دودھ میرا ہے میں نے اپنے جانور سے دوہا ہے۔ اُون میری ہے میں نے کاٹی ہے۔ غرض یہ کہ ملک کا ایسا سبب بیان کرتے ہیں جس میں تکرار نہیں ہوسکتی ہے ان میں ذوالید کے گواہوں کو ترجیح ہے مگر جب کہ ساتھ ساتھ خارج نے ذوالید پر کسی فعل کا بھی دعویٰ کیا ہو مثلاً یہ جانور میرے گھر کا بچہ ہے ذوالید نے اسے غصب کر لیا یا میں نے اُس کے پاس امانت رکھی ہے یا اجارہ پر دیا ہے تو خارج کے گواہ کو ترجیح ہے۔ (6) (ہدايہ ،درمختار) مگر ظاہری طور پر اس کو خارج کہیں گے حقیقۃًخارج نہیں بلکہ یہی ذوالید ہے جیسا کہ ہم نے بحر سے نقل کیا۔
1 ۔مزاحمت کرنے والا۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۷،ص۳۹۷.
3 ۔جس کے قبضہ میں چیزہے۔ 4 ۔قسم سے انکار۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۷،ص۳۹۸.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب مایدّعیہ الرجلان،ج۲،ص۱۷۰.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۸۳.
مسئلہ ۱۱: اگر خارج (1)و ذوالید دونوں اپنی اپنی ملک کا ایسا سبب بتاتے ہیں جو مکررہو سکتا ہے(2) جیسے یہ درخت میرا ہے میں نے پودہ نصب کیا تھا(3) یا وہ سبب ایسا ہے جو اہلِ بصیرت پر مشکل ہو گیا کہ مکرر ہوتا ہے یا نہیں تو ان دونوں صورتوں میں خارج کو تر جیح ہے۔(4)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: سبب کے مکرر ہو نے نہ ہونے میں اصل کو دیکھا جائے گاتابع کو نہیں دیکھا جائے گا۔ دو بکریاں ایک شخص کے قبضہ میں ہیں ایک سفید دوسری سیاہ ایک شخص نے گواہوں سے ثابت کیا کہ یہ دونوں بکریاں میری ہیں اور اسی سفید بکری کا یہ سیاہ بکری بچہ ہے جو میرے یہاں میری ملک میں پیدا ہوا۔ ذوالید نے گواہوں سے ثابت کیا کہ یہ دونوں میری ملک ہیں اور اس سیاہ بکری کا یہ سفید بکری بچہ ہے جو میری ملک میں پیدا ہوا اس صورت میں ہر ایک کو وہ بکری دے دی جائے گی۔ جس کو ہر ایک اپنے گھر کا بچہ بتاتا ہے۔(5) (بحر)
مسئلہ ۱۳: کبوتر، مرغی ،چڑیا یعنی انڈے دینے والے جانور کو خارج اور ذوالید ہر ایک اپنے گھر کا بچہ بتاتا ہے۔ ذوالید کو دلایا جائے گا۔(6) (بحر)
مسئلہ ۱۴: مرغی غصب کی اُس نے چندانڈے دیے ان میں سے کچھ اسی مرغی کے نیچے بٹھائے کچھ دوسری کے نیچے اور سب سے بچےّ نکلے تو وہ مرغی مع اُن بچوں کے جواُس کے نیچے نکلے ہیں مغصوب منہ (مالک) کو دی جائے اور یہ بچے جو غاصب نے اپنی مرغی کے نیچے نکلوائے ہیں غاصب کے ہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: ایک جانور کے متعلق دو شخص مدعی ہیں کہ ہمارے یہاں کا بچہ ہے خواہ وہ جانور دونوں کے قبضہ میں ہو یا ایک کے قبضہ میں ہو یا ان میں سے کسی کے قبضہ میں نہ ہو بلکہ تیسرے کے قبضہ میں ہو، اگر دونوں نے تاریخ بیان کی ہے کہ اتنے دن ہوئے جب یہ پیدا ہوا تھا اور دونوں نے گواہوں سے ثابت کردیا تو جانور کی عمر جس کی تاریخ سے ظاہر طور پر موافق معلوم ہوتی ہو اُس کے موافق فیصلہ ہوگا اور اگر تاریخ نہیں بیان کی تو ان میں سے جس کے قبضہ میں ہو اُسے دیا جائے اور اگر دونوں کے قبضہ میں ہویا تیسرے کے قبضہ میں ہو تو دونوں برابر کے شریک کردیے جائیں گے اور اگر دونوں نے تاریخیں بیان کردیں مگر جانور کی
1 ۔یعنی جس کا قبضہ نہیں۔ 2 ۔دوبارہ ہو سکتا ہے یعنی دونوں کی ملک کا سبب بن سکتا ہے ۔ 3 ۔لگایاتھا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۸۳.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۷،ص۴۱۵.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعوٰی،الباب التاسع فی دعوی الرجلین،الفصل الثانی،ج۴،ص۸۶.
عمر کسی کے موافق نہیں معلوم ہوتی یا اشکال پیدا ہوگیا پتہ نہیں چلتا کہ عمر کس کے قول سے موافق ہے تو اگر دونوں کے قبضہ میں ہے یا ثالث کے قبضہ میں ہے(1) تو دونوں کو شریک کردیا جائے اور اگر انھیں میں سے ایک کے قبضہ میں ہوتو اُسی کے لیے ہے جس کے قبضہ میں ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: ایک شخص کے قبضہ میں بکری ہے اُس پر دوسرے نے دعویٰ کیا کہ یہ میری بکری ہے میری ملک میں پیدا ہوئی ہے اور اسے گواہوں سے ثابت کیا جس کے قبضہ میں ہے اُس نے یہ ثابت کیا کہ بکری میری ہے فلاں شخص سے مجھے اُس کی ملک حاصل ہوئی اور یہ اُسی کے گھر کا بچہ ہے اسی قابض (3)کے موافق فیصلہ ہوگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: خارج نے گواہ سے ثابت کیا کہ جس نے میرے ہاتھ بیچا ہے اُس کے گھر کا بچہ ہے اور ذوالید نے ثابت کیا کہ خود میرے گھر کا بچہ ہے ذوالید کے گواہوں کو ترجیح ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: دو شخصوں نے ایک عورت کے متعلق دعویٰ کیا ہر ایک اُس کو اپنی منکوحہ بتاتا ہے اور دونوں نے نکاح کو گواہوں سے ثابت کیا تودونوں جانب کے گواہ متعارض ہوکر ساقط ہوگئے نہ اس کا نکاح ثابت ہوا، نہ اُس کا اور عورت کو وہ لے جائے گا جس کے نکاح کی وہ تصدیق کرتی ہو بشرطیکہ اُس کے قبضہ میں نہ ہو جس کے نکاح کی تکذیب کرتی ہو یا اُس نے دخول نہ کیا ہو اور اگر اُس کے قبضہ میں ہو جس کی عورت نے تکذیب کی یااس نے دخول کیا ہو دوسرے نے نہیں تو اسی کی عورت قرار دی جائے گی۔ یہ تمام باتیں اُس وقت ہیں جب کہ دونوں نے نکاح کی تاریخ نہ بیان کی ہو اور اگر نکاح کی تاریخ بیان کی ہو تو جس کی تاریخ مقدم ہے وہ حقدار ہے اور اگر ایک نے تاریخ بیان کی دوسرے نے نہیں تو جس کے قبضہ میں ہے یا جس کی تصدیق وہ عورت کرتی ہو وہ حقدار ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۱۹: دو شخص نکاح کے مدعی ہیں اور گواہ ان میں سے کسی کے پاس نہ تھے۔ عورت اُس کو ملی جس کی اُس نے تصدیق کی اس کے بعد دوسرے نے گواہ سے اپنا نکاح ثابت کیا تو اس کو ملے گی کیونکہ گواہ کے ہوتے ہوئے عورت کی تصدیق
1 ۔کسی تیسرے شخص کے قبضہ میں ہے۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۸۶.
3 ۔یعنی جس کا قبضہ ہے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعوٰی،الباب التاسع فی دعوی الرجلین،الفصل الثانی،ج۴،ص۸۳.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۷۶.
کوئی چیز نہیں۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: ایک نے نکاح کا دعویٰ کیا اور گواہ سے ثابت کیا اس کے لیے فیصلہ ہوگیا اس کے بعد دوسرا دعویٰ کرتا ہے اور گواہ پیش کرتا ہے اس کو رد کردیا جائے گا ہاں اگر اس نے گواہوں سے اپنے نکاح کی تاریخ مقدم(2) ثابت کردی تو اس کے موافق فیصلہ ہوگا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: عورت مرچکی ہے اُس کے متعلق دوشخصوں نے نکاح کا دعویٰ کیا اور گواہوں سے ثابت کیا چونکہ اس دعوے کا محصل(4) طلبِ مال(5) ہے دونوں کو اُس کا وارث قرار دیا جائے گا اور شوہر کا جو حصہ ہوتا ہے اُس میں دونوں برابر کے شریک ہوں گے اور دونوں پر نصف نصف مہر لازم۔(6) ( درمختار)
مسئلہ ۲۲: ایک شخص نے نکاح کیا دوسرا شخص دعویٰ کرتا ہے کہ یہ عورت میری زوجہ ہے مدعیٰ علیہ(7) کہتا ہے تیری زوجہ تھی مگر تو نے طلاق دیدی اور عدّت پوری ہوگئی اب اس سے میں نے نکاح کیامدعی(8) طلاق سے انکار کرتا ہے اور طلاق کے گواہ نہیں ہیں۔ عورت مدعی کو دلائی جائے گی اور اگر مدعی کہتا ہے کہ میں نے طلاق دی تھی مگر اُس سے پھر نکاح کرلیا اور مدعیٰ علیہ دوبارہ نکاح کرنے کا انکار کرتاہے تو مدعیٰ علیہ کو دلائی جائے گی۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: مرد کہتا ہے تیری نا بالغی میں تیرے باپ نے مجھ سے نکاح کردیا عورت کہتی ہے میرے باپ نے جب نکاح کیاتھا میں بالغہ تھی اور نکاح سے میں نے ناراضی ظاہر کردی تھی اس صورت میں قول عورت کا معتبر ہے اور گواہ مرد کے۔(10) (خانیہ)
مسئلہ ۲۴: مرد نے گواہوں سے ثابت کیا کہ میں نے اس عورت سے نکاح کیا ہے اور عورت کی بہن نے دعویٰ کیا کہ
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۷۶،۳۷۷.
2 ۔پہلے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۷۶،۳۷۷.
4 ۔یعنی اس دعوی کاحاصل۔ 5 ۔مال طلب کرنا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۷۶،۳۷۷.
7 ۔جس پر دعویٰ کیاگیاہے۔ 8 ۔دعویدار،دعویٰ کرنے والا۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب التاسع فی دعوی الرجلین،الفصل الثانی،ج۴،ص۸۰.
10 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الدعویٰ والبیّنات،باب الدعوی،فصل فی دعوی النکاح،ج۲،ص۷۸.
میں نے اس مرد سے نکاح کیا ہے مرد کے گواہ معتبر ہوں گے عورت کے گواہ نا مقبول ہیں۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ ۲۵: مرد نے نکاح کا دعویٰ کیا عورت نے انکار کردیا مگر اس نے دوسرے کی زوجہ ہونے کا اقرار نہیں کیا ہے پھر قاضی کے پاس اُس مدعی کی زوجہ ہونے کا اقرار کیا یہ اقرار صحیح ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: مرد نے دعویٰ کیا کہ اس عورت سے ایک ہزار مہر پر میں نے نکاح کیا ہے عورت نے انکار کر دیا مرد نے دو ہزار مہر پر نکاح ہونے کا ثبوت دیا گواہ مقبول ہیں دوہزار مہر پر نکاح ہونا قرار پائے گا۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۲۷: مرد نے نکاح کا دعویٰ کیا۔ عورت کہتی ہے میں اُس کی زوجہ تھی مگر مجھے اُس کی وفات کی اطلاع ملی میں نے عدّت پوری کرکے اس دوسرے شخص سے نکاح کرلیا وہ عورت مدعی کی زوجہ ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: ایک شخص کے پاس چیز ہے دوشخص مدعی ہیں ہر ایک یہ کہتا ہے کہ میں نے اس سے خریدی ہے اور اس کا ثبوت بھی دیتا ہے ہر ایک کو نصف نصف ثمن پر نصف نصف چیز کا حکم دیا جائے گااور ہر ایک کو یہ بھی اختیار دیا جائے گا کہ آدھا ثمن دے کر آدھی چیز لے یا بالکل چھوڑ دے۔ فیصلہ کے بعد ایک نے کہا کہ آدھی لے کر کیا کروں گا چھوڑتا ہوں تو دوسرے کو پوری اب بھی نہیں مل سکتی کہ اُس کی نصف بیع فسخ ہوچکی اور فیصلہ سے قبل اُس نے چھوڑدی تو یہ کل لے سکتا ہے۔(5) (ہدايہ)
مسئلہ ۲۹: صورت مذکورہ میں اگر ہر ایک نے گواہوں سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ پورا ثمن ادا کر دیا ہے تو نصف ثمن بائع یعنی ذوالید سے واپس لے گا اورا گرصورتِمذکورہ میں ذوالید ان دونوں میں سے ایک کی تصدیق کرتا ہے کہ میں نے اس کے ہاتھ بیچی ہے اس کا اعتبار نہیں۔يوہيں بائع اگر مشتری کے حق میں یہ کہتا ہے کہ یہ چیز میری تھی میں نے اس کے ہاتھ بیع کی ہے اور وہ چیز مشتری کے سوا کسی دوسرے کے قبضہ میں ہے تو بائع کی تصدیق بیکار ہے۔(6) (بحر)
مسئلہ ۳۰: دو شخصوں نے خریدنے کا دعویٰ کیا اور دونوں نے خریداری کی تاریخ بھی بیان کی تو جس کی تاریخ مقدم ہے اُس کے موافق فیصلہ ہوگا اور اگر ایک نے تاریخ بیان کی دوسرے نے نہیں تو تاریخ والا اولےٰ ہے۔ اور اگر ذوالید اور خارج
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الدعویٰ والبیّنات،باب الدعوی،فصل فی دعوی النکاح،ج۲،ص۷۸.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب التاسع فی دعوی الرجلین،الفصل الثانی،ج۴،ص۸۲.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الدعویٰ والبیّنات،باب الدعوی،فصل فی دعوی النکاح،ج۲،ص۷۷.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب التاسع فی دعوی الرجلین،الفصل الثانی،ج۴،ص۸۲.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب مایدّعیہ الرجلان،ج۲،ص۱۶۷.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۷،ص۴۰۴.
میں نزاع(1) ہو دونوں ایک شخص ثالث (2)سے خریدنا بتاتے ہوں اور دونوں نے تاریخ نہیں بیان کی یا دونوں کی ایک تاریخ ہے یا ایک ہی نے تاریخ بیان کی ان سب صورتوں میں ذوالید اولےٰ ہے۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۳۱: دونوں نے دو شخصوں سے خریدنے کا دعویٰ کیا زید کہتا ہے میں نے بکر سے خریدی اور عمرو کہتا ہے میں نے خالد سے خریدی ان دونوں نے اگر چہ تاریخ بیان کی ہو اور اگرچہ ایک کی تاریخ دوسرے سے مقدم ہو ان میں کوئی دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں بلکہ دونوں نصف نصف لے سکتے ہیں۔(4) (بحر)
مسئلہ ۳۲: کچی اینٹ اس کے قبضہ میں ہے۔ دوسرے شخص نے دعویٰ کیا کہ یہ اینٹ میری ملک میں بنائی گئی ہے اور ذوالید ثابت کرتا ہے کہ میری ملک میں بنائی گئی ہے خارج کو ترجیح ہے اور اگر پّکی اینٹ یا چونا یا گچ کرنے کے مسالے (5)کے متعلق یہی صورت پیش آجائے تو ذوالید کو ترجیح ہے ۔(6)(بحر الرائق)
مسئلہ ۳۳: ہرایک دوسرے کا نام لے کر کہتا ہے میں نے اُس سے خریدی ہے مثلاً زید کہتا ہے میں نے عمرو سے خریدی ہے اور عمرو کہتا ہے میں نے زید سے خریدی ہے چاہے یہ دونوں خارج ہوں یا ان میں ایک خارج ہو اور ایک ذوالید اور تاریخ کوئی بیان نہیں کرتاتو دونوں جانب کے گواہ ساقط اور چیز جس کے قبضہ میں ہے اُسی کے پاس چھوڑ دی جائے گی۔ پھر اگر دونوں جانب کے گواہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ چیز خریدی اور ثمن ادا کر دیا تو ادلا بدلا ہوگیا یعنی کوئی دوسرے سے ثمن واپس نہیں پائے گا۔ دونوں فریقوں نے صرف خریدنا ہی بیان کیا ہو یا خریدنا اور قبضہ کرنا دونوں باتوں کو ثابت کیا ہو دونوں صورتوں کا ایک ہی حکم ہے یعنی دونوں جانب کے گواہ ساقط اور اگر دونوں جانب کے گواہوں نے وقت بیان کیاہے اور جائداد ِمُتنازَع فِیہا (7)غیر منقولہ(8) ہے اور بیع کے ساتھ قبضہ کو ذکر نہیں کیا ہے اورخارج کا وقت مقدم ہے تو ذوالیدمستحق قرار پائے گا یعنی خارج نے ذوالید سے خرید کر قبل قبضہ ذوالید کے ہاتھ بیع کردی اور قبضہ سے قبل بیع کردینا غیر منقول میں درست ہے اور اگر ہر ایک کے گواہ نے قبضہ بھی بیا ن کر دیا ہو جب بھی ذوالیدکے ليے فیصلہ ہوگا کیونکہ قبضہ کے بعد خارج نے ذوالید کے ہاتھ بیع کردی اور یہ بالاجماع جائز ہے اور اگر گواہوں
1 ۔جھگڑا،اختلاف۔ 2 ۔تیسراشخص۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۷،ص۴۰۹،۴۱۱.
4 ۔المرجع السابق،ص۴۰۹.
5 ۔سفیدی اور دریا کی ریت سے تیار کیا ہوا چونا جو پلاسترمیں استعمال کیاجاتاہے ۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۷،ص۴۱۵.
7 ۔وہ جائدادجس میں اختلاف ہے۔ 8 ۔وہ جائداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ کی جاسکتی ہو۔
نے تاریخ بیان کی اور ذوالید کی تاریخ مقدم ہے تو خارج کے موافق فیصلہ ہوگا یعنی ذوالید نے اُسے خرید کر پھر خارج کے ہاتھ بیع کردیا۔(1) (ہدايہ، بحر)
مسئلہ ۳۴: بکر نے دعویٰ کیا کہ میں نے عمرو سے یہ مکان ہزارروپے میں خریدا ہے اور عمرو کہتا ہے میں نے بکر سے ہزار روپے میں خریدا ہے اور وہ مکان زید کے قبضہ میں ہے زید کہتا ہے مکان میراہے میں نے عمرو سے ہزار روپے میں خریدا ہے اور سب نے اپنے اپنے دعوے کو گواہوں سے ثابت کیا مکان زید ہی کو دیا جائے گا ان دونوں کو ساقط کردیا جائے گا۔ (2)(بحر)
مسئلہ ۳۵: دوشخصوں نے دعویٰ کیا ایک کہتا ہے میں نے یہ چیز فلاں سے خریدی ہے دوسراکہتا ہے کہ اُسی نے مجھے ہبہ کی ہے یا صدقہ کی ہے یا میرے پاس رہن رکھی ہے اگرچہ ساتھ ساتھ قبضہ دلانے کا بھی ذکر کرتا ہو اور دونوں نے اپنے دعوے کو گواہوں سے ثابت کردیا ان سب صورتوں میں خریدنے کو سب پر ترجیح ہے یہ اُس صورت میں ہے کہ تاریخ کسی جا نب نہ ہو یا دونوں کی ایک تاریخ ہو اور اگر ان چیزوں کی تاریخ مقدم ہے تو یہی زیادہ حقدار ہیں اور اگر ایک ہی جانب تاریخ ہے تو جِدَہر تاریخ ہے وہ اولےٰ ہے یہ اُس وقت ہے کہ ایسی چیز میں نزاع ہو جو قابلِ قسمت(3) نہ ہو جیسے غلام، گھوڑا وغیرہ اور اگروہ چیز قابلِ قسمت ہے جیسے مکان تو اگر مشتری کے لیے اس میں حصہ قرار دیا جائے گا تو ہبہ باطل ہوجائے گا یعنی جس صورت میں دونوں کو چیز دلائی جاتی ہے ہبہ باطل ہے کہ مشاع قابلِ قسمت کا ہبہ صحیح نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۶: خریداری کو ہبہ وغیرہ پر اُس وقت ترجیح ہے کہ ایک ہی شخص سے دونوں نے اُس چیز کا ملنا بتایا اور اگر زید کہتا ہے میں نے بکر سے خریدی ہے اور عمرو کہتا ہے مجھے خالد نے ہبہ کی تو کسی کو ترجیح نہیں دونوں برابر کے حقدار ہیں۔ (5)(بحر)
مسئلہ ۳۷: ہبہ میں عوض ہے تو یہ بیع کے حکم میں ہے یعنی اگر ایک خریدنے کا مدعی ہے دوسرا ہبہ بِالعوض(6) کا،دونوں برابرہیں نصف نصف دونوں کو ملے گی ہبہ مقبوضہ (7)اور صدقہ مقبوضہ دونوں مساوی ہیں۔ (8)(بحر)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب ما یدّعیہ الرجلان،ج۲،ص۱۷۱.
و''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۷،ص۴۱۷.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۷،ص۴۱۷.
3 ۔ تقسیم کے قابل ۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۷۹،۳۸۰.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۷،ص۴۰۶.
6 ۔ایسا ہبہ جس میں عوض مشروط ہو۔ 7 ۔وہ ہبہ جس پر قبضہ ہوچکاہو۔
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۷،ص۴۰۷.
مسئلہ ۳۸: ایک شخص نے ذوالید پر دعویٰ کیا کہ اس چیز کو میں نے فلاں سے خریدا ہے اور ایک عورت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اُس نے اس چیز کو میرے نکاح کا مہر قرار دیا ہے اس صورت میں دونوں برابر ہیں۔ مہر کو رہن وہبہ وصدقہ سب پر ترجیح ہے۔ (1)(بحر)
مسئلہ ۳۹: رہن مع القبض(2)ہبہ بغیر عوض سے قوی ہے اور اگر ہبہ میں عوض ہے تو رہن سے اولیٰ ہے۔(3) (بحر،در)
مسئلہ ۴۰: زید کے پاس ایک چیز ہے۔ عمرو(4)دعویٰ کرتا ہے کہ اُس نے مجھ سے غصب کرلی ہے اور بکر دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے اس کے پاس امانت رکھی ہے یہ دیتا نہیں اور دونوں نے ثابت کردیا دونوں برابر کے شریک کر دیے جائیں کیونکہ امانت کودینے سے امین انکار کر دے تو وہ بھی غصب ہی ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۴۱: دو خارج نے مِلک مورخ کا دعویٰ کیا یعنی ہر ایک اپنی ملک کہتا ہے اور اس کے ساتھ تاریخ بھی ذکر کرتا ہے یا دونوں ذوالید کے سوا ایک شخص ثالث سے خریدنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور تاریخ بھی بتاتے ہیں ان دونوں صورتوں میں جس کی تاریخ مقدم ہے وہی حقدار ہے خارج اور ذوالید میں نزاع ہے ہر ایک ملک مورخ کا مدعی ہے تو جس کی تاریخ مقدم ہے وہی حقدار ہے اور اگر دونوں مدعیوں نے دو بائع سے خریدنا بتایا تو چاہے وقت بتائیں یا نہ بتائیں تقَدُّم تاخر ہو یا نہ ہو بہر حال دونوں برابر ہیں ترجیح کسی کو نہیں۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۴۲: ایک طرف گواہ زیادہ ہو ں اور دوسری طرف کم مگر اُدھر بھی دوہوں تو جس طرف زیادہ ہوں اُس کے لیے ترجیح نہیں یعنی نصابِ شہادت کے بعد کمی زیادتی کا لحاظ نہیں ہو گا مثلاً ایک طرف دو گواہ ہوں دوسری طرف چار تو چار والے کوترجیح نہیں دونوں برابر قرار دیے جائیں گے اس ليے کہ کثرتِ دلیل کا اعتبار نہیں بلکہ قوت کا لحاظ ہے يوہیں ایک
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۷،ص۴۰۷.
2 ۔وہ رہن جس پر قبضہ ہو۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۷،ص۴۰۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۸۰.
4 ۔اسےعَمْرْپڑھتے ہیں اس میں واوپڑھانہیں جاتا صرف لکھا جاتا ہے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۸۷.
6 ۔المرجع السابق،ص۳۸۱،۳۸۲.
طرف زیادہ عادل ہوں مگر دوسری طرف والے بھی عادل ہیں ان میں ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں۔ (1)(ہدايہ، درمختار)
مسئلہ ۴۳: انسان جتنے ہیں سب آزاد ہیں جب تک غلام ہونے کا ثبو ت نہ ہو آزاد ہی تصور کیے جائيں گے کہ يہی اصلی حالت ہے مگر چارمواقع ایسے ہیں کہ اُن میں آزادی کا ثبوت دینا پڑے گا۔1شہادت2حدود3قصاص4قتل۔ مثلاً ایک شخص نے گواہی دی فریق مقابل اُس پر طعن کرتا ہے کہ یہ غلام ہے اس وقت اُس کا فقط کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ میں آزاد ہوں جب تک ثبوت نہ دے یا ایک شخص پر زنا کی تہمت لگائی اُس نے دعویٰ کردیایہ کہتا ہے کہ وہ غلام ہے تو حدِ قذف قائم کرنے کے ليے یہ ضرور ہے کہ وہ اپنی آزادی ثابت کرے۔ اسی طرح کسی کا ہاتھ کاٹ دیا ہے یا خطاء ً قتل واقع ہوا تو اُس دست بریدہ(2) یا مقتول کے آزاد ہونے کا ثبوت دینے پر قصاص یا دیت کا حکم ہوگا۔ ان چار جگہوں کے علاوہ اُس کا کہہ دینا کافی ہو گا کہ میں آزاد ہوں اسی کا قول معتبر ہوگا۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: کسی کی زمین میں بغیر بوئے ہوئے غلّہ جم آیا جیسا کہ اکثر دھان(4) کے کھیتوں میں دیکھا جاتاہے کہ فصل کاٹنے کے وقت کچھ دھان گر جاتے ہیں پھر دوسرے سال یہ اوگ جاتے ہیں یہ پیداوار مالک زمین کی ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: ایک شخص کی نہر ہے جس کے کنارہ پربندا(6)ہے اور بندے کے بعد کی زمین جو اُس سے متصل ہے دوسرے کی ہے اس بندے کے متعلق دونوں دعویٰ کرتے ہیں ہر ایک اپنی ملک بتاتاہے۔ مگر نہ تو زمین جسکی ہے اُس کا ہی قبضہ ثابت ہے کہ اس کے اُس پر درخت ہوتے اور مالک نہر کا بھی قبضہ ثابت نہیں ہے کہ نہر کی مٹی اُس پر پھینکی گئی ہوتی۔ صورتِ مذکورہ میں بند زمین والے کا قرار پائے گا۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب ما یدّعیہ الرجلان،ج۲،ص۱۷۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۸۲.
2 ۔جس کا ہاتھ کاٹ دیاہے۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۸۷.
4 ۔چاول۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب التاسع فی دعوی الرجلین،الفصل الرابع،ج۴،ص۹۵.
6 ۔''بند'' جو پانی وغیرہ روکنے کے لیے بنا یا جاتا ہے ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب التاسع فی دعوی الرجلین،الفصل الرابع،ج۴،ص۹۵.
مسئلہ ۳: سیلاب میں مٹی دھل کر کسی کی زمین میں جمع ہو گئی۔ اس کا مالک مالکِ زمین ہے۔(1) (عالمگیری) يوہیں برسات میں پانی کے ساتھ مٹی دھل کر بہتی ہے اور گڑھوں میں جب پانی ٹھہر جاتاہے تہ نشین ہو جاتی ہے۔ یہ مٹی اُسی کی مِلک ہے جس کی مِلک میں جمع ہوئی۔
مسئلہ ۴: پن چکی میں جب آٹا پستا ہے کچھ اُڑ جاتاہے پھر وہ زمین پر جمع ہو جاتا ہے صحیح یہ ہے کہ یہ آٹا جو اُٹھا لے اُسی کاہے۔ (2)(عالمگیری) آجکل عموماً چکی والوں نے قاعدہ مقرر کر رکھا ہے کہ جو آٹا پسوانے آتا ہے اُسے فی من آدھ سیر یا سیر بھر کم دیتے ہیں کہتے ہیں یہ چھیج(3) ہے اکثر اس سے بہت کم اڑتا ہے اوریہ چھیج کی مقدار بہت زیادہ روزانہ جمع ہو جاتی ہے جس کووہ بیچتے ہیں یہ نا جائز ہے کہ ملکِ غیر پر(4) بلاوجہ(5)قبضہ و تَصرُّف ہے صرف اُتنا ہی کم ہونا چاہیے جو اُڑگیا اورکچھ دیر کے بعددیوار و زمین پر جمع ہوجاتا ہے جس کو جھاڑ کر اکٹھا کر لیتے ہیں۔
مسئلہ۵: ڈلاؤ جہاں کوڑا پھینکا جاتا ہے راکھ اور گوبر بھی وہاں پھینکتے ہیں جو یہاں سے اُس کو اُٹھالے وہی مالک ہے۔ مالکِ زمین کی یہ مِلک نہیں۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: ایک شخص کپڑا پہنے ہوئے ہے۔ دوسرا اُس کا دامن یا آستین پکڑے ہوئے ہے قبضہ پہننے والے کا ہے۔ ایک شخص گھوڑے پر سوار ہے دوسرا لگام پکڑے ہوئے ہے سوار کا قبضہ ہے۔ ایک شخص زین پر سوار ہے دوسرا اس کے پیچھے سوار ہے زین والا قابض ہے۔ ایک شخص کا اونٹ پر سامان لدا ہوا ہے دوسرے کی صرف صراحی اُس پر لٹکی ہوئی ہے سامان والا زیا دہ حقدار ہے۔ بچھونے پر ایک شخص بیٹھا ہے دوسرا اُسے پکڑے ہوئے ہے دونوں برابر ہیں۔ جس طرح دونوں اُس پر بیٹھے ہوں یا دونوں زین پر سوار ہوں تو دونوں برابر قابض مانے جاتے ہیں اسی طرح ایک شخص کپڑے کو لیے ہوئے ہے دوسرے کے ہاتھ میں کپڑے کا تھوڑا حصہ ہے دونوں یکساں قابض ہیں اور ایک مکان میں دوشخص بیٹھے ہوئے ہیں تو محض بیٹھا ہونا قبضہ نہیں دونوں یکساں ہیں۔(7)(ہدايہ، درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب التاسع فی دعوی الرجلین،الفصل الرابع،ج۴،ص۹۵.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔کمی ،نقصان۔ 4 ۔غیر کی ملکیت پر۔ 5 ۔بغیر کسی وجہ کے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب التاسع فی دعوی الرجلین،الفصل الرابع،ج۴،ص۹۵.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب مایدّعیہ الرجلان،فصل فی التنازع بالأیدی،ج۲،ص۱۷۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۸۷.
مسئلہ ۷: اونٹوں کی قطار کو ایک شخص کھینچے لیے جارہاہے اور اس قطارمیں سے ایک شخص ایک اونٹ پر سوار ہے ہر ایک یہ کہتا ہے کہ یہ سب اونٹ میرے ہیں اگر یہ اونٹ سوار کے باربرداری کے(1) ہوں تو سب سوار کے ہیں اور کھینچنے والا اجیر (2)ہے اور اگر وہ سب ننگی پیٹھ ہوں تو جس پر وہ سوار ہے وہ سوار کا ہے۔ باقی سب دوسرے کے ہیں۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: لوگوں نے دیکھا کہ مکان میں سے ایک شخص نکلا جسکی پیٹھ پر گٹھری بندھی ہے صاحب خانہ کہتا ہے گٹھری میری ہے وہ کہتا ہے میری ہے اگر معلوم ہے کہ یہ اس چیز کا تاجر ہے جو گٹھری میں ہے مثلاً پھیری کرکے کپڑے بیچتا ہے اور گٹھری میں کپڑے ہیں تو گٹھری اسکی ہے ورنہ صاحبِ خانہ کی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: دیوار اُسکی ہے جس کی کڑیاں (5) اُس پر ہوں یاوہ دیوار اسکی دیوار سے اس طرح متصل ہو کہ اسکی اینٹیں اُس میں اور اُسکی اس میں متداخل ہوں اس کو اتصال تربیع کہتے ہیں اور اگر اسکی دیوار سے متصل ہو مگر اُسطرح نہیں تو اُسکی نہیں يوہيں اگر اس نے دیوار پرٹٹا رکھ لیا تو اس سے قبضہ ثابت نہ ہوگا یعنی دو پروسیوں میں دیوار کے متعلق نزاع (6) ہے ایک نے اُس پر ٹٹا رکھ لیا ہے دوسرے نے کچھ نہیں تو دیوار میں دونوں برابر کے شریک قرارپائیں گے۔ اور اگر ان میں ایک کی کڑیاں ہوں بلکہ ایک ہی کڑی دیوار پر ہو تو اُسی کا قبضہ تصور کیا جائے گا۔ (7) (ہدايہ، درمختار)
مسئلہ۱۰: دیوار پر ایک شخص کی کڑیاں ہیں اور دوسرے کی دیوار سے اتصال تربیع ہے تو اتصال والے کی قراردی جائے گی مگر جس کی کڑیاں ہیں اُس کو کڑیاں رکھنے کا حق حاصل رہے گاوہ شخص اس سے نہیں روک سکتا۔ دیوار کے متعلق نزاع ہے دونوں کی اس پر کڑیاں ہیں مگر ایک کی ہاتھ دو ہاتھ نیچے ہیں دوسرے کی اوپر ہیں تو دیوار اسکی ہے جس کی کڑیاں نیچے ہیں مگر اوپر والے کو کڑی رکھنے سے منع نہیں کر سکتا۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: دیوار متنازع فیہ(9) ایک شخص کی دیوار سے متصل ہے اگر چہ اِتصال تربیع نہیں بلکہ محض ملی ہوئی ہے
1 ۔بوجھ لادنے کے۔ 2 ۔اجرت پرکام کرنے والا،ملازم،نوکر ،مزدور۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب التاسع فی دعوی الرجلین،الفصل الرابع،ج۴،ص۹۶.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔کڑی کی جمع شہتیر۔ 6 ۔جھگڑا،اختلاف۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب مایدّعیہ الرجلان،فصل فی التنازع بالأیدی،ج۲،ص۱۷۲،۱۷۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۸۹.
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۹۰.
9 ۔جس دیوار کے متعلق جھگڑاہے۔
اوردوسرے کی دیوار سے اتنا بھی لگاؤ نہیں تو جس کی دیوار سے اتصال ہے وہ حقدار ہے۔ (1)(نتائج)
مسئلہ ۱۲: ایک شخص نے اپنے مکان کی کڑیاں دوسرے کی دیوار پر رکھنے کی اجازت مانگی اُس نے اجازت دے دی اس کے بعد مالک دیوار نے اپنا مکا ن بیچ ڈالا خریدار اُس سے کہتا ہے کہ تم میری دیوار سے کڑیاں اُٹھا لو اُس کو اُٹھانی ہوں گی يوہيں مکان کے نیچے تہ خانہ بنالیا ہے اور مشتری اُسے بند کرنے کو کہتا ہے تو بند کراسکتا ہے۔ ہاں اگر بائع نے فروخت کرنے کے وقت یہ شرط کردی تھی کہ او س کی کڑیاں یاتہ خانہ رہے گا تو اب مشتری کو منع کرنے کا حق نہیں رہا۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: دوسرے کی دیوار پر بطورِ ظلم و تعدی کڑیاں رکھ لی ہیں۔او س نے مکان بیع کیا یا کرایہ پر دیا یا اس سے مصالحت کرلی یا اس کے اس فعل کو معاف کردیا پھر بھی ہٹانے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: دیوار پر دو شخصوں کی کڑیاں ہیں ہر ایک اپنی اپنی ملک کا دعویٰ کرتا ہے اگر گواہوں سے ملک ثابت نہ ہو صرف اس علامت سے ملک ثابت کرنا چاہتے ہیں تو اگر دونوں کی کم از کم تین تین کڑیاں ہیں تو دیوار دونوں میں مشترک ہے اوراگر ایک کی تین سے کم ہوں تو دیوار اُس کی قراردی جائے جسکی زیادہ کڑیاں ہوں اور اس کو کڑی رکھنے کا حق ہے اس سے نہیں منع کرسکتا۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۵: دو مکانوں کے درمیان دیوار ہے جس کا ہر ایک مدعی ہے اوس دیوار کا رخ ایک طرف ہے دوسری طرف پچھیت (5)ہے وہ دیوار دونوں کی قرار پائیگی یہ نہیں کہ جس کی طرف اسکا رخ ہے اُسی کی ہو۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: دیواردوشخصوں میں مشترک ہے اوس کا ایک کنارہ گر گیا جس سے معلوم ہوا کہ دو دیواریں ہیں ایک دیواردوسری کے ساتھ چپکی ہوئی ہے ایک طرف والا یہ چاہتا ہے کہ اپنی طرف کی دیوار ہٹادے اگر وہ دونوں یہ کہہ چکے ہوں کہ دیوار مشترک ہے تو دونوں دیواریں مشترک مانی جائیں گی کسی کو دیوار ہٹا نے کا اختیار نہیں۔ (7)(عالمگیری)
1 ۔''نتائج الأفکار''تکملۃ ''فتح القدیر''،کتاب الدعویٰ،باب مایدّعیہ الرجلان،فصل فی التنازع بالأیدی،ج۷،ص۲۶۷،۲۶۸.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۹۰.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۹۰.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب مایدّعیہ الرجلان،فصل فی التنازع بالأیدی،ج۲،ص۱۷۳.
5 ۔پچھلا حصہ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب العاشرفی دعوی الحائط،ج۴،ص۹۹.
7 ۔المرجع السابق،ص۱۰۰.
مسئلہ ۱۷: دیوار مشترک ہے اُس پر ایک کی کڑیاں وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جس کا بوجھ ہے وہ دیوار اُس کی جانب کو جھکی جس کا دیوار پر کوئی سامان نہیں ہے اُس نے لوگوں کوگواہ کرکے دوسرے سے کہا کہ اپنا سامان اوتار لو ورنہ دیوار گرنے سے نقصان ہو گا اُس نے باوجود قدرت سامان نہیں اوتارا دیوار گر گئی اور اس کا نقصان ہوا اگر اوس وقت جب اس نے کہا تھا دیوار خطرناک حالت میں تھی اُس پر ان چیزوں کانصف تاوان(1) لازم ہوگا جو نقصان ہوئیں۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۱۸: دیوار مشترک گرگئی ایک کے بال بچے ہیں پردہ کی ضرورت ہے وہ چاہتا ہے دیوار بنائی جائے تاکہ بے پردگی نہ ہو دوسرا انکار کرتا ہے اگر دیوار اتنی چوڑی ہے کہ تقسیم ہو سکتی ہے یعنی ہر ایک کے حصہ میں اتنی چوڑی زمین آسکتی ہے جس میں پردہ کی دیوار بن جائے تو زمین تقسیم کر دیجائے یہ اپنی زمین میں پردہ کی دیوار بنالے اور اتنی چوڑی نہ ہو تو دوسرا دیوار بنانے پر مجبور کیا جائے گا۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ ۱۹: دیوار مشترک کو دونوں شریکوں نے متفق ہو کر گرایا ایک شریک پھر سے بنانا چاہتا ہے دوسرا صرفہ دینے سے انکار کرتا ہے کہتا ہے مجھے اس دیوار پر کچھ رکھنا نہیں ہے لہٰذا میں صرفہ نہیں دوں گا پہلا شخص دیوار بنانے میں جو کچھ خرچ کریگا اوس کا نصف دوسرے کو دینا ہوگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: ایک وسیع مکان ہے جو بہت سے دالان اور کمروں پر مشتمل ہے ان میں سے ایک کمرہ ایک کا ہے باقی تمام کمرے دوسرے کے ہیں صحن مکان کے متعلق دونوں میں نزاع ہے صحن دونوں کو برابر دیا جائیگا۔ کیونکہ صحن کے استعمال میں دونوں برابر ہیں مثلاً آنا جانا اور دھوون وضو وغیرہ کا پانی گرانا ایندھن ڈالنا خانہ داری کے سامان(5) رکھنا۔(6) (ہدایہ) یہ اُس صورت میں ہے جب یہ معلوم نہ ہو کہ صحن میں کس کی کتنی ملک ہے اور اگر معلوم ہو کہ ہر ایک کی ملک اتنی ہے تو تقسیم بقدر ملک ہوگی مثلاً مکان ایک شخص کا ہے وہ مرگیا اور وہ مکان ورثہ میں تقسیم ہوا کسی کو کم ملا کسی کو زیادہ تو صحن کی تقسیم بھی اسی طرح ہو گی مثلاًایک کو ایک کمرہ ملا دوسرے کو دو تو صحن میں بھی ایک کو ثلث دوسرے کو دو ثلث۔(7) (ردالمحتار)
1 ۔بہار شریعت کے نسخوں میں اس مقام پر صرف''تاوان'' لکھاہواہے ،جو کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اصل میں''نصف تاوان''مذکور
ہے، اسی وجہ سے ہم نے متن میں درستگی کی ہے ۔...عِلْمِیہ
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،باب فی الحیطان...إلخ،ج۲،ص۱۹۳.
3 ۔المرجع السابق،ص۱۹۲.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعوی،الباب العاشرفی دعوی الحائط،ج۴،ص۱۰۲.
5 ۔گھریلوسامان۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب مایدّعیہ الرجلان،فصل فی التنازع بالأیدی،ج۲،ص۱۷۳.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۹۰.
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۹۰.
مسئلہ۲۱: گھاٹ اور پانی میں نزاع ہو ایک کے کھیت زیادہ ہیں اور ایک کے کم تو اس کی تقسیم کھیتوں کے لحاظ سے ہوگی جس کے کھیت زیادہ ہیں وہ زیادہ کا مستحق ہے اور جس کے کم ہیں کم کامستحق۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: غیرمنقول (2)میں قبضہ کا ثبوت گواہوں سے ہو گا یا مالکانہ تصرف سے ہوگا مثلاً زمین میں اینٹ تھا پنا، گڑھا کھودنا یا عمارت بنانا تصرُّف ہے جس کا یہ تصرف ہے وہی قابض ہے۔ اس میں قبضہ کا ثبوت تصادق سے نہیں ہو گا نہ قسم سے انکار پر ہو گا ۔(3)( درر،غرر، شرنبلا لی)
مسئلہ ۲۳: ایک چیز کے متعلق فی الحال ملک کا دعویٰ کیا اور گواہوں نے زمانہ گزشتہ میں اسکی ملک ہونا بیان کیا گواہی معتبر ہے یعنی دعویٰ اور شہادت میں مخالفت نہیں ہے بلکہ زمانہ گزشتہ کی ملک اس وقت بھی ثابت مانی جائیگی جب تک اُس کا زائل ہونا ثابت نہ ہو۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱: ایک بچہ کی نسبت عمرو نے بیان کیا کہ یہ زید کا بیٹا ہے پھر کچھ دنوں کے بعد کہتا ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے یہ لڑکا عمرو کا بیٹا کسی طرح ہو ہی نہیں سکتا اگرچہ زید بھی اسکے بیٹے ہونے سے انکار کرتا ہو یعنی دوسرے کی طرف منسوب کردینے کے بعد اپنی طرف منسوب کرنے کا حق ہی نہیں باقی رہتا۔ (5)(ہدايہ)
مسئلہ ۲: ایک لڑکے کی نسبت کہا یہ میرا لڑکا ہے پھر کہا میرا نہیں ہے یہ دوسرا قول باطل ہے یعنی نسب کا اقرار کرلینے کے بعد نسب ثابت ہوجاتا ہے لہٰذا اب انکار نہیں کرسکتا یہ اُس وقت ہے کہ لڑکے نے اس کی تصدیق کرلی ہے اور اگر اُس نے تصدیق نہیں کی ہے تونسب ثابت نہیں ہاں اگر لڑکے نے پھر اُس کی تصدیق کرلی تو نسب ثابت ہوگیا کیونکہ وہ تو اقرار کر چکا ہے اُس کے بعد انکار کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔ (6)(درر، غرر)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۹۰.
2 ۔وہ جائداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوسکے۔
3 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،الجزء الثانی،ص۳۵۰.
و''غنیۃذوی الأحکام''ھامش علی''دررالحکام''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،الجزء الثانی،ص۳۵۰.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۹۱.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعوی،باب دعوی النسب،ج۲ص۱۷۵.
6 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی النسب،الجزء الثانی،ص۳۵۲.
مسئلہ ۳: باپ نے نسب کا اقرار کیا یعنی یہ کہا کہ یہ لڑکا میرا بیٹا ہے پھر اپنے اس اقرار ہی سے منکر ہے کہتا ہے میں نے اقرار نہیں کیا ہے بیٹا گواہوں سے ثابت کر سکتا ہے اس بارہ میں شہادت مقبول ہے اور ایک شخص نے یہ اقرار کیا تھا کہ فلاں شخص میرا بھائی ہے یہ اقرار بیکار ہے۔ (1)(درر، غرر)
مسئلہ ۴: دو توام بچے(جوڑواں) پیدا ہوئے یعنی دونوں ایک حمل سے پیدا ہوئے، دونوں کے مابین چھ ماہ سے کم کا فاصلہ ہے ان میں سے ایک کے نسب کا اقرار دوسرے کا بھی اقرار ہے ایک کا نسب جس سے ثابت ہوگا دوسرے کا بھی اُسی سے ثابت ہوگا۔ (2)(درر)
مسئلہ ۵: ایک شخص نے کہا میں فلاں کا وارث نہیں ہوں پھر کہتا ہے میں اُسکا وارث ہوں اور میراث پانے کی وجہ بھی بیان کرتا ہے یہ دعویٰ صحیح ہے اور یہاں تناقض مانع دعویٰ نہیں کہ نسب میں تناقض معاف ہے اور اگر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ لوگ میرے چچا زاد بھائی ہیں یہ دعویٰ صحیح نہیں جب تک دادا کا نام نہ بتائے اور بھائی کا دعویٰ کیا تو اس کے لیے دادا کا نام ذکر کرناضرور نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۶: یہ دعویٰ کیا کہ فلاں میرا بھائی ہے یا اس کے علاوہ اُس قسم کے دعوے کہ مدعیٰ علیہ اقرار بھی کرے تو لازم نہیں، یہ دعوے مسموع نہ ہونگے (4)جب تک مال کا تعلق نہ ہو مثلاً اس نے دعویٰ کیا کہ فلاں شخص میرا بھائی ہے اُس نے انکار کردیا کہ اُس کا بھائی نہیں ہوں قاضی دریافت کریگا کیا اُس کے پاس تیرے باپ کا ترکہ ہے جس کاتو دعویٰ کرنا چاہتا ہے یا نفقہ یا اور کوئی حق ہے کہ بغیر بھائی بنائے ہوئے اُس حق کو نہیں لے سکتا اگر کہے گا کہ ہاں میرا مطلب یہی ہے توثبوت نسب پر گواہ لیے جائیں گے اور مقدمہ چلے گا ورنہ مقدمہ کی سماعت نہ ہوگی۔ اور اگر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ فلاں میرا باپ ہے وہ انکار کرتا ہے تو مال یا حق کا تعلق ہو یا نہ ہو بہر حال دعوے کی سماعت ہوگی اور گواہوں سے نسب ثابت کیا جائے گا۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: نسب ووراثت کا دعویٰ ہے گواہوں سے نسب ثابت کرنا چاہتاہے اس کے لیے خصم(6) ہونا ضروری ہے
1 ۔''دررالحکام''و''غررا لأحکام''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی النسب،الجزء الثانی،ص۳۵۲.
2 ۔''دررالحکام''شرح ''غررالأحکام''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی النسب،الجزء الثانی،ص۳۵۲.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی النسب،ج۸،ص۳۹۷.
4 ۔یعنی محض ان دعووں کی وجہ سے مقدمہ نہیں چلے گا۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی النسب،ج۸،ص۳۹۸.
6 ۔مدمقابل۔
وارث یا دائن یا مدیون یا موصٰی لہ یا وصی کے مقابل میں ثبوت پیش کرنا ہوگا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۸: مدعی نے ایک شخص کو حاضرکرکے یہ دعویٰ کیا کہ میرے باپ کا اس پر فلاں حق ہے وہ اقرار کرے یا انکار بہرحال اس کو گواہوں سے نسب ثابت کرنا ہوگا اور اگر اپنے باپ کی میراث کا اُس پر دعویٰ کیا اور اُس نے اقرار کرلیا حکم دیا جائے گا کہ مدعی کو دیدے اور یہ فیصلہ اسی تک محدود ہے اس کے باپ سے تعلق نہیں اُس کا باپ فرض کرو زندہ تھا اور آگیا تو جس نے اُس کا مال دیا ہے اُس سے وصول کریگا اور وہ بیٹے سے لے گا اور اگر وہ شخص جس کو لایا ہے منکر ہے تو اس سے کہا جائے گا تو گواہوں سے اپنے باپ کا مرنا ثابت کراور یہ کہ تو اُس کا وارث ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۹: ایک بچہ کے متعلق ایک مسلم اور ایک کافر دونوں دعویٰ کرتے ہیں مسلمان کہتا ہے یہ میرا غلام ہے اور کافر کہتا ہے میرا بیٹا ہے وہ بچہ آزاد اور اُس کافر کا بیٹا قرار دیا جائے گا اوراگر مسلمان نے پہلے دعویٰ کردیا ہے تو مسلمان کا غلام قرار دیا جائے گا اور اگر مسلمان وکافر دونوں نے اُس کے بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا تو مسلم کا بیٹا قرار دیا جائے گا۔(3) (درر، غرر)
مسئلہ ۱۰: شوہر والی عورت ایک بچہ کی نسبت کہتی ہے یہ میرا بچہ ہے اُس کا یہ دعویٰ درست نہیں جب تک ولادت کی شہادت کوئی عورت نہ دے اور دائی کی تنہا شہادت اس بارہ میں کافی ہے کیونکہ یہاں فقط اتنی ہی بات کی ضرورت ہے کہ یہ بچہ اس عورت سے پیدا ہے رہا نسب اُس کے لیے شہادت کی ضرورت نہیں شوہر والی ہونا کافی ہے اور اگر عورت مُعتَدَّہ (4)ہو تو شہادت کامل کی ضرورت ہے یعنی دو مرد یا ایک مرد، دوعورت، مگر جب کہ حمل ظاہر ہو یا شوہر نے حمل کا اقرار کیا ہو تو وہی ولادت کی شہادت ایک عورت کی کافی ہوگی۔ اور اگرنہ شوہر والی ہو نہ مُعتَدَّہ ہو تو فقط اُس عورت کا کہنا کہ میرا بچہ ہے کافی ہے کیونکہ یہاں کسی سے نسب کا تعلق نہیں۔(5) (ہدايہ)
مسئلہ ۱۱: شوہر والی عورت نے کہا میرا بچہ ہے اور شوہر اُس کی تصدیق کرتا ہے تو کسی شہادت کی ضرورت نہیں نہ مرد کی نہ عورت کی۔(6) (ہدایہ)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی الرجلین،ج۸،ص۳۹۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''دررالحکام''و''غررا لأحکام''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی النسب،الجزء الثانی،ص۳۵۳.
4 ۔عدت والی۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی النسب،ج۲،ص۱۷۶.
6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱۲: بچہ کے متعلق میاں بی بی کا جھگڑا ہے شوہر کہتا ہے یہ میرا بچہ ہے اور دوسری عورت سے ہے اس سے نہیں اور عورت کہتی ہے یہ میرا بچہ ہے اس خاوند سے نہیں بلکہ دوسرے خاوند سے فیصلہ یہ ہے کہ وہ انھیں دونوں کا بچہ ہے۔ یہ اُس وقت ہے کہ بچہ چھوٹا ہے جوبتانہ سکتا ہو کہ اُس کے باپ ماں کون ہیں اور اگر اتنا ہو کہ اپنے کو بتا سکے تو وہ جس کی تصدیق کرے اُسی کا بیٹا ہے ۔(1)(درر،غرر)
مسئلہ ۱۳: لڑکا شوہر کے قبضہ میں ہے اور وہ یہ کہتا ہے یہ میرا لڑکا دوسری بی بی سے ہے عورت کہتی ہے یہ میرا لڑکا تجھی سے ہے یہاں شوہر کا قول معتبر ہے اور اگر لڑکا عورت کے قبضہ میں ہے عورت کہتی ہے یہ میرا لڑکا پہلے شوہر سے ہے اور شوہر کہتا ہے یہ میرا لڑکا تجھ سے ہے اس میں بھی شوہر کا قول معتبر ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: شوہر کے قبضہ میں بچہ ہے اُس نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ میرا بچہ دوسری زوجہ (3) سے ہے دوسری عورت سے یہ نسب ثابت ہو گیا اس کے بعد عورت دعویٰ کرتی ہے کہ میرا بچہ ہے اس سے نسب نہیں ثابت ہو گا اور اگر عورت نے پہلے دعویٰ کیا کہ یہ میرا بچہ دوسرے شوہر سے ہے اور بچہ عورت کے قبضہ میں ہے اس کے بعد شوہر نے دعویٰ کیاکہ یہ میرا بچہ دوسری عورت سے ہے اگر ان کا باہم نکاح معروف و مشہور ہو دونوں کا قول نا معتبر بلکہ یہ بچہ انھیں دونوں کا قرارپائیگا اوراگر نکاح معروف و مشہور نہ ہو توعورت کا قول معتبر ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: مدعیٰ علیہ کو جب معلوم ہو کہ مدعی کا دعویٰ حق و درست ہے تو اُسے انکار کرنا جائز نہیں مگر بعض جگہ، وہ یہ ہے کہ مشتری نے مبیع میں عیب کا دعویٰ کیا اگر مدعیٰ علیہ یعنی بائع اقرار کر لیتا ہے تو چیز واپس کردی جائیگی مگر بائع اپنے بائع پر واپس نہیں کر سکتا يوہيں وصی کو معلوم ہے کہ دَین ہے اور خود ہی اقرار کرلے مدعی کو گواہوں سے ثابت کرنے کا موقع نہ دے تو یہ دَین خود اسکی ذات پر واجب ہو جائے گا رجوع نہ کر سکے گا۔ (5) (درمختار)
1 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی النسب،الجزء الثانی،ص۳۵۳.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الرابع عشر فی دعوی النسب،الفصل السادس،ج۴،ص۱۲۶.
3 ۔بیوی ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الدعویٰ،الباب الرابع عشر فی دعوی النسب،الفصل السادس،ج۴،ص۱۲۶.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی النسب،ج۸،ص۴۰۱.
مسئلہ ۲: حق مجہول پر حلف نہیں دیا جاتا مگر ان چند مواقع میں1وصی يتیم2متولیِ وقف قاضی کے نزدیک متہم ہوں۔ 3رہن مجہول مثلاً ایک کپڑا رہن رکھا۔ 4 دعواے سرقہ ۔(1)5دعواے غصب۔6امین کی خیانت۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳: ایک شے کے متعلق خریداری کی خواہش کرنا یعنی یہ کہ میرے ہاتھ بیع کردو یا ہبہ کی خواستگاری(3) کرنا یایہ درخواست کرنا کہ اسے میرے پاس امانت رکھدو یا میرے کرایہ میں دیدو یہ سب دعواے مِلک کی مانع ہیں یعنی اب اُس چیزکے متعلق ملک کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ (4)(درر، غرر)
مسئلہ ۴: لونڈی کے متعلق یہ درخواست کی کہ مجھ سے اس کا نکاح کر دیا جائے اب اس کے متعلق مِلک کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ حرہ عورت(5) سے نکاح کی خواستگاری کرنا دعوای نکاح کو منع کرتا ہے یعنی اب یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میری زوجہ ہے۔(6)(درر، غرر)
اقرار کرنے والے نے جس شے کا اقرار کیا وہ اُس پر لازم ہو جاتی ہے قرآن و حدیث و اجماع سب سے ثابت ہے کہ اقرار اس امر کی دلیل ہے کہ مقِر (7) کے ذمہ وہ حق ثابت ہے جس کا اُس نے اقرارکیا۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے: وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الْحَقُّ وَلْیَتَّقِ اللہَ رَبَّہٗ وَلَا یَبْخَسْ مِنْہُ شَیۡئًا ؕ(8)
''جسکے ذمہ حق ہے وہ املا کرے (تحریر لکھوائے) اور اﷲ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ کم نہ کرے۔''
1 ۔چوری کا دعویٰ۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی النسب،ج۸،ص۴۰۲.
3 ۔درخواست۔
4 ۔''دررالحکام''و''غررا لأحکام''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی النسب،فصل،الجزء الثانی،ص۳۵۴.
5 ۔آزاد عورت جولونڈی نہ ہو۔
6 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب الدعویٰ،باب دعوی النسب،فصل،الجزء الثانی،ص۳۵۴.
7 ۔اقرار کرنے والا۔
8 ۔پ۳،البقرۃ:۲۸۲.
اس آیت میں جس پر حق ہے اوس کو اِملا کرنے کا حکم دیا ہے اور اِملا اوس حق کااقرارہے لہٰذا اگر اقرار حجت نہ ہوتا تو اس کے املا کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا نیز اس کواس سے منع کیا گیا کہ حق کے بیان کرنے میں کمی کرے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جتنے کا اقرار کریگا وہ اُس کے ذمہ لازم ہوگا۔اور ارشادفرماتاہے:
(1) ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقْرَرْنَا ؕ
انبیا علیہم الصلاۃ والسلام سے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم پر ایمان لانے اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم)کی مددکرنے کا جو عہد لیا گیا اُس کے متعلق ارشاد ہوا کہ کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا اس سے معلوم ہوا کہ اقرار حجت ہے ورنہ اقرارکا مطالبہ نہ ہوتا۔ اور فرماتا ہے:
(2) کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمْ
''عدل کے ساتھ قائم ہونے والے ہوجاؤ اﷲ کے ليے گواہ بن جاؤ اگر چہ وہ گواہی خود تمہارے ہی خلاف ہو۔''
تمام مفسرین فرماتے ہیں اپنے خلاف شہادت دینے کے معنی اپنے ذمہ حق کا اقرار کرنا ہے۔ حدیثیں اس بارے میں متعد دہیں۔ حضرت ماعز اسلمی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اقرار کی وجہ سے رجم کرنے کا حکم فرمایا۔(3) غامدیہ صحابیہ پر بھی رجم کاحکم اُنکے اقرار کی بناپر فرمایا۔(4) حضرت اَنیس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تم اس شخص کی عورت کے پاس صبح جاؤ اگر وہ اقرار کرے رجم کر دو۔(5) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اقرار سے جب حدود تک ثابت ہوجاتے ہیں تو دوسرے قسم کے حقوق بدرجئہ اولیٰ ثابت ہونگے۔
فائدہ: بظاہراقرار مُقِر کے لیے مُضِر ہے(6) کہ اس کی وجہ سے اُس پر ایک حق ثابت ولازم ہوجاتا ہے جو اب تک ثابت نہ تھامگر حقیقت میں مُقِر کے لیے اس میں بہت فوائد ہیں ایک فائدہ یہ ہے کہ اپنے ذمہ سے دوسرے کا حق ساقط کرنا ہے یعنی صاحب حق کے حق سے بری ہوجاتا ہے اور لوگوں کی زبان بندی ہوجاتی ہے کہ اس معاملہ میں اب اس کی مذمت نہیں کرسکتے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جس کی چیز تھی اُس کو دے کر اپنے بھائی کو نفع پہنچایا اور یہ اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا بہت
1 ۔پ۳، اٰل عمرٰن:۸۱.
2 ۔پ۵،النسآء:۱۳۵.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الحدود،باب من اعترف علی نفسہ بالزنیٰ،الحدیث:۱۷۔(۱۶۹۲)،ص۹۳۰.
4 ۔المرجع السابق ،الحدیث:۲۲،۲۳۔(۱۶۹۵)،ص۹۳۲.
5 ۔المرجع السابق ،الحدیث:۲۵۔(۱۶۹۷،۱۶۹۸)،ص۹۳۴.
6 ۔اقرارکرنے والے کے لیے نقصان دہ ہے۔
بڑا ذریعہ ہے۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ سب کی نظروں میں یہ شخص راست گو ثابت ہوتا ہے اورایسے شخص کی بند گانِ خدا تعریف کرتے ہیں اور یہ اس کی نجات کا ذریعہ ہے۔
مسئلہ ۱: کسی دوسرے کے حق کا اپنے ذمہ ہونے کی خبر دینا اقرار ہے۔ اقرار اگرچہ خبر ہے مگر اس میں انشاکے معنی بھی پائے جاتے ہیں یعنی جس چیز کی خبر دیتا ہے وہ اس کے ذمہ ثابت ہوجاتی ہے۔ اگر اپنے حق کی خبر دیگا کہ فلاں کے ذمہ میرا یہ حق ہے یہ دعویٰ ہے اور دوسرے کے حق کی دوسرے کے ذمہ ہونے کی خبر دیگا تو یہ شہادت ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲: ایک چیز جو زید کی ملک میں ہے عمرو کہتا ہے کہ یہ بکر کی ہے عمرو کا یہ اقرار ہے جب کبھی عمر بھرمیں عمرو اُسکا مالک ہوجائے بکر کو دینا واجب ہوگا۔ يوہيں ایک غلام کی نسبت یہ کہتا ہے کہ یہ آزاد ہے اقرار صحیح ہے جب کبھی اس غلام کو خریدے گا آزاد ہوجائے گا اور ثمن بائع سے واپس نہیں لے سکتا کیونکہ اس کے اقرار سے بائع کوکیا تعلق۔ کسی مکان کی نسبت کہتا ہے یہ وقف ہے جب کبھی اس کا مالک ہوجائے خواہ خریدے یا اس کو وراثت میں ملے یہ مکان وقف قرار پائے گا اِن مسائل سے معلوم ہوا کہ اقرار خبر ہے انشا ہوتا تو نہ غلام آزاد ہوتا نہ مکان وقف ہوتا نہ اُس چیز کادینا لازم ہوتا کیونکہ ملک غیر میں انشا صحیح نہیں۔ کسی شخص پر اکراہ کرکے طلاق یا عتاق کا اقرارکرایاگیا، یہ اقرار صحیح نہیں۔ اپنے نصف مکان مشاع کا کسی کے لیے اقرار کیا صحیح ہے عورت نے زوجیت کا بغیر گواہوں کی موجودگی کے اقرار کیا یہ اقرار صحیح ہے۔ یہ سب مسائل بھی اسی کی دلیل ہیں کہ خبر ہے انشا نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳: ایک شخص نے کسی بات کا اقرار کیا تو محض اس اقرار کی بنا پر اُس پر دعویٰ نہیں ہوسکتا یعنی مُقِرلہ (3)یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ اُس نے اقرار کیا ہے لہٰذا مجھے وہ حق دلایا جائے کہ یہ ایک خبر ہے اور اس میں کذب (4)کا بھی احتمال ہے ہاں اگر وہ خود اپنی رضا مندی سے دیدے تو یہ ایک جدید ہبہ ہوگا اور اگر یہ دعویٰ کرے کہ یہ چیز میری ہے اور اُس نے خود بھی اقرار کیا ہے یا میرا اُس کے ذمہ اتنا ہے اور اُس نے اس کا اقرار بھی کیا تو یہ دعویٰ مسموع (5)ہوگا پھر اگر مدعیٰ علیہ (6) اقرار سے انکار کرے تو اُس کو اُس پر حلف نہیں دیا جائے گا کہ اُس نے اقرار کیا ہے بلکہ اس پر کہ یہ چیز مدعی کی نہیں ہے یا میرے ذمہ اوس کا یہ مطالبہ نہیں ہے ان باتوں سے معلوم ہوا کہ اقرار خبر ہے۔ (7) (درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الاقرار ، ج ۸ ص ۴۰۴.
2 ۔''الدرالمختار''، کتاب الاقرار ، ج ۸ ص ۴۰۵.
3 ۔جس کے لئے اقرار کیاگیا۔ 4 ۔جھوٹ۔
5 ۔قابل قبول۔ 6 ۔جس پر دعوےٰ کیاگیا۔
7 ۔''الدرالمختار''، کتاب الاقرار ، ج ۸ ص ۴۰۵.
مسئلہ ۴: اس کے اِنشا ہونے کے یہ احکام ہیں کہ مُقِرلہ نے اقرار کو رد کر دیا تو رد ہوجائے گا اس کے بعد اگر پھر قبول کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا اور قبول کرنے کے بعد اگر رد کریگا تورد نہیں ہوگا۔ مُقِر کے اقرار کو رد کردیا اس کے بعد مُقِر نے دوبار ہ اقرار کیا اگر قبول کریگا تو کر سکتا ہے کیونکہ یہ دوسرا اقرار ہے۔ اقرار کی وجہ سے جوملک ثابت ہوگی وہ اُن چیزوں میں نہیں ثابت ہوگی جو زوائد ہیں اور ہلاک ہوچکی ہیں مثلاً بکری کا اقرار کیا تو اس کا جو بچہ مر چکا یا خود مُقِر نے ہلاک کردیا ہے مُقِرلہ اُس کا معاوضہ نہیں لے سکتا ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انشا ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵: مُقِرلہ کی ملک نفس اقرار سے ثابت ہوجاتی ہے مُقِرلہ کی تصدیق اس کے ليے درکار نہیں البتہ حقِ رد میں یہ تملیکِ جدید ہے رد کرنے سے ردہوجائے گا اور مُقِرلہ نے تصدیق کرلی تو اب رد نہیں ہوسکتا اگر رد کرے بھی تو رد نہ ہوگا۔ اور قبل تصدیق مُقِرلہ اُس وقت رد کرسکتا ہے جب خاص اسی مُقِرلہ کا حق ہو اور اگر دوسرے کا حق ہو تو اُسے رد نہیں کر سکتا مثلاً ایک شخص نے اقرار کیا کہ یہ چیز میں نے فلاں کے ہاتھ اتنے میں بیع کردی ہے(2)مقرلہ نے رد کردیا کہہ دیا کہ میں نے تم سے کوئی چیز نہیں خریدی ہے اس کے بعد وہ کہتا ہے میں نے تم سے خریدی ہے اب مُقِر کہتا ہے میں نے تمھارے ہاتھ نہیں بیچی ہے بائع پروہ بیع لازم ہوگئی کہ بائع ومشتری میں سے ایک کا انکار بیع کے لیے مُضِر نہیں دونوں اِنکار کرتے تو بیع فسخ ہوجاتی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: جو کچھ اقرار کیا ہے مُقِر پر لازم ہے ا ُس میں شرط خیار نہیں ہو سکتی مثلاً دَین یا عین کا اقرار کیا اور یہ کہہ دیا کہ مجھے تین دن کا خیار حاصل ہے یہ شرط با طل ہے اگرچہ مُقِرلہ اسکی تصدیق کرتا ہو اورمال لازم ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: اقرار کے ليے شرط یہ ہے کہ اقرار کر نے والا عاقل بالغ ہو اور اِکراہ و جبر کے ساتھ اُس نے اقرار نہ کیا ہو۔
آ زاد ہونا اس کے لیے شرط نہیں مگر غلام نے مال کا اقرار کیا فی الحال نافذ نہیں بلکہ آزاد ہونے کے بعد نافذ ہو گا۔ غلام کے وہ اقرار جن میں کو ئی تہمت نہ ہو فی الحال نافذ ہیں جیسے حدودو قصاص کے اقرار اورجس اقرار میں تہمت ہو سکے مثلاً مال کا اقرار یہ آزاد ہونے کے بعد نافذ ہو گا ماذون کا وہ اقرار جو تجارت سے متعلق ہے مثلاً فلاں دوکاندار کا میرے ذمہ اتنا باقی ہے یہ فی الحال نافذ ہے اور جو تجارت سے تعلق نہ رکھتا ہو وہ بعد عتق (5) نافذ ہو گا جیسے جنایت کا اقرار۔ نابالغ جس کو تجارت کی اجازت ہے غلام کے
1 ۔''الدرالمختار''، کتاب الاقرار ، ج ۸ ص ۴۰۶.
2 ۔بیچ دی ہے۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الاقرار، الباب الاول فی بیان معناہ شرعا...إلخ،ج۴،ص ۱۵۷.
4 ۔المرجع السابق،ص۱۵۶.
5 ۔آزادی کے بعد۔
حکم میں ہے یعنی تجارت کے متعلق جو اقرار کریگا نافذ ہو گا اور جو تجارت کے قبیل سے نہیں ۔(1)وہ نافذ نہیں مثلاً یہ اقرار کہ فلاں کی میں نے کفالت کی ہے۔(2) نشہ والے نے اقرار کیا اگر نشہ کا استعمال ناجائز طور پر کیا ہے اس کا اقرار صحیح ہے۔ (3)(بحرالرائق)
مسئلہ ۸: مُقربہ یعنی جس چیز کا اقرار کیا ہے وہ معلوم ہو یا مجہول دونوں صورتوں میں اقرار صحیح ہے مگر اقرارمجہول کابیان اگر ایسی چیز سے کیا جس میں جہالت مضر ہے تو یہ اقرار صحیح نہیں مثلاً یہ اقرار کیا تھا کہ فلاں شخص کا میرے ذمہ کچھ ہے اور اس کا سبب بیع یا اجارہ بتایا مثلاً میں نے کوئی چیز اُس سے خریدی تھی یا اُس کے ہاتھ بیچی تھی یا اُس کو کرایہ پر دی تھی یا کرایہ پر لی تھی کہ ان سب میں جہالت مضر ہے لہٰذا یہ اقرار صحیح نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۹: اقرار کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ مقربہ کی تسلیم واجب ہو(5)اگر عین کا اقرار ہے تو بعینہ اسی چیز کی تسلیم واجب ہے اور دَین(6) کا اقرار ہے تو مثل کی تسلیم واجب ہے اور اگر اُسکی تسلیم واجب نہ ہو تو اقرار صحیح نہیں مثلاً کہتا ہے میں نے اُس کے ہاتھ ایک چیز بیع کی ہے۔(7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مُقِر(8) کی جہالت اقرارکو باطل کردیتی ہے مثلاً یہ کہتا ہے کہ تمہارا ہزار روپیہ ہم میں کسی پر باقی ہے ہاں اگر اپنے ساتھ اپنے غلام کو ملا کر اس طرح اقرار کرے تو صحیح ہے۔ مُقِرلہ کی جہالت اگر فاحش ہے تو اقرار صحیح نہیں ورنہ صحیح ہے جہالت فا حشہ کی مثال یہ ہے کہ میرے ذمہ کسی کے ہزار روپے ہیں۔ تھوڑی سی جہالت ہو اسکی مثال یہ ہے ان دونوں میں ایک کا میرے ذمہ اتنا روپیہ ہے مگر مُقِر کو بتانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا ہاں اگر اُن دونوں نے اُس پر دعویٰ کیا تو دونوں کے مقابل میں اُ س پر حلف دیا جائے گا۔ (9) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۱: مجہول شے کا اقرار کیا مثلاًفلاں کی میرے ذمہ ایک چیز ہے یا اُسکا ایک حق ہے تو بیا ن کرنے پر مجبور کیا جائیگا اور اُس کو ایسی چیز بیان کرنی ہوگی جس کی کوئی قیمت ہو دریافت کرنے پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ گیہوں کا ایک دانہ مٹی کا ایک ڈھیلا۔
1 ۔یعنی تجارت کی قسم سے نہیں۔ 2 ۔ضمانت دی ہے۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الاقرار،ج۷،ص۴۲۳۔۴۲۴.
4 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الاقرار،ج۸،ص ۴۰۸.
5 ۔یعنی جس چیزکا اقرار کیا ہے اس کوسپردکرنالازم ہو۔ 6 ۔قرض۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الاوّل فی بیان معناہ شرعاً...إلخ،ج۴،ص ۱۵۶.
8 ۔بحرالرائق میں اس مقام پر''المقرعلیہ'' مذکورہے۔...عِلْمِیہ
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب الاقرار،ج۷،ص۴۲۴.
یہ کہہ سکتا ہے کہ ایک پیسہ اُس کا ہے کیونکہ اسکے لیے قیمت ہے۔ حق کے متعلق دریافت کیا گیا کہ اُس کا کیا حق تیرے ذمہ ہے اوس نے کہا میری مراد اسلامی حق ہے یہ مقبول نہیں کہ عرف کے خلاف ہے۔ (1)(بحر) اگر اُس نے یہ کہا فلاں کا میرے ذمہ حق ہے اسلامی حق بغیر فاصلہ تو یہ بیان مقبول ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: مُقِر نے شے مجہول (3)کا اقرار کیا اور اُس سے بیا ن کرایا گیا مُقِرلہ یہ کہتا ہے کہ میرا مطالبہ اُس سے زیادہ ہے جو اس نے بیان کیا ہے تو قسم کے ساتھ مُقِر کا قول معتبر ہے۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۳: یہ کہا کہ میں نے فلاں کی چیز غصب کی ہے اس کا بیان ایسی چیز سے کرنا ہوگا جس میں تمانُع جاری ہو یعنی دوسرے کی طرف سے رکاوٹ پیدا کی جائے ایسی چیز نہیں بیان کرسکتا جس میں تمانع نہ ہو تا ہو۔ اگر بیان میں یہ کہا کہ میں نے اُس کے بیٹے یا بی بی کو چھین لیا ہے تو مقبول نہیں کہ یہ مال نہیں اور اگر مکان یا زمین کو بتا تاہے تو مان لیا جائیگا اگر چہ اس میں امام اعظم کے نزدیک غصب نہیں ہو تا مگر عرف میں اسکو بھی غصب کہتے ہیں۔ (5)(ہدايہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۴: یہ اقرار کیاکہ میرے ذمہ فلاں کی ایک چیز ہے اور بیان میں ایسی چیز ذکر کی جو مال متقوم نہیں ہے اور مقرلہ نے اُسکی بات مان لی تو مُقِرلہ کو وہی چیز ملے گی یوہيں غصب میں ایسی چیز بیان کی کہ وہ بیان صحیح نہیں ہے مگر مُقِرلہ نے مان لیا تو اس کو وہی چیز ملے گی۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: یہ کہا کہ میرے پاس فلاں کی ودِیعت (امانت) ہے تو اس کا بیان ایسی چیز سے کرنا ہو گاجو امانت رکھی جاتی ہو اور اگر مُقِرلہ دوسری چیز کو امانت رکھنا بتاتا ہے تو مُقِر کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ امانت کا اقرار کیا اور ایک کپڑا لا یا کہ یہ میرے پاس امانتہً رکھا تھا اور اس میں میرے پاس یہ عیب پیدا ہو گیا تو اُس پر ضمان واجب نہیں۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الاقرار،ج۷،ص۴۲۴.
2 ۔''ردالمحتار'' ،کتاب الاقرار،ج۸،ص ۴۰۸.
3 ۔نامعلوم چیز۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الاقرار،ج۳،ص ۱۷۸.
5 ۔المرجع السابق،وغیرھا.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الاقرار، الباب الخامس فی الاقرار للمجھول...إلخ،ج۴،ص۱۷۲.
7 ۔المرجع السابق،ص۱۷۳.
مسئلہ ۱۶: اگر مال کا اقرار ہے مثلاً کہا فلاں کا میرے ذمہ مال ہے تو اگر چہ کم و بیش سب کو مال کہتے ہیں مگر عرف میں قلیل کو مال نہیں کہتے کم سے کم اس کا بیا ن ایک در ہم سے کیا جائے۔ اور لفظ مال عظیم سے نصاب زکاۃ کو بیان کرنا ہوگا اس سے کم بیان کریگا تو معتبر نہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۷: مُقِر لہ(2) کو معلوم ہے کہ مُقِراپنے اقرار میں جھوٹا ہے تو مُقِرلہ کو وہ مال لینا دیا نتہً جائز نہیں ہاں اگر مُقِر خوشی کے ساتھ دیتا ہے تو لینا جائز ہے کہ یہ جدید ہبہ ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: یہ کہا میرے پاس یا میرے ساتھ یا میرے گھر میں یا میرے صندوق میں اُسکی فلاں چیز ہے یہ امانت کا اقرار ہے۔ اور اگر یہ کہا میرا کُل مال اُسکے لیے ہے یا جو کچھ میری ملک ہے اُسکی ہے یہ اقرار نہیں بلکہ ہبہ ہے لہٰذا اس میں ہبہ کے شرائط کا اعتبار ہو گا کہ قبضہ ہوگیا تو تمام ہے ورنہ نہیں۔ فلاں زمین جس کے حدود یہ ہیں میرے فلاں بچہ کی ہے یہ ہبہ ہے اور اس میں قبضہ کی بھی ضرورت نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۹: یہ کہا کہ فلاں کے مجھ پر سو روپے ہیں یا میری جانب سو روپے ہیں یہ دین کا اقرار ہے مُقِر یہ کہے کہ وہ روپے امانت ہیں اُس کی بات نہیں مانی جائے گی مگر جب کہ اقرار کے ساتھ متصلًا امانت ہونابیان کیا تو اُسکی بات معتبر ہے۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۲۰: یہ کہا مجھے فلاں کو دس روپے دینے ہیں اس کہنے سے اس پر دینا لازم نہیں جب تک اس کے ساتھ یہ لفظ نہ کہے کہ وہ میرے ذمہ ہیں یا مجھ پر ہیں یا میری گردن پر ہیں یا وہ دین ہیں یا حق لازم ہیں۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: یہ کہا کہ میرے مال میں یا میرے روپے میں اُس کے ہزار روپے ہیں یہ اقرار ہے پھر اگر یہ ہزارروپے ممتاز ہوں یعنی علیحدہ ہوں تو ودیعت کا اقرار ہے ورنہ شرکت کا۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الاقرار،ج۸،ص۴۰۹.
2 ۔جس کے لیے اقرار کیاہے۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الاول فی بیان معناہ...إلخ،ج۴،ص۱۵۶.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،ج۴،ص ۴۱۱.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ'' ،کتاب الاقرار،فصل فیمایکون اقراراً،ج۲،ص۲۰۳.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۵۷.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۲۲: عورت نے شوہر سے کہا جو کچھ میرا چاہیے تھا میں نے تم سے پالیا یہ مہر وصول پانے کا اقرار نہیں۔(1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: باپ نے یہ کہا میرا یہ مکان میرے چھوٹے بچّوں کا ہے یہ لفظ ہبہ کے ليے ہے اور موہوب لہ (2) کا بیان نہیں کیا لہٰذا باطل ہے اور اگر یہ کہا کہ یہ مکان میرے چھوٹے بچوں کا ہے تو اقرار ہے اُس کی اولاد میں تین چھوٹے بچوں کا قرار پائیگا بلکہ اُردو کے محاورہ کے لحاظ سے دو بچوں کا ہوگا یوہيں اگریہ کہا کہ میرے اس مکان کا ثلث (3) فلاں کے لیے ہے تو ہبہ ہے اور یہ کہا کہ اس مکان کا ثلث فلاں کا ہے تو اقرار ہے۔ (4)(خانیہ)
مسئلہ ۲۴: ایک شخص نے کہا میرے اتنے روپے تمھارے ذمہ ہیں دو اُس نے کہا تھیلی سلا رکھو یہ اقرار نہیں کہ اس سے استہزا (5) مقصود ہوتاہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: ایک شخص نے کہا تمھارے ذمہ میرے ایک ہزار روپے ہیں اُس نے کہا اُن کو گن کر لے لو یا مجھے اتنے دنوں کی مہلت دو یا میں نے تم کو ادا کردیے یا تم نے معاف کر دیے یا تم نے مجھ پر صدقہ کردیے یا تم نے مجھے ہبہ کر دیے یامیں نے تمھیں زید پر اُن کا حوالہ کردیا تھا یا کہا ابھی میعاد پوری نہیں ہوئی یا کل دونگا یا ابھی میسر نہیں یا کہا تم کس قدر تقاضے کرتے ہو (7)یا واﷲ میں تمھیں ادا نہیں کرونگا یا تم مجھ سے آج نہیں لے سکتے یا کہا ٹھہر جاؤ میرا روپیہ آجائے یا میرا نوکر آجائے یا مجھ سے کون لے سکتا ہے یا کسی کو کل بھیج دینا وہ قبضہ کر لے گا ان سب صورتوں میں ایک ہزار کااقرارہو گیابشرطیکہ قرائن سے یہ نہ معلوم ہو تا ہو کہ یہ بات ہنسی مذاق کی ہے اگر مذاق سے یہ کہا اور گواہ بھی اسکی شہادت دیتے ہوں توکچھ نہیں اور اگر فقط یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مذاق میں میں نے کہا تو اسکی تصدیق نہیں کی جائیگی۔ (8)(درمختار ،عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: ایک نے دوسرے سے کہا میرے سو روپے جو تمہارے ذمہ ہیں دے دو کیونکہ جن لوگوں کے میرے ذمہ ہیں وہ پیچھا نہیں چھوڑتے دوسرے نے کہا اُ ن کو مجھ پر حوالہ کردو یا کہا اُنھیں میرے پاس لاؤ میں ضامن ہو جاؤں گا یا کہا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۵۷.
2 ۔جسے ہبہ کیا گیا۔ 3 ۔تیسرا حصہ۔
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الاقرار، فصل فیما یکون اقراراً،ج۲، ص۲۰۱،۲۰۲.
5 ۔ہنسی ،مذاق۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۵۹.
7 ۔مطالبے کرتے ہو۔
8 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،ج۴،ص ۴۱۳.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار، الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۵۹.
کہ قسم کھا جاؤ کہ یہ مال تمھیں نہیں پہنچا ہے یہ سب صورتیں اقرار کی ہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: ایک نے دوسرے پر ہزار روپے کا دعویٰ کیا مدعی علیہ نے کہا اُن میں سے کچھ لے چکے ہو یا پوچھا اُن کی میعاد کب ہے یہ ہزار کا اقرار ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: بعض ورثہ پر دعویٰ کیا کہ میت کے ذمہ میرا اتنا قرض ہے اُس نے کہا میرے ہاتھ میں ترکہ میں سے کوئی چیز نہیں ہے یہ دین کا اقرار نہیں۔ (3)(عا لمگیری)
مسئلہ ۲۹: ایک شخص نے کہا تم نے مجھ سے اتنے روپے ناحق لے ليے اس نے کہا ناحق میں نے نہیں ليے ہیں یہ روپیہ لینے کا اقرار نہیں اور اگر جواب میں یہ کہا کہ میں نے وہ تمھارے بھائی کو دے دیے تو روپیہ لینے کا اقرار ہو گیا اور اس کے بھائی کو دے دیے ہیں اس کا ثابت کرنا اس کے ذمہ ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: دس روپے کا دعویٰ کیا مدعیٰ علیہ نے کہا ان میں سے پانچ دینے ہیں یا ان میں سے پانچ باقی ہیں تو دس روپے لینے کا اقرار ہو گیا اور اگر یہ کہا کہ پانچ باقی رہ گئے ہیں تو دس کا اقرار نہیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: فلاں کو خبر کردو یا اُسے بتادو یا اُس سے کہہ دو یا اُسے بشارت (6)دے دو یا تم گواہ ہو جاؤ کہ میرے ذمہ اُسکے اتنے روپے ہیں ان سب صورتوں میں اقرار ہو گیا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: فلاں شخص کا میرے ذمہ کچھ نہیں ہے اُس سے یہ نہ کہنا کہ اُس کے میرے ذمہ اتنے روپے ہیں یا اُس کو اسکی خبر نہ دینا کہ اُس کے میرے ذمہ اتنے ہیں یہ اقرار نہیں اور اگر پہلا جملہ نہیں کہا صرف اتنا ہی کہا کہ فلاں شخص کو خبر نہ دینا یا اس سے یہ نہ کہنا کہ اُس کے میرے ذمہ اتنے ہیں یہ اقرار ہے۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: یہ کہا کہ میری عورت سے یہ بات مخفی رکھنا کہ میں نے اُسے طلاق دی ہے یہ طلاق کا اقرار ہے اوراگر یہ کہا کہ اُسے خبر نہ دینا کہ میں نے اسکو طلاق دیدی ہے یہ اقرار طلاق نہیں۔ (9)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار، الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۵۹.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۶۰. 3 ۔المرجع السابق،ص۱۶۰.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔خوش خبری۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار، الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۲.
8 ۔المرجع السابق. 9 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۳۴: یہ کہا کہ جو کچھ میرے ہاتھ میں ہے یا جو چیز میری طرف منسوب ہے وہ فلاں کی ہے یہ اقرار ہے اور اگر یہ کہا کہ میرا کل مال یا جس چیز کا میں مالک ہوں وہ فلاں کے ليے ہے یہ ہبہ ہے اگراُسے دے دے گا صحیح ہو جائے گا ورنہ نہیں اور دے دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: ایک شخص نے حالت صحت میں یہ اقرار کیا کہ جو کچھ میرے مکان میں فروش(2) و ظروف(3) وغیرہا ہیں یہ سب میری لڑکی کے ہیں اور اس شخص کے گاؤں میں بھی کچھ جانور وغیرہ ہیں اور یہاں بھی کچھ جانور رہتے ہیں جو دن میں جنگل کو چرنے کے ليے چلے جاتے ہیں رات میں آجاتے ہیں مگر اس شخص کی سکونت شہر میں ہے تو جو چیزیں یا جانور اس مکان سکونت میں ہیں وہ سب اقرار میں داخل ہیں اور ان کے علاوہ باقی چیزیں داخل نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: مرد نے بدرستی عقل و حواس(5) حالتِ صحت میں یہ اقرار کیا کہ میرے بدن پر جو کپڑے ہیں ان کے علاوہ جوکچھ میرے مکان میں ہے سب میری عورت کا ہے وہ شخص مرگیا اور بیٹا چھوڑا بیٹا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ میرے باپ کا ترکہ ہے میرا حصہ مجھے ملنا چاہیے عورت کو جن چیزوں کی نسبت یہ علم ہے کہ شوہر نے بیع یا ہبہ کے ذریعہ سے اسے مالک کر دیا ہے یا مہر کے عوض میں جو کچھ ہو سکتا ہے ان کو لے سکتی ہے اور اُس اقرار کو حجت بنا سکتی ہے اور جن چیزوں کی عورت مالک نہیں ہے اُن کو اُس اقرار کی وجہ سے لینا دیا نتہً جائز نہیں مگر قاضی اُن تمام چیزوں کے متعلق عورت کے ليے ہی فیصلہ کریگا جو بوقت اقرار اُس مکان میں موجود تھیں جبکہ گواہوں سے اُن چیزوں کا مکان میں بوقت اقرار ہونا ثابت ہو۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: اس قسم کی بات جو دوسرے کے کلام کے بعد ہو تی ہے اگر جواب کے ليے متعین ہے تو جواب ہے اورابتدائے کلام کے ليے متعین ہے یا جواب و ابتدا دونوں کا احتمال ہو تو اس سے اقرارنہیں ثابت ہوگا اور اگر جواب میں ہاں کہاتو یہ اقرار ہے مثلاًکسی نے کہا میرا یہ کپڑا دیدو یا میرے اس غلام کا کپڑا دیدو۔ میرے اس مکان کا دروازہ کھولدو۔ میرے اس گھوڑے پر کاٹھی(7) کَس دو یااُس کی لگام دیدو، ان باتوں کے جواب میں دوسرے نے کہا ہاں تو یہ ہاں کہنا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار، الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۳.
2 ۔بچھانے کی اشیاء قالین،دریاں وغیرہ۔ 3 ۔ برتن۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار، الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۳.
5 ۔یعنی عقل وحواس کی سلامتی کے ساتھ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار، الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۳.
7 ۔چمڑے کا زین ۔
اقرارہے کہ کپڑا اور غلام اور مکان اورگھوڑا اُ س کا ہے۔ ایک شخص نے کہا کیاتمھارے ذمہ میرا یہ نہیں اس نے کہا ہاں یہ اقرار ہوگیا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۸: جو بول سکتا ہے اُس کا سر سے اشارہ کرنا اقرار نہیں۔ مال، عتق(2)، طلاق، بیع(3)، نکاح، اجارہ، ہبہ کسی کا اقرار اشارہ سے نہیں ہو سکتا۔ اِفتا یعنی عالم سے کسی نے مسئلہ پوچھا اوس نے سر سے اشارہ کر دیا نسب، اسلام، کفر، امان، کافر، مُحرِم(4) کا شکار کی طرف اشارہ کرنا روایت حدیث میں شیخ (استاذ) کا سر سے اشارہ کرنا معتبر ہے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۳۹: دَین مؤجل کا اقرار کیا یعنی یہ کہا فلاں کا میرے ذمہ اِتنا دَین ہے جس کی میعاد یہ ہے مقرلہ(6) نے کہا میعاد پوری ہو چکی فوراً دینا واجب ہو گا اور میعاد باقی ہونا دعویٰ ہے جس کے ليے ثبوت درکارہے۔ اسی طرح اس کے پاس کوئی چیز ہے کہتا ہے یہ چیز فلاں کی ہے میں نے کرایہ پر لی ہے اُس کے ليے اقرارہو گیا اور کرایہ پر اس کے پاس ہوناایک دعویٰ ہے جس کے ليے ثبوت کی ضرورت ہے اگر مُقِر میعاد اور اجارہ کو گواہوں سے ثابت کردے فبہا ،ورنہ مقرلہ پر حلف (7) دیاجائے گا۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۴۰: اقرار کیا کہ میرے ذمہ فلاں شخص کے اس قِسم کے روپے ہیں مُقِرلہ یہ کہتا ہے کہ اس قسم کے نہیں بلکہ اُس قسم کے ہیں اس صورت میں مُقِر کا قول معتبر ہے جیسے روپے کا اقرار کیا ہے ویسے ہی واجب ہیں اگر یہ کہا کہ میں نے فلاں کے ليے سوروپے کی ضمانت کی ہے جس کی میعاد ایک ماہ ہے مقرلہ نے میعاد سے انکار کیا کہتا ہے وہ فوراً دینا ہے اس صورت میں مُقِر کاقول معتبر ہے۔ (9) (ہدايہ)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،ج۸،ص۴۱۴.
2 ۔غلام آزادکرنا۔ 3 ۔یعنیخریدوفروخت۔
4 ۔وہ شخص جس نے حج یا عمرہ کا احرام باندھاہو۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،ج۸،ص ۴۱۵.
6 ۔جس کے لیے اقرار کیا۔ 7 ۔قسم۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،ج۸،ص ۴۱۵.
9 ۔''الھدایۃ''کتاب الکفالۃ،ج۲،ص۹۵،۱۸۰.
مسئلہ ۴۱: ایک سو ایک روپیہ کہا تو کل روپیہ ہی ہے اور ایک سو ایک تھان یا ایک سو دو تھان کہا تو ایک سو کے متعلق دریافت کیا جائے گا کہ اس سے کیا مراد ہے۔ ٹوکری میں آم کہا تو ٹوکری اور آم دونوں کا اقرار ہے اصطبل(1) میں گھوڑا کہا تو صرف گھوڑا ہی دینا ہو گا اصطبل کا اقرار نہیں انگوٹھی کا اقرار ہے توحلقہ اور نگ دونوں چیزیں دینی ہوں گی۔ تلوار کا اقرار ہے تو پھل(2) اور قبضہ(3) اور میان(4) اور تسمہ(5) سب کا اقرار ہے۔ مسہری (6)کااقرار ہے تو چاروں ڈنڈے اور چوکھٹا (7)اور پردہ بھی اس اقرار میں داخل ہیں۔ بیٹھن(8) میں تھان یا رومال میں تھان کہا تو بیٹھن اور رومال کا بھی اقرار ہے ان کو دینا ہو گا۔ (9)(درمختار ،ہدایہ)
مسئلہ ۴۲: اس دیوار سے اس دیوار تک فلاں کاہے دونوں دیواروں کے درمیان جو کچھ ہے وہ مقر لہ کے لیے ہے اور دیواریں اقرار میں داخل نہیں ۔ (10)(درمختار)
مسئلہ۴۳: دیوار کا اقرار کیا کہ یہ فلاں کی ہے پھر یہ کہتا ہے میری مراد یہ تھی کہ دیوار اُسکی ہے زمین اُسکی نہیں اسکی بات نہیں مانی جائیگی دیوار و زمین دونوں چیزیں مقرلہ کو دلائی جا ئیں گی۔ یوہيں اینٹ کے ستون بنے ہوئے ہیں اُنکا اقرار کیا تو اُن کے نیچے کی زمین بھی مقرلہ کی ہو گی اورلکڑی کا ستون ہے اس کا اقرار کیا تو صرف ستون مقرلہ کا ہے زمین نہیں پھر اگر ستون کے نکال لینے میں مُقِر کا ضرر نہ ہو تو مقرلہ ستون نکال لے جائے اور اگر ضرر ہے تو مُقِر ستون کی اُس کو قیمت دیدے۔ (11) (عالمگیری)
1 ۔گھوڑے باندھنے کی جگہ۔ 2 ۔تلوار کا دھار والا حصہ۔ 3 ۔ تلوار کادستہ ۔
4 ۔نیام یعنی تلوار کاغلاف۔ 5 ۔وہ چمڑا جس سے تلوار کو نیام کی پٹی سے باندھتے ہیں ۔
6 ۔ایک قسم کا پلنگ جس کی پٹیاں چوڑی اورنقش ونگاروالی ہوتی ہیں ۔ 7 ۔پلنگ کے لیے لکڑی وغیرہ کا بناہواچوکورگھیرا،حلقہ۔
8 ۔وہ کپڑا جس میں سودا گر قیمتی کپڑے باندھتے ہیں۔
9 ۔''الدرالمختار''، کتاب الاقرار،ج۸،ص ۴۱۸.
و''الھدایۃ''کتاب الاقرار،ج۲،ص۱۸۰.
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،ج۸،ص ۴۲۱.
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار، الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۳.
مسئلہ۴۴: یہ کہا کہ اس گھر کی عمارت یا اس کا عملہ فلاں شخص کا ہے تو صرف عمارت کا اقرار ہے زمین اقرار میں داخل نہیں ۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ۴۵: یہ اقرار کیا کہ میرے باغ میں یہ درخت فلاں کا ہے تو وہ درخت اور اُسکی موٹائی جتنی ہے اتنی زمین بھی مقرلہ کو دلائی جائیگی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: اس درخت میں جو پھل ہیں فلاں کے ہیں یہ صرف پھلوں کا اقرار ہے درخت کا اقرار نہیں۔ یوہيں یہ اقرار کیا کہ اس کھیت میں فلاں کی زراعت (3) ہے یہ صرف زراعت کا اقرار ہے زمین اقرار میں داخل نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: یہ اقرار کیا کہ یہ زمین فلاں کی ہے اور اُس میں زراعت موجود ہے توز مین و زراعت دونوں مقرلہ کو دلائی جائینگی اور اگر مقر نے گواہوں سے قاضی کے فیصلہ سے قبل یا بعد یہ ثابت کردیا کہ زراعت میری ہے تو گواہ قبول ہونگے اورزراعت اسی کو ملے گی۔ اگر زمین کا اقرار کیا اور اس میں درخت ہیں تو درخت بھی مقرلہ کو دلائے جائیں گے اور مُقِر گواہوں سے یہ ثابت کرے کہ درخت میرے ہیں تو گواہ قبول نہیں مگر جبکہ اقرار ہی یوں کیا تھا کہ زمین اُسکی ہے اور درخت میر ے ہیں توگواہ مقبول ہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۸: اس کے پاس صندوق ہے جس میں سامان ہے کہتا ہے صندوق فلاں شخص کا ہے اور اس میں جو کچھ سامان ہے وہ میرا ہے یا یہ کہا یہ مکان فلاں شخص کا ہے اور جوکچھ اس میں مال اسباب ہے میراہے تو صرف صندوق یا مکان کا اقرار ہوا سامان وغیرہ اقرار میں داخل نہیں۔ (6)(خانیہ)
مسئلہ ۴۹: تھیلی میں روپے ہیں یہ کہا کہ یہ تھیلی فلاں کی ہے تو روپے بھی اقرار میں داخل ہیں مقر کہتا ہے کہ میری مرادصرف تھیلی تھی روپے کا میں نے اقرار نہیں کیا اُسکی بات معتبر نہیں ہے۔ يوہيں اگر یہ کہا کہ یہ ٹوکری فلاں کی ہے اور اس میں پھل ہیں تو پھل بھی اقرار میں داخل ہیں۔ یہ مٹکا فلاں کا ہے اور اُس میں سرکہ ہے تو سرکہ بھی اقرار میں داخل ہے اور اگر بوری میں غلہ ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار، الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۳.
2 ۔المرجع ا لسابق.
3 ۔کھیتی،فصل۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار، الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۴.
5 ۔المرجع ا لسابق.
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الاقرار،فصل فی الإستثناء والرجوع،ج۲،ص۲۱۰.
اور یہ کہا کہ یہ بوری فلاں کی ہے پھر کہتا ہے صرف بوری اُس کی ہے غلہ میرا ہے تو اس کی بات مان لی جائیگی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: حمل کا اقرار یا حمل کے ليے اقرار دونوں صحیح ہیں حمل کا اقرار یعنی لونڈی کے پیٹ میں جو بچہ ہے یا جانور کے پیٹ میں جو بچہ ہے اُس کا اقرار دوسرے کے ليے کر دینا کہ وہ فلاں کا ہے صحیح ہے حمل سے مراد یہ ہے جس کا وجود وقت اقرار میں مظنون ہو ورنہ اقرار صحیح نہیں۔ مظنون ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگروہ عورت منکوحہ ہو توچھ ماہ سے کم میں اور معتدہ ہو تو دو سال سے کم میں بچہ پیدا ہو اور اگر جانور کا حمل ہو تو اس کی مدت کم سے کم جو کچھ ہو سکتی ہے اوس کے اندر بچہ پیدا ہو اور یہ بات ماہرین سے معلوم ہو سکتی ہے کہ جانور وں میں بچہ ہونے کی کیا کیا مدت ہے۔ بعض علمانے فرمایا کہ بکری میں اقل مدت حمل چار ماہ ہے اور دوسرے جانوروں میں چھ ماہ۔ (2)(درمختار، بحر)
مسئلہ۵۱: حمل کے لیے اقرار کیا کہ یہ چیز اُس بچہ کی ہے جو فلاں عورت کے پیٹ میں ہے اس میں شرط یہ ہے کہ وجوب کا سبب ایسا بیان کرے جو حمل کے ليے ہوسکتا ہو اور اگر ایسا سبب بیان کیا جو ممکن نہ ہو تو اقرارصحیح نہیں پہلے کی مثال ارث(3) ووصیت ہے یعنی یہ کہا کہ اُس عورت کے حمل کے میرے ذمہ سو روپے ہیں پوچھا گیا کہ کیوں کر جواب دیا کہ اُس کا باپ مرگیا میراث کی رو سے اُس کا یہ حق ہے یا فلاں شخص نے اس کی وصیت کی ہے۔ پھر اگر یہ بچہ وقت اقرار سے چھ ماہ سے کم میں پیدا ہوا تو اس کی چند صورتیں ہیں لڑکا ہے یا لڑکی ہے یا دولڑکے ہیں یا دو لڑکیاں ہیں یا ایک لڑکاہے اور ایک لڑکی۔ اگر لڑکا یالڑکی ہے تو جو کچھ اقرارکیا ہے لے لے اوردوہیں خواہ دونوں لڑکے ہوں یا لڑکیاں دونوں برابر بانٹ لیں اور ایک لڑکا ایک لڑکی ہے اور وصیت کی رو سے یہ چیز ملتی ہے تودونوں برابر کے حقدار ہیں اور میراث کی رو سے ہے تو لڑکی سے لڑکے کو دو نا۔ اور اگر بچہ مردہ پیدا ہوا تو مورث یا موصی کے ورثہ کی طرف منتقل ہوجائیگا۔ (4) (درمختار،بحر)
مسئلہ۵۲: حمل کے لیے اقرار کیا اور سبب نہیں بیان کیا یا ایسا سبب بیان کیا جو ہو نہ سکے مثلاً کہتا ہے میں نے اُس
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۵.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،ج۴،ص۴۲۱.
و''البحرالرائق''،کتاب الاقرار،ج۷،ص۴۲۷.
3 ۔وراثت۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،ج۴،ص۴۲۱.
و''البحرالرائق''،کتاب الاقرار،ج۷،ص۴۲۷.
سے قرض لیا یا اُس نے بیع کی ہے یا خریدا ہے یا کسی نے اسے ہبہ کیا ہے ا ن سب صورتوں میں اقرار لغو ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ۵۳: دودھ پیتے بچہ کے لیے اقرار کیا اور سبب ایسا بیان کیا جو حقیقتہً ہو نہیں سکتا ہے یہ اقرار صحیح ہے مثلاً یہ کہا اُس کا میرے ذمہ قرض ہے یامبیع کا ثمن ہے کہ اگر چہ وہ خود قرض نہیں دے سکتا بیع نہیں کر سکتا مگر قاضی یا ولی کرسکتا ہے یوں اُس بچہ کا مطالبہ مقر کے ذمہ ثابت ہوگا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۵۴: یہ اقرار کیا کہ اس بچہ کے لیے میں نے فلاں کی طرف سے ہزار روپے کی کفالت کی ہے اور بچہ اتنی عمر کا ہے کہ نہ بول سکتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے تو کفالت باطل ہے مگر جبکہ اُس کے ولی نے قبول کرلیا تو کفالت صحیح ہوگئی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ۵۵: ایک شخص آزاد کو قاضی نے محجور کردیا ہے یعنی اُس کے تصرفات بیع وغیرہ کی ممانعت کردی ہے اُس نے دین یا غصب یا بیع یا عتق یا طلاق یا نسب یا قذف یا زنا کا اقرار کیا اُس کے یہ سب اقرار جائز ہیں آزاد شخص کو قاضی کا حجر کرنا جائز نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ۵۶: اقرار میں شرط خیار ذکر کی یہ اقرار صحیح ہے اور شرط باطل یعنی وہ مطالبہ بِلاخیار(5) اس پر لازم ہوجائے گا اگر مقرلہ (6) نے خیار کے متعلق اس کی تصدیق کی یہ تصدیق باطل ہے ہاں اگر عقد بیع کا اقرار کیا ہے اوربیع با لخیار ہے تو بشرط تصدیق مقرلہ یا گواہوں سے ثابت کرنے پر اس شرط خیار کا اعتبار ہوگا اور اگرمُقِرلہ نے تکذیب کردی تو قول اسی کا معتبر ہے کہ یہ منکر ہے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۵۷: دَین کا اقرار کیا اور سبب یہ بتایا کہ میں نے اسکی کفالت کی ہے اور مدت میں مجھے اختیار ہے مدت چاہے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،ج۸،ص ۴۲۲.
2 ۔المرجع ا لسابق.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الرابع فی بیان من یصلح لہ الاقرار...إلخ،ج۴،ص ۱۶۹.
4 ۔المرجع ا لسابق،ص۱۷۱.
5 ۔بغیر کسی اختیارکے۔ 6 ۔جس کے لیے اقرار کیاہے۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،ج۸،ص۳۲۲.
طویل ہو یا کوتاہ(1) یہ خیار شرط صحیح ہے بشرطیکہ مُقِرلہ اسکی تصدیق کرے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ۵۸: قرض یا غصب یا ودیعت یا عاریت کا اقرار کیا اور یہ کہا کہ مجھے تین دن کا خیار ہے اقرار صحیح ہے اور خیار باطل اگرچہ مُقِرلہ تصدیق کرتا ہو۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۹: کفالت(4) کی وجہ سے دَین(5) کا اقرارا کیا اور یہ کہ ایک مدت معلومہ تک کے لیے اس میں شرط خیار ہے وہ مدت طویل ہو یا قصیر (6) اگر مُقِرلہ اس کی تصدیق کرتا ہو تو خیار ثابت ہوگا اور آخر مدت تک خیار رہے گا اور مُقِرلہ تکذیب کرتا ہو تو مال لازم ہوگااورخیارثا بت نہ ہوگا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: اقرار جس طرح زبان سے ہوتا ہے تحریر سے بھی ہوتا ہے جب کہ وہ تحریرمُعَنْوَنْ(8) ومرسوم ہو(9) مثلاً ایک شخص نے لوگوں کے سامنے ایک اقرار نامہ لکھا یا کسی سے لکھوایا اور حاضرین سے کہہ دیا جو کچھ میں نے اس میں لکھاہے تم اس کے گواہ ہوجاؤیہ اقرارصحیح ہے اگر چہ نہ اس نے پڑھ کران کو سنایا نہ انھوں نے خود تحریر پڑھی اور اگر کتابت یا املا کے وقت وہ لوگ حاضر نہ تھے توگواہی جائز نہیں۔ مدیون نے یہ دعویٰ کیا کہ دائن نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے کہ فلاں بن فلاں پر جو میرا دین تھا میں نے معاف کردیا اگریہ تحریر مرسوم ہے اور گواہوں سے ثابت ہو تو اقرار صحیح ہے اور دَین ساقط ،خواہ مدیون کے کہنے سے اس نے لکھی ہو یااپنے آپ بغیر اُس کے کہے ہوئے لکھی۔ اور اگر تحریر مرسوم نہیں ہے تو نہ اقرار صحیح، نہ معافی کا دعویٰ صحیح۔ (10)(عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۱: اقرار نامہ پر گواہ بنا نے کا یہ مطلب ہے کہ لوگوں سے کہہ دے تم اس کے گواہ ہو جاؤاور ان کو اقرار نامہ پڑھ کر سنایا نہ ہو اور اگر پڑھ کر سنا دیا ہو تو گواہ بنائے یا نہ بنائے ان کو گواہی دینا جائز ہے۔ (11) (عالمگیری)
1 ۔زیادہ ہویا کم۔
2 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الاقرار،ج۸،ص۴۲۲.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب العاشر فی الخیاروالإستثناء والرجوع،ج۴،ص۱۹۱،۱۹۲.
4 ۔ضمانت۔ 5 ۔قرض۔ 6 ۔یعنی زیادہ ہو یاکم ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب العاشر فی الخیاروالإستثناء والرجوع،ج۴،ص۱۹۲.
8 ۔یعنی معین ومختص ہو۔ 9 ۔ جس طرح عام طور پرلکھاجاتاہے اس کے مطابق ہو ۔
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۷.
و''ردالمحتار''، کتاب الاقرار،ج۸،ص۴۲۳.
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۷.
مسئلہ۶۲: کاتب (1)سے یہ کہنا کہ فلاں بات لکھ دو یہ بھی حکماً اقرار ہے مثلاً صکاک (2)سے کہا کہ تم میرا یہ اقرار لکھ دو کہ فلاں کا میرے ذمہ ایک ہزار ہے یا میرے مکان کا بیع نامہ لکھ دو یہ اقرار بھی صحیح ہے صکاک لکھے یا نہ لکھے صکاک کو اوسکے اقرار پر شہادت دینا جائز ہے۔ (3)(درر، غرر)
مسئلہ۶۳: بطور مراسلہ(4) ایک تحریر لکھی کہ از جانب فلاں بطرف فلاں تم نے لکھا ہے کہ میں نے تمھارے ليے فلاں کی طرف سے ایک ہزار کی ضمانت کی ہے میں نے ایک ہزارکی ضمانت نہیں کی ہے صرف پانسو کی ضمانت کی ہے لکھنے کے بعد اس نے تحریر چاک کر ڈالی(5) اور اس تحریر کے وقت دو شخص اُس کے پاس موجود تھے جنھوں نے اس کی تحریر دیکھی ہے یہ گواہی دے سکتے ہيں کہ اُس نے ایسی تحریر لکھی تھی اُس نے چاہے اُن دونوں کو گواہ بنایا ہو یا نہ بنایا اور لکھنے والے پر گواہی گزر جانے کے بعد وہ امر لازم کیا جائے گا جس کو اس نے لکھا تھا۔ طلاق وعتاق اور وہ تمام حقوق جو شبہہ کے ساتھ بھی ثابت ہو جا تے ہیں سب کا یہی حکم ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ۶۴: مراسلہ کے طور پر ایک تحریر زمین پر لکھی یا کپڑے پر لکھی اس تحریر سے اقرار ثابت نہیں ہوگا اور جس نے یہ تحریر دیکھی ہے اُس کو گواہی دینی بھی جائز نہیں ہا ں اگر ان لوگوں سے یہ کہہ دیا کہ تم اس مال کے شاہد رہو تو مال لازم ہو جائے گا اور گواہی دینی جائز۔ (7) (خانیہ)
مسئلہ۶۵: کاغذ پر یہ تحریر لکھی کہ فلاں کا میرے ذمہ اتنا روپیہ ہے مگر یہ تحریر بطور مراسلہ نہیں ہے ایسی تحریر سے اقرار ثابت نہ ہو گا ہاں اگر لوگوں سے کہہ دیا کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے تم اس کے گواہ ہو جاؤ تو ان کا گواہی دینا جائز ہے اور مال لازم ہو جائے گا۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ۶۶: ایک تحریر لکھی مگر خود پڑھ کر نہیں سنائی کسی دوسرے شخص نے پڑھ کر گواہوں کو سنائی اور کاتب نے کہہ دیا کہ تم اس کے گواہ ہوجاؤ تو اقرار صحیح ہے اور یہ نہ کہا تو اقرار صحیح نہیں۔ (9) (عالمگیری)
1 ۔لکھنے والا۔ 2 ۔دستاویز لکھنے والا۔
3 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''، کتاب الاقرار،الجزء الثانی،ص۳۶۳.
4 ۔خط وکتابت کے طورپر۔ 5 ۔پھاڑ ڈالی،ٹکڑے ٹکڑے کردی۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۶.
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الاقرار،فصل فیما یکون اقرارا،ج۲،ص۲۰۰.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۷.
9 ۔المرجع ا لسابق،ص۱۶۶،۱۶۷.
مسئلہ۶۷: لوگوں کے سامنے ایک تحریر لکھی اور حاضرین سے کہا کہ تم اس پر مہر یا دستخط کر دو یہ نہیں کہا کہ گواہ ہو جاؤ یہ اقرار صحیح نہیں اور اُن لوگوں کو گواہی دینا بھی جائز نہیں۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ ۶۸: ایک شخص نے ایک دستا ویز پڑھ کر سنائی جس میں اُس نے کسی کے لیے مال کا اقرار کیا تھا سننے والوں نے کہا کیا ہم اُس مال کے گواہ ہو جائیں جو اس دستاویز میں لکھا ہے اُس نے کہا ہاں یہ ہاں کہنا اقرار ہے اور سننے والے کو شہادت دینی جائز۔ (2)(خانیہ)
مسئلہ ۶۹: روزنامچہ (3)اور بہی(4) میں اگر یہ تحریر ہو کہ فلاں کے میرے ذمہ اتنے روپے ہیں یہ تحریر مرسوم قرار پائیگی اس کے ليے گواہ کرنا شرط نہیں یعنی بغیر گواہ بنائے ہوئے بھی یہ تحریر اقرار قرار دی جائیگی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۰: ایک شخص نے یہ کہا کہ میں نے اپنی یادداشت (نوٹ بک) میں یاحساب کے کاغذ میں یہ لکھا ہوا پایا یا میں نے اپنے ہا تھ سے یہ لکھا کہ فلاں کا میرے ذمہ اتنا روپیہ ہے یہ اقرار نہیں ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ۷۱: تاجر کی یادداشت میں جو کچھ تحریر اُس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے وہ معتبر ہے لہٰذااگر دوکاندار یہ کہے کہ میں نے اپنی نوٹ بک میں اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا یہ دیکھا یا میں نے اپنے ہاتھ سے اپنی نوٹ بک میں یہ لکھاہے کہ فلاں شخص کے میرے ذمہ ہزار روپے ہیں یہ اقرار ماناجائیگا اور اُس کو ہزار روپے دینے ہوں گے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ۷۲: مدعیٰ علیہ نے قاضی کے سامنے کہا کہ مدعی کی یادداشت (نوٹ بک) میں جو کچھ اُس نے میرے ذمہ اپنے ہاتھ سے لکھا ہو اسکو میں اپنے ذمہ لازم کیے لیتا ہوں یہ اقرار نہیں ہے۔ (8)(شرنبلالی)
مسئلہ۷۳: چند مرتبہ یہ کہا کہ میرے ذمہ فلاں شخص کے ہزار روپے ہیں اگر یہ اقرار کسی دستاویز کا حوالہ دیتے
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الاقرار،فصل فیما یکون اقراراً،ج۲،ص۲۰۱.
2 ۔المرجع ا لسابق،ص۲۰۰،۲۰۱.
3 ۔ روزانہ کے حساب کارجسٹر۔ 4 ۔تجارت یا دوکانداری کے حساب کارجسٹر۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً...إلخ،ج۴،ص ۱۶۷.
6 ۔المرجع ا لسابق. 7 ۔المرجع ا لسابق.
8 ۔''غنیۃذوی الاحکام'' ھامش علی''دررالحکام''، کتاب الاقرار،الجزء الثانی،ص۳۶۳.
ہوئے کیا یعنی یہ کہا کہ اس دستاویز کی رو سے اُس کے ہزار روپے مجھ پر ہیں تو خواہ یہ اقرار ایک مجلس میں ہوں یا متعدد مجالس میں ہوں دوسر ی جگہ جن لوگوں کے سامنے اقرار کیا وہی ہوں جن کے سامنے پہلی مرتبہ اقرار کیا تھا یا یہ دوسرے لوگ ہوں بہرحال یہ ایک ہی ہزار کا اقرار ہے یعنی متعدد بار اقرار کرنے سے متعدد اقرار نہیں قرار پائیں گے بلکہ ایک ہی اقرار کی تکرارہے۔ اور اگر دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اقرار نہیں ہے تو اگر ایک مجلس میں متعدد مرتبہ اقرار کیا ہے جب بھی ایک ہی اقرارہے اور دوسرا اقرار دوسری مجلس میں ہے اور اُنھیں لوگوں کے سامنے اقرار کیاہے جنکے سامنے پہلے اقرار کیا تھا جب بھی ایک ہی اقرار ہے اور اگر دوسری مجلس میں دوسرے دوآدمیوں کے سامنے اقرار کیا ہے اور ہزار روپے اس کے ذمہ ہونے کا کوئی سبب نہیں بیان کیا تو دو اقرار ہیں یعنی مُقِرپر (1) دو ہزار واجب ہیں اور اگر دونوں اقراروں کا سبب ایک ہی ہے مثلاً فلاں شخص کے میرے ذمہ ہزار روپے ہیں فلاں چیز کے دام(2) توکتنے ہی مرتبہ اقرار کرے ایک ہی ہزار واجب ہونگے اور اگر ہر اقرار کاسبب جدا جدا ہے ایک مرتبہ ثمن بتایا ایک مرتبہ اُس سے قرض لینا کہا تو ہر ایک کا اقرار جدا جدا ہے اور جتنے اقرار اُتنا مال لازم۔ (3)(درر،غرر،درمختار)
مسئلہ۷۴: ایک مرتبہ گواہوں کے سامنے اقرار کیا دوسری مرتبہ قاضی کے سامنے اقرار کیا یا پہلے قاضی کے سامنے پھرگواہوں کے سامنے یا قاضی کے سامنے کئی مرتبہ اقرار کیا یہ سب ایک ہی اقرار ہیں یعنی ایک ہی ہزار واجب ہوں گے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ۷۵: اقرار کیا پھر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے جھوٹا اقرار کیا خواہ مجبوری و اضطرار کی وجہ سے جھوٹ بولنا کہتا ہو یابغیر مجبوری، مُقِرلہ پر یہ حلف دیا جائے گا(5) کہ مُقِر اپنے اقرار میں کاذِب(6) نہ تھا۔ يوہيں اگر مُقِر مرگیا ہے اُس کے ورثہ یہ کہتے ہیں کہ مُقِر نے جھوٹا اقرار کیا تو مُقِرلہ پر حلف دیا جائے گا اور اگر مُقِرلہ مرگیا اس کے ورثہ پر مُقِر نے دعویٰ کیا کہ میں نے جھوٹااقرار کیا تو ورثہ مُقِرلہ پر(7) حلْف دیا جائے گا مگر یہ لوگ یوں قسم کھائیں گے کہ ہمارے علم میں یہ نہیں ہے کہ اس نے جھوٹا اقرارکیا ہے۔ (8)(درمختار)
1 ۔اقرار کرنے والے پر۔ 2 ۔قیمت۔
3 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''، کتاب الاقرار،الجزء الثانی،ص۳۶۳.
و''الدرالمختار''، کتاب الاقرار ،ج۸،ص۴۲۵.
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الاقرار ،ج۸،ص۴۲۶.
5 ۔یعنی اس سے قسم لی جائے گی 6 ۔جھوٹا۔ 7 ۔جس کے لیے اقرار کیا اُس کے وارثوں پر۔
8 ۔''الدرالمختار''، کتاب الاقرار ،ج۸،ص۴۲۷.
مسئلہ ۱: ورثہ میں سے ایک نے یہ اقرار کیا کہ میّت پر اتنا فلاں شخص کا دین ہے اور باقی ورثہ نے انکار کیا ظاہر الروایۃیہ ہے کہ کل دین اس مُقِر کے حصے سے اگر وصول کیا جاسکے وصول کیا جائے اور بعض علمایہ کہتے ہیں کہ دین کا جتنا جز اس کے حصہ میں آتا ہے اُس کے متعلق اسکا اقرار صحیح ہے اور اگر اس مُقِر اور ایک دوسرے شخص نے شہادت (1)دی کہ میّت پر اتنا فلاں کا دَین(2) تھا اس کی گواہی مقبول ہے اور کل ترکہ سے یہ دین وصول کیا جائے گا۔ (3) (درر، غرر، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: ایک شخص مرگیا اور ایک ہزار روپے اور ایک بیٹا چھوڑا بیٹے نے یہ اقرار کیا کہ زیدکے میرے باپ کے ذمہ ایک ہزار روپے ہیں اور ایک ہزار عمر و کے ہیں اگر یہ دونوں باتیں متصلاً (4) کہیں تو زید وعمرو دونوں ان ہزار روپے میں سے پان پانسو لے لیں اور اگر دونوں باتوں میں فصل ہو یعنی زیدکے ليے اقرار کرنے کے بعد خاموش رہا پھر عمرو کے ليے اقرار کیا تو زید مقدم ہے مگر زید کو اگرقاضی کے حکم سے ہزار روپے دیے تو عمرو کو کچھ نہیں ملے گا اور بطور خود دے دیے توعمر و کواپنے پاس سے پانسو دے اور اگر بیٹے نے یہ کہا کہ یہ ہزار روپے میرے باپ کے پاس زید کی امانت تھے اور عمرو کے اُس کے ذمہ ایک ہزار َدین ہیں اور دونوں باتوں میں فاصلہ نہ ہو تو امانت کو دَین پر مقدم کیا جائے اور اگر پہلے دَین کا اقرار کیا اور بعد میں متصلاً امانت کا تو دونوں برابر برابر بانٹ لیں۔ (5) (مبسوط)
مسئلہ ۳: ایک شخص نے کہا یہ ہزار روپے جو تمھارے والد نے چھوڑے ہیں میں نے اُن کے پاس بطور امانت رکھے تھے دوسرے شخص نے کہا تمھارے باپ پر میرے ہزار روپے دَین ہیں بیٹے نے دونوں سے مخاطب ہوکر یہ کہا کہ تم دونوں سچ کہتے ہو تو دونوں برابر برابر بانٹ لیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: ایک شخص مر گیا دو بیٹے وارث چھوڑے اور دو ہزار ترکہ ہے ایک ایک ہزار دونوں نے لے ليے پھردو شخصوں نے دعویٰ کیا ہر ایک کا یہ دعویٰ ہے کہ تمھارے باپ کے ذمہ میرے ایک ہزار دَین ہیں ایک مدعی کی دونوں بیٹوں نے تصدیق کی
1 ۔گواہی۔ 2 ۔قرض۔
3 ۔''دررالحکام''و'' غررالأحکام''، کتاب الاقرار، الجزء الثانی ، ص۳۶۳.
و''ردالمحتار''، کتاب الاقرار ،ج۸،ص۴۲۳،۴۲۴.
4 ۔ کسی کلام یا فاصلہ کے بغیر، فوراً۔
5 ۔''المبسوط''للسرخسی، باب اقرارالوارث بالدَین ،ج۹،الجزء الثامن عشر،ص۴۷۔۴۹.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار، الباب السابع فی اقرارالوارث...إلخ،ج۴،ص۱۸۵.
اور دوسرے کی فقط ایک نے تصدیق کی مگر اس نے دونوں کے ليے ایک ساتھ اقرار کیا یعنی یہ کہا کہ تم دونوں سچ کہتے ہو جسکی دونوں نے تصدیق کی ہے وہ دونوں سے پان پانسو لے گا اور دوسرا فقط اسی سے پانسو لے گا جس نے اسکی تصدیق کی ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: ایک شخص مرگیا اور اُس کے ہزار روپے کسی کے ذمہ باقی ہیں اُس نے دوبیٹے وارث چھوڑے ان کے سوا کوئی اور وارث نہیں مدیون یہ کہتا ہے کہ تمھارے باپ کو میں نے پانسو روپے دے دیے تھے میرے ذمہ صرف پانسو باقی ہیں ، ایک بیٹے نے اُس کی تصدیق کی دوسرے نے تکذیب ،جس نے تکذیب کی ہے وہ مدیون سے پانسو روپے جو باقی ہیں وصول کریگا اور جس نے تصدیق کی ہے اُسے کچھ نہیں ملے گا۔ اور اگر مدیون نے یہ کہا کہ مرنے والے کو میں نے پورے ہزار روپے دے دیے تھے اب میرے ذمہ کچھ باقی نہیں ایک نے اسکی تصدیق کی دوسرے نے تکذیب تو تکذیب کرنے والا مدیون سے پانسو وصول کرسکتا ہے اور تصدیق کرنے والا کچھ نہیں لے سکتا ہاں مدیون اُس تکذیب کرنے والے کویہ حلف دے سکتا ہے کہ قسم کھائے کہ میرے علم میں یہ بات نہیں کہ میرے باپ نے پورے ہزار روپے تم سے وصول کر ليے اس نے قسم کھا کر مدیون سے پانسو روپے وصول کرليے اور فرض کرو ان کے باپ نے ایک ہزار روپے اور چھوڑے ہیں جو دونوں بھائیوں پر برابر تقسیم ہو گئے تو مدیون اُس تصدیق کرنے والے سے اُس کے حصہ کے پانسو جو ملے ہیں وصول کر سکتا ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: ایک شخص مرا اور ایک بیٹا وارث چھوڑا اور ایک ہزار روپے چھوڑے اُس میّت پر کسی نے ایک ہزار کا دعویٰ کیا بیٹے نے اُس کا اقرار کر لیا اور وہ ہزار روپے اُسے دے دیے اس کے بعد دوسرے شخص نے میت پر ہزار روپے کا دعویٰ کیا بیٹے نے اس سے انکارکیا مگر پہلے مدعی نے اس کی تصدیق کی اور دوسرے مدعی نے پہلے مدعی کے دَین کا انکار کیا یہ انکار بیکار ہے دونوں مدعی اُس ہزار کو برابربرابر تقسیم کر لیں۔ (3) (عالمگیری)
استثنا کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مستثنیٰ کے نکالنے کے بعد جو کچھ باقی بچتا ہے وہ کہا گیا مثلاً یہ کہا کہ فلاں کے میرے ذمہ دس روپے ہیں مگر تین اسکا حاصل یہ ہوا کہ سات روپے ہیں۔ (4)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الاقرار، الباب السابع فی اقرار الوارث...إلخ،ج۴، ص ۱۸۵.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۸۶،۱۸۷. 3 ۔ المرجع السابق،ص۱۸۷.
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الاقرار ، باب الاستثنائ...إلخ،ج۸،ص ۴۲۸.
مسئلہ ۱: استثنا میں شرط یہ ہے کہ کلام سابق کے ساتھ متصل ہو یعنی بلا ضرورت بیچ میں فاصلہ نہ ہو اور ضرورت کی وجہ سے فاصلہ ہو جائے اس کا اعتبار نہیں مثلاً سانس ٹوٹ گئی کھانسی آگئی کسی نے مونھ بند کر دیا۔ بیچ میں ندا کا آجانا بھی فاصل نہیں قرار دیا جائے گا مثلاً میرے ذمہ ایک ہزار ہیں اے فلاں مگر دس یہ استثنا صحیح ہے جبکہ مُقِرلہ منادیٰ ہو(1) اور اگر یہ کہا میرے ذمہ فلاں کے دس روپے ہیں تم گواہ رہنا مگر تین یہ استثنا صحیح نہیں کُل دینے ہوں گے۔ (2)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲: جو کچھ اقرار کیا ہے اُس میں سے بعض کا استثنا صحیح ہے اگرچہ نصف سے زیادہ کا استثنا ہو اور اس کے نکالنے کے بعد جو کچھ باقی بچے وہ دینا لازم ہو گا اگرچہ یہ استثنا ایسی چیز میں ہو جو قابل تقسیم نہ ہو جیسے غلام، جانور کہ اس میں سے بھی نصف یا کم و بیش کا استثنا صحیح ہے مثلاً ایک تہائی کا استثنا کیا دو تہائیاں لازم ہیں اور دو تہائی کا استثنا کیا ایک تہائی لازم ہے۔(3)(درمختار)
مسئلہ ۳: استثنا ء مستغرق کہ اس کو نکالنے کے بعد کچھ نہ بچے باطل ہے اگرچہ یہ استثنا ایسی چیز میں ہو جس میں رجوع کا اختیار ہوتا ہے جیسے وصیت کہ اس میں اگرچہ رجوع کر سکتا ہے مگر اس طرح استثنا جس سے کچھ باقی نہ بچے باطل ہے اور پہلے کلام کا جو حکم تھا وہی ثابت رہے گا۔ استثنا مستغرق اُس وقت باطل ہے کہ اُسی لفظ سے استثنا ہو یا اُس کے مساوی سے اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں یعنی لفظ کے اعتبار سے استغراق نہیں ہے اگرچہ واقع میں استغراق ہے تو استثنا باطل نہیں مثلاً یہ کہا کہ میرے مال کی تہائی زیدکے ليے ہے مگر ایک ہزار حالانکہ کل تہائی ایک ہی ہزار ہے یہ استثنا صحیح ہے اور زید کسی چیز کا مستحق نہیں ہو گا۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۴: یہ کہا کہ جتنے روپے اس تھیلی میں ہیں وہ فلاں کے ہیں مگرایک ہزار کہ یہ میرے ہیں اگر اُس میں ایک ہزار سے زیادہ ہوں تو ایک ہزار اُس کے اور باقی مُقِرلہ کے اور اگر اُس میں ایک ہزار ہی ہیں یا ہزار سے بھی کم ہیں تو جو کچھ ہیں مُقِرلہ کو دیے جائیں گے۔ (5) (عالمگیری)
1 ۔یعنی جس کے لئے اقرار کیا اسی کو پکارا ہو۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار، باب الاستثنائ...إلخ،ج۸،ص ۴۲۸.
و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الاقرار، الباب العاشر فی الخیار والاستثناء والرجوع،ج ۴،ص ۱۹۳.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار، باب الاستثنائ...إلخ،ج۸،ص ۴۲۹.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الاقرار، الباب العاشر فی الخیار والاستثناء والرجوع،ج ۴،ص ۱۹۳.
مسئلہ ۵: کیلی اور وزنی اور عددی غیر متفاوت (1)کا روپے، اشرفی(2) سے استثنا کرنا صحیح ہے اور قیمت کے لحاظ سے استثنا ہو گا مثلاً کہا زید کا میرے ذمہ ایک روپیہ ہے مگر چار پیسے یا ایک اشرفی ہے مگر ایک روپیہ اوراس صورت میں اگر قیمت کے اعتبار سے برابری ہو جائے جب بھی استثنا صحیح ہے اور کچھ لازم نہ ہو گا اگر ان کے علاوہ دوسری چیزوں کا روپے اشرفی سے استثنا کیا تو وہ صحیح ہی نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۶: استثنا میں دو عدد ہوں اور اُن کے درمیان حرف شک ہو تو جس کی مقدار کم ہو اُسی کو نکالا جائے مثلاً فلاں شخص کے میرے ذمہ ایک ہزار ہیں مگر سو یا پچاس تو ساڑھے نو سو کا اقرارقرار پائے گا۔ اگر مستثنیٰ مجہول ہو یعنی اُس کی مقدار معلوم نہ ہو تو نصف سے زیادہ ثابت کیا جائے گا مثلاً میرے ذمہ اُس کے سو روپے ہیں مگر کچھ کم یہ اکاون روپے کا اقرار ہو گا۔ (4)(بحر)
مسئلہ ۷: دو قسم کے مال کا اقرار کیا اور ان دونوں اقراروں کے بعد استثنا کیا اور یہ نہیں بیان کیا کہ مال اوّل سے استثنا ہے یا ثانی سے اگر دونوں مالوں کا مُقِرلہ ایک شخص ہے اور مستثنیٰ (5)مال اوّل کی جنس سے ہے تو مال اوّل سے استثنا قرار پائے گا مثلاً میرے ذمہ زید کے سو روپے ہیں اور ایک اشرفی مگر ایک روپیہ، تو نناوے روپے اور ایک اشرفی لازم ہو گی اور اگر مُقِرلہ دو شخص ہیں تو استثنا کا تعلق مال ثانی سے ہو گا اگرچہ مستثنیٰ مال اوّل کی جنس سے ہو مثلاً یہ کہا کہ میرے ذمہ زید کے سو روپے ہیں اور عمرو کی ایک اشرفی ہے مگر ایک روپیہ تو عمرو کی اشرفی میں سے ایک روپیہ کا استثنا قرار پائے گا۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: یہ کہا کہ فلاں شخص کے میرے ذمہ ہزار روپے ہیں اور سو اشرفیاں مگر ایک سو روپے اور دس اشرفیاں تو نو سو روپے اور نوے اشرفیاں لازم ہیں۔(7)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: استثنا کے بعد استثنا ہو تو استثناء اوّل نفی ہے اور استثناء دوم اثبات مثلاً یہ کہا کہ فلاں کے میرے ذمہ دس روپے ہیں مگر نو مگر آٹھ تو نو روپے لازم ہوں گے اور اگر کہا کہ دس روپے ہیں مگر تین مگر ایک تو آٹھ لازم ہوں گے اور اگر کہا دس ہیں مگر سات مگر پانچ مگر تین مگر ایک تو آخر والے کو اُوس کے پہلے والے عدد سے نکالو پھر ما بقی کو اوس کے پہلے والے سے وعلی ہذاالقیاس یعنی تین میں سے ایک نکالا دور ہے پھر دو کو پانچ سے نکالا تین رہے پھر تین کو سات سے نکالا چار رہے اور چار کو دس
1 ۔عدد سے بکنے والی وہ اشیاء جن میں زیادہ فرق نہ ہو۔ 2 ۔سونے کا سکہ۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار، باب الاستثنائ...إلخ،ج۸،ص۴۲۹.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الاقرار، باب الاستثنائ...إلخ،ج۷،ص ۴۲۸.
5 ۔جس کا اسثناء کیا گیا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار، الباب العاشرفی الخیار والاستثناء والرجوع ،ج۴،ص ۱۹۲.
7 ۔المرجع السابق.
سے نکالا چھ باقی رہے لہٰذا چھ کا اقرار ہوا اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ پہلا عدددہنی طرف رکھو دوسرا بائیں طرف ،پھر تیسرا دہنی طرف اور چوتھا بائیں طرف، وعلی ہٰذ القیاس اور دونوں طرف کے عدد کوجمع کر لو، بائیں طرف کے مجموعہ کودہنی طرف کے مجموعہ سے خارج کرو جو کچھ باقی رہا اوس کا اقرار ہے مثلاً صورت مذکورہ میں یوں کریں۔ (1) (عالمگیری)
۱۰-۷
۵-۳
۱ -
۱۶ - ۱۰=۶
مسئلہ ۱۰: دو استثنا جمع ہوں اور استثنا ء دوم مستغرق ہو تو پہلا صحیح ہے اور دوسرا باطل مثلاً یہ کہا کہ اُس کے مجھ پر دس روپے ہیں مگر پانچ مگر دس تو پانچ کا دینا لازم ہے اور اگر پہلا مستغرق ہے دوسرا نہیں مثلاً میرے ذمہ دس ہیں مگر دس مگر پانچ تودونوں صحیح ہیں یعنی پانچ کو دس سے نکالا پانچ بچے پھر پانچ کو دس سے نکالا پانچ رہے بس پانچ کا اقرار ہوا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: اقرار کے ساتھ ان شاء اﷲ کہہ دینے سے اقرار باطل ہو جائے گا۔ یوہيں کسی کے چاہنے پر اقرار کو معلق کیا مثلاً میرے ذمہ یہ ہے اگر فلاں چاہے اگرچہ یہ شخص کہتا ہو کہ میں چاہتا ہوں مجھے منظور ہے۔ یوہيں کسی ایسی شرط پر معلق کرنا جس کے ہونے نہ ہونے دونوں باتوں کا احتمال ہو اقرار کو باطل کر دیتا ہے یعنی اگر وہ شرط پائی جائے جب بھی اقرار لازم نہ ہو گا۔ اور اگر ایسی شرط پر معلق کیا جو لا محالہ(3) ہو ہی گی جیسے اگر میں مر جاؤں تو فلاں کامیرے ذمہ ہزار روپیہ ہے ایسی شرط سے اقرار باطل نہیں ہوتا بلکہ تعلیق(4) ہی باطل ہے اور اقرار منجز ہے وہ شرط پائی جائے یا نہ پائی جائے یعنی ابھی وہ چیز لازم ہے اور اگر شرط میں میعاد کا ذکر ہو مثلاً جب فلاں مہینہ شروع ہو گا تومیرے ذمہ فلاں شخص کے اتنے روپے لازم ہوں گے اس صورت میں بھی فوراًلازم ہے اور میعاد کے متعلق مُقِرلہ(5) کو حلف دیا جائے گا۔ (6)(درمختار، بحر)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الاقرار، الباب العاشرفی الخیار والإستثناء والرجوع ،ج۴،ص ۱۹۴.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔یعنی یقینا۔ 4 ۔کسی چیز پر معلق کرنا،مشروط کرنا۔ 5 ۔جس کے لئے اقرار کیاگیا۔
6 ۔''البحرالرائق''، کتاب الاقرار، باب الإستثنائ...إلخ،ج۷،ص۴۲۸.
و ''الدرالمختار'' ، کتاب الاقرار، باب الإستثنائ...إلخ،ج۸،ص ۴۳۱.
مسئلہ ۱۲: فلاں شخص کے میرے ذمہ ہزار روپے ہیں اگر وہ قسم کھائے یا بشرطیکہ وہ قسم کھا لے اُس نے قسم کھا لی مگر مقر(1) انکار کرتا ہے تو اُس مال کا مطالبہ نہیں ہو گا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: مقر نے دعویٰ کیا کہ میں نے اقرار کو معلق بالشرط کیا تھا یعنی اُس کے ساتھ ان شاء اﷲتعالیٰ کہہ دیا تھا لہٰذا مجھ پر کچھ لازم نہیں میرا اقرار باطل ہے اگر یہ دعویٰ انکار کے بعد ہے یعنی مقرلہ نے اُس پر دعویٰ کیا اور اس کا اقرار کرنا بیان کیا اس نے اپنے اقرار سے انکار کیا مدعی (3)نے گواہوں سے اقرار کرنا ثابت کیا اب مقرنے یہ کہا تو بغیر گواہوں کے مقر کی بات نہیں مانی جائے گی اور اگر مقر نے شروع ہی میں یہ کہہ دیا کہ میں نے اقرار کیا تھا اور اُس کے ساتھ ان شاء اﷲبھی کہہ دیا تھا تو اس کے قول کی تصدیق کی جائے گی۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: فلاں شخص کے میرے ذمہ ہزار روپے ہیں مگر یہ کہ مجھے اس کے سوا کچھ دوسری بات ظاہر ہو یا سمجھ میں آئے یہ اقرار باطل ہے۔(5) (شرنبلالی)
مسئلہ ۱۵: پورے مکان کا اقرار کیا اُس میں سے ایک کمرہ کا استثنا کیا یہ استثنا صحیح ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: یہ انگوٹھی فلاں کی ہے مگر اس میں کا نگینہ میرا ہے یا یہ باغ فلاں کا ہے مگر یہ درخت اس میں میرا ہے یہ لونڈی فلاں کی ہے مگر اس کے گلے کا یہ طوق میرا ہے ان سب صورتوں میں استثنا صحیح نہیں مقصد یہ ہے کہ توابع شے کا استثنا صحیح نہیں ہوتا۔ (7)(درر، غرر)
مسئلہ ۱۷: میں نے فلاں سے ایک غلام خریدا جس پر ابھی قبضہ نہیں کیا ہے اوس کا ثمن ایک ہزار میرے ذمہ ہے اگر معین غلام کو ذکر کیا ہے تو مقرلہ سے کہا جائے گا وہ غلام دے دو اور ہزار روپے لے لوورنہ کچھ نہیں ملے گا۔ دوسری صورت یہاں یہ ہے کہ مقرلہ یہ کہتا ہے وہ غلام تمہارا ہی غلام ہے اسے میں نے کب بیچا ہے میں نے تودوسرا غلام بیچا تھا جس پر قبضہ بھی دیدیا
1 ۔اقرار کرنے والا۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثانی فی بیان مایکون اقراراً ومالایکون ،ج۴،ص۱۶۲.
3 ۔دعویٰ کرنے والا۔
4 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الاقرار، باب الإستثناء وما فی معناہ،ج۸،ص۴۳۱.
5 ۔''غنیۃذوی الأحکام ''ھامش علی''دررالحکام''،کتاب الاقرار، باب الإستثناء ومابمعناہ،الجز الثانی،ص۳۶۴.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار، باب الإستثناء وما فی معناہ،ج۸،ص۴۳۱.
7 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب الاقرار، باب الإستثناء ومابمعناہ،الجز الثانی،ص۳۶۵.
اس صورت میں ہزار روپے جن کا اقرار کیا ہے دینے لازم ہیں کہ جس چیز کے معاوضہ میں اُس نے دینا بتایا تھا جب اُسے مل گئی تو روپے دینے ہی ہیں سبب کے اختلاف کی طرف توجہ نہیں ہو گی۔ تیسری صورت یہ ہے کہ مقرلہ کہتا ہے یہ غلام میرا غلام ہے اسے میں نے تیرے ہاتھ بیچا ہی نہیں اس کا حکم یہ ہے کہ مقر پر کچھ لازم نہیں کیونکہ جس کے مقابل میں اقرار کیا تھا وہ چیز ہی نہیں ملی اور اگر مقرلہ اپنے اُس جواب مذکور کے ساتھ اتنا اور اضافہ کر دے کہ میں نے تمہارے ہاتھ دوسرا غلام بیچا تھا اس کا حکم یہ ہے کہ مقر و مقرلہ(1) دونوں پر حلف(2) ہے کیونکہ دونوں مدعی ہیں اور دونوں منکر ہیں اگر دونوں قسم کھا جائیں مال باطل ہو جائے گا یعنی نہ اِس کو کچھ دینا ہو گا اور نہ اُس کو،یہ تمام صورتیں معین غلام کی ہیں۔ اور اگر مقر نے معین نہیں کیا بلکہ یہ کہتا ہے کہ میں نے ایک غلام تم سے خریدا تھا مقر پر ہزار روپے دینا لازم ہے اور اُس کا یہ کہنا کہ میں نے اُس پر قبضہ نہیں کیا ہے قابلِ تصدیق نہیں، چاہے اس جملہ کو کلام سابق سے(3) متصل بولا ہو یا بیچ میں فاصلہ ہو گیا ہو دونوں کا ایک حکم ہے۔ (4)(ہدايہ)
مسئلہ ۱۸: یہ چیز مجھے زید نے دی ہے اور یہ عمرو(5) کی ہے اگر زید نے بھی یہ اقرار کیا کہ وہ عمرو کی ہے اورعمرو کی اجازت سے میں نے دی ہے اور عمرو بھی زید کی تصدیق کرتا ہے تو اُسے اختیار ہے کہ وہ چیز زید کو واپس دے یا عمرو کو،جس کو چاہے دے سکتا ہے اور اگر عمرو کہتا ہے میں نے ز ید کو چیز دینے کی اجازت نہیں دی تھی تو زید کو واپس نہ دے اور یہ مقر زید کو تاوان بھی نہیں دے گا۔ اور اگر زید و عمرو دونوں اُس چیز کو اپنی مِلک بتاتے ہوں تو مقر یہ چیز زید کو دے کہ زید ہی نے اُسے دی ہے اور زید کو دیدینے سے یہ شخص بری ہو گیا زید مالک ہو یا نہ ہو۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: فلاں شخص کے میرے ذمہ ہزار روپے ہیں وہ شراب یا خنزیر کی قیمت کے ہیں یا مردار یا خون کی بیع کے دام (7) ہیں یا جوئے میں مجھ پر یہ لازم ہوئے ان سب صورتوں میں جبکہ مقر نے ایسی چیز ذکر کر دی جس کی وجہ سے مطالبہ ہو ہی نہیں سکتا مثلاً شراب و خنزیر کے ثمن کا مطالبہ کہ یہ باطل ہے لہٰذا اس چیز کے ذکر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ مقر اپنے اقرار سے رجوع کرتا ہے۔ کہنے کو تو ہزار روپے کہہ دیا اور فوراً اوس کو دفع کرنے کی ترکیب یہ نکالی کہ ایسی چیز ذکر کر دی جس کی وجہ سے دینا ہی نہ پڑے اور اقرار کے بعد رجوع نہیں کر سکتا لہٰذا ان صورتوں میں ہزار روپے مقر پر لازم ہیں ہاں اگر مقر نے گواہوں سے
1 ۔جس کے لیے اقرار کیا گیاہے۔ 2 ۔قسم اُٹھانا۔ 3 ۔پہلے کلام سے۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الاقرار، باب الإستثناء ومافی معناہ،ج۲،ص۱۸۳.
5 ۔اسے عَمْرْ پڑھتے ہیں اس میں واوصرف لکھاجاتاہے پڑھا نہیں جاتا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الحادی عشرفی اقرارالرجل...إلخ،ج۴،ص۱۹۶.
7 ۔قیمت۔
ثابت کیا کہ جن روپوں کا اقرار کیا ہے وہ اُسی قسم کے ہیں جس کو مقر نے بیان کیا ہے یا خود مقرلہ نے مقر کی تصدیق کی تو مقرپر کچھ لازم نہیں۔(1) (ہدايہ، درمختار)
مسئلہ ۲۰: میرے ذمہ فلاں شخص کے ہزارروپے حرام کے ہیں یا سود کے ہیں اس صورت میں بھی روپے لازم ہیں اور اگر یہ کہا کہ ہزار روپے زور (2)یا باطل کے ہیں اور مقرلہ تکذیب کرتا ہے(3) تو لازم اور تصدیق کرتا ہے تو لازم نہیں۔(4) (بحرالرائق)
مسئلہ ۲۱: یہ اقرار کیا کہ میں نے سامان خریدا تھا اُسکے ثمن کے روپے مجھ پر ہیں یا میں نے فلاں سے قرض لیا تھا اُس کے روپے میرے ذمہ ہیں اسکے بعد یہ کہتا ہے وہ کھوٹے روپے ہیں یاجست (5)کے سکّے ہیں یا اُن پیسوں کا چلن اب بند ہے ان سب صورتوں میں اچھے روپے دینے ہوں گے۔ اُس نے یہ کلام پہلے جملہ کے ساتھ وصل کیاہو(6) یا فصل کیا ہو(7) کیونکہ یہ رجوع ہے اور اگر یوں کہا کہ فلاں شخص کے میرے ذمہ اتنے روپے کھوٹے ہیں اور وجوب کا سبب نہ بتایا ہو تو جس طرح کے کہتا ہے ویسے ہی واجب ہیں۔ اور اگر یہ اقرار کیا کہ اُس کے میرے ذمہ ہزار روپے غصب یا امانت کے ہیں پھر کہتا ہے وہ کھوٹے ہیں مقر کی تصدیق کی جائے گی اس جملہ کو وصل کے ساتھ کہے یا فصل کے ساتھ کیونکہ غصب کرنے والا کھرے کھوٹے کا امتیاز نہیں کرتا اور امانت رکھنے والے کے پاس جیسی چیز ہوتی ہے رکھتا ہے۔ غصب یا ودیعت (8)کے اقرار میں اگر یہ کہتا ہے کہ جست کے وہ روپے ہیں اور وصل کے ساتھ کہا تو مقبول ہے اور فصل کر کے کہا تو مقبول نہیں۔ (9)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۲۲: بیع تلجئہ کا اقرار کیا یعنی میں نے ظاہر طور پر بیع کی تھی حقیقت میں بیع مقصود نہ تھی اگرمقرلہ نے اس کی تکذیب کی تو بیع لازم ہو گی ورنہ نہیں۔(10) (درمختار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الاقرار، باب الإستثناء ومافی معناہ،ج۲،ص۱۸۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الاقرار، باب الإستثناء وما فی معناہ،ج۸،ص۴۳۳.
2 ۔یعنی ظلماًیا زبردستی کے روپے۔ 3 ۔جھٹلاتاہے۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الاقرار، باب الإستثناء وما فی معناہ،ج۷،ص۴۳۰.
5 ۔ایک سخت نیلے رنگ کی دھات۔ 6 ۔ملایا ہویعنی پہلے جملے کے ساتھ فوراًبولا ہو۔
7 ۔الگ کیا ہویعنی درمیان میں کوئی اور کلام کیا ہویاکچھ دیر بعد کہاہو۔ 8 ۔امانت۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار، باب الإستثناء وما فی معناہ،ج۸،ص۴۳۳.
و''البحرالرائق''،کتاب الاقرار، باب الإستثناء وما فی معناہ،ج۷،ص۴۳۰.
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار، باب الإستثناء وما فی معناہ،ج۸،ص۴۳۳.
مسئلہ ۲۳: یہ اقرار کیا کہ فلاں کے میرے ذمہ ہزار روپے ہیں پھر کہتا ہے یہ اقرار میں نے تلجئہ کے طور پر کیا مقرلہ کہتا ہے واقع میں تمہارے ذمہ ہزار ہیں اگر مقرلہ نے اس سے پہلے تلجئہ کا اقرار نہ کیا ہو تومقرکو مال دینا ہی ہو گااور اگر مقرلہ تلجئہ کی تصدیق کرلے گا تو کچھ لازم نہ ہو گا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: مرد نے اقرار کیا کہ میں نے فلانی عورت سے ہزار روپے میں نکاح کیا پھر مرد نے نکاح سے انکار کر دیا اور عورت نے بھی اُس کی تصدیق کی تھی تو نکاح جائز ہے عورت کو مہر بھی ملے گا اور میراث بھی ہاں اگر مہر مقرر مہر مثل سے زائد ہو اور نکاح کا اقرار مرض میں ہوا ہو تو یہ زیادتی باطل ہے۔ اور اگر عورت نے اقرار کیا کہ میں نے فلاں سے اتنے مہر پر نکاح کیا پھر عورت نے انکار کر دیا اگر شوہر نے عورت کی زندگی میں تصدیق کی نکاح ثابت ہو جائے گا اور مرنے کے بعد تصدیق کی تو نہ نکاح ثابت ہو گا نہ شوہر کومیراث ملے گی۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: عورت نے مرد سے کہا مجھے طلاق دیدے یا اتنے پر خلع کر لے یا کہا مجھے اتنے روپے کے عوض کل طلاق دیدی یا مجھ سے کل خلع کر لیا یا تو نے مجھ سے ظہار کیا یا ایلا کیا ان سب صورتوں میں نکاح کا اقرار ہے۔ يوہيں مرد نے عورت سے کہا میں نے تجھ سے ظہار کیا ہے یا ایلا کیا ہے یہ مرد کی جانب سے اقرار نکاح ہے اور اگر عورت سے ظہار کے الفاظ کہے یعنی یہ کہ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے یہ اقرار نکاح نہیں۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: عورت نے مرد سے کہا مجھے طلاق دیدے مرد نے کہا تو اپنے نفس کو اختیار کر یا تیرا امر(4) تیرے ہاتھ میں ہے یہ اقرار نکاح ہے اور اگر مرد نے ابتداء ً یہ کلام کہا عورت کے جواب میں نہیں کہا تو اس کی دو صورتیں ہیں اگر یہ کہا تیرا امر طلاق کے بارے میں تیرے ہاتھ میں ہے یہ اقرار ہے اور اگر طلاق کا ذکر نہیں کیا تو اقرار نکاح نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: مرد نے کہا تجھے طلاق ہے یہ اقرار نکاح ہے اور اگر کہا تو مجھ پر حرام ہے یا بائن ہے تو اقرار نکاح نہیں مگر جب
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الخامس عشرفی الاقراربالتلجئۃ،ج۴،ص۲۰۶.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب السادس عشرفی الاقراربالنکاح والطلاق والرق،ج۴،ص۲۰۶،۲۰۷.
3 ۔المرجع السابق ،ص۲۰۷.
4 ۔معاملہ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب السادس عشرفی الاقراربالنکاح والطلاق والرق،ج۴،ص۲۰۷.
کہ عورت نے طلاق کا سوال کیا ہو اور اس نے اُس کے جواب میں کہا ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: شوہر نے اقرار کیا کہ میں نے تین مہینے ہوئے اسے طلاق دیدی ہے اور نکاح کو ابھی ایک ہی مہینہ ہوا ہے تو طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح کو چار مہینے ہو گئے ہیں تو طلاق ہو گئی پھر اس صورت میں اگر عورت شوہر کی تصدیق کرتی ہو تو عدّت اُس وقت سے ہو گی جب سے شوہر طلاق دینا بتاتا ہے اور تکذیب کرتی ہو تو وقت اقرار سے عدّت ہو گی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: شوہر نے بعد دخول یہ اقرار کیا کہ میں نے دخول سے پہلے طلاق دیدی تھی یہ طلاق واقع ہو گی اور چونکہ قبل دخول طلاق کا اقرار کیا ہے نصف مہر لازم ہو گا اور چونکہ بعد طلاق وطی کی ہے اس سے مہر مثل لازم ہو گا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ۷: مرد نے اقرار کیا کہ میں نے اس عورت کو تین طلاقیں دیدی تھیں اور اس سے قبل کہ عورت دوسرے سے نکاح کرے پھر اُس نے اس سے نکاح کر لیا اور عورت کہتی ہے کہ مجھے طلاق نہیں دی تھی یا میں نے دوسرے سے نکاح کر لیا تھا اور اُس نے وطی(4) بھی کی تھی ان دونوں میں تفریق کر دی جائے گی پھر اگر دخول نہیں کیا ہے تو نصف مہر لازم ہو گا اور دخول کر لیا تو پورا مہر اور نفقئہ عدت(5) بھی لازم ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: ایک نے دوسرے سے کہا یہ چیز میں نے کل تمہارے ہاتھ بیع کی تم نے قبول نہیں کی اُس نے کہا میں نے قبول کر لی تھی تو قول اسی مشتری کامعتبر ہے اور اگر مشتری نے کہا میں نے یہ چیز تم سے خریدی تھی تم نے قبول نہ کی بائع نے کہا میں نے قبول کی تھی تو قول بائع کا معتبر ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: یہ اقرار کیا کہ میں نے یہ چیز فلاں کے ہاتھ بیچی اور ثمن وصول پا لیا یہ اقرار صحیح ہے اگرچہ ثمن کی مقدار نہ بیان کی ہو اور اگر ثمن کی مقدار بتاتا ہے اورکہتا ہے ثمن نہیں وصول کیا اور مشتری کہتا ہے ثمن لے چکے ہو تو قسم کے ساتھ بائع کاقول معتبر ہو گا اور گواہ مشتری کے معتبر ہوں گے۔(8) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب السادس عشرفی الاقراربالنکاح والطلاق والرق،ج۴،ص۲۰۷.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔ ہمبستری،جماع۔ 5 ۔دوران عدت کھانے پینے وغیرہ کاخرچہ۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب السادس عشرفی الاقراربالنکاح والطلاق والرق،ج۴،ص۲۰۷،۲۰۸.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثامن عشرفی الاقراربالبیع والشراء...إلخ،ج۴،ص۲۱۳.
8 ۔المرجع السابق،ص۲۱۴.
مسئلہ ۳: یہ اقرار کیا کہ میں نے فلاں شخص کے ہاتھ مکان بیچا ہے مگر اُس مکان کو متعین نہیں کیا پھر انکار کر دیا وہ اقرارباطل ہے اور اگر مکان کو متعین کر دیا مگر ثمن نہیں ذکر کیا یہ اقرار بھی انکار کرنے سے باطل ہو جائے گا اور اگر مکان کے حدود بیان کر دیے اور ثمن بھی ذکر کر دیا تو بائع پریہ بیع لازم ہے اگرچہ انکار کرتا ہو اگرچہ گواہان اقرار کو مکان کے حدود معلوم نہ ہوں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ گواہوں سے ثابت ہو کہ وہ مکان جس کے حدود بائع نے بتائے فلاں مکان ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: یہ کہا کہ میرے ذمہ فلاں کے ہزار روپے فلاں چیز کے ثمن کے ہیں او س نے کہا ثمن تو کسی چیز کا اُسکے ذمہ نہیں البتہ قرض ہے مقرلہ ہزار لے سکتا ہے اور اگر اتنا کہہ کر کہ ثمن تو بالکل نہیں چاہیے خاموش ہو گیا پھر کہنے لگا اوس کے ذمہ میرے ہزار روپے قرض ہیں تو کچھ نہیں ملے گا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: یہ اقرار کیا کہ میں نے یہ چیز فلاں کے ہاتھ بیع کی اور ثمن کا ذکر نہیں کیا مشتری کہتا ہے کہ میں نے وہ چیز پانسو میں خریدی ہے بائع کسی شے کے بدلے میں بیچنے سے انکار کرتاہے تو بائع کو مشتری کے دعوے پر حلف دیا جائے گا محض اقرار اوّل کی وجہ سے بیع لازم نہیں ہو گی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: یہ اقرار کیا کہ یہ چیز میں نے فلاں کے ہاتھ ایک ہزار میں بیچی ہے اوس نے کہا میں نے تو کسی دام میں بھی نہیں خریدی ہے پھر کہا ہاں ہزار روپے میں خریدی ہے اب بائع کہتا ہے میں نے تمہارے ہاتھ بیچی ہی نہیں اس صورت میں مشتری کا قول معتبر ہے اُن داموں میں چیز کو لے سکتا ہے اور اگر جس وقت مشتری نے خریدنے سے انکار کیا تھا بائع کہہ دیتا کہ سچ کہتے ہو تم نے نہیں خریدی اس کے بعد مشتری کہے کہ میں نے خریدی ہے تونہ بیع لازم ہو گی، نہ مشتری کے گواہ مقبول ہوں گے۔ اگر بائع مشتری کے خریدنے کی تصدیق کرے تو یہ تصدیق بمنزلہ بیع(4) مانی جائے گی۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: یہ کہا کہ میں نے یہ چیز فلاں کے ہاتھ بیع کی ہی نہیں بلکہ فلاں کے ہاتھ، یہ اقرار باطل ہے البتہ اگر وہ دونوں دعویٰ کرتے ہوں تو اس کو ہر ایک کے مقابل میں حلف اوٹھانا پڑیگا۔ (6)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثامن عشرفی الاقراربالبیع والشراء...إلخ،ج۴،ص۲۱۴.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثامن فی الاختلاف الواقع بین المقروالمقرلہ ،ج۴،ص۱۸۸.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثامن عشرفی الاقراربالبیع والشراء...إلخ،ج۴،ص۲۱۴.
4 ۔خریدوفروخت کے قائم مقام۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثامن عشرفی الاقراربالبیع والشراء...إلخ،ج۴،ص۲۱۴.
6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۸: وکیل بالبیع(1)نے بیع کااقرار کر لیا یہ اقرار حقِ موکل میں(2) بھی صحیح ہے یعنی موکل چیز دینے سے انکار نہیں کر سکتا ثمن موجود ہو یا ہلاک ہو چکا ہو دونوں کا ایک حکم ہے۔ موکل نے اقرار کیا کہ وکیل نے یہ چیز فلاں کے ہاتھ اتنے میں بیع کر دی ہے اور وہ مشتری بھی تصدیق کرتا ہے مگر وکیل بیع سے انکار کرتا ہے تو چیز اوتنے ہی دام(3) میں مشتری کی ہو گئی مگر اس کی ذمہ داری موکل پر ہے وکیل سے اس بیع کو کوئی تعلق نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: ایک شخص نے اپنی چیز دوسرے شخص کو بیچنے کے ليے دی موکل مر گیا وکیل کہتا ہے میں نے وہ چیز ہزار روپے میں بیچ ڈالی اور ثمن پر قبضہ بھی کر لیا اگروہ چیز موجود ہے وکیل کی بات معتبر نہیں اور ہلاک ہو چکی ہے تو معتبر ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: ایک معین چیز کے خریدنے کا وکیل ہے وکیل اقرار کرتا ہے کہ میں نے وہ چیز سو روپے میں خرید لی بائع بھی یہی کہتا ہے مگر موکل انکار کرتا ہے اس صورت میں وکیل کی بات معتبر ہے اور اگر غیرمعین چیز کے خریدنے کا وکیل تھا اور اُسکی جنس وصفت و ثمن کی تعیین کر دی تھی وکیل کہتا ہے میں نے یہ چیز موکل کے حکم کے موافق خریدی ہے اور موکل انکار کرتا ہے اگر موکل نے ثمن دے دیا تھاتووکیل کی بات معتبر ہے اور نہیں دیا تھا تو موکل کی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: دو شخص بائع ہیں ان میں ایک نے عیب کا اقرار کر لیا دوسرا منکر ہے تو جس نے اقرار کیا ہے اُس پر واپسی ہوسکتی ہے دوسرے پرنہیں ہو سکتی اور اگر بائع ایک ہے مگر اس میں اور دوسرے شخص کے مابین شرکت مفاوضہ ہے بائع نے عیب سے انکار کیا اور شریک اقرار کرتا ہے تو چیز واپس ہو جائے گی۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مسلم الیہ (8)نے کہا تم نے دس روپے سے دو من گیہوں (9) میں سلم کیا تھا مگر میں نے وہ روپے نہیں ليے تھے رب السلم(10) کہتا ہے روپے لے ليے تھے اگر فوراً کہا اسکی بات مان لی جائے گی اور کچھ دیر کے بعد کہا مسلم نہیں۔(11) يوہيں اگر ایک شخص نے کہا تم نے مجھے ہزار روپے قرض دینے کہے تھے مگر دیے نہیں وہ کہتا ہے دے دیے تھے اگر یہ بات فوراً کہی مسلم ہے اور فاصلہ کے بعد کہی معتبر نہیں۔ (12)(عالمگیری)
1 ۔فروخت کرنے کاوکیل۔ 2 ۔وکیل کرنے والے کے حق میں۔ 3 ۔قیمت۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثامن عشرفی الاقراربالبیع والشراء...إلخ،ج۴،ص۲۱۵.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق،ص۲۱۶. 7 ۔المرجع السابق،ص۲۱۷.
8 ۔بیع سلم میں بائع کو مسلم الیہ کہتے ہیں۔ 9 ۔گندم۔
10 ۔بیع سلم میں مشتری کورب السلم کہتے ہیں۔ 11 ۔قابلِ تسلیم نہیں ۔
12 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثامن فی الاختلاف الواقع بین المقروالمقرلہ ،ج۴،ص۱۹۰.
مسئلہ ۱۳: مضارب(1) نے مال مضاربت میں دَین(2) کا اقرار کیا اگر مال مضاربت مضارب کے ہاتھ میں ہے مضارب کا اقرار رب المال (3)پرلازم ہو گا اور مضارب کے ہاتھ میں نہیں ہے تو رب المال پر اقرار لازم نہیں ہو گا۔ مزدور کی اجرت، جانور کا کرایہ، دوکان کا کرایہ ان سب چیزوں کا مضارب نے اقرار کیا وہ اقرار رب المال پر لازم ہو گا جبکہ مال مضاربت ابھی تک مضارب کے پاس ہو اور اگر مال دے دیا اور کہہ دیا کہ یہ اپنا راس المال لو اس کے بعد اس قسم کے اقرار بیکار ہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مضارب نے ایک ہزار روپے نفع کا اقرار کیا پھر کہتا ہے مجھ سے غلطی ہو گئی پا نسو روپے نفع کے ہیں اسکی بات نامعتبر ہے جو کچھ پہلے کہہ چکا ہے اُس کا ضامن ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: مضارب نے بیع کی ہے مبیع کے عیب کا(6) رب المال نے اقرار کیا مشتری مبیع کو مضارب پر واپس نہیں کرسکتا اور بائع نے اقرار کیا تو دونوں پر لازم ہو گا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: وصی نے یہ اقرار کیا کہ میّت کا جو کچھ فلاں کے ذمہ تھا میں نے سب وصول کر لیا اور یہ نہیں بتایا کہ کتنا تھاپھریہ کہا کہ میں نے سو روپے اُس سے وصول کیے ہیں مدیون(8) کہتا ہے کہ میرے ذمہ میّت کے ہزار روپے تھے اور وصی نے سب وصول کر ليے اگر میّت نے مدیون سے دَین کا معاملہ کیا تھا پھر وصی اور مدیون نے اس طرح اقرار کیا تومدیون بری ہوگیا یعنی وصی اب اُس سے کچھ نہیں وصول کر سکتا اور وصی کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے یعنی وصی سے بھی ورثہ نو سو کا مطالبہ نہیں کرسکتے اور اگر ورثہ نے مدیون کے مقابل میں گواہوں سے اُس کا مدیون ہونا ثابت کیا جب بھی وصی کے اقرار کی وجہ سے مدیون بری ہوگیا مگر وصی پر نو سو روپے تاوان کے واجب ہیں جو ورثہ اُس سے وصول کریں گے۔ اور اگر مدیون نے پہلے ہی
1 ۔مضاربت پر مال لینے والا۔ 2 ۔قرض۔ 3 ۔مضاربت پر مال دینے والا۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب التاسع عشرفی اقرارالمضارب والشریک،ج۴،ص۲۱۸.
5 ۔المرجع السابق،ص۲۱۹.
6 ۔جو چیزبیچی گئی اُس کے عیب کا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب التاسع عشرفی اقرارالمضارب والشریک،ج۴،ص۲۱۹.
8 ۔مقروض۔
دَین کا اقرارکیا ہے اور یہ کہ وہ ہزار روپے ہے اس کے بعد وصی نے اقرار کیا کہ جو کچھ اس کے ذمہ تھا میں نے سب وصول کر لیا پھربعدمیں یہ کہا کہ میں نے اُس سے سو روپے وصول کیے ہیں تومدیون بری ہو گیا مگر وصی نو سو اپنے پاس سے ورثہ کو دے۔ یہ تمام باتیں اُس صورت میں ہیں کہ ایک سو وصول کرنے کا ا قرار وصی نے فصل کے ساتھ کیا اور اگر یہ اقرار موصول ہو یعنی یوں کہاکہ جو کچھ میّت کا اُس کے ذمہ تھا میں نے سب وصول کر لیا اور وہ سو روپے تھے اور مدیون کہتا ہے کہ سو نہیں بلکہ ہزار تھے اور تم نے سب لے ليے تو وصی کے اس بیان کی تصدیق کی جائے گی اور مدیون سے نو سو کا مطالبہ ہو گا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: وصی نے ورثہ کامال بیع کیا اور گواہوں سے ثابت کیا کہ پورا ثمن میں نے وصول کیا اور ثمن سو روپے تھا مشتری کہتا ہے ڈیڑھ سو ثمن تھا وصی کا قول معتبر ہو گا مگر مشتری سے بھی پچاس کا مطالبہ نہ ہو گا اور اگر وصی نے اقرار کیا کہ میں نے سوروپے وصول کیے اور یہی پورا ثمن تھا مشتری کہتا ہے ڈیڑھ سو ثمن تھا تو مشتری پچاس روپے اور دے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: وصی نے اقرار کیا کہ جو کچھ میّت کا فلاں کے ذمہ تھا میں نے سب وصول کر لیا اور کُل سو روپے تھے مگرگواہوں سے ثابت ہواکہ اُس کے ذمہ دو سو تھے تو مدیون سے سو روپے وصول کیے جائیں گے وصی اپنے اقرار سے ان کو باطل نہیں کر سکتا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۴: وصی نے اقرار کیا کہ لوگوں کے ذمہ میّت کے جو کچھ دیون تھے میں نے سب وصول کر ليے اس کے بعد ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے میں بھی میّت کا مدیون تھا اورمجھ سے بھی وصی نے دَین وصول کیا وصی کہتا ہے نہ میں نے تم سے کچھ لیا ہے اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میّت کا دَین تمہارے ذمہ بھی ہے تو وصی کا قول معتبر ہے اور اس مدیون نے چونکہ دَین کا اقرار کیا ہے اس سے دَین وصول کیا جائے گا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: وصی نے اقرار کیا کہ فلاں شخص پرمیّت کا جو کچھ دَین تھا میں نے سب وصول کر لیا مدیون کہتا ہے کہ مجھ پر ہزار روپے تھے وصی کہتا ہے ہاں ہزار تھے مگر پانسو روپے تم نے میّت کو اُس کی زندگی میں خود اُسے دیے تھے اور پانسو مجھے دیے مدیون کہتا ہے میں نے ہزار تمھیں کو دیے ہیں وصی پر ہزار روپے لازم ہیں مگر ورثہ اُس کو حلف(5) دیں گے۔ (6)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب العشرون فی اقرارالوصی بالقبض،ج۴،ص۲۲۱،۲۲۲.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۲۲. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔قسم۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب العشرون فی اقرارالوصی بالقبض،ج۴،ص۲۲۳.
مسئلہ ۶: وصی نے اقرار کیا کہ میّت کے مکان میں جو کچھ نقد و اثاثہ(1) تھا میں نے سب پر قبضہ کر لیا اس کے بعد پھر کہتا ہے کہ مکان میں سو روپے تھے اور پانچ کپڑے تھے ورثہ نے گواہوں سے ثابت کیا کہ جس دن مرا تھا مکان میں ہزار روپے اور سو کپڑے تھے وصی اوتنے ہی کا ذمہ دار ہے جتنے پر اُس نے قبضہ کیا جب تک گواہوں سے یہ ثابت نہ ہوکہ اس سے زائد پر قبضہ کیا تھا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: یہ اقرار کیا کہ میں نے اس کا ایک کپڑا غصب کیا یا اُس نے میرے پاس کپڑا امانت رکھا اور ایک عیب دارکپڑا لا کر کہتا ہے یہ وہی ہے مالک کہتا ہے یہ وہ نہیں ہے مگر اس کے پاس گواہ نہیں تو قسم کے ساتھ غاصب(3) یا امین کا ہی قول معتبر ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲: یہ کہا کہ میں نے تم سے ہزار روپے امانت کے طور پر ليے اور وہ ہلاک ہو گئے مقرلہ(5) نے کہا نہیں بلکہ تم نے وہ روپے غصب کیے ہیں مُقِر (6)کو تاوان دینا پڑے گا۔ اور اگر یوں اقرار کیا تم نے مجھے ہزار روپے امانت کے طور پردیے وہ ضائع ہو گئے اور مقرلہ کہتا ہے نہیں بلکہ تم نے غصب کیے تو مقر پر تاوان نہیں اور اگر یوں اقرار کیا کہ میں نے تم سے ہزارروپے امانت کے طور پرليے اوس نے کہا نہیں بلکہ قرض ليے ہیں یہاں مقر کا قول معتبر ہو گا۔ یہ کہا کہ یہ ہزار روپے میرے فلاں کے پاس امانت رکھے تھے میں لے آیا وہ کہتا ہے نہیں بلکہ وہ میرے روپے تھے جس کو وہ لے گیا تو اوسی کی بات معتبر ہو گی جس کے یہاں سے اس وقت روپے لایا ہے کیونکہ پہلا شخص استحقاق کا مدعی ہے(7) اور یہ منکر ہے لہٰذا روپے موجود ہوں تو وہ واپس کرے ورنہ اونکی قیمت ادا کرے۔ (8)(ہدايہ، درمختار)
1 ۔مال واسباب۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب العشرون فی اقرارالوصی بالقبض،ج۴،ص۲۲۳.
3 ۔غصب کرنے والا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،باب الإستثناء ومافی معناہ،ج۸،ص۴۳۳.
5 ۔جس کے لیے اقرار کیا۔ 6 ۔اقرار کرنے والا۔
7 ۔اپنا حق ثابت کرنے کادعویدارہے۔
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب الاقرار،باب الإستثناء ومافی معناہ،ج۲،ص۱۸۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،باب الإستثناء ومافی معناہ،ج۸،ص۴۳۳.
مسئلہ ۳: میں نے اپنا یہ گھوڑا فلاں کو کرایہ پر دیا تھا اُس نے سواری لے کر واپس کر دیا یا یہ کپڑا میں نے اوسے عاریت یا کرایہ پر دیا تھا اُس نے پہن کر واپس دے دیایا میں نے اپنا مکان اُسے سکونت کے ليے دیا تھا اُس نے کچھ دنوں رہ کر واپس کر دیا وہ شخص کہتا ہے نہیں بلکہ یہ چیزیں خود میری ہیں ان سب صورتوں میں مقر کا قول معتبر ہے۔ يوہيں یہ کہتا ہے کہ فلاں سے میں نے اپنا یہ کپڑا اتنی اُجرت پر سلوایا اور اُس پر میں نے قبضہ کر لیا وہ کہتا ہے یہ کپڑا میرا ہی ہے یہاں بھی مقر ہی کا قول معتبر ہے۔ (1)(ہدايہ)
مسئلہ ۴: درزی کے پاس کپڑا ہے کہتاہے یہ کپڑا فلاں کا ہے اور مجھے فلاں شخص (دوسرے کا نام لے کر کہتا ہے) کہ اُس نے دیا ہے اور وہ دونوں اُس کپڑے کے مدعی ہیں تو جس کا نام درزی نے پہلے لیا اسی کو دیا جائے گا یہی حکم دھوبی اور سونار (2) کا ہے اور یہ سب دوسرے کو تاوان بھی نہیں دیں گے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: یہ ہزار روپے میرے پاس زید کی امانت ہیں نہیں بلکہ عمرو (4) کی تو یہ ہزا ر جو موجود ہیں یہ تو زید کو دے اور اتنے ہی اپنے پاس سے عمرو کو دے کہ جب زید کے ليے اقرار کر چکا تو اُس سے رجوع نہیں کر سکتا۔(5) (درر، غرر) یہ اُس وقت ہے کہ زید بھی اپنے روپے اس کے پاس بتاتا ہو۔
مسئلہ ۶: یہ کہا کہ ہزار روپے زید کے ہیں نہیں بلکہ عمرو کے ہیں اس میں امانت کا لفظ نہیں کہا تو وہ روپے زید کو دے عمرو کا اس پر کچھ واجب نہیں۔ یہ اُس صورت میں ہے کہ معین کا اقرار ہو اور اگر غیر معین شے کا اقرار ہو مثلاً یہ کہا کہ میں نے فلاں کے سو روپے غصب کیے نہیں بلکہ فلاں کے اس صورت میں دونوں کو دینا ہو گا کہ دونوں کے حق میں اقرار صحیح ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۷: ایک نے دوسرے سے کہا میں نے تم سے ایک ہزار بطور امانت ليے تھے اور ایک ہزار غصب کیے تھے امانت کے روپے ضائع ہو گئے اور غصب والے یہ موجود ہیں لے لو، مقرلہ یہ کہتا ہے کہ یہ امانت والے روپے ہیں اور غصب
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الاقرار،باب الإستثناء ومافی معناہ،ج۲،ص۱۸۵.
2 ۔سونے کاکاروبارکرنے والا۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الحادی عشر فی اقرار الرجل...إلخ،ج۴،ص۱۹۷.
4 ۔اسے عَمْرْ پڑھتے ہیں اس میں واوصرف لکھاجاتاہے پڑھا نہیں جاتا۔
5 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب الاقرار،باب الإستثناء ومابمعناہ،الجزء الثانی،ص۳۶۷.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،باب الإستثناء ومافی معناہ،ج۸،ص۴۳۴.
والے ہلاک ہوئے ،اس میں مقرلہ کا قول معتبر ہو گا یعنی یہ ہزار بھی لے گا اور ایک ہزار تاوان لے گا۔ يوہيں اگر مقرلہ یہ کہتا ہے کہ نہیں بلکہ تم نے دو ہزار غصب کیے تھے تو مقر (1)سے دونوں ہزار وصول کریگا۔ اور اگر مقر کے یہ الفاظ تھے کہ تم نے ایک ہزار مجھے بطور امانت دیے تھے اور ایک ہزار میں نے تم سے غصب کیے تھے امانت والے ضائع ہو گئے اور غصب والے یہ موجود ہیں اورمقرلہ(2) یہ کہتا ہے کہ غصب والے ضائع ہوئے تو اس صورت میں مقر کا قول معتبر ہو گا یعنی یہ ہزار جو موجود ہیں لے لے اور تاوان کچھ نہیں۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۸: ایک شخص نے کہا میں نے تم سے ہزار روپے بطور امانت ليے تھے وہ ہلاک ہو گئے دوسرے نے کہا بلکہ تم نے غصب کیے تھے مقر پر تاوان واجب ہے کہ لینے کا اقرار سبب ضمان کا اقرار ہے مگر اس کے ساتھ امانت کا دعویٰ ہے اور مقرلہ اس سے منکر ہے لہٰذا اسی کا قول معتبر اور اگر یہ کہا کہ تم نے مجھے ہزار روپے امانت کے طور پر دیے وہ ہلاک ہو گئے دوسرا یہ کہتا ہے کہ تم نے غصب کیے تھے تو تاوان نہیں کہ اس صورت میں اس نے سبب ضمان کا اقرار ہی نہیں کیا بلکہ دینے کا اقرار ہے اوردینا مقرلہ کا فعل ہے۔ (4)(ہدايہ)
مسئلہ ۹: یہ کہا کہ فلاں شخص پر میرے ہزار روپے تھے میں نے وصول پائے اس نے کہا تم نے یہ ہزار روپے مجھ سے ليے ہیں اور تمہارا میرے ذمہ کچھ نہیں تھا تم وہ روپے واپس کر و اگر یہ قسم کھا جائے کہ اُس کے ذمہ کچھ نہ تھا تو اُسے واپس کرنے ہوں گے۔ يوہيں اگر اُس نے یہ اقرار کیا تھا کہ میری امانت اُس کے پاس تھی میں نے لے لی یا میں نے ہبہ کیا تھا و اپس لے لیا دوسرا کہتا ہے کہ نہ امانت تھی نہ ہبہ تھا وہ میرا مال تھا جو تم نے لے لیاواپس کرنا ہوگا۔ (5)(مبسوط)
مسئلہ ۱۰: اقرار کیا کہ یہ ہزار روپے میرے پاس تمہاری ودِیعت (6)ہیں۔ مقرلہ نے جواب میں کہا کہ ودیعت نہیں ہیں بلکہ قرض ہیں یامبیع کے ثمن ہیں مقر نے کہا کہ نہ ودیعت ہیں نہ دَین(7) اب مقرلہ یہ چاہتا ہے کہ دَین میں اون روپوں کو وصول کر لے نہیں کر سکتا کیونکہ ودِیعت کا اقرار اس کے رد کرنے سے رد ہو گیا او ردَین کااقرار تھا ہی نہیں لہٰذا معاملہ ختم
1 ۔اقرار کرنے والا۔ 2 ۔جس کے لیے اقرار کیاہے۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ،کتاب الاقرار،فصل فیمایکون اقراراً ،ج۲،ص۲۰۱.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الاقرار،باب الإستثناء ومافی معناہ،ج۲،ص۱۸۵.
5 ۔''المبسوط''للسرخسی،باب الاقراربالاقتضائ،ج۹،الجزء الثامن عشر،ص۱۱۶،۱۱۷.
6 ۔امانت۔ 7 ۔قرض۔
ہو گیا۔ اوراگر صورت یہ ہے کہ مقر نے ودیعت کا اقرار کیا اور مقرلہ نے کہا کہ ودیعت نہیں بلکہ بعینہ یہی روپے میں نے تمہیں قرض دیے ہیں اور مقر نے قرض سے انکار کر دیا تو مقرلہ بعینہ یہی روپے لے سکتا ہے اور اگر مقر نے بھی قرض کی تصدیق کر دی تومقرلہ بعَینہ یہی روپے نہیں لے سکتا۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ ۱۱: یہ کہا زید کے گھر میں سے میں نے سو روپے ليے تھے پھر کہا کہ وہ میرے ہی تھے یا یہ کہا کہ وہ روپے عمرو (2)کے تھے وہ روپے صاحب خانہ یعنی زید کو واپس دے اور عمرو کو اپنے پاس سے سو روپے دے۔ يوہيں اگر یہ کہا کہ زید کے صندوق یااوس کی تھیلی میں سے میں نے سو روپے ليے پھر یہ کہا کہ وہ عمرو کے تھے وہ روپے زید کو دے اور عمرو کے ليے چونکہ اقرار کیا اسے تاوان دے۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۱۲: یہ کہا کہ فلاں کے گھر میں سے میں نے سو روپے ليے پھر کہا اوس مکان میں ،میں رہتا تھا یا وہ میرے کرایہ میں تھا اُس کی بات معتبر نہیں یعنی تاوان دینا ہو گا ہاں اگر گواہوں سے اُس میں اپنی سکونت (4)یا کرایہ پر ہونا ثابت کر دے تو ضمان سے بری ہے۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۱۳: یہ کہا کہ فلاں کے گھر میں میں نے اپنا کپڑا رکھا تھا پھر لے آیا تو اس کے ذمہ تاوان نہیں۔(6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: یہ کہا کہ فلاں شخص کی زمین کھود کر اُس میں سے ہزار روپے نکال لایا مالک زمین کہتا ہے وہ روپے میرے تھے اور یہ کہتا ہے میرے ہیں، مالکِ زمین کا قول معتبر ہے۔ مالک زمین نے گواہوں سے ثابت کیا کہ فلاں شخص نے اس کی زمین کھود کر ہزار روپے نکال ليے ہیں وہ کہتا ہے میں نے زمین کھودی ہی نہیں یا یہ کہتا ہے کہ وہ روپے میرے تھے وہ روپے مالک زمین کے قرار دیے جائیں گے۔ (7)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الاقرار، فصل فیما یکون اقراراً،ج۲،ص۲۰۱.
2 ۔اسے عَمْرْ پڑھتے ہیں اس میں'' واو''صِرف لکھاجاتاہے پڑھا نہیں جاتا۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الاقرار، فصل فیما یکون اقراراً،ج۲،ص۲۰۳.
4 ۔رہائش۔
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الاقرار، فصل فیما یکون اقراراً،ج۲،ص۲۰۳.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب الثامن فی الاختلاف الواقع بین المقروالمقرلہ ،ج۴،ص۱۸۸.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب التاسع فی الاقرار بأخذالشیئ من مکان،ج۴،ص۱۹۱.
مسئلہ۱: زید کے عمرو کے ذمہ دس روپے اور دس اشرفیاں ہیں زید نے کہا میں نے عمرو سے روپے وصول پائے نہیں بلکہ اشرفیاں وصول ہوئیں عمرو کہتا ہے دونوں چیزیں تم نے وصول پائیں تو دونوں کی وصولی قرار دی جائے گی۔(1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: ایک شخص کے دوسرے پر ایک دستاویز کی رو سے دس روپے ہیں اور دس روپے دوسری دستاویز کی رو سے ہیں دائن(2) نے کہا میں نے مدیون(3) سے دس روپے اس دستاویز والے وصول پائے نہیں بلکہ اس دستاویز والے وصول پائے دس ہی روپے کی وصولی اقرار پائے گی اختیار ہے کہ جس دستاویز والے چاہے قرار دے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: زید کے عمرو کے ذمہ سو روپے ہیں اور بکر کے ذمہ سو روپے ہیں اور عمرو و بکر ہر ایک دوسرے کا کفیل(5) ہے۔ زید نے اقرار کیا میں نے عمرو سے دس روپے وصول پائے نہیں بلکہ بکر سے تو عمرو و بکر دونوں سے دس دس روپے وصول کرنے کا اقرار قرار پائے گا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: ایک شخص کے دوسرے پر ہزار روپے ہیں دائن نے کہا تم نے اوس میں سے سو روپے مجھے اپنے ہاتھ سے دیے نہیں بلکہ خادم کے ہاتھ بھیجے تو یہ سو ہی کا اقرار ہے اور اگر ان روپوں کا کوئی شخص کفیل ہے اور دائن نے یہ کہا کہ تم سے میں نے سو روپے وصول پائے نہیں بلکہ تمھارے کفیل سے تو ہر ایک سے سو سو روپے لینے کا اقرار ہے اور اگر دائن اون دونوں پر حلف دینا چاہے، نہیں دے سکتا۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: دائن نے مدیون سے کہا سو روپے تم سے وصول ہو چکے مدیون نے کہا اور دس روپے میں نے تمہارے پاس بھیجے تھے اور دس روپے کا کپڑا تمہارے ہاتھ فروخت کیا ہے دائن نے کہا تم سچ کہتے ہو یہ سب اونھیں سو میں ہیں دائن
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب العاشر فی الخیار والإستثناء والرجوع،ج۴،ص۱۹۶.
2 ۔قرض دینے والا۔ 3 ۔مقروض۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب العاشر فی الخیار والإستثناء والرجوع،ج۴،ص۱۹۶.
5 ۔ضامن۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب العاشر فی الخیار والإستثناء والرجوع،ج۴،ص۱۹۶.
7 ۔المرجع السابق.
کاقول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ۶: ایک شخص نے دوسرے سے کوئی چیز خریدی بائع(2)نے کہا مَیں نے مشتری(3) سے ثمن لے لیا پھر بائع نے کہا مشتری کے میرے ذمہ روپے تھے اُس سے میں نے مقاصہ (ادلا بدلا) کرلیا بائع کی بات نہیں مانی جائے گی۔ اور اگر بائع نے پہلے یہ کہا کہ مشتری کے روپے میرے ذمہ تھے اُس سے میں نے مقاصہ کر لیا اور بعد میں یہ کہا کہ ثمن کے روپے مشتری سے لے ليے تو بائع کا قول معتبر ہے۔ يوہيں اگر بائع نے یہ کہا کہ ثمن کے روپے وصول ہو گئے یا وہ ثمن کے روپے سے بری ہوگیا پھر کہتا ہے میں نے مقاصہ کر لیا تو اُس کی بات مان لی جائے گی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ۷: مقرلہ ایک شخص ہے اور مقر نے نفی و اثبات کے طور پر دو چیزوں کا اقرار کیا تو جو مقدار میں زیادہ ہو گی اور وصف میں بہتر ہو گی وہ واجب ہو گی مثلاً زید کے مجھ پر ایک ہزار روپے ہیں نہیں بلکہ دو ہزار یا یوں کہا اُس کے مجھ پر ایک ہزار روپے کھرے(5) ہیں نہیں بلکہ کھوٹے یا اس کا عکس یعنی یوں کہا اوس کے مجھ پر دو ہزار ہیں نہیں بلکہ ایک ہزار یا ایک ہزار کھوٹے ہیں نہیں بلکہ کھرے، ان سب کا حکم یہ ہے کہ پہلی صورت میں دو ہزار واجب اور دوسری صورت میں کھرے روپے واجب اور اگر جنس مختلف ہوں مثلاً اُس کے مجھ پر ایک ہزار روپے ہیں نہیں بلکہ ایک ہزار اشرفی دونوں چیزیں واجب ایک ہزار وہ، ایک ہزاریہ۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۸: یہ کہا کہ زید پر جو میرا دَین(7) ہے وہ عمرو کا ہے یا یہ کہا کہ زید کے پاس جومیری امانت ہے وہ عمرو کی ہے۔ یہ عمرو کے ليے اس دَین و امانت کا اقرار ہے مگر اس دَین یا امانت پر قبضہ مقرکا(8) حق ہے مگر اس لفظ کو ہبہ قرار دینا گذشتہ بیان کے موافق ہو گا لہٰذا تسلیمِ واہب(9) اور قبضہ موہوب لہ(10) ضروری ہو گا۔(11) (درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب العاشر فی الخیار والإستثناء والرجوع،ج۴،ص۱۹۶.
2 ۔بیچنے والا۔ 3 ۔خریدار۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الاقرار،الباب العاشر فی الخیار والإستثناء والرجوع،ج۴،ص۱۹۶.
5 ۔خالص۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الاقرار،باب الإستثناء ومافی معناہ،ج۸،ص۴۳۵.
7 ۔قرض۔ 8 ۔اقرار کرنے والے کا ۔
9 ۔ہبہ کرنے والے کا سپرد کردینا۔ 10 ۔جسے ہبہ کیااس کاقبضہ کرلینا۔
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب الاقرار،باب الإستثناء ومافی معناہ،ج۸،ص۴۳۵.
مریض سے مراد وہ ہے جو مرض الموت میں مبتلا ہو اور اس کی تعریف کتاب الطلاق میں مذکور ہو چکی ہے وہاں سے معلوم کریں۔
مسئلہ ۱: مریض کے ذمہ جو دَین ہے جس کا وہ اقرار کرتا ہے وہ حالتِ صحت کا دَین ہے یا حالتِ مرض کا اور اُس کا سبب معروف ہے یا غیر معروف اور اقرار اجنبی کے ليے ہے یا وارث کے ليے ان تمام صورتوں کے احکام بیان کیے جائیں گے۔
مسئلہ ۲: صحت کا دَین (1)چاہے اس کا سبب معلوم ہو یا نہ ہو اور مرض الموت کا دَین جس کا سبب معروف و مشہور ہو مثلاً کوئی چیز خریدی ہے اُس کا ثمن، کسی کی چیز ہلاک کر دی ہے اُسکا تاوان، کسی عورت سے نکاح کیا ہے اُس کا مَہرِ مثل یہ دیون(2) اون دیون پر مقدم ہیں جن کا زمانہ مرض میں اُس نے اقرار کیا ہے۔ (3)(بحر، درمختار)
مسئلہ ۳: سبب معروف کا یہ مطلب ہے کہ گواہوں سے اُس کا ثبوت ہو یا قاضی نے خود اُس کامعاینہ کیا ہو اور سبب سے وہ سبب مراد ہے جو تبرع نہ ہو جیسے نکاحِ مشاہداور بیع اور اتلافِ مال کہ ان کو لوگ جانتے ہوں۔ مَہر مثل سے زیادہ پرمریض نے نکاح کیا تو جو کچھ مَہر مثل سے زیادتی ہے یہ باطل ہے اگرچہ نکاح صحیح ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۴: مریض نے اجنبی کے حق میں اقرار کیا یہ اقرار جائز ہے اگرچہ اُس کے تمام اموال کو احاطہ کرلے(5) اور وارث کے ليے مریض نے اقرار کیا تو جب تک دیگر ورثہ اس کی تصدیق نہ کریں جائز نہیں اور اجنبی کے ليے بھی جمیع مال(6) کااقرار اُس وقت صحیح ہے جب صحت کا دَین اُس کے ذمہ نہ ہو یعنی علاوہ مقرلہ (7)کے دوسرے لوگوں کا دَین حالت صحت میں جو معلوم تھا نہ ہو ورنہ پہلے یہ دَین ادا کیا جائے گا اس سے جب بچے گا تو اُس دَین کو ادا کیا جائے گا جس کامرض میں اقرار کیا ہے بلکہ زمانہ صحت کے دَین کو اُس ودیعت(8) پر مقدم کریں گے جس کا ثبوت محض مریض کے
1 ۔قرض۔ 2 ۔دَین کی جمع قرضے۔
3 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۳۷.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۳۷.
5 ۔یعنی جتنے مال کا اقرار کیا وہ ترکہ کے مال سے زائد ہو جائے۔ 6 ۔تمام مال۔
7 ۔جس کے لیے اقرار کیا۔ 8 ۔امانت۔
اقرارسے ہو۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: مریض کو یہ اختیار نہیں کہ بعض دائن کا دَین ادا کر دے بعض کا نہ ادا کرے یعنی اگر اُس نے ایسا کیا ہے اورکُل مال ختم ہو گیا یادوسرے لوگوں کا دَین حصہ رسدکے موافق(2) نہیں وصول ہو گا تو جو کچھ مریض نے ادا کیا ہے اُس میں بقیہ دَین والے بھی شریک ہوں گے یہ نہیں کہ وہ تنہا اونھیں کا ہو جائے جن کو دیا ہے اگرچہ یہ دَین جو ادا کیا زوجہ کا مَہر ہو یا کسی مزدور یاملازم کی اجرت یا تنخواہ ہو۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۶: زمانہ مرض میں مریض نے کسی سے قرض لیا ہے یا کوئی چیز زمانہ مرض میں خریدی ہے بشرطیکہ مثل قیمت پر خریدی ہو اس قرض کو ادا کرنے یا مبیع کے ثمن دینے میں رکاوٹ نہیں ہے یعنی اس میں دوسرے دائن شریک نہیں ہیں تنہا یہی مالک ہيں جن کو دیا بشرطیکہ یہ قرض و بیع بینہ سے(4) ثابت ہوں یہ نہ ہو کہ محض مریض کے اقرار سے اس کا ثبوت ہو۔(5) (بحر)
مسئلہ ۷: مریض نے کوئی چیز خریدی اور اُس کا ثمن ادا نہیں کیا یہاں تک کہ مر گیا تو اگر مبیع ابھی تک بائع کے قبضہ میں ہے تو اُسکا تنہا بائع حقدار ہے دوسرے دَین والے اس مبیع کا مطالبہ نہیں کر سکتے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ چیز اُس مرنے والے مدیون(6) کی ہے لہٰذا ہم بھی اس میں سے اپنا دَین وصول کریں گے اور اگر مبیع اُس مشتری کے ہاتھ میں پہنچ چکی ہے اس کے بعد مرا تو جیسے دوسرے دَین والے ہیں بائع بھی ایک دائن(7)ہے سب کے ساتھ شریک ہے حصہ رسد کے موافق یہ بھی لے گا۔(8)(بحر، درمختار)
مسئلہ ۸: مریض نے ایک دَین کا اقرار کیا پھر دوسرے دَین کا اقرار کیا مثلاً پہلے کہا زید کے میرے ذمہ اتنے روپے ہیں پھر کہا عمرو کے میرے ذمہ اتنے روپے ہیں دونوں اقرار برابر ہیں دینے میں ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں چاہے یہ دونوں
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریر المریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۷۷.
و''ردالمحتار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۳۶.
2 ۔یعنی جتنا دین بنتا ہے اس کے مطابق۔
3 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۱.
4 ۔گواہوں سے۔
5 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۱.
6 ۔مقروض۔ 7 ۔قرض دینے والا۔
8 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۳۷،۴۳۸.
اقرار متصل ہوں یا فصل کے ساتھ ہوں اور اگر پہلے دَین کا اقرار کیا پھر امانت کا کہ یہ چیز میرے پاس فلاں کی امانت ہے یہ دونوں بھی برابر ہیں اور اگر پہلے امانت کا اقرار ہے اُس کے بعد دَین کا تو امانت کو دَین پر مقدم رکھا جائے گا۔ (1)(بحر)
مسئلہ ۹: ودیعت کا اقرار کیا کہ فلاں کے ہزار روپے میرے پاس ودیعت ہیں اور مر گیا اور وہ ہزار ودیعت کے ممتاز نہیں ہیں تو مثل دیگردیون کے یہ بھی ایک دَین قرار پائے گا جو ترکہ سے ادا کیا جائے گا۔ اور اگر مریض کے پاس ہزار روپے ہیں اور صحت کے زمانہ کا اُس پر کوئی دَین نہیں ہے اُس نے اقرار کیا کہ مجھ پر فلاں کے ہزار وپے دَین ہیں پھر اقرار کیاکہ یہ ہزار روپے جو میرے پاس ہیں فلاں شخص کی ودیعت ہے پھر ایک تیسرے شخص کے ليے ہزار روپے دَین کا اقرار کیا تو یہ ہزار روپے جو موجود ہیں تینوں پر برابر برابر تقسیم ہوں گے اور اگر پہلے شخص نے کہہ دیا کہ میرا اُس پر کوئی حق نہیں ہے یا میں نے معاف کر دیا تو اسکی وجہ سے تیسرے دائن کا حق باطل نہیں ہو گا بلکہ مودع(2) اور دائن میں یہ روپے نصف نصف تقسیم ہوں گے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مریض نے اقرار کیا کہ میرے باپ کے ذمہ فلاں شخص کا اتنا دَین ہے اور اس کے قبضہ میں ایک مکان ہے جو اس کے باپ کا تھا اور خود اس مریض پر زمانہ صحت کا بھی دَین ہے اس صورت میں اولاً دَین صحت کو ادا کریں گے اس سے جب بچے گا تو اس کے باپ کا دَین جس کا اس نے اقرار کیا ہے ادا کیا جائے گا اور اگر اپنے باپ کے دَین کا باپ کے مرنے کے بعد ہی زمانہ صحت میں اقرار کیا ہے تو اُس مکان کو بیچ کر پہلے اس کے باپ کا دَین ادا کیا جائے گا جن لوگوں کا اس پردَین ہے وہ اپنا دَین نہیں لے سکتے جب تک اس کے باپ کا دَین ادا نہ ہو جائے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: مریض نے اقرار کیا کہ وارث کے پاس جو میری ودیعت یا عاریت تھی مل گئی یا مال مضاربت تھا وصول پایااُسکی بات مان لی جائے گی۔ يوہيں اگر وہ کہتا ہے کہ موہوب لہ(5) سے میں نے ہبہ کو واپس لے لیا یا جو چیز بیع فاسد کے ساتھ بیچی تھی واپس لی یا مغصوب(6) یا رہن(7) کو وصول پایا یہ اقرار صحیح ہے اگرچہ اس پر زمانہ صحت کا دَین ہو جب کہ یہ سب یعنی موہوب لہ وغیرہ اجنبی ہوں اور اگر وارث سے واپس لینے کا ان صورتوں میں اقرار کرے تو اُسکی بات نہیں مانی جائے گی۔(8) (عالمگیری)
1 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۱،۴۳۲.
2 ۔امانت رکھوانے والے۔
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریرالمریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۷۷،۱۷۸.
4 ۔المرجع السابق،ص۱۷۸.
5 ۔جسے ہبہ کیا گیا۔ 6 ۔غصب کی ہوئی چیز۔ 7 ۔گروی رکھی ہوئی چیز۔
8 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریرالمریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۷۹.
مسئلہ ۱۲: مریض نے اپنے مدیون سے دَین کو معاف کر دیا اگر یہ مریض خود مدیون ہے اور جس سے دَین کو معاف کیا ہے وہ اجنبی ہے یہ معاف کرنا جائز نہیں اور اگر خود مدیون نہیں ہے تو اجنبی پر سے دَین کو بقدر اپنے ثلث مال کے معاف کر سکتا ہے اور وارث سے دَین کو معاف کرے تو چاہے خود مدیون ہو یا نہ ہو وارث پر اصالۃً دَین ہو یا اُس نے کفالت (1)کی ہو ہر صورت میں جائز نہیں اور اگر مریض نے یہ کہہ دیا کہ اس پر میرا کوئی حق ہی نہیں ہے یہ اقرار قضاء ً صحیح ہے کہ اب مطالبہ قاضی کے یہاں نہیں ہو گا مگر دیانۃً صحیح نہیں یعنی اگر واقع میں مطالبہ تھا اور اس نے ایسا کہہ دیا تو مؤاخذہ اخروی ہے۔(2) (بحر)
مسئلہ ۱۳: مریض نے اقرار کیا کہ میں نے اپنی یہ چیز فلاں کے ہاتھ صحت کے زمانہ میں بیچ دی ہے اور اس کا ثمن بھی وصول کر لیا ہے اور مشتری بھی اس کا دعویٰ کرتا ہو تو بیع کے حق میں اُسکا اقرار صحیح ہے اور ثمن وصول کرنے کے حق میں بقدرِ ثُلُث مال کے صحیح اس سے زیادہ میں صحیح نہیں۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۱۴: یہ اقرار کیا کہ میرا دَین جو فلاں کے ذمہ تھا میں نے وصول پایا اگر وہ دَین صحت کے زمانہ کا تھا تو مریض کا یہ اقرار صحیح ہے چاہے اس پر خود دَین ہو یا نہ ہو اور اگر یہ دَین زمانہ مرض کا تھا اورخود اس پر زمانہ صحت کا دَین ہے تویہ اقرار صحیح نہیں اور اگر اس پر صحت کا دَین نہ ہو تو بقدر ثلث مال یہ اقرار صحیح ہے۔ یہ چیز میں نے فلاں وارث کے ہاتھ صحت کے زمانہ میں بیع کر دی اور ثمن بھی وصول پایا یہ اقرار صحیح نہیں۔ (4)(بحر)
مسئلہ ۱۵: مریض نے اپنی عورت سے خلع کیا اور عورت کی عدت بھی پوری ہو گئی اب وہ کہتا ہے میں نے بدل خلع وصول پایا اگر اُس پرنہ زمانہ صحت کا دَین ہے نہ مرض کا تو اُس کی بات مان لی جائے گی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: صحت میں غبن فاحش کے ساتھ کوئی چیز بشرط خیار خریدی تھی اور مرض میں اس بیع کو جائز کیا یا ساکت رہا یہاں تک کہ مدت خیار گزر گئی اس کے بعد مر گیا تو یہ بیع ثلث سے نافذ ہو گی۔(6) (بحر)
مسئلہ ۱۷: عورت نے مرض میں اقرار کیا کہ میں نے شوہر سے اپنا مَہر وصول پایا اگر زوجیت یا عدت میں مر گئی اُس کا
1 ۔ضمانت۔
2 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۲.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریرالمریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۸۱.
6 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۲.
یہ اقرار جائز نہیں اور اگر یہ دونوں باتیں نہیں ہیں مثلاً شوہر نے قبل دخول طلاق دے دی ہے یہ اقرار جائز ہے۔ مریضہ نے شوہر سے مَہر معاف کر دیا یہ دوسرے ورثہ کی اجازت پر موقوف ہے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: مریض نے یہ کہا کہ دنیا میں میری کوئی چیز ہی نہیں ہے اور مر گیا بقیہ ورثہ کو اختیار ہے کہ اُس کی زوجہ اور بیٹی سے اس بات پر قسم کھلائیں کہ ہم نہیں جانتے ہیں کہ متوفی کے ترکہ میں کوئی چیز تھی۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: مریض نے دوسرے پر بہت کچھ اموال کا دعویٰ کیا تھا مدعی نے مدعیٰ علیہ سے خفیۃً تھوڑے سے مال پر مصالحت(3) کر لی اور علانیہ یہ اقرار کر لیا کہ اس کے ذمہ میرا کچھ نہیں ہے اور مر گیا اس کے بعد ورثہ نے دعویٰ کیا اور گواہوں سے ثابت کیا کہ ہمارے مورث کے بہت کچھ اموال اس شخص کے ذمہ ہیں ہمارے مورث نے ہم کو محروم کرنے کے ليے یہ ترکیب کی ہے یہ دعویٰ مسموع (4)نہ ہو گا اور اگر مدعیٰ علیہ بھی وارث تھا اوریہی تمام معاملات پیش آئے تو بقیہ ورثہ کا دعویٰ مسموع ہوگا۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: جس وارث کے ليے مریض نے اقرار کیا ہے یہ کہتا ہے کہ اُس شخص نے میرے ليے صحت کے زمانہ میں اقرار کیا تھا اور بقیہ ورثہ یہ کہتے ہیں کہ مرض میں اقرار کیا تھا تو قول ان بقیہ ورثہ کا معتبر ہے اور اگر دونوں نے گواہ پیش کیے تو مقرلہ کے گواہ معتبر ہیں اور اگر مقرلہ کے پاس گواہ نہ ہوں تواون ورثہ پر حلف دے سکتا ہے۔ (6)(بحر)
مسئلہ ۲۱: یہ جو کہا گیا ہے کہ وارث کے ليے مریض کا اقرار باطل ہے اس سے مراد وہ وارث ہے جو بوقت موت وارث ہوا یہ نہیں کہ بوقت اقرار وارث ہو یعنی جس وقت اس کے ليے اقرار کیا تھا وارث نہ تھا اور اُس کے مرنے کے وقت وارث ہو گیا تو یہ اقرار باطل ہے مگر جبکہ وراثت کا جدید سبب پیدا ہو جائے مثلاً نکاح لہٰذا اگر کسی عورت کے ليے اقرار کیا تھا اس کے بعد نکاح کیا وہ اقرار صحیح ہے اور اگر اپنے بھائی کے ليے اقرار کیا تھا جومحجوب تھا مگر اُس کے مرنے کے وقت محجوب نہ رہا مثلاً جب اس نے اقرار کیا تھا اُس وقت اوس کا بیٹاموجود تھا اور بعد میں بیٹا مر گیا اب بھائی وارث ہو گیا اقرار باطل ہے اور اگراقرار کے وقت بھائی وارث تھا مثلاً مریض کا کوئی بیٹا نہ تھا اُس کے بعد بیٹا پیدا ہوا اب بھائی وارث نہ رہا اگر مریض کے مرنے تک بیٹا زندہ رہا یہ
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۳۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔آپس میں صلح۔ 4 ۔قابل قبول۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۳۹،۴۴۰.
6 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۲.
اقرارصحیح ہے۔ مریض نے جس کے ليے اقرار کیا وہ وارث تھا پھر وارث نہ رہا پھر وارث ہو گیا اور اب وہ مریض مرا تو اقرار باطل ہے مثلاًزوجہ کے ليے اقرار کیا پھر اوسے بائن طلاق دے دی بعد عدت پھر اوس سے نکاح کر لیا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: اگر مریض نے اجنبیہ کے ليے کوئی چیز ہبہ کر دی یا وصیت کر دی اس کے بعد اُس سے نکاح کیا وہ ہبہ یا وصیت باطل ہے۔ مریض نے وارث کے ليے اقرار کیا مگر پہلے یہ مقرلہ مر گیا اس کے بعد وہ مریض مرا مگر مقرلہ کے ورثہ مریض کے بھی ورثہ سے ہیں یہ اقرار جائز ہے جس طرح اجنبی کے ليے اقرار۔ (2)(بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: مریض نے اجنبی کے ليے اقرار کیا کہ یہ چیز اُسکی ہے اور اُس اجنبی نے کہا کہ یہ چیز مقر کے وارث کی ہے یہ خود مریض کا وارث کے حق میں اقرار ہے لہٰذ اصحیح نہیں۔ مریض نے اپنی عورت کے دَین مَہر کا اقرار کیا یہ اقرار صحیح ہے پھر اگر مرنے کے بعد ورثہ نے گواہوں سے ثابت کرنا چاہا کہ اُس عورت نے مریض کی زندگی میں مَہر بخش دیا تھا یہ گواہ نہیں سُنے جائیں گے۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۲۴: مریض نے دَین یا عین کا وارث کے ليے اقرار کیا مثلاً یہ کہا کہ اس کے میرے ذمہ ہزار روپے ہیں یا یہ کہ فلاں چیز اُس کی ہے یہ اقرار باطل ہے خواہ تنہا وارث کے ليے اقرار ہو یا وارث و اجنبی دونوں کے حق میں اقرار ہو یعنی دونوں کی شرکت میں وہ دَین ہے یا اوس عین میں دونوں شریک ہیں اور یہ دونوں شریک ہونے کو مان رہے ہوں یا کہتے ہوں کہ ہم دونوں میں شرکت نہیں ہے بہرحال وہ اقرار باطل ہے ہاں اگر بقیہ ورثہ اُس اقرار کی تصدیق کریں تو یہ اقرار نافذ ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: شوہر نے عورت کے لیے وصیّت کی یا عورت نے شوہر کے ليے وصیت کی اور دونوں صورتوں میں کوئی دوسرا وارث نہیں ہے تو وصیت صحیح ہے اور زوجین(5) کے سوا دوسرا کوئی وارث جب تنہا ہو تو وصیت کی کیا ضرورت کیوں کہ وہ توکل کا خود ہی وارث ہے۔ (6)(درمختار)
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریر المریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۷۶.
2 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۲.
و''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریر المریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۷۶،۱۷۷.
3 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۲.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۴۱.
5 ۔میاں، بیوی۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۴۱.
مسئلہ ۲۶: مریض کے قبضہ میں جائداد ہے اس کے متعلق اُس نے وقف کا اقرار کیا اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ خود اپنے وقف کرنے کا اقرار کرتا ہے کہتا ہے کہ میں نے اسے وقف کیا ہے ایک ثلث مال میں یہ وقف نافذ ہو گا۔ دوسری صورت یہ کہ اس کو دوسرے نے وقف کیا ہے یعنی یہ جائداد دوسرے شخص کی تھی اُس نے وقف کر دی تھی اگر اُس دوسرے شخص یا اوس کے وُرَثہ تصدیق کریں جائز ہے اور اگر مریض نے بیان نہ کیا کہ میں نے وقف کیا ہے یا دوسرے نے تو ثلث میں نافذ ہے۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: مریض نے وارث یا اجنبی کسی کے دَین کا اقرار کیا اور مرا نہیں بلکہ اچھا ہو گیا پھر اس کے بعد مرا تو وہ اقرار مریض کا اقرار نہیں بلکہ صحت کے اقرار کا جو حکم ہے اُسکا بھی ہے کیونکہ جب اچھا ہو گیا تو معلوم ہو گیا کہ وہ مرض الموت تھا ہی نہیں غلطی سے لوگوں نے ایسا سمجھ رکھا تھا۔ یہی حکم تمام اون اقراروں کا ہے جو مرض کی وجہ سے جاری نہیں ہوتے تھے اور اگر وارث کے ليے وصیّت کی تھی پھر اچھا ہو گیا تویہ وصیت اب بھی نہیں صحیح ہو گی۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: مریض نے وارث کی امانت ہلاک کرنے کا اقرار کیا یہ اقرارصحیح و معتبر ہے اسکی صورت یہ ہے کہ مثلاً بیٹے نے باپ کے پاس گواہوں کے روبرو کوئی چیز امانت رکھی اُس کے متعلق باپ یہ اقرار کرتا ہے کہ میں نے قصداً ضائع کر دی یہ اقرار معتبر ہے ترکہ میں سے تاوان ادا کیا جائے گا۔ مریض نے اقرار کیا کہ وارث کے پاس جو کچھ امانتیں تھیں وہ سب میں نے وصول پائیں یہ اقرار بھی معتبر ہے۔ یہ اقرار بھی معتبر ہے کہ میرا کوئی حق میرے باپ یا ماں کے ذمہ نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: مریض نے یہ کہا کہ میری فلاں لڑکی جو مر چکی ہے اُس کے ذمہ دس روپے تھے جو میں نے وصول پا ليے تھے اور اس مریض کا بیٹا انکار کرتا ہے یہ اقرار صحیح ہے کیونکہ وارث کے ليے یہ اقرار ہی نہیں وہ لڑکی مر چکی ہے وارث کہاں ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: مریض نے اپنی زوجہ کے ليے مال کا اقرار کیا وہ عورت شوہر سے پہلے ہی مر گئی اور اُس نے دو بیٹے چھوڑے ایک اسی شوہر سے ہے دوسرا پہلے خاوند سے احتیاط یہ ہے کہ یہ اقرار صحیح نہیں۔ يوہيں مریض نے اپنے بیٹے کے ليے اقرار کیا اوریہ بیٹا باپ سے پہلے مر گیا اور اس نے اپنا بیٹا چھوڑا اُس کے مرنے کے بعد اُس کاباپ مرا اور اس کا اب کوئی بیٹا نہیں
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۴۱.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۴۲،۴۴۳.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۴۳،۴۴۴.
4 ۔المرجع السابق،ص۴۴۵.
ہے یعنی وہ پوتا وارث ہے تو بمقتضاء احتیاط(1) وہ اقرار صحیح نہیں۔ يوہيں مریض نے وارث یا اجنبی کے ليے اقرار کیا اور مقرلہ مریض سے پہلے ہی مر گیا مگر اس کے وارث اُس مریض مقر کے بھی وارث ہیں اس کا بھی وہی حکم ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: ایک شخص دو چار روز کے ليے بیمار ہو جاتا ہے پھر دو چار روز کو اچھا ہو جاتا ہے اُس نے اپنے بیٹے کے ليے دَین کا اقرار کیا اگر ایسے مرض میں اقرار کیا جس کے بعد اچھا ہو گیا تو اقرار صحیح ہے اور اگر ایسے مرض میں اقرار کیا جس نے اُسے صاحب فراش کر دیا اور اچھا نہ ہواا سی مرض میں مر گیا تو اقرار صحیح نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: مریض نے اقرار کیا کہ فلاں شخص کا میرے ذمہ ایک حق ہے اور ورثہ نے بھی اس کی تصدیق کی اس کے بعد مریض مر گیا وہ شخص اگر مریض کے مال کی تہائی تک(4) اپنا حق بیان کرے اُس کی بات مان لی جائے گی اور تہائی سے زیادہ کا طالب ہو اور ورثہ منکر ہوں تو ورثہ پر حلف دیا جائے گا وہ یہ قسم کھائیں کہ ہمارے علم میں میت کے ذمہ اسکا اتنا مال نہ تھا اگر قسم کھالیں گے صرف تہائی مال اس شخص کو دیا جائے گا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: مریض نے وارث کے ليے ایک معین چیز کا اقرار کیا کہ یہ چیز اُس کی ہے اُس وارث نے کہا وہ چیز میری نہیں ہے بلکہ فلاں شخص کی ہے اور یہ شخص وارث کی تصدیق کرتا ہے یعنی چیز اپنی بتاتا ہے اور مریض مر گیا وہ چیز اس اجنبی کو دے دی جائے گی اور وارث سے چیز کی قیمت کا تاوان لیا جائے گا۔ يوہيں اگر مریض نے ایک وارث کے ليے اُس چیز کا اقرار کیا اس وارث نے دوسرے وارث کی وہ چیز بتائی وہ چیز دوسرے وارث کوملے گی اور پہلا وارث اُس کی قیمت تاوان میں دے یہ قیمت سب ورثہ پر تقسیم ہو گی ان دونوں کو بھی اس میں سے انکے حصہ ملیں گے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: مریض پر زمانہ صحت کا دَین ہے اسکی کوئی چیز کسی نے غصب کر لی اور غاصب کے پاس وہ چیز ہلاک ہوگئی قاضی نے حکم دیا کہ غاصب اُس چیز کی قیمت مریض کو ادا کرے اب مریض یہ اقرار کرتاہے کہ غاصب سے میں نے قیمت وصول پائی یہ بات مانی نہیں جائے گی جب تک گواہوں سے ثابت نہ ہو اور اگر زمانہ صحت میں اُس نے غصب کی تھی اس کے بعد
1 ۔از روئے احتیاط۔
2 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریر المریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۷۶،۱۷۷.
3 ۔المرجع السابق،ص۱۷۷.
4 ۔یعنی تیسرے حصے تک۔
5 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریر المریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۷۸.
6 ۔المرجع السابق.
بیمار ہوا اور قاضی نے غاصب پر قیمت دینے کا حکم کیا اور مریض کہتا ہے میں نے قیمت وصول پالی تومریض کی بات مان لی جائے گی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: مریض نے اپنی ایک چیز جس کی واجبی قیمت ایک ہزار تھی دو ہزار میں بیچ ڈالی اور اس کے پاس اس چیز کے سوا کوئی اور مال نہیں ہے اور اوس پر کثرت سے دَین ہیں اب یہ کہتا ہے کہ وہ ثمن میں نے وصول پایا اور مر گیا اُسکا یہ اقرار صحیح نہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: ایک شخص نے زمانہ صحت میں اپنی چیز بیع کر دی اور مشتری نے مبیع پر قبضہ بھی کر لیا اس کے بعد بائع بیمارہوا اور اس نے ثمن وصول پانے کا اقرار کر لیا اور بائع کے ذمہ لوگوں کے دَین بھی ہیں پھر یہ بائع مر گیا اس کے بعدمشتری نے مبیع میں عیب پایاقاضی نے اس کے واپس کرنے کا حکم دے دیا مشتری کو یہ حق نہیں ہے کہ دیگر قرض خواہوں کی طرح میت کے مال سے اپنا ثمن واپس لے بلکہ وہ چیز بیع کی جائے گی اگر اس کے ثمن سے مشتری کا مطالبہ وصول ہو جائے فبہا اور اگر اس کے مطالبہ وصول کر لینے کے بعد کچھ بچ رہا تو یہ بچا ہوا دوسرے قرض خواہوں کے دَین میں دے دیا جائے گا اور اگر مشتری کے مطالبہ سے کم میں چیز فروخت ہوئی تو میت کے مال سے دوسروں کے دَین ادا کرنے کے بعد اگر کچھ بچتا ہے تو مشتری کا بقیہ مطالبہ اداکیاجائے گاورنہ گیا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: مریض نے وارث کو روپے دیے کہ فلاں شخص کا مجھ پر دَین ہے اس روپے سے اُس کا دَین ادا کر دو وارث کہتا ہے وہ روپے میں نے دائن کو دے دیے اور دائن کہتا ہے مجھے نہیں دیے وارث کی بات فقط اُس کے حق میں معتبر ہے یعنی وارث بری الذمہ ہو گیا مریض اس کو سچا بتائے یا جھوٹا بہرحال اس سے روپے کا مطالبہ نہیں ہو سکتا مگر دائن کا حق باطل نہیں ہو گا یعنی اُس کا دَین ادا کرنا ہو گا اور اگر مریض نے وارث کو وکیل کیا ہے کہ فلاں کے ذمہ میرا دَین ہے وصول کر لاؤ وارث کہتاہے میں نے دَین وصول کر کے مریض کو دے دیا اُس کی بات معتبر ہے مدیون بری ہو گیا اس سے مطالبہ نہیں ہوسکتا۔(4)(مبسوط)
مسئلہ ۳۸: مریض نے اپنی کوئی چیز بیع کرنے کے ليے وارث کو وکیل کیا اس کی دو صورتیں ہیں مریض کے ذمہ دَین
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریرالمریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۸۱.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق.
ہے یا نہیں اگر اس کے ذمہ دَین نہیں ہے اور وارث نے گواہوں کے سامنے اُس چیز کو واجبی قیمت پر بیچا اب مریض کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد یہ کہتا ہے کہ ثمن وصول کر کے میں نے مریض کو دے دیا یامیرے پاس سے ضائع ہو گیا اس کی بات مان لی جائے گی اور اگر وارث یہ کہتا ہے کہ میں نے چیز بیع کر دی اور ثمن وصول کر لیا پھر میرے پاس سے ضائع ہو گیا اگر وہ چیز بھی ہلاک ہو چکی ہے اور مشتری کو بھی معلوم نہیں ہے کہ کون شخص تھاجب بھی اسکی بات معتبر ہے اور اگر چیز موجود ہے اور معلوم ہے کہ فلاں شخص مشتری ہے اورمریض بھی زندہ ہے جب بھی وارث کی بات معتبر ہے اور مریض مر چکا ہے تو وارث کا اقرارکہ میں نے ثمن وصول پایا اور میرے پاس سے ضائع ہو گیا صحیح نہیں اور اگر مریض کے ذمہ دَین ہے تو وارث کی بات معتبر نہیں اگرچہ مریض اسکی تصدیق کرتا ہو۔(1) (مبسوط)
مسئلہ ۳۹: ایک شخص نے اپنے باپ کے پاس ہزار روپے گواہوں کے سامنے امانت رکھے اس کے باپ نے مرتے وقت یہ اقرار کیا کہ وہ امانت کے روپے میں نے خرچ کر ڈالے اور اسی اقرار پر قائم رہا تو باپ کے ذمہ یہ روپے دَین ہیں کہ ا س کے مال سے بیٹا وصول کریگا اور اگر باپ نے سرے سے امانت رکھنے ہی سے انکار کر دیا یا کہتا ہے کہ میں نے خرچ کر ڈالے پھر کہنے لگا کہ ضائع ہو گئے یا میں نے بیٹے کو دے دیے اسکی بات قابلِ اعتبار نہیں اگرچہ قسم کھاتا ہواور اُس پر تاوان لازم ہے اور اگر اس نے پہلے یہ کہا کہ ضائع ہو گئے یا میں نے واپس دیدیے مگر جب اوس پر حلف دیا گیا تو کہنے لگا میں نے خرچ کر ڈالے یا قسم سے انکار کر دیا تو اس صورت میں ضمان لازم نہیں اور ترکہ سے یہ روپے نہیں دیے جائیں گے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: ایک شخص بیمار ہے اُس کا ایک بھائی ہے اور ایک بی بی ،زوجہ نے کہا مجھے تین طلاقیں دے دو اُس نے دے دیں پھر اُس مریض نے یہ اقرار کیا کہ میرے ذمہ بی بی کے سو روپے باقی ہیں اورعورت اپنا پورا مَہرلے چکی ہے وہ شخص ساٹھ روپیہ ترکہ چھوڑ کر مر گیا اگر عورت کی عدّت پوری ہو چکی ہے تو کُل روپے عورت لے لیگی اور عدّت گزرنے سے پہلے مر گیا تو اولاً ترکہ سے وصیّت کو نافذ کر یں گے پھر میراث جاری کریں گے مثلاً اس نے تہائی مال کی وصیت کی ہے تو بیس روپے موصٰی لہ کو دیں گے اور دس روپے عورت کو اور تیس اُس کے بھائی کو۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: مریض نے یہ اقرار کیا کہ یہ ہزار روپے جو میرے پاس ہیں لُقْطَہ ہیں اس اقرار کے بعد مر گیا اوران
1 ۔''المبسوط''باب الاقراربالمجہول أوبالشک،ج۹،الجزء الثانی،ص۸۷.
و''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریر المریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۸۱.
2 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریر المریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۸۲.
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریر المریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۸۳.
روپوں کے علاوہ اُس نے کوئی مال نہیں چھوڑا اگر ورثہ اُس کے اقرارکی تصدیق کرتے ہوں تو ان کو کچھ نہیں ملے گا وہ روپے صدقہ کر دیے جائیں اورتکذیب کرتے ہوں تو ایک تہائی صدقہ کر دیں اور دو تہائیاں بطور میراث تقسیم کرلیں۔(1)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: مریض کے تین بیٹے ہیں ایک بیٹے پر اُس کے ہزار روپے دَین ہیں اُس مریض نے یہ اقرار کیا کہ میں نے اس لڑکے سے ہزار روپے دَین وصول پاليے ہیں یہ مدیون(2) بھی اُس کی تصدیق کرتا ہے اور باقی دونوں لڑکوں میں سے ایک تصدیق کرتا ہے اور ایک تکذیب تو مدیون بیٹا ایک ہزار کی تہائی اُس کو دے جو تکذیب کرتا ہے اور خود اس کو اور تصدیق کرنے والے کو کچھ نہیں ملے گا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: ایک شخص مجہول النسب (4) کے ليے مریض نے کسی چیز کا اقرار کیا اس کے بعد اُس شخص کی نسبت یہ اقرار کرتا ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے اور وہ اسکی تصدیق کرتا ہے نسب ثابت ہو جائے گا اور وہ اقرار جو پہلے کر چکا ہے باطل ہو جائے گا اور جب وہ بیٹا ہو گیا تو خود وارث ہے جیسے دوسرے وارث ہیں اور اگر وہ شخص معروف النسب ہے یا وہ اس کی تصدیق نہیں کرتا تونسب ثابت نہیں ہو گا اور پہلا اقرار بدستور سابق۔ (5)(درر، غرر، شرنبلالی)
مسئلہ ۴۴: عورت کو بائن طلاق دے چکا ہے اُس کے ليے دَین کا اقرار کیا تو دَین و میراث میں جو کم ہو وہ عورت کو دیا جائے یہ حکم اُس وقت ہے کہ عورت عدّت میں ہو اور خود اسکی خواہش پر شوہر نے طلاق دی ہو اور اگر عدّت پوری ہو چکی تو وہ اقرار جائز ہے کہ یہ وارث ہی نہیں ہے اور اگر طلاق دینا عورت کے سوال پر نہ ہوتو عورت میراث کی مستحق ہے اور اقرار صحیح نہیں کہ اس صورت میں وارث ہے۔ (6)(درمختار)
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریر المریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۸۴.
2 ۔مقروض۔
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السادس فی اقاریر المریض وأفعالہ،ج۴،ص۱۸۴.
4 ۔یعنی جس کاباپ معلوم نہیں۔
5 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،الجزء الثانی،ص۳۶۷.
و''غنیۃ ذوی الأحکام''،ہامش علی''دررالحکام''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،الجزء الثانی،ص۳۶۷.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۴۵،۴۴۶.
مسئلہ ۱: اگر کسی نے ایک شخص کے بھائی ہونے کا اقرار کیا یعنی یہ کہا کہ یہ میرا بھائی ہے اگرچہ یہ غیر ثابت النسب ہو اگرچہ یہ بھی تصدیق کرتا ہو مگر نسب ثابت نہیں یعنی اُس کے باپ کا بیٹا نہیں قرار پائے گا اسکا صرف اتنا اثر ہو گا کہ مقر کا(1) اگر دوسرا وارث نہ ہو تو یہ وارث ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲: مرد اتنے لوگوں کا اقرار کر سکتا ہے۔1 اولاد2 والدین3 زوجہ۔ یعنی کہہ سکتا ہے کہ یہ عورت میری بی بی ہے بشرطیکہ وہ عورت شوہر والی نہ ہو نہ وہ اپنے شوہر کی عدّت میں ہو اور نہ اُس کی بہن مقر کی زوجہ ہو یا اسکی عدّت میں ہو اور اس کے سوا اُس کے نکاح میں چار عورتیں نہ ہوں۔4 مولےٰ یعنی مولائے عتاقہ یعنی اُس نے اسے آزاد کیا ہے یا اس نے اُسے آزادکیا ہے بشرطیکہ اُس کی وَلا کا ثبوت غیر مقر سے نہ ہو چکا ہو۔ عورت بھی والدین اور زوج اورمولےٰ کاا قرار کر سکتی ہے اور اولاد کا اقرار کرنے میں شرط یہ ہے کہ اگر شوہر والی ہو یا معتدہ(3) تو ایک عورت ولادت و تعیین ولدکی شہادت دے یا زوج(4)خود اُس کی تصدیق کرے اور اگر نہ شوہر والی ہے نہ معتدہ تو اولاد کا اقرار کر سکتی ہے۔ یا شوہر والی ہو مگر کہتی ہے اُس سے بچہ نہیں ہے دوسرے سے ہے بیٹے کا اقرار صحیح ہونے میں یہ شرط ہے کہ لڑکا اتنی عمر کا ہو کہ اتنی عمر والا مقر کا لڑکا ہو سکتا ہو اور وہ لڑکا ثابت النسب نہ ہو اور باپ کے اقرار میں بھی یہ شرط ہے کہ بلحاظ عمر مقر اُس کا لڑکا ہو سکتا ہو اور یہ مقر ثابت النسب نہ ہو۔ ان تمام اقراروں میں دوسرے کی تصدیق شرط ہے مثلاً یہ کہتا ہے فلاں میرا باپ ہے اور اس نے انکار کر دیا تو اقرار سے نسب ثابت نہ ہوا۔ اولاد کا اقرار کیا اور وہ چھوٹا بچہ ہے کہ اپنے کو بتا نہیں سکتا کہ میں کون ہوں اس میں تصدیق کی کچھ ضرورت نہیں اور اگر غلام دوسرے کا غلام ہے تو اُسکے مولیٰ کی تصدیق ضروری ہے۔ (5)(بحر، درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳: ان مذکورین کے متعلق اقرار صحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس اقرار کی وجہ سے مقر یا مقرلہ (6)یا کسی اور پر
1 ۔اقرار کرنے والے کا۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۴۹.
3 ۔ عدت گزار رہی ہو۔ 4 ۔شوہر۔
5 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۴۷،۴۴۸.
و''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السابع عشر فی الإقراربالنسب...إلخ،ج۴،ص۲۱۰.
6 ۔جس کے لئے اقرار کیا ۔
جو کچھ حقوق لازم ہوں گے اون کا اعتبار ہو گا مثلاً یہ اقرار کیا کہ فلاں میرا بیٹا ہے تو یہ مقرلہ اُس شخص کا وارث ہو گا جیسے دوسرے ورثہ وارث ہیں اگرچہ دوسرے ورثہ اس کے نسب سے انکار کرتے ہوں اور یہ مقرلہ اُس مقر کے باپ کا (جو مقرلہ کا دادا ہوا) وارث ہوگا اگرچہ مقر کا باپ اُس کے نسب سے انکار کرتا ہو اور اقرار صحیح نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اقرار کی وجہ سے غیر مقر و مقرلہ پر جو حقوق لازم ہوں گے اُن کا اعتبار نہ ہو گااور خود ان پر جو حقوق لازم ہوں گے اُن کا اعتبار ہو گا مثلاً یہ اقرار کیا کہ فلاں شخص میرا بھائی ہے اور مقر کے دوسرے ورثہ اُس کے بھائی ہونے سے انکار کرتے ہیں اور مقر مر گیا مقرلہ اُن ورثہ کے ساتھ وارث نہ ہو گا۔ يوہيں مقر کے باپ کا بھی وہ وارث نہ ہو گا جبکہ اُس کا باپ اس کے نسب سے منکر ہو مگر جب تک مقر زندہ ہے اس کا نفقہ اُس پر واجب ہو سکتا ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: ایک غلام کا زمانہ صحت میں مالک ہوا اور زمانہ مرض میں یہ اقرار کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے اور اوس کی عمر بھی اتنی ہے کہ اس کا بیٹا ہو سکتا ہے اور اُس کا نسب بھی معروف نہیں ہے وہ غلام اُس مقر کا بیٹا ہو جائے گا اورآزاد ہو جائے گا اور مقر کا وارث ہو گا اور اُسے سَعایَت (2)بھی نہیں کرنی ہو گی اگرچہ مقرکے پاس اس کے سوا کوئی مال نہ ہو اگرچہ اس پر اتنا دَین ہو کہ اس کے رقبہ کو محیط ہو(3)اور اگر اس غلام کی ماں بھی زمانہ صحت میں اُس کی مِلک ہے تو اُس پر بھی سعایت نہیں ہے اور اگر مرض میں غلام کا مالک ہوا اور نسب کا اقرار کیا جب بھی آزاد ہو جائے گا اور نسب ثابت ہو جائے گا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: مقر کے مرنے کے بعد بھی مقرلہ کی تصدیق صحیح و معتبر ہے مثلاً اقرار کیا تھا کہ یہ میرا لڑکا ہے اور مقر کے مرنے کے بعد مقرلہ نے تصدیق کی یہ تصدیق صحیح ہے مگر عورت نے زوجیت کا(5) اقرار کیا تھا اُس کے مرنے کے بعد شوہر تصدیق کرے یہ تصدیق بیکار ہے کہ عور ت کے مرنے کے بعد نکاح کا سارا سلسلہ ہی منقطع ہو گیا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۶: نسب کا اس طرح اقرار جس کا بوجھ دوسرے پر پڑے اُس دوسرے کے حق میں صحیح نہیں مثلاً کہا فلاں میرا بھائی ہے چچا ہے دادا ہے پوتا ہے کہ بھائی کہنے کے معنی یہ ہوئے وہ اس کے باپ کا بیٹا ہوا اس اقرار کا اثر باپ پر پڑا اسی طرح
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السابع عشر فی الإقراربالنسب...إلخ،ج۴،ص۲۱۰.
2 ۔مالک کو اپنی قیمت ادا کرنے کے لیے غلام کا محنت مزدوری کرنا۔
3 ۔یعنی دَین (قرض)غلام کی قیمت سے زیادہ ہو۔
4 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب السابع عشر فی الإقراربالنسب...إلخ،ج۴،ص۲۱۰.
5 ۔یعنی بیوی ہونے کا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۴۸.
سب میں یہ اقرار دوسرے کے حق میں نا معتبر مگر خود مقر کے حق میں یہ اقرار صحیح ہے اور جو کچھ احکام ہیں وہ اس کے ذمہ لازم ہیں جب کہ دونوں اس بات پر متفق ہوں یعنی جس طرح یہ اُس کو بھائی کہتا ہے وہ بھی کہتا ہے اگر یہ چچا بتاتا ہے تو وہ بھتیجا بتاتا ہے۔ نَفَقہ(1) و حِضانت(2) و میراث سب احکام جاری ہوں گے یعنی اگر مقر کا کوئی دوسرا وارث نہیں نہ قریب کا نہ دُور کا یعنی ذوی الارحام(3) اور مولے الموالاۃ بھی نہیں تو مقرلہ وارث ہو گا ورنہ وارث نہیں ہو گا کہ خود اس کا نسب ثابت نہیں ہے پھروارث ثابت کے ساتھ مزاحمت نہیں کر سکتا وارث ثابت سے مراد غیر زوجین ہیں کیونکہ ان کا وجود مقرلہ کو میراث ملنے سے نہیں روکتا۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۷: اس صورت میں کہ تحمیلِ نسب غیر پر ہو (5) مُقِر اپنے اقرار سے رجوع کر سکتا ہے اگرچہ مقرلہ نے بھی اسکی تصدیق کر لی ہو مثلاً بھائی ہونے کا اقرار کیا اور اُس نے تصدیق کر دی اس کے بعد اقرار سے رجوع کر کے سارے مال کی وصیت کسی اور شخص کے ليے کر دی اب مقرلہ نہیں پائے گا بلکہ کُل مال موصیٰ لہ کو ملے گا۔(6) (بحرالرائق)
مسئلہ ۸: جس شخص کا باپ مر گیا اُس نے کسی کی نسبت یہ اقرار کیا کہ یہ میرا بھائی ہے تو اگرچہ مقرلہ کا نسب ثابت نہیں ہو گا مگر مقر کے حصہ میں وہ برابرکا شریک ہو گا اور اگر کسی عورت کو اس نے بہن کہا ہے تو وہ اس کے حصہ میں ایک تہائی(7) کی حقدار ہو جائے گی۔ (8)(بحر)
مسئلہ ۹: ایک شخص مر گیا اُس نے ایک پھوپی چھوڑی اس پھوپی نے یہ اقرار کیا کہ میرا جو بھتیجا مر گیا ہے فلاں شخص اُس کا بھائی یا چچا ہے تو اس پھوپی کو کچھ ترکہ نہیں ملے گا بلکہ کُل مال اُسی مقرلہ کو ملے گا کیونکہ جو عورت صورتِ مذکورہ میں وارث تھی اُس نے اپنے سے مقدم دوسرے کو وارث قرار دیا۔(9) (ردالمحتار)
1 ۔کھانے ،پینے وغیرہ کے اخراجات۔ 2 ۔پرورش۔
3 ۔یعنی قریبی رشتہ دار۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۴۹.
5 ۔یعنی اقرارِنسب کا بوجھ دوسرے پر پڑتا ہو۔
6 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۳.
7 ۔تیسراحصہ۔
8 ۔''البحر الرائق''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۷،ص۴۳۳.
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،ج۸،ص۴۵۱.
مسئلہ۱: اقرار اگرچہ حجت قاصرہ ہے کہ اس کا اثر صرف مقر پر پڑتا ہے دوسرے پر نہیں ہوتا مگر بعض صورتیں ایسی ہیں کہ اقرار سے دوسرے کو بھی نقصان پہنچ جاتا ہے۔1 حرہ مکلفہ(1) نے دوسرے کے دَین کا اقرارکیا مگر اُس کا شوہر تکذیب کرتا ہے کہتا ہے کہ جھوٹ کہتی ہے عورت کا اقرار شوہر کے حق میں بھی صحیح ہے یعنی اس اقرار کا اثر اگر شوہر پر پڑے اور اُس کو ضرر ہو جب بھی صحیح مانا جائے گا مثلاً اگرادا نہ کرنے کی وجہ سے عورت کو قید کرنے کی ضرورت ہو گی قید کی جائے گی اگرچہ اس میں شوہر کا ضرر ہے۔2 يوہيں اگر موجر(2) نے دَین کا اقرار کیا جس کی ادائیگی کی کوئی صورت معلوم نہیں ہوتی سوا اس کے جو چیز کرایہ پر دی ہے بیع کر دی جائے اُس کا بیچنا جائز ہے اگرچہ مستاجر(3) کو ضرر ہے۔3مجہولۃ النسب عورت نے اقرار کیا کہ میں اپنے شوہر کے باپ کی بیٹی ہوں اور شوہر کے باپ نے بھی اسکی تصدیق کر دی نکاح فسخ ہو گیا۔4 عورت نے باندی(4) ہونے کا اقرار کیا اس اقرار کے بعد شوہر نے اُسے دو طلاقیں دیں بائن ہو گئیں شوہر کو رجعت کرنے کا حق نہیں ہے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۲: عورت مجہولۃ النسب نے اپنے کنیز ہونے کا اقرار کیا کہ میں فلاں شخص کی لونڈی ہوں اور اس شخص مقرلہ نے بھی اسکی تصدیق کی وہ عورت شوہر والی ہے اور اوس شوہر سے اولادیں بھی ہیں شوہر نے عورت کی تکذیب کی اس صورت میں خاص عورت کے حق میں اقرار صحیح ہے لہٰذا اس اقرار کے بعد عورت کے جو بچے ہوں گے وہ رقیق(6) ہوں گے اور شوہر کے حق میں اقرار صحیح نہیں لہٰذا نکاح باطل نہیں ہو گا اور اولاد کے حق میں بھی اقرار صحیح نہیں لہٰذا وہ پہلے کی سب اولادیں آزاد ہیں بلکہ وقت اقرار میں جو پیٹ میں بچہ موجود تھا وہ بھی آزاد۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۳: مجہول النسب نے اپنے غلام کو آزاد کیا اس کے بعد یہ اقرار کیا کہ میں فلاں کا غلام ہوں اور اُس مقرلہ نے بھی تصدیق کی یہ اقرار فقط اُس کی ذات کے حق میں صحیح ہے غلام کو جو آزاد کر چکا ہے یہ عتق باطل نہیں ہو گا۔ اور وہ آزاد کردہ غلام مرجائے اور کوئی وارث ہو جو پورے ترکہ کو لے سکتا ہے تو وہ لے گا اور ایسا وارث نہ ہو تو اگر بالکل وارث نہ ہو توکُل ترکہ مقرلہ لے
1 ۔یعنی وہ آزاد،مسلمان عورت جس پرشرعی احکام نافذہوں۔ 2 ۔اجرت پر دینے والا ۔
3 ۔اُجرت پرلینے والا،کرائے دار۔ 4 ۔لونڈی۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،فصل فی مسائل شتی،ج۸،ص۴۵۲.
6 ۔غلام۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،فصل فی مسائل شتی،ج۸،ص۴۵۳،۴۵۴.
گا اور اگر وارث ہے مگر پورے ترکہ کو نہیں لے سکتا تو اُس کے لینے کے بعد جو کچھ بچا وہ مقرلہ لے گا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۴: ایک شخص نے دوسرے سے کہا تمھارے ذمہ میرے ہزار روپے ہیں دوسرے نے کہا ٹھیک ہے یا سچ ہے یا یقیناً ہے یہ اُس بات کا جواب ہے یعنی اس نے اُس کے ہزار روپے کا اقرار کر لیا۔ (2)(درر، غرر) اسی طرح اگر کہا بجا ہے درست ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۵: اپنی کنیز (4)سے کہا اے چوٹٹی،اے زانیہ، اے پاگل یا کہا اس چوٹٹی نے ایسا کیا پھر اس کنیز کو بیچا خریدار نے ان عیوب میں سے کوئی عیب پایا اور اسے پتہ چل گیا کہ بائع نے کسی موقع پر ایسا کہا تھا تو وہ قول عیب کا اقرار قرار دے کر لونڈی کو واپس نہیں کر سکتا کہ وہ الفاظ ندا ہیں یا گالی اون سے مقصود یہ نہیں کہ وہ ایسی ہی ہے اور اگر مالک نے یہ کہاہے کہ یہ چوٹٹی ہے یا زانیہ ہے یا پاگل ہے تو مشتری واپس کر سکتا ہے کہ یہ اقرار ہے۔ (5)(درر، غرر) اکثر گاؤں والے یا تانگے والے جانوروں کو ایسے عیوب کے ساتھ پکارتے ہیں جن کی وجہ سے اون کو واپس کیا جا سکتا ہے وہاں بھی وہی صورت ہے کہ اگر اون الفاظ سے گالی دینا مقصود ہو تاہے یا پکارنا مقصود ہوتا ہے تو عیب کا اقرار نہیں اور اگر خبر دینا مقصود ہوتا ہے تو اقرار ہے اور مشتری واپس کر سکتا ہے۔
مسئلہ ۶: مقر نے اقرار کیا اور مقر لہ نے کہہ دیا یہ جھوٹا ہے تو وہ اقرار باطل ہو گیا کیونکہ مقرلہ کے رد کر دینے سے اقرار رد ہو جاتا ہے مگر چند ایسے اقرار ہیں کہ رد کرنے سے رد نہیں ہوتے۔1 غلام کی حریت کا اقرار یعنی اس کے پاس غلام ہے جس کی نسبت یہ اقرار کیا کہ یہ آزاد ہے غلام کہتا ہے میں آزاد نہیں ہوں اب بھی وہ آزاد ہے۔2 نسب یعنی کسی شخص کی نسبت کہا یہ میرا بیٹا ہے اُس نے کہا اس کا بیٹا نہیں ہوں وہ اقرار رد نہیں ہوا یعنی اس کے بعد بھی اگر کہہ دے گا کہ میں اُس کابیٹا ہوں نسب ثابت ہو جائے گا۔3وقف مثلاً ایک شخص کے پاس زمین ہے اس نے کہا یہ زمین ان دونوں آدمیوں پر وقف ہے ان کے بعد انکی اولاد ونسل پر ہمیشہ کے ليے اور اون میں کوئی نہ رہے تو مساکین پر اُن دونوں میں سے ایک نے تصدیق کی اور ایک نے تکذیب اس صورت میں نصف آمدنی تصدیق کرنے والے کوملے گی اور نصف مساکین کو اس کے بعد اُس منکر نے انکار سے رجوع کرکے تصدیق کی تو اس کے حصہ کی آدھی آمدنی اسے ملنے لگے گی۔ 4 طلاق 5 عتاق 6 میراث یعنی ایک شخص کے ليے وراثت کا
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،فصل فی مسائل شتی،ج۸،ص۴۵۴.
2 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،فصل،الجزء الثانی،ص۳۷۰.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،فصل فی مسائل شتی،ج۸،ص۴۵۴.
4 ۔لونڈی۔
5 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،فصل،الجزء الثانی،ص۳۷۰.
اقرار کیا تھا اُس نے تکذیب کر دی ا س کے بعد اگر تصدیق کریگا وراثت کا مستحق ہو جائے گا۔ 7 رقیت ایک شخص نے اقرار کیا کہ میں تیرا غلام ہوں اُس نے کہا غلط ہے پھر تصدیق کر کے اُسے غلام بنا سکتا ہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۷: جو کچھ ترکہ وصی کے ہاتھ میں تھا وہ سب میت کی اولاد کو وصی نے دیدیا اور اُس نے یہ کہہ دیا کہ میں نے کل ترکہ وصول پایا میرے والد کے ترکہ میں کوئی چیز ایسی نہیں رہ گئی ہے جس کو میں نے پا نہ لیا ہو اس کے بعد پھر وصی پر کسی چیز کے متعلق دعویٰ کیا کہ یہ میرے باپ کا ترکہ ہے اور اس کو گواہوں سے ثابت کیا یہ دعویٰ سُنا جائے گا۔ يوہيں اگر وارث نے یہ کہہ دیا کہ میرے والد کا جن جن لوگوں پر مطالبہ تھا سب میں نے وصول پایا اس کے بعد ایک شخص پر دعویٰ کیا کہ میرے والد کا اس پر اتنا دَین ہے یہ دعویٰ سُنا جائے گا۔ يوہيں وصی سے کسی وارث نے صلح کر لی یعنی ترکہ میں اتنی چیزیں ہیں ان میں سے اتنی چیزیں مجھے دی جائیں اور اس کے بعد میرا کوئی حق ترکہ میں باقی نہیں رہے گا اس صلح کے بعد وصی کے ہاتھ میں ایک ایسی چیز دیکھی جو صلح کے وقت ظاہر نہیں کی گئی تھی اُس میں بقدر اپنے حصہ کے دعویٰ کر سکتا ہے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸ : دخول(3)کے بعد یہ ا قرار کیا کہ میں نے اس عورت کو دخول سے قبل طلاق دے دی تھی پورا مَہر دخول کی وجہ سے اُس کے ذمہ ہے اور نصف مَہر اس اقرار کی وجہ سے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۹ : وقف کی آمدنی جس کے ليے تھی وہ کہتا ہے اس آمدنی کا مستحق (5)فلاں شخص ہے میں نہیں ہوں یہ اقرار صحیح ہے یعنی اس کو آمدنی اب نہیں ملے گی اگرچہ وقف نامہ میں اسی کے ليے ہے مگر یہ بات اسی تک محدود ہے اس کے مرنے کے بعد حسبِ شرائط وقف نامہ اسکی اولاد پر تقسیم ہو گی۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰ : یہ اقرار کیا کہ ہم نے فلاں کے ہزار روپے غصب کیے پھر یہ کہتا ہے ہم دس شخص تھے اور مالک یہ کہتا ہے کہ تنہا یہی تھا اسی کو پورے ہزار روپے دینے ہوں گے کیونکہ یہ لفظ (ہم) ایک کے ليے بھی بولا جاتا ہے ہاں اگر یہ کہتا کہ ہم سب
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،فصل فی مسائل شتی،ج۸،ص۴۵۵،۴۵۶.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،فصل فی مسائل شتی،ج۸،ص۴۵۷.
3 ۔مجامعت،ہمبستری،جماع،وطی۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،فصل فی مسائل شتی،ج۸،ص۴۵۹،۴۶۰.
5 ۔حقدار۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،فصل فی مسائل شتی،ج۸،ص۴۶۰.
نے اس کے ہزار روپے غصب کیے اور پھر کہتا کہ ہم دس شخص تھے تو بیشک اس سے ایک ہی سو لیا جاتا کہ اس نے پہلے ہی سے بتا دیا کہ میں تنہا نہ تھا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۱ : ایک چیز کا اقرار کر کے کہتا ہے مجھ سے غلطی ہو گئی یعنی کچھ کا کچھ کہہ گیا یہ بات قبول نہیں کی جائے گی مگرمفتی نے اگر طلاق کا حکم دیا تھا اس بنا پر اس نے طلاق کا اقرار کیا بعد میں معلوم ہوا کہ اُس مفتی نے غلط فتویٰ دیا تھا یہ کہتا ہے کہ اُس غلط فتوے کی بنا پر میں نے غلط اقرار کیا یہ دیانۃً مسموع ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: ایک شخص نے کہا میرے والد نے ثلث مال(3) کی زید کے ليے وصیّت کی بلکہ عمرو کے ليے بلکہ بکر کے ليے تو وصیت زید کے ليے ہے عمرو و بکر کے ليے کچھ نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: ایک شخص نے اقرار کیا کہ میں نے فلاں شخص کے ليے ہزار روپے کا اپنی نابالغی میں اقرار کیا تھا وہ یہ کہتا ہے کہ حالتِ بلوغ میں اقرار کیا تھا اس صورت میں قسم کے ساتھ مقر (5)کا قول معتبر ہے اور اگر یہ کہتا ہے کہ سر سام(6) کی حالت میں میں نے اقرار کیا تھا جب میری عقل جاتی رہی تھی اگر معلوم ہو کہ اسے سرسام ہوا تھا جب تو کچھ نہیں ورنہ ہزار دینے ہوں گے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مرد کہتا ہے میں نے نابالغی میں تجھ سے نکاح کیا تھا عورت کہتی ہے مجھ سے جب تم نے نکاح کیا تھا تم بالغ تھے اس میں مرد کا قول معتبر ہے اور اگر مرد یہ کہتا ہے کہ میں نے جب نکاح کیا تھا مجوسی تھا عورت کہتی ہے مسلمان تھے اس میں عورت کا قول معتبر ہے۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ۱۵: دو شخصوں میں شرکت مفاوضہ ہے ان میں سے ایک نے یہ اقرار کیا کہ میرے ساتھی کے ذمہ شرکت سے پہلے کے فلاں شخص کے اتنے روپے ہیں اور ساتھی اس سے انکار کرتا ہے اور طالب(9) یہ کہتا ہے کہ وہ دَین زمانہ شرکت کا ہے تو دَین دونوں شریکوں پر لازم ہو گا اور اگر یہ اقرار کیا کہ یہ دَین شرکت سے پہلے کا ہے اور مجھ پر ہے شریک پر نہیں اور طالب کہتا ہے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،فصل فی مسائل شتی،ج۸،ص۴۶۱.
2 ۔المرجع السابق،۴۶۲.
3 ۔تہائی مال۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الإقرار،باب إقرارالمریض،فصل فی مسائل شتی،ج۸،ص۴۶۱.
5 ۔اقرار کرنے والا۔ 6 ۔ایک بیماری جس سے دماغ میں ورم آجاتاہے۔
7 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب الثانی عشر فی اسناد الإقرار...إلخ،ج۴،ص۱۹۸.
8 ۔المرجع السابق.
9 ۔مطالبہ کرنے والایعنی قرض دینے والا۔
زمانہ شرکت کا دَین ہے اس صورت میں بھی دونوں پر لازم ہوگا اور اگر تینوں اس امر پر متفق ہیں کہ شرکت سے قبل کا دَین ہے تواُسی کے ذمہ دَین قرار پائے گا جس نے لیا ہے دوسرے سے کوئی تعلق نہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: یہ کہا کہ اس چیز میں فلاں کی شرکت ہے یا یہ چیز میرے اور فلاں کے مابین مشترک ہے یا یہ چیز میری اورفلاں کی ہے ان سب صورتوں میں دونوں نصف نصف کے شریک مانے جائیں گے اور اگر اقرار میں شریک کا حصہ بھی بتادے مثلاً وہ تہائی یا چوتھائی کا شریک ہے تو جتنا اُس کا حصہ بتایا اُتنے ہی کی شرکت کا اقرار ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: یہ کہا کہ میرا کوئی حق فلاں کی جانب نہیں اس کہنے سے وہ شخص تمام ہی حقوق سے بری ہو گیا یعنی حقوق مالیہ اور غیر مالیہ دونوں سے براءَ ت ہو گئی۔ غیر مالیہ مثلاً کفالت بِالنفس (3)قصاص حد قذف۔ حقوق مالیہ خواہ دَین ہوں جو مال کے بدلے میں واجب ہوئے ہوں مثلاً ثمن، اُجرت یا غیر مال کے بدلے میں ہوں مثلاً مَہر۔ جنایت کی دیت اور حقوق مالیہ خواہ عین مضمونہ ہوں جیسے غصب یا امانت ہوں مثلاً ودیعت، عاریت، اجارہ بالجملہ اس کہنے کے بعد اب وہ کسی حق کا مطالبہ نہیں کرسکتا اور اگر یہ لفظ کہا کہ فلاں پر میرا کوئی حق نہیں تو صرف مضمون کا اقرار ہے امانت سے براءَت نہیں اور اگر یہ کہا کہ فلاں کے پاس میرا کوئی حق نہیں یہ امانت سے براء ت ہے صرف شے مضمون سے براء ت نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: ایک شخص نے دو گواہوں سے مدعیٰ علیہ (5)کے ذمہ ہزار روپے ثابت کیے اور مدعیٰ علیہ نے یہ گواہ پیش کیے کہ مدعی نے ہزار روپے اس سے معاف کر دیے ہیں اسکی چند صورتیں ہیں اگر وجوب مال کی تاریخ ہو(6) اور براءَ ت (معافی) کی بھی تاریخ ہو اور تاریخ معافی بعد میں ہو معافی کا حکم دیا جائے گا اوراگر دستاویز کی تاریخ بعد میں ہے اور معافی کی پہلے ہو تو وجوب مال کا حکم دیا جائے گا اور اگر دونوں کی تاریخ نہ ہو یا دستاویز کی تاریخ ہو معافی کی نہ ہو یا معافی کی ہو مال کی نہ ہوان سب صورتوں میں معافی کا حکم دیا جائے گا۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب الثانی عشر فی اسناد الإقرار...إلخ،ج۴،ص۲۰۰.
2 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب الثالث عشر فیمایکون إقراراًبالشرکۃ...إلخ،ج۴،ص۲۰۰.
3 ۔یعنی جس شخص کے ذمہ مطالبہ ہے اسے حاضرکرنے کی ضمانت دینا۔
4 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب الرابع عشر فیمایکون إقراراًبالإبرائ...إلخ،ج۴،ص۲۰۴.
5 ۔جس پر دعویٰ کیا گیا۔ 6 ۔یعنی اگرمال کے لازم ہونے کی تاریخ ہو۔
7 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الإقرار،الباب الرابع عشر فیمایکون إقراراًبالإبرائ...إلخ،ج۴،ص۲۰۵.
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(1) لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجْوٰىہُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوۡفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیۡنَ النَّاسِ ؕ
''اُن کی بہتیری سرگوشیوں میں بھلائی نہیں ہے مگر اُس کی سرگوشی جوصدقہ یا اچھی بات یا لوگوں کے مابین صلح کا حکم کرے۔''
اور فرماتا ہے:
(2) وَ اِنِ امْرَاَ ۃٌ خَافَتْ مِنۡۢ بَعْلِہَا نُشُوۡزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یُّصْلِحَا بَیۡنَہُمَا صُلْحًا ؕ وَالصُّلْحُ خَیۡرٌ ؕ
''اگر کسی عورت کو اپنے خاوند سے بد خلقی اور بے توجہی کا اندیشہ ہو تو اُن دونوں پر یہ گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح اچھی چیز ہے۔''
اور فرماتا ہے:
وَ اِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اقْتَتَلُوۡا فَاَصْلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ فَاِنۡۢ بَغَتْ اِحْدٰىہُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیۡ تَبْغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمْرِ اللہِ ۚ فَاِنۡ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوۡا ؕ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیۡنَ ﴿۹﴾
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوۡا بَیۡنَ اَخَوَیۡکُمْ ۚ وَ اتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾(3)
''اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ لڑ جائیں تو اُن میں صلح کرا دو پھر اگر ایک گروہ دوسرے پر بغاوت کرے تو اُس بغاوت کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اﷲ کے حکم کی طرف لوٹ آئے پھر جب وہ لوٹ آیا تو دونوں میں عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو بیشک انصاف کرنے والوں کو اﷲ دوست رکھتا ہے۔ مسلمان بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کراؤ اور اﷲ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔''
حدیث ۱: صحیح بخاری شریف میں سہل بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہتے ہیں کہ بنی عمر وبن عوف کے مابین کچھ مناقشہ (4)تھا نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم چند اصحاب کے ساتھ اُن میں صلح کرانے کے ليے تشریف لے گئے تھے نماز کا وقت آگیا
1 ۔پ۵،النسآء:۱۱۴.
2 ۔پ۵،النسآ:۱۲۸.
3 ۔پ۲۶،الحجرٰت:۹،۱۰.
4 ۔اختلاف،جھگڑا۔
اور حضور ( صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) تشریف نہیں لائے حضرت بلال (رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)نے اذان کہی اور اب بھی تشریف نہیں لائے حضرت بلال نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے پاس آکر یہ کہا حضور ( صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم)وہاں رُک گئے اور نمازطیار ہے کیاآپ امامت کریں گے فرمایا اگر تم کہو تو پڑھا دوں گا حضرت بلال(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) نے اقامت کہی اور حضرت ابوبکر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)آگے آگئے کچھ دیر بعد حضور( صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم)تشریف لائے اور صفوں سے گزر کر صف اول میں تشریف لے جا کر قیام فرمایا لوگوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارنا شروع کیا حضرت ابوبکر(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) ادہر متوجہ ہوں مگر وہ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو کسی طرف متوجہ نہ ہوتے مگر جب لوگوں نے بکثرت ہاتھ پر ہاتھ مارنا شروع کیاکہ حضرت ابوبکر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)نے ادہر توجہ کی دیکھا کہ حضور( صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) ان کے پیچھے تشریف فرما ہیں حضور( صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) کے ليے آگے تشریف لے جانے کا اشارہ کیا حضور ( صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم)نے فرمایا کہ تم نماز جیسے پڑھا رہے ہو پڑھاؤ حضرت ابوبکر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) نے ہاتھ اٹھا کراللہ (عزوجل) کی حمد کی اور اُلٹے پاؤں چل کر صف میں شامل ہو گئے۔ حضور( صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) آگے بڑھے اور نماز پڑھائی نماز سے فارغ ہو کر لوگوں سے فرمایا :''اے لوگو! نماز میں کوئی بات پیش آجائے تو تم نے ہاتھ پر ہاتھ مارنا شروع کر دیا یہ کام عورتوں کے ليے ہے اگر کوئی چیز نماز میں کسی کو پیش آجائے تو سُبْحٰنَ اللہ سُبْحٰنَ اللہ کہے امام جب اس کو سُنے گامتوجہ ہو جائے گا۔ اور ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا، اے ابوبکر جب میں نے اشارہ کر دیا تھا پھر تمہیں نماز پڑھانے سے کون سا امر مانع آیا عرض کی ابو قحافہ کے بیٹے (ابوبکر) کو یہ سزاوار نہیں(1) کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم کے آگے نماز پڑھے (امام بنے)۔ (2)
حدیث ۲: صحیح بخاری میں ام کلثوم بنت عقبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم فرماتے ہیں:'' وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے کہ اچھی بات پہنچاتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے''۔(3)
حدیث ۳: بخاری شریف وغیرہ میں مروی حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم حضرت امام حسن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:'' میرا یہ بیٹا سردار ہے اﷲ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرادے گا''۔(4)
حدیث ۴: صحیح بخاری میں ام المومنین عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم نے دروازہ پر جھگڑا
1 ۔مناسب نہیں،لائق نہیں۔
2 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الصلح، باب ماجاء في الاصلاح بین الناس،الحدیث:۲۶۹۰،ج۲،ص۲۰۹.
3 ۔المرجع السابق،باب لیس الکاذب... إلخ، الحدیث: ۲۶۹۲،ج۲،ص۲۱۰.
4 ۔المرجع السابق، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم للحسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ... إلخ، الحدیث:۲۷۰۴،ج۲،ص۲۱۴.
کرنے والوں کی آواز سنی اُن میں ایک دوسرے سے کچھ معاف کرانا چاہتا تھا اور اُس سے آسانی کرنے کی خواہش کرتا تھا اوردوسرا کہتا تھا خدا کی قسم ایسا نہیں کروں گا۔ حضور( صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) باہر تشریف لائے فرمایا کہاں ہے وہ جو اﷲ کی قسم کھاتا ہے کہ نیک کام نہیں کریگا اُس نے عرض کی میں حاضر ہوں یارسول اﷲ ( عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم)وہ جو چاہے مجھے منظور ہے۔(1)
حدیث ۵: صحیح بخاری میں ہے کعب بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ابن ابی حَدْرَدْ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر میرا دَین تھا میں نے تقاضا کیا اس میں دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں کہ حضور( صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) نے کاشانہ اقدس میں ان کی آوازیں سنیں، تشریف لائے اور حجرہ کا پردہ ہٹا کر کعب بن مالک کو پکارا عرض کی لبیک یارسول اﷲ( عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم)! حضور( صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم) نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آدھا دَین معاف کر دو کعب نے کہا میں نے معاف کیا دوسرے صاحب سے فرمایا :''اب تم اٹھو اور ادا کر دو''۔ (2)
حدیث ۶: صحیح مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا:'' ایک شخص نے دوسرے سے زمین خریدی مشتری کو اُس زمین میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا اس نے بائع سے کہا یہ سونا تم لے لو کیوں کہ میں نے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا ہے بائع نے کہا میں نے زمین اور جو کچھ زمین میں تھا سب کو بیع کر دیا ان دونوں نے یہ مقدمہ ایک شخص کے پاس پیش کیا اُس حاکم نے دریافت کیا تم دونوں کی اولادیں ہیں ایک نے کہا میرے لڑکا ہے دوسرے نے کہا میری ایک لڑکی ہے حاکم نے کہا ان دونوں کا نکاح آپس میں کر دو اور یہ سونا اُن پر خرچ کر دو اور مَہر میں دے دو۔(3)
حدیث ۷: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ''مسلمانوں کے مابین ہر صلح جائز ہے مگر وہ صلح کہ حرام کو حلال کر دے یا حلال کو حرام کر دے''۔(4)
نزاع(5) دور کرنے کے ليے جو عقد کیا جائے اُس کو صلح کہتے ہیں۔ وہ حق جو باعث نزاع تھا اوس کو مصالح عنہ اورجس پرصلح ہوئی اُس کو بدل صلح اور مصالح علیہ کہتے ہیں۔ صلح میں ایجاب ضروری ہے اور معین چیز میں قبول بھی ضروری ہے
1 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الصلح، باب ھل یشیر الإمام بالصلح، الحدیث: ۲۷۰۵،ج۲،ص۲۱۴.
2 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الصلح،باب الصلح بالدَّین والعَین، الحدیث: ۲۷۱۰،ج۲،ص۲۱۶.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الاقضیۃ،باب استحباب اصلاح الحاکم بین الخصمین،الحدیث:۲۱۔(۱۷۲۱)،ص۹۴۷.
4 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الأقضیۃ، باب في الصلح، الحدیث: ۳۵۹۴،ج۳،ص۴۲۵.
5 ۔اختلاف،جھگڑا۔
اورغیر معین میں قبول ضروری نہیں۔ مثلاً مدعی نے معین چیز کا دعویٰ کیا مدعی علیہ نے کہا اتنے روپے پر اس معاملہ میں مجھ سے صلح کرلومدعی نے کہا میں نے کی جب تک مدعیٰ علیہ قبول نہ کرے صلح نہیں ہو گی۔ اور اگر روپے اشرفی کا دعویٰ ہے اور صلح کسی دوسری جنس پر ہوئی تو اس میں بھی قبول ضرور ہے کہ یہ صلح بیع کے حکم میں ہے اور بیع میں قبول ضروری ہے اور اُسی جنس پر ہوئی مثلاً سو روپے کادعویٰ تھا پچاس پر صلح ہوئی یہ جائز ہے اگرچہ مدعیٰ علیہ نے یہ نہیں کہا کہ میں نے قبول کیا یعنی پہلے مدعیٰ علیہ نے صلح کو خود کہا کہ اتنے میں صلح کر لو اس کے بعد مدعی نے کہا کہ میں نے کی صلح ہو گئی اگرچہ مدعیٰ علیہ نے قبول نہ کیا ہو کہ یہ اسقاط ہے یعنی اپنے حق کو چھوڑ دینا۔ (1)(عالمگیری، درمختار)
صلح کے ليے شرائط حسبِ ذیل ہیں۔
(۱) عاقل ہونا۔ بالغ اور آزاد ہونا شرط نہیں لہٰذا نابالغ کی صلح بھی جائز ہے جب کہ اُس کی صلح میں کھلا ہوا ضرر (2)نہ ہو۔ غلام ماذون اور مکاتب کی صلح بھی جائز ہے جب کہ اس میں نفع ہو۔ نشہ والے کی صلح بھی جائزہے۔
(۲) مصالح علیہ کے قبضہ کرنے کی ضرورت ہو تو اس کا معلوم ہونا مثلاً اتنے روپے پر صلح ہوئی یا مدعیٰ علیہ فلاں چیز مدعی کو دیدے گا اور اگر اُس کے قبضہ کی ضرورت نہ ہو تو معلوم ہونا شرط نہیں مثلاً ایک شخص نے دوسرے کے مکان میں ایک حق کا دعویٰ کیا تھا کہ میرا اس میں کچھ حصہ ہے دوسرے نے اُس کی زمین کے متعلق دعویٰ کیا کہ میرا اس میں کچھ حق ہے اور صلح یوں ہوئی کہ دونوں اپنے اپنے دعوے سے دست بردار ہو جائیں۔
(۳) مصالح عنہ کا عوض لینا جائز ہو یعنی مصالح عنہ مصالح کا حق ہو اپنے محل میں ثابت ہو عام ازیں کہ مصالح عنہ مال ہو یا غیر مال مثلاً قصاص و تعزیر جب کہ تعزیر حق العبد(3) کی وجہ سے ہو اور اگر حق اﷲ کی وجہ سے ہو تو اس کا عوض لینا جائز نہیں مثلاًکسی اجنبیہ(4) کا بوسہ لیا اور کچھ دے کر صلح کر لی یہ جائز نہیں۔ اور اگر مصالح عنہ کے عوض میں کچھ لینا جائز نہ ہو تو صلح جائز نہیں مثلاًحق شفعہ کے بدلے میں شفیع کا کچھ لے کر صلح کر لینا یا کسی نے زِنا کی تہمت لگائی تھی اور کچھ مال لے کر صلح ہو گئی یا زانی اور چور یا شراب خوار کو پکڑا تھا اُس نے کہا مجھے حاکم کے پاس پیش نہ کرو اور کچھ لے کر چھوڑ دیا یہ ناجائز ہے۔ کفالت بِالنفس(5) میں مکفول عنہ نے کفیل(6) سے مال لے کر صلح کر لی۔ یہ صُلحيں تو ناجائز ہی ہیں اس صلح سے شفعہ بھی باطل ہو جائے گا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الاول فی تفسیرہ شرعاً...إلخ،ج۴،ص۲۲۸،۲۲۹.
و''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص ۴۶۶.
2 ۔نقصان۔ 3 ۔بندے کا حق۔ 4 ۔غیرمحرم عورت۔
5 ۔جس شخص پر مطالبہ ہو اس کوحاضر کرنے کی ذمہ داری لے لینا۔ 6 ۔ضامن،ذمہ دار۔
اورکفالت بھی جاتی رہی اسی طرح حد قذف بھی اگر قاضی کے یہاں پیش کرنے سے پہلے صلح ہو گئی۔ حد زنا اور حد شرب خمر میں بھی صلح اگرچہ ناجائز ہے مگر صلح کی وجہ سے حد باطل نہیں ہوتی۔ چور نے مکان سے مال نکال لیا اس نے پکڑا چور نے کسی اپنے مال کے عوض میں مصالحت کی یہ صلح ناجائز ہے مال دینا چور پر واجب نہیں اور چوری کا مال چور نے وا پس دیدیا ہے تومقدمہ بھی نہیں چل سکتا اور اگر چور کو قاضی کے پاس پیش کرنے کے بعد مصالحت کی اور اُسے معاف کر دیا تو معافی صحیح نہیں اور اگر اُس کو مال ہبہ کر دیا تو حد سرقہ یعنی ہاتھ کاٹنا اب نہیں ہو سکتا۔ گواہ سے مصالحت کر لی کہ گواہی نہ دے یہ صلح باطل ہے۔ (1)(درمختار وغيرہ)
(۴) نابالغ کی طرف سے کسی نے صلح کی تو اس صلح میں نابالغ کا کھلا ہوا نقصان نہ ہو مثلاً نابالغ پر دعویٰ تھا اُس کے باپ نے صلح کی اگر مدعی کے پاس گواہ تھے اور اوتنے ہی پر مصالحت ہوئی جتنا حق تھا یا کچھ زیادہ پر تو صلح جائز ہے اور غبن فاحش پر صلح ہوئی یا مدعی کے پاس گواہ نہ تھے تو صلح ناجائز ہے اور اگر باپ نے اپنا مال دے کر صلح کی ہے تو بہرحال جائز ہے کہ اس میں نابالغ کا کچھ نقصان نہیں۔
(۵) نابالغ کی طرف سے صلح کرنے والا وہ شخص ہو جو اُس کے مال میں تصُّرف کر سکتا ہو(2) مثلاً باپ دادا وصی۔
(۶) بدل صلح مال متقوم ہو اگر مسلمان نے شراب کے بدلے میں صلح کی یہ صلح صحیح نہیں۔(3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ۱: بدل صلح کبھی مال ہوتا ہے اور کبھی منفعت مثلاً مدعی علیہ نے اس پر صلح کی کہ میرا غلام مدعی کی سال بھر خدمت کریگایا وہ میری زمین میں ایک سال کاشت کریگا یا میرے مکان میں اتنے دنوں رہے گا۔ (4)(درر، غرر)
مسئلہ ۲: صلح کا حکم یہ ہے کہ مدعیٰ علیہ دعویٰ سے بری ہو جائے گا اور مصالح علیہ مدعی کی مِلک ہو جائے گا چاہے مدعی علیہ حقِ مدعی سے منکِرہو یا اِقراری ہو اور مصالح عنہ مِلکِ مدعیٰ علیہ ہو جائے گا اگر مدعی علیہ اقراری تھابشرطیکہ وہ قابلِ تملیک بھی ہو یعنی مال ہو اور اگر وہ قابلِ مِلک ہی نہ ہو مثلاً قصاص یا مدعی علیہ اس امر سے انکاری تھا کہ یہ حقِ مدعی ہے تو ان دونوں صورتوں میں مدعی علیہ کے حق میں فقط دعوے سے براءَ ت ہو گی۔ (5)(درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص ۴۶۶۔۴۶۸،وغیرہ.
2 ۔عمل دخل، یعنی اخراجات وغیرہ میں استعمال کرسکتاہو۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص ۴۶۶،وغیرہ.
4 ۔''دررالحکام''و''غررالاحکام''،کتاب الصلح،الجزء الثانی،ص۳۹۶.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص ۴۶۸.
مسئلہ ۳: صلح کی تین صورتیں ہیں کبھی یوں ہوتی ہے کہ مدعیٰ علیہ حق مدعی کا مقر ہوتا ہے اور کبھی یوں کہ منکر تھا اور کبھی یوں کہ اُس نے سکوت کیا تھا اقرار انکار کچھ نہیں کیا تھا۔ پہلی قسم یعنی اقرار کے بعد صلح، اس کی چند صورتیں ہیں اگر مال کا دعویٰ تھا اور مال پر صلح ہوئی تو یہ صلح بیع کے حکم میں ہے۔ اس صلح پر بیع کے تمام احکام جاری ہوں گے مثلاً مکان وغیرہ جائداد غیر منقولہ پر صلح ہوئی یعنی مدعیٰ علیہ نے یہ چیزیں دے دیں تو اس میں شفیع کو شفعہ کرنے کا حق حاصل ہو گا اور اگر بدل صلح میں کوئی عیب ہو تو واپس کرنے کا حق ہے خیار رؤیت بھی ہے خیار شرط بھی ہو سکتا ہے اور مصالح علیہ یعنی بدل صلح مجہول ہے تو صلح فاسد ہے مصالح عنہ کا مجہول ہونا صلح کو فاسد نہیں کرتا کیونکہ اُس کو ساقط کرتا ہے اُسکی جہالت سبب نزاع نہیں ہو سکتی بدل صلح کی تسلیم پر قدرت بھی شرط ہے۔ مصالح عنہ یعنی جس کا دعویٰ تھا اگر اُس میں کسی نے اپنا حق ثابت کر دیا تو مدعی کو بدل صلح اُس کے عوض میں پھیرنا ہو گا(1) کل کا استحقاق ہوا کل پھیرنا ہو گا اور بعض کاہوا بعض پھیرنا ہو گا اور بدل صلح میں استحقاق ہو جائے تو اُس کے مقابل میں مدعی مصالح عنہ سے لے گا یعنی کل میں استحقاق ہوا تو کل لے گا اور بعض میں ہوا تو بعض یعنی بقدر حصہ۔(2) (متون)
مسئلہ ۴: جو صلح بیع کے حکم میں ہے اُس میں دو باتوں میں بیع کا حکم نہیں ہے۔1دَین کا دعویٰ کیا اور مدعیٰ علیہ اقراری تھا ایک غلام دے کر مصالحت ہوئی اور مدعی نے اس پر قبضہ کر لیا اس غلام کا مرابحہ و تولیہ اگر کرنا چاہے گا تو بیان کرنا ہو گا کہ مصالحت میں یہ غلام ہاتھ آیا ہے بغیر بیان جائز نہیں۔2 صلح کے بعد دونوں بالاتفاق یہ کہتے ہیں کہ دَین تھا ہی نہیں صلح باطل ہو جائے گی۔ جس طرح حق وصول پانے کے بعد بالاتفاق یہ کہتے ہیں کہ دَین تھا ہی نہیں جو کچھ لیا ہے دے دینا ہو گا اور اگر دَین کے بدلے میں کوئی چیز خریدی پھر دونوں یہ کہتے ہیں کہ دَین نہیں تھا تو خریداری باطل نہیں اور اگرہزار کا دعویٰ تھا اور دوسری چیز مثلاً غلام لے کر صلح کی پھر دونوں کہتے ہیں کہ دَین نہیں تھا تو مدعی کو اختیار ہے کہ غلام واپس کرے یا ہزار روپے دے۔(3)(عالمگیری، بحرالرائق)
مسئلہ ۵: بیع کے حکم میں اُس وقت ہے جب خلاف جنس پر مصالحت ہوئی مثلاً دعویٰ تھا روپے کا اور صلح ہوئی اشرفی یا
1 ۔ واپس کرنا ہوگا۔
2 ۔''تنویرالأبصار''،کتاب الصلح،ج۸،ص ۴۶۸.
و''الھدایۃ''،کتاب الصلح،ج۲،ص ۱۹۰.
و''کنزالدقائق''،کتاب الصلح،ص۳۳۲،۳۳۳.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثانی فی الصلح فی الدَّین...إلخ،ج۴،ص۲۳۲.
و''البحرالرائق''،کتاب الصلح،ج۷،ص۴۳۴،۴۳۵.
کسی اور چیز پر اور اگر اسی جنس پر مصالحت ہو جس کا دعویٰ تھا یعنی روپے کا دعویٰ تھا اور روپے ہی پر مصالحت ہوئی اور کم پر ہوئی یعنی سو کا دعویٰ تھا پچاس پر صلح ہوئی تو یہ ابرا ہے یعنی معاف کر دینا اور اگر اوتنے ہی پر صلح ہوئی جتنے کا دعویٰ تھا تو استیفا ہے یعنی اپنا حق وصول پا لیا اور اگر زیادہ پر صلح ہوئی تو ربا یعنی سود ہے۔(1) (بحرالرائق)
مسئلہ ۶: مال کا دعویٰ تھا اور روپے پر صلح ہوئی اور اسکی میعادیہ قرار پائی کہ کھیت کٹے گاتو روپیہ دیا جائے گا یعنی مدت مجہول ہے یہ صلح جائز نہیں کہ بیع میں مدت مجہول ہونا ناجائز ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۷: مال کا دعویٰ تھا اور منفعت پر مصالحت ہوئی یہ صلح اجارہ کے حکم میں ہے اور اس میں اجارہ کے احکام جاری ہوں گے اگر منفعت کی تعیین وقت سے ہوتی ہو تووقت بیان کرنا ضروری ہو گا مثلاً اس پر صلح ہوئی کہ مدعیٰ علیہ کا غلام مدعی کی خدمت کریگا یامدعی، مدعی علیہ کے مکان میں سکونت کریگا ایسی چیزوں میں وقت بیان کرنا ضرور ہو گا کیونکہ بغیر اس کے اجارہ صحیح نہیں اور اگر کوئی عمل معقود علیہ ہے تو وقت بیان کرنے کی ضرورت نہیں مثلاً اس پر صلح ہوئی کہ مدعیٰ علیہ مدعی کا یہ کپڑا رنگ دے گا۔ اور چونکہ یہ اجارہ کے حکم میں ہے لہٰذا اندرون مدت(3) اگر دونوں میں سے کوئی مر گیا صلح باطل ہو جائے گی يوہيں اندرون مدت محل(4)ہلاک ہو جائے جب بھی صلح باطل ہے مثلاً وہ غلام مر گیا جس کی خدمت بدل صلح تھی۔ (5)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۸: دعویٰ منفعت کا تھا اور صلح مال پر ہوئی مثلاً یہ دعویٰ تھا کہ میرے مکان کا پانی اس کے مکان سے ہو کر جاتا ہے یا میری چھت کا پانی اس کی چھت پر سے بہتا ہے یا اس نہر سے میرے کھیت کی آبپاشی ہوتی ہے اور مال لے کر صلح کر لی یا ایک قسم کی منفعت کا دعویٰ تھا دوسری قسم کی منفعت پر مصالحت ہوئی مثلاً دعویٰ تھا کہ یہ مکان میرے کرایہ میں ہے اتنے دنوں کے ليے اور صلح اس پر ہوئی کہ اتنے دن مدعی علیہ کا غلام مدعی کی خدمت کریگا یہ دونوں صورتیں بھی اجارہ کے حکم میں ہیں۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۹: انکار و سکوت کے بعد جو صلح ہوتی ہے وہ مدعی کے حق میں معاوضہ ہے یعنی جس چیز کا دعویٰ تھا اُس کا عوض پالیا اور مدعیٰ علیہ کے حق میں یہ بدل صلح یمین اور قسم کا فدیہ ہے یعنی اس کے ذمہ جو یمین تھی اُس کے فدیہ میں یہ مال دے دیا اور قطع نزاع ہے یعنی جھگڑے اور مقدمہ بازی کی مصیبتوں میں کون پڑے یہ مال دے کر جھگڑا کاٹنا ہے لہٰذا ان دونوں
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،ج۷،ص۴۳۴،۴۳۵.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص ۴۸۳.
3 ۔مدت کے اندر۔ 4 ۔محل یعنی وہ چیز جو بدل صلح ہے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص ۴۶۹،وغیرہ.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۷۰.
صورتوں میں اگر مکان کا دعویٰ تھا اور مدعی علیہ منکر یا ساکت تھا اور کوئی چیز دے کر مصالحت کی اس مدعیٰ علیہ پر شفعہ نہیں ہو سکتا کہ یہ صلح بیع کے حکم میں نہیں ہے بلکہ مدعیٰ علیہ کا خیال تو یہ ہے کہ یہ میرا ہی مکان تھا میں نے اس کو صلح کے ذریعہ سے اپنے پاس سے جانے نہ دیا اور مدعی کی خصومت(1) کومال کے ذریعہ سے دفع کر دیا پھر اس نے جب مکان خریدا نہیں ہے تو شفعہ کیسا اور مدعی کا یہ خیال کہ مکان میرا تھا مال لے کر دے دیا اس خیال کی پابندی مدعی علیہ کے ذمہ نہیں ہے تاکہ شفعہ کیا جا سکے۔ (2)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ۱۰: مکان پر صلح ہوئی یعنی مدعی نے کسی چیز کا دعویٰ کیا اور مدعیٰ علیہ نے انکار یا سکوت کے بعد اپنا مکان دے کر پیچھا چھوڑایا اُس سے صلح کر لی اس مکان پر شفعہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس صورت میں مکان مدعی کو ملتا ہے اور اس کا گمان یہ ہے کہ میں اس کو اپنے حق کے عوض میں لیتا ہوں لہٰذا اس کے لحاظ سے یہ صلح بیع کے معنی میں ہے تو اس پر شفعہ بھی ہو گا۔(3) (بحر)
مسئلہ۱۱: انکار یا سکوت کے بعد جو صلح ہوتی ہے اگر واقع میں مدعی کا غلط دعویٰ تھا جس کا مدعی کو بھی علم تھا تو صلح میں جوچیز ملی ہے اُس کا لینا جائز نہیں اور اگر مدعی علیہ جھوٹا ہے تو اس صلح سے وہ حق مدعی سے بری نہیں ہو گا یعنی صلح کے بعد قضاء ً توکچھ نہیں ہو سکتا دنیا کا مؤاخذہ ختم ہو گیا مگرآخرت کا مؤاخذہ باقی ہے مدعی کے حق ادا کرنے میں جو کمی رہ گئی ہے اوس کا مؤاخذہ ہے مگرجب کہ مدعی خود مابقی سے معافی دیدے۔ (4)(بحر) لہٰذا صلح ہونے کے بعد اگر حقوق سے اِبراومعافی ہو جائے تو مواخذہ اُخروی(5)سے بھی نجات ہو جائے عین کے علاوہ کیونکہ عین کا اِبرادرست نہیں۔
مسئلہ۱۲: جس چیز کا دعویٰ تھا بعد صلح کے اُس کا کوئی حق دار پیدا ہو گیا تو مدعی کو اُس مستحق(6) سے خصومت اور مقدمہ بازی کرنی ہو گی اور مستحق نے حق ثابت ہی کر دیا تو اُس کے عوض میں مدعی کو بدل صلح واپس کرنا ہو گا اور اگر بدل صلح میں کوئی دوسرا شخص حقدار نکلا اور اُس نے کل یا جز لے لیا تو مدعی پھر دعوے کی طرف رجوع کریگاکل میں کل کا دعویٰ بعض میں بعض کادعویٰ کر سکتا ہے ہاں اگر غیر متعین چیز یعنی روپے اشرفی کا دعویٰ تھا اور اسی پر مصالحت ہوئی یعنی جس چیز کا دعویٰ تھا اُسی جنس پر مصالحت ہوئی اور حقدار نے اپنا حق ثابت کر کے لے لیا تو صلح باطل نہیں ہو گی بلکہ مستحق نے جتنا لیا اوتنا ہی یہ مدعیٰ علیہ سے لے
1 ۔مقدمہ۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۷۰،وغیرہ.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،ج۷،ص۴۳۵.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔آخرت کی پکڑ،گرفت۔ 6 ۔حقدار۔
مثلاً ہزار کا دعویٰ تھا اور سو روپے میں صلح ہوئی مستحق نے کہا یہ روپے میرے ہیں تو مدعی دوسرے سو روپے مدعیٰ علیہ سے لے سکتا ہے۔ (1)(بحرالرائق)
مسئلہ۱۳: انکار یا سکوت کے بعد صلح ہوئی اور اس صلح میں لفظ بیع استعمال کیا مدعیٰ علیہ نے کہا اتنے میں یا اُس کے عوض بیع کی یا خریدی اور بدل صلح کا کوئی حقدار پیدا ہو گیا اور لے گیا تو مدعی (2)مدعی علیہ(3) سے وہ چیز لے گا جس کا دعوی تھا یہ نہیں کہ پھر دعوے کی طرف رجوع کرے کیونکہ مدعی علیہ کا بیع کرنا مدعی کی ملک تسلیم کر لینا ہے لہٰذا اس صورت میں انکار یا سکوت نہیں ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ۱۴: بدل صلح ابھی تک مدعی کو تسلیم(5) نہیں کیا گیا ہے اور ہلاک ہو گیا اس کا حکم وہی ہے جو استحقاق کا ہے خواہ وہ صلح اقرار کے بعد ہو یا انکار و سکوت کے بعد دونوں صورتوں میں فرق نہیں۔ یہ اُس صورت میں ہے کہ بدل صلح معین ہونے والی چیز ہو اور اگر غیر معین چیز ہو تو ہلاک ہونے سے صلح پر کچھ اثر نہیں پڑے گا مدعیٰ علیہ سے اوتنا لے سکتا ہے جو مقرر ہوا۔(6) (درمختار، بحر)
مسئلہ۱۵: یہ دعویٰ تھا کہ اس مکان میں میرا حق ہے کسی چیز کو دے کر صلح ہو گئی پھر اس مکان کے کسی جز میں استحقاق ہوا اگرچہ مستحق کا یہ دعویٰ ہے کہ ایک ہاتھ کے سوا باقی یہ سارا مکان میرا ہے اور مستحق نے لے لیا مدعی علیہ،مدعی سے کچھ واپس نہیں لے سکتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ایک ہاتھ جو بچا ہے وہی مدعی کا ہواور اگر مستحق نے پورے مکان کو اپنا ثابت کیا تو جو کچھ مدعی کو دیا گیا ہے واپس لیا جائے گا۔(7) (ہدايہ)
مسئلہ ۱۶: جس عین کا دعویٰ تھا اُسی کے ایک جز پر مصالَحت ہوئی مثلاً مکان کا دعویٰ تھا اُسی مکان کا ایک کمرہ یا کوٹھری دے کر صلح کی گئی یہ صلح جائز نہیں کیونکہ مدعی نے جو کچھ لیا یہ توخود مدعی کا تھا ہی اور مکان کے باقی اجزا ء و حِصَص کا اِبراکر دیا(8) اورعین میں اِبرا درست نہیں ہاں اس کے جواز کی صورت یہ بن سکتی ہے کہ مدعی کو علاوہ اُس جز و مکان کے ایک
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،ج۷،ص۴۳۵.
2 ۔دعویدار،دعویٰ کرنے والا۔ 3 ۔جس پر دعویٰ کیاگیاہے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص ۴۷۰.
5 ۔ سپرد۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۷۰.
و''البحرالرائق''،کتاب الصلح،ج۷،ص۴۳۵.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصلح،ج۲،ص۱۹۱.
8 ۔یعنی باقی حصوں سے بری کردیا۔
روپیہ یا کپڑا یا کوئی چیز بدل صلح میں اضافہ کی جائے کہ یہ چیز بقیہ حصص مکان کے عوض میں ہو جائے گی دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک جز پر صلح ہوئی اورباقی اجزا کے دعوے سے دست برداری دے دے۔(1) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۱۷: مکان کا دعویٰ تھا اور اس بات پر صلح ہوئی کہ وہ اُس کے ایک کمرے میں ہمیشہ یا عمر بھر سکونت کریگا یہ صلح بھی صحیح نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: دَین کا دعویٰ تھا اور اُس کے ایک جز پر مصالحت ہوئی مثلاً ہزار کا دعویٰ تھا پانسو پر صلح ہو گئی یا عین کا دعویٰ ہو اور دوسری عین کے جز پر صلح ہوئی مثلاً ایک مکان کا دعویٰ تھا دوسرے مکان کے ایک کمرہ کے عوض میں مصالحت ہوئی یہ صلح جائز ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۹: مال کے دعوے میں مطلقاً صلح جائز ہے چاہے مال پر صلح ہو یا منفعت پر ہو اقرار کے بعد یا انکار و سکوت کے بعد کیونکہ یہ صلح بیع یا اجارہ کے معنی میں ہے اور جہاں وہ جائز یہ بھی جائز۔ دعواے منفعت میں بھی صلح مطلقاً جائز ہے مال کے بدلے میں بھی ہو سکتی ہے اور منفعت کے بدلہ میں بھی مگر منفعت کو اگر بدل صلح قرار دیں تو ضرور ہے کہ دونوں منفعتیں دو طرح کی ہوں ایک ہی جنس کی نہ ہوں مثلاً مکان کرایہ پر لیا ہے اور صلح خدمت غلام پر ہوئی یہ جائز ہے اور اگر ایک ہی جنس کی ہوں مثلاً مکان کی سکونت کا دعویٰ تھا اور سکونتِ مکان ہی کو بدلِ صلح قرار دیا یہ جائز نہیں مثلاً وارث پر دعویٰ کیا کہ تیرے مورث نے اس مکان کی سکونت کی میرے ليے وصیّت کی ہے وارث نے اقرار کیا یا انکار پھر مال پر صلح ہو یا دوسری جنس کی منفعت پر صلح ہو جائز ہے۔ (4)(درر، غرر)
مسئلہ۲۰: ایک مجہول الحال شخص (5)پر دعویٰ کیا کہ یہ میرا غلام ہے اُس نے مال دے کر مصالحت کی یہ صلح جائز ہے اور اس کو مال کے عوض میں عتق (6)قرار دیں گے۔ پھر اگر اقرار کے بعد صلح ہوئی تو مدعی کو وَلاملے گا ورنہ نہیں ہاں اگر بیِّنہسے(7) اُس کا غلام ہونا ثابت کر دے تو اگرچہ مدعیٰ علیہ منکر ہے مدعی کو وَلا ملے گا بیِّنہسے ثابت کرنے کی وجہ سے وہ غلام نہیں بنایا جا سکتا یہی
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،ج۷،ص۴۳۶.
و''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص ۴۷۱.
2 ۔''الدرالمختار''، المرجع السابق،ص۴۸۳. 3 ۔المرجع السابق،ص۴۷۱،۴۷۴.
4 ۔''دررالحکام''و''غررالاحکام''،کتاب الصلح،الجزء الثانی،ص۳۹۸.
5 ۔ایساشخص جس کے آزاد یا غلام ہونے کا لوگوں کو علم نہ ہو۔
6 ۔آزاد کرنا۔ 7 ۔گواہوں سے۔
حکم سب جگہ ہے یعنی صلح کے بعد اگرمدعی گواہوں سے اپنا حق ثابت کرے اور یہ چاہے کہ میں اُس چیز کو لے لوں یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ چیز اگر اُس کی ہے تومعاوضہ اُس چیز کا لے چکا پھر مطالبہ کے کیا معنٰی۔(1)(درر، درمختار)
مسئلہ۲۱: مرد نے ایک عورت پر جو شوہر والی نہیں ہے نکاح کا دعویٰ کیا عورت نے مال دے کر صلح کی ،یہ صلح خلع کے حکم میں ہے مگر مرد نے اگر جھوٹا دعویٰ کیا تھا تو اس مال کو لینا حلال نہیں اور عورت کو اُسی وقت دوسرا نکاح کرنا جائز ہے یعنی اُس پر عدّت نہیں ہے کیونکہ دخول پایا نہیں گیا اور اگر عورت نے مرد پر نکاح کا دعویٰ کیا اور مرد نے مال دے کر صلح کی یہ صلح ناجائز ہے کیونکہ اس صلح کو کسی عقد کے تحت میں داخل نہیں کر سکتے۔ (2)(درر)
مسئلہ۲۲: غلام ماذون نے کسی کو عمداً قتل کیا تھا اور ولی ِمقتول سے خود غلام نے صلح کی یعنی قصاص نہ لو اُس کے عوض میں یہ مال لو یہ صلح جائز نہیں مگر اس صلح کا یہ اثر ہو گا کہ قصاص ساقط ہو جائے گا اور غلام جب آزاد ہو گا اُس وقت بدل صلح وصول کیا جائے گا اور ماذون کے غلام نے اگرکسی کو قتل کیا تھا اُس ماذون نے مال پر صلح کی یہ صلح جائز ہے کیونکہ یہ اُس کی تجارت کی چیز ہے اور خود تجارت کی چیز نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ۲۳: مال مغصوب ہلاک ہو گیا مالک نے غاصب سے مصالحت کی اس کی چند صورتیں ہیں اگر مغصوب مثلی ہے اور جس چیز پر مصالحت ہوئی وہ اُسی جنس کی ہے تو زیادہ پر صلح جائز نہیں اور اگر دوسری جنس کی چیز پر صلح ہوئی تو جائز ہے اور اگر وہ چیز قیمی ہے اور جتنی قیمت اُس کی ہے اُس سے زیادہ پر صلح ہوئی یہ بھی جائز ہے یعنی کم و برابرپر تو جائز ہی ہے زیادہ پر بھی جائز ہے اور اگر کسی متاع(4) پر صلح ہو یہ بھی جائز ہے مثلاً ایک غلام غصب کیا جس کی قیمت ایک ہزار تھی اور ہلاک ہو گیا دو ہزار روپے پر مصالحت کی یا کپڑے کے تھان پر صلح ہوئی جائز ہے اور اگر غاصب نے خود ہلاک کیا ہے جب بھی یہی حکم ہے۔ اور اگر اس کے متعلق قاضی کا حکم مثلاً ایک ہزار ضمان کا ہو چکا یا اتنا ہی کہ قیمت تاوان میں دے تو زیادہ پر صلح نہیں ہو سکتی۔(5) (درمختار،درر)
1 ۔''دررالحکام'' شرح''غررالأحکام''،کتاب الصلح،الجزء الثانی،ص۳۹۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۷۵.
2 ۔''دررالحکام'' شرح''غررالأحکام''،کتاب الصلح،الجزء الثانی،ص۳۹۸.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۷۶.
4 ۔سامان۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۷۶.
و''دررالحکام'' شرح''غررالأحکام''،کتاب الصلح،الجزء الثانی،ص۳۹۹.
مسئلہ۲۴: صورتِ مذکورہ میں کہ قیمت سے زیادہ پر یا متاع پر صلح ہوئی غاصب گواہ پیش کرنا چاہتا ہے کہ اُس مغصوب کی قیمت اُس سے کم ہے جس پر صلح ہوئی ہے یہ گواہ مقبول نہ ہوں گے اور اگر دونوں متفق ہو کر بھی یہ کہیں کہ قیمت کم تھی جب بھی غاصب مالک سے کچھ واپس نہیں لے سکتا۔(1) (بحر)
مسئلہ۲۵: غلام مشترک کو ایک شریک نے آزاد کر دیا اور یہ آزاد کرنے والا مالدار ہے تو حکم یہ ہے کہ نصف قیمت دوسرے کو ضمان دے(2) اب اس صورت میں اگر نصف قیمت سے زیادہ پر صلح ہوئی یہ جائز نہیں کہ شرع نے(3) جب نصف قیمت مقررکر دی ہے تو اُس پر زیادتی نہیں ہو سکتی جس طرح مغصوب کی قیمت کا تاوان قاضی نے مقرر کر دیا تو اب زیادہ پر صلح نہیں ہوسکتی کہ قاضی کا مقرر کرنا بھی شرع کا مقرر کرنا ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۶: مغصوب چیز کو غاصب کے سوا کسی دوسرے نے ہلاک کر دیا اورمالک نے غاصب سے قیمت سے کم پر صلح کر لی یہ جائز ہے اور غاصب اُس ہلاک کنندہ سے(5) پوری قیمت وصول کر سکتا ہے۔ مگر جتنا زیادہ لیا ہے اُس کو صدقہ کر دے اور مالک کو یہ بھی اختیار ہے کہ ہلاک کنندہ ہی سے قیمت سے کم پر صلح کر لے۔(6) (بحر)
مسئلہ ۲۷: جنایت عمد جس میں قصاص واجب ہوتا ہے خواہ وہ قتل ہو یا اس سے کم مثلاً قطعِ عضو (7)اس میں اگردِیَّت سے زیادہ پر صلح ہوئی یہ جائز ہے اور جنایتِ خطا میں دیت سے زیادہ پر صلح ناجائز ہے کہ اس میں شرع کی طرف سے دیت مقرر ہے اُس پر زیادتی نہیں ہو سکتی ہاں دیت میں جو چیزیں مقرر ہیں اون کے علاوہ دوسری جنس پر صلح ہو اور یہ چیز قیمت میں زیادہ ہو تو یہ صلح جائز ہے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ۲۸: مدعیٰ علیہ نے کسی کو صلح کے ليے وکیل کیا اُس وکیل نے صلح کی اگر دعویٰ دَین کا تھا اور دَین کے بعض حصہ پرصلح ہوئی یا خونِ عمد کا دعویٰ تھا اور صلح ہوئی اس صورت میں یہ وکیل سفیر محض ہے مدعی اس سے بدل صلح کا مطالبہ نہیں کر سکتا بلکہ وہ بدلِ صلح موکل پر لازم ہے اُسی سے مطالبہ ہو گا ہاں اگر وکیل نے بدلِ صلح کی ضمانت کر لی ہے تو وکیل سے اس ضمانت کی وجہ سے
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،ج۷،ص۴۳۹.
2 ۔تاوان دے۔ 3 ۔شریعت نے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۷۷.
5 ۔ہلاک کرنے والے یعنی ضائع کرنے والے سے۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،ج۷،ص۴۳۹.
7 ۔کوئی عضو کاٹنا۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۷۷.
مطالبہ ہو گا۔ یوہيں مال کا دعویٰ تھا اور مال پر صلح ہوئی اور مدعیٰ علیہ اقراری تھا تو وکیل سے مطالبہ ہو گا کہ یہ صلح بیع کے حکم میں ہے اوربیع کا وکیل سفیر محض نہیں ہوتا بلکہ حقوق اُسی کی طرف عائد ہوتے ہیں اور اگر مدعیٰ علیہ منکر ہو تو وکیل سے مطلقاً مطالبہ نہیں مال پر صلح ہو یا کسی اور چیز پر۔ (1)(درمختار،بحر)
مسئلہ ۲۹: مدعیٰ علیہ نے اس سے صلح کے ليے نہیں کہا اس نے خود صلح کر لی یعنی فضولی ہو کر اگر مال کا ضامن ہو گیا ہے یا صلح کو اپنے مال کی طرف نسبت کی یا کہہ دیا اس چیز پر یا کہا اتنے پر مثلاً ہزار روپے پر صلح کرتا ہوں اور دے دیے تو صلح جائز ہے اور یہ فضولی ان صورتوں میں مُتَبَرِّع(2) ہے مدعیٰ علیہ سے واپس نہیں لے سکتا اور اگر اسکے حکم سے مصالحت کرتا تو واپس لیتا اور اگر فضولی نے کہہ دیا کہ اتنے پر صلح کرتا ہوں اور دیا نہیں تویہ صلح اجازت مدعیٰ علیہ پر موقوف ہے وہ جائز کر دے گا جائز ہو جائے گی اور مال لازم آجائے گا ورنہ جائز نہیں ہو گی۔ فضولی نے خلع کیا اُس میں بھی یہی پانچ صورتیں ہیں اور یہی احکام۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: ایک زمین کے وقف کادعویٰ کیا مدعیٰ علیہ مُنکِر ہے اور مدعی کے پاس ثبوت کے گواہ نہیں ہیں مدعی علیہ نے کچھ دے کر قطع منازعت کے ليے (4)مصالحت کر لی یہ صلح جائز ہے اور اگر مدعی اپنے دعوے میں صادق(5) ہے تو بدل صلح بھی اُس کے ليے حلال ہے اور بعض علما فرماتے ہیں کہ حلال نہیں۔ (6)(درمختار) اور یہی قول من حیث الدلیل(7) قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ صلح بیع کے حکم میں ہے اور وقف کی بیع درست نہیں بلکہ یہ صلح صحیح بھی نہ ہوناچاہیے کیونکہ وقف اس کا حق نہیں جس کا معاوضہ لینا درست ہو۔
مسئلہ۳۱: صلح کے بعد پھر دوسری صلح ہوئی وہ پہلی ہی صحیح ہے اور دوسری باطل یہ جب کہ وہ صلح اسقاط ہو(8) اور اگر معاوضہ ہو جو بیع کے معنی میں ہو تو پہلی صلح فسخ ہو گئی(9) اور دوسری صحیح جس طرح بیع کا حکم ہے جب کہ بائع نے مبیع کو اُسی مشتری کے ہاتھ بیع کیا۔ (10)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۳۲: مدعی علیہ (1)نے دعوے سے انکار کر دیا تھا اس کے بعد صلح ہوئی اب وہ گواہ پیش کرتا ہے کہ مدعی(2) نے صلح سے پہلے یہ کہا تھا کہ میرا اُس مدعیٰ علیہ پر کوئی حق نہیں ہے وہ صلح بدستور قائم رہے گی اور اگر مدعی نے صلح کے بعد یہ کہا کہ میرا اُس کے ذمہ کوئی حق نہ تھا تو صلح باطل ہے۔(3) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۷۸.
و''البحرالرائق''،کتاب الصلح،ج۷،ص۴۴۰.
2 ۔ احسان کرنے والا۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۷۹.
4 ۔جھگڑاختم کرنے کے لئے۔ 5 ۔سچا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۸۰.
7 ۔دلیل کی حیثیت سے،دلیل کے لحاظ سے۔ 8 ۔یعنی پہلی صلح ختم کرنے والی ہو۔ 9 ۔ختم ہوگئی۔
10 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۸۰.
مسئلہ۳۳: امین کے پاس امانت تھی جب تک اُس کے ہلاک کا دعویٰ نہ کرے صلح نہیں ہو سکتی۔ اور ہلاک کا دعویٰ کرنے کے بعد مصالحت ہو سکتی ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ۳۴: امین نے امانت سے ہی انکار کیا کہتا ہے میرے پاس امانت رکھی نہیں اور مالک امانت رکھنے کا مدعی ہے صلح ہو سکتی ہے۔ امین امانت کا اقرار کرتا ہے اور مالک مطالبہ کرتا ہے مگر امین خاموش ہے مالک کہتا ہے اس نے میری چیز ہلاک کردی صلح ہو سکتی ہے اور اگر مالک ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور امین کہتا ہے میں نے واپس کر دی یا وہ چیز ہلاک ہو گئی اس صورت میں صلح جائز نہیں اور اگر امین کہتا ہے میں نے چیز واپس کر دی یا ہلاک ہو گئی اور مالک کچھ نہیں کہتا اس میں صلح جائز نہیں۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ۳۵: مدعیٰ علیہ کا صلح کی خواہش کرنا یا یہ کہنا کہ دعوے سے مجھے بری کر دو یہ دعوے کا اقرار نہیں ہے اور یہ کہنا کہ جس مال کا دعویٰ ہے اُس سے صلح کر لو یا اُس سے مجھے بری کر دو یہ مال کا اقرار ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: مبیع میں(7)عیب کا دعویٰ کیا اور صلح ہو گئی بعد میں ظاہر ہوا کہ عیب تھا ہی نہیں یا عیب زائل ہو گیا تھا صلح باطل ہو گئی جو کچھ لیا ہے واپس کرے۔ یوہيں دَین کا دعویٰ تھا اور صلح ہو گئی پھر معلوم ہوا کہ دَین نہیں تھا صلح باطل ہو گئی جوکچھ لیا ہے واپس کر دے۔ (8)(درمختار)
1 ۔جس پر دعویٰ کیاگیاہے۔ 2 ۔دعویدار،دعویٰ کرنے والا۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۸۱.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۸۱.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۸۳.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۸۵.
7 ۔فروخت کی گئی چیز میں۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،ج۸،ص۴۸۵.
مسئلہ ۱: مدعیٰ علیہ پر جو دَین(1) ہے یااُس نے کوئی چیز غصب کی ہے اگر صلح اُسی جنس کی چیز پر ہوئی تو بعض حق کو لے لینا اور باقی کو چھوڑ دینا ہے اس کو معاوضہ قرار دینا درست نہیں ورنہ سود ہو جائے گا لہٰذا صلح کے جائز ہونے میں بدل صلح پر قبضہ کرنا ضروری نہیں مثلاً ہزا رروپے حال یعنی غیر میعادی تھے سو روپے پر جو فوراً ليے جائیں گے صلح ہوئی یہ درست ہے اگرچہ مجلس صلح میں اون پر قبضہ نہ کیا ہو یا ہزار غیر میعادی تھے صلح ہوئی ہزار روپے پر جن کی کوئی میعاد مقرر ہوئی یا ہزار روپے کھرے تھے اور سو روپے کھوٹے پر صلح ہوئی پہلی صورت میں مقدار کم کر دی دوسری میں میعاد بڑھا دی یعنی فوراً لینے کا حق ساقط کر دیا تیسری صورت میں مقدار اور وصف دو چیزیں ساقط کردیں۔ مدعیٰ علیہ کے ذمہ روپے تھے اور اشرفی پر صلح ہوئی اور اس کے ادا کرنے کی میعاد مقرر ہوئی یہ صلح ناجائز ہے کہ غیر جنس پر صلح عقد معاوضہ ہے اور چاندی کی سونے سے بیع ہو تو مجلس میں قبضہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ہزار روپے میعادی تھے اور صلح ہوئی کہ پانسو فوراً ادا کر دے یہ صلح بھی ناجائز ہے کہ پانسو کے بدلے میں میعاد کوبیع کرنا ہے اور یہ ناجائز ہے یا ہزار روپے کھوٹے تھے پانسو کھرے پر صلح ہوئی یہ صلح بھی ناجائز ہے کہ وصف کو پانسو کے بدلے میں بیع کرنا ہے اور یہ جائز نہیں۔ قاعدہ ئ کلیہ یہ ہے کہ دائن کی طرف اگر احسان ہوتواسقاط ہے اور صلح جائز ہے اور دونوں کی طرف سے ہو تو معاوضہ ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲: ایک ہزار کا دعویٰ تھا اور مدعیٰ علیہ انکاری ہے پھر سو روپے پر صلح ہوئی اگر مدعی نے یہ کہا کہ سو روپے پر میں نے صلح کی اور باقی معاف کر دیے تو قضاء ً و دیانۃً ہر طرح مدعیٰ علیہ بقیہ سے بری ہو گیا اور اگر یہ کہا کہ سو روپے پر صلح کی اور یہ نہیں کہا کہ بقیہ میں نے معاف کیے تو مدعیٰ علیہ قضاء ً بری ہو گیا دیانۃً بری نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: مدیون(4) سے کہا تمہارے ذمہ ہزار روپے ہیں کل پانسو ادا کر دو اس شرط پر کہ باقی پا نسو سے تم بری، اگر اداکر دیے بری ہو گیا ورنہ پورے ہزار اُس کے ذمہ ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وقت کا ذکر نہ کرے اس صورت میں پانسو بالکل معاف ہو گئے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ آدھے دَین پر مصالحت ہوئی کہ کل ادا کر دے گا اور باقی سے بری ہو جائے گا
1 ۔قرض۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،فصل فی دعوی الدَّین،ج۸،ص۴۸۵.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثانی فی الصلح فی الدَّین...إلخ،ج۴،ص۲۳۴.
4 ۔مقروض۔
اور شرط یہ ہے کہ کل اگر ادا نہ کیے تو پورا دَین بدستور اُس کے ذمہ ہو گا اس صورت میں جیسا کہا ہے وہی ہے۔ چوتھی صورت یہ ہے پانسوسے مَیں نے تجھے بری کر دیا اس بات پر کہ پانسو کل ادا کر دے پانسو معاف ہو گئے کل کے روز ادا کرے یا نہ کرے۔ پانچویں صورت یہ ہے کہ یوں کہا کہ اگر تو پانسو کل کے دن ادا کر دے گا تو باقی سے بری ہو جائے گا اس صورت میں حکم یہ ہے کہ ادا کرے یا نہ کرے بری نہ ہوگا۔ (1)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴: مدیون پر ایک سو روپے اور دس اشرفیاں باقی ہیں ایک سو دس روپے پر صلح ہوئی اگر ادا کے ليے میعاد ہے صلح ناجائز ہے اور اگر اُسی وقت دے دیے صلح جائز ہے اور اگر دس روپے فوراً دیے اور سو باقی رہے جب بھی جائز ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: ایک شخص پر ہزار روپے باقی ہیں اور یوں صلح ہوئی کہ مہینے کے اندر دو گے تو سو روپے اور ایک ماہ کے اندر نہ دیے تو دو سو روپے دینے ہوں گے یہ صلح صحیح نہیں۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: ایک نے دوسرے پر کچھ روپیہ کا دعویٰ کیا مدعیٰ علیہ نے انکار کر دیا پھر دونوں میں مصالحت ہو گئی کہ اتنے روپے اس وقت دیے جائیں گے اور اتنے آئندہ فلاں تاریخ پر یہ صلح جائز ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: سو روپے باقی ہیں اور دس من گیہوں(5) پر صلح ہوئی ان کے دینے کی میعاد مقرر ہو یا نہ ہو اگر اُس مجلس میں قبضہ نہ کیا صلح باطل ہے اور اگر گیہوں معین ہو گئے یعنی یوں صلح ہوئی کہ یہ گیہوں دوں گاتو قبضہ کرے یا نہ کرے صلح جائز ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: پانچ من گیہوں مدیون کے ذمہ باقی ہیں اور دس روپے پر صلح ہوئی اگر روپے پر اُسی وقت قبضہ ہو گیا صلح جائز ہے اور بغیر قبضہ دونوں جدا ہو گئے صلح ناجائز اور اگر پانچ روپے پر قبضہ کر لیا اور پانچ پر نہیں تو آدھے گیہوں کے مقابل صلح صحیح ہے اور نصف کے مقابل باطل۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،فصل فی دعوی الدَّین،ج۸،ص۴۸۶،وغیرہ.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثانی فی الصلح فی الدَّین...إلخ،ج۴،ص۲۳۲.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔گندم۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثانی فی الصلح فی الدَّین...إلخ،ج۴،ص۲۳۲.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۹: دس من گیہوں اُس کے ذمہ ہیں پانچ من گیہوں اور پانچ من جَو پر صلح ہوئی اور جَو کے ليے میعاد مقرر کی یہ صلح ناجائز ہے اور جَو کو معین کر دیا ہو صلح جائز ہے اگرچہ گیہوں معین نہ ہوں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: روپے کا دعویٰ تھا اور صلح یوں ہوئی کہ مدیون اس مکان میں ایک سال رہ کر دائن کو دیدے یا یہ غلام ایک سال تک مدیون کی خدمت کرے پھر مدیون اسے دائن کو دیدے یہ صلح ناجائز ہے کہ یہ صلح بیع کے حکم میں ہے اور بیع میں ایسی شرط بیع کو فاسد کر دیتی ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: مدیون نے روپے ادا کر دیے ہیں مگر دائن انکار کرتا ہے پھر سو روپے پر صلح ہوئی اگر دائن کے علم میں وصول ہونا ہے تو لینا جائز نہیں۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ ۱۲: دَین کا کوئی گواہ نہیں ہے دائن(4)یہ چاہتا ہے کہ مدیون سے دَین کا اقرار کرا لے تاکہ وقت پر کام آئے مدیون نے کہا میں اقرار نہیں کروں گا جب تک تو دَین کی میعاد نہ کر دے یا اُس میں سے اتنا کم نہ کر دے دائن نے ایسا ہی کر دیا یہ میعاد کا مقرر کرنا یا معاف کر دینا صحیح ہے یہ نہیں کہا جا سکتاہے کہ اِکراہ کے ساتھ ایسا ہوا ہے یہ اکراہ نہیں ہے اور اگر مدیون نے وہ بات علانیہ کہہ دی کہ جب تک ایسا نہ کرو گے میں اقرار نہ کروں گا تو اُس سے کُل مطالبہ فوراً وصول کیا جائے گا کیونکہ دَین کا اقرار ہو چکا۔ (5)(درر)
مسئلہ ۱۳: دَین مشترک کا حکم یہ ہے کہ ایک شریک نے مدیون سے جو کچھ وصول کیا دوسرا بھی اُس میں شریک ہے مثلاً سو میں سے پچاس روپے ایک شریک نے وصول کیے تو دوسرے شریک سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اپنے حصہ کے میں نے پچاس وصول کر ليے اپنے حصہ کے تم وصول کر لو بلکہ دوسرا ان پچاس میں سے پچیس لے سکتا ہے اس کو انکار کا حق نہیں ہے ہاں اگر دوسراخود مدیون ہی سے وصول کرنا چاہتا ہے اس وجہ سے شریک سے مطالبہ نہیں کرتا تو اُس کی خوشی مگر چاہے تو شریک سے مطالبہ کر سکتا ہے یعنی اگر فرض کرو مدیون دیوالیہ ہو گیا یا کوئی اور صورت ہو گئی تو یہ اپنے شریک سے وصول شدہ میں سے آدھا لے سکتاہے۔(6) (ہدايہ وغیرہا)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثانی فی الصلح فی الدَّین...إلخ،ج۴،ص۲۳۲.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۳۳.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح عن الدَّین،فصل فی الصلح عن الدَّین ،ج۲،ص۱۸۴.
4 ۔قرض دینے والا۔
5 ۔''دررالحکام''شرح''غررالأحکام''،کتاب الصلح،الجزء الثانی،ص۴۰۱.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح فی الدَّین، فصل فی الدَّین المشترک ،ج۲،ص۱۹۷،وغیرہا.
مسئلہ ۱۴: دَینِ مشترک کی یہ صورت ہے کہ ایک ہی سبب سے دونوں کا دَین ثابت ہو مثلاً دونوں نے ایک عقد میں بیع کی اس کا ثمن دَینِ مشترک ہے اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ ایک چیز دونوں کی شرکت میں تھی اور ایک ہی عقد میں اس کو بیع کیا یہ ثمن دَینِ مشترک ہے دوسری یہ کہ دونوں کی دو چیزیں تھیں مگر ایک ہی عقد میں دونوں کو بغیر تفصیلِ ثمن بیع کیا یہ کہہ دیا کہ ان دونوں کو اتنے میں بیچا یہ نہیں کہ اتنے میں اس کو اتنے میں اس کو۔ اور اگر دو عقد میں چیز بیع کی گئی تو ثمن کو دَین مشترک نہیں کہہ سکتے مثلاًدونوں نے اپنی اپنی چیزیں اُس مشتری کے ہاتھ بیع کیں یا چیز دونوں میں مشترک ہے مگر اس نے کہا میں نے اپنا حصہ تمھارے ہاتھ پانسو میں بیچا دوسرے نے کہا میں نے اپنا حصہ پانسو میں بیچا تو یہ دَین مشترک نہیں اگرچہ شے مشترک کا ثمن ہے۔ یوہيں تفصیلِ ثمن کر دینے میں بھی ثمن دَین مشترک نہیں مثلاً دو چیزیں ایک عقد میں دس روپے میں بیچیں اور یہ کہا کہ اس کا ثمن چار روپے ہے اور اس کا چھ روپے یہ دَین مشترک نہیں۔ دوسری صورت دَینِ مشترک کی یہ ہے کہ ُمورِث کا کسی پر دَین تھا اُس کے مرنے کے بعد یہ دونوں وارث ہوئے وہ دَین ان میں مشترک ہے تیسری صورت یہ کہ ایک مشترک چیز کو کسی نے ہلاک کر دیا جس کی قیمت کا ضمان اوس پر واجب ہوا یہ ضمان دَینِ مشترک ہے۔ (1)(بحر، درمختار)
مسئلہ ۱۵: دَینِ مشترک میں ایک شریک نے مدیوں سے اپنے حصہ میں خلافِ جنس پر مصالَحت کر لی مثلاً اپنے حصہ کے بدلے میں اُس نے ایک کپڑا مدیون سے لے لیا تو دوسرے شریک کو اختیار ہے کہ اپنا حصہ مدیون سے وصول کرے یا اسی کپڑے میں سے آدھالے لے اگر کپڑے میں سے نصف لینا چاہتا ہے تو وصول کنندہ(2) دینے سے انکار نہیں کر سکتا ہاں اگر وہ اصل دَین کی چہارم کا ضامن(3) ہو جائے تو کپڑے میں نصف کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔(4) (ہدايہ)
مسئلہ ۱۶: مدیون سے مصالَحت نہیں کی ہے بلکہ اپنے نصف دَین کے بدلے میں اُس سے کوئی چیز خریدی تو یہ شریک دوسرے کے ليے چہارم دَین کا ضامن ہو گیا کیونکہ بیع کے ذریعہ سے ثمن و دَین میں مقاصہ(5) ہو گیا شریک اس میں سے نصف یعنی چہارم دَین وصول کر سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مدیون سے اپنے حصّہ کو وصول کرے۔(6) (درمختار)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،باب الصلح فی الدَّین ،ج۷،ص۴۴۱،۴۴۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الصلح،فصل فی دعوی الدَّین،ج۸،ص۴۸۸.
2 ۔وصول کرنے والا۔ 3 ۔قرض کے چوتھائی حصے کاضامن۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح فی الدَّین، فصل فی الدَّین المشترک ،ج۲،ص۱۹۷.
5 ۔ادلابدلا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،فصل فی دعوی الدَّین،ج۸،ص۴۸۹.
مسئلہ ۱۷: ایک شریک نے مدیون کو اپنا حصہ معاف کر دیا دوسرا شریک اس معاف کرنے والے سے مطالبہ نہیں کر سکتا کیونکہ وصول نہیں کیا ہے بلکہ چھوڑ دیا ہے۔ اسی طرح ایک کے ذمہ مدیون کا پہلے سے دَین تھا پھر مدیون پر دَین مشترک ہوا ان دونوں نے مقاصہ (ادلا بدلا) کر لیا دوسرا شریک اس سے کچھ مطالبہ نہیں کر سکتا اور اگر ایک شریک نے اپنے حصہ میں سے کچھ معاف کر دیا یا دَین سابق سے مقاصہ کیا تو باقی دَین سہام(1) پر تقسیم کیا جائے گا مثلاً بیس روپے تھے ایک نے پانچ روپے معاف کر دیے تو جو کچھ وصول ہو گا اُس میں ایک تہائی ایک کی اور دو تہائیاں اُس کی جس نے معاف نہیں کیا ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: ان دونوں شریکوں میں سے ایک پر مدیون کا اب جدید دَین ہوا اس دَین سے مقاصہ دَین وصول کرنے کے حکم میں ہے دوسرا اس کا نصف اس سے وصول کریگا مثلاً مدیون نے کوئی چیز دائن کے ہاتھ بیع کی اس ثمن اور دَین میں مقاصہ ہوا اور اگر عورت مدیون تھی ایک شریک نے اس سے نکاح کیا اور مطلق روپے کو دَینِ مہر کیا یہ نہیں کہ دَین کے حصہ کو مہر قرار دیا ہو پھر دَینِ مہر اور اُس دَین میں مقاصہ ہوا اس کا نصف دوسرا شریک اس نکاح کرنے والے سے لے سکتا ہے اور اگر نکاح اُس حصہ ئ دَین پر ہوا تو شریک کو اس سے لینے کا اختیار نہیں۔(3) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۱۹: شریک نے مدیون کی کوئی چیز غصب کر لی یا اُس کی کوئی چیز کرایہ پر لی اور اجرت میں دَین کا حصہ قرار پایا یہ دَین پر قبضہ ہے۔ مدیون کی کوئی چیز تلف کر دی یا قصداً جنایت کر کے اپنے حصہ دَین پر مصالحت کی یہ قبضہ نہیں ہے یعنی اس صورت میں دوسرا شریک اس سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔(4) (بحر)
مسئلہ ۲۰: ایک نے میعاد مقرر کی اگر یہ دَین ان کے عقد کے ذریعہ سے نہ ہو مثلاً دَین مؤجل(5) کے یہ دونوں وارث ہوئے تو اس کا میعاد مقرر کرنا باطل ہے مثلاً مورث کے ہزار روپے باقی تھے ایک وارث نے یوں صلح کی کہ ایک سو اس وقت دے دو باقی چار سو کے ليے سال بھر کی میعاد ہے یہ میعاد مقرر کرنا باطل ہے یعنی ان سو روپے میں سے دوسرا وارث پچاس لے سکتا ہے اور اگر دوسرے وارث نے سال کے اندر مدیون سے کچھ وصول کیا تو اس میں سے نصف پہلا وارث لے سکتا ہے یہ دوسرا اُس
1 ۔حصوں۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،فصل فی دعوی الدَّین،ج۸،ص۴۸۹.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،باب الصلح فی الدَّین ،ج۷،ص۴۴۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الصلح،فصل فی دعوی الدَّین،ج۸،ص۴۸۹.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،باب الصلح فی الدَّین ،ج۷،ص۴۴۲.
5 ۔وہ قرض جس کی ادائیگی کاوقت مقررکیاگیاہو۔
سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم نے ایک سال کی میعاد دی ہے تمھارا حق نہیں اور اگر ان میں سے ایک نے مدیون سے عقد مداینہ کیا (1) اس وجہ سے مدت واجب ہوئی تو اگر یہ شرکت شرکتِ عنان ہے اور جس نے عقد کیا ہے اُسی نے اجل(2) مقرر کی تو جمیع دَین(3) میں اجل صحیح ہے اور اگر اُس نے اجل مقرر کی جس نے عقد نہیں کیا ہے تو خاص اُس کے حصّہ میں بھی اجل صحیح نہیں اور اگر ان دونوں میں شرکت مفاوضہ ہے تو جو کوئی اجل مقرر کر دے صحیح ہے۔(4) (بحر، خانیہ)
مسئلہ ۲۱: دو شخصوں نے بطور شرکت عقد سلم کیا ہے ان میں سے ایک نے اپنے حصہ میں مسلم الیہ(5) سے صلح کر لی کہ راس المال(6) جو دیا گیا ہے اُس میں سے جومیرا حصہ ہے اُس پر صلح کرتا ہوں یہ صلح دوسرے شریک کی اجازت پر موقوف ہے اُس نے جائز کر دی جائز ہو گئی جومال مل چکا ہے یعنی حصہ مصالح (7)وہ دونوں میں منقسم ہو جائے گا اور جو سَلم باقی ہے وہ دونوں میں مشترک ہے یعنی جو کچھ مسلم فیہ باقی ہے مثلاً وہ غلہ جو نصف سَلم کا باقی ہے یہ دونوں میں مشترک ہے اور اگر اس کے شریک نے رد کر دیا تو صلح باطل ہو جائے گی ہاں اگر ان دونوں میں شرکت مفاوضہ ہو تو یہ صلح مطلقاً جائز ہے۔ (8)(درر، بحر)
مسئلہ ۲۲: دو شخصوں کے دو قسم کے مال ایک شخص پرباقی ہیں مثلاً ایک کے روپے ہیں دوسرے کی اشرفیاں ہیں دونوں نے ایک ساتھ سو روپے پرصلح کی یہ جائز ہے ان سو روپوں کو اشرفیوں کی قیمت اور روپوں پر تقسیم کیا جائے یعنی سو میں سے جتنا روپوں کے مقابل ہو وہ روپے والا لے اور جتنا اشرفیوں کی قیمت کے مقابل ہو وہ اشرفیوں والا لے مگر اشرفیوں والے کے حصہ میں جتنے روپے آئیں اون میں بیع صرف قرار پائے گی یعنی ان پر اُسی مجلس میں قبضہ شرط ہے اور روپے والے کے حصہ میں جتنے روپے آئیں اوتنے کی وصولی ہے باقی جو رہ گئے اُن کو ساقط کر دیا۔(9) (عالمگیری)
1 ۔قرض کا لین دین کیا۔ 2 ۔ادئیگی کی مدت۔ 3 ۔تمام قرض۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،باب الصلح فی الدَّین ،ج۷،ص۴۴۲.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح عن الدَّین،فصل فی الصلح عن الدَّین ،ج۲،ص۱۸۴.
5 ۔بیع سلم میں بائع کومسلم الیہ کہتے ہیں۔ 6 ۔بیع سلم میں ثمن کو رأس المال کہتے ہیں۔
7 ۔وہ حصہ جس میں صلح ہوچکی ہے۔
8 ۔''دررالحکام''شرح''غررالأحکام''،کتاب الصلح،الجزء الثانی،ص۴۰۳.
و''البحرالرائق''،کتاب الصلح،باب الصلح فی الدَّین ،ج۷،ص۴۴۲،۴۴۳.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثانی فی الصلح فی الدَّین...إلخ،ج۴،ص۲۳۳.
بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک وارث بالمقطع(1) اپنا کچھ حصہ لے کر ترکہ سے نکل جاتا ہے کہ اب وہ کچھ نہیں لے گا اس کو تخارج کہتے ہیں یہ بھی ایک قسم کی صلح ہے۔
مسئلہ ۱: ترکہ عقار یعنی جائداد غیر منقولہ ہے یا عرض ہے یعنی نقود(2)کے علاوہ دوسری چیزیں اور جس وارث کو نکالا اُس کوکچھ مال دیدیا اگرچہ جتنا دیا ہے وہ اُس کے حصہ کی قیمت سے کم یا زیادہ ہے یا ترکہ سونا ہے اور اُس کو چاندی دی یا ترکہ چاندی ہے اُس کو سونا دیا یا ترکہ میں دونوں چیزیں ہیں اور اُس کو بھی دونوں چیزیں دیں یہ سب صورتیں جائز ہیں اور اس کو مبادلہ پر محمول کیا جائے گا اورجنس کو غیر جنس سے بدلنا قرار دیا جائے گا۔ اُس کو جو کچھ دیا ہے وہ اُس کے حق سے کم ہے یا زیادہ دونوں صورتیں جائز ہیں مگر جو صورت بیع صرف کی ہے اوس میں تقابضِ بدلین ضروری ہے مثلاً چاندی ترکہ ہے اور اُس کو سونا دیا یابالعکس یا ترکہ میں دونوں ہیں اور اُس کو دونوں دیں یا ایک دیا کہ یہ سب صورتیں بیع صَرف کی ہیں قبضہ اس میں شرط ہے۔ (3)(بحر،درمختار،درر)
مسئلہ ۲: ترکہ میں سونا چاندی دونوں ہیں اور نکل جانے والے کو صرف ان میں سے ایک چیز دی یا ترکہ میں سونا چاندی اور دیگر اشیا ہیں اور اُس کو صرف سونا یا صرف چاندی دی اس کے جواز کے ليے یہ شرط ہے کہ اس جنس میں جتنا اس کا حصہ ہے اس سے وہ زائد ہو جو دی گئی ہے مثلاً فرض کرو کہ ترکہ میں روپے اشرفی اور ہر قسم کے سامان ہیں اور اس کا حصہ سو روپیہ ہے اور کچھ اشرفیاں بھی اس کے حصہ کی ہیں اور کچھ دوسری چیزیں بھی اگر اس کو صرف روپے دیے اور وہ سو ہی ہوں یا کم یہ ناجائز ہے کہ باقی ترکہ کا اس کو کچھ معاوضہ نہیں دیا گیا اور اگر ایک سو پانچ روپے مثلاً دے دیے یہ صورت جائز ہو گئی کیونکہ سو روپے تو روپے میں کا حصہ ہے اور باقی پانچ روپے اشرفیوں اور دوسری چیزوں کا بدلہ ہے یہ بھی ضروری ہے کہ سونا چاندی کی قسم سے جو چیزیں ہوں وہ سب بوقت تخارج حاضر ہوں اور اُس کو یہ بھی معلوم ہو کہ میرا حصہ اتنا ہے۔ (4)(ہدايہ وغیرہا)
1 ۔یعنی کل حصہ کے بدلے۔ 2 ۔درہم،دینار،روپے وغیرہ۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،فصل فی صلح الورثۃ ،ج۷،ص۴۴۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الصلح،فصل فی التخارج،ج۸،ص۴۹۰.
و''دررالحکام''شرح''غررالأحکام''،کتاب الصلح،الجزء الثانی،ص۴۰۳.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح فی الدَّین، فصل فی التخارج ،ج۲،ص۱۹۸،وغیرھا.
مسئلہ ۳: عروض (1)دے کر اُسے ترکہ سے جدا کر دیا یہ صورت مطلقاً جائز ہے۔ یوہيں اگر ورثہ اوس کی وراثت سے ہی مُنکِر ہیں اور کچھ دے کر اُسے ٹالنا چاہتے ہیں کہ جھگڑا دفع ہو توجو کچھ دے دیں گے جائز ہے اور اس میں اون شرائط کی پابندی نہیں ہو گی جو مذکور ہوئیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۴: ایک وارث کو خارج کیا اور ترکہ میں دیون ہیں یعنی لوگوں کے ذمہ دَین ہیں اور شرط یہ ٹھہری کہ بقیہ ورثہ اس دَین کے مالک ہیں وصول کر کے خود لے لیں گے یہ صورت ناجائز ہے اس کے جواز کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ تخارج میں یہ شرط ہو کہ دَین میں جتنا اس کا حصہ ہے اُس کو مدیونِین(3) سے معاف کر دے اس کا حصہ معاف ہو جائے گا اور بقیہ ورثہ اپنا اپنا حصہ اون لوگوں سے وصول کر لیں گے۔ دوسری صورت جواز کی یہ ہے کہ اُس دَین میں جتنا حصہ اس کا ہوتا ہے وہ بقیہ ورثہ اپنی طرف سے تبرعاً اسے دے دیں اور باقی میں مصالحت کر کے اسے خارج کر دیں مگر ان دونوں صورتوں میں ورثہ کا نقصان ہے کہ پہلی صورت میں مدیونین سے اوتنا دَین معاف ہو گیا اور دوسری صورت میں بھی اپنی طرف سے دینا پڑا لہٰذا تیسری صورت جواز کی یہ ہے کہ بقیہ ورثہ اُس کے حصہ کی قدر اُسے بطور قرض دے دیں اور دَین کے علاوہ باقی ترکہ میں مصالحت کر لیں اور یہ وارث جس کو حصہ دَین کی قدر قرض دیا گیا ہے یہ بقیہ ورثہ کو مدیونین پر حوالہ کر دے(4) (ہدايہ) ایک حیلہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی مختصر سی چیز مثلاً ایک مٹھی غلہ اُس کے ہاتھ اُتنے داموں میں بیع کیا جائے جتنا دَین میں اُس کا حصہ ہوتا ہے اور ثمن کو وہ مدیونین پر حوالہ کر دے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۵: ترکہ میں دَین نہیں ہے مگر جو چیزیں ترکہ میں ہیں وہ معلوم نہیں اور صلح مکیل(6) و موزون(7) پر ہو یہ جائز ہے اوراگر ترکہ میں مکیل وموزون چیزیں نہیں ہیں مگر کیاکیا چیزیں ہیں وہ معلوم نہیں اس میں بھی تخارُج کے طور پر صلح ہو سکتی ہے۔ (8)(ہدايہ) یہ اُس صورت میں ہے کہ ترکہ کی سب چیزیں بقیہ ورثہ کے ہاتھ میں ہوں کہ اُس صلح کرنے والے سے کچھ لینا نہیں
1 ۔عرض کی جمع ،نقد کے علاوہ دوسری چیزیں۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،فصل فی التخارج،ج۸،ص۴۹۱.
3 ۔مدیون کی جمع، مقروض لوگ۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح فی الدَّین، فصل فی التخارج ،ج۲،ص۱۹۸.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،فصل فی التخارج،ج۸،ص۴۹۲.
6 ۔وہ چیزجو ماپ کر بیچی جاتی ہے۔ 7 ۔وہ چیز جو تول کر بیچی جاتی ہے۔
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح فی الدَّین، فصل فی التخارج ،ج۲،ص۱۹۸.
ہے لہٰذا اس میں جھگڑے کی کوئی صورت نہیں ہے اور اگر ترکہ کی کُل چیزیں یا بعض چیزیں اُس کے ہاتھ میں ہوں تو جب تک اُن کی تفصیل معلوم نہ ہو مصالحت درست نہیں کہ اون کی وصولی میں نزاع(1) کی صورت ہے۔(2)(درمختار)
مسئلہ ۶: میّت پر اتنا دَین ہے کہ پورے ترکہ کو مستغرق ہے(3) تو مصالحت اور تقسیم درست ہی نہیں کہ دَین حق میّت ہے اور یہ میراث پر مقدم ہے ہاں اگر وہ وارث صلح کرنے والا ضامن ہو جائے کہ جو کچھ دَین ہو گا اُس کا ذمہ دار میں ہوں میں اداکروں گا اور تم سے واپس نہیں لوں گا یا کوئی اجنبی شخص تمام دیون (4)کا ضامن ہو جائے کہ میّت کا ذمہ بری ہو جائے یا یہ لوگ دوسرے مال سے میّت کا دَین ادا کر دیں۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۷: میّت پر کچھ دَین ہے مگراتنا نہیں کہ پورے ترکہ کو مستغرق ہو توجب تک دَین ادا نہ کر لیا جائے تقسیمِ ترکہ و مصالحت کو موقوف رکھنا چاہیے کیونکہ ادائے دَین میراث پر مقدم ہے پھر بھی اگر ادا کرنے سے پہلے تقسیم و مصالحت کرلیں اور دَین ادا کرنے کے ليے کچھ ترکہ جدا کر دیں تو یہ تقسیم و مصالحت صحیح ہے مگر فرض کرو کہ وہ مال جو دَین ادا کرنے کے ليے رکھاتھااگرضائع ہوجائے گاتو تقسیم توڑدی جائے گی اورورثہ سے ترکہ واپس لے کر دَین اداکیاجائے گا۔ (6)(درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۸: ایک وارث کو کچھ دے کر ترکہ سے اُس کوعلٰحدہ کر دیا اُس میں دو صورتیں ہیں ترکہ ہی سے وہ مال دیا ہے یا اپنے پاس سے دیا ہے اگر اپنے پاس سے دیا ہے تو اُس وارث کا حصہ یہ سب ورثہ برابر برابر تقسیم کر لیں اور اگر ترکہ سے دیا ہے تو بقدر میراث اُس کے حصہ کو تقسیم کریں یعنی اُس وارث کو ''کَاَنْ لَّمْ یَکُنْ''(7) فرض کر کے ترکہ کی تقسیم کی جائے میّت نے جس کے ليے وصیت کی ہے اوس کو بھی کچھ دے کر خارج کر سکتے ہیں اور اس کے ليے تمام وہی احکام ہیں جو وارث کے ليے بیان کیے گئے۔ (8)(درمختار)
1 ۔اختلاف ،جھگڑے ۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،فصل فی التخارج،ج۸،ص۴۹۲.
3 ۔یعنی وہ قرض پوری میراث کوگھیرے ہوئے ہے۔ 4 ۔دین کی جمع ،قرضے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،فصل فی التخارج،ج۸،ص۴۹۳.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الصلح،فصل فی التخارج،ج۸،ص۴۹۳.
7 ۔یعنی گویاکہ وہ وارث ہی نہیں ہے۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الصلح،فصل فی التخارج،ج۸،ص۴۹۳.
مسئلہ۹: ایک وارث سے دیگرورثہ نے مصالحت کی اوراُس کوخارج کردیااس کے بعدترکہ میں کوئی ایسی چیز ظاہرہوئی جواون ورثہ کومعلوم نہ تھی خواہ ازقبیلِ دَین ہویاعین آیاوہ چیزصلح میں داخل مانی جائے گی یانہیں اس میں دو قول ہیں زیادہ مشہوریہ ہے کہ وہ داخل نہیں بلکہ اُس کے حقدارتمام ورثہ ہیں۔(1)(بحر)11
مسئلہ۱۰: ایک شخص اجنبی نے ترکہ میں دعویٰ کیا اورایک وارث نے دوسرے ورثہ کی عدم موجودگی میں صلح کرلی یہ صلح جائزہے مگردوسرے ورثہ کے ليے متبرع (2)ہے اون سے معاوضہ نہیں لے سکتا۔(3)(بحر)
مسئلہ۱۱: عورت نے میراث کادعویٰ کیاورثہ نے اُس سے اُسکے حصہ سے کم پریا مہرپرصلح کرلی یہ جائزہے مگرورثہ کویہ بات معلوم ہوتوایساکرناحلال نہیں اوراگرعورت گواہوں سے اسکوثابت کردے گی توصلح باطل ہوجائے گی۔(4)(بحر)
مسئلہ۱: مہر غلام تھااوربکری پرمصالحت ہوئی اگرمعین ہے جائزہے ورنہ ناجائزاورمکیل یاموزون پرصلح ہوئی اگرمعین ہے جائزہے اورغیرمعین ہے تودو صورتیں ہیں اس کے ليے میعادہے یانہیں اگرمیعادہے توناجائزہے اورمیعادنہیں ہے اوراُسی مجلس میں دے دیاجائزہے ورنہ ناجائزاورروپے پرمصالحت ہوئی جائزہے اگرچہ فوراً دیناقرارنہیں پایا۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ۲: سو روپے مہرپر نکاح ہوا بجائے اُس کے پانچ من غلہ پر مصالحت ہوئی اگرغلہ معین ہے جائزہے اورغیرمعین ہے ناجائزہے۔(6)(عالمگیری)
مسئلہ۳: مرد نے عورت پرنکاح کادعویٰ کیاعورت نے سوروپے دے کرصلح کی کہ مجھے اس سے بری کردے مردنے قبول کرلیا یہ صلح جائزہے اس کے بعدمرداگرنکاح کے گواہ پیش کرناچاہے نہیں پیش کرسکتا۔( 7)(عالمگیری)
مسئلہ۴: عورت نے دعوٰی کیاکہ میرے شوہرنے تین طلاقیں دے دیں ہیں اورشوہرمنکرہے پھرسوروپے پرصلح ہوگئی
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،باب الصلح فی الدَین،ج۷،ص۴۴۶.
2 ۔ یعنی بھلائی کرنے والا۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الصلح،باب الصلح فی الدَین،ج۷،ص۴۴۶.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثالث فی الصلح عن المَہر...إلخ،ج۴،ص۲۳۵.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
کہ عورت دعوے سے دست بردارہو جائے یہ صلح صحیح نہیں شوہراپنے روپے عورت سے واپس لے سکتاہے اورعورت کادعویٰ بدستورہے ایک طلاق اوردو طلاقیں اورخلع کابھی یہی حکم ہے۔(1)(عالمگیری)
مسئلہ۵: عورت نے طلاق بائن کادعویٰ کیااورمردمنکرہے سوروپے پرمصالحت ہوئی کہ مردعورت کوطلاق بائن دیدے یہ جائزہے۔يوہيں اگرسوروپے دینااس بات پرٹھہراکہ مرداُس طلاق کااقرارکرلے جس کاعورت نے دعویٰ کیاہے یہ بھی جائزہے۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ۶: عورت نے مردپردعویٰ کیاکہ میں اُس کی زوجہ ہوں اورہزارروپے مہرکے شوہرکے ذمہ ہیں اوریہ بچہ اسی شوہرکاہے اورمردان سب باتوں سے منکرہے دونوں میں یہ صلح ہوئی کہ مردعورت کوسوروپے دے اورعورت اپنے تمام دعاوی سے دست بردارہوجائے شوہربری نہیں ہوگابلکہ اس کے بعداگرعورت نے سب باتیں گواہوں سے ثابت کردیں تونکاح بھی ثابت اوربچہ کانسب بھی ثابت اورسوروپے جومردنے دیے تھے یہ صرف مہرکے مقابل میں ہیں یعنی ہزارروپے مہرکادعویٰ تھاسومیں صلح ہوگئی۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ۷: نفقہ کادعویٰ تھااورایسی چیزپرصلح ہوئی جس کو قاضی نفقہ مقررکرسکتاہومثلاً روپیہ یاغلہ یہ معاوضہ نہیں ہے بلکہ اس صلح کاحاصل یہ ہے کہ یہ چیزنفقہ میں مقررہوئی اوراگرایسی چیزپرصلح ہوئی جس کونفقہ میں مقررنہیں کیاجاسکتاہومثلاً غلام یاجانور اس کومعاوضہ قراردیاجائے گااس کاحاصل یہ ہوگاکہ عورت نے اس چیز کولے کرشوہرکو نفقہ سے بری کردیا۔(4)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: نفقہ کا دعویٰ تھا تین روپے ماہوار پر صلح ہوئی اب شوہریہ کہتا ہے مجھ میں اتنادینے کی طاقت نہیں اُس کو دیناپڑے گا ہاں اگر عورت یا قاضی اُسے بری کردیں توبری ہوسکتاہے اوراگرچیزوں کانرخ ارزاں ہوجائے شوہرکہتاہے کہ اس سے کم میں گزارہ ہوسکتاہے توکم کیاجا سکتا ہے۔يوہيں عورت کہتی ہے کہ تین روپے کفایت نہیں کرتے زیادہ دلایاجائے اورمردمالدارہے توزیادہ دلایاجا سکتاہے۔قاضی نے نفقہ کی مقدارمقررکی ہے اس صورت میں بھی عورت دعویٰ کرکے زیادہ کراسکتی ہے۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ۹: مطلّقہ کے زمانہ عدت کے نفقہ میں چندروپے پرمصالحت ہوئی کہ بس شوہراتنے ہی دے گااس سے زیادہ نہیں دے گااگرعدت مہینوں سے ہے یہ مصالحت جائزہے اورعدت حیض سے ہے توجائزنہیں کیونکہ تین حیض کبھی دومہینے بلکہ کم
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثالث فی الصلح عن المَہر...إلخ،ج۴،ص۲۳۶.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق،ص۲۳۷.
میں پورے ہوتے ہیں اورکبھی دس ماہ میں بھی پورے نہیں ہوتے۔(1)(خانیہ)
مسئلہ۱۰: جس عورت کوطلاق بائن دی ہے زمانہعدت تک اُس کے رہنے کے ليے مکان دیناضروری ہے مکان کی جگہ روپے پرمصالحت ہوئی کہ اتنے روپے لے لے یہ صلح ناجائزہے۔(2)(خانیہ)
مسئلہ۱: یہ دعویٰ کیاکہ میں نے اس کے پاس ودیعت رکھی ہے مودَع کہتاہے تونے میرے پاس ودیعت نہیں رکھی ہے اس صورت میں کسی معلوم چیزپر صلح ہوئی جائزہے اور اگر مالک نے مودَع سے ودیعت طلب کی مودَع ودیعت کا اقرار کرتا ہے یا خاموش ہے کچھ نہیں کہتا اور مالک کہتا ہے اس نے ودیعت ہلاک کر دی اس صورت میں بھی معلوم چیز پر صلح جائز ہے اوراگر مالک کہتا ہے اس نے ہلاک کر دی اور مودع کہتا ہے میں نے واپس دیدی یا ہلاک ہو گئی اس صورت میں صلح ناجائز ہے۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۲: مستعیر(4) عاریت سے منکِر ہے کہتا ہے میں نے عاریت لی ہی نہیں اس کے بعد صلح ہوئی جائز ہے اور اگر عاریت لینے کا اقرار کرتا ہے اور واپس کرنے یا ہلاک ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا اور مالک کہتا ہے کہ اس نے خود ہلاک کر دی صلح جائز ہے اور مستعیر کہتا ہے ہلاک ہو گئی اور مالک کہتا ہے اس نے خود ہلاک کر دی ہے تو صلح جائز نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: جو چیز ودیعت رکھی ہے وہ بعینہٖ مودَع (6)کے پاس موجود ہے مثلاً دو سو روپے ہیں اگر مودَع اقرار کرتا ہے یا انکار کرتا ہے مگر گواہوں سے ودیعت ثابت ہے ان دونوں صورتوں میں سو روپے پر صلح ناجائز ہے اور اگر مودع منکر ہو اور گواہ سے ودیعت ثابت نہ ہو تو کم پر صلح جائز ہے مگر مودع کے ليے یہ رقم جوبچی ہے دیانۃً جائز نہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۴: ایک شخص کے پاس دوسرے کی کچھ چیزیں ہیں اُس نے اون کو کسی کے پاس ودیعت رکھ دیا پھر اُس سے لے کر کسی اور کے پاس ودیعت رکھ دیا اس سے بھی وہ چیزیں لے لیں اب تلاش کرتا ہے تو ان میں کی ایک چیز نہیں ملتی اون دونوں سے کہا کہ فلاں چیز تمھارے یہاں سے ضائع ہو گئی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کس کے یہاں سے گئی وہ دونوں کہتے ہیں ہم نے غور سے
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح عن الدَین،فصل فی الإبراء عن البعض...إلخ،ج۲،ص۱۸۶.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،باب صلح الأعمال...إلخ،ج۲،ص۱۸۷.
4 ۔عاریت پر لینے والا۔
5 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع فی الصلح فی الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۲۳۸.
6 ۔امانت دار۔
7 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع فی الصلح فی الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۲۳۸.
دیکھا بھی نہیں کہ کیا کیا چیزیں ہیں تم نے جو کچھ دیا برتن سمیت ہم نے بحفاظت رکھ دیا اور تم نے جب مانگا دے دیا۔ یہ شخص جس نے دوسرے کے پاس ودیعت رکھی ہے ضامن ہے مالک کو تاوان دے۔ اس میں اور دونوں مودَع میں صلح جائز ہے پھر اگر مالک کے تاوان لینے کے بعد صلح ہوئی تو خواہ گم شدہ کی مثل قیمت پر صلح ہوئی یا کم پر بہرحال جائز ہے۔ اور اگر تاوان لینے سے پہلے صلح ہوئی اور مثل قیمت یا کچھ کم پر جس کو غبن یسیر کہتے ہیں صلح ہوئی یہ صلح جائز ہے اور یہ دونوں ضمان سے بری ہیں یعنی اگر مالک نے گواہوں سے اُس گم شدہ شے کو ثابت کر دیا تو ان دونوں سے کچھ نہیں لے سکتا اور اگر غبن فاحش پر مصالحت ہوئی ہے تو صلح ناجائز ہے اور مالک کو اختیار ہے کہ اُس پہلے شخص سے تاوان لے یا ان دونوں سے، ان سے اگر لے گا تو یہ پہلے سے اُس چیز کو واپس لے سکتے ہیں جو انھوں نے مصالحت میں دی ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: دعویٰ کیا کہ یہ چیز میری ہے مدعیٰ علیہ نے کہا یہ چیز میرے پاس فلاں کی امانت ہے اس کے بعد دونوں میں مصالحت ہو گئی مدعی کے ثبوت گزرنے کے بعد صلح ہوئی یا اس کے پہلے بہرحال یہ صلح جائز ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: جانور عاریت لیا تھا وہ ہلاک ہو گیا مالک کہتا ہے میں نے عاریت نہیں دیا تھا مستعیر نے کچھ مال دے کر صلح کر لی یہ جائز ہے اس کے بعد مستعیر اگر گواہوں سے عاریت ثابت کرے اور یہ کہے کہ جانور ہلاک ہو گیا صلح باطل ہو جائے گی اور مستعیر چاہے تو مالک پر حلف بھی دے سکتا ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: مضارب نے مضاربت سے انکار کرنے کے بعد اقرار کر لیا یا اقرار کے بعد انکار کیا اس کے بعد اس میں اور رب المال(4) میں صلح ہو گئی یہ جائز ہے اور اگر مضارب نے مال مضاربت سے کسی کے ساتھ عقد مداینہ (5) کیا تھا اور مضارب و مدیون میں صلح ہو گئی یہ صلح جائز ہے مگر اس صلح میں جو کچھ کمی ہوئی ہے اتنے کا رب المال کے ليے مضارب تاوان دے اور اگر کم پر صلح اس ليے کی ہے کہ مبیع میں کچھ عیب تھا تو مضارب ضامن نہیں بلکہ یہ کمی رب المال کے ذمہ ہو گی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: یہ دعویٰ کیا کہ یہ چیز مجھے ہبہ کر دی ہے اور میں نے قبضہ بھی کر لیا اور وہ چیز واہب(7) کے قبضہ میں ہے
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع فی الصلح فی الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۲۳۸،۲۳۹.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۳۹. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔مضاربت پر مال دینے والا۔
5 ۔اُدھار کے ساتھ خریدوفروخت کاعقد۔
6 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع فی الصلح فی الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۲۳۹.
7 ۔ہبہ کرنے والا۔
اورواہب ہبہ سے منکر ہے یوں مصالحت ہوئی کہ اُس چیز میں سے نصف واہب لے اور نصف موہوب لہ(1) یہ صلح جائز ہے اس کے بعد موہوب لہ ہبہ اور قبضہ کو گواہوں سے ثابت کرنا چاہے گواہ مقبول نہیں یعنی نصف جو مدعیٰ علیہ (2)کے قبضہ میں ہے مدعی(3) اُسے نہیں لے سکتا۔ اور اگر صلح میں ایک نے کچھ روپے دینے کی بھی شرط کر لی ہے یعنی وہ چیز بھی آدھی دے گا اور اتنے روپے بھی یہ صلح بھی جائز ہے۔ اور اگر یوں صلح ہوئی کہ چیز پوری فلاں شخص لے گا اور وہ دوسرے کو اتنے روپے دے گا یہ بھی جائز ہے اور اگر موہوب لہ نے ہبہ کا دعویٰ کیا اور یہ اقرار بھی کر لیا کہ قبضہ نہیں کیا تھا اور واہب ہبہ سے انکار کرتا ہے اس کے بعد صلح ہوئی یوں کہ چیز دونوں میں نصف نصف ہو جائے یہ صلح باطل ہے اوراس صورت میں موہوب لہ کے ذمہ کچھ روپے بھی ہیں تو جائز ہے اور واہب کے ذمہ روپے ٹھہرے ہوں تو صلح ناجائز ہے۔ اور اگر یوں صلح ہوئی کہ پوری چیز ایک کو دی جائے اور یہ دوسرے کو اتنے روپے دے اگر واہب کے ذمہ روپے قرار پائے صلح باطل ہے اور موہوب لہ کے ذمہ ہوں تو باطل نہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: ایک شخص کے پاس مکان ہے وہ کہتا ہے کہ زید نے مجھے یہ مکان صدقہ کر دیا ہے اور میں نے قبضہ کیا اور زید کہتا ہے میں نے ہبہ کیا ہے اور میں واپس لینا چاہتا ہوں دونوں میں صلح ہو گئی کہ وہ شخص زید کو سو روپے دے اور مکان اُسی کے پاس رہے یہ صلح جائز ہے اور اب مکان واپس نہیں لے سکتا صلح کے بعد وہ شخص جس کے قبضہ میں مکان ہے اگر ہبہ کا اقرار کرے یا صلح سے پہلے زید نے ہبہ و صدقہ دونوں سے انکار کیا ہو جب بھی صلح بدستور قائم رہے گی۔ اور اگر یوں صلح ہوئی کہ جس کے پاس مکان ہے وہ زید کو سو روپے دے اور مکان دونوں کے مابین نصف نصف رہے یہ صلح بھی جائز ہے اور شیوع کی وجہ سے صلح باطل نہیں ہو گی۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: ایک شخص کو معین گیہوں(6) پر اجیر(7) رکھا یعنی وہ گیہوں اجر ت میں دیے جائیں گے اس کے بعد یوں صلح ہوئی کہ گیہوں کی جگہ اتنے روپے دیے جائیں گے یہ صلح ناجائز ہے کہ جب گیہوں معین تھے تو مبیع ہوئے اور مبیع کی بیع قبل قبضہ ناجائز ہے۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔جسے ہبہ کیاگیا۔ 2 ۔جس پردعوی کیاگیا۔
3 ۔دعوی کرنے والا۔
4 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع فی الصلح فی الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۲۳۹.
5 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع فی الصلح فی الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۲۴۰.
6 ۔گندم۔ 7 ۔اجرت پر کام کرنے والا،ملازم،نوکر،مزدور۔
8 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع فی الصلح فی الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۲۴۰.
مسئلہ ۱۱: کرایہ پر مکان لیا اور مدت کے متعلق اختلاف ہے مالک مکان کہتا ہے کہ دس روپے کرایہ پر دو مہینے کو دیا ہے اور کرایہ دار کہتا ہے کہ دس روپے میں تین ماہ کے ليے دیا ہے۔ صلح یوں ہوئی کہ دس روپے میں ڈھائی ماہ کرایہ دار مکان میں رہے یہ جائز ہے اوراگر یوں صلح ہوئی کہ تین ماہ مکان میں رہے مگر ایک روپیہ اجرت میں زیادہ کردے یہ بھی جائز ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: کسی جگہ جانے کے ليے گھوڑا کرایہ پر لیا اور اجرت بھی مقرر ہو چکی گھوڑے کا مالک کہتا ہے کہ فلاں جگہ جانے کی دس روپے اجرت ٹھہری ہے اور مستاجر کہتا ہے دوسری جگہ جانا ٹھہرا ہے جو اُس جگہ سے دور ہے اور اجرت آٹھ روپے طے ہونا کہتا ہے۔ اس میں صلح یوں ہوئی کہ اجرت وہ دی جائے جو گھوڑے والا کہتا ہے۔ اور وہاں تک سوار ہو کر جائے گا جہاں تک مستاجر بتاتا ہے یہ جائز ہے۔ يوہيں اگر جگہ وہ رہی جو مالک کہتا ہے اور کرایہ وہ رہا جو مستاجر کہتا ہے یہ صلح بھی جائز ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: یہ کہتا ہے کہ زید کے پاس جوفلاں چیز ہے مثلاً مکان وہ میرا ہے زید کے میرے ذمہ سو روپے تھے وہ میں نے اُس کے پاس رہن(3) رکھ دیا ہے زید کہتا ہے کہ وہ مکان میرا ہے میرے پاس کسی نے رہن نہیں رکھا ہے اور میرے سو روپے تم پر باقی ہیں اس معاملہ میں یوں صلح ہوئی کہ زید وہ سو روپے چھوڑ دے اور پچاس اور دے اور مکان کے متعلق اب دوسرا شخص دعویٰ نہ کریگا یہ صلح جائز ہے اگر صلح کے بعد زید نے رہن کا اقرار کر لیا جب بھی صلح باطل نہیں ہو گی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: راہن(5) مر گیا ایک شخص کہتا ہے کہ شے مرہون (6)میری مِلک ہے راہن کو رہن رکھنے کے ليے میں نے بطورِ عاریت دی تھی اس میں اور مرتہن (7)میں اس پر صلح ہو گئی کہ مرتہن اس کی مِلک کا اقرار کرلے راہن کے ورثہ کے مقابل میں مرتہن کا اقرار کوئی چیز نہیں۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع فی الصلح فی الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۲۴۰.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔گروی۔
4 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع فی الصلح فی الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۲۴۰،۲۴۱.
5 ۔گروی رکھنے والا۔ 6 ۔گروی رکھی ہوئی چیز۔
7 ۔جس کے پاس چیز گروی رکھی گئی ہے۔
8 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع فی الصلح فی الودیعۃ...إلخ،ج۴،ص۲۴۱.
مسئلہ ۱: ایک چیز غصب کی جس کی قیمت سو روپے ہے اور سو روپے سے زیادہ میں صلح ہوئی یہ صلح جائز ہے یعنی اگرصلح کے بعد غاصب نے گواہوں سے ثابت کیا کہ وہ چیز اوتنے کی نہیں تھی جس پر صلح ہوئی ہے یہ گواہ مقبول نہیں ہوں گے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: غصب کا دعویٰ ہوا قاضی نے حکم دے ديا کہ مغصوب کی قیمت(2) غاصب ادا کرے اس فیصلہ کے بعد قیمت سے زیادہ پر صلح ہوئی یہ ناجائز ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: کپڑا غصب کیا تھا غاصب کے پاس کسی دوسرے نے اُس کو ہلاک کر دیا مالک نے غاصب سے کم قیمت پر صلح کر لی یہ جائز ہے۔ اور غاصب اُس ہلاک کرنے والے سے پوری قیمت وصول کر سکتا ہے مگر صلح کی رقم سے جتنا زیادہ لیا ہے وہ صدقہ کر دے۔ اور اگر مالک نے اس ہلاک کرنے والے سے کم قیمت پر صلح کر لی یہ بھی جائز ہے اور اس صورت میں غاصب بری ہو جائے گا یعنی مالک اُس سے تاوان نہیں لے سکتا بلکہ کسی وجہ سے اگر ہلاک کنندہ سے رقمِ صلح وصول نہ ہو سکے جب بھی غاصب سے کچھ نہیں لے سکتا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۴: گیہوں غصب کیے تھے اور صلح روپے یا اشرفی پر ہوئی یہ صلح جائز ہے اگر غاصب کے پاس وہ گیہوں موجود ہوں اور روپے یا اشرفیاں(5) فوراً دینا قرار پایا ہو یا انکے دینے کی کوئی میعاد ہو دونوں صورتوں میں صلح جائز ہے اور اگر وہ گیہوں ہلاک ہو چکے اور روپے کے ليے کوئی میعاد مقرر ہوئی تو صلح ناجائز ہے اور فوراً دینا ٹھہرا ہے تو جائز ہے جب کہ قبضہ بھی ہو جائے اور قبضہ سے پہلے دونوں جدا ہو گئے صلح باطل ہو گئی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: ایک من گیہوں اور ایک من جَو غصب کیے اور دونوں کو خرچ کر ڈالا اس کے بعد ایک من جَو پر صلح ہوئی اس طور پر کہ گیہوں معاف کر دے یہ جائز ہے اور ان دونوں میں ایک موجود ہے اور اُسی پر صلح ہوئی یوں کہ جوخرچ کر ڈالا ہے
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الخامس فی الصلح فی الغصب...إلخ،ج۴،ص۲۴۱.
2 ۔غصب کی ہوئی چیز کی قیمت۔
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الخامس فی الصلح فی الغصب...إلخ،ج۴،ص۲۴۲.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔سونے کے سکے۔
6 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الخامس فی الصلح فی الغصب...إلخ،ج۴،ص۲۴۲.
اُسے معاف کر دیا یہ بھی جائز ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: ایک من گیہوں غصب کر کے غائب کر دیے اور انھیں گیہوں کے نصف من پر صلح کی یہ ناجائز ہے اوردوسرے گیہوں کے نصف من پر صلح ہوئی یہ جائز ہے مگر غاصب کے پاس اگرغصب کیے ہوئے گیہوں اب تک موجود ہیں تو نصف من سے جتنے زیادہ ہیں ان کو صَرف کرنا حلال نہیں بلکہ واجب ہے کہ مالک کو واپس دیدے۔ اور اگر دوسری جنس پر صلح ہوئی مثلاً کپڑے کا تھان مالک کو دے دیا یہ صلح بھی جائز ہے اور گیہوں کو کام میں لانا بھی جائز۔ اور اگر ایسی چیز غصب کی ہے جو تقسیم کے قابل نہیں مثلاً جانور اور صلح اُسی کے نصف پر ہوئی یعنی اُس جانور میں نصف غاصب کا اور نصف مغصوب منہ(2) کا قرار پایا یہ صلح ناجائز ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: ایک ہزار روپے غصب کیے اور ان کو چھپا دیا اور پانسو میں صلح ہوئی غاصب نے اونھیں میں سے پانسو مالک کو دے دیے یا دوسرے روپے دیے قضاء ًیہ صلح جائز ہے مگر دیانۃً غاصب پر واجب ہے کہ باقی روپے بھی مالک کو واپس دے۔ (4)(خانیہ)
مسئلہ ۸: ایک شخص نے دوسرے کا چاندی کا برتن ضائع کر دیا قاضی نے حکم دیا کہ اُس کی قیمت تاوان دے مگر اوس قیمت پر قبضہ کرنے سے پہلے دونوں جدا ہو گئے وہ فیصلہ باطل نہ ہو گا اور باہم اون دونوں نے قیمت پر مصالحت کی اور قبضہ سے قبل جدا ہو گئے یہ صلح بھی باطل نہیں اور اگر روپے ضائع کر دیے اور اُس سے کم پر مصالحت ہوئی اور ادا کرنے کی میعاد مقرر ہوئی یہ صلح بھی جائز ہے۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۹: موچی کی دکان پر لوگوں کے جوتے رکھے تھے چوری گئے چور کا پتہ چل گیا موچی نے چور سے صلح کر لی اگر جوتے موجود ہوں بغیر اجازت مالک صلح جائز نہیں اور چور کے پاس جوتے باقی نہ رہے تو بغیر اجازت مالک بھی صلح جائز ہے بشرطیکہ روپے پر صلح ہوئی ہو اور زیادہ کمی پر صلح نہ ہو۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: صلح کرنے پر مجبور کیا گیا یہ صلح ناجائز ہے۔ دو مدعی ہیں حاکم نے مدعیٰ علیہ کو ایک سے صلح کرنے پر مجبور کیا
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الخامس فی الصلح فی الغصب...إلخ،ج۴،ص۲۴۲.
2 ۔جس کی چیز غصب کی گئی۔
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الخامس فی الصلح فی الغصب...إلخ،ج۴،ص۲۴۲،۲۴۳.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح عن الدَین،فصل فی الصلح عن الدَین،ج۲،ص۱۸۵.
5 ۔المرجع السابق،ص۱۸۴.
6 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الخامس فی الصلح فی الغصب...إلخ،ج۴،ص۲۴۴.
اُس نے دونوں سے صلح کر لی جس کے ليے مجبور کیا گیا اُس سے صلح ناجائز ہے دوسرے سے جائز ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: دھوبی کو کپڑا دھونے کے ليے دیا اُس نے زور زور سے پاٹے(2) پرپیٹ کرپھاڑ ڈالا صلح یوں ہوئی کہ دھوبی کپڑا لے لے اور اتنے روپے دے یا یوں کہ دھوبی سے اتنے روپے لے گا اور اپنا کپڑا بھی لے گا دونوں صورتیں جائز ہیں۔ اگرمکیل و موزون پر صلح ہوئی اور یہ معین ہیں جب بھی صلح جائز ہے کپڑا دھوبی لے گا یا مالک لے گا دونوں صورتیں جائز ہیں۔ اور اگر مکیل و موزون غیر معین ہوں اور یہ طے ہوا کہ کپڑا دھوبی لے گا تو مکیل یا موزون کا جتنا حصہ کپڑے کے مقابل ہو گا اُس میں صلح جائز ہے اور جو حصہ کپڑا پھٹنے کی قیمت کے مقابل ہواوس میں ناجائز اور اگریہ طے ہوا کہ مکیل یا موزون بھی لے گا اور اپنا کپڑا بھی تو صلح ناجائز ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: دھوبی کہتا ہے میں نے کپڑا دے دیا مالک کہتا ہے نہیں دیا اس میں صلح ناجائز ہے اور اس صورت میں دھلائی بھی مالک کے ذمہ واجب نہیں۔ اور اگر دھوبی کہتا ہے میں نے کپڑا دے دیا اور دھلائی کا مطالبہ کرتا ہے اور مالک انکار کرتا ہے آدھی دھلائی پر مصالحت ہوئی یہ جائز ہے۔ يوہيں اگر مالک کپڑا وصول ہونے کا اقرار کرتا ہے مگر کہتا ہے دھلائی دے چکا ہوں اور دھوبی دھلائی پانے سے انکار کرتا ہے آدھی دھلائی پر مصالحت ہو گئی یہ صلح بھی جائز ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: اجیر مشترک (5)یہ کہتا ہے چیز میرے پاس سے ہلاک ہوگئی مالک نے کچھ روپے لے کر اُس سے صلح کرلی۔ امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نزدیک یہ صلح ناجائز ہے کیونکہ اجیر مشترک امین ہے چیز اُس کے پاس امانت ہوتی ہے اور امین کے پاس سے چیز ضائع ہو جائے تو معاوضہ نہیں لیا جا سکتا اور اجیر خاص میں یہ صورت پیش آئے تو بالاتفاق صلح ناجائز ہے۔ چرواہا اگر دوسرے لوگوں کے بھی جانور چراتا ہوتو اجیر مشترک ہے اور تنہا اسی کے جانور چراتا ہو تو اجیر خاص (نوکر) ہے۔(6) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الخامس فی الصلح فی الغصب...إلخ،ج۴،ص۲۴۴.
2 ۔وہ سل یا لکڑی کا تختہ جس پر دھوبی کپڑے دھوتے ہیں۔
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب السادس فی صلح العمال...إلخ،ج۴،ص۲۴۴،۲۴۵.
4 ۔المرجع السابق،۲۴۵.
5 ۔ اجرت پر مختلف لوگوں کے کام کرنے والا۔
6 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب السادس فی صلح العمال...إلخ،ج۴،ص۲۴۵.
مسئلہ ۴: کپڑا بُننے والے کو سُوت(1) دیا کہ اس کا سات ہاتھ لنبا اور چار ہاتھ چوڑا کپڑا بُن دے اُس نے کم کر دیا پانچ ہاتھ لنبا چار ہاتھ چوڑا بُن دیا یا زیادہ کر دیا اس کا حکم یہ ہے کہ سوت والا کپڑا لے لے اور اُس کو اجرت مثل دیدے یا کپڑا اُسی کو دیدے اور جتنا سوت دیا تھا ویسا ہی اوتنا سوت اُس سے لے لے سوت والے نے دوسری صورت اختیار کی یعنی کپڑا دیدیا اور سوت لینا ٹھہرا لیا اس کے بعد یوں مصالحت کر لی کہ سوت کی جگہ اتنے روپے لے گا اور روپے کی میعاد مقرر کر لی یہ صلح ناجائز ہے اور اگر پہلی صورت اختیار کی کہ کپڑا لے گا اور اجرت مثل دے گا اس کے بعد یوں صلح ہوئی کہ کپڑا دے دیا اور روپے لیناٹھہرا لیا اور اس کی مدت مقرر کر لی یہ صلح جائز ہے۔(2) (خانیہ) اور اگر صلح اس طرح ہوئی کہ کپڑا لے گا اور اجرت میں اتنا کم کر دے گا یہ صلح بھی جائز ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: رنگنے کے ليے کپڑا دیا اور یہ ٹھہرا کہ اتنا رنگ ڈالنا اور ایک روپیہ رنگائی دی جائے گی اوس نے دو چند رنگ ڈال دیا اس میں کپڑے والے کو اختیار ہے کہ اپنا کپڑا لے لے اور ایک روپیہ دے اور جو رنگ زیادہ ڈالا ہے وہ دے یا اپنے سپید کپڑے کی قیمت لے لے اور کپڑا رنگریز کے پاس چھوڑ دے اس میں صلح یوں ہوئی کہ اتنے روپے لے گا یہ صلح جائز ہے اگرچہ روپے کے ليے میعاد ہو اور اگر یوں صلح ہوئی کہ اپنا کپڑا لے گا اوریہ معین گیہوں رنگائی میں دے گا یہ صلح بھی جائز ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: ایک چیز خریدی اُس چیز پر یا اُس کے کسی جز پر کسی نے دعویٰ کر دیا کہ میری ہے مشتری نے اُس سے صلح کر لی یہ صلح جائز ہے مگر مشتری یہ چاہے کہ جو کچھ دینا پڑا ہے بائع سے واپس لوں یہ نہیں ہو سکتا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: ایک چیز خریدی اور مبیع پر قبضہ بھی کر لیا اب دعویٰ کرتا ہے کہ وہ بیع فاسد ہو ئی تھی مگر گواہ میسر نہیں ہوئے کہ فساد ثابت کرتا دعواے فساد کے متعلق دونوں میں مصالحت ہو گئی یہ صلح ناجائز ہے صلح کے بعد اگر گواہ میسر آئیں پیش کر سکتا ہے گواہ ليے جائیں گے۔(6) (عالمگیری)
1 ۔روئی یا اُون سے بناہوا دھاگہ۔
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،باب صلح الأعمال...إلخ،ج۲،ص۱۸۶،۱۸۷.
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب السادس فی صلح العمال...إلخ،ج۴،ص۲۴۵.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب السابع فی الصلح فی البیع...إلخ،ج۴،ص۲۴۶.
6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۳: رب السلم(1)نے مسلم الیہ(2)سے راس المال(3) پر صلح کر لی جائز ہے اور دوسری جنس پرصلح کر ے مثلاً اتنے من گیہوں(4) کی جگہ اتنے من جَو دیدے یہ صلح ناجائز ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۴: مسلم الیہ کے ذمہ سلم کے دس من گیہوں ہیں اور ہزار روپے بھی رب السلم کے اُس کے ذمہ ہیں دونوں کے مقابل میں سو روپے پر صلح ہو گئی جائز ہے۔ (6)(بدائع)
مسئلہ ۵: سلم میں یوں صلح ہوئی کہ نصف راس المال لے گا اور نصف مسلم فیہ یہ جائز ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: پانچ من گیہوں میں سلم کیا تھا جس کی میعاد ایک ماہ تھی پھر اُسی شخص سے پانچ من جَو میں سلم کی اور اس کی میعاد دو ماہ مقرر ہوئی ایک ماہ کا زمانہ گزرا اور گیہوں کی وصولی کا وقت آگیا دونوں میں یہ مصالحت ہوئی کہ رب السلم گیہوں اس وقت لے لے اور جَو کی میعادمیں اضافہ ہو جائے یہ جائز ہے اور اگر یوں صلح ہوئی کہ جَو اس وقت لے لے اور گیہوں کی میعاد مؤخر ہو جائے یہ ناجائز ہے۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: کپڑے کے عوض میں گیہوں میں سلم کیا اور مسلم الیہ کو وہ کپڑا دے دیا پھر مسلم الیہ نے اُسی کپڑے سے کسی دوسرے شخص سے سلم کیا رب السلم اول نے مسلم الیہ اول سے راس المال پر مصالحت کی اس کی دو صورتیں ہیں اگر مسلم الیہ اول کے پاس وہ کپڑا آگیا اس کے بعد صلح ہوئی اور اس طور پر آیا جو من کل الوجہ فسخ ہے(9) مثلاً مسلم الیہ ثانی نے خیار رویت کی وجہ سے واپس کر دیا یا خیار عیب کی وجہ سے حکم قاضی سے واپس کیا یا دوسری سلم میں راس المال پر قبضہ سے پہلے دونوں جدا ہو گئے اس کا حکم یہ ہے کہ مسلم الیہ رب السلم کو وہی کپڑا واپس کر دے کپڑے کی قیمت واپس دینے کا حکم نہیں ہو سکتا۔ يوہيں اگر مسلم الیہ نے وہ کپڑا کسی کو ہبہ کر دیا تھا پھر واپس لے لیاقاضی کے حکم سے واپس لیا ہے یا بغیر قضائے قاضی(10) اس صورت میں بھی رب
1 ۔بیع سلم میں خریدار کو رب السلم کہتے ہیں۔ 2 ۔بیع سلم میں بائع کو مسلم الیہ کہتے ہیں۔
3 ۔بیع سلم میں ثمن کو رأس المال کہتے ہیں۔ 4 ۔گندم۔
5 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب السابع فی الصلح فی البیع...إلخ،ج۴،ص۲۴۶.
6 ۔''البدائع الصنائع''،کتاب الصلح،فصل:شرائط التی ترجع إلی المصالح،ج۵،ص۵۳.
7 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب السابع فی الصلح فی البیع...إلخ،ج۴،ص۲۴۶.
8 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب السابع فی الصلح فی البیع...إلخ،ج۴،ص۲۴۶.
9 ۔یعنی ہرصورت میں فسخ ہے۔
10 ۔قاضی کے فیصلے کے بغیر۔
السلم کو کپڑا واپس کر دے۔ اور اگر وہ کپڑا مسلم الیہ اول کو ایسی وجہ سے حاصل ہوا کہ من کل الوجہ ملکِ جدید(1) ہو مثلاً اس نے مسلم الیہ ثانی سے خرید لیا یا اوس نے اسے ہبہ کر دیا یا بطور میراث اس کو ملا ان صورتوں میں رب السلم اول کو کپڑے کی قیمت ملے گی وہ کپڑا نہیں ملے گا۔ اور اگر اس طرح واپس ہوا کہ ایک وجہ سے فسخ اور ایک وجہ سے تملیک (2)ہے مثلاً دونوں نے سلم ثانی کا اقالہ کر لیا یا عیب کی وجہ سے بغیر قضائے قاضی واپس لے لیا تو رب السلم کا حق کپڑے کی قیمت ہے خود وہ کپڑا نہیں ہے اور اگر مسلم الیہ اول کے پاس کپڑا آنے سے قبل دونوں نے راس المال پر صلح کی اور قاضی نے مسلم الیہ اول کو قیمت ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کے بعد اس کے پاس وہی کپڑا آگیاتو یہ دونوں قیمت کی جگہ پر کپڑا واپس کرنے پر مصالحت نہیں کر سکتے مسلم الیہ کے پاس اُس کی واپسی جس صورت سے بھی ہومگر صرف اس صورت میں کہ عیب کی وجہ سے بحکمِ قاضی واپس ہوا ہو اوراگر قاضی نے قیمت واپس دینے کا حکم ابھی نہیں دیا ہے کہ وہی کپڑا مسلم الیہ کے پاس اس طرح آیا کہ وہ ہر وجہ سے سلم ثانی کا فسخ ہے تو رب السلم کو کپڑا دے گا ورنہ قیمت۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: دو شخصوں نے مل کر تیسرے سے سلم کیا تھا اون میں ایک نے اپنے حصہ میں راس المال پر صلح کر لی یہ صلح شریک کی اجازت پر موقوف ہے اُس نے اگر رد کر دی صلح باطل ہو گئی اور سلم بدستور باقی رہی اور شریک نے جائز کر دی تو صلح دونوں پر نافذ ہو گی یعنی نصف راس المال میں دونوں شریک ہوں گے اور نصف مسلم فیہ میں بھی دونوں کی شرکت ہو گی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: ایک شخص سے سلم کیا ہے مسلم الیہ کی طرف سے کسی نے کفالت کی(5) ہے کفیل (6)نے رب السلم سے راس المال پر صلح کرلی یہ صلح اجازت مسلم الیہ پر موقوف ہے جائز کر دی جائز ہے رد کر دی باطل ہے اگر کفیل نے بغیر حکم مسلم الیہ کفالت کی ہے جب بھی یہی حکم ہے۔ اجنبی نے راس المال پر مصالحت کی اور راس المال کا ضامن ہو گیا جب بھی یہی حکم ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: کفیل نے رب السلم سے جنس مسلم فیہ (8)پر مصالحت کی مگر سلم میں عمدہ گیہوں قرار پائے اور اُس نے کم
1 ۔نئی ملکیت۔ 2 ۔مالک بنانا۔
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب السابع فی الصلح فی البیع...إلخ،ج۴،ص۲۴.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔ذمہ داری لی۔ 6 ۔ضامن۔
7 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب السابع فی الصلح فی البیع...إلخ،ج۴،ص۲۴۷،۲۴۸.
8 ۔بیع سلم میں مبیع(بیچی جانے والی چیز) کو مسلم فیہ کہتے ہیں۔
درجہ کا دینا ٹھہرا لیا یہ صلح جائز ہے اور کفیل مسلم الیہ سے کھرے گیہوں لے گا۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۱۱: ایک شخص نے دوسرے کو سلم کرنے کا حکم دیا تھا (وکیل بنایاتھا) اُس نے سلم کیا پھر راس المال پر صلح کر لی یہ صلح اس وکیل پر نافذ ہو گی موکل پر نافذ نہیں ہو گی یعنی وکیل اُس مسلم الیہ سے راس المال لے سکتا ہے مسلم فیہ نہیں لے سکتا مگر اس پر لازم ہے کہ موکل کو مسلم فیہ اپنے پاس سے دے اور اگر خود موکل نے مسلم الیہ سے صلح کر لی اور راس المال پر قبضہ کر لیا تو صلح جائز ہے یعنی وکیل بھی مسلم فیہ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: ایک چیز کا دعویٰ ہے اوردوسری جنس پر صلح ہوئی یہ صلح بیع کے حکم میں ہے اس میں خیار شرط صحیح ہے مثلاً سوروپے کا دعویٰ تھا اور غلام یا جانور پر صلح ہوئی اور مدعیٰ علیہ نے اپنے ليے یا مدعی کے ليے تین دن کا خیار شرط رکھا صلح بھی جائز ہے اور خیار شرط بھی، مدعیٰ علیہ دعویٰ کا اقرار کرتا ہو یا انکار دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: ایک ہزار کا دعویٰ تھا غلام پر صلح ہوئی یوں کہ مدعی ایک ماہ کے اندر دس اشرفیاں مدعیٰ علیہ کو دے گا اور اس میں خیار شرط بھی ہے اگر عقد واجب ہو گیا یعنی خیار شرط کی وجہ سے فسخ نہیں کیا تو مدعیٰ علیہ ہزار سے بری ہو گیا اور مدعی کے ذمہ اُس کی دس اشرفیاں واجب ہو گئیں اوراُن کی میعاد یوم وجوب عقد سے ایک ماہ تک ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: ایک شخص کے دوسرے کے ذمہ دس روپے ہیں اور کپڑے کے تھان پر خیار شرط کے ساتھ صلح ہوئی اور تھان مدعی کودے دیا مگر تین دن پورے ہونے سے پہلے ہی تھان ضائع ہو گیا مدعی تھان کی قیمت کا ضامن ہے اور مدعیٰ علیہ کے ذمہ وہی دس روپے بدستور واجب ہیں اور اگر خیار مدعی کے ليے تھا اور اندرون مدت مدعی کے پاس سے ضائع ہو گیا تو دس روپے کے بدلے میں ضائع ہوا یعنی اب کوئی دوسرے سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرسکتا اور اگر اندرون مدت جس کے ليے خیار تھا وہی مر گیا توصلح تمام ہو گئی۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۴: دَین کے بدلے میں غلام پر بشرط خیار مصالحت ہوئی اور خیار کی مدت تین دن قرار پائی مدت پوری ہونے
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح عن الدَین،فصل فی الإبراء عن البعض...إلخ،ج۲،ص۱۸۵.
2 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب السابع فی الصلح فی البیع...إلخ،ج۴،ص۲۴۸.
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثامن فی الخیار فی الصلح...إلخ،ج۴،ص۲۴۹.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
کے بعد صاحب خیار کہتا ہے میں نے اندرون مدت فسخ کر دیا تھا اور دوسرا منکِر ہے تو فسخ کو گواہوں سے ثابت کرنا ہو گا اور اگر اس نے فسخ کے گواہ پیش کیے اور دوسرے نے اس کے گواہ پیش کیے کہ اس نے عقد کو نافذ کر دیاہے تو فسخ کے گواہ معتبر ہیں اور اگر اندرون مدت یہ اختلاف ہوا تو صاحب خیار کا قول معتبر ہے اور دوسرے کے گواہ۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: دو شخصوں کا ایک شخص پر دَین ہے مدیون نے غلام پر دونوں سے مصالحت کی اور دونوں کے ليے خیار شرط رکھا ان میں سے ایک صلح پر راضی ہے اور دوسرا فسخ کرنا چاہتا ہے یہ نہیں ہو سکتا فسخ کرنا چاہیں تو دونوں مل کر فسخ کریں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: مدعیٰ علیہ نے دعوے سے انکار کیا اس کے بعد خیار شرط کے ساتھ صلح کی پھر بمقتضائے خیار(3) عقد کو فسخ کردیا تو مدعی کا دعویٰ بدستور لوٹ آئے گا اور مدعیٰ علیہ کا صلح کرنا اقرار نہیں متصور ہو گا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: جس چیز پر صلح ہوئی اُس کومدعی نے نہیں دیکھا ہے دیکھنے کے بعد اُس کو خیار حاصل ہے پسند نہیں ہے واپس کر دے اور صلح جاتی رہی۔ جس پر صلح ہوئی اُس کو مدعی نے دیکھا مگر مدعی پر کسی دوسرے نے دعویٰ کیا اُسی چیز پر اس نے اُس دوسرے سے صلح کر لی اُس نے دیکھ کر واپس کر دی اب مدعی اس چیز کو مدعیٰ علیہ پر واپس نہیں کر سکتا اور اگرخیار عیب کی وجہ سے دوسرا شخص حکم قاضی سے واپس کرتا تو مدعی مدعیٰ علیہ کو واپس کر سکتا تھا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: مدعی کے ليے صلح میں خیار عیب اُس وقت ہوتا ہے جب مال کا دعویٰ ہو اور اس کا وہی حکم ہے جو مبیع کا ہے کہ اگر حکم قاضی سے فسخ ہو تو صلح فسخ ہو گی اور مدعیٰ علیہ اُس چیز کو اپنے بائع پر واپس کر سکتا ہے اور بغیرحکم قاضی ہو تو بائع پر رد نہیں کر سکتا۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: جس پر مصالحت ہوئی اُس میں عیب پایا مگر چونکہ چیز ہلاک ہو چکی ہے یا اُس میں کمی یا بیشی ہو چکی ہے اس وجہ سے واپس نہیں کر سکتا توبقدرعیب مدعیٰ علیہ پر رجوع کریگا اگر یہ صلح اقرار کے بعد ہے تو عیب کاجتنا حصہ اُس کے حق کے
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثامن فی الخیار فی الصلح...إلخ،ج۴،ص۲۴۹.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی اختیار کی وجہ سے۔
4 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثامن فی الخیار فی الصلح...إلخ،ج۴،ص۲۴۹.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔المرجع السابق،ص۲۵۰.
مقابل ہواوتنا مدعیٰ علیہ سے وصول کر سکتا ہے اور انکار کے بعد صلح ہوئی تو حصہ عیب کے مقابل میں جو کمی ہوئی اُس کا دعویٰ کرسکتاہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مکان کا دعویٰ تھا غلام دے کر مدعیٰ علیہ نے صلح کر لی اس غلام میں کسی نے اپنا حق ثابت کیا اگر مستحق صلح کو جائز نہ رکھے تو مدعی اوس مدعیٰ علیہ پر پھر دعویٰ کر سکتا ہے اور اگر مستحق نے صلح کوجائز کر دیاتو غلام مدعی کا ہے اور مستحق بقدر قیمت غلام مدعیٰ علیہ سے وصول کر سکتا ہے اور اگرنصف غلام میں مستحق نے اپنی مِلک ثابت کی ہے تو مدعی کو اختیار ہے نصف غلام جو باقی ہے یہ لے اور نصف حق کا مدعی علیہ پر دعویٰ کرے یا یہ نصف بھی واپس کر دے اورپورے مطالبہ کادعویٰ کرے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: روپے سے ایک چیز خریدی اور تقابُض بدلَین ہو گیا(3)اس کے بعد مشتری نے مبیع میں عیب پایا۔ بائع عیب کا اقرار کرتا ہو یا انکار اس معاملہ میں اگر روپے پر صلح ہو گئی یہ جائز ہے روپے کے ليے میعاد مقرر ہوئی یا فوراً دینا قرار پایا بہرحال جائز ہے اور اشرفی پر صلح ہوئی اور ان پر قبضہ بھی ہو گیا جائز ہے اور معین کپڑے پر صلح ہوئی یہ بھی جائز ہے معین گیہوں پر صلح ہوئی یہ بھی جائز ہے اور غیر معین گیہوں پر صلح ہوئی اور قبضہ سے پہلے دونوں جدا ہو گئے یہ ناجائز ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: کپڑا خریدا اُسے قطع کرا کے(5) سلوا لیا اب عیب پر مطلع ہوا اور روپیہ پر صلح ہوئی یہ جائز ہے۔ يوہيں اگر کپڑے کو سرخ رنگ دیا اور عیب پر مطلع ہوا صلح جائز ہے اور اگر کپڑا قطع کرایا ہے ابھی سلا نہیں اور بیع کر ڈالا پھر عیب پرمطلع ہوا اُس عیب کے بارے میں صلح ناجائز ہے۔ کپڑے کوسیاہ رنگا اس کا بھی یہی حکم ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: کپڑا قطع کر ڈالا اور ابھی سلا نہیں ہے کہ مشتری کو عیب پر اطلاع ہوئی اور بائع اقرار کرتا ہے کہ یہ عیب اُس کے یہاں موجود تھا صلح یوں ہوئی کہ بائع کپڑا واپس لے لے اور ثمن میں سے دو روپے کم مشتری واپس لے یہ جائز ہے یہ روپے اُس عیب کے مقابل میں ہوں گے جو مشتری کے فعل سے پیدا ہوا یعنی قطع کرنے سے۔ (7)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثامن فی الخیار فی الصلح...إلخ،ج۴،ص۲۵۰.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی بائع کاثمن پر اور مشتری کا مبیع پر قبضہ ہو گیا۔
4 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثامن فی الخیار فی الصلح...إلخ،ج۴،ص۲۵۰.
5 ۔کٹنگ کرواکر
6 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثامن فی الخیار فی الصلح...إلخ،ج۴،ص۲۵۰،۲۵۱.
7 ۔المرجع السابق، ص۲۵۲.
مسئلہ ۱۴: ایک چیز سو روپے میں خریدی مشتری نے اُس میں عیب پایا یوں صلح ہوئی کہ مشتری چیز پھیر دے (1) اور بائع نوے روپے واپس کر دے گا اگر بائع اقرار کرتا ہے کہ وہ عیب اُس کے یہاں تھا یا وہ عیب اس قسم کا ہے کہ معلوم ہے کہ مشتری کے یہاں پیدا نہیں ہوا ہے تو باقی دس روپے بھی واپس دینے ہوں گے اور اگر بائع کہتا ہے کہ یہ عیب میرے یہاں نہیں تھا یا بائع نہ اقرار کرتا ہے نہ انکار اور مشتری کے یہاں پیدا ہو سکتا ہے توباقی روپے واپس کرنا لازم نہیں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: ایک چیز سو روپے میں خریدی اور تقابُض بدلین ہو گیا اُس میں عیب ظاہر ہوا یوں مصالحت ہوئی کہ مشتری بھی پانچ روپے کم کر دے اور بائع بھی اور یہ چیز تیسرا شخص لے لے جو نوے روپے میں لینے پر راضی ہے اس تیسرے کا خریدنا بھی جائز ہے اور مشتری کا پانچ روپے کم کرنا بھی جائز ہے مگر بائع کا پانچ روپے کم کرنا جائز نہیں لہٰذا اس شخص ثالث کو اختیار ہے کہ پچانوے میں لے یا چھوڑ دے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: ہزارروپے میں چیز خریدی اور تقابض بدلین ہو گیا پھر اس چیز کو دو ہزار میں بیع کیا اور اس بیع میں بھی تقابض بدلین ہو گیا مشتری دوم نے اُس چیز میں عیب پایا یوں صلح ہوئی کہ بائع اول ڈیڑھ ہزار میں اس چیز کو واپس لے لے یہ جائز ہے اور جدید بیع ہے بائع دوم سے اس کو کوئی تعلق نہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: دس روپے میں کپڑا خریدا اور طرفَین(5) نے قبضہ کر لیا مشتری اُس میں عیب بتاتا ہے اور بائع انکار کرتا ہے ایک تیسرا شخص کہتا ہے کہ میں یہ کپڑا آٹھ روپے میں خرید لیتا ہوں اور بائع مشتری سے ایک روپیہ کم کر دے یہ جائز ہے اس شخص کو آٹھ روپے دینے ہوں گے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: دس روپے میں کپڑا خریدا اور دھوبی کو دے دیادھوبی دھو کر لایا تو پھٹا ہوا نکلا مشتری کہتا ہے معلوم نہیں بائع کے یہاں پھٹا ہوا تھا یا دھوبی نے پھاڑا ہے ان میں اس طرح صلح ہوئی کہ بائع ثمن سے ایک روپیہ کم کر دے اور ایک روپیہ دھوبی مشتری کو دے اور اپنی دھلائی مشتری سے لے یہ جائز ہے۔ يوہيں اگر یوں صلح ہوئی کہ کپڑا بائع واپس لے یہ بھی جائز ہے
1 ۔واپس کر دے۔
2 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثامن فی الخیار فی الصلح...إلخ،ج۴،ص۲۵۱.
3 ۔المرجع السابق،ص۲۵۲. 4 ۔المرجع السابق،ص۲۵۲.
5 ۔یعنی بائع ا ورمشتری۔
6 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثامن فی الخیار فی الصلح...إلخ،ج۴،ص۲۵۲.
اور اگر مصالحت نہ ہوئی بلکہ دعویٰ کرنے کی نوبت ہوئی تو مشتری کو اختیار ہے بائع پر دعویٰ کرے یا دھوبی پر مگر بائع پر دعویٰ کریگا تو دھوبی بری ہو گیا کیونکہ جب بائع کے یہاں پھٹا ہونا بتایا تو دھوبی سے تعلق نہ رہا اور دھوبی پر دعویٰ کیا تو بائع بری ہے کہ جب دھوبی کا پھاڑنا کہا تو معلوم ہوا بائع کے یہاں پھٹا نہ تھا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: ایک مکان کادعوی کیا اوراس طرح صلح ہوئی کہ مدعی(2) یہ کمرہ لے لے اگر وہ کمرہ دوسرے مکان کا ہے جو مدعی علیہ کی مِلک ہے(3) تو صلح جائز ہے اور اگر اسی مکان کا کمرہ ہے جس کا دعویٰ تھا جب بھی صلح جائز ہے اور مدعی کو یہ حق حاصل نہ رہا کہ اس مکان کا پھر دعویٰ کرے ہاں اگر مدعیٰ علیہ اقرار کرتا ہے کہ یہ مکان مدعی ہی کا ہے تو اُسے حکم دیا جائے گا کہ مدعی کو دیدے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: یہ دعویٰ کیا کہ اس مکان میں اتنے گز زمین میری ہے اور صلح ہوئی کہ مدعی اتنے روپے لے لے یہ جائز ہے اور اگر اس طرح صلح ہوئی کہ فلاں کے پاس جو مکان ہے اُس میں مدعیٰ علیہ کا حق ہے مدعی اُسے لے لے اگر مدعی کومعلوم ہے کہ اُس مکان میں مدعیٰ علیہ کا اتنا حصہ ہے تو صلح جائز ہے اور معلوم نہیں ہے تو ناجائز ہے۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۳: مکان کے متعلق دعویٰ کیا مدعیٰ علیہ نے انکار کر دیا پھر کچھ روپیہ دے کر مصالحت کر لی اس کے بعد مدعیٰ علیہ نے حق مدعی کا اقرار کیا مدعی چاہتا ہے کہ صلح توڑ دے اور یہ کہتا ہے کہ میں نے صلح اس ليے کی تھی کہ تم نے انکار کیا تھا مدعی کے اس کہنے سے صلح نہیں توڑی جائے گی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: مکان کا دعویٰ کیا اور صلح اس طرح ہوئی کہ ایک شخص مکان لے لے اور دوسرا اُس کی چھت۔ اگرچھت پر کوئی عمارت نہیں ہے تو صلح جائز نہیں اور اگر چھت پر عمارت ہے اور یہ ٹھہرا کہ ایک نیچے کا مکان لے اور
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الثامن فی الخیار فی الصلح...إلخ،ج۴،ص۲۵۲.
2 ۔دعویٰ کرنے والا،دعویدار۔ 3 ۔جس پر دعویٰ کیا گیا ہے اُس کی ملکیت میں ہے۔
4 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب العاشر فی الصلح فی العقار...إلخ،ج۴،ص۲۵۴.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح عن العقار...إلخ،فصل فی الصلح عن دعوی العقار،ج۲،ص۱۹۱.
6 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب العاشر فی الصلح فی العقار...إلخ،ج۴،ص۲۵۵.
دوسرا بالاخانہ (1) لے یہ صلح جائز ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: مکان میں حق کا دعویٰ کیا اور صلح یوں ہوئی کہ مدعی اُس کے ایک کمرہ میں ہمیشہ یا تازِیست(3) سکونت رکھے یہ صلح جائز نہیں۔(4) (خانیہ)
مسئلہ ۶: زمین کا دعویٰ کیا اورصلح اس طرح ہوئی کہ مدعیٰ علیہ (جس کے قبضہ میں زمین ہے) اُس میں پانچ برس تک کاشت کریگا مگر زمین مدعی کی مِلک رہے گی یہ جائز ہے۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۷: ایک مکان خریدکر اُس کو مسجد بنایا پھر ایک شخص نے اوس کے متعلق دعویٰ کیا جس نے مسجد بنائی اُس نے یا اہلِ محلہ نے مدعی سے صلح کی یہ صلح جائز ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: دو شخصوں نے ایک مکان کا دعویٰ کیا کہ یہ ہم کو اپنے باپ سے ترکہ میں ملا ہے ان میں سے ایک نے مدعیٰ علیہ سے اپنے حصہ کے مقابل میں سو روپے پر صلح کر لی دوسرا ان سو میں سے کچھ نہیں لے سکتا اور مکان میں سے بھی کچھ نہیں لے سکتا جب تک گواہوں سے ثابت نہ کر دے اور اگر ایک نے پورے مکان کے مقابل میں سو روپے پر صلح کی ہے اور اپنے بھائی کے تسلیم کر لینے کا ضامن ہو گیا ہے اگر اس کے بھائی نے تسلیم کر لی صلح جائز ہے اور سومیں سے پچاس لے لے گا اور اس نے انکارکر دیا تو اسکے حق میں صلح ناجائز ہے اسکا دعوی بدستور باقی ہے اور جس نے صلح کی ہے وہ سو میں پچاس مدعیٰ علیہ کو واپس کردے۔(7)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: دو شخصوں کے پاس دو مکان ہيں ہر ایک نے دوسرے پر اُس کے مکان میں اپنے حق کا دعویٰ کیا اور صلح یوں ہوئی کہ میں تمھارے مکان میں رہوں تم میرے مکان میں یہ جائز ہے اور یوں صلح ہوئی کہ ہر ایک کے قبضہ میں
1 ۔مکان کی اوپری منزل۔
2 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب العاشر فی الصلح فی العقار...إلخ،ج۴،ص۲۵۵.
3 ۔یعنی جب تک زندہ ہے۔
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح عن العقار...إلخ،فصل فی الصلح عن دعوی العقار،ج۲،ص۱۹۰.
5 ۔المرجع السابق،ص۱۹۱.
6 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب العاشر فی الصلح فی العقار...إلخ،ج۴،ص۲۵۵.
7 ۔المرجع السابق،ص۲۵۶.
جو مکان ہے وہ دوسرے کو دیدے یہ بھی جائز ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: دروازہ یار و شندان کے بارے میں جھگڑا ہے پروسی کو کچھ روپے دے کر صلح کر لی کہ دروازہ یار و شندان بند نہیں کیا جائے گا یہ صلح ناجائز ہے۔ يوہيں اگرپروسی نے مالک مکان کو کچھ روپے دے کر صلح کر لی کہ تم دروازہ یاروشندن بند کر لو یہ صلح بھی درست نہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: ایک شخص کی زمین ہے جس میں زراعت ہے دوسرے نے زراعت کا دعویٰ کیا کہ یہ میری ہے مالکِ زمین نے کچھ روپے دے کر اُس سے صلح کر لی یہ جائز ہے۔ اور اگر زمین دو شخصوں کی ہے تیسرے نے یہ دعویٰ کیا کہ اس میں جو زراعت ہے وہ میری ہے اور وہ دونوں اس سے انکار کرتے ہیں ایک مدعیٰ علیہ نے صلح کر لی کہ مدعی سو روپے دیدے اورنصف زراعت میں مدعی کو دے دوں گا اگر زراعت طیار ہے صلح جائز ہے اورطیار نہیں ہے تو بغیر دوسرے مدعیٰ علیہ کی رضا مندی کے صلح جائز نہیں اور اگر ایک مدعیٰ علیہ نے سو روپے پر یوں مصالحت کی کہ نصف زمین مع زراعت دیتا ہوں تو صلح بہرحال جائز ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: شارع عام (4)پر ایک شخص نے سائبان (5) ڈال لیا ہے ایک شخص نے اسکے ہٹا دینے کا دعوی کیا اُس نے اسے کچھ روپے دے کر صلح کر لی کہ سائبان نہ ہٹا یا جائے یہ صلح ناجائز، خود یہی شخص جس نے دعویٰ کیا تھا یا دوسراشخص اسے ہٹوا سکتا ہے اور اگر حکومت ہٹانا چاہتی ہے اوراس نے کچھ روپیہ دے کر چاہا کہ ہٹایا نہ جائے اور روپیہ لے کر بیت المال میں داخل کرنا ہی عامہ مسلمین (6)کے حق میں مفید ہو اور سائبان سے عامہ مسلمین کو ضرر (7) نہ ہو تو صلح جائز ہے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: درخت کی شاخ پروسی کے مکان میں پہنچ گئی وہ کاٹنا چاہتا ہے مالکِ درخت نے اُسے کچھ روپے دے کرصلح کر لی کہ شاخ نہ کاٹی جائے یہ صلح ناجائز ہے اور اگر مالکِ مکان نے مالکِ درخت کو روپے دے کر صلح کر لی کہ کاٹ ڈالی
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب العاشر فی الصلح فی العقار...إلخ،ج۴،ص۲۵۶.
2 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب العاشر فی الصلح فی العقار...إلخ،ج۴،ص۲۵۷.
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب العاشر فی الصلح فی العقار...إلخ،ج۴،ص۲۵۷،۲۵۸.
4 ۔عام گزرگاہ۔ 5 ۔چھپر وغیرہ۔
6 ۔عام مسلمانوں۔ 7 ۔نقصان۔
8 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب العاشر فی الصلح فی العقار...إلخ،ج۴،ص۲۵۸.
جائے یہ صلح بھی باطل ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: ایک شخص نے درخت کا دعویٰ کیا کہ یہ میرا ہے مدعی علیہ انکار کرتا ہے صلح یوں ہوئی کہ اس سال جتنے پھل آئیں گے سب مدعی کو دے دیے جائیں گے یہ صلح ناجائز ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: مکان خریدا شفیع نے شفعہ کا دعوی کیا مشتری نے اوسے کچھ روپے دے کر مصالحت کر لی کہ وہ شفعہ سے دست بردار ہو جائے شفعہ باطل ہو گیا اور مشتری پر وہ روپے لازم نہیں بلکہ اگر مشتری دے چکا ہے تو شفیع سے واپس لے۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ ۱: ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کیا مدعیٰ علیہ منکر ہے صلح یوں ہوئی کہ مدعیٰ علیہ حلف کرلے بری ہو جائے گا اُس نے قسم کھا لی یہ صلح باطل ہے یعنی مدعی کا دعوی بدستور باقی ہے اگر گواہوں سے مدعی اپنا حق ثابت کر دے گا وصول کرلے گا اور اگر مدعی کے پاس گواہ نہیں ہیں اور مدعیٰ علیہ سے پھر قسم کھلانا چاہتا ہے اگر پہلی مرتبہ قاضی کے پاس قسم نہیں کھائی تھی تو قاضی مدعیٰ علیہ پر دوبارہ حلف دیگا اور اگر پہلی قسم قاضی کے حضور تھی(4) تو دوبارہ حلف نہیں دے گا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: اس طرح صلح ہوئی کہ مدعی اپنے دعوے کے صحیح ہونے پر آج قسم کھائے گا اگر قسم نہ کھائے تو اسکا دعویٰ باطل ہے یہ صلح باطل ہے اگر وہ دن گزر گیا اور قسم نہیں کھائی اُس کا دعویٰ بدستور باقی ہے۔ يوہيں اگر صلح ہوئی کہ مدعیٰ علیہ قسم کھائے گا اگر قسم نہ کھائے تو مال کا ضامن ہے یامال اُس کے ذمہ ثابت ہے یا مال کا اقرار سمجھا جائے گا یہ صلح بھی باطل ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: مدعی کے پاس گواہ نہیں اُس نے مدعیٰ علیہ سے حلف کا مطالبہ کیا قاضی نے بھی حلف کا حکم دے دیا مدعیٰ علیہ نے مدعی کو کچھ روپے دے کر راضی کر لیاکہ مجھ سے قسم نہ کھلواؤ یہ صلح جائز ہے مدعیٰ علیہ حلف سے بری ہوگیا۔ (7)(عالمگیری)
1 ۔''الفتا وی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب العاشر فی الصلح فی العقار...إلخ،ج۴،ص۲۵۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح عن العقار...إلخ،ج۲،ص۱۸۸.
4 ۔یعنی پہلی مرتبہ قاضی کے پاس قسم کھائی تھی۔
5 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الحادی عشر فی الصلح فی الیمین...إلخ،ج۴،ص۲۵۹.
6 ۔المرجع السابق،ص۲۵۹،۲۶۰. 7 ۔المرجع السابق،ص۲۶۰.
مسئلہ ۱: فضولی اگر صلح کرے اُس کا آزاد و بالغ ہونا ضروری ہے یعنی غلام ماذون و نابالغ بچہ دوسرے کی طرف سے صلح نہیں کر سکتا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: ایک شخص نے دَین(2) کا دعویٰ کیا اور مدعیٰ علیہ (3)دَین سے منکر ہے ایک اجنبی شخص نے مدعی(4) سے کہا تم نے جو کچھ دعویٰ کیا ہے اُس کے متعلق فلاں (مدعی علیہ) سے ہزار روپے میں صلح کر لو مدعی نے کہا میں نے صلح کی یہ صلح مدعیٰ علیہ کی اجازت پر موقوف ہو گی اگر جائز کر دے گا جائز ہو گی اور ہزار روپے مدعیٰ علیہ پر لازم ہوں گے اورردکردے گا باطل ہو جائے گی اور اس صلح کو اجنبی سے کوئی تعلق نہ ہو گا اور اگر اجنبی نے یہ کہا تھا کہ تم نے جو فلاں پردعویٰ کیاہے اُس کے متعلق میں نے تم سے ہزار روپے پر صلح کی اور مدعی نے وہی کہا اسکا بھی وہی حکم ہے۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۳: مدعیٰ علیہ منکر ہے اُس نے کسی کو صلح کے ليے مامور کر دیا ہے اُس مامور نے یہ کہا تم فلاں (مدعیٰ علیہ) سے ہزار پر صلح کر لو اُس نے کہا میں نے صلح کی مدعی علیہ پر صلح نافذ ہو گی اور اُس پر ہزار روپے لازم ہوں گے اور اگر مامور نے کہا میں نے تم سے ہزار روپے پر صلح کی اسکا بھی وہی حکم ہے۔ (6)(خانیہ)
مسئلہ ۴: اجنبی نے کہا مجھ سے ہزار روپے پر صلح کرویا فلاں (مدعیٰ علیہ) سے میرے مال سے ہزار روپے پر صلح کر لو یہ صلح مدعیٰ علیہ پر نافذ ہو گی مگر روپے اجنبی پر لازم ہوں گے اور اگر اجنبی نے یہ کہا فلاں سے ہزار روپے پر صلح کر لو اس شرط پر کہ میں ہزار کا ضامن ہوں یہ صلح بھی مدعیٰ علیہ پر نافذ ہو گی مگر مدعی کو اختیار ہے کہ بدل صلح (7) کامطالبہ مدعیٰ علیہ سے کرے یا اُس اجنبی سے۔(8) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع عشر فی الصلح عن الغیر،ج۴،ص۲۶۶.
2 ۔قرض۔
3 ۔جس پر دعویٰ کیا گیا ہے۔ 4 ۔دعویٰ کرنے والا،دعویدار۔
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصلح،باب الصلح عن الدَین...إلخ،ج۲،ص۱۸۲.
6 ۔المرجع السابق،ص۱۸۳.
7 ۔وہ مال جس کے بدلے صلح ہوئی۔
8 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع عشر فی الصلح عن الغیر،ج۴،ص۲۶۶.
مسئلہ ۵: اجنبی نے مدعی سے سو روپے پر مصالحت کی پھر کہتا ہے میں نہیں دوں گا اگر صلح کی اضافت(1) اپنی طرف یااپنے مال کی طرف کی ہے یا بدلِ صلح کا ضامن ہوا ہے تو ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا اور اگر یہ باتیں نہیں ہیں تو مجبور نہیں کیاجاسکتا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: اجنبی نے بغیر حکم مدعیٰ علیہ سے سو روپے پر یاکسی چیز کے بدلے میں صلح کی مدعی نے وہ روپے کھرے(3) نہ تھے اس وجہ سے واپس کر دیے یا اُس چیز میں عیب تھا واپس کر دی اُس صلح کرنے والے کے ذمہ کچھ لازم نہیں مدعی کا دعویٰ بدستور باقی ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: فضولی نے مدعی سے مثلاً سو روپے پر صلح کی اس شرط پر کہ وہ چیز جس کا مدعی نے دعویٰ کیا ہے فضولی کی ہو گی مدعیٰ علیہ کی نہیں ہو گی اور مدعیٰ علیہ دعواے مدعی سے منکر ہے یہ صلح جائز ہے۔ فضولی نے صلح کی اپنے مال کی طرف اضافت کی ہو یانہ کی ہومال کا ضامن ہوا ہو یا نہ ہوا ہو بہرحال جائز ہے اور اب یہ فضولی مدعی سے اُس شے کی تسلیم کا مطالبہ کر سکتا ہے جس کا مدعی نے دعویٰ کیا تھا پھر اگر مدعی کے ليے اُس چیز کی تسلیم ممکن ہے مثلاً مدعی نے گواہوں سے وہ چیز اپنی ثابت کر دی یا مدعیٰ علیہ نے مدعی کے حق کا اقرار کر لیامدعی وہ چیز اُس فضولی کو دے اور اگر تسلیم ناممکن ہے تو فضولی صلح کو فسخ (5)کر کے بدل صلح مدعی سے واپس لے سکتا ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: فضولی نے مدعیٰ علیہ سے صلح کی کہ وہ مکان جس کا مدعی نے دعویٰ کیا ہے اتنے میں اُسے دیدو یہ صلح جائز ہے اور اگر وہ شخص مامور ہے اُس نے صلح کی اور ضامن ہو گیا پھر ادا کیا تو مدعی سے وہ رقم واپس لے سکتا ہے۔ (7)(عالمگیری)
تَمَّ ھٰذا الْجُزْءُ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔
1 ۔یعنی نسبت۔
2 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع عشر فی الصلح عن الغیر،ج۴،ص۲۶۷.
3 ۔خالص۔
4 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع عشر فی الصلح عن الغیر،ج۴،ص۲۶۷.
5 ۔ختم۔
6 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الصلح،الباب الرابع عشر فی الصلح عن الغیر،ج۴،ص۲۶۷.
7 ۔المرجع السابق.