Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
الحمد للہ الذي أنزل القرآن، وھدٰنا بہ إلی عقائد الإیمان، وأظھر ھذا الدین القویم علی سائر الأدیان، والصلاۃ والـسلام الأتمان في کلّ حین واٰن علی سیّد ولد عدنان، سیّد الإنس والجان، الذي جعلہ اللہ تعالی مطّلعا علی الغیوب فـعلم ما یکون وما کان، وعلی اٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ومن تبعـھم بإحسان، واجعلنا منھم یا رحمٰن! یا منّان!
فقیر بارگاہ قادری ابوالعلا امجد علی اعظمی رضوی عرض کرتا ہے کہ زمانہ کی حالت نے اس طرف متوجہ کیا کہ عوام بھائیوں کے لیے صحیح مسائل کا ایک سلسلہ عام فہم زبان میں لکھا جائے، جس میں ضروری روز مرّہ کے مسائل ہوں۔ باوجود بے فرصتی اور بے مایگی کے توکّلاً علی اللہ اس کا م کو شروع کیا، ایک حصّہ لکھنے پایا تھا کہ یہ خیال ہوا کہ اعمال کی درستی عقائد کی صحت پر متفرع ہے، اور بہتیرے مسلمان ایسے ہیں کہ اُصولِ مذہب سے آگاہ نہیں، ایسوں کے لیے سچّے عقائدِ ضروری کے سرمایہ کی بہت شدید حاجت ہے۔
خصوصاً اس پُر آشوب زمانہ میں کہ گندم نما جَو فروش بکثرت ہیں، کہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے، بلکہ عالم کھلاتے ہیں اور حقیقۃً اسلام سے ان کو کچھ علاقہ نہیں۔ عام نا واقف مسلمان اُن کے دامِ تزویر میں آکر مذہب اور دین سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، لہٰذا اُس حصہ یعنی کتابُ الطہارۃ کو اِس سلسلہ کا حصّہ دوم کیا اور اُن بھائیوں کے لیے اس سے پہلے حصّہ میں اسلامی سچے عقائد بیان کیے۔ اُمید کہ برادرانِ اسلام اس کتاب کے مطالعہ سے ایمان تازہ کریں اور اس فقیر کے لیے عفو و عافیتِدارین اور ایمان ومذہب ِاھلسنت پر خاتمہ کی دعا فرمائیں۔
اَللّٰھُمَّ ثَـبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلَی الإِیْمَانِ وَتَوَفَّـنَا عَلَی الإِسْلاَمِ وَارْزُقْنَا شَفَاعَۃَ خَیْرِ الأَنَامِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلامُ، وَأَدْخِلْنَا بجاھِہِ عِنْدَکَ دَارَ السَّلاَمِ اٰمِیْن یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ! وَالْحَمدُ للہِ رَبِّ الْـعٰـلَمِیْنَ.
عقیدہ (۱): اﷲ (عزوجل) ایک ہے (1)، کوئی اس کا شریک نہیں(2)، نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ افعال میں(3) نہ احکام میں(4)، نہ اسماء میں (5)، واجب الوجود ہے(6)، یعنی اس کا وجود ضروری ہے اور عَدَم مُحَال(7)، قدیم ہے (8)
1 ۔ (قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ) پ۳۰، الإخلاص: ۱.
(وَإِلٰہُکُمْ إِلٰـہٌ وَاحِدٌ لَا إِلٰـہَ إِلاَّ ہُوَ) پ۲، البقرۃ: ۱۶۳.
2 ۔ (لاَ شَرِیْکَ لَہٗ) پ۸، الأنعام: ۱۶۳.
3 ۔ في''منح الروض الأزہر'' في ''شرح الفقہ الأکبر'' للقاریئ، ص۱۴: (واللہ تعالی واحد) أي: في ذاتہ (لا من طریق العدد) أي: حتی لا یتوہم أن یکون بعدہ أحد (ولکن من طریق أنّہ لا شریک لہ) أي: في نعتہ السرمديّ لا في ذاتہ ولا في صفاتہ).
وفي ''حاشیۃ الصاوي''، پ۳۰، الإخلاص، تحت الآیۃ ۱: (والتنزہ عن الشبیہ والنظیر والمثیل في الذات والصفات والأفعال)، ج۶، ص۲۴۵۱. وانظر للتفصیل رسالۃ الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن: ''اعتقاد الأحباب في الجمیل والمصطفی والآل والأصحاب'' المعروف بہ ''دس عقیدے''، ج۲۹، ص۳۳۹۔
4 ۔ (وَلَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖ اَحَدًا) پ۱۵، الکہف: ۲۶.
في ''تفسیر الطبري''، ج۸، ص۲۱۲، تحت الآیۃ: (یقول: ولا یجعل اللہ في قضائہ، وحکمہ في خلقہ أحداً سواہ شریکاً، بل ہو المنفرد بالحکم والقضاء فیہم، وتدبیرہم وتصریفہم فیما شاء وأحبّ)۔
5 ۔ (ہَلْ تَعْلَمُ لَـہ، سَمِیًّا) پ۱۶، مریم: ۶۵، في ''التفسیر الکبیر'' تحت الآیۃ: (المراد أنّہ سبحانہ لیس لہ شریک في اسمہ).
6 ۔ في''منح الروض الأزہر'' في ''شرح الفقہ الأکبر'' للقاریئ، ص۱۵: (لایشبہ شیأاً من الأشیاء من خلقہ) أي: مخلوقاتہ، وھذا لأنّہ تعالی واجب الوجود لذاتہ وماسواہ ممکن الوجود في حد ذاتہ، فواجب الوجود ہوالصمد الغنيّ الذي لایفتقر إلی شيئ، ویحتاج کل ممکن إلیہ في إیجادہ وإمدادہ، قال اللہ تعالی: (وَاللہُ الْغَنِیُّ وَأَنْتُمُ الْفُقَرَاء ُ).
7 ۔ یعنی اُس کا موجودنہ ہونا، نا ممکن ہے۔
8 ۔ في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۸: (ومنہ أنّہ قدیم، لا أوّل لہ۔أي: لم یسبق وجودہ عدم۔ ولیس تحت لفظ القدیم معنی في حقّ اللہ تعالی سوی إثبات وجود، ونفي عدم سابق۔ فلا تظنن أنّ القدم معنی زائد علی الذات القدیمۃ، فیلزمک أن تقول إنّ ذلک المعنی أیضاً قدیم بقدم زائد علیہ ویتسلسل إلی غیر نہایۃ۔ ومعنی القدم في حقہ تعالی۔ أي: امتناع سبق العدم علیہ۔ ہو معنی کونہ أزلیا، ولیس بمعنی تطاول الزمان، فإنّ ذلک وصف للمحدثات کما في قولہ تعالی: (کَالْعُرْجُونِ الْقَدِیمِ).
یعنی ہمیشہ سے ہے، اَزَلی کے بھی یہی معنی ہیں، باقی ہے(1) یعنی ہمیشہ رہے گا اور اِسی کو اَبَدی بھی کہتے ہیں۔ وہی اس کا مستحق ہے کہ اُس کی عبادت و پرستش کی جائے۔(2)
عقیدہ (۲): وہ بے پرواہ ہے، کسی کا محتاج نہیں اور تمام جہان اُس کا محتاج۔(3)
عقیدہ (۳): اس کی ذات کا اِدراک عقلاً مُحَال(4) کہ جو چیز سمجھ میں آتی ہے عقل اُس کو محیط ہوتی ہے(5) اور اُس کو کوئی اِحاطہ نہیں کر سکتا(6) ، البتہ اُس کے افعال کے ذریعہ سے اِجمالاً اُس کی صفات، پھر اُن صفات کے ذریعہ سے معرفتِ ذات حاصل ہوتی ہے۔
1 ۔ ( کُلُّ شَیْءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہ،) پ۲۰، القصص: ۸۸.
وفي''المعتقد المنتقد''، و منہ أنّہ باق، لیس لوجودہ آخر۔ أي: یستحیل أن یلحقہ عدم۔ وہو معنی کونہ أبدیا).
انظر للتفصیل: ''المسامرۃ بشرح المسایرۃ''، الأصل الثاني والثالث، تحت قولہ: (أنّہ تعالی قدیم لا أوّل لہ، وأنّ اللہ تعالی أبدي لیس لوجودہ آخر)، ص۲۲۔ ۲۴.
2 ۔ (یَا أَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ) پ۱، البقرۃ: ۲۱.
(ذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمْ لَا إِلٰـہَ إِلاَّ ہُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْہُ) پ۷، الأنعام: ۱۰۲.
(وَقَضٰی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُوْا إِلاَّ إِیَّاہُ) پ۱۵، بني اسرآئیل: ۲۳.
(أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاہُ) پ۱۲، یوسف: ۴۰.
3 ۔ (اَللہُ الصَّمَدُ) پ۳۰، الإخلاص: ۲.
وفي ''منح الروض الأزہر'' في ''شرح الفقہ الأکبر''، ص۱۴: (اَللہُ الصَّمَدُ) أي: المستغنيعن کل أحد والمحتاج إلیہ کل أحد.
4 ۔ یعنی اس کی ذات کا عقل کے ذریعے اِحاطہ نہیں کیا جا سکتا۔
5 ۔ یعنی اس کا اِحاطہ کیے ہوئے ہوتی ہے۔
6 ۔ في''التفسیر الکبیر''، پ۷، الأنعام، تحت الآیۃ : ۱۰۳: (لَا تُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ) المرئي إذا کان لہ حد ونھایۃ وأدرکہ البصر بجمیع حدودہ وجوانبہ ونھایاتہ، صارکأنّ ذلک الأبصار أحاط بہ فتسمی ہذہ الرؤیۃ إدراکاً، أما إذا لم یحط البصر بجوانب المرئي لم تسم تلک الرؤیۃ إدراکاً. فالحاصل: أنّ الرؤیۃ جنس تحتہا نوعان: رؤیۃ مع الإحاطۃ، ورؤیۃ لا مع الإحاطۃ، والرؤیۃ مع الإحاطۃ ہي المسماۃ بالإدراک فنفي الإدراک یفید نفي نوع واحد من نوعي الرؤیۃ، ونفي النوع لا یوجب نفي الجنس، فلم یلزم من نفي الإدراک عن اللہ تعالی نفي الرؤیۃ عن اللہ تعالی)، ج۵، ص۱۰۰.
عقیدہ (۴): اُس کی صفتیں نہ عین ہیں نہ غیر(1)، یعنی صفات اُسی ذات ہی کا نام ہو ایسا نہیں اور نہ اُس سے کسی طرح کسی نحوِ وجود میں جدا ہوسکیں (2) کہ نفسِ ذات کی مقتضٰی ہیں اور عینِ ذات کو لازم۔ (3)
عقیدہ (۵): جس طرح اُس کی ذات قدیم اَزلی اَبدی ہے، صفات بھی قدیم اَزلی اَبَدی ہیں۔ (4)
عقیدہ (۶): اُس کی صفات نہ مخلوق ہیں (5) نہ زیرِ قدرت داخل۔
عقیدہ (۷): ذات و صفات کے سِوا سب چیزیں حادث ہیں، یعنی پہلے نہ تھیں پھر موجود ہوئیں۔ (6)
عقیدہ (۸): صفاتِ الٰہی کو جو مخلوق کہے یا حادث بتائے، گمراہ بد دین ہے۔ (7)
1 ۔ في''المسایرۃ''، ص۳۹۲: (لیست صفاتہ من قبیل الأعراض ولا عینہ ولا غیرہ) .
وفي ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۴۷۔۴۸: (وہي لا ہو ولا غیرہ، یعني: أنّ صفات اللہ تعالی لیست عین الذات ولا غیر الذات ۔الخ).
2 ۔ یعنی کسی بھی طور پر صفات، ذات سے جدا ہو کر نہیں پائی جا سکتیں۔
3 ۔ بلا تشبیہ اس کو یوں سمجھیں کہ پھول کی خوشبو پھول کی صفت ہے جو پھول کے ساتھ ہی پائی جاتی ہے، مگر اس خوشبو کو ہم پھول نہیں کہتے، اور نہ ہی اُسے پھول سے جدا کہہ سکتے ہیں۔
4 ۔ في''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ص۲۳: (لم یحدث لہ اسم ولا صفۃ) یعني:أنّ صفات اللہ وأسمائہ کلہا أزلیۃ لا بدایۃ لہا، وأبدیۃ لا نہایۃ لہا، لم یتجدد لہ تعالی صفۃ من صفاتہ ولا اسم من أسمائہ، لأنّہ سبحانہ واجب الوجود لذاتہ الکامل في ذاتہ وصفاتہ، فلوحدث لہ صفۃ أو زال عنہ نعت لکان قبل حدوث تلک الصفۃ وبعد زوال ذلک النعت ناقصا عن مقام الکمال، و ہو في حقہ سبحانہ من المحال، فصفاتہ تعالی کلہا أزلیۃ أبدیۃ).
وفي ''المعتمد المستند''، ص۴۶۔۴۷: (وبالجملۃ: فالذي نعتقدہ في دین اللہ تعالی أنّ لہ عزوجل صفات أزلیۃ قدیمۃ قائمۃ بذاتہ عزوجل، لوازم لنفس ذاتہ تعالٰی، ومقتضَیات لہا بحیث لا تقدیر للذات بدونھا ۔إلخ).
5 ۔ في ''الفقہ الأکبر''، ص۲۵: (صفاتہ في الأزل غیر محدثۃ ولا مخلوقۃ). ''المعتقد المنتقد''، ص۴۹.
6 ۔ وفي ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۲۴: (والعالم) أي: ما سوی اللہ تعالی من الموجودات مما یعلم بہ الصانع یقال عالم الأجسام وعالم الأعراض وعالم النباتات وعالم الحیوان إلی غیر ذلک، فتخرج صفات اللہ تعالی؛ لأنّھا لیست غیر الذات کما أنّہا لیست عینھا (بجمیع أجزائہ) من السموات وما فیھا والأرض وما علیہا (محدث).
7 ۔ في ''المعتقد المنتقد''، ص۴۹: (صفات اللہ تعالی في الأزل غیر محدثۃ ولا مخلوقۃ، فمن قال: إنّہا مخلوقۃ أو محدثۃ، أو وقف فیہا بأن لا یحکم بأنہا قدیمۃ أوحادثۃ، أوشک فیہا، أو تردد في ہذہ المسألۃ ونحوہا فہوکافر باللہ تعالی). =
عقیدہ (۹): جو عالَم میں سے کسی شے کو قدیم مانے یا اس کے حدوث میں شک کرے، کافر ہے۔ (1)
عقیدہ (۱۰): نہ وہ کسی کا باپ ہے، نہ بیٹا، نہ اُس کے لیے بی بی، جو اُسے باپ یا بیٹا بتائے یا اُس کے لیے بی بی ثابت کرے کافر ہے (2)، بلکہ جو ممکن بھی کہے گمراہ بد دین ہے۔
= قال الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن في حاشیتہ، ص۵۰: تحت قولہ: ''فہو کافر'': (ھذا نص سیدنا الإمام الأعظم رضي اللہ تعالی عنہ في ''الفقہ الأکبر'' وقد تواتر عن الصحابۃ الکرام والتابعین والمجتہدین الأعلام علیہم الرضوان التام إکفار القائل بخلق الکلام کما نقلنا نصوص کثیر منھم في ''سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح'' وہم القدوۃ للفقہاء الکرام في إکفار کل من أنکر قطعیاً، والمتکلمون خصّوہ بالضروري وہو الأحوط. ۱۲
وفي ''منح الروض الأزہر''، ص۲۵، تحت قولہ: (فہوکافر باللہ) أي: ببعض صفاتہ، وہو مکلف بأن یکون عارفاً بذاتہ وجمیع صفاتہ إلاّ أن الجھل والشک الموجبین للکفر مخصوصان بصفات اللہ المذکورۃ من النعوت المسطورۃ المشہورۃ، أعني: الحیاۃ والقدرۃ والعلم والکلام والسمع والبصر والإرادۃ والتخلیق والترزیق.
1 ۔ في ''الشفا''، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، ج۲، ص۲۸۳: (نقطع علی کفر من قال بقدم العالم، أو بقائہ، أو شک في ذلک). و''المعتقد المنتقد، ص۱۹.
2 ۔ ( لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ) پ۳۰، الإخلاص:۳.
(مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّلَا وَلَدًا) پ۲۹، الجن : ۳.
(وَمَا یَنْبَغِی لِلرَّحْمٰنِ أَنْ یَتَّخِذَ وَلَدًا) پ۱۶، مریم: ۹۲.
(قُلْ إِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعٰبِدِینَ) پ۲۵، الزخرف: ۸۱.
( وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا) پ۱۵، بنی اسرائیل:۱۱۱.
في ''الشفا''، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، ج۲، ص۲۸۳: (من ادّعی لہ ولداً أو صاحبۃ أو والداً أو متولدٌ من شيئ ۔ فذلک کلہ کفر بإجماع المسلمین)، ملتقطاً.
وفي ''مجمع الأنہر''، کتاب السیر والجہاد، ج۲، ص۵۰۴، و''البحر الرائق''، ج۵، ص۲۰۲: (إذا وصف اللہ تعالی بما لا یلیق بہ... أوجعل لہ شریکا أو ولدا أو زوجۃ... یکفر).
وفي ''التاتارخانیۃ''، کتاب أحکام المرتدین، ج۵، ص۴۶۳: (وفي ''خزانۃ الفقہ'': لو قال: للہ تعالی شریک، أوولد، أوزوجۃ،...کفر).
عقیدہ (۱۱): و ہ حَی ہے، یعنی خود زندہ ہے اور سب کی زندگی اُس کے ہاتھ میں ہے، جسے جب چاہے زندہ کرے اور جب چاہے موت دے۔ (1)
عقیدہ (۱۲): وہ ہر ممکن پر قادر ہے، کوئی ممکن اُس کی قدرت سے باہر نہیں۔ (2)
عقیدہ (۱۳): جو چیز مُحال ہے، اﷲ عزوجل اس سے پاک ہے کہ اُس کی قدرت اُسے شامل ہو، کہ مُحال اسے کہتے ہیں جو موجود نہ ہوسکے اور جب مقدور ہوگا تو موجود ہوسکے گا، پھر مُحال نہ رہا۔ اسے یوں سمجھو کہ دوسرا خدا مُحال ہے یعنی نہیں ہوسکتا تو یہ اگر زیرِ قدرت ہو تو موجود ہوسکے گا تو مُحال نہ رہا اور اس کو مُحال نہ ماننا وحدانیت کا انکار ہے۔ یوہیں فنائے باری مُحال ہے، اگر تحتِ قدرت ہو تو ممکن ہوگی اور جس کی فنا ممکن ہو وہ خدا نہیں۔ تو ثابت ہوا کہ مُحال پر قدرت ماننا اﷲ (عزوجل) کی اُلوہیت سے ہی انکار کرنا ہے۔ (3)
عقیدہ (۱۴): ہر مقدور کے لیے ضرور نہیں کہ موجود ہو جائے، البتہ ممکن ہونا ضروری ہے اگرچہ کبھی موجود نہ ہو۔
عقیدہ (۱۵): وہ ہر کمال و خوبی کا جامع ہے اور ہر اُ س چیز سے جس میں عیب و نقصان ہے پاک ہے، یعنی عیب ونقصان کا اُس میں ہونا مُحال ہے، بلکہ جس بات میں نہ کمال ہو، نہ نقصان، وہ بھی اُس کے لیے مُحال، مثلاً جھوٹ، دغا، خیانت، ظلم، جھل، بے حیائی وغیرہا عیوب اُس پرقطعاً محال ہیں اوریہ کہنا کہ جھوٹ پر قدرت ہے بایں معنی کہ وہ خود جھو ٹ بول سکتا ہے، مُحال کو ممکن ٹھہرانا اور خدا کو عیبی بتانا بلکہ خدا سے انکار کرنا ہے اور یہ سمجھنا کہ مُحا لات پر قادر نہ ہو گا تو قدرت ناقص ہو جائے گی
1 ۔ (ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ) پ۳، البقرۃ: ۲۵۵.
(وَہُوَ الَّذِی یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ) پ۱۸، المؤمنون: ۸۰.
2 ۔ (إِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ) پ۱، البقرۃ:۲۰.
في ''حاشیۃ الصاوي''، ج۱،ص۳۸ تحت ہذہ الآیۃ: وقولہ: (قَدِیْرٌ) من القدرۃ وہو صفۃ أزلیۃ قائمۃ بذاتہ تعالی تتعلق بالممکنات إیجادًا أو إعدامًا علی وفق الإرادۃ والعلم).
في ''التفسیر الکبیر''، پ ۱۵، الکہف:۲۵:(أنّہ تعالی قادر علی کل الممکنات)ج۷،ص۴۵۴.
في ''المسایرۃ''، ص۳۹۱: (وقدرتہ علی کلّ الممکنات).
3 ۔ انظر للتفصیل: ''الفتاوی الرضویۃ''، ''سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح'' ج۱۵، ص۳۲۲.
باطل محض ہے، کہ اس میں قدرت کا کیا نقصان! نقصان تو اُس مُحال کا ہے کہ تعلّقِ قدرت کی اُس میں صلاحیت نہیں۔(1)
عقیدہ (۱۶): حیا۱ت، قدرت۲، سننا۳، دیکھنا۴ ، کلا۵م، علم۶، اِرادہ ۷ اُس کے صفاتِ ذاتیہ ہیں، مگر کان، آنکھ، زبان سے اُس کا سننا، دیکھنا، کلام کرنا نہیں، کہ یہ سب اَجسام ہیں اور اَجسام سے وہ پاک۔ ہر پست سے پست آواز کو سنتا ہے، ہر باریک سے باریک کو کہ خُوردبین سے محسوس نہ ہو وہ دیکھتا ہے، بلکہ اُس کا دیکھنا اور سننا انہیں چیزوں پر منحصر نہیں، ہر موجود کو دیکھتا ہے اور ہر موجود کو سنتا ہے۔ (2)
1 ۔ في ''المسامرۃ بشرح المسایرۃ''، ص۳۹۳: (یستحیل علیہ) سبحانہ (سمات النقص کالجھل والکذب) بل یستحیل علیہ کل صفۃ لاکمال فیہا ولا نقص؛ لأنّ کلا من صفات الإلہ صفۃ کمال)، انظر للتفصیل: ''المسامرۃ بشرح المسایرۃ''، واتفقوا علی أنّ ذلک غیر واقع، ص۲۰۴ ۔۲۱۰، و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۳۲۰۔۳۲۲.
2 ۔ (اَللہُ لَا إِلٰـہَ إِلاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ) پ۳، اٰل عمران:۲.
(وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) پ۷، المائدۃ:۱۲۰.
(إِنَّ اللہَ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ) پ۲۴، المؤمن: ۲۰.
(وَکَلَّمَ اللہُ مُوسٰی تَکْلِیْمًا) پ۶، النساء:۱۶۴.
( اَنَّ اللہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا) پ۲۸، الطلاق:۱۲.
(اِنَّ اللہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ) پ۶، المائدۃ:۱. (اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ) پ۱۲، ہود: ۱۰۷.
في ''فقہ الأکبر''، ص۱۵۔۱۹: (لم یزل ولا یزال بأسمائہ وصفاتہ الذاتیۃ والفعلیۃ، أمّا الذاتیۃ فالحیاۃ والقدرۃ والعلم والکلام والسمع والبصر والإرادۃ).
في ''المسامرۃ بشرح المسایرۃ''، ص۳۹۱۔۳۹۲: (وصفات ذاتہ حیاتہ بلا روح حالَّۃ، وعلمہ وقدرتہ وإرادتہ وسمعہ بلا صماخ لکل خفي کوقع أرجل النملۃ) علی الأجسام اللینۃ (وکلام النفس) فإنّہ تعالی یسمع کلاّ منھما (وبصرہ بلا حدقۃ یقلبہا، تعالی رب العالمین عن ذلک) أي: عن الصماخ والحدقۃ ونحوھما من صفات المخلوقین (لکل موجود) متعلق بقولہ وبصرہ، فہو متعلق بکلّ موجود، قدیم أو حادث، جلیل أو دقیق (کأرجل النملۃ السوداء علی الصخرۃ السوداء في اللیلۃ الظلماء، ولخفایا السرائر، متکلم بکلام قائم بنفسہ أزلاً وأبداً)، ملتقطاً۔
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۵۳۔۲۵۶: (لہ) سبحانہ وتعالی (صفات قدیمۃ قائمۃ بذاتہ، لا ہو ولا غیرہ، ہي الحیاۃ، والعلم، والقدرۃ، والسمع) وہو صفۃ أزلیۃ قائمۃ بذاتہ تعالی تتعلق بالمسموعات أوالموجودات فتدرک إدراکاً تاماً لا علی سبیل التخیل والتوہم، ولا علی طریق تأثر حاسۃ ووصول ہوائ، (و) الخامسۃ (البصر) وعرفہ اللاقاني أیضاً بأنّہ صفۃ أزلیۃ=
عقیدہ (۱۷): مثل دیگر صفات کے کلام بھی قدیم ہے(1)، حادث و مخلوق نہیں، جو قرآنِ عظیم کو مخلوق مانے ھمارے امامِ اعظم و دیگر ائمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم نے اُسے کافر کہا(2)، بلکہ صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے اُس کی تکفیر ثابت ہے۔ (3)
عقیدہ (۱۸): اُس کا کلام آواز سے پاک ہے (4) اور یہ قر آ نِ عظیم جس کو ہم اپنی زبان سے تلاوت کرتے، مَصاحِف میں لکھتے ہیں، اُسی کا کلام قدیم بلا صوت ہے اور یہ ھمارا پڑھنا لکھنا اور یہ آواز حادث، یعنی ھمارا پڑھنا حادث ہے اور جو ہم نے پڑھا قدیم اور ھمارا لکھنا حادث اور جو لکھا قدیم، ھمارا سنناحادث ہے اور جو ہم نے سنا قدیم، ھمارا حفظ کرنا حادث ہے اور
ـ ــــ
= تتعلق بالمبصرات أوبالموجودات فتدرک إدراکاً تاماً لا علی سبیل التخیل والتوہم ولا علی طریق تأثیر حاسۃ ووصول شعاع، (و) السادسۃ (الإرادۃ، و) السابعۃ (التکوین، و) الثامنۃ (الکلام الذي لیس من جنس الحروف والأصوات)؛ لأنّہا أعراض حادثۃ وکلامہ تعالی قدیم فہو منزہ عنہا، ملتقطاً.
1 ۔ في''الفقہ الأکبر''، ص۲۸: (والقرآن کلام اللہ تعالی فہو قدیم).
2 ۔ وفي ''منح الروض الأزہر''، ص۲۶: (قال الإمام الأعظم في کتابہ ''الوصیۃ'': من قال بأنّ کلام اللہ تعالی مخلوق فہو کافر باللہ العظیم)، ملتقطاً.
وفي ''منح الروض الأزہر''، ص۲۹: (واعلم أنّ ما جاء في کلام الإمام الأعظم وغیرہ من علماء الأنام من تکفیر القائل بخلق القرآن فمحمول علی کفران النعمۃ لا کفر الخروج من الملۃ)۔
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۵۸: (ذکر ابن الکمال في بعض رسائلہ: أنّ أبا حنیفۃ وأبا یوسف رضي اللہ تعالی عنھما تناظرا ستۃ أشہر، ثم استقر رأیھما علی أنّ من قال بخلق القرآن فہو کافر، وقد ذکر في الأصول أنّ قول أبي حنیفۃ إنّ القائل بخلق القرآن کافر محمول علی الشتم لا علی الحقیقۃ فہو دلیل علی أنّ القائل بہ مبتدع ضال لا کافر).
وفي ''المعتقد المنتقد''، ص۳۸: (ومنکر أصل الکلام کافر لثبوتہ بالکتاب والإجماع، وکذا منکر قدمہ إن أراد المعنی القائم بذاتہ، واتفق السلف علی منع أن یقال القرآن مخلوق وإن أرید بہ اللفظي، والاختلاف في التکفیرکما قیل).
قال الإمام أحمد رضا في ''حاشیتہ''، ص۳۸: قولہ: (وکذا منکر قدمہ) أي: (فیہ تکفیر الکرامیۃ وہو مسلک الفقہاء، أمّا جمہور المتکلمین فیأبون الإکفار إلاّ بإنکار شيء من ضروریات الدین، وہو الأحوط المأخوذ المعتمد عندنا وعند المصنف العلام تبعاً للمحققین۔ ۱۲ إمام أھل السنۃ رضي اللہ تعالی عنہ.
3 ۔ انظر ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۳۷۹۔۳۸۴.
4 ۔ في''منح الروض الأزہر''، للقاریئ، ص۱۷: (إنّ کلامہ لیس من جنس الحروف والأصوات).
جو ہم نے حفظ کیا قدیم(1)،..................................
1 ۔ قال الإمام أحمد رضا في ''المعتمد المستند''، ص۳۵: (وإنّما المذہب ما علیہ أئمۃ السلف أنّ کلام اللہ تعالی واحد لا تعدد فیہ أصلا، لم ینفصل ولن ینفصل عن الرحمن، ولم یحل في قلب ولا لسان، ولا أوراق ولا آذان، ومع ذلک لیس المحفوظ في صدورنا إلاّ ہو، ولا المتلو بأفواہنا إلاّ ہو، ولا المکتوب في مصاحفنا إلاّ ہو، ولا المسموع بأسماعنا إلاّ ہو، لا یحل لأحد أن یقول بحدوث المحفوظ المتلو المکتوب المسموع، إنّما الحادث نحن، وحفظنا، وألسننا، وتلاوتنا، وأیدینا، وکتابتنا، وآذاننا، وسماعتنا، والقرآن القدیم القائم بذاتہ تعالی ہو المتجلي علی قلوبنا بکسوۃ المفہوم، وألسنتنا بصورۃ المنطوق، ومصاحفنا بلباس المنقوش، وآذاننا بزيّ المسموع فہو المفہوم المنطوق المنقوش المسموع لا شيء آخر غیرہ دالاً علیہ، وذلک من دون أن یکون لہ انفصال عن اللہ سبحانہ وتعالی، أو اتصال بالحوادث أو حلول في شيء مما ذکر، وکیف یحلّ القدیم في الحادث، ولا وجود للحادث مع القدیم، إنّما الوجود للقدیم وللحادث منہ إضافۃ لتکریم، ومعلوم أنّ تعدد التجلي لا یقتضي تعدد المتجلي۔
؎ دمبدم گر لباس گشت بدل شخص صاحب لباس راچہ خلل
عرف ھذا من عرف، ومن لم یقدر علی فہمہ فعلیہ أن یؤمن بہ کما یؤمن باللہ وسائر صفاتہ من دون إدراک الکنہ).
وقد فصل وحقق الإمام أحمد رضا ہذہ المسألۃ في رسالتہ: ''أنوار المنان في توحید القرآن''، وقال في آخرہ، ص۲۷۰۔۲۷۱: (وذلک قول أئمتنا السلف إنّ القرآن واحد حقیقي أزلي، وہو المتجلّي في جمیع المجالي، لیس علی قدمہ بحدوثہا أثر، ولا علی وحدتہ بکثرتہا ضرر، ولا لغیرہ فیہا عین ولا أثر، القراء ۃ والکتابۃ والحفظ والسمع والألسن والبنان والقلوب والآذان،کلہا حوادث عرضۃ للغیار، والمقروء المکتوب المحفوظ المسموع ہوالقرآن القدیم حقیقۃ وحقا لیس في الدار غیرہ دیّار، والعجب أنّہ لم یحل فیہا ولم تخل عنہ، ولم یتصل بہا ولم تبن منہ، وھذا ہو السر الذي لا یفہمہ إلاّ العارفون، (وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُہَآ إِلاَّ الْعَالِمُوْنَ) إنّ من العلم کہیأۃ المکنون لا یعلمہ إلاّ العلماء باللہ، فإذا نطقوا بہ لاینکرہ إلاّ أھل الغرۃ باللہ۔ رواہ في ''مسند الفردوس'' عن أبي ہریرۃ رضي اللہ تعالی عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم.
والمسألۃ وإن کانت من أصعب ما یکون فلم آلُ بحمد اللہ تعالی جھداً في الإیضاح حتی آض بعونہ تعالی لیلہا کنہارہا، بل قد استغنیت عن المصباح بالإصباح. وبالجملۃ فاحفظ عنّي ھذا الحرف المبین ینفعک یوم لا ینفع مال ولابنون إلاّ من أتی اللہ بقلب سلیم، أنّک إن قلت إنّ جبریل حدث الآن بحدوث الفحل أو لم یزل فحلا مذ وجد فقد ضللت ضلالا مھینا، وإن قلت إنّ الفحل لم یکن جبریل بل شيء آخر علیہ دلیل فقد بھتّ بھتا مبینا، ولکن قل ہو جبریل قطعا تصور بہ، فکذا إن زعمت أنّ القرآن حدث بحدوث المکتوب أو المقروء أو لم یزل أصواتا ونقوشا من الأزل فقد أخطأت الحق بلا مریۃ، وإن زعمت أنّ
یعنی متجلّی قدیم ہے اور تجلّی حادث۔ (1)
عقیدہ (۱۹): اُس کا علم ہر شے کو محیط یعنی جزئیات، کلیات، موجودات، معدومات، ممکنات، مُحالات، سب کو اَزل میں جانتا تھا اور اب جانتا ہے اور اَبَد تک جانے گا، اشیاء بدلتی ہیں اور اُس کا علم نہیں بدلتا، دلوں کے خطروں اور وَسوسوں پر اُس کو خبر ہے اور اُس کے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ (2)
عقیدہ (۲۰): وہ غیب و شہادت (3) سب کو جانتا ہے (4)، علمِ ذاتی اُس کا خاصہ ہے، جو شخص علمِ ذاتی، غیب خواہ
المکتوب المقروء لیس کلام اللہ الأزلي بل شيء غیرہ یؤدي مؤدّاہ فقد أعظمت الفریۃ، ولکن قل ہو القرآن حقا تطوّر بہ، وہکذا کلما اعتراک شبہۃ في ھذا المجال، فاعرضہا علی حدیث الفحل تنکشف لک جلیۃ الحال، وما التوفیق إلاّ باللہ المہیمن المتعال).
1 ۔ متجلّی یعنی کلام الہی، قدیم ہے،اور تجلّی یعنی ھمارا پڑھنا،سننا، لکھنا ، یاد کرنا یہ سب حادث ہے۔
2 ۔ (یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰـٰوتِ وَالْأَرْضِ وَیَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ وَاللہُ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ) پ۲۸، التغابن: ۴.
(وَعِنْدَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ إِلاَّ یَعْلَمُہَا وَلَاحَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا یَابِسٍ إِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ)پ۷، الأنعام:۵۹.
(وَأَسِرُّوْا قَوْلَکُمْ أَوِ اجْہَرُوْا بِہِ إِنَّہُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ أَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ) پ۲۹، الملک: ۱۳۔ ۱۴، (وَاَنَّ اللہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا) پ۲۸،الطلاق:۱۲.
في ''التفسیر الکبیر''، تحت الآیۃ: (یعني بکل شيء من الکلیات والجزئیات) ج۱۰، ص۵۶۷.
في''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ص۱۶، تحت قولہ: (والعلم) أي:من الصفات الذاتیۃ، وہي صفۃ أزلیۃ تنکشف المعلومات عند تعلقہا بہا، فاللہ تعالی عالم بجمیع الموجودات لا یعزب عن علمہ مثقال ذرۃ في العلویات والسفلیات، وأنّہ تعالی یعلم الجہر والسرّ وما یکون أخفی منہ من المغیبات، بل أحاط بکلّ شیء علماً من الجزئیات والکلیات والموجودات والمعدومات والممکنات والمستحیلات، فہو بکل شيء علیم من الذوات والصفات بعلم قدیم لم یزل موصوفا بہ علی وجہ الکمال، لا بعلم حادث حاصل في ذاتہ بالقبول والانفعال والتغیر والانتقال، تعالی اللہ عن ذلک شأنہ وتعظم عما نہاک برہانہ.
في''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۵۴: (العلم) وہي صفۃ تنکشف بہا المعلومات عند تعلقہا بہا سواء کانت المعلومات موجودۃ أو معدومۃ، محالۃ کانت أو ممکنۃ، قدیمۃ کانت أوحادثۃ، متناہیۃ کانت أوغیر متناہیۃ، جزئیۃ کانت أوکلیۃ، وبالجملۃ جمیع ما یمکن أن یتعلق بہ العلم فہومعلوم للہ تعالی.
3 ۔ پوشیدہ اورظاہر۔
4 ۔ (ہُوَ اللہُ الَّذِیْ لَا إِلٰـہَ إِلاَّ ہُوَعٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ) پ۲۸، الحشر: ۲۲.
شہادت کا غیرِ خدا کے لیے ثابت کرے کافر ہے۔(1) علمِ ذاتی کے یہ معنی کہ بے خدا کے دیے خود حاصل ہو۔
عقیدہ (۲۱) : وہی ہر شے کا خالق ہے(2) ، ذوات ہوں خواہ افعال، سب اُسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔(3)
عقیدہ (۲۲) : حقیقۃً روزی پہنچانے والا وہی ہے (4)، ملائکہ وغیر ہم و سائل و وسائط ہیں۔ (5)
عقیدہ (۲۳) : ہر بھلائی، بُرائی اُس نے اپنے علمِ اَزلی کے موافق مقدّر فرما دی ہے، جیسا ہونے والا تھا اورجو جیسا کرنے والا تھا، اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اُس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے، بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اُس نے لکھ دیا۔ زید کے ذمّہ برائی لکھی اس لیے کہ زید برائی کرنے والا تھا، اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا وہ اُس کے لیے
1 ۔ في ''الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ''، ص۳۹: (العلم ذاتي مختص بالمولی سبحانہ وتعالی لا یمکن لغیرہ، ومن أثبت شیأا منہ ولو أدنی من أدنی من أدنی من ذرۃ لأحد من العالمین فقد کفر وأشرک وبار وھلک)، ملتقطاً.
انظر التفصیل: ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۲۹، ص۴۳۶۔۴۳۷.
2 ۔ (اَللہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ) پ۱۳، الرعد: ۱۶.
3 ۔ (وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ) پ۲۳، الصآفات: ۹۶.
في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۷۶: (واللہ تعالی خالق لأفعال العباد من الکفر والإیمان والطاعۃ والعصیان).
في ''الیواقیت''، ص۱۸۹: ( المبحث الرابع والعشرون: في أنّ اللہ تعالٰی خالق لأفعال العبد کما ہو خالق لذواتہم).
4 ۔ (إِنَّ اللہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ) پ۲۷، الذّٰریٰت: ۵۸.
5 ۔ (فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا) پ۲۶، الذّٰریٰت: ۴. (فَالْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا) پ۳۰، النازعات: ۵.
في''تفسیر البغوي''، پ۳۰،تحت الآیۃ:۵ (فَالْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا) قال ابن عباس: ہم الملائکۃ وکّلوا بأمور عرّفہم اللہ عزوجل العمل بہا. قال عبدالرحمن بن سابط:یدبرالأمر في الدنیا أربعۃ جبریل ومیکائیل وملک الموت وإسرافیل علیہم السلام، أمّا جبریل فموکل بالوحي والبطش وہزم الجیوش، وأمّا میکائیل فموکل بالمطر والنبات والأرزاق، وأمّا ملک الموت فموکل بقبض الأنفس، وأمّا إسرافیل فہو صاحب الصور، ولا ینزل إلاّ للأمر العظیم. ج۴، ص، ۴۱۱.
وفي''کنزالعمال''، کتاب البیوع، قسم الأقوال، الجزء ۴، ص۱۳، الحدیث:۹۳۱۷: ((إنّ للہ تعالی ملائکۃ موکلین بأرزاق بنيآدم، ثم قال لہم: أیما عبد وجدتموہ جعل الہمّ ہمّا واحدًا، فضمنوا رزقہ السموات والأرض وبني آدم، وأیما عبد وجدتموہ طلبہ فإن تحری العدل فطیبوا لہ ویسروا، وإن تعدی إلی غیر ذلک فخلوا بینہ وبین ما یرید، ثم لا ینال فوق الدرجۃ التي کتبتہا لہ)).
بھلائی لکھتا تو اُس کے علم یا اُس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کر دیا۔ (1) تقدیر کے انکار کرنے والوں کو نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس اُمت کا مجوس بتایا۔ (2)
عقیدہ (۲۴): قضا تین ۳ قسم ہے۔
مُبرَمِ ۱ حقیقی، کہ علمِ الٰہی میں کسی شے پر معلّق نہیں۔
اور معلّقِ ۲ محض، کہ صُحفِ ملائکہ میں کسی شے پر اُس کا معلّق ہونا ظاہر فرما دیا گیا ہے۔
اور معلّقِ ۳ شبیہ بہ مُبرَم، کہ صُحف ِملائکہ میں اُس کی تعلیق مذکور نہیں اور علمِ الٰہی میں تعلیق ہے۔
وہ جو مُبرَمِ حقیقی ہے اُس کی تبدیل نا ممکن ہے، اکابر محبوبانِ خدا اگر اتفاقاً اس بارے میں کچھ عرض کرتے ہیں تو اُنھیں اس خیال سے واپس فرما دیا جاتا ہے۔ (3) ملائکہ قومِ لوط پر عذاب لے کر آئے، سیّدنا ابراہیم خلیل اﷲ علی نبیّنا الکریم وعلیہ افضل الصّلاۃ والتسلیم کہ رحمتِمحضہ تھے، اُن کا نامِ پاک ہی ابراہیم ہے، یعنی ابِ رحیم(4) ، مہربان باپ، اُن کافروں کے بارے میں اتنے ساعی
1 ۔ في '' الفقہ الأکبر''، ص۴۰: (وکان اللہ تعالی عالما في الأزل بالأشیاء قبل کونہا، وہو الذي قدّر الأشیاء وقضاہا).
في''شرح النووي''، کتاب الإیمان، ج۱، ص۲۷: (واعلم : أنّ مذہب أھل الحق إثبات القدر ومعناہ: أنّ اللہ تبارک وتعالی قدّر الأشیاء في القدم وعلم سبحانہ أنّہا ستقع في أوقات معلومۃ عندہ سبحانہ وتعالی وعلی صفات مخصوصۃ فہي تقع علی حسب ما قدّرہا سبحانہ وتعالی ۔ واللہ سبحانہ وتعالی خالق الخیر والشرجمیعًا لا یکون شيء منھما إلاّ بمشیّتہ، فھما مضافان إلی اللہ سبحانہ وتعالی خلقًا وإیجادًا، وإلی الفاعلین لھما من عبادہ فعلاً واکتسابًا واللہ أعلم. قال الخطابي: وقد یحسب کثیر من الناس: أنّ معنی القضاء والقدر إجبارُ اللہِ سبحانہ العبد وقہرہ علی ما قدرہ وقضاہ ولیس الأمرکما یتوہمونہ، وإنّما معناہ الإخبار عن تقدم علم اللہ سبحانہ وتعالی بما یکون من اکتساب العبد وصدورہا عن تقدیر منہ وخلق لہا خیرہا وشرہا، ملتقطاً. ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۲۹، ص۲۸۵.
وانظر ''شرح السنۃ'' للبغوي، باب الإیمان بالقدر، ج۱، ص۱۴۰- ۱۴۱.
2 ۔ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((القدریۃ مجوس ہذہ الأمۃ)) وقال: ((لکل أمۃ مجوس ومجوس ہذہ الأمۃ الذین یقولون لا قدرَ)). ''سنن أبي داود''، کتاب السنۃ، باب الدلیل علی زیادۃ الإیمان ونقصانہ، الحدیث:۴۶۹۱، ۴۶۹۲، ص۱۵۶۷.
3 ۔ ''مکتوبات إمام رباني''، فارسی، مکتوب نمبر ۲۱۷، ج۱، ص۱۲۳۔۱۲۴.
4 ۔ في''تفسیر القرطبي''، پ۱، البقرۃ: ۱۲۴، ج۱، الجزء الثاني، ص۷۴، تحت الآیۃ: (وَإِذِ ابْتَلٰۤی إِبْرٰہٖمَ رَبُّہ، بِکَلِمٰتٍ فَأَتَمَّہُنَّ...إلخ) وإبراہیم تفسیرہ بالسّریانیۃ فیما ذکر الماوردي، وبالعربیۃ فیما ذکر ابن عطیۃ: أب رحیم. قال السُّہیلي:
ہوئے کہ اپنے رب سے جھگڑنے لگے، اُن کا رب فرماتا ہے۔
( یُجَادِلُنَا فِیۡ قَوْمِ لُوۡطٍ ﴿ؕ۷۴﴾ (1)
''ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے بارے میں۔''
یہ قرآنِ عظیم نے اُن بے دینوں کا رَد فرمایا جو محبوبانِ خدا کی بارگاہِ عزت میں کوئی عزت و وجاہت نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اس کے حضور کوئی دَم نہیں مار سکتا، حالانکہ اُن کا رب عزوجل اُن کی وجاہت اپنی بارگاہ میں ظاہر فرمانے کو خود ان لفظوں سے ذکر فرماتا ہے کہ : ''ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے بارے میں''، حدیث میں ہے: شب ِمعراج حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک آواز سنی کہ کوئی شخص اﷲ عزوجل کے ساتھ بہت تیزی اور بلند آواز سے گفتگو کر رہا ہے، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جبریل امین علیہ الصلاۃ والسلام سے دریافت فرمایا :''کہ یہ کون ہیں؟ '' عرض کی موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام، فرمایا: ''کیا اپنے رب پر تیز ہو کر گفتگو کرتے ہیں؟'' عرض کی: اُن کا رب جانتا ہے کہ اُن کے مزاج میں تیزی ہے۔ (2) جب آیہ کریمہ
(وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ) ـ3ـ
نازل ہوئی کہ ''بیشک عنقریب تمھیں تمھارا رب اتنا عطا فرمائے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔''
حضور سیّدالمحبوبین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إِذاً لاَّ أَرْضٰی وَوَاحِدٌ مِّنْ أُمَّتِيْ فِي النَّارِ)).(4)
''ایسا ہے تو میں راضی نہ ہوں گا، اگر میرا ایک اُمتی بھی آگ میں ہو۔''
وکثیراً ما یقع الاتفاق بین السّریاني والعربي أو یقاربہ في اللفظ؛ ألا تری أنّ إبراہیم تفسیرہ: أب راحم؛ لرحمتہ بالأطفال، ولذلک جعل ہو وسارۃ زوجتہ کافلین لأطفال المؤمنین الذین یموتون صغاراً إلی یوم القیامۃ). و''تفسیر روح البیان''،ج۱، ص۲۲۱.
1 ۔ پ۱۲، ھود: ۷۴.
2 ۔ عن عبد اللہ بن مسعود عن أبیہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((سمعت کلاماً في السمائ، فقلت: یا جبریل! من ھذا؟)) قال: ھذا موسی، قلت: ((ومن یناجي؟)) قال: ربہ تعالی، قلت: ((ویرفع صوتہ علی ربہ؟)) قال: إنّ اللہ عزوجل قد عرف لہ حدَّتَہ.
''حلیۃ الأولیائ''، ج۱۰، ص۴۱۷، الحدیث: ۱۵۷۰۸. ''کنز العمال''، کتاب الفضائل، فضائل سائر الأنبیائ، رقم: ۳۲۳۸۵، ج۶، الجزء ۱۱، ص۲۳۲. ''فتح الباری''، کتاب مناقب الأنصار، باب المعراج، ج۷، ص۱۸۰، تحت الحدیث: ۳۸۸۷.
3 ۔ پ۳۰، الضحٰی: ۵.
4 ۔ ''التفسیر الکبیر''، پ۳۰، الضحی: تحت الآیۃ: ۵، ج۱۱، ص۱۹۴.
یہ تو شانیں بہت رفیع ہیں، جن پر رفعت عزت وجاہت ختم ہے۔ صلوات اﷲ تعالیٰ و سلامہ علیہم مسلمان ماں باپ کا کچّا بچہ جو حمل سے گر جاتا ہے اُس کے لیے حدیث میں فرمایا: کہ ''روزِ قیامت اﷲ عزوجل سے اپنے ماں باپ کی بخشش کے لیے ایسا جھگڑے گا جیسا قرض خواہ کسی قرض دار سے، یہاں تک کہ فرمایا جائے گا:
((أَیُّـھَا السِّقْطُ المُرَاغِمُ رَبَّـہٗ)).(1)
''اے کچے بچے! اپنے رب سے جھگڑنے والے! اپنے ماں باپ کا ہاتھ پکڑ لے اور جنت میں چلا جا۔''
خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا، مگر ایمان والوں کے لیے بہت نافع اور شیاطین الانس کی خبا ثت کا دافع تھا، کہنا یہ ہے کہ قومِ لوط پر عذاب قضائے مُبرَمِ حقیقی تھا، خلیل اﷲ علیہ الصّلاۃ والسلام اس میں جھگڑے تو اُنھیں ارشاد ہوا:
''اے ابراہیم! اس خیال میں نہ پڑو ... بیشک اُن پر وہ عذاب آنے والاہے جو پھرنے کا نہیں۔''
اور وہ جو ظاہر قضائے معلّق ہے، اس تک اکثر اولیا کی رسائی ہوتی ہے، اُن کی دُعا سے، اُن کی ہمّت سے ٹل جاتی ہے اور وہ جو متوسّط حالت میں ہے، جسے صُحف ِملائکہ کے اعتبا ر سے مُبرَم بھی کہہ سکتے ہیں، اُس تک خواص اکابر کی رسائی ہوتی ہے۔ حضور سیّدنا غوثِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اسی کو فرماتے ہیں: ''میں قضائے مُبرَم کو رد کر دیتا ہوں'' (3)، ۔۔۔۔
1 ۔ عن علي قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ السقط لیراغم ربہ إذا أدخل أبویہ النار، فیقال: أیہا السقط المراغم ربہ أدخل أبویک الجنۃ، فیجرھما بسررہ حتی یدخلھما الجنۃ)). قال أبو علي: یراغم ربہ، یغاضب. ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ما جاء في الجنائز، باب ما جاء فیمن أصیب بسقط، الحدیث: ۱۶۰۸، ج۲، ص۲۷۳.
2 ۔ ( یٰاِ بْرٰہِیمُ أَعْرِضْ عَنْ ہٰذَا إِنَّہ، قَدْ جَآءَ أَمْرُ رَبِّکَ وَإِنَّہُمْ اٰتِیْہِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ) پ۱۲، ھود: ۷۶.
3 ۔ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے فرمان ''میں قضائے مبرم کو رد کردیتا ہوں '' پر کلا م کرتے ہوئے امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی الشیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں: (بدان ارشدک اللہ تعالی سبحانہ قضا بر دو قسم است، قضاء معلق وقضاء مبرم در قضاء معلق احتمال تغییر وتبدیل است، ودر قضاء مبرم تغییر وتبدیل را مجال نیست قال اللہ سبحانہ وتعالی: (مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ) [پ۲۶، ق: ۲۹] این در قضاء مبرم است، ودر قضاء معلق میفرماید: (یَمْحُوا اللہُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہٗ أُمُّ الْکِتَابِ) [پ۱۳، الرعد: ۳۹] حضرت قبلہ گاہی ام قدّس سرّہ میفرمودند کہ حضرت سید محی الدین جیلانی قدّس سرّہ در بعضی از رسائل خود نوشتہ اند کہ در قضاء ِ مبرَم ہیچکس را مجال نیست کہ تبدیل بدہد مگر مرا کہ اگر خواہم انجا ہم
۔
تصرّف بکنم، وازین سخن تعجّب بسیار میکردند واستبعاد میفرمودند، واین نقل مدتہا در خزینہ ذہنِ این فقیر بود تاآنکہ حضرتِ حق سبحانہ وتعالی باین دولتِ عظمے مشرف ساخت، روزے در صد ودفع بلیّہ بودم کہ بہ بعضی از دوستان نامزد شدہ بود دوران وقت التجا وتضرّع ونیاز وخشوعِ تمام داشتم ظاہر شد کہ در لوح محفوظ قضاء این امر معلق بامرے نیست ومشروط بشرطے ، نہ یک گونہ یاس وناامیدی دست دادوسخنِ حضرت سید محی الدین قدّس سرّہ بیاد آمد مرّۃً ، ثانیۃ باز ملتجی ومتضرع گشت دراہِ عجز ونیاز پیش گرفتہ متوجّہ شد بمحض فضل وکرم ظاہر ساختند کہ قضاءِ معلق بردوگونہ است، قضائے است کہ تعلیق او را در لوح محفوظ ظاہر ساختہ اندو ملائکہ را بر ان اطلاع دادہ، وقضائیکہ تعلیقِ اونزدِ خدا ست جلّ شانُہ، وبس ودر لوح محفوظ صورتِ قضاءِ مبرم دار،(کہ بظاہر در لوح محفوظ مشروط بامرے نساختہ اند بلکہ مطلق گذاشتہ لیکن نفس الامر مقید بقید ومشروط بشرط است۱۲ حاشیہ) واین قسم اخیر از قضاء معلّق نیز احتمالِ تبدیل دارد، در رنگ قسم اول از انجا معلوم شد کہ سخنِ سید مصروف با ینقسم اخیر است کہ صورت قضاء مبرم وارد نہ بقضاء کہ بحقیقت مبرم است کہ تصرف وتبدیل در ان محالست عقلاً وشرعاً کما لا یخفی، والحق کہ کم کسے رابر حقیقتِ آ ن قضاء اطلاع است فکیف کہ در انجا تصرّف نماید، وبلیّہ کہ متوجہِ آن دوست شدہ بود دران قسم اخیر یافت ومعلوم شد کہ حضرت حق سبحانہ وتعالی دفع آن بلیّہ فرمود). ''مکتوبات إمام رباني''، فارسی، مکتوب نمبر ۲۱۷، ج۱، ص۱۲۳۔۱۲۴.
یعنی: جان لے اللہ تجھے ہدایت عطا فرمائے اے پیارے بھائی! قضاء کی دو قسمیں ہیں : قضاء ِمعلق اور قضاء ِمبرم۔ قضاء ِمعلق یہ ہے کہ اس میں تبدیلی کا احتمال ہوتاہے جبکہ قضاء ِمبرم وہ ہے جس میں تبدیلی کی گنجاءش نہیں ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: ترجمہ کنزالایمان:میرے یہاں بات بدلتی نہیں ۔ یہ قضائے مبرم کی مثال ہے جبکہ قضائے معلق کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :ترجمہ کنز الایمان: اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔ میرے پیر بزرگوار قدّس سرہ فرماتے تھے کہ حضرت پیر سید محی الدین جیلانی قدس سرہ الربانی نے اپنے بعض رسالوں میں تحریر کیا کہ قضائے مبرم میں کسی کو تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں مگر مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ اگر چاہوں تو اس میں تصرف کروں۔ ان کی اس بات سے میرے پیر بزرگوار بہت تعجب کرتے تھے اور اس کو بعید جانتے تھے اور یہ بات اس فقیر (شیخ احمد فاروقی سرہندی) کے ذہن میں کافی مدت تک رہی یہاں تک کہ حق تعالی نے مجھے بھی اس دولت عظمیٰ سے مشرف فرمادیا(یعنی شیخ احمد فاروقی سرہندی علیہ الرحمہ کی دعا سے بھی قضائے مبرم میں تبدیلی ہوگئی ،مترجم )، چنانچہ ایک دن میرے کسی دوست کے ساتھ حاکم وقت کی طرف سے کوئی مسئلہ پیش آگیا تو میں نے اس کے دفع کے لئے گریہ وزاری کی اور خوب خشوع وخضوع کیا تو جانب ِحق تعالی کی طرف سے بطورِ کشف والہام مجھے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ لوح ِ محفوظ میں معلق نہیں کہ
۔۔ اور اسی کی نسبت حدیث میں ارشاد ہوا:
((إِنَّ الدُّعَاءَ یَرُدُّ القَضَاءَ بَعْدَ مَا اُبْرِمَ)).(1)
''بیشک دُعا قضائے مُبرم کو ٹال دیتی ہے۔''
کسی چیز سے بآسانی ٹل جائے، پس مجھے ایک قسم کی مایوسی ہوئی تو پیر دستگیر سید محی الدین قدس سرہ النورانی کا ارشاد دوبارہ یاد آگیا تو میں نے دوبارہ حق تعالی کی بارگاہ میں آہ وزاری اور عجزوانکساری کی تو مجھے محض فضل وکرم سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ قضائے معلق کی دو قسمیں ہیں ایک قسم قضائے معلق کی وہ ہے کہ اس کی تعلیق لوح محفوظ میں ظاہر کی گئی ہے اور فرشتگانِ الہی کو اس کی اطلاع دی گئی ہے اور دوسری قسم قضائے معلق کی وہ ہے کہ اس کی تعلیق خدائے بزرگ وبرتر کے نزدیک ہے اور لوح محفوظ میں وہ قضائے مبرم کی صورت رکھتی ہے،(در حقیقت یہ قسم نہ تو مطلق معلق ہے اور نہ مطلق مبرم بلکہ مشابہ بہ مبرم ہے جو کہ بظاہر لوح محفوظ میں مطلق نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں مشروط بشرط ہوتی ہے اور بسا اوقات یہ خاصانِ خدا کی دعاؤں سے ٹل جاتی ہے، حاشیہ بر مکتوب بتصرف ما) اور یہ بھی قضائے معلق کی طرح تبدیلی کا احتمال رکھتی ہے۔ پس اس تقریر سے معلوم ہوا کہ حضرت پیر دستگیر علیہ الرحمہ کا ارشاد(میں قضائے مبرم کو رد کردیتا ہوں، مترجم) اس قسم اخیر(یعنی مشابہ بہ مبرم) کے بارے میں ہے نہ کہ مبرم حقیقی کے بارے میں، کیونکہ اس(مبرم حقیقی) میں تصرف وتبدیلی عقلی و شرعی لحاظ سے محال ہے، حق بات یہ ہے کہ بہت کم لوگ ہیں کہ جو اس قضاء(مشابہ بہ مبرم) کی خبر رکھتے ہیں اور کیونکر رکھ سکتے ہیں جبکہ اس میں تصرف نہیں ہوپاتا ، اور میرے دوست کو جو آزمائش پیش آئی تھی اسی کے سبب سے میں نے اس قسم کو دریافت کیا اور حضرت حق سبحانہ وتعالی نے اس فقیر کی دعا سے اس کی آزمائش کو دور کردیا۔
1 ۔ ''کنز العمال''، کتاب الأذکار، ج۱، الجزء الثاني، ص۲۸، الحدیث:۳۱۱۷. بألفاظ متقاربۃ.
قال الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن في ''المعتمد المستند'' حاشیہ نمبر ۷۷ ، ص۵۴ ۔۵۵: (أقول: أخرج أبو الشیخ في کتاب الثواب عن أنس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: ((أکثر من الدعائ، فإنّ الدعاء یردّ القضاء المبرم))، وأخرج الدیلمي في ''مسند الفردوس'' عن أبي موسی الأشعري رضي اللہ تعالی عنہ وابن عساکر عن نمیر بن أوس الأشعري مرسلًا کِلاھما عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((الدعاء جند من أجناد اللہ مجند یرد القضاء بعد أن یبرم)). وتحقیق المقام علی ما ألہمني الملک العلام أنّ الأحکام الإلہیۃ التشریعیۃ کما تأتي علی وجہین: (۱) مطلق عن التقیید بوقت کعامتہا و(۲) مقید بہ کقولہ تعالی: (فَإِنْ شَہِدُوْا فَأَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْبُیُوتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الْمَوْتُ أَوْ یَجْعَلَ اللہُ لَہُنَّ سَبِیلْاً)، پ۴، النساء: ۱۵، فلما نزل حدّ الزنا قال صلّی اللہ تعالی علیہ وسلم: ((خذوا عنّي قد جعل اللہ لہنّ سبیلا).الحدیث.
رواہ ''مسلم'' کتاب الحدود، باب حد الزنا، الحدیث: ۱۶۹۰، ص۹۲۸ وغیرہ عن عبادۃ رضي اللہ تعالی عنہ.
۔
والمطلق یکون في علم اللہ مؤبدًا أو مقیدًا، وھذا الأخیر ہوالذي یأتیہ النسخ فیظن أنّ الحکم تبدل؛ لأنّ المطلق یکون ظاہرہ التأبید حتی سبق إلی بعض الخواطر أنّ النسخ رفع الحکم، وإنّما ہو بیان مدتہ عندنا وعند المحققین، کذلک الأحکام التکوینیۃ سواء بسوائ، فمقید صراحۃ کأن یقال لملک الموت علیہ الصلاۃ والسلام:اقبض روح فلان في الوقت الفلاني إلاّ أن یدعو فلان، مطلق نافذ في علم اللہ تعالی وہو المبرم حقیقۃ، ومصروف بدعاء مثلا وہو المعلق الشبیہ بالمبرم، فیکون مبرماً في ظن الخلق لعدم الإشارۃ إلی التقیید معلّقا في الواقع، فالمراد في الحدیث الشریف ہو ھذا، أمّا المبرم الحقیقي فلا رادّ لقضائہ ولا معقب لحکمہ وإلاّ لزم الجھل، تعالی اللہ عن ذلک علوا کبیرا، فاحفظ ھذا فلعلک لا تجدہ إلاّ منّا، وباللہ التوفیق. ۱۲ إمام أھل السنۃ رضی اللہ تعالی عنہ.
یعنی: (میں کہتا ہوں): ابو الشیخ نے کتاب الثواب میں انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ '' دعا کی کثرت کرو اس لئے کہ دعا قضاء مبرم کو ٹال دیتی ہے''۔ اوردیلمی نے ''مسند الفردوس'' میں ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے اور ابن عساکر نے نمیر بن اوس اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے مرسلا دونوں نے نبی علیہ السلام سے روایت کیا فرمایا: ''دعا اللہ کے لشکروں میں سے ایک ساز وسامان والا لشکر ہے جو قضاء کو مبرم ہونے کے بعد ٹال دیتا ہے''۔ اور اس مقام کی تحقیق اس طور پر جو مجھے ملک علام (اللہ تبارک وتعالی) نے الہام کی وہ یہ ہے کہ احکامِ الہیہ تشریعیہ جیسا کہ آگے آئیں گے دو وجہوں پر ہیں پھلا مطلق جس میں کسی وقت کی قید نہیں جیسے عام احکام (دوسرا) وقت کے ساتھ مقید جیسے اللہ تعالی کا فرمان:ترجمہ کنزالایمان، سورۃ النساء آیت ۵۱: پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت اٹھا لے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے۔ تو جب قرآن میں زنا کی حد نازل ہوئی حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے لے لو بیشک اللہ نے ان عورتوں کے لئے سبیل مقرر فرمائی ۔ الحدیث۔ اس کو روایت کیا مسلم وغیرہ نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے، اور مطلق علم الٰہی میں یا تو مؤبد ہوتا ہے یعنی ہر زمانے کے لئے (یامقید) یعنی کسی خاص زمانے کے لئے اور یہی اخیر حکم وہ ہے جس میں نسخ آتا ہے، گمان یہ ہوتا ہے کہ حکم بدل گیا اس لئے کہ مطلق (جس میں کسی وقت کی قید نہ ہو) کا ظاہر مؤبد ہے یعنی ہمیشہ کے لئے ہونا ہے یہا ں تک کہ کچھ اذہان کی طرف اس خیال نے سبقت کی کہ نسخ حکم کو اٹھا دینے کا نام ہے اور ھمارے نزدیک اور محققین کے نزدیک وہ حکم کی مدت بیان کرنا ہے، اور احکام تکوینیہ بھی اسی طرح برابر (یعنی دو قسموں پر) ہیں تو ایک وہ جو صراحۃً مقید ہو جیسے ملک الموت علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا جائے کہ فلاں کی روح فلاں وقت میں قبض کر مگر یہ کہ فلاں اس کے حق میں دعا کرے( تو اس وقت میں قبض نہ کر)، اور دوسرا مطلق ہے جو علمِ الٰہی میں نافذ ہونے والا ہے اور یہی حقیقۃً مبرم ہے ،اور قضاء کی ایک قسم وہ ہے جو مثلاً کسی کی دعا سے ٹل جائے اور وہ معلق مشابہ مبرم ہے تو (یہ قسم) مخلوق کے گمان میں مبرم ہوتی ہے اس لئے کہ اس میں قید وقت کا اشارہ نہیں اور واقع میں (کسی شرط پر) معلق ہوتی ہے اور مراد حدیث شریف میں یہی ہے، رہا مبرم حقیقی تو (وہ مراد نہیں) اس لئے کہ اللہ تعالی کی قضاء ِ(مبرم) کو کوئی ٹالنے والا نہیں اور کوئی اس کے حکم کو باطل کرنے والا نہیں ورنہ جھل باری لازم آئے گا اللہ تعالی اس سے بہت بلند ہے اس کو یاد رکھو اس لئے کہ شاید یہ تمہیں ھمارے سوا کسی اور سے نہ ملے۔ اللہ ہی توفیق دینے والا ہے ۔ ۱۲
وانظر لتفصیل ہذہ المسألۃ: ''أحسن الوعاء لآداب الدعاء'' و''ذیل المدعا لأحسن الوعاء''، ص۱۲۷۔۱۳۱۔
مسئلہ (۱): قضا و قدر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آسکتے، ان میں زیادہ غور و فکر کرنا سببِ ھلاکت ہے، صدیق وفاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنھما اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے۔ (1) ما و شما (2) کس گنتی میں ...! اتنا سمجھ لو کہ اﷲ تعالیٰ نے آدمی کو مثلِ پتھر اور دیگر جمادات کے بے حس و حرکت نہیں پیدا کیا، بلکہ اس کو ایک نوعِ اختیار (3) دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے، چاہے نہ کرے اور اس کے ساتھ ہی عقل بھی دی ہے کہ بھلے، بُرے، نفع، نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیا کر دیے ہیں، کہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے اُسی قسم کے سامان مہیّا ہو جاتے ہیں اور اسی بنا پر اُس پر مؤاخذہ ہے۔ (4)
1 ۔ عن ثوبان قال: اجتمع أربعون رجلاً من الصحابۃ ینظرون في القدر والجبر، فیہم أبو بکر وعمر رضي اللہ تعالی عنھما، فنزل الروح الأمین جبریل فقال: یا محمد! اخرج علی أمتک فقد أحدثوا، فخرج علیہم في ساعۃ لم یکن یخرج علیہم فیھا، فأنکروا ذلک منہ وخرج علیہم ملتمعا لونہ متوردۃ وجنتاہ کأنما تفقأ بحب الرمان الحامض، فنہضوا إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاسرین أذرعہم ترعد أکفہم و أذرعہم، فقالوا: تبنا إلی اللہ و رسولہ فقال: ((أولی لکم إن کدتم لتوجبون، أتاني الروح الأمین فقال: أخرج علی أمتک یا محمد فقد أحدثت)). رواہ الطبراني في ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۱۴۲۳، ج۲، ص۹۵.
عن أبي ہریرۃ قال: خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ونحن نتنازع في القدر، فغضب حتی احمرّ وجہہ حتی کأنّما فقیء في وجنتیہ الرمان، فقال: ((أبھذا أمرتم أم بھذا أرسلت إلیکم؟ إنما ھلک من کان قبلکم حین تنازعوا في ھذا الأمر، عزمت علیکم ألاّ تنازعوا فیہ)). ''سنن الترمذي''، کتاب القدر، باب ما جاء من التشدید... إلخ، الحدیث:۲۱۴۰، ج۴، ص۵۱.
2 ۔ ہم اور آپ۔
3 ۔ ایک طرح کا اختیار۔
4 ۔ في ''منح الروض الأزہر''، ص۴۲۔۴۳: (فللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون علیہا إن کانت طاعۃ، ویعاقبون علیہا إن کانت معصیۃ، لا کما زعمت الجبریۃ أن لا فعل للعبد أصلا کسبا ولا خلقا، وأنّ حرکاتہ بمنزلۃ حرکات الجمادات لا قدرۃَ لہ علیہا، لا مؤثرۃ، ولا کاسبۃ في مقام الاعتبار ولا قصد ولا إرادۃ ولا اختیار، وھذا باطل، لأنّا نفرق بین حرکۃ البطش وحرکۃ الرعش، ونعلم أنّ الأول باختیارہ دون الثاني لاضطرارہ).
في ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱،ص۲۶۲:(للعباد) المکلفین بالأمر والنہي(اختیارات لأفعالہم بہا، یثابون) أي: یثیبہم اللہ تعالی یوم القیامۃ علی ما صدر منھم من الخیر مما خلقہ اللہ تعالی منسوبا إلیہم بسبب خلق اللہ تعالی إرادتہم لہ، (علیہا)، أي: لأجل تلک الاختیارات، (یعاقبون) أي: یعاقبہم اللہ تعالی یوم القیامۃ حیث صدر منھم بہا أفعالا من الشر خلقہا تعالی لہم منسوبۃ إلیہم بسبب خلقہ إرادتہم لہا وحیث ثبت أنّ للإنسان اختیارا خلقہ اللہ تعالی فیہ، فقد انتفی مذہب الجبریۃ القائلین بأن الإنسان مجبور علی فعل الخیر والشر، ثم إنّ ذلک الاختیار الذي خلقہ اللہ تعالی في الإنسان بخلق اللہ تعالی عندہ لا بہ، ولا فیہ، ولا منہ أفعال الخیر والشر، فینسبہا للإنسان فیکون اختیار الإنسان المخلوق فیہ بمنزلۃ یدہ المخلوقۃ لہ بحیث لا تأثیر
اپنے آپ کو بالکل مجبور یا بالکل مختار سمجھنا، دونوں گمراہی ہیں۔ (1)
مسئلہ (۲): بُرا کام کرکے تقدیرکی طرف نسبت کرنا اور مشیتِالٰہی کے حوالہ کرنا بہت بُری بات ہے ، بلکہ حکم یہ ہے کہ جو اچھا کام کرے، اسے منجانب اﷲ کہے اور جو برائی سر زد ہو اُس کو شامتِ نفس تصوّر کرے۔ (2)
عقیدہ (۲۵): اﷲ تعالیٰ جہت ومکا ن و زمان و حرکت و سکون و شکل و صورت و جمیع حوادث سے پاک ہے۔ (3)
لذلک في شيء مطلقاً غیر مجرد قبول صحۃ النسبۃ بخلق اللہ تعالی فیہ صحۃ ذلک القبول، فانتفی مذہب القدریۃ القائلین بتأثیر قدرۃ العبد في الخیر والشر)، ملتقطاً.
1 ۔ وفي ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج ۱، ص۵۰۹: (أنّ علم اللہ تعالی بما یفعلہ العبد وإرادتہ لذلک، وکتبہ لہ في اللوح المحفوظ لیس بجبر للعبد علی فعلہ ذلک الذي فعلہ العبد باختیارہ وإرادتہ). وفیہا: (وذلک لأنّ علم اللہ تعالی وتقدیرہ لایخرجان العبد إلی حیز الاضطرار ولا یسلبان عنہ الاختیار). وانظر للتفصیل رسالۃ الإمام أھل السنۃ علیہ الرحمۃ: ''ثلج الصدر لإیمان القدر''، ج۲۹۔
2 ۔ (مَا أَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللہِ وَمَا أَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَفْسِکَ) پ۵، النسآء : ۷۹.
(وَأَنَّا لَا نَدْرِی أَشَرٌّ أُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًا) پ۲۹، الجن: ۱۰.
وفي ''تفسیر ابن کثیر''، ج۸، ص ۲۵۳، تحت الآیۃ: (وھذا من أدبہم في العبارۃ حیث أسندوا الشر إلی غیر فاعل، والخیر أضافوہ إلی اللہ عز وجل۔ وقد ورد في الصحیح: ((والشرّ لیس إلیک)).
وفي ''التفسیر الکبیر'' پ۱۶، الکہف، ج۷، ص۴۹۲۔۴۹۳، تحت الآیۃ: ۷۹۔۸۲: (بقي في الآیۃ سؤال، وہو أنّہ قال: (فَأَرَدْتُّ أَنْ أَعِیْبَہَا)، وقال: (فَأَرَدْنَا أَنْ یُّبْدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیْراً مِّنْہُ زَکوٰۃً)، وقال: (فَأَرَادَ رَبُّکَ أَنْ یَبْلُغَا أَشُدَّہُمَا)، کیف اختلفت الإضافۃ في ہذہ الإرادات الثلاث وہي کلّہا في قصۃ واحدۃ وفعل واحد؟ والجواب: أنّہ لما ذکر العیب أضافہ إلی إرادۃ نفسہ فقال: أردت أن أعیبہا، ولما ذکر القتل عبر عن نفسہ بلفظ الجمع تنبیہاً علی أنّہ من العظماء في علوم الحکمۃ، فلم یقدم علی ھذا القتل إلاّ لحکمۃ عالیۃ، ولما ذکر رعایۃ مصالح الیتیمین لأجل صلاح أبیھما أضافہ إلی اللہ تعالی، لأنّ المتکفل بمصالح الأبناء لرعایۃ حق الآباء لیس إلاّ اللہ سبحانہ وتعالی).
''الحدیقۃ الندیۃ''، ج ۱ ، ص۵۰۹۔۵۱۰.
3 ۔ في ''شعب الإیمان''، باب في الإیمان باللہ عزوجل، فصل في معرفۃ أسماء اللہ وصفاتہ، ج۱، ص۱۱۳: (وہو المتعالي عن الحدود والجہات، والأقطار، والغایات، المستغني عن الأماکن والأزمان، لا تنالہ الحاجات، ولا تمسّہ المنافع والمضرّات، ولا تلحقہ اللّذّات، ولا الدّواعي، ولا الشہوات، ولا یجوز علیہ شيء ممّا جاز علی المحدثات فدلّ علی حدوثہا، ومعناہ أنّہ لایجوز علیہ الحرکۃ ولا السکون، والاجتماع، والافتراق، والمحاذاۃ، والمقابلۃ، والمماسۃ، والمجاوزۃ، ولا قیام شيء حادث بہ ولا بطلان صفۃ أزلیۃ عنہ، ولا یصح علیہ العدم). =
عقیدہ (۲۶): دنیا کی زندگی میں اﷲ عزوجل کا دیدار نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے(1) اور آخرت
= وفي ''شرح المواقف''، المقصد الأول، ج۸، ص۲۲: (أنّہ تعالی لیس في جہۃ) من الجہات (ولا في مکان) من الأمکنۃ). وص ۳۱: ((أنّہ تعالی لیس في زمان) أي: لیس وجودہ وجوداً زمانیاً). ''شرح المقاصد''، ج۲، ص۲۷۰، : (طریقۃ أھل النسۃ أن العالم حادث والصانع قدیم متصف بصفات قدیمۃ لیست عینہ ولا غیرہ، وواحد لا شبۃ لہ ولا ضد ولا ند ولانہایۃ لہ ولا صورۃ ولا حد ولا یحل في شيء ولا یقوم بہ حادث ولا یصح علیہ الحرکۃ والانتقال ولا الجھل ولا الکذب ولا النقص وأنہ یری في الآخرۃ)۔
ترجمہ: اھل سنت وجماعت کا راستہ یہ ہے کہ بے شک عالم حادث ہے اور صانع عالم قدیم ایسی صفات قدیمہ سے متصف ہے جو نہ اس کا عین ہیں نہ غیر۔ وہ واحد ہے ، نہ اس کی کوئی مثل ہے نہ مقابل نہ شریک ، نہ انتہا ، نہ صورت ، نہ حد ، نہ وہ کسی میں حلول کرتا ہے ، نہ اس کے ساتھ کوئی حادث قائم ہوتا ہے، نہ اس پر حرکت صحیح ، نہ انتقال ، نہ جہالت ، نہ جھوٹ اور نہ نقص۔ اور بے شک آخرت میں اس کو دیکھا جائے گا ۔
''شرح المقاصد''، المبحث الثامن من حکم المؤمن۔۔۔ إلخ، ج۳، ص۴۶۴۔۴۶۵۔ و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ۵۱۷۔
وفي ''المعتقد المنتقد''، ص ۶۴: (ولما ثبت انتفاء الجسمیۃ ثبت انتفاء لوازمہا، فلیس سبحانہ بذي لون، ولا رائحۃ، ولا صورۃ، ولا شکل۔۔۔ إلخ)، ملتقطاً۔
1 ۔ في ''الفتاوی الحدیثیۃ''، مطلب: في رؤیۃ اللہ تعالی في الدنیا، ص۲۰۰: (الرؤیۃ وإن کانت ممکنۃ عقلاً وشرعاً عند أھل السنۃ لکنّہا لم تقع في ہذہ الدار لغیر نبینا صلی اللہ علیہ وسلم، وکذا لہ علی قول علیہ بعض الصحابۃ رضي اللہ عنھم لکنّ جمہور أھل السنۃ علی وقوعہا لہ صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ المعراج بالعین).
وقال في مقام آخر، مطلب: علی أنّہ لا خلاف بین السلف و الخلف في...الخ،ص۲۰۲:(والإمام الرباني المترجم بشیخ الکل في الکل أبوالقاسم القشیري رحمہ اللہ تعالی یجزم بأنّہ لا یجوز وقوعہا في الدنیا لأحد غیر نبینا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ولا علی وجہ الکرامۃ، وادعی أنّ الأمۃ اجتمعت علی ذلک).
وقال في مقام آخر، ص۲۸۸:(وخص نبینا صلی اللہ علیہ وسلم بالرؤیۃ لیلۃ الإسراء بعین بصرہ علی الأصح کرامۃ لہ).
وفي ''المعتقد المنتقد''، ص۵۶: (أنّ رؤیتنا لہ سبحانہ جاءزۃ عقلا في الدنیا والآخرۃ. واتفقوا أھل السنۃ علی وقوعہا في الآخرۃ، واختلفوا في وقوعہا في الدنیا. قال صاحب الکنز: قد صح وقوعہا لہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، وھذا قول جمہور أھل السنۃ وہو الصحیح، وہو مذہب ابن عباس، وأنس وأحد القولین لابن مسعود، وأبي ہریرۃ وأبي ذر، وعکرمۃ والحسن وأحمد بن حنبل وأبي الحسن الأشعري وغیرہم)، ملتقطاً.
وقال الإمام النووي في ''شرح مسلم''، کتاب الإیمان،باب معنی قول اللہ عزوجل (وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی... إلخ): (الراجح عن أکثر العلماء أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رأی ربہ بعیني رأسہ لیلۃ الإسراء)، ج۱،ص۹۷.
انظر للتفصیل: ''شرح الإمام النووي''، ص۹۷، و''الشفاء'' للقاضي، ج۱، ص۱۹۵، و''الفتاوی الرضویۃ''، الرسالۃ: ''منبہ المنیۃ بوصول الحبیب إلی العرش والرؤیۃ''، ج۳۰، ص۶۳۷.
میں ہر سُنّی مسلمان کے لیے ممکن بلکہ واقع۔ (1) رہا قلبی دیدار یا خواب میں، یہ دیگر انبیا علیہم السلام بلکہ اولیا کے لیے بھی حاصل ہے۔(2) ھمارے امامِ اعظم (3) رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو خواب میں سو ۱۰۰ بار زیارت ہوئی۔ (4)
عقیدہ (۲۷): اس کا دیدار بلا کیف ہے، یعنی دیکھیں گے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ کیسے دیکھیں گے، جس چیز کو دیکھتے ہیں اُس سے کچھ فاصلہ مسافت کا ہوتا ہے، نزدیک یا دور، وہ دیکھنے والے سے کسی جہت میں ہوتی ہے، اوپر یا نیچے، دہنے یا بائیں، آگے یا پیچھے، اُس کا دیکھنا اِن سب باتوں سے پاک ہوگا۔(5) پھر رہا یہ کہ کیونکر ہوگا؟ یہی تو کہا جاتا ہے کہ کیونکر کو یہاں دخل
1 ۔ (وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ إِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ) پ۲۹، القیامۃ: ۲۲۔۲۳.عن أبي ہریرۃ، أنّ الناس قالوا: یا رسول اللہ! ھل نری ربنا یوم القیامۃ؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((ھل تضارون في القمر لیلۃ البدر؟)) قالوا: لا یا رسول اللہ، قال: ((فھل تضارون في الشمس لیس دونہا سحاب؟)) قالوا:لا یا رسول اللہ، قال: ((فإنکم ترونہ کذلک)).
''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالٰی (وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ... إلخ) الحدیث: ۷۴۳۷، ج۴، ص۵۵۱.
في ''الفقہ الأکبر''، ص۸۳: (واللہ یری في الآخرۃ، ویراہ المؤمنون وہم في الجنۃ بأعین رؤوسہم).
وفي''شرح النووي'': (اعلم أنّ مذہب أھل السنۃ بأجمعہم أنّ رؤیۃ اللہ تعالی ممکنۃ غیر مستحیلۃ عقلا، وأجمعوا أیضا علی وقوعہا في الآخرۃ، وأنّ المؤمنین یرون اللہ تعالی دون الکافرین، وزعمت طوائف من أھل البدع:المعتزلۃ والخوارج وبعض المرجئۃ، أنّ اللہ تعالی لا یراہ أحد من خلقہ، وأنّ رؤیتہ مستحیلۃ عقلا، وھذا الذی قالوہ خطأ صریح وجھل قبیح، وقد تظاہرت أدلۃ الکتاب والسنۃ وإجماع الصحابۃ فمن بعدہم من سلف الأمۃ علی إثبات رؤیۃ اللہ تعالی في الآخرۃ للمؤمنین، ورواہا نحو من عشرین صحابیا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وآیات القرآن فیہا مشہورۃ).
(''شرح النووي''، کتاب الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین في الآخرۃ ربہم سبحانہ وتعالی: ج۱، ص۹۹).
2 ۔ وفي ''المعتقد المنتقد''، ص۵۸: (وأمّا رؤیاہ سبحانہ في المنام ۔ جاءزۃ عند الجمھور، لأنّہا نوع مشاھدۃ بالقلب، ولا استحالۃ فیہ، وواقعۃ کما حکیت عن کثیر من السلف منھم أبو حنیفۃ وأحمد بن حنبل رضي اللہ تعالی عنھما، وذکر القاضي الإجماع علی أنّ رؤیتہ تعالی مناماً جاءزۃ وإن کان بوصف لا یلیق بہ تعالی)، ملتقطاً.
3 ۔ ابو حنیفہ نعمان بن ثابت۔
4 ۔ في''منح الروض الأزہر''، ص۱۲۴:(رؤیۃ اللہ سبحانہ وتعالی في المنام، فالأکثرون علی جوازہا من غیر کیفیۃ وجہۃ وہیئۃ أیضا في ھذا المرام، فقد نقل أنّ الإمام أبا حنیفۃ قال: رأیت رب العزۃ في المنام تسعاً وتسعین مرۃ، ثم رآہ مرۃ أخری تمام المائۃ و قصتہا طویلۃ لا یسعہا ھذا المقام).
5 ۔ في''منح الروض الأزہر''، ص۸۳: (واللہ یری في الآخرۃ)أي: یوم القیامۃ، (ویراہ المؤمنون وہم في الجنۃ بأعین رؤوسہم بلا تشبیہ) أي: رؤیۃ مقرونۃ بتنزیہ لا مکنونۃ بتشبیہ (ولا کیفیۃ) أي: في الصورۃ (ولا کمیۃ) أي: في الہیئۃ المنظورۃ
نہیں، اِن شاء اﷲ تعالیٰ جب دیکھیں گے اُس وقت بتا دیں گے۔ اس کی سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک عقل پہنچتی ہے، وہ خدا نہیں اور جو خدا ہے، اُس تک عقل رسا نہیں، اور وقتِ دیدار نگاہ اُس کا اِحاطہ کرے، یہ محال ہے۔(1)
عقیدہ (۲۸): وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے، کسی کو اُس پر قابو نہیں(2) اور نہ کوئی اُس کے ارادے سے اُسے باز رکھنے والا۔ (3) اُس کو نہ اُونگھ آئے نہ نیند(4)، تمام جہان کا نگاہ رکھنے والا (5)، نہ تھکے، نہ اُکتائے (6)، تمام عالم کا پالنے والا (7)،
(ولا یکون بینہ وبین خلقہ مسافۃ) أي: لا في غایۃ من القرب ولا في نہایۃ من البعد، ولا یوصف بالاتصال ولا بنعت الانفصال ولا بالحلول والاتحاد کما یقولہ الوجودیۃ المائلون إلی الاتحاد، فذات رؤیتہ ثابت بالکتاب والسنۃ إلاّ أنّہا متشابہۃ من حیث الجہۃ والکمیۃ والکیفیۃ، فنثبت ما أثبتہ النقل و ننفي عنہ ما نزّہہ العقل، کما أشار إلی ھذا المعنی قولہ تعالی:(لا تُدْرِکُہُ الأبْصَارُ) أي: لا تحیط بہ الأبصار في مقام الإبصار، فإنّ الإدراک أخص من الرؤیۃ والتشابہ فیما یرجع إلی الوصف الذي یمنعہ العقل لا یقدح في العلم بالأصل المطابق للنقل. وقال الإمام الأعظم رحمہ اللہ فيکتابہ ''الوصیۃ'': ولقاء اللہ تعالی لأھل الجنۃ بلا کیف ولا تشبیہ ولا جہۃ حق انتھی.والمعنی أنّہ یحصل النظر بأن ینکشف انکشافاً تاماً بالبصر منزہاً عن المقابلۃ والجہۃ والہیئۃ)، ملتقطاً.
انظر للتفصیل : ''الحدیقۃ الندیۃ'' شرح ''الطریقۃ المحمدیۃ''، ج۱، ص۲۵۸۔۲۶۱.
و''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث رؤیۃ اللہ تعالی والدلیل علیھا، ص۷۴۔۷۵.
و''النبراس''، الکلام في رؤیۃ الباري سبحانہ، ص۱۶۱، ۱۶۷.
1 ۔ (لَا تُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ ) پ۷، الأنعام: ۱۰۳.
2 ۔ (فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ) پ۳۰، البروج: ۱۶. في ''حاشیۃ الصاوي''، ج۶، ص۲۳۴۲: (قولہ: (فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ) أتی بصیغۃ (فَعَّالٌ) إشارۃ للکثرۃ، والمعنی: یفعل ما یرید، ولا یعترض علیہ ولا یغلبہ غالب)، ملتقطاً.
3 ۔ (إِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیدُ) پ۱۲، ہود: ۱۰۷. في ''تفسیر الطبري''، ج۷، ص۱۱۷: وقولہ: (إِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیدُ)، یقول تعالی ذکرہ: إنّ ربک، یا محمد، لا یمنعہ مانع من فعل ما أراد فعلہ بمن عصاہ وخالف أمرہ، من الانتقام منہ، ولکنہ یفعل ما یشاء فعلہ، فیمضي فیہم وفیمن شاء من خلقہ فعلُہ وقضاؤہ).
4 ۔ (لَا تَأْخُذُہُ سِنَۃٌ وَلَا نَوْمٌ ) پ۳، البقرۃ: ۲۵۵.
5 ۔ (وَللہِ مَا فِی السَّمٰـٰوتِ وَمَا فِی الأَرْضِ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ مُّحِیطاً). پ ۵، النساء: ۱۲۶.
6 ۔ ( أَوَ لَمْ یَرَوْا أَنَّ اللہَ الَّذِی خَلَقَ السَّمٰـٰوتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ) پ۲۶، الأحقاف: ۳۳.
(وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ) پ۲۶، ق: ۳۸.
7 ۔ (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) پ۱، الفاتحۃ:۱.
ماں باپ سے زیادہ مہربان، حلم والا۔ (1) اُسی کی رحمت ٹوٹے ہوئے دلوں کا سہارا (2)، اُسی کے لیے بڑائی اور عظمت ہے۔ (3) ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے صورت بنانے والا (4)، گناہوں کو بخشنے والا، توبہ قبول کرنے والا، قہر و غضب فرمانے والا (5)، اُس کی پکڑ نہایت سخت ہے ، جس سے بے اُس کے چھڑائے کوئی چھوٹ نہیں سکتا۔(6) وہ چاہے تو چھوٹی چیز کو وسیع کر دے اور وسیع کو سمیٹ دے ، جس کو چاہے بلند کر دے اور جس کو چاہے پست، ذلیل کو عزت دیدے اور عزت والے کو ذلیل کر دے (7)، جس کو چاہے راہِ راست پر لائے اور جس کو چاہے سیدھی راہ سے الگ کر دے (8)، جسے چاہے اپنا نزدیک بنالے اور جسے چاہے مردود کر دے، جسے جو چاہے دے اور جو چاہے چھین لے(9)، وہ جو کچھ کرتا ہے یا کریگا عدل وانصاف ہے ، ظلم سے پاک و صاف ہے (10)،
1 ۔ (اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ) پ۱، الفاتحۃ: ۲.
(إِنَّہ، کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا) پ۲۲، الفاطر: ۴۱۔
عن عمر بن الخطاب رضي اللہ عنہ قدم علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم سبي، فإذا امرأۃ من السبي قد تحلب ثدیہا تسقي، إذا وجدت صبیا في السبي أخذتہ، فألصقتہ ببطنہا وأرضعتہ، فقال لنا النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((أترون ہذہ طارحۃ ولدہا في النار؟)) قلنا: لا، وہي تقدر علی أن لا تطرحہ، فقال: ((لَلّٰہُ أرحم بعبادہ من ہذہ بولدہا)).
''صحیح البخاري''، کتاب الأدب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ ومعانقتہ، الحدیث: ۵۹۹۹، ج۴، ص۱۰۰.
2 ۔ فقال علیہ الصلوۃ والسلام حاکیاً عنہ سبحانہ: ((أنا عند المنکسرۃ قلوبہم لأجلي)). ''التفسیر الکبیر''، ج۱، ص۴۳۰، تحت الآیۃ: ۳۴.
3 ۔ (وَہُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ) پ۳، البقرۃ: ۲۵۵.
4 ۔ (ہُوَالَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآءُ) پ۳، اٰلِ عمرٰن: ۶.
5 ۔ (غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیدِ الْعِقَابِ) پ۲۴، المؤمن: ۳.
6 ۔ (اِنَّ اَخْذَہ، اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ) پ۱۲، ھود: ۱۰۲.
(اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ) پ۳۰، البروج: ۱۲.
7 ۔ (وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ) پ۳، اٰلِ عمرٰن: ۲۶.
8 ۔ (اِنَّ اللہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآء ُ وَیَہْدِي مَن یَّشَآءُ) پ۲۲، الفاطر: ۸.
(وَمَنْ یُّضْلِلِ اللہُ فَمَا لَـہ، مِنْ ہَادٍ وَمَنْ یَّہْدِ اللہُ فَمَا لَـہ، مِنْ مُّضِلٍّ) پ۲۴، الزمر: ۳۶۔۳۷.
9 ۔ (قُلِ اللّٰہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُ). پ۳، اٰل عمرٰن: ۲۶.
J ۔ (إِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ) پ۵، النسآء : ۴۰.
نہایت بلند و بالا ہے (1)، وہ سب کو محیط ہے(2) اُس کا کوئی اِحاطہ نہیں کر سکتا(3)، نفع و ضرر اُسی کے ہاتھ میں ہیں(4)، مظلوم کی فریاد کو پہنچتا(5) اور ظالم سے بدلا لیتا ہے(6)، اُس کی مشیت اور اِرادہ کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا (7)، مگر اچھے پر خوش ہوتا ہے
(إِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّلٰـکِنَّ النَّاسَ أَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ) پ۱۱، یونس: ۴۴.
(وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیدِ) پ۲۶، ق:۲۹.
في''تفسیر الطبري''، ج۱۱،ص۴۲۵، تحت الآیۃ: (قولہ: (وَمَا أَنَا بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیدِ) یقول: ولا أنا بمعاقب أحدًا من خلقي بجرم غیرہ، ولاحامل علی أحد منھم ذنب غیرہ فمعذّبہ بہ)۔
1 ۔ (وَہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ) پ۲۲، سبأ: ۲۳.
2 ۔ (أَلَا إِنَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ مُحِیطٌ) پ۲۵، حمۤ السجدۃ: ۵۴.
3 ۔ (لَا تُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ) پ۷، الانعام: ۱۰۳.
4 ۔ (وَإِنْ یَّمْسَسْکَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗ إِلاَّ ہُوَ وَإِنْ یَمْسَسْکَ بِخَیْرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ) پ۷، الأنعام: ۱۷.
( وَإِنْ یَّمْسَسْکَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَـہ، إِلاَّ ہُوَ وَإِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِہٖ) پ۱۰، یونس: ۱۰۷.
5 ۔ وفي ''سنن الترمذي''، أحادیث شتی، باب فی العفو والعافیۃ، ج۵، ص ۳۴۳، الحدیث: ۳۶۰۹: عن أبي ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((ثلاثۃ لا ترد دعوتہم الصائم حتی یفطر والإمام العادل ودعوۃ المظلوم یرفعہا اللہ فوق الغمام ویفتح لہا أبواب السماء ویقول الرب: وعزتی لأنصرنک ولو بعد حین))۔ و''سنن ابن ماجہ''، کتاب الصیام، باب: فی: الصائم لا تردّ دعوتہ، ج ۲، ص۳۴۹-۳۵۰ ، الحدیث: ۱۷۵۲۔
6 ۔ (وَاللہُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ) پ۷، المائدۃ: ۹۵.
عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((قال ربکم: وعزتي وجلالي لأنتقمن من الظالم في عاجلہ وآجلہ، ولأنتقمن ممن رأی مظلوماً فقدر أن ینصرہ فلم یفعل)). ''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۱۰۶۵۲، ج۱۰، ص۲۷۸.
7 ۔ وفي ''شرح السنۃ'' للبغوي، کتاب الإیمان، باب الإیمان بالقدر ج۱، ص۱۴۰-۱۴۱: (قال الشیخ رحمہ اللہ: الإیمان بالقدر فرض لازم، وہو أن یعتقد أنّ اللہ تعالی خالقُ أعمال العباد، خیرہا وشرّہا، کتبہا علیہم في اللوح المحفوظ قبل أن خلقہم، قال اللہ سبحانہ وتعالی:(وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ) [الصافات: ۹۶] وقال اللہ عزوجل:(قُلِ اللہُ خَالِقُ کُلِّ شَيْئٍ) [الرعد: ۱۶]، وقال عزوجل: (إِنَّا کُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنَاہُ بِقَدَرٍ) [القمر:۴۹] فالإیمان والکفر، والطاعۃ والمعصیۃ، کلّہا بقضاء اللہ وقدرہ، وإرادتہ ومشیئتہ، غیر أنّہ یرضی الإیمان والطاعۃ، ووعد علیھما الثواب، ولا یرضی الکفر والمعصیۃ، وأوعد علیھما العقاب. وقال اللہ سبحانہ وتعالی: (وَلَوْ شَآءَ اللہُ مَا اقْتَتَلُوْا وَلٰـکِنَّ اللہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ)، (وَمَنْ یُّہِنِ اللہُ فَمَا لَـہ، مِنْ مُّکْرِمٍ إِنَّ اللہَ
اور بُرے سے ناراض، اُس کی رحمت ہے کہ ایسے کام کا حکم نہیں فرماتا جو طاقت سے باہر ہے۔ (1) اﷲ عزوجل پر ثواب یا عذاب یا بندے کے ساتھ لطف یا اُس کے ساتھ وہ کرنا جو اُس کے حق میں بہتر ہو اُس پر کچھ واجب نہیں۔ مالک علی الاطلاق ہے، جو چاہے کرے اور جو چاہے حکم دے(2)، ہاں! اُس نے اپنے کرم سے وعدہ فرما لیا ہے کہ مسلمانوں کوجنت میں داخل فرمائے گا اور بمقتضائے عدل کفّار کو جہنم میں (3)، اور اُس کے وعدہ و وعید بدلتے نہیں (4)، ۔۔۔۔
یَفْعَلُ مَا یَشَاءُ) [الحج: ۱۸]، وقال عزوجل: (وَمَنْ یُّرِدْ أَنْ یُّضِلَّہ، یَجْعَلْ صَدْرَہُ ضَیِّقًا حَرَجًا) [الأنعام: ۱۲۵]). انظر للتفصیل : ''التفسیر الکبیر''،ج۲، ص۵۲۹، تحت الآیۃ: ۲۵۳: (احتج القائلون بأن کل الحوادث بقضاء اللہ وقدرہ.... إلخ).
وفي ''المسامرۃ'' بشرح ''المسایرۃ''، ص۱۳۰: (أنّ فعل العبد وإن کان کسباً لہ فہو) واقع (بمشیئۃ اللہ) تعالی (وإرادتہ).
وفي''منح الروض الأزہر''، ص۴۱: (ولا یکون في الدنیا ولا في الآخرۃ شيء إلاّ بمشیئتہ) أي: مقروناً بإرادتہ.
1 ۔ (لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَہَا) پ۳، البقرۃ: ۲۸۶.
2 ۔ في ''الحدیقۃ الندیۃ'' شرح ''الطریقۃ المحمدیۃ''، ج۱، ص۲۴۹: (ولا یجب) أي: لا یلزم (علیہ) تعالی (شيئ) لغیرہ سبحانہ من ثواب أو عقاب أو فعل صلاح أو أصلح أو فساد أو أفسد بل ہو الفاعل العدل المختار، ویخلق اللہ ما یشاء ویختار، وفي ''شرح الطوالع'' للإصفہاني: وأمّا أصحابنا فقالوا: الثواب علی الطاعۃ فضل من اللہ تعالی والعقاب علی المعصیۃ عدل منہ تعالی، وعمل الطاعۃ دلیل علی حصول الثواب وفعل المعصیۃ علامۃ العقاب، ولا یکون الثواب علی الطاعۃ واجباً علی اللہ تعالی ولا العقاب علی المعصیۃ؛ لأنّہ لا یجب علی اللہ شيئ، وکلّ میسر لما خلق لہ فالمطیع موفق میسر لما خلق لہ وہو الطاعۃ، والعاصي میسر لما خلق لہ وہوالمعصیۃ ولیس للعبد في ذلک تأثیر).
3 ۔ (فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ) پ۳۰، البروج: ۱۶. في''حاشیۃ الصاوي''، پ۳۰، البروج:تحت الآیۃ: ۱۶(قولہ: (فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ) أتی بصیغۃ (فَعَّالٌ) إشارۃ للکثرۃ، والمعنی: یفعل ما یرید، ولا یعترض علیہ ولا یغلبہ غالب، فیدخل أولیاء الجنۃ لا یمنعہ مانع، ویدخل أعداء ہ النار لا ینصرہم منہ ناصر، وفي ہذہ الآیۃ دلیل علی أنّ جمیع أفعال العباد مخلوقۃ للہ تعالی، ولا یجب علیہ شيئ، لأنّ أفعالہ بحسب إرادتہ). ج۶، ص۲۳۴۲.
4 ۔ ( لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللہِ) پ۱۱، یونس: ۶۴.
(مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ) پ۲۶، ق: ۲۹.
في ''تفسیر روح البیان''، پ۲۶، ق: ۲۹، ج۹، ص۱۲۵، تحت الآیۃ: ((مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ) أي: لا یغیر قولي في الوعد والوعید).
وفي ''تفسیر ابن کثیر''، پ۱۱، یونس، تحت الآیۃ:۶۴: (قولہ: (لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللہِ) أي: ھذا الوعد لا یبدل ولا یخلف ولا یغیر بل ہو مقرر مثبت کائن لا محالۃ). ج۴، ص۲۴۵. =
اُس نے وعدہ فرمالیا ہے کہ کفر کے سوا ہر چھوٹے بڑے گناہ کو جسے چاہے معاف فرمادے گا۔(1)
عقیدہ (۲۹): اُس کے ہر فعل میں کثیر حکمتیں ہیں، خواہ ہم کو معلوم ہوں یا نہ ہوں اور اُس کے فعل کے لیے غرض نہیں، کہ غرض اُس فائدہ کو کہتے ہیں جو فاعل کی طرف رجوع کرے، نہ اُس کے فعل کے لیے غایت، کہ غایت کا حاصل بھی وہی غرض ہے اور نہ اُس کے افعال علّت و سبب کے محتاج، اُس نے اپنی حکمتِ بالغہ کے مطابق عالَمِ اسباب میں مسبّبات کو اسباب سے ربط فرمادیا ہے(2)، آنکھ دیکھتی ہے، کان سنتا ہے، آ گ جلاتی ہے، پانی پیاس بجھاتا ہے، وہ چاہے تو آنکھ سُنے، کان دیکھے، پانی جلائے، آگ پیاس بجھائے، نہ چاہے تو لاکھ آنکھیں ہوں دن کو پہاڑ نہ سُوجھے، کروڑآگیں ہوں ایک تنکے پر داغ نہ آئے۔ (3) کس قہر کی آگ تھی جس میں ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کو کافروں نے ڈالا...! کوئی پاس نہ جا سکتا تھا، گوپھن میں رکھ کر پھینکا، جب آگ کے مقابل پہنچے، جبریلِ امین علیہ الصلاۃ والسلام حاضر ہوئے اور عرض کی: ابراہیم کچھ حاجت ہے؟ فرمایا: ہے مگر نہ تم سے۔ ۔
= وفي ''تفسیر الطبري''، تحت الآیۃ: ۶۴: (وأمّا قولہ: (لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللہِ)، فإنّ معناہ: أنّ اللہ تعالی لا خُلف لوعدہ، ولا تغییر لقولہ عما قال، ولکنہ یمضي لخلقہ مواعیدَہ وینجزہا لہم)، ج۶، ص۵۸۲.
1 ۔ (إِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ أَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ) پ۵، النسآء: ۴۸.
2 ۔ في ''المسامرۃ''، للہ تعالٰی في کل فعل حکمۃ، ص۲۱۵۔۲۱۶: (واعلم أنّ قولنا لہ) سبحانہ وتعالی (فيکل فعل حکمۃ ظہرت) تلک الحکمۃ (أو خفیت) فلم تظہر (لیس ہو) أي: الحکمۃ (بمعنی الغرض)، وتذکیر الضمیر باعتبار أنّ الحکمۃ معنی، ویصح أن یکون الضمیر لقولنا، أي: لیس قولنا إنّ لہ حکمۃ بمعنی أنّ لہ غرضا، ھذا (إن فسر) الغرض (بفائدۃ ترجع إلی الفاعل، فإنّ فعلہ تعالی وخلقہ العالم لا یعلل بالأغراض) بھذا التفسیر للغرض؛ (لأنّہ) أي: الفعل لغرض بھذا التفسیر یقتضي استکمال الفاعل بذلک الغرض؛ لأنّ حصولہ للفاعل أولی من عدمہ،... (وإن فسر) الغرض (بفائدۃ ترجع إلی غیرہ) تعالی، بأن یدرک رجوعہا إلی ذلک الغیر، کما نقل عن الفقہاء من: أنّ أفعالہ تعالی لمصالح ترجع إلی العباد تفضلا منہ (فقد تنفي أیضاً إرادتہ من الفعل) نظراً إلی تفسیر الغرض بالعلۃ الغائیۃ التي تحمل الفاعلَ علی الفعل؛ لأنّہ یقتضي أن یکون حصولہ بالنسبۃ إلیہ تعالی أولی من لاحصولہ، فیلزم الاستکمال المحذور (وقد تجوز) إرادتہ من الفعل نظراً إلی أنّہ منفعۃ مترتبۃ علی الفعل، لا علۃ غائیۃ حاملۃ علی الفعل، حتی یلزم الاستکمال المحذور (والحکمۃ علی ھذا) التفسیر (أعم منہ) أي: من الغرض؛ لأنّہا إذا نفیت إرادتہا من الفعل سمیت غرضا، وإذا جوزت کانت حکمۃ لا غرضا).
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج ۱، ص۴۹۰۔ (رضا اکیڈمی بمبئی)۔
عرض کی: پھر اُسی سے کہیے جس سے حاجت ہے، فرمایا:
''عِلْمُہٗ بِحَالِيْ کَفَانِي عَنْ سُؤَالِيْ''.(1)
اظہارِ احتیاج خود آنجاچہ حاجت ست۔ (2)
ارشاد ہوا:
(یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤی اِبْرٰہِیۡمَ ﴿ۙ۶۹﴾ ) ـ3ـ
''اے آگ! ٹھنڈی اور سلامتی ہوجا ابراہیم پر۔''
اس ارشاد کو سُن کر روئے زمین پر جتنی آگیں تھیں سب ٹھنڈی ہوگئیں کہ شاید مجھی سے فرمایا جاتا ہو(4) اور یہ تو ایسی ٹھنڈی ہوئی کہ علما فرماتے ہیں کہ اگر اس کے ساتھ (وَسَلٰمًا) کا لفظ نہ فرما دیا جاتا کہ ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی ہوجا تو اتنی ٹھنڈی ہو جاتی کہ اُس کی ٹھنڈک ایذا دیتی۔(5)
1 ۔ ''ملفوظات ''، حصہ ۴، ص ۴۶۲ ۔ یعنی: اس کا میرے حال کو جاننا یہی مجھے کفایت کرتا ہے میرے سوال کرنے سے ۔
2 ۔ اپنی حاجت کے اِظہار کی وہاں کیا حاجت ہے!
3 ۔ پ۱۷، الأنبیآء : ۶۹.
4 ۔ في ''التفسیر الکبیر''، پ۱۷، الأنبیاء، ج۸، ص۱۵۸، تحت الآیۃ: ۶۹: (أمّا کیفیۃ القصۃ فقال مقاتل: لما اجتمع نمروذ وقومہ لإحراق إبراہیم حبسوہ في بیت وبنوا بنیاناً کالحظیرۃ ، وذلک قولہ: (قَالُوْا ابْنُوْا لَہٗ بُنْیَانًا فَأَلْقُوْہُ فِی الْجَحِیْمِ)، ثم جمعوا لہ الحطب الکثیر حتی إئنّ المرأۃ لو مرضت قالت: إن عافاني اللہ لأجعلن حطباً لإبراہیم، ونقلوا لہ الحطب علی الدواب أربعین یوماً، فلما اشتعلت النار اشتدت وصار الہواء بحیث لو مر الطیر في أقصی الہواء لاحترق، ثم أخذوا إبراہیم علیہ السلام ورفعوہ علی رأس البنیان وقیدوہ، ثم اتخذوا منجنیقاً ووضعوہ فیہ مقیداً مغلولاً، فصاحت السماء والأرض ومن فیہا من الملائکۃ إلاّ الثقلین صیحۃ واحدۃ ۔، فلمّا أرادوا إلقاء ہ في النار ۔، وضعوہ في المنجنیق ورموا بہ النار، فأتاہ جبریل علیہ السلام وقال: یا إبراہیم ھل لک حاجۃ، قال: أما إلیک فلا؟ قال: فاسأل ربک، قال: حسبي من سؤالي، علمہ بحالي، فقال اللہ تعالی: (یٰـنَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلَی إِبْرَاہِیْمَ) ۔ قال: ولم یبق یومئذ في الدنیا نار إلاّ طفئت)، ملتقطاً.
5 ۔ في ''تفسیر ابن کثیر''، پ۱۷، الأنبیآء، ج۵، ص۳۰۹، تحت الآیۃ:۶۹،(قال ابن عباس، وأبو العالیۃ: لولا أنّ اللہ عزوجل قال: (وَّسَلٰمًا) لآذی إبراہیمَ بَرْدُہا).
مسلمان کے لیے جس طرح ذات و صفات کا جاننا ضروری ہے، کہ کسی ضروری کا انکار یا محال کا اثبات اسے کافر نہ کر دے، اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کے لیے کیاجاءز ہے اور کیا واجب اور کیا محال، کہ واجب کا انکار اور محال کا اقرار موجب کُفر ہے اور بہت ممکن ہے کہ آدمی نادانی سے خلاف عقیدہ رکھے یا خلاف بات زبان سے نکالے اور ھلاک ہو جائے۔
عقیدہ (۱): نبی اُس بشر کو کہتے ہیں جسے اﷲ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے وحی بھیجی ہو (1) اور رسول بشر ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ملائکہ میں بھی رسول ہیں۔ (2)
عقیدہ (۲): انبیا سب بشر تھے اور مرد، نہ کوئی جن نبی ہوا نہ عورت۔ (3)
عقیدہ (۳): اﷲ عزوجل پر نبی کا بھیجنا واجب نہیں، اُس نے اپنے فضل وکرم سے لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیا بھیجے۔ (4)
1 ۔ في ''شرح المقاصد''، المبحث الأوّل في تعریف النبي والرسول: (النبي إنسان بعثہ اللہ لتبلیغ ما أوحي إلیہ) ج۳، ص۲۶۸.
وفي ''المعتقد المنتقد''، الباب الثاني في النبوّات، ص۱۰۵: (المشہور: أنّ النبي من أوحي إلیہ بشرع، وإن أمر بالتبلیغ أیضا فرسول).
2 ۔ (وَلَقَدْ جَاء َتْ رُسُلُنَا إِبْرَاہِیمَ بِالْبُشْرٰی قَالُوْا سَلَامًا) پ۱۲، ہود: ۶۹.
في ''تفسیر الطبري''، پ۱۲، ہود: تحت الآیۃ ۶۹: (قال أبو جعفر: یقول تعالی ذکرہ:(وَلَقَدْ جَاء َتْ رُسُلُنَا)، من الملائکۃ وہم فیما ذکر،کانوا جبریل وملکین آخرین، وقیل:إنّ الملکین الآخرین کانا میکائیل وإسرافیل معہ)، ج۷، ص۶۷. (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِکَۃِ رُسُلًا) پ۲۲، فاطر: ا.
في ''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، ج۷، الجزء الرابع عشر، ص۲۳۳، تحت الآیۃ: (جَاعِلِ الْمَلاَئِکَۃِ رُسُلًا) الرسل منھم جبریل ومیکائیل وإسرافیل وملک الموت، صلی اللہ علیہم أجمعین).
3 ۔ (وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ إِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْ إِلَیْہِمْ) پ۱۲، یوسف: ۱۰۹.
في ''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، پ۱۲، یوسف، تحت ہذہ الآیۃ: (قال الحسن: لم یبعث اللہ نبیا من أھل البادیۃ قط، ولا من النساء، ولا من الجن) ج۵، الجزء التاسع، ص۱۹۳.
4 ۔ في ''شرح المقاصد''، المقصد السادس، المبحث الأول في تعریف النبي والرسول، ج۳، ص۲۶۸: (النبي إنسان بعثہ اللہ لتبلیغ ما أوحي إلیہ، ۔والبعثۃ لتضمنھا مصالح لا تحصی لطف من اللہ تعالی ورحمۃ یختص بہا من یشاء من عبادہ من غیر وجوب علیہ).
وفي ''المعتمد المستند''، ص۹۸: قال الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن: (لا یجب علی اللہ سبحانہ بعث الرسل).
عقیدہ (۴): نبی ہونے کے لیے اُس پر وحی ہونا ضروری ہے، خواہ فرشتہ کی معرفت ہو یا بلا واسطہ۔ (1)
عقیدہ (۵): بہت سے نبیوں پر اﷲ تعالیٰ نے صحیفے اور آسمانی کتابیں اُتاریں، اُن میں سے چار کتابیں بہت مشہور ہیں: ''تورات'' حضرت موسیٰ علیہ السلام پر، ''زبور'' حضرت داؤد علیہ السلام پر، ''اِنجیل'' حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر، ''قرآنِ عظیم'' کہ سب سے افضل کتاب ہے، سب سے افضل رسول حضور پُر نور احمدِ مجتبیٰ محمدِ مصطفےٰ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر۔(2) کلامِ الٰہی میں بعض کا بعض سے افضل ہونا اس کے یہ معنی ہیں کہ ھمارے لیے اس میں ثواب زائد ہے، ورنہ اﷲ (عزوجل) ایک، اُس کا کلام ایک، اُس میں افضل ومفضول کی گنجاءش نہیں۔(3)
1 ۔ (وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ) پ۲۵، الشوری: ۵۱۔
في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۰۶: (قال السنوسي في ''شرح الجزائریۃ'': مرجع النبوۃ عند أھل الحقّ إلی اصطفاء اللہ تعالی عبدًا من عبادہ بالوحي إلیہ، فالنبوۃ اختصاص بسماع وحي من اللہ بواسطۃ الملک أو دونہ).
وفي ''نسیم الریاض''، القسم الأول في تعظیم العلی الأعلی لقدر النبي ، ج۳، ص۳۴۴: (''والإعلام'' من اللہ تعالی ''بخواص النبوۃ'' أي: ما یختص بالنبوۃ الشاملۃ للرسالۃ کالعصمۃ والوحي بواسطۃ الملک، أو بدونہا۔
2 ۔ في ''تکمیل الإیمان''، ص۶۳: (''ولہ کتب أنزلہا علی رسلہ''، حق سبحانہ وتعالی را کتابہا ست کہ بر بعضی پیغمبران فرستادہ دیگر آن را بمتابعت ۔ وازمیان کتابہا نیز چہار کتاب اعظم واشہر است،، ''منھا التوراۃ'' یکی زان کتابہای آسمانی توریت است کہ بر موسی علیہ السلام منزل شدہ، ''والزبور'' دیگر زبور است کہ بر داؤد علیہ السلام نزول یافتہ، ''والإنجیل'' کہ بر عیسی علیہ السلام فرو دآمدہ ۔، ''والقرآن العظیم'' زبدہ وخلاصہ جمیع کتب سماوی قرآن مجید وفرقان عظیم است کہ بر سید رسل وخاتم الأنبیاء علیہ من الصلاۃ افضلہا والتحیات اکملہا)، ملتقطاً.
یعنی: حق تبارک وتعالیٰ کی کتابیں ہیں جن کو اس نے اپنے بعض رسولوں پر نازل فرمایا اور دوسروں کو ان کی پیروی کا حکم دیا، ان میں سے چار کتابیں بڑی اور بہت مشہورہیں، ان میں سے ایک تورات ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ دوسری زبور ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی، تیسری انجیل ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی، اور چوتھی قرآن مجید فرقان عظیم ہے جو تمام آسمانی کتابوں کا خلاصہ ہے اور سب سے افضل رسول خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی۔ ,
3 ۔ في ''تفسیر الخازن''، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۵: (من أجاز تفضیل بعض القرآن علی بعض من العلماء والمتکلمین قالوا: ھذا التفضیل راجع إلی عظم أجر القاریئ أو جزیل ثوابہ وقول: إنّ ہذہ الآیۃ أو ہذہ السورۃ أعظم أو أفضل بمعنی أنّ الثواب المتعلق بہا أکثر وھذا ہو المختار)، ج۱، ص۱۹۵.
عقیدہ (۶): سب آسمانی کتابیں اور صحیفے حق ہیں اور سب کلام اﷲ ہیں، اُن میں جو کچھ ارشاد ہوا سب پر ایمان ضروری ہے(1) ، مگر یہ بات البتہ ہوئی کہ اگلی کتابوں کی حفاظت اﷲ تعالیٰ نے اُمّت کے سپرد کی تھی، اُن سے اُس کا حفظ نہ ہوسکا، کلامِ الٰہی جیسا اُترا تھا اُن کے ہاتھوں میں ویسا باقی نہ رہا، بلکہ اُن کے شریروں نے تو یہ کیا کہ اُن میں تحریفیں کر دیں، یعنی اپنی خواہش کے مطابق گھٹا بڑھا دیا۔ (2)
لہٰذا جب کوئی بات اُن کتابوں کی ھمارے سامنے پیش ہو تو اگر وہ ھماری کتاب کے مطابق ہے، ہم اُس کی تصدیق کریں گے اور اگر مخالف ہے تو یقین جانیں گے کہ یہ اُن کی تحر یفات سے ہے اور اگر موافقت، مخالفت کچھ معلوم نہیں تو حکم ہے کہ ہم اس بات کی نہ تصدیق کریں نہ تکذیب، بلکہ یوں کہیں کہ:
وفي''النبراس''، بیان الکتب المنزلۃ، ص ۲۹۱:(أنّ القرآن کلام واحد)، أي: في درجۃ واحدۃ من الفضیلۃ (لا یتصور فیہ تفضیل)، من حیث إنّہ کلام اللہ سبحانہ؛ لأنّ ھذا الشرف یعم الآیات والسور کلہا (ثم باعتبار القراء ۃ والکتابۃ یجوز أن یکون بعض الصور أفضل کما ورد في الحدیث، وحقیقۃ التفضیل أنّ قراء تہ أفضل لما أنّہ أنفع) من حیث کثرۃ الثواب والنجات من المکروہات)، ملتقطاً.
1 ۔ في ''تفسیر الخازن''، پ۳، البقرۃ: ۲۸۵،ج۱، ص۲۲۵: (الإیمان بکتبہ فہو أن یؤمن بأنّ الکتب المنزلۃ من عند اللہ ہي وحي اللہ إلی رسلہ، وأنّہا حق وصدق من عند اللہ بغیر شک ولا ارتیاب).
في ''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۹۴:((وَمَا أُوْتِیَ مُوْسٰی) یعني التوراۃ (وَعِیْسٰی) یعني الإنجیل( وَمَا أُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ) والمعنی آمنّا أیضاً بالتوراۃ والإنجیل والکتب التي أوتي جمیع النبیین وصدّقنا أنّ ذلک کلہ حق وہدی ونور وأنّ الجمیع من عند اللہ).
2 ۔ (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَـہ، لَحَافِظُوْنَ) پ۱۴، الحجر:۹.
في''تفسیر الخازن''، تحت الآیۃ: ((وَإِنَّا لَـہ، لَحَافِظُوْنَ) الضمیر في: (لَـہ،) یرجع إلی الذکر یعني، وإنّا للذکر الذي أنزلناہ علی محمد لحافظون یعني من الزیادۃ فیہ، والنقص منہ والتغییر والتبدیل والتحریف، فالقرآن العظیم محفوظ من ہذہ الأشیاء کلہا لا یقدر أحد من جمیع الخلق من الجن والإنس أن یزید فیہ، أو ینقص منہ حرفاً واحداً أو کلمۃ واحدۃ، وھذا مختص بالقرآن العظیم بخلاف سائر الکتب المنزلۃ فإنّہ قد دخل علی بعضہا التحریف والتبدیل والزیادۃ والنقصان ولما تولی اللہ عزوجل حفظ ھذا الکتاب بقي مصوناً علی الأبد محروساً من الزیادۃ والنقصان)، ج۳، ص۹۵.
'' اٰمَنْتُ بِاللہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ.''
''اﷲ (عزوجل) اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں پر ھمارا ایمان ہے۔'' (1)
عقیدہ (۷): چونکہ یہ دین ہمیشہ رہنے والا ہے، لہٰذا قرآنِ عظیم کی حفاظت اﷲ عزوجل نے اپنے ذِمّہ رکھی، فرماتا ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾ ) ـ2ـ
''بے شک ہم نے قرآن اُتارا اور بے شک ہم اُـس کے ضرور نگہبان ہیں۔''
لہٰذا اس میں کسی حرف یا نقطہ کی کمی بیشی محال ہے، اگرچہ تمام دنیا اس کے بدلنے پر جمع ہو جائے تو جو یہ کہے کہ اس میں کے کچھ پارے یا سورتیں یا آیتیں بلکہ ایک حرف بھی کسی نے کم کر دیا، یا بڑھا دیا، یا بدل دیا، قطعاً کافر ہے، کہ اس نے اُس
1 ۔ ( وَلَا تُجَادِلُوْا أَہْلَ الْکِتَابِ إِلَّا بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ وَقُوْلُوْا اٰمَنَّا بِالَّذِی أُنْزِلَ إِلَیْنَا وَأُنْزِلَ إِلَیْکُمْ وَإِلٰـہُنَا وَإِلٰـہُکُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ) پ۲۱، العنکبوت: ۴۶۔
في ''تفسیر ابن کثیر''، ج۶، ص۲۵۶، تحت ہذہ الآیۃ: (أن أبا نَمْلَۃَ الأنصاري أخبرہ، أنہ بینما ہو جالس عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جاء ہ رجل من الیہود، فقال: یا محمد، ھل تتکلم ہذہ الجنازۃ؟ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((اللہ أعلم))، قال الیہودي: أنا أشہد أنہا تتکلم فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إذا حدثکم أھل الکتاب فلا تصدقوہم ولا تکذبوہم، وقولوا: آمنا باللہ وکتبہ ورسلہ، فإن کان حقًّا لم تکذبوہم، وإن کان باطلاً لم تصدقوہم)))۔
في ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، باب (قُوْلُوْا آمَنَّا بِاللہِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَیْنَا)، الحدیث: ۴۴۸۵، ج۳، ص۱۶۹:
عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: کان أھل الکتاب یقرء ون التوراۃ بالعبرانیۃ ویفسرونہا بالعربیۃ لأھل الإسلام، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لا تصدقوا أھل الکتاب ولا تکذبوہم وقولوا: (آمَنَّا بِاللہِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَیْنَا)))۔
و''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الأول، الحدیث: ۱۵۵، ج۱، ص۵۱۔
في ''المرقاۃ'' للقاریئ، ج۱، ص۳۹۱، تحت ھذا الحدیث: (قال رسول اللہ: ((لا تصدقوا)) أي: فیما لم یتبین لکم صدقہ لاحتمال أن یکون کذباً وہو الظاہر أن أحوالہم ((أھل الکتاب)) أي: الیہود والنصاری؛ لأنھم حرّفوا کتابہم ((ولا تکذبوہم)) أي: فیما حدثوا من التوراۃ والإنجیل ولم یتبین لکم کذبہ لاحتمال أن یکون صدقاً وإن کان نادراً؛ لأنّ الکذوب قد یصدق وفیہ إشارۃ إلی التوقف فیما أشکل من الأمور والعلوم۔
2 ۔ پ۱۴، الحجر: ۹.
آیت کا انکار کیا جو ہم نے ابھی لکھی۔ (1)
عقیدہ (۸): قرآنِ مجید، کتابُ اﷲ ہونے پر اپنے آپ دلیل ہے کہ خود اعلان کے ساتھ کہہ رہا ہے:
( وَ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثْلِہٖ ۪ وَادْعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۳﴾فَاِنۡ لَّمْ تَفْعَلُوۡا وَلَنۡ تَفْعَلُوۡا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡ وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ۚۖ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۴﴾ )۔ـ2ـ
''اگر تم کو اس کتاب میں جو ہم نے اپنے سب سے خاص بندے ( محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر اُتاری کوئی شک ہو تو اُس کی مثل کوئی چھوٹی سی سُورت کہہ لاؤ اور اﷲ کے سوا اپنے سب حمایتیوں کوبلالو اگر تم سچے ہو تو اگر ایسا نہ کرسکو اور ہم کہے دیتے ہیں ہرگز ایسا نہ کر سکو گے تو اُس آگ سے ڈرو! جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔''
لہٰذا کافروں نے اس کے مقابلہ میں جی توڑ کوششیں کیں، مگر اس کی مثل ایک سطر نہ بنا سکے نہ بناسکیں۔ (3)
مسئلہ : اگلی کتابیں انبیا ہی کو زبانی یاد ہوتیں(4)، قرآنِ عظیم کا معجزہ ہے کہ مسلمانوں کا بچہّ بچہّ یاد کر لیتا ہے۔ (5)
1 ۔ في ''منح الروض الأزہر''، فصل في القراء ۃ والصلاۃ، ص۱۶۷:(من جحد القرآن، أي:کلہ أو سورۃ منہ أو آیۃ، قلت: وکذا کلمۃ أو قراء ۃ متواترۃ، أو زعم أنّہا لیست من کلام اللہ تعالی کفر، یعني: إذا کان کونہ من القرآن مجمعاً علیہ مثل البسملۃ في سورۃ النمل، بخلاف البسملۃ في أوائل السور، فإنّہا لیست من القرآن عند المالکیۃ علی خلاف الشافعیۃ، وعند المحققین من الحنفیۃ أنّہا آیۃ مستقلۃ أنزلت للفصل). في ''الشفا''، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، الجزء الثاني، ص۲۸۹: (وکذلک کافر من أنکر القرآن أو حرفاً منہ أو غیّر شیأاً منہ أو زاد فیہ)، ملخصاً.
''الفتاوی الرضویۃ'' ، کتاب السیر، ج۱۴، ص۲۵۹۔۲۶۲.
2 ۔ پ۱، البقرۃ: ۲۳۔۲۴.
3 ۔ في''النبراس''، الدلائل علی نبوۃ خاتم الأنبیاء علیہ السلام، ص۲۷۵:(فإنّ اللہ تعالی دعاہم أوّلاً لمعارضۃ جمیعہ حیث قال:(فَلْیَأْتُوْا بِحَدِیثٍ مِّثْلِہٖ)ثم قال:(فَأْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہٖ) ثم قال:(فَأْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ)، فعجزوا عن الکل (مع تہالکہم علی ذلک) أي: حرصہم علی المعارضۃ).
4 ۔ في ''تفسیر روح البیان''، پ۲۱، العنکبوت، تحت الآیۃ ۴۹: (قال الکاشفي: یعني: کونہ محفوظاً في الصدور من خصائص القرآن؛ لأنّ من تقدم کانوا لا یقرؤون کتبہم إلاّ نظراً، فإذا أطبقوہا لم یعرفوا منھا شیئًا سوی الأنبیاء) ج۶، ص۴۸۱.
5 ۔ (وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ) پ۲۷، القمر:۱۷.
عقیدہ (۹): قرآنِ عظیم کی سات قرائتیں سب سے زیادہ مشہور اور متواتر ہیں(1)، ان میں معاذ اﷲ کہیں اختلافِ معنی نہیں(2)، وہ سب حق ہیں، اس میں اُمّت کے لیے آسانی یہ ہے کہ جس کے لیے جو قراء ت آسان ہو وہ پڑھے (3) اور حکم یہ ہے کہ جس ملک میں جو قراء ت رائج ہے عوام کے سامنے وہی پڑھی جائے، جیسے ھمارے ملک میں قرا ء تِ عاصم بروایتِ حفص، کہ لوگ ناواقفی سے انکار کریں گے اور وہ معا ذ اﷲ کلمہ کفر ہوگا۔ (4)
في ''تفسیرالخازن''، ج۴، ص۲۰۴، تحت الآیۃ:(وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ) أي: سھلنا القرآن ( لِلذِّکْرِ)أي: لیتذکر ویعتبر بہ، قال سعید بن جبیر: یسرناہ للحفظ والقراء ۃ ولیس شيء من کتب اللہ تعالی یقرأ کلہ ظاہراً إلاّ القرآن، (فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ) أي: متعظ بمواعظہ، وفیہ الحث علی تعلیم القرآن والاشتغال بہ؛ لأنّہ قد یسرہ اللہ وسھلہ علی من یشاء من عبادہ بحیث یسھل حفظہ للصغیر والکبیر والعربي والعجمي وغیرہم).
اعلیٰ حضرت عظیم المرتبت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاویٰ رضویہ ''میں فرماتے ہیں: کچھ عجب نہیں کہ مولیٰ عزوجل بعض نعمتیں بعض انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو عطافرمائے اگلی امتوں میں نبی کے سوا کسی کو نہ ملتی ہوں مگر اس امت مرحومہ کے لیے انہیں عام فرمادے جیسے: کتاب اللہ کا حافظ ہونا کہ اممِ سابقہ میں خاصہ انبیاء علیہم الصلاۃ والثناء تھا اس امت کے لے رب عزوجل نے قرآن کریم حفظ کیلئے آسان فرمادیا کہ دس دس برس کے بچے حافظ ہوتے ہیں اور ھمارے مولیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فضل ظاہر کہ انکی امت کو وہ ملا جو صرف انبیاء کو ملا کرتا تھا علیہ وعلیہم افضل الصلاۃ والثناء واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۵، ص۶۷.
1 ۔ عن ابن مسعود رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنزل القرآن علی سبعۃ أحرف، لکل آیۃ منھا ظہر وبطن، ولکل حد مطلع)).''مشکاۃ المصابیح''، کتاب العلم، الحدیث:۲۳۸، ج۱، ص۱۱۳.
في ''المرقاۃ''، ج۱، ص۴۹۹، تحت ھذا الحدیث: (قال ابن حجر: الجملۃ الأولی جاء ت من روایۃ أحد وعشرین صحابیًا، ومن ثم نص أبو عبید علی أنّہا متواترۃ أي: معنیً).
2 ۔ في ''فیض القدیر''، ج۲، ص۶۹۲، تحت الحدیث:۲۵۱۲: ((إنّ ھذا القرآن أنزل علی سبعۃ أحرف)) أي: سبع لغات أوسبعۃ أوجہ من المعاني المتفقۃ بألفاظ مختلفۃ أو غیر ذلک).
3 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إن ھذا القرآن أنزل علی سبعۃ أحرف فاقرء وا ما تیسر منہ)) ملتقطاً.''صحیح مسلم''، باب بیان أن القرآن أنزل علی سبعۃ أحرف۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۸۱۸، ص۴۰۸.
4 ۔ في ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، فصل في القرآۃ، ج۲، ص۳۲۰: (ویجوز بالروایات السبع، لکن الأولی أن لا یقرأ بالغریبۃ عند العوام صیانۃ لدینھم). وفي ''رد المحتار'' تحت قولہ: (بالغریبۃ) أي: بالروایات الغریبۃ والإمالات؛ لأن بعض السفہاء یقولون ما لا یعلمون فیقعون في الإثم والشقائ، ولا ینبغي للأئمۃ أن یحملوا العوام علی ما فیہ نقصان دینھم، ولا یقرأ عندہم مثل قراء ۃ أبي جعفر وابن عامر وعلي بن حمزۃ والکسائي صیانۃ لدینھم فلعلہم یستخفون أو یضحکون وإن کان کل القراء ات والروایات صحیحۃ فصیحۃ، ومشایخنا اختاروا قراء ۃ أبي عمرو وحفص عن عاصم).
عقیدہ (۱۰): قرآنِ مجید نے اگلی کتابوں کے بہت سے احکام منسو خ کر دیے۔(1) یو ہیں قرآنِ مجید کی بعض آیتوں نے بعض آیت کو منسوخ کر دیا۔(2)
عقیدہ (۱۱): نَسخْ کا مطلب یہ ہے کہ بعض احکام کسی خاص وقت تک کے لیے ہوتے ہیں، مگر یہ ظاہر نہیں کیا جاتا کہ یہ حکم فلاں وقت تک کے لیے ہے، جب میعاد پوری ہوجاتی ہے تو دوسرا حکم نازل ہوتا ہے، جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پھلا حکم اُٹھا دیا گیا اور حقیقۃً دیکھا جائے تو اُس کے وقت کا ختم ہو جانا بتایا گیا۔(3) منسوخ کے معنی بعض لوگ باطل ہونا کہتے ہیں، یہ بہت سخت بات ہے، احکامِ الٰہیہ سب حق ہیں، وہاں باطل کی رسائی کہاں...!
1 ۔ (أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلٰی نِسَائِکُمْ) [پ۲، البقرۃ: ۱۸۷]۔
في ''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، ج۱، ص۲۴۱، تحت الآیۃ: (قولہ تعالی: (أُحِلَّ لَکُمْ) لفظ: (أُحِلَّ) یقتضی أنہ کان محرماً قبل ذلک ثم نسخ، روی أبو داود عن ابن أبي لیلی قال: وحدثنا أصحابنا قال: وکان الرجل إذا أفطر فنام قبل أن یأکل لم یأکل حتی یصبح، قال: فجاء عمر فأراد امرأتہ فقالت: إني قد نمت، فظن أنہا تعتل فأتاہا، فجاء رجل من الأنصار فأراد طعاماً فقالوا: حتی نسخن لک شیأاً فنام، فلما أصبحوا أنزلت ہذہ الآیۃ، وفیہا: (أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلٰی نِسَائِکُمْ)۔
2 ۔ (یَاأَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا إِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقَۃً ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّـکُمْ وَأَطْہَرُ فَإِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَإِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیمٌ)۔ [پ۲۸، المجادلۃ: ۱۲]۔
في ''روح البیان''، المجادلۃ، تحت الآیۃ، الجزء الثامن والعشرون، ج۹، ص۴۰۵: (والآیۃ نزلت حین أکثر الناس علیہ السؤال حتی أسأموہ وأملوہ فأمرہم اللہ بتقدیم الصدقۃ عند المناجاۃ فکف کثیر من الناس، أما الفقیر فعلسرتہ، وأما الغني فلشحہ وفی ھذا الأمر تعظیم الرسول ونفع الفقرآء والزجر عن الإفراط في السؤال والتمییز بین المخلص والمنافق ومحب الآخرۃ ومحب الدنیا واختلف في أنہ للندب أو للوجوب لکنہ نسخ بقولہ تعالی: (أَأَشْفَقْتُمْ) الآیۃ۔۔۔ إلخ)۔
وفي ''روح المعاني''، الجزء الثامن والعشرین، ج۱۴، ص۳۱۴۔۳۱۵۔
(وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ أَزْوَاجًا وَصِیَّۃً لِّأَزْوَاجِہِمْ مَتَاعًا إِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ إِخْرَاجٍ ) [پ۳، البقرۃ: ۲۴۰]۔
في ''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، ج۲، ص۱۱۳، تحت الآیۃ: (وأکثر العلماء علی أن ہذہ الآیۃ ناسخۃ لقولہ عز وجل: (وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ أَزْوَاجًا وَصِیَّۃً لِّأَزْوَاجِہِمْ مَتَاعًا إِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ إِخْرَاجٍ) لأنّ الناس أقاموا برہۃ من الاسلام إذا توفی الرجل وخلف امرأتہ حاملا أوصی لہا زوجہا بنفقۃ سنۃ وبالسکنی ما لم تخرج فتتزوج، ثم نسخ ذلک بأربعۃ أشہر وعشر، وبالمیراث)۔
3 ۔ قال الإمام أحمد رضا في ''المعتمد المستند''، ص۵۵: (والمطلق یکون في علم اللہ مؤبداً أو مقیداً، وھذا الأخیر ہو الذي یأتیہ النسخ فیظن أنّ الحکم تبدل؛ لأنّ المطلق یکون ظاہرہ التأبید حتی سبق إلی بعض الخواطر أنّ النسخ رفع الحکم
عقیدہ (۱۲): قرآن کی بعض باتیں مُحکَم ہیں کہ ھماری سمجھ میں آتی ہیں اور بعض متشابہ کہ اُن کا پورا مطلب اﷲ اور اﷲ کے حبیب (عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم) سوا کوئی نہیں جانتا۔ متشابہ کی تلاش اور اُس کے معنی کی کِنْکاش وہی کرتا ہے جس کے دل میں کجی(1) ہو۔(2)
عقیدہ (۱۳): وحیئ نبوت، انبیا کے لیے خاص ہے (3) ، جو اسے کسی غیرِ نبی کے لیے مانے کافر ہے۔ (4) نبی کو خواب میں جو چیز بتائی جائے وہ بھی وحی ہے، اُس کے جھوٹے ہونے کا احتمال نہیں۔(5) ولی کے دل میں بعض وقت سوتے یا جاگتے میں
وإنّما ہو بیان مدتہ عندنا وعند المحققین). في ''تفسیر الصاوي''، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ج۱، ص۹۸: النسخ : بیان انتھاء حکم التعبد۔ اعلیٰ حضرت امام اھلسنت فتاویٰ رضویہ ، ج۱۴، ص۱۵۶میں فرماتے ہیں: ''نسخ کے یہی معنی ہیں کہ اگلے حکم کی مدت پوری ہوگئی'' ۔
انظر للتفصیل: ''الإتقان في علوم القرآن'' للسیوطي، النوع ۴۷ في ناسخہ ومنسوخہ، ج۲، ص۳۲۶.
1 ۔ ٹیڑھا پن۔
2 ۔ (ہُوَ الَّذِیْ أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ آیَاتٌ مُّحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ فَأَمَّا الَّذِینَ فِیْ قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآءَ تَأْوِیلِہِ وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیْلَہُ إِلَّا اللہُ وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُوالْأَلْبَابِ) پ۳، اٰلِ عمرٰن: ۷.
في ''نور الأنوار''، ص۹۷: (أنّ المراد بہ (أي: بالمتشابہ) حق وإن لم نعلمہ قبل یوم القیامۃ، وأمّا بعد القیامۃ فیصیر مکشوفاً لکل أحد إن شاء اللہ تعالیٰ، وھذا في حق الأمۃ، وأمّا في حق النبي علیہ السلام فکان معلومًا وإلاّ تبطل فائدۃ التخاطب ویصیر التخاطب بالمہمل کالتکلم بالزنجي مع العربي وھذا عندنا).
وفي ''شرح الحسامي''، ص۲۱: (فالمتشابہ کرجل فقد عن الناس حتی انقطع أثرہ وانقضی جیرانہ وأقرانہ، (وحکمہ التوقف فیہ أبدًا) في حقنا، لأنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم کان یعلم المتشابہات کما صرح بہ فخر الإسلام في ''أصولہ''.
3 ۔ في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۰۵: (الوحي قسمان: وحي نبوۃ، ویختص بہ الأنبیاء دون غیرہم).
4 ۔ في ''الشفا''، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، الجزء ۲، ص۲۸۵: (من ادعی النبوۃ لنفسہ أو جوز اکتسابہا والبلوغ بصفاء القلب إلی مرتبتہا کالفلاسفۃ وغلاۃ المتصوفۃ وکذلک من ادعی منھم أنّہ یوحی إلیہ وإن لم یدع النبوۃ أو أنّہ یصعد إلی السماء ویدخل الجنۃ ویأکل من ثمارہا ویعانق الحور العین فہؤلاء کلہم کفار مکذبون للنبي صلی اللہ علیہ وسلم؛ لأنّہ أخبر صلی اللہ علیہ وسلم أنّہ خاتم النبیین لا نبي بعدہ).
5 ۔ (إِذْ قَالَ یُوسُفُ لِأَبِیہِ یَا أَبَتِ إِنِّیْ رَأَیْتُ أَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَیْتُہُمْ لِیْ سَاجِدِینَ) پ۱۲، یوسف:۴.
في ''تفسیر الطبري''، تحت الآیۃ، عن ابن عباس في قولہ: ((إِنِّیْ رَأَیْتُ أَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَیْتُہُمْ لِیْ سَاجِدِیْنَ)، قال: کانت رؤیا الأنبیاء وحیًا). ج۷، ص۱۴۸..
کوئی بات اِلقا ہوتی ہے، اُس کو اِلہام کہتے ہیں(1) اور وحی شیطانی کہ اِلقا من جانبِ شیطان ہو، یہ کاہن، ساحر اور دیگر کفّار وفسّاق کے لیے ہوتی ہے۔(2)
عقیدہ (۱۴): نبوّت کسبی نہیں کہ آدمی عبادت و رِیاضت کے ذریعہ سے حاصل کرسکے(3)، بلکہ محض عطائے الٰہی ہے، کہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دیتا ہے، ہاں! دیتا اُسی کو ہے جسے اس منصبِ عظیم کے قابل بناتا ہے، جو قبلِ حصولِ نبوّت تمام
(فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّیْ أَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی قَالَ یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ إِنْ شَآءَ اللہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ). پ۲۳، الصافات:۱۰۲.
في ''تفسیر الطبري''، تحت الآیۃ: عن قتادۃ، قولہ: (( یَا بُنَیَّ إِنِّیْ أَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ) قال: رؤیا الأنبیاء حق إذا رأوا في المنام شیأا فعلوہ). وعن عبید بن عمیر، قال: (رؤیا الأنبیاء وحيٌ، ثم تلا ہذہ الآیۃ:( إِنِّی أَرٰی فِیْ الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ). ج۱۰، ص۵۰۷.
1 ۔ في''المرقاۃ''، کتاب العلم،ج۱،ص۴۴۵:(والإلہام لغۃ: الإبلاغ، وہو علم حق یقذفہ اللہ من الغیب في قلوب عبادہ).
2 ۔ (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیَاطِیْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ یُوحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) پ۷، الأنعام: ۱۱۲. في ''تفسیر الطبري''، ج۵، ص۳۱۴، تحت الآیۃ: (أمّا قولہ: (یُوحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا)، فإنّہ یعني أنّہ یلقي الملقي منھم القولَ، الذي زیّنہ وحسَّنہ بالباطل إلی صاحبہ، لیغترّ بہ من سمعہ، فیضلّ عن سبیل اللہ).
وعن السدي في قولہ: (یُوحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا)، قال: للإنسان شیطان، وللجنّي شیطان، فیلقَی شیطان الإنس شیطان الجن، فیوحي بعضھم إلی بعض زخرف القول غرورًا).
(ہَلْ أُنَبِّئُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِینُ تَنَزَّلُ عَلَی کُلِّ أَفَّاکٍ أَثِیمٍ) پ۱۹، الشعرائ: ۲۲۲.
في ''تفسیر الطبري''، تحت الآیۃ، عن قتادۃ، في قولہ: (کُلِّ أَفَّاکٍ أَثِیمٍ) قال: ہم الکہنۃ تسترق الجن السمع، ثم یأتون بہ إلی أولیائہم من الإنس).ج۹، ص۴۸۷..
في ''تفسیر ابن کثیر''، تحت الآیۃ:(ہَلْ أُنَبِّئُکُمْ) أي: أخبرکم(عَلَی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِینُ تَنَزَّلُ عَلَی کُلِّ أَفَّاکٍ أَثِیمٍ) أي: کذوب في قولہ وہو الأفاک (الأثیم) وہو الفاجر في أفعالہ.فھذا ہو الذي تنزل علیہ الشیاطین من الکہان وما جری مجراہم من الکذبۃ الفسقۃ، فإنّ الشیاطین أیضاً کذبۃ فسقۃ). ج۶، ص۱۵۵.
3 ۔ في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۰۷: (النبوۃ لیست کسبیۃ).
وفي ''الیواقیت والجواہر''، ص۲۲۴: (لیست النبوۃ مکتسبۃ حتی یتوصل إلیہا بالنسک والریا ضات کما ظنّہ جماعۃ من الحمقی، فإنّ اللہ تعالی حکی عن الرسل بقولہ: (قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ إِنْ نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰـکِنَّ اللہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ)، پ ۱۳، ابراہیم:۱۱، فالنبوۃ إذن محض فضل اللہ تعالی)، ملتقطاً.
اخلاق رذیلہ سے پاک، اور تمام اخلاق فاضلہ سے مزین ہو کر جملہ مدارجِ ولایت طے کر چکتا ہے اور اپنے نسب و جسم و قول وفعل وحرکات و سکنات میں ہرایسی بات سے منزّہ ہوتا ہے جو باعثِ نفرت ہو، اُسے عقلِ کامل عطا کی جاتی ہے، جو اوروں کی عقل سے بدرجہا زائد ہے(1)، کسی حکیم اور کسی فلسفی کی عقل اُس کے لاکھویں حصّہ تک نہیں پہنچ سکتی۔(2)
(اَللہُ اَعْلَمُ حَیۡثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ )ـ3ـ
( ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾ ) (4)
اور جو اِسے کسبی مانے کہ آدمی اپنے کسب و ریاضت سے منصبِ نبوّت تک پہنچ سکتا ہے، کافر ہے۔ (5)
عقیدہ (۱۵): جو شخص نبی سے نبوّت کا زوال جاءز جانے کافر ہے۔ (6)
1 ۔ في ''المسایرۃ'' و''المسامرۃ''، شروط النبوۃ، ص۲۲۶: (شرط النبوۃ: الذکورۃ وکونہ أکمل أھل زمانہ عقلا وخلقا و) أکملہم (فطنۃ وقوۃ رأي والسلامۃ من دناء ۃ الآبائ) ومن (غمز الأمہات و) السلامۃ من (القسوۃ والعیوب المنفرۃ) منھم (کالبرص والجذام و) من (قلۃ المروء ۃ کالأکل علی الطریق، و) من (دناء ۃ الصناعۃ کالحجامۃ... إلخ) ملتقطاً.
في ''شرح المقاصد''، المبحث السادس، ج۳، ص۳۱۷: (النبوۃ مشروطۃ بالذکورۃ، وکمال العقل، وقوۃ الرأي، والسلامۃ عن المنفرات کزنا الآبائ، وعھر الأمہات والفظاظۃ، ومثل البرص، والجذام، والحِرَف الدنیئۃ، وکل ما یخل بالمروء ۃ وحکمۃ البعثۃ ونحو ذلک). انظر للتفصیل: ''المعتقد المنتقد''، باب: وہا أنا أذکر ما یجب لہم علیہم السلام، ص۱۱۰۔۱۱۷.
2 ۔ عن وہب بن منبہ، قال:قرأت واحدا وسبعین کتابا فوجدت في جمیعہا أنّ اللہ عز وجل لم یعط جمیع الناس من بدء الدنیا إلی انقضائہا من العقل في جنب عقل محمد صلی اللہ علیہ وسلم إلاّ کحبۃ رمل من بین رمال جمیع الدنیا، وأنّ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم أرجح الناس عقلاً وأفضلہم رأیاً). رواہ أبو نعیم في''الحلیۃ''، ج۴، ص۲۹۔۳۰، الحدیث: ۴۶۵۲.
3 ۔ ترجمہ کنز الایمان: اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے. پ۸، الأنعام: ۱۲۴۔
4 ۔ ترجمہ کنز الایمان: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے. پ۲۷، الحدید: ۲۱.
5 ۔ في ''المعتقد المنتقد''، مسئلۃ: النبوۃ لیست کسبیۃ... إلخ، ص۱۰۷: (النبوۃ لیست کسبیۃ، قال التورفشتي في ''المعتمد'': اعتقاد حصول النبوۃ بالکسب کفر)، ملتقطاً.
في ''الیواقیت والجواہر''،ص۲۲۴:(وقد أفتی المالکیۃ وغیرہم بکفر من قال:إنّ النبوۃ مکتسبۃ، واللہ تعالی أعلم).
6 ۔ في ''المعتقد المنتقد''، مسئلۃ: من جوّز زوال النبوۃ من نبي... إلخ، ص۱۰۹: (من جوز زوال النبوۃ من نبي فإنّہ یصیر کافراً، کذا في ''التمہید'').
عقیدہ (۱۶): نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے(1) اور یہ عصمت نبی اور مَلَک کا خاصہ ہے، کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔(2) اماموں کو انبیا کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔ عصمتِ انبیا کے یہ معنی ہیں کہ اُن کے لیے حفظِ الٰہی کا وعدہ ہو لیا، جس کے سبب اُن سے صدورِ گناہ شرعاً محال ہے(3)، ۔۔۔۔
1 ۔ وفي ''منح الروض الأزہر''، ص۵۶: (الأنبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کلّہم منزہون) أي: معصومون، ملتقطاً.
وفي ''شرح النووي''، ج۱، ص۱۰۸: (ذہب جماعۃ من أھل التحقیق والنظر من الفقہاء والمتکلمین من أئمتنا إلی عصمتہم من الصغائر کعصمتہم من الکبائر)
2 ۔ في''المعتقد المنتقد''، ص۱۱۰: (فمنہ العصمۃ: وہي من خصائص النبوۃ علی مذہب أھل الحق).
في''الحبائک في أخبار الملائک''، ص۸۲: (أجمع المسلمون علی أنّ الملائکۃ مؤمنون فضلائ، واتفق أئمۃ المسلمین أنّ حکم المرسلین منھم حکم النبیین سواء في العصمۃ ممّا ذکرنا عصمتہم منہ، وأنّہم في حقوق الأنبیاء والتبلیغ إلیہم کالأنبیاء مع الأمم واختلفوا في غیر المرسلین منھم فذہبت طائفۃ إلی عصمۃ جمیعہم عن المعاصی واحتجوا بقولہ تعالی: (لَا یَعْصُوْنَ اللہَ مَا أَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ)، وبقولہ: (وَمَا مِنَّا إِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّوْنَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ)، وبقولہ: (وَمَنْ عِنْدَہٗ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَلَا یَسْتَحْسِرُوْنَ یُسَبِّحُوْنَ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ) ۔ ونحوہ من السمعیّات، وذہبت طائفۃ إلی أنّ ھذا خصوص للمرسلین منھم والمقربین ۔، والصواب عصمۃ جمیعہم وتنزیہ نصابہم الرفیع عن جمیع ما یحطّ من رتبتہم ومنزلتہم عن جلیل مقدارہم)، ملتقطاً. و''الشفا''، فصل في القول في عصمۃ الملائکۃ،ج۲، ص۱۷۴۔۱۷۵.
وفي''منح الروض الأزہر''، ص۱۲: (وملائکتہ) بأنّہم عباد مکرمون لایسبقونہ بالقول وہم بأمرہ یعملون، وأنّہم معصومون ولا یعصون اللہ).
وفي''النبراس''، ص۲۸۷: (والملائکۃ عباد اللہ تعالیٰ العاملون بأمرہ) یرید أنّہم معصومون وقد اختلف في عصمتہم فالمختار أنّہم معصومون عن کل معصیۃ.
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ'' شرح ''الطریقۃ المحمدیۃ''، ج۱، ص۲۹۰: (''أنّ الملائکۃ'' الذین ہم عباد مکرمون لا یسبقونہ بالقول وہم بأمرہ یعملون) لا یعملون قط ما لم یأمرہم بہ قالہ البیضاوي (لا یوصفون) أي: الملائکۃ علیہم السلام (بمعصیۃ) صغیرۃ ولا کبیرۃ؛ لأنّہم کالأنبیاء معصومون).
وفي ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۴، ص۱۸۷: (بشر میں انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سوا کوئی معصوم نہیں)۔
3 ۔ ''نسیم الریاض في شرح شفاء القاضي عیاض''، الباب الأول فیما یجب للأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام، ویمتنع أو یصح من الأحوال۔۔۔ إلخ، فصل في عصمۃ الأنبیاء قبل النبوۃ من الجھل۔۔۔ إلخ، ج ۵، ص ۱۴۴۔ ۱۹۳۔۳۳۷۔
بخلاف ائمہ(1) و اکابر اولیا، کہ اﷲ عزوجل اُنھیں محفوظ رکھتا ہے، اُن سے گناہ ہوتا نہیں، مگر ہو تو شرعاً محال بھی نہیں۔(2)
عقیدہ (۱۷): انبیا علیہم السلام شرک و کفر اور ہرایسے امر سے جو خلق کے لیے باعثِ نفرت ہو، جیسے کذب و خیانت و جھل وغیرہا صفاتِ ذمیمہ(3) سے، نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مُروّت کے خلاف ہیں قبلِ نبوت اور بعد ِنبوت بالاجماع معصوم ہیں اور کبائر سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ تعمّدِ صغائر سے بھی قبلِ نبوّت اور بعدِ نبوّت معصوم ہیں۔(4)
1 ۔ في ''شرح المقاصد''، المقصد السادس، المبحث الثاني، الشروط التي تجب في الإمام، ج۳، ص۴۸۴: (واحتج أصحابنا علی عدم وجوب العصمۃ بالإجماع علی إمامۃ أبي بکر وعمر وعثمان رضي اللہ عنھم مع الإجماع علی أنّہم لم تجب عصمتہم، وإن کانوا معصومین بمعنی أنّہم منذ آمنوا کان لہم ملکۃ اجتناب المعاصي مع التمکن منھا، وحاصل ھذا دعوی الإجماع علی عدم اشتراط العصمۃ في الإمام).
2 ۔ في ''بریقۃ محمودیۃ'' شرح ''طریقۃ محمدیۃ'' ج۲، ص۱: (اعلم أنّہ لا تجب عصمۃ الولي کما تجب عصمۃ النبي لکن عصمتہ بمعنی أن یکون محفوظاً لا تصدر عنہ زلۃ أصلا، ولا امتناع من صدورہا، وقیل للجنید: ھل یزني العارف؟ فأطرق ملیاً ثم رفع رأسہ وقال: (وَکَانَ أَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُوْرًا) [پ۲۲، الأحزاب: ۳۸]۔
وفي ''الرسالۃ القشیریۃ''، باب الولایۃ، ص۲۹۲: (ومن شرط الولي أن یکون محفوظاً، کما أن من شرط النبي أن یکون معصوماً)۔ وفیہا، باب کرامات الأولیائ، ص۳۸۱: (فإن قیل: ھل یکون الولی معصوماً؟ قیل: أما وجوباً، کما یقال في الأنبیاء فلا، وأما أن یکون محفوظاً حتی لا یصر علی الذنوب إن حصلت ہنات أو آفات أو زلات، فلا یمتنع ذلک في وصفہم، ولقد قیل للجنید: العارف یزني یا أبا القاسم؟ فاطرق ملیاً، ثم رفع رأسہ وقال: وکان أمر اللہ قدراً مقدرواً)۔
في ''الفتاوی الحدیثیۃ''، مطلب: في أنّ الإلہام لیس بحجۃ...الخ، ص۴۲۲: (والأولیاء وإن لم یکن لہم العصمۃ لجواز وقوع الذنب منھم ولا ینافیہ الولایۃ، ومن ثم قیل للجنید: أیزني الولي؟ فقال: وکان أمر اللہ قدراً مقدرواً، لکن لہم الحفظ فلا تقع منھم کبیرۃ ولا صغیرۃ غالباً).
3 ۔ بُری صفتوں۔
4 ۔ في ''روح البیان''، پ۲۳، ج۸، ص۴۵، تحت الآیۃ: ۴۴: (واعلم: أنّ العلماء قالوا: إنّ الأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام معصومون من الأمراض المنفرۃ).
في ''الحدیقۃ الندیۃ'' علی ''الطریقۃ المحمدیۃ''، ج۱، ص۲۸۸:(وہم) أي: الأنبیاء والرسل علیہم السلام کلہم (مبرؤون عن الکفر) باللہ تعالی (و)عن (الکذب مطلقاً)، أي: قبل النبوۃ وبعدہا العمد من ذلک والسہو والکذب علی اللہ تعالی وعلی غیرہ في الأمور الشرعیۃ والعادیۃ، (و) مبرؤون (عن الکبائر) من الذنوب (و)عن (الصغائر) منھا أیضاً (المنفرۃ) نعت للصغائر أي: التي تنفر غیرہم من أتباعہم (کسرقۃ لقمۃ) من المأکولات (وتطفیف) أي: تنقیص (حبۃ) من الحبوب التي
عقیدہ (۱۸): اﷲ تعالیٰ نے انبیا علیہم السلام پر بندوں کے لیے جتنے احکام نازل فرمائے اُنھوں نے وہ سب پہنچا دیے، جو یہ کہے کہ کسی حکم کو کسی نبی نے چھپا رکھا، تقیہ یعنی خوف کی وجہ سے یا اور کسی وجہ سے نہ پہنچایا، کافر ہے۔ (1)
یبیعونہا فإنّ ذلک مما یدل علی الخسۃ والدناء ۃ (و)مبرؤون أیضا من (تعمد الصغائر غیرہا) أي غیر المنفرۃ (بعد البعثۃ) أي: إرسالہم إلی دعوۃ الخلق).
في ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، الأنبیاء منزہون عن الصغائر والکبائر، ص۵۶۔۵۷: (والأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کلہم) أي جمیعہم الشامل لرسلہم ومشاہیرہم وغیرہم (منزّہون) أي: معصومون (عن الصغائر والکبائر) أي: من جمیع المعاصي (والکفر) خص؛ لأنّہ أکبر الکبائر (والقبائح) وفي نسخۃ: والفواحش، وہي أخص من الکبائر في مقام التغایر کما یدل علیہ قولہ سبحانہ وتعالی: (اَلَّذِینَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ) والمراد بہا نحو: القتل والزنا واللواطۃ والسرقۃ وقذف المحصنۃ والسحر والفرار من الزحف والنمیمۃ وأکل الربا ومال الیتیم وظلم العباد وقصد الفساد في البلاد۔۔۔ إلخ، ثم ہذہ العصمۃ ثابتۃ للأنبیاء قبل النبوۃ وبعدہا علی الأصح، وہم مؤیدون بالمعجزات الباہرات والآیات الظاہرات. ملتقطاً.
وقال الإمام الأعظم في ''الفقہ الأکبر''، ص۶۱: (ولم یشرک باللہ طرفۃ عین قط، ولم یرتکب صغیرۃ ولا کبیرۃ قط). قال الملا علي القاریئ في شرحہ: (ولم یشرک باللہ طرفۃ عین قط) أي: لا قبل النبوۃ ولا بعدہا، فإنّ الأنبیاء علیہم الصلوۃ والسلام معصومون عن الکفر مطلقاً بالإجماع).
1 ۔ (یَا أَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ) پ۶، المائدۃ: ۶۷۔
في ''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، ج۳، الجزء الثاني، ص۱۴۵، تحت ہذہ الآیۃ: (دلت الآیۃ علی رد قول من قال: إن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کتم شیأا من أمر الدین تقیۃ، وعلی بطلانہ، وہم الرافضۃ، ودلت علی أنہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یسر إلی أحد شیأا من أمر الدین، لأن المعنی بلغ جمیع ما أنزل إلیک ظاہرا ، قال ابن عباس: والمعنی بلغ جمیع ما أنزل إلیک من ربک، فإن کتمت شیأاً منہ فما بلغت رسالتہ، وھذا تأدیب للنبی صلی اللہ علیہ وسلم، وتأدیب لحملۃ العلم من أمتہ ألا یکتموا شیأا من أمر شریعتہ، وقد علم اللہ تعالی من أمر نبیہ أنہ لا یکتم شیأا من وحیہ، وفی ''صحیح مسلم'' عن مسروق عن عائشۃ أنہا قالت: من حدثک أن محمدا صلی اللہ علیہ وسلم کتم شیأا من الوحی فقد کذب، واللہ تعالی یقول: (یَا أَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ) وقبح اللہ الروافض حیث قالوا: إنہ صلی اللہ علیہ وسلم کتم شیأا مما أوحی اللہ إلیہ کان بالناس حاجۃ إلیہ)، ملتقطاً۔
وفي ''المعتقد المنتقد''، ص۱۱۳۔۱۱۴: (ومنہ التبلیغ لجمیع ما جاء وا بہ من عند اللہ ، وأمروا بتبلیغہ للعباد، اعتقادیاً کان أو عملیاً، فیجب أن یعتقد أنّہم صلوات اللہ تعالیٰ علیہم بلغوا عن اللہ ما أمروا بتبلیغہ ولم یکتموا منہ شیأاً، ولو في قوۃ الخوف).
عقیدہ (۱۹): احکامِ تبلیغیہ میں انبیا سے سہو و نسیان محال ہے۔(1)
عقیدہ (۲۰): اُن کے جسم کا برص و جذام وغیرہ ایسے امراض سے جن سے تنفّر ہوتا ہے، پاک ہونا ضروری ہے۔(2)
عقیدہ(۲۱): اﷲ عزوجل نے انبیا علیہم السلام کو اپنے غیوب پر اطلاع دی (3)، ۔۔۔۔
وقال الإمام أحمد رضا خان في '' المعتمد المستند'' ص۱۱۴، تحت اللفظ: ولو في قوۃ: (وتجویز التقیۃ علیہم في التبلیغ کما تزعمہ الطائفۃ الشقیۃ ہدم لأساس الدین، وکفر و ضلال مبین).
في ''الیواقیت والجواہر''، ص۲۵۲: (أجمعت الأمۃ علی أنّہ بلغ الرسالۃ بتمامہا وکمالہا وکذلک تشہد لجمیع الأنبیاء أنّہم بلغوا رسالات ربہم، وقد خطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في حجۃ الوداع فحذر وأنذر وأوعد وما خص بذلک أحدا دون أحد، ثم قال: ((ألا ھل بلغت)) فقالوا: بلغت یا رسول اللہ، فقال: ((اللہم اشہد)).
1 ۔ في ''المسامرۃ بشرح المسایرۃ''، شروط النبوّۃ، الکلام علی العصمۃ، ص۲۳۴۔۲۳۵: (وأمّا فیما طریقہ الإبلاغ) أي: إبلاغ الشرع وتقریرہ من الأقوال وما یجري مجراہا من الأفعال کتعلیم الأمۃ بالفعل (فہم معصومون فیہ من السہو والغلط).
في ''شرح النووي''، ج۱، ص۱۰۸: (اتفقوا علی أنّ کل ما کان طریقہ الإبلاغ في القول فہم معصومون فیہ علی کل حال، وأمّا ما کان طریقہ الإبلاغ في الفعل فذہب بعضھم إلی العصمۃ فیہ رأسا وأنّ السہو والنسیان لا یجوز علیہم فیہ).
2 ۔ في ''المسامرۃ بشرح المسایرۃ''، ص۲۲۶: (من شروط النبوۃ السلامۃ من (العیوب المنفرۃ) منھم (کالبرص والجذام)، ملتقطاً. وفي ''المعتقد المنتقد''، ص۱۱۵: (ومنہ النزاہۃ في الذات: أي: السلامۃ من البرص والجذام والعمی وغیر ذلک من المنفرات).
3 ۔(وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ کُلَّہَا) پ۱، البقرۃ: ۳۱.
في ''تفسیر روح البیان''، ج۱، ص۱۰۰، تحت ہذہ الآیۃ: (علمہ أسماء الأشیاء کلہا أي: ألہمہ فوقع في قلبہ فجری علی لسانہ بما في قلبہ بتسمیۃ الأشیاء من عندہ فعلمہ جمیع أسماء المسمیات بکل اللغات بأن أراہ الأجناس التي خلقہا وعلمہ أنّ ہذہ اسمہ فرس وھذا اسمہ بعیر وھذا اسمہ کذا وعلمہ أحوالہا وما یتعلق بہا من المنافع الدینیۃ والدنیویۃ وعلمہ أسماء الملائکۃ وأسماء ذریتہ کلہم وأسماء الحیوانات والجمادات وصنعۃ کل شيئ، وأسماء المدن والقری وأسماء الطیر والشجر وما یکون وکل نسمۃ یخلقہا إلی یوم القیامۃ وأسماء المطعومات والمشروبات وکل نعیم في الجنۃ وأسماء کل شيء حتی القصعۃ والقصیعۃ وحتی الجنۃ والمحلب ۔وفي الخبرعلمہ سبعمائۃ ألف لغۃ).
(وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِنْ عِلْمِہٖ إِلَّا بِمَا شَآئَ) پ۳، البقرۃ:۲۵۵.
في ''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۱۹۶، تحت الآیۃ: ((إِلَّا بِمَا شَآئَ) یعني: أن یطلعہم علیہ وہم الأنبیاء والرسل لیکون ما یطلعہم علیہ من علم غیبہ دلیلاً علی نبوتہم کما قال تعالی:( فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُولٍ).
(وَأُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَأْکُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوتِکُمْ إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَآیَۃً لَّکُمْ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ) پ۳، آل عمران:۴۹.
۔
في ''تفسیر الطبري''، ج۳، ص۲۷۸، تحت الآیۃ: قال عطاء بن أبي رباح: یعني قولہ:(وَأُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَأْکُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوتِکُمْ)،قال: الطعام والشيء یدخرونہ في بیوتہم، غیبًا علّمہ اللہ إیاہ)..
(وَکَذٰلِکَ نُرِیْ ۤ إِبْرَاہِیمَ مَلَکُوْتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) پ۷، الأنعام:۷۵.
في ''تفسیرالخازن''، ج۲، ص۲۸، تحت الآیۃ: قال مجاہد وسعید بن جبیر: (یعني آیات السموات والأرض وذلک أنّہ أقیم علی صخرۃ وکشف لہ عن السموات حتی رأی العرش والکرسي وما في السموات من العجاءب، وحتی رأی مکانہ في الجنۃ فذلک قولہ:(وآتیناہ أجرہ في الدنیا)،یعني أریناہ مکانہ في الجنۃ وکشف لہ عن الأرض حتی نظر إلی أسفل الأرضین ورأی ما فیہا من العجاءب)
(قَالَ لَا یَأْتِیْکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِہِ إِلَّا نَبَّأْتُکُمَا بِتَأْوِیْلِہٖ قَبْلَ أَنْ یَّأْتِیَکُمَا ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ) پ۱۲، یوسف:۳۷.
في ''تفسیر الکبیر''، ج۶، ص۴۵۵، تحت الآیۃ: ((لَا یَأْتِیْکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِہِ إِلَّا نَبَّأْتُکُمَا بِتَأْوِیْلِہٖ) محمول علی الیقظۃ، والمعنی: أنّہ لا یأتیکما طعام ترزقانہ إلاّ أخبرتکما أي طعام ہو، وأي لون ہو، وکم ہو، وکیف یکون عاقبتہ؟ أي: إذا أکلہ الإنسان فہو یفید الصحۃ أوالسقم).
(وَعَلَّمْنَاہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا) پ۱۵، الکھف: ۶۵. وفي ''تفسیر القرطبي''،ج۵، الجزء التاسع، ص۳۱۶، تحت الآیۃ: (وَعَلَّمْنَاہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا)أي: علم الغیب)..
في ''تفسیر الطبري''، پ۱۵، الکھف، ج۸، ص۲۵۳:(قال لہ موسی: جئتک لتعلمني مما علمت رشدًا، (قَالَ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا)، وکان رجلا یعلم علم الغیب قد عُلِّم ذلک).
(وَمَا کَانَ اللہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰکِنَّ اللہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَشَآءُ)، پ۴، آٰل عمرٰن: ۱۷۹.
في ''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۳۲۹، تحت الأیۃ: (یعني: ولکن اللہ یصطفي ویختار من رسلہ من یشاء فیطلعہ علی ما یشاء من غیبہ).
(وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیْکَ عَظِیمًا ) پ۵، النساء: ۱۱۳.
في ''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۴۲۹، تحت الآیۃ: یعني: من أحکام الشرع وأمور الدین، وقیل: علّمک من علم الغیب ما لم تکن تعلم، وقیل: معناہ وعلمک من خفیات الأمور واطلعک علی ضمائر القلوب وعلمک من أحوال المنافقین وکیدہم ما لم تکن تعلم).
(عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلَی غَیْبِہٖ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ) پ۲۹، الجن: ۲۶۔۲۷.
۔
في ''تفسیر الطبري''، ج ۱۲، ص۲۷۵، تحت ہذہ الآیۃ: عن قتادۃ، قولہ:(عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلَی غَیْبِہٖ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ)، فإنّہ یصطفیہم، ویطلعہم علی ما یشاء من الغیب). وعن قتادۃ قال: (إِلاّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ) فإنّہ یظہرہ من الغیب علی ما شاء إذا ارتضاہ).
(وَمَا ھُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ) پ۳۰، التکویر: ۲۴.
في ''تفسیر البغوي''، ج۴، ص۴۲۲، تحت الآیۃ:((وَمَا ھُوَ) یعني: محمداً (عَلَی الْغَیْبِ)، أي: الوحي، وخبر السماء وما أطلع علیہ مما کان غائبا عنہ من الأنباء والقصص، (بِضَنِیْنٍ) أي: یبخل یقول: إنّہ یأتیہ علم الغیب فلا یبخل بہ علیکم بل یعلمکم ویخبرکم بہ، ولا یکتمہ کما یکتم الکاھن)
عن طارق بن شھاب قال: سمعت عمر رضي اللہ عنہ یقول: ((قام فینا النبي صلی اللہ علیہ وسلم مقاماً فأخبرنا عن بدء الخلق حتی دخل أھل الجنۃ منازلھم وأھل النار منازلھم، حفظ ذلک من حفظہ ونسیہ من نسیہ)). ''صحیح البخاري''، کتاب بدء الخلق، الحدیث: ۳۱۹۲، ج۲، ص۳۷۵.
في ''عمدۃ القاري''، ج۱۰، ص۵۴۴، تحت الحدیث: (وفیہ دلالۃ علی أنّہ أخبر في المجلس الواحد بجمیع أحوال المخلوقات من ابتدائھا إلی انتھائھا، وفي إیراد ذلک کلہ في مجلس واحد أمر عظیم من خوارق العادۃ، وکیف وقد أعطي جوامع الکلم مع ذلک).
عن حذیفۃ قال: ((قام فینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقاما ما ترک شیأاً یکون في مقامہ ذلک إلی قیام الساعۃ إلاّ حدث بہ حفظہ من حفظہ ونسیہ من نسیہ)). ''صحیح مسلم''، کتاب الفتن، باب إخبار النبي صلی اللہ علیہ وسلم فیما یکون إلی قیام الساعۃ، الحدیث: ۲۳۔(۲۸۹۱)، ص۱۵۴۵.
حدثني أبو زید یعني: عمرو بن أخطب قال: صلی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الفجر وصعد المنبر فخطبنا حتی حضرت الظہر فنزل فصلی ثم صعد المنبر فخطبنا حتی حضرت العصر ثم نزل فصلی ثم صعد المنبر فخطبنا حتی غربت الشمس فأخبرنا بما کان وبما ھوکائن فأعلمنا أحفظنا. ''صحیح مسلم''، کتاب الفتن، باب إخبار النبي صلی اللہ علیہ وسلم فیما یکون إلی قیام الساعۃ، الحدیث: ۲۸۹۲، ص۱۵۴۶.
ع اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود [''حدائق بخشش''، ص۱۹۱]۔
مزیددلائل کیلئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی کتب مثلاً: ''الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ''، ''خالص الاعتقاد''، ''إنباء الحي''، ''إزاحۃ العیب بسیف الغیب''، ''إنباء المصطفی بحال سرّ وأخفی''، ''مالیئ الجیب بعلوم الغیب''، وغیرہا کا مطالعہ کریں۔
زمین و آسمان کا ہر ذرّہ ہر نبی کے پیشِ نظر ہے(1)، مگر یہ علمِ غیب کہ ان کو ہے اﷲ (عزوجل) کے دیے سے ہے، لہٰذا ان کا علم عطائی
1 ۔ عن ثوبان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ اللہ زوی لي الأرض فرأیت مشارقھا ومغاربھا))۔
''صحیح مسلم''، کتاب الفتن، باب ھلاک ھذہ الأمۃ بعضھم ببعض، الحدیث: ۲۸۸۹، ص۱۵۴۴.
في ''المرقاۃ''، ج۱۰، ص ۱۵، تحت الحدیث: (إنّ اللہ زوی لي الأرض، أي: جمعھا لأجلي، یرید بہ تقریب البعید منھا حتی اطلع علیہ اطلاعہ علی القریب منھا، وحاصلہ أنّہ طوی لہ الأرض وجعلھا مجموعۃ کھیئۃ کف في مرآۃ نظرہ، ولذا قال: فرأیت مشارقھا ومغاربھا، أي: جمیعھا) ملتقطاً.
وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((رأیت ربي في أحسن صورۃ، قال:فیم یختصم الملأ الأعلی؟ فقلت: أنت أعلم یا رب، قال: فوضع کفہ بین کتفيّ فوجدت بردھا بین ثدیيّ فعلمت ما في السموات والأرض)). ''سنن الدارمي''، کتاب الرؤیا، باب في رؤیۃ الرب تعالی في النوم، ج۲، ص۱۷۰.
في ''المرقاۃ''، ج۲، ص۴۲۹، تحت الحدیث: (فعلمت أي: بسبب وصول ذلک الفیض ما في السموات والأرض، یعني: ما أعلمہ اللہ تعالی مما فیھما من الملائکۃ والأشجار وغیرھما، وھو عبارۃ عن سعۃ علمہ الذي فتح اللہ بہ علیہ، وقال ابن حجر: أي: جمیع الکائنات التي في السموات بل وما فوقھا، کما یستفاد من قصۃ المعراج، والأرض ھي بمعنی الجنس، أي: وجمیع ما في الأرضین السبع بل وما تحتھا).
وفي ''أشعۃ اللمعات''، ج۱، ص۳۵۷، تحت قولہ: (( فعلمت ما في السموات والأرض)) پس دانستم ہر چہ در آسمان ہا و ہرچہ در زمین بود عبارت است از حصول تمامہ علوم جزوی وکلی واحاطہ آن).
ترجمہ: پس جو کچھ آسمان وزمین میں تھا سب کچھ میں نے جان لیا یہ بات تمام علوم کلی وجزئی کو گھیرے ہوئے ہے۔
اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویۃ'' میں فرماتے ہیں: ''اللہ عزوجل نے روز اَزل سے روز آخر تک جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے ایک ایک ذرّہ کا تفصیلی علم اپنے حبیب اَکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو عطا فرمایا، ہزار تاریکیوں میں جو ذرّہ یا ریگ کا دانہ پڑا ہے حضور کا علم اس کو محیط ہے، اور فقط علم ہی نہیں بلکہ تمام دنیا بھر اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کو ایسا دیکھ رہے ہیں جیسا اپنی اس ہتھیلی کو ، آسمانوں اور زمینوں میں کوئی ذرّہ ان کی نگاہ سے مخفی نہیں بلکہ یہ جو کچھ مذکور ہے ان کے علم کے سمندروں میں سے ایک چھوٹی سی نہر ہے، اپنی تمام امت کو اس سے زیادہ پہچانتے ہیں جیسا آدمی اپنے پاس بیٹھنے والوں کو، اور فقط پہچانتے ہی نہیں بلکہ ان کے ایک ایک عمل ایک ایک حرکت کو دیکھ رہے ہیں ، دلوں میں جو خطرہ گزرتا ہے اس سے آگاہ ہیں، اور پھر ان کے علم کے وہ تمام سمندر اور جمیع علوم اوّلین وآخرین مل کر علم الہی سے وہ نسبت نہیں رکھتے جو ایک ذرا سے قطرہ کو کرور سمندر وں سے''۔
''الفتاوی الرضویۃ''، ج ۱۵، ص۷۴.
ہوا اور علمِ عطائی اﷲ عزوجل کے لیے محال ہے، کہ اُس کی کوئی صفت، کوئی کمال کسی کا دیا ہوا نہیں ہوسکتا، بلکہ ذاتی ہے۔ (1) جو لوگ انبیا بلکہ سیّد الانبیا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وعلیہم وسلم سے مطلق علمِ غیب کی نفی کرتے ہیں، وہ قرآنِ عظیم کی اس آیت کے مصداق ہیں:
( اَفَتُؤْمِنُوۡنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوۡنَ بِبَعْضٍ ۚ ) ـ2ـ
یعنی: ''قرآنِ عظیم کی بعض باتیں مانتے ہیں اور بعض کے ساتھ کُفر کرتے ہیں۔''
1 ۔ (وَعِنْدَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَا إِلَّا ہُوَ) پ۷ الأنعام: ۵۹.
قال الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن في ''الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ''، ص۳۹: (إنّ العلم إمّا ذاتي إن کان مصدرہ ذات العالم لا مدخل فیہ لغیرہ عطاء ولا تسبیبا، وإمّا عطائي إذا کان بعطاء غیرہ. فالأوّل مختص بالمولی سبحانہ وتعالیٰ لا یمکن لغیرہ ومن أثبت شیأاً منہ ولو أدنی من أدنی من أدنی من ذرۃ لأحد من العالمین فقد کفر وأشرک، وبار وھلک. والثاني مختص بعبادہ عز جلالہ لا إمکان لہ فیہ، ومن أثبت شیأاً منہ للہ تعالی فقد کفر، وأتی بما ہو أخنع وأشنع من الشرک الأکبر؛ لأنّ المشرک من یسوي باللہ غیرہ، وھذا جعل غیرہ أعلی منہ حیث أفاض علیہ علمہ وخیرہ.
2 ۔ پ۱، البقرۃ: ۸۵.
کہ آیتِ نفی دیکھتے ہیں اور اُن آیتوں سے جن میں انبیا علیہم السلام کو علومِ غیب عطا کیا جانا بیان کیا گیا ہے، انکار کرتے ہیں، حالانکہ نفی واِثبات دونوں حق ہیں، کہ نفی علمِ ذاتی کی ہے کہ یہ خاصہ اُلوہیت ہے، اِثبات عطائی کا ہے، کہ یہ انبیا ہی کی شایانِ شان ہے اور مُنافی اُلوہیت ہے اور یہ کہنا کہ ہر ذرّہ کا علم نبی کے لیے مانا جائے تو خالق و مخلوق کی مساوات لازم آئے گی، باطل محض ہے، کہ مساوات تو جب لازم آئے کہ اﷲ عزوجل کیلئے بھی اتنا ہی علم ثابت کیا جائے اور یہ نہ کہے گا مگر کافر، ذرّاتِ عالَم متناہی ہیں اور اُس کا علم غیرِ متناہی، ورنہ جھل لازم آئے گا اور یہ محال، کہ خدا جھل سے پاک، نیز ذاتی و عطائی کا فرق بیان کرنے پر بھی مساوات کا الزام دینا صراحۃً ایمان و اسلام کے خلاف ہے، کہ اس فرق کے ہوتے ہوئے مساوات ہو جایا کرے تو لازم کہ ممکن و واجب وجود میں معاذاﷲ مساوی ہو جائیں، کہ ممکن بھی موجود ہے اور واجب بھی موجود اور وجود میں مساوی کہنا صریح کُفر، کھلا شرک ہے۔(1) انبیا علیہم السلام غیب کی خبر دینے کے لیے ہی آتے ہیں کہ جنّت و نار و حشر و نشر و عذاب و ثواب غیب نہیں تو اور کیا ہیں...؟ اُن کا منصب ہی یہ ہے کہ وہ باتیں ارشاد فرمائیں جن تک عقل و حواس کی رسائی نہیں اور اسی کا نام غیب ہے۔ (2) اولیا کو بھی علمِ غیب عطائی ہوتا ہے، مگر بواسطہ انبیا کے۔ (3)
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۴۰۸۔ ۴۰۹، ۴۴۵، ۴۵۰.
2 ۔ وفي ''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، ج۱، الجزء الأوّل، ص۱۴۸: ( الغیب کلّ ما أخبر بہ الرسول علیہ السلام مما لا تہتدي إلیہ العقول من أشراط الساعۃ وعذاب القبر والحشر والنشر والصراط والمیزان والجنۃ والنار)۔
3 ۔ (عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ) پ۲۹، الجن: ۲۶۔۲۷.
في ''تفسیر روح البیان''، ج۱۰، ص۲۰۱۔۲۰۲، تحت الآیۃ: (قال ابن شیخ: إنّہ تعالی لا یطلع علی الغیب الذي یختص بہ علمہ إلاّ المرتضی الذي یکون رسولاً، وما لا یختص بہ یطلع علیہ غیر الرسول، إمّا بتوسط الأنبیاء، أو بنصب الدلائل وترتیب المقدمات أو بأن یلہم اللہ بعض الأولیاء وقوع بعض المغیبات في المستقبل بواسطۃ الملک، فلیس مراد اللہ بہذہ الآیۃ أن لا یطلع احداً علی شيء من المغیبات إلاّ الرسل لظہور أنّہ تعالی قد یطلع علی شيء من الغیب غیر الرسل).
وفي ''إرشاد الساري''، کتاب التفسیر، تحت الحدیث: ۴۶۹۷: (ولا یعلم متی تقوم الساعۃ أحد إلاّ اللہ إلاّ من ارتضی من رسول فإنّہ یطلعہ علی ما یشاء من غیبہ، والولي التابع لہ یأخذ عنہ) ج۱۰، ص۳۶۹.
عقیدہ (۲۲): انبیائے کرام، تمام مخلوق یہاں تک کہ رُسُلِ ملائکہ سے افضل ہیں۔ (1) ولی کتنا ہی بڑے مرتبہ والا ہو، کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتا۔ جو کسی غیرِ نبی کو کسی نبی سے افضل یا برابر بتائے، کافر ہے۔ (2)
عقیدہ (۲۳): نبی کی تعظیم فرضِ عین بلکہ اصلِ تمام فرائض ہے۔ (3) کسی نبی کی ادنیٰ توہین یا تکذیب، کفر ہے۔ (4)
1 ۔ (وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ) پ۷، الأنعام: ۸۶.
في ''تفسیرالخازن''، ج۲، ص۳۳، تحت الآیۃ: (وَکُلاًّ فَضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ) یعني: علی عالمي زمانھم ویستدلّ بہذہ الآیۃ من یقول: إنّ الأنبیاء أفضل من الملائکۃ؛ لأنّ العالم اسم لکلّ موجود سوی اللہ تعالی فیدخل فیہ الملک فیقتضي أنّ الأنبیاء أفضل من الملائکۃ.
وفي ''التفسیر الکبیر''، پ۱، البقرۃ، ج۱، ص۴۳۰، تحت الآیۃ: ۳۴: (اعلم أنّ جماعۃ من أصحابنا یحتجون بأمر اللہ تعالی للملائکۃ بسجود آدم علیہ السلام علی أنّ آدم أفضل من الملائکۃ فرأینا أن نذکر ہہنا ہذہ المسألۃ فنقول: قال أکثر أھل السنّۃ: الأنبیاء أفضل من الملائکۃ).
وفي ''شرح المقاصد''، المبحث السابع، الملائکۃ، ج۳، ص۳۲۰۔۳۲۱: (فذہب جمہور أصحابنا والشیعۃ إلی أنّ الأنبیاء أفضل من الملائکۃ).
2 ۔ في''منح الروض الأزہر'' ص۱۲۱: (أنّ الولي لا یبلغ درجۃ النبي، فما نقل عن بعض الکرامیۃ من جواز کون الولي أفضل من النبي کفر وضلالۃ وإلحاد وجہالۃ)، ملتقطاً.
وفي''إرشاد الساري''، کتاب العلم، باب ما یستحب للعالم... إلخ، ج۱، ص۳۷۸: (فالنبي أفضل من الولي، وہو أمر مقطوع بہ، والقائل بخلافہ کافر، لأنّہ معلوم من الشرع بالضرورۃ).
وفي ''الشفائ''، ج۲، ص۲۹۰: (وکذلک نقطع بتکفیر غلاۃ الرافضۃ في قولہم: إنّ الأئمۃ أفضل من الأنبیاء).
وفي ''المعتقد المنتقد''، ص۱۲۵: (إنّ نبیاً واحداً أفضل عند اللہ من جمیع الأولیائ، ومن فضل ولیاً علی نبي یخشی الکفر بل ہو کافر).
3 ۔ (إِنَّا أَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیرًا لِتُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُولِہٖ وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلًا) پ۲۶، الفتح: ۹. وفي ''جواہر البحار''، ج۳، ص۲۶۰: (إنّ اللہ فرض علینا تعزیر رسولہ، وتوقیرہ وتعزیرہ نصرہ ومنعہ توقیرہ، وإجلالہ وتعظیمہ، وذلک یوجب صون عرضہ بکل طریق بل ذلک أول درجات التعزیر والتوقیر).
4 ۔ في ''تفسیر روح البیان''، پ۱۰، التوبۃ، ج۳، ص۳۹۴، تحت الآیۃ: ۱۲: (واعلم أنہ قد اجتمعت الأمۃ علی أنّ الاستخفاف بنبینا وبأي نبيکان من الأنبیاء کفر سواء فعلہ فاعل ذلک استحلالاً أم فعلہ معتقداً بحرمتہ لیس بین العلماء خلاف في ذلک... إلخ).
عقیدہ (۲۴): حضرت آدم علیہ السلام سے ھمارے حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تک اﷲ تعالیٰ نے بہت سے نبی بھیجے، بعض کا صریح ذکر قرآنِ مجید میں ہے اور بعض کا نہیں(1)، جن کے اسمائے طیّبہ بالتصریح قرآنِ مجید میں ہیں، وہ یہ ہیں:
حضرت آدم(2) علیہ السلام، حضرت نوح (3) علیہ السلام، حضرت ابراہیم (4) علیہ السلام، حضرت اسماعیل (5) علیہ السلام، حضرت اسحاق (6) علیہ السلام، حضرت یعقوب (7) علیہ السلام، حضرت یوسف (8) علیہ السلام، حضرت موسیٰ (9) علیہ السلام، حضرت ہارون (10) علیہ السلام،
وفي ''الشفا''، فصل في بیان ما ہوحقہ، ج۲، ص۲۱۹: (قال ابن عتاب: الکتاب والسنۃ موجبان أنّ من قصد النبي صلی اللہ علیہ وسلم بأذی أو نقص معرضا أو مصرّحا وإن قلّ فقتلہ واجب) وصفحۃ ۲۱۷: (قال بعض علمائنا: أجمع العلماء علی أنّ من دعا علی نبي من الأنبیاء بالویل أو بشيء من المکروہ أنّہ یقتل بلا استتابۃ). وفي ''فتاوی قاضي خان''، کتاب السیر: (إذا عاب الرجل النبي علیہ السلام في شيء کان کافراً. قال بعض العلماء: لو قال: شعر النبي صلی اللہ علیہ وسلم شعراً فقد کفر. وعن أبي حفص الکبیر رحمہ اللہ: من عاب النبي علیہ السلام بشعر من شعراتہ فقد کفر)، ج۴، ص۴۶۸.
وفي ''التتارخانیہ''، کتاب أحکام المرتدین، ج۵، ص۴۷۷:(من لم یقر ببعض الأنبیاء علیہم السلام أوعاب نبیا بشيء أولم یرض بسنۃ من سنن المرسلین علیہم السلام فقد کفر).
اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویۃ''، ج۱۵، ص۵۸۷ میں فرماتے ہیں: ''ہر نبی کی تحقیر مطلقا کفر قطعی ہے''۔
1 ۔ (وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ مِنْہُمْ مَنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْہُمْ مَنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ) پ۲۴، المؤمن:۷۸.
2 ۔ (وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَآءَ کُلَّہَا) پ۱، البقرۃ:۳۱.
3 ۔ (إِنَّ اللہَ اصْطَفٰی آدَمَ وَنُوْحًا) پ۳، آل عمران:۳۳.
D ۔ (وَإِذِ ابْتَلٰی إِبْرَاہِیْمَ رَبُّہ، بِکَلِمٰتٍ فَأَتَمَّہُنَّ) پ۱، البقرۃ:۱۲۴.
5 ۔ (وَعَہِدْنَا إِلٰی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ) پ۱، البقرۃ:۱۲۵.
6 ۔ (وَإِسْحٰقَ) پ۱، البقرۃ:۱۳۳.
7 ۔ (وَوَصّٰی بِہَا إِبْرَاہِیْمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوْبُ) پ۱، البقرۃ:۱۳۲.
8 ۔ ( إِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِأَبِیْہِ) پ۱۲، یوسف: ۴.
9 ۔ (وَإِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰی أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً) پ۱، البقرۃ:۵۱.
10 ۔ (وَہَارُوْنَ) پ۶، النساء: ۱۶۳.
حضرت شعیب (1) علیہ السلام، حضرت لُوط (2) علیہ السلام، حضرت ہُود (3) علیہ السلام، حضرت داود (4) علیہ السلام، حضرت سلیمان (5) علیہ السلام، حضرت ایّوب (6) علیہ السلام، حضرت زکریا (7) علیہ السلام، حضرت یحیٰی(8) علیہ السلام، حضرت عیسیٰ (9) علیہ السلام، حضرت الیاس (10) علیہ السلام، حضرت الیسع (11) علیہ السلام، حضرت یونس (12) علیہ السلام، حضرت ادریس (13) علیہ السلام، حضرت ذوالکفل (14) علیہ السلام، حضرت صالح (15) علیہ السلام، [حضرت عزیر(16) علیہ السلام]، حضور سیّد المرسلین محمد رسول اﷲ (17) صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم۔
1 ۔ (وَإِلٰی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْبًا ) پ۸، الأعراف:۸۵.
2 ۔ (وَلَمَّا جَاءَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا) پ۱۲، ہود: ۷۷.
3 ۔ (وَإِلٰی عَادٍ أَخَاہُمْ ہُوْدًا) پ۸، الأعراف: ۶۵.
4 ۔ (وَقَتَلَ دَاوُوْدُ جَالُوْتَ وَآتَاہُ اللہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ) پ۲، البقرۃ: ۲۵۱.
5 ۔ (وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰـکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا) پ۱، البقرۃ: ۱۰۲.
6 ۔ (وَأَیُّوْبَ)پ۶، النساء: ۱۶۳.
7 ۔ (وَکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا) پ۳، آل عمران:۳۷.
8 ۔ (وَیَحْیٰی) پ۷، الانعام: ۸۵.
9 ۔ (وَآتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَأَیَّدْنَاہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ) پ۱، البقرۃ: ۸۷.
10 ۔ (وَیَحْیٰی وَعِیْسٰی وَإِلْیَاسَ کُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ) پ۷، الأنعام:۸۵.
11 ۔ (وَالْیَسَعَ) پ۷، الانعام:۸۶.
12 ۔ (وَیُوْنُسَ) پ۶، النساء: ۱۶۳.
13 ۔ ( وَإِدْرِیْسَ) پ۱۷، الانبیاء:۸۵.
14 ۔ ( وَذَا الْکِفْلِ) پ۱۷، الانبیاء:۸۵.
15 ۔ ( وَإِلٰی ثَمُوْدَ أَخَاہُمْ صَالِحًا) پ۸، الأعراف:۷۳.
16 ۔ (أَوْ کَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰی قَرْیَۃٍ وَّہِیَ خَاوِیَۃٌٌ ) پ۳، البقرۃ: ۲۵۹. (وَقَالَتِ الْیَہُودُ عُزَیْرُ ) پ۹، التوبۃ: ۳۰.
''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۴، ص۳۴۲۔
17 ۔ (وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُوْلٌ)، پ۴، آل عمران: ۱۴۴.
(مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ) پ۲۲، الأحزاب:۴۰.
(وَآمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ) پ۲۶، محمد:۲. (مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ) پ۲۶، الفتح: ۲۹.
عقیدہ (۲۵): حضرت آدم علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے بے ماں باپ کے مٹی سے پیدا کیا (1) اور اپنا خلیفہ کیا (2) اور تمام اسما ومسمّیات (3) کا علم دیا(4) ، ملائکہ کو حکم دیا کہ ان کو سجدہ کریں، سب نے سجدہ کیا، شیطان (کہ از قسمِ جِن تھا (5)، مگر بہت بڑا عابد زاہد تھا، یہاں تک کہ گروہِ ملائکہ میں اُس کا شمار تھا (6) ) بانکار پیش آیا، ہمیشہ کے لیے مردود ہوا۔ (7)
ـــ 1 ۔ (إِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللہِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہ، مِنْ تُرَابٍ) پ۳، اٰل عمرٰن: ۵۹.
في ''تفسیر ابن کثیر''، تحت الآیۃ: (یقول جل وعلا: (إِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللہِ) في قدرۃ اللہ حیث خلقہ من غیر أب (کَمَثَلِ آدَمَ) حیث خلقہ من غیر أب ولا أم، بل (خَلَقَہ، مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ) ج۲، ص۴۱.
2 ۔ (وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَۃِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الْأَرْضِ خَلِیْفَۃً) پ۱، البقرۃ: ۳۰.
3 ۔ ناموں اور ان سے پکاری جانے والی چیزوں۔
4 ۔ (وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَآءَ کُلَّہَا) پ۱، البقرۃ: ۳۱.
في ''تفسیر روح البیان''، ج۱، ص۱۰۰، تحت الآیۃ: (علّمہ أسماء الأشیاء کلہا أي: ألہمہ فوقع في قلبہ فجری علی لسانہ بما في قلبہ بتسمیۃ الأشیاء من عندہ فعلمہ جمیع أسماء المسمیات بکل اللغات بأن أراہ الأجناس التي خلقہا وعلمہ أنّ ہذہ اسمہ فرس وھذا اسمہ بعیر وھذا اسمہ کذا وعلمہ أحوالہا وما یتعلق بہا من المنافع الدینیۃ والدنیویۃ وعلمہ أسماء الملائکۃ وأسماء ذریتہ کلہم وأسماء الحیوانات والجمادات وصنعۃ کل شيئ، وأسماء المدن والقری وأسماء الطیر والشجر وما یکون وکل نسمۃ یخلقہا إلی یوم القیامۃ وأسماء المطعومات والمشروبات وکل نعیم في الجنۃ وأسماء کل شيء حتی القصعۃ والقصیعۃ وحتی الجنۃ والمحلب ۔ وفي الخبر: علمہ سبعمائۃ ألف لغۃ).
5 ۔ (وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَۃِ اسْجُدُوْا لِآدَمَ فَسَجَدُوْا إِلَّا إِبْلِیْسَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ) پ۱۵، الکہف: ۵۰.
6 ۔ في ''حاشیۃ شیخ زادہ علی البیضاوي''، پ۱۵، الکہف: تحت ہذہ الآیۃ:۵۰: (فإنّہ لما امتنع عن السجود لآدم استکبارًا وافتخارًا بأن أصلہ نار وأصل آدم تراب، والنارعلوي نوراني لطیف فیکون أشرف من التراب الذي ہو سفلي ظلماني کثیف، وأداہ ذلک الکبر إلی أن صار ملعونًا مخلدًا في النار بعد أن کان رئیس الملائکۃ ومقدمہم ومعلمہم وأشدہم اجتہادًا في العبادۃ حتی لم یبق في سبع السموات ولا في سبع الأرضین موضع قدر شبر إلاّ وقد سجد اللعین للہ تعالی علیہ سجدۃ حتی امتلأت من العجب نفسہ حیث لم یر أحدًا مثلہ، فأبی أن یسجد لآدم استکبارًا فقال: ( أَنَا خَیْرٌ مِّنْہ، خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہ، مِنْ طِیْنٍ) ج۵، ص۴۸۶.
7 ۔ (إِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَۃِ إِنِّیْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ طِینٍ فَإِذَا سَوَّیْتُہ، وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِینَ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُوْنَ إِلَّا إِبْلِیْسَ اِسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ قَالَ یَا إِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ اَسْتَکْبَرْتَ أَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ قَالَ أَنَا خَیْرٌ مِّنْہ، خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہ، مِنْ طِیْنٍ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَإِنَّکَ رَجِیْمٌ وَإِنَّ عَلَیْکَ لَعْنَتِیْ إِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ) پ۲۳، البقرۃ: ۷۳.
عقیدہ (۲۶): حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے انسان کا وجود نہ تھا، بلکہ سب انسان اُن ہی کی اولاد ہیں، اسی وجہ سے انسان کو آدمی کہتے ہیں، یعنی اولادِ آدم اور حضرت آدم علیہ السلام کو ابو البشر کہتے ہیں، یعنی سب انسانوں کے باپ۔ (1)
عقیدہ (۲۷): سب میں پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہوئے (2) اور سب میں پہلے رسول جو کُفّار پر بھیجے گئے حضرت نوح علیہ السلام ہیں(3) ،
ـــ 1 ۔ (یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ) پ۴، النساء: ۱۔
في ''روح المعاني''، ج۲، ص۲۸۳، تحت الآیۃ: (والمراد من النفس الواحدۃ آدم علیہ السلام، والذي علیہ الجماعۃ من الفقہاء والمحدثین ومن وافقہم أنہ لیس سوی آدم واحد ۔وہو أبو البشر۔)۔
وفي ''التفسیر الکبیر''، ج۳، ص۴۷۷، تحت الآیۃ: (أجمع المسلمون علی أن المراد بالنفس الواحدۃ ہاہنا ہو آدم علیہ السلام)۔
(وَہُوَ الَّذِیْ أَنْشَأَکُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ) پ۷، الأنعام: ۹۸۔
في ''تفسیر الخازن''، ج۲، ص۴۰، تحت الآیۃ: (یعني: واللہ الذي ابتدأ خلقکم أیہا الناس من آدم علیہ السلام فہو أبو البشر کلہم، وحواء مخلوقۃ منہ عیسی أیضاً؛ لأن ابتداء خلقہ من مریم وہي من بنات آدم فثبت أن جمیع الخلق من آدم علیہ السلام)۔
وفي ''روح البیان''، ج۳، الجزء السابع، ص۷۲، تحت الآیۃ: (من نفس آدم وحدہا فإنہ خلقنا جمیعاً منہ وخلق أمّنا حواء من ضلع من أضلاع آدم فصار کل الناس محدثۃ مخلوقۃ من نفس واحدۃ حتی عیسی فإن ابتداء تکوینہ من مریم التي ہي مخلوقۃ من ماء أبویہا وإنما منّ علینا بھذا؛ لأن الناس إذا رجعوا إلی أصل واحد کانوا أقرب إلی أن یألف بعضھم بعضاً۔ قال أھل الإشارۃ: إن اللہ تعالی کما خلق آدم ابتداء وجعل أولادہ منہ کذلک خلق روح محمد صلی اللہ علیہ وسلم قبل الأرواح کما قال: أول ما خلق اللہ روحي، ثم خلق الأرواح من روحہ فکان آدم أبا البشر وکان محمد صلی اللہ علیہ وسلم أبا الأرواح)۔
(کَانَ مِنَ الْجِنِّ) پ۱۵، الکہف: ۵۰۔
في ''روح المعاني''، ج۸، ص۴۲۲، تحت الآیۃ: (ما کان إبلیس من الملائکۃ طرفۃ عین وإنہ لأصل الجن کما أن آدم علیہ السلام أصل الإنس، وفیہ دلالۃ علی أنہ لم یکن قبلہ جن کما لم یکن قبل آدم علیہ السلام إنس۔۔۔ إلخ)۔
2 ۔ عن أبي ذر قال قلت: یا رسول اللہ! أيّ الأنبیاء کان أوّل؟ قال: ((آدم)).
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۱۶۰۲، ج۸، ص۱۳۰.
وفي ''العقائد النسفیۃ''، ص۱۳۶: (أوّل الأنبیاء آدم علیہ السلام).
3 ۔ في ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب أدنی أھل الجنۃ منزلۃ فیہا، الحدیث: ۱۹۳، ص۱۲۲: ((ولکن ائتوا نوحا، أوّل رسول بعثہ اللہ)).
اُنھوں نے ساڑھے نو سو برس ہدایت فرمائی(1) ، اُن کے زمانہ کے کفّار بہت سخت تھے، ہر قسم کی تکلیفیں پہنچاتے، استہزا کرتے، اتنے عرصہ میں گنتی کے لوگ مسلمان ہوئے، باقیوں کو جب ملاحظہ فرمایا کہ ہرگز اصلاح پذیر نہیں، ہٹ دھرمی اور کُفر سے باز نہ آئیں گے، مجبور ہو کر اپنے رب کے حضور اُن کے ھلاک کی دُعا کی، طوفان آیا اور ساری زمین ڈوب گئی، صرف وہ گنتی کے مسلمان اور ہر جانور کا ایک ایک جوڑا جو کشتی میں لے لیا گیا تھا، بچ گئے۔(2)
عقیدہ (۲۸): انبیا کی کوئی تعداد معیّن کرنا جاءز نہیں، کہ خبریں اِس باب میں مختلف ہیں اور تعداد معیّن پر ایمان رکھنے میں نبی کو نبوّت سے خارج ماننے، یا غیرِ نبی کو نبی جاننے کا احتمال ہے(3) اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں، لہٰذا یہ اعتقاد چاہیے کہ اﷲ (عزوجل) کے ہر نبی پر ھمارا ایمان ہے۔
عقیدہ (۲۹): نبیوں کے مختلف درجے ہیں، بعض کو بعض پر فضیلت ہے اور سب میں افضل ھمارے آقا و مولیٰ سیّدالمرسلین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں(4)، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بعد سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کا ہے،
ـــ وفي ''النبراس''، ص۲۷۵: (إن قلت: جاء في الحدیث أنّ نوحاً علیہ السلام أوّل رسول بعثہ اللہ کما في ''صحیح مسلم''، أجیب أي: بعثہ اللہ إلی الکفار بخلاف آدم وشیث فإنّھما أرسلا إلی المؤمنین لتعلیم الشرائع).
1 ۔ (وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوْحًا إِلٰی قَوْمِہٖ فَلَبِثَ فِیْہِمْ أَلْفَ سَنَۃٍ إِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا) پ۲۰، العنکبوت: ۱۴.
2 ۔ انظر التفصیل في القرآن: پ۸، الأعراف: ۵۹۔۷۲. پ۱۱، یونس:۷۱۔۷۳.
پ۱۲، ہود: ۲۵۔۴۷. پ۱۸، المؤمنون: ۲۳۔۳۰. پ۱۹، الشعراء: ۱۰۵۔۱۲۲.
پ۲۰، العنکبوت: ۱۴۔۱۵. پ۲۹، نوح: ۱۔۲۸.
3 ۔ في ''المسامرۃ بشرح المسایرۃ''، ص۲۲۵: (أمّا المبعوثون، فالإیمان بہم واجب، من ثبت شرعاً تعیینہ منھم وجب الإیمان بعینہ، ومن لم یثبت تعیینہ کفی الإیمان بہ إجمالاً (ولا ینبغي في الإیمان بالأنبیاء القطع بحصرہم في عدد) إذ لم یرد بحصرہم دلیل قطعي (لأنّ) الحدیث (الوارد في ذلک) أي في عددہم (خبر واحد) لم یقترن بما یفید القطع (فإن وجدت فیہ الشروط) المعتبرۃ للحکم بصحتہ (وجب ظن مقتضاہ، مع تجویزنقیضہ) بَدَلَہ (وإلا) أي: وإن لم یصح (فلا) یجب ظن مقتضاہ، وعلی کل من التقدیرین (فیؤدي) أي: فقد یؤدي حصرہم في العدد الذي لا قطع بہ (إلی أن یعتبر فیہم من لیس منھم) بتقدیر کون عددہم في نفس الأمر أقل من الوارد (أو یخرج) عنھم (من ہو منھم) بتقدیر أن یکون عددہم في نفس الأمر أزید من الوارد).
وفي ''منح الروض الأزہر''، ص۱۲. وفي ''شرح المقاصد''، فصل في النبوۃ، ج۳، ص۳۱۷.
و''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۳۹۔۱۴۰.
4 ۔ (وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّیْنَ عَلٰی بَعْضٍ) پ۱۵، الإسراء: ۵۵.
ــــ
ـــ (تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ مِّنْہُمْ مَنْ کَلَّمَ اللہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ) پ۳، البقرۃ: ۲۵۳.
في ''التفسیر الکبیر''، ج۲، ص۵۲۱۔۵۲۵، تحت الآیۃ: (أجمعت الأمۃ علی أنّ بعض الأنبیاء أفضل من بعض، وعلی أنّ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم أفضل من الکل، ویدل علیہ وجوہ. ومنھا: قولہ تعالی: (وَمَا أَرْسَلْنٰـکَ إِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ) پ۱۷، الأنبیاء: ۱۰۷. فلما کان رحمۃ لکل العالمین، لزم أن یکون أفضل من کل العالمین. ومنھا: أنّ معجزۃ رسولنا صلی اللہ علیہ وسلم أفضل من معجزات سائر الأنبیاء فوجب أن یکون رسولنا أفضل من سائر الأنبیاء. ومنھا: أنّ دین محمد علیہ السلام أفضل الأدیان، فیلزم أن یکون محمد صلی اللہ علیہ وسلم أفضل الأنبیاء، بیان الأول: أنّہ تعالی جعل الإسلام ناسخاً لسائر الأدیان، والناسخ یجب أن یکون أفضل لقولہ علیہ السلام: ((من سن سنۃ حسنۃ فلہ أجرہا وأجر من عمل بہا إلی یوم القیامۃ)) فلما کان ھذا الدین أفضل وأکثر ثواباً، کان واضعہ أکثر ثواباً من واضعي سائرالأدیان، فیلزم أن یکون محمد علیہ السلام أفضل من سائر الأنبیائ. ومنھا: (قولہ علیہ السلام: (( آدم ومن دونہ تحت لوائي یوم القیام)) وذلک یدل علی أنّہ أفضل من آدم ومن کل أولادہ، وقال علیہ السلام: ((أنا سید ولد آدم ولا فخر)) وقال علیہ السلام: ((لا یدخل الجنۃ أحد من النبیین حتی أدخلہا أنا، ولا یدخلہا أحد من الأمم حتی تدخلہا أمتي)) وروی أنس قال صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنا أول الناس خروجاً إذا بعثوا، وأنا خطیبہم إذا وفدوا، وأنا مبشرہم إذا أیسوا، لواء الحمد بیدي، وأنا أکرم ولد آدم علی ربي ولا فخر)) وعن ابن عباس قال: جلس ناس من الصحابۃ یتذاکرون فسمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیثہم فقال بعضھم: عجباً إنّ اللہ اتخذ إبراہیم خلیلاً، وقال آخر: ماذا بأعجب من کلام موسی کلمہ تکلیماً، وقال آخر: فعیسٰی کلمۃ اللہ وروحہ، وقال آخر: آدم اصطفاہ اللہ فخرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقال: ((قد سمعت کلامکم وحجّتکم أن إبراہیم خلیل اللہ وہو کذلک، وموسی نجي اللہ وہوکذلک، وعیسٰی روح اللہ وہوکذلک، وآدم اصطفاہ اللہ تعالی وہوکذلک، ألا! وأنا حبیب اللہ ولا فخر، وأنا حامل لواء الحمد یوم القیامۃ ولا فخر، وأنا أول شافع وأنا أول مشفع یوم القیامۃ ولا فخر، وأنا أول من یحرک حلقۃ الجنۃ فیفتح لي فأدخلہا ومعي فقراء المؤمنین ولا فخر، وأنا أکرم الأولین والآخرین ولا فخر)). ومنھا: أنّ اللہ تعالی کلما نادی نبیاً في القرآن ناداہ باسمہ (یَا آدَمُ اسْکُنْ)پ۱، البقرۃ: ۳۵. (وَنَادَیْنٰہُ أَنْ یّٰإِبْرَاہِیْمُ)پ۲۳، الصافات: ۱۰۴.(یَا مُوْسٰی إِنِّیْ أَنَا رَبُّکَ) پ۱۶، طٰہٰ: ۱۱،۱۲. وأمّا النبي علیہ السلام فإنّہ ناداہ بقولہ:(یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ) پ۲۲، الأحزاب: ۴۵. (یَا أَیُّہَا الرَّسُوْلُ) پ۶، المائدۃ: ۶۷. وذلک یفید الفضل. ملخصاً.
في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۲۳: (أنّہ صلی اللہ علیہ وسلم فاق علی کل الأنبیاء والملائکۃ والإنس علی الإطلاق في الذات والصفات والأفعال والأقوال والأحوال، بلا استغراب في ذلک لما حواہ من الکمال، وانفرد بہ من الجلال والجمال (إلی أن قال) فالواجب علی کل مؤمن أن یعتقد أن نبینا محمدا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سید العالمین، وأفضل الخلائق أجمعین، فمن اعتقد خلاف ھذا فہو عاص، مبتدع، ضال).
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کا(1)، اِن حضرات کو مرسلین اُولو العزم(2) کہتے ہیں(3) اور یہ پانچوں حضرات باقی تمام انبیا و مرسلینِ انس و مَلَک و جن و جمیع مخلوقاتِ الٰہی سے افضل ہیں۔ جس طرح حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تمام رسولوں کے سردار اور سب سے افضل ہیں، بلا تشبیہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے صدقہ میں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی اُمت تمام اُمتوں سے افضل۔(4)
ـــ تنبیہ: قال الإمام أحمد رضا في ''المعتمد المستند''، ص۱۲۴: (والحق أنّ تفضیل نبینا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علی العالمین جمیعا مقطوع بہ مجمع علیہ، بل کاد أن یکون من ضروریات الدین، فإنّی لا أعلم یجھلہ أحد من المسلمین فاعرف وتثبت).وانظر للتفصیل: ''تجلي الیقین بأنّ نبینا سید المرسلین'' للإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن، في ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰.
1 ۔ في''تکمیل الإیمان''، ص۱۲۴۔۱۲۵: (أفضل الأنبیاء محمد ، چنانچہ فرمودہ ((أنا سید ولد آدم ولا فخر)) در عرف بمعنی نوع انسان آبد تا آدم، نیز در مفہوم آن داخل بود، وحدیث ((آدم ومن دونہ تحت لوائي)) در مقصود ظاہرتر وصریح تر است، فضیلت بعد ازاں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام راست، وبعد ازوي موسی وعیسی ونوح علیہم السلام راست، وایں پنجتن اولوالعزم اند کہ بزرگترین وفاضلترین رسل اند، وصبر ومجاہدہ ایشاں در راہ حق ازھمہ بیشتر است) ملتقطاً.
یعنی: نبیوں میں سب سے افضل سید عالم ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں چنانچہ آپ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:''میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں اور کوئی فخر نہیں''۔ اولاد آدم عرف میں نوع انسانی کے لئے جس میں سیدنا آدم علیہ السلام بھی داخل ہیں بولا جاتا ہے، د وسری حدیث میں ہے کہ: ''آدم اور ان کے سوا سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے''۔ یہ حدیث آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فضیلتِ مطلقہ کے مقصد میں ظاہر تر اور بہت صریح ہے۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم)کے بعد صاحب ِفضیلت حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) ہیں، پھر حضرت موسی پھر عیسی اور نوح (علیہم السلام) ہیں اور یہ پانچوں حضرات اُولوا العزم ہیں جو سب رسولوں اور نبیوں میں افضل اور بزرگ تر ہیں، راہ حق میں ان کا صبر و مجاہدہ سب سے زیادہ ہے۔
2 ۔ بلند وبا لا عزت و عظمت اور حوصلہ والے۔
3 ۔ (فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ) پ۲۶، الأحقاف: ۳۵.
في ''تفسیر الطبري''، تحت ہذہ الآیۃ: عن عطاء الخُراسانيّ، أنّہ قال:(فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ أُولُوالْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ) نوح وإبراہیم وموسی وعیسی ومحمد صلی اللہ علیہم وسلم، الحدیث: ۳۱۳۲۹، ج۱۱، ص۳۰۳.
وفي ''الدر المنثور''، تحت ہذہ الآیۃ: عن ابن عباس قال: (أولوا العزم من الرسل النبي صلی اللہ علیہ وسلم ونوح وإبراہیم وموسی وعیسی)، ج۷، ص۴۵۴.
4 ۔ (کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ)، پ۴، اٰلِ عمرٰن:۱۱۰.
عقیدہ (۳۰): تمام انبیا، اﷲ عزوجل کے حضور عظیم وجاہت و عزت والے ہیں(1)، ۔۔۔۔
ـــ في ''التفسیر الکبیر''، البقرۃ: تحت الآیۃ: ۲۵۳: (أمۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم أفضل الأمم، فوجب أن یکون محمد أفضل الأنبیاء ، بیان الأوّل قولہ تعالی: (کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) پ۴، اٰلِ عمرٰن:۱۱۰. بیان الثاني أنّ ہذہ الأمۃ إنّما نالت ہذہ الفضیلۃ لمتابعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، قال تعالی: (قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ) پ۳، اٰلِ عمرٰن: ۳۱. وفضیلۃ التابع توجب فضیلۃ المتبوع، وأیضاً أنّ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم أکثر ثواباً؛ لأنّہ مبعوث إلی الجن والإنس، فوجب أن یکون ثوابہ أکثر، لأنّ لکثرۃ المستجیبین أثراً في علو شأن المتبوع، ج۲، ص۵۲۳.
عن معمر عن بہز بن حکیم عن أبیہ عن جدہ أنّہ سمع النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول في قولہ تعالی: (کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) قال: ((أنتم تتمون سبعین أمۃ أنتم خیرہا وأکرمہا علی اللہ)). ''سنن الترمذي''، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ آل عمران، الحدیث: ۳۰۱۲، ج۵، ص۷.
قال: ثم إنّ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم أثنی علی ربہ، فقال: ((کلکم أثنی علی ربہ، وأنا مثن علی ربي، فقال: الحمد للہ الذي أرسلني رحمۃ للعالمین، وکافۃ للناس بشیراً ونذیراً، وأنزل علی الفرقان فیہ تبیان کل شیء ، وجعل أمتي خیر أمۃ أخرجت للناس، وجعل أمتي وسطاً، وجعل أمتي ہم الأولون وہم الآخرون، وشرح لي صدري، ووضع عني وزري ورفع لي ذکري، وجعلني فاتحا خاتما))، قال إبراہیم: بھذا فضلکم محمد. ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱۴، ص۶۶۵، وج۱۵، ص۶۳۸۔
وانظر للتفصیل ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۱۵۳.
1 ۔(یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ آذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّأَہُ اللہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیْہًا).پ۲۲، الأحزاب: ۶۹. في ''تفسیر ابن کثیر''، ج۶، ص۴۳۰، تحت ہذہ الآیۃ: (وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیْہًا) أی: لہ وجاہۃ وجاہ عند ربہ، عز وجل. قال الحسن البصری:کان مستجابَ الدعوۃ عند اللہ، وقال غیرہ من السلف: لم یسأل اللہ شیأاً إلاّ أعطاہ، ولکن منع الرؤیۃ لما یشاء اللہ، عز وجل. وقال بعضھم: من وجاہتہ العظیمۃ عند اللہ أنّہ شفع في أخیہ ہارون أن یرسلہ اللہ معہ، فأجاب اللہ سؤالہ، فقال:(وَوَہَبْنَا لَہٗ مِنْ رَّحْمَتِنَا أَخَاہُ ہَارُوْنَ نَبِیًّا).
(إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِکَۃُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ)پ۳، آل عمران:۴۵. في''تفسیر الطبري''، ج۳، ص۲۷۰، تحت الآیۃ: (قال أبوجعفر: یعني: بقولہ"وَجِیْہًا"، ذا وَجْہٍ ومنزلۃ عالیۃ عند اللہ، وشرفٍ وکرامۃ).
في''الجامع الصغیر''، ص۲۸۹، الحدیث:۴۶۹۸: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((سلّم علي ملک ثم قال لي: لم أزل أستأذن ربي عزوجل في لقائک حتی کان ھذا أوان أذن لي، وإنّي أبشرک أنّہ لیس أحدٌ أکرم علی اللہ منک))۔
ان کو اﷲ تعالیٰ کے نزدیک معاذاﷲ چوہڑے چمار کی مثل کہنا(1) کُھلی گستاخی اور کلمہ کفر ہے۔
عقیدہ (۳۱): نبی کے دعوی نبوّت میں سچے ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ نبی اپنے صدق کا علانیہ دعویٰ فرماکر محالاتِ عادیہ کے ظاہر کرنے کا ذمّہ لیتا اور منکروں کو اُس کے مثل کی طرف بلاتا ہے، اﷲ عزوجل اُس کے دعویٰ کے مطابق امرِ محالِ عادی ظاہر فرما دیتا ہے اور منکرین سب عاجز رہتے ہیں اسی کو معجزہ کہتے ہیں (2)، ۔
في ''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۲۶۷۵، ج۳، ص۵۷: [وفیہ] قال: ((یا فاطمۃ ونحن أھل بیت قد أعطانا اللہ سبع خصال لم یعط أحد قبلنا، ولا یعطی أحد بعدنا، أنا خاتم النبیین، وأکرم النبیین علی اللہ۔۔۔ إلخ))۔
في ''الخصائص الکبری''، ج۲، ص۳۴۰- ۳۴۱: عن ابن مسعود قال: ((إنّ محمدا صلی اللہ علیہ وسلم أکرم الخلق علی اللہ یوم القیامۃ)). وعن عبد اللہ بن سلام قال: ((إنّ أکرم خلیقۃ اللہ علی اللہ أبو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم)).
''فتاوی رضویہ'' میں ''فتاوی امام سراج الدین '' کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے: (ا للہ تعالیٰ نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے فرمایا: ''قد مننتُ علیک بسبعۃ أشیاء أولہا أني لم أخلق في السموات والأرض أکرم علي منک'')۔
''فتاوی سراج الدین البلقیني''، شعر۱، ص۱۲۱، بحوالہ ''فتاوی رضویہ''، ج۳۰، ص۱۹۵۔
1 ۔ جیسا کہ ''تقویۃ الإیمان'' میں ہے: ''اور یہ یقین جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے''۔
''تقویۃ الإیمان مع تذکیر الإخوان''، ص۲۵، ( مطبوعہ میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی).
''تقویۃ الایمان ''کے مصنف کا یہ کہنا کھلی گستاخی اور کلمہ کفر ہے؛ کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں ادنی گستاخی بھی کفر ہے جیسا کہ مفسر القرآن صاحب ''روح البیان '' علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''مختار یہ ہے کہ بے شک مسلمانوں میں سے وہ شخص جس سے ارادۃً و قصداً ایسی چیز ظاہر ہوئی جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی تخفیف (یعنی بے ادبی) پر دلالت کرے ایسے شخص کا قتل کرنا واجب ہے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی کہ وہ قتل سے بچ جائے اگرچہ وہ کلمہ شہادت پڑھے اور رجوع و توبہ کرے.... اور یہ یقین کر کہ بے شک اجماع امت ہے اس بات پر کہ ھمارے نبی علیہ الصلاۃ والسلام اور انبیاء کرام علیہم الصلاۃو السلام میں سے جس نبی علیہ السلام کی بھی تخفیف ہو کفر ہے عام ازیں کہ تخفیف کرنے والا تخفیف کو حلال سمجھ کر کرے یا نبی کی عزت کا معتقد ہو کر کرے بہرحال کفر ہے اس مسئلہ میں علماء کرام کا کوئی اختلاف نہیں، سب (گالی ) کا ارادہ ہو یا نہ ہو اس لئے کہ کوئی بھی کفر میں بوجہ جہالت اور بوجہ دعوی لغزش ِ زبانی کے معذور نہ سمجھا جائے گا جب کہ اس کی عقلِ فطرت صحیح وسالم ہو''۔
''تفسیر روح البیان''، ج۳، ص۳۹۴، پ۱۰، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲.
وفي ''الشفا''، الباب الأوّل في بیان ما ہوحق صلی اللہ علیہ وسلم سب أونقص من تعریض ونصّ، ج۲، ص۲۱۴.
2 ۔ في''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث النبوات، ص۱۳۵: (وأیدہم) أي: الأنبیاء (بالمعجزات الناقضات للعادات) جمع معجزۃ وہي أمر یظہر بخلاف العادۃ علی ید مدعي النبوۃ عند تحدي المنکرین علی وجہ یعجز المنکرین عن الإتیان بمثلہ).
و''المسامرۃ بشرح المسایرۃ''، ص۲۴۰۔
جیسے حضرت صالح علیہ السلام کا ناقہ(1)، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ ہو جانا(2) اور یدِ بیضا(3) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مُردوں کو جِلا دینا اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر دینا (4) اور ھمارے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے معجزے تو بہت ہیں۔(5)
عقیدہ (۳۲): جو شخص نبی نہ ہو اور نبوّت کا دعویٰ کرے، وہ دعویٰ کرکے کوئی محالِ عادی اپنے دعوے کے مطابق ظاہر نہیں کرسکتا، ورنہ سچے جھوٹے میں فرق نہ رہے گا۔(6)
1 ۔ (وَإِلٰی ثَمُوْدَ أَخَاہُمْ صَالِحًا قَالَ ٰیقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلٰہٍ غَیْرُہ، قَدْ جَاءَ تْکُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ ہَذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ آیَۃً فَذَرُوْہَا تَأْکُلْ فِیْ أَرْضِ اللہِ وَلَا تَمَسُّوْہَا بِسُوْءٍ فَیَأْخُذَکُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ) پ۸، الأعراف:۷۳.
2 ۔ (قَالَ أَلْقِہَا یَا مُوْسٰی فَأَلْقَاہَا فَإِذَا ہِیَ حَیَّۃٌ تَسْعٰی) پ۱۶، طٰہٰ: ۲۰.
3 ۔ یعنی روشن اورچمکدارہاتھ۔
(وَاضْمُمْ یَدَکَ إِلٰی جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیْضَاءَ مِنْ غَیْرِ سُوْءٍ آیَۃً أُخْرٰی)پ۱۶، طٰہٰ: ۲۲.
4 ۔ (وَأُبْرِیئُ الْأَکْمَہَ وَالْأَبْرَصَ وَأُحْیِی الْمَوْتٰی بِإِذْنِ اللہِ) پ۳، اٰلِ عمرٰن: ۴۹.
5 ۔ في ''الشفا''، ج۱، ص۲۵۲۔۲۵۳: (اعلم أنّ معنی تسمیتنا ما جاء ت بہ الأنبیاء معجزۃ ہوأنّ الخلق عجزوا عن الإتیان بمثلہا وہي علی ضربین ضرب: ہو من نوع قدرۃ البشر فعجزوا عنہ فتعجیزہم عنہ فعل للہ دل علی صدق نبیہ کصرفہم عن تمني الموت وتعجیزہم عن الإتیان بمثل القرآن علی رأي بعضھم ونحوہ، وضرب: ہو خارج عن قدرتہم فلم یقدروا علی الإتیان بمثلہ کإحیاء الموتی وقلب العصا حیۃ وإخراج ناقۃ من صخرۃ وکلام شجرۃ ونبع الماء من الأصابع وانشقاق القمر مما لا یمکن أن یفعلہ أحد إلاّ اللہ، فیکون ذلک علی ید النبي صلی اللہ علیہ وسلم من فعل اللہ تعالی وتحدیہ من یکذبہ أن یأتي بمثلہ تعجیز لہ. واعلم أنّ المعجزات التي ظہرت علی ید نبینا صلی اللہ علیہ وسلم ودلائل نبوتہ وبراہین صدقہ من ھذین النوعین معًا وہوأکثر الرسل معجزۃ وأبہرہم آیۃ وأظہرہم برہانا،وہي فيکثرتہا لا یحیط بہا ضبط، فإنّ واحدا منھا وہو القرآن لا یُحصی عدد معجزاتہ بألف ولا ألفین ولا أکثر لأنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قد تحدی بسورۃ منہ فعجز عنہا).
وفي ''التفسیر الکبیر''، ج۱۱، ص۳۱۵، پ۳۰، الکوثر، تحت الآیۃ ۱: (ومعجزاتہ أکثر من أن تحصی وتعد).
6 ۔ في ''النبراس''، أقسام الخوارق سبعۃ، ص۲۷۲: (أجمع المحققون علی أنّ ظہور الخارق عن المتنبي وہو الکاذب في دعوی النبوۃ محال؛ لأنّ دلالۃ المعجزۃ علی الصدق قطعیۃ وقیل: لوجاز لزم عجز اللہ سبحانہ عن تصدیق أنبیائہ، وقالوا: قد دل الاستقرار علی عدم ظہورہ). و''المعتقد المنتقد''، ص۱۱۳.
فائدہ: نبی سے جو بات خلافِ عادت قبلِ نبوّت ظاہر ہو، اُس کو اِرہاص کہتے ہیں اور ولی سے جو ایسی بات صادر ہو، اس کو کرامت کہتے ہیں اور عام مومنین سے جو صادر ہو، اُسے معونت کہتے ہیں اور بیباک فجّار یا کفّار سے جو اُن کے موافق ظاہر ہو، اُس کو اِستِدراج کہتے ہیں اور اُن کے خلاف ظاہر ہو تو اِہانت ہے۔(1)
عقیدہ (۳۳): انبیا علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں اُسی طرح بحیاتِ حقیقی زندہ ہیں ، جیسے دنیا میں تھے، کھاتے پیتے ہیں(2)، جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں، تصدیقِ وعدہ الٰہیہ کے لیے ایک آن کو اُن پر موت طاری ہوئی، پھر بدستور زندہ ہوگئے ، اُن کی حیات، حیاتِ شہدا سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے (3)، ۔۔۔
ـــ 1 ۔ في ''النبراس''، أقسام الخوارق سبعۃ، ص۲۷۲: (أقسام الخوارق سبعۃ:أحدہا: المعجزۃ من الأنبیائ. ثانیہا: الکرامۃ
للأولیائ. ثالثہا: المعونۃ لعوام المؤمنین ممن لیس فاسقاً ولا ولیاً. رابعہا: الإرہاص للنبي قبل أن یبعث کتسلیم الأحجار علی النبي صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم، وأدرجہ بعضھم في الکرامۃ و بعضھم في المعجزۃ مجازاً. خامسہا: الاستدراج للکافر والفاسق المجاہر علی وفق غرضہ سمّي بہ لأنّہ یوصلہ بالتدریج إلی النار. سادسہا: الإہانۃ للکافر والفاسق علی خلاف غرضہ کما ظہر عن مسیلمۃ الکذاب إذ تمضمض في ماء فصار ملحاً و مس عین الأعور فصار أعمی. سابعہا: السحر لنفس شریرۃ تستعمل أعمالاً مخصوصۃ بإعانۃ الشیاطین).
2 ۔ عن أبي الدرداء قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ اللہ حرم علی الأرض أن تأکل أجساد الأنبیاء علیہم السلام فنبي اللہ حي یرزق)). ''سنن ابن ماجہ''، کتاب الجنائز، ذکر وفاتہ ودفنہ، الحدیث: ۱۶۳۷، ج۲، ص۲۹۱۔
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((الأنبیاء أحیاء في قبورہم یصلون)). ''مسند أبي یعلی''، الحدیث: ۳۴۱۲، ج۳، ص۲۱۶.
قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ الأنبیاء لا یموتون وإنّہم یصلون ویحجون في قبورہم وأنّہم أحیائ)).
''فیوض الحرمین'' للشاہ ولي اللہ المحدث الدھلوي، ص۲۸.
3 ۔ في ''روح المعاني''، الأحزاب، ج۱۱، الجزء الثاني، ص۵۲۔۵۳، تحت الآیۃ: ۴۰: (أنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم حي بجسدہ وروحہ، وأنّہ یتصرف ویسیر حیث شاء في أقطار الأرض وفي الملکوت). وذہب ''أي: الإمام جلال الدین السیوطي'' إلی نحو ھذا في سائر الأنبیاء علیہم السلام فقال: إنّہم أحیاء، ردت إلیہم أرواحہم بعد ما قبضوا وأذن لہم في الخروج من قبورہم والتصرف في الملکوت العلوي والسفلي) ملتقطًا.
في ''تکمیل الإیمان''، ص۱۲۲: (خود انبیاء راموت نبود وایشاں حی وباقی اندوموت ھماں است کہ یکبار چشیدہ اند، بعد از اں ارواح بابدان ایشاں اعادت کنند وحقیقت حیات بخشند چنانچہ در دنیا بودند کامل تر از حیات شہدا کہ آن معنوی است).
فلھذا شہید کا ترکہ تقسیم ہوگا، اُس کی بی بی بعدِ عدت نکاح کرسکتی ہے(1)،
ـــ یعنی : اور خود انبیاء علیہم السلام کو بھی (دائمی) موت نہیں وہ زندہ اور باقی ہیں، ان کو موت صرف اتنی ہے کہ ایک بار ایک آن کے لئے موت کا ذائقہ چکھتے ہیں پھر ان کی ارواح مقدسہ کو انہی کے جسموں میں لوٹا دیا جاتا ہے، اور ویسی ہی حیات حقیقی عطا فرما دی جاتی ہے جیسے کہ وہ دنیا میں تھے ان کی حیات شہداء کی حیات سے زیادہ کامل ہے کیونکہ شہداء کی حیات معنوی ہے۔
قال الإمام الأجل جلال الدین السیوطي في ''الحاوي للفتاوی'': فہذہ الأخبار دالۃ علی حیاۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم وسائر الأنبیائ، وقد قال تعالی في الشہدائ: (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ) والأنبیاء أولی بذلک فہم أجل وأعظم وما نبي إلاّ وقد جمع مع النبوۃ وصف الشہادۃ فیدخلون في عموم لفظ الآیۃ. وأخرج أحمد وأبو یعلی والطبراني والحاکم في ''المستدرک'' والبیہقي في ''دلائل النبوۃ'' عن ابن مسعود قال: ((لأن أحلف تسعًا: إنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتل قتلا أحب إلي من أن أحلف واحدۃ إنّہ لم یقتل، وذلک أنّ اللہ عزوجل اتخذہ نبیا واتخذہ شہیدا)). (''المستدرک'' للحاکم، کتاب المغازي و السرایا، الحدیث: ۴۴۵۰، ج۳، ص۶۰۶)۔
وأخرج البخاري والبیہقي عن عائشۃ قالت:کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول في مرضہ الذي توفي فیہ: ((لم أزل أجد ألم الطعام الذي أکلت بخیبر، فھذا أوان انقطع أبہري من ذلک السم))، (''دلائل النبوۃ''، ص۱۷۲، ج۷)،
فثبت کونہ صلی اللہ علیہ وسلم حیاً في قبرہ بنص القرآن، إمّا من عموم اللفظ وإما من مفہوم الموافقۃ، قال البیہقي في کتاب الاعتقاد: (الأنبیاء بعد ما قبضوا ردت إلیہم أرواحہم، فہم أحیاء عند ربہم کالشہدائ)، وقال القرطبي في التذکرۃ: (الموت لیس بعدم محض وإنما ہو انتقال من حال إلی حال، ویدل علی ذلک أن الشہداء بعد قتلہم وموتہم أحیاء یرزقون فرحین مستبشرین، وہذہ صفۃ الأحیاء في الدنیا، وإذا کان ھذا في الشہداء فالأنبیاء أحق بذلک وأولی، وقد صح أنّ الأرض لا تأکل أجساد الأنبیائ). ''الحاوي للفتاوی''، کتاب البعث، أنباء الأذکیاء بحیاۃ الأنبیائ، ج۲، ص۱۷۹۔۱۸۰.
وقد ثبت أنّ نبینا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو سید الشہدائ، وانظر لتفصیل ہذہ المسألۃ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۷۶۴، ج۱۵، ص۶۱۳، ۶۲۴، و ج۲۹، ص۱۱۰.
1 ۔ في''البدائع والصنائع''، کتاب الصلاۃ، فصل في الشہید، ج۲، ص۷۴: (فالعبد وإن جل قدرہ لا یستغني عن الدعاء ألا تری أنّہم صلوا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ولا شک أنّ درجتہ کانت فوق درجۃ الشہداء وإنما وصفہم بالحیاۃ في حق أحکام الآخرۃ ألا تری إلی قولہ تعالی ( بَلْ أَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ)، فأما في حق أحکام الدنیا فالشہید میت یقسم مالہ، وتنکح امرأتہ بعد انقضاء العدۃ، ووجوب الصلاۃ علیہ من أحکام الدنیا فکان میتاً فیہ فیصلی علیہ واللہ أعلم بالصواب وإلیہ المرجع والمآب .
بخلاف انبیا کے، کہ وہاں یہ جاءز نہیں۔(1) یہاں تک جو عقائد بیان ہوئے، اُن میں تمام انبیا علیہم السلام شریک ہیں، اب بعض وہ اُمور جو نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خصائص میں ہیں، بیان کیے جاتے ہیں۔
ـــ 1 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّا معشرالأنبیاء لا نورِّث، ما ترکتُ بعد مؤونۃ عاملي ونفقۃ نسائي صدقۃ)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۹۹۷۹، ج۳، ص۴۹۰. وعن أبي الدردائ، سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ العلماء ورثۃ الأنبیائ، إنّ الأنبیاء لم یورِّثوا دیناراً ولادرھماً، إنّما ورَّثوا العلم، فمن أخذہ أخذ بحظِّ وافر)). ''سنن ابن ماجہ''، کتاب السنۃ، باب فضل العلماء... إلخ، الحدیث: ۲۲۳، ج۱، ص۱۴۶.
وفي ''الخصائص الکبری''، ج۲، ص۴۳۷: (قد ذکر في الحکمۃ في کون الأنبیاء لایورثون أوجہ:
منھا: أن لایتمنی قریبہم موتہم فیھلک بذلک.
ومنھا: أن لا یظن بہم الرغبۃ في الدنیا وجمعہا لوراثہم.
ومنھا: أنّہم أحیاء والحي لایورث، ولھذا ذہب إمام الحرمین إلی أنّ مالہ باق علی ملکہ ینفق منہ علی أھلہ کما کان علیہ السلام ینفقہ في حیاتہ لأنّہ حي. ولذلک کان الصدیق ینفق منہ علی أھلہ وخدمہ ویصرفہ فیما کان یصرفہ في حیاتہ.
(وَمَا کَانَ لَکُمْ أَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللہِ وَلَا أَنْ تَنْکِحُوْا أَزْوَاجَہ، مِنْ بَعْدِہٖ أَبَدًا إِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللہِ عَظِیْمًا) پ۲۲، الأحزاب: ۵۳.
وفي ''تفسیر الطبري''، الحدیث: ۲۸۶۲۲، ج۱۰، ص۳۲۶، تحت ہذہ الآیۃ: (یقول: وما ینبغي لکم أن تنکحوا أزواجہ من بعدہ أبدًا؛ لأنّہن أمہاتکم، ولا یحل للرجل أن یتزوّج أمہ. وذکر أنّ ذلک نزل في رجل کان یدخل قبل الحجاب، قال: لئن مات محمد لأتزوّجن امرأۃ من نسائہ سماہا، فأنزل اللہ تبارک وتعالی في ذلک (وَمَا کَانَ لَکُمْ أَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللہِ وَلَا أَنْ تَنْکِحُوْا أَزْوَاجَہ، مِنْ بَعْدِہٖ أَبَدًا)).
وعن حذیفۃ رضي اللہ عنہ أنہ قال لامرأتہ: ((إن شئت أن تکوني زوجتي في الجنۃ فلا تزوجي بعدي، فإنّ المرأۃ في الجنۃ لآخر أزواجہا في الدنیا، فلذلک حرّم اللہ علی أزواج النبي صلی اللہ علیہ وسلم أن ینکحن بعدہ؛ لأنّہنّ أزواجہ في الجنۃ)).
''السنن الکبری'' للبیہقي، کتاب النکاح، باب ماخص بہ من... إلخ، الحدیث: ۱۳۴۲۱، ج۷، ص۱۱۱.
في ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ص۴۰۳۔۴۰۷ : (الأنبیاء صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہم طیبون طاھرون أحیاء وأمواتاً بل لا موت لہم إلّا آنیاً تصدیقاً للوعد ثم ہم أحیاء أبداً بحیاۃ حقیقۃ دنیاویۃ روحانیۃ جسمانیۃ کما ہو معتمد أھل السنۃ والجماعۃ ولذا لا یورثون ویمتنع تزوج نسائہم صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہم بخلاف الشھداء الذین نص الکتاب العزیز إنھم أحیاء ونھی أن یقال لہم أموات۔۔۔ إلخ)، ملتقطاً۔
عقیدہ (۳۴): اور انبیا کی بعثت خاص کسی ایک قوم کی طرف ہوئی (1)، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تمام مخلوق انسان وجن، بلکہ ملائکہ، حیوانات، جمادات، سب کی طرف مبعوث ہوئے (2)، ۔۔۔
ـــ 1 ۔ ((وکان النبي یبعث إلی قومہ خاصۃ وبعثت إلی الناس عامۃ)).
''صحیح البخاري''، کتاب التیمم، الحدیث: ۳۳۵، ج۱، ص۱۳۷.
2 ۔ (وَمَا اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ کَافَّۃً لِّلنَّاسِ) پ۲۲، سبا: ۲۸.
(قُلْ یَا اَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا) پ۹، الأعراف: ۱۵۸.
((وأرسلت إلی الخلق کافۃ)). ''صحیح مسلم''، کتاب المساجد ... إلخ، الحدیث: ۵۳۳، ص۲۶۶.
في ''المرقاۃ''، کتاب الفضائل، باب فضائل سید المرسلین، الفصل الأوّل، تحت الحدیث: ۵۷۴۸، ج۱۰، ص۱۴: ((وأرسلت إلی الخلق کافۃ)) أي: إلی الموجودات بأسرھا عامۃ من الجن والإنس والملک والحیوانات والجمادات.
و''الفتاوی الرضویۃ'' ج۳۰، ص۱۴۳۔۱۴۵.
في ''الفتاوی الحدیثیۃ''، مطلب في بعثہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی الملائکۃ، ص۲۸۳: (أنّہ مبعوث إلیہم ورجحہ التقي السبکي، وزاد: أنّہ صلی اللہ علیہ وسلم مرسل إلی جمیع الأنبیاء والأمم السابقۃ، وأنّ قولہ:((بعثت إلی الناس کافۃ)) شامل لہم من لدن آدم إلی قیام الساعۃ، ورجحہ أیضا البارزي وزاد أنّہ مرسل إلی جمیع الحیوانات والجمادات)، وص ۲۸۵: (أنّہ صلی اللہ علیہ وسلم أرسل إلی الحور العین وإلی الولدان)، ملتقطاً.
في ''تکمیل الإیمان''، ص۱۲۷۔۱۲۸: (وہو مبعوث إلی کافۃ الخلق أجمعین) وی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث است بہ کافۃ جن وانس ولھذا او را رسول الثقلین خوانند وآمدن جن بحضرت وی وایمان آوردن ایشاں وقرآن شنیدن وبرقوم خود باز رفتن ودعوت کردن منصوص قرآن مجید است ونزد اکثر علما عموم بعثت بجانب جن وانس مخصوص بآن حضرت است صلی اللہ علیہ وسلم ۔ وبقول شاذ از بعض علما بعث و رسالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ملائکۃ را نیز شامل است، ونزد اھل تحقیق وی مبعوث است بتمامہ اجزای عالم وجمیع اقسام موجودات از جمادات ونباتات وحیوانات ومربی ومکمل ذرایر موجودات وسایر مکنونات است)، ملتقطاً.
یعنی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام جنوں اور انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے اس لئے آپ کو رسول الثقلین کہتے ہیں جنات کا آپ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہونا، ان کا ایمان لانا ،پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ کر انہیں دعوت اسلام دینا قرآن ِکریم میں مذکور ومنصوص ہے اکثر علما ء کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جن وانس کی طرف مبعوث ہونا آپ ہی کی خصوصیت ہے ۔ اور بعض علماء کے نادر قول کے مطابق حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی بعثت ورسالت فرشتوں کو بھی شامل ہے اور محققین کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تمام اجزائے عالم اور جمیع اقسام موجودات کے لئے ہے خواہ وہ جمادات ونباتات ہوں یا حیوانات، آپ موجودات کے تمام ذروں اور کل کائنات کی تکمیل وتربیت فرمانے والے ہیں۔
جس طرح انسان کے ذمّہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی اِطاعت فرض ہے۔(1) یوہیں ہر مخلوق پر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری ضروری۔(2)
عقیدہ (۳۵): حضورِ ا قدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ملائکہ و انس و جن و حُور و غلمان و حیوانات و جمادات، غرض تمام عالَم کے لیے رحمت ہیں (3) اور مسلمانوں پر تو نہایت ہی مہربان۔ (4)
ـــ 1 ۔ (یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ) پ۴، النساء: ۵۹.
(یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اَطِیْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ)پ۹، الأنفال:۲۰.
وفي ''الخصائص الکبری''، ج۲، ص۳۴۲: ( قال أبو نعیم: ومن خصائصہ أنّ اللہ تعالی فرض طاعتہ علی العالم فرضاً مطلقاً لا شرط فیہ ولا استثناء فقال: (وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہ، فَانْتَہُوْا) پ۲۸، الحشر:۷، وقال:(وَمَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ) پ۵، النساء:۸۰، وأنّ اللہ تعالی أوجب علی الناس التأسي بہ قولاً وفعلاً مطلقاً بلا استثنائ).
2 ۔ في ''مدارج النبوۃ''، ص۱۹۳۔۱۹۴: (ہمچنانکہ حیوانات ہمہ مطیع ومنقاد امر آنحضرت بودند نباتات نیز در حیطئہ فرمانبرداری و طاعت وی بودند)، (ہمچنانکہ نباتات را منقاد ومطیع امر وی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساختہ بودند جمادات نیز ہمیں حکم دارند)، ملتقطاً۔
یعنی: جس طرح حیوانات سب کے سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطیع وفرمانبردار تھے نباتات (اگنے والی چیزیں) بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور اطاعت کے دائرے میں تھے، ، جس طرح نباتات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا فرماں بردار اور مطیع بنایا ہوا تھا جمادات بھی یہی حکم رکھتے تھے .
3 ۔ (وَمَا اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ) پ۱۷، الأنبیاء: ۱۰۷.
في ''روح المعاني''، ج۹، ص۱۵۷، تحت ہذہ الآیۃ: (أنّہ صلی اللہ علیہ وسلم أنّما بعث رحمۃ لکل فرد من العالمین ملائکتھم وإنسھم وجنھم ولا فرق بین المؤمن والکافر من الإنس والجن في ذلک).
في ''روح البیان''، ج۵، ص۵۲۸، تحت ہذہ الآیۃ: (قال بعض الکبار: وما أرسلناک إلاّ رحمۃ مطلقۃ تامۃکاملۃ عامۃ شاملۃ جامعۃ محیطۃ بجمیع المقیدات من الرحمۃ الغیبیۃ والشہادۃ العلمیۃ والعینیۃ والوجودیۃ والشہودیۃ والسابقۃ واللاحقۃ وغیر ذلک للعالمین جمع عوالم ذوي العقول وغیرہم من عالم الأرواح والأجسام ومن کان رحمۃ للعالمین لزم أن یکون أفضل من کل العالمین).
4 ۔ (لَقَدْ جَاءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌعَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ) پ۱۱، التوبۃ: ۱۲۸.
عقیدہ (۳۶): حضور، خاتم النبییّن ہیں(1)، یعنی اﷲ عزوجل نے سلسلہ نبوّت حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ختم کر دیا ، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے زمانہ میں یا بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا (2)، جو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے زمانہ میں یا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بعد کسی کو نبوّت ملنا مانے یا جاءز جانے، کافر ہے۔ (3)
عقیدہ (۳۷): حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) افضل جمیع مخلوقِ الٰہی ہیں(4)، کہ اوروں کو فرداً فرداًجو کمالات عطا ہوئے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں وہ سب جمع کر دیے گئے(5) ۔۔۔۔
ـــ 1 ۔ (مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ). پ۲۲، الأحزاب:۴۰.
((وأنا خاتم النبیین)) ''صحیح البخاري''، کتاب المناقب، باب خاتم النبیینصلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۳۵۳۵، ج۲، ص۴۸۵.
2 ۔ ((وأنا خاتم النبیین لا نبي بعدي)). ''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ... إلخ، الحدیث: ۲۲۲۶، ج۴، ص۹۳.
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدي ولا نبي)).سنن الترمذي''، کتاب الرؤیا، باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات، ج۴، ص۱۲۱، الحدیث:۲۲۷۹.
3 ۔ في ''المعتقد المنتقد''، تکمیل الباب، ص۱۱۹۔۱۲۰: (ومنھا: أن یؤمن بأن اللہ ختم بہ النبیین وختم اللہ حکمہ بما لا یخلف منہ، ۔ وہذہ المسألۃ لا ینکرہا إلاّ من لا یعتقد نبوتہ؛ لأنّہ إن کان مصدقا بنبوتہ اعتقدہ صادقا في کل ما أخبر بہ، إذ الحجج التي ثبت بہا بطریق التواتر نبوتہ ثبت بہا أیضا أنّہ آخر الأنبیاء في زمانہ وبعدہ إلی القیامۃ لا یکون نبي، فمن شک فیہ یکون شاکا فیہا أیضا، وأیضا من یقول: إنّہ کان نبي بعدہ، أو یکون، أو موجود وکذا من قال: یمکن أن یکون، فھو کافر).
اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ''محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا، ان کے زمانہ میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقینا قطعاً محال وباطل جاننا فرضِ اجل وجزءِ ایقان ہے (وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ)، نص قطعی قرآن ہے اس کا منکر، نہ منکر بلکہ شک کرنے والا، نہ شاک کہ ادنی ضعیف احتمال خفیف سے تو ہّم خلاف رکھنے والا قطعاً اِجماعاً کافر ملعون مخلد فی النیران ہے، نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے اس عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی،کافر ہونے میں شک و تردّدکو راہ دے وہ بھی کافر ہیں الکفر جلی الکفران ہے. ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص، ۵۷۸. وانظر رسالۃ إمام أھل السنۃ علیہ الرحمۃ: ''المبین ختم النبیین''، ج۱۴، ص۳۳۱، والرسالۃ: ''جزاء اللہ عدوہ بإبائہ ختم النبوۃ''، ج۱۵، ص۶۲۹۔
4 ۔ انظر العقیدۃ (۲۹)، ص ۵۲۔۵۴.
5 ۔ ( اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ) پ۷، الأنعام: ۹۰.
في ''تفسیر الخازن''، ج۲، ص۳۴، تحت الآیۃ: (احتج العلماء بہذہ الآیۃ علی أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أفضل من جمیع الأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام، بیانہ أنّ جمیع خصال الکمال وصفات الشرف کانت متفرقۃ فیہم فکان نوح صاحب
اور اِن کے علاوہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو وہ کمالات ملے جن میں کسی کا حصہ نہیں(1)، ۔
ـــ احتمال علی أذی قومہ، وکان إبراہیم صاحب کرم وبذل ومجاہدۃ في اللہ عز وجل، وکان إسحاق ویعقوب من أصحاب الصبر علی البلاء والمحن، وکان داود علیہ السلام وسلیمان من أصحاب الشکر علی النعمۃ، قال اللہ فیہم: (اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاو،دَ شُکْرًا)[پ۲۲، سبا: ۱۳]،وکان أیوب صاحب صبر علی البلاء، قال اللہ فیہ: (اِنَّا وَجَدْنٰـہُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّہ،ۤ اَوَّابٌ) [پ۲۳، صۤ: ۴۴]، وکان یوسف قد جمع بین الحالتین، یعني: الصبر والشکر، وکان موسی صاحب الشریعۃ الظاہرۃ والمعجزۃ الباہرۃ، وکان زکریا ویحیی وعیسی وإلیاس من أصحاب الزہد في الدنیا، وکان إسماعیل صاحب صدق وکان یونس صاحب تضرع وإخبات، ثم إنّ اللہ تعالی أمر نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم أن یقتدی بہم وجمع لہ جمیع الخصال المحمودۃ المتفرقۃ فیہم فثبت بھذا البیان أنّہ صلی اللہ علیہ وسلم کان أفضل الأنبیاء لما اجتمع فیہ من ہذہ الخصال التی کانت متفرقۃ في جمیعہم واللہ أعلم).
و في ''تکمیل الإیمان''، ص۱۲۴: (جمیع کمالات کہ در ذوات مقدسہ انبیای سابق مودع بود، در ذات شریف او بازیادتیہا موجود بود)،
(انچہ خوباں ہمہ دار ند تو تنہا داری).
یعنی: جس قدر کمالات انبیاء سابقین کی ذواتِ مقدسہ میں ودیعت فرمائے گئے تھے وہ سب بلکہ ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات شریف میں موجود.
یعنی: جو کچھ تمام حسین باعتبار مجموعہ کے رکھتے ہیں وہ آپ تنہا رکھتے ہیں.
1 ۔ عن ابن عباس رضي اللہ تعالی عنھما: ((فضلت علی الأنبیاء بخصلتین)).
''المواہب اللدنیۃ''، المقصد الرابع، الفصل الثاني، ج۲، ص۲۵۳.
عن حذیفۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((فُضّلنا علی الناس بثلاث)).
''صحیح مسلم''، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، الحدیث: ۵۲۲، ص۲۶۵.
عن أبي أمامۃ: أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((فضلت بأربع)).
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۲۲۷۲، ج۸، ص۲۸۴.
عن السائب بن یزید، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((فضلت علی الأنبیاء بخمس)).
''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۶۶۷۴، ج۷، ص۱۵۵.
عن أبي ہریرۃ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((فضلت علی الأنبیاء بست)).
''صحیح مسلم''، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، الحدیث: ۵۲۳، ص۲۶۶.
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أعطیت أربعا لم یعطہن أحد من أنبیاء اللہ)).
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۳۶۱، ج۱، ص۳۳۳.
بلکہ اوروں کو جو کچھ مِلا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے طفیل میں، بلکہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دستِ اقدس سے ملا، بلکہ کمال اس لیے کمال ہوا کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی صفت ہے اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اپنے رب کے کرم سے اپنے نفسِ ذات میں کامل و اکمل ہیں، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا کمال کسی وصف سے نہیں، بلکہ اس وصف کا کمال ہے کہ کامل کی صفت بن کر خود کمال و کامل و مکمّل ہو گیا، کہ جس میں پایا جائے اس کو کامل بنا دے۔(1)
ـــ أخبرنا جابر بن عبد اللہ أنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((أعطیت خمساً لم یعطہن أحد قبلي ۔إلخ)).
''صحیح البخاري''، کتاب التیمم، الحدیث: ۳۳۵، ج۱، ص۱۳۴.
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أعطیت خمساً لم یعطہن أحد من الأنبیاء قبلي ۔إلخ)).
''صحیح البخاري''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۴۳۸، ج۱، ص۱۶۸.
عن عبادۃ بن صامت أنّ النبيصلی اللہ علیہ وسلمخرج فقال: ((إنّ جبریل أتاني فقال: أخرج فحدث بنعمۃ اللہ التي أنعم بہا علیک فبشرني بعشر لم یؤتہا نبي قبلي)).''الخصائص الکبری''، باب اختصاصہصلی اللہ علیہ وسلم بعموم الدعوۃ۔۔۔ إلخ، ج۲، ص۳۲۰.
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :((أعطیت ما لم یعط أحد من الأنبیاء)).
''المصنف'' لابن أبيشیبۃ، کتاب الفضائل، باب ما أعطی اللہ تعالی۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۹، ج۷، ص۴۱۱.
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ یہ احادیث نقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ: ''ان روایات ہی سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اعداد مذکورہ میں حصر مراد نہیں، کہیں دو فرماتے ہیں، کہیں تین، کہیں چار، کہیں پانچ، کہیں چھ، کہیں دس۔ اور حقیقۃً سو اور دوسو پر بھی انتہا نہیں۔ امام علامہ جلال الدین سیوطی قدس سرہ نے ''خصائص کبری'' میں اڑھائی سو کے قریب حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے خصائص جمع کئے۔ اور یہ صرف ان کا علم تھا ان سے زیادہ علم والے زیادہ جانتے تھے۔ اور علمائے ظاہر سے علمائے باطن کو زیادہ معلوم ہے، پھر تمام علوم عالم اعظم حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ہزاروں منزل ادھر منقطع ہیں ۔جس قدر حضور اپنے فضائل وخصائص جانتے ہیں دوسرا کیا جانے گا، اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ علم والاان کا مالک ومولی جل وعلا، (اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَہٰی) پ۲۷، النجم: ۴۲، (ترجمہ:بیشک تمہارے رب ہی کی طرف منتہی ہے. ت)جس نے انہیں ہزاروں فضائل عالیہ وجلائل غالیہ دئے اور بے حد وبے شمار ابد الآباد کے لئے رکھے (وَلَلْآ خِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْأُولٰی) پ۳۰، الضحی: ۴، (ترجمہ: اور بے شک پچھلی گھڑی آپ کے لئے پھلی سے بہتر ہے۔ ت). ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۲۵۳.
1 ۔'' فتاوی رضویہ'' میں ہے: ''ہمزیہ شریف '' میں ارشاد فرمایا : ع (کل فضل في العالمین فمن فضل النبي استعارۃ الفضلاء)۔
(جہاں والوں میں جو خوبی جس کسی میں ہے وہ اس نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے فضل سے مانگ کرلی ہے)۔
امام ابن حجر مکی ''افضل القری'' میں فرماتے ہیں: (لأنہ الممد لہم إذ ھو الوارث للحضرۃ الإلٰہیۃ والمستمد منھا بلا واسطۃ دون غیرہ فإنہ لا یستمد منھا إلا بواسطتہ فلا یصل لکامل منھا شيء إلا وھو من بعض مددہ وعلی یدیہ)۔ تمام جہان کی امداد کرنے والے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہیں اس لیے کہ حضور ہی بارگاہ الہی کے وارث ہیں بلا واسطہ خدا سے حضور ہی مدد لیتے ہیں اور تمام عالم مدد الہی حضور کی وساطت سے لیتا ہے تو جس کامل کو جو خوبی ملی وہ حضور ہی مدد اور حضور ہی کے ہاتھ سے ملی''۔ (''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۶۷۷)۔ =
عقیدہ (۳۸): مُحال ہے کہ کوئی حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا مثل ہو(1)، جو کسی صفتِخاصّہ میں کسی کو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا مثل بتائے،گمراہ ہے یا کافر۔
عقیدہ (۳۹): حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو اﷲ عزوجل نے مرتبہ محبوبیتِ کبریٰ سے سرفراز فرمایا ، کہ تمام خَلق جُویائے رضائے مولا ہے (2) اور اﷲ عزوجل طالبِ رضائے مصطفےٰ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم۔ (3)
= في ''حاشیۃ الصاوي''، ج۱، ص۲۱۶: (فالأنبیاء وسائط لأممہم في کلّ شيء وواسطتہم رسول اللہ)۔
وفیہ ج۱، ص۵۲: (فہو الواسطۃ لکل واسطۃ حتی آدم)۔
في ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ۲۴۷: (أنہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لا یتشرف بغیرہ بل الکل إنما یتشرفون بہ)۔
یعنی: حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو کسی دوسرے سے شرف حاصل نہیں ہوا بلکہ دوسروں نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے شرف پایا ہے ۔
1 ۔ في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۲۶: (ومن المعلوم استحالۃ وجود مثلہ بعدہ)۔
وانظر للتفصیل ''الشفا''، ج۲، ص۲۳۹، ''شرح الشفا'' للملا علي القاریئ، ج۲، ص۲۴۰، و''نسیم الریاض''، ج۶، ۲۳۲۔
2 ۔ تمام مخلوق اﷲ تعالیٰ کی رضا چاہتی ہے۔
3 ۔ (وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی) پ۳۰، الضحی:۵.
(قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰہَا) پ۲، البقرۃ: ۱۴۴.
في ''التفسیر الکبیر''، البقرۃ: تحت الآیۃ: ۱۴۲، ج۲، ص۸۲: (ولم یقل: قبلۃ أرضاہا، والإشارۃ فیہ کأنہ تعالی قال: یا محمد کل أحد یطلب رضايَ وأنا أطلب رضاک في الدارین). وفي الحدیث: ((کلھم یطلبون رضائي وأنا أطلب رضاک یا محمد)).
وفي الحدیث: ((یا محمد أنت نور نوري وسر سري وکنوز ہدایتي وخزائن معرفتي، جعلت فداء لک ملکي من العرش إلی ما تحت الأرضین، کلھم یطلبون رضائي وأنا أطلب رضاک یا محمد)).
''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۳۰، ص۴۹۱. وص ۱۹۷۔ ۱۹۸، وج۱۴، ۲۷۵۔۲۷۶.
عن عائشۃ قالت: ۔ ((واللہ ما أری ربک إلاّ یسارع لک في ہواک)).
''صحیح مسلم''، کتاب الرضاع، باب جواز ہبتہا نوبتہا لضرتہا، الحدیث: ۱۴۶۴، ص۷۷۱.
وفي روایۃ: ''صحیح البخاري''، عن عائشۃ رضي اللہ عنہا قالت: ((مَا اُرَی رَبَّکَ إِلَّا یُسَارِعُ في ہَوَاکَ)). کتاب التفسیر، الحدیث: ۴۷۸۸، ج۳، ص۳۰۳. وفي ''فتح الباري''، ج۸، ص۴۵۳، تحت الحدیث: (أي: ما أری اللہ إلاّ موجداً لما ترید بلا تأخیر، منزلا لما تحب وتختار).
ع خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد [''حدائق بخشش''، ص۴۹]۔
عقیدہ (۴۰): حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے خصائص سے معراج ہے، کہ مسجد ِحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک (1) اور وہاں سے ساتوں آسمان (2) اور کُرسی و عرش تک، بلکہ بالائے عرش (3) رات کے ایک خفیف حصّہ میں مع جسم تشریف لے گئے(4)
ـــ 1 ۔ (سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا) پ۱۵، بنی اسرآئیل: ۱.
2 ۔ عن شریک ابن عبد اللہ أنّہ قال: سمعت ابن مالک یقول: لیلۃ أسري برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من مسجد الکعبۃ، ۔ ثم عرج بہ إلی السماء الدنیا ۔ ثم عرج بہ إلی السماء الثانیۃ ۔ ثم عرج بہ إلی السماء الثالثۃ ۔ ثم عرج بہ إلی الرابعۃ ۔ثم عرج بہ إلی السماء الخامسۃ ۔ ثم عرج بہ إلی السماء السادسۃ ۔ ثم عرج بہ إلی السماء السابعۃ ۔ ثم علا بہ فوق ذلک بما لا یعلمہ إلاّ اللہ حتی جاء سدرۃ المنتہی، ودنا الجبار رب العزۃ فتدلی حتی کان منہ قاب قوسین أو أدنی، فأوحی اللہ فیما أوحی)، ملتقطاً.''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب ماجاء في قولہ عزوجل: (وَکَلَّمَ اللہُ مُوسٰی تَکْلِیْمًا)، الحدیث: ۷۵۱۷، ج۴، ص۵۸۰۔۵۸۲.
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص ۲۷۲: (والمعراج لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في حال الیقظۃ بشخصہ (صلی اللہ علیہ وسلم)، أي: بصورۃ الجسمانیۃ، من المسجد الحرام إلی المسجد الأقصی، ثم من المسجد الأقصی إلی السماء، أي: جنسہا لیشمل السموات السبع، ثم إلی ما شاء اللہ من العلی).
3 ۔ في ''تکمیل الإیمان''، ص۱۲۸: (ومعراجہ في الیقظۃ بشخصہ إلی السمائ، ثم إلی ما شاء اللہ تعالیٰ حق)امتحان ایمان در تصدیق قضیہ معراج است کہ در ساعت لطیف در بیداری بجسد شرف تا آسمان وعرش عظیم بلکہ بالای عرش تا حد لامکان بآن حکایات وخصوصیات مذکورہ کہ در احادیث صحیحہ واقع شدہ).
یعنی: بیداری کی حالت میں جسمانی طور پر آسمان کی طرف معراج فرمانا، پھر وہاں سے جہاں تک خدا کی مشیت ہوجانا حق ہے، مطلب یہ کہ واقعہ معراج کی تصدیق میں ایمان کا امتحان ہے کہ مختصر سی گھڑی میں بیداری کے عالم میں جسم شریف کے ساتھ آسمان وعرش اعظم تک بلکہ عرش سے بھی اوپر حدلامکان تک تشریف لے جانایہ حکایات و خصوصیات احادیث صحیحہ میں مذکور ہیں .
4 ۔ في ''تفسیر الخازن''، ج۳، ص۱۵۸: (والحق الذي علیہ أکثر الناس ومعظم السلف وعامۃ الخلف من المتأخرین من الفقہاء والمحدثین والمتکلمین أنّہ أسري بروحہ وجسدہ صلی اللہ علیہ وسلم، ویدل علیہ قولہ سبحانہ وتعالی: (سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا)، ولفظ العبد عبارۃ عن مجموع الروح والجسد).
و في''حاشیۃ الصاوي''، ج۴، ص۱۱۰۶، پ ۱۵، الإسرائ، تحت الآیۃ۱: (قولہ: (بِعَبْدِہٖ) أي: بروحہ وجسمہ علی الصحیح).
وفي '' تفسیر الجلالین''، ص ۲۲۸: ((لَیْلًا): نصب علی الظرف والإسراء سیر اللیل وفائدۃ ذکرہ الإشارۃ بتنکیرہ إلی تقلیل مدتہ).
اور وہ قربِ خاص حاصل ہوا کہ کسی بشر و مَلَک کو کبھی نہ حاصل ہوا نہ ہو (1)، اور جمالِ الٰہی بچشمِ سر دیکھا (2) اور کلامِ الٰہی بلاواسطہ سنا (3) اور تمام ملکوت السمٰوات والارض کو بالتفصیل ذرّہ ذرّہ ملاحظہ فرمایا ۔(4)
في ''حاشیۃ الصاوي''، ج۴، ص۱۱۰۶: (قولہ: إلی تقلیل مدتہ: أي: فقیل: قدر أربع ساعات، وقیل: ثلاث، وقیل: قدر لحظۃ، قال السبکي: في تائیتہ: وعدت وکل الأمر في قدر لحظۃ).
وفي ''الجمل''، الجزء الثاني، ج۲، ص۲۹۹، تحت الآیۃ: (قولہ: الإشارۃ إلخ أي: فالتنوین للتقلیل أي: في جزء قلیل من اللیل، قیل: قدر أربع ساعات، وقیل: ثلاث، وقیل: أقل من ذلک).
1 ۔ في ''روح البیان''، پ۱۵، الأسرائ، ج۵، ص۱۰۶، تحت الآیۃ:۱: قال علیہ السلام: ((فقمت إلی جبریل فقلت: أخي جبریل: ما لک))، فقال: یا محمد إنّ ربي تعالی بعثني إلیک أمرني أن آتیہ بک في ہذہ اللیلۃ بکرامۃ لم یکرم بہا أحد قبلک ولا یکرم بہا أحد بعدک.
وفي ''روح البیان''، پ۷، الأنعام، ج۳، ص۶۳، تحت الآیۃ: ۹۰: ( ۔وتدنو إلیہ بہ إلی أن تصل إلی مقام قاب قوسین أو أدنی مقاما لم یصل إلیہ أحد قبلک لا ملک مقرب ولا نبي مرسل).
2 ۔ (مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی) پ ۲۷، النجم: ۱۷.
وفي ''روح البیان''، ج۹، ص۲۲۸، تحت الآیۃ: (إنّ رؤیۃ اللہ کانت بعین بصرہ علیہ السلام یقظۃ بقولہ: (مَا زَاغَ الْبَصَرُ)...إلخ، لأنّ وصف البصر بعدم الزیغ یقتضي أنّ ذلک یقظۃ ولوکانت الرؤیۃ قلبیۃ لقال: ما زاغ قلبہ، وأمّا القول بأنّہ یجوز أن یکون المراد بالبصر بصر قلبہ فلا بد لہ من القرینۃ وھي ھاہنا معدومۃ).
عن ابن عباس قال: ((إنّ محمداً رأی ربہ مرتین،مرۃ ببصرہ ومرۃ بفؤادہ)).''الدر المنثور'' ج۷ ص ۶۴۷. .
عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((رأیت ربي تبارک وتعالی)).
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۵۸۰، ج۱، ص۶۱۱.
3 ۔ في ''فتح الباري''، کتاب مناقب الأنصار، باب المعراج، تحت الحدیث: ۳۸۸۸، ج۷، ص۱۸۵: (إنّ اللہ سبحانہ وتعالی کلّم نبیہ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ الإسراء بغیر واسطۃ).
وانظر رسالۃ إمام أھل السنۃ رحمہ اللہ تعالی ''منبہ المنیۃ بوصول الحبیب إلی العرش والرؤیۃ''، ج۳۰، ص۶۷۳۔
4 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((رأیت ربي في أحسن صورۃ، قال: فیم یختصم الملأ الأعلی؟ فقلت: أنت أعلم یا رب، قال: فوضع کفہ بین کتفيّ فوجدت بردہا بین ثدیيّ فعلمت ما في السموات والأرض)).
''سنن الدارمي''، کتاب الرؤیا، باب في رؤیۃ الرب تعالی في النوم، الحدیث: ۲۱۴۹، ج۲، ص۱۷۰.
عقیدہ (۴۱): تمام مخلوق اوّلین وآخرین حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نیاز مند ہے(1)، یہاں تک کہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام۔ (2)
ـــ في ''المرقاۃ''، ج۲، ص۴۲۹، تحت الحدیث: (فعلمت أي: بسبب وصول ذلک الفیض ما في السموات والأرض، یعني: ما أعلمہ اللہ تعالی مما فیھما من الملائکۃ والأشجار وغیرھما، وہو عبارۃ عن سعۃ علمہ الذي فتح اللہ بہ علیہ، وقال ابن حجر:
أي: جمیع الکائنات التي في السموات بل وما فوقہا، کما یستفاد من قصۃ المعراج، والأرض ہي بمعنی الجنس، أي: وجمیع ما في الأرضین السبع بل وما تحتہا۔۔۔۔ إلخ).
وفي ''أشعۃ اللمعات''، ج۱، ص۳۵۷، تحت قولہ: ((فعلمت ما في السموات والأرض)) پس دانستم ہر چہ در آسمان ہا و ہرچہ در زمین بود عبارت است از حصول تمامہ علوم جزوی وکلی واحاطہ آن).
یعنی: ''پس جو کچھ آسمان وزمین میں تھا سب کچھ میں نے جان لیا'' یہ بات تمام علوم کلی وجزئی کو گھیرے ہوئے ہے۔
1 ۔ عن أبي ہریرۃ قال ۔: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنا سید الناس یوم القیامۃ، وھل تدرون بم ذاک؟ یجمع اللہ تعالی یوم القیامۃ الأولین والآخرین في صعید واحد ۔ فیقول بعض الناس لبعض: ائتوا آدم، فیأتون آدم ۔علیہ السلام ۔۔ فیقول آدم: ۔ نفسي نفسي، اذہبوا إلی غیري اذہبوا إلی نوح، فیأتون نوحا۔علیہ السلام ۔۔ فیقول لہم: ۔ نفسي نفسي، اذہبوا إلی إبراہیم، فیأتون إبراہیم، ۔ فیقول لہم إبراہیم: ۔ نفسي نفسي اذہبوا إلی غیري، اذہبوا إلی موسی، فیأتون موسی، ۔ فیقول لہم موسی: ۔ نفسي نفسي اذہبوا إلی عیسی، فیأتون عیسی، ۔ فیقول لہم عیسی: ۔ نفسي نفسي اذہبوا إلی غیري، اذہبوا إلی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فیأتوني فیقولون: یا محمد! أنت رسول اللہ وخاتم الأنبیائ، وغفر اللہ لک ما تقدم من ذنبک وما تأخر، اشفع لنا إلی ربک، ألا تری ما نحن فیہ، ألا تری ما قد بلغنا، فأنطلق فآتي تحت العرش فأقع ساجداً لربي، ثم یفتح اللہ عليّ ویلہمني من محامدہ وحسن الثناء علیہ شیأاً لم یفتحہ لأحد قبلي، ثم یقال: یا محمد! ارفع رأسک سل تعطہ اشفع تشفع، فأرفع رأسي فأقول: یا رب! أمتي أمتي فیقال: یا محمد! أدخل الجنۃ من أمتک، مَن لا حساب علیہ، من باب الأیمن من أبواب الجنۃ، وہم شرکاء الناس فیما سوی ذلک من الأبواب))، ملتقطاً. ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب أدنی أھل الجنۃ منزلۃ فیہا، الحدیث: ۱۹۴، ص۱۲۵۔۱۲۶.
2 ۔ قال رسول اللہ : ((اللّھم! اغفر لأمتي، اللّھم اغفر لأمتي، وأخرّت الثالثۃ لیوم یرغب إليّ الخلق کلھم حتی إبراھیم علیہ السلام)). ''صحیح مسلم''، کتاب فضائل القرآن، باب بیان أنّ القرآن علی... إلخ، الحدیث: ۸۲۰، ص۴۰۹.
وفي''نوادر الأصول''، الأصل الثالث والسبعون، ص۱۱۰، والأصل الثاني عشر والمائۃ، ص۱۴۸: ((وأنّ إبراہیم لیرغب في دعائي ذلک الیوم)). ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۳۰، ص۲۱۷۔۲۱۸.
عقیدہ (۴۲): قیامت کے دن مرتبہ شفاعتِ کبریٰ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے خصائص سے ہے کہ جب تک حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فتحِ بابِ شفاعت نہ فرمائیں گے کسی کو مجالِ شفاعت نہ ہو گی(1)، بلکہ حقیقۃً جتنے شفاعت کرنے والے ہیں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دربار میں شفاعت لائیں گے(2) اور اﷲ عزوجل کے حضور مخلوقات میں صرف حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) شفیع ہیں(3) اور یہ شفاعتِ کُبریٰ مومن، کافر، مطیع، عاصی سب کے لیے ہے، کہ وہ انتظارِ حساب جو سخت جانگزا ہوگا، جس کے لیے لوگ تمنّائیں کریں گے کہ کاش جہنم میں پھینک دیے جاتے اور اس انتظار سے نجات پاتے، اِس بلا سے چھٹکارا کفّار کو بھی حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی بدولت ملے گا، جس پر اوّلین و آخرین، موافقین و مخالفین، مؤمنین و کافرین سب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی حمد کریں گے، اِسی کا نام مقامِ محمود ہے(4) اور شفاعت کے اور اقسام بھی ہیں، مثلاً بہتوں کو بلاحساب جنت میں داخل فرمائیں گے،
1 ۔ (عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُودًا) پ۱۵، الإسرائ: ۷۹.
في ''تفسیر الطبري''،ج۸، ص۱۳۱، تحت الآیۃ:عن ابن عباس، قولہ: (عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُودًا)، قال: المقام المحمود: مقام الشفاعۃ).
وفي ''روح البیان''، ج۵، ص۱۹۲، تحت الآیۃ : (مَقَامًا مَّحْمُودًا) عندک وعند جمیع الناس وھو مقام الشفاعۃ العامۃ لأھل المحشر یغبطہ بہ الأولون والآخرون؛ لأن کل من قصد من الأنبیاء للشفاعۃ ےحید عنھا وےحیل علی غیرہ حتی یاتوا محمداً للشفاعۃ فی قول: ((أنا لھا))، ثم یشفع فیشفع فیمن کان من أھلھا).
في ''المعتقد المنتقد''، تکمیل الباب، ص۱۲۷: (ومنھا: أن یعتقد أنّ یوم القیمۃ لا یستغني أحد من أمتہ بل جمیع الأنبیاء عن جاھہ ومنزلتہ، ومتی لم یفتح الشفاعۃ لا یستطیع أحد شفاعۃ). و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۵۷۵۔
2 ۔ قال الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن في '' المعتمد المستند''، ص۱۲۷: وھذا أحد معاني (قولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: ((أنا صاحب شفاعتہم)) والمعنی الآخر الألطف الأشرف أن لا شفاعۃ لأحد بلا واسطۃ عند ذي العرش جل جلالہ إلاّ للقرآن العظیم ولھذا الحبیب المرتجی الکریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، وأمّا سائر الشفعاء من الملائکۃ والأنبیاء والأولیاء والعلماء والحفاظ والشھداء والحجاج والصلحاء فعند رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فیُنہون إلیہ ویشفعون لدیہ وہو صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یشفع لمن ذکروہ ولمن لم یذکروا عند ربہ عزوجل، وقد تأکد عندنا ھذا المعنی بأحادیث، وللہ الحمد. ۱۲).
3 ۔ عن النبيصلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إذا کان یوم القیامۃ کنت إمام النبیین وخطیبہم وصاحب شفاعتہم غیر فخر)). ''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب سلوا اللہ لي الوسیلۃ، الحدیث: ۳۶۳۳، ج۵، ص۳۵۳.
4 ۔ عن ابن عمر رضي اللہ عنھما قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ الشمس لتدنو حتی یبلغ العرق نصف الأذن، فبینما ہم کذلک استغاثوا بآدم علیہ السلام فیقول: لَسْتُ بصاحب ذلک، ثم موسی علیہ السلام فیقول کذلک،
جن میں چار اَرَب نوے کروڑ کی تعداد معلوم ہے، اِس سے بہت زائد اور ہیں، جو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے علم میں ہیں(1)، بہُتیرے وہ ہوں گے جن کا حساب ہوچکا ہے اور مستحقِ جہنم ہوچکے، اُن کو جہنم سے بچائیں گے(2) اور بعضوں کی شفاعت فرما کر جہنم سے نکالیں گے(3) اور بعضوں کے درجات بلند فرمائیں گے(4) اور بعضوں سے تخفیفِ عذاب فرمائیں گے۔ (5)
ـــ ثم محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیشفع، فیقضي اللہ بین الخلائق فیمشي حتی یأخذ بحلقۃ باب الجنۃ فیومئذ یبعثہ اللہ مقاماً محموداً یحمدہ أھل الجمع کلہم)). ''الدر المنثور''، ج۵، ص۳۲۵.
وفي ''المعتقد المنتقد''، تکمیل الباب، ص۱۲۸: (الشفاعۃ لإراحۃ الخلائق من ھول الموقف)۔
قال الإمام أحمد رضا في ''المعتمد المستند''، تحت اللفظ: ''لإراحۃ الخلائق'': (وہي الشفاعۃ الکبری لعمومہا جمیع أھل الموقف). و''روح البیان''، ج۵، ص۱۹۲.
1 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((وعدني ربي أن یدخل الجنۃ من أمتي سبعین ألفا لا حساب علیھم ولا عذاب، مع کل ألف سبعون ألفا وثلاث حثیات من حثیات ربي)). ''جامع الترمذي''، أبواب صفۃ القیامۃ، ۱۲۔ باب منہ الحدیث: ۲۴۴۵، ج۴، ص۱۹۸.
وفي روایۃ: أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ ربي أعطاني سبعین ألفا من أمتي یدخلون الجنۃ بغیر حساب))، فقال عمر: یا رسول اللہ، فھلا استزدتہ؟ قال: ((قد استزدتہ، فأعطاني مع کلّ رجل سبعین ألفاً)) قال عمر: فھلا استزدتہ؟ قال: ((قد استزدتہ فأعطاني ھکذا)) وفرج عبد اللہ بن بکر بین یدیہ وقال عبد اللہ: وبسط باعیہ وحثا عبد اللہ وقال ھشام: وھذا من اللہ لا ید ری ما عددہ. ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۷۰۶، ج۱، ص۴۱۹.
2 ۔ ((فما أزال أشفع حتی أعطی صکاکا برجال قد بعث بھم إلی النار وآتي مالکاً خازن النار فیقول: یا محمد ما ترکت للنار لغضب ربک في أمتک من بقیۃ)). ''المستدرک'' للحاکم، کتاب الإیمان، للأنبیاء منابر من ذہب، الحدیث: ۲۲۸، ج۱، ص۲۴۲.
3 ۔ ((یخرج قوم من النار بشفاعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیدخلون الجنۃ یسمون الجھنمیین)).
''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار، الحدیث: ۶۵۶۶، ج۴، ص۲۶۳.
4 ۔ في ''المعتقد المنتقد''، أقسام شفاعتہ صلی اللہ علیہ وسلم، ص۱۲۹: (ومنھا زیادۃ الدرجات) وفي ''حجۃ اللہ علی العالمین''، ص۵۳: (والشفاعۃ في رفع درجات ناس في الجنۃ).
5 ۔ عن عباس بن عبد المطلب قال: یا رسول اللہ ھل نفعت أبا طالب بشيء فإنّہ کان یحوطک ویغضب لک؟ قال: ((نعم، ھو في ضحضاح من نار، لولا أنا لکان في الدرک الأسفل من النار)).
''صحیح البخاری''، کتاب الأدب، باب کنیۃ المشرک، الحدیث: ۶۲۰۸، ج۴، ص۱۵۷۔۱۵۸.
وانظر رسالۃ إمام أھل السنۃ علیہ الرحمۃ: ''إسماع الأربعین في شفاعۃ سید المحبوبین''، ج۲۹، ۵۷۱۔
عقیدہ (۴۳): ہر قسم کی شفاعت حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے لیے ثابت ہے۔ شفاعت بالو جاہۃ، شفاعت بالمحبۃ، شفاعت بالاذن، اِن میں سے کسی کا انکار وہی کریگا جو گمراہ ہے۔ (1)
عقیدہ (۴۴): منصبِ شفاعت حضور کو دیا جاچکا، حضور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم :
((أُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ))(2)
، اور ان کا رب فرماتا ہے:
( وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنۡۢبِکَ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ؕ ) ـ3ـ
''مغفرت چاہو اپنے خاصوں کے گناہوں اور عام مؤمنین و مؤمنات کے گناہوں کی۔''
شفاعت اور کس کا نام ہے...؟
''اَللّٰھُمَّ ارْزُقْـنَا شَفَاعَۃَ حَبِیبِکَ الْکَرِیْمِ.''
(یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ o لا اِلَّا مَنْ اَ تَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ o ط )(4)
شفاعت کے بعض احوال، نیز دیگر خصائص جو قیامت کے دن ظاہر ہوں گے، احوالِ آخرت میں اِن شاء اﷲ تعالیٰ بیان ہوں گے۔
عقیدہ (۴۵): حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی محبت مدار ِایمان،بلکہ ایمان اِسی محبت ہی کا نام ہے، جب تک حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی محبت ماں باپ اولاد اور تمام جہان سے زیادہ نہ ہو آدمی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ (5)
ـــ 1 ۔ ''المعتقد المنتقد''، تکمیل الباب، ص۱۲۹ ۔ ۱۳۱.
2 ۔ یعنی: ''مجھے شفاعت دے دی گئی''. ''صحیح البخاري''، کتاب التیمم، الحدیث: ۳۳۵، ج۱، ص۱۳۴.
3 ۔ پ۲۶، محمّد: ۱۹.
4 ۔ ترجمہ کنز الایمان: جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر. پ۱۹، الشعرآء: ۸۸ ۔۸۹.
5 ۔ قال اللہ تعالی: (قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَاؤُکُمْ وَاَبْنَـآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِاقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَآ أَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ وَاللہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ) پ۱۰، التوبۃ: ۲۴.
عن أنس قال: قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من والدہ وولدہ والناس أجمعین))۔
''صحیح البخاري''، کتاب الإیمان، باب حبّ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الإیمان، الحدیث: ۱۵،ج۱، ص۱۷.
وانظر رسالۃ إمام أھل السنۃ علیہ الرحمۃ: ''تمہید إیمان بآیات قرآن'' في ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۳۱۰.
عقیدہ (۴۶): حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی اِطاعت عین طاعتِ الٰہی ہے، طاعتِ الٰہی بے طاعتِ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ناممکن ہے(1)، یہاں تک کہ آدمی اگر فرض نماز میں ہو اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اُسے یاد فرمائیں، فوراً جواب دے اور حاضرِ خدمت ہو(2) اوریہ شخص کتنی ہی دیر تک حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے کلام کرے، بدستور نماز میں ہے، اِس سے نماز میں کوئی خلل نہیں۔(3)
ـــ 1 ۔ (مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ) پ۵، النسآء: ۸۰.
وفي ''المعتقد المنتقد''، الفصل الأوّل في وجوب... إلخ، ص۱۳۳: (فجعل طاعۃ رسولہ طاعتہ، وقرن طاعتہ بطاعتہ وأوعد علیہ بجزیل الثواب ووعد علی مخالفتہ بألیم العذاب ورغم أنف المشرکین حین قال النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: ((من أحبني فقد أحب اللہ، ومن أطاعني فقد أطاع اللہ)).
2 ۔ عن أبي سعید بن المعلی رضي اللہ عنہ قال:کنت أصلي فمر بي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فدعاني فلم آتہ حتی صلیت ثم أتیتہ، فقال: ما منعک أن تأتي؟ ألم یقل اللہ: (یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ۔۔۔إلخ). ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، الحدیث: ۴۶۴۷، ج۳، ص۲۲۹.
عن أبي ہریرۃ، أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج علی أبي بن کعب، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یا أبي ۔وہو یصلي۔ فالتفت أبي فلم یجبہ، وصلی أبي فخفف ثم انصرف إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: السلام علیک یا رسول اللہ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: وعلیک السلام ما منعک یا أبي أن تجیبني إذ دعوتک؟، فقال: یا رسول اللہ إني کنت فيالصلاۃ، قال: أفلم تجد فیما أوحی اللہ إلي أن(اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَایُحْیِیْکُمْ) [پ۹، الانفال: ۲۴]، قال: بلی ولا أعود إن شاء اللہ)).
''سنن الترمذي''، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل فاتحۃ الکتاب، الحدیث: ۲۸۸۴، ج۴، ص۴۰۰.
3 ۔ ( یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ) پ۹، الأنفال: ۲۴.
وفي ''روح المعاني''، ج۵،ص۲۷۶، تحت الآیۃ: (واستدل بالآیۃ علی وجوب إجابتہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا نادی وھو في الصلوۃ، وعن الشافعي أنّ ذلک لایبطلھا لأنّھا أیضاً إجابۃ).
وفي تفسیر القرطبي''، ج۴، ص۲۷۹، تحت الآیۃ: (وقال الشافعي رحمہ اللہ: ھذا دلیل علی أنّ الفعل الفرض أو القول الفرض إذا أتي بہ في الصلاۃ لا تبطل؛ لأمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالإجابۃ وإن کان في الصلاۃ).
وفي ''تفسیرالبیضاوي''، ج۳، ص۹۹، تحت الآیۃ: (واختلف فیہ، فقیل: ھذا لأن إجابتہ لا تقطع الصلاۃ، فإنّ الصلاۃ أیضاً إجابۃ، وقیل: لأن دعاء ہ کان لأمر لا یحتمل التأخیر وللمصلي أن یقطع الصلاۃ لمثلہ، وظاہر الحدیث یناسب الأول).
عقیدہ (۴۷): حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم یعنی اعتقادِ عظمت جزو ِایمان و رکنِ ایمان ہے(1) اور فعلِ تعظیم بعد ایمان ہر فرض سے مقدّم ہے، اِس کی اہمیت کاپتا اس حدیث سے چلتا ہے کہ غزوہ خیبر سے واپسی میں منزل صہبا پر نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھ کر مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ کے زانو پر سرِ مبارک رکھ کر آرام فرمایا، مولیٰ علی نے نمازِ عصر نہ پڑھی تھی، آنکھ سے دیکھ رہے تھے کہ وقت جارہا ہے، مگر اِس خیال سے کہ زانو سرکاؤں تو شاید خوابِ مبارک میں خلل آئے، زانو نہ ہٹایا، یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا، جب چشمِ اقدس کھلی مولیٰ علی نے اپنی نماز کا حال عرض کیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے حکم دیا، ڈوبا ہوا آفتاب پلٹ آیا، مولیٰ علی نے نماز ادا کی پھر ڈوب گیا(2)، اس سے ثابت ہوا کہ افضل العبادات نماز اور وہ بھی صلوٰۃِ وُسطیٰ نمازِ عصر (3) مولیٰ علی نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نیند پر قربان کر دی، کہ عبادتیں بھی ہمیں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)
ـــ = وفي ''عمدۃ القاري''، کتاب العمل في الصلاۃ، باب إذا ادعت الأم ولدہا في الصلاۃ، تحت الحدیث: ۱۲۰۶، ج۵، ص۶۰۶: (من خصائص النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنّہ لو دعا إنسانا وہو في الصلاۃ وجب علیہ الإجابۃ ولا تبطل صلاتہ).
وفي''المرقاۃ''، کتاب فضائل القرآن، ج۴،ص۶۲۴، تحت الحدیث:۲۱۱۸:(قال الطیبي: دل الحدیث علی أنّ إجابۃ الرسول لا تبطل الصلاۃ، کما أنّ خطابہ بقولک: السلام علیک أیہا النبي لا یبطلہا).
1 ۔ وفي ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۱۶۸: (لِتُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہ، وَتُوَقِّرُوْہ،) [الفتح: ۹]: یہ رسول کا بھیجنا کس لئے ہے خود فرماتا ہے : ''اس لئے کہ تم اللہ و رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو''۔ معلوم ہوا کہ دین وایمان محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کا نام جو ان کی تعظیم میں کلام کرے اصل رسالت کو باطل وبیکار کیا چاہتاہے ، والعیاذ باللہ تعالی ۔
2 ۔ عن أسماء بن عمیس أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی الظھربالصھبائ، ثم أرسل علیا في حاجۃ فرجع وقد صلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم العصر، فوضع النبي صلی اللہ علیہ وسلم رأسہ في حجرعليّ فنام فلم یحرکہ حتی غابت الشمس، فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((اللھم إنّ عبدک علیا احتبس بنفسہ علی نبیہ فرُدّ علیہ الشمس)) قالت: فطلعت علیہ الشمس حتی رفعت علی الجبال وعلی الأرض وقام علي فتوضأ وصلی العصر ثم غابت وذلک بالصھباء.
''المعجم الکبیر ''، الحدیث: ۳۸۲، ج۲۴، ص۱۴۴۔۱۴۵.
وفي ''الشفا''، فصل في انشقاق القمر، الجزئ۱، ص۲۸۴: ((أنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم کان یوحی إلیہ ورأسہ في حجرعلي فلم یصل العصرحتی غربت الشمس فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أصلیتَ یا علي؟)) قال: لا، فقال: ((اللّٰھم إنّہ کان في طاعتک وطاعۃ رسولک فاردد علیہ الشمس))، قالت أسمائ: فرأیتھا غربت ثم رأیتھا طلعت بعد ما غربت ووقفت علی الجبال والأرض وذلک بالصھباء في خیبر.
3 ۔ (حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی) پ۲، البقرۃ: ۲۳۸.
في ''تفسیر الطبري''، تحت الآیۃ، ج۲، ص۵۶۹، الحدیث: ۵۳۸۵: (حدثنا أبو کریب قال: حدثنا مصعب بن سلام، عن أبي حیان، عن أبیہ، عن علي قال: ((الصلاۃ الوسطی صلاۃ العصر)).
ہی کے صدقہ میں ملیں۔ دوسری حدیث اسکی تائید میں یہ ہے کہ غارِ ثور میں پہلے صدیقِ اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ گئے، اپنے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر اُس کے سوراخ بند کر دیے، ایک سوراخ باقی رہ گیا، اُس میں پاؤں کا انگوٹھا رکھ دیا، پھر حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بلایا، تشریف لے گئے اور اُن کے زانو پر سرِاقدس رکھ کر آرام فرمایا، اُس غارمیں ایک سانپ مشتاقِ زیارت رہتا تھا، اُس نے اپنا سَر صدیقِ اکبر کے پاؤں پر مَلا، انھوں نے اِس خیال سے کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نیند میں فرق نہ آئے پاؤں نہ ہٹایا، آخر اُس نے پاؤں میں کاٹ لیا، جب صدیقِ اکبر کے آنسو چہرہ انور پر گرے، چشمِ مبارک کھلی، عرضِ حال کیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے لعابِ دہن لگا دیا فوراً آرام ہوگیا ، ہر سال وہ زہر عَود کرتا، بار۲ ۱ ہ برس بعد اُسی سے شہادت پائی۔ (1)
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اَصلُ الاصول بندگی اُس تاجور کی ہے (2)
عقیدہ (۴۸): حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی تعظیم و توقیر جس طرح اُس وقت تھی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اِس عالم میں ظاہری نگاہوں کے سامنے تشریف فرماتھے، اب بھی اُسی طرح فرضِ اعظم ہے (3)، جب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا
1 ۔(ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّہَ مَعَنَا)[پ۱۰، التوبۃ: ۴۰] في ''روح البیان''، تحت ہذہ الآیۃ، ج۳ ، ص۴۳۲۔۴۳۳ : (فلما أراد رسول اللہ دخولہ قال لہ أبو بکر: مکانک یا رسول! حتی أستبرء الغار فدخل واستبرأہ وجعل یسدّ الحجرۃ بثیابہ خشیۃ أن یخرج منھا شيء یؤذیہ أي: رسول اللہ فبقی جحر وکان فیہ حیۃ فوضع رضی اللہ عنہ عقبہ علیہ ثم دخل رسول اللہ فجعلت تلک الحیۃ تلسعہ وصارت دموعہ تنحدر فتفل رسول اللہ علی محل اللدغۃ فذہب ما یجدہ)۔
في ''تفسیر الخازن''، پ۱۰، التوبۃ: ۴، ج۲، ص۲۴۰: ( قال لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ادخل، فدخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ووضع رأسہ في حجرہ ونام فلدغ أبوبکر في رجلہ من الحجر ولم یتحرک مخافۃ أن ینتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فسقطت دموعہ علی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ((ما لک یا أبابکر؟)) فقال: لدغت فداک أبي وأمي فتفل علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فذھب ما یجدہ ثم انتقض علیہ وکان سبب موتہ).
2 ۔ ''حدائقِ بخشش''، حصہ أوّل، ص۱۴۴، وانظر ''الفتاوی الرضویۃ''، ۳۰، ص۱۳۸.
3 ۔ وفي''الشفاء''، الباب الثالث في تعظیم أمرہ ووجوب توقیرہ وبرہ، فصل،ج۲،ص۴۰:(أنّ حرمۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعد موتہ وتوقیرہ وتعظیمہ لازم کما کان حال حیاتہ).
في ''روح البیان''، الأحزاب: تحت الآیۃ: ۵۳، ج۷، ص۲۱۶: (یجب علی الأمۃ أن یعظموہ علیہ السلام ویوقروہ في جمیع الأحوال في حال حیاتہ وبعد وفاتہ فإنّہ بقدر ازدیاد تعظمیہ وتوقیرہ في القلوب یزداد نور الإیمان فیھا).
ذکر آئے توبکمالِ خشوع و خضوع و انکسار بادب سُنے(1) ، اور نامِ پاک سُنتے ہی درود شریف پڑھنا واجب ہے۔ (2)
''اَللَّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰـنَا مُحَمَّدٍ مَعْدِنِ الْجُوْدِ وَالْکَرَمِ وَاٰلہِ الْکِرَامِ وَصَحْبِہِ الْعظَامِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ .''
وفي ''المعتقد المنتقد''، وکذا یجب توقیرہ... إلخ، ص۱۴۲: (أنّ حرمۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعد موتہ وتوقیرہ وتعظمیہ بعد وفاتہ لازم علی کل مسلم کما کان حال حیاتہ؛ لأنّہ الآن حي یرزق في علو درجاتہ ورفعۃ حالاتہ وذلک عند ذکرہ وذکر حدیثہ وسنتہ وسماع اسمہ وسیرتہ).
1 ۔ في ''الشفا''، ج۲، ص۲۵۔۲۶: (ومن علاماتہ مع کثرۃ ذکرہ تعظمیہ لہ وتوقیرہ عند ذکرہ، وإظھار الخشوع والانکسار مع سماع اسمہ).
2 ۔ اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ'' میں اس مسئلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: نام پاک حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مختلف جلسوں میں جتنے بار لے یا سنے ہر بار درود شریف پڑھنا واجب ہے ،اگر نہ پڑھے گا گنہگار ہوگا اور سخت سخت وعیدوں میں گرفتار، ہاں ا س میں اختلاف ہے کہ اگر ایک ہی جلسہ میں چند بار نام پاک لیا یا سنا تو ہر بار واجب ہے یا ایک بار کافی اور ہر بار مستحب ہے، بہت علما قولِ اوّل کی طرف گئے، ان کے نزدیک ایک جلسہ میں ہزار بار کلمہ شریف پڑھے تو ہر بار درود شریف بھی پڑھتا جائے اگر ایک بار بھی چھوڑا گنہگار ہوا ۔'' مجتبی'' و ''درمختار'' وغیرھما میں اسی قول کو مختار و اَصح کہا : في ''الدر المختار'': اختلف في وجوبہا علی السامع والذاکر کلما ذکر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، والمختار تکرار الوجوب کلما ذکر ولو اتحد المجلس في الأصحاھ، بتلخیص. ترجمہ: در مختار میں ہے کہ اس بارے میں اختلاف ہے کہ جب بھی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا اسم گرامی ذکر کیا جائے تو سامع اور ذاکر دونوں پر ہر بار درود و سلام عرض کرنا واجب ہے یا نہیں؟ اصح مذہب پر مختار قول یہی ہے کہ ہر بار درود و سلام واجب ہے اگرچہ مجلس ایک ہی ہو، اھ، خلاصۃً(ت)۔
دیگر علما نے بنظر آسانیِ امت قول دوم اختیار کیا ان کے نزدیک ایک جلسہ میں ایک بار درود ادائے واجب کے لئے کفایت کریگا زیادہ کے ترک سے گنہگار نہ ہوگا مگر ثوابِ عظیم وفضل جسیم سے بے شک محروم رہا، ''کافی'' و ''قنیہ'' وغیرھما میں اسی قول کی تصحیح کی۔ في ''رد المحتار'': صححہ الزاھدي في ''المجتبی'' لکن صحّح في ''الکافي'' وجوب الصلاۃ مرۃ في کل مجلس کسجود التلاوۃ للحرج إلاّ أنّہ یندب تکرار الصلاۃ في المجلس الواحد بخلاف السجود، وفي ''القنیۃ'': قیل: یکفی في المجلس مرۃ کسجدۃ التلاوۃ، وبہ یفتی، وقد جزم بھذا القول المحقق ابن الھمام في ''زاد الفقیر''، اھ، ملتقطا۔ ترجمہ: ''رد المحتار '' میں ہے کہ اسے زاہدی نے'' المجتبی ''میں صحیح قرار دیا ہے لیکن ''کافی'' میں ہر مجلس میں ایک ہی دفعہ درود کے وجوب کو صحیح کہا ہے جیسا کہ سجدئہ تلاوت کا حکم ہے تاکہ مشکل اور تنگی لازم نہ آئے، البتہ مجلس واحد میں تکرارِ درود مستحب و مندوب ہے بخلاف سجدئہ تلاوت کے، ''قنیہ'' میں ہے : ایک مجلس میں ایک ہی دفعہ درود پڑھنا کافی ہے جیسا کہ سجدئہ تلاوت کا حکم ہے اور اسی پر فتوی ہے، ابن ھمام نے ''زاد الفقیر'' میں اسی قول پر جزم کیا ہے اھ ، ملتقطا (ت)۔
بہرحال مناسب یہی ہے کہ ہر بار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کہتا جائے کہ ایسی چیز جس کے کرنے میں بالاتفاق بڑی بڑی رحمتیں برکتیں ہیں اور نہ کرنے بلا شبہ بڑے فضل سے محرومی اور ایک مذہب ِ قوی پر گناہ و معصیت، عاقل کا کام نہیں کہ اسے ترک کرے، وباللہ التوفیق۔
''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۶، ص۲۲۲ ۔۲۲۳.
اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے محبت کی علامت یہ ہے، کہ بکثرت ذکر کرے (1) اور درود شریف کی کثرت کرے اور نامِ پاک لکھے تو اُس کے بعد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم لکھے، بعض لوگ براہِ اختصار صلعم یا لکھتے ہیں، یہ محض ناجاءز وحرام ہے (2) اور محبت کی یہ بھی علامت ہے کہ آل و اَصحاب ، مہاجرین و انصار و جمیع متعلقین و متوسلین سے محبت رکھے اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دشمنوں سے عداوت رکھے(3)، اگرچہ وہ اپنا باپ یا بیٹا یا بھائی یا کُنبہ کے کیوں نہ ہوں(4) اور جو ایسا نہ کرے وہ اِس دعویٰ میں جھوٹا ہے، کیا تم کو نہیں معلوم کہ صحابہ کرام نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی محبت میں اپنے سب عزیزوں، قریبوں، باپ، بھائیوں اور وطن کو چھوڑا اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے بھی محبت ہو اور اُن کے دشمنوں سے بھی اُلفت...! ایک کو اختیار کر کہ ضِدَّین(5) جمع نہیں ہو سکتیں، چاہے جنت کی راہ چل یا جہنم کو جا۔ نیز علامتِ محبت یہ ہے
1 ۔ في ''الشفا''، ج۲، ص۲۵: (ومن علامات محبۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم کثرۃ ذکرہ لہ، فمن أحب شیأ أکثر ذکرہ).
2 ۔ في ''حاشیۃ الطحطاوي'' علی ''الدر المختار''، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۶: (ویکرہ الرمز بالصلوۃ والترضي بالکتابۃ، بل یکتب ذلک کلہ بکمالہ، وفي بعض المواضع عن ''التتارخانیۃ'': من کتب علیہ السلام بالھمزۃ والم یکفر؛ لأنّہ تخفیف وتخفیف الأنبیاء کفر بلا شک ولعلہ إن صحّ النقل فھو مقید بقصدہ وإلاّ فالظاھر أنّہ لیس بکفر وکون لازم الکفر کفراً بعد تسلیم کونہ مذھبا مختارا محلہ إذا کان اللزوم بینا نعم الاحتیاط في الاحتراز عن الإیہام). ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۶، ص۲۲۱ ۔ ۲۲۲، وج۲۳، ص۳۸۷۔۳۸۸.
3 ۔ وفي ''الشفا''، ج۲، ص۲۶:(ومنھا محبتہ لمن أحب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ومن ہو بسببہ من آل بیتہ وصحابتہ من المہاجرین والأنصار، وعداوۃ من عاداہم، وبغض من أبغضھم وسبہم، فمن أحب شیأا أحب من یحب).
4 ۔ (یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا اٰبَاءَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَائَ اِنِ اسْتَحَبُّوْا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیمَانِ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُونَ قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَاؤُکُمْ وَاَبْنَاؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِاقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِنَ اللہِ وَرَسُولِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ وَاللہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ) پ۱۰، التوبۃ: ۲۳۔۲۴.
(لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللہَ وَرَسُولَہٗ وَلَوْ کَانُوْا اٰبَاء َہُمْ اَوْ اَبْنَاء َہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْ اُولٰئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوبِہِمُ الْاِیمَانَ وَاَیَّدَہُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ وَیُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہَارُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ اُولٰئِکَ حِزْبُ اللہِ اَلَا اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ)، پ۲۸، المجادلۃ: ۲۲.
5 ۔ دو مخالف چیزیں۔
کہ شانِ اقدس میں جو الفاظ استعمال کیے جائیں ادب میں ڈوبے ہوئے ہوں، کوئی ایسا لفظ جس میں کم تعظیمی کی بُو بھی ہو، کبھی زبان پر نہ لائے، اگر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو پکارے تو نامِ پاک کے ساتھ ندا نہ کرے، کہ یہ جاءز نہیں، بلکہ یوں کہے:
'' یَا نَبِيَّ اللہِ! یَا رَسُوْلَ اللہ! یَا حَبِیبَ اللہِ! ''(1)
اگر مدینہ طیبہ کی حاضری نصیب ہو تو روضہ شریف کے سامنے چارہاتھ کے فاصلہ سے دست بستہ جیسے نماز میں کھڑا ہوتا ہے، کھڑا ہو کر سر جھکا ئے ہوئے صلاۃ و سلام عرض کرے، بہُت قریب نہ جائے، نہ اِدھر اُدھر دیکھے (2) اور خبردار...! خبردار...!
1 ۔ (لَا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَاءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا) پ۱۸، النور: ۶۳.
وفي ''حاشیۃ الصاوي''، ج۴، ص۱۴۲۱: (لا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ) أي: نداء ہ بمعنی لا تنادوہ باسمہ فتقولوا: یا محمد، ولا بکنیتہ فتقولوا: یا أبا القاسم، بل نادوہ وخاطبوہ بالتعظیم والتکریم والتوقیر بأن تقولوا: یا رسول اللہ، یانبي اللہ، یا إمام المرسلین، یا رسول رب العالمین، یاخاتم النبیین، وغیر ذلک).
وفي''المعتقد المنتقد''، وکذا یجب توقیرہ... إلخ، ص۱۳۹۔۱۴۰:(وکذایجب توقیرہ وتعظیمہ في الظاھر والباطن وجمیع الأحوال، قال اللہ تعالی: (لا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَاءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا) أي: برفع الصوت فوق صوتہ أو ندائہ بأسمائہ فلا تقولوا: یا محمد یا أحمد بل قولوا: یا نبي اللہ ویا رسول اللہ،کما خاطبہ بہ سبحانہ، ذکرہ مجاھد وقتادۃ، ولا منع من الجمع، وروي عن ابن عباس رضي اللہ تعالی عنھما: احذروا دعاء الرسول علیکم إذا أسخطتموہ فإنّ دعاء ہ موجب لیس کدعاء غیرہ). ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۳۰، ص۱۵۶.
2 ۔ في''الہندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السابع عشر في النذر بالحج، مطلب زیارۃ النبيصلی اللہ علیہ وسلم، ج۱،ص۲۶۵:(فیتوجہ إلی قبرہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔، ثمّ یدنو منہ ثلاثۃ أذرع أو أربعۃ ۔ ویقف کما یقف في الصلاۃ ویمثل صورتہ الکریمۃ البہیۃ کأنّہ نائم في لحدہ عالم بہ یسمع کلامہ کذا في ''الاختیار شرح المختار''، ثم یقول: السلام علیک یا نبي اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ أشہد أنّک رسول اللہ).
وفي ''المسلک المتقسط في المنسک المتوسط'' شرح ''لباب المناسک'' للملاّ علي القاري، ص۵۰۸: (ثم توجہ) أي: بالقلب والقالب (مع رعایۃ غایۃ الأدب، فقام تجاہ الوجہ الشریف) أي: قبالۃ موجھۃ قبرہ المنیف (متواضعا خاشعا مع الذلۃ والانکسار والخشیۃ والوقار) أي: السکینۃ، (والھیبۃ والافتقار غاض الطرف) أي:خافض العین إلی قدامہ غیر ملتفت إلی غیر إمامہ وأمامہ، (مکفوف الجوارح) أي: مکفوف الأعضاء من الحرکات التي ھي غیر مناسبۃ لمقامہ،( فارغ القلب) أي: عمن سوی مقصودہ ومرامہ، (واضعا یمینہ علی شمالہ) أي: تأدبا في حال إجلالہٗ (مستقبلا للوجہ الکریم مستدبرا للقبلۃ)؛ لأنّ المقام یقتضي ہذہ الحالۃ (تجاہ مسمار الفضۃ) أي: المرکبۃ علی جدران تلک البقعۃ،(علی نحو أربعۃ أذرع) أي: یقف بعیدا علی ھذا المقدار (لا أقل) أي: لأنّہ لیس من شعار آداب الأبرار)، ملتقطاً. ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱۰، ص۷۶۵.
آواز کبھی بلند نہ کرنا ، کہ عمر بھر کا سارا کِیا دھرا اَکارت جائے (1) اور محبت کی یہ نشانی بھی ہے کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے اقوال و افعال و احوال لوگوں سے دریافت کرے اور اُن کی پیروی کرے۔ (2)
عقیدہ (۴۹): حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے کسی قول و فعل و عمل و حالت کو جو بہ نظرِ حقارت دیکھے کافر ہے۔ (3)
1 ۔ (یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ) پ۲۶، الحجرات: ۲.
2 ۔ في ''الشفا''، فصل في علامۃ محبتہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج۲، ص۲۴: (اعلم أنّ من أحب شیأاً آثرہ وآثر موافقتہ وإلاّ لم یکن صادقا في حبہ وکان مدعیا فالصادق في حب النبي صلی اللہ علیہ وسلم من تظہر علامۃ ذلک علیہ، وأوّلہا: الاقتداء بہ واستعمال سنتہ واتباع أقوالہ وأفعالہ وامتثال أوامرہ واجتناب نواہیہ والتأدب بآدابہ في عسرہ ویسرہ ومنشطہ ومکرہہ وشاہد ھذا قولہ تعالی: (قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ)).
3 ۔ في ''الفتاوی قاضي خان''، کتاب السیر، ج۴، ص ۴۶۸: (إذا عاب الرجل النبي علیہ السلام في شيء کان کافراً).
في''حاشیۃ الصاوي''، ج۴، ص۱۴۲۱.
4 ۔ في ''أشعۃ اللمعات''، ج۴، ص۳۱۵: (وے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلیفہ مطلق ونائب کل جناب اقدس است مے کند و مے دہد ہر چہ خواہد باذنِ وے۔
یعنی: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالی کے خلیفہ مطلق اور نائب کل ہیں جو چاہیں کرتے ہیں اور جو چاہیں عطا فرماتے ہیں ۔
؎ فإنّ من جودک الدنیا وضرتہا ومن علومک علم اللوح والقلم).
یعنی: یا رسول اللہ ! دنیا اور آخرت کی ہر نعمت آپ کے جود لا محدود سے کچھ حصہ ہے اور آپ کے علوم کثیرہ سے لوح و قلم کا علم بعض حصہ ہے ۔
في ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۲۸۷: ''حضورتمام ملک وملکوت پر اللہ عزوجل کے نائب مطلق ہیں جن کو رب عزوجل نے اپنے اسماء وصفات کے اسرار کا خلعت پہنایا اور ہر مفرد ومرکب ہیں تصرف کا اختیار دیاہے، دولھا بادشاہ کی شان دکھاتا ہے، اس کا حکم برات میں نافذ ہوتاہے، سب اس کی خدمت کرتے ہیں اور اپنے کام چھوڑ کر اس کے کام میں لگے ہوتے جس بات کو اس کا جی چاہے موجود کی جاتی ہے، چین میں ہوتاہے، سب براتی اس کی خدمت میں اور اس کے طفیل میں کھانا پاتے ہیں، یوہیں مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عالم میں بادشاہ حقیقی عزوجل کی شان دکھاتے ہیں، تمام جہاں میں ان کا حکم نافذ ہے، سب ان کی خدمت گار وزیر ِفرمان ہیں، جو وہ چاہتے ہیں اللہ عزوجل موجود کردیتاہے ((ما أری ربک إلّا یسارع فی ھواک))، ''صحیح بخاری ''کی حدیث ہے کہ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا حضور اقدس صلی اللہ تعالای علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں: ''میں حضور کے رب کو دیکھتی ہوں کہ حضور کی خواہش میں شتابی فرماتاہے''۔ تمام جہاں حضور کے صدقہ میں حضور کا دیا کھاتاہے کہ ((إنما أنا قاسم واللہ المعطي)) ، ''صحیح بخاری ''کی حدیث ہے کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ہر نعمت کا دینے والا اللہ ہے اور بانٹنے والا میں ہوں''۔ یوں تشبیہ کامل ہوئی اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سلطنتِ الٰہی کے دولھا ٹھہرے، والحمداللہ رب العالمین''۔
تحتِ تصرّف (1)کر دیا گیا (2)، جو چاہیں کریں، جسے جو چاہیں دیں، جس سے جو چاہیں واپس لیں(3)، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں(4)، تمام جہان اُن کا محکوم ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی کے محکوم نہیں(5)، تمام آدمیوں کے مالک ہیں (6)،
1 ۔ اختیار میں، زیرِ حکم۔
2..... . في ''أشعۃ اللمعات''، ج۱، ص۴۳۲: تصرف و قدرت سلطنت وے صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ براں بود وملک وملکوت جن و انس وتمامئہ عوالم بتقدیر وتصرف الہی عزو علا در حیطئہ قدرت و تصرف وے بود۔
یعنی: حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا تصرف اور آپ کی قدرت اور سلطنت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت اور قدرت سے زیادہ تھی۔ ملک و ملکوت جن اور انسان اور سارے جہان اللہ تعالی کے تابع کر دینے سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تصرف اور قدرت کے احاطے میں تھے (اور ہیں) ۔
في ''جواہر البحار''، ج۳، ص۶۰: (إن اللہ تعالی اتخذ خلیفتہ في الأکوان منہ (أي: من جنس الإنسان وہو الفرد الجامع المحیط بالعالم کلہ، والعالم کلہ في قبضتہ وتحت حکمہ وتصرفہ یفعل فیہ کل ما یرید بلا منازع ولا مدافع وقصاری أمرہ أنہ کان حیثما کان الرب إلہاً کان ھو خلیفتہ فلا خروج لشيء من الأکوان عن ألوہیۃ اللہ تعالی کذلک لا خروج لشيء من الأکوان عن سلطنۃ ھذا الفرد الجامع یتصرف فی المملکۃ بإذن مستخلفہ)۔
3 ۔ في ''الجوہر المنظم''، ص۴۲: (أنّہ صلی اللہ علیہ وسلم خلیفۃ اللہ الذي جعل خزائن کرمہ وموائد نعمہ طوع یدیہ وتحت إرادتہ یعطي منھما من یشاء ویمنع من یشائ)، ملخصاً.
4 ۔ في ''المواہب''، ج۱، ص۲۸۔۲۹:
(ألا! بأبي من کان ملکاً وسیداً وآدم بین الماء والطین واقف
إذا رام أمراً لا یکون خلافہ ولیس لذلک الأمر في الکون صارف).
5 ۔ في ''نسیم الریاض''، القسم الأول في تعظیم العلي الأعلی لقدر النبي، ج۲، ص۲۸۱: (فمعنی نبینا الآمر إلی آخرہ: أنّہ لا حاکم سواہ، فھو حاکم غیر محکوم، فإذا قال في أمر: لا، أو نعم، وھو لا یقول إلاّ صواباً موافقاً لرضی اللہ، فحینئذ لا یخالفہ إلاّ بقسر قاسر، ولیس غیرہ حاکم یمنعہ عما حکم بہ ویرد أحکامہ، فھو أصدق القائلین فیما یقولہ).
و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۵۶۵.
6 ۔ حدثني الأعشی المازني قال: ((أتیت النبي صلی اللہ علیہ وسلم، فأنشدتہ: یا مالک الناس ودیان العرب...إلخ)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۶۹۰۲، ج۲، ص۶۴۴).
ترجمہ: اعشی مازنی رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور میں نے شعر پڑھا: اے تمام آدمیوں کے مالک اور اے عرب کے جزا وسزا دینے والے۔
جو اُنھیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت(1) سے محروم رہے(2)، تمام زمین اُن کی مِلک ہے(3)، تمام جنت اُن کی جاگیر ہے(4)،
اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویہ '' شریف میں اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:''یہ حدیث ِجلیل اتنے آئمہ کبار نے باسانید ِ متعددہ روایت کی اور طریقِ اخیر میں یہ لفظ ہیں کہ:اعشی رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پناہ لی اور عرض کی کہ: اے مالک ِ آدمیاں، و اے جزا و سزا دہ عرب صلی اللہ تعالی علیک وبارک وسلم۔
''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۳۰، ص۴۴۷.
1 ۔ سنّت کی لذت و مٹھاس۔
2 ۔ في ''الشفا''، الباب الثاني في لزوم محبتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، ج۲، ص۱۹: ( قال سھل: من لم یر ولایۃ الرسول علیہ في جمیع الأحوال ویری نفسہ في ملکہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لا یذوق حلاوۃ سنتہ؛ لأنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من نفسہ)) الحدیث). ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۳۰، ص۴۲۵.
3 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((واعلموا أنّ الأرض للہ ورسولہ)). ''صحیح البخاري''، کتاب الجزیۃ والموادعۃ، باب إخراج الیہود من جزیرۃ العرب، الحدیث: ۳۱۶۷، ج۲، ص۲۵۶.
عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((موتان الأرض للہ ولرسولہ)). ''السنن الکبری''، للبیہقي، کتاب إحیاء الموات، باب من أحیا أرضاً میتۃ لیست لأحد، الحدیث: ۱۱۷۸۶، ج۶، ص۲۳۷.
عن ابن عباس قال: ((إنّ عادي الأرض للہ ولرسولہ)). ''السنن الکبری''، للبیہقي، کتاب إحیاء الموات، باب من أحیا أرضاً میتۃ لیست لأحد، الحدیث: ۱۱۷۸۵، ج۶، ص۲۳۷۔
اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ '' شریف میں ان احادیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:''میں کہتا ہوں بَن(جہاں کثرت سے درخت ہوں) جنگل ، پہاڑوں اور شہروں کی ملک افتادہ زمینوں کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ اُن پر ظاہری مِلک بھی کسی کی نہیں یہ ہر طرح خالص مِلک ِخدا ورسول ہیں جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم، ورنہ محلوں ، احاطوں، گھروں، مکانوں کی زمینیں بھی سب اللہ ورسول کی مِلک ہیں اگرچہ ظاہری نام مَن وتُو کا لگا ہوا ہے۔'' زبور شریف'' سے رب العزت کا کلام سن ہی چکے :''کہ احمد مالک ہوا ساری زمین اور تمام امتوں کی گردنوں کا''، صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔ تو یہ تخصیصِ مکانی ایسی ہے جیسے آیہ کریمہ (وَالْأَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰہِ ) میں تخصیص زمانی کہ حکم اس دن اللہ کے لئے ہے ، حالانکہ ہمیشہ اللہ ہی کا ہے، مگر وہ دن روز ظہورِ حقیقت وانقطاع ِ ادّعا ہے لا جرم صحیح بخاری شریف کی حدیث نے ساری زمین بلا تخصیص اللہ ورسول کی ملک بتائی وہ کہاں؟ وہ اس حدیث آئندہ میں، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: ((اعلموا أنّ الأرض للہ ولرسولہ)).یعنی یقین جان لو کہ زمین کے مالک اللہ ورسول ہیں ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۴۴۵.
4 ۔ حدثني ربیعۃ بن کعب الأسلمي قال:کنت أبیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فآتیہ بوضوئہ وحاجتہ، فقال لي: ((سل)) فقلت: أسألک مرافقتک في الجنۃ، قال: ((أو غیر ذلک؟)) قلت: ہو ذاک، قال: ((فأعني علی نفسک بکثرۃ السجود)). ''صحیح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب فضل السجود والحث علیہ، الحدیث: ۴۸۹، ص۲۵۳.
ملکوت السمٰواتِ والارض حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے زیرِ فرمان(1)، ۔
وفي ''المرقاۃ''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۸۹۶، ج۲،ص۶۱۵، تحت لفظ ''سل'': (أي: اطلب مني حاجۃ، وقال ابن حجر: أتحفک بہا في مقابلۃ خدمتک لي، لأنّ ھذا ہو شأن الکرام، ولا أکرم منہ ، ویؤخذ من إطلاقہ علیہ السلام الأمر بالسؤال أنّ اللہ تعالی مکنہ من إعطاء کل ما أراد من خزائن الحق، ومن ثم عدّ أئمتنا من خصائصہ علیہ السلام أنّہ یخص من شاء بما شائ..... وذکر ابن سبع في خصائصہ وغیرہ: أنّ اللہ تعالیٰ أقطعہ أرض الجنۃ یعطي منھا ما شاء لمن یشائ)، ملتقطا.
وانظر ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۲۱، ص۳۱۰.
وفي ''أخبار الأخیار''، ص۲۱۶: ((تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبٰدِنَا مَنْ کَانَ تَقِیًّا) [پ۱۶، مریم: ۶۳] أي: نورث تلک الجنۃ محمدا صلی اللہ علیہ وسلم فیعطي من یشاء ویمنع عمن یشائ، وہو السلطان في الدنیا والآخرۃ، فلہ الدنیا ولہ الجنۃ ولہ المشاہدات صلی اللہ علیہ وسلم)۔
اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ '' شریف میں فرماتے ہیں کہ: ''رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے رب کی عطا سے مالک جنت ہیں، معطیِ جنت ہیں، جسے چاہے عطافرمائیں، امام حجۃ الاسلام غزالی پھر امام احمد قسطلانی ''مواہب لدنیہ '' پھر علامہ محمد زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں: (إن اللہ تعالی ملکہ الأرض کلھا وأنّہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کان یقطع أرض الجنۃ ما شاء منھا لمن شاء فأرض الدنیا أولی)۔اللہ تعالی نے دینا اور آخرت کی تمام زمینوں کا حضور کو مالک کردیاہے، حضور جنت کی زمین میں سے جتنی چاہیں جسے چاہیں جاگیر بخشیں تو دنیا کی زمین کاکیا ذکر!'' ۔
''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱۴، ص۶۶۷.
1 ۔ اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ '' شریف میں بحوالہ ''معجم اوسط'' للطبرانی بسندِ حسن سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: (إن النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم أمر الشمس فتأخّرت ساعۃ من نھار)۔ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آفتاب کو حکم دیا کہ کچھ دیر چلنے سے باز رہ، وہ فوراً ٹھہر گیا۔
اقول: اس حدیثِ حسن کا واقعہ اس حدیث صحیح کے واقعہ عظیمہ سے جدا ہے جس میں ڈوبا ہوا سورج حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم )کے لیے پلٹاہے یہاں تک کہ مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے نمازِ عصر کی خدمت گزاری ئ محبوب ِباری صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں قضا ہوئی تھی ادا فرمائی۔ امام اجل طحاوی وغیرہ اکابر نے اس حدیث کی تصحیح کی ۔ الحمدللہ اسے خلافت رب العزت کہتے ہیں کہ ملکوت السمٰوٰت والارض میں ان کا حکم جاری ہے تمام مخلوق الہٰی کو ان کیلئے حکم اطاعت وفرمانبرداری ہے ۔ وہ خدا کے ہیں اوجو کچھ خدا کا ہے سب ان کا ہے ، وہ محبوب اجل واکرم وخلیفۃ اللہ الاعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب دودھ پیتے تھے گہوارہ میں چاند ان کی غلامی بجالاتا ، جدھر اشارہ فرماتے اسی طرف جھک جاتا۔ حدیث میں ہے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنھما عم مکرم سید اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضور سے عرض کی: مجھے اسلام پر باعث حضور کے ایک معجزے کا دیکھنا ہوا، ''رأیتک في المھد تناغي القمر وتشیر إلیہ بأصبعک فحیث أشرت إلیہ مال''۔
میں نے حضو ر کو دیکھا کہ حضور گہوارے میں چاند سے باتیں فرماتے جس طرح انگشت مبارک سے اشارہ کرتے چاند اسی طرف جھک جاتا۔
جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دیدی گئیں(1)، رزق وخیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں(2)، دنیا و آخرت حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی عطا کا ایک حصہ ہے(3)، ۔
سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إني کنت أحدثہ، ویحدثني ویلھیني عن البکاء وأسمع وجبتہ حین یسجد تحت العرش))۔ ہاں میں اس سے باتیں کرتا تھا وہ مجھ سے باتیں کرتا اور مجھے رونے سے بھلاتا، میں اس کے گرنے کا دھماکہ سنتاتھا جب وہ زیر عرش سجدے میں گرتا۔
امام شیخ الاسلام صابونی فرماتے ہیں : ''في المعجزات حسن'' یہ حدیث معجزات میں حسن ہے ۔
جب دودھ پیتوں کی یہ حکومت قاہرہ ہے تو اب کہ خلافۃ الکبریٰ کا ظہور عین شباب پرہے آفتاب کی کیا جان کہ ان کے حکم سے سرتابی کرے۔۔۔ إلخ)۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۴۸۵۔۴۸۸۔
1 ۔ في ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۴۳۱۔۴۳۳: (ینصب إلی یوم القیامۃ منبر علی الصراط وذکر الحدیث (إلی أن قال:) ثم یأتي ملک فیقف علی أول مرقاۃٍ من منبري فینادي معاشر المسلمین: من عرفني فقد عرفني ومن لم یعرفني فأنا مالک خازن النار إن اللہ أمرني أن أدفع مفاتیح جہنم إلی محمد وإن محمداً أمرني أن أدفع إلی أبي بکر، ھاہ اشھدوا ھاہ اشھدوا، ثم یقف ملک آخر علی ثاني مرقاۃٍ من منبري فینادي معاشرالمسلمین: من عرفني فقد عرفني ومن لم یعرفني فأنا رضوان خازن الجنان إن اللہ أمرني أن أدفع مفاتیح الجنۃ إلی محمد وإن محمدا أمرني أن أدفعہا إلی أبي بکرٍ ھاہ اشھدوا ھاہ اشھدوا الحدیث۔ أوردہ العلامۃ إبراہیم بن عبد اللہ المدني الشافعي في الباب السابع من کتاب التحقیق في فضل الصدیق من کتابہ ''الاکتفاء في فضل الأربعۃ الخلفائ'')۔
2 ۔ في ''المواھب اللدنیۃ''، الفصل الثاني، أعطي مفاتیح الخزائن، ج۲، ص۲۷۸: (أنّہ أعطي مفاتیح الخزائن، قال بعضھم: وہي خزائن أجناس العالم لیخرج لہم بقدر ما یطلبونہ لذواتہم، فکلّ ما ظہر من رزق العالم فإنّ الاسم الإلہي لا یعطیہ إلاّ عن محمد الذي بیدہ المفاتیح، کما اختص تعالی بمفاتیح الغیب فلا یعلمہا إلاّ ہو، وأعطی ھذا السید الکریم منزلۃ الاختصاص بإعطائہ مفاتیح الخزائن).
وفي ''جواہر البحار''،ج۳، ص۳۷: (فتح اللہ بہ علی عبادہ أنواع الخیرات وأبواب السعادات الدنیویۃ والأخرویۃ، فکل الأرزاق من کفہ ).
3 ۔ (فإنّ من جودک الدنیا وضرتہا ومن علومک علم اللوح والقلم).
''الکواکب الدریۃ في مدح خیر البریۃ'' (قصیدۃ بردہ) الفصل العاشر، ص۵۹.
اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ '' شریف میں ان احادیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:''یہ شعر قصیدہ بردہ شریف کا ہے جس میں سیدی امام اجل محمد بوصیری قدس سرہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض
احکامِ تشریعیہ(1) حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے قبضہ میں کر دیے گئے، کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کر دیں(2) ۔
کرتے ہیں:''یارسول اللہ! دنیا وآخرت دونوں حضور کے خوانِ جود و کرم سے ایک حصہ ہیں اور لوح وقلم کے تمام علوم جن میں ماکان ومایکون جو کچھ ہوا اور جو کچھ قیامِ قیامت تک ہونے والا ہے ذرہ ذرہ بالتفصیل مندرج ہے حضور کے علوم سے ایک پارہ ہیں''۔
''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۴۹۵.
1 ۔ احکام کے حلال وحرام کرنے کے اختیارات۔
2 ۔ (وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبَائِثَ)پ۹، الأعراف: ۱۵۷.
عن ابن عباس رضي اللہ عنھما قال: قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم یوم افتتح مکۃ : ((لا ہجرۃ ولکن جہاد ونیۃ وإذا استنفرتم فانفروا، فإنّ ھذا بلد حرمہ اللہ یوم خلق السموات والأرض، وہو حرام بحرمۃ اللہ إلی یوم القیامۃ، وإنّہ لم یحلّ القتال فیہ لأحد قبلي ولم یحلّ لي إلاّ ساعۃ من نہار، فہو حرام بحرمۃ اللہ إلی یوم القیامۃ لا یعضد شوکہ ولا ینفر صیدہ ولا یلتقط لقطتہ إلاّ من عرّفہا ولا یختلی خلاہا))، قال العباس: یا رسول اللہ إلاّ الإذخر فإنّہ لقینھم ولبیوتہم، قال: ((إلاّ الإذخر)).
''صحیح البخاري''، کتاب جزاء الصید، باب لا یحل القتال بمکۃ،الحدیث: ۱۸۳۴، ج۱، ص۶۰۶.
في ''أشعۃ اللمعات''، کتاب المناسک، باب حرم مکۃ، ج۲، ص۴۰۸، تحت لفظ: ((إلاّ الإذخر)): (مگر اذخر کہ رد است قطع کردن، ودر مذہب بعضے آنست کہ احکام مفوض بود بوے صلی اللہ علیہ وسلم ہر چہ خواہد وبر ہر کہ خواہد حلال وحرام گرداند وبعضے گویند باجتہاد گفت، واول اصح واظہر ست واللہ اعلم).
یعنی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ''إلاّ الإذخر'' فرماتے ہوئے اس گھاس کے کاٹنے کی اجازت دے دی بعض علماء کا مذہب یہ ہے کہ شرع کے احکام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کردئے گئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چا ہتے ہیں جس کے لئے چاہتے ہیں کوئی چیز حلال فرمادیتے ہیں اور حرام کر دیتے ہیں۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اس گھاس کے کاٹنے کی اجازت اپنے اجتہاد سے دی مگر پھلا مذہب صحیح تر اور ظاہر تر ہے۔
وفي ''مدارج النبوۃ''، ج۲، ص۱۸۳: (ومذہب صحیح ومختار آنست کہ احکام مفوض ست بحضرت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم بہر کہ و بہر چہ خواہد حکم کندیک فعل بریکی حرام کند وبردیگری مباح گرداند واین را امثلہ بسیار ست کما لا یخفی علی المتبع حق جل و علٰی پیدا کردہ وشریعتی نہادہ و ہمہ برسول صلی اللہ علیہ وسلم خود و حبیب خود سپردہ است صلی اللہ علیہ وسلم).
اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں۔(1)
عقیدہ (۵۱): سب سے پہلے مرتبہ نبوّت حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو ملا۔(2) روزِ میثاق تمام انبیا سے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایمان لانے اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نصرت کرنے کا عہد لیا گیا(3)
ـــ
یعنی: صحیح اور مختار مذہب یہی ہے کہ احکام حضور کے سپرد ہیں جس پہ جو چاہیں حکم کریں۔ ایک کام ایک پہ حرام کرتے ہیں اور دوسرے پر مباح۔ اس کی بہت مثالیں ہیں جیسا کہ متبع پہ مخفی نہیں۔ حق تعالی نے شریعت مقرر کر کے ساری کی ساری اپنے رسول اور اپنے محبوب کے حوالہ کر دی (کہ اس میں جس طرح چاہیں ترمیم و اضافہ فرمائیں)۔
1 ۔ عن رجل منھم أنّہ أتی النبي صلی اللہ علیہ وسلم فأسلم علی أنّہ لایصلي إلاّصلاتین، فقبل ذلک منہ).
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۰۳۰۹، ج۷، ص۲۸۳۔۲۸۴.
وانظر رسالۃ إمام أھل السنۃ علیہ الرحمۃ ''منیۃ اللبیب أنّ التشریع بید الحبیب''، ج۳۰، ص۵۰۰۔
والرسالۃ: ''الأمن والعلی لناعتي المصطفی بدافع البلاء''، ج۳۰، ص۳۵۹۔
2 ۔ عن أبي ھریرۃ قال: قالوا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متی وجبت لک النبوۃ؟ قال: ((وآدم بین الروح والجسد)). ''جامع الترمذي''، کتاب المناقب، باب ما جاء في فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۳۶۲۹، ج۵، ص۳۵۱.
اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ '' شریف میں فرماتے ہیں کہ:'' اسی لئے اکابر علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جس کا خدا خالق ہے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔ شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہ ''مدارج النبوۃ'' میں فرماتے ہیں: ''چوں بود خلقِ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اعظم الاخلاق بعث کرد خدائے تعالی اُو را بسُوئے کافہ ناس ومقصور نہ گردانید رسالتِ اُو را بر ناس بلکہ عام گردانید جِن واِنس را، بلکہ بر جِن وانس نیز مقصور نہ گردانید تا آنکہ عام شد تمامہ عالمین را، پس ہر کہ اللہ تعالی پروردگار ِِ اوست محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم رسولِ اُوست.
ترجمہ: یعنی چونکہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پیدائش تمام مخلوق سے اعظم ہے لھذا اللہ تعالی نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا، آپ کی رسالت کو انسانوں میں منحصر نہیں فرمایا بلکہ جن وانس کے لئے عام کردیا بلکہ جن وانس میں بھی انحصار نہیں فرمایا یہاں تک کہ آپ کی رسالت تمام جہانوں کے لئے عام ہے ، چنانچہ اللہ تعالی جس کا پروردگار ہے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔
''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۳۰، ص۱۵۰.
3 ۔ (وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہ، قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْآ اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْہَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰہِدِیْنَ) پ۳، اٰلِ عمرٰن:۸۱.
اور اِسی شرط پر یہ منصبِ اعظم اُن کو دیا گیا۔(1) حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نبی الانبیا ہیں اور تمام انبیا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے اُمّتی، سب نے اپنے اپنے عہدِ کریم میں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نیابت میں کام کیا(2)، اﷲ عزوجل نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو اپنی ذات کا مظہر بنایا اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے نُور سے تمام عالَم کو منوّر فرمایا(3)،
1 ۔ في''تفسیر الطبري''، الحدیث: ۷۳۲۷، ج۳، ص۳۳۰، تحت الآیۃ: عن علي بن أبي طالب قال: لم یبعث اللہ عز وجل نبیًّا ۔آدمَ فمن بعدَہ۔ إلاّ أخذ علیہ العہدَ في محمد: لئن بعث وہو حيّ لیؤمنن بہ ولینصرَنّہ، ویأمرُہ فیأخذ العہدَ علی قومہ، فقال: (وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ)، الآیۃ..
2 ۔ في ''الخصائص الکبری''، فائدۃ في أنّ رسالۃ النبيصلی اللہ علیہ وسلم عامۃ لجمیع الخلق والأنبیاء وأممہم کلہم من أمتہ، ج۱، ص۸ ۔۱۰: (قال الشیخ تقي الدین سبکي في کتابہ ''التعظیم والمنۃ'' في (لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہ،): في ہذہ الآیۃ من التنویہ بالنبي صلی اللہ علیہ وسلم وتعظیم قدرہ العلي ما لایخفی، وفیہ مع ذلک أنّہ علی تقدیر مجیئہ في زمانھم یکون الأمر مرسلا إلیہم، فتکون نبوتہ ورسالتہ عامۃ لجمیع الخلق من زمن آدم إلی یوم القیامۃ، وتکون الأنبیاء وأممہم کلہم من أمتہ ویکون قولہ: ((بعثت إلی الناس کافۃ)) لا یختص بہ الناس من زمانہ إلی یوم القیامۃ، بل یتناول من قبلہم أیضاً، ویتبین بذلک معنی قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((کنت نبیا وآدم بین الروح والجسد)) ۔ (والنبي صلی اللہ علیہ وسلمخیر الخلق، فلا کمال لمخلوق أعظم من کمالہ، ولا محل أشرف من محلہ، فعرفنا بالخبر الصحیح حصول ذلک الکمال من قبل خلق آدم لنبینا صلی اللہ علیہ وسلم من ربہ سبحانہ، وأنّہ أعطاہ النبوۃ من ذلک الوقت، ثم أخذ لہ المواثیق علی الأنبیاء لیعلموا أنّہ المقدم علیہم وأنّہ نبیہم ورسولہم، وفي أخذ المواثیق وہي في معنی الاستخلاف)، ملتقطاً. وانظر للتفصیل ''تجلي الیقین بأن نبینا سید المرسلین''، ج۳۰، ص۱۲۹۔
3 ۔ (یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰـکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیرًا وَدَاعِیًا اِلَی اللہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا). پ۲۲، الأحزاب:۴۵۔۴۶.
في ''تفسیر روح البیان''، ج۷، ص۱۹۷، تحت الآیۃ: ((وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا): اعلم أنّ اللہ تعالی شبّہ نبینا علیہ السلام بالسراج لوجوہ: الأوّل: أنّہ یستضاء بہ في ظلمات الجھل والغوایۃ ویہتدي بأنوارہ إلی مناہج الرشد والہدایۃ کما یہتدي بالسراج المنیر في الظلام إلی سمت المرام، ۔والرابع: أنّ السراج الواحد یوقد منہ ألف سراج ولا ینقص من نورہ شيئ، وقد اتفق أھل الظاہر والشہود علی أنّ اللہ تعالی خلق جمیع الأشیاء من نور محمد ولم ینقص من نورہ شيئ، وھذا کما روي أنّ موسی علیہ السلام قال: یا رب! أرید أن أعرف خزائنک، فقال لہ: اجعل علی باب خیمتک نارا یأخذ کل إنسان سراجا من نارک ففعل فقال: ھل نقص من نارک قال: لا یا رب، قال: فکذلک خزائني، وأیضا علوم الشریعۃ وفوائد الطریقۃ وأنوار المعرفۃ وأسرار الحقیقۃ قد ظہرت في علماء أمتہ وہي بحالہا في نفسہ علیہ السلام ألا تری أنّ نور القمر مستفاد من الشمس ونور الشمس بحالہ، وفي ''القصیدۃ البردیۃ'':
بایں معنی ہر جگہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تشریف فرما ہیں۔ ؎
کالشمس في وسط السماءِ ونُورُھا
یغشي البلاد مشارقاً ومغارباً(1)
ـــ
فإنّہ شمس فضل ہم کواکبہا ... یظہرن أنوارہا للناس في الظلم
تو مہر منیری ہمہ اخترند ... تو سلطان ملکی ہمہ لشکرند
أي: أنّ سیدنا محمداً علیہ السلام شمس من فضل اللہ طلعت علی العالمین، والأنبیاء أقمارہا یظہرن الأنوار المستفادۃ منھا، وہي العلوم والحکم في عالم الشہادۃ عند غیبتہا ویختفین عند ظہور سلطان الشمس فینسخ دینہ سائر الأدیان. وفیہ إشارۃ إلی أنّ المقتبس من نور القمر کالمقتبس من نور الشمس، ۔ والخامس: أنّہ علیہ السلام یضيء من جمیع الجہات الکونیۃ إلی جمیع العوالم کما أنّ السراج یضيء من کل جانب، وأیضاً یضيء لأمتہ کلہم کالسراج لجمیع الجہات إلاّ من عمی مثل أبي جھل ومن تبعہ علی صفتہ، فإنّہ لا یستضيء بنورہ ولا یراہ حقیقۃ کما قال تعالی: (وَتَرٰہُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَہُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ)... إلخ)، ملتقطاً.
وفي ''المصنف'' لعبد الرزاق بسندہ، کتاب الإیمان، باب في تخلیق نور محمد، الجزء المفقود من الجزء الأوّل، الحدیث: ۱۸، ص۶۳، وفي ''المواہب اللدنیۃ''، ج۱، ص۷۱۔۷۲، واللفظ لـ''المواہب'': عن جابر بن عبد اللہ الأنصاري قال: قلت یا رسول اللہ بأبي أنت وأمي، أخبرني عن أوّل شيء خلقہ اللہ تعالی قبل الأشیائ، قال: ((یا جابر إنّ اللہ تعالی قد خلق قبل الأشیاء نور نبیک من نورہ، فجعل ذلک النور یدور بالقدرۃ حیث شاء اللہ تعالی، ولم یکن في ذلک الوقت لوح ولا قلم، ولاجنۃ ولا نار، ولا ملک ولا سمائ، ولا أرض ولا شمس ولا قمر، ولا جني ولا إنسي، فلما أراد اللہ تعالی أن یخلق الخلق قسم ذلک النور أربعۃ أجزائ، فخلق من الجزء الأوّل القلم، ومن الثانی اللوح، ومن الثالث العرش، ثم قسم الجزء الرابع أربعۃ أجزائ، فخلق من الجزء الأوّل حملۃ العرش، ومن الثاني الکرسي، ومن الثالث باقي الملائکۃ، ثم قسم الجزء الرابع أربعۃ أجزائ، فخلق من الأوّل السمٰوات، ومن الثاني الأرضین ومن الثالث الجنۃ والنار، ثم قسم الرابع أربعۃ أجزائ، فخلق من الأول نور أبصار المؤمنین، ومن الثاني نور قلوبہم ۔وہي المعرفۃ باللہ۔ ومن الثالث نور أنسہم، وہو التوحید، لا إلہ إلاّ اللہ محمد رسول اللہ)).
1 ۔یعنی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سورج کی طرح ہیں جو آسمانوں کے وسط میں ہو اور اس کی روشنی مشرقوں اور مغربوں کے تمام شہروں کو ڈہانک لے۔ ''تفسیر روح المعاني''، پ۲۲، الأحزاب، تحت الآیۃ:۴۰، الجزء الثاني والعشرون، ص۲۹۴.
وانظر للتفصیل: ''صلات الصفاء في نور المصطفی''، ج۳۰، ص۶۵۷۔
مگر کورِ باطن کا کیا علاج ؎
گر نہ بیند بروز شپرہ چشم
چشمہ آفتاب را چہ گناہ(1)
مسئلہ ضروریہ: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام سے جو لغزشیں واقع ہوئیں، انکا ذکر تلاوتِ قرآن و روایتِ حدیث کے سوا حرام اور سخت حرام ہے، اوروں کو اُن سرکاروں میں لب کشائی کی کیا مجال...! مولیٰ عزوجل اُن کا مالک ہے، جس محل پر جس طرح چاہے تعبیر فرمائے، وہ اُس کے پیارے بندے ہیں، اپنے رب کے لیے جس قدرچاہیں تواضع فرمائیں، دوسرا اُن کلمات کو سند نہیں بناسکتا (2) اور خود اُن کا اطلاق کرے تو مردودِ بارگاہ ہو، پھر اُنکے یہ افعال جن کو زَلَّت و لغزش سے تعبیر کیا جائے
1 ۔یعنی: اگر چمگادڑ کو دن میں روشنی نظر نہ آئے تو اس میں سورج کا کیا قصور۔
2 ۔ في ''أشعۃ اللمعات'': (درقرآن مجید بآدم نسبت عصیان کردہ وعتاب نمودہ مبنی برعلوشان قرب اوست ومالک رامیرسدکہ برترک اولی وافضل اگرچہ بحد معصیت نرسد بہ بندئہ خود ہرچہ خواہد بگوید وعتاب نماید دیگری رامجال نہ کہ تواندگفت واینجا ادبی ست کہ لازم ست رعایت آن وآن انیست کہ اگر از جانب حضرت بہ بعض انبیا کہ مقربان درگاہ اند عتابی وخطابی رودیا از جانب ایشان کہ بندگان خاص اویند تواضعی وذلتی وانکساری صادر گرددکہ موہم نقص بود مارانبایدکہ دران دخل کینم وبدان تکلم نمائیم).
''أشعۃ اللمعات''، کتاب الإیمان، الفصل الأول، ج۱، ص۴۳.
ترجمہ: قرآن مجید میں جو حضرت آدم علیہ السلام کی طرف عصیاں ونافرمانی کی نسبت کی اور ان پر عتاب فرمایا وہ حضرت آدم علیہ السلام کے خدائے تعالی کے مقرب ہونے اور ان کی بلندی شان پر مبنی ہے اور مالک کو حق پہنچتا ہے کہ اولیٰ وافضل چیز کے ترک کرنے پر اگرچہ وہ معصیت کی حد تک نہ پہنچے اپنے بندے کو جو کچھ چاہے کہے اور عتاب کرے دوسرے کسی کو کچھ بھی کہنے کی مجال نہیں ہے یہ نہایت ادب کا مقام ہے جس کا لحاظ ضروری ہے اور وہ ادب یہ ہے کہ اگر خداوندتعالیٰ کی جانب سے بعض انبیاء علیہم السلام پر جو اس کی درگاہ کے مقرب ہیں عتاب نازل ہو یا ان کی طرف خطا کی نسبت کی گئی ہو یا خود ان انبیاء (علیہم السلام )کی طرف سے جو کہ اس کے خاص بندے ہیں تواضع ،عاجزی وانکساری کی بات صادر ہو جس سے ان میں نقص وعیب کا وہم پڑتا ہو ، تو ہم بندوں کو اس میں دخل دینے یا اسے زبان پر لانے کی ہرگز اجازت نہیں۔
اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویہ '' شریف میں فرماتے ہیں کہ: ''غیر تلاوت میں اپنی طرف سے سید نا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف نافرمانی وگناہ کی نسبت حرام ہے۔ ائمہ دین نے اس کی تصریح فرمائی بلکہ ایک جماعت علمائے کرام نے اسے کفر بتایا، مولیٰ کو شایان ہے کہ اپنے محبوب بندوں کو جس عبارت سے تعبیر فرمائے ،فرمائے دوسرا کہے تو اس کی زبان
ہزارہا حِکَم و مَصالح پر مبنی، ہزارہا فوائد و برکات کی مُثمِر (1) ہوتی ہیں، ایک لغزشِ اَبِیْنَا آدم علیہ الصلاۃ والسلام(2) کو دیکھیے، اگر وہ نہ ہوتی، جنت سے نہ اترتے، دنیا آباد نہ ہوتی، نہ کتابیں اُترتیں، نہ رسول آتے، نہ جہاد ہوتے، لاکھوں کروڑوں مثُوبات (3) کے دروازے بند رہتے، اُن سب کا فتحِ باب ایک لغزشِ آدم کا نتیجہ بارکہ و ثمرہ طیّبہ ہے۔ بالجملہ انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کی لغزش، مَن و تُو کس شمار میں ہیں، صدیقین کی حَسَنَات سے افضل و اعلیٰ ہے۔
''حَسَنَاتُ الأبْرَارِ سَیّاٰتُ الْمُقَرَّبِیْنَ.'' (4)
گُدّی کے پیچھے سے کھینچی جائے للہ المثل الأعلی، بلا تشبیہ یوں خیال کرو کہ زید نے اپنے بیٹے عمرو کو اس کی کسی لغزش یا بھول پر متنبہ کرنے ادب دینے حزم وعزم واحتیاط اتم سکھانے کے لئے مثلاً بیہودہ نالائق احمق وغیرہا الفاظ سے تعبیر کیا باپ کو اس کا اختیار تھا اب کیا عمرو کا بیٹا بکر یا غلام ِخالد انہیں الفاظ کو سند بنا کر اپنے باپ اور آقا عمرو کو یہ الفاظ کہہ سکتا ہے، حاشا اگر کہے گا سخت گستاخ ومردود و ناسزا ومستحق ِعذاب وتعزیر وسزا ہوگا، جب یہاں یہ حالت ہے تو اللہ عزوجل کی ریس کرکے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی شان میں ایسے لفظ کا بکنے والا کیونکر سخت شدید ومدید عذابِ جہنم وغضب الٰہی کا مستحق نہ ہوگا والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
امام ابو عبداللہ قرطبی تفسیر میں زیر قولہ تعالیٰ: (وَطَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْہِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: قـال القاضي أبو بکر بن العربي رحمہ اللہ تعالی: (لا یجوز لأحد منّا الیوم أن یخبر بذلک عن آدم علیہ الصّلاۃ والسّلام إلاّ إذا ذکرناہ في أثناء قولہ تعالی عنہ أو قول نبیہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، فأمّا أن نبتدیئ ذلک من قبل أنفسنا فلیس بجاءز لنا في آبائنا الأدَنین إلینا المماثلین لنا فکیف بأبینا الأقدم الأعظم الأکبر النبي المقدم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وعلی جمیع الأنبیاء والمرسلین).
''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، پ۱۶، الآیۃ: ۱۲۱، ج۶، ص۱۳۷۔
امام ابو عبداللہ محمد بن عبدری ابن الحاج ''مدخل '' ، ج ۱، الجزء ا لاول، ص ۲۳۷، میں فرماتے ہیں: (قد قال علماؤنا رحمہم اللہ تعالی: أنّ من قال عن نبي من الأنبیاء علیھم الصّلاۃ والسلام في غیر التلاوۃ والحدیث: أنّہ عصی أو خالف فقد کفر، نعوذ باللہ من ذلک).
ایسے امور میں سخت احتیاط فرض ہے اللہ تعالی اپنے محبوبوں کا حسن ِادب عطا فرمائے ۔ آمین.
''الفتاوی الرضویۃ'' ج۱، ص ۸۲۳۔۸۲۴.
1 ۔ ہزاروں حکمتوں اور مصلحتوں پرمشتمل،ہزاروں فائدوں اور برکتوں کو لانے والی۔
2 ۔ ھمارے باپ آدم علیہ السلام کی ایک لغزش۔
3 ۔ نیکیوں کے اجر۔
4 ۔ ''کشف الخفاء'' للعجلوني، ج۱، ص۳۱۸. و''النبراس''، الملائکۃ علیہم السلام، ص۲۸۶.
یعنی: نیک لوگوں کی نیکیاں مقربین کے لیے خطاؤں کا درجہ رکھتی ہیں۔
فرشتے اجسامِ نوری ہیں، اﷲ تعالیٰ نے اُن کو یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں(1) ، کبھی وہ انسان کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی دوسری شکل میں۔ (2)
عقیدہ(۱): و ہ و ہی کرتے ہیں جو حکمِ الٰہی ہے(3) ، خدا کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کرتے(4)، نہ قصداً، نہ سہواً، نہ خطاً، وہ اﷲ (عزوجل) کے معصوم بندے ہیں، ہر قسم کے صغائر و کبائر(5) سے پاک ہیں۔ (6)
ـــ 1 ۔ عن عائشۃ قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((خلقت الملائکۃ من نور)).''صحیح المسلم''، کتاب الزہد، باب في أحادیث متفرقۃ، الحدیث:۲۹۹۶، ص۱۵۹۷.
في ''شرح المقاصد''، المبحث الثالث، ج۲، ص۵۰۰: (ظاھر الکتاب والسنۃ، وھو قول أکثر الأمۃ: أنّ الملائکۃ أجسام لطیفۃ نورانیۃ قادرۃ علی التشکلات بأشکال مختلفۃ).
و''شرح المقاصد''، المبحث السابع، الملائکۃ، ج۳، ص۳۱۸ ۔ ۳۱۹. و''منح الروض الأزہر''، ص۱۲.
2 ۔ عن أبي عثمان قال: أنبئت أنّ جبریل أتی النبي صلی اللہ علیہ وسلم وعندہ أم سلمۃ فجعل یتحدث، فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم لأم سلمۃ: ((من ھذا؟)) أو کما قال، قالت: ھذا دحیۃ...إلخ.
''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، کتاب فضائل القرآن، الحدیث:۴۹۸۰، ص۴۳۲.
في ''فتح الباري''، ج۹، ص۵، تحت الحدیث: (وکان جبریل یأتي النبي صلی اللہ علیہ وسلم غالباً علی صورتہ).
عن أنس رضي اللہ عنہ، أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یقول:((یأتیني جبریل علیہ السلام علی صورۃ دحیۃ الکلبي))، قال أنس: وکان دحیۃ رجلا جمیلا أبیض. ''المعجم الکبیر'' للطبراني، ج۱، ص۲۶۱، الحدیث: ۷۵۸.
وأخرج أبو الشیخ عن شریح بن عبید اللہ: أنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم لما صعد إلی السمائ، رأی جبریل في خلقتہ منظوم أجنحتہ بالزبرجد، واللؤلؤ، والیاقوت، قال: ((فخیل لي أنّ ما بین عینیہ قد سد الأفق، وکنت أراہ قبل ذلک علی صور مختلفۃ، وأکثر ما کنت أراہ علی صورۃ دحیۃ الکلبي، وکنت أحیاناً أراہ کما یری الرجل صاحبہ من وراء الغربال)).
''الحبائک فيأخبار الملائک'' للسیوطي، ص۴.
3 ۔ ( وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ).پ۱۴، النحل:۵۰.
4 ۔ (لَا یَعْصُوْنَ اللہَ مَا اَمَرَہُمْ).پ۲۸، التحریم:۶.
5 ۔ چھوٹے بڑے گناہوں۔
6 ۔ في''تفسیر الکبیر''، پ ا، البقرۃ ،ج۱، ص۳۸۹، تحت الآیۃ:۳۰: (الجمہور الأعظم من علماء الدین اتفقوا علی عصمۃ کل الملائکۃ عن جمیع الذنوب ۔، ولنا وجوہ، الأوّل: قولہ تعالی:(لَا یَعْصُوْنَ اللہَ مَا اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ). پ۲۸، التحریم: ۶، إلاّ أنّ ہذہ الآیۃ مختصۃ بملائکۃ النار فإذا أردنا الدلالۃ العامۃ تمسکنا بقولہ تعالی:(یَخَافُوْنَ رَبَّہُمْ مِّن فَوْقِہِمْ
عقیدہ (۲): ان کو مختلف خدمتیں سپرد ہیں، بعض کے ذمّہ حضراتِ انبیا ئے کرام کی خدمت میں وحی لانا، کسی کے متعلق پانی برسانا، کسی کے متعلق ہوا چلانا(1) ، کسی کے متعلق روزی پہنچانا(2) ، کسی کے ذمہ ماں کے پیٹ میں بچہ کی صورت بنانا(3) ، کسی
ـــ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ)پ۱۴، النحل:۵۰، فقولہ: ویفعلون ما یؤمرون یتناول جمیع فعل المأمورات وترک المنہیات، لأنّ المنہي عن الشيء مأمور بترکہ، فإن قیل ما الدلیل علی أنّ قولہ: ویفعلون ما یؤمرون یفید العموم قلنا لأنّہ لا شیء من المأمورات إلاّ ویصح الاستثناء منہ والاستثناء یخرج من الکلام ما لولاہ لدخل علی ما بیناہ فی أصول الفقہ، والثاني: قولہ تعالی:(بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ لاَ یَسْبِقُوْنَہ، بِالْقَوْلِ وَہُمْ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ).پ۱۷، الأنبیائ:۲۶۔۲۷.فھذا صریح في براء تہم عن المعاصي وکونھم متوقفین في کل الأمور إلاّ بمقتضی الأمر والوحي).ملتقطا
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۹۰: (الملائکۃ (الذین ہم عباد) للہ تعالی من حیث أنّہم مخلوقون، (مکرمون لایسبقونہ بالقول، وہم بأمرہ) سبحانہ (یعملون)، لا یعملون قط ما لم یأمرہم بہ، (لا یوصفون) أي: الملا ئکۃ علیھم السلام (بمعصیۃ) صغیرۃ ولا کبیرۃ؛ لأنّہم کالأنبیاء معصومون)، ملتقطاً.
1 ۔ (فَالْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا). پ۳۰، النّٰزعٰت: ۵.
وفي '' تفسیر البغوي''، ج۴، ص۴۱۱، تحت الآیۃ :۵: ((فَالْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا) قال ابن عباس: ھم الملائکۃ وکّلوا بأمور عرّفھم اللہ عزّوجلّ العمل بھا. قال عبد الرحمن بن سابط: یدبر الأمر في الدنیا أربعۃ جبریل ومیکائیل وملک الموت وإسرافیل علیہم السلام، أمّا جبریل فموکل بالوحي والبطش وھزم الجیوش، وأمّا میکائیل فموکل بالمطر والنبات والأرزاق، وأمّا ملک الموت فموکل بقبض الأنفس، وأمّا إسرافیل فھو صاحب الصور، ولا ینزل إلاّ للأمر العظیم).
والبیہقي في ''شعب الإیمان''، الحدیث: ۱۵۸، ج۱، ص۱۷۷.
وفي ''التفسیر الکبیر''، ج۱۱، ص۲۹، تحت الآیۃ: ۵: (فأجمعوا علی أنّھم ھم الملا ئکۃ : قال مقاتل: یعني جبریل ومیکائیل وإسرافیل وعزرائیل علیھم السلام یدبّرون أمر اللہ تعالی في أھل الأرض، وھم المقسمات أمرا ، أمّا جبریل فوکّل بالریاح والجنود، وأمّا میکائیل فوکل بالقطر والنبات، وأمّا ملک الموت فوکّل بقبض الأنفس، وأمّا إسرافیل فھو ینزل بالأمر علیھم، وقوم منھم موکلون بحفظ بني آدم، وقوم آخرون بکتابۃ أعمالھم، وقوم آخرون بالخسف والمسخ والریاح والسحاب والأمطار).
2 ۔ عن أبي ہریرۃ رضي اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :((إنّ للہ تعالی ملائکۃ موکلین بأرزاق بني آدم)).''کنزالعمال''، ج۴، ص۱۳، الحدیث:۹۳۱۷.
3 ۔ عن حذیفۃ بن أسید قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إذا مرّ بالنطفۃ اثنتان وأربعون لیلۃ، بعث اللہ إلیہا ملکاً فصوّرہا وخلق سمعہا وبصرہا وجلدہا ولحمہا وعظامہا...إلخ)). ''صحیح مسلم''، کتاب القدر، باب کیفیۃ الخلق الآدمي ...إلخ، الحدیث:۲۶۴۵، ص۱۴۲۲.
کے متعلق بدنِ انسان کے اندر تصرّف کرنا(1)، کسی کے متعلق انسان کی دشمنوں سے حفاظت کرنا،کسی کے متعلق ذاکرین کا مجمع تلاش کرکے اُس میں حاضر ہونا(2) ، کسی کے متعلق انسان کے نامہ اعمال لکھنا(3) ، بہُتوں کا دربارِ رسالت میں حاضر ہونا(4) ، کسی کے متعلق سرکار میں مسلمانوں کی صلاۃ و سلام پہنچانا(5) ، ۔۔
ـــ 1 ۔ انظر للتفصیل ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۶۲۰۔۶۲۱.
2 ۔ عن أبي ہریرۃ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ للہ تبارک وتعالٰی ملا ئکۃ سیارۃ فضلا یبتغون مجالس الذکر، فإذا وجدوا مجلساً فیہ ذکر قعدوا معہم...إلخ)).
''صحیح مسلم''، کتاب الذکر والدعائ، باب فضل مجالس الذکر، الحدیث: ۲۶۸۹، ص۱۴۴۴.
3 ۔ في ''تفسیر الطبري''، پ۲۶، ق، ج ۱۱، ص ۴۱۶، تحت الآیۃ:۱۷: عن منصور، عن مجاہد (اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ عَنِ الْیَمِینِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیدٌ) قال: ملک عن یمینہ، وآخر عن یسارہ، فأما الذي عن یمینہ فیکتب الخیر، وأما الذي عن شمالہ فیکتب الشرّ). عن منصور، عن مجاہد، قال: (مع کل إنسان مَلکان: ملک عن یمینہ، وملک عن یسارہ، قال: فأما الذي عن یمینہ، فیکتب الخیر، وأما الذي عن یسارہ فیکتب الشرّ)..
4 ۔ في''تفسیر ابن کثیر''، پ۲۲، الأحزاب، ج۶، ص۴۲۳، تحت الآیۃ:۵۶: عن نُبَیہ بن وہب، أنّ کعباً دخل علی عائشۃ، رضي اللہ عنہا، فذکروا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقال کعب:(ما من فجر یطلع إلاّ نزل سبعون ألفًا من الملائکۃ حتی یحفون بالقبر یضربون بأجنحتہم ویصلون علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم، سبعون ألفا باللیل، وسبعون ألفا بالنہار، حتی إذا انشقت عنہ الأرض خرج في سبعین ألفا من الملائکۃ یزفونہ).
5 ۔ عن عماربن یاسرقال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((إن اللہ وکّل بقبري ملکاً أعطاہ أسماع الخلا ئق، فلا یصلي عليّ أحد إلی یوم القیامۃ إلاّ أبلغني بإسمہ واسم أبیہ، ھذا فلان بن فلان، قد صلی علیک)). ''مجمع الزوائد''، کتاب الأدعیۃ، باب في الصلاۃ علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الدعاء وغیرہ، الحدیث:۱۷۲۹۱، ج۱۰، ص۲۵۱.
وفي روایۃ: عن یزید الرقاشي: (إنّ ملکا موکل بمن صلی علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم أن یبلغ عنہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم إنّ فلانا من أمتک صلی علیک).
وفي روایۃ: عن عبد اللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((إنّ للہ ملائکۃ سیاحین في الأرض یبلغوني عن أمتي السلام)). ''المصنف'' لابن أبي شیبۃ، کتاب صلاۃ التطوع والإمامۃ، باب في ثواب الصلاۃ علی النبيصلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۵۔۱۱، ج۲، ص۳۹۹.
بعضوں کے متعلق مُردوں سے سوال کرنا(1) ، کسی کے ذمّہ قبضِ روح کرنا(2) ، بعضوں کے ذمّہ عذاب کرنا(3)، کسی کے متعلق صُور پُھونکنا(4) اور اِن کے علاوہ اور بہت سے کام ہیں جو ملائکہ انجام دیتے ہیں۔
عقیدہ( ۳): فرشتے نہ مرد ہیں، نہ عورت۔ (5)
عقیدہ (۴): اُن کو قدیم ماننا یا خالق جاننا کفر ہے۔
1 ۔ عن أنس رضي اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((العبد إذا وضع في قبرہ وتولي وذہب أصحابہ حتی إنّہ لیسمع قرع نعالہم، أتاہ ملکان فأقعداہ فیقولان لہ: ما کنت تقول في ھذا الرجل محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیقول: أشہد أنّہ عبد اللہ ورسولہ...إلخ)).''صحیح البخاري''، کتاب الجنائز، باب المیت یسمع خفق النعال، الحدیث:۱۳۳۸، ج ۱، ص۴۵۰.
عن أبي ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إذا قبر المیت ۔أو قال: أحدکم۔ أتاہ ملکان أسودان أزرقان یقال لأحدھما المنکر والآخر النکیر، فیقولان: ما کنت تقول في ھذا الرجل؟ فیقول ما کان یقول: ہو عبد اللہ ورسولہ، أشہد أن لا إلہ إلاّ اللہ وأنّ محمداً عبدہ ورسولہ... إلخ)).
''سنن الترمذي''، کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، الحدیث: ۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۷.
2 ۔ (قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ) پ۲۱، السجدۃ:۱۱.
في ''تفسیر الخازن''، تحت الآیۃ: ((قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ) أي: یقبض أرواحکم حتی لا یبقی أحد ممن کتب علیہ الموت (مَلَکُ الْمَوْتِ) وہو عزرائیل علیہ السلام (الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ) أي: أنّہ لا یغفل عنکم وإذا جاء أجل أحدکم لا یؤخرساعۃ ولا شغل لہ إلاّ ذلک). ج ۳، ص۴۷۶.
3 ۔ وأخرج أبو الشیخ عن ابن سابط قال:... فوکل جبریل بالکتاب أن ینزل بہ إلی الرسل، ووکل جبریل أیضا بالھلکات إذا أراد اللہ أن یھلک قوما). ''الحبائک فيأخبار الملائک'' للسیوطي، ص۳.
4 ۔ عن أبي سعید قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إسرافیل صاحب الصور)).
''الحبائک في أخبار الملائک'' للسیوطي، ص۷.
5 ۔ ''منح الروض الأزہر''، ص۱۲:(''وملائکتہ'' منزہون عن صفۃ الذکوریۃ ونعت الأنوثیۃ).
و''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث الملا ئکۃ عباد اللہ۔۔۔ إلخ، ص۱۴۲.
وفي ''شرح المقاصد''، المبحث السابع الملائکۃ ،ج۳، ص۳۱۸.
عقیدہ (۵): انکی تعداد وہی جانے جس نے ان کو پیدا کیا (1) اور اُس کے بتائے سے اُس کا رسول۔ چار فرشتے بہت مشہور ہیں: جبریل و میکائیل و اسرافیل و عزرائیل علیہم السلام اور یہ سب ملائکہ پر فضیلت رکھتے ہیں۔ (2)
ـــ 1 ۔ (وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ) پ۲۹، المدثر: ۳۱.
في ''تفسیرجلا لین ''، ص۴۸۱، تحت الآیۃ :۳۱: ((وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ) الملائکۃ في قوّتہم وأعوانھم).
وفي ''تفسیرالبغوی''، المدثر، ج۴، ص۳۸۵، تحت الآیۃ: ((وَمَا یَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ)، قال مقاتل: ھذا جواب أبي جھل حین قال: أما لمحمد أعوان إلاّ تسعۃ عشر؟ قال عطائ: وما یعلم جنود ربک إلا ھو، یعني من الملا ئکۃ الذین خلقھم لتعذیب أھل النار، لا یعلم عدتھم إلاّ اللہ، والمعنی أنّ تسعۃ عشر ھم خزنۃ النار، ولھم من الأعوان والجنود من الملا ئکۃ ما لایعلمھم إلاّ اللہ عزّوجل).
وفي ''التفسیر الکبیر''، المدثر، تحت الآیۃ: ۳۱، ج۱۰، ص۷۱۳: ((وَمَا یَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ) فھب أنّ ھؤلاء تسعۃ عشر إلاّ أنّ لکلّ واحد منھم من الأعوان والجنود ما لا یعلم عددھم إلاّ اللہ، وثانیھا: وما یعلم جنود ربک لفرط کثرتھا إلاّ ھو فلا یعز علیہ تتمیم الخزنۃ عشرین ولکن لہ في ھذا العدد حکمۃ لا یعلمھا الخلق وھو جل جلالہ یعلمھا).
2 ۔ في ''التفسیر الکبیر''، البقرۃ: تحت الآیۃ: ۳۰، ج۱، ص۳۸۶: (أکابر الملائکۃ فمنھم جبرئیل ومیکائیل صلوات اللہ علیھما لقولہ تعالی: (مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِلّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَرُسُلِہِ وَجِبْرِیْلَ وَمِیکٰلَ فَاِنَّ اللہَ عَدُوٌّ لِلْکَافِرِیْنَ) ۔ ومن جملۃ أکابر الملائکۃ إسرافیل وعزرائیل صلوات اللہ علیھما، وقد ثبت وجودھما بالأخبار وثبت بالخبر أنّ عزرائیل ہو ملک الموت علی ما قال تعالی: (قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَلَکُ الْمَوْتِ الَّذِی وُکِّلَ بِکُمْ) ۔ وأمّا إسرافیل علیہ السلام فقد دلت الأخبار علی أنّہ صاحب الصور علی ما قال تعالی: (وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰـٰوتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاءَ اللہُ ثُمَّ نُفِخَ فِیہِ اُخْرٰی فَاِذَا ہُمْ قِیَامٌ یَنْظُرُوْنَ)، ملتقطاً.
وفي ''تکمیل الإیمان''، ص۶۲: (وازجملہ فرشتگان چھار فرشتہ مقرب تراندکہ عظائم امور عالم ودائم مھام ملک ملکوت بایشان مفوض است یک جبرائیل ۔۔ ومیکائیل ۔ واسرافیل ۔ وعزرائیل)، ملتقطاً.
یعنی: تمام فرشتوں میں چار فرشتے مقرب تر ہیں جن کو عالم کے بڑے بڑے امور اور ملک و ملکوت کے عظیم کام سپرد ہیں ان میں سے ایک جبریل ہیں دوسرے میکائیل ،تیسرے اسرافیل اور چوتھے عزرائیل ہیں۔
عقیدہ (۶): کسی فرشتہ کے ساتھ ادنیٰ گستاخی کفر ہے(1)، جاھل لوگ اپنے کسی دشمن یا مبغوض(2) کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ملک الموت یا عزرائیل آگیا، یہ قریب بکلمہ کُفر ہے۔(3)
عقیدہ (۷): فرشتوں کے وجود کا انکار(4)، یا یہ کہنا کہ فرشتہ نیکی کی قوت کو کہتے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں، یہ دونوں باتیں کُفر ہیں۔
ـــ 11 ۔ (من شتم ملکاً أو أبغضہ فإنّہ یصیر کافراً کما في الأنبیائ، ومن ذکر الأنبیاء أو ملکاً بالحقارۃ فإنّہ یصیر کافراً).
''تمہید'' لأبي شکور سالمي،ص ۱۲۲.
وفي ''الفتاوی الہندیۃ''، الباب التاسع في أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۶: (رجل عاب ملکاً من الملائکۃ کفر).
2 ۔ قابل نفرت۔
3 ۔ (ویکفر بقولہ لغیرہ: رؤیتي إیاک کرؤیۃ ملک الموت عند البعض خلافا للأکثر، وقیل بہ إن قالہ لعداوتہ، لا لکراہۃ الموت). ''البحر الرائق''، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۵، ص۲۰۵، ملتقطاً.
وفي مجمع الأنہر''، کتاب السیر والجہاد، ج۲، ص۵۰۷: (قال: لقاؤک عليّ کلقاء ملک الموت إن قالہ لکراہۃ الموت لا یکفر، وإن قالہ إہانۃ لملک الموت یکفر، ویکفر بتعییبہ ملکاً من الملائکۃ أو بالاستخفاف بہ).
وفي ''الفتاوی الہندیۃ''، الباب التاسع في أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۶: (إذا قال لغیرہ: رؤیتي إیاک کرؤیۃ ملک الموت، فھذا خطأ عظیم، وھل یکفر ھذا القائل؟ فیہ اختلاف المشایخ، بعضھم قالوا: یکفر وأکثرہم علی أنّہ لا یکفر،کذا في ''المحیط''، وفي ''الخانیۃ'': وقال بعضھم: إن قال ذلک لعداوۃ ملک الموت یصیر کافراً، وإن قال لکراہۃ الموت لا یصیرکافرا، ولو قال: روی فلان دشمن میدارم چون روی ملک الموت، (أي: أکرہ رؤیۃ فلان مثل رؤیۃ ملک الموت) أکثر المشایخ علی أنّہ یکفر).
4 ۔ في ''شرح الشفا'' للقاریئ، في حکم من سب اللہ تعالی وملائکتہ إلی آخرہ، ج۲، ص۵۲۲: (''وکذلک من أنکر شیأاً مما نصّ فیہ القرآن'' بہ کوجود الملائکۃ ومجيء القیامۃ)۔
عقیدہ (۱): یہ آگ سے پیدا کیے گئے ہیں۔(1) اِن میں بھی بعض کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں (2)، اِن کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں(3)، اِن کے شریروں کو شیطان کہتے ہیں(4)، یہ سب انسان کی طرح ذی عقل اور ارواح و اجسام والے ہیں(5)، اِن میں توالد و تناسل ہوتا ہے(6)، کھاتے، پیتے، جیتے، مرتے ہیں۔(7)
1 ۔ (وَالْجَآنَّ خَلَقْنٰـہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ). پ۱۴، الحجر: ۲۷.
في ''مدارک التنزیل وحقائق التأویل'' للنسفي، تحت ہذہ الآیۃ، ص۵۸۰: ((وَالْجَآنَّ) أبا الجن کآدم للناس أو ہو إبلیس وہو منصوب بفعل مضمر یفسرہ ( خَلَقْنٰـہُ مِنْ قَبْلُ) من قبل آدم ( مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ) من نار الحر الشدید النافذ في المسام قیل: ہذہ السموم جزء من سبعین جزء اً من سموم النار التي خلق اللہ منھا الجان)۔
(''مدارک التنزیل وحقائق التأویل'' للنسفي، ص۵۸۰)۔
2 ۔ ''شرح المقاصد''، المبحث الثالث، ج۲، ص۵۰۰: (والجن أجسام لطیفۃ ھوائیۃ تتشکل بأشکال مختلفۃ).
3 ۔ انظر ''الحیاۃ الحیوان الکبری''، ج۱، ص۲۹۸.
و ''صفۃ الصفوۃ'' لابن الجوزي، ج۲، الجزء الرابع، ص۳۵۷۔۳۵۸.
4 ۔ في ''التفسیر الکبیر''، ج۱، ص۸۵: (الجن منھم أخیار ومنھم أشرار والشیاطین اسم لأَشرار الجن).
5 ۔ في''التفسیر الکبیر''، ج۱، ص۷۹: (أنّہا أجسام ہوائیۃ قادرۃ علی التشکل بأشکال مختلفۃ، ولہا عقول وأفہام وقدرۃ علی أعمال صعبۃ شاقۃ).
6 ۔ ان کے یہاں اولادپیدا ہوتی اور نسل چلتی ہے۔
7 ۔ في ''الفتاوی الحدیثیۃ''، ص۹۰: (اتفقوا علی أنّ الملائکۃ لا یأکلون ولا یشربون ولا ینکحون، وأمّا الجن فإنّہم یأکلون ویشربون وینکحون ویتوالدون).
في ''التفسیر الکبیر'': (الجن والشیاطین فإنّہم یأکلون ویشربون، قال علیہ السلام في الروث والعظم: ((إنّہ زاد إخوانکم من الجن)) وأیضاً فإنّہم یتوالدون قال تعالی: (اَفَتَتَّخِذُوْنَہ، وَذُرّیَّتَہ، اَوْلِیَاءَ مِنْ دُوْنِیْ)، الکہف۵۰.
( ''التفسیر الکبیر''، ج۱، ص۸۵)۔
عقیدہ (۲): اِن میں مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی (1)، مگر اِن کے کفّار انسان کی بہ نسبت بہت زیادہ ہیں ، اور اِن میں کے مسلمان نیک بھی ہیں اور فاسق بھی، سُنّی بھی ہیں، بد مذہب بھی (2)، اور اِن میں فاسقوں کی تعداد بہ نسبت انسان کے زائد ہے۔
عقیدہ (۳): اِن کے وجود کا انکار یا بدی کی قوت کا نا م جن یا شیطان رکھنا کفر ہے۔ (3)
1 ۔ (وَاَنَّا مِنَّا الصَّالِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ کُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا) پ۲۹، الجن: ۱۱.
وفي ''تفسیر الجلالین''، ص۴۷۶، تحت الآیۃ: ((کُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا) فرقاً مختلفین مسلمین وکافرین).
2 ۔ وفي ''الجامع لأحکام القرآن''، تحت الآیۃ: ((کُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا) والمعنی: أي: لم یکن کلّ الجن کفاراً بل کانوا مختلفین: منھم کفار، ومنھم مؤمنون صلحائ، ومنھم مؤمنون غیرصلحائ. وقال السدي فيقولہ تعالی: (طَرَائِقَ قِدَدًا) قال: في الجن مثلکم قدریۃ ومرجئۃ وخوارج ، وروافضۃ، وشیعۃ وسنیۃ)، ملتقطاً.
( ''الجامع لأحکام القرآن''، ج۱۰، ص۱۲).
وفي ''تفسیر روح البیان'': ( قالوا في الجن قدریۃ ومرجئۃ وخوارج وروافض وشیعیۃ وسنیۃ)۔
(''تفسیر روح البیان''، ج۱۰، ص۱۹۴)۔
3 ۔ في ''الفتاوی الحدیثیۃ''، ص۱۶۷: (وأمّا الجان فأھل السنۃ یؤمنون بوجودہم، وإنکار المعتزلۃ لوجودہم، فیہ مخالفۃ للکتاب والسنۃ والإجماع، بل ألزموا بہ کفراً؛ لأنّ فیہ تکذیب النصوص القطعیۃ بوجودہم، ومن ثم قال بعض المالکیۃ: الصواب کفر من أنکر وجودہم؛ لأنّہ جحد نص القرآن والسنن المتواترۃ والإجماع الضروري وہم مکلفون قطعاً).
دنیا اور آخرت کے درمیان ایک اور عالَم ہے جس کو برزخ کہتے ہیں(1)، مرنے کے بعد اور قیامت سے پہلے تمام اِنس وجن کو حسبِ مراتب اُس میں رہنا ہوتا ہے(2)، اور یہ عالَم اِس دنیا سے بہت بڑا ہے۔ دنیا کے ساتھ برزخ کو وہی نسبت ہے جو ماں کے پیٹ کے ساتھ دنیا کو (3)، برزخ میں کسی کو آرام ہے اور کسی کو تکلیف۔(4)
عقیدہ(۱): ہر شخص کی جتنی زندگی مقرّر ہے اُس میں نہ زیادتی ہو سکتی ہے نہ کمی(5)، جب زندگی کا وقت پورا ہو جاتا ہے، اُس وقت حضرت عزرائیل علیہ السلام قبضِ روح کے لیے آتیہیں(6) ۔
1 ۔ (وَمِنْ وَّرَائِہِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ)، پ۱۸، المؤمنون:۱۰۰.
في ''تفسیر الطبري''، ج۹، ص۲۴۴، تحت الآیۃ: (أخبرنا عُبید قال: سمعت الضحاک یقول: البرزخ: ما بین الدنیا والآخرۃ).
في ''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، ج۶، ص۱۱۳، تحت الآیۃ: (والبرزخ ما بین الدنیا والآخرۃ من وقت الموت إلی البعث، فمن مات فقد دخل في البرزخ)۔
2 ۔ في ''الفتوحات المکیۃ''، الباب الثالث والستون في معرفۃ بقاء الناس۔۔۔ إلخ، ج۱، ص۶۸۶ : (وکلّ إنسان في البرزخ مرہون بکسبہ محبوس فی صور أعمالہ إلی أن یبعث یوم القیامۃ من تلک الصور فی النشأۃ الآخرۃ واللہ یقول الحق وہو یہدي السبیل)۔ و''ملفوظات''، حصہ۴، ص۱۵۵۔
3 ۔ اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین و ملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ''علماء فرماتے ہیں: دنیا کو برزخ سے وہی نسبت ہے جو رحم مادر کو دنیا سے، پھر برزخ کو آخرت سے یہی نسبت ہے جو دنیا کو برزخ سے''۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۷۰۷.
4 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّما القبر روضۃ من ریاض الجنۃ أو حفرۃ من حفر النار)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ القیامۃ، باب حدیث: أکثروا من ذکر ہادم اللذات، الحدیث: ۲۴۶۸، ج۴، ص۲۰۹.
5 ۔ (وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللہُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُہَا وَاللہُ خَبِیْرٌمبِمَا تَعْمَلُوْنَ)۔
(فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ).پ۱۴، النحل:۶۱.
في''تفسیر الخازن''، ج۳، ص ۱۲۸، تحت ہذہ الآیۃ: (یعني: لا یؤخرون ساعۃ عن الأجل الذي جعلہ اللہ لہم ولا ینقصون عنہ). وفي مقام آخر، پ۱۳، الرعد، ج۳، ص۷۰: (قولہ تعالی: (فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ)، فدلّ ذلک علی أنّ الآجال لا تزید ولا تنقص).
6 ۔ ( قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ). پ۲۱، السجد ۃ :۱۱. =
اور اُس شخص کے دہنے بائیں جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے فرشتے دکھائی دیتے ہیں ، مسلمان کے آس پاس رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں اور کافر کے دہنے بائیں عذاب کے۔ (1)
= في ''تفسیر البغوي''، ج۳، ص۴۳۰، تحت الآیۃ: ((قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ) یقبض أرواحکم (مَلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ)، أي: وکل بقبض أرواحکم وہوعزرائیل).
1 ۔ عن البراء بن عازب قال [وفیہ] قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ العبد المؤمن إذا کان في انقطاع من الدنیا وإقبال من الآخرۃ نزل إلیہ ملائکۃ من السماء بیض الوجوہ کأنّ وجوہہم الشمس معہم کفن من أکفان الجنۃ وحنوط من حنوط الجنۃ حتی یجلسوا منہ مد البصر ثم یجيء ملک الموت علیہ السلام حتی یجلس عند رأسہ فیقول: أیتہا النفس الطیبۃ! اخرجي إلی مغفرۃ من اللہ ورضوان قال: فتخرج تسیل کما تسیل القطرۃ من في السقاء فیأخذہا فإذا أخذہا لم یدعوہا في یدہ طرفۃ عین حتی یأخذوہا فیجعلوہا في ذلک الکفن وفي ذلک الحنوط ویخرج منھا کأطیب نفحۃ مسک وجدت علی وجہ الأرض قال: فیصعدون بہا فلا یمرون یعني بہا علی ملإ من الملائکۃ إلاّ قالوا: ما ھذا الروح الطیب؟ فیقولون: فلان بن فلان بأحسن أسمائہ التي کانوا یسمونہ بہا في الدنیا حتی ینتہوا بہا إلی السماء الدنیا فیستفتحون لہ فیفتح لہم فیشیعہ من کل سماء مقربوہا إلی السماء التي تلیہا حتی ینتہی بہ إلی السماء السابعۃ فیقول اللہ عز وجل: اکتبوا کتاب عبدي في علیین وأعیدوہ إلی الأرض فإني منھا خلقتہم وفیہا أعیدہم ومنھا أخرجہم تارۃ أخری، قال: فتعاد روحہ في جسدہ فیأتیہ ملکان فیجلسانہ فیقولان لہ: من ربک؟ فیقول: ربي اللہ، فیقولان لہ: ما دینک؟ فیقول: دیني الإسلام فیقولان لہ: ما ھذا الرجل الذی بعث فیکم فیقول: ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیقولان لہ: وما علمک؟ فیقول: قرأت کتاب اللہ فآمنت بہ وصدقت فینادي مناد في السماء أن صدق عبدي فافرشوہ من الجنۃ وألبسوہ من الجنۃ وافتحوا لہ بابا إلی الجنۃ قال: فیأتیہ من روحہا وطیبہا ویفسح لہ في قبرہ مد بصرہ قال: ویأتیہ رجل حسن الوجہ حسن الثیاب طیب الریح فیقول: أبشر بالذي یسرک ھذا یومک الذي کنت توعد فیقول لہ: من أنت فوجہک الوجہ یجيء بالخیر؟ فیقول: أنا عملک الصالح فیقول: رب أقم الساعۃ حتی أرجع إلی أھلي ومالي، قال: وإنّ العبد الکافر إذا کان في انقطاع من الدنیا وإقبال من الآخرۃ نزل إلیہ من السماء ملائکۃ سود الوجوہ معہم المسوح فیجلسون منہ مد البصر ثم یجيء ملک الموت حتی یجلس عند رأسہ فیقول: أیتہا النفس الخبیثۃ اخرجي إلی سخط من اللہ وغضب، قال فتفرق في جسدہ فینتزعہا کما ینتزع السفود من الصوف المبلول فیأخذہا فإذا أخذہا لم یدعوہا في یدہ طرفۃ عین حتی یجعلوہا في تلک المسوح ویخرج منھا کأنتن ریح جیفۃ وجدت علی وجہ الأرض فیصعدون بہا فلا یمرون بہا علی ملإ من الملائکۃ إلاّ قالوا: ما ھذا الروح الخبیث؟ فیقولون: فلان بن فلان بأقبح أسمائہ التي کان یسمی بہا في الدنیا حتی ینتہی بہ إلی السماء الدنیا فیستفتح لہ فلا یفتح لہ ثم قرأ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: =
اُس وقت ہر شخص پر اسلام کی حقّانیت آفتاب سے زیادہ روشن ہو جاتی ہے، مگر اُس وقت کا ایمان معتبر نہیں، اس لیے کہ حکم ایمان بالغیب کا ہے اور اب غیب نہ رہا، بلکہ یہ چیزیں مشاہد ہو گئیں۔(1)
عقیدہ (۲): مرنے کے بعد بھی روح کا تعلق بدنِ انسان کے ساتھ باقی رہتا ہے، اگرچہ روح بدن سے جُدا ہو گئی، مگر بدن پر جو گزرے گی رُوح ضرور اُس سے آگاہ و متأثر ہوگی، جس طرح حیاتِ دنیا میں ہوتی ہے، بلکہ اُس سے زائد۔ دنیا میں ٹھنڈا پانی، سرد ہَوا، نرم فرش، لذیذ کھانا، سب باتیں جسم پر وارِد ہوتی ہیں، مگر راحت و لذّت روح کو پہنچتی ہے اور ان کے عکس بھی جسم ہی پر وارِد ہوتے ہیں اور کُلفت و اذیّت روح پاتی ہے،اور روح کے لیے خاص اپنی راحت واَلم کے الگ اسباب ہیں، جن سے سرور یا غم پیداہوتا ہے، بعینہٖ(2) یہی سب حالتیں برزخ میں ہیں۔(3)
=(لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ)، فیقول اللہ عز وجل: اکتبوا کتابہ في سجین في الأرض السفلی فتطرح روحہ طرحا ثم قرأ: (وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ)، فتعاد روحہ في جسدہ ویأتیہ ملکان فیجلسانہ فیقولان لہ: من ربک؟ فیقول: ہاہ ہاہ لا أدري فیقولان لہ: ما دینک؟ فیقول: ہاہ ہاہ لا أدري فیقولان لہ: ما ھذا الرجل الذي بعث فیکم؟ فیقول: ہاہ ہاہ لا أدري فینادي مناد من السماء أن کذب فافرشوا لہ من النار وافتحوا لہ بابا إلی النار فیأتیہ من حرہا وسمومہا ویضیق علیہ قبرہ حتی تختلف فیہ أضلاعہ ویأتیہ رجل قبیح الوجہ قبیح الثیاب منتن الریح فیقول: أبشر بالذي، یسوء ک ھذا یومک الذي کنت توعد فیقول: من أنت فوجہک الوجہ یجيء بالشر فیقول: أنا عملک الخبیث فیقول: رب لا تقم الساعۃ)). ''المسند''، للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث:۱۸۵۵۹، ج۶، ص۴۱۳۔۴۱۴.
1 ۔ (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْا اٰمَنَّا بِاللہِ وَحْدَہٗ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیْنَ فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ اِیمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا سُنَّۃَ اللہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْکَافِرُوْنَ).پ۲۴، المؤمن:۸۴۔۸۵.
في ''تفسیر الطبري''، ج۱۱، ص۸۳، تحت الآیۃ: (یقول تعالی ذکرہ: فلم یک ینفعہم تصدیقہم فی الدنیا بتوحید اللہ عند معاینۃ عقابہ قد نزل، وعذابہ قد حل؛ لأنھم صدقوا حین لا ینفع التصدیق مصدقا، إذ کان قد مضی حکم اللہ فی السابق من علمہ، أن من تاب بعد نزول العذاب من اللہ علی تکذیبہ لم تنفعہ توبتہ)۔
2 ۔ بالکل۔
3 ۔ في''منح الروض الأزہر''، ص۱۰۰۔۱۰۱: (''وإعادۃ الروح'' أي: ردّہا أو تعلقہا ''إلی العبد'' أي: جسدہ بجمیع أجزائہ أو بعضہا مجتمعۃ أو متفرقۃ ''في قبرہ حق''، والواو لمجرد الجمعیۃ فلا ینافي أنّ السؤال بعد إعادۃ الروح وکمال الحال)، واعلم: أنّ أھل الحق اتفقوا علی أنّ اللہ تعالیٰ یخلق في المیت نوع حیاۃ في القبر قدر ما یتألم أو یتلذذ)، ملتقطاً.
=
عقیدہ (۳): مرنے کے بعد مسلمان کی روح حسبِ مرتبہ مختلف مقاموں میں رہتی ہے، بعض کی قبر پر(1) ، بعض کی چاہِ زمزم شریف(2) میں(3)، بعض کی آسمان و زمین کے درمیان(4)، بعض کی پہلے، دوسرے، ساتویں آسمان تک(5)اور بعض کی آسمانوں سے بھی بلند، اور بعض کی روحیں زیرِ عرش قندیلوں(6) میں(7)، اور بعض کی اعلیٰ عِلّیین(8) میں(9) مگر کہیں ہوں، اپنے
وفي ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث عذاب القبر، ص۱۰۱: (أنّہ یجوزأن یخلق اللہ تعالی في جمیع الأجزاء أو في بعضھا نوعا من الحیوۃ قدر ما ید رک ألم العذ اب أو لذۃ التنعیم وھذا لا یستلزم إعادۃ الروح إلی بدنہ ولا أن یتحرک ویضطرب أو یری أثر العذاب علیہ حتی أنّ الغریق في الماء والمأکول في بطون الحیوانات والمصلوب في الھواء یعذب وإن لم نطلع علیہ).
1 ۔ عن ابن عمر رضي اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ الرجل لیعرض علیہ مقعدہ من الجنۃ والنار غدوۃ وعشیۃ في قبرہ)). ''شرح الصدور''، ص۲۶۲۔۲۶۳.
2 ۔ یعنی زمزم شریف کے کنویں ۔
3 ۔ عن علي قال: ((أرواح المؤمنین في بئر زمزم)). ''شرح الصدور''، ص۲۳۷.
4 ۔ عن المغیرۃ بن عبد الرحمن قال: (إنّ الروح إذا خرج من الجسد کان بین السماء والأرض حتی یرجع إلی جسدہ).
''شرح الصدور''، ص۲۳۶.
5 ۔ عن ابن عمر رضي اللہ عنھما أنّہ عزی أسماء بابنہا عبد اللہ بن الزبیر وجثتہ مصلوبۃ، فقال: (لا تحزني فإنّ الأرواح عند اللہ في السماء، وإنّما ہذہ جثۃ). وفي روایۃ: عن أبي ہریرۃ رضي اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ أرواح المؤمنین في السماء السابعۃ ینظرون إلی منازلہم في الجنۃ)). ''شرح الصدور''، ص۲۳۵.
6 ۔ قندیل کی جمع، ایک قسم کا فانوس جس میں چراغ جلا کر لٹکاتے ہیں۔ (''فیروز اللغات''، ص۱۰۲۲)۔
7 ۔ عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لمّا أصیب إخوانکم بأحد جعل اللہ أرواحہم في جوف طیر خضر ترد أنہار الجنۃ تأکل من ثمارہا وتأوي إلی قنادیل من ذہب معلقۃ في ظل العرش)).
''سنن أبي داود، کتاب الجہاد، باب في فضل الشہادۃ، الحدیث: ۲۵۲۰، ج۳، ص۲۲.
عن ابن مسعود قال: ((إنّ أرواح الشہداء في أجواف طیر خضر في قنادیل تحت العرش تسرح في الجنۃ حیث شاء ت ثم ترجع إلی قنادیلہا)).''شرح الصدور''، ص۲۳۱.
8 ۔جنت کے نہایت ہی بلند وبالا مکانات میں۔
9 ۔ في ''شرح مسلم'' للنووي: ج۲، ص۲۸۶: ((الرفیق الأعلی)) الصحیح الذي علیہ الجمہور أنّ المراد بالرفیق الأعلی الأنبیاء الساکنون أعلی علیین). =
جسم سے اُن کو تعلق بدستور رہتا ہے۔ جو کوئی قبر پر آئے اُسے دیکھتے، پہچانتے، اُس کی بات سنتے ہیں(1)، بلکہ روح کا دیکھنا قُربِ قبر ہی سے مخصوص نہیں، اِس کی مثال حدیث میں یہ فرمائی ہے، کہ ''ایک طائر پہلے قفص(2) میں بند تھا اور اب آزاد کر دیا گیا۔''(3) ائمہ کرام فرماتے ہیں:
''إِنَّ النُّفُوْسَ القُدْسِیَّۃَ إِذَا تَجَرَّدَتْ عَنِ الْـعَـلَا ئِقِ الْبَدَنِیَّۃِ اتّصَلَتْ بِالْمَلَإِ الْأَعْلٰی وَتَرٰی وَتَسْمَعُ الکُلَّ کَالْمُشَاھِدِ .'' (4)
''بیشک پاک جانیں جب بدن کے عَلاقوں سے جدا ہوتی ہیں، عالمِ بالا سے مل جاتی ہیں اور سب کچھ ایسا دیکھتی سنتی ہیں جیسے یہاں حاضر ہیں۔''
= وفي ''شرح الصدور''، ص۲۴۹: قال الحافظ ابن رجب في أحوال القبور في ذکر محل الموتی في البرزخ: أمّا الأنبیاء علیہم السلام فلا شک أنّ أرواحہم عند اللہ في أعلی علیین، وقد ثبت في الصحیح أنّ آخر کلمۃ تکلم بہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عند موتہ أنّہ قال:((اللہم الرفیق الأعلی)). ''الفتاوی الرضویۃ'' ،ج۹، ص۶۵۸.
1 ۔ في''الفتاوی الحدیثیۃ''، مطلب: أرواح الأنبیاء فيأعلی علیین وأرواح الشھداء ۔ إلخ ،ص۱۴۔۱۵: (عن مجاھد أنّھا تکون علی القبورسبعۃ أیام من یوم دفن لاتفارقہ أي: ثم تفارقہ بعد ذلک، ولاینافیہ سنیۃ السلام علی القبورلأنّہ لایدل علی استقرار الأرواح علی أفنیتھا دائماً لأنّہ یسلم علی قبورالأنبیاء والشھداء وأرواحھم في أعلی علیین ولکن لھا مع ذلک اتصال سریع بالبدن لایعلم کنھہ إلاّ اللہ تعالی. وأخرج ابن أبي الدنیا عن مالک ((بلغني أنّ الأرواح مرسلۃ تذہب حیث شاء ت)) وحدیث:((ما من أحد یمر بقبر أخیہ المؤمن کان یعرفہ في الدنیا فیسلم علیہ إلاّ عرفہ وردّ علیہ السلام)).
وفي ''شرح الصدور''، ص۲۴۴: (أرواح المؤمنین في علیین، وأرواح الکفار في سجین، ولکل روح بجسدہا اتصال معنوي لا یشبہ الاتصال في الحیاۃ الدنیا بل أشبہ شيء بہ حال النائم، وإن کان ہو أشد من حال النائم اتصالا).
2 ۔ یعنی ایک پرندہ پہلے پنجرہ۔
3 ۔ عن عبد اللہ بن عمرو قال: (إنّ الدنیا جنۃ الکافر وسجن المؤمن، وإنّما مثل المؤمن حین تخرج نفسہ کمثل رجل کان في سجن، فأخرج منہ فجعل یتقلب في الأرض، ویتفسح فیہا).
''کتاب الزہد''، لابن مبارک، باب في طلب الحلال، الحدیث: ۵۹۷، ص۲۱۱،
و''شرح الصدور''، باب فضل الموت، ص۱۳.
4 ۔ ''فیض القدیر'' شرح ''الجامع الصغیر''، حرف الصاد، تحت الحدیث: ۵۰۱۶، ج۴، ص۲۶۳. بألفاظ متقاربۃ.
حدیث میں فرمایا:
((إِذَا مَاتَ الْمُؤْمِنُ یُخلّٰی سَرْبُہٗ یَسْرَحُ حَیْثُ شآءَ.))(1)
''جب مسلما ن مرتا ہے اُس کی راہ کھول دی جاتی ہے، جہاں چاہے جائے۔''
شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں(2): ''روح را قُرب و بُعد مکانی یکساں است۔'' (3)
کافروں کی خبیث روحیں بعض کی اُن کے مرگھٹ(4)، یا قبر پر رہتی ہیں، بعض کی چاہِ برہُوت میں کہ یمن میں ایک نالہ ہے(5)، بعض کی پھلی، دوسری، ساتویں زمین تک(6)، بعض کی اُس کے بھی نیچے سجّین(7) میں(8)، اور وہ کہیں بھی ہو، جو اُس کی قبر یا مرگھٹ پر گزرے اُسے دیکھتے، پہچانتے، بات سُنتے ہیں، مگر کہیں جانے آنے کا اختیار نہیں، کہ قید ہیں۔
عقیدہ( ۴): یہ خیال کہ وہ روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے، خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں، محض باطل اور اُس کا ماننا کفر ہے۔(9)
1 ۔ ''شرح الصدور''، باب فضل الموت، ص۱۳.
و''المصنف'' لابن أبي شیبۃ، کتاب الزھد، کلام عبد اللہ بن عمرو، الحدیث : ۱۰، ج۸، ص۱۸۹.
2 ۔ ''فتاوی رضویہ ''، ج ۲۹ ، ص۵۴۵، بحوالہ ئ ''فتاوی عزیزیہ ''۔
3 ۔ یعنی روح کے لیے کوئی جگہ دور یا نزدیک نہیں ،بلکہ سب جگہ برابر ہے۔
4 ۔ ہندؤں کے مردے جلانے کی جگہ۔
5 ۔ عن عبد اللہ ابن عمر رضي اللہ عنھما قال: ((إنّ أرواح الکفار تجمع ببرہوت سبخۃ بحضرموت، وأرواح المؤمنین بالجابیۃ، برہوت بالیمن، والجابیۃ بالشام).
وفي روایۃ: عن علي بن أبي طالب رضي اللہ عنہ قال: ((خیر وادي الناس وادي مکۃ وشر وادي الناس وادي الأحقاف واد بحضرموت یقال لہ: برہوت فیہ أرواح الکفار)). ''شرح الصدور''، ص۲۳۶۔۲۳۷.
6 ۔ عن ابن عمرو قال: ((أرواح الکافرین في الأرض السابعۃ)). ''شرح الصدور''، ص۲۳۴.
7 ۔ جہنم کی ایک وادی کا نام۔
8 ۔ عن ضمرۃ بن حبیب مرسلا قال: سئل النبي صلی اللہ علیہ وسلم عن أرواح الکفار؟ قال: ((محبوسۃ في سجین)).
''شرح الصدور''، ص۲۳۲.
9 ۔ وفي ''النبراس''، باب البعث حق، ص۲۱۳: (التناسخ ھو انتقال الروح من جسم إلی جسم آخر وقد اتفق الفلاسفۃ وأھل السنۃ علی بطلانہ، وقال بحقیقتہ قوم من الضلال، فزعم بعضھم أنّ کل روح ینتقل في مائۃ ألف وأربعۃ وثمانین =
عقیدہ (۵): موت کے معنی روح کا جسم سے جدا ہو جانا ہیں، نہ یہ کہ روح مر جاتی ہو، جو روح کو فنا مانے،
بد مذہب ہے۔(1)
عقیدہ (۶): مردہ کلام بھی کرتا ہے اور اُس کے کلام کو عوام جن اور انسان کے سوا اور تمام حیوانات وغیرہ سنتے بھی ہیں۔(2)
= من الأبدان، وجوّز بعضھم تعلقہ بأبدان البہائم بل الأشجار والأحجار علی حسب جزاء الأعمال السیئۃ، وقد حکم أھل الحق بکفر القائلین بالتناسخ، والمحققون علی أنّ التکفیر لإنکارھم البعث).
وفي ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب السیر، باب التاسع في أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۴: (ویجب إکفار الروافض في قولھم برجعۃ الأموات إلی الدنیا وبتناسخ الأرواح وبانتقال روح الإلہ إلی الأئمۃ).
وفي ''الحدیقۃ الند یۃ'' شرح ''الطریقۃ المحمدیۃ''، ج ۱، ص۳۰۴: (ویجب إکفار الروافض في قولھم برجع الأموات) بعد موتھم (إلی الدنیا) أیضا (و) قولھم (بتناسخ الأرواح) أي: انتقالھا من جسد إلی جسد علی الأبد).
1 ۔ في ''شرح الصدور''، باب فضل الموت، ص۱۲: (قال العلماء: الموت لیس بعد م محض ولا فناء صرف وإنّما ھو انقطاع تعلق الروح بالبدن، ومفارقۃ وحیلولۃ بینھما، وتبدل حال، وانتقال من دار إلی دار، وأخرج الطبراني في ''الکبیر''، والحاکم في ''المستد رک'' عن عمر بن عبد العزیز أنّہ قال: (إنّما خلقتم للأبد والبقائ، ولکنکم تنقلون من دار إلی د ار)، ملتقطاً.
وفي مقام آخر: باب مقر الأرواح، ص۳۲۴: (ذہب أھل الملل من المسلمین وغیرہم إلی: أنّ الروح تبقی بعد موت البدن، وخالف فیہ الفلاسفۃ، دلیلنا قولہ تعالی: (کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ)، والذائق لا بد أن یبقی بعد المذوق، وما تقدم في ھذا الکتاب من الآیات والآحادیث في بقائہا وتصرفہا وتنعیمہا وتعذیبہا إلی غیرذلک).
و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۶۵۷، ۷۴۳۔۷۴۴، ۸۴۳، ج۲۹، ص۱۰۳.
2 ۔ عن أبي سعید الخدري رضي اللہ عنہ یقول: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إذا وضعت الجنازۃ فاحتملھا الرجال علی أعناقھم، فإن کانت صالحۃ قالت: قدموني قدموني، وإن کانت غیر صالحۃ قالت: یا ویلھا أین یذھبون بھا؟ یسمع صوتھا کل شيء إلاّ الإنسان ولو سمعھا الإنسان لصعق)).
''صحیح البخاري''، کتاب الجنائز، باب کلام المیت علی الجنازۃ، الحدیث: ۱۳۸۰، ج۱، ص۴۶۵.
وفي ''شرح الصدور''، باب معرفۃ المیت من یغسلہ، ص۹۶: (وأخرج ابن أبيالدنیا في القبور، عن عمر بن الخطاب رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((ما من میت یوضع علی سریرہ فیخطی بہ ثلاث خطوات إلاّ تکلم بکلام یسمعہ من شاء اللہ إلاّ الثقلین الإنس والجن، یقول: یا أخوتاہ، ویا حملۃ نعشاہ لا تغرنکم الدنیا کما غرتني، ولا یلعبن بکم الزمان کما لعب بي، خلفت ما ترکت لورثي، والدیان یوم القیامۃ یخاصمني ویحاسبني، وأنتم تشیعوني وتدعوني)).
عقیدہ (۷): جب مردہ کو قبر میں دفن کرتے ہیں، اُس وقت اُس کو قبر دباتی ہے۔ اگر وہ مسلمان ہے تو اُس کا دبانا ایسا ہوتا ہے کہ جیسے ماں پیار میں اپنے بچّے کو زور سے چپٹا لیتی ہے(1) ، اور اگر کافر ہے تو اُس کو اِس زور سے دباتی ہے کہ اِدھر کی پسلیاں اُدھر اور اُدھر کی اِدھر ہو جاتی ہیں۔(2)
1 ۔ في''شرح الصد ور''، ذکر تخفیف ضمۃ القبرعلی المؤمن، ص۳۴۵: عن سعید بن المسیب،أنّ عائشۃ رضي اللہ تعالی عنہا، قالت: یارسول اللہ !إنّک منذ حدثتني بصوت منکر ونکیر، وضغطۃ القبر لیس ینفعني شيئ، قال:((یاعائشۃ!إنّ صوت منکر ونکیر في أسماع المؤمنین کالإثمد في العین، وضغطۃ القبرعلی المؤمن کالأم الشفیقۃ یشکو إلیھا ابنھا الصداع، فتغمز رأسہ غمزاً رفیقاً، ولکن یاعائشۃ ویل للشاکین في اللہ کیف یضغطون في قبورھم کضغطۃ الصخرۃ علی البیضۃ)).
وأخرج ابن أبي الدنیا عن محمد التیمي قال: کان یقال إنّ ضمۃ القبر إنّما أصلھا أنّھا أمھم ومنھا خلقوا، فغابوا عنھا الغیبۃ الطویلۃ، فلمّا رد إلیھا أولادھا ضمتھم ضم الوالدۃ الشفیقۃ الذي غاب عنھا ولدھا، ثم قدم علیھا، فمن کان للہ مطیعاً ضمتہ برفق ورأفۃ، ومن کان للہ عاصیا ضمتہ بعنف سخطاً منھا علیہ).
وفي ''منح الروض الأزھر'' للقاریئ''، ضغطۃ القبر وعذاب القبر، ص۱۰۱: (وضغطۃ القبر) أي: تضییقہ (حق) حتی للمؤمن الکامل لحدیث: ((لو کان أحد نجا منھا لنجا سعد بن معاذ الذي اہتز عرش الرحمن لموتہ)) وہي أخذ أرض القبر وضیقہ أوّلا علیہ، ثم اللہ سبحانہ یفسح ویوسع المکان مدّ نظرہ إلیہ، قیل: وضغطتہ بالنسبۃ إلی المؤمن علی ہیئۃ معانقۃ الأم الشفیقۃ إذا قدم علیہا ولدہا من السفرۃ العمیقۃ).
(فائدہ) في ''فیض القدیر''، ج۵، ص۴۲۴، تحت الحدیث: ۷۴۹۳: (قد أفاد الخبر أنّ ضغطۃ القبر لا ینجو منھا أحد صالح ولا غیرہ لکن خصّ منہ الأنبیاء کما ذکرہ المؤلف في ''الخصائص'' وفي ''تذکرۃ القرطبي'': یستثني فاطمۃ بنت أسد ببرکۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم). وفي ''النبراس''، ص۲۰۹.
2 ۔ عن أنس بن مالک قال: ((وأمّا الکافر والمنافق فیقال لہ: ما کنت تقول في ھذا الرجل؟ فیقول: لا أدري کنت أقول ما یقول الناس، فیقال لہ: لا دریت ولا تلیت، ثم یضرب بمطراق من حدید ضربۃ بین أذنیہ، فیصیح صیحۃ فیسمعہا من یلیہ غیر الثقلین))، وقال بعضھم: ((یضیق علیہ قبرہ حتی تختلف أضلاعہ)).
''المسند'' للإمام أحمدبن حنبل، الحدیث: ۱۲۲۷۳،ج۴، ص ۲۵۳.
وفي روایۃ: (( وإذا دفن العبد الفاجر أو الکافر، قال لہ القبر: لامرحبا ولا أھلاً، أما إن کنت لأبغض من یمشي علی ظہري إليّ فإذ ولّیتُک الیوم وصرت إليّ فستری صنیعي بک، قال: فیلتئم علیہ حتی یلتقي علیہ وتختلف أضلاعہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بأصابعہ فأدخل بعضہا في جوف بعض)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ القیامۃ، الحدیث: ۲۴۶۸، ج۴، ص۲۰۸.
=
عقیدہ (۸): جب دفن کرنے والے دفن کرکے وہاں سے چلتے ہیں وہ اُن کے جوتوں کی آواز سنتا ہے(1)، اُس وقت اُس کے پاس دو فرشتے اپنے دانتوں سے زمین چیرتے ہوئے آتے ہیں(2)، اُن کی شکلیں نہایت ڈراؤنی اور ہیبت ناک ہوتی ہیں(3)، اُن کے بدن کا رنگ سیاہ(4)، اور آنکھیں سیاہ اور نیلی(5)، اور دیگ کی برابر اور شعلہ زن ہیں(6)، اور اُن کے مُہیب(7)بال سر سے پاؤں تک(8)، اور اُن کے دانت کئی ہاتھ کے(9)، جن سے زمین چیرتے ہوئے آئیں گے(10)، اُن میں ایک کو منکَر، دوسرے کو نکیر کہتے ہیں(11) ،مردے کو جھنجھوڑتے اور جھڑک کر اُٹھاتے اور نہایت سختی کے ساتھ کرخت آواز میں سوال کرتے ہیں۔(12)
وفي روایۃ: ((وإن کان منافقاً..... فیقال للأرض: التئمي علیہ فتلتئم علیہ، فتختلف أضلاعہ)). ملتقطاً.
''سنن الترمذي''، کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، الحدیث: ۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۸.
1 ۔ عن أنس بن ملک رضي اللہ عنہ، أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ العبد إذا وضع في قبرہ وتولی عنہ أصحابہ، وإنّہ لیسمع قرع نعالھم)). ''صحیح البخاري''، کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، الحدیث: ۱۳۷۴، ج۱، ص۴۶۳.
2 ۔ ((ثم أتاک منکر ونکیر۔۔۔۔ یحفران الأرض بأنیابھما... إلخ)). ''شرح الصدور''، ص۱۲۲.
و''إثبات عذاب القبر'' للبیہقي، الحدیث: ۸۶، ج۱، ص۹۹.
3 ۔ في'' الإحیائ''، ج۱، ص۱۲۷:(سوال منکر و نکیر وھما شخصان مہیبان ہائلان۔۔۔ إلخ).
4 ۔ ((ثم أتاک منکر ونکیر أسودان... إلخ)). ''شرح الصدور''، ص۱۲۲، و''إثبات عذاب القبر'' للبیہقي، الحدیث: ۸۶، ج۱، ص۹۹.
5 ۔ ((أتاہ ملکان أسودان أزرقان... إلخ)).
''سنن الترمذي''، باب ما جاء في عذاب القبر، ج۲، ص۳۳۷، الحدیث: ۱۰۷۳.
^6 ۔ ((أعینھما مثل قدور النحاس... إلخ)). ''المعجم الأوسط'' للطبراني، الحدیث: ۴۶۲۹، ج۳، ص۲۹۲۔
7 ۔ خوفناک۔
8 ۔ ((یجران أشعارھما)). ''شرح الصدور''، ص۱۲۲، و''إثبات عذاب القبر'' للبیہقي، الحدیث: ۸۶، ج۱، ص۹۹.
وفي روایۃ: الحدیث: ۸۵، ص۹۸: ((قد سدلا شعورھما)).
I9 ۔ ((وأنیابھما مثل صیاصي البقر)). ''المعجم الأوسط'' للطبراني''، الحدیث: ۴۶۲۹، ج۳، ص۲۹۲.
10 ۔ ((یحثان الأرض بأنیابھما... إلخ)). ''شرح الصدور''، ص۱۲۷.
11 ۔ ((یقال لأحدھما: المنکر والآخر النکیر)).''سنن الترمذي''، باب ما جاء في عذاب القبر، الحدیث:۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۷.
12 ۔ ((فأجلساک فزعا فتلتلاک وتوھلاک)). ''شرح الصدور''، ص۱۲۲۔
و''إثبات عذاب القبر'' للبیہقي، الحدیث: ۸۶، ج۱، ص۹۹.............
پھلا سوال:
((مَنْ رَّبُّکَ؟))
''تیرا رب کو ن ہے؟''
دوسرا سوال:
((مَا دِیْنُکَ؟))
''تیرا دین کیا ہے؟''
تیسرا سوال:
((مَا کُنْتَ تَقُولُ فِيْ ھَذَا الرَّجُلِ؟))
''ان کے بارے میں تُو کیا کہتا تھا؟''
مردہ مسلمان ہے تو پہلے سوال کا جواب دے گا:
((رَبِّيَ اللہُ.))
''میرا رب اﷲ (عزوجل) ہے۔''
اور دوسرے کا جواب دے گا :
((دِیْنِيَ الإِسْلاَمُ.))
''میرا دین اسلام ہے۔''
تیسرے سوال کا جواب دے گا:
((ھُوَ رَسُوْلُ اللہِ صلّی اللہ تعالٰی علیْہ وَسلَّم.))
''وہ تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔''
وہ کہیں گے، تجھے کس نے بتایا؟ کہے گا: میں نے اﷲ (عزوجل) کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور تصدیق کی۔ (1) بعض
1 ۔ ((ویاتیہ ملکان فیجلسانہ فیقولان لہ: من ربک؟ فیقول: ربي اللہ، فیقولان لہ: ما دینک؟ فیقول: دیني الإسلام، فیقولان لہ: ما ھذا الرجل الذي بعث فیکم؟ قال: فیقول: ھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فیقولان: وما یدریک؟ فیقول: قرأت کتاب اللہ فآمنت بہ وصدقت)).
''سنن أبي داود''، کتاب السنۃ، باب في المسألۃ في القبر وعذاب القبر، الحدیث: ۴۷۵۳، ج۴، ص۲۶۶.
وفي روایۃ: ((أتاہ ملکان فیقعدان فیقولان: ما کنت تقول في ھذا الرجل لمحمد صلی اللہ علیہ وسلم؟ فأمّا المؤمن فیقول: أشھد أنہ عبد اللہ ورسولہ))۔ ''صحیح البخاری''، کتاب الجنائز، باب ماجاء فيعذاب القبر، الحدیث : ۱۳۷۴، ج۱، ص۴۶۳.
روایتوں میں آیا ہے، کہ سوال کا جواب پا کر کہیں گے کہ ہمیں تو معلوم تھا کہ تُو یہی کہے گا(1)، اُس وقت آسمان سے ایک منادی ندا کریگا کہ میرے بندہ نے سچ کہا، اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھاؤ، اور جنت کا لباس پہناؤ اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔ جنت کی نسیم اور خوشبو اُس کے پاس آتی رہے گی اور جہاں تک نگاہ پھیلے گی، وہاں تک اُس کی قبر کشادہ کردی جائے گی(2) اور اُس سے کہا جائے گا کہ تو سو جیسے دُولہا سوتا ہے۔(3) یہ خواص کے لیے عموماً ہے اور عوام میں اُن کے لیے جن کو وہ چاہے، ورنہ وسعتِ قبر حسبِ مراتب مختلف ہے(4) ، بعض کیلئے ستّر ستّر ہاتھ لمبی چوڑی(5)، بعض کے لیے جتنی وہ چاہے زیادہ(6)، حتیٰ کہ جہاں تک نگاہ پہنچے(7) ، ۔۔
1 ۔ وفي روایۃ: ((فیقولان: ماکنت تقول في ھذا الرجل؟ فیقول ما کان یقول: ھو عبد اللہ ورسولہ، أشھد أنّ لا إلہ إلا اللہ وأنّ محمداً عبدہ ورسولہ، فیقولان: قد کنا نعلم أنّک تقول ھذا)).
''سنن الترمذي'' کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذ اب القبر، الحدیث: ۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۷.
2 ۔ ((فینادي مناد في السمائ: أن صدق عبدي فأفرشوہ من الجنۃ وألبسوہ من الجنۃ وافتحوا لہ بابا إلی الجنۃ، قال: فیاتیہ من روحھا وطیبھا، ویفسح لہ في قبرہ مدّ بصرہ)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۸۵۵۹، ج۶، ص۴۱۳۔۴۱۴.
3 ۔ ((فیقولان: نم کنومۃ العروس)).
''سنن الترمذي''، کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، الحدیث: ۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۸.
وفي ''النبراس''، ص۲۰۸: (''فیقولان لہ: نم کنومۃ العروس'' بفتح العین جدید العہد بالنکاح ویطلق علی الزوج والزوجۃ).
4 ۔ ((فیوسع لہ في قبرہ، ویفرج لہ فیہ)). ''شرح الصدور''، ص۱۲۵۔
و''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۹۱۴۵، ج۹، ص۲۳۳.
5 ۔ قال قتادۃ: ((وذکر لنا أنّہ یفسح لہ في قبرہ سبعون ذراعاً)).
''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ...إلخ، باب عرض مقعد المیت... إلخ، الحدیث: ۲۸۷۰، ص۱۵۳۵.
وفي روایۃ: ((ثم یفسح لہ في قبرہ سبعون ذراعا في سبعین)).
''سنن الترمذي''، کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، الحدیث: ۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۷۔۳۳۸ .
وفي ''النبراس''، ص۲۰۸: (''سبعون ذراعاً في سبعین'' أي: طولاً وعرضاً).
6 ۔ ((فیفسح لہ في قبرہ ما شائ، فیری مکانہ من الجنۃ)). ''شرح الصدور''، ص۱۲۶، و''إثبات عذاب القبر'' للبیہقي، الحدیث: ۱۹۸، ج۱، ص۲۲۸.
7 ۔ ((فیوسع لہ في قبرہ مد بصرہ)). ''شرح الصدور''، ص۱۲۶۔
و''إثبات عذاب القبر'' للبیہقي، الحدیث: ۳۲، ج۱، ص۳۹.
اور عُصاۃ(1) میں بعض پر عذاب بھی ہو گا ان کی معصیت کے لائق(2) ، پھر اُس کے پیرانِ عظام یا مذہب کے امام یا اور اولیائے کرام کی شفاعت یا محض رحمت سے جب وہ چاہے گا ،نجات پائیں گے(3) ، اور بعض نے کہا کہ مؤمن عاصی پر عذابِ قبر شبِ جمعہ آنے تک ہے، اس کے آتے ہی اٹھا لیا جائے گا(4)، واﷲ تعالیٰ اعلم۔
ہاں! یہ حدیث سے ثابت ہے کہ جو مسلمان شبِ جمعہ یا روزِ جمعہ یا رمضانِ مبارک کے کسی دن رات میں مرے گا، سوالِ نکیرین و عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔(5) اور یہ جو ارشاد ہوا کہ اُس کے لیے جنت کی کھڑکی کھول دیں گے، یہ یوں ہو گا کے پہلے
1 ۔ عاصی کی جمع، یعنی گنہگار وں، نافرمانوں ۔
2 ۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۹۹: (عذاب القبر للکافرین ولبعض عصاۃ المؤمنین ثابت)، ملخصاً وملتقطاً.
3 ۔ في ''المیزان الکبری''، ج۱، ص۹ مقدمۃ الکتاب: (جمیع الأئمۃ المجتہدین یشفعون في أتباعہم ویلاحظونھم في شدائدہم في الدنیا والبرزخ ویوم القیامۃ حتی یجاوز الصراط)۔
ومقام آخر، ج۱، ص۵۳: (قد ذکرنا في کتاب الأجوبۃ عن أئمۃ الفقہاء والصوفیۃ کلہم یشفعون في مقلدیہم ویلاحظون أحدہم عند طلوع روحہ وعند سؤال منکر ونکیر لہ وعند النشر والحشر والحساب والمیزان والصراط، ولا یغفلون عنھم في موقف من المواقف). بحوالہ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۷۶۹.
4 ۔ في ''منح الروض الأزہر شرح فقہ الأکبر''، ص۱۰۲: (قال القونوي: إنّ المؤمن إن کان مطیعاً لا یکون لہ عذاب القبر ویکون لہ ضغطۃ فیجد ہول ذلک وخوفہ، ۔ قال القونوي: وإن کان عاصیاً یکون لہ عذاب القبر وضغطۃ القبر، لکن ینقطع عنہ عذاب القبر یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ...)، ملخصاً وملتقطاً.
5 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((من مات یوم الجمعۃ أو لیلۃ الجمعۃ وقي فتنۃ القبر)).
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۷۰۷۰، ج۲، ص۶۸۴.
وعن عبد اللہ بن عمرو قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((ما من مسلم یموت یوم الجمعۃ أو لیلۃ الجمعۃ إلاّ وقاہ اللہ فتنۃ القبر)). ''سنن الترمذي''، کتاب الجنائز، باب ما جاء فیمن مات یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۰۷۶، ج۲، ص۳۳۹۔
و''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۶۵۹۳، ج۲، ص۵۷۵.
وفي ''المعتقد المنتقد''، ص۱۸۴: (والأصح أنّ الأنبیاء لا یسألون، وقد ورد أنّ بعض صالحي الأمۃ کالشھید والمرابط یوما ولیلۃ في سبیل اللہ یأمن فتنۃ القبر، فالأنبیاء علیہم السلام أولی بذلک، وفي ''المعتمد المستند'': (والمیت یوم الجمعۃ أو لیلتھا أوفي رمضان وغیرھم ممّن وردت لھم الأحادیث). ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۶۵۹.
اُس کے بائیں ہاتھ کی طرف جہنم کی کھڑکی کھولیں گے، جس کی لپٹ اور جلن اور گرم ہوا اور سخت بدبو آئے گی اور معاً(1) بند کر دیں گے، اُس کے بعد دہنی طرف سے جنت کی کھڑکی کھولیں گے اور اُس سے کہا جائے گا کہ اگر تُو اِن سوالوں کے صحیح جواب نہ دیتا تو تیرے واسطے وہ تھی اور اب یہ ہے، تاکہ وہ اپنے رب کی نعمت کی قدر جانے کہ کیسی بلائے عظیم سے بچا کر کیسی نعمتِ عظمیٰ عطا فرمائی۔ اور منافق کے لیے اس کا عکس ہوگا، پہلے جنت کی کھڑکی کھولیں گے کہ اس کی خوشبو، ٹھنڈک، راحت، نعمت کی جھلک دیکھے گا اور معاً بند کر دیں گے اور دوزخ کی کھڑکی کھول دیں گے، تاکہ اُس پر اس بلائے عظیم کے ساتھ حسرتِ عظیم بھی ہو(2) ، کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو نہ مان کر، یا اُن کی شانِ رفیع میں ادنیٰ گستاخی کرکے کیسی نعمت کھوئی اور کیسی آفت پائی! اور اگر مُردہ منافق ہے تو سب سوالوں کے جواب میں یہ کہے گا:
((ھَاہْ ھَاہْ لَا أَدْرِي.))
''افسوس! مجھے توکچھ معلوم نہیں۔''
((کُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْأاً فأقوْلُ.))
''میں لوگوں کو کہتے سنتا تھا، خود بھی کہتا تھا۔''
اس وقت ایک پکارنے والا آسمان سے پکارے گا: کہ یہ جھوٹا ہے، اس کے لیے آگ کا بچھونا بچھاؤ اور آگ کا لباس پہناؤ اور جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔ اس کی گرمی اور لپٹ اس کو پہنچے گی اور اس پر عذاب دینے کے لیے دو فرشتے مقرر ہوں گے، جو اندھے اور بہرے ہوں گے، ان کے ساتھ لوہے کاگُرز ہو گا کہ پہاڑ پر اگر مارا جائے تو خاک ہو جائے، اُس ہتوڑے سے اُس کو
1 ۔ فوراً۔
2 ۔ عن أبي ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:... ((فیقال: افتحوا لہ بابا إلی النار، فیفتح لہ بابا إلی النار، فیقال: ھذا کان منزلک لو عصیت اللہ عز وجل، فیزداد غبطۃ وسرورا، ویقال لہ: افتحوا لہ بابا إلی الجنۃ، فیفتح لہ، فیقال: ھذا منزلک وما أعدّ اللہ لک، فیزداد غبطۃ وسرورا،... وأمّا الکافر...، فیقال: افتحوا لہ بابا إلی الجنۃ، فیفتح لہ باب إلی الجنۃ، فیقال لہ: ھذا کان منزلک وما أعدّ اللہ لک لو أنت أطعتہ، فیزداد حسرۃ وثبورا، ثم یقال لہ: افتحوا لہ بابا إلی النار، فیفتح لہ بابا إلیہا، فیقال لہ: ھذا منزلک وما أعدّ اللہ لک، فیزداد حسرۃ وثبورا))، ملتقطاً.
''المعجم الأوسط''، الحدیث: ۲۶۳۰، ج۲، ص۹۲. و''شرح الصدور''، ص۱۳۳.
مارتے رہیں گے۔(1) نیز سانپ اور بچھو اسے عذاب پہنچاتے رہیں گے(2)، نیز اعمال اپنے مناسب شکل پر متشکل ہو کر کتّا یا بھیڑیا یا اور شکل کے بن کر اُس کو ایذا پہنچائیں گے اور نیکوں کے اعمالِ حَسَنہ مقبول و محبوب صورت پر متشکل ہو کر اُنس دیں گے۔
عقیدہ(۹): عذابِ قبر حق ہے(3)،
1 ۔ ((وإن کان منافقاً قال: لا أدري کنت أسمع الناس یقولون شیأاً، فکنت أقولہ...إلخ)).
''صحیح ابن حبان''، الحدیث: ۳۱۰۷، ج۴، ص۴۸.
وفي روایۃ: ((وإن کان منافقاً قال: سمعت الناس یقولون فقلت مثلہ، لا أدري...إلخ)).
''سنن الترمذي''، کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، الحدیث: ۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۸.
وفي روایۃ: قال: ((وإن الکافر فذکر موتہ، قال: وتعاد روحہ في جسدہ ویاتیہ ملکان فیجلسانہ فیقولان لہ: من ربک؟ فیقول: ھاہ ھاہ لا أدري، فیقولان لہ: ما دینک؟ فیقول: ھاہ ھاہ لا أدري فیقولان لہ: ما ھذا الرجل الذي بعث فیکم؟ فیقول: ھاہ ھاہ لا أدري، فینادي مناد من السماء أن کذب فأفرشوہ من النار وألبسوہ من النار وافتحوا لہ باباً إلی النار قال: فیاتیہ من حرھا وسمومھا... زاد في حدیث جریر قال: ثم یقیض لہ أعمی أبکم معہ مرزبۃ من حدید لو ضرب بھا جبل لصار تراباً قال: فیضربہ بھا ضربۃ یسمعھا ما بین المشرق والمغرب إلا الثقلین فیصیر تراباً... إلخ))، ملتقطاً.
''سنن أبي داود''، کتاب السنۃ، باب في المسألۃ في القبر وعذ اب القبر، الحدیث: ۴۷۵۳، ج۴، ص۳۱۶.
2 ۔ عن أبي ھریرۃ: عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: (( ۔ أتدرون فیما أنزلت ھذہ الآیۃ: (فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وََّنَحْشُرُہ، یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَعْمٰی) أتدرون ما المعیشۃ الضنکۃ قالوا: اللہ ورسولہ أعلم قال: عذاب الکافر في قبرہ، والذي نفسي بیدہ إنّہ یسلط علیہ تسعۃ وتسعون تنینا، أتدرون ما التنین؟ سبعون حیۃ لکل حیۃ سبع رؤوس یلسعونہ ویخدشونہ إلی یوم القیامۃ)).
''صحیح ابن حبان''، کتاب الجنائز... إلخ، فصل في أحوال المیت في قبرہ، الحدیث: ۳۱۱۲، ج۴، ص۵۰.
3 ۔ (اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا) پ ، المؤمن: ۴۶۔
في ''التفسیر الکبیر''، ج۹، ص۵۲۱: ( احتج أصحابنا بہذہ الآیۃ علی إثبات عذاب القبر قالوا: الآیۃ تقتضي عرض النار علیہم غدواً وعشیاً ، ولیس المراد منہ یوم القیامۃ۔۔۔ إلخ)۔
((عذاب القبر حق)). ''صحیح البخاري''، کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، الحدیث: ۱۳۷۲، ج۱، ص۴۶۳.
وفي روایۃ: عن عائشۃ قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أیہا الناس استعیذوا باللہ من عذاب القبر فإنّ عذاب القبر حق)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۴۵۷۴، ج۹، ص۳۶۳.
وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنما القبر روضۃ من ریاض الجنۃ أو حفرۃ من حفر النار)).
سنن الترمذي''، کتاب صفۃ القیامۃ، الحدیث: ۲۴۶۸، ج۴، ص۲۰۹.
اور یوہیں تنعیمِ قبر حق ہے(1)، اور دونوں جسم وروح دونوں پر ہیں(2)، جیسا کہ اوپر گزرا۔ جسم اگرچہ گل جائے، جل جائے، خاک ہو جائے، مگر اُس کے اجزائے اصلیہ قیامت تک باقی رہیں گے، وہ مُوردِ عذاب وثواب ہوں گے(3) اور اُنھیں پر روزِ قیامت دوبارہ ترکیبِ جسم فرمائی جائے گی، وہ کچھ ایسے باریک اجزا ہیں ریڑھ کی ہڈی میں جس کو ''عَجبُ الذَّنب'' کہتے ہیں، کہ نہ کسی خوردبین سے نظر آسکتے ہیں، نہ آگ اُنھیں جلا سکتی ہے، نہ زمین اُنھیں گلا سکتی ہے، وہی تُخمِ جسم ہیں۔ ولہٰذا روزِ قیامت روحوں کا اِعادہ (4)اُسی جسم میں ہوگا، نہ جسمِ دیگر میں،بالائی زائد اجزا کا گھٹنا، بڑھنا، جسم کو نہیں بدلتا، جیسا: بچہ کتنا چھوٹا پیدا ہوتا ہے، پھر کتنا بڑا ہو جاتاہے، قوی ہیکل جوان بیماری میں گھل کر کتنا حقیر رہ جاتا ہے، پھر نیا گوشت پوست آکر مثلِ سابق ہوجاتا ہے، اِن تبدیلیوں سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ شخص بدل گیا۔ یوہیں روزِ قیامت کا عَود ہے(5)، وہی گوشت اور ہڈیاں کہ خاک یا راکھ ہوگئے ہوں، اُن کے ذرّے کہیں بھی منتشر ہو گئے ہوں، رب عزوجل انھیں جمع فرما کر اُس پھلی ہیئت پر لا کر اُنھیں پہلے اجزائے اصلیہ پر
1 ۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث عذاب القبر، ص۹۹: (عذاب القبر للکافرین ولبعض عصاۃ المؤمنین، خص البعض؛ لأنّ منھم من لا یرید اللہ تعالٰی تعذیبہ فلا یعذب، وتنعیم أھل الطاعۃ في القبر بما یعلمہ اللہ تعالی ویریدہ، ثابت)، ملتقطاً.
وفي ''فقہ الأکبر''، ص۱۰۱: (ضغطۃ القبر حق، وعذابہ حق کائن للکفار کلہم ولبعض المسلمین).
وفي ''منح الروض الأزہر''، ص۱۰۱: (وعذابہ) أي: إیلامہ (حق کائن للکفار کلہم) أجمعین (ولبعض المسلمین) أي: عصاۃ المسلمین کما في نسخۃ، وکذا تنعیم بعض المؤمنین حق، فقد ورد : ((إن القبر روضۃ من ریاض الجنۃ أو حفرۃ من حفر النیران)) رواہ الترمذي والطبراني رحمھما اللہ).
2 ۔ (اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوْا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ) پ۲۴، المؤمن: ۴۶.
في ''تفسیر روح البیان''، ج۸، ص۱۹۱، تحت الآیۃ: (محل العذاب والنعیم أي: في القبر ہو الروح والبدن جمیعاً باتفاق أھل السنۃ).
في ''شرح الصدور''، ص۱۸۱: (قال العلماء: عذاب القبر محلہ الروح والبدن جمیعاً باتفاق أھل السنۃ وکذا القول في النعیم)، ملتقطاً. وفي ''المعتمد المستند''، ص۱۸۲: (أنّ التنعیم والعذاب کلاھما للروح والبدن جمیعاً).
و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۶۵۸. و۸۵۱.
3 ۔ یعنی عذاب و ثواب اِنہیں پر وارد ہوگا۔
4 ۔ یعنی لوٹ کر آنا ۔
5 ۔ یعنی لوٹ کر آناہے۔
کہ محفوظ ہیں، ترکیب دے گا اور ہر رُوح کو اُسی جسمِ سابق میں بھیجے گا، اِس کا نام حشر ہے(1)، عذاب وتنعیمِ قبر کا اِنکار وہی کریگا، جو گمراہ ہے۔(2)
عقیدہ (۱۰): مردہ اگر قبر میں دفن نہ کیا جائے تو جہاں پڑا رہ گیا یا پھینک دیا گیا، غرض کہیں ہو اُس سے وہیں سوالات ہوں گے اور وہیں ثواب یا عذاب اُسے پہنچے گا، یہاں تک کہ جسے شیر کھا گیا تو شیر کے پیٹ میں سوال و ثواب و عذاب جو کچھ ہو پہنچے گا۔ (3)
1 ۔ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((ویبلی کل شيء من الإنسان إلاّ عجب ذنبہ فیہ یرکب الخلق)).
''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، باب ونفخ في الصور...إلخ، الحدیث: ۴۸۱۴، ج۳، ص۳۱۶.
وفي ''فتح الباري''، کتاب التفسیر، ج۸، ص۴۷۵۔۴۷۶، تحت الحدیث: (قولہ: ''ویبلی کل شيء من الإنسان إلاّ عجب ذنبہ، فیہ یرکب الخلق''، في روایۃ مسلم: ((لیس من الإنسان شيء إلاّ یبلی إلاّ عظماً واحداً))، وعن أبي ہریرۃ بلفظ: ((کل ابن آدم یأکلہ التراب إلاّ عجب الذنب، منہ خلق ومنہ یرکب))، وعن أبي ہریرۃ قال: ((إنّ في الإنسان عظما لا تأکلہ الأرض أبداً، فیہ یرکب یوم القیامۃ))، قالوا: أيّ عظم ہو؟ قال: ((عجب الذنب))، وفيحدیث أبي سعید عند الحاکم وأبي یعلی: قیل: یا رسول اللہ ما عجب الذنب؟ قال: ((مثل حبۃ خردل))، والعجب بفتح المہملۃ وسکون الجیم بعدہا موحدۃ ویقال لہ: ((عجم)) بالمیم أیضا عوض البائ، وہو عظم لطیف في أصل الصلب، وہو رأس العصعص، وہو مکان رأس الذنب من ذوات الأربع. وفي حدیث أبي سعید الخدري عند ابن أبی الدنیا وأبي داود والحاکم مرفوعا: ((إنّہ مثل حبۃ الخردل)).
وفي ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث عذاب القبر والبعث، ص۱۰۲۔۱۰۳: (والبعث وھو أن یبعث اللہ تعالٰی الموتی من القبور بأن یجمع أجزاء ھم الأصلیۃ ویعید الأرواح إلیھا حق لقولہ تعالی: (ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تُبْعَثُوْنَ) وقولہ تعالی: (قُلْ یُحْیِِیْہَا الَّذِیْ اَنْشَاَہَا اَوَّلَ مَرَّۃٍ) إلی غیر ذلک من النصوص القاطعۃ الناطقۃ بحشر الأجساد).
2 ۔ في ''الحدیقۃ الندیۃ''، ص۳۰۳: (من أنکر عذاب القبر فھو مبتدع). و''بریقۃ محمودیۃ''، ج۲، ص۵۶۔
3 ۔ وفي ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۶۶۔۲۶۷: (وعذ اب القبر) قید القبر جری علی الغالب أو قبرکل إنسان بحسبہ، وقال العلماء: عذاب القبر ھو عذاب البرزخ أضیف إلی القبر؛ لأنّہ الغالب وإلاّ فکل میت أراد اللہ تعالی تعذیبہ نالہ ما أراد اللہ بہ قبر أو لم یقبر ولو صلب أو غرق في بحر أو أکلتہ الدواب أو حرق حتی صار رماداً، وذري في الریح ۔ (وتنعیم أھل الطاعۃ) من المؤمنین (فیہ) أي: القبر یعني کائن ذلک فیہ (بما) أي: بالوصف الذي (یعلمہ اللہ تعالٰی ویریدہ) للعبد المؤمن کما قال صلی اللہ علیہ وسلم: ((القبر روضۃ من ریاض الجنۃ أو حفرۃ من حفر النیران وکما تقدم في عذاب القبر یقال في نعیمہ سواء قبر العبد أو لم یقبر حتی لو صلب أو غرق في بحر أو أکلتہ الدواب أو حرق...إلخ).
مسئلہ : انبیاء علیہم السلام اور اولیائے کرام وعلمائے دین وشہدا وحافظانِ قرآن کہ قرآن مجید پر عمل کرتے ہوں اور وہ جو منصب محبت پر فائز ہیں اور وہ جسم جس نے کبھی اللہ عزوجل کی معصیت نہ کی اور وہ کہ اپنے اوقات درود شریف میں مستغر ق رکھتے ہیں ، ان کے بدن کو مٹی نہیں کھاسکتی(1)۔ ۔۔۔
= وفي ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث عذاب القبر والبعث، ص۱۰۱: (حتی أنّ الغریق في الماء والمأکول في بطون الحیوانات والمصلوب في الھواء یعذب وإن لم نطلع علیہ).
وفي ''النبراس''، مبحث عذاب القبر وثوابہ، ص۲۱۰: (ولا یستلزم أن یتحرک ویضطرب) من الأ لم (أو یری أثر العذاب علیہ) من إحراق أو ضرب (حتی أنّ الغریق في الماء أو المأکول في بطون الحیوانات أو المصلوب في الھواء یعذب وإن لم نطلع علیہ) جواب عن الإشکال للمعتزلۃ، وحاصلہ أنّا لا نری المیت معذبا فالحکم بعذابہ سفسطۃ لا سیما في ثلثۃ أشخاص أحدھم الغریق؛ لأنّ الإحراق في الماء البارد غیر معقول الثاني من أکلہ السباع إذ لو عذب بالاحتراق بطونھا الثالث المصلوب لا یزال فيالھواء یراہ ویشھدہ الناظرون بلا سؤال وضیق مکان وعذاب، وحاصل الجواب: إنّ اللہ تعالٰی علی کل شيء قدیر، وإنّا لا ند رک إلاّ ما خلق اللہ سبحانہ إدراکہ فینا فیجوز أن یستر ھذہ الأحوال عن حواسنا کما کان جبریل علیہ السلام ینزل علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم ویکلمہ ولا یشعر الحاضرون بذلک وکما أنّ صاحب السکتۃ حيّ ولا ید رک حیٰوتہ).
A ۔ (وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَاء ٌ وَّلٰـکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ) پ۲، البقرۃ: ۱۵۴۔
(وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ) پ۴، آل عمران: ۱۶۹۔
عن أبي الدرداء قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أکثروا الصلاۃ علي یوم الجمعۃ، فإنّہ مشھود تشھدہ الملائکۃ، فإنّ أحداً لن یصلي علي إلاّ عرضت علي صلاتہ حتی یفرغ منھا، قال قلت: وبعد الموت؟ قال: وبعد الموت، إنّ اللہ حرم علی الأرض أن تأکل أجساد الأنبیاء علیہم السلام، فنبي اللہ حي یرزق)).
''سنن ابن ماجہ''، أبواب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہ، الحدیث: ۱۶۳۷، ج۲، ص۲۹۱.
(قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْہُمْ) پ۲۶، ق:۴.
في ''تفسیر روح البیان''، ج۹، ص۱۰۴، تحت الآیۃ: (في الحدیث: ((کل ابن آدم یبلی إلاّ عجب الذنب، فمنہ خلق وفیہ یرکب))، والعجب بفتح العین وسکون الجیم أصل الذنب ومؤخر کل شيء وہو ہہنا عظم لا جوف لہ قدر ذرۃ أو خردلۃ یبقی من البدن ولا یبلی، فإذا أراد اللہ الإعادۃ رکب علی ذلک العظم سائر البدن وأحیاہ، أي: غیر أبدان الأنبیاء والصدیقین والشہدآء فإنّہا لا تبلی ولا تتفسخ إلی یوم القیامۃ علی ما نص بہ الأخبار الصحیحۃ).
جو شخص انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں یہ خبیث کلمہ کہے کہ مرکے مٹی میں مل گئے ،گمراہ ، بددین ، خبیث ، مرتکب توہین ہے ۔
= وأیضاً في ''روح البیان''، ج۳، ص۴۳۹: قال الإمام الإسماعیل حقي رحمۃ اللہ تعالی علیہ: (أجساد الأنبیاء والأولیاء والشہداء لا تبلی ولا تتغیر لما أنّ اللہ تعالی قد نفی أبدانھم من العفونۃ الموجبۃ للتفسخ وبرکۃ الروح المقدس إلی البدن کالإکسیر).
عن أبي سعید قال: خرج النبي صلی اللہ علیہ وسلم لصلاۃ فرأی الناس کأنّہم یکتشرون، قال: ((أما إنکم لو أکثرتم ذکر ہاذم اللذات لشغلکم عما أری الموت فأکثروا ذکر ہاذم اللذات الموت فإنّہ لا یأت علی القبر یوم إلاّ تکلم فیقول: أنا بیت الغربۃ وأنا بیت الوحدۃ وأنا بیت التراب وأنا بیت الدود...إلخ)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع...إلخ، الحدیث: ۲۴۶۸، ج۴، ص۲۰۸۔
''والمشکاۃ''، کتاب الرقاق، الحدیث: ۵۳۵۲، ج۲، ص۲۷۲۔۲۷۳.
في ''المرقاۃ''، ج۹، ص۲۱۳، تحت الحدیث، وتحت اللفظ: (''وأنا بیت الدود'': قیل: یتولد الدود من العفونۃ وتأکل الأعضائ، ثم یأکل بعضہا بعضاً إلی أن تبقی دودۃ واحدۃ فتموت جوعاً، واستثنی الأنبیاء والشھداء والأولیاء والعلماء من ذلک، فقد قال صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ اللہ حرم علی الأرض أن تأکل أجساد الأنبیائ)). وقال تعالی في حق الشہدائ: (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ)، والعلماء العاملون المعبر عنھم بالأولیاء مدادہم أفضل من دماء الشہدائ).
وفي ''شرح الصدور''، باب نتن المیت وبلاء جسدہ... إلخ، ص۳۱۷۔۳۱۸: عن جابر بن عبد اللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إذا مات حامل القرآن أوحی اللہ إلی الأرض أن لا تأکلي لحمہ، فتقول الأرض: أي رب! کیف آکل لحمہ وکلامک في جوفہ؟)). وعن قتادۃ قال: (بلغني أنّ الأرض لا تسلط علی جسد الذي لم یعمل خطیئۃ).
(محمد بن سلیمان الجزولي) السملالي الشریف الحسني الشاذلي، صاحب ''دلائل الخیرات'' رضي اللہ عنہ، دخل الخلوۃ للعبادۃ نحو أربعۃ عشر عاماً، ثم خرج للانتفاع بہ، فأخذ في تربیۃ المریدین، وتاب علی یدہ خلق کثیر، وانتشر ذکرہ في الآفاق، وظہرت لہ الخوارق العظیمۃ والکرامات الجسمیۃ والمناقب الفخیمۃ، واجتمع عندہ من المریدین أکثر من اثني عشر ألفاً، ومن کراماتہ رضي اللہ عنہ: أنّہ بعد وفاتہ بسبع وسبعین سنۃ نقلوہ من قبرہ في بلاد ''السوس'' إلی ''مراکش''، فوجدوہ کہیئتہ یوم دفن ولم تعد علیہ الأرض ولم یغیر طول الزمان من أحوالہ شیأاً، وأثر الحلق من شعر رأسہ ولحیتہ ظاہر کحالہ یوم موتہ، إذ کان قریب عہد بالحلق، ووضع بعض الحاضرین أصبعہ علی وجہہ حاصراً بہا فحصر الدم عما تحتہا، فلما رفع أصبعہ رجع الدم کما یقع ذلک في الحي. وقبرہ بمراکش علیہ جلالۃ عظیمۃ، والناس یزدحمون علیہ، ویکثرون من قراء ۃ دلائل الخیرات عندہ. وثبت أنّ رائحۃ المسک توجد من قبرہ من کثرۃ صلاتہ علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم، وکانت وفاتہ سنۃ ۸۷۰ رضي اللہ عنہ. ''جامع کرامات الأولیائ''، ج۱، ص۲۷۶.
بیشک زمین و آسمان اور جن و اِنس و مَلک سب ایک دن فنا ہونے والے ہیں، صرف ایک اﷲ تعالیٰ کے لیے ہمیشگی و بقا ہے۔ (1) دنیا کے فنا ہونے سے پہلے چند نشانیاں ظاہر ہوں گی۔
(۱) تین خسف ہوں گے یعنی آدمی زمین میں دھنس جائیں گے، ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں، تیسرا جزیره عرب میں۔ (2)
(۲) عِلم اُٹھ جائے گا یعنی علما اُٹھالیے جائیں گے، یہ مطلب نہیں کہ علما تو باقی رہیں اور اُن کے دلوں سے علم محو کردیا جائے۔ (3)
(۳) جھل کی کثرت ہوگی۔ (4)
1 ۔ (کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ وَیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ). پ ۲۷، الرحمٰن: ۲۶،۲۷.
(لَا اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَ کُلُّ شَیْءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہ، لَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ).پ۲۰، القصص: ۸۸.
في ''روح المعاني''، پ۲۰، تحت الآیۃ: ۸۸، الجزء العشرون، ص۴۵۱: (أخرج عنہ ابن مردویہ أنّہ قال: لما نزلت (کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ) قیل: یا رسول اللہ: فما بال الملائکۃ؟ فنزلت (کُلُّ شَیْءٍ ہَالِکٌ اِلاَّ وَجْہَہُ) فبین في ہذہ الآیۃ فناء الملائکۃ والثقلین من الجن والإنس وسائر عالم اللہ تعالی وبریتہ من الطیر والوحوش والسباع والأنعام وکل ذي روح أنّہ ہالک میت).
2 ۔ عن حذیفۃ بن أسید الغفاری قال: اطلع النبي صلی اللہ علیہ وسلم علینا ونحن نتذاکر، فقال: ((ما تذاکرون؟ قالوا: نذکر الساعۃ، قال: إنّھا لن تقوم حتی ترون قبلھا عشرآیات، فذکر الدخان والدجال والدابۃ وطلوع الشمس من مغربھا ونزول عیسی بن مریم علیہ السلام ویأجوج ومأجوج، وثلاثۃ خسوف: خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزیرۃ العرب)).
(''صحیح مسلم''، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب في الآیات التي... إلخ، الحدیث: ۲۹۰۱، ص۱۵۵۱).
3 ۔ عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ اللہ لا یقبض العلم انتزاعاً ینتزعہ من العباد، ولکن یقبض العلم بقبض العلماء حتی إذا لم یبق عالم اتخذ الناس رؤوساً جھّالاً، فسئلوا فأ فتوا بغیر علم فضلّوا وأضلّوا)). ''صحیح البخاري''، کتاب العلم، باب: کیف یقبض العلم، الحدیث: ۱۰۰، ج۱، ص۵۴.
4 ۔ عن أنس رضي اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ من أشراط الساعۃ أن یرفع العلم ویکثر الجھل)). ''صحیح البخاري''، کتاب النکاح، باب: یقل الرجال ویکثر النساء، الحدیث: ۵۲۳۱، ج۳، ص۴۷۲، ملتقطاً.
(۴) زنا کی زیادتی ہوگی(1) اور اِس بے حیائی کے ساتھ زنا ہوگا، جیسے گدھے جُفتی کھاتے ہیں، بڑے چھوٹے کسی کا لحاظ پاس نہ ہوگا۔ (2)
(۵) مرد کم ہوں گے اور عورتیں زیادہ، یہاں تک کہ ایک مرد کی سرپرستی میں پچا۰ ۵ س عورتیں ہوں گی۔ (3)
(۶) علاوہ اُس بڑے دجّال کے اور تیس دجّال ہوں گے، کہ وہ سب دعوی نبوت کریں گے، حالانکہ نبوت ختم ہوچکی۔ (4) جن میں بعض گزرچکے، جیسے مسیلمہ کذّاب، طلیحہ بن خوَیلد، اسود عَنسی، سجاح عورت کہ بعد کو اسلام لے آئی (5)، ۔۔۔۔
1 ۔ ((ویکثر الزنا)). ''صحیح البخاري''، کتاب النکاح، باب: یقل الرجال ویکثر النساء، الحدیث: ۵۲۳۱، ج۳، ص۴۷۲.
2 ۔ ((یتہارجون فیھا تھارج الحمر، فعلیھم تقوم الساعۃ)). ''صحیح مسلم''، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال ...إلخ، الحدیث: ۲۹۳۷، ص۱۵۷۰.
في ''شرح النووي علی المسلم''، ج۲، ص۴۰۲، قولہ: صلی اللہ علیہ وسلم: ''یتہارجون فیہا تہارج الحمر'' (أي: یجامع الرجال النساء علانیۃ بحضرۃ الناس کما یفعل الحمیر، ولا یکترثون لذلک).
3 ۔ ((وتکثر النساء ویقل الرجال حتی یکون لخمسین امرأۃً القیم الواحد)).
''صحیح البخاري''، کتاب العلم، باب رفع العلم وظہور الجھل، الحدیث: ۸۱، ج۱، ص۴۷.
4 ۔ عن ثوبان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((... وإنّہ سیکون في أمتي کذابون ثلاثون، کلہم یزعم أنّہ نبي، وأنا خاتم النبیین لا نبي بعدي)). ''سنن أبي داود''، کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن ودلائلہا، الحدیث: ۴۲۵۲، ج۴، ص۱۳۳.
وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدي ولا نبي)).
''سنن الترمذي''، کتاب الرؤیا، باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات، الحدیث: ۲۲۷۹، ج۴، ص۱۲۱.
5 ۔ عن عمارۃ بن بلال الأسدي قال: (ارتد طلیحۃ في حیاۃ النبيصلی اللہ علیہ وسلم وادعی النبوۃ) ''کنز العمال''، کتاب القیامۃ، الحدیث: ۳۹۵۷۶، ج۱۴، ص۲۳۴.
عن ابن الزبیر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :((لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون کذّابا، منھم العنسي مسیلمۃ والمختار)). ''المصنف'' لابن أبي شیبۃ، کتاب الأمراء، الحدیث: ۵۷، ج۷، ص۲۵۷.
''مسند أبي یعلی''، الحدیث: ۶۷۸۶ ، ج۶، ص۴۵.
في ''فتح الباري''، کتاب المناقب، ج۶، ص۵۱۵، تحت الحدیث:۳۶۰۹: (عن عبد اللہ بن الزبیر تسمیۃ بعض الکذابین المذکورین بلفظ: ((لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون کذاباً منھم مسیلمۃ والعنسي والمختار)) قلت: وقد ظہر مصداق ذلک في آخر زمن النبي صلی اللہ علیہ وسلم، فخرج مسیلمۃ بالیمامۃ، والأسود العنسي بالیمن، ثم خرج في خلافۃ أبي بکر طلیحۃ بن خویلد في بني أسد بن خزیمۃ، وسجاح التمیمیۃ في بني تمیم، وقتل الأسود قبل أن یموت النبي صلی اللہ علیہ وسلم، وقتل
غلام احمد قادیانی(1) وغیرہم۔ اور جو باقی ہیں، ضرور ہوں گے۔
(۷) مال کی کثرت ہوگی (2)، نہر فرات اپنے خزانے کھول دے گی کہ وہ سونے کے پہاڑ ہوں گے۔ (3)
(۸) ملک ِعرب میں کھیتی اور باغ اور نہریں ہوجائیں گی۔ (4)
(۹) دین پر قائم رہنا اتنا دشوار ہوگا جیسے مُٹھی میں انگارا لینا (5)، یہاں تک کہ آدمی قبرستان میں جاکر تمنا کریگا، کہ کاش! میں اِس قبر میں ہوتا۔ (6)
(۱۰) وقت میں برکت نہ ہوگی، یہاں تک کہ سال مثل مہینے کے اور مہینہ مثل ہفتہ کے اور ہفتہ مثل دن کے اور دن ایسا ہوجائے گا جیسے کسی چیز کو آگ لگی اور جلد بھڑک کر ختم ہوگئی (7)، یعنی بہت جلد جلد وقت گزرے گا۔
مسیلمۃ في خلافۃ أبي بکر، وتاب طلیحۃ ومات علی الإسلام علی الصحیح في خلافۃ عمر، ونقل أنّ سجاح أیضاً تابت ، وأخبار ہؤلاء مشہورۃ عند الأخباریین)، ملتقطاً
1 ۔ غلام احمد قادیانی کے بارے میں اسی ''بہار شریعت'' کے صفحہ۱۹۰سے دیکھیں۔
2 ۔ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:((لا تقوم الساعۃ حتی یکثرالمال...إلخ)).
''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب الترغیب في الصدقۃ ...إلخ، الحدیث: ۱۵۷، ص۵۰۵.
3 ۔ عن أبي ہریرۃ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((لا تقوم الساعۃ حتی یحسر الفرات عن جبل من ذھب)).
''صحیح مسلم''، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب لا تقوم الساعۃ حتی...إلخ، الحدیث: ۲۸۹۴، ص۱۵۴۷.
4 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لا تقوم الساعۃ حتی تعود أرض العرب مروجا وأنہارا)).
''المستدرک''، کتاب الفتن، الحدیث: ۸۵۱۹، ج۵، ص۶۷۴.
5 ۔ عن أنس بن مالک قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یأتي علی الناس زمان الصابر فیہم علی دینہ کالقابض علی الجمر)). ''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، الحدیث: ۲۲۶۷، ج۴، ص۱۱۵.
6 ۔ عن أبي ھریرۃ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر الرجل فیقول: یالیتني مکانہ)) وقال صلی اللہ علیہ وسلم: ((والذي نفسي بیدہ! لا تذہب الدنیا حتی یمر الرجل علی القبر، فیتمرغ علیہ، ویقول: یا لیتني کنت مکان صاحب ھذا القبر)).
''صحیح مسلم''، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، الحدیث: ۵۳۔۵۴ (۱۵۷)، ص۱۵۵۵.
7 ۔ عن أنس بن مالک قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لا تقوم الساعۃ حتی یتقارب الزمان وتکون السنۃ کالشھر، والشھر کالجمعۃ وتکون الجمعۃ کالیوم ویکون الیوم کالساعۃ وتکون الساعۃ کالضرمۃ بالنار)).
''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، باب ماجاء في قصر الأمل، الحدیث: ۲۳۳۹، ج۴، ص۱۴۹.
(۱۱) زکوٰۃ دینا لوگوں پر گراں ہوگا کہ اس کو تاوان سمجھیں گے۔ (1)
(۱۲) علمِ دین پڑھیں گے، مگر دین کے لیے نہیں۔ (2)
(۱۳) مرد اپنی عورت کا مُطِیع ہوگا۔ (3)
(۱۴) ماں باپ کی نافرمانی کریگا۔ (4)
(۱۵) اپنے احباب سے میل جول رکھے گا اور باپ سے جدائی۔ (5)
(۱۶) مسجد میں لوگ چِلّائیں گے۔ (6)
(۱۷) گانے باجے کی کثرت ہوگی۔ (7)
(۱۸) اَگلوں پر لوگ لعنت کریں گے، ان کو بُرا کہیں گے۔ (8)
(۱۹) درندے، جانور، آدمی سے کلام کریں گے، کوڑے کی پُھنچی(9)، جُوتے کا تَسْمہ کلام کریگا، اُس کے بازار جانے کے بعد جو کچھ گھر میں ہوا بتائے گا، بلکہ خود انسان کی ران اُسے خبر دے گی۔ (10)
1 ۔ عن أبي ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إذا اتخذ الفيء دولاً، والأمانۃ مغنماً، والزکاۃ مغرماً)).
2 ۔ ((وتعلم لغیرالدین)). ''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، باب ما جاء في علامۃ...إلخ، الحدیث: ۲۲۱۸، ج۴، ص۹۰.
3 ۔ یعنی فرمانبردار ہوگا۔
((وأطاع الرجل امرأتہ)). ''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، باب ما جاء في علامۃ...إلخ، الحدیث: ۲۲۱۸، ج۴، ص۹۰.
4 ۔ ((وعق أمہ)).المرجع السابق.
5 ۔ ((وأدنی صد یقہ وأقصی أباہ)).المرجع السابق.
6 ۔ ((وظھرت الأصوات في المساجد)).المرجع السابق.
7 ۔ ((وظھرت القینات والمعازف)).المرجع السابق.
8 ۔ ((ولعن آخر ھذہ الأمۃ أوّلھا)).المرجع السابق.
9 ۔ چابک کا سرا۔
10 ۔ عن أبي سعید الخدري قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((والذي نفسي بیدہ لا تقوم الساعۃ حتی تکلم السباع الإنس، وحتی یکلم الرجل عذبۃ سوطہ وشراک نعلہ وتخبرہ فخذہ بما أحدث أھلہ بعدہ)).
''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، باب ما جاء في کلام السباع، الحدیث: ۲۱۸۸، ج ۴، ص۷۶.
(۲۰) ذَلیل لوگ جن کو تَن کا کپڑا، پاؤں کی جوتیاں نصیب نہ تھیں، بڑے بڑے محلوں میں فخر کریں گے۔ (1)
(۲۱) دجّال کا ظاہر ہونا کہ چا۴۰لیس دن میں حرمَیْنِ طیّبین کے سوا تمام روئے زمین کا گشت کریگا۔ (2) چالیس دن میں، پھلا دن سال بھر کے برابر ہوگا اور دوسرا دن مہینے بھر کے برابر اور تیسرا دن ہفتہ کے برابر اور باقی دن چوبیس چوبیس گھنٹے کے ہوں گے اور وہ بہت تیزی کے ساتھ سیر کریگا، جیسے بادل جس کو ہَوا اڑاتی ہو۔ (3) اُس کا فتنہ بہت شدید ہوگا (4)، ایک باغ اور ایک آگ اُس کے ہمراہ ہوں گی، جن کا نام جنت و دوزخ رکھے گا، جہاں جائے گا یہ بھی جائیں گی، مگر وہ جو دیکھنے میں جنت معلوم ہوگی وہ حقیقۃً آگ ہوگی اور جو جہنم دکھائی دے گا، وہ آرام کی جگہ ہوگی (5) اور وہ خدائی کا دعویٰ کریگا (6)، جو اُس پر ایمان لائے گا اُسے اپنی جنت میں ڈالے گا اور جو انکار کریگا اُسے جہنم میں داخل کریگا (7)، مُردے جِلائے (8) گا (9)۔
1 ۔ ((وأن تری الحفاۃ، العراۃ، العالۃ، رعاء الشاء، یتطاولون في البنیان)). ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، الحدیث:۸،ص۲۱.
2 ۔ ((فلا أدع قریۃ إلاّ ھبطتھا في أربعین لیلۃ غیر مکۃ وطیبۃ، فھما محرمتان علي کلتاھما)).
''صحیح مسلم''، کتاب الفتن، باب قصۃ الجساسۃ، الحدیث: ۲۹۴۲، ص۱۵۷۶.
3 ۔ قلنا: یا رسول اللہ! وما لبثہ في الأرض؟ قال: ((أربعون یوماً، یوم کسنۃ، ویوم کشھر، ویوم کجمعۃ، وسائر أیامہ کأیامکم))، قلنا: یا رسول اللہ! فذلک الیوم الذي کسنۃ، أتکفینا فیہ صلاۃ یوم؟ قال: ((لا، اقدروا لہ قدرہ))، قلنا: یا رسول اللہ! وما إسراعہ في الأرض؟ قال:((کالغیث استدبرتہ الریح)).''صحیح مسلم''،کتاب الفتن، باب في ذکر الدجال...إلخ، الحدیث:۲۹۳۷،ص۱۵۶۹.
4 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّہ لم تکن فتنۃ في الأرض منذ ذرأ اللہ ذریۃ آدم علیہ السلام أعظم من فتنۃ الدجال)).
''سنن ابن ماجہ''، أبواب الفتن، باب فتنۃ الدجال...إلخ، الحدیث: ۴۰۷۷، ج۴، ص۴۰۴.
5 ۔ عن حذیفۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((معہ جنۃ ونار، فنارہ جنۃ وجنتہ نار)).
''صحیح مسلم''، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال...إلخ، الحدیث:۲۹۳۴، ص۱۵۶۷.
وفي روایۃ ''المسند'': ((ومعہ نہران أنا أعلم بھما منہ نہر یقول: الجنۃ ونہر یقول: النار، فمن أدخل الذي یسمیہ الجنۃ فہو النار ومن أدخل الذي یسمیہ النار فہو الجنۃ)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۴۹۵۹، ج۵، ص۱۵۶۔۱۵۷.
6 ۔ ((فیقول للناس: أنا ربکم))''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، ج۵، ص۱۵۶، الحدیث:۱۴۹۵۹.
7 ۔ في ''فیض القدیر''، ج۳، ص۷۱۹: (معہ جنۃ ونار فنارہ جنۃ وجنتہ نار) أي: من أدخلہ الدجال نارہ بتکذبیہ إیاہ تکون تلک النار سببا لدخولہ الجنۃ في الآخرۃ ومن أدخلہ جنتہ بتصدیقہ إیاہ تکون تلک الجنۃ سببا لدخولہ النار فی الآخرۃ).
8 ۔ زندہ کرے۔
9 ۔ عن سمرۃ بن جندب أنّ نبي اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یقول: ((إنّ الدجال خارج وہو أعور عین الشمال علیہا ظفرۃ غلیظۃ، وإنّہ یبریء الأکمہ والأبرص ویحیی الموتی...إلخ)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، ج۷، ص۲۶۰، الحدیث: ۲۰۱۷۱.
زمین کو حکم دے گا وہ سبزے اُگائے گی، آسمان سے پانی برسائے گا اور اُن لوگوں کے جانور لمبے چوڑے خوب تیار اور دودھ والے ہوجائیں گے اور ویرانے میں جائے گا تو وہاں کے دفینے شہد کی مکھیوں کی طرح دَل کے دَل (1) اس کے ہمراہ ہوجائیں گے۔ (2) اِسی قسم کے بہت سے شُعبدے (3) دکھائے گا اور حقیقت میں یہ سب جادو کے کرشمے ہوں گے اور شیاطین کے تماشے، جن کو واقعیت سے کچھ تعلق نہیں، اِسی لیے اُس کے وہاں سے جاتے ہی لوگوں کے پاس کچھ نہ رہے گا۔ حرمین شریفین میں جب جانا چاہے گا ملائکہ اس کا منہ پھیردیں گے۔ البتہ مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے کہ وہاں جو لوگ بظاہر مسلمان بنے ہوں گے اور دل میں کافر ہوں گے اور وہ جو علمِ الٰہی میں دجّال پر ایمان لاکر کافر ہونے والے ہیں، اُن زلزلوں کے خوف سے شہر سے باہر بھاگیں گے اور اُس کے فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ (4)
دجّال کے ساتھ یہود کی فوجیں ہوں گی (5)، اُس کی پیشانی پر لکھا ہوگا: ''ک، ف، ر'' یعنی کافر، جس کو ہر مسلمان پڑھے گا (6) اور کافر کو نظر نہ آئے گا۔(7)
1 ۔ ڈھیرکے ڈھیر، جتھے کے جتھے۔
2 ۔ ((فیأمر السماء أن تمطر فتمطر ویأمر الأرض أن تنبت فتنبت فتروح علیہم سارحتہم کأطول ما کانت ذری وأمدّہ خواصر وأدرّہ ضروعا، قال: ثم یأتي الخربۃ فیقول لہا: أخرجي کنوزک فینصرف منھا فتتبعہ کیعاسیب النحل)).
''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، باب ما جاء في فتنۃ الدجال، الحدیث: ۲۲۴۷، ج۴، ص۱۰۴.
3 ۔ نظر بندی کے کھیل۔
4 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لیس من بلد إلاّ سیطؤہ الدجال، إلاّ مکۃ والمدینۃ، ولیس نقب من أنقابھا إلاّ علیہ الملائکۃ صافین تحرسھا، فینزل بالسبخۃ، فترجف المدینۃ ثلاث رجفات، یخرج إلیہ منھا کلّ کافر ومنافق)).
''صحیح مسلم''، باب قصۃ الجسّاسۃ، الحدیث: ۲۹۴۳، ص۱۵۷۷۔۱۵۷۸.
5 ۔ ((الدجال معہ سبعون ألف یھودي)). ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الفتن، باب فتنۃ الدجال، الحدیث: ۴۰۷۷، ج۴، ص۴۰۶.
6 ۔ عن أنس بن مالک قال: قال رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((الدجال ممسوح العین، مکتوب بین عینیہ کافر، ثم تھجاھا ک ف ر، یقرأہ کل مسلم)).''صحیح مسلم''، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، الحدیث: ۲۹۳۳، ص۱۵۶۷.
7 ۔ في ''فتح الباري''،کتاب الفتن ،باب ذکرالدجال،تحت الحدیث ۷۱۳۱ ، ج ۱۳، ص۸۶: قولہ: ''مکتوب بین عینیہ کافر'': (فھذا یراہ المؤمن بغیر بصرہ وإن کان لا یعرف الکتابۃ، ولا یراہ الکافر ولو کان یعرف الکتابۃ کما یری المؤمن الأدلۃ بعین بصیرتہ ولا یراھا الکافر فیخلق اللہ للمؤمن الإدراک دون تعلّم).
وفي ''شرح مسلم'' للنووي، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، ج۲، ص ۴۰۰: (یظھر اللہ تعالی لکل مسلم کاتب وغیر کاتب ویخفیھا عمن أراد شقاوتہ وفتنتہ).
جب وہ ساری دنیا میں پھِر پھِرا کر ملکِ شام کو جائے گا، اُس وقت حضرت مسیح علیہ السلام (1) آسمان سے جامع مسجد دمشق کے شَرقی مینارہ پر نُزُول فرمائیں گے(2)، صبح کا وقت ہوگا، نمازِ فجر کے لیے اِقامت ہو چکی ہوگی، حضرت امام مَہدی کو کہ اُس جماعت میں موجود ہوں گے امامت کا حکم دیں گے، حضرت امام مَہدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نماز پڑھائیں گے، وہ لعین دجّال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سانس کی خوشبو سے پگھلنا شروع ہوگا، جیسے پانی میں نمک گھلتا ہے اور اُن کی سانس کی خوشبو حدّ ِ بصر (3) تک پہنچے گی، وہ بھاگے گا، یہ تعاقب فرمائیں گے اور اُس کی پیٹھ میں نیزہ ماریں گے، اُس سے وہ جہنم واصل ہوگا۔ (4)
(۲۲) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نُزُوْل فرمانا:
اِس کی مختصر کیفیت اوپر معلوم ہو چکی، آپ کے زمانہ میں مال کی کثرت ہوگی، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو مال دے گا تو وہ قبول نہ کریگا(5) ، نیز اُس زمانہ میں عداوت و بغض و حسد آپس میں بالکل نہ ہو گا۔ (6) عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام
1 ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔
2 ۔ ((إذ بعث اللہ المسیح ابن مریم، فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقي دمشق)). ''صحیح مسلم''، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، الحدیث: ۲۹۳۷، ص۱۵۶۹.
3 ۔ نظرکی انتہا۔
4 ۔ قالت أم شریک بنت أبي العکر: یا رسول اللہ فأین العرب یومئذ؟ قال: ((ہم یومئذ قلیل، وجلہم ببیت المقدس، وإمامہم رجل صالح، فبینما إمامہم قد تقدم یصلي بہم الصبح، إذ نزل علیہم عیسی ابن مریم علیہ السلام، فرجع ذلک الإمام ینکص، یمشي القہقری لیتقدم عیسی یصلي بالناس، فیضع عیسی علیہ السلام یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ: تقدم فصلّ، فإنّہا لک أقیمت فیصلي بہم إمامہم فإذا انصرف قال عیسی علیہ السلام: افتحوا الباب، فیفتح ووراء ہ الدجال معہ سبعون ألف یہودي کلہم ذو سیف محلی وساج فإذا نظر إلیہ الدجال ذاب کما یذوب الملح في المائ، وینطلق ہارباً ویقول عیسی علیہ السلام: إنّ لي فیک ضربۃ لن تسبقني بہا فیدرکہ عند باب اللد الشرقي فیقتلہ)).
''سنن ابن ماجہ''، أبواب الفتن، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسی... إلخ، الحدیث: ۴۰۷۷، ج۴، ص۴۰۶.
وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((ولا یجد ریح نفسہ یعني أحداً إلاّ مات، وریح نفسہ منتہی بصرہ، قال: فیطلبہ حتی یدرکہ بباب لد فیقتلہ)). ''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، باب ما جاء في فتنۃ الدجال، الحدیث: ۲۲۴۰، ج۴، ص۱۰۴. في''منح الروض الأزہر''، ص۱۱۲.
5 ۔ ((ویفیض المال حتی لا یقبلہ أحد)). ''صحیح البخاري''، کتاب أحادیث الأنبیائ، باب نزول عیسی ابن مریم علیھما السلام، الحدیث: ۳۴۴۸، ج۲، ص ۴۵۹.
6 ۔ ((ولتذھبن الشحناء والتباغض والتحاسد ولیدعون إلی المال فلا یقبلہ أحد)). ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب نزول عیسی ابن مریم ...إلخ، الحدیث: ۲۴۳، ص ۹۲.
صَلِیْب (1) توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے (2)، تمام اھلِ کتاب جو قتل سے بچیں گے سب اُن پر ایمان لائیں گے۔ تمام جہان میں دین ایک دینِ اسلام ہوگا اور مذہب ایک مذہبِ اھلِ سنّت۔ (3)
بچے سانپ سے کھیلیں گے اور شیر اور بکری ایک ساتھ چَریں گے (4)، چالیس برس تک اِقامت فرمائیں گے، نکاح کریں گے، اولاد بھی ہوگی، بعدِ وفات روضہ انورمیں دفن ہونگے۔ (5)
1 ۔ عیسائیوں کا مقدّس نشان۔ ('' فیروز اللّغات''، ص۹۱۶).
2 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((والذي نفسي بیدہ لیوشکنّ أن ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر)). ''صحیح البخاري''، کتاب أحادیث الأنبیائ، باب نزول عیسی ابن مریم علیھما السلام، الحدیث: ۳۴۴۸، ج۲، ص۴۵۹.
3 ۔ ((فیقاتل الناس علی الإسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویھلک اللہ في زمانہ الملل کلہا إلاّ الإسلام)).
''سنن أبي داود''، کتاب الملاحم، باب [ذکر] خروج الدجال، الحدیث: ۴۳۲۴، ج۴، ص۱۵۸.
في ''تفسیر الطبري''، پ۶، النساء، ج۴، ص۳۵۶۔۳۵۷، تحت الآیۃ ۱۵۹: (وَاِنْ مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ) یعني: بعیسی (قَبْلَ مَوْتِہٖ) یعني: قبل موت عیسی، یوجِّہ ذلک إلی أنّ جمیعہم یصدِّقون بہ إذا نزل لقتل الدجّال، فتصیر الملل کلہا واحدۃ، وہي ملۃ الإسلام الحنیفیّۃ، دین إبراہیم صلی اللہ علیہ وسلم).
عن أبي مالک في قولہ: (اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ) قال: ذلک عند نزول عیسی ابن مریم، لا یبقی أحدٌ من أھل الکتاب إلاّ لیؤمننّ بہ).
4 ۔ ((وتنزع حمۃ کل ذات حمۃ حتی یدخل الولید یدہ في فيّ الحیۃ فلا تضرہ، وتفر الولیدۃ الأسد فلا یضرھا، ویکون الذئب في الغنم کأنّہ کلبھا)). ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الفتن، باب فتنۃ الدجال... إلخ، الحدیث:۴۰۷۷، ج۴، ص۴۰۷.
وعن أبي ھریرۃ رضي اللہ عنہ أ ن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ... وتقع الآمنۃ علی أھل الأرض حتی ترعی الأسود مع الإبل والنمور مع البقر والذأاب مع الغنم ویلعب الصبیان مع الحیات لاتضرھم، فیمکث أربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلي علیہ المسلمون)). ''المستدرک'' للحاکم، باب ہبوط عیسی علیہ السلام، الحدیث: ۴۲۱۹، ج۳، ص۴۹۰.
وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((ینزل عیسی ابن مریم إلی الأرض، فیتزوج، ویولد لہ، ویمکث خمساً وأربعین سنۃ، ثم یموت، فیدفن معي في قبري)). ''مشکاۃ''، کتاب الفتن، باب نزول عیسی علیہ السلام، الحدیث: ۵۵۰۸، ج۲، ص۳۰۶.
5 ۔ وفي''مرقاۃ المفاتیح''، تحت الحدیث: ۵۵۰۸، ج۹، ص۴۴۲:( وھذا بظاھرہ یخالف قول من قال:إنّ عیسی رفع بہ إلی السمائ، وعمرہ ثلاث وثلاثون، ویمکث في الأرض بعد نزولہ سبع سنین، فیکون مجموع العدد أربعین لکن حدیث مکثہ سبعا رواہ مسلم، فیتعین الجمع بماذکر، أو ترجیح مافي الصحیح، ولعل عدد الخمس ساقط من الاعتبارلإلغاء الکسر.
(۲۳) حضرت امام مَہدی رضی اللہ تعالی عنہ کاظاہر ہونا:
اِس کا اِجمالی واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں جب سب جگہ کفر کا تسلط ہوگا اُس وقت تمام اَبدال(1) بلکہ تمام اولیا سب جگہ سے سِمٹ کر حرمین شریفین کو ہجرت کر جائیں گے، صرف وہیں اسلام ہو گا اور ساری زمین کفرستان ہو جائے گی۔ رمضان شریف کا مہینہ ہوگا، اَبدال طوافِ کعبہ میں مصروف ہوں گے اور حضرت امام مَہدی بھی وہاں ہوں گے، اولیاء اُنھیں پہچانیں گے، اُن سے درخواستِ بیعت کریں گے، وہ انکار کریں گے۔
دفعتہ غیب سے ایک آواز آئے گی:
ھٰذَا خَلِیْفَۃُ اللہِ الْمَھْدِيُّ فَاسْمَعُوْا لَـہٗ وَأَطِیْعُوْہُ.
''یہ اﷲ (عزوجل) کا خلیفہ مہدی ہے، اس کی بات سُنو اور اس کا حکم مانو۔''
تمام لوگ اُن کے دستِمبارک پر بیعت کریں گے۔ وہاں سے سب کو اپنے ہمراہ لے کر ملکِ شام کو تشریف لے جائیں گے۔ (2)
بعد قتلِ دجّال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکمِ الٰہی ہوگا کہ مسلمانوں کو کوہِ طور پر لے جاؤ، اس لیے کہ کچھ ایسے لوگ ظاہر کیے جائیں گے، جن سے لڑنے کی کسی کوطاقت نہیں۔
(۲۴) یاجُوج و ماجُوج کا خروج(3) :
مسلمانوں کے کوہِ طور پر جانے کے بعد یاجُوج و ماجُوج ظاہر ہوں گے، یہ اس قدر کثیر ہوں گے کہ ان کی پھلی جماعت بُحَیْرَہ طَبَرِیَّہ پر (جس کا طول دس میل ہو گا (4)) جب گزرے گی، اُس کا پانی پی کر اس طرح سُکھادے گی کہ دوسری جماعت بعد والی جب آئے گی تو کہے گی: کہ یہاں کبھی پانی تھا!۔
1 ۔ في ''مرقاۃ المفاتیح'': (قال الجوہري: الأبدال قوم من الصالحین لا تخلو الدنیا منھم إذا مات واحد أبدل اللہ مکانہ بآخر۔۔۔وفي ''القاموس'': الأبدال قوم بہم یقیم اللہ عزوجل الأرض وہم سبعون أربعون بالشام وثلاثون في غیرہا).
(''مرقاۃ المفاتیح'': ج۹، ص۳۵۳)۔
2 ۔ لم نعثر علیہ۔
3 ۔ (حَتّٰی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوجُ وَہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ) پ۱۷، الانبیائ:۹۶.
4 ۔ بُحَیْرَہ طَبَرِیَّہ: في ''المرقاۃ''، ج۹، ص۳۸۸: (بحیرۃ تصغیر بحرۃ، وہي ماء مجتمع بالشام طولہ عشرۃ أمیال، وطبریۃ بفتحتین اسم موضع، وقال شارح: ہي قصبۃ الأردن بالشام).
پھر دنیا میں فساد و قتل و غارت سے جب فرصت پائیں گے تو کہیں گے کہ زمین والوں کو تو قتل کرلیا، آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں، یہ کہہ کر اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے، خداکی قدرت کہ اُن کے تیر اوپر سے خون آلودہ گریں گے۔
یہ اپنی اِنہیں حرکتوں میں مشغول ہوں گے اور وہاں پہاڑ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع اپنے ساتھیوں کے محصور ہوں گے، یہاں تک کہ اُن کے نزدیک گائے کے سر کی وہ وقعت ہوگی جو آج تمہارے نزدیک ۱۰۰سو اشرفیوں کی نہیں، اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع اپنے ہمراہیوں کے دُعا فرمائیں گے، اﷲ تعالیٰ اُن کی گردنوں میں ایک قسم کے کیڑے پیدا کر دے گا کہ ایک دَم میں وہ سب کے سب مر جائیں گے، اُن کے مرنے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہاڑ سے اُتریں گے، دیکھیں گے کہ تمام زمین اُن کی لاشوں اور بدبُو سے بھری پڑی ہے، ایک بالشت بھی زمین خالی نہیں۔
اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع ہمراہیوں کے پھر دُعا کریں گے، اﷲ تعالیٰ ایک قسم کے پرند بھیجے گا کہ وہ انکی لاشوں کو جہاں اﷲ (عزوجل) چاہے گا پھینک آئیں گے اور اُن کے تیر و کمان و تَرکش (1) کو مسلمان سا۷ت برس تک جلائیں گے، پھر اُس کے بعد بارش ہو گی کہ زمین کو ہموار کر چھوڑے گی اور زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھلوں کو اُگا اور اپنی برکتیں اُگل دے اور آسمان کو حکم ہوگا کہ اپنی برکتیں اُنڈیل دے تو یہ حالت ہو گی کہ ایک انار کو ایک جماعت کھائے گی اور اُس کے چھلکے کے سایہ میں د۱۰س آدمی بیٹھیں گے اوردودھ میں یہ برکت ہوگی کہ ایک اونٹنی کا دودھ، جماعت کو کافی ہوگا اور ایک گائے کا دودھ، قبیلہ بھر کو اور ایک بکری کا، خاندان بھر کو کفایت کریگا۔ (2)
1 ۔ تیر دان، تیر رکھنے کا خانہ۔
2 ۔ قال: ((فیلبث کذلک ما شاء اللہ؟، قال: ثم یوحي اللہ إلیہ أن حرّز عبادي إلی الطور فإني قد أنزلت عباداً لي لا ید لأحد بقتالہم، قال: ویبعث اللہ یأجوج ومأجوج وہم کما قال اللہ: (وَہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ)، قال: ویمرّ أولہم ببحیرۃ الطبریۃ فیشرب ما فیہا، ثم یمر بہا آخرہم فیقولون: لقد کان بہذہ مرۃ مائ، ثم یسیرون حتی ینتہوا إلی جبل بیت المقدس، فیقولون: لقد قتلنا من في الأرض فھلم فلنقتل من في السمائ، فیرمون بنشّابہم إلی السمائ، فیردّ اللہ علیہم نشّابہم محمراً دماً، ویحاصر عیسی ابن مریم وأصحابہ حتی یکون رأس الثور یومئذ خیراً لہم من مائۃ دینار لأحدکم الیوم، قال: فیرغب عیسی ابن مریم إلی اللہ وأصحابہ، قال: فیرسل اللہ علیہم النغف في رقابہم فیصبحون فرسي موتی کموت نفس واحدۃ، قال: ویہبط عیسی وأصحابہ فلا یجد موضع شبر إلاّ وقد ملأتہ زہمتہم ونتنھم ودماؤہم، قال: فیرغب عیسی إلی اللہ وأصحابہ قال: فیرسل اللہ علیہم طیراً کأعناق البخت، فتحملہم فتطرحہم بالمہبل ویستوقد المسلمون من قسّیہم ونشّابہم وجعابہم سبع سنین، قال: ویرسل اللہ علیہم مطراً لا یکنّ منہ بیت وبر ولا مدر، قال: فیغسل الأرض فیترکہا کالزلفۃ، قال: ثم یقال للأرض: أخرجی ثمرتک وردّي برکتک، فیومئذ تأکل العصابۃ من الرمانۃ ویستظلون بقحفہا ویبارک في الرسل حتی أنّ الفأام من الناس
(۲۵) دُھواں ظاہر ہوگا: جس سے زمین سے آسمان تک اندھیرا ہو جائے گا۔ (1)
(۲۶) دابۃُ الارض کا نکلنا(2): یہ ایک جانور ہے، اِس کے ہاتھ میں عصائے موسیٰ اور انگشتری سلیمان علیھما السلام ہوگی، عصا سے ہر مسلما ن کی پیشانی پر ایک نشان نورانی بنائے گا اور انگشتری سے ہر کافر کی پیشانی پر ایک سخت سیاہ دھبّا، اُس وقت تمام مسلم و کافر علانیہ ظاہر ہوں گے۔ (3) یہ علامت کبھی نہ بدلے گی، جو کافر ہے ہر گز ایمان نہ لائے گا اور جو مسلمان ہے ہمیشہ ایمان پر قائم رہے گا(4)۔
(۲۷) آفتاب کا مغرب سے طلو ع ہونا: اِس نشانی کے ظاہر ہوتے ہی توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا،اُس وقت کا اسلام معتبر نہیں۔ (5)
لیکتفون باللقحۃ من الإبل، وأنّ القبیلۃ لیکتفون باللقحۃ من البقر، وإنّ الفخذ لیکتفون باللقحۃ من الغنم)).
''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، باب ما جاء في فتنۃ الدجال، الحدیث:۲۲۴۷، ج۴، ص۱۰۴۔۱۰۵.
1 ۔ (فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ یَغْشَی النَّاسَ ہٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ ).پ۲۵، الدخان:۱۰۔۱۱.
في ''تفسیر الطبري''، ج ۱۱، ص ۲۲۷، تحت ہذہ الآیۃ:عن ربعي بن حراش، قال: سمعت حذیفۃ بن الیمان یقول: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أوّل الآیات الدجال، ونزول عیسی بن مریم، ونار تخرج من قعر عدن أبین تسوق الناس إلی المحشر تقیل معہم إذا قالوا، والدخان، قال حذیفۃ: یا رسول اللہ! وما الدخان؟ فتلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الآیۃ: (یَوْمَ تَاْتِی السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ یَغْشَی النَّاسَ ہٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ)، یملأ ما بین المشرق والمغرب یمکث أربعین یوما ولیلۃ، أمّا المؤمن فیصیبہ منہ کہیئۃ الزکام، وأمّا الکافر فیکون بمنزلۃ السکران یخرج من منخریہ وأذنیہ ودبرہ)).ج۱۱،ص۲۲۷، الحدیث: ۳۱۰۶۱.
2 ۔ (وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَا لَہُمْ دَابَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰ یَاتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ).پ۲۰، النمل:۸۲.
3 ۔ عن أبي ھریرۃ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((تخرج الدابۃ ومعھا خاتم سلیمان بن داود، وعصا موسی بن عمران علیھما السلام، فتجلو وجہ المؤمن بالعصا وتخطم أنف الکافر بالخاتم حتی أنّ أھل الحِواء لیجتمعون، فیقول ھذا: یا مؤمن، ویقول ھذا: یا کافر)). ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الفتن، باب دابۃ الأرض، الحدیث: ۴۰۶۶، ج۴، ص۳۹۳۔۳۹۴.
4 ۔ لم نعثر علیہ۔
E ۔ عن صفوان بن عسال قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ من قبل مغرب الشمس باباً مفتوحاً، عرضہ سبعون سنۃ، فلا یزال ذلک الباب مفتوحاً للتوبۃ حتی تطلع الشمس من نحوہ، فإذا طلعت من نحوہ لم ینفع نفساً إیمانھا لم تکن آمنت من قبل أو کسبت في إیمانھم خیراً)).
(''سنن ابن ماجہ''، أبواب الفتن، باب طلوع الشمس من مغربھا، الحدیث: ۴۰۷۰، ج۴، ص۳۹۶).
(۲۸) وفاتِ سیدنا عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کے ایک زمانہ کے بعد جب قیامِ قیامت (1) کو صرف چالیس برس رہ جائیں گے(2)، ایک خوشبو دار ٹھنڈی ہوا چلے گی، جو لوگوں کی بغلو ں کے نیچے سے گزرے گی، جس کا اثر یہ ہو گا کہ مسلمان کی روح قبض ہو جائے گی اور کافر ہی کافر رہ جائیں گے اور اُنھیں پر قیامت قائم ہوگی۔ (3)
یہ چند نشانیاں بیان کی گئیں، اِن میں بعض واقع ہوچکیں اور کچھ باقی ہیں، جب نشانیاں پوری ہو لیں گی اور مسلمانوں کی بغلوں کے نیچے سے وہ خوشبودار ہوا گزرلے گی جس سے تمام مسلمانوں کی وفات ہو جائے گی، اس کے بعدپھر چالیس برس کا زمانہ ایسا گزرے گا کہ اس میں کسی کے اولاد نہ ہو گی، یعنی چالیس برس سے کم عُمر کا کو ئی نہ رہے گا اور دنیا میں کافر ہی کافر ہوں گے(4)، اﷲ کہنے والا کوئی نہ ہوگا (5)، کوئی اپنی دیوار لیستا (6) ہوگا، کوئی کھانا کھاتا ہوگا، غرض لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے(7)
1 ۔ قیامت کے قائم ہونے۔
2 ۔ لم نعثر علیہ۔
3 ۔ ((فبینما ھم کذلک إذ بعث اللہ ریحاً طیبۃ، فتأخذھم تحت آباطھم، فتقبض روح کل مؤمن وکل مسلم ، ویبقی شرار الناس، یتھارجون فیھا تھارج الحمر، فعلیھم تقوم الساعۃ)). ''صحیح مسلم''، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال، الحدیث: ۷۳۷۳، ص۱۵۷۰.
4 ۔ لم نعثر علیہ۔
5 ۔ عن أنس أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((لا تقوم الساعۃ حتی لا یقال في الأرض: اللہ اللہ)).
''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب ذھاب الإیمان آخر الزمان، الحدیث: ۲۳۴، ص۸۸.
في ''المرقاۃ''، ج۹، ص ۴۵۰، تحت الحدیث: (معناہ: لا تقوم الساعۃ حتی لا یبقی في الأرض مسلم یحذر الناس من اللہ، وقیل: أي: لا یذکر اللہ فلا یبقی حکمۃ في بقاء الناس).
6 ۔ پلستر کرتا۔
7 ۔ عن أبيہریرۃ رضي اللہ عنہ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:((لا تقوم الساعۃ حتی تطلع الشمس من مغربہا، فإذا طلعت فرآہا الناس آمنوا أجمعون فذلک حین(لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا)الآیۃ، ولتقومن الساعۃ وقد نشر الرجلان ثوبھما بینھما فلا یتبایعانہ ولا یطویانہ، ولتقومن الساعۃ وقد انصرف الرجل بلبن لقحتہ فلا یطعمہ، ولتقومنّ الساعۃ وہو یلیط حوضہ فلا یسقي فیہ، ولتقومن الساعۃ وقد رفع أحدکم أکلتہ إلی فیہ فلا یطعمہا)).
(''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، الحدیث:۶۵۰۶، ج۴، ص۲۴۹).
کہ دفعتہ (1) حضرت اسرافیل علیہ السلام کو صُور پھو نکنے کا حکم ہوگا، شروع شروع اس کی آواز بہت باریک ہوگی اور رفتہ رفتہ بہت بلند ہو جائے گی، لوگ کان لگا کر اس کی آواز سنیں گے اور بے ہوش ہو کر گِر پڑیں گے اور مر جائیں گے، آسمان، زمین، پہاڑ، یہاں تک کہ صُور اور اسرافیل اور تمام ملائکہ فَنا ہو جائیں گے، اُس وقت سوا اُس واحدِ حقیقی کے کوئی نہ ہوگا، وہ فرمائے گا:
(لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ؕ ) ـ2ـ
آج کس کی بادشاہت ہے۔۔۔؟! کہاں ہیں جَبّارین۔۔۔؟! کہاں ہیں متکبرین۔۔۔؟! مگر ہے کون جو جواب دے، پھر خود ہی فرمائے گا:
( لِلہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ﴿۱۶﴾ ) ـ3ـ
''صرف اﷲ واحد قہار کی سلطنت ہے۔''
پھر جب اﷲ تعالیٰ چاہے گا، اسرافیل کو زندہ فرمائے گا اور صور کو پیدا کرکے دوبارہ پھونکھنے کا حکم دے گا، صور پھونکھتے ہی تمام اوّلین و آخرین، ملائکہ و اِنس و جن و حیوانات موجود ہو جائیں گے۔ (4) سب سے پہلے حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم قبر مبارک
1 ۔ اچانک۔
2 ۔ پ۲۴، المؤمن: ۱۶
3 ۔ پ۲۴، المؤمن: ۱۶.
4 ۔ عن ابن عباس في صفۃ القیامۃ، فذکر فیہ صفۃ الصور وعظمہ وعظم إسرافیل ثم قال: فإذا بلغ الوقت الذي یرید اللہ أمر إسرافیل، فینفخ في الصور النفخۃ الأولی، فتھبط النفخۃ من الصور إلی السموات فیصعق سکّان السموات بحذافیرھا، وسکّان البحر بحذافیرھا، ثم تھبط النفخۃ إلی الأرض، فیصعق سکّان الأرض بحذافیرھا، وجمیع عالم اللہ وبریّتہ فیھن من الجن والإنس والھوام والأنعام، قال: وفي الصورمن الکوی بعدد من یذوق الموت من جمیع الخلا ئق، فإذا صعقوا جمیعاً، یقول اللہ عزوجل: یا إسرافیل من بقي؟ فیقول: بقي إسرافیل عبدک الضعیف، فیقول: مت یا إسرافیل فیموت، ثم یقول الجبار تعالی: (لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ)، فلا ھمیس ولا حسیس ولا ناطق یتکلم، ولا مجیب یفھم، وقد مات حملۃ العرش وإسرافیل وملک الموت وکل مخلوق، فیرد الجبارعلی نفسہ: (لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِاَلْیَوْمَ تُجْزَی کُلُّ نَفْسٍمبِمَا کَسَبَتْ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ اِنَّ اللہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ) [غافر: ۱۶۔۱۷]. وذلک حین تمت کلمۃ ربک صدقاً وعدلاً لا مبدل لکلماتہ: (وَھُوَالسَّمِیْعُ العَلِیم)، فیتم کلمتہ بإنفاذ قضائہ علی أھل أرضہ وسمائہ لقولہ تعالی: (کُلُّ شَیْءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہ، لَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ) [القصص:۸۲]. فأمّا إسرافیل، فیموت ثم یحیی في طرفۃ عین، وأما حملۃ العرش فیحیون في أسرع من طرفۃ عین، فیأمر اللہ
سے یوں برآمد ہونگے کہ دَہنے ہاتھ میں صدیقِ اکبر کا ہاتھ، بائیں ہاتھ میں فاروقِ اعظم کا ہاتھ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما (1)، پھر مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ کے مقابر میں جتنے مسلمان دفن ہیں، سب کو اپنے ہمراہ لے کر میدانِ حشر میں تشریف لے جائیں گے۔ (2)
عقیدہ (۱): قیامت بیشک قائم ہو گی، اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ (3)
تعالی إسرافیل بعد النفخۃ الأولی بأربعین وکذلک ھو في التوراۃ بین النفختین أربعون، لا یدری ما ھو، فإذا انقضت الأربعون نظر اللہ إلی أھل السموات وإلی أھل الأرضین، فیقول: وعزتي لأعیدنّکم کما بدأتکم ولأحیینّکم کما أمتکم، ثم یأمر إسرافیل فینفخ النفخۃ الثانیۃ، وقد جمعت الأرواح کلھا في الصور، فإذا نفخ خرج کل روح من کوۃ معلومۃ من کوی الصور، فإذا الأرواح تھوش بین السماء والأرض لھا دوي کدوی النحل، فینادي إسرافیل: یا أیتھا الجلود المتمزقۃ! ویا أیتھا الأعضاء المتھشمۃ! ویا أیتھا العظام البالیۃ! ویا أیتھا الأجساد المتفرقۃ! ویا أیتھا الأشعارالمتمرطۃ! قوموا إلی موقف الحساب والعرض الأکبر فیدخل کل روح في جسدہ قال: ویمطر اللہ طیشا من تحت العرش علی جمیع الموتی، فیحیون کما تحیی الأرض المیتۃ بوابل السمائ، فیبعث اللہ الأجساد التي کانت في الدنیا من حیث کانت بعضھا في بطون السباع، وبعضھامن حواصل الطیر وبنیان البحور وبطون الأرض وظھورھا، فیدخل کل روح في جسدہ، فإذا ھم قیام ینظرون، فیبعث اللہ نارا من المشارق، فتحشر الناس إلی المغارب إلی أرض تسمی الساہرۃ من وراء بیت المقدس أرض طاہرۃ لم یعمل علیہا سیئۃ ولا خطیئۃ فذلک قولہ: (فَاِنَّمَا ہِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمْ بِالسَّاہِرَۃِ)، وقولہ: (یَوْمَ یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ)، (وَحَشَرْنَاہُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْہُمْ اَحَدًا)، (وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰہُمْ جَمْعًا وَّعَرَضْنَا جَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْکَافِرِیْنَ عَرْضًا اَلَّذِیْنَ کَانَتْ) الآیۃ).
''شعب الإیمان''، باب في حشر الناس۔۔۔ إلخ، فصل في صفۃ یوم القیامۃ، الحدیث: ۳۵۳، ج۱، ص۳۱۲۔۳۱۴.
1 ۔ عن ابن عمر: أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج ذات یوم فدخل المسجد وأبو بکر وعمر، أحدھما عن یمینہ والآخر عن شمالہ وھوآخذ بأیدیھما وقال: ((ھکذا نبعث یوم القیامۃ)). ''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم لأبي بکر ثم عمر: ((ہکذا نبعث یوم القیامۃ))، الحدیث: ۳۶۸۹، ج۴، ص۳۷۸ .
2 ۔ عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنا أوّل من تنشق عنہ الأرض، ثم أبو بکر، ثم عمر، ثم أتي أھل البقیع فیحشرون معي ثم أنتظر أھل مکۃ حتی أحشر بین الحرمین)). ''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب أنا أول من تنشق عنہ الأرض، ثم أبو بکر وعمر، الحدیث: ۳۷۱۲، ج۵، ص۳۸۸.
3 ۔ (وَاَنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ لَّا رَیْبَ فِیْہَا) پ ۱۷، الحج: ۷.
في ''الشفا''، فصل في بیان ما ہو من المقالات، ج۲، ص۲۹۰: (من أنکر الجنۃ أو النار أو البعث أو الحساب أو القیامۃ فھو کافر بإجماع للنص علیہ وإجماع الأمۃ علی صحۃ نقلہ متواتراً).
وفي ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، فصل في المرض والموت والقیامۃ، ص۱۹۵.
عقیدہ (۲): حشر صرف رُوح کا نہیں، بلکہ روح و جسم دونوں کا ہے، جو کہے صرف روحیں اٹھیں گی جسم زندہ نہ ہوں گے، وہ بھی کافر ہے۔ (1)
عقیدہ (۳): دنیا میں جو رُوح جس جسم کے ساتھ متعلق تھی اُس رُوح کا حشر اُسی جسم میں ہوگا، یہ نہیں کہ کوئی نیا جسم پیدا کرکے اس کے ساتھ روح متعلق کر دی جائے۔ (2)
عقیدہ (۴): جسم کے اجزا اگرچہ مرنے کے بعد متفرق ہوگئے اور مختلف جانوروں کی غذا ہوگئے ہوں، مگر اﷲ تعالیٰ ان سب اجزا کو جمع فرماکر قیامت کے دن اٹھائے گا (3)، قیامت کے دن لوگ اپنی اپنی قبروں سے ننگے بدن، ننگے پاؤں، نَاخَتْنہَ
1 ۔ في ''المعتقد المنتقد''، ھل الروح أیضاً جسم فلا حشر إلاّ جسماني؟، ص۱۸۱: (أکثر المتکلمین علی أنّ الحشر جسمانی فقط علی أنّ الروح جسم لطیف. والغزالي والماتریدي والراغب والحلیمي علی أنّہ جسماني وروحاني، بناء علی أنّ الروح جوھر مجرد لیس بجسم ولا قوۃ حالۃ في جسم، بل یتعلق بہ تعلق التدبیر والتصرف).
قال الإمام أحمد رضا في ''المعتمد المستند''، تحت قولہ: ''جسماني فقط'': (لا بمعنی إنکار حشر الروح، فإنّہ کفر قطعاً کإنکار حشر الأجساد؛ لأنّ الکل ثابت ضرورۃ من الدین، بل بناء علی أنّ الروح أیضاً عندھم جسم لطیف فحشر الجسد والروح کل ذلک لیس عند ھم إلاّ حشر جسم). ۱۲
2 ۔ ( قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْہُمْ وَعِنْدَنَا کِتَابٌ حَفِیْظٌ) پ۲۶، ق: ۴.
في ''تفسیر روح البیان''، ج۹، ص۱۰۴، تحت ہذہ الآیۃ: (قال ابن عطیۃ وحفظ ما تنقص الأرض إنّما ہو لیعود بعینہ یوم القیامۃ وھذا ہو الحق وذہب بعض الأصولیین إلی أنّ الأجساد المبعوثۃ یجوز أن تکون غیر ہذہ، قال ابن عطیۃ: وھذا عندي خلاف لظاہر کتاب اللہ، ولو کانت غیرہا فکیف کانت تشہد الجلود والأیدي والأرجل علی الکفرۃ إلی غیر ذلک مما یقتضي أنّ أجساد الدنیا ہي التي تعود، وسئل شیخ الإسلام ابن حجر: ھل الأجساد إذا بلیت وفنیت وأراد اللہ تعالی إعادتہا کما کانت أو لا ھل تعود الأجسام الأول أم یخلق اللہ للناس أجساداً غیر الأجساد الأول؟، فأجاب أنّ الأجساد التي یعیدہا اللہ ہي الأجساد الأول لا غیرہا، قال: وھذا ہو الصحیح بل الصواب، ومن قال غیرہ عندي فقد أخطأ فیہ لمخالفتہ ظاہر القرآن والحدیث، قال أھل الکلام: إنّ اللہ تعالی یجمع الأجزآء الأصلیۃ التي صار الإنسان معہا حال التولد، وہي العناصر الأربعۃ ویعید روحہ إلیہ سوآء سمی ذلک الجمع اعادۃ المعدوم بعینہ أو لم یسم).
3 ۔ حدثنا إبراہیم بن الحکم بن أبان، حدثنا أبي، قال: کنت جالساً مع عکرمۃ عند منزل ابن داود ۔ وکان عکرمۃ نازلاً مع ابن داود نحوالساحل۔ فذکروا الذین یغرقون في البحر، فقال عکرمۃ: الحمد للہ، إنّ الذین یغرقون في البحر تتقسم لحومہم الحیتان فلا یبقی منھم شيء إلاّ العظام تلوح، فتقلبہا الأمواج حتی تلقیہا إلی البر، فتمکث العظام حینا حتی تسیرحائلا نخرۃ، فتمر بہا الإبل فتأکلہا ثم تسیر الإبل فتبعر ثم یجيء بعدہم قوم ینزلون منزلاً فیأخذون ذلک البعر فیوقدون ثم تخمد تلک النار
شُدہ اٹھیں گے (1)، کوئی پیدل، کوئی سوار (2) اور ان میں بعض تنہا سوار ہوں گے اور کسی سواری پر دو۲، کسی پر تین۳، کسی پر چار۴، کسی پر د۱۰س ہوں گے۔ (3) کافر منہ کے بل چلتا ہوا میدانِ حشر کو جائے گا (4)، کسی کو ملائکہ گھسیٹ کر لے جائیں گے، کسی کو آگ جمع کرے گی۔ (5)
فتجيء ریح فتلقی ذلک الرماد علی الأرض، فإذا جاء ت النفخۃ، قال اللہ عز وجل: (فَاِذَا ہُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ) [الزمر:۶۸] فیخرج أولئک وأھل القبور سوائ). ''حلیۃ الأولیائ''، عکرمۃ مولی ابن عباس، الحدیث: ۴۳۷۴، ج۳، ص۳۸۹.
وفي ''البدور السافرۃ في أمور الآخرۃ''، للسیوطي، ص۴۱. .
1 ۔ عن عائشۃ قالت:سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:((یحشر الناس یوم القیامۃ حفاۃ عراۃ غرلا)).''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب فناء الدنیا... إلخ، الحدیث: ۲۸۶۹، ص۱۵۲۹.
وفي روایۃ: عن ابن عباس رضي اللہ عنھما عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّکم محشرون حفاۃ عراۃ غرلا، ثُمَّ قَرَأَ (کَمَا بَدَاْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ))). ''صحیح البخاري''، کتاب أحادیث الأنبیائ، الحدیث: ۳۳۴۹، ج۲، ص۴۲۰.
2 ۔ عن أبي ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یحشر الناس یوم القیامۃ ثلاثۃ أصناف: صنفا مشاۃ وصنفا رکبانا وصنفا علی وجوہہم)). ''سنن الترمذي''، کتاب التفسیر، باب: ومن سورۃ النحل، الحدیث: ۳۱۵۳، ج۵، ص۹۶.
3 ۔ عن أبي ھریرۃ عن البني صلی اللہ علیہ وسلم قال:((یحشر الناس علی ثلاث طرائق: راغبین وراھبین، واثنان علی بعیر، وثلاثۃ علی بعیر، وأربعۃ علی بعیر، وعشرۃ علی بعیر)). ''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، باب کیف الحشر، الحدیث: ۶۵۲۲، ج۴، ص۲۵۲. ''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب فناء الدنیا... إلخ، الحدیث: ۲۸۶۱، ص۱۵۳۰.
وفي''المرقاۃ''، کتاب الفتن، تحت الحدیث: ۵۵۳۴، ج۹،ص۴۷۲:(فإن قیل: فلِم لم یذکر من السابقین من یتفرد بفرد مرکب لا یشارکہ فیہ أحد، قلنا: لأنّہ عرف أنّ ذلک مجعول لمن فوقہم في المرتبۃ من أنبیاء اللہ لیقع الامتیاز بین النبیین والصدیقین في المراکب کما وقع في المراتب).
4 ۔ حدثنا أنس بن مالک، أنّ رجلاً قال: یا رسول اللہ! کیف یحشر الکافر علی وجھہ یوم القیمۃ؟ قال: ((ألیس الذي أمشاہ علی رجلیہ في الدنیا قادراً علی أن یمشیہ علی وجھہ یوم القیمۃ؟)) ''صحیح مسلم''، کتاب صفات المنافقین وأحکامھم، یحشر الکافر علی وجھہ، الحدیث: ۲۸۰۶، ص۱۵۰۸.
''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، باب کیف الحشر، الحدیث:۶۵۲۳، ج۴، ص۲۵۳.
5 ۔ عن أبي ذر قال: إن الصادق المصدوق صلی اللہ علیہ وسلم حدثني: (( ۔ وفوج تسحبھم الملائکۃ علی وجوھھم وتحشرھم النار...إلخ)). ''سنن النساءي''، کتاب الجنائز، البعث، الحدیث: ۲۰۸۳، ص۳۵۰.
یہ میدانِ حشر ملکِ شام کی زمین پر قائم ہوگا۔ (1) زمین ایسی ہموار ہو گی کہ اِس کنارہ پر رائی کا دانہ گر جائے تو دوسرے کنارے سے دکھائی دے (2)، اُس دن زمین تانبے کی ہوگی (3) اور آفتاب ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا۔ راوی حدیث نے فرمایا:
1 ۔ قال: ((تحشرون ہاہنا وأومأ بیدہ إلی نحو الشام مشاۃ ورکبانا)). وحدثنا یزید، أخبرنا بہز عن أبیہ عن جدہ قال: قلت: یا رسول اللہ، أین تأمرني، قال: ((ہاہنا)) ونحا بیدہ نحو الشام، قال: ((إنّکم محشورون رجالاً ورکباناً وتجرون علی وجوہکم)). ''المسند''، للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۰۰۴۲، ۲۰۰۵۱ ج۷، ص۲۳۵۔۲۳۷.
2 ۔ ''ملفوظات اعلٰی حضرت''، حصہ چہارم، ص۴۵۵.
3 ۔ (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ) پ۱۴، إبراہیم:۴۸.
في''تفسیر الطبري''، تحت الآیۃ: (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ):
واختلف فی معنی قولہ: (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ) فقال بعضھم: معنی ذلک یوم تبدّل الأرض التی علیہا الناس الیوم فی دار الدنیا غیر ہذہ الأرض، فتصیر أرضاً بیضاء کالفضۃ۔
عن عبد اللہ أنہ قال في ہذہ الآیۃ (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ) قال: أرض کالفضۃ نقیۃ لم یَسِل فیہا دم، ولم یُعْمَل فیہا خطیئۃ۔
وقال آخرون: تبدّل نارا۔ ذکر من قال ذلک۔ عن قیس بن السَّکن قال: قال عبد اللہ: الأرض کلہا نار یوم القیامۃ۔
وقال آخرون: بل تبدّل الأرض أرضاً من فضۃ۔ ذکر من قال ذلک۔ عن أبي موسی عمن سمع علیا یقول فی ہذہ الآیۃ: (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ) قال: الأرض من فضۃ، والجنۃ من ذہب۔
وقال آخرون: یبدّلہا خبزۃ۔ ذکر من قال ذلک۔ عن سعید بن جبیر، فی قولہ: (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ) قال: تبدّل خبزۃ بیضاء یأکل المؤمن من تحت قدمیہ۔
وقال آخرون: تبدّل الأرض غیر الأرض ذکر من قال ذلک عن کعب فی قولہ: (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ) قال: تصیر السماوات جنانا ویصیر مکان البحر النار قال: وتبدل الأرض غیرہا۔
قال الإمام ابن جریر الطبري رحمہ اللہ تعالی بعد ذلک: (وأولی الأقوال فی ذلک بالصواب، قول من قال معناہ یوم تبدّل الأرض التی نحن علیہا الیوم یوم القیامۃ غیرہا، وکذلک السماوات الیوم تبدّل غیرہا، کما قال جلّ ثناؤہ، وجاءز أن تکون المبدلۃ أرضاً أخری من فضۃ، وجاءز أن تکون ناراً وجاءز أن تکون خبزاً، وجاءز أن تکون غیر ذلک، ولا خبر في ذلک عندنا من الوجہ الذي یجب التسلیم لہ أيّ ذلک یکون، فلا قول فی ذلک یصحّ إلا ما دلّ علیہ ظاہر التنزیل)، ملتقطاً۔
(''تفسیر الطبري''، ج۷، ص۴۷۹۔۴۸۳)۔ =
''معلوم نہیں میل سے مراد سُرمہ کی سلائی ہے یا میلِ مُسَافت'' (1)، اگر میل مسافت بھی ہو تو کیا بہت فاصلہ ہے...؟! کہ اب چار ہزار برس کی راہ کے فاصلہ پر ہے اور اِس طرف آفتاب کی پیٹھ ہے(2) ، پھر بھی جب سر کے مقابل آجاتا ہے، گھر سے باہر نکلنا دشوار ہوجاتا ہے، اُس وقت کہ ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا اور اُس کا منہ اِس طرف کو ہوگا، تپش اورگرمی کا کیا پوچھنا...؟! (3) اور اَب مِٹی کی زمین ہے، مگر گرمیوں کی دھوپ میں زمین پرپاؤں نہیں رکھا جاتا، اُس وقت جب تانبے کی ہوگی اور آفتاب کا اتنا قرب ہوگا، اُس کی تپش کون بیان کرسکے...؟! اﷲ (عزوجل) پناہ میں رکھے۔ بھیجے کھولتے ہوں گے (4) اور اس کثرت سے پسینہ نکلے گا کہ ستّر گز زمین میں جذب ہوجائے گا (5)، پھر جو پسینہ زمین نہ پی سکے گی وہ اوپر چڑھے گا، کسی کے ٹخنوں تک ہو گا، کسی کے گھٹنوں تک، کسی کے کمر کمر، کسی کے سینہ، کسی کے گلے تک، اور کافر کے تو منہ تک چڑھ کر مثلِ لگام کے جکڑ جائے گا،
= حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ: ''زمین کا روٹی ہونا ، غبار والا ہونا، اور آگ بن جانا جو احادیث میں آیا ہے اس میں کوئی منافات نہیں، بلکہ ان کو اس طرح جمع کیا جاسکتا ہے کہ بعض زمین کے ٹکڑے روٹی، بعض غبار، اور بعض آگ ہوجائیں گے، اور آگ ہونے والا قول سمندر کی زمین کے ساتھ خاص ہے (کہ سمندر کی زمین آگ کی ہوجائے گی) ۔ (''البدور السافرۃ'' للسیوطي، الحدیث: ۷۴، ص۴۷).
''تفسیر مظہری'' میں ہے کہ: ''ہوسکتا ہے کہ مومنین کے قدموں کی جگہ روٹی ہوجائے گی اور کفار کے قدموں کی جگہ غبار والی اور آگ والی ہوجائے گی''۔ (''تفسیر مظہري''، تحت الآیۃ ۴۸، ج۵، ص۳۴۴، مترجم).
1 ۔ حدثني مقداد بن الأسود قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((تدنی الشمس۔ یوم القیامۃ۔ من الخلق، حتی تکون منہ کمقدار میل)). قال سلیم بن عامر: فواللہ! ما أدري ما یعني بالمیل؟ أمسافۃ الأرض، أم المیل الذي تکتحل بہ العین)). ''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ... إلخ، باب في صفۃ یوم القیامۃ...إلخ، الحدیث: ۲۸۶۴، ص۱۵۳۱۔۱۵۳۲.
2 ۔ في ''المرقاۃ''، ج۹، ص۶۵۹: (عن ابن عمر علی ما رواہ الدیلمي في ''مسند الفردوس'' مرفوعاً: ((الشمس والقمر وجوہھما إلی العرش وأقفاؤھما إلی الدنیا)) ففیہ تنبیہ نبیہ علی أنّ وجوہھما لو کانت إلی الدنیا لما أطاق حرّھما أحد من أھل الدنیا).
3 ۔ ''ملفوظات اعلٰی حضرت''، حصہ چہارم، ص۴۵۴۔۴۵۵.
4 ۔ عن أبي أمامۃ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((تدنو الشمس یوم القیامۃ علی قدر میل ویزاد في حرہا کذا وکذا یغلي منھا الہوام کما یغلي القدور، یعرقون فیہا علی قدر خطایاہم، منھم من یبلغ إلی کعبیہ ومنھم من یبلغ إلی ساقیہ ومنھم من یبلغ إلی وسطہ ومنھم من یلجمہ العرق)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۲۲۴۸، ج۸، ص۲۷۹.
5 ۔ عن أبي ھریرۃ رضي اللہ عنہ: أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((یعرق الناس یوم القیامۃ حتی یذھب عرقھم في الأرض سبعین ذراعاً)). ''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، الحدیث: ۶۵۳۲، ج۴، ص۲۵۵.
جس میں وہ ڈبکیاں کھائے گا۔(1) اس گرمی کی حالت میں پیاس کی جو کیفیت ہوگی محتاجِ بیان نہیں، زبانیں سُوکھ کر کانٹا ہوجائیں گی، بعضوں کی زبانیں منہ سے باہر نکل آئیں گی، دل اُبل کر گلے کو آجائیں گے، ہر مُبتلا بقدرِ گناہ تکلیف میں مبتلا کیا جائے گا، جس نے چاندی سونے کی زکوٰۃ نہ دی ہو گی اُس مال کو خوب گرم کرکے اُس کی کروٹ اور پیشانی اور پیٹھ پر داغ کریں گے (2)، جس نے جانوروں کی زکوٰۃ نہ دی ہوگی اس کے جانور قیامت کے دن خوب طیار ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو وہاں لٹائیں گے اور وہ جانور اپنے سینگوں سے مارتے اور پاؤں سے روندتے اُس پر گزریں گے، جب سب اسی طرح گزر جائیں گے پھر اُدھر سے واپس آکر یوہیں اُس پر گزریں گے، اسی طرح کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ لوگوں کا حساب ختم ہو(3) وعلی ھذا القیاس۔
1 ۔ عن عقبۃ بن عامر یقول: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((تدنو الشمس من الأرض فیعرق الناس، فمن الناس من یبلغ عرقہ عقبیہ، ومنھم من یبلغ إلی نصف الساق، ومنھم من یبلغ إلی رکبتیہ، ومنھم من یبلغ العجز، ومنھم من یبلغ الخاصرۃ، ومنھم من یبلغ منکبیہ، ومنھم من یبلغ عنقہ، ومنھم من یبلغ وسط فیہ)) وأشار بیدہ فألجمھا فاہ: رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یشیر ھکذا، ((ومنھم من یغطیہ عرقہ)). وضرب بیدہ إشارۃ.
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۷۴۴۴، ج۶، ص۱۴۶.
2 ۔ (وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَہَا فِیْ سَبِیلِ اللہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ یَوْمَ یُحْمٰی عَلَیْہَا فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوْبُہُمْ وَظُہُوْرُہُمْ ہَذَا مَا کَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ) پ۱۰، التوبۃ:۳۴۔۳۵.
3 ۔ عن أبي ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((ما من صاحب کنز لا یؤدي زکاتہ إلاّ أحمي علیہ في نار جہنم، فیجعل صفائح، فیکوی بہا جنباہ وجبینہ، حتی یحکم اللہ بین عبادہ في یوم کان مقدارہ خمسین ألف سنۃ، ثم یری سبیلہ، إمّا إلی الجنۃ وإمّا إلی النار، وما من صاحب إبل لا یؤدي زکاتہا إلاّ بطح لہا بقاع قرقر کأوفر ما کانت تستن علیہ، کلما مضی علیہ أخراہا ردت علیہ أولاہا، حتی یحکم اللہ بین عبادہ في یوم کان مقدارہ خمسین ألف سنۃ، ثم یری سبیلہ إما إلی الجنۃ وإما إلی النار، وما من صاحب غنم لا یؤدي زکاتہا إلاّ بطح لہا بقاع قرقر کأوفر ما کانت، فتطؤہ بأظلافہا وتنطحہ بقرونہا، لیس فیہا عقصاء ولا جلحائ، کلما مضی علیہ أخراہا ردت علیہ أولاہا، حتی یحکم اللہ بین عبادہ في یوم کان مقدارہ خمسین ألف سنۃ مما تعدون، ثم یری سبیلہ إما إلی الجنۃ وإما إلی النار)).
''صحیح مسلم'' ، کتاب الزکاۃ ، باب إثم مانع الزکاۃ، الحدیث: ۹۸۷، ص۴۹۳.
پھر باوجود ان مصیبتوں کے کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہ ہوگا، بھائی سے بھائی بھاگے گا، ماں باپ اولاد سے پیچھا چھڑائیں گے، بی بی بچے الگ جان چُرائیں گے (1)، ہر ایک اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار، کون کس کا مدد گار ہوگا...! حضرت آدم علیہ السلام کو حکم ہو گا، اے آدم! دوزخیوں کی جماعت الگ کر، عر ض کرینگے: کتنے میں سے کتنے؟ ارشاد ہوگا: ہر ہزار سے نو سو ننانوے، یہ وہ وقت ہو گا کہ بچے مارے غم کے بوڑھے ہوجائیں گے، حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا، لوگ ایسے دکھائی دیں گے کہ نشہ میں ہیں، حالانکہ نشہ میں نہ ہوں گے، ولیکن اﷲ کا عذاب بہت سخت ہے (2)، غرض کس کس مصیبت کا بیان کیا جائے، ایک ہو، دو۲ ہوں، ۱۰۰سو ہوں، ۱۰۰۰ہزار ہوں تو کوئی بیان بھی کرے، ہزارہا مصائب اور وہ بھی ایسے شدید کہ الاماں الاماں...! اور یہ سب تکلیفیں دو چار گھنٹے، دو چار دن، دو چار ماہ کی نہیں، بلکہ قیامت کا دن کہ پچاس ہزار برس کا ایک دن ہوگا (3)، قریب آدھے کے گزر چکا ہے اور ابھی تک اھلِ محشر اسی حالت میں ہیں۔ اب آپس میں مشورہ کریں گے کہ کوئی اپنا سفارشی ڈھونڈنا چاہیے کہ ہم کو اِن مصیبتوں سے رہائی دلائے، ابھی تک تو یہی نہیں پتا چلتا ہے کہ آخر کدھر کو جانا ہے، یہ بات مشورے سے قرار پائے گی کہ حضرت آدم علیہ السلام ہم سب کے باپ ہیں، اﷲ تعالیٰ نے اِن کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور جنت میں رہنے کو جگہ دی اور مرتبہ نبوت سے سرفراز فرمایا، اُنکی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے، وہ ہم کو اِس مصیبت سے نجات دلائیں گے۔
غرض اُفتاں و خیزاں کس کس مشکل سے اُن کے پاس حاضر ہو ں گے اور عرض کریں گے: اے آدم! آپ ابو البشر ہیں، اﷲ عزوجل نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور اپنی چُنی ہوئی روح آپ میں ڈالی اور ملائکہ سے آپ کو سجدہ کرایا اور جنت میں آپ کو رکھا، تمام چیزوں کے نام آپ کو سکھائے، آپ کو صفی کیا، آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں...؟! آپ ھماری
1 ۔ (یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہٖ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہٖ لِکُلِّ امْرِءٍ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ). (پ ۳۰، عبس: ۳۴۔۳۷).
2 ۔ عن أبي سعید الخد ري رضي اللہ عنہ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((یقول اللہ تعالی: یا آدم! فیقول: لبیک، وسعدیک، والخیر في یدیک، فیقول: أخرج بعث النار، قال: وما بعث النار؟ قال: من کل ألف تسعمائۃ وتسعۃ وتسعین، فعندہ یشیب الصغیر (وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارَی وَمَا ہُمْ بِسُکَارٰی وَلَکِنَّ عَذَابَ اللہِ شَدِیدٌ) [الحج:۲])).
''صحیح البخاري''، کتاب أحادیث الأ نبیائ، باب قصۃ یأجوج ومأجوج، الحدیث: ۳۳۴۸، ج۲، ص۴۱۹۔۴۲۰.
3 ۔ (فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہ، خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ)، پ۲۹، المعارج: ۴. في ''الدرالمنثور''، ج۸، ص۲۷۹، تحت الآیۃ: أخرج ابن أبي حاتم والبیہقي في البعث عن ابن عباس رضي اللہ عنھما في قولہ: ((فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہ، خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ) قال: لو قدرتموہ لکان خمسین ألف سنۃ من أیامکم، قال: یعني یوم القیامۃ).
شفاعت کیجیے کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں اس سے نجات دے۔ (1) فرمائیں گے: میرا یہ مر تبہ نہیں ، مجھے آج اپنی جان کی فکر ہے(2)، آج رب عزوجل نے ایسا غضب فرمایا ہے کہ نہ پہلے کبھی ایسا غضب فرمایا، نہ آئندہ فرمائے، تم کسی اور کے پاس جاؤ!(3) لوگ عرض کریں گے: آخر کس کے پاس ہم جائیں...؟ فرمائیں گے(4): نُوح کے پاس جاؤ، کہ وہ پہلے رسول ہیں کہ زمین پر ہدایت کے لیے بھیجے گئے(5)، لوگ اُسی حالت میں حضرت نُوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اُن کے فضائل بیان کرکے عرض کریں گے کہ(6): آپ اپنے ربّ کے حضورھماری شفاعت کیجیے کہ وہ ھمارا فیصلہ کر دے، یہاں سے بھی وہی جواب ملے گا کہ
1 ۔ عن أنس رضي اللہ عنہ: أنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((یحبس المؤمنون یوم القیامۃ حتی یھموا بذلک، فیقولون: لو استشفعنا إلی ربنا فیریحنا من مکاننا، فیأتون آدم فیقولون: أنت آدم أبو الناس، خلقک اللہ بیدہ، وأسکنک جنتہ، وأسجد لک ملا ئکتہ، وعلمک أسماء کل شيئ، لتشفع لنا عند ربک حتی یریحنا من مکاننا ھذا، قال: فیقول: لست ھناکم)).
''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: (وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ... إلخ)، الحدیث: ۷۴۴۰، ج۴، ص۵۵۴.
وفي روایۃ ''صحیح البخاري'': قال: ((وتدنو منھم الشمس، فیقول بعض الناس: ألا ترون إلی ما أنتم فیہ؟ إلی ما بلغکم؟ ألا تنظرون إلی من یشفع لکم إلی ربکم؟ فیقول بعض الناس: أبوکم آدم، فیأتونہ، فیقولون: یا آدم، أنت أبو البشر، خلقک اللہ بیدہ ونفخ فیک من روحہ، وأمر الملائکۃ فسجدوا لک، وأسکنک الجنۃ، ألا تشفع لنا إلی ربک، ألا تری ما نحن فیہ وما بلغنا؟)). کتاب أحادیث الأنبیائ، باب قول اللہ تعالی: (اِنَّا اَرْسَلْنَا نُوحًا اِلَی قَوْمِہٖ...إلخ)، الحدیث: ۳۳۴۰، ج۲، ص۴۱۵.
وفي روایۃ ''المسند''، الحدیث: ۱۵، ج۱،ص۲۱: ((فقالوا: یا آدم أنت أبو البشر، وأنت اصطفاک اللہ ۔عزوجل۔ اشفع لنا إلی ربک)).
2 ۔ ((فیقول: إني لست ہناکم...، وإنّہ لا یہمّني الیوم إلاّ نفسي))، ملتقطاً.
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، ج۱، ص۶۰۳، الحدیث: ۲۵۴۶، .
3 ۔ ((فیقول: ربي غضب غضباً لم یغضب قبلہ مثلہ ولا یغضب بعدہ مثلہ، نفسي نفسي، اذہبوا إلی غیري))، ''صحیح البخاري''،کتاب أحادیث الأنبیائ، باب قول اللہ تعالی: (اِنَّا اَرْسَلْنَا نُوحًا اِلَی قَوْمِہٖ...إلخ)، الحدیث: ۳۳۴۰، ج۲، ص۴۱۵.
4 ۔ ((فیقولون: إلی من تأمرنا؟ فیقول)). ''الخصائص الکبری''، باب الشفاعۃ،ج۲، ص۳۸۳.
5 ۔ ((ائتوا نوحاً فإنّہ أوّل رسول بعثہ اللہ إلی أھل الأرض)). ''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: (لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ)، الحدیث: ۷۴۱۰، ج۴، ص۵۴۲.
6 ۔ ((فیأتون نوحاً فیقولون: یا نوح أنت أوّل الرسل إلی أھل الأرض، وسماک اللہ عبداً شکوراً)). ''صحیح البخاري''، کتاب أحادیث الأنبیائ، باب قول اللہ تعالی: (اِنَّا اَرْسَلْنَا نُوحًا اِلٰی قَوْمِہٖ...إلخ)، الحدیث: ۳۳۴۰، ج۲، ص۴۱۵.
میں اس لائق نہیں، مجھے اپنی پڑی ہے(1)، تم کسی اور کے پاس جاؤ! (2) عرض کریں گے، کہ آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں...؟ فرمائیں گے(3): تم ابراہیم خلیل اﷲ کے پاس جاؤ(4)، کہ اُن کو اﷲ تعالیٰ نے مرتبہ خُلّت سے ممتاز فرمایا ہے(5)، لوگ یہاں حاضر ہوں گے، وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میں اِس کے قابل نہیں، مجھے اپنا اندیشہ ہے۔
مختصر یہ کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام کی خدمت میں بھیجیں گے، وہاں بھی وہی جواب ملے گا،پھر موسیٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام کے پاس بھیجیں گے، وہ بھی یہی فرمائیں گے: کہ میرے کرنے کا یہ کام نہیں(6)، آج میرے رب نے وہ غضب فرمایا ہے، کہ ایسا نہ کبھی فرمایا، نہ فرمائے، مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ(7)، لوگ عرض کریں گے: آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں؟ فرمائیں گے: تم اُن کے حضور حاضر ہو، جن کے ہاتھ پر فتح رکھی گئی، جو آج بے خوف ہیں(8)، اور وہ تمام اولادِ آدم کے سردارہیں، تم محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، وہ خاتم النبیین ہیں، وہ آج تمہاری شفاعت
1 ۔ ((فیقولون: یا نوح، اشفع لنا إلی ربنا فلیقض بیننا، فیقول: إني لست ہناکم...، وإنّہ لا یہمّني الیوم إلاّ نفسي))، ملتقطاً، المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۵۴۶، ج۱، ص۶۰۳.
2 ۔ ((اذھبوا إلی غیري)). ''صحیح البخاري''،کتاب التفسیر، باب:(ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اِ نَّہ،... إلخ)، الحدیث: ۴۷۱۲، ج۳، ص۲۶۰.
3 ۔ ((فیقولون: إلی من تأمرنا؟ فیقول)).''الخصائص الکبری''، باب الشفاعۃ، ج۲، ص۳۸۳.
4 ۔ ((لکن ائتوا إبراہیم خلیل اللہ علیہ السلام)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۵۴۶، ج۱، ص۶۰۳.
5 ۔ (( فإن اللہ ۔عزوجل۔ اتخذہ خلیلاً)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۵، ج۱، ص۲۱.
6 ۔ ((فیأتون إبراہیم، فیقول: إني لست ہناکم، وإنّہ لا یہمني الیوم إلاّ نفسي، ولکن ائتوا موسی علیہ السلام، فیقول: إني لست ہناکم، وإنّہ لا یہمني الیوم إلاّ نفسي، ولکن ائتوا عیسی روح اللہ، وکلمتہ فیأتون عیسی، فیقول: إني لست ہناکم، وإنّہ لا یہمني الیوم إلاّ نفسي))، ملتقطاً. ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۵۴۶، ج۱، ص۶۰۳۔۶۰۴.
7 ۔ ((فیقول عیسی: إنّ ربي قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ، ولن یغضب بعدہ مثلہ، نفسي نفسي نفسي، اذھبوا إلی غیري))، ملتقطاً. ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، باب: (ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اِنَّہ،... إلخ)، الحدیث: ۴۷۱۲، ج۳، ص۲۶۰.
8 ۔ ((فیقولون: إلی من تأمرنا؟ فیقول: ائتوا عبداً فتح اللہ علی یدیہ، ویجيء في ھذا الیوم آمنا محمداً)).
''الخصائص الکبری''، باب الشفاعۃ، ج۲، ص۳۸۳، ملتقطاً.
فرمائیں گے، اُنھیں کے حضور حاضر ہو، وہ یہاں تشریف فرما ہیں۔ (1)
اب لوگ پھِرتے پھِراتے، ٹھوکریں کھاتے، روتے چلّاتے، دُہائی دیتے حاضرِ بارگاہِ بے کس پناہ ہو کر عرض کریں گے(2): اے محمد! (3) اے اﷲ کے نبی! حضور کے ہاتھ پر اﷲ عزوجل نے فتحِ باب رکھا ہے، آج حضور مطمئن ہیں(4)، اِن کے علاوہ اور بہت سے فضائل بیان کرکے عرض کریں گے: حضور ملاحظہ تو فرمائیں ہم کس مصیبت میں ہیں! اور کس حال کو پہنچے! حضور بارگاہِ خداوندی میں ھماری شفاعت فرمائیں اورہم کو اس آفت سے نجات دلوائیں۔ (5) جواب میں ارشاد فرمائیں گے: ((أَنَا لَھَا))(6) میں اس کام کے لیے ہوں، ((أنَا صَاحِبُکُمْ))(7) میں ہی وہ ہوں جسے تم تمام جگہ ڈھونڈ آئے، یہ فرماکر بارگاہِ عزّت میں حاضر ہوں گے اور سجدہ کریں گے، ارشاد ہوگا:
1 ۔ ((لکن انطلقوا إلی سید ولد آدم، انطلقوا إلی محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیشفع لکم إلی ربکم عز وجل))، ملتقطاً.
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۵، ج۱، ص۲۱.
وفي روایۃ: ((إنّ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین وقد حضر الیوم)).
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل: الحدیث: ۲۵۴۶، ج۱، ص۶۰۴.
2 ۔ اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن اپنے مخصوص انداز میں ان الفاظ کے ساتھ اس محشر کے دن کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں :''اب وہ وقت آیا کہ لوگ تھکے ہارے ، مصیبت کے مارے ، ہاتھ پاؤں چھوڑے ، چار طرف سے امیدیں توڑے ، بارگاہِ عرش جاہ، بیکس پناہ، خاتم دورہ رسالت ، فاتح بابِ شفاعت، محبوب باوجاہت، مطلوب بلند عزت، ملجاء ِعاجزاں، ماوٰی بیکساں، مولائے دوجہان، حضور پرنور محمد رسول اللہ شفیع یوم النشور، افضل صلوات اللہ واکمل تسلیمات اللہ وازکیٰ تحیات اللہ وانمی برکات اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وعیالہ میں حاضر آئے، اور بہزاراں ہزار نالہائے زار ودلِ بیقرار وچشمِ اشکبار یوں عرض کرتے ہیں۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۲۲۳.
3 ۔ (( یا محمد)). ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، باب: (ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا... إلخ)، الحدیث: ۴۷۱۲، ج۳، ص۲۶۰.
4 ۔ ((یا نبي اللہ! أنت الذي فتح اللہ بک وجئت في ھذا الیوم آمنا)).
''الخصائص الکبری''، باب الشفاعۃ، ج۲، ص۳۸۳، ملتقطاً.
5 ۔ ((اشفع لنا إلی ربک، ألا تری إلی ما نحن فیہ؟ ألا تری إلی ما قد بلغنا)).
''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، الحدیث: ۳۲۷، ص۱۲۵.
6 ۔ ((فأقول: أنا لھا)). ''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب کلام عزوجل تعالی یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم، الحدیث: ۷۵۱۰، ج۴، ص۵۷۷.
7 ۔ ((أنا صاحبکم)). ''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۶۱۱۷، ج۶، ص۲۴۸.
((یَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأسَکَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَہ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ))(1).
''اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو، تمھاری بات سنی جائے گی اور مانگو جو کچھ مانگو گے ملے گا اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت مقبول ہے۔'' دوسری روایت میں ہے:
((وَقُلْ تُطَعْ))(2).
''فرماؤ! تمہاری اِطاعت کی جائے۔''
پھر تو شفاعت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ سے کم سے کم بھی ایمان ہوگا، اس کے لیے بھی شفاعت فرماکر اُسے جہنم سے نکالیں گے، یہاں تک کہ جو سچے دل سے مسلمان ہوا اگرچہ اس کے پاس کوئی نیک عمل نہیں ہے، اسے بھی دوزخ سے نکالیں گے۔ (3) اَب تمام انبیا اپنی اُمّت کی شفاعت فرمائیں گے(4)، اولیائے کرام(5)،
1 ۔ ((فأستأذن علی ربي فیؤذن لي ویلہمني محامد أحمدہ بہا لا تحضرني الآن، فأحمدہ بتلک المحامد وأخِرّ لہ ساجداً، فیقال: یا محمد، ارفع رأسک وقل یسمع لک، وسل تعط، واشفع تشفع)). ''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم، الحدیث: ۷۵۱۰، ج۴، ص۵۷۷.
وفي روایۃ: ''صحیح مسلم'': ((فیقال: یا محمد! ارفع رأسک، قل تسمع، سل تعطہ، اشفع تشفع)). کتاب الإیمان، باب أدنی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا، الحدیث: ۳۲۲ (۱۹۳)، ص۱۲۲.
2 ۔ وفي روایۃ ''المسند'' للشاشي: ((فیقال: ارفع رأسک، قل تطع، واشفع تشفع)). الحدیث: ۱۱۱۵، ج۳، ص۳۵۳.
3 ۔ ((یا رب أمتي أمتي، فیقول: انطلق فأخرج من کان في قلبہ أدنی أدنی أدنی مثقال حبۃ خردل من إیمان، فأخرجہ من النار، فأنطلق فأفعل ۔ فأقول:یارب ائذن لي فیمن قال: لا إلہ إلاّ اللہ، فیقول: وعزتي وجلالي وکبریائي وعظمتي لأخرجنّ منھا من قال:لا إلہ إلاّ اللہ))، ملتقطاً. ''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم، الحدیث:۷۵۱۰، ج۴، ص۵۷۷۔۵۷۸.
4 ۔ عن جابر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یفتقد أھل الجنۃ ناساً کانوا یعرفونھم في الدنیا، فیأتون الأنبیائ، فیذکرونھم، فیشفعون فیہم، فیشفعون، فیقال لہم: الطلقائ، وکلّہم طلقائ، یصب علیہم ماء الحیاۃ)). ''المعجم الأوسط'' للطبراني، الحدیث: ۳۰۴۴، ج۲، ص۲۰۹، و''مجمع الزوائد''، الحدیث: ۱۸۵۲۹، ج۱۰، ص۶۸۹.
عن عثمان بن عفان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یشفع یوم القیامۃ ثلاثۃ: الأنبیاء ثم العلماء ثم الشھدائ)). ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الزھد، باب ذکر الشفاعۃ، الحدیث: ۴۳۱۳، ج۴، ص۵۲۶.
5 ۔ في ''فتح الباري''، کتاب الرقاق، باب الصراط جسر جہنم، ج۱۱، ص۳۹۰:(ثم یقال: ادعوا الأنبیاء فیشفعون، ثم یقال: ادعوا الصدیقین فیشفعون، ثم یقال: ادعوا الشہداء فیشفعون).
شہدا(1)، علما(2)، حُفّاظ (3)، حُجّاج (4)، بلکہ ہر وہ شخص جس کو کوئی منصبِ دینی عنایت ہوا، اپنے اپنے متعلقین کی شفاعت کریگا۔(5) نابالغ بچے جو مرگئے ہیں، اپنے ماں باپ کی شفاعت کریں گے(6)، یہاں تک کہ علما کے پاس کچھ لوگ آکر
ـــ
1 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یشفع الشہید في سبعین من أھل بیتہ)). ''سنن أبيداود''، کتاب الجہاد، باب في الشہید یشفع، الحدیث: ۲۵۲۲، ج۳، ص۲۳.
2 ۔ عن جابر بن عبد اللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یبعث العالم والعابد، فیقال للعابد: ادخل الجنۃ، ویقال للعالم: اثبت حتی تشفع للناس بما أحسنت أدبہم)). ''شعب الإیمان''، باب في طلب العلم، الحدیث: ۱۷۱۷، ج۲، ص۲۶۸.
وفي روایۃ: عن جابر بن عبد اللہ رضي اللہ عنہ: ((ویقال للعالم: اشفع في تلامیذک ولو بلغ عددہم نجوم السمائ)). ''مسند الفردوس'' للدیلمي، الحدیث: ۸۵۱۷، ج۲، ص۵۰۳.
3 ۔ عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((من قرأ القرآن وحفظہ أدخلہ اللہ الجنۃ وشفعہ في عشرۃ من أھل بیتہ،کلھم قد استوجب النار)).
''سنن ابن ماجہ''، أبواب السنۃ، باب فضل من تعلم القرآن وعلّمہ، الحدیث: ۲۱۶، ج۱، ص۱۴۱.
4 ۔ عن أبي موسی الأشعري رضي اللہ عنہ، رفعہ إلی رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((الحاج یشفع في أربع مئۃ أھل بیت))، أو قال: ((من أھل بیتہ)). ''البحر الزخار بمسند البزار''، مسند أبي موسی الأشعري، الحدیث: ۳۱۹۶، ج۸، ص۱۶۹.
وفي روایۃ: عن أبي موسی الأشعري أنّ رجلا سألہ عن الحاج؟، فقال: ((إنّ الحاج یشفع في أربع مئۃ بیت من قومہ، ویبارک لہ في أربعین من أمہات البعیر الذي حملہ، ویخرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ أمہ)). ''المصنف'' لعبد الرزاق، باب فضل الحج، الحدیث: ۸۸۳۸، ج۵، ص۵.
5 ۔ عن أبي سعید أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّّ من أمتي من یشفع للفأام من الناس، ومنھم من یشفع للقبیلۃ، ومنھم من یشفع للعصبۃ، ومنھم من یشفع للرجل حتی یدخلوا الجنۃ)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ما جاء في الشفاعۃ... إلخ، الحدیث: ۲۴۴۸، ج۴، ص۱۹۹.
وفي روایۃ: عن أبي أمامۃ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یدخل الجنۃ بشفاعۃ رجل من أمتي أکثر من عدد مضر، ویشفع الرجل في أھل بیتہ، ویشفع علی قدر عملہ)). ''المعجم الکبیر''،للطبراني، الحدیث: ۸۰۵۹، ج۸، ص۲۷۵.
6 ۔ أخرج إسحق بن راہویۃ في ''مسندہ'' عن حبیبۃ وأم حبیبۃ، قال: کنا في بیت عائشۃ رضي اللہ عنہا، فدخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ((ما من المسلمین یموت لھما ثلاثۃ من الولد، أطفال لم یبلغوا الحنث إلاّ جيء بہم حتی یوقفوا علی باب الجنۃ، فیقال لہم: ادخلوا الجنۃ، فیقولون: أندخل ولم یدخل أبوانا؟ فیقال: لہم في الثانیۃ أو الثالثۃ: ادخلوا الجنۃ وآباء کم، فذلک قولہ تعالی: (فَمَا تَنْفَعُہُمْ شَفَاعَۃُ الشَّافِعِینَ)، قال: نفعت الآباء شفاعۃ أبنائہم)). =
عرض کریں گے: ہم نے آپ کے وضو کے لیے فلاں وقت میں پانی بھر دیا تھا(1)، کوئی کہے گا :کہ میں نے آپ کو استنجے کے لیے ڈھیلا دیا تھا (2)، علما اُن تک کی شفاعت کریں گے۔
عقیدہ (۵): حساب حق ہے، اعمال کا حساب ہونے والا ہے۔ (3)
عقیدہ (۶): حساب کا منکر کافر ہے (4)، کسی سے تو اس طرح حساب لیا جائے گا کہ خُفیۃً (5) اُس سے پوچھا جائے
= وأخرج أبو نعیم عن أبي أمامۃ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((ذراري المسلمین یوم القیامۃ تحت العرش شافعین ومشفعین)). ''البدور السافرۃ في الأمور الآخرۃ''، الحدیث: ۱۱۵۵۔۱۱۵۶، ص۳۶۲.
وفي روایۃ: ((ذراريّ المسلمین یوم القیامۃ تحت العرش شافع ومشفع من لم یبلغ ثنتی عشر سنۃ، ومن بلغ ثلاث عشرۃ سنۃ فعلیہ ولہ)). ''کنز العمال''، کتاب القیامۃ، الحدیث: ۳۹۳۰۱، ج۱۴، ص۲۰۰.
1 ۔ عن أنس بن مالک قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یصف الناس یوم القیامۃ صفوفا، وقال ابن نمیر: أھل الجنۃ، فیمر الرجل من أھل النار علی الرجل، فیقول: یا فلان! أما تذکر یوم استسقیت فسقیتک شربۃ؟، قال: فیشفع لہ، ویمر الرجل: فیقول أما تذکر یوم ناولتک طہورا، فیشفع لہ)).
''سنن ابن ماجہ''، کتاب الأدب، باب فضل صدقۃ المائ، الحدیث: ۳۶۸۵، ج۴، ص۱۹۶.
وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((یصف أھل النار، فیمر بہم الرجل من أھل الجنۃ، فیقول الرجل منھم: یا فلان! أما تعرفني؟ أنا الذي سقیتک شربۃ. وقال بعضھم: أنا الذي وہبت لک وضوء اً، فیشفع لہ فیدخلہ الجنۃ)).''مشکاۃ المصابیح''، کتاب أحوال القیامۃ وبدء الخلق، ج۲، ص۳۲۷، الحدیث:۵۶۰۴.
2 ۔ في ''المرقاۃ''، ج۹، ص۵۶۹، تحت ہذہ الحدیث: (قال بعضھم: أنا الذي وہبت لک وَضوء اً بفتح الواو، أي: ماء وضوئ، وعلی ھذا القیاس من لقمۃ وخرقۃ أو نوع إعانۃ۔۔۔ إلخ).
3 ۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۰۴: (''والکتاب'' المثبت فیہ طاعات العباد ومعاصیہم یؤتی للمؤمنین بأیمانھم والکفار بشمائلہم ووراء ظہورہم ''حق''، لقولہ تعالی: (وَنُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کِتَابًا یَّلْقَاہُ مَنْشُورًا)وقولہ تعالی:(فَاَمَّا مَنْ اُوتِیَ کِتَابَہ، بِیَمِیْنِہٖ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا).
4 ۔ في ''منح الروض الأزہر'' للقاري، فصل في المرض والموت والقیامۃ، ص۱۹۵: (واعلم أنّ من أنکر القیامۃ أو الجنۃ أو النار أو المیزان أو الصراط أو الحساب أو الصحائف المکتوبۃ فیہا أعمال العباد یکفر، أي: لثبوتہا بالکتاب والسنۃ وإجماع الأمۃ).
وفي ''الشفا''، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، ج۲، ص۲۹۰: (وکذلک من أنکر الجنۃ أو النار أو البعث أو الحساب أو القیامۃ فھو کافر بإجماع للنّص علیہ وإجماع الأمۃ علی صحۃ نقلہ متواتراً).
5 ۔ پوشیدہ۔
گا: تو نے یہ کیا اور یہ کیا؟ عرض کریگا: ہاں اے رب! یہاں تک کہ تمام گناہوں کا اقرار لے لے گا، اب یہ اپنے دل میں سمجھے گا کہ اب گئے، فرمائے گا: کہ ہم نے دنیا میں تیرے عیب چھپائے اور اب بخشتے ہیں۔ (1) اور کسی سے سختی کے ساتھ ایک ایک بات کی باز پرس ہوگی، جس سے یوں سوال ہوا، وہ ھلاک ہوا۔ (2) کسی سے فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تجھے عزت نہ دی...؟! تجھے سردار نہ بنایا...؟! اور تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ وغیرہ کو مُسخّر نہ کیا...؟! ان کے علاوہ اور نعمتیں یاد دلائے گا، عر ض کریگا: ہاں! تُو نے سب کچھ دیا تھا، پھر فرمائے گا: تو کیا تیراخیال تھا کہ مجھ سے ملنا ہے؟ عرض کریگا کہ نہیں، فرمائے گا: تو جیسے تُو نے ہمیں یاد نہ کیا، ہم بھی تجھے عذاب میں چھوڑتے ہیں۔
بعض کافر ایسے بھی ہوں گے کہ جب نعمتیں یاد دلا کر فرمائے گا کہ تُو نے کیا کیا؟ عرض کریگا: تجھ پر اور تیری کتاب اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا، نماز پڑھی، روزے رکھے، صدقہ دیااو ر ان کے علاوہ جہاں تک ہوسکے گا، نیک کاموں کا ذکر کر جائے گا۔ ارشاد ہو گا: تو اچھا تُو ٹھہر جا! تجھ پر گواہ پیش کیے جائیں گے، یہ اپنے جی میں سوچے گا: مجھ پر کون گواہی دیگا...؟! اس وقت اس کے مونھ پرمُہرکر دی جائے گی اور اَعضا کو حکم ہوگا: بول چلو، اُس وقت اُس کی ران اور ہاتھ پاؤں، گوشت پوست، ہڈیاں سب گواہی دیں گے کہ یہ تو ایسا تھا ایسا تھا، وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (3)
1 ۔ عن ابن عمر قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ اللہ یدني المؤمن، فیضع علیہ کَنَفَہ ویسترہ، فیقول: أتعرف ذنب کذا؟ أتعرف ذنب کذا؟ فیقول: نعم أي رب، حتی إذا قررہ بذنوبہ، ورأی في نفسہ أنّہ ھلک، قال: سترتھا علیک في الدنیا، وأنا أغفرھا لک الیوم، فیعطی کتاب حسناتہ)). ''صحیح البخاري''، کتاب المظالم، باب قول اللہ تعالٰی: (اَلَا لَعْنَۃُ اللہِ عَلٰی الظَّالِمِیْنَ)، الحدیث: ۲۴۴۱، ج۲، ص۱۲۶.
2 ۔ عن عائشۃ رضي اللہ عنہا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لیس أحد یحاسب إلاّ ھلک))، قالت: قلت: یا رسول اللہ جعلني اللہ فداء ک، ألیس یقول اللہ عز وجل: (فَاَمَّا مَنْ اُوتِیَ کِتٰـبَہُ بِیَمِیْنِہٖ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا)، [۷۔۸] قال: ((ذاک العرض یعرضون، ومن نوقش الحساب ھلک)). ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، باب: (فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا)، الحدیث: ۴۹۳۹، ج۳، ص۳۷۵.
في ''فتح الباري''، کتاب الرقاق، تحت الحدیث: ۶۵۳۶، تحت قول: من نوقش الحساب عذّب: (والمراد بالمناقشۃ الاستقصاء في المحاسبۃ والمطالبۃ بالجلیل والحقیر وترک المسامحۃ، یقال انتقشت منہ حقي أي: استقصیتہ). ج۱۱، ص۳۴۲.
3 ۔ عن أبي ھریرۃ قال: قالوا: یا رسول اللہ! ھل نری ربنا یوم القیامۃ؟ قال: ((ھل تضارون في رؤیۃ الشمس في الظھیرۃ، لیست في سحابۃ؟)) قالوا: لا، قال: ((فھل تضارون في رؤیۃ القمر لیلۃ البدر لیس في سحابۃ؟)) قالوا: لا، قال: ((فوالذي نفسي
نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمّت سے ستّر ہزار بے حساب جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے طفیل میں ہر ایک کے ساتھ ستّر ہزار اور رب عزوجل ان کے ساتھ تین جماعتیں اور دے گا، معلوم نہیں ہر جماعت میں کتنے ہوں گے، اس کا شمار وہی جانے۔(1) تہجد پڑھنے والے بِلا حساب جنت میں جائیں گے۔(2)
ـــ
بیدہ! لا تضارون في رؤیۃ ربکم إلاّ کما تضارون في رؤیۃ أحدھما، قال: فیلقی العبد فیقول: أي فل! ألم أکرمک، وأسوّدک، وأزوّجک، وأسخّرلک الخیل والإبل، وأذرک ترأس وتربع؟ فیقول: بلی، قال: فیقول: أفظننت أنّک ملاقيّ؟ فیقول: لا، فیقول: فإنّي أنساک کما نسیتني، ثم یلقی الثاني فیقول: أي فل! ألم أکرمک وأسوّدک وأزوجک وأسخرلک الخیل والإبل، وأذرک ترأس وتربع؟ فیقول: بلی یارب! فیقول: أفظننت أنّک ملاقيّ؟ فیقول: لا، فیقول: إنّي أنساک کما نسیتني، ثم یلقی الثالث فیقول لہ مثل ذلک، فیقول: یاربّ! آمنت بک وبکتابک وبرسلک، وصلیت وصمت وتصدقت، ویثني بخیر ما استطاع، فیقول: ھھنا إذاً، قال: ثم یقال لہ: الآن نبعث شاھدنا علیک، ویتفکرفي نفسہ: من ذا الذی یشھد علي؟ فیختم علی فیہ، ویقال لفخذہ ولحمہ وعظامہ: انطقي، فتنطق فخذہ ولحمہ وعظامہ بعملہ، وذلک لیعذرمن نفسہ وذلک المنافق، وذلک الذی یسخط اللہ علیہ)).
''صحیح مسلم''، کتاب الزھد والرقائق، الحدیث: ۲۹۶۸، ص۱۵۸۷.
1 ۔ عن عبد الرحمن بن أبي بکر، أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ ربي أعطاني سبعین ألفا من أمتي یدخلون الجنۃ بغیر حساب))، فقال عمر: یا رسول اللہ، فھلاّ استزدتہ؟ قال: ((قد استزدتہ فأعطاني مع کل رجل سبعین ألفا))، قال عمر: فھلاّ استزدتہ؟ قال: ((قد استزدتہ فأعطاني ھکذا))، وفرّج عبد اللہ بن بکر بین یدیہ، وقال عبد اللہ: وبسط باعَیہ، وحثا عبد اللہ، وقال ھشام: وھذا مِن اللہ لا ید ری ما عددہ. ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۷۰۶، ج۱، ص۴۱۹.
عن أبي أمامۃ یقول:سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((وعدني ربي أن یدخل الجنۃ من أمتي سبعین ألفًا لا حساب علیھم ولا عذاب، مع کل ألف سبعون ألفًا وثلاث حثیات من حثیات ربي)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ القیامۃ، الحدیث: ۲۴۴۵، ج۴، ص۱۹۸.
2 ۔ (تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ) پ۲۱، السجدۃ:۱۶.
في ''تفسیر الطبري''، ج۱۰، ص۲۳۹، تحت الآیۃ: حدثني یونس، قال: أخبرنا ابن وہب، قال: قال ابن زید في قولہ: (تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ المَضَاجِعِ) قال: ہؤلاء المتہجدون لصلاۃ اللیل).
عن أسماء بنت یزید عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((یحشر الناس في صعید واحد یوم القیامۃ، فینادي مناد فیقول: أین الذین کانت تتجافی جنوبھم عن المضاجع، فیقومون وھم قلیل فیدخلون الجنۃ بغیر حساب ثم یؤمر بسائر الناس ''بالحساب'')). ''شعب الإیمان''، باب في الصلاۃ، تحسین الصلاۃ والإکثار منھا، الحدیث: ۳۲۴۴، ج۳، ص۱۶۹.
في ''المرقاۃ'' ج۱، ص۱۹۴، تحت اللفظ: ((عَنِ الْمَضَاجِعِ) أي: المفارش والمراقد، والجمہور علی أنّ المراد صلاۃ التہجد).
اس امت میں وہ شخص بھی ہوگا، جس کے ننانوے دفتر گناہوں کے ہوں گے اور ہر دفتر اتنا ہوگا، جہاں تک نگاہ پہنچے، وہ سب کھولے جائیں گے، رب عزوجل فرمائے گا: ان میں سے کسی امر کا تجھے انکار تو نہیں ہے؟ میرے فرشتوں کراماً کاتبین نے تجھ پر ظلم تو نہیں کیا؟ عرض کریگا: نہیں اے رب! پھر فرمائے گا: تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ عرض کریگا: نہیں اے رب! فرمائے گا: ہاں تیری ایک نیکی ھمارے حضور میں ہے اور تجھ پر آج ظلم نہ ہوگا، اُس وقت ایک پرچہ جس میں
''أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ وَأَشْھَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ''
ہو گا نکالا جائے گا اور حکم ہوگا جا تُلوا، عرض کرے گا: اے رب! یہ پرچہ ان دفتروں کے سامنے کیا ہے؟ فرمائے گا: تجھ پر ظلم نہ ہوگا، پھر ایک پلّے پر یہ سب دفتر رکھے جائیں گے اور ایک میں وہ، وہ پرچہ ان دفتروں سے بھاری ہو جائے گا۔ (1) بالجملہ اس کی رحمت کی کوئی انتہا نہیں، جس پر رحم فرمائے، تھوڑی چیز بھی بہت کثیر ہے۔
عقیدہ (۷): قیامت کے دن ہر شخص کو اُس کانامہ اعمال دیا جائے گا(2) ، نیکوں کے دہنے ہاتھ میں اور بدوں کے بائیں ہاتھ میں(3)، کافر کا سینہ توڑ کر اُس کا بایاں ہاتھ اس سے پسِ پشت نکال کر پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ (4)
1 ۔ عن أبي عبد الرحمن المعافريّ ثم الحبليّ قال: سمعت عبد اللہ بن عمرو بن العاص یقول: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ اللہ سیخلص رجلا من أمتي علی رؤوس الخلائق یوم القیامۃ، فینشرعلیہ تسعۃ وتسعین سجلاّ، کل سجل مثل مد البصر، ثم یقول: أتنکر من ھذاشیأا؟ أظلمک کتبتي الحافظون؟ یقول: لا یا رب! فیقول: أفلک عذر؟ فیقول: لا، یا ربّ! فیقول: بلی! إنّ لک عندناحسنۃ فإنّہ لا ظلم علیک الیوم، فیخرج بطاقۃ فیھا أشھد أن لا إلہ إلاّ اللہ وأشھد أنّ محمدًا عبدہ ورسولہ، فیقول: احضر وَزنک، فیقول: یا رب! ما ھذہ البطاقۃ مع ھذہ السجلات؟ فقال: فإنّک لا تظلم، قال: فتوضع السجلاّت في کفۃ والبطاقۃ في کفۃ فطاشت السجلات وثقلت البطاقۃ، ولا یثقل مع اسم اللہ شيئ)). ''سنن الترمذي''، کتاب الإیمان، باب ما جاء فیمن یموت وھو یشھد أن لا إلہ إلاّ اللہ، الحدیث: ۲۶۴۸، ج۴، ص۲۹۰۔۲۹۱.
2 ۔ (وَکُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰـہُ طَائِرَہُ فِیْ عُنُقِہِ وَنُخْرِجُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کِتَابًا یَّلْقَاہُ مَنْشُوْرًا اِقْرَاْ کِتَابَکَ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا) پ۱۵، بني إسرائیل: ۱۳۔۱۴.
3 ۔ (فَاَمَّا مَنْ اُوتِیَ کِتَابَہ، بِیَمِیْنِہٖ فَیَقُولُ ہَاؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتَابِیَہْ اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلَاقٍ حِسَابِیَہْ) پ۲۹، الحاقۃ: ۱۹۔۲۰. (وَاَمَّا مَنْ اُوتِیَ کِتَابَہ، بِشِمَالِہٖ فَیَقُولُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتَابِیَہْ) پ۲۹،الحاقۃ:۲۵.
عن أبي موسی الأشعري قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یعرض الناس یوم القیامۃ ثلاث عرضات، فأمّا عرضتان فجدال ومعاذیر، وأمّا الثالثۃ: فعند ذلک تطیر الصحف في الأیدي، فآخذ بیمینہ وآخذ بشمالہ)). سنن ابن ماجہ''، کتاب الزہد، باب ذکر البعث، الحدیث: ۴۲۷۷، ج۴، ص۵۰۶.
4 ۔ (وَاَمَّا مَنْ اُوتِیَ کِتَابَہ، وَرَاءَ ظَہْرِہٖ فَسَوْفَ یَدْعُوْ ثُبُوْرًا وَیَصْلٰی سَعِیْرًا). پ۳۰، انشقاق: ۱۰۔۱۲.
في ''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، ج۱۰، ص۱۹۲، تحت الآیۃ: (قال ابن عباس: یمد یدہ الیمنی لیأخذ کتابہ فیجذبہ
عقیدہ (۸): حوضِ کوثر کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو مرحمت ہوا، حق ہے۔ (1) اِس حوض کی مسافت ایک مہینہ کی راہ ہے(2) ، اس کے کناروں پر موتی کے قُبّے ہیں(3) ، چاروں گوشے برابر یعنی زاویے قائمہ ہیں(4) ، اس کی مٹی نہایت خوشبودار مشک کی ہے(5) ، اس کا پانی دُودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا (6) اور مشک سے زیادہ پاکیزہ (7) اور اس پر برتن ستاروں سے بھی گنتی میں زیادہ(8) جو اس کا پانی پیے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا(9) ، اس میں جنت سے دو پر نالے ہر وقت گرتے ہیں، ایک سونے کا، دوسرا چاندی کا۔ (10)
ـ ملک، فیخلع یمینہ، فیأخذ کتابہ بشمالہ من وراء ظہرہ، وقال قتادۃ ومقاتل: یفک ألواح صدرہ وعظامہ ثم تدخل یدہ وتخرج من ظہرہ، فیأخذ کتابہ کذلک).
1 ۔ عن أنس بن مالک أنّہ قرأ ہذہ الآیۃ: (اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ) قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أعطیت الکوثر)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۳۵۷۹، ج۴، ص۴۹۱.
وفي روایۃ: عن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أعطیت الکوثر فإذا ہو نہر یجري کذا علی وجہ الأرض)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۲۵۴۴، ج۴، ص۳۰۵ .
في ''شرح العقائد النسفیۃ''، والحوض حق، ص۱۰۵: (والحوض حق لقولہ تعالی: (اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ).
2 ۔ قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((حوضي مسیرۃ شھر)). ''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، باب الحوض، الحدیث: ۶۵۷۹، ج۴، ص۲۶۷، . و''صحیح مسلم''، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبیّنا...إلخ، الحدیث: ۲۲۹۲، ص ۱۲۵۶.
3 ۔ ((حافتاہ قباب الدر المجوف)). ''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، باب الحوض، الحدیث:۶۵۸۱، ج۴، ص۲۶۸.
وفي روایۃ: ((حافتاہ قباب اللؤلؤ)) ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۳۵۷۹، ج۴، ص۴۹۱.
4 ۔ (( وزوایاہ سوائ)). ''صحیح مسلم''، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبیّنا...إلخ، الحدیث: ۲۲۹۲، ص ۱۲۵۶.
5 ۔ ((فضربت بیدي إلی تربتہ، فإذا ہو مسکۃ ذفرۃ)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۳۵۷۹، ج۴، ص۴۹۱.
6 ۔ ((ماؤہ أشد بیاضاً من اللبن وأحلی من العسل)).
''صحیح مسلم''، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبینا وصفاتہ، الحدیث: ۲۳۰۰، ص۱۲۶۰.
7 ۔ ((وأطیب من المسک)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۳۳۷۷، ج۹، ص۸۹.
8 ۔ عن أبي ذر قال: قلت یا رسول اللہ ما آنیۃ الحوض، قال: ((والذي نفس محمد بیدہ لآنیتہ أکثر من عدد نجوم السماء وکواکبہا)). ''صحیح مسلم''، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبینا وصفاتہ، الحدیث:۲۳۰۰، ص۱۲۶۰.
9 ۔ ((من شرب منہ لم یظمأ بعدہ)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۳۳۷۷، ج۹، ص۸۹.
10 ۔ ((یغت فیہ میزابان یمدّانہ من الجنۃ، أحدھما من ذھب، والآخر من ورق)). ''صحیح مسلم''، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبینا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وصفاتہ، الحدیث: ۲۳۰۱، ص۱۲۶۰.
عقیدہ (۹): میزان حق ہے۔ اس پر لوگوں کے اعمال نیک و بد تولے جائیں گے (1)، نیکی کا پلّہ بھاری ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اوپر اُٹھے، دنیا کا سا معاملہ نہیں کہ جو بھاری ہوتا ہے نیچے کو جھکتا ہے۔ (2)
عقیدہ (۱۰): حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲ عزوجل مقامِ محمود عطا فرمائے گا، کہ تمام اوّلین وآخرین حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی حمد و ستائش کریں گے۔ (3)
1 ۔ في''منح الروض الأزہر''، ص۹۵: (وزن الأعمال بالمیزان یوم القیامۃ حق) لقولہ تعالی: (وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذِنِالْحَقُّ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُہُ فَاُولٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَاُولٰئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَہُمْ بِمَا کَانُوا بِاٰیَاتِنَا یَظْلِمُوْنَ)، إظہاراً لکمال الفضل وجمال العدل، کما قال اللہ سبحانہ وتعالی: (وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِہَا وَکَفٰی بِنَا حَاسِبِیْنَ).
2 ۔ (اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہ،)، پ۲۲، فاطر: ۱۰.
في ''تکمیل الإیمان''،ص ۷۸: (میزان آخرت برعکس میزان دنیا است، وعلامت ثقل ارتفاع کفہ بود وعلامت خفت انخفاض). یعنی: علماء فرماتے ہیں کہ:'' آخرت کی میزان کا بھاری پلڑہ دنیاوی ترازو کے برعکس ہوگا یعنی بھاری پلڑے کی علامت اس کے اونچے اور مرتفع ہونے اور ھلکے پلڑے کی علامت اس کے نیچے ہونے کی شکل میں ہوگا۔''
اعلی حضرت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ'' شریف میں فرماتے ہیں: ''وہ میزان یہاں کے ترازو کے خلاف ہے وہاں نیکیوں کا پلّہ اگر بھاری ہوگا تو اُوپر اٹھے گا اور بدی کا پلّہ نیچے بیٹھے گا، قال اللہ عزوجل: (اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہُ)، پ۲۲،فاطر:۱۰. ترجمہ: اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور جو نیک کام ہے وہ اسے بلند کرتا ہے (ت) ، جس کتاب میں لکھا ہے کہ نیکیوں کا پلہ نیچا ہوگا غلط ہے۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۲۹، ص۶۲۶.
3 ۔ (عََسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُودًا) پ۱۵، الإسرائ: ۷۹.
في ''الدر المنثور''، ج۵، ص۳۲۵، تحت الآیۃ: عن ابن عمر رضي اللہ عنھما قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ الشمس لتدنو حتی یبلغ العرق نصف الأذن، فبینما ہم کذلک استغاثوا بآدم علیہ السلام فیقول: لَسْتُ بصاحب ذلک، ثم موسی علیہ السلام فیقول: کذلک، ثم محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیشفع، فیقضي اللہ بین الخلائق فیمشي حتی یأخذ بحلقۃ باب الجنۃ، فیومئذ یبعثہ اللہ مقاماً محموداً یحمدہ أھل الجمع کلّہم)).
وفي روایۃ: قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: (( ۔وإني لأقوم المقام المحمود یوم القیامۃ فقال الأنصاري: وما ذاک المقام المحمود؟ قال: ذاک إذا جیء بکم عراۃ حفاۃ غرلا فیکون أول من یکسی إبراہیم علیہ السلام یقول: اکسوا خلیلی فیؤتی بریطتین بیضاوین فلیلبسھما ثم یقعد فیستقبل العرش ثم أوتی بکسوتی فألبسہا، فأقوم عن یمینہ مقاماً لا یقومہ أحد غیري، یغبطني بہ الأوّلون والآخرون))، ملتقطاً. ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۳۷۸۷، ج۲، ص۵۶.
عقیدہ (۱۱): حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ایک جھنڈا مرحمت ہو گا جس کو لواء الحمد کہتے ہیں، تمام مومنین حضرت آدم علیہ السلام سے آخر تک سب اُسی کے نیچے ہوں گے۔ (1)
عقیدہ (۱۲): صراط حق ہے ۔یہ ایک پُل ہے کہ پشتِ جہنم پر نصب کیا جائے گا، بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا (2)، جنت میں جانے کا یہی راستہ ہے، سب سے پہلے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم گزر فرمائیں گے، پھر اور انبیا و مرسلین، پھر یہ اُمّت پھر اور اُمتیں گزریں گی(3) اور حسبِ اختلافِ اعمال پُلِ صراط پر لوگ مختلف طرح سے گزریں گے، بعض تو ایسے تیزی کے ساتھ گزریں گے جیسے بجلی کا کوندا کہ ابھی چمکا اور ابھی غائب ہوگیا اور بعض تیز ہواکی طرح، کوئی ایسے جیسے پرند اڑتا ہے
1 ۔ عن أبي سعید قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنا سید ولد آدم یوم القیامۃ ولا فخر، وبیدي لواء الحمد ولا فخر، ومامن نبيّ یومئذ ۔آدم فمن سواہ۔ إلاّ تحت لوا ئي)). ''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب سلوا اللہ لي الوسیلۃ، الحدیث: ۳۶۲۵، ج۵، ص۳۵۴.
2 ۔ عن عائشۃ قالت: قال رسول اللہ: ((ولجہنم جِسر أدقّ من الشعر وأحدّ من السیف)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۴۸۴۷، ج۹، ص۴۱۵.
وفي روایۃ: قال أبو سعید الخدري: ((بلغني أنّ الجسر أدقّ من الشعرۃ وأحدّ من السیف)). ''صحیح مسلم''، کتا ب الإیمان، باب معرفۃ طریق الرؤیۃ، الحدیث: ۳۰۲، ص۱۱۵.
وفي ''شرح العقائد النسفیۃ''، والصراط حق، ص۱۰۵: (والصراط حق وھو جِسر، ممدود علی متن جھنم أدق من الشعر، وأحدّ من السیف یعبرہ أھل الجنۃ وتزل بہ أقدام أھل النار).
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۶۸: (الصراط جسر ممدود علی متن جہنم یردہ الأولون والآخرون لا طریق الجنۃ إلاّ علیہ، وہو أدق من الشعر وأحدّ من السیف).
3 ۔ ((فیضرب الصراط بین ظہراني جہنم فأکون أول من یجوز من الرسل بأمتہ ولا یتکلم یومئذ أحد إلا الرسل وکلام الرسل یومئذ: اللہم سلم سلم)). ''صحیح البخاري''، کتاب الأذان، فضل السجود، الحدیث: ۸۰۶، ج۱، ص۲۸۲.
وفي روایۃ: ((ویضرب الصراط بین ظہري جہنم، فأکون أنا وأمتي أوّل من یجیزہا ولا یتکلم یومئذ إلاّ الرسل، ودعوی الرسل یومئذ: اللہم سلم سلم)). ''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، الحدیث:۷۴۳۷، ج۴، ص۵۵۱.
في ''فتح الباري''، کتاب الرقاق، باب الصراط جسر جہنم، ج۱۱، ص۳۸۴، تحت الحدیث: ۶۵۷۳، تحت قول: ((فأکون أوّل من یجیز)) فإن فیہ إشارۃ إلی أَنَّ الْأَنْبِیَاء َ بَعْدَہُ یُجِیزُونَ أُمَمَہُمْ). وفیہ أیضاً، ص۳۸۷: (قال القرطبی: لمّا کان ہو وأمتہ أوّل من یجوز علی الصراط لزم تأخیر غیرہم عنھم حتی یجوز، فإذا جاز ہو وأمتہ فکأنّہ أجاز بقیۃ الناس)، ملتقطاً.
اور بعض جیسے گھوڑا دوڑتا ہے اور بعض جیسے آدمی دوڑتا ہے، یہاں تک کہ بعض شخص سُرین پر گھسٹتے ہوئے اور کوئی چیونٹی کی چال جائے گا(1) اور پُل صراط کے دونوں جانب بڑے بڑے آنکڑے (اﷲ (عزوجل) ہی جانے کہ وہ کتنے بڑے ہونگے) لٹکتے ہوں گے، جس شخص کے بارے میں حکم ہوگا اُسے پکڑلیں گے، مگر بعض تو زخمی ہو کرنجات پا جائیں گے اور بعض کو جہنم میں گرا دیں گے (2) اور یہ ھلاک ہوا۔
یہ تمام اھلِ محشر تو پُل پر سے گزرنے میں مشغول، مگر وہ بے گناہ، گناہگاروں کا شفیع پُل کے کنارے کھڑا ہوا بکمالِ گریہ وزاری اپنی اُمّتِ عاصی کی نجات کی فکر میں اپنے رب سے دُعا کر رہا ہے: ((رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ))(3)، اِلٰہی! ان گناہگاروں کو بچالے بچالے۔ اور ایک اسی جگہ کیا! حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اُس دن تمام مواطن میں دورہ فرماتے رہیں گے، کبھی میزان پر تشریف لے جائیں گے، وہاں جس کے حسنات میں کمی دیکھیں گے، اس کی شفاعت فرما کر نجات دلوائیں گے اور فوراً ہی دیکھو تو حوضِ کوثر پر جلوہ فرما ہیں ، پیاسوں کو سیراب فرمارہے ہیں اور وہاں سے پُل پر رونق افروز ہوئے اور گِرتوں کو بچایا۔ (4)
1 ۔ قیل: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وما الجِسر؟ قال: ((دحض مزلۃ، فیہا خطاطیف وکلالیب وحسک، تکون بنجد فیہا شویکۃ یقال لہا السعدان، فیمر المؤمنون کطرف العین وکالبرق، وکالریح وکالطیر وکأجاوید الخیل والرکاب)). ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب معرفۃ طریق الرؤیۃ ، الحدیث: ۳۰۲، ص۱۱۴.
وفي روایۃ: عن أبي سعید الخدري، قال: ((یعرض الناس علی جسر جہنم، علیہ حسک وکلالیب وخطاطیف تخطف الناس، قال: فیمر الناس مثل البرق، وآخرون مثل الریح، وآخرون مثل الفرس المجد، وآخرون یسعون سعیًا، وآخرون یمشون مشیًا وآخرون یحبون حبوًا وآخرون یزحفون زحفا)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۱۲۰۰، ج۴، ص۵۱.
2 ۔ ((وفي حافتي الصراط کلالیب معلقۃ، مأمورۃ بأخذ مَن أمرت بہ، فمخدوش ناج ومکد وس في النار)).
''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب أدنی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا، الحدیث: ۳۲۹، ص۱۲۷.
3 ۔ ((ونبیکم قائم علی الصراط یقول: رب سلم سلم)). ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب أدنی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا، الحدیث: ۳۲۹، ص۱۲۷.
4 ۔ حدثناالنضر ابن أنس بن مالک عن أبیہ قال: سألت النبي صلی اللہ علیہ وسلم أن یشفع لي یوم القیامۃ، فقال: ((أنا فاعل))، قلت: یارسول اللہ! فأین أطلبک؟ قال: ((اطلبني أوّل ما تطلبني علی الصراط))، قلت: فإن لم ألقک علی الصراط، قال: ((فاطلبني عند المیزان))، قلت: فإن لم ألقک عند المیزان؟ قال: ((فاطلبني عند الحوض، فإني لا أخطی ء ھذ ہ الثلاث المواطن)).
''سنن الترمذي''، أبواب صفۃ القیامۃ والرقائق... إلخ، باب ما جاء في شأن الصراط، الحدیث: ۲۴۴۸، ج۴، ص۱۹۵.
و''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۲۸۲۵، ج۴، ص۳۵۶.
غرض ہر جگہ اُنھیں کی دُوہائی، ہر شخص اُنھیں کو پکارتا، اُنھیں سے فریا دکرتا ہے اور اُن کے سوا کس کوپکارے...؟! کہ ہر ایک تو اپنی فکر میں ہے، دوسروں کو کیا پوچھے، صرف ایک یہی ہیں، جنہیں اپنی کچھ فکر نہیں اور تمام عالم کا بار اِن کے ذمّے۔
''صَلّی اللہ تعالی علیہ وَعلٰی آلِہٖ وأَصْحَابِہٖ وَبارَکَ وَسَلَّمَ اَللّٰھُمَّ نَجِّنَا مِنْ أَھْوَالِ الْمَحْشَرِ بِجَاہِ ھٰذَا النَّبِيِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَأَصْحَابِہٖ أَفْضَلُ الصَّلاَۃِ وَالتَّسْلِیْمِ، اٰمِیْنَ !
یہ قیامت کا دن کہ حقیقۃً قیامت کا دن ہے، جو پچاس ہزار برس کا دن ہوگا (1)، جس کے مصائب بے شمار ہوں گے، مولیٰ عزوجل کے جو خاص بندے ہیں ان کے لیے اتنا ھلکا کر دیا جائے گا، کہ معلوم ہوگا اس میں اتنا وقت صَرف ہوا جتنا ایک وقت کی نمازِ فرض میں صَرف ہوتا ہے (2)، بلکہ اس سے بھی کم (3)، یہاں تک کہ بعضوں کے لیے تو پلک جھپکنے میں سارا دن طے ہو جائے گا۔
(وَمَآ اَمْرُ السَّاعَۃِ اِلَّا کَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ ھُوَ اَقْرَبُ )(4)
''قیامت کا معاملہ نہیں مگر جیسے پلک جھپکنا، بلکہ اس سے بھی کم۔''
سب سے اعظم و اعلیٰ جو مسلمانوں کو اس روز نعمت ملے گی وہ اﷲ عزوجل کا دیدار ہے، کہ اس نعمت کے برابر کوئی نعمت نہیں،
1 ۔ (ِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ)(پ۲۹، المعارج : ۴) انظر ص۴۹، تخریج نمبر ۴.
2 ۔ عن أبي ھریرۃ أظنہ رفعہ إلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال:((إنّ اللہ یخفف علی من یشاء من عبادہ طول یوم القیامۃ کوقت صلاۃ مکتوبۃ))۔ ''شعب الإیمان''، باب في حشر الناس بعد ما یبعثون من قبورہم، الحدیث: ۳۶۲، ج۱، ص۳۲۵.
عن أبي سعید الخدري، أنّہ أتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: أخبرني من یقوی علی القیام یوم القیامۃ الذي قال اللہ عزوجل: (یَوْمَ یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ )، فقال: ((یخفف علی المؤمن حتی یکون علیہ کالصلاۃ المکتوبۃ)).
''مشکاۃ المصابیح''،کتاب أحوال القیامۃ وبدء الخلق،ج۲، الحدیث:۵۵۶۳، ص۳۱۷.
3 ۔ عن أبي سعید الخدري قال: قیل لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوما کان مقدارہ خمسین ألف سنۃ ما أطول ھذاالیوم؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((والذی نفسي بیدہ أنّہ لیخفف علی المؤمن، حتی یکون أخفّ علیہ من صلاۃ مکتوبۃ، یصلیھا في الدنیا)).''المسند'' لللإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۱۷۱۷، ج۴، ص۱۵۱.''شعب الإیمان''، باب في حشر الناس بعد ما یبعثون من قبورہم، الحدیث:۳۶۱، ج۱، ص۳۲۴.
4 ۔ پ۱۴، النحل: ۷۷.
جسے ایک بار دیدار میسّر ہوگا، ہمیشہ ہمیشہ اس کے ذوق میں مستغرق(1) رہے گا، کبھی نہ بھولے گا اور سب سے پہلے دیدارِ الٰہی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہوگا۔ (2)
یہاں تک تو حشرکے اہوال و احوال مختصراً بیان کیے گئے، ان تمام مرحلوں کے بعد اب اسے ہمیشگی کے گھر میں جانا ہے، کسی کو آرام کا گھر ملے گا، جس کی آسائش کی کوئی انتہا نہیں، اس کو جنت کہتے ہیں۔یا تکلیف کے گھر میں جانا پڑے جس کی تکلیف کی کوئی حد نہیں، اسے جہنم کہتے ہیں۔
عقیدہ (۱۳): جنت ودوزخ حق ہیں(3)، ان کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ (4)
1 ۔مشغول۔
2 ۔ (من خصائصہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔أنّہ أوّل شافع وأوّل مشفع وأوّل من ینظر إلی اللہ). ''حجۃ اللہ علی العالمین''، ذکر الخصائص الذي فضل بہا علی جمیع الأنبیائ، ص۵۳.
في روایۃ ''سبل الہدی والرشاد'' ، ج۱۰، ص۳۸۴: (الباب الثالث فیما اختص بہ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم عن الأنبیاء في ذاتہ في الآخرۃ صلی اللہ علیہ وسلم، وفیہ مسائل: الأولی: اختص صلی اللہ علیہ وسلم بأنّہ أول من تنشق عنہ الأرض، الثانیۃ: وبأنّہ أوّل من یفیق من الصعقۃ، ۔ الرابعۃ عشرۃ: وبأنّہ أوّل من یؤذن لہ في السجود، الخامسۃ عشرۃ: وبأنّہ أوّل من یرفع رأسہ، السادسۃ عشرۃ: وأوّل من ینظر إلی اللہ تبارک وتعالی... إلخ).
3 ۔ (وَسَارِعُوْا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ) پ۴، اٰل عمران: ۱۳۳.
في تفسیر الخازن''، ج۱، ص ۳۰۱، تحت الآیۃ:((اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ) أي: ہیئت للمتقین، وفیہ دلیل علی أنّ الجنۃ والنار مخلوقتان الآن) .(فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ اُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ) پ۱، البقرۃ:۲۴.
في ''تفسیر ابن کثیر''، ج ۱، ص ۱۱۱، تحت الآیۃ: (قد استدل کثیر من أئمۃ السنۃ بہذہ الآیۃ علی أنّ النار موجودۃ الآن لقولہ: (اُعِدَّتْ) أي: أرصدت وہیئت).
وفي''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۰۵: ( والجنۃ حق والنارحق).
4 ۔ في ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۳۰۳: (من أنکر القیامۃ أو الجنۃ أو النار ۔ فإنّہ یکفر لإنکارہ ما ہو الثابت بالنصوص القرآنیۃ والأحادیث الصحیحۃ النبویۃ وأجمعت علیہ الأمۃ المرضیۃ).
وفي ''الشفا''،ج۲، ص۲۹۰: (وکذلک من أنکر الجنۃ أوالنار ۔ فھوکافر بإجماع للنص علیہ، وإجماع الأمۃ علی صحۃ نقلہ متواترا).
عقیدہ (۱۴): جنت ودوزخ کو بنے ہوئے ہزارہا سال ہوئے اور وہ اب موجود ہیں، یہ نہیں کہ اس وقت تک مخلوق نہ ہوئیں، قیامت کے دن بنائی جائیں گی۔ (1)
عقیدہ (۱۵): قیامت و بعث و حشر و حساب و ثواب و عذاب و جنت و دوزخ سب کے وہی معنی ہیں جو مسلمانوں میں مشہور ہیں، جو شخص ان چیزوں کو تو حق کہے، مگر ان کے نئے معنی گھڑے (مثلاً ثواب کے معنی اپنے حسنات کو دیکھ کر خوش ہونا اور عذاب اپنے بُرے اعمال کو دیکھ کر غمگین ہونا، یا حشر فقط روحوں کا ہونا)، وہ حقیقۃً ان چیزوں کا منکر ہے اور ایسا شخص کافر ہے۔(2) اب جنت و دوزخ کی مختصر کیفیت بیان کی جاتی ہے۔
ـ1 ۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۰۵۔۱۰۶: ( والجنۃ حق والنارحق، وھما أي الجنۃ والنار مخلوقتان ألان موجودتان، تکریر وتأکید وزعم أکثر المعتزلۃ أنّھما أنما تخلقان یوم الجزائ، ولنا قصۃ اٰدم وحواء وإسکانھما الجنۃ والاٰیات الظاھرۃ في إعدادھما مثل (اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ) و(اُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ)).
وفي ''منح الروض الأزہر''، ص۹۸: (''والجنۃ والنار مخلوقتان الیوم'' أي: موجودتان الآن قبل یوم القیامۃ، لقولہ تعالی في نعت الجنۃ: (اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ) وفي وصف النار: (اُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ) وللحدیث القدسي: ((أعددت لعبادي الصالحین ما لا عین رأت ولا أذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر))، ولحدیث الإسرائ: ((أدخلت الجنۃ وأریت النار))، وہذہ الصیغۃ موضوعۃ للمضي حقیقۃ، فلا وجہ للعدول عنہا إلی المجاز إلاّ بصریح آیۃ أو صحیح دلالۃ، وفي المسألۃ خلاف للمعتزلۃ).
2 ۔ وفي الشفا''،ج۲، ص۲۹۰: (وکذلک من أنکر الجنۃ أو النار أو البعث أو الحساب أو القیامۃ فھو کافر بإجماع للنص علیہ، وإجماع الأمۃ علی صحۃ نقلہ متواتراً، وکذلک من اعترف بذلک، ولکنّہ قال: إنّ المراد بالجنۃ والنار والحشر والنشر والثواب والعقاب معنیً غیر ظاہرہ، وأنّہا لذّات روحانیۃ ومعان باطنۃ کقول النصاری والفلاسفۃ والباطنیۃ وبعض المتصوفۃ، وزعم أنّ معنی القیامۃ الموت أو فناہ محض، وانتقاض ہیئۃ الأفلاک وتحلیل العالم کقول بعض الفلاسفۃ).
''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۲۹، ص۳۸۳۔۳۸۴.
جنت ایک مکان ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے بنایا ہے، اس میں وہ نعمتیں مہیا کی ہیں جن کو نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا، نہ کسی ۱ ؎ آدمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا۔ (1) جو کوئی مثال اس کی تعریف میں دی جائے سمجھانے کے لیے ہے، ورنہ دنیا کی اعلیٰ ۲ ؎ سے اعلیٰ شے کو جنت کی کسی چیز کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں۔ وہاں کی کوئی عورت اگر زمین کی طرف جھانکے تو زمین سے آسمان تک روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے اور چاند سورج کی روشنی جاتی رہے اور اُس کا دوپٹا دنیا ومافیہا سے بہتر۔ (2) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اگر حُور اپنی ہتھیلی زمین و آسمان کے درمیان نکالے تو اس کے حسن کی وجہ سے خلائق فتنہ میں پڑ جائیں اور اگر اپنا دوپٹا ظاہر کرے تو اسکی خوبصورتی کے آگے آفتاب ایسا ہو جائے جیسے آفتاب کے سامنے چراغ (3) اور اگر جنت کی کوئی ناخن بھَر چیز دنیا میں ظاہر ہو تو تمام آسمان و زمین اُس سے آراستہ ہو جائیں اور اگرجنتی کا کنگن ظاہر ہو تو
۱ ؎ یعنی بے دیکھے ورنہ دیکھ کر توآپ ہی جانیں گے تو جنہوں نے حالتِحیات دنیوی ہی میں مشاہدہ فرمایا وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں یعنی سرے سے یہ حکم انہیں شامل ہی نہیں، علی الخصوص صاحب ِ معراج صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ ۱۲ منہ
1 ۔ عن أبي ھریرۃ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((قال اللہ [عزوجل]: أعددتُ لعبادي الصالحین ما لا عین رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر علی قلب بشر)). ''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، الحدیث:۲۸۲۴، ص۱۵۱۶.
۲؎ کعبہ معظمہ، جنت سے اعلیٰ ہے اور تربتِ اطہرِ حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تو کعبہ بلکہ عرش سے بھی افضل ہے، مگر یہ دُنیا کی چیزیں نہیں ۔ ۱۲ منہ
2 ۔ ((ولو أنّ امراۃ من نساء أھل الجنۃ اطّلعت إلی الأرض لأضاء ت ما بینھما، ولملأ ت ما بینھما ریحاً، ولنصیفھا ۔یعني الخمار۔ خیر من الدنیا وما فیھا)). ''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار، الحدیث: ۶۵۶۸، ج۴، ص۲۶۴.
وفي روایۃ ''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۵۵۱۲، ج۶، ص۵۹: ((لو أنّ امرأۃ من أھل الجنۃ أشرفت إلی أھل الأرض لملأت الأرض ریح مسک، ولأذھبت ضوء الشمس والقمر)).
3 ۔ ((لو أنّ حوراء أخرجت کفھا بین السماء والأرض لافتتن الخلائق بحسنھا، ولو أخرجت نصیفھا لکانت الشمس عند حسنہ مثل الفتیلۃ في الشمس، لاضوء لھا)).''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في وصف نساء أھل الجنۃ، الحدیث:۹۷، ج۴، ص۲۹۸.
آفتاب کی روشنی مٹادے، جیسے آفتاب ستاروں کی روشنی مٹا دیتا ہے۔ (1) جنت کی اتنی جگہ جس میں کوڑا (2) رکھ سکیں دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ (3)
جنت کتنی وسیع ہے، اس کو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہی جانیں، اِجمالی بیان یہ ہے کہ اس میں ۱۰۰سو درجے ہیں۔ ہر دو درجوں میں وہ مسافت ہے، جو آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ (4) رہا یہ کہ خود اُس درجہ کی کیا مسافت ہے، اس کے متعلق کوئی روایت خیال میں نہیں، البتہ ایک حدیث ''ترمذی'' کی یہ ہے: ''کہ اگر تمام عالم ایک درجہ میں جمع ہو تو سب کے لیے وسیع ہے۔ ''(5)
1 ۔ ((لو أنّ ما یُقلُّ ظفر مما في الجنۃ بدا لَتزخرفت لہ ما بین خوافق السموات والأرض، ولو أنّ رجلاً من أھل الجنۃ اطلع فبدا أساورہ لطمس ضوء الشمس کما تطمس الشمس ضوء النجوم)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ أھل الجنۃ، الحدیث: ۲۵۴۷، ج۴، ص۲۴۱.
2 ۔ چابک ، درّہ۔
3 ۔ ((موضع سوط في الجنۃ خیر من الدنیا وما فیھا)). ''جنت میں ایک کوڑے (یعنی ایک چابک) جتنی جگہ دُنیا اور جو کچھ اس میں ہے ان سے بہتر ہے''۔( ''صحیح البخاري''، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ وأنّہا مخلوقۃ، الحدیث: ۳۲۵۰، ج۲، ص۳۹۲).
شیخ محقق شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِھلوی علیہ ر حمۃاللہ القوی ارشادفر ما تے ہیں: ''یعنی جنت کی تھوڑی سی اور معمولی جگہ د نیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہے ۔چابک کا ذکر اس عادت کے مطابق ہے کہ سوار جب کسی جگہ اترنا چاہتا ہے تو اپنا چابک پھینک دیتا ہے تاکہ اس کی نشانی رہے اور دوسرا کوئی شخص وہاں نہ اُترے۔ (''أشعۃ اللمعات''، ج۷، ص۵۰)۔
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فر ما تے ہیں: کوڑے سے مراد ہے وہاں کی تھوڑی سی جگہ۔ واقعی جنت کی نعمتیں دائمی ہیں۔دنیا کی فانی پھر دنیا کی نعمتیں تکالیف سے مخلوط وہاں کی نعمتیں خالص ،پھر دنیا کی نعمتیں ادنیٰ وہ اعلیٰ اس لیے دنیا کو وہاں کی ادنیٰ جگہ سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ (''مراۃ المناجیح''، ج۷ ، ص۴۴۷)۔
وانظر ''المرقاۃ''، کتاب الفتن، باب صفۃ الجنۃ وأھلہا، الحدیث: ۵۶۱۳، ج ۹، ص ۵۷۸۔
4 ۔ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((في الجنۃ مائۃ د رجۃ ما بین کل درجتین کما بین السماء والأرض)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ درجات الجنۃ، الحدیث: ۲۵۳۹، ج۴، ص۲۳۸.
5 ۔ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ في الجنۃ مائۃ درجۃ لو أنّ العالمین اجتمعوا في إحداھنّ لوسعتھم)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ درجات الجنۃ، الحدیث: ۲۵۴۰، ج۴، ص۲۳۹.
جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں ۱۰۰سو برس تک تیز گھوڑے پر سوار چلتا رہے اورختم نہ ہو۔(1) جنت کے دروازے اتنے وسیع ہوں گے کہ ایک بازو سے دوسرے تک تیز گھوڑے کی ستّر برس کی راہ ہوگی(2) پھر بھی جانے والوں کی وہ کثرت ہوگی کہ مونڈھے سے مونڈھا چِھلتا ہوگا(3)، بلکہ بھیڑ کی وجہ سے دروازہ چَرچَرانے لگے گا۔(4) اس میں قسم قسم کے جواہر کے محل ہیں، ایسے صاف و شفاف کہ اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا اندر سے دکھائی دے۔(5) جنت کی دیواریں سونے اور چاندی کی اینٹوں اور مُشک کے گارے سے بنی ہیں(6)، ایک اینٹ سونے کی، ایک چاندی کی، زمین زعفران کی، کنکریوں کی جگہ موتی اور یاقوت۔ (7) اور ایک روایت میں ہے کہ جنتِ عدن کی ایک اینٹ سفید موتی کی ہے، ایک یاقوتِ سرخ کی، ایک زَبَرْجَد سبز کی،
1 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ في الجنۃ لشجرۃ یسیر الراکب في ظلہا مائۃ عام، لا یقطعھا)).
وفي روایۃ: عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ في الجنۃ شجرۃ یسیر الراکب الجواد المضمّر السریع مائۃ عام، ما یقطعھا)). ''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ، باب إنّ في الجنۃ شجرۃ... إلخ، الحدیث:۲۸۲۷۔۲۸۲۸، ص۱۵۱۷.
2 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ للجنۃ لثمانیۃ أبواب ما منھما بابان إلاّ یسیر الراکب بینھما سبعین عامًا)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أبي رزین العقیلي، الحدیث: ۱۶۲۰۶، ج۵، ص۴۷۵.
وفي روایۃ: عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((ما بین کل مصراعین من مصاریع الجنۃ مسیرۃ سبعین عامًا)). ''حلیۃ الأولیاء''، الحدیث: ۸۳۷۱، ج۶، ص۲۲۱.
3 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((باب أمتي الذي یدخلون منہ الجنۃ عرضہ مسیرۃ الراکب المجود ثلاثا، ثم إنّھم لیضغطون علیہ حتی تکاد مناکبھم تزول)).''سنن الترمذي''، أبواب صفۃ الجنۃ... إلخ، باب ما جاء في صفۃ أبواب الجنۃ، الحدیث: ۲۵۵۷، ج۴، ص ۲۴۶.
4 ۔ ((ولیأتین علیہا یوم وہو کظیظ من الزحام)). ''صحیح مسلم''، کتاب الزہد، الحدیث: ۲۹۶۷، ص۱۵۸۶.
5 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ في الجنۃ غرفا من أصناف الجوھر کلہ یری ظاھرھا من باطنھا وباطنھا من ظاھرھا)). ''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في درجات الجنۃ وغرفھا، الحدیث: ۲۷، ج۴، ص۲۸۱.
6 ۔ ((حائط الجنۃ لبنۃ من ذہب ولبنۃ من فضۃ وملاطہا المسک)). ''مجمع الزوائد''، کتاب أھل الجنۃ، باب في بناء الجنۃ وصفتہا، الحدیث: ۱۸۶۴۲،ج۱۰، ص۷۳۲.
7 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لبنۃ من ذھب، ولبنۃ من فضۃ، ملاطھا المسک الأذفر، وحصباؤھا الیاقوت واللؤلؤ، وترابھا الزعفران)). ''سنن الدارمي''، کتاب الرقائق، باب في بناء الجنۃ، الحدیث:۲۸۲۱، ج۲، ص۴۲۹.
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ماجاء في صفۃ الجنۃ ونعیمہا، الحدیث: ۲۵۳۴، ج۴، ص۲۳۶.
اور مشک کا گارا ہے اورگھاس کی جگہ زعفران ہے، موتی کی کنکریاں، عنبر کی مٹی(1)، جنت میں ایک ایک موتی کا خیمہ ہوگا جس کی بلندی ساٹھ میل۔(2) جنت میں چار دریا ہیں، ایک پانی کا، دوسرا دودھ کا، تیسرا شہد کا، چوتھا شراب کا، پھر اِن سے نہریں نکل کر ہر ایک کے مکان میں جاری ہیں۔(3) وہاں کی نہریں زمین کھود کر نہیں بہتیں، بلکہ زمین کے اوپر اوپر رواں ہیں، نہروں کا ایک کنارہ موتی کا، دوسرا یاقوت کا اور نہروں کی زمین خالص مشک کی(4)، وہاں کی شراب دنیا کی سی نہیں جس میں بدبُو اور کڑواہٹ اور نشہ ہوتا ہے اور پینے والے بے عقل ہو جاتے ہیں، آپے سے باہر ہو کر بیہودہ بکتے ہیں، وہ پاک شراب اِن سب باتوں سے پاک و منزَّہ ہے۔(5) جنتیوں کو جنت میں ہر قسم کے لذیذ سے لذیذ کھانے ملیں گے، جو چاہیں گے فوراً ان کے
1 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((خلق اللہ جنۃ عدن بیدہ، لبنۃ من درّۃ بیضائ، ولبنۃ من یاقوتۃ حمرائ، ولبنۃ من زبرجدۃ خضرائ، وملاطھا مسک، حشیشھا الزعفران، حصباؤھا اللؤلؤ، ترابھا العنبر)). ''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، الترغیب في الجنۃ ونعیمھا، فصل في بناء الجنۃ وترابھا وحصبائھا وغیر ذلک، الحدیث: ۳۳، ج۴، ص۲۸۳.
2 ۔ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ للمؤمن في الجنۃ لخیمۃ من لؤلؤۃ واحدۃ مجوفۃ، طولھا ستون میلاً)).
''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب في صفۃ خیام الجنۃ... إلخ، الحدیث: ۲۸۳۸، ص۱۵۲۲.
3 ۔ (فِیْہَا اَنْہَارٌ مِّن مَّاءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ وَاَنْہَارٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہ، وَاَنْہَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشَّارِبِیْنَ وَاَنْہَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی) پ۲۶، محمد: ۱۵.
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((في الجنۃ بحر اللبن وبحر الماء وبحر العسل وبحر الخمر، ثم تشقق الأنھار منھا بعدہ)) ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۰۰۷۲، ج۷ ،ص۲۴۲.
وفي روایۃ ''الترمذي'': قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ في الجنۃ بحر المائ، وبحر العسل، وبحر اللبن، وبحر الخمر، ثم تشقق الأنہار بعد)).کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ أنہارالجنۃ، الحدیث: ۲۵۸۰،ج۴، ص۲۵۷.
في ''المرقاۃ''، ج۹، ص۶۱۶، تحت الحدیث: (وقولہ: ثم تشقق أي: تفترق الأنہار إلی الجداول بعد تحقق الأنہار إلی بساتین الأبرار، وتحت قصور الأخیار).
4 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لعلکم تظنون أنّ أنھار الجنۃ أخدود في الأرض، لا، واللہ إنّہا لسائحۃ علی وجہ الأرض، إحدی حافتیہا اللؤلؤ، والأخری الیاقوت، وطینہ المسک الأذفر، قال: قلت: ما الأذفر؟ قال: الذي لا خلط لہ)). ''الترغیب وا لترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في أنہار الجنۃ، الحدیث: ۴۸، ج۴، ص۲۸۶.
''حلیۃ الأولیاء''، الحدیث: ۸۳۷۲، ج۶، ص۲۲۲، بألفاظ متقاربۃ.
5 ۔ (وَاَنْہَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشَّارِبِیْنَ) پ۲۶، محمد: ۱۵۔ في ''تفسیر ابن کثیر'' ج۷، ص۲۸۹، تحت ہذہ الآیۃ: (أي: لیست کریہۃ الطعم والرائحۃ کخمر الدنیا، حسنۃ المنظر والطعم والرائحۃ والفعل)۔ =
سامنے موجود ہو گا(1)، اگر کسی پرند کو دیکھ کر اس کے گوشت کھانے کو جی ہو تو اُسی وقت بُھنا ہوا اُن کے پاس آجائے گا(2)، اگر پانی وغیرہ کی خواہش ہو تو کوزے خود ہاتھ میں آجائیں گے، ان میں ٹھیک اندازے کے موافق پانی، دودھ، شراب، شہد ہوگا کہ ان کی خواہش سے ایک قطرہ کم نہ زیادہ، بعد پینے کے خودبخود جہاں سے آئے تھے چلے جائیں گے۔ (3) وہاں نجاست، گندگی، پاخانہ، پیشاب، تھوک، رینٹھ، کان کا میل، بدن کا میل اصلاً نہ ہوں گے، ایک خوشبو دار فرحت بخش ڈکار آئے گی، خوشبو دار فرحت بخش پسینہ نکلے گا، سب کھانا ہضم ہوجائے گا اور ڈکا ر اور پسینے سے مشک کی خوشبو نکلے گی۔(4) ہر شخص کو ۱۰۰سو آدمیوں کے
(وَسَقَاہُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَہُوْرًا) پ۲۹، الدہر:۲۱.
(یَتَنَازَعُوْنَ فِیْہَا کَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْہَا وَلَا تَاْثِیْمٌ) پ۲۷، الطور:۲۳.
(بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ وَکَاْسٍ مِّن مَّعِیْنٍ لَا یُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا وَلَا یُنْزِفُوْنَ) پ۲۷، الواقعۃ: ۱۸۔۱۹.
(یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ بَیْضَاءَ لَذَّۃٍ لِّلشَّارِبِیْنَ لَا فِیْہَا غَوْلٌ وَّلَا ہُمْ عَنْہَا یُنْزَفُونَ) پ۲۳، الصفت: ۴۵۔۴۷.
1 ۔ (وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ اَنْفُسُکُمْ) [پ۲، فصلت: ۳۱]، وفي ''تفسیر ابن کثیر''،ج۷، ص۱۶۲، تحت ہذہ الآیۃ: ((وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ اَنْفُسُکُمْ) أي في الجنۃ من جمیع ما تختارون مما تشتہیہ النفوس، وتقرّ بہ العیون، (وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ) أي: مھما طلبتم وجدتم، وحضر بین أیدیکم کما اخترتم).
2 ۔ (وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ) پ۲۸، الواقعہ: ۲۱. عن أبي أمامۃ رضي اللہ عنہ قال: ((إنّ الرجل لیشتھي الطیر في الجنۃ من طیور الجنۃ، فیقع في یدہ مقلیا نضیجا)). ''الدر المنثور''، ج۸، ص۱۱.
وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّک لتنظر إلی الطیر في الجنۃ فتشتہیہ فیجيء مشویّا بین یدیک)). ''الترغیب وا لترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في أکل أھل الجنۃ وشربھم وغیر ذلک ، الحدیث: ۷۳، ج۴، ص ۲۹۲.
3 ۔ عن أبي أمامۃ رضي اللہ عنہ قال: ((إنّ الرجل من أھل الجنۃ لیشتھي الشراب من شراب الجنۃ، فیجيء الإبریق، فیقع في یدہ فیشرب، ثم یعود إلی مکانہ)). ''الترغیب وا لترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في أکل أھل الجنۃ وشربھم وغیر ذلک، الحدیث: ۶۶، ج۴، ص۲۹۰.
4 ۔ عن جابر قال: سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ أھل الجنۃ یأکلون فیھا ویشربون، ولا یتفلون ولا یبولون، ولا یتغوّطون و لا یمتخطون، قالوا: فما بال الطعام؟ قال: جشاء ورشح کرشح المسک)). ''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأھلہا، باب في صفۃ الجنۃ ... إلخ، الحدیث: ۲۸۳۵، ص۱۵۲۰.
وفي روایۃ ''المسند'': الحدیث: ۱۹۲۸۹، ج۷، ص ۷۶: فإنّ الذي یأکل ویشرب تکون لہ الحاجۃ، قال: فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((حاجۃ أحدہم عرق یفیض من جلودہم مثل ریح المسک فإذا البطن قد ضمر)).
کھانے، پینے، جماع کی طاقت دی جائے گی۔(1) ہر وقت زبان سے تسبیح و تکبیر بہ قصد اور بلا قصد مثل سانس کے جاری ہوگی۔(2) کم سے کم ہر شخص کے سرہانے د۱۰س ہزار خادم کھڑے ہونگے، خادموں میں ہر ایک کے ایک ہاتھ میں چاندی کا پیالہ ہوگا اور دوسرے ہاتھ میں سونے کا اور ہر پیالے میں نئے نئے رنگ کی نعمت ہو گی(3)، جتنا کھاتا جائے گا لذت میں کمی نہ ہوگی بلکہ زیادتی ہوگی ، ہر نوالے میں ۷۰ ستّرمزے ہوں گے، ہر مزہ دوسرے سے ممتاز، وہ معاً محسوس ہوں گے، ایک کا احساس دوسرے سے مانع(4) نہ ہوگا، جنتیوں کے نہ لباس پرانے پڑیں گے، نہ ان کی جوانی فنا ہوگی۔(5)
پھلا گروہ جو جنت میں جائے گا، اُن کے چہرے ایسے روشن ہوں گے جیسے چودہویں رات کا چاند اور دوسرا گروہ جیسے کوئی نہایت روشن ستارہ، جنتی سب ایک دل ہوں گے، ان کے آپس میں کوئی اختلاف و بغض نہ ہوگا، ان میں ہر ایک کو حورِ عِین میں کم سے کم دو بیبیاں ایسی ملیں گی کہ ستّر ستّر جوڑے پہنے ہوں گی، پھر بھی ان لباسوں اور گوشت کے باہر سے ان کی پنڈلیوں کا مغز
1 ۔ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((والذي نفسي بیدہ إنّ أحدہم لیُعطی قوۃ مائۃ رجل في المطعم والمشرب والشہوۃ والجماع)). ''المسند للامام احمد بن حنبل''، الحدیث: ۱۹۲۸۹۔۱۹۳۳۳، ج۷، ص۷۶ و۸۴.
2 ۔ ((یلھمون التسبیح والتکبیر، کما یلھمون النفس)). ''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب في صفات الجنۃ... إلخ، الحدیث: ۲۸۳۵، ص۱۵۲۱.
وفي ''فتح الباري''، ج۷، ص۲۶۷، تحت قول: (یُسَبِّحُوْنَ اللہَ بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا): (عند مسلم بقولہ: ''یلہمون التسبیح والتکبیرکما یلہمون النفس'' ووجہ التشبیہ أنّ تنفس الإنسان لا کلفۃ علیہ فیہ ولا بد لہ منہ، فجعل تنفسہم تسبیحا، وسببہ أنّ قلوبہم تنوّرت بمعرفۃ الرب سبحانہ وامتلأت بحبہ، ومن أحب شیأا أکثر من ذکرہ).
3 ۔ عن أنس بن مالک رضي اللہ عنہ یرفعہ قال: ((إنّ أسفل أھل الجنۃ أجمعین من یقوم علی رأسہ عشرۃ آلاف خادم، مع کل خادم صحفتان، واحدۃ من فضۃ وواحدۃ من ذہب، في کل صحفۃ لون لیس في الأخری مثلہا، یأکل من آخرہ کما یأکل من أوّلہ، یجد لآخرہ من اللذّۃ والطعم ما لا یجد لأوّلہ)).
''الترغیب وا لترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في أکل أھل الجنۃ وشربھم وغیر ذلک، الحدیث: ۷۰، ج۴، ص۲۹۱.
و''حلیۃ الأولیاء''، الحدیث: ۸۲۴۶، ج۶، ص ۱۸۸.
4 ۔ روکنے والا۔
5 ۔ عن أبي ھریرۃ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((من یدخل الجنۃ ینعم لا یبأس، لا تبلی ثیابہ ولا یفنی شبابہ)).
''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب في دوام نعیم أھل... إلخ، الحدیث: ۲۸۳۶، ص۱۵۲۱.
دکھائی دے گا، جیسے سفید شیشے میں شرابِ سُرخ دکھائی دیتی ہے(1) اور یہ اس وجہ سے کہ اﷲ عزوجل نے انہیں یاقوت سے تشبیہ دی اور یاقوت میں سوراخ کرکے اگر ڈورا ڈالا جائے تو ضرور باہر سے دکھائی دے گا۔(2) آدمی اپنے چہرے کو اس کے رُخسار میں آئینہ سے بھی زیادہ صاف دیکھے گا اور اس پر ادنیٰ درجہ کا جو موتی ہوگا، وہ ایسا ہو گا کہ مشرق سے مغرب تک روشن کر دے۔(3) اور ایک روایت میں ہے کہ مرد اپنا ہاتھ اس کے شانوں کے درمیان رکھے گا تو سینہ کی طرف سے کپڑے اور جلد اور گوشت کے باہر سے دکھائی دے گا۔(4) اگر جنت کا کپڑا دنیا میں پہنا جائے تو جو دیکھے بے ہوش ہو جائے، اور لوگوں کی نگا ہیں اس کا تحمل نہ کرسکیں(5)،
1 ۔ عن أبي ھریرۃ رضي اللہ عنہ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((أوّل زمرۃ تدخل الجنۃ علی صورۃ القمر لیلۃ البدر، والذین علی آثارھم کأحسن کوکب دري في السماء إضاء ۃ، قلوبھم علی قلب رجل واحد، لا تباغض بینھم ولا تحاسد، لکل امریئ زوجتان من الحور العین، یری مخ سوقھن من وراء العظم واللحم)). ''صحیح البخاري''، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ وأنّھا مخلوقۃ، الحدیث: ۳۲۵۴، ج۲، ص۳۹۳.
وفي روایۃ ''المعجم الکبیر'' للطبراني: عن عبد اللہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((لکل رجل منھم زوجتان من الحور العین علی کل زوجۃ سبعون حلۃ یری مخ سوقھمامن وراء لحومھما وحللھما کما یری الشراب الأحمر في الزجاجۃ البیضائ))، الحدیث: ۱۰۳۲۱، ج۱۰، ص۱۶۰۔۱۶۱.
2 ۔ عن عبد اللہ بن مسعود عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ المرأۃ من نساء أھل الجنۃ لیری بیاض ساقھا من وراء سبعین حلۃ حتی یری مخھا وذلک بأنّ اللہ تعالی یقول: (کَاَنَّہُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ) [الرحمن :۵۸] فأمّا الیاقوت فإنّہ حجر لو أدخلت فیہ سلکا، ثم استصفیتہ لأریتہ من ورا ئہ)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ نساء أھل الجنۃ، الحدیث: ۲۵۴۱، ج۴، ص۲۳۹.
3 ۔ عن أبي سعید الخد ري عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ الرجل لیتکیء في الجنۃ سبعین سنۃً قبل أن یتحول، ثم تأتیہ امرأتہ فتضرب علی منکبیہ، فینظر وجھہ فيخدّھا أصفی من المرآۃ، وإنّ أدنی لؤلؤۃ علیھا تضيء مابین المشرق والمغرب)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۱۷۱۵، ج۴، ص۱۵۰.
4 ۔ ((ثم یضع یدہ بین کتفیھا ثم ینظر إلی یدہ من صد رھا من وراء ثیابھا وجلد ھا ولحمھا)).''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في وصف نساء أھل الجنۃ، الحدیث: ۹۶، ج۴، ص۲۹۸.
5 ۔ عن شریح بن عبید رضي اللہ عنہ قال: قال کعب: ((لو أنّ ثوباً من ثیاب أھل الجنۃ لبس الیوم في الدنیا لصعق من ینظر إلیہ وما حملتہ أبصارُھم)). ''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في ثیابہم وحللہم، الحدیث: ۸۴، ج۴، ص۲۹۴.
مرد جب اس کے پاس جائے گا اسے ہر بار کوآری پائے گا، مگر اس کی وجہ سے مرد و عورت کسی کو کوئی تکلیف نہ ہوگی(1)، اگر کوئی حور سمندر میں تھوک دے تو اُس کے تھوک کی شیرینی کی وجہ سے سمندر شیریں ہوجائے۔(2) اور ایک روایت ہے کہ اگر جنت کی عورت سات سمندروں میں تھوکے تو وہ شہد سے زیادہ شیریں ہو جائیں۔(3)
جب کوئی بندہ جنت میں جائے گا تو اس کے سرہانے اور پائنتی(4) دو حوریں نہایت اچھی آواز سے گائیں گی، مگر اُن کا گانا یہ شیطانی مزامیر نہیں بلکہ اﷲ عزوجل کی حمد و پاکی ہوگا(5)، وہ ایسی خوش گُلو ہوں گی کہ مخلوق نے ویسی آواز کبھی نہ سنی ہوگی اور یہ بھی گائیں گی: کہ ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں، کبھی نہ مریں گے، ہم چَین والیاں ہیں، کبھی تکلیف میں نہ پڑیں گے، ہم راضی ہیں ناراض نہ ہوں گے، مبارک باد اس کے لیے جو ھمارا اور ہم اس کے ہوں۔(6) سر کے بال اور پلکوں اور بھَووں کے سوا جنتی کے بدن پر کہیں بال نہ ہوں گے، سب بے ریش ہوں گے، سُرمگیں آنکھیں، تیس برس کی عمر کے معلوم ہوں گے (7)، ۔۔۔
1 ۔ ((ولا یأتیھا مرۃ إلاّ وجدھا عذراء ما یفتر ذکرہ ولا یشتکي قبلھا)).
''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، الترغیب في الجنۃ ونعیمھا، الحدیث: ۹۶، ج۴، ص۲۹۸.
2 ۔ عن أنس بن مالک رضي اللہ عنہ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((لو أنّ حوراء بزقت في بحر لعذب ذلک البحر من عذوبۃ ریقھا)). ''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في وصف نساء أھل الجنۃ، الحدیث: ۹۸، ج۴، ص۲۹۹.
3 ۔ عن ابن عباس موقوفاً قال: ((لو أنّ امرأۃ من نساء أھل الجنۃ بصقت في سبعۃ أبحر لکانت تلک الأبحر أحلی من العسل)).
''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في وصف نساء أھل الجنۃ، الحدیث: ۹۹، ج۴، ص۲۹۹.
4 ۔ یعنی پیروں کی طرف۔
5 ۔ عن أبي أمامۃ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال:((ما من عبد یدخل الجنۃ إلاّ [ویجلس] وعند رأسہ وعند رجلیہ ثنتان من الحور العین یغنیان بأحسن صوت سمعہ الإنس والجن، ولیس بمزامیر الشیطان، ولکن بتحمید اللہ وتقدیسہ)).
''مجمع الزوائد''، کتاب أھل الجنۃ، باب ما جاء في نساء أھل الجنۃ... إلخ، الحدیث: ۱۸۷۵۹، ج۱۰، ص۷۷۴.
''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۷۴۷۸، ج۸، ص۹۵.
6 ۔ عن علي قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ في الجنۃ لمجتمعًا للحور العین یرفعن بأصوات لم یسمع الخلائق مثلھا، قال: یقلن: نحن الخالدات فلا نبید، ونحن الناعمات فلا نبأس، ونحن الراضیات فلا نسخط، طوبی لمن کان لنا وکنّا لہ)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في کلام حورالعین، الحدیث: ۲۵۷۳، ج۴، ص۲۵۵.
7 ۔ عن معاذ بن جبل أنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال:((یدخل أھل الجنۃ الجنۃ جرداً مرداً مکحّلین أبناء ثلاثین أو ثلاث وثلاثین سنۃ)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ماجاء في سن أھل الجنۃ، الحدیث: ۲۵۵۴، ج۴، ص۲۴۴. =
کبھی اس سے زیادہ معلوم نہ ہوں گے۔(1) ادنیٰ جنتی کے لیے اَ۸۰سّی ہزار خادم اور ۷۲بہتّربیبیاں ہوں گی اور اُن کو ایسے تاج ملیں گے کہ اس میں کا ادنیٰ موتی مشرق و مغرب کے درمیان روشن کر دے(2) اور اگر مسلمان اولاد کی خواہش کرے تو اس کا حمل اور وضع(3) اور پوری عمر (یعنی تیس سال کی)، خواہش کرتے ہی ایک ساعت میں ہو جائے گی۔(4) جنت میں نیند نہیں، کہ نیند ایک قسم کی موت ہے اور جنت میں موت نہیں۔(5) جنتی جب جنت میں جائیں گے ہر ایک اپنے اعمال کی مقدار سے مرتبہ پائے گا اور اس کے فضل کی حد نہیں۔ پھر اُنھیں دنیا کی ایک ہفتہ کی مقدار کے بعد اجازت دی جائے گی کہ اپنے پروردگار عزوجل کی زیارت کریں اور عرشِ الٰہی ظاہر ہوگا اور رب عزوجل جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں تجلّی فرمائے گا اور ان جنتیوں کے لیے منبر بچھائے جائیں گے، نورکے منبر، موتی کے منبر، یاقوت کے منبر، زَبرجَد کے منبر، سونے کے منبر، چاندی کے منبر اور اُن میں کا ادنیٰ مشک و کافور کے ٹیلے پر بیٹھے گا اور اُن میں ادنیٰ کوئی نہیں، اپنے گمان میں کرسی والوں کو کچھ اپنے سے بڑھ کر نہ سمجھیں گے اور خدا کا دیدار ایسا صاف ہوگا جیسے آفتاب اور چودھویں رات کے چاند کو ہر ایک اپنی اپنی جگہ سے دیکھتا ہے، کہ ایک کا دیکھنا
= عن أبي ہریرۃ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((یدخل أھل الجنۃ مرداً بیضاً جعاداً مکحّلین أبناء ثلاث وثلاثین ...إلخ)). ''المسند للامام احمد بن حنبل'' ، الحدیث: ۹۳۸۶، ج۳، ص۳۹۳ .
وفي روایۃ: عن معاذ بن جبل قال: قال نبي اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یبعث المؤمنون یوم القیامۃ جرداً مرداً مکحّلین بني ثلاثین سنۃ)). ''المسند للامام احمد بن حنبل''، الحدیث: ۲۲۰۸۵، ج ۸ ،ص۲۳۷.
1 ۔ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((من مات من أھل الجنۃ من صغیر أو کبیر یردون بني ثلاثین في الجنۃ لا یزیدون علیہا أبدا)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء مالأدنی أھل الجنۃ من الکرامۃ، الحدیث:۲۵۷۱، ج۴، ص ۲۵۴.
2 ۔ عن أبي سعید الخدري قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أدنی أھل الجنۃ منزلۃ الذي لہ ثمانون ألف خادم واثنتان وسبعون زوجۃ))... وقال: ((إنّ علیھم التیجان إنّ أدنی لؤلؤۃ منھا لتضيء ما بین المشرق والمغرب)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء ما لأدنی أھل الجنۃ من الکرامۃ، الحدیث: ۲۵۷۱، ج۴، ص۲۵۴.
3 ۔بچے کاماں کے پیٹ میں ٹھہر نا اور اس کی پیدائش۔
4 ۔ عن أبي سعید الخد ري قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((المؤمن إذا إشتھی الولد في الجنۃ کان حملہ ووضعہ وسنّہ في ساعۃ کما یشتھي)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء ما لأدنی أھل الجنۃ من الکرامۃ، الحدیث: ۲۵۷۲، ج۴، ص۲۵۴.
5 ۔ ((النوم أخو الموت، وأھل الجنۃ لا ینامون)). ''المعجم الأوسط '' للطبراني، الحدیث: ۹۱۹، ج۱، ص۲۶۶.
دوسرے کے لیے مانع نہیں اور اﷲ عزوجل ہر ایک پر تجلّی فرمائے گا، ان میں سے کسی کو فرمائے گا: اے فلاں بن فلاں! تجھے یاد ہے، جس دن تُو نے ایسا ایسا کیا تھا...؟! دنیا کے بعض مَعاصی یاد دلائے گا، بندہ عرض کریگا: تو اے رب! کیا تُو نے مجھے بخش نہ دیا؟ فرمائے گا: ہاں! میری مغفرت کی وسعت ہی کی وجہ سے تُو اِس مرتبہ کو پہنچا، وہ سب اسی حالت میں ہونگے کہ اَبر چھائے گا اور اُن پر خوشبو برسائے گا، کہ اُس کی سی خوشبو ان لوگوں نے کبھی نہ پائی تھی اور اﷲ عزوجل فرمائے گا: کہ جاؤ اُس کی طرف جو میں نے تمہارے لیے عزت تیار کر رکھی ہے، جو چاہو لو، پھر لوگ ایک بازار میں جائیں گے جسے ملائکہ گھیرے ہوئے ہیں، اس میں وہ چیزیں ہوں گی کہ ان کی مثل نہ آنکھوں نے دیکھی، نہ کانوں نے سنی، نہ قلوب پر ان کا خطرہ گزرا، اس میں سے جو چاہیں گے، اُن کے ساتھ کر دی جائے گی اور خریدوفروخت نہ ہوگی اور جنتی اس بازار میں باہم ملیں گے، چھوٹے مرتبہ والا بڑے مرتبہ والے کو دیکھے گا، اس کا لباس پسند کریگا، ہنوز گفتگو ختم بھی نہ ہوگی کہ خیال کریگا، میرا لباس اُس سے اچھا ہے اور یہ اس وجہ سے کہ جنت میں کسی کے لیے غم نہیں، پھر وہاں سے اپنے اپنے مکانوں کو واپس آئیں گے۔ اُن کی بیبیاں استقبال کریں گی اور مبارکباد دے کر کہیں گی کہ آپ واپس ہوئے اور آپ کا جمال اس سے بہت زائد ہے کہ ھمارے پاس سے آپ گئے تھے، جواب دیں گے کہ پروردگار جبّار کے حضور بیٹھنا ہمیں نصیب ہوا تو ہمیں ایسا ہی ہوجانا سزاوار تھا۔ (1) ۔۔۔۔
1 ۔ أخبر ني رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنّ أھل الجنۃ إذا دخلوھا نزلوا فیھا بفضل أعمالھم، ثم یؤذن في مقدار یوم الجمعۃ من أیام الدنیا، فیزورون ربھم ویبرز لھم عرشہ ویتبدّی لھم في روضۃ من ریاض الجنۃ، فتوضع لھم منابر من نور، ومنابر من لؤلؤ ، ومنابر من یاقوت، ومنابر من زبرجد، ومنابر من ذھب، ومنابر من فضۃ، ویجلس أدناھم وما فیھم من دَنِيِّ علی کثبان المسک والکافور، وما یرون أنّ أصحاب الکراسيّ بأفضل منھم مجلساً)). قال أبو ھریرۃ: قلت: یا رسول اللہ! وھل نری ربنا؟ قال: ((نعم، ھل تتمارون في رؤیۃ الشمس والقمر لیلۃ البدر؟)) قلنا: لا، قال: ((کذلک لا تتمارون في رؤیۃ ربکم، ولا یبقی في ذلک المجلس رجل إلاّ حاضَرہُ اللہ محاضرۃً حتی یقول للرجل منھم: یا فلان بن فلان! أتذکر یوم قلت کذا وکذا فیذکرہ ببعض غدراتہ في الدنیا، فیقول: یا رب! أفلم تغفر لي؟ فیقول: بلی فبسعۃ مغفرتي بلغت منزلتک ھذہ، فبینا ھم علی ذلک غشیتھم سحابۃ من فوقھم فأمطرت علیھم طیبا لم یجدوا مثل ریحہ شیأاً قط، ویقول ربنا: قوموا إلی ما أعددتُ لکم من الکرامۃ فخذوا ما اشتھیتم، فنأتي سوقا قد حفّت بہ الملائکۃ ما لم تنظر العیون إلی مثلہ ولم تسمع الآذان، ولم یخطر علی القلوب، فیحمل إلینا ما اشتھینا لیس یباع فیھا ولا یشتری، وفي ذلک السوق یلقی أھل الجنۃ بعضھم بعضا. قال: فیقبل الرجل ذو المنزلۃ المرتفعۃ فیلقی من ھو دونہ وما فیھم دَنِيُّ فیروعہ ما یری علیہ من اللباس فما ینقضي آخر حدیثہ حتی یتخیل علیہ ما ھو أحسن منہ، وذلک أنّہ لا ینبغي لأحد أن یحزن فیھا، ثم ننصرف إلی منازلنا فتتلقانا أزواجُنا فیقلنَ مرحباً وأھلاً لقد جئت وإنّ لک من الجمال أفضل ممّا فارقتنا علیہ، فیقول: إنّا جالسنا الیوم ربنا الجبار، وبحقّ لنا أن ننقلب بمثل ما انقلبنا)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في سوق الجنۃ، الحدیث:۲۵۵۸، ج۴، ص۲۴۶.
جنتی باہم ملنا چاہیں گے تو ایک کا تخت دوسرے کے پاس چلا جائے گا۔ (1)
اور ایک روایت میں ہے کہ ان کے پاس نہایت اعلیٰ درجہ کی سواریاں اور گھوڑے لائے جائیں گے اور ان پر سوار ہو کر جہاں چاہیں گے جائیں گے۔ (2) سب سے کم درجہ کا جو جنتی ہے اس کے باغات اور بیبیاں اور نعیم و خدّام اور تخت ہزار برس کی مسافت تک ہوں گے اور اُن میں اﷲ عزوجل کے نزدیک سب میں معزز وہ ہے جو اﷲ تعالیٰ کے وجہِ کریم کے دیدار سے ہر صبح و شام مشرّف ہوگا۔ (3) جب جنتی جنت میں جا لیں گے اﷲ عزوجل اُن سے فرمائے گا: کچھ اور چاہتے ہو جو تم کو دوں؟ عرض کریں گے: تُو نے ھمارے مونھ روشن کیے، جنت میں داخل کیا، جہنم سے نجات دی، اس وقت پردہ کہ مخلوق پر تھا اُٹھ جائے گا تو دیدارِ الٰہی سے بڑھ کر انھیں کوئی چیز نہ ملی ہوگی۔(4)
اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا زِیَارَۃَ وَجْھِکَ الْکَرِیْمِ بِجَاہِ حَبِیْبِکَ الرَّؤُوفِ الرَّحِیْمِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالتسلیمُ، اٰمین!
1 ۔ عن أنس رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إذا دخل أھل الجنۃ الجنۃ فیشتاق الإخوان بعضھم إلی بعض فیسیر سریر ھذا إلی سریر ھذا وسریر ھذا إلی سریر ھذا حتی یجتمعا جمیعا...إلخ)).
''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في تزاورہم ومراکبہم، الحدیث: ۱۱۵، ج۴، ص۳۰۴.
2 ۔ عن أبي أیوب قال: أتی النبي صلی اللہ علیہ وسلم أعرابيّ فقال: یا رسول اللہ إني أحب الخیل أفي الجنۃ خیل؟ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إن أدخلتَ الجنۃ أتیت بفرس من یاقوتۃ لہ جناحان فحملتَ علیہ، ثم طار بک حیث شئتَ)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ،باب ماجاء فيصفۃ خیل الجنۃ،الحدیث:۲۵۵۳، ج۴، ص۲۴۴.
وفي روایۃ: عن شفي بن ماتع أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ من نعیم أھل الجنۃ أنّھم یتزاورون علی المطایا والنجب وإنّھم یؤتون في الجنۃ بخیل مسرجۃ ملجمۃ لا تروث ولا تبول فیرکبونھا حتی ینتھوا حیث شاء اللہ عزوجل)).
''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في تزاورہم ومراکبہم، الحدیث:۱۱۴، ج۴، ص۳۰۳.
3 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ أدنی أھل الجنۃ منزلۃ لمن ینظر إلی جنانہ وزوجاتہ ونعیمہ وخدمہ وسررہ مسیرۃ ألف سنۃ، وأکرمہم علی اللہ من ینظر إلی وجہہ غدوۃ وعشیۃ)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب منہ، الحدیث: ۲۵۶۲، ج۴، ص۲۴۹.
4 ۔ عن صہیب عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إذا دخل أھل الجنۃ الجنۃ، قال: یقول اللہ تبارک وتعالی: تریدون شیأاً أزیدکم؟ فیقولون: ألم تبیض وجوہنا؟ ألم تدخلنا الجنۃ وتنجنا من النار؟ قال: فیکشف الحجاب، فما أعطوا شیأا أحب إلیہم من النظر إلی ربہم عز وجل)).
''صحیح المسلم''، کتاب الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المومنین في الآخرۃ...إلخ، ص۱۱۰، الحدیث:۱۸۱.
و''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في رؤیۃ الرب تبارک وتعالٰی، الحدیث:۲۵۶۱، ج۴، ص۲۴۸.
یہ ایک مکان ہے کہ اُس قہار و جبار کے جلال و قہر کا مظہر ہے۔ جس طرح اُس کی رحمت و نعمت کی انتہا نہیں کہ انسانی خیالات و تصورات جہاں تک پہنچیں وہ ایک شَمّہ (1) ہے اُس کی بے شمار نعمتوں سے، اسی طرح اس کے غضب و قہر کی کوئی حد نہیں کہ ہر وہ تکلیف و اذیت کہ اِدراک کی (2) جائے، ایک ادنیٰ حصہ ہے اس کے بے انتہا عذاب کا۔ قرآنِ مجید و احادیث میں جو اُس کی سختیاں مذکور ہیں، ان میں سے کچھ اِجمالاً بیان کرتا ہوں، کہ مسلمان دیکھیں اور اس سے پناہ مانگیں اور اُن اعمال سے بچیں جن کی جزا جہنم ہے۔ حدیث میں ہے کہ جو بندہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے، جہنم کہتا ہے: اے رب! یہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے، تُو اس کو پناہ دے۔ (3) قرآن مجید میں بکثرت ارشاد ہوا کہ جہنم سے بچو! دوزخ سے ڈرو! (4) ھمارے آقا و مولیٰ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم کو سکھانے کے لیے کثرت کے ساتھ اُس سے پناہ مانگتے۔ (5)
جہنم کے شرارے (پھول)(6) اُونچے اُونچے محلوں کی برابر اُڑیں گے، گویا زَرد اُونٹوں کی قطار کہ پیہم آتے رہیں گے۔ (7)
1 ۔ قلیل مقدار۔
2 ۔ سوچی یا سمجھی۔
3 ۔ عن أبي ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((مااستجارعبد من النار سبع مرات في یوم إلاّ قالت النار: یاربّ إنّ عبدک فلانا قد استجارک مني فأجرہ...إلخ)).''مسند أبي یعلی''، الحدیث: ۶۱۶۴، ج۵، ص۳۷۹.
4 ۔ ( فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ اُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ)، پ۱، البقرۃ: ۲۴.
(یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ)، پ۲۸، التحریم: ۶.
5 ۔ عن أبي ہریرۃ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنّہ کان یتعوّذ من عذاب القبر وعذاب جہنم...إلخ)).
وفي روایۃ: عن ابن عباس أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یعلّمہم ھذا الدعاء کما یعلمہم السورۃ من القرآن، یقول: ((قولوا: اللہم إنّا نعوذ بک من عذاب جہنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنۃ المسیح الدجال وأعوذ بک من فتنۃ المحیا والممات)).
''صحیح مسلم''، کتاب المساجد، باب ما یستعاذ منہ في الصلاۃ، الحدیث: ۱۳۳ (۵۸۸۔۵۹۰)، ص۲۹۸.
6 ۔ چنگاریاں۔
7 ۔ (اِنَّہَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِکَاَنَّہ، جِمَالَۃٌ صُفْرٌ)، پ۲۹، المرسلٰت: ۳۲ ۔ ۳۳.
عن ابن مسعود رضي اللہ عنہ:(اِنَّہَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ)، قال: أما إنّي لست أقول کالشجرۃ ولکن کالحصون والمدائن). ''الترغیب والترہیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في ظلمتہا وسوادہا وشررہا، الحدیث: ۳۱، ص۲۵۲.
آدمی اور پتھر اُس کا ایندھن ہے (1)، یہ جو دنیا کی آگ ہے اُس آگ کے ستّر جُزوں میں سے ایک جُز ہے۔ (2) جس کو سب سے کم درجہ کا عذاب ہوگا، اسے آگ کی جوتیاں پہنا دی جائیں گی، جس سے اُس کا دماغ ایسا کَھولے گا جیسے تانبے کی پتیلی کَھولتی ہے، وہ سمجھے گا کہ سب سے زیادہ عذاب اس پر ہو رہا ہے، حالانکہ اس پر سب سے ھلکا ہے(3)، سب سے ھلکے درجہ کا جس پر عذاب ہوگا، اس سے اﷲ عزوجل پوچھے گا: کہ اگرساری زمین تیری ہو جائے تو کیا اس عذاب سے بچنے کے لیے تو سب فدیہ (4) میں دیدے گا؟ عرض کریگا: ہاں! فرمائے گا: کہ جب تُو پُشتِ آدم میں تھا تو ہم نے اِس سے بہت آسان چیز کا حکم دیا تھا کہ کفر نہ کرنا مگر تُو نے نہ مانا۔ (5) جہنم کی آگ ہزار برس تک دھونکائی گئی، یہاں تک کہ سُرخ ہوگئی، پھر ہزار برس اور، یہاں تک کہ سفید ہو گئی، پھر ہزار برس اور، یہاں تک کہ سیاہ ہو گئی، تو اب وہ نِری سیاہ ہے (6)،
1 ۔ (فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ)، پ۱، البقرۃ: ۲۴.
(یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ)، پ ۲۸، التحریم: ۶.
2 ۔ عن أبي ھریرۃ أنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((نارکم ھذہ ۔التي یوقد ابن آدم۔ جزء من سبعین جزء اً من حرجھنم)). 'صحیح مسلم''، کتاب صفۃ الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب في شدۃ حر نار جہنم...إلخ، الحدیث: ۲۸۴۳، ص۱۵۲۳.
3 ۔ عن النعمان بن بشیر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ أھون أھل النار عذاباً مَن لہ نعلان وشِرَاکانِ من نار، یغلي منھما دماغہ کما یغلي المرجل، ما یری أنّ أحداً أشد منہ عذاباً، وإنّہ لأھونھم عذاباً)).
''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب أہون أھل النار عذاباً، الحدیث:۳۶۴(۲۱۲)، ص۱۳۴.
4 ۔ وہ مال یا روپیہ، جسے دے کر قیدی رِہا ہو۔ ''فیروز اللغات''، ص۹۸۲۔
5 ۔ عن أنس یرفعہ: ((أنّ اللہ تعالی یقول لِأھونِ أھل النار عذاباً: لو أنّ لک ما في الأرض من شيء کنتَ تفتدي بہ؟ قال: نعم، قال: فقد سألتک ما ھو أھون من ھذا وأنت في صلب آدم، أن لا تشرک بي فأبیتَ إلاّ الشرک)).
''صحیح البخاري''، کتاب أحادیث الأنبیائ، باب خلق آدم صلوات اللہ علیہ وذرّیتہ، الحدیث:۳۳۳۴، ج۲، ص ۴۱۳.
6 ۔ عن أبي ھریرۃ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((أوقد علی النار ألف سنۃ حتی احمرت، ثم أوقد علیھا ألف سنۃ حتی ابیضت، ثم أوقد علیھا ألف سنۃ حتی اسودت، فھي سوداء مظلمۃ)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم، باب منہ، الحدیث: ۲۶۰۰، ج۴، ص۲۶۶.
وفي روایۃ: عن أبي ہریرۃ رضي اللہ عنہ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((أوقد علی النار ألف سنۃ حتی احمرّت، ثم أوقد علیہا ألف سنۃ حتی ابیضّت، ثم أوقد علیہا ألف سنۃ حتی اسودت، فہي سوداء کاللیل المظلم)).
''الترغیب والترہیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في ظلمتہا وسوادہا وشررہا، الحدیث: ۲۸، ص۲۵۱.
جس میں روشنی کا نام نہیں۔ (1)جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے قسم کھا کر عرض کی: کہ اگر جہنم سے سوئی کے ناکے کی برابر کھول دیا جائے تو تمام زمین والے سب کے سب اس کی گرمی سے مر جائیں اور قسم کھا کر کہا : کہ اگر جہنم کا کوئی داروغہ (2) اھلِ دنیا پر ظاہر ہو تو زمین کے رہنے والے کُل کے کُل اس کی ہَیبت سے مر جائیں اور بقسم بیان کیا: کہ اگر جہنمیوں کی زنجیر کی ایک کڑی دنیا کے پہاڑوں پررکھ دی جائے تو کانپنے لگیں اور انہیں قرار نہ ہو، یہاں تک کہ نیچے کی زمین تک دھنس جائیں۔ (3) یہ دنیا کی آگ (جس کی گرمی اور تیزی سے کون واقف نہیں کہ بعض موسم میں تو اس کے قریب جانا شاق ہوتا ہے، پھر بھی یہ آگ) خدا سے دعا کرتی ہے کہ اسے جہنم میں پھر نہ لے جائے (4)، مگر تعجب ہے انسان سے کہ جہنم میں جانے کا کام کرتا ہے اور اُس آگ سے نہیں ڈرتا جس سے آگ بھی ڈرتی اور پناہ مانگتی ہے۔
1 ۔ عن أنس رضي اللہ عنہ قال: تلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہذہ الآیۃ: (وَقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ)، فقال: ((أوقد علیہا ألف عام حتی احمرت، وألف عام حتی ابیضت، وألف عام حتی اسودت، فہي سوداء مظلمۃ لا یضيء لہبہا)).
وفي روایۃ: ((لا یطفأ لہبہا)). ''الترغیب والترہیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في ظلمتہا وسوادہا وشررہا، الحدیث:۳۰، ص۲۵۱۔۲۵۲.
2 ۔ یعنی محافظ و نگران۔
3 ۔ عن عمر بن الخطاب قال: جاء جبریل إلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم في حین غیر حینہ الذي کان یأتیہ فیہ، فقام إلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ((یا جبریل ما لي أراک متغیر اللون؟ فقال:......والذي بعثک بالحق لو أنّ قدر ثقب إبرۃ فتح من جھنم لمات من في الأرض کلھم جمیعاً من حرّہ...... والذي بعثک بالحق لو أنّ خازناً من خزنۃ جھنم برز إلی أھل الدنیا فنظروا إلیہ لمات من في الأرض کلّھم من قبح وجھہ، ومن نتن ریحہ. والذي بعثک بالحق لو أنّ حلقۃ من حلقۃ سلسلۃ أھل النار التي نعت اللہ في کتابہ وضعت علی جبال الدنیا لارفضّت وما تقارّت حتی تنتھي إلی الأرض السفلی))، ملتقطاً.
''مجمع الزوائد''، کتاب صفۃ النار، الحدیث: ۱۸۵۷۳، ج۱۰، ص۷۰۶۔۷۰۷.
''المعجم الأوسط'' للطبراني، ج۲، ص۷۸، الحدیث:۲۵۸۳.
4 ۔ عن أنس بن مالک قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ نارکم ھذہ جزء من سبعین جزء اً من نارجھنم، ولولا أنّھا أطفئت بالماء مرتین ما انتفعتم بھا، وإنّھا لتدعو اللہ عزوجل أن لا یعیدھا فیھا)).
''سنن ابن ماجہ''، أبواب الزھد، باب صفۃ النار، الحدیث:۴۳۱۸، ج۴، ص۵۲۸.
دوزخ کی گہرائی کو خدا ہی جانے کہ کتنی گہری ہے، حدیث میں ہے کہ اگر پتھر کی چٹان جہنم کے کنارے سے اُس میں پھینکی جائے تو ستّر برس میں بھی تہ تک نہ پہنچے گی(1) اور اگر انسان کے سر برابر سیسہ کا گولا آسمان سے زمین کو پھینکا جائے تو رات آنے سے پہلے زمین تک پہنچ جائے گا، حالانکہ یہ پانسو(2) برس کی راہ ہے۔ (3) پھر اُس میں مختلف طبقات و وَادی اور کوئیں ہیں(4)، بعض وادی ایسی ہیں کہ جہنم بھی ہر روز ستّر مرتبہ یا زیادہ اُن سے پناہ مانگتا ہے(5)، یہ خود اس مکان کی حالت ہے، اگر اس میں اور کچھ عذاب نہ ہوتا تو یہی کیا کم تھا! مگر کفّار کی سَرْزَنِش کے لیے اور طرح طرح کے عذاب مہیّا کیے، لوہے کے ایسے بھاری گُرزوں سے فرشتے ماریں گے کہ اگر کوئی گُرز زمین پر رکھ دیا جائے تو تمام جن و انس جمع ہو کر اُس کو اُٹھا نہیں سکتے۔(6) بُختی اونٹ ۱ ؎ کی
1 ۔ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ الصخرۃ العظیمۃ لتلقی من شفیر جھنم فتھوي فیھا سبعین عاما وما تفضي إلی قرارہا)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم، باب ما جاء في صفۃ قعرجھنم، الحدیث: ۲۵۸۴، ج۴، ص۲۶۰.
2 ۔ یعنی پانچ سو ۔
3 ۔ عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لوأنّ رصاصۃً مثل ھذہ ۔وأشار إلی مثل الجُمجُمۃ۔ أرسلت من السماء إلی الأرض وھي مسیرۃ خمسمائۃ سنۃ لبلغت الأرض قبل اللیل...إلخ)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم، باب منہ، الحدیث: ۲۵۹۷، ج۴، ص۲۶۵.
4 ۔ کان من أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم من قدمائہم قال: ((إنّ في جہنم سبعین ألف واد، في کلّ واد سبعون ألف شعب، في کل شعب سبعون ألف دار، فيکل دار سبعون ألف بیت، في کل بیت سبعون ألف بئر... إلخ)).
''الترغیب والترہیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في أودیتہا وجبالہا، الحدیث: ۴۰، ج۴، ص۲۵۴.
5 ۔ عن علي رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((... وادٍ في جھنم تتعوذ منہ جھنم کلّ یوم سبعین مرۃ...إلخ)).
''البعث والنشور'' للبیہقي، الحدیث: ۴۶۴، ج۱، ص۳۹۸. ''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، الترھیب من النار... إلخ، الحدیث: ۳۷، ج۴، ص۲۵۳.
وفي روایۃ: عن أبي ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((...وادٍ في جہنم یتعوّذ منہ جہنّم کل یوم أربعمائۃ مرۃ...إلخ)). ''سنن ابن ماجہ''، کتاب السنۃ، باب الانتفاع بالعلم والعمل، الحدیث: ۲۵۶، ج۱، ص۱۶۷.
وفي روایۃ: ''المعجم الکبیر'' للطبراني، عن ابن عباس عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ في جہنم لوادیاً یستعیذ جہنم من ذلک الوادي فيکل یوم أربعمائۃ مرۃ)). الحدیث: ۱۲۸۰۳، ج۱۲، ص۱۳۶.
6 ۔ عن أبي سعید خدري رضي اللہ تعالی عنہ، عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنّہ قال: ((لو أنّ مقمعاً من حدید وضع في الأرض، فاجتمع لہ الثقلان ما أقلّوہ من الأرض)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۱۲۳۳، ج۴، ص۵۸.
۱ ؎ ۔ ایک قسم کے اونٹ ہیں، جو سب اونٹوں سے بڑے ہوتے ہیں۔
گردن برابر بچھو اور اﷲ (عزوجل) جانے کس قدر بڑے سانپ کہ اگر ایک مرتبہ کاٹ لیں تو اس کی سوزش، درد، بے چینی ہزار برس تک رہے(1)، تیل کی جلی ہوئی تلچھٹ (2) کی مثل سخت کَھولتا پانی پینے کو دیا جائے گا، کہ مونھ کے قریب ہوتے ہی اس کی تیزی سے چہرے کی کھال گر جائے گی۔ (3) سر پر گرم پانی بہایا جائے گا۔ (4)
جہنمیوں کے بدن سے جو پیپ بہے گی وہ پلائی جائے گی (5)، خاردار تُھوہڑ (6) کھانے کو دیا جائے گا (7)، وہ ایسا ہو گا کہ
1 ۔ لم نَفُز بتخریج عبارۃ المتن ولکن وجدنا الحدیث في ''المسند'' للإمام أحمد: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ في النار حیّات کأمثال أعناق البخت تلسع إحداہنّ اللسعۃ فیجد حموتہا أربعین خریفاً، وإنّ في النار عقارب کأمثال البغال الموکفۃ تلسع إحداہنّ اللسعۃ فیجد حموتہا أربعین سنۃ)).
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث:۱۷۷۲۹، ج۶، ص۲۱۷.
2 ۔ جلی ہوئی تہ۔
3 ۔ (وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَاءٍ کَالْمُہْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ)، پ۱۵، الکہف: ۲۹.
في روایۃ ''سنن الترمذي'' عن أبي سعید عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم في قولہ: (کَالْمُہْلِ)، قال: ((کعکر الزیت، فإذا قرّبہ إلی وجہہ سقطت فروۃُ وجہہ فیہ)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جہنم، باب ما جاء في صفۃ شراب أھل النار، الحدیث: ۲۵۹۰، ج۴، ص۲۶۱.
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۱۶۷۲، ج۴، ص۱۴۱.
4 ۔ (یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُ وْسِہِمُ الْحَمِیْمُ) پ ۱۷، الحج:۱۹.
في ''تفسیر الطبري''، ج۹، ص۱۲۵: عن أبي ہریرۃ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم، قال: ((إنّ الحمیم لیُصبّ علی رؤوسھم)). و''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم، باب ما جاء في صفۃ شراب، الحدیث:۲۵۹۱، ج۴، ص۲۶۲.
5 ۔ (وَیُسْقٰی مِنْ مَّاءٍ صَدِیْدٍ)، پ۱۳، ابراھیم : ۱۶.
في ''الدر المنثور''، ج۵، ص۱۵، تحت الآیۃ، عن قتادۃ رضي اللہ عنہ في قولہ: (وَیُسْقَی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ)، قال:(ماء یسیل من بین لحمہ وجلدہ).
6 ۔ ایک قسم کا خار دار زہریلا درخت جس میں سے دودھ نکلتا ہے۔ ''فرہنگ آصفیہ''، ج۱، ص۶۴۸۔
7 ۔ (اِنَّ شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ طَعَامُ الْأَثِیْمِ)، پ۲۵، الدخان: ۴۳ ۔ ۴۴.
(وَطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ) پ۲۹، المزمل:۱۳. في ''تفسیر الطبري''، تحت ہذہ الآیۃ، عن مجاہد قولہ: (وَطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ)، قال: (شجرۃ الزقوم). ج۱۲، ص۲۸۹.
اگر اس کا ایک قطرہ دنیا میں آئے تو اس کی سوزش و بدبُو تمام اھلِ دنیا کی معیشت برباد کردے (1) اور وہ گلے میں جا کر پھندا ڈالے گا(2)، اس کے اتارنے کے لیے پانی مانگیں گے، اُن کو وہ کُھولتا پانی دیا جائے گا کہ مونھ کے قریب آتے ہی مونھ کی ساری کھال گل کر اس میں گِر پڑے گی، اور پیٹ میں جاتے ہی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا (3) اور وہ شوربے کی طرح بہہ کر قدموں کی طرف نکلیں گی (4)، پیاس اس بلا کی ہوگی کہ اس پانی پر ایسے گریں گے جیسے تونس (5) کے مارے ہوئے اونٹ(6)، پھر کفّار جان سے عاجز آکرباہم مشورہ کر کے مالک علیہ الصلاۃ والسلام داروغہ جہنم (7) کو پکاریں گے: کہ اے مالک (علیہ الصلاۃ والسلام)! تیرا رب ھمارا قصہ تمام کر دے، مالک علیہ الصلاۃ والسلام ہزار برس تک جواب نہ دیں گے، ہزار برس کے بعد فرمائیں گے: مجھ سے کیا کہتے ہو،
1 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لو أنّ قطرۃ من الزقوم قطرت في دار الدنیا لأفسدت علی أھل الدنیا معایشھم، فکیف بمن یکون طعامہ)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم ، باب ماجاء في صفۃ شراب أھل النار، الحدیث: ۲۵۹۴، ج۴، ص۲۶۳.
2 ۔ في''تفسیر الطبري''، ج۱۲، ص۲۸۹: عن ابن عباس، في قولہ:(وَطَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ) قال: (شوک یأخذ بالحلق، فلا یدخل ولا یخرج).
3 ۔ (وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَاءٍ کَالْمُہْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ بِئْسَ الشَّرَابُ).پ۱۵، الکہف:۲۹.
عن أبي الدرداء قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یلقی علی أھل النار الجوع، فیعدل ما ھم فیہ من العذاب، فیستغیثون فیغاثون بطعام من ضریع، لا یسمن ولا یغني من جوع، فیستغیثون بالطعام فیغاثون بطعام ذي غصۃ، فیذکرون أنّھم کانوا یجیزون الغصص في الدنیا بالشّراب فیستغیثون بالشراب، فیدفع إلیھم الحمیم بکلالیب الحدید، فإذا دنت من وجوھھم شوّت وجوھھم، فإذا دخلت بطونھم قطّعت ما في بطونھم...إلخ)).''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم، باب ماجاء في صفۃ طعام أھل النار، الحدیث:۲۵۹۵، ج۴، ص۲۶۴.
4 ۔ في''تفسیر الطبري'' پ۱۳، ابراہیم:۱۶۔۱۷، ج۷، ص۴۳۰، عن أبي أمامۃ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم في قولہ: (وَیُسْقٰی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ یَتَجَرَّعُہُ)، فإذا شَربہ قَطَّع أمعاء َہ حتی یخرج من دُبُرہ، یقول اللہ عز وجل:(وَسُقُوْا مَائً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاءَ ہُمْ)، ویقول:(وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَاءٍ کَالْمُہْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ بِئْسَ الشَّرَابُ).
5 ۔ یعنی انتہائی شدید پیاس۔
6 ۔ عن ابن عباس رضي اللہ عنھما في قولہ: ((شُرْبَ الْہِیْمِ)، قال: کشرب الإبل العطاش).
وفي روایۃ: عن مجاہد في قولہ تعالی: ((شُرْبَ الْہِیْمِ)، قال: شرب الہیم ہو داء یکون في الإبل تشرب ولا تروی). ''البدورالسافرۃ'' للسیوطي، باب طعام أھل النار وشرابہم، الحدیث:۱۴۴۶، ص۴۲۸.
7 ۔ جہنم کے محافظ۔
اُس سے کہو جس کی نافرمانی کی ہے!، ہزار برس تک رب العزت کو اُس کی رحمت کے ناموں سے پکاریں گے، وہ ہزار برس تک جواب نہ دے گا، اس کے بعد فرمائے گا تویہ فرمائے گا: ''دُور ہوجاؤ! جہنم میں پڑے رہو! مجھ سے بات نہ کرو!'' اُس وقت کفّار ہر قسم کی خیر سے نا اُمید ہو جائیں گے (1) اور گدھے کی آواز کی طرح چلّا کر روئیں گے (2)، ابتداء آنسو نکلے گا، جب آنسو ختم ہو جائیں گے تو خون روئیں گے، روتے روتے گالوں میں خندقوں کی مثل گڑھے پڑ جائیں گے، رونے کا خون اور پیپ اس قدر ہو گا کہ اگر اس میں کشتیاں ڈالی جائیں تو چلنے لگیں۔ (3)
جہنمیوں کی شکلیں ایسی کرِیہ ہوں گی کہ اگر دنیا میں کوئی جہنمی اُسی صورت پر لایا جائے تو تمام لوگ اس کی بدصورتی اور بدبُو کی وجہ سے مر جائیں۔ (4) اور جسم ان کا ایسا بڑا کر دیا جائے گا کہ ایک شانہ سے دوسرے تک تیز سوار کے لیے تین ۳دن کی راہ ہے۔ (5)
1 ۔ فیقولون: ادعوا مالکاً، فیقولون: (یَا مَالِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ)، قال: فیجیبھم (اِنَّکُمْ مَاکِثُونَ) [الزخرف:۷۷] قال الأعمش: نُبّئتُ أنّ بین دعائھم وبین إجابۃ مالک إیاھم ألف عام، قال: فیقولون: ادعوا ربکم فلا أحد خیر من ربکم، فیقولون: (رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَالِّیْنَ رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْہَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظَالِمُوْنَ) قال: فیجیبھم (اخْسَئُوْا فِیْہَا وَلَا تُکَلِّمُوْنِ) [المؤمنون: ۱۰۶۔۱۰۸] قال: فعند ذلک یئسوا من کل خیر).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم، باب ما جاء في صفۃ طعام أھل النار، الحدیث:۲۵۹۵، ج۴، ص۲۶۴.
2 ۔ قال: (فواللہ ما نبس القوم بعدھا بکلمۃ وما ھو إلاّ الزفیر والشھیق في نار جھنم، فشبہ أصوا تھم بأصوات الحمیر أوّلھا زفیر وآخرھا شھیق). ''شرح السنۃ''، کتاب الفتن، باب صفۃ النار وأھلھا، الحدیث: ۴۳۱۶، ج۷، ص۵۶۵۔۵۶۶.
3 ۔ عن أنس بن مالک قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یرسل البکاء علی أھل النار، فیبکون حتی ینقطع الدموع ثم یکون الدم حتی یصیر في وجوھھم کھیئۃ الأخدود لو أرسلت فیہ السفن لجرت)).
''سنن ابن ماجہ''، کتاب الزھد، باب صفۃ النار، الحدیث: ۴۳۲۴، ج۴، ص۵۳۱.
4 ۔ عن عبد اللہ بن عمرو رضي اللہ عنھما قال: ((لو أنّ رجلا من أھل النار أخرج إلی الد نیا لمات أھل الد نیا من وحشۃ منظرہ، ونتن ریحہ)). ''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، فصل في عظم أھل النار...إلخ، الحدیث: ۶۸، ج۴، ص۲۶۳.
5 ۔ عن أبي ھریرۃ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((مابین منکبي الکافر مسیرۃ ثلا ثۃ أیام للراکب المسرع)).
''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار، الحدیث: ۶۵۵۱، ج۴، ص۲۶۰.'
ایک ایک داڑھ اُحد کے پہاڑ برابر ہوگی(1)، کھال کی موٹائی بیالیس ذراع(2) کی ہوگی(3)، زبان ایک کوس(4) دو کوس تک مونھ سے باہر گھسٹتی ہوگی کہ لوگ اس کو روندیں گے (5)، بیٹھنے کی جگہ اتنی ہوگی جیسے مکہ سے مدینہ تک (6) اور وہ جہنم میں مونھ سکوڑے ہوں گے کہ اوپر کا ہونٹ سمٹ کر بیچ سر کو پہنچ جائے گا اور نیچے کا لٹک کر ناف کو آلگے گا۔ (7)
ان مضامین سے یہ معلو م ہوتا ہے کہ کفّار کی شکل جہنم میں انسانی شکل نہ ہوگی کہ یہ شکل اَحسنِ تقویم(8) ہے(9) اور یہ اﷲ عزوجل کو محبوب ہے، کہ اُس کے محبوب کی شکل سے مشابہ ہے(10)، بلکہ جہنمیوں کا وہ حُلیہ ہے جو اوپر مذکور ہوا، پھر آخر میں کفّار کے لیے یہ ہوگا کہ اس کے قد برابر آگ کے صندوق میں اُسے بند کریں گے، پھر اس میں آگ بھڑ کائیں گے اور آگ کا قُفل(11) لگایا جائے گا، پھر یہ صندوق آگ کے دوسرے صندوق میں رکھا جائے گا اور ان دونوں کے درمیان آگ جلائی جائے گی اور اس میں بھی آگ کا قفل لگایا جائے گا، پھر اِسی طرح اُس کو ایک اور صندوق میں رکھ کر اور آگ کا قفل لگا کر آگ میں ڈال دیا جائے گا، تو اب ہر
1 ۔ عن أبي ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((ضرس الکافر مثل أحد)).
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۸۴۱۸، ج۳، ص۲۳۱۔
2 ۔ یعنی بیالیس ہاتھ۔
3 ۔ عن أبي ھریرۃ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ غلظ جلد الکافر اثنان وأربعین ذراعا)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم، باب ما جاء في عظم أھل النار، الحدیث:۲۵۸۶، ج۴، ص۲۶۰.
4 ۔ یعنی راستہ کی حد ِ معین کا نام جس کی مقدار بعض کے نزدیک چار ہزار گز اور بعض کے نزدیک تین ہزار گزہے۔ ''فرھنگ آصفیہ''، ج۳، ص۵۹۰۔
5 ۔ عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ((إنّ الکافر لیسحب لسانہ الفرسخ والفرسخین یتوطّأہ الناس)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم، باب ما جاء في عظم أھل النار، الحدیث: ۲۵۸۹، ج۴، ص۲۶۱.
6 ۔ ((وإنّ مجلسہ من جھنم کما بین مکۃ والمدینۃ)).
''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم، باب ما جاء في عظم أھل النار، الحدیث: ۲۵۸۶، ج۴، ص۲۶۰.
7 ۔ عن أبي سعید الخد ري عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: (((وَہُمْ فِیْہَا کَالِحُوْنَ) [المؤمنون:۱۰۴] قال: تشویہ النار فتقلّص شفتُہ العلیا حتی تبلغ وسط رأسہ وتسترخي شفتُہ السفلی حتی تضرب سرّتہ)). ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ جھنم، باب ما جاء في صفۃ الطعام أھل النار، الحدیث: ۲۵۹۶، ج۴، ص۲۶۴.
8 ۔ اچھی صورت۔
9 ۔ (لَقَدْخَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ) پ۳۰، التین: ۴. ''بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا ''۔ (ترجمہ'' کنز الایمان'')
10 ۔ ''دقائق الأخبار''، ص۳، و''معارج النبوۃ''، رکن دوم، ص۴۱۔
11 ۔ تالا۔
کافر یہ سمجھے گا کہ اس کے سوا اب کوئی آگ میں نہ رہا(1)، اور یہ عذاب بالائے عذاب ہے اور اب ہمیشہ اس کے لیے عذاب ہے۔
جب سب جنتی جنت میں داخل ہولیں گے اور جہنم میں صرف وہی رہ جائیں گے جن کو ہمیشہ کے لیے اس میں رہنا ہے، اس وقت جنت و دوزخ کے درمیان موت کو مینڈھے کی طرح لا کر کھڑا کریں گے، پھر مُنادی (2) جنت والوں کو پکارے گا، وہ ڈرتے ہوئے جھانکیں گے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہاں سے نکلنے کا حکم ہو، پھر جہنمیوں کو پکارے گا،وہ خوش ہوتے ہوئے جھانکیں گے کہ شاید اس مصیبت سے رہائی ہو جائے، پھر ان سب سے پوچھے گا کہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے: ہاں! یہ موت ہے، وہ ذبح کر دی جائے گی اور کہے گا: اے اھلِ جنت! ہمیشگی ہے، اب مرنا نہیں اور اے اھلِ نار! ہمیشگی ہے، اب موت نہیں، اس وقت اُن کے لیے خوشی پر خوشی ہے اور اِن کے لیے غم بالائے غم۔ (3)
نَسْألُ اللہَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِي الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ.
1 ۔ عن سوید بن غفلۃ رضي اللہ عنہ قال: ((إذا أراد اللہ أن یُنسی أھل النار جعل للرجل منھم صندوقا علی قدرہ من نار لا ینبض منہ عِرق إلاّ فیہ مسمار من نار، ثم تضرم فیہ النار، ثم یقفل بقفل من نار، ثم یجعل ذلک الصندوق في صندوق من نار، ثم یضرم بینھما نار، ثم یقفل بقفل من نار، ثم یجعل ذلک الصندوق في صندوق من نار، ثم یضرم بینھما نار ثم یقفل، ثم یلقی أو یطرح في النار فذلک قولہ: (مِنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللہُ بِہٖ عِبَادَہٗ یَا عِبَادِ فَاتَّقُوْنِ) [الزمر:۱۶] وذلک قولہ: (لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّہُمْ فِیْہَا لَا یَسْمَعُوْنَ)[الأنبیاء :۱۰۰] قال: فما یری أنّ في النار أحداً غیرہ)). ''البعث والنشور'' للبیہقي، ج۲، ص۶۱، الحدیث: ۵۲۴. ''الترغیب والترھیب''، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، الترھیب من النار أعاذنا اللہ... إلخ، الحدیث: ۹۲، ج۴، ص۲۶۸.
2 ۔ پکارنے والا
3 ۔ في روایۃ ''البخاري'': کتاب الرقاق: عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إذا صار أھل الجنۃ إلی الجنۃ وأھل النار إلی النار جيء بالموت حتی یجعل بین الجنۃ والنار ۔ ، وفي روایۃ ''البخاري'': کتاب التفسیر: ۔ یؤتی بالموت کہیئۃ کبش أملح، فینادي مناد: یا أھل الجنۃ، ۔ وفي روایۃ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الزھد، ۔ یا أھل الجنۃ فیطّلعون خائفین وجِلین أن یخرجوا من مکانھم الذي ھم فیہ، ثم یقال: یا أھل النار فیطّلعون مستبشرین فرحین أن یخرجوا من مکانھم الذي ھم فیہ، فیقال: ھل تعرفون ھذا؟ قالوا: نعم، ھذا الموت ۔ وفي روایۃ ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، ۔فیذبح، ثم یقول: یا أھل الجنۃ خلود فلا موت، ویا أھل النار خلود فلا موت ۔ وفي روایۃ ''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق: ۔ فیزداد أھل الجنۃ فرحاً إلی فرحہم، ویزداد أھل النار حزناً إلی حزنھم)). ''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار، ج۴، ص۲۶۰، الحدیث: ۶۵۴۸. ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، ج۳، ص۲۷۱، الحدیث: ۴۷۳۰. و''سنن ابن ماجہ''، کتاب الزھد، باب صفۃ النار، الحدیث: ۴۳۲۷، ج۴، ص۵۳۲.
ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے اُن سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو۔ ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں، جیسے اﷲ عزوجل کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا(1)، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔(2) عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقہ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں(3)، نہ وہ کہ کوردہ(4) اور جنگل اور پہاڑوں
1 ۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ'': (إنّ الإیمان في الشرع ھو التصدیق بما جاء بہ من عند اللہ تعالی، أي: تصدیق النبي بالقلب في جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ بہ من عند اللہ تعالی)۔ ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث الإیمان، ص۱۲۰۔
في ''المسامرۃ'' و''المسایرۃ''، الکلام فيمتعلق الإیمان، ص۳۳۰: (الإیمان (ھو التصدیق بالقلب فقط)، أي: قبول القلب وإذعانہ لما علم بالضرورۃ أنّہ من دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم، بحیث تعلمہ العامۃ من غیر افتقار إلی نظر ولا استدلال کالوحدانیۃ والنبوۃ والبعث والجزاء ووجوب الصلاۃ والزکاۃ وحرمۃ الخمر ونحوہا، ویکفي الإجمال فیما یلاحظ إجمالاً کالإیمان بالملا ئکۃ والکتب والرسل، ویشترط التفصیل فیما یلاحظ تفصیلا کجبریل ومیکائیل وموسی وعیسی والتوراۃ والإنجیل، حتی إنّ من لم یصدق بواحد معین منھا کافر (و) القول بأن مسمی الإیمان ھذا التصدیق فقط (ہو المختار عند جمہور الأشاعرۃ) وبہ قال الماتریدي).
''الأشباہ والنظائر''، الفن الثاني، کتاب السیر، ص۱۵۹.
''البحر الرائق''، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۵، ص ۲۰۲.
''الدر المختار'' کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۲.
2 ۔ في ''الہندیۃ''، کتاب السیر، الباب في أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۳: (إذا لم یعرف الرجل أنّ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم آخر الأنبیاء علیہم وعلی نبینا السلام فلیس بمسلم؛ لأنّہ من الضروریات)۔
''الأشباہ والنظائر''، الفن الثاني، کتاب السیر، ص۱۶۱.
3 ۔ وفسرت الضروریات بما یشترک في علمہ الخواص والعوام، أقول: المراد العوام الذین لہم شغل بالدین واختلاط بعلمائہ۔۔۔ إلخ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الطھارۃ، باب الوضوئ، ج۱، ص۱۸۱۔
4 ۔ یعنی کم آباد اور چھوٹا گاؤں، جسے کوئی نہ جانتا ہواور نہ ہی وہاں تعلیم کا کوئی سلسلہ ہو۔
کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا، البتہ ان کے مسلمان ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں۔
عقیدہ (۱): اصلِ ایمان صرف تصدیق کا نام ہے(1)، اعمالِ بدن تو اصلاً جزو ایمان نہیں(2)، رہا اقرار، اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر تصدیق کے بعد اس کو اظہار کا موقع نہ ملا تو عند اﷲ(3) مومن ہے اور اگر موقع ملا اور اُس سے مطالبہ کیا گیا اور اقرار نہ کیا تو کافر ہے اور اگر مطالبہ نہ کیا گیا تو احکام دنیا میں کافر سمجھا جائے گا، نہ اُس کے جنازے کی نماز پڑھیں گے، نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں گے، مگر عند اﷲ مومن ہے اگر کوئی امر خلافِ اسلام ظاہر نہ کیا ہو۔(4)
عقیدہ (۲): مسلمان ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ زبان سے کسی ایسی چیز کا انکار نہ کرے جو ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ باقی باتوں کا اقرار کرتا ہو، اگرچہ وہ یہ کہے کہ صرف زبان سے انکار ہے دل میں انکار نہیں(5)،
1 ۔ في''المسایرۃ'': (ھو التصدیق بالقلب فقط)۔
''فتاوی رضویہ'' ، جلد ۱۴، ص ۱۲۴ پر ہے: (ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے)۔
2 ۔ في'' شرح العقائد النسفیۃ ''، مبحث الإیمان: ص۱۲۰۔۱۲۴: (أنّ الأعمال غیر داخلۃ في الإیمان لما مرّ من أنّ حقیقۃ الإیمان ھو التصد یق)۔
في ''الحدیقۃ الندیۃ ''، ج۱، ص۲۸۲: (والأعمال بالجوارح خارجۃ عن حقیقتہ أي: حقیقۃ الإیمان).
3 ۔ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک۔
4 ۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، وشرحہ ''النبراس''، ص۲۵۰: ''((إنما الإقرار شرط لإجراء الأحکام في الدنیا) من حرمۃ الدم والمال وصلاۃ الجنازۃ علیہ ودفنہ في مقابر المسلمین وہہنا مذ ہب ثالث وہو أن الإقرار لیس برکن إلا عند الطلب فمن طلب منہ الإ قرار فسکت من غیر عذر فہو کافر عند اللہ سبحانہ (لما أن التصد یق بالقلب أمر باطن لا بد لہ من علا مۃ فمن صدق بقلبہ ولم یقر بلسانہ فھو مؤمن عند اللہ سبحانہ وإن لم یکن مؤمناً في أحکام الدنیا) وھذا إذا لم یکن مباشراً لعلامات التکذیب وإلا فھو کافر عند اللہ أیضاً خلافاً لبعضھم)۔
وفي ''الدر المختار'': والإقرار شرط لإجراء الأحکام الدنیویۃ بعد الاتفاق علی أنّہ یعتقد متی طولب بہ أتی بہ، فإن طولب بہ فلم یقر فھو کفر عناد). ''الدرالمختار''، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۲.
5 ۔ وفي ''الدر المختار'': (من ہزل بلفظ کفر ارتد، وإن لم یعتقدہ للاستخفاف فہو ککفر العناد)۔
کہ بلا اِکراہِ شرعی(1) مسلمان کلمہ کفر صادر نہیں کر سکتا، وہی شخص ایسی بات منہ پر لائے گا جس کے دل میں اتنی ہی وقعت ہے کہ جب چاہا اِنکار کر دیا اور ایمان تو ایسی تصدیق ہے جس کے خلاف کی اصلاً گنجاءش نہیں۔(2)
مسئلہ(۱): اگر معاذ اﷲ کلمہ کفر جاری کرنے پر کوئی شخص مجبور کیا گیا، یعنی اُسے مار ڈالنے یا اُس کا عضو کاٹ ڈالنے کی صحیح دھمکی دی گئی کہ یہ دھمکانے والے کو اس بات کے کرنے پر قادر سمجھے تو ایسی حالت میں اس کو رخصت دی گئی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ دل میں وہی اطمینانِ ایمانی ہو جو پیشتر تھا ، مگر افضل جب بھی یہی ہے کہ قتل ہو جائے اور کلمہ کفر نہ کہے۔ (3)
= وفي شرحہ ''رد المحتار'': قولہ: (من ہزل بلفظ کفر) أي تکلم بہ باختیارہ غیر قاصد معناہ، وھذا لا ینافي ما مر من أنّ الإیمان ہو التصدیق فقط أو مع الإقرار؛ لأنّ التصدیق وإن کان موجوداً حقیقۃ لکنہ زائل حکماً؛ لأنّ الشارع جعل بعض المعاصي أمارۃ علی عدم وجودہ کالہزل المذکور، وکما لو سجد لصنم أو وضع مصحفاً في قاذورۃ فإنہ یکفر وإن کان مصدّقاً؛ لأنّ ذلک في حکم التکذیب، کما أفادہ في ''شرح العقائد''، وأشار إلی ذلک بقولہ: (للاستخفاف) فإن فعل ذلک استخفافاً واستہانۃ بالدین فہو أمارۃ عدم التصدیق، ولذا قال في ''المسایرۃ'': وبالجملۃ فقد ضم إلی التصدیق بالقلب، أو بالقلب واللسان فی تحقیق الإیمان أمور، الإخلال بہا إخلال بالإیمان اتفاقاً کترک السجود لصنم وقتل نبی والاستخفاف بہ، وبالمصحف والکعبۃ، وکذا مخالفۃ أو إنکار ما أجمع علیہ بعد العلم بہ؛ لأنّ ذلک دلیل علی أن التصدیق مفقود، ثم حقّق أن عدم الإخلال بہذہ الأمور أحد أجزاء مفہوم الإیمان، فہو حینئذ التصدیق والإقرار وعدم الإخلال بما ذکر، بدلیل أنّ بعض ہذہ الأمور تکون مع تحقّق التصدیق والإقرار۔ ''رد المحتار''، ج۶، ص۳۴۳۔
في ''الخانیۃ'': (رجل کفر بلسانہ طائعاً، وقلبہ علی الإیمان یکون کافراً ولا یکون عند اللہ تعالی مؤمناً)۔
''فتاوی قاضی خان''، کتاب السیر، ج۲، ص۴۶۷۔ انظر للتفصیل ''المسایرۃ''، ص۳۳۷۔۳۵۷۔
1 ۔ بغیر شرعی مجبوری کے۔
2 ۔ في''شرح العقائد النسفیۃ ''، ص۱۲۱: (إنّ التصدیق رکن لا یحتمل السقوط أصلاً)۔
انظر ''النبراس''، أن الإیمان في الشرع ھو التصدیق، ص۲۴۹۔۲۵۰.
''فتاوی رضویہ'' میں ہے : (بلا اکراہ کلمہ کفر بولنا خود کفر، اگرچہ دل میں اس پر اعتقاد نہ رکھتا ہو ، اور عامہ علماء فرماتے ہیں کہ: اِس سے نہ صرف مخلوق کے آگے بلکہ عند اللہ بھی کافر ہوجائے گا کہ ُاس نے دین کو معاذ اللہ کھیل بنایا اور اُس کی عظمت خیال میں نہ لایا) ۔
''فتاوی رضویہ'' ، ج۱۴، ص۳۹۳ ۔ و ج۲۷، ص۱۲۵۔
اسی میں ہے: (جو بلا اکراہ کلمہ کفر بکے بلا فرقِ نیت مطلقا ًقطعاً یقینا اِجماعاً کافر ہے )۔ ''فتاوی رضویہ'' ، ج۱۴، ص۶۰۰ ۔
3 ۔ في ''رد المحتار''، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۶: ((ومکرہ علیھا) أي: علی الردۃ، والمراد الإکراہ بملجیء من قتل أو قطع عضو أو ضرب مبرّح فإنّہ یرخص لہ أن یظھر ما أمر بہ علی لسانہ وقلبہ مطمئن بالإیمان).
مسئلہ (۲): عملِ جوارح (1) داخلِ ایمان نہیں(2)، البتہ بعض اعمال جو قطعاً مُنافی ایمان ہوں اُن کے مرتکب کو کافر کہا جائے گا، جیسے بُت یا چاند سورج کو سجدہ کرنا اور قتلِ نبی یا نبی کی توہین یا مصحَف شریف یا کعبہ معظمہ کی توہین اور کسی سنّت کو ھلکا بتانا، یہ باتیں یقینا کُفر ہیں۔(3) ۔۔۔۔
وفي ''التنویر'' و''الدر المختار'': (و) إن أکرہ (علی الکفر) باللہ تعالی أو سب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ''مجمع'' و''قدروي''۔ (بقطع أو قتل رخص لہ أن یظہر ما أمر بہ) علی لسانہ ویوري (وقلبہ مطمئن بالإیمان) ثم إن وری لا یکفر وبانت امرأتہ قضاء لا دیانۃ، وإن خطر ببالہ التوریۃ ولم یور کفر وبانت دیانۃ وقضاء ''نوزال'' و''جلالیۃ'' (ویؤجر لو صبر)۔
وفي شرحہ ''رد المحتار'': قولہ: (ویؤجر لو صبر) أي: یؤجر أجر الشہداء لما روي أنّ خبیباً وعماراً ابتلیا بذلک فصبر خبیب حتی قتل، فسماہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم سید الشہداء وأظہر عمار وکان قلبہ مطمئناً بالإیمان، فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((فإن عادوا فعُد))، أي: إن عاد الکفار إلی الإکراہ فعد أنت إلی مثل ما أتیت بہ أولاً من إجراء کلمۃ الکفر علی اللسان وقلبک مطمئن بالإیمان، ابن کمال وقصتھما شہیرۃ)۔ ''رد المحتار''، کتاب الإکراہ،ج۹، ص۲۲۶۔۲۲۸۔
وفي ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الإکراہ، الباب الثاني... إلخ، ج۵، ص۳۸: (وإن أکرہ علی الکفر باللہ تعالی أو سبّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم بقتل أو قطع، رخص لہ إظھار کلمۃ الکفر والسبّ فإن أظھر ذلک وقلبہ مطمئن بالإیمان فلا یأثم وإن صبر حتی قتل کان مثابا).
1 ۔ اعضاء کے عمل۔
2 ۔ قد سبق تخریج ہذہ المسألۃ في العقیدۃ الأولی، ص۱۷۳.
3 ۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ'': ص۱۰۹ ۔ ۱۱۰ :(إنّ حقیقۃ الإیمان ہوالتصدیق القلبي فلا یخرج المؤمن عن الاتصاف بہ إلاّ بما ینافیہ، ومجرد الإقدام علی الکبیرۃ لغلبۃ شہوۃ أوحمیّۃ أو أنفۃ أوکسل خصوصاً إذا اقترن بہ خوف العقاب ورجاء العفو والعزم علی التوبۃ لاینافیہ نعم إذا کان بطریق الاستحلال والاستخفاف کان کفراً لکونہ علامۃ للتکذیب ولا نزاع في أنّ من المعاصي ما جعلہ الشارع أمارۃ للتکذیب وعلم کونہ کذلک بالأدلۃ الشرعیۃ کسجود الصنم وإلقاء المصحف في القاذورات والتلفظ بکلمات الکفر ونحو ذلک مما تثبت بالأدلۃ أنّہ کفر).
وفي ''المسامرۃ'' و''المسایرۃ''، ص۳۵۴ :(یکفر من استخفّ بنبي أو بالمصحف أو بالکعبۃ، وہو مقتضٍ لاعتبار تعظیم کل منھا ؛ لأنّ اللہ جعلہ في رتبۃ علیا من التعظیم غیر أنّ الحنفیۃ اعتبروا من التعظیم المنافي للاستخفاف بما عظمہ اللہ تعالی ما لم یعتبرہ غیرہم، (ولاعتبار التعظیم المنافي للاستخفاف) المذکور (کفّر الحنفیۃ) أي: حکموا بالکفر (بألفاظ کثیرۃ وأفعال تصدر من المتہتکین) الذین یجترؤن بہتک حرمات دینیۃ (لدلالتہا) أي: لدلالۃ تلک الألفاظ والأفعال (علی
یوہیں بعض اعمال کفر کی علامت ہیں، جیسے زُنّار(1) باندھنا، سر پر چُوٹیا(2) رکھنا، قَشْقَہْ(3) لگانا، ایسے افعال کے مرتکب کو فقہائے کرام کافر کہتے ہیں۔(4) تو جب ان اعمال سے کفر لازم آتا ہے تو ان کے مرتکب کو از سرِ نو اسلام لانے اور اس کے بعد اپنی عورت سے تجدیدِ نکاح کا حکم دیا جائے گا۔(5)
عقیدہ (۳): جس چیز کی حِلّت، نصِّ قطعی سے ثابت ہو(6) اُس کو حرام کہنا اور جس کی حُرمت یقینی ہو اسے حلال بتانا
الاستخفاف بالدین، کالصلاۃ بلا وضوء عمداً، بل) قد حکموا بالکفر (بالمواظبۃ علی ترک سنۃ استخفافاً بہا بسبب أنّہا إنّما فعلہا النبي زیادۃ، أو استقباحہا) بالجر عطفاً علی المواظبۃ: أي: بل قد کفّر الحنفیۃ من استقبح سنۃ (کمن استقبح من) إنسان (آخر جعل بعض العمامۃ تحت حلقہ أو) استقبح منہ (إخفاء شاربہ).
وانظر ''منح الروض الأزہر''، ص۱۵۲، و''رد المحتار''، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۳۔
1 ۔ وہ دھاگہ یا ڈوری جو ہندو گلے سے بغل کے نیچے تک ڈالتے ہیں، اور عیسائی ، مجوسی اور یہودی کمر میں باندھتے ہیں۔
''اردو لغت تاریخی اصول پر'' ، ج۱۱، ص۱۶۲۔
2 ۔ وہ چند بال جو بچے کے سر پر منت مان کر ہندو رکھتے ہیں ۔ ''فرہنگ آصفیہ''، ج۱، ص۱۰۴۔
3 ۔ پیشانی پر صندل یا زعفران کے دو نشانات، ٹیکا، تلک جو ہندو ماتھے پر لگاتے ہیں۔ ''اردو لغت تاریخی اصول پر'' ، ج۱۴، ص۲۵۴۔
4 ۔ في ''منح الروض الأ زہر'' للقاریئ، فصل في الکفر صریحا وکنایۃ، ص۱۸۵: (ولو شد الزنار علی وسطہ أو وضع الغل علی کتفہ فقدکفر، أي: إذا لم یکن مکرہاً في فعلہ، وفي ''الخلاصۃ'': ولو شد الزنار قال أبو جعفر الأستروشني: إن فعل لتخلیص الأساری لا یکفر، وإلا کفر)۔
''فتاوی رضویہ'' میں ہے: ''اگر وہ وضع اُن کفار کا مذہبی دینی شعار ہے جیسے زنار ، قشقہ، چُٹیا، چلیپا، تو علماء نے اس صورت میں بھی حکم کفر دیا کما سمعت آنفاً''۔ (''فتاوی رضویہ'' ، جلد۲۴، ص ۵۳۲) ۔
''فتاوی رضویہ'' میں ہے :''ماتھے پر قشقہ تِلک لگانا یاکندھے پر صلیب رکھنا کفر ہے ''۔ (''فتاوی رضویہ ''، جلد۲۴، ص ۵۴۹) ۔
''فتاوی رضویہ'' میں ہے : '' قشقہ ضرور شعارِ کفر ومنافیِ اسلام ہے جیسے زُنار، بلکہ اس سے زائد کہ وہ جسم سے جدا ایک ڈورا ہے جو اکثر کپڑوں کے نیچے چھپا رہتا ہے اور یہ خاص بدن پر اور بدن میں بھی کہاں چہرے پر ، اور چہرے میں کس جگہ ماتھے پر جو ہر وقت چمکے اور دور سے کھلے حرفوں میں منہ پر لکھا دکھائے کہ ھذا من الکافرین ''۔ (''فتاوی رضویہ'' ، ج۱۴، ص۳۹۳) ۔
5 ۔ في ''العقود الدریۃ''، باب الردۃ والتعزیر، ج۱، ص۱۰۱: (وقال في ''البزازیۃ'': ولو ارتد ۔والعیاذ باللہ تعالی۔ تحرم امرأتہ ویجدّد النکاح بعد إسلامہ ویعید الحج۔۔۔ إلخ)۔
6 ۔ جس چیزکا حلال ہونا ایسی صریح واضح اور یقینی دلیل سے ہو جس میں تاویل وتوجیہ کی کوئی گنجاءش ہی نہ ہو ۔
کفر ہے، جبکہ یہ حکم ضروریاتِ دین سے ہو، یا منکر اس حکمِ قطعی سے آگاہ ہو۔ (1)
مسئلہ (۱): اُصولِ عقائد میں تقلید جاءز نہیں بلکہ جو بات ہو یقینِ قطعی کے ساتھ ہو، خواہ وہ یقین کسی طرح بھی حاصل ہو، اس کے حصول میں بالخصوص علمِ استدلالی(2) کی حاجت نہیں، ہاں! بعض فروعِ عقائد میں تقلید ہوسکتی ہے(3) ، ۔
1 ۔ في ''منح الروض الأزہر''، استحلال المعصیۃ، ص۱۵۲: (إذا اعتقد الحرام حلالاً، فإن کان حرمتہ لعینہ وقد ثبت بدلیل قطعي یکفر وإلاّ فلا بأن تکون حرمتہ لغیرہ أو ثبت بدلیل ظنيّ، وبعضھم لم یفرّق بین الحرام لعینہ ولغیرہ، فقال: من استحلّ حراماً وقد علم في دین النبي صلی اللہ علیہ وسلم تحریمہ کنکاح ذوي المحارم أو شرب الخمر أو أکل میتۃ أو دم أو لحم خنزیر من غیر ضرورۃ فکافر).
فیہ في فصل في الکفر صریحا وکنایۃ، ص۱۸۸: (ومن استحلّ حراماً وقد علم تحریمہ في الدین: أي: ضرورۃ، کنکاح المحارم أو شرب الخمر أو أکل المیتۃ والدم ولحم الخنزیر أي: في غیر حال الاضطرار ومن غیر إکراہ بقتل أو ضرب فظیع لا یحتملہ، وعن محمد رحمہ اللہ بدون الاستحلال ممن ارتکب کفر، أي: في روایۃ شاذۃ عنہ ولعلھا محمولۃ علی مرتکب نکاح المحارم فإن سیاق الحال یدل علی الاستحلال لبقیۃ المحرمات، واللہ أعلم بالأحوال، قال: والفتوی علی التردید إن استعمل مستحلاً کفر وإلاّ، لا)۔
في ''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۴۶۸: (وقیل: إنّ من أحل ما حرم اللہ أو حرم ما أحل اللہ أو جحد بشیء مما أنزل اللہ فقد کفر باللہ وحبط عملہ المتقدم)۔
''فتاوی رضویہ'' میں ہے : ''کتب عقائد میں تصریح ہے کہ تحلیل حرام وتحریم حلال دونوں کفرہیں یعنی جو شے مباح ہو جسے اللہ ورسول نے منع نہ فرمایا اسے ممنوع جاننے والا کافر ہے جبکہ اس کی اباحت وحلت ضروریاتِ دین سے ہو یا کم از کم حنفیہ کے طور پر قطعی ہو ورنہ اس میں شک نہیں کہ بے منع خدا و رسول منع کرنے والا شریعتِمطہرہ پر افتراء کرتاہے اور اللہ عزوجل پر بہتان اٹھاتاہے اور اس کا ادنی درجہ فسق شدید وکبیرہ وخبیثہ ہے ۔
قال اللہ تعالٰی: (وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلَالٌ وَّہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللہِ الْکَذِبَ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ )۔ اور جو کچھ تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں (اس کے متعلق یہ نہ کہا کرو کہ )یہ حلال او ریہ حرام ہے تاکہ تم اللہ تعالی پر جھوٹ باندھو (یاد رکھو) جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ (ت)
وقال اﷲ تعالٰی (نیز اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا۔ ت): (اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ)۔
اللہ تعالیٰ کے ذمے وہی لوگ جھوٹا الزام لگاتے ہیں (جو درحقیقت) ایمان نہیں رکھتے (ت)۔ (''الفتاوی الرضویۃ ''، ج۲۱، ص۱۷۵) .
2 ۔ وہ علم جو دلیل کا محتاج ہو۔
3 ۔ في ''تفسیر روح البیان''، پ۱۷، الأنبیاء، تحت الآیۃ: ۵۳۔۵۴، ج۵، ص۴۹۱: (قَالُوْا وَجَدْنَا اٰبَاءَ نَا لَہَا عَابِدِیْنَ قَالَ لَقَدْ کُنْتُمْ اَنْتُمْ وَاٰبَاؤُکُمْ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ) واعلم أنّ التقلید قبول قول الغیر بلا دلیل وہو جاءز في الفروع والعملیات ولا یجوز
ـــ
في أصول الدین والاعتقادیات بل لا بد من النظر والاستدلال لکن إیمان المقلد صحیح عند الحنفیۃ والظاہریۃ وہو الذی اعتقد جمیع ما وجب علیہ من حدوث العالم ووجود الصانع وصفاتہ وإرسال الرسل وما جاؤوا بہ حقاً من غیر دلیل؛ لأنّ النبي علیہ السلام قبل إیمان الأعراب والصبیان والنسوان والعبید والإماء من غیر تعلیم الدلیل ولکنہ یأثم بترک النظر والاستدلال لوجوبہ علیہ).
وفي ''تفسیر روح البیان''، پ۲۵، الزخرف، تحت الآیۃ: ۲۲: (بَلْ قَالُوْا اِنَّا وَجَدْنَا اٰبَاءَ نَا عَلٰی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰی اٰثَارِہِمْ مُّہْتَدُوْنَ) ج۸، ص۳۶۱: وفیہ ذم للتقلید وہو قبول قول الغیر بلا دلیل وہو جاءز في الفروع والعملیات ولا یجوز في أصول الدین والاعتقادیات بل لا بد من النظر والاستدلال لکن إیمان المقلد صحیح عند الحنفیۃ والظاہریۃ وہو الذی اعتقد جمیع ما وجب علیہ من حدوث العالم ووجود الصانع وصفاتہ وإرسال الرسل وما جاؤا بہ حقاً من غیر دلیل؛ لأن النبی علیہ السلام قبل إیمان الأعراب والصبیان والنسوان والعبید والإماء من غیر تعلیم الدلیل ولکن المقلد یأثم بترک النظر والاستدلال لوجوبہ علیہ، والمقصود من الاستدلال ہو الانتقال من الأثر إلی المؤثر ومن المصنوع إلی الصانع تعالی بأي وجہ کان، لا ملاحظۃ الصغری والکبری وترتیب المقدمات للإنتاج علی قاعدۃ المعقول فمن نشأ في بلاد المسلمین وسبح اللہ عند رؤیۃ صنائعہ فہو خارج عن حد التقلید کما في فصل الخطاب والعلم الضروري أعلی من النظري؛ إذ لا یزول بحال وہو مقدمۃ الکشف والعیان وعند الوصول إلی الشہود لا یبقی الاحتیاج إلی الواسطۃ.
''فتاوی رضویہ''، ج۲۹، ص۲۱۵ میں ہے: ''جس طرح فقہ میں چار اصول ہیں کتاب سنت، اجماع قیاس،عقائد میں چار اصول ہیں کتاب، سنت ، سواد اعظم، عقل صحیح، تو جو اِن میں ایک کے ذریعہ سے کسی مسئلہ عقائد کو جانتا ہے دلیل سے جانتا ہے نہ کہ بے دلیل محض تقلیداً اھل سنت ہی سواد اعظم اسلام ہیں،تو ان پر حوالہ دلیل پر حوالہ ہے نہ کہ تقلید۔ یوں ہی اقوالِ آئمہ سے استناد اسی معنیٰ پر ہے کہ یہ اھلسنت کا مذہب ہے ولھذا ایک دو دس بیس علماء کبا ر ہی سہی اگر جمہور و سواد اعظم کے خلاف لکھیں گے اس وقت ان کے اقوال پر نہ اعتماد جاءز نہ استناد کہ اب یہ تقلید ہوگی اور وہ عقائد میں جاءز نہیں،اس دلیل اعنی سواد اعظم کی طرف ہدایت اﷲو رسول جل و علا وصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی کمال رحمت ہے،ہر شخص کہاں قادر تھا کہ عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت کرے عقل تو خود ہی سمعیات میں کافی نہیں ناچار عوام کو عقائد میں تقلید کرنی ہوتی،لھذا یہ واضح روشن دلیل عطا فرمائی کہ سوادِ اعظم مسلمین جس عقیدہ پر ہو وہ حق ہے اس کی پہچان کچھ دشوار نہیں،صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم کے وقت میں تو کوئی بدمذہب تھا ہی نہیں اور بعد کو اگرچہ پیدا ہوئے مگر دنیا بھر کے سب بدمذہب ملا کر کبھی اھلسنت کی گنتی کو نہیں پہنچ سکےﷲالحمد فقہ میں جس طرح اجماع اقوی الاَدِلّہ ہے کہ اجماع کے خلاف کا مجتہد کو بھی اختیار نہیں اگرچہ وہ اپنی رائے میں کتاب و سنت سے اس کا خلاف پاتا ہو یقیناً سمجھا جائے گا کہ یا فہم کی خطا ہے یا یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے اگرچہ مجتہد کو اس کا ناسخ نہ معلوم ہویونہی اجماع امت تو شے عظیم ہے سواد اعظم یعنی اھلسنت کا کسی مسئلہ عقائد پر اتفاق یہاں اقوی الادلہ ہے کتاب و سنت سے اس کا خلاف سمجھ میں آئے تو فہم کی غلطی ہے حق سوادِ اعظم کے ساتھ ہے اور ایک معنی پر یہاں اقوی الادلہ عقل ہے
اِسی بنا پر خود اھلِ سنّت میں دو گروہ ہیں: ''ماتُرِیدیہ'' کہ امام عَلم الہدیٰ حضرت ابو منصور ماتریدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ(1) کے متّبع ہوئے اور ''اَشاعرہ'' کہ حضرت امام شیخ ابو الحسن اشعری رحمہ اﷲ تعالیٰ(2) کے تابع ہیں، یہ دونوں جماعتیں اھلِ سنّت ہی کی ہیں اور دونوں حق پر ہیں، آپس میں صرف بعض فروع کا اختلاف ہے۔ (3)
کہ اور دلائل کی حجیت بھی اسی سے ظاہر ہوئی ہے مگر محال ہے کہ سواد اعظم کا اتفاق کسی برہان صحیح عقلی کے خلاف ہویہ گنتی کے جملے ہیں مگر بحمدہ تعالیٰ بہت نافع و سود مند، فعضوا علیہا بالنواجذ ( پس ان کو مضبوطی سے داڑھوں کے ساتھ پکڑلو ۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم''۔
1 ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام ابو منصور محمد بن محمد بن محمود ماتریدی سمرقندی حنفی ہے آپ رحمۃ اللہ علیہ '' امام المتکلمین'' اور ''امام الھدی'' کے لقب سے مشہور ہیں ، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے عقائدِ مسلمین کی وضاحت اور باطل عقیدہ والوں کی تردید میں کئی کتب تصنیف فرمائی جن میں سے بعض کتابوں کے نام یہ ہیں : '' کتاب التوحید''، ''کتاب المقالات'' ، '' کتاب ردّ دلائل الکعبی'' اور ''کتاب تاویلات القرآن'' ، آپ رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے ساتھیوں کو ''سمرقند''کے ایک محلہ ''ماتُرید'' کی طرف نسبت کی وجہ سے ''ماتریدی'' کہا جاتا ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۳۳۳ ہجری میں ہوا ، آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار سمرقند میں ہے ۔ ( ''الفوائد البھیۃ'' ، ص ۲۵۵ ، ''ہدیۃ العارفین''، ج۲، ۳۶۔۳۷، ''معجم المؤلفین ''، ج ۳ ، ص ۶۹۲)۔
2 ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام ابو الحسن علی بن اسماعیل بن اسحاق بن اسماعیل بن عبداللہ بن بلال ہے آپ رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ نسب صحابی ئرسول حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے جا ملتا ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ اکثر متکلمینِ اھل سنت کے رئیس ہیں، آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اصحاب کو ''اشاعرہ'' کہا جاتا ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی کئی کتب تصنیف فرمائی جن میں سے چند کے نام یہ ہیں: ''الفصول فی الرد علی الملحدین والخارجین عن الملۃ'' ،''الرد علی المجسمۃ'' ، '' کتاب مقالات الاسلامیین واختلاف المصلین''، آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۳۲۴ ہجری میں بغداد میں ہوا۔
(''النبراس''، ص۲۰، ''سیر أعلام النبلائ''، ج۱۱، ص۵۴۱ ''معجم المؤلفین''، ج۲، ص۴۰۵، ''الأعلام'' للزرکلي، ج۴، ص۲۶۳)۔
3 ۔ في ''البریقۃ المحمودیۃ''، الباب الأول، النوع الثاني، ج۱، ص۲۰۰: (عن عبد اللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنھما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((لیأتین علی أمتي ما أتی علی بني إسرائیل حذو النعل بالنعل حتی إن کان منھم من أتی أمہ علانیۃ لکان في أمتي من یصنع ذلک وإن بني إسرائیل تفرقت علی ثنتین وسبعین ملۃ وتفترق أمتي علی ثلاث وسبعین ملۃ کلہم في النار إلاّ ملۃ واحدۃ)) قالوا: ومن ہي یا رسول اللہ قال: ((ما أنا علیہ وأصحابي)) وہي أھل السنۃ والجماعۃ من الماتریدیۃ والأشاعرۃ، فإن قیل: کل فرقۃ تدعي أنّہا أھل السنۃ والجماعۃ، قلنا: ذلک لا یکون بالدعوی بل بتطبیق القول والفعل وذلک بالنسبۃ إلی زماننا إنما یمکن بمطابقۃ صحاح الأحادیث ککتب الشیخین وغیرھما من الکتب التي أجمع علی وثاقتہا کما في ''المناوي''، فإن قیل: فما حال الاختلاف بین الأشاعرۃ والماتریدیۃ؟ قلنا: لاتحاد أصولھما لم یعد مخالفۃ معتدۃ؛ إذ خلاف کل فرقۃ لا یوجب تضلیل الأخری ولا تفسیقہا فعدتا ملۃ واحدۃ، وأما الخلاف في الفرعیات وإن کان کثرۃ اختلاف صورۃ لکن مجتمعۃ في عدم مخالفۃ الکل کتاباً نصاً ولا سنۃ قائمۃ ولا)۔
اِن کا اختلاف حنفی، شافعی کا سا ہے، کہ دونوں اھلِ حق ہیں، کوئی کسی کی تضلیل و تفسیق نہیں کرسکتا۔(1)
مسئلہ (۲): ایمان قابلِ زیادتی و نقصان نہیں، اس لیے کہ کمی بیشی اُس میں ہو تی ہے جو مقدار یعنی لمبائی، چوڑائی، موٹائی یا گنتی رکھتا ہو اور ایمان تصدیق ہے اور تصدیق، کَیف یعنی ایک حالتِ اِذعانیہ۔(2) بعض آیات میں ایمان کا زیادہ ہونا جو فرمایا ہے اُس سے مراد مُؤمَن بہ ومُصدََّق بہ ہے، یعنی جس پر ایمان لایا گیا اور جس کی تصدیق کی گئی کہ زمانہ نزولِ قرآن میں اس کی کوئی حد معیّن نہ تھی، بلکہ احکام نازل ہوتے رہتے اور جو حکم نازل ہوتا اس پر ایمان لازم ہوتا، نہ کہ خود نفسِ ایمان بڑھ گَھٹ جاتا ہو، البتہ ایمان قابلِ شدّت و ضُعف ہے کہ یہ کَیف کے عوارض سے ہیں۔ (3) ۔۔
في ''شرح المقاصد''، الفصل الثالث: في الأسماء والأحکام، المبحث الثامن حکم المؤمن والکافر والفاسق، ج۳، ص۴۶۴۔۴۶۵: (والمشہور من أھل السنۃ في دیار ''خراسان'' و''العراق'' و''الشام'' وأکثر الأقطار ہم الأشاعرۃ أصحاب أبي الحسن، علي بن إسماعیل بن إسحٰق بن سالم بن إسماعیل بن عبد اللہ بن بلال بن أبي بردۃ بن أبي موسی الأشعري صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أول مَن خالف أبا علي الجبائي، ورجع عن مذہبہ إلی السنّۃ، أي: طریقۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم والجماعۃ أي: طریقۃ الصحابۃ. وفي دیار ''ما وراء النہر'' الماتریدیۃ أصحاب أبي منصور الماتریدي تلمیذ أبي نصر العیاض، تلمیذ أبي بکر الجوزجاني صاحب أبي سلیمان الجوزجاني، تلمیذ محمد بن الحسن الشیباني رحمہ اللہ و''ماترید'' من قری ''سمرقند''، وقد دخل الآن فیہا بین الطائفتین اختلاف في بعض الأصول، کمسألۃ التکوین، ومسألۃ الاستثناء في الإیمان، ومسألۃ إیمان المقلد وغیر ذلک. والمحققون من الفریقین لا ینسبون أحدھما إلی البدعۃ والضلالۃ خلافاً للمبطلین المتعصبین)، انظر''مجموعۃ حواشي البھیۃ''، ''حاشیہ المحقق مولانا عصام الدین علی شرح العقائد النسفیہ''، ج۲، ص ۳۱۔
وانظر ''حاشیۃ العلامۃ مولانا ولي الدین علی حاشیہ المحقق مولانا عصام الدین، ج۲، ص۳۱، و''النبراس''، بیان اختلاف الأشعریۃ والماتریدیۃ، ص۲۲، و''رد المحتار''، المقدمۃ، مطلب: یجوز تقلید المفضول مع وجود الأفضل، ج۱، ص۱۱۹۔
1 ۔ یعنی گمراہ اور فاسق نہیں کہہ سکتا۔
2 ۔ تصدیق، اعتماد ویقین کی ایک کیفیت کا نام ہے۔
3 ۔ في ''شرح العقائد النسفیہ''، ص۱۲۵۔۱۲۷: (إنّ حقیقۃ الإیمان لا تزید ولا تنقص لما مر من أنّہا التصدیق القلبي الذي بلغ حد الجزم والإذعان وھذا لا یتصور فیہ زیادۃ ولا نقصان حتی إنّ من حصل لہ حقیقۃ التصدیق فسواء أتی بالطاعات أو ارتکب المعاصي فتصدیقہ باق علی حالہ لا تغیر فیہ أصلا والآیات الدالۃ علی زیادۃ الإیمان محمولۃ علی ما ذکرہ أبو حنیفۃ أنھم کانوا آمنوا في الجملۃ ثم یأتي فرض بعد فرض وکانوا یؤمنون بکل فرض خاص وحاصلہ أنہ کان یزید بزیادۃ ما یجب بہ
حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا تنہا ایمان اس اُمت کے تمام افراد کے مجموع ایمانوں پر غالب ہے۔ (1)
عقیدہ (۴): ایمان و کفر میں واسطہ نہیں(2)، یعنی آدمی یا مسلمان ہوگا یا کافر، تیسری صورت کوئی نہیں کہ نہ مسلمان ۱ ؎ ہو نہ کافر۔
الإیمان وقال بعض المحققین: لا نسلم أنّ حقیقۃ التصدیق لا تقبل الزیادۃ والنقصان بل تتفاوت قوۃ وضعفاً)۔
وانظر للتفصیل '' النبراس''، والإیمان لا یزید ولا ینقص، ص۲۵۷۔
وانظر رسالۃ إمام أھل السنۃ رحمہ اللہ تعالی ''الزلال الأنقی من بحر سبقۃ الأتقی''، ج۲۸، ص۵۹۸۔۵۹۹۔
1 ۔ ((عن ھزیل بن شرحبیل، قال: قال عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ : لووزن إیمان أبي بکر بإیمان أھل الأ رض لرجح بھم))۔ (''شعب الإیمان''، باب القول في زیادۃ الإیمان ونقصانہ... إلخ، الحدیث: ۳۶، ج۱، ص۶۹)۔
2 ۔ قال الإمام الرازي تحت ہذہ الآیۃ: (اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا)۔۔۔ إلخ في ''التفسیر الکبیر''، ج۶، ص۲۰۶: (احتج أصحابنا بہذہ الآیۃ علی أنہ لا واسطۃ بین أن یکون المکلف مؤمناً وبین أن یکون کافراً ، لأنہ تعالی اقتصر في ہذہ الآیۃ علی ذکر ہذین القسمین)۔
في'' تفسیر البیضاوی''، پ۵، النساء: ۱۴۶، ج ۲، ص۲۷۳۔۲۷۴: ( اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللہِ وَرُسُلِہِ وَیُرِیْدُوْنَ أَنْ یُفَرّقُواْ بَیْنَ اللہ وَرُسُلِہِ ) بأن یؤمنوا باللہ ویکفروا برسلہ( وَیقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ) نؤمن ببعض الأنبیاء ونکفر ببعضھم، (وَیُرِیْدُوْنَ اَن یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً ) طریقاً وسطاً بین الإِیمان والکفر، لا واسطۃ؛ إذ الحق لا یختلف فإن الإِیمان باللہ سبحانہ وتعالی لا یتمّ إلاّ بالإِیمان برسلہ وتصدیقہم فیما بلغوا عنہ تفصیلاً أو إجمالاً، فالکافر ببعض ذلک کالکافر بالکل في الضلال کما قال اللہ تعالی: (فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلاَّ الضَّلاَلُ)۔
وفي ''تفسیر النسفي''، ص۲۶۲، تحت الآیۃ: (وَیُرِیْدُوْنَ اَن یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلکَ سَبِیْلاً ) (أي: دیناً وسطاً بین الإیمان والکفر ولا واسطۃ بینھما)۔
اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویہ'' شریف میں فرماتے ہیں:
(اقول وباللہ التوفیق: توضیح اس دلیل کی علی حسب مرامھم (ان کے مقاصد کے مطابق ۔ت) یہ ہے کہ کافر نہیں مگر وہ جس کادین کفر ہے اور کوئی آدمی دین سے خالی نہیں، نہ ایک شخص کے ایک وقت میں دو دین ہو سکیں، فإنّ الکفر والإسلام علی طرفي النقیض بالنسبۃ إلی الإنسان لا یجتعمان أبداً ولا یرتفعان قال تعالی: (اِمَّا شَاکِرًا وَاِمَّا کَفُوْرًا) [پ۳۰، الدھر: ۳]، وقال تعالی: (مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ) [پ۲۱، الأحزاب: ۴]۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۶، ص۷۱۲۔
۱ ؎ ۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ ہم بوجہ شبہ کے کسی کو نہ مسلمان کہیں نہ کافر جیسے یزید پلیدواسمٰعیل دھلوی۔ ۱۲ منہ
مسئلہ: نفاق کہ زبان سے دعوی اسلام کرنا اور دل میں اسلام سے انکار، یہ بھی خالص کفر ہے(1)، بلکہ ایسے لوگوں کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔(2) حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کچھ لوگ اس صفت کے اس نام کے ساتھ مشہور ہوئے کہ ان کے کفرِ باطنی پر قرآن ناطق ہوا(3)، نیز نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے وسیع علم سے ایک ایک کو پہچانا اور فرما دیا کہ یہ منافق ہے۔(4) اب اِس زمانہ میں کسی خاص شخص کی نسبت قطع(5) کے ساتھ منافق نہیں کہا جاسکتا، کہ ھمارے سامنے جو دعوی اسلام کرے ہم اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے، جب تک اس سے وہ قول یا فعل جو مُنافیِ ایمان ہے نہ صادر ہو، البتہ نفاق کی ایک شاخ اِس زمانہ میں پائی جاتی ہے کہ بہت سے بد مذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے تو دعوی اسلام کے ساتھ ضروریاتِ دین کا انکار بھی ہے۔
1 ۔ في ''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۲۶: (وکفر نفاق، وہو أن یقرّ بلسانہ ولا یعتقد صحۃ ذلک بقلبہ)۔
وفي ''تفسیر النسفي''، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸، ص۲۴: (ثم ثلث بالمنافقین الذین آمنوا بأفواھھم ولم تؤمن قلوبھم وھم أخبث الکفرۃ؛ لأنھم خلطوا بالکفر استھزاء وخداعا)۔
2 ۔ (اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا) ( پ۵، النسآء: ۱۴۵)۔
3 ۔ (وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُوْنَ وَمِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ سَنُعَذِّبُہُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ) (پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۱)۔
4 ۔ عن ابن عباس، في قولہ: (وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُوْنَ وَمِنْ اَہْلِ الْمَدِینَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ سَنُعَذِّبُہُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ) [التوبۃ: ۱۰۱]، قال: قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم جمعۃ خطیباً، فقال: ((قم یا فلا ن فاخرج ؛ فإنّک منافق، اخرج یا فلا ن فإنک منافق))، فأخرجھم بأسمائھم ففضحھم، ولم یکن عمر بن الخطاب شھد تلک الجمعۃ کانت لہ، فلقیھم عمر وھم یخرجون من المسجد فاختبأ منھم استحیاء أنہ لم یشھد الجمعۃ، وظنّ أنّ الناس قد انصرفوا، واختبؤا ھم من عمر، وظنوا أنہ قد علم بأمرھم، فدخل عمر المسجد فإذا الناس لم ینصرفوا. فقال لہ رجل: أبشر یا عمر فقد فضح اللہ المنافقین الیوم، فھذا العذ اب الأول، والعذ اب الثاني عذ اب القبر))۔
('' المعجم الأوسط''، من اسمہ أحمد، الحدیث: ۷۹۲، ج۱، ص۲۳۱)۔
5 ۔ یعنی یقین۔
عقیدہ (۵): شرک کے معنی غیرِ خدا کو واجبُ الوجود یا مستحقِ عبادت جاننا، یعنی اُلوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا(1) اور یہ کفر کی سب سے بدتر قسم ہے، اس کے سوا کوئی بات اگرچہ کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں، ولہٰذا شرعِ مطہّر نے اھلِ کتاب کفّار کے احکام مشرکین کے احکام سے جدا فرمائے، کتابی کا ذبیحہ حلال، مشرک کا مُردار، کتابیہ سے نکاح ہو سکتا ہے، مشرکہ سے نہیں ہوسکتا۔(2)
1 ۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث الأفعال کلھا بخلق اللہ تعالٰی، ص۷۸: (الإشتراک ھو إثبات الشریک في الألوھیۃ بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس أو بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الأصنام )۔
وانظر ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص۱۳۱.
2 ۔ (اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّہُمْ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ)(پ۶، المائدۃ: ۵)۔
وفي ''تفسیر الخازن''، المائدۃ: ۵، ج۱، ص۴۶۷۔۴۶۸: ((وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ) یعني: وذبائح أھل الکتاب حلّ لکم وہم الیہود والنصاری ومن دخل في دینھم من سائر الأمم قبل مبعث النبيصلی اللہ علیہ وسلم، فأما من دخل في دینھم بعد مبعث النبيصلی اللہ علیہ وسلم وہو متنصر والعرب من بنيتغلب فلا تحل ذبیحتہ روي عن علي بن أبي طالب قال: لا تأکل من ذبائح نصاری العرب بني تغلب فإنھم لم یتمسکوا بشيء من النصرانیۃ إلا بشرب الخمر، وبہ قال ابن مسعود، ۔۔ وأجمعوا علی تحریم ذبائح المجوس وسائر أھل الشرک من مشرکي العرب وعبدۃ الأصنام ومن لا کتاب لہ۔
وقولہ تعالٰی: (وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ) یعني: وأحلّ لکم المحصنات من أھل الکتاب الیہود والنصاری قال ابن عباس: یعني: الحرائرمن أھل الکتاب)۔
انظر التفصیل لہذہ المسألۃ في رسالۃ الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن المسماۃ بـ''إعلام الأعلام بأنّ ہندوستان دار السلام''، ''الفتاوی الرضویۃ، ج۱۴، من ص۱۱۶إلی۱۲۲۔
(وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ) (پ۲، البقرۃ: ۲۲۱)۔
وفي ''تفسیر الخازن''، البقرۃ: ۲۲۱، ج۱، ص۱۶۰: (ومعنی الآیۃ ولا تنکحوا أیہا المؤمنون المشرکات حتی یؤمن أي: یصدقن باللہ ورسولہ وہو الإقرار بالشہادتین والتزام أحکام المسلمین)۔
انظر ''الدرالمختار'' و''رد المحتار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات، مطلب: مھم في وطء السراري اللاتي... إلخ، ج۴، ص۱۳۲تا۱۳۴۔ وانظر ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۶۲۱،۶۲۲.
امام شافعی کے نزدیک کتابی سے جزیہ(1) لیا جائے گا، مشرک سے نہ لیا جائے گا(2) اور کبھی شرک بول کر مطلق کفر مراد لیا جاتا ہے۔ یہ جو قرآنِ عظیم میں فرمایا: کہ ـ''شرک نہ بخشا جائے گا۔'' (3) وہ اسی معنی پر ہے، یعنی اَصلاً کسی کفر کی مغفرت نہ ہوگی، باقی سب گناہ اﷲ عزوجل کی مشیت پر ہیں، جسے چاہے بخش دے۔ (4)
1 ۔ اسلامی حکومت میں اھلِ کتاب یعنی عیسائیوں اور یہودیوں سے سالانہ ٹیکس۔
2 ۔ في ''تفسیر الخازن''، تحت الآیۃ: (قَاتِلُوا الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ) التوبۃ: ۲۹، ج۲، ص۲۳۰: (فذہب الشافعي إلی أنّ الجزیۃ علی الأدیان لا علی الأنساب فتؤخذ من أھل الکتاب عرباً کانوا أو عجماً ولا تؤخذ من عبدۃ الأوثان)۔ و''الہدایۃ''، کتاب السیر، باب الجزیۃ، الجزء الثاني، ج۱، ص۴۰۱۔
و''فتح القدیر''، کتاب السیر، باب الجزیۃ، ج ۵، ص۲۹۱۔۲۹۲۔
و''البنایۃ في شرح الہدایۃ''، کتاب السیر، باب الجزیۃ، ج۹، ص۳۴۶۔۳۴۷۔
3 ۔ ( اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ )، ( پ۵، النسآء : ۴۸)۔
4 ۔ ( وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ) (پ۵، النسآء: ۴۸)۔
في ''تفسیر روح البیان''، ج۲، ص۲۱۸: (( اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ ) أي: لا یغفر الکفر ممن اتصف بہ بلا توبۃ وإیمان؛ لأنّ الحکمۃ التشریعیۃ مقتضیۃ لسدّ باب الکفر وجواز مغفرتہ بلا إیمان مما یؤدي إلی فتحہ ولأنّ ظلمات الکفر والمعاصي إنّما یسترہا نور الإیمان فمن لم یکن لہ إیمان لم یغفر لہ شيء من الکفر والمعاصی( وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ) أي: ویغفر ما دون الشرک في القبح من المعاصي صغیرۃ کانت أو کبیرۃ تفضلاً من لدنہ وإحساناً من غیر توبۃ عنہا لکن لا لکل أحد بل (لِمَنْ یَّشَائُ) أن یغفر لہ ممن اتصف بہ فقط أي: لا بما فوقہ)۔
وفي ''روح المعاني''، الجزء الخامس، ص۶۸: (والشرک یکون بمعنی اعتقاد أنّ للہ تعالی شأنہ شریکاً إما في الألوہیۃ أو في الربوبیۃ ، وبمعنی الکفر ۔مطلقاً وہو المراد ہنا۔)۔
في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۰۷۔۱۰۸: (الکبیرۃ وقد اختلف الروایات فیھا فروی ابن عمر أنّہا تسعۃ: الشرک باللہ۔۔۔إلخ)۔
وفي ''مجموعۃ الحواشي البہیۃ''، ''حاشیۃ عصام الدین'' تحت ہذہ العبارۃ، ج۲، ص۲۱۸: (المراد مطلق الکفر وإلاّ لورد أنواع الکفر غیرہ)۔
في ''عمدۃ القاریئ شرح صحیح البخاري''،ج۱، ص۳۰۵: (المراد بالشرک في ہذہ الآیۃ الکفر؛ لأنّ من جحد نبوۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مثلاً کان کافراً ولو لم یجعل مع اللہ إلھاً آخر والمغفرۃ منتفیۃ عنہ بلا خلاف وقد یرد الشرک ویراد بہ ما ہو أخص من الکفر کما فی قولہ تعالی: (لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ ))۔
وانظر ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۷۶۔۲۷۷۔
عقیدہ (۶): مرتکبِ کبیرہ مسلمان ہے(1) اور جنت میں جائے گا، خواہ اﷲ عزوجل اپنے محض فضل سے اس کی مغفرت فرما دے، یا حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شفاعت کے بعد، یا اپنے کیے کی کچھ سزا پا کر، اُس کے بعد کبھی جنت سے نہ نکلے گا۔ (2)
مسئلہ: جو کسی کافر کے لیے اُس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے، یا کسی مردہ مُرتد کو مرحوم یا مغفور، یا کسی مُردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی(3) کہے، وہ خود کافر ہے۔(4)
عقیدہ (۷): مسلمان کو مسلمان، کافر کو کافر جاننا ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ کسی خاص شخص کی نسبت یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا خاتمہ ایمان یا معاذاﷲ کفر پر ہوا، تاوقتیکہ اس کے خاتمہ کا حال دلیلِ شرعی سے ثابت نہ ہو، مگر اس سے یہ نہ ہوگا کہ جس شخص نے قطعاً کفر کیا ہو اس کے کُفر میں شک کیا جائے، کہ قطعی کافر کے کفر میں شک بھی آدمی کو کافر بنا دیتا ہے۔ (5)
1 ۔ في ''العقائد'' لعمر النسفي، ص۲۲۱: (والکبیرۃ لا تخرج العبد المؤمن من الإیمان ولا تدخلہ في الکفر، واللہ تعالی لا یغفر أن یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء من الصغائر والکبائر)۔
في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۱۲: (إنّ مرتکب الکبیرۃ لیس بکافر والإجماع المنعقد علی ذلک علی ما مرّ)۔
''فتاویٰ رضویہ''، ج ۲۱، ص۱۳۱ پر ہے: ''اھلسنت کا اجماع ہے کہ مومن کسی کبیرہ کے سبب اسلام سے خارج نہیں ہوتا ''۔
('' الفتاوی الرضویۃ ''، ج۵، ص۱۰۱) .
2 ۔ في ''العقائد'' لعمر النسفي، ص۲۲۱: (وأھل الکبائر من المؤمنین لا یخلد ون في النار)۔
في ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۱۷: (وأھل الکبائر من ا لمؤمنین لا یخلد ون في النار وإن ماتوا من غیر توبۃ لقولہ تعالٰی: (فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہ،)۔۔۔ إلخ۔ في ''عمدۃ القاري''، ج۱، ص۳۰۵: (مذھب أھل الحق علی أنّ من مات موحداً لا یخلد في النار وإن ارتکب من الکبائر غیر الشرک ما ارتکب وقد جاء ت بہ الأحادیث الصحیحۃ منھا قولہ علیہ السلام: ((وإن زنی وإن سرق))۔ وانظر ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۷۶۔
3 ۔ جنّتی۔
4 ۔ ''فتاوی رضویہ'' میں ہے: ( کافر کے لیے دعائے مغفرت و فاتحہ خوانی کفر خالص وتکذیبِ قرآن عظیم ہے کما فی ''العالمگیریہ'' و غیرھا )۔
(''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص۲۲۸) ۔
5 ۔ جو کسی منکرِ ضروریات دین کو کافر نہ کہے آپ کافر ہے ، امام علامہ قاضی عیاض قدس سرہ '' شفا شریف'' میں فرماتے ہیں : الإجماع علی کفر من لم یکفر أحداً من النصاری والیہود و کلّ من فارق دین المسلمین أو وقف فی تکفیرھم أو شک، قال القاضي أبو بکر: لأن التوقیف والإجماع اتفقا علی کفرھم فمن وقف فی ذلک فقد کذب النص والتوقیف أو شک فیہ، والتکذیب والشک فیہ لا یقع إلا من کافر۔ یعنی اجماع ہے اس کے کفر پر جو یہود ونصاری یا مسلمانوں کے دین سے جدا ہونیوالے کو کافر نہ کہے یا اس کے کافر کہنے میں توقف کرے یا شک لائے، امام قاضی ابوبکر باقلانی نے اس کی وجہ یہ فرمائی کہ نصوص شرعیہ و اجماعِ امت ان لوگوں کے کفر پر متفق ہیں تو جو ان کے کفر میں توقف کرتا ہے وہ نص وشریعت کی تکذیب کرتا ہے یا اس میں شک رکھتا ہے اور یہ امر کافر ہی سے صادر ہوتا ہے۔ =
خاتمہ پر بِنا روزِ قیامت اور ظاہر پر مدار حکمِ شرع ہے، اس کو یوں سمجھو کہ کوئی کافر مثلاً یہودی یا نصرانی یا بُت پرست مر گیا تو یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کفر پر مرا، مگر ہم کو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا حکم یہی ہے کہ اُسے کافر ہی جانیں، اس کی زندگی میں اور موت کے بعد تمام وہی معاملات اس کے ساتھ کریں جو کافروں کے لیے ہیں، مثلاً میل جول، شادی بیاہ، نمازِ جنازہ، کفن دفن، جب اس نے کفر کیا تو فرض ہے کہ ہم اسے کافر ہی جانیں اور خاتمہ کا حال علمِ الٰہی پر چھوڑیں، جس طرح جو ظاہراً مسلمان ہو اور اُس سے کوئی قول و فعل خلافِ ایمان نہ ہو، فرض ہے کہ ہم اسے مسلمان ہی مانیں، اگرچہ ہمیں اس کے خاتمہ کا بھی حال معلوم نہیں۔
اِس زمانہ میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ'' میاں...! جتنی دیر اسے کافر کہو گے، اُتنی دیر اﷲ اﷲ کروکہ یہ ثواب کی بات ہے۔'' اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ کافرکافر کا وظیفہ کرلو...؟! مقصود یہ ہے کہ اُسے کافر جانو اور پوچھا جائے تو قطعاً کافر کہو،
= اسی میں ہے : کفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الإسلام أو وقف فیھم أو شک أو صحح مذھبھم وإن أظھر الإسلام واعتقد إبطال کل مذھب سواہ فھو کافر بإظھار ما أظھر من خلاف ذلک، اھ ملخصاً۔
یعنی کافر ہے جو کافر نہ کہے ان لوگوں کو کہ غیر ملت اسلام کا اعتقاد رکھتے ہیں یا ان کے کفر میں شک لائے یا ان کے مذہب کو ٹھیک بتائے اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا اور مذہب اسلام کی حقانیت اور اس کے سواسب مذہبوں کے بطلان کا اعتقاد ظاہر کرتاہوکہ اس نے بعض منکر ضروریات دین کو جب کہ کافر نہ جانا تواپنے اس اظہار کے خلاف اظہار کر چکا ا ھ ملخصا ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۴۴۳۔۴۴۴.
وانظر ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۱، ص۳۷۸.
'' فتاوی رضویہ'' میں ہے : ( اللہ عزوجل نے کافر کو کافر کہنے کا حکم دیا: (قُلْ یَا اَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ) [پ۳۰، الکافرون: ۱] (اے نبی فرمادیجئے اے کافرو!) ہاں کافر ذمی کہ سلطنت اِسلام میں مطیع الاسلام ہوکر رہتا ہے اسے کافر کہہ کر پکارنا منع ہے اگر اسے ناگوار ہو۔
''در مختار'' میں ہے : (شتم مسلم ذمیاً عزر، وفي ''القنیۃ'': قال لیہودي أو مجوسي: یا کافر یأثم إن شق علیہ)۔
کسی مسلمان نے کسی ذمی کافر کو گالی دی تو اس پر تعزیر جاری کی جائے گی،''قنیہ'' میں ہے کسی یہودی یا آتش پرست کو''اے کافر'' کہا تو کہنے والا گنہگار ہوگا اگر اسے ناگوار گزرا، (ت)۔ ('' الدر المختار''، کتاب الحدود، باب التعزیر، ج۶، ص۱۲۳، ملتقطاً)۔
یوں ہی غیر سلطنت اسلام میں جبکہ کافر کو ''او کافر''کہہ کر پکارنے میں مقدمہ چلتاہو۔
فإنہ لا یحل لمسلم أن یذل نفسہ إلا بضرورۃ شرعیۃ۔
تو کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے مگر جبکہ کوئی شرعی مجبوری ہو۔ (ت)۔
مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ کافر کو کافرنہ جانے یہ خود کفر ہے۔ =
نہ یہ کہ اپنی صُلحِ کل سے(1) اس کے کُفر پر پردہ ڈالو۔
تنبیہ ضروری: حدیث میں ہے:
((سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِيْ ثَلٰثًا وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً کُلُّھُمْ فِيْ النَّارِ إلاَّ وَاحِدَۃً.))
''یہ امت تہتّر فرقے ہو جائے گی، ایک فرقہ جنتی ہوگا باقی سب جہنمی۔''
صحابہ نے عرض کی:
''مَنْ ھُمْ یَا رَسُوْلَ اللہِ؟''
= من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۔ جس نے ان کے عذاب اور کفرمیں شک کیا تو وہ بلاشبہ کافر ہوگیا۔(ت)
(''الدر المختار''، کتاب الجہاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۵۶۔۳۵۷)۔
اسی طرح جب کسی کافر کی نسبت پوچھا جائے کہ وہ کیسا ہے اس وقت اس کا حکم واقعی بتانا واجب ہے، حدیث میں ہے:
((أترعون من ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس))۔
کیا تم بدکارکا ذکر کرنے سے گھبراتے اور خوف رکھتے ہو تو پھر لوگ اسے کب پہنچائیں گے لھذا بدکار کا ان برائیوں سے ذکر کرو جو اس میں موجود ہیں تاکہ لوگ اس سے بچیں اور ہوشیار رہیں۔ (ت) ''نوادر الأصول'' للترمذي، الأصل السادس والستون والمائۃ، ص۲۱۳۔
یہ کافر کہنابطور دُشنام نہیں ہوتا بلکہ حکم شرعی کا بیان، شرع مطہر میں کافر ہر غیر مسلم کا نام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی: (ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَمِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ)۔ [پ۲۸، التغابن: ۲]۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: اللہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا پھر کچھ تمھارے اند ر کافر ہیں اور کچھ تمھارے اندر مومن ہیں (ت)۔
سوالِ حکم کے وقت حکم کو چھپانا اگر یوں ہے کہ اسے یقینا کافر جانتاہے او راسے کافر کہنا معیوب نہیں جانتا مگر اپنی مصلحت کے سبب بچتاہے تو صرف گنہگار ہے جبکہ وہ مصلحت صحیحہ تاحد ضرورت شرعیہ نہ ہو، اور اگر واقعی کافر کوکافر کہنا معیوب وخلاف تہذیب جانتاہے تو قرآن عظیم کو عیب لگاتاہے اور قرآن عظیم کو عیب لگانا کفر ہے اور اسے کافر جانتاہی نہیں تو خود اس کے کافر ہونے میں کیا کلام ہے کہ اس نے کفر کو کفر نہ جانا تو ضرور کفر کو اسلام جانا لعدم الواسطۃ کیونکہ کفر اوراسلام کے درمیان کوئی واسطہ نہیں) تواسلام کو کفر جانا۔
لأنّ ماکان کفراً فضدہ الإسلام فإذا جعلہ إسلاماً فقد جعل ضدہ کفراً؛ لأن الإسلام لا یضادہ إلا الکفر والعیاذ باﷲ تعالٰی۔
اس لئے کہ جو کچھ کفر ہو تو اس کی ضد اسلا م ہے۔ پھر جب کفر کو اسلام ٹھرایا تو پھر اس کی ضد کفر ہوگی (یعنی اسلام کفر اور کفر اسلام ہوجائے گا) کیونکہ اسلام کے مخالف صرف کفر ہے اور اللہ تعالی کی پناہ (ت)۔ (''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص۲۸۵۔۲۸۶)۔
1 ۔ کل مذاہب کا ایک مآل سمجھ کر مختلف مذاہب کے لوگوں سے خصومت نہ کرنا اور دوست و دشمن سے یکساں برتاؤ رکھنا ۔
(''فرہنگ آصفیہ''، ج ۲ ، ص ۲۲۴)۔
''وہ ناجی(1) فرقہ کون ہے یا رسول اﷲ ؟''
فرمایا:
((مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِيْ.))(2)
''وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں''، یعنی سنّت کے پیرو۔
دوسری روایت میں ہے، فرمایا:
((ھُمُ الْجَمَاعَۃُ.))(3)
''وہ جماعت ہے۔''
یعنی مسلمانوں کا بڑا گروہ ہے جسے سوادِ اعظم فرمایا اور فرمایا: جو اس سے الگ ہوا، جہنم میں الگ ہوا۔ (4) اسی وجہ سے اس ''ناجی فرقہ'' کا نام ''اھلِ سنت و جماعت'' ہوا۔(5) اُن گمراہ فرقوں میں بہت سے پیدا ہو کر ختم ہو گئے، بعض ہندوستان میں نہیں،
1 ۔ جہنم سے نجات پانے والا۔
2 ۔ ''سنن الترمذي''، کتاب الإیمان، باب ما جاء في افتراق ھذہ الأمۃ، الحدیث: ۲۶۵۰، ج۴، ص۲۹۲.
و''سنن ابن ماجہ''، کتاب الفتن، باب افتراق الأمم، الحدیث: ۳۹۹۳، ج۴، ص۳۵۳.
3 ۔ ''السنۃ'' لابن أبي عاصم، باب فیما أخبر بہ النبي علیہ السلام أن أمتہ ستفترق علی... إلخ، الحدیث: ۶۳، ص۲۲.
4 ۔ عن ابن عمر: أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ اللہ لا یجمع أمتي)) أو قال: ((أمۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم علی ضلالۃ، وید اللہ علی الجماعۃ، ومن شذ شذ إلی النار)).
''سنن الترمذي ''، کتاب الفتن، باب ما جاء في لزوم الجماعۃ، الحدیث: ۲۱۷۳، ج۴، ص۶۸.
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((اتبعوا السواد الأعظم، فإنّہ من شذ شذ في النار))۔
''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الثاني، الحدیث: ۱۷۴، ج۱، ص۵۵.
وفي ''المرقاۃ''، ج۱، ص۴۲۱، تحت الحدیث: ۱۷۳ : (''ومن شذ'': أي: انفرد عن الجماعۃ باعتقاد أو قول أو فعل لم یکونوا علیہ شذ في النار، أي: انفرد فیہا، ومعناہ انفرد عن أصحابہ الذین ہم أھل الجنۃ وألقي في النار).
5 ۔ في ''المشکاۃ''، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الثاني، الحدیث: ۱۷۱، ج۱، ص۵۴: ((وتفترق أمتي علی ثلاث وسبعین ملۃ کلّہم في النار إلاّ ملۃ واحدۃ)) قالوا: من ھي؟ یا رسول اللہ، قال: ((ما أنا علیہ وأصحابي))۔ =
ان فرقوں کے ذکر کی ہمیں کیا حاجت؟!، کہ نہ وہ ہیں، نہ اُن کا فتنہ، پھر ان کے تذکرہ سے کیا مطلب جو اِس ہندوستان میں ہیں؟! مختصراً ان کے عقائدکا ذکر کیا جاتا ہے، کہ ھمارے عوام بھائی ان کے فریب میں نہ آئیں، کہ حدیث میں اِرشاد فرمایا:
((إِ یَّاکُمْ وَإِ یَّاھُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ.))(1)
''اپنے کو اُن سے دُور رکھو اور اُنھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کر دیں، کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔''
= وفي ''المرقاۃ'' ج۱، ص۴۱۹، تحت ھذا الحدیث: (ھنا المراد ھم المھتدون المتمسکون بسنتي وسنۃ الخلفاء الراشدین من بعدي، فلا شک ولا ریب أنّھم ھم أھل السنۃ والجماعۃ)، ملتقطاً.
''التوضیح''، ج۲، ص۵۲۸: (والمراد بالأمۃ المطلقۃ أھل السنۃ والجماعۃ وہم الذین طریقتہم طریقۃ الرسول والصحابۃ دون أھل البدع۔۔۔ إلخ۔
في''حاشیۃ الطحطاوي''، ج۳، ص۱۵۳: (وقال تعالی:(وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَلَا تَفَرَّقُوْا) قال بعض المفسرین المراد من(حَبْلِ اللَّہِ): الجماعۃ؛ لأنہ عقبہ بقولہ: ( وَلَا تَفَرَّقُوْا)، والمراد من الجماعۃ عند أھل العلم أھل الفقہ والعلم ومن فارقہم قدر شبر وقع في الضلالۃ وخرج عن نصرۃ اللہ تعالی ودخل في النار؛ لأنّ أھل الفقہ والعلم ہم المہتدون المتمسکوں بسنۃ محمّد علیہ الصلاۃ والسلام وسنۃ الخلفاء الراشدین بعدہ ومن شذ عن جمہور أھل الفقہ والعلم والسواد الأعظم فقد شذ فیما یدخلہ في النار فعلیکم معشر المؤمنین باتباع الفرقۃ الناجیۃ المسماۃ بـ ''أھل السنۃ والجماعۃ''؛ فإنّ نصرۃ اللہ وحفظہ وتوفیقہ في موافقتہم، وخذلانہ وسخطہ و مقتہ في مخالفتھم، وہذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم في مذاہب أربعۃ وہم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رحمہم اللہ ومن کان خارجاً عن ہذہ الأربعۃ في ھذا الزمان فہو من أھل البدعۃ والنار).
(''حاشیۃ الطحطاوي علی الدر''، کتاب الذبائح، ج۴، ص۱۵۲۔۱۵۳).
1 ''صحیح مسلم''، مقدمۃ الکتاب للإمام مسلم، باب النھي عن الروایۃ عن الضعفائ... إلخ، الحدیث: ۷، ص۹.
(۱) قادیانی: کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ہیں، اس شخص نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں نہایت بیباکی کے ساتھ گستاخیاں کیں، خصوصاً حضرت عیسیٰ روح اﷲ وکلمۃاﷲ علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ طیِّبہ طاہرہ صدیقہ مریم کی شانِ جلیل میں تو وہ بیہودہ کلمات استعمال کیے، جن کے ذکر سے مسلمانوں کے دل ہِل جاتے ہیں، مگر ضرورتِ زمانہ مجبور کر رہی ہے کہ لوگوں کے سامنے اُن میں کے چندبطور نمونہ ذکر کیے جائیں، خود مدّعی نبوت بننا کافر ہونے اور ابد الآباد جہنم میں رہنے کے لیے کافی تھا، کہ قرآنِ مجید کا انکار اور حضور خاتم النبیین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہ ماننا ہے، مگر اُس نے اتنی ہی بات پر اکتفا نہ کیا بلکہ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی تکذیب و توہین کا وبال بھی اپنے سَر لیا اور یہ صدہا کفر کا مجموعہ ہے، کہ ہر نبی کی تکذیب مستقلاً کفر ہے، اگرچہ باقی انبیا و دیگر ضروریات کا قائل بنتا ہو، بلکہ کسی ایک نبی کی تکذیب سب کی تکذیب ہے (1)،
چنانچہ آیہ :
(کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوۡحِۣ الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾ )ـ2ـ
وغیرہ اس کی شاہد ہیں اور اُس نے تو صدہا کی تکذیب کی اور اپنے کو نبی سے بہتر بتایا۔ ایسے شخص اور اس کے متّبِعین کے کافر ہونے میں مسلمانوں کو ہرگز شک نہیں ہوسکتا، بلکہ ایسے کی تکفیر میں اس کے اقوال پر مطلع ہو کر جو شک کرے خود کافر۔ (3)
1 ۔ في ''تفسیر النسفي''، پ۱۹، الشعرآء ص۸۲۵، تحت الآیۃ: ((کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِیْنَ) ۔ کانوا ینکرون بعث الرسل أصلاً، فلذا جمع أولأنّ من کذ ب واحداً منھم فقدکذب الکل؛ لأنّ کل رسول یدعو الناس إلی الإیمان بجمیع الرسل).
وفي ''تفسیر البیضاوي''، ج۲، ص۲۷۳۔۲۷۴، تحت الآیۃ: ((إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَیُرِیدُوْنَ أَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللہ وَرُسُلِہٖ) بأن یؤمنوا باللہ ویکفروا برسلہ (وَیقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ) نؤمن ببعض الأنبیاء ونکفر ببعضھم (وَیُرِیدُوْنَ أَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً ) طریقاً وسطاً بین الإِیمان والکفر لا واسطۃ، إذ الحق لا یختلف فإنّ الإِیمان باللہ سبحانہ وتعالی لا یتم إلا بالإِیمان برسلہ وتصدیقہم فیما بلغوا عنہ تفصیلاً أو إجمالاً، فالکافر ببعض ذلک کالکافر بالکل فی الضلال کما قال اللہ تعالی: ( فَمَاذَا بَعْدَ الحَقِّ إِلاَّ الضَّلَالُ)۔ و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۶۲۶.
2 ۔ پ۱۹، الشعرآء ۱۰۵.
3 ۔ في'' الد رالمختار'' ، کتاب الجھاد ، باب المرتد ، ج۶، ص۳۵۶ ۔ ۳۵۷ : ( ومن شک في عذ ابہ وکفرہ کفر).
وانظر للتفصیل رسائل إمام أھل السنۃ رحمہ اللّٰٰہ تعالی: ''السوء والعقاب علی المسیح الکذّاب''، ج۱۵، ص۵۷۱۔
و''قہر الدیان علی مرتد بقادیان''، ج۱۵، ص۵۹۵، و''الجراز الدیاني علی المرتد القادیاني''، ج۱۵۔
اب اُس کے اقوال سُنیے(1) :
''اِزالہ اَوہام'' صفحہ ۵۳۳: (خدا تعالیٰ نے ''براہین احمدیہ'' میں اس عاجز کا نام امّتی بھی رکھا اور نبی بھی)۔ (2)
''انجام آتھم'' صفحہ ۵۲ میں ہے: (اے احمد! تیرا نام پورا ہو جائے گا قبل اس کے جو میرا نام پورا ہو)۔ (3)
صفحہ ۵۵ میں ہے: (تجھے خوشخبری ہو اے احمد! تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے)۔(4)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں جو آیتیں تھیں انہیں اپنے اوپر جَما لیا۔
''انجام'' صفحہ ۷۸ میں کہتا ہے:
(وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾ ) ـ5ـ
''تجھ کو تمام جہان کی رحمت کے واسطے روانہ کیا۔'' (6)
1 ۔ نوٹ: قادیانی شیطان کی تقریباً۸۰ اَسّی سے زائد کتابیں ہیں ، جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں: '' انجامِ آتھم''، ''ضمیمہ اَنجامِ آتھم'' ، ''کشتیئ نوح'' ، ''اِزالہ اَوہام''، '' دافع البلاء ومعیار اھل الاصطفائ''، ''اربعین'' اور ''براہین اَحمدیہ'' وغیرہا ، ''روحانی خزائن '' نامی کتاب میں ان کتابوں کو ۲۳ تیئس حصوں میں جمع کیا گیا ہے ۔ نیز اس شیطان کے کئی اشتہارات ہیں جو تین۳ حصوں میں جمع کئے گئے ہیں، اور مغلظات بھی ہیں ، جنہیں۱۰د س حصوں میں ''ملفوظات'' کے نام سے جمع کیا گیا ہے ۔
2 ۔ ''اِزالہ اَوہام'' صفحہ ۵۳۳، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۳، ص ۳۸۶.
.gif)
3 ۔ ''انجام آتھم'' صفحہ ۵۲ ، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۱، ص۵۲:
.gif)
4 ۔ ''انجام آتھم'' صفحہ ۵۵ ، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۱، ص۵۵:
.gif)
5 ۔ پ۱۷، الانبیآء : ۱۰۷.
6 ۔ ''انجام آتھم'' صفحہ ۷۸ ، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۱، ص۷۸۔
نیز یہ آیہ کریمہ
(وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعْدِی اسْمُہٗۤ اَحْمَدُ ؕ)ـ1ـ
سے اپنی ذات مراد لیتا ہے۔ (2)
''دافع البلاء'' صفحہ ۶ میں ہے: مجھ کو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
(أَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَۃِ أَوْلاَدِيْ أَنْتَ مِنِّي وَأنَا مِنْکَ).
(یعنی اے غلام احمد! تو میری اولاد کی جگہ ہے تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں)۔(3)
''اِزالہ اَوہام'' صفحہ ۶۸۸ میں ہے:
(حضرت رسُولِ خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اِلہام و وحی غلط نکلی تھیں)۔(4)
صفحہ ۸ میں ہے:
(حضرت مُوسیٰ کی پیش گوئیاں بھی اُس صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں، جس صورت پر حضرت مُوسیٰ نے اپنے دل میں
1 ۔ پ۲۸، الصف : ۶.
2 ۔ ''روحاني خزائن''، ج۱۱، ص۷۸. و''توضیح المرام''، ص۱۶۳، مطبوعہ ریاض الہند امرتسر.
3 ۔ ''دافع البلاء'' صفحہ ۶، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۸، ص۲۲۷۔
.gif)
4 ۔ ''اِزالہ اَوہام'' صفحہ ۶۸۸، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۳، ص۴۷۱:
.gif)
اُمید باندھی تھی، غایت ما فی الباب(1) یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیش گوئیاں زیادہ غلط نکلیں)۔ (2)
''اِزالہ اَوہام'' صفحہ ۷۵۰ میں ہے:
(سورہ بقر میں جو ایک قتل کا ذکر ہے کہ گائے کی بوٹیاں نعش پر مارنے سے وہ مقتول زندہ ہوگیا تھا اور اپنے قاتل کا پتا دے دیا تھا، یہ محض موسیٰ علیہ السلام کی دھمکی تھی اور علمِ مِسمریزم(3) تھا)۔ (4)
اُسی کے صفحہ ۷۵۳ میں لکھتا ہے:
(حضرت اِبراہیم علیہ السلام کا چار پرندے کے معجزے کا ذکر جو قرآن شریف میں ہے، وہ بھی اُن کا مِسمریزم کا عمل تھا)۔(5)
1 ۔ اس بارے میں نتیجہ اور انتہاء۔
2 ۔ ''اِزالہ اَوہام'' صفحہ ۸، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۳، ص۱۰۶:
.gif)
3 ۔ مِسمِریزم: ڈاکٹر مسمر باشندہ آسٹریا کا ایجاد کیا ہوا ایک علم جس میں تصور یا خیال کا اثر دوسرے کے دل پر ڈال کر پوشیدہ اور آئندہ کے حالات پوچھے جاتے ہیں. ''فیروز اللغات''، ص۱۲۴۷.
4 ۔ ''اِزالہ اَوہام'' صفحہ ۷۵۰، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۳، ص۵۰۴:
.gif)
5 ۔ ''اِزالہ اَوہام'' صفحہ ۷۵۳، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۳، ص۵۰۶:
.gif)
صفحہ ۶۲۹ میں ہے:
(ایک باشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اُس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے، اور بادشاہ کو شکست ہوئی، بلکہ وہ اسی میدان میں مر گیا)۔(1)
اُسی کے صفحہ ۲۸، ۲۶ میں لکھتا ہے:
(قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآنِ عظیم سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے)۔(2)
اور اپنی ''براہینِ احمدیہ'' کی نسبت ''اِزالہ'' صفحہ ۵۳۳ میں لکھتا ہے:
(براہینِ احمدیہ خدا کا کلام ہے)۔ (3)
1 ۔ ''اِزالہ اَوہام''، ۶۲۹، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج۳، ص ۴۳۹:
.gif)
2 ۔ ''اِزالہ اَوہام''، ۲۶۔۲۸، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج۳، ص ۱۱۵۔۱۱۶:
.gif)
3 ۔ ''اِزالہ اَوہام'' صفحہ ۵۳۳، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۳، ص ۳۸۶:
.gif)
''اَربعین'' نمبر ۲ صفحہ ۱۳ پر لکھا:
(کامل مہدی نہ موسیٰ تھا نہ عیسیٰ)۔(1) اِن اُولو العزم مرسَلین کا ہادی ہونا درکنار، پورے راہ یافتہ بھی نہ مانا۔
اب خاص حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی شان میں جو گستاخیاں کیں، اُن میں سے چند یہ ہیں۔
''معیار'' صفحہ ۱۳:
(اے عیسائی مِشنریو! اب ربّنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے، جو اُس مسیح سے بڑھ کر ہے)۔(2)
صفحہ ۱۳ و ۱۴ میں ہے:
(خدا نے اِس امت میں سے مسیح موعود بھیجا، جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا، تایہ اِشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے جو احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کرسکتا یعنی وہ کیسا مسیح ہے، جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے)۔(3)
1 ۔ ''اَربعین'' نمبر ۲ ص۱۳ ، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۷، ص ۳۶۰:
.gif)
2 ۔ ''معیار'' ص۱۳ ، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۸، ص۲۳۳:
.gif)
3 ۔ ''معیار'' ص۱۳ ، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۸، ص۲۳۳۔ ۲۳۴:
.gif)
''کشتی'' صفحہ ۱۳ میں ہے:
(مثیلِ موسیٰ، موسیٰ سے بڑھ کر اور مثیلِ ابنِ مریم، ابنِ مریم سے بڑھ کر)۔ (1)
نیز صفحہ ۱۶ میں ہے:
(خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مسیحِ محمدی، مسیحِ مُوسوِی سے افضل ہے)۔(2)
''دافع البلاء'' صفحہ ۲۰ :
(اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو! میں اس کا ثانی پیدا کروں گا جو اُس سے بھی بہتر ہے، جو غلام احمد ہے یعنی احمد کا غلام ؎
ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو
اُس سے بہتر غلام احمد ہے
یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں)۔ (3)
1 ۔ ''کشتی نوح'' ص۱۳ ، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۹، ص۱۴:
.gif)
2 ۔ ''کشتی نوح'' ص۱۶ ، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۹، ص۱۷:
.gif)
3 ۔ ''دافع البلاء'' صفحہ ۲۰، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۸، ص۲۴۰۔۲۴۱:
.gif)
''دافع البلاء'' ص ۱۵:
(خدا تو، بہ پابندی اپنے وعدوں کے ہر چیز پر قادر ہے، لیکن ایسے شخص کو دوبارہ کسی طرح دنیا میں نہیں لاسکتا، جس کے پہلے فتنہ نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے)۔(1)
''انجام آتھم'' ص ۴۱ میں لکھتا ہے:
(مریم کا بیٹا کُشلیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا)۔ (2)
''کشتی'' ص ۵۶ میں ہے:
(مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کہ اگر مسیح ابنِ مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کلام جو میں کر سکتا ہوں، وہ ہر گز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہر گز دِکھلا نہ سکتا)۔(3)
''اعجاز احمدی'' ص ۱۳:
(یہود تو حضرت عیسیٰ کے معاملہ میں اور ان کی پیشگوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب میں حیران ہیں، بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ'' ضرور عیسیٰ نبی ہے، کیونکہ قرآن نے اُس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل اُن کی نبوت
1 ۔ ''دافع البلاء'' صفحہ ۱۵، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۸، ص۲۳۵:
.gif)
2 ۔ ''اَنجام آتھم''، صفحہ ۱۵، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۱، ص۴۱:
.gif)
3 ۔ ''کشتیئ نوح'' ص۵۶ ، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۹، ص۶۰:
.gif)
پر قائم نہیں ہوسکتی، بلکہ ابطالِ نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں)۔(1)
اس کلام میں یہودیوں کے اعتراض، صحیح ہونا بتایا اور قرآن عظیم پر بھی ساتھ لگے یہ اعتراض جما دیا کہ قرآن ایسی بات کی تعلیم دے رہا ہے جس کے بُطلان پر دلیلیں قائم ہیں۔
ص ۱۴ میں ہے:
(عیسائی تو اُن کی خدائی کو روتے ہیں، مگر یہاں نبوت بھی اُن کی ثابت نہیں)۔(2)
اُسی کتاب کے ص ۲۴ پر لکھا :
(کبھی آپ کو شیطانی اِلہام بھی ہوتے تھے)۔(3)
مسلمانو! تمھیں معلوم ہے کہ شیطانی اِلہام کس کو ہوتا ہے؟ قرآن فرماتا ہے:
(تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ ﴿۲۲۲﴾ ) ـ4ـ
''بڑے بہتان والے سخت گنہگار پر شیطان اُترتے ہیں۔''
1 ۔ ''اِعجاز احمدی'' ص۱۳، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۹، ص۱۲۰:
.gif)
2 ۔ ''اِعجاز احمدی'' ص۱۳، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۹، ص۱۲۱:
.gif)
3 ۔ ''اِعجاز احمدی'' ص۲۴، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۹، ص۱۳۳:
.gif)
4 ۔ پ۱۹، الشعرآء: ۲۲۲.
اُسی صفحہ میں لکھا: ( اُن کی اکثر پیش گوئیاں غلطی سے پُر ہیں)۔(1)
صفحہ ۱۳ میں ہے:
(افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اُن کی پیش گوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں، جو ہم کسی طرح اُن کو دفع نہیں کرسکتے)۔(2)
صفحہ ۱۴: (ہائے! کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں)۔(3)
اس سے ان کی نبوت کا انکار ہے، چنانچہ اپنی کتاب ''کشتی نوح'' ص ۵ میں لکھتا ہے:
(ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں)۔(4)
اور ''دافع الوساوس'' ص ۳ و ''ضمیمہ انجام آتھم'' ص ۲۷ پر اِس کو سب رُسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی اور ذلت کہتا ہے۔ (5)
''دافع البلاء'' ٹائٹل پیج صفحہ ۳ پر لکھتا ہے:
1 ۔ ''اِعجاز احمدی'' ص۲۴، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۹، ص۱۳۳:
.gif)
2 ۔ ''اِعجاز احمدی'' ص۱۳، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۹، ص۱۲۱:
.gif)
3 ۔ ''اِعجاز احمدی'' ص۱۴، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۹، ص۱۲۱:
.gif)
4 ۔ ''کشتی نوح'' ص۵، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۹، ص۵:
.gif)
5 ۔ ''ضمیمہ انجام آتھم' ص۲۷، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۱، ص۳۱۱۔
(ہم مسیح کو بیشک ایک راست باز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانہ کے اکثر لوگوں سے البتہ اچھا تھا واﷲ تعالیٰ اعلم، مگر وہ حقیقی منجی نہ تھا، حقیقی منجی وہ ہے جو حجاز میں پیدا ہوا تھا اور اب بھی آیا، مگر بُروز کے طور پر خاکسار غلام احمد از قادیان)۔ (1)
آگے چل کر راست بازی کا بھی فیصلہ کر دیا، کہتا ہے:
(یہ ھمارا بیان نیک ظنّی کے طور پر ہے، ورنہ ممکن ہے کہ عیسیٰ کے وقت میں بعض راست باز اپنی راست بازی میں عیسیٰ سے بھی اعلیٰ ہوں)۔ (2)
اسی کے صفحہ ۴ میں لکھا:
(مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ کو اُس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ (یحییٰ) شراب نہ پیتا تھا اور کبھی نہ سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اُس کے سر پر عِطر مَلا تھا، یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اُس کے بدن کو چُھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اُس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ
1 ۔ ''دافع البلاء''، ٹائٹل ص۳، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۸، ص۲۱۹۔۲۲۰:
.gif)
2 ۔ ''دافع البلاء''، ٹائٹل ص۳، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۸، ص۲۱۹:
.gif)
سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام ''حصور'' رکھا، مگر مسیح کا نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصّے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے)۔(1)
''ضمیمہ اَنجام آتھم'' ص ۷ میں لکھا:
(آپ کا کنجریوں سے مَیلان اور صحبت بھی شاید اِسی وجہ سے ہو کہ جَدّی مناسبت درمیان ہے، ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اُس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر مَلے اور اپنے بالوں کو اُس کے پیروں پر مَلے، سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے)۔(2)
نیز اس رسالہ میں اُس مقدّس و برگزیدہ رسول پر اور نہایت سخت سخت حملے کیے، مثلاً شریر، مکار، بدعقل، فحش گو، بدزبان، جھوٹا، چور، خللِ دماغ والا، بد قسمت، نِرا فریبی، پیرو شیطان (3) ، حد یہ کہ صفحہ ۷ پر لکھا: (آپ کا خاندان بھی نہایت پاک ومطہّر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اورکسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا)۔(4)
1 ۔ ''دافع البلاء''، ٹائٹل ص۴، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۸، ص۲۲۰:
.gif)
2 ۔ ''ضمیمہ انجام آتھم' ص۲۷، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۱، ص۲۹۱:
.gif)
3 ۔ ''ضمیمہ انجام آتھم' ص۶۔۷، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۱، ص۲۹۱۔۲۹۲:
4 ۔ ''ضمیمہ انجام آتھم' ص۷، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۱، ص۲۹۱:
.gif)
ہر شخص جانتا ہے کہ دادی باپ کی ماں کو کہتے ہیں تو اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے باپ کا ہونا بیان کیا، جو قرآن کے خلاف ہے اور دوسری جگہ یعنی ''کشتی نوح'' صفحہ ۱۶ میں تصریح کر دی:
(یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں، یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں، یعنی یوسف اور مریم کی اولاد تھے)۔ (1)
حضرت مسیح علیہ الصلاۃ والسلام کے معجزات سے ایک دم صاف انکار کر بیٹھا۔
''انجامِ آتھم'' صفحہ ۶ میں لکھتا ہے: (حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہ ہوا)۔(2)
صفحہ ۷ پر لکھا: (اُس زمانہ میں ایک تالاب سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے، آپ سے کوئی معجزہ ہوا بھی تو وہ آپ کا نہیں، اُس تالاب کا ہے، آپ کے ہاتھ میں سِوا مکروفریب کے کچھ نہ تھا)۔(3)
1 ۔ ''کشتی نوح'' ص۱۶، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۹، ص۱۸:
.gif)
2 ۔ ''انجام آتھم' '، ص۶، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۱، ص۲۹۰:
.gif)
3 ۔ ''انجام آتھم' '، ص۶، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۱، ص۲۹۱:
.gif)
''اِزالہ'' کے صفحہ ۴ میں ہے:
(ما سِوائے اِس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو اُن حواشی سے الگ کرکے دیکھا جائے جو محض افتراء یا غلط فہمی سے گڑھے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا، بلکہ مسیح کے معجزات پر جس قدر اعتراض ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خَوارق (1) پرایسے شبہات ہوں، کیا تالاب کا قصّہ مسیحی معجزات کی رونق نہیں دُور کرتا)۔(2)
کہیں اُن کے معجزہ کو کَلْ(3) کا کھلونا بتاتا ہے(4)، کہیں مسمریزم بتا کر کہتا ہے:
(اگر یہ عاجز اِس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو اِن اعجوبہ نمائیوں میں ابنِ مریم سے کم نہ رہتا)۔(5)
اور مسمریزم کا خاصہ یہ بتایا :
(کہ جو اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے، وہ رُوحانی تاثیروں میں جو روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں، بہت ضعیف اور نکمّا
1 ۔ نبی کے معجزات۔
2 ۔ ''اِزالہ اَوھام''، ص۴، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۳، ص۱۰۵۔۱۰۶:
.gif)
3 ۔ چابی۔
4 ۔ ''اِزالہ اَوھام''، ص۳۰۳، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۳، ص۲۵۴:
.gif)
5 ۔ ''اِزالہ اَوھام''، ص۳۱۰، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۳، ص۲۵۸:
.gif)
ہوجاتاہے، یہی وجہ ہے کہ گو مسیح جسمانی بیماریوں کو اِس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے، مگر ہدایت و توحید اور دینی استقامتوں کے دِلوں میں قائم کرنے میں اُن کا نمبر ایسا کم رہا کہ قریب قریب ناکام رہے)۔ (1)
غرض اِس دجّال قادیانی کے مُزَخرفات (2) کہاں تک گنائے جائیں، اِس کے لیے دفتر چاہیے، مسلمان اِن چند خرافات سے اُس کے حالات بخوبی سمجھ سکتے ہیں، کہ اُس نبی اُولو العزم کے فضائل جو قرآن میں مذکور ہیں، اُن پر یہ کیسے گندے حملے کر رہا ہے...! تعجب ہے اُن سادہ لوحوں پر کہ ایسے دجّال کے متبع ہو رہے ہیں، یا کم از کم مسلمان جانتے ہیں...! اور سب سے زیادہ تعجب اُن پڑھے لکھے کٹ بگڑوں سے کہ جان بوجھ کر اس کے ساتھ جہنم کے گڑھوں میں گر رہے ہیں...! کیا ایسے شخص کے کافر، مرتد، بے دین ہونے میں کسی مسلمان کو شک ہوسکتا ہے۔ حَاشَ للہ!
''مَنْ شَکَّ فيْ عَذَابِہ وَکُفْرِہ فَقَدْ کَفَرَ.'' (3)
''جو اِن خباثتوں پر مطلع ہو کر اُس کے عذاب و کفر میں شک کرے، خود کافر ہے۔''
1 ۔ ''اِزالہ اَوہام''، ص۳۱۰۔۳۱۱، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۳، ص۲۵۸:
.gif)
2 ۔ جھوٹی اور بیہودہ باتیں۔
3 ۔ ''الدر المختار''، کتاب الجہاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۵۶۔۳۵۷.
و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص۲۷۹.
(۲) رافضی: اِن کے مذہب کی کچھ تفصیل اگر کوئی دیکھنا چاہے تو ''تحفہ اِثنا عشریہ''(1) دیکھے، چند مختصرباتیں یہاں گزارش کرتا ہوں۔
صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم کی شان میں یہ فرقہ نہایت گستاخ ہے، یہاں تک کہ اُن پر سبّ و شتم(2) ان کا عام شیوہ ہے(3) ،
1 اس کتاب کے مصنّف حضرت شاہ عبدالعزیز محدثِ دھلوی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ ہیں، اور یہ کتاب اپنے موضوع میں لاجواب و بے نظیر ہے۔
2 ۔ لعن طعن۔
3 ۔ شیعوں کا عالم ملا باقر مجلسی اپنی کتاب'' حق الیقین'' میں لکھتا ہے: (واز حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام منقولستکہ جہنم را ہفت در است، ازیک درفرعون وہامان وقارون کہ کنایہ از ابوبکر وعمر وعثمان است داخل مے شوند، وازیک دردیگربنوامیہ داخل شوند کہ مخصوص ایشا نست)۔
یعنی: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ایک دروازے سے داخل ہونے والے فرعون ہامان اور قارون ہیں یہ ابوبکر عمر اور عثمان سے کنایہ ہے، اور دوسرے دروازے سے بنو امیہ داخل ہوں گے جو ان کے ساتھ مخصوص ہے۔
ایک جگہ لکھا: (واعتقاد مادر برائت آنستکہ بیزاری جو یند از بت ہائے چہار گانہ یعنی ابوبکر وعمر وعثمان ومعاویہ، وزنان چہار گانہ یعنی عائشہ وحفصہ وہند وام الحکم، وازجمیع اشیاع واتباع ایشان وآنکہ ایشان ۔ بدترین خلق خدا یند وآنکہ تمام نمیشود اقرار بخدا ورسول وآئمہ مگر بہ بیزاری از دشمنان ایشان)۔
یعنی: برأت میں ھمارا اعتقاد یہ ہے کہ ان چار بتوں سے بیزاری طلب کرتے ہیں یعنی ابوبکر ، عمر ، عثمان اور معاویہ سے، اور چار عورتوں سے یعنی عائشہ، حفصہ، ہند اور ام الحکم سے، اور ان کے معتقدوں اور پیروکاروں سے، اور یہ لوگ اللہ کی مخلوق میں سب سے بدتر ہیں اور اللہ ، رسول اور آئمہ سے کیا ہوا عہد اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک کہ ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار نہ کیا جائے۔
ایک جگہ لکھا: (در تقریب المعارف روایت کردہ کہ آزاد کردہ حضرت علی بن الحسین علیہ السلام از آنحضرت پر سید کہ مرا بر تو حق خدمتی ہست، مرا خبردہ از حال ابوبکر وعمر ،حضرت فرمود ہر دو کافر بودند دہر کہ ایشا نرا دوست دارد کافر است)۔
یعنی: تقریب المعارف میں روایت ہے کہ حضرت علی بن الحسین علیہ السلام کے آزاد کردہ شخص نے حضرت سے پوچھا: آپ کی خدمت کرنے کی وجہ سے میرا آپ پر حق ہے، مجھے ابوبکر اور عمر کے حال کے متعلق بتائیے ،آپ نے فرمایا: وہ دونوں کافر ہیں اور جو ان کو دوست رکھتا ہے وہ بھی کافر ہے۔
ایک جگہ لکھا: (درعلل الشرائع روایت کردہ است از حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کہ چوں قائم ما ظاہر شود عائشہ رازندہ کند تا بر او حد بزند وانتقام فاطمہ را از او بکشد)۔
بلکہ باستثنا ئے چند سب کو معاذ اﷲ کافر و منافق قرار دیتا ہے۔(1) حضرات خلفائے ثلٰثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم کی ''خلافتِ راشدہ'' کو
ـــ
یعنی: علل الشرائع میں حضرت امام محمدباقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو وہ حضرت عائشہ کو زندہ کرکے ان پر حد جاری کریں گے اور ان سے فاطمہ کا انتقام لیں گے۔ ''حق الیقین'' لملّا باقر مجلسی، ص ۵۰۰۔ ۵۱۹۔ ۵۲۲۔ ۳۴۷، مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ تہران ایران، ۱۳۵۷ھ.
''حیات القلوب''، لملّا باقر مجلسی، ج۲، ص۶۱۰۔۶۱۱.مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ تہران.
ایک جگہ لکھا: (امام مہدی ہر دو (ابوبکر و عمر ) کو قبر سے باہر نکالیں گے وہ اپنی اسی صورت پر تروتازہ بدن کے ساتھ باہر نکالے جائیں گے پھر فرمائیں گے کہ ان کا کفن اتارو، ان کا کفن حلق سے اتارا جائے گا، ان کو اللہ کی قدرت سے زندہ کریں گے اور تمام مخلوق کو جمع ہونے کا حکم دیں گے پھر ابتداء عالم سے لے کر اخیر عالم تک جتنے ظلم اور کفر ہوئے ہیں ان سب کا گناہ ابوبکر وعمر پر لازم کردیں گے، اور وہ اس کا اعتراف کریں گے کہ اگر وہ پہلے دن خلیفہ برحق کا حق غصب نہ کرتے تو یہ گناہ نہ ہوتے ،پھر ان کو درخت پر چڑھانے کا حکم دیں گے اور آگ کو حکم دیں گے کہ زمین سے باہر آئے اور ان کو درخت کے ساتھ جلادے، اور ہوا کو حکم دیں گے کہ ان کی راکھ کو اڑا کر دریاؤں میں گرادے۔''حق الیقین'' لملّا باقر مجلسی، ص ۳۶۱۔۳۶۲، مطبوعہ کتاب فروشي اسلامیہ تہران ایران، ۱۳۵۷ھ.
1 ۔ (عن أبي جعفرقال:کان الناس أھل الردۃ بعد النبي إلاّ ثلثۃ، فقلت: ومن الثلاثۃ؟ فقال: المقداد بن الأسود، أبو ذر الغفاري، سلمان الفارسي).
یعنی: ابو جعفر علیہ السلام بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تین شخصوں کے سوا سب مرتد ہوگئے تھے، میں نے پوچھا: وہ تین کون ہیں؟ انہوں نے کہا : مقداد بن اسود، ابو ذر غفاری اور سلمان فارسی.
''رجال الکشي''، ص۱۲، مطبوعہ مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات کربلا إیران، (۲) ''تہذیب المتین في تأریخ أمیر المؤمنین''، ذکر مصیبت عظمی والکبرٰی (۳) ''احتجاج طبرسي''، جلد أول، ص۱۱۳، مطبوعہ نجف أشرف طبع جدید.
وفي ''الروضۃ من الکافي'' (''فروع کافي''): عن عبد الرحیم القصیر قال: (قلت لأبي جعفر علیہ السلام: إنّ الناس یفزعون إذا قلنا: إنّ الناس ارتدوا، فقال: یا عبد الرحیم إنّ الناس عادوا بعد ما قبض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أھل الجاھلیۃ).
یعنی : عبد الرحیم قصیر بیان کرتے ہیں: کہ میں نے ابوجعفر علیہ السلام سے کہا: جب ہم لوگوں سے یہ کہتے ہیں کہ سب لوگ مرتد ہوگئے تھے تو لوگ گھبرا جاتے ہیں، انہوں نے کہا: اے عبد الرحیم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب لوگ دوبارہ جاھلیت کی طرف پلٹ گئے تھے۔
''الروضۃ من الکافي'' (''فروع کافي'')، لشیخ أبو جعفر محمد بن یعقوب کلینی متوفی ۳۲۸ھ، ج۸، ص۲۹۶، مطبوعہ دار الکتب الإسلامیۃ تہران، طبع رابع.
وفي ''حیاۃ القلوب'': (عیاشی بسند معتبر ازحضرت امام محمد باقر روایت کردہ است کہ چوں حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم از دنیا رحلت نمود مردم ہمہ مرتد شوند بغیرچہار نفر،علي ابن ابي طالب، ومقداد، وسلمان، وابو ذر).
خلافتِغاصبہ کہتا ہے اور مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جو اُن حضرات کی خلافتیں تسلیم کیں اور اُن کے مَدائح و فضائل بیان کیے، اُس کو تقیّہ وبُزدلی پر محمول کرتا ہے۔ (1) کیا معاذاﷲ! منافقین و کافرین کے ہاتھ پر بیعت کرنا اور عمر بھر اُن کی مدح و ستائش سے رطب اللسان رہنا شیرِ خدا کی شان ہو سکتی ہے...؟! سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآنِ مجید اُن کو ایسے جلیل و مقدّس خطابات سے یاد فرماتا ہے، وہ تو وہ، اُن کے اتباع کرنے والوں کی نسبت فرماتا ہے: کہ اﷲ اُن سے راضی، وہ اﷲ سے راضی۔ (2) کیا کافروں، منافقوں کے لیے اﷲ عزوجل کے ایسے ارشادات ہوسکتے ہیں...؟! پھر نہایت شرم کی بات ہے کہ مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالی وجہہ الکریم تو اپنی
یعنی: عیاشی نے سند معتبر کے ساتھ حضرت امام محمد باقر سے روایت کیا ہے :کہ جب حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو چار کے سوا تمام لوگ مرتد ہوگئے ، علی بن ابی طالب، مقداد، سلمان اور ابوذر۔
''حیاۃ القلوب''، باب پنجاہ وہشتم درفضائل بعض از اکابرصحابہ ،ج۲، ص۱۰۸۳، مطبوعہ نامی نولکشور. وج۲، ص۶۲۷، مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ تہران.
1 ۔ انظر التفصیل: ''نفس الرحمان في فضائل سلمان''، باب۱۱.
''أنوار نعمانیۃ''، طبع قدیم، ص۳۴، طبع جدید جلد اول، ص۱۰۴.
''احتجاج طبرسی''، طبع قدیم، ص۵۳۔۵۶، طبع جدید ص۱۰۷۔۱۱۵.
''جلاء العیون''، طبع جدید، ج۱، ص۲۱۶، مطبوعہ تہران.
''حق القین''، باب پنجم، ص۱۱۵، مطبوعہ تہران.
''تہذیب المتین في تأریخ أمیر المؤمنین''، ج۱، ص۲۷۶، مطبوعہ یوسفی.
''حملہ حیدری''، ص۲۸۲، مطبوعہ تہران، ''مجالس المؤمنین''، ج۱، ص۲۲۴، مطبوعہ تہران.
2 ۔ (وَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہَارُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ). پ۱۰، التوبۃ: ۱۰۰.
في ''تفسیر البیضاوي''، ج۳، ص۱۶۸، تحت الآیۃ: ((وَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ) ہم الذین صلوا إلی القبلتین أو الذین شہدوا بدراً أو الذین أسلموا قبل الہجرۃ ( وَالْاَنْصَارِ) أھل بیعۃ العقبۃ الأولی وکانوا سبعۃ وأھل بیعۃ العقبۃ الثانیۃ وکانوا سبعین والذین آمنوا حین قدم علیہم أبو زرارۃ صعب بن عمیر (وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ) اللاحقون بالسابقین من القبیلتین، أو من اتبعوہم بالإِیمان والطاعۃ إلی یوم القیامۃ (رَّضِیَ اللہُ عَنْہُمْ) بقبول طاعتہم وارتضاء أعمالہم (وَرَضُواْ عَنْہُ) بما نالوا من نعمہ الدینیۃ والدنیویۃ (وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہَارُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) ملتقطاً.
صاحبزادی فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں دیں (1) اور یہ فرقہ کہے: تقیۃً ایسا کیا۔ کیا جان بوجھ کر کوئی مسلمان اپنی بیٹی کافر کو دے سکتا ہے...؟! نہ کہ وہ مقدس حضرات جنھوں نے اسلام کے لیے اپنی جانیں وقف کر دیں اور حق گوئی اور اتباع حق میں
(لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ط)(2)
کے سچے مصداق تھے۔ (3) پھر خود حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وعلیہم وسلم کی دو شاہزادیاں
1 ۔ (أم کلثوم من فاطمۃ واسمہا رقیۃ خرجت إلی عمر بن الخطاب فأولدہا زیداً).
''عمدۃ المطالب'' ، عقد أمیر المؤمین، ص۶۳، مطبوعہ نجف أشرف.
وفي روایۃ: (أم کلثوم کبری تزوجھا عمر وأم کلثوم صغری من کثیر بن عباس بن عبد المطلب).
''مناقب آل أبي طالب''، ج۳، ص۳۰۴.
وفي روایۃ: عن سلیمان بن خالد قال: سئلت أبا عبد اللہ علیہ السلام عن امراۃ توفي عنہا زوجھا أین تعتدّي في بیت زوجھا أو حیث شاء ت، ثم قال: إنّ علیا صلوۃ اللہ علیہ لما مات عمر أتی إلی أم کلثوم فأخذ بیدہا فانطلق بھا إلی بیتہ)۔
''فروع کافی''، ج۶، ص۱۱۵، مطبوعہ تہران طبع جدید۔
وفي روایۃ: (فجاء عمر إلی مجلس المہاجرین في الروضۃ وکان یجلس فیہا المہاجرون الأولون، فقال: رفّؤني رفّؤني، قالوا: بماذا یا أمیر المؤمنین؟ قال: تزوجتُ أم کلثوم بنت علي ابن أبي طالب، سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وآلہ یقول: کلّ سبب ونسب وصہر ینقطع یوم القیامۃ إلاّ سببي ونسبي وصہري).
''شرح نہج البلاغۃ''، ابن أبي حدید، ج۳، ص۱۲۴، مطبوعہ بیروت.
مزید حوالہ جات کے لیے ملاحظہ فرمائیں: ''شرح نہج البلاغۃ'' لابن أبي حدید، ج۴، ص۵۷۵۔۵۷۶، مطبوعہ بیروت ۱۳۷۵ئ.
''ناسخ التواریخ تأریخ الخلفائ''، ج۲، ص۱۲۹۶. ''مجالس المؤمنین''، ج۱، ص۲۰۴و ص۴۵۱، مطبوعہ تہران.
''فروع کافي''، طبع قدیم، ج۲، ص۳۱۱۔۳۱۲، مطبوعہ نولکشور.
''فروع کافی''، کتاب الطلاق، طبع جدید،ج۶، ص۱۱۵، مطبوعہ تہران.
''طراز المذہب مظفري''، مصنفہ مرزا عباسی، ص۳۳.
''منتہی الآمال '' ، (شیخ عباس قمي) ، ج۱، ص۲۱۷.
2 ۔ پ۶، المآئدۃ: ۵۴.
3 ۔ (لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَائِمٍ) پ۶ ، المآئدۃ : ۵۴. في ''تفسیر الطبري''، ج۴، ص۶۲۳، تحت ہذہ الآیۃ: عن الضحاک في قولہ: ((فَسَوْفَ یَاْتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہ، اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَائِمٍ) قال: ہو أبو بکر وأصحابہ لما ارتد من ارتدَّ من العرب عن الإسلام، جاہدہم أبو بکر وأصحابہ حتی ردَّہم إلی الإسلام).
یکے بعد دیگرے حضرت عثمن ذی النورین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں آئیں(1) اور صدیق و فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنھما کی صاحبزادیاں شرفِ زوجیت سے مشرف ہوئیں۔(2) کیا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے ایسے تعلقات جن سے ہوں، اُن کی نسبت وہ ملعون الفاظ کوئی ادنیٰ عقل والا ایک لمحہ کے لیے جاءز رکھ سکتا ہے...؟! ہرگز نہیں!، ہرگز نہیں!۔
ـ1 ۔ قال شیخنا أبو عثمان: (ولمّا ماتت الابنتان تحت عثمان، قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم لأصحابہ: ما تنتظرون لعثمان، ألاَ أبُو أیم ألاَ أخُو أیْم، زوّجتُہ ابنتین ولو أنّ عندي ثالثۃ لفعلتُ، قال: ولذلک سمّي ذا النورین).
''شرح نہج البلاغۃ'' ابن أبي حدید، ج۳، ص۴۶۰، مطبوعہ بیروت بڑا سائز.
وفي روایۃ: (پس خویشاوندی عثمان از ابوبکر وعمر بہ پیغمبر نزدیک تر است و بہ امادی پیغمبر مرتبہ اے یافتد ای کہ ابوبکر وعمر نیافتند عثمان رقیّہ وام کلثوم رابنا بر مشہور دختران پیغمبر بودند بہمسری خود در آورد در أوّل رقیّہ را وبعد از چثد گاہ کہ آں مظلومہ وفات نمود ام کلثوم رابجائے خواہر باو دادند)۔ ''شرح نہج البلاغۃ'' فارسی، فیض الاسلام، ص۵۱۹، خطبہ نمبر۱۴۳، مطبوعہ ایران.
یعنی: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ باعتبار قرابت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے قریب ہیں کہ اتنی قرابت ابوبکر اور عمر بن خطاب کو بھی حاصل نہیں۔ پھر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا داماد بن کر وہ مرتبہ پایا جو ابوبکر وعمر کو نہ ملا حضرت عثمان نے سیدہ رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنھما سے نکاح کیا جو مشہور روایات کے مطابق پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں تھیں پہلے حضرت رقیہ سے شادی ہوئی اور ان کے انتقال کے بعد ان کی ہمشیرہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح میں آئیں۔
دیگر شیعہ کتب بھی ملاحظہ فرمائیں: ''تفسیر مجمع البیان''، ج۲، جزء سوم، ص۳۳۳، مطبوعہ تہران. ''شرح نہج البلاغۃ''، فارسي، فیض الإسلام خطبہ ۱۴۳، ص۵۲۸، مطبوعہ تہران.
2 ۔ (عائشۃ دختر ابا بکر بود و مادر عائشۃ وعبد الرحمٰن بن ابی بکر ام رومان بنت عامر بن عمیر بود پیغمبر درمکہ معظمہ بعد از رحلت خدیجہ کبرےٰ وقبل از تزویج سودہ در ماہ شوال او را تزویج فرمود و زفافش بعد از شوّال سال اوّل ہجرت در مدینہ طیبہ واقع شد در حالیتکہ عائشۃ دہ سالہ بود پیغمبر پنجاہ وسہ سالہ بودند ۔حفصہ دُختر عمر بن الخطاب بود مادر حفصہ وعبداللہ بن عمرو عبدالرحمن بن عمر زینب بنت مظعون خواہر جناب عثمان بن مظعون بود پیغمبر (ص) او را در سال سوم از ہجرت در مدینہ تزویج فرمود وقبل از حضرت رسول (ص) حفصہ زوجہ حنیس بن عبداللہ بن السہمی بود وحفصہ در سنہ چھل وپنج ہجری درمدینہ طیبہ از دنیا رفت)۔
''منتخب التواریخ'' فارسی، ص۲۴۔۲۵، مطبوعہ تہران.
اِس فرقہ کا ایک عقیدہ یہ ہے کہ ''اﷲ عزوجل پر اَصلح واجب ہے(1) یعنی جو کام بندے کے حق میں نافع ہو، اﷲ عزوجل پر واجب ہے کہ وہی کرے، اُسے کرنا پڑے گا۔''
ایک عقیدہ یہ ہے کہ ''ائمہ اَطہار رضی ا ﷲ تعالیٰ عنھم، انبیا علیہم السلام سے افضل ہیں۔'' (2) اور یہ بالاجماع کفر ہے، کہ غیرِ نبی کو نبی سے افضل کہنا ہے۔ (3)
یعنی:عائشہ (صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا) ابوبکر (صدیق رضی اللہ تعالی عنہ) کی بیٹی تھیں، عائشہ اور عبد الرحمن بن ابو بکر (رضی اللہ تعالی عنھما)کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عمیر تھیں۔پیغمبر ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت خدیجۃ الکبری (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کی رحلت کے بعد مکہ مکرمہ میں حضرت سودہ (رضی اللہ تعالی عنہا )کے نکاح سے پہلے ماہ شوال میں ان سے نکاح فرمایا اور زفاف سودہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے نکاح کے بعد ماہ شوال میں ہجرت کے پہلے سال مدینہ منورہ میں فرمایا اس وقت عائشہ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کی عمر دس سال تھی اور پیغمبر( صلی اللہ علیہ وسلم) کی عمر ۵۳ سال تھی، ۔حضرت حفصہ( رضی اللہ تعالی عنہا) حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ تعالی عنہ) کی بیٹی تھیں۔ حضرت حفصہ، حضرت عبداللہ بن عمر ، عبد الرحمن بن عمر رضی اللہ عنھم کی والدہ زینب بنت مظعون تھیں جو کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ کی ہمشیرہ تھیں پیغمبر (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) نے ہجرت کے تیسرے سال مدینہ طیبہ میں ان سے نکاح فرمایا رسول پاک (صلی اللہ علیہ وسلم )سے قبل حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا حنیس بن عبداللہ بن سہمی کی بیوی تھیں حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مدینہ طیبہ میں ۴۵ ھ میں انتقال فرمایا۔
1 ۔ ''تحفہ اثنا عشریۃ'' (مترجم)، باب۵ : مسائل إلٰھیات ، عقید ہ نمبر۱۹، ص۲۹۳۔۲۹۷.
2 ۔ ''تحفہ اثنا عشریۃ '' (مترجم)، باب۶ : عقیدہ نمبر ۲،ص۳۱۲۔۳۱۳.
3 ۔ في'' الشفاء '' فصل في بیان ماہومن المقالات کفر، الجزء الثاني، ص۲۹۰: (وکذلک نقطع بتکفیر غلاۃ الرافضۃ في قولہم: إنّ الأئمۃ أفضل من الأنبیاء).
وفي ''منح الروض الأزہر''، الولي لا یبلغ درجۃ النبي، ص۱۲۱: (فما نقل عن بعض الکرامیۃ من جواز کون الولي أفضل من النبي کفر وضلالۃ وإلحاد وجہالۃ).
وفي ''ارشاد الساري''، کتاب العلم، باب ما یستحب للعالم... إلخ، ج۱، ص۳۷۸: (فالنبي أفضل من الولي، وہو أمر مقطوع بہ، والقائل بخلافہ کافر؛ لأنّہ معلوم من الشرع بالضرورۃ).
في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۲۵: (إنّ نبیا واحداً أفضل عند اللہ من جمیع الأولیاء، ومن فضل ولیاً علی نبي یخشی علیہ الکفر بل ہوکافر).
ایک عقیدہ یہ ہے کہ ''قرآن مجید محفوظ نہیں، بلکہ اُس میں سے کچھ پارے یا سورتیں یا آیتیں یا الفاظ امیر المؤمنین عثمن ا غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یا دیگر صحابہ رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم نے نکال دیے۔'' (1) مگر تعجب ہے کہ مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ نے بھی اُسے ناقص ہی
1 ۔ في ''أصول کافي'': (عن ہشام بن سالم عن أبي عبد اللہ علیہ السلام قال: إنّ القرآن الذي جاء بہ جبرائیل علیہ السلام إلی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سبعۃ عشرألف آیۃ).
یعنی: ہشام بن سالم بیان کرتے ہیں کہ ابو عبداللہ علیہ السلام نے فرمایا: بے شک جس قرآن کو جبرائیل علیہ السلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے کر آئے وہ سترہ ہزار آیتوں پر (مشتمل) ہے. ''أصول کافي''، للشیخ ابوجعفر محمد بن یعقوب کلیني، ج۲، ص۶۳۴، مطبوعہ دارالکتب الإسلامیہ تہران إیران.
شیخ ابو جعفر کلینی کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اصل قرآن کی سترہ ہزار آیتیں تھیں حالانکہ امام جلال الدین سیوطی نے لکھا ہے کہ قرآن مجید میں چھ ہزار چھ سو سولہ آیات ہیں جیسا کہ آپ'' الاتقان '' میں فرماتے ہیں: أخرج ابن الضریس من طریق عثمان بن عطاء عن أبیہ عن ابن عباس قال:(جمیع أي القرآن ستۃ آلاف آیۃ وستمائۃ آیۃ وست عشرۃ آیۃ).
''الإتقان''، فصل في عدد الآي... إلخ، ج۱، ص۹۵.
وفي ''الاحتجاج'': ( قال علي علیہ السلام: وأمّا ظہورک علی تناکر قولہ:(وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَائِ) ولیس یشبہ القسط في الیتامی نکاح النساء، ولا کلّ النساء أیتام، فہو مما قدمت ذکرہ من إسقاط المنافقین من القرآن وبین القول في الیتامی وبین نکاح النساء من الخطاب والقصص أکثر من ثلث القرآن، وھذا ما أشبہ مما ظہرت حوادث المنافقین فیہ لأھل النظر والتأمل، ووجد المعطلون وأھل الملل المخالفۃ للإسلام مساغا إلی القدح في القرآن، ولو شرحت لک کلما أسقط وحرف وبدل مما یجري ھذا المجری لطال، وظہرما تحظر التقیۃ إظہارہ من مناقب الأولیاء ومثالب الأعداء).
''الاحتجاج''، للشیخ أبو منصور أحمد بن علي بن أبي طالب طبرسي من علماء القرن السادس، ج۱، ص۲۵۴، مطبوعہ مؤسسۃ الأعلمی بیروت.
وفي ''مقدمۃ التفسیر الصافي''، ص۱۳: (المستفاد من مجموع ہذہ الروایات والأخبار وغیرہا من الروایات من طریق أھل البیت علیہم السلام أنّ القرآن الذي بین أظہرنا لیس بتمامہ کما أنزل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، بل منہ ما ہوخلاف ما أنزل اللہ، ومنہ ما ہو مغیر محرف، وأنّہ قد حذف عنہ أشیاء کثیرۃ، منھا: اسم علي في کثیر من المواضع، ومنھا: لفظۃ آل محمد غیر مرۃ، ومنھا: أسماء المنافقین في مواضعہا، ومنھا غیر ذلک، وأنّہ لیس أیضا علی الترتیب المرضي عند اللہ وعند رسولہ وبہ قال علي بن إبراہیم).
چھوڑا...؟! اور یہ عقیدہ بھی بالاِجماع کفر ہے، کہ قرآن مجید کا اِنکار ہے۔ (1)
وفي ''ناسخ التواریخ''، ج۲، کتاب دوم، ص۴۹۳۔۴۹۴: (مردم شیعی چنان دانندکہ در قرآن بعضے آیات راکہ دلالت بر نص خلافت علی مے داشتہ، واز فضائل أھل بیت می بودہ ابوبکر وعمر ساقط ساختند وازیں روئے آن قرآن کہ علی فراہم آوردہ بود پنذیرفتند وآں قرآن حبز در نزد قائم آل محمد دیدہ نشود وہمچنان عثمان نیز از آنچہ ابوبکر وعمر داشت نیز لختے بکاست).
یعنی: شیعہ لوگ اس طرح جانتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ قرآن مجید کی بعض ایسی آیات جو خلافت علی رضی اللہ عنہ پر نص صریح تھیں اور فضائل اھل بیت کے قبیل سے تھیں ابوبکر اور عمر نے ان کو ساقط کردیا اور حذف کردیا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لایا ہوا قرآن قبول نہ کیا اور وہ قرآن سوائے قائم آل محمد کے کسی کے پاس نہیں دیکھا جاسکتا اور اسی طرح عثمان نے بھی اس قرآن سے جو ابوبکر وعمر رکھتے تھے مزید کمی کردی۔
1 ۔ (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ) پ۱۴، الحجر: ۹.
في ''تفسیر البیضاوي''، ج۳، ص۳۶۲، تحت الآیۃ: بقولہ: (وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ) أي: من التحریف والزیادۃ والنقص).
وفي ''فواتح الرحموت'' شرح ''مسلم الثبوت''، مسألۃ کل مجتہد في المسألۃ الاجتھادیۃ... إلخ، ج۲، ص۴۲۲: (اعلم أنّي رأیت في ''مجمع البیان'' تفسیر بعض الشیعۃ أنّہ ذہب بعض أصحابہم إلی أنّ القرآن العیاذ باللہ کان زائداً علی ھذا المکتوب المقروئ، قد ذہب بتقصیر من الصحابۃ الجامعین العیاذ باللہ، ولم یختر صاحب ذلک التفسیر ھذا القول، فمن قال بھذا القول فہو کافر لإنکارہ الضروري، فافہم).
في ''منح الروض الأزہر''، فصل من ذلک فیما یتعلق بالقرآن والصلاۃ، ص۱۶۷: (من جحد القرآن، أي:کلہ أو سورۃ منہ أو آیۃ، قلت: وکذا کلمۃ أو قراء ۃ متواترۃ، أو زعم أنّہا لیست من کلام اللہ تعالی کفر).
وفي '' الشفاء '' بتعریف حقوق المصطفی، فصل في بیان ماہومن المقالات کفر، الجزء الثاني، ص۲۸۹: (ومن قال ھذا کافر وکذلک من أنکر القرآن أو حرفاً منہ أو غیر شیأاً منہ أو زاد فیہ کفعل الباطنیۃ والإسماعیلیۃ).
وفي '' المعتمد المستند''، الثالثۃ: الرافضۃ ، ص۲۲۴ ۔ ۲۲۵: (الرافضۃ الموجودون الآن في بلادنا، وصرحت مجتھدوھم وجھالھم ونسائھم ورجالھم بنقص القرآن، وأنّ الصحابۃ أسقطوا منہ سورا وآیات، وصرحوا بتفضیل أمیر المؤمنین سیدنا علي کرّم اللہ تعالٰی وجھہ الکریم وسائر الأ ئمۃ الأطھار رضي اللہ تعالٰی عنھم علی الأنبیاء السابقین جمیعاً، صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیھم، وھذان کفران لا تجدنّ أحداً منھم خالیاً عنھما في ھذا الزمان، واللہ المستعان).
''الفتاوی الرضویۃ ''، ج۱۴، ص۲۵۹۔۲۶۲.
ایک عقیدہ یہ ہے کہ ''اﷲ عزوجل کوئی حکم دیتا ہے پھر یہ معلوم کر کے کہ مصلحت اس کے غیر میں ہے، پچتاتا ہے۔'' اور یہ بھی یقینی کفر ہے، کہ خدا کو جاھل بتانا ہے۔(1)
ایک عقیدہ یہ ہے کہ ''نیکیوں کا خالق اﷲ ہے اور برائیوں کے خالق یہ خود ہیں۔''(2) مجوس(3) نے دو ہی خالق مانے تھے: یَزدان خالقِ خیر، اَہرمَن خالقِ شر۔(4) اِن کے خالقوں کی گنتی ہی نہ رہی، اربوں، سنکھوں خالق ہیں۔
1 ۔ ''تحفہ اثنا عشریۃ '' (مترجم)، باب۵ : مسائل إلٰھیات ، عقید ہ نمبر۱۷، ص۲۸۶ ۔ ۲۸۷ ۔ ۲۹۲.
2 ۔ وفي ''المعتمد المستند''، ذکر سبع طوائف في الھند... إلخ، الثالثۃ: الرافضۃ... إلخ، ص۲۲۵: ( وقد صرح مجتھدہم بالبدء علی اللہ تعالٰی عمایقول الظالمون علوا کبیرا ، وأخذ ینزلہ عن الکفر فوقع فیہ ، ولات حین مناص ، حیث أوّلہ بأن اللہ تعالی یحکم بشیء ثم یعلم أن المصلحۃ في خلافہ فیبدلہ ، فقد اعترف بحصول الجھل لربہ).
3 ۔ مجوسی کی جمع ، آگ کی پوجا کرنے والے۔
4 ۔ في ''النبراس'' ، الکلام في خلق الأفعال، ص۱۷۲: (الإشراک ھو إ ثبات الشریک في الأ لوہیۃ بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس فإنّہم یعتقدون إلٰھین یزدان خالق الخیر واہرمن خالق الشر). ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۵۳۷.
وانظر للتفصیل: ''تحفہ جعفریہ''، و''عقائد جعفریہ''، و''فقہ جعفریہ'' للمحقق شیخ الحدیث العلامۃ محمد علي نقشبندي علیہ رحمۃ اللہ القوي، و''تحفہ حسینیہ'' للعلامۃ محمد أشرف سیالوی دامت برکاتہم العالیۃ۔
(۳) وہابی: یہ ایک نیا فرقہ ہے جو ۱۲۰۹ھ میں پیدا ہوا، اِس مذہب کا بانی محمد بن عبدالوہاب نجدی تھا، جس نے تمام عرب، خصوصاً حرمین شریفین میں بہت شدید فتنے پھیلائے، علما کو قتل کیا(1)، صحابہ کرام و ائمہ و علما و شہدا کی قبریں کھود ڈالیں(2)، روضہ انور کا نام معاذاﷲ ''صنمِ اکبر'' رکھا تھا(3)، یعنی بڑا بت اور طرح طرح کے ظلم کیے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ نجد سے فتنے اٹھیں گے اور شیطان کا گروہ نکلے گا۔(4) وہ گروہ بارہ سو برس بعدیہ ظاہر ہوا۔ علامہ شامی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے اِسے خارجی بتایا۔(5) اِس عبدالوہاب کے بیٹے نے ایک کتاب لکھی جس کا نام
1 ۔ في ''ردالمحتار''، کتا ب الجھاد، باب البغاۃ، مطلب في اتباع عبد الوھاب الخوارج في زماننا، ج۶، ص۴۰۰: (وقع في زماننا في أتباع عبد الوھاب الذ ین خرجوا من نجد وتغلبوا علی الحرمین وکانواینتحلون مذ ھب الحنابلۃ، لکنّھم اعتقدوا أنّھم ھم المسلمون وأنّ من خالف اعتقادھم مشرکون، واستباحوا بذ لک قتل أھل السنۃ وقتل علمائھم).
انظر''الدرر السنیۃ فيالأجوبۃ النجدیۃ، کتاب العقائد، الجزء الأول، ص۶۷.
2 ۔ ''الدرر السنیۃ فيالأجوبۃ النجدیۃ، کتاب العقائد، الجزء الأول، ص۵۷.
3 ۔ قال محمد بن عبدالوھاب نجدی: (فالقبر المعظّم المقدّس وَثَنٌ وصنمٌ بکل معاني الوثنیّۃ لوکان الناس یعقلون).
حاشیہ ''شرح الصدور بتحریم رفع القبور'' لمحمد بن عبد الوھاب، ص ۲۵، مطبوعہ سعودیہ.
4 ۔ عن ابن عمر قال: ذکر النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((اللّٰھم بارک لنا في شا منا، اللّٰھم با رک لنا في یمننا، قالوا: یا رسول اللہ! وفي نجد نا ؟ قال: اللّٰھم بارک لنا في شأمنا، اللّٰھم با رک لنا في یمننا، قالوا: یا رسول اللہ! وفي نجدنا ؟ فأظنہ قال في الثالثۃ: ھناک الزلازل والفتن، وبھا یطلع قرن الشیطان)).''صحیح البخاري''، کتا ب الفتن، الحدیث:۷۰۹۴، ج۴، ص۴۴۰۔۴۴۱.
5 ۔ في''ردالمحتار''، کتاب الجھاد، ج۶، ص۴۰۰: (ویکفرون أصحاب نبینا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) علمت أنّ ھذا غیر شرط في مسمّی الخوارج، بل ھو بیان لمن خرجوا علی سیدنا علي رضي اللہ عنہ، وإلاّ فیکفي فیھم اعتقادھم کفر من خرجوا علیہ، کما وقع في زماننا فيأتباع عبد الوھاب الذین خرجوا من نجد وتغلبوا علی الحرمین وکانوا ینتحلون مذ ہب الحنابلۃ).
(إِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوہُ عَدُوًّا) [پ۲۴، فاطر: ۶] في ''تفسیر الصاوي''، ج۵، ص۱۶۸۸: وقیل: ہذہ الآیۃ نزلت في الخوارج الذین یحرفون تأویل الکتاب والسنۃ ویستحلون بذلک دماء المسلمین وأموالہم لما ھو مشاہد الآن في نظائرہم یحسبون أنھم علی شيء ألا إنّہم ہم الکاذبون استحوذ علیہم الشیطن فأنساہم ذکر اللہ أولئک حزب الشیطن ہم الخاسرون، نسأل اللہ الکریم أن یقطع دابرہم۔
في ''شرح النساءي''، ج۱، ص۳۶۰ : (قولہ: ((کما یمرق السہم۔۔۔ إلخ)): یرید أنّ دخولہم أي: الخوارج في الإسلام ثم خروجھم منہ لم یتمسکوا منہ بشیء کالسہم دخل في الرمیۃ ثم نفذ وخرج منھا ولم یعلق بہ منھا شیء کذا في ''المجمع'' ثم لیعلم إنّ الذین یدینون دین ابن عبد الوھاب النجدي یسلکون مسالکہ في الأصول والفروع ویدعون في بلادنا باسم الوھابین وغیر المقلدین ویزعمون أنّ تقلید أحد الأئمۃ الأربعۃ رضوان اللہ علیہم أجمعین شرک وإنّ من خالفہم ہم المشرکون
''کتاب التوحید'' رکھا(1) ، اُس کا ترجمہ ہندوستان میں ''اسماعیل دھلوی'' نے کیا، جس کا نام''تقویۃ الایمان'' رکھا اور ہندوستان میں اسی نے وہابیت پھیلائی۔
اِن وہابیہ کا ایک بہت بڑا عقیدہ یہ ہے کہ جو اِن کے مذہب پر نہ ہو، وہ کافر مشرک ہے۔ (2) یہی وجہ ہے کہ بات بات پر محض بلاوجہ مسلمانوں پر حکمِ شرک و کفرلگایا کرتے اور تمام دنیا کو مشرک بتاتے ہیں۔ چنانچہ ''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۴۵ میں وہ حدیث لکھ کر کہ ''آخر زمانہ میں اﷲ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اٹھا لے گی۔'' (3) اِس کے بعد صاف لکھ دیا: ''سو پیغمبرِ خدا کے فرمانے کے موافق ہوا''(4)، یعنی وہ ہوا چل گئی اور کوئی مسلمان روئے زمین پر نہ رہا ، مگر یہ نہ سمجھا کہ اس صورت میں خود بھی تو کافر ہوگیا۔
اِس مذہب کا رکنِ اعظم، اﷲ (عزوجل) کی توہین اور محبوبانِ خدا کی تذلیل ہے، ہر امر میں وہی پھلو اختیار کریں گے جس سے منقصت نکلتی ہو۔ (5) اس مذہب کے سرگروہوں کے بعض اقوال نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، کہ ھمارے عوام بھائی ان کی
ویستبیحون قتلنا أھل السنۃ وسبي نسائنا وغیر ذلک من العقائد الشنیعۃ التي وصلت إلینا منھم بواسطۃ الثقات وسمعناہا بعضاً منھم أیضاً ہم فرقۃ من الخوارج وقد صرح بہ العلامۃ الشامي في کتابہ ''ردّ المحتار''۔
1 ۔ في ''الأعلام'' للزرکلي، ج۶، ص۲۵۷: (محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان النجدي، لہ مصنفات أکثرہا رسائل مطبوعۃ، منھا ''کتاب التوحید''). انظر''معجم المؤلفین''، ج۳، ص۴۷۲۔۴۷۳۔
2 ۔ في ''الدرر السنیۃ في الأجوبۃ النجدیۃ''، لعبد الرحمن بن محمد بن قاسم المتوفی ۱۳۹۲ھ، ج۱، ص۶۷: (واعلم أنّ المشرکین في زماننا: قد زادوا علی الکفار في زمن النبي صلی اللہ علیہ وسلم بأنھم یدعون الملائکۃ، والأولیائ، والصالحین ویریدون شفاعتہم والتقرب إلیہم۔۔۔ إلخ)۔ وفي ص۶۹: (وعرفت أن إقرارہم بتوحید الربوبیۃ لم یدخلہم في الإسلام، وأن قصدہم الملائکۃ والأنبیاء والأولیاء یریدون شفاعتہم والتقرب إلی اللہ تعالی بہم ہو الذي أحل دمائہم وأموالہم۔۔۔ إلخ)۔
وفي ''رد المحتار''، کتاب الجھاد، ج۶، ص۴۰۰: ( لکنّھم اعتقدوا أنّھم ھم المسلمون وأنّ من خالف اعتقادھم مشرکون).
3 ۔ ((ثم یبعث اللہ ریحا طیبۃ، فتوفّی کل من في قلبہ مثقال حبۃ من خردل من إیمان فیبقی من لا خیر فیہ، فیرجعون إلی دین آبائہم)). ''صحیح مسلم''، کتاب الفتن ، باب لا تقوم الساعۃ حتی تعبد دوس ذا الخلیصۃ، الحدیث: ۷۲۹۹، ص۱۱۸۲.
4 ۔ ''تقویۃ الإیمان''، باب أول، فصل۴: شرک فی العبادات کی برائی کا بیان، ص۴۵:
.gif)
5 ۔ ان کی شان میں نقص و عیب ظاہر ہوتا ہو۔
قلبی خباثتوں پر مطلع ہوں اور ان کے دامِ تزویر (1) سے بچیں اور ان کے جبّہ و دستار پر نہ جائیں۔ برادرانِ اسلام بغور سُنیں اور میزانِ ایمان میں تولیں کہ ایمان سے زیادہ عزیز مسلمان کے نزدیک کوئی چیز نہیں اور ایمان، اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی محبت و تعظیم ہی کا نام ہے۔ ایمان کے ساتھ جس میں جتنے فضائل پائے جائیں وہ اُسی قدر زیادہ فضیلت رکھتا ہے، اور ایمان نہیں تو مسلمانوں کے نزدیک وہ کچھ وقعت نہیں رکھتا، اگرچہ کتنا ہی بڑا عالم و زاہد و تارک الدنیا وغیرہ بنتا ہو، مقصود یہ ہے کہ اُن کے مولوی اور عالم فاضل ہونے کی وجہ سے اُنھیں تم اپنا پیشوا نہ سمجھو، جب کہ وہ اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دشمن ہیں، کیا یہود ونصاریٰ بلکہ ہنود میں بھی اُن کے مذاہب کے عالم یا تارک الدنیا نہیں ہوتے...؟! کیا تم اُن کو اپنا پیشوا تسلیم کرسکتے ہو...؟! ہرگز نہیں! اِسی طرح یہ لامذہب و بد مذہب تمھارے کسی طرح مقتدا نہیں ہوسکتے۔
''اِیضاح الحق'' صفحہ ۳۵ و صفحہ ۳۶ مطبع فاروقی میں ہے(2) : (''تنزیہ اُو تعالیٰ از زمان و مکان و جہت و اثباتِ رویت بلاجہت و محاذاتِ ہمہ از قبیل بدعاتِ حقیقیہ است، اگر صاحبِ آں اعتقاداتِ مذکورہ را از جنسِ عقائدِ دینیہ مے شمارد'') .(3)
اس میں صاف تصریح ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو زمان و مکان و جہت سے پاک جاننا اور اس کا دیدار بلا کیف ماننا، بدعت و گمراہی ہے، حالانکہ یہ تمام اھلِ سنت کا عقیدہ ہے۔ (4) تو اِس قائل نے تمام پیشوایانِ اھلسنت کو گمراہ و بدعتی بتایا، ''بحر الرائق'' و ''درِ مختار''
1 ۔ مکر وفریب۔
2 ۔''إیضاح الحق''، (مترجم اردو) فائدہ اول، پھلا مسئلہ، ص۷۷۔۷۸، قدیمی کتب خانہ.
3 ۔یعنی: اللہ تعالی کو زمان ومکان اور جہت سے پاک قرار دینا اور اس کا دیدار بلا جہت وکیف ثابت کرنا یہ تمام امور از قبیل بدعت حقیقیہ ہیں اگر کوئی شخص ان مذکورہ اعتقادات کو دینی اعتقاد شمار کرے۔
4 ۔ '' تحفہ اثنا عشریہ ''میں شاہ عبد العزیز محدث دھلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : (عقیدہ سیزدہم آنکہ حق تعالی را مکان نیست واو را جہت از فوق وتحت متصور نیست وہمینست مذہب اھل سنت وجماعت)
یعنی:تیرھواں عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مکان اور فوق وتحت کی جہت متصور نہیں ہے اور یہی اھل سنت وجماعت کا مذہب ہے۔
(''تحفہ اثنا عشریہ''، (مترجم) پانچواں باب، مسائل الہیات، ص۲۷۹، دار الاشاعت).
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج ۱ ، ص۲۴۸۔۲۴۹: (ولا یتمکن بمکان) أي: واللہ تعالی یستحیل علیہ أن یکون في مکان، (ولا یجري علیہ) سبحانہ وتعالی (زمان، ولیس لہ) تعالی (جہۃ من الجہات الست) التي ہي فوق وتحت ویمین ویسار وقدام وخلف، لأنّہ تعالی لیس بجسم حتی تکون لہ جہۃ کما للأجسام، ملتقطا.
وفي''الفقہ الأکبر''، ص۸۳: (واللہ تعالی یری في الآخرۃ، ویراہ المؤمنون وہم في الجنۃ بأعین رؤوسہم بلا تشبیہ ولا کیفیۃ، ولا کمیۃ، ولا یکون بینہ وبین خلقہ مسافۃ). انظر ''الفتاوی الرضویۃ''، کتا ب السیر، ج۱۴، ص۲۸۳.
و''عالمگیری'' میں ہے :کہ اﷲ تعالیٰ کے لیے جو مکان ثابت کرے، کافر ہے۔ (1)
''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۶۰ میں یہ حدیث:
((أَرأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِيْ أَ کُنْتَ تَسْجُدُ لَہٗ.))(2)
نقل کر کے ترجمہ کیا کہ ''بھلا خیال تو کر جو تُو گزرے میری قبر پر، کیا سجدہ کرے تو اُس کو''، اُس کے بعد (ف) لکھ کر فائدہ یہ جَڑ دیا: ( یعنی میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں۔) (3) حالانکہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
((إِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أنْ تَأْکُلَ أجْسَادَ الأَنْبِیَاءِ.))(4)
''اﷲ تعالیٰ نے اپنے انبیا علیہم السلام کے اَجسام کھانا، زمین پر حرام کر دیا ہے۔''
((فَنَبِيُّ اللہِ حَيٌّ یُّرْزَقُ.)) (5)
''تو اﷲ (عزوجل) کے نبی زندہ ہیں، روزی دیے جاتے ہیں۔''
اِسی ''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۱۹ میں ہے: ''ھمارا جب خالق اﷲ ہے اور اس نے ہم کو پیدا کیا توہم کو بھی چاہیے کہ اپنے ہر کاموں پر اُسی کو پکاریں اور کسی سے ہم کو کیا کام؟ جیسے جو کوئی ایک بادشاہ کا غلام ہوچکا تو وہ اپنے ہر کام کا علاقہ اُسی سے رکھتا ہے،
1 ۔ في''البحر الرائق''، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۵، ص۲۰۲: (یکفر بقولہ یجوز أن یفعل اللہ فعلاً لاحکمۃ فیہ، وبإثبات المکان للہ تعالی فإن قال اللہ في السماء فإن قصد حکایۃ ما جاء في ظاہر الأخبار لایکفر وإن أراد المکان کفر، وإن لم یکن لہ نیۃ کفر عند الأکثر وہو الأصح وعلیہ الفتوی).
في ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۵۹: (یکفر بإثبات المکان للہ تعالی).
'' الفتاوی الرضویۃ '' ، کتا ب السیر، ج۱۴، ص۲۸۲ ۔ ۲۸۳.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب النکاح، باب في حق الزوج علی المرأۃ، الحدیث: ۲۱۴۰، ج۲، ص۳۵۵.
3 ۔ ''تقویۃ الإیمان''، باب أوّل، فصل۵، شرک فی العبادات کی برائی کا بیان، ص۵۷:
.gif)
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، الحدیث: ۱۶۳۷، ج۲، ص۲۹۱.
''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ، الحدیث:۱۰۴۶، ج۱، ص۳۹۱.
''سنن النساءي''، کتاب الجمعۃ، باب إکثار الصلاۃ علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۳۷۱، ص۲۳۷.
'' المسند''، للإمام أحمد بن حنبل، ج۵، ص۴۶۳، الحدیث:۱۶۱۶۲.
''المستدرک'' للحاکم، کتاب الجمعۃ، الحدیث:۱۰۶۸، ص۵۶۹.
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، الحدیث: ۱۶۳۷، ج۲، ص۲۹۱.
دوسرے بادشاہ سے بھی نہیں رکھتا اور کسی چوہڑے چمار کا تو کیا ذکر۔'' (1)
انبیائے کرام و اولیائے عِظام کی شان میں ایسے ملعون الفاظ استعمال کرنا، کیا مسلمان کی شان ہو سکتی ہے...؟!
''صراطِ مستقیم'' صفحہ ۹۵: ''بمقتضائے
(ظُلُمٰتٌم بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍط)(2)
از وسوسہ زنا، خیالِ مجامعتِ زوجہ خود بہتراست، و صرفِ ہمت بسوئے شیخ و اَمثالِ آں از معظمین گو جنابِ رسالت مآب باشند بچندیں مرتبہ بد تر از استغراق درصورتِ گاؤ و خرِ خود ست۔'' (3)
مسلمانو ! یہ ہیں اِمام الو ہابیہ کے کلماتِ خبیثات! او ر کس کی شان میں؟ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں! جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہے، وہ ضروریہ کہے گا کہ اِس قول میں گستاخی ضرور ہے۔
1 ۔ ''تقویۃ الایمان''، باب اول، فصل ۱، شرک سے بچنے کا بیان، ص۲۸:
2 ۔ پ۱۸، النور:۴۰.
3 ۔ ''صراط مستقیم''، ص۸۶:
.gif)
.gif)
''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۱۰:
''روزی کی کشائش اور تنگی کرنی اور تندرست و بیمار کر دینا، اِقبال و اِدبار (1) دینا، حاجتیں بر لانی، بلائیں ٹالنی، مشکل میں دستگیری کرنی، یہ سب اﷲ ہی کی شان ہے اور کسی انبیا، اولیا، بھوت، پری کی یہ شان نہیں، جو کسی کو ایسا تصرّف ثابت کرے اور اس سے مرادیں مانگے اور مصیبت کے وقت اُس کو پکارے، سو وہ مشرک ہو جاتا ہے، پھر خواہ یوں سمجھے کہ اِن کاموں کی طاقت اُن کو خود بخود ہے، خواہ یوں سمجھے کہ اﷲ نے اُن کو قدرت بخشی ہے، ہر طرح شرک ہے۔ ''(2)
یعنی: ظلمات بعضہا فوق بعض کی بناء پر زنا کے وسوسہ سے اپنی بیوی سے مجامعت کا خیال بہتر ہے اور اپنی ہمت کو شیخ اور ان جیسے معظم لوگوں خواہ جناب رسالت مآب ہی ہوں، کی طرف مبذول کرنا اپنے گائے اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے کئی گناہ بدتر ہے، کیونکہ ان کا خیال تعظیم اور اجلال کے ساتھ انسان کے دل کی گہرائی میں چپک جاتا ہے، بخلاف گدھے اور گائے کے خیال میں نہ تو اس قدر چسپیدگی ہوتی ہے اور نہ ہی تعظیم بلکہ ان کا خیال بے تعظیم اور حقیر ہوتا ہے ،اور یہ غیر کی تعظیم و اجلال نماز میں ملحوظ و مقصود ہو تو شرک کی طرف کھینچ لیتی ہے۔
1 ۔ عروج و زوال۔
2 ۔ ''تقویۃ الایمان''، باب اوّل، توحید اور شرک کا بیان، ص۲۲:
.gif)
''قرآن مجید'' میں ہے:
(اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ ۚ )ـ1ـ
''اُن کو اﷲ و رسول اﷲ نے غنی کر دیا اپنے فضل سے۔''
قرآن تو کہتا ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ عللیہ وسلم نے دولت مند کر دیا اور یہ کہتا ہے: ''جو کسی کو ایسا تصرّف ثابت کرے مشرک ہے۔'' تو اِس کے طور پر قرآنِ مجید شرک کی تعلیم دیتا ہے...! قرآن عظیم میں ارشاد ہے:
(وَتُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ بِاِذْنِیۡ ۚ )
''اے عیسیٰ! تُو میرے حکم سے مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اچھا کر دیتا ہے۔''
اور دوسری جگہ ہے:
( وَاُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ وَاُحۡیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِ ۚ )ـ3ـ
''عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں: میں اچھا کرتا ہوں، مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اورمُردوں کو جِلا دیتا ہوں، اﷲ کے حکم سے۔''
اب قرآن کا تو یہ حکم ہے اور وہابیہ یہ کہتے ہیں کہ تندرست کرنا اﷲ (عزوجل) ہی کی شان ہے، جو کسی کو ایسا تصرّف ثابت کرے مشرک ہے۔ اب وہابی بتائیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ایسا تصرّف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے ثابت کیا تو اُس پر کیا حکم لگاتے ہیں...؟! اور لُطف یہ ہے کہ اﷲ عزوجل نے اگر اُن کو قدرت بخشی ہے، جب بھی شرک ہے تو معلوم نہیں کہ اِن کے یہاں اِسلام کس چیز کا نام ہے؟
''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۱۱:
''گِرد و پیش کے جنگل کا ادب کرنا، یعنی وہاں شکار نہ کرنا، درخت نہ کاٹنا، یہ کام اﷲ نے اپنی عبادت کے لیے بتائے ہیں، پھر جو کوئی کسی پیغمبر یا بھوت کے مکانوں کے گِرد و پیش کے جنگل کا ادب کرے، اُس پر شرک ثابت ہے، خواہ یوں سمجھے کہ یہ آپ
1 ۔ پ۱۰، التوبۃ : ۷۴.
2 ۔ پ۷، المآئدۃ: ۱۱۰.
3 ۔ پ۳، اٰلِ عمرٰن: ۴۹.
ہی اِس تعظیم کے لائق ہے، یا یوں کہ اُن کی اِس تعظیم سے اﷲ خوش ہوتا ہے، ہر طرح شرک ہے۔'' (1)
متعدد صحیح حدیثوں میں ارشاد فرمایا: کہ ''ابراہیم نے مکہ کو حرم بنایا اور میں نے مدینے کو حرم کیا، اِس کے ببول کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اِس کا شکار نہ کیا جائے۔'' (2)
1 ۔ ''تقویۃ الایمان''، باب اول، توحید اور شرک کا بیان، ص۲۳:
.gif)
2 ۔ عن جابر قال: قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ ابراہیم حرّم مکۃ، وإنّي حرمتُ المدینۃ ما بین لابتیھا، لا یقطع عضاھھا ولا یصاد صیدھا)).
''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ ودعاء النبي فیھا بالبرکۃ... إلخ، الحدیث: ۱۳۶۲، ص۷۰۹.
وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّي أحرم ما بین لابتي المدینۃ کما حرم إبراہیم حرمہ لا یقطع عضاہہا ولا یقتل صیدہا)). ''المسند''، للإمام أحمد بن حنبل، ج۱، ص۳۸۴، الحدیث: ۱۵۷۳۔
وفي روایۃ ''صحیح مسلم''، قال النبيصلی اللہ علیہ وسلم: (( ۔ اللہم إنّ إبراہیم حرم مکۃ فجعلہا حرماً، وإنّي حرّمت المدینۃ حراماً ما بین مأزمیہا، أن لا یہراق فیہا دم، ولا یحمل فیہا سِلاح لقتال، ولا تخبط فیہا شجرۃ إلاّ لعلف، اللہم بارک لنا في مدینتنا، اللہم بارک لنا في صاعنا، اللہم بارک لنا في مدّنا، اللہم بارک لنا في صاعنا، اللہم بارک لنا في مدّنا، اللہم بارک لنا في مدینتنا، اللہم اجعل مع البرکۃ برکتین، والذي نفسي بیدہ! ما من المدینۃ شعب ولا نقب إلاّ علیہ ملکان یحرسانہا حتی تقدموا إلیہا...إلخ))۔
''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب الترغیب في سکنی المدینۃ...إلخ، الحدیث: ۴۷۵، ص۷۱۳۔۷۱۴.
مسلمانو! ایمان سے دیکھنا کہ اس شرک فروش کا شرک کہاں تک پہنچتا ہے! تم نے دیکھا اِس گستاخ نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ عللیہ وسلم پر کیا حکم جَڑا...؟!
''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۸:
''پیغمبرِ خدا کے وقت میں کافر بھی اپنے بتوں کو اﷲ کے برابر نہیں جانتے تھے، بلکہ اُسی کا مخلوق اور اس کا بندہ سمجھتے تھے اور اُن کو اُس کے مقابل کی طاقت ثابت نہیں کرتے تھے، مگر یہی پکارنا اور منتیں ماننی اور نذر و نیاز کرنی اور ان کو اپنا وکیل و سفارشی سمجھنا، یہی اُن کا کفر و شرک تھا، سو جو کوئی کسی سے یہ معاملہ کرے، گو کہ اُس کو اﷲ کا بندہ ومخلوق ہی سمجھے، سو ابوجھل اور وہ شرک میں برابر ہے۔'' (1)
یعنی جو نبی صلی اﷲ تعالیٰ عللیہ وسلم کی شفاعت مانے، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ عللیہ وسلم) اﷲ عزوجل کے دربار میں ھماری سفارش فرمائیں گے تو معاذ اﷲ اس کے نزدیک وہ ابو جھل کے برابر مشرک ہے، مسئلہ شفاعت کا صرف انکار ہی نہیں بلکہ اس کو شرک ثابت کیا اور تمام مسلمانوں صحابہ و تابعین و ائمہ دین و اولیا و صالحین سب کو مشرک و ابو جھل بنا دیا۔
''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۵۸:
''کوئی شخص کہے: فُلانے درخت میں کتنے پتے ہیں؟ یا آسمان میں کتنے تارے ہیں؟ تو اس کے جواب میں یہ نہ کہے، کہ
1 ۔ ''تقویۃ الایمان''، باب اول، توحید اور شرک کا بیان، ص۲۱:
.gif)
اﷲو رسول ہی جانے، کیونکہ غیب کی بات اﷲ ہی جانتا ہے، رسول کو کیا خبر۔'' (1) سبحان اﷲ...! خدائی اسی کا نام رہ گیا کہ کسی پیڑ کے پتے کی تعداد جان لی جائے۔
''تقویۃ الایمان'' صفحہ۷:
''اﷲ صاحب نے کسی کو عالم میں تصرّف کرنے کی قدرت نہیں دی۔'' (2) اِس میں انبیائے کِرام کے معجزات اور اولیا عظام کی کرامت کا صاف انکار ہے۔
اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
(فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ۘ﴿۵﴾ ) ـ3ـ
''قسم فرشتوں کی جو کاموں کی تدبیر کرتے ہیں۔''
تو یہ قرآن کریم کو صاف رد کر رہا ہے۔
1 ۔ ''تقویۃ الایمان''، فصل۵: شرک فی العادات کی برائی کا بیان، ص۵۵:
.gif)
2 ۔ ''تقویۃ الایمان''، باب اول، توحید اور شرک کا بیان، ص۲۰:
.gif)
3 ۔ پ۳۰، النّٰزعٰت: ۵.
صفحہ ۲۲: ''جس کا نام محمد یا علی ہے، وہ کسی چیز کا مختار نہیں۔'' (1)
تعجب ہے کہ وہابی صاحب تو اپنے گھر کی تمام چیزوں کا اختیار رکھیں اور مالکِ ہر دو سَرا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کسی چیز کے مختار نہیں...!
اِس گروہ کا ایک مشہور عقیدہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے۔ (2)
1 ۔ ''تقویۃ الایمان''، باب اول، فصل۴: شرک فی العبادات کی برائی کا بیان، ص۴۳:
.gif)
2 ۔ مولوی رشید احمد گنگوہی اپنی کتاب ''فتاوی رشیدیہ'' میں اللہ عزوجل کے لیے امکان کذب کو ثابت کرتے ہوئے لکھتا ہے :
.gif)
اور دوسرے مقام پر لکھا:
.gif)
''فتاوی رشیدیہ''، کتاب العقائد، ص۲۱۰ ۔ ۲۱۱.
اسی طرح اسماعیل دھلوی نے اپنے رسالہ ''یک روزہ'' (فارسی) میں اللہ تعالی کی طرف اِمکان کذب کی نسبت کرتے ہوئے لکھا:
.gif)
۔
یعنی: میں (اسماعیل دھلوی)کہتا ہوں : اگر محال سے مراد ممتنع لذاتہ ہے کہ (جھوٹ) اللہ کی قدرت کے تحت داخل نہیں، پس ہم (اللہ کے لئے) مذکورہ کذب کو محال نہیں مانتے کیونکہ واقع کے خلاف کوئی قضیہ و خبر بنانا اور اس کو فرشتوں اور انبیاء پر القاء کرنا اللہ تعالی کی قدرت سے خارج نہیں ورنہ لازم آئیگا کہ انسانی قدرت اللہ تعالی کی قدرت سے زائد ہوجائے۔ رسالہ ''یک روزہ''، ص۱۷.
اللہ عزوجل مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھے آمین ۔
ہم اھلسنت وجماعت کے نزدیک اللہ عزوجل کی طرف کذب کی نسبت کرنا منع ہے کہ اللہ عزوجل کے لیے جھوٹ بولنا محال ہے وہ جھوٹ نہیں بول سکتا .
اللہ تعالی قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
(وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیلْاً ) پ۵، النساء:۱۲۲. ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔
(وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیْثًا) پ۵، النساء:۸۷. ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔
في ''تفسیر روح البیان''، ج۲، ص۲۵۵، و''تفسیر البیضاوي''، ج۲، ص۲۲۹، تحت ہذہ الآیۃ: ((وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّہِ حَدِیثًا)، إنکار أن یکون أحد أکثر صدقاً منہ، فإنّہ لا یتطرق الکذب إلی خبرہ بوجہ؛ لأنّہ نقص وہو علی اللہ محال).
یعنی: اللہ تعالی اس آیت میں انکار فرماتا ہے کہ کوئی شخص اللہ سے زیادہ سچا ہو ، اس کی خبر میں تو جھوٹ کا کوئی شائبہ تک نہیں اس لیے کہ جھوٹ عیب ہے اور عیب اللہ تعالی کے لئے محال ہے۔
وفي''تفسیر الخازن''، ج۱، ص۴۱۰، تحت ہذہ الآیۃ: (وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیْثًا)، یعني: لا أحد أصدق من اللہ فإنّہ لا یخلف المیعاد ولا یجوز علیہ الکذب).
یعنی: مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی سے زیادہ کوئی سچا نہیں، بیشک وہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور نہ اس کا جھوٹ بولنا ممکن ہے۔
وفي''تفسیر أبي السعود''، ج۱، ص۵۶۱، تحت ہذہ الآیۃ: ((وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیْثًا)، إنکارٌ لأن یکون أحدٌ أصدقَ منہ تعالی في وعدہ وسائرِ أخبارِہ وبیانٌ لاستحالتہ کیف لا والکذِبُ مُحالٌ علیہ سبحانہ دون غیرِہ).یعنی: اس آیت سے ثابت ہوا کہ وعدہ، اور کسی طرح کی خبر دینے میں، اللہ تعالی سے زیادہ سچا کوئی نہیں اور اس کے محال ہونے کی وضاحت بھی ہے اور کیسے نہ ہو کہ جھوٹ بولنا اللہ سبحانہ وتعالی کے لئے محال ہے بخلاف دوسروں کے۔ .
(فَلَنْ یُّخْلِفَ اللہُ عَہْدَہٗۤ) پ۱، البقرۃ:۸۰. ترجمہ کنز الایمان: جب تو اللہ ہرگز اپنا عہد خلاف نہ کریگا۔
في ''تفسیر الکبیر''، ج۱، ص۵۶۷، تحت ہذہ الآیۃ: ((فَلَنْ یُّخْلِفَ اللہُ عَہْدَہٗۤ) یدّل علی أنّہ سبحانہ وتعالی منزہ عن الکذب وعدہ ووعیدہ، قال أصحابنا: لأنّ الکذب صفۃ نقص، والنقص علی اللہ محال).
یعنی: اللہ تعالی کا یہ فرمانا کہ اللہ ہرگز اپنا عہد خلاف نہ کریگا اس مدعا پر واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالی اپنے ہر وعدے اور وعید میں جھوٹ سے پاک ہے ھمارے اصحاب کہتے ہیں کہ جھوٹ صفت نقص ہے اور نقص اللہ تعالی کے لئے محال ہے۔
بلکہ اُن کے ایک سرغَنہ نے تو اپنے ایک فتوے میں لکھ دیا کہ: ''وقوعِ کذب کے معنی درست ہوگئے، جو یہ کہے کہ اﷲ تعالیٰ جھوٹ بول چکا، ایسے کو تضلیل و تفسیق سے مامون کرنا چاہیے'' ۔(1)
سبحان اﷲ...! خدا کو جھوٹا مانا، پھر بھی اسلام و سنّیت و صلاح کسی بات میں فرق نہ آیا، معلوم نہیں ان لوگوں نے کس چیز کو خدا ٹھہرا لیا ہے!
ایک عقیدہ ان کا یہ ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بمعنی آخر الانبیاء نہیں مانتے۔(2) اور یہ صریح کفر ہے۔(3)
في''تفسیر الکبیر''، ج۶، ص ۵۲۱: (المؤمن لا یجوز أن یظن باللہ الکذب، بل یخرج بذلک عن الإیمان).
في ''شرح المقاصد''، المبحث السادس في أنّہ تعالی متکلم: (الکذب محال بإجماع العلماء،؛ لأنّ الکذب نقص باتفاق العقلاء وہو علی اللہ تعالی محال اھ)، ملخصاً.
یعنی: جھوٹ باجماع علماء محال ہے کہ وہ باتفاق عقلاء عیب ہے اور عیب اللہ تعالی پر محال اھ. ملخصاً.
وفي مقام آخر: (محال ہو جھلہ أو کذبہ تعالی عن ذلک)
یعنی: اللہ تبارک وتعالی کا جھل یا کذب دونوں محال ہیں برتری ہے اسے ان سے۔
وفي شرح عقائد نسفیہ: (کذب کلام اللہ تعالی محال اھ) ملخصاً یعنی: کلام الہی کا کذب محال ہے اھ ، ملخصاً.
وفي ''طوالع الأنوار'': (الکذب نقص والنقص علی اللہ تعالی محال اھ). یعنی: جھوٹ عیب ہے اور عیب اللہ تعالی پر محال۔
وفي ''المسامرۃ'' بشرح '' المسایرۃ''، ص۲۰۵: (وہو) أي: الکذب (مستحیل علیہ) تعالی (لأنّہ نقص).
یعنی: اور جھوٹ اللہ تعالی پر محال ہے اس لیے کہ یہ عیب ہے.
وفي مقام آخر، ۳۹۳: (یستحیل علیہ سبحانہ سمات النقص کالجھل والکذب).
یعنی: جتنی نشانیاں عیب کی ہیں جیسے جھل وکذب سب اللہ تعالی پر محال ہیں۔
مزید تفصیل کے لیے شیخ الاسلام والمسلمین اعلی حضرت عظیم المرتبت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا ''فتاوی رضویہ'' میں دیا گیا رسالہ: ''سبحن السبوح عن کذب عیب مقبوح ''، ج۱۵ کا مطالعہ کریں ۔
1 ۔ یہ الفاظ اس نے اپنے ایک فتوے میں کہے تھے، اگر کسی کو یہ عبارت دیکھنی ہو تو ہندوستانی حضرات ، پیلی بھیت اور پاکستانی حضرات دارلعلوم حزب الاحناف لاہور میں تشریف لے جاکر اطمینان کرسکتے ہیں۔
2 ۔ ''تحذیر الناس''، خاتم النبییّن کا معنی، ص۴ ۔ ۵.
3 ۔ في'' الفتاوی الہند یۃ''،کتاب السیر، الباب التاسع فيأحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۳:(سمعت بعضھم یقول: إذا لم یعرف الرجل أنّ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم آخر الأ نبیاء علیھم وعلی نبینا السلام فلیس بمسلم کذا في ''الیتیمۃ''). =
چنانچہ ''تحذیر الناس'' ص ۲ میں ہے:
''عوام کے خیال میں تورسول اﷲ صلعم ۱ ؎ (1) کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے بعد اور آپ سب میں
آخر نبی ہیں، مگر اھلِ فہم پر روشن ہو گا کہ تقدّم یا تاخّر میں بالذات کچھ فضیلت نہیں، پھر مقامِ مدح میں
(وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ)ـ2ـ
فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے؟ ہاں! اگر اِس وصف کو اَوصافِ مدح میں سے نہ کہیے اور اِس مقام کو مقامِ مدح نہ قرار دیجیے تو البتہ خاتمیت باعتبارِ تاخّرِ زمانی صحیح ہوسکتی ہے۔'' (3)
= وفي ''الشفاء''، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، الجزء الثاني، ص۲۸۵: (کذ لک من ادعی نبوۃ أحد مع نبینا صلی اللہ علیہ وسلم أو بعدہ (إلی قولہ) فھؤلاء کلھم کفار مکذبون للنبي صلی اللہ علیہ وسلم؛ لأنہ أخبر صلی اللہ علیہ وسلم أنّہ خاتم النبیین لا نبي بعدہ وأخبر عن اللہ تعالی أنّہ خاتم النبیین).
وفي ''المعتقد المنتقد''، ص۱۲۰:(الحجج التي ثبت بہا بطریق التواتر نبوتہ ثبت بہا أیضاً أنّہ آخر الأنبیاء في زمانہ وبعدہ إلی یوم القیامۃ لا یکون نبي، فمن شک فیہ یکون شاکاً فیہا أیضاً، وأیضاً من یقول إنّہ کان نبي بعدہ أو یکون، أو موجود، وکذا من قال یمکن أن یکون فہو کافر، ھذا شرط صحۃ الإیمان بخاتم الأنبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم).
۱ ؎ ۔ ہم کہتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم۔ ۱۲
1 ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پاک کے ساتھ صلعم لکھنا یا صرف ص لکھنا ناجاءز و حرام ہے جیسا کہ ''حاشیۃ الطحطاوی '' میں ہے:
(ویکرہ الرمز بالصلاۃ والترضي بالکتابۃ، بل یکتب ذلک کلہ بکمالہ، وفي بعض المواضع عن ''التتارخانیۃ'': من کتب علیہ السلام بالھمزۃ والمیم یکفر؛ لأنّہ تخفیف وتخفیف الأنبیاء کفر بلا شک ولعلہ إن صحّ النقل فھو مقید بقصدہ وإلاّ فالظاھر أنّہ لیس بکفر وکون لازم الکفرکفراً بعد تسلیم کونہ مذھباً مختاراً محلہ إذا کان اللزوم بینا نعم الاحتیاط في الاحتراز عن الإیہام والشبہۃ). ''حاشیۃ الطحطاوي'' علی ''الدر المختار''، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۶۔
و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۶، ص۲۲۱ ۔ ۲۲۲، ج۲۳، ص۳۸۷۔۳۸۸.
2 ۔ پ ۲۲، الأحزاب:۴۰.
3 ۔ ''تحذیر الناس''، خاتم النبییّن کا معنی، ص۴ ۔ ۵.
.gif)
پہلے تو اس قائل نے خاتم النبیین کے معنی تمام انبیا سے زماناً متاخّر ہونے کو خیالِ عوام کہا اور یہ کہا کہ اھلِ فہم پر روشن ہے کہ اس میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔ حالانکہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خاتم النبیین کے یہی معنی بکثرت احادیث میں ارشاد فرمائے (1) تو معاذ اﷲ اس قائل نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو عوام میں داخل کیا اور اھلِ فہم سے خارج کیا، پھر اس نے ختمِ زمانی
کو مطلقاً ۱ ؎ فضیلت سے خارج کیا، حالانکہ اسی تاخّرِ زمانی کو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے مقامِ مدح میں ذکر فرمایا۔
پھر صفحہ ۴ پر لکھا: ''آپ موصوف بوصفِ نبوت بالذات ہیں اور سِوا آپ کے اور نبی موصوف بوصفِ نبوت بالعرض۔'' (2)
1 ۔ عن أبي ہریرۃ رضي اللہ عنہ، أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:((إنّ مثلي ومثل الأنبیاء من قبلي کمثل رجل بنی بیتاً فأحسنہ وأجملہ إلاّ موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ھلاّ وضعت ہذہ اللبنۃ قال فأنا اللبنۃ وأنا خاتم النبیین)).
''صحیح البخاري''، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین، ج۲، ص۴۸۴، الحدیث: ۳۵۳۵۔
وفي روایۃ: عن ثوبان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنّہ سیکون في أمتي ثلا ثون کذابون کلّھم یزعم أنّہ نبي وأنا خاتم النبیین لا نبي بعدي)).
''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون، الحدیث: ۲۲۲۶، ج۴، ص۹۳.
وفي روایۃ: عن حذ یفۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنا خاتم النبیین لا نبي بعدي)).
''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۳۰۲۶، ج۳، ص۱۷۰.
وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یا فاطمۃ ونحن أھل بیت قد أعطانا اللہ سبع خصال لم یعط أحد قبلنا، ولا یعطی أحد بعدنا، أنا خاتم النبیین... إلخ)).
''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۲۶۵۷، ج۳، ص۵۷۔
وفي روایۃ: عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال:(( أنا قائد المرسلین ولا فخر، وأنا خاتم النبیین ولا فخر)).
''المعجم الأوسط''، للطبراني، ج۱، ص۶۳، الحدیث: ۱۷۰۔
۱ ؎ ۔ پہلے تو بالذات کا پردہ رکھا تھا پھر کھیل کھیلا کہ اسے مقامِ مدح میں ذکر کرنا کسی طرح صحیح نہیں تو ثابت ہوا کہ وہ اصلاً کوئی فضیلت نہیں۔ ۱۲ منہ
2 ۔ ''تحذیر الناس''، خاتم النبیین کا معنی، ص۶:
.gif)
صفحہ ۱۶: ''بلکہ بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو، جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔'' (1)
صفحہ ۳۳: ''بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیتِ محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا، چہ جائیکہ آپ کے مُعاصِر (2) کسی اور زمین میں، یا فرض کیجیے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے۔'' (3) لطف یہ کہ اِس قائل نے اِن تمام خرافات کا ایجادِ بندہ ہونا خود تسلیم کرلیا۔
صفحہ ۳۴ پر ہے: ''اگر بوجہِ کم اِلتفاتی بڑوں کا فہم کسی مضمون تک نہ پہنچا تو اُن کی شان میں کیا نقصان آگیا اور کسی طفلِ نادان (4) نے کوئی ٹھکانے کی بات کہہ دی توکیا اتنی بات سے وہ عظیم الشان ہو گیا...؟! ؎
گاہِ باشد کہ کو دکِ ناداں
بغلط برہدف زنَد تِیرے(5)
1 ۔ ''تحذیر الناس''، خاتم النبیین ہونے کا حقیقی مفہوم... إلخ، ص۱۸:
.gif)
2 ۔ ہم زمانہ۔
3 ۔ ''تحذیر الناس''، روایت حضرت عبد اﷲ ابن عباس کی تحقیق، ص۳۴:
.gif)
4 ۔ ناسمجھ بچہ ۔
5 ۔ ممکن ہے کہ نا دان بچہ غلطی سے تیر کو نشانہ پر مارے۔
ہاں! بعد وضوحِ حق (1) اگر فقط اس وجہ سے کہ یہ بات میں نے کہی اور وہ اَگلے کہہ گئے تھے، میری نہ مانیں اور وہ پرانی بات گائے جائیں تو قطع نظر اِس کے کہ قانونِ محبتِ نبوی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ بات بہت بعید ہے، ویسے بھی اپنی عقل و فہم کی خوبی پر گواہی دینی ہے۔'' (2)
یہیں سے ظاہر ہو گیا جو معنی اس نے تراشے، سلف میں کہیں اُس کاپتا نہیں اور نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک جو سب سمجھے ہوئے تھے اُس کو خیالِ عوام بتا کر رد کر دیا کہ اِس میں کچھ فضیلت نہیں، اِس قائل پر علمائے حرمین طیبین نے جو فتویٰ دیا وہ ''حُسّامُ الحرمَین'' (3) کے مطالعہ سے ظاہر اور اُس نے خود بھی اسی کتاب کے صفحہ ۴۶ میں اپنا اسلام برائے نام تسلیم کیا۔ (4)
ع مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
اِن نام کے مسلمانوں سے اﷲ (عزوجل) بچائے۔
1 ۔ حق ظاہر ہونے کے بعد۔
2 ۔ ''تحذیر الناس''، روایت حضرت عبد اﷲ ابن عباس کی تحقیق، ص۳۵:
.gif)
3 ۔ اس کتاب کے مصنف شیخ الاسلام والمسلمین اعلی حضرت عظیم المرتبت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن ہیں، یہ ایک فتویٰ ہے جس پر علمائے حرمَین شریفَین کی لاجواب تصدیقات ہیں، اس کا پورا نام ''حُسام الحرمَین علی منحر الکفر والمَین''ہے۔ ا س کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کیلئے مفید ہے۔
4 ۔ ''تحذیر الناس''، تفسیر بالرائے کا مفہوم ص ۴۵.
اسی کتاب کے صفحہ ۵ پر ہے: ''کہ انبیا اپنی امّت سے ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں، باقی رہا عمل، اس میں بسا اوقات بظاہر امّتی مساوی ہو جاتے ہیں، بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔'' (1)
اور سنیے! اِن قائل صاحب نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نبوت کو قدیم اور دیگر انبیا کی نبوت کو حادث بتایا۔
صفحہ ۷ میں ہے: ''کیونکہ فرق قِدمِ نبوت اور حُدوثِ نبوت باوجود اتحادِ نوعی خوب جب ہی چسپاں ہوسکتا ہے۔'' (2)
کیا ذات و صفات کے سوا مسلمانوں کے نزدیک کوئی اور چیز بھی قدیم ہے...؟! نبوت صفت ہے اور صفت کا وجود بے موصوف محال، جب حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نبوت قدیم غیر حادث ہوئی تو ضرور نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بھی حادث نہ ہوئے، بلکہ ازلی ٹھہرے اور جو اﷲ (عزوجل) و صفاتِ الۤہیہ کے سوا کسی کو قدیم مانے باجماعِ مسلمین کافر ہے۔ (3)
1 ۔ ''تحذیر الناس''، نبوّت کمالات علمی میں سے ہے، ص۷:
.gif)
2 ۔ ''تحذیر الناس''، آنحضرت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ نبوّت وصف ذاتی ہے، ص۹:
.gif)
3 ۔ اعلی حضرت عظیم المرتبت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں : ''باجماع مسلمین کسی غیر خدا کو قدیم ماننے والا قطعا کافر ہے''۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۴، ص۲۶۶:
اسی طرح ایک اور مقام پر نقل فرماتے ہیں کہ: ''آئمہ دین فرماتے ہیں :''جو کسی غیر خدا کو ازلی کہے باجماع مسلمین کافر ہے''۔'' شفا'' و''نسیم'' میں فرمایا: (من اعترف بإلٰہیۃ اللہ تعالی ووحدانیتہ لکنّہ اعتقد قدیماً غیرہ (أي: غیر ذاتہ وصفاتہ، إشارۃ إلی مذہب إلیہ الفلاسِفۃ من قِدِم العالَمِ والعقول) أو صانعاً للعالَم سواہ (کالفلاسفۃ الذین یقولون: إنّ الواحد لا یصدر عنہ إلاّ واحد) فذلک کلّہ کفر (ومعتقدہ کافر بإجماع المسلمین، کالإلٰہین من الفلاسفۃ والطبائعین)اھ ملخصاً. یعنی: جس نے اللہ تعالی کی الوہیت ووحدانیت کا اقرار کیا لیکن اللہ تعالی کے غیر کے قدیم ہونے کا اعتقاد رکھا (یعنی اللہ تعالی کی ذات وصفات کے علاوہ ، یہ فلاسفہ کے مذہب یعنی عالَم وعقول کے قدیم ہونے کی طرف اشارہ ہے) یا اللہ تعالی کے سوا کسی کو صانع عالَم مانا (جیسے فلاسفہ جو کہ کہتے ہیں واحد سے نہیں صادر ہوتا ہے مگر واحد) تو یہ سب کفر ہے ، (اور اس کے معتقد کے کافر ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے جیسے فلاسفہ کا فرقہ الہیہ اور فرقہ طبائعیہ) اھ، تلخیص (ت) ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۷، ص۱۳۱. انظر للتفصیل'' الکوکبۃ الشہابیۃ'' ج ۱۵، ص۱۶۷، و'' سل السیوف'' ج ۱۵، ص۲۳۹ في''الفتاوی الرضویۃ''۔
اِس گروہ کا یہ عام شیوہ ہے کہ جس امر میں محبوبانِ خدا کی فضیلت ظاہر ہو، طرح طرح کی جھوٹی تاویلات سے اسے باطل کرنا چاہیں گے اور وہ امر ثابت کریں گے جس میں تنقیص(1) ہو، مثلاً ''بَراہینِ قاطعہ'' صفحہ ۵۱ میں لکھ دیاکہ:
''نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیوار پیچھے کا بھی علم نہیں۔'' (2)
اور اُس کو شیخ محدّثِ دھلوی رحمۃ اﷲ علیہ کی طرف غلط منسوب کر دیا، بلکہ اُسی صفحہ پر وسعتِ علمِ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بابت یہاں تک لکھ دیا کہ:
''الحاصل غور کرنا چاہیے کہ شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علمِ محیطِ زمین کا فخرِ عالَم کو خلافِ نصوصِ قطعیہ کے بِلادلیل محض قیاسِ فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کون سا ایمان کا حصہ ہے...؟! کہ شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخرِ عالم کی وسعتِ علم کی کونسی نصِ قطعی ہے کہ جس سے تمام نُصوص کو رد کر کے ایک شرک ثابت کرتا ہے۔'' (3)
جس وسعتِ علم کو شیطان کے لیے ثابت کرتا اور اُس پر نص ہونا بیان کرتا ہے، اُسی کو نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیے شرک بتاتا ہے تو شیطان کو خدا کا شریک مانا اور اُسے آیت وحدیث سے ثابت جانا۔ بے شک شیطان کے بندے شیطان کو مستقل خدا نہیں تو خدا کا شریک کہنے سے بھی گئے گزرے، ہر مسلمان اپنے ایمان کی آنکھوں سے دیکھے کہ اِس قائل نے ابلیسِ لعین کے علم کو
1 ۔ عظمت و شان گھٹانا۔
2 ۔ ''براھین قاطعہ'' بجوا ب ''أنوار ساطعہ''، مسئلہ علم غیب، ص۵۵:
.gif)
3 ۔ ''براھین قاطعہ'' بجواب ''أنوار ساطعہ''، مسئلہ علم غیب، ص۵۵:
.gif)
نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے علم سے زائد بتایا یا نہیں؟ ضرور زائد بتایا! اور شیطان کو خدا کا شریک مانا یا نہیں؟ ضرور مانا! اور پھر اس شرک کو نص سے ثابت کیا۔ یہ تینوں امر صریح کفر اور قائل یقینی کافر ہے۔ کون مسلمان اس کے کافر ہونے میں شک کریگا...؟!
''حفظ الایمان'' صفحہ ۷ میں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے علم کی نسبت یہ تقریر کی:
''آپ کی ذاتِ مقدّسہ پر علمِ غیب کا حکم کیا جانا، اگر بقولِ زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کُل غیب؟ اگر بعض علومِ غیبیہ مراد ہیں تو اِس میں حضور کی کیا تخصیص ہے؟ ایسا علمِ غیب تو زید وعَمرو، بلکہ ہر صبی ومجنون، بلکہ جمیع حیوانات و بَہائم کے لیے بھی حاصل ہے۔'' (1)
مسلمانو! غور کرو کہ اِس شخص نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں کیسی صریح گستاخی کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) جیسا علم زید و عَمرو تو زید و عَمرو، ہر بچے اور پاگل، بلکہ تمام جانوروں اور چوپایوں کے لیے حاصل ہونا کہا۔ کیا ایمانی قلب ایسے شخص کے کافر ہونے میں شک کرسکتے ہیں...؟ ہر گز نہیں! اس قوم کا یہ عام طریقہ ہے کہ جس چیز کو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے منع نہیں کیا، بلکہ قرآن و حدیث سے اس کا جواز ثابت، اُس کو ممنوع کہنا تو درکنار، اُس پر شرک و بدعت کا حکم لگا دیتے ہیں، مثلاً مجلسِ میلاد شریف اور قیام و ایصالِ ثواب و زیارتِ قبور و حاضریئ بارگاہِ بیکس پناہ سرکارِ مدینہ طیبہ، و عُرسِ بزرگانِ دین و فاتحہ سوم و چھلم، و استمداد باَرواحِ انبیا و اولیا اور مصیبت کے وقت انبیا و اولیا کو پکارنا وغیرہا، بلکہ میلاد شریف کی نسبت تو ''براہینِ قاطعہ'' صفحہ ۴۸ ۱ میں یہ ناپاک لفظ لکھے:
''پس یہ ہر روز اِعادہ ولادت کا تو مثلِ ہنود کے، کہ سانگ کَنہیا(2) کی ولادت کا ہر سال کرتے ہیں، یا مثلِ
1 ۔ ''حفظ الإیمان' '، جواب سؤال سوم، ص۱۳:
.gif)
2 ۔کنہیا ہندؤں کے ایک اوتار سِر ی کر شن کا لقب ہے، یہ لوگ ہر سال وقت معیّن پر اُس کی پیدائش کا ڈرامہ کرتے ہیں۔
روافض کے، کہ نقلِ شہادتِ اھلبیت ہر سال بناتے ہیں۔ معاذ اﷲ سانگ (1) آپ کی ولادت کا ٹھہرا اور خود حرکتِ قبیحہ، قابلِ لَوم(2) وحرام و فسق ہے، بلکہ یہ لوگ اُس قوم سے بڑھ کر ہوئے، وہ تو تاریخِ معیّن پر کرتے ہیں، اِن کے یہاں کوئی قید ہی نہیں، جب چاہیں یہ خرافاتِ فرضی بتاتے ہیں۔'' (3)
1 ۔ یعنی تماشا ۔
2 ۔ بُری حرکت، ملامت کے لائق۔
3 ۔ ''براھین قاطعہ''، نقل فتوی رشید احمد گنگوہی ... إلخ، ص۱۵۲.
.gif)
(۴) غیر مقلدین: یہ بھی وہابیت ہی کی ایک شاخ ہے، وہ چند باتیں جو حال میں وہابیہ نے اﷲ عزوجل اور نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں بکی ہیں، غیر مقلدین سے ثابت نہیں، باقی تمام عقائد میں دونوں شریک ہیں اور اِن حال کے اشد دیو بندی کفروں میں بھی وہ یوں شریک ہیں کہ ان پر اُن قائلوں کو کافر نہیں جانتے اور اُن کی نسبت حکم ہے کہ جو اُن کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔ ایک نمبر اِن کا زائد یہ ہے کہ چاروں مذہبوں سے جدا، تمام مسلمانوں سے الگ انھوں نے ایک راہ نکالی، کہ تقلید کو حرام و بدعت کہتے اور ائمہ دین کو سبّ و شتم سے یاد کرتے ہیں۔ مگر حقیقۃً تقلید سے خالی نہیں، ائمہ دین کی تقلید تو نہیں کرتے، مگر شیطانِ لعین کے ضرور مقلّد ہیں۔ یہ لوگ قیاس کے منکِر ہیں اور قیاس کا مطلقاً اِنکار کفر(1) تقلید کے منکر ہیں اور تقلید کا مطلقاً انکار کفر۔(2)
مسئلہ: مطلق تقلید فرض ہے (3) اور تقلیدِ شخصی واجب۔(4)
ضروری تنبیہ: وہابیوں کے یہاں بدعت کا بہت خرچ ہے، جس چیز کو دیکھیے بدعت ہے، لہٰذا بدعت کسے کہتے ہیں اِسے بیان کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بدعتِ مذمومہ و قبیحہ وہ ہے، جو کسی سنّت کے مخالف ومزاحم ہو(5) اور یہ مکروہ یا حرام ہے۔ اور مطلق بدعت تو مستحب، بلکہ سنّت، بلکہ واجب تک ہوتی ہے۔(6) ۔۔
1 ۔ في''الفتاوی الہندیۃ''، الباب التاسع، أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۷۱: (رجل قال: قیاس أبيحنیفۃ رحمہ اللہ تعالٰی حق نیست یکفرکذا في ''التتارخانیۃ''). ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب السیر، ج۱۴، ص۲۹۲.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب السیر، ج۱۴، ص۲۹۰.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۱، ص۴۰۴، ج۲۹، ص۳۹۲.
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۶، ص۷۰۳ ۔ ۷۰۴.
5 ۔ في''المرقاۃ''، کتاب الإیمان، ج ۱، ص۳۶۸: (قال الشافعی رحمہ اللہ: (ما أحدث مما یخالف الکتاب أو السنۃ أو الأثر أو الإجماع فہو ضلالۃ، وما أحدث من الخیر مما لا یخالف شیأاً من ذلک فلیس بمذموم).
6 ۔ في ''المرقاۃ''، کتاب الإیمان، ج ۱،ص۳۶۸: (قال الشیخ عز الدین بن عبد السلام في آخر کتاب القواعد: البدعۃ إمّا واجبۃ کتعلم النحو لفہم کلام اللہ ورسولہ، وکتدوین أصول الفقہ والکلام في الجرح والتعدیل، وإمّا محرمۃ کمذہب الجبریۃ والقدریۃ والمرجئۃ والمجسمۃ، والرد علی ہؤلاء من البدع الواجبۃ؛ لأنّ حفظ الشریعۃ من ہذہ البدع فرض کفایۃ، وإمّا مندوبۃ کإحداث الربط والمدارس، وکل إحسان لم یعہد في الصدر الأول وکالتراویح أي: بالجماعۃ العامۃ والکلام في دقائق
حضرت امیر المؤمنین عمر فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تراویح کی نسبت فرماتے ہیں:
((نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ.))(1)
''یہ اچھی بدعت ہے۔''
حالانکہ تراویح سنّتِ مؤکدہ ہے(2)، جس امر کی اصل شرع شریف سے ثابت ہو وہ ہرگز بدعتِ قبیحہ نہیں ہوسکتا، ورنہ خود وہابیہ کے مدارس اور اُن کے وعظ کے جلسے، اس ہیأتِ خاصہ کے ساتھ ضرور بدعت ہوں گے۔ پھر انھیں کیوں نہیں موقوف کرتے...؟ مگر ان کے یہاں تو یہ ٹھہری ہے کہ محبوبانِ خدا کی عظمت کے جتنے اُمور ہیں، سب بدعت اور جس میں اِن کا مطلب ہو، وہ حلال و سنت۔
وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ.
الصوفیۃ، وإمّا مکروہۃ کزخرفۃ المساجد وتزویق المصاحف یعني عند الشافعیۃ، وأمّا عند الحنفیۃ فمباح، والتوسع في لذائذ المآکل والمشارب والمساکن وتوسیع الأکمام، وقد اختلف في کراہۃ بعض ذلک أي: کما قدمنا، ۔ وقال عمر رضي اللہ عنہ في قیام رمضان: نعمت البدعۃ۔ وروي عن ابن مسعود: ((ما رآہ المسلمون حسناً فہو عند اللہ حسن))، وفي حدیث مرفوع: ((لا یجتمع أمتي علی الضلالۃ)) رواہ مسلم)، ملخصاً.
1 ۔ عن عبد الرحمن بن عبد القاري أنّہ قال: خرجت مع عمر بن الخطاب في رمضان إلی المسجد، فإذا الناس أوزاع متفرقون یصلي الرجل لنفسہ، ویصلي الرجل فیصلي بصلاتہ الرہط، فقال عمر: (واللہ إني لأراني لو جمعت ہؤلاء علی قاریئ واحد لکان أمثل، فجمعہم علی أبي بن کعب، قال ثم خرجت معہ لیلۃ أخری والناس یصلون بصلاۃ قارئہم فقال عمر: نعمت البدعۃ ہذہ، والتي تنامون عنہا أفضل من التی تقومون یعنی آخر اللیل وکان الناس یقومون أولہ).
''الموطأ'' للإمام مالک، کتاب الصلاۃ في رمضان، باب ما جاء في قیام رمضان، الحدیث: ۲۵۵، ج۱، ص۱۲۰.
و''صحیح البخاري''، کتاب صلاۃ التروایح، باب فضل من قام رمضان، الحدیث: ۲۰۱۰، ج۲، ص۱۵۷.
2 ۔ في ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، مبحث صلاۃ التراویح، (التروایح سنۃ مؤکدۃ لمواظبۃ الخلفاء الراشدین للرجال والنساء إجماعاً). ج۲، ص۵۹۶۔۵۹۷.
امامت دو ۲ قسم ہے:
(۱) صغریٰ۔ (۲) کبریٰ۔ (1)
امامتِ صغریٰ، امامتِ نماز ہے(2) ، اِس کا بیا ن اِن شاء اﷲ تعالیٰ کتابُ الصلاۃ میں آئے گا۔
امامتِ کبریٰ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نیابتِ مطلقہ، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نیابت سے مسلمانوں کے تمام اُمورِ دینی ودنیوی میں حسبِ شرع تصرّفِ عام کا اختیار رکھے اور غیرِ معصیت میں اُس کی اطاعت، تمام جہان کے مسلمانوں پر فرض ہو۔(3) اِس امام کے لیے مسلمان، آزاد، عاقل، بالغ، قادر، قرشی ہونا شرط ہے۔ ہاشمی، علوی، معصوم ہونا اس کی شرط نہیں۔ (4) اِن کا شرط کرنا روافض کا مذہب ہے، جس سے اُن کا یہ مقصد ہے کہ برحق اُمرائے مؤمنین خلفائے ثلٰثہ ابو بکر صدیق و عمرِ فاروق
1 ۔ (ھي صغری وکبری). ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ ، ج۲، ص۳۳۱.
2 ۔ (والصغری ربط صلاۃ المؤتم بالإمام) ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ ، ج۲، ص۳۳۷.
3 ۔ في ''المقاصد''، الفصل الرابع في الإمامۃ، ج۳، ص۴۹۶: (الإمامۃ: وھي ریاسۃ عامۃ في أمر الدین والدنیا خلافۃ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم).
وفي ''المسامرۃ''، الأصل السابع في الإمامۃ، ص۲۹۵: (الإمامۃ بأنّہا خلافۃ الرسول في إ قامۃ الدین وحفظ حوزۃ الملۃ بحیث یجب اتباعہ علی کافۃ الأمۃ).
و''رد المحتار''، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۳۲.
وفي ''شرح المقاصد''، الفصل الرابع في الإمامۃ، ج۳، ص۴۷۰: (یجب طاعۃ الإمام ما لم یخالف حکم الشرع).
4 ۔ في ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۳۳: (ویشترط کونہ مسلماً حراً ذکراً عاقلاً بالغاً قادراً قرشیاً، لا ہاشمیاً علویاً معصوماً).
وفي ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث الإمامۃ، ص۱۵۶: (ولا یشترط أن یکون ہاشمیاً أو علویاً، ولا یشترط في الإمام أن یکون معصوماً). ملتقطاً.
وفي ''المعتقد المنتقد''، الباب الرابع في الإمامۃ، ص۱۹۰۔۱۹۱: (ولا یشترط کونہ ھاشمیاً، ولا معصوماً؛ لأنّ العصمۃ من خصائص الأنبیاء). ملتقطاً.
وعثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنھم کو خلافت سے جدا کریں(1)، حالانکہ ان کی خلافتوں پر تمام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم کا اِجماع ہے۔(2) مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم و حضرا ت حسنَین رضی اﷲ تعالیٰ عنھما نے اُن کی خلافتیں تسلیم کیں(3) ۔۔۔۔
1 ۔ في ''رد المحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب: شروط الإمامۃ الکبری ،ج۲، ص۳۳۳ ۔ ۳۳۴: (قولہ: لا ھاشمیا...الخ) أي: لا یشترط کونہ ھاشمیاً: أي: من أولاد ھاشم بن عبد مناف کما قالت الشیعۃ نفیاً لإمامۃ أبي بکر وعمر وعثمان رضي اللہ تعالی عنھم، ولا علویاً: أي: من أولاد عليّ بن أبي طالب کما قال بہ بعض الشیعۃ نفیاً لخلافۃ بني العباس، ولا معصوماً کما قالت الإسماعیلیۃ والاثنا عشریۃ: أي: الإمامیۃ).
2 ۔ في ''شرح المقاصد''، المبحث الثاني، الشروط التي تجب في الإمام، ج۳، ص۴۸۲: (وکفی بإجماع المسلمین علی إمامۃ الأئمۃ الثلا ثۃ حجۃ علیہم).
3 ۔ اعلی حضرت عظیم البرکت، عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ ''شریف میں فرماتے ہیں: امام اسحٰق بن راہو یہ ودارقطنی وابن عساکر وغیرہم بطرقِ عدیدہ واسانید کثیرہ راوی، دوشخصوں نے امیر المومنین مولی علی کرم ا للہ وجہہ الکریم سے ان کے زمانہ خلافت میں دربارہ خلافت استفسارکیا: اعھدعھدہ إلیک النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم أم رای رأیتہ.کیا یہ کوئی عہد وقرارداد حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے ہے یا آپ کی رائے ہے فرمایا: بل رائ رأیتہ بلکہ ھماری رائے ہے أما أن یکون عندي عھد من النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عھدہ إلیّ في ذلک فلا، واللہ لئن کنت أوّل من صدّق بہ فلا أکون أوّل من کذب علیہ.رہا یہ کہ اسباب میں میرے لئے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کوئی عہدہ قرارداد فرمادیا ہو سو خدا کی قسم ایسا نہیں ،اگر سب سے پہلے میں نے حضور کی تصدیق کی تو میں سب سے پہلے حضور پر افتراء کرنے والا نہ ہوں گا، ولو کان عندي منہ عھد في ذلک ما ترکت أخا بني تیم بن مرۃ وعمر بن الخطاب یثوبان علی منبرہ ولقاتلتھما بیدي ولولم اجد إلاّ بردتي ھذہ. اوراگر اسباب میں حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے میرے پا س کوئی عہد ہوتا تو میں ابوبکر وعمر کو منبر اطہر حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر جست نہ کرنے دیتا اوربیشک اپنے ہاتھ سے اُن سے قتال کرتا اگرچہ اپنی اس چادر کے سواکوئی ساتھی نہ پاتا ولکن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لم یقتل قتلا ولم یمت فجأۃ مکث في مرضہ أیّاماً ولیا لي یأتیہ المؤذن فیؤذنہ بالصلاۃ فیأمر أبابکر فیصلي بالناس وھو یری مکاني ثم یأتیہ المؤذن فیؤذنہ بالصلاۃ فیأمر أبابکر فیصلي بالناس وھو یری مکاني بات یہ ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم معاذاللہ کچھ قتل نہ ہوئے نہ یکایک انتقال فرمایا بلکہ کئی دن رات حضور کو مرض میں گزرے ، مؤذن آتا نماز کی اطلاع دیتا، حضور ابوبکر کو امامت کا حکم فرماتے حالانکہ میں حضور کے پیش نظر موجودتھا،پھر مؤذن آتا اطلاع دیتا حضور ابوبکر ہی کو امامت دیتے حالانکہ میں کہیں غائب نہ تھا، ولقد أرادت إمرأۃ من نسائہ أن تصرفہ عن أبي بکر فأبی وغضب وقال :أنتنّ صواحب یوسف مروا أبابکر فلیصل بالناس. اورخدا کی قسم ازواج مطہرات میں سے ایک بی بی نے اس معاملہ کو ابوبکر سے پھیرنا چاہاتھا، حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نہ مانا اورغضب کیا اورفرمایا تم وہی یوسف (علیہ السلام)والیاں ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ امامت کرے، فلمّا قبض رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نظرنا في أمورنا فاخترنا لدنیا نا من رضیہ رسول اللہ
اور عَلویت کی شرط نے تو مولیٰ علی کو بھی خلیفہ ہونے سے خارج کر دیا، مولیٰ علی، علوی کیسے ہو سکتے ہیں! رہی عصمت، یہ انبیا و ملائکہ کا خاصہ ہے، جس کو ہم پہلے بیان کر آئے(1)، امام کا معصوم ہونا روافض کا مذہب ہے۔ (2)
مسئلہ(۱): محض مستحقِ امامت ہونا امام ہونے کے لیے کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ اھلِ حَلّ و عقد(3) نے اُسے امام مقرر کیا ہو، یا امامِ سابق نے۔ (4)
صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لدیننا فکا نت الصلوۃ عظیم الإسلام وقوام الدین، فبایعنا أبابکر رضي اللہ تعالی عنہ فکان لذلک أھلاً لم یختلف علیہ منا اثنان. پس جبکہ حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انتقال فرمایا ہم نے اپنے کاموں میں نظر کی تو اپنی دنیایعنی خلافت کے لئے اسے پسندکرلیا جسے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ھمارے دین یعنی نماز کے لئے پسند فرمایاتھاکہ نماز تو اسلام کی بزرگی اوردین کی درستی تھی لھذا ہم نے ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے بیعت کی اوروہ اس کے لائق تھے ہم میں کسی نے اس بارہ میں خلاف نہ کیا۔ یہ سب کچھ ارشاد کر کے حضرت مولی علی کرم اللہ وجہہ الاسنٰی نے فرمایا: فادّیت إلی أبي بکر حقہ وعرفت لہ طاعتہ وغزوت معہ في جنودہ وکنت اٰخذاً إذا أعطاني وأغزو إذا غزاني وأضرب بین یدیہ الحدود بسوطي. پس میں نے ابو بکر کو ان کا حق دیا اوران کی اطاعت لازم جانی اور ان کے ساتھ ہوکر ان کے لشکروں میں جہاد کیا جب وہ مجھے بیت المال سے کچھ دیتے میں لے لیتا اور جب مجھے لڑائی پر بھیجتے میں جاتا اورانکے سامنے اپنے تازیانہ سے حد لگاتا ۔۔پھر بعینہٖ یہی مضمون امیرالمومنین فاروق اعظم وامیر المومنین عثمان غنی کی نسبت ارشاد فرمایا، رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین۔
''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۸، ص۴۷۲۔۴۷۳.
1 ۔ دیکھیں اسی کتاب کا صفحہ نمبر۳۸۔
2 ۔ في''شرح المقاصد''، المبحث الثاني، الشروط التي تجب في الإمام، ج۳، ص۴۸۴: (من معظم الخلافیات مع الشیعۃ اشتراطھم أن یکون الإمام معصوما).
3 ۔ دینی اور دنیاوی انتظامی معاملات کوجاننے والے۔
4 ۔ في ''الفقہ الأکبر''، نصب الإمام واجب، ص۱۴۶: (الإمامۃ تثبت عند أھل السنۃ والجماعۃ إمّا باختیار أھل الحل والعقد من العلماء وأصحاب العدل والرأي کما تثبت إمامۃ أبي بکر رضي اللہ عنہ، وإمّا بتنصیص الإمام وتعیینہ کما تثبت إمامۃ عمر رضي اللہ عنہ باستخلاف أبي بکر رضي اللہ عنہ إیاہ).
وفي ''المسامرۃ''، ما یثبت عقد الإمامۃ، ص۳۲۶: (ویثبت عقد الإمامۃ) بأحد أمرین: (إمّا باستخلاف الخلیفۃ إیّاہ کما فعل أبو بکر الصدیق رضي اللہ عنہ) حیث استخلف عمر رضي اللہ عنہ، وإجماع الصحابۃ علی خلافتہ بذلک إجماع علی صحۃ الاستخلاف، (وإمّا بیعۃ) من تعتبر بیعۃ من أھل الحل والعقد، ولا یشترط بیعۃ جمیعہم، ولا عدد محدود، بل یکفي بیعۃ (جماعۃ من العلماء أو) جماعۃ (من أھل الرأي والتدبیر).
مسئلہ (۲): امام کی اِطاعت مطلقاً ہر مسلمان پر فرض ہے، جبکہ اس کا حکم شریعت کے خلاف نہ ہو، خلافِ شریعت میں کسی کی اطاعت نہیں۔ (1)
مسئلہ (۳): امام ایسا شخص مقرر کیا جائے، جو شجاع اور عالم ہو، یا علماء کی مدد سے کام کرے۔
مسئلہ (۴): عورت اور نابالغ کی امامت جاءز نہیں(2)، اگر نابالغ کو امامِ سابق نے امام مقرر کر دیا ہو تو اس کے بلوغ تک کے لیے لوگ ایک والی مقرر کریں کہ وہ احکام جاری کرے اور یہ نابالغ صرف رسمی امام ہو گا اور حقیقۃً اُس وقت تک وہ والی اِمام ہے۔ (3)
1 ۔ (یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ) پ۵، النساء:۵۹.
في ''تفسیر المدارک''، ص۲۳۴، تحت الآیۃ: (دلت الآیۃ علی أنّ طاعۃ الأمراء واجبۃ إذا وافقوا الحق، فإذا خالفوہ فلا طاعۃ لہم لقولہ علیہ السلام: ((لا طاعۃ لمخلوق في معصیۃ الخالق))).
عن ابن عمر رضي اللہ عنھما عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((السمع والطاعۃ حق ما لم یؤمر بمعصیۃ، فإذا أمر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ)). ''صحیح البخاري''، کتاب الجہاد، باب السمع والطاعۃ للإمام، الحدیث: ۲۹۵۵، ج۲، ص۲۹۷.
عن عبد اللہ رضي اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((السمع والطاعۃ علی المرء المسلم فیما أحب وکرہ ما لم یؤمر بمعصیۃ، فإذا أمر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ)).
''صحیح البخاري''، کتاب الأحکام، باب السمع والطاعۃ للإمام مالم تکن معصیۃ، الحدیث: ۷۱۴۴، ج۴، ص۴۵۵.
''صحیح مسلم''، کتاب الإمارۃ، باب وجوب طاعۃ الأمرائ ۔ إلخ، الحدیث: ۱۸۳۹، ص۱۰۰۸.
في ''الدر المختار'': (طاعۃ الإمام فیما لیس بمعصیۃ فرض)۔
وفي ''ردّ المحتار'': (والأصل فیہ قولہ تعالی: (وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ) وقال صلی اللہ علیہ وسلم: ((اسمعوا وأطیعوا ولو أمّر علیکم عبد حبشي أجدع))، وروي: ((مجدع))۔ وعن ابن عمر أنہ علیہ الصلاۃ والسلام قال: ((علیکم بالسمع والطاعۃ لکلّ من یؤمر علیکم ما لم یأمرکم بمنکر))، ففي المنکر لا سمع ولا طاعۃ)۔
''الدر المختار'' مع ''رد المحتار''، کتاب الجہاد، باب البغاۃ، ج۶، ص۴۰۳۔۴۰۴۔
2 ۔ في ''المسامرۃ'' بشرح ''المسایرۃ''، الأصل التاسع: شروط الإمام، ص۳۱۸: (لا تصحّ إمامۃ الصبي والمعتوہ؛ لقصور کلّ منھما عن تدبیر نفسہ، فکیف تدبیر الأمور العامۃ؟ ۔ وأنّ إمامۃ المرأۃ لا تصحّ؛ إذ النساء ناقصات عقل ودین کما ثبت بہ الحد یث الصحیح)، ملتقطاً.
3 ۔ في ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۳۵۔۳۳۶: وتصح سلطنۃ متغلب للضرورۃ، وکذا صبي. وینبغي أن یفوّض أمور التقلید علی وال تابع لہ، والسلطان في الرسم ہو الولد، وفي الحقیقۃ ہو الوالي لعدم صحۃ إذنہ بقضاء
عقیدہ (۱): نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ برحق و امامِ مطلق حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق، پھر حضرت عمرِ فاروق، پھر حضرت عثمان غنی، پھر حضرت مولیٰ علی پھر چھ مہینے کے لیے حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم ہوئے(1)، اِن حضرات کو خلفائے راشدین اور اِن کی خلافت کو خلافتِ راشدہ کہتے ہیں(2) ، کہ انھوں نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی سچی نیابت کا پورا حق ادا فرمایا۔
عقیدہ (۲): بعد انبیا و مرسلین، تمام مخلوقاتِ الٰہی انس و جن و مَلک سے افضل صدیق اکبر ہیں، پھر عمر فاروقِ اعظم، پھر عثمٰن غنی، پھر مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنھم (3)، ۔۔
وجمعۃ کما في ''الأشباہ'' عن ''البزازیۃ''، وفیہا: لو بلغ السلطان أو الوالي یحتاج إلی تقلید جدید).
وفي ''رد المختار''، تحت قولہ: ( وکذا صبي) أي: تصح سلطنتہ للضرورۃ، لکن في الظاہر لا حقیقۃ. قال في ''الأشباہ'': وتصح سلطنتہ ظاہراً، قال في ''البزازیۃ'': مات السلطان واتفقت الرعیۃ علی سلطنۃ ابن صغیر لہ ینبغي أن تفوّض أمور التقلید علی وال، ویعدّ ھذا الوالي نفسہ تبعاً لابن السلطان لشرفہ والسلطان في الرسم ہو الابن، وفي الحقیقۃ ہو الوالي لعدم صحۃ الإذن بالقضاء والجمعۃ ممن لا ولایۃ لہ ا ہـ. أي: لأن الوالي لو لم یکن ہو السلطان في الحقیقۃ لم یصح إذنہ بالقضاء والجمعۃ، لکن ینبغي أن یقال: إنّہ سلطان إلی غایۃ وہي بلوغ الابن، لئلا یحتاج إلی عزلہ عند تولیۃ ابن السلطان إذا بلغ. تأمل).
1 ۔ في''منح الروض الأزہر''، ص۶۸: (خلافۃ النبوۃ ثلاثون، منھا خلافۃ الصدیق رضي اللہ عنہ سنتان وثلاثۃ أشہر، وخلافۃ عمر رضي اللہ عنہ عشر سنین ونصف، وخلافۃ عثمان رضي اللہ عنہ اثنتا عشرۃ سنۃ، وخلافۃ عليّ رضي اللہ عنہ أربع سنین وتسعۃ أشہر، وخلافۃ الحسن ابنہ ستۃ أشہر).
في''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث أفضل البشر بعد نبینا أبو بکر ثم عمر ثم عثمان ثم علي ۔ إلخ، ص۱۵۰: (وخلافتھم أي: نیابتھم عن الرسول في إقامۃ الدین بحیث یجب علی کافۃ الأمم الا تباع علی ھذا الترتیب أیضًا یعني: أنّ الخلا فۃ بعد رسول اللہ علیہ السلام لأبي بکر ثم لعمر ثم عثمان ثم لعلي رضي اللہ تعالی عنھم).
وفي'' النبراس''، وخلافۃ الخلفاء الراشدین، ص۳۰۸: (في روایۃ: الخلافۃ بعدي ثلاثون سنۃ ثم تکون ملکاً عضوضاً، وقد استشہد عليّ رضي اللہ عنہ علی رأس ثلثین سنۃ أي: نہایتہا من وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ھذا تقریب، والتحقیق أنّہ کان بعد عليّ نحوستۃ اشھر باقیۃ من ثلثین سنۃ وھي مدۃ خلا فۃ الحسن بن علي رضي اللہ عنھما). و''المسامرۃ''، ص۳۱۶.
2 ۔ في ''فیض القدیر''، ج۴، ص۶۶۴، تحت الحدیث: ۶۰۹۶: ((وسنۃ)) أي: طریقۃ ((الخلفاء الراشدین المہدیین)) والمراد بالخلفاء الأربعۃ والحسن رضی اللہ عنھم).
3 ۔ في''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث أفضل البشر بعد نبینا... إلخ، ص۱۴۹ ۔ ۱۵۰: (وأفضل البشر بعد نبینا (أي: بعد الأنبیاء) أبو بکر الصدیق، ثم الفاروق، ثم عثمان ذوالنورین، ثم علي المرتضی)، ملخصاً.
۔۔۔۔
وفي ''منح الروض الأزہر''، للقاریئ، باب أفضل الناس بعدہ علیہ الصلاۃ والسلام الخلفاء الأربعۃ علی ۔ إلخ، ص۶۱ ۔۶۳: (وأفضل الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ وسلم: أبو بکر الصدیق رضي اللہ عنہ، ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان ثم علي بن أبي طالب رضوان اللہ تعالی علیہم أجمعین).
اعلی حضرت عظیم البرکت، عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ ''شریف میں فرماتے ہیں:''اھل سنت وجماعت نصرہم اللہ تعالی کا اجماع ہے کہ مرسلین ملائکۃ ورسل وانبیائے بشر صلوات اللہ تعالی وتسلیماتہ علیہم کے بعد حضرات خلفائے اربعہ رضوان اللہ تعالی علیہم تمام مخلوق ِالہی سے افضل ہیں، تمام امم اولین وآخرین میں کوئی شخص ان کی بزرگی وعظمت وعزت ووجاہت وقبول وکرامت وقرب وولایت کو نہیں پہنچتا۔
(وَاَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ)فضل اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے عطا فرمائے ، اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ت)۔
پھر ان میں باہم ترتیب یوں ہے کہ سب سے افضل صدیق اکبر ، پھر فاروق اعظم پھر عثمان غنی ، پھر مولی علی صلی اللہ تعالی علی سیدہم، ومولا ہم وآلہ وعلیہم وبارک وسلم۔ اس مذہبِ مہذب پر آیاتِ قرآنِ عظیم واحادیث ِکثیرہ ئ حضورپرنور نبی کریم علیہ وعلی آلہ وصحبہ الصلوۃ والتسلیم وارشادات جلیلہ واضحہ امیر المؤمنین مولی علی مرتضی ودیگر ائمئہ اھلبیت طہارت وار تضاواجماعِ صحابہ کرام وتابعین عظام وتصریحاتِ اولیائے امت وعلمائے امت رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین سے وہ دلائل باہر ہ وحجج قاہر ہ ہیں جن کا استیعاب نہیں ہوسکتا ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۸، ص۴۷۸.
٭ نوٹ : ''فتاوی رضویہ'' شریف کے مندرجہ ذیل کلام میں قوسین ( ) کی عبارت ، حضرت خلیل ملت علامہ مولانا خلیل خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ہے ۔
اسی طرح اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:
اب ان سب میں افضل وا علیٰ و اکمل حضرات عشرہ مبشرہ ہیں وہ دس صحابی جن کے قطعی جنتی ہونے کی بشارت وخوشخبری رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زندگی ہی میں سنادی تھی وہ عشرہ مبشرہ کھلاتے ہیں۔ یعنی حضرات خلفائے اربعہ راشدین،حضرت طلحہ بن عبید اﷲ،حضرت زبیر بن العوام،حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت سعد بن ابی وقاص،حضرت سعید بن زید،حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ۔ ؎
دہ یار بہشتی اند قطعی بوبکر و عمر ' عثمان وعلی
سعد ست سعید وبوعبیدہ طلحہ ست وزبیر وعبدالرحمن
اور ان میں خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین اور ان چار ارکان قصر ملت (ملّت اسلامیہ کے عالی شان محل کے چار ستونوں) و چار انہار باغ شریعت (اور گلستان ِ شریعت کی ان چار نہروں) کے خصائص وفضائل ،کچھ ایسے رنگ پر واقع ہیں کہ ان میں سے جس کسی کی فضلیت پر تنہا نظر کیجئے یہی معلوم (و متبادرو مفہوم) ہوتا ہے کہ جو کچھ ہیں یہی ہیں ان سے بڑھ کر کون ہوگا ۔ ؎
۔۔۔
بہر گلے کہ ازیں چار باغ می نگرم
بہار دامن دل می کشد کہ جا اینجاست
(ان چار باغوں میں سے جس پھول کو میں دیکھتا ہوں تو بہار میرے دل کے دامن کو کھینچتی ہے کہ اصل جگہ تو یہی ہے)۔
علی الخصوص شمع شبستان ولایت ، بہار چمنستانِ معرفت، امام الواصلین،سیّد العارفین، (واصلانِ حق کے امام اھل معرفت کے پیش رو) خاتمِ خلافت نبوت، فاتح سلاسل طریقت ، مولیٰ المسلمین ، امیر المومنین ابوالائمۃ الطاھرین (پاک طینت ،پاکیزہ خصلت، اماموں کے جدا مجد طاہر مطہر، قاسمِ کوثر، اسد اﷲالغالب،مظہر العجاءب والغرائب، مطلوب کل طالب،سیدنا و مولانا علی بن ابی طالب کرم اﷲتعالیٰ وجہہ الکریم وحشرنا في زمرتہ في یوم عقیم کہ اس جناب گردوں قباب (جن کے قبہ کی کلس آسمان برابر ہے ان ) کے مناقب جلیلہ (اوصافِ حمیدہ) ومحامد جمیلہ ( خصائل حسنہ) جس کثرت و شہرت کے ساتھ (کثیر و مشہورزبان زد عام و خواص) ہیں دوسرے کے نہیں۔
(پھر) حضرات شیخین،صاحبین صہرین (کہ ان کی صاحبزادیاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے شرفِ زوجیت سے مشرف ہوئیں اور امہات المومنین مسلمانوں ایمان والوں کی مائیں کھلائیں) وزیرین (جیسا کہ حدیث شریف میں وارد کہ میرے دو وزیر آسمان پر ہیں جبرائیل ومیکائیل اور دو وزیر زمین پر ہیں ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما) امیرین ( کہ ہر دو امیر المومنین ہیں)مشیرین (دونوں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مجلس شوریٰ کے رکن اعظم (ضجیعین (ہم خواجہ اور دونوں اپنے آقا و مولیٰ کے پھلو بہ پھلو آج بھی مصروفِ استراحت ) رفیقین (ایک دوسرے کے یارو غمگسار) سیّدنا و مولٰنا عبداﷲالعتیق ابوبکر صدیق و جناب حق مآب ابوحفص عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی شانِ والا سب کی شانوں سے جداہے اور ان پر سب سے زیادہ عنایت خدا ور رسول ِ خدا جل جلالہ و صلے اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ہے بعد انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین کے جو مرتبہ ان کا خدا کے نزدیک ہے دوسرے کا نہیں اور رب تبارک و تعالیٰ سے جو قرب و نزدیکی اور بارگاہِ عرش اشتباہ رسالت میں جو عزت و سر بلندی ان کا حصہ ہے اوروں کا نصیبا نہیں اور منازل جنت ومواہب بے منت میں انہیں کے درجات سب پر عالی فضائل و فواضل (فضیلتوں اور خصوصی بخششوں ) و حسنات طیبات (نیکیوں اور پاکیزگیوں) میں انہیں کو تقدم و پیشی ( یہی سب پر مقدم۔،یہی پیش پیش) ھمارے علماء و آئمہ نے اس (باب) میں مستقل تصنیفیں فرما کر سعادتِ کونین و شرافتِ دارین حاصل کی(ان کے خصائل تحریر میں لائے،ان کے محاسن کا ذکر فرمایاان کے اولیات و خصوصیات گنائے) ورنہ غیر متناہی (جو ھماری فہم و فراست کی رسائی سے ماورا ہو۔ اس)کا شمار کس کے اختیار واﷲالعظیم اگر ہزاروں دفتر ان کے شرح فضائل (اور بسط فواضل) میں لکھے جائیں یکے ازہزار تحریر میں نہ آئیں۔
وعلی تفنن واصفیہ بحسنہ یغنی الزمان وفیہ ما لم یوصف
(اور اس کے حسن کی تعریف کرنے والوں کی عمدہ بیانی کی بنیاد پر زمانہ غنی ہوگیا اور اس میں ایسی خوبیاں ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتا)
مگر کثرتِ فضائل و شہرتِ فواضل (کثیر در کثیر فضیلتوں کا موجود اور پاکیزہ و برتر عزتوں مرحمتوں کا مشہور ہونا) چیزے دیگر (اور بات ہے) اور فضیلت و کرامت (سب سے افضل اور بارگاہِ عزت میں سب سے زیادہ قریب ہونا۔) امرے آخر (ایک اور بات ہے اس سے جدا و ممتا ز) فضل اﷲتعالیٰ کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرمائے ۔
۔
(قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اﷲِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاء ُ) ۔
اس کی کتاب کریم اور اس کا رسول عظیم علیہ و علیٰ آلہ الصلوۃ والتسلیم علی الاعلان گواہی دے رہے ہیں۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد ماجد مولیٰ علی کرم اﷲوجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں ۔
کہ فرماتے ہیں: ((کنت عند النبي صلی اللہ علیہ وسلم فاقبل أبو بکر وعمر، فقال: یا علي ھذان سیّدا کہول أھل الجنۃ وشبابھا بعد النبیین والمرسلین)). '' المسند'' للإمام أحمد، الحدیث: ۶۰۲، ج۱، ص۱۷۴.
''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، الحدیث: ۳۶۸۵، ج۵، ص۳۷۶.
و''سنن ابن ماجہ''، کتاب السنۃ، فضل أبي بکر الصدیق رضي اللہ عنہ، الحدیث: ۱۰۰، ج۱، ص۷۵.
''میں خدمت اقدس حضور افضل الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر تھا کہ ابوبکر و عمر سامنے آئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ علی!یہ دونوں سردار ہیں اھل جنت کے سب بوڑھوں اور جوانوں کے بعد انبیاء و مرسلین کے''۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے راوی،حضور کا ارشاد ہے: ((أبو بکر وعمر خیر الأولین والآخرین وخیر أھل السموات وخیر أھل الأرضین إلاّ النبیین والمرسلین)). رواہ الحاکم في ''الکنی'' وابن عدی وخطیب.
ابوبکر و عمر بہتر ہیں سب اگلوں پچھلوں کے،اور بہتر ہیں سب آسمان والوں سے اور بہتر ہیں سب زمین والوں سے،سوا انبیا و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کے۔
''کنز العمال''، کتاب الفضائل، فضائل أبي بکر وعمر رضي اللہ تعالی عنھما، ج۱۱، ص ۲۵۶، الحدیث: ۳۲۶۴۲.
خود حضرت مولیٰ علی کرم اﷲتعالیٰ وجہہ نے بار بار اپنی کرسی مملکت و سطوت (و دبدبہ)خلافت میں افضلیت مطلقہ شیخین کی تصریح فرمائی (اور صاف صاف واشگاف الفاظ میں بیان فرمایا کہ یہ دونوں حضرات علی الاطلاق بلا قیدِ جہت و حیثیت تمام صحابہ کرام سے افضل ہیں) اور یہ ارشاد ان سے بتواتر ثابت ہوا کہ اسّی سے زیادہ صحابہ و تابعین نے اسے روایت کیا۔ اور فی الواقع اس مسئلہ (افضلیت شیخ کریمین)کو جیسا حق مآب مرتضوی نے صاف صاف واشگاف بہ کرّات و مرّات (بار بار موقع بہ موقع اپنی ) جَلَوات وخلوات (عمومی محفلوں ،خصوصی نشستوں ) و مشاہد عامہ و مساجد جامعہ (عامۃ الناس کی مجلسوں اور جامع مسجدوں) میں ارشاد فرمایا دوسروں سے واقع نہیں ہوا۔
(ازاں جملہ وہ ارشاد گرامی کہ) امام بخاری رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ حضرت محمد بن حنفیہ صاحبزاده جناب امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے راوی : قال: قلت لأبي: أيّ الناس خیرٌ بعد النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم؟ قال: ((أبو بکر، قال: قلت: ثم من؟ قال: عمر))۔
یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولیٰ علی کرم اﷲ وجہہ سے عرض کیا: کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: ''ابو بکر، میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا: عمر''۔
''صحیح البخاري''، کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۳۶۷۱، ج۲، ص۵۲۲.
۔
ابوعمر بن عبداﷲحکم بن حجل سے اور دار قطنی اپنی ''سنن'' میں راوی جناب امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ فرماتے ہیں:
((لا أجد أحداً فضلني علی أبي بکر وعمر إلاّ جلدتہ حد المفتري)) ''الصواعق المحرقۃ''، ص۶۰۔
جسے میں پاؤں گا کہ شیخین (حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما) سے مجھے افضل بتاتا (اور مجھے ان میں سے کسی پر فضیلت دیتا )ہے اسے مُفتری (افتراء و بہتان لگانے والے) کی حد ماروں گا کہ اسّی کوڑے ہیں۔
ابوالقاسم طلحی ''کتاب السّنّتہ'' میں جناب علقمہ سے راوی: بلغ علیّا أنّ أقواماً یفضّلونہ علی أبي بکر وعمر فصعد المنبر فحمد اﷲ وأثنی علیہ ثم قال: أیہا الناس! ((أنّہ بلغني أنّ أقواماً یفضّلوني علی أبي بکر وعمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر، علیہ حد المفتري، ثم قال: إنّ خیر ھذہ الأمۃ بعد نبیہا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم أبو بکر ثم عمر ثم اﷲ أعلم بالخیر بعدہ، قال: وفي المجلس الحسن بن علی فقال: واﷲ لو سمّی الثالث لسمی عثمٰن)).
یعنی جناب مولیٰ علی کو خبر پہنچی کہ لوگ انہیں حضرات شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنھما پر تفضیل دیتے (اور حضرت مولیٰ کو ان سے افضل بتاتے) ہیں۔ پس منبر پر تشریف لے گئے اور اﷲتعالیٰ کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا :اے لوگو!مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر و عمر سے افضل بتاتے ہیں اور اگر میں نے پہلے سے سُنا ہوتا تو اس میں سزا دیتا یعنی پھلی بار تفہیم (وتنبیہ) پر قناعت فرماتا ہوں پس اس دن کے بعد جسے ایسا کہتے سنوں گا تو وہ مفتری (بہتان باندھنے والا)ہے اس پر مفتری کی حد لازم ہے، پھر فرمایا :بے شک بہتر اس امت کے بعد ان نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر خداخوب جانتا ہے بہتر کو ان کے بعد، اور مجلس میں امام حسن (رضی اللہ عنہ)بھی جلوہ فرما تھے انہوں نے ارشاد کیا: خدا کی قسم !اگر تیسرے کا نام لیتے تو عثمٰن کا نام لیتے۔ ''إزالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفائ'' بحوالہ أبي القاسم مسند علي بن أبي طالب، ج۱، ص۶۸۔
بالجملہ احادیث ِ مرفوعہ و اقوالِ حضرت مرتضوی و اھلبیت نبوت اس بارے میں لا تعداد ولا تحصی (بے شمار ولا انتہا) ہیں کہ بعض کی تفسیر فقیر نے اپنے رسالہ تفضیل میں کی ۔ اب اھل سنت (کے علمائے ذوی الاحترام)نے ان احادیث و آثار میں جو نگاہ غور کو کام فرمایا تو تفضیل شیخین کی صدہا تصریحیں (سیکڑوں صراحتیں) علی الاطلاق پائیں کہیں جہت و حیثیت کی قید نہ دیکھی کہ یہ صرف فلاں حیثیت سے افضل ہیں اور دوسری حیثیت سے دوسروں کو افضیلت (حاصل ہے) لھذا انہوں نے عقیدہ کرلیا کہ گو فضائل خاصہ و خصائص فاضلہ (مخصوص فضیلتیں اور فضیلت میں خصوصیتیں) حضرت مولیٰ ( علی مشکل کُشا کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ) اور ان کے غیر کو بھی ایسے حاصل (اور بعطائے الہٰی وہ ان خصوصیات کے تنہا حامل) جو حضرات شیخین (کریمین جلیلین )نے نہ پائے جیسے کہ اس کا عکس بھی صادق ہے (کہ امیرین وزیرین کو وہ خصائصِ غالیہ اور فضائل عالیہ بارگاہ ِ الہی سے مرحمت ہوئے کہ ان کے غیر نے اس سے کوئی حصہ نہ پایا)مگر فضل مطلق کُلّ (کسی جہت و حیثیت کا لحاظ کیے بغیر فضیلت مطلقہ کُلّیہ) جو کثرتِ ثواب و زیادتِ قُربِ ربّ الارباب سے عبارت ہے وہ انہیں کو عطا ہوا (اوروں کے نصیب میں نہ آیا)۔
اور (یہ اھل سنت و جماعت کا وہ عقیدہ ثابتہ محکمہ ہے کہ) اس عقیدہ کا خلاف اوّل تو کسی حدیث صحیح میں ہے ہی نہیں اور اگر بالفرض کہیں بوئے خلاف پائے بھی تو سمجھ لے کہ یہ ھماری فہم کا قصور ہے (اور ھماری کوتاہ فہمی) ورنہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور خود حضرت مولیٰ (علی) واھلبیت کرام (صاحب البیت ادرٰی بما فیہ کے مصداق اسرار خانہ سے مقابلۃً واقف تر)کیوں بلا تقیید (کسی جہت و حیثیت کی قید کے بغیر) انہیں
جو شخص مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم کو صدیق یا فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے افضل بتائے، گمراہ بدمذہب ہے۔ (1)
افضل و خیر امت و سردار اوّلین و آخرین بتاتے،کیا آیہ کریمہ: (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاءَ نَا وَاَبْنَاءَ کُمْ وَنِسَاءَ نَا وَنِسَاءَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَۃَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ) (تو ان سے فرمادو کہ آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباھلہ کریں تو جھوٹوں پر اﷲکی لعنت ڈالیں)
و حدیث صحیح : ((من کنتُ مولاہ فعلي مولاہ)) .(جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے)۔
''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، الحدیث: ۳۷۳۳، ج۵، ص۳۹۸.
''سنن ابن ماجہ''، کتاب السنۃ، الحدیث: ۱۲۱، ج۱، ص۸۶.
اور خبر شدید الضعف وقوی الجرح (نہایت درجہ ضعیف و قابل شدید جرح و تعدیل ) ((لحمک لحمي ودمک دمي)) (تمہارا گوشت میرا گوشت اور تمہارا خون میرا خون ہے)۔
''کنز العمال''، کتاب الفضائل، فضائل علي رضي اللہ تعالی عنہ، ج۱۱، ص ۲۷۹، الحدیث: ۳۲۹۳۳.
برتقدیر ثبوت (بشرطیکہ ثابت وصحیح مان لی جائے) وغیر ذلک (احادیث و اخبار)سے انہیں آگاہی نہ تھی۔(ہوش و حواس علم و شعور اور فہم وفراست میں یگانہ روزگار ہوتے ہوئے ان اسرارِ درون خانہ سے بیگانہ رہے اور اسی بیگانگی میں عمریں گزاردیں) یا (انہیں آگاہی اور ان اسرار پر اطلاع)تھی تو وہ (ان واضح الدلالۃ الفاظ) کا مطلب نہ سمجھے( اور غیرت و شرم کے باعث اور کسی سے پوچھ نہ سکے۔) یا سمجھے۔ (حقیقتِ حال سے آگاہ ہوئے) اور اس میں تفضیل شیخین کا خلاف پایا (مگر خاموش رہے اور جمہور صحابہ کرام کے برخلاف عقیدہ رکھا زبان پر اس کا خلاف نہ آنے دیا اور حالانکہ یہ ان کی پاک جنابوں میں گستاخی اور ان پر تقیہّ ملعونہ کی تہمت تراشی ہے) تو (اب ہم )کیونکر خلاف سمجھ لیں(کسے کہہ دیں کہ ان کے دل میں خلاف تھا زبان سے اقرار ) اور تصریحات بیّنہ و قاطع الد لالۃ (روشن صراحتوں قطعی دلالتوں) وغیر محتملۃ الخلاف کو (جن میں کسی خلاف کا احتمال نہیں کوئی ہیر پھیر نہیں)کیسے پس پشت ڈال دیں الحمد ﷲرب العلمین کہ حق تبارک و تعالیٰ نے فقیر حقیر کو یہ ایسا جواب شافی تعلیم فرمایا کہ منصف (انصاف پسندذی ہوش)کے لیے اس میں کفایت (اور یہ جواب اس کی صحیح رہنمائی وہ ہدایت کے لیے کافی) اور متعصب کو (کہ آتش غلو میں سُلگتا اور ضد و نفسانیت کی راہ چلتا ہے) اس میں غیظ بے نہایت (قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ) (انہیں آتش ِ غضب میں جلنا مبارک) (ہم مسلمانانِ اھلسنت کے نزدیک حضرت مولیٰ کی ماننا) یہی محبتِ علی مرتضیٰ ہے اور اس کا بھی (یہی تقاضا )یہی مقتضیٰ ہے کہ محبوب کی اطاعت کیجئے اور اس کے غضب اور اَسّی کوڑوں کے استحقاق سے بچئے (والعیاذ باﷲ)''۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۳۶۳ تا۳۷۰.
1 ۔ في ''الفتاوی البزازیہ''، کتاب السیر، نوع فیما یتصل بہ۔۔۔ إلخ، ج۶، ص۳۱۹: (الرافضي إن کان یفضل علیاً علیھما فہو مبتدع)، ھامش ''الہندیۃ''۔
وفي ''فتح القدیر''، باب الإمامۃ ،ج۱، ص۳۰۴: (وفي الروافض أنّ من فضل علیاً رضي اللہ عنہ علی الثلاثۃ فمبتدع).
عقیدہ (۳): افضل کے یہ معنی ہیں کہ اﷲ عزوجل کے یہاں زیادہ عزت و منزلت والا ہو، اسی کو کثرتِ ثواب سے بھی تعبیر کرتے ہیں، نہ کثرتِ اجر، کہ بارہا مفضول کے لیے ہوتی ہے۔(1) حدیث میں ہمراہیانِ سیّدنا اِمام مَہدی کی نسبت آیا کہ: ''اُن میں ایک کے لیے پچاس کا اجر ہے، صحابہ نے عرض کی: اُن میں کے پچاس کا یا ہم میں کے؟ فرمایا: بلکہ تم میں کے۔'' (2)
تو اجر اُن کا زائد ہوا، مگر افضلیت میں وہ صحابہ کے ہمسر بھی نہیں ہو سکتے، زیادت درکنار، کہاں امام مَہدی کی رفاقت اور کہاں حضور سیّدِ عالَم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحابیت!، اس کی نظیر بلا تشبیہ یوں سمجھیے کہ سلطان نے کسی مہم پر وزیر اور بعض دیگر افسروں کو بھیجا، اس کی فتح پر ہر افسر کو لاکھ لاکھ روپے انعام دیے اور وزیر کو خالی پروانہ خوشنودی مزاج دیا تو انعام انھیں کو زائد ملا، مگر کہاں وہ اور کہاں وزیرِ اعظم کا اِعزاز؟
عقیدہ (۴): ان کی خلافت بر ترتیب فضلیت ہے، یعنی جو عند اﷲ افضل و اعلیٰ و اکرم تھا وہی پہلے خلافت پاتا گیا، نہ کہ افضلیت بر ترتیب خلافت، یعنی افضل یہ کہ مُلک داری و مُلک گیری میں زیادہ سلیقہ ، جیسا آج کل سُنّی بننے والے تفضیلیے کہتے ہیں(3)
وفي ''البحر الرائق''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، إمامۃ العبد والأعرابي والفاسق...إلخ، ج۱، ص۶۱۱: (والرافضی إن فضل علیاً علی غیرہ فہو مبتدع).
1 ۔ یعنی اکثر و بیشتر اجر کی زیادتی ایسے شخص کے لیے ہوتی ہے جو افضل نہ ہو۔
2 ۔ عن أبي أمیۃ الشعباني قال: أتیت أبا ثعلبۃ الخشني فقلت لہ: کیف تصنع بہذہ الآیۃ؟ قال: أیّۃُ آیۃ؟ قلت: قولہ تعالی: (یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْ) قال: أمَا واللہ لقد سألت عنہا خبیرا سألت عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ((بل ائتمروا بالمعروف وتناہوا عن المنکر حتی إذا رأیت شحّاً مطاعاً وہوًی متّبعاً، ودنیَا مؤثرۃً وإعجاب کل ذي رأي برأیہ فعلیک بخاصۃ نفسک ودع العوامّ، فإنّ من ورائکم أیاماً الصبر فیہن مثل القبض علی الجمر، للعامل فیہن مثل أجر خمسین رجلا یعملون مثل عملکم))، قال عبد اللہ بن المبارک: وزادني غیر عتبۃ قیل: یا رسول اللہ! أجر خمسین منّا أو منھم، قال: ((لا، بل أجر خمسین رجلاً منکم)).
''سنن الترمذي''، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المائدۃ، الحدیث: ۳۰۷۹، ج۵، ص۴۲.
و''ابن ماجہ''، کتاب الفتن، باب قولہ تعالی: (یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ...إلخ)، الحدیث: ۴۰۱۴، ج۴، ص۳۶۵.
في ''فتح الباري''، کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم، ج۷، ص۶، تحت الحدیث: ۳۶۵۱: (أنّ حدیث: ((للعامل منھم أجر خمسین منکم)) لا یدلّ علی أفضلیۃ غیر الصحابۃ علی الصحابۃ؛ لأنّ مجرد زیادۃ الأجر لا یستلزم ثبوت الأفضلیۃ المطلقۃ، وأیضاً فالأجر إنّما یقع تفاضلہ بالنسبۃ إلی ما یماثلہ في ذلک العمل، فأمّا ما فاز بہ من شاہد النبي صلی اللہ علیہ وسلم من زیادۃ فضیلۃ المشاہدۃ فلا یعدلہ فیہا أحد).
3 ۔ في ''مجموعۃ الحواشي البہیۃ''، ''حاشیۃ عصام'' علی ''شرح العقائد''، ج۲، ص۲۳۶: (قولہ: ''علی ھذا الترتیب أیضاً'': یشعر أنّ مبني ترتیب الخلافۃ علی ترتیب الأفضلیۃ التيحکم بہا السلف).
۔
وفي ''الطریقۃ المحمدیۃ'' مع شرح ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۹۳: (وأفضلہم أبو بکر الصدیق رضي اللہ عنہ، ثم عمر الفاروق، ثم عثمان ذو النورین، ثم علي المرتضی، وخلافتہم) أي: ہؤلاء الأربعۃ عن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کانت (علی ھذا الترتیب أیضاً) أي: کما ہي فضیلتہم کذلک، (ثم) بعدہم في الفضیلۃ (سائر) أي: بقیۃ (الصحابۃ رضي اللہ عنھم أجمعین).
وفي ''المعتقد المنتقد''، الباب الرابع في الإمامۃ، ص۱۹۱: (والإمام الحق بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم أبو بکر، ثم عمر، ثم عثمان، ثم علي رضي اللہ تعالی عنھم أجمعین، والفضیلۃ علی ترتیب الخلافۃ).
قال الإمام أحمد رضا في حاشیتہ ''المعتمد المستند''، نمبر ۳۱۶، ص۱۹۱، تحت اللفظ: ''والفضیلۃ'' (تبع في ہذہ العبارۃ الحسنۃ الأئمۃ السابقین، وفیہا ردّ علی مفضلۃ الزمان المدعین السنیۃ بالزور والبہتان حیث أوّلوا مسألۃ ترتیب الفضیلۃ بأنّ المعنی الأولویۃ للخلافۃ الدنیویۃ، وہي لمن کان أعرف بسیاسۃ المدن وتجہیز العساکر وغیر ذلک من الأمور المحتاج إلیہا في السلطنۃ، وھذا قول باطل خبیث مخالف لإجماع الصحابۃ والتابعین رضي اللہ تعالی عنھم، بل الأفضلیۃ في کثرۃ الثواب وقرب الأرباب والکرامۃ عند اللہ تعالی، ولذا عبر عن المسألۃ في ''الطریقۃ المحمدیۃ'' وغیرہا في بیان عقائد السنۃ بأنّ أفضل الأولیاء المحمدیین أبو بکر ثم عمر ثم عثمان ثم علي رضي اللہ تعالی عنھم، وللعبد الضعیف في الردّ علی ھؤلاء الضالین کتاب حافل کافل بسیط محیط سمّیتُہ ''مطالع القمرین بإبانۃ سبقۃ العمرین'' ۱۲).
یعنی: اور امام بر حق رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد ابو بکر ، پھر عمر ،پھر عثمان ،پھر علی رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین ہیں ، اور (ان چاروں کی ) فضیلت ترتیب خلافت کے موافق ہے ۔
اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس کے حاشیہ میں ''والفضیلۃ'' کے تحت کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس حسین عبارت میں مصنف رحمۃاللہ تعالی علیہ نے ائمہ سابقین کی پیروی کی اور اس میں اس زمانے میں تفضیلیوں کا رد ہے جو جھوٹ اور بہتان کے بل پر سنّی ہونے کے مدّعی ہیں اس لئے کہ انہوں نے فضیلت میں ترتیب کے مسئلے کو (ظاہر سے) اس طرف پھیر ا کہ خلافت میں اولویت (خلافت میں زیادہ حقدار ہونے ) کا معنی دنیوی خلافت کا زیادہ حقدار ہونا ، او ریہ اس کے لئے ہے کہ جو شہروں کے انتظام اور لشکرسازی ، اور اس کے علاوہ دوسرے امور جن کے انتظام وانصرام کی سلطنت میں حاجت ہوتی ہے ان کا زیادہ جاننے والا ہو ۔ اور یہ باطل خبیث قول ہے ، صحابہ اور تابعین رضی اللہ تعالی عنھم کے اجماع کے خلاف ہے۔ بلکہ افضلیت ثواب کی کثرت میں اور رب الارباب (اللہ تعالی) کی نزدیکی میں اور اللہ تبارک وتعالی کے نزدیک بزرگی میں ہے ، اسی لئے '' طریقہ محمدیہ''وغیرہا کتا بوں میں اھلسنت وجماعت کے عقیدوں کے بیان میں اس مسئلے کی تعبیر یوں فرمائی کہ اولیاء محمد یین (محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی امت کے اولیائ) میں سب سے افضل ابو بکر ہیں پھر عمر ہیں پھر عثمان ہیں ، پھر علی ہیں رضی اللہ تعالی عنھم اور اس ناتو اں بندے کی ان گمراہوں کے رد میں ایک جامع کتاب ہے جو کافی او ر مفصل اور تمام گوشوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے جس کا نام میں نے '' مطلع القمرین في إبانۃ سبقۃ العمرین'' رکھا ۔ ۱۲ امام اھلسنت رضی اللہ تعالی عنہ
یوں ہوتا تو فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سب سے افضل ہوتے کہ اِن کی خلافت کو فرمایا:
((لَمْ أَرَ عَبْقَرِ یًّا یَّفْرِيْ فَرْیَہٗٗ حَتّی ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ.))(1)
اور صدیقِ اکبر کی خلافت کو فرمایا:
((فِيْ نَزْعِہٖ ضَعْفٌ وَاللہُ یَغْفِرُ لَہٗ.))(2)
عقیدہ (۵): خلفائے اربعہ راشدین کے بعد بقیہ عشرہ مبشَّرہ و حضرات حسنین و اصحابِ بدر و اصحابِ بیعۃ الرضوان کے لیے افضلیت ہے (3) اور یہ سب قطعی جنتی ہیں۔ (4)
1 ۔ میں نے کسی کو ایسا جواں مرد نہیں دیکھا جو اتنا کام کرسکے، حتیٰ کہ لوگ (اُن کے نکالے ہوئے پانی سے) سیراب ہوگئے۔
''سنن الترمذي''، کتاب الرؤیا، باب ما جاء في رؤیا النبيصلی اللہ علیہ وسلم المیزان والدلو، الحدیث: ۲۲۹۶، ج۴، ص۱۲۷.
2 ۔ ان کے (دورانِ خواب، کنوئیں سے پانی) نکالنے میں کمزوری تھی، اﷲ عزوجل ا نہیں معاف فرمائے۔
''صحیح البخاري'' کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، الحدیث: ۳۶۷۶، ج۲، ص۵۲۴.
3 ۔ في ''شرح المسلم'' للنووي، کتاب فضائل الصحابۃ، ص۲۷۲: (واتفق أھل السنۃ علی أنّ أفضلہم أبوبکر، ثم عمر، قال جمہورہم: ثم عثمان، ثم علي، قال أبو منصورالبغدادي: أصحابنا مجمعون علی أنّ أفضلہم الخلفاء الأربعۃ علی الترتیب المذکور ثم تمام العشرۃ، ثم أھل بدر، ثم أُحد، ثم بیعۃ الرضوان)، ملتقطاً.
وفي ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، أفضلیۃ الصحابۃ بعد الخلفائ، ص۱۱۹: ( أجمع أھل السنۃ والجماعۃ علی أنّ أفضل الصحابۃ أبو بکر فعمر فعثمان فعلي، فبقیۃ العشرۃ المبشرۃ بالجنۃ، فأھل بدر، فباقيأھل أحد، فباقي أھل بیعۃ الرضوان بالحدیبیۃ).
4 ۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّاالْحُسْنیۤ اُولٰۤئِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ لَایَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا وَھُمْ فِیْ مَا اشْتَھَتْ اَنْفُسُھُمْ خٰلِدُوْنَ لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَ تَتَلَقّٰھُمُ الْمَلٰئِکَۃُ ھٰذَایَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ) پ۱۷، الأنبیاء ،۱۰۱۔۱۰۳.
(وَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانِ رَّضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہ، وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہَارُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۰.ْ (لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ اُولٰئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْم بَعْدُ وَقَاتَلُوْا وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ)پ۲۷، الحدید: ۱۰.
عن أبي سعید الخدري رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((الحسن والحسین سیدا شباب أھل الجنۃ)).
''سنن الترمذ ي''، کتاب المناقب، باب مناقب أبي محمد الحسن۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۳۷۹۳، ج۵، ص۴۲۶. =
۔
= ''سنن ابن ماجہ''، کتاب السنۃ، الحدیث: ۱۱۸، ج۱، ص۸۴.
عن جابر عن أم مبشر عن حفصۃ قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إني لأرجو أن لا یدخل النار إن شاء اللہ أحد شہد بدراً والحدیبیۃ))، قالت: فقلت: ألیس اللہ عزوجل یقول: (وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلاَّ وَارِدُہَا)، قال: فسمعتہ یقول: (ثُمَّ نُنَجّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا)۔
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد اللہ، الحدیث: ۲۶۵۰۲، ج۱۰، ص۱۶۳۔
(لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ) پ۲۶، الفتح: ۱۸.
عن جابر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أنّہ قال: ((لا یدخل النار أحد ممن بایع تحت الشجرۃ)).
''سنن أبي داود''، کتاب السنۃ، باب في الخلفائ، الحدیث: ۴۶۵۳،ج۴، ص۲۸۱۔
''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب في فضل من بایع تحت الشجرۃ، الحدیث: ۳۸۸۶، ج۵، ص۴۶۲۔
شیخ المحققین خاتم المحدثین شیخ عبد الحق محدث دھلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی مایہ ناز کتاب ''تکمیل الایمان'' میں فرماتے ہیں :
ذکر عشرہ مبشرہ :
باقي العشرۃ المبشرۃ: یعنی بعد از خلفاء اربعہ فضیلت بقیہ عشرہ مبشرہ کے لیے ہے ۔ اور عشرہ مبشرہ جن کی عرفیت ہے ، وہ دس صحابہ کرام ہیں جن کو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دنیا میں جنت کی بشارت دے کر فرمایا : ((أبو بکر في الجنۃ وعمر فيالجنۃ وعثمان في الجنۃ وعلي في الجنۃ وطلحۃ في الجنۃ والزبیر في الجنۃ وعبد الرحمن بن عوف في الجنۃ وسعد بن أبي وقاص في الجنۃ وسعید بن زید في الجنۃ وأبو عبیدۃ بن الجراح في الجنۃ)). ''سنن الترمذ ي''، کتاب المناقب، الحدیث: ۳۷۶۸، ج۵، ص۴۱۶.
و''المسند'' للإمام أحمد، ج۱، ص۴۱۰، الحدیث: ۱۶۷۵.
یعنی: ابو بکر جنتی ہیں ، عمر جنتی ہیں ، عثمان جنتی ہیں ، علی جنتی ہیں ، طلحہ جنتی ہیں ، زبیر جنتی ہیں،عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں ، سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں ، سعید بن زید جنتی ہیں ، ابو عبیدہ بن الجراح جنتی ہیں،( رضی اللہ تعالی عنھم)
یہ دس صحابہ کرام خیار امت ، افاضل صحابہ ، اکابر قریش ،پیشوائے مہاجرین اور اقاربِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین وسلم ، ان کے لیئے سبقت ایمان اور خد مت اسلام ثابت ہے ، جوکہ اوروں کے لئے نہیں ہے ، ان کا جنتی ہونا قطعی ہے لیکن یہ قطعیت بشارت انہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، بلکہ ان کے سوا بھی اور اصحاب بشارت یافتہ ہیں مثلاً :سید تنا فاطمہ ، امام حسن ، امام حسین ، حضرت خدیجہ ، حضرت عائشہ ، حضرت حمزہ ،حضرت عباس ، حضرت سلمان ، حضرت صہیب ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنھم وغیرھا ۔
ان د س اصحاب مبشرہ کی شہرت ولقب ،وقوع بشارت ایک حدیث اور ایک وقت میں ہونے کی وجہ سے ہے اور ان کا ذکر عقائد کے ضمن میں بسبب اہتمام بشارت ، اور اھل زیغ کے مذہب کے ردوا بطال کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ ان کی شان میں گستاخی کرتے اور بے ادبی کی راہ چلتے
۔
ہیں۔ اور عام مخلوق جان لے کہ دخول جنت کی بشارت ان ہی دسوں کے ساتھ قطعی اور مخصوص ہے یہ گمان محض غلط اور صریح جہالت ہے ۔
اور بعض عربی کے طالب علم جو نا پختہ اور عام جھلا ء سے بڑ ھ کر ہیں کہتے ہیں کہ دوسروں کو بھی بشارت ہے لیکن ان عشرہ مبشرہ کی بشارت قطعی ہے اور ان کے سوا اوروں کے لیئے ظنی ہے اور ان دسوں کی درجہ بشارت سے قوت وشہرت اور تواتر میں کم ہے ۔ اس گمان فاسد کی منشاء عد م تتبع احادیث او ر علم حدیث کی خدمت میں کوتا ہی کی وجہ سے ہے ، اللہ تعالی ان سے در گزر فرمائے ، ہم نے اس بحث کو اسی زمانہ میں ایک مستقل کتاب میں جس کانام'' تحقیق الإشارۃ في تعمیم البشارہ''ہے تفصیل وتحقیق کے ساتھ بیان کیا ہے ، اور مبشرین کے نام بھی جو کہ احادیث میں نظر سے گزرے ذکر کردیے ہیں ۔
حق وصواب یہی ہے کہ خلفاء اربعہ، فاطمہ وحسن وحسین وغیرہم رضی اللہ عنھم کی بشارت مشہور اور اصل بحد تواتر معنوی ہے باقی عشرہ مبشرہ کی بشارت بھی بحد شہرت پہنچی ہوئی ہے اور بعض دیگر صحابہ بھی اخبار احاد سے تفاوت مراتب کے ساتھ صاحب بشارت ہیں ، اور حکم غیر مبشرین کا یہ ہے کہ علماء فرماتے ہیں کہ: مومنین ومسلمین جنتی، اور کفار دوزخی ،بغیر جزم و یقین، اور بلا قطعی کسی کے جنتی یا نار ی کی خصوصیت کے ، اس کی مکمل تحقیق کتاب مذکور میں ملاحظہ کریں ۔ وباللہ التوفیق۔
ذکر أھل بدر:
أھل بدر: یعنی بعد عشرہ مبشرہ کے فضیلت بدری اصحاب کے لئے ہے ۔ اوراھل بد ر تین سو تیرہ (۳۱۳) اصحاب ہیں وہ سب قطعی طور پر جنتی ہیں کیونکہ ان کی شان میں فرمایا گیا: ((إنّ اللہ قد اطّلع علی أھل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد غفرت لکم)).
یعنی: بے شک اللہ تعالی اھل بد ر کو مطلع فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ :جو چا ہو عمل کرو بے شک میں نے تم کو بخش دیا ۔
''صحیح البخاري''، کتاب الجھاد والسیر، باب الجاسوس، الحدیث: ۳۰۰۷، ج۲، ص۳۱۱.
دوسری جگہ ارشاد فرمایا: ((لن یدخل اللہ النار رجلاً شہد بدراً والحدیبیۃ)). یعنی: اللہ تعالی بدر و حدیبیہ میں حاضر ہونے والوں کو ہرگز آگ میں داخل نہ کریگا۔
ذکر أھل أحد:
فأحد: یعنی بعد از اھل بد ر فضیلت اھل غزوہ اُحد کے لئے ہے جو کہ سال چہارم ہجری میں واقع ہوا۔
بیعت رضوان :
أھل بیعت الرضوان: یعنی اھل غزوہ احد کے بعد فضیلت اھل بیعت رضوان کے لئے ہے ۔ یہ وہ نامی بیعت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں سے ہوئی چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: (لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ) پ۲۶، الفتح: ۱۸.
ترجمہ : بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔
اور حدیث مبارک میں ہے: ((لا یدخل النار أحدٌ بایعني تحت الشجرۃ)). یعنی: اللہ تعالی کسی کو دوزخ میں نہ ڈالے گا جنہوں نے
عقیدہ (۶): تمام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم اھلِ خیر و صلاح ہیں اور عادل، ان کا جب ذکر کیا جائے تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔ (1)
عقیدہ (۷): کسی صحابی کے ساتھ سوءِ عقیدت بدمذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم ہے، کہ وہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ بغض ہے(2)، ایسا شخص رافضی ہے، اگرچہ چاروں خلفا کو مانے اور اپنے آپ کو سُنّی کہے، مثلاً حضرت امیرِ معاویہ اور اُن کے والدِ ماجد حضرت ابو سفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہند، اسی طرح حضرت سیّدنا عَمرو بن عاص، و حضرت مغیرہ بن شعبہ،
درخت کے نیچے مجھ سے بیعت کی۔
یہ سب بھی جنتی ہیں ، اور افضلیت میں یہ ترتیب مذکور مجمع علیہ ہے جسے ابو منصور تمیمی نے نقل کیا ہے ۔ ان تمام مذکور ین صحابہ کے بعد بھی بحسب فضائل ومآ ثر جو ان کے حق میں مروی ہیں ، وہ سب جنتی ہیں ، ان کے درجات ومقامات جدا جدا ہوں گے ، علماء نے ان کی تصریح منظور نہ کی ، واللہ اعلم۔
''تکمیل الایمان'' (فارسی)، ص۱۶۱۔۱۶۵، (اردو) ص۱۱۷۔۱۲۱.
1 ۔ في ''المسامرۃ''، ص۳۱۳: (واعتقاد أھل السنۃ) والجماعۃ (تزکیۃ جمیع الصحابۃ) رضي اللہ عنھم وجوباً بإثبات العدالۃ لکل منھم والکف عن الطعن فیہم، (والثناء علیہم کما أثنی اللہ سبحانہ وتعالی علیہم إذ قال: (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ)) وقال تعالی: ( وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ) وسطاً أي: عدولاً خیاراً.
وفي ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، أفضلیۃ الصحابۃ بعد الخلفائ، ص۷۱: (ولا نذکر الصحابۃ) أي: مجتمعین ومنفردین، وفي نسخۃ : ولا نذکر أحداً من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ وسلم إلاّ بخیر، ولقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: ((إذا ذکر أصحابي فأمسکوا))، ولذلک ذھب جمھور العلماء إلی أنّ الصحابۃ رضي اللہ عنھم کلھم عدول قبل فتنۃ عثمان وعلي وکذا بعدہا)، ملتقطاً.
وفي''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۶۲: (ویکف عن ذکر الصحابۃ إلاّ بخیر).
2 ۔ عن عبد اللہ بن مغفل قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((اللہ اللہ في أصحابي، لا تتخذوہم غرضا بعدي، فمن أحبہم فبحبي أحبہم ومن أبغضھم فببغضي أبغضھم، ومن آذاہم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذی اللہ، ومن آذی اللہ فیوشک أن یأخذہ)). ''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب من سبّ أصحاب النبيصلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۳۸۸۸، ج۵، ص۴۶۳.
في ''فیض القدیر''، ج۲، ص۱۲۴، تحت الحدیث: (((اللہ اللہ في)) حق (أصحابي) أي: اتقوا اللہ فیہم ولا تلمزوہم بسوئ، أو اذکروا اللہ فیہم وفي تعظیمہم وتوقیرہم، وکررہ إیذاناً بمزید الحث علی الکف عن التعرض لہم بمنقص ((لا تتخذوہم غرضاً)) ہدفاً ترموہم بقبیح الکلام کما یرمی الہدف بالسہام، ہو تشبیہ بلیغ ((بعدي)) أي: بعد وفاتي ۔ ((ومن آذاہم)) بما یسوء ہم ((فقد آذاني ومن آذاني فقد آذی اللہ ومن آذی اللہ یوشک أن یأخذہ)) أي: یسرع انتزاع روحہ أخذۃ
وحضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنھم، حتیٰ کہ حضرت وحشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنہوں نے قبلِ اسلام حضرت سیّدنا سید الشہدا حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا اور بعدِ اسلام اَخبث الناس خبیث مُسَیْلِمَہ کذّاب ملعون (1) کو واصلِ جہنم کیا۔ وہ خود فرمایا کرتے تھے :کہ میں نے خیر النّاس و شر النّاس کو قتل کیا (2)، اِن میں سے کسی کی شان میں گستاخی، تبرّا(3) ہے اور اِس کا قائل رافضی، اگرچہ حضراتِ شیخین رضی اﷲ تعالیٰ عنھما کی توہین کے مثل نہیں ہوسکتی، کہ ان کی توہین، بلکہ ان کی خلافت سے انکار ہی فقہائے کرام کے نزدیک کفر ہے۔ (4)
عقیدہ (۸): کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبہ کاہو، کسی صحابی کے رتبہ کو نہیں پہنچتا۔ (5)
غضبان منتقم عزیز مقتدر جبار قہار (ِانَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ))، ملتقطاً.
1 ۔ نبوت کا جھوٹا دعویدار مسیلمہ لعنتی۔
2 ۔ (وحشي بن حرب الحبشي قاتل حمزۃ بن عبد المطلب رضي اللہ عنہ یوم أحد، وشَرِک في قتل مسیلمۃ الکذاب یوم الیمامۃ، وکان یقول: قتلت خیر الناس في الجاھلیۃ وشرّ الناس في الإسلام).
''أسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ''، الجزء الخامس، رقم الترجمۃ: ۵۴۴۲، ص۴۵۴.
3 ۔ نفرت کا اظہار کرنا۔
4 ۔ في ''الدر المختار''، کتاب الجہاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۶۲: (من سب الشیخین أو طعن فیھما کفر ولا تقبل توبتہ).
وفي ''البزازیۃ''، ج۶، ص ۳۱۹: (الرافضي إن کان یسب الشیخین ویلعنھما فہو کافر)، (ھامش ''الہندیۃ'').
وفیہا ج۶، ص ۳۱۸: (من أنکر خلافۃ أبي بکر رضي اللہ عنہ فہو کافر في الصحیح، ومنکر خلافۃ عمر رضي اللہ عنہ فہو کافر في الأصحّ)، (ھامش ''الہندیۃ'').
وفي ''فتح القدیر''، باب الإمامۃ ،ج۱، ص۳۰۴: (وفی الروافض أنّ من فضل علیاً رضی اللہ عنہ علی الثلاثۃ فمبتدع وإن أنکر خلافۃ الصدیق أو عمر رضي اللہ عنھما فہو کافر).
وفي ''البحر الرائق''، کتاب الصلاۃ، إمامۃ العبد والأعرابي والفاسق...إلخ، ج۱، ص۶۱۱: (والرافضی إن فضل علیاً علی غیرہ فہو مبتدع ، وإن أنکر خلافۃ الصدیق فہو کافر).
في ''رد المحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۵۸: (وإن أنکر خلافۃ الصدیق أو عمر فہو کافر).
وفي ''تبیین الحقائق''، کتاب الصلاۃ، الأحق بالإمامۃ، ج۱، ص۳۴۷: (وفي الروافض إن فضل علیاً رضي اللہ عنہ علی الثلاثۃ فمبتدع وإن أنکر خلافۃ الصدیق أو عمر فہو کافر). انظر للتفصیل ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب السیر، ج۱۴، ص۲۵۱.
5 ۔ في ''المرقاۃ''، کتاب الفتن، تحت الحدیث: ۵۴۰۱، ج۹، ص۲۸۲: (من القواعد المقررۃ أنّ العلماء والأولیاء من الأمۃ لم یبلغ أحد منھم مبلغ الصحابۃ الکبرائ).
اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ''تابعین سے لے کرتا بقیامت
مسئلہ (۵): صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم کے باہم جو واقعات ہوئے، ان میں پڑنا حرام، حرام، سخت حرام ہے، مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سب حضرات آقائے دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں۔
عقیدہ (۹): تمام صحابہ کرام اعلیٰ و ادنیٰ (اور ان میں ادنیٰ کوئی نہیں) سب جنتی ہیں، وہ جہنم کی بِھنک(1) نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے، محشر کی وہ بڑی گھبراہٹ انھیں غمگین نہ کرے گی، فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا (2)، یہ سب مضمون قرآنِ عظیم کا ارشاد ہے۔
عقیدہ (۱۰): صحابہ کر ام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم، انبیا نہ تھے، فرشتہ نہ تھے کہ معصوم ہوں۔ ان میں بعض کے لیے لغزشیں ہوئیں، مگر ان کی کسی بات پر گرفت اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے خلاف ہے۔ (3) اﷲ عزوجل نے ''سورہ حدید'' میں جہاں صحابہ کی دو قسمیں فرمائیں، مومنین قبلِ فتحِ مکہ اور بعدِ فتحِ مکہ اور اُن کو اِن پر تفضیل دی اور فرما دیا:
( وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ؕ )
''سب سے اﷲ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا۔''
امت کا کوئی ولی کیسے ہی پایہ عظیم کو پہنچے صاحب ِسلسلہ ہو خواہ غیر ان کا، ہرگز ہرگز ان (یعنی صحابہ) میں سے ادنی سے ادنی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا، اور ان میں ادنی کوئی نہیں۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۳۵۷.
1 ۔ ھلکی سی آواز بھی۔
2 ۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰی اُولٰۤئِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ لَایَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا وَھُمْ فِیْ مَا اشْتَھَتْ اَنْفُسُھُمْ خٰلِدُوْنَ لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَتَتَلَقّٰھُمُ الْمَلٰۤئِکَۃُ ھٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ) پ۱۷، الأنبیائ: ۱۰۱۔ ۱۰۳.
3 ۔ (وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِم مِّنْ غِلٍّ) پ۸، الأعرف: ۴۳۔
في ''التفسیر الکبیر''، ج۵، ص۲۴۲۔۲۴۳: تحت الآیۃ: (ومعنی نزع الغل: تصفیۃ الطباع وإسقاط الوساوس ومنعہا من أن ترد علی القلوب، ۔۔۔ وإلی ھذا المعنی أشار علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ فقال: إنی لأرجو أن أکون أنا وعثمان وطلحۃ والزبیر من الذین قال اللہ تعالی فیہم: (وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِم مِّنْ غِلٍّ))۔
وفي ''روح البیان''، تحت الآیۃ: ج۳، ص۱۶۲: (قال ابن عباس رضی اللہ عنھما: نزلت ہذہ الآیۃ في أبي بکر وعمر وعثمان وعلي وطلحۃ والزبیر وابن مسعود وعمار بن یاسر وسلمان وأبي ذر ینزع اللہ في الآخرۃ ما کان في قلوبہم من غشّ بعضھم لبعض في الدنیا من العداوۃ والقتل الذي کان بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والأمر الذي اختلفوا فیہ فیدخلون
ساتھ ہی ارشاد فرما دیا:
(وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿٪۱۰﴾)ـ1ـ
''اﷲ خوب جانتا ہے، جو کچھ تم کرو گے۔''
تو جب اُس نے اُن کے تمام اعمال جان کر حکم فرما دیا کہ ان سب سے ہم جنتِ بے عذاب و کرامت و ثواب کا وعدہ فرماچکے تو دوسرے کو کیا حق رہا کہ اُن کی کسی بات پر طعن کرے...؟! کیا طعن کرنے والا اﷲ (عزوجل) سے جدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔ (2)
عقیدہ (۱۱): امیرِ معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مجتہد تھے، اُن کا مجتہد ہونا حضرت سیّدنا عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما نے حدیث ِ''صحیح بخاری'' میں بیان فرمایا ہے(3)، مجتہد سے صواب و خطا(4) دونوں صادر ہوتے ہیں۔(5)
إخواناً علی سرر متقابلین)۔
1 ۔ (لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ اُولٰئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْم بَعْدُ وَقَاتَلُوْا وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) پ۲۷، الحدید : ۱۰.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۱۰۰ ۔ ۱۰۱، ۲۶۴، ۳۳۶، ۳۶۱۔۳۶۳.
3 ۔ حدثنا ابن أبي مریم: حد ثنا نافع بن عمر: حدثنی ابن أبی ملیکۃ: (قیل لابن عباس: ھل لک فی أمیر المؤمنین معاویۃ فإنہ ما أوتر إلاّ بواحدۃ قال: أصاب إنہ فقیہ). ''صحیح البخاري''، کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، باب ذکر معاویۃ رضي اللہ تعالٰی عنہ، الحدیث: ۳۷۶۵، ج۲، ص۵۰۵.
''المشکاۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر، الحدیث: ۱۲۷۷، ج۱، ص۲۵۰۔
في ''المرقاۃ''، ج۳، ص ۳۴۹۔۳۵۰، تحت الحدیث: (قال: أي: ابن عباس أصاب، أي: أدرک الثواب في اجتہادہ إنّہ فقیہ، أي: مجتہد وہو مثاب وإن أخطأ).
4 ۔ صحیح اور غلط۔
5 ۔ في''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث المجتھد قد یخطیئ ویصیب، ص۱۷۵: (والمجتھد في العقلیات والشرعیات الأصلیۃ والفرعیۃ قد یخطیئ وقد یصیب).
وفي ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، المجتہد في العقلیات یخطیئ ویصیب، ص۱۳۳: ( أنّ المجتھد في العقلیات
خطا دو قسم ہے: خطاء عنادی، یہ مجتہد کی شان نہیں اور خطاء اجتہادی، یہ مجتہد سے ہوتی ہے اور اِس میں اُس پر عند اﷲ اصلاً مؤاخذہ نہیں۔ مگر احکامِ دنیا میں وہ دو قسم ہے: خطاء مقرر کہ اس کے صاحب پر انکار نہ ہوگا، یہ وہ خطاء اجتہادی ہے جس سے دین میں کوئی فتنہ نہ پیدا ہوتا ہو، جیسے ھمارے نزدیک مقتدی کا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا۔
دوسری خطاء منکَر، یہ وہ خطاء اجتہادی ہے جس کے صاحب پر انکار کیا جائے گا، کہ اس کی خطا باعثِ فتنہ ہے۔ حضرت امیرِ معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا حضرت سیّدنا امیرالمومنین علی مرتضیٰ کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے خلاف اسی قسم کی خطا کا تھا(1) اور فیصلہ وہ جو خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مولیٰ علی کی ڈِگری(2) اور امیرِ معاویہ کی مغفرت، رضی اﷲ تعالیٰ عنھم اجمعین۔ (3)
والشرعیات الأصلیۃ والفرعیۃ قد یخطیئ وقد یصیب).
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۳۳۵ ۔ ۳۳۶.
2 ۔ یعنی تائید و سندِ حق۔
3 ۔ عن عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ قال: (رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في المنام وأبو بکر وعمرجالسان عندہ، فسلمت علیہ وجلست، فبینما أنا جالس إذ أتي بعلي ومعاویۃ، فأدخلا بیتا وأجیف الباب وأنا أنظر، فما کان بأسرع من أن خرج علي وہو یقول: قضی لي ورب الکعبۃ، ثم ما کان بأسرع من أن خرج معاویۃ وہو یقول: غفر لي ورب الکعبۃ).
''البدایۃ والنہایۃ''، ج۵، ص۶۳۳.
وفي ''مختصر تأریخ دمشق''، قال یزید بن الأصم: لما وقع الصلح بین علي ومعاویۃ خرج علي فمشی في قتلاہ فقال: ہؤلاء في الجنۃ، ثم مشی في قتلی معاویۃ فقال: ہؤلاء في الجنۃ، ولیصیر الأمر إلي وإلی معاویۃ، فیحکم لي ویغفر لمعاویۃ؛ ہکذا أخبرني حبیبي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم..
وعن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أوّل من یختصم في ہذہ الأمۃ بین یدي الرب علي ومعاویۃ، وأوّل من یدخل الجنۃ أبو بکر وعمر))، قال ابن عباس:کنت جالساً عند النبي صلی اللہ علیہ وسلم وعندہ أبو بکر وعمر وعثمان ومعاویۃ إذ أقبل علي بن أبي طالب، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لمعاویۃ: ((أتحب علیاً یا معاویۃ؟)) فقال معاویۃ: إي واللہ! الذي لا إلہ إلاّ ہو إنّي لأحبہ في اللہ حباً شدیداً، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّہا ستکون بینکم ہنیہۃ))، قال معاویۃ: ما یکون بعد ذلک یا رسول اللہ؟ فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: غفر اللہ ورضوانہ، والدخول إلی الجنۃ))، قال معاویۃ: رضینا بقضاء اللہ فعند ذلک نزلت ہذہ الآیۃ: (وَلَوْ شَآءَ اللہُ مَا اقْتَتَلُوْا وَلٰـکِنَّ اللہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ).
مسئلہ (۶): یہ جو بعض جاھل کہا کرتے ہیں کہ جب حضرت مولیٰ [علی] کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھ امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا نام لیا جائے تو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نہ کہا جائے، محض باطل وبے اصل ہے۔(1) علمائے کرام نے صحابہ کے اسمائے طیبہ کے ساتھ مطلقاً ''رضی اﷲ تعالیٰ عنہ'' کہنے کا حکم دیا ہے(2)، یہ استثنا نئی شریعت گڑھنا ہے۔
عقیدہ (۱۲): منھاجِ نبوت پر خلافتِ حقہ راشدہ تیس سال رہی، کہ سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے چھ مہینے پر ختم ہوگئی، پھر امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی خلافتِ راشدہ ہوئی(3) اور آخر زمانہ میں حضرت سیّدنا امام مَہدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہوں گے۔(4)
1 ۔
2 ۔ في''نسیم الریاض''، القسم الثاني فیما یجب علی الأنام من حقوقہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، ج۵، ص۹۳: ((وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانِ رَّضِیَ اللہُ عَنْھُمْ) [التوبۃ :۱۰۰] فیدعی بذلک المذکور من المغفرۃ والرحمۃ والترضي لسائر المؤمنین والصحابۃ ۔ وأمّا ما قیل: من أنّہ لا یدعی للصحابۃ إلاّ برضي اللہ تعالی عنھم، فھو أمرحسن للأدب).
3 ۔ في ''النبراس''، ص۳۰۸: (والخلافۃ بعد النبي صلی اللہ علیہ وسلم ثلاثون سنۃ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: ((الخلافۃ ثلاثون سنۃ ۔)) وقد استشہد علي رضي اللہ عنہ علی رأس ثلاثین سنۃ أي: نہایتہا من وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھذا تقریب، والتحقیق أنّہ کان بعد علي رضي اللہ عنہ نحو ستۃ أشہر باقیۃ من ثلثین سنۃ وہي مدۃ خلافۃ الحسن بن علي رضي اللہ عنھما، وکان کمال ثلثین عند تسلیم الحسن الخلافۃ إلی معاویۃ، وعمر بن عبد العزیز وہو خامس الخلفاء الراشدین صاحب الحدیث والاجتہاد والتقوی والعدل والکرامات والمناقب الرفیعۃ)، ملتقطاً.
4 ۔ عن محمد بن الحنفیۃ، قال: کنا عند علي رضي اللہ عنہ، فسألہ رجل عن المہدي، فقال علي رضي اللہ عنہ: ((ہیہات، ثم عقد بیدہ سبعاً، فقال: ذاک یخرج في آخر الزمان...إلخ)).
''المستدرک'' للحاکم، کتاب الفتن والملاحم، الحدیث:۸۷۰۲، ج۵، ص ۷۶۶۔۷۶۷.
في''منح الروض الأزہر''، ص۶۵:((الخلافۃ بعدي ثلاثون سنۃ ثم تصیر ملکاً عضوضاً)) ولا یشکل بأنّ أھل الحل والعقد من الأمۃ قد کانوا متفقین علی خلافۃ الخلفاء العباسیۃ وبعض المروانیۃ کعمر بن عبد العزیز، فإنّ المراد بالخلافۃ المذکورۃ في الحدیث الخلافۃ الکاملۃ التي لا یشوبہا شيء من المخالفۃ ومیل عن المتابعۃ یکون ثلاثون سنۃ، وبعدہا قد تکون وقد لا تکون، إذ قد ورد في حق المہدي أنّہ خلیفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، والأظہر أنّ إطلاق الخلیفۃ علی الخلفاء العباسیۃ کان علی المعاني اللغویۃ المجازیۃ العرفیۃ دون الحقیقۃ الشرعیۃ)، ملتقطاً.
امیرِ معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اوّل ملوکِ اسلام ہیں(1)، اسی کی طرف توراتِ مقدّس میں اشارہ ہے کہ:
''مَوْلِدُہٗ بِمَکَّۃَ وَمُھَاجَرُہٗ بِطَیْبَۃَ وَمُلْکُہٗ بِالشَّامِ.''(2)
''وہ نبی آخر الزماں (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مکہ میں پیدا ہوگا اور مدینہ کو ہجرت فرمائے گا اور اس کی سلطنت شام میں ہوگی۔''
تو امیرِ معاویہ کی بادشاہی اگرچہ سلطنت ہے، مگر کس کی! محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سلطنت ہے۔ سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک فوجِ جرّار جاں نثار کے ساتھ عین میدان میں بالقصد و بالاختیار ہتھیار رکھ دیے اور خلافت امیرِ معاویہ کو سپرد کر دی اور ان کے ہاتھ پر بیعت فرمالی(3) اور اس صُلح کو حضور ِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پسند فرمایا اور اس کی بشارت دی کہ امام حسن کی نسبت فرمایا:
((إِنَّ ابْنِي ھٰذَا سَیِّدٌ لَعَلَّ اللہَ أَنْ یُّصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ.))(4)
''میرایہ بیٹا سیّد ہے، میں امید فرماتا ہوں کہ اﷲ عزوجل اس کے باعث دو بڑے گروہِ اسلام میں صلح کرا دے۔''
1 ۔ في ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ص۶۸۔۶۹: (وأول ملوک المسلمین معاویۃ رضي اللہ عنہ).
2 ۔ ''المستدرک''، کتاب تواریخ المتقدمین من الأنبیاء والمرسلین، الحدیث: ۴۳۰۰، ج ۳، ص۵۲۶.
و''دلائل النبوۃ'' للبیہقي، ج۶، ص۲۸۱، و''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الفضائل، الحدیث: ۵۷۷۱، ج۳، ص۳۵۸.
3 ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ ابني ھذا سید ولعل اللہ أن یصلح بہ بین فئتین عظیمتین من المسلمین)).
''صحیح البخاري''، کتاب الصلح، قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم للحسن بن علي، الحدیث: ۲۷۰۴، ج۲، ص۲۱۴.
و''الجامع الصغیر''، الحدیث: ۲۱۶۷، ج۱، ص۱۳۲.
في ''فیض القدیر''، ج۲، ص۵۱۹، تحت الحدیث: ((أن یصلح بہ) یعني: بسبب تکرمہ وعزلہ نفسہ عن الخلافۃ، وترکہا کذلک لمعاویۃ (بین فئتین عظیمتین من المسلمین) وکان ذلک، فلما بویع لہ بعد أبیہ وصار ہو الإمام الحق مدۃ ستۃ أشہر تکملۃ للثلاثین سنۃ التي أخبر المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم أنّہا مدۃ الخلافۃ وبعدہا یکون ملکاً عضوضاً ثم سار إلی معاویۃ بکتائب کأمثال الجبال وبایعہ منھم أربعون ألفاً علی الموت، فلما تراء ی الجمعان علم أنّہ لا یغلب أحدھما حتی یقتل الفریق الآخر فنزل لہ عن الخلافۃ لا لقلۃ ولا لذلۃ بل رحمۃ للأمۃ۔۔۔ إلخ).
وفي ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ص۶۸۔۶۹: (أول ملوک المسلمین معاویۃ رضياللہ عنہ وہو أفضلہم لکنّہ إنما صار إماماً حقاً لما فوض إلیہ الحسن بن علي رضياللہ عنھما الخلا فۃ، فإنّ الحسن بایعہ أھل العراق بعد موت أبیہ ثم بعد ستۃ أشہر فوض الأمر إلی معاویۃ رضياللہ عنہ).
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصلح، باب قول النبيصلی اللہ علیہ وسلم للحسن بن علي رضی اللہ عنھما: إنّ ابني ھذا۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۷۰۴، ج۲، ص۲۱۴.
تو امیرِ معاویہ پر معاذ اﷲ فِسق وغیرہ کا طعن کرنے والا حقیقۃً حضرت امام حسن مجتبیٰ، بلکہ حضور سیّدِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم، بلکہ حضرت عزّت جلّ وعلا پر طعن کرتا ہے۔ (1)
عقیدہ (۱۳): ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا قطعی جنتی اور یقینا آخرت میں بھی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبوبہ عروس ہیں(2)، جو انھیں ایذا دیتا ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ایذا دیتا ہے (3) اور حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما تو عشرہ مبشَّرہ (4) سے ہیں(5)، ان صاحبوں سے بھی بمقابلہ امیر المومنین مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم خطائے اجتہادی واقع
1 ۔ وفي ''المعتمد المستند''، حاشیۃ نمبر ۳۱۹، ص۱۹۲: (في ''الجامع الصحیح'': إنّ ابني ھذا سید لعلّ اللہ أن یصلح بہ بین فئتین عظیمتین من المسلمین، وبہ ظھر أنّ الطعن علی الأمیر معاویۃ رضي اللہ تعالی عنہ طعن علی الإمام المجتبی بل علی جدہ الکریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، بل علی ربہ عزّوجل).
2 ۔ عن عائشۃ قالت: قال لي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّہ لیھون علي الموت، إني أریتک زوجتي في الجنۃ)).
''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۹۸، ج۲۳، ص۳۹.
وحد ثتنا عائشۃ رضي اللہ عنھا أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکر فاطمۃ رضي اللہ عنھا، قالت: فتکلمت أنا، فقال: ((أما ترضین أن تکوني زوجتي في الدنیا والآخرۃ؟)) قالت: بلی واللہ، قال: ((فأنت زوجتي في الدنیا والآخرۃ)).
''المستدرک'' للحاکم، فضائل عائشۃ عن لسان ابن عباس، الحدیث: ۶۷۸۹، ج۵، ص۱۲.
عن عمار قال: ((إنّ عائشۃ زوجۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الجنۃ)). ''المصنف''لابن أبي شیبۃ، کتاب الفضائل، باب ماذکر عائشۃ رضي اللہ عنہا، الحدیث: ۱۰، ج۷، ص ۵۲۹. ''الفتاوی الرضویۃ ''، ج۲۹، ص۳۷۶.
3 ۔ ((یا معشر المسلمین من یعذرني من رجل قد بلغني عنہ أذاہ في أھلي... إلخ))
''صحیح البخاري''، کتاب المغازي ،باب حدیث الإفک ، الحدیث: ۴۱۴۱، ج۳، ص۶۴.
وفي روایۃ: حدثنا ہشام عن أبیہ قال: ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((یا أم سلمۃ لا تؤذیني في عائشۃ فإنّہ واللہ ما نزل علي الوحي وأنا في لحاف امرأۃ منکنّ غیرہا).
''صحیح البخاري''، کتاب فضائل أصحاب النبي، باب فضل عائشۃ رضي اللہ عنہا، الحدیث: ۳۷۷۵، ج۲، ص۵۵۲.
وفي ''المرقاۃ''، تحت الحدیث: ۶۱۸۹: فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم لہا: (((لا تؤذیني في عائشۃ)) أي: في حقہا، وہو أبلغ مِن لا تؤذي عائشۃ لما یفید من أن ما آذاہا فہو یؤذیہ). ج۱۰، ص۵۶۱.
4 ۔ وہ دس صحابہ جنہیں اُن کی زندگی ہی میں جنت کی بشارت دے دی گئی تھی جن کے نام صفحہ نمبر ۲۵۰پر گزرے۔
5 ۔ عن عبد الرحمٰن بن عوف قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: (( ۔وطلحۃ في الجنۃ والزبیر في الجنۃ ۔)).
''سنن الترمذ ي''، أبواب المناقب، الحدیث: ۳۷۶۸، ج۵، ص۴۱۶.
ہوئی، مگر اِن سب نے بالآخر رجوع فرمائی(1)، عرفِ شرع میں بغاوت مطلقاً مقابلہ امامِ برحق کو کہتے ہیں، عناداً (2)ہو، خواہ اجتہاداً (3)، ان حضرات پر بوجہ رجوع اس کا اطلاق نہیں ہو سکتا، گروہِ امیرِ معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر حسبِ اصطلاحِ شرع اِطلاق فئہ باغیہ(4) آیا ہے(5)، مگر اب کہ باغی بمعنی مُفسِد ومُعانِد وسرکش ہو گیا اور دُشنام(6) سمجھا جاتا ہے، اب کسی صحابی پر اس کا اِطلاق جاءز نہیں۔
1 ۔ (شہد الزبیر الجمل مقاتلاً لعلي، فناداہ علي ودعاہ، فانفرد بہ وقال لہ: أتذکر إذ کنت أنا وأنت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فنظر إلي وضحک وضحکتُ فقلت: أنت لا یدع ابن أبي طالب زہوہ فقال: لیس بمزہ، ولتقاتلنّہ وأنت لہ ظالم، فذکر الزبیر ذلک، فانصرف عن القتال، فنزل بوادي السباع، وقام یصلي فأتاہ ابن جرموز فقتلہ، وجاء بسیفہ إلی علي فقال: إنّ ھذا سیف طالما فرّج الکرب عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ثم قال: بشّر قاتل ابن صفیۃ بالنار).
''أسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ''، ج۲، ص۲۹۷.
وفیہ: (قتل طلحۃ یوم الجمل، وکان شہد ذلک الیوم محارباً لعلي بن أبي طالب رضي اللہ عنھما، فزعم بعض أھل العلم أنّ علیاً دعاہ، فذکّرہ أشیاء من سوابقہ علی ما قال للزبیر، فرجع عن قتالہ، واعتزل في بعض الصفوف، فرمي بسہم في رجلہ، وقیل: إنّ السہم أصاب ثغرۃ نحرہ فمات، رماہ مروان بن الحکم). ''أسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ''، ج۳، ص۸۵.
ان روایتوں سے پتہ چلا کہ حضرت زبیر اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنھما دونوں سے خطاء اجتہادی واقع ہوئی اور یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مدمقابل ہوئے لیکن یاد دلانے پر الگ ہوگئے اور جنگ نہیں لڑی۔
2 ۔ دشمنی کے طور پر ۔
3 ۔ في ''الدر المختار''، کتاب الجھاد، باب البغاۃ ، ج۶، ص۳۹۸۔۳۹۹ : (البغي شرعا: ھم الخارجون عن الإمام الحقّ بغیر حقّ فلو بحقّ فلیسوا ببغاۃ).
4 ۔ شریعت کی اصطلاح میں اسے باغی گروہ کہا گیاہے ۔
5 ۔ في ''صحیح البخاري'': عن عکرمۃ: قال لي ابن عباس ولابنہ علي: انطلقا إلی أبي سعید، فاسمعا من حدیثہ، فانطلقنا فإذا ہو في حائط یصلحہ، فأخذ رداء ہ فاحتبی، ثم أنشأ یحدثنا حتی أتی ذکر بناء المسجد فقال: کنا نحمل لبنۃ لبنۃ، وعمار لبنتین لبنتین فرآہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم، فینفض التراب عنہ ویقول: ((ویح عمار تقتلہ الفئۃ الباغیۃ یدعوہم إلی الجنۃ ویدعونہ إلی النار)) قال: یقول عمار: أعوذ باللہ من الفتن۔
''صحیح البخاري''، کتاب الصلاۃ، باب التعاون في بناء المسجد، الحدیث: ۴۴۷، ج۱، ص۱۷۱۔
6 ۔گالی
عقیدہ (۱۴): ام المؤمنین حضرت صدیقہ بنت الصدیق محبوبہ محبوبِ ربِ العالمین جل و علا و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وعلیھما وسلم پر معاذاﷲ تہمتِ ملعونہ اِفک (1) سے اپنی ناپاک زبان آلودہ کرنے والا، قطعاً یقینا کافر مرتد ہے(2) اور اس کے سوا اور طعن کرنے والا رافضی، تبرّائی، بد دین، جہنمی۔
عقیدہ (۱۵): حضرات حسنَین رضی اﷲ تعالیٰ عنھما یقینا اعلیٰ درجہ شہدائے کرام سے ہیں، ان میں کسی کی شہادت کا منکر گمراہ، بددین، خاسر ہے۔
عقیدہ (۱۶): یزید پلید فاسق فاجر مرتکبِ کبائر تھا، معاذاﷲ اس سے اور ریحانہ رسول اللہصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سیّدنا امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کیا نسبت...؟! آج کل جو بعض گمراہ کہتے ہیں کہ: ''ہمیں ان کے معاملہ میں کیا دخل؟ ھمارے وہ بھی شہزادے، وہ بھی شہزادے''۔(3) ایسا بکنے والا مردود، خارجی، ناصبی(4) مستحقِ جہنم ہے۔ ہاں! یزید کو کافر کہنے اور اس پر لعنت کرنے میں علمائے اھلِ سنّت کے تین قول ہیں اور ھمارے امامِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا مسلک سُکُوت، یعنی ہم اسے فاسق فاجر کہنے کے سوا، نہ کافر کہیں، نہ مسلمان۔(5)
1 ۔ آپ رضی اﷲ تعالی عنہا کی پاکدامنی پر بہتان۔.
2 ۔ في ''الفتاوی الہندیۃ''، الباب التاسع في أحکام المرتدین: (ولو قذف عائشۃ رضي اللہ عنھا بالزنی کفر باللہ ولو قذف سائر نسوۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا یکفر ویستحق اللعنۃ).
''الفتاوی الہندیۃ''، الباب التاسع في أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۴
و''البحر الرائق''، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۵، ص۲۰۴.
وفي ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ص۷۲: (سب الصحابۃ والطعن فیھم إن کان مما یخالف الأدلۃ القطعیۃ فکفر کقذف عائشۃ رضي اللہ عنہا وإلاّ فبدعۃ وفسق). ''الفتاوی الرضویۃ ''، ج۱۴، ص۲۴۶.
3 ۔ لم نعثر علیہ۔
4 ۔ وہ فرقہ جو اپنے سینوں میں حضرت علی اور حسن و حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے بغض و کینہ رکھتے ہیں۔
5 ۔ اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: '' یزید پلید علیہ ما یستحقہ من العزیز المجید قطعا یقینا باجماع اھلسنت فاسق وفاجر وجری علی الکبائر تھا اس قدر پر ائمہ اھل سنت کا اطباق واتفاق ہے، صرف اس کی تکفیر ولعن میں اختلاف فرمایا۔ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے اتباع وموافقین اسے کافر کہتے اور بہ تخصیص نام اس پر لعن کرتے ہیں اور اس آیہ کریمہ
عقیدہ (۱۷): اھلِ بیتِ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم مقتدایانِ اھلِ سنّت ہیں، جو اِن سے محبت نہ رکھے، مردود وملعون خارجی ہے۔
سے اس پر سند لاتے ہیں: (فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْحَامَکُمْ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللہُ فَاَصَمَّہُمْ وَاَعْمٰی اَبْصَارَہُمْ) کیا قریب ہے کہ اگر والی ملک ہو تو زمین میں فساد کرو اور اپنے نسبی رشتہ کاٹ دو، یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت فرمائی تو انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔
شک نہیں کہ یزید نے والی مُلک ہوکر زمین میں فساد پھیلایا ، حرمین طیبین وخود کعبہ معظمہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں، مسجد کریم میں گھوڑے باندھے، ان کی لید اور پیشاب منبر اطہر پر پڑے، تین دن مسجد نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بے اذان ونماز رہی ، مکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ وتابعین بے گناہ شہید کئے، کعبہ معظمہ پر پتھر پھینکے، غلاف شریف پھاڑ ا اور جلادیا، مدینہ طیبہ کی پاکدامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جگر پارے کو تین دن بے آب ودانہ رکھ کر مع ہمرائیوں کے تیغ ظلم سے پیاسا ذبح کیا، مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے گود کے پالے ہوئے تن نازنین پر بعد شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام استخوان مبارک چور ہوگئے ، سر انور کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا بوسہ گاہ تھاکاٹ کر نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا، حرم محترم مخدرات مشکوئے رسالت قید کئے گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئے ، اس سے بڑھ کر قطع رحم اور زمین میں فساد کیا ہوگا ، ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانے، قرآن عظیم میں صراحۃ اس پر (لَعَنَہُمُ اللہُ) (ان پر اللہ کی لعنت ہے۔ت) فرمایا، لھذا امام احمد اور ان کے موافقین ان پر لعنت فرماتے ہیں اور ھمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے لعن وتکفیر سے احتیاطا سکوت فرمایا کہ اس سے فسق وفجور متواتر ہیں کفر متواتر نہیں اور بحال احتمال نسبتِکبیرہ بھی جاءز نہیں نہ کہ تکفیر، اور امثال وعیدات مشروط بعدم ِتوبہ ہیں لقولہ تعالی (فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّااِلَّا مَنْ تَابَ)( تو عنقریب دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے مگر جو تائب ہوئے۔ت) اور توبہ تادم ِ غرغرہ مقبول ہے اور اس کے عدم پر جزم نہیں اور یہی احوط واسلم ہے، مگر اس کے فسق وفجور سے انکار کرنا اور امام مظلوم پر الزام رکھنا ضروریات مذہب اھل سنت کے خلاف ہے اور ضلالت وبدمذہبی صاف ہے ،بلکہ انصافاً یہ اس قلب سے متصور نہیں جس میں محبتِ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا شمّہ ہو، (وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ)(اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)، شک نہیں کہ اس کا قائل ناصبی مردود اور اھل سنت کا عدو وعنود ہے''۔
''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب السیر، ج۱۴، ص۵۹۱۔۵۹۳.
احکام شریعت میں فرماتے ہیں: ''یزید پلید کے بارے میں ائمہ اھل سنت کے تین قول ہیں امام احمد وغیرہ اکابر اسے کافر جانتے ہیں تو ہرگز بخشش نہ ہوگی اور امام غزالی وغیرہ مسلمان کہتے ہیں تو اس پر کتنا ہی عذاب ہو بالآخر بخشش ضرور ہے اور ھمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر لھذا یہاں بھی سکوت کریں گے۔ واللہ تعالی اعلم.''احکام شریعت''، ص۱۶۵.
انظر للتفصیل: ''المسامرۃ''، ما جری بین علي ومعاویۃ رضياللہ عنھما، ص۳۱۷۔۳۱۸. و''النبراس''، ص۳۳۰۔۳۳۲.
و''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ص۷۱۔۷۳. ''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۶۳۔۱۶۴.
عقیدہ (۱۸): اُم المومنین خدیجۃ الکبریٰ، و ام المؤمنین عائشہ صدیقہ، و حضرت سیّدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہنّ قطعی جنتی ہیں(1) اور انھیں اور بقیہ بَناتِ مکرّمات و ازواجِ مطہّرات رضی اﷲ تعالیٰ عنہنّ کو تمام صحابیات پر فضیلت ہے۔
عقیدہ (۱۹): اِن کی طہارت کی گواہی قرآنِ عظیم نے دی۔ (2)
1 ۔ عن ہند بن أبي ہالۃ رضي اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ اللہ أبی لي أن أتزوَّج أو أُزوِّج إلاّ أھل الجنۃ)). ''الجامع الصغیر''، ص۱۰۴، الحدیث: ۱۶۶۰.
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((سألت ربي أن لا أزوج إلاّ من أھل الجنۃ ولا أتزوج إلاّ من أھل الجنۃ).
''الجامع الصغیر''، ص۲۸۳، الحدیث: ۴۶۰۷.
عن عائشۃ قالت: ((بشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ بنت خویلد ببیت في الجنۃ)).
''صحیح مسلم''، کتاب فضائل الصحابۃ، فضائل خدیجۃ أم المؤمنین، الحدیث: ۲۴۳۴، ص۱۳۲۳.
عن أبي زرعۃ قال: سمعت أبا ہریرۃ قال: ((أتی جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال: یا رسول اللہ! ہذہ خدیجۃ قد أتتک معہا إناء فیہ إدام أو طعام أو شراب، فإذا ہي أتتک فاقرأ علیہا السلام من ربہا عز وجل ومنّي وبشّرہا ببیت في الجنۃ من قصب لا صخب فیہ ولا نصب)). ''صحیح مسلم''، کتاب فضائل الصحابۃ، فضائل خدیجۃ أم المؤمنین، الحدیث: ۲۴۳۲، ص۱۳۲۲.
عن عائشۃ قالت: قال لي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّہ لیھون علي الموت، إني أریتک زوجتي في الجنۃ)).
''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث:۹۸، ج۲۳، ص۳۹.
عن عمار قال: ((إنّ عائشۃ زوجۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الجنۃ)). ''المصنف'' لابن أبي شیبۃ، کتاب الفضائل، باب ما ذکر عائشۃ رضي اللہ عنہا، الحدیث: ۱۰، ج۷، ص ۵۲۹..
وحدثتنا عائشۃ رضي اللہ عنھا أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکر فاطمۃ رضي اللہ عنھا، قالت: فتکلمت أنا، فقال: أما ترضین أن تکوني زوجتي في الد نیا والآخرۃ؟ قالت: بلی واللہ، قال: فأنت زوجتي في الد نیا والآخرۃ)).
''المستد رک'' للحاکم ، فضائل عائشۃ عن لسان ابن عباس، الحدیث: ۶۷۸۹، ج۵، ص۱۲.
قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((فاطمۃ سیدۃ نساء أھل الجنۃ)). ''صحیح البخاري''، کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم، باب مناقب فاطمۃ رضي اللہ عنہا، ج۲، ص۵۵۰۔ انظر للتفصیل: عقیدہ نمبر (۵)۔
2 ۔ ( اِنّمَا یُرِیْدُ اللہُ لِیُذْ ھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا) پ۲۲، الأحزاب: ۳۳.
في ''تفسیر الخازن''، ج ۳، ص۴۹۹، تحت ہذہ الآیۃ: (( اِنّمَایُرِیْدُ اللہُ لِیُذْ ھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ)أي: الإثم الذي نہی اللہ النساء عنہ، وقال ابن عباس: یعني عمل الشیطان وما لیس للہ فیہ رضا، وقیل: الرجس الشک وقیل: السوء).
في ''التفسیر الکبیر''، ج۹، ص۱۶۸، تحت ہذہ الآیۃ: (واختلفت الأقوال في أھل البیت، والأولی أن یقال: ہم أولادہ وأزواجہ والحسن والحسین منھم وعلي منھم؛ لأنّہ کان من أھل بیتہ بسبب معاشرتہ ببنت النبي علیہ السلام وملازمتہ للنبي)۔
ولایت ایک قربِ خاص ہے کہ مولیٰ عزوجل اپنے برگزیدہ بندوں کو محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرماتا ہے۔
مسئلہ (۱): ولایت وَہبی شے ہے(1)، نہ یہ کہ اَعمالِ شاقّہ(2) سے آدمی خود حاصل کرلے، البتہ غالباً اعمالِ حسنہ اِس عطیہ الٰہی کے لیے ذریعہ ہوتے ہیں اور بعضوں کو ابتداء مل جاتی ہے۔(3)
مسئلہ (۲): ولایت بے علم کو نہیں ملتی، (4) خواہ علم بطورِ ظاہر حاصل کیا ہو، یا اس مرتبہ پر پہنچنے سے پیشتر اﷲ عزوجل نے اس پر علوم منکشف کر دیے ہوں۔
عقیدہ (۱): تمام اولیائے اوّلین و آخرین سے اولیائے محمدیّین یعنی اِس اُمّت کے اولیاء افضل ہیں(5) ۔۔۔
1 ۔ ولایت، اﷲعزوجل کی طرف سے عطا کردہ اِنعام ہے۔
2 ۔ سخت مشکل اعمال۔
3 ۔فتاویٰ رضویہ ، ج ۲۱، ص ۶۰۶ : ''ولایت کسبی نہیں محض عطائی ہے ہاں کوشش اور مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہ دکھاتے ہیں ۔ ''
''الملفوظ''، معروف بہ ''ملفوظات اعلی حضرت ''رحمۃ اللہ علیہ ، حصہ اول، ص۲۳ و ۲۴۔
4 ۔ (فإنّ اللہ ما اتخذ ولیاً جاھلاً)۔ ''الفتوحات المکیۃ''، ج۳، ص۹۲۔
اعلیٰ حضرت امام اھلسنت مجدد دین ملت امام احمد رضا خان ارشاد فرماتے ہیں: ''حاشا نہ شریعت و طریقت دو راہیں ہیں نہ اولیاء کبھی غیر علماء ہو سکتے ہیں، علامہ مناوی ''شرح جامع صغیر ''پھر عارف باللہ سیدی عبد الغنی نابلسی ''حدیقہ ندیہ ''میں فرماتے ہیں: امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: علم الباطن لا یعرفہ إلاّ من عرف علم الظاہر [''الحدیقہ الندیہ''، النوع الثاني، ج۱، ص۱۶۵] ۔ علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتا ہے، امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : وما اتخذ اللہ ولیاً جاھلاً، اللہ نے کبھی کسی جاھل کو اپنا ولی نہ بنایا، یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اسکے بعد ولی کیا۔'' ''فتاوی رضویہ'' ،ج۲۱، ص۵۳۰۔
5 ۔ في ''الیواقیت والجواہر'': (اعلم أنّ عدد منازل الأولیاء في المعارف والأحوال التي ورثوہا من الرسل علیہم الصلاۃ والسلام، مائتا ألف منزل وثمانیۃ وأربعون ألف منزل وتسعمائۃ وتسعۃ وتسعون منزلاً لا بد لکل من حق لہ قدم الولایۃ أن ینزلہا جمیعہا ویخلع علیہ في کل منزل من العلوم ما لا یحصی، قال الشیخ محیي الدین: وہذہ المنازل خاصۃ بہذہ الأمۃ المحمدیۃ لم ینلہا أحد من الأمم قبلہم ولکل منزل ذوق خاص لا یکون لغیرہ)۔
''الیواقیت والجواہر''، المبحث السابع والأربعون، الجزء الثاني، ص۳۴۸۔
اور تمام اولیائے محمدیّین میں سب سے زیادہ معرفت وقربِ الٰہی میں خلفائے اَربعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم ہیں اور اُن میں ترتیب وہی ترتیب افضلیت ہے، سب سے زیادہ معرفت و قرب صدیقِ اکبر کو ہے،پھر فاروقِ اعظم، پھر ذو النورَین، پھر مولیٰ مرتضیٰ کو رضی اﷲ تعالیٰ عنھم اجمعین۔(1)
ہاں مرتبہ تکمیل پر حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جانبِ کمالاتِ نبوت حضراتِ شیخین کو قائم فرمایا اور جانبِ کمالاتِ ولایت حضرت مولیٰ مشکل کشا کو(2) تو جملہ اولیائے مابعد نے مولیٰ علی ہی کے گھر سے نعمت پائی اور انھیں کے دست نگر(3) تھے، اور ہیں، اور رہیں گے۔
عقیدہ (۲): طریقت منافی شریعت نہیں۔(4) وہ شریعت ہی کا باطِنی حصہ ہے، بعض جاھل مُتصوِّف جو یہ کہہ دیا کرتے ہیں: کہ طریقت اور ہے شریعت اور، محض گمراہی ہے اور اس زُعمِ باطل کے باعث اپنے آپ کو شریعت سے آزاد سمجھنا صریح کفر واِلحاد۔(5)
1 ۔ في ''المعتمد المستند''، حاشیۃ نمبر: ۳۱۶، ص۱۹۱: (أفضل الأولیاء المحمدیین أبو بکر، ثم عمر ، ثم عثمان، ثم علي رضي اللہ تعالٰی عنھم).
وفي ''الحد یقۃ الند یۃ''، ج۱، ص۲۹۳: (وأفضلہم) أي: الأولیاء (أبو بکر الصدیق رضياللہ عنہ ثم عمر) بن الخطاب (الفاروق، ثم عثمان) بن عفان (ذو النورین، ثم علي المرتضی) ملتقطا۔
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۲۳۴.
3 ۔ محتاج، حاجت مند۔
4 ۔ یعنی: طریقت، شریعت کے خلا ف نہیں ہے ۔
5 ۔ في ''إحیاء العلوم ''، کتاب قواعد العقائد، الفصل الثاني: في وجہ التدریج إلی الإرشاد...إلخ، ج۱، ص ۱۳۸۔۱۳۹: (إنّ الباطن إن کان مناقضاً للظاہر ففیہ إبطال الشرع، وہو قول من قال: إنّ الحقیقۃ خلاف الشریعۃ وہوکفر لأنّ الشریعۃ عبارۃ عن الظاہر والحقیقۃ عبارۃ عن الباطن) ۔(فمن قال: إنّ الحقیقۃ تخالف الشریعۃ أو الباطن یناقض الظاہر فہو إلی الکفر أقرب منہ إلی الإیمان)، ملتقطاً. وفي ''عوارف المعارف''، ص۵۲، ۱۲۸.
وفي ''کشف المحجوب''، ومن ذلک الشریعۃ والحقیقۃ والفرق بینھما، ص۴۲۳۔۴۳۳.
اعلی حضرت عظیم المرتبت پروانہ شمع رسالت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویہ'' میں فرماتے ہیں:'' شریعت ، طریقت، حقیقت، معرفت میں باہم اصلاً کوئی اختلاف نہیں اس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تو نِرا جاھل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ، بددین۔ شریعت، حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اقوال ہیں، اور طریقت، حضور کے افعال ، اور حقیقت، حضور کے احوال ، اور معرفت، حضور کے علومِ بے مثال ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وأصحابہ إلی مالا یزال(ان پر(یعنی آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر) ان کی آل پر اور
مسئلہ (۳): اَحکامِ شرعیّہ کی پابندی سے کوئی ولی کیسا ہی عظیم ہو، سُبکدوش نہیں ہوسکتا۔(1) بعض جہال جو یہ بک دیتے ہیں کہ شریعت راستہ ہے، راستہ کی حاجت اُن کو ہے جو مقصود تک نہ پہنچے ہوں، ہم تو پہنچ گئے۔ سیّد الطائفہ حضرت جُنید بغدادی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے انھیں فرمایا:
''صَدَقُوا لَقَدْ وَصَلُوا وَلکِنْ إِلٰی أَیْنَ؟ إِلَی النّارِ.''(2)
''وہ سچ کہتے ہیں، بیشک پہنچے، مگر کہاں؟ جہنم کو۔''
البتہ! اگر مجذوبیت(3) سے عقلِ تکلیفی زائل ہو گئی ہو، جیسے غشی والا تو اس سے قلمِ شریعت اُٹھ جائے گا(4)، ۔
صحابہ کرام پر اللہ تعالیٰ رحمت برسائے جب تک مولیٰ تعالیٰ فرمائے۔ت) ۔ ''فتاویٰ رضویہ'' ، ج۲۱، ص۴۶۰۔
وانظر ''الفتاوی الرضویۃ''، الرسالۃ: ''مقال عرفا بإعزاز شرع وعلماء''،ج۲۱، ص ۵۲۱ إلی۵۶۸.
1 ۔ وفي ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث لا یبلغ ولي درجۃ الأنبیاء ، ص۱۶۶: (ولا یصل العبد ما دام عاقلاً بالغاً إلی حیث یسقط عنہ الأمر والنہی لعموم الخطابات الواردۃ في التکالیف، وإجماع المجتہدین علی ذلک، وذہب بعض الإباحیین إلی أنّ العبد إذا بلغ غایۃ المحبۃ وصفا قلبہ واختار الإیمان علی الکفر من غیر نفاق سقط عنہ الأمر والنہي، ولایدخلہ اللہ النار بارتکاب الکبائر، وبعضھم إلی أنّہ تسقط عنہ العبادات الظاہرۃ، وتکون عباداتہ التفکّر، وھذا کفر وضلال، فإنّ أکمل الناس في المحبۃ والإیمان ہم الأنبیاء خصوصاً حبیب اللہ تعالی صلی اللہ علیہ وسلم مع أنّ التکالیف في حقہم أتمّ وأکمل).
في ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ص۱۲۲: (أنّ العبد ما دام عاقلاً بالغاً لا یصل إلی مقام یسقط عنہ الأمر والنہي لقولہ تعالی: (وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ) فقد أجمع المفسرون علی أنّ المراد بہ الموت، وذہب بعض أھل الإباحۃ إلی أنّ العبد إذا بلغ غایۃ المحبۃ وصفا قلبہ من الغفلۃ واختار الإیمان علی الکفر والکفران سقط عنہ الأمر والنہي، ولا یدخلہ اللہ النار بارتکاب الکبائر، وذہب بعضھم إلی أنّہ تسقط عنہ العبادات الظاہرۃ، وتکون عباداتہ التفکر وتحسین الأخلاق الباطنۃ، وھذا کفر وزندقۃ وضلالۃ وجہالۃ، فقد قال حجۃ الإسلام: إنّ قتل ھذا أولی من مائۃ کافر).
2 ۔ في''الیواقیت والجواھر'' ، المبحث السادس والعشرون ، ص۲۰۶: (قد سئل القاسم الجنید رضي اللہ عنہ عن قوم یقولون: بإسقاط التکالیف، ویزعمون أنّ التکالیف إنّماکانت وسیلۃ إلی الوصول وقد وصلنا، فقال رضي اللہ تعالی عنہ: صدقوا في الوصول ولکن إلی سقر). وانظر''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص۵۱۲، ۵۳۸.
3 ۔ اﷲ تعالیٰ کی محبت میں غرق ہونے۔
4 ۔ في ''الیواقیت والجواہر''، ص۲۰۷: (إنّ کل من سلب عقلہ کالبہالیل والمجانین والمجاذیب لا یطالب بأدب من الآداب بخلاف ثابت العقل فإنّہ یجب علیہ معانقۃ الأدب، والفرق أنّ من سلب عقلہ من ہؤلاء حکمہ عند اللہ حکم من مات في حالۃ شہود).
مگر یہ بھی سمجھ لو! جو اس قسم کا ہوگا، اُس کی ایسی باتیں کبھی نہ ہوں گی، شریعت کا مقابلہ کبھی نہ کریگا۔(1)
مسئلہ (۴): اولیائے کرام کو اﷲ عزوجل نے بہت بڑی طاقت دی ہے، ان میں جو اصحابِ خدمت ہیں، اُن کو تصرّف کا اختیار دیا جاتا ہے، سیاہ، سفید کے مختار بنا دیے جاتے ہیں(2)، یہ حضرات نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سچے نائب ہیں، ان کو اختیارات وتصرفات حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نیابت میں ملتے ہیں(3)،
1 ۔ ''ملفوظات'' اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ میں ہے : ''سچے مجذوب کی یہ پہچان ہے کہ شریعت مطہرہ کا کبھی مقابلہ نہ کریگا''۔
''ملفوظاتِ اعلی حضرت بریلوی''، حصّہ دوم، ص۲۴۰۔
2 ۔ مولاناشاہ عبد العزیز صاحب محدث دھلوی ''تفسیر عزیزی ''میں زیر آیہ کریمہ (وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ)لکھتے ہیں: بعضے از خواص اولیاء اللہ را کہ آلہ جارحہ تکمیل وارشاد بنی نوع خود گردانیدہ اند دریں حالت ہم تصرف در دنیا دادہ ،و استغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارک آنہا مانع توجہ بایں سمت نمی گردد و اویسیان تحصیل کمالات باطنی از آنہا مے نمایند اربابِ حاجات ومطالب حل مشکلات خود از انہامی طلبند و مے یابند۔
یعنی: اللہ تعالیٰ کے بعض خاص اولیاء ہیں جن کو بندوں کی تربیتِ کاملہ اور راہنمائی کے لئے ذریعہ بنایا گیا ہے، انھیں اس حالت میں بھی دنیا کے اندر تصرف کی طاقت واختیار دیاگیاہے اور کامل وسعتِ مدارک کی وجہ سے ان کا استغراق اس طرف متوجہ ہونے سے مانع نہیں ہوتا، صوفیائے اویسیہ باطنی کمالات ان اولیاء اللہ سے حاصل کرتے ہیں اور غرض مند و محتاج لوگ اپنی مشکلات کا حل ان سے طلب کرتے اور پاتے ہیں۔
''فتح العزیز''(تفسیر عزیزی)، تحت الآیۃ: وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ، ص۲۰۶، بحوالہ ''فتاوی رضویہ'' ج۲۹، ص۱۰۳۔۱۰۴ ۔
3 ۔ في ''الیواقیت والجواہر'': (من الأدب أن یقال: فلان یطلع علی قدم الأنبیائ، ولا یقال: إنّہ علی قلبہم؛ لأنّ الأولیاء علی آثار الأنبیاء مقتدون ولو أنّہم کانوا علی قلوب الأنبیاء لنالوا ما نالتہ الأنبیاء أصحاب الشرائع فلما أطلعني اللہ علی مقامات الأنبیاء علمت أنّ للأولیاء معراجین أحدھما یکونون فیہ علی قلوب الأنبیاء ما عدا محمداً صلی اللہ علیہ وسلم کما سیأتي لکن من حیث ہم أولیاء أو ملہمون فیما لا تشریع والمعراج التالي یکونون فیہ علی أقدام الأنبیاء أصحاب التشریع فیأخذون معاني شرعہم بالتعریف من اللہ ولکن من مشکاۃ نور الأنبیاء فلا یخلص لہم الأخذ عن اللہ ولا عن الروح القدس وما عدا ذلک فإنّہ یخالص لہم من اللہ تعالی ومن الروح القدس من طریق الإلہام)۔
(''الیواقیت والجواہر''، المبحث السابع والأربعون، الجزء الثاني، ص۳۴۸۔۳۴۹)۔
انظر ''بہجۃ الاسرار''، ذ کر کلمات أخبر بہا عن نفسہ۔۔۔ إلخ، ص۵۰، وفي ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ۴۹۲۔۴۹۳۔
عُلومِ غیبیہ ان پر منکشف ہوتے ہیں(1) ، ان میں بہت کو
مَا کَانَ وَمَا یَکُوْن(2)
اور تمام لوحِ محفوظ پر اطلاع دیتے ہیں(3)، مگر یہ سب حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے واسطہ و عطا سے (4)، بے وِساطَتِرسول کوئی غیرِنبی کسی غیب پر مُطّلع نہیں ہوسکتا۔(5)
1 ۔ في ''تفسیرات أحمدیۃ''، پ۲۱، لقمان: تحت الآیۃ: ۳۴، ص۶۰۸۔۶۰۹: (ولک أن تقول إنّ علم ہذہ الخمسۃ وإن کان لا یعلمہ إلاّ اللہ، لکن یجوز أن یعلمہا من یشاء من محبّہ وأولیاء ہ بقرینۃ قولہ تعالی: (إِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ) علی أن یکون الخبیر بمعنی المخبر).
وفي ''تفسیر الصاوي''، پ۲۱، لقمان: تحت الآیۃ: ۳۴، ج۵، ص۱۶۰۷: ((وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا) أي: من حیث ذاتہا، وأمّا بإعلام اللہ للعبد فلا مانع منہ کالأنبیاء وبعض الأولیاء، قال تعالی:(وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہِ اِلَّا بِمَا شَاءَ). وقال تعالی:(عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ) قال العلماء: وکذا ولي، فلا مانع من کون اللہ یطلع بعض عبادہ الصالحین علی بعض ہذہ المغیبات، فتکون معجزۃ للنبي وکرامۃ للولي).
2 ۔ اعلیٰ حضرت امام اھلسنت مجدد دین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''ما کان و مایکون'' کے معنی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: '' اس کے معنی: ''ما کان من أول یوم ویکون إلی آخر الأیام''، یعنی: روزِ اول آفرینش سے روزِ قیامت تک جو کچھ ہوا اور ہونے والا ہے ایک ایک ذرے کا علم تفصیلی ۔'' '' فتاوی رضویہ''، ج ۱۵ ، ص ۲۷۵۔
3 ۔ ''الطبقات الکبری'' المسمّاۃ بـ''لواقح الأنوار في طبقات الأخیار'' للشعراني، الجزء الأول، ص ۲۰۸ و ۲۳۶ و۲۵۷۔
4 ۔ ''إرشاد الساري'' ، کتاب تفسیر القرآن، تحت الحدیث: ۴۶۹۷، ج۱۰، ص۳۶۹: ( ''مفاتیح الغیب'' أي: خزائن الغیب ''خمس لا یعلمھا إلاّ اللہ'' ذکر خمساً وإن کان الغیب لا یتناھی؛ لأنّ العدد لا ینفي الزائد، أو لأنّھم کانوا یعتقدون معرفتھا ''لا یعلم ما في غد إلاّ اللہ ولا یعلم ما تغیض الأرحام'' أي: ما تنقصہ، ''إلاّ اللہ ولا یعلم متی یأتي المطر أحد إلاّ اللہ'' أي: إلا ّعند أمر اللہ بہ فیعلم حینئذ کالسابق إذا أمر تعالی بہ، ''ولا تدري نفس بأي أرض تموت'' أي: في بلدھا أم في غیرھا کما ل اتدري في أيّ وقت تموت، ''ولا یعلم متی تقوم الساعۃ'' أحد، ''إلاّ اللہ'' إلاّ من ارتضی من رسول فإنّہ یطلعہ علی ما یشاء من غیبہ والولي التابع لہ یأخذ عنہ).
انظر التفصیل في ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۴۰۸، ۴۱۵، ۴۴۸، ۴۷۵، ۴۷۶.
5 ۔ في ''إرشاد الساري''، کتاب الإیمان، باب سؤال جبریل النبيصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم...إلخ ، تحت الحد یث: ۵۰، ج۱، ص۲۴۳: (فمن ادّعی علم شيء منھا غیر مستند إلی الرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کان کاذباً في دعواہ).
وفي''فتح الباري''، کتاب الإیمان، باب سؤال جبریل النبيصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم...إلخ ، ج۱، ص۱۱۴.
وفي ''عمدۃ القاري''، ج۱، ص۴۲۵.
''الفتاوی الرضویۃ''، ج ۲۹، ص۴۷۲.
عقیدہ (۳): کرامتِ اولیا حق ہے ، اِس کا منکر گمراہ ہے۔(1)
مسئلہ(۵): مُردہ زندہ کرنا، مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شِفا دینا(2)،
1 ۔ في ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ص۷۹: (والکرامات للأولیاء حق أي: ثابت بالکتاب والسنۃ، ولا عبرۃ بمخالفۃ المعتزلۃ وأھل البدعۃ في إنکار الکرامۃ).
وفي ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج ۱، ص۲۹۰: (کرامات الأولیاء باقیۃ بعد موتہم أیضاً کما أنّہا باقیۃ فيحال نومہم، ومن زعم خلاف ذلک في الکرامات فہو جاھل متعصّب). ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۸، ص۷۵، ج۹، ص۷۶۶، ج ۱۴، ص۳۲۴.
2 ۔ أخبرنا الشیخ القدوۃ أبو الحسن علي القرشي رضي اللہ عنہ بجبل قاسیون، سنۃ ثماني عشرۃ وستمائۃ، قال: کنت أنا والشیخ أبو الحسن علي بن الہیتي عند الشیخ محیي الدین عبد القادر رضي اللہ عنہ بمدرستہ بباب الأزج سنۃ تسع وأربعین وخمسمائۃ، فجاء ہ أبو غالب فضل اللہ بن إسماعیل البغدادي الأزجي التاجر، فقال لہ: یا سیدي قال جدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من دعي فلیجب، وھا أنا ذا قد دعوتک إلی منزلي، فقال: إن أذن لي أجبت، ثم أطرق ملیاً ثم قال: نعم، فرکب بغلتہ وأخذ الشیخ علي برکابہ الأیمن وأخذت أنا بالأیسر فأتینا دارہ، وإذا فیہا مشایخ بغداد وعلماؤہا وأعیانہا، فمد سماطاً فیہ من کل حلو وحامض، وأتی بسلۃ کبیرۃ مختومۃ یحملہا اثنان وضعت آخر السماط، فقال أبو غالب: الصلاۃ والشیخ مطرق فلم یأکل ولا أذن في الأکل ولا أکل أحد وأھل المجلس کأن رؤوسہم الطیر من ہیبتہ، فأشار إلي وإلی الشیخ علي بن الہیتي أن قدما إلي تلک السلۃ، فقمنا نحملہا وہي ثقیلۃ حتی وضعناہا بین یدیہ، فأمرنا بفتحہا ففتحناہا فإذا فیہا ولد لأبي غالب أکمہ مقعد مجذوم مفلوج، فقال لہ الشیخ: قم بإذن اللہ معافی، فإذا الصبي یعدو وہو یبصر ولا بہ عاہۃ، فضج الحاضرون وخرج الشیخ في غفلات الناس، ولم یأکل شیأاً، فجئت إلی سیدي الشیخ أبي سعد القیلوي وأخبرتہ بذلک، فقال: الشیخ عبد القادر یبریئ الأکمہ والأبرص ویحیي الموتی بإذن اللہ۔ قال: ولقد شہدت مجلسہ مرۃ في سنۃ تسع وخمسین وخمسمائۃ، فأتاہ جمع من الرافضۃ بقفتین مخیطتین مختومتین، وقالوا لہ: قل لنا ما في ہاتین القفتین، فنزل من علی الکرسي ووضع یدہ علی إحداھما وقال: في ہذہ صبي مقعد، وأمر ابنہ عبد الرزاق بفتحہا فإذا فیہا صبي مقعد، فأمسک بیدہ وقال لہ: قم فقام یعدو، ثم وضع یدہ علی الأخری وقال: وفي ہذہ صبي لا عاہۃ بہ وأمر ابنہ بفتحہا ففتحہا، وإذا فیہا صبي یمشي فأمسک بناصیتہ وقال لہ: اقعد فأقعد، فتابوا عن الرفض علی یدہ، ومات في المجلس یومئذ ثلاثۃ، ولقد أدرکت المشایخ من صدر القرن الماضي یقولون أربعۃ ہم الذین یبرؤن الأکمہ والأبرص الشیخ عبد القادر، والشیخ بقا بن بطو، والشیخ أبو سعد القیلوي، والشیخ علي ابن الہیتي رضي اللہ عنھم، ولقد رأیت أربعۃ من المشایخ یتصرفون في قبورہم کتصرف الإحیائ، الشیخ عبد القادر، والشیخ معروف الکرخي، والشیخ عقیل المنجبي، والشیخ حیا بن قیس الحراني رضي اللہ عنھم، ولقد حضرت عندہ یوماً فاستقضاني حاجۃ، فأسرعت في قضائہا، فقال لي: تمن ما ترید، قلت: أرید کذا وذکرت أمراً من أمور الباطن، فقال: خذہ إلیک فوجدتہ في ساعتي رضي اللہ عنہ۔ ''بھجۃ الأسرار''، ذکر فصول من کلامہ مرصعا بشيئ۔۔۔إلخ، ص۱۲۳۔۱۲۴۔
مشرق سے مغرب تک ساری زمین ایک قدم میں طے کرجانا، غرض تمام خَوارقِ عادات(1)، اولیاء سے ممکن ہیں(2)، سوا اس معجزہ کے جس کی بابت دوسروں کے لیے ممانعت ثابت ہوچکی ہے۔ جیسے قرآنِ مجید کے مثل کوئی سورت لے آنا(3)، ۔۔۔
1 ۔ تمام خلافِ عادات باتیں یعنی کرامات۔
2 ۔ وفي ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث کرامات الأولیاء حق، ص۱۴۶ تا ۱۴۹: (فتظھر الکرامۃ علی طریق نقض العادۃ للولي من قطع المسافۃ البعیدۃ في المدۃ القلیلۃ کإتیان صاحب سلیمان علیہ السلام وھو آصف بن برخیا علی الأشھر بعرش بلقیس قبل ارتداد الطرف مع بُعد المسافۃ، وظھور الطعام والشراب واللباس عند الحاجۃ کما في حق مریم فإنّہ (کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا قَالَ یَا مَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَا قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللہِ)، والمشي علی الماء کما نقل عن کثیر من الأو لیاء والطیران في الھواء کما نقل عن جعفر بن أبي طالب ولقمان السرخسي وغیرھما وکلام الجماد والعجمائ، أمّا کلام الجماد فکما روي أنّہ کان بین یدي سلمان وأبي الدرداء قصعۃ فسبحت وسمعا تسبیحاً، وأما کلام العجماء فکتکلم الکلب لأصحاب الکہف وکما روی النبيعلیہ السلام قال بینما رجل یسوق بقرۃ قد حمل علیہا إذا التفتت البقرۃ إلیہ وقالت إنّي لم أخلق لھذا وإنّما خلقت للحرث، فقال الناس: سبحان اللہ تتکلم البقرۃ، فقال النبيصلی اللہ علیہ السلام آمنت بھذا واندفاع المتوجہ من البلاء وکفایۃ المہمّ عن الأعداء وغیر ذلک من الأشیاء مثل رؤیۃ عمر وہو علی المنبر في ''المدینۃ'' جیشہ بـ''نہاوند'' حتی قال لأمیر جیشہ: یا ساریۃ الجبل الجبل تحذیراً لہ من وراء الجبل لمکر العدو ہناک وسماع ساریۃ کلامہ مع بُعد المسافۃ وکشرب خالد السمّ من غیر تضرر بہ وکجریان النیل بکتاب عمر، وأمثال ھذا أکثر من أن یحصی ولما استدلت المعتزلۃ المنکرۃ لکرامۃ الأولیاء بأنّہ لو جاز ظہور خوارق العادات من الأولیاء لاشتبہ بالمعجزۃ فلم یتمیز النبي من غیر النبي أشار إلی الجواب بقولہ: ویکون ذلک أي: ظہورخوارق العادات من الولي الذي ہو من آحاد الأمۃ معجزۃ للرسول الذي ظہرت ہذہ الکرامۃ لواحد من أمتہ؛ لأنّہ یظہر بہا أي: بتلک الکرامۃ أنّہ ولي ولن یکون ولیاً إلاّ وأن یکون محقا في دیانتہ ودیانتہ الإقرار بالقلب واللسان برسالۃ رسولہ مع الطاعۃ لہ في أوامرہ ونواہیہ حتی لو ادعی ھذا الولي الاستقلا ل بنفسہ وعدم المتابعۃ لم یکن ولیاً ولم یظہرذلک علی یدہ، والحاصل أنّ الأمر الخارق للعادۃ فہو بالنسبۃ إلی النبي علیہ السلام معجزۃ سوائً ظہر من قبلہ أو من قبل آحاد أمتہ وبالنسبۃ إلی الوليکرامۃ لخلوہ عن دعوی نبوۃ من ظہر ذلک من قبلہ فالنبي لا بد من علمہ بکونہ نبیاً ومن قصدہ إظھار خوارق العادات ومن حکمہ قطعاً بموجب المعجزات بخلا ف الولي).
3 ۔ في ''روح المعاني''، پ ۲۲، یس: ۳۸، الجزء الثالث والعشرون، ص۲۰: (وأنت تعلم أنّ المعتمد عندنا جواز ثبوت الکرامۃ للولي مطلقاً إلاّ فیما یثبت بالدلیل عدم إمکانہ کالإتیان بسورۃ مثل إحدی سور القرآن)۔
في ''رد المحتار''، کتاب النکاح، باب العدۃ، ج۵، ص ۲۵۳: (والحاصل أنّہ لا خلاف عندنا في ثبوت الکرامۃ، وإنّما الخلاف فیما کان من جنس المعجزات الکبار، والمعتمد الجواز مطلقاً إلا فیما ثبت بالدلیل عدم إمکانہ کالإتیان بسورۃ)۔
یا دنیا میں بیداری میں اﷲ عزوجل کے دیدار یا کلامِ حقیقی سے مشرف ہونا، اِس کا جو اپنے یا کسی ولی کے لیے دعویٰ کرے، کافر ہے۔(1)
مسئلہ (۶): اِن سے اِستِمداد و اِستِعانت محبوب ہے، یہ مدد مانگنے والے کی مدد فرماتے ہیں (2)،
1 ۔ وفي ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، ومنھا: ھل یجوز رؤیۃ اللہ تعالی في الدنیا، ص۱۲۴: (وقال الأردبیلي في کتابہ ''الأنوار'': ولو قال: إنّي أری اللہ تعالی عیاناً في الدنیا أو یکلمني شفاھاً کفر).
في ''الفتاوی الحدیثیۃ''، مطلب: في رؤیۃ اللہ تعالٰی في الدنیا، ص۲۰۰: (لا یجوز لأحد أن یدعي أنّہ رأی اللہ بعین رأسہ، ومن زعم ذلک فہو کافر مراق الدم، کما صرح بہ من أئمتنا صاحب ''الأنوار'' ونقلہ عنہ جماعۃ وأقروہ. وحاصل عبارتہ: أنّ من قال: إنّہ یری اللہ عیاناً في الدنیا ویکلمہ شفاہاً فہو کافر).
في ''المعتقد المنتقد''، منہ أنّہ تعالٰی مرئي بالأبصار في دار القرار، ص۵۸: (وکفروا مدعي الرؤیۃ کما أنّ القاریئ في ذیل قول القاضي، وکذلک من ادعی مجالسۃ اللہ تعالی والعروج إلیہ ومکالمتہ قال: وکذا من ادّعی رؤیتہ سبحانہ في الدنیا بعینہ).
2 ۔ في ''المدخل''، فصل في زیارۃ القبور، الجزء الأول، ج۱، ص۱۸۴: (فإن کان المیت المزار ممن ترجی برکتہ فیتوسل إلی اللہ تعالی بہ ، وکذلک یتوسل الزائر بمن یراہ المیت ممن ترجی برکتہ إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم بل یبدأ بالتوسل إلی اللہ تعالی بالنبي صلی اللہ علیہ وسلم، إذ ہو العمدۃ في التوسل، والأصل في ھذا کلہ، والمشرع لہ فیتوسل بہ صلی اللہ علیہ وسلم وبمن تبعہ بإحسان إلی یوم الدین، وقد روی البخاري عن أنس رضي اللہ عنہ ((أنّ عمر بن الخطاب رضي اللہ عنہ کان إذا قحطوا استسقی بالعباس فقال: اللہم إنا کنا نتوسل إلیک بنبیک صلی اللہ علیہ وسلم فتسقینا وإنا نتوسل إلیک بعمّ نبیک فاسقنا فیسقون))[''صحیح البخاري''، کتاب الاستسقاء، باب سؤال الناس۔۔۔إلخ، ج۱، ص ۳۴۶، الحدیث: ۱۰۱۰]انتھی، ثم یتوسل بأھل تلک المقابر أعني بالصالحین منھم في قضاء حوائجہ ومغفرۃ ذنوبہ، ثم یدعو لنفسہ ولوالدیہ ولمشایخہ ولأقاربہ ولأھل تلک المقابر ولأموات المسلمین ولأحیائہم وذریتہم إلی یوم الدین ولمن غاب عنہ من إخوانہ ویجأر إلی اللہ تعالی بالدعاء عندہم ویکثر التوسل بہم إلی اللہ تعالی؛ لأنّہ سبحانہ وتعالی اجتباہم وشرّفہم وکرمہم فکما نفع بہم في الدنیا ففي الآخرۃ أکثر، فمن أراد حاجۃ فلیذہب إلیہم ویتوسل بہم، فإنّہم الواسطۃ بین اللہ تعالی وخلقہ، وقد تقرر في الشرع وعلم ما للہ تعالی بہم من الاعتناء، وذلک کثیر مشہور، وما زال الناس من العلماء والأکابر کابراً عن کابر مشرقاً ومغرباً یتبرکون بزیارۃ قبورہم ویجدون برکۃ ذلک حساً ومعنًی، وقد ذکر الشیخ الإمام أبو عبد اللہ بن النعمان رحمہ اللہ فی کتابہ المسمی بـ ''سفینۃ النجاء لأھل الالتجاء'' في کرامات الشیخ أبي النجاء في أثناء کلامہ علی ذلک ما ھذا لفظہ: تحقق لذوي البصائر، والاعتبار أن زیارۃ قبور الصالحین محبوبۃ لأجل التبرک مع الاعتبار؛ فإنّ برکۃ الصالحین جاریۃ بعد مماتہم کما کانت فی حیاتہم والدعاء عند قبور الصالحین، والتشفع بہم معمول بہ عند علمائنا المحققین من أئمۃ الدین انتھی۔ =
۔
= في ''أشعۃ اللمعات''، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ج۱، ص۷۶۲: (واثبات کردہ اند آن را مشایخ صوفیہ قدس اللہ اسرارھم وبعض فقہاء رحمۃ اللہ علیھم واین امری محقق ومقرراست نزداھل کشف وکمل ازایشان تاآنکہ بسیاری رافیوض وفتوح ازارواح رسیدہ واین طائفہ رادراصطلاح ایشان اویسی خوانند امام شافعی گفتہ است قبرموسی کاظم تریاق مجرب ست مراجابت وعاراوحجۃ الاسلام محمد غزالی گفتہ ہرکہ استمداد کردہ شود بوی درحیات استمدادکردہ میشود بوے بعد ازوفات ویکی ازمشایخ عظام گفتہ است دیدم چہارکس را ازمشایخ کہ تصرف میکنند درقبور خود مانند تصرفہاے ایشان درحیات خود یابیشتروشیخ معروف کرخی وشیخ عبدالقادرجیلانی ودوکس دیگرراازاولیاشمردہ ومقصود حصرنیست انچہ خود دیدہ یافتہ است گفتہ وسیدی احمد بن مرزوق کہ از اعاظم فقہاو علماومشایخ دیارمغرب ست گفت کہ روزے شیخ ابوالعباس حضرمی از من پرسید کہ امدادحی اقوی است یاامداد میت من بگفتم قوی میگویند کہ امدادحی قوی تراست ومن میگویم کہ امداد میت قوی ترست پس شیخ گفت نعم زیراکہ دی دربساط حق است ود رحضرت اوست نقل درین معنی ازین طائفہ بیشترازان است کہ حصرواحصارکردہ شودویافتہ نمیشود درکتاب وسنت واقوال سلف صالح کہ منافی ومخالف این باشد ورد کند این را وبتحقیق ثابت شدہ است بآیات واحادیث کہ روح باقی است و اورا علم وشعور بزائران واحوال ایشان ثابت است وارواح کاملان را قربے ومکانتے درجناب حق ثابت ست چنانکہ در حیات بود یا بیشتر ازان واولیا را کرامات وتصرف در اکوان حاصل است وآن نیست مگر ارواح ایشان را وارواح باقی ست وتصرف حقیقی نیست مگر خدا عز شانہ وہمہ بقدرت اوست وایشان فانی اند در جلال حق در حیات وبعد از ممات پس اگر دادہ شود مراحدی را چیزے بوساطت یکی از دوستان حق ومکانتی کہ نزد خدا دارد ودر نبا شد چنانکہ در حالت حیات بود ونیست فعل وتصرف در ہر دوحالت مگر حق را جل جلالہ وعم نوالہ ونیست چیزے کہ فرق کند میان ہر دوحالت و یافتہ نشدہ است دلیلی بران در شرح شیخ ابن حجر ہیتمی مکی در شرح حدیث: ((لعن اللہ الیہود والنصاری اتخذوا قبور أنبیائہم مساجد))[''صحیح البخاري''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۴۲۷، ج ۱، ص ۱۶۴]گفتہ است کہ این برتقدیرے ست کہ نماز گزارد بجانب قبر از جہت تعظیم وے کہ آن حرام ست باتفاق واما اتخاذ مسجد در جوار پیغمبرے یاصالحی ونماز گزاردن نزد قبروے نہ بقصد تعظیم قبر وتوجہ بجانب قبر بلکہ بہ نیت حصول مدد از وے تا کامل شود ثواب عبادت ببرکت قبر ومجاورت مرآن روح پاک را حرجے نیست ). ''أشعۃ اللمعات''، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ص ۷۶۲۔۷۶۳. =
۔
= یعنی: ''مشائخ صوفیہ اور بعض فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے اولیاء کرام سے مدد حاصل کرنے کو ثابت اور جاءز قرار دیا ہے اور یہ عقیدہ اھل کشف اور ان کے کاملین کے ہاں محقق اور طے شدہ عقیدہ ہے یہاں تک کہ بہت سے حضرات کو ان ارواح سے فیوض اور فتوح حاصل ہوئے ہیں اور اس گروہ صوفیہ کی اصطلاح میں انھیں اویسی کہتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حضرت موسی کاظم کی قبر انور قبولیت دعا کے لیے تریاق مجرب ہے ،حجۃ الاسلام امام محمد غزالی نے فرمایا: جس سے اس کی زندگی میں مدد لینا جاءز ہے ، اس سے بعد وفات بھی مدد طلب کرنا جاءز ہے ۔ مشائخ عظام میں سے ایک نے فرمایا :میں نے چار مشائخ کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی قبور میں اس طرح تصرف کرتے ہیں جس طرح اپنی زندگی میں تصرف کرتے تھے یا اس سے بڑھ کر حضرت شیخ معروف کرخی، حضرت شیخ عبد القادر جیلانی اور دو اور بزرگ شمار کیے اوران چار میں حصر مقصود نہیں جو کچھ اس بزرگ نے خود دیکھا اور پایا اس کا بیان کردیا ۔
سیدی احمد بن مرزوق رضی اللہ عنہ کہ اعاظم فقہا وعلماء اور مشائخ دیار مغرب میں سے ہیں ، فرماتے ہیں: کہ ایک دن شیخ ابو العباس حضرمی نے مجھ سے دریافت کیا :کہ زندہ کی امداد زیادہ قوی ہے یا میت کی ؟میں نے کہا: ایک قوم کہتی ہے کہ زندہ کی امداد قوی تر ہے اور میں کہتا ہوں کہ میت کی امداد قوی تر ہے ۔شیخ نے فرمایا :ہاں ؛کیونکہ وفات یافتہ بزرگ حق تعالیٰ کی درگاہ میں اسکے سامنے ہے ۔اس بارے میں اس گروہ صوفیہ سے اس قدر رویات منقول ہیں کہ حد شمار سے باہر ہیں ۔
پھر کتاب وسنت واقوال سلف و صالحین میں ایسی کوئی چیز نہیں جو ا س عقیدہ کے منافی اور مخالف ہواور اسکی تردید کرتی ہو بلکہ آیات و احادیث سے تحقیقی طور پر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ روح باقی ہے اور اسے زائرین اور انکے حالات کا علم وشعور ہوتاہے اور یہ کہ ارواح کاملین کو جناب حق تعالیٰ میں قرب ومرتبہ حاصل ہے جس طرح زندگی میں انھیں حاصل تھا بلکہ اس سے بڑھ کر ، اور اولیاء کرام کی کرامات بر حق ہیں اور انھیں کائنات میں تصرف کی قوت وطاقت حاصل ہے یہ سب کچھ انکی ارواح کرتی ہیں،اور وہ باقی ہیں اور متصرف حقیقی تو اللہ عزشانہ ہے، یہ سب کچھ حقیقۃً اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے یہ حضرات اپنی زندگی میں اور بعداز وصال جلال حق میں فانی اور مستغرق ہیں ، لھذااگر کسی کو دوستانِ حق کی وساطت سے کوئی چیز اور مرتبہ حاصل ہوجائے تو کوئی بعید نہیں (اور اس کا انکار درست نہیں)جیساکہ انکی ظاہری زندگی میں تھا اور حقیقۃً تو فعل و تصرف حق جل جلالہ وعم نوالہ کا ہوتا ہے اور ایسی کوئی دلیل اور وجہ موجود نہیں جو زندگی اور موت میں فرق کرے۔
حضرت شیخ ابن حجر ہیتمی مکی رحمہ اللہ تعالیٰ نے حدیث پاک: ((لعن اللہ الیہود والنصاری اتخذوا قبور أنبیائہم مساجد))[''صحیح البخاري''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۴۲۷، ج ۱، ص ۱۶۴] (اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاری پر لعنت کی ہے کیونکہ انھوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبور کو سجدہ گاہ بنالیا) کی شرح میں فرمایاکہ یہ اس صورت میں ہے کہ انکی تعظیم کی خاطر ان کی قبور کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے کہ ایسا کرنا بالاتفاق حرام ہے لیکن کسی پیغمبر یا ولی کے پڑوس میں مسجد بنانا اور اسکی تعظیم کے ارادہ اور قبر کی طرف توجہ کیے بغیر نماز ادا کرنا جاءز ہے بلکہ حصول مدد کی نیت سے تاکہ اس کی قبر کی برکت سے عبادت کا ثواب کامل ملے اور اسکی روح پاک کا قرب وپڑوس نصیب ہوتو اس میں کوئی حرج وممانعت نہیں ۔''
''اشعۃ اللمعات'' (مترجم)، کتاب الجنائز، زیارت قبور کابیان، ج۲، ص۹۲۳۔۹۲۴۔ انظر ''الفتاوی الرضویہ''، ج۹، ص۷۹۱ إلی ۷۹۸.
چاہے وہ کسی جاءز لفظ کے ساتھ ہو۔ رہا ان کو فاعلِ مستقل جاننا، یہ وہابیہ کا فریب ہے، مسلمان کبھی ایسا خیال نہیں کرتا، مسلمان کے فعل کو خواہ مخواہ قبیح صورت پر ڈھالنا وہابیت کا خاصہ ہے(1)۔
1 ۔ '' فتاوی رضویہ''، ج ۲۱، ص ۳۳۱۔۳۳۲ میں ہے: ''اھل استعانت سے پوچھو تو کہ تم انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلوۃ والسلام والثناء کو عیاذا باللہ خدا یا خدا کا ہمسر یا قادر بالذات یا معین مستقل جانتے ہو یا اللہ عزوجل کے مقبول بندے اس کی سرکار میں عزت ووجاہت والے اس کے حکم سے اس کی نعمتیں بانٹنے والے مانتے ہو، دیکھو تو تمھیں کیا جواب ملتاہے۔
اما م علامہ خاتمۃ المجتہدین تقی الملۃ والدین فقیہ محدث ناصر السنۃ ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی رضی اللہ تعالی عنہ کتاب مستطاب ''شفاء السقام ''میں استمداد واستعانت کو بہت احادیث صریحہ سے ثابت کرکے ارشاد فرماتے ہیں:
لیس المراد نسبۃ النبي صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم إلی الخلق والاستقلال بالأفعال ھذا لا یقصدہ مسلم فصرف الکلام إلیہ ومنعہ من باب التلبیس في الدین والتشویش علی عوام الموحدین۔
['' شفاء السقام في زیارۃ خیر الأنام''، الباب الثامن في التوسل ۔۔۔إلخ، ص۱۷۵]۔
یعنی: نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مددمانگنے کا یہ مطلب نہیں کہ حضور انور کو خالق اور فاعل مستقل ٹھہراتے ہوں یہ تو اس معنی پر کلام کو ڈھال کر استعانت سے منع کرنا دین میں مغالطہ دینا اور عوام مسلمانوں کو پریشانی میں ڈالنا ہے۔
صدقت یا سیدی جزاک اﷲعن الإسلام والمسلمین خیراً، اٰمین!
اے میرے آقا! آپ نے سچ فرمایا اللہ تعالی آپ کو اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیرعطا فرمائے۔ آمین (ت)
فقیہ محدث علامہ محقق عارف باللہ امام ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی کتاب افادت نصاب ''جوہر منظم'' میں حدیثوں سے استعانت کا ثبوت دے کر فرماتے ہیں:
فالتوجہ والاستغاثۃ بہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بغیرہ لیس لھما معنی في قلوب المسلمین غیر ذلک ولا یقصد بھما أحد منھم سواہ فمن لم ینشرح صدرہ لذلک فلیبکِ علی نفسہ نسأل اﷲ العافیۃ والمستغاث بہ في الحقیقۃ ہو اﷲ، والنبي صلی اﷲ تعالی علیہ واسطۃ بینہ وبین المستغیث فہو سبحانہ مستغاث بہ والغوث منہ خلقاً وإیجاداً والنبي صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مستغاث والغوث منہ سبباً وکسباً۔ [''الجوہر المنظم''، الفصل السابع، فیما ینبغي للزائر۔۔۔ إلخ، ص۶۲]۔
یعنی :''رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یا حضور اقدس کے سوا اور انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلاۃ والثناء کی طرف توجہ اور ان سے فریاد کے یہی معنی مسلمانوں کے دل میں ہیں اس کے سوا کوئی مسلمان اور معنی نہیں سمجھتا ہے نہ قصد کرتا ہے تو جس کا دل اسے قبول نہ کرے وہ آپ اپنے حال پر روئے، ہم اللہ تبارک وتعالی سے عافیت مانگتے ہیں حقیقتاً فریاد اللہ عزوجل کے حضور ہے اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کے اور اس فریادی کے بیچ میں وسیلہ و واسطہ ہیں، تو اللہ عزوجل کے حضور فریاد ہے اور اس کی فریاد رسی یوں ہے کہ مراد کو خلق وایجاد کرے، اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حضور فریاد ہے اور حضور کی فریاد رسی یوں ہے کہ حاجت روائی کے سبب ہوں اور اپنی رحمت سے وہ کام کریں جس کے باعث اس کی حاجت روا ہو۔''
مسئلہ (۷): اِن کے مزارات پر حاضری مسلمان کے لیے سعادت وباعثِ برکت ہے۔ (1)
مسئلہ (۸): اِن کو دُور و نزدیک سے پکارنا سلفِ صالح کا طریقہ ہے۔
مسئلہ (۹): اولیائے کرام اپنی قبروں میں حیاتِ اَبدی کے ساتھ زندہ ہیں(2) ، اِن کے عِلم واِدراک وسَمع وبَصر پہلے کی بہ نسبت بہت زیادہ قوی ہیں۔(3)
1 ۔ ''فتاویٰ رضویہ'' میں ہے: ''زیارتِ قبور سنت ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ((ألا فزوروہا فإنّہا تزہّدکم في الدنیا وتذکّرکم الآخرۃ))، [''سنن ابن ماجہ''، ج۲، ص۲۵۲، الحدیث: ۱۵۷۱، ''المستدرک''، ج۱، ص۷۰۸۔۷۰۹، الحدیث: ۱۴۲۵۔۱۴۲۸]، سن لو! قبور کی زیارت کرو کہ وہ تمہیں دنیا میں بے رغبت کرے گی اور آخرت یاددلائے گی۔ خصوصاً زیارتِ مزاراتِ اولیائے کرام کہ ُموجبِ ہزاراں ہزار برکت وسعادت ہے، اسے بدعت نہ کہے گا مگر وہابی نابکار ،ابنِ تیمیہ کا فضلہ خوار۔وہاں جاھلوں نے جوبدعات مثل رقص ومزامیر ایجاد کرلئے ہیں وہ ضرور ناجاءز ہیں ، مگر ان سے زیارت کہ سنت ہے بدعت نہ ہوجائے گی ۔جیسے نماز میں قرآن شریف غلط پڑھنا، رکوع وسجود صحیح نہ کرنا، طہارت ٹھیک نہ ہونا عام عوام میں جاری وساری ہے اس سے نماز بُری نہ ہو جائیگی''۔ ''فتاویٰ رضویہ''، ج۲۹، ص۲۸۲۔
2 ۔ في ''تفسیر روح البیان''، ج۳، ص۴۳۹: قال الإمام الإسماعیل حقي رحمۃ اللہ تعالی علیہ: (أجساد الأنبیاء والأولیاء والشہداء لا تبلی ولا تتغیر لما أنّ اللہ تعالی قد نفی أبدانھم من العفونۃ الموجبۃ للتفسخ وبرکۃ الروح المقدس إلی البدن کالإکسیر).
اعلی حضرت عظیم المرتبت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویۃ''، میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اھلسنت کے نزدیک انبیاء وشہداء علیہم التحیۃ والثناء اپنے ابدان شریفہ سے زندہ ہیں بلکہ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے ابدان لطیفہ زمین پر حرام کئے گئے ہیں کہ وہ ان کو کھائے اسی طرح شہداء واولیاء علیہم الرحمۃ والثناء کے ابدان وکفن بھی قبور میں صحیح وسلامت رہتے ہیں وہ حضرات روزی ورزق دئے جاتے ہیں۔
اور شیخ الہند محدث دھلوی علیہ الرحمۃ شرح ''مشکوٰۃ ''میں فرماتے ہیں: اولیائے خدائے تعالی نقل کر دہ شدہ اند ازیں دار فانی بدار بقا وزندہ اند نزد پر وردگار خود، ومرزوق اند وخوشحال اند، ومردم را ازاں شعور نیست).
یعنی: اللہ تعالیٰ کے اولیاء اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے ہیں اور اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں انہیں رزق دیا جاتا ہے وہ خوش حال ہیں اور لوگوں کو اس کا شعور نہیں۔
اور علامہ علی قاری شرح ''مشکوٰۃ'' میں لکھتے ہیں: (لا فرق لہم في الحالین ولذا قیل: أولیاء اللہ لا یموتون ولکن ینتقلون من دار إلی دار ...إلخ)، ملتقطا. ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۴۳۱۔۴۳۳.
3 ۔ اعلی حضرت عظیم المرتبت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویہ''، میں ارشاد فرماتے ہیں: نوع اول: بعد موت بقائے روح وصفات وافعال روح میں ۔ یہاں وہ حدیثیں مذکور ہوں جن سے ثابت کہ روح فنا نہیں ہوتی اور اس کے افعال وادراکات جیسے دیکھنا
مسئلہ (۱۰): اِنھیں ایصالِ ثواب، نہایت مُوجبِ برکات و امرِ مستحب ہے، اِسے عُرفاً براہِ ادب نذر و نیاز کہتے ہیں، یہ نذرِ شرعی نہیں جیسے بادشاہ کو نذر دینا(1)، اِن میں خصوصاً گیارھویں شریف کی فاتحہ نہایت عظیم برکت کی چیز ہے۔
بولنا سننا سمجھنا آناجانا چلنا پھرنا سب بدستور رہتے ہیں بلکہ اس کی قوتیں بعد مرگ اور صاف وتیز ہوجاتی ہیں حالت حیات میں جو کام ان آلات خاکی یعنی آنکھ کان ہاتھ پاؤں زبان سے لیتے تھے اب بغیر ان کے کرتی ہے اگرچہ جسم مثالی کی یاد آوری سہی، ہر چند اس مطلب نفیس کے ثبوت میں وہ بیشمار احادیث وآثار سب حجۃ کافیہ دلائل شافیہ جن میں...إلخ)۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۷۰۳.
انظر للتفصیل: الرسالۃ ''حیات الموات في بیان سماع الأموات''، ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹.
1 ۔ في ''جد الممتار''، (حاشیۃ الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن علی ''ردّ المحتار'') ج۳، ص۲۸۵: (إنّ النذور لہم بعد تجافیہم عن الدنیا کالنذور لہم وہم فیہا، وہي شائعۃٌ بین المسلمین، والعلماء، والصلحائ، والأولیاء منذ قدیم، ولیس نذراً مصطلح الفقہ، وقد بیّناہ في ''فتاوی أفریقہ''۔
في ہامش ''جد الممتار''، ج۳، ص۲۸۵۔۲۸۷: قولہ: (وقد بیّناہ في ''فتاوی أفریقہ'')، وإلیکم تلخیص کلامہ في الفتاوی المذکورۃ:
(لا یجوز النذر الفقہي لغیر اللہ تعالی وما یقدّم إلی الأولیاء الکرام ویسمّی بالنذر لیس بنذر فقہي بل العرف جارٍ بأنّ ما یقدّم إلی حضرات الأکابر من الہدایا یسمّونہ بالنذر یقولون: أقام الملک مجلسہ وقدّم الناس إلیہ النذور.
کتب الشاہ رفیع الدین أخو الشاہ عبد العزیز المحدّث الدھلوي في ''رسالۃ النذور'' بالفارسیّۃ ما معناہ: النذر الذي یطلق ہنا لیس علی المعنی الشرعي؛ لأنّ العرف جارٍ بأنّ ما یقدّم إلی الأولیاء یسمّی بالنذر.
قال الإمام الأجلّ سیّدي عبد الغنيّ النابلسيّ قدّس سرّہ في ''الحدیقۃ الندیۃ'': (ومن ھذا القبیل زیارۃ القبور، والتبـرّک بضرائح الأولیاء والصّالحین، والنذر لہم بتعلیق ذلک علی حصول شفائ، أو قدوم غائب، فإنّہ مجاز عن الصدقۃ علی الخادمین لقبورہم، کما قال الفقہاء في من دفع الزکاۃ لفقیرٍ وسمّاہا قرضاً صحّ؛ لأنّ العبرۃ بالمعنَی لا باللفظ۔
''الحدیقۃ الندیۃ''، الخلق الثامن والأربعون، ج۲، ص۱۵۱.
ومن البیّن: أنّہ لو کان نذراً فقہیّاً لَم یجز للأحیاء أیضاً، مع أنّ العرف والعمل یجري من قدیم في الصالحین وأکابر الدّین في الحالتین أي: حالۃ الحیاۃ وبعد الموت.
بعد ھذا التمہید عرض الإمام أحمد رضا شواہد کثیرۃ علی أنّ الأولیاء والعلماء یستعملون لفظ النذر لِما یقدّم إلی الأکابر من الہدایا۔ فأورد عشر عبارات وحکایات من ''بہجۃ الأسرار'' ونصّاً من ''طبقات الشافعیۃ الکبری'' للإمام العارف باللہ سیدی عبد الوہاب الشعراني وعبارتین للشاہ وليّ اللہ الدھلوي من کتابہ ''أنفاس العارفین'' وعبارۃ للشاہ عبد العزیز المحدّث الدھلوي من کتابہ ''تحفۃ الاثنا عشریۃ''، و''بہجۃ الأسرار'' في مناقب سیّدنا الشیخ عبد القادر الجیلاني للإمام الأجل سیّدي
مسئلہ (۱۱): عُرسِ اولیائے کر ام یعنی قرآن خوانی، و فاتحہ خوانی، و نعت خوانی، و وعظ، و ایصالِ ثواب اچھی چیز ہے۔ رہے مَنہیاتِ شرعیہ(1) وہ تو ہر حالت میں مذموم ہیں اور مزاراتِ طیبہ کے پاس اور زیادہ مذموم۔
تنبیہ: چونکہ عموماً مسلمانوں کو بحمدہٖ تعالیٰ اولیائے کرام سے نیاز مندی اور مشائخ کے ساتھ اِنھیں ایک خاص عقیدت ہوتی ہے، اِن کے سلسلہ میں منسلک ہونے کو اپنے لیے فلاحِ دارَین تصوّر کرتے ہیں، اس وجہ سے زمانہ حال کے وہابیہ نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے یہ جال پھیلا رکھا ہے کہ پیری، مریدی بھی شروع کر دی، حالانکہ اولیا کے یہ منکر ہیں، لہٰذا جب مرید ہونا ہو تو اچھی طرح تفتیش کر لیں، ورنہ اگر بد مذہب ہوا تو ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے ؎
اے بسا ابلیس آدم روئے ہست
پس بہر دستے نباید داد دست(2)
أبي الحسن نور الملّۃ والدین علي بن یوسف بن جریر اللخمي الشطنوفي الذی لقّبہ إمام فنّ الرجال شمس الدین الذہبي في کتابہ ''طبقات القراء '' والإمام الجلیل جلال الدین السیوطي في کتابہ ''حسن المحاضرۃ''بـ ''الإمام الأوحد''.
وکتابہ ''بہجۃ الأسرار'' یتناول الوقائع والحکایات وکلّ ما ینتمي إلی سیّدنا الشیخ عبد القادر الجیلاني بالأسانید الصحیحۃ المعتبرۃ علی منہج المحدّثین وجمیل طریقہم في تنقیح الأخبار والآثار.
وفي ہذہ العبارات والنصوص ما یدلّ علی أنّ الأولیاء کان طریقہم إطلاق النذر لِما یقدّم إلیہم، کما یدلّ أنّ قبولہ کان من دأبہم، وفیہا ما یشہد أنّ تقدیم النذور إلی أرواحہم وضرائحہم وطلب الحوائج من قوّاتہم الروحانیّۃ کان من أعمالہم، والشاہ ولي اللہ الدھلوي والشّاہ عبد العزیز الدھلوي الذین تعدّھما الفرقۃ المنکرۃ لنذر الأولیاء وطلب الحاجات منھم إمامین، وتمثّلھما کقدوۃ لہا، في عباراتھما أیضاً صراحۃ جلیّۃ بطلب الحاجات من الأولیاء بعد وفاتہم وتقدیم النذور إلیہم بعد مماتہم أفہولاء الأجلّۃ من العصور القدیمۃ کلّہم یرتکبون المحظور ویقعون في الإشراک باللہ ویجمعون علی الآثام والقبائح؟ کلاّ! لن یکون ذلک أبداً، بل ھذا یجلّي الفرق بین النذر الفقہيّ ونذر الأولیاء العرفيّ، فالنذر الفقہي لا یجوز إلاّ للہ تعالی، والنذر العرفيّ الذي أصلہ تقدیم الہدیۃ إلی الأکابر یجوز للصالحین والأولیاء بعد وفاتہم أیضاً کما یجوز في حیاتہم۔ ۱۲).
(محمّد أحمد الأعظمي المصباحي).
1 ۔ یعنی وہ افعال جو شرعاً منع ہیں۔
2 ۔ کبھی ابلیس آدمی کی شکل میں آتا ہے، لہٰذا ہر ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیناچاہیے (یعنی ہر کسی سے بیعت نہیں کرنی چاہیے)۔
پیری کے لیے چار شرطیں ہیں، قبل از بیعت اُن کا لحاظ فرض ہے:
او ۱ل : سنّی صحیح العقیدہ ہو۔
دو۲م: اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروریات کے مسائل کتابوں سے نکال سکے۔
سِو۳م: فاسق مُعلِن نہ ہو۔
چہا۴رم: اُس کا سلسلہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تک متصل ہو۔(1)
نَسْأَلُ اللہَ الْعَفْوَ وَالعَافِیَۃَ فِي الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَالْاِسْتِقَامَۃَ عَلی الشَّرِیْعَۃِ الطَّاھِرَۃِ وَمَا تَوْفِیْقيْ إِلاَّ بِاللہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْہِ أُنِیْبُ، وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی حَبِیْبِہٖ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَابْنِہٖ وَحِزْبِہٖ أَبَدَ الْآبِدِیْن، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن.oط
فقیر امجد علی اعظمی عفی عنہ
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص۴۹۲ ، ۵۰۵ ، ۶۰۳.
وانظر ''سبع سنابل''، سنبلہ دوم در بیان پیری و مریدی و حقیقت و ماہیت آن، ص ۳۹۔۴۰.