Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
الحمد للہ الواحد الاحد الصمد۔ المتفرد فی ذاتہ و صفاتہ فلا مثل لہ ولا ضد لہ ولم یکن لہ کفوا احد۔ والصلوۃ والسلام الاتمان الاکملان علی رسولہ و حبیبہ سید الانس و الجان۔ الذی انزل علیہ القراٰن۔ ھدی للناس و بینات من الھدیٰ والفرقان وعلٰی اٰلہ وصحبہ ما تعاقب الملوان۔ وعلٰی من تبعھم باحسان الٰی یوم الدین. لاسیما الائمۃ المجتھدین خصوصا علٰی افضلھم و اعلٰھم الامام الاعظم۔ والھمام الافخم۔ الذی سبق فی مضمار الاجتھاد کل فارس۔ وصدق علیہ لو کان العلم عند الثریا لنالہ رجل من ابناء فارس۔ سیدنا ابی حنیفۃ النعمان بن ثابت۔ ثبتنا اللہ بہ بالقول الثابت. فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ. واعطانا الحسنٰی وزیادۃ فاخرۃ. وعلینا لھم و بھم یا ارحم الرٰحمین. والحمد للہ رب العلمین۔
ایک وہ زمانہ تھا کہ ہر مسلمان اتنا علم رکھتاجو اس کی ضروریات کو کافی ہو بفضلہ تعالیٰ علماء بکثرت موجود تھے جو نہ معلوم ہوتا ان سے بآسانی دریافت کر لیتے حتیٰ کہ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حُکْم فرمادیا تھا کہ ہمارے بازار میں وہی خریدوفروخت کریں جو دین میں فقیہ ہوں۔ (1)
رواہ الترمذی عن العلاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب عن ابیہ عن جدہ ۔
پھر جس قدرعہدِ نبوت سے بُعد ہوتا گیا اسی قدر علم کی کمی ہوتی رہی اب وہ زمانہ آگیا کہ عوام تو عوام بہت وہ جو علما کہلاتے ہیں روزمرہ کے ضروری جزئیات حتّٰی کہ فرائض و واجبات سے ناواقف اور جتنا جانتے ہیں ا س پر بھی عمل سے منحرف کہ ان کو دیکھ کر عوام کو سیکھنے اور عمل کرنے کا موقع ملتا اسی قلّتِ علم و بے پروائی کا نتیجہ ہے کہ بہت ایسے مسائل کا جن سے واقف نہیں انکار کر بیٹھتے ہیں حالانکہ نہ خود علم رکھتے ہیں کہ جان سکیں نہ سیکھنے کا شوق کہ جاننے والوں سے دریافت کریں نہ علما کی خدمت میں حاضر رہتے کہ اُن کی صحبت باعثِ برکت بھی ہے اور مسائل جاننے کا ذریعہ بھی اور اُردو میں کوئی ایسی کتاب کہ سلیس،عام فہم،قابل اعتماد ہو اب تک شائع نہ ہوئی بعض میں بہت تھوڑے مسائل کہ روزمرّہ کی ضرور ی باتیں بھی ان میں کافی طور پر نہیں اور بعض میں اغلاط کی کثرت۔ لاجَرم ایک ایسی کتاب کی بے حد ضرورت ہے کہ کم پڑھے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ لہٰذا فقیر بہ نظرِ خیر خواہی مسلمانان بمقتضائے الدین
النصح لکل مسلم۔
مَولیٰ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے اس امرِ اہم و اعظم کی طرف متوجہ ہوا حالانکہ میں خوب
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الوتر، باب ماجاء في فضل الصلاۃ علی النبي صلی اﷲ علیہ وسلم،الحدیث: ۴۸۷،ج۲ ،ص۲۹.
جانتا ہوں کہ نہ میرا یہ منصب نہ میں اس کام کے لائق نہ اتنی فرصت کہ پورا وقت صرف کرکے اس کا م کو انجام دوں۔
وحسبنا اللہ ونعم الوکیل ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم.
(۱) اس کتاب میں حتَّی الوَسع یہ کوشش ہو گی کہ عبارت بہت آسان ہو کہ سمجھنے میں دقت نہ ہو اور کم علم اور عورتیں اور بچے بھی اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔ پھر بھی علم بہت مشکل چیز ہے یہ مُمکِن نہیں کہ علمی دشواریاں بالکل جاتی رہیں ضرور بہت مَواقِع ایسے بھی رہیں گے کہ اہلِ علم سے سمجھنے کی حاجت ہوگی کم از کم اتنا نفع ضرور ہو گا کہ اس کا بیان انھیں متنبہ کریگا اور نہ سمجھنا سمجھ والوں کی طرف رجوع کی توجہ دلائے گا۔
(۲) اس کتاب میں مسائل کی دلیلیں نہ لکھی جائیں گی کہ اوّل تو دلیلوں کاسمجھنا ہر شخص کا کام نہیں، دوسرے دلیلوں کی وجہ سے اکثرایسی الجھن پڑ جاتی ہے کہ نفسِ مسئلہ سمجھنا دشوار ہوجاتاہے لہٰذاہر مسئلے میں خالص منقح حُکْم بیان کر دیا جائے گا اور اگر کسی صاحب کو دلائل کا شوق ہو تو فتاویٰ رضویہ شریف کا مطالعہ کریں کہ اُس میں ہر مسئلہ کی ایسی تحقیق کی گئی ہے جس کی نظیر آج دنیا میں موجود نہیں اور اس میں ہزار ہا ایسے مسائل ملیں گے جن سے علما کے کان بھی آشنا نہیں۔
(۳) اس کتاب میں حتَّی الوَسع اختلافات کا بیان نہ ہوگا کہ عوام کے سامنے جب دو مختلف باتیں پیش ہوں تو ذہن متحیر ہو گا کہ عمل کس پر کریں اور بہت سے خواہش کے بندے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جس میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں اُسے اختیار کر لیتے ہیں ،یہ سمجھ کر نہیں کہ یہی حق ہے بلکہ یہ خیال کر کے کہ اس میں اپنا مطلب حاصل ہو تا ہے پھر جب کبھی دوسرے میں اپنا فائدہ دیکھا تو اُسے اختیار کر لیا اور یہ ناجائز ہے کہ اتباعِ شریعت نہیں بلکہ اتباعِ نفس ہے لہٰذا ہر مسئلہ میں مفتیٰ بہ صحیح اَصح راجح قول بیان کیا جائے گا کہ بلا دِقت ہر شخص عمل کرسکے۔ اﷲ تعالیٰ توفیق دے اور مسلمانوں کو اس سے فائدہ پہنچائے اور اس بے بضاعت کی کوشش قبول فرمائے۔
وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب و صلی اللہ تعالیٰ علٰی حبیبہ المختار. والہ الاطھار. وصحبہ المھاجرین والانصار۔ وخلفائہ الاختان منھم والاصھار۔ والحمد للہ العزیز الغفار۔ وھا انا اشرع فی المقصود بتوفیق الملک المعبود۔
اﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
( وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ) ـ1ـ
جن اور آدمی میں نے اسی لیے پیدا کیے کہ وہ میری عبادت کریں۔
1 ۔ پ۲۷، الذّٰریت: ۵۶.
ہر تھوڑی سی عقل والا بھی جانتا ہے کہ جو چیز جس کام کے لیے بنائی جائے اگر اُس کام میں نہ آئے تو بے کار ہے، تَو جو انسان اپنے خالق و مالک کو نہ پہچانے، اُس کی بندگی و عبادت نہ کرے وہ نام کا آدمی ہے حقیقۃً آدمی نہیں بلکہ ایک بے کار چیز ہے تَو معلوم ہوا کہ عبادت ہی سے آدمی، آدمی ہے اور اسی سے فلاحِ دنیوی و نجاتِ اخروی ہے لہٰذا ہر انسان کے لیے عبادت کے اقسام و ارکان و شرائط و احکام کا جاننا ضروری ہے کہ بے عِلم عمل نامُمکِن، اسی وجہ سے علم سیکھنا فرض ہے۔ عبادت کی اصل ایمان ہے بغیر ایمان عبادت بے کار، کہ جڑ ہی نہ رہی تو نتائج کہاں سے مترتب ہوں۔ درخت اسی وقت پھول پھل لاتا ہے کہ اس کی جڑ قائم ہو جڑ جدا ہونے کے بعد آگ کی خوراک ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کافر لاکھ عبادت کرے اس کا سارا کیا دھرا برباد اور وہ جہنم کا ایندھن۔
قال اﷲ تعالیٰ:
( وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿۲۳﴾ ) ـ1ـ
کافروں نے جو کچھ کیا ہم اس کے ساتھ یوں پیش آئے کہ اسے بکھرے ہوئے ذرّے کی طرح کر دیا۔
جب آدمی مسلمان ہو لیا تو اس کے ذمہ دو قسم کی عبادتیں فرض ہوئیں ایک وہ کہ جَوَارِح سے متعلق ہے دوسری جس کا تعلق قَلْب سے ہے۔ قسمِ دوم کے احکام و اصناف علمِ سلوک میں بیان ہوتے ہیں اور قسمِ اوّل سے فقہ بحث کرتا ہے اور میں اس کتاب میں بالفعل قسمِ اوّل ہی کو بیان کرناچاہتا ہوں پھر جس عبادت کو جَوَارِح یعنی ظاہرِ بدن سے تعلق ہے، دو قسم ہے یا وہ معاملہ کہ بندے اور خاص اُس کے رب کے درمیان ہے۔ بندوں کے باہمی کسی کام کا بناؤ بگاڑ نہیں عام اَزِیں کہ ہرشخص اس کی ادا میں مستقل ہو جیسے نماز پنجگانہ و روزہ کہ ہر ایک بلا شرکتِ غیرے انھیں ادا کر سکتا ہے خواہ دوسروں کی شرکت کی ضرورت ہو، جیسے نمازجماعت و جمعہ و عیدین میں کہ بے جماعت نا مُمکِن ہیں مگر اس سے سب کا مقصودمحض عبادتِ معبود ہے نہ کہ آپس کے کسی کام کا بنانا۔
دوسری قسم وہ کہ بندوں کے باہمی تعلقات ہی کی اِصلاح اس میں مدّنظر ہے جیسے نکاح یا خریدوفروخت وغیرہا۔ پہلی قسم کو عبادات، دوسری کو معاملات کہتے ہیں۔ پہلی قسم میں اگرچہ کوئی دنیوی نفع بظاہر مترتب نہ ہو اور معاملات میں ضرور دنیوی فائدے ظاہر موجود ہیں بلکہ یہی پہلو غالب ہے مگر عبادت دونوں ہیں کہ معاملات بھی اگر خدا و رَسول کے حُکْم کے موافق کیے جائیں تو استحقاقِ ثواب ہے ورنہ گناہ اور سببِ عذاب۔
قسم اول یعنی عبادات چار ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوۃ، ان سب میں اہم و اعظم نماز ہے اور یہ عبادت اﷲ عزوجل کو بہت محبوب ہے لہٰذا ہم کو چاہیئے کہ سب سے پہلے اسی کو بیان کریں مگر نماز پڑھنے سے پہلے نمازی کا طاہِر اور پاک ہو لینا ضرور ہے کہ طہارت نماز کی کنجی ہے لہٰذا پہلے طہارت کے مسائل بیان کیے جائیں اس کے بعد نماز کے مسائل بیان ہوں گے۔
1 ۔ پ۱۹، الفرقان: ۲۳.
نماز کے لیے طہارت ایسی ضروری چیزہے کہ بے اس کے نماز ہوتی ہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر بے طہارت نماز ادا کرنے کو علما کفر لکھتے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ اس بے وُضو یا بے غسل نماز پڑھنے والے نے عبادت کی بے ادبی اور توہین کی۔ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کی کنجی نماز ہے اورنماز کی کنجی طہارت(1)۔ اس حدیث کو امام احمد نے جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا: ''ایک روز نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم صبح کی نماز میں سورہ رُوم پڑھتے تھے اور متشابہ لگا۔ بعد نماز ارشاد فرمایا کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور اچھی طرح طہارت نہیں کرتے انھیں کی وجہ سے امام کو قراء ت میں شبہہ پڑتا ہے''۔(2) اس حدیث کو نَسائی نے شبیب بن ابی روح سے، انہوں نے ایک صحابی سے روایت کیا۔جب بغیر کامل طہارت نماز پڑھنے کا یہ وبال ہے تو بے طہارت نماز پڑھنے کی نحوست کا کیا پوچھنا۔ ایک حدیث میں فرمایا: ''طہارت نصف ایمان ہے''۔ (3) اس حدیث کو تِرمذی نے روایت کیا اور کہا کہ یہ حدیث حسن ہے۔ طہارت کی دو قسمیں ہیں۔
(۱) صُغریٰ
(۲) کُبریٰ
طہارتِ صُغریٰ وُضو ہے اور کُبریٰ غسل۔ جن چیزوں سے صرف وُضو لازم ہوتا ہے ان کو حدثِ اَصغَر کہتے ہیں اور جن سے غسل فرض ہو ان کو حدثِ اَکبَر۔ ان سب کا اور ان کے متعلقات کاتفصیلاً ذکر کیا جائے گا۔
تنبیہ: چند ضروری اصطلاحات قابلِ ذکر ہیں کہ ان سے ہر جگہ کام پڑتا ہے۔
فرضِ اعتقادی: جودلیلِ قطعی سے ثابت ہو (یعنی ایسی دلیل سے جس میں کوئی شبہہ نہ ہو) اس کا انکار کرنے والا آئمہ حنفیہ کے نزدیک مطلقاً کافر ہے اور اگر اسکی فرضیت دین ِ اسلام کا عام خاص پر روشن واضح مسئلہ ہو جب تو اس کے منکر کے کفر پر اِجماعِ قطعی ہے ایسا کہ جو اس منکر کے کفر میں شک کرے خود کافر ہے اور بہرحال جو کسی فرضِ اعتقادی کو بلا عذرِ صحیح شَرْعی قَصْداً ایک بار بھی چھوڑے فاسق و مرتکبِ کبیرہ و مستحقِ عذاب نار ہے جیسے نماز ، رکوع، سجود۔
فرضِ عملی: وہ جس کا ثبوت تو ایسا قطعی نہ ہو مگر نظرِ مجتہد میں بحکمِ دلائل شَرْعیہ جزم ہے کہ بے اس کے کیے آدمی بری الذمہ نہ ہو گا یہاں تک کہ اگر وہ کسی عبادت کے اندر فرض ہے تو وہ عبادت بے اس کے باطل و کالعدم ہوگی۔ اس کا بے وجہ انکار
1 ۔ '' المسند '' للإمام أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد اللہ، الحدیث: ۱۴۶۶۸، ج۵، ص۱۰۳.
2 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الافتتاح، باب القراء ۃ في الصبح بالروم، الحدیث: ۹۴۴، ص۱۶۵.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الدعوات،۸۵۔ باب، الحدیث: ۳۵۲۸،ج۵، ص۳۰۷.
فسق و گمراہی ہے ،ہاں اگر کوئی شخص کہ دلائلِ شَرْعیہ میں نظرکا اہل ہے دلیلِ شَرْعی سے اس کا انکار کرے تو کر سکتا ہے۔ جیسے آئمہ مجتہدین کے اختلافات کہ ایک امام کسی چیز کو فرض کہتے ہیں اور دوسرے نہیں مَثَلاًحنفیہ کے نزدیک چوتھائی سر کا مسح وُضو میں فرض ہے اور شافعیہ کے نزدیک ایک بال کا اور مالکیہ کے نزدیک پورے سر کا ، حنفیہ کے نزدیک وُضو میں بسم اللہ کہنا اور نیت سنت ہے اور حنبلیہ و شافعیہ کے نزدیک فرض اور ان کے سوا اور بہت سی مثالیں ہیں ۔اس فرضِ عملی میں ہر شخص اُسی کی پیروی کرے جس کا مقلّد ہے اپنے امام کے خلاف بلا ضرورتِ شَرْعی دوسرے کی پیروی جائز نہیں۔
واجبِ اعتقادی: وہ کہ دلیلِ ظنی سے اس کی ضرورت ثابت ہو۔ فرضِ عملی و واجبِ عملی اسی کی دو قسمیں ہیں اور وہ انھیں دو میں منحصر۔
واجبِ عملی: وہ واجبِ اعتقادی کہ بے اس کے کیے بھی بری الذمہ ہونے کا احتمال ہو مگر غالب ظن اس کی ضرورت پر ہے اور اگر کسی عبادت میں اس کا بجا لانا درکار ہو تو عبادت بے اس کے ناقص رہے مگر ادا ہو جائے ۔مجتہد دلیلِ شَرْعی سے واجب کا انکار کر سکتا ہے اور کسی واجب کا ایک بار بھی قَصْداً چھوڑنا گناہِ صغیرہ ہے اور چند بار ترک کرنا کبیرہ۔
سنّتِ مؤ کَّدہ: وہ جس کو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو ،البتہ بیانِ جواز کے واسطے کبھی ترک بھی فرمایا ہو یا وہ کہ اس کے کرنے کی تاکید فرمائی ہو مگر جانبِ ترک باِلکل مسدود نہ فرمادی ہو، اس کا ترک اساء ت اور کرنا ثواب اور نادراً ترک پر عتاب اور اس کی عادت پر استحقاقِ عذاب ۔
سنّتِ غیر مؤکَّدہ: وہ کہ نظرِ شرع میں ایسی مطلوب ہو کہ اس کے ترک کو ناپسند رکھے مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے عام ازیں کہ حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی یا نہیں ،اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا اگرچہ عادۃً ہو مو جبِ عتاب نہیں۔
مُستَحب: وہ کہ نظرِ شرع میں پسند ہو مگر ترک پر کچھ ناپسندی نہ ہو، خواہ خود حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے کیا یا اس کی ترغیب دی یا علمائے کِرام نے پسند فرمایا اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا۔ اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنے پر مطلقاً کچھ نہیں۔
مُباح: وہ جس کا کرنا اور نہ کرنا یکساں ہو۔
حَرامِ قَطعی: یہ فرض کا مُقابِل ہے ،اس کا ایک بار بھی قَصْداً کرنا گناہِ کبیرہ و فِسق ہے اور بچنا فرض و ثواب۔
مَکروہ تَحْرِیمی: یہ واجب کا مقابل ہے اس کے کرنے سے عبادت ناقص ہو جاتی ہے اور کرنے والا گنہگار ہوتا ہے اگرچہ اس کا گناہ حرام سے کم ہے اور چند بار اس کا ارتکاب کبیرہ ہے۔
اِساءَ ت: جس کا کرنا بُرا ہو اور نادراً کرنے والا مستحقِ عِتاب اور اِلتزامِ فعل پر استحقاقِ عذاب۔ یہ سنّتِ مؤ کدہ کے مقابل ہے۔
مَکروہِ تَنزِیہی: جس کا کرنا شرع کو پسند نہیں مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے ۔یہ سنّتِ غیر مؤکدہ کے مقابل ہے۔
خِلافِ اَولیٰ: وہ کہ نہ کرنا بہتر تھا ، کیا توکچھ مضایقہ و عتاب نہیں، یہ مستحب کا مقابل ہے۔ ان کے بیان میں عبارتیں مختلف ملیں گی مگر یہی عطرِ تحقیق ہے۔
وللہ الحمد حمدًا کثیرًا مبارکًا فیہ مبارکًا علیہ کما یحب ربنا و یرضٰی۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوۡا وُجُوۡہَکُمْ وَاَیۡدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوۡا بِرُءُ وۡسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیۡنِ ؕ ) ـ1ـ
یعنی اے ایمان والو جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو (اور وضو نہ ہو) تو اپنے مونھ اور کُہنیوں تک ہاتھوں کو دھوؤ اور سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک پاؤں دھوؤ۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فضائلِ وُضو میں چند اَحادیث ذِکر کی جائیں پھر اُس کے متعلق اَحکام فِقہی کا بیان ہو۔
حدیث ۱: امام بُخاری وا مام مسلِم ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:''قیامت کے دن میری امت اس حالت میں بلائی جائے گی کہ مونھ اور ہاتھ پاؤں آثارِ وُضوسے چمکتے ہوں گے تو جس سے ہو سکے چمک زیادہ کرے۔'' (2)
حدیث ۲: صحیح مسلِم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ حضور سیّدِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کِرام سے ارشاد فرمایا: ''کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس کے سبب اﷲ تعالیٰ خطائیں محو فرما دے اور درجات بلند کرے۔ عرض کی ہاں یا رسول اللہ! فرمایا: جس وقت وُضو ناگوار ہوتا ہے اس وقت وضوئے کامل کرنا اور مسجدوں کی طرف قدموں کی کثرت اور ایک نماز
1 ۔ پ۶، المآئدۃ: ۶.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الوضوء، باب فضل الوضوء... إلخ، الحدیث: ۱۳۶،ج۱، ص۷۱.
کے بعد دوسری نماز کا انتظار اس کا ثواب ایسا ہے جیسا کفار کی سرحد پر حمایت بلادِ اسلام کے لیے گھوڑا باندھنے کا۔'' (1)
حدیث ۳: اِمام مالِک و نَسائی عبداﷲ صنابحی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول ا للہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ''مسلمان بندہ جب وُضو کرتا ہے تو کُلّی کرنے سے مونھ کے گناہ گر جاتے ہیں اور جب ناک میں پانی ڈال کر صاف کیا تو ناک کے گناہ نکل گئے اور جب مونھ دھویا تو اس کے چِہرہ کے گناہ نکلے یہاں تک کہ پلکوں کے نکلے اور جب ہاتھ دھوئے تو ہاتھوں کے گناہ نکلے یہاں تک کہ ہاتھوں کے ناخنوں سے نکلے اور جب سر کا مسح کیا تو سر کے گناہ نکلے یہاں تک کہ کانوں سے نکلے اور جب پاؤں دھوئے تو پاؤں کی خطائیں نکلیں یہاں تک کہ ناخنوں سے پھر اس کا مسجد کو جانا اور نماز مزید براں۔ (2)
حدیث ۴: بزّار نے باسناد حسن روایت کی کہ'' حضرتِ عثمانِ غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے غلام حمران سے وُضو کے لیے پانی مانگا اور سردی کی رات میں باہر جانا چاہتے تھے حمران کہتے ہیں: میں پانی لایا، انہوں نے مونھ ہاتھ دھوئے تو میں نے کہا اﷲ آپ کو کفایت کرے رات تو بہت ٹھنڈی ہے اس پر فرمایا کہ: میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو بندہ وضوئے کامل کرتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے۔'' (3)
حدیث ۵: طَبَرانی نے اوسط میں حضرت امیر المومنین مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا'' جو سَخْت سردی میں کامل وُضو کرے ا س کے لیے دونا ثواب ہے۔'' (4)
حدیث ۶: امام احمد بن حنبل نے اَنَس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی حضور سیّدِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو ایک ایک بار وُضو کرے تو یہ ضرور ی بات ہے اور جو دو دو بار کرے اس کو دونا ثواب اور جو تین تین بار دھوئے تویہ میرا اور اگلے نبیوں کا وُضو ہے۔'' (5)
حدیث ۷: صحیح مسلِم میں عُقبہ بن عامِر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو مسلمان وُضو کرے اور اچھا وُضو کرے پھر کھڑا ہو اور باطن و ظاہرسے متوجہ ہو کر دو رکعت نمازپڑھے اس کے لیے جنت واجب ہوتی ہے۔'' (6)
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الطھارۃ، باب فضل إسباغ الوضوء علی المکارہ، الحدیث: ۲۵۱، ص۱۵۱.
2 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الطھارۃ، باب مسح الاذنین مع الرأس... إلخ، الحدیث: ۱۰۳، ص۲۵.
3 ۔ ''البحر الزخار المعروف بمسند البزار''، مسند عثمان بن عفان، الحدیث: ۴۲۲، ج۲، ص۷۵.
4 ۔ '' المعجم الأوسط '' للطبراني، باب المیم، الحدیث: ۵۳۶۶، ج۴، ص۱۰۶.
5 ۔ '' المسند '' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمر بن الخطاب، الحدیث: ۵۷۳۹، ج۲، ص۴۱۷.
6 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضوء، الحدیث:۲۳۴، ص۱۴۴.
حدیث ۸: مسلِم میں حضرتِ امیر المومنین فاروقِ اعظم عُمر بن خَطّاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں سے جو کوئی وُضو کرے اور کامل وُضو کرے پھر پڑھے۔
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جس دروازے سے چاہے داخِل ہو۔'' (1)
حدیث ۹: تِرمذی نے حضرتِ عبدُاﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جو شخص وُضو پر وُضو کرے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔'' (2)
حدیث ۱۰: ابنِ خُزیمہ اپنی صحیح میں راوی کہ عبدُ اﷲ بن بُرَیدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:'' ایک دن صبح کو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرتِ بِلال کوبلایا اور فرمایا:'' اے بِلال کس عمل کے سبب جنت میں تو مجھ سے آگے آگے جارہا تھا میں رات جنت میں گیا تو تیرے پاؤں کی آہٹ اپنے آگے پائی۔'' بِلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ''یا رسول اللہ! میں جب اذان کہتا اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھ لیتا اور میرا جب کبھی وُضو ٹوٹتا وُضو کر لیا کرتا۔ حضو ر صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا اسی سبب سے۔'' (3)
حدیث ۱۱: تِرمذی و ابنِ ماجہ سعید بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ــ''جس نے بسم اللہ نہ پڑھی اس کا وُضو نہیں یعنی وضوئے کامل نہیں اس کے معنے وہ ہیں جو دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا۔ (4)
حدیث ۱۲: دارقُطنی اور بَیہقی اپنی سُنَن میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:'' جس نے بسم اللہ کہہ کر وُضو کیا سر سے پاؤں تک اس کا سارا بدن پاک ہو گیا اور جس نے بغیر بسم اللہ وُضو کیا اس کا اتنا ہی بدن پاک ہو گا جتنے پر پانی گزرا۔'' (5)
حدیث ۱۳: امام بُخاری و مسلِم ابو ہُریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب کوئی خواب سے بیدار ہو تو وُضو کرے اور تین بار ناک صاف کرے کہ شیطان اس کے نتھنے پر رات گزارتا ہے۔'' (6)
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الطھارۃ با ب الذکر المستحب عقب الوضوء، الحدیث: ۲۳۴، ص۱۴۴.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجا ء أنہ یصلي الصلوات بو ضوء واحد، الحدیث:۶۱، ج۱، ص ۱۲۴.
3 ۔ صحیح ابن خزیمۃ، باب استحبا ب الصلاۃ عند الذنب... إلخ، الحدیث: ۱۲۰۹، ج۲، ص۲۱۳.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الطھارۃ، باب ماجا ء في التسمیۃ في الوضوء، الحدیث: ۳۹۸، ج۱، ص۲۴۲.
5 ۔ ''سنن الدار قطني''، کتاب الطھارۃ، باب التسمیۃ علی الوضوء، الحدیث: ۲۲۸، ج۱، ص۱۰۸.
6 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، الحدیث: ۳۲۹۵، ج۲، ص۴۰۳.
حدیث ۱۴: طَبَرانی باسناد حسن حضرتِ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: '' اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری امّت پر شاق ہو گا تو میں ان کو ہر وُضو کے ساتھ مِسواک کرنے کا امر فرما دیتا۔'' (1) (یعنی فرض کر دیتا اور بعض روایتوں میں لفظ فرض بھی آیا ہے) ۔ (2)
حدیث ۱۵: اسی طَبَرانی کی ایک روایت میں ہے کہ'' سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کسی نماز کے لیے تشریف نہ لے جاتے تاوقتیکہ مِسواک نہ فرمالیتے۔'' (3)
حدیث ۱۶: صحیح مسلِم میں عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی ، کہ ''حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم باہر سے جب گھر میں تشریف لاتے تو سب سے پہلا کام مِسواک کرنا ہوتا۔'' (4)
حدیث ۱۷: امام احمد ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: '' مِسواک کا التزام رکھو کہ وہ سبب ہے مونھ کی صفائی اور رب تبارک وتعالیٰ کی رضا کا۔'' (5)
حدیث ۱۸: ابو نُعَیم جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''دو رکعتیں جو مِسواک کر کے پڑھی جائیں افضل ہیں بے مِسواک کی ستّر رکعتوں سے۔'' (6)
حدیث ۱۹: اور ایک روایت میں ہے کہ: '' جو نماز مِسواک کر کے پڑھی جائے وہ اس نماز سے کہ بے مِسواک کیے پڑھی گئی ستّر حصّے افضل ہے۔'' (7)
حدیث ۲۰: مِشکوٰۃ میں عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی کہ: ''دس چیزیں فطرت سے ہیں ( یعنی ان کا حُکْم ہر شریعت میں تھا) مونچھیں کترنا، داڑھی بڑھانا، مِسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن تراشنا، اُنگلیوں کی چنٹیں دھونا، بغل کے بال دور کرنا، موئے زیرناف مونڈنا، استنجا کرنا، کُلّی کرنا۔ (8)
حدیث ۲۱: حضرتِ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''بندہ جب مِسواک
1 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، الحدیث: ۱۲۳۸، ج۱، ص۳۴۱.
2 ۔ ''المستدرک'' للحاکم، کتاب الطہارۃ، باب لو لا ان أشق... إلخ، الحدیث: ۵۳۱، ج۱، ص۳۶۴.
3 ۔ ''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۴۴۔(۲۵۳)، ج۵، ص۱۵۲.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الطھارۃ، باب السواک، الحدیث: ۴۴۔(۲۵۳)، ص۱۵۲.
5 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما، الحدیث: ۵۸۶۹، ج۲، ص۴۳۸.
6 ۔ ''الترغیب والترھیب'' للمنذري، کتا ب الطھارۃ، الترغیب في السواک، الحدیث: ۱۸، ج۱، ص۱۰۲.
7 ۔ ''شعب الإیمان''، باب فيالطھارات، الحدیث: ۲۷۷۴، ج۳، ص۲۶.
8 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الطھارۃ، باب خصال الفطرۃ، الحدیث: ۲۶۱، ص۱۵۴.
کرلیتا ہے پھر نماز کو کھڑا ہوتا ہے تو فرشتہ اس کے پیچھے کھڑا ہو کر قراء ت سنتا ہے پھر اس سے قریب ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنا مونھ اس کے مونھ پر رکھ دیتا ہے۔'' (1)
مشایخِ کِرا م فرماتے ہیں کہ:'' جو شخص مِسواک کا عادی ہو مرتے وقت اسے کلمہ پڑھنا نصیب ہوگا۔ اور جو افیون کھاتا ہو مرتے وقت اسے کلمہ نصیب نہ ہوگا۔''
اَحکامِ فِقہی: وہ آیہ کریمہ جو اوپر لکھی گئی اس سے یہ ثابت کہ وُضو میں چار فرض ہیں:
(۱) مونھ دھونا
(۲) کُہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کا دھونا
(۳) سر کا مسح کرنا
(۴) ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں کا دھونا
فائدہ: کسی عُضْوْ کے دھونے کے یہ معنی ہیں کہ اس عُضْوْ کے ہرحصہ پر کم سے کم دو بوند پانی بہ جائے۔ بھیگ جانے یا تیل کی طرح پانی چُپَڑلینے یا ایک آدھ بوند بہ جانے کو دھونا نہیں کہیں گے نہ اس سے وُضو یا غسل ادا ہو (2) ، اس امر کا لحاظ بہت ضروری ہے لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور نمازیں اکارت جاتی ہیں۔ بدن میں بعض جگہیں ایسی ہیں کہ جب تک ان کاخاص خیال نہ کیا جائے ان پر پانی نہ بہے گا جس کی تشریح ہر عُضْوْ میں بیان کی جائے گی ۔کسی جگہ َموضَعِ حَدَث پر تری پہنچنے کو مسح کہتے ہیں۔
۱۔ مونھ دھونا: شروعِ پیشانی سے (یعنی جہاں سے بال جمنے کی انتہا ہو) ٹھوڑی (3) تک طول میں اور عرض میں ایک کان سے دوسرے کان تک مونھ ہے اس حد کے اندر جِلد کے ہر حصہ پر ایک مرتبہ پانی بہانا فرض ہے۔ (4)
مسئلہ ۱: جس کے سر کے اگلے حصہ کے بال گرگئے یا جَمے نہیں اس پر وہیں تک مونھ دھونا فرض ہے جہاں تک عادۃً بال ہوتے ہیں اور اگر عادۃً جہاں تک بال ہوتے ہیں اس سے نیچے تک کسی کے بال جمے تو ان زائد بالوں کا جڑ تک دھونا فرض ہے۔ (5)
1 ۔ ''البحر الزخار المعروف بمسند البزار''، مسند علي بن أبي طالب، الحدیث: ۶۰۳، ج۲، ص۲۱۴.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في الفرض القطعی والظنی، ج۱، ص۲۱۷.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الطھارۃ، باب الوضوء، ج۱، ص۲۱۸.
3 ۔ یعنی نیچے کے دانت جمنے کی جگہ۔
4 ۔ ''الدرالمختار''معہ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۱۶ ۔ ۲۱۹.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الأول في الوضو، الفصل الأول، ج۱، ص۴.
مسئلہ ۲: مونچھوں یا بھووں یا بچی (1) کے بال گھنے ہوں کہ کھال باِلکل نہ دکھائی دے تو جِلد کا دھونا فرض نہیں بالوں کا دھونا فرض ہے اور اگر ان جگہوں کے بال گھنے نہ ہوں تو جِلد کا دھونا بھی فرض ہے۔ (2)
مسئلہ ۳: اگر مونچھیں بڑھ کر لَبوں کو چھپالیں تو اگرچہ گھنی ہوں،مونچھیں ہٹا کر لَب کا دھونا فرض ہے۔ (3)
مسئلہ ۴: داڑھی کے بال اگر گھنے نہ ہوں تو جلد کا دھونا فرض ہے اور اگر گھنے ہوں تو گلے کی طرف دبانے سے جس قدر چہرے کے گردے میں آئیں ان کا دھونا فرض ہے اور جڑوں کا دھونا فرض نہیں اور جو حلقے سے نیچے ہوں ان کا دھونا ضرور نہیں اور اگر کچھ حصہ میں گھنے ہوں اور کچھ چَھدرے، تو جہاں گھنے ہوں وہاں بال اور جہاں چھدرے ہیں اس جگہ جلد کا دھونا فرض ہے۔ (4)
مسئلہ ۵: لَبوں کا وہ حصہ جو عادۃً لب بند کرنے کے بعد ظاہر رہتا ہے ،اس کا دھونا فرض ہے تو اگر کوئی خوب زور سے لب بند کرلے کہ ا س میں کاکچھ حصہ چُھپ گیا کہ اس پر پانی نہ پہنچا، نہ کُلّی کی کہ دُھل جاتا تو وُضو نہ ہوا ،ہاں وہ حصہ جو عادۃً مونھ بند کرنے میں ظاہر نہیں ہوتا اس کا دھونا فرض نہیں۔ (5)
مسئلہ ۶: رُخسار اور کان کے بیچ میں جو جگہ ہے جسے کنپٹی کہتے ہیں اس کا دھونا فرض ہے ہاں اس حصہ میں جتنی جگہ داڑھی کے گھنے بال ہوں وہاں بالوں کا اور جہاں بال نہ ہوں یا گھنے نہ ہوں تو جلد کا دھونا فرض ہے۔ (6)
مسئلہ ۷: نَتھ کا سوراخ اگر بند نہ ہو تو اس میں پانی بہانا فرض ہے اگر تنگ ہو تو پانی ڈالنے میں نتھ کو حرکت دے ورنہ ضرو ر ی نہیں۔ (7)
1 ۔ یعنی وہ چند بال جو نیچے کے ہونٹ اور ٹھوڑی کے بیچ میں ہوتے ہیں۔
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۲۱۴.
و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في معنی الاشتقاق... إلخ، ج۱، ص۲۲۰.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۴۴۶.
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۱۴، ۴۴۶.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في معنی الاشتقاق... إلخ، ج۱، ص۲۱۹.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ، ج۱، ص۲۱۴.
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۲۱۶.
و''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في معنی الاشتقاق... إلخ، ج۱، ص۲۲۰.
7 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۴۴۵.
مسئلہ ۸: آنکھوں کے ڈھیلے اور پپوٹوں کی اندرونی سَطح کا دھوناکچھ درکار نہیں بلکہ نہ چاہیئے کہ مُضر ہے۔ (1)
مسئلہ ۹: مونھ دھوتے وقت آنکھیں زور سے مِیچ لِیں کہ پَلک کے مُتّصل ایک خَفیف سی تحریر بند ہوگئی اور اس پر پانی نہ بہا اور وہ عادۃً بند کرنے سے ظاہر رہتی ہو تو وُضو ہو جائیگا مگر ایسا کرنا نہیں چاہیئے اور اگر کچھ زیادہ دُھلنے سے رہ گیا تو وُضو نہ ہو گا۔ (2)
مسئلہ ۱۰: آنکھ کے کوئے (3) پر پانی بہانا فرض ہے مگر سرمہ کا جرم کوئے یا پَلک میں رہ گیا اور وُضو کرلیا اور اِطلاع نہ ہوئی اور نماز پڑھ لی تو حَرج نہیں نماز ہوگئی، وُضو بھی ہو گیا اور اگر معلوم ہے تو اسے چُھڑا کر پانی بہانا ضرور ہے۔
مسئلہ ۱۱: پَلک کا ہر بال پُورا دھونا فرض ہے اگر اس میں کیچڑ وغیرہ کوئی سَخْت چیز جم گئی ہو تو چُھڑا نا فرض ہے۔ (4)
۲۔ہاتھ دھونا: اس حُکْم میں کہنیاں بھی داخِل ہیں۔ (5)
مسئلہ ۱۲: اگر کُہنیوں سے ناخن تک کوئی جگہ ذَرّہ بھر بھی دھلنے سے رہ جائے گی وُضو نہ ہو گا۔ (6)
مسئلہ ۱۳: ہر قسم کے جائز ، ناجائز گہنے ، چَھلّے، انگوٹھیاں، پُہنچیاں (7) ، کنگن، کانچ، لاکھ وغیرہ کی چوڑیاں، ریشم کے لچھّے وغیرہ اگر اتنے تنگ ہوں کہ نیچے پانی نہ بَہے تو اُتار کر دھونا فرض ہے اور اگرصرف ہِلا کر دھونے سے پانی بہ جاتا ہو تو حرکت دینا ضرور ی ہے اور اگر ڈِھیلے ہوں کہ بے ہلائے بھی نیچے پانی بہ جائے گا تو کچھ ضرور ی نہیں۔ (8)
مسئلہ ۱۴: ہاتھوں کی آٹھوں گھائیاں (9) ،اُنگلیوں کی کروٹیں، ناخنوں کے اندر جو جگہ خالی ہے، کلائی کا ہر بال جڑ سے نوک تک ان سب پر پانی بہ جانا ضروری ہے اگر کچھ بھی رہ گیا یا بالوں کی جڑوں پر پانی بہ گیا کسی ایک بال کی نوک پر نہ بہا وُضو نہ ہوا مگر ناخنوں کے اندر کا میل معاف ہے۔ (10)
مسئلہ ۱۵: بجائے پانچ کے چھ انگلیاں ہیں تو سب کا دھونا فرض ہے اور اگر ایک مُونڈھے پر دو ہاتھ نکلے تو جو پُورا ہے
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في معنی الاشتقاق... إلخ، ج۱، ص۲۲۰.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۲۰۰.
3 ۔ یعنیناک کی طرف آنکھ کا کونہ۔
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج ۱، ص۴۴۴.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول، ج۱، ص۴.
6 ۔ المرجع السابق . 7 ۔ پُہنچی کی جمع، ایک زیور جو کلائی میں پہنا جاتا ہے۔
8 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ئ، ج۱، ص۲۱۶.
و''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۱۷.
9 ۔ یعنیانگلیوں کے درمیان کی جگہ۔
10 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۴۴۵ .
اس کا دھونا فرض ہے اوراس دوسرے کادھونا فرض نہیں مستحب ہے مگر اس کا وہ حصہ کہ اس ہاتھ کے موضعِ فرض سے متصل ہے اتنے کا دھونا فرض ہے۔ (1)
۳۔ سرکا مسح کرنا:
چوتھائی سر کا مسح فرض ہے۔ (2)
مسئلہ ۱۶: مسح کرنے کے لیے ہاتھ تَر ہونا چاہیئے، خواہ ہاتھ میں تَری اعضا کے دھونے کے بعد رہ گئی ہو یا نئے پانی سے ہاتھ تر کر لیا ہو۔ (3)
مسئلہ ۱۷: کِسی عُضو کے مسح کے بعد جو ہاتھ میں تَری باقی رہ جائے گی وہ دوسرے عُضْوْ کے مسح کے لیے کافی نہ ہوگی۔ (4)
مسئلہ ۱۸: سر پر بال نہ ہوں تو جِلد کی چوتھائی اور جو بال ہوں تو خاص سر کے بالوں کی چَوتھائی کا مسح فرض ہے اور سر کا مسح اسی کو کہتے ہیں۔ (5)
مسئلہ ۱۹: عمامے، ٹوپی، دُوپٹے پر مسح کافی نہیں۔ ہاں اگر ٹوپی، دُوپٹا اتنا باریک ہو کہ تَری پُھوٹ کر چوتھائی سر کو تَر کردے تو مسح ہو جائے گا۔ (6)
مسئلہ ۲۰: سر سے جو بال لٹک رہے ہوں ان پر مسح کرنے سے مسح نہ ہوگا۔ (7)
۴۔پاؤں کو گٹوں (8) سمیت ایک دفعہ دھونا: (9)
مسئلہ ۲۱: چَھلّے اور پاؤں کے گہنوں کا وہی حُکْم ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ (10)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول، ج۱، ص۴.
2 ۔ المرجع السابق، ص۵.
3 ۔ المرجع السابق، ص۶.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۱۶.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول، ج۱، ص۶.
7 ۔ المرجع السابق، ص۵.
8 ۔ یعنی ٹخنوں۔
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول، ج۱، ص۵.
10 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۱۸.
مسئلہ ۲۲: بعض لوگ کسی بیماری کی وجہ سے پاؤں کے اَنگوٹھوں میں اس قدر کھینچ کر تاگا باندھ دیتے ہیں کہ پانی کا بہنا درکنار تاگے کے نیچے تر بھی نہیں ہوتا ان کو اس سے بچنا لازم ہے کہ اس صورت میں وُضو نہیں ہوتا۔
مسئلہ ۲۳: گھائیاں اور اُنگلیوں کی کروَٹیں، تلوے، ایڑیاں، کونچیں(1) ، سب کا دھونا فرض ہے۔ (2)
مسئلہ ۲۴: جن اَعضا کا دھونا فرض ہے ان پر پانی بہ جانا شرط ہے یہ ضرور نہیں کہ قَصْداًپانی بہائے اگر بِلاقَصْد و اِختیار بھی ان پر پانی بہ جائے (مثلاً مِینھ برسا اور اَعضائے وُضو کے ہر حصہ سے دو دو قطرے مِینھ کے بہ گئے وہ اعضا دُھل گئے اور سر کا چوتھائی حصہ نم ہو گیایا کسی تالاب میں گِر پڑا اور اعضائے وُضو پر پانی گزر گیاوُضو ہو گیا)۔
مسئلہ ۲۵: جس چیز کی آدمی کو عُموماً یا خُصوصاً ضرورت پڑتی رہتی ہے اور اس کی نگِہداشت و اِحتیاط میں حَرج ہو، ناخنوں کے اندر یا اُوپریا اور کسی دھونے کی جگہ پر اس کے لگے رہ جانے سے اگرچہ جرم دارہو،اگرچہ اس کے نیچے پانی نہ پہنچے، اگرچہ سَخْت چیز ہو وُضو ہو جائے گا ،جیسے پکانے، گوندھنے والوں کے لیے آٹا، رنگریز کے لیے رنگ کا جرم،عورتوں کے لیے مہندی کا جرم، لکھنے والوں کے لیے روشنائی کا جرم،مزدور کے لیے گارا مٹی،عام لوگوں کے لیے کوئے یا پلک میں سُرمہ کا جرم،اسی طرح بدن کا میل، مٹی، غبار، مکھی، مچھر کی بیٹ وغیرہا۔ (3)
مسئلہ ۲۶: کسی جگہ چھالا تھا اور وہ سوکھ گیا مگراس کی کھال جدا نہ ہوئی تو کھال جدا کر کے پانی بہانا ضروری نہیں بلکہ اسی چھالے کی کھال پر پانی بہالینا کافی ہے۔ پھر اس کو جدا کر دیا تو اب بھی اس پر پانی بہانا ضروری نہیں۔ (4)
مسئلہ ۲۷: مچھلی کا سِنّا اعضائے وُضو پر چِپکارہ گیا وُضو نہ ہو گا کہ پانی اس کے نیچے نہ بہے گا۔ (5)
مسئلہ ۲۸: و ضو پر ثواب پا نے کے لیے حُکمِ الٰہی بجا لانے کی نیت سے وُضو کرنا ضرور ہے ورنہ وُضو ہو جائے گا ثواب نہ پائے گا۔ (6)
1 ۔ یعنی ایڑیوں کے اوپر موٹے پٹھے۔
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۴۴۵.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۰۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول، ج۱، ص۵.
5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۲۰.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: الفرق بین النیۃ والقصد والعزم، ج۱، ص۲۳۵-۲۳۸.
مسئلہ ۲۹: بسم اللہ سے شروع کرے اور اگر وضوسے پہلے اِستنجا کرے تو قبل استنجے کے بھی بسم اللہ کہے مگر پاخانہ میں جانے یا بدن کھولنے سے پہلے کہے کہ نجاست کی جگہ اور بعد ستر کھولنے کے زَبان سے ذکرِ الٰہی منع ہے۔ (1)
مسئلہ ۳۰: اور شروع یوں کرے کہ پہلے ہاتھوں کو گٹوں تک تین تین بار دھوئے۔ (2)
مسئلہ ۳۱: اگر پانی بڑے برتن میں ہو اور کوئی چھوٹا برتن بھی نہیں کہ اس میں پانی اونڈیل کر ہاتھ دھوئے، تو اسے چاہیئے کہ بائیں ہاتھ کی انگلیاں ملا کر صرف وہ انگلیاں پانی میں ڈالے، ہتھیلی کا کوئی حصہ پانی میں نہ پڑے اور پانی نکال کردہنا ہاتھ گٹے تک تین بار دھوئے پھر دہنے ہاتھ کو جہاں تک دھویا ہے بلا تَکلّف پانی میں ڈال سکتا ہے اور اس سے پانی نکال کر بایاں ہاتھ دھوئے۔ (3)
مسئلہ ۳۲: یہ اس صورت میں ہے کہ ہاتھ میں کوئی نجاست نہ لگی ہو ورنہ کسی طرح ہاتھ ڈالنا جائز نہیں، ہاتھ ڈالے گا تو پانی ناپاک ہو جائے گا۔ (4)
مسئلہ ۳۳: اگر چَھوٹے برتن میں پانی ہے یا پانی تو بڑے برتن میں ہے مگر وہاں کوئی چَھوٹا برتن بھی موجود ہے اور اس نے بے دھویا ہاتھ پانی میں ڈال دیا بلکہ اُنگلی کا پَورایا ناخن ڈالا تو وہ سارا پانی وُضو کے قابل نہ رہا مائے مُستَعمَل ہو گیا۔ (5)
مسئلہ ۳۴: یہ اس وقت ہے کہ جتنا ہاتھ پانی میں پہنچا اس کا کوئی حصہ بے دُھلا ہو ورنہ اگر پہلے ہاتھ َدھو چکا اور اس کے بعد حَدَث نہ ہوا تو جس قدرحصہ دُھلا ہوا ہو،اتنا پانی میں ڈالنے سے مُستَعمَل نہ ہو گا اگرچہ کُہنی تک ہوبلکہ غیرِجُنب نے اگرکُہنی تک ہاتھ دھولیا تو اس کے بعد بغل تک ڈال سکتا ہے کہ اب اس کے ہاتھ پر کوئی حدث باقی نہیں، ہاں جُنب کُہنی سے اوپر
ـ1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: سائر بمعنی باقی... إلخ، ج۱، ص۲۴۱.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الثاني، ج۱، ص۶.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۴۶.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الثاني، ج۱، ص۶.
و''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۴۷.
5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۱۱۳.
یہ مسئلہ معرکۃ الآرا ہے اور صحیح یہی ہے جو یہاں مذکور ہوا جیسا کہ ہدایہ و فتح القدیر و تبیین و فتاوٰے قاضی خاں و کافی و خلاصہ و غنیہ و حلیہ و کتاب
الحسن عن ابی حنیفہ و کتب امام محمد رحمہم اﷲ تعالیٰ و دیگر کتب فقہ میں مصرح ہے اور اس کی کامل تحقیق منظور ہو تو رسالہ مبارکہ ''النمیقۃ الانقے فی الفرق بین الملاقی و الملقے'' کا مطالعہ کیا جائے۔ ۱۲منہ
اتنا ہی حصہ ڈال سکتا ہے جتنا دھو چکا ہے کہ اس کے سارے بدن پر حَدَث ہے۔
مسئلہ ۳۵: جب سو کر اُٹھے تو پہلے ہاتھ دھوئے ، اِستنجے کے قبل بھی اور بعد بھی۔ (1)
مسئلہ ۳۶: کم سے کم تین تین مرتبہ داہنے بائیں، اوپر نیچے کے دانتوں میں مِسواک کرے اور ہر مرتبہ مِسواک کو دھولے اور مِسواک نہ بہت نرم ہو نہ سَخْت اور پیلو یا زیتون یا نیم وغیرہ کَڑوِی لکڑی کی ہو۔ میوے یا خوشبودار پھول کے درخت کی نہ ہو۔ چُھنگلِیا کے برابر موٹی اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت لنبی ہواور اتنی چھوٹی بھی نہ ہو کہ مِسواک کرنا دشوار ہو ۔جو مِسواک ایک بالشت سے زیادہ ہو اس پر شیطان بیٹھتا ہے۔ (2) مِسواک جب قابلِ استعمال نہ رہے تو اسے دفن کر دیں یا کسی جگہ اِحْتِیاط سے رکھ دیں کہ کسی ناپاک جگہ نہ گرے کہ ایک تو وہ آلہ ادائے سنت ہے اس کی تعظیم چاہیئے ،دوسرے آبِ دَہنِ مسلِم ناپاک جگہ ڈالنے سے خود محفوظ رکھنا چاہیئے ،اسی لیے پاخانہ میں تُھوکنے کو علما نے نامناسب لکھا ہے۔
مسئلہ ۳۷: مِسواک داہنے ہاتھ سے کرے اور اس طرح ہاتھ میں لے کہ چھنگلیا مِسواک کے نیچے اور بیچ کی تین انگلیاں اوپر اور انگوٹھا سرے پر نیچے ہو اور مُٹھی نہ باندھے۔ (3)
مسئلہ ۳۸: دانتوں کی چوڑائی میں مِسواک کرے لنبائی میں نہیں، چِت لیٹ کر مِسواک نہ کرے۔ (4)
مسئلہ ۳۹: پہلے داہنی جانب کے اوپر کے دانت مانجھے ، پھر بائیں جانب کے اوپر کے دانت ، پھر داہنی جانب کے نیچے کے ، پھر بائیں جانب کے نیچے کے۔ (5)
مسئلہ ۴۰: جب مِسواک کرنا ہو تواسے دھولے۔ یوہیں فارغ ہونے کے بعد دھو ڈالے اور زمین پر پَڑی نہ چھوڑ دے بلکہ کھڑی رکھے اور ریشہ کی جانب اوپر ہو۔ (6)
مسئلہ ۴۱: اگر مِسواک نہ ہو تو اُنگلی یا سنگین کپڑے سے دانت مانجھ لے۔ یوہیں اگر دانت نہ ہوں تو اُنگلی یا کپڑا مسوڑوں پر پھیر لے۔ (7)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ارکان الوضوء أربعۃ، ج۱، ص۲۴۳.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۵۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الثاني، ج۱، ص۷.
و ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۵۰.
4 ۔ ''الدرالمختار''کتاب الطہارۃ،ج۱، ص۲۵۱. 5 ۔ المرجع السابق، ص۲۵۰.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، مطلب في دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۵۱.
7 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الطہارۃ، ص۶، و ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ارکان الوضوء أربعۃ، ج۱، ص۲۵۳.
مسئلہ ۴۲: مِسواک نماز کے لیے سنت نہیں بلکہ وُضو کے لیے ،تو جو ایک وُضو سے چند نمازیں پڑھے، اس سے ہر نماز کے لیے مِسواک کا مطالبہ نہیں، جب تک تَغَیّرِ رائِحہ (1) نہ ہو گیاہو،ورنہ اس کے دفع کے لیے مستقل سنت ہے البتہ اگر وُضو میں مِسواک نہ کی تھی تو اب نماز کے وقت کر لے (2) ۔
مسئلہ ۴۳: پھر تین چُلّو پانی سے تین کُلّیاں کرے کہ ہر بار مونھ کے ہر پُرزے پر پانی بہ جائے اور روزہ دار نہ ہو تو غَرغَرہ کرے۔ (3)
مسئلہ ۴۴: پھر تین چُلّو سے تین بار ناک میں پانی چڑھائے کہ جہاں تک نرم گوشت ہوتا ہے ہر بار اس پر پانی بہ جائے اور روزہ دار نہ ہو تو ناک کی جڑ تک پانی پہنچائے اور یہ دونوں کام داہنے ہاتھ سے کرے، پھر بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرے۔ (4)
مسئلہ ۴۵: مونھ دھوتے وقت داڑھی کا خِلال کرے بشرطیکہ اِحرام نہ باندھے ہو، یوں کہ اُنگلیوں کو گردن کی طرف سے داخِل کرے اور سامنے نکالے۔ (5)
مسئلہ ۴۶: ہاتھ پاؤں کی اُنگلیوں کا خِلال کرے ،پاؤں کی اُنگلیوں کا خِلال بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے کرے اس طرح کہ داہنے پاؤں میں چھنگلیا سے شروع کرے اور انگوٹھے پر ختم کرے اور بائیں پاؤں میں انگوٹھے سے شروع کرکے چھنگلیا پر ختم کرے اور اگر بے خِلال کیے پانی اُنگلیوں کے اندر سے نہ بہتا ہو تو خلال فرض ہے یعنی پانی پہنچانا اگرچہ بے خِلال ہو مثلاً گھائیاں کھول کر اوپر سے پانی ڈال دیا یا پاؤں حوض میں ڈال دیا۔ (6)
مسئلہ ۴۷: جو اعضا دھونے کے ہیں ان کو تین تین با ر دھوئے ہر مرتبہ اس طرح دھوئے کہ کوئی حصہ رہ نہ جائے ورنہ سنت ادا نہ ہوگی۔ (7)
1 ۔ یعنی سانس بدبودار۔
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۴۸.
مسواک وضو کی سنّتِ قبلیہ ہے البتہ سنّتِ مؤکدہ اس وقت ہے جبکہ منہ میں بدبو ہو۔ (''فتاوی رضویہ''، ج۱، ص۶۲۳)
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في منافع السواک، ج۱، ص۲۵۳.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق، ص۲۵۵.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في منافع السواک، ج۱، ص۲۵۶.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في منافع السواک، ج۱، ص۲۵۷.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الثاني، ج۱، ص۷.
مسئلہ ۴۸: اگر یوں کیا کہ پہلی مرتبہ کچھ دُھل گیا اور دوسری بار کچھ اور تیسری دفعہ کچھ کہ تینوں بار میں پورا عُضْوْ دُھل گیا تو یہ ایک ہی بار دھونا ہو گا اور وُضو ہو جائے گا مگر خلاف سنت، اس میں چُلّوؤں کی گنتی نہیں بلکہ پورا عُضْوْ دھونے کی گنتی ہے کہ وہ تین مرتبہ ہواگرچہ کتنے ہی چلوؤں سے۔ (1)
مسئلہ ۴۹: پُورے سر کا ایک بار مسح کرنا اور کانوں کامسح کرنا اور ترتیب کہ پہلے مونھ، پھر ہاتھ دھوئیں،پھر سر کا مسح کریں،پھر پاؤں دھوئیں اگر خلافِ ترتیب وُضو کیا یا کوئی اور سنت چھوڑ گیا تو وُضو ہو جائے گا مگر ایک آدھ دفعہ ایسا کرنا بُرا ہے اور ترکِ سنّتِ مؤکّدہ کی عادت ڈالی تو گنہگار ہے اور داڑھی کے جو بال مونھ کے دائرے سے نیچے ہیں ا ن کا مسح سنّت ہے اور دھونا مستحب ہے اور اعضا کو اس طرح دھونا کہ پہلے والا عُضْوْ سوکھنے نہ پائے۔ (2)
بہت سے مستحبات ضمناً اوپر ذکر ہوچکے، بعض باقی رہ گئے وہ لکھے جاتے ہیں۔
مسئلہ ۵۰: (۱) داہنی جانب سے ابتدا کریں مگر
(۲) دونوں رخسارے کہ ان دونوں کو ساتھ ہی ساتھ دھوئیں گے ایسے ہی
(۳) دونوں کانوں کا مسح ساتھ ہی ساتھ ہو گا۔
(۴) ہاں اگر کسی کے ایک ہی ہاتھ ہوتومونھ دھونے اور
(۵) مسح کرنے میں بھی دہنے کو مقدم کرے
(۶) اُنگلیوں کی پُشت سے
(۷) گردن کا مسح کرنا
(۸) وُضو کرتے وقت کعبہ رو
(۹) اونچی جگہ
(۱۰) بیٹھنا۔
(۱۱) وُضو کا پانی پاک جگہ گرانا اور
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في منافع السواک، ج۱، ص۲۵۷.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۶۲۔۲۶۴. و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۱۴.
(۱۲) پانی بہاتے وقت اعضا پر ہاتھ پھیرنا خاص کر جاڑے میں۔
(۱۳) پہلے تیل کی طرح پانی چُپڑ لینا خُصُوصاً جاڑے میں۔
(۱۴) اپنے ہاتھ سے پانی بھرنا۔
(۱۵) دوسرے وقت کے لیے پانی بھر کر رکھ چھوڑنا۔
(۱۶) وُضو کرنے میں بغیر ضرورت دوسرے سے مدد نہ لینا۔
(۱۷) انگوٹھی کو حرکت دینا جب کہ ڈھیلی ہو کہ اس کے نیچے پانی بہ جانا معلوم ہو ورنہ فرض ہو گا۔
(۱۸) صاحبِ عُذر نہ ہو تو وقت سے پہلے وُضو کر لینا۔
(۱۹) اطمینان سے وُضو کرنا۔ عوام میں جو مشہور ہے کہ وُضو جَوان کا سا، نماز بوڑھوں کی سی یعنی وُضو جلد کریں ایسی جلدی نہ چاہیے جس سے کوئی سنت یا مستحب ترک ہو۔
(۲۰) کپڑوں کو ٹپکتے قطروں سے محفوظ رکھنا۔
(۲۱) کانوں کا مسح کرتے وقت بھیگی چھنگلیا کانوں کے سوراخ میں داخِل کرنا
(۲۲) جو وُضو کامل طور پر کرتا ہو کہ کوئی جگہ باقی نہ رہ جاتی ہو، اسے کوؤں، ٹخنوں، ایڑیوں، تلوؤں، کُونچوں، گھائیوں، کُہنیوں کابالتخصیص خیال رکھنا مستحب ہے اور بے خیالی کرنے والوں کو تو فرض ہے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ مَوَاضِع خشک رہ جاتے ہیں یہ نتیجہ ان کی بے خیالی کا ہے۔ ایسی بے خیالی حرام ہے اور خیال رکھنا فرض۔
(۲۳) وُضو کا برتن مٹی کا ہو، تانبے وغیرہ کا ہو تو بھی حرج نہیں مگر
(۲۴) قلعی کیا ہوا۔
(۲۵) اگر وُضو کا برتن لوٹے کی قِسم سے ہو تو بائیں جانب رکھے اور
(۲۶) طشت کی قسم سے ہو تو دہنی طرف
(۲۷) آفتابہ میں دستہ لگا ہو تو دستہ کو تین بار دھو لیں
(۲۸) ا ور ہاتھ اس کے دستہ پر رکھیں اس کے مونھ پر نہ رکھیں
(۲۹) دہنے ہاتھ سے کُلّی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا
(۳۰) بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا
(۳۱) بائیں ہاتھ کی چھنگلیا ناک میں ڈالنا
(۳۲) پاؤں کو بائیں ہاتھ سے دھونا
(۳۳) مونھ دھونے میں ماتھے کے سرے پر ایسا پھیلا کر پانی ڈالنا کہ اوپر کا بھی کچھ حصہ دھل جائے۔
تنبیہ: بہت سے لوگ یوں کیاکرتے ہیں کہ ناک یا آنکھ یا بھوؤں پر چُلّو ڈال کر سارے مونھ پر ہاتھ پھیرلیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ مونھ دُھل گیا حالانکہ پانی کا اوپر چڑھنا کوئی معنی نہیں رکھتا اس طرح دھونے میں مونھ نہیں دُھلتا اور وُضو نہیں ہوتا۔
(۳۴) دونوں ہاتھ سے مونھ دھونا
(۳۵) ہاتھ پاؤں دھونے میں اُنگلیوں سے شروع کرنا
(۳۶) چہرے اور
(۳۷) ہاتھ پاؤں کی روشنی وسیع کرنا یعنی جتنی جگہ پر پانی بہانا فرض ہے اس کے اَطراف میں کچھ بڑھانا مثلاً نصف بازوو نصف پنڈلی تک دھونا
(۳۸) مسحِ سر میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھے اور کلمے کی اُنگلی کے سوا ایک ہاتھ کی باقی تین اُنگلیوں کا سرا، دوسرے ہاتھ کی تینوں اُنگلیوں کے سرے سے ملائے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر گُدّی تک اس طرح لے جائے کہ ہتھیلیاں سر سے جدا رہیں وہاں سے ہتھیلیوں سے مسح کرتا واپس لائے اور
(۳۹) کلمہ کی اُنگلی کے پیٹ سے کان کے اندرونی حصہ کا مسح کرے اور
(۴۰) انگوٹھے کے پیٹ سے کان کی بیرونی سَطح کا اور اُنگلیوں کی پُشت سے گردن کا مسح۔
(۴۱) ہر عُضْوْ دھو کر اس پر ہاتھ پھیردینا چاہیئے کہ بُو ندیں بدن یا کپڑے پر نہ ٹپکیں، خُصُوصاً جب مسجد میں جانا ہو کہ قطروں کا مسجد میں ٹپکنا مکروہِ تَحْرِیمی ہے۔
(۴۲) بہت بھاری برتن سے وُضو نہ کرے خُصُوصاً کمزور کہ پانی بے اِحْتِیاطی سے گرے گا
(۴۳) زَبان سے کہہ لینا کہ وُضو کرتا ہوں
(۴۴) ہر عُضْوْ کے دھوتے یا مسح کرتے وقت نیّتِ وُضو حاضر رہنا اور
(۴۵) بسم اللہ کہنا اور
(۴۶) درود اور
(۴۷) اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ (1)
1 ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ ۱۲
(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم) اور
(۴۸) کُلّی کے وقت
اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی تِلَاوۃِ الْقُرْاٰنِ وَذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ(1)
اور
(۴۹) ناک میں پانی ڈالتے وقت
اَللّٰھُمَّ اَرِحْنِیْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ وَلَا تُرِحْنِیْ رَائِحَۃَ النَّارِ(2)
اور
(۵۰) مونھ دھوتے وقت
اَللّٰھُمَّ بَیِّضْ وَجْھِیْ یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ (3)
اور
(۵۱) داہنا ہاتھ دھوتے وقت
اَللّٰھُمَّ اَعْطِنِيْ کِتَابِیْ بِیمِیْنِیْ وَحَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْراً (4)
اور
(۵۲) بایاں ہاتھ دھوتے وقت
اَللّٰھُمَّ لَا تُعْطِنِیْ کِتَابِیْ بِشِمَالِیْ وَلَا مِنْ وَّرَآءِ ظَھْرِیْ(5)
اور
(۵۳) سر کا مسح کرتے وقت
اَللّٰھُمَّ اَظِلَّنِیْ تَحْتَ عَرْشِکَ یَوْمَ لَا ظِلَّ الِاَّ ظِلَّ عَرْشِکَ (6)
اور
(۵۴) کانوں کا مسح کرتے وقت
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ الَّذِینَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ (7)
اور
(۵۵) گردن کا مسح کرتے وقت
اَللّٰھُمَّ اَعْتِقْ رَقَبَتِیْ مِنَ النَّارِ (8)
اور
(۵۶) داہنا پاؤں دھوتے وقت
اَللّٰھُمَّ ثَبِّتْ قَدَمِیْ عَلَی الصِّرَاطِ یَوْمَ تَزِلُّ الْاَقْدَامُ (9)
اور
(۵۷) بایاں پاؤں دھوتے وقت
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ ذَنْبِیْ مَغْفُوْرًا وَسَعْیِیْ مَشْکُورًا وَ تِجَارَتِیْ لَنْ تَبُوْرَ (10)
پڑھے یا سب جگہ دُرود شریف ہی پڑھے اور یہی افضل ہے۔ اور
(۵۸) وُضو سے فارغ ہوتے ہی یہ پڑھے
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ (11)
اور
1 ۔ اے اﷲ (عزوجل) تو میری مدد کر کہ قرآن کی تلاوت اور تیرا ذکر و شکر کروں اور تیری اچھی عبادت کروں۔ ۱۲
2 ۔ اے اﷲ (عزوجل) تو مجھ کو جنت کی خوشبو سُونگھا اور جہنم کی بُو سے بچا۔ ۱۲
3 ۔ اے اﷲ (عزوجل) تو میرے چہرے کو اجالا کر جس دن کہ کچھ مونھ سفید ہوں گے اور کچھ سیاہ۔۱۲
4 ۔ اے اﷲ (عزوجل) میرا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دے اور مجھ سے آسان حساب کرنا۔ ۱۲
5 ۔ اے اﷲ (عزوجل) میرا نامہ اعمال نہ بائیں ہاتھ میں دے اور نہ پیٹھ کے پیچھے سے۔ ۱۲
6 ۔ اے اﷲ (عزوجل) تو مجھے اپنے عرش کے سایہ میں رکھ جس دن تیرے عرش کے سایہ کے سوا کہیں سا یہ نہ ہو گا۔ ۱۲
7 ۔ اے اﷲ (عزوجل) مجھے ان میں کر دے جو بات سنتے ہیں اور اچھی بات پر عمل کرتے ہیں۔ ۱۲
8 ۔ اے اﷲ (عزوجل) میری گردن آگ سے آزاد کر دے۔ ۱۲
9 ۔ اے اﷲ (عزوجل) میرا قدم پل صراط پر ثابت قدم رکھ جس دن کہ اس پر قدم لغزش کریں گے۔۱۲
10 ۔ اے اﷲ (عزوجل) میرے گناہ بخش دے اور میری کوشش بار آور کر دے اور میری تجارت ہلاک نہ ہو۔ ۱۲
11 ۔ الٰہی تو مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک لوگوں میں کر دے۔ ۱۲
(۵۹) بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر تھوڑا پی لے کہ شفائے امراض ہے اور
(۶۰) آسمان کی طرف مونھ کرکے
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ(1)
اور کلمہ شہادت اور سورہ اِنَّا اَنْزَلْنَا پڑھے۔
(۶۱) اعضائے وُضو بغیر ضرورت نہ پُونچھے اور پُونچھے تو بے ضرورت خُشک نہ کرلے ۔
(۶۲) قدرے نم باقی رہنے دے کہ روزِ قیامت پلہ حَسنات میں رکھی جائے گی ۔اور
(۶۳) ہاتھ نہ جھٹکے کہ شیطان کا پنکھا ہے۔
(۶۴) بعدِ وُضو مِیانی (2) پر پانی چِھڑک لے۔ (3) اور
(۶۵) مکروہ وقت نہ ہو تو دو رکعت نماز نفل پڑھے اس کو تحیۃ الوُضو کہتے ہیں۔ (4)
(۱) عورت کے غسل یا وُضو کے بچے ہوئے پانی سے وُضو کرنا۔
(۲) وُضو کے لیے نجس جگہ بیٹھنا۔
(۳) نجس جگہ وُضو کا پانی گرانا۔
(۴) مسجد کے اندر وُضو کرنا۔
(۵) اعضائے وُضو سے لوٹے وغیرہ میں قطرہ ٹپکانا۔
(۶) پانی میں رینٹھ یا کھنکار ڈالنا۔
(۷) قبلہ کی طرف تھوک یا کھنکار ڈالنا یا کُلّی کرنا۔
1 ۔ تو پاک ہے اے اﷲ (عزوجل) اور میں تیری حمد کرتا ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیری
طرف توبہ کرتا ہوں۔ ۱۲
2 ۔ پاجامہ کا وہ حصہ جو پیشاب گاہ کے قریب ہوتا ہے۔
3 ۔ شیخِ طریقت، عاشقِ اعلیٰ حضرت، امیرِ اہلسُنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی
دامت برکاتہم العالیہ ''نماز کے اَحکام'' صفحہ 19پر فرماتے ہیں کہ: ''پانی چھڑکتے وقت میانی کو کُرتے کے دامن میں چھپائے رکھنا مناسب
ہے، نیز وُضو کرتے وقت بھی بلکہ ہر وقت میانی کو کُرتے کے دامن یا چادر وغیرہ کے ذریعہ چھپائے رکھنا حیا کے قریب ہے۔
4 ۔ ''غنیۃ المتملي شرح منیۃ المصلي''، آداب الوضوء، ص۲۸ ۔ ۳۷.
و ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۶۶ ۔ ۲۸۰.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الثالث، ج ۱، ص ۸.
(۸) بے ضرورت دنیا کی بات کرنا۔
(۹) زیادہ پانی خرچ کرنا۔
(۱۰) اتنا کم خرچ کرنا کہ سنت ادا نہ ہو۔
(۱۱) مونھ پر پانی مارنا ۔ یا
(۱۲) مونھ پر پانی ڈالتے وقت پھونکنا۔
(۱۳) ایک ہاتھ سے مونھ دھونا کہ رِفاض و ہنود کا شعار ہے۔
(۱۴) گلے کا مسح کرنا۔
(۱۵) بائیں ہاتھ سے کُلّی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا۔
(۱۶) داہنے ہاتھ سے ناک صاف کرنا۔
(۱۷) اپنے لیے کوئی لوٹا وغیرہ خاص کر لینا۔
(۱۸) تین جدید پانیوں سے تین بار سر کا مسح کرنا۔
(۱۹) جس کپڑے سے استنجے کا پانی خشک کیا ہو اس سے اعضائے وُضو پونچھنا۔
(۲۰) دھوپ کے گرم پانی سے وُضو کرنا۔ (1)
(۲۱) ہونٹ یا آنکھیں زور سے بند کرنا اور اگر کچھ سوکھا رہ جائے تو وُضو ہی نہ ہو گا۔
ہر سنت کا ترک مکروہ ہے۔ یوہیں ہر مکروہ کا ترک سنت۔ (2)
مسئلہ ۵۱: اگر وُضو نہ ہو تو نماز اور سجدہ تلاوت اور نمازِجنازہ اور قرآنِ عظیم چُھونے کے لیے وُضو کرنا فرض ہے۔ (3)
1 ۔ جو پانی دھوپ سے گرم ہوگیا اس سے وُضو کرنا مطلقاً مکروہ نہیں بلکہ اس میں چند قیود ہیں، جن کا ذکر پانی کے باب میں آئیگا اور اس سے وُضو کی کراہت تنزیہی ہے تحریمی نہیں۔ ۱۲ منہ حفظہ ربہ
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في تعریف المکروہ... إلخ، ج۱، ص۲۶۹، ۲۸۰ ۔ ۲۸۳.
و''الفتاوی الھندیۃ''، الباب الأول في الوضوء، الفصل الرابع، ج۱، ص۴، ۹،وغیرہما.
3 ۔ ''نور الإیضاح''، کتاب الطہارۃ، فصل: الوضوء علی ثلاثۃ أقسام، ص۱۸.
مسئلہ ۵۲: طواف کے لیے وُضو واجب ہے۔ (1)
مسئلہ ۵۳: غسلِ جَنابت سے پہلے اور جُنب کو کھانے، پینے، سونے اور اذان و اقامت اور خطبہ جمعہ و عیدَین اور روضہ مبارکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت اور وُقوفِ عرفہ اور صَفا و مَروہ کے درمیان سَعی کے لیے وُضو کر لینا سنّت ہے۔
مسئلہ ۵۴: سونے کے لیے اور سونے کے بعد اور میت کے نہلانے یا اٹھانے کے بعد اور جِماع سے پہلے اور جب غصہ آجائے اس وقت اور زبانی قرآنِ عظیم پڑھنے کے لیے اور حدیث اور علمِ دین پڑھنے پڑھانے اور علاوہ جمعہ و عیدین باقی خطبوں کے لیے اور کتبِ دِینیہ چھونے کے لیے اور بعد ستر غلیظ چھونے اور جھوٹ بولنے ، گالی دینے، فحش لفظ نکالنے، کافر سے بدن چھو جانے، صلیب یا بُت چھونے، کوڑھی یا سپید داغ والے سے مس کرنے، بغل کھجانے سے جب کہ اس میں بدبو ہو، غیبت کرنے، قہقہہ لگانے، لغو اشعار پڑھنے اور اونٹ کا گوشت کھانے، کسی عورت کے بدن سے اپنا بدن بے حائل مس ہو جانے سے اور باوُضو شخص کے نماز پڑھنے کے لیے ان سب صورتوں میں وُضو مستحب ہے۔ (2)
مسئلہ ۵۵: جب وُضو جاتا رہے وُضو کرلینا مستحب ہے۔ (3)
مسئلہ ۵۶: نابالغ پر وُضو فرض نہیں (4) مگر ان سے وُضو کرانا چاہیئے تاکہ عادت ہو اور وُضو کرنا آجائے اور مسائلِ وُضو سے آگاہ ہو جائیں۔
مسئلہ ۵۷: لوٹے کی ٹُونٹی نہ ایسی تنگ ہو کہ پانی بدقّت گرے، نہ اتنی فراخ کہ حاجت سے زیادہ گرے بلکہ متوسط ہو۔ (6)
مسئلہ ۵۸: چُلّو میں پانی لیتے وقت خیال رکھیں کہ پانی نہ گرے کہ اِسراف ہو گا۔ ایسا ہی جس کام کے لیے چُلّو میں پانی لیں اُس کا اندازہ رکھیں ضرورت سے زیادہ نہ لیں مثلاً ناک میں پانی ڈالنے کے لیے آدھا چُلّو کافی ہے تو پورا چُلّو نہ لے کہ
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۰۵.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الثالث، ج۱، ص۹.
2 ۔ ''نورالإیضاح''، کتاب الطہارۃ، فصل: الوضوء علی ثلاثۃ أقسام، ص۱۹.و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۷۱۵۔۷۲۴.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الثالث، ج۱، ص۹.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في اعتبارات المرکب التام، ج۱، ص۲۰۲.
5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۷۶۵.
اِسراف ہوگا۔ (1)
مسئلہ ۵۹: ہاتھ، پاؤں، سینہ ،پُشت پر بال ہوں تو ہرتال وغیرہ سے صاف کر ڈالے یا تَرَشْوالے، نہیں تو پانی زیادہ خرچ ہو گا۔ (2)
فائدہ: ولہان ایک شیطان کا نام ہے جو وُضو میں وسوسہ ڈالتا ہے اس کے وسوسہ سے بچنے کی بہترین تدابیر یہ ہیں:
(۱) رجوع الی اللہ و
(۲) اَعُوْذُ بِاللہِ
(۳) وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ و
(۴) سورہ ناس، اور
(۵) اٰمَنْتُ بِاللہ وَ رَسُوْلِہٖ، اور
(۶) ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُج وَھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٍ، اور
(۷) سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْخَلَّاقِ اِنْ یَّشَأ یُذْہِبْکُمْ وَیَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ لا وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللہِ بِعَزِیْزٍ ط
پڑھنا کہ وسوسہ جڑ سے کٹ جائے گا اور
(۸) وسوسہ کا بالکل خیال نہ کرنابلکہ اس کے خلاف کرنا بھی دافعِ وسوسہ ہے۔ (3)
مسئلہ ۱: پاخانہ ۱ ، پیشاب ۲ ، وَدِی ۳ ، مَذِی ۴ ، مَنی ۵ ، کیڑا ۶ ، پتھری ۷ مرد یا عورت کے آگے یا پیچھے سے نکلیں وُضو جاتا رہے گا۔ (4)
مسئلہ ۲: اگر مرد کا خَتنہ نہیں ہوا ہے اور سوراخ سے ان چیزوں میں سے کوئی چیز نکلی مگر ابھی ختنہ کی کھال کے اندر ہی ہے جب بھی وُضو ٹوٹ گیا۔ (5)
مسئلہ ۳: یوہیں عورت کے سوراخ سے نکلی مگر ہُنوز (6) اُوپر والی کھال کے اندر ہی ہے جب بھی وُضو جاتا رہا۔ (7)
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۷۶۵.
2 ۔ المرجع السابق، ص۷۶۹. 3 ۔ المرجع السابق، ص۷۷۰.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱،ص۹.
5 ۔ المرجع السابق، ص۹-۱۰. 6 ۔ یعنی ابھی تک۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۰.
مسئلہ ۴: عورت کے آگے سے جو خالص رطوبت بے آمیزشِ خون نکلتی ہے ناقضِ وُضو نہیں (1) ، اگر کپڑے میں لگ جائے تو کپڑا پاک ہے۔ (2)
مسئلہ ۵: مرد یا عورت کے پیچھے سے ہَوا ۸ خارِج ہوئی وُضو جاتا رہا۔ (3)
مسئلہ ۶: مر د یا عورت کے آگے سے ہَوا نکلی یا پیٹ میں ایسا زخم ہوگیا کہ جِھلّی تک پہنچا ،اس سے ہَوا نکلی تو وُضو نہیں جائے گا۔ (4)
مسئلہ ۷: عورت کے دونوں مقام پردہ پَھٹ کر ایک ہوگئے اسے جب رِیح آئے اِحْتِیاط یہ ہے کہ وُضو کرے اگرچہ یہ احتمال ہو کہ آگے سے نکلی ہوگی۔ (5)
مسئلہ ۸: اگر مرد نے پیشاب کے سوراخ میں کوئی چیز ڈالی پھر وہ اس میں سے لوٹ آئی تو وُضو نہیں جائے گا۔ (6)
مسئلہ ۹: حُقنہ لیا اور دوا باہر آگئی یا کوئی چیز پاخانہ کے مقام میں ڈالی اور باہر نکل آئی وُضو ٹوٹ گیا۔ (7)
مسئلہ ۱۰: مرد نے سوراخِ ذَکَر میں رُوئی رکھی اور وہ اُوپر سے خشک ہے مگر جب نکالی ،تو تَر نکلی تو نکالتے ہی وُضو ٹوٹ گیا۔ (8) یوہیں عورت نے کپڑا رکھا اور فرجِ خارِج میں اس کپڑے پر کوئی اثر نہیں مگر جب نکالا تو خون یا کسی اور نجاست سے تَر نکلااب وُضو جاتا رہا۔
مسئلہ ۱۱: خون ۹ یا پیپ ۱۰ یا زرد ۱۱ پانی کہیں سے نکل کر بہا اور اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وُضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وُضو جاتا رہا اگر صرف چمکا یا اُبھرا اور بہا نہیں جیسے سوئی کی نوک یا چاقو کا کنارہ لگ جاتا ہے اور خون اُبھر یا چمک جاتا ہے یا خِلال کیا یا مِسواک کی یااُنگلی سے دانت مانجھے یا دانت سے کوئی چیز کاٹی اس پر خون کا اثر پایایاناک میں اُنگلی ڈالی اس پر خون کی سُرخی آگئی مگر وہ خون بہنے کے قابل نہ تھا تووُضو نہیں ٹوٹا۔ (9)
1 ۔ ''جد الممتار'' علی ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، فصل الوضوء، ج۱، ص۱۸۸.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، فصل الإستنجائ، مطلب في الفرق بین الاستبراء والاستنقائ... إلخ، ج۱، ص۶۲۱.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۹.
4 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: نواقض الوضوء، ج۱، ص۲۸۷.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، المرجع السابق .
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۰.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۰.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۰.
9 ۔ المرجع السابق، و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۸۰.
مسئلہ ۱۲: اور اگر بہا مگر ایسی جگہ بہ کر نہیں آیا جس کا دھونافرض ہو تو وُضو نہیں ٹوٹا۔ مثلاً آنکھ میں دانہ تھا اور ٹوٹ کر آنکھ کے اندر ہی پھیل گیا باہر نہیں نکلا یا کان کے اندر دانہ ٹوٹا اور اس کا پانی سوراخ سے باہر نہ نکلا تو ان صورتوں میں وُضو باقی ہے۔ (1)
مسئلہ ۱۳: زخم میں گڑھا پڑ گیا اور اس میں سے کوئی رطوبت چمکی مگر بہی نہیں تو وُضو نہیں ٹوٹا۔ (2)
مسئلہ ۱۴: زخم سے خون وغیرہ نکلتا رہا اور یہ بار بار پونچھتا رہا کہ بہنے کی نوبت نہ آئی تو غور کرے کہ اگر نہ پونچھتا تو، بہ جاتا یا نہیں اگر بہ جاتا تو وُضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں۔یوہیں اگر مٹی یا راکھ ڈال ڈال کر سکھاتا رہا اس کابھی وہی حُکْم ہے۔ (3)
مسئلہ ۱۵: پھوڑا یا پھنسی نچوڑنے سے خون بہا ،اگرچہ ایسا ہو کہ نہ نچوڑتا تو نہ بہتا جب بھی وُضو جاتا رہا۔ (4)
مسئلہ ۱۶: آنکھ، کان، ناف، پِستان وغیرہا میں دانہ یا ناصُور یاکوئی بیماری ہو، ان وُجوہ سے جو آنسو یا پانی بہے وُضو توڑ دے گا۔ (5)
مسئلہ ۱۷: زخم یا ناک یا کان یا مونھ سے کیڑا یا زخم سے کوئی گوشت کا ٹکڑا (جس پر خون یا پیپ کوئی نجس رطوبت قابل سیلان نہ تھی) کَٹ کر گرا وُضو نہیں ٹوٹے گا۔ (6)
مسئلہ ۱۸: کان میں تیل ڈالا تھا اور ایک دن بعد کان یا ناک سے نکلا وُضو نہ جائے گا یوہیں اگر مونھ سے نکلا جب بھی ناقض نہیں ہاں اگر یہ معلوم ہو کہ دماغ سے اتر کر معدہ میں گیا اور معدہ سے آیا ہے تو وُضو ٹوٹ گیا۔ (7)
مسئلہ ۱۹: چھالا نوچ ڈالا اگر اس میں کا پانی بہ گیا وُضو جاتا رہا ورنہ نہیں۔ (8)
مسئلہ ۲۰: مونھ سے خون نکلا اگر تھوک پر غالب ہے وُضو توڑ دے گا ورنہ نہیں۔
فائدہ: غلبہ کی شناخت یوں ہے کہ تھوک کا رنگ اگر سرخ ہو جائے تو خون غالب سمجھا جائے اور اگر زرد ہو تو مغلوب۔ (9)
مسئلہ ۲۱: جونک یا بڑی کلّی نے خون چوسا اور اتنا پی لیا کہ اگر خود نکلتا تو بہ جاتا وُضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں۔ (10)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: نواقض الوضوء، ج۱، ص۲۸۶.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۸۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱.
و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، نواقض الوضوء، ج۱، ص۲۸۶، و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۸۱.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق . 5 ۔ المرجع السابق، ص۱۰.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۸۸.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۰.
8 ۔ المرجع السابق، ص۱۱. 9 ۔ المرجع السابق.
10 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱.
و ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۲.
مسئلہ ۲۲: اگر چھوٹی کلّی یا جُوں یا کھٹمل، مچھر، مکھی، پِسّو نے خون چُوسا تو وُضو نہیں جائے گا۔ (1)
مسئلہ ۲۳: ناک صاف کی اس میں سے جما ہوا خون نکلا وُضو نہیں ٹوٹا۔ (2)
مسئلہ ۲۴: نارو (3) سے رطوبت بہے وُضو جاتا رہے گا اور ڈورا نکلا تو وُضو باقی ہے۔ (4)
مسئلہ ۲۵: اندھے کی آنکھ سے جو رطوبت بوجہِ مرض نکلتی ہے ناقضِ وُضو ہے۔ (5)
مسئلہ ۲۶: مونھ ۱۲ بھر قے کھانے یا پانی یا صفرا (6) کی وُضو توڑ دیتی ہے۔ (7)
فائدہ: مونھ بَھر کے یہ معنے ہیں کہ اسے بے تکلّف نہ روک سکتا ہو۔ (8)
مسئلہ ۲۷: بلغم کی قے وُضو نہیں توڑتی جتنی بھی ہو۔ (9)
مسئلہ ۲۸: بہتے خون کی قے وُضو توڑ دیتی ہے جب تھوک سے مغلوب نہ ہو اور جما ہوا خون ہے تو وُضو نہیں جائے گا جب تک مونھ بھر نہ ہو۔ (10)
مسئلہ ۲۹: پانی پیا اور معدے میں اُتر گیا ،اب وہی پانی صاف شفّاف قے میں آیا اگرمونھ بَھرہے وُضو ٹوٹ گیا اور وہ پانی نجس ہے اور اگر سینہ تک پہنچا تھا کہ اچّھو (11) لگا اور نکل آیا تو نہ وہ ناپاک ہے نہ اس سے وُضو جائے۔ (12)
مسئلہ ۳۰: اگر تھوڑی تھوڑی چند بار قے آئی کہ اس کا مجموعہ مونھ بھر ہے تو اگر ایک ہی متلی سے ہے تو وُضو توڑدے گی اور اگر متلی جاتی رہی اور اس کا کوئی اثر نہ رہا پھر نئے سرے سے متلی شروع ہوئی اور قے آئی اور دونوں مرتبہ کی علیٰحدہ علیٰحدہ مونھ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱.
و ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۲.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱.
3 ۔ ایک مرض کا نام جس میں آدمی کے بدن پر دانے دانے ہو کر ان میں سے دھاگہ سا نکلا کرتا ہے۔
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۷۵۔۲۷۶.
5 ۔ المرجع السابق، ص۲۷۱.
6 ۔ پیلے رنگ کاکڑوا پانی۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱.
8 ۔ المرجع السابق. 9 ۔ المرجع السابق.
9 ۔ المرجع السابق و''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: نواقض الوضوء، ج۱، ص۲۹۱.
11 ۔ کھانسی جو سانس کی نالی میں پانی وغیرہ جانے سے آنے لگتی ہے۔
12 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱.
والبحرالرائق،کتاب الطہارۃ،ج ۱،ص۶۷.
بھر نہیں مگر دونوں جمع کی جائیں تو مونھ بھر ہو جائے تو یہ ناقضِ وُضو نہیں، پھر اگر ایک ہی مجلس میں ہے تو وُضو کر لینا بہتر ہے۔ (1)
مسئلہ ۳۱: قے میں صرف کیڑے یا سانپ نکلے وُضو نہ جائے گا اور اگر اس کے ساتھ کچھ رطوبت بھی ہے تو دیکھیں گے مونھ بھر ہے یا نہیں۔ مونھ بھر ہے تو ناقض ہے ورنہ نہیں۔ (2)
مسئلہ ۳۲: سو ۱۳ جانے سے وُضو جاتا رہتا ہے بشرطیکہ دونوں سرین خوب نہ جمے ہوں اور نہ ایسی ہیأت پر سویا ہو جو غافل ہو کر نیند آنے کو مانع ہو مثلاً اکڑوں بیٹھ کر سویا یا چت یا پٹ یا کروٹ پر لیٹ کر یا ایک کُہنی پر تکیہ لگا کریا بیٹھ کر سویا مگر ایک کروٹ کو جھکا ہوا کہ ایک یا دونوں سرین اٹھے ہوئے ہیں یا ننگی پیٹھ پر سوار ہے اور جانور ڈھال (3) میں اُتر رہا ہے یا دو زانُو بیٹھا اور پیٹ رانوں پر رکھا کہ دونوں سرین جمے نہ رہے یا چار زانُو ہے اور سر رانوں پر یا پنڈلیوں پر ہے یا جس طرح عورتیں سجدہ کرتی ہیں اسی ہیأت پر سوگیاان سب صورتوں میں وُضو جاتا رہا اور اگر نماز میں ان صورتوں میں سے کسی صورت پر قَصْداً سویا تو وُضو بھی گیا ،نماز بھی گئی وُضو کر کے سرے سے نیت باندھے اور بِلاقَصْد سویا تو وُضو جاتا رہا نماز نہیں گئی۔ وُضو کر کے جس رکن میں سویا تھا وہاں سے ادا کرے اور از سرِنو پڑھنا بہتر ہے۔ (4)
مسئلہ ۳۳: دونوں سُرین زمین یا کرسی یا بنچ پر ہیں اور دونوں پاؤں ایک طرف پھیلے ہوئے یا دونوں سرین پر بیٹھا ہے اور گھٹنے کھڑے ہیں اور ہاتھ پنڈلیوں پر محیط ہوں خواہ زمین پر ہوں ،دو زانُو سیدھا بیٹھا ہو یا چار زانُو پالتی مارے یا زین پر سوار ہو یا ننگی پیٹھ پر سوار ہے مگر جانور چڑھائی پر چڑھ رہا ہے یا راستہ ہموار ہے یا کھڑے کھڑے سو گیا یا رکوع کی صورت پر یا مردوں کے سجدہ مسنونہ کی شکل پر تو ان سب صورتوں میں وُضو نہیں جائے گا اور نماز میں اگر یہ صورتیں پیش آئیں تو نہ وُضو جائے نہ نماز ، ہاں اگر پورا رکن سوتے ہی میں ادا کیا تو اس کا اعادہ ضروری ہے اوراگر جاگتے میں شروع کیا پھر سو گیا تو اگر جاگتے میں بقدرِ کفایت ادا کر چکا ہے تو وہی کافی ہے ورنہ پورا کرلے ۔ (5)
مسئلہ ۳۴: اگر اس شکل پر سویا جس میں وُضو نہیں جاتا اور نیند کے اندر وہ ہیأت پیدا ہوگئی جس سے وُضو جاتا رہتا ہے تو اگر فوراً بلا وقفہ جاگ اٹھا وُضو نہ گیا ورنہ جاتا رہا۔ (6)
مسئلہ ۳۵: گرم تنور کے کنارے پاؤں لٹکائے بیٹھ کر سو گیا تو وُضو کر لینا مناسب ہے۔ (7)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في حکم کي الحمصۃ، ج۱، ص۲۹۳.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: نواقض الوضوء، ج۱، ص۲۹۰.
3 ۔ پستی۔
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۳۶۵۔۳۶۷، وغیرہ. 5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۳۶۷. 7 ۔ المرجع السابق، ص۴۲۵.
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۲.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۳۶۷.
3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: نوم الأنبیاء غیر ناقض، ج۱، ص۲۹۸،۵۷۴.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۹.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: نوم الأنبیاء غیر ناقض، ج۱، ص۳۰۰.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۲.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق. 9 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۳۶: بیمارلیٹ کر نماز پڑھتا تھا نیند آگئی وُضو جاتا رہا۔ (1)
مسئلہ ۳۷: اُونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وُضو نہیں جاتا ۔ (2)
مسئلہ ۳۸: جُھوم کر گر پڑا اور فوراً آنکھ کھل گئی وُضو نہ گیا۔ (3)
مسئلہ ۳۹: نماز وغیرہ کے انتظار میں بعض مرتبہ نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور یہ دفع کرنا چاہتا ہے تو بعض وقت ایسا غافل ہو جاتا ہے کہ اس وقت جو باتیں ہوئیں ان کی اسے باِلکل خبر نہیں بلکہ دو تین آواز میں آنکھ کھلی اور اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ سویا نہ تھا اس کے اس خیال کا اعتبار نہیں اگر معتبر شخص کہے کہ تُو غافل تھا، پکارا جواب نہ دیا یا باتیں پوچھی جائیں اور وہ نہ بتا سکے تو اس پر وُضو لازم ہے۔ (4)
فائدہ: انبیاء علیہم السلام کا سونا ناقضِ وُضو نہیں ان کی آنکھیں سوتی ہیں دل جاگتے ہیں۔ علاوہ نیند کے اور نواقض سے انبیاء علیہم السلام کا وُضو جاتا ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے ، صحیح یہ ہے کہ جاتارہتا ہے بوجہ ان کی عظمتِ شان کے، نہ بسبب نجاست کے، کہ انکے فضلاتِ شریفہ طیب و طاہر ہیں جن کا کھانا پینا ہمیں حلال اور باعثِ برکت۔ (5)
مسئلہ ۴۰: بیہوشی ۱۴ اور جنون ۱۵ اور غشی ۱۶ اور اتنا نشہ ۱۷ کہ چلنے میں پاؤں لڑکھڑائیں ناقضِ وُضو ہیں۔ (6)
مسئلہ ۴۱: بالغ ۱۸ کا قہقہہ یعنی اتنی آواز سے ہنسی کہ آس پاس والے سنیں اگر جاگتے میں رکوع سجدہ والی نماز میں ہو وُضو ٹوٹ جائے گا اور نماز فاسد ہو جائے گی۔ (7)
مسئلہ ۴۲: اگر نماز کے اندر سوتے میں یا نماز ِجنازہ یا سجدہ تلاوت میں قہقہہ لگایا تو وُضو نہیں جائے گا وہ نماز یا سجدہ فاسد ہے۔ (8)
مسئلہ ۴۳: اور اگر اتنی آواز سے ہنسا کہ خود اس نے سنا، پاس والوں نے نہ سنا تو وُضو نہیں جائے گا نماز جاتی رہے گی۔ (9)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في حکم کي الحمصۃ، ج۱، ص۲۹۳.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: نواقض الوضوء، ج۱، ص۲۹۰.
3 ۔ پستی۔
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۳۶۵۔۳۶۷، وغیرہ. 5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۳۶۷. 7 ۔ المرجع السابق، ص۴۲۵.
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۲.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۳۶۷.
3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: نوم الأنبیاء غیر ناقض، ج۱، ص۲۹۸،۵۷۴.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۹.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: نوم الأنبیاء غیر ناقض، ج۱، ص۳۰۰.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۲.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق. 9 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۴۴: اگر مسکرایا کہ دانت نکلے آواز باِلکل نہیں نکلی تو اس سے نہ نماز جائے نہ وُضو۔ (1)
مسئلہ ۴۵: مباشرتِ ۱۹ فاحشہ یعنی مرد اپنے آلہ کو تندی کی حالت میں عورت کی شرمگاہ یا کسی مرد کی شرمگاہ سے ملائے یا عورت عورت باہم ملائیں بشرطیکہ کوئی شے حائل نہ ہو ناقضِ وُضو ہے۔ (2)
مسئلہ ۴۶: اگر مرد نے اپنے آلہ سے عورت کی شرمگاہ کو مس کیا اور انتشارِ آلہ نہ تھا عورت کا وُضو اس وقت میں بھی جاتا رہے گا اگرچہ مرد کا وضونہ جائے گا۔ (3)
مسئلہ ۴۷: بڑا ۲۰ استنجا ڈھیلے سے کرکے وُضو کیا اب یاد آیا کہ پانی سے نہ کیا تھا اگر پانی سے استنجا مسنون طریق پر یعنی پاؤں پھیلا کر سانس کا زور نیچے کو دے کر کریگا وُضو جاتا رہے گا اور ویسے کریگا تو نہ جائے گا مگر وُضو کر لینا مناسب ہے۔ (4)
مسئلہ ۴۸: پھڑ یا بالکل اچھی ہو گئی اس کا مُردہ پوست باقی ہے جس میں اوپر مونھ اور اندر خلا ہے اگر اس میں پانی بھر گیا پھر دبا کر نکالا تو نہ وُضو جائے نہ وہ پانی ناپاک ہاں اگر اس کے اندر کچھ تری خون وغیرہ کی باقی ہے تو وُضو بھی جاتا رہے گا اور وہ پانی بھی نجس ہے۔ (5)
مسئلہ۴۹: عوام میں جو مشہور ہے کہ گھٹنایااور ستر کھلنے یا اپنا یاپرایا ستر دیکھنے سے وُضو جاتا رہتا ہے محض بے اصل بات ہے۔ ہاں وُضو کے آداب سے ہے کہ ناف سے زانو کے نیچے تک سب ستر چھپا ہو بلکہ استنجے کے بعد فوراً ہی چھپا لینا چاہیئے کہ بغیر ضرورت ستر کھلا رہنا منع ہے اور دوسروں کے سامنے ستر کھولنا حرام ہے۔ (6)
جو رطوبت بدنِ انسان سے نکلے اور وُضو نہ توڑے وہ نجس نہیں مثلاً خون کہ بہ کر نہ نکلے یا تھوڑی قے کہ مونھ بھر نہ ہو پاک ہے۔ (7)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۲.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۰۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۳.
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۳۱۹، وغیرہ .
5 ۔ المرجع السابق، ص۳۵۵۔۳۵۶.
6 ۔ المرجع السابق، ص۳۵۲.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۴.
مسئلہ ۱: خارِش یا پھڑیوں میں جب کہ بہنے والی رطوبت نہ ہو بلکہ صرف چپک ہو، کپڑا اس سے بار بار چھو کر اگرچہ کتنا ہی سن جائے ،پاک ہے۔ (1)
مسئلہ ۲: سوتے میں رال جو مونھ سے گرے ،اگرچہ پیٹ سے آئے، اگرچہ بدبودار ہو، پاک ہے۔ (2)
مسئلہ ۳: مردے کے مونھ سے جو پانی بہے نجس ہے۔ (3)
مسئلہ ۴: آنکھ دُکھتے میں جو آنسو بہتا ہے نجس و ناقضِ وُضو ہے، اس سے اِحْتِیاط ضروری ہے۔ (4)
مسئلہ ۵: شیر خوار بچے نے دودھ ڈال دیا اگر وہ مونھ بھر ہے نجس ہے ،درہم سے زیادہ جگہ میں جس چیز کو لگ جائے ناپاک کر دے گا لیکن اگر یہ دودھ معدہ سے نہیں آیا بلکہ سینہ تک پہنچ کر پلٹ آیا تو پاک ہے۔ (5)
مسئلہ ۶: درمیانِ وُضو میں اگررِیح خارِج ہویاکوئی ایسی بات ہو جس سے وُضو جاتا ہے تو نئے سرے سے پھر وُضو کرے وہ پہلے دُھلے ہوئے بے دُھلے ہوگئے۔ (6)
مسئلہ ۷: چُلّو میں پانی لینے کے بعد حدث ہوا وہ پانی بے کار ہو گیا کسی عُضْوْ کے دھونے میں نہیں کام آسکتا۔ (7)
مسئلہ ۸: مونھ سے اتنا خون نکلا کہ تھوک سرخ ہو گیا اگر لوٹے یا کٹورے کو مونھ سے لگا کر کُلّی کو پانی لیا تو لوٹا، کٹورا اور کل پانی نجس ہو جائے گا۔ چُلّو سے پانی لے کر کُلّی کرے اور پھر ہاتھ دھو کر کُلّی کے لیے پانی لے۔ (8)
مسئلہ ۹: اگر درمیانِ وُضو میں کسی عُضْوْ کے دھونے میں شک واقع ہوا او ر یہ زندگی کا پہلا واقعہ ہے تو اس کو دھولے اور اگر اکثر شک پڑا کرتا ہے تو اسکی طرف اِلتفات نہ کرے۔ یوہیں اگر بعد وُضو کے شک ہو تو اس کا کچھ خیال نہ کرے۔ (9)
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۸۰.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ،، ج۱، ص۲۹۰.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۰۵.
اس سے بہت لوگ غافل ہیں اکثر دیکھا گیا کہ کُرتے وغیرہ میں ایسی حالت میں آنکھ پونچھ لیا کرتے ہیں اور اپنے خیال میں اُسے اور آنسو کے مثل سمجھتے ہیں یہ اُن کی غلطی ہے اور ایسا کیا تو کپڑا ناپاک ہوگیا ۔ ۱۲ منہ
5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۳۵۶.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۰.
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۵۵.
7 ۔ المرجع السابق، ص۲۵۶. 8 ۔ المرجع السابق، ص۲۵۷۔۲۶۰.
9 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في ندب مراعاۃ الخلاف... إلخ، ج۱، ص۳۰۹.
مسئلہ ۱۰: جو باوُضو تھا اب اسے شک ہے کہ وُضو ہے یا ٹوٹ گیا تو وُضو کرنے کی اسے ضرورت نہیں۔ (1) ہاں کر لینا بہتر ہے جب کہ یہ شُبہہ بطورِ وسوسہ نہ ہوا کرتا ہو اور اگر وسوسہ ہے تو اسے ہرگز نہ مانے ،اس صورت میں اِحْتِیاط سمجھ کر وُضو کرنا اِحْتِیاط نہیں بلکہ شیطانِ لعین کی اطاعت ہے۔
مسئلہ ۱۱: اور اگر بے وُضو تھا اب اسے شک ہے کہ میں نے وُضو کیا یا نہیں تو وہ بلا وُضو ہے اس کو وُضو کرنا ضرور ی ہے۔ (2)
مسئلہ ۱۲: یہ معلوم ہے کہ وُضو کے لیے بیٹھا تھا اور یہ یاد نہیں کہ وُضو کیا یا نہیں تو اسے وُضو کرنا ضرور نہیں۔ (3)
مسئلہ ۱۳: یہ یاد ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے لیے بیٹھا تھا مگریہ یاد نہیں کہ پِھرا (4) بھی یا نہیں تو اس پر وُضو فرض ہے۔ (5)
مسئلہ ۱۴: یہ یاد ہے کہ کوئی عُضْوْ دھونے سے رہ گیا مگر معلوم نہیں کہ کون عُضْوْ تھا تو بایاں پاؤں دھولے۔ (6)
مسئلہ ۱۵: میانی میں تری دیکھی مگر یہ نہیں معلوم کہ پانی ہے یا پیشاب تو اگر عُمر کایہ پہلا واقعہ ہے تو وُضو کرلے اور اس جگہ کو دھولے اور اگر بار ہا ایسے شبہے پڑتے ہیں تو اس کی طرف توجہ نہ کرے شیطانی وسوسہ ہے۔ (7)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( وَ اِنۡ کُنۡتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوۡا ؕ) ـ8ـ
اگرتم جنب ہو تو خوب پاک ہو جاؤیعنی غسل کرو۔
اور فرماتا ہے :
( حَتّٰی یَطْھُرْنَ ) ـ9ـ
یہاں تک کہ وہ حَیض والی عورتیں اچھی طرح پاک ہو جائیں۔
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۷۷۵.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۱۰.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۵۶۰، و''الأشباہ والنظائر''، القاعدۃ الثالثۃ، الیقین لا یزول بالشک، ص۴۹.
4 ۔ یعنی کیا۔ 5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۵۶۰، و''الأشباہ والنظائر''، ص۴۹.
6 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۱۰.
7 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۷۷۸.
8 ۔ پ ۶، المائدۃ:۶. 9 ۔ پ ۲، البقرۃ: ۲۲۲.
اور فرماتا ہے :
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنۡتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیۡ سَبِیۡلٍ حَتّٰی تَغْتَسِلُوۡا ) ـ1ـ
اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ سمجھنے لگو جو کہتے ہو اور نہ حالتِ جنابت میں جب تک غُسل نہ کرلو مگر سفر کی حالت میں کہ وہاں پانی نہ ملے تو بجائے غُسل تیمم ہے۔
حدیث ۱: صحیح بُخاری و صحیح مسلِم میں حضرت عائِشہ صِدّیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، ''رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب جنابت کا غُسل فرماتے تو ابتدا یوں کرتے کہ پہلے ہاتھ دھوتے، پھر نماز کا سا وُضو کرتے، پھر انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے بالوں کی جڑیں تر فرماتے، پھر سر پر تین لپ پانی ڈالتے پھر تمام جلد پر پانی بہاتے۔'' (2)
حدیث ۲: انھیں کتابوں میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے ہے، اُمُّ المُومِنین حضرت مَیمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ: ''نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے نہانے کے لیے میں نے پانی رکھا اور کپڑے سے پردہ کیا، حضور نے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور ان کو دھویا، پھر پانی ڈال کر ہاتھوں کو دھویا، پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی ڈالا، پھر استنجا فرمایا، پھرہاتھ زمین پر مار کر مَلا اور دھویا، پھر کُلّی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور مونھ اورہاتھ دھوئے، پھر سر پر پانی ڈالا اور تمام بدن پر بہایا، پھر اس جگہ سے الگ ہو کر پائے مبارک دھوئے اس کے بعد میں نے (بدن پونچھنے کے لیے) ایک کپڑا دیا تو حضور نے نہ لیا اور ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے تشریف لے گئے۔'' (3)
حدیث ۳: بُخاری و مسلِم میں بروایتِ اُمُّ المُومِنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا مروی، کہ '' انصار کی ایک عورت نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے حَیض کے بعد نہانے کا سوال کیا اس کو کیفیت غُسل کی تعلیم فرمائی، پھر فرمایا کہ مُشک آلودہ ایک ٹکڑا لے کر اس سے طہارت کر، عرض کی کیسے اس سے طہارت کروں فرمایا اس سے طہارت کر،عرض کی کیسے طہارت کروں، فرمایا سبحان اﷲ اس سے طہارت کر، اُم المومنین فرماتی ہیں میں نے اسے اپنی طرف کھینچ کر کہا اس سے خون کے اثر کو صاف کر ۔'' (4)
حدیث ۴: امام مسلِم نے اُمُّ المُومِنین اُمِّ سَلَمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی فرماتی ہیں: ''میں نے عرض کی
1 ۔ پ۵،النسآء: ۴۳.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الغسل، باب الوضوء قبل الغسل، الحدیث: ۲۴۸، ج۱، ص ۱۰۵.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الغسل، باب نفض الیدین من الغسل عن الجنابۃ، الحدیث: ۲۷۶، ج۱، ص۱۱۳.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الحیض، باب دلک المرأۃ نفسھا إذا ... إلخ، الحدیث: ۳۱۴،۳۱۵، ج۱، ص۱۲۶،۱۲۷.
یا رسول اللہ! میں اپنے سر کی چوٹی مضبوط گوندھتی ہوں تو کیا غُسلِ جنابت کے لیے اسے کھول ڈالوں ؟ فرمایا نہیں تجھ کو صرف یہی کفایت کرتا ہے کہ سر پر تین لَپ پانی ڈالے، پھر اپنے اوپر پانی بہالے پاک ہو جائے گی۔'' یعنی جب کہ بالوں کی جڑیں تر ہو جائیں اور اگر اتنی سَخْت گندھی ہو کہ جڑوں تک پانی نہ پہنچے تو کھولنا فرض ہے۔ (1)
حدیث ۵: ابو داود و تِرمذی و ابنِ ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ہر بال کے نیچے جنابت ہے تو بال دھوؤ اور جلد کو صاف کرو۔'' (2)
حدیث ۶: نیز ابو داود نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: '' جو شخص غُسلِ جنابت میں ایک بال کی جگہ بے دھوئے چھوڑ دے گا اس کے ساتھ آگ سے ایسا ایسا کیا جائے گا۔'' (یعنی عذاب دیا جائے گا) حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: '' اسی وجہ سے میں نے اپنے سر کے ساتھ دشمنی کر لی۔'' تین بار یہی فرمایا (یعنی سر کے بال منڈا ڈالے کہ بالوں کی وجہ سے کوئی جگہ سوکھی نہ رہ جائے)۔ (3)
حدیث ۷: اصحاب ِسننِ اَربَعہ نے اُمُّ المُومِنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، فرماتی ہیں کہ: ''نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم غُسل کے بعد وُضو نہیں فرماتے۔'' (4)
حدیث ۸: ابو داود نے حضرت یَعلیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ: ''رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو میدان میں نہاتے ملاحظہ فرمایا، پھر منبر پر تشریف لے جا کر حمدِ الٰہی و ثنا کے بعد فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ حیا فرمانے والا اور پردہ پوش ہے، حیا اور پردہ کرنے کو دوست رکھتا ہے، جب تم میں کوئی نہائے تو اسے پردہ کرنا لازم ہے۔'' (5)
حدیث ۹: متعدد کتابوں میں بکثرت صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے مروی، حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو اﷲ اور پچھلے دن (قیامت) پر ایمان لایا حمام میں بغیر تہبند کے نہ جائے اور جو اﷲ اور پچھلے دن پر ایمان لایا اپنی بی بی کو حمام میں نہ بھیجے۔'' (6)
حدیث ۱۰: اُمُّ المُومِنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حمام میں جانے کا سوال کیا، فرمایا: '' عورتوں کے لیے حمام میں
1 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحیض، باب حکم ضفائر المغتسلۃ، الحدیث: ۳۳۰، ص۱۸۱.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب في الغسل من الجنابۃ، الحدیث: ۲۴۸، ج۱، ص۱۱۷.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب في الغسل من الجنابۃ، الحدیث: ۲۴۹، ج۱، ص۱۱۷.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء فيالوضوء بعد الغسل، الحدیث: ۱۰۷، ج۱، ص۱۶۱.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الحَمّام، باب النھيعن التعري، الحدیث: ۴۰۱۲، ج۴، ص۵۶.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الأدب، باب ماجاء فيدخول الحمام، الحدیث: ۲۸۱۰، ج۴، ص۳۶۶.
خیر نہیں'' عرض کی ''تہبند باندھ کر جاتی ہیں'' فرمایا: '' اگرچہ تہبند اور کُرتے اور اوڑھنی کے ساتھ جائیں۔'' (1)
حدیث ۱۱: صحیح بُخاری و مسلِم میں روایت ہے کہ اُمُّ المُومِنین اُمِّ سَلَمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ: '' ام سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے عرض کی، یا رسول اللہ! اﷲ تعالیٰ حق بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا تو کیا جب عورت کو اِحْتِلام ہو تو اس پر نہانا ہے؟ فرمایا: ''ہاں !جب کہ پانی (منی) دیکھے۔'' اُم سَلَمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے مونھ ڈھانک لیا اور عرض کی، یا رسول اللہ! کیا عورت کو اِحْتِلام ہوتا ہے؟ فرمایا:'' ہاں! ایسا نہ ہو تو کس وجہ سے بچہ ماں کے مشابہ ہوتا ہے۔'' (2)
فائدہ: اُمّہاتُ المومنین کو اﷲ عزوجل نے حاضری خدمت سے پیشتربھی اِحْتِلام سے محفوظ رکھا تھا ۔اس لیے کہ اِحْتِلام میں شیطان کی مُداخلت ہے اورشیطانی مداخلتوں سے ازواجِ مطہّرات پاک ہیں اسی لیے ان کو حضرت اُمّ سلیم کے اس سوال کا تعجب ہوا۔
حدیث ۱۲: ابو داود و ترمذی، عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال ہو ا کہ مرد تری پائے اور اِحْتِلام یاد نہ ہو فرمایا: ''غُسل کرے '' اور اس شخص کے بارے میں سوال ہوا کہ خواب کا یقین ہے اور تری (اثر) نہیں پاتا فرمایا:'' اس پر غُسل نہیں۔'' ام سلیم نے عرض کی عورت اس کو دیکھے تو اس پر غُسل ہے ؟ فرمایا: '' ہاں! عورتیں مردوں کی مثل ہیں۔'' (3)
حدیث ۱۳: تِرمذی میں انھیں سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :''جب مرد کے ختنہ کی جگہ (حشفہ) عورت کے مقام میں غائب ہو جائے غُسل واجب ہو جائے گا۔'' (4)
حدیث ۱۴: صحیح بُخاری و مسلِم میں عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کی کہ ان کو رات میں نہانے کی ضرورت ہو جاتی ہے۔ فرمایا: '' وُضو کر لو اور عضو تناسُل کو دھولو پھر سو رہو۔'' (5)
حدیث ۱۵: صحیحین میں عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، فرماتی ہیں: ''نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب جنب ہوتے اور
1 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب الباء، الحدیث: ۳۲۸۶، ج۲، ص ۲۷۹.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب العلم، باب الحیاء في العلم، الحدیث: ۱۳۰، ج۱، ص۶۸.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب في الرجل یجد البلۃ في منامہ، الحدیث: ۲۳۶، ج۱، ص۱۱۲.
4 ۔ ''جا مع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء إذا التقی الختانا ن وجب الغسل، الحدیث: ۱۰۹، ج۱، ص۱۶۲.
5 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الغسل، باب الجنب یتوضأثم ینام، الحدیث: ۲۹۰، ج۱، ص ۱۱۸.
کھانے یاسونے کا ارادہ فرماتے تو نماز کا سا وُضو فرماتے۔'' (1)
حدیث ۱۶: مسلِم میں ابو سعید خُدْری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: '' جب تم میں کوئی اپنی بی بی کے پاس جا کر دوبارہ جانا چاہے تو وُضو کرلے۔'' (2)
حدیث ۱۷: تِرمذی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: '' کہ حَیض والی اور جنب قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔'' (3)
حدیث ۱۸: ابو داود نے اُمُّ المُومِنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایاـ:'' ان گھروں کا رُخ مسجد سے پھیر دو کہ میں مسجد کو حائض اور جنب کے لیے حلال نہیں کرتا۔'' (4)
حدیث ۱۹: ابو داود نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:'' ملائکہ اس گھر میں نہیں جاتے جس گھرمیں تصویر اور کُتّا اور جنب ہو۔'' (5)
حدیث ۲۰: ابو داود عَمّار بن یاسِر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''فرشتے تین شخصوں سے قریب نہیں ہوتے، (۱) کافر کا مردہ، اور (۲) خلوق (6) میں لتھڑا ہوا، اور (۳) جنب مگر یہ کہ وُضو کرلے۔'' (7)
حدیث ۲۱: اِمام مالِک نے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو خط عمرو بن حزم کو لکھا تھا اس میں یہ تھا کہ قرآن نہ چھوئے مگر پاک شخص۔ (8)
حدیث ۲۲: امام بُخاری و امام مسلِم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو جمعہ کو آئے اسے چاہیے کہ نہالے۔'' (9)
1 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الحیض، باب جواز نوم الجنب... إلخ، الحدیث: ۳۰۵، ص۱۷۲.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الحیض، باب جواز نوم الجنب... إلخ، الحدیث: ۳۰۸، ص۱۷۴.
3 ۔ ''جامع الترمذي'' ، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء في الجنب والحائض... إلخ، الحدیث: ۱۳۱، ج۱، ص۱۸۲.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب فيالجنب یدخل المسجد، الحدیث: ۲۳۲، ج۱، ص۱۱۱.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب الجنب یؤخرالغسل، الحدیث: ۲۲۷، ج۱، ص۱۰۹.
6 ۔ ایک قسم کی خوشبو زعفران سے بنائی جاتی ہے جو مردوں پر حرام ہے۔ ۱۲
7 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الترجل، باب فيالخلوق للرجال، الحدیث: ۴۱۸۰، ج۴، ص ۱۰۹.
8 ۔ ''المؤطأ'' لإمام مالک، کتاب القرآن، باب الأمر بالوضوء لمن مسّ القرآن، الحدیث: ۴۷۸، ج۱، ص۱۹۱.
9 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الجمعۃ، باب ھل علی من لم یشھد الجمعۃ غسل من النساء والصبیان وغیرھم ،
الحدیث: ۸۹۴، ج۱، ص۳۰۹.
غُسل کے فرض ہونے کے اسباب بعد میں لکھے جائیں گے، پہلے غُسل کی حقیقت بیان کی جاتی ہے۔غُسل کے تین جز ہیں اگر ان میں ایک میں بھی کمی ہوئی غُسل نہ ہو گا، چاہے یوں کہو کہ غُسل میں تین فرض ہیں۔
(۱) کُلّی: کہ مونھ کے ہر پُرزے گوشے ہونٹ سے حَلْق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہ جائے۔ اکثر لوگ یہ جانتے ہیں کہ تھوڑا سا پانی مونھ میں لے کر اُگل دینے کو کُلّی کہتے ہیں اگرچہ زبان کی جڑ اور حَلْق کے کنارے تک نہ پہنچے یوں غُسل نہ ہو گا، نہ اس طرح نہانے کے بعد نماز جائز بلکہ فرض ہے کہ داڑھوں کے پیچھے، گالوں کی تہہ میں، دانتوں کی جڑ اور کھڑکیوں میں، زبان کی ہر کروٹ میں، حَلْق کے کنارے تک پانی بہے۔ (1)
مسئلہ ۱: دانتوں کی جڑوں یا کھڑکیوں میں کوئی ایسی چیز جو پانی بہنے سے روکے، جمی ہو تو اُس کا چُھڑانا ضروری ہے اگر چھڑانے میں ضرر اور حَرَج نہ ہو جیسے چھالیا کے دانے، گوشت کے ریشے اور اگر چھڑانے میں ضرر اور حَرَج ہو جیسے بہت پان کھانے سے دانتوں کی جڑوں میں چونا جم جاتا ہے یا عورتوں کے دانتوں میں مسی کی ریخیں کہ ان کے چھیلنے میں دانتوں یا مسوڑوں کی مضرّت کا اندیشہ ہے تو معاف ہے۔ (2)
مسئلہ ۲: یوں ہی ہِلتاہوا دانت تار سے یا اُکھڑا ہوا دانت کسی مسالے و غیرہ سے جمایا گیا اور پانی تار یا مسالے کے نیچے نہ پہنچے تو معاف ہے یا کھانے یا پان کے ریزے دانت میں رہ گئے کہ اس کی نگہداشت میں حَرَج ہے۔ ہاں بعد معلوم ہونے کے اس کو جدا کرنا اور دھونا ضروری ہے جب کہ پانی پہنچنے سے مانع ہوں۔ (3)
(۲) ناک میں پانی ڈالنا یعنی دونوں نتھنوں کا جہاں تک نَرْم جگہ ہے دھلنا کہ پانی کو سُونگھ کر اوپر چڑھائے، بال برابر جگہ بھی دھلنے سے رہ نہ جائے ورنہ غُسل نہ ہو گا۔ ناک کے اندر رِینٹھ سُوکھ گئی ہے تو اس کا چُھڑانا فرض ہے۔نیز ناک کے بالوں کا دھونا بھی فرض ہے۔ (4)
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۴۳۹،۴۴۰.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۴۴۰،۴۴۱.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۴۵۲،۴۵۳. وغیرہ
4 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في أبحاث الغسل، ج۱، ص۳۱۲.
و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۴۴۲،۴۴۳.
مسئلہ ۳: بلاق کا سوراخ اگر بند نہ ہو تو اس میں پانی پہنچانا ضروری ہے، پھر اگر تنگ ہے تو حرکت دینا ضروری ہے ورنہ نہیں۔ (1)
(۳) تمام ظاہر بدن یعنی سر کے بالوں سے پاؤں کے تلوؤں تک جِسْم کے ہر پُرزے ہر رُونگٹے پر پانی بہ جانا،اکثر عوام بلکہ بعض پڑھے لکھے یہ کرتے ہیں کہ سر پر پانی ڈال کر بدن پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں اور سمجھے کہ غُسل ہو گیا حالانکہ بعض اعضا ایسے ہیں کہ جب تک ان کی خاص طور پر اِحْتِیاط نہ کی جائے نہیں دھلیں گے اور غُسل نہ ہوگا (2)، لہٰذا بالتفصیل بیان کیا جاتا ہے۔ اعضائے وُضو میں جو مواضِعِ اِحْتِیاط ہیں ہر عُضْوْ کے بیان میں ان کا ذکر کر دیا گیا ان کایہاں بھی لحاظ ضروری ہے اور ان کے علاوہ خاص غُسل کے ضروریات یہ ہیں۔
(۱) سر کے بال گندھے نہ ہوں تو ہر بال پر جڑ سے نوک تک پانی بہنا اور گندھے ہوں تو مرد پر فرض ہے کہ ان کو کھول کر جڑ سے نوک تک پانی بہائے اورعورت پر صرف جڑ تر کرلینا ضروری ہے کھولنا ضرور ی نہیں، ہاں اگر چوٹی اتنی سَخْت گُندھی ہو کہ بے کھولے جڑیں تر نہ ہوں گی تو کھولنا ضروری ہے۔
(۲) کانوں میں بالی وغیرہ زیوروں کے سوراخ کا وہی حکم ہے جو ناک میں نَتھ کے سوراخ کا حکم وُضو میں بیان ہوا۔
(۳) بَھوؤں اورمونچھوں اور داڑھی کے بال کا جڑ سے نوک تک اور ان کے نیچے کی کھال کا دُھلنا ۔
(۴) کان کا ہر پرزہ اور اس کے سوراخ کا مونھ ۔
(۵) کانوں کے پیچھے کے بال ہٹا کر پانی بہائے ۔
(۶) ٹھوڑی اور گلے کا جوڑ کہ بے مونھ اٹھائے نہ دھلے گا۔
(۷) بغلیں بے ہاتھ اٹھائے نہ دھلیں گی۔
(۸) بازو کا ہر پہلو۔
(۹) پِیٹھ کا ہرذرہ۔
(۱۰) پیٹ کی بلٹیں اٹھا کر دھوئیں ۔
(۱۱) ناف کو انگلی ڈال کر دھوئیں جب کہ پانی بہنے میں شک ہو۔
(۱۲) جِسْم کا ہر رُونگٹا جڑ سے نوک تک ۔
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۴۴۵.
2 ۔ المرجع السابق ص۴۴۳.
(۱۳) ران اور پَیڑو (1) کا جوڑ۔
(۱۴) ران اور پنڈلی کا جوڑ جب بیٹھ کر نہائیں ۔
(۱۵) دونوں سُرین کے ملنے کی جگہ خُصُوصاً جب کھڑے ہو کر نہائیں۔
(۱۶) رانوں کی گولائی (۱۷) پنڈلیوں کی کروٹیں (۱۸) ذَکر و انثیین (2) کے ملنے کی سطحیں بے جدا کیے نہ دھلیں گی۔ (۱۹) انثیین کی سطحِ زیریں جوڑ تک (۲۰) انثیین کے نیچے کی جگہ جڑ تک (۲۱) جس کا ختنہ نہ ہوا ہوتو اگر کھال چڑھ سکتی ہو تو چڑھا کر دھوئے اور کھال کے اندر پانی چڑھائے۔ عورتوں پر خاص یہ اِحْتِیاطیں ضروری ہیں۔ (۲۲) ڈھلکی ہوئی پِستان کو اٹھا کر دھونا (۲۳) پستان و شکم کے جوڑ کی تحریر (۲۴) فرجِ خارِج (3) کا ہر گوشہ ہر ٹکڑا نیچے اوپر خیال سے دھویا جائے، ہاں فرجِ داخل (4) میں انگلی ڈال کر دھونا واجب نہیں مستحب ہے۔ (5) یوہیں اگر حَیض و نِفاس سے فارغ ہو کر غُسل کرتی ہے تو ایک پرانے کپڑے سے فرجِ داخل کے اندر سے خون کا اثر صاف کر لینا مستحب ہے۔ (۲۵) ماتھے پر افشاں چنی ہو تو چُھڑانا ضروری ہے۔
مسئلہ ۴: بال میں گِرہ پڑجائے توگِرہ کھول کراس پرپانی بہاناضروری نہیں۔ (6)
مسئلہ ۵: کسی زخم پر پٹی وغیرہ بندھی ہو کہ اس کے کھولنے میں ضرر یا حَرَج ہو،یا کسی جگہ مرض یا درد کے سبب پانی بہنا ضرر کریگا تو اس پورے عُضْوْ کو مسح کریں اور نہ ہو سکے تو پٹی پر مسح کافی ہے اور پٹی مَوضَعِ حاجت سے زِیادہ نہ رکھی جائے ورنہ مسح کافی نہ ہوگا اور اگر پٹی مَوضَعِ حاجت ہی پر بندھی ہے مثلاً بازو پر ایک طرف زخم ہے اور پٹی باندھنے کے لیے بازو کی اتنی ساری گولائی پر ہونا اس کا ضرور ہے تو اس کے نیچے بدن کا وہ حصہ بھی آئے گا جسے پانی ضرر نہیں کرتا، تو اگر کھولنا ممکن ہو کھول کر اس حصہ کا دھونا فرض ہے اور اگر ناممکن ہو اگرچہ یوہیں کہ کھول کر پھرو یسی نہ باندھ سکے گا اور اس میں ضرر کا اندیشہ ہے تو ساری پٹی پر مسح کرلے کافی ہے، بدن کا وہ اچھا حصہ بھی دھونے سے معاف ہو جائے گا۔
مسئلہ ۶: زکام یا آشوبِ چشم وغیرہ ہو اور یہ گمانِ صحیح ہو کہ سر سے نہانے میں مرض میں زیادتی یا اورا مراض پیدا ہو جائیں گے تو کُلّی کرے، ناک میں پانی ڈالے اور گردن سے نہالے اور سر کے ہر ذرّہ پر بِھیگا ہاتھ پھیرلے غُسل ہو جائے گا،
1 ۔ پیڑو یعنی ناف سے نیچے کا حصہ ۔
2 ۔ انثیین یعنی خصیی ۔فوط۔
3 ۔ عورت کی شرمگاہ کا بیرونی حصہ۔
4 ۔ شرمگاہ کا اندرونی حصہ۔
5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۴۴۸،۴۵۰.
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۴۵۲.
بعدصحت سر دھو ڈالے باقی غُسل کے اعادہ کی حاجت نہیں۔ (1)
مسئلہ ۷: پکانے والے کے ناخن میں آٹا، لکھنے والے کے ناخن وغیرہ پر سیاہی کا جرم، عام لوگوں کے لیے مکّھی مچھر کی بیٹ اگر لگی ہو تو غُسل ہو جائیگا۔ ہاں بعد معلوم ہونے کے جدا کرنا اور اس جگہ کو دھونا ضروری ہے پہلے جو نماز پڑھی ہوگئی۔ (2)
(۱) غُسل کی نیت کر کے پہلے
(۲) دونوں ہاتھ گٹوں تک تین مرتبہ دھوئے پھر
(۳) استنجے کی جگہ دھوئے خواہ نَجاست ہو یا نہ ہو پھر
(۴) بدن پر جہاں کہیں نَجاست ہو اس کو دور کرے پھر
(۵) نماز کا سا وُضو کرے مگر پاؤں نہ دھوئے،ہاں اگر چوکی یا تختے یا پتھر پر نہائے تو پاؤں بھی دھولے پھر
(۶) بدن پر تیل کی طرح پانی چُپَڑ لے خصوصا ً جاڑے میں پھر
(۷) تین مرتبہ دہنے مونڈھے پر پانی بہائے پھر
(۸) بائیں مونڈھے پر تین بار پھر
(۹) سر پر اور تمام بدن پر تین بار پھر
(۱۰) جائے غُسل سے الگ ہو جائے،اگر وُضو کرنے میں پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھولے اور
(۱۱) نہانے میں قِبلہ رُخ نہ ہو اور
(۱۲) تمام بدن پر ہاتھ پھیرے اور
(۱۳) ملے اور
(۱۴) ایسی جگہ نہائے کہ کوئی نہ دیکھے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ناف سے گھٹنے تک کے اعضا کا سِتْر تو ضروری ہے، اگر اتنا
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۴۵۶، ۴۶۱.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۴۵۵.
3 ۔ لفظ پھر کے ساتھ جس سنت کا بیان ہوا اُس میں وہ شے فی نفسہ بھی سنت ہے اور اُسکا ترتیب کے ساتھ ہونا بھی تو اگر کسی نے خلافِ ترتیب کیا مثلاً پہلے بائیں مونڈھے پر پانی بہایا پھر داہنے پر تو سنت ترتیب ادا نہ ہوئی۔ ۱۲منہ
بھی ممکن نہ ہو تو تیمم کر ے مگر یہ احتمال بہت بعید ہے اور
(۱۵) کسی قسم کا کلام نہ کرے۔
(۱۶) نہ کوئی دعا پڑھے۔ بعد نہانے کے رومال سے بدن پونچھ ڈالے تو حَرَج نہیں۔ (1)
مسئلہ ۱: اگر غُسل خانہ کی چھت نہ ہو یا ننگے بدن نہائے بشرطیکہ مَوضَعِ اِحْتِیاط ہو تو کوئی حَرَج نہیں۔ ہاں عورتوں کو بہت زِیادہ اِحْتِیاط کی ضرورت ہے اور عورتوں کو بیٹھ کر نہانا بہتر ہے۔ بعدنہانے کے فوراً کپڑے پہن لے اور وُضوکے سنن و مستحبات، غُسل کے لیے سنن و مستحبات ہیں مگر سِتْر کھلا ہو تو قِبلہ کو مونھ کرنا نہ چاہیے اور تہبند باندھے ہو توحَرَج نہیں۔
مسئلہ ۲: اگر بہتے پانی مثلاً دریا یا نہر میں نہایا تو تھوڑی دیر اس میں رکنے سے تین بار دھونے اور ترتیب اور وُضویہ سب سنتیں ادا ہو گئیں، اس کی بھی ضرورت نہیں کہ اعضا کو تین بار حرکت دے اور تالاب وغیرہ ٹھہرے پانی میں نہایا تو اعضا کو تین بار حرکت دینے یا جگہ بدلنے سے تَثْلِیْث یعنی تین بار دھونے کی سنّت ادا ہو جائے گی۔ مینھ میں کھڑا ہو گیا تو یہ بہتے پانی میں کھڑے ہونے کے حکم میں ہے۔ بہتے پانی میں وُضو کیا تو وہی تھوڑی دیر ا س میں عُضْوْ کو رہنے دینا اور ٹھہرے پانی میں حرکت دینا تین بار دھونے کے قائم مقام ہے۔ (2)
مسئلہ ۳ : سب کے لیے غُسل یا وُضو میں پانی کی ایک مقدار مُعَیّن نہیں (3)، جس طرح عوام میں مشہور ہے محض باطل ہے ایک لمبا چوڑا، دوسرا دبلا پتلا،ایک کے تمام اعضا پر بال، دوسرے کا بدن صاف، ایک گھنی داڑھی والا، دوسرا بے ریش، ایک کے سر پر بڑے بڑے بال، دوسرے کا سر منڈا، وعلی ھٰذاالقیاس سب کے لیے ایک مقدار کیسے ممکن ہے۔
مسئلہ ۴: عورت کو حمام میں جانا مکروہ ہے اور مرد جا سکتا ہے مگر سِتْر کا لحاظ ضرور ی ہے۔ لوگوں کے سامنے سِتْر کھول کر نہانا حرام ہے۔
مسئلہ ۵: بغیر ضرورت صبح تڑکے حمام کو نہ جائے کہ ایک مخفی امر لوگوں پر ظاہر کرنا ہے۔ (4)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۴.
و ''تنویر الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۱۹،۳۲۵.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: سنن الغسل، ج۱، ص۳۲۰.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۶۲۶،۶۲۷.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب في الفرق بین الاستبراء... إلخ، ج۱، ص۶۲۲.
(۱) مَنی کا اپنی جگہ سے شَہوت کے ساتھ جدا ہوکر عُضْوْ سے نکلنا سببِ فرضیتِ غُسل ہے۔ (1)
مسئلہ ۱: اگر شَہوت کے ساتھ اپنی جگہ سے جدا نہ ہوئی بلکہ بوجھ اٹھانے یا بلندی سے گرنے کے سبب نکلی تو غُسل واجب نہیں ہاں وُضو جاتا رہے گا۔ (2)
مسئلہ ۲: اگر اپنے ظَرف سے شَہوت کے ساتھ جدا ہوئی مگر اس شخص نے اپنے آلہ کو زور سے پکڑلیا کہ باہر نہ ہو سکی، پھر جب شَہوت جاتی رہی چھوڑدیا اب مَنی باہر ہوئی تواگرچہ باہر نکلنا شَہوت سے نہ ہوا مگر چونکہ اپنی جگہ سے شَہوت کے ساتھ جدا ہوئی لہٰذا غُسل واجب ہوا اسی پر عمل ہے۔ (3)
مسئلہ ۳: اگر مَنی کچھ نکلی اور قبل پیشاب کرنے یا سونے یا چالیس قدم چلنے کے نہا لیا اور نماز پڑھ لی اب بقیہ مَنی خارِج ہوئی تو غُسل کرے کہ یہ اسی مَنی کا حصہ ہے جو اپنے مَحل سے شَہوت کے ساتھ جدا ہوئی تھی اور پہلے جو نماز پڑھی تھی ہو گئی اس کے اعادہ کی حاجت نہیں اور اگر چالیس قدم چلنے یا پیشاب کرنے یا سونے کے بعد غُسل کیا پھر مَنی بلا شَہوت نکلی تو غُسل ضروری نہیں اور یہ پہلی کابقیّہ نہیں کہی جائے گی۔ (4)
مسئلہ ۴: اگر مَنی پتلی پڑ گئی کہ پیشاب کے وقت یا ویسے ہی کچھ قطرے بلاشَہوت نکل آئیں تو غُسل واجب نہیں البتہ وُضو ٹوٹ جائے گا۔
(۲) اِحْتِلام یعنی سوتے سے اٹھا اور بدن یا کپڑے پر تری پائی اور اس تری کے مَنی یا مَذی ہونے کا یقین یا احتمال ہو تو غُسل واجب ہے اگرچہ خواب یاد نہ ہو اور اگریقین ہے کہ یہ نہ مَنی ہے نہ مذی بلکہ پسینہ یا پیشاب یا وَدی یا کچھ اورہے تو اگرچہ اِحْتِلام یاد ہو اور لذّتِ اِنزال خیال میں ہو غُسل واجب نہیں اور اگر مَنی نہ ہونے پر یقین کرتا ہے اور مذی کا شک ہے تو اگر خواب میں اِحْتِلام ہونا یاد نہیں تو غُسل نہیں ورنہ ہے۔ (5)
مسئلہ ۵: اگر اِحْتِلام یاد ہے مگر اس کا کوئی اثر کپڑے وغیرہ پر نہیں غُسل واجب نہیں۔ (6)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، أرکان الوضوء اربعۃ، ج۱، ص۳۲۵.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۴،وغیرہ.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۴۔۱۵.
6 ۔ المرجع السابق، ص۱۵.
مسئلہ ۶: اگر سونے سے پہلے شَہوت تھی آلہ قائم تھا اب جاگا اور اس کا اثر پایا اور مذی ہونا غالب گمان ہے اور اِحْتِلام یاد نہیں تو غُسل واجب نہیں، جب تک اس کے مَنی ہونے کا ظن غالب نہ ہو اور اگرسونے سے پہلے شَہوت ہی نہ تھی یا تھی مگر سونے سے قبل دب چکی تھی اور جو خارِج ہوا تھا صاف کر چکا تھا تو مَنی کے ظنِ غالب کی ضرورت نہیں بلکہ محض احتمالِ مَنی سے غُسل واجب ہو جائے گا۔ یہ مسئلہ کثیرُ الوُقوع ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں۔اس کا خیال ضرور چاہیے۔ (1)
مسئلہ ۷: بیماری وغیرہ سے غش آیا یا نشہ میں بیہوش ہوا، ہوش آنے کے بعد کپڑے یا بدن پر مذی ملی تو وُضو واجب ہو گا، غُسل نہیں اور سونے کے بعد ایسا دیکھے تو غُسل واجب مگر اسی شرط پر کہ سونے سے پہلے شَہوت نہ تھی۔ (2)
مسئلہ ۸: کسی کو خواب ہوا اور مَنی باہرنہ نکلی تھی کہ آنکھ کُھل گئی اور آلہ کو پکڑ لیا کہ مَنی باہر نہ ہو، پھر جب تُندی جاتی رہی چھوڑ دیا اب نکلی تو غُسل واجب ہوگیا۔ (3)
مسئلہ ۹: نماز میں شَہوت تھی اور مَنی اُترتی ہوئی معلو م ہوئی مگر ابھی باہر نہ نکلی تھی کہ نماز پوری کرلی، اب خارِج ہوئی توغُسل واجب ہو گا مگر نماز ہوگئی۔ (4)
مسئلہ ۱۰: کھڑے یا بیٹھے یا چلتے ہوئے سو گیا، آنکھ کھلی تو مذی پائی غُسل واجب ہے۔(5)
مسئلہ ۱۱: رات کو اِحْتِلام ہوا جاگا تو کوئی اثر نہ پایا، وُضوکر کے نماز پڑھ لی اب اس کے بعد مَنی نکلی، غُسل اب واجب ہوا اور وہ نماز ہوگئی۔ (6)
مسئلہ ۱۲ : عورت کو خواب ہوا تو جب تک مَنی فرجِ داخل سے نہ نکلے غُسل واجب نہیں۔ (7)
مسئلہ ۱۳: مردو عورت ایک چارپائی پر سوئے، بعد بیداری بستر پر مَنی پائی گئی اور ان میں ہر ایک اِحْتِلام کا مُنکر ہے، اِحْتِیاط یہ ہے کہ بہرحال دونوں غُسل کریں اور یہی صحیح ہے۔ (8)
مسئلہ ۱۴: لڑکے کا بُلوغ اِحْتِلام کے ساتھ ہواا س پر غُسل واجب ہے۔ (9)
1 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في تحریر الصاع... إلخ، ج۱، ص۳۳۱،۳۳۳.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۵.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۵۱۷.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۵.
5 ۔ المرجع السابق. 6 ۔ المرجع السابق. 7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في تحریر الصاع... إلخ، ج۱، ص۳۳۳.
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۶.
(۳) حَشفہ یعنی سرِ ذَکر کا عورت کے آگے یا پیچھے یا مرد کے پیچھے داخل ہونادونوں پر غُسل واجب کر تا ہے، شَہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت، اِنزال ہو یا نہ ہو بشرطیکہ دونوں مکلّف ہوں اور اگر ایک بالغ ہے تو اس بالغ پر فرض ہے اور نابالغ پر اگرچہ غُسل فرض نہیں مگر غُسل کا حکم دیا جائے گا، مثلاً مرد بالغ ہے اور لڑکی نابالغ تو مرد پر فرض ہے اور لڑکی نابالغہ کو بھی نہانے کا حکم ہے اور لڑکا نابالغ ہے اور عورت بالغہ ہے تو عورت پر فرض ہے اور لڑکے کو بھی حکم دیا جائے گا۔ (1)
مسئلہ ۱۵: اگر حَشْفہ کاٹ ڈالا ہو تو باقی عضو تناسل میں کا اگر حَشْفہ کی قدر داخل ہو گیا جب بھی وہی حکم ہے جو حَشْفہ داخل ہونے کا ہے۔ (2)
مسئلہ ۱۶: اگر چوپایہ یا مردہ یاایسی چھوٹی لڑکی سے جس کی مثل سے صحبت نہ کی جا سکتی ہو، وطی کی تو جب تک اِنزال نہ ہو غُسل واجب نہیں۔ (3)
مسئلہ ۱۷: عورت کی ران میں جِماع کیا اور اِنزال کے بعد مَنی فرج میں گئی یا کو آری سے جِماع کیا اور اِنزال بھی ہو گیا مگر بَکارت زائل نہ ہوئی تو عورت پر غُسل واجب نہیں۔ ہاں اگر عورت کے حمل رہ جائے تو اب غُسل واجب ہونے کا حکم دیا جائے گا اور وقتِ مُجامعت سے جب تک غُسل نہیں کیا ہے تمام نمازوں کا اعادہ کرے۔ (4)
مسئلہ ۱۸: عورت نے اپنی فرج میں انگلی یا جانور یا مردے کا ذَکر یا کوئی چیزربڑ یا مٹی وغیرہ کی مثلِ ذَکر کے بنا کر داخل کی تو جب تک اِنزال نہ ہو غُسل واجب نہیں۔ اگر جن آدمی کی شکل بن کر آیا اور عورت سے جِماع کیا تو حَشْفہ کے غائب ہونے ہی سے غُسل واجب ہو گیا۔ آدمی کی شکل پر نہ ہو تو جب تک عورت کو اِنزال نہ ہو غُسل واجب نہیں۔ یوہیں اگر مرد نے پری سے جِماع کیا اور وہ اس وقت انسانی شکل میں نہیں، بغیر اِنزال وجوبِ غُسل نہ ہوگا اور شکلِ انسانی میں ہے توصرف غَیبتِ حَشْفہ (5) سے واجب ہو جائے گا۔ (6)
مسئلہ ۱۹: غُسلِ جِماع کے بعد عورت کے بدن سے مرد کی بقیہ مَنی نکلی تو اس سے غُسل واجب نہ ہو گا البتہ وُضو جاتا رہے گا۔ (7)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۵.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، ومطلب في تحریر الصاع... إلخ، ج ۱، ص ۳۲۸.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۵.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ یعنی سرِ ذَکَر چھپ جائے۔
6 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في تحریر الصاع... إلخ، ج۱، ص ۳۲۸،۳۳۵.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۴.
فائدہ: ان تینوں وجوہ سے جس پر نہانا فرض ہو اس کو جنب اور ان اسباب کو جنابت کہتے ہیں۔
(۴) حَیض سے فارغ ہونا۔ (1)
(۵) نِفاس کا ختم ہونا۔ (2)
مسئلہ ۲۰: بچہ پیدا ہوا اور خون بالکل نہ آیا تو صحیح یہ ہے کہ غُسل واجب ہے۔ (3) حَیض و نِفاس کی کافی تفصیل ان شاء اﷲ الجلیل حَیض کے بیان میں آئے گی۔
مسئلہ ۲۱: کافر مرد یا عورت جنب ہے یا حَیض و نِفاس والی کافرہ عورت اب مسلمان ہوئی اگرچہ اسلام سے پہلے حَیض و نِفاس سے فراغت ہو چکی، صحیح یہ ہے کہ ان پر غُسل واجب ہے۔ ہاں اگر اسلام لانے سے پہلے غُسل کر چکے ہوں یا کسی طرح تمام بدن پر پانی بہ گیا ہو تو صرف ناک میں نَرْم بانسے تک پانی چڑھانا کافی ہو گا کہ یہی وہ چیز ہے جو کفار سے ادا نہیں ہوتی۔ پانی کے بڑے بڑے گھونٹ پینے سے کُلّی کا فرض ادا ہو جاتا ہے اور اگر یہ بھی باقی رہ گیاہو تو اسے بھی بجالائیں غرض جتنے اعضا کا دھلنا غُسل میں فرض ہے جماع وغیرہ اسباب کے بعد اگر وہ سب بحالتِ کفر ہی دُھل چکے تھے تو بعد اسلام اعادہ غُسل ضرور نہیں، ورنہ جتنا حصہ باقی ہو اتنے کا دھولینا فرض ہے اور مستحب تو یہ ہے کہ بعد اسلام پورا غُسل کرے۔
مسئلہ ۲۲: مسلمان میت کو نہلانا مسلمانوں پر فرضِ کفایہ ہے، اگر ایک نے نہلا دیا سب کے سر سے اُتر گیا اور اگر کسی نے نہیں نہلایا سب گنہگار ہوں گے۔ (4)
مسئلہ ۲۳: پانی میں مسلمان کا مُردہ ملا اس کا بھی نہلانا فرض ہے، پھر اگر نکالنے والے نے غُسل کے ارادہ سے نکالتے وقت اس کو غوطہ دے دیا غُسل ہو گیا ورنہ اب نہلائیں۔ (5)
مسئلہ ۲۴: جمعہ، عید، بقرعید، عرفہ کے دن اور احرام باندھتے وقت نہانا سنّت ہے اور وقوفِ عرفات و وقوفِ مزدلفہ و حاضریئ حرم و حاضریئ سرکا رِ اعظم و طواف ودُخولِ منیٰ اور جَمروں پر کنکریاں مارنے کے لیے تینوں دن اور شبِ برات اور شبِ قدر اور عَرفہ کی رات اور مجلسِ میلاد شریف اور دِیگر مجالسِ خیر کی حاضری کے لیے اور مردہ نہلانے کے بعد اور مجنون کو جنون جانے کے
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۳۴.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۶.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في رطوبۃ الفرج، ج۱، ص۳۳۷.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۸.
بعد اور غشی سے افاقہ کے بعد اور نشہ جاتے رہنے کے بعد اور گناہ سے توبہ کرنے اور نیا کپڑا پہننے کے لیے اور سفر سے آنے والے کے لیے، استحاضہ کا خون بند ہونے کے بعد، نماز کسوف و خسوف و اِسْتِسقاء اور خوف و تاریکی اور سَخْت آندھی کے لیے اور بدن پر نَجاست لگی اور یہ معلوم نہ ہوا کہ کس جگہ ہے ان سب کے لیے غُسل مستحب ہے۔ (1)
مسئلہ ۲۵: حج کرنے والے پر دسویں ذی الحجہ کو پانچ غُسل ہیں :
(۱) وقوفِ مزدلفہ۔
(۲) دخول منیٰ۔
(۳) جمرہ پر کنکریاں مارنا۔
(۴) دخولِ مکّہ۔
(۵)طواف، جب کہ یہ تین پچھلی باتیں بھی دسویں ہی کو کرے اور جمعہ کا دن ہے تو غُسلِ جمعہ بھی۔ یوہیں اگر عرفہ یا عید جمعہ کے دن پڑے تو یہاں والوں پر دو غُسل ہوں گے۔ (2)
مسئلہ ۲۶: جس پر چند غُسل ہوں سب کی نیت سے ایک غُسل کرلیا سب ادا ہوگئے سب کا ثواب ملے گا۔
مسئلہ ۲۷: عورت جنب ہوئی اور ابھی غُسل نہیں کیا تھا کہ حَیض شروع ہو گیا تو چاہے اب نہالے یا بعد حَیض ختم ہونے کے۔
مسئلہ ۲۸: جنب نے جمعہ یا عید کے دن غُسل جنابت کیا اور جمعہ اور عید وغیرہ کی نیت بھی کرلی سب ادا ہو گئے، اگر اُسی غُسل سے جمعہ اور عید کی نماز ادا کرلے۔
مسئلہ ۲۹: عورت کو نہانے یا وُضو کے لیے پانی مَول لینا پڑے تو اس کی قیمت شوہر کے ذمہ ہے بشرطیکہ غُسل و وُضو واجب ہوں یا بدن سے میل دور کرنے کے لیے نہائے۔ (3)
مسئلہ ۳۰: جس پر غُسل واجب ہے اسے چاہیے کہ نہانے میں تاخیر نہ کرے۔ حدیث میں ہے جس گھر میں جنب ہو اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے (4) اور اگر اتنی دیر کر چکا کہ نماز کا آخر وقت آگیا تو اب فوراً نہانا فرض ہے، اب تاخیر کریگا
1 ۔ ''تنویر الأبصار'' و''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۳۹ ۔ ۳۴۲.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في یوم عرفۃ أفضل من یوم الجمعۃ، ج۱، ص۳۴۲.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: یوم عرفۃ... إلخ، ج۱، ص۳۴۳.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب الجنب یؤخر الغسل، الحدیث: ۲۲۷، ج۱، ص۱۰۹.
گنہگار ہو گا اور کھانا کھانا یا عورت سے جِماع کرنا چاہتا ہے تو وُضو کرلے یا ہاتھ مونھ دھولے، کلی کرلے اور اگر ویسے ہی کھا پی لیا تو گناہ نہیں مگر مکروہ ہے اور محتاجی لاتا ہے اور بے نہائے یا بے وُضو کیے جِماع کر لیا تو بھی کچھ گناہ نہیں مگرجس کو اِحْتِلام ہوا بے نہائے اس کو عورت کے پاس جانا نہ چاہیے۔
مسئلہ ۳۱: رمضان میں اگر رات کو جنب ہوا توبہتریہی ہے کہ قبلِ طلوعِ فجر نہالے کہ روزے کا ہر حصہ جنابت سے خالی ہو اور اگر نہیں نہایا تو بھی روزہ میں کچھ نقصان نہیں مگر مناسب یہ ہے کہ غَرغَرہ اور ناک میں جڑ تک پانی چڑھانا، یہ دو کام طلوعِ فجر سے پہلے کر لے کہ پھر روزے میں نہ ہو سکیں گے اور اگر نہانے میں اتنی تاخیر کی کہ دن نکل آیا اور نماز قضا کر دی تو یہ اور دِنوں میں بھی گناہ ہے اور رمضان میں اور زِیادہ۔
مسئلہ ۳۲: جس کو نہانے کی ضرورت ہو اس کو مسجد میں جانا، طواف کرنا، قرآن مجید چھونا اگرچہ اس کا سادہ حاشیہ یا جلد یا چَولی چُھوئے یا بے چُھوئے دیکھ کر یا زبانی پڑھنا یا کسی آیت کا لکھنا یا آیت کا تعویذ لکھنا یا ایسا تعویذ چھونا یا ایسی انگوٹھی چھونا یا پہننا جیسے مُقَطَّعات کی انگوٹھی حرام ہے۔ (1)
مسئلہ ۳۳: اگر قرانِ عظیم جُزدان میں ہو تو جزدان پر ہاتھ لگانے میں حَرَج نہیں،یوہیں رومال وغیرہ کسی ایسے کپڑے سے پکڑنا جو نہ اپنا تابع ہو نہ قرآنِ مجید کا تو جائز ہے، کُرتے کی آستین، دُوپٹے کی آنچل سے یہاں تک کہ چادر کا ایک کونا اس کے مونڈھے پر ہے دوسرے کونے سے چھُونا حرام ہے کہ یہ سب اس کے تابع ہیں جیسے چَولی قرآن مجید کے تابع تھی۔ (2)
مسئلہ ۴ ۳: اگر قرآن کی آیت دُعا کی نیت سے یا تبرک کے لیے جیسے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یا ادائے شکر کو یا چھینک کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یا خبرِ پریشان پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہا یا بہ نیتِ ثنا پوری سورہ فاتحہ یا آیۃ الکرسی یا سورہ حشر کی پچھلی تین آیتیں ھُوَاللہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَسے آخر سورۃتک پڑھیں اور ان سب صورتوں میں قرآن کی نیت نہ ہو توکچھ حَرَج نہیں۔ یوہیں تینوں قل بلا لفظ قل بہ نیتِ ثنا پڑھ سکتا ہے اور لفظِ قُل کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا اگرچہ بہ نیت ثنا ہی ہو کہ اس صورت میں ان کا قرآن ہونا متعین ہے نیت کو کچھ دخل نہیں۔ (3)
مسئلہ ۳۵: بے وُضو کو قرآنِ مجید یا اس کی کسی آیت کا چھونا حرام ہے۔ بے چھوئے زبانی یادیکھ کر پڑھے تو کوئی حَرَج نہیں۔ (4)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: یطلق الدعاء... إلخ، ج۱، ص۳۴۳، ۳۴۸.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: یطلق الدعاء... إلخ، ج۱، ص۳۴۸.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۷۹۵، ۸۱۹،۸۲۰.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: یطلق الدعاء... إلخ، ج۱، ص۳۴۸.
مسئلہ ۳۶: رُوپیہ پر آیت لکھی ہو تو ان سب کو (یعنی بے وُضو اور جنب اور حَیض و نِفاس والی کو) اس کا چھونا حرام ہے ہاں اگر تھیلی میں ہوتو تھیلی اٹھانا جائز ہے۔یوہیں جس برتن یا گلاس پر سورہ یا آیت لکھی ہو اس کا چھونا بھی ان کو حرام ہے اور اس کا استعمال سب کو مکروہ مگر جبکہ خاص بہ نیتِ شفا ہو۔
مسئلہ ۳۷: قرآن کا ترجمہ فارسی یا اردو یا کسی اور زبان میں ہو اس کے بھی چھونے اور پڑھنے میں قرآنِ مجید ہی کا سا حکم ہے۔
مسئلہ ۳۸: قرآنِ مجید دیکھنے میں ان سب پر کچھ حَرَج نہیں اگرچہ حروف پر نظر پڑے اور الفاظ سمجھ میں آئیں اور خیال میں پڑھتے جائیں۔
مسئلہ ۳۹: ان سب کو فقہ و تفسیر وحدیث کی کتابوں کا چھونا مکروہ ہے اور اگر ان کو کسی کپڑے سے چُھوا اگرچہ اس کو پہنے یا اوڑھے ہوئے ہو تو حَرَج نہیں مگر مَوضَعِ آیت پر ان کتابوں میں بھی ہاتھ رکھنا حرام ہے۔
مسئلہ ۴۰: ان سب کو تورٰت، زبور، انجیل کو پڑھنا چھونا مکروہ ہے۔ (1)
مسئلہ ۴۱: درود شریف اور دعاؤں کے پڑھنے میں انھیں حَرَج نہیں مگر بہتر یہ ہے کہ وُضو یا کُلی کر کے پڑھیں۔ (2)
مسئلہ ۴۲: ان سب کو اذان کا جواب دینا جائز ہے۔ (3)
مسئلہ ۴۳: مصحف شریف اگر ایسا ہو جائے کہ پڑھنے کے کام میں نہ آئے تو اسے کَفنا کر لحد کھود کر ایسی جگہ دفن کر دیں جہاں پاؤں پڑنے کا احتمال نہ ہو۔ (4)
مسئلہ ۴۴: کافر کو مصحف چُھونے نہ دیا جائے بلکہ مطلقاً حروف اس سے بچائیں۔ (5)
مسئلہ ۴۵: قرآن سب کتابوں کے اوپر رکھیں، پھر تفسیر، پھر حدیث، پھر باقی دینیات، علیٰ حسبِ مراتب۔ (6)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۳۸،وغیرہ.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: یطلق الدعاء... إلخ، ج۱، ص۳۵۴.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۴۶: کتاب پر کوئی دوسری چیز نہ رکھی جائے حتیٰ کہ قلم دوات حتیٰ کہ وہ صندوق جس میں کتاب ہو اس پر کوئی چیز نہ رکھی جائے۔ (1)
مسئلہ ۴۷: مسائل یادینیات کے اوراق میں پُڑیاباندھنا، جس دسترخوان پر اشعار وغیرہ کچھ تحریر ہو اس کو کام میں لانا، یا بچھونے پر کچھ لکھا ہو اس کا استعمال منع ہے۔ (2)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَھُوْرًا ) ـ3ـ
یعنی آسمان سے ہم نے پاک کرنے والا پانی اُتارا۔
اور فرماتا ہے:
( وَیُنَزِّلُ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَہِّرَکُمۡ بِہٖ وَیُذْہِبَ عَنۡکُمْ رِجْزَ الشَّیۡطٰنِ ) ـ4ـ
یعنی آسمان سے تم پر پانی اُتارتا ہے کہ تمھیں اس سے پاک کرے اور شیطان کی پلیدی تم سے دور کرے۔
حدیث ۱: امام مسلِم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: '' تم میں کوئی شخص حالتِ جنابت میں رُکے ہوئے پانی میں نہ نہائے'' (یعنی تھوڑے پانی میں جو دَہ در دَہ نہ ہو کہ دَہ در دَہ بہتے پانی کے حکم میں ہے) لوگوں نے کہا تَو اے ابوہریرہ! کیسے کرے ؟ کہا :''اس میں سے لے لے۔'' (5)
حدیث ۲: سُنَن ابو داود و تِرمذی و ابنِ ماجہ میں حکم بن عمر ورضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع فرمایا اس سے کہ عورت کی طہارت سے بچے ہوئے پانی سے مرد وُضو کرے۔ (6)
حدیث ۳: اِمام مالِک و ابو داود و تِرمذی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
1 ۔ ''الدرالمختار''، المرجع السابق، و''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس، ج۵، ص۳۲۴.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: یطلق الدعاء... إلخ، ج۱، ص۳۵۵،۳۵۶.
3 ۔ پ:۱۹، الفرقان:۴۸.
4 ۔ پ:۹، الانفال:۱۱.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الطھارۃ، باب النھی عن الإغتسال فيالماء الراکد، الحدیث: ۲۸۳، ص۱۶۴.
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب النھی عن ذلک، الحدیث: ۸۲، ج۱، ص ۶۳.
سے پوچھا ہم دریا کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی لے جاتے ہیں توا گر اس سے وُضو کریں پیاسے رہ جائیں، تو کیا سمندر کے پانی سے ہم وُضو کریں۔ فرمایا :'' اس کا پانی پاک ہے اور اس کا جانور مرا ہوا حلال'' (1) یعنی مچھلی۔
حدیث ۴: امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ : ''دھوپ کے گرم پانی سے غُسل نہ کرو کہ وہ برص پیدا کرتا ہے۔ (2)
تنبیہ : جس پانی سے وُضو جائز ہے اس سے غُسل بھی جائز اور جس سے وُضو ناجائز غُسل بھی ناجائز۔
مسئلہ ۱ : مینھ، ندی، نالے، چشمے، سمندر، دریا، کوئیں اور برف، اولے کے پانی سے وُضو جائز ہے۔ (3)
مسئلہ ۲: جس پانی میں کوئی چیز مل گئی کہ بول چال میں اسے پانی نہ کہیں بلکہ اس کا کوئی اَور نام ہو گیا جیسے شربت، یا پانی میں کوئی ایسی چیز ڈال کر پکائیں جس سے مقصود میل کاٹنا نہ ہو جیسے شوربا، چائے، گلاب یااور عرق، اس سے وُضو و غُسل جائز نہیں۔ (4)
مسئلہ ۳ : اگر ایسی چیز ملائیں یا ملا کر پکائیں جس سے مقصود میل کاٹنا ہو جیسے صابون یا بیری کے پتے تو وُضو جائزہے جب تک اس کی رقت زائل نہ کر دے اور اگر ستُّو کی مثل گاڑھا ہو گیا تو وُضو جائز نہیں۔ (5)
مسئلہ ۴ : اور اگر کوئی پاک چیز ملی جس سے رنگ یا بویا مزے میں فرق آگیا مگر اس کا پتلا پَن نہ گیا جیسے ریتا، چونا یا تھوڑی زعفران تو وُضو جائز ہے اور جو زعفران کا رنگ اتنا آجائے کہ کپڑا رنگنے کے قابل ہو جائے تو وُضو جائز نہیں۔ یوہیں پڑیا کا رنگ اور اگر اتنا دودھ مل گیا کہ دودھ کا رنگ غالب نہ ہوا تو وُضو جائز ہے ورنہ نہیں۔ غالب مغلوب کی پہچان یہ ہے کہ جب تک یہ کہیں کہ پانی ہے جس میں کچھ دودھ مل گیا تو وُضو جائز ہے اور جب اسے لسّی کہیں تو وُضو جائز نہیں اور اگر پتے گرنے یا پُرانے ہونے کے سبب بدلے تو کچھ حَرَج نہیں مگر جب کہ پتے اسے گاڑھا کر دیں۔ (6)
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجا ء فيماء البحر أنہ طھور، الحدیث: ۶۹، ج۱، ص۱۳۰.
2 ۔ ''سنن الدار قطني''،کتاب الطھارۃ، باب الماء السخن، الحدیث: ۸۵، ج ۱، ص ۵۴.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۳۵۷.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، مطلب في حدیث ((لا تسموا العنب الکرم))، ج۱، ص۳۶۰.
5 ۔ ''الدرالمختار''، المرجع السابق، ص۳۸۵.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، مطلب في أن التوضی من العوض... إلخ، ج۱، ص۳۶۹.
مسئلہ ۵: بہتا پانی کہ اس میں تنکا ڈال دیں تو بہالے جائے پاک اور پاک کرنے والا ہے، نَجاست پڑنے سے ناپاک نہ ہو گا جب تک وہ نجس اس کے رنگ یا بو یا مزے کو نہ بدل دے، اگر نجس چیز سے رنگ یا بو یا مزہ بدل گیا تو ناپاک ہو گیا، اب یہ اس وقت پاک ہو گا کہ نَجاست تہ نشین ہو کر اس کے اوصاف ٹھیک ہو جائیں یا پاک پانی اتنا ملے کہ نَجاست کو بہالے جائے یا پانی کے رنگ، مزہ، بُو ٹھیک ہو جائیں اور اگر پاک چیز نے رنگ، مزہ، بوُ کو بدل دیا تو وُضو غُسل اس سے جائز ہے جب تک چیز دیگر نہ ہو جائے۔ (1)
مسئلہ ۶: مردہ جانور نہر کی چوڑائی میں پڑا ہے اور اس کے اوپر سے پانی بہتا ہے تو عام ازیں کہ جتنا پانی اس سے مل کر بہتا ہے اس سے کم ہے جو اس کے اوپر سے بہتا ہے یا زائد ہے یا برابر مطلقاً ہر جگہ سے وُضو جائز ہے یہاں تک کہ موقع نجاست سے بھی جب تک نَجاست کے سبب کسی وصف میں تغیّر نہ آئے یہی صحیح ہے (2) اور اسی پر اعتماد ہے۔ (3)
مسئلہ ۷: چھت کے پَرنالے سے مینھ کاپانی گرے وہ پاک ہے اگرچہ چھت پر جابجا نَجاست پڑی ہو اگرچہ نَجاست پرنالے کے مونھ پر ہو اگرچہ نَجاست سے مل کر جو پانی گرتا ہو وہ نصف سے کم یا برابر یا زِیادہ ہو جب تک نَجاست سے پانی کے کسی وصف میں تَغیّر نہ آئے یہی صحیح ہے (4) اور اسی پر اعتماد ہے اور اگر مینھ رک گیا اور پانی کا بہنا موقوف ہو گیا تو اب وہ ٹھہرا ہواپانی اور جو چھت سے ٹپکے نجس ہے۔ (5)
مسئلہ ۸: یوہیں نالیوں سے برسات کا بہتا پانی پاک ہے جب تک نَجاست کا رنگ یا بو یا مزہ اس میں ظاہر نہ ہو، رہا اس سے وُضو کرنا اگر اس پانی میں نَجاست مرئیہ کے اجزا ایسے بہتے جارہے ہوں کہ جو چُلّو لیا جائے گا اس میں ایک آدھ ذرّہ اس کا بھی ضرور ہوگا جب تو ہاتھ میں لیتے ہی ناپاک ہو گیا وُضو اس سے حرام ورنہ جائز ہے اور بچنا بہتر ہے۔ (6)
مسئلہ ۹: نالی کا پانی کہ بعد بارش کے ٹھہر گیا اگر اس میں نَجاست کے اجزا محسوس ہوں یا اس کا رنگ و بُو محسوس ہو تو ناپاک ہے ورنہ پاک۔ (7)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، مطلب في أن التوضی من العوض... إلخ، ج۱، ص۳۷۰.
2 ۔ درمختار میں ہے کہ علامہ قاسم نے فرمایا یہی مختار ہے اور نہرالفائق میں اسی کو قوی بتایا اورنصاب پھر مضمرات پھر قہستانی میں فرمایا اسی پر
فتویٰ ہے۔۱۲منہ
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، مطلب: الأصح أنہ لا یشترط في الجریان المدد، ج۱، ص۳۷۲.
4 ۔ ھکذا في ردالمحتار عن الحلیۃ وفي الھندیۃ عن المحیط والعتابیۃ والتاتارخانیہ ۔۱۲منہ حفظہ ربہ
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۱۷.
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۲، ص۳۸.
7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۰: دس ہاتھ لنبا، دس ہاتھ چوڑا جو حوض ہو اسے دَہ در دَہ اور بڑا حوض کہتے ہیں۔ یوہیں بیس ۲۰ ہاتھ لنبا، پانچ ہاتھ چوڑا، یا پچیس ہاتھ لنبا، چار ہاتھ چوڑا، غرض کل لنبائی چوڑائی سو ہاتھ ہو (1) اور اگر گول ہو تو اس کی گولائی تقریباً ساڑھے پینتیس ہاتھ ہو اور سو ہاتھ لنبائی نہ ہو تو چھوٹا حوض ہے اور اس کے پانی کو تھوڑا کہیں گے اگرچہ کتناہی گہرا ہو۔
تنبیہ: حوض کے بڑے چھوٹے ہونے میں خود اس حوض کی پیمائش کا اعتبار نہیں، بلکہ اس میں جو پانی ہے اس کی بالائی سطح دیکھی جائے گی، تو اگر حوض بڑا ہے مگر اب پانی کم ہو کر دَہ در دَہ نہ رہا تو وہ اس حالت میں بڑ ا حوض نہیں کہا جائے گا، نیز حوض اسی کو نہیں کہیں گے جو مسجدوں، عیدگاہوں میں بنالیے جاتے ہیں بلکہ ہر وہ گڑھا جس کی پیمائش سو ۱۰۰ ہاتھ ہے بڑا حوض ہے ا ور اس سے کم ہے تو چھوٹا۔ (2)
مسئلہ ۱۱: دَہ در دَہ (3) حوض میں صرف اتنا دَل درکار ہے کہ اتنی مساحت میں زمین کہیں سے کھلی نہ ہو اور یہ جوبہت کتابوں میں فرمایا ہے کہ لَپ یا چُلّو میں پانی لینے سے زمین نہ کُھلے اس کی حاجت اس کے کثیر رہنے کے لیے ہے کہ وقتِ استعمال اگر پانی اُٹھانے سے زمین کُھل گئی تو اس وقت پانی سو ۱۰۰ ہاتھ کی مساحت میں نہ رہا ایسے حوض کا پانی بہتے پانی کے حکم میں ہے، نَجاست پڑنے سے ناپاک نہ ہو گا جب تک نَجاست سے رنگ یا بُو یا مزہ نہ بدلے اور ایسا حوض اگرچہ نَجاست پڑنے سے نجس نہ ہو گا مگر قصداً اس میں نَجاست ڈالنا منع ہے۔ (4)
مسئلہ ۱۲: بڑے حوض کے نجس نہ ہونے کی یہ شرط ہے کہ اس کا پانی متصل ہو توایسے حوض میں اگر لٹھے یا کَڑیاں گاڑی گئی ہوں تو اُن لٹھوں کڑیوں کے علاوہ باقی جگہ اگر سو ۱۰۰ ہاتھ ہے تو بڑا ہے ورنہ نہیں، البتہ پتلی پتلی چیزیں جیسے گھاس، نرکل، کھیتی، اس کے اتصال کو مانع نہیں۔ (5)
مسئلہ ۱۳: بڑے حوض میں ایسی نَجاست پڑی کہ دکھائی نہ دے جیسے شراب، پیشاب تو اس کی ہر جانب سے وُضو جائز ہے اور اگر دیکھنے میں آتی ہو جیسے پاخانہ،یا کوئی مَرا ہوا جانور، تو جس طرف وہ نَجاست ہو اس طرف وُضو نہ کرنا بہتر ہے دوسری
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۲۷۴،۲۸۷.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، مطلب: لو دخل الماء من اعلی... إلخ، ج۱، ص۳۷۸.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۲۷۴.
3 ۔ والمسأالۃ مصرحۃ في ہبۃ الجیر بما لامزید علیہ من شاء الا طلاع فلیر اجع الیھا. ۱۲ منہ حفظہ ربہ
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۲۷۴.
5 ۔ ''خلاصۃ الفتاوی''، کتاب الطہارات، ج۱، ص۴.
و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۱۸۹.
طرف وُضو کرے۔ (1)
تنبیہ : جو نَجاست دکھائی دیتی ہے اس کو مرئیہ اور جو نہیں دکھائی دیتی اسے غیر مرئیہ کہتے ہیں۔
مسئلہ ۱۴: ایسے حوض پر اگر بہت سے لوگ جمع ہو کر وُضو کریں تو بھی کچھ حَرَج نہیں اگرچہ وُضو کا پانی اس میں گرتا ہو، ہاں اس میں کُلّی کرنا یا ناک سنکنا نہ چاہیے کہ نظافت کے خلاف ہے۔ (2)
مسئلہ ۱۵: تالاب یا بڑا حوض اُوپر سے جَم گیا مگر بَرف کے نیچے پانی کی لنبائی چوڑائی متصل بقدرِ دَہ در دَہ ہے اور سوراخ کرکے اس سے وُضو کیا جائز ہے اگرچہ اس میں نَجاست پڑ جائے اور اگر متصل دَہ در دَہ نہیں اور اس میں نَجاست پڑی تو ناپاک ہے، پھراگر نَجاست پڑنے سے پہلے اس میں سوراخ کر دیا اور اس سے پانی اُبل پڑا تو اگر بقدر دَہ در دَہ پھیل گیا تو اب نَجاست پڑنے سے بھی پاک رہے گا اور اس میں دَل کا وہی حکم ہے جو اوپر گزرا۔ (3)
مسئلہ ۱۶: اگر تالابِ خشک میں نَجاست پڑی ہو اور مینھ برسا اور اس میں بہتا ہوا پانی پاک اس قدر آیا کہ بہاؤ رکنے سے پہلے دَہ در دَہ ہو گیا تو وہ پانی پاک ہے اوراگر اس مینھ سے دَہ در دَہ سے کم رہا دوبارہ بارش سے دَہ در دَہ ہوا تو سب نجس ہے۔ ہاں اگر وہ بھر کر بہ جائے تو پاک ہو گیا اگرچہ ہاتھ دو ہاتھ بہا ہو۔ (4)
مسئلہ ۱۷: دَہ در دَہ پانی میں نَجاست پڑی پھر اس کا پانی دہَ دردَہ سے کم ہو گیا تو وہ اب بھی پاک ہے (5) ہاں اگر وہ نَجاست اب بھی اس میں باقی ہو اور دکھائی دیتی ہو تو اب ناپاک ہو گیا اب جب تک بھر کربہ نہ جائے پاک نہ ہوگا۔
مسئلہ ۱۸: چھوٹا حوض ناپاک ہو گیا پھر اس کا پانی پھیل کر دہ در دہ ہو گیا تو اب بھی ناپاک ہے مگر پاک پانی اگراسے بہا دے تو پاک ہو جائے گا۔ (6)
مسئلہ ۱۹: کوئی حوض ایساہے کہ اُوپر سے تنگ اور نیچے کشادہ ہے یعنی اوپر دَہ در دَہ نہیں اور نیچے دَہ دردَہ یازِیادہ ہے
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، مطلب: لو دخل الماء من اعلی... إلخ، ج۱، ص۳۷۵.
2 ۔ ''منیۃ المصلي''، فصل في الحیاض، الحوض إذا کان عشرا في عشر، ص۶۷.
و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۲۷۲.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردا لمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، مطلب: لودخل الماء من اعلی... إلخ، ج۲، ص۳۸۰.
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۳۷۰.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأوّل، ج۱، ص۱۹.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأوّل، ج۱، ص ۱۹، ۱۷.
اگر ایسا حوض لبریز ہو اور نَجاست پڑے توناپاک ہے پھر اُس کا پانی گَھٹ گیا اور وہ دَہ در دَہ ہو گیا تو پاک ہوگیا۔ (1)
مسئلہ ۲۰: حُقّہ کا پانی پاک ہے (2) اگرچہ اس کے رنگ، و بُو، و مزے میں تغیر آجائے اس سے وُضو جائز ہے۔ بقدرِ(3) کفایت اس کے ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں۔ (4)
مسئلہ ۲۱: جو پانی وُضو یاغُسل کرنے میں بدن سے گرا وہ پاک ہے مگر اس سے وُضو اور غُسل جائز نہیں۔ یوہیں اگر بے وُضو شخص کا ہاتھ یا انگلی یا پَورایا ناخن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وُضو میں دھویا جاتا ہو بقصد یا بلا قصد دَہ در دَہ سے کم پانی میں بے دھوئے ہوئے پڑ جائے تو وہ پانی وُضو اور غُسل کے لائق نہ رہا۔ اسی طرح جس شخص پر نہانا فرض ہے اس کے جِسْم کا کوئی بے دُھلاہوا حصہ پانی سے چھو جائے تو وہ پانی وُضو اور غُسل کے کام کانہ رہا۔ اگر دُھلا ہوا ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ پڑ جائے تو حَرَج نہیں۔ (5)
مسئلہ ۲۲: اگر ہاتھ دھلا ہوا ہے مگر پھر دھونے کی نیت سے ڈالا اور یہ دھونا ثواب کا کام ہوجیسے کھانے کے لیے یا و ضو کے لیے تو یہ پانی مُستَعمَل ہو گیا یعنی وُضو کے کام کا نہ رہا اور اس کو پینا بھی مکروہ ہے۔
مسئلہ ۲۳: اگر بضرورت ہاتھ پانی میں ڈالا جیسے پانی بڑے برتن میں ہے کہ اسے جھکا نہیں سکتا، نہ کوئی چھوٹا برتن ہے کہ اس سے نکالے تو ایسی صورت میں بقدرِ ضرورت ہاتھ پانی میں ڈال کر اس سے پانی نکالے یا کوئیں میں رسّی ڈول گِر گیا اور بے گُھسے نہیں نکل سکتا اَور پانی بھی نہیں کہ ہاتھ پاؤ ں دھو کر گُھسے، تو اس صورت میں اگر پاؤں ڈال کر ڈول رسّی نکالے گا مُستَعمَل نہ ہوگا ان مسئلوں سے بہت کم لوگ واقف ہیں خیال رکھنا چاہیے۔ (6)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث، الفصل الأول، ج۱، ص۱۹.
2 ۔ کہ پانی پاک ہے جب تک اس کو نَجاست سے ملاقات نہ ہو نجس نہیں ہوسکتا اوریہاں کونسی نجس شے ہے جس کی ملاقات سے یہ پانی نجس ہوگا۔ ۱۲منہ
3 ۔ مثلاً سارا وضو کرلیا ایک پاؤں کا دھونا باقی ہے کہ پانی ختم ہوگیا اورحقہ میں پانی اتنا موجود ہے کہ اس پاؤں کو دھو سکتا ہے تو اسے تیمم جائز
نہیں مگر وضو کرنے کے بعد اگر اعضا میں بو آگئی تو جب تک بو جاتی نہ رہے مسجد میں جانا منع ہے اوروقت میں گنجائش ہوتو اتنا وقفہ کر کے
نماز پڑھے کہ بُو اڑ جائے اوراس سے وضوکرنے کا حکم اس وقت دیا گیا کہ دوسرا پانی نہ ہو بلا ضرورت اس سے وُضو نہ چاہیے۔ ۱۲ منہ
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۳۲۰.
5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۴۳ .
مستعمل پانی کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے فتاویٰ رضویہ جلد2 صَفْحَہ 43تا248 ملاحظہ فرمایئے۔
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۱۱۷.
مسئلہ ۲۴: مستعمل پانی اگر اچھے پانی میں مل جائے مثلاً وُضو یا غُسل کرتے وقت قطرے لوٹے یا گھڑے میں ٹپکے، تواگر اچھا پانی زِیادہ ہے تویہ وُضو اورغُسل کے کام کا ہے ورنہ سب بے کا ر ہوگیا۔ (1)
مسئلہ ۲۵: پانی میں ہاتھ پڑگیایا اَور کسی طرح مستعمل ہو گیا اور یہ چاہیں کہ یہ کام کا ہو جائے تو اچھا پانی اس سے زِیادہ اس میں مِلادیں، نیز اس کا یہ طریقہ بھی ہے کہ اس میں ایک طرف سے پانی ڈالیں کہ دوسری طرف سے بہ جائے سب کام کا ہو جائے گا۔یوہیں ناپاک پانی کو بھی پاک کر سکتے ہیں۔ (2) یوہیں ہر بہتی ہوئی چیز اپنی جنس یا پانی سے اُبال دینے سے پاک ہو جائے گی۔
مسئلہ ۲۶: کسی درخت یا پھل کے نچوڑے ہوئے پانی سے وُضو جائز نہیں جیسے کیلے کا پانی یا انگور اور انار اور تربُز کا پانی اور گنّے کا رس۔ (3)
مسئلہ ۲۷: جو پانی گرم ملک میں گرم موسم میں سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ میں گرم ہو گیا، تو جب تک گرم ہے اس سے وُضو اور غُسل نہ چاہیے، نہ اس کو پینا چاہیے بلکہ بدن کو کسی طرح پہنچنا نہ چاہیے، یہاں تک کہ اگر اس سے کپڑ ا بھیگ جائے تو جب تک ٹھنڈا نہ ہو لے اس کے پہننے سے بچیں کہ اس پانی کے استعمال میں اندیشہ ئبرص ہے پھر بھی اگر وُضو یا غُسل کر لیا تو ہو جائے گا۔ (4)
مسئلہ ۲۸: چھوٹے چھوٹے گڑھوں میں پانی ہے اور اس میں نَجاست پڑنا معلوم نہیں تو اس سے وُضو جائز ہے۔ (5)
مسئلہ ۲۹: کافر کی خبر کہ یہ پانی پاک ہے یاناپاک مانی نہ جائے گی، دونوں صورتوں میں پاک رہے گا کہ یہ اس کی اصلی حالت ہے۔ (6)
مسئلہ ۳۰: نابالغ کا بھرا ہوا پانی کہ شرعاً اس کی مِلک ہو جائے، اسے پینا یا وُضو یا غُسل یا کسی کام میں لانا اس کے ماں باپ یا جس کا وہ نوکر ہے اس کے سوا کسی کو جائز نہیں اگرچہ وہ اجازت بھی دے دے، اگر وُضو کر لیا تو وُضو ہو جائے گا اور گنہگار ہو گا، یہاں سے مُعلّمین کو سبق لینا چاہیے کہ اکثر وہ نابالغ بچوں سے پانی بھروا کر اپنے کام میں لایا کرتے ہیں۔ اسی طرح بالغ کا
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۲۲۰.
2 ۔ المرجع السابق، ص۱۲۰.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۳۵۹.
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۴۶۴.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۵.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الکراہیۃ، الباب الأول، ج۵، ص۳۰۸.
بھرا ہوا بغیر اجازت صرف کرنا بھی حرام ہے۔ (1)
مسئلہ ۳۱: نَجاست نے پانی کا مزہ، بُو، رنگ بدل دیا تو اس کو اپنے استعمال میں بھی لانا ناجائز اور جانوروں کو پلانا بھی، گارے وغیرہ کے کام میں لاسکتے ہیں مگر اس گارے مٹی کو مسجد کی دیوار وغیرہ میں صرف کرنا جائز نہیں۔ (2)
مسئلہ ۱: کوئیں میں آدمی یا کسی جانور کا پیشاب یا بہتا ہوا خون یا تاڑی یا سیندھی یا کسی قسم کی شراب کا قطرہ یا ناپاک لکڑی یا نجس کپڑا یا اَور کوئی ناپاک چیز گری اُس کا کل پانی نکالا جائے۔ (3)
مسئلہ ۲: جن چوپایوں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ان کے پاخانہ، پیشاب سے ناپاک ہو جائے گا، یوہیں مرغی اور بَط (4) کی بِیٹ سے ناپاک ہو جائے گا ان سب صورتوں میں کل پانی نکالا جائے گا۔ (5)
مسئلہ ۳: مینگنیاں اور گوبر اور لید اگرچہ ناپاک ہیں مگر کوئیں میں گر جائیں تو بوجہِ ضرورت ان کا قلیل معاف رکھا گیا ہے، پانی کی ناپاکی کا حکم نہ دیا جائے گا اور اُڑنے والے حلال جانور کبوتر، چڑیا کی بِیٹ یا شکاری پرند چیل، شِکرا، باز کی بِیٹ گر جائے تو ناپاک نہ ہوگا۔ یوہیں چُوہے اور چمگادڑ کے پیشاب سے بھی ناپاک نہ ہو گا۔ (6)
مسئلہ ۴: پیشاب کی بہت باریک بُندکیاں مثل سوئی کی نوک کے اور نجس غبار پڑنے سے ناپاک نہ ہوگا۔ (7)
مسئلہ ۵: جس کوئیں کا پانی ناپاک ہو گیا، اس کا ایک قطرہ بھی پاک کوئیں میں پَڑ جائے تو یہ بھی ناپاک ہو گیا، جو حکم اس کا تھا وہی اس کا ہو گیا، یوہیں ڈول، رسّی، گھڑا جن میں ناپاک کوئیں کا پانی لگا تھا، پاک کوئیں میں پڑے وہ پاک بھی ناپاک ہو جائے گا۔ (8)
مسئلہ ۶: کوئیں میں آدمی، بکری، یا کتا، یا کوئی اَور دَموی جانور ان کے برابر یا ان سے بڑا گر کر مر جائے تو کُل پانی نکالا جائے۔ (9)
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۵۲۷.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۵.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۰۷،۴۰۹.
4 ۔ بطخ۔ 5 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في البئر، ص۱۶۲.
6 ۔ المرجع السابق، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۱۹.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۴۲۲.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۲۰. 9 ۔ المرجع السابق، ص۱۹.
مسئلہ ۷: مرغا، مرغی، بلّی، چوہا، چھپکلی یا اَور کوئی دَموی جانور (جس میں بہتا ہوا خون ہو) اس میں مر کر پُھول جائے یا پھٹ جائے کل پانی نکالا جائے۔ (1)
مسئلہ ۸: اگر یہ سب باہر مرے پھر کوئیں میں گر گئے جب بھی یہی حکم ہے۔ (2)
مسئلہ ۹: چھپکلی یا چوہے کی دُم کٹ کر کوئیں میں گری، اگرچہ پھولی پھٹی نہ ہو کل پانی نکالا جائے گا، مگراس کی جڑ میں اگر موم لگا ہو تو بیس ڈول نکالا جائے۔ (3)
مسئلہ ۱۰: بلّی نے چوہے کو دبوچا اور زخمی ہو گیا پھر اس سے چھوٹ کر کوئیں میں گِرا کل پانی نکالا جائے۔ (4)
مسئلہ ۱۱: چوہا، چھچوندر، چڑیا، یاچھپکلی، گرگٹ یا ان کے برابر یا ان سے چھوٹا کوئی جانور دَموی کوئیں میں گر کر مر گیا تو بیس ۲۰ ڈول سے تیس ۳۰ تک نکالا جائے۔ (5)
مسئلہ ۱۲: کبوتر، مرغی، بلّی گِر کر مرے تو چالیس ۴۰ سے ساٹھ ۶۰ تک۔ (6)
مسئلہ ۱۳: آدمی کا بچہ، جو زندہ پیدا ہو، حکم میں آدمی کے ہے، بکری کا چھوٹا بچہ حکم میں بکری کے ہے۔ (7)
مسئلہ ۱۴: جو جانور کبوتر سے چھوٹا ہو حکم میں چوہے کے ہے، اور جو بکری سے چھوٹا ہو مرغی کے حکم میں ہے۔ (8)
مسئلہ ۱۵: دو چوہے گر کر مر جائیں تو وہی بیس ۲۰ سے تیس ۳۰ ڈول تک نکالا جائے اور تین یا چار یا پانچ ہوں تو چالیس ۴۰ سے ساٹھ ۶۰ تک اور چھ ۶ ہوں تو کُل۔ (9)
مسئلہ ۱۶: دو ۲ بلّیاں مر جائیں تو سب نکالا جائے۔ (10)
مسئلہ ۱۷: مسلمان مردہ بعد غُسل کے کوئیں میں گر جائے تو اصلاً پانی نکالنے کی ضرورت نہیں اور شہید گر جائے اور
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۲۷۵،
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۱۹.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق. ص۱۹ ۔ ۲۰. 3 ۔ المرجع السابق، ص۲۰.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۱۷.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۱۹.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃِ، باب المیاہ، فصل في البئر، ص۴۱۴.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۱۹.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۲۰.
9 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۱۷.
10 ۔ المرجع السابق.
بدن پرخون نہ لگا ہو تو بھی کچھ حاجت نہیں اور اگر خون لگا ہے اور قابل بہنے کے نہ تھا تو بھی کچھ حاجت نہیں،اگرچہ وہ خون اس کے بدن پر سے دُھل کر پانی میں مِل جائے اور اگربہنے کے قابل خون اس کے بدن پر لگا ہوا ہے اور خشک ہو گیا اور شہید کے گرنے سے اس کے بدن سے جدا ہو کرپانی میں نہ ملا جب بھی پانی پاک رہے گا کہ شہید کا خون جب تک اس کے بدن پر ہے کتناہی ہو پاک ہے ہاں یہ خون اس کے بدن سے جدا ہو کر پانی میں مِل گیا تو اب ناپاک ہوگیا۔ (1)
مسئلہ ۱۸: کافر مردہ اگرچہ سو ۱۰۰ بار دھویا گیا ہو، کوئیں میں گر جائے یا اس کی انگلی یا ناخن پانی سے لگ جائے پانی نجس ہو جائے گا، کل پانی نکالا جائے۔ (2)
مسئلہ ۱۹: کچا بچہ یاجو بچہ مردہ پیدا ہوا، کوئیں میں گر جائے تو سب پانی نکالا جائے اگرچہ گرنے سے پہلے نہلا دیا گیا ہو۔ (3)
مسئلہ ۲۰: بے وُضو اور جس شخص پر غُسل فرض ہو اگر بلا ضرورت کوئیں میں اُتریں اور اُن کے بدن پر نَجاست نہ لگی ہو تو بیس ڈول نکالا جائے اور اگر ڈول نکالنے کے لیے اُترا توکچھ نہیں۔ (4)
مسئلہ ۲۱: سوئر کوئیں میں گر ا،اگرچہ نہ مرے، پانی نجس ہو گیا، کل نکالا جائے۔ (5)
مسئلہ ۲۲: سوئر کے سوااگر اور کوئی جانور کوئیں میں گرا اور زندہ نکل آیا اور اس کے جِسْم میں نَجاست لگی ہونایقینی معلوم نہ ہو، اور پانی میں اس کا مونھ نہ پڑا تو پانی پاک ہے، اس کا استعمال جائز، مگر اِحْتِیاطاً بیس ۲۰ ڈول نکالنا بہترہے اوراگراس کے بدن پر نَجاست لگی ہونا یقینی معلوم ہو تو کل پانی نکالا جائے اور اگر اس کا مونھ پانی میں پڑا تو اس کے لُعاب اور جھوٹے کا جو حکم ہے وہی حکم اس پانی کا ہے، اگر جھوٹا ناپاک ہے یا مشکوک تو کل پانی نکالا جائے اور اگر مکروہ ہے تو چوہے وغیرہ میں بیس ۲۰ ڈول، مرغی چھوٹی ہوئی میں چالیس ۴۰ اور جس کا جھوٹا پاک ہے اس میں بھی بیس ۲۰ ڈول نکالنا بہتر ہے، مثلاً بکری گری اور زندہ نکل آئی، بیس ۲۰ ڈول نکال ڈالیں۔ (6)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۱۹.
''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۰۸.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۰۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۱۹.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۴۱۱.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۱۹.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۱۰.
6 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۲۳: کوئیں میں وہ جانور گرا جس کا جھوٹا پاک ہے یا مکروہ اور پانی کچھ نہ نکالا اور وُضو کر لیا تو وُضو ہوجائے گا۔ (1)
مسئلہ ۲۴: جوتا یا گیند کوئیں میں گر گئی اور نجس ہونا یقینی ہے کُل پانی نکالا جائے ورنہ بیس ۲۰ ڈول،محض نجس ہونے کا خیال معتبر نہیں۔ (2)
مسئلہ ۲۵: پانی کا جانور یعنی وہ جوپانی میں پیدا ہوتا ہے اگر کوئیں میں مر جائے یا مرا ہوا گر جائے تو ناپاک نہ ہو گا۔ اگرچہ پھولا پھٹا ہو مگر پھٹ کر اس کے اجزا پانی میں مل گئے تو اس کا پینا حرام ہے۔ (3)
مسئلہ ۲۶: خشکی اور پانی کے مینڈک کا ایک حکم ہے یعنی اس کے مرنے بلکہ سڑنے سے بھی پانی نجس نہ ہوگا (4)، مگر جنگل کا بڑا مینڈک جس میں بہنے کے قابل خون ہوتا ہے اس کا حکم چوہے کی مثل ہے۔ پانی کے مینڈک کی انگلیوں کے درمیان جھلی ہوتی ہے اور خشکی کے نہیں۔
مسئلہ ۲۷: جس کی پیدائش پانی کی نہ ہو مگر پانی میں رہتا ہو جیسے بط، اس کے مر جانے سے پانی نجس ہو جائے گا۔ (5)
مسئلہ ۲۸: بچّہ یا کافر نے پانی میں ہاتھ ڈال دیا تو اگر ان کے ہاتھ کا نجس ہونا معلوم ہے جب تو ظاہر ہے کہ پانی نجس ہو گیا ورنہ نجس تو نہ ہوا مگر دوسرے پانی سے وُضو کرنا بہتر ہے۔ (6)
مسئلہ ۲۹: جن جانوروں میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا جیسے مچھر، مکھی وغیرہ، ان کے مرنے سے پانی نجس نہ ہوگا۔ (7)
فائدہ: مکھی سالن وغیرہ میں گر جائے تو اسے غوطہ دے کر پھینک دیں اور سالن کو کا م میں لائیں۔
مسئلہ ۳۰: مردار کی ہڈّی جس میں گوشت یا چکنائی لگی ہو پانی میں گر جائے تو وہ پانی ناپاک ہو گیا کل نکالا جائے اور اگر گوشت یا چکنائی نہ لگی ہو تو پاک ہے مگر سُوئر کی ہڈّی سے مطلقاً ناپاک ہو جائے گا۔ (8)
1 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في البئر، ص۱۵۹.
2 ۔ ''الحدیقۃ الندیۃ'' و''الطریقۃ المحمدیۃ''، الصنف الثاني من الصنفین، ج۲، ص۶۷۴.
و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۲۸۲ ۔ ۲۸۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني فیما لا یجوز بہ التوضؤ، ج۱، ص۲۴.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الھدایۃ'' و''العنایۃ''، کتاب الطہارات، الباب الثالث، ج۱، ص۷۴.
6 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في أحکام الحیاض، ص۱۰۳.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴.
مسئلہ ۳۱: جس کوئیں کا پانی ناپاک ہو گیا اس میں سے جتنا پانی نکالنے کا حکم ہے نکال لیا گیا تو اب وہ رسی ڈول جس سے پانی نکالا ہے پاک ہو گیا، دھونے کی ضرورت نہیں۔ (1)
مسئلہ ۳۲: کل پانی نکالنے کے یہ معنی ہیں کہ اتنا پانی نکال لیا جائے کہ اب ڈول ڈالیں تو آدھا بھی نہ بَھرے، اس کی مٹی نکالنے کی ضرورت نہیں نہ دیوار دھونے کی حاجت، کہ وہ پاک ہوگئی۔ (2)
مسئلہ ۳۳: یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ اتنااتنا پانی نکالا جائے اس کایہ مطلب ہے کہ وہ چیزجو اس میں گری ہے اس کو اس میں سے نکال لیں پھر اتنا پانی نکالیں، اگر وہ اسی میں پڑی رہی تو کتنا ہی پانی نکالیں، بیکار ہے۔ (3)
مسئلہ ۳۴: اور اگر وہ سڑگل کر مٹی ہو گئی یا وہ چیز خود نجس نہ تھی بلکہ کسی نجس چیز کے لگنے سے نجس ہو گئی ہو، جیسے نجس کپڑا، اور اس کا نکالنا مشکل ہوتو اب فقط پانی نکالنے سے پاک ہو جائے گا۔ (4)
مسئلہ ۳۵: جس کوئیں کا ڈول مُعیّن ہو تو اسی کا اعتبار ہے اس کے چھوٹے بڑے ہونے کا کچھ لحاظ نہیں اور اگر اس کا کوئی خاص ڈول نہ ہو تو ایسا ہو کہ ایک صاع پانی اس میں آجائے۔ (5)
مسئلہ ۳۶: ڈول بھرا ہوا نکلنا ضرور نہیں، اگر کچھ پانی چَھلک کر گر گیا یا ٹپک گیا مگر جتنا بچا وہ آدھے سے زِیادہ ہے تو وہ پورا ہی ڈول شمار کیا جائے گا۔ (6)
مسئلہ ۳۷: ڈول معین ہے مگر جس ڈول سے پانی نکالا وہ اس سے چھوٹا یا بڑا ہے یا ڈول معین نہیں اور جس سے نکالا وہ ایک صاع سے کم و بیش ہے تو ان صورتوں میں حساب کرکے اس معین یا ایک صاع کے برابر کر لیں۔ (7)
مسئلہ ۳۸: کوئیں سے مرا ہوا جانور نکلا تو اگر اس کے گرنے مرنے کا وقت معلوم ہے تو اسی وقت سے پانی نجس ہے اس کے بعد اگر کسی نے اس سے وُضو یا غُسل کیا تو نہ وُضو ہوا نہ غُسل، اس وُضو اورغُسل سے جتنی نمازیں پڑھیں سب کو پھیرے کہ وہ نمازیں نہیں ہوئیں، یوہیں اس پانی سے کپڑے دھوئے یا کسی اور طریق سے اس کے بدن یا کپڑے میں لگا تو کپڑے اور
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۰۹.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۰۹.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۹.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۰۹.
5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۲۶۱.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۱۷.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۱۶.
بدن کا پاک کرنا ضروری ہے اور ان سے جو نمازیں پڑھیں ان کا پھیرنا فرض ہے اور اگر وقت معلوم نہیں تو جس وقت دیکھا گیاا س وقت سے نجس قرار پائے گا۔ اگرچہ پھولا پھٹا ہو اس سے قبل پانی نجس نہیں اور پہلے جو وُضو یا غُسل کیا یا کپڑے دھوئے کچھ حَرَج نہیں تیسیراً اسی پر عمل ہے۔ (1)
مسئلہ ۳۹: جو کو آں ایسا ہو کہ اس کا پانی ٹوٹتا ہی نہیں چاہے کتنا ہی نکالیں اور اس میں نَجاست پڑ گئی یا اس میں کوئی ایسا جانور مر گیا جس میں کُل پانی نکالنے کا حکم ہے تو ایسی حالت میں حکم یہ ہے کہ معلوم کر لیں کہ اس میں کتنا پانی ہے وہ سب نکال لیا جائے۔ نکالتے وقت جتنا زیادہ ہوتا گیا اس کا کچھ لحاظ نہیں اور یہ معلوم کر لینا کہ اس وقت کتنا پانی ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ دو مسلمان پرہیزگار جن کو یہ مہارت ہو کہ پانی کی چوڑائی گہرائی دیکھ کر بتا سکیں کہ اس کوئیں میں اتنا پانی ہے وہ جتنے ڈول بتائیں اتنے نکالے جائیں اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس پانی کی گہرائی کسی لکڑی یا رسّی سے صحیح طور پر ناپ لیں اور چند شخص بہت پھرتی سے سو ۱۰۰ ڈول مثلاً نکالیں پھر پانی ناپیں جتنا کم ہو اسی حساب سے پانی نکال لیں کو آں پاک ہو جائے گا۔ اسکی مثال یہ ہے کہ پہلی مرتبہ ناپنے سے معلوم ہوا کہ پانی مثلاً دس ہاتھ ہے پھر سو ۱۰۰ ڈول نکالنے کے بعد ناپا تو نو ۹ ہاتھ رہا تو معلوم ہوا کہ سو ۱۰۰ ڈول میں ایک ہاتھ کم ہوا تو دس ۱۰ ہاتھ میں دس سو ۱۰۰۰ یعنی ایک ہزار ڈول ہوئے۔ (2)
مسئلہ ۴۰: جو کو آں ایسا ہے کہ اس کا پانی ٹوٹ جائے گا مگر اس میں اس کے پھٹ جانے وغیرہ نقصانات کا گما ن ہے تو بھی اتنا ہی پانی نکالا جائے جتنا اس وقت اس میں موجود ہے۔ پانی توڑنے کی حاجت نہیں۔
مسئلہ ۴۱: کوئیں سے جتنا پانی نکالنا ہے اس میں اختیار ہے کہ ایک دم سے اتنا نکالیں یا تھوڑا تھوڑا کر کے دونوں صورت میں پاک ہو جائے گا۔ (3)
مسئلہ ۴۲: مرغی کا تازہ انڈا جس پر ہنوز رطوبت لگی ہو پانی میں پڑ جائے تو نجس نہ ہو گا۔ یوہیں بکری کا بچہ پیدا ہوتے ہی پانی میں گرا اور مرا نہیں جب بھی ناپاک نہ ہو گا۔ (4)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۲۰.
و ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۱۷،۴۲۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الأول، ج۱، ص۲۰، ۱۹.
و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۲۹۳، ۲۹۴.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۲۸۹.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۰۸.
مسئلہ ۱: آدمی چاہے جنب ہو یا حَیض و نِفاس والی عورت اس کا جھوٹا پاک ہے۔ کافر کا جھوٹا بھی پاک ہے (1) ، مگر اس سے بچنا چاہیے جیسے تھوک، رینٹھ، کھنکار کہ پاک ہیں مگر ان سے آدمی گِھن کرتا ہے اس سے بہت بدتر کافر کے جھوٹے کو سمجھنا چاہیے۔
مسئلہ ۲: کسی کے مونھ سے اتنا خون نکلاکہ تھوک میں سرخی آگئی اور اس نے فوراً پانی پیا تو یہ جھوٹا ناپاک ہے اور سرخی جاتی رہنے کے بعد اس پر لازم ہے کہ کُلی کرکے مونھ پاک کرے اور اگر کُلی نہ کی اور چند بار تھوک کا گزر موضع نَجاست پر ہوا خواہ نگلنے میں یا تھوکنے میں یہاں تک کہ نَجاست کا اثر نہ رہا تو طہارت ہو گئی اسکے بعد اگر پانی پیے گا تو پاک رہیگا اگرچہ ایسی صورت میں تھوک نگلنا سَخْت ناپاک بات اور گناہ ہے۔ (2)
مسئلہ ۳: معاذاﷲ شراب پی کر فوراً پانی پیا تو نجس ہو گیا اور اگر اتنی دیر ٹھہرا کہ شراب کے اجزا تھوک میں مل کر حَلْق سے اتر گئے تو ناپاک نہیں مگر شرابی اور اس کے جھوٹے سے بچنا ہی چاہیے۔ (3)
مسئلہ ۴: شراب خوار کی مونچھیں بڑی ہوں کہ شراب مونچھوں میں لگی تو جب تک ان کو پاک نہ کرے جو پانی پیے گا وہ پانی اور برتن دونوں ناپاک ہو جائیں گے۔ (4)
مسئلہ ۵: مرد کو غیر عورت کا اور عورت کو غیر مرد کا جھوٹا اگر معلوم ہو کہ فلانی یا فلاں کا جھوٹا ہے بطور لذّت کھانا پینا مکروہ ہے مگرا س کھانے، پانی میں کوئی کراہت نہیں آئی(5) اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس کا ہے یا لذّت کے طور پرکھایا پیا نہ گیا تو کوئی حَرَج نہیں بلکہ بعض صورتوں میں بہتر ہے جیسے با شرع عالم یا دیندار پیر کا جھوٹا کہ اسے تبرّک جان کر لوگ کھاتے پیتے ہیں۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۳.
و''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۲۴، وغیرھما .
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۳.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۵۷، ۲۵۹. و ''مراقي الفلاح''، کتاب الطہارۃ، فصل في بیان احکام السؤر، ص۵.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني ج۱، ص۲۳.
و ''الدرا لمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، مطلب في السؤر، ج۱، ص۴۲۵، وغیرہما.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني ج۱، ص۲۳.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني ج۱، ص۲۳.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، مطلب في السؤر، ج۱، ص۴۲۴.
مسئلہ ۶: جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے چوپائے ہوں یا پرند ان کا جھوٹا پاک ہے اگرچہ نر ہوں جیسے گائے، بیل، بھینس، بکری، کبوتر، تیتر وغیرہ۔ (1)
مسئلہ ۷: جو مرغی چُھوٹی پھرتی اور غلیظ پر مونھ ڈالتی ہو اس کا جھوٹا مکروہ ہے اور بند رہتی ہو تو پاک ہے۔ (2)
مسئلہ ۸: یوہیں بعض گائیں جن کی عادت غلیظ کھانے کی ہوتی ہے ان کا جھوٹا مکروہ ہے اور اگر ابھی نَجاست کھائی اور اس کے بعد کوئی ایسی بات نہ پائی گئی جس سے اس کے مونھ کی طہارت ہو جائے(مثلاً آبِ جاری میں پانی پینا یا غیر جاری میں تین جگہ سے پینا) اور اس حالت میں پانی میں مونھ ڈال دیا تو ناپاک ہو گیا۔ اسی طرح اگر بیل، بھینسے، بکرے نروں نے حسبِ عادت مادہ کا پیشاب سُونگھا اور اس سے ان کا مونھ ناپاک ہوا اور نگاہ سے غائب نہ ہوئے نہ اتنی دیر گزری جس میں طہارت ہو جاتی تو ان کا جھوٹا ناپاک ہے اور اگر چار پانیوں میں مونھ ڈالیں تو پہلے تین ناپاک چوتھا پاک۔ (3)
مسئلہ ۹: گھوڑے کا جھوٹا پاک ہے۔ (4)
مسئلہ ۱۰: سُوئر، کتا، شیر، چیتا، بھیڑیا، ہاتھی، گیدڑ اور دوسرے درندوں کا جھوٹا ناپاک ہے۔ (5)
مسئلہ ۱۱: کُتّے نے برتن میں مونھ ڈالا تو اگر وہ چینی یا دھات کا ہے یا مٹی کا روغنی یا استعمالی چکنا تو تین بار دھونے سے پاک ہو جائے گا ورنہ ہر بار سُکھا کر۔ ہاں چینی میں بال ہو یا اور برتن میں درار ہو تو تین بار سُکھا کر پاک ہو گا فقط دھونے سے پاک نہ ہوگا۔ (6)
مسئلہ ۱۲: مٹکے کو کُتّے نے اوپر سے چاٹا اس میں کا پانی ناپاک نہ ہوگا۔ (7)
مسئلہ ۱۳: اڑنے والے شکاری جانور جیسے شکرا، باز، بہری، چیل وغیرہ کا جھوٹا مکروہ ہے اور یہی حکم کوّے کا ہے اور اگر ان کو پال کر شکار کے لیے سِکھالیا ہو اور چونچ میں نَجاست نہ لگی ہو تو اس کا جھوٹا پاک ہے۔ (8)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۳.
2 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، مطلب في السؤر،
ج۱، ص۴۲۵. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۳.
5 ۔ المرجع السابق، ص۲۴.
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، ج۴، ص۵۵۹.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴.
8 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۴: گھر میں رہنے والے جانور جیسے بلّی، چوہا، سانپ، چھپکلی کا جھوٹا مکروہ ہے۔ (1)
مسئلہ ۱۵: اگر کسی کا ہاتھ بلّی نے چاٹنا شروع کیا تو چاہیے کہ فوراً کھینچ لے یوہیں چھوڑ دینا کہ چاٹتی رہے مکروہ ہے اور چاہیے کہ ہاتھ دھو ڈالے بے دھوئے اگر نماز پڑھ لی تو ہو گئی مگر خلافِ اَولیٰ ہوئی۔ (2)
مسئلہ ۱۶: بلّی نے چوہا کھایا اور فوراً برتن میں مونھ ڈال دیا تو ناپاک ہو گیا اور اگر زبان سے مونھ چاٹ لیا کہ خون کا اثر جاتا رہا تو ناپاک نہیں۔ (3)
مسئلہ ۱۷: پانی کے رہنے والے جانور کا جھوٹا پاک ہے خواہ ان کی پیدائش پانی میں ہو یا نہیں۔ (4)
مسئلہ ۱۸: گدھے، خچر کا جھوٹا مشکوک ہے یعنی اس کے قابل وُضو ہونے میں شک ہے، و لہٰذا اس سے وُضو نہیں ہوسکتا کہ حدث متیقن طہارت مشکوک سے زائل نہ ہوگا۔ (5)
مسئلہ ۱۹: جو جھوٹا پانی پاک ہے اس سے وُضو اور غُسل جائز ہیں مگر جنب نے بغیر کُلی کیے پانی پیا تو اس جھوٹے پانی سے وُضو ناجائز ہے کہ وہ مستعمل ہوگیا۔
مسئلہ ۲۰: اچھا پانی ہوتے ہوئے مکروہ پانی سے وُضو و غُسل مکروہ اور اگر اچھا پانی موجود نہیں تو کوئی حَرَج نہیں اسی طرح مکروہ جھوٹے کا کھانا پینا بھی مالدار کو مکروہ ہے۔ غریب محتاج کو بلا کراہت جائز۔ (6)
مسئلہ ۲۱: اچھا پانی ہوتے ہوئے مشکوک سے وُضو و غُسل جائز نہیں اور اگر اچھا پانی نہ ہو تو اسی سے وُضو و غُسل کرلے اور تیمم بھی اور بہتر یہ ہے کہ وُضو پہلے کر لے اور اگر عکس کیا یعنی پہلے تیمم کیا پھر وُضو جب بھی حَرَج نہیں اور اس صورت میں وُضو اور غُسل میں نیت کرنی ضرور اور اگر وُضو کیا اور تیمم نہ کیا یا تیمم کیا اور وُضو نہ کیا تو نماز نہ ہوگی۔ (7)
مسئلہ ۲۲: مشکوک جھوٹے کا کھانا پینا نہیں چاہیے۔ (8)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴.
و ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، مطلب في السؤر، ج۱، ص۴۲۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴.
4 ۔ المرجع السابق، ص۲۳، و ''التبیین الحقائق''، ج۱، ص۱۰۵.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴.
7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطہارۃ، ج ۱، ص ۲۳۵.
مسئلہ ۲۳: مشکوک پانی اچھے پانی میں مل گیا تو اگر اچھا زِیادہ ہے تو اس سے وُضو ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔ (1)
مسئلہ ۲۴: جس کا جھوٹا ناپاک ہے اس کا پسینہ اور لعاب بھی ناپاک ہے اور جس کا جھوٹا پاک اس کا پسینہ اور لعاب بھی پاک اور جس کا جھوٹا مکروہ اس کا لعاب اور پسینہ بھی مکروہ۔ (2)
مسئلہ ۲۵: گدھے، خچر کا پسینہ اگر کپڑے میں لگ جائے تو کپڑا پاک ہے چاہے کتنا ہی زِیادہ لگا ہو۔ (3)
اﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
( وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مَّرْضٰۤی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْجَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمْ وَاَیۡدِیۡکُمۡ مِّنْہُ ) ـ4ـ
یعنی اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں کا کوئی پاخانہ سے آیا یا عورتوں سے مباشرت کی (جِماع کیا) اور پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو تو اپنے مونھ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو۔
حدیث ۱: صحیح بُخاری میں بروایت اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا مروی، فرماتی ہیں، کہ ہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں گئے یہاں تک کہ جب بیدا یا ذات الجیش (5) میں ہوئے۔ میری ہیکل ٹوٹ گئی۔(6) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی تلاش کے لیے اقامت فرمائی اور لوگوں نے بھی حضور کے ساتھ اقامت کی اور نہ وہاں پانی تھا نہ لوگوں کے ساتھ پانی تھا۔ لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس آ کر عرض کی کیا آپ نہیں دیکھتے کہ صدیقہ نے کیا کیا حضور کو اور سب کو ٹھہرا لیا اورنہ یہاں پانی ہے نہ لوگوں کے ہمراہ ہے۔ فرماتی ہیں کہ ابو بکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آئے اور حضور اپناسر مبارک میرے زانو پر رکھ کر آرام فرمارہے تھے اور فرمایا تو نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور لوگوں کو روک لیا۔ حالانکہ نہ یہاں پانی ہے نہ لوگوں کے ہمراہ ہے۔ اُم المومنین فرماتی ہیں کہ مجھ پر عتاب کیا اور جو چاہا اﷲ نے انہوں نے کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کونچنا شروع کیا اور مجھے حرکت کرنے سے کوئی چیز مانع نہ تھی مگر حضور کا میرے زانو پر آرام فرمانا تو جب صبح ہوئی ایسی جگہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴.
2 ۔ المرجع السابق، ص۲۳.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ پ:۶، المآئدۃ:۶.
5 ۔ بیدا اور ذات الجیش یہ دونوں دو جگہ کے نام ہیں۔ ۱۲ 6 ۔ یعنی میرا ہار ٹوٹ کر گر پڑا۔
جہاں پانی نہ تھا حضور اٹھے اﷲ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی اور لوگوں نے تیمم کیا اس پر اُسَید بن حُضَیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے آل ابوبکر یہ تمہاری پہلی برکت نہیں (یعنی ایسی برکتیں تم سے ہوتی ہی رہتی ہیں) فرماتی ہیں جب میری سواری کا اونٹ اٹھایا گیا وہ ہیکل اس کے نیچے ملی۔ (1)
حدیث ۲: صحیح مسلِم شریف میں بروایت حُذَیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں منجملہ ان باتوں کے جن سے ہم کو لوگوں پر فضیلت دی گئی یہ تین باتیں ہیں۔
(۱) ہماری صفیں ملائکہ کی صفوں کے مثل کی گئیں اور
(۲) ہمارے لیے تمام زمین مسجد کر دی گئی اور
(۳) جب ہم پانی نہ پائیں زمین کی خاک ہمارے لیے پاک کرنے والی بنائی گئی۔ (2)
حدیث ۳: امام احمدو ابو داود و تِرمذی ابوذَر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پاک مٹی مسلمان کا وُضو ہے اگرچہ دس برس پانی نہ پائے اور جب پانی پائے تو اپنے بدن کو پہنچائے (غُسل و وُضو کرے) کہ یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ (3)
حدیث ۴: ابو داود ودارمی نے ابو سعید خُدْری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فرماتے ہیں۔ دو شخص سفر میں گئے اور نماز کا وقت آیا ان کے ساتھ پانی نہ تھا۔ پاک مٹی پر تیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر وقت کے اندر پانی مل گیا ان میں ایک صاحب نے وُضو کر کے نماز کا اعادہ کیا اور دوسرے نے اعادہ نہ کیا پھر جب خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اس کا ذکر کیا تو جس نے اعادہ نہ کیا تھا اس سے فرمایا کہ تو سنّت کو پہنچا اور تیری نماز ہو گئی اور جس نے وُضو کرکے اعادہ کیا تھا اس سے فرمایا تجھے دونا ثواب ہے۔ (4)
حدیث ۵: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں عمران رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے حضور نے نماز پڑھائی جب نماز سے فارغ ہوئے ملاحظہ فرمایا کہ ایک شخص لوگوں سے الگ بیٹھا ہوا ہے جس نے قوم کے ساتھ نماز نہ پڑھی۔ فرمایا: اے شخص تجھے قوم کے ساتھ نماز پڑھنے سے کیا شے مانع آئی۔ عرض کی مجھے نہانے کی حاجت ہے اور پانی نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا، مٹی کولے کہ وہ تجھے کافی ہے۔ (5)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب التیمم، باب التیمم، الحدیث: ۳۳۴، ج۱، ص ۱۳۳.
2 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب المساجد... إلخ، باب المساجد ومواضع الصلاۃ، الحدیث: ۵۲۲، ص۲۶۵.
3 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أبي ذرالغفاري، الحدیث: ۲۱۴۲۹، ج ۸، ص ۸۶.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب المتیمّم یجد الماء بعد مایصلي في الوقت، الحدیث: ۳۳۸،ج۱، ص۱۵۵.
5 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب التیمّم، باب الصعید الطیب... إلخ، الحدیث: ۳۴۴، ج۱، ص ۱۳۶.
حدیث ۶: صحیحین میں ابو جُہَیم بن حارث رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بیر جمل(1) کی جانب سے تشریف لا رہے تھے ایک شخص نے حضور کو سلام کیا اس کا جواب نہ دیا یہاں تک کہ ایک دیوار کی جانب متوجہ ہوئے اور مونھ اور ہاتھوں کا مسح فرمایا پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ (2)
مسئلہ ۱: جس کا وُضو نہ ہو یا نہانے کی ضرورت ہو اور پانی پر قدرت نہ ہو تو وُضو و غُسل کی جگہ تیمم کرے۔ پانی پر قدرت نہ ہونے کی چند صورتیں ہیں: (۱) ایسی بیماری ہو کہ وُضو یا غُسل سے اس کے زِیادہ ہونے یا دیر میں اچھا ہونے کا صحیح اندیشہ ہو خواہ یوں کہ اس نے خود آزمایا ہو کہ جب وُضو یا غُسل کرتا ہے تو بیماری بڑھتی ہے یا یوں کہ کسی مسلمان اچھے لائق حکیم نے جو ظاہراً فاسق نہ ہو کہہ دیا ہو کہ پانی نقصان کریگا۔ (3)
مسئلہ ۲: محض خیال ہی خیال بیماری بڑھنے کا ہو تو تیمم جائز نہیں۔ یوں ہی کافر یا فاسق یا معمولی طبیب کے کہنے کا اعتبار نہیں۔
مسئلہ ۳: اور اگر پانی بیماری کو نقصان نہیں کرتا مگر وُضو یا غُسل کے لیے حرکت ضرر کرتی ہو یا خود وُضو نہیں کر سکتا اور کوئی ایسا بھی نہیں جو وُضو کرا دے تو بھی تیمم کرے۔ یوہیں کسی کے ہاتھ پھٹ گئے کہ خود وُضو نہیں کر سکتا اور کوئی ایسا بھی نہیں جو وُضو کرا دے تو تیمم کرے۔ (4)
مسئلہ ۴: بے وُضو کے اکثر اعضائے وُضو میں یا جنب کے اکثر بدن میں زخم ہو یا چیچک نکلی ہو تو تیمم کرے، ورنہ جو حصہ عُضْوْ یا بدن کا اچھا ہو اس کو دھوئے اور زخم کی جگہ اور بوقت ضرر اس کے آس پاس بھی مسح کرے اور مسح بھی ضرر کرے تو اس عُضْوْ پر کپڑا ڈال کر اس پر مسح کرے۔ (5)
مسئلہ ۵: بیماری میں اگر ٹھنڈا پانی نقصان کرتا ہے اور گرم پانی نقصان نہ کرے تو گرم پانی سے وُضو اور غُسل ضرور ی
1 ۔ مدینہ منورہ میں ایک مقام کا نام ہے۔ ۱۲
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب التیمم، باب التیمم في الحضر... إلخ، الحدیث: ۳۳۷، ج۱، ص ۱۳۴.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۸.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۸.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، مطلب في فاقد الطہورین، ج۱، ص۴۸۱.
ہے تیمم جائز نہیں۔ ہاں اگر ایسی جگہ ہو کہ گرم پانی نہ مل سکے تو تیمم کرے۔ یوہیں اگر ٹھنڈے وقت میں وُضو یا غُسل نقصان کرتا ہے اور گرم وقت میں نہیں تو ٹھنڈے وقت تیمم کرے پھر جب گرم وقت آئے تو آئندہ نماز کے لیے وُضو کرلینا چاہیے جو نماز اس تیمم سے پڑھ لی اس کے اعادہ کی حاجت نہیں۔ (1)
مسئلہ ۶: اگر سر پر پانی ڈالنا نقصان کرتا ہے تو گلے سے نہائے اور پورے سر کا مسح کرے۔
(۲) وہاں چاروں طرف ایک ایک میل تک پانی کا پتا نہیں۔
مسئلہ ۷: اگر یہ گمان ہو کہ ایک میل کے اندر پانی ہوگا تو تلاش کر لینا ضرور ی ہے۔ بلا تلاش کیے تیمم جائز نہیں پھر بغیر تلاش کیے تیمم کر کے نماز پڑھ لی اور تلاش کرنے پر پانی مل گیا تو وُضو کرکے نماز کا اعادہ لازم ہے اور اگر نہ ملا تو ہوگئی۔ (2)
مسئلہ ۸: اگر غالب گمان یہ ہے کہ میل کے اندر پانی نہیں ہے تو تلاش کرنا ضرور ی نہیں پھر اگر تیمم کرکے نماز پڑھ لی اور نہ تلاش کیا نہ کوئی ایسا ہے جس سے پُوچھے اور بعد کو معلوم ہوا کہ پانی یہاں سے قریب ہے تو نماز کا اعادہ نہیں مگر یہ تیمم اب جاتا رہا اور اگر کوئی وہاں تھا مگر اس نے پوچھا نہیں اور بعد کو معلوم ہوا کہ پانی قریب ہے تو اعادہ چاہیے۔ (3)
مسئلہ ۹: اور اگر قریب میں پانی ہونے اور نہ ہونے کسی کا گمان نہیں تو تلاش کرلینا مستحب ہے اور بغیر تلاش کیے تیمم کرکے نماز پڑھ لی ہوگئی۔ (4)
مسئلہ ۱۰: ساتھ میں زم زم شریف ہے جو لوگوں کے لیے تبرکاً لیے جا رہا ہے یا بیمار کو پلانے کے لیے اور ا تنا ہے کہ وُضو ہو جائے گا تو تیمم جائز نہیں۔ (5)
مسئلہ ۱۱: اگر چاہے کہ زمزم شریف سے وضونہ کرے اور تیمم جائز ہو جائے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی ایسے شخص کو جس پر بھروسا ہو کہ پھر دے دے گا وہ پانی ہبہ کردے اور اس کا کچھ بدلہ ٹھہرائے تو اب تیمم جائز ہو جائے گا۔ (6)
مسئلہ ۱۲: جو نہ آبادی میں ہو نہ آبادی کے قریب اور اس کے ہمراہ پانی موجود ہے اور یاد نہ رہا اور تیمم کرکے نماز پڑھ لی
ـ1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۸.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۹.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الفتاوی التاتارخانیۃ''، کتاب الطہارۃ، الفصل الخامس في التیمم، نوع آخر في بیان شرائطہم، ج۱، ص۲۳۴.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، مطلب في فاقد الطہورین، ج۱، ص۴۷۵.
ہو گئی اور اگر آبادی یا آبادی کے قریب میں ہو تو اعادہ کرے۔ (1)
مسئلہ ۱۳: اگر اپنے ساتھی کے پاس پانی ہے اور یہ گمان ہے کہ مانگنے سے دے دے گا تو مانگنے سے پہلے تیمم جائز نہیں پھر اگر نہیں مانگا اور تیمم کرکے نماز پڑھ لی اور بعد نماز مانگا اور اس نے دے دیا یا بے مانگے اس نے خود دے دیا تو وُضو کرکے نماز کا اعادہ لازم ہے اور اگر مانگا اور نہ دیا تو نماز ہو گئی اور اگر بعد کو بھی نہ مانگا جس سے دینے نہ دینے کا حال کُھلتا اور نہ اس نے خود دیا تو نماز ہوگئی اور اگر دینے کا غالب گمان نہیں اور تیمم کر کے نماز پڑھ لی جب بھی یہی صورتیں ہیں کہ بعد کو پانی دے دیا تو وُضو کرکے نماز کا اعادہ کرے ورنہ ہوگئی۔ (2)
مسئلہ ۱۴: نماز پڑھتے میں کسی کے پاس پانی دیکھا اور گمان غالب ہے کہ دے دیگا تو چاہیے کہ نماز توڑ دے اور اس سے پانی مانگے اور اگر نہیں مانگا اور پوری کرلی اب اس نے خود یا اس کے مانگنے پر دے دیا تو اعادہ لازم ہے اور نہ دے تو ہو گئی اور اگر دینے کا گمان نہ تھا اور نماز کے بعد اس نے خود دے دیا یا مانگنے سے دیا جب بھی اعادہ کرے اور اگر اس نے نہ خود دیا نہ اس نے مانگا کہ حال معلوم ہوتا تو نماز ہو گئی اور اگر نماز پڑھتے میں اس نے خود کہا کہ پانی لو وُضو کر لو اور وہ کہنے والا مسلمان ہے تو نماز جاتی رہی توڑ دینا فرض ہے اور کہنے والا کافر ہے تو نہ توڑے پھر نماز کے بعد اگر اس نے پانی دے دیا تو وُضو کرکے اعادہ کرلے۔ (3)
مسئلہ ۱۵: اور اگر یہ گمان ہے کہ میل کے اندر تو پانی نہیں مگر ایک میل سے کچھ زِیادہ فاصلہ پر مل جائے گا تو مستحب ہے کہ نماز کے آخر وقت مستحب تک تاخیر کرے یعنی عصر و مغرب و عشاء میں اتنی دیر نہ کرے کہ وقتِ کراہت آجائے۔ اگر تاخیر نہ کی اور تیمم کرکے پڑھ لی تو ہوگئی۔
(۳) اتنی سردی ہو کہ نہانے سے مر جانے یا بیمار ہونے کا قوی اندیشہ ہو اور لحاف وغیرہ کوئی ایسی چیز اس کے پاس نہیں جسے نہانے کے بعد اوڑھے اور سردی کے ضرر سے بچے نہ آگ ہے جسے تاپ سکے تو تیمم جائز ہے۔
(۴) دشمن کا خوف کہ اگر اس نے دیکھ لیا تو مار ڈالے گا یا مال چھین لے گا یا اس غریب نادار کا قرض خواہ ہے کہ اسے قید
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، مطلب في الفرق بین الظن وغلبۃ الظن، ج۱، ص۴۶۷.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع، الفصل الأول، ج۱، ص۲۹.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، مطلب في الفرق... إلخ، ج۱، ص۴۶۸،۴۷۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق، و''خلاصۃ الفتاوی''، کتاب الطہارات، ج۱، ص۳۳.
کر ادے گا یا اس طرف سانپ ہے وہ کاٹ کھائے گا یا شیر ہے کہ پھاڑ کھائے گا یا کوئی بدکار شخص ہے اور یہ عورت یاا مرد ہے جس کو اپنی بے آبروئی کا گمان صحیح ہے تو تیمم جائز ہے۔ (1)
مسئلہ ۱۶: اگر ایسا دشمن ہے کہ ویسے اس سے کچھ نہ بولے گا مگر کہتا ہے کہ وُضو کے لیے پانی لو گے تو مار ڈالوں گا یا قید کرادوں گا تو اس صورت میں حکم یہ ہے کہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر جب موقع ملے تو وُضو کرکے اعادہ کرلے۔ (2)
مسئلہ ۱۷: قیدی کو قید خانہ والے وُضو نہ کرنے دیں تو تیمم کرکے پڑھ لے اور اعادہ کرے اور اگر وہ دشمن یا قید خانہ والے نماز بھی نہ پڑھنے دیں تو اشارہ سے پڑھے پھر اعادہ کرے۔ (3)
(۵) جنگل میں ڈول رسی نہیں کہ پانی بھرے تو تیمم جائز ہے۔ (4)
مسئلہ ۱۸: اگر ہمراہی کے پاس ڈول رسّی ہے وہ کہتا ہے کہ ٹھہر جا میں پانی بھر کر فارغ ہو کر تجھے دونگا تو مستحب ہے کہ انتظار کرے اور اگر انتظار نہ کیا اور تیمم کرکے پڑھ لی ہوگئی۔ (5)
مسئلہ ۱۹: رسّی چھوٹی ہے کہ پانی تک نہیں پہنچتی مگر اس کے پاس کوئی کپڑا (رومال، عمامہ، دوپٹا وغیرہ) ایسا ہے کہ اس کے جوڑنے سے پانی مل جائے گا تو تیمم جائز نہیں۔ (6)
(۶) پیاس کا خوف یعنی اس کے پاس پانی ہے مگر وُضو یا غُسل کے صرف میں لائے تو خود یا دوسرا مسلمان یا اپنا یااس کا جانور اگرچہ وہ کتّا جس کا پالنا جائز ہے پیاسا رہ جائے گا اور اپنی یا ان میں کسی کی پیاس خواہ فی الحال موجود ہو یا آئندہ اس کا صحیح اندیشہ ہو کہ وہ راہ ایسی ہے کہ دور تک پانی کا پتا نہیں تو تیمم جائز ہے۔ (7)
مسئلہ ۲۰: پانی موجود ہے مگر آٹا گوندھنے کی ضرورت ہے جب بھی تیمم جائز ہے شوربے کی ضرورت کے لیے جائز نہیں۔ (8)
مسئلہ ۲۱: بدن یا کپڑا اس قدر نجس ہے جو مانع جواز نماز ہے اور پانی صرف اتنا ہے کہ چاہے وُضو کرے یا اُس کو پاک
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۴۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۸.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق. 6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۸.
و''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۴۵.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۸.
کرلے دونوں کام نہیں ہو سکتے تو پانی سے اس کو پاک کرلے پھر تیمم کرے اور اگر پہلے تیمم کر لیا اس کے بعد پاک کیا تو اب پھر تیمم کرے کہ پہلا تیمم نہ ہوا۔ (1)
مسئلہ ۲۲: مسافر کو راہ میں کہیں رکھا ہوا پانی ملا تو اگر کوئی وہاں ہے تو اس سے دریافت کرلے اگر وہ کہے کہ صرف پینے کے لیے ہے تو تیمم کرے وُضو جائز نہیں چاہے کتنا ہی ہو اور اگر اس نے کہا کہ پینے کے لیے بھی ہے اور وُضو کے لیے بھی تو تیمم جائز نہیں اور اگر کوئی ایسا نہیں جو بتا سکے اور پانی تھوڑا ہو تو تیمم کرے اور زِیادہ ہو تو وُضو کرے۔ (2)
(۷) پانی گراں ہونا یعنی وہاں کے حساب سے جو قیمت ہونی چاہیے اس سے دو چند مانگتا ہے تو تیمم جائز ہے اور اگر قیمت میں اتنا فرق نہیں تو تیمم جائز نہیں۔ (3)
مسئلہ ۲۳: پانی مول ملتا ہے اور اس کے پاس حاجتِ ضروریہ سے زِیادہ دام نہیں تو تیمم جائز ہے۔ (4)
(۸) یہ گمان کہ پانی تلاش کرنے میں قافلہ نظروں سے غائب ہو جائے گا یا ریل چھوٹ جائے گی۔ (5)
(۹) یہ گمان کہ وُضو یا غُسل کرنے میں عیدین کی نماز جاتی رہے گی خواہ یوں کہ امام پڑھ کر فارغ ہو جائے گا یا زوال کا وقت آجائے گا دونوں صورتوں میں تیمم جائز ہے۔ (6)
مسئلہ ۲۴: وُضو کرکے عیدین کی نماز پڑھ رہا تھا اثنائے نماز میں بے وُضو ہو گیا اور وُضو کریگا تو وقت جاتا رہے گا یا جماعت ہو چکے گی تو تیمم کرکے نماز پڑھ لے۔ (7)
مسئلہ ۲۵: گہن کی نماز کے لیے بھی تیمم جائز ہے جب کہ وُضو کرنے میں گہن کھل جانے یا جماعت ہو جانے کا اندیشہ ہو۔ (8)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۹.
2 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطھارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۲۹.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۹.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۴۱۴.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۹.
5 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۲۴۳،
و ''الفتاوی الرضویۃ''،ج۳، ص۴۱۷.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۵۶.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثالث، ج۱، ص۳۱.
8 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۵۷.
مسئلہ ۲۶: وُضو میں مشغول ہو گا تو ظہر یا مغرب یا عشاء یا جمعہ کی پچھلی سُنّتوں کا یا نماز چاشت (1) کا وقت جاتا رہے گا تو تیمم کرکے پڑھ لے۔ (2)
(۱۰) غیر ولی کو نماز جنازہ فوت ہو جانے کا خوف ہو تو تیمم جائز ہے ولی کو نہیں کہ اس کا لوگ انتظار کریں گے اور لوگ بے اس کی اجازت کے پڑھ بھی لیں تو یہ دوبارہ پڑھ سکتا ہے۔ (3)
مسئلہ ۲۷: ولی نے جس کو نماز پڑھانے کی اجازت دی ہو اسے تیمم جائز نہیں اور ولی کو اس صورت میں اگر نماز فوت ہونے کا خوف ہو تو تیمم جائز ہے۔ یوہیں اگر دوسرا ولی اس سے بڑھ کر موجود ہے تو اس کے لیے تیمم جائز ہے۔ خوف فوت کے یہ معنی ہیں کہ چاروں تکبیریں جاتی رہنے کا اندیشہ ہو اور اگر یہ معلوم ہو کہ ایک تکبیر بھی مل جائے گی تو تیمم جائز نہیں۔ (4)
مسئلہ ۲۸: ایک جنازہ کے لیے تیمم کیا اور نماز پڑھی پھر دوسرا جنازہ آیا اگر درمیان میں اتنا وقت ملا کہ وُضو کرتا تو کر لیتا مگر نہ کیا اور اب وُضو کرے تو نماز ہو چکے گی تو اس کے لیے اب دوبارہ تیمم کرے اور اگر اتنا وقفہ نہ ہو کہ وُضو کر سکے تو وہی پہلا تیمم کافی ہے۔ (5)
مسئلہ ۲۹: سلام کا جواب دینے یا درود شریف وغیرہ وظائف پڑھنے یا سونے یا بے وُضو کو مسجد میں جانے یا زبانی قرآن پڑھنے کے لیے تیمم جائز ہے اگرچہ پانی پر قدرت ہو۔
مسئلہ ۳۰: جس پر نہانا فرض ہے اسے بغیر ضرورت مسجد میں جانے کے لیے تیمم جائز نہیں ہاں اگر مجبوری ہو جیسے ڈول رسّی مسجد میں ہو اور کوئی ایسا نہیں جو لا دے تو تیمم کر کے جائے اور جلد سے جلد لے کر نکل آئے۔ (6)
1 ۔ مجدّد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:''پانی نہ ہونے کی حالت میں بے وضو نے مسجد میں ذکر کے لیے بیٹھنے بلکہ مسجد میں سونے کے لیے (کہ سرے سے عبادت ہی نہیں) یا پانی ہوتے ہوئے سجدہ تلاوت یا سجدہ شکر یا مسِ مصحف یا باوجود وسعت وقت نمازِ پنجگانہ یا جمعہ یا جنب نے تلاوت قرآن کے لیے تیمم کیا لغووباطل وناجائز ہوگا کہ ان میں سے کوئی بے بدل فوت نہ ہوتا تھا، یونہی ہماری تحقیق پرتہجد یا چاشت یا چاند گہن کی نماز کے لیے، اگرچہ اُن کا وقت جاتا ہوکہ یہ نفل ہیں سنّتِ مؤکدہ نہیں تو باوجودِ آب (یعنی پانی کی موجودگی میں) زیارتِ قبور یا عیا دتِ مریض یا سونے کے لیے تیمم بدرجہ اَولیٰ لغو ہے۔'' ( ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۵۵۷).
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۵۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثالث، ج۱، ص۳۱.
4 ۔ المرجع السابق،وغیرہ.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۷۹۱.
مسئلہ ۳۱: مسجد میں سویا تھا اور نہانے کی ضرورت ہوگئی تو آنکھ کھلتے ہی جہاں سویا تھا وہیں فوراً تیمم کر کے نکل آئے(1) تاخیرحرام ہے۔ (2)
مسئلہ ۳۲: قرآن مجید چھونے کے لیے یا سجدہ تلاوت یا سجدہ شکر کے لیے تیمم جائز نہیں جب کہ پانی پر قدرت ہو۔ (3)
مسئلہ ۳۳: وقت اتنا تنگ ہو گیا کہ وُضو یا غُسل کریگا تو نماز قضا ہو جائے گی تو چاہیے کہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر وُضو یا غُسل کر کے اعادہ کرنا لازم ہے۔ (4)
مسئلہ ۳۴: عورت حَیض و نِفاس سے پاک ہوئی اور پانی پر قادر نہیں تو تیمم کرے۔ (5)
مسئلہ ۳۵: مُردے کواگر غُسل نہ دے سکیں خواہ اس وجہ سے کہ پانی نہیں یا اس وجہ سے کہ اُس کے بدن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں جیسے اجنبی عورت یا اپنی عورت کہ مرنے کے بعد اسے چھو نہیں سکتا تو اسے تیمم کرایا جائے، غیر محرم کو اگرچہ شوہر ہو عورت کو تیمم کرانے میں کپڑا حائل ہونا چاہیے۔ (6)
مسئلہ ۳۶: جنب اور حائض اور میّت اور بے وُضو یہ سب ایک جگہ ہیں اور کسی نے اتنا پانی جو غُسل کے لیے کافی ہے لاکر کہا جو چاہے خرچ کرے تو بہتر یہ ہے کہ جنب اس سے نہائے اور مردے کو تیمم کرایا جائے اور دوسرے بھی تیمم کریں اور اگر کہا کہ اس میں تم سب کا حصہ ہے اور ہر ایک کو اس میں اتنا حصہ ملا جو اس کے کام کے لیے پورا نہیں تو چاہیے کہ مُردے کے غُسل کے لیے اپنا اپنا حصہ دے دیں اور سب تیمم کریں۔ (7)
مسئلہ ۳۷: دو شخص باپ بیٹے ہیں اور کسی نے اتنا پانی دیا کہ اس سے ایک کا وُضو ہو سکتا ہے تو وہ پانی باپ کے صرف
1 ۔ ہاں جو شخص عین کنارہ مسجدمیں ہو کہ پہلے ہی قدم میں خارج ہو جائے جیسے دروازے یا حُجرے یا زمین پیشِ حجرہ (یعنی حجرہ کے سامنے والی زمین )کے متصل سوتا تھا اور احتلام ہوا یا جنابت یاد نہ رہی اور مسجد میں ایک ہی قدم رکھا تھا، ان صورتوں میں فوراََ ایک قدم رکھ کر باہر ہو جائے کہ اس خروج(یعنی نکلنے میں) میں مرور في المسجد (یعنی مسجد میں چلنا ) نہ ہوگا اور جب تک تیمم پُورانہ ہو بحالِ جنابت(یعنی جنابت کی حالت میں) مسجد میں ٹھہرنا رہے گا۔ ( ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۴۸۰ ) .
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۴۷۹.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۳۰۵.
4 ۔ المرجع السابق، ص۳۱۰.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۴۹.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في قراء ۃ عند المیت، ج۳، ص۱۰۵، ۱۱۰.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۷۴.
میں آنا چاہیے۔ (1)
مسئلہ ۳۸: اگر کوئی ایسی جگہ ہے کہ نہ پانی ملتا ہے نہ پاک مٹی کہ تیمم کرے تو اسے چاہیے کہ وقت نماز میں نماز کی سی صورت بنائے یعنی تمام حرکات نماز بلا نیت نماز بجا لائے۔
مسئلہ ۳۹: کوئی ایسا ہے کہ وُضو کرتا تو پیشاب کے قطرے ٹپکتے ہیں اور تیمم کرے تو نہیں تو اسے لازم ہے کہ تیمم کرے۔ (2)
مسئلہ ۴۰: اتنا پانی ملا جس سے وُضو ہو سکتا ہے اور اسے نہانے کی ضرورت ہے تو اس پانی سے وُضو کر لینا چاہیے اور غُسل کے لیے تیمم کرے۔ (3)
مسئلہ ۴۱: تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ کی انگلیاں کشادہ کر کے کسی ایسی چیز پر جو زمین کی قسم سے ہو مار کر لوٹ لیں اور زِیادہ گرد لگ جائے تو جھاڑ لیں اور اس سے سارے مونھ کا مسح کریں پھر دوسری مرتبہ یوہیں کریں اور دونوں ہاتھوں کا ناخن سے کہنیوں سمیت مسح کریں۔ (4)
مسئلہ ۴۲: وُضو اور غُسل دونوں کا تیمم ایک ہی طرح ہے۔ (5)
مسئلہ ۴۳: تیمم میں تین فرض ہیں:
(۱) نیت: اگر کسی نے ہاتھ مٹی پر مار کر مونھ اور ہاتھوں پر پھیر لیا اور نیت نہ کی تیمم نہ ہوگا ۔ (6)
مسئلہ ۴۴: کافر نے اسلام لانے کے لیے تیمم کیا اس سے نماز جائز نہیں کہ وہ اس وقت نیت کا اہل نہ تھا بلکہ اگر قدرت پانی پر نہ ہو تو سِرے سے تیمم کرے۔ (7)
مسئلہ ۴۵: نماز اس تیمم سے جائز ہو گی جو پاک ہونے کی نیت یا کسی ایسی عبادت مقصودہ کے لیے کیا گیا ہو جو بلاطہارت جائز نہ ہو تو اگر مسجد میں جانے یا نکلنے یا قرآن مجید چھونے یا اذان و اقامت (یہ سب عبادت مقصود ہ نہیں) یا سلام کرنے یا سلام کا جواب دینے یا زیارت قبور یا دفن میت یا بے وُضو نے قرآن مجید پڑھنے (ان سب کے لیے طہارت شرط نہیں)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب ا لطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثالث، ج۱، ص۳۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثالث، ج۱، ص۳۱.
3 ۔ ''الفتاوی التاتارخانیۃ''، کتاب الطہارۃ، الفصل الخامس في التیمم، ج۱، ص۲۵۵.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثالث، ج۱، ص۳۰.
5 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ص۲۸.
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۳۷۳.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶.
کے لیے تیمم کیا ہو تو اس سے نماز جائز نہیں بلکہ جس کے لیے کیا گیا اس کے سوا کوئی عبادت بھی جائز نہیں۔ (1)
مسئلہ ۴۶: جنب نے قرآن مجید پڑھنے کے لیے تیمم کیا ہو تو اس سے نماز پڑھ سکتا ہے سجدہ شکر کی نیت سے جو تیمم کیا ہو اس سے نماز نہ ہوگی۔
مسئلہ ۴۷: دوسرے کو تیمم کا طریقہ بتانے کے لیے جو تیمم کیا اس سے بھی نماز جائز نہیں۔ (2)
مسئلہ ۴۸: نماز جنازہ یا عیدین یا سنتوں کے لیے اس غرض سے تیمم کیا ہو کہ وُضو میں مشغول ہو گا تو یہ نمازیں فوت ہو جائیں گی تو اس تیمم سے اس خاص نماز کے سوا کوئی دوسری نماز جائز نہیں۔ (3)
مسئلہ ۴۹: نماز جنازہ یا عیدین کے لیے تیمم اس وجہ سے کیا کہ بیمار تھا یا پانی موجود نہ تھا تو اس سے فرض نماز اور دیگر عبادتیں سب جائز ہیں۔
مسئلہ ۵۰: سجدہ تلاوت کے تیمم سے بھی نمازیں جائز ہیں۔ (4)
مسئلہ ۵۱: جس پر نہانا فرض ہے اسے یہ ضرور نہیں کہ غُسل اور وُضو دونوں کے لیے دوتیمم کرے بلکہ ایک ہی میں دونوں کی نیت کرلے دونوں ہو جائیں گے اور اگر صرف غُسل یا وُضو کی نیت کی جب بھی کافی ہے۔
مسئلہ ۵۲: بیمار یا بے دست و پا اپنے آپ تیمم نہیں کر سکتا تو اسے کوئی دوسرا شخص تیمم کرا دے اور اس وقت تیمم کرانے والے کی نیت کا اعتبار نہیں بلکہ اس کی نیت چاہے جسے کرایا جارہا ہے۔ (5)
(۲) سارے مونھ پر ہاتھ پھیرنا: اس طرح کہ کوئی حصہ باقی رہ نہ جائے اگر بال برابر بھی کوئی جگہ رہ گئی تیمم نہ ہوا۔ (6)
مسئلہ ۵۳: داڑھی اور مونچھوں اور بھووں کے بالوں پر ہاتھ پھر جانا ضروری ہے۔ مونھ کہاں سے کہاں تک ہے اس کو ہم نے وُضو میں بیان کر دیا بھوؤں کے نیچے اور آنکھوں کے اوپر جو جگہ ہے اور ناک کے حصہ زیریں کا خیال رکھیں کہ اگر خیال نہ رکھیں گے تو ان پر ہاتھ نہ پھرے گا اور تیمم نہ ہوگا۔ (7)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۵۵،۴۵۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطھارۃ، باب التیمم، ج۱، ص ۴۴۸.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶.
مسئلہ ۵۴: عورت ناک میں پھول پہنے ہو تو نکال لے ورنہ پھول کی جگہ باقی رہ جائے گی اور نَتھ پہنے ہو جب بھی خیال رکھے کہ نَتھ کی وجہ سے کوئی جگہ باقی تو نہیں رہی۔
مسئلہ ۵۵: نتھنوں کے اندر مسح کرنا کچھ درکار نہیں۔
مسئلہ ۵۶: ہونٹ کا وہ حصہ جو عادۃً مونھ بند ہونے کی حالت میں دکھائی دیتا ہے اس پر بھی مسح ہو جانا ضرور ی ہے تو اگر کسی نے ہاتھ پھیرتے وقت ہونٹوں کو زور سے دبالیا کہ کچھ حصہ باقی رہ گیا تیمم نہ ہوا۔ یوہیں اگر زور سے آنکھیں بند کرلیں جب بھی تیمم نہ ہوگا۔
مسئلہ ۵۷: مونچھ کے بال اتنے بڑھ گئے کہ ہونٹ چھپ گیا تو ان بالوں کو اٹھا کر ہونٹ پر ہاتھ پھیرے، بالوں پر ہاتھ پھیرنا کافی نہیں۔
(۳) دونوں ہاتھ کا کُہنیوں سمیت مسح کرنا: اس میں بھی یہ خیال رہے کہ ذرّہ برابر باقی نہ رہے ورنہ تیمم نہ ہو گا۔
مسئلہ ۵۸: انگوٹھی چھلّے پہنے ہو تو انھیں اتار کر ان کے نیچے ہاتھ پھیرنا فرض ہے۔(1) عورتوں کو اس میں بہت اِحْتِیاط کی ضرورت ہے۔ کنگن چوڑیاں جتنے زیور ہاتھ میں پہنے ہو سب کو ہٹا کر یا اتار کر جلد کے ہر حصہ پر ہاتھ پہنچائے اس کی احیتاطیں وُضو سے بڑھ کر ہیں۔
مسئلہ ۵۹: تیمم میں سر اور پاؤں کا مسح نہیں۔
مسئلہ ۶۰: ایک ہی مرتبہ ہاتھ مار کر مونھ اور ہاتھوں پرمسح کر لیا تیمم نہ ہوا ہاں اگر ایک ہاتھ سے سارے مونھ کا مسح کیا اور دوسرے سے ایک ہاتھ کا اور ایک ہاتھ جو بچ رہا اُس کے لیے پھر ہاتھ مارا اور اس پر مسح کر لیا تو ہوگیا مگر خلافِ سنّت ہے۔ (2)
مسئلہ ۶۱: جس کے دونوں ہاتھ یا ایک پہنچے سے کٹا ہو تو کُہنیوں تک جتنا باقی رہ گیا اُس پر مسح کرے اور اگر کُہنیوں سے اوپر تک کٹ گیا تو اسے بقیہ ہاتھ پر مسح کرنے کی ضرورت نہیں پھر بھی اگر اس جگہ پر جہاں سے کٹ گیا ہے مسح کرلے تو بہتر ہے۔ (3)
مسئلہ ۶۲: کوئی لنجھا ہے یا اس کے دونوں ہاتھ کٹے ہیں اور کوئی ایسا نہیں جو اسے تیمم کرا دے تو وہ اپنے ہاتھ اور رخسار جہاں تک ممکن ہو زمین یا دیوار سے مس کرے اور نماز پڑھے مگر وہ ایسی حالت میں امامت نہیں کر سکتا۔ ہاں اس جیسا کوئی
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق.
اور بھی ہے تو اس کی امامت کر سکتا ہے۔ (1)
مسئلہ ۶۳: تیمم کے ارادے سے زمین پر لوٹا اور مونھ اور ہاتھوں پر جہاں تک ضرورہے ہر ذرّہ پر گرد لگ گئی تو ہو گیا ورنہ نہیں اور اس صورت میں مونھ اور ہاتھوں پر ہاتھ پھیر لینا چاہیے۔ (2)
(۱) بسم اﷲ کہنا۔
(۲) ہاتھوں کو زمین پر مارنا۔
(۳) انگلیاں کھلی ہوئی رکھنا۔
(۴) ہاتھوں کو جھاڑ لینا یعنی ایک ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ کو دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ پر مارنا نہ اس طرح کہ تالی کی سی آواز نکلے۔
(۵) زمین پر ہاتھ مار کر لوٹ دینا۔
(۶) پہلے مونھ پھر ہاتھ کا مسح کرنا۔
(۷) دونوں کا مسح پے درپے ہونا۔
(۸) پہلے داہنے ہاتھ پھر بائیں کا مسح کرنا۔
(۹) داڑھی کا خلال کرنا اور
(۱۰) انگلیوں کا خلال جب کہ غبار پہنچ گیا ہو اور اگر غبار نہ پہنچا مثلاً پتھر وغیرہ کسی ایسی چیز پر ہاتھ مارا جس پر غبار نہ ہو تو خلال فرض ہے۔ ہاتھوں کے مسح میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کا پیٹ داہنے ہاتھ کی پُشت پر رکھے اور انگلیوں کے سروں سے کہنی تک لے جائے اور پھر وہاں سے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے دہنے کے پیٹ کو مس کرتا ہوا گٹے تک لائے اور بائیں انگوٹھے کے پیٹ سے دہنے انگوٹھے کی پُشت کا مسح کرے یوہیں داہنے ہاتھ سے بائیں کا مسح کرے اور ایک دم سے پوری ہتھیلی اور انگلیوں سے مسح کرلیا تیمم ہو گیا خواہ کہنی سے انگلیوں کی طرف لایا یا انگلیوں سے کہنی کی طرف لے گیا مگر پہلی
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶،وغیرہ.
2 ۔ المرجع السابق.
صورت میں خلاف سنّت ہوا۔ (1)
مسئلہ ۱: اگر مسح کرنے میں صرف تین انگلیاں کام میں لایا جب بھی ہو گیا اور اگر ایک یا دو سے مسح کیا تیمم نہ ہوا اگرچہ تمام عُضْوْ پر ان کو پھیر لیا ہو۔
مسئلہ ۲: تیمم ہوتے ہوئے دوبارہ تیمم نہ کرے۔ (2)
مسئلہ ۳: خلال کے لیے ہاتھ مارنا ضروری نہیں۔ (3)
مسئلہ ۱: تیمم اسی چیز سے ہو سکتا ہے جو جنس زمین سے ہو اور جو چیز زمین کی جنس سے نہیں اس سے تیمم جائز نہیں۔(4)
مسئلہ ۲: جس مٹی سے تیمم کیا جائے اس کا پاک ہونا ضرور ی ہے یعنی نہ اس پر کسی نجاست کا اثر ہو نہ یہ ہو کہ محض خشک ہونے سے اثر نَجاست جاتا رہا ہو۔ (5)
مسئلہ ۳: جس چیز پر نجاست گری اور سُوکھ گئی اس سے تیمم نہیں کر سکتے اگرچہ نجاست کا اثر باقی نہ ہو البتہ نماز اس پر پڑھ سکتے ہیں۔ (6)
مسئلہ ۴: یہ وہم کہ کبھی نجس ہوئی ہو گی فضول ہے اس کا اعتبار نہیں۔
مسئلہ ۵: جو چیز آگ سے جل کر نہ راکھ ہوتی ہے نہ پگھلتی ہے نہ نَرْم ہوتی ہے وہ زمین کی جنس سے ہے اس سے تیمم جائز ہے۔ ریتا، چونا، سرمہ، ہرتال، گندھک، مردہ سنگ، گیرو، پتھر، زبرجد، فیروزہ، عقیق، زمرد وغیرہ جواہر سے تیمم جائز ہے اگرچہ ان پر غبار نہ ہو۔ (7)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۳۷۔۴۳۹.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثالث، ج۱، ص۳۰، وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۳۷۶.
3 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۲۵۳.
4 ۔ ''خلاصۃ الفتاوی''، کتاب الطہارات، الفصل الخامس في التیمم، ج۱، ص۳۵.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶.
6 ۔ المرجع السابق، ص۲۷،وغیرہ.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶۔۲۷.
مسئلہ ۶: پکّی اینٹ چینی یا مٹی کے برتن سے جس پر کسی ایسی چیز کی رنگت ہو جو جنس زمین سے ہے۔جیسے گیرو (1) کَھریا (2) مٹی یا وہ چیز جس کی رنگت جنس زمین سے تو نہیں مگر برتن پر اس کا جرم نہ ہو تو ان دونوں صورتوں میں اس سے تیمم جائز ہے اور اگر جنس زمین سے نہ ہو اور اس کا جرم برتن پر ہو تو جائز نہیں۔
مسئلہ ۷: شورہ جو ہنوز پانی میں ڈال کر صاف نہ کیا گیا ہو اس سے تیمم جائز ہے ورنہ نہیں۔ (3)
مسئلہ ۸: جو نمک پانی سے بنتا ہے اس سے تیمم جائز نہیں اور جو کان سے نکلتا ہے جیسے سیندھا نمک اس سے جائز ہے۔ (4)
مسئلہ ۹: جو چیز آگ سے جل کر راکھ ہو جاتی ہو جیسے لکڑی، گھاس وغیرہ یا پگھل جاتی یا نَرْم ہو جاتی ہو جیسے چاندی،سونا، تانبا، پیتل، لوہا وغیرہ دھاتیں وہ زمین کی جنس سے نہیں اس سے تیمم جائز نہیں۔ ہاں یہ دھاتیں اگر کان سے نکال کر پگھلائی نہ گئیں کہ ان پر مٹی کے اجزا ہنوز باقی ہیں تو ان سے تیمم جائز ہے اور اگر پگھلا کر صاف کر لی گئیں اور ان پر اتنا غبار ہے کہ ہاتھ مارنے سے اس کا اثر ہاتھ میں ظاہر ہوتا ہے تو اس غبار سے تیمم جائز ہے، ورنہ نہیں۔ (5)
مسئلہ ۱۰: غلہ، گیہوں، جو وغیرہ اور لکڑی یا گھاس اور شیشہ پر غبار ہو تو اس غبار سے تیمم جائز ہے جب کہ اتنا ہو کہ ہاتھ میں لگ جاتا ہو ورنہ نہیں۔ (6)
مسئلہ ۱۱: مشک و عنبر، کافور، لوبان سے تیمم جائز نہیں۔ (7)
مسئلہ ۱۲: موتی اور سیپ اور گھونگے سے تیمم جائز نہیں اگرچہ پسیہوں اور ان چیزوں کے چُونے سے بھی ناجائز۔ (8)
مسئلہ ۱۳: راکھ اور سونے چاندی فولاد وغیرہ کے کشتوں سے بھی جائز نہیں۔ (9)
مسئلہ ۱۴: زمین یا پتھر جل کر سیاہ ہو جائے اس سے تیمم جائز ہے یوہیں اگر پتھر جل کر راکھ ہو جائے اس سے بھی جائز ہے۔ (10)
1 ۔ ایک قسم کی لال مٹی۔ 2 ۔ ایک قسم کی سفید مٹی۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶.
4 ۔ المرجع السابق، ص۲۷. 5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق. 7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۶۵۷. 9 ۔ المرجع السابق، ص۶۵۶.
10 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۷،وغیرہ.
مسئلہ ۱۵: اگر خاک میں راکھ مل جائے اور خاک زِیادہ ہو تو تیمم جائز ہے ورنہ نہیں۔ (1)
مسئلہ ۱۶: زرد، سرخ، سبز، سیاہ رنگ کی مٹی سے تیمم جائز ہے(2) مگر جب رنگ چھوٹ کر ہاتھ مونھ کو رنگین کر دے تو بغیر ضرورت شدیدہ اس سے تیمم کرنا جائز نہیں اور کر لیا تو ہوگیا۔
مسئلہ ۱۷: بھیگی مٹی سے تیمم جائز ہے جب کہ مٹی غالب ہو۔ (3)
مسئلہ ۱۸: مسافر کا ایسی جگہ گزر ہوا کہ سب طرف کیچڑ ہی کیچڑ ہے اور پانی نہیں پاتا کہ وُضو یا غُسل کرے اور کپڑے میں بھی غبار نہیں تو اسے چاہیے کہ کپڑا کیچڑ میں سان کر سکھالے اور اس سے تیمم کرے اور اگروقت جاتا ہو تو مجبوری کوکیچڑ ہی سے تیمم کرلے جب کہ مٹی غالب ہو۔ (4)
مسئلہ ۱۹: گدّے اور دری وغیرہ میں غبار ہے تو اس سے تیمم کر سکتا ہے اگرچہ وہاں مٹی موجود ہو جب کہ غبار اتنا ہو کہ ہاتھ پھیرنے سے انگلیوں کا نشان بن جائے۔ (5)
مسئلہ ۲۰: نجس کپڑے میں غبار ہو اس سے تیمم جائز نہیں ہاں اگر اس کے سُوکھنے کے بعد غبار پڑا تو جائز ہے۔ (6)
مسئلہ ۲۱: مکان بنانے یا گرانے میں یا کسی اور صورت سے مونھ اور ہاتھوں پر گرد پڑی اور تیمم کی نیت سے مونھ اور ہاتھوں پر مسح کر لیا تیمم ہوگیا۔ (7)
مسئلہ ۲۲: گچ کی دیوار پر تیمم جائز ہے۔ (8)
مسئلہ ۲۳: مصنوعی مُردہ سنگ سے تیمم جائز نہیں۔ (9)
مسئلہ ۲۴: مونگے یا اس کی راکھ سے تیمم جائز نہیں۔ (10)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۷.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۳۰۲.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۷.
7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۵۳.
9 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۶۵۴.
10 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۵۲.
مسئلہ ۲۵: جس جگہ سے ایک نے تیمم کیا دوسرا بھی کر سکتا ہے یہ جو مشہور ہے کہ مسجد کی دیوار یا زمین سے تیمم ناجائز یا مکروہ ہے غلط ہے۔ (1)
مسئلہ ۲۶: تیمم کے لیے ہاتھ زمین پر مارا اور مسح سے پہلے ہی تیمم ٹوٹنے کا کوئی سبب پایا گیا تو اس سے تیمم نہیں کرسکتا۔ (2)
مسئلہ ۱: جن چیزوں سے وُضو ٹوٹتا ہے یا غُسل واجب ہوتا ہے ان سے تیمم بھی جاتا رہے گا اور علاوہ ان کے پانی پر قادر ہونے سے بھی تیمم ٹوٹ جائے گا۔ (3)
مسئلہ ۲: مریض نے غُسل کا تیمم کیا تھا اور اب اتنا تندرست ہو گیا کہ غُسل سے ضرر نہ پہنچے گا تیمم جاتا رہا۔ (4)
مسئلہ ۳: کسی نے غُسل اور وُضو دونوں کے لیے ایک ہی تیمم کیا تھا پھر وُضو توڑنے والی کوئی چیز پائی گئی یا اتنا پانی پایا کہ جس سے صرف وُضو کر سکتا ہے یا بیمار تھا اور اب اتنا تندرست ہو گیا کہ وُضو نقصان نہ کریگا اور غُسل سے ضرر ہو گا تو صرف وُضو کے حق میں تیمم جاتا رہا غُسل کے حق میں باقی ہے۔ (5)
مسئلہ ۴: جس حالت میں تیمم ناجائز تھا اگر وہ بعد تیمم پائی گئی تیمم ٹوٹ گیا جیسے تیمم والے کا ایسی جگہ گذر ہوا کہ وہاں سے ایک میل کے اندر پانی ہے تو تیمم جاتا رہا۔ یہ ضرور نہیں کہ پانی کے پاس ہی پہنچ جائے۔
مسئلہ ۵: اتنا پانی ملا کہ وُضو کے لیے کافی نہیں ہے یعنی ایک مرتبہ مونھ اور ایک ایک مرتبہ دونوں ہاتھ پاؤں نہیں دھوسکتا تو وُضو کا تیمم نہیں ٹوٹا اور اگر ایک ایک مرتبہ دھو سکتا ہے تو جاتا رہا۔ یوہیں غُسل کے تیمم کرنے والے کو اتنا پانی ملا جس سے غُسل نہیں ہو سکتا تو تیمم نہیں گیا۔ (6)
مرجان (یعنی مونگے)سے تیمم کرنے کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے فتاویٰ رضویہ ، جلد3 صَفْحَہ 684تا688 ملاحظہ فرمایئے۔
1 ۔ ''منیۃ المصلي''، بیان التیمم وطہارۃ الأرض، ص۵۸.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۷۳۸.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۶.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۹.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۰.
و ''الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱، ص۴۷۸.
مسئلہ ۶: ایسی جگہ گزر ا کہ وہاں سے پانی قریب ہے مگر پانی کے پاس شیر یا سانپ یا دشمن ہے جس سے جان یا مال یا آبرو کا صحیح اندیشہ ہے یا قافلہ انتظار نہ کریگا اور نظروں سے غائب ہو جائے گا یا سواری سے اتر نہیں سکتا جیسے ریل یا گھوڑا کہ اس کے روکے نہیں رُکتا یا گھوڑا ایسا ہے کہ اُترنے تو دے گا مگر پھر چڑھنے نہ دے گا یایہ اتنا کمزور ہے کہ پھر چڑھ نہ سکے گا یا کوئیں میں پانی ہے اور اس کے پاس ڈول رسّی نہیں تو ان سب صورتوں میں تیمم نہیں ٹوٹا۔ (1)
مسئلہ ۷: پانی کے پاس سے سوتا ہوا گذرا تیمم نہیں ٹوٹا۔ (2) ہاں اگر تیمم وُضو کا تھا اور نیند اس حد کی ہے جس سے وُضو جاتا رہے تو بیشک تیمم جاتا رہا مگر نہ اس وجہ سے کہ پانی پر گذرا بلکہ سو جانے سے اور اگر اونگھتا ہوا پانی پرگذرا اور پانی کی اطلاع ہو گئی تو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں۔
مسئلہ ۸: پانی پر گزرا اور اپنا تیمم یاد نہیں جب بھی تیمم جاتا رہا۔ (3)
مسئلہ ۹: نماز پڑھتے میں گدھے یا خچر کا جھوٹا پانی دیکھا تو نماز پوری کرے پھر اس سے وُضو کرے پھر تیمم کرے اور نماز لوٹائے۔
مسئلہ ۱۰: نماز پڑھتا تھا اور دور سے ریتا چمکتا ہوا دکھائی دیا اور اُسے پانی سمجھ کر ایک قدم بھی چلا پھر معلوم ہوا ریتا ہے نماز فاسد ہو گئی مگر تیمم نہ گیا۔
مسئلہ ۱۱: چند شخص تیمم کیے ہوئے تھے کسی نے ان کے پاس ایک وُضو کے لائق پانی لا کر کہا جس کا جی چاہے اس سے وُضو کرلے سب کا تیمم جاتا رہے گا اور اگر وہ سب نماز میں تھے تو نماز بھی سب کی گئی اور اگر یہ کہا کہ تم سب اس سے وُضو کرلو تو کسی کا بھی تیمم نہ ٹوٹے گا۔(5) یوہیں اگر یہ کہا کہ میں نے تم سب کو اس پانی کا مالک کیا جب بھی تیمم نہ گیا۔
مسئلہ ۱۲: پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کیا تھا اب پانی ملا تو ایسا بیمار ہو گیا کہ پانی نقصان کریگا تو پہلا تیمم جاتا رہا اب بیماری کی وجہ سے پھر تیمم کرے یوہیں بیماری کی وجہ سے تیمم کیا اب اچھا ہو ا تو پانی نہیں ملتا جب بھی نیا تیمم کرے۔ (6)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۰،وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۰.
3 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۰.
6 ۔ المرجع السابق، ص۲۹۔ ۳۰ .
مسئلہ ۱۳: کسی نے غُسل کیا مگر تھوڑا سا بدن سوکھا رہ گیا یعنی اس پر پانی نہ بہا اور پانی بھی نہیں کہ اسے دھو لے اب غُسل کا تیمم کیا پھر بے وُضو ہوا اور وُضو کا بھی تیمم کیا پھر اسے اتنا پانی ملا کہ وُضو بھی کرلے اور وہ سوکھی جگہ بھی دھولے تو دونوں تیمم وُضو اور غُسل کے جاتے رہے اور اگر اتناپانی ملا کہ نہ اس سے وُضو ہو سکتا ہے نہ وہ جگہ دُھل سکتی ہے تو دونوں تیمم باقی ہیں اور اس پانی کو اس خشک حصہ کے دھونے میں صرف کرے جتنا دُھل سکے اور اگر اتنا ملا کہ وُضو ہو سکتا ہے اور خشکی کے لیے کافی نہیں تو وُضو کا تیمم جاتا رہا اس سے وُضو کرے اور اگر صرف خشک حصہ کو دھو سکتاہے اور وُضو نہیں کر سکتا تو غُسل کا تیمم جاتا رہا، وُضو کا باقی ہے اس پانی کو اس کے دھونے میں صرف کرے اور اگر ایک کر سکتا ہے چاہے وُضو کرے چاہے اسے دھولے تو غُسل کا تیمم جاتا رہا اس سے اس جگہ کو دھولے اور وُضو کا تیمم باقی ہے۔ (1)
حدیث ۱: امام احمدوابو داود نے مُغِیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مَوزوں پر مسح کیا ،میں نے عرض کی یا رسول اﷲ ! حضور بھول گئے فرمایا:'' بلکہ تُو بھولا میرے رب عزوجل نے اسی کا حکم دیا۔'' (2)
حدیث ۲: دارقُطنی نے ابوبکرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسافر کو تین دن، تین راتیں اور مقیم کو ایک دن رات مَوزوں پر مسح کرنے کی اجازت دی ،جب کہ طہارت کے ساتھ پہنے ہوں۔ (3)
حدیث ۳: تِرمذی و نَسائی صَفْوان بن عَسّال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، جب ہم مسافر ہوتے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حکم فرماتے کہ تین دن راتیں ہم موزے نہ اتاریں مگر بوجہ جنابت کے، ولیکن پاخانہ اور پیشاب اور سونے کے بعد نہیں۔ (4)
حدیث ۴: ابو داود نے روایت کی کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اگر دین اپنی رائے سے ہوتا تو موزے کا تَلا، بہ نسبت اوپر کے مسح میں بہتر ہوتا۔ (5)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۹.
2 ۔ ''سنن أبي داود'' ،کتاب الطھارۃ، باب المسح علی الخفین الحدیث: ۱۵۶، ج۱، ص ۸۶.
3 ۔ ''سنن الدار قطني''، کتاب الطھارۃ، باب الرخصۃ في المسح علی الخفین... إلخ، الحدیث: ۷۳۷، ج۱، ص۲۷۰.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب المسح علی الخفین للمسافر... إلخ، الحدیث: ۹۶، ج۱، ص۱۵۳.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب کیف المسح، الحدیث: ۱۶۲، ج۱، ص ۸۸.
حدیث ۵: ابو داود و تِرمذی راوی کہ مُغِیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا کہ مَوزوں کی پُشت پر مسح فرماتے۔ (1)
جو شخص موزہ پہنے ہوئے ہو وہ اگر وُضو میں بجائے پاؤں دھونے کے مسح کرے جائز ہے اور بہتر پاؤں دھونا ہے بشرطیکہ مسح جائز سمجھے۔ اور اس کے جواز میں بکثرت حدیثیں آئی ہیں جو قریب قریب تواتر کے ہیں، اسی لیے امام کرخی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں جو اس کو جائز نہ جانے اس کے کافر ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ امام شیخ الاسلام فرماتے ہیں جو اسے جائز نہ مانے گمراہ ہے۔ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اہلسنّت و جماعت کی علامت دریافت کی گئی فرمایا:
تَفْضِیْلُ الشَّیْخَیْنِ وَحُبُّ الْخَتْنَیْنِ وَمَسْحُ الْخُفَّیْنِ
یعنی حضرت امیر المومنین ابوبکر صدیق و امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنھما کو تمام صحابہ سے بزرگ جاننا اور امیر المومنین عثمانِ غنی و امیر المومنین علی مرتضی رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے محبت رکھنا اور مَوزوں پر مسح کرنا۔ (2) اور ان تینوں باتوں کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ حضرت کوفہ میں تشریف فرما تھے اور وہاں رافضیوں ہی کی کثرت تھی تو وہی علامات ارشاد فرمائیں جو ان کا رد ہیں۔ اس روایت کے یہ معنی نہیں کہ صرف ان تین باتوں کا پایا جانا سُنّی ہونے کے لیے کافی ہے۔ علامت شے میں پائی جاتی ہے، شے لازمِ علامت نہیں ہوتی جیسے حدیثِ صحیح بُخاری شریف میں وہابیہ کی علامت فرمائی:۔ (( سِیْمَا ھُمُ التَّحْلِیْقُ)) ان کی علامت سر منڈانا ہے۔ (3) اس کے یہ معنی نہیں کہ سر منڈانا ہی وہابی ہونے کے لیے کافی ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں اس کے جواز پر کچھ خدشہ نہیں کہ اس میں چالیس صحابہ سے مجھ کو حدیثیں پہنچیں۔ (4)
مسئلہ ۱ : جس پر غُسل فرض ہے وہ مَوزوں پر مسح نہیں کرسکتا۔ (5)
مسئلہ ۲ : عورتیں بھی مسح کر سکتی ہیں (6) مسح کرنے کے لیے چند شرطیں ہیں:
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء في المسح علی الخفین ظاھرھما، الحدیث: ۹۸، ج۱، ص۱۵۵.
2 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في المسح علی الخفین، ص۱۰۴.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب قراء ۃ الفاجر... إلخ، الحدیث: ۷۵۶۲، ج۴، ص۵۹۹.
4 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في المسح علی الخفین، ص۱۰۴.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین، ج۱، ص۴۹۵.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۶.
(۱) موزے ایسے ہوں کہ ٹخنے چھپ جائیں اس سے زِیادہ ہونے کی ضرورت نہیں اورا گردوایک اُنگل کم ہو جب بھی مسح درست ہے، ایڑی نہ کھلی ہو۔
(۲) پاؤں سے چپٹا ہو، کہ اس کو پہن کر آسانی کے ساتھ خوب چل پھر سکیں۔
(۳) چمڑے کا ہو یا صرف تَلا چمڑے کا اور باقی کسی اور دبیز چیز کا جیسے کرمچ وغیرہ۔
مسئلہ ۳ : ہندوستان میں جو عموماً سوتی یا اُونی موزے پہنے جاتے ہیں اُن پر مسح جائز نہیں ان کو اتار کر پاؤں دھونا فرض ہے۔ (1)
(۴) وُضو کرکے پہنا ہویعنی پہننے کے بعد اور حدث سے پہلے ایک ایسا وقت ہو کہ اس وقت میں وہ شخص با وُضو ہو خواہ پورا وُضو کرکے پہنے یا صرف پاؤں دھو کر پہنے بعد میں وُضو پورا کر لیا۔
مسئلہ ۴: اگر پاؤں دھو کر موزے پہن لیے اور حدث سے پہلے مونھ ہاتھ دھو لیے اور سر کا مسح کر لیا تو بھی مسح جائز ہے اور اگر صرف پاؤں دھو کر پہنے اور بعد پہننے کے وُضو پورا نہ کیا اور حدث ہو گیا تو اب وُضو کرتے وقت مسح جائز نہیں۔
مسئلہ ۵: بے وُضو موزہ پہن کر پانی میں چلا کہ پاؤں دُھل گئے اب اگر حدث سے پیشتر باقی اعضائے وُضو دھو لیے اور سر کا مسح کر لیا تو مسح جائز ہے ورنہ نہیں۔ (2)
مسئلہ ۶: وُضو کرکے ایک ہی پاؤں میں موزہ پہنااوردوسرا نہ پہنا ،یہاں تک کہ حدث ہوا تو اس ایک پر بھی مسح جائز نہیں دونوں پاؤں کا دھونا فرض ہے۔
مسئلہ ۷: تیمم کرکے موزے پہنے گئے تو مسح جائز نہیں۔ (3)
مسئلہ ۸: معذور کو صرف اس ایک وقت کے اندر مسح جائز ہے جس وقت میں پہنا ہو۔ ہاں اگر پہننے کے بعد اور حدث
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۳۴۵.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الأول، ج۱، ص۳۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الأول، ج۱، ص۳۳.
سے پہلے عذر جاتا رہا تو اس کے لیے وہ مدت ہے جو تندرست کے لیے ہے۔
(۵) نہ حالت جنابت میں پہنا نہ بعد پہننے کے جنب ہوا ہو۔
مسئلہ ۹: جنب نے جنابت کا تیمم کیااور وُضو کرکے موزہ پہنا تو مسح کر سکتا ہے مگرجب جنابت کا تیمم جاتا رہا تو اب مسح جائز نہیں۔ (1)
مسئلہ ۱۰: جنب نے غُسل کیا مگر تھوڑا سا بدن خشک رہ گیا اور موزے پہن لیے اور قبل حدث کے اس جگہ کو دھوڈالا تو مسح جائز ہے اور اگر وہ جگہ اعضائے وُضو میں دھونے سے رہ گئی تھی اور قبل دھونے کے حدث ہوا تو مسح جائز نہیں۔ (2)
(۶) مدّت کے اندر ہو اور اس کی مدت مقیم کے لیے ایک دن رات ہے اور مسافر کے واسطے تین دن اور تین راتیں۔ (3)
مسئلہ ۱۱: موزہ پہننے کے بعد پہلی مرتبہ جو حدث ہوا اس وقت سے اس کا شمار ہے مثلاً صبح کے وقت موزہ پہنا اور ظہر کے وقت پہلی بار حدث ہوا تو مقیم دوسرے دن کی ظہر تک مسح کرے اور مسافر چوتھے دن کی ظہر تک۔ (4)
مسئلہ ۱۲: مقیم کو ایک دن رات پورا نہ ہوا تھا کہ سفر کیا تو اب ابتدائے حدث سے تین دن، تین راتوں تک مسح کر سکتا ہے اور مسافر نے اقامت کی نیت کرلی تو اگر ایک دن رات پورا کر چکا ہے مسح جاتا رہا اور پاؤں دھونا فرض ہو گیا۔ اور نماز میں تھا تو نماز جاتی رہی اور اگر چوبیس گھنٹے پورے نہ ہوئے تو جتنا باقی ہے پورا کرلے۔
(۷) کوئی موزہ پاؤں کی چھوٹی تین انگلیوں کے برابر پھٹا نہ ہو یعنی چلنے میں تین اُنگل بدن ظاہر نہ ہوتا ہو اور اگر تین انگل پھٹا ہو اور بدن تین اُنگل سے کم دکھائی دیتا ہے تو مسح جائز ہے اور اگر دونوں تین تین اُنگل سے کم پھٹے ہوں اور مجموعہ تین اُنگل یا زِیادہ ہے تو بھی مسح ہو سکتا ہے۔ سلائی کھل جائے جب بھی یہی حکم ہے کہ ہر ایک میں تین انگل سے کم ہے تو جائز ورنہ نہیں۔ (5)
مسئلہ ۱۳: موزہ پھٹ گیا یا سِیون کھل گئی اور ویسے پہنے رہنے کی حالت میں تین انگل پاؤں ظاہر نہیں ہوتا مگر چلنے میں تین انگل دکھائی دے تو اس پر مسح جائز نہیں۔ (6)
مسئلہ ۱۴: ایسی جگہ پھٹا یا سیون کھلی کہ انگلیاں خود دکھائی دیں،تو چھوٹی بڑی کا اعتبار نہیں بلکہ تین انگلیاں ظاہر ہوں۔ (7)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الأول، ج۱، ص۳۳.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۵: ایک موزہ چند جگہ کم سے کم اتنا پھٹ گیا ہو کہ اس میں سو تالی جاسکے اور ان سب کا مجموعہ تین انگل سے کم ہے تو مسح جائز ہے ورنہ نہیں۔ (1)
مسئلہ ۱۶: ٹخنے سے اوپر کتنا ہی پھٹا ہو اس کا اعتبار نہیں۔ (2)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الأول، ج۱، ص۳۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الأول، ج۱، ص۳۴.
3 ۔ المرجع السابق، ص۳۳.
4 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في مسح علی الخفین، ص۱۱۰.
5 ۔ ''مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح''، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین، ص۳۱.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، ج۱، ص۳۲.
7 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في مسح علی الخفین، ص۱۰۹.
مسئلہ ۲۳: اگر ایک ہی انگلی سے تین بار نئے پانی سے ہر مرتبہ تر کرکے تین جگہ مسح کیا جب بھی ہو گیا مگر سنّت ادا نہ ہوئی اور اگر ایک ہی جگہ مسح ہر بار کیا یا ہر بار تر نہ کیا تو مسح نہ ہوا۔ (1)
مسئلہ ۲۴: انگلیوں کی نوک سے مسح کیا تو اگر ان میں اتنا پانی تھا کہ تین انگل تک برابر ٹپکتا رہا تو مسح ہوا ورنہ نہیں۔ (2)
مسئلہ ۲۵: موزے کی نوک کے پاس کچھ جگہ خالی ہے کہ وہاں پاؤں کا کوئی حصہ نہیں،اس خالی جگہ کا مسح کیا تو مسح نہ ہوا اور اگر بہ تکلف وہاں تک انگلیاں پہنچا دیں اور اب مسح کیا تو ہو گیا مگر جب وہاں سے پاؤں ہٹے گا فوراً مسح جاتا رہے گا۔ (3)
مسئلہ ۲۶: مسح میں نہ نےّت ضروری ہے نہ تین بار کرنا سنّت ایک بار کر لینا کافی ہے۔ (4)
مسئلہ ۲۷: موزے پر پائتا بہ پہنا اور اس پائتا بہ پر مسح کیا تو اگر موزے تک تری پہنچ گئی مسح ہو گیا ورنہ نہیں۔ (5)
مسئلہ ۲۸: موزے پہن کر شبنم میں چلا،یا اس پر پانی گر گیا یا مینھ کی بوندیں پڑیں اور جس جگہ مسح کیا جاتا ہے بقدر تین انگل کے تر ہو گیا تو مسح ہو گیا ہاتھ پھیرنے کی بھی حاجت نہیں۔ (6)
مسئلہ ۲۹: انگریزی بوٹ جوتے پر مسح جائز ہے اگر ٹخنے اس سے چھپے ہوں، عمامہ اور برقع اور نقاب اور دستانوں پر مسح جائز نہیں۔ (7)
مسئلہ ۱: جن چیزوں سے وُضو ٹوٹتا ہے ان سے مسح بھی جاتا رہتا ہے۔ (8)
مسئلہ ۲: مدت پوری ہوجانے سے مسح جاتا رہتا ہے اوراس صورت میں صرف پاؤں دھولینا کافی ہے پھر سے پورا وُضو کرنے کی حاجت نہیں اور بہتریہ ہے کہ پورا وُضو کرلے۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الأول، ج۱، ص۳۲.
2 ۔ المرجع السابق، ص۳۳.
3 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في مسح علی الخفین، ص۱۱۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۶،وغیرہ.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الأول، ج۱، ص۳۲.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الأول، ج۱، ص۳۳.
7 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۳۴۷ ۔ ۳۴۸.
8 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الطہارات، باب المسح علی الخفین، ج۱، ص۳۱.
مسئلہ ۳: مسح کی مدت پوری ہو گئی اور قوی اندیشہ ہے کہ موزے اتارنے میں سردی کے سبب پاؤں جاتے رہیں گے تو نہ اتارے اور ٹخنوں تک پورے موزے کا (نیچے اوپر اغل بغل اور ایڑیوں پر) مسح کرے کہ کچھ رہ نہ جائے۔ (1)
مسئلہ ۴: موزے اتار دینے سے مسح ٹوٹ جاتا ہے اگرچہ ایک ہی اتارا ہو۔ یوہیں اگر ایک پاؤں آدھے سے زِیادہ موزے سے باہر ہو جائے تو جاتا رہا، موزہ اتارنے یا پاؤں کا اکثر حصہ باہر ہونے میں پاؤں کا وہ حصہ معتبر ہے جو گٹوں سے پنجوں تک ہے پنڈلی کا اعتبار نہیں ان دونوں صورتوں میں پاؤں کا دھونا فرض ہے۔ (2)
مسئلہ ۵: موزہ ڈھیلا ہے کہ چلنے میں موزے سے ایڑی نکل جاتی ہے تو مسح نہ گیا۔ (3)ہاں اگر اتارنے کی نیت سے باہر کی تو ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ ۶: موزے پہن کر پانی میں چلا کہ ایک پاؤں کا آدھے سے زِیادہ حصہ دُھل گیا یا اور کسی طرح سے موزے میں پانی چلا گیا اور آدھے سے زِیادہ پاؤں دھل گیا تو مسح جاتا رہا۔ (4)
مسئلہ ۷: پائتا بوں پر اس طرح مسح کیا کہ مسح کی تری مَوزوں تک پہنچی تو پائتابوں کے اتارنے سے مسح نہ جائے گا۔
مسئلہ ۸: اعضائے وُضو اگر پھٹ گئے ہوں یا ان میں پھوڑا، یا اور کوئی بیماری ہو اور ان پر پانی بہانا ضرر کرتا ہو، یا تکلیف شدید ہوتی ہو تو بِھیگا ہاتھ پھیر لینا کافی ہے اور اگر یہ بھی نقصان کرتا ہو تو اس پر کپڑا ڈال کر کپڑے پر مسح کرے اور جو یہ بھی مُضِر ہو تو معاف ہے اور اگر اس میں کوئی دوا بھر لی ہوتو اس کا نکالنا ضرور نہیں اس پر سے پانی بہادینا کافی ہے۔ (5)
مسئلہ ۹: کسی پھوڑے، یا زخم ، یا فصد کی جگہ پر پٹی باندھی ہو کہ اس کو کھول کر پانی بہانے سے ،یا اس جگہ مسح کرنے سے، یا کھولنے سے ضرر ہو ،یا کھولنے والا باندھنے والا نہ ہو، تو اس پٹی پر مسح کر لے اور اگر پٹی کھول کر پانی بہانے میں ضرر نہ ہو تو دھونا ضروری ہے ،یا خود عُضْوْ پر مسح کر سکتے ہوں تو پٹی پر مسح کرنا جائز نہیں اور زخم کے گرد اگرد، اگرپانی بہانا ضرر نہ کرتا ہو تو دھونا ضروری ہے ورنہ اس پر مسح کر لیں اور اگر اس پر بھی مسح نہ کر سکتے ہوں تو پٹی پر مسح کر لیں اور پوری پٹی پر مسح کر لیں تو بہتر ہے اور
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۴،وغیرہ.
و ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الطھارۃ، باب مسح علی الخفین، مطلب نواقض المسح، ج ۱، ص ۵۰۸،۵۱۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۴.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین، مطلب: نواقض المسح، ج۱، ص۵۱۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۵،
و ''شرح الوقایۃ''، کتاب الطہارۃ، بیان جواز المسح علی الجبیرۃ، ج۱، ص۱۱۷.
اکثر حصہ پر ضروری ہے اور ایک بار مسح کافی ہے تکرار کی حاجت نہیں اور اگر پٹی پر بھی مسح نہ کر سکتے ہوں تو خالی چھوڑ دیں ،جب اتنا آرام ہو جائے کہ پٹی پر مسح کرنا ضرر نہ کرے تو فوراً مسح کر لیں ،پھر جب اتنا آرام ہو جائے کہ پٹی پر سے پانی بہانے میں نقصان نہ ہو تو پانی بہائیں، پھر جب اتنا آرام ہو جائے کہ خاص عُضْوْ پر مسح کر سکتا ہو تو فوراً مسح کرلے، پھر جب اتنی صحت ہو جائے کہ عُضْوْ پر پانی بہا سکتا ہو تو بہائے غرض اعلیٰ پر جب قدرت حاصل ہو اور جتنی حاصل ہوتی جائے ادنیٰ پر اکتفا جائز نہیں۔ (1)
مسئلہ ۱۰: ہڈّی کے ٹوٹ جانے سے تختی باندھی گئی ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (2)
مسئلہ ۱۱: تختی یا پٹی کھل جائے اورہنوز باندھنے کی حاجت ہو تو پھر دوبارہ مسح نہیں کیا جائے گا وہی پہلا مسح کافی ہے اور جو پھر باندھنے کی ضرورت نہ ہو تو مسح ٹوٹ گیا اب اس جگہ کو دھو سکیں تو دھو لیں ورنہ مسح کر لیں۔ (3)
اﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
(وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْمَحِیۡضِ ؕ قُلْ ہُوَ اَذًی ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیۡضِ ۙ وَلَا تَقْرَبُوۡہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ ۚ فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاۡتُوۡہُنَّ مِنْ حَیۡثُ اَمَرَکُمُ اللہُ ؕ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیۡنَ ﴿۲۲۲﴾ ) ـ4ـ
اے محبوب! تم سے حَیض کے بارے میں لوگ سوال کرتے ہیں تم فرما دو وہ گندی چیز ہے تو حَیض میں عورتوں سے بچو اور ان سے قربت نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں تو جب پاک ہو جائیں ان کے پاس اس جگہ سے آؤ جس کا اﷲ نے تمہیں حکم دیا بیشک اﷲ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے پاک ہونے والوں کو۔
حدیث ۱: صحیح مسلِم میں اَنَس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی فرماتے ہیں کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو حَیض آتا تو اسے نہ اپنے ساتھ کھلاتے نہ اپنے ساتھ گھروں میں رکھتے۔ صحابہ کرام نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا اس پر اﷲ تعالیٰ نے آیہ ( وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ ) نازل فرمائی تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: '' جِماع کے سوا ہر شے کرو ۔ '' اس کی خبر یہود کو پہنچی تو کہنے لگے کہ یہ (نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) ہماری ہر بات کا خلاف کرنا چاہتے ہیں، اس پر اُسَید بن حُضَیر اور عباد بن بشر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما نے آکر عرض کی کہ یہود ایسا ایسا کہتے ہیں تو کیا ہم ان سے جِماع نہ کریں (کہ پوری مخالفت
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۵.
2 ۔ ''مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح''، باب المسح علی الخفین، فصل في الجبیرۃ ونحوہا، ص۳۲.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في لفظ کل إذا دخلت... إلخ، ج۱، ص۵۱۹، وغیرہما.
4 ۔ پ۲، البقرۃ: ۲۲۲.
ہو جائے) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا روئے مبارک متغیر ہو گیا یہاں تک کہ ہم کو گمان ہوا کہ ان دونوں پر غضب فرمایا وہ دونوں چلے گئے اور ان کے آگے دودھ کا ہدیہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس آیا حضور نے آدمی بھیج کر ان کو بلوایا اور پلایا تو وہ سمجھے کہ حضور نے ان پر غضب نہیں فرمایا تھا۔ (1)
حدیث ۲: صحیح بُخاری میں ہے، ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ہم حج کے لیے نکلے جب سرف (2) میں پہنچے مجھے حَیض آیا تو میں رو رہی تھی کہ رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے فرمایا: ''تجھے کیا ہوا؟ کیا تو حائض ہوئی؟'' عرض کی، ہاں۔ فرمایا: ''یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر لکھ دیا ہے تو سوا خانہ کعبہ کے طواف کے سب کچھ ادا کر جسے حج کرنے والا ادا کرتا ہے۔'' اور فرماتی ہیں حضور نے اپنی ازواجِ مطہرات کی طرف سے ایک گائے قربانی کی۔ (3)
حدیث ۳: صحیح بُخاری میں ہے عروہ سے سوال کیا گیا حَیض والی عورت میری خدمت کر سکتی ہے؟ اور جنب عورت مجھ سے قریب ہو سکتی ہے؟ عروہ نے جواب دیا یہ سب مجھ پر آسان ہیں اور یہ سب میری خدمت کر سکتی ہیں اور کسی پر اس میں کوئی حَرَج نہیں، مجھے ام المومنین عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ وہ حَیض کی حالت میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے کنگھا کرتیں اور حضور معتکف تھے اپنے سر مبارک کو ان سے قریب کر دیتے اور یہ اپنے حجرے ہی میں ہوتیں۔ (4)
حدیث ۴: صحیح مسلِم میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے ہے فرماتی ہیں کہ زمانہ حَیض میں، میں پانی پیتی پھر حضور کو دے دیتی تو جس جگہ میرا مونھ لگا تھا حضور وہیں دہن مبارک رکھ کر پیتے اور حالت حَیض میں، میں ہڈّی سے گوشت نوچ کر کھاتی پھر حضور کو دے دیتی تو حضور اپنا دہن شریف اس جگہ رکھتے جہاں میرا مونھ لگا تھا۔ (5)
حدیث ۵: صحیحین میں اُنھیں سے ہے کہ میں حائض ہوتی اور حضور میری گود میں تکیہ لگا کر قرآن پڑھتے۔ (6)
حدیث ۶: صحیح مسلِم میں اُنھیں سے مروی، فرماتی ہیں: حضور نے مجھ سے فرمایا کہ: ''ہاتھ بڑھا کر مسجد سے مصلیٰ اٹھا دینا۔'' عرض کی میں حائض ہوں۔ فرمایا: کہ '' تیرا حَیض تیرے ہاتھ میں نہیں۔'' (7)
1 ۔ صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا... إلخ، الحدیث: ۳۰۲، ص ۱۷۱.
2 ۔ مکہ کے قریب ایک مقام ہے۔۱۲منہ
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الحیض، باب الأمر بالنفساء إذا نفسن، الحدیث: ۲۹۴، ج۱، ص۱۲۰.
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الحیض، باب غسل الحائض رأس زوجھا وترجیلہ، الحدیث: ۲۹۶، ج۱، ص۱۲۱.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا... إلخ، الحدیث: ۳۰۰، ص۱۷۱.
6 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الحیض، باب قراء ۃ الرجل فيحجر امرأتہ وھي حائض، الحدیث:۲۹۷، ج۱، ص۱۲۱.
7 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا... إلخ، الحدیث: ۲۹۸، ص۱۷۰.
حدیث ۷: صحیحین میں ام المومنین مَیمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک چادر میں نمازپڑھتے تھے جس کا کچھ حصہ مجھ پر تھا اور کچھ حضور پر اور میں حائض تھی۔ (1)
حدیث ۸: تِرمذی و ابنِ ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص حَیض والی سے یا عورت کے پیچھے کے مقام میں جِماع کرے ،یا کاہن کے پاس جائے ،اس نے کُفْران کیا اس چیز کا جو محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر اُتاری گئی۔'' (2)
حدیث ۹: رزین کی روایت ہے کہ مُعاذ بن جَبَل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یا رسول اﷲ ! میری عورت جب حَیض میں ہو تو میرے لیے کیا چیز اس سے حلال ہے؟ فرمایا:'' تہبند (ناف) سے اوپر اور اس سے بھی بچنا بہتر ہے۔'' (3)
حدیث ۱۰: اَصحاب ِسننِ اَربَعہ نے ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب کوئی شخص اپنی بی بی سے حَیض میں جِماع کرے تو نصف دینار صدقہ کرے۔'' (4) ترمذی کی دوسری روایت انھیں سے یوں ہے کہ فرمایا: ''جب سُرخ خون ہو تو ایک دینار اور جب زرد ہو تو نصف دینار۔'' (5)
حَیض کی حکمت :
عورت بالغہ کے بدن میں فطرۃً ضرورت سے کچھ زِیادہ خون پیدا ہوتا ہے کہ حمل کی حالت میں وہ خون بچے کی غذا میں کام آئے اور بچے کے دودھ پینے کے زمانہ میں وہی خون دودھ ہو جائے اور ایسا نہ ہو تو حمل اور دودھ پلانے کے زمانہ میں اس کی جان پر بن جائے، یہی وجہ ہے کہ حمل اور ابتدائے شیر خوارگی میں خون نہیں آتا اور جس زمانہ میں نہ حمل ہو نہ دودھ پلانا وہ خون اگر بدن سے نہ نکلے تو قِسم قِسم کی بیماریاں ہو جائیں۔
مسئلہ ۱: بالغہ عورت کے آگے کے مقام سے جو خون عادی طور پر نکلتا ہے اور بیماری یا بچہ پیدا ہونے کے سبب سے نہ ہو، اُسے حَیض کہتے ہیں اور بیماری سے ہو تو اِستحاضہ اور بچہ ہونے کے بعد ہو تو نِفاس کہتے ہیں۔ (6)
1 ۔ '' السنن الکبری'' للبیھقي، کتاب الصلاۃ، باب النھي عن الصلاۃ في الثوب الواحد... إلخ، الحدیث: ۳۲۹۰، ج۲، ص۳۳۸.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء في کراھیۃ إتیان الحائض، الحدیث: ۱۳۵، ج۱، ص ۱۸۵.
3 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، الفصل الثاني، الحدیث: ۵۵۲، ج ۱، ص ۱۸۵.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب في اتیان الحائض، الحدیث: ۲۶۶، ج۱، ص ۱۲۴.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء في الکفارۃ في ذلک، الحدیث: ۱۳۷، ج۱، ص ۱۸۷.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الفصل الأول في الحیض، ج۱، ص۳۶،۳۷،وغیرہ.
مسئلہ ۲: حَیض کی مدت کم سے کم تین دن تین راتیں یعنی پورے ۷۲ گھنٹے، ایک منٹ بھی اگر کم ہے تو حَیض نہیں اور زِیادہ سے زِیادہ دس دن دس راتیں ہیں۔ (1)
مسئلہ ۳: ۷۲ گھنٹے سے ذرا بھی پہلے ختم ہو جائے تو حَیض نہیں بلکہ اِستحاضہ ہے ہاں اگر کرن چمکی تھی کہ شروع ہوا اور تین دن تین راتیں پوری ہو کر کرن چمکنے ہی کے وقت ختم ہوا تو حَیض ہے اگرچہ دن بڑھنے کے زمانہ میں طلوع روز بروز پہلے اور غروب بعد کو ہوتا رہے گا اور دن چھوٹے ہونے کے زمانہ میں آفتاب کا نکلنا بعد کو اور ڈوبنا پہلے ہوتا رہے گا جس کی وجہ سے ان تین دن رات کی مقدار ۷۲ گھنٹے ہونا ضرور نہیں مگر عین طلوع سے طلوع اور غروب سے غروب تک ضرور ایک دن رات ہے ان کے ماسوا اگر اَور کسی وقت شروع ہوا تو وہی ۲۴ گھنٹے پورے کاایک دن رات لیا جائے گا، مثلاً آج صبح کو ٹھیک نو بجے شروع ہوا اور اس وقت پورا پہردن چڑھا تھا تو کل ٹھیک نو بجے ایک دن رات ہو گا اگرچہ ابھی پورا پہربھردن نہ آیا، جب کہ آج کا طلوع کل کے طلوع سے بعد ہو، یا پہر بھر سے زِیادہ دن آگیا ہوجب کہ آج کا طلوع کل کے طلوع سے پہلے ہو۔
مسئلہ ۴: دس رات دن سے کچھ بھی زِیادہ خون آیا تو اگر یہ حَیض پہلی مرتبہ اسے آیاہے تو دس دن تک حَیض ہے بعد کا اِستحاضہ اور اگر پہلے اُسے حَیض آچکے ہیں اور عادت دس دن سے کم کی تھی تو عادت سے جتنا زِیادہ ہو اِستحاضہ ہے۔ اسے یوں سمجھو کہ اس کو پانچ دن کی عادت تھی اب آیا دس دن تو کل حَیض ہے اور بارہ دن آیا تو پانچ دن حَیض کے باقی سات دن اِستحاضہ کے اور ایک حالت مقرر نہ تھی بلکہ کبھی چار دن کبھی پانچ دن تو پچھلی بار جتنے دن تھے وہی اب بھی حَیض کے ہیں باقی اِستحاضہ۔ (2)
مسئلہ ۵: یہ ضروری نہیں کہ مدت میں ہر وقت خون جاری رہے جب ہی حَیض ہو بلکہ اگر بعض بعض وقت بھی آئے جب بھی حَیض ہے۔ (3)
مسئلہ ۶: کم سے کم نوبرس کی عمر سے حَیض شروع ہو گا اور انتہائی عمر حَیض آنے کی پچپن سال ہے۔ اس عمر والی عورت کو آئسہ اور اس عمر کو سن ایاس کہتے ہیں۔ (4)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنسائ، الفصل الأول، ج۱، ص۳۶.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج۱، ص۵۲۳.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الفصل الأول في الحیض، ج۱، ص۳۷.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج۱، ص۵۲۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنسائ، الفصل الأول، ج۱، ص۳۶.
مسئلہ ۷: نو برس کی عمر سے پیشتر جو خون آئے اِستحاضہ ہے۔ یوہیں پچپن سال کی عمر کے بعد جو خون آئے۔(1) ہاں پچھلی صورت میں اگر خالص خون آئے یا جیسا پہلے آتا تھا اسی رنگ کا آیا تو حَیض ہے۔
مسئلہ ۸: حمل والی کو جو خون آیا اِستحاضہ ہے۔ یوہیں بچہ ہوتے وقت جو خون آیااور ابھی آدھے سے زِیادہ بچہ باہر نہیں نکلا وہ اِستحاضہ ہے۔ (2)
مسئلہ ۹: دو حَیضوں کے درمیان کم سے کم پورے پندرہ دن کا فاصلہ ضرور ہے۔ یوہیں نِفاس و حَیض کے درمیان بھی پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے تو اگر نِفاس ختم ہونے کے بعد پندرہ دن پورے نہ ہوئے تھے کہ خون آیا تو یہ اِستحاضہ ہے۔ (3)
مسئلہ ۱۰: حَیض اس وقت سے شمار کیا جائے گا کہ خون فرجِ خارِج میں آگیا تو اگر کوئی کپڑا رکھ لیا ہے جس کی وجہ سے فرجِ خارِج میں نہیں آیا داخل ہی میں رُکا ہوا ہے تو جب تک کپڑا نہ نکالے گی حَیض والی نہ ہو گی۔ نمازیں پڑھے گی، روزہ رکھے گی۔ (4)
مسئلہ ۱۱: حَیض کے چھ رنگ ہیں۔ (۱) سیاہ (۲) سرخ (۳) سبز (۴) زرد (۵) گدلا (۶) مٹیلا۔(5) سفید رنگ کی رطوبت حَیض نہیں۔
مسئلہ ۱۲: دس دن کے اندر رطوبت میں ذرا بھی میلا پن ہے تووہ حَیض ہے اور دس دن رات کے بعد بھی میلا پن باقی ہے تو عادت والی کے لیے جو دن عادت کے ہیں حَیض ہے اور عادت سے بعد والے اِستحاضہ اور اگرکچھ عادت نہیں تو دس دن رات تک حَیض باقی اِستحاضہ۔ (6)
مسئلہ ۱۳: گدّی جب تر تھی تو اس میں زردی یا میلا پن تھا بعد سُوکھ جانے کے سفید ہو گئی تو مدت حَیض میں حَیض ہی ہے اور اگر جب دیکھا تھا سفید تھی سُوکھ کر زرد ہوگئی تو یہ حَیض نہیں۔ (7)
مسئلہ ۱۴: جس عورت کو پہلی مرتبہ خون آیا اور اس کا سلسلہ مہینوں یا برسوں برابر جاری رہاکہ بیچ میں پندرہ دن کے لیے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الأول، ج۱، ص۳۶.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج۱، ص۵۲۴.
3 ۔ المرجع السابق .
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الأول، ج۱، ص۳۶.
5 ۔ المرجع السابق .
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الأول، ج۱، ص۳۷، وغیرہ.
7 ۔ المرجع السابق، ص۳۶.
بھی نہ رُکا، تو جس دن سے خون آنا شروع ہوااس روز سے دس دن تک حَیض اور بیس دن اِستحاضہ کے سمجھے اور جب تک خون جاری رہے یہی قاعدہ برتے۔ (1)
مسئلہ ۱۵: اور اگر اس سے پیشتر حَیض آچکا ہے تو اس سے پہلے جتنے دن حَیض کے تھے ہر تیس دن میں اتنے دن حَیض کے سمجھے باقی جو دن بچیں اِستحاضہ۔
مسئلہ ۱۶: جس عورت کو عمر بھر خون آیا ہی نہیں یا آیا مگر تین دن سے کم آیا، تو عمر بھر وہ پاک ہی رہی اور اگر ایک بار تین دن رات خون آیا، پھر کبھی نہ آیا تووہ فقط تین دن رات حَیض کے ہیں باقی ہمیشہ کے لیے پاک۔ (2)
مسئلہ ۱۷: جس عورت کو دس دن خون آیا اس کے بعد سال بھرتک پاک رہی پھر برابر خون جاری رہا تووہ اس زمانہ میں نماز، روزے کے لیے ہر مہینہ میں دس دن حَیض کے سمجھے بیس دن اِستحاضہ۔ (3)
مسئلہ ۱۸: کسی عورت کو ایک بار حَیض آیا، اس کے بعد کم سے کم پندرہ دن تک پاک رہی، پھر خون برابر جاری رہا اور یہ یاد نہیں کہ پہلے کتنے دن حَیض کے تھے اور کتنے طہر کے مگر یہ یاد ہے کہ مہینے میں ایک ہی مرتبہ حَیض آیا تھا ،تو اس مرتبہ جب سے خون شروع ہوا تین دن تک نماز چھوڑ دے ،پھر سات دن تک ہر نماز کے وقت میں غُسل کرے اور نماز پڑھے اور ان دسوں دن میں شوہر کے پاس نہ جائے، پھر بیس دن تک ہر نمازکے وقت تازہ وُضو کرکے نماز پڑھے اور دوسرے مہینہ میں اُنیس دن وُضو کرکے نماز پڑھے اور ان بیس یا ان اُنیس دن میں شوہر اس کے پاس جا سکتا ہے اور جو یہ بھی یاد نہ ہو کہ مہینے میں ایک بار آیا تھا یا دو بار، تو شروع کے تین دن میں نماز نہ پڑھے، پھر سات دن تک ہر وقت میں غُسل کر کے نماز پڑھے، پھر آٹھ دن تک ہر وقت میں وُضو کرکے نماز پڑھے اور صرف ان آٹھ دنوں میں شوہر اس کے پاس جاسکتا ہے اور ان آٹھ دن کے بعد بھی تین دن تک ہروقت میں وضوکرکے نماز پڑھے، پھر سات دن تک غُسل کر کے اور اس کے بعد آٹھ دن تک وُضو کر کے نماز پڑھے اور یہی سلسلہ ہمیشہ جاری ر کھے ۔
اور اگر طہارت کے دن یاد ہیں ،مثلاً پندرہ دن تھے اور باقی کوئی بات یاد نہیں تو شروع کے تین دن تک نمازنہ پڑھے،
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مبحث في مسائل المتحیرۃ، ج۱، ص۵۲۵.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''رد المحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج۱، ص۵۲۴.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، با ب الحیض، ج۱، ص۵۲۵.
پھر سات دن تک ہر وقت غُسل کرکے نماز پڑھے، پھر آٹھ دن وُضو کرکے نماز پڑھے، اس کے بعد پھر تین دن اَور وُضو کرکے نماز پڑھے، پھر چودہ دن تک ہر وقت غُسل کرکے نماز پڑھے، پھر ایک دن وُضو ہر وقت میں کرے اور نماز پڑھے، پھر ہمیشہ کے لیے جب تک خون آتا رہے ہر وقت غُسل کرے۔
اور اگر حَیض کے دن یاد ہیں مثلاً تین دن تھے اور طہارت کے دن یاد نہ ہوں تو شروع سے تین دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر اٹھارہ دن تک ہر وقت وُضو کرکے نماز پڑھے جن میں پندرہ پہلے تو یقینی طُہر ہیں اور تین دن پچھلے مشکوک ،پھر ہمیشہ ہر وقت غُسل کرکے نماز پڑھے اور اگریہ یاد ہے کہ مہینے میں ایک ہی بار حَیض آیا تھا اور یہ کہ وہ تین دن تھامگریہ یاد نہیں کہ وہ کیا تاریخیں تھیں، تو ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں وُضو کرکے نماز پڑھے اور ستائیس دن تک ہر وقت غُسل کرے۔ یوہیں چار دن یا پانچ دن حَیض کے ہونا یاد ہوں تو ان چار پانچ دنوں میں وُضو کرے باقی دنوں میں غُسل۔
اور اگر یہ معلوم ہے کہ آخر مہینے میں حَیض آتا تھا اور تاریخیں بھول گئی تو ستائیس دن وُضو کرکے نماز پڑھے اور تین دن نہ پڑھے ،پھر مہینہ ختم ہونے پر ایک بار غُسل کرلے۔
اور اگر یہ معلوم ہے کہ اکیس سے شروع ہوتا تھا اور یہ یاد نہیں کہ کتنے دن تک آتا تھا ،تو بیس کے بعد تین دن تک نماز چھوڑدے، اس کے بعد سات دن جو رہ گئے ان میں ہر وقت غُسل کرکے نماز پڑھے۔
اور اگر یہ یاد ہے کہ فلاں پانچ تاریخوں میں تین ۳ دن آیا تھامگر یہ یاد نہیں کہ ان پانچ ۵ میں وہ کون کون دن ہیں، تو دو پہلے دنوں میں وُضو کرکے نماز پڑھے اور ایک دن بیچ کا چھوڑدے اور اس کے بعد کے دو ۲ دنوں میں ہر وقت غُسل کرکے پڑھے اور چار ۴ دن میں تین ۳ دن ہیں تو پہلے دن وُضو کرکے پڑھے اور چوتھے ۴ دن ہر وقت میں غُسل کرے اور بیچ کے دو دنوں میں نہ پڑھے اور اگر چھ ۶ دنوں میں تین دن ہوں تو پہلے تین ۳ دنوں میں وُضو کر کے پڑھے، پچھلے تین دنوں میں ہر وقت میں غُسل کرکے اور اگر سات ۷ یا آٹھ ۸ یا نو ۹ یا دس ۱۰ دن میں تین دن ہوں تو پہلے تین دنوں میں وضواور باقی دنوں میں ہر وقت غُسل کرے۔
خلاصہ یہ کہ جن دنوں میں حَیض کا یقین ہو اور ٹھیک طرح سے یہ یاد نہ ہو کہ ان میں وہ کون سے دن ہیں تو یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ دن حَیض کے دنوں سے دُونے ہیں یا دُونے سے کم یا دُونے سے زِیادہ، اگر دُونے سے کم ہیں تو ان میں جودن یقینی حَیض ہونے کے ہوں ان میں نماز نہ پڑھے اور جن کے حَیض ہونے نہ ہونے دونوں کا احتمال ہو وہ اگر اول کے ہوں تو ان میں وُضو کرکے نماز پڑھے اور آخر کے ہوں تو ہر وقت میں غُسل کر کے نماز پڑھے اور اگر دُونے یا دُونے سے زِیادہ ہوں تو حَیض کے دنوں کے برابر شروع کے دنوں میں وُضو کرکے نماز پڑھے، پھر ہر وقت میں غُسل کرکے اور اگر یاد نہ ہو کہ کتنے دن حَیض کے تھے اور کتنے طہارت کے، نہ یہ کہ مہینے کے شروع کے دس دنوں میں تھا یا بیچ کے دس یا آخر کے دس دنوں میں، تو جی میں سوچے جو پہلو
جمے اس پر پابندی کرے اور اگر کسی بات پر طبیعت نہیں جمتی، تو ہر نماز کے لیے غُسل کرے اور فرض و واجب و سنّت موکدہ پڑھے، مستحب اور نَفْل نہ پڑھے اور فرض روزے رکھے، نَفْل روزے نہ رکھے اور ان کے علاوہ اور جتنی باتیں حَیض والی کو جائز نہیں اس کو بھی ناجائز ہیں، جیسے قرآن پڑھنا یا چھونا، مسجد میں جانا، سجدہ تلاوت وغیرہا۔
مسئلہ ۱۹: جس عورت کو نہ پہلے حَیض کے دن یاد، نہ یہ یاد کہ کن تاریخوں میں آیا تھا، اب تین دن یا زِیادہ خون آکر بند ہو گیا، پھر طہارت کے پندرہ دن پورے نہ ہوئے تھے کہ پھر خون جاری ہوا اور ہمیشہ کو جاری ہو گیا تو اس کا وہی حکم ہے جیسے کسی کو پہلی پہل خون آیا اور ہمیشہ کو جاری ہو گیا کہ دس دن حَیض کے شمار کرے پھر بیس دن طہارت کے۔
مسئلہ ۲۰: جس کی ایک عادت مقرر نہ ہو بلکہ کبھی مثلاً چھ دن حَیض کے ہوں اور کبھی سات، اب جو خون آیا تو بند ہوتا ہی نہیں، تو اس کے لیے نماز، روزے کے حق میں کم مدت یعنی چھ دن حَیض کے قرار دیے جائیں گے اور ساتویں روز نہا کر نماز پڑھے اور روزہ رکھے مگر سات دن پورے ہونے کے بعد پھر نہانے کا حکم ہے اور ساتویں دن جو فرض روزہ رکھا ہے اس کی قضا کرے اور عدت گزرنے یا شوہر کے پاس رہنے کے بارے میں زِیادہ مدت یعنی سات دن حَیض کے مانے جائیں گے یعنی ساتویں دن اس سے قربت جائز نہیں۔
مسئلہ ۲۱: کسی کو ایک دودن خون آکر بند ہو گیا اور دس دن پورے نہ ہوئے کہ پھر خون آیا دسویں دن بند ہو گیا تو یہ دسوں دن حَیض کے ہیں اور اگر دس دن کے بعدبھی جاری رہا تو اگر عادت پہلے کی معلوم ہے تو عادت کے دنوں میں حَیض ہے باقی اِستحاضہ ورنہ دس دن حَیض کے باقی اِستحاضہ۔ (1)
مسئلہ ۲۲: کسی کی عادت تھی کہ فلاں تاریخ میں حَیض ہو، اب اس سے ایک دن پیشتر خون آکر بند ہو گیا، پھر دس ۱۰ دن تک نہیں آیا اور گیارھویں ۱۱ دن پھر آگیا تو خون نہ آنے کے جو یہ دس ۱۰ دن ہیں ،ان میں سے اپنی عادت کے دنوں کے برابر حَیض قرار دے اور اگر تاریخ تو مقرر تھی مگر حَیض کے دن مُعیّن نہ تھے تو یہ دسوں ۱۰ دن خون نہ آنے کے حَیض ہیں۔
مسئلہ ۲۳: جس عورت کو تین ۳ دن سے کم خون آکر بند ہو گیا اور پندرہ ۱۵ دن پورے نہ ہوئے کہ پھر آگیا، تو پہلی مرتبہ جب سے خون آنا شروع ہوا ہے حَیض ہے، اب اگر اس کی کوئی عادت ہے توعادت کے برابر حَیض کے دن شمار کرلے۔ ورنہ شروع سے دس ۱۰ دن تک حَیض اور پچھلی مرتبہ کا خون اِستحاضہ۔
مسئلہ ۲۴: کسی کو پورے تین دن رات خون آکر بند ہو گیا اور اس کی عادت اس سے زِیادہ کی تھی پھر تین دن رات
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الأول، ج۱، ص۳۷.
کے بعد سفید رطوبت عادت کے دنوں تک آتی رہی تو اس کے لیے صرف وہی تین دن رات حَیض کے ہیں اور عادت بدل گئی۔
مسئلہ ۲۵: تین ۳ دن رات سے کم خون آیا ،پھر پندرہ دن تک پاک رہی ،پھر تین دن رات
سے کم آیا تو نہ پہلی مرتبہ کا حَیض ہے نہ یہ بلکہ دونوں اِستحاضہ ہیں۔
نِفاس کس کو کہتے ہیں یہ ہم پہلے بیان کر آئے، اب اس کے متعلق مسائل بیان کرتے ہیں:
مسئلہ ۱: نِفاس میں کمی کی جانب کوئی مدت مقرر نہیں، نصف سے زِیادہ بچہ نکلنے کے بعد ایک آن بھی خون آیا تو وہ نِفاس ہے اور زِیادہ سے زِیادہ اس کا زمانہ چالیس ۴۰ دن رات ہے اور نِفاس کی مدت کا شمار اس وقت سے ہو گا کہ آدھے سے زِیادہ بچہ نکل آیا اور اس بیان میں جہاں بچہ ہونے کا لفظ آئے گا اس کا مطلب آدھے سے زِیادہ باہر آجانا ہے۔ (1)
مسئلہ ۲: کسی کو چالیس ۴۰ دن سے زِیادہ خون آیا تو اگر اس کے پہلی باربچہ پیدا ہوا ہے یا یہ یاد نہیں کہ اس سے پہلے بچہ پیدا ہونے میں کتنے دن خون آیا تھا، تو چالیس ۴۰ دن رات نِفاس ہے باقی اِستحاضہ اور جو پہلی عادت معلوم ہو تو عادت کے دنوں تک نِفاس ہے اور جتنا زِیادہ ہے وہ اِستحاضہ، جیسے عادت تیس ۳۰ دن کی تھی اس بار پینتالیس ۴۵ دن آیا تو تیس ۳۰ دن نِفاس کے ہیں اور پندرہ ۱۵ اِستحاضہ کے۔ (2)
مسئلہ ۳: بچہ پیدا ہونے سے پیشتر جو خون آیا نِفاس نہیں بلکہ اِستحاضہ ہے اگرچہ آدھا باہر آگیا ہو۔ (3)
مسئلہ ۴: حمل ساقط ہو گیا اور اس کا کوئی عُضْوْ بن چکا ہے جیسے ہاتھ، پاؤں یا انگلیاں تو یہ خون نِفاس ہے۔(4) ورنہ اگر تین دن رات تک رہا اور اس سے پہلے پندرہ دن پاک رہنے کا زمانہ گزر چکا ہے تو حَیض ہے اور جو تین دن سے پہلے ہی بند ہو گیا یا ابھی پورے پندرہ دن طہارت کے نہیں گزرے ہیں تو اِستحاضہ ہے۔
مسئلہ ۵: پیٹ سے بچہ کاٹ کر نکالا گیا، تو اس کے آدھے سے زِیادہ نکالنے کے بعد نِفاس ہے۔ (5)
مسئلہ ۶: حمل ساقط ہونے سے پہلے کچھ خون آیاکچھ بعد کو، تو پہلے والا اِستحاضہ ہے بعد والا نفاس، یہ اس صورت میں
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۷.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی التاتارخانیۃ''، کتاب الطہارۃ، نوع آخر في النفاس، ج۱، ص۳۹۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۷.
5 ۔ المرجع السابق.
ہے جب کوئی عُضْوْ بن چکا ہو، ورنہ پہلے والا اگر حَیض ہو سکتا ہے تو حَیض ہے نہیں تو اِستحاضہ۔ (1)
مسئلہ ۷: حمل ساقط ہوا اور یہ معلوم نہیں کہ کوئی عُضْوْ بنا تھا یا نہیں ،نہ یہ یاد کہ حمل کتنے دن کا تھا (کہ اسی سے عُضْوْ کا بننا نہ بننا معلوم ہو جاتایعنی ایک سو بیس ۱۲۰ دن ہو گئے ہیں تو عُضْوْ بن جانا قرار دیا جائے گا) اور بعد اسقاط کے خون ہمیشہ کو جاری ہوگیا تو اسے حَیض کے حکم میں سمجھے ،کہ حَیض کی جو عادت تھی اس کے گزرنے کے بعد نہا کر نماز شروع کردے اور عادت نہ تھی تو دس دن کے بعد اور باقی وہی اَحْکام ہیں جو حَیض کے بیان میں مذکور ہوئے۔ (2)
مسئلہ ۸: جس عورت کے دو ۲ بچے جوڑواں پیدا ہوئے یعنی دونوں کے درمیان چھ ۶ مہینے سے کم زمانہ ہے تو پہلا ہی بچہ پیدا ہونے کے بعد سے نِفاس سمجھا جائے گا، پھر اگر دوسرا چالیس ۴۰ دن کے اندر پیدا ہوا اور خون آیا تو پہلے سے چالیس ۴۰ دن تک نِفاس ہے، پھر اِستحاضہ اور اگر چالیس دن کے بعد پیدا ہوا تو اس پچھلے کے بعد جو خون آیا اِستحاضہ ہے نِفاس نہیں مگر دوسرے کے پیدا ہونے کے بعد بھی نہانے کا حکم دیا جائے گا۔ (3)
مسئلہ ۹: جس عورت کے تین بچے پیدا ہوئے کہ پہلے اور دوسرے میں چھ مہینے سے کم فاصلہ ہے۔ یوہیں دوسرے اور تیسرے میں اگرچہ پہلے اور تیسرے ۳ میں چھ مہینے کا فاصلہ ہوجب بھی نِفاس پہلے ہی سے ہے (4) ، پھر اگر چالیس ۴۰ دن کے اندر یہ دونوں بھی پیدا ہوگئے تو پہلے کے بعد سے بڑھ سے بڑھ چالیس ۴۰ دن تک نِفاس ہے اور اگر چالیس ۴۰ دن کے بعد ہیں تو ان کے بعد جو خون آئے گا اِستحاضہ ہے مگر ان کے بعد بھی غُسل کا حکم ہے۔
مسئلہ ۱۰: اگر دونوں میں چھ مہینے یا زِیادہ کا فاصلہ ہے تو دوسرے کے بعد بھی نِفاس ہے۔ (5)
مسئلہ ۱۱: چالیس دن کے اندر کبھی خون آیا کبھی نہیں تو سب نِفاس ہی ہے اگرچہ پندرہ ۱۵ دن کا فاصلہ ہو جائے۔ (6)
مسئلہ ۱۲: اس کے رنگ کے متعلق وہی اَحْکام ہیں جو حَیض میں بیان ہوئے۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۷.
2 ۔ ''الفتاوی التاتارخانیۃ''، کتاب الطہارۃ، نوع آخر في النفاس، ج۱، ص۳۹۴.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۷.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الثاني، ج۱، ص۳۷.
مسئلہ ۱: حَیض و نِفاس والی عورت کو قرآنِ مجید پڑھنا دیکھ کر، یا زبانی اور اس کا چھونا اگرچہ اس کی جلد یا چولی یا حاشیہ کو ہاتھ یا انگلی کی نوک یا بدن کا کوئی حصہ لگے یہ سب حرام ہیں۔ (1)
مسئلہ ۲: کاغذ کے پرچے پر کوئی سورہ یا آیت لکھی ہواس کا بھی چھونا حرام ہے۔ (2)
مسئلہ ۳: جزدان میں قرآنِ مجید ہو تو اُس جزدان کے چھونے میں حَرَج نہیں۔ (3)
مسئلہ ۴: اس حالت میں کُرتے کے دامن یا دوپٹے کے آنچل سے یا کسی ایسے کپڑے سے جس کو پہنے، اوڑھے ہوئے ہے قرآنِ مجید چُھونا حرام ہے غرض اس حالت میں قرآنِ مجید و کتب ِدینیہ پڑھنے اور چھونے کے متعلق وہی سب اَحْکام ہیں جو اس شخص کے بارے میں ہیں جس پر نہانا فرض ہے جن کا بیان غُسل کے باب میں گزرا۔
مسئلہ ۵: معلمہ کو حَیض یا نِفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حَرَج نہیں۔ (4)
مسئلہ ۶: دعائے قنوت پڑھنا اس حالت میں مکروہ ہے۔(5) اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ سے بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ تک دعائے قنوت ہے۔
مسئلہ ۷: قرآنِ مجید کے علاوہ اَور تمام اذکار کلمہ شریف، درود شریف وغیرہ پڑھنا بلا کراہت جائز بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وُضو یا کُلّی کرکے پڑھنا بہتر اور ویسے ہی پڑھ لیا جب بھی حَرَج نہیں اور ان کے چھونے میں بھی حَرَج نہیں۔
مسئلہ ۸: ایسی عورت کو اذان کا جواب دینا جائز ہے۔ (6)
مسئلہ ۹: ایسی عورت کو مسجد میں جانا حرام ہے۔ (7)
مسئلہ ۱۰: اگر چور یا درندے سے ڈر کر مسجد میں چلی گئی تو جائز ہے مگر اسے چاہے کہ تیمم کرلے۔ یوہیں مسجد میں پانی
1 ۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ص۳۹.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۳۸.
5 ۔ یہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کا مذہب ہے مگر ظاہر الروایہ میں ہے کہ اس حالت میں دعائے قنوت پڑھنا مکروہ نہیں ہے۔ ''التجنیس'' لصاحب الھدایۃ،جلد 1صفحہ186 پر ہے کہ اسی پر فتوی ہے ۔ (انظر:''الفتاوی الھندیۃ''ج۱، ص۳۸.''ردالمحتار''ج۱، ص۳۵۱).
یہ بھی ممکن ہے کہ کاتب سے مکروہ کے بعد'' نہیں''لکھنا رہ گیاہواور صدرُ الشریعہ ،بدرُالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی ا صل عبارت یوں ہو:دعائے قنوت پڑھنا اس حالت میں مکروہ نہیں ہے۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق. 7 ۔ المرجع السابق.
رکھا ہے یا کوآں ہے اور کہیں اَورپانی نہیں ملتا تو تیمم کر کے جانا جائز ہے۔ (1)
مسئلہ ۱۱: عید گاہ کے اندر جانے میں حَرَج نہیں۔ (2)
مسئلہ ۱۲: ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز مسجد سے لینا جائز ہے۔
مسئلہ ۱۳: خانہ کعبہ کے اندر جانا اور اس کا طواف کرنا اگرچہ مسجد حرام کے باہر سے ہو انکے لیے حرام ہے۔ (3)
مسئلہ ۱۴: اس حالت میں روزہ رکھنا اور نماز پڑھنا حرام ہے۔ (4)
مسئلہ ۱۵: ان دِنوں میں نمازیں معاف ہیں ان کی قضا بھی نہیں اور روزوں کی قضا اور دنوں میں رکھنا فرض ہے۔ (5)
مسئلہ ۱۶: نماز کا آخر وقت ہو گیا اور ابھی تک نماز نہیں پڑھی کہ حَیض آیا ،یا بچہ پیدا ہوا تو اس وقت کی نماز معاف ہو گئی اگرچہ اتنا تنگ وقت ہو گیا ہو کہ اس نماز کی گنجائش نہ ہو۔ (6)
مسئلہ ۱۷: نماز پڑھتے میں حَیض آگیا، یا بچہ پیدا ہوا تو وہ نماز معاف ہے، البتہ اگر نفل نماز تھی تو اس کی قضا واجب ہے۔ (7)
مسئلہ ۱۸: نماز کے وقت میں وُضو کرکے اتنی دیر تک ذکرِ الٰہی، درود شریف اور دیگر وظائف پڑھ لیا کرے جتنی دیر تک نماز پڑھا کرتی تھی کہ عادت رہے۔ (8)
مسئلہ ۱۹: حَیض والی کو تین ۳ دن سے کم خون آکر بند ہو گیا تو روزے رکھے اور وُضو کرکے نماز پڑھے، نہانے کی ضرورت نہیں ،پھر اس کے بعد اگر پندرہ ۱۵ دن کے اندر خون آیا تو اب نہائے اور عادت کے دن نکال کر باقی دنوں کی قضا پڑھے اور
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۳۸.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۳۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع،ج۱، ص۳۸.
و ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب: لو أفتی مفت بشیء من ہذہ الأقوال في مواضع
الضرورۃ... إلخ، ج۱، ص۵۳۲.
5 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الطہارۃ، باب الحیض،ج۱، ص۵۳۲.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۳۸.
7 ۔ المرجع السابق، و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۳۴۹.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۳۸.
جس کی کوئی عادت نہیں وہ دس ۱۰ دن کے بعد کی نمازیں قضا کرے، ہاں اگر عادت کے دنوں کے بعد یا بے عادت والی نے دس ۱۰ دن کے بعد غُسل کر لیا تھا تو ان دنوں کی نمازیں ہو گئیں قضا کی حاجت نہیں اور عادت کے دنوں سے پہلے کے روزوں کی قضا کرے اور بعد کے روزے ہر حال میں ہو گئے۔
مسئلہ ۲۰: جس عورت کو تین ۳ دن رات کے بعد حَیض بند ہو گیا اور عادت کے دن ابھی پورے نہ ہوئے یا نِفاس کا خون عادت پوری ہونے سے پہلے بندہو گیا، تو بند ہونے کے بعد ہی غُسل کرکے نماز پڑھنا شروع کردے۔ عادت کے دنوں کا انتظار نہ کرے۔ (1)
مسئلہ ۲۱: عادت کے دنوں سے خون مُتجاوِز ہو گیا ،تو حَیض میں دس دن اور نِفاس میں چالیس دن تک انتظار کرے اگر اس مدت کے اندر بند ہوگیا تو اب سے نہا دھوکر نماز پڑھے اور جو اس مدت کے بعد بھی جاری رہا تو نہائے اور عادت کے بعد باقی دنوں کی قضا کرے۔ (2)
مسئلہ ۲۲: حَیض یا نِفاس عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے بندہو گیا تو آخرِ وقتِ مستحب تک انتظار کرکے نہا کر نماز پڑھے اور جو عادت کے دن پورے ہو چکے تو انتظار کی کچھ حاجت نہیں۔ (3)
مسئلہ ۲۳: حیض پورے دس دن پر اور نِفاس پورے چالیس دن پر ختم ہوا اور نماز کے وقت میں اگر اتنا بھی باقی ہو کہ اﷲ اکبر کا لفظ کہے تو اس وقت کی نماز اس پر فرض ہو گئی، نہا کر اس کی قضا پڑھے اور اگر اس سے کم میں بند ہوا اور اتنا وقت ہے کہ جلدی سے نہا کر اور کپڑے پہن کر ایک بار اﷲ اکبر کہہ سکتی ہے تو فرض ہو گئی قضا کرے ورنہ نہیں۔ (4)
مسئلہ ۲۴: اگر پورے دس دن پر پاک ہوئی اور اتنا وقت رات کا باقی نہیں کہ ایک بار اﷲ اکبر کہہ لے تو اس دن کا روزہ اس پر واجب ہے اور جو کم میں پاک ہوئی اور اتنا وقت ہے کہ صبحِ صادق ہونے سے پہلے نہا کر کپڑے پہن کر اﷲ اکبر کہہ سکتی ہے تو روزہ فرض ہے، اگر نہالے تو بہتر ہے ورنہ بے نہائے نیت کرلے اور صبح کو نہالے اور جو اتنا وقت بھی نہیں تواس دن کا روزہ فرض نہ ہوا، البتہ روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے، کوئی بات ایسی جو روزے کے خلاف ہو مثلاً کھانا،
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج۱، ص۵۳۷.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۳۶۴،۳۶۵.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج۱، ص۵۲۴، وغیرہما.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ومطلب: لو أفتی مفت بشیئ... إلخ، ج۱، ص۵۳۸.
4 ۔ المرجع السابق ، ص۵۴۲،وغیرہ.
پینا حرام ہے۔
مسئلہ ۲۵: روزے کی حالت میں حَیض یا نِفاس شروع ہو گیا تو وہ روزہ جاتا رہااس کی قضا رکھے، فرض تھا تو قضا فرض ہے اور نَفْل تھا تو قضا واجب۔ (1)
مسئلہ ۲۶: حَیض و نِفاس کی حالت میں سجدہ شکر و سجدہ تلاوت حرام ہے اور آیت سجدہ سننے سے اس پر سجدہ واجب نہیں۔ (2)
مسئلہ ۲۷: سوتے وقت پاک تھی اور صبح سو کر اٹھی تو اثر حَیض کا دیکھا تو اسی وقت سے حَیض کا حکم دیا جائے گا، عشاء کی نماز نہیں پڑھی تھی تو پاک ہونے پر اس کی قضا فرض ہے۔ (3)
مسئلہ ۲۸: حَیض والی سو کر اٹھی اور گدی پر کوئی نشان حَیض کا نہیں تو رات ہی سے پاک ہے نہا کر عشاء کی قضا پڑھے۔
مسئلہ ۲۹: ہم بستری یعنی جماع اس حالت میں حرام ہے۔ (4)
مسئلہ ۳۰: ایسی حالت میں جِماع جائز جاننا کفر ہے اور حرام سمجھ کر کر لیا تو سَخْت گنہگار ہوا اس پر توبہ فرض ہے اور آمد کے زمانہ میں کیا تو ایک دیناراور قریب ختم کے کیا تو نصف دینار خیرات کرنا مُسْتَحَب۔
مسئلہ ۳۱: اس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عُضْوْ سے چھونا جائز نہیں جب کہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شَہوت سے ہویا بے شَہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حَرَج نہیں۔ (5)
مسئلہ ۳۲: ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حَرَج نہیں۔ یوہیں بوس وکنار بھی جائز ہے۔ (6)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب: لو أفتی مفت بشیء من ہذہ الأقوال... إلخ، ج۱، ص۵۳۳،وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۳۸.
و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب: لوأفتی مفت بشیئ... إلخ، ج۱، ص۵۳۲.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب: لو أفتی مفت بشیئ... إلخ، ج ۱، ص ۵۳۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۳۹.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب: لوأفتی مفت بشیء من ہذہ الأقوال في مواضع
الضرورۃ... إلخ، ج۱، ص۵۳۴.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۳۹.
مسئلہ ۳۳: اپنے ساتھ کھلانا یا ایک جگہ سونا جائز ہے بلکہ اس وجہ سے ساتھ نہ سونا مکروہ ہے۔ (1)
مسئلہ ۳۴: اس حالت میں عورت مرد کے ہر حصہ بدن کو ہاتھ لگا سکتی ہے۔ (2)
مسئلہ ۳۵: اگر ہمراہ سونے میں غلبہ شَہوت اور اپنے کو قابو میں نہ رکھنے کا احتمال ہو تو ساتھ نہ سوئے اور اگر گمان غالب ہو تو ساتھ سونا گناہ۔
مسئلہ ۳۶: پورے دس ۱۰ دن پر ختم ہوا تو پاک ہوتے ہی اس سے جِماع جائز ہے، اگرچہ اب تک غُسل نہ کیا ہو مگر مستحب یہ ہے کہ نہانے کے بعد جِماع کرے۔ (3)
مسئلہ ۳۷: دس دن سے کم میں پاک ہوئی توتاوقتیکہ غُسل نہ کرلے یا وہ وقتِ نماز جس میں پاک ہوئی گزر نہ جائے جِماع جائز نہیں اور اگر وقت اتنا نہیں تھا کہ اس میں نہا کر کپڑے پہن کر اﷲ اکبر کہہ سکے تو اس کے بعد کا وقت گزر جائے یا غُسل کرلے تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ (4)
مسئلہ ۳۸: عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا تو اگرچہ غُسل کرلے جِماع ناجائز ہے تاوقتیکہ عادت کے دن پورے نہ ہولیں،جیسے کسی کی عادت چھ ۶ دن کی تھی اور اس مرتبہ پانچ ہی روز آیا تو اسے حکم ہے کہ نہا کر نماز شروع کردے مگر جِماع کے لیے ایک دن اور انتظار کرنا واجب ہے۔ (5)
مسئلہ ۳۹: حَیض سے پاک ہوئی اور پانی پر قدرت نہیں کہ غُسل کرے اور غُسل کا تیمم کیاتو اس سے صحبت جائز نہیں جب تک اس تیمم سے نمازنہ پڑھ لے، نماز پڑھنے کے بعد اگرچہ پانی پر قادر ہو کر غُسل نہ کیا صحبت جائز ہے۔ (6)
فائدہ: ان باتوں میں نِفاس کے وہی اَحْکام ہیں جو حَیض کے ہیں۔
مسئلہ ۴۰: نِفاس میں عورت کو زچہ خانے سے نکلنا جائز ہے ،اس کو ساتھ کھلانے یا اس کا جھوٹا کھانے میں حَرَج نہیں۔ ہندوستان میں جو بعض جگہ ان کے برتن تک الگ کر دیتی ہیں بلکہ ان برتنوں کو مثل نجس کے جانتی ہیں یہ ہندؤوں کی رسمیں
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب: لوأفتی مفت بشیء من ہذہ الأقوال في مواضع الضرورۃ... إلخ،
ج۱، ص۵۳۴، و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۳۵۵.
2 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج۱، ص۳۴۴.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۳۹.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق،وغیرہ.
6 ۔ المرجع السابق.
ہیں ،ایسی بے ہُودہ رسموں سے اِحْتِیاط لازم، اکثر عورتوں میں یہ رواج ہے کہ جب تک چلّہ پورا نہ ہولے اگرچہ نِفاس ختم ہو لیا ہو، نہ نماز پڑھیں نہ اپنے کو قابل نماز کے جانیں یہ محض جہالت ہے جس وقت نِفاس ختم ہوا اسی وقت سے نہا کر نماز شروع کردیں اگر نہانے سے بیماری کا پوراا ندیشہ ہو تو تیمم کرلیں۔ (1)
مسئلہ ۴۱: بچہ ابھی آدھے سے زِیادہ پیدا نہیں ہوا اور نماز کا وقت جارہا ہے اور یہ گمان ہے کہ آدھے سے زِیادہ باہر ہونے سے پیشتر وقت ختم ہو جائے گا تو اس وقت کی نماز جس طرح ممکن ہو پڑھے ،اگر قیام، رکوع، سجود نہ ہوسکے،اشارے سے پڑھے، وُضو نہ کرسکے ،تیمم سے پڑھے اور اگر نہ پڑھی تو گناہ گار ہوئی توبہ کرے اور بعد طہارت قضا پڑھے۔ (2)
حدیث ۱: صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی کہ فاطِمہ بنتِ ابی حُبَیش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ! مجھے اِستحاضہ آتا ہے اور پاک نہیں رہتی تو کیا نماز چھوڑ دوں؟ فرمایا:'' نہ، یہ تو رَگ کا خون ہے، حَیض نہیں ہے، تو جب حَیض کے دن آئیں نماز چھوڑ دے اور جب جاتے رہیں خون دھو اور نماز پڑھ۔'' (3)
حدیث ۲: ابو داود و نَسائی کی روایت میں فاطِمہ بنتِ ابی حُبَیش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے یوں ہے کہ ان سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''جب حَیض کا خون ہو تو سیاہ ہو گا، شناخت میں آئے گا، جب یہ ہو نماز سے باز رہ اور جب دوسری قسم کا ہو تو وُضو کر اور نماز پڑھ، کہ وہ رَگ کا خون ہے۔'' (4)
حدیث ۳: اِمام مالِک و ابو داود و دارمی کی روایت میں ہے کہ ایک عورت کے خون بہتا رہتا ،اس کے لیے ام المومنین امّ سَلَمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضور سے فتویٰ پوچھا ،ارشاد فرمایا کہ: ''اس بیماری سے پیشتر مہینے میں جتنے دن راتیں حَیض آتا تھا ان کی گنتی شمار کرے، مہینے میں انھیں کی مقدار نماز چھوڑ دے اور جب وہ دن جاتے رہیں، تو نہائے اور لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھے۔'' (5)
حدیث ۴: ابو داود و تِرمذی کی روایت ہے ارشاد فرمایا: '' جن دنوں میں حَیض آتا تھا ،ان میں نمازیں چھوڑ دے، پھر
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۳۵۵۔۳۵۶،وغیرہ.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب في حکم وطء المستحاضۃ... إلخ، ج۱، ص۵۴۵.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحیض، باب المستحاضۃ وغسلھا وصلا تھا، الحدیث: ۳۳۳، ص۱۸۳.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب إذا أ قبلت الحیضۃ تدع الصلا ۃ، الحدیث: ۲۸۶، ج۱، ص۱۳۱.
5 ۔ ''المؤطأ '' لإمام مالک،کتاب الطھارۃ، باب المستحاضۃ، الحدیث: ۱۴۰، ج۱، ص۷۷.
نہائے اور ہر نماز کے وقت وُضو کرے اور روزہ رکھے اور نماز پڑھے۔'' (1)
مسئلہ ۱: اِستحاضہ میں نہ نماز معاف ہے نہ روزہ ،نہ ایسی عورت سے صحبت حرام۔ (2)
مسئلہ ۲: اِستحاضہ اگر اس حد تک پہنچ گیا کہ اس کو اتنی مہلت نہیں ملتی کہ وُضو کرکے فرض نماز ادا کر سکے تو نماز کا پورا ایک وقت شروع سے آخر تک اسی حالت میں گزر جانے پر اس کو معذور کہا جائیگا ،ایک وُضو سے اس وقت میں جتنی نمازیں چاہے پڑھے، خون آنے سے اس کا و ضو نہ جائے گا۔ (3)
مسئلہ ۳: اگر کپڑاوغیرہ رکھ کر اتنی دیر تک خون روک سکتی ہے کہ وُضو کرکے فرض پڑھ لے توعذر ثابت نہ ہوگا۔ (4)
مسئلہ ۴: ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وُضو کے ساتھ نمازِ فرض ادا نہ کرسکا وہ معذور ہے ،اس کا بھی یہی حکم ہے کہ وقت میں وُضو کرلے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وُضو سے پڑھے، اس بیماری سے اس کا وُضو نہیں جاتا، جیسے قطرے کا مرض، یا دست آنا، یا ہوا خارِج ہونا، یا دُکھتی آنکھ سے پانی گرنا، یا پھوڑے، یا ناصور سے ہر وقت رطوبت بہنا، یا کان، ناف، پِستان سے پانی نکلنا کہ یہ سب بیماریاں وُضو توڑنے والی ہیں، ان میں جب پورا ایک وقت ایسا گزر گیا کہ ہر چند کوشش کی مگر طہارت کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکاتو عذر ثابت ہوگیا۔ (5)
مسئلہ ۵: جب عذر ثابت ہو گیا تو جب تک ہر وقت میں ایک ایک بار بھی وہ چیز پائی جائے معذور ہی رہے گا، مثلاً عورت کو ایک وقت تو اِستحاضہ نے طہارت کی مہلت نہیں دی اب اتنا موقع ملتا ہے کہ وُضو کرکے نماز پڑھ لے مگر اب بھی ایک آدھ دفعہ ہر وقت میں خون آجاتا ہے تو اب بھی معذور ہے۔ یوہیں تمام بیماریوں میں اور جب پورا وقت گزر گیا اور خون نہیں آیاتو اب معذورنہ رہی جب پھر کبھی پہلی حالت پیدا ہو جائے تو پھر معذور ہے اس کے بعد پھر اگر پورا وقت خالی گیا تو عذر جاتا رہا۔ (6)
مسئلہ ۶: نماز کاکچھ وقت ایسی حالت میں گزراکہ عذر نہ تھا اور نماز نہ پڑھی اور اب پڑھنے کا ارادہ کیا تو اِستحاضہ یا بیماری سے وُضو جاتا رہتا ہے غرض یہ باقی وقت یوہیں گزر گیا اور اسی حالت میں نماز پڑھ لی تو اب اس کے بعد کا وقت بھی پورا اگر
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء أن المستحاضۃ تتوضأ لکل صلاۃ، الحدیث: ۱۲۶، ج۱، ص۱۷۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۳۹.
3 ۔ المرجع السابق، ص۴۱. 4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب في أحکام المعذور، ج۱، ص۵۵۴.
6 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج۱، ص۳۷۶.
اسی اِستحاضہ یا بیماری میں گزر گیا تو وہ پہلی بھی ہو گئی اور اگر اس وقت اتنا موقع ملاکہ وُضو کرکے فرض پڑھ لے تو پہلی نماز کا اعادہ کرے۔ (1)
مسئلہ ۷: خون بہتے میں وُضو کیا اور وضوکے بعد خون بند ہو گیا اور اسی وُضو سے نماز پڑھی اور اس کے بعد جو دوسرا وقت آیا وہ بھی پورا گزر گیاکہ خون نہ آیا تو پہلی نماز کا اعادہ کرے ۔ یوہیں اگر نماز میں بند ہوا اور اس کے بعد دوسرے میں بالکل نہ آیا جب بھی اعادہ کرے۔ (2)
مسئلہ ۸: فرض نماز کا وقت جانے سے معذور کا وُضو ٹوٹ جاتا ہے جیسے کسی نے عصر کے وقت وُضو کیا تھاتو آفتاب کے ڈوبتے ہی وُضو جاتارہااور اگر کسی نے آفتاب نکلنے کے بعد وُضو کیا تو جب تک ظہر کا وقت ختم نہ ہو وُضو نہ جائے گا کہ ابھی تک کسی فرض نماز کا وقت نہیں گیا۔ (3)
مسئلہ ۹: وُضو کرتے وقت وہ چیز نہیں پائی گئی جس کے سبب معذور ہے اور وُضو کے بعد بھی نہ پائی گئی یہاں تک کہ باقی پورا وقت نماز کا خالی گیا تو وقت کے جانے سے وُضو نہیں ٹوٹا۔ یوہیں اگر وُضو سے پیشتر پائی گئی مگر نہ وُضو کے بعد باقی وقت میں پائی گئی نہ اس کے بعد دوسرے وقت میں تو وقت (4) جانے سے وضونہ ٹوٹے گا۔
مسئلہ ۱۰: اور اگر اس وقت میں وُضو سے پیشتر وہ چیز پائی گئی اور وُضو کے بعد بھی وقت میں پائی گئی یا وُضو کے اندر پائی گئی اور وُضو کے بعد اس وقت میں نہ پائی گئی مگر بعد والے میں پائی گئی، تو وقت ختم ہونے پر وُضو جاتا رہے گا اگرچہ وہ حدث نہ پایا جائے۔
مسئلہ ۱۱: معذورکا وُضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب معذور ہے،ہاں اگر کوئی دوسری چیزوُضو توڑنے والی پائی
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۴۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۴۱.
3 ۔ ''الدرالمختار''، و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب في أحکام المعذور، ج۱، ص۵۵۵.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۴۱.
4 ۔ اس صورت میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ وُضو کے اندر بھی پائی گئی بعد کو ختم وقت ثانی تک نہیں دوسرا یہ کہ وُضو کے اندر بھی نہ پائی گئی صرف پہلے پائی گئی پہلی صورت میں وہ وُضو وُضو ئے معذور تھا لیکن جب کہ اس کے بعد انقطاع تام ہوگیا معذور نہ رہا تو وُضو ئے معذور ختم وقت سے پہلے بوجہ زوال عذر باطل ہوگیا وقت جانے سے کیا ٹوٹے اورصورت ثانیہ میں ظاہر ہے کہ یہ وُضو انقطاع پر ہے اورختم وقت تک انقطاع مستمر رہا تو خروج وقت سے نہ ٹوٹے گا اگرچہ وقت دوم میں منقطع نہ بھی ہو تاوقت دوم میں انقطاع کا ذکر اس لیے ہے کہ حکم دونوں صورتوں کو شامل ہو۔ ۱۲منہ
گئی تو وُضو جاتا رہا۔ مثلاً جس کو قطرے کا مرض ہے، ہوا نکلنے سے اس کا وُضو جاتا رہے گا اور جس کو ہوا نکلنے کا مرض ہے، قطرے سے وُضو جاتا رہے گا۔ (1)
مسئلہ ۱۲: معذور نے کسی حدث کے بعد وُضو کیا اور وُضو کرتے وقت وہ چیز نہیں ہے جس کے سبب معذور ہے، پھر وُضو کے بعد وہ عذر والی چیز پائی گئی تو وُضو جاتا رہا، جیسے اِستحاضہ والی نے پاخانہ پیشاب کے بعد وُضو کیا اور وُضو کرتے وقت خون بند تھا بعد وُضو کے آیا تو وُضو ٹوٹ گیا (2) اور اگر وُضو کرتے وقت وہ عذر والی چیز بھی پائی جاتی تھی تو اب وُضو کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ ۱۳: معذور کے ایک نتھنے سے خون آرہا تھا وُضو کے بعد دوسرے نتھنے سے آیا وُضو جاتا رہا ،یا ایک زخم بہ رہا تھا اب دوسرا بہا، یہاں تک کہ چیچک کے ایک دانہ سے پانی آرہا تھا اب دوسرے دانہ سے آیا وُضو ٹوٹ گیا۔ (3)
مسئلہ ۱۴: اگر کسی ترکیب سے عذر جاتا رہے یا اس میں کمی ہو جائے تو اس ترکیب کا کرنا فرض ہے، مثلاً کھڑے ہو کر پڑھنے سے خون بہتا ہے اور بیٹھ کر پڑھے تو نہ بہے گا تو بیٹھ کر پڑھنا فرض ہے۔ (4)
مسئلہ ۱۵: معذور کو ایسا عذر ہے جس کے سبب کپڑے نجس ہو جاتے ہیں تو اگر ایک درم سے زِیادہ نجس ہو گیا اور جانتا ہے کہ اتنا موقع ہے کہ اسے دھو کر پاک کپڑوں سے نماز پڑھ لوں گا تو دھو کر نماز پڑھنا فرض ہے اوراگر جانتا ہے کہ نماز پڑھتے پڑھتے پھر اتنا ہی نجس ہو جائے گا تو دھونا ضروری نہیں اُسی سے پڑھے اگرچہ مصلیٰ بھی آلودہ ہو جائے کچھ حَرَج نہیں اور اگر درہم کے برابر ہے تو پہلی صورت میں دھونا واجب اور درہم سے کم ہے تو سنّت اور دوسری صورت میں مطلقاً نہ دھونے میں کوئی حَرَج نہیں۔ (5)
مسئلہ ۱۶: اِستحاضہ والی اگر غُسل کرکے ظہر کی نماز آخر وقت میں اورعصر کی وُضو کرکے اول وقت میں اور مغرب کی غُسل کرکے آخر وقت میں اور عشاء کی وُضو کرکے اوّل وقت میں پڑھے اور فجر کی بھی غُسل کرکے پڑھے تو بہتر ہے اور عجب نہیں کہ یہ ادب جو حدیث میں ارشاد ہوا ہے اس کی رعایت کی برکت سے اس کے مرض کو بھی فا ئدہ پہنچے۔
مسئلہ ۱۷: کسی زخم سے ایسی رطوبت نکلے کہ بہے نہیں، تو نہ اس کی وجہ سے وُضو ٹوٹے ،نہ معذور ہو، نہ وہ رطوبت ناپاک۔ (6)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب في أحکام المعذور، ج۱، ص۵۵۷.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصۃ بالنساء، الفصل الرابع، ج۱، ص۴۱.
3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق،وغیرہ. 6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۳۷۱.
حدیث ۱: صحیح بُخاری و مسلِم میں اسما بنت ابو بکر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، کہ ایک عورت نے عرض کی یا رسول اللہ! ہم میں جب کسی کے کپڑے کو حَیض کا خون لگ جائے تو کیا کرے؟ فرمایا: '' جب تم میں کسی کا کپڑا حَیض کے خون سے آلودہ ہو جائے تو اسے کھرچے، پھر پانی سے دھوئے تب اُس میں نماز پڑھے۔'' (1)
حدیث ۲: صحیحین میں ہے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے کپڑے سے مَنی کو میں دھوتی ،پھر حضور نماز کو تشریف لے جاتے اور دھونے کا نشان اس میں ہوتا۔ (2)
حدیث ۳: صحیح مسلِم میں ہے فرماتی ہیں ،کہ میں رُسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے کپڑے سے مَنی کو مَل ڈالتی، پھر حضور اس میں نماز پڑھتے۔ (3)
حدیث ۴: صحیح مسلِم میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''چمڑا جب پکا لیا جائے، پاک ہو جائے گا۔'' (4)
حدیث ۵: اِمام مالِک ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی ،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: ''کہ مُردار کی کھالیں جب پکالی جائیں تو انھیں کام میں لایا جائے۔'' (5)
حدیث ۶: امام احمدو ابو داود و نَسائی نے روایت کی ،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال سے منع فرمایا۔(6)
حدیث ۷: دوسری روایت میں ہے ان کے پہننے اور ان پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ (7)
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الحیض، باب غسل دم المحیض، الحدیث: ۳۰۷، ج۱، ص۱۲۵.
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الوضوئ، باب غسل المني... إلخ، الحدیث: ۲۳۰، ج۱، ص۹۹.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الطھارۃ، باب حکم المني، الحدیث: ۲۸۸، ص۱۶۶.
4 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحیض، باب طھارۃ جلود المیتۃ بالدباغ، الحدیث: ۳۶۶، ص۱۹۴.
5 ۔ '' المؤطأ '' لإ مام مالک، کتاب الصید، باب ماجاء في جلود المیتۃ، الحدیث: ۱۱۰۷، ج۲، ص۵۴.
6 ۔ ''سنن أ بيداود''، کتاب اللباس، باب في جلود النمور والسباع، الحدیث: ۴۱۳۲، ج۴، ص۹۳.
7 ۔ ''سنن أ بيداود''، کتاب اللباس، باب في جلود النمور والسباع، الحدیث: ۴۱۳۱، ج۴، ص۹۳.
نَجاست دو قسم ہے، ایک وہ جس کا حکم سَخْت ہے اس کو غلیظہ کہتے ہیں، دوسری وہ جس کا حکم ہلکا ہے اس کو خفیفہ کہتے ہیں۔
مسئلہ ۱: نَجاستِ غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زِیادہ لگ جائے ،تو اس کا پاک کرنا فرض ہے، بے پاک کیے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیتِ اِستِخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی تو مکروہ ِتحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اِعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنّت ہے، کہ بے پاک کیے نماز ہوگئی مگر خلافِ سنّت ہوئی اور اس کا اِعادہ بہتر ہے۔
مسئلہ ۲: اگر نَجاست گاڑھی ہے جیسے پاخانہ، لید، گوبر تو درہم کے برابر ،یا کم ،یا زِیادہ کے معنی یہ ہیں کہ وزن میں اس کے برابر یا کم یا زِیادہ ہو اور درہم کا وزن شریعت میں اس جگہ ساڑھے چار ماشے اور زکوٰۃ میں تین ماشہ رتی ہے اور اگر پتلی ہو ،جیسے آدمی کا پیشاب اور شراب تو درہم سے مراداس کی لنبائی چوڑائی ہے اور شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی کے برابر بتائی یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زِیادہ پانی نہ رک سکے، اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہے اتنا بڑا درہم سمجھا جائے اور اس کی مقدارتقریباً یہاں کے روپے کے برابر ہے۔
مسئلہ ۳: نجس تیل کپڑے پر گرا اور اسوقت درہم کے برابر نہ تھا، پھر پھیل کر درہم کے برابر ہو گیا تو اس میں علما کو بہت اختلاف ہے اور راحج یہ ہے کہ اب پاک کرنا واجب ہوگیا۔ (1)
مسئلہ ۴: نَجاستِ خفیفہ کا یہ حکم ہے کہ کپڑے کے حصہ یا بدن کے جس عُضْوْ میں لگی ہے، اگر اس کی چوتھائی سے کم ہے (مثلاً دامن میں لگی ہے تو دامن کی چوتھائی سے کم، آستین میں اس کی چوتھائی سے کم ۔ یوہیں ہاتھ میں ہاتھ کی چوتھائی سے کم ہے) تو معاف ہے کہ اس سے نماز ہو جائے گی اوراگر پوری چوتھائی میں ہو تو بے دھوئے نماز نہ ہوگی۔ (2)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۷،وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۶.
و ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مبحث في بول الفأرۃ... إلخ، ج۱، ص۵۷۸.
مسئلہ ۵: نَجاستِ خفیفہ اور غلیظہ کے جو الگ الگ حکم بتائے گئے ،یہ اُسی وقت ہیں کہ بدن یا کپڑے میں لگے اوراگر کسی پتلی چیز جیسے پانی یا سرکہ میں گرے توچاہے غلیظہ ہویاخفیفہ، کُل ناپاک ہو جائے گی اگرچہ ایک قطرہ گرے جب تک وہ پتلی چیزحدِ کثرت پر یعنی دَہ در دَہ نہ ہو۔ (1)
مسئلہ ۶: انسان کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے کہ اس سے غُسل یا وُضو واجب ہونَجاستِ غلیظہ ہے ،جیسے پاخانہ، پیشاب، بہتا خون، پیپ، بھر مونھ قے، حَیض و نِفاس و اِستحاضہ کا خون،مَنی،مَذی، وَدی۔ (2)
مسئلہ ۷: شہیدِ فقہی(3) کا خون جب تک اس کے بدن سے جدا نہ ہوپاک ہے۔ (4)
مسئلہ ۸: دُکھتی آنکھ سے جو پانی نکلے نَجاست غلیظہ ہے۔ یوہیں ناف یا پِستان سے درد کے ساتھ پانی نکلے نَجاستِ غلیظہ ہے۔ (5)
مسئلہ ۹: بلغمی رطوبت ناک یا مونھ سے نکلے نجس نہیں اگرچہ پیٹ سے چڑھے اگرچہ بیماری کے سبب ہو۔ (6)
مسئلہ ۱۰: دودھ پیتے لڑکے اورلڑکی کا پیشاب نَجاستِ غلیظہ ہے۔(7) یہ جو اکثر عوام میں مشہور ہے کہ دودھ پیتے بچوں کا پیشاب پاک ہے محض غلط ہے۔
مسئلہ ۱۱: شِیر خوار بچے نے دودھ ڈال دیا اگر بھر مونھ ہے نَجاستِ غلیظہ ہے۔ (8)
مسئلہ ۱۲: خشکی کے ہر جانور کا بہتا خون، مردار کا گوشت اور چربی (یعنی وہ جانور جس میں بہتا ہوا خون ہوتا ہے اگر بغیر ذبح شرعی کے مر جائے مردار ہے اگرچہ ذبح کیا گیا ہوجیسے مجوسی یابُت پرست یا مُرتد کا ذبیحہ اگرچہ اس نے حلال جانور مثلاً بکری وغیرہ کو ذبح کیا ہو، اس کا گوشت پوست سب ناپاک ہوگیا اور اگر حرام جانور ذبح شرعی سے ذبح کر لیا گیا تو اس کا
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في معنی الاشتقاق... إلخ، ج۱، ص۲۲۰.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۲۰۰.
3 ۔ یعنیناک کی طرف آنکھ کا کونہ۔
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج ۱، ص۴۴۴.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول، ج۱، ص۴.
6 ۔ المرجع السابق .
7 ۔ پُہنچی کی جمع، ایک زیور جو کلائی میں پہنا جاتا ہے۔
8 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ئ، ج۱، ص۲۱۶.
و''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۱۷.
9 ۔ یعنیانگلیوں کے درمیان کی جگہ۔
10 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۴۴۵ .
گوشت پاک ہو گیا اگرچہ کھانا حرام ہے سوا خنز یر کے کہ وہ نجس العین ہے کسی طرح پاک نہیں ہو سکتا) حرام چوپائے جیسے کتا، شیر، لومڑی، بلّی، چوہا، گدھا، خچر، ہاتھی، سوئر کا پاخانہ، پیشاب اور گھوڑے کی لِید اور ہر حلال چوپایہ کا پاخانہ جیسے گائے بھینس کا گوبر، بکری اونٹ کی مینگنی اور جو پرند کہ اونچا نہ اُڑے اس کی بِیٹ، جیسے مر غی ا ور بَط چھوٹی ہو خواہ بڑی اور ہر قسم کی شراب اور نشہ لانے والی تاڑی اور سیندھی اور سانپ کا پاخانہ پیشاب اور اُس جنگلی سانپ اور مینڈک کا گوشت جن میں بہتا خون ہوتا ہے اگرچہ ذبح کیے گئے ہوں۔ یوہیں ان کی کھال اگرچہ پکالی گئی ہو اور سُوئر کا گوشت اور ہڈّی اور بال اگرچہ ذبح کیا گیا ہو یہ سب نَجاستِ غلیظہ ہیں۔
مسئلہ ۱۳: چھپکلی یا گرگٹ کا خون نَجاستِ غلیظہ ہے۔
مسئلہ ۱۴: انگور کا شِیرہ کپڑے پر پڑا تو اگرچہ کئی دن گزر جائیں کپڑا پاک ہے۔
مسئلہ ۱۵: ہاتھی کے سُونڈ کی رطوبت اور شیر، کتّے، چیتے اور دوسرے درندے چوپایوں کا لُعاب نَجاستِ غلیظہ ہے۔ (1)
مسئلہ ۱۶: جن جانوروں کا گوشت حلال ہے(جیسے گائے، بیل، بھینس، بکری، اونٹ وغیرہا) ان کا پیشاب نیز گھوڑے کا پیشاب اور جس پرند کا گوشت حرام ہے، خواہ شکاری ہو یا نہیں، (جیسے کوّا، چیل، شِکرا، باز، بہری) اس کی بِیٹ نَجاستِ خفیفہ ہے۔ (2)
مسئلہ ۱۷: چمگادڑ کی بیٹ اور پیشاب دونوں پاک ہیں۔ (3)
مسئلہ ۱۸: جو پرند حلال اُونچے اُڑتے ہیں جیسے کبوتر، مینا، مرغابی، قاز ،ان کی بیٹ پاک ہے۔ (4)
مسئلہ ۱۹: ہر چوپائے کی جگالی کا وہی حکم ہے جو اس کے پاخانہ کا۔ (5)
مسئلہ ۲۰: ہر جانور کے پِتّے کا وہی حکم ہے جو اس کے پیشاب کا، حرام جانوروں کا پتّا نَجاستِ غلیظہ اور حلال کا
1 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۳۹۸.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۸.
و ''نور الإیضاح'' و ''مراقي الفلاح''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ص۳۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۶.
4 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۵۷۴.
5 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۴۰۰،وغیرہ.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، فصل الاستنجائ، ج۱، ص۶۲۰.
نَجاستِ خفیفہ ہے۔ (1)
مسئلہ ۲۱: نَجاستِ غلیظہ خفیفہ میں مِل جائے تو کُل غلیظہ ہے۔ (2)
مسئلہ ۲۲: مچھلی اور پانی کے دیگر جانوروں اورکھٹمل اور مچھر کا خون اور خچر اور گدھے کا لعاب اور پسینہ پاک ہے۔ (3)
مسئلہ ۲۳: پیشاب کی نہایت باریک چھینٹیں سوئی کی نوک برابر کی بدن یا کپڑے پر پڑ جائیں تو کپڑا اور بدن پاک رہے گا۔ (4)
مسئلہ ۲۴: جس کپڑے پر پیشاب کی ایسی ہی باریک چھینٹیں پڑ گئیں، اگر وہ کپڑا پانی میں پڑ گیا تو پانی بھی ناپاک نہ ہوگا۔
مسئلہ ۲۵: جو خون زخم سے بہا نہ ہو پاک ہے۔ (5)
مسئلہ ۲۶: گوشت، تِلّی، کلیجی میں جو خون باقی رہ گیا پاک ہے اور اگر یہ چیزیں بہتے خون میں سَن جائیں تو ناپاک ہیں بغیر دھوئے پاک نہ ہوں گی۔ (6)
مسئلہ ۲۷: جو بچہ مُردہ پیدا ہوا اس کو گود میں لے کر نماز پڑھی، اگرچہ اس کو غُسل دے لیا ہو نماز نہ ہو گی اور اگر زندہ پیدا ہو کر مر گیا اور بے نہلائے گود میں لے کر نماز پڑھی جب بھی نہ ہوگی، ہاں اگراس کوغُسل دے کر گود میں لیا تھا تو ہو جائے گی مگر خلافِ مستحب ہے۔ یہ اَحْکام اس وقت ہیں کہ مسلمان کا بچہ ہواور کافر کا مُر دہ بچہ ہے، تو کسی حال میں نماز نہ ہو گی غُسل دیا ہو یا نہیں۔ (7)
مسئلہ ۲۸: اگر نماز پڑھی اور جیب وغیرہ میں شیشی ہے اور اس میں پیشاب یا خون یا شراب ہے تو نماز نہ ہو گی اور جیب میں انڈا ہے اور اس کی زردی خون ہو چکی ہے تو نماز ہو جائے گی۔ (8)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، فصل الاستنجائ، ج۱، ص۶۲۰.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مبحث في بول الفأرۃ... إلخ، ج۱، ص۵۷۷.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مبحث في بول الفأرۃ... إلخ، ج۱، ص۵۷۹،وغیرہ.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۶.
5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۸۰.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۶.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۰۸.
8 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في الآسار، ص۱۹۷.
مسئلہ ۲۹: روئی کا کپڑا اُدھیڑا گیا اور اس کے اندر چوہا سوکھا ہوا ملا، تواگر اس میں سوراخ ہے تو تین دن تین راتوں کی نمازوں کا اعادہ کرلے اور سوراخ نہ ہو تو جتنی نمازیں اس سے پڑھی ہیں سب کا اعادہ کرے۔ (1)
مسئلہ ۳۰: کسی کپڑے یا بدن پر چند جگہ نَجاستِ غلیظہ لگی اور کسی جگہ درہم کے برابر نہیں مگر مجموعہ درہم کے برابر ہے، تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زائد ہے تو زائد، نَجاستِ خفیفہ میں بھی مجموعہ ہی پر حکم دیا جائے گا۔ (2)
مسئلہ ۳۱: حرام جانوروں کا دودھ نجس ہے، البتہ گھوڑی کا دودھ پاک ہے مگر کھانا جائز نہیں۔
مسئلہ ۳۲: چُوہے کی مینگنی گیہوں میں مل کر پِس گئی یا تیل میں پڑ گئی تو آٹا اور تیل پاک ہے ،ہاں اگر مزے میں فرق آجائے تو نجس ہے اور اگر روٹی کے اندر ملی تو اس کے آس پاس سے تھوڑی سی الگ کردیں باقی میں کچھ حَرَج نہیں۔ (3)
مسئلہ ۳۳: ریشم کے کیڑے کی بِیٹ اور اس کا پانی پاک ہے۔ (4)
مسئلہ ۳۴: ناپاک کپڑے میں پاک کپڑا یا پاک میں ناپاک کپڑا لپیٹا اور اس ناپاک کپڑے سے یہ پاک کپڑا نَم ہو گیا تو ناپاک نہ ہو گا بشرطیکہ نَجاست کا رنگ یا بو اس پاک کپڑے میں ظاہر نہ ہو، ورنہ نم ہو جانے سے بھی ناپاک ہو جائے گا، ہاں اگر بھیگ جائے تو ناپاک ہو جائے گا اور یہ اسی صورت میں ہے کہ وہ ناپاک کپڑا پانی سے تر ہوا ہو اور اگر پیشاب یا شراب کی تری اس میں ہے تو وہ پاک کپڑا نم ہو جانے سے بھی نجس ہو جائے گا اور اگر ناپاک کپڑا سوکھا تھا اورپاک تر تھا اور اس پاک کی تری سے وہ ناپاک تر ہو گیا اور اس ناپاک کو اتنی تری پہنچی کہ اس سے چُھوٹ کر اس پاک کو لگی تو یہ ناپاک ہوگیا ورنہ نہیں۔ (5)
مسئلہ ۳۵: بھیگے ہوئے پاؤں نجس زمین یا بچھونے پر رکھے تو ناپاک نہ ہوں گے، اگرچہ پاؤں کی تری کا اس پردھبّہ محسوس ہو، ہاں اگر اس زمین یا بچھونے کو اتنی تری پہنچی کہ اس کی تری پاؤں کو لگی تو پاؤں نجس ہو جائیں گے۔ (6)
مسئلہ ۳۶: بھیگی ہوئی ناپاک زمین یا نجس بچھونے پر سوکھے ہوئے پاؤں رکھے اور پاؤں میں تری آگئی تو نجس ہو گئے اور سیل ہے تو نہیں۔ (7)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، فصل في البئر، ج۱، ص۴۲۱.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب: إذا صرح... إلخ، ج۱، ص۵۸۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۶،۴۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۶.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، فصل الاستنجائ، مطلب في الفرق بین الاستبرائ... إلخ، ج۱، ص۶۱۷.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۷.
7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۳۷: جس جگہ کو گوبر سے لیسا اور وہ سُوکھ گئی بھیگا کپڑا اس پر رکھنے سے نجس نہ ہو گا، جب تک کپڑے کی تری اسے اتنی نہ پہنچے کہ اس سے چھوٹ کر کپڑے کو لگے۔ (1)
مسئلہ ۳۸: نجس کپڑا پہن کر یا نجس بچھونے پر سویا اور پسینہ آیا،اگر پسینہ سے وہ ناپاک جگہ بھیگ گئی پھر اُس سے بدن تر ہو گیا تو ناپاک ہو گیا ورنہ نہیں۔ (2)
مسئلہ ۳۹: ناپاک چیز پر ہوا ہو کر گزری اور بدن یا کپڑے کو لگی تو ناپاک نہ ہوگا۔ (3)
مسئلہ ۴۰: میانی تر تھی اور ہوا نکلی تو کپڑا نجس نہ ہوگا۔ (4)
مسئلہ ۴۱: ناپاک چیز کا دھواں کپڑے یا بدن کو لگے تو ناپاک نہیں۔ یوہیں ناپاک چیز کے جلانے سے جو بخارات اُٹھیں ان سے بھی نجس نہ ہو گا اگرچہ ان سے پورا کپڑا بھیگ جائے ،ہاں اگر نجاست کا اثر اس میں ظاہر ہو تو نجس ہو جائے گا۔ (5)
مسئلہ ۴۲: اُپلے کا دُھواں روٹی میں لگا تو روٹی ناپاک نہ ہوئی۔
مسئلہ ۴۳: کوئی نجس چیز دَہ در دَہ پانی میں پھینکی اور اس پھینکنے کی وجہ سے پانی کی چھینٹیں کپڑے پر پڑیں کپڑا نجس نہ ہو گا، ہاں اگر معلوم ہو کہ یہ چھینٹیں اس نجس شے کی ہیں تو اس صورت میں نجس ہو جائے گا۔ (6)
مسئلہ ۴۴: پاخانہ پر سے مکھیاں اُڑ کر کپڑے پر بیٹھیں کپڑا نجس نہ ہوگا۔ (7)
مسئلہ ۴۵: راستہ کی کیچڑ پاک ہے جب تک اس کا نجس ہونا معلوم نہ ہو، تو اگر پاؤں یا کپڑے میں لگی اور بے دھوئے نماز پڑھ لی ہو گئی مگر دھو لینا بہتر ہے۔ (8)
مسئلہ ۴۶: سڑک پر پانی چِھڑکا جارہا تھا، زمین سے چھینٹیں اُڑ کر کپڑے پر پڑیں، کپڑا نجس نہ ہوا مگر دھولینا بہتر ہے۔
مسئلہ ۴۷: آدمی کی کھال اگرچہ ناخن برابر تھوڑے پانی (یعنی دَہ در دَہ سے کم) میں پڑ جائے، وہ پانی ناپاک ہوگیا
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۷.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۷.
7 ۔ ''المحیط البرہاني''، کتاب الطہارات، الفصل السابع في النجاسات وأحکامہا، ج۱، ص۲۱۶.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۷.
8 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في العفو عن طین الشارع، ج۱، ص۵۸۳.
اور خود ناخن گر جائے تو ناپاک نہیں۔ (1)
مسئلہ ۴۸: بعد پاخانہ پیشاب کے ڈھیلوں سے استنجا کر لیا، پھر اس جگہ سے پسینہ نکل کر کپڑے یا بدن میں لگا تو بدن اور کپڑے ناپاک نہ ہوں گے۔ (2)
مسئلہ ۴۹: پاک مٹی میں ناپاک پانی مِلایا تو نجس ہو گئی۔ (3)
مسئلہ۵۰: مٹی میں ناپاک بُھس ملایا ،اگر تھوڑا ہو تو مطلقاً پاک ہے اور جو زِیادہ ہو تو جب تک خشک نہ ہو، ناپاک ہے۔ (4)
مسئلہ ۵۱: کُتّا بدن یا کپڑے سے چھو جائے، تو اگرچہ اس کا جِسْم تر ہو بدن اور کپڑا پاک ہے، ہاں اگر اس کے بدن پر نَجاست لگی ہو تو اور بات ہے یا اس کا لُعاب لگے تو ناپاک کر دے گا۔ (5)
مسئلہ ۵۲: کُتّے وغیرہ کسی ایسے جانور نے جس کا لُعاب ناپاک ہے آٹے میں مونھ ڈالا،تو اگر گُندھا ہوا تھا توجہاں اس کا مونھ پڑا، اس کو علیحدہ کردے باقی پاک ہے اور سُوکھا تھا تو جتنا تر ہو گیا وہ پھینک دے۔
مسئلہ ۵۳: آبِ مُستَعمَل پاک ہے نوشا در پاک ہے۔ (6)
مسئلہ ۵۴: سوا سوئر کے تمام جانوروں کی وہ ہڈّی جس پر مردار کی چکنائی نہ لگی ہو اور بال اور دانت پاک ہیں۔ (7)
مسئلہ ۵۵: عورت کے پیشاب کے مقام سے جو رطوبت نکلے پاک ہے۔(8) کپڑے یا بدن میں لگے تو دھونا کچھ ضرور نہیں ہاں بہتر ہے۔
مسئلہ ۵۶: جو گوشت سَڑ گیا، بدبُو لے آیا اس کا کھانا حرام ہے اگرچہ نجس نہیں۔ (9)
1 ۔ ''منیۃ المصلي''، بیان النجاسۃ، ص۱۰۸.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۸.
3 ۔ المرجع السابق،الفصل الثاني،ص۴۷. 4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۴۰۱.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، ج۱، ص۴۸.
6 ۔ ''نور الإیضاح''، کتاب الطہارۃ، ص۳، و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مطلب في العرقیّ الذی
یستقطر من دردی الخمر نجس حرام بخلاف النوشادر، ج۱، ص۵۸۴.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۳۹۹. و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۴۷۱.
8 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۵۶۶.
9 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مطلب في الفرق بین الاستبراء... إلخ، ج۱، ص۶۲۰.
جو چیزیں ایسی ہیں کہ وہ خود نجس ہیں (جن کو ناپاکی اور نَجاست کہتے ہیں) جیسے شراب یا غلیظ، ایسی چیزیں جب تک اپنی اصل کو چھوڑ کر کچھ اور نہ ہوجائیں پاک نہیں ہو سکتیں،شراب جب تک شراب ہے نجس ہی رہے گی اور سرکہ ہو جائے تو اب پاک ہے۔
مسئلہ ۱: جس برتن میں شراب تھی اور سرکہ ہو گئی وہ برتن بھی اندر سے اتنا پاک ہو گیا جہاں تک اس وقت سرکہ ہے، اگر اُوپر شراب کی چھینٹیں پڑی تھیں ،تو وہ شراب کے سرکہ ہونے سے پاک نہ ہوگی۔ یوہیں اگر شراب مثلاً مونھ تک بھری تھی، پھر کچھ گِر گئی کہ برتن تھوڑا خالی ہو گیا اس کے بعد سرکہ ہوئی تو یہ اوپر کا حصہ جو پہلے ناپاک ہو چکا تھا پاک نہ ہو گا۔ اگر سرکہ اس سے انڈیلا جائے گاتو وہ سرکہ بھی ناپاک ہو جائے گا، ہاں اگر پلی (1) وغیرہ سے نکال لیا جائے تو پاک ہے اور پیاز، لہسن شراب میں پڑ گئے تھے سرکہ ہونے کے بعد پاک ہو گئے
مسئلہ ۲: شراب میں چوہا گِر کر پھول پَھٹ گیا تو سرکہ ہونے کے بعد بھی پاک نہ ہوگا اور اگر پھولا پھٹا نہیں تھا تو اگر سرکہ ہونے سے پہلے نکال کر پھینک دیا اس کے بعد سرکہ ہوئی تو پاک ہے اور اگر سرکہ ہونے کے بعد نکال کر پھینکا تو سرکہ بھی ناپاک ہے۔ (2)
مسئلہ ۳: شراب میں پیشاب کا قطرہ گِر گیا یا کُتّے نے مونھ ڈال دیا یا ناپاک سرکہ ملا دیا تو سرکہ ہونے کے بعد بھی حرام و نجس ہے۔ (3)
مسئلہ ۴: شراب کو خریدنا یا منگانا یا اُٹھانا یا رکھنا حرام ہے اگرچہ سرکہ کرنے کی نیت سے ہو۔
مسئلہ ۵: نجس جانور نمک کی کان میں گِر کر نمک ہو گیا تو وہ نمک پاک و حلال ہے۔ (4)
مسئلہ ۶: اُپلے کی راکھ پاک ہے(5) اور اگر راکھ ہونے سے قبل بُجھ گیا تو ناپاک۔
1 ۔ یعنی ٹیڑھا چمچہ تیل یا گھی نکالنے کا آلہ۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۵. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۴.
مسئلہ ۷: جو چیزیں بذا تہٖ نجس نہیں بلکہ کسی نَجاست کے لگنے سے ناپاک ہوئیں، ان کے پاک کرنے کے مختلف طریقے ہیں پانی اور ہر رقیق بہنے والی چیز سے (جس سے نَجاست دور ہو جائے) دھو کر نجس چیز کو پاک کر سکتے ہیں، مثلاً سرکہ اور گلاب کہ ان سے نَجاست کو دور کر سکتے ہیں تو بدن یا کپڑا ان سے دھو کر پاک کر سکتے ہیں۔
فائدہ: بغیر ضرورت گلاب اور سرکہ وغیرہ سے پاک کرنا ناجائز ہے کہ فضول خرچی ہے۔
مسئلہ ۸: مُستَعمَل پانی اور چائے سے دھوئیں پاک ہو جائے گا۔
مسئلہ ۹: تھوک سے اگر نَجاست دور ہو جائے پاک ہو جائے گا، جیسے بچے نے دودھ پی کر پِستان پر قے کی، پھر کئی بار دودھ پیا یہاں تک کہ اس کا اثر جاتا رہا پاک ہو گئی (1) اورشرابی کے مونھ کا مسئلہ اوپر گزرا۔
مسئلہ ۱۰: دودھ اور شوربا اور تیل سے دھونے سے پاک نہ ہو گا کہ ان سے نَجاست دور نہ ہو گی۔ (2)
مسئلہ ۱۱: نَجاست اگر دَلدار ہو (جیسے پاخانہ، گوبر، خون وغیرہ) تو دھونے میں گنتی کی کوئی شرط نہیں بلکہ اس کو دور کرنا ضروری ہے ،اگر ایک بار دھونے سے دور ہو جائے تو ایک ہی مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا اور اگر چار پانچ مرتبہ دھونے سے دور ہو تو چار پانچ مرتبہ دھونا پڑے گا(3) ہاں اگر تین مرتبہ سے کم میں نَجاست دور ہو جائے تو تین بار پورا کرلینا مستحب ہے۔
مسئلہ ۱۲: اگر نَجاست دور ہو گئی مگر اس کا کچھ اثر رنگ یا بُو باقی ہے تو اسے بھی زائل کرنا لازم ہے، ہاں اگر اس کا اثر بدقّت جائے تو اثر دور کرنے کی ضرورت نہیں تین مرتبہ دھولیا پاک ہو گیا،صابون یا کھٹائی یا گرم پانی سے دھونے کی حاجت نہیں۔ (4)
مسئلہ ۱۳: کپڑے یا ہاتھ میں نجس رنگ لگا ،یا ناپاک مہندی لگائی تو اتنی مرتبہ دھوئیں کہ صاف پانی گرنے لگے، پاک ہو جائے گا اگرچہ کپڑے یاہاتھ پر رنگ باقی ہو۔ (5)
مسئلہ ۱۴: زعفران یا رنگ ،کپڑا رنگنے کے لیے گھولا تھا اس میں کسی بچے نے پیشاب کر دیا یا اَور کوئی نَجاست پڑ گئی اس
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۵.
2 ۔ ''تبیین الحقائق''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۱۹۴.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۱.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۲.
5 ۔ ''فتح القدیر''، کتاب الطہارات، باب الأنجاس وتطہیرہا، ج۱، ص۱۸۴.
سے اگر کپڑا رنگ لیا تو تین بار دھو ڈالیں پاک ہو جائے گا۔
مسئلہ ۱۵: گُود ناکہ سوئی چبھو کر اس جگہ سرمہ بھر دیتے ہیں ،تو اگر خون اتنا نکلا کہ بہنے کے قابل ہو تو ظاہر ہے کہ وہ خون ناپاک ہے اور سُرمہ کہ اس پر ڈالا گیا وہ بھی ناپاک ہو گیا ،پھر اس جگہ کو دھو ڈالیں پاک ہو جائے گی اگرچہ ناپاک سُرمہ کا رنگ بھی باقی رہے۔ یوہیں زخم میں راکھ بھر دی، پھر دھو لیا پاک ہوگیا اگرچہ رنگ باقی ہو۔
مسئلہ ۱۶: کپڑے یا بدن میں ناپاک تیل لگا تھا ،تین مرتبہ دھو لینے سے پاک ہو جائے گا (1) اگرچہ تیل کی چکنائی موجود ہو، اس تکلّف کی ضرورت نہیں کہ صابون یا گرم پانی سے دھوئے لیکن اگر مردار کی چربی لگی تھی، تو جب تک اس کی چکنائی نہ جائے پاک نہ ہوگا۔
مسئلہ ۱۷: اگر نَجاست رقیق ہو تو تین مرتبہ دھونے اور تینوں مرتبہ بقوّت نچوڑنے سے پاک ہوگا اور قوّت کے ساتھ نچوڑنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص اپنی طاقت بھر اس طرح نچوڑے کہ اگر پھر نچوڑے تو اس سے کوئی قطرہ نہ ٹپکے ،اگر کپڑے کا خیال کر کے اچھی طرح نہیں نچوڑا تو پاک نہ ہوگا۔ (2)
مسئلہ ۱۸: اگر دھونے والے نے اچھی طرح نچوڑ لیا مگر ابھی ایسا ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص جو طاقت میں اس سے زِیادہ ہے نچوڑے تو دو ایک بوند ٹپک سکتی ہے، تو اس کے حق میں پاک اور دوسرے کے حق میں ناپاک ہے۔ اس دوسرے کی طاقت کا اعتبار نہیں ،ہاں اگر یہ دھوتا اور اسی قدر نچوڑتا تو پاک نہ ہوتا۔ (3)
مسئلہ ۱۹: پہلی اور دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد ہاتھ پاک کر لینا بہتر ہے اور تیسری بار نچوڑنے سے کپڑا بھی پاک ہوگیا اور ہاتھ بھی اور جو کپڑے میں اتنی تری رہ گئی ہو کہ نچوڑنے سے ایک آدھ بوند ٹپکے گی تو کپڑا اور ہاتھ دونوں ناپاک ہیں۔ (4)
مسئلہ ۲۰: پہلی یا دوسری بار ہاتھ پاک نہیں کیا اور اس کی تری سے کپڑے کا پاک حصہ بھیگ گیا تو یہ بھی ناپاک ہوگیا، پھر اگر پہلی بار کے نچوڑنے کے بعد بھیگا ہے تو اسے دو مرتبہ دھونا چاہیے اور دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد ہاتھ کی تری سے بھیگاہے تو ایک مرتبہ دھویا جائے۔ یوہیں اگر اس کپڑے سے جو ایک مرتبہ دھو کر نچوڑ لیا گیا ہے، کوئی پاک کپڑا بھیگ جائے تو
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مطلب في حکم الصبغ... إلخ، ج۱، ص۵۹۱.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۲.
و ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، مطلب في حکم الوشم، ج۱، ص۵۹۴،وغیرہما.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۵۹۴.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۲.
یہ دوبار دھویا جائے اور اگر دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد اس سے وہ کپڑا بھیگا تو ایک بار دھونے سے پاک ہو جائے گا۔
مسئلہ ۲۱: کپڑے کو تین مرتبہ دھو کر ہر مرتبہ خوب نچوڑ لیا ہے کہ اب نچوڑنے سے نہ ٹپکے گا، پھر اس کو لٹکا دیا اور اس سے پانی ٹپکا تو یہ پانی پاک ہے اور اگر خوب نہیں نچوڑا تھا تو یہ پانی ناپاک ہے۔
مسئلہ ۲۲: دودھ پیتے لڑکے اور لڑکی کا ایک ہی حکم ہے کہ ان کا پیشاب کپڑے یا بدن میں لگا ہے، تو تین بار دھونا اور نچوڑنا پڑے گا۔
مسئلہ ۲۳: جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں ہے (جیسے چٹائی، برتن، جُوتا وغیرہ) اس کو دھو کر چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے، یوہیں دو مرتبہ اَور دھوئیں تیسری مرتبہ جب پانی ٹپکنا بند ہو گیا وہ چیز پاک ہو گئی اسے ہر مرتبہ کے بعدسُوکھانا ضروری نہیں۔ یوہیں جو کپڑا اپنی نازکی کے سبب نچوڑنے کے قابل نہیں اسے بھی یوہیں پاک کیا جائے۔ (1)
مسئلہ ۲۴: اگر ایسی چیز ہو کہ اس میں نَجاست جذب نہ ہو ئی ،جیسے چینی کے برتن،یا مٹی کا پرانا استعمالی چکنا برتن یالوہے، تانبے، پیتل وغیرہ دھاتوں کی چیزیں تو اسے فقط تین بار دھو لینا کافی ہے، اس کی بھی ضرورت نہیں کہ اسے اتنی دیر تک چھوڑدیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے۔ (2)
مسئلہ ۲۵: ناپاک برتن کو مٹی سے مانجھ لینا بہتر ہے۔
مسئلہ ۲۶: پکایا ہوا چمڑا ناپاک ہو گیا، تو اگر اسے نچوڑ سکتے ہیں تو نچوڑ یں ورنہ تین مرتبہ دھوئیں اور ہر مرتبہ اتنی دیر تک چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے۔ (3)
مسئلہ ۲۷: دَری یا ٹاٹ یا کوئی ناپاک کپڑا بہتے پانی میں رات بھر پڑا رہنے دیں پاک ہو جائے گا اور اصل یہ ہے کہ جتنی دیر میں یہ ظن غالب ہو جائے کہ پانی نَجاست کو بہالے گیا پاک ہو گیا، کہ بہتے پانی سے پاک کرنے میں نچوڑنا شرط نہیں۔
مسئلہ ۲۸: کپڑے کا کوئی حصہ ناپاک ہو گیا اور یہ یاد نہیں کہ وہ کون سی جگہ ہے، تو بہتر یہی ہے کہ پورا ہی دھو ڈالیں
1 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۴۱۳.
2 ۔ المرجع السابق، ص۴۱۴.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۳.
(یعنی جب بالکل نہ معلوم ہوکہ کس حصہ میں ناپاکی لگی ہے اور اگر معلوم ہے کہ مثلا آستین یا کَلی نجس ہو گئی مگر یہ نہیں معلوم کہ آستین یا کَلی کا کونسا حصہ ہےتو آستین یا کَلی کا دھونا ہی پورے کپڑے کا دھونا ہے) اور اگر انداز سے سوچ کر اس کا کوئی حصہ دھولے جب بھی پاک ہو جائے گا اور جو بلا سوچے ہوئے کوئی ٹکڑا دھولیا جب بھی پاک ہے مگر اس صورت میں اگر چند نمازیں پڑھنے کے بعد معلوم ہو کہ نجس حصہ نہیں دھو یا گیا تو پھر دھوئے اور نمازوں کا اعادہ کرے اور جو سوچ کر دھو لیا تھااور بعد کو غلطی معلوم ہوئی تواب دھولے اور نمازوں کے اعادہ کی حاجت نہیں۔ (1)
مسئلہ ۲۹: یہ ضروری نہیں کہ ایک دم تینوں بار دھوئیں، بلکہ اگر مختلف وقتوں بلکہ مختلف دنوں میں یہ تعداد پوری کی جب بھی پاک ہو جائے گا۔ (2)
مسئلہ ۳۰: لوہے کی چیز جیسے چُھری، چاقو، تلوار وغیرہ جس میں نہ زنگ ہونہ نقش و نگار نجس ہو جائے، تو اچھی طرح پونچھ ڈالنے سے پاک ہو جائے گی اور اس صورت میں نَجاست کے دَلدار یا پتلی ہونے میں کچھ فرق نہیں۔ یوہیں چاندی، سونے، پیتل، گلٹ اور ہر قسم کی دھات کی چیزیں پونچھنے سے پاک ہو جاتی ہیں بشرطیکہ نقشی نہ ہوں اور اگر نقشی ہوں یا لوہے میں زنگ ہو تو دھونا ضروری ہے پونچھنے سے پاک نہ ہوں گی۔ (3)
مسئلہ ۳۱: آئینہ اورشیشے کی تمام چیزیں اور چینی کے برتن یا مٹی کے روغنی برتن یا پالش کی ہوئی لکڑی غرض وہ تمام چیزیں جن میں مسام نہ ہوں کپڑے یا پَتّے سے اس قدر پونچھ لی جائیں کہ اثر بالکل جاتا رہے پاک ہو جاتی ہیں(4) ۔
مسئلہ ۳۲: مَنی کپڑے میں لگ کر خشک ہو گئی تو فقط مَل کر جھاڑنے اور صاف کرنے سے کپڑا پاک ہو جائے گا اگرچہ بعد مَلنے کے کچھ اس کا اثر کپڑے میں باقی رہ جائے۔ (5)
مسئلہ ۳۳: اس مسئلہ میں عورت و مرد اور انسان و حیوان و تندرست و مریضِ جریان سب کی مَنی کا ایک حکم ہے۔ (6)
مسئلہ ۳۴: بدن میں اگر مَنی لگ جائے تو بھی اسی طرح پاک ہو جائے گا۔ (7)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۳،وغیرہ.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱،ص ۴۴.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۵۶۷.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱،ص ۴۴.
مسئلہ ۳۵: پیشاب کر کے طہارت نہ کی پانی سے نہ ڈھیلے سے اور منی اس جگہ پر گزری جہاں پیشاب لگا ہوا ہے، تو یہ مَلنے سے پاک نہ ہو گی بلکہ دھونا ضروری ہے اوراگر طہارت کر چکا تھا یا منی جست کرکے نکلی کہ اس موضعِ نجاست پر نہ گزری تو مَلنے سے پاک ہو جائے گی۔ (1)
مسئلہ ۳۶: جس کپڑے کو مَل کر پاک کر لیا، اگروہ پانی سے بھیگ جائے تو ناپاک نہ ہوگا۔ (2)
مسئلہ ۳۷: اگر منی کپڑے میں لگی ہے اور اب تک تر ہے، تو دھونے سے پاک ہو گا مَلنا کافی نہیں۔ (3)
مسئلہ ۳۸: موزے یا جوتے میں دَلدار نَجاست لگی، جیسے پاخانہ ،گوبر،مَنی تو اگرچہ وہ نَجاست ترہو کھرچنے اور رگڑنے سے پاک ہو جائیں گے۔ (4)
مسئلہ ۳۹: اور اگر مثل پیشاب کے کوئی پتلی نَجاست لگی ہو اور اس پر مٹی یا راکھ یا ریتا وغیرہ ڈال کر رگڑ ڈالیں جب بھی پاک ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہ کیا یہاں تک کہ وہ نَجاست سُوکھ گئی تو اب بے دھوئے پاک نہ ہوں گے۔ (5)
مسئلہ ۴۰: ناپاک زمین اگر خشک ہو جائے اور نَجاست کا اثر یعنی رنگ و بو جاتا رہے پاک ہو گئی، خواہ وہ ہوا سے سوکھی ہویا دھوپ یا آگ سے مگر اس سے تیمم کرنا جائز نہیں نماز اس پر پڑھ سکتے ہیں۔ (6)
مسئلہ ۴۱: جس کوئیں میں ناپاک پانی ہو پھر وہ کوآں سُوکھ جائے تو پاک ہوگیا۔
مسئلہ ۴۲: درخت اور گھاس اور دیوار اور ایسی اینٹ جو زمین میں جڑی ہو ،یہ سب خشک ہو جانے سے پاک ہو گئے اور اگر اینٹ جڑی ہوئی نہ ہو تو خشک ہونے سے پاک نہ ہو گی بلکہ دھونا ضروری ہے۔ یوہیں درخت یا گھاس سوکھنے کے پیشتر کاٹ لیں تو طہارت کے لیے دھونا ضروری ہے۔ (7)
مسئلہ ۴۳: اگر پتھر ایسا ہو جو زمین سے جدا نہ ہو سکے تو خشک ہونے سے پاک ہے ورنہ دھونے کی ضرورت ہے۔ (8)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۵۶۵، وغیرہما.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۴.
3 ۔ المرجع السابق . 4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۵۶۲.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۴.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۴.
و ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطہارۃ، فصل في النجاسۃ التی تصیب الثوب... إلخ، ج۱، ص۱۲.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۴.
مسئلہ ۴۴: چکی کا پتھر خشک ہونے سے پاک ہو جائے گا۔ (1)
مسئلہ ۴۵: کنکری جو زمین کے اوپر ہے خشک ہونے سے پاک نہ ہو گی اور جو زمین میں وصل ہے زمین کے حکم میں ہے۔ (2)
مسئلہ ۴۶: جو چیز زمین سے متصل تھی اور نجس ہو گئی ،پھر خشک ہونے کے بعد الگ کی گئی تو اب بھی پاک ہی ہے۔ (3)
مسئلہ ۴۷: ناپاک مٹی سے برتن بنائے تو جب تک کچّے ہیں ناپاک ہیں، بعد پختہ کرنے کے پاک ہو گئے۔ (4)
مسئلہ ۴۸: تنور یا تَوے پر ناپاک پانی کا چھینٹا ڈالا اور آنچ سے اس کی تری جاتی رہی اب جوروٹی لگائی گئی پاک ہے۔ (5)
مسئلہ ۴۹: اُپلے جلا کر کھانا پکانا جائز ہے۔ (6)
مسئلہ ۵۰: جو چیز سوکھنے یا رگڑنے وغیرہ سے پاک ہو گئی، اس کے بعد بھیگ گئی تو ناپاک نہ ہوگی۔ (7)
مسئلہ ۵۱: سُوئر کے سوا ہر جانور حلال ہو یا حرام جب کہ ذبح کے قابل ہو اور بسم اللہ کہہ کہ ذبح کیا گیا، تو اس کا گوشت اور کھال پاک ہے کہ نمازی کے پاس اگروہ گوشت ہے یا اس کی کھال پر نماز پڑھی تو نماز ہو جائے گی مگر حرام جانور ذبح سے حلال نہ ہو گا حرام ہی رہے گا۔ (8)
مسئلہ ۵۲: سُوئر کے سوا ہرمردار جانور کی کھال سکھانے سے پاک ہو جاتی ہے، خواہ اس کو کھاری نمک وغیرہ کسی دوا سے پکایا ہو یا فقط دھوپ یا ہوا میں سکھالیا ہواور اس کی تمام رطوبت فنا ہو کر بدبو جاتی رہی ہوکہ دونوں صورتوں میں پاک ہو جائے گی اس پر نماز درست ہے۔ (9)
مسئلہ ۵۳: درندے کی کھال اگرچہ پکالی گئی ہو نہ اس پر بیٹھنا چاہیے ،نہ نمازپڑھنی چاہیے کہ مزاج میں سختی اورتکبر پیدا
1 ۔ ''النہر الفائق''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۱۴۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۴.
3 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطہارۃ، فصل في النجاسۃ التي تصیب الثوب... إلخ، ج۱، ص۱۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۴.
5 ۔ المرجع السابق. 6 ۔ المرجع السابق. 7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطھارۃ، فصل في النجاسۃ التي تصیب الثوب... إلخ، ج۱، ص۱۱.
9 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ ،مطلب في أحکام الدباغۃ ،ج۱،ص۳۹۳۔۳۹۵،وغیرہ.
ہوتا ہے، بکری اور مینڈھے کی کھال پر بیٹھنے اور پہننے سے مزاج میں نرمی اور انکسار پیدا ہوتا ہے، کتّے کی کھال اگرچہ پکالی گئی ہو یا وہ ذبح کر لیا گیا ہو استعمال میں نہ لانا چاہیے کہ آئمہ کے اختلاف اور عوام کی نفرت سے بچنا مناسب ہے۔
مسئلہ ۵۴: روئی کا اگر اتنا حصہ نجس ہے جس قدر دُھننے سے اُڑ جانے کا گمانِ صحیح ہو تو دُھننے سے پاک ہو جائے گی ورنہ بغیر دھوئے پاک نہ ہو گی، ہاں اگر معلوم نہ ہو کہ کتنی نجس ہے تو بھی دھننے سے پاک ہو جائے گی۔
مسئلہ ۵۵: غلّہ جب پَیر (1) میں ہو اور اس کی مالش کے وقت بیلوں نے اس پر پیشاب کیا ،تو اگر چند شریکوں میں تقسیم ہوا یا اس میں سے مزدوری دی گئی یا خیرات کی گئی تو سب پاک ہو گیا اور اگر کُل بجنسہٖ موجود ہے تو ناپاک ہے، اگر اس میں سے اس قدر جس میں احتمال ہو سکے کہ اس سے زِیادہ نجس نہ ہو گا دھوکر پاک کر لیں تو سب پاک ہو جائے گا۔
مسئلہ ۵۶: رانگ، سیسہ پگھلانے سے پاک ہو جاتا ہے۔
مسئلہ ۵۷: جمے ہوئے گھی میں چوہا گِر کر مر گیا تو چوہے کے آس پاس سے نکال ڈالیں،باقی پاک ہے کھا سکتے ہیں اور اگر پتلا ہے تو سب ناپاک ہو گیا اس کا کھانا جائز نہیں، البتہ اس کام میں لا سکتے ہیں جس میں استعمالِ نَجاست ممنوع نہ ہو، تیل کا بھی یہی حکم ہے۔ (2)
مسئلہ ۵۸: شہد ناپاک ہو جائے تو اس کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس سے زِیادہ اس میں پانی ڈال کر اتنا جوش دیں کہ جتنا تھا اتنا ہی ہو جائے،تین مرتبہ یوہیں کریں پاک ہو جائے گا۔ (3)
مسئلہ ۵۹: ناپاک تیل کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اتنا ہی پانی اس میں ڈال کر خوب ہلائیں، پھر اوپر سے تیل نکال لیں اور پانی پھینک دیں، یوہیں تین بار کریں یا اس برتن میں نیچے سوراخ کر دیں کہ پانی بہ جائے اور تیل رہ جائے،یوں بھی تین مرتبہ میں پاک ہو جائے گا یا یوں کریں کہ اتنا ہی پانی ڈال کر اس تیل کو پکائیں یہاں تک کہ پانی جل جائے اور تیل رہ جائے ایسا ہی تین دفعہ میں پاک ہو جائے گا اور یوں بھی کہ پاک تیل یا پانی دوسرے برتن میں رکھ کر اس ناپاک اور اس پاک دونوں کی دھارملا کر اوپر سے گرائیں مگرا س میں یہ ضرور خیال رکھیں کہ ناپاک کی دھار اس کی دھار سے کسی وقت جدا نہ ہو، نہ اس برتن میں کوئی قطرہ ناپاک کا پہلے سے پہنچا ہو نہ بعد کوورنہ پھر ناپاک ہو جائے گا، بہتی ہوئی عام چیزیں، گھی وغیرہ کے پاک کرنے کے بھی
1 ۔ یعنی اناج صاف کرنے کی جگہ۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۵.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الأول، ج۱، ص۴۲.
یہی طریقے ہیں اور اگر گھی جما ہو،اسے پگھلا کر انھیں طریقوں میں سے کسی طریقہ پر پاک کریں اور ایک طریقہ ان چیزوں کے پاک کرنے کا یہ بھی ہے کہ پرنالے کے نیچے کوئی برتن رکھیں اور چھت پر سے اسی جنس کی پاک چیز یا پانی کے ساتھ اس طرح ملا کر بہائیں کہ پرنالے سے دونوں دھاریں ایک ہو کر گریں سب پاک ہو جائے گا یا اسی جنس یا پانی سے اُبال لیں پاک ہو جائے گا۔ (1)
مسئلہ ۶۰: جا نماز میں ہاتھ، پاؤں، پیشانی اور ناک رکھنے کی جگہ کا نماز پڑھنے میں پاک ہونا ضروری ہے، باقی جگہ اگر نَجاست ہو نماز میں حَرَج نہیں، ہاں نماز میں نَجاست کے قرب سے بچنا چاہیے۔
مسئلہ ۶۱: کسی کپڑے میں نَجاست لگی اور وہ نَجاست اسی طرف رہ گئی ،دوسری جانب اس نے اثر نہیں کیا تو اس کو لوٹ کر دوسری طرف جدھر نَجاست نہیں لگی ہے نماز نہیں پڑھ سکتے اگرچہ کتنا ہی موٹا ہو مگر جب کہ وہ نَجاست مَواضِعِ سجود سے الگ ہو۔ (2)
مسئلہ ۶۲: جو کپڑادو تہ کا ہواگر ایک تہ اس کی نجس ہو جائے توا گر دونوں ملا کر سی لیے گئے ہوں، تو دوسری تہ پر نماز جائز نہیں اور اگر سلے نہ ہوں تو جائز ہے۔ (3)
مسئلہ ۶۳: لکڑی کا تختہ ایک رُخ سے نجس ہو گیا تو اگر اتنا موٹا ہے کہ موٹائی میں چِر سکے، تو لوٹ کر اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ (4)
مسئلہ ۶۴: جو زمین گوبر سے لیسی گئی اگرچہ سُوکھ گئی ہو اس پر نماز جائز نہیں، ہاں اگر وہ سُوکھ گئی اور اس پر کوئی موٹا کپڑا بچھالیا، تو اس کپڑے پر نماز پڑھ سکتے ہیں اگرچہ کپڑے میں تری ہو مگر اتنی تری نہ ہو کہ زمین بھیگ کر اس کو تر کردے کہ اس صورت میں یہ کپڑا نجس ہو جائے گا اور نما ز نہ ہوگی۔
مسئلہ ۶۵: آنکھوں میں ناپاک سرمہ یا کاجل لگایا اور پھیل گیا تو دھونا واجب ہے اور اگر آنکھوں کے اندر ہی ہو باہر نہ لگا ہو تو معاف ہے۔
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۳۷۸۔۳۸۰.
2 ۔ ''غنیۃ المتملي''، شرائط الصلاۃ، الشرط الثاني،ص۲۰۲.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الصلوۃ، باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیھا، مطلب في التشبہ بأھل الکتاب، ج۲، ص۴۶۷.
4 ۔ ''غنیۃ المتملي''، شرائط الصلاۃ، الشرط الثاني، ص۲۰۲.
مسئلہ ۶۶: کسی دوسرے مسلمان کے کپڑے میں نَجاست لگی دیکھی اور غالب گمان ہے کہ اس کو خبر کریگا تو پاک کر لے گا تو خبر کرنا واجب ہے۔ (1)
مسئلہ ۶۷: فاسقوں کے استعمالی کپڑے جن کا نجس ہونا معلوم نہ ہو پاک سمجھے جائیں گے مگر بے نمازی کے پاجامے وغیرہ میں اِحْتِیاط یہی ہے کہ رومالی پاک کرلی جائے کہ اکثر بے نمازی پیشاب کر کے ویسے ہی پاجامہ باندھ لیتے ہیں اور کفّار کے ان کپڑوں کے پاک کر لینے میں تو بہت خیال کرنا چاہیے۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیۡنَ ) ـ2ـ
اس مسجد یعنی مسجد قبا شریف میں ایسے لوگ ہیں جو پاک ہونے کو پسند رکھتے ہیں اور اﷲ دوست رکھتا ہے پاک ہونے والوں کو۔
حدیث ۱: سُنَن ابنِ ماجہ میں ابو ایوب و جابر و اَنَس رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے مروی، کہ جب یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :''اے گروہِ انصار! اﷲ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف کی، توبتاؤ تمہاری طہارت کیا ہے۔'' عرض کی نماز کے لیے ہم وُضو کرتے ہیں اور جنابت سے غُسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں، فرمایا: ''تو وہ یہی ہے اس کا التزام رکھو۔'' (3)
حدیث ۲: ابو داود و ابن ما جہ زَید بن اَرقم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''یہ پاخانے جِنّ اور شیاطین کے حاضر رہنے کی جگہ ہے توجب کوئی بیت الخلا کوجائے یہ پڑھ لے۔''
اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ (4)
ـ1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطہارۃ، باب الأنجاس،فصل الاستنجاء، ج۱،ص۶۲۲.
2 ۔ پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۸.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الطھارۃ، باب الاستنجاء بالماء، الحدیث: ۳۵۵، ج۱، ص۲۲۲.
4 ۔ ''سنن أ بي داود''، کتاب الطھارۃ، باب مایقول الرجل إذا دخل الخلاء، الحدیث: ۶، ج۱، ص۳۶.
حدیث ۳: صحیحین میں یہ دعا یوں ہے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ (1)
حدیث ۴: تِرمذی کی روایت امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے یوں ہے کہ جنّ کی آنکھوں اوربنی آدم کے سِتْر میں پردہ یہ ہے کہ جب پاخانے کو جائے تو بِسْمِ اللہِ کہہ لے۔ (2)
حدیث ۵: تِرمذی و ابن ما جہ و دارمی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی ،کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب بیت الخلا سے باہر آتے یوں فرماتے: '' غُفْرَانَکَ۔'' (3)
حدیث ۶: ابن ما جہ کی روایت اَنَس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے یوں ہے کہ جب بیت الخلا سے تشریف لاتے تو یہ فرماتے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْاَذٰی وَعَا فَانِیْ (4)
حدیث ۷: حِصن حَصین میں ہے کہ یوں فرماتے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَخْرَجَ مِنْ بَطْنِیْ مَا یَضُرُّنِیْ وَاَبْقٰی فِیْہِ مَا یَنْفَعُنِیْ (5)
حدیث ۸: متعدد کتب میں بکثرت صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے مروی ،کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''جب پاخانے کو جاؤ تو قِبلہ کو نہ مونھ کرو، نہ پیٹھ اور عضوِ تناسُل کو دہنے ہاتھ سے چھونے اور داہنے ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔'' (6)
حدیث ۹: ابو داود و تِرمذی و نَسائی اَنَس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب بیت الخلا کو
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الوضوء، باب مایقول عند الخلاء، الحدیث: ۱۴۲، ج۱، ص۷۳.
ترجمہ: اے اﷲ میں تیری پناہ مانگتا ہوں پلیدی اورشیاطین سے۔
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلا ۃ، باب ما ذکر من التسمیۃ عند دخول الخلاء، الحدیث: ۶۰۶، ج۲، ص۱۱۳.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب مایقول إذا خرج من الخلاء، الحدیث: ۷، ج۱، ص۸۷.
ترجمہ: اﷲ عزوجل سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الطھارۃ، باب مایقول إذا خرج من الخلاء، الحدیث: ۳۰۱، ج۱، ص۱۹۳.
ترجمہ: حمد ہے اﷲ کے لیے جس نے اذیت کی چیز مجھ سے دور کر دی اور مجھے عافیت دی۔
5 ۔ ''الحصن الحصین ''
ترجمہ: حمد ہے اﷲ کے لیے جس نے میرے شکم سے وہ چیز نکال دی جو مجھے ضرر دیتی اور وہ چیز باقی رکھی جو مجھے نفع دے گی۔
6 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الوضوء، باب النھی عن الاستنجاء بالیمین، الحدیث: ۱۵۳،۱۴۴، ج۱، ص۷۶،۷۴.
جاتے، انگوٹھی اُتار لیتے (1) ،کہ اس میں نام مبارک کندہ تھا۔
حدیث ۱۰: ابو داود و تِرمذی نے انھیں سے روایت کی، جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو کپڑا نہ ہٹاتے تاوقتیکہ زمین سے قریب نہ ہوجائیں۔ (2)
حدیث ۱۱: ابو داود جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور جب قضائے حاجت کو تشریف لے جاتے، تو اتنی دور جاتے کہ کوئی نہ دیکھے۔ (3)
حدیث ۱۲: حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے تِرمذی و نَسائی نے روایت کی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''گوبر اور ہڈیوں سے استنجا نہ کرو کہ وہ تمہارے بھائیوں جنّ کی خوراک ہے۔'' (4) اور ابو داود کی ایک روایت میں کوئلے سے بھی ممانعت فرمائی۔ (5)
حدیث ۱۳: ابو داود و تِرمذی و نَسائی عبداﷲ بن مُغفِّل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کوئی غُسل خانہ میں پیشاب نہ کرے، پھر اس میں نہائے یا وُضو کرے کہ اکثر وسوسے اس سے ہوتے ہیں۔'' (6)
حدیث ۱۴: ابو داود و نَسائی عبداﷲ بن سَرجِس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،کہ حضور نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے ممانعت فرمائی۔ (7)
حدیث ۱۵: ابو داود و ابن ما جہ معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،کہ حضور نے فرمایا :'' تین چیزیں جو سببِ لعنت ہیں، ان سے بچو: گھاٹ پر اور بیچ راستہ اور درخت کے سایہ میں پیشاب کرنا۔'' (8)
حدیث ۱۶: امام احمد و تِرمذی و نَسائی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، فرماتی ہیں جو شخص تم سے یہ کہے کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کھڑے ہو کرپیشاب کرتے تھے تو تم اسے سچّانہ جانو، حضور نہیں پیشاب فرماتے مگر بیٹھ کر۔ (9)
ـ1 ۔ ''جامع الترمذي''، أ بواب اللباس... إلخ، باب ماجاء في لبس الخاتم...إلخ، الحدیث: ۱۷۵۲، ج۳، ص۲۸۹.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أ بواب الطھارۃ، باب ماجاء في الاستتار عند الحاجۃ، الحدیث: ۱۴، ج۱، ص۹۲.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب التخلي عند قضاء الحاجۃ، الحدیث: ۲، ج۱، ص۳۵.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجاء فيکراھیۃ مایستنجي بہ، الحدیث: ۱۸، ج۱، ص۹۶.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب ما ینھی عنہ أ ن یستنجي بہ، الحدیث: ۳۹، ج۱، ص۴۸.
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب في البول في المستحم، الحدیث: ۲۷، ج۱، ص۴۴.
7 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب النھي عن البول في الجحر، الحدیث: ۲۹، ج۱، ص۴۴.
8 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب المواضع التي نھی عن البول فیھا، الحدیث: ۲۶، ج۱، ص۴۳.
9 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجا ء في النھی عن البول قائما، الحدیث: ۱۲، ج۱، ص۹۰.
حدیث ۱۷: امام احمد و ابو داود و ابن ما جہ ابو سعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''دو شخص پاخانہ کو جائیں اور سِتْر کھول کر باتیں کریں ،تو اﷲ اس پر غضب فرماتا ہے۔'' (1)
حدیث ۱۸: صحیح بُخاری و صحیح مسلِم میں عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دو قبروں پر گزر فرمایا تو یہ فرمایا: ''کہ ان دونوں کو عذاب ہوتا ہے اور کسی بڑی بات میں ( جس سے بچنا دشوار ہو) مُعَذَّب نہیں ہیں ،ان میں سے ایک پیشاب کی چھینٹ سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا''، پھر حضور نے کھجور کی ایک تر شاخ لے کر اس کے دو حصے کیے ،ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا نصب فرمادیا۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ!یہ کیوں کیا؟ فرمایاـ: ''اس امید پر کہ جب تک یہ خشک نہ ہوں ان پر عذاب میں تخفیف (2) ہو۔'' (3)
مسئلہ ۱: جب پاخانہ پیشاب کو جائے تو مستحب ہے کہ پاخانہ سے باہَر یہ پڑھ لے۔
بِسْمِ اللہِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ
پھر بایاں قدم پہلے داخل کرے اور نکلتے وقت پہلے داہنا پاؤں باہر نکالے اور نکل کر
غُفْرَانَکَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّیْ مَا یؤْذِینیْ وَاَمْسَکَ عَلَیَّ مَا یَنْفَعُنِیْ
کہے۔ (4)
مسئلہ ۲: پاخانہ یا پیشاب پھرتے وقت یا طہارت کرنے میں نہ قِبلہ کی طرف مونھ ہو نہ پیٹھ اور یہ حکم عام ہے چاہے مکان کے اندر ہو، یا میدان میں اور اگر بھول کر قِبلہ کی طرف مونھ یا پُشت کر کے بیٹھ گیا ،تو یاد آتے ہی فوراً رُخ بدل دے اس میں امید ہے کہ فوراً اس کے لیے مغفرت فرمادی جائے۔ (5)
مسئلہ ۳: بچّے کو پاخانہ پیشاب پھرانے والے کو مکروہ ہے کہ اس بچّے کا مونھ قِبلہ کو ہو یہ پھرانے والا گنہگار ہوگا۔ (6)
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب کراھیۃ الکلام عندالحاجۃ ، الحدیث: ۱۵، ج۱، ص۴۰.
2 ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ قبروں پر پھول ڈالنا جائز ہے کہ یہ بھی باعث تخفیف عذاب ہیں جب تک خشک نہ ہوں نیز ان کی تسبیح سے میت کا دل بہلتا ہے۔ ۱۲ منہ
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الوضوئ، الحدیث: ۲۱۸، ج۱، ص ۹۶.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب في الفرق بین الاستبرائ... إلخ، ج۱، ص۶۱۵.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب في الفرق بین الاستبرائ... إلخ، ج۱، ص۶۰۸.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الفصل الثالث في الاستنجاء، ج۱، ص۵۰.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب في الفرق بین الاستبراء... إلخ، ج۱، ص۶۱۰.
مسئلہ ۴: پاخانہ، پیشاب کرتے وقت سورج اور چاند کی طرف نہ مونھ ہو، نہ پیٹھ۔ یوہیں ہَوا کے رُخ پیشاب کرنا ممنوع ہے۔ (1)
مسئلہ ۵: کوئیں یا حوض یا چشمہ کے کنارے یا پانی میں اگرچہ بہتا ہوا ہویا گھاٹ پر یا پھلدار درخت کے نیچے یا اس کھیت میں جس میں زراعت موجود ہو یا سایہ میں جہاں لوگ اٹھتے بیٹھتے ہوں یا مسجد اور عید گاہ کے پہلو میں یا قبرستان یا راستہ میں یا جس جگہ مویشی بندھے ہوں ان سب جگہوں میں پیشاب، پاخانہ مکروہ ہے۔ یوہیں جس جگہ وُضو یا غُسل کیا جاتا ہو وہاں پیشاب کرنا مکروہ ہے۔ (2)
مسئلہ ۶: خود نیچی جگہ بیٹھنا اور پیشاب کی دھار اونچی جگہ گرے یہ ممنوع ہے۔ (3)
مسئلہ ۷: ایسی سَخْت زمین پر جس سے پیشاب کی چھینٹیں اُڑ کر آئیں پیشاب کرنا ممنوع ہے، ایسی جگہ کو کرید کر نَرْم کر لے یا گڑھا کھود کر پیشاب کرے۔ (4)
مسئلہ ۸: کھڑے ہو کر یا لیٹ کر یا ننگے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ ہے۔(5) نیز ننگے سر پاخانہ ،پیشاب کو جانا یا اپنے ہمراہ ایسی چیز لے جانا جس پر کوئی دُعا یا اﷲ و رسول یا کسی بزرگ کا نام لکھا ہو ممنوع ہے۔ یوہیں کلام کرنا مکروہ ہے۔
مسئلہ ۹: جب تک بیٹھنے کے قریب نہ ہو کپڑا بدن سے نہ ہٹائے اور نہ حاجت سے زِیادہ بدن کھولے ،پھر دونوں پاؤں کشادہ کرکے بائیں پاؤں پر زور دے کر بیٹھے اور کسی مسئلہ دینی میں غور نہ کرے کہ یہ باعثِ محرومی ہے اور چھینک یا سلام یا اذان کا جواب زبان سے نہ دے اور اگر چھینکے تو زبان سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہے ،دل میں کہہ لے اور بغیر ضرورت اپنی شَرْمْگاہ کی طرف نظر نہ کرے اور نہ اس نَجاست کو دیکھے جو اس کے بدن سے نکلی ہے اور دیر تک نہ بیٹھے کہ اس سے بواسیر کا اندیشہ ہے اور پیشاب میں نہ تھوکے، نہ ناک صاف کرے، نہ بلا ضرورت کھنکارے ،نہ بار بار اِدھر اُدھر دیکھے، نہ بیکار بدن چھوئے، نہ آسمان کی طرف نگاہ کرے بلکہ شرم کے ساتھ سر جھکائے رہے۔
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب: القول مرجح علی الفعل، ج۱، ص۶۱۰،۶۱۲.
2 ۔ المرجع السابق، ص ۶۱۱۔۶۱۳.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱ ص۵۰.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، مطلب: القول مرجح علی الفعل، ج۱، ص۶۱۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۰.
5 ۔ المرجع السابق .
جب فارغ ہو جائے تو مرد بائیں ہاتھ سے اپنے آلہ کو جڑ کی طرف سے سر کی طرف سونتے کہ جو قطرے رُکے ہوئے ہیں نکل جائیں ،پھر ڈھیلوں سے صاف کرکے کھڑا ہو جائے اور سیدھے کھڑے ہونے سے پہلے بدن چھپا لے جب قطروں کا آنا موقوف ہو جائے، تو کسی دوسری جگہ طہارت کے لیے بیٹھے اور پہلے تین تین بار دونوں ہاتھ دھولے اور طہارت خانہ میں یہ دُعا پڑھ کر جائے۔
بِسْمِ اللہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ دِیْنِ الْاِسْلَامِ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ الَّذِیْنَ لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ط ۔ (1)
پھر داہنے ہاتھ سے پانی بہائے اور بائیں ہاتھ سے دھوئے اور پانی کا لوٹا اونچا رکھے کہ چھینٹیں نہ پڑیں اور پہلے پیشاب کا مقام دھوئے پھر پاخانہ کا مقام اور طہارت کے وقت پاخانہ کا مقام سانس کا زور نیچے کو دے کر ڈھیلا رکھیں اور خوب اچھی طرح دھوئیں کہ دھونے کے بعد ہاتھ میں بُو باقی نہ رہ جائے ،پھر کسی پاک کپڑے سے پونچھ ڈالیں اور اگر کپڑا پاس نہ ہو تو بار بار ہاتھ سے پونچھیں کہ برائے نام تری رہ جائے اور اگر وسوسہ کا غلبہ ہو تو رومالی پر پانی چھڑک لیں ،پھر اس جگہ سے باہر آکر یہ دُعا پڑھیں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ الْمَاءَ طَھُوْرًا وَالْاِسْلَامَ نُوْرًا وَقَائِدًا وَدَلِیْلًا اِلَی اللہِ وَاِلٰی جَنَّاتِ النَّعِیْمِ اَللّٰھُمَّ حَصِّنْ فَرْجِیْ وَطَھِّرْ قَلْبِیْ وَمَحِّصْ ذُنُوْبِیْ ۔ (2)
مسئلہ ۱۰: آگے یا پیچھے سے جب نَجاست نکلے تو ڈھیلوں سے استنجا کرنا سنّت ہے اور اگر صرف پانی ہی سے طہارت کرلی تو بھی جائز ہے مگر مستحب یہ ہے کہ ڈھیلے لینے کے بعد پانی سے طہارت کر ے۔ (3)
مسئلہ ۱۱: آگے اور پیچھے سے پیشاب ،پاخانہ کے سوا کوئی اَورنَجاست ،مثلاً خون، پیپ وغیرہ نکلے یا اس جگہ خارِج سے نَجاست لگ جائے توبھی ڈھیلے سے صاف کر لینے سے طہارت ہو جائے گی جب کہ اس موضع سے باہر نہ ہو مگر دھو ڈالنا مستحب ہے۔ (4)
ـ1 ۔ اﷲ کے نام سے جو بہت بڑاہے اور اسی کی حمد ہے خدا کا شکرہے کہ میں دین اسلام پر ہوں۔ اے اﷲ تُو مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک لوگوں میں سے کر دے جن پر نہ خوف ہے اور نہ وہ غم کریں گے۔ ۱۲
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۰.
و ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاسنتنجاء، مطلب في الفرق بین الاستبراء... إلخ، ج۱، ص۶۱۵.
حمد ہے اﷲ کے لیے جس نے پانی کو پاک کرنے والا اور اسلام کو نور اور خدا تک پہنچانے والا اور جنت کا راستہ بتانے والا کیا اے اﷲ تو میری شرم گاہ کو محفوظ رکھ اور میرے دل کو پاک کر اور میرے گناہ دُور کر۔ ۱۲
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۸.
مسئلہ ۱۲: ڈھیلوں کی کوئی تعداد مُعیّن سنّت نہیں بلکہ جتنے سے صفائی ہو جائے، تو اگر ایک سے صفائی ہو گئی سنّت ادا ہوگئی اور اگر تین ڈھیلے لیے اور صفائی نہ ہوئی سنّت ادا نہ ہوئی، البتہ مستحب یہ ہے کہ طاق ہوں اور کم سے کم تین ہوں تو اگر ایک یا دو سے صفائی ہو گئی تو تین کی گنتی پوری کرے اور اگر چار سے صفائی ہو توایک اور لے کہ طاق ہو جائیں۔ (1)
مسئلہ ۱۳: ڈھیلوں سے طہارت اس وقت ہو گی کہ نَجاست سے مخرج کے آس پاس کی جگہ ایک درم سے زِیادہ آلودہ نہ ہو اور اگر درم سے زِیادہ سَن جائے تودھونا فرض ہے مگر ڈھیلے لینا اب بھی سنّت رہے گا۔ (2)
مسئلہ ۱۴: کنکر، پتھر، پھٹا ہوا کپڑا یہ سب ڈھیلے کے حکم میں ہیں ،ان سے بھی صاف کر لینا بلا کراہت جائز ہے، دیوار سے بھی استنجا سکھا سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ دوسرے کی دیوار نہ ہو،اگر دوسرے کی ملک ہو یا وقف ہو تو اس سے استنجا کرنا مکروہ ہے اور کر لیا تو طہارت ہو جائے گی ،جو مکان اس کے پاس کرایہ پر ہے اس کی دیوار سے استنجا سکھا سکتا ہے۔ (3)
مسئلہ ۱۵: پرائی دیوار سے استنجے کے ڈھیلے لینا جائز نہیں اگرچہ وہ مکان اس کے کرایہ میں ہو۔
مسئلہ ۱۶: ہڈّی اور کھانے اور گوبر اور پکی اینٹ اور ٹھیکری اور شیشہ اور کوئلے اور جانور کے چارے سے اور ایسی چیز سے جس کی کچھ قیمت ہو، اگرچہ ایک آدھ پیسہ سہی ان چیزوں سے استنجا کرنا مکروہ ہے۔ (4)
مسئلہ ۱۷: کاغذ سے استنجا منع ہے، اگرچہ اس پر کچھ لکھا نہ ہو یا ابو جہل ایسے کافر کا نام لکھا ہو۔
مسئلہ ۱۸: داہنے ہاتھ سے استنجا کرنا مکروہ ہے، اگر کسی کا بایاں ہاتھ بیکار ہو گیا تو اسے دہنے ہاتھ سے جائز ہے۔ (5)
مسئلہ ۱۹: آلہ کو دہنے ہاتھ سے چھونا ،یا داہنے ہاتھ میں ڈھیلا لے کر اس پر گزارنا مکروہ ہے۔ (6)
مسئلہ ۲۰: جس ڈھیلے سے ایک بار استنجا کر لیا اسے دوبارہ کام میں لانا مکروہ ہے مگر دوسری کروٹ اس کی صاف ہو تو اس سے کر سکتے ہیں۔ (7)
مسئلہ ۲۱: پاخانہ کے بعد مرد کے لیے ڈھیلوں کے استعمال کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ گرمی کے موسم میں پہلا ڈھیلا
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۸.
2 ۔ المرجع السابق .
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب: إذا دخل المستنجي... إلخ، ج۱، ص ۶۰۱.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و '''رد المحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب: إذا دخل المستنجي في ماء قلیل، ج۱، ص۶۰۵.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۰.
6 ۔ المرجع السابق، ص۴۹. 7 ۔ المرجع السابق، ص۵۰.
آگے سے پیچھے کو لے جائے اور دوسرا پیچھے سے آگے کی طرف اور تیسرا آگے سے پیچھے کو اور جاڑوں میں پہلاپیچھے سے آگے کو اور دوسرا آگے سے پیچھے کو اور تیسر اپیچھے سے آگے کو لے جائے۔ (1)
مسئلہ ۲۲: عورت ہر زمانہ میں اسی طرح ڈھیلے لے جیسے مرد گرمیوں میں۔ (2)
مسئلہ ۲۳: پاک ڈھیلے داہنی جانب رکھنا اور بعدکام میں لانے کے بائیں طرف ڈال دینا، اس طرح پر کہ جس رُخ میں نَجاست لگی ہو نیچے ہو مستحب ہے۔ (3)
مسئلہ ۲۴: پیشاب کے بعد جس کو یہ احتمال ہے کہ کوئی قطرہ باقی رہ گیا یا پھر آئے گا ،اس پر اِستِبرا(یعنی پیشاب کرنے کے بعد ایسا کام کرنا کہ اگر قطرہ رُکا ہو تو گِر جائے) واجب ہے، استبرا ٹہلنے سے ہوتا ہے یا زمین پر زور سے پاؤں مارنے یا دہنے پاؤں کو بائیں اور بائیں کو دہنے پر رکھ کر زور کرنے یا بلندی سے نیچے اترنے یا نیچے سے بلندی پر چڑھنے یا کھنکارنے یا بائیں کروٹ پر لیٹنے سے ہوتا ہے اور استبرا اس وقت تک کرے کہ دل کو اطمینان ہو جائے، ٹہلنے کی مقدار بعض علماء نے چالیس قدم رکھی مگر صحیح یہ ہے کہ جتنے میں اطمینان ہو جائے اور یہ استبرا کا حکم مردوں کے لیے ہے، عورت بعد فارغ ہونے کے تھوڑی دیر وقفہ کرکے طہارت کرلے۔ (4)
مسئلہ ۲۵: پاخانہ کے بعد پانی سے استنجے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ کشادہ ہو کر بیٹھے اور آہستہ آہستہ پانی ڈالے اور انگلیوں کے پیٹ سے دھوئے انگلیوں کاسِرا نہ لگے اور پہلے بیچ کی انگلی اُونچی رکھے، پھر وہ جو اس سے متصل ہے اس کے بعد چھنگلیا اُونچی رکھے اور خوب مبالغہ کے ساتھ دھوئے، تین انگلیوں سے زِیادہ سے طہارت نہ کرے اور آہستہ آہستہ ملے یہاں تک کہ چکنائی جاتی رہے۔ (5)
مسئلہ ۲۶: ہتھیلی سے دھونے سے بھی طہارت ہو جائے گی۔ (6)
مسئلہ ۲۷: عورت ہتھیلی سے دھوئے اور بہ نسبت مرد کے زیادہ پھیل کر بیٹھے۔ (7)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۸.
2 ۔ ''نورالإیضاح''، کتاب الطھارۃ، فصل في الاستنجاء، ص۱۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۹.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب: في الفرق بین الاستبراء... إلخ، ج۱، ص۶۱۴.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۹.
6 ۔ المرجع السابق. 7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۲۸: طہارت کے بعد ہاتھ پاک ہوگئے مگر پھر دھولینا بلکہ مٹی لگا کر دھونا مستحب ہے۔ (1)
مسئلہ ۲۹: جاڑَوں میں بہ نسبت گرمیوں کے دھونے میں زِیادہ مبالغہ کرے اور اگر جاڑوں میں گرم پانی سے طہارت کرے، تو اسی قدر مبالغہ کرے جتنا گرمیوں میں مگر گرم پانی سے طہارت کرنے میں اتنا ثواب نہیں جتنا سرد پانی سے اور مرض کا بھی احتمال ہے۔ (2)
مسئلہ ۳۰: روزے کے دنوں میں نہ زِیادہ پھیل کر بیٹھے نہ مبالغہ کرے۔ (3)
مسئلہ ۳۱: مرد لُنجھا ہو تو اس کی بی بی استنجا کرادے اور عورت ایسی ہو تو اس کا شوہر اور بی بی نہ ہو یا عورت کا شوہر نہ ہو تو کسی اور رشتہ دار بیٹا، بیٹی، بھائی، بہن سے استنجا نہیں کراسکتے بلکہ معاف ہے۔ (4)
مسئلہ ۳۲: زمزم شریف سے استنجا پاک کرنا مکروہ ہے (5) اور ڈھیلا نہ لیا ہو تو ناجائز۔
مسئلہ ۳۳: وُضو کے بقیہ پانی سے طہارت کرنا خلافِ اَولیٰ ہے۔
مسئلہ ۳۴: طہارت کے بچے ہوئے پانی سے وُضو کر سکتے ہیں، بعض لوگ جو اس کو پھینک دیتے ہیں یہ نہ چاہیے اسراف میں داخل ہے۔ (6)
قد تم بحمد اﷲ سبحٰنہ و تعالیٰ ھذا الجزء فی مسائل الطھارۃ ولہ الحمد اولا و اخرا و باطنا و ظاھرا کما یحب ربنا و یرضی وھو بکل شیٍئ علیم ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم و صلی اللہ علی خیر خلقہٖ سیدنا و مولانا محمد و اٰلہ وصحبہ و ا بنہ و ذریتہ و علماء ملتہ و اولیاء امتہ اجمعین اٰمین والحمد للہ رب العٰلمین۔ وانا الفقیر المفتقر الی اللہ الغنی ابو العلا امجد علی الاعظمی غفر اللہ لہ ولوالدیہ۔ اٰمین
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۹.
2 ۔ المرجع السابق . 3 ۔ المرجع السابق .
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۹.
و ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب: إذا دخل المستنجي في ماء قلیل، ج۱، ص۶۰۷.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۳۵۸.
و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۴۵۲.
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص ۵۷۵.