Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
یہ کتاب المیراث کا وہ حصّہ ہے جس کے لیے فقیہ العصر علامۃ الدہر حضرت صدر الشریعہ مفتی ابوالعلامحمد امجد علی صاحب رضوی اعظمی حنفی قادری قدس سرہ العزیز نے بہارِ شریعت کے سترھویں حصہ میں وصیت فرمائی ہے کہ '' بہارِ شریعت کا آخری حصہ تھوڑا سا باقی رہ گیا ہے۔ جو زیادہ سے زیادہ تین حصوں پر مشتمل ہوگا۔اگر توفیقِ الہٰی سعادت کرتی اور یہ بقیہ مضامین بھی تحریر میں آجاتے تو فقہ کے جمیع ابواب پر مشتمل یہ کتاب ہوتی اور کتاب مکمل ہوجاتی اور اگر میری اولاد یا تلامذہ یا علماء اہل سنّت میں سے کوئی صاحب اس کا قلیل حصہ جو باقی رہ گیا ہے اس کی تکمیل فرمادیں تو میری عین خوشی ہوگی۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہ حضرت مُصنف علیہ الرحمۃ کی وصیت کے مطابق میں نے یہ سعادت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں یہ اہتمام بالالتزام کیا ہے کہ مسائل کے مآخذ کتب کے صفحات کے نمبر اور جلد نمبر بھی لِکھ دیئے ہیں، تاکہ اہلِ علم کو مآخذ تلاش کرنے میں آسانی ہو۔ اکثر کتب فقہ کے حوالہ جات نقل کردیئے گئے ہیں۔ جن پر آج کل فتویٰ کا مدار ہے ۔ حضرت مصنف علیہ الرحمۃ کے طرزِ تحریر کو حتی الامکان برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فقہی موشگافیوں اور فقہاء کے قیل وقال کو چھوڑ کر صرف مُفْتٰی بِہٖ اقوال کو ساد ہ اور عام فہم زبان میں لکھا ہے۔ تاکہ کم تعلیم یافتہ سُنّی بھائیوں کو بھی اس کے پڑھنے اور سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئے۔ تصحیح کتابت میں حتی المقدور دیدہ ریزی سے کام لیا گیا ہے۔ پھر بھی اگر کہیں اغلاط رہ گئی ہوں تو اس کے لیے قارئین کرام سے معذرت خواہ ہوں۔ آخر میں محبت مکرم حضرت علامہ عبدالمصطفےٰ الازہری مدظلہ العالی شیخ الحدیث دارالعلوم امجدیہ و ممبر قومی اسمبلی و عزیز مکرم مولانا حافظ قاری رضاء المصطفیٰ اعظمی سَلَّمَہ، خطیب نیومیمن مسجد بولٹن مارکیٹ کراچی کا شکر گزار ہوں کہ اِن حضرات نے اپنے والد ماجد حضرت مصنّف علیہ الرحمۃ کی وصیت کی تکمیل کے لیے میرا انتخاب فرمایا۔ میں اپنی اس حقیر خدمت کو حضرت صدر الشریعہ بدرالطریقہ استاذ ناالعلام ابوالعلیٰ محمد امجد علی صاحب رضوی قدس سِرّہ العزیز مصنف ''بہار ِ شریعت ''کی بارگا ہ میں نذرانہ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ اور اس کا ثواب و اجر اُن کی روح پُر فتوح کو ایصال کرتا ہوں اور بارگاہِ ایزد متعال میں دست بہ دعا ہوں کہ اس کتاب کو مقبول فرمائے۔ آمین !
محمد وقار الدین
قادری رضوی بریلوی غفرلہ
مفتی ونائب شیخ الحدیث دارالعلوم امجدیہ
عالمگیر روڈ ، کراچی ۵
جنوری ۱۹۸۵
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ؕ
(یُوۡصِیۡکُمُ اللہُ فِیۡۤ اَوْلَادِکُمْ ٭ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ فَاِنۡ کُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیۡنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ۚ وَ اِنۡ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصْفُ ؕ وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ لَّمْ یَکُنۡ لَّہٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَہٗۤ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہٗۤ اِخْوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡ بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ؕ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبۡنَآؤُکُمْ ۚ لَا تَدْرُوۡنَ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۱﴾وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنۡ لَّمْ یَکُنۡ لَّہُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡنَ بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ؕ وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنۡ لَّمْ یَکُنۡ لَّکُمْ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ رَجُلٌ یُّوۡرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَ ۃٌ وَّلَہٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ ۚ فَاِنۡ کَانُوۡۤا اَکْثَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَہُمْ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصٰی بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ۙ غَیۡرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِیَّۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿ؕ۱۲﴾
(1)
یَسْتَفْتُوۡنَکَ ؕ قُلِ اللہُ یُفْتِیۡکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِ ؕ اِنِ امْرُؤٌا ہَلَکَ لَیۡسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَہٗۤ اُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ ۚ وَہُوَ یَرِثُہَاۤ اِنۡ لَّمْ یَکُنۡ لَّہَا وَلَدٌ ؕ فَاِنۡ کَانَتَا اثْنَتَیۡنِ فَلَہُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَکَ ؕ وَ اِنۡ کَانُوۡۤا اِخْوَۃً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ یُبَیِّنُ اللہُ لَکُمْ اَنۡ تَضِلُّوۡا ؕ وَاللہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۷۶﴾٪
)
(2)
ترجمہ:اللہ (عزوجل)تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔ اور پھر اگر نری لڑکیاں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا اور میت کے ماں باپ میں ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی ہوں تو ماں کا چھٹا بعد اس وصیت کے جو کر گیا اور دَین کے، تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا۔ یہ حصہ باندھا ہوا ہے۔ اللہ (عزوجل)کی طرف سے بے شک اللہ(عزوجل)علم والا حکمت والا ہے۔
ترجمہ:اور تمہاری بیویاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان
1 ۔پ۴،النساء:۱۱،۱۲. 2 ۔پ۶،النساء:۱۷۶.
کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیّت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر، اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دَین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹتا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا۔ پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں۔ میت کی وصیت اور دَین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا، یہ اللہ (عزوجل)کا ارشاد ہے۔ اور اللہ (عزوجل)علم والا، حلم والا ہے۔
ترجمہ: اے محبوب!تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ (عزوجل)تمہیں کلالہ میں فتویٰ دیتا ہے اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہے تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہو گا۔ اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہو مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر۔ اللہ(عزوجل)تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ اور اللہ (عزوجل) ہر چیز جانتا ہے۔
حدیث ۱: بخاری و مسلم ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''فرض حصوں کو فرض حصے والوں کو دے دو اور جو بچ جائے وہ میت کے قریب ترین مرد کو دے دو۔''(1)
حدیث ۲: بخاری و مسلم حضرت اسامہ ابن زید رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مسلمان کافر کا وارث نہ ہو گا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوگا۔''(2)
حدیث ۳: ترمذی و ابن ما جہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''قاتل وارث نہیں ہوتا ہے۔''(3)
حدیث ۴: ابوداؤد حضرت بریدہ(4)رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلَّم نے دادی کے لئے چھٹا حصہ مقرر فرمایا جب ماں نہ ہو۔ (5)
1 ۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الفرائض،باب میراث الولد...إلخ،الحدیث:۶۷۳۲،ج۴،ص۳۱۶.
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الفرائض،باب لایرث المسلم الکافر...إلخ،الحدیث:۶۷۶۴،ج۴،ص۳۲۵.
3 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الفرائض،باب ما جاء في إبطال میراث القاتل،الحدیث:۲۱۱۶،ج۴،ص۳۶.
4 ۔بہارشریعت کے نسخوں میں اس مقام پر'' ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ'' لکھاھواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ھوتی ہے کیونکہ ''سنن ابوداود''میں''حضرت بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ'' مذکورہے،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
5 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الفرائض، باب في الجدۃ،الحدیث:۲۸۹۵،ج۳، ص۱۶۸.
حدیث ۵: ترمذی و ابن ما جہحضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلَّم نے فیصلہ فرمایا کہ وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا اور حقیقی بہن بھائی وارث ہوں گے نہ علاتی(1)بہن بھائی۔(2)
حدیث ۶: احمد ،ترمذی، ابوداؤد وابن ما جہ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد ابن ربیع کی بیوی سعد سے اپنی دو بیٹیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلَّم کی خدمت میں لائی اور عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں۔ ان کا باپ آپ کے ساتھ اُحد میں شہید ہو گیا اور ان کے چچا نے کُل مال لے لیا ہے ان کے لئے کچھ نہیں چھوڑا اور جب تک ان کے پاس مال نہ ہو ان کی شادی نہیں کی جا سکتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''اس بارے میں اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما دے گا۔''تو آیت میراث نازل ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلَّم نے ان لڑکیوں کے چچا کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سعد کی دونوں بیٹیوں کو دو ثلث (دو تہائی) دے دو اور لڑکیوں کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو اور جو باقی بچے وہ تمہارا ہے۔ (3)
حدیث ۷: بخاری ہزیل ابن شرحبیل سے راوی کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سوال کیا گیا کہ میت کی ایک بیٹی اور ایک پوتی اور ایک بہن کو ترکہ کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلَّم نے فیصلہ کیا تھا۔ بیٹی کانصف ہے، پوتی کا چھٹا حصہ (تکملۃ للثلثین)اور جو باقی بچا وہ بہن کا ہے۔(4)
حدیث ۸: امام مالک و احمد و ترمذی، ابوداؤد و دارمی وابن ما جہ حضرت قبِیصہ بن ذؤیب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایاکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر تھا کہ حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)نے دادی کو چھٹا حصہ دیا تھا۔ (5)
حدیث ۹: ابن ما جہ و دارمی حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''جب بچہ زندہ پیدا ہو تو اس پرنماز بھی پڑھی جائے گی اوراس کو وارث بھی بنایا جائے گا۔'' (6)
حدیث ۱۰: امام مالک و احمد و ترمذی و ابوداؤد و دارمی و ابن ما جہ حضرت قَبِیْصَہ بن ذُوَیْب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں کہ ایک دادی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اپنی میراث کے بارے میں سوال کیا تھا تو آپ نے صحابہ کرام سے
1 ۔ یعنی باپ شریک۔
2 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الفرائض، باب ما جاء في میراث الإخوۃ...إلخ، الحدیث:۲۱۰۱، ج۴، ص۲۹.
3 ۔ ''جامع الترمذي''،کتاب الفرائض، باب ما جاء في میراث البنات، الحدیث:۲۰۹۹، ج۴، ص۲۸.
4 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الفرائض، باب میراث ابنۃ...إلخ، الحدیث:۶۷۳۶، ج۴، ص۳۱۷.
5 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الفرائض، باب في الجدۃ، الحدیث:۲۸۹۴،ج۳، ص۱۶۸.
6 ۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الجنائز، باب ماجاء في الصلاۃ علی الطفل،الحدیث:۱۵۰۸،ج۲،ص۲۲۲.
معلومات کی تو حضرت مُغِیرَہ ابن شُعْبَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلَّم نے میری موجودگی میں دادی کو چھٹا حصہ دیا تھا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہی فیصلہ کیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس بھی ایک د وسری دادی نے اپنی میراث کا سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا وہی چھٹا حصہ دادیوں کا ہے اگر دو ہوں گی تو دونوں اس میں شریک ہو جائیں گی اور ایک ہوگی تو اسے مل جائے گا۔ (1)
حدیث ۱۱: دارمی حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں کہ انہوں نے فرمایا:''فرائض کو سیکھو اس لئے کہ وہ تمہارے دین میں سے ہے۔''(2)
حدیث ۱۲: دارمی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا:''جب کسی عورت کے مرنے کے وقت اس کا شوہر اور ماں باپ ہوں تو شوہر کو نصف ملے گا اور ماں کو باقی کا تہائی۔''(3)
حدیث ۱۳: دارمی نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ ''شوہر کے مرنے کے وقت جب اس کی بیوی اور ماں باپ ہوں توبیوی کوچوتھائی اور ماں کو باقی کاتہائی ملے گا۔''(4)
حدیث ۱۴: دارمی اسود ا بن یزید سے راوی ہیں کہ حضرت معاذابن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک بیٹی اور ایک بہن وارث ہونے کی صورت میں یہ فیصلہ کیا کہ بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف ملے گا۔ (5)
حدیث ۱۵: دارمی میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، خنثٰی(6)کے بارے میں کہ جب اس میں مرد اور عورت دونوں کے اعضاء ہوں تو جس عضو سے پیشاب کریگا اس کے اعتبار سے ترکہ دیا جائے گا۔ (7)
حدیث ۱۶: دارمی میں روایت ہے کہ حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جب چند لوگ دیوار گرنے یا ڈوب جانے کی وجہ سے ایک ساتھ مر جائیں تو وہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے زندہ لوگ ان کے وارث ہوں گے۔ (8)
1 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الفرائض، باب في الجدۃ، الحدیث:۲۸۹۴، ج۳، ص۱۶۸.
2 ۔''سنن الدارمي''،کتاب الفرائض، باب في تعلیم الفرائض، الحدیث:۲۸۵۱، ج۲، ص۴۴۱.
3 ۔''سنن الدارمي''،کتاب الفرائض، باب في زوج وابوین... إلخ، الحدیث:۲۸۶۵، ج۲، ص۴۴۳.
4 ۔المرجع السابق،الحدیث:۲۸۶۷.
5 ۔''سنن الدارمي''،کتاب الفرائض، باب في بنت واخت، الحدیث:۲۸۷۹، ج۲، ص۴۴۵.
6 ۔ہیجڑا،مخنث۔
7 ۔''سنن الدارمي''،کتاب الفرائض، باب في میراث الخنـثی، الحدیث:۲۹۷۰، ج۲، ص۴۶۱.
8 ۔المرجع السابق،باب میراث الغرقی،الحدیث:۳۰۴۴،ج۲،ص۴۷۳.
حدیث ۱۷: دارمی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''ماموں اس میت کا وارث ہے جس کا اور کوئی وارث نہ ہو۔''(1)
مسئلہ ۱: جب کوئی مسلمان اس دار فانی سے(2)کوچ کر جائے(3)تو شرعاً(4)اس کے ترکہ سے کچھ احکام متعلق ہوتے ہیں۔ یہ احکام چار ہیں:
(1) اس کے چھوڑے ہوئے مال سے اس کی تجہیز و تکفین(5)مناسب انداز میں کی جائے ۔ (محیط بحوالہ عالمگیری ص ۴۴۷)(6) اس کا تفصیلی بیان اس کتاب کے حصہ چہارم میں موجود ہے۔
(2) پھر جو مال بچا ہو اس سے میّت کے قرضے چکائے جائیں ۔ قرض کی ادائیگی وصیت پر مقدم ہے(7)کیونکہ قرض فرض ہے جب کہ وصیت کرنا ایک نفلی کام ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلَّم کو دیکھا آپ نے قرض وصیت سے پہلے ادا کرایا۔(8) (ابن ماجہ، دارقطنی و بیہقی)
مسئلہ ۲: قرض سے مراد وہ قرض ہے جو بندوں کا ہو، اس کی ادائیگی وصیت پر مقد م ہے۔
مسئلہ ۳: اگر میت نے کچھ نمازوں کے فدیہ کی وصیت کی یا روزوں کے فدیہ کی یا کفارہ کی یا حج بدل کی تو تمام چیزیں ادائیگی قرض کے بعد ایک تہائی مال سے ادا کی جائیں گی اور اگر بالغ ورثاء اجازت دیں تو تہائی سے زیادہ مال سے بھی ادا کی جاسکتی ہیں۔(9)
ادائیگی قرض کے بعد وصیت کا نمبر آتا ہے۔ قرض کے بعد جو مال بچا ہو اس کے تہائی سے وصیتیں پوری کی جائیں گی۔ ہاں اگر سب ورثہ بالغ ہوں اور سب کے سب تہائی مال سے زائد سے وصیت پوری کرنے کی اجازت دے دیں تو
1 ۔''سنن الدارمي''،کتاب الفرائض، باب میراث ذوی الأرحام...إلخ، الحدیث:۳۰۵۲، ج۲، ص۴۷۴.
2 ۔یعنی دنیاسے۔ 3 ۔یعنی مر جائے۔ 4 ۔اسلامی قانون کے مطابق۔ 5 ۔کفن دفن کا بندوبست۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض، الباب الاول فی تعریفھا...إلخ، ج۶، ص ۴۴۷.
7 ۔ یعنی وصیت پر عمل کرنے سے پھل ے قرض ادا کرنا ھو گا۔
8 ۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الوصایا،باب الدَین قبل الوصیۃ،الحدیث:۲۷۱۵،ج۳،ص۳۱۱.
و''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،ص۵.
9 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،ص۵،۶.
و ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض، الباب الاول فی تعریفھا...إلخ، ج۶،ص۴۴۷.
جائز ہے۔ (1) (خانیہ بحوالہ عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۷)
میراث: وصیت کے بعد جو مال بچا ہو اس کی تقسیم درج ذیل ترتیب کے ساتھ عمل میں آئے گی۔
(1) ان وارثو3ں میں تقسیم ہو گا جو قرآن، حدیث یا اجماع امت کی رو سے اصحاب فرائض (مقررہ حصوں والے) ہیں اگر اصحاب فرائض بالکل نہ ہوں یا ان کے بعد بھی کچھ مال بچا ہو تو درج ذیل وارثوں میں علی الترتیب تقسیم ہو گا۔ (2) عصبات نسبیہ۔ (3)عصبات سببیہ۔ (یعنی آزاد کردہ غلام کا آقا) (4) عصبہ سببی کا نسبی عصبہ پھر سببی عصبہ۔ (5) ذوی الفروض النسبیہ کو ان کے حقوق کی مقدار میں دوبارہ دیا جائے گا۔ (6)ذوی الارحام۔ (7) مولیٰ الموالاۃ۔ (8) پھر وہ شخص جس کے نسب کا مرنے والے نے کسی دوسرے پر اس طرح اقرار کیا ہو کہ اس کا نسب اس کے اقرار کی وجہ سے ثابت نہ ہوسکا یعنی جس پر نسب کا اقرار کیا ہو اس نے تصدیق نہ کی ہو بشرطیکہ اقرار کنندہ (2)اپنے اقرار پر مرا ہو مثلاً مرنے والے نے ایک شخص کے بارے میں یہ اقرار کیا کہ یہ میرا بھائی ہے اب اس اقرار کا مفہوم یہ ہوا کہ اس شخص کا نسب میرے باپ سے ثابت ہے اور باپ اس کو اپنا بیٹا تسلیم نہیں کرتا ہے۔(9)پھر جو بچا ہو وہ اس شخص کو دیا جائے جس کے لئے میّت نے کُل مال کی وصیت کی تھی۔ (10) اور پھر بھی بچے تو بیت المال میں جمع ہو گا۔ (3) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۷)اس زمانے میں بیت المال کا نظام نہیں ہے، اس لئے صدقہ کر دیا جائے۔
واضح رہے کہ یہ دس قسم کے وارث ہیں ان کی تفصیلات آئیں گی۔
بعض اسباب ایسے ہیں جو وارث کو میراث سے شرعاً محروم کر دیتے ہیں اور وہ چار ہیں:
(1) غلام ہونا۔ یعنی اگر وارث غلام ہے خواہ کلیۃً غلام ہو یامدبر ہو یا ام ولد ہو یا مکاتب ہو تو وہ وارث نہ ہو گا۔ (4)(شریفیہ ص ۱۰و عالمگیری ج۶ ص ۴۵۲وتبیین الحقائق ص ۲۳۱)
(1) مورث کا(5)قاتل ہونا۔ اس سے مراد ایسا قتل ہے جس کی وجہ سے قاتل پر قصاص یا کفارہ واجب ہوتا ہو۔(6) ان امور کی تفصیلات اس کتاب کے اٹھارہویں حصے میں مذکور ہیں۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الاول فی تعریفھا...إلخ،ج۶،ص۴۴۷.
2 ۔اقرار کرنے والا۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الاول فی تعریفھا...إلخ،ج۶،ص۴۴۷.
4 ۔المرجع السابق،الباب الخامس فی الموانع،ج۶،ص۴۵۴.
5 ۔یعنی میت کا۔
6 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، فصل موانع الإرث،ص۱۱.
(3) دین کا اختلاف۔ یعنی مسلمان کافر اور کافر مسلمان کا وارث نہ ہو گا۔ عام صحابہ رضی اللہ عنہم اور علی و زیدرضی اللہ عنہماکا یہی فیصلہ ہے(1)نیز یہ حدیث بھی ہے
لَا یَتَوَارَث اَھْلُ مِلَّتَیْنِ شَتّی
یعنی دو مختلف ملتوں کے افراد ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔(2) (سنن دارمی ، ابوداؤد وغیرہ)
مسئلہ ۱: اگر کوئی مسلمان مرتد ہو گیا معاذ اللہ تو مرتد ہونے کی وجہ سے اس کے اموال اس کی ملکیت سے خارج ہو جاتے ہیں پھر اگر وہ دوبارہ اسلام لے آئے اور کفر سے توبہ کر لے تو مالک ہو جائے گا اور اگر کفر ہی پر مر گیا(3) تو زمانہ اسلام کے جو اموال ہیں ان سے زمانہ اسلام کے قرضے ادا کئے جائیں گے اور باقی اموال مسلمان ورثاء لے لیں گے اور ارتداد کے(4)زمانے میں جو کمایا ہے اس سے ارتداد کے زمانے کے قرضے ادا کئے جائیں گے اور اگر کچھ بچ جائے گا تو وہ غرباء پر صدقہ کر دیا جائے گا۔ (5)(ہدایہ ج۲، ص ۶۰۱، عالمگیری ج۶، ص ۴۵۵)
مسئلہ ۲: گمراہ اور بدعتی لوگ جن کی تکفیر نہ کی گئی ہو وہ وارث بھی بنیں گے اور مورث بھی۔
مسئلہ ۳: قادیانی بھی مرتد ہیں، ان کا بھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ ۴: مرتد عورت جب اپنے ارتداد پر مر جائے تو اس کے زمانہ اسلام اور زمانہ ارتداد کے تمام اموال اس کے وارثوں پر تقسیم کر دیئے جائیں گے۔ (6)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۵)
مسئلہ ۵: وہ لوگ جو انبیاء علیہم السلام کی صریح توہین کے مرتکب ہوں یا شیخین رضی اللہ عنہما کو گالیاں دیں، وہ بھی وارث نہ ہوں گے۔
(4) ملکوں کا اختلاف۔ یعنی یہ کہ وارث اور مورث (یعنی مرنے والا شخص کہ جس کی میراث تقسیم ہو گی)دو مختلف ملکوں کے باشندے ہوں تو اب یہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔
مسئلہ ۱: ملکوں کے اختلاف سے شرعاً مراد یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی اپنی الگ افواج ہوں اور وہ ایک دوسرے کا خون حلال سمجھتے ہوں۔(7) (شریفیہ ص ۲۰ و عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۴)
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، فصل موانع الارث، ص۱۴.
2 ۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الفرائض، باب ھل یرث المسلم الکافر؟،الحدیث:۲۹۱۱،ج۳،ص۱۷۴.
3 ۔یعنی مرتد ہی مر گیا۔ 4 ۔مرتد ھونے کے۔
5 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب السیر، باب احکام المرتدین، ج۱، ص۴۰۷.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، ج۲، ص۲۵۴.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض، الباب السادس فی میراث اھل الکفر، ج۶، ص۴۵۵.
7 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، فصل موانع الارث، ص۱۶.
مسئلہ ۲: ملکوں کا اختلاف غیر مسلموں کے حق میں ہے یعنی یہ کہ اگرایک عیسائی مسلمانوں کے ملک میں ہے اور اس کا رشتہ دار دوسرے ملک میں ہے جو دار الحرب ہے تو اب یہ ایک دوسرے کے وارث نہ (1)ہوں گے۔ (2)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۴)
مسئلہ ۳: اگر مسلمان تجارت کی غرض سے یا کسی اور غرض سے دارالحرب میں چلا گیا اور وہیں مر گیا یا مسلمان کو حربیوں نے قیدی بنا کر رکھ لیا اور وہ دارالحرب میں مر گیا تو اس کے رشتہ دار جو دارالاسلام میں ہیں اس کے وارث ہوں گے۔(3)(شریفیہ ص ۲۱ و عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۴)
مسئلہ ۴: پاکستان کے مسلمان اور وہ مسلمان جو ہندوستان ، امریکہ ، یورپ یا کہیں اور رہتے ہوں ، ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ (م)
مسئلہ ۵: اگر وارث اور مورث مسلمانوں کے دو گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں جو آپس میں نبرد آزماہیں(4) اور دونوں کی الگ فوجیں ہیں تب بھی وہ ایک دوسرے کے و ارث ہوں گے۔ (5)(شریفیہ ص ۲۱)
مسئلہ ۶: مستأمن اگر ہمارے ملک میں مر جائے اور اس کا مال ہو توہم پر لازم ہے کہ اس کا مال اس کے وارثوں کوبھیجیں اور اگر ذمی مر جائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا مال بیت المال میں جائے گا۔(6) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۴)
مسئلہ ۷: کفار کے مختلف گروہ مثلاً نصرانی ، یہودی ، مجوسی، بت پرست سب ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ (7) (عالمگیری، ج۶، ص۴۵۴)
یہ حصے جن کا ذکر ہوا شرعی طور پر بارہ قسم کے افراد کے لئے مقرر ہیں ان کو اصحاب فرائض کہتے ہیں ان میں سے چار مرد اور آٹھ عورتیں ہیں۔
مرد یہ ہیں: (1) باپ (2) جد صحیح یعنی دادا،پر دادا۔ (اوپر تک)(3) ماں جایا بھائی۔ (4) شوہر۔
عورتیں یہ ہیں(1)بیوی۔ (2) بیٹی۔ (3) پوتی۔ (نیچے تک)(4) حقیقی بہن۔ (5) باپ شریک بہن۔ (6) ماں شریک بہن۔ (7) ماں۔ (8) اورجدّہ صحیحہ۔
1 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر'' وارث ھوں گے'' لکھاھواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ھوتی ہے کیونکہ اصل کتاب میں عبارت اس طرح ہے'' وارث نہ ھوں گے ''،اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الخامس فی الموانع،ج۶،ص۴۵۴.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔جنگ لڑ رہے ہیں۔
5 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، فصل موانع الارث،ص۱۶.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الخامس فی الموانع،ج ۶، ص۴۵۴.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱: جد صحیح اس دادا کو کہتے ہیں کہ جس کی میت کی طرف نسبت میں مونث کا واسطہ بیچ میں نہ آئے ۔ جیسے باپ کاباپ اور دادا کا باپ ۔(1) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸)
مسئلہ ۲: جد فاسد اس کو کہتے ہیں جس کی میت کی طرف نسبت میں مونث کا واسطہ آئے جیسے ماں کا باپ جس کو ہم نانا کہتے ہیں یا ماں کے باپ کا باپ یا دادی کا باپ۔(2)
مسئلہ ۳: جدہ صحیحہ وہ دادی ہے جس کی نسبت میت کی طرف کی جائے تو درمیان میں جد فاسد کا واسطہ نہ آئے لہٰذا باپ کی ماں اور ماں کی ماں دونوں جدہ صحیحہ ہیں۔
مسئلہ ۴: جدہ ئفاسدہ وہ دادی یا نانی ہے جس کی میت کی طر ف نسبت میں جد فاسد آ جائے۔ جیسے نانا کی ماں اور دادی کے باپ کی ماں۔(3) (شریفیہ ص ۲۳)
مسئلہ ۵: جد صحیح اورجدہ صحیحہ اصحاب فرائض میں سے ہیں جب کہ جد فاسد اور جدہ فاسدہ اصحاب فرائض میں سے نہیں ہیں بلکہ ذَوی الارحام میں سے ہیں(4) ان کا مفصل بیان ذوی الارحام کی بحث میں آئے گا۔ (شریفیہ ص ۲۳)
مسئلہ ۱: باپ کی تین مختلف حالتیں ہیں اور ہر حالت میں اس کا الگ حصہ ہے۔
مسئلہ ۲: جب باپ کے ساتھ میت کا کوئی بیٹا یا پوتا (نیچے تک)ہو تو باپ کو کُل مال میں سے صرف چھٹا حصہ ملے گا یعنی 1/6۔(5) ( عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸)
.gif)
مسئلہ ۳: اگر باپ کے ساتھ میت کی بیٹی یا پوتی (نیچے تک)ہے تو باپ کو چھٹا حصہ بطور صاحب فرض کے ملے گا اور اگرتقسیم کے بعد بچ جائے گاتو وہ باپ کوبطور عصبہ کے ملے گا۔(6) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸، خزانۃ المفتین)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج۶،ص۴۴۸۔۴۵۰.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۴۸.
3 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب معرفۃ الفروض ومستحقیھا،ص۱۸.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج۶،ص۴۴۸.
6 ۔المرجع السابق.
.gif)
مسئلہ ۴: جب باپ کے ساتھ میت کا بیٹا یا بیٹی یا پوتا یا پوتی (نیچے تک)نہ ہو تو باپ کو صرف بطور عصوبت اصحاب فرائض سے بچ جانے کے بعد ہی ملے گا اور اس صورت میں کوئی معین حصہ نہیں بلکہ جو کچھ بچا ہو گا وہ سب باپ کو ملے گا۔(1) (سراجی ص ۷)
مسئلہ ۱: جب باپ نہ ہوتو دادا (جد صحیح)سوائے چند صورتوں کے باپ ہی کی طرح ہے۔(2)(سراجی ص۷، شریفیہ ص۲۴)
.gif)
1 ۔''السراجی''، باب معرفۃ الفروض ومستحقیھا، ص۶.
2 ۔''السراجی''، باب معرفۃ الفروض ومستحقیھا، ص۷.
و''الشریفیۃشرح السراجیۃ''،باب معرفۃ الفروض ومستحقیھا،ص۱۹.
مسئلہ ۲: باپ کی ماں ، باپ کے ہوتے ہوئے میراث سے محروم ہوگی مگر دادا کے ہوتے ہوئے محروم نہ ہوگی۔(1) (شریفیہ ص۲۴)
.gif)
مسئلہ ۳: اگر شوہر یا بیوی کا انتقال ہو جائے اور دونوں میں سے کوئی ایک زندہ ہو اور اس کے ساتھ میت کے ماں باپ بھی ہوں تو اس صورت میں باپ توماں کے حصہ کو گھٹا دے گا کہ شوہر یا بیوی کے حصہ کے بعد جو بچے گا وہ اس کا تہائی(2)پائے گی اور اگر باپ کی جگہ دادا ہو تو وہ ماں کا حصہ نہیں گھٹا سکتا بلکہ ماں ، دادا کے ہوتے ہوئے پورے مال کا تہائی پائے گی۔ اس کو مثال سے یوں سمجھنا چاہیئے۔
.gif)
اس کی توضیح یہ ہے کہ شوہر کو نصف ملا ، اور ماں کو شوہر کا حصہ نکالنے کے بعد جو بچا تھا اس میں سے تہائی ملا حالانکہ ماں کا حصہ کل مال کا تہائی ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم ماں کو کل مال کا تہائی دیتے تو اس کا حصہ باپ کے برابر ہو جاتا جو درست نہیں، اس لئے باپ نے ماں کے حصہ کو گھٹا دیا جب کہ دادا ایک واسطہ ہو جانے کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتا۔ مثال ملاحظہ ہو۔ (مصنف)
.gif)
اس صورت میں ماں کو پورے مال کا تہائی ملے گا ۔ یہی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا قول ہے۔
مسئلہ ۴: حقیقی بھائی بہن ہوں یا علّاتی(3)ہوں یا اخیافی(4)سب کے سب باپ کے ہوتے ہوئے بالاتفاق محروم ہوجاتے ہیں۔ جب کہ دادا کے ہوتے ہوئے بھی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک محروم ہوتے ہیں فتویٰ اسی
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب معرفۃ الفروض ومستحقیھا، ص۱۹.
2 ۔تیسرا حصہ۔ 3 ۔یعنی باپ شریک۔ 4 ۔یعنی ماں شریک۔
پر ہے۔(1) (عالمگیری ج۶، ص۴۴۸، کافی۔ سراجی ص۱۱) مثالیں ملاحظہ ہوں۔
.gif)
مسئلہ ۵: باپ کے ہوتے ہوئے دادا محروم رہے گا کیونکہ رشتہ داری میں اصل باپ ہی ہے۔ (2)
.gif)
مسئلہ ۱: اگر ماں شریک بھائی یا بہن صرف ایک ہے توا سے چھٹا حصہ ملے گا 1/6۔(3) (عالمگیری ج۶ ص ۴۴۸)
.gif)
مسئلہ ۲: اگر ماں شریک بھائی یا بہن دو یا دوسے زائد ہوں تو وہ سب ایک تہائی1/3میں شریک ہو جائیں گے اور ان بھائی بہنوں کو برابر حصہ ملے گا۔(4) (سراجی ص ۷)
.gif)
1 ۔''السراجی''،باب معرفۃ الفروض ومستحقیھا، فصل فی النساء ، ص ۱۱.
2 ۔''السراجی''، باب معرفۃ الفروض ومستحقیھا، ص۷.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض، الباب الثانی فی ذوی الفروض، ج۶، ص۴۴۸.
4 ۔''السراجی''، باب معرفۃ الفروض ومستحقیھا،ص۷.
مسئلہ ۳: ماں شریک بھائی یا بہن میت کے بیٹا بیٹی ، پوتا، پوتی (نیچے تک)باپ یا دادا کے ہوتے ہوئے محروم ہو جائیں گے۔(1)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰)
.gif)
نوٹ: ماں شریک بہنیں بھی عام حالتوں میں ماں شریک بھائیوں کی طرح ہیں۔
مسئلہ ۱: شوہر کو کل مال کا آدھا ـ 1/2اس صورت میں ملے گا جبکہ اس کے ساتھ میت کا کوئی بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی (نیچے تک)نہ ہو۔ (2)(عالمگیری ج ۶ ص۰ ۴۵، درمختار ج ۵ ص۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۲: اگر شوہر کے ساتھ میت کا کوئی بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی (نیچے تک)ہو تو اس صورت میں شوہر کو چوتھائی حصہ 1/4ملے گا۔ (3)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج۶،ص۴۵۰.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
.gif)
مسئلہ ۱: اگر میّت کی بیوی کے ساتھ میت کا بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی نہ ہو تو اس کو کُل مال کا چوتھائی 1/4ملے گا۔(1) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰ ، درمختار ج ۵ ص ۶۷۴)
.gif)
مسئلہ ۲: اگر میت کی بیوی کے ساتھ میت کا بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی ہو تو اس کو آٹھواں حصہ(2)ملے گا 1/8۔(3)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰، درمختار ج ۵ ص ۶۷۴)
.gif)
مسئلہ ۱: اگر صرف ایک بیٹی ہو تو اس کو آدھا (4)1/2 ملے گا۔(5)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج۶،ص۴۵۰.
2 ۔یعنی کل مال میں سے آٹھواں حصہ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج۶،ص۴۵۰.
4 ۔یعنی کل مال میں سے آدھامال۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض، الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج۶،ص۴۴۸.
.gif)
مسئلہ ۲: اگر بیٹیاں دو یا دو سے زائد ہوں تو ان سب کو دو تہائی 2/3ملے گا اور ان میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔
(1)(عالمگیری ج۶ ص ۴۴۸، درمختار ج ۵ص ۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۳: اور اگر بیٹی کے ساتھ میت کا لڑکا بھی ہو تو بیٹی اور بیٹا دونوں عَصَبَہ بن جائیں گے اور مال بَطور ِعَصُوبت دونوں میں اس طرح تقسیم ہو گاکہ بیٹے کو بہ نسبت بیٹی کے دوگنا دیا جائے گا۔ (2)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۱: اگر میت کے بیٹا بیٹی نہیں صرف ایک پوتی ہے تو اس کو آدھا 1/2 ملے گا۔(3) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸، درمختار ج۵ ص۶۷۶)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج۶، ص۴۴۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔المرجع السابق.
.gif)
مسئلہ ۲ـ: اگر میت کا بیٹا بیٹی نہیں ہے دو پوتیاں ہیں یا دو سے زائد تو وہ دو تہائی میں شریک ہوں گی۔(1) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸ ، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۳: اگر میت کی ایک بیٹی ہے تو پوتی ایک ہو یا ایک سے زائد وہ سب کی سب چھٹے حصے 1/6میں شریک ہوں گی تاکہ لڑکیوں کا حصہ دو تہائی پورا ہو جائے اس سے زائد نہ ہو کیونکہ قرآن کریم میں لڑکیوں کا حصہ دو تہائی سے زائد کسی صورت میں نہیں ہے۔ اب آدھا تو حقیقی بیٹی نے قوت قرابت کی وجہ سے لے لیا تو صرف چھٹا حصہ ہی باقی رہا جو پوتیوں کو مل جائے گا۔ (2)(شریفیہ ص ۳۴، عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۴: پوتیاں میت کی دو حقیقی بیٹیوں کے ہوتے ہوئے محروم ہو جائیں گی بشرطیکہ میت کا کوئی پوتا ، پرپوتا (نیچے تک)موجود نہ ہو۔ (3)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج۶،ص۴۴۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۵: اگر پوتیوں کے ساتھ میت کی دو حقیقی بیٹیاں بھی ہوں اور پوتا یا پرپوتا (نیچے تک)ہو تو پوتیاں، پوتے یا پرپوتے کے ساتھ عصبہ ہو جائیں گی۔ (1)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۶: پوتیوں کے ساتھ اگر میت کا بیٹا ہو تو پوتیاں محروم ہو جائیں گی۔(2) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸ ، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۱: اگر بہن ایک ہے تو اسے آدھا 1/2 ملے گا۔(3)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج۶،ص۴۴۸.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔المرجع السابق،ص۴۵۰.
مسئلہ ۲: اگر بہنیں دو یا دو سے زائد ہیں تووہ دو تہا ئی 2/3میں شریک ہوں گی۔ (1)
(عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸، درمختار ج ۵ ص۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۳: اگر میت کی بہنوں کے ساتھ میت کا کوئی بھائی بھی ہو تو وہ اس کے ساتھ مل کر عصبہ ہو جائیں گی اور تقسیم مال
لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ
کی بنیاد پر ہو گی یعنی مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔ (2)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۸، درمختار ج ۵ ص۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۴: اگر بہنوں کے ساتھ میت کی کوئی بیٹی ، پوتی یا پر پوتی (نیچے تک)ہو تو اب بہن عصبہ بن جائے گی یعنی جو کچھ باقی بچے گا وہ لے گی، کیونکہ حدیث میں فرمایا:''بہنوں کو بیٹیوں کے ساتھ عصبہ بناؤ۔''(3)(درمختار ج ۵ ص ۶۷۶، بحرالرائق، تبیین)
.gif)
مسئلہ ۱: اگر باپ شریک بہن ایک ہو اور حقیقی بہن کوئی نہ ہو تو اُسے آدھا ملے گا۔(4)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰، درمختار ج۵ ص ۶۷۶)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض، الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج ۶،ص ۴۵۰.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الفرائض، فصل فی العصبات،ج۱۰،ص۵۵۲،۵۵۳.
و''سنن الدارمی''،کتاب الفرائض،باب فی بنت وأخت،الحدیث:۲۸۸۱،ج۲،ص۴۴۶.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض، ج ۶،ص۴۵۰.
.gif)
مسئلہ ۲: اگر دو یا دو سے زائد باپ شریک بہنیں ہوں تو وہ دو تہائی 2/3میں شریک ہوں گی۔
(1) (درمختار ج ۵ ص۶۷۶، عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰)
.gif)
مسئلہ ۳: اگر میت کی باپ شریک بہن یا بہنوں کے ساتھ ایک حقیقی بہن ہو تو باپ شریک بہن یا بہنوں کو صرف چھٹا
تَکْمِلَۃٌ لِلثُّلُثَیْنِ
ملے گا۔ (2)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۴: اگر باپ شریک بہن کے ساتھ میت کی دو حقیقی بہنیں ہوں تو اس کو کچھ نہ ملے گا اس لئے کہ دو تہائی جو زائد سے زائد بہنوں کا حصہ تھا وہ پورا ہو چکا۔(3) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۵: اگر باپ شریک بہن کے ساتھ میت کی دو حقیقی بہنیں ہوں اورباپ شریک بھائی بھی ہو تو حقیقی بہنوں کے حصہ کے بعد جو کچھ بچے گا وہ ان کے درمیان
لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ
کی بنیاد پر منقسم ہوگا۔ (4)(بزازیہ علی عالمگیری ج۶ص۴۰۴،عالمگیری ج۶ص۴۵۰، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج ۶،ص۴۵۰.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
.gif)
مسئلہ ۶: اگر باپ شریک بہنوں کے ساتھ میت کی بیٹیاں یا پوتیاں (نیچے تک)ہوں تو یہ بہنیں ان کے ساتھ عصبہ ہو جائیں گی۔(1) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۷: حقیقی بھائی بہن ہوں یا باپ شریک سب کے سب بیٹے یا پوتے (نیچے تک)اور باپ کے ہوتے ہوئے بالاتفاق محروم رہتے ہیں اور امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک دادا کے ہوتے ہوئے بھی محروم ہو جاتے ہیں اور فتویٰ اسی پرہے۔(2) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۸: باپ شریک بھائی یا بہن ، حقیقی بھائی کے ہوتے ہوئے محروم ہو جاتے ہیں۔(3) (عالمگیری ج ۶ ص۴۵۰، درمختار ج ۵ ص۶۷۶)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج ۶،ص۴۵۰.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔المرجع السابق.
.gif)
مسئلہ ۱: اگر میت کی ماں کے ساتھ میت کا کوئی بیٹا یابیٹی یا پوتا پوتی ہو تو ماں کو چھٹا حصہ 1/6ملے گا۔(1) (عالمگیری ج۶ ص۴۴۹، درمختار ج ۵ ص۵۳۹)
.gif)
مسئلہ ۲: اگر میت کی ماں کے ساتھ میت کے دو بھائی بہن ہوں خواہ وہ حقیقی ہوں ، باپ شریک ہوں یاماں شریک ہوں تو ماں کو اس صورت میں بھی چھٹا حصہ 1/6ملے گا۔(2) (عالمگیری ج۶ ص ۴۴۹، درمختار ج ۵ ص۶۷۵)
.gif)
مسئلہ ۳: اگر ماں کے ساتھ میت کے مذکورہ رشتہ دار نہ ہوں تو ماں کو کُل مال کا تہائی حصہ 1/3ملے گا۔(3) (عالمگیری ج ۶ ص۴۴۹)
.gif)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج ۶،ص۴۴۹.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۴: اگر ماں کے ساتھ شوہر اور بیوی میں سے بھی کوئی ایک ہو تو پہلے شوہر یا بیوی کا حصہ دیا جائے گا پھرجو بچے گا اس میں سے ایک تہائی ماں کو دیا جائے گا اور یہ صرف دو صورتوں میں ہے۔(1) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۹، درمختار ج ۵ ص ۶۷۵)
.gif)
مسئلہ ۵: اگر مذکورہ صورتوں میں بجائے باپ کے دادا ہو تو ماں کو کل مال کا تہائی ملے گا 1/3۔(2) (عالمگیری ج۶ ص ۴۵۰)
.gif)
مسئلہ ۱: جدہ صحیحہ جس کا بیان ہو چکا ہے اس کو چھٹا حصہ ملے گا۔ دادیاں اور نانیاں ایک سے زائد ہوں اور سب درجے میں برابر ہوں تو وہ بھی چھٹے حصے میں شریک ہوں گی۔ (3)(شریفیہ ص ۴۱ ، عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،ج۶،ص۴۴۹.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔المرجع السابق،ص۴۵۰.
.gif)
مسئلہ ۲: اگر دادی و نانی کے ساتھ میت کی ماں بھی ہو تو دادی و نانی دونوں محروم ہو جائیں گی۔(1) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۳: وہ دادیاں جو باپ کی طرف سے ہوں وہ باپ کے ہوتے ہوئے بھی محروم ہو جائیں گی۔ (2)(شریفیہ ص ۴۲، عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۰، درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
مسئلہ ۴: و ہ دادیاں جو باپ کی طرف سے ہوں اور دادا سے اوپر ہوں و ہ دادا کے ہوتے ہوئے ساقط ہو جائیں گی لیکن باپ کی ماں ساقط نہ ہو گی کیونکہ اس کی رشتہ داری دادا کے واسطے سے نہیں۔ (3)(درمختار ج ۵ ص ۶۷۶)
.gif)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض، الباب الرابع فی الحجب، ج ۶، ص ۴۵۳.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الفرائض،فصل فی العصبات،ج۱۰،ص۵۶۳.
.gif)
مسئلہ ۵: قریب والی دادی و نانی، دور والی دادی اور نانی کو محروم کر دے گی۔
.gif)
مسئلہ ۱: عصبات سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے مقرر شدہ حصے نہیں البتہ اصحاب فرائض سے جوبچتا ہے انہیں ملتا ہے اور اگر اصحاب فرائض نہ ہوں تو تمام مال انہی میں تقسیم ہو جاتا ہے۔(1) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۱، الاختیار شرح المختار بحوالہ عالمگیری، درمختار ج ۵ ص ۶۷۷)عصبات کی دو قسمیں ہیں: (1) عصبہ نسبی۔ اور (2) عصبہ سببی۔
مسئلہ ۲: عصبہ نسبی سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جن کے مقررہ حصے نہیں ہیں بلکہ اصحاب فرائض سے اگر کچھ بچتا ہے تو انہیں ملتا ہے عصبہ نسبی کی تین قسمیں ہیں: (1) عصبہ بنفسہٖ۔ (2) عصبہ بغیرہٖ۔ (3) عصبہ مع غیرہٖ۔ (2)(شریفیہ ص ۴۵)
مسئلہ ۳: عصبہ بنفسہٖ سے مراد وہ مرد ہے کہ جب اس کی نسبت میت کی طرف کی جائے تو درمیان میں کوئی عورت نہ آئے۔ عصبہ بنفسہٖ کی چار قسمیں ہیں:
پہلی قسم: جز و میت ، یعنی بیٹے پوتے (نیچے تک)
دوسری قسم: اصل میت ، یعنی میت کاباپ دادا (اوپر تک)
تیسری قسم: میت کے باپ کا جزو ، یعنی بھائی پھر ان کی مذکر اولاددر اولاد (نیچے تک)
چوتھی قسم: میت کے دادا کا جزء یعنی چچا پھر انکی مذکر اولاد در اولاد (نیچے تک)
مسئلہ ۴: ان چاروں قسموں میں وراثت بالترتیب جاری ہو گی اور ترتیب وہی ہے جو ہم نے تقسیم میں اختیار کی ہے یعنی اگر پہلی قسم کے لوگ موجود ہیں تو دوسری قسم کے لوگ عصبہ نہیں بنیں گے اور دوسری قسم کے ہوتے ہوئے تیسری قسم کے عصبہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الثالث فی العصبات،ج۶،ص۴۵۱.
2 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب العصبات،ص۳۷.
نہیں بنیں گے اور تیسری قسم کے ہوتے ہوئے چوتھی قسم کے نہیں بنیں گے۔ (1)(درمختار ج ۵ ص ۶۷۷)
.gif)
مذکورہ صورت میں باپ کو بطور عصوبت کچھ نہیں ملا ہے 1/6بطور فرضیت دیا گیا ہے۔
.gif)
مسئلہ ۵: عصبات میں ترتیب و ترجیح کا ایک اصول تو ہم نے ذکر کر دیا کہ ر شتہ داری کا قرب (2)دیکھا جائے گا اس کے بعد دوسرا اصول یہ ہے کہ قوۃ قرابت کو دیکھا جائے گا یعنی دوہری(3)رشتہ داری والے کو اکہری (4)رشتہ داری والے پر ترجیح ہو گی اس میں مرد و عورت کی بھی تفریق نہیں۔ (5)
.gif)
مسئلہ ۶: عصبہ بغیرہٖ چار عورتیں ہیں، یہ وہ عورتیں ہیں جن کا مقررہ حصہ نصف یا دو تہائی ہے یہ عورتیں اپنے بھائیوں کی موجودگی میں عصبہ بن جائیں گی اور بجائے فرض کے صرف بطور عصوبت جو ملے گا وہ لیں گی، وہ عورتیں یہ ہیں: (1) بیٹی۔ (2) پوتی۔ (3) حقیقی بہن۔ (4) باپ شریک بہن۔ (6)(درمختار ج ۵ ص۶۷۹)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الفرائض، فصل فی العصبات، ج ۱۰، ص ۵۵۰.
2 ۔یعنی قریبی تعلق۔ 3 ۔دوطرفہ۔ 4 ۔یک طرفہ۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الفرائض، فصل فی العصبات، ج ۱۰، ص ۵۵۱.
6 ۔المرجع السابق، ص ۵۵۲.
.gif)
مسئلہ ۷: وہ عورتیں جن کا فرض حصہ نہیں ہے مگر ان کا بھائی عصبہ ہے وہ اپنے بھائی کے ساتھ عصبہ نہیں ہوں گی۔ کیونکہ قرآن کریم میں صرف بیٹیوں اور بہنوں کو ہی اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ قرار دیا گیا ہے۔(1) (درمختار ج ۵ ص ۶۷۹)
.gif)
اس صورت میں باقی کُل مال چچا کو ملے گا اور اس کی بہن جو میت کی پھوپھی ہے محروم رہے گی۔
مسئلہ ۸: عصبہ مع غیرہ سے مراد وہ عورت ہے جو دوسری عورت کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتی ہے جیسے حقیقی بہن یا باپ شریک بہن بیٹی کے ہوتے ہوئے عصبہ بن جاتی ہے۔
.gif)
مسئلہ ۹: سببی عَصَبہ مَولَی الْعِتاقَہ ہے۔ اگر ہمیں کتاب کے نا مکمل رہ جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو ہم مولیٰ العتاقہ کی بحث کو حذف کر دیتے کیونکہ اب در حقیقت اس کا کوئی وجود نہیں بہرحال اس سے مراد وہ شخص ہے جس نے کوئی غلام آزاد کیا
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الفرائض، فصل فی العصبات،ج۱۰،ص۵۵۲.
ہو اور وہ غلام مر گیا ہو اور غلام کا کوئی رشتہ دار نہ ہو صرف اس کو آزاد کرنے والا شخص ہو اب اس کا آقا(1)اس کو آزاد کرنے کے سبب اس کی میراث کا(2)مستحق ہو گا کیونکہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا ہے:
''الوَلاءُ لُحْمَۃٌ کَلُحْمَۃِ النَّسَب''
(3)وَلاء کا تعلق نسبی تعلق ہی کی طرح ہے۔(4) (درمختار ج ۵ ص ۶۸۰)
مسئلہ ۱۰: اگر آزاد کرنے والا بھی زندہ نہ ہو تو مال اس کے عصبات کو اُسی ترتیب کے مطابق ملے گا جو ہم عصبات کی ترتیب میں بیان کر آئے ہیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ آزاد کرنے والے کے عصبات میں اگر عورتیں ہیں تو ان کو کچھ نہ ملے گا۔ اس لئے کہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا ہے:
''لَیْسَ لِلنِّسَاءِ مِنَ الْوَلاء''
(5)عورتوں کے لئے وَلاء نہیں یعنی انہیں اس سبب سے میراث نہ ملے گی کہ ان کے کسی رشتہ دار نے کسی شخص کو آزاد کیا تھا اور اگر کسی عورت نے خود غلام آزاد کیا تھا تو وہ اس کی میراث لے لے گی۔ (6) (شریفیہ ص ۵۱، درمختار ج ۵ ص ۶۸۱)
مسئلہ ۱: علم الفرائض کی اصطلاح میں حجب سے مراد یہ ہے کہ کسی وارث کا حصہ کسی دوسرے وارث کی موجودگی کی وجہ سے یا تو کم ہو جائے یا بالکل ہی ختم ہو جائے اس کی دو قسمیں ہیں: (1) حجب نقصان اور (2) حجب حِرمان۔ (7) (شریفیہ ص۵۷)
مسئلہ ۲: حجبِ نقصان یعنی وارث کے حصہ کا کم ہو جانا پانچ قسم کے وارثوں کیلئے ہے۔ (1)شوہر کیلئے۔
.gif)
شوہر کا حصہ نصف 1/2تھا مگر میت کی اولاد کی وجہ سے چوتھائی 1/4ہو گیا،(2) بیوی کا بھی یہی حال ہے۔
.gif)
1 ۔مالک۔ 2 ۔یعنی ترکہ کا۔
3 ۔''صحیح ابن حبان''،کتاب البیوع،باب البیع المنھی عنہ،الحدیث:۴۹۲۹،ج۷،ص۲۲۰.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الفرائض، فصل فی العصبات،ج۱۰،ص۵۵۵.
5 ۔''سنن الدارمی''،کتاب الفرائض،باب ما للنساء من الولاء،الحدیث:۳۱۵۲،ج۲،ص۴۸۹.
6 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب العصبات،ص۴۲.
7 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب الحجب،ص۴۷.
بیوی کو اگر اولاد نہ ہو تو چوتھائی ملتا ہے مگر اولاد حصہ کم کر دیتی ہے یعنی بجائے چوتھائی کے آٹھواں ملے گا۔
(3) ماں کا حصہ بھی اولاد یا دو بھائی بہنوں کی موجودگی میں بجائے تہائی کے چھٹا رہ جاتا ہے۔
.gif)
(4) پوتی۔ پوتی کا حصہ ایک حقیقی بیٹی کی موجودگی میں نصف سے کم ہو کر چھٹا رہ جاتا ہے۔
(5) باپ شریک بہن۔ اس کا حصہ ایک حقیقی بہن کی موجودگی میں نصف کے بجائے چھٹا رہ جاتا ہے۔ (1)
.gif)
مسئلہ ۳: حجب حِرمان۔ یعنی کسی وارث کا دوسرے وارث کی وجہ سے محروم ہو جانا۔(2) (شریفیہ ص ۵۷)
مسئلہ ۴: ہر وہ شخص جس کو میت سے کسی شخص کے ذریعہ سے تعلق ہو وہ اس درمیانی شخص کی موجودگی میں وراثت سے محروم رہے گا۔ البتہ ماں شریک بہن اور بھائی اس قانون کے اطلاق سے مستثنیٰ ہیں مثلاً دادا باپ کے ہوتے ہوئے محروم رہے گا۔ (3)
.gif)
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،باب الحجب،ص۴۷.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق،ص۴۸.
مسئلہ ۵: قریبی رشتہ دار دور والے رشتہ دار کو محروم کر دیتاہے۔ (1)
.gif)
پوتا خواہ اس بیٹے سے ہو یا دوسرے بیٹے سے ہو محروم رہے گا کیونکہ بیٹا بہ نسبت پوتے کے زیادہ قریب ہے۔
مسئلہ ۶: جو وارث خود میراث سے محروم ہو گیا ہے وہ دوسرے وارث کا حصہ کم یا بالکل ختم کر سکتا ہے۔ (2)
.gif)
اب بھائی باپ کے ہوتے ہوئے محروم ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے ماں کا حصہ تہائی سے کم کر کے چھٹا کر دیا۔
.gif)
اس صورت میں دادی باپ کی وجہ سے محروم ہے مگر اس نے پر نانی کو محروم کر دیا۔
مسئلہ ۱: اصطلاح فرائض میں مخرج سے مراد وہ چھوٹے سے چھوٹا عددہے جس میں سے تمام ورثہ کو بلا کسر ان کے حصے تقسیم کئے جا سکیں۔(3) (درمختار جلد۵)
.gif)
یہاں چھ اصطلاح میں مخرج المسئلہ ہے، اگر چہ مسئلہ ۱۲ سے بھی بلا کسر درست تھا اور چوبیس سے بھی مگر چھ سب سے چھوٹا عدد ہے۔ لہٰذا یہی مخرج المسئلہ ہے۔
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الفرائض،فصل فی العصبات،ج۱۰،ص۵۶۰.
2 ۔المرجع السابق،ص۵۶۱.
3 ۔''رد المحتار''،کتاب الفرائض،باب المخارج،ج۱۰،ص۵۹۱.
مسئلہ ۲: ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ مقررہ حصے چھ ہیں، جن کو دو قسموں پر منقسم کیا گیا ہے۔
پہلی قسم: آدھا ، چوتھائی، آٹھواں۔ دوسری قسم: دو تہائی، تہائی، چھٹا۔
اب اگر کسی مسئلہ میں ایک ہی فرض حصہ ہو تو اس کا مخرج اس حصہ کا ہمنام عدد ہو گا۔(1) (شریفیہ ص ۶۱)مثلاً اگر چھٹا ہے تو مخرجِ مسئلہ ۶ قرار پائے گا۔ آٹھواں ہے تو آٹھ قرار پائے گا۔ اور آپ نے مثالوں میں دیکھ لیا کہ مخرج مسئلہ وارثوں کے اوپر کھینچے جانے والے خط پر دائیں جانب لکھا جاتا ہے ۔ آدھا حصہ اگر ہو تو اس کا مخرج دو ہے اور دو تہائی ہو تو اس کا مخرج تین ہے۔ (2)
.gif)
مسئلہ ۳: اگر کسی مسئلہ میں ایک سے زیادہ حصے جمع ہو جائیں مگر وہ ایک ہی قسم کے ہوں (اُن دو قسموں میں سے جو ہم نے بیان کی ہیں)تو سب سے چھوٹے حصے کا جومخرج ہو گا وہی تمام حصوں کا ہو گا۔ (3)
.gif)
اس مثال میں ماں کا چھٹا حصہ ہے اور دو بہنوں کا دو تہائی ہے مگر چھٹا دو تہائی سے کم ہے، لہٰذا ہم نے چھٹے کے ہم نام عدد کو مخرج مسئلہ قرار دیا ہے۔
.gif)
اس مثال میں دوسری قسم کے تمام حصے جمع ہو گئے ہیں، لہٰذا جو سب سے چھوٹے حصے کا مخرج تھا وہی تمام کا مخرج قرار پایا۔
مسئلہ ۴: اگر پہلی قسم کا نصف 1/2دوسری قسم کے کسی حصہ کے ساتھ آجائے یا سب کے ساتھ آجائے تو مسئلہ چھ ۶ سے ہوگا۔ (4)
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،باب مخارج الفروض، ص۵۱.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الفرائض،باب المخارج،ج۱۰،ص۵۹۲.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق،ص۵۹۳.
.gif)
اس مثال میں شوہر کاحصہ نصف ہے جو دوسری قسم کے تمام حصوں کے ساتھ آگیا ہے یعنی 1/6،1/3، 2/3، کے ساتھ، اس لئے مسئلہ 1/6سے ہوگا پھر مُؤوّل ہو کر ۱۰ سے ہو جائے گا۔
.gif)
مسئلہ ۵: اگر چوتھائی دوسری قسم کے کسی حصے یا تمام حصوں کے ساتھ جمع ہو جائے تو مخرج مسئلہ ۱۲ بارہ ہو گا۔ (1) (شریفیہ ص۶۳)
.gif)
اس مثال میں چوتھائی 1/4کے ساتھ 1/6، 2/3، 1/3سب ہی جمع ہیں، اس لئے مخرج مسئلہ۱۲ ہے۔
مسئلہ ۶: اگر آٹھواں حصہ دوسری قسم کے تمام حصوں یا بعض حصوں کے ساتھ آجائے تو مخرج مسئلہ چوبیس ۲۴ ہو گا۔ (2)
.gif)
اس مثال میں آٹھواں ، دو تہائی اور چھٹے کے ساتھ آیا ہے اس لئے مسئلہ چوبیس سے کیا گیا ہے۔
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،باب مخارج الفروض،ص۵۳.
2 ۔''السراجی''،باب مخارج الفروض، ص۱۹.
.gif)
مسئلہ ۱: عول سے مراد اصطلاح فرائض میں یہ ہے کہ مخرجِ مسئلہ جب ورثاء کے حصوں پر پورا نہ ہوتا ہو یعنی حصّے زائد ہوں اور مخرج کا عدد حصوں کے مجموعی اعداد سے کم ہو تو مخرج مسئلہ کے عدد میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، اس طرح کمی تمام ورثاء پر ان کے حصوں کی نسبت سے ہو جاتی ہے۔ (1) (درمختار ج ۵ ص ۵۳۷)
مسئلہ ۲: عول کا فیصلہ سب سے پہلے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان کے عہد میں درج ذیل مسئلہ پیش آیا ، آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا تو ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہمانے عول کا مشورہ دیا۔
.gif)
اس پر کسی نے انکار نہ کیا۔(2) (درمختار ج ۵ ص ۶۸۸)پھر بعد میں یہی طریقہ رائج ہو گیا ، اب اس مسئلہ میں حصوں کی تعداد آٹھ ہے جب کہ مخرج چھ ہے لہٰذا دو عدد کا اضافہ کر دیا گیا ہے اور ایک نشان جو عول کا مخفف ہے لگا دیا گیا ہے۔
مسئلہ ۳: ۶ چھ کا عول طاق عدد میں بھی ہوتا ہے اور جُفت میں بھی مگر یہ عول صرف دس تک ہوتا ہے۔ (3) (درمختار ج ۵ ص۶۸۹)
.gif)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الفرائض،باب العول،ج۱۰،ص۵۶۹.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الفرائض،باب العول،ج۱۰،ص۵۶۹.
3 ۔المرجع السابق،ص۵۷۰.
.gif)
مسئلہ ۴: بارہ کا عول سترہ تک ہوتا ہے مگر یہ عول جفت عدد میں نہیں ہوگا صرف طاق میں ہوگا۔ (1)(درمختار ج۵ ص۶۸۹شریفیہ ص۵۷)
.gif)
مسئلہ ۵: چوبیس ۲۴ کا عول صرف ستائیس ہے۔ (2)(درمختار ج ۵ ص ۶۸۹)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الفرائض،باب العول ، ج۱۰،ص۵۷۰.
2 ۔المرجع السابق.
.gif)
تخریج مسائل کے وقت ورثاء کی تعداد، انکے حصوں کی تعداد، مخرج مسئلہ کا عدد، سب ہی کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے پھر ان اعداد کی باہمی نسبتیں بھی تخریج مسائل کے سلسلے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں ہم ان نسبتوں کا ذکر کرتے ہیں۔
hc تماثل: hcاگر دو عدد آپس میں برابر ہیں تو ان میں تماثل کی نسبت ہے جیسے ۴=۴۔
hc تداخل: hcدو مختلف عددوں میں سے چھوٹاعدد اگر بڑے کو کاٹ دے یعنی بڑا چھوٹے پر پورا پورا تقسیم ہو جائے تو ان دونوں میں نسبت تداخل ہے جیسے ۱۶ اور ۴۔
hc توافق: hcدو مختلف عددوں میں سے اگر چھوٹا بڑے کو نہ کاٹے بلکہ ایک تیسرا عدد دونوں کو کاٹے تو ان دونوں میں نسبت توافق ہو گی جیسے ۸ ،اور۲۰ کہ انہیں ۴ کاٹتا ہے ان دونوں میں توافق بالرُبع ہے اور ۵ بیس کا عدد وفق ہے جب کہ دو آٹھ کا عدد وفق ہے۔
hc تباین: hcاگر دو مختلف عد د اس قسم کے ہوں کہ نہ تو وہ آپس میں ایک دوسرے کو کاٹیں اور نہ ہی کوئی تیسرا ان کو کاٹے تو ان میں نسبت تباین ہے۔ جیسے ۹اور ۱۰۔ (1)
دو عددوں میں مماثلت اور مساوات تو ظاہر ہی ہوتی ہے البتہ تداخل اور توافق اور تباین کی پہچان کا قاعدہ معلوم ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے۔
دو عددوں میں اگر چھوٹا عدد بڑے عدد کو پوراپورا تقسیم کر دے تو یہ تداخل ہے اور اگر پورا پورا تقسیم نہ کرے تو چھوٹے عدد کو بڑے عدد سے تقسیم کریں اور اس کا جو باقی بچے اُس سے چھوٹے عدد کو تقسیم کریں پھر اس کا جو باقی بچے اس سے پہلے کے باقی کو تقسیم کریں اسی طرح ایک کو دوسرے سے تقسیم کرتے رہیں یہاں تک کہ باقی کچھ نہ بچے تو اگر آخری تقسیم کرنے والا عدد ایک ہے تو ان دو عددوں میں تباین ہے اور اگر ایک سے زیادہ دو تین چار وغیرہ کوئی عدد ہے تو ان میں توافق ہے اور اُس عدد کے نام کی مناسبت سے اس توافُق کا نام بھی ہوتا ہے۔
1 ۔''السراجی''، فصل فی معرفۃ التماثل والتداخل...إلخ،ص۲۰،۲۱.
مثلاً آخری تقسیم کرنے والا عدد دو تھا تو توافق بالنصف اور تین تھا تو توافق بالثلث اور چار تھا تو توافق بالربع ہے۔ اس کی مثالیں یہ ہیں۔
.gif)
پہلی مثال میں آخری تقسیم کرنے والا عدد ایک ہے لہٰذا ۱۳ اور۴۵ میں تباین ہے۔ دوسری مثال میں آخری تقسیم کرنے والاعدد دو ہے لہٰذا ۱۰ اور ۱۶ میں توافق بالنصف ہے۔ اور تیسری مثال میں آخری تقسیم کرنے والا عدد تین ہے۔ لہٰذا ۹ اور ۱۵ میں توافق بالثلث ہے۔
توافق کی صورت میں ان دونوں عددوں کو تقسیم کرنے والے عدد سے ان دونوں کو تقسیم کر کے جو عدد حاصل ہو گا وہ اس کا وفق کہلاتا ہے مثلاً ۱۶ اور ۱۰ کو ۲ سے تقسیم کیا تو۱۶ کا وفق ۸ ہے اور ۱۰ کا وفق ۵ ہے اور ۹ اور ۱۵ کو ۳ سے تقسیم کیا تو ۹ کا وفق ۳ ہے اور ۱۵ کا وفق ۵ ہے۔ (1)
اگر وارثوں کی تعداد اور اصل مسئلہ سے ملنے والے حصوں میں کسر واقع ہو جائے تو اس کسر کے دور کرنے کو تصحیح کہتے ہیں۔(2) (ضوء السراج حاشیہ شریفیہ ص ۷۲)اور کبھی حصوں کے کم از کم عدد سے حاصل کرنے کو بھی تصحیح کہتے ہیں۔ (3)(شریفیہ ص ۷۲)یعنی اصل مسئلہ پر بھی تصحیح کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں مجموعی طور پر سات اصول کار فرما ہیں۔ تین تو حصوں اور اعداد رؤس (یعنی جو لوگ حصہ پانے والے ہیں انکی تعداد)کے درمیان ہیں اور چار خود اعداد رؤس کے درمیان ہیں۔
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، فصل فی معرفۃ التماثل والتداخل...إلخ، ص۵۷،۵۸.
2 ۔''ضوء السراج''حاشیۃ ''الشریفیۃ''،باب التصحیح،ص۶۱.
3 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح،ص۶۱.
مسئلہ ۱: اگر ہر فریق کے حصے اس پر بلا کسر کے منقسم ہو رہے ہیں تو تصحیح کی کوئی ضرورت نہیں۔ (1)(شریفیہ ص ۷۲)
.gif)
اب یہاں وارثوں کے تین فریق ہیں اور ہر فریق کو پورا پورا حصہ بغیر کسر کے مل گیا دو بیٹیاں جو ایک فریق ہیں ان کا مجموعی حصہ ۴ ہے جس میں سے دو ۲ دو ۲ ہر ایک کو مل گئے۔
مسئلہ ۲: اگر ایک فریق پرکسر واقع ہو اور ان کے عدد سہام (حصوں کی تعداد)اور عدد رؤس میں نسبت توافق ہو تو اس فریق کے عدد رؤس کا عدد وفق نکال کر اسے اصل مسئلہ میں ضرب دیں گے اور اگر مسئلہ عائلہ ہے تو اس کے عول میں ضرب دیں گے اب جو حاصل ہو گا وہ تصحیح مسئلہ ہے۔ پھر اسی عدد وفق کو ہر فریق کے حصے میں ضرب دی جائے گی اس طرح اس فریق کا حصہ بلا کسر نکل آئے گا۔ اب رہا فریق کے ہر ہر فرد کا حصہ تو اس کی تخریج کاطریقہ ہم بعد میں بیان کریں گے۔ (2)
.gif)
صورت مذکورہ میں کسر صرف ایک فریق پر تھی یعنی بیٹیوں پر، انکے عدد رؤس ۱۰ اور عدد سہام ۴ میں توافق بالنصف ہے، یعنی دونوں کو کاٹنے والا عدد ۲ ہے۔ لہٰذا اس کا عدد وفق ۵ نکلا۔ اب اس کو ہم نے اصل مسئلہ (جو ۶ سے ہے)میں ضرب دیا تو تیس ۳۰ حاصل ضرب نکلا۔ یہ تیس ۳۰ تصحیح مسئلہ ہے جس کو''ت''سے ظاہر کیا گیا ہے جو تصحیح کا مخفف ہے پھر اسی مضروب ۵ کو ہر فریق کے حصے سے ضرب دی گئی جس سے ہر فریق کا حصہ بلا کسر معلوم ہو گیا۔
.gif)
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح،ص۶۱.
2 ۔المرجع السابق،ص۶۲.
اس صورت میں حصے مخرج مسئلہ سے بڑھ گئے تھے، لہٰذا مسئلہ عائلہ ہو گیا پھر سہام اور رؤس میں نسبت دیکھی گئی تو صرف ایک ہی فریق پر کسر تھی، وہ بیٹیاں ہیں ،ان کے اور ان کے حصوں کے درمیان نسبت توافق بالنصف ہے لہٰذا ہم نے عدد رؤس کے عدد وفق کو عول مسئلہ میں ضرب دی اور اس طرح حاصل ضرب مخرجِ مسئلہ بن گیا۔ پھر اُسی مضروب کو ہر فریق کے حصہ سے ضرب دے دی گئی۔ (1)
مسئلہ ۳: اگر کسر ایک ہی فریق پر ہو مگر ان کے عدد سہام اور عدد رؤس میں نسبت تباین ہو تو تصحیح کاطریقہ یہ ہے کہ جس فریق پر کسر ہے اس کے کُل عدد رؤس کو اصل مسئلہ میں یا عول مسئلہ میں (اگر مسئلہ عائلہ ہے)ضرب دیں اور اسی طرح ہر فریق کے حصہ میں۔
.gif)
مسئلہ ۴: مذکورہ تین اصول اس وقت جاری ہوں گے جب کسر ایک فریق پر ہو لیکن ایک سے زائد فریقوں پر کسر ہونے کی صورت میں مندرجہ ذیل چار اصولوں سے کام لیا جائے گا۔ (2)
مسئلہ ۵: اگر کسر ایک سے زائد فریقوں پر ہو تو رؤس اور رؤس کے درمیان نسبت دیکھی جائے گی اگرا عداد رؤوس آپس میں متماثل ہوں تو کسی ایک عدد کو اصل مسئلہ میں یا اس کے عول میں (اگر مسئلہ عائلہ ہو)ضرب دیں گے پھر اسی مضروب کو ہر فریق کے حصے میں ضرب دیں گے۔ (3)
.gif)
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح ،ص۶۲.
2 ۔المرجع السابق،ص۶۳. 3 ۔المرجع السابق،ص۶۳,۶۴.
توضیح اس کی یہ ہے کہ اصل مسئلہ ۶ سے ہوا جس میں سے ۶ بیٹیوں کو دو تہائی یعنی ۴ ملے اب چونکہ چار ، چھ پر پوری طرح تقسیم نہیں ہوتا اور ۴۔۶ میں توافق (1)ہے، لہٰذا ۶ کا وفق عدد ۳ ہو گیا اور تین دادیوں کو ایک اور تینوں چچوں کو ایک ملا جو ان پر پورا تقسیم نہیں ہوتا اب ہمارے پاس یہ عدد رؤس ہیں۔ ۳۔ ۳۔ ۳، ان میں تماثل ہے لہٰذا کسی ایک عدد کو اصل مسئلہ میں ضرب دیں گے اور پھر مضروب کو ہر فریق کے حصہ سے ضرب دی جائے گی۔
مسئلہ ۶: اگر کسر ایک سے زائد فریقوں پر ہے مگر ان کے اعداد رؤس میں آپس میں نسبت تداخل ہے تو جو بڑا عدد ہے اسے اصل مسئلہ میں ضرب دیں گے یا اگر عائلہ ہے تو اسکے عول میں دیں گے۔ (2)
مسئلہ ۷: اگر کسر وارثوں کے ایک سے زائد فریقوں پر ہو اور ا ُن کے اعداد رؤس میں توافق ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک عدد رؤس کے وفق کو دوسرے فریق کے کل عددرؤس میں ضرب دیں گے۔ پھر حاصل ضرب کی نسبت تیسرے فریق کے عدد رؤس سے دیکھیں گے۔ اگر ان میں توافق ہو تو ایک کے وفق کو دوسرے کے کُل میں ضرب دیں گے اور اگر حاصل ضرب اور تیسرے فریق کے عدد رؤس میں تباین کی نسبت ہو تو پورے ایک عدد کو دوسرے میں ضرب دے لیں گے۔ پھر حاصل ضرب کو چوتھے فریق کے عدد رؤس کے ساتھ اسی طرح دیکھیں گے۔ اگر توافق ہو گا تو ایک کے وفق کو دوسرے کل عدد میں ضرب دیں گے اور اگر تباین ہو تو ایک عدد کو دوسرے سے ضرب کر دیں گے۔ اسی طرح جتنے فریق میں کسر ہو گی ، کریں گے۔ آخر میں جو حاصل ضرب ہو گا اس کواصل مسئلہ میں یا عول والے مسئلے میں عول سے ضرب دے دیں گے اور اسی عدد کو ہر فریق کے حصے میں بھی ضرب دے دیں گے۔ (3)
1 ۔بہارشریعت میں اس مقام پر'' تداخل'' لکھاھواہے،جوکتابت کی غلطی معلوم ھوتی ہے کیونکہ اصل لفظ یہاں پر'' توافق'' ہے، اسی وجہ سے ہم نے متن میں تصحیح کردی ہے ۔ . . . علمیہ
2 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح،ص۶۴.
مثال۔ مسئلہ ۱۲ ت۱۴۴
ـ
بیویاں۔ ۴۔ دادیاں ۔۳۔ چچا۔ ۱۲۔
۳ ۲ ۷
۔۔ ۔۔ ۔۔
۳۶ ۲۴ ۸۴
توضیح:اصل مسئلہ ۱۲ہے جس سے سدس یعنی دوحصے تین دادیوں کے ہیں لیکن دو ،تین میں تباین ہے لہذا جدات کی تعداد تین ہی رہے گی چوتھائی بیویوں کا یعنی تین حصے لیکن تین اور چارمیں بھی تباین ہے اس لیے زوجات کی تعدادبھی یہی رہے گی باقی مال اعمام(چچوں)کو بطور عصبہ ملے گااور وہ سات حصے ہیں لیکن اعمام کی تعداد۱۲ہے جبکہ۱۲ اور۷ میں بھی تباین ہے اس لیے اعمام کی تعداد۱۲ ہی رہے گی پھر ہم نے عدد رؤس کی آپس میں نسبت دیکھی توزوجات اور جدات کی تعداد یعنی۴اور۳ان میں اور۱۲ میں تداخل ہے لہٰذا ہم نے بڑے عددرؤس۱۲ کو اصلِ مسئلہ۱۲میں ضرب دی تو ایک سوچوالیس حصے ھو گئے اب ہر فریق کے حصے کو مضروب یعنی ۱۲سے ضرب دیں گے پس بیویوں کے۳۶،دادیوں کے۲۴اور چچوں کے ۸۴حصے ھوں گے جو کہ ہر فریق کے عدد رؤس پر پورے پورے تقسیم ھوجائیں گے۔...علمیہ
3 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح ،ص۶۵.
.gif)
جیسا کہ آپ واضح طور پر دیکھ رہے ہیں اس مسئلہ میں ہرفریق پر کسر ہے لہٰذا ہم پہلے تو اعداد سہام(2)اور اعداد رؤس(3)کی نسبت دیکھیں گے تو ۳۔۴ میں تباین ہے لہٰذا یہ اعداد یونہی رہیں گے۔ ۱۶، ۱۸ میں توافق بالنصف ہے لہٰذا ۱۸ کا عدد وفق نکالیں گے جو ۹ ہے اب گویا یہ عدد ۹ ہی ہے اور رؤس کے درمیان نسبت دیکھتے ہوئے ۱۸ کا لحاظ نہ ہو گا۔ بلکہ ۹ کا ہی ہو گا۔ ۴، ۱۵ اور ۱، ۶ میں بھی نسبت تباین ہے۔ لہٰذا یہ اعداد بھی اپنی جگہ ہی رہیں گے اب رؤس کی نسبت دیکھی گئی تو ۴۔۶ میں نسبت توافق ہے تو ان میں سے کسی ایک کا عدد وفق نکال کر دوسرے میں ضرب دے سکتے ہیں یہاں ۶ کا عدد وفق نکالا تو تین ۳ نکلا اب ۴ کو تین میں ضرب دی تو ۱۲ حاصل ہوئے اب ۱۲ اور ۹ میں بھی نسبت توافق بالثلث کی ہے تو ۹ کا عدد وفق نکالا جو ۳ ہے اور ۱۲ کو ۳ میں ضرب دی ۳۶ حاصل آیا۔ اب ۳۶ اور ۱۵ میں بھی توافق بالثلث ہے لہٰذا ۱۵ کے عدد وفق ۵ کو ۳۶ میں ضرب دی تو ۱۸۰ حاصل ہوئے اب اس کو اصل مسئلہ ۲۴ میں ضرب دی تو ۴۳۲۰ چار ہزار تین سو بیس حاصل آیا جو مخرج مسئلہ ہے پھراسی مضروب ۱۸۰ کو ہر فریق کے حصہ میں ضرب دی گئی تو وہ حاصل آیا جو ہم نے ہر ایک فریق کے نیچے لکھ دیا ہے۔
مسئلہ ۸: اگر کسر ایک سے زائد فریقوں پر ہو اور اعداد میں تباین ہو تو کسی ایک کو دوسرے عدد رؤس میں ضرب دی جائے گی پھر اس کی نسبت دوسرے عدد رؤس سے دیکھی جائے گی اگر تباین کی نسبت ہو تو اس کو دوسرے عدد رؤس سے ضرب دیں گے اور بالآخر جو حاصل ہو گا اس کو اصل مسئلہ میں ضرب دیں گے۔ (4)
توضیح= اب ۳۔۲ میں تباین ہے لہٰذا یہ اسی طرح رہیں گے اور ۴۔۶ میں توافق بالنصف ہے تو ۶ کا عدد وفق ۳نکال لیا گیا۔ اس طرح ۱۶۔۱۰ میں توافق بالنصف ہے تو ۱۰ کا عدد وفق نکال لیا جو ۵ ہے اور ۱۔۷ میں تباین ہے لہٰذا وہ اپنی جگہ رہا۔ اب ہمارے پاس یہ اعداد رؤس ہیں۔ ۲۔۳۔۵۔۷ یہ سب آپس میں متباین ہیں۔ لہٰذا ۲ کو ۳ میں ضرب دی تو حاصل ۶ ہوا۔ اس کو ۵ میں ضرب دی تو ۳۰ حاصل ہوا ۔ اس کو ۷ میں ضرب دی تو حاصل ۲۱۰ دو سو دس آیا۔ اب اس کو ۲۴ اصل مسئلہ میں ضرب دی تو حاصل پانچ ہزار چالیس
1 ۔یہ مثال مسئلہ ۶ کے تحت مذکور تھی جبکہ یہ مسئلہ ۷ کی مثال ہے لہٰذا ہم نے اسے مسئلہ ۷ کے تحت ذکر کردیا۔...علمیہ
2 ۔حصوں کی تعداد۔ 3 ۔ہر فریق کی تعداد۔
4 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح ، ص ۶۶.
آیا،۵۰۴۰۔ اور یہ مخرج مسئلہ ہے، پھر اسی مضروب ۲۱۰ کو ہر فریق کے حصے میں ضرب دی تو وہ حاصل آیا جو ہر فریق کے نیچے لکھا ہے۔
مسئلہ۹: استقراء سے(1)یہ بات ثابت ہے کہ چار فریقوں سے زائد پر کسر نہیں آسکتی۔(2) (شریفیہ ص ۷۸)
ہر فریق یا وارثوں کے ہر گروپ کا مجموعی حصہ معلوم کرنے کا طریقہ تو ہم بیان کر چکے ہیں اب اگر ہر گروپ کے ہر فرد کا حصہ معلوم کرنا ہو تو اس کے کئی طریقے ہیں چند ہم ذکر کرتے ہیں۔
(1) ہر فریق کے حصہ کو(جو اس فریق کو اصل مسئلہ سے ملا ہے)ان کے عدد رؤس پر تقسیم کر دیں پھر جوخارج قسمت ہے اُسے اس عدد میں ضرب دیں جس کو تصحیح کے لئے اصل مسئلہ میں ضرب دیا تھا ، اب جو حاصل ہو گا وہ اس فریق کے ہر فرد کا حصہ ہو گا۔ (3)
.gif)
توضیح= اب اس مسئلہ میں بیویوں کو ۳ ملے جبکہ عدد رؤوس ۲ ہے لہٰذا ہم نے ۳ کو دو پر تقسیم کیا تو خارج قسمت ۲ــ۱ ۱ نکلا پھر اس کو المضروب ۲۱۰ میں ضرب دیا تو حاصل ۳۱۵ آیا جو ہر بیوی کا حصہ ہے اس کو قاعدہ کے مطابق فریق کے حصہ کے نیچے لک ۳۱۵ لکھ دیا گیا۔
لِکْ
دراصل لکل واحد (ہر ایک کا)کا مخفف ہے۔ اس طرح بیٹیوں کامجموعی حصہ ۱۶ ہے اور عدد رؤس ۱۰ ہے، لہٰذا ۱۶ کو ۱۰ پر تقسیم کیا گیا 1-3/5پھر اس کو مضروب ۲۱۰ میں ضرب دیا گیا تو ۳۳۶ حاصل ہوا اور یہی ہر بیٹی کا حصہ ہے یہی عمل تمام فریقوں کے ساتھ کیا جائے گا۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ المضروب کو فریق کے اعداد رؤس پر تقسیم کر دیا جائے پھر خارج قسمت کو اسی فریق کے حصہ میں (جو اصل مسئلہ سے ان کو ملا ہے)ضرب دے دیا جائے توحاصل ہر فرد کا حصہ ہو گا۔ اب مذکورہ مثال ہی کو لے لیں اس میں
1 ۔غور و فکر سے ،تجربے سے۔
2 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح ،ص۶۷.
3 ۔المرجع السابق،فصل فی معرفۃ نصیب کل فریق،ص۶۸.
بیویوں کا حصہ ۳ہے اور ان کی تعداد ۲ہے ، جب مضروب (جس کو اصل مسئلہ میں ضرب دی تھی) ۲۱۰ کو ۲ پر تقسیم کیا تو ایک سو ۱۰۵ پانچ حاصل ہوا۔ اب اسکو بیویوں کے مجموعی حصے ۳ سے ضرب دی تو ۳۱۵ حاصل ہوا جو ہر بیوی کا انفرادی حصہ ہے یہی عمل دوسرے فریقوں کے ساتھ کیا جائے گا۔ (1)
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ ہر فریق کے حصہ کو (جو اصل مسئلہ سے اس کو ملا ہے)ان کے عدد رؤس سے نسبت دیں پھر اس نسبت کے لحاظ سے مضروب سے اس فریق کے ہر فرد کو دے دیں، مثلاً اسی مسئلہ میں جب بیویوں کے حصہ ۳ کو عدد رؤس ۲ سے نسبت دی 1-1/2کی نسبت نکلی، اب اسی نسبت کے اعتبار سے مضروب سے ہر بیوی کو دیا تو ۳۱۵ آیا۔ یہی عمل ہر ایک فریق کے ساتھ کیا جائے گا، اس کے علاوہ اور طریقے بھی ہیں جو حساب داں حضرات (2)کے لئے مشکل نہیں۔ (3)
جو کچھ مال میت نے چھوڑا ہو اس کی تقسیم اسی ترتیب پر ہو گی جس کا ذکر شروع کتاب میں ہوا۔ اب وارثوں اور دوسرے حقداروں میں ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ ذکر کیا جاتا ہے۔
(1) اگر ترکہ اور تصحیح میں مماثلت ہو تو ضرب وغیرہ کی ضرورت نہیں اور مسئلہ درست ہے۔ (4)
.gif)
توضیح= اب ترکہ یعنی وہ مال جو میت نے چھوڑا ہے اس کا عدد ۶ ہے جو ۶ سے مماثلت رکھتاہے اس لئے پورا پورا تقسیم ہوگیا۔
مسئلہ ۱: اگر میت کے پاس کچھ نقد روپیہ ہو اور کچھ دوسرا مال تو سب کی مناسب قیمت لگائی جائے پھر تقسیم کیا جائے۔
مسئلہ ۲: اگر ترکے اور تصحیح میں تباین ہو تو وارث کے سہام کو (5)جو اُسے تصحیح سے ملے ہیں کُل ترکے میں ضرب دیں اور حاصل ضرب کو تصحیح سے تقسیم کریں جو جواب ہو گا وہ اس وارث کا حصہ ہے۔ (6)
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح ،فصل فی معرفۃ نصیب کل فریق،ص۶۸.
2 ۔علم حساب کے ماہرین۔
3 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح ،فصل فی معرفۃ نصیب کل فریق،ص۶۹.
4 ۔المرجع السابق،ص۷۰.
5 ۔حصوں کو۔
6 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح ، فصل فی قسمۃ الترکات...إلخ،ص۷۰.
توضیح= اس صورت میں تصحیح کا عدد چھ ہے اور ترکہ سات روپیہ ہے چھ اور سات میں تباین ہے اس لئے ایک لڑکی کے حصے یعنی دو کو سات میں ضرب دیا تو حاصل ضرب چودہ ہوا۔ اس کو چھ سے تقسیم کیا تو2-1/3روپیہ بیٹی کا حصہ ہوا اور باپ کا ترکہ ایک ہے اس کو ۷ سے ضرب دیا تو ۷ ہوئے اس کو ۶ سے تقسیم کیا تو 1-1/6روپیہ باپ کا حصہ ہوا۔
مسئلہ۳: اگر ترکے اور تصحیح میں توافق ہوتو وارث کے سہام کو ترکے کے وفق میں ضرب دیں اور حاصل ضرب کو تصحیح کے وفق سے تقسیم کریں جو جواب ہو گا وہ اس وارث کا حصہ ہے۔ (1)
.gif)
توضیح:۔ تصحیح کا عدد چھ ہے اور ترکہ پندرہ روپیہ۔ چھ اور پندرہ میں توافق بالثلث ہے۔ چھ کا وفق دو ہوا اور پندرہ کا وفق پانچ۔ لہٰذا باپ کے حصے یعنی دو کو پندرہ کے وفق پانچ میں ضرب دیا حاصل ضرب دس ہوا۔ دس کو چھ کے وفق دو سے تقسیم کیا تو پانچ جواب آیا۔ یہ باپ کا حصہ ہے بیٹی کے حصے تین کو پندرہ کے وفق پانچ میں ضرب دیا توپندرہ ہوا۔ اسے چھ کے وفق دو سے تقسیم کیا تو 7-1/2بیٹی کا حصہ ہوا۔ ماں کے حصے ایک کو پانچ پر ضرب دیا تو جواب پانچ ہوا۔ اُس کو دو سے تقسیم کیا تو جواب 2-2/1 ہوا، یہ ماں کا حصہ ہے۔
قاعدہ: اگر ترکے اور تصحیح مسئلہ میں تداخل ہو تو چھوٹے عدد سے بڑے عدد کو تقسیم کرنے کے بعد جو جواب آئے گا اس کو اس عدد کا وفق مان کر وہی عمل کیا جائے گا جو توافق کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ یعنی اگر ترکے کا عدد تصحیح سے زیادہ ہے تو تصحیح سے ترکے کو تقسیم کرنے کے بعد جو عدد حاصل ہو گا اس کو ہر وارث کے سہام میں ضرب دے دینے سے اس وارث کا حصہ معلوم ہو جائے گا اوراگر تصحیح کا عدد ترکے سے زیادہ ہے تو ترکے سے تصحیح کو تقسیم کرکے جو عدد حاصل ہو گا وہ تصحیح کا وفق ہو گا اس سے ہر وارث کے سہام کو تقسیم کرنے سے اُس وارث کا حصہ معلوم ہو جائے گا۔ (2)
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح ،فصل فی قسمۃ الترکات...إلخ، ص۷۰.
2 ۔المرجع السابق، ص۷۱.
.gif)
توضیح: تصحیح مسئلہ چھ اور ترکہ اٹھارہ روپیہ میں تداخل ہے تو چھ سے اٹھارہ کو تقسیم کیا تو تین جواب آیا۔ تین کو بیٹی کے حصے یعنی تین سہام کو اٹھارہ کے وفق تین میں ضرب دیا تو نو روپیہ بیٹی کا حصہ ہوگیا۔ اسی طرح دوسرے وارثوں کا نکال دیا جائے گا۔
.gif)
توضیح:۔ تصحیح كے عدد چوبیس اور تركہ كے عدد بارہ میں تداخُل ہے تو بارہ سے چوبیس كو تقسیم كیا جواب دو آیا۔ یہ چوبیس كا وفق ہے بیٹی كا حصہ جو بارہ سہام تھا اسے دو سے تقسیم كیا تو لڑكی كا حصہ چھ روپے ہوگیا اور باپ كے پانچ سہام كو دو سے تقسیم كیا تو 2-1/2روپیہ باپ كا حصہ ہوا۔ماں كے چہار سہام كو دو سے تقسیم كیا تو دو روپیہ ماں كا حصہ ہوا۔ بیوی كے تین سہام كو دو سے تقسیم كیا ڈیڑھ روپیہ بیوی كا حصہ ہوگیا۔
مسئلہ۴: اگر ہر فریق كا حصہ معلوم كرنا ہو تو اس كا طریقہ یہ ہے كہ ہر فریق كو جوكچھ اصل مسئلہ سے ملا ہے تو تو اُفق كی صورت میں اسے تركہ كے وفق میں ضرب دیں اور حاصل ضرب كو تصحیح مسئلہ كے وفق پر تقسیم كریں اب جو خارج ہوگا وہ اس فریق كا حصہ ہے۔(1)
.gif)
توضیح= بہنوں کو اصل مسئلہ سے مجموعی طور پر ۴ ملے تھے ان چار کو ترکہ کے وفق ۱۰ میں ضرب دی تو حاصل ۴۰ آیا۔ اب اس ۴۰ کووفق مسئلہ پر تقسیم کیا تو خارج قسمت 13-1/3 آیا۔ یہی چار بہنوں کے ترکہ سے مجموعی حصہ ہے، یہی حال باقی فریقوں کا ہے۔
مسئلہ۵: اگر تصحیح اور ترکہ میں تبایُن کی نسبت ہو توہر فریق کے حصہ کو کُل ترکہ میں ضرب دیں گے اور حاصل کوکل تصحیح پر تقسیم کردیں گے اب خارج قسمت اس فریق کا مجموعی حصہ ہو گا۔ (2)
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح ، فصل فی قسمۃ الترکات...إلخ، ص۷۱.
2 ۔المرجع السابق.
.gif)
مسئلہ ۶: اگر فریق کے ہر ہر فرد کا حصہ معلوم کرنا ہو تو اس کا طریقہ بھی وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔(1)صرف فرق اتنا ہے کہ بجائے فریق کے حصے کو ضرب دینے کے ہرہر فرد کے حصے کو ضرب دی جائے گی۔
.gif)
توضیح: اب مثال مذکور میں شوہر کا حصہ تو واضح ہے، ایک بہن کا حصہ اگر معلوم کرنا ہو تو ایک بہن کے حصہ کو وفق ترکہ میں ضرب دیں گے یعنی ایک کو دس میں دیں گے تو حاصل دس آیا اب دس کو تین پر تقسیم کیا تو حاصل 3-1/3 آیا۔
مسئلہ ۱: اگر میت کا مال اتنا ہے کہ ہر قرض خواہ کو اس کا پورا پورا حق مل سکتا ہے جب تو ظاہر ہے کسی تکلف کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر صورت یہ ہو کہ قرض خواہ(2)زائد ہیں اور ترکہ کم ہے اب کسی ایک کو پورا ادا کرنا اور باقی کو کم دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اس لئے ایک ایسا طریقہ وضع کیا گیا ہے کہ ہر قرض خواہ کو انصاف سے مل جائے، اور وہ یہ کہ ہر قرض خواہ کا دَین بمنزلہ سہم کے تصور کیا جائے اور تمام قرض خواہوں کے قرض کا مجموعہ بمنزلہ تصحیح یعنی مخرج مسئلہ کے تصور کیا جائے اور پھر وہی عمل کیا جائے جو تقسیم ترکہ میں ہوتا ہے۔
مثلاً۔ ایک شخص مر گیا اور ترکہ ۹ روپے چھوڑ ے جب کہ اس پر ایک شخص کے ۱۰ روپے تھے ۔ دوسرے کے ۵ تو مجموعہ۱۵
1 ۔یعنی مسئلہ ۴:کے تحت جو مذکور ھوا۔ 2 ۔یعنی میت جن کا مقروض تھا۔
روپے ہوا۔ اس کو بمنزلہ مخرج مسئلہ کے کیا ، اور ۹۔۱۵ میں توافق بالثلث ہے اب ہم نے دس والے کو (جو ایک شخص کا قرض تھا)۳ میں (جووفق ترکہ ہے)ضرب دی تو حاصل تیس آیا اب اس حاصل کو وفق تصحیح (۵)پر تقسیم کیا تو خارج دس والے کا حصہ قرار پایا اور وہ ۶ ہے۔ (1)
.gif)
اس پر قیاس کرتے ہوئے تباین کی صورت کا حل کچھ مشکل نہ ہوگا۔
اس سے مراد یہ ہے کہ وارثوں میں کوئی یا قرض خواہوں میں سے کوئی تقسیم ترکہ سے پہلے میت کے مال میں سے کسی معین چیز کو لیناچا ہے اور اس کے عوض اپنے حق سے دستبردار ہو جائے خواہ وہ حق اس چیز سے زائد ہو یا کم اور اس پر تمام ورثہ یا قرض خواہ متفق ہو جائیں تو اس کا نام فقہ کی اصطلاح میں''تخارج ''یا ''تصالح''ہے۔ اس صورت میں طریق تقسیم یہ ہے کہ اس شخص کے حصہ کو تصحیح سے خارج کر کے باقی مال تقسیم کر دیا جائے۔ (2)(شریفیہ ص ۸۵ ، درمختار ج ۵ ص ۵۶۵)
مثلاً۔ ایک عورت نے ورثہ میں شوہر، ماں اور چچا چھوڑ ے، اب شوہر نے کہا میں اپنا حصہ مہر کے بدلہ چھوڑتا ہوں ، اس پر باقی ورثہ راضی ہو گئے تو مال اس طرح تقسیم ہو گا۔
.gif)
توضیح: اب اصل مسئلہ شوہر کے ہوتے ہوئے ۶ تھا جس میں سے ۳ شوہر کو ملنا تھے اور تہائی۔ ۲۔ ماں کو ملنا تھے، جبکہ ۱ چچا کا تھا، اس لئے شوہر کا حصہ مہر کے عوض ساقط ہو گیا اور باقی وارثوں کے حصے حسب سابق رہے۔ خلاصہ یہ کہ وارثوں کو وہی حصے ملیں گے جو تخارج سے قبل خارج ہونے والے وارث کی موجودگی میں ملتے تھے۔(3) (درمختار ج ۵ ص ۵۶۵)
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب التصحیح، فصل فی قسمۃ الترکات...إلخ، ص۷۲،۷۳.
2 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، فصل فی التخارج، ص ۷۳،۷۴.
3 ۔''الدر المختار''،کتاب الفرائض،باب المخارج،ج۱۰،ص۶۰۲.
مسئلہ ۱: ردّ عول کی ضد ہے کیونکہ عول میں حصے مخرج سے زائد ہو جاتے ہیں اور مخرج مسئلہ میں اضافہ کرناپڑتا ہے جب کہ ردّ میں حصے گھٹ جاتے ہیں اور مخرج مسئلہ میں کمی کرنا پڑتی ہے، اب اگر یہ صورت واقع ہو کہ مخرج سے اصحاب فرائض کو انکے مقررہ حصوں کے دینے کے بعد بھی کچھ بچ جائے اور کوئی عصبہ بھی موجود نہ ہو تو باقی ماندہ کو اصحاب فرائض پر اُن کے حصوں کی نسبت سے دوبارہ تقسیم کیا جائے گا۔ (1)(شریفیہ ص ۸۶، عالمگیری ج ۶ ص ۴۶۹، درمختارج ۵ ص ۵۴۷، تبیین الحقائق ج۶ ص۲۴۷)
مسئلہ ۲: شوہر اور بیوی پر ردّ نہیں کیا جائے گا، جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے۔(2) (شریفیہ ص ۸۶ و محیط سرخسی بحوالہ عالمگیری ج ۶ ص ۴۶۹، درمختار ج ۵ ص ۵۴۷، تبیین الحقائق ج ۶ ص ۲۴۷)
اس زمانے میں بیت المال کا نظام نہیں ہے اس لئے زوجین(3)پر ردّ کر دیاجائے گا جب کہ اور کوئی وارث نہ ہو۔(4) (شامی و درمختار ج ۵ ص ۶۸۹)
مسئلہ ۳: ردّ کے مسائل چار اقسام پر مشتمل ہیں۔ پہلی قسم یہ ہے کہ مسئلہ میں ان وارثوں میں سے جن پر ردّ ہوتا ہے صرف ایک قسم ہو اور جن پر ردّ نہیں ہوتا ہے یعنی (زوجین )میں سے کوئی نہ ہو اس صورت میں مسئلہ انکے عدد رؤس سے کیا جائے گا کیونکہ مال سب کا سب انہی کو دینا ہے اور چونکہ رؤس و مخرج میں تماثل ہے اس لئے مزید کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ (5)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۶۹ ، تبیین الحقائق ج ۶ ص ۲۴۷)
.gif)
مسئلہ ۴: اگر مسئلہ میں ایک سے زائد اجناس(6)ان وارثوں کی ہیں جن پر رد ہوتا ہے اور جن پر رد نہیں ہوتا ہے وہ نہیں ہیں تو مسئلہ ان کے سہام سے کیا جائے گا۔ (7)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۶۹، درمختا رج ۵ ص ۵۴۷، تبیین الحقائق ج ۶ ص ۲۴۷)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الرابع عشر فی الرد ّ وھو ضدّ العول،ج۶،ص ۴۶۹.
و''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،باب الردّ، ص ۷۴،۷۵.
2 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،باب الردّ، ص ۷۴،۷۵.
3 ۔یعنی میاں بیوی۔
4 ۔''الدر المختار''و''ردالمحتار''، کتاب الفرائض،باب العول، ج۱۰،ص۵۷۰.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب الرابع عشر فی الرد ّ وھو ضدّ العول،ج۶،ص ۴۶۹.
6 ۔اقسام۔
7 ۔''الدر المختار''و''ردالمحتار''، کتاب الفرائض،باب العول، ج۱۰،ص۵۷۲.
.gif)
توضیح= اس مسئلہ میں دادی کا حصہ چھٹا ہے اور ماں شریک بہن کا بھی یہی ہے ،مسئلہ اگر ۶ سے کیا جاتا ہے تو ہر ایک کو ایک ایک ملتا اور ۴ بچتے، اس لئے مسئلہ انکے سہام یعنی ۲ سے کر دیا گیا۔
.gif)
توضیح= چونکہ ماں شریک بہنیں دو ہیں، اس لئے انکا مقررہ حصہ ثلث 1/3 ہے، جبکہ ماں کا حصہ چھٹا ہے۔ اب اگر مسئلہ ۶ سے کیا جائے تو بہنوں کو چھ میں سے ۲ ملتے ہیں اور ماں کو ایک ۔ لہٰذا ان کے مجموعی سہام (1)۳ ہوئے پس بجائے اس کے کہ ۶ سے مسئلہ کریں ۳ ہی سے کر دیا۔ اس طرح فرض حصہ دینے کے بعد جو کچھ بچا وہ بھی انہی کی طرف ردّ ہو گیا۔
.gif)
توضیح: اصل مسئلہ ۶ سے تھا جن میں سے نصف (یعنی ۳)بیٹی کا ہے اور چھٹا یعنی ایک پوتی کا ہے تو کل حصے ۴ ہوئے انہی سے مسئلہ کر دیا گیا۔
.gif)
توضیح: چونکہ بیٹیاں ۲ ہیں ان کو چھ کا دو تہائی یعنی ۴ ملنا ہے جب کہ ماں کو ایک ملے گا اس طرح مجموعی سہام ۵ بنتے ہیں اور انہی سے مسئلہ کر دیا گیا۔
1 ۔کل حصے۔
مسئلہ ۵: اگر مَنْ یُّرَدُّ عَلَیہ (1)کی ایک جنس ہو اور من لایُردعلیہ بھی ہوں تو من لا یُرد علیہ(2)کا حصہ پہلے اس کے اقل مخارج سے دیا جائے گا اور اس مخرج سے جو بچے گا اس کو من یردّ علیہ کے رؤس پر تقسیم کر دیا جائے گا اب اگر یہ باقی انکے رؤس پر پوراپورا تقسیم ہو جائے تب تو ضرب وغیرہ کی ضرورت نہیں جیسا کہ آگے آئے گا۔ (3)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۷۰، درمختار ج ۵ ص ۵۴۷، تبیین الحقائق ج ۶ ص ۲۴۷)
.gif)
توضیح= جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اس مسئلہ میں شوہر من لا یُرد علیہ میں سے ہے جب کہ بیٹیاں من یُرد علیہ میں سے ہیں۔ اب شوہر کے لئے دو مخرج تھے ایک نصف اور دوسرا ربع، ربع اقل مخارج ہے۔ پس ہم نے ۴ سے مسئلہ کیا اور شوہر کا حصہ دے دیا۔ اب ۳ بچے تو ان کے من یرد علیہ یعنی بیٹیوں کے عد د رؤس ۳ پر تقسیم کر دیا گیا جو پورا تقسیم ہو گیا، لہٰذا مزید کسی عمل کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ ۶: اگر من لا یرد علیہ کو انکے اقل مخارج سے دینے کے بعد باقی ماندہ من یرد علیہ کے رؤس پر پورا تقسیم نہ ہو بلکہ اس میں اور ان کے اعداد رؤس میں نسبت توافق ہو تو انکے عدد رؤس کے وفق کو من لا یرد علیہ کے مخرج مسئلہ میں ضرب دی جائے گی اور حاصل کومخرج مسئلہ قرار دیا جائے گا۔ (4)
.gif)
توضیح= یہاں من لا یرد علیہ میں سے شوہر ہے جس کا اقل مخرج ۴ ہے لہٰذا مسئلہ ۴ سے ہی کیا گیا اور شوہر کو ایک دے دیا اب ۳، چھ پر پوری طرح تقسیم نہیں ہوتا، لہٰذا ہم نے ۳ اور ۶ میں نسبت دیکھی تو وہ تداخل کی ہے جو حکم توافق میں ہے ، اب بیٹیوں کے رؤس کا عدد وفق۲ ہے، ۲ کو شوہر کے مخرج مسئلہ ۴ سے ضرب دی تو حاصل ۸ آیا، پھر اسی دو کو شوہر کے حصہ میں ضرب دی
تو حاصل ۲ آیا اور بیٹیوں کے حصہ میں ضرب دی تو حاصل ۶ آیا اور ہر لڑکی کو ایک ایک ملا۔
1 ۔یعنی جس پر رد ھوتا ہے۔ 2 ۔یعنی جس پر ردنہیں ھوتا ہے۔
3 ۔''الدر المختار''و''ردالمحتار''،کتاب الفرائض،باب العول،ج۱۰،ص۵۷۲.
و''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،باب الردّ، ص۷۸.
4 ۔''الدر المختار''و''ردالمحتار''،کتاب الفرائض،باب العول،ج۱۰،ص۵۷۳.
مسئلہ ۷: اگر من لا یرد علیہ کے دینے کے بعد باقی ماندہ (1)میں اور من یرد علیہ کے رؤوس میں نسبت تباین ہو تو کل عدد رؤوس کو من لا یرد علیہ کے مخرجِ مسئلہ میں ضرب دی جائے گی اور حاصل ضرب مخرجِ مسئلہ ہو گا۔ (2)
.gif)
توضیح= شوہر کا حصہ ادا کرنے کے بعد ۳ اور ۵ میں تباین ہے، لہٰذا ۵ کو ۴ میں ضرب دیا تو حاصل بیس آیا جو مخرج مسئلہ بنایا گیا ہے پھر اس ۵ کو ہر فریق کے حصہ سے ضرب دے دی۔ ع
مسئلہ ۸: مسائل ردّ میں چوتھی قسم یہ ہے کہ من لا یرد علیہ کے ساتھ من یرد علیہ کی دو جنسیں ہوں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ من لا یرد علیہ سے باقی ماندہ کو مسئلہ من یرد علیہ پر تقسیم کیا جائے اگر پورا تقسیم ہو جائے تو ضرب کی ضرورت نہیں اور اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ بیوی کو چوتھائی ملتا ہو اور باقی من یرد علیہ پر اَثْلَاثاً(3) تقسیم ہو رہا ہو(4)۔
.gif)
توضیح= یہاں بیوی کو چوتھائی دیا گیا ہے اور مسئلہ ۴ سے کیا گیا ہے اور من یرد علیہ کا مسئلہ الگ کیا گیا ہے وہ اس طرح کہ اگر صرف دادیاں اور ماں شریک بہنیں ہوتیں تو مسئلہ بالرد ۳ ہوتا جن میں سے ۲ بہنوں کو اور ایک دادی کو ملتا۔ اب من یرد علیہ کا مسئلہ ۳ سے ہے اور من لا یرد علیہ کا حصہ دے کر ۳ بچتے ہیں لہٰذا اب ضرب کی ضرورت نہیں لیکن دادیوں پر ایک پوراتقسیم نہیں ہوتا جبکہ بہنوں پر ۲ پورے تقسیم نہیں ہوتے،دادیوں کے سہام اور اعداد رؤوس میں تباین ہے لہٰذا ان کو اپنے حال پر رکھا گیا جب کہ بہنوں کے سہام اور اعداد رؤوس میں توافق ہے لہٰذا بہنوں کا عدد وفق نکالا گیا جو ۳ ہے اب ہمارے پاس یہ اعداد رؤوس ہیں:۱،۴،۳ جو سب متباین ہیں۔ لہٰذا ہم نے بہنوں کے اعداد رؤوس کے وفق کو دادیوں کے کُل اعداد رؤس میں ضرب دیا تو حاصل ۱۲ آیا۔ پھر
1 ۔بچاہوا۔
2 ۔''الدر المختار''و''ردالمحتار''،کتاب الفرائض،باب العول، ج۱۰،ص۵۷۲.
و''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،باب الردّ، ص۷۸.
3 ۔یعنی تین حصوں میں۔
4 ۔''السراجی''،باب الردّ،ص۲۸.
اس حاصل کو من لا یرد علیہ کے مسئلہ ۴ سے ضرب دی تو حاصل اڑتالیس ۴۸ آیا پھر اسی بارہ ۱۲ سے ہر فریق کے حصہ کو ضرب دی توجو حاصل آیا وہ ہر ایک فریق کا حصہ ہے جیسا کہ آپ مثال میں دیکھ رہے ہیں۔
مسئلہ ۹: اگر من لا یرد علیہ کا حصہ دینے کے بعد باقی ماندہ من یرد علیہ کے مخرج مسئلہ پر پورا تقسیم نہ ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ من یرد علیہ کے کل مسئلہ کو من لا یرد علیہ کے مسئلہ میں ضرب دیں اب جو حاصل ہو گا وہ دونوں فریقوں کا مخرج مسئلہ ہو گا۔ (1)
.gif)
توضیح= اصولی طور پر یہ مسئلہ ۲۴ سے ہونا تھا کیونکہ آٹھواں دو تہائی اور چھٹے کے ساتھ آرہاہے لیکن حصے بچتے تھے اس لئے مسئلہ ردّ کا ہو گیا تو پہلے بیویوں کو ان کے اقل مخارج ۸ سے حصہ دیا پھر من یرد علیہ کا مسئلہ الگ حل کر کے دیکھا تو وہ ۵ ہو رہا ہے جس میں سے ۴ بیٹیوں کے حصہ میں آرہے ہیں اور ایک دادی کے، اب بیویوں کا حصہ نکالنے کے بعد ۷ بچے جو ۵ پر پورے تقسیم نہیں ہوتے، اب من لا یُرد علیہ کے باقی ماندہ ۷ اور مسئلہ من یرد علیہ ۵ میں تباین ہونے کی وجہ سے مسئلہ من یرد علیہ ۵ کو کل مسئلہ من لا یرد علیہ میں ضرب دی تو حاصل چالیس ۴۰ آیا جو فریقین کا مخرج مسئلہ ہے۔ اب ان میں سے ہر فریق کا حصہ معلوم کرنا ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ من لا یرد علیہ کے سہام کو(2)مسئلہ من لا یرد علیہ میں ضرب دیں جیسے یہاں ایک کو ۵ سے ضرب دی تو حاصل ۵ آیا یہ من لا یرد علیہ کا حصہ ہے اور من یرد علیہ میں سے ہر فریق کے حصہ کو مسئلہ من لا یرد علیہ کے باقی ماندہ سے ضرب دی جائے گی تو بیٹیوں کو ۴ ملے تھے انہیں جب ۷ میں ضرب دی گئی تو حاصل ۲۸ آیا جو بیٹیوں کامجموعی حصہ ہے، اور دادیوں کے حصے کو جب سات میں ضرب دی تو ۷ آیا یہ دادیوں کا مجموعی حصہ ہے اب اگر ہر فریق یا بعض کے حصے انکے رؤوس پر(3)پوری طرح تقسیم نہ ہوتے ہوں تو وہی عمل دہرایا جائے گا جو تصحیح کے باب میں ہم بیان کر آئے ہیں، مثلاً اسی مسئلہ میں بیویوں کی تعداد ۴ اور انکے حصے ۵ ہیں جن میں تباین ہے اس لئے ان اعداد کو یونہی رکھا گیا۔ بیٹیاں ۹ ہیں اور ان کے حصے ۲۸ ان میں بھی تباین کی نسبت ہے لہٰذا یہ بھی اپنی جگہ رہے اور یہی حال دادیوں کا ہے اب صرف رؤوس کے درمیان نسبت تلاش کی تو دادیاں ۶ اور بیویاں ۴ ہیں۔ ان میں توافق بالنصف ہے
1 ۔''السراجی''،باب الردّ، ص۲۸.
2 ۔حصوں کو۔ 3 ۔یعنی ان کی تعداد پر۔
لہٰذا ہم نے ۴ کے نصف ۲ کو ۶ میں ضرب دی تو حاصل ۱۲آیا۔ اور یہ عدد بیٹیوں کی تعداد ۹ سے توافق بالثلث کی نسبت رکھتا ہے لہٰذا ۱۲ کے ثلث ۴ کو ۹ میں ضرب دی تو حاصل ۳۶ آیا اس کو ۴۰ میں ضرب دی تو حاصل ایک ہزار چار سو چالیس آیا۔ پھر اسی مضروب سے ہر فریق کے حصوں کو ضرب دی بیویوں کے حصے ۵ کو ۳۶ سے ضرب دی تو حاصل ایک سواسی۱۸۰ آیا، جب اس کو ۴ پر تقسیم کیا تو ہر ایک کو ۴۵ ملا۔ بیٹیوں کے حصہ ۲۸ کو جب ۳۶ سے ضرب دی تو حاصل ایک ہزار آٹھ آیا۔ اس کو ۹ پر تقسیم کیاہر لڑکی کو ۱۱۲ ملا پھر دادیوں کے حصے ۷ کو ۳۶ سے ضرب دی تو حاصل دو سو باون آیااور اس کو ۶ پر تقسیم کیا تو ہر ایک کا حصہ بیالیس نکلا۔(1) (تبیین الحقائق ج ۶ ص ۲۴۸)
یہ لفظ نسخ سے نکلا ہے جس کے معنی بدلنے کے ہیں اور فرائض کی اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہے کہ میت کے ترکہ کی تقسیم سے قبل ہی اگر کسی وارث کا انتقال ہو جائے تو اس کا حصہ اس کے وارثوں کی طرف منتقل کر دیا جائے۔(2) (شریفیہ ص۱۰۴، عالمگیری ج ۶ص ۴۷۰)
مسئلہ ۱: اگر دوسری میت کے وُرَثہ بعینہٖ وہی ہیں جو پہلی میت کے تھے اور تقسیم میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا ہے تو ایک ہی مرتبہ تقسیم کافی ہو گی کیونکہ تکرار بے کار ہے۔ (3)
.gif)
اب ان بیٹیوں میں سے اگر کوئی مر جائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو سوائے حقیقی بھائی اور بہنوں کے تو اب ظاہر ہے کہ ان کے درمیان ترکہ
لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ
کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا اور اس طرح ان کے حصوں میں تقسیم کے اعتبار سے کچھ فرق نہ ہو گا لہٰذا بجائے اس کے کہ ہم دوبارہ علیحدہ مسئلہ کی تصحیح کریں ہم نے شروع سے مال اس طرح تقسیم کیا کہ مرنے والی بیٹی کو بالکل ساقط کر دیا۔ جیسے مثال سابق کو اس طرح حل کریں گے۔
.gif)
1 ۔''التبیین الحقائق''، کتاب الفرائض، ج۷، ص۵۰۵.
2 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب المناسخۃ، ص ۹۰.
3 ۔المرجع السابق.
یعنی اب بیٹیاں بجائے ۳ کے دو ہی ہیں اور مرنے والی بیٹی کا ترکہ از خود اس کے بھائیوں اور بہنوں پر منقسم ہو گا۔
مسئلہ ۲: اگر دوسری میت کے ورثہ پہلی میت کے ورثہ سے مختلف ہیں تو اس کی تصحیح کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے پہلی میت کاترکہ بیان کردہ اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جائے پھر دوسری میت کا ترکہ بھی اصول مذکورہ کی روشنی میں تقسیم کریں، اب مناسخہ کا عمل شروع ہو گا اور وہ یہ ہے کہ دوسری میت کے مسئلہ کی تصحیح اور اس کے مافی الید (یعنی جو حصہ اس کو پہلی میت سے ملا ہے) میں تین حالتوں میں سے کوئی حالت ہوگی ! یا ان دونوں میں نسبِت تماثل ہوگی(1) یا توافق ہوگی (2)یا تباین ہو گی ۔ اگر نسبتِ تماثل ہے تب تو ضرب کی ضرورت نہیں بلکہ پہلی تصحیح بمنزلہ اصل مسئلہ کے ہو جائے گی اور دوسری تصحیح کے ورثہ گویا پہلی تصحیح کے ورثہ بن جائیں گے۔ اس طرح دونوں میتوں کے وارثوں کا مخرج مسئلہ ایک ہی رہے گا اور اگر نسبت توافق ہو تو تصحیح ثانی کے عدد وفق کو پہلی تصحیح کے کُل میں ضرب دی جائے گی اور اگر نسبت تباین ہو تو تصحیح ثانی کو تصحیح اول میں ضرب دی جائے گی۔ اب جو حاصل آئے گا وہ دونوں مسئلوں کامخرج ہو گا پھر ان دونوں آخری صورتوں میں پہلی تصحیح کے ورثہ کے حصوں کو دوسری تصحیح کے کُل یا وفق میں ضرب دی جائے گی، جبکہ دوسری تصحیح کے ورثہ کو ما فی الید کے کُل یا وفق میں ضرب دی جائے گی۔ (1)
مسئلہ ۳: اگر مافی الید اور تصحیح ثانی میں نسبت تداخل ہو تو چھوٹے عدد کو کسی سے ضرب نہیں دی جائے گی بڑے عدد کے وفق سے ضرب دی جائے گی۔
مسئلہ ۴: اگر دوسرے کے بعد تیسرا چوتھا (آگے تک)مرتا رہے تو یہی اصول جاری ہوں گے صرف یہ خیال رہے کہ پہلی اور دوسری تصحیح کا مبلغ ، پہلے مسئلہ کی تصحیح کے قائم مقام ہو گا اور تیسرا بمنزلہ دوسری تصحیح کے ہو گا۔(2)
وعلیٰ ھٰذاا لقیاس۔
.gif)
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، باب المناسخۃ، ص ۹۱۔۹۴.
2 ۔السراجی، باب المناسخۃ، ص۳۴.
.gif)
توضیح= اصطلاح میں ایک میت کے ورثہ کو ایک بطن کہتے ہیں۔ اب یہ مسئلہ چار بطون پر مشتمل ہے۔ بطن اوّل میں مسئلہ ردّ کا ہے۔ 1/4حصہ شوہر کو،1/2 بیٹی کو اور 1/6 ماں کو۔ حسب قاعدہ شوہر کو اقلِّ مخارج یعنی ۴ سے حصہ دیا گیا پھر ماں اور بیٹی کا مسئلہ الگ کیا تو ۶ سے ہوا، اس میں سے نصف یعنی۳ بیٹی کو اور چھٹا یعنی ۔۱۔ ماں کو دیا۔ اب انکے حصوں کو بمنزلہ رؤوس کے قرار
دیا گیا اور ان کی نسبت شوہر کا حصہ الگ کرنے کے بعد باقی مسئلہ سے کی تو تباین کی نسبت نکلی کیونکہ ۳ اور ۴ میں تباین ہے پھر چار کو چار سے ضرب دی تو حاصل ۱۶ آیا اب جن پر رد کیا جاتا ہے انکے سہام کو ان لوگوں کے سہام میں ضرب دیا جن پر رد نہیں کیا جاتا ہے تو حاصل چار آیا اور جن پر رد کیا جاتا ہے انکے سہام کو جن لوگوں پر رد نہیں کیا جاتا انکے باقی میں ضرب دی یعنی ۔۳۔ توبیٹی کو ۹ ملے اور ماں کو ۶ ملے پھر شوہر کا انتقال ہو گیا اور اس نے اپنی دوسری بیوی اور باپ اور ماں چھوڑے۔ مسئلہ چار سے کیا چوتھائی بیوی کو دیا اور باقی ماندہ کا ایک تہائی ماں کو دیا اور باقی ۲ بطور عصوبت (1)باپ کو دیئے، اب چونکہ مخرج مسئلہ ثانی ۴ اور مافی الید ۴ میں مماثلت ہے اسلئے ضرب کی کوئی ضرورت نہیں اور دونوں مسئلوں کامخرج وہی سولہ رہا جو پہلے تھا۔ پھر کریمہ کا انتقال ہوا اس نے ایک بیٹی دو بیٹے اور نانی چھوڑی ،مسئلہ ۶ سے ہوا ایک بیٹی کوایک دادی کو ملا اور دو دو ہر بیٹے کے حصہ میں آئے۔ اب مافی الید ۹ اور مسئلہ ۶ میں توافق بالثلث ہے تو چھ کے وفق یعنی ۲ کو پہلے مسئلے سے ضرب دی تو حاصل بتیس آیا پھر اسی دو کو بطن نمبر ۲ کے ورثہ کے حصوں میں ضرب دی اور مافی الید کے وفق یعنی ۳ سے بطن نمبر ۳ کے ورثہ کے حصوں کو ضرب دی۔ اب عظیمہ کا انتقال ہوا اس نے شوہر اور ۲ بھائی چھوڑے مسئلہ ۲ سے ہوا جن میں ایک شوہر کو ملا اور چونکہ ایک دو بھائیوں پر پورا منقسم نہیں ہوتا تھا اس لئے عدد رؤوس کو اصل مسئلہ میں ضرب دی تو حاصل ۴ آیا پھر اسی مضروب کو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دی اب ما فی الید ۹ اور مسئلہ ۴ میں نسبت تباین ہے لہٰذا ۴ کو ۳۲ سے ضرب دی تو حاصل ایک سو اٹھائیس آیا۔ پھر اس چار کو اوپر والے بطون کے ورثہ کے حصوں سے ضرب دی اور ۹ کو اسی میت کے ورثہ سے ضرب دی۔
فائدہ: یہ خیال رہے کہ ضرب صرف انہی ورثہ کے حصوں میں دی جائے گی جو زندہ ہوں اور جو مُردہ ہو چکے ہیں ان کو ایک مربع خانہ میں محصور کر دیا جائے گا تاکہ ضرب دیتے وقت غلطی کا امکان نہ رہے۔ مناسخہ میں ورثہ کے نام ضرور لکھے جائیں خواہ فرضی کیوں نہ ہوں، اس لئے کہ جب ان میں سے بعض ورثہ کا انتقال ہوگا تو ان کے باہمی رشتہ کے تعین میں آسانی ہو گی۔ نیز اختتام عمل پر لفظ الاحیاء المُبْلَغ لکھ کر جو زندہ وارث ہوں ان کے مجموعی حصص(2)لکھے جائیں گے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی شخص کئی بطون سے(3)مختلف حصے پاتا ہے۔ مثلاً خالد نے بطن اول سے ۲ بطن ثانی سے ۴ بطن ثالث سے۶ حصے پائے تو اب الاحیاء کے نیچے اس کا نام لکھ کر ۱۲ لکھیں گے اس طرح عمل مناسخہ تکمیل کو پہنچے گا۔
مسئلہ ۱: اگرچہ ذوی الارحام کے معنی مطلق رشتہ داروں کے ہیں لیکن اصحاب فرائض کی اصطلاح میں اس سے مراد
1 ۔یعنی عصبہ ہونے کی وجہ سے۔ 2 ۔کل حصے۔ 3 ۔ یعنی کئی میتوں سے۔
صرف وہ رشتہ دار ہیں جو نہ تو اصحاب فرائض میں سے ہیں اور نہ ہی عصبات میں سے ہیں۔ (1)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۸، سراجی ص۳۴، شامی ج ۵ ص ۶۹۳)
مسئلہ ۲: ذوی الارحام کی چار اقسام ہیں(1)پہلی قسم میں وہ لوگ ہیں جو میت کی اولاد میں ہوں۔ یہ بیٹیوں یا پویتوں کی اولاد ہے۔ (2) دوسری قسم ، یہ وہ لوگ ہیں جن کی اولاد خود میت ہے یہ جد فاسد یا جدہ فاسدہ ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ (3) تیسری قسم ، یہ وہ لوگ ہیں جو میت کے ماں باپ کی اولاد میں ہوں جیسے حقیقی بھائیوں کی بیٹیاں یا علاتی(2)بھائیوں کی بیٹیاں اور اخیافی(3)بھائیوں کے بیٹے بیٹیاں اور ہر قسم کی بہنوں کی اولاد۔ (4) چوتھی قسم، یہ وہ لوگ ہیں جو میت کے دادا دادی، نانا نانی کی اولاد میں ہوں۔ جیسے باپ کا ماں شریک بھائی اور اس کی اولاد، پھوپھیاں اور ان کی اولاد، ماموں اور ان کی اولاد، خالائیں اور ان کی اولاد اور ماں باپ دونوں یاباپ کی طرف سے چچاؤں کی بیٹیاں یا ان کی اولاد۔(4) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۹)
مسئلہ ۳: ان میں ترتیب یہی ہے کہ پہلی قسم کے ہوتے ہوئے دوسری قسم کے ذوی الارحام وارث نہ ہوں گے اور دوسری قسم کے ہوتے ہوئے تیسری قسم کے وارث نہ ہوں گے۔ تیسری قسم کے ہوتے ہوئے چوتھی قسم کے وارث نہ ہوں گے۔ (5)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۹، کافی بحوالہ عالمگیری، شامی ج ۵ ص ۶۹۳)
مسئلہ ۴: ذوی الارحام اسی وقت وارث ہوں گے جب کہ اصحاب فرائض میں سے وہ لوگ موجود نہ ہوں جن پر مال دوبارہ رد کیا جا سکتا ہو اور عصبہ بھی نہ ہو۔(6) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۹)
مسئلہ ۵: اس پر اجماع ہے کہ زوجینکی وجہ سے ذوی الارحام محجوب نہ ہوں گے یعنی زوجین کا حصہ لینے کے بعد ذوی الارحام پر تقسیم کیا جائے گا۔(7) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۹)
مسئلہ ۶: پہلی قسم کے ذوی الارحام میں میراث کا زیادہ مستحق وہ ہے جو میت سے اقرب ہو جیسے نواسی، پر پوتی سے زیادہ مستحق ہے۔ (8)
مسئلہ ۷: اگر قربِ درجہ میں سب برابر ہیں تو ان میں سے جووارث کی اولاد ہے وہ زیادہ مستحق ہے خواہ وہ عصبہ کی اولاد ہو یا صاحب فرض کی ہو، جیسے پرپوتی نواسی کے بیٹے سے زیادہ مستحق ہے اور پوتی کا بیٹا نواسی کے بیٹے سے زیادہ مستحق ہے۔ (9) (کافی بحوالہ عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۹، شامی ج ۵ ص ۶۹۳)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب العاشر فی ذوی الارحام،ج۶،ص۴۵۸.
2 ۔باپ شریک۔ 3 ۔ماں شریک۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب العاشر فی ذوی الارحام،ج۶،ص۴۵۸.
5 ۔المرجع السابق، ص۴۵۹. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق.
9 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۸: اگر قرب میں(1)سب برابر ہوں اور ان میں وارث کی اولاد کوئی نہ ہو یا سب وارث کی اولاد ہوں تو مال سب میں برابر تقسیم کیا جائے گا جب کہ تمام ذوی الارحام مرد ہوں یا تمام عورتیں ہوں اور اگر کچھ مرد ہوں اور کچھ عورتیں ہوں تو
لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُ نْثَیَیْنِ
کے مطابق تقسیم ہو گا۔ اس حکم پر ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے جب کہ ان ذوی الارحام کے آبا و امہات (2)ذکورۃو انوثت کی صفت میں متفق ہوں۔ (3)
مسئلہ ۹: اگر اصول کی صفات ذکورت و انوثت کے اعتبار سے(4) مختلف ہوں تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک ابدان فروع کااعتبار ہو گااور مال انکے درمیان برابر تقسیم ہو گا۔ بشرطیکہ وہ سب مرد ہوں یا سب عورتیں ہوں اور اگر ملے جُلے ہوں تو
لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُ نْثَیَیْنِ
کے مطابق تقسیم ہو گا۔ (5)
.gif)
توضیح: اب چونکہ یہاں صفت اُصول متفق ہے یعنی دونو ں بیٹی کی اولاد ہیں تو مال کی تقسیم باعتبار ابدان ہو گی۔ یعنی نواسہ مرد ہونے کی وجہ سے بمنزلہ دو عورتوں کے ہے گویا کُل ۳ وارث ہوئے تومال کے تین حصہ کرلئے گئے۔ دو حصے نواسے کو اورایک حصہ نواسی کو دے دیا گیا۔(6) (عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۹، شامی ج ۵ ص ۶۹۴)
.gif)
توضیح= اب چونکہ اصول دونوں کے متفق ہیں یعنی مونث ہیں تو اب مال وارثوں کے ابدان کے اعتبار سے تقسیم ہو گا یعنی مرد کو دوگنا اور عورت کو اکہرا (7)ملے گا۔ (8)
.gif)
1 ۔یعنی رشتہ داری کے تعلق میں۔ 2 ۔یعنی اصول۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب العاشرفی ذوی الارحام،ج۶،ص۴۵۹.
4 ۔یعنی مردو عورت ہونے کے اعتبار سے ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب العاشرفی ذوی الارحام،ج۶،ص۴۵۹.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔یعنی ایک حصہ۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب العاشرفی ذوی الارحام،ج۶،ص۴۵۹.
توضیح= ا س صورت میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک ابدان کا اعتبار کرتے ہوئے مال ان کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا جائے گا۔ (1)
.gif)
توضیح= اس صورت میں بھی امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک وارثوں کے ابدان کا اعتبار کر کے نواسی کے بیٹے کو نواسے کی دونوں بیٹیوں کے برابر قرار دے کر، دو نواسی کے بیٹے کو اور ایک ایک نواسے کی دونوں بیٹیوں کو دیا جائے گا۔(2)
فائدہ: ذوی الارحام کے بارے میں امام اسبیجابی نے مبسوط میں فرمایا کہ ابو یوسف (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)کا قول اصح ہے کیونکہ وہ سہل تر ہے۔ صاحب محیط کا بیان ہے کہ بخارا کے مشائخ(3)نے ان مسائل میں ابو یوسف کے قول پر ہی فتویٰ دیا ہے۔ (4)(کافی بحوالہ عالمگیری ج ۶ ص ۴۶۰ ، بحرالرائق ج ۸ ص ۵۰۸)اس لئے اس کتاب میں ابو یوسف کا قول ہی اختیار کیا گیا ہے۔
مسئلہ۱: ذوی الارحام کی دوسری قسم وہ لوگ ہیں جن کی اولاد میں میت خود ہے، جیسے فاسد دادا اور دادی ان میں میراث کا مستحق وہی ہوگا جو میت سے زیادہ قریب ہو گاخواہ وہ باپ کی جانب کا ہو یا ماں کی جانب کااور قریب والے کے ہوتے ہوئے دور والا محروم رہے گا خواہ یہ قریب والا مؤنث ہو اور بعیدوالا مذکر ہو۔(5)(طحطاوی ص ۳۹۹ ج ۴، شامی ج ۵ ص ۶۹۵، بحرالرائق ج ۸ ص ۵۰۷ ، سراجی ص ۴۶)
.gif)
چونکہ ان تینوں میں نانا میت کے زیادہ قریب ہے اس لئے کل مال نانا ہی کو ملے گااور باقی دونوں محروم ہوں گے۔
مسئلہ ۲: اگر یہ لوگ رشتہ داری کے قرب کے اعتبار سے برابر ہوں تو انکی چھ صورتیں ہیں۔
(1) ان میں سے بعض کی نسبت میت کی جانب وارث کے واسطے سے ہو اور بعض کی نسبت وارث کے واسطے سے نہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض، الباب العاشرفی ذوی الارحام،ج۶،ص۴۵۹.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۶۰.
3 ۔یعنی بخارا کے علمائے کرام۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب العاشر فی ذوی الارحام،ج۶،ص۴۶۰.
5 ۔''السراجی''، باب ذوی الارحام،فصل فی الصنف الثانی،ص۴۱.
ہو۔ جیسے ابِ ام الام یعنی نانی کا باپ، اب ابُ الام یعنی نانا کا باپ۔
توضیح: ان میں نانی کے باپ کی رشتہ داری میت سے نانی کے واسطے سے ہے اور نانی ذوی الفروض میں ہے اور نانا کے باپ کی رشتہ داری نانا کے واسطے سے ہے وہ خود ذوی الفروض میں سے نہیں ہے بلکہ ذوی الارحام میں ہے لیکن نانی کا باپ اور نانا کا باپ درجہ میں برابر ہیں اس لئے مذہب صحیح پر دونوں وارث ہوں گے اور وارث کے ذریعہ سے رشتہ داری سبب ترجیح نہ ہوگی۔(1) (شامی ج ۵ ص ۶۹۵، طحطاوی ج ۴ ص ۳۹۹، بحرالرائق ج ۸ ص ۵۰۸ ، عالمگیری ج ۶ ص ۴۶۰)
(2) ان سب کی نسبت میت کی طرف وارث کے واسطے سے ہو جیسے اب ام اب یعنی دادی کا باپ اور جیسے ابِ ام ام یعنی نانی کا باپ۔
توضیح: دادی کے باپ کی رشتہ داری دادی کے ذریعہ سے ہے اور دادی ذوی الفروض میں ہے اسی طرح نانی کے باپ کی رشتہ داری نانی کے ذریعہ سے ہے وہ بھی ذوی الفروض میں سے ہے تو دونوں وارث ہوں گے۔
(3) ان میں سے کسی کی نسبت میت کی طرف وارث کے واسطے سے نہ ہو۔ جیسے اب اب ام یعنی نانا کا باپ و ام اب ام یعنی نانا کی ماں۔
توضیح: نانا کے باپ کی رشتہ داری نانا کے واسطے سے ہے اور نانا ذوی الارحام میں ہے۔ یہی رشتہ نانا کی ماں کا بھی ہے لہٰذا دونوں کی رشتہ داری وارث کے واسطے سے نہیں ہے تو دونوں وارث ہو جائیں گے۔
(4) ان سب کی میت سے رشتہ داری میت کے باپ کی طرف سے ہو۔ جیسے اب اب ام الاب یعنی دادی کا دادا اور ام اب ام الاب یعنی دادی کی دادی۔
(5) ان سب کی میت سے رشتہ داری میت کی ماں کی جانب سے ہو جیسے اب اب الام نانا کا باپ اور جیسے ام اب ام نانا کی ماں۔
(6) ان میں سے بعض کی رشتہ داری میت کے باپ کی جانب سے اور بعض کی رشتہ داری ماں کی جانب سے ہو، جیسے اب ام الاب یعنی دادی کا باپ اور اب ام الام نانی کا باپ۔
مسئلہ ۳: جب درجہ میں مساوی ذوی الارحام کی میت سے قرابت میں اتحاد ہو مثلاً سب میت کے باپ کی جانب کے رشتہ دار ہوں جیسا چوتھی صورت میں ہے یا سب کی قرابت میت کی ماں کی جانب سے ہوجیسے پانچویں صورت میں ہے، اور جس کے ذریعہ سے قرابت ہے وہ مذکر و مؤنث ہونے میں بھی یکساں ہے تو یہ ذوی الارحام بھی اگر خود سب مذکر ہوں یا سب مؤنث ہوں تو سب کو برابر حصہ ملے گا۔ اور اگر بعض مذکر ہیں اور بعض مؤنث تو
لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُ نْثَیَیْنِ
حصہ ہو گااور اگر جن کے ذریعہ سے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض، الباب العاشرفی ذوی الارحام،ج۶،ص۴۶۰.
نسبت تھی ان کے مذکرو مؤنث ہونے میں اختلاف ہو تو سب سے پہلی جگہ جہاں اختلاف ہوا تھا وہاں مذکروں کو(1)دو حصے اور مؤنثوں کو(2)ایک حصہ دیا جائے گا۔ (3)(طحطاوی ج ۴ ص ۳۹۹ ، شامی ج ۵ ص ۶۹۵ ، شریفیہ ص ۱۰۹)پھر مذکروں کے حصے کو انکے وارثوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ سب مذکر ہوں یا سب مؤنث تو ان کے ابدان پر برابر برابر تقسیم کر دیا جائے گا اور اگر کچھ مذکر ہیں اور کچھ مؤنث تو
لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُ نْثَیَیْنِ،
بالکل اسی طرح مؤنثوں کے حصے ان کے وارثوں میں تقسیم کئے جائیں گے۔
چوتھی صورت کی یہ تین مثالیں ہیں:
.gif)
توضیح مثال۱: اس میں دادی کے دادا اور دادی کے نانا دونوں کی رشتہ داری باپ کی جانب سے ہے اور درجہ میں بھی دونوں برابر ہیں اور دونوں مذکر ہیں لیکن دادی کے دادا کی قرابت دادی کے باپ کی وجہ سے ہے اور وہ مذکر ہے اور دادی کے نانا کی قرابت دادی کی ماں کی وجہ سے ہے اور وہ مؤنث ہے لہٰذا مال کے تین حصے کر کے دادی کے دادا کو دو حصے اور دادی کے نانا کو ایک حصہ ملے گا۔
توضیح مثال ۲: اس میں دادی کی نانی اور دادی کی دادی دونوں کی رشتہ داری باپ کی جانب سے ہے اور درجہ میں دونوں برابر ہیں اور دونوں مؤنث ہیں لیکن دادی کی دادی کی نسبت میت کی جانب دادی کے باپ کے ذریعہ سے ہے اور وہ مذکر ہے اور دادی کی نانی کی نسبت دادی کی ماں کے ذریعہ سے ہے اور وہ مؤنث ہے لہٰذا مال کے تین حصے کر کے دو حصے دادی کی دادی کو اور ایک حصہ دادی کی نانی کو ملے گا۔
توضیح مثال ۳: دادی کا دادا اور دادی کی دادی دونوں کی رشتہ داری تو باپ کی جانب سے ہے اور درجہ میں بھی برابر ہیں اور جس کے ذریعہ سے قرابت ہے وہ بھی دونوں جگہ مذکر ہے مگر یہ مذکر و مؤنث ہونے میں مختلف ہیں لہٰذا مال کے تین حصہ کر کے دو حصہ دادی کے دادا کو اور ایک حصہ دادی کی دادی کو دیا جائے گا۔
پانچویں صورت کی یہ تین مثالیں ہیں:
.gif)
1 ۔یعنی مردوں کو۔ 2 ۔یعنی عورتوں کو۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الفرائض،باب توریث ذوی الارحام،ج۱۰،ص۵۸۱.
.gif)
توضیح مثال ۱: نانا کے دادا اور نانی کا د ادا دونوں کی رشتہ داری ماں کی طرف سے ہے اور درجہ میں دونوں برابر ہیں اور دونوں مذکر ہیں۔ لیکن ذریعہ قرابت میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف ماں کے اوپر نانی اور نانا میں ہوا۔ لہٰذا وہیں مال اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ نانا کو دو حصے اور نانی کو ایک حصہ ملے گا پھر نانا کا حصہ اس کے دادا کو اور نانی کا حصہ اس کے دادا کو دیا جائے گا۔
توضیح مثال ۲: نانا کی دادی اور نانا کی نانی دونوں کی رشتہ داری ماں کی جانب سے ہے اور دونوں درجہ میں برابر ہیں اور دونوں مؤنث ہیں لیکن ذریعہ قرابت میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف نانا کے اوپر سے شروع ہوا نانا کی دادی کی قرابت نانا کے باپ کی وجہ سے ہے اور نانا کی نانی کی قرابت نانا کی ماں کی وجہ سے ہے، لہٰذا نانا کی ماں اور باپ میں پہلے مال اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ نانا کے باپ کو دو حصے اور نانا کی ماں کو ایک حصہ دیا جائے گا پھر نانا کے باپ کا حصہ اس کی ماں کو اور نانا کی ماں کا حصہ اس کی ماں کو دے دیا جائے گا۔
توضیح مثال۳: نانا کا باپ اور نانی کی ماں دونوں کی رشتہ داری ماں کی جانب سے ہے اور دونوں درجہ میں برابر ہیں مگر مؤنث و مذکر میں مختلف ہیں لہٰذا کوئی اور وارث نہ ہونے کی صورت میں مال کے تین حصہ کر کے نانا کے باپ کو دو حصے اور ایک حصہ نانی کی ماں کو ملے گا۔
میت کے بھائی بہنوں کی وہ اولادیں ہیں جو عصبات و ذوی الفروض میں نہیں ہیں مثلاً ہر قسم کے بھائیوں یعنی عینی(1)، علاتی(2)، اخیافی(3)بھائیوں کی بیٹیاں اور ہر قسم کی بہنوں کے بیٹے بیٹیاں اور اخیافی بھائیوں کے بیٹے۔
مسئلہ ۱: ان ذوی الارحام میں اگر درجہ میں تفاوت ہو تو جو زیادہ قریب ہو گا اگر چہ مؤنث ہو وہ وارث ہو گا بعید والا وارث نہیں ہو گا(4) (شامی ج ۵ ص ۶۹۵، عالمگیری ج ۶ ص ۴۶۱، بحرالرائق ج ۸ ص ۵۰۸ ، شریفیہ ص ۱۱۰ ، طحطاوی ج ۴ ص ۳۹۹)
1 ۔یعنی حقیقی بہن بھائی۔
2 ۔یعنی ایسے سوتیلے بہن بھائی جن کاباپ ایک اور مائیں مختلف ہوں۔
3 ۔یعنی ایسے سوتیلے بہن بھائی جن کی ماں ایک اور باپ مختلف ہوں۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب العاشر فی ذوی الارحام،ج۶،ص۴۶۱.
.gif)
توضیح: چونکہ بھانجی اور بھتیجی کا لڑکا دونوں ذوی الارحام کی تیسری قسم میں ہیں بھانجی قریب ہے اس لئے جب ذوی الارحام کی قسم اول اور ثانی نہ ہو تو قسم ثالث میں بھانجی وارث ہو جائے گی بھتیجی کا بیٹا وارث نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۲: اور اگر درجہ میں سب برابر ہوں تو تین صورتیں ہوں گی یا تو سب و ارث کی اولاد ہوں گے یا کوئی وارث کی اولاد نہ ہو گا یا بعض وارث کی اولاد ہوں گے اور بعض وارث کی اولاد نہ ہوں گے ۔ تواگر بعض وارث کی اولاد ہوں اور بعض وارث کی اولاد نہ ہوں تووارث کی اولاد مقدم ہو گی غیر وارث کی اولاد پر۔ (1) (شامی ج ۵ ص ۶۹۵، عالمگیری ج ۶ ص ۴۶۱، شریفیہ ص ۱۱۰، طحطاوی ج ۴ ص ۳۹۹)
.gif)
توضیح: بھتیجے کی بیٹی اور بھانجی کا بیٹا درجہ میں دونوں برابر ہیں مگر بھتیجہ خود عصبہ ہے اور بھانجی ذوی الارحام میں ہے اس لئے بھتیجے کی بیٹی وارث کی اولاد ہونے کی وجہ سے وارث ہو گی اور بھانجی کا بیٹا وارث نہیں ہو گا خواہ یہ بہن بھائی جن کی اولادیں یہ ہیں حقیقی ہوں یا علاتی ہوں یا ایک علاتی اور ایک عینی ہو تینوں صورتوں کا یہی حکم ہے۔(2) (شامی ج ۵ ص ۶۹۵)
مسئلہ ۳: اگر تیسری قسم کے ذوی الارحام سب وارث کی اولاد ہیں تو اس کی بھی تین صورتیں ہیں: (1) سب عصبہ کی اولاد ہوں۔ (2) سب ذوی الفروض کی اولاد ہوں۔ (3) بعض عصبہ کی اولاد ہوں اور بعض ذوی الفروض کی۔
مثال ۱: بنت ابن اخ حقیقی۔(3) بنت ابن اخِ حقیقی۔ بنت ابن اخ علاتی۔(4) بنت ابن اخ علاتی۔
مثال ۲: بنت اخت عینی۔(5) بنت اخت عینی۔ بنت اخت علاتی۔ (6)بنت اخت علاتی۔
مثال ۳: بنت اخ عینی۔(7) بنت اخِ اخیافی۔(8) بنت اخ علاتی(9)اور بنت اخ اخیافی۔
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الفرائض، باب توریث ذوی الارحام، ج۱۰، ص۵۷۹.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔سگے بھائی کی پوتی۔ 4 ۔باپ شریک بھائی کی پوتی۔
5 ۔سگی بھانجی۔ 6 ۔باپ شریک بہن کی بیٹی،(سوتیلی بھانجی)۔
7 ۔سگی بھتیجی۔ 8 ۔ماں شریک بھائی کی بیٹی،(سوتیلی بھتیجی)۔ 9 ۔باپ شریک بھائی کی بیٹی،(سوتیلی بھتیجی)۔
مسئلہ ۴: ذوی الارحام کی تیسری قسم میں جب کوئی عصبہ اور ذوی الفروض کی اولاد نہ ہو جیسے بنت بنت اخ(1)اور جیسے ابن بنتِ اخ(2)مسئلہ ۲ اور ۳ کی تمام صورتوں میں جب ذوی الارحام درجہ میں مساوات کے ساتھ قوت اور ضعف میں بھی برابر ہوں اور مذکر و مؤنث ہونے میں بھی یکساں ہوں تو سب کو برابر حصہ ملے گا اور اگر مذکر و مؤنث ہونے میں مختلف ہوں تو
لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُ نْثَیَیْنِ
ملے گا اور اگر قوت و ضعف میں مختلف ہوں گے تو امام ابو یوسف کے قول پر جس کو ذوی الارحام کے بارے میں ہم نے لیا ہے جو رشتہ میں قوی ہو گا وہ اولیٰ ہو گا اس سے جو رشتہ میں ضعیف ہے، یعنی حقیقی بھائی کی اولادیں علاتی بھائی کی اولادوں کے مقابلہ میں اولیٰ ہوں گی اور علاتی بھائی کی اولادیں اخیافی بھائی کی اولاد سے اولیٰ ہوں گی۔(3) (شامی ج ۵ ص ۶۹۵، عالمگیری ج ۶ ص ۴۶۱، بحرالرائق ج ۸ ص ۵۰۹، شریفیہ ص ۱۱۱ ، طحطاوی ج ۴ ص ۳۹۹)
مسئلہ۵: اگر ذوی الارحام کی تیسری قسم میں اخیافی بھائی بہنوں کی اولادیں ہوں اور ان سے مقدم کوئی مستحق وارث نہ ہو تو مذکر و مؤنث کوبرابر برابر حصہ ملے گا اس میں مذکر کو مؤنث پر کوئی فضیلت نہیں ہو گی۔(4)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۶۱ ، بحرالرائق ج ۸ ص ۵۰۹، شریفیہ ص ۱۱۱، طحطاوی ج ۴ ص ۴۰۰)
مسئلہ ۱: چوتھی قسم کے ذوی الارحام میں وہ رشتہ دار ہیں جو میت کے دادا دادی، نانانانی کی اولاد میں ہوں جیسے ماموں، خالہ، پھوپھی اور باپ کے ماں شریک بہن بھائی، اسی طرح ان کی اولادیں اور چچا کی مؤنث اولادیں۔(5) (عالمگیری ج ۶ ص۴۵۹، شریفیہ ص ۱۱۵)
مسئلہ ۲: اگر چوتھی قسم میں کا صرف ایک ہی ذو رحم ہو اور پہلی تینوں قسموں میں سے کوئی نہ ہو تو کُل مال اسی کو مل جائے گا۔ (6)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۶۲، شریفیہ ص ۱۱۵)
مسئلہ ۳: ان کی اولادوں میں جو میت سے زیادہ قریب ہو گا وہ وارث ہو گا بعید والا وارث نہیں ہو گا۔ یہ قریب خواہ باپ کی جانب کا ہو یا ماں کی جانب کا اور خواہ مذکر ہو یا مؤنث۔ (7)(عالمگیری ج ۶ ص ۴۶۳، شریفیہ ص ۱۱۷)
1 ۔بھائی کی نواسی۔ 2 ۔بھائی کا نواسہ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب العاشر فی ذوی الارحام،ج۶،ص۴۶۱.
و''ردالمحتار''،کتاب الفرائض، باب توریث ذوی الارحام، ج۱۰، ص۵۷۹.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الفرائض،الباب العاشر فی ذوی الارحام ،ج۶،ص۴۶۱.
5 ۔المرجع السابق،ص۴۵۹. 6 ۔المرجع السابق،ص۴۶۲. 7 ۔المرجع السابق.
.gif)
مندرجہ بالا مثالوں میں جو قریب تھا وہ وارث ہوا اور بعید والاوارث نہ ہوا۔
مسئلہ ۴: ان ذوی الارحام میں درجہ میں مساوی چند موجود ہوں خواہ سب باپ کی جانب کے ہوں یا سب ماں کی جانب کے ہوں یا کچھ باپ کی جانب کے یا کچھ ماں کی جانب کے تو ان میں سے جو وارث کی اولاد ہو گا وہ ذوی الارحام کی اولاد
کے مقابلہ میں راجح ہو گا۔ یعنی وارث کی اولاد کو ترکہ ملے گا اور ذی رحم کی اولاد کو نہیں ملے گا۔(1) (مبسوط ج ۳۰ ص ۲۱)
.gif)
توضیح مثال ۱: چچا کی بیٹی اور پھوپھی کی بیٹی دونوں رشتہ میں مساوی ہیں اور دونوں کی قرابت بھی باپ کی طرف سے ہے لیکن چچا کی بیٹی عصبہ کی اولاد ہے اور پھوپھی کی بیٹی ذوی الارحام کی اولاد ہے اس لئے کُل مال چچا کی بیٹی کو ملے گا اور پھوپھی کی بیٹی محروم ہو گی۔
توضیح مثال۲: ماموں کی بیٹی اور خالہ کا بیٹا دونوں رشتہ میں برابر ہیں اور دونوں ماں کی جانب سے ہیں اور ان میں وارث کی اولاد کوئی نہیں ہے اس لئے دونوں وارث ہوں گے تین حصے کر کے دو حصے خالہ کے بیٹے کو اور ایک حصہ ماموں کی بیٹی کو ملے گا۔
توضیح مثال ۳: چچا کی بیٹی اور ماموں کابیٹا دونوں رشتہ میں تو برابر ہیں مگر چچا کی بیٹی کی رشتہ داری باپ کی جانب سے ہے اور ماموں کے بیٹے کی رشتہ داری ماں کی جانب سے ہے لیکن چچا کی بیٹی عصبہ کی اولاد ہے اور ماموں کا بیٹا ذی رحم کی اولاد ہے اس لئے چچا کی بیٹی کو کُل مال مل جائے گا اور ماموں کا بیٹا محروم ہو گا۔
مسئلہ ۵: اگر درجہ میں مساوی صرف ایک جانب کے ذوی الارحام نہ ہوں اور ان میں وارث کی اولاد کوئی نہ ہو تو ان میں قوتِ قرابت بھی وجہ ترجیح ہو گی یعنی حقیقی رشتہ داری علاتی پر راجح ہو گی اور علاتی اخیافی پر اور اگر دونوں طرف کے ذوی
1 ۔''المبسوط''، باب میراث ذوی الارحام، فصل فی میراث اولادالعمات...إلخ،ج۱۵،الجزء الثلاثون،ص۲۶.
الارحام ہوں گے تو ایک جانب کی قوتِ قرابت دوسری جانب پر اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ دو تہائی حصہ باپ کی طرف والوں کو اورایک تہائی ماں کی طرف والوں کو ملے گا اور ایک حیثیت کے مساوی ذوی الارحام میں ہر جگہ اس اصول پر بھی عمل کیا جائے گا
لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُ نْثَیَیْنِ ۔
(1) (مبسوط ج ۳۰ ص ۲۱)
.gif)
توضیح مثال ۱: چونکہ تینوں پھوپھیوں کے بیٹے قرابت میں(2)برابر ہیں مگر حقیقی پھوپھی کے بیٹے کی قرابت ماں اور باپ دونوں جانب سے ہے اس لئے وہ علاتی اور اخیافی پھوپھیوں کے بیٹوں پر راجح ہو گا اورکل مال اس کو مل جائے گا اور وہ دونوں محروم ہو جائیں گے۔
.gif)
توضیح مثال ۲: دونوں پھوپھیوں کے بیٹے درجہ میں برابر ہیں مگر علاتی پھوپھی کے بیٹے کی قرابت باپ میں شرکت کی وجہ سے ہے اور اخیافی پھوپھی کے بیٹے کی قرابت باپ کی ماں کی وجہ سے ہے باپ کی قرابت ماں کی قرابت سے قوی ہے۔ لہٰذا علاتی پھوپھی کا بیٹا وارث ہو گا اخیافی پھوپھی کا بیٹا وارث نہیں ہو گا۔
.gif)
توضیح مثال ۳: تینوں ماموں کے بیٹے درجہ میں برابر ہیں اور سب کی قرابت ماں کی وجہ سے ہے لیکن حقیقی ماموں کے بیٹے کی رشتہ داری نانا نانی دونوں کی وجہ سے ہے اور علاتی ماموں کے بیٹے کی قرابت صرف نانا سے ہے اور اخیافی ماموں کے بیٹے کی قرابت صرف نانی کی وجہ سے ہے، لہٰذا حقیقی ماموں کا بیٹا وارث ہو گا اور دوسرے دونوں ماموں کے بیٹے محروم ہوں گے۔
1 ۔''المبسوط''، باب میراث ذوی الارحام، فصل فی میراث اولادالعمات...إلخ،ج۱۵،الجزء الثلاثون،ص۲۶.
2 ۔یعنی رشتہ داری کے تعلق میں۔
.gif)
توضیح مثال ۴: علاتی اخیافی دونوں خالاؤں کی بیٹیاں درجہ میں مساوی ہیں اور دونوں کی رشتہ داری ماں کی جانب سے ہے لیکن علاتی خالہ کی بیٹی کی رشتہ داری ماں کے باپ یعنی نانا کی وجہ سے ہے اور اخیافی خالہ کی بیٹی کی رشتہ داری ماں کی ماں یعنی نانی کی وجہ سے ہے۔ باپ کی رشتہ داری ماں کی رشتہ داری سے قوی ہے لہٰذا کُل مال علاتی خالہ کی بیٹی کو مل جائے گا اور اخیافی خالہ کی بیٹی محروم ہو گی۔
.gif)
توضیح مثال ۵: علاتی پھوپھی کا بیٹا اور حقیقی ماموں کابیٹا درجہ میں دونوں برابر ہیں لیکن جہت قرابت علیٰحدہ علیٰحد ہ ہے پھوپھی کے بیٹے کی قرابت باپ کی جانب سے ہے اور صرف دادا کی وجہ سے ہے اور ماموں کے بیٹے کی قرابت ماں کی جانب سے ہے اور اس کی قرابت نانا نانی دونوں کی جانب سے ہے تو جہتِ قرابت مختلف ہونے کی وجہ سے ماموں کے بیٹے کی قوتِ قرابت سے پھوپھی کا بیٹا ضعفِ قرابت کے باوجود محروم نہیں ہو گا۔
مسئلہ ۶: جہت قرابت مختلف ہونے کے بعد جیسا اوپر بیان کیا گیا قوتِ قرابت وجہ ترجیح نہیں ہوتی ہے بلکہ باپ کی طرف والے ذوی الارحام کو دو حصے اور ماں کی طرف والے ذوی الارحام کو ایک حصہ ملتا ہے پھر باپ کی طرف والے رشتہ دار ایک فریق بن جائیں گے اور ماں کی طرف کے رشتہ دار ایک فریق۔ ان میں آپس میں قوتِ قرابت سے ترجیح ہو گی اور ہر فریق میں اگر صرف مذکر یا صرف مؤنث ذوی الارحام ہوں تو ان کوبرابربرابر حصہ ملے گا اور اگر مختلف ہوں تو
لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُ نْثَیَیْنِ
پر بھی عمل ہو گا ۔
.gif)
توضیح مثال ۳: پھوپھی کے بیٹے اور بیٹی کی رشتہ داری باپ کی جانب سے ہے اور ماموں کے بیٹے اور خالہ کی بیٹی کی رشتہ داری ماں کی جانب سے ہے اس لئے تین سے مسئلہ کر کے دو حصے پھوپھی کی اولاد کو اور ایک حصہ ماموں اور خالہ کی اولاد کو دیا گیا پھر پھوپھی کی اولاد علیحدہ ایک فریق ہو کر اپنا حصہ اس طرح تقسیم کریں گے کہ مذکر کو دو حصے اور مؤنث کو ایک حصہ ملے گا اسی طرح ماموں کا بیٹا اور خالہ کی بیٹی ایک فریق بن کر اپنا حصہ اس طرح تقسیم کر لیں گے کہ ماموں کے بیٹے کو دو حصے اورخالہ کی بیٹی کو ایک حصہ ملے گا اس لئے تین سے تصحیح کر کے نو سے مسئلہ ہو گیا ان میں کے دو تہائی یعنی چھ باپ کے فریق والوں کے ہیں وہ اس طرح تقسیم ہو گئے کہ چار پھوپھی کے بیٹے نے اور دو پھوپھی کی بیٹی نے لے لئے اور ماں کی طرف والے ماموں کے بیٹے اور خالہ کی بیٹی نے نو کا ایک تہائی یعنی تین اس طرح تقسیم کر لیا کہ دو ماموں کے بیٹے نے اور ایک خالہ کی بیٹی نے لے لیا۔
.gif)
توضیح مثال ۱: پھوپھی اور ماموں خالہ کی اولادیں درجہ میں برابر ہیں اور جہتِ قرابت میں مختلف اس لئے تین سے مسئلہ کر کے دو باپ کی قرابت والی پھوپھی کی بیٹیوں کو اور ایک ماں کی قرابت والے ماموں اور خالہ کے بیٹوں کو دیا گیا۔ پھر تین سے تصحیح کر کے مسئلہ کو صحیح کر دیا گیا یہاں ماں کی قرابت ماموں اور خالہ قوتِ قرابت رکھتے تھے مگر ان کی قوتِ قرابت نے باپ کی طرف علاتی پھوپھی کی اولاد کو محروم نہ کیا۔
.gif)
توضیح مثال ۲: باپ اور ماں دونوں جانب کے ذوی الارحام ہیں اور درجہ میں سب برابر ہیں اور حقیقی پھوپھی کا بیٹا قوی قرابت رکھتا ہے لیکن جہت مختلف ہونے کی وجہ سے وہ ماں کی طرف والے ذوی الارحام علاتی ماموں کے بیٹے اور اخیافی خالہ کی بیٹی کو محروم نہیں کریگا لہٰذ اتین حصے کر کے دو حصے باپ کی طرف والے ذوی الارحام کواور ایک حصہ ماں کی طرف والے ذوی الارحام کو دیا گیا پھر ہر فریق میں قوت قرابت نے اثر کیا تو حقیقی پھوپھی کے بیٹے نے اپنے فریق کا کُل حصہ یعنی د و سہام لے لیا اور علاتی پھوپھی کا بیٹا محروم ہو گیا اسی طرح ماں کی طرف والے ذوی الارحام میں علاتی ماموں کے بیٹے نے قوت قرابت کی وجہ
سے اپنے فریق کا پورا حصہ ایک سہام لے لیا اور اخیافی خالہ کی بیٹی کو محروم کر دیا۔
اگرچہ اس کا موقع شاذونا در ہی آتا ہے تاہم اگر آجائے تو حکم شرع معلوم ہونا ضروری ہے اس لئے ہم کتاب کی تکمیل کے لئے اس باب کو شامل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
مسئلہ ۱: مخنث وہ شخص ہے جس میں مرد اور عورت دونوں کے اعضاء ہوں یا دونوں میں سے کوئی عضو نہ ہو۔ اگر دونوں عضو ہوں تو یہ دیکھا جائے گا کہ وہ پیشاب کون سے عضو سے کرتا ہے اگر مردانہ عضو سے پیشاب کرتا ہے تو مرد کا حکم ہے اور اگر زنانہ عضو سے پیشاب کرتا ہے تو عورت کا حکم ہے اور اگر دونوں سے پیشاب کرتا ہے تو یہ دیکھا جائے گا پہلے پیشاب کون سے عضو سے کرتا ہے، جس سے پہلے پیشاب کریگا اس کا حکم ہو گا اور اگر دونوں عضو سے ایک ساتھ پیشاب کرتا ہے تو اس کو خنثیٰ مشکل کہتے ہیں یعنی اس کے مرد و عورت ہونے کا کچھ پتہ نہیں چلتا، اسی کے احکام یہاں بیان کئے جاتے ہیں اور یہ حکم اس وقت ہے جبکہ وہ بچہ ہے اور اگر بلوغ کی عمر کو پہونچ گیا اور اس کو داڑھی نکل آئی یا مردوں کی طرح احتلام ہو یا جماع کرنے کے لائق(1)ہوجائے تو اسے مرد مانا جائے گا اور اگر اس کے پستان ظاہر ہوئے یا ماہواری آئی تو عورت مانا جائے گا اور اگر دونوں قسم کی علامتیں نہ پائی گئیں یا دونوں قسم کی علامتیں پائی گئیں جب بھی خنثیٰ مشکل کہلائے گا۔(2)(درمختار و شامی ج ۵ ص ۶۳۶ ،بزازیہ برعالمگیری ج ۶ ص ۴۷۶ ، عالمگیری ج ۶ ص ۴۳۷)
مسئلہ ۲: خنثیٰ مشکل کا حکم یہ ہے کہ اس کو مذکر و مؤنث مان کر جس صورت میں کم ملتا ہے وہ دیا جائے گا اور اگر ایک صورت میں اسے حصہ ملتا ہے اور ایک صورت میں نہیں ملتا تو نہ ملنے والی صورت اختیار کی جائے گی۔(3) (درمختار و شامی ج ۵ ص۶۳۸)
.gif)
1 ۔یعنی عورت سے مباشرت کرنے کے قابل ہو جائے۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الخنثٰی،الفصل الاول فی تفسیرہٖ...إلخ،ج۶،ص۴۳۷.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الخنثٰی،ج۱۰،ص۴۸۲.
.gif)
تشریح: اگر خنثیٰ کو لڑکا مانتے ہیں تو اسے ۵ حصوں میں سے دو حصے ملتے ہیں اور اگر اسے لڑکی مانتے ہیں توچار حصوں میں سے ایک حصہ ملتا ہے اور ظاہر ہے کہ 2/5 1/4 سے زیادہ ہے، لہٰذا اس کو مؤنث والا حصہ یعنی 1/4 دیا جائے گا۔
.gif)
تشریح: اگر خنثیٰ کو باپ کی طرف سے بھائی قرار دیا جائے تو وہ عصبہ بنے گا اور اس کے لئے کچھ نہ بچے گا اس لئے کہ نصف شوہر کا اور نصف حقیقی بہن کا فرض حصہ ہے اور عصبہ کو اس وقت ملتا ہے جب ذوی الفروض سے کچھ بچے، اور جب خنثیٰ کو باپ کی طرف سے بہن فرض کیا گیا تو وہ ذوی الفروض میں سے ہے اور ۶ سے مسئلہ بنانے کے بعد نصف یعنی ۳ شوہر کو ملے اور نصف حقیقی بہن کو اور خنثیٰ کوچھٹا حصہ یعنی ایک ، بہنوں کا دو تہائی حصہ پوراکرنے کے لئے اور مسئلہ عول ہو کر ۷ سے ہو گیا لہٰذا خنثیٰ کومذکر مان کر محروم رکھا جائے گا۔(1)(شریفیہ ص ۱۲۶ ،عالمگیری ج ۶ ص ۴۳۷)
اگر تقسیم وراثت کے وقت بیوی کے پیٹ میں بچہ ہے تو اس کا حصہ محفوظ رکھا جائے گا جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔
مسئلہ ۱: بچہ ماں کے پیٹ میں زیادہ سے زیادہ دو سال رہ سکتا ہے اور کم از کم مدت حمل چھ ماہ ہے۔ (2)
مسئلہ ۲: اگر حمل میت کا ہے اور دو سال کے دوران بچہ پیدا ہوا اور عورت نے ابھی تک عدت ختم ہونے کا اقرار نہ کیا
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،کتاب الفرائض، فصل فی الخنثٰی،ص۱۲۶.
2 ۔''السراجی''، فصل فی الحمل،ص۵۱.
ہو تو یہ بچہ وارث بھی ہو گا اور اس کے مال کے اور لوگ بھی وارث ہوں گے اور اگر دو سال پورے ہونے کے بعد بچہ پیدا ہوا تو یہ بھی وارث نہیں ہو گا اور اس کا بھی وارث کوئی نہیں ہو گا۔(1) (شا می ج ۵ ص ۷۰۲ ، سراجی ص ۵۸)
مسئلہ ۳: حمل سے پیدا ہونے والا بچہ اس وقت وارث ہو گا جب کہ وہ زندہ پیدا ہو یا اس کا اکثر حصہ زندہ باہر ہوا ہو اور زندگی کو اس طرح جانا جائے گا کہ وہ روئے یا چھینکے یا کوئی آواز نکالے یا اس کے اعضا حرکت کریں۔(2) (تبیین ج ۶ ص۲۴۱، سراجی ص۵۸، شامی ج ۵ ص ۷۰۱،عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۶)
مسئلہ ۴: اگر بچہ اس طرح پیدا ہوا کہ اس کا سر پہلے نکلا تو سینہ پر دارومدار ہے اگر سینہ زندہ رہ کر نکل آیا تو وارث ہو گا اور اگر سینہ نکلنے سے پہلے مر گیا تو وارث نہیں ہو گا اور اگر پیر پہلے نکلے ہیں تو ناف کا اعتبار ہو گا اگر ناف ظاہر ہونے تک زندہ تھا تو وارث ہو گا ورنہ نہیں۔ (3)(سراجی ص ۵۹، عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۶)
مسئلہ ۵: بہتر تو یہ ہے کہ ترکہ تقسیم کرنے میں بچہ کی پیدائش کا انتظار کر لیا جائے تاکہ حساب میں کوئی تبدیلی نہ کرنا پڑے اور اگر ورثا انتظار کرنے کو تیار نہ ہوں تو حمل کے احکام پر عمل کیا جائے۔
مسئلہ ۶: حمل کی دو صورتیں ہیں: (1) میت کا حمل ہے (2) میت کے علاوہ کسی دوسرے رشتہ دار کا حمل ہو جو میت کاوارث بن سکتا ہو۔ اگر میت کا حمل ہے تو اس کو لڑکا فرض کرنے اور لڑکی فرض کرنے کی صورتوں میں سے جس صورت میں زیادہ حصہ ملتا ہے وہ حصہ محفوظ رکھا جائے گا۔
مسئلہ ۷: ایک مرتبہ حمل کو مذکر مان کر مسئلہ نکالا جائے اور ایک مرتبہ حمل کو مؤنث مان کر مسئلہ نکالا جائے پھر دونوں مسئلوں کی تصحیح میں اگر توافق ہو تو ہر ایک کے وفق کو دوسرے کے کل میں ضرب دیاجائے اور اگر دونوں تصحیح میں تباین ہو تو ہر تصحیح کو دوسری تصحیح میں ضرب دے دیا جائے اور دونوں صورتوں میں حاصل ضرب دونوں مسئلوں کی تصحیح قرار پائے گی اور دونوں مسئلوں میں سے ہر وارث کو جو سہام ملے ہیں ان میں بھی یہ عمل کیا جائے کہ دونوں مسئلوں کی تصحیح میں توافق ہونے کی صورت میں ایک مسئلہ کے وفق تصحیح کو دوسرے مسئلہ میں سے ہر وارث کے سہام میں ضرب دی جائے اور دونوں تصحیحوں میں تباین کی صورت
1 ۔''السراجی''، فصل فی الحمل،ص۵۲.
2 ۔المرجع السابق،ص۵۳
3 ۔''السراجی''، فصل فی الحمل،ص۵۳.
و''ردالمحتار''،کتاب الفرائض، باب توریث ذوی الأرحام، فصل فی الغرقی ا ...إلخ،ج۱۰،ص۵۸۷.
میں ہر تصحیح کو دوسری تصحیح میں سے ہر وارث کے سہام میں ضرب دیجائے اب دونوں مسئلوں میں ہروارث کے حصوں کو دیکھاجائے جو کم ہو وہ ہر وارث کو اس وقت دے دیا جائے اورجتنا زیادہ ہے وہ محفوظ رکھا جائے گا بچہ پیدا ہونے کے بعد جو مال محفوظ رکھا گیا تھا اس میں سے جس وارث کے حصہ میں سے کاٹ کر اسے کم دیا گیا تھا اس کا حصہ پورا کر دیا جائے گا اور اگر وہ اپنا حصہ پورا لے چکا تھا تو اس کے حصہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی اور حمل سے پیدا ہونے والا بچہ اپنا حصہ لے لے گا۔
.gif)
توضیح: حمل کو مذکر ماننے کی صورت میں مسئلہ ۲۴ سے تھا اورمؤنث ماننے کی صورت میں مسئلہ ۲۷ سے تھا اور ۲۴ اور ۲۷ میں توافق بالثلث ہے یعنی ۳ دونوں کو تقسیم کر دیتا ہے اس لئے ۲۴ کے وفق۸ کو ۲۷ میں ضرب دیا تو ۲۱۶ ہوا اور ۲۷ کے وفق ۹ کو ۲۴ میں ضرب دیا جب بھی ۲۱۶ ہوئے لہٰذا اب دونوں مسئلوں کی تصحیح ۲۱۶ ہے اور حمل کو مذکر ماننے کی صورت میں عدد تصحیح ۲۴ تھا اس کا وفق ۸ ہے لہٰذا ۸ کو دوسرے مسئلہ کی تصحیح ۲۷ میں سے ہر وارث کو جو سہام ملے تھے اس میں ضرب دیاگیا اور حمل کو مؤنث ماننے کی صورت میں تصحیح کا عدد ۲۷ تھا اس کا وفق ۹ ہے اس لئے ۹ کو دوسرے مسئلے میں سے ہر وارث کے سہام میں ضرب دیا گیا اب دونوں مسئلوں میں ہر وارث کے حصوں کو دیکھا باپ کو پہلے مسئلہ میں ۳۶ اور دوسرے مسئلے میں ۳۲ سہام ملے اس لئے اس کو ۳۲ دے دیئے جائیں گے اور چار سہام محفوظ رکھے جائیں گے۔ اسی طرح ماں کو بھی پہلے مسئلہ میں ۳۶ اور دوسرے میں ۳۲ سہام ملے اس کو بھی ۳۲ دیئے جائیں گے چار سہام محفوظ رکھے جائیں گے۔ بیوی کو پہلے مسئلہ میں ۲۷ اور دوسرے مسئلہ میں ۲۴ سہام ملے ۲۴ اس کودے دیئے جائیں گے اور ۳ محفوظ رکھے جائیں گے۔ لڑکی کو پہلے مسئلہ میں ۳۹ اور دوسرے مسئلہ میں ۶۴ سہام ملے اس لئے ۳۹ دیئے جائیں گے اور ۲۵ سہام محفوظ رکھے جائیں گے۔ پھر اگر حمل سے لڑکا پیدا ہوا تو ۷۸ سہام جو پہلے مسئلہ میں اسے ملے تھے اس کو دے دیئے
جائیں گے اور باپ کے جو ۴ سہام محفوظ تھے وہ اسکو اور ماں کے جو ۴ سہام محفوظ تھے وہ اس کو اور بیوی کے تین سہام محفوظ تھے وہ اس کو دے دیئے جائیں گے۔ اس طرح ۲۱۶ سہام پورے ہو جائیں گے۔ اور اگر حمل سے لڑکی پیدا ہوئی تو ماں باپ اور بیوی اپنا پورا حصہ لے چکے ہیں ان کومحفوظ سہام سے کچھ نہیں ملے گا لیکن بیٹی کے جو ۲۵سہام محفوظ تھے وہ اس کو دے دیئے جائیں گے اور ۶۴ سہام پیدا ہونے والی لڑکی کودے دیئے جائیں گے۔ اس طرح پھر مجموعہ ۲۱۶ سہا م پورا ہو جائے گا اور اگر حمل سے مردہ بچہ پیدا ہوا تو لڑکی نصف مال کی مستحق تھی اور اسے ۳۹ سہام دیئے گئے تھے لہٰذا اس کو ۶۹ سہام اور دے دیئے جائیں گے اس طرح اس کا کُل حصہ ۲۱۶ کا نصف ۱۰۸ سہام ہو جائے گا اور ماں اور باپ کے ۴،۴ سہام جو کاٹے گئے تھے وہ ان کودےدیئے جائیں گے اور ۳ سہام بیوی کے کاٹے گئے تھے وہ اس کو دیدئیے جائیں گے اور ۹ سہام محفوظ مال میں سے بچیں گے وہ باپ کو عصبہ ہونے کی وجہ سے دے دیئے جائیں گے۔ (1)
.gif)
توضیح: حمل کو مذکر ماننے کی صورت میں مسئلہ ۷ سے ہوا تھا اور مؤنث ماننے کی صورت میں ۶ سے اور ۶ اور ۷ میں تباین ہے اس لئے ۷ کو دوسرے مسئلہ کی تصحیح ۶ میں ضرب دیا تو ۴۲ ہوئے اور دوسرے مسئلہ کی تصحیح ۶ کو ۷ میں ضرب دیا جب بھی ۴۲ہوئے اسی طرح پہلے مسئلہ کی تصحیح ۷ کو دوسرے مسئلہ میں سے وارثوں کے ہر حصہ میں ضرب دیا اوردوسرے مسئلہ کی تصحیح ۶ کو پہلے مسئلہ کی تصحیح میں سے ہرو ارث کے حصہ میں ضرب دیا تو لڑکوں کو حمل مذکر ماننے کی صورت میں ۱۲ ، ۱۲ سہام اور لڑکی کو ۶ سہام ملے
1 ۔''السراجی''، فصل فی الحمل،ص۵۲.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الفرائض، باب توریث ذوی الأرحام، فصل فی الغرقی ا ...إلخ،ج۱۰،ص۵۸۷.
اور حمل کو مؤنث ماننے کی صورت میں لڑکوں کو ۱۴، ۱۴ سہام اور لڑکی کو ۷ سہام ملے لہٰذا کم والے حصے یعنی لڑکوں کو ۱۲ ، ۱۲ اور لڑکی کو ۶سہام دیئے جائیں گے اور باقی ۱۲ سہام محفوظ رکھے جائیں گے اگر حمل سے لڑکا پیدا ہوا تو اس کو ۱۲ سہام دے دیئے جائیں گے وہی اس کا پورا حصہ تھا اور اگر لڑکی پیدا ہوئی تو اس کے حصہ کے ۷ سہام اس کو دے دیئے جائیں گے اور ۲ ، ۲ سہام ہر لڑکے کو اور ایک سہم لڑکی کو دے کر ان کے حصے پورے کر دیئے جائیں گے۔ اس لئے کہ وہ اب زیادہ کے مستحق ہیں زوجہ خلع سے طلاق بائن حاصل کرنے کی وجہ سے محروم رہے گی۔
مسئلہ ۵: اگر میت کے علاوہ کسی دوسرے کا حمل ہو تو مورث کی موت کے چھ ماہ یا اس سے کم میں بچہ پیدا ہونے سے وارث ہو گا اور چھ ماہ کے بعد پیدا ہونے سے وارث نہیں ہو گا لیکن اگر چھ ماہ کے بعد پیدا ہواور عورت نے عدت ختم ہونے کا اقرارنہ کیا ہو اور دوسرے ورثا یہ اقرار کریں کہ یہ حمل میت کی موت کے وقت موجود تھا تو چھ ماہ کے بعد پیدا ہونے سے بھی وارث ہو جائے گا۔ (1)(شامی ج ۵ ص ۷۰۲، شریفیہ ص ۱۳۲، سراجی ص ۵۸، عالمگیری ج ۶ ص ۴۵۵)
مسئلہ ۶: مذکورہ بالا صورت میں بھی وہی حکم ہے کہ حمل کو مذکر و مؤنث مان کر علیحدہ علیحدہ دو مسئلے بنائیں جائیں گے اور ورثا کو دونوں مسئلوں میں سے جوکم حصہ ملتا ہو گا وہ دے دیا جائے گا اور باقی محفوظ رکھ کر بچہ پیدا ہونے کے بعد جو صورت ہوگی اس پر عمل کیا جائے گا۔(2) (شامی ج ۵ ص ۷۰۲)
.gif)
1 ۔''السراجی''، فصل فی الحمل،ص۵۳.
و''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،کتاب الفرائض، فصل فی الحمل،ص۱۳۲.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الفرائض، باب توریث ذوی الأرحام، فصل فی الغرقی ا ...إلخ،ج۱۰،ص۵۸۸.
توضیح: حمل مذکر ماننے کی صورت میں شوہر کو ۱۲ سہام اور حمل کو مؤنث ماننے کی صورت میں ۹ سہام ملیں گے لہٰذا اسے ۹ سہام دے دیئے جائیں گے اور ۳ سہام محفوظ رکھے جائیں گے ماں کوحمل مذکر ماننے کی صورت میں ۸ سہام اور مؤنث ماننے کی
صورت میں ۶ سہام ملیں گے لہٰذا اسے ۶ سہام دئیے جائیں گے ۔ اس طرح دونوں کو ۱۵ سہام دینے کے بعد ۹ سہام محفوظ رہیں گے۔ اگر حمل سے لڑکی پیدا ہوئی تو یہ ۹ سہام اس کا حصہ ہے اس کو دے دیئے جائیں گے اور شوہر اور ماں اپنا پورا حصہ لے چکے تھے اس لئے کوئی تبدیلی نہیں ہو گی اور حمل سے لڑکا پیدا ہوا تو یہ بچہ ۴ سہام کا مستحق(1)ہے لہٰذا ۴ سہام اس کو دے دیئے جائیں گے اور تین سہام شوہر کو اور ۲ سہام ماں کودیدئیے جائیں گے کیونکہ وہ اس کے مستحق ہیں اور انہیں کے حصہ سے یہ سہام محفوظ کئے گئے تھے۔ اس مسئلہ میں حمل کو لڑکا فرض کرنے کی صور ت میں چونکہ وہ بھائی ہے اس لئے عصبہ ہو گا اور ماں اور شوہر ذوی الفروض میں سے ہیں ان دونوں کا فرض حصہ نکالنے کے بعدجو باقی بچا وہ اس کو دے دیا گیا اور حمل کو مؤنث ماننے کی صورت میں وہ حقیقی بہن ہو گی اور ذوی الفروض میں ہونے کی وجہ سے نصف مال کی مستحق ہو گی۔ لہٰذا ماں اورشوہر کے ساتھ مل کر اس کے حصہ کی وجہ سے سے عول کیا گیا اور اسے اس کا فرض حصہ دیا گیا وہ عصبیت(2)کے حصہ سے زیادہ ہے۔
مسئلہ ۷: حمل کی ان تمام صورتوں میں حمل میں ایک بچہ مان کر تخریج مسائل کی گئی ہے(3)اس لئے کہ اسی قول پر فتویٰ ہے لیکن یہ احتمال(4)ہے کہ حمل سے ایک سے زیادہ بچے پیدا ہوں اس لئے تمام وارثوں کی طرف سے ضامن لیا جائے گا تاکہ اگر زیادہ بچے پیدا ہوں تو ان وارثوں سے مال واپس دلانے کاوہ ضامن ذمہ دار ہو۔(5)(شامی ج ۵ص ۷۰۱، شریفیہ ص ۱۳۲ ، سراجی ص۵۸)
مسئلہ ۸: ان تمام مسائل میں حصہ محفوظ رکھنے کا حکم ان وارثوں کے حق میں ہے جن کا حصہ زیادہ سے کمی کی طرف تبدیل ہو جاتا ہے اور جن کاحصہ تبدیل نہیں ہوتا ہے ان کے حق میں محفوظ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں، مثلاً دادی ، نانی اور حاملہ زوجہ اور جن وارثوں کی یہ حالت ہو کہ حمل کے مذکر و مؤنث ہونے کی صورتوں میں سے ایک صورت میں محروم ہوتے ہیں اور ایک صورت میں وارث ہوتے ہیں تو انہیں کچھ نہیں دیا جائے گا اور ان کا حصہ محفوظ بھی نہیں رکھا جائے گامثلاً بھائی اور چچا جب حاملہ زوجہ کے ساتھ ہوں تو اگر حمل سے لڑکا پیدا ہوا تو یہ لوگ محروم رہیں گے اور اگرلڑکی پیدا ہوئی تو یہ عصبہ ہو کر وارث ہو جائیں گے لہٰذا ان کے لئے کوئی حصہ محفوظ نہیں رکھاجائے گا۔ (6) (شامی ج ۵ ص ۷۰۲)
1 ۔یعنی حق دار۔ 2 ۔یعنی بطورعصبہ حصہ لینے ۔ 3 ۔یعنی ترکہ کی تقسیم کی گئی ہے۔ 4 ۔گمان ،شبہ۔
5 ۔''السراجی''،فصل فی الحمل،ص۵۲.
و''ردالمحتار''،کتاب الفرائض، باب توریث ذوی الأرحام،فصل فی الغرقی ا ...إلخ،ج۱۰،ص۵۸۸.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الفرائض، باب توریث ذوی الأرحام،فصل فی الغرقی ا ...إلخ،ج۱۰،ص۵۸۸.
مسئلہ ۱: اگر کوئی شخص گم ہو جائے اور اس کی زندگی یاموت کا کچھ علم نہ ہو تو وہ شخص اپنے مال کے اعتبار سے زندہ متصور ہو گایعنی اس کے مال میں وراثت جاری نہ ہو گی مگر دوسرے کے مال کے اعتبار سے مردہ شمار ہو گا یعنی کسی سے اس کووراثت نہ ملے گی۔(1) (شریفیہ ص ۱۳۷، سراجی ص ۶۲، عالمگیری ج ۶ ص ۵۵، شامی ج ۳ ص ۴۵۴)
مسئلہ ۲: گمشدہ شخص کے مال کو محفوظ رکھا جائے گا یہاں تک کہ اس کی موت کا حکم دے دیا جائے اور اس کی مقدار صاحب فتح القدیر کی رائے میں یہ ہے کہ مفقود کی عمر کے ستر برس گزر جائیں تو قاضی اس کی موت کا حکم دے گا اور اس کی جو املاک ہیں وہ ان لوگوں پر تقسیم ہوں گی جو اس موت کے حکم کے وقت موجود ہیں۔ (2)(شریفیہ ص ۱۵۲، فتح القدیر ج ۸ ص ۴۴۵، بہار شریعت حصہ دہم ص ۱۷، شامی ج ۳ ص ۴۵۷)
مسئلہ۳: مفقود کا اپنا مال تو پورا محفوظ رکھا جائے گا تاوقتیکہ اس کی موت کا حکم دیا جائے اگر اس حکم سے پہلے وہ واپس آگیا تو اپنے مال پر قبضہ کرلے گا اور اگر واپس نہ آیا توجس وقت موت کا حکم کیا جائے گا اس وقت جو وارث موجود ہوں گے ان پر تقسیم کر دیا جائے گا جیساکہ اوپر بیان ہوا۔ (3)(شامی ج ۳ ص ۴۵۴)
مسئلہ ۴: مفقودکے کسی مورث کا انتقال ہواجس کے وارثوں میں مفقود کے علاوہ دوسرے بھی ہیں تو جن ورثا کا حصہ مفقود کی زندگی اور موت سے تبدیل نہیں ہوتا ہے ان کوپورا حصہ دے دیا جائے گا اور جووارث مفقود کو زندہ ماننے سے محروم ہوتے ہیں اور مردہ ہونے سے وارث ہوتے ہیں ان کا حصہ ابھی محفوظ رکھا جائے گا تاوقتیکہ مفقود واپس آجائے یا اس کی موت کا حکم کر دیا جائے اور جن وارثوں کا حصہ مفقود کوزندہ ماننے کی صورت میں کم ہوتا ہے اور مردہ ماننے کی صورت میں زیادہ ہوتا ہے تو ان کو کم حصہ دے دیاجائے گا اور باقی کو محفوظ رکھا جائے گا تاوقتیکہ مفقود کا حال معلوم ہو۔
مثال: زید کا انتقال ہوا اور اس کی دو بیٹیاں اور ایک مفقود بیٹا اور ایک پوتااور دو پوتیاں ہیں اس میں اگر گمشدہ بیٹے کو زندہ مانا جائے تو پوتا پوتی محروم ہوتے ہیں اور دونوں بیٹیوں کونصف مال اور مفقود کو نصف مال ملتا اوراگر گمشدہ کو
1 ۔''السراجی''، فصل فی المفقود،ص۵۶.
2 ۔''السراجی''، فصل فی المفقود،ص۵۶.
و''فتح القدیر''،کتاب المفقود،ج۵،ص۳۷۴.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب المفقود،مطلب:فی الإفتاء بمذھب مالک...إلخ،ج۶،ص۴۵۶.
مُردہ مانا جائے تو پوتا پوتی وارث ہوں گے اور دونوں بیٹیوں کو دو تہائی حصہ ملے گا لہٰذا فی الحال ۱۲ سے مسئلہ کر کے تین تین سہام یعنی نصف مال دونوں بیٹیوں کو دے دیا جائے گا اور باقی چھ سہام(1)محفوظ رکھے جائیں گے اگر مفقود آگیا تو لے لے گا ورنہ اس کی موت کے حکم کے بعد ان چھ سہام میں سے دو سہام ایک ایک دونوں لڑکیوں کو اور دے کر ان کا دو تہائی حصہ پورا کر دیا جائے گا اور باقی چار سہام میں سے دو پوتے کو اور ایک ایک دونوں پوتیوں کو دے دیا جائے گا کیونکہ بیٹا نہ ہونے کی صورت میں اسی طرح زید کا مال تقسیم ہوتا۔ (2)(شامی ص ۴۵۶)
مسئلہ ۱: جب مرتد مر جائے یا قتل کر دیا جائے یا دارالحرب بھاگ جائے اور قاضی اس کے دارالحرب چلے جانے کا فیصلہ دے دے تو جو کچھ اس نے اسلام کی حالت میں کمایا تھا وہ اس کے مسلمان وارثوں میں تقسیم ہو گا اور جو کچھ ارتداد کے زمانہ(3)میں کمایا تھا وہ بیت المال میں چلا جائے گا۔(4) (شریفیہ ص ۱۵۴، شامی ج ۳ ص ۴۱۴، عالمگیری ج ۲ ص ۲۵۴، طحطاوی ج ۲ ص ۴۸۷)
مسئلہ ۲: دارالحرب چلے جانے کے بعد جو اس نے کمایا ہے وہ بالاتفاق فیئہے اسے بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا۔
مسئلہ ۳: مذکورہ احکام مرتدمرد کے تھے لیکن مرتدہ (عورت)کی تمام کمائی خواہ کسی زمانے کی ہو مسلمان وارثوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ (5) (شریفیہ ص ۱۵۴)
مسئلہ ۴: مرتد مرد اور عورت نہ تو مسلمان کے وارث ہوں گے اور نہ ہی مرتد کے ۔(6) (شریفیہ ص ۱۵۵)
1 ۔یعنی چھ حصے۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب المفقود،مطلب:فی الإفتاء بمذہب مالک...إلخ،ج۶،ص۴۵۶.
3 ۔یعنی مرتد ہونے کے زمانہ میں
4 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،کتاب الفرائض، فصل فی المرتد،ص۱۴۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب السیر،الباب التاسع فی أحکام المرتدین،ج۲،ص۲۵۴ .
5 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،کتاب الفرائض، فصل فی المرتد،ص۱۴۰.
6 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،کتاب الفرائض، فصل فی المرتد،ص۱۴۱.
مسئلہ ۱: وہ مسلمان جسے کافر قید کر کے لے گئے اس کا حکم عام مسلمانوں جیسا ہے وہ دوسروں کا وارث ہو گا اور اس کے انتقال کے بعد اس کے وارث اس کے مال سے ترکہ پائیں گے جب تک وہ اپنے مذہب پر باقی رہے گا اور اگر اس نے کافروں کی قید میں جانے کے بعد مذہب اسلام کوچھوڑ دیا تو اس پر وہی احکام ہوں گے جو مرتد کے ہیں اور اگر اس قیدی کی موت و زندگی کا کچھ علم نہ ہو تو اس کا حکم مفقود یعنی گمشدہ کا حکم ہو گا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ (1)(شریفیہ ص ۱۵۶)
مسئلہ ۱ـ: اگر کسی حادثہ میں چند رشتہ دار ہلاک ہو جائیں اور یہ معلوم نہ ہو سکے کہ ان میں پہلے کون ہلاک ہوا مثلاً جہازڈوب گیا یا ہوائی جہاز گر گیا ،ٹرین، بس وغیرہ کے حادثات یا آگ لگ گئی یا عمارت گر گئی اب ان کا حکم یہ ہے کہ یہ آپس میں تو کسی کے وارث نہ ہوں گے البتہ ان کا مال انکے زندہ وارثوں میں تقسیم کیا جائے گا۔(2) (شریفیہ ص ۱۵۶)
ختم شد
وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیرخلقہٖ ونورعرشہٖ وقاسم رزقہ سیّدنا ومولٰینا
محمّد وعلٰے اٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین۔برحمتک یاارحم الراحمین.
مؤلفہ: مولانا مفتی وقار الدّین ومفتی سیّد شجاعت علی صاحبان
٭٭٭٭٭
1 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''،کتاب الفرائض، فصل فی الأسیر،ص۱۴۲.
2 ۔''الشریفیۃ''شرح''السراجیۃ''، فصل فی الغرقی ا والحرقی ا والھدمٰی،ص۱۴۲.