Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
وہ خلاق عالَم (1) جس کی قدرت کاملہ کا اِدراک (2)انسانی طاقت سے باہر ہے عرش سے فرش تک جدھر نظر کیجیے اُسی کی قدرت جلوہ گرہے حیوانات و نباتات وجمادات(3) اور تمام مخلوقات اُسی کے مظہر(4) ہیں اُس نے اپنی مخلوقات میں انسان کے سر پر تاج کرامت وعزت رکھا اوراُس کو مدنی الطبع(5) بنایا کہ زندگی بسر کرنے میں یہ اپنے بنی نوع(6) کا محتاج ہے کیونکہ انسانی ضروریات اتنی زائداور اُن کی تحصیل میں اتنی دُشواریاں ہیں کہ ہر شخص اگر اپنی تمام ضروریات کا تنہا متکفل (7)ہونا چاہے غالباًعاجز ہوکر بیٹھ رہے گا اور اپنی زندگی کے ایام خوبی کے ساتھ گزار نہ سکے گا، لہٰذا اُس حکیم مطلق نے انسانی جماعت کو مختلف شعبوں اور متعدد قسموں پر منقسم(8) فرمایا کہ ہر ایک جماعت ایک ایک کام انجام دے اورسب کے مجموعہ سے ضروریات پوری ہوں۔ مثلاً کوئی کھیتی کرتا ہے کوئی کپڑابُنتاہے، کوئی دوسری دستکاری کرتا ہے، جس طرح کھیتی کرنے والوں کو کپڑے کی ضرورت
ہے، کپڑا بننے والوں کو غلّہ کی حاجت ہے،نہ یہ اُس سے مُستغنِی(9)نہ وہ اس سے بے نیاز، بلکہ ہر ایک کو دوسرے کی طرف احتیاج(10) لہٰذا یہ ضرورت پیدا ہوئی کہ اِس کی چیز اُس کے پاس جائے اور اُس کی اِس کے پاس آئے تاکہ سب کی حاجتیں پوری ہوں اور کاموں میں دُشواریاں نہ ہوں۔ یہاں سے معاملات کا سلسلہ شروع ہوا بیع وغیرہ ہر قسم کے معاملات وجود میں آئے۔ اسلام چونکہ مکمل دین ہے اور انسانی زندگی کے ہر شعبہ پر اس کا حکم نافذ ہے جہاں عبادات کے طریقے بتاتا ہے معاملات کے متعلق بھی پوری روشنی ڈالتا ہے تاکہ زندگی کا کوئی شعبہ تشنہ(11) باقی نہ رہے اور مسلمان کسی عمل میں اسلام کے سوا دوسرے کا محتاج نہ رہے۔ جس طرح عبادات میں بعض صورتیں جائز ہیں اور بعض ناجائز اسی طرح تحصیل مال کی بھی بعض صورتیں جائز ہیں اور بعض ناجائز اور حلال روزی کی تحصیل اس پر موقوف کہ جائز و ناجائز کو پہچانے اور جائز طریقے پر عمل کرے ناجائز سے دور
1 ۔کائنات کو پیدا کرنے والا۔ 2 ۔سمجھنا۔
3 ۔زمین سے اُگنے والی چیزیں اوربے جان چیزیں۔ 4 ۔اس کی شان کوظاہر کرنے والے۔
5 ۔معاشرتی زندگی کو پسند کرنے والا ۔ 6 ۔اپنے جیسے لوگوں کا۔
7 ۔کفالت کرنے والا۔ 8 ۔ تقسیم۔ 9 ۔بے پرواہ۔
10 ۔حاجت،ضرورت۔ 11 ۔ادھورا،نامکمل۔
بھاگے، قرآن مجید میں ناجائز طور پر مال حاصل کرنے کی سخت ممانعت آئی۔
اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :
( وَلَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوۡابِہَاۤ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِیۡقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثْمِ وَاَنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿۱۸۸﴾٪ (1)
''آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق مت کھاؤ اور حکام کے پاس اس کے معاملہ کو اس لیے نہ لے جاؤ کہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ کے ساتھ جانتے ہوئے کھا جاؤ۔''
اور فرماتاہے :
( یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوَالَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ ۟ ) (2)
''اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ، ہاں اگر باہمی رضامندی سے تجارت ہو تو حرج نہیں۔''
اور فرماتاہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ ﴿۸۷﴾وَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ حَلٰـلًا طَیِّبًا ۪ وَّاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤْمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾ (3)
''اے ایمان والو! اﷲ نے جس چیز کو حلال کیا ہے اُن پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کہو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔حد سے گزرنے والوں کو اﷲ دوست نہیں رکھتا اور اﷲ نے جو تمھیں روزی دی اُن میں سے حلال طیّب کو کھاؤ اور اﷲ سے ڈرو جس پر تم ایمان لائے ہو۔''
تحصیل مال(4) کے ذرائع میں سے جس کی سب سے زیادہ ضرورت پڑتی ہے اور غالباًروزانہ جس سے سابقہ پڑتا ہے وہ خریدوفروخت ہے۔ کتاب کے اس حصے میں اسی کے مسائل بیان ہونگے۔ مگر اس سے قبل کہ فقہی مسائل کا سلسلہ شروع کیا جائے کسب و تجارت کی فضیلت میں جو احادیث وارد ہیں، اُن میں سے چند حدیثوں کا ترجمہ ذکر کیا جاتا ہے۔
1 ۔ پ۲،البقرۃ:۱۸۸.
2 ۔پ۵،النساء :۲۹.
3 ۔پ۷،المائدۃ:۸۷،۸۸.
4 ۔مال کمانے ۔
حدیث(۱): صحیح بخاری شریف میں مقدام بن معدیکر ب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اُس کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیں جس کو کسی نے اپنے ہاتھوں سے کام کرکے حاصل کیا ہے اور بے شک اﷲ کے نبی داود علیہ الصلاۃ والسلام اپنی دستکاری(1) سے کھاتے تھے۔'' (2)
حدیث( ۲): صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں: اﷲ پاک ہے اور پاک ہی کو دوست رکھتا ہے اور اﷲ تعالیٰ نے مؤمنین کو بھی اُسی کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا اُس نے رسولوں سے فرمایا:
( یاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّـیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صٰلِحًاؕ )(3)
''اے رسولو! پاک چیزوں سے کھاؤ اور اچھے کام کرو۔'' اور مؤمنین سے فرمایا:
( یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اامَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰـکُمْ )(4)
''اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تم کو دیا اُن میں پاک چیزوں سے کھاؤ۔'' پھر بیان فرمایا: کہ ایک شخص طویل سفر کرتا ہے جس کے بال پریشان(5) ہیں اور بدن گرد آلود ہے (یعنی اُس کی حالت ایسی ہے کہ جو دُعا کرے وہ قبول ہو) وہ آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھاکر یارب یارب کہتا ہے (دُعا کرتا ہے) مگر حالت یہ ہے کہ اُس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور غذا حرام پھر اُس کی دُعا کیونکر مقبول ہو(6) (یعنی اگر قبول کی خواہش ہو تو کسب حلال اختیار کرو کہ بغیر اس کے قبول دُعا کے اسباب بیکار ہیں)۔
حدیث) ۳(: صحیح بخاری شریف میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ''لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گاکہ آدمی پرواہ بھی نہ کریگا کہ اس چیز کو کہاں سے حاصل کیاہے، حلال سے یا حرام سے۔'' (7)
حدیث) ۴(: ترمذی ونسائی و ابن ماجہ ام المؤ منین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو تم کھاتے ہو اُن میں سب سے زیادہ پاکیزہ وہ ہے جو تمھارے کسب (8)سے حاصل ہے اور تمھاری اولاد بھی منجملہ کسب کے ہے۔''(9) (یعنی بوقت حاجت اولاد کی کمائی سے کھاسکتا ہے) ابو داود و دارمی کی روایت بھی اسی کے مثل ہے۔
1 ۔ہاتھ کی کمائی۔
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب البیوع،باب کسب الرجل... إلخ،الحدیث: ۲۰۷۲،ج۲،ص۱۱.
3 ۔پ۱۸،المؤمنون:۵۱.
4 ۔پ۲،البقرۃ:۱۷۲. 5 ۔بکھرے ہوئے ۔
6 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الزکاۃ،باب قبول الصدقۃ...إلخ،الحدیث:۶۵۔(۱۰۱۵)،ص۵۰۶.
7 ۔''صحیح البخاري''،کتاب البیوع،باب من لم یبال من حیث کسب المال،الحدیث:۲۰۵۹،ج۲،ص۷.
8 ۔کمائی،محنت۔
9 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الأحکام،باب ماجاء ان الوالد یأخذ من مال ولدہ،الحدیث: ۱۳۶۳،ج۳،ص۷۶.
حدیث (۵): امام احمد عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو بندہ مال حرام حاصل کرتا ہے، اگر اُس کو صدقہ کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اُس کے لیے اُ س میں برکت نہیں اور اپنے بعد چھوڑ مرے تو جہنم کو جانے کا سامان ہے (یعنی مال کی تین حالتیں ہیں اور حرام مال کی تینوں حالتیں خراب) اﷲ تعالیٰ برائی سے برائی کو نہیں مٹاتا، ہاں نیکی سے برائی کو محو فرماتا ہے(1)بے شک خبیث کو خبیث نہیں مٹاتا۔'' (2)
حدیث (۶): امام احمد و دارمی و بیہقی جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو گوشت حرام سے اُوگاہے جنت میں داخل نہ ہوگا (یعنی ابتداءً) اور جو گوشت حرام سے اُوگا ہے، اُس کے لیے آگ زیادہ بہتر ہے۔'' (3)
حدیث( ۷): بیہقی شعب الایمان میں عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''حلال کمائی کی تلاش بھی فرائض کے بعد ایک فریضہ ہے۔'' (4)
حدیث (۸): امام احمد و طبرانی و حاکم رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور طبرانی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کسی نے عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے؟ فرمایا: ''آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور اچھی بیع ''(5)(یعنی جس میں خیانت اور دھوکا نہ ہو یایہ کہ وہ بیع فاسد نہ ہو)۔
حدیث (۹): طبرانی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ ارشاد فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ بندہ مومن پیشہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔'' (6)
یہ چند حدیثیں کسب حلال کے متعلق ذکر کی گئیں، ان کے علاوہ بعض احادیث خاص تجارت کے متعلق بیان کی جاتی ہیں۔
حدیث (۱۰): امام احمد نے ابوبکر بن ابی مریم سے روایت کی، وہ کہتے ہیں مقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی کنیز(7) دودھ بیچا کرتی تھی اور اُس کا ثمن مقدام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لیا کرتے تھے۔ اُن سے کسی نے کہا، سبحان اﷲ آپ دودھ بیچتے ہیں
1 ۔مٹاتا ہے۔
2 ۔''المسند''للإمام احمد بن حنبل،مسند عبد اللہ بن مسعود،الحدیث:۳۶۷۲،ج۲،ص۳۳.
3 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''،کتاب البیوع،باب الکسب وطلب الحلال،الحدیث:۲۷۷۲،ج۲،ص۱۳۱.
4 ۔''شعب الإیمان''،باب في حقوق الأولاد...إلخ،الحدیث:۸۷۴۱،ج۶،ص۴۲۰.
5 ۔''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،مسند الشامیین حدیث رافع بن خدیج،الحدیث:۱۷۲۶۶،ج۶،ص۱۱۲.
6 ۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۳۲۰۰،ج۱۲،ص۲۳۸.
7 ۔لونڈی۔
اور اُس کا ثمن(1) لیتے ہیں (گویا اس نے اس تجارت کو نظر حقارت سے دیکھا) اُنھوں نے جواب دیا ہاں میں یہ کام کرتاہوں اور اس میں حرج ہی کیا ہے، میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سُنا ہے کہ ''لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ سوا روپے اور اشرفی کے کوئی چیز نفع نہیں دے گی۔'' (2)
حدیث (۱۱): ترمذی و دارمی و دارقطنی ابی سعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اور ابن ماجہ ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تاجر راست گوامانت دار (3) انبیا و صدیقین و شہداکے ساتھ ہوگا۔'' (4)
حدیث( ۱۲): تر مذی و ابن ماجہ و دارمی رفاعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اور بیہقی شعب الایمان میں براء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تجار(5) قیامت کے دن فجار (بدکار) اُٹھائے جائیں گے، مگر جو تاجر متقی(6) ہو اور لوگوں کے ساتھ احسان کرے اور سچ بولے۔'' (7)
حدیث( ۱۳): امام احمد و ابن خزیمہ و حاکم و طبرانی و بیہقی عبدالرحمن بن شبل اور طبرانی معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''تجار بدکار ہیں۔'' لوگوں نے عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا اﷲ تعالیٰ نے بیع(8) حلال نہیں کی ہے؟ فرمایا: ''ہاں! بیع حلال ہے ولیکن یہ لوگ بات کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں اور قسم کھاتے ہیں، اس میں جھوٹے ہوتے ہیں۔'' (9)
حدیث( ۱۴): بیہقی شعب الایمان میں معاذبن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ ارشاد فرمایا: ''تمام کمائیوں میں زیادہ پاکیزہ اُن تاجروں کی کمائی ہے کہ جب وہ بات کریں جھوٹ نہ بولیں اور جب اُن کے پاس امانت رکھی جائے خیانت نہ کریں اور جب وعدہ کریں اُس کا خلاف نہ کریں اور جب کسی چیز کو خریدیں تو اُس کی مذمت (برائی) نہ کریں اورجب اپنی
1 ۔یعنی اس کی قیمت۔
2 ۔''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،مسند الشامیین، حدیث المقدام بن معد یکرب،الحدیث:۱۷۲۰۱،ج۶،ص۹۶.
3 ۔یعنی سچ بولنے والااور امانت دارتاجر ۔
4 ۔''جامع الترمذي''،کتاب البیوع،باب ماجاء في التجار... إلخ،الحدیث:۱۲۱۳،ج۳،ص۵.
5 ۔ تجارت کرنے والے۔ 6 ۔پرہیزگار ،اللہ سے ڈرنے والا۔
7 ۔''جامع الترمذي''،کتاب البیوع، باب ماجاء في التجار... إلخ،الحدیث:۱۲۱۴،ج۳، ص۵.
8 ۔تجارت،خریدوفروخت۔
9 ۔''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،حدیث عبدالرحمٰن بن شبل،الحدیث:۱۵۵۳۰،۱۵۶۶۶،ج۵،ص۲۸۸،۳۲۱.
چیزیں بیچیں تو اُنکی تعریف میں مبالغہ نہ کریں اور ان پر کسی کا آتا ہو تو دینے میں ڈھیل نہ ڈالیں(1) اور جب ان کا کسی پر آتا ہو تو سختی نہ کریں۔'' (2)
حدیث( ۱۵): صحیح مسلم میں ابو قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ''بیع میں حلف کی کثرت سے پرہیز کرو، کہ یہ اگرچہ چیز کو بکوا دیتاہے مگر برکت کو مٹا دیتا ہے۔''(3) اسی کے مثل صحیحین (4) میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی۔
حدیث (۱۶): صحیح مسلم میں ابو ذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''تین شخصوں سے اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں فرمائے گا اور نہ ان کی طرف نظر کریگا اور نہ ان کو پاک کریگا اور ان کے لیے تکلیف دہ عذاب ہوگا۔'' ابو ذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، وہ خائب و خاسر(5) ہیں، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایاکہ ''کپڑا لٹکانے والا(6) اور دے کر احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم کے ساتھ اپنا سودا چلادینے والا۔'' (7)
حدیث (۱۷): ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ قیس ابن ابی غرزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے گروہ تجار(8)! بیع میں لغو (9)اور قسم ہو جاتی ہے، اس کے ساتھ صدقہ کو ملا لیا کرو۔'' (10)
تجارت بہت عمدہ اور نفیس کا م ہے، مگر اکثر تجار کذب بیانی(11) سے کام لیتے بلکہ جھوٹی قسمیں کھالیا کرتے ہیں اسی لیے اکثر احادیث میں جہاں تجارت کا ذکر آتا ہے، جھوٹ بولنے اور جھوٹی قسم کھانے کی ساتھ ہی ساتھ ممانعت بھی آتی ہے اور یہ
1 ۔ٹال مٹول نہ کریں۔
2 ۔''شعب الإیمان''،باب فيحفظ اللسان،الحدیث:۴۸۵۴،ج۴،ص۲۲۱.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ، باب النھی عن الحلف في البیع،الحدیث:۱۳۳۔(۱۶۰۸)،ص۸۶۸.
4 ۔یعنی صحیح بخاری وصحیح مسلم۔ 5 ۔نقصان اور خسارہ اُٹھانے والے۔ 6 ۔یعنی تکبر سے کپڑا ٹخنوں سے نیچے رکھنے والا۔
7 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان،باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار...إلخ،الحدیث:۱۷۱۔(۱۰۶)،ص۶۷.
8 ۔یعنی اے تجارت کرنے والو۔ 9 ۔ فضول بات۔
10 ۔''سنن أبي داود''،کتاب البیوع،باب في التجارۃ...إلخ،الحدیث:۳۳۲۶،ج۳،ص۳۲۸.
11 ۔ جھوٹ ۔
واقعہ بھی ہے کہ اگر تاجر اپنے مال میں برکت دیکھنا چاہتا ہے تو ان بُری باتوں سے گریز کرے۔ تاجروں کی انھیں بدعنوانیوں کی وجہ سے بازار کو بدترین بقعہ زمین(1) فرمایا گیا اور یہ کہ شیطان ہر صبح کو اپنا جھنڈا لے کر بازار میں پہنچ جاتا ہے اور بے ضرورت بازار میں جانے کو بُرابتایا گیا۔
قرآن کریم کا یہ ارشاد:
( رِجَالٌ لا لَّا تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللہِ )(2)
بھی اس کی طرف اشارہ کرتاہے کہ تجارت وبیع یادِخدا سے غافل کرنے والی چیز ہے اور اس سے دلچسپی غفلت لانے والی ہے۔ اسی وجہ سے فرمایا گیا:
( وَاِذَا رَأَوْ تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَا نِالْفَضُّوْا اِلَیْھَا وَتَرَکُوْکَ قَائِمًا )(3)
لہٰذا فرض ہے کہ تجارت میں اتنا اِنہماک(4)نہ ہو کہ یادِ خدا سے غفلت کا موجب (5)ہو۔
صحیح بخاری شریف میں ہے، قتادہ کہتے ہیں صحابہ کرام خریدو فروخت و تجارت کرتے تھے مگر جب حقوق اﷲ میں سے کوئی حق پیش آجاتا تو تجارت و بیع اُن کو ذکراﷲ سے نہیں روکتی، وہ اُس حق کو ادا کرتے۔ (6)
حدیث (۱۸): بازار میں داخل ہونے کے وقت یہ دُعا پڑھ لیا کرو:
لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ لَـہُ الْمُلْکُ وَلَـہُ الْـحَمْدُ یُـحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَـیٌّ لَّا یَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ .
امام احمد و ترمذی و حاکم و ابن ماجہ نے ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے گا، اﷲ تعالیٰ اُس کے لیے ایک لاکھ نیکی لکھے گا اور ایک لاکھ گناہ مٹا دے گا اور ایک لاکھ درجہ بلند فرمائے گااور اُس کے لیے ایک گھر جنت میں بنائے گا۔'' (7)
1 ۔ زمین کا بدترین حصہ، مقام۔
2 ۔پ۱۸،النور:۳۷.
3 ۔پ۲۸،الجمعۃ:۱۱.
4 ۔مشغولیت۔ 5 ۔ سبب۔
6 ۔''صحیح البخاری''،کتاب البیوع،باب التجارۃ فی البر،ج۲،ص۸.
7 ۔''جامع الترمذی''،کتاب الدعوات،باب مایقول اذا دخل السوق،الحدیث :۳۴۴۰،ج۵،ص۲۷۱.
خرید و فروخت میں نرمی و سماحت(1) چاہیے کہ حدیث میں اس کی مدح و تعریف آ ئی ہے۔
حدیث (۱۹): صحیح بخاری و سنن ابن ماجہ میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اﷲ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضے میں آسانی کرے۔''(2) اسی کے مثل ترمذی و حاکم و بیہقی ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور احمد و نسائی و بیہقی عثمان ابن عفان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی۔
حدیث (۲۰): صحیحین میں حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''زمانہ گزشتہ میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا، اس سے کہا گیا تجھے معلوم ہے کہ تونے کچھ اچھا کام کیا ہے۔ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے۔ اس سے کہا گیا، غور کر کے بتا۔ اُس نے کہا، اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ میں دنیا میں لوگوں سے بیع کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اُسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا تھا یعنی معاف کر دیتا تھا، اﷲ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل کردیا۔''(3) اور صحیح مسلم کی ایک روایت عقبہ بن عامرو ابو مسعود انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: ''میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں، اے فرشتو! میرے اس بندہ سے درگزر کرو۔'' (4)
اصطلاح شرع(5) میں بیع کے معنے یہ ہیں کہ دو شخصوں کا باہم مال کو مال سے ایک مخصوص صورت کے ساتھ تبادلہ کرنا۔بیع کبھی قول سے ہوتی ہے اور کبھی فعل سے۔ اگر قول سے ہو تو اس کے ارکان ایجاب و قبول ہیں یعنی مثلاًایک نے کہامیں نے بیچا دوسرے نے کہا میں نے خریدا۔ اور فعل سے ہو تو چیز کالے لینا اور دے دینا اس کے ارکان ہیں اور یہ فعل ایجاب و قبول کے قائم مقام ہو جاتاہے۔مثلاً ترکاری(6)وغیرہ کی گڈیاں بنا کر اکثر بیچنے والے رکھ دیتے ہیں اور ظاہر کر دیتے ہیں کہ پیسہ پیسہ کی گڈی ہے خریدار آتاہے ایک پیسہ ڈال دیتا ہے اور ایک گڈی اٹھا لیتا ہے طرفین(7)باہم
1 ۔حسن سلوک، درگزر۔
2 ۔''صحیح البخاری''،کتاب البیوع،باب السھولۃ والسماحۃ...إلخ،الحدیث:۲۰۷۶،ج۲،ص۱۲.
و''سنن ابن ماجہ''،کتاب التجارات،باب السماحۃ فی البیع،الحدیث:۲۲۰۳،ج۳،ص۳۸.
3 ۔''صحیح البخاری''،کتاب البیوع،باب السھولۃ والسماحۃ...إلخ ،الحدیث:۲۰۷۶،ج۲،ص۱۲.
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب المساقات،باب فضل انظارالمعسر،الحدیث:۲۹۔(۱۵۶۰)،ص۸۴۴.
5 ۔شرعی اصطلاح۔ 6 ۔سبزی جیسے پالک، میتھی۔ 7 ۔بیچنے والا اور خریدنے والا۔
کوئی بات نہیں کرتے مگر دونوں کے فعل ایجاب و قبول کے قائم مقام شمار ہوتے ہیں اور اس قسم کی بیع کو بیع تعاطی کہتے ہیں۔ بیع کے طرفین میں سے ایک کو بائع(1) اور دوسرے کو مشتری (2)کہتے ہیں۔
مسئلہ ۱: بیع (3)کے لیے چند شرائط ہیں:
(۱) بائع ومشتری کا عاقل ہونا یعنی مجنون یا بالکل نا سمجھ بچہ کی بیع صحیح نہیں۔
(۲) عاقد کا متعدد ہونا یعنی ایک ہی شخص بائع و مشتری دونوں ہو یہ نہیں ہوسکتا مگر باپ یا وصی کہ نابالغ بچہ کے مال کو بیع کریں اور خود ہی خریدیں یا اپنا مال اُن سے بیع کریں۔ یا قاضی کہ ایک یتیم کے مال کو دوسرے یتیم کے لیے بیع کرے تو اگرچہ ان صورتوں میں ایک ہی شخص بائع و مشتری دونوں ہے مگر بیع جائز ہے بشرطیکہ وصی کی بیع میں یتیم کا کُھلا ہوا نفع ہو۔ یوہیں ایک ہی شخص دونوں طرف سے قاصد ہو تو اس صورت میں بھی بیع جائز ہے۔(4) (عالمگیری، بحرالرائق، ردالمحتار)
(۳) ایجاب و قبول میں موافقت ہونا یعنی جس چیز کا ایجاب ہے اُسی کا قبول ہو یا جس چیز کے ساتھ ایجاب کیا ہے اُسی کے ساتھ قبول ہواگر قبول کسی دوسری چیز کو کیا یا جس کا ایجاب تھا اُس کے ایک جز کو قبول کیا یا قبول میں ثمن دوسرا ذکرکیا یا ایجاب کے بعض ثمن کے ساتھ قبول کیا ان سب صورتوں میں بیع صحیح نہیں۔ہاں اگر مشتری نے ایجاب کیا او ر بائع نے اُس سے کم ثمن کے ساتھ قبول کیا تو بیع صحیح ہے۔
(۴) ایجاب و قبول کا ایک مجلس میں ہونا۔
(۵) ہرایک کا دوسرے کے کلام کو سُننا۔ مشتری نے کہا میں نے خریدامگر بائع نے نہیں سُنا تو بیع نہ ہوئی، ہاں اگرمجلس والوں نے مشتری کا کلام سُن لیا ہے اوربائع کہتا ہے میں نے نہیں سُنا ہے تو قضا ء ً با ئع کا قول نامعتبر ہے۔
(۶)مبیع کا موجود ہونا مال متقوم ہونا ۔مملوک ہونا۔ مقدورالتسلیم ہونا(5) ضرورہے اور اگر بائع اُس چیز کو اپنے لیے بیچتا ہو تو اُس چیز کا ملک بائع میں ہونا ضرور ی ہے۔ جو چیز موجود ہی نہ ہو بلکہ اس کے موجودنہ ہونے کا اندیشہ ہو اُس کی بیع نہیں مثلاً
1 ۔بیچنے والا۔ 2 ۔ خریدنے والا۔ 3 ۔خریدوفروخت۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الاول فی تعریف البیع،ج۳،ص۲.
و''البحرالرائق''،کتاب البیع،ج۵،ص۴۳۲.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،مطلب:شرائط البیع...إلخ،ج۷،ص۱۳.
5 ۔یعنی حوالہ کرنے پر قادر ہونا۔
حمل یا تھن میں جو دودھ ہے اُس کی بیع ناجائز ہے کہ ہوسکتا ہے جانور کا پیٹ پھولا ہے اور اُس میں بچہ نہ ہواور تھن میں دودھ نہ ہو ۔ پھل نمودار(1) ہونے سے پہلے بیچ نہیں سکتے۔ یوہیں خون اور مُردار کی بیع نہیں ہوسکتی کہ یہ مال نہیں اور مسلمان کے حق میں شراب و خنزیر کی بیع نہیں ہوسکتی کہ مال متقوم نہیں۔ زمین میں جوگھاس لگی ہوئی ہے اُس کی بیع نہیں ہوسکتی اگرچہ زمین اپنی ملک ہو کہ وہ گھاس مملوک نہیں(2) ۔ یوہیں نہر یا کو ئیں کا پانی، جنگل کی لکڑی اور شکار کہ جب تک ان کو قبضہ میں نہ کیا جائے مملوک نہیں۔
(۷) بیع موقت نہ ہواگر موقت ہے مثلاً اتنے دنوں کے لیے بیچا تو یہ بیع صحیح نہیں۔
(۸) مبیع و ثمن دونوں اس طرح معلوم ہوں کہ نزاع(3)پیدا نہ ہوسکے۔ اگر مجہول ہوں کہ نزاع ہوسکتی ہو تو بیع صحیح نہیں مثلاً اس ریوڑ میں سے ایک بکری بیچی یا اس چیز کو واجبی دام(4) پر بیچا یا اُس قیمت پر بیچا جو فلاں شخص بتائے۔ (5)
مسئلہ۲: بیع کا حکم یہ ہے کہ مشتری مبیع کا مالک ہو جائے اور بائع ثمن کا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بائع پر واجب ہے کہ مبیع کو مشتری کے حوالہ کرے اور مشتری پر واجب کہ بائع کو ثمن دیدے۔یہ اُس وقت ہے کہ بیع بات (قطعی) ہو اور اگر بیع موقوف ہے کہ دوسرے کی اجازت پر موقوف ہے تو ثبوتِ ملک(6) اُس وقت ہوگا جب اجازت ہو جائے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ۳: ہزل (مذاق) کے طور پر بیع کی کہ الفاظ بیع اپنی خوشی سے قصداً بول رہا ہے مگر یہ نہیں چاہتا کہ چیزبِک جائے ایسی بیع صحیح نہیں۔اور ہزل کا حکم اُس وقت دیا جائے گا کہ صراحۃً عقد میں ہزل کا لفظ موجود ہو یا پہلے سے ان دونوں نے باہم ٹھہرالیا ہے کہ لوگوں کے سامنے مذاق کے طور پر بیع کریں گے اور اس گفتگو پر دونوں اب بھی قائم ہیں اس سے رجوع نہیں کیا ہے تو اسے ہزل قرار دے کر ،نا درست کہیں گے اور اگر نہ عقد میں ہزل کا لفظ ہے اورنہ پیشتر ایسا ٹھہرالیا ہے تو قرائن کی بنا پر اسے ہزل نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ بیع صحیح مانی جائے گی۔ بیع ہزل اگرچہ بیع فاسد ہے مگر قبضہ کرنے سے بھی اس میں ملک حاصل نہیں ہوتی۔ (8)(ردالمحتار)
1 ۔ظاہر۔ 2 ۔یعنی کوئی اس کا مالک نہیں۔ 3 ۔جھگڑا۔ 4 ۔رائج قیمت۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،مطلب:شرائط البیع انواع اربعۃ،ج۷،ص۱۳.
و''الفتا وی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الاول فی تعریف البیع ،ج۳،ص۳.
6 ۔ملکیت کا ثبوت۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الاول فی تعریف البیع،ج۳،ص۳.
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،مطلب:فی حکم البیع مع الھزل،ج۷،ص۱۷۔۱۸.
مسئلہ۴: کسی شخص کو بیع کرنے پر مجبور کیا گیا یعنی بیع نہ کرنے میں قتل یا قطع عضو(1) کی دھمکی دی گئی اُس نے ڈر کر بیع کردی تو یہ بیع فاسد اور موقوف ہے کہ اکراہ جاتے رہنے کے بعد(2) اُس نے اجازت دیدی تو جائز ہو جائے گی۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ۵: ایسے دو ۲ لفظ جو تملیک و تَمَلُّک کا اِفادہ کرتے ہوں یعنی جن کا یہ مطلب ہو کہ چیز کا مالک دوسرے کو کردیا یادوسرے کی چیز کا مالک ہوگیا ان کو ایجاب و قبول کہتے ہیں ان میں سے پہلے کلام کو ایجاب کہتے ہیں اور اس کے مقابل میں(4) بعد والے کلام کو قبول کہتے ہیں۔مثلاً بائع نے کہا میں نے یہ چیز اتنے دام میں بیچی مشتری نے کہا میں نے خریدی تو بائع کا کلام ایجاب ہے اور مشتری کا قبول اور اگر مشتری پہلے کہتا کہ میں نے یہ چیز اتنے میں خریدی تو یہ ایجاب ہوتا اور بائع کالفظ قبول کہلاتا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ۶: ایجاب وقبول کے الفاظ فارسی اُردو وغیرہ ہر زبان کے ہوسکتے ہیں۔ دونوں کے الفاظ ماضی ہوں جیسے خریدا بیچایا دونوں حال ہوں جیسے خریدتا ہوں بیچتا ہوں یا ایک ماضی اور ایک حال ہو مثلاً ایک نے کہا بیچتا ہوں دوسرے نے کہا خریدا مستقبل کے صیغہ(6)سے بیع نہیں ہوسکتی دونوں کے لفظ مستقبل کے ہوں یا ایک کا مثلاً خریدونگابیچوں گا کہ مستقبل کالفظ آئندہ عقد صادر کرنے کے ارادہ پر دلالت کرتاہے فی الحال عقدکا اثبات نہیں کرتا۔ (7)(درمختار)
مسئلہ۷: ایک نے امر کا صیغہ (8) استعمال کیا جو حال پر دلالت کرتا ہے دوسرے نے ماضی کا مثلاً اُس نے کہا اسچیز کو اتنے پرلے دوسرے نے کہا میں نے لیا اقتضاءً بیع صحیح ہوگئی کہ اب نہ بائع دینے سے انکار کرسکتا ہے نہ مشتری لینے سے۔ (9)(عالمگیری)
1 ۔جسم کے کسی عضو کو کاٹ ڈالنے۔ 2 ۔یعنی جبر کا ڈرو خوف ختم ہونے کے بعد۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،مطلب:فی حکم البیع مع الھز ل ،ج۷،ص۱۶۔۱۷.
4 ۔جواب میں۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۲۲.
6 ۔یعنی ایسا جملہ جس سے مستقبل میں کسی کام کاکرنا سمجھاجائے۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۲۳.
8 ۔ایساجملہ جس میں حکم دینے کا معنی پایا جاتاہے ۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی فیما یرجع الی انعقاد...إلخ،الفصل الأول،ج۳،ص۴.
مسئلہ۸: یہ ضرور نہیں کہ خریدنا اور بیچنا ہی کہیں تو بیع ہو ورنہ نہ ہو بلکہ یہ مطلب اگر دوسرے لفظ سے ادا ہوتا ہو تو بھی عقدہوسکتا ہے مثلاً مشتری(1) نے کہا یہ چیز میں نے تم سے اتنے میں خریدی بائع(2) نے کہا ہاں۔میں نے کیا۔ دام لاؤ۔لے لو۔ تمھارے ہی لیے ہے۔ منظور ہے۔ میں راضی ہوں۔ میں نے جائز کیا۔ (3)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ۹: بائع نے کہا میں نے یہ چیز بیچی مشتری نے کہا ہاں تو بیع نہ ہوئی اور اگر مشتری ایجاب کرتااور بائع جواب میں ہاں کہتا تو صحیح ہوجاتی۔ استفہام(4)کے جواب میں ہاں کہا تو بیع نہ ہوگی مگر جبکہ مشتری اُسی وقت ثمن ادا کر دے کہ یہ ثمن ادا کرنا قبول ہے۔ مثلاً کہاکیا تم نے یہ چیز میرے ہاتھ اتنے میں بیع کی اُس نے کہا ہاں مشتری نے ثمن دیدیا بیع ہوگئی۔(5) (درمختار)
مسئلہ۱۰: میں نے اپنا گھوڑاتمھارے گھوڑے سے بدلا، دوسرے نے کہا اور میں نے بھی کیا تو بیع ہوگئی۔ بائع نے کہا یہ چیز تم پر ایک ہزار کو ہے، مشتری نے کہا میں نے قبول کی، بیع ہوگئی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ۱۱: ایک شخص نے کہا یہ چیز تمھارے لیے ایک ہزار کو ہے اگرتم کو پسند ہو، دوسرے نے کہا مجھے پسند ہے، بیع ہوگئی۔ یوہیں اگر یہ کہا کہ اگر تم کو موافق آئے یا تم ارادہ کرو یا تمھیں اس کی خواہش ہو اُس نے جواب میں کہا کہ مجھے موافق ہے یا میں نے ارادہ کیا یا مجھے اس کی خواہش ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ۱۲: ایک شخص نے کہا یہ سامان لے جاؤ اور اس کے متعلق آج غورکرلواگر تم کو پسند ہو تو ایک ہزار کوہے دوسرا اُسے لے گیا بیع جائز ہوگئی۔(8) (خانیہ)
مسئلہ۱۳: ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ ایک غلام ہزار روپے میں بیع کیا اور کہہ دیا کہ اگر آج دام نہ لاؤ گے تو میرے تمھارے درمیان بیع نہ رہے گی مشتری نے اسے منظور کیا مگر اُس روزدام نہیں لایا دوسرے روز مشتری بائع سے ملا اور یہ
1 ۔خریدار ۔ 2 ۔تاجر۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتا ب البیوع،ج۷،ص۲۲.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی فیما یرجع الی انعقاد...إلخ،الفصل الأول،ج۳،ص۴.
4 ۔یعنی سوال ۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتا ب البیوع،ج۷،ص۲۲.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی فیما یرجع الی انعقاد...إلخ،الفصل الأول،ج۳،ص۵.
7 ۔المرجع السابق.
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،ج۱،ص۳۳۸.
کہاکہ تم نے یہ غلام میرے ہاتھ ایک ہزار میں بیچااُس نے کہا ہاں مشتری نے کہامیں نے اسے لیا تو بیع اس وقت صحیح ہوگئی کہ کل جو بیع ہوئی تھی وہ ثمن نہ دینے کی وجہ سے جاتی رہی۔(1) (خانیہ)
مسئلہ۱۴: ایک نے دوسرے کو دور سے پکار کر کہا میں نے یہ چیز تمھارے ہاتھ اتنے میں بیع (2)کی اُس نے کہا میں نے خریدی اگر اتنی دوری ہے کہ ان کی بات میں اشتباہ(3) نہیں ہوتا تو بیع درست ہے ورنہ نادرست۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ۱۵: بائع نے کہا اس کو میں نے تیرے ہاتھ بیچا مشتری نے اُس کو کھانا شروع کردیا یا جانور تھا اُس پر سوار ہوگیایا کپڑا تھا اُسے پہن لیا تو بیع ہوگئی یعنی یہ تصرفات(5) قبول کے قائم مقام ہیں۔ یوہیں ایک شخص نے دوسرے سے کہااس چیز کو کھالو اور اس کے بدلے میں میرا ایک روپیہ تم پر لازم ہوگا، اس نے کھا لیا تو بیع درست ہوگئی اور کھانا حلال ہوگیا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ۱۶: دوشخصوں میں ایک تھا ن کے متعلق نرخہونے لگا (7) بائع نے کہا پندرہ میں بیچتا ہوں مشتری نے کہا دس میں لیتا ہوں اس سے زیادہ نہیں دونگا اور مشتری اُس تھان کولے کر چلاگیا اگر نرخ کرتے وقت تھان مشتری کے ہاتھ میں تھا جب تو پندرہ میں بیع ہوئی اور اگربائع کے ہاتھ میں تھا مشتری نے اُس سے لیا اُس نے منع نہ کیا تو دس روپے میں بیع ہوئی۔ اور اگر تھان مشتری کے پاس ہے اور مشتری نے کہا دس سے زیادہ نہیں دونگااور بائع نے کہا پندرہ سے کم میں نہیں بیچوں گامشتری نے تھان واپس کردیا اس کے بعد پھر بائع سے کہا لاؤ دو بائع نے دیدیا اور ثمن کے متعلق کچھ نہ کہا او رمشتری لے کر چلا گیا تو دس میں بیع ہوئی۔ (8)(خانیہ)
مسئلہ۱۷: ایک چیز کے متعلق بائع نے ثمن بدل کر دو ۲ایجاب کیے مثلاً پہلے پندرہ روپیہ کہا دوسرے ایجاب میں ایک گنی ثمن بتایاان دونوں ایجابوں کے بعد مشتری نے قبول کیا تو دوسرے ثمن کے ساتھ بیع قرار پائے گی اور اگر مشتری نے پہلے
1 ۔''الفتا وی الخانیۃ''،کتاب البیع،ج۱،ص۳۳۹.
2 ۔فروخت۔ 3 ۔شک وشبہ ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی فیما یر جع الی انعقاد...إلخ،الفصل الأول،ج۳،ص۶.
5 ۔یعنی چیز کواس طرح استعمال کرنا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی فیما یر جع الی انعقاد...إلخ،الفصل الأول،ج۳،ص۶.
7 ۔قیمت مقرر ہونے لگی،سودا ہونے لگا۔
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع ،ج۱،ص ۳۳۹.
ایجاب کے بعد بھی قبول کیا تھا پھر دوسرے ایجاب کے بعد بھی قبول کیا تو پہلی بیع فسخ ہوگئی(1) دوسری صحیح ہوگئی اور اگر دونوں ایجابوں میں ایک ہی قسم کا ثمن ہے مگر مقدار میں کم و بیش ہے مثلاً پہلے پندرہ روپے کہا تھا پھر دس یا اس کا عکس جب بھی دوسری بیع معتبر ہے پہلی جاتی رہی اور اگر مقدار میں کمی بیشی نہ ہو تو پہلی ہی بیع درست ہے دوسری لغو۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ۱۸: جس مجلس میں ایجاب ہو ااگر قبول کرنے والا اس مجلس سے غائب ہو تو ایجاب بالکل باطل ہوجاتا ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ اُس کے قبول کرنے پر موقوف ہو کہ اُسے خبر پہنچے اور قبول کرے تو بیع درست ہوجائے ہاں اگر قبول کرنے والے کے پاس ایجاب کے الفاظ لکھ کر بھیجے ہیں تو جس مجلس میں تحریر پہنچی اُسی مجلس میں قبول کیا تو بیع صحیح ہے اُس مجلس میں قبول نہ کیا توپھر قبول نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگر ایجاب کے الفاظ کسی قاصد کے ہاتھ کہلاکر بھیجے تو جس مجلس میں یہ قاصد اُسے خبر پہنچائے گا اُسی میں قبول کرسکتا ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ بائع نے ایک شخص سے کہا کہ میں نے یہ چیز فلاں شخص کے ہاتھ اتنے میں بیچی اے شخص تو اُس کے پاس جا کر یہ خبر پہنچادے اگر غائب کی طرف سے کسی اور شخص نے جو مجلس میں موجود ہے قبول کرلیا تو ایجاب باطل نہ ہوا بلکہ یہ بیع اُس غائب کی اجازت پر موقوف ہے۔ اگر ایک شخص کو اس نے خبر پہنچانے پر مامور (3)کیا تھا مگر دوسرے نے خبر پہنچادی اور اُس نے قبول کرلیا تو بیع صحیح ہوگئی۔ جس طرح ایجاب تحریری ہوتا ہے قبول بھی تحریری ہوسکتا ہے مثلاً ایک نے دوسرے کے پاس ایجاب لکھ کر بھیجا دوسرے نے قبول کو لکھ کر بھیج دیا بیع ہوجائے گی مگر یہ ضرور ہے کہ جس مجلس میں ایجاب کی تحریرموصول ہوئی ہے قبول کی تحریر اُسی مجلس میں لکھی جائے ورنہ ایجاب باطل ہوجائے گا۔(4) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ۱۹: عاقدین(5)میں سے جب ایک نے ایجاب کیا تو دوسرے کو اختیار ہے کہ مجلس میں قبول کرے یا رد کردے اس کا نام خیارِ قبول ہے۔ خیارِ قبول میں وراثت نہیں جاری ہوتی مثلاً یہ مرجائے تو اس کے وارث کو قبول کرنے کا حق
1 ۔یعنی ختم ہوگئی، ٹوٹ گئی۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی فیما یرجع الی انعقاد...إلخ،الفصل الأول،ج۳،ص۷.
3 ۔مقرر۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع ،مطلب: فی حکم البیع مع الھزل،ج۷،ص۱۹.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی فیما یرجع الی انعقاد...إلخ،الفصل الأول،ج۳ ،ص۹.
5 ۔خریدوفروخت کرنے والوں۔
حاصل نہ ہوگا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ۲۰: خیارِ قبول آخر مجلس تک رہتا ہے مجلس بدل جانے کے بعد جاتا رہتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ایجاب کرنے والا زندہ ہویعنی اگر ایجاب کے بعد قبول سے پہلے مر گیا تو اب قبول کرنے کا حق نہ رہا کیونکہ ایجاب ہی باطل ہوگیا قبول کس چیز کو کریگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ۲۱: دونوں میں سے کوئی بھی اُس مجلس سے اُٹھ جائے یا بیع کے علاوہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائے تو ایجاب باطل ہو جاتا ہے۔ قبول کرنے سے پہلے موجب (3)کو اختیار ہے کہ ایجاب کو واپس کرلے قبول کے بعد واپس نہیں لے سکتا کہ دوسرے کا حق متعلق ہوچکا واپس لینے میں اُس کا ابطال(4) ہوتا ہے۔(5) (ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ۲۲: ایجاب کو واپس لینے میں یہ ضرور ہے کہ دوسرے نے اس کو سنا ہو، مثلاً بائع نے کہا میں نے اس کو بیچا پھر اپنا ایجاب واپس لیا مگر اس کو مشتری نے نہیں سُنا اور قبول کر لیا تو بیع صحیح ہوگئی اور اگر موجب کا ایجاب واپس لینا اور دوسرے کا قبول کرنا یہ دونوں ایک ساتھ پائے جائیں تو واپسی درست ہے اور بیع نہیں ہوئی۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ۲۳: ایجاب کو لکھ بھیجا ہے یا کسی قاصد کے ہاتھ کہلابھیجا ہے تو جب تک دوسرے کو تحریر یا پیغام نہ پہنچا ہو یا قبول نہ کیا ہو اس بھیجنے والے کو واپس لینے کا اختیار ہے، یہاں اس کی ضرورت نہیں کہ قاصد کو واپس لینے کا علم ہوگیا ہو یا خود مکتوب الیہ(7) یا مرسل الیہ(8) کو علم ہو بلکہ اگر ان میں کسی کو بھی علم نہ ہو جب بھی رجوع صحیح ہے اور رجوع کے بعد اگر قبول پایاجائے تو بیع نہیں ہوسکتی۔ (9) (فتح القدیر)
مسئلہ۲۴: جب ایجاب وقبول دونوں ہوچکے تو بیع تمام ولازم ہوگئی اب کسی کو دوسرے کی رضا مندی کے بغیر رَد
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی فیما یرجع الی انعقاد...إلخ،الفصل الأول،ج۳،ص۷.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔ایجاب کرنے والے۔ 4 ۔یعنی اس کاحق باطل۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،ج۲،ص۲۳،وغیرہ.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی فیما یرجع الی انعقاد...إلخ،الفصل الأول،ج۳،ص۸.
7 ۔جس کو خط لکھا گیا ہے۔ 8 ۔جس کی طرف قاصدبھیجا گیا ہے۔
9 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع ،ج۵،ص۴۶۲.
کردینے کا اختیارنہ رہا البتہ اگر مبیع میں عیب ہو یا مبیع کو مشتری نے نہیں دیکھا ہے تو خیار عیب وخیار رویت حاصل ہوتا ہے ان کا ذکر بعد میں آئے گا۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ۲۵: بیع تعاطی جو بغیر لفظی ایجاب و قبول کے محض چیز لے لینے اور دیدینے سے ہو جاتی ہے یہ صرف معمولی اشیا ساگ ترکاری وغیرہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ بیع ہر قسم کی چیزنفیس و خسیس(2) سب میں ہوسکتی ہے اور جس طرح ایجاب و قبول سے بیع لازم ہو جاتی ہے یہاں بھی ثمن دیدینے او ر چیز لے لینے کے بعد بیع لازم ہو جائے گی کہ بغیر دوسرے کی رضا مندی کے ردکرنے کا کسی کو حق نہیں۔(3) (ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ۲۶: اگر ایک جانب سے تعاطی ہو مثلاً چیز کا دام طے ہوگیا اور مشتری چیز کو بائع کی رضا مندی سے اُٹھالے گیا اور دام نہ دیا یا مشتری نے بائع کو ثمن ادا کردیا اور چیز بغیر لیے چلا گیا تو اس صورت میں بھی بیع لازم ہوتی ہے کہ اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی رد کرنا چاہے تو رد نہیں کرسکتا قاضی بیع کو لازم کردے گا۔دام طے کرنے کی وہاں ضرورت ہے کہ دام معلوم نہ ہواور اگر معلوم ہو جیسے بازار میں روٹی بکتی ہے، عام طور پر ہر شخص کو نرخ معلوم ہے یا گوشت وغیرہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا ثمن لوگوں کو معلوم ہوتا ہے، ایسی چیزوں کے ثمن طے کرنے کی ضرورت نہیں۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ۲۷: دوکاندار کو گیہوں (5)کے لیے روپے دیدیے اور اُس سے پوچھا روپے کے کتنے سیر اُس نے کہادس سیر مشتری (6)خاموش ہوگیا یعنی وہ نرخ منظور کرلیا پھر اُس سے گیہوں طلب کیے بائع نے کہا کل دوں گا مشتری چلاگیا دوسرے دن گیہوں لینے آیاتو نرخ تیز ہوگیابائع (7)کو اُسی پہلے نرخ سے دینا ہوگا۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ۲۸: بیع تعاطی میں یہ ضرور ہے کہ لین دَین کے و قت اپنی ناراضی ظاہر نہ کرتا ہواور اگر ناراضی کا اظہار کرتا ہو
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،ج۲،ص۲۳.
2 ۔عمدہ اورگھٹیا ،اچھی اور خراب۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،ج۲،ص۲۳،وغیرھ.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،مطلب:البیع بالتعاطی،ج۷،ص۲۶.
5 ۔گندم۔ 6 ۔خریدنے والا۔ 7 ۔ بیچنے والے۔
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،مطلب:البیع بالتعاطی،ج۷،ص۲۶.
توبیع منعقد نہیں ہوگی مثلاً خربزہ، تربزلے رہا ہے بائع کو پیسے دیدیے مگر بائع کہتا جاتا ہے کہ اتنے میں نہیں دونگاتو بیع نہ ہوئی اگرچہ بازار والوں کی عادت معلوم ہے کہ اُن کو دینا نہیں ہوتا تو پیسے پھینک دیتے ہیں یا چیز چھین لیتے ہیں۔اور ایسا نہ کریں تودل سے راضی ہیں خالی مونھ سے مشتری کو خوش کرنے کے لیے کہتے جاتے ہیں کہ نہیں دوں گا نہیں دوں گااس عادت معلوم ہونے کی صورت میں بھی اگر صراحۃًناراضی موجود ہو تو بیع درست نہیں۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ۲۹: ایک بوجھ ایک روپیہ کو خریدا پھر بائع سے یہ کہا کہ اسی دام کا ایک بوجھ یہاں اور لاکر ڈالدو اُس نے لاکر ڈالدیا تو اس دوسرے کی بھی بیع ہوگئی مشتری لینے سے انکار نہیں کرسکتا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ۳۰: قصاب سے کہا روپیہ کے تین سیر کے حساب سے اتنے کا گوشْت تول دو یا اس جگہ کا پہلو یاران یا سینہ کا گوشت دو اُس نے تول دیا تو اب لینے سے انکار نہیں کرسکتا۔ (3)(فتح القدیر)
مسئلہ۳۱: خربزوں کا ٹوکرا لایا جس میں بڑے چھوٹے ہرقسم کے پھل ہیں مالک سے مشتری نے پوچھا کہ یہ خربزے کس حساب سے ہیں اُس نے روپیہ کے دس بتائے مشتری نے دس پھل چھانٹ کر بائع کے سامنے نکال لیے یا بائع نے مشتری کے لیے نکال دیے اور مشتری نے لے لیے، بیع ہوگئی۔(4) (فتح القدیر)
مسئلہ۳۲: دوکاندار وں کے یہاں سے خرچ کے لیے چیزیں منگالی جاتی ہیں اور خرچ کر ڈالنے کے بعد ثمن کا حساب ہوتا ہے ایسا کرنا استحسا ناً جائز ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ۳۳: عقد میں جو چیز معین ہوتی ہے کہ جس کو دینا کہا اُسی کا دینا واجب ہے اس کو مبیع کہتے ہیں اور جو چیز معین نہ ہو وہ ثمن ہے۔(6)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،مطلب:البیع بالتعاطی،ج۷،ص۲۶.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی فیما یرجع الی انعقاد...إلخ،الفصل الأول،ج۳،ص۹.
3 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،ج۵،ص۴۶۰.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع ،ج۷،ص۲۶.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی فیما یرجع...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۲.
اشیا تین قسم پر ہیں: ایک وہ کہ ہمیشہ ثمن ہو، دوسری وہ کہ ہمیشہ مبیع ہو، تیسری وہ کہ کبھی ثمن ہو کبھی مبیع۔ جو ہمیشہ ثمن ہے، وہ روپیہ اور اشرفی ہے ان کے مقابل(1) میں کوئی چیز ہو ان کو بیچنا کہا جائے یا ان سے بیچنا کہا جائے ہر حال میں یہی ثمن ہیں۔ پیسے بھی ثمن ہیں کہ معین کرنے سے معین نہیں ہوتے مگران کی ثمنیت باطل ہوسکتی ہے(2)۔ جو ہمیشہ مبیع ہو ایسی چیز ہے کہ ذوات الامثال (3)سے نہ ہو یعنی ذوات القیم(4) سے ہو اور عددی متفاوت(5) کہ یہ ہمیشہ مبیع ہونگی مگر کپڑے کے تھان کا وصف بیان کردیا جائے اور اس کے لیے کوئی میعاد(6) مقرر کردی جائے تو ثمن بن سکتا ہے اس کے بدلے میں غلام وغیرہ کوئی معین چیز خریدسکتے ہیں۔تیسری قسم کہ کبھی ثمن اور کبھی مبیع ہو، وہ مکیل (ناپ کی چیز) و موزون (جو چیز تول کر بکتی ہے) اور عددی متقارب
(جو چیز گنتی سے بکتی ہے اور اس کے افراد کی قیمتوں میں تفاوت نہیں ہوتا) ان چیزوں کو اگر ثمن کے مقابل میں ذکر کیا تو مبیع ہیں اور اگر ان کے مقابل میں انھیں جیسی چیزیں ہیں یعنی مکیل و موزون و عددی متقارب تو اگر دونوں جانب کی چیزیں معین ہوں بیع جائز ہے اور دونوں چیزیں مبیع قرار پائیں گی اور اگرایک جانب معین ہواور دوسری جانب غیر معین مگر اس غیر معین کا وصف بیان کردیا ہے کہ اس قسم کی ہوگی اس صورت میں اگر معین کو مبیع اور غیر معین کو ثمن قرار دیا ہے تو بیع جائز ہے اور غیر معین کو تفرق سے پہلے (7)قبضہ کرنا ضروری ہے اور اگر غیر معین کو مبیع اور معین کو ثمن بنایا تو بیع ناجائز ہوگی اس صورت میں مبیع اور ثمن بنانے کا یہ مطلب ہے کہ جس کو بیچناکہاوہ مبیع ہے اور جس سے بیچنا کہا وہ ثمن ہے اور اگر دونوں غیر معین ہوں تو بیع ناجائز ہوگی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ۳۴: مبیع اگر منقولات(9) کی قسم سے ہے تو بائع کا اُس پر قبضہ ہونا ضرور ہے قبل قبضہ کے چیز بیچ دی بیع ناجائزہے۔ (10)(ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ۳۵: مبیع اور ثمن کی مقدار معلوم ہونا ضرور ہے اور ثمن کا وصف بھی معلوم ہونا ضرور ہے ہاں اگر ثمن کی طرف
1 ۔بدلے۔ 2 ۔یعنی بطورثمن ان کا چلن ختم ہو سکتا ہے۔
3 ۔وہ چیزیں جن کے ضائع کردینے سے تاوان میں ویسی ہی چیزیں واپس کرنا لازم ہوتاہے۔
4 ۔وہ چیزیں جن کے ضائع کردینے سے تاوان میں ان کی قیمت دینا لازم ہوتی ہے۔
5 ۔جوچیزیں گنتی سے بکتی ہیں اور ان کے چھوٹے بڑے ہونے کے لحاظ سے قیمتوں میں تفاوت ہوتاہے۔
6 ۔تاریخ،دن،وقت،مدت۔
7 ۔یعنی بیچنے والے اور خریدنے والے کے جدا ہونے سے پہلے۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی فیما یرجع...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۲.
9 ۔وہ چیزیں جوایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائی جاسکتی ہوں۔
10 ۔''الہدایۃ''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل:ومن اشتری شیئًا...إلخ،ج۲،ص۵۹،وغیرہ.
اشارہ کردیا جائے مثلاً اس روپیہ کے بدلے میں خریداتو نہ مقدار کے ذکر کی ضرورت ہے نہ وصف کے البتہ اگر وہ مال ربوی ہے(1)اور مقابلہ جنس کے ساتھ ہو مثلاً گیہوں کی اس ڈھیری کو بدلے میں اُس ڈھیری کے بیچا تو اگرچہ یہاں مبیع وثمن دونوں کی طرف اشارہ کیاجارہا ہے مگر پھر بھی مقدار کا معلوم ہونا ضرور ہے کیونکہ اگر دونوں مقداریں برابر نہ ہوں تو سود ہوگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ۳۶: بیع میں کبھی ثمن حال ہوتا ہے یعنی فورا ً دینا اور کبھی مؤجل یعنی اُس کی ادا کے لیے کوئی میعاد معین ذکر کردی جائے کیونکہ میعاد معین نہ ہوگی تو جھگڑا ہوگا۔ اصل یہ ہے کہ ثمن حال ہولہٰذا عقد میں اس کہنے کی ضرورت نہیں کہ ثمن حال ہے بلکہ عقد میں ثمن کے متعلق اگر کچھ نہ کہا جب بھی فوراً دینا واجب ہوگا اور ثمن مؤجل کے لیے یہ ضرور ہے کہ عقد ہی میں مؤجل ہونا ذکر کیاجائے۔(3) (درمختار)
مسئلہ۳۷: میعاد کے متعلق اختلاف ہوا بائع کہتا ہے میعاد تھی ہی نہیں اور مشتری میعاد ہونا بتاتا ہے تو گواہ مشتری کے معتبر ہیں اور قول بائع کا معتبر ہے اور اگر مقدار میعاد میں اختلاف ہواایک کم بتاتا ہے اور ایک زیادہ تو اُس کی بات مانی جائے گی جو کم بتاتا ہے اور گواہ یہاں بھی مشتری کے معتبرہیں۔ اور اگر ایک کہتاہے میعا دگزر چکی ہے اور ایک بتاتا ہے باقی ہے تو قول بھی مشتری ہی کا معتبر ہے اور دونوں گواہ پیش کریں تو گواہ بھی اُسی کے معتبر ہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ۳۸: مدیون(5) کے مرنے سے میعاد باطل ہوجاتی ہے اوردائن کے مرنے سے باطل نہیں ہوتی کیونکہ میعاد کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ تجارت وغیرہ کرکے اس زمانہ میں دین کی مقدار فراہم کریگااور ادا کر دے گااور جب وہ خود ہی نہ رہا میعاد ہونا فضول ہے، بلکہ جو کچھ ترکہ ہے وہ دَین ادا کرنے کے لیے متعین ہے، لہٰذا بیع مؤجل میں بائع کے مرنے سے اجل(6) باطل نہ ہوگی۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔وہ مال جس میں سود ہوسکتا ہے۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۴۶۔۴۸.
3 ۔المرجع السابق،ص۴۹. 4 ۔المرجع السابق،ص۵۰.
5 ۔مقروض۔ 6 ۔وقتِ مقرر،میعاد۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،مطلب:فی تأجیل الی اجل مجھول،ج۷،ص۵۱.
مسئلہ۳۹: عقد بیع میں ثمن ادا کرنے کی کوئی میعاد مذکور نہ تھی یعنی بیع حال تھی بعد عقد بائع نے مشتری کو ادائے ثمن کے لیے ایک میعاد معلوم مقرر کردی مثلاً پندرہ دن یا ایک مہینہ یا ایسی میعاد مقرر کی جس میں تھوڑی سی جہالت ہے مثلاً جب کھیت کٹے گا اُس وقت ثمن ادا کرنا تو اب ثمن مؤجل ہوگیا کہ جب تک میعاد پوری نہ ہو بائع کو ثمن کے مطالبہ کا حق نہیں اور اگر ایسی میعادمقرر کی ہوجس میں بہت زیادہ جہالت ہو(1) مثلاً جب آندھی چلے گی اُس وقت ثمن ادا کرنا تو یہ میعاد باطل ہے ثمن اب بھی غیر میعادی ہے۔ (2)(درمختار، ہدایہ)
مسئلہ۴۰: مبیع کا دام ایک ہزار مشتری پر ہے بائع نے کہدیا کہ ہر مہینے میں سور وپیہ دیدیا کرنا تو اس کی وجہ سے دین مؤجل نہ ہوگا(3)۔ کسی پر ہزار روپیہ دَین ہے اوردائن نے ادا کے لیے قسطیں مقرر کردی ہیں اور یہ بھی شرط کردی ہے کہ ایک قسط بھی وقت پر وصول نہ ہوئی تو باقی کل دین حال ہوجائے گا یعنی فوراًوصول کیا جائے گا اس قسم کی شرط صحیح ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ۴۱: میعاد اُس وقت سے شروع کی جائے گی جب کہ بائع نے مبیع مشتری کو دیدی اور اگر مثلاً ایک سال کی میعاد تھی مگر سال گزر گیا اور ابھی تک مبیع ہی نہیں دی ہے تو دینے کے بعد ایک سال کی میعاد ملے گی۔(5) (درمختار)
مسئلہ۴۲: کسی جگہ مختلف قسم کے روپے چلتے ہوں اور عاقِد(6)نے مطلق روپیہ کہا تووہ روپیہ مراد لیا جائے گا جو بیشتر اس شہر میں چلتا ہے یعنی جس کا رواج زیادہ ہے چاہے اُن سکّوں کی مالیت مختلف ہویا ایک ہو اور اگر ایک ہی قسم کا روپیہ چلتا ہے جب تو ظاہر ہے کہ وہی متعین ہے اور اگر چلَن یکساں ہے کسی کاکم اور کسی کا زیادہ نہیں اورمالیت برابر ہو تو بیع صحیح ہے اورمشتری کو اختیار ہے کہ جو چاہے دیدے مثلاً ایک روپیہ کی کوئی چیز خریدی تو ایک روپیہ یا دو اٹھنیاں یا چار چونیاں یا آٹھ دوانیاں جو چاہے دیدے اور مالیت میں اختلاف ہے جیسے حیدرآبادی روپے اور چہرہ دار کہ دونوں کی مالیت میں اختلاف رہتا ہے اگر کسی جگہ دونوں
1 ۔یعنی مقرر کردہ مدت کاوقت خاص معلوم نہ ہو۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۵۱.
و''الھدایۃ''،کتاب البیوع،کیفیۃ انعقاد البیع،ج۲،ص۲۴.
3 ۔یعنی دین میعادی نہ ہوگا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۵۲.
5 ۔المرجع السابق،ص۵۶.
6 ۔ خرید وفروخت کرنے والے۔
کا یکساں چلن ہو تو بیع فاسد ہوجائیگی۔ (1)(درمختار، ہدایہ، فتح)
مسئلہ۴۳: اگر سکّے مختلف مالیت کے ہوں اور چلن(2) یکساں ہے اور مطلق روپیہ عقد میں بولا مگر ابھی مجلس باقی ہے کہ ایک نے متعین کردیا کہ فلاں روپیہ اور دوسرے نے منظور کرلیا تو عقد صحیح ہے۔(3) (فتح القدیر)
مسئلہ۴۴: گیہوں اورجو اور ہرقسم کے غلہ کی بیع تول سے بھی ہوسکتی ہے اورماپ کے ساتھ بھی مثلاً ایک روپیہ کا اتنے صاع اور اٹکل اور تخمینہ(4)سے بھی خریدے جاسکتے ہیں مثلاً یہ ڈھیر ی ایک روپیہ کو اگر چہ یہ معلوم نہیں کہ اس ڈھیری میں کتنے سیر ہیں مگر تخمینہ سے اُسی وقت خریدے جاسکتے ہیں جبکہ غیر جنس کے ساتھ بیع ہو مثلاً روپیہ سے یا گیہوں کو جوسے یاکسی اور دوسرے غلہ سے اور اگر اُسی جنس سے بیع کریں مثلاً گیہوں کو گیہوں سے خریدیں تو تخمینہ سے بیع نہیں ہوسکتی کیونکہ اگر کم وبیش ہوئے تو سود ہوگا۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ۴۵: جنس کو جنس کے ساتھ تخمیناً بیع کیا اگر اُسی مجلس میں معلوم ہوگیا کہ دونوں برابر ہیں تو بیع جائز ہوگئی۔ یوہیں اگر دونوں میں کمی بیشی کا احتمال نہیں مگر یہ معلوم نہیں کہ ان کی مقدار کیا ہے جب بھی بیع جائز ہے اس صورت میں تخمینہ کا صرف اتنا مطلب ہے کہ دونوں کا وزن معلوم نہیں۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ۴۶: جنس کے ساتھ تخمیناًبیع کی گئی مگر نصف صاع سے کم کی کمی بیشی ہے تو بیع جائز ہے کہ نصف صاع سے کم میں سود نہیں ہوتا(7) ۔(8) (درمختار)
مسئلہ۴۷: ایک برتن ہے جس کی مقدار معلوم نہیں کہ اس میں کتنا غلہ آتاہے یا پتھر ہے معلوم نہیں کہ اس کا وزن
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع ،ج۷،ص۵۶.
و''الھدایۃ''،کتاب البیوع،کیفیۃ انعقاد البیع،ج۲،ص۲۴.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،ج۵،ص۴۶۹.
2 ۔رواج ۔
3 ۔ ''فتح القدیر''،کتاب البیوع،ج۵،ص۴۶۹.
4 ۔ اندازے۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،کیفیۃ انعقاد البیع،ج۲،ص۲۴.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،مطلب:مھم فی حکم الشر ع بالقروش فی زماننا،ج۷،ص۵۰۔۶۰.
7 ۔صاحب فتح القدیرفرماتے ہیں ''والصحیح ثبوت الربا...إلخ'' ترجمہ:۔''صحیح یہ ہے کہ سودہے،کیونکہ جب حرمت کی وجہ لوگوں کامال محفوظ رکھناہے تواس لحاظ سے واجب ہے کہ دوسیب کے بدلے ایک سیب اورایک لپ کے بدلے دولپ کابیچنا حرام
ہو'' (فتح القدیر،ج۶،ص۱۵۲،انظرالفتاوی الرضویۃ،ج۱۷،ص۴۲۳) ۔...عِلْمِیہ
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۶۰.
کیاہے ان کے ساتھ بیع کرنا جائز ہے مثلاً اس برتن سے چار برتن گیہوں(1)ایک روپیہ میں یا اس پتھر سے فلاں چیز ایک روپیہ کی اتنی مرتبہ تولی جائے گی مگر شرط یہ ہے کہ ناپ تول میں زیادہ زمانہ گزرنے نہ دیں کیونکہ زیادہ زمانہ گزرنے میں ممکن ہے کہ برتن جاتا رہے پتھر گم جائے پھر کس چیز سے ناپیں تولیں گے اور یہ برتن سمٹنے اور پھیلنے والا نہ ہو، لکڑی یا لوہے یا پتھر کا ہو اور اگر سمٹنے پھیلنے والا ہو تو بیع جائز نہیں جیسے زنبیل۔(2) البتہ پانی کی مَشک اگرچہ سمٹنے پھیلنے والی چیز ہے مگر عرف و تعامل اس کی بیع پر جاری ہے، یہ بیع جائز ہے۔(3) (ہدایہ، درمختار، فتح القدیر)
مسئلہ۴۸: غلہ کی ایک ڈھیری اس طرح بیع کی کہ اس میں کا ہر ایک صاع ایک روپیہ کوتو صرف ایک صاع کی بیع درست ہوگی اور اس میں بھی مشتری کو اختیار ہوگا کہ لے یانہ لے ہاں اگر اُسی مجلس میں وہ ساری ڈھیری ناپ دی یا بائع نے ظاہر کردیا اور بتادیا کہ اس ڈھیری میں اتنے صاع ہیں تو پوری ڈھیری کی بیع درست ہوجائے گی اوراگر عقد سے پہلے یا عقدمیں صاع کی تعداد بتادی ہے تو مشتری کو اختیار نہیں اور بعد میں ظاہر کی ہے تو ہے۔ یہ قول امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کاہے اور صاحبین(4) کا قول یہ ہے کہ مجلس کے بعد بھی اگر صاع کی تعداد معلوم ہوگئی بیع صحیح ہے اور اسی قول صاحبین پر آسانی کے لیے فتویٰ دیاجاتا ہے۔(5) (ہدایہ، فتح، درمختار)
مسئلہ۴۹: بکریوں کاگلہ(6) خریدا کہ اس میں کی ہر بکری ایک روپیہ کو یا کپڑے کا تھان خریدا کہ ہر ایک گز ایک روپیہ کو یا اسی طرح کوئی اور عددی متفاوت خریدااور معلوم نہیں کہ گلہ میں کتنی بکریاں ہیں اور تھان میں کتنے گز کپڑا ہے مگر بعد میں معلوم ہوگیا تو صاحبین کے نزدیک بیع جائز ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔(7) (درمختار)
1 ۔گندم۔ 2 ۔ کھجور کے پتوں سے بناٹوکرا۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،کیفیۃ انعقاد البیع،ج۲،ص۲۴.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۶۰.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،ج۵،ص۴۷۱.
4 ۔یعنی امام ابو یوسف اورامام محمد رحمہمااللہ تعالیٰ۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،کیفیۃ انعقاد البیع،ج۲،ص۲۴.
و ''فتح القدیر''، کتاب البیوع ،ج۵،ص۴۷۲.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۶۱.
6 ۔ریوڑ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۶۳.
مسئلہ۵۰: غلہ کی ڈھیری خریدی کہ مثلاًیہ سو۱۰۰ من ہے اور اس کی قیمت سو روپیہ بعد میں اُسے تولا اگر پوراسو۱۰۰ من ہے جب تو بالکل ٹھیک ہے اور اگر سومن سے زیادہ ہے تو جتنا زیادہ ہے بائع کاہے اور اگر سومن سے کم ہے تو مشتری(1) کو اختیار ہے کہ جتنا کم ہے اُس کی قیمت کم کرکے باقی لے لے یا کچھ نہ لے۔ یہی حکم ہر اُس چیز کا ہے جوماپ اورتول سے بکتی ہے۔ البتہ اگروہ اُس قسم کی چیز ہو کہ اُس کے ٹکڑے کرنے میں نقصان ہوتا ہواورجو وزن بتایاہے اُس سے زیادہ نکلی تو کل مشتری ہی کو ملے گی اور اس زیادتی کے مقابل میں مشتری کو کچھ دینا نہیں پڑے گاکہ وزن ایسی چیزوں میں وصف ہوتا ہے اور وصف کے مقابل میں ثمن کا حصہ نہیں ہوتا مثلاً ایک موتی یا یاقوت خریدا کہ یہ ایک ماشہ(2)ہے اور نکلا ایک ماشہ سے کچھ زیادہ تو جو ثمن مقرر ہوا ہے وہ دے کرمشتری لے لے۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۵۱: تھان خریدا کہ مثلاً یہ دس گز ہے اور اس کی قیمت دس روپیہ ہے اگر یہ تھان اُس سے کم نکلا جتنا بائع نے بتایا ہے تومشتری کو اختیار ہے کہ پورے دام میں لے یا بالکل نہ لے یہ نہیں ہوسکتا کہ جتنا کم ہے اُس کی قیمت کم کردی جائے اور اگر تھان اُس سے زیادہ نکلا جتنا بتایاہے تو یہ زیادتی بلاقیمت مشتری کی ہے بائع کو کچھ اختیار نہیں نہ وہ زیادتی لے سکتا ہے نہ اُس کی قیمت لے سکتا ہے نہ بیع کو فسخ کرسکتا ہے۔ یوہیں اگر زمین خریدی کہ یہ سو۱۰۰ گز ہے اور اس کی قیمت سو۱۰۰ روپے ہے اورکم یا زیادہ نکلی توبیع صحیح ہے اور سو ۱۰۰ ہی روپے دینے ہونگے مگر کمی کی صورت میں مشتری کو اختیار حاصل ہے کہ لے یا چھوڑدے۔(4) (ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ۵۲: یہ کہہ کر تھان خریدا کہ دس گز کا ہے دس روپے میں اور یہ کہدیا کہ فی گز ایک روپیہ اب نکلا کم تو جتناکم ہے اُس کی قیمت کم کردے اور مشتری کو یہ اختیار ہے کہ نہ لے اور اگر زیادہ نکلا، مثلاً گیارہ یا بارہ گز ہے تو اس زیادہ کا روپیہ یہ دے ،یا بیع کو فسخ(5) کر دے۔ (6)(ہدایہ وغیرہ) یہ حکم اُس تھان کا ہے جو پورا ایک طرح کا نہیں ہوتا جیسے چِکَن(7)، گلبدن(8) اور اگر ایک طرح کا ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بائع اُس زیادتی کو پھاڑ کردس ۱۰ گز مشتری کو دیدے۔
مسئلہ۵۳: کسی مکان یا حمام کے سوگز میں سے دس گز خریدے تو بیع فاسد ہے اور اگر یوں کہتا کہ سوسہام(9) میں
1 ۔ خریدار۔ 2 ۔آٹھ رتی کا وزن۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،مطلب:الضابط فی کل...إلخ،ج۷،ص۶۶۔۶۷.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،کیفیۃانعقاد البیع،ج۲،ص۲۵،وغیرہ.
5 ۔باطل ،ختم۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،کیفیۃانعقاد البیع،ج۲،ص۲۶،وغیرہ.
7 ۔ایسا کپڑا جس پرکشیدہ کاری یابیل بوٹے کا کام کیا ہواہو۔
8 ۔ایک قسم کا دھاری داراور پھول دار ریشمی اور سوتی کپڑا۔ 9 ۔ سوحصوں۔
سے دس سہام خریدے تو بیع صحیح ہوتی اور پہلی صورت میں اگر اُسی مجلس میں وہ دس گز زمین معین کردی جائے کہ مثلاً یہ دس گز تو بیع صحیح ہو جائے گی۔ (1)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ۵۴: کپڑے کی ایک گٹھری خریدی اس شرط پر کہ اس میں دس تھان ہیں مگر نکلے نو تھان یا گیارہ، تو بیع فاسد ہوگئی کہ کمی کی صورت میں ثمن مجہول ہے اور زیادتی کی صورت میں مبیع مجہول ہے اور اگر ہرایک تھان کا ثمن بیان کردیا تھا تو کمی کی صورت میں بیع جائز ہوگی کہ نوتھان کی قیمت دے کر لے لے مگر مشتری کو اختیار ہوگا کہ بیع کو فسخ کردے اور اگر گیارہ تھان نکلے تو بیع ناجائز ہے کہ مبیع مجہول ہے اُن میں سے ایک تھان کونسا کم کیاجائیگا۔(2) (ہدایہ)
مسئلہ۵۵: تھانوں کی ایک گٹھری خریدی اور ایک غیر معین تھان کا استثنا کردیا یا بکریوں کا ایک ریوڑ خریدا اور ایک بکری غیرمعین کااستثنا کیا تو بیع فاسد ہوگئی کہ معلوم نہیں وہ مستثنے کون ہے اور اس سے لازم آیا کہ مبیع مجہول ہوجائے اور اگر معین تھان یا بکری کا استثنا ہوتا تو بیع جائز ہوتی کہ مبیع میں کسی قسم کی جہالت پیدا نہ ہوتی۔ (3)(درمختار)
مسئلہ۵۶: تھان خریدا کہ دس گز ہے فی گز ایک روپیہ اور وہ ساڑھے دس گز نکلا تو دس روپے میں لینا پڑیگا اور ساڑھے نو گز نکلا تو مشتری کو اختیار ہے کہ نو روپے میں لے یا نہ لے۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ۵۷: ایک زمین خریدی کہ اس میں اتنے پھل دار درخت ہیں مگر ایک درخت ایسا نکلا جس میں پھل نہیں آتے تو بیع فاسد ہو ئی اور اگر زمین خریدی کہ اس میں اتنے درخت ہیں اور کم نکلے تو بیع جائز ہے مگر مشتری کو اختیار ہے کہ چاہے پورے ثمن پر لے لے اور چاہے نہ لے یوہیں اگر مکان خریدا کہ اس میں اتنے کمرے یا کوٹھریاں ہیں اور کم نکلیں تو بیع جائز ہے مگر مشتری کو اختیار ہے۔(5) (درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ۵۸: کوئی مکان خریدا تو جتنے کمرے کو ٹھریاں ہیں سب بیع میں داخل ہیں یو ہیں جو چیز مبیع کے ساتھ متصل ہو
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،کیفیۃ انعقاد البیع،ج۲،ص۲۵.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۷۰.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،کیفیۃانعقاد البیع،ج۲،ص۲۶.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۷۱.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،کیفیۃانعقاد البیع،ج۲،ص۲۶.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،مطلب:المعتبرمماوقع علیہ العقد وان ظن البائع والمشتری،ج۷،ص۷۱.
اور اس کا اتصال اتصال قرار ہو یعنی اس کی وضع اس لیے نہیں ہے کہ جدا کر لی جائے گی تو یہ بھی بیع میں داخل ہوگی مثلاً مکان کا زینہ(1) یا لکڑی کا زینہ جو مکان کے ساتھ متصل ہو کیواڑ(2) اور چوکھٹ اور کنڈی اور وہ قفل(3) جو کیواڑ میں متصل ہوتا ہے اوراس کی کنجی۔دوکان کے سامنے جو تختے لگے ہوتے ہیں یہ سب بیع میں داخل ہیں اور وہ قفل جو کیواڑ سے متصل نہیں بلکہ الگ رہتا ہے جیسے عام طور پر تالے ہوتے ہیں یہ بیع میں داخل نہیں بلکہ یہ بائع لے لے گا۔(4) (درمختار، فتح القدیر)
مسئلہ۵۹: زمین بیچ ڈالی تو اس میں چھوٹے بڑے پھلدار اور بے پھل جتنے درخت ہیں سب بیع میں داخل ہیں مگر سوکھادرخت جو ابھی تک زمین سے اُکھڑا نہیں ہے وہ داخل نہیں کہ یہ گویالکڑی ہے جو زمین پر رکھی ہے۔ لہٰذا آم وغیرہ کے پودے جو زمین میں ہوتے ہیں کہ برسات میں یہاں سے کھود کر دوسری جگہ لگائے جاتے ہیں یہ بھی داخل ہیں۔(5) (فتح القدیر)
مسئلہ۶۰: مکان بیچا تو چکی بیع میں داخل نہ ہوگی اگرچہ نیچے کا پاٹ زمین میں جڑا ہواور ڈول رسّی بھی داخل نہیں اور کوئیں پر پانی بھرنے کی چرخی اگر متصل ہو تو داخل ہے اور اگر رسّی سے بندھی ہو یا دونوں بازؤں میں حلقہ بنا ہے کہ پانی بھرنے کے وقت چرخی لگادیتے ہیں پھر الگ کر دیتے ہیں تو ان دونوں صورتوں میں داخل نہیں۔ (6)(درمختار، ردالمحتار، فتح القدیر)
مسئلہ۶۱: حمام بیچا تو پانی گرم کرنے کی دیگ جو زمین سے متّصل ہے یا اتنی بڑی اور بھاری ہے جو ادھر اُدھر منتقل نہیں ہو سکتی بیع میں داخل ہے اور چھوٹی دیگ جو متّصل نہیں بیع میں داخل نہیں۔دھوبی کی دیگ جس میں بھٹّی چڑھاتا ہے اور رنگریز کے مٹکے وغیرہ جس میں رنگ طیار کرتا ہے یہ سب اگر متصل ہوں تو داخل ہیں ورنہ نہیں یوہیں دھوبی کا پاٹا۔(7) (ردالمحتار)
مسئلہ۶۲: گدھے والے سے گدھا خریدا تو اس کا پالان (8)بیع میں داخل ہے اور اگر تاجر سے خریدا تو نہیں اور اس کے گلے میں ہار وغیرہ پڑا ہے تو وہ بیع میں مطلقاً داخل ہے۔ (9)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ سیڑھی۔ 2 ۔دروازہ ، کھڑکی وغیرہ کو بند کرنے یاکھولنے کاپٹ۔ 3 ۔تالا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،فصل فیما ید خل فی البیع تبعاً...إلخ،ج۷،ص۷۴.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،ج۵،ص۴۹۵.
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،ج۵،ص۴۸۵.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما ید خل فی البیع تبعاً...إلخ،ج۷،ص۷۶.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع ،فصل لما ذکر ماینعقد...إلخ،ج۵،ص۴۸۳.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما ید خل فی البیع تبعاً...إلخ،ج۷،ص۷۷.
8 ۔وہ کپڑا جوگدھے کی پشت پر ڈالا جاتا ہے۔
9 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما ید خل فی البیع تبعاً...إلخ،ج۷،ص۷۷.
مسئلہ۶۳: گائے یا بھینس خریدی تو اس کا چھوٹا بچہ جو دودھ پیتا ہے بیع میں داخل ہے اگر چہ ذکر نہ کیا ہو اور گدھی خریدی تو اُس کا دودھ پیتا بچہ بیع میں داخل نہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ۶۴: لونڈی غلام بیچے تو جو کپڑے عرف کے موافق پہنے ہوئے ہیں بیع میں داخل ہیں اور اگر ان کپڑوں کو نہ دینا چاہے تو ان کے مثل دوسرے کپڑے دے یہ بھی ہو سکتا ہے اور اگر کپڑے نہ پہنے ہوں تو بائع پر بقدر سترِ عورت کپڑا دینا لازم ہوگا اور لونڈی زیور پہنے ہوئے ہو تو یہ بیع میں داخل نہیں، ہاں اگر بائع نے زیور سمیت مشتری کو دیدی یا مشتری نے زیور کے ساتھ قبضہ کیااور بائع چپ رہا کچھ نہ بولا تو زیور بھی بیع میں داخل ہوگئے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ۶۵: گھوڑا یا اونٹ بیچا تو لگام اور نکیل بیع میں داخل ہے یعنی اگر چہ بیع میں مذکور نہ ہوں بائع ا ن کو دینے سے انکار نہیں کر سکتااور زین یا کاٹھی بیع میں داخل نہیں۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ۶۶: گھوڑی یا گدھی یا گائے بکری کے ساتھ بچہ بھی ہے اگر بچہ کو بازار میں لے گیاہے جبکہ اُس کی ماں کو بیچنے کے لیے لے گیا ہے تو بچہ بھی عرفاً بیع میں داخل ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ۶۷: مچھلی خریدی اور اس کے شکم میں موتی نکلا اگر یہ موتی سیپ(5) میں ہے تو مشتری کا ہے اور اگر بغیر سیپ کے خالی موتی ہے تو بائع نے اگر اس مچھلی کا شکار کیا ہے تو اسے واپس کرے اور بائع کے پاس یہ موتی بطور لقطہ(6)امانت رہے گا کہ تشہیر کرے(7) اگر مالک کا پتہ نہ چلے خیرات کردے اور مرغی کے پیٹ میں موتی ملا تو بائع کو واپس کرے۔(8) (خانیہ، عالمگیری)
مسئلہ۶۸: جو چیز بیع میں تبعاً(9) داخل ہو جاتی ہے اس کے مقابل میں ثمن کا کوئی حصہ نہیں ہوتایعنی وہ چیز ضائع
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،فصل فیما ید خل فی البیع تبعاً...إلخ،ج۷،ص۷۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الخامس فیما یدخل تحت البیع...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۳۸.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔دریا میں پائی جانے والی سیپی جس میں موتی ہوتاہے۔ 6 ۔گری پڑی چیز کی طرح۔ 7 ۔ اعلان کرے۔
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیوع،فصل فیما ید خل فی بیع المنقول من غیرذکر،ج۱،ص۳۹۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الخامس فیما یدخل تحت البیع...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۳۸.
9 ۔ ضمناً۔
ہوجائے تو ثمن میں کمی نہ ہوگی مشتری کو پورے ثمن کے ساتھ لینا ہوگا۔(1)
مسئلہ۶۹: زمین بیع کی اور اُس میں کھیتی ہے تو زراعت بائع کی ہے البتہ اگر مشتری شرط کرلے یعنی مع زراعت کے لے تو مشتری کی ہے اسی طرح اگر درخت بیچا جس میں پھل مو جود ہیں تو یہ پھل بائع کے ہیں مگر جبکہ مشتری اپنے لیے شرط کرلے۔ یوہیں چمیلی(2)، گلاب، جوہی(3)وغیرہ کے درخت خریدے تو پھول بائع کے ہیں مگر جبکہ مشتری شرط کرلے۔(4) (ہدایہ، فتح القدیر)
مسئلہ۷۰: زراعت والی زمین یا پھل والا درخت خریدا تو بائع کو یہ حق حاصل نہیں کہ جب تک چاہے زراعت رہنے دے یا پھل نہ توڑے بلکہ اُس سے کہا جائے گا کہ زراعت کاٹ لے اور پھل توڑلے اور زمین یا درخت مشتری کو سپرد کردے کیونکہ اب وہ مشتری کی مِلک ہے اور دوسرے کی مِلک کو مشغول رکھنے کا اسے حق نہیں، البتہ اگر مشتری نے ثمن ادا نہ کیا ہو تو بائع پر تسلیمِ مبیع واجب نہیں۔ (5)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ۷۱: کھیت کی زمین بیع کی جس میں زراعت ہے اور بائع یہ چاہتا ہے کہ جب تک زراعت طیار نہ ہوکھیت ہی میں رہے طیارہونے پر کاٹی جائے اور اتنے زمانہ تک کی اجرت دینے کوکہتاہے اگر مشتری راضی ہو جائے تو ایسا بھی کرسکتا ہے بغیر رِضامندی نہیں کرسکتا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ۷۲: کاٹنے کے لیے درخت خریدا ہے تو عادۃً درخت خریدنے والے جہاں تک جڑ کھود کر نکالا کرتے ہیں یہ بھی جڑ کھود کر نکالے گا مگر جبکہ بائع نے یہ شرط کردی ہوکہ زمین کے اوپر سے کاٹنا ہوگا جڑ کھودنے کی اجازت نہیں تو اس صورت میں زمین کے اوپر ہی سے درخت کاٹ سکتا ہے یا شرط نہیں کی ہے مگر جڑ کھودنے میں بائع کا نقصان ہے مثلاً وہ درخت دیوار یاکوئیں کے قرب میں ہے جڑ کھودنے میں دیوار گر جانے یا کوآں منہدم ہوجا نے(7) کا اندیشہ ہے تو اس حالت میں بھی زمین کے اوپر سے ہی کاٹ سکتا ہے پھر اگر اُس جڑ میں دوسرا درخت پیدا ہو تو یہ درخت بائع کا ہوگا ہاں اگر درخت کا کچھ حصہ زمین کے اوپر چھوڑ
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیمایدخل فی البیع...إلخ،مطلب:کل مادخل...إلخ،ج۷،ص۸۰.
2 ۔ایک مشہور خوشبودار پھول ،چنبیلی ۔ 3 ۔چنبیلی جیسے خوشبودار پھول جو اس سے ذراچھوٹے ہوتے ہیں۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،فصل من باع دارًا دخل بناء ھا...إلخ،ج۲،ص۲۶.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،فصل لما ذکر ماینعقد بہ البیع...إلخ،ج۵،ص۴۸۶.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،فصل من باع دارًا دخل بناء ھا...إلخ،ج۲،ص۲۷.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،فصل فیمایدخل فی البیع تبعاً...إلخ،ج۷،ص۸۴.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،فصل فیمایدخل فی البیع تبعاً...إلخ،ج۷،ص۸۴.
7 ۔گرجانے۔
دیا ہے۔اور اس میں شاخیں نکلیں تو یہ شاخیں مشتری کی ہیں۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ۷۳: کاٹنے کے لیے درخت خریداہے اس کے نیچے کی ز مین بیع میں داخل نہیں اورباقی رکھنے کے لیے خریداہے توزمین بیع میں داخل ہے اوراگربیع کے وقت نہ یہ ظاہرکیاکہ کاٹنے کے لیے خریدتاہے نہ یہ کہ باقی رکھنے کے لیے خریدتاہے توبھی نیچے(2) کی زمین بیع میں داخل ہے(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۴: درخت اگرکاٹنے کی غرض سے خریداہے تومشتری کوحکم دیاجائے گاکہ کاٹ لے جائے چھوڑرکھنے کی اجازت نہیں اور اگر باقی رکھنے کے لیے خریداہے توکاٹنے کاحکم نہیں دیاجاسکتااورکاٹ بھی لے تواس کی جگہ پردوسرادرخت لگاسکتاہے بائع کوروکنے کاحق حاصل نہیں کیونکہ زمین کااتناحصہ اس صورت میں مشتری کاہوچکا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ۷۵: جڑ سمیت درخت خریدا اور اُس کی جڑمیں سے اور درخت اوگے اگر ایسا ہے کہ پہلا درخت کاٹ لیا جائے تو یہ درخت سوکھ جائیں گے تو یہ بھی مشتری کے ہیں کہ اُسی کے درخت سے اوگے ہیں ورنہ بائع کے ہیں مشتری کو ان سے تعلق نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۶: زراعت طیار ہونے سے قبل بیچ دی اس شرط پر کہ جب تک طیار نہ ہوگی کھیت میں رہے گی یاکھیت کی زمین بیچ ڈالی اور اُس میں زراعت موجود ہے اور شرط یہ کی کہ جب تک طیار نہ ہوگی کھیت میں رہے گی یہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۷: زمین بیع کی تو وہ چیزیں جو زمین میں باقی رکھنے کی غرض سے ہیں جیسے درخت اور مکانات یہ بیع میں داخل ہیں اگرچہ ان کو بیع میں ذکر نہ کیا ہواور یہ بھی نہ کہا ہوکہ جمیع حقوق ومرافق(7)کے ساتھ خریدتا ہوں البتہ اُس زمین میں سوکھا ہو ا درخت ہے تو اس طرح کی بیع میں داخل نہیں اورجو چیزیں باقی رکھنے کے لیے نہ ہوں جیسے بانس، نرکل (8)،گھاس یہ بیع میں داخل نہیں مگر جبکہ بیع میں ان کا ذکر کردیا جائے۔(9) (عالمگیری)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:فی بیع الثمر والزرع...إلخ،ج۷،ص۸۵.
2 ۔اس سے یہ مراد نہیں کہ جہاں تک درخت کی شاخیں پھیلی ہوں اور نہ یہ کہ جہاں تک جڑیں پہنچی ہوں بلکہ بیع کے وقت درخت کی جتنی موٹائی ہے اتنی زمین بیع میں داخل ہے یہاں تک کہ بیع کے بعد درخت جتنا تھا اُس سے زیادہ موٹا ہوگیا تو بائع کو اختیار ہے کہ درخت چھیل کر اُتنا ہی کردے جتنا بیع کے وقت تھا(علمگیری)۱۲منہ (''الفتاوی الھندیۃ''،ج۳،ص۳۵،۳۶.)
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:فی بیع الثمر والزرع...إلخ،ج۷،ص۸۵.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الخامس فیمایدخل تحت البیع...إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۳۵،۳۶.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:فی بیع الثمر والزرع...إلخ،ج۷،ص۸۵.
7 ۔یعنی زمین سے متعلق تمام مفید چیزوں مثلاً رستہ ،نالی، پانی وغیرہ۔ 8 ۔سرکنڈا۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الخامس فیمایدخل تحت البیع...إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۳۵،۳۶.
مسئلہ ۷۸: چھوٹا سا درخت خریدا تھا اور بائع کی اجازت سے زمین میں لگا رہاکاٹانہ گیا اب وہ بڑاہوگیا تووہ پورادرخت مشتری کا ہے اوربائع اگرچہ اجازت دے چکا ہے مگر اُس کو یہ اختیار ہے کہ مشتری سے جب چاہے کہہ سکتا ہے کہ اسے کاٹ لے جائے اور اب مشتری کو رکھنا جائز نہ ہوگا اور اگر بغیر اجازت بائع، مشتری نے چھوڑرکھا ہے اور اب اُس میں پھل آگئے تو پھلوں کو صدقہ کردینا واجب ہے(1) (خانیہ)
مسئلہ ۷۹: زمین ایک شخص کی ہے جس میں دوسرے شخص کے درخت ہیں مالک زمین نے باجازت مالکِ درخت زمین و درخت بیچ ڈالے اب اگر کسی آفت سماوی (2)سے درخت ضائع ہوگئے تو مشتری کو اختیار ہے کہ زمین نہ لے اور بیع فسخ کردی جائے(3) اور لے گا تو پوری قیمت جو زمین ودرخت دونوں کی تھی دینی ہوگی اور یہ پورا ثمن اس صورت میں مالک زمین ہی کو ملے گامالک درخت کو کچھ نہ ملے گا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۸۰: باغ کی بہار پھل آنے سے پہلے بیچ ڈالی(5) یہ ناجائز ہے۔ یوہیں اگر کچھ پھل آچکے ہیں کچھ باقی ہیں جب بھی نا جائز ہے جبکہ موجود و غیر موجود دونوں کی بیع مقصود ہواور اگر سب پھل آچکے ہیں تو یہ بیع درست ہے مگر مشتری کو یہ حکم ہوگا کہ ابھی پھل توڑ کر درخت خالی کردے اور اگر یہ شرط ہے کہ جب تک پھل طیارنہ ہوں گے درخت پر رہیں گے طیار ہوجانے کے بعد توڑے جائیں گے تو یہ شرط فاسد ہے اور بیع ناجائز اور اگر پھل آجانے کے بعد بیع ہوئی مگر ہنوز(6) مشتری کا قبضہ نہ ہواتھاکہ اور پھل پیدا ہوگئے بیع فاسد ہوگئی کہ اب مبیع وغیرمبیع میں امتیازباقی نہ رہا(7) اور قبضہ کے بعد دوسرے پھل پیدا ہوئے توبیع پر اس کا کوئی اثر نہیں مگر چونکہ یہ جدید پھل بائع کے ہیں اور امتیاز ہے نہیں لہٰذا بائع ومشتری دونوں شریک ہیں رہا یہ کہ کتنے پھل بائع کے ہیں اور کتنے مشتری کے اس میں مشتری حلف سے جوکچھ کہدے اُ س کا قول معتبر ہے۔ (8)(فتح القدیر، ردالمحتار)
مسئلہ۸۱: پھل خریدے نہ یہ شرط کی کہ ابھی توڑ لے گا اور نہ یہ کہ پکنے تک درخت پر رہیں گے اور بعد عقد بائع نے درخت پر چھوڑنے کی اجازت دیدی تو یہ جائز ہے۔ اور اب پھلوں میں جو کچھ زیادتی ہوگی وہ مشتری کے لیے حلال ہے بشرطیکہ درخت پر پھل چھوڑے رہنے کا عرف نہ ہو کیونکہ اگر عرف ہوچکا ہو جیسا کہ اس زمانہ میں عموماًہندوستان میں یہی ہوتا ہے کہ
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،ج۱،ص۳۸۸.
2 ۔قدرتی آفت جیسے جلنا،ڈوبنا وغیرہ۔ 3 ۔ بیع ختم کردی جائے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الخامس فیمایدخل تحت البیع...إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۳۵،۳۶.
5 ۔ یعنی پھول کھلے اور پھلوں کاسودا کر ڈالا ۔ 6 ۔ابھی تک ۔
7 ۔بیچے ہوئے اور نئے پیداہونے والے پھلوں میں پہچان باقی نہ رہی۔
8 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،فصل لماذکرماینعقدبہ البیع...إلخ،ج۵،ص۴۸۸.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:فی بیع الثمر والزرع...إلخ،ج۷،ص۸۶.
یہاں شرط نہ ہو جب بھی شرط ہی کا حکم ہوگا اور بیع فاسد ہوگی البتہ اگر تصریح(1) کردی جائے کہ فی الحال توڑ لینا ہوگا اور بعد میں مشتری کے لیے بائع نے اجازت دیدی تو یہ بیع فاسد نہ ہوگی۔ اور اگر بیع میں شرط ذکر نہ کی اور بائع نے درخت پر رہنے کی اجازت بھی نہ دی مگر مشتری نے پھل نہیں توڑے تو اگر بہ نسبت سابق پھل بڑے ہوگئے تو جو کچھ زیادتی ہوئی اسے صدقہ کرے یعنی بیع کے دن پھلوں کی جو قیمت تھی اُس قیمت پر آج کی قیمت میں جو کچھ اضافہ ہواوہ خیرات کرے مثلاً اُس روز دس روپے قیمت تھی اور آج ان کی قیمت بارہ روپے ہے تو دو روپے خیرات کردے اور اگر بیع ہی کے دن پھل اپنی پوری مقدار کو پہنچ چکے تھے، اُن کی مقدار اِس زمانہ میں کچھ نہیں بڑھی صرف اتنا ہوا کہ اُس وقت پکے ہوئے نہ تھے، اب پک گئے تو اس صورت میں صدقہ کرنے کی ضرورت نہیں البتہ اتنے دنوں بغیر اجازت اُ س کے درخت پر چھوڑے رہنے کا گناہ ہوا۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۲: پھل خریدے اور یہ خیال ہے کہ بیع کے بعد اور پھل پیدا ہوجائیں گے یا درخت پر پھل رہنے میں پھلوں میں زیادتی ہوگی جو بغیر اجازتِ بائع ناجائز ہوگی اور چاہتا ہے کہ کسی صورت سے جائز ہو جائے تو اس کا یہ حیلہ ہوسکتا ہے کہ مشتری ثمن ادا کرنے کے بعد بائع سے باغ یا درخت بٹائی پر لے لے اگرچہ بائع کا حصہ بہت قلیل قرار دے مثلاً جو کچھ اس میں ہوگا اُس میں نو سو ننانوے حصے مشتری کے اور ایک حصہ بائع کا تو اب جو نئے پھل پیدا ہوں گے یا جوکچھ زیادتی ہوگی بائع کا وہ ہزارواں حصہ دے کر مشتری کے لیے جائز ہوجائے گی مگر یہ حیلہ اُسی وقت ہوسکتا ہے کہ درخت یا باغ کسی یتیم کا نہ ہو نہ وقف ہو اور اگر بیگن، مرچیں، کھیرے، ککڑی وغیرہ خریدے ہوں اور ان کے درختوں یا بیلوں(3) میں آئے دن نئے پھل پیدا ہوں گے تو یہ کرے کہ وہ درخت یا بیلیں بھی مشتری خریدلے کہ اب جو نئے پھل پیدا ہوں گے مشتری کے ہونگے۔ اور زراعت پکنے سے قبل خریدی ہے تو یہ کرے کہ جتنے دنوں میں وہ طیار ہوگی اُس کی مدت مقرر کرکے زمین اجارہ پر لے لے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۸۳: جس چیز پر مستقلاً عقد وارد ہوسکتا ہے(5) اُس کا عقد سے استثنا صحیح ہے اور اگروہ چیز ایسی ہے کہ تنہا اُ س پر عقدوارد نہ ہو تو استثنا(6) صحیح نہیں یہ ایک قاعدہ ہے اس کی مثال سُنیے۔ غلہ کی ایک ڈھیری ہے اُس میں سے دس سیر یاکم و بیش
1 ۔وضاحت۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:فی بیع الثمروالزرع...إلخ،ج۷،ص۸۶.
3 ۔وہ پودے جن کی شاخیں زمین پر پھیلتی ہیں یا کسی سہارے سے اُوپر چڑھتی ہیں۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،ج۷،ص۸۵.
5 ۔یعنی تنہاخریدی یابیچی جاسکتی ہے۔ 6 ۔یعنی الگ کرنا۔
خریدسکتے ہیں اسی طرح علاوہ دس سیر کے پوری ڈھیری بھی خریدسکتے ہیں۔ بکریوں کے ریوڑمیں سے ایک بکری خرید سکتے ہیں اسی طرح ایک معین بکری کو مستثنے کر کے (1)سارا ریوڑ بھی خریدسکتے ہیں اورغیر معین بکری کو نہ خریدسکتے ہیں نہ اُس کا استثناکرسکتے ہیں۔ درخت پر پھل لگے ہوں اُن میں کا ایک محدود حصہ خریدسکتے ہیں اسی طرح اُس حصہ کا استثنا بھی ہوسکتا ہے مگر یہ ضرور ہے کہ جس کا استثنا کیاجائے وہ اتنا نہ ہوکہ اُس کے نکالنے کے بعدمبیع ہی ختم ہوجائے یعنی یہ یقینا معلوم ہوکہ استثنا کے بعدمبیع باقی رہے گی اور اگر شبہہ ہو تو درست نہیں۔باغ خریدا اُس میں سے ایک معین درخت کا استثنا کیا صحیح ہے۔ بکری کو بیچا اور اُس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اُس کا استثنا کیا یہ صحیح نہیں کہ اُس کو تنہا خریدنہیں سکتے۔ جانور کے سری ،پائے ،دُنبہ کی چکی (2) کا استثنا نہیں کیا جاسکتا نہ ان کو تنہاخریدا جاسکتا یعنی جانور کے جزو معین کا استثنا نہیں ہوسکتا اور استثنا کیا تو بیع فاسد ہے اور جزو شائع مثلاً نصف یا چوتھائی کو خریدبھی سکتے ہیں اور اس کا استثنا بھی کرسکتے ہیں اور اس تقدیر پروہ جانور دونوں میں مشترک ہوگا۔ (3) (عالمگیری ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۴: مکان توڑنے کے لیے خریدا تو اُس کی لکڑیوں یا اینٹوں کا استثنا صحیح ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۸۵: کنیز (5) کی کسی شخص کے لیے وصیّت کی اور اُس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اُس کا استثنا کیا یا پیٹ میں جو بچہ ہے اُس کی وصیّت کی اور لونڈی کا استثنا کیا، یہ استثنا صحیح ہے۔ لونڈی کو بیع کیا یا اُس کو مکاتبہ کیا یا اُجرت پر دیا یا مالک پر دَین(6) تھا، دَین کے بدلے میں لونڈی دیدی اور اِن سب صورتوں میں اُس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اُس کا استثنا کیا تو یہ سب عُقُود(7) فاسد ہوگئے اوراگر لونڈی کوہبہ کیا یا صدقہ کیااور قبضہ دلادیا اُس کو مہر میں دیا یا قتلِ عمدکیا تھا لونڈی دے کر صلح کرلی یا اُس کے بدلے میں خلع کیا یا آزادکیا اور ان سب صورتوں میں پیٹ کے بچہ کا استثنا کیا تویہ سب عقد جائز ہیں اور استثنا باطل۔ جانور کے پیٹ میں بچہ ہے اُسکا استثنا کیا جب بھی یہی احکام ہیں۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۶: مبیع کے ماپ یا تول یا گنتی کی اُجرت دینی پڑے تو وہ بائع کے ذمہ ہوگی کہ مانپنا، تولنا، گننا اُسکا کام ہے کہ مبیع کی تسلیم اسی طرح ہوتی ہے کہ مانپ تول کر مشتری کو دیتے ہیں اور ثمن کے تولنے یا گننے یا پرکھنے کی اُجرت دینی پڑے تویہ
1 ۔یعنی ریوڑمیں سے ایک مخصوس بکری کے علاوہ۔ 2 ۔دنبے کی چوڑی دُم ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ...إلخ،الفصل التا سع،ج۳،ص۱۳۰.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:فساد المتضمن...إلخ،ج۷،ص۹۰.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ...إلخ،الفصل التا سع،ج۳،ص۱۳۰.
5 ۔لونڈی۔ 6 ۔ قرض۔ 7 ۔یعنی یہ تمام معاملات۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ...إلخ،الفصل التا سع،ج۳،ص۱۳۰.
مشتری کے ذمہ ہے کہ پورا ثمن اور کھرے دام (1)دینا اسی کاکام ہے ہاں اگر بائع نے بغیر پرکھے ہوئے(2) ثمن پر قبضہ کرلیا اور کہتاہے کہ روپے اچھے نہیں ہیں واپس کرناچاہتا ہے تو بغیر پرکھے کیسے کہاجاسکتا ہے کہ کھوٹے ہیں واپس کیے جائیں اس صورت میں پرکھنے کی اُجرت بائع کو دینی ہوگی۔ دَین کے روپے پرکھنے کی اُجرت مدیون (3) کے ذمہ ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۸۷: درخت کے کل پھل ایک ثمن معین کے ساتھ تخمیناً(5) خرید لیے۔ یوہیں کھیت میں کے لہسن پیاز تخمینہ سے خریدے یا کشتی میں کا ساراغلہ وغیرہ تخمینہ سے خریدا تو پھل توڑنے، لہسن ،پیاز نکلوانے یا کشتی سے مبیع باہر لانے کی اُجرت مشتری کے ذمہ ہے یعنی جب کہ مشتری کو بائع نے کہہ دیاکہ تم پھل توڑ لے جاؤاور یہ چیزیں نکلوا لو۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۸: دلال(7) کی اُجرت یعنی دلالی بائع کے ذمہ ہے جب کہ اُس نے سامان مالک کی اجازت سے بیع کیا ہواور اگر دلال نے طرفین میں بیع کی کوشش کی ہواور بیع اس نے نہ کی ہوبلکہ مالک نے کی ہو تو جیسا وہاں کا عرف ہو یعنی اس صورت میں بھی اگر عرفاًبائع کے ذمّہ دلالی ہو تو بائع دے اور مشتری کے ذمہ ہو تو مشتری دے اور دونوں کے ذمہ ہو تو دونوں دیں۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۹: روپیہ اشرفی پیسہ سے بیع ہوئی اور مبیع وہاں حاضر ہے اور ثمن فوراًدینا ہو اور مشتری کو خیار شرط نہ ہو تو مشتری کو پہلے ثمن ادا کرنا ہوگا اُس کے بعد مبیع پرقبضہ کرسکتا ہے یعنی بائع کو یہ حق ہوگا کہ ثمن وصول کرنے کے لیے مبیع کوروک لے اور اُس پر قبضہ نہ دلائے بلکہ جب تک پورا ثمن وصول نہ کیا ہو مبیع کو روک سکتا ہے او راگر مبیع غائب ہو تو بائع جب تک مبیع کو حاضرنہ کردے ثمن کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ اور اگر بیع میں دونوں جانب سامان ہوں مثلاً کتاب کو کپڑے کے بدلے میں خریدا یا دونوں طرف ثمن ہوں مثلاً روپیہ یا اشرفی سے سونا چاندی خریداتو دونوں کو اُسی مجلس میں ایک ساتھ ادا کرنا ہوگا۔ (9)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۹۰: مشتری نے ابھی مبیع پر قبضہ نہیں کیا ہے کہ وہ مبیع بائع کے فعل سے ہلاک ہوگئی یا اُس مبیع نے خوداپنے کو
1 ۔خالص نقدی۔ 2 ۔بغیرشناخت کئے ۔ 3 ۔ قرض دار۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،ج۷،ص۹۳.
5 ۔اندازے سے۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:فساد المتضمن...إلخ،ج۷،ص۹۳.
7 ۔مال کمیشن پربیچنے والا،آڑھتی۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:فساد المتضمن...إلخ،ج۷،ص۹۳.
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،فصل من باع دارًادخل بناء ھا...إلخ،ج۲،ص۲۹.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،ج۷،ص۹۳.
ہلاک کردیا یاآفت سماوی سے ہلاک ہوگئی تو بیع باطل ہوگئی بائع نے ثمن پر قبضہ کرلیا ہے تو واپس کرے اور اگر مشتری کے فعل سے ہلاک ہوئی اور بیع مطلق ہویا مشتری کے لیے شرط خیارہو تو مشتری پر ثمن دینا واجب ہے۔ اور اگر اس صورت میں بائع کے لیے شرطِ خیار ہو یا بیع فاسدہو تو مشتری کے ذمہ ثمن نہیں بلکہ تاوان ہے یعنی اگروہ چیز مثلی(1)ہے تو اُس کی مثل دے اور قیمی(2)ہے تو قیمت دے اور اگر کسی اجنبی نے ہلاک کردی ہو تو مشتری کو اختیار ہے چاہے بیع کو فسخ کردے اور اس صورت میں ہلاک کرنے والا بائع کو تاوان دے اور مشتری چاہے تو بیع کو باقی رکھے اور بائع کو ثمن ادا کرے اور ہلاک کرنے والے سے تاوان لے اور وہ تاوان اگر جنسِ ثمن(3)سے نہ ہو تو اگرچہ ثمن سے زیادہ بھی ہو حلا ل ہے اور جنس ثمن سے ہو توزیادتی حلال نہیں مثلاً ثمن دس روپیہ ہے اورتاوان پندرہ روپے لیا تو یہ پانچ ناجائز ہیں اور اشرفی تاوان میں لی تو جائز ہے اگرچہ یہ پندرہ روپے یا زیادہ کی ہو۔ (4)(فتح)
مسئلہ ۹۱: دوچیزیں ایک عقد میں بیع کی ہیں اگرہر ایک کا ثمن علیحدہ علیحدہ بیان کردیامثلاً دوگھوڑے ایک ساتھ ملا کر بیچے ایک کا ثمن پانسو ہے اور دوسرے کا چار سو جب بھی بائع کو حق ہے کہ جب تک پورا ثمن وصول نہ کرلے مبیع پر قبضہ نہ دلائے مشتری یہ نہیں کرسکتا کہ دونوں میں سے ایک کا ثمن ادا کرکے اُس کے قبضہ کا مطالبہ کرے اور اگر مشتری نے بائع کے پاس کوئی چیز رہن رکھ دی یا ضامن پیش کردیا جب بھی مبیع کے روکنے کاحق بائع کے لیے باقی ہے اور اگر بائع نے ثمن کا کچھ حصہ معاف کردیا ہے تو جو کچھ باقی ہے اُسے جب تک وصول نہ کرے مبیع کو روک سکتا ہے۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹۲: بیع کے بعد بائع نے ادائے ثمن کے لیے کوئی مدت مقرر کردی اب مبیع کے روکنے کا حق نہ رہا یا بغیر وصولی ثمن مبیع پر قبضہ دلا دیا تو اب مبیع کو واپس نہیں لے سکتا اور اگر بلااجازت بائع مشتری نے قبضہ کرلیا تو واپس لے سکتا ہے اور مشتری نے بلااجازت قبضہ کیا مگر بائع نے قبضہ کرتے دیکھا اور منع نہ کیا تو اجازت ہوگئی اور اب واپس نہیں لے سکتا۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹۳: مشتری نے کوئی ایسا تصرف کیا(7)جس کے لیے قبضہ ضروری نہیں ہے وہ ناجائز ہے اور ایسا تصرف کیا
1 ۔وہ چیزیں جن کے افراد کی قیمتوں میں معتد بہ تفاوت نہ ہو۔ 2 ۔وہ چیزیں جن کے افراد کی قیمتوں میں معتد بہ تفاوت ہو۔
3 ۔ثمن کی قسم مثلاًروپے،سونا،چاندی وغیرہ۔
4 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،فصل لما ذکر ما ینعقد بہ البیع...إلخ،ج۵،ص۴۹۶.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:فی حبس المبیع بقبض الثمن...إلخ،ج۷،ص۹۴.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔یعنی کوئی ایسامعاملہ کیا۔
جس کے لیے قبضہ ضرور ہے وہ جائز ہے۔ مثلاً مشتری نے مبیع کو ہبہ کیا (1) اور موہوب لہ(2) نے قبضہ کرلیا تو اس کا قبضہ قبضہ مشتری کے قائم مقام ہے اور مبیع کو بیع کر دیا یہ ناجائز ہے۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹۴: مشتری نے مبیع کسی کے پاس امانت رکھدی یا عاریت(4) دیدی یا بائع سے کہہ دیا کہ فلاں کو سُپرد کردے اُس نے سپردکردی ان سب صورتوں میں مشتری کا قبضہ ہوگیا اور اگرخود بائع کے پاس امانت رکھی یا عاریت دیدی یا کرایہ پر دیدی یا بائع کو کچھ ثمن دیدیااور کہد یا کہ باقی ثمن کے مقابلہ میں مبیع کو تیرے پاس رہن رکھا تو ان سب صورتوں میں قبضہ نہ ہوا۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹۵: غلّہ خریدا اور مشتری نے اپنی بوری بائع کودیدی اور کہہ دیا کہ اس میں ناپ یا تول کر بھر دے تو ایسا کردینے سے مشتری کا قبضہ ہوگیا بائع نے مشتری کے سامنے اُس میں بھرا ہو یا غیبت میں (6)دونوں صورتوں میں قبضہ ہوگیا اور اگر مشتری نے اپنی بوری نہیں دی بلکہ بائع سے کہا کہ تم اپنی بوری عاریت مجھے دو اور اُس میں ناپ یا تول کر بھر دو تو اگر مشتری کے سامنے بھر دیا قبضہ ہوگیا ورنہ نہیں۔یوہیں تیل خریدا اور اپنی بوتل یا برتن دیکر کہا کہ اس میں تول دے اُس نے تول کر ڈال دیا قبضہ ہوگیا۔ یہی حکم ناپ اور تول کی ہر چیز کا ہے کہ مشتری کے برتن میں جب اس کے حکم سے رکھدی جائے گی قبضہ ہوجائے گا۔(7) (ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ ۹۶: بائع نے مبیع اور مشتری کے درمیان تخلیہ کردیا کہ اگر وہ قبضہ کرنا چاہے کرسکے اور قبضہ سے کوئی چیز مانع نہ ہواور مبیع و مشتری کے درمیان کوئی شے حائل بھی نہ ہو تو مبیع پرقبضہ ہوگیا اسی طرح مشتری نے اگر ثمن وبائع میں تخلیہ کردیا تو بائع کو ثمن کی تسلیم کردی۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۹۷: اگر تخلیہ کردیا مگر قبضہ سے کوئی شے مانع ہے مثلاً مبیع دوسرے کے حق میں مشغول ہے جیسے مکان بیچا اور اُس میں بائع کا سامان موجود ہے اگرچہ قلیل ہویا زمین بیع کی اور اُس میں بائع کی زراعت ہے تو ان صورتوں میں مشتری کا قبضہ
1 ۔تحفہ میں دیا۔ 2 ۔ جس کو ہبہ کیا۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:فیما یکون قبضاًللمبیع،ج۷،ص۹۴.
4 ۔عارضی طور پرجیسے لکھنے کے لیے قلم دینا۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:فیما یکون قبضاًللمبیع،ج۷،ص۹۴.
6 ۔غیر موجودگی میں۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،فصل ومن باع دارًا دخل بناؤھا فی البیع...إلخ،ج۲،ص۲۸،۲۹،وغیرہ.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،ج۷،ص۹۵.
نہیں ہواہاں بائع نے مکان وسامان دونوں پر قبضہ کرنے کو کہد یا اور اس نے کرلیا تو قبضہ ہوگیااور اس صورت میں سامان مشتری کے پاس امانت ہوگا اور اگر خود مبیع نے دوسری چیز کو مشغول کررکھا ہو مثلاً غلّہ خریداجو بائع کی بوریوں میں ہے یا پھل خریدے جو درخت میں لگے ہیں تو تخلیہ کردینے سے قبضہ ہوجائے گا۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۹۸: مکان خریدا جو کسی کے کرایہ میں ہے اورمشتری راضی ہوگیا کہ جب تک اجارہ کی مدت پوری نہ ہوعقد فسخ نہ کیاجائے جب اجارہ کی مدت پوری ہوگی اُس وقت قبضہ کریگا تو اب مشتری قبضہ کا مطالبہ نہیں کرسکتا جب تک اجارہ کی میعاد باقی ہے اور بائع بھی مشتری سے ثمن کا مطالبہ نہیں کرسکتا جب تک مکان کو قابل قبضہ نہ کردے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹۹: سرکہ یا عرق وغیرہ خریدا اور بائع نے تخلیہ کر دیا مشتری نے بوتلوں پرمُہر لگا کر بائع ہی کے یہاں چھوڑدیا تو قبضہ ہوگیا کہ وہ اگر ہلاک ہوگا مشتری کا نقصان ہوگا بائع کو اس سے تعلق نہ ہوگا اور اگر مبیع بائع کے مکان میں ہے بائع نے اُسے کنجی دیدی اور کہہ دیا کہ میں نے تخلیہ کردیا تو قبضہ ہوگیا اور کنجی دیکر کچھ نہ کہا تو قبضہ نہ ہوا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۰: مکان خریدا اور اُس کی کنجی(4)بائع نے دے کر کہہ دیا کہ تخلیہ کردیا اگر وہ مکان وہیں ہے کہ آسانی کے ساتھ اُس مکان میں تالا لگا سکتا ہے تو قبضہ ہوگیا۔اور مکان مبیع(5)دور ہے تو قبضہ نہ ہوا، اگرچہ بائع نے کہدیا ہوکہ میں نے تمھیں سپرد کردیا اور مشتری نے کہا میں نے قبضہ کرلیا۔(6) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰۱: بیل خریدا جو چررہا ہے بائع نے کہدیا جاؤ قبضہ کرلو، اگر بیل سامنے ہے کہ اُس کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے تو قبضہ ہوا، ورنہ نہیں۔(7) کپڑا خریدا اور بائع نے کہہ دیا کہ قبضہ کرلو، اگر اتنا نزدیک ہے کہ ہاتھ بڑھا کر لے سکتا ہے قبضہ ہوگیا اور اگر قبضہ کے لیے اُٹھنا پڑے گا تو فقط تخلیہ سے قبضہ نہ ہوگا۔(8) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع فی حبس المبیع بالثمن...إلخ،ج۳،ص۱۷.
و''ردالمحتار''کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:فی شروط التخلیۃ،ج۷،ص۹۶.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:اشتری داراً ماجورۃً...إلخ،ج۷،ص۹۷.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع فی حبس المبیع بالثمن...إلخ،ج۳،ص۱۶.
4 ۔چابی۔ 5 ۔بیچا ہوا مکان۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع فی حبس المبیع بالثمن...إلخ،ج۳،ص۱۷.
و ''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فیما یدخل فی البیع...إلخ،مطلب:اشتری داراً ماجورۃً...إلخ،ج۷،ص۹۷.
7 ۔غالباًیہاں عبارت متروک ہے جیساکہ مسئلہ کے بقیہ حصہ سے وضاحت ہورہی ہے نیزفتاوی عالمگیری میں اس مسئلہ کے بعدیہ عبارت مذکور
ہے :''والصحیح ان البقرۃ ان کا نت بقربہما بحیث یتمکن المشتری من قبضھا لو اراد فھو قابض لہا''
یعنی صحیح یہ ہے کہ بیل بائع اورمشتری کے اتنے قریب ہواگرمشتری قبضہ کرناچاہے توقبضہ کرسکے تو قبضہ ہوگیا۔...عِلْمِیہ
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع فی حبس المبیع بالثمن...إلخ،ج۳،ص۱۷،۱۸.
مسئلہ ۱۰۲: گھوڑا خریدا جس پر بائع سوار ہے مشتری نے کہا مجھے سوار کرلے اُس نے سوار کرلیا اگر اُس پر زِین(1) نہیں ہے تو مشتری کا قبضہ ہوگیا اور زین ہے اورمشتری زین پر سوار ہواجب بھی قبضہ ہوگیا اور زین پر سوار نہ ہوا تو قبضہ نہ ہوا۔ اوراگردونوں بیع سے پہلے اُس گھوڑے پر سوار تھے اور اسی حالت میں عقد بیع ہوا تو مشتری کا یہ سوار ہونا قبضہ نہیں جس طرح مکان میں بائع ومشتری دونوں ہیں اور مالک نے وہ مکان بیع کیا تو مشتری کا اُس مکان میں ہونا قبضہ نہیں۔(2) (فتح القدیر)
مسئلہ ۱۰۳: نگینہ جو انگوٹھی میں ہے اسے خریدا،بائع نے انگشتری(3) مشتری کو دیدی کہ اس میں سے نگینہ نکال لے انگشتری مشتری کے پاس سے ضائع ہوگئی اگر مشتری آسانی سے نگینہ نکال سکتا ہے تو قبضہ صحیح ہوگیا صرف نگینہ کا ثمن دینا ہوگا اور اگر بلا ضرر اُس میں سے نگینہ نہ نکال سکتا ہو تو تسلیم(4) صحیح نہیں اورمشتری کو کچھ نہیں دینا پڑے گااور اگر انگوٹھی ضائع نہ ہوئی اور بلاضرر مشتری نکال نہیں سکتا اور ضرر برداشت کرنا نہیں چاہتا تو اُسے اختیار ہے کہ بائع کا انتظار کرے کہ وہ جدا کرکے دے یا بیع فسخ کردے۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۱۰۴: بڑے مٹکے یا گولی(6) بیع کی جو بغیر دروازہ کھودے گھر میں سے نہیں نکل سکتی اس کے قبضہ کے لیے بائع پر لازم ہوگاکہ گھر سے باہر نکال کر قبضہ دلائے اوربائع اس میں اپنا نقصان سمجھتا ہے تو بیع کو فسخ کرسکتا ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۵: تیل خریدا اور برتن بائع کو دیدیا کہ اس میں تول کر ڈال دے ایک سیر اُس میں ڈالا تھا کہ برتن ٹوٹ گیا اور تیل بِہ گیا جس کی خبر بائع مشتری کسی کو نہ ہوئی بائع نے اُس میں پھر اور تیل ڈالا اب حکم یہ ہے کہ ٹوٹنے سے پہلے جتنا ڈالا اور بِہ گیا وہ مشتری کا نقصان ہوااورٹوٹنے کے بعد جو تیل ڈالا اور بہایہ بائع کاہے اور اگر ٹوٹنے کے پہلے جتنا تیل ڈالا تھا وہ سب نہیں بہا اُس میں کا کچھ بچ رہاتھا کہ بائع نے دوسرا اس پر ڈال دیا تو وہ پہلے کا بقیہ بائع کی ملک قرار دیا جائے اور اُس کی قیمت کا تاوان مشتری کو دے۔ اور اگرمشتری نے ٹوٹا ہو ابرتن بائع کو دیا تھا جس کی دونوں کو خبر نہ تھی توجو کچھ تیل بہہ جائے گا سارا نقصان مشتری کے ذمہ ہے۔ اور اگر مشتری نے برتن بائع کو نہیں دیا بلکہ خود لیے رہااور بائع اُس میں تول کر ڈالتا رہا توہر صورت میں کل نقصان مشتری ہی کے ذمہ ہے۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۶: روغن(9) خریدا اور بائع کو برتن دے دیا اور کہہ دیا کہ اس میں تول کر ڈالدے اور برتن ٹوٹاہواتھا جس کی
1 ۔پالان۔
2 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،فصل لما ذکر ما ینعقد بہ البیع...إلخ،ج۵،ص۴۹۷.
3 ۔انگوٹھی۔ 4 ۔سپردکرنا۔
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،من مسائل التخلیۃ،ج۱،ص۳۹۷.
6 ۔مٹی کا بنا ہوابرتن جس میں غلہ رکھتے ہیں۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع فی حبس المبیع بالثمن...إلخ،ج۳،ص۱۷.
8 ۔المرجع السابق،ص۱۹.
9 ۔کھانے کا تیل،گھی۔
بائع کو خبر تھی اور مشتری کو علم نہ تھا تو نقصان بائع کے ذمہ ہے اور اگر مشتری کو معلوم تھا بائع کو معلوم نہ تھا یا دونوں کو معلوم تھا تو سارا نقصان دونوں صورتوں میں مشتری کا ہوگا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۷: تیل خریدا اور بائع کو بوتل دے کرکہا کہ میرے آدمی کے ہاتھ میرے یہاں بھیج دینا اگر راستہ میں بوتل ٹوٹ گئی اور تیل ضائع ہوگیا تو مشتری کا نقصان ہوااور اگریہ کہا تھاکہ اپنے آدمی کے ہاتھ میرے مکان پر بھیج دینا تو بائع کا نقصان ہوگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۸: کوئی چیز خرید کر بائع کے یہاں چھوڑدی اور کہد یا کہ کل لے جاؤں گااگر نقصان ہو تو میرا ہوگا اورفرض کرووہ جانور تھا جو رات میں مرگیا تو بائع کا نقصان ہو امشتری کاوہ کہنا بیکار ہے اس لیے کہ جب تک مشتری کا قبضہ نہ ہو مشتری کو نقصان سے تعلق نہیں۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۱۰۹: کوئی چیز بیچی جس کا ثمن ابھی وصول نہیں ہوا ہے و ہ چیز کسی ثالث (4) کے پاس رکھدی کہ مشتری ثمن دیکر مبیع وصول کرلے گا اور وہاں وہ چیز ضائع ہوگئی تو نقصان بائع کا ہوا اور اگر ثالث نے تھوڑا ثمن وصول کرکے وہ چیز مشتری کو دیدی جس کی بائع کو خبر نہ ہوئی تو بائع وہ چیز مشتری سے واپس لے سکتا ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۰: کپڑا خریدا ہے جس کا ثمن ادا نہیں کیا کہ قبضہ کرتا اس نے بائع سے کہا کہ ثالث کے پاس اسے رکھ دو میں دام دے کرلے لونگا بائع نے رکھدیا اور وہاں وہ کپڑا ضائع ہوگیا تو نقصان بائع کاہوا کہ ثالث کا قبضہ بائع کے لیے ہے لہٰذا نقصان بھی بائع ہی کا ہوگا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۱: مبیع(7) بائع کے ہاتھ میں تھی اورمشتری نے اُسے ہلاک کردیایا اُس میں عیب پیداکردیا یا بائع نے مشتری کے حکم سے عیب پیدا کردیا تومشتری کا قبضہ ہوگیا۔ گیہوں(8) خریدے اور بائع سے کہا کہ انھیں پیس دے اُس نے پیس دیے تو مشتری کا قبضہ ہوگیا اور آٹامشتری کا ہے۔(9) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع فی حبس المبیع بالثمن...إلخ،ج۳،ص۱۹.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،من مسائل التخلیۃ،ج۱،ص۳۹۷.
4 ۔ یعنی کسی تیسرے آدمی ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع فی حبس المبیع بالثمن...إلخ،ج۳،ص۲۰.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔یعنی جس چیزکاسوداہوا۔ 8 ۔گندم۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع فی حبس المبیع بالثمن...إلخ،ج۳،ص۲۰.
مسئلہ ۱۱۲: مشتری نے قبضہ سے پہلے بائع سے کہہ دیا کہ مبیع فلاں شخص کو ہبہ کردے اُس نے ہبہ کردیا اور موہوب لہ(1) کو قبضہ بھی دلادیا تو ہبہ جائز اورمشتری کا قبضہ ہوگیایوہیں اگر بائع سے کہدیا کہ اسے کرایہ پر دیدے اُس نے دیدیاتو جائز ہے اور مستاجر(2) کا قبضہ پہلے مشتری کے لیے ہوگا پھر اپنے لیے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۳: مشتری نے بائع سے مبیع میں ایسا کام کرنے کوکہا جس سے مبیع میں کوئی کمی پیدا نہ ہوجیسے کوراکپڑا (4) تھا اُسے دُھلوایا تو مشتری کا قبضہ نہ ہوا پھر اگر اُجرت پر دُھلوایا ہے تو اُجرت مشتری کے ذمہ ہے ورنہ نہیں اور اگر وہ کام ایسا ہے جس سے کمی پیدا ہوجاتی ہے تومشتری کا قبضہ ہوگیا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۴: مشتری نے ثمن اداکرنے سے پہلے بغیر اجازت بائع مبیع پر قبضہ کرلیا تو بائع کو اختیار ہے اُس کا قبضہ باطل کرکے مبیع واپس لے لے اور اس صورت میں مشتری کا تخلیہ کردینا(6) قبضہ بائع کے لیے کافی نہ ہوگا بلکہ حقیقتہً قبضہ کرنا ہوگا اوراگرمشتری نے قبضہ کرکے کوئی ایسا تصرف(7) کردیا جس کو توڑ سکتے ہوں تو بائع اس تصرف کو بھی باطل کرسکتا ہے مثلاً مبیع کو ہبہ کردیا یا بیع کردیا یارہن رکھ دیا یا اجارہ پر دیدیا یا صدقہ کردیا اور اگر وہ تصرف ایسا ہے جوٹوٹ نہیں سکتا تو مجبوری ہے مثلاً غلام تھا جس کو مشتری آزاد کرچکا ہے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۵: مبیع پر مشتری کا قبضہ عقد بیع سے پہلے ہی ہوچکا ہے۔ اگر وہ قبضہ ایسا ہے کہ تَلَف(9)ہونے کی صورت میں تاوان دینا پڑتا ہے تو بیع کے بعد جدید قبضہ کی ضرورت نہیں مثلاً وہ چیز مشتری نے غصب کررکھی ہے یا بیع فاسد کے ذریعہ خرید کر قبضہ کرلیا اب اُسے عقد صحیح کے ساتھ خریدا تو وہی پہلا قبضہ کافی ہے کہ عقد کے بعد ابھی گھر پہنچا بھی نہ تھا کہ وہ شے ہلاک ہوگئی تو مشتری کی ہلاک ہوئی اور اگر وہ قبضہ ایسا نہ ہو جس سے ضمان(10)لازم آئے مثلاً مشتری کے پاس وہ چیز امانت کے طورپر تھی تو جدید قبضہ کی ضرورت ہے یہی حکم سب جگہ ہے دونوں قبضے ایک قسم کے ہوں یعنی دونوں
1 ۔جس کو ہبہ کیا۔ 2 ۔اجرت پر لینے والا۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع فی حبس المبیع بالثمن...إلخ،ج۳،ص۲۰.
4 ۔نیا،وہ کپڑا جو ابھی استعمال میں نہ لایاگیاہو۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع فی حبس المبیع بالثمن...إلخ،ج۳،ص۲۰.
6 ۔یعنی صرف اپنا قبضہ ہٹادینا ۔ 7 ۔عمل دخل،معاملہ۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع فی حبس المبیع بالثمن...إلخ،ج۳،ص۲۱.
9 ۔ضائع۔ 10 ۔تاوان۔
قبضہ ضمان(1)یا دونوں قبضہ امانت(2) ہوں تو ایک دوسرے کے قائم مقام ہوگا اور اگر مختلف ہوں تو قبضہ ضمان قبضہ امانت کے قائم مقام ہوگا مگر قبضہ امانت قبضہ ضمان کے قائم مقام نہیں ہوگا۔(3) (عالمگیری)
حدیث ۱: صحیح بخاری ومسلم میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بائع و مشتری میں سے ہرایک کو اختیار حاصل ہے جب تک جدا نہ ہوں (یعنی جب تک عقد میں مشغول ہوں عقد تمام نہ ہواہو) مگر بیع خیار (کہ اس میں بعد عقد بھی اختیار رہتا ہے)۔'' (4)
حدیث ۲: امام بخاری ومسلم حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بائع و مشتری کو اختیار حاصل ہے جب تک جدا نہ ہوں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور عیب کو ظاہر کردیں، اُن کے لیے بیع میں برکت ہوگی اور اگر عیب کو چھپائیں اور جھوٹ بولیں، بیع کی برکت مٹا دی جائے گی۔''(5)
حدیث ۳: ترمذی و ابو داود ونسائی بروایت عمر وبن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بائع و مشتری کو خیار ہے جب تک جدا نہ ہوں مگر جبکہ عقد میں خیار ہو اور اُن میں کسی کو یہ درست نہیں کہ دوسرے کے پاس سے اس خوف سے چلاجائے کہ اقالہ کی درخواست کریگا۔'' (6)
حدیث ۴: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''بغیر رضا مندی دونوں جدا نہ ہوں۔'' (7)
حدیث ۵: بیہقی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، ارشاد فرمایا: کہ ''خیار تین دن تک ہے۔'' (8)
1 ۔ایسا قبضہ جس میں چیز کے ضائع ہونے پر ضمان واجب ہوتا ہے ۔
2 ۔یعنی امانت کی وجہ سے قبضے میں ہوں۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع فی حبس المبیع بالثمن...إلخ،ج۳،ص۲۲،۲۳.
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب البیوع،باب البیّعان بالخیار مالم یتفرقا،الحدیث:۲۱۱۱،ج۲،ص۲۲.
5 ۔''صحیح البخاري''،کتاب البیوع،باب اذابیّن البیّعان... إلخ،الحدیث:۲۰۷۹،ج۲،ص۱۳.
6 ۔''جامع الترمذي''،کتاب البیوع،باب ماجاء فی البیّعان بالخیارمالم یتفرقا،الحدیث:۱۲۵۱،ج۳،ص۲۵.
7 ۔''سنن أبيداود''،کتاب الإجارۃ،باب في الخیارالمتبایعین،الحدیث:۳۴۵۸،ج۳،ص۳۷۷.
8 ۔''السنن الکبری'' للبیہقي،کتاب البیوع،باب الدلیل علی أن لایجوز شرط الخیار...إلخ،الحدیث:۱۰۴۶۱،ج۵،ص۴۵۰.
مسئلہ ۱: بائع ومشتری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قطعی طورپر بیع نہ کریں(1) بلکہ عقد میں یہ شرط کردیں کہ اگر منظور نہ ہواتو بیع باقی نہ رہے گی اسے خیار شرط کہتے ہیں اور اس کی ضرورت طرفین(2) کو ہواکرتی ہے کیونکہ کبھی بائع اپنی نا واقفی سے کم داموں میں چیز بیچ دیتا ہے یا مشتری اپنی نا دانی سے زیادہ داموں سے خریدلیتا ہے یا چیز کی اسے شناخت نہیں ہے ضرورت ہے کہ دوسرے سے مشورہ کرکے صحیح رائے قائم کرے اور اگر اس وقت نہ خریدے تو چیز جاتی رہے گی یا بائع کو اندیشہ ہے کہ گاہک ہاتھ سے نکل جائے گا ایسی صورت میں شرع مطہر نے دونوں کو یہ موقع دیا ہے کہ غور کرلیں اگرنامنظورہو تو خیار کی بنا پر بیع کو نامنظور کردیں۔
مسئلہ ۲: خیار شرط بائع ومشتری دونوں اپنے اپنے لیے کریں یا صرف ایک کرے یا کسی اور کے لیے اس کی شرط کریں سب صورتیں درست ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عقد میں خیار شرط کا ذکر نہ ہومگر عقد کے بعد ایک نے دوسرے کو یا ہرایک نے دوسرے کو یا کسی غیر کوخیار دیدیا۔ عقد سے پہلے خیار شرط نہیں ہوسکتا یعنی اگر پہلے خیار کا ذکر آیا مگر عقدمیں ذکر نہ آیا نہ بعدعقد اس کی شرط کی مثلاً بیع سے پہلے یہ کہدیا کہ جو بیع تم سے کروں گا اُس میں میں نے تم کو خیار دیا مگر عقد کے وقت بیع مطلق واقع ہوئی تو خیار حاصل نہ ہوا۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: خیار شرط ان چیزوں میں ہوسکتا ہے، 1 بیع،2اجارہ ،3قسمت ،4 مال سے صلح ،5کتابت ، 6خلع میں جبکہ عورت کے لیے ہو، 7 مال پر غلام آزاد کرنے میں جبکہ غلام کے لیے ہو آقا کے لیے نہیں ہوسکتا، 8 راہن(4) کے لیے ہوسکتا ہے مرتہن(5) کے لیے نہیں کیونکہ یہ جب چاہے رہن کو چھوڑ سکتا ہے خیار کی کیا ضرورت، 9کفالت میں مکفول لہ (6) اور کفیل(7) کے لیے ہوسکتا ہے،10 اِبرا(8) میں ہوسکتا ہے مثلاً یہ کہا کہ میں نے تجھے بری کیا اور مجھے تین دن تک اختیار ہے،11 شفعہ کی تسلیم میں بعد طلب مواثبت خیار ہوسکتا ہے،12حوالہ میں ہوسکتاہے، 13مزارعۃ، 14معاملہ میں ہوسکتاہے۔
1 ۔یعنی فی الحال بیع کو نافذ نہ کریں۔ 2 ۔یعنی خریدنے والا اوربیچنے والا۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیار الشرط،مطلب:فی ھلاک بعض المبیع قبل قبضہ،ج۷،ص۱۰۴.
4 ۔رہن رکھنے والا۔ 5 ۔جس کے پاس رہن رکھا جائے۔
6 ۔جس کی کفالت کی جائے۔ 7 ۔ضامن۔
8 ۔یعنی کسی کو اپنا حق معاف کردینا۔
اور ان چیزوں میں خیار نہیں ہوسکتا: 1 نکاح ،2 طلاق،3 یمین (1) ،4 نذر،5 اقرارِ عقد،6بیع صرف ، 7 سلم ، 8وکالت ۔ (2) (بحر)
مسئلہ ۴: پوری مبیع میں خیار شرط ہویا مبیع کے کسی جزمیں ہو مثلاً نصف یا ربع(3) میں اور باقی میں خیار نہ ہو دونوں صورتیں جائز ہیں اور اگر مبیع متعدد چیزیں ہوں اُن میں بعض کے متعلق خیار ہواوربعض کے متعلق نہ ہو یہ بھی درست ہے مگر اس صورت میں یہ ضرور ہے کہ جس کے متعلق خیار ہو اُس کومتعین کردیا گیا ہو او رثمن(4) کی تفصیل بھی کردی گئی ہو یعنی یہ ظاہر کردیاگیا ہوکہ اس کے مقابل میں یہ ثمن ہے مثلاً دو ۲ بکریاں آٹھ روپے میں خریدیں اور یہ بتادیاگیا کہ اس بکری میں خیار ہے اور اس کا ثمن مثلاً تین روپے ہے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: اگر بائع ومشتری میں اختلاف ہوایک کہتا ہے خیار شرط تھا دوسرا کہتا ہے نہیں تھا تو مدعی خیار(6) کو گواہ پیش کرنا ہوگا اگریہ گواہ نہ پیش کرے تو منکر(7) کا قول معتبرہوگا۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۶: خیار کی مدت زیادہ سے زیادہ تین دن ہے اس سے کم ہوسکتی ہے زیادہ نہیں۔ اگر کوئی ایسی چیز خریدی ہے جو جلد خراب ہوجانے والی ہے اورمشتری کو تین دن کا خیار تھا تو اُس سے کہا جائے گا کہ بیع کوفسخ کردے یا بیع کو جائز کردے۔ اور اگر خراب ہونے والی چیز کسی نے بلاخیار خریدی اور بغیر قبضہ کیے اور بغیر ثمن ادا کیے چل دیااور غائب ہو گیاتو بائع اس چیز کو دوسرے کے ہاتھ بیع کرسکتا ہے اس دوسرے خریدار کو یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی خریدنا جائز ہے۔(9) (خانیہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: اگر خیار کی کوئی مدت ذکر نہیں کی صرف اتنا کہا مجھے خیار ہے یا مدت مجہول ہے(10) مثلاً مجھے چند دن کا خیار
1 ۔قسم۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب البیع،باب خیارالشرط،ج۶،ص۵.
3 ۔چوتھائی
4 ۔ قیمت ۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیار الشرط،مطلب:فی ھلاک بعض المبیع قبل قبضہ،ج۷،ص۱۰۵.
6 ۔اختیار کے دعویٰ کرنے والے۔ 7 ۔انکار کرنے والا۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیار الشرط،ج۷،ص۱۰۶.
9 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،باب الخیار،ج۱،ص۳۵۸.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:فی ھلاک بعض المبیع قبل قبضہ،ج۷،ص۱۰۶.
10 ۔یعنی مدت معلوم نہیں ہے۔
ہے یا ہمیشہ کے لیے خیار رکھا ان سب صورتوں میں خیار فاسد ہے یہ اُس صورت میں ہے کہ نفس عقد میں خیار مذکور ہواورتین دن کے اندر صاحب خیار نے جائز نہ کیا ہواور اگرتین دن کے اندر جائز کردیا تو بیع صحیح ہوگئی اور اگر عقد میں خیار نہ تھا بعد عقدایک نے دوسرے سے کہا تمھیں اختیار ہے تو اُس مجلس تک خیار ہے مجلس ختم ہوگئی اور اس نے کچھ نہ کہا تو خیار جاتا رہا اب کچھ نہیں کرسکتا۔ (1)(عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: تین دن سے زیادہ کی مدت مقرر کی مگر ابھی تین دن پورے نہ ہوئے تھے کہ صاحب خیار نے بیع کو جائز کردیا تو اب یہ بیع درست ہے اور اگرتین دن پورے ہوگئے اور جائز نہ کیا تو بیع فاسد ہوگئی۔ (2)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۹: مشتری نے بائع سے کہا اگر تین دن تک ثمن ادا نہ کروں تو میرے اور تیرے درمیان بیع نہیں یہ بھی خیار شرط کے حکم میں ہے یعنی اگر اس مدت تک ثمن ادا کردیا بیع درست ہوگئی ورنہ جاتی رہی اور اگر تین دن سے زیادہ مدت ذکر کرکے یہی لفظ کہے اور تین دن کے اندر ادا کردیا تو بیع صحیح ہوگئی اور تین دن پورے ہوچکے تو بیع جاتی رہی۔ (3)(درر،غرر)
مسئلہ ۱۰: بیع ہوئی اور ثمن بھی مشتری نے دیدیا اور یہ ٹھہرا کہ اگر تین دن کے اندر بائع(4) نے ثمن پھیر دیا تو بیع نہیں رہے گی یہ بھی خیار شرط کے حکم میں ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: تین دن کی مدت تھی مگر اس میں سے ایک دن یا دودن بعدمیں کم کردیا تو خیار کی مدت وہ ہے جو کمی کے بعد باقی رہی مثلاً تین دن میں سے ایک دن کم کردیا تو اب دوہی دن کی مدت ہے یہ مدت پوری ہونے پر خیار ختم ہوگیا۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: بائع نے خیار شرط اپنے لیے رکھا ہے تو مبیع اُس کی ملک سے خارج نہیں ہوئی پھر اگر مشتری نے اُس پر قبضہ کرلیا چاہے یہ قبضہ بائع کی اجازت سے ہو یا بلا اجازت اور مشتری کے پاس ہلاک ہوگئی تو مشتری پر مبیع کی واجبی قیمت(7)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیار الشرط،الفصل الأول،ج۳،ص۳۸۔۴۰.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:فی ھلاک بعض المبیع قبل قبضہ،ج۷،ص۱۰۶.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۲،ص۲۹،وغیرھا.
3 ۔''دررالحکام'' و'' غر رالأحکام ''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط والتعیین،الجزء الثانی،ص۱۵۲.
4 ۔بیچنے والا۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیار الشرط،الفصل الاول،ج۳،ص۳۹.
6 ۔المرجع السابق،ص۴۰.
7 ۔وہ قیمت جو اس چیز کی بازار میں بنتی ہو،رائج قیمت۔
تاوان میں واجب ہے اور اگر مبیع مثلی(1) ہے تومشتری پر اُس کی مثل واجب ہے اور اگر بائع نے بیع فسخ کردی ہے جب بھی یہی حکم ہے یعنی قیمت یا اُس کی مثل واجب ہے اور اگر بائع نے اپنا خیار ختم کردیا اور بیع کو جائز کردیا یا بعد مدت وہ چیز ہلاک ہوگئی تو مشتری کے ذمہ ثمن واجب ہے یعنی جودام طے ہواہے وہ دینا ہوگا۔اگر مبیع بائع کے پاس ہلاک ہوگئی تو بیع جاتی رہی کسی پر کچھ لینا دینا نہیں۔اور مبیع میں کوئی عیب پیدا ہوگیا تو بائع کا خیار بدستور باقی ہے مگر مشتری کو اختیار ہوگا کہ چاہے پوری قیمت پر مبیع کو لے لے یا نہ لے۔ اور اگر بائع نے خود اُس میں کوئی عیب پیدا کردیا ہے تو ثمن میں اس عیب کی قدر کمی ہوجائے گی۔ مشتری پر جس صورت میں قیمت واجب ہے اُس سے مراد اُس دن کی قیمت ہے جس دن اُس نے قبضہ کیا ہے۔(2) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۱۳: بائع کو خیار ہو تو ثمن ملکِ مشتری سے خارج ہو جاتا ہے مگر بائع کی ملک میں داخل نہیں ہوتا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مشتری نے اپنے لیے خیار رکھا ہے تو مبیع بائع کی ملک سے خارج ہوگئی یعنی اس صورت میں اگر بائع نے مبیع میں کوئی تصرف کیا(4) ہے تو یہ تصرف صحیح نہیں مثلاً غلام ہے جس کو آزاد کردیا تو آزاد نہ ہوا اور اس صورت میں اگر مبیع مشتری کے پاس ہلاک ہوگئی تو ثمن کے بدلے میں ہلاک ہوئی یعنی ثمن دینا پڑے گا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: مبیع مشتری کے قبضہ میں ہے اور اُس میں عیب پیدا ہوگیا چاہے وہ عیب مشتری نے کیاہویا کسی اجنبی نے یا آفت سماویہ (6)سے یا خودمبیع کے فعل سے عیب پیدا ہوا بہر حال اگر خیار مشتری کو ہے تو مشتری کو ثمن دینا پڑے گااور بائع کو ہے تو مشتری پرقیمت واجب ہے اور بائع یہ بھی کرسکتا ہے کہ بیع کو فسخ کردے اور جو کچھ عیب کی وجہ سے نقصان ہوااُس کی قیمت لے لے جبکہ وہ چیز قیمی(7) ہواور اگروہ چیز مثلی ہے تو بیع کو فسخ کرکے نقصان نہیں لے سکتا۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: عیب کا یہ حکم اُس وقت ہے جب وہ عیب زائل نہ ہوسکتا ہو مثلاً ہاتھ کاٹ ڈالااور اگر ایسا عیب ہو جو دور
1 ۔وہ چیز جس کے افراد کی قیمتوں میں معتد بہ فرق نہ ہو۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:خیارالنقد،ج۷،ص۱۱۱،وغیرہما.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الاول،ج۳،ص۴۰.
4 ۔یعنی مبیع کو اپنے استعمال میں لایا۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیار الشرط،ج۷،ص۱۱۶.
6 ۔قدرتی آفت جیسے جلنا،ڈوبنا وغیرہ۔
7 ۔وہ چیز جس کے افراد کی قیمتوں میں معتد بہ فرق ہو۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۱۷.
ہوسکتا ہو مثلاً مبیع میں بیماری پیدا ہوگئی تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ عیب اندرون مدت زائل ہوگیا تو مشتری کا خیار بدستورباقی ہے مدت کے اندر مبیع کو واپس کرسکتا ہے اور مدت کے اندر عیب دور نہ ہوا تو مدت پوری ہوتے ہی مشتری پر بیع لازم ہوگئی کیونکہ عیب کی وجہ سے مشتری پھیر نہیں سکتا اور بعد مدت اگرچہ عیب جاتارہے پھر بھی مشتری کو حق فسخ نہیں کہ بیع لازم ہوجانے کے بعد اُس کا حق جاتا رہا۔ (1)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۷: خیار مشتری کی صورت میں ثمن ملکِ مشتری سے خارج نہیں ہوتا(2) اور مبیع اگرچہ ملکِ بائع سے خارج ہو جاتی ہے مگر مشتری کی ملک میں نہیں آتی پھر بھی اگر مشتری نے مبیع میں کوئی تصرف کیا مثلاً غلام ہے جس کو آزاد کردیا تو یہ تصرف نافذ ہوگا اور اس تصرف کو اجازت بیع سمجھاجائے گا۔ (3)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۸: مشتری اور بائع دونوں کو خیار ہے تونہ مبیع ملکِ بائع سے خارج ہوگی نہ ثمن ملکِ مشتری سے پھر اگر بائع نے مبیع میں تصرف کیا تو بیع فسخ ہوجائے گی اور مشتری نے ثمن میں تصرف کیا اور وہ ثمن عین ہو (یعنی از قبیل نقود نہ ہو(4)) تو مشتری کی جانب سے بیع فسخ ہے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: اس صورت میں کہ دونوں کو خیار ہے اندرون مدت ان میں سے کوئی بھی بیع کو فسخ کرے فسخ ہوجائے گی اور جو بیع کوجائز کردے گا اُس کاخیار باطل ہوجائے گایعنی اُس کی جانب سے بیع قطعی(6) ہوگئی اور دوسرے کاخیار باقی رہے گااور اگر مدت پوری ہوگئی اور کسی نے نہ فسخ کیا نہ جائز کیا تو اب طرفین سے بیع لازم ہوگئی۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: جس کے لیے خیار ہے چاہے وہ بائع ہویا مشتری یا اجنبی جب اُس نے بیع کو جائز کردیا تو بیع مکمل ہوگئی دوسرے کو اس کا علم ہویانہ ہوالبتہ اگر دونوں کوخیار تھا تو تنہا اس کے جائز کردینے سے بیع کی تمامیت(8) نہ ہوگی کیونکہ دوسرے کو
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۱۷،وغیرہ.
2 ۔یعنی چیزکی جو قیمت مقرر ہوئی خریدار ابھی اس کا مالک ہے۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۱،ص۳۰،وغیرھا.
4 ۔مثلاً روپے،سونا ،چاندی وغیرہ نہ ہو۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:فی الفرق بین القیمۃوالثمن،ج۷،ص۱۱۹.
6 ۔نافذ ۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:فی الفرق بین القیمۃوالثمن،ج۷،ص۱۱۹.
8 ۔تکمیل۔
حق فسخ حاصل ہے اگر یہ فسخ کردے گا تو اُس کا جائز کرنا مفیدنہ ہوگا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: بائع کو خیار تھا اور اندرون مدت بیع فسخ کردی پھر جائز کردی اورمشتری نے اسکو قبول کرلیا تو بیع صحیح ہوگئی مگر یہ ایک جدید بیع ہوئی کیونکہ فسخ کرنے سے پہلی بیع جاتی رہی اور اگر مشتری کو خیار تھا اور جائز کردی پھر فسخ کی اور بائع نے منظور کرلیا تو فسخ ہوگئی اوریہ حقیقۃً اقالہ ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: صاحب خیار نے بیع کو فسخ کیا اس کی دو ۲ صورتیں ہیں: قول سے فسخ کرے تو اندرون مدت دوسرے کو اس کا علم ہوجانا ضروری ہے اگر دوسرے کو علم ہی نہ ہویا مدّت گزرنے کے بعد اُسے معلوم ہوا تو فسخ صحیح نہیں اور بیع لازم ہوگئی اور اگر صاحب خیار نے اپنے کسی فعل سے بیع کو فسخ کیا تو اگرچہ دوسرے کو علم نہ ہوفسخ ہوجائے گی مثلاً مبیع میں اس قسم کا تصرف کیا جو مالک کیا کرتے ہیں مثلاً مبیع غلام ہے اُسے آزادکردیا یا بیچ ڈالا یاکنیز ہے اُس سے وطی کی یا اُس کا بوسہ لیا یا مبیع کو ہبہ کرکے یا رہن رکھ کر قبضہ دیدیایا اجارہ پر دیا یا مشتری سے ثمن معاف کر دیا یا مکان کسی کو رہنے کے لیے دے دیا اگرچہ بِلاکرایہ یا اُس میں نئی تعمیر کی یا کہگل(3)کی یا مرمت کرائی یا ڈھادیا(4) یا ثمن میں (جبکہ عین ہو) تصرف کرڈالا ان صورتوں میں بیع فسخ ہوگئی اگرچہ اندرون مدت دوسرے کو علم نہ ہوا۔(5) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: جس کے لیے خیار ہے اُس نے کہا میں نے بیع کو جائز کردیا یا بیع پرراضی ہوں یا اپنا خیار میں نے ساقط کردیا یا اسی قسم کے دوسرے الفاظ کہے تو خیار جاتا رہا اور بیع لازم ہوگئی اور اگر یہ الفاظ کہے کہ میرا قصد(6) لینے کا ہے یا مجھے یہ چیز پسند ہے یا مجھے اس کی خواہش ہے تو خیار باطل نہ ہوگا۔ (7)(عالمگیری، ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۲۴.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:فی الفرق بین القیمۃوالثمن،ج۷،ص۱۲۵.
3 ۔بھوسامیں ملی ہوئی مٹی جس سے دیوار پرپلسترکرتے ہیں۔
4 ۔گِرا دیا۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الثالث،ج۳،ص۴۲.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:فی الفرق بین القیمۃوالثمن،ج۷،ص۱۲۵.
6 ۔ارادہ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الثالث،ج۳،ص۴۲.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:فی الفرق بین القیمۃ والثمن،ج۷،ص۱۲۴.
مسئلہ ۲۴: جس کے لیے خیار تھا وہ اندرون مدت مرگیا خیار باطل ہوگیا یہ نہیں ہوسکتا کہ اُس کے مرنے کے بعد وارث کی طرف خیار منتقل ہو کہ خیار میں میراث نہیں جاری ہوتی۔ یوہیں اگر بیہوش ہوگیا یا مجنون ہوگیا یا سوتارہ گیا اور مدت گزر گئی خیار باطل ہوگیا۔ مشتری کو بطور تملیک(1) قبضہ دیا بائع کا خیار باطل ہوگیا اور اگر بطور تملیک قبضہ نہ دیا بلکہ اپنا اختیار رکھتے ہوئے قبضہ دیا خیار باطل نہ ہوا۔(2) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۵: مبیع متعددچیزیں ہیں ا ور صاحب خیار یہ چاہتا ہے کہ بعض میں عقد کوجائز کرے اور بعض میں نہیں یہ نہیں کرسکتا بلکہ کل کی بیع جائز کرے یا فسخ۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: مشتری کو خیار ہے تو جب تک مدت پوری نہ ہولے بائع ثمن کا مطالبہ نہیں کرسکتا اور بائع کو بھی تسلیم مبیع پر مجبور نہیں کیا جاسکتا البتہ اگر مشتری نے ثمن دے دیا ہے تو بائع کو مبیع دینا پڑے گا۔ یوہیں اگر بائع نے تسلیم مبیع کردی ہے تو مشتری کو ثمن دینا پڑیگا، مگر بیع فسخ کرنے کاحق رہے گا۔ اور اگر بائع کو خیار ہے اورمشتری نے ثمن ادا کردیا ہے اورمبیع پر قبضہ چاہتا ہے توبائع قبضہ سے روک سکتا ہے، مگر ایسا کریگاتو ثمن پھیرنا پڑے گا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: ایک مکان بشرط خیار خریدا تھا، اُس کے پروس میں ایک دوسرامکان فروخت ہوا، مشتری نے شفعہ کیا خیار باطل ہوگیا اور بیع لازم ہوگئی۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: بائع یامشتری نے کسی اجنبی کو خیار دیدیا تو ان دونوں میں سے جس ایک نے جائز کردیا خیار جاتا رہا اور بیع کو فسخ کردیافسخ ہوگئی اور ایک نے جائز کی دوسرے نے فسخ کی تو جو پہلے ہے اُس کاہی اعتبار ہے اور دونوں ایک ساتھ ہوں تو فسخ کو ترجیح ہے یعنی بیع جاتی رہی۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۲۹: دوچیزوں کو ایک ساتھ بیچا، مثلاً دو غلام یا دو کپڑے یا دو جانور، ان میں ایک میں بائع یا مشتری نے خیار شرط کیا اس کی چارصورتیں ہیں، جس ایک میں خیار ہے، وہ متعین ہے یا نہیں اور ہر ایک کا ثمن علیٰحدہ علیٰحدہ بیان کردیا گیا ہے
1 ۔خریدار کو مالک بنانے کے طور پر۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الثالث،ج۳،ص۴۲.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۲۶.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الثانی،ج۳،ص۴۲.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:فی الفرق بین القیمۃوالثمن،ج۷،ص۱۳۰.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۳۰.
یانہیں اگر محل خیار متعین ہے اور ہر ایک کا ثمن ظاہر کردیاگیا تو بیع صحیح ہے باقی تین صورتوں میں بیع فاسد اور اگر کیلی(1) یا وزنی(2) چیز خریدی اور اس کے نصف میں خیار شرط رکھایا ایک غلام خریدا اور نصف میں خیار رکھا تو بیع صحیح ہے ثمن کی تفصیل کرے یا نہ کرے۔(3) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: کسی کو وکیل بنایا کہ یہ چیز بشرط الخیار(4) بیع کرے اُس نے بلاشرط بیچ ڈالی یہ بیع جائز ونافذ نہ ہوئی اور اگر بشرط الخیار خریدنے کے لیے وکیل کیا تھا وکیل نے بلا شرط خریدی تو بیع صحیح ہوگئی مگر وکیل پر نافذہوگی مؤکل پر نافذنہ ہوئی۔ (5) (فتح وغیرہ)
مسئلہ ۳۱: دوشخصوں نے ایک چیز خریدی اوران دونوں نے اپنے لیے خیار شرط کیا پھر ایک نے صراحۃً یا دلالۃًبیع پر رضامندی ظاہر کی تو دوسرے کا خیار جاتا رہا۔ یوہیں اگر دو شخصوں نے کسی چیز کو ایک عقد میں بیع کیا اور دونوں نے اپنے لیے خیار رکھا پھر ایک بائع نے بیع کو جائز کردیا تو دوسرے کا خیار باطل ہوگیا اُسے رد کرنے کا حق نہ رہا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۳۲: ایک عقد میں دوچیزیں بیچی تھیں اور اپنے لیے خیار رکھا تھا پھر ایک میں بیع کو فسخ کردیا تو فسخ نہ ہوئی بلکہ بدستور خیارباقی ہے۔ یوہیں ایک چیز بیچی تھی اور اُس کے نصف میں فسخ کیا تو بیع فسخ نہ ہوئی اور خیار باقی ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: صاحب خیار نے یہ کہااگر فلاں کام آج نہ کروں تو خیار باطل ہے تو خیار باطل نہ ہوگااور اگر یہ کہا کل آئندہ میں مَیں نے خیار باطل کیا یا یہ کہ جب کل آئے گاتو میرا خیار باطل ہوجائے گا تو دوسرا دن آنے پر خیار باطل ہوجائے گا۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: بائع کو تین دن کا خیار تھا اور مبیع پر مشتری کو قبضہ دیدیا پھر مبیع کو غصب کرلیا تو اس فعل سے نہ بیع فسخ ہوئی نہ خیار باطل ہوا۔(9) (عالمگیری)
1 ۔ماپ سے فروخت ہونے والی چیز۔ 2 ۔وزن سے فروخت ہونے والی چیز۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۳۲.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الخامس،ج۳،ص۵۲.
4 ۔خیار کی شرط کے ساتھ۔
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۵،ص۵۱۴،وغیرہ.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۳۵.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الخامس،ج۳،ص۵۳.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الثالث،ج۳،ص۴۶.
9 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۳۵: شرط خیار کے ساتھ کوئی چیز بیع کی اور تقابض بدلین (1)ہوگیا پھر بائع نے اندرون مدت بیع فسخ کردی تو مشتری مبیع کوتاواپسی ثمن روک سکتا ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: ایک شخص نے شرط خیار کے ساتھ مکان بیع کیا مشتری نے بائع کو کچھ روپیہ یا کوئی چیز دی کہ بائع اپنا خیار ساقط کردے اور بیع کو نافذکردے اُس نے ایسا کردیا یہ جائز ہے اور یہ جو کچھ دیا ہے ثمن میں شمار ہوگا۔یوہیں اگرمشتری کے لیے خیار تھا اور بائع نے کہا کہ اگر خیار ساقط کردے تو میں ثمن میں اتنی کمی کرتا ہوں یا مبیع میں یہ چیز اور اضافہ کرتا ہوں یہ بھی جائز ہے۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۳۷: ایک چیز ہزار روپے کو بیچی تھی مشتری نے بائع کو اشرفیاں دیں پھر بائع نے اندرون مدت بیع کو فسخ کردیا تومشتری کو اشرفیاں واپس کرنی ہوں گی اشرفیوں کی جگہ روپیہ نہیں دے سکتا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: مشتری کے لیے خیار ہے اور اُس نے مبیع میں بغرض امتحان کوئی تصرف کیا اور جوفعل کیا ہو وہ غیرمملوک میں (5) بھی کرسکتا ہو تو ایسے فعل سے خیار باطل نہیں ہوگا اور اگر وہ فعل ایسا ہو کہ امتحان کے لیے اُس کی حاجت نہ ہویا وہ فعل غیر مملوک میں کسی صورت میں جائز ہی نہ ہو تو اس سے خیار باطل ہوجائے گا۔مثلاً گھوڑے پر ایک دفعہ سوار ہوا یا کپڑے کو اس لیے پہنا کہ بدن پر ٹھیک آتا ہے یا نہیں یا لونڈی سے کام کرایا تا کہ معلوم ہوکہ کا م کرنا جانتی ہے یا نہیں تو ان سے خیار باطل نہ ہوااور دوبارہ سواری لی یا دوبارہ کپڑا پہنا یا دوبارہ کام لیا تو خیار ساقط ہوگیااور اگر گھوڑے پر ایک مرتبہ سوار ہوکر ایک قسم کی رفتارکا امتحان لیا دوبارہ دوسری رفتار کے لیے سوار ہوایا لونڈی سے دوبارہ دوسرا کام لیا تو اختیار باقی ہے(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: گھوڑے پر سوار ہوکر پانی پلانے لے گیایا چارہ کے لیے گیا یا بائع کے پاس واپس کرنے گیا اگر یہ کام بغیر سوار ہوئے ممکن نہ تھے تو اجازت بیع نہیں خیار باقی ہے ورنہ یہ سوار ہونا اجازت سمجھا جائے گا۔(7) (عالمگیری)
1 ۔یعنی مبیع و ثمن پر قبضہ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الثالث،ج۳،ص۴۴.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،باب الخیار،ج۱،ص۳۶۱.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الثالث،ج۳،ص۴۵.
5 ۔جو چیز ملک میں نہ اس میں۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الثالث،ج۳،ص۴۸،۴۹.
7 ۔المرجع السابق،ص۴۹.
مسئلہ ۴۰: زمین خریدی اُس میں مشتری نے کاشت کی تو اس کا خیار باطل ہوگیا اوربائع نے کاشت کی تو بیع فسخ ہوگئی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: بشرط خیار مکان خریدا اور اُس میں پہلے سے رہتا تھا تو بعد کی سکونت(2) سے خیار باطل نہ ہوگا۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: مبیع میں مشتری کے پاس زیادتی ہوئی(4) اس کی دو۲ صورتیں ہیں زیادت متصلہ ہے یا منفصلہ اور ہر ایک متولدہ ہے یا غیر متولدہ ۔ اگر زیادت متصلہ متولدہ(5) ہے مثلاً جانور فربہ(6) ہوگیا یا مریض تھا مرض جاتا رہا۔ یازیادت متصلہ غیر متولدہ(7)ہے مثلاً کپڑے کو رنگ دیا یا سی دیا ستو میں گھی ملا دیا۔ یا زیادت منفصلہ متولدہ(8)ہو مثلاً جانور کے بچہ پیدا ہوا، دودھ دوہا، اُون کاٹی ان سب صورتوں میں مبیع کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ اور زیادت منفصلہ غیر متولدہ(9)ہے مثلاً غلام تھا اُس نے کچھ کسب کیا اس سے خیار باطل نہیں ہوتا پھر اگر بیع کو اختیار کیا تو زیادت بھی اسی کو ملے گی اور بیع کو فسخ کریگا تو اصل وزیادت دونوں کو واپس کرنا ہوگا۔(10) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: مشتری کو خیار تھا اور مبیع پر قبضہ کرچکا تھا پھر اُس کو واپس کردیا بائع کہتا ہے یہ وہ نہیں ہے مشتری کہتا ہے کہ وہی ہے توقسم کے ساتھ مشتری کا قول معتبر ہے اور اگر بائع کو یقین ہے کہ یہ وہ چیز نہیں جب بھی بائع ہی اس کا مالک ہوگیا اور یہ بائع کے طور پر بیع تعاطی ہوئی۔(11) (عالمگیری، درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الثالث،ج۳،ص۴۹.
2 ۔رہائش۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الثالث،ج۳،ص۴۹.
4 ۔یعنی اضافہ ہوا۔ 5 ۔یعنی ایسا اضافہ جو مبیع میں خودبخودپیداہوجائے اوراس کے ساتھ متصل بھی ہو۔
6 ۔یعنی موٹا۔ 7 ۔یعنی ایسا اضافہ جو مبیع میں کسی اورچیز کے ملنے سے ہو اور اس کے ساتھ متصل بھی ہو۔
8 ۔یعنی ایسا اضافہ جو مبیع سے خودبخودپیداہوجائے اوراس کے ساتھ متصل نہ ہو بلکہ جدا ہو۔
9 ۔یعنی ایسا اضافہ جو مبیع سے ہو اور اس کے ساتھ متصل نہ ہو بلکہ جدا ہو۔
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل الثالث،ج۳،ص۴۸.
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل السابع،ج۳،ص۵۷.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۳۸.
مسئلہ ۴۴: غلام کو اس شرط کے ساتھ خریداکہ باورچی یامُنشی ہے مگر معلوم ہوا کہ وہ ایسا نہیں تو مشتری کو اختیار ہے کہ اُسے پورے داموں میں لے لے یا چھوڑدے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۴۵: بکری خریدی اس شرط کے ساتھ کہ گابھن ہے(2) یا اتنا دودھ دیتی ہے تو بیع فاسد ہے اور اگر یہ شرط ہے کہ زیادہ دودھ دیتی ہے تو بیع فاسد نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۴۶: ایک مکان خریدا اس شرط پر کہ پختہ اینٹوں سے بنا ہوا ہے وہ نکلا خام ،یا باغ خریدااس شرط پرکہ اُس کے کل درخت پھل دار ہیں اُن میں ایک درخت پھل دار نہیں ہے یا کپڑا خریدااس شرط پر کہ کسم (4)کا رنگا ہوا ہے وہ زعفران کا رنگا ہوا نکلاان سب صورتوں میں بیع فاسد ہے۔ یا خچر خریدا اس شرط پر کہ مادہ ہے وہ نر تھا تو بیع جائز ہے مگر مشتری کو اختیار ہے کہ لے یانہ لے اور اگر نرکہہ کر خریدا اور مادہ نکلایا گدھا یا اونٹ کہہ کر خریدا اورنکلی گدھی یا اونٹنی تو ان صورتوں میں بیع جائز ہے اورمشتری کو خیار فسخ بھی نہیں کہ جنس مختلف نہیں ہے اورجو شرط تھی مبیع اس سے بہتر ہے۔ (5)(درمختار، فتح القدیر)
مسئلہ ۴۷: چند چیزوں میں سے ایک غیر معین کو خریدایوں کہا کہ ان میں سے ایک کو خریدتا ہوں تو مشتری اُن میں سے جس ایک کو چاہے متعین کرلے اس کو خیارِ تعیین کہتے ہیں اس کے لیے چند شرطیں ہیں۔ اول یہ کہ اُن چیزوں میں ایک کو خریدے یہ نہیں کہ میں نے ان سب کو خریدا۔دوم یہ کہ دو چیزوں میں سے ایک یا تین چیزوں میں سے ایک کو خریدے، چار میں سے ایک خریدی تو صحیح نہیں۔ سوم یہ کہ یہ تصریح ہوکہ ان میں سے جوتو چاہے لے لے۔ چہارم یہ کہ اس کی مدت بھی تین دن تک ہونی چاہیے۔ پنجم یہ کہ قیمی چیزوں میں ہو مثلی چیزوں میں نہ ہو۔ رہا یہ امر کہ خیار تعیین کے ساتھ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۳۶.
2 ۔حاملہ ہے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۳۷.
4 ۔ایک قسم کا پھول جس سے شہاب یعنی گہراسرخ رنگ نکلتا ہے اور اس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۴۰.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۵،ص۵۳۰.
خیارشرط کی بھی ضرورت ہے یانہیں اس میں علماکا اختلاف ہے بہر حال اگر خیار تعیین کے ساتھ خیار شرط بھی مذکور ہواور مشتری نے بمقتضائے تعیین(1)ایک کو معین کرلیاتوخیار شرط کا حکم باقی ہے کہ اندرون مدت اُس ایک میں بھی بیع فسخ کرسکتا ہے(2) اور اگر مدت ختم ہوگئی اور خیار شرط کی رو سے بیع کو فسخ نہ کیا تو بیع لازم ہوگئی اورمشتری (3)پر لازم ہوگا کہ اب تک متعین نہیں کیا ہے تو اب معین کرلے۔(4) (درمختار، ردالمحتار، فتح)
مسئلہ ۴۸: خیار تعیین بائع کے لیے بھی ہوسکتا ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ مشتری نے دویا تین چیزوں میں سے ایک کو خریدا اوربائع سے کہہ دیا کہ ان میں سے تو جو چاہے دیدے، بائع نے جس ایک کو دیدیا مشتری کو اُس کا لینا لازم ہو جائے گا، ہاں بائع وہ دے رہا ہے جو عیب دار ہے اور مشتری لینے پر راضی ہے تو خیر، ورنہ بائع مجبور نہیں کرسکتا اور اگر مشتری عیب دارکے لینے پر طیار نہ ہواتو اُن میں سے دوسری چیز لینے پر بھی بائع اب اُس کو مجبور نہیں کرسکتا اوراگر دونوں چیزوں میں سے ایک بائع کے پاس ہلاک ہوگئی تو جوباقی ہے وہ مشتری پر لازم کرسکتا ہے۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۹: خیار تعیین کے ساتھ بیع ہوئی اورمشتری نے دونوں چیزوں پر قبضہ کیا تو ان میں ایک مشتری کی ہے اور ایک بائع کی جواس کے پاس بطور امانت ہے یعنی اگرمشتری کے پاس دونوں ہلاک ہوگئیں تو ایک کا جو ثمن طے پایا ہے وہی دینا پڑے گا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: خیار تعیین کے ساتھ ایک چیز خریدی تھی اور مشتری مرگیا تو یہ خیار وارث کی طرف منتقل ہوگا یعنی وارث دونوں کو رد کرکے بیع فسخ کرنا چاہے ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ جس ایک کو چاہے پسند کرلے اور قبضہ دونوں پر ہوچکا ہے تو دوسری اس کے پاس امانت ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: بائع کے پاس دونوں چیزیں ہلاک ہوگئیں تو بیع باطل ہوگئی اور ایک باقی ہے ایک ہلاک ہوگئی تو جو باقی ہے وہ بیع کے لیے متعین ہوگئی۔(8)(عالمگیری)
1 ۔خیار تعیین کے سبب۔ 2 ۔یعنی سودے کو ختم کر سکتا ہے۔ 3 ۔خریدار۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:فی خیارالتعیین،ج۷،ص۱۳۳.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۵،ص۵۲۲.
5 ۔''ردالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:فی خیارالتعیین،ج۷،ص۱۳۳.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیار الشرط،الفصل السادس فی خیارالتعیین،ج۳،ص۵۴.
7 ۔المرجع السابق،ص۵۵. 8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۵۲: مشتری نے دونوں پر قبضہ کرلیا ہے ایک ہلاک ہوگئی ایک باقی ہے تو جو ہلاک ہوئی وہ بیع کے لیے متعین ہوگئی اور جو باقی ہے وہ امانت ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: خیار تعیین کے ساتھ بیع ہوئی اور ابھی تک دونوں چیزیں بائع ہی کے قبضہ میں تھیں کہ اُن میں سے ایک میں عیب پیدا ہوگیا اب مشتری کو اختیار ہے کہ عیب والی پورے داموں سے لے یا دوسری لے لے یا کسی کو نہ لے۔ دونوں میں عیب پیدا ہوگیا جب بھی یہی حکم ہے۔ اور اگر مشتری قبضہ کرچکا ہے اور ایک عیب دار ہوگئی تو یہ بیع کے لیے متعین ہے اور دوسری امانت اور دونوں عیب دار ہوگئیں اگر آگے پیچھے عیب پیدا ہوا تو جس میں پہلے عیب پیدا ہوا وہ بیع کے لیے متعین ہے اور ایک ساتھ دونوں میں عیب پیدا ہوا تو بیع کے لیے ابھی کوئی متعین نہیں جس ایک کو چاہے معین کرلے اوردونوں کو رد کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: دو کپڑے تھے اور قبل تعیین مشتری نے ایک کو رنگ دیا تویہی بیع کے لیے متعین ہوگیا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۵: خریدار نے کسی چیز کا نرخ اور ثمن طے کرلیا، مگر ابھی خریدوفروخت نہیں ہوئی اور چیز پر قبضہ کرلیا، یہ چیزاس کی ضمان میں ہے ہلاک وضائع ہو جائے تو اس کا تاوان دینا ہوگا اور یہ تاوان اُس شے کی واجبی قیمت ہوگا۔ خواہ یہ قیمت اُتنی ہی ہو جتنا ثمن قرار پایا ہے یا اُس سے زیادہ یا کم ہو۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۵۶: گاہک نے بائع سے یہ ٹھہرالیا ہے کہ چیز ہلاک ہوجائے گی تو میں ضامن نہیں یعنی تاوان نہیں دونگااس صورت میں بھی تاوان دینا پڑے گا اور وہ شرط کرنا بیکار ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۵۷: مشتری نے کسی کو چیز خریدنے کے لیے وکیل کیا، وکیل دام طے کرکے بغیر بیع کیے مؤکل(7) کو دکھانے کے لیے لایا، مؤکل کو دکھائی اُس نے ناپسند کی اور واپس کردی، وہ چیز وکیل کے پاس ہلاک ہوگئی وکیل پر تاوان ہوگا اور مؤکل
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السادس فی خیارالشرط،الفصل السادس فی خیارالتعیین،ج۳،ص۵۵.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۱۱.
5 ۔المرجع السابق،ص۱۱۶.
6 ۔وکیل کرنے والا۔
سے رجوع نہیں کرسکتا، ہاں اگرمؤکل نے کہدیا تھا کہ دام طے کرکے پسند کرانے کے لیے میرے پاس لاناتو جوکچھ وکیل نے تاوان دیا ہے مؤکل سے وصول کریگا۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ ۵۸: خریدار نے دُکان دار سے تھان طلب کیا اُس نے تین تھان دیے اور ہر ایک کا دام بتادیا یہ تھان دس۱۰ کا ہے، یہ بیس ۲۰ کا اور یہتیس۳۰ کا انھیں لے جاؤ، جو اِن میں پسند کرو گے تمھارے ہاتھ بیع ہے، وہ تینوں مشتری کے پاس ہلاک ہوگئے اگر وہ سب ایک دم ہلاک ہوئے یا آگے پیچھے ضائع ہوئے مگریہ معلوم نہیں کہ پہلے کو نسا ہلاک ہوا تو ہر ایک تھان کی تہائی قیمت تاوان دیگا اور اگرمعلوم ہے کہ پہلے فلاں تھان ضائع ہوا تو اُسی کا تاوان دیگا باقی دو تھان امانت تھے، اُن کاتاوان نہیں اور اگر دو ہلاک ہوئے اور معلوم نہیں کہ پہلے کون ہلاک ہوا تو دونوں میں ہر ایک کی نصف قیمت تاوان دے اورتیسرا تھان امانت ہے، اُسے واپس کر دے اور اگر ایک ہلاک ہوا تو اُس کاتاوان دے، باقی دو تھان واپس کردے۔(2)(خانیہ)
مسئلہ ۵۹: دام(3) طے کرکے چیز کولے جانے سے تاوان اُس وقت لازم آتا ہے جب اُس کو خریدنے کے ارادہ سے لے گیا اور ہلاک ہوگئی ورنہ نہیں مثلاً دُکاندار نے گاہک سے کہا یہ لے جاؤ تمھارے لیے دس کوہے خریدار نے کہا لاؤ اس کو دیکھوں گا یا فلاں شخص کو دکھاؤں گا یہ کہہ کر لے گیااور ہلاک ہوگئی تو تاوان نہیں یہ امانت ہے اور اگر یہ کہہ کر لے گیا کہ لاؤ پسندہوگاتو لے لونگا اورضائع ہوگئی تو تاوان دینا ہوگا۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶۰: دُکاندار سے تھان مانگ کر لے گیا کہ اگر پسند ہواتو خرید لوں گااور اُس کے پاس ہلاک ہوگیا تو تاوان نہیں اور اگر یہ کہہ کرلے گیا کہ پسند ہوگا تو دس روپے میں خرید لوں گا وہ ہلاک ہوگیا تو تاوان دینا ہوگا دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں چونکہ ثمن کا ذکر نہیں یہ قبضہ بروجہ خریداری نہیں ہوااوردوسری میں ثمن مذکور ہے لہٰذا خریدار ی کے طور پرقبضہ ہے۔ (5)(فتح القدیر)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،فصل فی المقبوض علی سوم الشراء ،ج۱،ص۳۹۹.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،
3 ۔قیمت،روپیہ۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیار الشرط،مطلب:فی المقبوض علی سوم الشراء ،ج۷،ص۱۱۴.
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۵،ص۵۰۴.
مسئلہ ۶۱: دام ٹھہر اکر بغیر بیع کیے جس چیز کو لے گیا وہ ہلاک نہیں ہوئی بلکہ اُس نے خود ہلاک کی مثلاً کھانے کی چیز تھی اُس نے کھالی کپڑا تھا اُس نے قطع کراکے سلوا لیا تو ثمن دینا ہوگا یعنی جو ٹھہراہے وہ دینا ہوگاہاں اگر بائع نے مشتری کی رضا مندی ظاہر کرنے سے پہلے یہ کہہ دیا کہ میں نے اپنی بات واپس لی اب میں نہیں بیچوں گااس کے بعد مشتری نے صرف کر ڈالا تو قیمت واجب ہے یا رضا مندی ظاہر کرنے سے پہلے مشتری مرگیا اُس کے وارث نے صرف کیا جب بھی قیمت واجب ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۲: دیکھنے یا دکھانے کے لیے لایا ہے اور یہ نہیں کہا ہے کہ پسند ہوگا تولے لونگا اور خرچ کرڈالا تو قیمت دینی ہوگی۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۳: ایک شخص نے دوسرے سے مثلاً ہزار روپے قرض مانگے اور کوئی چیز رہن کے لیے اُس کو دیدی اورابھی قرض اُس نے نہیں دیا ہے کہ چیز ہلاک ہوگئی یہاں دیکھا جائے گاکہ قرض اور اُس چیز کی قیمت میں کون کم ہے جو کم ہے اُسی کے بدلے میں وہ چیز ہلاک ہوئی یعنی وہ چیز اگر گیارہ سو کی تھی تو ایک ہزار مرتہن کو اُس کے معاوضہ میں دینے ہوں گے اور نو سو کی تھی تونوسو۔اور اگر راہن(3)نے یہ کہا کہ یہ چیز رکھ لو اورمجھے قرض دیدو مگر قرض کی کوئی رقم بیان نہیں کی تھی اور چیز ہلاک ہوگئی تو کچھ تاوان نہیں۔ (4)(ردالمحتار)
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چیز کو بغیر دیکھے بھالے خرید لیتے ہیں اور دیکھنے کے بعد وہ چیز نا پسندہوتی ہے، ایسی حالت میں شرع مطہر(5)نے مشتری کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر دیکھنے کے بعد چیز کونہ لینا چاہے تو بیع کو فسخ کرد ے، اس کو خیار رویت کہتے ہیں۔
دار قطنی و بیہقی ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرمایا: ''جس نے ایسی چیز خریدی جس کو دیکھا نہ ہو تو دیکھنے کے بعد
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:فی المقبوض علی سوم الشراء ،ج۷،ص۱۱۴.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:المقبوض علی سوم النظر،ج۷،ص۱۱۵.
3 ۔رہن رکھوانے والے۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب: المقبوض علی سوم النظر ،ج۷،ص۱۱۵۔۱۱۶.
5 ۔یعنی شریعتِ اسلامیہ۔
اُسے اختیار ہے لے یا چھوڑ دے۔''(1)اس حدیث کی سند ضعیف ہے مگر اس حدیث کو خود امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بھی روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ نیز یہ کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ اپنی زمین جو بصرہ میں تھی بیع کی تھی، کسی نے طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا، آپ کو اس بیع میں نقصان ہے۔ اُنھوں نے کہا، مجھے اس بیع میں خیار ہے کہ بغیر دیکھے میں نے خریدی ہے اور حضرت عثمان سے بھی کسی نے کہا، آپ کو اس بیع میں ٹوٹا(2)ہے۔ اُنھوں نے بھی فرمایا: مجھے خیار ہے کیونکہ میں نے بغیر دیکھے بیع کردی ہے۔ اس معاملہ میں دونوں صاحبوں نے جبیربن مطعم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم بنایا، اُنھوں نے طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے موافق فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ گروہ صحابہ کے سامنے ہوا کسی نے اس پر انکار نہ کیا، لہٰذا بمنزلہ اجماع کے اس کو تصور کرنا چاہیے۔ (3) (ہدایہ، تبیین، درر، غرر)
مسئلہ ۱: بائع نے ایسی چیز بیچی جس کو اُس نے دیکھا نہیں مثلاً اُس کو میراث میں کوئی شے ملی ہے اور بے دیکھے بیچ ڈالی بیع صحیح ہے اور اس کو یہ اختیار نہیں کہ دیکھنے کے بعد بیع کو فسخ کردے۔(4)(درر ،غرر)
مسئلہ ۲: جس مجلس میں بیع ہوئی اُس میں مبیع موجود ہے مگر مشتری نے دیکھی نہیں مثلاً پیپے(5)میں گھی یا تیل تھا یا بوریوں میں غلہ تھا یا گٹھری میں کپڑا تھا اور کھول کر دیکھنے کی نوبت نہیں آئی یا وہاں مبیع موجود نہ ہو اس وجہ سے نہیں دیکھی بہر حال دیکھنے کے بعد خریدار کوخیار حاصل ہے چاہے بیع کو جائز کرے یا فسخ کردے۔ مبیع کو بائع نے جیسا بتایا تھا ویسی ہی ہے یا اُس کے خلاف دونوں صورتوں میں دیکھنے کے بعد بیع کو فسخ کرسکتا ہے۔ (6) (درروغیرہ)
مسئلہ ۳: اگر مشتری نے دیکھنے سے پہلے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا یاکہدیا کہ میں نے اپنا خیار باطل کردیا جب بھی دیکھنے کے بعد فسخ کرنے کا حق حاصل ہے کہ یہ خیار ہی دیکھنے کے وقت ملتا ہے دیکھنے سے پہلے خیار تھاہی نہیں لہذ ا اُس کو باطل کرنے کے کوئی معنٰے نہیں۔(7)(ہدایہ وغیرہا)
1 ۔''سنن الدارقطنی''،کتاب البیوع،الحدیث:۲۷۷۷،ج۳،ص۵.
2 ۔نقصان،گھاٹا۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۲،ص۳۴.
و''تبیین الحقائق''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۴،ص۳۲۱.
و''دررالحکام'' و ''غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،الجزء الثانی،ص۱۵۶.
4 ۔''دررالحکام'' و ''غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،الجزء الثانی،ص۱۵۶.
5 ۔کنستر۔
6 ۔''دررالحکام شرح غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،الجزء الثانی،ص۱۵۷،وغیرہ.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۲،ص۳۴،وغیرہا.
مسئلہ ۴: خیار رویت کے لیے کسی وقت کی تحدید نہیں(1) ہے کہ اُس کے گزرنے کے بعد خیار باقی نہ رہے، بلکہ یہ خیار دیکھنے پر ہے جب دیکھے۔(2)(درر) اور دیکھنے کے بعد فسخ کاحق اُس وقت تک باقی رہتا ہے، جب تک صراحۃًیا دلالۃً(3) رضا مندی نہ پائی جائے۔(4)(درمختار)
مسئلہ ۵: خیار رویت چارمواقع میں ثابت ہوتا ہے: 1 کسی شے معین کی خریداری۔2 اجارہ۔ 3 تقسیم۔ 4مال کا دعویٰ تھا اور شے معین پر مصالحت ہوگئی۔ (5)
1 اگر قصاص کا دعویٰ ہوا ور کسی شے پرمصالحت ہوئی(6)تو خیار رویت نہیں۔ 2 دین میں خیار رویت نہیں، لہٰذا مسلم فیہ چونکہ عین نہیں بلکہ دین یعنی واجب فی الذمہ ہے (جس کا بیان انشاء اﷲ تعالیٰ آئے گا) اس میں خیار رویت نہیں۔ 3 روپے اوراشرفیوں میں بھی کہ یہ ازقبیل دین ہیں خیار رویت نہیں ہاں اگر سونے چاندی کے برتن ہوں تو خیار رویت ہے۔ بیع سلم کا راس المال اگر عین ہو تو مسلم الیہ کے لیے خیار رویت ثابت ہوگا۔(7)(درمختار)
مسئلہ ۶: اجناس مختلفہ کی تقسیم اگر شرکامیں ہوئی تو اس میں خیار رویت ،خیار شرط، خیار عیب تینوں ہوسکتے ہیں۔ اور ذوات الا مثال(8)کی تقسیم میں صرف خیار عیب ہوگا باقی دونوں نہیں ہوں گے۔ اور غیر ذوات الامثال جب ایک جنس کے ہوں مثلاً ایک قسم کے کپڑے یا گائیں یا بکریاں ان میں بھی تینوں خیار ثابت ہوں گے۔ (9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: جو عقد فسخ کرنے سے فسخ نہ ہوجیسے مہر اور قصاص کا بدل صلح اور بدل خلع یہ چیزیں اگرچہ عین ہوں ان میں خیار رویت ثابت نہیں (10) (فتح)
ـ1 ۔ یعنی مدت مقرر نہیں۔
2 ۔''دررالحکام شرح غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،الجزء الثانی،ص۱۵۷.
3 ۔اشارۃً۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۴۹.
5 ۔المرجع السابق،ص۱۴۵.
6 ۔یعنی صلح ہوئی۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۴۵.
8 ۔ایسی چیزیں جن کے افراد کی قیمتوں میں معتد بہ تفاوت نہ ہو۔
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۴۵.
10 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۵،ص۵۳۳.
مسئلہ ۸: بے دیکھی ہوئی چیز خریدی ہے دیکھنے سے پہلے بھی اس کی بیع فسخ کرسکتا ہے کیونکہ یہ بیع مشتری کے ذمہ لازم نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۹: اگر مشتری نے مبیع پر قبضہ کرلیا اور دیکھنے کے بعد صراحۃًیا دلالۃًاپنی رضا مندی ظاہر کی یا اُس میں کوئی عیب پیدا ہوگیا یا ایسا تصرف کردیا جو قابل فسخ نہیں ہے مثلاً آزاد کردیا یااُس میں دوسرے کا حق پیدا ہوگیا مثلاً دوسرے کے ہاتھ بلاشرط خیار بیع کردیا یا رہن رکھدیا یا اجارہ پر دیدیا ان سب صورتوں میں خیار رویت جاتا رہا اب بیع کو فسخ نہیں کرسکتا اور اگر اُس کو بیع کیا مگر اپنے لیے خیار شرط کرلیا یا بیچنے کے لیے اُس کا نرخ کیا(2) یاہبہ کیا مگر قبضہ نہیں دیا اور یہ باتیں دیکھنے کے بعد ہوئیں تو دلالۃًرضا مندی پائی گئی اب بیع کو فسخ نہیں کرسکتا اور دیکھنے سے پہلے ہوئیں تو خیار باقی ہے دیکھنے کے بعد مبیع پر قبضہ کرلینا بھی دلیل رضا مندی ہے۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: مبیع پر قبضہ کرکے دیکھنے سے پہلے بیع کردی پھرعیب کی وجہ سے مشتری ثانی نے واپس کردی اگرچہ یہ واپسی قضائے قاضی سے ہو یا رہن رکھنے کے بعد اُسے چھوڑا لیا یا اجارہ کیا تھا اُسے توڑ دیا تو خیار رویت جوان تصرفات کی وجہ سے جاچکا تھا واپس نہ ہوگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: مبیع کا کوئی جزا س کے ہاتھ سے نکل گیا یا اُس میں کمی یازیادتی ہوئی چاہے زیادت متصلہ(5)ہو یا منفصلہ (6)خیار باطل ہوگیا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: بے دیکھے ہوئے کھیت خریدا اور اُس کو عاریت دے دیا، مستعیر(8)نے اُسے بویا خیاررویت باطل ہوگیا اور اگر مستعیرنے اب تک بویا نہیں تو خیار ساقط نہیں اور اگر اُس کھیت کا کوئی کا شتکار اجیر ہے جس نے مشتری کی رضا مندی سے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۴۹.
2 ۔قیمت لگائی۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۰.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۴۹.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۰.
5 ۔ایسی زیادتی (اضافہ)جو مبیع کے ساتھ ملی ہوئی ہومثلاًکپڑا خرید کر رنگ دیا۔
6 ۔ایسی زیادتی (اضافہ)جو مبیع سے متصل نہ ہویعنی جدا ہو مثلاً گائے خریدی اس نے بچہ جن دیا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۰.
8 ۔کسی سے کوئی چیز عاریتاً لینے والا۔
کاشت کی یعنی مشتری نے اُسے پہلی حالت پر چھوڑ دیا منع نہ کیا جب بھی خیار ساقط ہوگیا۔(1) کپڑوں کی ایک گٹھری خریدی اُن میں سے ایک کو پہن لیا خیار رویت باطل ہوگیا۔(2) (ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: ایک مکان خریدا جس کو دیکھا نہیں اُس کے پروس میں ایک مکان فروخت ہوااُس نے شفعہ میں اُسے لے لیا اس کے بعد بھی پہلے مکان کے متعلق خیار رویت باقی ہے دیکھنے کے بعد چاہے تو بیع کو فسخ کرسکتا ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: مشتری نے جب تک خیار رویت ساقط نہ کیا ہو بائع ثمن کا اُس سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔(4) (فتح)
مسئلہ ۱۵: مشتری خریدنے کے بعد مرگیا تو ورثہ کو میراث میں خیار رویت حاصل نہیں ہوگا یعنی ورثہ کو یہ حق نہ ہوگا کہ بیع کو فسخ کردیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: جس چیز کو پہلے دیکھ چکا ہے اگر اُس میں کچھ تغیرپیدا ہوگیا ہے(6) توخیار رویت حاصل ہے اور اگر ویسی ہی ہے توخیار حاصل نہیں ہاں اگر وقت عقد اُسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہی چیز ہے جسے میں خریدتا ہوں تو خیار حاصل ہوگا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: بائع کہتا ہے کہ یہ چیز ویسی ہی ہے جیسی تو نے دیکھی تھی اس میں تغیر نہیں آیا ہے اور مشتری کہتا ہے تغیرآگیا تو مشتری کو گواہ سے ثابت کرنا پڑے گا کہ تغیر آگیا ہے گواہ نہ پیش کرے تو قسم کے ساتھ بائع کا قول معتبر ہوگا۔ یہ اُس صورت میں ہے کہ مشتری کے دیکھنے کو زیادہ زمانہ نہ گزراہوا ور معلوم ہوکہ اتنے زمانہ میں عموماًایسی چیزمیں تغیر نہیں ہوتا اور اگراتنا زیادہ زمانہ گزر گیا ہے کہ عادۃًتغیر ایسی چیز میں ہوہی جاتا ہے۔ مثلاً لونڈی ہے جس کو دیکھے ہوئے بیس برس کا زمانہ گزر چکا ہے اور وہ اُس وقت جوان تھی تومشتری کی بات مانی جائے گی۔ بائع کہتا ہے خریدنے کے وقت تونے دیکھ لیا تھامشتری کہتا ہے نہیں دیکھا تھا تو قسم کے ساتھ مشتری کی بات مانی جائے گی۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔اختیار ختم ہوگیا۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۱.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۴۹.
4 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۵،ص۵۳۳.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۵۸.
6 ۔یعنی تبدیلی آگئی ہے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۵۸.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱۸: ذبح کی ہوئی بکری کی کلیجی خریدی مگر ابھی اُس کی کھال نہیں نکالی گئی ہے تو بیع صحیح ہے اور بائع پرلازم ہے کہ کلیجی نکال کر دے اورمشتری کو خیار رویت حاصل ہوگا اوراگر بکری ابھی ذبح نہیں ہوئی ہے توکلیجی کی بیع درست نہیں اگرچہ بائع کہتا ہوکہ میں ذبح کرکے نکال دیتاہوں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: بائع دو تھان علٰحدہ علٰحدہ دو کپڑوں میں لپیٹ کر لایا اورمشتری سے کہتا ہے یہ وہی دونوں تھان ہیں جن کو تم نے کل دیکھا تھا مشتری نے کہا اس تھان کو دس۱۰ روپے میں خریدااور اس کو دس روپے میں خریدا اور خریدتے وقت نہیں دیکھا تو خیار رویت حاصل نہیں اوراگر دونوں مختلف داموں سے خریدے تو خیار حاصل ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: دوکپڑے خریدے اور دونوں کو دیکھ کر ایک کی نسبت کہتا ہے یہ مجھے پسند ہے اس سے خیار باطل نہیں ہوا اور ابھی خیار بدستور باقی ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: دوشخصوں نے ایک چیز خریدی دونوں نے اُسے دیکھا نہیں تھا اب دیکھ کر ایک نے رضا مندی ظاہر کی دوسرا واپس کرنا چاہتا ہے وہ تنہا واپس نہیں کرسکتا دونوں متفق ہوکر واپس کرنا چاہیں واپس کرسکتے ہیں اور اگرایک نے دیکھاتھا ایک نے نہیں جس نے نہیں دیکھا تھا دیکھ کر واپس کرنا چاہتا ہے جب بھی دونوں متفق ہوکر واپس کرسکتے ہیں اوراگر اس کے دیکھنے سے پہلے ہی دیکھنے والے نے کہہ دیا کہ میں راضی ہوں میں نے بیع کو نافذ کردیا تو دوسرے کا خیار باطل نہیں ہوگا مگر پوری مبیع واپس کرنی ہوگی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: ایک تھان دیکھا تھا باقی نہیں دیکھے تھے اور سب خرید لیے تو خیارہے، مگر واپس کرنا چاہے تو سب واپس کرے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: خیار رویت کی وجہ سے بیع فسخ کرنے(6)میں نہ قاضی کی قضا درکارہے (7)نہ بائع کی رضا مندی کی حاجت۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۵۹.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔سودا ختم کرنے ۔
7 ۔یعنی قاضی کے فیصلہ کی ضرورت نہیں۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۰.
مسئلہ ۲۴: مشتری نے عین میں(1) کوئی ایسا تصرف کیا جس سے اُس میں نقصان پیدا ہوجائے اور اُس کو علم نہ تھا کہ یہی وہ چیز ہے جو میں نے خریدی ہے مثلاً بھیڑ کی اُون تراش لی(2)یا کپڑے کوپہنا جس سے اُس میں نقصان آگیا تو خیار جاتارہا۔ مشتری نے بے دیکھے چیز خریدی بائع نے وہی چیز مشتری کے پاس امانت رکھدی اورمشتری کویہ معلوم نہ ہوا کہ یہ وہی چیز ہے پھر وہ چیز مشتری کے پاس ہلاک ہوگئی تو مشتری کاقبضہ ہوگیا اور ثمن دینا پڑیگا۔ اور اگر مشتری نے اپنا قبضہ کرکے بائع کے پا س امانت رکھ دی اور ابھی تک اپنی رضا مندی ظاہر نہیں کی ہے اور ہلاک ہو گئی جب بھی مشتری کو ثمن دینا پڑے گا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: موزے یاجوتے خریدے تھے مشتری سورہا تھا، بائع نے اُسے سوتے میں پہنا دیا، وہ اُٹھا اور پہنے ہوئے چلا، اگراس چلنے سے کچھ نقصان آگیا خیار باطل ہوگیا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: مرغی نے موتی نگل لیا اُسے موتی کے ساتھ بیچنا چاہے تو بیع درست نہیں اگرچہ مشتری نے موتی دیکھا ہو اور مرغی مرگئی اورموتی کو بیچاتو بیع صحیح ہے اورمشتری نے موتی نہ دیکھا ہو تو خیار رویت حاصل ہے۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۲۷: خیار کی وجہ سے بیع فسخ کرنے میں یہ شرط ہے کہ بائع کو فسخ کا علم ہوجائے کیونکہ اگرایسا نہ ہوا تووہ یہی سمجھتا رہا کہ بیع ہوگئی اور دوسرا گاہک نہیں تلاش کریگا اور اس میں اُس کے نقصان کا احتمال ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۲۸: مبیع کے دیکھنے کایہ مطلب نہیں کہ وہ پوری پوری دیکھ لی جائے اُ س کا کوئی جزدیکھنے سے رہ نہ جائے بلکہ یہ مراد ہے کہ وہ حصہ دیکھ لیاجائے جس کا مقصود کے لیے دیکھنا ضروری تھا مثلاً مبیع بہت سی چیزیں ہے اور اُن کے افرادمیں تفاوت(7) نہ ہو سب ایک سی ہوں جیسی کیلی(8)اور وزنی(9)چیزیں یعنی جس کانمونہ پیش کیا جاتا ہو یہاں بعض کا دیکھناکافی ہے مثلاً غلہ کی ڈھیری ہے اُس کا ظاہر ی حصہ دیکھ لیا کافی ہے ہاں اگر اندرونی حصہ ویسا نہ ہوبلکہ عیب دار ہو تو خیار رویت اورخیار عیب دونوں مشتری کو حاصل ہیں اور اگر عیب دار نہ ہو کم درجہ کاہو جب بھی خیار رویت حاصل ہے اگرچہ خیار عیب نہیں۔ یوہیں
1 ۔یعنی نقود کے علاوہ خریدی ہوئی چیز میں۔ 2 ۔ کاٹ لی۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۰.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،باب الخیار،فصل فی خیارالرؤیۃ،ج۱،ص۳۶۴.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۱.
7 ۔فرق۔ 8 ۔ وہ اشیاء جو ماپ کر بیچی جاتی ہیں۔ 9 ۔وہ اشیاء جو تول کر بیچی جاتی ہیں۔
چند بوریوں میں غلہ بھراہوا ہے۔ ایک میں سے دیکھ لینا کافی ہے جبکہ باقیوں میں اس سے کم درجہ کا نہ ہو۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: مشتری کہتا ہے باقی ویسا نہیں جیسا میں نے دیکھا تھا اور بائع کہتا ہے ویسا ہی ہے اگرنمونہ موجود ہو اہل بصیرت(2) کودکھا یا جائے وہ جو کہیں وہی معتبر ہے اورنمونہ موجود نہ ہو تو مشتری کو گواہ لانا پڑیگا ورنہ بائع کا قول معتبر ہے۔ یہ اُس وقت ہے کہ غلہ وہیں موجود ہو بوریوں میں بھراہوا ہواور اگر غلہ وہاں نہ ہوبائع نے نمونہ پیش کیا اور بیع ہوگئی اورنمونہ ضائع ہوگیاپھر بائع باقی غلہ لایا اور یہ اختلاف پید اہوا تومشتری کا قول معتبر ہے۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: لونڈی غلام میں چہرہ کا دیکھنا کافی ہے اور اگر باقی اعضا دیکھے چہرہ نہیں دیکھا تو کافی نہیں۔ ان میں ہاتھ زبان دانت بالوں کا دیکھنا شرط نہیں۔(4) (درمختاروغیرہ)
مسئلہ ۳۱: سواری کے جانور میں چہرہ اور پٹھے(5)دیکھنا کافی ہے صرف چہرہ دیکھنا کافی نہیں پاؤں اور سُم(6)اور دُم اور ایال(7)دیکھنا ضرور نہیں۔ (8)(عالمگیری، ردالمحتار، درمختار)
مسئلہ ۳۲: پالنے کے لیے بکری خرید تا ہے اُس کا تمام بدن اور تھن کا دیکھنا ضروری ہے۔ یوہیں گائے بھینس دودھ کے لیے خریدتاہے تو تھن کا دیکھنا ضروری ہے اور گوشت کے لیے بکری خریدتا ہے تو اُسے ٹٹولنا ضروری ہے دورسے دیکھ لی ہے جب بھی خیار رویت حاصل ہوگا۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: کپڑاا گر اس قسم کا ہو کہ اندر باہر سب یکساں ہو، جیسے ململ(10)، لٹھا،مارکین(11)،سرج(12)، کشمیرہ(13)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیار الرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۱.
2 ۔ زیادہ آگاہی رکھنے والے لوگ،تجربہ کار لوگ۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۲.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۵۲،وغیرہ.
5 ۔ جانور کے چوتڑ(سرین) کا بالائی حصہ۔ 6 ۔کُھریعنی گھوڑے یا گدھے کا پاؤں جوسخت ہوتا ہے۔
7 ۔ہر چوپائے خصوصاًگھوڑے کی پشتِ گردن کے لٹکے ہوئے بال۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثانی،ج۳،ص۶۲.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۵۳.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۲.
10 ۔ایک قسم کا باریک سوتی کپڑا ۔ 11 ۔امریکہ کا بناہوا ایسا موٹاکپڑا جس کا عرض بڑا ہو۔
12 ۔باریک روئی کے سوت کا بناہوا ایک کپڑا جس سے عمومًا شیروانی وغیرہ بناتے ہیں۔
13 ۔وادی کشمیر کا تیارکردہ گرم کپڑا۔
وغیرہ جن کا نمونہ پیش کیا جاتاہے تو تھان کو اوپر سے دیکھ لیناکافی ہے کھول کر اندر سے دیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ ایسے کپڑوں میں ایک تھان کادیکھ لینا کافی ہے سب تھانوں کے دیکھنے کی ضرورت نہیں البتہ اگر اندر خراب نکلے یا عیب ہو تو خیار رویت یاخیار عیب حاصل ہوگا۔اگر مبیع مختلف قسم کے تھان ہوں تو ہرایک قسم کا ایک ایک تھان دیکھ لینا ضرور ہے اور اگر اُس قسم کا ہو کہ سب حصہ ایک طرح کا نہ ہو جیسے چِکَن(1)اور گلبدن(2)کے تھان کہ اوپر کے پرت(3)میں بوٹیاں زیادہ ہوتی ہیں اور اندر کم تو کھول کر سب تہیں دیکھی جائیں گی، صرف اوپر کاپرت دیکھنا کافی نہیں۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: قالین کے اوپر کارُخ دیکھ لیناضرورہے نیچے کا رُخ دیکھنے سے خیار رویت باطل نہ ہوگااور دری اور دیگر فروش میں کل دیکھناضروری ہے۔ رضائی لحاف اور جُبّہ یاکوٹ جس میں اَستر(5)ہے ابرا (6)دیکھنا ضروری ہے اَستر دیکھنا کافی نہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: مکان میں اندر باہر نیچے اوپر پاخانہ(8)باورچی خانہ سب کا دیکھنا ضروری ہے کیونکہ ان کے مختلف ہونے میں قیمت مختلف ہوجایا کرتی ہے باغ میں بھی باہر سے دیکھ لینا کافی نہیں اندرونی حصہ بھی دیکھنا ضروری ہے اورمختلف قسم کے درخت ہوں توہر ایک قسم کے درخت دیکھنااور پھلوں کا شیریں وترش(9) معلوم کرلینا بھی ضروری ہے۔(10)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: کھانے کی چیز ہو تو چکھنا کافی ہے اور سونگھنے کی ہو تو سونگھنا چاہیے جیسے عطر، خوشبودار تیل۔(11)(درمختار)
مسئلہ ۳۷: عددیا ت متقاربہ(12) مثلاً انڈے اخروٹ ان میں بعض کا دیکھ لینا کافی ہے جبکہ باقی اس سے خراب اورکم درجہ کے نہ ہوں۔ جو چیزیں زمین کے اندر ہوں جیسے لہسن، پیاز، گاجر، آلو، جو چیزیں تول کر بیچی جاتی ہیں ان میں کھود کر
1 ۔کشیدہ کاری یعنی بیل بوٹے کاکام کیا ہوا کپڑا۔
2 ۔مختلف ڈیزائن کا دھاری دار اورپھول دار ریشمی اور سوتی کپڑا۔
3 ۔اوپر کا حصہ،اوپر کی تہ۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۳.
5 ۔ دوہرے کپڑے کے نیچے کی تہ۔ 6 ۔دوہرے کپڑے کے اوپر کی تہ ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثانی،ج۳،ص۶۳.
8 ۔قضائے حاجت کی جگہ یعنی بیت الخلائ۔ 9 ۔میٹھا اور کھٹا، ذائقہ۔
10 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۴.
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،۱۵۵.
12 ۔ ایسی چیزیں جو گن کر بیچی جاتی ہیں اور ان کے افراد کی قیمتوں میں فرق نہیں ہوتا۔
تھوڑے سے دیکھنا کافی ہے جبکہ باقی اس سے کم درجہ کے نہ ہوں یہ جب کہ بائع نے کھود کردکھائے یامشتری نے بائع کی اجازت سے کھودے اوراگر مشتری نے بلا اجازت بائع خود کھود لیے اور اتنے کھودے جن کاکچھ ثمن ہوتوخیار رویت ساقط ہوگیا اور اگر وہ چیز گنتی سے بکتی ہو جیسے مولی تو بعض کا دیکھنا کافی نہیں جبکہ بائع نے اُکھاڑی ہو یا مشتری نے بائع کی اجازت سے۔ اوراگر مشتری نے بلا اجازت بائع اُکھاڑیں اور وہ اتنی ہیں جن کا کچھ ثمن ہے توخیار ساقط ہوگیا۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ ۳۸: ایسی چیز جو زمین میں ہے بیع کی بائع کہتا ہے اگر میں کھود کر نکالتا ہوں اور تم ناپسند کردوتومیرانقصان ہوگا اورمشتری کہتا ہے اگر بغیرتمھاری اجازت میں خود کھودتا ہوں اورمیرے کام کی نہ ہوئی تو پھیر نہ سکوں گااوربیع لازم ہوجائے گی ایسی صورت میں اگردونوں میں کوئی اپنا نقصان گواراکرنے کے لیے طیار ہوجائے فبہا ورنہ قاضی بیع کو فسخ کردے گا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: شیشی میں تیل تھا اور شیشی کو دیکھا تو یہ حقیقتہً تیل کا دیکھنا نہیں کہ شیشہ حائل ہے۔ یوہیں آئینہ دیکھ رہا ہے اور مبیع کی صورت اُس میں دکھائی دی تو مبیع کا دیکھنا نہیں ہے اور اگر مچھلی پانی میں ہے جو بلا تکلف(3)پکڑی جاسکتی ہے اُس کو خریدااور پانی ہی میں اُسے دیکھ بھی لیا بعضوں کے نزدیک خیاررویت باقی نہ رہیگاکہ مبیع دیکھ لی اور بعض فقہا ء کہتے ہیں کہ خیار باقی ہے کیونکہ پانی میں اصلی حالت معلوم نہیں ہوگی جتنی ہے اُس سے بڑی معلوم ہوگی۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: مشتری نے کسی کو قبضہ کے لیے وکیل کیا تو وکیل کا دیکھنا کافی ہے وکیل نے دیکھ کر پسند کرلیا تو نہ وکیل کو فسخ کا اختیار رہا نہ مؤکل(5) کو، یہ اُس وقت ہے کہ قبضہ کرتے وقت وکیل نے مبیع کو دیکھا اور اگر قبضہ کرتے وقت وہ چیز چھپی ہوئی تھی بعد میں اُسے کھول کر دیکھا تا کہ مشتری کا خیار باطل ہوجائے تو یہ دیکھنا اور پسند کرنا مشتری کے خیار کو باطل نہیں کریگا کہ قبضہ کرنے سے اُس کی وکالت ختم ہوگئی دیکھنے کا حق باقی نہ رہا۔ اور اگر خریدنے کے لیے وکیل کیا ہے تو وکیل کا دیکھناکافی ہے کہ وکیل نے دیکھ کر پسند کرلیا یا خریدنے سے پہلے وکیل نے دیکھ لیا تو اب نہ وکیل فسخ کرسکتا ہے نہ مؤکل یہ اُس صورت میں ہے کہ غیر معین چیز کے خریدنے کا وکیل ہو۔اور اگر مؤکل نے خریدنے کے لیے چیز کو معین کردیا ہوکہ فلاں چیز مثلاً فلاں غلام
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع، باب الخیار، فصل فی خیارالرؤیۃ، ج۱، ص۳۶۳.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثانی،ج۳،ص۶۴.
3 ۔مشقت کے بغیر۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۵.
5 ۔وکیل کرنے والا۔
یافلاں گائے یا بکری تو وکیل کو خیار رویت حاصل نہیں۔ (1)(ہدایہ، عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: ایک شخص نے ایک چیز خریدی مگر دیکھی نہیں دوسرے شخص کو اُس کے دیکھنے کا وکیل کیا کہ دیکھ کر پسند کرے یا نا پسند کرے وکیل نے دیکھ کر پسند کرلی بیع لازم ہوگئی اور ناپسند کی تو فسخ کرسکتا ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: کسی شخص کو مشتری نے قبضہ کے لیے قاصد بنا کر بھیجایعنی اُس سے کہا کہ بائع کے پاس جا کرکہہ کہ مشتری نے مجھے بھیجا ہے کہ مبیع مجھے دیدے اس کا دیکھنا کافی نہیں یعنی مشتری اگر دیکھ کر نا پسند کرے تو بیع کو فسخ کرسکتا ہے۔ (3)(درمختار) وکیل نے مبیع کو وکالت سے پہلے دیکھا اُس کے بعد وکیل ہوکر خریدا تو اُسے خیار رویت حاصل ہوگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: اندھے کی بیع وشرا(5)دونوں جائز ہیں اگر کسی چیز کو بیچے گا تو خیار حاصل نہ ہوگا اور خریدے گاتو خیار حاصل ہوگا اور مبیع کو اُلٹ پلٹ کر ٹٹولنا دیکھنے کے حکم میں ہے کہ ٹٹول لیا اورپسند کرلیا تو خیار ساقط ہوگیا اور کھانے کی چیز کا چکھنا اور سونگھنے کی چیز کا سونگھنا کافی ہے اور جو چیز نہ ٹٹولنے سے معلوم ہونہ چکھنے سونگھنے سے جیسے زمین ،مکان، درخت، لونڈی غلام وہاں اُ س چیز کے اوصاف بیان کرنے ہوں گے جو اوصاف بیان کردیے گئے مبیع اُن کے مطابق ہے تو فسخ نہیں کرسکتا ورنہ فسخ کرسکتا ہے۔ اندھا مشتری یہ بھی کرسکتا ہے کہ کسی کو قبضہ یا خریدنے کے لیے وکیل کردے وکیل کا دیکھ لینا اُس کے قائم مقام ہوجائے گا۔اندھا کسی چیز کو اپنے لیے خریدے یا دوسرے کے لیے مثلاً کسی نے اندھے کو وکیل کردیا دونوں صورتوں میں خیارحاصل ہوگا۔ (6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴۴: اندھے کے لیے مبیع کے اوصاف بیان کر دیے گئے یا اُس نے ٹٹول کر معلوم کرلیا اور چیز پسند کرلی پھر وہ بینا ہوگیا تو اب اُسے خیار رویت حاصل نہیں ہوگا جو خیار اُسے حاصل تھا ختم کرچکا۔ انکھیارے(7)نے خریدی تھی اور مبیع کو دیکھنے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثالث،ج۳،ص۶۶.
و''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۲،ص۳۵.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۶.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۶.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۶.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثالث،ج۳،ص۶۶.
5 ۔خریدوفروخت۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثالث،ج۳،ص۶۵.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۷.
7 ۔آنکھوں والے۔
سے پہلے نا بینا ہوگیا تو اب اُس کے لیے وہی حکم ہے جو اُس مشتری کا ہے کہ خریدتے وقت نا بینا تھا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: شے معین کی شے معین سے بیع ہوئی مثلاً کتاب کو کپڑے کے بدلے میں بیع کیا تو ایسی صورت میں بائع و مشتری دونوں کو خیار رویت حاصل ہے کیونکہ یہاں دونوں مشتری بھی ہیں۔ (2)(درمختار)
حدیث (۱): ابن ماجہ نے واثلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جس نے عیب والی چیز بیع کی اور اُس کو ظاہر نہ کیا، وہ ہمیشہ اﷲ تعالیٰ کی ناراضی میں ہے یا فرمایا کہ ہمیشہ فرشتے اُس پرلعنت کرتے ہیں۔'' (3)
حدیث (۲): امام احمد و ابن ماجہ وحاکم نے عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور جب مسلمان اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی چیز بیچے جس میں عیب ہو تو جب تک بیان نہ کرے، اسے بیچنا حلال نہیں۔'' (4)
حدیث (۳): صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم غلہ کی ڈھیری کے پاس گزرے اُس میں ہاتھ ڈال دیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو اُنگلیوں میں تری محسوس ہوئی، ارشاد فرمایا: ''اے غلہ والے! یہ کیا ہے؟ اُس نے عرض کی یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اس پر بارش کا پانی پڑگیا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ ''تو نے بھیگے ہوئے کو اوپر کیوں نہیں کر دیا کہ لوگ دیکھتے جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔'' (5)
حدیث (۴): شرح سنہ میں مخلدبن خفاف سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں، میں نے ایک غلام خریدا تھا اور اُس کو کسی کام میں لگا دیا تھا پھر مجھے اُس کے عیب پر اطلاع ہوئی، اس کا مقدمہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس پیش کیا، اُنھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ غلا م کو میں واپس کر دوں اور جو کچھ آمدنی ہوئی ہے، وہ بھی واپس کردوں پھر میں عروہ سے ملا اور اُنکو واقعہ سُنایا اُنھوں نے کہا، شام کو میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس جاؤں گا اُن سے جاکر یہ کہا کہ مجھ کوعائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے یہ خبر دی ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثالث،ج۳،ص۶۵.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۶۲.
3 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب التجارات،باب من باع عیبًا فلیبینہ،الحدیث:۲۲۴۷،ج۳،ص۵۹.
4 ۔المرجع السابق،الحدیث:۲۲۴۶،ص۵۸.
5 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان،باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فلیس منَّا،الحدیث:۱۶۴۔(۱۰۱)،(۱۰۲)،ص۶۵.
کہ ایسے معاملہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ''آمدنی ضمان کے ساتھ ہے یعنی جس کے ضمان میں چیز ہو وہی آمدنی کا مستحق ہے۔یہ سن کر عمر بن عبدالعزیز نے یہ فیصلہ کیا کہ آمدنی مجھے واپس ملے۔ (1)
حدیث (۵): دارقطنی و حاکم و بیہقی ابو سعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''نہ خود کو ضرر پہنچنے دے، نہ دوسرے کو ضرر پہنچائے، جو دوسرے کو ضرر پہنچائے گا اﷲ تعالیٰ اُس کو ضرر دے گااور جو دوسرے پر مشقت ڈالے گا اﷲ تعالیٰ اُس پر مشقت ڈالے گا۔'' (2)
حدیث (۶): بیہقی ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ ارشاد فرمایا: ''بیچنے کے لیے جو دودھ ہو اُس میں پانی نہ ملاؤ۔'' ایک شخص (امم سابقہ(3)میں سے جبکہ شراب حرام نہ تھی) ایک بستی میں شراب لے گیا، پانی ملا کر اُسے دوچند کر دیا پھر اُس نے ایک بندر خریدا اور دریا کا سفر کیا، جب پانی کی گہرائی میں پہنچا بندر اشرفیوں کی تھیلی اُٹھا کر مستول(4)پرچڑھ گیا اور تھیلی کھول کر ایک اشرفی پانی میں پھینکتا اور ایک کشتی میں، اس طرح اُس نے اشرفیوں کی نصف نصف تقسیم کر دی۔ (5)
عرف شرع میں عیب جس کی وجہ سے مبیع کو واپس کرسکتے ہیں وہ ہے جس سے تاجر وں کی نظر میں چیز کی قیمت کم ہوجائے۔ (6)
مسئلہ ۱: مبیع میں عیب ہوتواُس کا ظاہرکردینا بائع پر واجب ہے چھپانا حرام و گناہ کبیرہ ہے۔ یوہیں ثمن کا عیب مشتری پر ظاہر کر دینا واجب ہے اگر بغیر عیب ظاہر کیے چیز بیع کردی تو معلوم ہونے کے بعدواپس کرسکتے ہیں اس کو خیار عیب کہتے ہیں خیار عیب کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وقت عقد یہ کہہ دے کہ عیب ہوگاتو پھیر دینگے(7)کہا ہو یا نہ کہاہوبہر حال عیب معلوم ہونے پر مشتری کوواپس کرنے کا حق حاصل ہوگالہٰذا اگرمشتری کو نہ خریدنے سے پہلے عیب پر اطلاع تھی نہ وقت خریداری اُس کے علم میں یہ بات آئی بعد میں معلوم ہواکہ اس میں عیب ہے تھوڑا عیب ہو یا زیادہ خیار عیب حاصل ہے کہ مبیع کو لینا چاہے تو
1 ۔''شرح السنۃ''،کتاب البیوع،باب فیمن اشتری عبدًا...إلخ،ج۴،ص۳۲۱.
2 ۔''المستدرک''للحاکم،کتاب البیوع،باب النھی عن المحاقلۃ...إلخ،الحدیث:۲۳۹۲،ج۲،ص۳۶۹.
3 ۔گزشتہ اُمتوں۔ 4 ۔جہاز یا کَشتی کاستون۔
5 ۔''شعب الإیمان''للبیہقی،الباب الخامس والثلاثون...إلخ،الحدیث:۵۳۰۸،ج۴،ص۳۳۳.
6 ۔''تنویرالأبصار''،کتاب البیوع،باب خیار العیب،ج۷،ص۱۶۴.
7 ۔ واپس کردینگے۔
پورے دام پرلے لے واپس کرنا چاہے واپس کردے یہ نہیں ہوسکتاکہ واپس نہ کرے بلکہ دام (1)کم کردے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: عیب پر مشتری کو اطلاع قبضہ سے پہلے ہی ہوگئی تومشتری بطور خود عقد کوفسخ کرسکتا ہے، اس کی ضرورت نہیں کہ قاضی فسخ کاحکم دے تو فسخ ہوسکے بائع کے سامنے اتنا کہدینا کافی ہے کہ میں نے عقد کو فسخ کردیا یا رد کر دیا یا باطل کر دیا بائع راضی ہویا نہ ہو عقد فسخ ہوجائے گااور اگر مبیع پر قبضہ کرچکا ہے تو بائع کی رضا مندی یا قضائے قاضی کے بغیر(3) عقد فسخ نہیں ہوسکتا۔ (4)(ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۳: مشتری نے مبیع پر قبضہ کرلیا تھاپھر عیب معلوم ہوااور بائع کی رضا مندی سے عقد فسخ ہوا توان دونوں کے حق میں فسخ ہے مگر تیسرے کے حق میں یہ فسخ نہیں بلکہ بیع جدید ہے کہ اس فسخ کے بعد اگر مبیع مکان یازمین ہے تو شفعہ کرنے والا شفعہ کرسکتا ہے اور اگر قضائے قاضی سے فسخ ہوا توسب کے حق میں فسخ ہی ہے شفعہ کا حق نہیں پہنچے گا۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۴: خیار عیب کی صورت میں مشتری مبیع کا مالک ہوجاتا ہے مگر ملک لازم نہیں ہوتی اور اس میں وراثت بھی جاری ہوتی ہے یعنی اگر مشتری کو عیب کا علم نہ ہوااورمرگیااور وارث کو عیب پر اطلاع ہوئی تو اُسے عیب کی وجہ سے فسخ کا حق حاصل ہوگا۔خیار عیب کے لیے کسی وقت کی تحدید نہیں(6)جب تک موانع رد(7)نہ پائے جائیں (جن کابیان آئے گا) یہ حق باقی رہتا ہے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: خیار عیب کے لیے یہ شرط ہے کہ(۱) مبیع میں وہ عیب عقد بیع کے وقت موجود ہویا بعد عقد، مشتری کے قبضہ سے پہلے پیدا ہو، لہٰذا مشتری کے قبضہ کرنے کے بعد جو عیب پیدا ہوا اُس کی وجہ سے خیار حاصل نہ ہوگا۔ (۲)مشتری نے قبضہ کرلیا ہو تو اس کے پاس بھی وہ عیب باقی رہے اگر یہاں وہ عیب نہ رہا تو خیار بھی نہیں۔ (۳)مشتری کو عقد یا قبضہ کے وقت عیب پر اطلاع نہ ہوعیب دار جانکرلیا یا قبضہ کیا خیار نہ رہا۔(۴)بائع نے عیب سے براء ت نہ کی ہو اگر اُس نے کہدیاکہ میں اس کے کسی
1 ۔ قیمت۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۶،۶۷.
3 ۔قاضی کے فیصلے کے بغیر۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۲،ص۳۶۔۳۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۶.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۲،ص۳۹.
6 ۔مدت مقررنہیں۔ 7 ۔یعنی واپسی سے روکنے والے اسباب ۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۶.
عیب کا ذمہ دار نہیں خیار ثابت نہیں۔(1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۶: لونڈی غلام کا مالک کے پاس سے بھاگنا عیب ہے اور اگر بھاگنا اس وجہ سے ہے کہ مالک اُس پر ظلم کرتا ہے تو عیب نہیں۔ مالک نے اُسے امانت رکھ دیا ہے یا عاریت دیدیا ہے یا اُجرت پر دیا ہے امین یا مستعیر(2)یا مستاجر(3)کے پاس سے بھاگنابھی عیب ہے مگر جبکہ یہ ظلم کرتے ہوں۔ بھاگنے کے لیے یہ ضرور نہیں کہ شہر سے نکل جائے بلکہ اُسی شہر میں رہے جب بھی عیب ہے اور بھاگنا اسی وقت عیب ہے جب مشتری کے یہاں سے بھی بھاگا ہو۔(4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۷: مشتری کے یہاں سے بھاگ کر بائع کے یہاں آیا اور چھپا نہیں جب کہ بائع اُسی شہر میں ہو تو عیب نہیں اور یہاں آکر پوشیدہ ہوگیا تو عیب ہے۔ غاصب(5)کے یہاں سے بھاگ کر مالک کے پاس آیا یہ عیب نہیں۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: بیل وغیرہ جانور دو تین دفعہ بھاگیں تو عیب نہیں اس سے زیادہ بھاگنا عیب ہے۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹: بِچھو نے پر پیشاب کرنا عیب ہے چوری کرنا عیب ہے چاہے اتنا چُرایا جس سے ہاتھ کا ٹا جائے یا اس سے کم۔ یوہیں کفن چُرانا جیب کاٹنا بھی عیب ہے بلکہ نقب لگانا(8)بھی عیب ہے۔ کھانے کی چیز کھانے کے لیے مالک کی چُرائی تو عیب نہیں اور بیچنے کے لیے چُرائی یا دوسرے کی چیز چُرائی تو عیب ہے۔ بعض فقہانے فرمایاکہ مالک کا پیسہ دوپیسے چُرانا عیب نہیں۔(9)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: بھاگنا، چوری کرنا،بچھونے پر پیشاب کرنا ان تینوں کے اسباب بچپن میں اور بڑے ہونے پر مختلف ہیں۔ بچپن سے مراد پانچ سال کی عمر ہے اس سے کم عمر میں یہ چیزیں پائی جائیں تو عیب نہیں۔بچپن میں ان کا سبب کم عقلی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۶،۶۷،وغیرہ.
2 ۔عاریۃًلینے والا ۔ 3 ۔اجرت پرلینے والا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۰،وغیرہ.
5 ۔ناجائز قبضہ کرنے والا۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۰.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۰.
8 ۔دیوار میں چوری کرنے کے لیے سوراخ کرنا۔
9 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۹.
اورضعف مثانہ(1)ہے اور بڑے ہونے کے بعد ان کا سبب سوء اختیاراور باطنی بیماری ہے لہٰذا اگر یہ عیوب مشتری وبائع دونوں کے یہاں بچپن میں پائے گئے یا دونوں کے یہاں جوانی کے بعد پائے گئے تو مشتری رد کرسکتا ہے کہ یہ وہی عیب ہے جوبائع کے یہاں تھا اور اگر بائع کے یہاں یہ عیب بچپن میں تھا اور مشتری کے یہاں بلوغ کے بعد تو رد نہیں کرسکتا کہ یہ وہ عیب نہیں بلکہ دوسرا عیب ہے جو مشتری کے یہاں پیدا ہوا جس طرح بائع کے یہاں اُسے بخار آتا تھا اگر مشتری کے یہاں بھی وہی بخار اُسی وقت آیا تو واپس کرسکتا ہے اور مشتری کے یہاں دوسری قسم کا بخار آیا تو واپس نہیں کرسکتا۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: نا بالغ غلام کو خریدا جو بچھونے پر پیشاب کرتا تھا مشتری(3) کے یہاں بھی یہ عیب موجود تھا مگر کوئی دوسرا عیب اس کے علاوہ بھی پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے واپس نہ کرسکااور بائع سے اس عیب کانقصان لے لیا بالغ ہونے پر پیشاب کرنا جاتارہا تو جو معاوضہ عیب بائع نے ادا کیا ہے چونکہ وہ عیب جاتا رہا وہ رقم واپس لے سکتا ہے۔(4)(فتح)
مسئلہ ۱۲: جنون بھی عیب ہے اور بچپن اور جوانی دونوں میں اس کا سبب ایک ہی ہے یعنی اگر بائع کے یہاں بچپن میں پاگل ہواتھا اورمشتری کے یہاں جوانی میں تو واپس کرنے کا حق ہے کیونکہ یہ وہی عیب ہے دوسرا نہیں۔جنون کی مقدار یہ ہے کہ ایک دن رات سے زیادہ پاگل رہے اس سے کم میں عیب نہیں۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: کنیز کا ولدالزنا(6)ہونا عیب ہے۔ یوہیں اُس کا زنا کرنا بھی عیب ہے، لونڈی سے بچہ پیدا ہوجانا بھی عیب ہے، جبکہ وہ بچہ مولےٰ(7)کے علاوہ دوسرے سے ہو اور اگراُ س کا بچہ مولیٰ سے ہو تو وہ ام ولدہے اُس کا بیچنا ہی جائز نہیں۔ زنا اور ولادت میں مشتری کے یہاں اس عیب کا پایاجانا ضرور نہیں۔ولدالزنا ہونا، زنا کرنا، غلام میں عیب نہیں اگرچہ زنا کرنا گناہ کبیرہ ہے اُس پر توبہ واستغفار واجب ہے اور شرعاً سخت عیب ہے اور اگر زنا کرنا اُس کی عادت ہو یعنی دو مرتبہ سے زیادہ ایساکیا تو یہ بیع میں عیب شمار کیا جائے گا۔ لونڈی اور غلام میں فرق اس وجہ سے ہے کہ لونڈی سے اکثر یہ مقصود ہوتا ہے کہ اُس سے وطی کرے اگر وہ ایسی ہے تو طبیعت کو کراہت آئے گی نیز اگر اولاد پیدا ہوئی تو زانیہ کی اولاد کہلائے گی اور یہ سخت عار ہے اور غلام سے مقصود
1 ۔جسم کے اندر پیشاب کی تھیلی کا کمزور ہونا۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۶.
3 ۔خریدار۔
4 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۶،ص۴،۵.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۷۰.
6 ۔زنا سے پیدا ہونے والی۔ 7 ۔آقا ،مالک۔
خدمت لینا ہوتا ہے اوران باتوں سے خدمت میں کوئی فرق نہیں آتا، جب تک زنا کی عادت نہ ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: غلام اگر ایسا ہو کہ مفت اغلام کراتا ہو، یہ اُس میں عیب ہے۔ غلام مخنث(2)ہے بایں معنے کہ آواز میں نرمی ہے اور رفتار میں لچک، اگر یہ بات کمی کے ساتھ ہے تو عیب نہیں اور زیادتی کے ساتھ ہے تو عیب ہے، واپس کردیا جائے گا اور اگر مخنث بایں معنیٰ ہو کہ برے افعال کرتا ہے تو عیب ہے۔ (3)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۵: لونڈی کا حاملہ ہونا یا شوہر والی ہونا عیب ہے کیونکہ اُس کو فراش نہیں بنایا جاسکتا۔(4)یوہیں غلام کا شادی شدہ ہونا بھی عیب ہے، مگر غلام نے واپسی سے پہلے اپنی زوجہ کو طلاق دیدی تو واپس نہیں کیا جاسکتا اور لونڈی کو اُس کے شوہر نے طلاق دیدی اگر رجعی طلاق ہے واپس کی جاسکتی ہے اور بائن ہے تو نہیں اور شوہروالی لونڈی اگرمشتری کے محرمات میں سے ہو مثلاً اس کی رضاعی بہن یا ماں ہے یا اس کی عورت کی ماں ہے توشوہر والی ہونا عیب نہیں۔ (5)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: جذام(6)، برص(7)، اندھا ہونا، کانا ہونا، بھینگا ہونا(8)، گونگا ہونا، بہرا ہونا، اُنگلی زیادہ یاکم ہونا، کُبڑا(9)ہونا، پھوڑے، بیماری، خصیہ کا بڑا ہونا، نامردی، خصی ہونا، یہ سب چیزیں عیب ہیں اگر خصی کہکر خریدا اور خصی نہ تھا توواپس کرنے کا حق نہیں ہے۔(10) (عالمگیری، درمختار) جو غلام دارالاسلام میں پید ا ہوا ہے اور بالغ ہوگیا مگر اُس کا ختنہ نہیں ہوا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۷.
2 ۔ہیجڑہ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۸.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۵.
4 ۔یعنی اس سے جماع،ہمبستری نہیں کی جا سکتی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۷،۶۸.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۵.
6 ۔کوڑھ ، ایک موذی بیماری۔ 7 ۔سفید کوڑھ ، ایک بیماری جس کی وجہ سے جسم پرسفید دھبے پڑجاتے ہیں۔
8 ۔آنکھ کاٹیڑھا پن۔ 9 ۔ وہ شخص جس کی پیٹھ جھک گئی ہو۔
J ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۸.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۴.
ہے یہ عیب ہے اور ابھی نا بالغ ہے یا دارالحرب سے اُسے لائے اس میں یہ عیب نہیں۔ (1)(فتح)
مسئلہ ۱۷: غلام امرد(2)خریدا پھر معلوم ہواکہ اس نے داڑھی مُنڈائی تھی یا داڑھی کے بال نوچ ڈالے تھے یہ عیب ہے واپس کردیا جائے گا۔(3)(خانیہ)
مسئلہ ۱۸: گندہ دہنی(4)یا بغل میں بو ہونا لونڈی میں عیب ہے غلام میں نہیں، مگر جبکہ بہت زیادہ ہو تو غلام میں بھی عیب ہے اوراگر دانت مانجھے نہیں(5)اس وجہ سے مونھ سے بو آتی ہے، منجن(6)مسواک سے بو زائل ہو جائے گی، یہ عیب نہیں۔(7)(عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: ناف کے نیچے پیڑو(8)کا پھولا ہونا ، لونڈی غلام دونوں میں عیب ہے(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: لونڈی کی شرمگاہ میں گوشت یا ہڈی کا پیدا ہوجاناجس کی وجہ سے وطی نہ ہوسکے، عیب ہے۔ یوہیں آگے کا مقام بند ہونا بھی عیب ہے۔(10)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: کافر ہونا لونڈی غلام دونوں میں عیب ہے۔ یوہیں بدمذہب ہونا بھی عیب ہے۔(11)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: لونڈی کی عمر پندرہ سال کی ہو اور حیض نہ آئے یہ عیب ہے اور اگر صغر سنی یا کبر سنی کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو عیب نہیں۔ یہ بات کہ حیض نہیں آتا یہ خود اُسی لونڈی کے کہنے سے معلوم ہوگی اور اگر بائع کہتا ہے کہ اسے حیض آتا ہے تو اُسے قسم دیں گے، اگر قسم کھالے بائع کا قول معتبر ہے اور قسم سے انکار کرے تو عیب ثابت ہے۔ استحاضہ بھی عیب ہے۔(12)(درمختار)
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۶،ص۸.
2 ۔یعنی خوبصورت لڑکا۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،فصل فی العیوب،ج۱،ص۳۶۷.
4 ۔یعنی منہ سے بدبو آنے کی بیماری۔ 5 ۔دانت صاف نہیں کئے۔ 6 ۔دانت صاف کرنے کاپاؤڈر۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۷.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۴.
8 ۔ناف کے نیچے کا حصہ۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۹.
10 ۔المرجع السابق.
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۵.
12 ۔المرجع السابق،ص۱۷۶.
مسئلہ ۲۳: پرانی کھانسی عیب ہے، معمولی کھانسی عیب نہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مدیون ہونا بھی عیب ہے جبکہ اُس دین کا مطالبہ فی الحال ہوسکتا ہو اور اگرایسا دَین ہے جو آزاد ہونے کے بعد واجب الادا ہوگا تو عیب نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲۵: شراب خواری کی عادت، جوا کھیلنا، جھوٹ بولنا، چغلی کھانا، نماز چھوڑ دینا، بائیں ہاتھ سے کام کرنا(3)، آنکھ میں پربال ہونا(4) ، پانی بہنا، رتوند ہونا،(5) یہ سب عیوب ہیں۔(6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۶: گائے، بھینس، بکری دودھ نہیں دیتی یا اپنا دودھ خو دپی جاتی ہے یہ عیب ہے۔ اور جانور کا کم کھانا بھی عیب ہے بیل کام کے وقت سو جاتا ہے یہ عیب ہے۔ گدھا خریدا، وہ سُست چلتا ہے واپس نہیں کرسکتا مگر جبکہ تیز رفتاری کی شرط کرلی ہو۔ گدھے کا نہ بولنا عیب ہے۔ مُرغ خریدا جو نا وقت بولتا ہے، واپس کرسکتا ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: بکری خریدی ،دیکھا تو اُس کے کان کٹے ہوئے ہیں، یہ عیب ہے۔ یوہیں قربانی کے لیے کوئی جانور خریدا جس کے کان کٹے ہوئے ہیں یا اُس میں کوئی عیب ایسا ہے جس کی وجہ سے قربانی نہیں ہوسکتی اُسے واپس کرسکتا ہے اور اگر قربانی کے لیے نہ ہو تو واپس نہیں کرسکتا مگر جبکہ عرف میں وہ عیب قرار دیا جائے۔ اگر بائع ومشتری میں اختلاف ہوا مشتری کہتا ہے میں نے قربانی کے لیے خریدا ہے بائع انکار کرتا ہے اگروہ زمانہ قر بانی کا ہواور مشتری اہل قربانی سے ہو تو مشتری کا قول معتبر ہے۔ (8)(خانیہ)
مسئلہ ۲۸: گائے یا بکری نجاست خورہے اگر یہ اُ س کی عادت ہے عیب ہے اور اگر ہفتہ میں ایک دو بار ایسا ہوا تو
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۸.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۹.
3 ۔یعنی دایاں ہاتھ درست ہونے کے باوجود ہر کام کے لیے صرف بایاں ہاتھ استعمال کرتاہو۔
4 ۔آنکھ کی ایک بیماری جس میں پلکوں کے اندر سے مڑے ہوئے بال نکل آتے ہیں اور آنکھ کے ڈھیلے میں چُبتے رہتے ہیں۔
5 ۔شب کوری ،آنکھ کی ایک بیماری جس کے سبب رات کو دکھائی نہیں دیتا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۹.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۹.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۱،۷۲.
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،فصل فی العیوب،ج۱،ص۳۶۹.
عیب نہیں۔ کوئی جانور مکھی کھاتا ہے اگر احیاناً (1)ایسا ہو تو عیب نہیں اور اکثر کھاتا ہو تو عیب ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: جانور کے دونوں پاؤں قریب قریب ہیں مگر رانوں میں زیادہ فاصلہ ہے یہ عیب ہے۔ رسی توڑانا یا کسی ترکیب سے گلے سے پگھا (3) نکال لینا عیب ہے۔ گھوڑا سرکش ہے کھڑا ہوجاتا ہے اَڑجاتا ہے لگام لگاتے وقت شوخی(4) کرتا ہے لگانے نہیں دیتا چلنے میں دونوں پنڈلیاں یا پاؤں رگڑکھاتے ہوں یہ سب عیب ہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: گھوڑا خریدا ،دیکھا کہ اُس کی عمر زیادہ ہے خیار عیب کی وجہ سے اُسے واپس نہیں کرسکتا ہاں اگر کم عمر کی شرط کرلی ہے تو واپس کرسکتا ہے۔ گائے خریدی وہ مشتری کے یہاں سے بھاگ کر بائع کے یہاں چلی جاتی ہے یہ عیب نہیں۔ (6)(عالمگیری) یعنی جب کہ زیادہ نہ بھاگتی ہو۔
مسئلہ ۳۱: موزے یا جوتے خریدے وہ اس کے پاؤں میں نہیں آتے واپس کرسکتا ہے اگرچہ خریدتے وقت یہ نہ کہا ہو کہ پہننے کے لیے خریدتاہوں کیونکہ عادۃً (7)ایک جوڑا جوتایاموزہ پہننے ہی کے لیے خریداجاتا ہے۔ جو تاخریدا جو تنگ تھا بائع نے کہہ دیا پہنو ٹھیک ہو جائے گاایک دن پہنا مگر ٹھیک نہ ہوا اب واپس نہیں کرسکتا۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: نجس کپڑا خریدا مگر مشتری کو ناپاک ہونا معلوم نہ تھا اب معلوم ہوااگراُس قسم کا کپڑا ہے کہ دھونے سے خراب نہیں ہوگا تو واپس نہیں کرسکتا اور خراب ہوجائے گاتو واپس کرسکتا ہے۔ اُس میں تیل کی چکنائی لگی ہے تو بہر حال واپس کرسکتا ہے۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: مکان خریدااُس کے دروازہ پر لکھا ہوا پایا یہ فلاں مسجد پر وقف ہے محض اتنی بات سے واپس نہیں
1 ۔ کبھی کبھی۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۲.
3 ۔وہ لمبی رسی جو جانور کے گلے میں باندھ کرپچھلے پاؤں میں باندھ دیتے ہیں۔
4 ۔اچھل کود۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۲.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔عام طورپر۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۳.
9 ۔المرجع السابق.
کرسکتاجب تک وقف کا ثبوت نہ ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: مکان یا زمین خریدی لوگ اُسے منحوس کہتے ہیں واپس کرسکتا ہے کیونکہ اگر چہ اس قسم کے خیالات کا اعتبار نہیں مگر بیچناچاہے گا تو اس کے لینے والے نہیں ملیں گے اور یہ ایک عیب ہے۔ (2)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۵: گیہوں(3) خریدے بائع نے اشارہ کرکے بتادیاتھا کہ یہ ہیں اُس کے دانے پتلے یا چھوٹے ہیں تو خیار عیب سے واپس نہیں کرسکتا اور اگر گُھنے ہوئے(4) ہیں یابو دار(5) ہیں تو واپس کرسکتا ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: پھل یا ترکاری کی ٹوکری خریدی اُس میں نیچے گھاس بھر ی ہوئی نکلی واپس کرسکتا ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: مکان خریدا جس کا پرنالہ دوسرے کے مکان میں گرتا ہے یا اس کی نالی دوسرے کے مکان میں جاتی ہے اور معلوم ہوا کہ اس کا حق نہیں ہے مگر خریداری کے وقت اس کا علم نہیں تھاتو واپس کرسکتا ہے یا اس کی وجہ سے جو کچھ قیمت میں کمی پیدا ہووہ بائع سے واپس لے سکتاہے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: قرآن مجید یا کتاب خریدی اور اُس کے اندر بعض بعض جگہ الفاظ لکھنے سے رہ گئے ہیں واپس کرسکتا ہے۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: عیب پر اطلاع پانے کے بعد مشتری نے اگر مبیع میں مالکانہ تصرف کیا تو واپس کرنے کا حق جاتارہا۔جانور خریدا تھا وہ بیمار تھا اُس کا علاج کیا یا اپنے کام کے لیے اُ س پرسوارہواواپس نہیں کر سکتااور اگر ایک بیماری تھی جس کی بائع نے ذمہ داری نہیں کی تھی اُس کا علاج کیا اور دوسری بیماری جس کا ذکر نہیں آیا تھا وہ ظاہر ہوئی تو اس کی وجہ سے واپس کرسکتا ہے۔(10) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۳.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۳.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۸۱.
3 ۔گندم۔ 4 ۔گُھن(ایک کیڑا جو غلے کو کھاتا ہے)لگے ہوئے ۔ 5 ۔ بدبودار۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۳.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق،ص۷۴.
9 ۔المرجع السابق. 10 ۔المرجع السابق،ص۷۵.
مسئلہ ۴۰: جانور پر اُس کو واپس کرنے کی غرض سے سوار ہوا یا سوار ہو کر اُسے پانی پلانے لے گیا یا چارہ خریدنے گیااگر مجبور تھا تو عیب پر رضا مندی نہیں ورنہ ہے۔ عیب پر مطلع ہونے کے بعدمکان خریدکردہ میں(1)سکونت کی(2) یا اُس کی مرمت کی یا اُس کو ڈھادیا اب واپس نہیں کرسکتا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: مبیع کو مشتری نے بیع کردیایا آزاد کردیا یا ہبہ کرکے قبضہ دیدیا اس کے بعد عیب پر مطلع ہوا تونہ واپس کرسکتا ہے نہ نقصان لے سکتا ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: بکری یا گائے خریدی اُ سکا دودھ دوہ کر استعمال کیا پھر عیب پر اطلاع ہوئی واپس نہیں کرسکتا نقصان لے سکتا ہے۔ اور گائے بکری کو مع بچہ کے خریدا ہے اور عیب پر مطلع ہوااس کے بعد بچہ نے دودھ پی لیا واپس کرسکتا ہے چاہے بچہ نے خود ہی پی لیا ہو یا اس نے اُسے چھوڑاتھا کہ پی لے۔ اور اگر مشتری نے دودھ دوہا تو واپس نہیں کرسکتا چاہے خود پی لے یا اُس کے بچہ کو پلادے کہ عیب پر مطلع ہو کر دوہنادلیل رضامندی ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: کنیز(6) خرید کر اُس سے وطی کی اس کے بعد عیب پر مطلع ہواواپس نہیں کرسکتا عیب کا نقصان لے سکتا ہے۔ اور اگربائع نقصان دینا نہیں چاہتا کنیز واپس لینے کے لیے راضی ہے تو واپسی ہوسکتی ہے۔ یوہیں شہوت کے ساتھ چھونایا بوسہ دینا بھی مانع رد ہے۔ اور عیب پر مطلع ہونے کے بعدیہ افعال کیے تونقصان بھی نہیں لے سکتا۔ اور اگراُس کے ساتھ کسی نے زنا کیا جب بھی واپس نہیں کرسکتا نقصان لے سکتا ہے مگر جبکہ بائع واپس لینے پرطیار ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: غلہ خریدا اُس میں سے کچھ کھالیا یا بیچ دیا پھر عیب پر مطلع ہوا جو کھا چکا ہے اُس کا نقصان لے لے اور باقی کو واپس کرسکتا ہے جو بیچ چکا ہے اُ س کانقصا ن نہیں لے سکتا۔ آٹا خریدااُس میں سے کچھ گوندھ کر روٹی پکائی معلوم ہوا کہ کڑوا ہے جوپکا چکا ہے اُس کا نقصان لے سکتا ہے اور باقی کو واپس کرسکتا ہے۔ (8)(خانیہ وغیرہ)
1 ۔خریدے ہوئے مکان میں۔ 2 ۔ رہائش اختیار کی۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۷۵.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:فی أنواع زیادۃ المبیع،ج۷،ص۱۸۷.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثالث ، ج۳ ،ص۷۵.
6 ۔ لونڈی۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۷۵۔۷۶.
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،فصل فیمایرجع بنقصان العیب،ج۱،ص۳۷۱،وغیرہ.
مسئلہ ۴۵: کپڑا خریدا اُسے قطع کرایا اور ابھی سلانہیں اُس میں عیب معلوم ہوااُسے واپس نہیں کرسکتا بلکہ نقصان لے سکتا ہے ہاں اگر بائع قطع کیے ہوئے کو واپس لینے پر راضی ہے تو اب نقصان نہیں لے سکتا اور خریدکر بیع کردیا ہے توکچھ نہیں کرسکتا۔ اور اگر قطع کے بعدسِل بھی گیا اور عیب معلوم ہواتو نقصان لے سکتا ہے بائع بجائے نقصان دینے کے واپس لینا چاہے تو واپس نہیں لے سکتا۔(1) (ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ ۴۶: کپڑا خریدکر اپنے نا بالغ بچہ کے لیے قطع کرایا(2) اور عیب معلوم ہو اتو نہ واپس کرسکتا ہے نہ نقصان لے سکتا ہے۔ اور اگر بالغ لڑکے کے لیے قطع کرایا تو نقصان لے سکتا ہے۔ (3)(ہدایہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۷: مبیع میں مشتری کے یہاں کوئی جدید عیب(4)پیدا ہوگیا مشتری(5)کے فعل سے وہ عیب پیدا ہوا یا آفت سماوی(6)سے ہواواپس نہیں کرسکتانقصان کا معاوضہ لے سکتا ہے۔ اور اگر بائع کے فعل سے وہ عیب پیدا ہوا ہے جب بھی واپس نہیں کرسکتا بلکہ دونوں عیبوں سے جونقصان ہے اُن کا معاوضہ لے سکتا ہے۔ اور اگر اجنبی کے فعل سے دوسرا عیب پیدا ہوا تو عیب اول کا نقصان بائع سے لے اور دوسرے عیب کا اُس اجنبی سے۔ اوراگر بیع کے بعد(7) مگر قبضہ سے پہلے بائع کے فعل سے یا خود مبیع کے فعل سے(8) یا آفت سماوی سے عیب جدید پیدا ہوا تو مشتری کو اختیار ہے کہ بیع کو رد کردے یعنی نہ لے یا لے لے اور جو نقصان ہو اہے اُس کے عوض میں ثمن سے کم کردے۔ اور اگر اجنبی کے فعل سے وہ عیب پیدا ہوا ہے جب بھی اختیارہے کہ مبیع کو لے یا نہ لے، اگر مبیع کولیتا ہے تونقصان کا معاوضہ اُس اجنبی سے لے سکتا ہے۔ اور اگرخود مشتری کے فعل سے عیب پیدا ہوا ہے تو پورے ثمن کے ساتھ لینا پڑے گااورنقصان کامطالبہ نہیں کرسکتا۔ (9)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۸: جو چیز ایسی ہو کہ اُس کی واپسی میں مزدوری صرف کرنی پڑے تو جہاں عقد بیع ہوا ہے وہاں پہنچانا مشتری کے ذمہ ہے یعنی مزدوری وغیرہ مشتری کو دینی پڑے گی۔(10) (درمختار)
مسئلہ ۴۹: جانور خریدا اُسے ذبح کردیا اب معلوم ہوا کہ اسکی آنتیں خراب ہوگئی تھیں تو نقصان نہیں لے سکتا
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۲،ص۳۸،وغیرہ.
2 ۔کٹوایا۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۲،ص۳۸.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۸۴.
4 ۔ نیا عیب۔ 5 ۔خریدار۔ 6 ۔قدرتی آفت جیسے جلنا،ڈوبنا وغیرہ۔ 7 ۔سودا طے ہونے کے بعد۔
8 ۔خریدی ہوئی چیز کے اپنے فعل سے مثلاًگائے خریدی اس نے اونچی جگہ سے چھلانگ لگائی تو ٹانگ ٹوٹ گئی۔
9 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۸۱.
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۸۱و۱۴۸.
اوراگرذبح سے پہلے عیب پر مطلع ہوچکا تھا پھر ذبح کردیا جب بھی نقصان نہیں لے سکتا مگر جبکہ یہ معلوم ہو کہ ذبح نہ کیا جائے گا تومرجائے گا اس صورت میں نقصان لے سکتا ہے۔ (1)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۰: مبیع میں کچھ زیادتی کردی مثلاً کپڑے کو سی دیا یا رنگ دیا یا ستو میں گھی شکر وغیرہ ملا دیا یا زمین میں پیڑ نصب کردیے(2)یا تعمیر کرائی یا اُس کو بیع کردیا اگرچہ بیچنا عیب پر مطلع ہونے کے بعدہو یا مبیع ہلا ک ہوگئی ان سب صورتوں میں نقصان لے سکتا ہے واپس نہیں کرسکتا ہے اگر وہ دونوں واپسی پر رضا مند بھی ہو جائیں جب بھی قاضی حکم واپسی کا نہیں دے سکتا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۵۱: انڈا خریدا، توڑا تو گندہ نکلا، کل دام واپس ہونگے کہ وہ بیکار چیز ہے بیع (4)کے قابل نہیں ہاں شتر مرغ کا انڈا جس میں چھلکا مقصود ہوتا ہے اکثر لوگ اُسے زینت کی غرض سے رکھتے ہیں اُس کی بیع باطل نہیں عیب کا نقصان لے سکتا ہے۔ خربزہ۔ تر بز ۔ کھیرا خریدااور کاٹا تو خراب نکلایا بادام، اخروٹ خریدا توڑنے پر معلوم ہوا کہ خراب ہے مگر باوجود خرابی کا م کے لائق ہے کم سے کم یہ کہ جانور ہی کے کھلانے میں کام آسکتا ہے تو واپس نہیں کرسکتا نقصان لے سکتا ہے اور اگر بائع کٹے ہوئے یا ٹوٹے ہوئے کو واپس لینے پر طیار ہے تو واپس کردے نقصان نہیں لے سکتا۔ اور اگر عیب معلوم ہو جانے کے بعد کچھ بھی کھا لیا تو نقصان بھی نہیں لے سکتا ۔ اور اگر چکھا اور عیب معلوم ہونے کے بعد چھوڑدیا کچھ نہ کھایا تو نقصان لے سکتا ہے۔ اور اگر کاٹنے توڑنے سے پہلے ہی مشتری کو عیب معلوم ہوگیا تو اُسی حالت میں واپس کردے کاٹے توڑے گا تونہ واپس کرسکتا ہے نہ نقصان لے سکتا ہے۔ اور اگر کاٹنے توڑنے کے بعد معلوم ہواکہ یہ چیزیں بالکل بیکار ہیں مثلاً کھیرا کڑو اہے یا بادام۔ اخروٹ میں گری نہیں ہے۔ تر بز یا خربزہ سٹرا ہوا ہے تو پورے دام(5) واپس لے بیع باطل ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۲: گیہوں(7)وغیرہ غلہ خریدا اُس میں خاک ملی ہوئی نکلی اگر خاک اُتنی ہی ہے جتنی عادۃًہواکر تی ہے واپس نہیں کرسکتا اور عادت سے زیادہ ہے توکل واپس کردے اور اگرگیہوں رکھناچاہتا ہے خاک کو الگ کرکے واپس کرنا چاہتاہے یہ نہیں کرسکتا۔ (8)(عالمگیری، ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۸۷،وغیرہ.
2 ۔درخت لگادیئے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۸۸.
4 ۔ یعنی فروخت۔ 5 ۔پوری قیمت۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:یرجح القیاس،ج۷،ص۱۹۵.
7 ۔ گندم۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۴.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:وجدفی الحنطۃترابًا،ج۷،ص۱۹۷.
مسئلہ ۵۳: گیہوں میں کچھ خاک ملی تھی اُڑگئی اور وزن کم ہوگیا یا گیہوؤں میں نمی تھی خشک ہو کر وزن کم ہوگیا واپس نہیں کرسکتا۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ ۵۴: مشتری(2)نے مبیع کو بیع کردیااور اُسے عیب کی خبر نہ تھی مشتری ثانی(3)نے عیب کی وجہ سے حکم قاضی سے واپس کیا تومشتری اول بائع اول کو وہ چیز واپس کرسکتا ہے۔ یہ اُس وقت ہے جب مشتری ثانی نے گواہوں سے یہ ثابت کیاہو کہ اس چیز میں اُس وقت سے عیب ہے جب بائع اول کے پاس تھی اور اگر گواہوں سے مشتری کے پاس عیب ثابت کیا ہو تو بائع اول پر رد نہیں کرسکتا اور اگر واپس کرنے کے بعدمشتری اول نے یہ کہدیا کہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے تو واپس نہیں کرسکتا۔ یہ تمام باتیں اُس وقت ہیں جب مبیع پر قبضہ ہوچکا ہواور قبضہ نہ ہوا ہو تو مطلقاًواپس کرسکتا ہے چاہے قضائے قاضی سے واپسی ہو یا اس کے بغیر کیونکہ بیع ثانی اس صورت میں صحیح ہی نہیں مگر جائداد غیر منقولہ(4)میں بغیر قبضہ بھی بیع ہوسکتی ہے، اس میں قبضہ اور غیر قبضہ کا فرق نہیں۔ (5)(درمختا، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۵: مشتری ثانی نے مشتری اول کو اس کی رضا مندی سے چیز واپس کردی تو یہ بائع اول کو واپس نہیں کرسکتا اگرچہ وہ عیب ایسا نہ ہو جومشتری اول کے یہاں پیدا ہوسکتا ہومثلاً غلام کے پانچ کی جگہ چھ اُنگلیاں ہیں کہ یہ واپسی حق ثالث میں بیع جدید قرار پائے گی۔ یوہیں بائع کے وکیل نے اگر مبیع کی واپسی اپنی رضا مندی سے کرلی تو مؤکل کو واپس نہیں کرسکتا کہ مؤکل کے لحاظ سے یہ فسخ نہیں بلکہ بیع جدید ہے اور اگر قضائے قاضی(6)سے واپسی ہوئی تو مؤکل پر بھی واپسی ہوگئی کہ جب بیع فسخ ہوگئی وہ چیز مؤکل کی ہوگئی۔(7) (درمختار، ردالمحتار) .
مسئلہ ۵۶: مشتری نے مبیع پر قبضہ کرنے کے بعد عیب کا دعویٰ کیا تو ثمن دینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا بلکہ مشتری سے اثبات عیب کے گواہ طلب کیے جائیں گے اور گواہ نہ ہوں تو بائع پر حلف دیا جائے گا اور بائع قسم کھاجائے کہ عیب نہیں تھا تو ثمن دینے کا حکم ہوگا اور اگر مشتری نے پہلے یہ کہا کہ میرے گواہ نہیں ہیں پھر کہتا ہے گواہ پیش کروں گاتو گواہ قبول کرلیے
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''کتاب البیع،فصل فیمایرجع بنقصان العیب،ج۱،ص۳۷۳.
2 ۔خریدار۔ 3 ۔دوسرا خریدار۔ 4 ۔وہ جائداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ کی جاسکتی ہو۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:وجد فی الحنطۃ ترابًا،ج۷،ص۱۹۷.
6 ۔قاضی کا فیصلہ۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:وجد فی الحنطۃ ترابًا،ج۷،ص۱۹۷.
جائیں گے۔ اور اگر مشتری کے پاس گواہ نہیں ہیں او ر بائع قسم سے انکار کرتا ہے تو عیب کا حکم ہوگا۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۷: گواہ مشتری یا حلف بائع کی اُس وقت ضرورت ہے جب وہ عیب مخفی(2) ہو مثلاً بھاگنا چوری کرنا اور اگر عیب ظاہر ہو مثلاً کانا، بہرا، گونگا ہے یا اُس کی اُنگلیاں زائد یا کم ہیں تو نہ گواہ کی حاجت نہ قسم کی ضرورت ہاں اگر بائع یہ کہے کہ مشتری کو خریدنے کے وقت عیب کا علم تھا یا بعد خریدنے کے عیب پر راضی ہوگیا یا میں عیب سے بری الذمہ ہوچکا تھا تو بائع کو ان امورپر(3) گواہ پیش کرنے پڑیں گے گواہ نہ لاسکے تو مشتری پر حلف دیا جائے گا قسم کھالے گاواپس کردیا جائے گا ورنہ واپس نہیں کرسکتا۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: وہ عیوب جن میں طبیب کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً ورم جگر،(5)ورم طحال(6) یا کوئی دوسری پوشیدہ بیماری ان میں ایک طبیب عادل نے اس بیماری کا ہونا بیان کردیا تو دعوٰے قابل سماعت ہے رہا یہ امر کہ یہ بیماری بائع کے یہاں موجود تھی اس کے لیے دو ۲ عادل طبیب کی شہادت درکا ر ہوگی۔ اور جو عیوب ایسے ہیں جن پر عورتوں ہی کو اطلاع ہوتی ہے ان میں ایک عورت کے قول سے عیب کا ثبوت ہوگا مگر بیع فسخ کرنے کے لیے یہ ضرور ہے کہ بائع کو حلف دیں اگر وہ قسم کھالے کہ میرے یہاں یہ عیب نہ تھا تو واپس نہیں کرسکتا قسم سے انکار کرے تو واپس کردے گا۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۵۹: جو عیب ظاہر ہے اور اتنی مدت میں پیدا نہیں ہوسکتا جب سے بیع ہوئی ہے تو یہاں بھی گواہ یا حلف کی حاجت نہیں ہاں اگر اس مدت میں پیدا ہوسکتاہے اور بائع یہ کہتا ہے کہ میرے یہاں یہ عیب نہ تھا تو گواہ یا حلف کی حاجت ہوگی۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: مبیع کے کسی جز کے متعلق کسی نے دعوے کرکے اپنا حق ثابت کردیا اگر مشتری نے قبضہ نہیں کیا ہے تو اختیار ہے کہ باقی کو لے یا نہ لے اور قبضہ کرچکا ہے اور وہ چیز قیمی ہے جب بھی اختیارہے کہ لے یا واپس کردے اور وہ چیزمثلی ہے تو باقی کو واپس نہیں کرسکتا بلکہ جوکچھ اسکا حصہ ہے یہ لے لے اور جو دوسرے حقدار کاہے وہ لے لے گا۔ اور دو چیزیں خریدی ہیں
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:قبض من غریمہ دراھم...إلخ،ج۷،ص۲۰۱.
2 ۔پوشیدہ۔ 3 ۔ یعنی ان باتوں پر۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:قبض من غریمہ دراھم...إلخ،ج۷،ص۲۰۴.
5 ۔جگر کی سوجن،جگر کی بیماری وغیرہ۔ 6 ۔تلی کی سوجن،تلی کی بیماری وغیرہ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۰۴.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الرابع،ج۳،ص۸۶.
اور ایک پر قبضہ کرلیا یا اب تک کسی پر قبضہ نہیں کیا ہے اور ایک میں کسی نے اپنا حق ثابت کردیا تومشتری کو اختیار ہے کہ دوسری کو لے لے یا چھوڑ دے اور دونوں پر قبضہ کرچکا ہے تو اختیار نہیں یعنی دوسری کولینا ضروری ہے واپس نہیں کرسکتا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۶۱: قبضہ کے بعد مبیع میں اختلاف ہوا کہ ایک ہے یا زیادہ تاکہ عیب کی صورت میں واپسی ہو تو یہ معلوم ہوسکے ثمن کتنا واپس کیا جائے گایا مبیع میں اختلاف نہیں مگر کتنے پر قبضہ ہوااس میں اختلاف ہے ان دونوں صورتوں میں مشتری کا قول معتبر ہے اور اگر خیار عیب میں مبیع کی واپسی کے وقت بائع کہتا ہے یہ وہ چیز نہیں ہے مشتری کہتا ہے وہی ہے تو بائع کا قول معتبر ہے اور خیار شرط یا خیار رویت میں مشتری کا قول معتبر ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۶۲: مشتری جانور کو پھیرنے(3) لایا کہ اس کے زخم ہے میں نہیں لوں گا بائع کہتا ہے کہ یہ وہ زخم نہیں ہے جو میرے یہاں تھا وہ اچھا ہوگیا یہ دوسرا ہے تو مشتری کا قول معتبر ہے۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۳: دوچیزیں ایک عقد میں خریدیں اگر ہر ایک تنہا کام میں آتی ہو جیسے دوغلام دو کپڑے اور ابھی دونوں پر قبضہ نہیں کیا ہے کہ ایک کے عیب پر مطلع ہوا تو اختیار ہے لینا ہو تو دونوں لے، پھیرنا ہو تو دونوں پھیرے مگر جبکہ بائع ایک کے پھیرنے پر راضی ہو تو فقط ایک کوبھی واپس کرسکتا ہے اور اگر دونوں پر قبضہ کرلیاہے توجس میں عیب ہے اُسے واپس کردے دونوں کو واپس کرنا چاہے تو بائع کی رضا مندی درکار ہے اور اگر قبضہ سے پہلے ایک کا عیب دار ہونا معلوم ہوگیا اور اسی پر قبضہ کرلیا تو دوسری کو لینا بھی ضروری ہے اور دوسری پر قبضہ کیا تو اختیار ہے دونوں کو لے یا دونوں کو پھیر دے اوراگر دونوں ایک ساتھ کام میں لائی جاتی ہوں تنہا ایک کام کی نہ ہو جیسے موزے اورجوتے کے جوڑے۔ چوکھٹ بازو(5) یا بیلوں کی جوڑی جبکہ وہ آپس میں ایسا اتحاد رکھتے ہوں کہ ایک کے بغیر دوسرا کام ہی نہ کرے تو دونوں پر قبضہ کیا ہویا ایک پر قبضہ کیا ہو دونوں حال میں ایک ہی حکم ہے کہ لینا چاہے تو دونوں لے اور پھیرے(6) تودونوں پھیرے۔ (7)(درمختار، فتح، خانیہ)
مسئلہ ۶۴: مبیع میں نیا عیب پیدا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے بائع کو واپس نہیں کرسکا تھا اب یہ عیب جاتا رہا تو اُس
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۰۶،۲۰۷.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۱۳.
3 ۔واپس کرنے۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:مھم فی اختلاف البائع والمشتری...إلخ،ج۷،ص۲۱۴.
5 ۔چوکھٹ کے دونوں پہلو،چوکھٹ کی لمبی لکڑیاں۔ 6 ۔واپس کرے۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۰۷.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۶،ص۲۹.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،فصل فیمایرجع بنقصان العیب،ج۱،ص۳۷۲.
پُرانے عیب کی وجہ سے واپس کرسکتا ہے اور جونقصان لیا ہے اُسے بھی واپس کرنا ہوگا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۶۵: غلام خریدا تھا اور اُس پرقبضہ بھی کرلیا وہ کسی ایسے جُرم کی وجہ سے قتل کیا گیا جو بائع کے یہاں اُس نے کیا تھا تو پورا ثمن بائع سے واپس لے گا اور اگر اُس کاہاتھ کاٹا گیا اور جرم بائع کے یہاں کیا تھا تومشتری کو اختیار ہے کہ اُس کوواپس کردے یا رکھ لے اور آدھا ثمن واپس لے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۶۶: کوئی چیز بیع کی اور بائع نے کہدیا کہ میں ہر عیب سے بری الذمہ ہوں (3)یہ بیع صحیح ہے اور اس مبیع کے واپس کرنے کا حق باقی نہیں رہتا۔ یوہیں اگر بائع نے کہدیا کہ لینا ہو تو لو اس میں سو طرح کے عیب ہیں یا یہ مٹی ہے یا اسے خوب دیکھ لو کیسی بھی ہو میں واپس نہیں کروں گا یہ عیب سے براء ت ہے۔ (4)جب ہر عیب سے براء ت کرلے تو جو عیب وقت عقد موجود ہے یا عقد کے بعد قبضہ سے پہلے پیدا ہوا سب سے براء ت ہوگئی۔(5) (درمختار، ردالمحتاروغیرہما)
مسئلہ ۶۷: کوئی چیز خریدی اس کا کوئی خریدار آیا اُس سے کہا اسے لے لو اس میں کو ئی عیب نہیں ہے اور اتفاق سے اُس نے نہیں خریدی پھر مشتری نے اُس میں کوئی عیب دیکھا تو واپس کرسکتا ہے اور اُس کا پہلے یہ کہنا کہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے مضر(6) نہیں کہ اس سے مقصود تر غیب ہے اور اگر اُس نے کسی عیب کا نام لے کر کہا کہ یہ عیب اس میں نہیں ہے اور بعد میں وہی عیب اُس میں موجود ملا تو واپس نہیں کرسکتا ہاں اگر ایسے عیب کا نام لیا جو اس دوران میں پیدا نہیں ہوسکتا جیسے اُنگلی کا زائد ہونا تو واپس کرسکتا ہے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۶۸: بکری یا گائے یا بھینس کا دودھ بائع نے دو ایک وقت نہیں دوہا اور اُسے یہ کہکر بیچا کہ اس کے دودھ زیادہ ہے اور دودھ دوہ کر دکھا بھی دیا مشتری نے دھوکا کھا کر خریدلیا اب دوہتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُتنا دودھ نہیں ہے اس کو واپس نہیں کرسکتا ہاں جو نقصان ہے بائع سے لے سکتا ہے۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۶۹: مشتری نے واپس کرنا چاہا بائع نے کہا واپس نہ کرومجھ سے اتنا روپیہ لے لو اور اس پر مصالحت ہوگئی یہ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۱۹.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۲۰.
3 ۔یعنی میں ہرعیب کی ذمہ داری سے بری ہوں۔ 4 ۔یعنی اگراب عیب نکلاتوبیچنے والے پرلازم نہیں کہ وہ چیزواپس لے ۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،با ب خیارالعیب،مطلب:فی البیع بشرط البراء ۃ...إلخ،ج۷،ص۲۲۱،وغیرہما.
6 ۔ نقصان دہ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۲۲.
8 ۔المرجع السابق،ص۲۲۳.
جائز ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ بائع نے ثمن میں سے اتنا کم کردیا۔ اور بائع اگر واپس کرنے سے انکار کرتا ہے مشتری نے یہ کہا کہ اتنے روپے مجھ سے لے لو اور مبیع کو واپس کرلو،یوں مصالحت(1)نا جائز ہے اوریہ روپے جو بائع لے گاسود اور رشوت ہے مگر جب کہ مشتری کے یہاں کوئی جدید عیب پیدا ہوگیا ہو یا بائع اس سے منکر ہے کہ وہ عیب اُ س کے یہاں مبیع میں تھا تویہ مصالحت بھی جائز ہے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۰: ایک شخص نے دوسرے کو کسی چیز کے خریدنے کا وکیل کیا تھا وکیل نے مبیع میں عیب دیکھ کر رضامندی ظاہر کردی اگر ثمن اتنا ہے کہ اُس عیب والی چیز کا اُتنا ہی ہونا چاہیے تو مؤکل کو لینا پڑیگااور اگر ثمن زیادہ ہے تو موکل پر یہ بیع لازم نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۷۱: کوئی چیز خریدی پھر اُ س کی بیع کے لیے دوسرے کو وکیل کردیا ا س کے بعد اُس کے عیب پر اطلاع ہوئی اگرمؤکل کے سامنے وکیل نے بیچنا چاہا یااُ س کو خبر دی گئی کہ وکیل اُسکا دام کررہا ہے اورمؤکل نے منع نہ کیا تو عیب پر رضا مندی ہوگئی فرض کیا جائے کہ نہ بکی تو واپس نہیں کرسکتا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: یہ جا بجا کہا گیا ہے کہ عیب سے جو نقصان ہے وہ لے گا اس کی صورت یہ ہے کہ اُس چیز کوجانچنے والوں کے پاس پیش کیا جائے اُس کی قیمت کا وہ اندازہ کریں کہ اگر عیب نہ ہوتا تویہ قیمت تھی اور عیب کے ہوتے ہوئے یہ قیمت ہے دونوں میں جوفرق ہے وہ مشتری(5) بائع(6) سے لے گا مثلاً عیب ہے تو آٹھ روپے قیمت ہے نہ ہوتا تو دس روپے تھی دوروپے بائع سے لے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۳: جانور خریداتھا قبضہ کے بعد عیب پر مطلع ہوا اُسے واپس کرنے بائع کے پاس لے جارہاتھاراستہ میں مرگیاتومشتری کا جانور مرا البتہ اگر گواہوں سے عیب ثابت کردے گاتوعیب کا نقصان لے سکتا ہے۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔آپس میں صلح کرنا۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:فی الصلح عن العیب،ج۷،ص۲۲۸.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۲۹.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۸۴.
5 ۔خریدار۔ 6 ۔فروخت کرنے والا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۸۴.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۷۴: ایک شخص نے گابھن گائے(1) کے بدلے میں بیل خریدا اور ہر ایک نے قبضہ بھی کرلیا گائے کے بچہ پیدا ہوا اور دوسرے نے دیکھا کہ بیل میں عیب ہے بیل کو اُس نے واپس کردیا تو گائے میں چونکہ بچہ پیدا ہونے کی وجہ سے زیادتی ہوچکی ہے وہ واپس نہیں کی جاسکتی گائے کی قیمت جو ہو وہ واپس دلائی جائے گی۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۵: زمین خرید کر اُس کو مسجد کردیا پھر عیب پر مطلع ہواتو واپس نہیں کرسکتا نقصان جوکچھ ہے لے لے۔ زمین کو وقف کیا ہے جب بھی یہی حکم ہے کہ واپس نہیں کرسکتا ہے نقصان لے لے۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۷۶: کپڑا خرید کر مُردہ کاکفن کیا اس کے بعد عیب پر مطلع ہوا اگر وارث نے ترکہ سے کفن خریدا ہے تو نقصان لے سکتا ہے اور اگر کسی اجنبی نے اپنی طرف سے خرید کر دیا تو نہیں لے سکتا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۷: درخت خریدا تھا کہ اُس کی لکڑی کی چیزیں بنائے گامثلاً چوکھٹ(5) ، کیواڑ(6) ، تخت وغیرہ مگر کاٹنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ایندھن ہی کے کام آسکتا ہے تو نقصان لے سکتا ہے اور اگر ایندھن ہی کے لیے خریدا تھا تو نقصان نہیں لے سکتا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۸: روٹی خریدی اور جو نرخ اُس کا معروف ومشہور ہے اُس سے کم دی ہے توجو کمی(8) ہے بائع سے وصول کرے اسی طرح ہر وہ چیز جس کا نرخ مشہور ہے اُس سے کم ہو تو بائع سے کمی پوری کرائے۔(9) (عالمگیری)
1 ۔وہ گائے جس کے پیٹ میں بچہ ہو،حاملہ گائے۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیار العیب...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۸۵ .
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،فصل فیما یرجع بنقصان العیب،ج۱،ص۳۷۱.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۸۵.
5 ۔دروازے کا چکور گھیرا جس میں پٹ لگائے جاتے ہیں۔
6 ۔دروازہ ،کھڑکی یا روشندان وغیرہ کو بند کرنے یا کھولنے کا پٹ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیار العیب...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۸۵.
8 ۔یہ حکم اُس وقت ہے کہ بائع نے مشتری پر یہ ظاہر نہ کیا ہو کہ مثلاً ایک آنے کی اتنی روٹیاں دوں گا بلکہ اس نے کہا، اتنے کی روٹی دو اس نے
دیدی اور اگر بائع نے ظاہر کر دیا کہ اتنی دوں گا اور مشتری راضی ہوگیا تو اب کمی پوری کرنے کا حق نہیں ہے۔ ۱۲ منہ
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیار العیب...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۸۴.
مسئلہ ۷۹: کوئی چیز غبن فاحش کے ساتھ خریدی ہے اس کی دوصورتیں ہیں دھوکا دیکر نقصان پہنچایا ہے یانہیں اگر غبن فاحش کے ساتھ دھوکا بھی ہے تو واپس کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔ غبن فاحش کا یہ مطلب ہے کہ اتنا ٹوٹا(1)ہے جو مقومین (2) کے اندازہ سے باہر ہو مثلاً ایک چیز دس روپے میں خریدی کوئی اس کی قیمت پانچ بتاتا ہے کوئی چھ کوئی سات تو یہ غبن فاحش ہے اور اگر اس کی قیمت کوئی آٹھ بتاتا کوئی نو کوئی دس تو غبن یسیرہوتا۔ دھوکے کی تین صورتیں ہیں کبھی بائع مشتری(3) کو دھوکادیتا ہے پانچ کی چیز دس میں بیچ دیتا ہے اور کبھی مشتری بائع کو کہ دس کی چیز پانچ میں خریدلیتا ہے کبھی دلال(4) دھوکا دیتا ہے ان تینوں صورتوں میں جس کو غبن فاحش کے ساتھ نقصان پہنچاہے واپس کرسکتا ہے اور اگر اجنبی شخص نے دھوکا دیا ہو تو واپس نہیں کرسکتا۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۰: ایک شخص نے زمین یا مکان خریدا اور بائع کو دھوکادیکر نقصان پہنچادیا مثلاً ہزار روپے کی چیز کو پانسو میں خریدا مگر شفیع(6)نے شفعہ کرکے وہ چیز مشتری سے لے لی تو بائع شفیع سے واپس نہیں لے سکتا کیونکہ شفیع نے اس کو دھوکا نہیں دیا ہے دھوکا دینے والا مشتری ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸۱: جس چیز کو غبن فاحش کے ساتھ خریدا ہے اور اُسے دھوکا دیا گیا ہے اُس چیزکو کچھ صرف (8) کر ڈالنے کے بعد اس کا علم ہوا تو اب بھی واپس کرسکتا ہے یعنی جو کچھ وہ چیز بچی وہ اور جو خرچ کرلی ہے اُس کی مثل واپس کرے اور پورا ثمن واپس لے۔ (9) (درمختار)
مسئلہ ۸۲: ایک شخص نے لوگوں سے کہہ دیا کہ یہ میرا غلام یا لڑکا ہے اس سے خرید فروخت کرو میں نے اس
1 ۔گھاٹا،نقصان۔ 2 ۔مقوم کی جمع ،قیمت لگانے والے۔
3 ۔خریدار۔ 4 ۔سوداکرانے والا۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ،مطلب:فی الکلام ...إلخ،ج۷ ،ص۳۷۶۔۳۷۷.
6 ۔شفعہ کاحق رکھنے والا ۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،مطلب:فی الکلام...إلخ،ج۷،ص۳۷۷.
8 ۔ خرچ۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۷،ص۳۷۷۔۳۷۸.
کواجازت دیدی ہے اُس کی نسبت بعد میں معلوم ہواکہ غلام نہیں بلکہ حُر(1) ہے یا اُس کا لڑکا نہیں ہے دوسرے شخص کا ہے توجوکچھ لوگوں کے مطالبے ہیں اُس کہنے والے سے وصول کرسکتے ہیں کہ اُس نے دھوکا دیا ہے۔ (2) (درمختار)
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کتے کا ثمن خبیث ہے اور زانیہ کی اُجرت خبیث ہے اور پچھنا لگانے والے کی کمائی خبیث ہے(3) ۔'' (یعنی مکروہ ہے کیونکہ اُس کو نجاسب میں آلودہ ہونا پڑتا ہے۔ اس کو حرام نہیں کہہ سکتے اس لیے کہ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور اُجرت عطا فرمائی ہے)۔
حدیث ۲: صحیحین میں ابو مسعود انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کتے کے ثمن اور زانیہ کی اُجرت اور کاہن کی اُجرت سے منع فرمایا۔ (4)
حدیث ۳: صحیح بخاری میں ابو جحیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خون کے ثمن اورکتے کے ثمن اور زانیہ کی اُجرت سے منع فرمایا اور سود کھانے والے اور کھلانے والے (یعنی سود دینے والے) اور گود نے والی(5) اور گودوانے والی اور تصویر بنانے والے پر لعنت فرمائی۔ (6)
حدیث ۴: صحیحین میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سال فتح مکہ میں جبکہ مکہ معظمہ میں تشریف فرماتھے یہ فرماتے ہوئے سُنا: کہ ''اﷲ( عزوجل) و رسول(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے شراب و مُردار و خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا۔'' کسی نے عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مُردہ کی چربی کی نسبت کیا ارشاد ہے، کیونکہ کشتیوں میں لگائی جاتی ہے اور کھال میں لگاتے ہیں اور لوگ چراغ میں جلاتے ہیں (یعنی کھانے کے علاوہ دوسرے طریق پر اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں)؟ فرمایا: ''نہیں۔ وہ حرام ہے۔'' پھر فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ یہودیوں کو قتل کرے، اﷲ تعالیٰ نے جب چربیوں کو اُن پر
1 ۔آزاد۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتو لیۃ،ج۷،ص۳۷۹۔ ۳۸۰.
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃوالمزارعۃ،باب تحریم ثمن الکلب...إلخ،الحدیث:۴۱۔(۱۵۶۸)،ص۸۴۷.
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب البیوع،باب ثمن الکلب،الحدیث:۲۲۳۷،ج۲،ص۵۵.
5 ۔بدن میں سوئی سے سرمہ یا نیل بھرکرنقش بنانے والی۔
6 ۔''صحیح البخاري''،کتاب اللباس،باب من لعن المصّور،الحدیث:۵۹۶۲،ج۴،ص۹۰.
حرام فرمادیا تو اُنھوں نے پگھلا کر بیچ ڈالی اور ثمن کھا لیا۔''(1) حدیث کا پچھلا حصہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حدیث ۵: ترمذی و ابن ماجہ انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس ۱۰ شخصوں پر لعنت فرمائی:(۱)نچوڑنے والے اور(۲)نچوڑوانے والے،اور(۳) پینے والے، اور(۴) اُٹھانے والے پر، اور (۵)جس کے پاس اُٹھا کر لائی گئی اُس پر، اور (۶)پلانے والے اور(۷) بیچنے والے اور(۸) اُس کا ثمن کھانے والے، اور (۹)خریدنے والے پر،اور(۱۰) اُس پر جس کے لیے خریدی گئی۔ (2)
حدیث ۶: ابن ماجہ نے ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :''بے شک اﷲ تعالیٰ نے شراب اور اُس کے ثمن کو حرام کیااور مُردہ کو حرام کیا اور اس کے ثمن کو اور خنزیر کو حرام کیا اور اس کے ثمن کو۔'' (3)
حدیث ۷: بخاری ومسلم و ابو داود وترمذی وابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں کوئی شخص بچے ہوئے پانی کو منع نہ کرے تا کہ اس کے ذریعے سے گھاس کو منع کرے۔'' (4) اسی کے مثل عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی۔
حدیث ۸: ابن ماجہ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''تمام مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں، پانی اور گھاس اور آگ اور اس کا ثمن حرام ہے۔'' (5)
حدیث ۹: صحیحین میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کا باغ ہو تو جو کھجوریں درخت میں ہیں اُن کوخشک کھجوروں کے بدلے میں بیع کرے اور انگورکا باغ ہو تو درخت کے انگور منقےٰ کے بدلے میں ماپ سے بیع کرے اور کھیت میں جو غلہ ہے اُسے غلہ کے بدلے میں ماپ سے بیچے، ان سب سے منع فرمایا۔ (6)
1 ۔''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃوالمزارعۃ،باب تحریم بیع الخمر...إلخ،الحدیث:۷۱۔(۱۵۸۱)،ص۸۵۲.
2 ۔''سنن الترمذي''،کتاب البیوع،باب النھی ان یتخذ الخمرخلاً،الحدیث:۱۲۹۹،ج۳،ص۴۷.
3 ۔''سنن أبي داود''،کتاب البیوع،باب في ثمن الخمر...إلخ،الحدیث:۳۴۸۵،ج۳،ص۳۸۶.
یہ حدیث ''سنن ابن ماجہ ''میں نہیں ملی بہر حال ''سنن ابی داؤد ''میں حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے ایسے ہی مروی ہے،لیکن ''کنزالعمال''،کتاب البیوع،الحدیث:۹۶۱۴،ج۴،ص۳۴میں یہ حدیث''سنن ابن ماجہ ''کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔۔...عِلْمِیہ
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ...إلخ،باب تحریم بیع فضل الماء...إلخ،الحدیث:۳۔(۱۵۶۵)،ص۸۴۶.
5 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب الرھون،باب المسلمون شرکاء في ثلاث،الحدیث:۲۴۷۲،ج۳،ص۱۷۶.
6 ۔''صحیح مسلم''،کتاب البیوع،باب تحریم بیع الرطب بالتمر...إلخ،الحدیث:۷۳۔(۲۵۴۲)،ص۸۲۷.
حدیث ۱۰: بخاری ومسلم ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا جب تک کام کے قابل نہ ہوں، بائع و مشتری دونوں کو منع فرمایا(1) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے، کہ کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا جب تک سُرخ یا زرد نہ ہو جائیں اور کھیت میں بالوں کے اندر جو غلہ ہے اُس کی بیع سے منع کیا، جب تک سپید (2) نہ ہوجائے اور آفت پہنچنے سے امن نہ ہوجائے۔ (3)
حدیث ۱۱: صحیح مسلم میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''اگر تُو نے اپنے بھائی کے ہاتھ پھل بیچ دئے اور آفت پہنچ گئی تجھے اُس سے کچھ لینا حلال نہیں، اپنے بھائی کا مال ناحق کس چیز کے بدلے میں تُو لے گا۔'' (4)
حدیث ۱۲: بخاری و مسلم میں ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا۔ بیع ملامسہ یہ ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کا کپڑا چھو دیا اور اُولٹ پلٹ کے دیکھا بھی نہیں اور منابذہ یہ ہے کہ ایک نے اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینک دیا اور دوسرے نے اس کی طرف پھینک دیا یہی بیع ہوگئی، نہ دیکھا بھالا، نہ دونوں کی رضا مندی ہوئی۔(5)
حدیث ۱۳: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے بیع الحصاۃ(کنکری پھینک دینے سے جاہلیت میں بیع ہوجاتی تھی) اور بیع غرر سے منع فرمایا (جس میں دھوکا ہو)۔ (6)
حدیث ۱۴: ترمذی نے جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے استثنا سے منع فرمایا، مگر جب کہ معلوم شے کا استثنا ہو۔'' (7)
حدیث ۱۵: امام مالک و ابو داود وابن ماجہ بروایت عمر وبن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
1 ۔''صحیح البخاری''،کتاب البیوع،باب بیع المزابنۃ....إلخ،الحدیث:۲۱۸۳،ج۲،ص۴۰.
و''صحیح مسلم''،کتاب البیوع،باب النھی عن بیع الثمار قبل بدو صلاحھا...إلخ، الحدیث: ۴۹۔(۱۵۳۴)،ص۸۲۲.
2 ۔ سفید۔
3 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البیوع، باب النھی عن بیع الثمار قبل بدو صلاحھا...إلخ، الحدیث۵۰۔(۱۵۳۵)،ص۸۲۳.
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ،باب وضع الجوائح، الحدیث:۱۴۔(۱۵۵۴)،ص۸۴۰.
5 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البیوع،باب ابطال بیع الملامسۃ والمزابنۃ،الحدیث:۲۔(۱۵۱۱)، ص۸۱۳.
6 ۔''صحیح مسلم''،کتاب البیوع،باب بطلان بیع الحصاۃ،الحدیث:۴۔(۱۵۱۳)، ص۸۱۴.
7 ۔''جامع الترمذي''،ابواب البیوع،باب ماجاء في النھی عن الثُّنیا،الحدیث:۱۲۹۴،ج۳،ص۴۵.
نے بیعانہ سے منع فرمایا۔ (1)
حدیث ۱۶: ابو داود نے مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مُضْطَر (مُکْرَہ) کی بیع سے منع فرمایا ۔ (2) یعنی جبریہ (3) کسی کی چیز نہ خرید ی جائے اور خریدنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
حدیث ۱۷: ترمذی نے حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے ایسی چیز کے بیچنے سے منع فرمایا جو میرے پاس نہ ہو۔(4) اور ترمذی کی دوسری روایت اور ابو داود و نسائی کی روایت میں یہ ہے، کہ کہتے ہیں یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرے پاس کوئی شخص آتا ہے اورمجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے، وہ چیز میرے پاس نہیں ہوتی (میں بیع کر دیتا ہوں) پھر بازارسے خرید کر اُسے دیتا ہوں۔ فرمایا: ''جو چیز تمھارے پاس نہ ہو اُسے بیع نہ کرو۔'' (5)
حدیث ۱۸: امام مالک و ترمذی و نسائی و ابو داود ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع سے منع فرمایا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ یہ چیز نقد اتنے کو اور ادھار اتنے کو یا یہ کہ میں نے یہ چیز تمھارے ہاتھ اتنے میں بیع کی، اس شرط پر کہ تم اپنی فلاں چیز میرے ہاتھ اتنے میں بیچو۔ (6)
حدیث ۱۹: ترمذی و ابو داود و نسائی بروایت عمر وبن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''قرض و بیع حلا ل نہیں (یعنی یہ چیز تمھارے ہا تھ بیچتا ہوں اس شرط پر کہ تم مجھے قرض دو یا یہ کہ کسی کو قرض دے پھر اُس کے ہاتھ زیادہ داموں میں چیز بیع کرے) اور بیع میں دوشرطیں حلال نہیں اور اُس چیز کا نفع حلال نہیں جو ضمان میں نہ ہواور جوچیز تیرے پاس نہ ہو، اُس کا بیچنا حلال نہیں۔'' (7)
حدیث ۲۰: امام احمد و ابو داود و ابن ماجہ ابنِ عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیعانہ سے منع
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الاجارۃ،باب في العربان،الحدیث:۳۵۰۲،ج۳،ص۳۹۲.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب البیوع،باب في بیع المضطر،الحدیث:۳۳۸۲،ج۳،ص۳۴۹.
3 ۔مجبورکرکے،زبردستی۔
4 ۔''جامع الترمذي''،کتاب البیوع،باب ماجاء في کراھیۃ بیع مالیس عندہ،الحدیث:۱۲۳۶،ج۳،ص۱۵.
5 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الإجارۃ،باب في الرجل یبیع مالیس عندہ،الحدیث:۳۵۰۳،ج۳،ص۳۹۲.
6 ۔''جامع الترمذي''،کتاب البیوع،باب ماجاء في النھی عن بیعتین...إلخ،الحدیث:۱۲۳۵،ج۳،ص۱۵.
7 ۔''جامع الترمذي''،کتاب البیوع، باب ماجاء في کراھیۃ بیع ما لیس عندہ،الحدیث:۱۲۳۸،ج۳،ص۱۶.
فرمایا ہے۔ (1)
تنبیہ: اس باب میں بیع فاسد و باطل دونوں کے مسائل ذکر کیے جائیں گے۔
مسئلہ ۱: جس صورت میں بیع کا کوئی رُکن مفقودہو(2) یا وہ چیز بیع کے قابل ہی نہ ہووہ بیع باطل ہے۔ پہلی کی مثال یہ ہے کہ مجنون یا لایعقل(3) بچہ نے ایجاب یا قبول کیا کہ ان کا قول شرعاًمعتبر ہی نہیں، لہٰذا ایجاب یا قبول پایا ہی نہ گیا۔ دوسری کی مثال یہ ہے کہ مبیع مُردار یا خون یا شراب یا آزاد ہوکہ یہ چیزیں بیع کے قابل نہیں ہیں اور اگر رکنِ بیع یا محلِ بیع میں(4)خرابی نہ ہو بلکہ اس کے علاوہ کوئی خرابی ہو تو وہ بیع فاسد ہے مثلاً ثمن خمر(5) ہو یا مبیع کی تسلیم پر قدرت نہ ہو(6)یا بیع میں کوئی شرط خلاف مقتضائے عقد(7) ہو۔ (8) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: مبیع یا ثمن دونوں میں سے ایک بھی ایسی چیز ہو جو کسی دِینِ آسمانی (9) میں مال نہ ہو، جیسے مُردار، خون، آزاد، ان کو چاہے مبیع کیا جائے یا ثمن، بہر حال بیع باطل ہے اور اگر بعض دِین میں مال ہوں بعض میں نہیں جیسے شراب کہ اگرچہ اسلام میں یہ مال نہیں مگر دین موسوی و عیسوی (10) میں مال تھی، اس کو مبیع قرار دیں گے تو بیع باطل ہے اور ثمن قرار دیں تو فاسد مثلاً شراب کے بدلے میں کوئی چیز خریدی تو بیع فاسد ہے اور اگر روپیہ پیسہ سے شراب خریدی تو باطل۔ (11) (ہدایہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مال وہ چیز ہے جس کی طرف طبیعت کا میلان ہو جس کو دیا لیا جاتا ہو جس سے دوسروں کو روکتے ہوں جسے وقت ضرورت کے لیے جمع رکھتے ہوں لہٰذا تھوڑی سی مٹی جب تک وہ اپنی جگہ پر ہے مال نہیں اور اس کی بیع باطل ہے البتہ اگر اُسے دوسری جگہ منتقل کرکے لے جائیں تو اب مال ہے اور بیع جائز گیہوں کا ایک دانہ اس کی بھی بیع باطل ہے۔ انسان کے پاخانہ
1 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الإجارۃ،باب في العربان،الحدیث:۳۵۰۲،ج۳،ص۳۹۲.
یہ حدیث ''مسندامام احمد''،''سنن ابی داود''اور''سنن ابن ماجہ''میں عَمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہٖ سے مروی ہے جبکہ ''کنزالعمال''،کتاب البیوع،الحدیث:۹۶۱۱،ج۴،ص۳۳میں انہی کتابوں کے حوالے سے یہ حدیث حضرت ابن عُمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے ۔...عِلْمِیہ
2 ۔ یعنی پایانہ جائے۔ 3 ۔ ناسمجھ۔ 4 ۔یعنی ایجاب وقبول میں یا مبیع میں۔
5 ۔شراب کی قیمت۔ 6 ۔یعنی جو چیز بیچی ہے اس کوکسی وجہ سے خریدار کے حوالے نہ کر سکتا ہو۔
7 ۔عقد کے تقاضے کے خلاف ۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۳۲،وغیرہ.
9 ۔ وہ دین جس کی تعلیمات وحی الٰہی کے ذریعے ہو۔ 10 ۔یعنی موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام کے دین۔
11 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفا سد،ج۲،ص۴۳.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:البیع الموقوف...إلخ،ج۷،ص۲۳۴.
پیشاب کی بیع باطل ہے جب تک مٹی اس پرغالب نہ آجائے اور کھاد نہ ہوجائے گوبر، مینگنی، لید کی بیع باطل نہیں اگرچہ دوسری چیز کی اُن میں آمیزش نہ ہو لہٰذا اُپلے(1) کا بیچنا خریدنا یا استعمال کرنا ممنوع نہیں۔(2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: مُردار سے مراد غیر مذبوح (3)ہے چاہے وہ خود مرگیا ہو یا کسی نے اُس کا گلاگھونٹ کر ما رڈالا ہو یا کسی جانور نے اُسے مار ڈالاہو۔مچھلی اور ٹڈی مُردار میں داخل نہیں کہ یہ ذبح کرنے کی چیز ہی نہیں۔(4)(ردالمحتاروغیرہ)
مسئلہ ۵: معدوم (5) کی بیع باطل ہے مثلاً دومنزلہ مکان دوشخصوں میں مشترک تھا ایک کانیچے والا تھا دوسرے کا اوپر والا، وہ گر گیا یا صرف بالا خانہ گرا بالاخانہ والے نے گرنے کے بعد بالاخانہ بیع کیا یہ بیع باطل ہے کہ جب وہ چیز ہی نہیں بیع کسی چیز کی ہوگی اور اگر بیع سے مراد اُس حق کو بیچنا ہے کہ مکان کے اوپر اُس کو مکان بنانے کا حق تھا یہ بھی باطل ہے کہ بیع مال کی ہوتی ہے اوریہ محض ایک حق ہے مال نہیں اور اگر بالاخانہ موجود ہے تو اُس کی بیع ہوسکتی ہے۔ (6) (فتح القدیر)
مسئلہ ۶: جوچیز زمین کے اندر پیدا ہوتی ہے، جیسے مولی، گاجر وغیرہ اگر اب تک پیدا نہ ہوئی ہویا پیدا ہونا معلوم نہ ہواس کی بیع باطل ہے اور اگر معلوم ہوکہ موجود ہوچکی ہے تو بیع صحیح ہے اورمشتری کو خیار رویت حاصل ہوگا۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۷: باقلا (8)کے بیج اور چاول اور تِل کی بیع ، اگر یہ سب چھلکے کے اندر ہوں جب بھی جائز ہے۔ یوہیں اخروٹ، بادام، پستہ اگر پہلے چھلکے میں ہوں (یعنی ان چیزوں میں دو۲ چھلکے ہوتے ہیں ہمارے ملک میں یہ سب چیزیں اوپر کا چھلکا اوتارنے کے بعد آتی ہیں اگر اوپر کے چھلکے نہ اُترے ہوں جب بھی بیع جائز ہے)۔ یوہیں گیہوں کے دانے بال(9) میں ہوں جب بھی بیع جائز ہے اوران سب صورتوں میں یہ بائع کے ذمہ ہے کہ پھلی سے باقلاکے بیج یا دھان کی بھوسی(10)سے
1 ۔آگ جلانے کے لئے گوبر کی سُکھائی ہوئی ٹکیاں۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی تعریف المال،ج۷،ص۲۳۴.
3 ۔ وہ جانور جسے ذبح نہ کیا گیا ہو۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی تعریف المال،ج۷،ص۲۳۵،وغیرہ.
5 ۔یعنی وہ چیز جس کا ابھی وجودہی نہ ہو۔
6 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۶،ص۶۳.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۳۶.
8 ۔لوبیا۔ 9 ۔گندم وغیرہ کی بالی جس میں دانے ہو تے ہیں۔ 10 ۔ چاول کی فصل کا بھوسہ،چھلکا۔
چاول یا چھلکوں سے تِل اور بادام وغیرہ اور بال(1)سے گیہوں نکال کر مشتری کے سُپرد کرے اور اگر چھلکوں سمیت بیع کی ہے مثلاً باقلاکی پھلیاں یا اوپر کے چھلکے سیمت بادام بیچایا دھان بیچا ہے تو نکال کردینا بائع کے ذمہ نہیں۔(2)(درمختار)
مسئلہ ۸: گٹھلیاں جو کھجور میں ہوں یا بنولے(3)جو روئی کے اندر ہوں یا دودھ جو تھن کے اندر ہوان سب کی بیع ناجائز ہے کہ یہ سب چیزیں عرفاً معدوم ہیں(4)اور کھجور سے گٹھلیا ں یاروئی سے بنولے یا تھن سے دودھ نکالنے کے بعد بیع جائز ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۹: پانی جب تک کوئیں یانہر میں ہے اُس کی بیع جائز نہیں اور جب اُس کو گھڑے وغیرہ میں بھر لیا مالک ہوگیا بیع کرسکتا ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مینھ (7) کا پانی جمع کرلینے سے مالک ہوجاتا ہے بیع کرسکتا ہے پختہ حوض میں جو پانی جمع کرلیا ہے بیع کرسکتا ہے بشرطیکہ پانی کی آمد کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہو ۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: بھشتی(9) سے پانی کی مشکیں مول لیں(10) یعنی ابھی اُس نے بھری بھی نہیں ہیں اُن کو خریدلینا درست ہے کہ مسلمانوں کا اس پر عملدرآمد ہے۔ اگر کسی سے کہا پانی بھر کر میرے جانوروں کو پلایا کروایک روپیہ ماہوار دونگا یہ ناجائز ہے اور اگریہ کہہ دیا کہ مہینے میں اتنی مشکیں پلاؤاور مشک معلوم ہے توجائز ہے۔(11)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مبیع میں کچھ موجود ہے اورکچھ معدوم جب بھی بیع باطل ہے جیسے گلاب اور بیلے(12) چمیلی(13) کے پھول جب کہ ان کی پوری فصل بیچی جائے اور جتنے موجود ہیں اُن کو بیع کیا تو بیع جائز ہے۔ (14) (درمختار)
1 ۔گندم کی بالی جس میں گندم کے دانے ہوتے ہیں۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۵۳.
3 ۔کپاس کے بیج۔ 4 ۔یعنی لوگوں کے نزدیک ان کا وجود ہی نہیں ہے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۵۲.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ ومالایجوز،الفصل السابع،ج۳،ص۱۲۱.
7 ۔ بارش۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ ومالایجوز،الفصل السابع،ج۳ ،ص۱۲۱.
9 ۔پانی بھرنے والا۔ 10 ۔خریدلیں۔
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوز بیعہ ومالایجوز،الفصل السابع،ج۳،ص۱۲۲.
12 ۔ایک قسم کاسفیدخوشبودارپھول جوموتیا سے ملتاجلتاہے۔ 13 ۔ چنبیلی ایک مشہور خوشبودار پھول ،یہ سفید اور زرد رنگ کا ہوتاہے ۔ 14 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۳۶.
مسئلہ ۱۳: جانور کی پشت میں یا مادہ کے پیٹ میں جونطفہ ہے کہ آئندہ وہ پیدا ہوگااُس کی بیع باطل ہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: مبیع کی طرف اشارہ کیا اور نام بھی لے دیا مگر جس کی طرف اشارہ ہے اُس کاوہ نام نہیں مثلاً کہا کہ اس گائے کو اتنے میں بیچااور وہ گائے نہیں بلکہ بیل ہے یا اس لونڈی کو بیچا اور وہ لونڈی نہیں غلام ہے اس کا حکم یہ ہے کہ جونام ذکر کیا ہے اورجس کی طرف اشارہ ہے دونوں کی ایک جنس ہے تو بیع صحیح ہے کہ عقد کا تعلق اُس کے ساتھ ہے جس کی طرف اشارہ ہے اور وہ موجود ہے مگر جو چیز سمجھ کر مشتری لینا چاہتا ہے چونکہ وہ نہیں ہے لہٰذا اُس کواختیار ہے کہ لے یا نہ لے اور جنس مختلف ہو تو بیع باطل ہے کہ عقد کا تعلق اس صورت میں اُس کے ساتھ ہے جس کا نا م لیا گیااور وہ موجود نہیں لہٰذا عقد باطل۔انسان میں مرد و عورت دو جنس مختلف ہیں لہٰذا لونڈی کہہ کر بیع کی اور نکلا غلام یا بالعکس(2) یہ بیع باطل ہے اور جانور وں میں نرومادہ ایک جنس ہے گائے کہہ کر بیع کی اورنکلا بیل یا بالعکس تو بیع صحیح ہے اورمشتری کو خیار حاصل ہے۔(3)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۵: یاقُوت کہہ کر بیچا اورہے شیشہ ،بیع باطل ہے کہ مبیع معدوم(4) ہے اور یاقوت سُرخ کہہ کر رات میں بیچا اور تھا یاقوت زرد، تو بیع صحیح ہے اورمشتری کو اختیار ہے۔ (5) (فتح)
مسئلہ ۱۶: آزادو غلام کو جمع کرکے ایک ساتھ دونوں کو بیچایا ذبیحہ اورمُردارکو ایک عقد میں بیع کیا غلام اور ذبیحہ کی بھی بیع باطل ہے اگرچہ ان صورتوں میں ثمن کی تفصیل کردی گئی ہوکہ اتنا اس کا ثمن ہے اور اتنا اس کا۔ اور اگر عقد دوہوں تو غلام اور ذبیحہ کی صحیح ہے آزاداورمُردار کی باطل۔مدبر یا ام ولدکے ساتھ ملا کر غلام کی بیع کی غلام کی بیع صحیح ہے اُن کی نہیں۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: غیر وقف کو وقف کے ساتھ ملاکر بیع کیا غیر وقف کی صحیح ہے اور وقف کی باطل اورمسجد کے ساتھ دوسری چیز
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۳۷.
2 ۔یعنی غلام کہاتھا اور لونڈی نکلی۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۴۷.
4 ۔ بکنے والی چیز موجو د نہیں ہے۔
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۶،ص۶۸.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۴۱.
ملا کر بیع کی تو دونوں کی باطل۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: دوشخص ایک مکان میں شریک ہیں ان میں ایک نے دوسرے کے ہاتھ پورامکان بیچ دیا تو اس کے حصے کی بیع صحیح ہے اور جتنا مکان میں اس کا حصہ ہے اُسی کی بیع ہوئی اور اُس کے مقابل ثمن کا جو حصہ ہوگا وہ ملے گاکُل نہیں ملے گا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: دوشخص مکان یا زمین میں شریک ہیں ایک نے اُس میں سے ایک معین ٹکڑابیع کردیا یہ بیع صحیح نہیں اور اگر اپنا حصہ بیچ دیا تو بیع صحیح ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: مسلّم گاؤں(4) بیچاجس میں قبرستان اور مسجد یں بھی ہیں اور ان کا استثنا نہیں کیا تو علاوہ مساجد ومقابر کے گاؤں کی بیع صحیح ہے اور مساجد ومقابر کا عادۃًاستثنا قرار دیا جائے گا اگرچہ استثنا مذکور نہ ہو۔(5) (بحرالرائق)
مسئلہ ۲۱: انسان کے بال کی بیع درست نہیں اور اُنھیں کام میں لانا بھی جائز نہیں، مثلاً ان کی چوٹیاں بنا کر عورتیں استعمال کریں حرام ہے، حدیث میں اس پر لعنت فرمائی۔
فائدہ: حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے موئے مبارک(6) جس کے پاس ہوں، اُس سے دوسرے نے لیے اور ہدیہ میں کوئی چیز پیش کی یہ درست ہے جب کہ بطور بیع نہ ہو اور موئے مبارک سے برکت حاصل کرنا اور اس کا غسالہ(7) پینا، آنکھوں پر ملنا، بغرض شفا مریض کو پلانا درست ہے، جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
مسئلہ ۲۲: جو چیز اس کی ملک میں نہ ہو اُس کی بیع جائز نہیں یعنی اس امید پر کہ میں اس کو خریدلوں گا یا ہبہ یا میراث کے ذریعہ یا کسی اور طریق سے مجھے مل جائے گی اُس کی ابھی سے بیع کردے جیسا کہ آجکل اکثر تاجر کیا کرتے ہیں یہ ناجائز ہے جب کہ بیع سلم کے طور پر نہ ہو (جس کاذکر آئے گا) پھر اگر اس طرح بیع کی اورخریدکر مشتری کو دیدی جب بھی باطل ہی رہے گی۔ یوہیں وہ چیز جو ابھی طیار نہیں ہے بلکہ آئندہ ہوگی مثلاً کپڑا، گُڑ، شکر، جو ابھی موجود نہیں ہے اس امید پر بیچی کہ آئندہ ہوجائے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۴۲.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فیما اذا اشتری احد الشریکین...إلخ،ج۷،ص۲۴۲.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوز بیعہ ومالا یجوز،الفصل التا سع،ج۳،ص۱۳۰.
4 ۔سارا گاؤں۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب البیع،باب بیع الفاسد،ج۶،ص۱۴۹.
6 ۔مقدس بال ۔ 7 ۔ وہ پانی جس میں موئے مبارک دھوئے گئے ہوں۔
گی یہ بیع بھی باطل ہے کہ معدوم کی بیع ہے اور اگر دوسرے کی چیز بطور وکالت (1)یافضولی بن کر بیچ دی(2) تو ناجائزنہیں اگر وکالت کے طور پر ہو تو نافذ بھی ہے(3) اور فضولی کی بیع ہو تو مالک کی اجازت پر موقوف ہے۔(4) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: بیع باطل کا حکم یہ ہے کہ مبیع پر اگرمشتری کا قبضہ بھی ہوجائے جب بھی مشتری اُس کا مالک نہیں ہوگا اورمشتری کا وہ قبضہ قبضہ امانت قرار پائے گا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: سرکہ کے دو ۲ مٹکے خریدے پھر معلوم ہوا کہ ایک میں شراب ہے اور دوسرے میں سرکہ دونوں کی بیع ناجائز ہے اگرچہ ہر ایک کا ثمن علٰحدعلٰحدہ بیان کردیا گیا ہو۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: بیع میں ایسی شرط ذکر کرنا کہ خود عقد اُس کا مقتضی ہے مضر نہیں مثلاً بائع پر مبیع کے قبضہ دلانے کی شرط اورمشتری پر ثمن ادا کرنے کی شرط اور اگر وہ شرط مقتضائے عقد نہیں(7) مگر عقد کے مناسب ہواس شرط میں بھی حرج نہیں مثلاً یہ کہ مشتری ثمن کے لیے کوئی ضامن پیش کرے یا ثمن کے مقابل میں فلاں چیز رہن رکھے اورجس کو ضامن بتایا ہے اُس نے اُسی مجلس میں ضمانت کر بھی لی اور اگر اُس نے ضمانت قبول نہ کی توبیع فاسدہے اور اگر مشتری نے ضمانت یا رہن سے گریز کی تو بائع بیع کو فسخ کرسکتا ہے۔ یوہیں مشتری نے بائع سے ضامن طلب کیا کہ میں اس شرط سے خریدتا ہوں کہ فلاں شخص ضامن ہوجائے کہ مبیع پر قبضہ دلادے یا مبیع میں کسی کا حق نکلے گا تو ثمن واپس ملے گایہ شرط بھی جائز ہے۔ اور اگر وہ شرط نہ اس قسم کی ہو نہ اُس قسم کی مگر شرع (8)نے اُس کوجائز رکھا ہے جیسے خیار شرط یا وہ شرط ایسی ہے جس پر مسلمانوں کا عام طور پرعمل درآمد ہے جیسے آج کل گھڑیوں میں گارنٹی سا ل دوسال کی ہوا کرتی ہے کہ اس مدت میں خراب ہوگی تو درستی کا ذمہ دار بائع ہے ایسی شرط بھی جائز ہے۔ اور یہ بھی نہ
1 ۔یعنی کسی کی طرف سے وکیل بن کر۔ 2 ۔یعنی مالک کی اجازت کے بغیراپنے طور پر بیچ دی۔
3 ۔ یعنی بیع ہو جائے گی۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الأول فی تعریف البیع...إلخ،ج۳،ص۲،۳.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:الآدمی مکرّم...إلخ،ج۷،ص۲۴۵.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۴۶.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع،فیمایجوز بیعہ ومالا یجوز،الفصل العاشر،ج۳،ص۱۳۱.
7 ۔یعنی عقد کے تقاضے کے مطابق نہیں۔ 8 ۔ شریعت۔
ہویعنی شریعت میں بھی اُس کا جواز نہیں وارد ہواور مسلمانوں کا تعامل(1) بھی نہ ہو وہ شرط فاسد ہے اور بیع کو بھی فاسد کردیتی ہے مثلاً کپڑاخریدااور یہ شرط کرلی کہ بائع اس کو قطع کرکے سی دے گا۔ (2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۶: غلام کواس شرط پر بیع کیا کہ مشتری اُسے آزاد کردے یا مدبر یا مکاتب کرے یا لونڈی کو اس شرط پر کہ اسے اُم ولد بنائے یہ بیع فاسد ہے کہ جوشرط مقتضائے عقد(3)کے خلاف ہو اور اُس میں بائع یا مشتری یا خود مبیع کا فائدہ ہو (جب کہ مبیع اہل استحقاق سے ہو) وہ بیع کو فاسد کردیتی ہے اور اگر جانورکو اس شرط پر بیچا کہ مشتری اُسے بیع نہ کرے تو بیع فاسد نہیں کہ یہاں وہ تینوں باتیں نہیں اور اگر اس شرط پرسے غلام بیچا تھا کہ مشتری اُسے آزاد کردے گااور مشتری نے اس شرط پر خریدکر آزاد کردیا بیع صحیح ہوگئی اور غلام آزاد ہوگیا۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۷: غلام کو ایسے کے ہاتھ بیچا کہ معلوم ہے وہ آزاد کردے گامگر بیع میں آزادی کی شرط مذکور نہ ہوئی بیع جائز ہے۔(5)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۸: غلام بیچا اور یہ شرط کی کہ وہ غلام بائع کی ایک مہینہ خدمت کریگایامکان بیچا اور شرط کی کہ بائع ایک ماہ تک اُس میں سکونت(6) رکھے گا یا یہ شرط کی کہ مشتری اتنا روپیہ مجھے قرض دے یا فلاں چیز ہدیہ کرے یامعین چیز کو بیچا اور شرط کی کہ ایک ماہ تک مبیع پر قبضہ نہ دے گاان سب صورتوں میں بیع فاسد ہے۔(7) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۹: بیع میں ثمن کا ذکر نہ ہوا یعنی یہ کہا کہ جو بازار میں اس کا نرخ (8)ہے دیدینا یہ بیع فاسد ہے اور اگر یہ کہا کہ ثمن کچھ نہیں تو بیع باطل ہے کہ بغیر ثمن بیع نہیں ہوسکتی۔(9)(درمختار)
1 ۔ رواج،مسلمانوں کے درمیان رائج ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب العاشر فی الشروط التی تفسدالبیع والتی لا تفسدہ،ج۳،ص۱۳۳وغیرہ.
3 ۔ یعنی عقد کے تقاضے کے۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۴۸.
5 ۔المرجع السابق،ص۴۹.
6 ۔رہائش۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۴۹.
8 ۔ قیمت۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۴۷.
مسئلہ ۳۰: جومچھلی کہ دریا یا تالاب میں ہے ابھی اُس کاشکار کیا ہی نہیں اُس کو اگر نقود یعنی روپے پیسے سے بیع کیا تو باطل ہے کہ وہ ملک میں نہیں اورمال متقوم نہیں اور اگر اُس کو غیر نقود مثلاً کپڑا یا کسی اور چیز کے بدلے میں بیع کیاہے تو بیع فاسد ہے۔ یوہیں اگر شکار کرکے اُسے دریا یا تالاب میں چھوڑدیا جب بھی اُس کی بیع فاسد ہے کہ اُس کی تسلیم پر(1) قدرت نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: مچھلی کو شکار کرنے کے بعد کسی گڑھے میں ڈالدیا یا وہ گڑھا ایسا ہے کہ بے کسی ترکیب کے(3) اُس میں سے پکڑسکتا ہے تو بیع کرنا بھی جائز ہے کہ اب وہ مقدورالتسلیم بھی ہے (4) وہ ایسی ہی ہے جیسے پانی کے گھڑے میں رکھی ہے اور اگر اُسے پکڑنے کے لیے شکار کرنے کی ضرورت ہوگی کانٹے یا جال وغیرہ سے پکڑنا پڑے گا توجب تک پکڑنہ لے اُس کی بیع صحیح نہیں اور اگر مچھلی خود بخود گڑھے میں آگئی اور وہ گڑھا اسی لیے مقرر کررکھا ہے تو یہ شخص اُسکا مالک ہوگیا دوسرے کو اس کالینا جائز نہیں پھر اگر بے جال وغیرہ کے اُسے پکڑسکتے ہیں تو اُس کی بیع بھی جائز ہے کہ وہ مقدور التسلیم بھی ہے ورنہ بیع ناجائزاور اگر وہ اس لیے نہیں طیار کررکھا ہے تو مالک نہیں مگر جبکہ دریا یا تالاب کی طرف جو راستہ تھا اُسے مچھلی کے آنے کے بعد بند کردیا تو مالک ہوگیا اور بغیر جال وغیرہ کے پکڑسکتا ہے تو بیع جائز ہے ورنہ نہیں۔ اسی طرح اگر اپنی زمین میں گڑھا کھودا تھا اُس میں ہرن وغیرہ کوئی شکار گر پڑااگر اس نے اسی غرض سے کھوداتھا تو یہی مالک ہے دوسرے کو اسکا لینا جائز نہیں اور اس لیے نہیں کھودا تو جو پکڑ لے جائے اُس کا ہے مگر مالک زمین اگر شکار کے قریب ہو کہ ہاتھ بڑھا کر اُسے پکڑ سکتا ہے تو اسی کا ہے دوسرے کو پکڑنا جائز نہیں دوسرا پکڑے بھی تووہ مالک نہیں ہوگا یہ ہوگا۔ یوہیں سُکھانے کے لیے جال تانا تھا کوئی شکار اُس میں پھنساتو جو پکڑ لے اس کا ہے اوراگر شکار ہی کے لیے تانا تھا تو شکار کا مالک یہ ہے۔ جال میں شکار پھنسا مگر تڑپا اُس سے چھوٹ گیادوسرے نے پکڑ لیا تویہ مالک ہے اورجال والا پکڑنے کے لیے قریب آگیا کہ ہاتھ بڑھا کر جانور پکڑسکتا ہے اس وقت توڑا کرنکل گیا اور دوسرے نے پکڑلیا تو جال والا مالک ہے پکڑنے والا مالک نہیں۔ باز اورکُتے کے شکار کا بھی یہی حکم ہے۔(5) (فتح القدیر، ردالمحتار)
1 ۔یعنی حوالے کرنے پر۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۴۸.
3 ۔یعنی بغیر کسی تدبیر کے۔ 4 ۔یعنی مشتر ی کے حوالے کرنے پر قادر بھی ہے۔
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۶،ص۴۹.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الفاسد،مطلب:فی البیع الفاسد،ج۷،ص۳۴۸.
مسئلہ ۳۲: شکاری جانور کے انڈے اوربچے کا بھی وہی حکم ہے جو شکار کا ہے یعنی اگر ایسی جگہ میں انڈا یا بچہ کیا کہ اس نے اسی کام کے لیے مقرر کر رکھی ہے تویہ مالک ہے ورنہ جولے جائے اُس کا ہے۔(1) (فتح القدیر)
مسئلہ ۳۳: کسی کے مکان کے اندر شکار چلا آیا اور اس نے دروازہ اُس کے پکڑنے کے لیے بند کرلیاتویہ مالک ہے دوسرے کو پکڑنا جائز نہیں اور لا علمی میں اس نے دروازہ بند کیا تویہ مالک نہیں۔اورشکار اس کے مکان کی محاذات (2) میں ہوا میں اُڑ رہا تھا تو جو شکار کرے، وہ مالک ہے۔ یوہیں اس کے درخت پر شکار بیٹھا تھا جس نے اُسے پکڑاوہ مالک ہے۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: روپے پیسے لُٹاتے ہیں اگر کسی نے اپنے دامن اس لیے پھیلا رکھے تھے کہ اس میں گریں تو میں لوں گا تو جتنے اس کے دامن میں آئے اس کے ہیں اور اگر دامن اس لیے نہیں پھیلائے تھے مگر گرنے کے بعد اس نے دامن سمیٹ لیے جب بھی مالک ہے اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو دامن میں گرنے سے اس کی ملک نہیں دوسرا لے سکتا ہے۔ شادی میں چھوہارے اور شکر لُٹاتے ہیں ان کابھی یہی حکم ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۵: اسکی زمین میں شہد کی مکھیوں نے مُہارلگائی(5) توبہر حال شہد کا مالک یہی ہے چاہے اس نے زمین کو اسی لیے چھوڑرکھا ہویا نہیں کہ ان کی مثال خودرو درخت(6) کی ہے کہ مالکِ زمین اسکا مالک ہوتا ہے یہ اُس کی زمین کی پیداوار ہے۔(7) (فتح القدیر)
مسئلہ ۳۶: تالابوں جھیلوں کا مچھلیوں کے شکار کے لیے ٹھیکہ دینا جیسا کہ ہندوستان کے بہت سے زمیندار کرتے ہیں یہ ناجائز ہے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۳۷: پرندجو ہوا میں اُڑرہا ہے اگر اُس کو ابھی تک شکار نہ کیا ہو تو بیع باطل ہے اور اگر شکار کرکے چھوڑدیا ہے تو بیع فاسد ہے کہ تسلیم پر قدرت نہیں اور اگر وہ پرند ایسا ہے کہ اس وقت ہوا میں اُڑرہا ہے مگر خود بخود واپس آجائے گا جیسے پلاؤکبوتر(9)
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۶،ص۴۹.
2 ۔گردو نواح،مکان کے برابر اوپر۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی البیع الفاسد،ج۷،ص۲۴۸.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۷،ص۵۱۶.
5 ۔شہدکا چھتابنایا۔
6 ۔یعنی قدرتی طور پر اگنے والا درخت۔
7 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۶،ص۴۹.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۴۸.
9 ۔پالتو کبوتر۔
تو اگرچہ اس وقت اس کے پاس نہیں ہے بیع جائز ہے اور حقیقۃً نہیں تو حکماً اس کی تسلیم پر قدرت ضرور ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۸: جو دودھ تھن میں ہے اُ سکی بیع ناجائز ہے۔ یوہیں زندہ جانور کا گوشت، چربی، چمڑا، سری پائے ، زندہ دُنبہ کی چکی(2) کی بیع ناجائز ہے اسی طرح اُس اون کی بیع جو دُنبہ یا بھیڑ کے جسم میں ہے ابھی کاٹی نہ ہواور اُس موتی کی جو سیپ(3) میں ہو یا گھی کہ جو ابھی دودھ سے نکا لانہ ہو یا کڑیوں کی جو چھت میں ہیں یا جوتھان ایسا ہوکہ پھاڑ کر نہ بیچاجاتا ہواُس میں سے ایک گز آدھ گز کی بیع جیسے مشروع(4)اور گلبدن(5)کے تھان یہ سب ناجائز ہیں اور اگرمشتری نے ابھی بیع کو فسخ نہیں کیا تھا کہ بائع نے چھت میں سے کڑیا ں نکال دیں یا تھا ن میں سے وہ ٹکڑا پھاڑ دیاتو اب یہ بیع صحیح ہوگئی۔ (6) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۳۹: اس مرتبہ جا ل ڈالنے میں جو مچھلیاں نکلیں گی اُ ن کو بیع کیا یا غوطہ خور(7)نےیہ کہا کہ اس غوطہ میں جوموتی نکلیں گے اُن کو بیچایہ بیع باطل ہے۔(8) (فتح القدیر)
مسئلہ ۴۰: دو کپڑوں میں سے ایک یا دو غلاموں میں سے ایک کی بیع ناجائز ہے جبکہ خیار تعیین(9) شرط نہ ہواور اگر مشتری نے دونوں پر قبضہ کرلیا تو اُن میں ایک کا قبضہ قبضہ امانت ہے اور دوسرے کا قبضہ ضمان۔(10)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۴۱: چراگاہ میں جو گھاس ہے اُس کی بیع فاسد ہے ہاں اگرگھاس کوکاٹ کر اس نے جمع کرلیا تو بیع درست ہے جس طرح پانی کو گھڑے، مٹکے، مشک میں بھر لینے کے بعد بیچنا جائز ہے اور چراگاہ کا ٹھیکہ پر دینا بھی جائز نہیں یہ اُس وقت ہے کہ گھاس خود اُوگی ہو اس کو کچھ نہ کرنا پڑا ہواور اگر اس نے زمین کو اسی لیے چھوڑرکھا ہو کہ اُس میں گھاس پیدا ہواور ضرورت کے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۵۰.
2 ۔دنبے کی چوڑی دُم۔ 3 ۔صدف، ایک قسم کی دریائی مخلوق جس کے اندر سے موتی نکلتے ہیں۔
4 ۔ایک قسم کاکپڑا جو ریشم اور روئی کے سوت کو ملاکر بنایاجاتاہے۔ 5 ۔ایک قسم کا دھاری دار ریشمی کپڑا۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۴۴.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۵۲.
7 ۔تیراک ۔
8 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۶،ص۵۳.
9 ۔منتخب کرنے کا اختیار ،معین کرنے کااختیار۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۵۲.
و''البحرالرائق''،کتاب البیع،باب البیع الفاسد،ج۶،ص۱۲۶.
وقت پانی بھی دیتا ہو تو اُس کامالک ہے اور اب بیچنا جائز ہے مگر ٹھیکہ اب بھی ناجائز ہے کہ اتلاف عین (1) پر اجارہ درست نہیں۔ ٹھیکہ کے لیے یہ حیلہ ہوسکتا ہے کہ اُس زمین کو جانوروں کے ٹھہرا نے کے لیے ٹھیکہ پر دے پھر مستاجر (2) اُس کی گھاس بھی چرائے۔ (3) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۴۲: کچی کھیتی جس میں ابھی غلہ طیار نہیں ہوا ہے، اس کی بیع کی تین صورتیں ہیں: 1 ابھی کاٹ لے گا یا 2 اپنے جانوروں سے چرالے گا یا 3 اس شرط پر لیتا ہے کہ اُسے طیار ہونے تک چھوڑرکھے گا۔ پہلی دو صورتوں میں بیع جائز ہے اور تیسری صورت میں چونکہ اس شرط میں مشتری کا نفع ہے، بیع فاسد ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: پھل اُس وقت بیچ ڈالے کہ ابھی نمایاں بھی نہیں ہوئے ہیں یہ بیع باطل ہے اوراگر ظاہر ہوچکے مگر قابل انتفاع نہیں ہوئے(5)یہ بیع صحیح ہے مگر مشتری پر فوراً توڑ لینا ضروری ہے اور اگر یہ شرط کرلی ہے کہ جب تک طیار نہیں ہونگے درخت پر رہیں گے تو بیع فاسد ہے اور اگر بلا شرط خریدے ہیں مگر بائع نے بعد بیع اجازت دی کہ طیار ہونے تک درخت پر رہنے دو تو اب کوئی حرج نہیں۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: ریشم کے کیڑے اوران کے انڈوں کی بیع جائز ہے۔(7) (تنویر)
دوشخص اگر ریشم کے کیڑوں میں شرکت کریں یہ جب ہوسکتی ہے کہ انڈے دونوں کے ہوں اور کام بھی دونوں کریں اورجتنے جتنے انڈے ہوں اُنھیں کے حساب سے شرکت کے حّصے ہوں یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک کے انڈے ہوں اور ایک کام کرے اور دونوں نصف نصف یاکم وبیش کے شریک ہوں بلکہ اگر ایسا کیا ہے تو کیڑے اُس کے ہوں گے جس کے انڈے ہیں اورکام کرنے والے کے لیے اُجرتِ مثل ملے گی۔ یوہیں اگر گائے بکری مرغی کسی کو آدھے آدھ پر دے دی کہ وہ کھلائے گا چرائے گا اور جو بچے ہوں گے دونوں آدھے آدھے بانٹ لیں گے جیسا کہ اکثر دیہاتوں میں کرتے ہیں یہ طریقہ غلط ہے بچوں میں شرکت نہیں ہوگی بلکہ بچے اسی کے ہونگے جس کے جانور ہیں اس دوسرے کو چارہ کی قیمت جب کہ اپنا کھلایا ہواور چرائی اور رکھوالی کی
1 ۔ اصل چیز کو ضائع کرنا۔ 2 ۔اجرت پر لینے والا۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷ ،ص۲۵۷.
و''البحرالرائق''،کتاب البیع، باب البیع الفاسد،ج۶،ص۱۲۷.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۵۸.
5 ۔یعنی فائد ہ اُٹھانے کے قابل نہیں ہوئے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ وما لایجوز،الفصل الثانی،ج۳،ص۱۰۶.
7 ۔''تنویرالأبصار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۲۵۹.
اُجرتِ مثل ملے گی۔ یوہیں اگرایک شخص نے اپنی زمین دوسرے کو پیڑ(1) لگانے کے لیے ایک مدت معین تک کے لیے دیدی کہ درخت اورپھل دونوں نصف نصف لے لیں گے یہ بھی صحیح نہیں وہ درخت اور پھل کُل مالک زمین کے ہونگے اور دوسرے کے لیے درخت کی وہ قیمت ملے گی جو نصب کرنے کے دن تھی اور جوکچھ کام کیاہے اُس کی اُجرتِ مثل ملے گی۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۵: بھاگے ہوئے غلام کی بیع ناجائز ہے اور اگرجس کے ہاتھ بیچتا ہے، وہ غلام بھاگ کر اُسی کے یہاں چھپا ہو تو بیع صحیح ہے پھر اگرمشتری نے اُ س غلام پر قبضہ کرتے وقت کسی کو گواہ نہیں بنایا ہے تو بیع کے لیے جدید قبضہ کی ضرورت نہیں، یعنی فرض کرو بیع کے بعد ہی مرگیا تومشتری کو ثمن دینا پڑے گا اور قبضہ کرتے وقت گواہ کرلیا ہے تویہ قبضہ بیع کے قبضہ کے قائم مقام نہیں بلکہ یہ قبضہ قبضہ امانت ہے اس کے بعد پھر قبضہ کرنا ہوگااور اس قبضہ جدید سے پہلے مرا تو بائع کامرامشتری کوکچھ ثمن دینا نہیں پڑے گا اور اگرمشتری کے یہاں نہیں چھپاہے مگر جس کے یہاں ہے اُس سے مشتری آسانی کے ساتھ بغیرمقدمہ بازی کے لے سکتا ہے جب بھی صحیح ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۶: ایک شخص نے کسی کی کوئی چیز غصب کرلی ہے مالک نے اُس کو غاصب کے ہاتھ بیچ ڈالابیع صحیح ہے۔ (4)
مسئلہ ۴۷: عورت کے دودھ کو بیچنا ناجائز ہے اگرچہ اُسے نکال کر کسی برتن میں رکھ لیا ہواگرچہ جس کا دودھ ہووہ باندی ہو۔(5) (ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۴۸: خنزیر کے بال یا اورکسی جز کی بیع باطل ہے اور مُردار کے چمڑے کی بھی بیع باطل ہے جبکہ پکایانہ ہو، اور دباغتکرلی ہو(6) تو بیع جائز ہے اوراس کو کام میں لانا بھی جائز ہے۔(7)(درمختار)
مسئلہ ۴۹: تیل ناپاک ہوگیا اس کی بیع جائز ہے اورکھانے کے علاوہ اُس کودوسرے کام میں لانا بھی جائز ہے۔ (8) (درمختار) مگر یہ ضرور ہے کہ مشتری کو اُس کے نجس ہونے کی اطلاع دیدے تاکہ وہ کھانے کے کام میں نہ لائے اوریہ بھی وجہ ہے
1 ۔درخت۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی بیع دودۃ القرمز،ج۷،ص۲۶۱.
3 ۔المرجع السابق،ص۲۶۳.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیما یجوزبیعہ ومالا یجوز،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۱۱.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۴۶وغیرہا.
6 ۔یعنی پکاکر رنگ دیا ہو۔
7 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۶۵.
8 ۔المرجع السابق،ص۲۶۷.
کہ نجاست عیب ہے اور عیب پر مطلع کرنا ضرور ہے۔ ناپاک تیل مسجد میں جلانامنع ہے گھر میں جلا سکتا ہے۔ اس کا استعمال اگرچہ جائز ہے مگر بدن یا کپڑے میں جہاں لگ جائے گاناپاک ہوجائے گا پاک کرنا پڑیگا۔ بعض دوائیں اس قسم کی بنائی جاتی ہیں جس میں کوئی ناپاک چیز شامل کرتے ہیں مثلاً کسی جانور کا پتّہ اُس کو اگر بدن پر لگایا تو پاک کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ ۵۰: مُردار کی چربی کو بیچنایا اُس سے کسی قسم کانفع اُٹھانا ناجائز ہے نہ اُسے چراغ میں جلاسکتے ہیں نہ چمڑا پکانے کے کام میں لاسکتے ہیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۱: مُردار کا پٹھا(2) ، بال، ہڈی، پر، چونچ، کھر(3) ، ناخن، ان سب کو بیچ بھی سکتے ہیں اور کام میں بھی لاسکتے ہیں۔ ہاتھی کے دانت اور ہڈی کو بیچ سکتے ہیں اور اسکی چیزیں بنی ہوئی استعمال کرسکتے ہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۲: جس چیز کو بیع کردیا ہے اور ابھی پوراثمن وصول نہیں ہوا ہے اُس کو مشتری سے کم دام میں خریدنا جائز نہیں اگرچہ اس وقت اُس کا نرخ کم ہوگیا ہو۔ یوہیں اگرمشتری مرگیا اُس کے وارث سے خریدی جب بھی جائز نہیں۔ مالک نے خودنہیں بیع کی ہے بلکہ اس کے وکیل نے بیع کی جب بھی یہی حکم ہے کہ کم میں خریدنا ناجائز اور اگر اُتنے ہی میں خریدی مگر پہلے ادائے ثمن کی معیاد نہ تھی اوراب میعاد مقرر ہوئی یا پہلے ایک ماہ کی میعاد تھی اوراب دوماہ کی میعاد مقرر کی یہ بھی ناجائزہے۔اوراگر بائع مرگیااس کے وارث نے اُسی مشتری سے کم دام میں خریدی تو جائز ہے۔ یوہیں بائع نے اُس سے خریدی جس کے ہاتھ مشتری نے بیع کردی ہے یا ہبہ کردی ہے یا مشتری نے جس کے لیے اُس چیز کی وصیت کی اُس سے خریدی یا خود مشتری سے اُسی دام میں یازائد میں خریدی یا ثمن پرقبضہ کرنے کے بعد خریدی یہ سب صورتیں جائز ہیں۔ اوربائع کے باپ یابیٹے یاغلام یامکاتب نے کم دام میں خریدی تو ناجائز ہے۔ کم داموں میں خریدنا اُس وقت ناجائز ہے جب کہ ثمن اُسی جنس کاہو اور مبیع میں کوئی نقصان نہ پیدا ہوا ہو اور اگر ثمن دوسری جنس کاہو یامبیع میں نقصان ہواہو تو مطلقاًبیع جائز ہے۔ روپیہ اوراشرفی اس بارہ میں ایک جنس قرار پائیں گے لہٰذا اگر بیس روپیہ میں بیچی تھی اوراب ایک اشرفی میں خریدی جس کی قیمت اس وقت پندرہ روپے ہے ناجائز ہے اور
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،با ب البیع الفاسد،مطلب:فی التداوی بلبن البنت فلزمہ قولان ،ج۷ ،ص۲۶۷.
2 ۔بدن سے ملے ہوئے وہ زردی مائل ریشے جن سے اعضاء سکڑتے اورپھیلتے ہیں۔
3 ۔گائے ،بکری اور ہرن وغیرہ کے پاؤں ۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی التداوی بلبن البنت فلزمہ قولان،ج۷،ص۲۶۷.
اگر کپڑے یا سامان کے بدلے میں خریدی جس کی قیمت پندرہ روپے ہے جائز ہے۔ (1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۳: ایک شخص نے دوسرے سے من بھرگیہوں(2) قرض لیے اس کے بعد قرضدار نے قرضخواہ(3)سے پانچ روپیہ میں وہ من بھر گیہوں جو اُس کے ہیں خرید لیے یہ بیع جائز ہے اور وہ روپے اگر اُسی مجلس میں ادا کردیے تو بیع نافذ ہے، ورنہ باطل ہوجائیگی۔(4)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: ایک شخص نے دوسرے سے دس روپے قرض لیے اور قبضہ کر لینے کے بعد مدیون(5)نے دائن(6) سے ایک اشرفی میں خرید لیے یہ بیع جائز ہے پھر اگر اشرفی مجلس میں دیدی بیع صحیح رہی ورنہ باطل ہوگئی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۵: مشتری نے دوسرے کے ہاتھ چیز بیچ ڈالی مگر یہ بیع فسخ ہوگئی اگریہ فسخ سب کے حق میں فسخ قرار پائے تو بائع اول کو کم داموں میں خریدنا جائز نہیں اور اگر اسطرح کا فسخ ہو کہ محض ان دونوں کے حق میں فسخ دوسروں کے حق میں بیع جدید ہو جیسے اقالہ،تو کم میں خریدنا جائز۔(8)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: مشتری نے مبیع کوہبہ کردیا اور قبضہ بھی دے دیا مگر پھر واپس لے لی اور بائع کے ہاتھ کم دام میں بیچ ڈالی یہ ناجائز ہے۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۷: ایک چیز خریدی اور ابھی اُ س پر قبضہ نہیں کیا ہے یہ اورایک دوسری چیز جو اس کی ملک میں ہے دونوں کو ایک ساتھ ملا کر بیع کیا اُس کی بیع درست ہے جو اس کے پاس کی ہے۔(10)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۸: ایک چیز ہزار روپے میں خریدی اور قبضہ بھی کرلیامگر ابھی ثمن ادا نہیں کیا ہے کہ یہ اورایک دوسری چیزاُسی بائع کے ہاتھ ہزار روپے میں بیچی ہرایک پانسومیں دوسری چیز کی بیع صحیح ہے اور اُس کی صحیح نہیں جو اُسی سے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیما یجوز بیعہ ومالا یجوز،الفصل العاشر،ج۳،ص۱۳۲.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:الدراھم والدنانیر...إلخ،ج۷،ص۲۶۸.
2 ۔ گندم۔ 3 ۔ قرض دینے والے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیما یجوزبیعہ ومالا یجوز،الفصل الاول،ج۳،ص۱۰۲.
5 ۔مقروض۔ 6 ۔قرض دینے والا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیما یجوزبیعہ ومالا یجوز،الفصل الاول،ج۳ ،ص۱۰۲.
8 ۔المرجع السابق،الفصل العا شر،ص۱۳۲.
9 ۔المرجع السابق. 10 ۔المرجع السابق.ص۱۳۳.
خریدی ہے اوراگر ثمن ادا کردیا ہے تو دونوں کی بیع صحیح ہے اور دوسرے کے ہاتھ بیع کی تو دونوں کی دونوں صورتوں میں صحیح ہے۔(1) (ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۵۹: تیل بیچا اور یہ ٹھہرا کہ برتن سمیت تولاجائے گاا ور برتن کا اتنا وزن کاٹ دیا جائے مثلاً ایک سیر یہ ناجائز ہے اوراگر یہ ٹھہرا کہ برتن کا جووزن ہے وہ کاٹ دیا جائے گامثلاً ایک سیر ہے تو ایک سیر اور ڈیڑھ سیر ہے تو ڈیڑھ سیر یہ جائز ہے۔ یوہیں اگر دونوں کو معلوم ہے کہ برتن کا وزن ایک سیر ہے اوریہ ٹھہرا کہ برتن کا وزن ایک سیر مجرا کیا جائے گا یہ بھی جائز ہے۔ (2) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۶۰: تیل یا گھی خریدا اور برتن سمیت تولاگیا اور ٹھہر ایہ کہ برتن کا جو وزن ہوگا مجرا دیا جائے گامشتری برتن خالی کرکے لایا اور کہتا ہے اس کا وزن مثلاً دوسیر ہے بائع کہتا ہے یہ وہ برتن نہیں میرا برتن ایک سیر وزن کا تھا تو قسم کے ساتھ مشتری کا قول معتبر ہوگاکیونکہ اس اختلاف سے اگر مقصود برتن ہے تومشتری قابض ہے اور قابض کاقول معتبر ہوتاہے اور اگر مقصود ثمن میں اختلاف ہے کہ ایک سیر کی قیمت بائع طلب کرتا ہے اورمشتری منکرہے (3) تو منکر کا قول معتبر ہوتاہے۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۶۱: راستہ یعنی اُس کی زمین کی بیع وہبہ جائز ہے، جب کہ وہ زمین بائع کی ملک ہونہ یہ کہ فقط حق مرور(5) (حق آسائش) ہو، مثلاً اس کے گھر کا راستہ دوسرے کے گھر میں سے ہو اور راستہ کی زمین اس کی ہو۔ اگر اس زمین راستہ کے طول و عرض(6) مذکور ہیں جب تو ظاہر ہے ورنہ اُ س مکان کا جو بڑا دروازہ ہے اُتنی چوڑائی اورکوچہ نافذہ(7) تک لنبائی لی جائے گی اور جو راستہ کوچہ نافذہ یا کوچہ سربستہ(8) میں نکلا ہے جو خاص بائع کی ملک میں نہیں ہے، بلکہ اُس میں سب کے لیے حق آسائش ہے مکان خریدنے میں وہ تبعاً(9) داخل ہوجاتا ہے خاص کراُسے خریدنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ (10) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۴۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیما یجوز بیعہ....إلخ،الفصل العاشر،ج۳،ص۱۳۳.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۴۸.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۷۲.
3 ۔انکار کررہاہے۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۴۸.
5 ۔یعنی چلنے کا حق۔ 6 ۔ لمبائی چوڑائی۔
7 ۔آمدو رفت کیعام گلی۔
8 ۔ بند گلی۔ 9 ۔ضمناً۔
10 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی بیع الطریق ،ج۷،ص۲۷۳.
مسئلہ ۶۲: زمین یا مکان کی بیع ہوئی اور راستہ کاحق مرور تبعاً بیع کیا گیا مثلاً جمیع حقوق (1)یا تمام مرافق(2)کے ساتھ بیع کی تو بیع درست ہے اورتنہا راستہ کا حق مرور بیچا گیاتو درست نہیں۔(3)(درمختار)
مسئلہ ۶۳: مکان سے پانی بہنے کا راستہ یا کھیت میں پانی آنے کا راستہ بیچنا درست نہیں یعنی محض حق بیچنا بھی ناجائز ہے اور زمین جس پر پانی گزر ے گاوہ بھی بیع نہیں کی جاسکتی جبکہ اُس کاطول وعرض بیان نہ کیا گیا ہو اور اگر بیان کردیا ہو تو جائز ہے۔ (4) (ہدایہ، فتح القدیر)
مسئلہ ۶۴: ایک شخص نے دوسرے سے کہا جو میرا حصہ اس مکان میں ہے اُسے میں نے تیرے ہاتھ بیع کیا اور بائع کو معلوم نہیں کہ کتنا حصہ ہے مگر مشتری کومعلوم ہے تو بیع جائز ہے اور اگر مشتری کو معلوم نہ ہو تو جائز نہیں اگرچہ بائع کو معلوم ہو۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۵: ایک شخص کے ہاتھ بیع کرکے پھر اُس کو دوسرے کے ہاتھ بیچنا حرام و باطل ہے کہ پہلی بیع اگر فسخ بھی کردی جائے جب بھی دوسری نہیں ہوسکتی۔ ہاں اگر مشتری اول نے قبضہ کرلیا ہے تو دوسری بیع اُ سکی اجازت پر موقوف ہے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۶: جس بیع میں مبیع یا ثمن مجہول(7)ہے وہ بیع فاسد ہے جبکہ ایسی جہالت(8) ہوکہ تسلیم(9)میں نزاع(10) ہوسکے اور اگر تسلیم میں کوئی دشواری نہ ہو تو فاسد نہیں مثلاً گیہوں(11)کی پوری بوری پانچ روپیہ میں خریدلی اور معلوم نہیں کہ اس میں کتنے گیہوں ہیں یا کپڑے کی گانٹھ(12) خریدلی اور معلوم نہیں کہ اس میں کتنے تھان ہیں۔(13)(عالمگیری)
1 ۔تمام حقوق۔ 2 ۔اس سے مراد وہ اشیاء ہیں جو مبیع کے تابع ہوتی ہیں جیسے راستہ ،زمین کے لئے پانی کی نالی وغیرہ۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۷۷.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۴۷.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۶،ص۶۵.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی عشر فی احکام البیع الموقوف وبیع احد الشریکین،ج۳،ص۱۵۵.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،فصل فی الفضولی،مطلب:فی بیع المرھون المستأجر،ج۷،ص۳۲۵.
7 ۔یعنی چیزیاقیمت معلوم نہ ہو۔ 8 ۔ لا علمی۔ 9 ۔حوالہ کرنے۔
10 ۔جھگڑا،لڑائی۔ 11 ۔گندم۔ 12 ۔گٹھڑی۔
13 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ ومالایجوز،الفصل الثامن،ج۳،ص۱۲۲.
مسئلہ ۶۷: بیع میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ادائے ثمن (1)کے لیے کوئی مدت مقرر ہوتی ہے اور کبھی نہیں اگر مدت مقرر نہ ہو تو ثمن کا مطالبہ بائع جب چاہے کرے اور جب تک مشتری ثمن نہ ادا کرے مبیع (2)کو روک سکتا ہے اور دعویٰ کرکے وصول کرسکتا ہے اوراگر مدت مقرر ہے توقبل مدت مطالبہ نہیں کرسکتا مگر مدت ایسی مقرر ہوجس میں جہالت نہ رہے کہ جھگڑا ہواگر مدت ایسی مقررکی جو فریقین نہ جانتے ہوں یاایک کو اُس کا علم نہ ہو تو بیع فاسد ہے مثلاًنوروز(3)اورمہر گان یا ہولی(4)دیوالی(5) کہ اکثر مسلمان یہ نہیں جانتے کہ کب ہوگی اور جانتے ہوں تو بیع ہوجائے گی (مگرمسلمانوں کواپنے کاموں میں کفّار کے تہواروں کی تاریخ مقرر کرنا بہت قبیح(6) ہے) حجاج کی آمد کادن مقررکرنا کھیت کٹنے اور پَیر(7) میں سے غلہ اُٹھنے کی تاریخ مقرر کرنا بیع کو فاسد کردے گاکہ یہ چیزیں آگے پیچھے ہواکرتی ہیں اگر ادائے ثمن کے لیے یہ اوقات مقرر کیے تھے مگر ان اقات کے آنے سے پہلے مشتری نے یہ میعاد ساقط کردی تو بیع صحیح ہوجائے گی جب کہ دونوں میں سے کسی نے اب تک بیع کو فسخ نہ کیاہو۔(8)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۶۸: بیع میں ایسے نامعلوم اوقات مذکور نہیں ہوئے، عقدِ بیع ہوجانے کے بعد ادائے ثمن کے لیے اس قسم کی میعاد یں مقرر کیں، یہ مضر(9) نہیں۔ (10) (درمختار)
مسئلہ ۶۹: آندھی چلنے بارش ہونے کو ادائے ثمن(11) کا وقت مقرر کیا تو بیع فاسد ہے اور اگر ان چیزوں کو میعادمقرر کیا پھر اُس میعاد کوساقط کردیا تو یہ بیع اب بھی صحیح نہ ہوگی۔(12) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ قیمت کی ادائیگی۔ 2 ۔بیچی گئی چیز ۔
3 ۔ایرانی شمسی سال کاپہلادن ،یہ ایرانیوں کی خوشی کاسب سے بڑاغیر مذہبی دن ہے۔
4 ۔ہندوؤں کا ایک تہوار جو موسم بہار میں منایاجاتاہے۔
5 ۔ہندوؤں کا ایک تہوار ۔ 6 ۔بہت بُرا ۔
7 ۔کھلیان ،اناج صاف کرنے کی جگہ۔
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۵۰.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۷۸.
9 ۔نقصان دہ۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۷۹.
11 ۔یعنی رقم کی ادائیگی۔
12 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی بیع الشرب،ج۷،ص۲۸۱.
مسئلہ ۷۰: بیع فاسد کا حکم یہ ہے کہ اگرمشتری (1) نے بائع(2) کی اجازت سے مبیع پرقبضہ کرلیا تو مبیع کا مالک ہوگیا اور جب تک قبضہ نہ کیا ہو مالک نہیں بائع کی اجازت صراحۃً(3) ہو یا دلالۃً(4) ۔ صراحۃًاجازت ہو تو مجلس عقدمیں قبضہ کرے یا بعد میں بہر حال مالک ہو جائے گا اور دلالۃًیہ کہ مثلاً مجلس عقد میں مشتری نے بائع کے سامنے قبضہ کیا اور اُس نے منع نہ کیا اور مجلس عقد کے بعد صراحۃً اجازت کی ضرورت ہے، دلالۃً کافی نہیں مگر جبکہ بائع ثمن پر قبضہ کرکے مالک ہوگیا تو اب مجلسِ عقد(5) کے بعد اُس کے سامنے قبضہ کرنا اور اُس کا منع نہ کرنا، اجازت ہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۱: یہ جوکہاگیا کہ قبضہ سے مالک ہوجاتا ہے اس سے مراد ملکِ خبیث(7) ہے کیونکہ جوچیز بیع فاسد سے حاصل ہوگی اسے واپس کرنا واجب ہے اورمشتری کو اُ س میں تصرف کرنا منع ہے(8) ۔بیع فاسد میں قبضہ سے چونکہ ملک حاصل ہوتی ہے اگرچہ ملک خبیث ہے لہٰذا ملک کے کچھ احکام ثابت ہوں گے مثلاً 1 اُس پر دعویٰ ہوسکتا ہے۔ 2 اُس کو بیع کریگا تو ثمن اسے ملے گا۔ 3 آزاد کریگا توآزاد ہوجائے گا۔ 4 اور ولا کاحق بھی اسی کو ملے گا۔ 5 اور بائع آزاد کریگا تو آزاد نہ ہوگا۔ 6 اور اگر اس کے پروس میں کوئی مکان فروخت ہوگا تو شفعہ مشتری کاہوگابائع کا نہیں ہوگا اورچونکہ یہ ملک خبیث ہے، لہٰذا ملک کے بعض احکام ثابت نہیں ہوں گے۔ 7 اگر کھانے کی چیز ہے تو اُس کا کھانا۔ 8 پہننے کی چیز ہے تو پہننا حلال نہیں۔ 9کنیز(9)ہے تو وطی کرنا(10) حلال نہیں۔ 10 اور بائع کا اُ س سے نکاح ناجائز۔ 11 اور اگر مکان ہے تواُس کی پروس والے کو یا خلیط(11)کو شفعہ کا حق نہیں، ہاں اگر مشتری نے اس میں کوئی تعمیر کی تو اب اس کا پروسی شفعہ کرسکتا ہے۔ (12)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔خریدار۔ 2 ۔بیچنے والا۔ 3 ۔واضح طور پر۔
4 ۔اشارۃً۔ 5 ۔یعنی جس مجلس میں سوداہوا۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی الشرط الفاسد...إلخ،ج۷،ص۲۸۹۔۲۹۰.
7 ۔ناجائز ۔ 8 ۔یعنی نہ بیچ سکتاہے نہ استعمال کرسکتاہے۔
9 ۔لونڈی۔ 10 ۔ہمبستری کرنا۔
11 ۔وہ شخص جو حقِ بیع میں شریک ہو۔
12 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی الشرط الفاسد...إلخ،ج۷،ص۲۹۰۔۲۹۲.
مسئلہ ۷۲: بیع فاسد میں مشتری پر اولاً (1) یہی لازم ہے کہ قبضہ نہ کرے اور بائع پر بھی لازم ہے کہ منع کردے بلکہ ہر ایک پر بیع فسخ کردینا واجب اور قبضہ کرہی لیا تو واجب ہے کہ بیع کو فسخ کرکے مبیع کو واپس کرلے یا کردے فسخ نہ کرنا گناہ ہے اور اگر واپسی نہ ہوسکے مثلاً مبیع ہلاک ہوگئی یا ایسی صورت پیدا ہوگئی کہ واپسی نہیں ہوسکتی(جس کا بیان آتاہے) تومشتری مبیع کی مثل واپس کرے اگر مثلی ہواور قیمی ہو تو قیمت ادا کرے (یعنی اُس چیز کی واجبی قیمت (2)،نہ کہ ثمن جو ٹھہرا ہے) اور قیمت میں قبضہ کے دن کا اعتبار ہے یعنی بروزقبض جو اُس کی قیمت تھی وہ دے ہاں اگر غلام کو بیع فاسد سے خریدا ہے اور آزاد کردیا تو ثمن واجب ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۳: اگر قیمت میں بائع ومشتری کا اختلاف ہے تومشتری کا قول معتبر ہے۔(4)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۷۴: اکراہ و جبر کے ساتھ بیع ہوئی تو یہ بیع فاسد ہے مگر جس پر جبر کیا گیا اُس کو فسخ کرنا واجب نہیں بلکہ اختیارہے کہ فسخ کرے یا نافذکردے مگر جس نے جبر کیا ہے اُس پر فسخ کرنا واجب ہے۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۵: بیع فاسد میں اگرمشتری نے مبیع پر بغیر اجازت بائع قبضہ کیا تو نہ قبضہ ہوانہ مالک ہوا نہ اس کے تصرفات(6) جاری ہوں گے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۶: بیع فاسد کو فسخ کرنے کے لیے قضائے قاضی (8) کی بھی ضرورت نہیں کہ اس کافسخ (9) کرنا خود ان دونوں پر شرعاً (10)واجب ہے اور اس کی بھی ضرورت نہیں کہ دوسرا راضی ہواوراس کی بھی ضرورت نہیں کہ دوسرے کے سامنے ہوہاں یہ ضرور ہے کہ دوسرے کو فسخ کا علم ہو جائے اور وہ دونوں خود فسخ نہ کریں بیع پر قائم رہنا چاہیں اور قاضی کو اس کا علم ہوجائے تو قاضی جبراًفسخ کردے۔ (11) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۷: مشتری نے مبیع کو واپس دے دیا یعنی بائع کے پاس رکھ دیا کہ بائع لینا چاہے تو لے سکتا ہے۔ بائع نے
1 ۔پہلے پہل۔ 2 ۔ رائج قیمت۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی الشرط الفاسد...إلخ ،ج۷،ص۲۹۳.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۹۳.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الحادی عشرفی أحکام البیع الغیرالجائز،ج۳،ص۱۵۱.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی الشرط الفاسد...إلخ،ج۷،ص۲۹۳.
6 ۔یعنی مبیع میں جو کچھمعاملات کیے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الحادی عشرفی أحکام البیع الغیرالجائز،ج۳،ص۱۴۷.
8 ۔قاضی کے فیصلے۔ 9 ۔ختم ،باطل۔ 10 ۔ شرعی طور پر۔
11 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد، مطلب:ردّ المشتری فاسدًا...إلخ،ج۷،ص۲۹۴.
اُسے لینے سے انکار کردیا مگر مشتری اُ سکے پاس چھوڑ کر چلا گیا بری الذمہ(1)ہوگیا وہ چیز اگرضائع ہوگئی تومشتری تاوان نہیں دے گا اور اگر بائع کے انکار پر مشتری چیز کو واپس لے گیا تو بری الذمہ نہیں کہ اس صورت میں اُ سکا لے جاناہی جائز نہیں کہ بیع فسخ ہوچکی اور پھیر لے جانا(2) غصب ہے۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۸: بیع فاسد میں مبیع کو اگرمشتری نے بائع کے لیے ہبہ کردیا یا صدقہ کردیا یا بائع کے ہاتھ بیچ ڈالا یا عاریت، اجارہ، غصب، و دیعت کے ذریعے غرض کسی طرح وہ چیز بائع کے ہاتھ میں پہنچ گئی بیع کا متارکہ ہوگیا(4)اورمشتری بری الذمہ ہوگیا کہ ثمن یا قیمت اُس کے ذمہ لازم نہیں۔ یہاں ایک قاعدہ کلیہ یادرکھنے کا ہے کہ جب ایک چیزکا کوئی شخص کسی وجہ سے مستحق ہے اور وہ چیز اُس کو دوسرے طریقہ پر حاصل ہو تو اُسی وجہ سے ملنا قرار پائے گاجس وجہ سے ملنے کا حقدار تھا اورجس وجہ سے حاصل ہوئی اس کا اعتبار نہیں بشرطیکہ اُسی شخص سے ملے جس پر اس کا حق تھا مثلاً یوں سمجھو کہ کسی نے اس کی چیز غصب کرلی ہے پھر غاصب سے اس نے وہ چیز خریدی تو یہ بیع نہیں مانی جائے گی بلکہ اس کی چیز تھی جواسے مل گئی اور اگر وہ چیز اُس سے نہیں ملی جس پر اس کاحق تھا دوسرے سے ملی تو جس وجہ سے حاصل ہوئی اُس کا اعتبار ہوگا مثلاً بیع فاسد میں مشتری نے وہ چیز بیع کردی یا کسی کو ہبہ کردی اُ س سے بائع اول کو حاصل ہوئی تومشتری بری الذمہ نہیں اُسے ضمان دینا پڑے گا۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۹: بیع فاسد میں مشتری نے قبضہ کرنے کے بعد اُس چیز کو بائع کے علاوہ دوسرے کے ہاتھ بیچ ڈالا اوریہ بیع صحیح بات(6) ہو ۔ یا ہبہ کرکے قبضہ دلادیا۔یا آزاد کردیا۔ یا مکاتب کیا یاکنیز تھی مشتری کے اُس سے بچہ پیدا ہوا۔یا غلہ تھا اُسے پسوایا۔ یا اُس کو دوسرے غلہ میں خلط کردیا ۔(7) یا جانورتھا ذبح کرڈالا۔ یا مبیع کو وقف صحیح کردیا۔ یا رہن رکھ دیا اور قبضہ دے دیا۔ یاوصیت کرکے مرگیا۔ یاصدقہ دے ڈالاغرض یہ کہ کسی طرح مشتری کی ملک سے نکل گئی تو اب وہ بیع فاسد نافذ ہو جائے گی اور اب فسخ نہیں ہوسکتی۔ اور اگرمشتری نے بیع فاسد کے ساتھ بیچا یا بیع میں خیار شرط تھا تو فسخ کا حکم باقی ہے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ذمہ سے بری۔ 2 ۔واپس لے جانا۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:ردّالمشتری فاسداً....إلخ،ج۷،ص۲۹۴.
4 ۔یعنی سودا ختم ہو گیا۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:ردّالمشتری فاسداً....إلخ،ج۷،ص۲۹۴.
6 ۔قطعی ۔ 7 ۔ملادیا۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:ردّالمشتری فا سداً...إلخ،ج۷،ص۲۹۵۔۲۹۷.
مسئلہ ۸۰: اکراہ کے ساتھ اگر بیع ہوئی اورمشتری نے قبضہ کرکے مبیع میں تصرفات (1)کیے تو سارے تصرفات بے کار قرار دیے جائیں گے اور بائع کو اب بھی یہ حق حاصل ہے کہ بیع کو فسخ کردے مگرمشتری نے آزاد کردیا تو عتق(2) نافذ ہوگااورمشتری کو غلام کی قیمت دینی پڑے گی۔(3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۱: مشتری نے قبضہ نہیں کیا ہے اور بائع کو اُس نے حکم دیدیا کہ اس کو آزاد کردے یا حکم دیا کہ غلہ کو پسوا دے یا دوسرے غلہ میں اسے ملا دے یا جانور کو ذبح کردے، بائع نے اُس کے حکم سے یہ کام کیے تو مشتری پر ضمان واجب ہوگیا اوربائع کا یہ افعال کرنا(4) ہی مشتری کا قبضہ مانا جائے گا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۸۲: مبیع کو مشتری نے کرایہ پر دیدیایا لونڈی تھی اُس کانکاح کردیا تو اب بھی بیع کو فسخ کرسکتے ہیں۔(6)(درمختار)
مسئلہ ۸۳: جس وجہ سے فسخ ممتنع ہوگیا (7)اگر وہ جاتی رہی مثلاً ہبہ کردیا تھا اُسے واپس لے لیا رہن(8)کو چھوڑا لیا مکاتب بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز ہوگیا تو فسخ کا حکم پھر لوٹ آیا ہاں اگر قاضی نے ان تصرفات کے بعدقیمت ادا کرنے کا مشتری پر حکم دیدیا تو اب بعد رجوع وزوال ِعذر(9)بھی فسخ نہ ہوگی۔(10)(فتح القدیر)
مسئلہ ۸۴: بائع ومشتری میں سے کوئی مرگیا جب بھی فسخ کا حکم بدستور باقی ہے اُس کا وارث اُس کے قائم مقام ہے وہ فسخ کرے۔(11)(درمختار)
مسئلہ ۸۵: بیع فاسد کو فسخ کردیا تو بائع مبیع کو واپس نہیں لے سکتا جب تک ثمن یا قیمت واپس نہ کرے پھر اگر بائع کے پاس وہی روپے موجود ہیں تو بعینہٖ اُنھیں کو واپس کرنا ضروری ہے اور خرچ ہوگئے تو اُتنے ہی روپے واپس کرے۔ (12) (ہدایہ)
مسئلہ ۸۶: بیع فسخ ہوچکی ہے اور بائع نے ابھی ثمن واپس نہیں کیا ہے اور مرگیا تو مشتری اُس مبیع کا حقدار ہے یعنی
1 ۔ یعنی عمل دخل،معاملات۔ 2 ۔آزادی۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:ردّالمشتری فاسداً...إلخ،ج۷،ص۲۹۶.
4 ۔ یہ کام بجالانا۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۹۶.
6 ۔المرجع السابق،ص۲۹۹.
7 ۔یعنی بیع ختم نہ کرسکتاہو۔ 8 ۔گروی رکھی ہوئی چیز۔ 9 ۔یعنی عذر کے ختم ہونے کے بعد۔
10 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی أحکامہ،ج۶،ص۹۹-۱۰۰.
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۳۰۰.
12 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۵۲.
اگربائع پر لوگوں کے دیون(1) تھے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ اس مبیع سے دوسرے قرض خواہ اپنے مطالبات وصول کریں بلکہ اس کا حق تجہیز و تکفین(2) پر بھی مقدم ہے۔ مثلاً فرض کرو مبیع کپڑا ہے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اسی کا کفن دیدیا جائے یہ کہہ سکتا ہے جب تک ثمن واپس نہیں ملے گا میں نہیں دونگا۔ یوہیں اگر بائع کے مرنے کے بعد اُس کے وارث یا مشتری نے بیع کو فسخ(3) کیا تو مشتری مبیع کو اپنا حق وصول کرنے کے لیے روک سکتا ہے۔(4)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۸۷: زمین بطور بیع فاسد خریدی تھی اُس میں درخت نصب کردیے یامکان خریدا تھا اُس میں تعمیر کی تومشتری پر قیمت دینی واجب ہے اور اب بیع فسخ نہیں ہوسکتی۔ یوہیں مبیع میں زیادت متصلہ غیرمتولدہ (5)مانع فسخ ہے مثلاً کپڑے کو رنگ دیا، سی دیا، ستو میں گھی مل دیا، گیہوں کا آٹا پسوا لیا، روئی کا سوت کات لیا اور زیادت متصلہ متولدہ(6)جیسے موٹاپا یا زیادت منفصلہ متولدہ(7) مثلاً جانور کے بچہ پیدا ہوا یہ مانع فسخ نہیں، مبیع اور زیادت دونوں کو واپس کرے۔(8)(درمختار)
مسئلہ ۸۸: زیادت منفصلہ متولدہ اگر مشتری کے پاس ہلاک ہوگئی تو اُس کا تاوان نہیں اور اُس نے خود ہلاک کردی تو تاوان دیگا اور اگر زیادت باقی ہے اورمبیع ہلاک ہوگئی تو زیادت کو واپس کرے اورمبیع کی قیمت وہ دے جو قبضہ کے دن تھی اور اگر زیادت منفصلہ غیرمتولدہ جیسے غلام تھا اُس نے کچھ کما یا اس کا بھی حکم یہی ہے کہ مبیع اور زیادت دونوں کو واپس کرے مگر اس زیادت کو بائع صدقہ کردے اُس کے لیے یہ طیب نہیں(9) اور یہ زیادت ہلاک ہوگئی یامشتری نے خود ہلاک کردی دونوں صورتوں میں مشتری پر اس کا تاوان نہیں۔ (10) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸۹: مبیع میں اگر نقصان پیدا ہوگیا اوریہ نقصان مشتری کے فعل سے ہوایا خود مبیع کے فعل سے ہوا یا آفت سماویہ(11) سے ہوا بائع مشتری سے مبیع کو واپس لے گا اور اس نقصان کا معاوضہ بھی لے گامثلاً کپڑے کو مشتری نے قطع کرالیا (12)
1 ۔دَین کی جمع ،قرضے۔ 2 ۔کفن دفن کے اخراجات۔ 3 ۔ختم۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۳۰۰.
و''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۵۰.
5 ۔مبیع میں اضافہ مبیع کے ساتھ ملاہواہو اور اس کی وجہ سے نہ ہو۔
6 ۔ مبیع میں اضافہ مبیع کے ساتھ ملاہواہو اور اسی کی وجہ سے پیدا ہواہو۔
7 ۔مبیع میں اضافہ مبیع کے ساتھ ملاہوا نہ ہو لیکن اس کی وجہ سے پیدا ہو۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۳۰۷.
9 ۔یعنی حلال نہیں۔
10 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی أحکام زیادۃ المبیع،ج۷،ص۳۰۸.
11 ۔آسمانی آفت مثلاجلنا،ڈوبنا وغیرہ۔ 12 ۔کٹوادیا۔
ہے مگر ابھی سلوایا نہیں تو بائع مشتری سے وہ کپڑا لے گا اور قطع ہو جانے سے جو قیمت میں کمی ہوگئی وہ لے گااور اگر وہ نقصان دفع ہوگیا تو جوکچھ اس کامعاوضہ لے چکا ہے بائع واپس کرے مثلاً کنیز تھی اُس کی آنکھ خراب ہوگئی جس کانقصان لیا پھر اچھی ہوگئی توواپس کردے یا لونڈی کا نکاح کردیا تھاپھر بیع فسخ ہوگئی اورنکاح کرنے سے جو نقصان ہوا بائع نے مشتری سے وصول کیا پھر اُس کے شوہرنے قبلِ دخول(1) طلاق دیدی تو یہ معاوضہ واپس کردے۔ ا ور اگرمبیع میں نقصان کسی اجنبی شخص کے فعل سے ہوا تو بائع کو اختیار ہے کہ اس کا معاوضہ اُس اجنبی سے لے یا مشتری سے اگرمشتری سے لے گا تو مشتری وہ رقم اُس اجنبی سے وصول کریگا۔ مبیع میں نقصان خود بائع نے کیا تویہ نقصان پہنچانا ہی واپس کرنا ہے یعنی فرض کرو اگر وہ مبیع مشتری کے پاس ہلاک ہوگئی اورمشتری نے اُس کو بائع سے روکانہ ہو تو بائع کی ہلاک ہوئی مشتری اُس کا تاوان نہیں دے گا اور ثمن دے چکا ہے تو واپس لے گا اور اگر مشتری کی طرف سے مبیع کی واپسی میں رُکاوٹ ہوئی اس کے بعدہلاک ہوئی تو دوصورتیں ہیں: یہ ہلاک ہونا اُسی نقصان پہنچانے سے ہوا یعنی یہاں تک اُس کا اثر ہوا کہ ہلاک ہوگئی جب بھی بائع کی ہلاک ہوئی مشتری پر تاوان نہیں ا وراگر اُس کے اثر سے نہ ہو تومشتری کو تاوان دینا ہوگامگر وہ نقصان جو بائع نے کیا ہے اُس کا معاوضہ اُس میں سے کم کردیا جائے۔(2) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۹۰: کوئی چیز معین مثلاً کپڑا یا کنیزسو۱۰۰روپے میں بیع فاسد کے طور پر خریدی اور تقابض بدلین بھی ہوگیا(3) مشتری نے مبیع سے نفع اُٹھایا مثلاً اسے سواسومیں بیچ دیا اور بائع نے ثمن سے نفع اُٹھایا کہ اُس سے کوئی چیز خرید کر سواسو میں بیچی تومشتری کے لیے وہ نفع خبیث ہے صدقہ کردے اور بائع نے ثمن سے جو نفع حاصل کیا ہے اُ س کے لیے حلال ہے اور اگر بیع فاسد میں دونوں جانب غیر نقود ہوں (جسے بیع مقایضہ(4) کہتے ہیں) مثلاً غلام کو گھوڑے کے بدلے میں بیچا اور دونوں نے قبضہ کرکے نفع اُٹھایا تو دونوں کے لیے نفع خبیث ہے دونوں نفع کوصدقہ کردیں۔(5)(ہدایہ، ردالمحتار)
1 ۔ ہمبستری کرنے سے پہلے۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الحادی عشرفی أحکام البیع الغیرالجائز،ج۳،ص۱۴۸.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷ ،ص۳۰۹.
3 ۔یعنی بیچنے والے نے قیمت لے لی اورخریدار نے چیز۔ 4 ۔ سامان کو سامان کے بدلے میں بیچنا۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۵۳.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فی تعیّن الدراھم فی العقد الفاسد،ج۷،ص۳۰۵.
مسئلہ ۹۱: ایک شخص نے دوسرے پرایک مال کا دعویٰ کیا مدعی علیہ(1)نے دیدیا اُس مال سے مدعی(2)نے کچھ نفع حاصل کیا پھر دونوں نے اس پر اتفاق کیا کہ وہ مال نہیں چاہیے تھا تو جو کچھ نفع اُٹھایا ہے مدعی کے لیے حلال ہے۔ (3) (ہدایہ) مگر یہ اُس وقت ہے کہ مدعی کے خیال میں یہی تھاکہ یہ مال میرا ہے اور اگر قصداً غلط طور پر مطالبہ کیا اور لیا تو یہ لینا حرام ہے اور اسکا نفع بھی ناجائزوخبیث۔ غاصب (4) نے مغصوب(5)سے جوکچھ نفع اُٹھایا ہے حرام ہے۔ (6) (فتح، درمختار)
مسئلہ ۹۲: مورث(7) نے حرام طریقہ پر مال حاصل کیا تھا اب وارث کو ملا اگر وارث کو معلوم ہے کہ یہ مال فلاں کا ہے تو دے دینا واجب ہے اوریہ معلوم نہ ہوکہ کس کا ہے تو مالک کی طرف سے صدقہ کردے اور اگرمورث کامال حرام اور مال حلال خلط ہوگیا ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ کون حرام ہے کون حلال مثلاً اُس نے رشوت لی ہے یا سود لیا ہے اوریہ مال حرام ممتاز نہیں ہے(8) تو فتویٰ کا حکم یہ ہوگا کہ وارث کے لیے حلال ہے اور دیانت اس کو چاہتی ہے کہ اس سے بچنا چاہیے۔(9)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹۳: مشتری پر لازم نہیں کہ بائع سے یہ دریافت کرے کہ یہ مال حلال ہے یا حرام ہاں اگر بائع ایسا شخص ہے کہ حلال وحرام یعنی چوری غصب وغیرہ سب ہی طرح کی چیزیں بیچتا ہے تو احتیاط یہ ہے کہ دریافت کرلے حلال ہوتوخریدے ورنہ خریدنا جائز نہیں۔(10) (خانیہ، عالمگیری)
مسئلہ ۹۴: مکان خریدا جس کی کڑیوں(11) میں روپے ملے تو بائع کو واپس کردے اور بائع لینے سے انکار کرے تو صدقہ کردے۔ (12) (خانیہ)
ـ1 ۔ جس پر دعویٰ کیا گیا ۔ 2 ۔ دعویٰ کرنے والے۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۲،ص۵۳.
4 ۔غصب کرنے والا۔ 5 ۔ غصب کی ہوئی چیز۔
6 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی أحکامہ،ج۶،ص۱۰۵۔۱۰۶.
و'' الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۳۰۵.
7 ۔یعنی میت۔ 8 ۔یعنی الگ نہیں ہے۔
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:فیمن ورث مالًاحراماً،ج۷،ص۳۰۶.
10 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،باب فی بیع مال الربا بعضھا ببعض،فصل فیما یکون فراراً عن الربا،ج۱،ص۴۰۷،۴۰۸.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب العشرون فی البیاعات المکروھۃ والارباح الفاسدۃ،ج۳،ص۲۱۰.
11 ۔وہ لکڑیاں جو شہتیر کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔
12 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،باب مایدخل فی البیع من غیر ذکرہ...إلخ،ج۱،ص۳۸۳.
حدیث ۱: بخاری و مسلم ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''غلہ لانے والے قافلہ کا بیع کے لیے بازار میں پہنچنے سے پہلے استقبال نہ کرو(1) اور ایک شخص دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور نجش(2) نہ کرو اور شہری آدمی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے۔'' (3)
حدیث ۲: صحیح مسلم میں اُنھیں سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''غلہ والے قافلہ کا استقبال نہ کرو اور اگر کسی نے استقبال کرکے اُس سے خرید لیا پھر وہ مالک (بائع) بازار میں آیا تو اُسے اختیار ہے'' (4)یعنی اگر خریدنے والے نے بازار کا غلط نرخ بتا کر اُس سے خریدلیا ہے تو مالک بیع کو فسخ کرسکتا ہے۔
حدیث ۳: صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اُس کے پیغام پر پیغام نہ دے، مگر اُس صورت میں کہ اُس نے اجازت دیدی ہو۔'' (5)
حدیث ۴: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ حضور( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)نے فرمایا: ''کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے نرخ پر نرخ نہ کرے'' (6) یعنی ایک نے دام چکا لیا ہو تو دوسرا اُس کا دام نہ لگائے۔
حدیث ۵: صحیح مسلم میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''شہری آدمی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے، لوگوں کو چھوڑو، ایک سے دوسرے کو اﷲ تعالیٰ روزی پہنچاتا ہے۔'' (7)
حدیث ۶: ترمذی و ابوداود و ابن ماجہ انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے
1 ۔ راستے میں ان سے نہ ملویعنی بازار میں پہنچنے سے پہلے اُن سے غلہ وغیرہ نہ خریدو۔
2 ۔نجش یہ ہے کہ مبیع کی قیمت بڑھائے اور خود خریدنے کا ارادہ نہ رکھتاہو۔
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب البیوع،باب تحریم بیع الرجل علی بیع أخیہ... إلخ،الحدیث:۱۱۔(۱۵۱۵)،ص۸۱۵.
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب البیوع،باب تحریم تلقی الجلب،الحدیث:۱۷۔(۱۵۱۹)،ص۸۱۶.
5 ۔''صحیح مسلم''،کتاب البیوع،باب تحریم بیع الرجل علی بیع اخیہ... إلخ،الحدیث:۸۔(۱۴۱۲)،ص۸۱۴.
6 ۔المرجع السابق،الحدیث:۹۔(۱۵۱۵).
7 ۔''صحیح مسلم''،کتاب البیوع،باب تحریم بیع الحاضر للبادی،الحدیث:۲۰۔(۱۵۲۲)،ص۸۱۶.
(ایک شخص کا) ٹاٹ اور پیالہ بیع کیا، ارشاد فرمایا: کہ ''ان دونوں کو کون خریدتا ہے؟'' ایک صاحب بولے، میں ایک درہم میں خریدتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: ''ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے؟'' دوسرے صاحب بولے، میں دو درہم میں لینا چاہتا ہوں، ان کے ہاتھ دونوں کو بیع کر دیا۔ (1)
حدیث ۷: صحیح مسلم شریف میں معمر سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''احتکار کرنے والا خاطی ہے۔'' (2)
حدیث ۸: ابن ماجہ و دارمی امیرالمومنین عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''باہر سے غلہ لانے والا مرزوق ہے او راحتکار کرنے والا (غلہ روکنے والا) ملعون ہے۔'' (3)
حدیث ۹: رزین نے ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے چالیس دن غلہ روکا، گراں کرنے کا اُس کا ارادہ ہے وہ اﷲسے بری ہے اور اﷲ (عزوجل) اُس سے بری۔'' (4)
حدیث ۱۰: بیہقی و رزین حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:''جس نے مسلمان پر غلّہ روک دیا، اﷲ تعالیٰ اُسے جذام (کوڑھ) و افلاس میں مبتلا فرمائے گا۔'' (5)
حدیث ۱۱: بیہقی و طبرانی و رَزین معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا: ''غلہ روکنے والا بُرا بندہ ہے کہ اگر اﷲ تعالیٰ نرخ سستا کرتا ہے، وہ غمگین ہوتا ہے اور اگر گراں(6) کرتاہے تو خوش ہوتاہے۔'' (7)
حدیث ۱۲: رزین ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے چالیس روز
1 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب التجارات،باب بیع المزایدۃ،الحدیث:۲۱۹۸،ج۳،ص۳۵.
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ...إلخ،باب تحریم الإحتکار في الأقوات،الحدیث:۱۲۹۔(۱۶۰۵)،ص۸۶۷.
3 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب التجارات،باب الحکرۃ والجلب،الحدیث: ۲۱۵۳،ج۳،ص۱۳.
4 ۔''مشکاۃ المصابیح''،کتاب البیوع،باب الإحتکار،الحدیث:۲۸۹۶،ج۲،ص۱۵۷.
5 ۔''شعب الإیمان''، باب في ان یحب المسلم...إلخ،فصل في ترک الإحتکار،الحدیث:۱۱۲۱۸،ج۷،ص۵۲۶.
6 ۔یعنی مہنگا۔
7 ۔''شعب الإیمان''، باب في ان یحب المسلم...إلخ،فصل في ترک الإحتکار،الحدیث:۱۱۲۱۵،ج۷،ص۵۲۵.
غلہ روکا پھر وہ سب خیرات کردیا تو بھی کفارہ ادا نہ ہوا۔'' (1)
حدیث ۱۳: ترمذی وا بوداود و ابن ماجہ و دارمی انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ گراں ہوگیا۔ لوگوں نے عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نرخ مقرر فرما دیجئے۔ ارشاد فرمایا: کہ ''نرخ مقرر کرنے والا، تنگی کرنے والا، کشادگی کرنے والا، اﷲ (عزوجل) ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ خدا سے اس حال میں ملوں کہ کوئی مجھ سے کسی حق کا مطالبہ نہ کرے، نہ خون کے متعلق، نہ مال کے متعلق۔'' (2)
حدیث ۱۴: حاکم و بیہقی بریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں میں حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ اُنھوں نے رونے والی کی آواز سنی، اپنے غلام یرفا سے فرمایا: ''دیکھو یہ کیسی آواز ہے؟'' وہ دیکھ کر آئے اور یہ کہا کہ ایک لڑکی ہے، جس کی ماں بیچی جارہی ہے۔ فرمایا: ''مہاجرین و انصار کو بُلا لاؤ۔'' ایک گھڑی گزری تھی کہ تمام مکان و حجرہ لوگوں سے بھر گیا پھر حضرت عمر نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا: کیا تم کو معلوم ہے کہ جس چیز کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم لائے ہیں، اُ س میں قطع رحم بھی ہے۔ سب نے عرض کی، کہ نہیں۔ فرمایا: اس سے بڑھ کر کیا قطع رحم ہوگا کہ کسی کی ماں بیع کی جائے۔'' (3)
حدیث ۱۵: بیہقی نے روایت کی، حضرت عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے عاملوں کے پاس لکھ بھیجا، کہ دو بھائیوں کو بیچا جائے تو تفریق نہ کی جائے۔'' (4)
بیع مکروہ بھی شرعاًممنوع ہے اور اس کا کرنے والا گنہگار ہے مگرچونکہ وجہ ممانعت نہ نفس عقد میں ہے نہ شرائط صحت میں اس لیے اس کا مرتبہ فقہا نے بیع فاسد سے کم رکھا ہے اس بیع کے فسخ کرنے کا بھی بعض فقہا حکم دیتے ہیں فرق اتنا ہے کہ 1 بیع فاسد کو اگر عاقدین فسخ نہ کریں تو قاضی جبراًفسخ کردے گا اور بیع مکروہ کو قاضی فسخ نہ کریگابلکہ عاقدین (5) کے ذمہ دیا نتہً فسخ کرنا ہے۔ 2 بیع فاسد میں قیمت واجب ہوتی ہے اس میں ثمن واجب ہوتا ہے۔ 3 بیع فاسد میں بغیر قبضہ ملک نہیں ہوتی اس
1 ۔''مشکاۃ المصابیح''،کتاب البیوع،باب الإحتکار،الحدیث:۲۸۹۸،ج۲،ص۱۵۸.
2 ۔''جامع الترمذي''،ابواب البیوع،باب ماجاء في التسعیر،الحدیث:۱۳۱۸،ج۳،ص۵۶.
3 ۔''المستدرک''للحاکم،کتاب التفسیر،باب لاتباع ام حر فانھا قطیعۃ،الحدیث:۳۷۶۰،ج۳،ص۲۵۷.
4 ۔''السنن الکبری''للبیہقی،کتاب السیر،باب من قال لایفرق بین الأخوین فی البیع،الحدیث:۱۸۳۲،ج۹،ص۲۱۶.
5 ۔یعنی بیچنے والااورخریدار۔
میں مشتری قبل قبضہ مالک ہوجاتاہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۱: اذان جمعہ کے شروع سے ختم نماز تک بیع مکروہ تحریمی ہے اور اذان سے مراد پہلی اذان ہے کہ اُسی وقت سعی واجب ہوجاتی ہے مگر وہ لوگ جن پرجمعہ واجب نہیں مثلاً عورتیں یا مریض اُن کی بیع میں کراہت نہیں۔(2)(درمختار)
مسئلہ۲: نجش مکروہ ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا نجش یہ ہے کہ مبیع کی قیمت بڑھائے اورخود خریدنے کاارادہ نہ رکھتا ہو اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ دوسرے گاہک کو رغبت پیدا ہواور قیمت سے زیادہ دے کر خریدلے اور یہ حقیقتہً خریدار کو دھوکا دینا ہے جیسا کہ بعض دُکانداروں کے یہاں اس قسم کے آدمی لگے رہتے ہیں گاہک کو دیکھ کر چیز کے خریدار بن کر دام بڑھا دیا کرتے ہیں اور ان کی اس حرکت سے گاہک دھوکا کھا جاتے ہیں۔ گاہک کے سامنے مبیع کی تعریف کرنا اور اُس کے ایسے اوصاف بیان کرنا جونہ ہوں تاکہ خریدار دھوکا کھاجائے یہ بھی نجش ہے۔ جس طرح ایسا کرنا بیع میں ممنوع ہے نکاح اجارہ وغیرہ میں بھی ممنوع ہے۔ اس کی ممانعت اُس وقت ہے جب خریدار واجبی قیمت دینے کے لیے طیارہے اور یہ دھوکا دے کر زیادہ کرنا چاہے۔اور اگر خریدار واجبی قیمت سے کم دیکر لینا چاہتا ہے اور ایک شخص غیر خریدار اس لیے دام بڑھارہاہے کہ اصلی قیمت تک خریدار پہنچ جائے یہ ممنوع نہیں کہ ایک مسلمان کو نفع پہنچاتا ہے بغیر اس کے کہ دوسرے کو نقصان پہنچائے۔(3)(ہدایہ، فتح القدیر، درمختار)
مسئلہ۳: ایک شخص کے د ام چکالینے کے بعد دوسرے کو دام چکا نا ممنوع ہے اس کی صورت یہ ہے کہ بائع ومشتری ایک ثمن پر راضی ہوگئے صرف ایجاب وقبول ہی یامبیع کو اُٹھاکر دام دیدینا ہی باقی رہ گیا ہے دوسرا شخص دام بڑھاکر لیناچاہتا ہے یا دام اُتنا ہی دیگا مگر دُکاندار سے اسکا میل ہے یا یہ ذی وجاہت(4)شخص ہے دُکانداراسے چھوڑ کر پہلے شخص کو نہیں دے گا۔ اور اگر اب تک دام طے نہیں ہواایک ثمن پر دونوں کی رضامندی نہیں ہوئی ہے تو دوسرے کو دام چُکا نا منع نہیں جیسا کہ نیلام میں ہوتا ہے اسکو بیع من یزیدکہتے ہیں یعنی بیچنے والا کہتا ہے جو زیادہ دے لے لے اس قسم کی بیع حدیث سے ثابت ہے۔ جس طرح بیع میں اس کی ممانعت ہے اجارہ میں بھی ممنوع ہے مثلاً کسی مزدور سے مزدوری طے ہونے کے بعد یا ملازم سے تنخواہ طے ہونے کے
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب:احکام نقصان المبیع فاسداً،ج۷،ص۳۰۹.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۳۰۹.
3 ۔المرجع السابق،ص۳۱۰.
و''الھدایۃ''،کتاب البیوع،فصل فیما یکرہ،ج۲،ص۵۳.
و''فتح القدیر''،کتاب البیع،باب بیع الفاسد،ج۶،ص۱۰۶.
4 ۔صاحبِ مرتبہ۔
بعد دوسرے شخص کا مزدوری یا تنخواہ بڑھا کر یا اُتنی ہی دیکر مقرر کرنا۔ یوہیں نکاح میں ایک شخص کی منگنی ہوجانے کے بعد دوسرے کو پیغام دینامنع ہے خواہ مہر بڑھاکر نکاح کرنا چاہتا ہو یا اس کی عزت ووجاہت کے سامنے پہلے کو جواب دیدیا جائے گا، بہر صورت پیغام دینا ممنوع ہے۔ جس طرح خریدار کے لیے یہ صورت ممنوع ہے بائع کے لیے بھی ممانعت ہے مثلاً ایک دُکاندار سے دام طے ہوگئے دوسرا کہتا ہے میں اس سے کم میں دونگا یا وہ اس کا ملاقاتی ہے کہتا ہے میرے یہاں سے لومیں بھی اتنے ہی میں دونگا یا اجارہ میں ایک مزدور سے اُجرت طے ہونے کے بعد دوسرا کہتا ہے میں کم مزدوری لونگا یا میں بھی اتنی ہی لونگا، یہ سب ممنوع ہیں۔ (1) (ہدایہ، فتح، درمختار)
مسئلہ۴: حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تلقی جَلب سے ممانعت فرمائی۔ یعنی باہر سے تاجر جو غلہ لا رہے ہیں اُن کے شہر میں پہنچنے سے قبل باہر جاکر خریدلینا اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ اہل شہر کو غلہ کی ضرورت ہے اوریہ اس لیے ایسا کرتا ہے کہ غلہ ہمارے قبضہ میں ہوگا نرخ زیادہ کرکے بیچیں گے دوسری صورت یہ ہے کہ غلہ لانے والے تجار کو شہر کا نرخ غلط بتا کر خریدے، مثلاً شہر میں پندرہ سیر کے گیہوں بکتے ہیں، اس نے کہہ دیا اٹھارہ سیر کے ہیں دھوکا دیکر خریدنا چاہتا ہے اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو ممانعت نہیں۔ (2) (ہدایہ، فتح)
مسئلہ۵: حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا: کہ شہری آدمی دیہاتی کے لیے بیع کرے(3)یعنی دیہاتی کوئی چیز فروخت کرنے کے لیے بازار میں آتا ہے مگر وہ ناواقف ہے سستی بیچ ڈالے گاشہری کہتا ہے تو مت بیچ، میں اچھے داموں بیچ دونگا، یہ دلال بن کر بیچتاہے اور حدیث کا مطلب بعض فقہا نے یہ بیان کیا ہے کہ جب اہل شہر قحط میں مبتلا ہوں ان کو خود غلہ کی حاجت ہو ایسی صورت میں شہر کاغلہ باہر والوں کے ہاتھ گراں کرکے بیع کرنا ممنوع ہے کہ اس سے اہل شہر کو ضررپہنچے گا اور اگریہاں والوں کو احتیاج نہ ہو تو بیچنے میں مضایقہ(4)نہیں،(5) ہدایہ میں اسی تفسیر کو ذکر فرمایا۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۳۱۱.
و''الھدایۃ''،کتاب البیوع،فصل فیما یکرہ،ج۲،ص۵۳.
و''فتح القدیر''،کتاب البیع،باب بیع الفاسد،ج۶،ص۱۰۷.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،فصل فیما یکرہ،ج۲،ص۵۳.
و''فتح القدیر''،کتاب البیع،باب بیع الفاسد،ج۶،ص۱۰۷.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب البیوع،باب تحریم بیع الحاضر للبادی،الحدیث:۱۹۔(۱۵۲۱)،ص۸۱۶.
4 ۔حرج۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،فصل فیما یکرہ،ج۲،ص۵۴.
و''فتح القدیر''،کتاب البیع،باب بیع الفاسد،ج۶،ص۱۰۷.
مسئلہ۶: احتکار یعنی غلہ روکنا منع ہے اور سخت گناہ ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ گرانی کے زمانہ میں غلہ خریدلے اور اُسے بیع نہ کرے بلکہ روک رکھے کہ لوگ جب خوب پریشان ہوں گے تو خوب گراں کرکے بیع کروں گااوراگر یہ صورت نہ ہو بلکہ فصل میں غلہ خریدتاہے اور رکھ چھوڑتا ہے کچھ دنوں کے بعد جب گراں ہو جاتا ہے بیچتا ہے یہ نہ احتکار ہے نہ اس کی ممانعت۔
مسئلہ۷: غلہ کے علاوہ دوسری چیزوں میں احتکار نہیں۔
مسئلہ۸: امام یعنی بادشاہ کو غلہ وغیرہ کا نرخ مقرر کردینا کہ جو نرخ مقرر کردیا ہے اُس سے کم وبیش کرکے بیع نہ ہو یہ درست نہیں۔
مسئلہ۹: دو مملوک جو آپس میں ذی رحم محرم ہو ں مثلاً دونوں بھائی یا چچا بھتیجے یا باپ بیٹے یا ماں بیٹے ہوں خواہ دونوں نابالغ ہوں یا ان میں کا ایک نا بالغ ہو ان میں تفریق کرنا منع ہے مثلاً ایک کو بیع کردے دوسرے کو اپنے پاس رکھے یا ایک کو ایک شخص کے ہاتھ بیچے دوسرے کو دوسرے کے ہاتھ یاہبہ میں تفریق ہو کہ ایک کو ہبہ کردے دوسرے کو باقی رکھے یادونوں کو دوشخصوں کے لیے ہبہ کردے یا وصیت میں تفریق ہو بہر حال انکی تفریق ممنوع ہے۔(1) (درمختار، ہدایہ)
مسئلہ۱۰: اگر دونوں بالغ ہوں یا رشتہ دار غیر محرم ہوں مثلاً دونوں چچا زاد بھائی ہوں یا محرم ہوں مگر رضاعت کی وجہ سے حرمت ہو یا دونوں زن وشو(2)ہوں توتفریق ممنوع نہیں۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ۱۱: ایسے دو غلاموں کو جن میں تفریق منع ہے اگرایک کو آزاد کردیا دوسرے کونہیں تو ممانعت نہیں اگر چہ آزادکرنا مال کے بدلے میں ہو بلکہ ایسے کے ہاتھ بیع کرنا بھی منع نہیں جس نے اُس کی آزادی کا حلف(4) کیا ہو یعنی یہ کہا ہو کہ اگر میں اسکا مالک ہو جاؤں تو آزاد ہے۔ یوہیں ایک کومدبر مکاتب ام ولد بنانے میں تفریق بھی ممنوع نہیں۔ یوہیں اگرایک غلام اس کاہے دوسرا اس کے بیٹے یا مکاتب یا مضارب کا جب بھی تفریق ممنوع نہیں۔(5) (درمختار)
مسئلہ۱۲: ایسے دو مملوکوں میں سے ایک کے متعلق کسی نے دعویٰ کیاکہ یہ میرا ہے اور ثابت کردیا اُسے حقدار لے لے گامگریہ تفریق اس کی جانب سے نہیں لہٰذا ممنوع نہیں یا وہ غلام ماذون(6)تھا اُس پر دین ہوگیا اور اس میں بک گیایا کسی جنایت(7)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۳۱۳.
و''الھدایۃ''،کتاب البیوع،فصل فیما یکرہ،ج۲،ص۵۴.
2 ۔بیوی ،خاوند۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۳۱۳،وغیرہ.
4 ۔قسم۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۳۱۴.
6 ۔وہ غلام جس کو مالک نے خریدو فروخت کی اجازت دی ہو۔ 7 ۔ایساجرم جس کے بدلے دنیاوی سزا کااستحقاق ہوتا ہے۔
میں دیدیا گیا یا کسی کا مال تلَف کیا اُس میں فروخت ہوگیا یا ایک میں عیب ظاہر ہوا اُسے واپس کیا گیا ان صورتوں میں تفریق ممنوع نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ۱۳: جو شخص راستہ پر خریدوفروخت کرتا ہے اگر راستہ کشادہ ہے کہ اس کے بیٹھنے سے راہ گیر وں پر تنگی نہیں ہوتی تو حرج نہیں اور اگر گزرنے والوں کو اس کی وجہ سے تکلیف ہوجائے تو اُس سے سودا خریدنا نہ چاہیے کہ گناہ پر مدد دینا ہے کیونکہ جب کوئی خریدے گا نہیں تو وہ بیٹھے گا کیوں۔(2) (عالمگیری)
صحیح بخاری شریف میں عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو ایک دینار دیا تھا کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے لیے بکر ی خرید لائیں۔ انھوں نے ایک دینار کی دو بکریاں خرید کر ایک کو ایک دینار میں بیچ ڈالا اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں ایک بکری اور ایک دینا ر لا کر پیش کیا، ان کے لیے حضور(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے دُعا کی، کہ ان کی بیع میں برکت ہو۔ اس دعا کا یہ اثر تھا کہ مٹی بھی خریدتے تو اُس میں نفع ہوتا۔(3)ترمذی و ابوداود نے حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو ایک دینار دیکر بھیجا کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے لیے قربانی کا جانور خرید لائیں۔ انھوں نے ایک دینار میں مینڈھا خرید کر دو دینار میں بیچ ڈالا پھر ایک دینا ر میں ایک جانور خرید کریہ جانور اور ایک دینار لاکر پیش کیا۔ دینار کو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے صدقہ کرنے کا حکم دیا (کیونکہ یہ قربانی کے جانور کی قیمت تھی) اور ان کی تجارت میں برکت کی دُعا کی۔ (4)
فضولی اُس کو کہتے ہیں، جو دوسرے کے حق میں بغیر اجازت تصرف کرے۔
مسئلہ ۱: فضولی نے جو کچھ تصرف(5) کیا اگر بوقت عقداس کا مجیزہو یعنی ایسا شخص ہو جو جائز کردینے پر قادر ہو تو عقدمنعقد ہوجاتا ہے مگر مجیز کی اجازت پر موقوف رہتا ہے اورا گر بوقت عقد مجیز نہ ہو تو عقدمنعقد ہی نہیں ہوتا۔ فضولی کا تصرف کبھی ازقسم تملیک(6) ہوتا ہے جیسے بیع نکاح اور کبھی اسقاط(7) ہوتا ہے جیسے طلاق عتاق مثلاً اُس نے کسی کی عورت کو طلاق دیدی غلام کو
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۳۱۵.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب العشرون فی البیاعات المکروھۃ...إلخ،ج۳،ص۲۱۰.
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب المناقب،باب۔۲۸،الحدیث:۳۶۴۲،ج۲،ص۵۱۳.
4 ۔''سنن أبی داود''،کتاب البیوع،باب فی المضارب یخالف،الحدیث:۳۳۸۶،ج۳،ص۳۵۰.
5 ۔عمل دخل،معاملہ۔ 6 ۔مالک بنانے کی قِسم سے۔ 7 ۔ساقط کرنایعنی کسی عقد کو ختم کرنے کے لیے۔
آزاد کردیا دین کو معاف کردیا اُس نے اس کے تصرفات جائز کردیے نافذ ہو جائیں گے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲: نابالغہ سمجھ وال لڑکی نے اپنا نکاح کفوسے کیا اور اس کا کوئی ولی نہیں ہے وہاں کے قاضی کی اجازت پر موقوف ہوگا (2) یاوہ خود بالغ ہو کرا پنے نکاح کو جائز کردے توجائز ہے رد کردے تو باطل۔ اور اگروہ جگہ ایسی ہو جو قاضی کے تحت میں نہ ہو تو نکاح منعقد ہی نہ ہوا کہ بروقت نکاح کوئی مجیز نہیں نابالغ عاقل غیر ماذون(3) نے کسی چیز کو خریدا یا بیچا اور ولی موجود ہے تواجازت ولی پر موقوف ہے اور ولی نے اب تک نہ اجازت دی نہ ردکیا اور وہ خودبالغ ہوگیاتواب خود اُس کی اجازت پر موقوف ہے اُس کو اختیار ہے کہ جائز کردے یا رد کردے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: نابالغ نے اپنی عورت کو طلاق دی یا غلام کو آزاد کردیا یا اپنا مال ہبہ یا صدقہ کردیا یا اپنے غلام کا کسی عورت سے نکاح کیا یا بہت زیادہ نقصان کے ساتھ اپنا مال بیچا یا کوئی چیز خریدی یہ سب تصرفات باطل ہیں بالغ ہونے کے بعد ان کو وہ خود بھی جائز کرنا چاہے تو جائز نہیں ہوں گے کہ بروقت عقد ان تصرفات کا کوئی مجیز نہیں۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: فضولی نے دوسرے کی چیز بغیر اجازت مالک بیع کردی تو یہ بیع مالک کی اجازت پر موقوف ہے اور اگر خود اُس نے اپنے ہی ہاتھ بیع کی تو بیع منعقد ہی نہ ہوئی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۵: بیع فضولی کو جائز کرنے کے لیے یہ شرط ہے کہ مبیع موجود ہو اگر جاتی رہی تو بیع ہی نہ رہی جائز کس چیز کو کریگانیز یہ بھی ضروری ہے کہ عاقدین یعنی فضولی ومشتری دونوں اپنے حال پر ہوں اگر ان دونوں نے خود ہی عقد کو فسخ کردیا ہو یا ان میں کوئی مرگیا تو اب اس عقد کو مالک جائز نہیں کرسکتا اور اگر ثمن غیر نقود ہو تو اُس کا بھی باقی رہنا ضروری ہے کہ اب وہ بھی مبیع(7) ومعقود علیہ(8)ہے۔(9)(ہدایہ)
مسئلہ ۶: بیع فضولی میں اگر کسی جانب نقد نہ ہو بلکہ دونوں طرف غیر نقود ہوں مثلاً زید کی بکری کو عَمْرْونے بکرکے ہاتھ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۱۷.
2 ۔یعنی اگر قاضی اجازت دے تونکاح صحیح ہوگا ورنہ نہیں۔ 3 ۔یعنی جس کو خریدو فروخت کی اجازت نہ ہو۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۱۸.
5 ۔المرجع السابق،ص۳۱۹.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۱۹.
7 ۔ بیچی ہوئی چیز ۔ 8 ۔ عقد کی ہوئی۔
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۲،ص۶۸.
ایک کپڑے کے عوض میں بیع کیا اور زید نے اجازت دیدی تو بکری دیگا کپڑا لے گااور اگر اجازت نہ دے جب بھی کپڑے کی بیع ہوجائے گی اور عمرو کو بکری کی قیمت دے کر کپڑا لینا ہوگااس مثال میں مبیع قیمی ہے اور اگر مثلی ہو مثلاً گیہوں، جَو وغیرہ تو اُس مبیع کی مثل عمرو کو دے کر کپڑا لینا ہوگا کہ عمرو اس صورت میں بائع بھی ہے اورمشتری بھی۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۷: مالک نے فضولی کی بیع کو جائز کردیا تو ثمن جو فضولی لے چکا ہے مالک کا ہوگیا اور فضولی کے ہاتھ میں بطورامانت ہے اور اب وہ فضولی بمنزلہ وکیل (2) کے ہوگیا۔(3)(ہدایہ)
مسئلہ ۸: مشتری نے فضولی کو ثمن دیا اور اُس کے ہاتھ میں مالک کے جائز کرنے سے پہلے ہلاک ہوگیا اگر مشتری کو ثمن دیتے وقت اُس کا فضولی ہونا معلوم تھا تو تاوان نہیں لے سکتا ورنہ لے سکتا ہے۔(4)(درمختار)
مسئلہ ۹: فضولی کویہ بھی اختیار ہے کہ جب تک مالک نے بیع کوجائز نہ کیا بیع کو فسخ کردے اور اگرفضولی نے نکاح کردیا ہے تو اس کو فسخ کا حق نہیں۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۰: فضولی نے بیع کی اور جائز کرنے سے پہلے مالک مرگیا تو ورثہ کو اُ س بیع کے جائز کرنے کا حق نہیں مالک کے مرنے سے بیع ختم ہوگئی۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۱: ایک شخص نے دوسرے کے لیے کوئی چیز خریدی تو اُس دوسرے کی اجازت پر موقوف نہیں بلکہ بیع اسی پر نافذ ہوجائے گی اسی کو ثمن دینا ہوگا اور مبیع لینا ہوگا پھر اگر اس نے اُس کو مبیع دیدی اور اُس نے اس کو ثمن دیدیا تو بطور بیع تعاطی ان دونوں کے درمیان ایک جدید بیع ہے۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: ایک شخص فضولی نے کوئی چیز دوسرے کے لیے خریدی اور عقد میں دوسرے کا نام لیا یہ کہا کہ فلاں کے لیے میں نے خریدی اور بائع نے بھی کہامیں نے اُس کے لیے بیچی اس صورت میں فضولی پر نافذ نہیں بلکہ جس کا نام لیا ہے اُسکی
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۲،ص۶۸.
2 ۔یعنی وکیل کی طرح۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۲،ص۶۸.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۳۰.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۲،ص۶۸.
6 ۔المرجع السابق،ص۶۸.
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۲۲.
اجازت پر موقوف ہے۔ بائع ومشتری دونوں میں سے ایک کے کلام میں نام آجانا کافی ہے جب کہ دوسرے کے کلام میں اُس کے خلاف کی تصریح نہ ہو۔ مثلاً مشتری نے کہا میں نے فلاں کے لیے خریدی اور بائع نے کہا میں نے تیرے ہاتھ بیچی، اس صورت میں بیع ہی نہ ہوئی کہ اُس ایجاب کا قبول نہیں پایا گیا اور اگر فقط اتنا ہی کہتا کہ میں نے بیچی یا میں نے قبول کیا تو بیع ہوجاتی اور اُس فلاں کی اجازت پر موقوف ہوتی۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: فضولی نے کسی کی چیز بیع کردی مشتری نے یا کسی نے آکر خبر دی کہ اتنے میں تمھاری چیز بیع کردی مالک نے کہا اگر سو روپے میں بیچی ہے تواجازت ہے اس صورت میں اگر سو روپے یا زیادہ میں بیچی ہے اجازت ہوگئی کم میں بیچی ہے تو نہیں۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: دوسرے کا کپڑا بیچ ڈالامشتری نے اُسے رنگ دیا اس کے بعد مالک نے بیع کو جائز کیا جائز ہوگئی اور اگر مشتری نے قطع کرکے سی لیا اب اجازت دی تو نہیں ہوئی۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: ایک فضولی نے ایک شخص کے ہاتھ بیع کی دوسرے فضولی نے دوسرے کے ہاتھ یہ دونوں عقد اجازت پر موقوف ہیں ناگر مالک نے دونوں کو جائز کیا تو اُس چیز کے نصف نصف میں دونوں عقد جائز ہوگئے اورمشتری کو اختیار ہے کہ لے یا نہ لے۔(4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: غاصب نے مغصوب (5) کو بیع کیا یہ بیع اجازت مالک پر موقوف ہے اور اگر خود مالک نے بیع کی اور غاصب غصب سے انکار کرتا ہے تو اس پر موقوف ہے کہ غاصب غصب کا اقرار کرلے یا گواہ سے مالک اپنی ملک ثابت کردے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: غاصب نے شے مغصوب کو بیع کردیا اس کے بعد اُس شی مغصوب کاتاوان دیدیا تو بیع جائز ہوگئی۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: ایک چیز غصب کرکے مساکین کو خیرات کردی اور ابھی وہ چیز مساکین کے پاس موجود ہے کہ غاصب نے
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۲۲.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی عشر فی احکام البیع الموقوف...إلخ،ج۳،ص۱۵۳.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔غصب کی ہوئی چیز۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۲۷.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیما یجوز بیعہ...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۱۱.
مالک سے خریدلی یہ بیع جائز ہے اور مساکین سے واپس لے سکتا ہے اس کے خریدنے کے بعد اگرمساکین نے خرچ کر ڈالی تو ان کو تاوان دینا پڑے گا اور اگرمساکین کو کفارہ میں دی تھی توکفارہ ادا نہ ہوااور اگر غاصب نے خریدی نہیں بلکہ مالک کو تاوان دیدیاتو صدقہ جائز ہے اور مساکین سے واپس نہیں لے سکتا اور کفارہ میں دی تھی تو ادا ہوگیا۔ مالک سے اُس وقت خریدی کہ مساکین صرف (1)میں لاچکے تو بیع باطل ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: فضولی نے بیع کی مالک کے پاس ثمن پیش کیا گیا اُس نے لے لیا یا مشتری سے اُ س نے خود ثمن طلب کیا یہ بیع کی اجازت ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: مالک کا یہ کہنا تونے بُراکیا یا اچھا کیا۔ ٹھیک کیا۔ مجھے بیع کی دِقتوں (4) سے بچادیا۔ مشتری کو ثمن ہبہ کردینا۔ صدقہ کردینا۔ یہ سب الفاظ اجازت کے ہیں۔ یہ کہہ دیا مجھے منظور نہیں میں اجازت نہیں دیتاتو رد ہوگئی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: ایک چیز کے دومالک ہیں اور فضولی نے بیع کردی ان میں سے صرف ایک نے جائز کی تومشتری کو اختیار ہے کہ قبول کرے یا نہ کرے کیونکہ اُس نے وہ چیز پوری سمجھ کر لی تھی اور پوری ملی نہیں لہٰذا اختیار ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: مالک کو خبر ہوئی کہ فضولی نے اس کی فلاں چیز بیع کردی اس نے جائز کردی اور ابھی ثمن کی مقدار معلوم نہیں ہوئی پھر بعد میں ثمن کی مقدار معلوم ہوئی اور اب بیع کو رد کرتاہے رد نہیں ہوسکتی۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: زید نے عمرو کے ہاتھ کسی کا غلام بیچ ڈالا عمرو نے اُسے آزاد کردیا یا بیع کردیا اس کے بعد مالک نے زید کی بیع کوجائز کردیا یا زید سے اُس نے ضمان لیا یا عمرو سے ضمان لیا بہر حال عمرو نے آزاد کردیا ہے تو عتق نا فذ ہے(8) اور بیع کیا ہے تو نافذ نہیں۔ (9) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: دوسرے کا مکان بیع کردیا اورمشتری کو قبضہ دیدیا اُس کے بعد اس فضولی نے غصب کا اقرار کیا اورمشتری
1 ۔خرچ ،استعمال۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیما یجوز بیعہ...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۱۱.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۲۸.
4 ۔مشکلات۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۳۱.
6 ۔المرجع السابق،ص۳۳۲. 7 ۔المرجع السابق.
8 ۔یعنی آزادہوگیا۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۳۳.
انکار کرتاہے تومشتری سے مکان واپس نہیں لیا جاسکتا جب تک مالک گواہوں سے یہ نہ ثابت کردے کہ مکان میراہے۔(1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: فضولی نے مالک کے سامنے بیع کی اورمالک نے سکوت کیاانکار نہ کیا تو یہ سکوت اجازت نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۶: دوسرے کی چیز اپنے نا بالغ لڑکے یا اپنے غلام کے ہاتھ بیع کی پھر اُس نے مالک کو خبردی کہ میں نے بیع کردی مگر یہ نہیں بتایاکہ کس کے ہاتھ بیچی تو یہ بیع جائز نہیں مگر غلام مدیون ہو تو جائز ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: ایک مکان میں دوشخص شریک ہیں اُن میں ایک نے نصف مکان بیچ دیا اس سے مراد اس کا حصہ ہوگا اگرچہ بیع میں مطلقاًنصف کہا اور اگر فضولی نے نصف مکان بیع کیا تو مطلقاًنصف کی بیع ہے دونوں شریکوں میں جوکوئی اجازت دے گااُس کے حصہ میں بیع صحیح ہو جائے گی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: گیہوں(5)وغیرہ کیلی(6)اور وزنی(7)چیزوں میں دوشخص شریک ہوں اگروہ شرکت اس طرح ہو کہ دونوں کی چیزیں ایک میں مل گئیں یا ان دونوں نے خود ملائی ہیں اگر ان میں سے ایک نے اپنا حصہ شریک کے ہاتھ بیچا تو جائز ہے اور اگر اجنبی کے ہاتھ بیچا تو جب تک شریک اجازت نہ دے جائز نہیں اور اگر میراث یا ہبہ یا بیع کے ذریعہ سے شرکت ہے توہرایک کواپنا حصہ شریک کے ہاتھ بیچنا بھی جائز ہے اور اجنبی کے ہاتھ بھی۔(8)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: صبی محجوریا غلام محجور (جو خریدوفروخت سے روک دیے گئے ہیں) اور بوہرے کی بیع موقوف ہے ولی یا مولیٰ جائز کریگا تو جائز ہوگی رد کریگا باطل ہوگی۔(9)(درمختار)
مسئلہ ۳۰: جو چیز رہن رکھی ہے یا کسی کو اُجرت پر دی ہے اُس کی بیع مرتہن(10)یا مستاجر(11) کی اجازت پر موقوف
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،اذا طرأملک...إلخ،ج۷،ص۳۳۷.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۳۸.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی عشر فی احکام البیع الموقوف...إلخ،ج۳،ص۱۵۳۔۱۵۴.
4 ۔المرجع السابق،ص۱۵۴.
5 ۔گندم۔ 6 ۔وہ چیز جو ماپ کر بیچی جائے۔ 7 ۔وہ چیز جوتول کر بیچی جائے۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثانی عشر فی احکام البیع الموقوف...إلخ،ج۳،ص۱۵۵.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۲۳.
10 ۔جس کے پاس چیزرہن رکھی گئی ہے ۔ 11 ۔اُجرت پر چیزلینے والا۔
ہے یعنی اگر جائز کردیں گے جائز ہوگی مگر بیع فسخ کرنے کا ان کو اختیار نہیں اور راہن(1) وموجر(2) بھی بیع کو فسخ نہیں کرسکتے اورمشتری(3) چاہے تو بیع کو فسخ کرسکتا ہے یعنی جب تک مرتہن ومستاجرنے اجازت نہ دی ہو۔ مرتہن یا مستاجر نے پہلے رد کردی پھر جائز کردی تو بیع صحیح ہوگئی۔ مرتہن ومستاجر نے اجازت نہیں دی اور اب اجارہ ختم ہوگیا یا فسخ کردیا گیا اور مرتہن کا دین ادا ہوگیا یا اُس نے معاف کردیا اور چیز چھوڑالی گئی تو وہی پہلی بیع خود بخود نافذ ہوگئی۔ مستاجر نے بیع کو جائز کردیا تو بیع صحیح ہوگئی مگر اُس کے قبضہ سے نہیں نکال سکتے جب تک اُس کا مال وصول نہ ہولے۔(4)(عالمگیری، فتح، درمختار)
مسئلہ ۳۱: جو چیز کرایہ پر ہے اُس کو خود کرایہ دار کے ہاتھ بیع کیا تویہ اجازت پر موقوف نہیں بلکہ ابھی نافذ ہوگئی۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: کرایہ والی چیز بیچی اورمشتری کو معلوم ہے کہ یہ چیز کرایہ پر اُٹھی ہوئی ہے اس بات پر راضی ہوگیا کہ جب تک اجارہ کی مدت پوری نہ ہو کرایہ پر رہے مدت پوری ہونے پر بائع مجھے قبضہ دلائے اس صورت میں اندرون مدت مبیع کے دلاپانے کا مطالبہ نہیں کرسکتا اور بائع بھی مشتری سے ثمن کا مطالبہ نہیں کرسکتا جب تک قبضہ دینے کا وقت نہ آجائے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: کاشتکار کوایک مدت مقررہ تک کے لیے کھیت اجارہ پر دیا، چاہے کاشتکار نے اب تک کھیت بویا ہو یانہ بویا ہو اُسکی بیع کاشتکار کی اجازت پر موقوف ہے۔(7)(درمختار)
مسئلہ ۳۴: کرایہ پر مکان ہے مالک مکان نے کرایہ دار کی بغیر اجازت اُس کو بیع کیا کرایہ دار بیع پر طیارنہیں مگر اُس نے کرایہ بڑھا کر نیا اجارہ کیا تو بیع موقوف جائز ہوگئی کیونکہ پہلا اجارہ ہی باقی نہ رہا جو بیع کو روکے
1 ۔جو اپنی چیز کسی کے پاس گروی رکھتاہے۔ 2 ۔کرائے پردینے والا۔ 3 ۔خریدار۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیما یجوز بیعہ...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۱۰.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۶،ص۴۱،۴۲.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۲۴.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،مطلب:فی بیع المرہون والمستأجر،ج۷،ص۳۲۵.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۲۴.
ہوئے تھا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: کرایہ کی چیز پہلے ایک کے ہاتھ بیچی پھر خود کرایہ دار کے ہاتھ بیع کرڈالی پہلی بیع ٹوٹ گئی اور مستاجر کے ہاتھ بیع درست ہوگئی اور اگر پہلے ایک شخص کے ہاتھ بیع کی پھر دوسرے کے ہاتھ اور مستاجر نے دونوں بیعوں کو جائز کیا پہلی جائز ہوگئی دوسری باطل۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: مستاجر کو خبر ہوئی کہ کرایہ کی چیز مالک نے فروخت کردی اُس نے مشتری سے کہا میرے اجارہ میں تم نے خریدا تمھاری مہربانی ہوگی کہ جو کرایہ دے چُکا ہوں جب تک وصول نہ کرلوں اُس وقت تک مجھے چھوڑ دواس گفتگو سے اجازت ہوگئی اور بیع نا فذ ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: راہن نے بغیر اجازت مر تہن رہن کوبیع کردیا اس کے بعد پھر دوسرے کے ہاتھ بیچ ڈالا مرتہن جس بیع کو جائز کردے جائز ہے اور ثمن سے مرتہن اپنا مطالبہ وصول کرے اگرکچھ بچے تو راہن کو دیدے اور اگر راہن نے بیع اول کے بعد رہن کو اُجرت پر دے دیا یا دوسری جگہ رہن رکھا اور مرتہن نے اجارہ یا رہن کو جائز کردیا تو بیع نافذ ہوگئی اور اجارہ یا رہن جوکچھ تھا باطل ہوگیا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مبیع پر دام لکھدیتے ہیں اور کہتے ہیں جو رقم اس پر لکھی ہے اُتنے میں بیچی مشتری نے کہا خریدی یہ بیع بھی موقوف ہے اگر اُسی مجلس میں مشتری کو رقم کا علم ہوجائے اور بیع کواختیار کرلے تو بیع نافذ ہے، ورنہ باطل۔ (5) (درمختار) بیجک (6) پر بیع کا بھی یہی حکم ہے کہ مجلس عقد(7) میں ثمن معلوم ہوجانا ضروری ہے۔
مسئلہ ۳۹: جتنے میں یہ چیز فلاں نے بیع کی یا خریدی ہے میں بھی بیع کرتا ہوں، اگر بائع و مشتری(8) دونوں کو معلوم ہے کہ فلاں نے اتنے میں بیع کی یا خریدی ہے، یہ جائز ہے اور اگر مشتری کو معلوم نہیں اگرچہ بائع جانتا ہوتویہ بیع موقوف ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیما یجوز بیعہ...إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۱۰.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،ج۷،ص۳۲۵.
6 ۔مال کی فہرست جس میں ہر چیز کا نرخ ،قیمت اورمیزان درج ہو۔
7 ۔جہاں خریدوفروخت ہورہی ہے، لین دین کی جگہ۔
8 ۔بیچنے والے اور خریدار۔
اگر اُسی مجلس میں علم ہو جائے اور اختیار کرلے درست ہے ورنہ درست نہیں۔ (1) (ردالمحتار)
ابو داود وا بن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے کسی مسلمان سے اقالہ کیا، قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اُ سکی لغزش دفع کر دے گا۔'' (2)
مسئلہ ۱: دوشخصوں کے مابین جو عقد ہوا ہے اس کے اُٹھا دینے کو اقالہ کہتے ہیں یہ لفظ کہ میں نے اقالہ کیا، چھوڑ دیا، فسخ کیا یا دوسرے کے کہنے پر مبیع یا ثمن کا پھیر دینا اور دوسرے کا لے لینا اقالہ ہے۔ نکاح، طلاق، عتاق، ابراء کا اقالہ نہیں ہوسکتا۔ دونوں میں سے ایک اقالہ چاہتا ہے تودوسرے کو منظور کرلینا، اقالہ کر دینا مستحب ہے اور یہ مستحق ثواب ہے۔ (3)
مسئلہ ۲: اقالہ میں دوسرے کا قبول کرنا ضروری ہے یعنی تنہا ایک شخص اقالہ نہیں کرسکتا اور یہ بھی ضرور ہے کہ قبول اُسی مجلس میں ہو لہٰذا اگر ایک نے اقالہ کے الفاظ کہے مگر دوسرے نے قبول نہیں کیا یا مجلس کے بعد کیا اقالہ نہ ہوا۔ مثلاً مشتری مبیع کو بائع کے پاس واپس کرنے کے لیے لایا اُس نے انکار کردیااقالہ نہ ہو اپھر اگرمشتری نے مبیع کو یہیں چھوڑدیا اور بائع نے اُس چیز کو استعمال بھی کرلیا اب بھی اقالہ نہ ہوا یعنی اگرمشتری ثمن واپس مانگتا ہے یہ ثمن واپس کرنے سے انکار کرسکتا ہے کیونکہ جب صاف طور پر انکار کرچکا ہے تو اقالہ نہیں ہوا۔ یوہیں اگر ایک نے اقالہ کی درخواست کی دوسرے نے کچھ نہ کہا اور مجلس کے بعد اقالہ کو قبول کرتاہے یا پہلے کوئی ایسا فعل کرچکا جس سے معلوم ہوتاہے کہ اسے منظور نہیں اس کے بعد قبول کرتاہے تو قبول صحیح نہیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: دلال(5) سے کسی نے کہا تھا کہ میری یہ چیز بیع کردو اور ثمن کی کوئی تعیین نہیں کی تھی دلال نے وہ چیز بیع کردی اورمالک کو آکر خبر دی کہ اتنے میں میں نے بیچ دی مالک نے کہا اتنے میں نہیں دونگادلال مشتری کے پاس جاتا ہے اور واقعہ کہتا ہے مشتری نے کہا میں بھی اُس کو نہیں چاہتا اس سے اقالہ نہیں ہوا کہ اولاًتو لفظ ہی اقالہ کے لیے نہیں ہے پھر یہ کہ ایجاب وقبول کی
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،فصل فی الفضولی،مطلب:فی بیع المرہون والمستأجر،ج۷،ص۳۲۶.
2 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب التجارات،باب الإقالۃ،الحدیث:۲۱۹۹،ج۳،ص۳۶.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۷،ص۳۴۵.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۷،ص۳۴۰.
5 ۔آڑھتی ،وہ شخص جو خریدار اوربیچنے والے کاسوداطے کرائے۔
ایک مجلس نہیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: ایک شخص نے گھوڑا خریدا پھر واپس کرنے کے لیے بائع کے پاس آیا بائع موجود نہ تھا، اُس کے اصطبل(2) میں گھوڑا چھوڑ کر چلا گیا پھر بائع نے اُس کا علاج وغیرہ کرایا اقالہ نہیں ہوا، اگرچہ ایسے افعال جن سے رضا مندی ثابت ہوتی ہے، قبول کے قائم مقام ہوتے ہیں مگر مجلس کا ایک ہونا بھی ضروری ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: اقالہ کے شرائط یہ ہیں: 1 دونوں کاراضی ہونا۔ 2 مجلس ایک ہونا۔ 3 اگر بیع صرف کا اقالہ ہو تو اُسی مجلس میں تقابض بدلین (4)ہو۔ 4مبیع (5)کا موجود ہوناشرط ہے ثمن کا باقی رہنا شرط نہیں۔ 5مبیع ایسی چیز ہو جس میں خیار شرط خیار رویت خیار عیب کی وجہ سے بیع فسخ ہوسکتی ہو، اگر مبیع میں ایسی زیادتی ہوگئی ہوجس کی وجہ سے فسخ نہ ہوسکے تو اقالہ بھی نہیں ہوسکتا۔ 6بائع نے ثمنِ مشتری کو قبضہ سے پہلے ہبہ نہ کیا ہو۔(6)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۶: اقالہ کے وقت مبیع موجود تھی مگر واپس دینے سے پہلے ہلاک ہوگئی اقالہ باطل ہوگیا۔(7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: جو ثمن بیع میں تھا اُسی پر یا اُس کی مثل پر اقالہ ہوسکتا ہے اگر کم یازیادہ پر اقالہ ہواتو شرط باطل ہے اور اقالہ صحیح یعنی اُتنا ہی دینا ہوگا جو بیع میں ثمن تھا۔(8)(ہدایہ) مثلاً ہزار روپے میں یک چیز خریدی اُ س کااقالہ ہزار میں کیایہ صحیح ہے اور اگر ڈیڑھ ہزار میں کیا جب بھی ہزاردینا ہوگا اور پانسوکا ذکر لغو ہے اورپانسو میں کیا اور مبیع میں کوئی نقصان نہیں آیا ہے جب بھی ہزار دینا ہوگا اور اگر مبیع میں نقصان آگیا ہے توکمی کے ساتھ اقالہ ہوسکتا ہے۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: اقالہ میں دوسری جنس کا ثمن ذکر کیا گیا مثلاً بیع ہوئی ہے روپے سے اور اقالہ میں اشرفی یا نوٹ واپس کرنا قرار پایا تو اقالہ صحیح ہے اور وہی ثمن واپس دیناہوگاجوبیع میں تھا دوسرے ثمن کاذکر لغو ہے۔(10) (عالمگیری)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۷،ص۳۴۱.
2 ۔گھوڑے باندھنے کی جگہ۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۷،ص۳۴۱.
4 ۔یعنی دومتبادل چیزوں پرقبضہ کرنا۔ 5 ۔بیچی ہوئی چیزیعنی سامان وغیرہ۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۷،ص۳۴۲.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثالث عشر فی الإقالۃ،ج۳،ص۱۵۷.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،مطلب:تحریرمہم فی إقالۃ...إلخ،ج۷،ص۳۵۴.
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۲،ص۵۵.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثالث عشر فی الإقالۃ،ج۳،ص۱۵۶.
10 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۹: مبیع میں نقصان آگیاتھا اس وجہ سے ثمن سے کم پر اقالہ ہوا مگر وہ عیب جاتارہا تومشتری بائع سے وہ کمی واپس لیگاجو ثمن میں ہوئی ہے۔(1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: تازہ صابون بیچا تھا خشک ہونے کے بعد اقالہ ہو امشتری کو صرف صابون ہی دینا ہوگا۔(2) (بحر)
مسئلہ ۱۱: کھیت مع زراعت(3)کے جو طیار ہے بیع کیا(4)گیا مشتری نے زراعت کاٹ لی پھر اقالہ ہوا زمین کے مقابل میں جو ثمن ہے اُ سکے ساتھ اقالہ ہوگا اور وقت بیع زراعت کچی تھی اور اب طیار ہوگئی تو اقالہ جائز نہیں۔ (5) (بحر)
مسئلہ ۱۲: اقالہ میں مبیع باقی رہے یا کم ہوجائے اس سے مراد وہ چیز ہے جس کی بیع قصداًہواور جو چیز تبعاً(6)بیع میں داخل ہوجاتی ہے اُس کی کمی سے مبیع کا کم ہونا نہیں صور کیا جائے گالہٰذا گاؤں خریدا تھا جس میں درخت تھے درخت مشتری نے کاٹ لیے پھر اقالہ ہوا پورا ثمن واپس کرنا ہوگا درختوں کی قیمت بائع کو نہیں ملے گی ہاں گر بائع کو اس کا علم نہ ہو کہ درخت کاٹ لیے ہیں تو اختیار ہے کہ پورے ثمن کے بدلہ میں زمین واپس لے یا بالکل چھوڑدے یعنی زمین بھی نہ لے۔(7)(بحر)
مسئلہ ۱۳: عاقدین(8)کے حق میں اقالہ فسخ بیع ہے اور دوسرے کے حق میں یہ ایک بیع جدید ہے لہٰذا اگر اقالہ کو فسخ نہ قرار دے سکتے ہوں تواقالہ باطل ہے مثلاً مبیع لونڈی یا جانور ہے جس کے قبضہ کے بعد بچہ پید ا ہوا تو اس کا اقالہ نہیں ہوسکتا۔ (9) (ہدایہ، فتح)
مسئلہ ۱۴: کپڑا خریدا اور اُس کو واپس کرنے گیا اس نے لفظ اقالہ زبان سے نکالاہی تھا کہ بائع نے فوراًکپڑے کو قطع کرڈالااقالہ صحیح ہے یہ فعل قبول کے قائم مقام ہے۔ (10) (فتح)
مسئلہ ۱۵: مبیع کا کوئی جز ہلاک ہوگیااور کچھ باقی ہے تو جو کچھ باقی ہے اُس میں اقالہ ہوسکتا ہے اور اگر بیع مقایضہ ہویعنی دونوں طرف غیر نقود ہوں اور ایک ہلاک ہوگئی تو اقالہ ہوسکتا ہے دونوں جاتی رہیں تو نہیں ہوسکتا۔(11)(ہدایہ)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،مطلب:تحریرمہم فی إقالۃ...إلخ،ج۷،ص۳۵۰.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۶،ص۱۷۵.
3 ۔فصل۔ 4 ۔بیچا۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۶،ص۱۷۵.
6 ۔ ضمناً۔
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۶،ص۱۷۵۔۱۷۶.
8 ۔یعنی خریدنے والا اور بیچنے والا۔
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۲،ص۵۵.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۶،ص۱۱۴.
10 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۶،ص۱۱۵.
11 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۲،ص۵۶.
مسئلہ ۱۶: غلام ماذون (جس کو خریدوفروخت کی اجازت ہے) یا بچہ کے وَصی (1) یا وقف کے متولی نے کوئی چیز گراں(2) بیع کی ہے یا ارزاں(3) خریدی ہے توان کو اقالہ کرنے کی اجازت نہیں یعنی کریں بھی تو اقالہ نہ ہوگا اور اقالہ میں اگر مولیٰ یا بچہ یا وقف کے لیے بہتری ہو تو صحیح ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: وکیل بالشراء (جس کو وکیل کیاتھا کہ فلاں چیز خرید لائے) خرید لینے کے بعداقالہ نہیں کرسکتا اور وکیل بالبیع اقالہ کرسکتا ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: بائع نے اگر مشتری سے کچھ زیادہ دام لے لیے اور مشتری اقالہ کرانا چاہتا ہے تو اقالہ کردینا چاہیے اور اگر بہت زیادہ دھوکا دیا ہے تو اقالہ کی ضرورت نہیں تنہا مشتری بیع کو فسخ کرسکتا ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: مبیع میں اگر زیادت متصلہ غیر متولدہ ہو جیسے کپڑے میں رنگ، مکان میں جدید تعمیر تو اقالہ نہیں ہوسکتا۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: اقالہ کو شرط پر معلق کرنا صحیح نہیں مثلاً بائع نے مشتری سے کہا یہ چیز تمھیں بہت سستی میں نے دیدی مشتری نے کہا اگرتم کو زیادہ کا گاہک مل جائے تو بیچ ڈالنا اُس نے دوسرے کے ہاتھ زیادہ دام میں بیچ ڈالی یہ دوسری بیع صحیح نہیں ہوئی۔ (8) (بحرالرائق)
مسئلہ ۲۱: شرطِ فاسد سے اقالہ فاسد نہیں ہوتا۔ اقالہ کرلیا مگر ابھی بائع نے مبیع پر قبضہ نہیں کیا پھر اُسی مشتری کے ہاتھ بیع کردی یہ بیع درست ہے اور اس مشتری کے علاوہ دوسرے کے ہاتھ بیع کریگاتو بیع فاسد ہوگی کہ ثالث کے حق میں بیع جدید (9) ہے اور مبیع کو قبل قبضہ(10) کے بیچناناجائز ہے۔ مبیع اگر کیلی(11) یا وزنی(12) ہے تو اقالہ کے بعد پھر ماپنے اور تولنے کی ضرورت نہیں۔(13) (درمختار)
1 ۔ یعنی جس کو وصیت کی جائے کہ تم ایسا کرنا۔ 2 ۔مہنگی۔ 3 ۔سستی۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۷،ص۳۴۳.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،مطلب:تحریرمہم فی إقالۃ...إلخ،ج۷،ص۳۴۳.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۷،ص۳۴۶.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،مطلب:تحریرمہم فی إقالۃ...إلخ،ج۷،ص۳۴۸.
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۶،ص۱۷۱.
9 ۔نیا سودا۔ 10 ۔قبضہ سے پہلے۔
11 ۔جوچیزماپ کربیچی جاتی ہے۔ 12 ۔جوچیزتول کربیچی جاتی ہے۔
13 ۔''الدرالمختار''کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۷،ص۳۵۰.
مسئلہ ۲۲: اقالہ حق ثالث میں بیع جدید ہے لہٰذا مکان کی بیع ہوئی تھی اور شفیع(1)نے شفعہ سے انکار کردیا تھا پھر اقالہ ہوا تو اب شفیع پھر شفعہ کرسکتا ہے اوریہ جدید حق حاصل ہوگا۔مشتری نے مبیع کو بیچ ڈالا پھر اقالہ کیا اس کے بعد معلوم ہواکہ مبیع میں کوئی ایسا عیب ہے جو بائع اول کے یہاں تھا تو عیب کی وجہ سے بائع اول کو واپس نہیں کرسکتا۔ ایک چیز خریدی اور قبضہ کرلیا مگر ابھی ثمن ادا نہیں کیا مشتری نے وہ چیز دوسرے کے ہاتھ بیع کی پھر اقالہ کیا پھر بائع اول نے ثمن وصول کرنے سے پہلے ثمن اول سے کم میں خریدی یہ جائز ہے۔ کوئی چیز ہبہ کی، موہوب لہ(2)نے اُس کو بیع کردیا پھر اقالہ ہوا تو ہبہ کرنے والا اُس کو واپس نہیں کرسکتا۔ (3) (بحرالرائق)
مسئلہ ۲۳: کنیزخریدی تھی اور مشتری نے قبضہ کرلیا تھا پھراقالہ ہواتو بائع پر استبرا (4) واجب ہے بغیر استبرا وطی نہیں کرسکتا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: جس طرح بیع کا اقالہ ہوسکتا ہے، خود اقالہ کابھی اقالہ ہوسکتا ہے۔ اقالہ کا اقالہ کرنے سے اقالہ جاتا رہا اور بیع لوٹ آئی، ہاں بیع سلم میں اگر مسلم فیہ پر قبضہ نہیں ہوا اور اقالہ ہوگیا تو اس اقالہ کا اقالہ نہیں ہوسکتا۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
کبھی ایسا ہوتاہے کہ مشتری میں اتنی ہوشیاری نہیں کہ خود واجبی قیمت (7)پر چیز خریدے لامحالہ اُسے دوسرے پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے کہ اُس نے جن داموں میں چیز خریدی ہے اُتنے ہی دام دے کر اُس سے لے لے یا وہ کچھ نفع لے کر اس کو چیز دینا چاہتا ہے اور یہ اُس کا اعتبار کرکے خریدلیتا ہے کیونکہ مشتری جانتا ہے کہ بغیر نفع کے بائع نہیں دے گا اور اگر اتنا نفع دیکر نہ لوں گا تو بہت ممکن ہے کہ دوسری جگہ مجھ کوزیادہ دام دینے پڑیں یااس سے کم میں چیز نہ ملے گی لہٰذا اس نفع دینے کو غنیمت سمجھتاہے۔ اور بیع مطلق اور اس میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ یہاں اپنی خرید کے دام بتا کر اُتنا ہی لینا چاہتا ہے یا اُس پر نفع کی ایک معین مقدار زیادہ کرتاہے لہٰذا بیع مطلق کا جواز اسکا جواز ہے اور چونکہ مشتری نے یہاں بائع(8) پر اعتماد کیا ہے
1 ۔شفعہ کا حق رکھنے والے۔ 2 ۔جسے ہبہ کی گئی۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۶،ص۱۷۲.
4 ۔یعنی اُس وقت تک وطی نہ کرے جب تک اس کا غیر حاملہ ہونامعلوم نہ ہو جائے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،ج۷،ص۳۵۲،۳۵۳.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإقالۃ،مطلب:تحریرمہم فی إقالۃ...إلخ،ج۷،ص۳۵۵.
7 ۔رائج قیمت۔ 8 ۔فروخت کرنے والا۔
لہٰذایہاں بائع کو پورے طور پر سچائی اور امانت سے کام لینا ضروری ہے۔ خیانت بلکہ اس کے شبہہ سے بھی احتراز لازم ہے خیانت یا شبہہ خیانت (1) کا بھی عقد پر اثر پڑے گاجیسا کہ اس باب کے مسائل سے واضح ہوگا۔ ا س بیع کا جواز اس حدیث سے بھی ہے، کہ جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہجرت کا ارادہ فرمایا حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دو اونٹ خریدے۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''ایک کا میرے ہاتھ تولیہ کر دو۔'' اُنھوں نے عرض کی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے لیے بغیر دام کے حاضر ہیں۔ ارشاد فرمایا: ''بغیر دام کے نہیں۔'' (2) (ہدایہ) نیز عبدالرزاق نے سعید بن المسیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تولیہ و اقالہ و شرکت سب برابر ہیں، ان میں حرج نہیں۔'' (3) (کنزالعمال)
مسئلہ ۱: جو چیز جس قیمت پر خریدی جاتی ہے اور جو کچھ مصارف(4) اُس کے متعلق کیے جاتے ہیں ان کو ظاہر کرکے اس پر نفع کی ایک مقدار بڑھا کر کبھی فروخت کرتے ہیں اس کو مرابحہ کہتے ہیں اور اگر نفع کچھ نہیں لیا تو اس کو تولیہ کہتے ہیں۔ جو چیز علاوہ بیع کے کسی اور طریقہ سے ملک میں آئی مثلاً اس کوکسی نے ہبہ کی(5) یا میراث میں حاصل ہوئی یا وصیت کے ذریعہ سے ملی اُس کی قیمت لگا کر مرابحہ و تولیہ کرسکتے ہیں۔ (6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: روپے اور اشرفی میں مرابحہ نہیں ہوسکتا مثلاً ایک اشرفی پندرہ روپے کو خریدی اور اس کو ایک روپیہ یا کم وبیش نفع لگا کر مرابحۃً بیع کرنا چاہتاہے یہ جائز نہیں۔(7)(درمختار، فتح)
مسئلہ ۳: مرابحہ یا تولیہ صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ جس چیز کے بدلے میں مشتری اول نے خریدی ہے وہ مثلی ہوتا کہ مشتری ثانی وہ ثمن قرار دیکر خریدسکتا ہو اور اگر مثلی نہ ہو بلکہ قیمی ہو تو یہ ضرور ہے کہ مشتری ثانی اُس چیز کا مالک ہو مثلاً زید نے عمرو سے کپڑے کے بدلے میں غلام خریدا پھر اس غلام کا بکر سے مرابحہ یا تولیہ کرنا چاہتا ہے اگربکر نے وہی کپڑاعمرو سے خرید لیا ہے یا کسی طرح بکر کی ملک میں آچکا ہے تومرابحہ ہوسکتا ہے یا بکر نے اُسی کپڑے کے عوض میں مرابحہ کیا اور ابھی وہ کپڑا عمرو ہی کی ملک ہے مگر بعد عقد عمرو نے عقد کو جائز کردیا تووہ مرابحہ بھی درست ہے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔خیانت کاشبہہ ،دھوکہ کرنے کا شک ۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۲،ص۵۶.
3 ۔''المصنف''لعبدالرزاق،کتاب البیوع،باب التولیۃ فی البیع والإقالۃ،الحدیث:۱۴۳۳۵،ج۸،ص۳۸.
و''کنزالعمال''،الحدیث:۹۹۶۴،الجزء الرابع،ج۲،ص۶۴.
4 ۔اخرجات۔ 5 ۔تحفہ میں دی۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۷،ص۳۶۰،وغیرہ.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۷،ص۳۶۰.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۶،ص۱۲۲.
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۷،ص۳۶۲.
مسئلہ ۴: مرابحہ میں جو نفع قرار پایا ہے اُس کا معلوم ہونا ضروری ہے اور اگر وہ نفع قیمی ہو تو اشارہ کرکے اُسے معین کردیا گیا ہو مثلاً فلاں چیز جو تم نے دس روپے کو خریدی ہے میرے ہاتھ دس روپے اور اس کپڑے کے عوض میں بیع کر دو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵: ثمن سے مراد وہ ہے جس پر عقد واقع ہوا ہو فرض کرو مثلاً دس روپے میں عقد ہوامگرمشتری نے اُن کے عوض میں کوئی دوسری چیز بائع کودی چاہے یہ اُسی قیمت کی ہویا کم وبیش کی بہر حال مرابحہ و تولیہ میں دس روپے کا لحاظ ہوگا نہ اُس کا جومشتری نے دیا۔ (2) (فتح القدیر)
مسئلہ ۶: دَہ یازدَہ کے نفع پر مرابحہ ہوا (یعنی ہردس پر ایک روپیہ نفع دس کی چیز ہے تو گیارہ ،بیس کی ہے تو بائیس وعلیٰ ہٰذالقیاس) اگر ثمن اول قیمی ہے مثلاً کوئی چیز ایک گھوڑے کے بدلے میں خریدی ہے اور وہ گھوڑا اس مشتری ثانی کو مل گیا جو مرابحۃًخریدنا چاہتا ہے اور دہ یا زدہ کے طور پر خریدا اور مطلب یہ ہواکہ گھوڑا دے گا اور گھوڑے کی جو قیمت ہے اُس میں فی دہائی ایک روپیہ دیگا یہ بیع درست نہیں کہ گھوڑے کی قیمت مجہول ہے(3) لہٰذا نفع کی مقدار مجہول اور اگر بیع اول کا ثمن مثلی ہو مثلاً پہلے مشتری نے سوروپے کے عوض میں خریدی اور دَہ یازدَہ کے نفع سے بیچی اس کا محصل(4)ایک سو دس روپے ہوا اگر یہ پوری مقدار مشتری کو معلوم ہو جب تو صحیح ہے اور معلوم نہ ہوا ور اُسی مجلس میں اُسے ظاہر کردیا گیا ہو تو اُسے اختیار ہے کہ لے یا نہ لے اوراگر مجلس میں بھی معلوم نہ ہوا تو بیع فاسد ہے۔(5)( درمختار،ردالمحتار) آج کل عام طور پر تاجروں میں آنہ روپیہ، دو آنے روپیہ نفع کے حساب سے بیع ہوتی ہے اس کا حکم وہی دہ یازدہ کا ہے کہ وقت عقد معلوم ہویا مجلس عقد میں معلوم ہوجائے تو بیع صحیح ہے ورنہ فاسد۔
مسئلہ ۷: ایک چیز کی قیمت دس روپے دوسرے شہر کے سکّوں سے قرار پائی (مثلاً حیدر آباد میں انگریزی دس روپے کو ثمن قرار دیا) اور اُس کو ایک روپیہ کے نفع سے لیا اس روپیہ سے مراد اس شہر کا سکّہ ہے یعنی دس روپے دوسرے سکے کے اور ایک روپیہ یہاں کا دینا ہوگااور اگراس کوبھی دہ یازدہ کے طور پر خریدا ہے توکل ثمن ونفع اُسی دوسرے سکہ سے دینا ہوگا۔ (6) (فتح القدیر)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۷،ص۳۶۳.
2 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۶،ص۱۲۵.
3 ۔معلوم نہیں ہے۔ 4 ۔حاصل۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۷،ص۳۶۳.
6 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۶،ص۱۲۵.
مسئلہ ۸: راس المال جس پر مرابحہ وتولیہ کی بنا ہے (کہ اس پر نفع کی مقدار بڑھائی جائے تو مرابحہ اور کچھ نہ بڑھے وہی ثمن رہے تو تولیہ) اس میں دھوبی کی اُجرت مثلاً تھان خرید کر دُھولوایا ہے۔اور نقش و نگار ہوا ہے جیسے چکن کڑھوائی ہے، حاشیہ کے پھُندنے بٹے گئے ہیں، کپڑا رنگا گیا ہے، بار برداری دی گئی ہے، یہ سب مصارف راس المال پر اضافہ کیے جاسکتے ہیں۔ (1) (ہدایہ، فتح القدیر)
مسئلہ ۹: جانور کو کھلایا ہے اُس کو بھی راس المال پر اضافہ کیا جائے گامگرجب کہ اُس کا دودھ گھی وغیرہ حاصل کیا ہے تو اس کو اُس میں سے کم کریں اگرچارہ کے مصارف کچھ بچ رہے تو اس باقی کو اضافہ کریں۔ یوہیں مرغی پر کچھ خرچ کیا اور اُس نے انڈے دیے ہیں تو ان کومُجرادیکر(2)باقی کو اضافہ کریں۔ جانور یا غلام یامکان کو اُجرت پردیا ہے کرایہ کی آمدنی کو مصارف سے منہانہیں کریں گے(3)بلکہ پورے مصارف کھانے وغیرہ کے اضافہ کریں گے۔ (4) (فتح)
مسئلہ ۱۰: گھوڑے کا علاج کرایا سَلوتری (5) کو اُجرت دی یا جانور بھاگ گیا کوئی پکڑ کر لایا اُسے مزدوری دی، اس کو راس المال پر اضافہ نہیں کریں گے۔ (6) (فتح) کھیت یا باغ کو پانی دیا ہے اُس کو صاف کرایا ہے پانی کی نالیاں درست کرائی ہیں اُس میں پیڑ(7) لگائے ہیں یہ صرفہ (8) بھی شامل کیا جائے گا۔(9)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: مکان کی مرمت کرائی ہے، صفائی کرائی ہے، پلاستر کرایا ہے، کوآں کھدوایا ہے، ان سب کے مصارف شامل ہوں گے۔ دلال(10)کو جو کچھ دیا گیا ہے، وہ بھی شامل ہوگا۔(11) (درمختار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۲،ص۵۶.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۶،ص۱۲۵.
2 ۔کم کرکے۔ 3 ۔اخراجات سے کٹوتی نہیں کریں گے۔
4 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۶،ص۱۲۵.
5 ۔گھوڑوں کاعلاج کرنے والا۔
6 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۶،ص۱۲۶.
7 ۔درخت۔ 8 ۔خرچہ۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۷،۳۶۵.
10 ۔آڑھتی ،وہ شخص جو خریدار اوربیچنے والے کاسوداطے کرائے۔
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۷،۳۶۵.
مسئلہ ۱۲: چرواہے کی اُجرت یا خود اپنے مصارف مثلاً جانے آنے کا کرایہ اور اپنی خوراک اور جو کام خود کیا ہے یاکسی نے مفت کردیا ہے اس کام کی اُجرت جس مکان میں چیز کورکھا ہے اُس کا کرایہ ان سب کواضافہ نہیں کریں گے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: کیا چیز اضافہ کریں گے اور کیا نہیں کریں گے اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اس با ب میں تاجروں کا عرف دیکھا جائے گا جس کے متعلق عرف ہے اُسے شامل کریں اور عرف نہ ہو توشامل نہ کریں۔ (2) (فتح، درمختار)
مسئلہ ۱۴: جومصارف ناجائز طور پر جبراً وصول کیے جاتے ہیں جیسے چونگی، اگر تجار کا عرف ا س کے اضافہ کرنے کا ہو تو اضافہ کریں، ورنہ نہیں۔ (3) (درمختار) غالباً چونگی کو آج کل کے تجار تولیہ و مرابحہ میں راس المال پر اضافہ کرتے ہیں۔
مسئلہ ۱۵: جو مصارف اضافہ کرنے کے ہیں اُنھیں اضافہ کرنے کے بعد بائع یہ نہ کہے میں نے اتنے کو خریدی ہے کیونکہ یہ جھوٹ ہے بلکہ یہ کہے مجھے اتنے میں پڑی ہے۔(4) (ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۶: بیع مرابحہ میں اگرمشتری کو معلوم ہوا کہ بائع نے کچھ خیانت کی ہے مثلاً اصلی ثمن پر ایسے مصارف اضافہ کیے جن کو اضافہ کرنا نا جائز ہے یا اُس ثمن کو بڑھا کر بتایا دس میں خریدی تھی بتائے گیارہ تومشتری کو اختیار ہے کہ پورے ثمن پرلے یا نہ لے یہ نہیں کرسکتا کہ جتنا غلط بتایا ہے اُسے کم کرکے ثمن ادا کرے۔ اُس نے خیانت کی ہے اسے معلوم کرنے کی تین صورتیں ہیں خود اُس نے اقرار کیا ہو یا مشتری نے اس کو گواہوں سے ثابت کیا یا اُس پر حلف دیا گیا اُس نے قسم سے انکار کیا۔ تولیہ میں اگر بائع کی خیانت ثابت ہو تو جوکچھ خیانت کی ہے اُسے کم کرکے مشتری ثمن ادا کرے مثلاً اُس نے کہا میں نے دس روپے میں خریدی ہے اور ثابت ہوا کہ آٹھ میں خریدی ہے تو آٹھ دیکر مبیع لے لے گا۔(5) (ہدایہ، فتح)
مسئلہ ۱۷: مرابحہ میں خیانت ظاہر ہوئی اور پھیرنا چاہتا ہے پھیرنے سے پہلے مبیع ہلاک ہوگئی یا اُس میں کوئی ایسی بات پیدا ہوگئی جس سے بیع کو فسخ کرنا نا درست ہوجاتا ہے تو پورے ثمن پر مبیع کو رکھ لینا ضروری ہوگا اب واپس نہیں کرسکتا نہ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۷،ص۳۶۶.
2 ۔المرجع السابق،ص۳۶۵.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۶،ص۱۲۵.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،ج۷،ص۳۶۷.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۲،ص۵۶،وغیرہا.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۲،ص۵۶.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۶،ص۱۲۶.
نقصان کامعاوضہ مل سکتا ہے۔ (1) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۸: ایک چیز خریدکر مرابحۃً بیع کی پھر اُس کو خریدااگر پھر مرابحہ کرنا چاہے توپہلے مرابحہ میں جوکچھ نفع ملاہے دوسرے ثمن سے کم کرے اور اگر نفع اتنا ہوا کہ دوسرے ثمن کو مستغرق ہوگیا تو اب مرابحۃًبیع ہی نہیں ہوسکتی اس کی مثال یہ ہے کہ ایک کپڑا دس میں خریدا تھااور پندرہ میں مرابحہ کیا پھر اسی کپڑے کو دس میں خریدا تو اس میں سے پانچ روپے پہلے کے نفع والے ساقط کرکے پانچ روپے پر مرابحہ کرسکتا ہے اور یہ کہنا ہوگا کہ پانچ روپے میں پڑا ہے اور اگرپہلے بیس روپے میں بیچا تھا پھر اُسی کو دس میں خریدا تو گویا کپڑا مفت ہے کہ نفع نکالنے کے بعد ثمن کچھ نہیں بچتا اس صورت میں پھر مرابحہ نہیں ہوسکتا یہ اس صورت میں ہے کہ جس کے ہاتھ مرابحۃً بیچا ہے اب تک وہ چیز اُسی کے پاس رہی اس نے اُسی سے خریدی اور اگر اُس نے کسی دوسرے کے ہاتھ بیچ دی اس نے اُس سے خریدی غرض یہ کہ درمیان میں کوئی بیع آجائے تو اب جس ثمن سے خریدا ہے اُسی پر مرابحہ کرے نفع کم کرنے کی ضرورت نہیں۔ (2) (ہدایہ، فتح)
مسئلہ ۱۹: جس چیز کو جس ثمن سے خریدا اُسے دوسری جنس سے بیچامثلاً دس روپے میں خریدی پھر کسی جانور کے بدلے میں بیع کی پھر دس روپے میں خریدی تو دس روپے پر مرابحہ ہوسکتاہے اگرچہ وہ جانور جس کے بدلے میں پہلے بیچی تھی دس روپے سے زیادہ کا ہو۔ایک تیسری صورت ثمن ثانی پر مرابحہ جائز ہونے کی یہ ہے کہ اس امر کو ظاہر کردے کہ میں نے دس روپے میں خریدکر پندرہ میں بیچی پھر اُسی مشتری سے دس میں خریدی ہے اور اس دس روپے پر مرابحہ کرتا ہوں(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: صلح کے طور پر جو چیز حاصل ہواُس کا مرابحہ نہیں ہوسکتا مثلاً زید کے عمرو پر دس روپے چاہیے تھے اُس نے مطالبہ کیا عمرو نے کوئی چیز دے کر صلح کرلی یہ چیز زید کو اگر چہ دس روپے کے معاوضہ میں ملی ہے مگر اس کا مرابحہ دس روپے پر نہیں ہوسکتا۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۱: چند چیزیں ایک عقد میں ایک ثمن کے ساتھ خریدی گئیں اُن میں سے ایک کے مقابل میں ثمن کا ایک حصہ
1 ۔''الھدایۃ ''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۲،ص۵۷.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۷،ص۳۶۸.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۲،ص۵۷.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۶،ص۱۲۷.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،مطلب:خیارالخیانۃ...إلخ،ج۷،ص۳۶۹.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۲،ص۵۷.
فرض کرکے مرابحہ کریں یہ ناجائز ہے جب کہ یہ قیمی چیزیں ہوں اور ثمن کی تفصیل نہ ہواور اگر مثلی ہوں مثلاً دو من غلّہ پانچ روپے میں خریدا تھا ایک من کا مرابحہ کرسکتا ہے۔ یوہیں کپڑے کے چند تھان اس طرح خریدے کہ ہرتھا ن دس روپے کاہے تو ایک تھان کا مرابحہ کرسکتا ہے۔(1) (فتح القدیر، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: مکاتب یا غلام ماذون نے ایک چیز دس روپے میں خریدی تھی اُس کے مولیٰ نے اُس سے پندرہ میں خرید لی یا مولیٰ نے دس میں خرید کر غلام کے ہاتھ پندرہ میں بیچی تو اس کا مرابحہ اُسی بیع اول کے ثمن پر یعنی دس پر ہوسکتا ہے، پندرہ پر نہیں ہوسکتا۔ یوہیں جس کی گواہی اس کے حق میں مقبول نہ ہوجیسے اس کے اصول ماں، باپ، دادا، دادی یا اس کی فروع بیٹا، بیٹی وغیرہ اور میاں بی بی اور دوشخص جن میں شرکت مفاوضہ ہے ان میں ایک نے ایک چیز خریدی پھر دوسرے نے نفع دیکر اُس سے خریدلی تو مرابحہ دوسرے ثمن پر نہیں ہوسکتا ہاں اگریہ لوگ ظاہر کردیں کہ یہ خریداری اس طرح ہوئی ہے تو جس ثمن سے خود خریدی ہے اُس پر مرابحہ ہوسکتا ہے۔(2) (ہدایہ، فتح، درمختار)
مسئلہ ۲۳: اپنے شریک سے کوئی چیز خریدی مگر یہ چیز شرکت کی نہیں ہے تو جس قیمت پر اس نے خریدی ہے مرابحہ کرسکتاہے اور یہ ظاہر کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ شریک سے خریدی ہے اور اگر وہ چیز شرکت کی ہو تو اُس میں جتنا اُسکا حصہ ہے، اُس میں وہ ثمن لیا جائے گا جس سے شرکت میں خریداری ہوئی اور جتنا شریک کا حصہ ہے، اُ س میں اُس ثمن کا اعتبار ہوگا جس سے اس نے اب خریدی ہے، مثلاً ایک ہزار میں وہ چیز خریدی گئی تھی اور بارہ سومیں اس نے شریک سے خریدی تو گیارہ سو پر مرابحہ ہوسکتا ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: مضارب(4)نے ایک چیز دس روپے میں خریدی اور مال والے کے ہاتھ پندرہ روپے میں بیچ دی اگر مضاربت نصف نفع کے ساتھ ہے تو رب المال اس چیز کو ساڑھے بارہ روپے پر مرابحہ کرسکتا ہے کیونکہ نفع کے پانچ میں ڈھائی
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۶،ص۱۲۹.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،مطلب:خیارالخیانۃ...إلخ،ج۷،ص۳۶۹.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۲،ص۵۷.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۶،ص۱۲۹،۱۳۰.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۷،ص۳۷۰.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،مطلب:اشتری من شریکہ سلعۃ،ج۷،ص۳۷۱.
4 ۔وہ شخص جو کسی کے مال سے تجارت کر رہا ہو اس شرط پر کہ نفع دونوں آپس میں تقسیم کر لیں گے۔
روپے اس کے ہیں، لہٰذا مبیع اس کو ساڑھے بارہ میں پڑی۔(1)(درمختار)
مسئلہ ۲۵: مبیع میں کوئی عیب بعد میں معلوم ہوااور یہ راضی ہوگیا تو اس کا مرابحہ کرسکتا ہے یعنی عیب کی وجہ سے ثمن میں کمی کرنے کی ضرورت نہیں۔ یوہیں اگر اس نے مرابحۃًیہ چیز خریدی تھی اور بعد میں بائع کی خیانت پر مطلع ہوامگر مبیع کوواپس نہیں کیا بلکہ اُسی بیع پرراضی رہا توجس ثمن پر خریدی ہے اُسی پر مرابحہ کریگا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: مبیع میں اگر عیب پیدا ہوگیا مگر وہ عیب کسی کے فعل سے پیدا نہ ہوا چاہے آفت سماویہ(3) سے ہو یا خود مبیع کے فعل سے ہو، ایسے عیب کو مرابحہ میں بیان کرنا ضروری نہیں یعنی بائع کو یہ کہنا ضروری نہیں کہ میں نے جب خریدی تھی اُس وقت عیب نہ تھا میرے یہاں عیب پیدا ہوگیا ہے اور بعض فقہا اس کو بیان کرنا ضروری بتاتے ہیں۔ کپڑے کو چوہے نے کترلیایا آگ سے کچھ جل گیا اس کا بھی وہی حکم ہے رہا عیب کو بیان کرنا ا سکوہم پہلے بتاچکے ہیں کہ مبیع کے عیب پر مطلع ہو تو اُس کا ظاہر کردینا ضروری ہے چھپا نا حرام ہے۔ لونڈی ثیب تھی اُس سے وطی کی اور اس سے نقصان پیدانہ ہواتو اس کا بیان کر نا بھی ضرور نہیں اور نقصان پیدا ہوا تو بیان کرنا ضروری ہے اور اگر مبیع میں اس کے فعل سے عیب پیدا ہوگیا یا دوسرے کے فعل سے،چاہے اُس نے اس کے حکم سے فعل کیا یا بغیر حکم کے،چاہے اس نے اُس نقصان کا معاوضہ لے لیا ہو یا نہ لیا ہو، یا کنیز بکر تھی اُس سے وطی کی ان باتوں کا ظاہر کردینا ضرور ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: جس وقت اس نے خریدی تھی اُس وقت نرخ گراں تھا(5)اوراب بازار کا حال بدل گیااس کو ظاہر کرنا بھی ضرورنہیں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: جانور یا مکان خریدا تھا اُس کوکرایہ پر دیا مرابحہ میں یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ اس کا اتنا کرایہ وصول کرلیا ہے اور اگر جانور سے گھی دودھ حاصل کیاہے تو اس کو ثمن میں مجرا دیناہوگا۔(7) (فتح)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۷،ص۳۷۰.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،مطلب:اشتری من شریکہ سلعۃ،ج۷،ص۳۷۳.
3 ۔قدرتی آفت مثلاًجلنا،ڈوبناوغیرہ۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،مطلب:اشتری من شریکہ سلعۃ،ج۷،ص۳۷۳.
5 ۔یعنی قیمت زیادہ تھی۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،مطلب:اشتری من شریکہ سلعۃ،ج۷،ص۳۷۴.
7 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۶،ص۱۳۲،۱۳۳.
مسئلہ ۲۹: کوئی چیز گراں خریدی اور اتنے دام(1) زیادہ دیے کہ لوگ اُتنے میں نہیں خریدتے تو مرابحہ وتولیہ میں اس کو ظاہر کرنا ضرور ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: ایک چیز ہزار روپے کی خریدی تھی اور ثمن مؤجل تھا یعنی اُس کی ادا کے لیے ایک مدت مقرر تھی اس کو سوروپے کے نفع پر بیچا تویہ بیان کرنا ضروری ہے کہ بیع میں ثمن مؤجل تھا اور اگر بیان نہ کیا اورمشتری کو بعد میں معلوم ہواتو اسے اختیار ہے کہ گیارہ سومیں لے یانہ لے اور اگر مبیع(3)ہلاک ہوچکی ہے تووہ گیارہ سو بِلامیعاد(4)اس کو دینا لازم ہے۔ (5)(درمختار) ان مسائل میں تولیہ کابھی وہی حکم ہے جو مرابحہ کاہے۔
مسئلہ ۳۱: جتنے میں خریدی تھی یا جتنے میں پڑی ہے اُسی پر تولیہ کیا مگر مشتری کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کیا رقم ہے یہ بیع فاسدہے پھر اگرمجلس میں اُسے علم ہوجائے تواُسے اختیار ہے لے یا نہ لے اور مجلس میں بھی علم نہ ہواتو اب فساد دفع نہیں ہوسکتا۔ مرابحہ کابھی یہی حکم ہے۔ (6) (درمختاروغیرہ)
مسئلہ ۳۲: جو ثمن مقرر ہواتھا بائع نے اُس میں سے کچھ کم کردیا تو مرابحہ وتولیہ میں کم کرنے کے بعد جوباقی ہے وہ راس المال قرار دیاجائے اور اگر مرابحہ وتولیہ کرلینے کے بعد بائع اول نے ثمن کم کیا ہے تویہ بھی مشتری سے کم کردے اور اگر بائع اول نے کل ثمن چھوڑدیا تو جو مقرر ہواتھااُس پر مرابحہ و تولیہ کرے۔(7) (فتح القدیر)
مسئلہ ۳۳: ایک غلام کا نصف سوروپے میں خریداپھر دوسرے نصف کو دوسو میں خریدا جس نصف کا چاہے مرابحہ کرے اور اُس ثمن پرہوگا جس سے اس نے خریدا اور پورے کا مرابحہ کرنا چاہے تو تین سوپر ہوگا۔(8) (عالمگیری)
1 ۔روپے۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،مطلب:اشتری من شریکہ سلعۃ،ج۷،ص۳۷۶.
3 ۔بیچی گئی چیز۔ 4 ۔بغیر کسی میعاد کے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۷،ص۳۷۵.
6 ۔المرجع السابق،ص۳۷۶،وغیرہ.
7 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۶،ص۱۳۳.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الرابع عشر فی المرابحۃ والتولیۃ،ج۳،ص۱۶۱.
بخاری و مسلم و ابوداود و نسائی و بیہقی عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہتے ہیں بازار میں غلہ خرید کر اُسی جگہ (بغیر قبضہ کیے) لوگ بیچ ڈالتے تھے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اُسی جگہ بیع کرنے سے منع فرمایا، جب تک منتقل نہ کرلیں۔ (1) نیز صحیحین میں اُنھیں سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص غلہ خریدے، جب تک قبضہ نہ کرلے اُسے بیع نہ کرے۔'' (2) عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں، جس کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبضہ سے پہلے بیچنا منع کیا، وہ غلہ ہے مگر میراگمان یہ ہے کہ ہرچیز کا یہی حکم ہے۔ (3)
مسئلہ ۱: جائدادغیر منقولہ(4) خریدی ہے اُس کو قبضہ کرنے سے پیشتر بیع کرنا جائز ہے کیونکہ اس کاہلاک ہونا بہت نادر (5)ہے اور اگر وہ ایسی ہو جس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتوجب تک قبضہ نہ کرلے بیع نہیں کرسکتا مثلاً بالاخانہ یادریا کے کنارہ کامکان اور زمین یا وہ زمین جس پر ریتاچڑھ جانے کا اندیشہ ہو۔(6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: منقول چیز خریدی تو جب تک قبضہ نہ کرلے اُس کی بیع نہیں کرسکتا اور ہبہ وصدقہ کرسکتا ہے رہن رکھ سکتا ہے۔ قرض عاریت(7)دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۳: منقول چیز قبضہ سے پہلے بائع کو ہبہ کردی اور بائع نے قبول کرلی تو بیع جاتی رہی اور اگر بائع کے ہاتھ بیع کی تو یہ بیع صحیح نہیں پہلی بیع بدستور باقی رہی۔(9)(درمختار)
مسئلہ ۴: خود بائع نے مشتری کے قبضہ سے پہلے مبیع میں تصرف کیا اس کی دوصورتیں ہیں مشتری کے حکم سے اُس نے
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب البیوع،باب منتہی التلقی،الحدیث:۱۲۶۷،ج۲،ص۳۶.
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب البیوع،باب بیع الطعام قبل ان یقبض...إلخ،الحدیث:۲۱۳۶،ج۲،ص۲۸.
3 ۔المرجع السابق،الحدیث:۲۱۳۵.
4 ۔جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ کی جاسکتی ہواسے جائداد غیر منقولہ کہتے ہیں۔ 5 ۔یعنی کم ہی ایساہوتاہے۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،ج۷،ص۳۸۳.
7 ۔عارضی طور پر۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،ج۷،ص۳۸۳-۳۸۴.
9 ۔المرجع السابق،ص۳۸۵.
تصرف کیا یا بغیر حکم۔ اگر حکم سے تصرف کیا مثلاً مشتری نے کہا اس کوہبہ کردے یا کرایہ پر دیدے بائع نے کردیا تو مشتری کا قبضہ ہوگیا اور اگر بغیر امر تصرف کیا مثلاً وہ چیز رہن رکھدی یا اُجرت پردی۔ امانت رکھ دی اور مبیع ہلاک ہوگئی بیع جاتی رہی اور اگر بائع نے عاریت دی ہبہ کیا۔ رہن رکھا اور مشتری نے جائز کردیا تویہ بھی مشتری کا قبضہ ہوگیا۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: مشتری نے بائع سے کہا فلاں کے پاس مبیع رکھ دو جب میں دام ادا کردونگامجھے دیدے گا اور بائع نے اُسے دیدی تویہ مشتری کا قبضہ نہ ہوا بلکہ بائع ہی کا قبضہ ہے یعنی وہ چیز ہلاک ہوگی تو بائع کی ہلاک ہوگی۔(2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: ایک چیزخریدی تھی اُس پر قبضہ نہیں کیا بائع نے دوسرے کے ہاتھ زیادہ داموں میں بیچ ڈالی مشتری نے بیع جائز کردی جب بھی یہ بیع درست نہیں کہ قبضہ سے پیشتر ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: جس نے کیلی چیز کیل کے ساتھ یا وزنی چیز وزن کے ساتھ خریدی یا عددی چیز گنتی کے ساتھ خریدی تو جب تک ناپ یاتول یا گنتی نہ کرلے اُ س کو بیچنا بھی جائز نہیں اور کھانا بھی جائز نہیں اور اگر تخمینہ سے خریدی یعنی مبیع سامنے موجود ہے دیکھ کر اُس ساری کو خریدلیا یہ نہیں کہ اتنے سیر یا اتنے ناپ یا اتنی تعدادکو خریدا تو اُس میں تصرف کرنے بیچنے کھانے کے لیے ناپ تول وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ اوراگر یہ چیز یں ہبہ، میراث، وصیت میں حاصل ہوئیں یاکھیت میں پیدا ہوئی ہیں تو ناپنے وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: بیع کے بعد بائع نے مشتری کے سامنے ناپا یاتولا تو اب مشتری کوناپنے تولنے کی ضرورت نہیں اور اگر بیع سے قبل اس کے سامنے ناپا تولاتھا یا بیع کے بعد اس کی غیر حاضری میں ناپا تولا تووہ کافی نہیں بغیر ناپے تولے اُس کو کھانا اور بیچناجائز نہیں۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: موزون(6) یا مکیل (7) کو بیع تعاطی کے ساتھ خریدا تومشتری کاناپنا تولنا ضروری نہیں قبضہ کرلینا کافی
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،مطلب:فی تصرف البائع...إلخ،ج۷،ص۳۸۶.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،مطلب:فی تصرف البائع...إلخ،ج۷،ص۳۸۶-۳۸۹.
5 ۔المرجع السابق،ص۳۹۰.
6 ۔تول کر بیچی جانے والی چیزیں ۔ 7 ۔ماپ کر بیچی جانے والی چیزیں ۔
ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: بائع نے بیع سے قبل تولاتھا اس کے بعدایک شخص نے جس کے سامنے تولااُس کو خریدامگر اُس نے نہیں تولا اور بیع کردی اورتول کر مشتری کودی یہ بیع جائز نہیں کہ تولنے سے قبل ہوئی۔(2) (فتح القدیر)
مسئلہ ۱۱: تھان خریدا اگرچہ گزوں کے حساب سے خریدا مثلاً یہ تھان دس گز کا ہے اور اس کے دام یہ ہیں اس میں تصرف ناپنے سے پہلے جائز ہے ہاں اگر بیع میں گز کے حساب سے قیمت ہو مثلاً ایک روپیہ گزتو جب تک ناپ نہ لیا جائے تصرف جائز نہیں اور موزون چیز اگر ایسی ہو کہ اُس کے ٹکڑے کرنا مضر(3) ہو تو وزن کرنے سے پہلے اُس میں تصرف جائز ہے جیسے تانبے وغیرہ کے لوٹے اور برتن۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: ثمن میں قبضہ کرنے سے پہلے تصرف جائز ہے اُس کو بیع وہبہ واجارہ وصدقہ ووصیت سب کچھ کرسکتے ہیں۔ثمن کبھی حاضر ہوتا ہے مثلاً یہ چیز ان دس روپوں کے بدلے میں خریدی اور کبھی حاضر کی طرف اشارہ نہیں کیا جاتا مثلاً یہ چیز دس روپے کے بدلے میں خریدی پہلی صورت میں ہرقسم کے تصرف کرسکتے ہیں مشتری کو بھی مالک کر سکتے ہیں اور غیر مشتری کو بھی اور دوسری صورت میں مشتری کومالک کردینے کے علاوہ دوسرا تصرف نہیں کرسکتے یعنی غیر مشتری کو اُس کی تملیک نہیں کرسکتے مثلاً بائع مشتری سے کوئی چیز اُن روپوں کے بدلے میں خریدسکتا ہے جومشتری کے ذمہ ہیں یا اُس کا جانور یامکان کرایہ پر لے سکتا ہے اور یہ بھی کرسکتاہے کہ وہ روپے اُسے ہبہ کردے صدقہ کردے۔ اور مشتری کے علاوہ دوسرے سے کوئی چیز خریدے اُن روپوں کے بدلے میں جو اس مشتری پر ہیں یادوسرے کوہبہ کرے صدقہ کرے یہ صحیح نہیں۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: ثمن دوقسم ہے ایک وہ کہ معین کرنے سے معین ہوجاتا ہے مثلاً ناپ اورتول کی چیزیں دوسرا وہ کہ معین کرنے سے بھی معین نہ ہو جیسے روپیہ اشرفی کہ بیع صحیح میں معین کرنے سے بھی معین نہیں ہوتے مثلاً کوئی چیز اس روپے کے بدلے میں خریدی یعنی کسی خاص روپیہ کی طرف اشارہ کیا تو اُسی کا دینا واجب نہیں دوسرا روپیہ بھی دے سکتا ہے۔ دس روپے کی جگہ دس کا
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،ج۷،ص۳۸۹-۳۹۰.
2 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل ومن اشتری شیأاً...إلخ،ج۶،ص۱۴۱.
3 ۔ نقصان دہ۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،ج۷،ص۳۹۱.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،مطلب:فی بیان...إلخ،ج۷،ص۳۹۲.
نوٹ پندرہ روپے کی جگہ گنی(1) دے سکتا ہے مشتری کوہر گزیہ حق حاصل نہیں کہ کہے روپیہ لونگا نوٹ اشرفی نہیں لونگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: قبضہ سے پہلے ثمن کے علاوہ کسی دین میں تصرف کرنے کا وہی حکم ہے جو ثمن کا ہے مثلاً مہر، قرض، اُجرت، بدل خلع، تاوان، کہ جس پراس کامطالبہ ہے اُس کو مالک بناسکتے ہیں یعنی اُس سے ان کے بدلے میں کوئی چیز خریدسکتے ہیں اُس کو مکان وغیرہ کی اُجرت میں دے سکتے ہیں ہبہ وصدقہ کرسکتے ہیں اور دوسرے کومالک کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: بیع صرف اور سلم میں جس چیز پر عقد ہوااُس کے علاوہ دوسری چیز کولینا دینا جائز نہیں اور نہ اُس میں کسی دوسری قسم کا تصرف جائز نہ مسلم الیہ(4) راس المال (5) میں تصرف کرسکتاہے اور نہ رب السلم(6) مسلم فیہ(7)میں کہ وہ روپے کے بدلے میں اشرفی لے لے اور یہ گیہوں کے بدلے میں جولے یہ ناجائز ہے۔(8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: مشتری نے بائع کے لیے ثمن میں کچھ اضافہ کردیا بائع نے مبیع میں اضافہ کردیا یہ جائز ہے ثمن یا مبیع میں اضافہ اُسی جنس سے ہویا دوسری جنس سے اُسی مجلس عقد میں ہویابعد میں ہرصورت میں یہ اضافہ لازم ہوجاتا ہے یعنی بعد میں اگر ندامت ہوئی کہ ایسا میں نے کیوں کیا تو بیکار ہے وہ دینا پڑے گا۔ اجنبی نے ثمن میں اضافہ کردیا مشتری نے قبول کرلیا مشتری پرلازم ہوجائیگا اورمشتری نے انکار کردیا باطل ہوگیا ہاں اگراجنبی نے اضافہ کیا اور خود ضامن بھی بن گیا یا کہامیں اپنے پاس سے دوں گا تو اضافہ صحیح ہے اور یہ زیادت اجنبی پر لازم۔(9)(ہدایہ، درمختا، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: مشتری نے ثمن میں اضافہ کیا اس کے لازم ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ بائع نے اُسی مجلس میں قبول بھی کرلیا ہواور اُس مجلس میں قبول نہیں کیا بعد میں کیا تو لازم نہیں اوریہ بھی شرط ہے کہ مبیع موجود ہو، مبیع کے ہلاک ہونے کے بعد ثمن
1 ۔سونے کا ایک انگریزی سکہ۔
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،ج۷،ص۳۹۳.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔بیع سلم میں بائع (بیچنے والے)کومسلم الیہ کہتے ہیں ۔ 5 ۔بیع سلم میں ثمن ( چیز کی قیمت)کو راس المال کہتے ہیں۔
6 ۔بیع سلم میں مشتری(خریدار) کورب السلم کہتے ہیں۔ 7 ۔مبیع(خریدی ہوئی چیز)کو بیع سلم میں مسلم فیہ کہتے ہیں ۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،مطلب:فی تعریف الکر،ج۷،ص۳۹۴.
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل ومن اشتری شیأاً...إلخ،ج۲،ص۵۹۔۶۰.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،مطلب:فی تعریف الکر،ج۷،ص۳۹۴.
میں اضافہ نہیں ہوسکتا مبیع کوبیچ ڈالاہو پھر خریدلیا یا واپس کر لیا ہوجب بھی ثمن میں اضافہ صحیح ہے۔ بکری مرگئی ہے تو ثمن میں اضافہ نہیں ہوسکتا اور ذبح کردی گئی ہے توہوسکتا ہے۔ مبیع میں بائع نے زیادتی کی اس میں بھی مشتری کا اُسی مجلس میں قبول کرناشرط ہے اورمبیع کا باقی رہنا اس میں شرط نہیں مبیع ہلاک ہوچکی ہے جب بھی اُس میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: ثمن میں بائع کمی کرسکتا ہے مثلاً دس روپے میں ایک چیز بیع کی تھی مگر خود بائع کو خیال ہواکہ مشتری پر اس کی گرانی ہوگی(2) اور ثمن کم کردیا یہ ہوسکتاہے اس کے لیے مبیع کا باقی رہنا شرط نہیں۔ یہ کمی ثمن کے قبضہ کرنے کے بعد بھی ہوسکتی ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: کمی زیادتی جوکچھ بھی ہے اگرچہ بعد میں ہوئی ہو اس کو اصل عقد میں شمار کریں گے یعنی کمی بیشی کے بعد جو کچھ ہے اسی پر عقد متصور ہوگا۔ پورے ثمن کا اسقاط نہیں ہوسکتا یعنی مشتری کے ذمہ ثمن کچھ نہ رہے اور بیع قائم رہے کہ بلاثمن بیع قرار پائے یہ نہیں ہوسکتا یہ البتہ ہوگا کہ بیع اُسی ثمن اول پر قرار پائے گی اور یہ سمجھا جائے گا کہ بائع نے مشتری سے ثمن معاف کردیا اس کا نتیجہ وہاں ظاہر ہوگا کہ شفیع(4) نے شفعہ کیاتو پورا ثمن دینا ہوگا۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: کمی بیشی کو اصل عقد میں شمار کرنے کااثر یہ ہوگا کہ 1 مرابحہ و تولیہ میں اسی کا اعتبار ہوگا، ثمن اول کا یا مبیع اول کا اعتبار نہ ہوگا۔ 2 یوہیں اگر ثمن میں زیادتی کردی ہے اورمبیع کا کوئی حقدار پیدا ہوگیا اورمبیع اُس نے لے لی تومشتری بائع سے پورا ثمن واپس لے گا اور اگر اُ س نے بیع کو جائز کردیاتو مشتری سے پورا ثمن لے گااور کمی کی صورت میں جوکچھ باقی ہے وہ لے گا۔ 3 ثمن اگر کم کردیا ہے تو شفیع کو باقی دینا ہوگا مگر ثمن میں اضافہ ہوا ہے توپہلے ثمن پر شفعہ ہوگا، یہ جو کچھ زیادہ کیا ہے نہیں دینا ہوگا کیونکہ شفیع کا حق ثمن اول سے ثابت ہوچکا ان دونوں کو اُس کے مقابلہ میں اضافہ کرنے کاحق نہیں۔ 4 مبیع میں اضافہ کیا ہے اور یہ زائد ہلاک ہوگیا تو ثمن میں اسکا حصہ کم ہوجائے گا۔ 5 ۔ یوہیں ثمن میں کم وبیش کیا ہے اور مبیع کُل یا اس کا جُز ہلاک ہوگیا تو اس کم یا زیادہ کا اعتبار ہوگا ثمن اول کا اعتبار نہ ہوگا۔ 6 بائع کو ثمن وصول کرنے کے لیے مبیع کے روکنے کا تعلق ثمن اول سے نہیں بلکہ اس سے ہے یعنی مثلاً زیادہ کردیا ہو تو جب تک مشتری اس زیادت (6)کو ادا نہ کرلے مبیع کو بائع روک سکتا
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،ج۷،ص۳۹۵.
2 ۔یعنی اس پربوجھ ہوگا۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،ج۷،ص۳۹۴.
4 ۔ حق شفعہ کرنے والا۔
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،مطلب:فی تعریف الکر،ج۷،ص۳۹۶.
6 ۔یعنی اضافہ۔
ہے۔ 7 بیع صرف میں کم و بیش کا یہ اثر ہوگا کہ مثلاً چاندی کو چاندی سے بیچا تھا اور دونوں طرف برابری تھی پھرایک نے زیادہ یاکم کردی دوسرے نے اُسے قبول کرلیا اور زائد یا کم پر قبضہ بھی ہوگیا تو عقد فاسد ہوگیا۔(1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: ثمن میں اگر عرض (غیر نقود) زیادہ کردیا اور یہ چیز قبضہ سے پہلے ہلاک ہوگئی تو بقدراس کی قیمت کے عقد فسخ ہوجائے گا مثلاً سوروپے میں کوئی چیز خریدی تھی اور تقابض بدلین (2) بھی ہوگیا پھر مشتری نے پچاس روپے کی کوئی چیز ثمن میں اضافہ کردی اور یہ چیز قبضہ سے پہلے ہلاک ہوگئی تو عقد بیع ایک تہائی میں فسخ ہو جائے گا۔(3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: مبیع میں اگر مشتری کمی کرنا چاہے اورمبیع ازقبیل دَین(4)یعنی غیر معین ہو تو جائز ہے اورمعین ہو تو کمی نہیں ہوسکتی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: بائع نے اگر عقد بیع کے بعد مشتری کو ادائے ثمن کے لیے مہلت دی یعنی اُس کے لیے میعاد مقرر کردی اورمشتری نے بھی قبول کرلی تویہ دَین میعادی ہوگیا یعنی بائع پر وہ معیاد لازم ہوگئی اُس سے قبل مطالبہ نہیں کرسکتا۔ ہر دَین(6) کا یہی حکم ہے کہ میعادی نہ ہواور بعد میں میعاد مقرر ہوجائے تو میعادی ہوجاتا ہے مگر مدیون کا قبول کرنا شرط ہے اگر اُس نے انکار کردیا تو میعادی نہیں ہوگا فوراً اُس کا ادا کرنا واجب ہوگا اور دائن جب چاہے گا مطالبہ کرسکے گا۔ (7) (درمختاروغیرہ)
مسئلہ ۲۴: دَین کی میعاد کبھی معلوم ہوتی ہے مثلاً فلاں مہینہ کی فلاں تاریخ اور کبھی مجہول مگر جہالت یسیرہ (8) ہو تو جائز
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،مطلب:فی تعریف الکر،ج۷،ص۳۹۶.
2 ۔تقابض بدلین یعنی مشتری (خریدار) کا مبیع پر اور بائع(بیچنے والے) کا ثمن پر قبضہ کرنا۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،مطلب:فی تعریف الکر،ج۷،ص۳۹۸.
4 ۔یعنی قرض کی قسم۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،ج۷،ص ۳۹۸.
6 ۔جو چیز واجب فی الذمہ ہو کسی عقد مثلاً بیع یا اجارہ کی وجہ سے یا کسی چیز کے ہلاک کرنے سے اسکے ذمہ تاوان ہوا یا قرض کی وجہ سے واجب
ہوا، ان سب کو دَین کہتے ہیں۔ دَین کی ایک خاص صورت کا نام قرض ہے، جس کو لوگ دستگرداں کہتے ہیں۔ ہر دَین کو آج کل لوگ قرض
بولا کرتے ہیں، یہ فقہ کی اصطلاح کے خلاف ہے۔ ۱۲ منہ
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،ج۷،ص۴۰۰.
8 ۔ایسی جہالت جس میں زیادہ ابہام نہ ہو جہالت یسیرہ کہلاتی ہے جیسے کھیتی کٹنا۔
ہے مثلاً جب کھیت کٹے گا۔ اور اگرزیادہ جہالت ہو مثلاً جب آندھی آئے گی یا پانی برسے گایہ میعاد باطل ہے۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۵: دَین کی میعاد کو شرط پر معلق بھی کرسکتے ہیں مثلاً ایک شخص پر ہزار روپے ہیں اُس سے دائن کہتا ہے اگر پانچ سو روپے کل ادا کردو توباقی پانچ سو کے لیے چھ ماہ کی مہلت ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: بعض دَین میں میعاد مقرر بھی کی جائے تو میعادی نہیں ہوتے۔ 1 قرض جس کو دست گردان کہا جاتا ہے یہ میعادی نہیں ہوسکتا یعنی مقرض (قرض دینے والے) نے اگر کوئی میعاد مقرر کر بھی دی ہو تو وہ میعاد اُس پر لازم نہیں، جب چاہے مطالبہ کرسکتا ہے۔ 2 بیع صرف کے بدلین(3)اور 3 بیع سلم کاثمن جس کو راس المال کہتے ہیں، ان دونوں میں میعاد مقرر کرنا نا جائز ہے، اُسی مجلس میں ان پرقبضہ کرنا ضرورہے۔ 4 مشتری نے شفیع کے لیے میعاد مقرر کردی، یہ بھی صحیح نہیں۔ 5 ایک شخص پر دَین تھا اُس کی معیادمقرر تھی وہ قبل معیاد مرگیا اورمال چھوڑا یا وہ دَین غیر میعادی تھا اُس کے مرنے کے بعد دائن نے ورثہ کو ادائے دین کے لیے میعاددی یہ میعاد صحیح نہیں کہ یہ دین اُس شخص کے ذمہ تھا اُس کے مرنے کے بعد دَین کا تعلق ترکہ سے ہے اور جب ترکہ موجود ہے تومیعاد کے کیا معنے یہاں دَین کاتعلق ورثہ کے ذمہ سے نہیں کہ اُن سے وصول کیا جائے اُن کومہلت دی جائے۔ 6 اقالہ میں مبیع مشتری نے واپس کردی اور ثمن بائع کے ذمہ ہے اُس کو مشتری نے مہلت دی یہ میعاد بھی صحیح نہیں۔(4)(درمختار) میعاد صحیح نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ دائن کو فوراًوصول کرلینا واجب ہے وصول نہ کرے تو گنہگار ہے بلکہ یہ کہ مدیون کو فوراًدینا واجب ہے اور دائن کا مطالبہ صحیح ہے اور دائن وصول کرنے میں تاخیر کررہا ہے تویہ اُس کا ایک احسان وتبرع (5)ہے مگر بیع صرف کے بدلین اورسلم کے راس المال پر اُسی مجلس میں قبضہ کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ ۲۷: بعض صورتوں میں قرض کے متعلق بھی میعاد صحیح ہے۔1 قرض سے قرض دار منکر تھا اور ایک رقم پر صلح ہوئی اور اس کی ادائیگی کے لیے میعاد مقرر ہوئی، یہ میعاد صحیح ہے مثلاً ایک شخص پر ہزار روپے قرض ہیں اور سوروپے پرایک ماہ کی مدت قرار دیکر صلح ہوئی ہزار کے سو ملیں یعنی نوسو معاف ہیں یہ صحیح ہے مگر میعاد صحیح نہیں یعنی فی الحال دینا واجب ہے اور اگر اس صورتِ مذکورہ میں قرضدار انکاری ہو تو میعاد صحیح ہے۔ 2 یوہیں قرضدار نے قرض خو اہ سے تنہائی میں کہا، کہ اگر تم مہلت نہ دوگے تو میں اس قرض کا اقرار ہی نہیں کروں گا، اُس نے گواہوں کے سامنے میعادی دَین کا اقرار کیا۔ 3 قرضدار نے قرض خواہ (6)کے مطالبہ کوکسی
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۲،ص۶۰.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،ج۷،ص۴۰۰.
3 ۔یعنی ثمن اور مبیع۔
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،ج۷ص۴۰۱.
5 ۔یعنی بخشش۔ 6 ۔ جس کاکسی پرقرض ہواس کوقرض خواہ کہتے ہیں۔
دوسرے شخص پر حوالہ کردیا اور اُس کوقرض خواہ نے مہلت دی تویہ میعاد صحیح ہے۔ 4 یا ایسے پر حوالہ کیا کہ خود قرضدار کا اس پر میعادی دین تھا تویہ قرض بھی میعادی ہوگیا۔ 5 کسی شخص نے وصیت کی میرے مال سے فلاں کو اتنا روپیہ اتنی میعاد پر قرض دیا جائے اور ثلث مال سے قرض دیا گیا۔ 6 یا یہ وصیت کی کہ فلاں شخص پر جو میرا قرض ہے میرے مرنے کے بعد ایک سال تک اُسکو مہلت ہے ان صورتوں میں قرض میعادی ہوجائے گا۔(1) (درمختار، فتح القدیر)
حدیث ۱: صحیح بخاری میں ابوبردہ بن ابی موسیــ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں مدینہ میں آیا اور عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اُنھوں نے فرمایا: تم ایسی جگہ میں رہتے ہو جہاں سود کی کثرت ہے، لہٰذا اگر کسی شخص کے ذمہ تمھارا کوئی حق ہو اور وہ تمھیں ایک بوجھ بھوسہ یا جَو یا گھاس ہدیہ میں دے تو ہرگز نہ لینا کہ وہ سود ہے۔ (2)
حدیث ۲: امام بخاری تاریخ میں انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب ایک شخص دوسرے کو قرض دے تو اُس کا ہدیہ قبول نہ کرے۔'' (3)
حدیث ۳: ابن ماجہ و بیہقی اُنھیں سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب کوئی قرض دے اور اس کے پاس وہ ہدیہ کرے تو قبول نہ کرے اور اپنی سواری پر سوار کرے تو سوار نہ ہو، ہاں اگر پہلے سے ان دونوں میں (ہدیہ وغیرہ) جاری تھا تو اب حرج نہیں۔'' (4)
حدیث ۴: نسائی نے عبداﷲ بن ابی ربیعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہتے ہیں مجھ سے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قرض لیا تھا۔ جب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے پاس مال آیا، ادا فرما دیا اور دعا دی کہ اﷲ تعالیٰ تیرے اہل و مال میں برکت کرے اور فرمایا: ''قرض کا بدلہ شکریہ ہے اور ادا کر دینا۔'' (5)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی التصرف...إلخ،ج۷،ص۴۰۳.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل ومن اشتری شیأاً...إلخ،ج۶،ص۱۴۵-۱۴۶.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب مناقب الانصار، باب مناقب عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ،الحدیث: ۳۸۱۴،ج۲، ص۵۶۴.
3 ۔''مشکاۃ المصابیح''،کتاب البیوع،باب الربا،الفصل الثالث،الحدیث:۲۸۳۲،ج۲،ص۱۴۳.
4 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب الصدقات،باب القرض،الحدیث:۲۴۳۲،ج۳،ص۱۵۵.
5 ۔''سنن النسائي''،کتاب البیوع،باب الإستقراض،الحدیث: ۴۶۹۲، ص۷۵۳.
حدیث ۵: امام احمد عمر ان بن حصین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس کا دوسرے پر حق ہو اور وہ ادا کرنے میں تاخیر کرے تو ہرروز اُتنا مال صدقہ کردینے کا ثواب پائے گا۔'' (1)
حدیث ۶: امام احمد سعد بن اطول رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں میرے بھائی کا انتقال ہوا اور تین سو دینار اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے، میں نے یہ ارادہ کیا کہ یہ دینار بچوں پر صرف کرونگا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ''تیرا بھائی دَین میں مُقَیَّد(2) ہے، اُ سکا دَین ادا کر دے۔'' میں نے جا کر ادا کردیا پھر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں نے ادا کر دیا، صرف ایک عورت باقی ہے جو دو دینار کا دعویٰ کرتی ہے، مگر اُس کے پاس گواہ نہیں ہیں۔ فرمایا: ''اُسے دیدے، وہ سچّی ہے۔'' (3)
حدیث ۷: امام مالک نے روایت کی ہے، کہ ایک شخص نے عبداﷲ بن عمر (رضی اللہ عنہ)کے پاس آکر عرض کی، کہ میں نے ایک شخص کو قرض دیا ہے اور یہ شرط کرلی ہے کہ جو دیا ہے اُس سے بہتر ادا کرنا۔ اُنھوں نے کہا، یہ سود ہے۔ اُس نے پوچھا تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا، قرض کی تین صورتیں ہیں: ایک وہ قرض ہے جس سے مقصود اﷲ (عزوجل) کی رضا حاصل کرنا ہے، اس میں تیرے لیے اﷲ (عزوجل) کی رضا ملے گی اور ایک وہ قرض ہے جس سے مقصود کسی شخص کی خوشنودی ہے، اس قرض میں صرف اُس کی خوشنودی حاصل ہوگی اور ایک وہ قرض ہے جو تو نے اس لیے دیا ہے کہ طیب دیکر خبیث حاصل کرے۔
اُس شخص نے عرض کی، تو اب مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا، دستاویز پھاڑ ڈال پھر اگر وہ قرضدار ویسا ہی ادا کرے جیسا تو نے اُسے دیا تو قبول کر اور اگر اُس سے کم ادا کرے اور تونے لے لیا تو تجھے ثواب ملے گا اور اگر اُس نے اپنی خوشی سے بہتر ادا کیا تویہ ایک شکریہ ہے، جواُس نے کیا۔ (4)
مسئلہ ۱: جو چیز قرض دی جائے لی جائے اُس کا مثلی ہونا ضرور ہے یعنی ماپ کی چیز ہویا تول کی ہو یا گنتی کی ہو مگر گنتی کی
1 ۔''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،حدیث عمران بن حصین،الحدیث:۱۹۹۹۷،ج۷،ص۲۲۴.
2 ۔یعنی گھراہوا ہے۔
3 ۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،حدیث سعد بن الاطوال،الحدیث:۱۷۲۲۷،ج۶،ص۱۰۳.
4 ۔''کنزالعمال''،کتاب البیوع،باب الرباواحکامہ،الحدیث:۱۰۱۴۰،الجزء الرابع،ج۲،ص۸۲.
و''المصنف''لعبد الرزاق،کتاب البیوع،باب قرض جر منفعۃ،الحدیث:۱۴۷۴۱،ج۸،ص۱۱۳-۱۱۴.
و''السنن الکبری''للبیھقي،کتاب البیوع،باب لاخیر ان یسلفہ...إلخ،الحدیث:۱۰۹۳۷،ج۵،ص۵۷۴.
چیز میں شرط یہ ہے کہ اُس کے افراد میں زیادہ تفاوت(1)نہ ہو، جیسے انڈے، اخروٹ، بادام، اور اگر گنتی کی چیز میں تفاوت زیادہ ہو جس کی وجہ سے قیمت میں اختلاف ہو جیسے آم، امرود، ان کوقرض نہیں دے سکتے۔ یوہیں ہر قیمی چیز جیسے جانور، مکان، زمین، ان کا قرض دینا صحیح نہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: قرض کا حکم یہ ہے کہ جو چیز لی گئی ہے اُس کی مثل ادا کی جائے لہٰذا جس کی مثل نہیں قرض دینا صحیح نہیں۔ جس چیز کو قرض دینا لینا جائز نہیں اگر اُس کو کسی نے قرض لیا اُس پر قبضہ کرنے سے مالک ہوجائے گا مگر اُس سے نفع اُٹھانا حلال نہیں مگر اُس کو بیع کریگا تو بیع صحیح ہوجائے گی اُس کا حکم ویسا ہی ہے جیسے بیع فاسدمیں مبیع پرقبضہ کرلیا کہ واپس کرنا ضروری ہے، مگر بیع کردے گا تو بیع صحیح ہے۔(3)(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۳: کاغذ کو قرض لینا جائز ہے جبکہ اس کی نوع وصفت کا بیان ہوجائے اور اس کو گنتی کے ساتھ لیا جائے اور گن کردیا جائے۔ (4) (درمختار) مگر آج کل تھوڑے سے کاغذوں میں خریدوفروخت و قرض میں گن کرلیتے دیتے ہیں زیادہ مقدار یعنی رِموں (5) میں وزن کا اعتبار ہوتا ہے یعنی مثلاً اتنے پونڈ(6) کا رِم عرف میں تختے نہیں گنتے اس میں حرج نہیں۔
مسئلہ ۴: روٹیوں کو گن کر بھی قرض لے سکتے ہیں اور تول کربھی۔ گوشت وزن کرکے قرض لیاجائے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۵: آٹے کوناپ کرقرض لینا دینا چاہیے اور اگر عرف وزن سے قرض لینے کا ہو جیسا کہ عموماًہندوستان میں ہے تو وزن سے بھی قرض جائز ہے۔(8)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: ایندھن کی لکڑی اور دوسری لکڑیاں اور اُپلے(9)اور تختے اور ترکاریاں اور تازہ پھول ان سب کا قرض لینا
1 ۔یعنی فرق۔
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی القرض،ج۷ص۴۰۷.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض...إلخ،ج۳،ص۲۰۱.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی القرض،ج۷ص۴۰۷.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی القرض،ج۷ص۴۰۷.
5 ۔رم کی جمع ،کاغذوں کے بیس دستوں کا بنڈل۔ 6 ۔سولہ اونس یا آدھا کلو کے برابر وزن کوپونڈ کہتے ہیں۔
7 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی القرض،ج۷،ص۴۰۸.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض...إلخ،ج۳،ص۲۰۱.
9 ۔ گوبر کے خشک ٹکڑے۔
دینا درست نہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: کچّی اور پکّی اینٹوں کا قرض جائز ہے جبکہ ان میں تفاوت نہ ہو جس طرح آج کل شہر بھر میں ایک طرح کی اینٹیں طیارہوتی ہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: برف کو وزن کے ساتھ قرض لینا درست ہے اوراگر گرمیوں میں برف قرض لیا تھا اور جاڑے میں ادا کردیا یہ ہوسکتا ہے مگر قرض دینے والا اس وقت نہیں لینا چاہتا وہ کہتا ہے گرمیوں میں لوں گا اوریہ ابھی دینا چاہتا ہے تومعاملہ قاضی کے پاس پیش کرنا ہوگا وہ وصول کرنے پر مجبور کریگا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: پیسے قرض لیے تھے اُن کا چلن جاتارہا تو ویسے ہی پیسے اُسی تعداد میں دینے سے قرض ادا نہ ہو گا بلکہ اُن کی قیمت کا اعتبار ہے مثلاً آٹھ آنے کے پیسے تھے تو چلن بند ہونے کے بعد اٹھنی یا دوسرا سکہ اس قیمت کا دینا ہوگا۔ (4) (درمختاروغیرہ)
مسئلہ ۱۰: ادائے قرض میں چیز کے سستے مہنگے ہونے کا اعتبار نہیں مثلاً دس سیر گیہوں قرض لیے تھے اُن کی قیمت ایک روپیہ تھی اور ادا کرنے کے دن ایک روپیہ سے کم یا زیادہ ہے اس کا بالکل لحاظ نہیں کیا جائے گا وہی دس سیر گیہوں دینے ہونگے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: ایک شہر میں مثلاً غلہ قرض لیا اور دوسرے شہر میں قرض خواہ نے مطالبہ کیا تو جہاں قرض لیا تھا وہاں جو قیمت تھی وہ دیدی جائے، قرضدار اس پر مجبور نہیں کرسکتا کہ میں یہاں نہیں دونگا، وہاں چل کر وہ چیز لے لو۔ ایک شہر میں غلہ قرض لیا دوسرے شہر میں جہاں غلہ گراں ہے قرض خواہ اُس سے غلہ کا مطالبہ کرتا ہے قرض دار سے کہا جائے گا اس بات کاضامن دیدو کہ اپنے شہر میں جاکر غلہ ادا کرونگا۔(6)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: میوے قرض لیے مگر ابھی ادا نہیں کیے کہ یہ میوے ختم ہوچکے بازار میں ملتے نہیں قرضخواہ کو انتظار کرنا پڑے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض...إلخ،ج۳،ص۲۰۱.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۰۲. 3 ۔المرجع السابق،ص۲۰۲.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی القرض،ج۷،ص۴۰۸وغیرہ.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی القرض،ج۷،ص۴۰۸.
6 ۔المرجع السابق،ص۴۰۹.
گا کہ نئے پھل آجائیں اُس وقت قرض ادا کیا جائے اور اگر دونوں قیمت دینے لینے پر راضی ہوجائیں تو قیمت ادا کردی جائے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: قرضدار نے قرض پر قبضہ کرلیا اُس چیزکامالک ہوگیا فرض کرو ایک چیز قرض لی تھی اور ابھی خرچ نہیں کی ہے کہ اپنی چیز آگئی مثلاً روپیہ قرض لیا تھا اور روپیہ آگیا یاآٹا قرض لیا تھا پکنے سے پہلے آٹا پِس کر آگیااب قرض دار کویہ اختیار ہے کہ اُس کی چیز رہنے دے اور اپنی چیز سے قرض ادا کرے یا اُس کی ہی چیز دیدے جس نے قرض دیا ہے وہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے جوچیز دی تھی وہ تمھارے پاس موجود ہے میں وہی لونگا۔ (2) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: قرض کی چیز قرضدار کے پاس موجود ہے قرضداراُ س کو خود قرض خوا ہ کے ہاتھ بیع کرے یہ صحیح ہے کہ وہ مالک ہے اور قرضخواہ بیع کرے یہ صحیح نہیں کہ یہ مالک نہیں۔ ایک شخص نے دوسرے سے غلہ قرض لیا قرضدار نے قرضخواہ سے روپیہ کے بدلے اُس کو خریدلیا یعنی اُس دَین کو خریدا جو اس کے ذمہ ہے مگر قرض خواہ نے روپیہ پر ابھی قبضہ نہیں کیا تھا کہ دونوں جدا ہوگئے بیع باطل ہوگئی۔(3)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: غلام، تاجر اور مکاتب اور نابالغ اور بوہرا، یہ سب کسی کو قرض دیں یہ ناجائز ہے کہ قرض تبرع(4) ہے اور یہ تبرع نہیں کرسکتے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: صبی محجور (جس کو خریدو فروخت کی ممانعت ہے) کو قرض دیا یا اُس کے ہاتھ کوئی چیز بیع کی اُس نے خرچ کر ڈالی تو اس کا معاوضہ کچھ نہیں بوہرے اور مجنو ن کو قرض دینے کا بھی یہی حکم ہے اور اگر وہ چیز موجود ہے خرچ نہیں ہوئی ہے تو قرض خواہ واپس لے سکتا ہے غلام محجور کو قرض دیا ہے تو جب تک آزاد نہ ہواُس سے مؤاخذہ نہیں ہوسکتا۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: ایک شخص سے دوسرے نے روپے قرض مانگے وہ دینے کولایا اس نے کہا پانی میں پھینک دو اُس نے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی القرض،ج۷،ص۴۱۰.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی القرض،ج۷،ص۴۱۰.
و''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الیوع،الباب التاسع عشر فی القرض...إلخ،ج۳،ص۲۰۱.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی القرض،ج۷،ص۴۱۱.
4 ۔احسان۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض...إلخ،ج۳،ص۲۰۶.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی القرض،مطلب فی شرائ...إلخ،ج۷،ص۴۱۱.
پھینک دیا تو اس کاکچھ نقصان نہیں اُس نے اپنا مال پھینکا اور اگر بائع مبیع کو مشتری کے پاس لایا یا امین امانت کو مالک کے پاس لایا انھوں نے کہا پھینک دو، انھوں نے پھینک دیا تو مشتری اور مالک کا نقصان ہوا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: قرض میں کسی شرط کا کوئی اثر نہیں شرطیں بیکار ہیں مثلاً یہ شرط کہ اس کے بدلے میں فلاں چیز دینا یا یہ شرط کہ فلاں جگہ (کسی دوسری جگہ کا نام لے کر) واپس کرنا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: واپسی قرض میں اُس چیز کی مثل دینی ہوگی جولی ہے نہ اُس سے بہتر نہ کمترہاں اگر بہتر ادا کرتا ہے اور اس کی شرط نہ تھی تو جائز ہے دائن اُس کولے سکتا ہے۔ یوہیں جتنا لیا ہے ادا کے وقت اُس سے زیادہ دیتا ہے مگر اس کی شرط نہ تھی یہ بھی جائز ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: چند شخصوں نے ایک شخص سے قرض مانگا اور اپنے میں سے ایک شخص کے لیے کہہ گئے کہ اس کو دے دیناقرض خواہ اس شخص سے اُتنا ہی مطالبہ کرسکتا ہے جتنا اس کا حصہ ہے باقیوں کے حصوں کے وہ خود ذمہ دارہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: قرض دیا اور ٹھہرالیا کہ جتنا دیا ہے اُس سے زیادہ لے گا جیسا کہ آج کل سود خواروں (5)کا قاعدہ ہے کہ روپیہ دو روپے سیکڑا ماہوار سود ٹھہرا لیتے ہیں یہ حرام ہے۔ یوہیں کسی قسم کے نفع کی شرط کرے ناجائز ہے مثلاً یہ شرط کہ مستقرض، (6) مُقرِض(7) سے کوئی چیز زیادہ داموں میں خریدے گایا یہ کہ قرض کے روپے فلاں شہر میں مجھ کو دینے ہوں گے۔(8)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۲: جس پر قرض ہے اُس نے قرض دینے والے کو کچھ ہدیہ کیا تو لینے میں حرج نہیں جبکہ ہدیہ دینا قرض کی وجہ سے نہ ہو بلکہ اس وجہ سے ہو کہ دونوں میں قرابت (9)یا دوستی ہے یااُس کی عادت ہی میں جود وسخاوت ہے کہ لوگوں کوہدیہ کیا کرتا ہے اور اگر قرض کی وجہ سے ہدیہ دیتا ہے تو اس کے لینے سے بچنا چاہیے اور اگر یہ پتا نہ چلے کہ قرض کی وجہ سے ہے یانہیں ،جب بھی پرہیز ہی کرنا چاہیے جب تک یہ بات ظاہر نہ ہوجائے کہ قرض کی وجہ سے نہیں ہے۔ اُس کی دعوت کابھی یہی حکم ہے کہ قرض کی وجہ سے نہ ہو تو قبول کرنے میں حرج نہیں اور قرض کی وجہ سے ہے ،یا پتا نہ چلے تو بچنا چاہیے۔ اس کو یوں سمجھنا چاہیے کہ قرض
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی القرض،ج۷،ص۴۱۲.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص۴۱۳. 4 ۔المرجع السابق،ص۴۱۴.
5 ۔سود کھانے والوں۔ 6 ۔قرض دار۔ 7 ۔قرض دینے والا۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض...إلخ،ج۳،ص۲۰۲-۲۰۳.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المرابحۃوالتولیۃ،فصل فی القرض،ج۷،ص۴۱۳.
9 ۔یعنی رشتہ داری۔
نہیں دیا تھا جب بھی دعوت کرتا تھا تو معلوم ہوا کہ یہ دعوت قرض کی وجہ سے نہیں اور اگر پہلے نہیں کرتا تھا اور اب کرتا ہے، یا پہلے مہینے میں ایک بار کرتا تھا اور اب دوبار کرنے لگا، یا اب سامان ضیافت (1) زیادہ کرتا ہے تو معلوم ہواکہ یہ قرض کی وجہ سے ہے اس سے اجتناب چاہیے۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: جس قسم کا دَین تھا مدیون اُس سے بہتر ادا کرنا چاہتا ہے دائن کو اُس کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے اور گھٹیادینا چاہتا ہے جب بھی مجبور نہیں کرسکتے اور دائن(3) قبول کرلے تو دونوں صورتوں میں دین ادا ہوجائے گا۔یوہیں اگر اس کے روپے تھے وہ اُسی قیمت کی اشرفی دینا چاہتا ہے دائن قبول کرنے پر مجبور نہیں۔ کہہ سکتا ہے میں نے روپیہ دیا تھا روپیہ لونگا اور اگر دین میعادی تھا میعاد پوری ہونے سے پہلے ادا کرتا ہے تو دائن لینے پر مجبور کیا جائے گا وہ انکار کرے یہ اُس کے پاس رکھ کر چلا آئے دین ادا ہوجائے گا۔(4) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۴: قرضدار قرض ادا نہیں کرتا اگر قرض خواہ کو اُس کی کوئی چیز اُسی جنس کی جو قرض میں دی ہے مل جائے تو بغیر دیے لے سکتا ہے بلکہ زبردستی چھین لے جب بھی قرض ادا ہو جائے گا دوسری جنس کی چیز بغیر اُسکی اجازت نہیں لے سکتا ہے مثلاً روپیہ قرض دیا تھا تو روپیہ یا چاندی کی کوئی چیز ملے لے سکتا ہے اور اشرفی یا سونے کی چیز نہیں لے سکتا (5) ۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: زید نے عمرو سے کہا مجھے اتنے روپے قرض دو میں اپنی یہ زمین تمھیں عاریت دیتا ہوں جب تک میں روپیہ ادا نہ کروں تم اس کی کا شت کرواور نفع اُٹھاؤیہ ممنوع ہے۔(7) (عالمگیری) آج کل سود خوروں کا عام طریقہ یہ ہے کہ قرض دیکر مکان یا کھیت رہن رکھ لیتے ہیں مکان ہے تو اُس میں مرتہن سکونت کرتا ہے یا اُس کو کرایہ پر چلاتا ہے کھیت ہے تو اُس کی خود کاشت کرتا ہے یا اجارہ پر دیدیتا ہے اورنفع خود کھاتا ہے یہ سود ہے اس سے بچنا واجب۔
1 ۔مہمان نوازی کا سامان۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض...إلخ،ج۳،ص۲۰۳.
3 ۔جس کاکسی پرقرض ہواس کودائن کہتے ہیں۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض...إلخ،ج۳،ص۲۰۴،وغیرہ.
5 ۔اعلی حضرت امام احمد رضاخاں بریلوی علیہ رحمۃاللہ القوی فتاوی رضویہ میں علامہ شامی اور طحطاوی علیہماالرحمہ کے حوالے سے امام اخصب رحمۃا للہ علیہ سے نقل کرتے ہوئے ذکر کرتے ہیں کہ :''خلاف جنس سے وصول کرنے کا عدم جواز مشائخ کے زمانے میں تھاکیوں کہ وہ لوگ باہم متفق تھے آج کل فتوی
ا س پر ہے کہ جب اپنے حق کی وصولی پر قادر ہوچاہے کسی بھی مال سے ہوتو وصول کرنا جائز ہے ۔(فتاوی رضویہ ،ج ۱۷، ص ۵۶۲ ) ۔...عِلْمِیہ
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض...إلخ،ج۳،ص۲۰۳،۲۰۴.
7 ۔المرجع السابق،ص۲۰۴.
مسئلہ ۲۶: نصرانی نے نصرانی کو شراب قرض دی پھر مسلمان ہوگیا قرض ساقط(1) ہوگیا اُس سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: زید نے عمرو سے کہا فلاں شخص سے میرے لیے دس روپے قرض لادو اُس نے قرض لاکر دیدیے مگر زید کہتا ہے مجھے نہیں دیے تو عمرو کو اپنے پاس سے دینے ہوں گے۔ اور اگر زید نے عمرو کو رقعہ اس مضمون کا لکھ کر کسی کے پاس بھیجا کہ میرے روپے جو تم پر قرض ہیں بھیج دو اُس نے عمرو کے ہاتھ بھیج دیے تو جب تک یہ روپے زید کو وصول نہ ہوں اُس وقت تک زید کے نہیں ہیں یعنی قرض ادا نہ ہوگا اور اگر زید نے عمرو کی معرفت کسی کے پاس کہلا بھیجا کہ دس روپے مجھے قرض بھیج دو اُس نے عمرو کے ہاتھ بھیج دیے تو زید کے ہوگئے ضائع ہونگے تو زیدکے ضائع ہوں گے جب کہ زید اس کا مقرہوکہ عمرو کواُس نے دیے تھے۔ (3) (خانیہ)
مسئلہ ۲۸: زید نے عمرو کوکسی کے پاس بھیجا کہ اُس سے ہزار روپے قرض مانگ لائے اُس نے قرض دیا مگر عمرو کے پاس سے جاتا رہا اگر عمرو نے اس سے یہ کہا تھا کہ زید کو قرض دو تو زید کا نقصان ہوا اور یہ کہا تھاکہ زید کے لیے مجھے قرض دو تو عمرو کا نقصان ہوا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: جس چیز کا قرض جائز ہے اُسے عاریت کے طور پر لیا تووہ قرض ہے اورجس کاقرض نا جائز ہے اُسے عاریت لیا تو عاریت ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: روپے قرض لیے تھے اُس کو نوٹ یا اشرفیاں دیں کہ توڑا کر اپنے روپے لے لو، اُس کے پاس توڑانے سے پہلے ضائع ہوگئے تو قرضدارکے ضائع ہوئے اور توڑانے کے بعد ضائع ہوئے تو دو صورتیں ہیں اپنا قرض لیا تھا یا نہیں اگر نہیں لیا تھاجب بھی قرضدار کا نقصان ہوااور قرض کے روپے اُن میں لینے کے بعد ضائع ہوئے تواس کے(6) ہلاک ہوئے اور اگر نوٹ یا اشرفیاں دے کر یہ کہا کہ اپنا قرض لو اُس نے لے لیا تو قرض ادا ہوگیا ضائع ہوگا اس کا (7)نقصان ہوگا۔(8) (عالمگیری)
1 ۔ختم ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض...إلخ،ج۳،ص۲۰۴.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،باب الصرف الدراہم،ج۱،ص۳۹۳.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض...إلخ،ج۳،ص۲۰۷.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔یعنی قرض وصول کرنے والے کے۔ 7 ۔یعنی قرض وصول کرنے والے کا۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض...إلخ،ج۳،ص۲۰۷.
اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
(وَ اِنۡ کَانَ ذُوۡعُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ ؕ وَ اَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۸۰﴾ (1)
''اور اگر مدیون تنگدست ہے تو وسعت آنے تک اُسے مہلت دو اور صدقہ کر دو (معاف کر دو) تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔''
حدیث ۱: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ایک شخص (زمانہ گزشتہ میں) لوگوں کو اُودھار دیا کرتا تھا، وہ اپنے غلام سے کہا کرتا جب کسی تنگدست مدیون کے پاس جانا اُس کو معاف کردینا اس امید پر کہ خدا ہم کو معاف کردے، جب اُسکا انتقال ہوا اﷲ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔'' (2)
حدیث ۲: صحیح مسلم میں ابو قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس کو یہ بات پسند ہو کہ قیامت کی سختیوں سے اﷲ تعالیٰ اُسے نجات بخشے، وہ تنگدست کو مہلت دے یامعاف کر دے۔'' (3)
حدیث ۳: صحیح مسلم میں ہے، ابوالیسر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، میں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا: کہ ''جو شخص تنگدست کو مہلت دے گا یا اُسے معاف کردیگا، اﷲ تعالیٰ اُس کو اپنے سایہ میں رکھے گا۔'' (4)
حدیث ۴: صحیحین میں کعب بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ اُنھوں نے ابن ابی حدرد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اپنے دَین کا تقاضا کیااور دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اپنے حجرہ سے ان کی آوازیں سُنیں، تشریف لائے اور حجرہ کا پردہ ہٹا کر مسجد نبوی میں کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو پکارا۔ اُنھوں نے جواب دیا لبیک یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آدھا دَین معاف کر دو۔ اُنھوں نے کہا، مَیں
ـ1 ۔پ۳،البقرۃ:۲۸۰.
2 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب احادیث الانبیائ،الحدیث:۳۴۸۰،ج۲،ص۴۷۰.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ... إلخ،باب فضل انظار المعسر،الحدیث:۳۲-(۱۵۶۳)، ص۸۴۵.
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الزھد... إلخ، باب حدیث جابر الطویل...إلخ،الحدیث:۷۴-(۳۰۰۶)،ص۱۶۰۳.
نے کیا یعنی معاف کر دیا۔ دوسرے صاحب سے فرمایا: اُٹھو ادا کر دو۔ (1)
حدیث ۵: صحیح بخاری میں سلمہ بن اکوع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں ہم حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے، ایک جنازہ لایا گیا۔ لوگوں نے عرض کی، اس کی نماز پڑھایے۔ فرمایا: اس پر کچھ دَین (2) ہے؟'' عرض کی، نہیں۔ اُس کی نماز پڑھا دی۔ پھر دوسرا جنازہ آیا، ارشاد فرمایا: ''اس پر دَین ہے؟'' عرض کی، ہاں۔ فرمایا: ''کچھ اس نے مال چھوڑا ہے؟'' لوگوں نے عرض کی، تین دینا ر چھوڑے ہیں۔ اس کی نماز بھی پڑھا دی۔ پھر تیسرا جنازہ حاضر لایا گیا، ارشاد فرمایا: ''اس پر کچھ دَین ہے؟'' لوگوں نے عرض کی، تین دینار کا مدیون ہے۔ ارشاد فرمایا: ''اس نے کچھ چھوڑا ہے؟'' لوگوں نے کہا، نہیں۔ فرمایا: ''تم لوگ اس کی نماز پڑھ لو۔'' ابو قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نماز پڑھا دیں، دَین کا ادا کر دینا میرے ذمہ ہے۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے نماز پڑھا دی۔ (3)
حدیث ۶: شرح سنہ میں ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں جنازہ لایا گیا، ارشاد فرمایا: ''اس پر دَین ہے؟'' لوگوں نے کہا، ہاں۔ فرمایا: ''دَین ادا کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟'' عرض کی، نہیں۔ ارشاد فرمایا: ''تم لوگ اسکی نماز پڑھ لو۔'' حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، اسکا دَین میرے ذمہ ہے، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے نماز پڑھا دی۔ اور ایک روایت میں ہے، کہ فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ تمھاری بندش کو توڑے، جس طرح تم نے اپنے مسلمان بھائی کی بندش توڑی، جو بندہ مسلم اپنے بھائی کا دَین ادا کریگا، اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کی بندش توڑ دیگا۔'' (4)
حدیث ۷: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص لوگوں کے مال لیتا ہے اور ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اﷲ تعالیٰ اُس سے ادا کر دیگا (یعنی ادا کرنے کی توفیق دیگا یا قیامت کے دن دائن کو راضی کر دیگا) اور جو شخص تلف کرنے کے ارادہ سے لیتا ہے، اﷲ تعالیٰ اُ س پر تلف کر دیگا (یعنی نہ ادا کی توفیق ہوگی، نہ دائن راضی ہوگا)۔'' (5)
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الصلاۃ،باب رفع الصوت في المسجد،الحدیث:۴۷۱،ج۱، ص۱۷۹.
2 ۔قرض۔
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الحوالات،باب اذا أحال دین المیت علی رجل جاز،الحدیث:۲۲۸۹،ج۲،ص۷۲،وکتاب
الکفالۃ،باب من تکفل عن میت...إلخ،الحدیث:۲۲۹۵،ج۲،ص۷۵.
4 ۔''شرح السنۃ''،کتاب البیوع،باب ضمان الدین،الحدیث:۲۱۴۸،ج۴،ص۳۶۰ ۔۳۶۱.
5 ۔''صحیح البخاري''،کتاب في الإستقراض...إلخ،باب من اخذ اموال الناس...إلخ،الحدیث:۲۳۸۷،ج۲،ص۱۰۵.
حدیث ۸: صحیح مسلم میں ابوقتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں ایک شخص نے عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ فرمایے کہ اگر میں جہاد میں اس طرح قتل کیا جاؤں کہ صابر ہوں، ثواب کاطالب ہوں، آگے بڑھ رہا ہوں، پیٹھ نہ پھیروں تو اﷲ تعالیٰ میرے گناہ مٹا دے گا؟ ارشاد فرمایا: ''ہاں۔'' جب وہ شخص چلا گیا، اُسے بُلا کر فرمایا: ''ہاں، مگر دَین، جبریل علیہ السلام نے ایساہی کہا یعنی دَین معاف نہ ہوگا۔'' (1)
حدیث ۹: صحیح مسلم میں عبداﷲ بن عمرورضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ ''دَین کے علاوہ شہید کے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔'' (2)
حدیث ۱۰: امام شافعی و احمد و تر مذی و ابن ماجہ و دارمی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مومن کانفس دَین کی وجہ سے معلق ہے، جب تک ادا نہ کیا جائے۔'' (3)
حدیث ۱۱: شرح سنہ میں براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''صاحبِ دَین اپنے دَین میں مقیدہے، قیامت کے دن خدا سے اپنی تنہائی کی شکایت کریگا۔'' (4)
حدیث ۱۲: ترمذی و ابن ماجہ ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو اس طرح مرا کہ تکبر اور غنیمت میں خیانت اور دَین سے بری ہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔'' (5)
حدیث ۱۳: امام احمد و ابو داود ابوموسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''کبیرہ گناہ جن سے اﷲ تعالیٰ نے ممانعت فرمائی ہے، ان کے بعد اﷲ (عزوجل) کے نزدیک سب گناہوں سے بڑا یہ ہے کہ آدمی اپنے اوپر دَین چھوڑ کر مرے اور اُس کے ادا کے لیے کچھ نہ چھوڑا ہو۔'' (6)
حدیث ۱۴: امام احمد نے محمد بن عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں ہم صحن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بھی تشریف فرماتھے۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اُٹھائی اور دیکھتے
1 ۔''مشکاۃ المصابیح''،کتاب البیوع،باب الافلاس والانظار،الفصل الاول،الحدیث:۲۹۱۱،ج۲،ص۱۶۱.
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الامارۃ،باب من قتل في سبیل اللہ...إلخ،الحدیث:۱۱۹-(۱۸۸۶)،ص۱۰۴۶.
3 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الجنائز،باب ماجاء عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان نفس المؤمن...إلخ،الحدیث:۱۰۸۰-۱۸۱،ص۳۴۱.
4 ۔''شرح السنۃ''،کتاب البیوع،باب التشدید في الدین،الحدیث:۲۱۴۰،ج۴،ص۳۵۲.
5 ۔''جامع الترمذي''،کتاب السیر،باب ماجاء في الغلول،الحدیث:۱۵۷۸،ج۳،ص۲۰۹.
6 ۔''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،حدیث ابی موسی الاشعری،الحدیث:۱۹۵۱۲،ج۷،ص۱۲۵.
رہے پھر نگاہ نیچی کرلی اور پیشانی پرہاتھ رکھ کر فرمایا: ''سبحان اﷲ! سبحان اﷲ! کتنی سختی اُتاری گئی۔'' کہتے ہیں ہم لوگ ایک دن، ایک رات خاموش رہے۔ جب دن رات خیر سے گزر گئے اور صبح ہوئی تو میں نے عرض کی، وہ کیا سختی ہے، جو نازل ہوئی؟ ارشاد فرمایا: کہ ''دَین کے متعلق ہے، قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر کوئی شخص اﷲ (عزوجل) کی راہ میں قتل کیا جائے پھر زندہ ہو پھر قتل کیا جائے پھر زندہ ہو پھر قتل کیا جائے پھر زندہ ہو اور اُس پر دَین ہو تو جنت میں داخل نہ ہوگا، جب تک ادا نہ کر دیا جائے۔'' (1)
حدیث ۱۵: ابوداود و نسائی شریدرضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: مالدار کا دَین ادا کرنے میں تاخیر کرنا، اُس کی آبرو اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔''
عبداﷲ ابنِ مبارک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا: کہ آبرو کو حلال کرنا یہ ہے کہ اس پر سختی کی جائے گی اور سزا کو حلال کرنا یہ ہے کہ قید کیا جائیگا۔'' (2)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الْبَیۡعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ فَمَنۡ جَآءَہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ فَانۡتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ؕوَاَمْرُہٗۤ اِلَی اللہِ ؕ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷۵﴾یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ ؕ وَاللہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیۡمٍ ﴿۲۷۶﴾(3)
''جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ (اپنی قبروں سے) ایسے اُٹھیں گے جس طرح وہ شخص اٹھتا ہے جس کو شیطان (آسیب) نے چھو کر باولا(4) کر دیا ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اُنھوں نے کہا بیع مثل سود کے ہے اور ہے یہ کہ اﷲ (عزوجل) نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ پس جس کو خدا کی طرف سے نصیحت پہنچ گئی اور باز آیا تو جو کچھ پہلے کرچکا ہے، اُس کے لیے معاف ہے اور اُس کا معاملہ اﷲ (عزوجل) کے سپرد ہے اور جو پھرایسا ہی کریں وہ جہنمی ہیں، وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے، اﷲ (عزوجل) سود کو مٹاتا
1 ۔''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،حدیث محمد بن عبد اللہ بن جحش،الحدیث:۲۲۵۵۶،ج۸،ص۳۴۸.
2 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الأقضیۃ،باب فی الحبس فی الدین وغیرہ،الحدیث:۳۶۲۸،ج۳،ص۴۳۸.
3 ۔پ۳،البقرۃ:۲۷۵-۲۷۶. 4 ۔پاگل۔
ہے اور صدقات کو بڑھاتاہے اور ناشکر ے گنہگار کو اﷲ (عزوجل) دوست نہیں رکھتا۔''
اور فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوۡا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۲۷۸﴾فَاِنۡ لَّمْ تَفْعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُءُوۡسُ اَمْوَالِکُمْ ۚ لَا تَظْلِمُوۡنَ وَلَا تُظْلَمُوۡنَ ﴿۲۷۹﴾ (1)
''اے ایمان والو! اﷲ (عزوجل) سے ڈرو اور جو کچھ تمھارا سود باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم کو اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی طرف سے لڑائی کا اعلان ہے اور اگر تم توبہ کرلو تو تمھیں تمھارا اصل مال ملے گا، نہ دوسرں پر تم ظلم کرواور نہ دوسرا تم پر ظلم کرے۔''
اور فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً ۪ وَّاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۱۳۰﴾ۚوَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡۤ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۳۱﴾ۚوَاَطِیۡعُوا اللہَ وَالرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾ۚ (2)
''اے ایمان والو! دونا دون(3) سود مت کھاؤ اور اﷲ (عزوجل) سے ڈرو، تاکہ فلاح پاؤ اور اُس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے طیاررکھی گئی ہے اور اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی اطاعت کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔''
اور فرماتا ہے:
( وَمَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّیَرْبُوَا۠ فِیۡۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوۡا عِنۡدَ اللہِ ۚ وَمَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ زَکٰوۃٍ تُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَ اللہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوۡنَ ﴿۳۹﴾ (4)
''جو کچھ تم نے سود پر دیا کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے، وہ اﷲ (عزوجل) کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو کچھ تم نے زکاۃ دی جس سے اﷲ (عزوجل) کی خوشنودی چاہتے ہو، وہ اپنا مال دونا کرنے والے ہیں۔''
احادیث سو دکی مذمت میں بکثرت وارد ہیں، اُن میں سے بعض اس مقام میں ذکر کی جاتی ہیں۔
حدیث ۱ـ: امام بخاری اپنی صحیح میں سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا
1 ۔پ۳،البقرۃ:۲۷۸-۲۷۹.
2 ۔پ۴،آل عمران:۱۳۰-۱۳۲.
3 ۔یعنی دگنا،دگنا۔
4 ۔پ۲۱،الروم:۳۹.
:''آج رات میں نے دیکھا کہ میرے پاس دوشخص آئے اور مجھے زمین مقدس (بیت المقدس) میں لے گئے پھر ہم چلے یہاں تک کہ خون کے دریا پر پہنچے، یہاں ایک شخص کنارہ پر کھڑا ہے جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور ایک شخص بیچ دریا میں ہے، یہ کنارہ کی طرف بڑھا اور نکلنا چاہتا تھا کہ کنارے والے شخص نے ایک پتھر ایسے زور سے اُس کے مونھ میں ماراکہ جہاں تھا وہیں پہنچا دیا پھر جتنی بار وہ نکلنا چاہتا ہے کنارہ والا مونھ میں پتھر مارکر وہیں لوٹا دیتا ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا، یہ کون شخص ہے؟ کہا، یہ شخص جو نہر میں ہے، سود خوارہے۔'' (1)
حدیث ۲: صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سود لینے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اُس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اوریہ فرمایا: کہ وہ سب برابر ہیں۔ (2)
حدیث ۳: امام احمد و ابو داود و نسائی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ سود کھانے سے کوئی نہیں بچے گا اور اگر سود نہ کھائے گا تو اس کے بخارات پہنچیں گے (یعنی سود دے گا یا اس کی گواہی کریگا یا دستاویز لکھے گا یا سودی روپیہ کسی کو دلانے کی کوشش کریگا یا سود خوار کے یہاں دعوت کھائے گا یا اُس کا ہدیہ قبو ل کریگا)۔'' (3)
حدیث ۴: امام احمد و دارقطنی عبداﷲ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سود کا ایک درہم جس کو جان کر کوئی کھائے، وہ چھتیس مرتبہ زنا سے بھی سخت ہے۔'' اسی کی مثل بیہقی نے ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی۔ (4)
حدیث ۵: ابن ماجہ و بیہقی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سود (کا گناہ) ستر حصہ ہے، ان میں سب سے کم درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے۔'' (5)
حدیث ۶: امام احمد و ابن ماجہ و بیہقی عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب البیوع،باب آ کل الربا وشاھدہ وکاتبہ،الحدیث:۲۰۸۵،ج۲،ص۱۴،۱۵.
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ...إلخ، باب لعن آ کل الربا ومؤکلہ،الحدیث:۱۰۵-۱۰۶(۱۵۹۷)،ص۸۶۲.
3 ۔''سنن أبي داود''،کتاب البیوع،باب في اجتناب الشبھات،الحدیث:۳۳۳۱،ج۲،ص۳۳۱.
4 ۔''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،حدیث عبداللہ بن حنظلۃ،الحدیث:۲۲۰۱۶،ج۸،ص۲۲۳.
5 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب التجارات،باب التغلیظ في الربا،الحدیث:۲۲۷۴،ج۳،ص۷۲.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب البیوع،باب الربا،الفصل الثالث،الحدیث:۲۸۲۶،ج۲،ص۱۴۲.
فرمایا: ''(سود سے بظاہر) اگرچہ مال زیادہ ہو، مگر نتیجہ یہ ہے کہ مال کم ہوگا۔'' (1)
حدیث ۷: امام احمد و ابن ماجہ ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''شبِ معراج میرا گزر ایک قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھر کی طرح (بڑے بڑے) ہیں، ان پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا، اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟ اُنھوں نے کہا، یہ سود خوار ہیں۔'' (2)
حدیث ۸: صحیح مسلم شریف میں عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سونا بدلے میں سونے کے اور چاندی بدلے میں چاندی کے اور گیہوں بدلے میں گیہوں کے اور جَو بدلے میں جَو کے اور کھجور بدلے میں کھجور کے اور نمک بدلے میں نمک کے برابر برابر اور دست بدست بیع کرو اور جب اصناف(3)میں اختلاف ہو تو جیسے چاہو بیچو (یعنی کم و بیش میں اختیار ہے) جبکہ دست بدست ہوں۔'' اورا سی کی مثل ابوسعیدخدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ''جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا، اُس نے سود ی معاملہ کیا، لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔'' اور صحیحین میں حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی کے مثل مروی۔ (4)
حدیث ۹: صحیحین میں اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''اُدھار میں سود ہے۔'' اور ایک روایت میں ہے، کہ ''دست بدست ہو تو سود نہیں یعنی جبکہ جنس مختلف ہو۔'' (5)
حدیث ۱۰: ابن ماجہ و دارمی امیرالمومنین عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرمایا: ''سود کو چھوڑو اور جس میں سود کا شبہ ہو، اُسے بھی چھوڑ دو۔'' (6)
ربایعنی سود حرام قطعی ہے اس کی حرمت کا منکر کافر ہے اور حرام سمجھ کر جواس کامرتکب ہے فاسق مردودالشہادۃ ہے عقد
1 ۔''المسند''للإمام أحمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن مسعود،الحدیث:۳۷۵۴،ج۲،ص۵۰.
2 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب التجارات،باب التغلیظ في الربا،الحدیث:۲۲۷۳،ج۳،ص۷۲.
3 ۔صنف کی جمع جنس۔
4 ۔ ''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ...إلخ،باب الصرف و بیع الذہب...إلخ،الحدیث:۸۱-(۱۵۸۷)،ص۸۵۶.
5 ۔المرجع السابق،الحدیث:۸۲-(۱۵۸۴).
6 ۔''سنن ابن ماجہ''،کتاب التجارات،باب التغلیظ في الربا،الحدیث:۲۲۷۶،ج۲،ص۷۳.
معاوضہ میں جب دونوں طر ف مال ہو اورایک طرف زیادتی ہوکہ اس کے مقابل(1) میں دوسری طرف کچھ نہ ہو یہ سود ہے۔
مسئلہ ۱: جوچیز ماپ یا تول سے بکتی ہو جب اُس کو اپنی جنس سے بدلا جائے مثلاً گیہوں کے بدلے میں گیہوں۔ جوکے بدلے میں جَو لیے اور ایک طرف زیادہ ہو حرام ہے اور اگر وہ چیز ماپ یا تول کی نہ ہو یا ایک جنس کو دوسری جنس سے بدلا ہو تو سود نہیں۔ عمدہ اور خراب کا یہاں کوئی فرق نہیں یعنی تبادلہ جنس میں ایک طرف کم ہے مگر یہ اچھی ہے، دوسری طرف زیادہ ہے وہ خراب ہے، جب بھی سود اور حرام ہے، لازم ہے کہ دونوں ماپ یا تول میں برابر ہوں۔ جس چیز پر سود کی حرمت کا دارمدار ہے وہ قدر وجنس ہے۔ قدر سے مراد وزن یا ماپ ہے۔(2)
مسئلہ ۲: دونوں چیزوں کا ایک نام اور ایک کام ہو تو ایک جنس سمجھیےاور نام و مقصد میں اختلاف ہو تو دو جنس جانیے جیسے گیہوں، جَو۔ کپڑے کی قسمیں ململ(3) ، لٹھا (4)، گبرون(5)، چھینٹ (6)۔ یہ سب اجناس مختلف ہیں، کھجور کی سب قسمیں ایک جنس ہیں۔ لوہا، سیسہ، تانبا، پیتل مختلف جنسیں ہیں۔اُون اور ریشم اور سوت مختلف اجناس ہیں۔ گائے کا گوشت، بھیڑ اور بکری کا گوشت، دُنبہ کی چکّی(7) ، پیٹ کی چربی، یہ سب اجناس مختلفہ ہیں۔(8) روغن گل(9) ، روغن چمیلی(10) ، روغن جوہی(11) وغیرہ سب مختلف اجناس ہیں۔ (12) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: قدروجنس دونوں موجود ہوں توکمی بیشی بھی حرام ہے (اس کو رباالفضل کہتے ہیں) اور ایک طرف نقد ہو دوسری طرف ادھار یہ بھی حرام (اس کو ربا النسیہ کہتے ہیں) مثلاً گیہوں کو گیہوں، جَو کو جَو کے بدلے میں بیع کریں تو کم و بیش حرام اورایک اب دیتا ہے دوسرا کچھ دیر کے بعد دے گا یہ بھی حرام اور دونوں میں سے ایک ہو ایک نہ ہو تو کمی بیشی جائز ہے اور اُودھار حرام مثلاً گیہوں کو جو کے بدلے میں یا ایک طرف سیسہ ہوایک طرف لوہا کہ پہلی مثال میں ماپ اور دوسری میں وزن مشترک ہے مگر جنس کا دونو ں میں اختلاف ہے۔ کپڑے کو کپڑے کے بدلے میں غلام کو غلام کے بدلے میں بیع کیا اس میں جنس ایک ہے مگر قدر موجودنہیں لہٰذا یہ تو ہوسکتا ہے کہ ایک تھان دیکر دوتھان یا ایک غلام کے بدلے میں دوغلام خرید لیے مگر اودھار بیچنا حرام اور سود ہے اگرچہ کمی بیشی نہ ہواور دونوں نہ ہوں تو کمی بیشی بھی جائز اور اودھار بھی جائز مثلاً گیہوں اور جو کو روپیہ سے
1 ۔بدلے۔
2 ۔''الہدایۃ''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۲،ص۶۰-۶۱.
3 ۔ایک قسم کا باریک سوتی کپڑا۔ 4 ۔ایک قسم کا سوتی کپڑا۔ 5 ۔ایک قسم کا موٹا کپڑا۔
6 ۔ایک قسم کا بیل بوٹے دار کپڑا ،رنگین چھپا ہوا کپڑا۔ 7 ۔دنبے کی چوڑی دُم۔ 8 ۔یعنی مختلف جنسیں ہیں۔
9 ۔گلاب کاتیل۔ 10 ۔چنبیلی کے پھولوں کاتیل۔ 11 ۔چنبیلی جیسے خوشبودارپھول کاتیل۔
12 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الربا،مطلب:فی الابراء عن الربا،ج۷،ص۴۲۴.
خریدیں یہاں کم وبیش ہونا تو ظاہر ہے کہ ایک روپیہ کے عوض میں جتنے من چاہوخریدو کوئی حرج نہیں اورادھاربھی جائز ہے کہ آج خریدو روپیہ مہینے میں سال میں دوسرے کی مرضی سے جب چاہودو جائز ہے کوئی خرابی نہیں۔ (1) (ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ ۴: جس چیز کے متعلق حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ماپ کے ساتھ تفاضل(2)حرام فرمایا، وہ کیلی (ماپ کی چیز) ہے اور جس کے متعلق وزن کی تصریح فرمائی وہ وزنی ہے، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد کے بعد اُ س میں تبدیل نہیں ہوسکتی، اگر عرف اُس کے خلاف ہو تو عرف کا اعتبار نہیں اور جس کے متعلق حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا ارشاد نہیں ہے، اُس میں عادت و عرف کا اعتبارہے ماپ یا تول جو کچھ چلن ہو، اُسکا لحاظ ہوگا۔ (3) (ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۵: تلوار کے بدلے میں اگر لوہے کی بنی ہوئی کوئی چیز خریدی توجائز ہے اگرچہ ایک طرف وزن کم ہے دوسری طرف زیادہ کہ قدر میں اتحاد نہیں مگر اس کو دیکر لوہے کی چیز ادھار لینا درست نہیں۔(4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: جو برتن عدد سے بکتے ہیں اگرچہ جس کے برتن بنے ہیں وہ وزنی ہو جیسے تانبے کے کٹورے گلاس ایک کے بدلے میں دوسرا خریدنادرست ہے اگرچہ دونوں کے وزن مختلف ہوں کہ اب وزنی نہیں مگر سونے چاندی کے برتن اگر باہم وزن میں مختلف ہوں تو بیع حرام ہے اگرچہ یہ عدد سے فروخت ہوتے ہوں۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: منصوصات(6) کے مواقع پر عرف کا اعتبار نہیں یہ اُس وقت ہے جب کہ تبادلہجنس کے ساتھ ہو، مثلاً گیہوں کو گیہوں سے بیع کریں اور غیر جنس سے بدلنے میں اختیار ہے، مثلاً گیہوں کو جَو کے بدلے میں یا روپے پیسے نوٹ سے خریدنے میں اگر وزن کے ساتھ بیع ہو، حرج نہیں۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۸: جو چیز وزنی ہواُسے ماپ کر برابر کرکے ایک کودوسرے کے بدلے میں بیع کیا مگریہ نہیں معلوم کہ ان کاوزن کیا ہے یہ جائز نہیں اور اگر وزن میں دونوں برابر ہوں بیع جائز ہے اگرچہ ماپ میں کم بیش ہوں اور جو چیز کیلی ہے اُس کووزن سے برابر کرکے بیع کیا مگریہ نہیں معلوم کہ ماپ میں برابر ہے یا نہیں یہ ناجائز ہے۔ہندوستان میں گیہوں جَو کو عموماً
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۲،ص۶۰-۶۱وغیرہا.
2 ۔زیادتی یعنی اضافہ۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۲،ص۶۲،وغیرہا.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الربا،مطلب:فی الابراء عن الربا،ج۷،ص۴۲۴.
5 ۔المرجع السابق،ص۴۲۳.
6 ۔یعنی جن اشیاء کے بارے میں نص(حدیث)وارد ہے۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع، باب الربا،ج۷،ص۴۲۷.
وزن سے بیع کرتے ہیں حالانکہ ان کاکیلی ہونا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد سے ثابت لہٰذا اگر گیہوں کو گیہوں کے بدلے میں بیع کریں تو ماپ کرضرور برابر کرلیں اس میں وزن کی برابری کااعتبار نہ کریں۔ یوہیں گیہوں، جَو قرض لیں تو ماپ کرلیں اور ماپ کردیں۔ اور ان کے آٹے کی بیع یا قرض وزن سے بھی جائز ہے۔(1) (درمختار، ردالمحتار، ہدایہ، فتح القدیر)
مسئلہ ۹: یتیم کے مال کی بیع ہو تو اُس میں جو دت (خوبی) کا اعتبار ہے مثلاً وصی کو یتیم کے اچھے مال کو ردی کے بدلے میں بیچنا ناجائز ہے۔ یوہیں وقف کے اچھے مال کو متولی نے خراب کے بدلے میں بیچ دیایہ ناجائز ہے۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: سونے چاندی کے علاوہ جو چیز یں وزن کے ساتھ بکتی ہیں روپیہ اشرفی سے اُن کی بیع سلم درست ہے اگرچہ وزن کا دونوں میں اشتراک ہے۔ (3) (فتح القدیر وغیرہ)
مسئلہ ۱۱: شریعت میں ماپ کی مقدار کم سے کم نصف صاع ہے اگر کوئی کیلی چیز نصف صاع سے کم ہو مثلاً ایک دو لپ اس میں کمی بیشی یعنی ایک لپ دو لپ کے بدلے میں بیچنا جائز ہے۔ یوہیں ایک سیب دوسیب کے بدلے میں، ایک کھجور دو کے بدلے میں، ایک انڈا دوانڈے کے عوض، ایک اخروٹ دو کے عوض، ایک تلوار دو تلوار کے بدلے میں، ایک دوات دو دوات کے بدلے میں، ایک سوئی دو کے بدلے، ایک شیشی دو کے عوض بیچنا جائز ہے، جب کہ یہ سب معیّن (4) ہوں اور اگر دونوں جانب یا ایک غیر معیّن ہو تو بیع ناجائز۔ ان صور مذکورہ (5)میں کمی بیشی اگرچہ جائز ہے مگر اُدھار بیچنا حرام ہے، کیونکہ جنس ایک ہے۔ (6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۲: گیہوں، جَو، کھجور، نمک، جن کاکیلی ہونا منصوص (7)ہے اگر ان کے متعلق لوگوں کی عادت یوں جاری ہو کہ ان کو وزن سے خریدوفروخت کرتے ہوں جیسا کہ یہاں ہندوستان میں وزن ہی سے یہ سب چیزیں بکتی ہیں اور بیع سلم میں وزن سے ان کا تعین کیا مثلاً اتنے روپے کے اتنے من گیہوں یہ سلم جائز ہے اس میں حرج نہیں۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الربا،مطلب:فی أن النص...إلخ،ج۷،ص۴۲۷-۴۳۰.
و''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۲،ص۶۲.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۶،ص۱۵۷.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ...إلخ،الفصل السادس،ج۳،ص۱۱۷.
3 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۶،ص۱۵۵،وغیرہ.
4 ۔عامہ کتب مذہب میں معیّن ہونے کی صورت میں اس بیع کو جائز لکھا ہے، مگر امام ابن ہمام کی تحقیق یہ ہے کہ یہ بیع بھی ناجائز ہے۔ ۱۲منہ
5 ۔یعنی ذکر کی گئی صورتیں ۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۷،ص۴۲۵۔۴۲۷وغیرہ.
7 ۔ یعنی جن اشیاء کے کیل (ماپ )کے ساتھ فروخت ہونے پرنصوص (احادیث )وارد ہیں ۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الربا،مطلب:فی أن النص...إلخ،ص۴۲۷-۴۳۰.
مسئلہ ۱۳: گوشت کو جانور کے بدلے میں بیع کرسکتے ہیں کیونکہ گوشت وزنی ہے اور جانور عددی ہے وہ گوشت اُسی جنس کے جانور کا ہو مثلاً بکری کے گوشت کے عوض میں بکری خریدی یا دوسری جنس کاہو مثلاً بکری کے گوشت کے بدلے میں گائے خریدی۔ یہ گوشت اُتنا ہی ہو جتنا اُ س جانور میں گوشت ہے یااُس سے کم یا زیادہ بہر حال جائز ہے۔ ذبح کی ہوئی بکری کو زندہ بکری یا ذبح کی ہوئی کے عوض میں بیع کرنا جائز ہے اور اگر دونوں کی کھالیں اُتار لی ہیں اور اوجھڑی وغیرہ ساری اندرونی چیزیں الگ کردی ہیں بلکہ پائے بھی جدا کرلیے ہیں تو اب ایک کو دوسری کے عوض میں تول کے ساتھ بیچ سکتے ہیں کہ یہ گوشت کو گوشت سے بیچنا ہے۔ (1) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۴: ایک مچھلی دو مچھلیوں سے بیع کرسکتے ہیں یعنی وہاں جہاں وزن سے نہ بکتی ہوں اور تول سے فروخت ہوں جیسے یہاں تو وزن میں برابر کرنا ضرور ہوگا۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: سوتی کپڑے سوت یا روئی کے بدلے میں بیچنا مطلقاًجائز ہے ان کی جنس مختلف ہے۔ یوہیں روئی کو سوت سے بیچنا بھی جائز ہے اسی طرح اون کے بدلے میں اونی کپڑے خریدنا یا ریشم کے عوض میں ریشمی کپڑے خریدنا بھی جائز ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جنس کے اختلاف و اتحاد میں اصل کا اتحاد و اختلاف معتبر نہیں بلکہ مقصود کا اختلاف جنس کو مختلف کردیتا ہے اگرچہ اصل ایک ہو اوریہ بات ظاہر ہے کہ روئی اور سوت اور کپڑے کے مقاصد مختلف ہیں۔ یوہیں گیہوں یا اس کے آٹے کوروٹی سے بیع کرسکتے ہیں کہ ان کی بھی جنس مختلف ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: ترکھجور کو تریا خشک کھجور کے بدلے میں بیع کرنا جائز ہے جبکہ دونوں جانب کی کھجوریں ماپ میں برابر ہوں۔ وزن میں برابری کا اس میں اعتبار نہیں۔ یوہیں انگور کومنقے(4) یا کشمش کے بدلے میں بیچنا جائز ہے جبکہ دونوں برابر ہوں۔ اسی طرح جو پھل خشک ہو جاتے ہیں اُن کے تر کو خشک کے عوض بھی بیچنا جائز ہے اور ترکے بدلے میں بھی جیسے انجیر۔ آلو بُخارا خوبانی وغیرہ۔ (5) (ہدایہ، فتح القدیر)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۲،ص۶۳.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۷،ص۴۳۳.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ...إلخ،الفصل السادس،ج۳،ص۱۲۰.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع، باب الربا،مطلب:فی استقراض الدراہم عدداً،ج۷،ص۴۳۴۔۴۳۷.
4 ۔سوکھے ہوئے بڑے انگورمنقے کہلاتے ہیں۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۲،ص۶۴.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۶،ص۱۷۰.
مسئلہ ۱۷: گیہوں اگر پانی میں بھیگ گئے ہوں اُن کو خشک کے بدلے میں بیع کرنا جائز ہے جب کہ ماپ میں برابر ہوں۔ یوہیں کھجور یا منقے جن کو پانی میں بھگولیا ہے خشک کے عوض میں بیع کرسکتے ہیں۔ بھُنے ہوئے گیہوں کو بے بھُنے سے بیچنا جائز نہیں۔ (1) (ہدایہ، درمختاروغیرہما)
مسئلہ ۱۸: مختلف قسم کے گوشت کمی بیشی کے ساتھ بیع کیے جاسکتے ہیں، مثلاً بکری کا گوشت ایک سیر گائے کے دو سیر سے بیچ سکتے ہیں مگریہ ضرور ہے کہ دست بدست ہوں(2) اُدھار جائزنہیں اگرایک قسم کے جانور کا گوشت ہو تو کمی بیشی جائز نہیں۔ گائے اور بھینس دو جنس نہیں بلکہ ایک جنس ہیں۔ یوہیں بکری، بھیڑ، دُنبہ، یہ تینوں ایک جنس ہیں۔ گائے کا دودھ بکری کے دودھ سے، کھجور یا گنے کا سرکہ انگوری سرکہ سے، پیٹ کی چربی دُنبہ کی چکی(3) یا گوشت سے بکری کے بال کو بھیڑ کی اون سے کم و بیش کرکے بیع کرسکتے ہیں۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۹: پرند اگرچہ ایک قسم کے ہوں اُن کے گوشت کم وبیش کرکے بیع کیے جاسکتے ہیں مثلاً ایک بٹیر(5)کے گوشت کو دوکے گوشت کے ساتھ۔ یوہیں مُرغی ومُرغابی(6) کے گوشت بھی کہ یہ وزن کے ساتھ نہیں بکتے۔(7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: تل کے تیل کو روغن چمیلی وروغن گل سے کم وبیش کرکے بیع کرنا جائز ہے۔ یوہیں یہ خوشبو دار تیل آپس میں ایک قسم کو دوسرے قسم کے ساتھ بیع کرنا۔ روغن زیتون خوشبودار کو بغیر خوشبو والے کے عوض میں بیچنا بھی ہرطرح جائز ہے۔ تل پھول میں بسے ہوئے ہوں اُن کو سادہ تلوں سے کم وبیش کرکے بیچ سکتے ہیں۔(8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: دودھ کو پنیر کے بدلے میں کمی بیشی کے ساتھ بیچ سکتے ہیں۔(9) (درمختار) کھوئے (10)کے بدلے میں دودھ بیچنے کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ مقاصد میں مختلف ہونے کی وجہ سے مختلف جنس ہیں۔
مسئلہ ۲۲: گیہوں کی بیع آٹے یا ستو (11)سے یا آٹے کی بیع ستو سے مطلقاًناجائز ہے اگرچہ ماپ یا وزن
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۲،ص۶۴.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۷،ص۴۳۵،وغیرہما.
2 ۔ یعنی نقدکے ساتھ ہوں۔ 3 ۔دُنبے کی چوڑی دُم۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع، باب الربا،ج۲،ص۶۵.
5 ۔تیتر کی قسم کا ایک چھوٹا سا پرندہ۔ 6 ۔ایک آبی پرندہ۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الربا،مطلب:فی استقراض الدراہم عدداً،ج۷،ص۴۳۷.
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الربا،مطلب:فی استقراض الدراہم عدداً،ج۷،ص۴۳۷.
9 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب البیوع،باب الربا،ج۷،ص۴۳۹.
10 ۔آگ پر جوش دے کر خشک کیا ہوا دودھ ۔ 11 ۔بھنے ہوئے اناج کا آٹا۔
میں دونوں جانب برابرہوں یعنی جب کہ آٹا یا ستو گیہوں کا ہواور اگردوسری چیز کا ہو مثلاً جو کا آٹا یا ستو ہو تو گیہوں سے بیع کرنے میں کوئی مضایقہ نہیں۔ یوہیں گیہوں کے آٹے کو جو کے ستوسے بھی بیچنا جائز ہے۔ آٹے کو آٹے کے بدلے میں برابر کرکے بیچنا جائز ہے بلکہ بُھنے ہوئے آٹے کو بُھنے ہوئے کے بدلے میں برابر کرکے بیچنا بھی جائز ہے۔ اور ستو کو ستو کے بدلے میں بیچنا یا بھُنے ہوئے گیہوں کے بھُنے ہوئے گیہوں کے بدلے میں بیچنا جائز ہے۔ چھنے ہوئے آٹے کو بغیر چھنے کے بدلے بیع کرنے میں دونوں کا برابر ہونا ضروری ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: تلوں کو ان کے تیل کے بدلے میں یا زیتون کو روغن زیتون کے بدلے میں بیچنا اُس وقت جائز ہے کہ ان میں جتنا تیل ہے وہ اُس تیل سے زیادہ ہو جس کے بدلے میں اس کوبیع کررہے ہیں یعنی کھلی (2) کے مقابلہ میں تیل کا کچھ حصہ ہونا ضرور ہے ورنہ نا جائز۔ یوہیں سرسوں کو کڑوتے تیل کے بدلے میں یا السی(3) کو اس کے تیل کے بدلے میں بیع کرنے کا حکم ہے غرض یہ کہ جس کھلی کی کوئی قیمت ہوتی ہے اُس کے تیل کو جب اُ س سے بیع کیا جائے تو جو تیل مقابل میں ہے وہ اُس سے زیادہ ہوجو اس میں ہے (4) (ہدایہ، درمختار، ردالمحتار) اور اگر کوئی ایسی چیزاس میں ملی ہوجس کی کوئی قیمت نہ ہو جیسے سونار کے یہاں کی راکھ کہ اسے نیاریے(5) خریدتے ہیں، اس کا حکم یہ ہے کہ جس سونے یا چاندی کے عوض میں اسے خریدا اگروہ زیادہ یا کم ہے بیع فاسد ہے اور برابر ہو تو جائز اورمعلوم نہ ہو کہ برابر ہے یا نہیں، جب بھی ناجائز۔ (6) (بحر وغیرہ)
مسئلہ ۲۴: جن چیزوں میں بیع جائز ہونے کے لیے برابری کی شرط ہے یہ ضرور ہے کہ مساوات(7) کا علم وقت عقد ہواگر بوقت عقد علم نہ تھا بعد کو معلوم ہوا مثلاً گیہوں گیہوں کے بدلے میں تخمینہ(8) سے بیچ دیے پھر بعد میں ناپے گئے تو برابر نکلے، بیع جائز نہیں ہوئی۔ (9) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الربا،مطلب فی استقراض الدراہم عدداً،ج۷،ص۴۳۶.
2 ۔تیل یا سرسوں کا پھوک۔ 3 ۔چھوٹی چھوٹی نازک پتیوں کا ایک پودا اور اس کے بیج جن سے تیل نکالا جاتاہے۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع، باب الربا،ج۲،ص۶۴.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الربا،مطلب:فی استقراض الدراہم عدداً،ج۷،ص۴۴۰.
5 ۔سنارکی دکان کے کوڑاکرکٹ سے سونے ،چاندی کے ذرات نکالنے والا''نیاریا'' کہلاتاہے۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب البیع،باب الربا،ج۶،ص۲۲۵.
7 ۔برابری۔ 8 ۔اندازہ۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ ومالایجوز،الفصل السادس،ج۳،ص۱۱۹.
مسئلہ ۲۵: گیہوں گیہوں کے بدلے میں بیع کیے اور تقابض بدلین (1) نہیں ہوا یہ جائز ہے، غلہ کی بیع اپنی جنس یا غیر جنس سے ہو، اس میں تقابض شرط نہیں۔(2)(عالمگیری) مگریہ اُسی وقت ہے کہ دونوں جانب معین ہوں۔
مسئلہ ۲۶: آقا اور غلام کے مابین سود نہیں ہوتا اگرچہ مدبریا ام ولد ہو کہ یہاں حقیقۃًبیع ہی نہیں ہاں اگر غلام پر اتنا دَین ہو جو اُس کے مال اور ذات کو مستغرق (1) ہو تو اب سود ہوسکتا ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: دوشخصوں میں شرکت مفاوضہ ہے اگروہ باہم بیع کریں تو کمی بیشی کی صورت میں سود نہیں ہوسکتا اورشرکت عنان والوں نے باہم مال شرکت کو خرید وفروخت کیا تو سودنہیں اور اگر دونوں اپنے مال کو کم وبیش کرکے خریدوفروخت کریں یا ایک نے اپنے مال کو مال شرکت سے کم وبیش کرکے فروخت کیا توضرور سود ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: مسلم اور کافر حربی کے مابین دارالحرب میں جو عقد ہواس میں سود نہیں۔ مسلمان اگر دارالحرب میں امان لیکر گیا توکافروں کی خوشی سے جس قدراُن کے اموال حاصل کرے جائز ہے اگرچہ ایسے طریقہ سے حاصل کیے کہ مسلمان کا مال اس طرح لینا جائز نہ ہو مگر یہ ضرور ہے کہ وہ کسی بدعہدی کے ذریعہ حاصل نہ کیا گیا ہو کہ بدعہدی(5) کفار کے ساتھ بھی حرام ہے مثلاً کسی کافر نے اس کے پاس کوئی چیز امانت رکھی اور یہ دینا نہیں چاہتا یہ بدعہدی ہے اور درست نہیں۔(6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: عقد فاسد کے ذریعہ سے کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں یعنی جو عقد مابین دو مسلمان ممنوع ہے اگر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو مثلاً ایک روپیہ کے بدلے میں دو روپے خریدے یااُس کے ہاتھ مُردار کو بیچ ڈالا کہ اس طریقہ سے مسلمان کا روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے اور کافر سے حاصل کرناجائز ہے۔(7)(ردالمحتار)
1 ۔باہم دومتبادل چیزوں پر قبضہ کرنا۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ ومالایجوز،الفصل السادس،ج۳،ص۱۱۹.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الربا،ج۷،ص۴۴۱.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ ومالایجوز،الفصل السادس ،ج۳،ص۱۲۱.
5 ۔وعدہ خلافی،بے وفائی۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الربا،مطلب:فی استقراض الدراہم عدداً،ج۷،ص۴۴۲.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الربا،مطلب:فی استقراض الدراہم عدداً،ج۷،ص۴۴۲.
مسئلہ ۳۰: ہندوستان اگرچہ دارالاسلام ہے اس کو دارالحرب کہنا صحیح نہیں، مگر یہاں کے کفار یقینا نہ ذمی ہیں، نہ مستامن کیونکہ ذمی یا مستامن کے لیے بادشاہ اسلام کا ذمہ کرنا اور امن دینا ضروری ہے، لہٰذا ان کفار کے اموال عقود فاسدہ کے ذریعہ حاصل کیے جاسکتے ہیں جبکہ بد عہدی نہ ہو۔
شریعتِ مطہرہ نے جس طرح سود لینا حرام فرمایا سود دینا بھی حرام کیا ہے۔ حدیثوں میں دونوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ دونوں برابر ہیں۔ آج کل سود کی اتنی کثرت ہے کہ قرضِ حسن جو بغیر سودی ہوتا ہے بہت کم پایا جاتا ہے دولت والے کسی کو بغیر نفع روپیہ دینا چاہتے نہیں اور اہل حاجت اپنی حاجت کے سامنے اس کا لحاظ بھی نہیں کرتے کہ سودی روپیہ لینے میں آخرت کا کتنا عظیم وبال(1) ہے اس سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ لڑکی لڑکے کی شادی۔ختنہ اور دیگر تقریبات شادی وغمی میں اپنی وسعت سے زیادہ خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ برادری اور خاندان کے رسوم میں اتنے جکڑ ے ہوئے ہیں (2)کہ ہر چند کہیے ایک نہیں سنتے رسوم میں کمی کرنے کو اپنی ذلت سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو اولاً تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ ان رسوم کی جنجال(3)سے نکلیں ،چادرسے زیادہ پاؤں نہ پھیلائیں اور دُنیا و آخرت کے تباہ کن نتائج سے ڈریں۔ تھوڑی دیر کی مسرت(4)یا ابنائے جنس میں نام آوری(5) کا خیال کرکے آئندہ زندگی کو تلخ(6) نہ کریں۔ اگر یہ لوگ اپنی ہٹ سے باز نہ آئیں قرض کابارگراں(7) اپنے سرہی رکھنا چاہتے ہیں بچنے کی سعی(8) نہیں کرتے جیسا کہ مشاہدہ اسی پرشاہدہے تو اب ہماری دوسری فہمائش ان مسلمانوں کو یہ ہے کہ سودی قرض کے قریب نہ جائیں۔
کہ بنص قطعی قرآنی اس میں برکت نہیں اور مشاہدات وتجربات بھی یہی ہیں کہ بڑی بڑی جائدادیں سود میں تباہ ہوچکی ہیں یہ سوال اس وقت پیش نظر ہے کہ جب سودی قرض نہ لیا جائے تو بغیر سودی قرض کو ن دیگا پھر اُن دُشواریوں کو کس طرح حل کیا جائے۔ اس کے لیے ہمارے علمائے کرام نے چند صورتیں ایسی تحریر فرمائی ہیں کہ اُن طریقوں پرعمل کیا جائے توسود کی نجاست ونحوست (9)سے پناہ ملتی ہے اور قرض دینے والا جس ناجائز نفع کا خواہش مند تھا اُس کے لیے جائز طریقہ پرنفع حاصل ہوسکتا ہے۔ صرف لین دَین کی صورت میں کچھ ترمیم (10)کرنی پڑے گی۔ مگر نا جائز وحرام سے بچاؤ ہوجائے گا۔
1 ۔بہت بڑا عذاب۔ 2 ۔پھنسے ہوئے ہیں ۔ 3 ۔بوجھ، آفت۔ 4 ۔ خوشی۔
5 ۔یعنی قبیلے کے افرادمیں شہرت۔ 6 ۔دشوار۔ 7 ۔بھاری بوجھ۔ 8 ۔کوشش۔
9 ۔ناپاکی اور برے اثر۔ 10 ۔تبدیلی۔
شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ دل میں جب یہ ہے کہ سودیکر ایک سودس لیے جائیں۔ پھر سود سے کیونکر بچے ہم اُس کے لیے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ شرع مطہر نے جس عقد کو جائز بتایا وہ محض اس تخیل(1)سے ناجائز و حرام نہیں ہوسکتا۔ دیکھو اگر روپے سے چاندی خریدی اور ایک روپیہ کی ایک بھر سے زائد لی یہ یقینا سودو حرام ہے۔ صاف حدیث میں تصریح ہے
، ''اَلْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ مَثَلاً بِمَثَلٍ یَداً بِیَدٍ وَالْـفَضْلُ رِبًا''
اور اگر مثلاً ایک گنی(2) جو پندرہ روپے کی ہواُس سے پچیس روپے بھر یا اور زیادہ چاندی خریدی یا سولہ آنے پیسوں کی دو روپیہ بھر خریدی اگرچہ اس کامقصود بھی وہی ہے کہ چاندی زیادہ لی جائے مگر سودنہیں اور یہ صورت یقینا حلال ہے، حدیث صحیح میں فرمایا :
'' اِذَا اِخْتَلَفَ النَّوْعَانِ فَبِیْعُوْاکَیْفَ شِئْتُمْ۔''
معلوم ہوا کہ جواز و عدمِ جواز نوعیت عقد پر ہے۔ عقد بدل جائے گا حکم بدل جائے گا۔ اس مسئلہ کو زیادہ واضح کرنے کے لیے ہم دو ۲ حدیثیں ذکر کرتے ہیں۔
صحیحین میں ابو سعید خدری وابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا حاکم بناکر بھیجا تھا، وہ وہاں سے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں عمدہ کھجوریں لائے۔ ارشاد فرمایا :''کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہوتی ہیں؟'' عرض کی، نہیں یا رسول اﷲ!( عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہم دو صاع کے بدلے ان کھجوروں کا ایک صاع لیتے ہیں اور تین صاع کے بدلے دو صاع لیتے ہیں۔ فرمایا: ''ایسا نہ کرو، معمولی کھجوروں کو روپیہ سے بیچو پھر روپیہ سے اس قسم کی کھجوریں خریدا کرو اور تول کی چیزوں میں بھی ایسا ہی فرمایا۔''(3) صحیحین میں ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں برنی کھجوریں لائے۔ ارشاد فرمایا :''کہاں سے لائے؟'' عرض کی، ہمارے یہاں خراب کھجوریں تھیں، اُن کے دو صاع کو ان کے ایک صاع کے عوض(4) میں بیچ ڈالا۔ ارشاد فرمایا: ''افسوس یہ تو بالکل سود ہے، یہ تو بالکل سود ہے، ایسانہ کرنا ہاں اگر ان کے خریدنے کا ارادہ ہو تو اپنی کھجوریں بیچ کر پھر انکو خریدو۔'' (5)
ان دونوں حدیثوں سے واضح ہوا کہ بات وہی ہے کہ عمدہ کھجوریں خرید نا چاہتے ہیں مگر اپنی کھجوریں زیادہ دیکر لیتے ہیں
1 ۔ قیاس،خیال۔ 2 ۔سونے کا ایک انگریزی سکہ ۔
3 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب البیوع،باب اذا اراد بیع تمر...إلخ،الحدیث:۲۲۰۱، ۲۳۰۲،ج۲،ص۴۴،۷۹.
4 ۔بدلے۔
5 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الوکالۃ،باب اذا باع الوکیل شیأا...إلخ،الحدیث:۲۳۱۲،ج۲،ص۸۳.
سود ہوتا ہے۔ اور اپنی کھجوریں روپیہ سے بیچ کراچھی کھجوریں خریدیں یہ جائز ہے۔ اسی وجہ سے امام قاضی خاں اپنے فتاوٰے میں سودسے بچنے کی صورتیں لکھتے ہوئے یہ تحریر فرماتے ہیں
و مثل ھذاروی عن رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم انہ امر بذلک۔(1)
اس مختصر تمہید کے بعد اب وہ صورتیں بیان کرتے ہیں جو علما نے سود سے بچنے کی بیان کی ہیں۔
مسئلہ ۱: ایک شخص کے دوسرے پر دس روپے تھے اُس نے مدیون سے کوئی چیز اُن دس روپوں میں خریدلی اور مبیع پرقبضہ بھی کرلیا پھراُسی چیز کو مدیون کے ہاتھ بارہ میں ثمن وصول کرنے کی ایک میعاد مقرر کرکے بیچ ڈالا اب اس کے اُس پردس کی جگہ بارہ ہوگئے اور اسے دو روپے کا نفع ہوااور سودنہ ہوا۔(2)(خانیہ)
مسئلہ ۲: ایک نے دوسرے سے قرض طلب کیا وہ نہیں دیتا اپنی کوئی چیزمُقرِض(3) کے ہاتھ سوروپے میں بیچ ڈالی اُس نے سوروپے دیدیے اور چیز پر قبضہ کرلیا پھرمُستَقرِض(4) نے وہی چیز مقرض سے سال بھر کے وعدہ پرایک سودس روپے میں خریدلی یہ بیع جائز ہے۔ مقرض نے سوروپے دیے اور ایک سود س روپے مستقرض کے ذمہ لازم ہوگئے اور اگر مستقرض کے پاس کوئی چیز نہ ہو جس کو اس طرح بیع کرے تو مقرض مستقرض کے ہاتھ اپنی کوئی چیز ایک سودس روپے میں بیع کرے اور قبضہ دیدے پھر مستقرض اُسکی غیرکے ہاتھ سوروپے میں بیچے اور قبضہ دیدے پھر اس شخص اجنبی سے مقرض سوروپے میں خریدلے اور ثمن ادا کردے اور وہ مستقرض کو سوروپے ثمن ادا کردے نتیجہ یہ ہواکہ مقرض کی چیز اُس کے پاس آگئی اور مستقرض کو سوروپے مل گئے مگر مقرض کے اس کے ذمہ ایک سو دس روپے لازم رہے۔(5)(خانیہ)
مسئلہ ۳: مقرض نے اپنی کوئی چیز مستقرض کے ہاتھ تیرہ روپے میں چھ مہینے کے وعدہ پر بیع کی اور قبضہ دیدیا پھر مستقرض نے اسی چیز کو اجنبی کے ہاتھ بیچااور اس بیع کا اقالہ کرکے پھر اسی کومقرض کے ہاتھ دس روپے میں بیچا اور روپے لے لیے اس کابھی یہ نتیجہ ہوا کہ مقرض کی چیز واپس آگئی اور مستقرض کو دس روپے مل گئے مگر مقرض کے اس کے ذمہ تیرہ روپے (6)واجب
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،فصل فیمایکون فراراًعن الربا،ج۱ ،ص۴۰۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔ قرض دینے والا۔ 4 ۔ قرض لینے والا۔
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع، فصل فیما یکون فراراً عن الربا،ج۱،ص۴۰۸.
6 ۔اس صورت میں اگر چہ یہ بات ہوئی کہ جو چیز جتنے میں بیع کی قبل نقد ثمن مشتری سے اُس سے کم میں خریدی مگر چونکہ اس صورت مفروضہ
میں ایک بیع جو اجنبی سے ہوئی درمیان میں فاصل ہوگئی لہٰذا یہ بیع جائز ہے۔ ۱۲ منہ
ہوئے۔ (1) (خانیہ)
مسئلہ ۴: سودسے بچنے کی ایک صورت بیع عینہ ہے امام محمد رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: بیع عِینہ مکروہ ہے کیونکہ قرض کی خوبی اور حسن سلوک سے محض نفع کی خاطر بچنا چاہتا ہے اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: کہ اچھی نیت ہو تو اس میں حرج نہیں بلکہ بیع کرنے والا مستحق ثواب ہے کیونکہ وہ سود سے بچنا چاہتا ہے۔ مشایخ بلخ نے فرمایا: بیع عِینَہ ہمارے زمانہ کی اکثر بیعوں سے بہتر ہے۔ بیع عینہ کی صورت یہ ہے ایک شخص نے دوسرے سے مثلاً دس روپے قرض مانگے اُس نے کہا میں قرض نہیں دونگا یہ البتہ کرسکتا ہوں کہ یہ چیز تمھارے ہاتھ بارہ روپے میں بیچتا ہوں اگر تم چاہو خریدلو اسے بازار میں دس روپے کو بیع کردینا تمھیں دس روپے مل جائیں گے اور کام چل جائے گااور اسی صورت سے بیع ہوئی۔ بائع (2) نے زیادہ نفع حاصل کرنے اور سود سے بچنے کا یہ حیلہ نکالا کہ دس کی چیز بارہ میں بیع کردی اُس کا کام چل گیا اور خاطر خواہ اس کو نفع مل گیا۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ تیسرے شخص کو اپنی بیع میں شامل کریں یعنی مُقرِض(3) نے قرضدار کے ہاتھ اُس کو بارہ میں بیچا اور قبضہ دیدیاپھر قرضدار نے ثالث کے ہاتھ دس روپے میں بیچ کر قبضہ دیدیا اس نے مقرض کے ہاتھ دس روپے میں بیچااور قبضہ دیدیا اور دس روپے ثمن کے مقرض سے وصول کرکے قرضدار کو دیدے نتیجہ یہ ہوا کہ قرض مانگنے والے کو دس روپے وصول ہوگئے مگر بارہ دینے پڑیں گے کیونکہ وہ چیز بارہ میں خریدی ہے۔ (4) (خانیہ، فتح، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: دومنزلہ مکان ہے اس میں نیچے کی منزل خریدی بالاخانہ عقد میں داخل نہ ہوگا مگر جب کہ جمیع حقوق(5)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع،فصل فیما یکون فراراً عن الربا،ج۱،ص۴۰۸.
2 ۔بیچنے والے۔ 3 ۔قرض خواہ،قرض دینے والا۔
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیع، فصل فیما یکون فراراً عن الربا،ج۱،ص۴۰۸.
و''فتح القدیر''،کتاب الکفالۃ،ج۶،ص۳۲۴.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الصرف،مطلب:فی بیع العینۃ،ج۷،ص۵۷۶.
5 ۔ یعنی تمام حقوق۔
یاجمیع مرافق (1) یا ہر قلیل وکثیر (2) کے ساتھ خریدا ہو۔(3)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۲: مکان کی خریداری میں پاخانہ اگر چہ مکان سے باہر بنا ہواور کوآں اور اُس کے صحن میں جو درخت ہوں وہ اور پائین باغ سب بیع میں داخل ہیں ان چیزوں کی بیع نامہ(4) میں صراحت کرنے کی ضرورت نہیں۔ مکان سے باہر اُس سے ملا ہواباغ ہواور چھوٹا ہو تو بیع میں داخل ہے اور مکان سے بڑایا برابر کا ہو تو داخل نہیں جب تک خاص اُس کا بھی نام بیع میں نہ لیا جائے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳: مکان سے متصل باہر کی جانب کبھی ٹین وغیرہ کا چھپر ڈال لیتے ہیں جو نشست کے لیے ہوتاہے اگر حقوق ومرافق کے ساتھ بیع ہوئی ہے تو داخل ہے ورنہ نہیں۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۴: راستہ خاص اور پانی بہنے کی نالی اور کھیت میں پانی آنے کی نالی اور وہ گھاٹ(7)جس سے پانی آئے گا یہ سب چیزیں بیع میں اُس وقت داخل ہوں گی جب کہ حقوق یا مرافق یا ہر قلیل وکثیر کا ذکر ہو۔(8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: مکان کا پہلے ایک راستہ تھا اُس کو بند کرکے دوسرا راستہ جاری کیا گیا اس کی خریداری میں پہلاراستہ داخل نہیں ہوگا اگرچہ حقوق یا مرافق کالفظ بھی کہا ہو کیونکہ وہ اب اس کے حقوق میں داخل ہی نہیں دوسرا راستہ البتہ داخل ہے۔ (9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: ایک مکان خریدا جس کا راستہ دوسرے مکان میں ہوکر جاتا ہے دوسرے مکان والے مشتری کو آنے سے روکتے ہیں اس صورت میں اگر بائع نے کہہ دیا کہ اس مبیعہ(10) کا راستہ دوسرے مکان میں سے نہیں ہے تومشتری کوراستہ حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں البتہ یہ ایک عیب ہوگا جس کی وجہ سے واپس کرسکتا ہے۔ اگر اس کی دیواروں
1 ۔وہ حقوق جو مبیع میں ضمناًداخل ہوتے ہیں مثلا ً راستہ ،پانی بہنے کی نالی۔ 2 ۔ ہر کم وزیادہ چیز۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الحقوق،ج۲،ص۶۶،وغیرہا.
4 ۔جائیداد فروخت کرنے کا اقرار نامہ یعنی سٹامپ پیپر۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۴۴۵.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الحقوق،ج۲،ص۶۶.
7 ۔پانی کے گزرنے کی جگہ۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الحقوق فی البیع،ج۷،ص۴۴۶۔۴۴۸.
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الحقوق فی البیع،مطلب:الاحکام تبتنی علی العرف،ج۷،ص۴۴۷.
10 ۔فروخت شدہ مکان۔
پردوسرے مکان کی کڑیاں(1)رکھی ہیں اگروہ دوسرا مکان بائع کا ہے تو حکم دیا جائے گا اپنی کڑیا ں اُٹھا لے اورکسی دوسرے کاہے تویہ مکان کاایک عیب ہے مشتری (2) کو واپس کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ایک شخص کے دو۲ مکان ہیں ایک کی چھت کاپانی دوسرے کی چھت پر سے گزرتا ہے دوسرے مکان کوجمیع حقوق کے ساتھ بیع کیا اس کے بعدپہلے مکان کو کسی دوسرے کے ہاتھ بیع کیا تو پہلا مشتری اپنی چھت پر پانی بہانے سے دوسرے کو روک سکتا ہے اور اگرایک شخص کے دوباغ تھے ایک کا راستہ دوسرے میں ہوکر تھا دوسرا باغ اُس نے اپنی لڑکی کے ہاتھ بیع کیا اوریہ شرط رہی کہ حقِ مُرُور(4)اسکو حاصل رہے گاپھر لڑکی نے اپنا باغ کسی اَجنبی کے ہاتھ بیع کیا تویہ اجنبی اُس کے باپ کو باغ میں گزرنے سے روک نہیں سکتا۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: مکان یاکھیت کرایہ پر لیا تو راستہ اور نالی اور گھاٹ اجارہ میں داخل ہیں یعنی اگرچہ حقوق ومرافق نہ کہا ہو جب بھی ان چیزوں پر تصرف کرسکتا ہے وقف و رہن ،اجارہ کے حکم میں ہیں۔ (6) (ہدایہ، فتح)
مسئلہ ۹: کسی کے لیے اقرار کیا کہ یہ مکان اُس کا ہے یا مکان کی وصیت کی یا اس پر مصالحت ہوئی یہ سب بیع کے حکم میں ہیں کہ بغیر ذکر حقوق ومرافق راستہ وغیرہ داخل نہیں ہونگے۔(7)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: دوشخص ایک مکان میں شریک تھے باہم تقسیم ہوئی ایک کے حصہ کا راستہ یا نالی دوسرے کے حصہ میں ہے اگر بوقت تقسیم حقوق کا ذکر تھا جب تو کوئی حرج نہیں اور ذکر نہ تھا تو دوسرے کو راستہ وغیرہ نہیں ملے گا پھر اگر وہ اپنے حصہ میں نیاراستہ اورنالی وـغیرہ نکال سکتا ہے تو نکال لے اور تقسیم صحیح ہے ورنہ تقسیم غلط ہوئی توڑ دی جائے جبکہ تقسیم کے وقت راستہ وغیرہ کا خیال کیا ہی نہ گیاہو۔ (8) (ردالمحتار)
کبھی ایساہوتا ہے کہ بظاہر کوئی چیز ایک شخـص کی معلوم ہوتی ہے اور وہ واقع میں دوسرے کی ہوتی ہے یعنی دوسراشخص
1 ۔ شہتیر۔ 2 ۔خریدار۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الحقوق فی البیع،مطلب:الاحکام تبتنی علی العرف،ج۷،ص۴۴۷.
.4 ۔ یعنی گزرنے کاحق۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الحقوق فی البیع،مطلب:الاحکام تبتنی علی العرف،ج۷،ص۴۴۷.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الحقوق،ج۲،ص۶۶.
و ''فتح القدیر''،باب الحقوق،ج۶،ص۱۸۰.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الحقوق فی البیع،ج۷،ص۴۴۸.
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الحقوق فی البیع،مطلب:الأحکام تبتنی علی العرف،ج۷،ص۴۴۸.
اُس کامدعی ہوتا ہے اور اپنی مِلک ثابت کردیتا ہے اس کو استحقاق کہتے ہیں۔
مسئلہ ۱: استحقاق دو قسم ہے ایک یہ کہ دوسرے کی ملک کو بالکل باطل کردے اس کو مُبطِل کہتے ہیں دوسرایہ کہ ملک کو ایک سے دوسرے کی طرف منتقل کردے اس کو ناقل کہتے ہیں۔ مبطل کی مثال حریت اصلیہ کا دعویٰ یعنی یہ غلام تھا ہی نہیں یا عتق(1) کا دعویٰ مدبریا مکاتب ہونے کا دعویٰ۔ نا قل کی مثال یہ کہ زید نے بکر پر دعویٰ کیا کہ یہ چیز جو تمھارے پاس ہے تمھاری نہیں میری ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲: استحقاق کی دوسری قسم کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ چیز کسی عقد کے ذریعہ سے مدعیٰ علیہ (قابض) کو حاصل ہوئی ہے تو محض ملک ثابت کردینے سے عقد فسخ نہیں ہوگا کیونکہ وہ چیز ضرورقابل عقد ہے یعنی مدعی (3) کی چیز ہے جس کودوسرے نے مدعیٰ علیہ کے ہاتھ مثلاً فروخت کردیا یہ بیع فضولی ٹھہری جو مدعی کی اجازت پر موقوف ہے۔(4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مستحق کے موافق قاضی نے فیصلہ صادر کردیا اس سے بیع فسخ نہیں ہوئی ہوسکتا ہے کہ مستحق مشتری سے وہ چیز نہ لے ثمن وصول کرلے یا بیع کو فسخ کردے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خودمشتری وہ چیز بائع کو واپس کردے اور ثمن پھیرلے اب بیع فسخ ہوگئی یا مشتری نے قاضی کو درخواست دی کہ بائع پر واپسی ثمن کا حکم صادر کرے اُس نے حکم دے دیایا یہ دونوں خوداپنی رضا مندی سے عقد کو فسخ کریں۔(5) (فتح القدیر، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: قاضی نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ چیزمستحق (مدعی) کی ہے یہ فیصلہ ذی الید (مدعیٰ علیہ) کے مقابل میں بھی ہے اور اُن کے مقابل میں بھی جن سے ذی الید کویہ چیز حاصل ہوئی جب کہ اس ذی الید نے اپنے بیان میں یہ ظاہر کردیا کہ یہ چیز مجھ کو فلاں سے اس نوعیت سے حاصل ہوئی ہے مثلاً اس سے خریدی ہے یابطور میراث اُس سے ملی ہے اور اس صورت میں دیگرورثہ کے مقابل میں بھی یہ فیصلہ قرارپائے گا۔ اس چیز کے متعلق ملک مطلق کا دعویٰ کوئی شخص کرے مسموع نہیں ہوگا۔(6)
1 ۔ آزادی۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،ص۴۴۹.
3 ۔ دعویٰ کرنے والا۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،ص۴۴۹.
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۶،ص۱۸۳،۱۸۴.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،ص۴۵۰.
6 ۔ یعنی نہیں سنا جائے گا۔
مثلاً مشتری نے اپنا خریدنا بیان کردیا اور اُس سے وہ چیز لے لی گئی تومشتری بائع سے ثمن واپس لیگااور بائع نے بھی اگر خریدی تھی تووہ اپنے بائع سے ثمن وصول کرے وعلیٰ ہذاالقیاس ہرایک کے لیے اعادہ گواہ (1)اور فیصلہ کی ضرورت نہیں وہی پہلا فیصلہ اور پہلا ثبوت کافی ہے۔ ا ور اگر ذی الید نے اپنے بیان میں صرف اتناہی کہا ہے کہ یہ چیز میری ملک ہے یہ نہیں ظاہرکیا ہے کہ کس سے اس کو حاصل ہوئی تو وہ فیصلہ اسی کے مقابل قرار پائے گا دوسرے لوگوں سے اس کوتعلق نہیں مثلاً ایک شخص کے قبضہ میں ایک مکان ہے جس کو وہ اپنا بتاتا ہے اُس پر دوسرے نے دعویٰ کیا کہ یہ میرا ہے اور ثابت کردیا قاضی نے اس کے حق میں فیصلہ دیدیا پھرایک تیسراشخص جو مدعیٰ علیہ اول کا بھائی ہے وہ کھڑا ہوااور کہتا ہے یہ مکان میرے باپ کا تھا اُس نے وراثۃً میرے اور میرے بھائی کے مابین چھوڑا ہے اور اس کو ثابت کردیا تو مکان میں نصف حصہ اس کو مل جائے گاکیونکہ پہلا فیصلہ اس کے مقابل میں نہیں ہوا ہے اور اگر ذی الید نے یہ کہہ دیا ہوتا کہ مکان مجھ کو وراثت میں ملا ہے تو وہ پہلا فیصلہ اس کے مقابل میں بھی ہوتا اور اسکا دعویٰ مسموع نہ ہوتا۔ (2)(در مختارو ردالمحتار)
مسئلہ ۵: بعض صورتیں ایسی ہیں کہ مشتری کے مقابل میں فیصلہ اُن کے مقابل میں فیصلہ نہیں قرار پائے گاجن سے مشتری کو وہ چیز حاصل ہوئی ہے وہ اگر دعویٰ کریں گے تو مسموع ہوگا مثلاً اُ س نے ایک جانور خریداتھا مشتری سے بربنائے استحقاق وہ جانور لے لیا گیا اُس نے بائع سے ثمن واپس کرنا چاہا بائع نے کہا مستحق جھوٹا ہے وہ میراہی تھا میرے یہاں پیداہوا یاجس سے میں نے خریدا تھا اُس کے یہاں اُس کے جانور سے پیدا ہوایہ دعویٰ مسموع ہوگااور اس کو گواہوں سے ثابت کردے تو پہلا فیصلہ رد ہوجائے گا یا وہ بائع یہ کہتا ہے کہ میں نے یہ چیز خود مستحق سے خریدی ہے اُس کی نہیں ہے یہ دعویٰ بھی مسموع ہے۔(3)(درر،غرر)
مسئلہ ۶: جب چیز مستحق کی ہوگئی مشتری کو بائع سے ثمن واپس لینے کا حق حاصل ہوگیا مگر کوئی مشتری اپنے بائع سے ثمن واپس نہیں لے سکتاجب تک اُس کے مشتری نے اُس سے واپس نہ لیا ہو مثلاً مشتری اول بائع سے اس وقت ثمن لے گا جب مشتری دوم نے اس سے لیا ہو۔اور اگر خریدار نے بروقت خریداری کوئی کفیل (ضامن) لیا تھا جو اس کا ضامن تھا
1 ۔ یعنی دوبارہ گواہوں کوپیش کرنے۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،ص۴۵۰.
3 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،باب الإستحقاق،الجزء الثانی،ص۱۹۱.
کہ اگر کسی دوسرے کی یہ چیز ثابت ہوئی تو ثمن کا میں ضامن ہوں اس ضامن سے مشتری ثمن اُس وقت وصول کرسکتا ہے جب مکفول عنہ(1) کے خلاف میں قاضی نے واپسی ثمن کا فیصلہ کردیا ہو۔(2) (درر، غرر)
مسئلہ ۷: مشتری نے بائع سے ثمن کی واپسی چاہی اور دونوں میں کم مقدار پرصلح ہوگئی تویہ بائع اپنے بائع سے وہ ثمن لے گاجوان دونوں کے درمیان طے پایا تھا اور مشتری نے بائع سے ثمن کو معاف کردیابعد اس کے کہ واپسی ثمن کے متعلق قاضی کا فیصلہ صادر ہوچکا تھا تویہ بائع اپنے بائع سے ثمن واپس لے سکتا ہے۔ اور اگر استحقاق سے قبل بائع نے مشتری کو ثمن معاف کردیا تھا تو اب مشتری نہ بائع سے لے سکتا ہے نہ بائع اپنے بائع سے اور مستحق ومشتری کے مابین مصالحت(3) ہوگئی کہ مستحق ثمن کا ایک جز مشتری کو دے کر مبیع لے لے اب مشتری اپنے بائع سے کچھ نہیں لے سکتا کہ اس نے اپنا حق خود ہی باطل کردیا۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: استحقاق مُبطِل میں بائعین و مشترین کے مابین جتنے عقودہیں(5) وہ سب فسخ ہوگئے اس کی ضرورت نہیں کہ قاضی ان عقود کو فسخ کرے، ہر ایک بائع اپنے بائع سے ثمن واپس لینے کا حق دار ہے۔ اس کی ضرورت نہیں کہ جب مشتری اس سے لے تو یہ بائع سے لے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر ایک شخص ضامن(6)سے وصول کرلے اگرچہ مکفول عنہ پر واپسی ثمن کا فیصلہ نہ ہوا ہو۔ (7) (درر ،غرر)
مسئلہ ۹: کسی شخص کی نسبت یہ حکم ہوا کہ یہ حرا صلی ہے یعنی ایک شخص کسی کا غلام تھا اُس کو پتہ چلا کہ پیدائشی آزاد ہے اُس نے قاضی کے پاس دعویٰ کیا قاضی نے حریت اصلیہ کا حکم دیا یا ایک شخص نے کسی پر دعویٰ کیا کہ یہ میرا غلام ہے اُس نے کہا میں اصلی حرہوں اور اس کو گواہوں سے ثابت کیا یا وہ مدعی اس کی غلامی کو گواہوں سے نہ ثابت کرسکا
1 ۔ یعنی جس کی ضمانت لی تھی۔
2 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،الجزء الثانی،ص۱۹۱.
3 ۔یعنی صلح ۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،ص۴۵۳.
5 ۔یعنی بیچنے اور خریدنے والوں کے درمیان جو معاملات ہیں ۔
6 ۔ضمانت لینے والا۔
7 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،الجزء الثانی،ص۱۹۰.
اوریہ کہتا ہے کہ میں آزاد ہوں اور اس سے پہلے صراحۃً(1)یا دلالۃًاس نے اپنی غلامی کا کبھی اقرار نہ کیا ہو اتنا بھی نہیں کہ یہ جب بیچا گیا اُس وقت خاموش رہا بلکہ مشتری کے ساتھ چلاگیا اس حکم کے بعد اب دُنیا بھر میں کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ یہ میرا غلام ہے یہ دعویٰ ہی نہیں سُنا جائیگا۔ یوہیں عتق اور اس کے تو ابع کا حکم بھی تمام جہان میں نافذ ہے کہ اس کے خلاف کوئی دعویٰ کرہی نہیں سکتا یعنی یہ دعویٰ کیا کہ فلاں کا غلام تھا اُس نے آزاد کردیا یا مدبر کردیا یالونڈی ہے اس کو ام ولد کیا اور قاضی نے ان باتوں کا حکم صادر کردیا تواب کوئی بھی دعویٰ نہیں کرسکتا۔(2)(درمختار، درر)
مسئلہ ۱۰: مِلک مورخ (3)میں جب عتق(4) تاریخ سے پہلے ثابت ہوگیا اور قاضی نے عتق کا حکم دیا تواس تاریخ کے وقت سے اس کے متعلق ملک کا دعویٰ نہیں ہوسکتا اس سے پہلے کی ملک کا دعویٰ ہوسکتا ہے اس کی صورت یہ ہے کہ زیدنے بکر سے کہا تو میرا غلام ہے پانچ سال سے تومیری ملک میں ہے بکرنے جواب میں کہا میں فلاں شخص کا غلام تھا چھ برس ہوئے اُس نے مجھے آزاد کردیا اور اس امر کو گواہوں سے ثابت کیا زید کا دعویٰ بیکار ہوگیاپھر عمرو نے بکر پردعویٰ کیا کہ میں سات برس سے تیرا مالک ہوں اوراب بھی تومیری ملک میں ہے اس کو اس نے گواہوں سے ثابت کیا تو گواہ قبول ہوں گے اور پہلا فیصلہ منسوخ ہوجائے گا۔(5) (درر ،غرر)
مسئلہ ۱۱: کسی جائدادکی نسبت وقف کا حکم ہوا یہ حکم تمام لوگوں کے مقابل نہیں یعنی اگراس کے متعلق ملک یا دوسرے وقف کا دوسرا شخص دعویٰ کرے وہ دعویٰ مسموع ہوگا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: مشتری کو بائع سے ثمن واپس لینے کا اُس وقت حق ہوگا جب مستحق نے گواہوں سے اپنی ملک ثابت کی ہو اور اگر مدعیٰ علیہ یعنی مشتری (7)نے خودہی اُس کی ملک کا اقرار کرلیا یا اس پر حلف (8)دیا گیا اس نے حلف سے انکار کردیا
1 ۔ صریح طورپر،واضح طور پر۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،ص۴۵۴،۴۶۴.
و''دررالحکام''شرح''غررالاحکام''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،الجزء الثانی،ص۱۸۹.
3 ۔جس نے تاریخ بتائی ہے اس کی ملکیت ۔ 4 ۔ آزادی۔
5 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،الجزء الثانی،ص۱۸۹.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،ص۴۶۶.
7 ۔خریدار۔ 8 ۔ قسم۔
یامشتری کے وکیل بالخصومۃ نے اقرار کرلیا یا حلف سے انکار کردیا تو مشتری اپنے بائع سے ثمن نہیں لے سکتا۔ (1) (دررو غرر)
مسئلہ ۱۳: ایک مکان خریدا اُس پر ایک شخص نے ملک کا دعویٰ کردیا مشتری نے اُس کی ملک کا اقرار کر لیا بائع سے ثمن واپس نہیں لے سکتا اس کے بعد مشتری گواہ سے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ یہ مکان مستحق کا ہے تاکہ بائع سے ثمن واپس لے سکے یہ گواہ نہیں سُنے جائیں گے ہاں اگر گواہوں سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ بائع نے خود اقرار کیا ہے کہ مستحق کی ملک ہے تو یہ گواہ مقبول ہوں گے اور اس کو بائع سے ثمن واپس کرلینے کا حق ہوجائے گا اور مشتری یہ بھی کرسکتا ہے کہ بائع پر حلف دے کہ وہ قسم کھاجائے کہ مستحق کا نہیں ہے اگر بائع نے اس قسم سے انکارکیا مشتری کو ثمن واپس لینے کا حق ہوجائے گا۔(2) (درر)
مسئلہ ۱۴: اِستحقاق میں ثمن واپس لینے کا حق اُس وقت ہے کہ دعویٰ اُ س پر ہوجو چیز بائع کے یہاں تھی اوراگراُس میں تغیر آگیا (3)اتنا کہ اگر غصب کیا ہوتا تو مالک ہوجاتا اور اس پر استحقاق ہواتو بائع سے ثمن نہیں لے سکتا مثلاًکپڑا خریدا اُسے قطع کرکے سلالیا اس کے بعدمستحق نے گواہوں سے ثابت کیا جب بھی مشتری بائع سے نہیں لے سکتا کیونکہ یہ استحقاق اُس کی ملک پر نہیں وہ کُرتے کا مدعی ہے اور اس نے بائع سے کرتہ کہاں خریدا ہاں اگر اُس نے گواہ سے یہ ثابت کیا کہ یہ کپڑا میرا تھا جب کہ کُرتانہ تھا تو اب مشتری بائع سے لے گا۔ یوہیں گیہوں خریدے تھے آٹا پس گیا آٹے کا مستحق نے دعویٰ کیا تو مشتری واپس نہیں لے سکتا اور اگر یہ کہا کہ پسنے سے قبل گیہوں میرے تھے، اسی طرح گوشت خریدا تھا، پکوالیا۔(4)(فتح القدیر)
مسئلہ ۱۵: مشتری نے بائع سے یوں کہا کہ اگر استحقاق ہوگا تو ثمن واپس نہ لوں گاپھر بھی بعد استحقاق ثمن واپس لے سکتا ہے اور وہ قول لغو(5)ہے کہ ابرا یعنی معافی قابل تعلیق(6) نہیں۔(7)(فتح)
1 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام'' ،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،الجزء الثانی،ص۱۹۱.
2 ۔''دررالحکام''شرح ''غرر الاحکام''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،الجزء الثانی،ص۱۹۱.
3 ۔یعنی تبدیلی آگئی ۔
4 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۶،ص۱۸۶.
5 ۔ فضول،بے کار۔ 6 ۔ یعنی مشروط کرنے کے قابل۔
7 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۶،ص۱۸۸.
مسئلہ ۱۶: بائع مرگیا ہے اور اُس کا وارث بھی کوئی نہیں اورمشتری پراستحقاق ہوا تو قاضی خود بائع کا ایک وصی مقرر کریگااورمشتری اُس سے ثمن واپس لے گا۔ بائع کہتا ہے یہ جانور میرے گھر کا بچہ ہے مگر اس کو ثابت نہ کرسکا یا وہ بیع ہی سے انکار کرتاہے جب بھی مشتری ثمن واپس لے سکتا ہے۔(1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: مشتری نے جس سے خریدا ہے وہ وکیل بالبیع(2) ہے اور مشتری نے ثمن اُسی کودیاہے تو اُسی وکیل کے مال سے ثمن وصول کرسکتا ہے اس کا بھی انتظار کرنا ضرور نہیں کہ موکل اُس کو دے تو مشتری لے اور اگر مشتری نے ثمن خود موکل کو دیا ہے تو اتنا انتظار کرنا ہوگاکہ وہ موکل(3) سے وصول کرے تب یہ اُس سے لے۔ بائع نے اگر مشتری سے کہا تمھیں معلوم ہے یہ چیز میری تھی اور یہ گواہ جھوٹے ہیں مشتری نے اس کی تصدیق کی جب بھی بائع سے ثمن واپس لے سکتا ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: مشتری کے پاس سے مستحق کے پاس مبیع پہنچ گئی اور ابھی تک قاضی نے حکم نہیں دیا ہے تومشتری اُس سے اپنی چیزواپس لے سکتا ہے یا یہ کہ وہ گواہوں سے اپنی ہونا ثابت کرے اور اس وقت بائع سے ثمن لینے کا حقدار ہوگا اوراگر مستحق کے یہاں صورت مذکور ہ میں ہلاک ہوگئی تو مشتری اس مستحق پر دعوٰے کرے کہ تونے بلا حکم قاضی میری چیز لے لی ہے اور وہ میری ملک تھی اور اب تیرے پاس ہلاک ہوگئی لہٰذا اس کی قیمت اداکراب اگر مستحق گواہوں سے اپنی ہونا ثابت کردے گاتومشتری بائع سے ثمن لے سکتا ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: ایک جانور مادہ خریدامشتری کے یہاں اُس کے بچہ پیدا ہوامستحق نے اُس پر دعویٰ کیا اور گواہوں سے ثابت کردیا تو مستحق جانور کو بھی لے گا اور بچہ کو بھی بلکہ اگرکسی نے اُ س بچہ کو مارڈالا یا نقصان پہنچایا جس کا معاوضہ لیا جاچکاہے وہ بھی مستحق لے گا مگر یہ ضروری ہے کہ قاضی نے اس کا بھی حکم دیا ہو صرف اُس جانور کا حکم دینا بچہ کا حکم نہیں۔ یہ حکم بچہ ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جتنے زوائد ہیں وہ سب مستحق کو ملیں گے جب کہ قاضی نے اس کا فیصلہ کیا ہو اور اگرمستحق نے گواہوں سے ثابت نہیں کیا ہے بلکہ خوداس شخص نے اقرار کیا ہے تو بچہ مستحق کونہیں ملے گا صرف وہ جانور ہی ملے گاہاں اگر مستحق نے بچہ کا بھی دعویٰ کیا ہواور ذی الید (6) نے صرف جانور کا اقرار کیا تو جانور اور بچہ دونوں مستحق کو ملیں گے اور دیگر زوائد کا بھی یہی حکم ہے۔
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،۴۵۵.
2 ۔بیچنے کا وکیل۔ 3 ۔وکیل کرنے والا۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،۴۵۶.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،۴۵۶.
6 ۔یعنی جس کے قبضے میں ہے۔
زوائدہلاک ہوگئے تو ان کا ضمان(1) نہیں گواہ واقرار میں فرق کی وجہ یہ ہے کہ بینہ (گواہ) حجت کا ملہ اورمتعدیہ ہے کہ جس کے متعلق قائم ہواُسی پر مقتصر نہیں رہتا(2) اور اقرار حجت قاصرہ ہے کہ یہ تجاوز نہیں کرتا۔(3)(ہدایہ، فتح القدیر، درمختار)
مسئلہ ۲۰: تناقض یعنی پہلے ایک کلام کہنا پھر اُس کے خلاف بتانا مانع دعویٰ(4) ہے۔ مگر اس میں شرط یہ ہے کہ1 پہلا کلام کسی شخص معین کے متعلق ہو، ورنہ مانع نہیں مثلاً پہلے کہا تھا فلاں شہر والوں کے ذمہ میرا کوئی حق نہیں پھر اسی شہر کے کسی خاص آدمی پر دعویٰ کیا یہ دعویٰ مسموع (5)ہے۔ 2یہ بھی ضرور ہے کہ پہلا کلام بھی اس نے قاضی کے سامنے بولا ہو یا قاضی کے حضور (6)اس کا ثبوت گزرا ہو، ورنہ قابل اعتبار نہیں۔ 3 یہ بھی ضرور ہے کہ خصم (7) نے اس کی تصدیق نہ کی ہو، اگر اس نے تصدیق کردی تو تناقض کا کچھ اثر نہیں۔ 4 یہ بھی ضرور ہے کہ قاضی نے اس کی تکذیب نہ کی ہو، تکذیب سے تناقض اُٹھ جاتا ہے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: کسی لونڈی کی نسبت دعویٰ کیا کہ یہ میری منکوحہ ہے پھر یہ کہتا ہے کہ میری ملک ہے یہ تناقض ہے اور دعویٰ ملک مسموع نہیں جس طرح تناقض اس کے لیے مانع ہے دوسرے کے لیے بھی مانع ہے، مثلاً کہتا ہے یہ چیز فلاں کی ہے، اُس نے مجھے وکیل بالخصومۃ (وکیل مقدمہ) کیا ہے پھر کہتا ہے کہ یہ چیز فلاں کی ہے (دوسرے کانام لے کر) اُس نے مجھے وکیل بالخصومۃ کیا ہے، یہ تناقض ہے اور مانع دعویٰ ہے۔ ہاں اگر اس کی دونوں باتوں میں تطبیق(9) ممکن ہو تو مسموع ہوگا مثلاً اسی مثال مفروض(10) میں وہ بیان دیتا ہے کہ جب پہلے میں مدعی ہوکر آیا تھا اُس وقت وہ چیز اُسی کی تھی اور اس نے مجھے وکیل کیا تھا اور اب یہ چیز اُس کی نہیں بلکہ اِس کی ہے اور اس نے مجھے وکیل کیا ہے۔تناقض کی بہت سی صورتیں ہیں اس کی بعض مثالیں ذکر کیجاتی ہیں۔
1 ۔تاوان۔ 2 ۔یعنی اسی تک محدود نہیں رہتا۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۲،ص۶۶.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۶،ص۱۸۲-۱۸۳.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،ص۴۵۸-۴۶۰.
4 ۔روکنے والا۔ 5 ۔قابل قبول۔
6 ۔یعنی قاضی کے سامنے۔ 7 ۔ مدِّ مقابل۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،مطلب:فی ولد المغرور،ج۷،ص۴۶۰.
9 ۔مطابقت۔ 10 ۔فرضی مثال۔
1 ایک شخص کی نسبت دعویٰ کرتا ہے کہ وہ میرا بھائی ہے اور میں حاجت مند ہوں میرا نفقہ اُس سے دلوایا جائے اُس نے جواب دیا کہ یہ میرا بھائی نہیں ہے اس کے بعد مدعی مرگیا اور مدعیٰ علیہ آتا ہے اور میراث مانگتا ہے اور کہتا ہے میرے بھائی کا ترکہ مجھ کو دیا جائے یہ نا مسموع (1)ہے۔
2 پہلے ایک چیز کی نسبت کہا یہ وقف ہے پھر کہتا ہے میری ملک ہے نا مسموع ہے۔
3 پہلے کوئی چیز دوسرے کی بتائی پھر کہتا ہے میری ہے یہ نا مسموع ہے اور اگر پہلے اپنی بتائی پھر دوسرے کی تو مسموع ہے کہ اپنی کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اُس چیز کو خصوصیت کے ساتھ برتتا تھا۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: یہ جو کہا گیا کہ تنا قض مانع دعویٰ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ایسی چیز میں تنا قض ہو جس کا سبب ظاہر تھا اورجو چیز یں ایسی ہیں جن کے سبب مخفی ہوتے ہیں اُن میں تناقض مانع دعویٰ نہیں مثلاً ایک مکان خریدایا کرایہ پر لیا پھر اسی مکان کی نسبت دعویٰ کرتا ہے کہ یہ میرے باپ نے میرے لیے خریدا جب میں بچہ تھا یا میرے باپ کا مکان ہے جو بطور وراثت مجھے ملا بظاہر یہ تنا قض(3) موجو د ہے مگر مانع دعویٰ نہیں ہوسکتا ہے کہ پہلے اُسے علم نہ تھا اس بنا پر خریدا اب جب کہ معلوم ہوا یہ کہتا ہے اگر اپنی پچھلی بات گواہوں سے ثابت کردے تو مکان اسے مل جائے گا۔رومال میں لپٹا ہوا کپڑا خریدا پھر کہتا ہے یہ تومیراہی تھا میں نے پہچانا نہ تھا یہ بات معتبر ہے۔ دوبھائیوں نے ترکہ تقسیم کیا پھر ایک نے کہا فلاں چیز والد نے مجھے دیدی تھی اگر یہ بات اپنے بچپنے کی بتاتا ہے قبول ہے ورنہ نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: نسب، طلاق، حریت ان کے اسباب مخفی ہیں ان میں تناقض مضر(5) نہیں مثلاً کہتا ہے یہ میرا بیٹا نہیں پھر کہا میرا بیٹا ہے نسب ثابت ہوگیااور اگر پہلے کہا یہ میرا لڑکا ہے پھر کہتا ہے نہیں ہے تویہ دوسری بات نا معتبر ہے کیونکہ نسب ثابت ہوجانے کے بعدمُنْتَفِی نہیں ہوسکتا(6) یہ اُس وقت ہے کہ لڑکا بھی اُس کی تصدیق کرے اور اگر اس نے اُس کو اپنا لڑکا بتایا مگر وہ انکار کرتاہے تو نسب ثابت نہیں ہاں لڑکے نے انکار کے بعد پھر اقرارکرلیا تو ثابت ہوجائے گا۔ پہلے کہا میں فلاں کا
1 ۔ناقابل قبول۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،مطلب:فی مسائل التناقض،ج۷،ص۴۶۲.
3 ۔تضاد۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،ص۴۶۳.
5 ۔ نقصان دہ۔ 6 ۔یعنی نفی نہیں ہوسکتی۔
وارث نہیں پھر کہا وارث ہوں اور میراث پانے کی وجہ بھی بتاتا ہے تو بات مان لی جائے گی۔ یہ بات کہ فلاں شخص میرا بھائی ہے یہ اقرار معتبر نہیں یعنی اس کہنے کی وجہ سے اس کے باپ سے اُس کا نسب ثابت نہ ہوگا کہ غیر پر اقرار کرنے کا اسے کوئی حق نہیں۔ یہ کہا کہ میرا باپ فلاں شخص ہے اُس نے بھی مان لیا نسب ثابت ہوگیا پھر وہ شخص دوسرے کا نام لے کر کہتا ہے میرا باپ فلاں ہے یہ بات نامسموع ہے کہ پہلے شخص کے حق کا ابطال(1) ہے اور اگر پہلے شخص نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے مگر تکذیب(2) بھی نہیں کی ہے جب بھی دوسرے کو اپنا باپ نہیں بتاسکتا۔ طلاق میں تنا قض کی صورت یہ ہے کہ عورت نے اپنے شوہر سے خلع کرایا اس کے بعدیہ دعویٰ کیا کہ شوہرنے تین طلاقیں خلع سے پہلے ہی دیدی تھیں لہٰذا بدل خلع واپس کیا جائے یہ دعویٰ مسموع ہے اگر گواہوں سے ثابت کردے گی بدل خلع واپس ملے گا کیونکہ طلاق میں شوہر مستقل ہے عورت کی موجودگی یا علم ضرور نہیں پہلے عورت کو معلوم نہ تھا اس لیے خلع کرایا اب معلوم ہواتو بدل خلع کی واپسی کا دعویٰ کیا۔ عورت نے شوہر کے ترکہ سے اپنا حصہ لیا دیگر ورثہ نے اس کی زوجیت کا اقرار کیا تھا پھریہی لوگ کہتے ہیں کہ اس کے شوہر نے حالت صحت میں تین طلاقیں دیدی تھیں اگر معتبر گواہوں سے ثابت کردیں عورت سے ترکہ(3)واپس لے لیں۔ حریت کی دوصورتیں ہیں ایک اصلی،دوسری عارضی، اصلی تویہ کہ آزاد پیدا ہی ہوا ،رقیت(4) اُس پر طاری ہی نہ ہوئی اس کی بنا علوق (نطفہ قرار پانے) پر ہی ہوسکتا ہے کہ اس کے ماں باپ حر(5) ہیں مگر اسے علم نہیں یہ لوگوں سے اپنا غلام ہونا بیان کرتاہے پھراسے معلوم ہوا کہ اس کے والدین آزاد تھے اب آزادی کا دعویٰ کرتا ہے۔ اور حریت عارضی کی بنا عتق(6) پر ہے عتق میں مولے ٰ (7) مستقل ومتفرد ہے ہوسکتا ہے کہ اُس نے آزاد کردیا اوراسے خبرنہ ہوئی اس لیے اپنے کو غلام بتاتاہے جب معلوم ہواکہ آزاد ہوچکا ہے آزاد کہتا ہے۔ (8) (درر، غرر، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: غلام نے خریدار سے کہا تم مجھے خریدلو میں فلاں کا غلام ہوں خریدار نے اس کی بات پر بھروسہ کیا اسے خریدلیا اب معلوم ہواکہ وہ غلام نہیں بلکہ آزاد ہے اگر بائع یہاں موجود ہے یا غائب ہے مگر معلوم ہے کہ وہ فلاں جگہ ہے تواس غلام سے مطالبہ نہیں ہوگا بائع کو پکڑیں گے اُس سے ثمن وصول کریں گے۔ ا ور اگر بائع لاپتہ ہے یا مرگیا ہے اور ترکہ بھی نہیں چھوڑا
1 ۔باطل کرنا۔ 2 ۔جھٹلانا۔ 3 ۔میراث کا مال۔
4 ۔غلامی۔ 5 ۔آزاد۔
6 ۔آزادی۔ 7 ۔آقا ، مالک۔
8 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،الجزء الثانی،ص۱۹۱.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،مطلب:فی مسائل التناقض،ج۷،ص۴۶۳.
ہے تو اُسی غلام سے مطالبہ وصول کیا جائے گا اور ترکہ چھوڑ مرا ہے تو ترکہ سے وصول کریں۔ غلام سے وصول کیا ہے تو وہ جب بائع کوپائے اُس سے وصول کرے اور اگر اُس نے صرف اتنا کہا ہے کہ میں غلام ہوں یا یہ کہا مجھے خریدلو تو اس سے مطالبہ نہیں ہوسکتا۔(1)(درمختاروغیرہ)
مسئلہ ۲۵: صورت مذکورہ میں اس نے مرتہن(2) سے کہا مجھے رہن رکھ لو میں فلاں کا غلام ہوں اُس نے رکھ لیا بعدمیں معلوم ہوا غلام نہیں ہے حر ہے تو چاہے راہن حاضر ہو یا غائب یہ معلوم ہے کہ فلاں جگہ ہے یا معلوم نہ ہو بہر حال غلام سے رقم نہیں وصول کی جائے گی اور اگر اجنبی نے کہا کہ اسے خرید لو یہ غلام ہے اور اس کی بات پر اطمینان کرکے خرید لیا بعد میں معلوم ہوا وہ آزاد ہے اُس اجنبی سے ضمان(3) نہیں لیا جاسکتا کیونکہ غیر ذمہ دار شخص کی بات ماننا خوددھوکا کھانا ہے اوریہ خودا س کاقصور ہے۔(4)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۶: جائداد غیر منقولہ(5) بیع کردی پھر دعویٰ کرتا ہے کہ یہ جائداد وقف ہے اور اس پر گواہ پیش کرتا ہے، یہ گواہ سُنے جائیں گے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: ایک چیز خریدی اور ابھی اُس پر قبضہ بھی نہیں کیا کہ مستحق نے دعویٰ کیا تو جب تک بائع ومشتری دونوں حاضر نہ ہوں وہ دعویٰ مسموع نہیں اگر دونوں کی موجودگی میں مستحق کے موافق فیصلہ ہوااور ان میں سے کسی نے یہ ثابت کردیا کہ مستحق نے ہی اسکو بائع کے ہاتھ بیچا تھا اور بائع نے مشتری کے ہاتھ تو گواہی مقبول ہے اور بیع لازم۔(7)(فتح القدیر)
مسئلہ ۲۸: مستحق نے گواہوں سے یہ ثابت کیا کہ یہ چیز میرے پاس سے اتنے دنوں سے غائب ہے مثلاً ایک سال سے مشتری(8)نے بائع کو یہ واقعہ سُنایا بائع نے گواہوں سے یہ ثابت کیا کہ اس چیز کا دو۲ برس سے میں مالک ہوں ان دونوں بیانوں کا محصل (9)یہ ہوا کہ مستحق وبائع(10) دونوں نے مِلک مطلق کا دعویٰ کیا ہے اور بائع نے ملک کی تاریخ بتائی ہے
ـ1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۷،ص۴۶۵.
2 ۔جس کے پاس چیزرہن رکھی گئی ہے۔ 3 ۔ تاوان۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الإستحقاق،ج۲،ص۶۷.
5 ۔ایسی جائدادجو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ کی جاسکتی ہوں ۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الاستحقاق،ج۷،ص۴۶۶.
7 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب الاستحقاق،ج۶،ص۱۸۷.
8 ۔خریدار۔9 ۔حاصل۔10 ۔بیچنے والا۔
مگرمستحق نے ملک کی کوئی تاریخ نہیں بیان کی کیونکہ مستحق یہ کہتا ہے کہ اتنے دنوں سے چیز غائب ہوگئی ہے یہ نہیں بتایا کہ اتنے دنوں سے میں اس کا مالک ہوں اورایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ ذی الید(1) کا بینہ(2) قبول نہیں ہوتا خارج(3) کے گواہ مقبول ہوں گے اور چیز مستحق کو ملے گی۔ (4) (درر، غرر)
مسئلہ ۲۹: مشتری کو خریداری کے وقت یہ معلوم ہے کہ چیز دوسرے کی ہے بائع کی نہیں ہے باوجود اس کے خریدلی اب مستحق نے دعویٰ کرکے وہ چیز لے لی تو بھی مشتری بائع سے ثمن واپس لے سکتا ہے وہ علم رجوع سے مانع نہیں لہٰذا گر لونڈی کو خرید کر اُم ولدبنا یا تھا اور جانتا تھا کہ بائع نے اسے غصب کیا ہے تو اُس کا بچہ آزاد نہ ہوگابلکہ غلام ہوگا اور ثمن کی واپسی کے وقت اگر بائع نے گواہوں سے یہ ثابت بھی کیا کہ خود مشتری نے ملک ِمستحق(5) کا اقرار کیا تھا تو بھی ثمن کی واپسی پر اِس کا کچھ اثر نہ پڑے گا جبکہ مستحق نے گواہوں سے اپنی ملک ثابت کی ہو۔(6) (درر، غرر)
مسئلہ ۳۰: اگر مشتری نے بائع کی ملک کا اقرار کیا مگر مستحق نے اپنا حق ثابت کرکے چیز لے لی اور مشتری نے ثمن واپس لیا جب بھی بائع کے لیے جو پہلے اقرار کرچکا ہے وہ بدستور باقی ہے یعنی وہ چیز کسی صورت سے مشتری کے پاس پھر آجائے مثلاً کسی نے اس کو ہبہ کردی یا اس نے پھر خریدلی تو اس کو یہی حکم دیاجائے گاکہ بائع کو دیدے اور اگرملک بائع کا اقرار نہیں کیا ہے تو اس کی ضرورت نہیں کہ بائع کو دے۔(7)(درمختار)
مسئلہ ۳۱: مشتری نے پوری مبیع پر قبضہ کیا پھر اس کے جز کا مستحق نے دعویٰ کیا تو اتنے جز کی بیع فسخ (8)کردی جائے گی باقی کی بدستور رہے گی ہاں اگر مبیع(9)ایسی چیز ہے کہ ایک جُز جدا کردینے سے اُس میں عیب پیدا ہوجاتاہے مثلاًمکان 'باغ' غلام ہے یا مبیع دوچیز ہے مگر دونوں بمنزلہ ایک چیز کے ہیں جیسے تلوار ومیان اور ایک مستحق نے لے لی تومشتری کو اختیار ہے کہ باقی میں بیع کو باقی رکھے یا واپس کردے اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں مثلاً مبیع دو غلام ہے یا دو کپڑے اور ایک مستحق نے لے لیا یا غلہ وغیرہ ایسی چیز ہے جس میں تقسیم مضر نہ ہو تو واپس نہیں کرسکتا جو کچھ بچی ہے اُسے رکھے اور جو کچھ مستحق نے لے لی اُتنے کا
1 ۔یعنی جس کے قبضہ چیز موجود ہے۔ 2 ۔گواہ۔ 3 ۔یعنی جس کے قبضے میں چیز نہیں۔
4 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب الاستحقاق،الجزء الثانی،ص۱۹۲.
5 ۔مستحق کیملکیت۔
6 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب الاستحقاق،الجزء الثانی،ص۱۹۲.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الاستحقاق،ج۷،ص۴۶۸.
8 ۔ختم ،باطل۔ 9 ۔فروخت شدہ۔
ثمن حصہ مطابق بائع سے لے۔(1)(درر ،غرر)
مسئلہ ۳۲: مبیع کے ایک جز پر ابھی قبضہ کیا تھاکہ مستحق نے اسی جز یا دوسرے جزپر اپنا حق ثابت کیا تو مشتری کو بیع فسخ کردینے کا بہر حال اختیار ہے حصہ کرنے سے مبیع میں عیب پیدا ہوتا ہو یا نہ ہو۔ (2) (درر، غرر)
مسئلہ ۳۳: مکان کے متعلق حقِ مجہول کا دعویٰ ہوا یعنی مدعی نے اتنا کہا کہ میرا اس میں حصہ ہے یہ نہیں بتایا کہ کتنا مدعیٰ علیہ نے سوروپے دیکر اُس سے مصالحت کرلی پھرایک ہاتھ کے علاوہ سارا مکان دوسرے مستحق نے اپنا ثابت کیا تو پہلے جس سے صلح ہوچکی ہے اُس سے کچھ نہیں لے سکتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایک ہاتھ جو بچا ہے وہی اُس کا ہو۔ اور اگر پہلے مدعی نے پورے مکان کا دعویٰ کیا اور سوروپے پر صلح ہوئی تو جتنا مستحق لے گا اُس کے حصہ کے مطابق سوروپے میں سے واپس لیا جائے گااور مستحق نے کُل لیا تو پورے سوروپے واپس لے گا۔ (3) (ہدایہ)
مسئلہ ۳۴: ایک شخص کی دوسرے پر اشرفیاں ہیں بجائے اشرفیوں کے دونوں میں روپیوں پر مصالحت ہوئی اور وہ روپے دے بھی دیے اس کے بعد ایک تیسرے شخص نے استحقاق کیا کہ یہ روپے میرے ہیں تو اشرفیوں والا اُس سے اشرفیاں لے گا اور وہ صلح جو روپے پرہوئی تھی باطل ہوگئی۔(4)(درر ،غرر)
مسئلہ ۳۵: مکان خریدا اور اس میں تعمیر کی پھر کسی نے وہ مکان اپنا ثابت کردیا تومشتری بائع سے صرف ثمن لے سکتا ہے عمارت کے مصارف نہیں لے سکتا۔ یو نہی مشتری نے مکان کی مرمت کرائی تھی یا کوآں کھدوایا یا صاف کرایا تو ان چیزوں کا معاوضہ نہیں مل سکتا اور اگر دستاویز(5)میں یہ شرط لکھی ہوئی ہے کہ جو کچھ مرمت میں صرف ہوگا بائع کے ذمہ ہوگا تو بیع ہی فاسد ہوجائے گی۔ اور اگر کوآں کھودوایا اور اینٹ پتھر وں سے وہ جوڑا گیا تو کھودنے کے دام نہیں ملیں گے چُنائی(6) کی قیمت ملے گی اور اگر یہ شرط تھی کہ بائع کے ذمہ کُھدائی ہوگی تو بیع فاسد ہے۔(7)(درمختار)
مسئلہ ۳۶: غلام خریدا اور اُس کو مال کے بدلے میں آزاد کردیا پھر مستحق نے اُس کو اپنا ثابت کیا تو مشتری سے وہ
ـ1 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب الاستحقاق،الجزء الثانی،ص۱۹۳.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب الاستحقاق،ج۲،ص۶۷.
4 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب الاستحقاق،الجزء الثانی،ص۱۹۲.
5 ۔ تحریر،اقرارنامہ۔ 6 ۔اینٹ یا پتھر سے دیوار اُٹھانا۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الاستحقاق،ج۷،ص۴۷۲-۴۷۴.
مال نہیں لے سکتا۔ مکان کو غلام کے بدلے میں خریدااوروہ مکان شفیع نے(1) شفعہ کرکے لے لیا پھر اُس غلام میں استحقاق (2) ہوا تو شفعہ باطل ہوگیا بائع اُس مکان کو شفیع سے واپس لے۔ (3) (درمختار)
حدیث(۱): صحیح بخاری ومسلم میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے، ملاحظہ فرمایا کہ اہل مدینہ ایک سال، دو سال، تین سال تک پھلوں میں سلم کرتے ہیں۔ فرمایا: ''جو بیع سلم کرے ، وہ کیلِ معلوم اور وزنِ معلوممیں مدت معلوم تک کے لیے سلم کرے۔'' (4)
حدیث( ۲): ابو داود و ابن ماجہ ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو کسی چیز میں سلم کرے، وہ قبضہ کرنے سے پہلے تصرف نہ کرے۔'' (5)
حدیث( ۳): صحیح بخاری شریف میں محمد بن ابی مجالد سے مروی، کہتے ہیں کہ عبداﷲ بن شداد اور ابوہریرہ نے مجھے عبداﷲ بن ابی اوفیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے پاس بھیجا کہ جا کر اُن سے پوچھو کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام گیہوں میں سلم کرتے تھے یا نہیں؟ میں نے جا کر پوچھا، اُنھوں نے جواب دیا کہ ہم ملک شام کے کاشتکار وں سے گیہوں اور جَو اور منقے(6)میں سلم کرتے تھے، جس کا پیمانہ معلوم ہوتا اور مدت بھی معلوم ہوتی۔ میں نے کہا اُن سے کرتے ہوں گے جن کے پاس اصل ہوتی یعنی کھیت یا باغ ہوتا۔ اُنھوں نے کہا، ہم یہ نہیں پوچھتے تھے کہ اصل اُس کے پاس ہے یا نہیں۔ (7)
مسئلہ ۱: بیع کی چار۴ صورتیں ہیں: 1 دونوں طرف عین ہوں یا 2 دونوں طرف ثمن یا3 ایک طرف عین اور ایک طرف ثمن اگر دونوں طرف عین ہو اُس کو مقایضہ کہتے ہیں اور دونوں طرف ثمن ہو تو بیع صرف کہتے ہیں اور تیسری صور ت میں کہ
1 ۔حق شفعہ کے مستحِق نے۔ 2 ۔ یعنی کسی کے حق کاثبوت۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الاستحقاق،ج۷،ص۴۷۷.
4 ۔''صحیح البخاری''،کتاب السلم،باب السلم فی وزن معلوم،الحدیث:۲۲۴۰،ج۲،ص۵۷.
و''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ... إلخ، باب السلم،الحدیث:۱۲۷-(۱۶۰۴)،ص۸۶۷.
5 ۔''مشکاۃ المصابیح''،کتاب البیوع،باب السلم والرھن،الفصل الثالث، الحدیث:۲۸۹۱،ج۲،ص۱۵۶.
6 ۔سوکھے ہوئے بڑے انگور۔
7 ۔''صحیح البخاري''،کتاب السلم، باب السلم الی من لیس عندہ اصل،الحدیث:۲۲۴۴،۲۲۴۵،ج۲،ص۵۷،۵۸.
ایک طرف عین ہو اور ایک طرف ثمن اس کی دوصورتیں ہیں، اگر مبیع کا موجود ہونا ضروری ہو تو بیع مطلق ہے، 4 اور ثمن کا فوراً دینا ضروری ہو تو بیع سَلم ہے، لہٰذا سَلم میں جس کو خریدا جاتا ہے وہ بائع کے ذمہ دین ہے اور مشتری ثمن کو فی الحال ادا کرتا ہے۔ جو روپیہ دیتا ہے اُس کو رب السَّلم اور مسلِم کہتے ہیں اور دوسرے کو مسلَم الیہ اور مبیع کو مسلَم فیہ اور ثمن کو راس المال۔ بیع مطلق کے جوارکان ہیں وہ اس کے بھی ہیں اس کے لیے بھی ایجاب وقبول ضروری ہے ایک کہے میں نے تجھ سے سَلم کیا دوسرا کہے میں نے قبول کیا۔ ا ور بیع کا لفظ بولنے سے بھی سَلم کا اِنعقاد ہوتا ہے۔(1)(فتح القدیر، درمختار)
بیع سَلم کے لیے چند شرطیں ہیں جن کا لحاظ ضروری ہے۔
(۱)عقد میں شرط خیار نہ ہونہ دونوں کے لیے نہ ایک کے لیے۔
(۲)راس المال کی جنس کا بیان کہ روپیہ ہے یا اشرفی یا نوٹ یا پیسہ۔
(۳)اُس کی نوع کا بیان یعنی مثلاً اگر وہاں مختلف قسم کے روپے اشرفیاں رائج ہوں تو بیان کرنا ہوگا کہ کس قسم کے روپے یا اشرفیاں ہیں۔
(۴)بیان وصف اگر کھرے کھوٹے کئی طرح کے سکے ہوں تو اسے بھی بیان کرنا ہوگا۔
(۵)راس المال کی مقدار کا بیان یعنی اگر عقد کا تعلق اُس کی مقدار کے ساتھ ہو تو مقدار کا بیان کرنا ضروری ہوگافقط اشارہ کرکے بتانا کافی نہیں مثلاً تھیلی میں روپے ہیں تویہ کہنا کافی نہیں کہ ان روپوں کے بدلے میں سَلم کرتاہوں بتانا بھی پڑے گا کہ یہ سوہیں اور اگر عقدکا تعلق اُس کی مقدار سے نہ ہو مثلاً راس المال کپڑے کا تھان یا عددی متفاوت ہو تو اس کی گنتی بتانے کی ضرورت نہیں اشارہ کرکے معین کردینا کافی ہے۔ اگر مسلم فیہ دو مختلف چیزیں ہوں اور راس المال مکیل یا موزوں(2) ہو تو ہرایک کے مقابل میں ثمن کا حصہ مقرر کرکے ظاہر کرنا ہوگا اورمکیل وموزوں نہ ہو تو تفصیل کی حاجت نہیں اوراگر راس المال دومختلف چیزیں ہوں مثلاً کچھ روپے ہیں اورکچھ اشرفیاں تو ان دونوں کی مقدار بیان کرنی ضرورہے ایک کی بیان کردی اورایک کی نہیں تو دونوں میں سلم صحیح نہیں۔
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۶،ص۲۰۴.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۷۸.
2 ۔ماپ یاتول سے کے بکنے والی چیز ۔
(۶)اُسی مجلس عقد میں راس المال پر مسلم الیہ کا قبضہ ہوجائے۔
مسئلہ ۲: ابتدائے مجلس میں قبضہ ہویا آخر مجلس میں دونوں جائز ہیں اور اگر دونوں اس مجلس سے ایک ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے اور وہاں سے چل دیے، مگر ایک دوسرے سے جدا نہ ہوا اور دو ایک میل چلنے کے بعد قبضہ ہوا، یہ بھی جائز ہے۔(1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: اُسی مجلس میں دونوں سوگئے یا ایک سویا اگر بیٹھا ہواسویا تو جدائی نہیں ہوئی قبضہ درست ہے، لیٹ کر سویا تو جدائی ہوگئی۔(2)(خانیہ)
مسئلہ ۴: عقدکیا اور پاس میں روپیہ نہ تھا اندر مکان میں گیا کہ روپیہ لائے اگر مسلم الیہ کے سامنے ہے تو سلم باقی ہے اور آڑ ہوگئی(3) تو سلم باطل۔ پانی میں گُھسا اور غوطہ لگایا اگر پانی میلا ہے غوطہ لگانے کے بعد نظر نہیں آتا سلم باطل ہوگئی اور صاف پانی ہو کہ غوطہ لگانے پر بھی نظر آتاہو تو سلم باقی ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: مسلم الیہ راس المال پر قبضہ کرنے سے انکار کرتا ہے یعنی رب السلم نے اُسے روپیہ دیا مگر وہ نہیں لیتا حاکم اُس کو قبضہ کرنے پر مجبور کریگا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: دوسوروپے کاسَلم کیا ایک سواُسی مجلس میں دیدیے اور ایک سوکے متعلق کہا کہ مسلم الیہ کے ذمہ میرا باقی ہے وہ اس میں محسوب کرلے تو ایک سو جو دیے ہیں ان کا درست ہے اور ایک سو کا فاسد۔ (6) (درر، غرر) اور وہ دین کا روپیہ بھی اسی مجلس میں اداکردیا تو پورے میں سلم صحیح ہے اور اگر کل ایک جنس نہ ہو بلکہ جوادا کیا ہے روپیہ ہے اور دَین جو اُس کے ذمہ باقی ہے اشرفی ہے یا اس کا عکس ہو یا وہ دَین دوسرے کے ذمہ ہے مثلاً یہ کہاکہ اس روپیہ کے اور اُن سوروپوں کے بدلے میں جو فلاں کے ذمہ میرے باقی ہیں سلم کیا ان دونوں صورتوں میں پورا سَلم فاسد ہے اور مجلس میں اُس نے ادا بھی کردیے جب بھی سلم صحیح نہیں۔ (7) (درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الاول،ج۳،ص۱۷۹.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،فصل فیمایجوز فیہ السلم...إلخ،ج۱،ص۳۲۴.
3 ۔دونوں کے درمیان میں کسی چیز حائل ہوگئی۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الأول،ج۳،ص۱۷۸.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''دررالحکام ''و''غرر الأحکام''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۲،ص۱۹۶.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۹۲.
(۷)مسلم فیہ کی جنس بیان کرنا مثلاً گیہوں یا جَو۔
(۸)اُس کی نوع کا بیان مثلاً فلاں قسم کے گیہوں۔
(۹)بیان وصف جید(1)، ردی(2)، اوسط درجہ۔
(۱۰)ماپ یاتول یا عدد یا گزوں سے اُس کی مقدار کا بیان کردینا۔
مسئلہ ۷: ناپ میں پیمانہ یا گز اور تول میں سیر وغیرہ باٹ ایسے ہوں جس کی مقدار عام طور پر لوگ جانتے ہوں وہ لوگوں کے ہاتھ سے مفقود نہ ہوسکے تاکہ آئندہ کوئی نزاع نہ ہوسکے اوراگرکوئی برتن گھڑایا ہانڈی مقرر کردیا کہ اس سے ناپ کردیا جائے گا اورمعلوم نہیں کہ اس برتن میں کتنا آتا ہے یہ درست نہیں۔ یوہیں کسی پتھرکو معین کردیا کہ اس سے تولاجائے گا اور معلوم نہیں کہ پتھر کا وزن کیا ہے یہ بھی ناجائزیا ایک لکڑی معین کردی کہ اس سے ناپا جائے گا اوریہ معلوم نہ ہو کہ گزسے کتنی چھوٹی یا بڑی ہے یا کہا فلاں کے ہاتھ سے کپڑاناپا جائے گا اور یہ معلوم نہیں کہ اُس کا ہاتھ کتنی گرہ اور اُنگل کا ہے یہ سب صورتیں ناجائز ہیں اور بیع میں ان چیزوں سے ناپنا یا وزن کرنا قرار پاتا تو جائز ہوتی کہ بیع میں مبیع کے ناپنے یا تولنے کے لیے کوئی میعاد نہیں ہوتی اُسی وقت ناپ تول سکتے ہیں اورسلم میں ایک مدت کے بعد ناپتے اور تولتے ہیں بہت ممکن ہے کہ اتنا زمانہ گزر نے کے بعد وہ چیز باقی نہ رہے اور نزاع (3)واقع ہو۔(4)(ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۸: جو پیمانہ مقرر ہووہ ایسا ہو کہ سمٹتا پھیلتا نہ ہو مثلاً پیالہ، ہانڈی، گھڑا اور اگر سمٹتا پھیلتا ہو جیسے تھیلی وغیرہ تو سلم جائز نہیں۔ پانی کی مشک اگرچہ پھیلتی سمٹتی ہے اس میں بوجہ رواج و عملدرآمد سلم جائز ہے۔ (5) (ہدایہ)
(۱۱)مسلم فیہ دینے کی کوئی میعاد مقرر ہو اور وہ میعاد معلوم ہو فوراًدیدینا قرار پایا یہ جائز نہیں۔
مسئلہ ۹: کم سے کم ایک ماہ کی میعاد مقرر کی جائے۔ ا گر رب السلم مرجائے جب بھی میعاد بدستور باقی رہے گی کہ میعاد پر اُس کے ورثہ کو مسلم فیہ ادا کریگا اور مسلم الیہ مرگیا تومیعاد باطل ہوگئی کہ فوراً اُس کے ترکہ سے وصول کریگا۔ (6) (خانیہ)
(۱۲)مسلم فیہ وقت عقد سے ختم میعاد تک برابردستیاب ہوتا رہے نہ اس وقت معدوم ہو نہ ادا کے وقت معدوم ہو نہ درمیان میں کسی وقت بھی وہ ناپید ہوان تینوں زمانوں میں سے ایک میں بھی معدوم ہوا تو سلم ناجائز۔ اُس کے موجود ہونے کے
1 ۔خالص،کھرا۔ 2 ۔ناقص،خراب۔ 3 ۔جھگڑا۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۲،ص۷۲.
و''الفتاوی الھندیۃ ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشرفی السلم،الفصل الاول،ج۳،ص۱۷۹.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۲،ص۷۲.
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۱،ص۳۳۳.
یہ معنے ہیں کہ بازار میں ملتا ہواور اگر بازار میں نہ ملے تو موجود نہ کہیں گے اگرچہ گھروں میں پایا جاتاہو۔
مسئلہ ۱۰: ایسی چیز میں سلم کیا جو اس وقت سے ختم میعاد تک موجود ہے مگر میعاد پوری ہونے پر رب السلم نے قبضہ نہیں کیا اور اب وہ چیز دستیاب نہیں ہوتی تو بیع سلم صحیح ہے اور رب السلم کو اختیار ہے کہ عقد کوفسخ کردے یا انتظار کرے جب وہ چیز دستیاب ہو بازارمیں ملنے لگے اُس وقت دی جائے۔(1) (عالمگیری) اگر وہ چیز ایک شہر میں ملتی ہے دوسرے میں نہیں تو جہاں مفقودہے (2) وہاں سلم ناجائز اور جہاں موجود ہے وہاں جائز۔ (3) (درمختار)
(۱۳)مسلم فیہ ایسی چیز ہو کہ معین کرنے سے معین ہو جائے۔ روپیہ اشرفی میں سلم جائز نہیں کہ یہ متعین نہیں ہوتے۔
(۱۴)مسلم فیہ اگرا یسی چیز ہو جس کی مزدوری اور باربرداری دینی پڑے تو وہ جگہ معین کردی جائے جہاں مسلم فیہ ادا کرے اور اگر اس قسم کی چیز نہ ہو جیسے مشک زعفران تو جگہ مقرر کرنا ضرورنہیں۔پھر اس صورت میں کہ جگہ مقرر کرنے کی ضرورت نہیں اگر مقرر نہیں کی ہے تو جہاں عقد ہوا ہے وہیں ایفا کرے(4) اور دوسری جگہ کیا جب بھی حرج نہیں اور اگر جگہ مقرر ہوگئی ہے توجو مقرر ہوئی وہاں ایفاکرے ۔چھوٹے شہر میں کسی محلہ میں دیدے کافی ہے محلہ کی تخصیص ضرور نہیں اور بڑے شہر میں بتانے کی ضرورت ہے کہ کس محلہ یا شہر کے کس حصہ میں ادا کرنا ہوگا۔
مسئلہ ۱۱: بیع سَلم کا حکم یہ ہے کہ مسلم الیہ ثمن کا مالک ہوجائے گااور رب السلم مسلم فیہ کا۔ جب یہ عقد صحیح ہوگیا اور مسلم الیہ نے وقت پر مسلم فیہ کو حاضر کردیا تو رب السلم کو لینا ہی ہے، ہاں اگر شرائط کے خلاف وہ چیز ہے تو مسلم الیہ کو مجبور کیا جائے گاکہ جس چیز پر بیع سلم منعقد ہوئی وہ حاضر لائے۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: بیع سَلم اُس چیز کی ہوسکتی ہے جس کی صفت کا انضباط(6) ہوسکے اور اُس کی مقدار معلوم ہوسکے وہ چیز کیلی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الأول،ج۳،ص۱۸۰.
2 ۔یعنی نہیں ملتی۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۸۳.
4 ۔یعنی جس جگہ بیع سلم ہوئی اسی جگہ بائع مسلم فیہ(مبیع)کوخریدار کے حوالے کرے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الاول،ج۳،ص۱۸۰.
6 ۔تعیین۔
ہو جیسے جَو، گیہوں یا وزنی جیسے لوہا، تانبا، پیتل یا عددی متقارب (1)جیسے اخروٹ، انڈا، پیسہ، ناشپاتی، نارنگی،انجیر وغیرہ۔ خام اینٹ اور پختہ اینٹوں میں سلم صحیح ہے جبکہ سانچا مقرر ہو جائے جیسے اس زمانہ میں عموماً دس انچ طول ۵ انچ عرض کی ہوتی ہیں، یہ بیان بھی کافی ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: زرعی چیز میں بھی سلم جائز ہے جیسے کپڑا اس کے لیے ضروری ہے کہ طول وعرض(3) معلوم ہواور یہ کہ وہ سوتی ہے یا ٹسری(4) یا ریشمی یا مرکب اور کیسا بناہوا ہوگا مثلاًفلاں شہر کا، فلاں کارخانہ ،فلاں شخص کا اُس کی بناوٹ کیسی ہوگی باریک ہوگا موٹا ہوگا اُس کا وزن کیا ہوگا جب کہ بیع میں وزن کا اعتبار ہوتا ہو یعنی بعض کپڑے ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کا وزن میں کم ہونا خوبی ہے اور بعض میں وزن کا زیادہ ہونا۔ (5)(درمختار) بچھونے، چٹائیاں، دریاں، ٹاٹ، کمل، جب ان کا طول و عرض و صفت سب چیزوں کی وضاحت ہوجائے تو ان میں بھی سلم ہوسکتا ہے۔(6)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: نئے گیہوں میں سَلم کیا اور ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ہیں یہ ناجائز ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: گیہوں ،جو اگرچہ کیلی (8)ہیں مگر سلم میں ان کی مقدار وزن سے مقرر ہوئی مثلاً اتنے روپے کے اتنے من گیہوں یہ جائز ہے(9) کیونکہ یہاں اس طرح مقدار کا تعین ہوجانا ضروری ہے کہ نزاع باقی نہ رہے اور وزن میں یہ بات حاصل ہے البتہ جب اُس کا تبادلہ اپنی جنس سے ہوگاتو وزن سے برابری کافی نہیں ناپ سے برابر کرناضرور ہوگا جس کو پہلے ہم نے بیان کردیا ہے۔
مسئلہ ۱۶: جوچیز یں عددی ہیں اگر سلم میں ناپ یا وزن کے ساتھ ان کی مقدار کا تعین ہواتو کوئی حرج نہیں۔ (10) (درمختار)
1 ۔گنتی سے بکنے والی وہ اشیاء جن کے افراد میں زیادہ تفاوت(فرق)نہیں ہوتا۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۸۰.
3 ۔لمبائی اور چوڑائی۔ 4 ۔مصنوعی ریشم سے بنا ہوا کپڑا۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۸۰.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الثانی،ج۳،ص۱۸۲.
8 ۔ماپ سے بکنے والی چیز۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۷۹.
10 ۔المرجع السابق،ص۴۸۱.
مسئلہ ۱۷: دودھ دہی میں بھی بیع سلم ہوسکتی ہے ناپ یا وزن جس طرح سے چاہیں اس کی مقدار معین کرلیں۔ گھی تیل میں بھی درست ہے وزن سے یاناپ سے (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: بھوسہ میں سلم درست ہے اس کی مقدار وزن سے مقرر کریں جیسا کہ آج کل اکثر شہروں میں وزن کے ساتھ بھُس بکاکرتا ہے یا بوریوں کی ناپ مقرر ہوجب کہ اس سے تعین ہوجائے ورنہ جائز نہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: عددی متفاوت جیسے تربز، کدو، آم، ان میں گنتی سے سلم جائز نہیں۔(3) (درمختار) اور اگر وزن سے سلم کیا ہو کہ اکثر جگہ کدو وزن سے بکتا بھی ہے اس میں وزن سے سلم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
مسئلہ ۲۰: مچھلی میں سلم جائز ہے خشک مچھلی ہو یا تازہ۔ تازہ میں یہ ضرور ہے کہ ایسے موسم میں ہو کہ مچھلیاں بازار میں ملتی ہوں یعنی جہاں ہمیشہ دستیاب نہ ہوں کبھی ہوں کبھی نہیں وہاں یہ شرط ہے۔ مچھلیاں بہت قسم کی ہوتی ہیں لہٰذا قسم کا بیان کرنا بھی ضروری ہے اور مقدار کا تعین وزن سے ہو عدد سے نہ ہو کیونکہ ان کے عددمیں بہت تفاوت (4)ہوتاہے۔ چھوٹی مچھلیوں میں ناپ سے بھی سلم درست ہے۔ (5) (د رمختار)
مسئلہ ۲۱: بیع سلم کسی حیوان میں درست نہیں۔ نہ لونڈی غلام میں۔ نہ چوپایہ میں، نہ پرند میں حتیٰ کہ جو جانور یکساں ہوتے ہیں مثلاً کبوتر، بٹیر، قمری، فاختہ، چڑیا، ان میں بھی سلم جائز نہیں، جانوروں کی سری پائے میں بھی بیع سلم درست نہیں، ہاں اگر جنس و نوع بیان کرکے سری پایوں میں وزن کے ساتھ سلم کیا تو جائز ہے کہ اب تفاوت بہت کم رہ جاتا ہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: لکڑیوں کے گٹھوں میں سلم اگراس طرح کریں کہ اتنے گٹھے اتنے روپے میں لیں گے یہ ناجائز ہے کہ اس طرح بیان کرنے سے مقدار اچھی طرح نہیں معلوم ہوتی ہاں اگر گٹھوں کا اِنضباط ہو جائے مثلاً اتنی بڑی رسی سے وہ گٹھا باندھا جائے گااور اتنا لمبا ہوگااور اس قسم کی بندش ہوگی تو سلم جائز ہے۔ ترکاریوں میں گَڈیوں کے ساتھ مقدار بیان کرنا مثلاً روپیہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الثانی،ج۳،ص۱۸۲.
2 ۔المرجع السابق،ص۱۸۴.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۸۱.
4 ۔فرق۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۸۲.
6 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۸۲.
یااتنے پیسوں میں اتنی گڈیاں فلاں وقت لی جائیں گی یہ بھی ناجائز ہے کہ گڈیاں یکساں نہیں ہوتیں چھوٹی بڑی ہوتی ہیں۔ اور اگر ترکاریوں اور ایندھن کی لکڑیوں میں وزن کے ساتھ سلم ہو تو جائز ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: جواہر(2)اور پوت(3) میں سلم درست نہیں کہ یہ چیزیں عددی متفاوت ہیں ہاں چھوٹے موتی جو وزن سے فروخت ہوتے ہیں ان میں اگر وزن کے ساتھ سلم کیا جائے تو جائز ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: گوشت کی نوع (5)وصفت بیان کردی ہو تو اس میں سلم جائز ہے۔ چربی اور دُنبہ کی چکی(6) میں بھی سلم درست ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: قمقمہ(8) اور طشت(9) میں سلم درست ہے جوتے اورموزے میں بھی جائز ہے جب کہ ان کا تعین ہوجائے کہ نزاع(10) کی صورت باقی نہ رہے۔(11)(درر،غرر)
مسئلہ ۲۶: اگر معین کردیا کہ فلاں گاؤں کے گیہوں یا فلاں درخت کے پھل تو سلم فاسد ہے کیونکہ بہت ممکن ہے اُس کھیت یا گاؤں میں گیہوں پیدا نہ ہوں اُس درخت میں پھل نہ آئیں اور اگر اس نسبت سے مقصود (12)بیان صفت ہے یہ مقصد نہیں کہ خاص اُسی کھیت یا گاؤں کا غلہ اُسی درخت کے پھل تو درست ہے۔ یوہیں کسی خاص جگہ کی طرف کپڑے کو منسوب کردیا اور مقصود اُس کی صفت بیان کرنا ہے توسلم درست ہے اگر مسلم الیہ نے دوسری جگہ کا تھان دیا مگر ویسا ہی ہے تو رب السَّلم لینے پر مجبور کیا جائے گا۔اس سے معلوم ہواکہ اگر کسی ملک کی طرف اِنتساب(13) ہو تو سلم صحیح ہے۔ مثلاً پنجاب کے گیہوں کہ یہ بہت بعید ہے کہ پورے پنجاب میں گیہوں پیداہی نہ ہوں۔ (14) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۸۲.
2 ۔قیمتی پتھر۔ 3 ۔شیشے کا سوراخ دار دانا،موتی۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۸۳.
5 ۔قِسم۔ 6 ۔دُنبے کی چوڑی دُم۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۸۳.
8 ۔ایک قسم کی چھوٹی سی قندیل۔ 9 ۔پرات ،بڑابرتن۔ 10 ۔جھگڑا۔
11 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب البیوع،باب السلم،ص۱۹۵.
12 ۔مراد۔ 13 ۔نسبت۔
14 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب السلم،مطلب:ہل اللحم قیمی أو مثلی،ج۷،ص۴۸۵.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الثانی،ج۳،ص۱۸۳.
مسئلہ ۲۷: تیل میں سلم درست ہے جب کہ اُس کی قسم بیان کردی گئی ہو، مثلاً تِل کا تیل، سرسوں کا تیل اور خوشبودار تیل میں بھی جائز ہے مگراس میں بھی قسم بیان کرنا ضرور ہے، مثلاً روغن گل،(1) چمیلی، جوہی وغیرہ۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: اُون میں سلم درست ہے جب کہ وزن سے ہواور کسی خاص بھیڑ کو معین نہ کیا ہو۔ روئی، ٹسر،(3) ریشم میں بھی درست ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: پنیر(5) اور مکھن میں سلم درست ہے جب کہ اس طرح بیان کردیا گیا کہ اہل صنعت کے نزدیک اشتباہ باقی نہ رہے۔(6) شہ تیر(7) اور کڑیوں اور ساکھو ،(8) شیشم(9) وغیرہ کے بنے ہوئے سامان میں بھی درست ہے جب کہ لمبائی، چوڑائی، موٹائی اور لکڑی کی قسم وغیرہ تمام وہ باتیں بیان کردی جائیں جن کے نہ بیان کرنے سے نزاع(10) واقع ہو۔ (11)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: مُسلَمْ الیہ(12) ربُّ السَّلم(13)کو راس المال(14) معاف نہیں کرسکتا، اگر اُس نے معاف کردیا اور رب السلم نے قبول کرلیا سلم باطل ہے اور انکارکردیا تو باطل نہیں۔(15) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: مُسلَمْ اِلیہ راس المال میں قبضہ کرنے سے پہلے کوئی تصرف نہیں کرسکتا اورربُّ السَّلَم مسلم فیہ(16) میں کسی قسم کا تصرف نہیں کرسکتا۔مثلاً اُسے بیع کردے یا کسی سے کہے فلاں سے میں نے اتنے من گیہوں میں سلم کیا ہے وہ
1 ۔گلاب کاتیل۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الثانی،ج۳،ص۱۸۵.
3 ۔مصنوعی ریشم ۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الثانی،ج۳،ص۱۸۵.
5 ۔دودھ کو ایک ابال دے کراس میں کوئی ترش چیزڈال کرپھاڑتے ہیں اس کے بعدکپڑے میں باندھ کرلٹکادیتے ہیں تاکہ پانی نکل جائے،
جوباقی رہ جاتاہے اس کوپنیرکہتے ہیں۔
6 ۔یعنی کاریگروں کے نزدیک کوئی شک وشبہ نہ رہے۔ 7 ۔شہتیر۔
8 ۔ایک درخت کانام جس کی لکڑی مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے ۔
9 ۔ایک درخت جس کی لکڑی نہایت وزنی اور مضبوط ہوتی ہے۔ 10 ۔جھگڑا۔
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الثانی،ج۳،ص۱۸۵.
12 ۔یعنی بائع ۔ 13 ۔یعنی خریدار۔
14 ۔یعنی مقررہ قیمت۔
15 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۸۶.
16 ۔یعنی بیچی گئی چیز۔
تمھارے ہاتھ بیچے۔نہ اس میں کسی کو شریک کرسکتا ہے کہ کسی سے کہے سوروپے سے میں نے سلم کیا ہے اگر پچاس تم دیدو تو برابر کے شریک ہوجاؤ یا اُس میں تولیہ یا مرابحہ کرے یہ سب تصرفات ناجائز۔ اگر خود مسلم الیہ کے ساتھ یہ عقود کیے مثلاً اُس کے ہاتھ انھیں داموں میں یا زیادہ داموں میں بیع کر ڈالی یا اُسے شریک کرلیا یہ بھی نا جائز ہے۔ اگر رب السلم نے مسلم فیہ اُس کو ہبہ کردیا اور اُس نے قبول بھی کرلیا تو یہ اقالہ سلم قرار پائے گا اور حقیقۃً ہبہ نہ ہوگا اور راس المال واپس کرنا ہوگا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: راس المال جو چیز قرار پائی ہے اُس کے عوض میں دوسری جنس کی چیز دینا جائز نہیں مثلاً روپے سے سَلم ہوا اور اس کی جگہ اشرفی یا نوٹ دیا یہ نا جائز ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: مسلم فیہ کے بدلے میں دوسری چیز لینا دینا نا جائز ہے ہاں اگر مسلم الیہ نے مسلم فیہ اُس سے بہتر دیا جوٹھہرا تھا تو رب السلم اُس کے قبول سے انکار نہیں کرسکتااور اُس سے گھٹیا(3) پیش کرتا ہے تو انکار کرسکتا ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: کپڑے میں سلم ہوا مسلم الیہ اُس سے بہتر کپڑا لایا جوٹھہراتھا یامقدار میں اُس سے زیادہ لایا اور کہتا یہ ہے کہ یہ تھان لے لو اورایک روپیہ مجھے اور دو رب السلم نے دیدیا یہ جائز ہے اوریہ روپیہ جو زیادہ دیا ہے اُس خوبی کے مقابل میں قرار پائے گاجواس تھان میں ہے یا زائد مقدار کے مقابل میں اور اگر جوکچھ ٹھہراتھا اُس سے گھٹیا لایا اورکہتا یہ ہے کہ اسی کو لے لو اور میں ایک روپیہ واپس کردونگا یہ ناجائز ہے اور اگر گھٹیا پیش کرتااور یہ فقرہ روپیہ واپس کرنے کانہ کہتااور رب السلم قبول کرلیتا تو جائز تھا اوریہ ایک قسم کی معافی ہے یعنی اچھائی جوایک صفت تھی اُس نے اس کے بغیر لے لیا اور اگر مکیل (5)یاموزون (6)میں سلم ہواہے مثلاً دس روپے کے پانچ من گیہوں ٹھہرے ہیں اچھے کھرے گیہوں لایا اور کہتا ہے ایک روپیہ اور دو ، یہ ناجائز ہے اور پانچ من سے زیادہ لایا ہے اور کہتا ہے ایک روپیہ اور دو ، یا پانچ من سے کم لایا ہے اور کہتاہے ایک روپیہ واپس لو ،یہ جائز ہے اور اگر پانچ من خراب لایا اورایک روپیہ واپس کرنے کو کہتا ہے، یہ ناجائز ہے۔(7) (خانیہ)
مسئلہ ۳۵: مسلَم فیہ کے مقابل(8) میں رب السَّلم اگر کوئی چیز اپنے پاس رہن(9) رکھے درست ہے۔ اگررہن
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۹۲.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشرفی السلم،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۸۶.
3 ۔کم قیمت،ناقص۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشرفی السلم،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۸۶.
5 ۔جو ماپ سے فروخت ہو ۔ 6 ۔جو چیز وزن سے فروخت ہو اس کو موزون کہتے ہیں۔
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،فصل فیما یجوز فیہ السلم ومالایجوز،ج۱،ص۳۳۵.
8 ۔یعنی بدلے،عوض۔ 9 ۔گروی۔
ہلاک ہوجائے تو رب السلم مسلم الیہ سے کچھ مطالبہ نہیں کرسکتا اور مسلم الیہ مرگیا اور اُس کے ذمہ بہت سے دیون(1) ہیں تو دوسرے قرض خواہ(2) اس رہن سے دَین وصول کرنے کے حقدار نہیں ہیں جب تک رب السلم وصول نہ کرلے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: مسلم فیہ کی وصولی کے لیے رب السلم اُس سے کفیل (ضامن) لے سکتا ہے اور اس کا حوالہ بھی درست ہے اگر حوالہ کردیا کہ یہ گیہوں فلاں سے وصول کرلو تو خود مسلم الیہ مطالبہ سے بری ہوگیا اورکسی نے کفالت کی ہے تو مسلم الیہ بری نہیں بلکہ رب السلم کو اختیار ہے کفیل سے مطالبہ کرے یا مسلم الیہ سے۔ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ رب السلم کفیل سے مسلم فیہ کی جگہ پر کوئی دوسری چیز وصول کرے۔ کفیل نے رب السلم کو مسلم فیہ ادا کردیا مسلم الیہ سے وصول کرنے میں اُس کے بدلہ میں دوسری چیز لے سکتا ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: مسلم الیہ نے کسی کو کفیل کیا کفیل نے مسلّم الیہ سے مسلَم فیہ کو بروجہ کفالَت(5) وصول کیا پھر کفیل نے اُسے بیچ کر نفع اُٹھایا مگر رب السَّلم کومسلَم فیہ دیدیا تو یہ نفع اُس کے لیے حلال ہے۔ اور اگر مسلم الیہ نے یہ کہہ کر دیا کہ اسے رب السَّلم کو پہنچادے تو نفع اُٹھانا جائز نہیں۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: رب السَّلم نے مسلم الیہ سے کہا اسے اپنی بوریوں میں تول کر رکھ دو یا اپنے مکان میں تول کر علیٰحد ہ کرکے رکھ دو اس سے رب السلم کا قبضہ نہیں ہوا یعنی جب کہ بوریوں میں رب السَّلم کی عدم موجودگی میں بھرا ہویا رب السلم نے اپنی بوریاں دیں اور یہ کہہ کر چلاگیا کہ ان میں بھر دو اُس نے ناپ یا تول کر بھر دیا اب بھی رب السلم کا قبضہ نہیں ہوا کہ اگر ہلاک ہوگاتو مسلم الیہ کا ہلاک ہوگا رب السلم سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔اور اگر اُس کی موجود گی میں بوریوں میں غلہ بھراگیاتو چاہے بوریاں اس کی ہوں یامسلم الیہ کی رب السلم قابض ہوگیا۔ اگر بوری میں رب السلم کا غلہ موجود ہواور اُس میں سلم کا غلہ بھی مسلم الیہ نے ڈالدیا تو رب السلم کا قبضہ ہوگیا اور بیع مطلق میں اپنی بوریاں دیتا اور کہتا اس میں ناپ کر بھر دو اور وہ بھر دیتا تو اس کا قبضہ ہوجاتا اس کی موجود گی میں بھر تا یا عدم موجودگی میں۔ یوہیں اگر رب السلم نے مسلم الیہ سے کہا، اس کا آٹا پسوا دے اُس نے پسوا دیا تو آٹا مسلم
1 ۔ قرضے۔ 2 ۔قرض دینے والا۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۸۶.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔ضامن کے طورپر۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الثالث،ج۳،ص۱۸۶،۱۸۷.
الیہ کا ہے رب السلم کا نہیں اور بیع مطلق میں مشتری کا ہوتا۔ اور اس نے کہا اسے پانی میں پھینک دے اُس نے پھینک دیا تومسلم الیہ کا نقصان ہوا رب السلم سے تعلق نہیں اور بیع مطلق میں مشتری کا نقصان ہوتا۔(1) (ہدایہ، فتح القدیر)
مسئلہ ۳۹: زید نے عَمْرْوسے ایک من گیہوں میں سلم کیا تھا جب میعاد پوری ہوئی عمرو نے کسی سے ایک من گیہوں خریدے تاکہ زیدکو دیدے اور زید سے کہہ دیا کہ تم اُس سے جاکر لے لو زید نے اُس سے لے لیے تو زیدکا ما لکانہ قبضہ نہیں ہوا اور اگر عمرو یہ کہے کہ تم میرے نائب ہوکروصول کرو پھر اپنے لیے قبضہ کرو اور زید ایک مرتبہ عمرو کے لیے اُن کوتولے پھر دوبارہ اپنے لیے تولے اب سلم کی وصولی ہوگی اور اگرعمرو نے خریدانہیں بلکہ قرض لیا ہے اور زید سے کہہ دیا جا کراُس سے سلم کے گیہوں لے لوتو اس کا لینا صحیح ہے یعنی قبضہ ہوجائے گا۔(2) (ہدایہ)
مسئلہ ۴۰: بیع سلم میں یہ شرط ٹھہری کہ فلاں جگہ وہ چیز دے گا مسلم الیہ نے دوسری جگہ وہ چیز دی اورکہا یہاں سے وہاں تک کی مزدوری میں دے دوں گارب السلم نے چیز لے لی یہ قبضہ درست ہے مگر مزدوری لینا جائز نہیں مزدوری جو لے چکا ہے واپس کرے ہاں اگر اس کو پسند نہیں کرتا کہ مزدوری اپنے پاس سے خرچ کرے تو چیز واپس کردے اور اُس سے کہہ دے کہ جہاں پہنچانا ٹھہرا ہے وہ خود مزدور کرکے یا جیسے چاہے پہنچائے۔(3)(عالمگیری) یہ طے ہوا ہے کہ رب السلم کے مکان پر پہنچائے گااورمسلم الیہ کو اپنے مکان کا پورا پتا بتادیا ہے تو درست ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: سلم میں اقالہ درست ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پورے سلم میں اقالہ کیا جائے اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ اُس کے کسی جز میں اقالہ کریں اگر پورے سلم میں اقالہ کیا میعاد پوری ہونے سے قبل یا بعد راس المال مسلم الیہ کے پاس موجود ہویانہ ہو بہر حال اقالہ درست ہے اگر راس المال ایسی چیز ہوجو معین کرنے سے معین ہوتی ہے مثلاً گائے، بیل یاکپڑاوغیرہ اور یہ چیز بعینہٖ مسلم الیہ کے پاس موجود ہے تو بعینہٖ اسی کو واپس کرنا ہوگا اور موجود نہ ہو تو اگر مثلی ہے اُس کی مثل دینی ہوگی اور قیمی ہو
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۲،ص۷۵.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۶،ص۲۳۳،۲۳۴.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۲،ص۷۴.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الرابع،ج۳،ص۱۹۵.
4 ۔المرجع السابق.
توقیمت دینی پڑے گی اور اگر راس المال ایسی چیز نہ ہو جو معین کرنے سے معین ہو مثلاً روپیہ اشرفی تو چاہے موجود ہو یا نہ ہو اُس کی مثل دینا جائز ہے بعینہٖ اُسی کا دینا ضرور نہیں۔ رب السلم نے مسلم فیہ پر قبضہ کرلیا ہے اس کے بعد اقالہ کرنا چاہتے ہیں اگر مسلم فیہ بعینہٖ موجود ہے اقالہ ہوسکتا ہے اور بعینہٖ اُسی چیز کو واپس دینا ہوگا اور اگر مسلم فیہ باقی نہیں تو اقالہ درست نہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: سلم کے اقالہ میں یہ ضروری نہیں کہ جس مجلس میں اقالہ ہوا اُسی میں راس المال کو واپس لے بعد میں لینا بھی جائز ہے۔ اقالہ کے بعد یہ جائز نہیں کہ قبضہ سے پہلے راس المال کے بدلے میں کوئی چیز مسلم الیہ سے خریدلے راس المال پر قبضہ کرنے کے بعد خرید سکتا ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: اگر سلم کے کسی جز میں اقالہ ہوااور میعاد پوری ہونے کے بعد ہوا تو یہ اقالہ بھی صحیح ہے اور میعاد پوری ہونے سے پہلے ہوااور یہ شرط نہیں ہے کہ باقی کو میعاد سے قبل ادا کیا جائے یہ بھی صحیح ہے اور اگر یہ شرط ہے کہ باقی کو قبل میعاد پوری ہونے کے ادا کیاجائے تو شرط باطل ہے اور اقالہ صحیح۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: کنیز (4)وغیرہ کوئی اسی قسم کی چیز راس المال تھی اورمسلم الیہ نے اُس پر قبضہ بھی کرلیا پھر اقالہ ہوااس کے بعد ابھی کنیز واپس نہیں ہوئی مسلم الیہ کے پاس مرگئی تو اقالہ صحیح ہے اور کنیز پر جس دن قبضہ کیا تھا اُس روز جو قیمت تھی وہ ادا کرے اور کنیز کے ہلاک ہونے کے بعد اقالہ کیا جب بھی اقالہ صحیح ہے کہ سلم میں مبیع مسلم فیہ ہے اور کنیز راس المال وثمن ہے نہ کہ مبیع۔ (5)(ہدایہ)
مسئلہ ۴۵: رب السلم نے مسلم فیہ کو مسلم الیہ کے ہاتھ راس المال کے بدلے میں بیچ ڈالا تو یہ اقالہ صحیح نہیں ہے بلکہ تصرف ناجائز ہے۔ راس المال سے زیادہ میں بیع کیا جب بھی ناجائز ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: سوروپے راس المال ہیں یہ مصالحت ہوئی کہ مسلم الیہ رب السلم کو دوسویا ڈیڑھ سو واپس دے گا اورسلم سے دست بردار ہوگا یہ ناجائز و باطل ہے یعنی اقالہ صحیح ہے مگر راس المال سے جوکچھ زیادہ واپس دینا قرار پایا ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الخامس،ج۳،ص۱۹۵.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۹۳-۴۹۶.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الخامس،ج۳،ص۱۹۶.
4 ۔لونڈی،باندی۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۲،ص۷۵.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الخامس،ج۳،ص۱۹۶.
وہ باطل ہے صرف راس المال ہی واپس کرنا ہوگا اور اگر پچاس روپیہ میں مصالحت ہوئی (1) تو نصف سلم کا اقالہ ہوااور نصف بدستور باقی ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: رب السلم ومسلم الیہ میں اختلاف ہوا مسلم الیہ یہ کہتا ہے کہ خراب مال دینا قرارپایا تھا رب السلم یہ کہتا ہے یہ شرط تھی ہی نہیں نہ اچھے کی نہ بُرے کی یا ایک کہتا ہے ایک ماہ کی میعاد تھی دوسرا کہتا ہے کوئی میعاد ہی نہ تھی تو اُس کا قول معتبر ہوگا جو خراب ادا کرنے کی شرط یا میعاد ظاہر کرتا ہے جو منکر ہے اُس کا قول معتبر نہیں کہ یہ ایکدم اس ضمن میں سلم کو ہی اُڑادینا چاہتا ہے اور اگر میعاد کی کمی بیشی میں اختلاف ہواتو اُس کا قول معتبر ہوگا جو کم بتاتا ہے یعنی رب السلم کا کیونکہ یہ مدت کم بتائے گا تاکہ جلد مسلم فیہ کو وصول کرے اور اگر میعادکے گزر جانے میں اختلاف ہوا ایک کہتا ہے گزر گئی دوسرا کہتا ہے باقی ہے تو اُس کا قول معتبر ہے جوکہتا ہے ابھی باقی ہے یعنی مسلم الیہ کا اور اگر دونوں گواہ پیش کریں تو گواہ بھی اسی کے معتبر ہیں۔(3) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۴۸: عقدسلم جس طرح خود کرسکتا ہے وکیل سے بھی کراسکتا ہے، یعنی سلم کے لیے کسی کو وکیل بنایا یہ توکیل(4) درست ہے اور وکیل کو تمام اُن شرائط کا لحاظ کرنا ہوگا جن پر سلم کا جواز موقوف ہے۔(5) اس صورت میں وکیل سے مطالبہ ہوگااور وکیل ہی مطالبہ بھی کریگا یہی راس المال مجلس عقد میں دے گا اور یہی مسلم فیہ وصول کریگا۔ا گر وکیل نے موکل کے روپے دیے ہیں مسلم فیہ وصول کرکے موکل کو دیدے اور اپنے روپے دیے ہیں توموکل سے وصول کرے اور اگر اب تک وصول نہیں ہوئے تو مسلم فیہ پر قبضہ کر کے اُسے موکل سے روک سکتا ہے جب تک موکل روپیہ نہ دے یہ چیز نہ دے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: وکیل نے اپنے باپ ،ماں یا بیٹے یا بی بی سے عقد سلم کیا یہ ناجائز ہے۔(7) (خانیہ)
کبھی ایسا ہوتا ہے کاریگر کو فرمایش دے کر چیز بنوائی جاتی ہے اس کو استصنا ع کہتے ہیں اگر اس میں کوئی میعاد مذکور
1 ۔یعنی صلح ہوئی۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الخامس،ج۳،ص۱۹۶۔۱۹۷.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۴۹۸ .
و''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۲،ص۷۶.
4 ۔وکیل بنانا۔ 5 ۔یعنی جن پر بیع سلم کے جائز ہونے کا دارومدار ہے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الثامن عشر فی السلم،الفصل الخامس،ج۳،ص۱۹۸.
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،فصل فیمایجوز فیہ السلم...إلخ،ج۱،ص۳۳۶.
ہواور وہ ایک ماہ سے کم کی نہ ہو تو وہ سلم ہے۔ تمام وہ شرائط جو بیع سلم میں مذکور ہوئے اُن کی مراعات(1) کی جائے یہاں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کے بنوانے کا چلن اور رواج مسلمانوں میں ہے یا نہیں بلکہ صرف یہ دیکھیں گے کہ اس میں سلم جائز ہے یا نہیں اگر مدت ہی نہ ہویا ایک ماہ سے کم کی مدت ہو تو استصناع ہے اور اس کے جواز کے لیے تعامل ضروری ہے یعنی جس کے بنوانے کا رواج ہے جیسے موزہ۔جوتا۔ ٹوپی وغیرہ اس میں استصناع درست ہے اور جس میں رواج نہ ہو جیسے کپڑا بُنوانا۔کتاب چھپوانا اُس میں صحیح نہیں۔(2) (درمختاروغیرہ)
مسئلہ ۱: علما کا اختلاف ہے کہ استصناع کو بیع قرار دیا جائے یا وعدہ، جس کو بنوایا جاتا ہے وہ معدوم شے ہے اور معدوم کی بیع نہیں ہوسکتی لہٰذا وعدہ ہے جب کاریگر بنا کر لاتا ہے اُس وقت بطور تعاطی (3)بیع ہوجاتی ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ بیع ہے تعامل نے خلاف قیاس اس بیع کو جائز کیا اگر وعدہ ہوتا تو تعامل کی ضرورت نہ ہوتی، ہرجگہ استصناع جائز ہوتا۔ استصناع میں جس چیز پر عقد ہے وہ چیز ہے ،کاریگر کا عمل معقود علیہ نہیں، لہٰذا اگر دوسرے کی بنائی ہوئی چیز لایا یا عقد سے پہلے بنا چکا تھا وہ لایا اور اس نے لے لی درست ہے اور عمل معقود علیہ ہوتا تو درست نہ ہوتا۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۲: جو چیز فرمائش کی بنائی گئی وہ بنوانے والے کے لیے متعین نہیں جب وہ پسند کرلے تو اُس کی ہوگی اور اگر کاریگر نے اُس کے دکھانے سے پہلے ہی بیچ ڈالی تو بیع صحیح ہے اور بُنوانے والے کے پاس پیش کرنے پر کاریگر کو یہ اختیار نہیں کہ اُسے نہ دے دوسرے کو دیدے۔ بنوانے والے کو اختیار ہے کہ لے یا چھوڑ دے۔ عقد کے بعد کاریگر کو یہ اختیار نہیں کہ نہ بنائے۔ عقد ہوجانے کے بعد بنانا لازم ہے۔ (5)(ہدایہ)
مسئلہ ۱: مٹی کی گائے ،بیل ،ہاتھی، گھوڑا، اور ان کے علاوہ دوسرے کھلونے بچوں کے کھیلنے کے لیے خریدنا ناجائز ہے
1 ۔یعنی رعایت۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۷،ص۵۰۰۔۵۰۴.
3 ۔یعنی بغیرزبان سے کہے صرف لین ،دین کے ذریعے۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،ج۲،ص۷۷.
5 ۔المرجع السابق.
اور ان چیزوں کی کوئی قیمت بھی نہیں اگر کوئی شخص انھیں توڑ پھوڑ دے تو اُس پر تاوان بھی واجب نہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲: کُتا، بلی، ہاتھی، چیتا، باز، شکرا،(2)بَہری،(3) ان سب کی بیع جائز ہے۔ شکاری جانور معلّم (سکھائے ہوئے) ہوں یا غیر معلم دونو ں کی بیع صحیح ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ قابل تعلیم ہوں، کٹکھنا (4)کُتاجو قابل تعلیم نہیں ہے اُس کی بیع درست نہیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: بندر کو کھیل اور مذاق کے لیے خریدنا منع ہے اور اُس کے ساتھ کھیلنا اور تمسخر کرنا (6)حرام۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۴: جانور یازراعت یاکھیتی یا مکان کی حفاظت کے لیے یا شکار کے لیے کُتا پالنا جائز ہے اور یہ مقاصد نہ ہوں تو پالنا ناجائز (8) اور جس صورت میں پالنا جائز ہے اُس میں بھی مکان کے اندر نہ رکھے البتہ اگر چور یا دشمن کا خوف ہے تو مکان کے
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع، باب المتفرقات،ج۷،ص۵۰۵.
2 ۔شِکرہ ،باز کی قسم کا ایک شکاری پرندہ۔
3 ۔ایک شکاری پرندہ۔ 4 ۔بہت زیادہ کاٹنے والا،پاگل ۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۷،ص۵۰۵.
6 ۔مذاق وغیرہ کرنا۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۷،ص۵۰۶.
8 ۔حدیث میں ہے جس کو بخاری و مسلم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے کُتا پالا، اُس کے عمل میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوجائیں گے، سوا اُس کُتے کے جو جانور کی حفاظت کے لیے ہو یا شکار کے لیے ہو۔ قیراط ایک مقدار ہے، واﷲ تعالیٰ اعلم وہ کتنی بڑی ہے۔''
(''صحیح البخاری''،کتاب الذبائح والصید...إلخ،باب من اقتنی کلباً ...إلخ،الحدیث:۵۴۸۰-۵۴۸۲،ج۴،ص۵۵۱، ۵۵۲و''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،باب الامر بقتل الکلاب...إلخ،الحدیث:۴۸-۵۵(۱۵۷۴) ،ص۸۴۸، ۸۴۹.)
دوسری حدیث بخاری و مسلم کی ہے جوسیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، یہ ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے کُتا پالا اُس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کی کمی ہوگی مگر وہ کُتا کہ جانور یا کھیتی کی حفاظت کے لیے ہو یا شکار کے لیے۔''
(''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،باب الامر بقتل الکلاب... إلخ،الحدیث:۵۶-(۱۵۷۴)،ص۸۴۹.)
پہلی حدیث میں دو قیراط اور دوسری میں ایک قیراط کی کمی بتائی گئی، شاید یہ تفاوت کتے کی نوعیت کے اختلاف سے ہو یا پالنے والے
اندر بھی رکھ سکتا ہے۔ (1)(فتح القدیر)
مسئلہ ۵: مچھلی کے سوا پانی کے تمام جانور مینڈک، کیکڑا (2)وغیرہ اور حشرات الارض چوہا، چھچھوندر(3)، گھونس(4)،
کی دلچسپی کبھی زیادہ ہوتی ہے کبھی کم، اس وجہ سے سزا مختلف بیان فرمائی۔ تیسری حدیث صحیح مسلم میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کا حکم فرمایا، اس کے بعد قتل سے منع فرمایا اور یہ فرما دیا: کہ ''وہ کُتا جو بالکل سیاہ ہو اور اُس کی آنکھوں کے اوپر دو سپید نقطے ہوں، اُنھیں مار ڈالو کہ وہ شیطان ہے۔''
(''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،باب الأمر بقتل الکلاب...إلخ،الحدیث:۴۷-(۱۵۷۲)،ص۸۴۸.)
چوتھی حدیث صحیحین میں ابوطلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''جس گھر میں کُتا اور تصویریں ہوتی ہیں، اُس میں فرشتے نہیں آتے۔''
(''صحیح البخاری''،کتاب بد ء الخلق،باب إذا وقع الذبا ب فی شراب...إلخ،الحدیث:۳۳۲۲،ج۲،ص۴۰۹.و''صحیح مسلم''،کتاب اللباس والزینۃ،باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان...إلخ،الحدیث:۸۷-(۲۱۰۶)،ص۱۱۶۶.)
پانچویں حدیث صحیح مسلم میں ام المومنین میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک دن صبح کو غمگین تھے اور یہ فرمایا: کہ ''جبریل علیہ السلام نے آج رات میں ملاقات کا وعدہ کیا تھا مگر وہ میرے پاس نہیں آئے، واﷲ اُنھوں نے وعدہ خلافی نہیں کی۔'' اس کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ خیمے کے نیچے کُتے کا پِلّا ہے، اُس کے نکال دینے کا حکم فرمایا۔ پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اُس جگہ کو دھویا۔ شام کو جبریل علیہ السلام آئے، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''شب گزشتہ تم نے ملاقات کا وعدہ کیا تھا، کیوں نہیں آئے؟'' عرض کی، ہم اُس گھر میں نہیں آتے جس میں کُتا اور تصویر ہو۔( ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس والزینۃ،باب تحریم تصویرصورۃ الحیوان...إلخ،الحدیث:۸۲-(۲۱۰۵)،ص۱۱۶۵.)
چھٹی حدیث دارقطنی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بعض انصار کے گھر تشریف لے جاتے تھے اور اُن کے قریب دوسرے انصار کا مکان تھا، ان کے یہاں تشریف نہیں لیجاتے۔ ان لوگوں پر یہ بات شاق گزری اور عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فلاں کے یہاں تشریف لاتے ہیں اور ہمارے یہاں تشریف نہیں لاتے۔ فرمایا: ''میں اس لیے تمھارے یہاں نہیں آتا کہ تمھارے گھر میں کُتا ہے۔''
(''سنن الدار القطنی''،کتاب الطہارۃ،باب الآسار،الحدیث:۱۷۶،ج۱،ص۹۱.)
1 ۔''فتح القدیر''کتاب البیوع،باب السلم،مسائل منثورۃ،ج۶،ص۲۴۶.
2 ۔ایک آبی کیڑا جو بچھو کے مشابہ ہوتا ہے۔ 3 ۔ایک قسم کا چوہا جو رات کے وقت نکلتا ہے۔ 4 ۔ایک قسم کابڑا چوہا۔
چھپکلی، گرگٹ، گوہ،(1) بچھو، چیونٹی کی بیع نا جائز ہے۔ (2)(فتح القدیر)
مسئلہ ۶: کافر ذمی بیع کی صحت و فساد کے معاملہ میں مسلم کے حکم میں ہے، یہ بات البتہ ہے کہ اگر وہ شراب و خنزیر کی بیع و شرا کریں تو ہم اُ ن سے تعرض نہ کریں گے۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۷: کافر نے اگر مصحف شریف (4) خریدا ہے تو اُسے مسلمان کے ہاتھ فروخت کرنے پر مجبور کریں گے۔(5) (تنویر)
مسئلہ ۸: ایک شخص نے دوسرے سے کہا تم اپنی فلاں چیز فلاں شخص کے ہاتھ ہزار روپے میں بیع کردو اور ہزار روپے کے علاوہ پانسوثمن کا میں ضامن ہوں اُس نے بیع کردی یہ بیع جائز ہے ہزار روپے مشتری سے لے گا اور پانسو ضامن سے اور اگر ضامن نے ثمن کا لفظ نہیں کہا تو ہزار ہی روپے میں بیع ہوئی ضامن سے کچھ نہیں ملے گا۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۹: ایک شخص نے کوئی چیز خریدی اورمبیع پر نہ قبضہ کیا نہ ثمن ادا کیا اور غائب ہوگیا مگر معلوم ہے کہ فلاں جگہ ہے تو قاضی یہ حکم نہیں دے گاکہ اسے بیچ کر ثمن وصول کرے اور اگر معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے اور گواہوں سے قاضی کے سامنے اس نے بیع ثابت کردی تو قاضی یا اس کا نائب بیع کرکے ثمن ادا کردے اگر کچھ بچ رہے تو اُس کے لیے محفوظ رکھے اور کمی پڑے تو مشتری جب مل جائے اُس سے وصول کرے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: دوشخصوں نے مل کر کوئی چیز ایک عقد میں خریدی اور ان میں سے ایک غائب ہوگیا معلوم نہیں کہاں ہے جوموجود ہے وہ پورا ثمن دے کر بائع سے چیز لے سکتا ہے بائع دینے سے انکار نہیں کرسکتا یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب تک تمھارا ساتھی نہیں آئے گامیں تم کو تنہا نہیں دونگا اور جب مشتری نے پورا ثمن دیکر مبیع پرقبضہ کرلیا اب اس کا ساتھی آجائے تو اُس کے حصہ کاثمن وصول کرنے کے لیے مبیع پر قبضہ دینے سے انکار کرسکتا ہے کہہ سکتا ہے کہ جب تک ثمن نہیں ادا کروگے قبضہ نہیں دوں گااور یہ یعنی بائع کا مشتری حاضر کو پوری مبیع دینا اُس وقت ہے جب کہ مبیع غیر مثلی(8) قابل قسمت (9)نہ ہوجیسے
1 ۔ایک رینگنے والا جانور جو چھپکلی کے مشابہ ہوتا ہے۔
2 ۔''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب السلم،مسائل منثورۃ،ج۶،ص۲۴۶.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،مسائل منثورۃ،ج۲،ص۷۸.
4 ۔قرآن مجید۔
5 ۔''تنویرالابصار''،کتاب البیوع،ج۷،ص۵۰۹.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع، باب السلم،ج۲،ص۷۸.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۷،ص۵۱۱.
8 ۔یعنی اس کی مثل نہ ہو۔ 9 ۔تقسیم ہونے کے قابل۔
جانورلونڈی غلام اور اگر قابل قسمت ہو جیسے گیہوں وغیرہ تو صرف اپنے حصہ پر قبضہ کرسکتا ہے کل مبیع پر قبضہ دینے کے لیے بائع مجبور نہیں۔(1) (ہدایہ، فتح 'رد المحتار)
مسئلہ ۱۱: یہ کہا کہ یہ چیز ہزار روپے اور اشرفیوں میں خریدی تو پانسو روپے اور پانسو اشرفیاں دینی ہوں گی تمام معاملات میں یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ جب چند چیزیں ذکر کی جائیں تو وزن یا ناپ یا عدد اُن سب کے مجموعہ سے پورا کریں گے اور سب کو برابر برابر لیں گے۔ مہر، بدل خلع، وصیت، ودیعت، اجارہ، اقرار، غصب سب کا وہی حکم ہے جو بیع کا ہے مثلاً کسی نے کہا فلاں شخص کے مجھ پر ایک من گیہوں اور جَو ہیں تو نصف من گیہوں اور نصف من جَو دینے ہوں گے یا کہا ایک سو انڈے ،اخروٹ، سیب ہیں توہر ایک میں سے سو کی ایک ایک تہائی۔ سو گز فلاں فلاں کپڑا تو دونوں کے پچاس پچاس گز۔ (2)(ہدایہ، فتح، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: مکان خریدا بائع سے کہتا ہے دستاویز(3) لکھدو بائع دستاویز لکھنے پر مجبور نہیں ا ور اس پر بھی مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ گھر سے جا کر دوسروں کو اس بیع کا گواہ بنائے ہاں اگر دستاویز کا کاغذ اور گواہان عادل اس کے پاس مشتری لایا تو صکاک(4) اور گواہوں کے سامنے انکار نہیں کرسکتا مجبور ہے کہ اقرار کرے ورنہ حاکم کے سامنے معاملہ پیش کیا جائے گااور وہاں اگر اقرار کرے تو گویا بیع کی رجستری ہوگئی۔ (5)(درمختار، ردالمحتار) یہ اُس زمانہ کی باتیں ہیں جب شریعت پر لوگ عمل کرتے تھے اور کذب وفساد(6) سے گریز کرتے تھے اسلام کے مطابق بیع و شرا کرتے تھے اس زمانہ فساد میں اگر دستاویز نہ لکھی جائے تو بیع کرکے مکرتے ہوئے کچھ دیر بھی نہ لگے اور بغیر دستاویز بلکہ بلارجستری انگریزی کچہریوں میں مشتری کی کوئی بات بھی نہ پوچھے اس زمانہ میں احیاء حق کی یہی صورت ہے(7) کہ دستاویز لکھی جائے اور اس کی رجستری ہو لہٰذا بائع کو اس زمانہ میں اس سے انکار کی کوئی وجہ نہیں۔
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،مسائل منثورہ،ج۲،ص۷۸.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب السلم،مسائل منثورۃ،ج۶،ص۲۵۴.
و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مطلب:للقاضی ایداع مال غائب...إلخ،ج۷،ص۵۱۲.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب البیوع،باب السلم،مسائل منثورۃ،ص۷۹.
و''فتح القدیر''،کتاب البیوع،باب السلم ،مسائل منثورۃ،ج۶،ص۲۵۵.
و ''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مطلب:للقاضی ایداع مال غائب...إلخ،ج۷،ص۵۱۲.
3 ۔تحریری ثبوت،اقرارنامہ۔ 4 ۔دستاویز لکھنے والا۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مطلب:فی النبھرجۃ والزیوف...إلخ،ج۷،ص۵۱۷.
6 ۔جھوٹ بولنے اور لڑائی جھگڑوں۔ 7 ۔یعنی اپناحق ثابت کرنے کی یہی صورت ہے۔
مسئلہ ۱۳: پورانی دستاویزجن کے ذریعہ سے یہ شخص مکان کا مالک ہے مشتری طلب کرتاہے بائع کو اس پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ مشتری کو دیدے ہاں اگر ضرورت پڑے کہ بغیر اُن دستاویزوں کے کام نہیں چلتا مثلاً کسی نے یہ مکان غصب کرلیا اور گواہوں سے کہا جاتا ہے شہادت دو کہ یہ مکان فلاں کا تھا وہ کہتے ہیں جب تک ہم دستاویز میں اپنے دستخط نہ دیکھ لیں گواہی نہیں دیں گے ایسی صورت میں دستاویز کا پیش کرنا ضروری ہے کہ بغیر اس کے احیاء حق نہیں ہوتا۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: شوہر نے روئی خریدی عورت نے اُس کا سُوت کا تا(2)،کل سُوت شوہر کا ہے عورت کو کاتنے کی اجرت بھی نہیں مل سکتی۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: عورت نے اپنے مال سے شوہر کو کفن دیایا ورثہ میں سے کسی نے میت کو کفن دیا اگر ویسا ہی کفن ہے جیسا دینا چاہیے توترکہ میں سے اُس کا صرفہ(4) لے سکتا ہے اور اُس سے بیش (5)ہے تو جو کچھ زیادتی ہے وہ نہیں ملے گی اور اجنبی نے کفن دیا ہے تو تبرع ہے اسے کچھ نہیں مل سکتا۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: حرام طور پر کسب کیا یا پرایا مال غصب کرلیا اور اس سے کوئی چیز خریدی اس کی چند صورتیں ہیں:
1 بائع کویہ روپیہ پہلے دیدیا پھر اس کے عوض میں چیز خریدی۔ 2 یا اسی حرام روپیہ کو معین کرکے اس سے چیز خریدی اور یہی روپیہ دیا۔ 3 اسی حرام سے خریدی مگر دوسرا روپیہ دیا۔ 4 خریدنے میں اس کو معین نہیں کیا یعنی مطلقاًکہا ایک روپیہ کی چیز دو اور یہ حرام روپیہ دیا۔ 5 دوسرے روپے سے چیز خریدی اور حرام روپیہ دیا پہلی دو صورتوں میں مشتری کے لیے وہ بیع حلال نہیں اور اُس سے جوکچھ نفع حاصل کیا وہ بھی حلال نہیں باقی تین صورتوں میں حلال۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ۱۷: کسی جاہل شخص کو بطورِ مضاربت روپے دیے معلوم نہیں کہ جائز طور پر تجارت کرتا ہے یا ناجائز طور پر تو نفع میں اس کو حصہ لینا جائز ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے حرام طور پر کسب کیا ہے۔ (8)(درمختار)
مسئلہ۱۸: کسی نے اپنا کپڑا پھینک دیا اور پھینکتے وقت یہ کہہ دیا جس کا جی چاہے لے لے تو جس نے سُنا ہے لے سکتا
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مطلب:فی النبھرجۃ والزیوف والستوقۃ...إلخ،ج۷،ص۵۱۷.
2 ۔چرخے پر روئی سے دھاگا بنایا۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۷،ص۵۱۷.
4 ۔خرچہ۔ 5 ۔زیادہ۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،باب المتفرقات،مطلب:فی النبھرجۃ...إلخ،ج۷،ص۵۱۷۔۵۱۸.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مطلب:اذااکتسب حراماً...إلخ،ج۷،ص۵۱۸.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۷،ص۵۱۸.
ہے اور جو لے گا وہ مالک ہوجائے گا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ۱۹: باپ نے نا بالغ اولاد کی زمین بیع کرڈالی اگر اُس کے چال چلن اچھے ہیں یا مستور الحال ہے(2) تو بیع درست ہے اور اگر بدچلن ہے مال کو ضائع کرنے والا ہے تو بیع ناجائزہے یعنی نا بالغ بالغ ہوکر اُس بیع کو توڑ سکتا ہے، ہاں اگر اچھے داموں بیچی ہے تو بیع صحیح ہے۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۲۰: ماں نے بچہ کے لیے کوئی چیز خریدی اس طور پر کہ ثمن اُس سے نہیں لے گی تو یہ خریدنا درست ہے اور یہ بچہ کے لیے ہبہ قرار پائے گا اُس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ بچہ کونہ دے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۲۱: مکان خریدا اور اُس میں چمڑا پکاتا ہے یا اُس کو چمڑے کا گودام بنایا ہے جس سے پڑوسیوں کو اذیت (5) ہوتی ہے اگر وقتی طور پر ہے یہ مصیبت برداشت کی جاسکتی ہے اور اس کا سلسلہ برابر جاری ہے تو اس کام سے وہاں روکا جائے گا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ۲۲: بکری کا گوشت کہہ کر خریدا اور نکلا بھیڑ کایا گائے کا کہہ کر لیا اور نکلا بھینس کا یا خصی(7) کا گوشت لیا اورمعلوم ہوا کہ خصی نہیں ان سب صورتوں میں واپس کرسکتا ہے۔ (8)(درمختاروغیرہ)
مسئلہ۲۳: شیشہ کے برتن بیچنے والے سے برتن کا نرخ کررہا تھا اُس نے ایک برتن دیکھنے کے لیے اسے دیا دیکھ رہا تھا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دوسرے برتنو ں پر گرا اور سب ٹوٹ گئے تو جو اس کے ہاتھ سے گرکر ٹوٹا اس کا تاوان نہیں اور اس کے گرنے سے جو دوسرے ٹوٹے اُن کا تاوان دینا پڑے گا۔(9) (درمختار)
مسئلہ۲۴: گیہوں میں جَو ملا دیے ہیں اگر جَو اوپر ہیں دکھائی دیتے ہیں تو بیع میں حرج نہیں اور انکا آٹا پسوا لیا ہے تو اس کا بیچنا جائز نہیں، جب تک یہ ظاہر نہ کردے کہ اس میں اتنے گیہوں ہیں اور اتنے جَو۔(10) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع، باب المتفرقات،ج۷،ص۵۱۸.
2 ۔ یعنی لوگوں کو اس کے چال چلن کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مطلب:اذااکتسب حراماً...إلخ،ج۷،ص۵۱۹.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔تکلیف ۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع، باب المتفرقات،ج۷،ص۵۲۰.
7 ۔وہ جانور جس کے فوطے نکال دئیے گئے ہوں۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع، باب المتفرقات،ج۷،ص۵۲۰.
9 ۔المرجع السابق،ص۵۲۳. 10 ۔المرجع السابق.
تنبیہ: کیا چیز شرط سے فاسد ہوتی ہے اور کیا نہیں ہوتی اور کس کو شرط پر معلق کرسکتے ہیں اور کس کو نہیں کرسکتے اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جب مال کو مال سے تبادلہ کیا جائے وہ شرط فاسد سے فاسد ہوگا جیسے بیع کہ شروط فاسدہ سے بیع ناجائز ہوجاتی ہے جس کا بیان پہلے مذکور ہوا اور جہاں مال کو مال سے بدلنا نہ ہو وہ شرط فاسد سے فاسد نہیں خواہ مال کو غیر مال سے بدلنا ہو جیسے نکاح، طلاق، خلع علی المال(1) یا از قبیل تبر عات(2) ہوجیسے ہبہ۔ وصیت ان میں خود وہ شروطِ فاسدہ ہی باطل ہوجاتی ہیں اور قرض اگرچہ انتہاءً مبادلہ (3)ہے مگر ابتداء ًچونکہ تبرع ہے، شرط فاسد سے فاسد نہیں۔
دوسراقاعدہ یہ ہے کہ جو چیز از قبیل تملیک یا تقییدہو(4) اس کو شرط پر معلق نہیں کرسکتے تملیک کی مثال بیع، اجارہ، ہبہ، صدقہ، نکاح، اقراروغیرہ۔ تقیید کی مثال رجعت، وکیل کو معزول کرنا، غلام کے تصرفات روک دینا۔ اور اگر تملیک وتقییدنہ ہو بلکہ ازقبیل اسقاط ہو(5) جیسے طلاق یا از قبیل التزامات یا اطلاقات(6) یا ولایات(7) یا تحریضات (8)ہو تو شرط پر معلق کرسکتے ہیں۔ وہ چیزیں جو شرط فاسد سے فاسد ہوتی ہیں اور ان کو شرط پر معلق نہیں کرسکتے حسب ذیل ہیں ان میں بعض وہ ہیں کہ اُن کی تعلیق درست نہیں ہے مگر اُن میں شرط لگاسکتے ہیں۔ 1 بیع۔ 2 تقسیم۔ 3اجارہ۔ 4اجازہ۔(9) 5 رجعت۔ 6 مال سے صلح۔ 7 دَین سے ابرا یعنی دَین کی معافی۔ 8 مزارعہ۔ 9 معاملہ۔ 10اقرار۔11وقف۔ 12تحکیم(10)۔ 13عزل وکیل۔(11) 14اعتکاف۔(12)(درمختار،ردالمحتار، بحر)
مسئلہ۲۵: یہ ہم پہلے بیان کرا ۤئے ہیں کہ شرط فاسد سے بیع فاسد ہوجاتی ہے۔ اگر عقد میں شرط داخل نہیں ہے
1 ۔مال کے عوض خلع۔ 2 ۔تبرع کی جمع احسان،بخشش۔
3 ۔باہم تبادلہ۔ 4 ۔مالک بنانے یا کسی چیزکے ساتھ مقید کرنے کی قسم سے ہو۔
5 ۔یعنی ساقط کرنے کی قسم سے ہو۔ 6 ۔التزامات جیسے نماز،روزہ،اطلاقات جیسے غلام کو تجارت کی اجازت دیناوغیرہ۔
7 ۔ یعنی کسی کوقاضی یا خلیفہ بنانا۔ 8 ۔یعنی ابھارنا جیسے امیر لشکر کا یہ کہنا جو فلاں کافر کو قتل کریگا اس کے لئے یہ انعام ہے ۔
9 ۔اجازت ۔ 10 ۔یعنی پنچ (ثالث)بنانا۔ 11 ۔وکیل کو معزول کرنا۔
12 ۔''الدرالمختار''و''رد المحتار''،کتاب البیوع، باب المتفرقات،مایبطل بالشرط الفاسد...إلخ،ج۷،ص۵۲۵۔۵۳۸.
و''البحرالرائق''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۶،ص۲۹۷-۳۰۷.
مگر بعد عقد متصلاً شرط ذکر کردی تو عقد صحیح ہے مثلاً لکڑیوں کا گٹھا خریدااور خریدنے میں کوئی شرط نہ تھی فوراًہی یہ کہا تمھیں میرے مکان پر پہنچاناہو گا۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ۶ ۲: بیع کوکسی شرط پر معلق کیا مثلاً فلاں کام ہوگا یا فلاں شخص آئے گا تو میرے تمھارے درمیان بیع ہے یہ بیع صحیح نہیں صرف ایک صورت اس کے جواز کی ہے وہ یہ کہ یوں کہا اگر فلاں شخص راضی ہوا تو بیع ہے اوراس میں تین دن تک کی مدت مذکور ہو کہ یہ شرط خیار ہے اور اجنبی کو بھی خیار دیا جاسکتا ہے جس کا بیان گزر چکا ہے۔(2) (بحر)
مسئلہ۲۷: تقسیم کی صورت یہ ہے کہ لوگوں کے ذمہ میت کے دین ہیں ورثہ نے ترکہ کو اس طرح تقسیم کیا کہ فلاں شخص دَین لے اور باقی ورثہ عین (جو چیزیں موجود ہیں) لیں گے یہ تقسیم فاسد ہے یا یوں کہ فلاں شخص نقد (روپیہ اشرفی) لے اور فلاں شخص سامان یا اس شرط سے تقسیم کی کہ فلاں اس کا مکان ہزار روپے میں خریدلے یا فلاں چیز ہبہ کردے یا صدقہ کردے یہ سب صورتیں فاسد ہیں اور اگر یوں تقسیم ہوئی کہ فلاں شخص کو حصہ سے فلاں چیز زائد دی جائے یا مکان تقسیم ہوااور ایک کے ذمہ کچھ روپے کردیے گئے کہ اتنے روپے شریک کو دے یہ تقسیم جائز ہے۔(3) (بحر)
مسئلہ۲۸: اجارہ کی صورت یہ ہے کہ یہ مکان تم کو کرایہ پر دیا اگر فلاں شخص کل آجائے یا اس شرط سے کہ کرایہ دار اتنا روپیہ قرض دے یا یہ چیز ہدیہ کرے یہ اجارہ فاسد ہے۔ دوکان کرایہ پر دی اور شرط یہ کی کہ کرایہ دار اس کی تعمیریا مرمت کرائے یا دروازہ لگوائے یا کہگل (4)کرائے اور جو کچھ خرچ ہوکرایہ میں مجراکرے (5) اس طرح اجارہ فاسد ہے کہ کرایہ دار پردوکان کا واجبی کرایہ جو ہونا چاہیے وہ واجب ہے وہ نہیں جو باہم طے ہوااور جو کچھ مرمت کرانے میں خرچ ہوا وہ لے گا بلکہ نگرانی اور بنوانے کی اُجرت مثل بھی پائے گا۔ (6)(بحر)
مسئلہ۲۹: ایک شخص نے دوسرے کا مکان غصب کرلیا مالک نے غاصب سے کہا میرامکان خالی کردے ورنہ اتنے روپے ماہوار کرایہ لوں گا یہ اجارہ صحیح ہے اور یہ صورت اُس قاعدہ سے مستثنٰے ہے۔(7) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،ج۵،ص۵۲۹.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۶،ص۲۹۸.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب البیوع، باب المتفرقات،ج۶،ص۲۹۹.
4 ۔پلستر ۔ 5 ۔کاٹ دے یعنی کرایہ کی رقم سے کٹوتی کرے۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۶،ص۲۹۹۔۳۰۰.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۷،ص۵۳۰.
مسئلہ۳۰: اجازت کی مثال یہ ہے کہ بالغہ عورت کا اُس کے ولی یا فضولی نے نکاح کردیا جو اس کی اجازت پر موقوف ہے اُس کو نکاح کی خبر دی گئی تو یہ کہا میں نے اس نکاح کو جائز کیا اگر میری ماں بھی اس کو پسند کرے یہ اجازت نہیں ہوئی یوں ہی فضولی نے کسی کی چیز بیچ ڈالی مالک کو خبر ہوئی تو اُس نے اجازتِ مشروط دی یا اجازت کو کسی شرط پر معلق کیا تو اجازت نہ ہوئی۔ یوہیں جو چیز ایسی ہو کہ اس کی تعلیق شرط پر نہ ہو سکتی ہو اگر اُس کو اس طرح پر منعقد کیا کہ کسی کی اجازت پر موقوف ہو اور اجازت دینے والے نے اجازت کو شرط پر معلق کردیا تو اجازت نہیں ہوئی۔ (1)(درمختار)
مسئلہ۳۱: صلح کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کا دوسرے پر کچھ مال آ تا ہے کچھ دے کر دونوں میں مصالحت ہوگئی،(2) ظاہر میں یہ صلح ہے مگر معنےٰ کے لحاظ سے بیع ہے لہٰذاشرط کے ساتھ اس قسم کی صلح صحیح نہیں مثلاً یہ کہا کہ میں نے صلح کی اس شرط سے کہ تو اپنے مکان میں مجھے ایک سال تک رہنے دے یا صلح کی کہ اگر فلاں شحص آجائے یہ صلح فاسد ہے۔ یہ بیع اُس وقت ہے جب غیرِ جنس پر صلحـ ہو اگر اُسی جنس پر صلح ہوئی تو تین صورتیں ہیں، اگر کم پر ہوئی مثلاً سو آتے تھے پچاس پر ہوئی تو ابرا ہے یعنی پچاس معاف کردیے اور اتنے ہی پر ہوئی تو آتا ہواپالیا اور زائد پر ہوئی تو سود و حرام ہے۔ (3)(در مختار، ردالمحتار)
مسئلہ۳۲: ابرا اگر شرط متعارف(4) سے مشروط ہو یا ایسے امر پر معلق کیا جو فی الحال موجود ہے تو ابرا صحیح ہے مثلاً یہ کہا کہ اگر میرے شریک کو اس کا حصہ تونے دے دیا تو باقی دَین(5) معاف ہے اُس نے شریک کو دے دیا باقی دین معاف ہوگیا یا یہ کہا اگر تجھ پر میرا دَین ہے تو معاف ہے اور واقع میں دَین ہے تو معاف ہوگیا اور اگر شرط متعارف نہ ہو تو معاف نہیں مثلاً میں نے دَین معاف کردیا اگر فلاں شخص آجائے یا میں نے معاف کیا اس شرط پر کہ ایک ماہ تو میری خدمت کرے یا اگر تو گھر میں گیا تو دَین معاف ہے اگر تو نے پانسو دے دیے تو باقی معاف ہیں اگر تو قسم کھا جائے تو دَین معاف ہے، ان سب صورتوں میں معاف نہ ہوگا۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۳۳: ابرا کی تعلیق(7) اپنی موت پر صحیح ہے اور یہ وصیّت کے معنےٰ میں ہے مثلاً مدیون (8)سے یہ کہا اگر میں
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۷،ص۵۳۰-۵۳۱.
2 ۔یعنی آپس میں صلح ہوگئی۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مایبطل بالشرط الفاسد...إلخ،ج۷،ص۵۳۳.
4 ۔یعنی ایسی شرط کے ساتھ ہوجو لوگوں میں معروف ہو۔ 5 ۔قرض۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مایبطل بالشرط الفاسد...إلخ،ج۷،ص۵۲۳.
7 ۔یعنی کسی شرط پر معلق کرنا۔ 8 ۔مقروض۔
مرجاؤں تو تجھ پر جو دَین ہے وہ معاف ہے یا معاف ہو جائے گااور اگر یہ کہا کہ تو مر جائے تو دَین معاف ہے یہ ابرا صحیح نہیں۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۳۴: ــجس کو اعتکاف میں بیٹھنا ہے وہ یوں نیت کرتا ہے کہ اعتکاف کی نیت کرتا ہوں اس شرط کے ساتھ کہ روزہ نہیں رکھوں گا یا جب چاہوں گا حاجت و بے حاجت مسجد سے نکل جاؤں گا، یہ اعتکاف صحیح نہیں۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ۳۵: کھیت یا باغ اِجارہ پر دیا اور نا مناسب شرطیں لگائیں تو یہ اِجارہ فاسد ہے مثلاً یہ شرط کہ کام کرنے والوں کے مصارف زمین کا مالک دے گا مزارعت کو فاسد کر دیتا ہے۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ۳۶: اقرا ر کی صورت یہ ہے کہ اس نے کہا فلاں کا مجھ پر اتنا روپیہ ہے اگر وہ مجھے اتنا روپیہ قرض دے یا فلاں شخص آجائے یہ اقرار صحیح نہیں۔ایک شخص نے دوسرے پر مال کا دعویٰ کیا اس نے کہا اگر میں کل نہ آیا تو وہ مال میرے ذمہ ہے اورنہیں آیا یہ اقرار صحیح نہیں۔ یا ایک نے دعویٰ کیا دوسرے نے کہا اگر قسم کھا جائے تو میں دَین دار(4) ہوں اُس نے قسم کھالی مگر یہ اب بھی انکار کرتا ہے تو اُس اقرارمشروط کی وجہ سے اس سے مطالبہ نہیں ہوسکتا۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ۳۷: اقرار کو کل آنے پر معلق کیا(6) یا اپنے مرنے پر معلق کیا یہ تعلیق درست ہے مثلاً اس کے مجھ پر ہزار روپے ہیں جب کل آجائے یا مہینہ ختم ہوجائے یا عید الفطر آجائے کہ یہ حقیقۃً تعلیق نہیں بلکہ ادائے دَین کا وقت ہے یا کہا فلاں کے مجھ پر ہزار روپے ہیں اگر میں مرجاؤں یہ بھی حقیقۃً تعلیق نہیں بلکہ لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرنا ہے کہ میرے مرنے کے بعد ورثہ دینے سے انکار کریں تو لوگ گواہ رہیں کہ یہ دَین میرے ذمہ ہے یہ اقرار صحیح ہے اور روپے فی الحال واجب الاداہیں(7)مرے یا زندہ رہے روپے بہر حال اس کے ذمہ ہیں۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مطلب:قال لمدیونہ اذا مت فانت بریئ،ج۷،ص۵۳۳.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مطلب:قال لمدیونہ اذا مت فانت بریئ ،ج۷،ص۵۳۶.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔مقروض۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مطلب:قال لمدیونہ اذا مت فانت بریئ ،ج۷،ص۵۳۶.
6 ۔یعنی مشروط کیا۔
7 ۔یعنی فوراًادائیگی واجب ہے۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مطلب:قال لمدیونہ اذا مت فانت بریئ ،ج۷،ص۵۳۶.
مسئلہ۳۸: تحکیم یعنی کسی کو پنچ بنانا اس کوشرط پر معلق کیا مثلاً یہ کہا جب چاند ہوجائے تو تم ہمارے درمیان میں پنچ ہو یہ تحکیم صحیح نہیں۔(1) (درمختار) بعض وہ چیزیں ہیں کہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتیں بلکہ باوجود ایسی شرط کے وہ چیز صحیح ہوتی ہے، وہ یہ ہیں:
(۱)قرض ،(۲)ہبہ،(۳)نکاح،(۴)طلاق،(۵)خلع،(۶)صدقہ،(۷)عتق،(2)(۸) رہن،(۹) ایصا،(3) (۱۰)وصیت،(۱۱)شرکت،(۱۲)مضاربت،(۱۳)قضا،(۱۴)امارات،(۱۵)کفالہ،(۱۶)حوالہ،(۱۷)وکالت، (۱۸)اقالہ، (۱۹)کتابت، (۲۰) غلام کو تجارت کی اجازت،(۲۱)لونڈی سے جو بچہ ہوا اُس کی نسبت یہ دعویٰ کہ میرا ہے ،(۲۲) قصداً قتل کیاہے اس سے مصالحت، (۲۳)کسی کو مجروح کیا ہے(4) اُس سے صلح ،(۲۴) بادشاہ کا کفار کو ذمّہ دینا،(۲۵) بیع میں عیب پانے کی صورت میں اس کے واپس کرنے کو شرط پر معلق کرنا ،(۲۶) خیار شرط میں واپسی کو معلق بر شرط کرنا، (5) (۲۷)قاضی کی معزولی۔
جن چیزوں کو شرط پر معلق کرناجائز ہے وہ اسقاط محض ہیں جن کے ساتھ حلف(6) کرسکتے ہیں جیسے طلاق، عتاق اوروہ التزامات ہیں جن کے ساتھ حلف کرسکتے ہیں جیسے نماز، روزہ، حج اور تولیات یعنی دوسرے کو ولی بنانا مثلاً قاضی یا بادشاہ وخلیفہ مقرر کرنا۔
وہ چیزیں جن کی اضافت(7) زمانہ مستقبل کی طرف ہوسکتی ہے:
اجا ۱ رہ،فسخ۲ اجا رہ، مضا ۳ ربت،معاملہ ۴ ،مزارعہ۵ ،(8)وکالت۶ ،کفالہ۷ ، ایصا۸ ،وصیت۹ ،قضا۱۰ ،اما رت۱۱ ،طلاق۱۲ ،عتاق۱۳ ، وقف۱۴ ، عاریت۱۵ ، اذن۱۶ تجارت ۔
وہ چیزیں جن کی اضافت مستقبل کی طرف صحیح نہیں:
بیع۱ ،بیع ۲ کی اجازت، اس ۳ کا فسخ ،قسمت ۴ ، شرکت۵ ، ہبہ۶ ،نکاح۷ ، رجعت۸ ، مال ۹ سے صلح ،دَین ۱۰ سے ابرا۔ (9)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،ج۷،ص۵۳۸.
2 ۔آزادی۔ 3 ۔وصیت کرنا۔
4 ۔یعنی کسی کو زخمی کیاہے۔ 5 ۔یعنی خیار شرط میں واپسی کو کسی شرط پر معلق کرنا۔
6 ۔قَسم ۔ 7 ۔نسبت ۔
8 ۔ کھیتی کرائے پر لینا۔ 9 ۔یعنی قرض سے بَری کرنا۔
حدیث( ۱): صحیحین میں ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سونے کو سونے کے بدلے میں نہ بیچو، مگر برابر برابر اور بعض کو بعض پر زیادہ نہ کرو اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں نہ بیچو، مگر برابر برابر اور بعض کو بعض پر زیادہ نہ کرواور ان میں اودھار کو نقد کے ساتھ نہ بیچو۔'' اور ایک روایت میں ہے، کہ ''سونے کو سونے کے بدلے میں اور چاندی کوچاندی کے بدلے میں نہ بیچو، مگر وزن کے ساتھ برابر کرکے۔'' (1)
حدیث (۲): صحیح مسلم شریف میں ہے، فضالہ بن عبید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، میں نے خیبر کے دن بارہ دینار کو ایک ہار خریدا تھا جس میں سونا تھا اور پوت،(2) میں نے دونوں چیزیں جدا کیں تو بارہ دینار سے زیادہ سونا نکلا، اس کو میں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے ذکر کیا، ارشاد فرمایا: ''جب تک جدا نہ کرلیا جائے، بیچا نہ جائے۔'' (3)
حدیث (۳): امام مالک و ابو داود وترمذی وغیرہم ابی الحدثان(4)سے راوی، کہتے ہیں کہ میں سو اشرفیاں توڑانا چاہتا تھا طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مجھے بُلایا اورہم دونوں کی رضا مندی ہوگئی اور بیع صَرف ہوگئی۔ اُنھوں نے سونا مجھ سے لے لیا اور اُلٹ پلٹ کردیکھا اور کہا اس کے روپے اُس وقت ملیں گے جب میرا خازن (5) غابہ (6) سے آجائے، حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سُن رہے تھے اُنھوں نے فرمایا: اُس سے جدا نہ ہونا جب تک روپیہ وصول نہ کرلینا پھر کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ''سونا چاندی کے بدلے میں بیچنا سود ہے، مگر جبکہ دست بدست (7)ہو۔'' (8)
مسئلہ ۱: صرف کے معنی ہم پہلے بتا چکے ہیں یعنی ثمن کو ثمن سے بیچنا۔ صرف میں کبھی جنس کا تبادلہ جنس سے ہوتا ہے جیسے روپیہ سے چاندی خریدنا یا چاندی کی ریزگاریاں(9) خریدنا۔ سونے کو اشرفی سے خریدنا۔ اور کبھی غیر جنس سے تبادلہ ہوتا ہے جیسے روپے سے سونا یا اشرفی خریدنا۔(10)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب البیوع، باب بیع الفضۃ بالفضۃ،الحدیث: ۲۱۷۷،ج۲، ص۳۸.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب البیوع،باب الربا،الحدیث:۲۸۱۰،ج۲،ص۱۳۹-۱۴۰.
2 ۔شیشے کا سوراخ دار دانا،موتی۔
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب المساقاۃوالمزارعۃ،باب بیع القلادۃ...إلخ،الحدیث:۹۰-(۱۵۹۱)،ص۸۵۸.
4 ۔اس مقام پر''بہارشریعت''کے تمام نسخوں میں''ابی الحَدَثان''مکتوب ہے جو کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے،جبکہ کتب احادیث موطأ امام
مالک،سنن ابی داؤد وجامع ترمذی وغیرہ میں''مالک بن اوس بن الحَدَثان''مذکور ہے۔...علمیہ
5 ۔خزانچی۔ 6 ۔مدینے کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔ 7 ۔یعنی نقد ۔
8 ۔''الموطأ''للإمام مالک،کتاب البیوع،باب ماجاء في الصرف،الحدیث:۱۳۶۹،ج۲،ص۱۷۱.
9 ۔سِکے ۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع، باب الصرف،ج۷،ص۵۵۲.
مسئلہ ۲: ثمن سے مراد عام ہے کہ وہ ثمن خلقی ہو یعنی اسی لیے پیدا کیا گیا ہوچاہے اُس میں انسانی صنعت(1) بھی داخل ہو یا نہ ہو چاندی سونا اور ان کے سکّے اور زیورات یہ سب ثمنِ خلقی میں داخل ہیں دوسری قسم غیرِ خلقی جس کو ثمنِ اصطلاحی بھی کہتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں کہ ثمنیّت کے لیے مخلوق نہیں ہیں مگر لوگ ان سے ثمن کا کام لیتے ہیں ثمن کی جگہ پر استعمال کرتے ہیں۔ جیسے پیسہ، نوٹ، نِکل(2)کی ریزگاریاں کہ یہ سب اصطلاحی ثمن ہیں روپے کے پیسے بھنائے جائیں(3) یا ریزگاریاں خریدی جائیں یہ صَرف میں داخل ہے۔ (4)
مسئلہ ۳: چاندی کی چاندی سے یا سونے کی سونے سے بیع ہوئی یعنی دونوں طرف ایک ہی جنس ہے تو شرط یہ ہے کہ دونوں وزن میں برابر ہوں اور اُسی مجلس میں دست بدست قبضہ ہویعنی ہر ایک دوسرے کی چیز اپنے فعل سے قبضہ میں لائے اگر عاقدین نے ہاتھ سے قبضہ نہیں کیا بلکہ فرض کرو عقد کے بعد وہاں اپنی چیز رکھدی اور اُس کی چیز لے کر چلا آیا یہ کافی نہیں ہے اور اس طرح کرنے سے بیع ناجائز ہوگئی بلکہ سود ہوا اور دوسرے مواقع میں تخلیہ(5) قبضہ قرار پاتا ہے اور کافی ہوتا ہے وزن برابر ہونے کے یہ معنی کہ کانٹے یا ترازو کے دونوں پلّے(6) میں دونوں برابر ہوں اگر چہ یہ معلوم نہ ہو کہ دونوں کا وزن کیا ہے۔ (7)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار) برابری سے مراد یہ ہے کہ عاقدین (8)کے علم میں دونوں چیزیں برابر ہوں یہ مطلب نہیں کہ حقیقت میں برابرہونا چاہیے اُن کو برابر ہونا معلوم ہو یا نہ ہو لہٰذا اگر دونوں جانب کی چیزیں برابر تھیں مگر اُن کے علم میں یہ بات نہ تھی بیع ناجائز ہے ہاں اگر اُسی مجلس میں دونوں پر یہ بات ظاہر ہو جائے کہ برابر ہیں تو جائز ہوجائے گی۔ (9)(فتح القدیر)
مسئلہ ۴: اتحادِ جنس کی صورت میں کھرے کھوٹے ہونے کا کچھ لحاظ نہ ہوگا یعنی یہ نہیں ہوسکتاکی جدھر کھرا مال(10) ہے اُدھر کم ہو اور جدھر کھوٹا ہوزیادہ ہوکہ اس صورت میں بھی کمی بیشی (11)سود ہے۔(12)
مسئلہ ۵: اس کا لحاظ نہیں ہوگا کہ ایک میں صنعت(13)ہے اور دوسرا چاندی کا ڈھیلا (14)ہے یاایک سکّہ ہے دوسرا
1 ۔انسانی کاریگری۔ 2 ۔ایک قسم کی دھات جو سفیدی مائل ہوتی ہے۔
3 ۔یعنی چینج کروائے جائیں۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۵۲.
5 ۔خریدار کو مبیع پر قدرت دے دینا ۔ 6 ۔پلڑے۔
7 ۔''الدرالمختار''و''رد المحتار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۵۳.
8 ۔عقد کرنے والے یعنی خریدار اور بیچنے والا۔
9 ۔''فتح القدیر''،کتاب الصرف،ج۶،ص۲۵۹.
10 ۔خالص مال۔ 11 ۔کمی اورزیادتی ۔
12 ۔''الہدایۃ''،کتاب الصرف،ج۲،ص۸۱.
13 ۔کاریگری۔ 14 ۔ٹکڑا۔
ویساہی ہے اگر ان اختلافات کی وجہ سے کم و بیش کیا تو حرام وسود ہے مثلاً ایک روپیہ کی ڈیڑھ دو روپے بھر اس زمانے میں چاندی بکتی ہے اور عام طور پرلوگ روپیہ ہی سے خریدتے ہیں اور اس میں اپنی ناواقفی کی وجہ سے کچھ حرج نہیں جانتے حالانکہ یہ سود ہے اور بالاِجماع حرام ہے۔ اس لیے فقہا یہ فرماتے ہیں کہ اگر سونے چاندی کا زیور کسی نے غصب کیا اور غاصب نے اُسے ہلاک کر ڈالاتو اُس کا تاوان غیرِجنس سے دلایا جائے یعنی سونے کی چیز ہے تو چاندی سے دلایا جائے اور چاندی کی ہے تو سونے سے کیونکہ اُسی جنس سے دلانے میں مالک کا نقصان ہے اور بنوائی وغیرہ کا لحاظ کر کے کچھ زیادہ دلایا جائے تو سود ہے یہ دینی نقصان ہے۔(1) (ہدایہ، فتح ، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: اگر دونوں جانب ایک جنس نہ ہو بلکہ مختلف جنسیں ہوں تو کمی بیشی میں کوئی حرج نہیں مگر تقابُضِ بَدلَین (2) ضروری ہے اگر تقابضِ بَدلین سے قبل مجلس بدل گئی تو بیع باطل ہوگئی۔ لہٰذا سونے کو چاندی سے یا چاندی کو سونے سے خریدنے میں دونوں جانب کو وزن کر نے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ وزن تو اس لیے کرنا ضروری تھا کہ دونوں کا برابر ہونا معلوم ہوجائے اور جب برابری شرط نہیں تو وزن بھی ضروری نہ رہا صرف مجلس میں قبضہ کرنا ضروری ہے۔اگر چاندی خریدنی ہو اور سود سے بچنا ہو تو روپیہ سے مت خریدو گنی(3) ےانوٹ یا پیسوں سے خریدو۔ دین و دنیا دونوں کے نقصان سے بچوگے۔ یہ حکم ثمنِ خلقی یعنی سونے چاندی کا ہے اگر پیسوں سے چاندی خریدی تو مجلس میں ایک کا قبضہ ضروری ہے دونوں جانب سے قبضہ ضروری نہیں کیونکہ اُن کی ثمنیّت منصُوص نہیں(4) جس کا لحاظ ضروری ہو عاقدین اگر چاہیں تو ان کی ثمنیّت کو باطل کرکے جیسے دوسری چیزیں غیرِثمن ہیں اُن کو بھی غیرِ ثمن قرار دے سکتے ہیں (5)(در مختار، ردالمحتار) مجلس بدلنے کے یہاں یہ معنٰے ہیں کہ دونوں جدا ہو جائیں ایک ایک طرف چلا جائے اور دوسرا دوسری طرف یا ایک وہاں سے چلا جائے اور دوسرا وہیں رہے اور اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو مجلس نہیں بدلی، اگر چہ کتنی ہی طویل مجلس ہو، اگر چہ دونوں وہیں سوجائیں یا بے ہوش ہوجائیں بلکہ اگر چہ دونوں وہاں سے چل دیں مگر ساتھ ساتھ جائیں غرض یہ کہ جب تک دونوں میں جدائی نہ ہو، قبضہ ہو سکتا ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: ایک نے دوسرے کے پاس کہلا بھیجا کہ میں نے تم سے اتنے روپے کی چاندی یا سونا خریدا دوسرے نے
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۵۴.
و''الھدایۃ''،کتاب الصرف،ج۲،ص۸۵.
و''فتح القدیر''،کتاب الصرف،ج۶،ص۲۷۹.
2 ۔یعنی ثمن ومبیع پر قبضہ۔ 3 ۔سونے کا ایک انگریزی سکہ ۔
4 ۔یعنی ان کی ثمنیت پر نص(حدیث)وارد نہیں ۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۵۴.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الأول فی تعریفہ ورکنہ...إلخ،ج۳،ص۲۱۷.
قبول کیا یہ عقد درست نہیں کہ تقابضِ بَدلین مجلس واحد میں یہاں نہیں ہوسکتا۔ (1)(عالمگیری) خط وکتابت کے ذریعہ سے بھی بیع صَرف نہیں ہوسکتی۔
مسئلہ ۸: بیع صرف اگر صحیح ہو تو اس کے دونوں عوض معین کرنے سے بھی معین نہیں ہوتے فرض کرو ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ ایک روپیہ ایک روپیہ کے بدلے میں بیع کیا اور ان دونوں کے پاس روپیہ نہ تھا مگر اسی مجلس میں دونوں نے کسی اور سے قرض لے کر تفابض بدلین کیا تو عقد صحیح رہا یا مثلاً اشارہ کرکے کہا کہ میں نے اس روپیہ کو اس روپیہ کے بدلے میں بیچا اور جس کی طرف اشارہ کیا اُسے اپنے پاس رکھ لیا دوسرا اُس کی جگہ دیا جب بھی صحیح ہے۔(2) (د رمختار) یہ اُس وقت ہے کہ سونا یا چاندی یا سکّے ہوں اوربنی ہوئی چیز مثلاً برتن زیور،ان میں تعین ہوتا ہے۔
مسئلہ ۹: بیع صرف خیارِ شرط سے فاسد ہوجاتی ہے۔ یوہیں اگر کسی جانب سے ادا کرنے کی کوئی مدت مقرر ہوئی مثلاً چاندی آج لی اور روپیہ کل دینے کو کہا یہ عقد فاسد ہے ہاں اگر اُسی مجلس میں خیار شرط اور مدت کو ساقط کردیا تو عقد صحیح ہو جائے گا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: سونے چاندی کی بیع میں اگر کسی طرف اُودھار ہو تو بیع فاسدہے اگر چہ اُدھار والے نے جدا ہونے سے پہلے اُسی مجلس میں کچھ ادا کردیا جب بھی کل کی بیع فاسد ہے مثلاً پندرہ روپے کی گنی خریدی اور روپیہ دس دن کے بعددینے کو کہا مگر اُسی مجلس میں دس روپے دیدیے جب بھی پوری ہی بیع فاسد ہے یہ نہیں کہ جتنا دیا اُس کی مقدار میں جائز ہو جائے ہاں اگر وہیں کل روپے دیدیے تو پوری بیع صحیح ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: سونے چاندی کی کوئی چیز برتن زیور وغیرہ خریدی تو خیار عیب و خیار رویت حاصل ہوگا۔ روپے اشرفی میں خیار رویت تو نہیں مگر خیار عیب ہے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: عقد ہو جانے کے بعد اگر کوئی شرط فاسد پائی گئی تو اس کو اصل عقد سے ملحق کریں گے یعنی اس کی وجہ سے وہ عقد جو صحیح ہوا تھا فاسد ہوگیامثلاً روپے سے چاندی خریدی اور دونوں طرف وزن بھی برابر ہے اور اُسی مجلس میں تقابض بدلین
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب الأول فی تعریفہ ورکنہ...إلخ،ج۳،ص۲۱۷.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۵۵.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصرف،الباب الأول فی تعریفہ...إلخ،ج۳،ص۲۱۸.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۵۶.
بھی ہوگیا پھرایک نے کچھ زیادہ کر دیا یا کم کردیا مثلاً روپیہ کاسَوار وپیہ یا بارہ آنے کردیے اور دوسرے نے قبول کرلیا وہ پہلا عقد فاسد ہوگیا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: پندرہ روپے کی اشرفی خریدی اور روپے دیدیے اشرفی پر قبضہ کرلیا اُن میں ایک روپیہ خراب تھا اگر مجلس نہیں بدلی ہے وہ روپیہ پھیر دے(2) دوسرا لے لے اور جدا ہونے کے بعد اُسے معلوم ہواکہ ایک روپیہ خراب ہے اُس نے وہ روپیہ پھیر دیا تو اُس ایک روپیہ کے مقابل(3) میں بیع صرف جاتی رہی اب یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ اُس کے بدلے میں دوسرا روپیہ لے بلکہ اُس اشرفی میں ایک روپیہ کی مقدار کا یہ شریک ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: بدل صرف پر جب تک قبضہ نہ کیا ہواُس میں تصرف نہیں کرسکتا اگر اُس نے اُس چیز کوہبہ کردیا یا صدقہ کردیا یا معاف کردیا اور دوسرے نے قبول کرلیا بیع صرف باطل ہوگئی اور اگر روپے سے اشرفی خریدی اور ابھی اشرفی پر قبضہ بھی نہیں کیا اور اسی اشرفی کی کوئی چیز خریدی یہ بیع فاسد ہے اور بیع صرف بدستور صحیح ہے یعنی اب بھی اگر اشرفی پر قبضہ کرلیا تو صحیح ہے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: ایک کنیز (6) جس کی قیمت ایک ہزار ہے اور اُس کے گلے میں ایک ہزار کا طوق(7) پڑا ہے دونوں کو دوہزار میں خریدا اور ایک ہزار اُسی وقت دیدیا اور ایک ہزارباقی رکھا تو یہ جو ادا کردیا طوق کا ثمن قرار دیا جائے گا اگرچہ اس کی تصریح نہ کی ہو یا یہ کہہ دیا ہو کہ دونوں کے ثمن میں یہ ایک ہزار لو۔ یوہیں اگر بیع میں ایک ہزار نقد دینا قرار پایا ہے اورایک ہزار اُودھار توجو نقد دینا ٹھہرا ہے طوق کا ثمن ہے۔ یوہیں اگر سوروپے میں تلوار خریدی جس میں پچاس روپے کا چاندی کا سامان لگا ہے اور اُسی مجلس میں پچاس دیدیے تو یہ اُس سامان کا ثمن قرار پائے گا یاعقد ہی میں پچاس روپے نقد اور پچاس اُودھار دینا قرار پایا تو یہ پچاس چاندی کے ہیں اگرچہ تصریح نہ کی ہو یا کہہ دیا ہو کہ دونوں کے ثمن میں سے پچاس لے لو بلکہ کہہ دیا ہو کہ تلوار کے ثمن میں سے پچاس روپے وصول کرو کیونکہ وہ آرائش کی چیزیں تلوار کے تابع ہیں تلوار بول کر وہ سب ہی کچھ مراد لیتے ہیں نہ کہ محض لوہے کا پھل البتہ اگریہ کہہ دیا کہ یہ خاص تلوار کا ثمن ہے تو بیع فاسد ہوجائے گی۔ اور اگر اس مجلس میں طوق اور تلوارکی آرائش کا
ـ1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۵۶.
2 ۔یعنی واپس کردے۔ 3 ۔بدلے۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۵۶.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۵۶.
6 ۔لونڈی،باندی۔ 7 ۔یعنی گلے کاایک زیور،ہار۔
ثمن بھی ادا نہیں کیا گیا اور دونوں متفرق ہوگئے تو طوق و آرائش کی بیع باطل ہوگئی لونڈی کی صحیح ہے اور تلوار کی آرائش بلا ضرر اُس سے علحٰدہ ہوسکتی ہے تو تلوار کی صحیح ہے ورنہ اس کی بھی باطل۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۶: تلوار میں جو چاندی ہے اُس کو ثمن کی چاندی سے کم ہونا ضروری ہے اگر دونوں برابر ہیں یاتلوار والی ثمن سے زیادہ ہو یا معلوم نہ ہو کہ کون زیادہ ہے کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ کہتا ہے تو ان صورتوں میں بیع درست ہی نہیں پہلی دونوں صورتوں میں یقینا سود ہے اور تیسری صورت میں سود کا احتمال ہے اور یہ بھی حرام ہے اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جب ایسی چیز جس میں سونے چاندی کے تار یا پتر (2)لگے ہوں اُس کو اُسی جنس سے بیع کیا جائے تو ثمن کی جانب اُس سے زیادہ سونا یا چاندی ہونا چاہیے جتنا اُس چیز میں ہے تاکہ دونوں طرف کی چاندی یاسونا برابر کرنے کے بعد ثمن کی جانب میں کچھ بچے جو اُس چیز کے مقابل میں ہواگر ایسا نہ ہو تو سود اور حرام ہے اور اگر غیر جنس سے بیع ہو مثلاً اُس میں سونا ہے اور ثمن روپے ہیں تو فقط تقابض بدلین(3) شرط ہے۔ (4)(درمختار، فتح القدیر)
مسئلہ ۱۷: لچکا، (5)گوٹا(6) اگرچہ ریشم سے بُنا جاتا ہے مگر مقصود اُس میں ریشم نہیں ہوتا اور وزن سے ہی بکتا بھی ہے، لہٰذا دونوں جانب وزن برابر ہونا ضروری ہے لیس،(7) پیمک(8) وغیرہ کا بھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ ۱۸: بعض کپڑوں میں چاندی کے بادلے (9)بُنے جاتے ہیں۔ آنچل(10) اور کنارے ہوتے ہیں جیسے بنارسی عمامہ اوربعض میں درمیان میں پھول ہوتے ہیں جیسے گلبدن(11) اس میں زری(12) کے کام کو تابع قرار دیں گے کیونکہ شرع مطہر نے اس کے استعمال کو جائز کیا ہے اس کی بیع میں ثمن کی چاندی زیادہ ہونا شرط نہیں۔
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصرف،ج۲،ص۸۲.
2 ۔پتلے چوڑے ٹکڑے۔ 3 ۔ثمن ومبیع پر قبضہ۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۶۰.
و''فتح القدیر''،کتاب الصرف،ج۶،ص۲۶۶.
5 ۔زری کی تیارکی ہوئی گوٹ،بیل۔
6 ۔سونے ،چاندی اورریشم کے تاروں سے بناہوافیتایازری کی تیارکی ہوئی گوٹ ،یاکناری جوعموماًعورتوں کے لباس پرزینت کے لیے ٹانکی جا تی ہے۔ 7 ۔ریشمی یا سوتی ڈورے سے بنی ہوئی پٹی،بیل جس پہ سونے ،چاندی کے تار لگے ہوتے ہیں۔
8 ۔ گوٹا جو کلابتوں سے بنایااور انگرکھوں اورٹوپیوں وغیرہ پر لگایاجاتاہے۔
9 ۔ چاندی کے چپٹے تار۔ 10 ۔دوپٹے کاسِرا۔
11 ۔مختلف وضع کا دھاری دار اور پھول دار دیشمی اور سوتی کپڑا۔ 12 ۔سونے کے تار۔
مسئلہ ۱۹: جس چیز میں سونے ،چاندی کا ملمع ہو(1)اُس کے ثمن کا ملمع کی چاندی سے زیادہ ہونا شرط نہیں اور اُسی مجلس میں اتنی چاندی پر قبضہ کرنا بھی شرط نہیں مثلاً برتن پر چاندی کاملمع ہے اُس کو ملمع کی چاندی سے کم قیمت پر بیع کیا یا اُسی مجلس میں ثمن پر قبضہ نہ کیا جائز ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: ملمع میں بہت زیادہ چاندی ہے کہ آگ پر پگھلا کر اتنی نکال سکتے ہیں جو تولنے میں آئے یہ قابل اعتبار ہے۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: چاندی کے برتن کو روپے یا اشرفی کے عوض میں بیع(4) کیا تھوڑے سے دام(5)مجلس میں دے دیے باقی باقی ہیں اور عاقدین(6) میں افتراق(7) ہوگیا تو جتنے دام دیے ہیں اُس کے مقابل میں بیع صحیح ہے اور باقی باطل اور برتن میں بائع ومشتری دونوں شریک ہیں اورمشتری کو عیب شرکت کی وجہ سے یہ اختیار نہیں کہ وہ حصہ بھی پھیر دے کیونکہ یہ عیب مشتری کے فعل و اختیار سے ہے اس نے پورا دام اُسی مجلس میں کیوں نہیں دیا اور اگر اس برتن میں کوئی حقدار پیدا ہوگیا اُس نے ایک جزاپنا ثابت کردیا تو مشتری کو اختیار ہے کہ باقی کولے یا نہ لے کیونکہ اس صورت میں عیب شرکت اس کے فعل سے نہیں۔(8) (ہدایہ، فتح القدیر) پھر اگر مستحق (9) نے عقد کو جائز کردیا تو جائز ہوجائے گا اور اُتنے ثمن کا وہ مستحق ہے بائع مشتری سے لے کر اُس کودے بشرطیکہ بائع ومشتری اجازت مستحق سے پہلے جدا نہ ہوئے ہوں خود مستحق کے جدا ہونے سے عقد باطل نہیں ہوگا کہ وہ عاقد نہیں ہے۔ (10)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: چاندی یا سونے کا ٹکڑا خریدا اور اُس کے کسی جز میں دوسرا حقدار پیدا ہوگیا تو جو باقی ہے وہ مشتری کا ہے اور ثمن بھی اتنے ہی کا مشتری کے ذمہ ہے اورمشتری کو یہ حق حاصل نہیں کہ باقی کو بھی نہ لے کیونکہ اس کے ٹکڑے کرنے میں کسی کا کوئی نقصان نہیں یہ اُس صورت میں ہے کہ قبضہ کے بعد حقدار کا حق ثابت ہوااور اگر قبضہ سے پہلے اُس نے اپنا حق ثابت کردیا تو
1 ۔جس پرسونے چاندی کاپانی چڑھایاگیاہو۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب المتفرقات،مطلب:فی بیع المموّہ،ج۷،ص۵۶۰۔۵۶۱.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔فروخت ۔ 5 ۔رقم ،روپے۔ 6 ۔یعنی بائع و مشتری۔ 7 ۔جدائی۔
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصرف،ج۲،ص۸۲.
و''فتح القدیر''،کتاب الصرف،ج۶،ص۲۶۷.
9 ۔حقدار۔
10 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الصرف،مطلب:فی بیع المفضض...إلخ،ج۷،ص۵۶۲.
مشتری کو یہاں بھی اختیار حاصل ہوگا کہ لے یا نہ لے روپے اور اشرفی کا بھی یہی حکم ہے کہ مشتری کو اختیار نہیں ملتا۔(1) (ہدایہ، درمختار) مگر زمانہ سابق میں یہ رواج تھا کہ روپے اور اشرفی کے ٹکڑے کرنے میں کوئی نقصان نہ تھا اس زمانہ میں ہندوستان کے اندر اگرروپیہ کے ٹکڑے کردیے جائیں تو ویسا ہی بیکار تصور کیا جائے گا جیسا برتن ٹکڑے کردینے سے، لہٰذا یہاں روپیہ کاوہی حکم ہونا چاہیے جو برتن کا ہے۔
مسئلہ ۲۳: دو روپے اورایک اشرفی کو ایک روپیہ دو۲ اشرفیوں سے بیچنا درست ہے روپے کے مقابل میں اشرفیاں تصور کریں اور اشرفی کے مقابل روپیہ، یوں ہی دو من گیہوں اور ایک من جو کوایک من گیہوں اور دو من جو کے بدلے میں بیچنا بھی جائز ہے اور اگر گیارہ روپے کو دس روپے اورایک اشرفی کے بدلے میں بیع کیا ہے دس روپے کے مقابل میں دس روپے ہیں اور ایک روپیہ کے مقابل اشرفی یہ دونوں دو۲ جنس ہیں ان میں کمی بیشی درست ہے اور اگر ایک روپیہ اور ایک تھان کو ایک روپیہ اور ایک تھان کے بدلے میں بیچا اور روپیہ پر طرفین نے قبضہ نہ کیا تو بیع صحیح نہ رہی۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۴: سونے کو سونے سے یا چاندی کو چاندی سے بیع کیا ان میں ایک کم ہے ایک زیادہ مگر جو کم ہے اُس کے ساتھ کوئی ایسی چیز شامل کرلی جس کی کچھ قیمت ہو تو بیع جائز ہے پھر اگر اُس کی قیمت اتنی ہے جو زائد کے برابر ہے تو کراہت بھی نہیں ورنہ کراہت ہے اور اگر اُس کی قیمت ہی نہ ہو جیسے مٹّی کا ڈھیلاتو بیع جائز ہی نہیں۔(3) (ہدایہ) روپے سے چاندی خریدنا چاہتے ہوں اور چاندی سستی ہو اگر برابر لیتے ہیں نقصان ہوتا ہے زیادہ لیتے ہیں سود ہوتا ہے تو روپے کے ساتھ پیسے شامل کرلیں بیع جائز ہوجائے گی۔
مسئلہ ۲۵: سونار(4) کے یہاں کی راکھ خریدی اگر چاندی کی راکھ ہے اور چاندی سے خریدی یا سونے کی ہے اور سونے سے خریدی تو ناجائز ہے کیونکہ معلوم نہیں راکھ میں کتنا سونا یا چاندی ہے اوراگر عکس کیا یعنی چاندی کی راکھ کو سونے سے اور سونے کی چاندی سے خریدا تو دو صورتیں ہیں اگر اُس میں سونا چاندی ظاہرہے تو جائز ہے، ورنہ ناجائز اور جس صورت میں بیع جائز ہے مشتری کو دیکھنے کے بعد اختیار حاصل ہوگا۔ (5)(فتح القدیر)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصرف،ج۲،ص۸۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الصرف،باب الصرف،ج۷،ص۵۶۳.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصرف،ج۲،ص۸۳.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔ سونے کا کاروبار کرنے والا۔
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب الصرف،ج۶،ص۲۷۲.
مسئلہ ۲۶: ایک شخص کے دوسرے پر پندرہ روپے ہیں مدیون(1) نے دائن(2) کے ہاتھ ایک اشرفی پندرہ روپے میں بیچی اور اشرفی دیدی اور اس کے ثمن و دین میں مقاصہ کرلیا یعنی ادلا بدلا کرلیا کہ یہ پندرہ ثمن کے اون پندرہ کے مقابل میں ہوگئے جو میرے ذمّہ باقی تھے ایسا کرنا صحیح ہے اور اگر عقد ہی میں یہ کہا کہ اشرفی اُن روپوں کے بدلے میں بیچتا ہوں جو میرے ذمّہ تمھارے ہیں تو مقاصہ کی بھی ضرورت نہیں یہ اُس صورت میں ہے کہ دَین پہلے کا ہو اور اگر اشرفی بیچنے کے بعد کا دَین ہو مثلاً پندرہ میں اشرفی بیچی پھر اُسی مجلس میں اُس سے پندرہ روپے کے کپڑے خریدے اور اشرفی دے دی اشرفی اور کپڑے کے ثمن میں مقاصہ کرلیا یہ بھی دُرست ہے۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۷: چاندی سونے میں میل(4) ہو مگر سونا چاندی غالب ہے تو سونا چاندی ہی قرار پائیں گے جیسے روپیہ اور اشرفی کہ خالص چاندی سونا نہیں ہیں میل ضرور ہے مگر کم ہے اس وجہ سے اب بھی انھیں چاندی سونا ہی سمجھیں گے اور ان کی جنس سے بیع ہو تو وزن کے ساتھ برابر کرنا ضروری ہے اور قرض لینے میں بھی ان کے وزن کا اعتبار ہوگا۔ ان میں کھوٹ (5)خود ملایا ہو جیسے روپے اشرفی میں ڈھلنے کے وقت کھوٹ ملاتے ہیں یا ملایا نہیں ہے بلکہ پیدائشی ہے کان سے جب نکالے گئے اُسی وقت اُس میں آمیزش تھی دونوں کا ایک حکم ہے۔ (6)(ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: سونے چاندی میں اتنی آمیزش ہے کہ کھوٹ غالب ہے تو خالص کے حکم میں نہیں اور ان کا حکم یہ ہے کہ اگر خالص سونے چاندی سے انکی بیع کریں تو یہ چاندی اُس سے زیادہ ہونی چاہیے جتنی چاندی اُس کھوٹی چاندی میں ہے تاکہ چاندی کے مقابلہ میں چاندی ہو جائے اور زیادتی کھوٹ کے مقابل میں ہو اور تقابض شرط ہے کیونکہ دونوں طرف چاندی ہے اور اگر خالص چاندی ا س کے مقابل میں اُتنی ہی ہے جتنی اس میں ہے یا اس سے بھی کم ہے یا معلوم نہیں کم ہے یا زیادہ تو بیع جائز نہیں کہ پہلی دو صورتوں میں کھُلا ہوا سُود ہے اور تیسری میں سُود کا احتمال ہے۔ (7)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۹: جس میں کھوٹ غالب ہے اُس کی بیع اُس کے جنس کے ساتھ ہو یعنی دونوں طرف اسی طرح کی کھوٹی
1 ۔مقروض ،قرض لینے والا۔ 2 ۔قرض خواہ ،قرض دینے والا۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصرف،ج۷،ص۸۳۔۸۴.
4 ۔کھوٹ۔ 5 ۔ملاوٹ۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصرف،ج۷،ص۸۴.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الصرف،الباب الثانی فی احکام العقد با لنظر...إلخ،الفصل الأول،ج۳،ص۲۱۹.
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصرف،ج۷،ص۸۴.
چاندی ہو تو کمی بیشی بھی درست ہے کیونکہ دونوں جانب دو قسم کی چیزیں ہیں چاندی بھی ہے اور کانسہ(1) بھی ہو سکتا ہے کہ ہر ایک کو خلافِ جنس کے مقابل میں کریں مگر جدا ہونے سے پہلے دونوں کا قبضہ ہوجانا ضروری ہے اور اس میں کمی بیشی اگرچہ سود نہیں مگر اس قسم کے جہاں سکّے چلتے ہوں اُن میں مشایخِ کرام کمی بیشی کا فتویٰ نہیں دیتے کیونکہ اس سے سود خواری کا دروازہ کھلتا ہے کہ ان میں کمی بیشی کی جب عادت پڑجائے گی تو وہاں بھی کمی بیشی کریں گے جہاں سود ہے۔(2) (ہدایہ)
مسئلہ ۳۰: ایسے روپے جن میں کھوٹ غالب ہے اِن میں بیع و قرض وزن کے اعتبار سے بھی دُرست ہے اور گنتی کے لحاظ سے بھی، اگر رواج وزن کا ہے تو وزن سے اور عدد کا ہے تو عدد سے اور دونوں کا ہے تو دونوں طرح کیونکہ یہ اُن میں نہیں ہیں جن کا وزن منصوص(3) ہے۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۳۱: ایسے روپے جن میں کھوٹ غالب ہے جب تک اُن کا چلن(5) ہے ثمن ہیں متعین کرنے سے بھی متعین نہیں ہوتے مثلاً اشارہ کرکے کہااس روپیہ کی یہ چیز دے دو تو یہ ضرور نہیں کہ وہی روپیہ دے اُس کی جگہ دوسرا بھی دے سکتا ہے اور اگر ان کا چلن جاتارہا تو ثمن نہیں بلکہ جس طرح اور چیزیں ہیں یہ بھی ایک متاع(6) ہے اور اُس وقت معین ہیں اگر اُس کے عوض میں کوئی چیز خریدی ہے تو جس کی طرف اشارہ کیا ہے اُسی کو دینا ضروری ہے اُس کے بدلے میں دوسرا نہیں دے سکتا یہ اُس وقت ہے جب بائع و مشتری دونوں کو معلوم ہے کہ اس کا چلن نہیں ہے اور ہر ایک یہ بھی جانتا ہو کہ دوسرے کو بھی اس کاحال معلوم ہے اور اگر دونوں کو یہ بات معلوم نہیں یا ایک کو معلوم نہیں یادونوں کو معلوم ہے مگر یہ نہیں معلوم کہ دوسرا بھی جانتا ہے تو بیع کا تعلق اس کھوٹے روپے سے نہیں جس کی طرف اِشارہ ہے بلکہ اچھے روپے سے ہے اچھا روپیہ دینا ہوگا اور اگر اُس کا چلن بالکل بند نہیں ہوا ہے بعض طبقہ میں چلتا ہے اور بعض میں نہیں اور ا ن سے کوئی چیز خریدی تو دو صورتیں ہیں بائع کو یہ بات معلوم ہے یا نہیں کہ کہیں چلتا ہے اور کہیں نہیں اگر معلوم ہے تو یہی روپیہ دینا ضرور نہیں اسی طرح کا دوسرا بھی دے سکتا ہے اور اگر معلوم نہیں تو کھراروپیہ دینا پڑے گا۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ایک قسم کی مرکب دھات جو تانبے اور رانگ کی آمیزش سے بنتی ہے ۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصرف،ج۲،ص۸۴.
3 ۔یعنی جن کے موزوں ہونے کے بارے میں نص (حدیث)وارد ہے۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصرف،ج۲،ص۸۴.
5 ۔لین دین کارواج۔ 6 ۔سازوسامان،چیز۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الصرف،مطلب:مسائل فی المقاصۃ،ج۷،ص۵۶۷.
مسئلہ ۳۲: روپیہ میں چاندی اور کھوٹ دونوں برابر ہیں بعض باتوں میں ایسے روپے کا حکم اُس کا ہے جس میں چاندی غالب ہے اور بعض باتوں میں اُس کی طرح ہے جس میں کھوٹ غالب ہے بیع وقرض میں اُس کا حکم اُس کی طرح ہے جس میں چاندی غالب ہے کہ وہ وزنی ہیں اور بیع صرف میں اُس کی طرح ہیں جس میں کھوٹ غالب ہے کہ اُس کی بیع اگر اُسی قسم کے روپے سے ہو یا خالص چاندی سے ہو تو وہ تمام باتیں لحاظ کی جائیں گی جو مذکور ہوئیں مگر اُس کی بیع اُسی قسم کے روپے سے ہو تو اکثر فقہا کمی بیشی کو ناجائز کہتے ہیں اور مقتضائے احتیاط (1)بھی یہی ہے۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: ایسے روپے جن میں چاندی سے زیادہ میل(3)ہے ان سے یا پیسوں سے کوئی چیز خریدی اور ابھی بائع کو دیے نہیں کہ ان کا چلن بند ہوگیا، لوگوں نے اُن سے لین دین چھوڑ دیا امام اعظم فرماتے ہیں کہ بیع باطل ہوگئی مگر فتویٰ صاحبین (4) کے قول پر ہے کہ ان روپوں یا پیسوں کی جو قیمت تھی وہ دی جائے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۳۴: پیسوں یا روپیہ کا چلن بند نہیں ہوا مگرقیمت کم ہوگئی تو بیع بدستور باقی ہے اور بائع کو یہ اختیار نہیں کہ بیع کو فسخ کردے۔ یوہیں اگر قیمت زیادہ ہوگئی جب بھی بیع بدستور ہے اور مشتری کو فسخ کرنے کا اختیار نہیں اور یہی روپے دونوں صورتوں میں ادا کیے جائیں گے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۳۵: پیسے چلتے ہوں تو ان سے خریدنا درست ہے اورمعین کرنے سے معین نہیں ہوتے مثلاً اشارہ کرکے کہا اس پیسہ کی یہ چیز دو تو وہی پیسہ دینا واجب نہیں دوسرا بھی دے سکتا ہے ہاں اگر دونوں یہ کہتے ہوں کہ ہمارا مقصود معین ہی تھا تو معین ہے۔ اور ایک پیسہ سے دو معین پیسے خریدے تو عقد کا تعلق معین سے ہے اگرچہ وہ دونوں اس کی تصریح نہ کریں کہ ہمارا مقصود یہی تھا۔ (7)(درمختار، ردالمحتار) اس صورت میں اگر کوئی بھی ہلاک ہوجائے بیع باطل ہوجائے گی اور اگر دونوں میں کوئی یہ چاہے کہ اُس کے بدلے کا دوسرا پیسہ دیدے یہ نہیں کرسکتا وہی دینا ہوگا۔(8) (عالمگیری)
1 ۔احتیاط کا تقاضا۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الصرف،مطلب:مسائل فی المقاصۃ،ج۷،ص۵۶۸.
3 ۔ملاوٹ۔ 4 ۔یعنی امام ابویوسف اورامام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع، باب الصرف،ج۷،ص۵۶۹.
6 ۔المرجع السابق،ص۵۷۱.
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الصرف،مطلب:مسائل فی المقاصۃ،ج۷،ص۵۷۲.
8 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب البیوع،الباب التاسع فیمایجوزبیعہ...إلخ،الفصل الأول،ج۳،ص۱۰۳.
مسئلہ ۳۶: پیسوں کا چلن اُٹھ گیاتو ان سے بیع درست نہیں جب تک معین نہ ہوں کہ اب یہ ثمن نہیں ہیں مبیع ہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۳۷: ایک روپے کے پیسے خریدے اور ابھی قبضہ نہیں کیا تھا کہ ان کا چلن جاتا رہا بیع باطل ہوگئی اور اگر آدھے روپے کے پیسوں پر قبضہ کیا تھا اور آدھے پر نہیں کہ چلن بند ہوگیا تو اس نصف کی بیع باطل ہوگئی۔(2) (فتح القدیر)
مسئلہ ۳۸: پیسے قرض لیے تھے اور ابھی ادانھیں کیے تھے کہ ان کا چلن جاتا رہا اب قرض میں ان پیسوں کے دینے کا حکم دیا جائے تو دائن کا سخت نقصان ہوگا جتنا دیا تھا اُس کا چہارم بھی نہیں وصول ہوسکتا لہٰذا چلن اُٹھنے کے دن ان پیسوں کی جو قیمت تھی وہ اداکی جائے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳۹: روپیہ دوروپے اٹھنی چونی کے پیسوں کی چیز خریدی اور یہ نہیں ظاہر کیا کہ یہ پیسے کتنے ہونگے بیع صحیح ہے کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ روپیہ کے اتنے پیسے ہیں۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۴۰: صراف(5) کو روپیہ دے کر کہا کہ آدھے روپیہ کے پیسے دو اور آدھے کا اٹھنی سے کم چاندی کا سکہ دو یہ بیع ناجائز ہے آدھے کے پیسے خریدے اس میں کچھ حرج نہ تھا، مگر آدھے کا سکہ جو خریدااس میں کمی بیشی ہے اس کی وجہ سے پوری ہی بیع فاسد ہوگی اور اگر یوں کہتا کہ اس روپیہ کے اتنے پیسے اور اٹھنی سے کم والا سکہ دو تو کوئی حرج نہ تھا کیونکہ یہاں تفصیل نہیں ہے پیسوں اور سکہ سب کے مقابل میں روپیہ ہے۔ (6)(درمختار، ہدایہ)
مسئلہ ۴۱: ہم نے کئی جگہ ضمناً یہ بات ذکر کردی ہے کہ نوٹ بھی ثمن اصطلاحی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آج تمام لوگ اس سے چیزیں خریدتے بیچتے ہیں دیون(7) ودیگر مطالبات میں بے تکلّف(8)دیتے لیتے ہیں یہاں تک کہ دس روپے کی چیز
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۶۷.
2 ۔''فتح القدیر''،کتاب الصرف،ج۶،ص۲۷۸.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۷۲.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصرف،ج۷،ص۸۵.
5 ۔سونے کا کاروبار کرنے والا۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الصرف ،ج۷،ص۸۵۔۸۶.
و''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الصرف،ج۷،ص۵۷۳.
7 ۔قرضے۔ 8 ۔بلاجھجک۔
خریدتے ہیں اور نوٹ دے دیتے ہیں دس روپے قرض لیتے ہیں اور دس روپیہ کا نوٹ دے دیتے ہیں نہ لینے والا سمجھتا ہے کہ حق سے کم یا زیادہ ملا ہے نہ دینے والا جس طرح اٹھنی، چونّی، دوانی کی کوئی چیز خریدی اور پیسے دے دیے یا یہ چیزیں قرض لی تھیں اور پیسوں سے قرض ادا کیا اس میں کوئی تفاوت (1) نہیں سمجھتا بعینہٖ اسی طرح نوٹ میں بھی فرق نہیں سمجھا جاتا حالانکہ یہ ایک کا غذ کا ٹکڑا ہے جس کی قیمت ہزار پانسو تو کیا پیسہ دو پیسہ بھی نہیں ہوسکتی، صرف اصطلاح نے اُسے اس رتبہ تک پہنچا یا کہ ہزاروں میں بکتا ہے اور آج اصطلاح ختم ہوجائے تو کوڑی (2)کو بھی کون پوچھے۔ اس بیان کے بعد یہ سمجھناچاہیے کہ کھوٹے روپے اور پیسوں کا جو حکم ہے، وہی ان کا ہے کہ ان سے چیز خریدسکتے ہیں اور معین کرنے سے بھی معین نہیں ہوں گے خود نوٹ کو نوٹ کے بدلے میں بیچنا بھی جائز ہے اور اگر دونوں معین کرلیں تو ایک نوٹ کے بدلے میں دو نوٹ بھی خریدسکتے ہیں، جس طرح ایک پیسہ سے معین دو پیسوں کو خرید سکتے ہیں روپوں سے اس کو خریدا یا بیچا جائے تو جدا ہونے سے پہلے ایک پر قبضہ ہونا ضروری ہے جو رقم اس پرلکھی ہوتی ہے اُس سے کم و بیش پر بھی نوٹ کا بیچنا جائز ہے دس کا نوٹ پانچ میں بارہ میں بیع کرنا درست ہے جس طرح ایک روپیہ کے ۶۴ کی جگہ سو پیسے یا ۵۰ پیسے بیچے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں بعض لوگ جو کمی بیشی ناجائز جانتے ہیں اسے چاندی تصور کرتے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ یہ چاندی نہیں ہے بلکہ کاغذ ہے اور اگر چاندی ہوتی تو اس کی بیع میں وزن کااعتبار ضرور کرنا ہوتا دس روپے سے دس کا نوٹ لینا اُس وقت درست ہوتا کہ ایک پلہ میں دس روپے رکھیں دوسرے میں نوٹ اور دونوں کا وزن برابر کریں یہ البتہ کہا جاسکتا ہے کہ بعض باتوں میں چاندی کے حکم میں ہے مثلاً دس روپے قرض لیے تھے یا کسی چیز کا ثمن تھا اور روپے کی جگہ نوٹ دے دیے یہ درست ہے جس طرح پندرہ روپیہ کی جگہ ایک گنی (3)دینادرست ہے مگر اس سے یہ نہیں ہوسکتا کہ گنی کو چاندی کہا جائے کہ پندرہ کی گنی کو پندرہ سے کم وبیش میں بیچنا ہی ناجائز ہو۔
مسئلہ ۴۲: ہندوستان کے اکثر شہروں میں پہلے کوڑیوں کا رواج تھااور اب بھی بعض جگہ چل رہی ہیں یہ بھی ثمن اصطلاحی ہیں اور ان کا وہی حکم ہے جو پیسوں کا ہے۔
مسئلہ ۴۳: بیع تَلْجِئَہ یہ ہے کہ دو شخص اور لوگوں کے سامنے بظاہر کسی چیز کو بیچنا خریدنا چاہتے ہیں مگر اُن کا ارادہ اس
1 ۔فرق۔ 2 ۔دمڑی (پیسے کاچوتھاحصہ)۔
3 ۔سونے کا ایک انگریزی سکہ۔
چیز کے بیچنے خریدنے کا نہیں ہے اس کی ضرورت یوں پیش آتی ہے کہ جانتا ہے فلاں شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ چیز میری ہے تو زبردستی چھین لے گا میں اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس میں یہ ضروری ہے کہ مشتری سے کہہ دے کہ میں بظاہر تم سے بیع کروں گااور حقیقۃً بیع نہیں ہوگی اور اس امر پر لوگوں کو گواہ بھی کرے محض دل میں یہ خیال کرکے بیع کی اور زبان سے اس کو ظاہر نہیں کیاہے یہ تَلْجِئَہ نہیں۔تَلْجِئَہ کا حکم ہزل (1)کا ہے کہ صورت بیع کی ہے اور حقیقت میں بیع نہیں (2)(درمختار، ردالمحتار) آج کل جس کو فرضی بیع کہا کرتے ہیں وہ اسی تَلْجِئَہ میں داخل ہوسکتی ہے جبکہ اس کے شرائط پائے جائیں۔
مسئلہ ۴۴: تَلْجِئَہ کی تین صورتیں ہیں: نفس عقد میں تَلْجِئَہ ہو یا مقدار ثمن میں یا جنس ثمن میں۔ نفس عقد میں تَلْجِئَہ کی وہی صورت ہے جو مذکور ہوئی کہ بائع نے مشتری سے کچھ خاص لوگوں کے سامنے یہ کہہ دیا کہ میں لوگوں کے سامنے ظاہر کرو ں گا کہ اپنا مکان تمھارے ہاتھ بیچا اور تم قبول کرنا اور یہ بیع و شرا (3) محض دکھاوے میں ہوگا حقیقت میں نہیں ہوگا، چنانچہ اسی طور پر بیع ہوئی۔ ثمن کی مقدار میں تَلْجِئَہ کی صورت یہ ہے کہ آپس میں ثمن ایک ہزارطے ہوا ہے مگر یہ طے ہوا کہ ظاہر دوہزار کیا جائے گااس صورت میں ثمن وہ ہوگا جو خفیہ طے ہوا ہے جیسا کہ آج کل اکثر شفعہ سے بچانے کے لیے دستاویز میں بڑھا کر ثمن لکھتے ہیں تاکہ اولاً تو ثمن کی کثرت دیکھ کر شفعہ ہی نہ کریگا اور کرے بھی تو وہ رقم دے گا جو ہم نے دستاویز میں لکھائی ہے (یہ حرام اور فریب اور حق تلفی ہے) تیسری صورت کہ خفیہ روپے ثمن قرار پائے اور ظاہر میں اشرفیوں کو ثمن قرار دیا(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: بیع تَلْجِئَہ کا یہ حکم ہے کہ یہ بیع موقوف ہے جائز کردے تو جائز ہوگی، رَد کردے تو باطل ہوگی۔ (5) (عالمگیری) یعنی جبکہ نفس عقد میں تَلْجِئَہ ہو۔
مسئلہ ۴۶: دو شخصوں نے آپس میں اس پر اتفاق کیا کہ لوگوں کے سامنے ہم فلاں چیز کی بیع کا اقرار کردیں ایک کہے فلاں تاریخ کو میں نے یہ چیز اُس کے ہاتھ اتنے میں بیچی ہے دوسرا اقرار کرے میں نے خریدی ہے حالانکہ حقیقت میں ان دونوں کے مابین بیع نہیں ہوئی ہے تو ایسے غلط اقرار سے بیعِ موقوف بھی ثابت نہیں ہوگی اگر دونوں اس کو جائز کرنا بھی چاہیں تو جائز نہیں ہوگی۔(6) (عالمگیری)
1 ۔ہنسی مذاق۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب البیوع،باب الصرف،مطلب: فی بیع التلجئۃ،ج۷،ص۵۷۷.
3 ۔خرید وفروخت۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب العشرون فی البیاعات المکروہۃ...إلخ،ج۳،ص۲۰۹.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۴۷: دونوں میں سے ایک کہتا ہے تَلْجِئَہ تھا، دوسرا کہتا ہے نہیں تھا تو جو تَلْجِئَہ کا مدعی ہے اُس کے ذمّہ گواہ ہیں، گواہ نہ لائے تو منکر کا قول قَسم کے ساتھ معتبر ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۸: دونوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ محض دکھانے کے لیے عقد کیا جائے گا اگر وقتِ عقد اُسی طے شدہ بات پر عقد کی بِنا کریں تو عقد دُرست نہیں کہ بیع میں تبادلہ پر رِضامندی درکار ہے اور یہاں وہ مفقودہے یعنی اگر عقد کو جائز نہ کریں بلکہ رد کردیں تو باطل ہو جائے گا اور اگر وقتِ عقداُس طے شدہ پر بِنا نہ ہو یعنی دونوں عقد کے بعد بالاتفاق کہتے ہوں کہ ہم نے اُس طے شدہ کے موافق(2) عقد نہیں کیا تھا تو یہ بیع صحیح ہے اور اگر اس بات پر دونوں متفق ہیں کہ وقتِ عقد ہمارے دِلوں میں کچھ نہ تھا نہ یہ کہ طے شدہ بات پر عقد ہے نہ یہ کہ اُس پر نہیں ہے یا دونوں آپس میں اختلاف کرتے ہیں ایک کہتا ہے کہ طے شدہ بات پر عقد کیا تھا دوسرا کہتا ہے اُس کے موافق میں نے عقد نہیں کیا تھا تو اِن دونوں صورتوں میں بیع صحیح ہے یوں ہی اگر ثمن کی مقدار باہم ایک ہزار طے پائی تھی اور علانیہ دو ہزار ثمن قرار پایا اس میں بھی وہی صورتیں ہیں اگر دونوں کا اس پر اتّفاق ہے کہ ثمن وہی طے شدہ ہے تو ثمن دو ہزار ہے اور اگر دونوں متفق ہیں کہ طے شدہ ثمن پر عقد نہیں ہوا ہے بلکہ دوہزار پر ہی ہوا ہے یا کہتے ہیں ہمارے خیال میں اُس وقت کچھ نہ تھا کہ طے شدہ ثمن رہے گا یا نہیں یا دونوں میں باہم اختلاف ہے ان سب صورتوں میں بھی ثمن دوہزار ہے اور اگر جنس ثمن ایک چیز طے پائی اور عقد دوسری جنس پر ہوا تو ثمن وہ ہے جو وقت عقد ذکر ہوئی۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۹: بیع الوفا اس کو بیع الامانۃ اور بیع الاطاعۃ اور بیع المعاملہ بھی کہتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ اس طور پر بیع کی جائے کہ بائع جب ثمن مشتری کو واپس دے گا تو مشتری مبیع کو واپس کردے گا یا یوں کہ مدیون نے دائن کے ہاتھ دَین کے عوض(4) میں کوئی چیز بیع کردی اوریہ طے ہوگیا کہ جب میں دَین ادا کردوں گا تو اپنی چیز لے لو ں گا یا یوں کہ میں نے یہ چیز تمھارے ہاتھ اتنے میں بیع کردی اس طور پر کہ جب ثمن لاؤں گا تو تم میرے ہاتھ بیع کردینا۔آج کل جو بیع الوفا لوگوں میں جاری ہے، اس میں مدت بھی ہوتی ہے کہ اگر اس مدت کے اندر یہ رقم میں نے ادا کر دی تو چیز میری، ورنہ تمھاری۔
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب البیوع،الباب العشرون فی البیاعات المکروھۃ...إلخ،ج۳،ص۲۱۰.
2 ۔مطابق۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب البیوع،باب الصرف،مطلب:فی بیع التلجئۃ،ج۷،ص۵۷۷.
4 ۔بدلے۔
مسئلہ ۵۰: بیع الوفا حقیقت میں رہن ہے لوگوں نے رہن کے منافع کھانے کی یہ ترکیب نکالی ہے کہ بیع کی صورت میں رہن رکھتے ہیں تاکہ مرتہن اُس کے منافع سے مستفید ہو۔لہٰذا رہن کے تمام احکام اس میں جاری ہوں گے اور جو کچھ منافع حاصل ہوں گے سب واپس کرنے ہوں گے اور جو کچھ منافع اپنے صرف میں لاچکا ہے یا ہلاک کرچکا ہے، سب کا تاوان دینا ہوگا اور اگر مبیع ہلاک ہوگئی تو دَین (1)کا روپیہ بھی ساقط ہو جائے گا، بشرطیکہ وہ دَین کی رقم کے برابر ہو اور اگر اس کے پروس میں کوئی مکان یا زمین فروخت ہو تو شفعہ بائع کا ہوگا کہ وہی مالک ہے مشتری کا نہیں کہ وہ مرتہن ہے۔ (2)(ردالمحتار) بیع الوفا کا معاملہ نہایت پیچیدہ ہے، فقہائے کرام کے اقوال اس کے متعلق بہت مختلف واقع ہوئے۔ علامہ صاحبِ بحر نے اس کے بارے میں آٹھ قول ذکر کیے، فتاوٰے بزازیہ میں نو قول مذکور ہیں، بعض نے دس قول ذکر کیے ہیں، فقیر نے صرف اُس قول کو ذکر کیا کہ یہ حقیقت میں رہن ہے کہ عاقدین کا مقصود اسی کی تائید کرتا ہے اور اگر اس کو بیع بھی قرار دیاجائے جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے اور خود عاقدین(3) بھی عموماً لفظ بیع ہی سے عقد کرتے ہیں تو یہ شرط کہ ثمن واپس کرنے پر مبیع کو واپس کرنا ہوگا یہ شرط بائع کے لیے مفید ہے اور مقتضائے عقد (4)کے خلاف ہے اور ایسی شرط بیع کو فاسد کرتی ہے جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے اس صورت میں بھی بائع ومشتری دونوں گنہگاربھی ہوں گے اور مبیع کے منافع مشتری کے لیے حلال نہ ہوں گے بلکہ جو منافع موجود ہوں اُنھیں واپس کرے اور جو خرچ کر ڈالے ہیں اُن کا تاوان دے البتہ جو بغیر اس کے فعل کے ہلاک ہوگئے ہوں وہ ساقط لہٰذا ایسی بیع سے اجتناب ہی کا حکم دیا جائے گا۔واﷲ تعالیٰ اعلم۔
ھٰذا اٰخر ما تیسر لی من کتاب البیوع مع تَشَتُّتِ البَالِ وَضُعْفِ الْحَالِ وَقِلَّۃِ الْفُرْصَۃِ وَکَثْرَۃِ الاشغال والْحَمد للہ العزیز المتعال ذی البر والنوال والصلاۃ والسلام علٰی حبیبہ محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) صاحب الفضل والکمال واصحابہ خیر اصحاب واٰلہ خیر اٰل والحمد للہ رب العلمین قد وقع الفراغ من تسوید ھذا الجزء لثلٰث بقین من شھر رمضان اعنی لیلۃ السابع والعشرین لیلۃ الجمعۃ المبارکۃ اللیلۃ التی ترجی ان تکون لیلۃ القدر التی ھی خیرمن الف شھر ۱۳۵۳ھ وارجو من المولی تعالٰی ان یمتعنی ببرکۃ ھذا الشھر وبرکۃ ھذہ اللیلۃ وان یتقبل بفضل رحمتہ ھذا التالیف وان ینفعنی بہ وسائر المسلمین وبوفقی باتمام ھذا الکتاب والیہ المرجع و المآب.
1 ۔قرض۔
2 ۔''ردالمحتار''، کتاب البیوع،باب الصرف،مطلب:فی بیع الوفائ،ج۷،ص۵۸۰.
3 ۔یعنی بائع ومشتری۔ 4 ۔عقد کا تقاضا۔