Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
(اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪ فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسَانٍ ؕ ) (1)
طلاق(جس کے بعد رجعت ہو سکے )دوبار تک ہے پھربھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی (2)کے ساتھ چھوڑ دینا۔
اور فرماتا ہے :
( فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗ ؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِ ؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ ﴿۲۳۰﴾ )(3)
پھر اگر تیسری طلاق دی تو اس کے بعد وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے۔ پھر اگر دوسرے شوہر نے طلاق دے دی تو اُن دونوں پر گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں نکاح کرلیں۔ اگر یہ گمان ہو کہ اﷲ (عزوجل) کے حدود کو قائم رکھیں گے اور یہ اﷲ (عزوجل) کی حدیں ہیں، اُن لوگوں کے ليے بیان کرتا ہے جو سمجھ دار ہیں۔
اور فرماتا ہے :
( وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِکُوۡہُنَّ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ سَرِّحُوۡہُنَّ بِمَعْرُوۡفٍ ۪ وَّ لَا تُمْسِکُوۡہُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوۡا ۚ وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ؕ وَلَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰیٰتِ اللہِ ہُزُوًا ۫ وَ اذْکُرُوۡا نِعْمَتَ اللہِ عَلَیۡکُمْ وَمَاۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۲۳۱﴾٪ ) (4)
1 ۔ پ ۲ ، البقرۃ:۲۲۹..
2 ۔بھلائی،اچھائی،عمدگی۔
3 ۔پ ۲، البقرۃ :۲۳۰..
4 ۔پ۲ ، البقرۃ :۲۳۱.
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور اُن کی میعاد پوری ہونے لگے تو اُنہیں بھلائی کے ساتھ روک لو یا خوبی کے ساتھ چھوڑ دو اور اُنہیں ضرر دینے کے ليے نہ روکو کہ حد سے گزر جاؤ اور جو ایسا کریگا اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اﷲ (عزوجل) کی آیتوں کو ٹھٹانہ بناؤ اور اﷲ (عزوجل) کی نعمت جو تم پر ہے اُسے یاد کرو اور وہ جو اُس نے کتاب و حکمت تم پر اُتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اﷲ (عزوجل) سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اﷲ (عزوجل) ہر شے کو جانتا ہے۔
اور فرماتا ہے :
( وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعْضُلُوۡہُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیۡنَہُمۡ بِالْمَعْرُوۡفِ ؕ ذٰلِکَ یُوۡعَظُ بِہٖ مَنۡ کَانَ مِنۡکُمْ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکُمْ اَزْکٰی لَکُمْ وَاَطْہَرُ ؕ وَاللہُ یَعْلَمُ وَاَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۳۲﴾ ) (1)
اور جب عورتوں کو طلاق دو اور اُن کی میعاد پوری ہو جائے تو اے عورتوں کے والیو! اُنہیں شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہو جائيں۔ یہ اُس کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اﷲ (عزوجل) اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ تمہارے ليے زیادہ سُتھرا اور پاکیزہ ہے اور اﷲ (عزوجل) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
حدیث ۱: دارقطنی معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے معاذ !کوئی چیز اﷲ (عزوجل) نے غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ روئے زمین پر پیدا نہیں کی اور کوئی شے روئے زمین پر طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ پیدا نہ کی۔'' (2)
حدیث ۲: ابو داود نے ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: کہ ''تمام حلال چیزوں میں خدا کے نزدیک زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے۔'' (3)
حدیث ۳: امام احمد جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمايا کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے اور اپنے لشکر کو بھیجتا ہے اور سب سے زیادہ مرتبہ والا اُس کے نزدیک وہ ہے جس کا فتنہ بڑا ہوتا ہے۔ اُن میں ایک آکر کہتا ہے
1 ۔پ۲،البقرۃ:۲۳۲.
2 ۔''سنن الدار قطنی''،کتاب الطلاق،الحدیث:۳۹۳۹،ج ۴،ص۴۰.
3 ۔''سنن أبي داود''،کتاب الطلاق،باب کراھیۃ الطلاق،الحدیث:۲۱۷۸،ج۲،ص۳۷۰.
میں نے یہ کیا، یہ کیا۔ ابلیس کہتا ہے تو نے کچھ نہیں کیا۔ دوسرا آتا ہے اور کہتا ہے میں نے مرد اورعورت میں جُدائی ڈال دی۔ اسے اپنے قریب کرلیتا ہے اور کہتا ہے، ہاں تو ہے۔ (1)
حدیث ۴: ترمذی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمايا کہ ہر طلاق واقع ہے مگر معتوہ (2)(یعنی بوہرے) کی اوراُس کی جس کی عقل جاتی رہی یعنی مجنون کی۔ (3)
حدیث ۵: امام احمد و ترمذی و ابو داود و ابن ماجہ و دارمی ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا جو عورت بغیر کسی حرج کے شوہر سے طلاق کا سؤال کرے اُس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (4)
حدیث ۶: بخاری و مسلم عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنی زوجہ کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے اس واقعہ کو ذکر کیا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اس پر غضب فرمايا اور یہ ارشاد فرمايا کہ اُس سے رجعت کرلے اور روکے رکھے یہاں تک کہ پاک ہو جائے۔ پھر حیض آئے اور پاک ہو جائے۔ اس کے بعد اگر طلاق دینا چاہے تو طہارت کی حالت میں جماع سے پہلے طلاق دے۔ (5)
حدیث ۷: نسائی نے محمود بن لبید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں ایک ساتھ دے دیں اس کو سُن کر غصہ میں کھڑے ہو گئے اور یہ فرمايا کہ کتاب اﷲ سے کھیل کرتا ہے حالانکہ میں تمہارے اندر ابھی موجود ہوں۔ (6)
حدیث ۸: امام مالک مؤطّا میں روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے کہا
1 ۔ ''المسند''، للإمام أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد اللہ، الحدیث: ۱۴۳۸۴، ج۵، ص۵۲.
2 ۔اصل کتاب میں یہ حدیث ان الفاظ سے مروی ہے '' کل طلاق جائز الا طلاق المعتوہ المغلوب علی عقلہ ''ترجمہ: ہرطلاق واقع ہے مگرمعتوہ جس کی عقل مغلوب ہوچکی ہو(جامع الترمذی،کتاب الطلاق،باب ماجاء فی طلاق المعتوہ ،الحدیث ۱۱۹۵ ،ج ۲،ص۴۰۴ ) جب کہ مشکاۃمیں اس طرح مروی ہے '' کل طلاق جائز إلا طلاق المعتوہ والمغلوب علی عقلہ''ترجمہ ہر طلاق واقع ہے مگر معتوہ (یعنی بوہرے) کی اوراُس کی جس کی عقل جاتی رہی یعنی مجنون کی،(مشکاۃبرقم۳۲۸۶،ج۱،ص۶۰۲ )اس کی شرح میں صاحب مرقاۃلکھتے ہیں کہ یہاں غالباًمغلوب العقل معتوہ کی تفسیرہے اوریہ عطف تفسیری ہے جس کی تائید بغیر''واو''والی روایت ہے اورہوسکتاہے کہ معتوہ سے مرادوہ ہوجس کی عقل میں فتورہواورمغلوب العقل سے مرادبالکل دیوانہ ہو(ماخوذاز المرقاۃ،ج۶،ص۴۲۹)۔...عِلْمِیہ
3 ۔''جامع الترمذي''، أبواب الطلاق...إلخ، باب ماجاء في طلاق المعتوہ، الحدیث: ۱۱۹۵،ج۲ ص۴۰۴.
4 ۔''جامع الترمذي''، أبواب الطلاق...إلخ، باب ماجاء في المختلعات، الحدیث: ۱۱۹۰،ج۲ ص۴۰۲.
5 ۔''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، سورۃ الطلاق، الحدیث: ۴۹۰۸،ج۳ ص۳۵۷.
6 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الطلاق، الثلاث المجموعۃ ومافیہ من التغلیظ، الحدیث: ۳۳۹۸، ص۵۵۴.
میں نے اپنی عورت کو سو۱۰۰ طلاقیں دے دیں آپ کیا حکم دیتے ہیں فرمايا کہ تیری عورت تین طلاقوں سے بائن ہوگئی اور ستانوے طلاق کے ساتھ تو نے اﷲ (عزوجل) کی آیتوں سے ٹھٹا کیا۔ (1)
نکاح سے عورت شوہر کی پابند ہو جاتی ہے۔ اس پابندی کے اُٹھا دینے کو طلاق کہتے ہیں اور اس کے ليے کچھ الفاظ مقرر ہیں جن کا بیان آگے آئے گا۔ اس کی دو۲ صورتیں ہیں ایک یہ کہ اسی وقت نکاح سے باہر ہو جائے اسے بائن کہتے ہیں۔ دوم یہ کہ عدّت گزرنے پر باہر ہوگی، اسے رجعی کہتے ہیں۔
مسئلہ ۱: طلاق دینا جائز ہے مگر بے وجہ شرعی ممنوع ہے(2) اور وجہ شرعی ہو تو مباح (3)بلکہ بعض صورتوں میں مستحب مثلاً عورت اس کویااوروں کو ایذا دیتی یا نماز نہیں پڑھتی ہے۔ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بے نمازی عورت کو طلاق دے دوں اور اُس کا مہر میرے ذمہ باقی ہو، اس حالت کے ساتھ دربار خدا میں میری پیشی ہو تو یہ اُس سے بہتر ہے کہ اُس کے ساتھ زندگی بسر کروں۔ اور بعض صورتوں میں طلاق دینا واجب ہے مثلاً شوہر نامرد یا ہیجڑا ہے یا اس پر کسی نے جادو یا عمل کردیا ہے کہ جماع کرنے پر قادر نہیں اور اس کے ازالہ کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ ان صورتوں میں طلاق نہ دینا سخت تکلیف پہنچانا ہے۔(4)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: طلاق کی تین قسمیں ہیں: (۱) حسن۔(۲) اَحسن۔(۳) بِدعی۔ جس طہر میں(5)وطی نہ کی ہو اُس میں ایک طلاق رجعی دے اور چھوڑے رہے یہاں تک کہ عدّت گزر جائے، یہ احسن ہے۔
اور غیر موطؤہ کو طلاق دی اگرچہ حیض کے دنوں میں دی ہو یا موطؤہ (6) کو تین طہر میں تین طلاقیں دیں۔ بشرطیکہ نہ ان طہروں میں وطی کی ہو نہ حیض میں یا تین مہینے میں تین طلاقیں اُس عورت کو دیں جسے حیض نہیں آتا مثلاً نا بالغہ یا حمل والی ہے یا ایاس کی عمر کو پہنچ گئی تو یہ سب صورتیں طلاق حسن کی ہیں۔ حمل والی یا سن ایاس (7)والی کو وطی کے بعد طلاق دینے میں کراہت نہیں۔ یوہیں اگر اُس کی عمر نو سال سے کم کی ہو تو کراہت نہیں اور نو برس یا زیادہ کی عمر ہے مگر ابھی حیض نہیں آیا ہے تو افضل یہ ہے کہ وطی و طلاق میں ایک مہینے کا فاصلہ ہو۔
1 ۔ ''الموطأ'' لإمام مالک، کتاب الطلاق، باب ماجاء في البتۃ، الحدیث: ۱۱۹۲، ج۲، ص۹۸.
2 ۔یعنی جب تک کوئی شرعی وجہ نہ ہوتوطلاق دینامنع ہے۔ 3 ۔جائز۔
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، ج۴، ص۴۱۴ ۔ ۴۱۷، وغیرہ.
5 ۔پاکی کے ایام میں۔ 6 ۔ایسی عورت جس سے صحبت کی گئی ہو۔ 7 ۔ایسی عمرجس میں حیض آنابند ہوجائے ۔
بدعی یہ کہ ایک طہر میں دو یا تین طلاق دیدے، تین دفعہ میں یا دو۲ دفعہ یا ایک ہی دفعہ میں خواہ تین بار لفظ کہے یا یوں کہہ دیا کہ تجھے تین طلاقیں یا ایک ہی طلاق دی مگر اُس طہر میں وطی کرچکا ہے یا موطؤہ کو حیض میں طلاق دی یا طہر ہی میں طلاق دی مگر اُس سے پہلے جو حیض آیا تھا اُس میں وطی کی تھی یا اُس حیض میں طلاق دی تھی یا یہ سب باتیں نہیں مگر طہر میں طلاق بائن دی۔ (1)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳: حیض میں طلاق دی تو رجعت (2)واجب ہے کہ اس حالت میں طلاق دینا گناہ تھا اگر طلاق دینا ہی ہے تو اس حیض کے بعد طہر گزر جائے پھر حیض آکر پاک ہو اب دے سکتا ہے۔ یہ اُس وقت ہے کہ جماع سے رجعت کی ہو اور اگر قول یا بوسہ لینے یا چُھونے سے رجعت کی ہو تو اس حیض کے بعدجو طہر ہے اس میں بھی طلاق دے سکتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے طہر کے انتظار کی حاجت نہیں۔ (3)(جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۴: موطؤہ سے کہا تجھے سنت کے موافق دو یا تین طلاقیں۔ اگر اُسے حیض آتا ہے تو ہر طہر میں ایک واقع ہوگی پہلی اُس طہر میں پڑے گی جس میں وطی نہ کی ہو اور اگر یہ کلام اُس وقت کہا کہ پاک تھی اور اس طہر میں وطی بھی نہیں کی ہے تو ایک فوراً واقع ہوگی۔ اور اگر اس وقت اُسے حیض ہے یا پاک ہے مگر اس طُہر میں وطی کرچکا ہے تو اب حیض کے بعد پاک ہونے پر پہلی طلاق واقع ہوگی اور غیر موطؤہ ہے یا اُسے حیض نہیں آتا تو ایک فوراً واقع ہوگی، اگرچہ غیر موطؤہ کو اس وقت حیض ہو پھر اگر غیرموطؤہ ہے تو باقی اُس وقت واقع ہوگی کہ اُس سے نکاح کرے کیونکہ پہلی ہی طلاق سے بائن ہو گئی اورنکاح سے نکل گئی دوسری کے ليے محل نہ رہی اور اگر موطؤہ ہے مگر حیض نہیں آتا تو دوسرے مہینے میں دو سری اور تیسرے مہینے میں تیسری واقع ہوگی اورا گر اس کلام سے یہ نیت کی کہ تینوں ابھی پڑجائیں یا ہر مہینے کے شروع میں ایک واقع ہو تو یہ نیت بھی صحیح ہے۔ (4)(درمختار) مگر غیر موطؤہ میں یہ نیت کہ ہر ماہ کے شروع میں ایک واقع ہو، بیکار ہے کہ وہ پہلی ہی سے بائن ہو جائے گی (5)اور محل نہ رہے گی(6)۔
مسئلہ ۵: طلاق کے ليے شرط یہ ہے کہ شوہر عاقل بالغ ہو، نا بالغ یا مجنون نہ خود طلاق دے سکتا ہے، نہ اُس کی طرف سے اُس کا ولی۔ مگر نشہ والے نے طلاق دی تو واقع ہو جائے گی کہ یہ عاقل کے حکم میں ہے اورنشہ خواہ شراب پینے سے ہو یا بنگ وغیرہ کسی اور چیز سے۔ افیون کی پینک میں طلاق دے دی جب بھی واقع ہو جائے گی طلاق میں عورت کی جانب سے کوئی شرط
1 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق،ج۴، ص۴۱۹ ۔ ۴۲۴، وغیرہ.
2 ۔رجوع کرنا۔
3 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الطلاق، الجزء الثاني، ص۴۱،وغیرہا.
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق،ج۴، ص۴۲۶.
5 ۔یعنی نکاح سے نکل جائے گی۔
6 ۔ یعنی طلاق کامحل نہ رہے گی۔
نہیں نا بالغہ ہو یا مجنونہ ، بہر حال طلاق واقع ہوگی۔(1)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۶: کسی نے مجبور کرکے اسے نشہ پلادیا یا حالت اضطرار میں پیا (مثلاً پیاس سے مررہا تھا اور پانی نہ تھا) اور نشہ میں طلاق دے دی تو صحیح یہ ہے کہ واقع نہ ہو گی۔( 2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: یہ شرط نہیں کہ مرد آزاد ہو غلام بھی اپنی زوجہ کو طلاق دے سکتا ہے اور مولیٰ اُس کی زوجہ کو طلاق نہیں دے سکتا۔ اور یہ بھی شرط نہیں کہ خوشی سے طلاق دی جائے بلکہ اکراہ شرعی (3)کی صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔(4) (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۸: الفاظ طلاق بطور ہزل کہے یعنی اُن سے دوسرے معنی کا ارادہ کیا جو نہیں بن سکتے جب بھی طلاق ہو گئی۔ یوہیں خفیف العقل (5)کی طلاق بھی واقع ہے اور بوہرا مجنون کے حکم میں ہے۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: گونگے نے اشارہ سے طلاق دی ہوگئی جبکہ لکھنا نہ جانتا ہو، اور لکھنا جانتا ہو تو اشارہ سے نہ ہوگی بلکہ لکھنے سے ہو گی۔(7)(فتح القدیر)
مسئلہ ۱۰: کوئی اور لفظ کہنا چاہتا ہے ، زبان سے لفظ طلاق نکل گیا یا لفظ طلاق بولا مگر اس کے معنی نہیں جانتا یا سہواً( 8)یا غفلت میں کہا ان سب صورتوں میں طلاق واقع ہو گئی۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: مریض جس کا مرض اس حد کو نہ پہنچا ہو کہ عقل جاتی رہے اُس کی طلاق واقع ہے۔ کافر کی طلاق واقع ہے
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، ج۴، ص۴۲۷ ۔ ۴۳۸.
و ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الاول، فصل فیمن یفع طلاقہ، ج۱، ص۳۵۳.
2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، مطلب: في الحشیشۃ والأفیون والبنج، ج۴، ص۴۳۳.
3 ۔یعنی کوئی شخص کسی کو صحیح دھمکی دے کہ اگر تونے طلاق نہ دی تومیں تجھے مارڈالوں گایا ہاتھ پاؤں توڑدوں گا یا ناک ،کان وغیرہ کوئی عضو کاٹ
ڈالوں گا یا سخت مار ماروں گااور یہ سمجھتا ہو کہ یہ کہنے والا جو کچھ کہتا ہے کر گزرے گا ۔
4 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''کتاب الطلاق، الجزء الثاني، ص۴۱.
5 ۔کم عقل۔
6 ۔''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، مطلب: في المسائل التی تصح مع الاکراہ، ج۴، ص۴۳۱۔۴۳۸.
7 ۔ ''فتح القدیر''، کتاب الطلاق ،فصل ،ج۳، ص۳۴۸.
8 ۔بھول کر۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، ج۴، ص۴۳۵.
یعنی جب کہ مسلمان کے پاس مقدمہ پیش ہو تو طلاق کا حکم دے گا۔(1)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: مجنون نے ہوش کے زمانہ میں کسی شرط پر طلاق معلق کی تھی اور وہ شرط زمانہ جنون میں پائی گئی تو طلاق ہو گئی۔ مثلاً یہ کہا تھا کہ اگر میں اس گھر میں جاؤں تو تجھے طلاق ہے اور اب جنون کی حالت میں اُس گھر میں گیا تو طلاق ہو گئی ہاں اگر ہوش کے زمانہ میں یہ کہا تھا کہ میں مجنون ہو جاؤں تو تجھے طلاق ہے تو مجنون ہونے سے طلاق نہ ہو گی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: مجنون نا مرد ہے یا اُس کا عضو تناسل کٹا ہو ا ہے یا عورت مسلمان ہو گئی اور مجنون کے والدین اسلام سے منکر ہیں تو ان صورتوں میں قاضی تفریق (3)کردے گا اور یہ تفریق طلاق ہو گی۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: سر سام و بر سام (5)یا کسی اور بیماری میں جس میں عقل جاتی رہی یا غشی کی حالت میں یا سوتے میں طلاق دے دی تو واقع نہ ہوگی۔ یوہیں اگر غصہ اس حد کا ہو کہ عقل جاتی رہے تو واقع نہ ہوگی۔(6) (درمختار ، ردالمحتار) آج کل اکثر لوگ طلاق دے بیٹھتے ہیں بعد کو افسوس کرتے اور طرح طرح کے حیلہ سے یہ فتویٰ لیا چاہتے ہیں کہ طلاق واقع نہ ہو۔ ایک عذر اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ غصہ میں طلاق دی تھی۔ مفتی کو چاہیے یہ امر ملحوظ رکھے کہ مطلقاً غصہ کا اعتبار نہیں۔ معمولی غصہ میں طلاق ہو جاتی ہے۔ وہ صورت کہ عقل غصہ سے جاتی رہے بہت نادر ہے، لہٰذا جب تک اس کا ثبوت نہ ہو محض سائل کے کہہ دینے پر اعتماد نہ کرے۔
مسئلہ ۱۵: عددطلاق میں عورت کا لحاظ کیا جائے گا یعنی عورت آزاد ہو تو تین طلاقیں ہو سکتی ہیں اگرچہ اُس کا شوہر غلام ہو اور باندی ہو تو اُسے دو ہی طلاقیں دی جاسکتی ہیں اگرچہ شوہر آزاد ہو۔(7) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱۶: نا بالغ کی عورت مسلمان ہو گئی اور شوہر پر قاضی نے اسلام پیش کیا۔ اگر وہ سمجھ وال (8)ہے اور اسلام سے انکار کرے تو طلاق ہو گئی۔ (9)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: زبان سے الفاظ طلاق نہ کہے مگر کسی ایسی چیز پر لکھے کہ حروف ممتاز (10)نہ ہوتے ہوں مثلاًپانی یا ہوا پر تو
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،ج۴،ص۴۳۶.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،مطلب:في الحشیشۃوالأفیون والبنج،ج۴،ص۴۳۷.
3 ۔علیحدہ،جدا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،ج۴،ص۴۳۷.
5 ۔بیماریوں کے نام۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،مطلب:في طلاق المدھوش،ج۴،ص۴۳۸.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الاول،فصل فیمن یقع طلاقہ...إلخ،ج۱،ص۳۵۴.
8 ۔سمجھدار۔
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،مطلب:في الحشیشۃوالأفیون والبنج،ج۴،ص۴۳۸.
10 ۔نمایاں ۔
طلاق نہ ہوگی اور اگر ایسی چیز پر لکھے کہ حروف ممتاز ہوتے ہوں مثلاً کاغذ یا تختہ وغیرہ پر اور طلاق کی نیت سے لکھے تو ہو جائے گی اور اگرلکھ کر بھیجا یعنی اُس طرح لکھا جس طرح خطوط لکھے جاتے ہیں کہ معمولی القاب و آداب کے بعد اپنا مطلب لکھتے ہیں جب بھی ہو گئی بلکہ اگر نہ بھی بھیجے جب بھی اس صورت میں ہو جائے گی۔ اور یہ طلاق لکھتے وقت پڑے گی اور اُسی وقت سے عدّت شمار ہوگی۔ اور اگر یوں لکھا کہ میر ا یہ خط جب تجھے پہنچے تجھے طلاق ہے تو عورت کو جب تحریر پہنچے گی اُس وقت طلاق ہوگی عورت چاہے پڑھے یا نہ پڑھے اور فرض کیجئے کہ عورت کو تحریر پہنچی ہی نہیں مثلاً اُس نے نہ بھیجی یا راستہ میں گُم ہو گئی تو طلاق نہ ہوگی اور اگر یہ تحریر عورت کے باپ کو ملی اُس نے چاک کردی (1) لڑکی کو نہ دی تو اگر لڑکی کے تمام کاموں میں یہ تصرف کرتا ہے اور وہ تحریر اُس شہر میں اُسکو ملی جہاں لڑکی رہتی ہے تو طلاق ہو گئی ورنہ نہیں مگر جب کہ تحریر آنے کی لڑکی کو خبر دی اوروہ پھٹی ہوئی تحریر بھی اُسے دی اور وہ پڑھنے میں آتی ہے تو واقع ہو جائے گی۔(2) (درمختار ، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۱۸: کسی پرچہ پر طلاق لکھی اور کہتا ہے کہ میں نے مشق کے طور پر لکھی ہے تو قضاءً اس کا قول معتبر نہیں۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: دو پرچوں پر یہ لکھا کہ جب میری یہ تحریر تجھے پہنچے تجھے طلاق ہے اور عورت کو دونوں پرچے پہنچے تو قاضی دو۲ طلاقوں کا حکم دے گا۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: دوسرے سے طلاق لکھواکر بھیجی تو طلاق ہو جائے گی۔ لکھنے والے سے کہا میری عورت کو طلاق لکھ دے تو یہ اقرارطلاق ہے یعنی طلاق ہو جائے گی اگرچہ وہ نہ لکھے۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: عورت کو بذریعہ تحریر طلاق سنت دینا چاہتا ہے تو اگر ایک طلاق دینی ہے۔ یوں لکھے کہ جب میری یہ تحریر تجھے پہنچے اس کے بعد حیض سے پاک ہونے پر تجھے طلاق ہے۔ اور تین دینی ہوں تو یوں لکھے میری تحریر پہنچنے کے بعد جب تو حیض سے پاک ہو تجھے طلاق پھر جب حیض سے پاک ہو تو طلاق پھر جب حیض سے پاک ہو تو طلاق یا یوں لکھ دے میری تحریر پہنچنے پر تجھے سنت کے موافق تین طلاقیں تو یہ بھی اُسی ترتیب سے واقع ہوں گی یعنی ہر حیض سے پاک ہونے پر ایک ایک طلاق پڑے گی اور
1 ۔پھاڑدی۔
2 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق،ج۴، ص۴۴۲.
و''الفتاوی الھنديۃ'' ،کتاب الطلاق، الباب الثاني، الفصل السادس في الطلاق بالکتابۃ، ج۱، ص۳۷۸،وغیرہما.
3 ۔'' ردالمحتار''، کتاب الطلاق، مطلب: في الطلاق بالکتابۃ، ج۴، ص۴۴۲.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔المرجع السابق، ص۴۴۳.
اگر عورت کو حیض نہ آتا ہو تو لکھ دے جب چاند ہو جائے تجھے طلاق پھر دوسرے مہینے میں طلاق پھر تیسرے مہینے میں طلاق یا وہی لفظ لکھ دے کہ سنت کے موافق تین طلاقیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: شوہر نے عورت کو خط لکھا اُس میں ضرورت کی جو باتیں لکھنی تھیں لکھیں آخر میں یہ لکھ دیا کہ جب میر ا یہ خط تجھے پہنچے تجھے طلاق پھر یہ طلاق کا جملہ مٹا کر خط بھیج دیا تو عورت کو خط پہنچتے ہی طلاق ہو گئی اور اگر خط کا تمام مضمون مٹا دیا اور طلاق کا جملہ باقی رکھا اور بھیج دیا تو طلاق نہ ہوئی اور اگر پہلے یہ لکھا کہ جب میرا یہ خط پہنچے تجھے طلاق اور اُس کے بعد اور مطلب کی باتیں لکھیں تو حکم بالعکس ہے یعنی الفاظ طلاق مٹا ديے تو طلاق نہ ہوئی اور باقی رکھے تو ہو گئی۔(2) (عالمگیری )
مسئلہ ۲۳: خط میں طلاق لکھی اور اُس کے بعد متصلاً (3)انشاء اﷲ تعالیٰ لکھا تو طلاق نہ ہوئی اور اگر فصل کے ساتھ لکھا(4) تو ہوگئی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: تحریر سے طلاق کے ثبوت میں یہ ضرور ہے کہ شوہر اقرار کرے کہ میں نے لکھی یا لکھوائی یا عورت اس پر گواہ پیش کرے محض اُس کے خط سے مشابہ ہونا یا اُس کے سے دستخط ہونا یا اُس کی سی مُہرہونا کافی نہیں۔ ہاں اگر عورت کو اطمینان اور غالب گمان ہے کہ یہ تحریر اُسی کی ہے تو اس پر عمل کرنے کی عورت کو اجازت ہے مگر جب شوہر انکار کرے تو بغیر شہادت چارہ نہیں۔ (6)(خانیہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۵: کسی نے شوہر کو طلاق نامہ لکھنے پر مجبور کیا اُس نے لکھ دیا، مگر نہ دل میں ارادہ ہے، نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا تو طلاق نہ ہوگی۔ مجبوری سے مراد شرعی مجبوری ہے محض کسی کے اصرار کرنے پر لکھ دینا یا بڑا ہے اُس کی بات کیسے ٹالی جائے، یہ مجبوری نہیں۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: طلاق دو۲ قسم ہے صریح و کنایہ۔ صریح وہ جس سے طلاق مراد ہونا ظاہر ہو، اکثر طلاق میں اس کا استعمال ہو، اگرچہ وہ کسی زبان کا لفظ ہو۔(8) (جوہرہ وغیرہا)
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الطلاق، الباب الاول في تفسیر ورکنہ... إلخ، ج۱، ص۳۵۲.
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثاني، الفصل السادس في الطلاق بالکتابۃ ، ج۱، ص۳۷۸.
3 ۔فوراً ، ساتھ ہی۔ 4 ۔یعنی اگرکچھ دیرکے بعدیافاصلہ کے بعدلکھا۔
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثاني، الفصل السادس في الطلاق بالکتابۃ، ج۱، ص۳۷۸.
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الحظروالاباحۃ، باب مایکرہ من الثیاب...الخ ،ج۴،ص۳۷۶، وغیرہا.
7 ۔''ردالمحتار'' ، کتاب الطلاق، مطلب: في الاکراہ علی التوکیل... إلخ، ج۴، ص۴۲۸.
8 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الطلاق، الجزء الثاني، ص۴۲، وغیرہا.
مسئلہ ۱: لفظ صریح مثلاً( ۱ )میں نے تجھے طلاق دی،( ۲) تجھے طلاق ہے، (۳) تو مطلقہ ہے، (۴) تو طالق ہے، (۵) میں تجھے طلاق دیتا ہوں، (۶) اے مطلقہ۔ ان سب الفاظ کا حکم یہ ہے کہ ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اگرچہ کچھ نیت نہ کی ہو یا بائن کی نیت کی یا ایک سے زیادہ کی نیت ہو یا کہے میں نہیں جانتا تھا کہ طلاق کیا چیز ہے مگر اس صورت میں کہ وہ طلاق کو نہ جانتا تھا دیا نتہً واقع نہ ہوگی۔(1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: (۷) طلاغ،(۸)تلاغ،(۹)طلاک،(۱۰)تلاک،(۱۱)تلاکھ،(۱۲)تلّاکھ،(۱۳)تلاخ، (۱۴) تلاح، (۱۵) تلاق، (۱۶) طِلاق۔ بلکہ توتلے کی زبان سے، (۱۷) تلات۔ یہ سب صریح کے الفاظ ہیں، ان سب سے ایک طلاق رجعی ہوگی اگرچہ نیت نہ ہو یا نیت کچھ اور ہو۔ (۱۸) ط ل ا ق، (۱۹) طا لام الف قاف کہا اور نیت طلاق ہو تو ایک رجعی ہوگی۔(2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳: اردو میں یہ لفظ کہ (۲۰) میں نے تجھے چھوڑا، صریح ہے اس سے ایک رجعی ہوگی، کچھ نیت ہو یا نہ ہو۔ یوہیں یہ لفظ کہ (۲۱) میں نے فارغ خطی یا (۲۲) فار خطی یا (۲۳) فار کھتی دی، صریح ہے۔ ( 3)
مسئلہ ۴: لفظ طلاق غلط طور پر ادا کرنے میں عالم و جاہل برابر ہیں۔ بہر حال طلاق ہو جائے گی اگرچہ وہ کہے میں نے دھمکانے کے ليے غلط طور پر ادا کیا طلاق مقصود نہ تھی ورنہ صحیح طور پر بولتا۔ ہاں اگر لوگوں سے پہلے کہہ دیا تھا کہ میں دھمکانے کے ليے غلط لفظ بولوں گا طلاق مقصود نہ ہوگی تو اب اس کا کہا مان لیا جائیگا۔( 4) (درمختار)
مسئلہ ۵: کسی نے پوچھا تو نے اپنی عورت کو طلاق دے دی اس نے کہا ہاں یا کیوں نہیں تو طلاق ہو گئی اگرچہ طلاق دینے کی نیت سے نہ کہا ہو۔( 5) (درمختار) مگر جبکہ ایسی سخت آواز اورایسے لہجہ سے کہا جس سے انکار سمجھا جاتا ہو تو
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ج۴، ص۴۴۳ ۔ ۴۴۸،وغیرہ.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۴۴۔۴۴۸، وغیرہ.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''،ج۱۲،ص۵۵۹۔۵۶۰،وغیرہ.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الصریح،ج۴، ص۴۴۶.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ج۴،ص۴۴۶.
نہیں۔ ( 1)(خانیہ) کسی نے کہا تیری عورت پر طلاق نہیں کہا کیوں نہیں یا کہا کیوں تو طلاق ہو گئی اور اگر کہا نہیں یا ہاں تو نہیں۔(2) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۶: عورت کو طلاق نہیں دی ہے مگر لوگوں سے کہتا ہے میں طلاق دے آیا تو قضاءً ہوجائے گی اور دیانۃً نہیں اور اگر ایک طلاق دی ہے اور لوگوں سے کہتا ہے تین دی ہیں تو دیانتہً ایک ہوگی قضاءً تین، اگرچہ کہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا۔(3) (فتاویٰ خیریہ)
مسئلہ ۷: عورت سے کہا اے مطلّقہ، (۲۴) اے طلاق دی گئی، (۲۵) اے طلاقن، (۲۶) اے طلاق شدہ، (۲۷) اے طلاق یافتہ، (۲۸) اے طلاق کردہ۔ طلاق ہوگئی اگرچہ کہے میرا مقصود گالی دینا تھا طلاق دینا نہ تھا۔ اور اگر یہ کہے کہ میرا مقصود یہ تھا کہ وہ پہلے شوہر کی مطلقہ ہے اور حقیقت میں وہ ایسی ہی ہے یعنی شوہر اول کی مطلقہ ہے تو دیانتہً اس کا قول مان لیا جائیگا اور اگر وہ عورت پہلے کسی کی منکوحہ تھی ہی نہیں یا تھی مگر اُس نے طلاق نہ دی تھی بلکہ مرگیا ہو تو یہ تا ویل نہیں مانی جائیگی۔ یوہیں اگر کہا (۲۹) تیرے شوہر نے تجھے طلاق دی تو بھی وہی حکم ہے۔ (4)(ردالمحتار عالمگیری)
مسئلہ ۸: عورت سے کہا تجھے طلاق دیتا ہوں یا کہا (۳۰) تو مطلقہ ہو جا تو طلاق ہو گئی(5) (ردالمحتار) مگر یہ لفظ کہ طلاق دیتا ہوں یا چھوڑتا ہوں اس کے یہ معنے ليے کہ طلاق دینا چاہتا ہوں یا چھوڑ نا چاہتا ہوں تو دیانتہً نہ ہوگی قضاءً ہو جائیگی۔ اور اگر یہ لفظ کہا کہ چھوڑے دیتا ہوں تو طلاق نہ ہوئی کہ یہ لفظ قصد وارادہ کے ليے ہے۔
مسئلہ ۹: (۳۱) تجھ پر طلاق (۳۲) تجھے طلاق (۳۳) طلاق ہو جا (۳۴) تو طلاق ہے (۳۵) تو طلاق ہو گئی (۳۶) طلاق لے ، باہر جاتی تھی کہا (۳۷) طلاق لے جا (۳۸) اپنی طلاق اوڑھ اور روانہ ہو(۳۹) میں نے تیری طلاق تیرے آنچل میں باندھ دی (۴۰) جا تجھ پر طلاق۔ ان سب میں ایک طلاق رجعی ہوگی اور اگر فقط جا، بہ نیت طلاق کہتا تو بائن
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق، ج۱، ص۲۰۷.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''،ج۱۲،ص۵۳۸.
3 ۔''الفتاوی الخیریۃ''،کتاب الطلاق،ص۳۸.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب: في قول البحر انّ الصریح یحتاج... إلخ، ج۴، ص۴۴۹.
و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثاني في ایقاع الطلاق، الفصل الاول ، ج۱، ص ۳۵۵.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،مطلب:((سن بوش))یقع بہ الرجعی،ج۴،ص۴۴۵.
ہو تی۔(1) (خانیہ عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۱۰: (۴۱) تجھے مسلمانوں کے چاروں مذہب یا (۴۲) مسلمانوں کے تمام مذہب پر طلاق یا (۴۳) تجھے یہودونصاریٰ کے مذہب پر طلاق اس سے ایک طلاق رجعی ہوگی۔ یوہیں اگر کہا (۴۴) جاتجھے طلاق ہے سوئروں یا یہودیوں کو حلال اور مجھ پر حرام ہو تو رجعی ہوگی یعنی جبکہ اس لفظ سے (کہ مجھ پر حرام ہو) طلاق کی نیت نہ کی ہو ورنہ دو ۲ بائن واقع ہونگی۔ (2)(خیریہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: (۴۵) تو مطلقہ اور بائنہ یا (۴۶) مطلقہ پھر بائنہ ہے اس سے ایک رجعی ہوگی اور اگر لفظ بائنہ سے جُدا طلاق کی نیت کی تو دو ۲ بائن اور تین کی تو تین۔ (3)(درمختار ،ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: عورت کے بچہ کو دیکھ کر کہا (۴۷) اے مُطلقہ کے بچے یا (۴۸) اے مُطلقہ کے جنے تو طلاق رجعی ہوئی (4)(عالمگيری) ہاں اگر یہ نیت ہو کہ وہ پہلے شوہرکی مطلقہ ہے تو دیانتہ ً مان لیا جائیگا جبکہ پہلے شوہر نے طلاق دی ہو۔
مسئلہ ۱۳: عور ت کی نسبت کہا (۴۹) اُسے اُس کی طلاق کی خبر دے یا (۵۰) طلاق کی خوشخبری سُنا دے یا (۵۱) اُس کی طلاق کی خبر اُس کے پاس لے جا یا (۵۲) اُسے لکھ بھیج یا (۵۳) اُس سے کہہ کہ وہ مطلقہ ہے یا (۵۴) اُس کے ليے اُس کی طلاق کی سند یا یادداشت لکھدے تو طلاق ابھی پڑگئی اگرچہ نہ اُس نے اُس سے کہا نہ لکھا اور اگر یوں کہا کہ(۵۵) اُس سے کہہ کہ تو مطلقہ ہے یا (۵۶) اُسے طلاق دے آ تو جب جاکر کہے گا طلاق ہوگی ورنہ نہیں۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۱۴: (۵۷) تو فلانی سے زیادہ مُطلقہ ہے طلاق پڑگئی اگرچہ وہ فلانی مُطلقہ نہ بھی ہو۔(6) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱۵: (۵۸) اے مطلقہ (بسکون طا) (۵۹) میں نے تیری طلاق چھوڑدی (۶۰) میں نے تیری طلاق روانہ کردی (۶۱) میں نے تیری طلاق کا راستہ چھوڑدیا (۶۲) میں نے تیری طلاق تجھے ہبہ کردی (۶۳) قرض دی
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق،ج۲،ص۲۰۷.
و''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الأول فيإیقاع الطلاق،الفصل الأول،ج۱،ص۳۵۵،وغیرہما.
2 ۔''الفتاوی الخیریۃ''،کتاب الطلاق،ص۴۶۔۵۰.
و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الصریح، مطلب:فیما لو قال امرأتہ طالق ... إلخ، ج۴، ص۵۱۱.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الصریح،مطلب:في قول الاما م ایمانی ...إلخ،ج۴،ص۴۸۵۔۴۸۸.
4 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثانی فی ایقاع الطلاق،ج۱،۳۵۵.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق،ج۲،ص۲۱۰.
6 ۔''الفتاوی الرضویۃ''،ج۱۲،ص۵۴۸.
(۶۴)تیر ے پاس گروکی(1) (۶۵) امانت رکھی (۶۶) میں نے تیری طلاق چاہی (۶۷) تیرے ليے طلاق ہے (۶۸)اﷲ(عزوجل) نے تیری طلاق چاہی (۶۹) اﷲ (عزوجل) نے تیری طلاق مقدر کردی، اِن سب الفاظ سے اگر نیت طلاق ہو رجعی واقع ہوگی۔(2)(درمختار، ردالمحتار ،بحر)
مسئلہ ۱۶: (۷۰) میں نے تیری طلاق تیرے ہاتھ بیچی عورت نے کہا میں نے خریدی اور کسی مال کے بدلے میں ہونا مذکور نہ ہو ا تو رجعی ہوگی اور مال کے بدلے میں ہونا مذکور ہو تو بائن اور اگر یوں کہا(۷۱) میں نے اس عوض پر طلاق دی کہ تو اپنا مطالبہ اتنے دنوں کے ليے ہٹا دے جب بھی رجعی ہوگی۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: عورت کو کہا میں نے تجھے چھوڑا اور کہتا ہے میرا مقصود یہ تھا کہ بندھی ہوئی تھی اُس کی بندش کھولدی یا مقید تھی اب چھوڑ دی تو یہ تا ویل سُنی نہ جائیگی ہا ں اگر تصریح کردی کہ تجھے قید یا بندش سے چھوڑا تو قول مان لیا جائیگا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: اپنی عورت سے کہا(۷۲) تو مجھ پر حرام ہے تو ایک بائن طلاق ہوگی اگرچہ نیت نہ کی ہو اور اگر وہ اُس کی عورت نہ ہو تو یمین (5)ہے حا نث ہونے پر (6)کفارہ واجب۔ یوہیں اگر یہ کہا (۷۳) میں تجھ پر حرام ہوں اور طلاق کی نیت کی تو واقع ہوگی اور اگر صرف یہ کہا کہ میں حرام ہو ں تو واقع نہ ہوگی۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱۹: عورت سے کہا(۷۴) تیری طلاق مجھ پر واجب ہے تو بعض کے نزدیک طلاق ہو جائیگی اور اسی پر فتویٰ ہے۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: اگر کہا تجھے خدا طلاق دے تو واقع نہ ہوگی اور یوں کہا کہ (۷۵) تجھے خدا نے طلاق دی تو ہو گئی۔(9)(ردالمحتار)
1 ۔یعنی گروی رکھی۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الصریح، مطلب: الاعتبار بالاعراب ھنا، ج۴، ص۴۵۵،۵۲۳.
و''البحرالرائق''،کتاب الطلاق،باب الطلاق،ج۳،ص۴۳۸،۵۲۱.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الکنایات، مطلب: الاعتبار بالاعراب ھنا، ج۴، ص۵۲۴.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ج۴، ص۴۴۹.
5 ۔ قسم۔
6 ۔ قسم توڑنے پر۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الصریح ،ج۴،ص۴۵۰،۴۵۲.
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،مطلب في قولہ:علی الطلاق من ذراعی،ج۴،ص۴۵۴.
9 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۲۱: اگر کہا تجھے طاق تو واقع نہ ہوگی، اگرچہ طلاق کی نیت ہو۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: طلاق میں اضافت ضرور ہونی چاہيے بغیر اضافت طلاق واقع نہ ہوگی خواہ حاضر کے صیغہ سے بیان کرے مثلاًتجھے طلاق ہے یا اشارہ کے ساتھ مثلاًاسے یا اُسے یا نام لے کر کہے کہ فلانی کو طلاق ہے یا اُس کے جسم و بدن یا روح کی طرف نسبت کرے یا اُس کے کسی ایسے عضو کی طرف نسبت کرے جو کل کے قائم مقام تصور کیا جاتا ہو مثلاً گردن یا سر یا شرمگاہ یا جزو شائع کی طرف نسبت کرے مثلاً نصف تہائی چوتھائی وغیرہ یہاں تک کہ اگر کہا تیرے ہزار حصوں میں سے ایک حصہ کو طلاق ہے تو طلاق ہو جائیگی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: اگر سر یا گردن پر ہا تھ رکھ کر کہا تیرے اس سر یا اس گردن کو طلاق تو واقع نہ ہوگی اور اگرہاتھ نہ رکھا اور یوں کہا اِس سر کو طلاق اور عورت کے سر کی طرف اشارہ کیا تو واقع ہو جائے گی۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۴: ہاتھ یا اُنگلی یا نا خن یا پاؤں یا بال یا ناک یا پنڈلی یا ران یا پیٹھ یا پیٹ یا زبان یا کان یا مونھ یا ٹھوڑی یادانت یا سینہ یا پستان کو کہا کہ اسے طلاق تو واقع نہ ہوگی۔(4) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۲۵: جزو طلاق بھی پوری طلاق ہے اگرچہ ایک طلاق کا ہزارواں حصہ ہو مثلاً کہا تجھے آدھی یا چوتھائی طلاق ہے تو پوری ایک طلاق پڑے گی کہ طلاق کے حصے نہیں ہو سکتے۔ اگر چند اجزا ذکر کيے جن کا مجموعہ ایک سے زیادہ نہ ہو تو ایک ہوگی اور ایک سے زیادہ ہو تو دوسری بھی پڑجائے گی مثلاًکہا ایک طلاق کا نصف اور اُس کی تہائی اور چو تھائی کہ نصف اور تہائی اور چو تھائی کا مجموعہ ایک سے زیادہ ہے لہٰذا دو ۲ واقع ہوئیں اور اگر اجزا کا مجموعہ دو سے زیادہ ہے تو تین ہونگی۔ یوہیں ڈیڑھ میں دو۲ اور ڈھائی میں تین اور اگر دو ۲ طلاق کے تین نصف کہے توتین ہونگی اور ایک طلاق کے تین نصف میں دو ۲ اور اگر کہا ایک سے دو ۲ تک تو ایک، اورایک سے تین تک تو دو ۔(5) (درمختار وغیرہ)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،مطلب:في قولہ : علی الطلاق من ذراعی، ج۴، ص۴۵۵.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ج۴،ص۴۵۶،۴۶۱.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ج۴،ص۴۵۹،وغیرہ.
4 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الطلاق،الجزء الثانی،ص۴۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ج۴،ص۴۶۰.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ج۴،ص۴۶۱،۴۶۳،وغیرہ.
مسئلہ ۲۶: اگر کہا (۷۶)تجھے طلاق ہے یہاں سے ملک شام تک تو ایک رجعی ہوگی۔ ہاں اگر یوں کہا کہ(۷۷) اتنی بڑی یا اتنی لمبی کہ یہاں سے ملک شام تک تو بائن ہوگی۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۷: اگر کہا (۷۸)تجھے مکہ میں طلاق ہے یا (۷۹) گھرمیں یا (۸۰) سایہ میں یا (۸۱) دھوپ میں تو فوراً پڑجائے گی، یہ نہیں کہ مکہ کو جائے جب پڑے ہاں اگر یہ کہے میر ا مطلب یہ تھا کہ جب مکہ کو جائے طلاق ہے تو دیانۃً یہ قول معتبر ہے قضاء ً نہیں اور اگر کہا تجھے قیامت کے دن طلاق ہے توکچھ نہیں بلکہ یہ کلام لغو ہے اور اگر کہا(۸۲) قیامت سے پہلے تو ابھی پڑجائے گی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲۸: اگر کہا (۸۳)تجھے کل طلاق ہے تو دوسرے دن صبح چمکتے ہی طلاق ہو جائے گی۔ یوہیں اگر کہا (۸۴) شعبان میں طلاق ہے توجس دن رجب کا مہینہ ختم ہوگا، اُس دن آفتاب ڈوبتے ہی طلاق ہوگی۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: اگر کہا تجھے میری پیدائش سے یا تیری پیدائش سے پہلے طلاق یا کہا میں نے اپنے بچپن میں یا جب سوتا تھا یا جب مجنون تھا تجھے طلاق دیدی تھی اور اس کا مجنون ہونا معلوم ہو تو طلاق نہ ہوگی بلکہ یہ کلام لغو ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۰: کہا کہ (۸۵) تجھے میرے مرنے سے دو ۲مہینے پہلے طلاق ہے اور دو۲مہینے گزرنے نہ پائے کہ مرگیا تو طلاق واقع نہ ہوئی اور اس کے بعد مرا تو ہو گئی اور اُسی وقت سے مُطلقہ قرار پائے گی جب اُس نے کہا تھا۔(5) (تنویر الابصار)
مسئلہ ۳۱: اگر کہا میرے نکاح سے پہلے تجھے طلاق یا کہا کل گزشتہ میں حالانکہ اُس سے نکاح آج کیا ہے تو دونوں صورتوں میں کلام لغو ہے اور اگر دوسری صورت میں کل یا کل سے پہلے نکاح کرچکا ہے تو اس وقت طلاق ہو گئی۔(6) (فتح وغیرہ) یوہیں اگر کہا (۸۶)تجھے دو ۲مہینے سے طلاق ہے اور واقع میں نہیں دی تھی تو اس وقت پڑیگی بشرطیکہ نکاح کو دو ۲ مہینے سے کم نہ ہوئے ہوں ورنہ کچھ نہیں اور اگر جھوٹی خبر کی نیت سے کہا تو عنداﷲ نہ ہوگی مگر قضاءً ہوگی۔
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۶۵.
2 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۶۵ ۔ ۴۶۷.
3 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۶۸ .
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۷۱.
5 ۔ ''تنویر الابصار''، کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۷۲.
6 ۔ ''فتح القدیر''،کتاب الطلاق، فصل فی اضافۃ الطلاق... الخ، ج۳، ص۳۷۱،۳۷۲، وغیرہ.
مسئلہ ۳۱: اگر کہا (۸۷)زید کے آنے سے ایک ماہ پہلے تجھے طلاق ہے اور زید ایک مہینے کے بعد آیا تو اس وقت طلاق ہوگی اس سے پہلے نہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۳۲: یہ کہا کہ(۸۸) جب کبھی تجھے طلاق نہ دوں تو طلاق ہے یا (۸۹) جب تجھے طلاق نہ دوں تو طلاق ہے تو چُپ ہوتے ہی طلاق پڑجائے گی۔ اور یہ کہا کہ (۹۰) اگر تجھے طلاق نہ دوں تو طلاق ہے تو مرنے سے کچھ پہلے طلاق ہوگی۔ (2)(عامہ کتب)
مسئلہ ۳۳: یہ کہا کہ(۹۱) اگر آج تجھے تین طلاقیں نہ دوں تو تجھے تین طلاقیں تو دیگا جب بھی ہو نگی اور نہ دیگا جب بھی اور بچنے کی یہ صورت ہے کہ عورت کو ہزار روپے کے بدلے میں طلاق دیدے اور عورت کو چاہیے کہ قبول نہ کرے اب اگر دن گزر گیا تو طلاق واقع نہ ہوگی۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۳۴: کسی عورت سے کہا (۹۲)تجھے طلاق ہے جس دن تجھ سے نکاح کروں اور رات میں نکاح کیا تو طلاق ہوگئی۔(4) (تنویر)
مسئلہ ۳۵: کسی عورت سے کہا(۹۳) اگر تجھ سے نکاح کروں یا (۹۴) جب، یا (۹۵) جس وقت تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے تو نکاح ہوتے ہی طلاق ہو جائے گی۔ یوہیں اگر خاص عورت کو معین نہ کیا بلکہ کہا اگر یا جب یا جس وقت میں نکاح کروں تو اُسے طلاق ہے تو نکاح کرتے ہی طلاق ہو جائیگی مگر اسکے بعد دوسری عورت سے نکاح کریگا تو اُسے طلاق نہ ہوگی۔ ہاں اگر کہا (۹۶) جب کبھی میں کسی عورت سے نکاح کروں اُسے طلاق ہے تو جب کبھی نکاح کریگا طلاق ہو جائیگی۔ ان صورتوں میں اگر چاہے کہ نکاح ہو جائے اور طلاق نہ پڑے تو اسکی صورت یہ ہے کہ فضولی (یعنی جسے اس نے نکاح کا وکیل نہ کیا ہو) بغیر اس کے حکم کے اُس عورت یا کسی عورت سے نکاح کردے اور جب اسے خبر پہنچے تو زبان سے نکاح کو نا فذنہ کرے بلکہ کوئی ایسا فعل کرے جس سے اجازت ہو جائے مثلاً مہر کا کچھ حصہ یا کل اُس کے پاس بھیج دے یا اُس کے ساتھ جماع کرے یا شہوت کے ساتھ ہاتھ لگائے یا بوسہ لے یا لوگ مبارکباد دیں تو خاموش رہے انکار نہ کرے تو اِ س صورت میں نکاح ہو جائے گا اور
1 ۔ '' الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۷۴.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۷۶.
3 ۔ '' الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج ۱، ص۲۲۱،۲۲۲.
4 ۔''تنویرالابصار''، کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۷۸.
طلاق نہ پڑیگی اور اگر کوئی خود نہیں کر دیتا اسے کہنے کی ضرورت پڑے تو کسی کو حکم نہ دے بلکہ تذکرہ کرے کہ کاش کوئی میرا نکاح کردے یا کاش تو میرا نکاح کر دے یاکیا اچھا ہو تا کہ میر ا نکاح ہو جاتا اب اگر کوئی نکاح کردیگا تو نکاح فضولی ہو گا اور اس کے بعد وہی طریقہ برتے جو اوپر مذکور ہوا۔(1) (بحر، ردالمحتار، خیریہ)
مسئلہ ۳۶: اس کی عورت کسی کی باندی ہے اس نے اُس سے کہا (۹۷) کل کا دن آئے تو تجھ کو دو۲ طلاقیں اور مولیٰ نے کہا کل کا دن آئے تو تُو آزاد ہے تو دو ۲ طلاقیں ہو جائيں گی اور شوہر رجعت نہیں کرسکتا مگر اس کی عدّت تین حیض ہے اور شوہر مریض تھا تو یہ وارث نہ ہوگی۔(2) (تنویر)
مسئلہ ۳۷: (۹۸) اُنگلیوں سے اشارہ کرکے کہا تجھے اتنی طلاقیں تو ایک دو تین جتنی اُنگلیوں سے اشارہ کیا اُتنی طلاقیں ہوئیں یعنی جتنی اُنگلیاں اشارہ کے وقت کُھلی ہوں اُنکا اعتبار ہے بند کا اعتبار نہیں اور اگر وہ کہتا ہے میری مراد بند اُنگلیاں یا ہتھیلی تھی تو یہ قول دیا نۃً معتبر ہو گا، قضاءً معتبر نہیں۔ اور (۹۹) اگر تین اُنگلیوں سے اشارہ کرکے کہا تجھے اسکی مثل طلاق اور نیت تین کی ہو تو تین ورنہ ایک بائن اور (۱۰۰) اگر اشارہ کرکے کہا تجھے اتنی اور نیت طلاق ہے اور لفظ طلاق نہ بولا جب بھی طلاق ہوجائیگی۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۸: طلاق کے ساتھ کوئی صفت ذکر کی جس سے شدت سمجھی جائے تو بائن ہوگی مثلاً (۱۰۱) بائن یا (۱۰۲) البتہ (۱۰۳) فحش طلاق (۱۰۴) طلاقِ شیطان (۱۰۵) طلاق بدعت (۱۰۶) بدتر طلاق (۱۰۷) پہاڑ برابر (۱۰۸) ہزار کی مثل (۱۰۹) ایسی کہ گھر بھر جائے۔ (۱۱۰) سخت (۱۱۱) لنبی (۱۱۲) چوڑی (۱۱۳) کھر کھری (۱۱۴) سب سے بُری (۱۱۵) سب سے کرّی (۱۱۶) سب سے گندی (۱۱۷) سب سے ناپاک (۱۱۸) سب سے کڑوی (۱۱۹) سب سے بڑی (۱۲۰) سب سے چوڑی (۱۲۱) سب سے لنبی (۱۲۲) سب سے موٹی پھر اگر تین کی نیت کی تو تین ہونگی ورنہ ایک اور اگر عورت باندی ہے تو دو ۲ کی نیت صحیح ہے۔(4) (درمختاروغیرہ)
مسئلہ ۳۹: اگر کہا (۱۲۳)تجھے ایسی طلاق جس سے تو اپنے نفس کی مالک ہو جائے یا کہا (۱۲۴) تجھے ایسی طلاق
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الطلاق،باب التعلیق،ج۴،ص۱۱.
و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب التعلیق،مطلب:التعلیق المرادبہ. ..إلخ،ج۴،ص۵۸۳.
و ''الفتاوی الخیریۃ''،کتاب النکاح، فصل فينکاح الفضولی ،الجزء الأول، ص ۲۷.
2 ۔''تنویر الابصار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ج۴،ص۴۸۲.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،مطلب في قولھم:الیوم ...إلخ،ج۴،ص۴۸۲۔۴۸۵.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ج۴،ص۴۸۵۔۴۸۷،وغیرہ.
جس میں میرے ليے رجعت(1) نہیں تو بائن ہوگی اوراگر کہا (۱۲۵)تجھے طلاق ہے اور میرے ليے رجعت نہیں تو رجعی ہوگی۔ یوہیں اگر کہا(۱۲۶) تجھے طلاق ہے کوئی قاضی یا حاکم یا عالم تجھے واپس نہ کرے جب بھی رجعی ہوگی۔(2) (درمختار، ردالمحتار) اور اگر کہا (۱۲۷)تجھے طلاق ہے اِس شرط پر کہ اُس کے بعد رجعت نہیں یا یوں کہا، (۱۲۸) تجھ پر وہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہیں یا کہا(۱۲۹) تجھ پر وہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہ ہوگی تو ان سب صورتوں میں رجعی ہو جانا چاہيے۔(3) (فتاویٰ رضویہ) اور اگرکہا (۱۳۰) تجھ پر وہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہیں ہوتی تو بائن ہو نا چاہيے۔
مسئلہ ۴۰: عورت سے کہا(۱۳۱) اگر میں تجھے ایک طلاق دوں تو وہ بائن ہوگی یا کہا وہ تین ہوگی پھر اُسے طلاق دی تو نہ بائن ہوگی نہ تین بلکہ ایک رجعی ہوگی۔ یا کہا تھا کہ (۱۳۲) اگر تو گھر میں جائیگی تو تجھے طلاق ہے پھر مکان میں جانے سے پہلے کہا کہ اُسے میں نے بائن یا تین کردیا جب بھی ایک رجعی ہوگی اور یہ کہنا بے کار ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۴۱: کہا(۱۳۳) تجھے ہزاروں طلاق یا (۱۳۴) چند بار طلاق تو تین واقع ہونگی اور اگر کہا (۱۳۵)تجھے طلاق نہ کم نہ زیادہ تو ظاہر الروایۃ میں تین ہو نگی اور امام ابو جعفر ہندوانی و امام قاضی خاں اس کو تر جیح دیتے ہیں کہ دو واقع ہوں اور اگر کہا (۱۳۶) کمتر طلاق تو ایک رجعی ہوگی۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: اگر کہا(۱۳۷) تجھے طلاق ہے پوری طلاق تو ایک ہوگی اور کہا کہ (۱۳۸) کُل طلاقیں تو تین۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: اگر طلاق کے عدد میں وہ چیز ذکر کی جس میں تعدد نہ ہو جیسے کہا(۱۳۹) بعددخاک(7) یا معلوم نہ ہو کہ اس میں تعدد ہے یا نہیں مثلاً کہا (۱۴۰) ابلیس کے بال کی گنتی برابر تو دونوں صورتوں میں ایک واقع ہوگی اور اِن دونوں مثالوں میں وہ بائن ہوگی۔ اور اگر معلوم ہے کہ اُس میں تعدد ہے تو اُس کی تعداد کے موافق ہوگی مگر تعدادتین سے زیادہ ہو تو تین ہی ہونگی باقی لغو مثلاً کہا (۱۴۱)اتنی جتنے میری پنڈلی یا کلائی میں بال ہیں یا اُتنی جتنی اس تالاب میں مچھلیاں ہیں اور اگر تالاب میں کوئی مچھلی نہ ہو
1 ۔عدت کے اندررجوع کرنے کاحق۔
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،مطلب:في قول الامام...إلخ،ج۴،ص۴۸۸،۴۹۱.
3 ۔''الفتاوی الرضویۃ''،ج۱۲،ص۵۲۹.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الصریح ،ج۴،ص۴۸۹.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،مطلب:في قول الامام ...إلخ،ج۴،ص۴۹۱.
6 ۔''الدر المختار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ص۴۹۳.
7 ۔خاک کی تعدادکے برابر۔
جب بھی ایک واقع ہوگی اور پنڈلی یا کلائی کے بال اُڑاديے ہوں اُس وقت کوئی بال نہ ہو تو طلاق نہ ہوگی اور اگر یہ کہا کہ (۱۴۲) جتنے میری ہتھيلی میں بال ہیں اور بال نہ ہو تو ایک ہوگی۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: اس میں شک ہے کہ طلاق دی ہے یا نہیں تو کچھ نہیں اور اگر اس میں شک ہے کہ ایک دی ہے یا زیادہ تو قضاءً ایک ہے دیا نۃً زیادہ۔ اور اگر کسی طرف غالب گمان ہے تو اُسی کا اعتبار ہے اور اگر اس کے خیال میں زیادہ ہے مگر اُس مجلس میں جو لوگ تھے وہ کہتے ہیں کہ ایک دی تھی اگر یہ لوگ عادل ہوں اور اِس بات میں اُنھیں سچا جانتا ہو تو اعتبار کرلے۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: جس عورت سے نکاح فاسد کیا پھر اُس کو تین طلاقیں دیں تو بغیر حلالہ نکاح کرسکتا ہے کہ یہ حقیقۃً طلاق نہیں بلکہ متارکہ (3)ہے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: غیر مدخولہ کو کہا تجھے تین طلاقیں تو تین ہو نگی اوراگر کہا تجھے طلاق تجھے طلاق تجھے طلاق یاکہاتجھے طلاق طلاق طلاق یا کہا تجھے طلاق ہے ایک اور ایک اور ایک تو ان صورتوں میں ایک بائن واقع ہوگی باقی لغو و بیکار ہیں یعنی چند لفظوں سے واقع کرنے میں صرف پہلے لفظ سے واقع ہوگی اور باقی کے ليے محل نہ رہے گی اور موطؤہ میں بہر حال تین واقع ہو نگی۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲: کہا تجھے تین طلاقیں الگ الگ تو ایک ہوگی۔ یوہیں اگر کہا تجھے دو طلاقیں اُس طلاق کے ساتھ جو میں تجھے دوں پھر ایک طلاق دی تو ایک ہی ہوگی۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۳: اگر کہا ڈیڑھ طلاق تو دو ۲ہونگی اوراگر کہا آدھی اور ایک تو ایک۔ یوہیں ڈھائی کہا تو تین اور دواور آدھی کہا تو دو۲۔(7) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ج۴،ص۴۹۴.
2 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،مطلب:في قول الامام ایمانی...إلخ، ج۴، ص۴۹۶ .
3 ۔ عورت کوچھوڑدینا ۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،مطلب:في قول الامام ایمانی...إلخ،ج۴،ص۴۹۶.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب طلاق غیر المدخول بھا،ج۴،ص۴۹۶۔۴۹۹.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب طلاق غیر المدخول بھا،ج۴،ص۴۹۹.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب طلاق غیر المدخول بھا،ج۴،ص۴۹۹.
مسئلہ ۴: جب طلاق کے ساتھ کوئی عدد یا وصف مذکور ہو تو اُس عدد یاوصف کے ذکر کرنے کے بعد واقع ہوگی صرف طلاق سے واقع نہ ہوگی مثلاًلفظ طلاق کہا اور عدد یا وصف کے بولنے سے پہلے عورت مرگئی تو طلاق نہ ہوئی اور اگر عدد یا وصف بولنے سے پہلے شوہر مر گیا یا کسی نے اُس کا مونھ بند کردیا تو ایک واقع ہوگی کہ جب شوہر مر گیا تو ذکر نہ پایا گیا صرف ارادہ پایا گیا اور صرف ارادہ نا کافی ہے اور مونھ بند کردینے کی صورت میں اگر ہاتھ ہٹاتے ہی اُسنے فوراًعدد یا وصف کو ذکر کر دیا تو اسکے موافق ہوگی ورنہ وہی ایک۔ (1)(عامہ کتب)
مسئلہ ۵: غیر مدخولہ سے کہا تجھے ایک طلاق ہے، ایک کے بعد یا اسکے پہلے ایک یا اس کے ساتھ ایک تو دو ۲ ہونگی۔ (2)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶: تجھے ایک طلاق ہے اور ایک اگر گھر میں گئی تو گھر میں جانے پر دو ۲ ہونگی اور اگر یوں کہا کہ اگر تو گھر میں گئی تو تجھے ایک طلاق ہے اور ایک تو ایک ہوگی اور موطؤہ میں بہر حال دو ہونگی۔(3) (درمختار)
مسئلہ۷: کسی کی دو۲ یا تین عورتیں ہیں اُس نے کہا میری عورت کو طلاق تو اُن میں سے ایک پر پڑے گی اور یہ اُسے اختیار ہے کہ اُن میں سے جسے چاہے طلاق کے ليے معین کرلے اور ایک کو مخاطب کرکے کہا تجھ کو طلاق ہے یا تو مجھ پر حرام ہے تو صرف اُسی کو ہوگی جس سے کہا۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: چار عورتیں ہیں اور یہ کہا کہ تم سب کے درمیان ایک طلاق تو چاروں پر ایک ایک ہوگی۔ یوہیں دو یا تین یا چار طلاقیں کہیں جب بھی ایک ایک ہوگی مگر اُن صورتوں میں اگر یہ نیت ہے کہ ہر ایک طلاق چاروں پر تقسیم ہو تو دومیں ہر ایک پر دو (۲) ہونگی اور تین یا چار میں ہر ایک پر تین ،اور پانچ ،چھ ،سات، آٹھ میں ہر ایک پر دو اور تقسیم کی نیت ہے تو ہر ایک پر تین نو، دس وغیرہ میں بہر حال ہر ایک پر تین واقع ہونگی۔ یوہیں اگر کہا میں نے تم سب کو ایک طلاق میں شریک کردیا تو ہر ایک پر ایک وعلی ہٰذاالقیاس۔(5) (خانیہ، فتح، بحر وغیرہا)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا، مطلب: الطلاق یقع ...إلخ،ج۴، ص۵۰۰.
2 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا، ج۴، ص۵۰۲ وغیرہ.
3 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا، ج۴، ص۵۰۳.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا، مطلب: فیما لو ... إلخ، ج۴، ص۵۰۶.
5 ۔ ''فتح القدیر''،کتاب الطلاق،باب ایقاع الطلاق ،ج۳،ص۳۶۳.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق،ج۱،ص۲۰۹.و''البحرالرائق''،کتاب الطلاق،باب الطلاق،ج۳،ص۴۵۸وغیرھا.
مسئلہ ۹: دو۲ عورتیں ہیں اور دونوں غیر موطؤہ (1) اس نے کہا میری عورت کو طلاق میری عورت کو طلاق تو دونوں مطلقہ ہوگئيں اگرچہ وہ کہے کہ ایک ہی عورت کو میں نے دونوں بار کہا تھا اور اگر دونوں مدخولہ ہوں اور کہتا ہے کہ دونوں بار ایک ہی کی نسبت کہا تھا تواُسکا قول مان لیا جائیگا۔ یوہیں اگر ایک مدخولہ ہو دوسری غیر مدخولہ اور مدخولہ کی نسبت دونوں مرتبہ کہا تو اُسی کو دو ۲ طلاقیں ہو نگی اور غیر مدخولہ کی نسبت بیان کرے تو ہر ایک کو ایک ایک۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: کہا میری عورت کو طلاق ہے اور اُسکا نا م نہ لیا اور اُس کی ایک ہی عورت ہے جس کو لوگ جانتے ہیں تو اسی پر طلاق پڑے گی اگرچہ کہتا ہو کہ میری ایک عورت دوسری بھی ہے میں نے اُسے مراد لیا ہاں اگر گواہوں سے دوسری عورت ہونا ثابت کردے تو اُسکا قول مان لیں گے اور دو ۲عورتیں ہوں اور دونوں کو لوگ جانتے ہوں تو اسے اختیار ہے جسے چاہے مراد لے یا معین کرے۔ یوہیں اگر دونوں غیر معروف ہوں تو اختیار ہے۔ (3)(خانیہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: مدخولہ کو کہا تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہے یا میں نے تجھے طلاق دی میں نے تجھے طلاق دی تو دو۲ طلاق کا حکم دیا جائے گا اگرچہ کہتا ہو کہ دوسرے لفظ سے تاکید کی نیت تھی طلاق دینا مقصود نہ تھا ہاں دیانتہً اُس کا قول مان لیا جائیگا۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: اپنی عورت کو کہا اس کُتیا کو طلاق یا انکھیاری (5)ہے اُس کو کہا اس اندھی کو طلاق تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر کسی دوسری عورت کو دیکھا اور سمجھا کہ میری عورت ہے اور اپنی عورت کا نام لیکر کہا اے فلانی تجھے طلاق ہے بعد کو معلوم ہواکہ یہ اُس کی عورت نہ تھی تو طلاق ہو گئی مگر جبکہ اُسکی طرف اشارہ کرکے کہا تو نہ ہوگی۔(6) (خانیہ وغیرہا)
مسئلہ۱۳: اگر کہا دُنیا کی تمام عورتوں کو طلاق تو اس کی عورت کو طلاق نہ ہوئی اور اگر کہا کہ اس محلہ یا اس گھر کی عورتوں کو تو ہوگئی۔ (7)(درمختار)
1 ۔یعنی دونوں میں سے کسی سے صحبت نہیں کی ۔
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب طلاق غیرالمدخول بھا، مطلب: فیما لو... إلخ، ج۴، ص۵۰۹.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ'' ،کتاب الطلاق،ج۲،ص۲۰۷. ..
و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا، مطلب: فیما لو ... إلخ، ج۴، ص۵۰۹.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا،ج۴، ص۵۰۹.
5 ۔بینا،درست آنکھوں والی۔
6 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ'' ، کتاب الطلاق، ج۲، ص۲۰۸، وغیرہا.
7 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا، ج۴، ص۵۱۱.
مسئلہ۱۴: عورت نے خاوند سے کہا مجھے تین طلاقیں دیدے اس نے کہا دی تو تین واقع ہوئیں اور اگر جواب میں کہا تجھے طلاق ہے تو ایک واقع ہوگی اگرچہ تین کی نیت کرے۔ (1)(خانیہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۵: عورت نے کہا مجھے طلاق دیدے مجھے طلاق دیدے مجھے طلاق دیدے اس نے کہا دیدی تو ایک ہوئی اور تین کی نیت کی تو تین۔(2) (درمختار)
مسئلہ۱۶: عورت نے کہا میں نے اپنے کو طلاق دے دی شوہر نے جائز کردی تو ہوگئی۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: کسی نے کہا تو اپنی عورت کو طلاق دیدے اس نے کہا ہاں ہاں طلاق واقع نہ ہوئی اگرچہ بہ نیت طلاق کہا کہ یہ ایک وعدہ ہے۔(4) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱۸: کسی نے کہا جس کی عورت اُس پر حرام ہے وہ یہ کام کرے اُن میں سے ایک نے وہ کام کیا تو عورت حرام ہونے کا اقرار ہے۔ یوہیں اگر کہا جس کی عورت مُطلقہ ہو وہ تالی بجائے اور سب نے بجائی تو سب کی عورتیں مُطلقہ ہو جائیں گی۔ کسی نے کہا اب جو بات کرے اُس کی عورت کو طلاق ہے پھر خود اسی نے کوئی بات کہی تو اس کی عورت کو طلاق ہوگئی اور اوروں نے بات کی تو کچھ نہیں۔ یوہیں اگر آپس میں ایک دوسرے کو چپت (5)مارتا تھا اور کسی نے کہا جواب چپت مارے اُس کی عورت کو طلاق ہے اور خود اسی نے چپت ماری تو اس کی عور ت کو طلاق ہوگئی۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
کنایہ طلاق وہ الفاظ ہیں جن سے طلاق مراد ہونا ظاہر نہ ہو طلاق کے علاوہ اور معنوں میں بھی اُن کا استعمال ہوتا ہو۔
مسئلہ ۱: کنایہ سے طلاق واقع ہونے میں یہ شرط ہے کہ نیت طلاق ہو یا حالت بتاتی ہو کہ طلاق مراد ہے یعنی پیشتر
1 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، الفصل الأول في صریح الطلاق، ج۱، ص۲۰۷ وغیرہا.
2 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا، ج۴، ص۵۱۲.
3 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا، ج۴، ص۵۱۲.
4 ۔''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الطلاق، ج۱۲، ص۳۷۹ .
5 ۔طمانچہ،تھپڑ۔
6 ۔''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا، مطلب: فیما لو ... إلخ، ج۴، ص۵۱۳.
طلاق کا ذکر تھا یا غصہ میں کہا۔ کنایہ کے الفاظ تین طرح کے ہیں۔ بعض میں سَوال رد کرنے کا احتمال ہے، بعض میں گالی کا احتمال ہے اور بعض میں نہ یہ ہے نہ وہ، (1) بلکہ جواب کے ليے متعین ہیں۔ اگر رد کا احتمال ہے تو مطلقاً ہر حال میں نیت کی حاجت ہے بغیر نیتِ طلاق نہیں اور جن میں گالی کا احتمال ہے اُن سے طلاق ہونا خوشی اور غضب میں نیت پر موقوف ہے اور طلاق کا ذکر تھا تو نیت کی ضرورت نہیں اور تیسری صورت یعنی جو فقط جواب ہو تو خوشی میں نیت ضروری ہے اور غضب و مذاکرہ کے وقت بغیر نیت بھی طلاق واقع ہے۔(2) (درمختار وغیرہ)
(۱) جا (۲) نکل (۳) چل (۴) روانہ ہو (۵) اوٹھ (۶) کھڑی ہو (۷) پردہ کر (۸) دوپٹہ اوڑھ (۹) نقاب ڈال (۱۰) ہٹ سرک (۱۱) جگہ چھوڑ (۱۲) گھر خالی کر (۱۳) دُور ہو (۱۴) چل دُور (۱۵) اے خالی (۱۶) اے بَری (۱۷) اے جُدا (۱۸) تو جُداہے (۱۹) تو مجھ سے جُدا ہے (۲۰) میں نے تجھے بے قید کیا (۲۱) میں نے تجھ سے مفارقت(3)کی (۲۲) رستہ ناپ (۲۳) اپنی راہ لے (۲۴) کالامونھ کر (۲۵) چال دکھا (۲۶) چلتی بن (۲۷) چلتی نظر آ (۲۸) دفع ہو (۲۹) دال فے عین ہو (۳۰) رفوچکر ہو (۳۱) پنجرا خالی کر (۳۲) ہٹ کے سڑ (۳۳) اپنی صورت گما (۳۴) بستر اُٹھا (۳۵) اپنا سوجھتا دیکھ (۳۶) اپنی گٹھری باندھ (۳۷) اپنی نجاست الگ پھیلا (۳۸) تشریف لیجائيے (۳۹) تشریف کا ٹوکرا لیجائیے (۴۰) جہاں سینگ سمائے جا (۴۱) اپنا مانگ کھا (۴۲) بہت ہو چکی اب مہربانی فرمائیے (۴۳) اے بے علاقہ (۴۴) مونھ چھپا (۴۵) جہنم میں جا (۴۶) چولھے میں جا (۴۷) بھاڑ میں پڑ (۴۸) میرے پاس سے چل (۴۹) اپنی مُراد پر فتح مند ہو (۵۰) میں نے نکاح فسخ کیا (۵۱) تو مجھ پر مثل مُردار (۵۲) یا سوئریا (۵۳) شراب کے ہے۔ (نہ مثل بنگ۔ یا افیون یا مال فلاں یا زوجہ فلاں کے) (۵۴) تو مثل میری ماں یا بہن یا بیٹی کے ہے (اور یوں کہا کہ تو ماں بہن بیٹی ہے تو گناہ کے سوا کچھ نہیں) (۵۵) تو خلاص ہے (۵۶) تیری گلو خلاصی ہوئی (۵۷) تو خالص ہوئی (۵۸) حلال خدا یا (۵۹) حلال مسلمانان یا (۶۰) ہر حلال مجھ پر حرام (۶۱) تو میرے ساتھ حرام میں ہے (۶۲) میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا اگرچہ کسی عوض کا ذکر نہ آئے اگرچہ عورت نے یہ نہ کہا کہ میں نے
خریدا (۶۳) میں تجھ سے باز آیا (۶۴) میں تجھ سے در گزر ا (۶۵) تو میرے کام کی نہیں (۶۶) میرے مطلب کی نہیں (۶۷)
1 ۔یعنی نہ گالی کااحتمال ہے نہ سوال ردکرنے کااحتمال۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الکنایات،ج۴، ص۵۱۶ ۔ ۵۲۲ وغیرہ.
3 ۔جدائی ۔
میرے مصرف کی نہیں (۶۸) مجھے تجھ پر کوئی راہ نہیں (۶۹) کچھ قابو نہیں (۷۰) مِلک نہیں (۷۱) میں نے تیری راہ خالی کردی (۷۲) تو میری مِلک (1) سے نکل گئی (۷۳) میں نے تجھ سے خلع کیا (۷۴) اپنے میکے بیٹھ (۷۵) تیری باگ ڈھیلی کی (۷۶) تیری رسّی چھوڑدی (۷۷) تیری لگام اُتارلی (۷۸) اپنے رفیقوں سے جامل (۷۹) مجھے تجھ پر کچھ اختیار نہیں (۸۰) میں تجھ سے لا دعویٰ ہوتا ہوں (۸۱) میرا تجھ پر کچھ دعویٰ نہیں (۸۲) خاوند تلاش کر (۸۳) میں تجھ سے جُدا ہوں یا ہوا (فقط میں جُدا ہوں یا ہوا کافی نہیں اگرچہ بہ نیت طلاق کہا) (۸۴) میں نے تجھے جُدا کر دیا (۸۵) میں نے تجھ سے جُدائی کی (۸۶) تو خود مختار ہے (۸۷) تو آزاد ہے (۸۸) مجھ میں تجھ میں نکاح نہیں (۸۹) مجھ میں تجھ میں نکاح باقی نہ رہا (۹۰) میں نے تجھے تیرے گھر والوں یا (۹۱) باپ یا (۹۲) ماں یا (۹۳) خاوندوں کو دیا یا (۹۴) خود تجھ کو دیا (اور تیرے بھائی یا ماموں یا چچا یا کسی اجنبی کو دینا کہا تو کچھ نہیں) (۹۵) مجھ میں تجھ میں کچھ معاملہ نہ رہا یا نہیں (۹۶) میں تیرے نکاح سے بیزار ہوں (۹۷) بَری ہوں (۹۸) مجھ سے دُور ہو (۹۹) مجھے صورت نہ دکھا (۱۰۰) کنارے ہو (۱۰۱) تو نے مجھ سے نجات پائی (۱۰۲) الگ ہو (۱۰۳) میں نے تیرا پاؤں کھولدیا (۱۰۴) میں نے تجھے آزاد کیا (۱۰۵) آزاد ہو جا (۱۰۶) تیری بند کٹی (۱۰۷) تو بے قید ہے (۱۰۸) میں تجھ سے بَری ہوں (۱۰۹) اپنا نکاح کر (۱۱۰) جس سے چاہے نکاح کرلے (۱۱۱) میں تجھ سے بیزارہوا (۱۱۲) میرے ليے تجھ پر نکاح نہیں (۱۱۳) میں نے تیرا نکاح فسخ کیا (۱۱۴) چاروں راہیں تجھ پر کھولدیں (اور اگر یوں کہا کہ چاروں راہیں تجھ پر کُھلی ہیں تو کچھ نہیں جب تک یہ نہ کہے کہ (۱۱۵) جو راستہ چاہے اختیار کر) (۱۱۶) میں تجھ سے دست بردار ہوا (۱۱۷) میں نے تجھے تیرے گھر والوں یا باپ یا ماں کو واپس دیا (۱۱۸) تو میری عصمت سے نکل گئی (۱۱۹) میں نے تیری مِلک سے شرعی طور پر اپنانام اُتار دیا (۱۲۰) تو قیامت تک یا عمر بھر میرے لائق نہیں (۱۲۱) تو مجھ سے ایسی دور ہے جیسے مکہ معظمہ مدینہ طیّبہ سے یا دلّی لکھنؤ سے۔(2) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱: ان الفاظ سے طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت کرے، مجھے تیری حاجت نہیں۔ مجھے تجھ سے سروکار نہیں۔ تجھ سے مجھے کام نہیں۔ غرض نہیں۔ مطلب نہیں۔ تو مجھے درکار نہیں۔ تجھ سے مجھے رغبت نہیں۔ میں تجھے نہیں چاہتا۔(3) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۲: کنایہ کے اِن الفاظ سے ایک بائن طلاق ہوگی اگر بہ نیت طلاق بولے گئے اگرچہ بائن کی نیت نہ ہو اور دو۲ کی نیت کی جب بھی وہی ایک واقع ہوگی مگر جبکہ زوجہ باندی ہو تو دو۲کی نیت صحیح ہے اور تین کی نیت کی توتین واقع
1 ۔ملکیت۔
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الطلاق، باب الکنایۃ، ج۱۲، ص۵۱۵ ۔ ۵۲۷.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الطلاق، باب الکنایۃ، ج۱۲، ص۵۲۰.
ہونگی۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مدخولہ (2) کو ایک طلاق دی تھی پھر عدّت میں کہا کہ میں نے اُسے بائن کر دیا یا تین تو بائن یا تین واقع ہو جائيں گی اور اگر عدّت یا رجعت کے بعد ایسا کہا تو کچھ نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۴: صریح صریح کو لاحق ہوتی ہے یعنی پہلے صریح لفظوں سے طلاق دی پھر عدّت کے اندر دوسری مرتبہ طلاق کے صریح لفظ کہے تو اس سے دوسری واقع ہوگی۔ یوہیں بائن کے بعد بھی صریح لفظ سے واقع کرسکتا ہے جبکہ عورت عدّت میں ہو اور صریح سے مراد یہاں وہ ہے جس میں نیت کی ضرورت نہ ہو اگرچہ اُس سے طلاق بائن پڑے اور عدّت میں صریح کے بعد بائن طلاق دے سکتا ہے۔ اور بائن بائن کو لاحق نہیں ہو تی جبکہ یہ ممکن ہو کہ دوسری کو پہلی کی خبر دینا کہہ سکیں مثلاًپہلے کہا تھا کہ تو بائن ہے اس کے بعد پھر یہی لفظ کہاتو اس سے دوسری واقع نہ ہوگی کہ یہ پہلی طلاق کی خبر ہے یا دوبارہ کہا میں نے تجھے بائن کر دیا اور اگر دوسری کو پہلی سے خبر دینا نہ کہہ سکیں مثلاً پہلے طلاق بائن دی پھر کہا میں نے دوسری بائن دی تو اب دوسری پڑے گی۔(4) یوہیں پہلی صورت میں بھی دو ۲واقع ہونگی جبکہ دوسری سے دوسری طلاق کی نیت ہو۔(5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: بائن کو کسی شرط پر معلق کیا یا کسی وقت کی طرف مضاف کیا اور اُس شرط یا وقت کے پائے جانے سے پہلے طلاق بائن دیدی مثلاًیہ کہا اگر تو آج گھر میں گئی تو بائن ہے یا کل تجھے طلاق بائن ہے پھر گھر میں جانے اور کل آنے سے پہلے ہی طلاق بائن دیدی تو طلاق ہو گئی پھر عدّت کے اندر شرط پائی جانے اور کل آنے سے ایک طلاق اور پڑے گی۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۶: اگر عورت کو طلاق بائن دی یا اُس سے خلع کیا اسکے بعد کہا تو گھر میں گئی تو بائن ہے تو اب طلاق واقع نہ ہوگی اوراگر دوشرطوں پر طلاق بائن معلق کی مثلاً کہا اگر تو گھر میں جائے تو بائن ہے اور اگر میں فلاں سے کلام کروں تو تُو بائن ہے اِن دونوں باتوں کے کہنے کے بعد اب وہ گھر میں گئی تو ایک طلاق پڑی پھر اگر اُس شخص سے عدّت میں شوہر نے کلام کیا تو دوسری پڑی۔ یوہیں اگر پہلے کلام کیا پھر گھر میں گئی جب بھی دو واقع ہونگی اور اگر پہلے ایک شرط پر معلق کی پھر اس کے پائے جانے
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الکنایات، مطلب: لا اعتبار بالاعراب ھنا، ج۴، ص۵۲۴ .
2 ۔جس سے جماع کیاگیاہو۔
3 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج۴، ص۵۲۸.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و'' ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الکنایات، مطلب: الصریح یلحق...إلخ، ج۴، ص۵۲۸ ۔ ۵۳۳.
5 ۔بشرطیکہ اس نیت پردلالت کرنے والاکوئی لفظ بھی مذکورہو۔...عِلْمِیہ، انظر ''منحۃالخالق''، ج۳،ص۵۳۲.
و'' الفتاوی الرضویہ''، ج ۱۲ص۵۷۸،۵۸۲،۵۸۵.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج۴، ص۵۳۴.
کے بعد دوسری شرط پر معلق کی دوسری کے پائے جانے پر طلاق نہ ہوگی۔ (1)(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ عورت کے پاس نہ جائے گاپھر چار مہینے گزر نے سے پہلے بہ نیت طلاق اُسے بائن کہا یا اُس سے خلع کیا تو طلاق واقع ہو گئی پھر قسم کھانے سے چار مہینے تک اُسکے پاس نہ گیا تو یہ دوسری طلاق ہوئی اور اگر پہلے خلع کیا پھر کہا تو بائن ہے تو واقع نہ ہوگی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: یہ کہا کہ میری ہر عورت کو طلاق ہے یا اگر یہ کام کروں تو میری عورت کو طلاق ہے تو جس عورت سے خلع کیا ہے یا جو طلاق بائن کی عدّت میں ہے ان لفظوں سے اُسے طلاق نہ ہوگی۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۹: جو فرقت (4) ہمیشہ کے ليے ہو یعنی جس کی و جہ سے اُس سے کبھی نکاح نہ ہو سکتا ہو جیسے حرمتِ مصاہرت (5) و حرمتِ رضاع (6) تو اس عورت پر عدّت میں بھی طلاق نہیں ہو سکتی۔ یوہیں اگر اس کی عورت کنیز تھی اُس کو خرید لیا تو اب اُسے طلاق نہیں دے سکتا کہ وہ نکاح سے بالکل نکل گئی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: زن و شوہر (8)میں سے کوئی معاذاﷲ مرتد ہو ا مگر دارالاسلام میں رہا تو طلاق ہو سکتی ہے اور اگر دارالحرب کو چلا گیا تو اب طلاق نہیں ہو سکتی اور مرد مرتد ہو کر دارالحرب کو چلا گیا تھا پھر مسلمان ہو کر واپس آیا اور عورت ابھی عدّت میں ہے تو طلاق دے سکتا ہے اور عورت اگرچہ واپس آجائے طلاق نہیں ہو سکتی۔(9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: خیار بلوغ یعنی بالغ ہوتے ہی نکاح سے ناراضی ظاہر کی اور خیار عتق کہ آزاد ہو کر تفریق چاہی ان دونوں کے بعد طلاق نہیں ہو سکتی۔ (10)(درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الکنایات،مطلب:الصریح یلحق الصریح والبائن،ج۴،ص۵۳۵.
و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثاني فی إیقاع الطلاق،الفصل الخامس،ج۱، ص۳۷۷.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثاني فی إیقاع الطلاق،الفصل الخامس،ج۱، ص۳۷۷.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج۴،ص۵۳۶.
4 ۔ جدائی۔ 5 ۔سسرالی رشتوں کی وجہ سے نکاح کاحرام ہونا۔ 6 ۔دودھ کے رشتے کی وجہ سے نکاح کاحرا م ہونا۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثاني فی إیقاع الطلاق،الفصل الخامس،ج۱،ص۳۷۸.
8 ۔میاں بیوی۔
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الکنایات،مطلب:المختلعۃ والمبانۃ...إلخ،ج۴،ص۵۳۷.
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج۴،ص۵۳۸.
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(یٰاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزْوَاجِکَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیۡنَتَہَا فَتَعَالَیۡنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَ اُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا ﴿۲۸﴾ وَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدْنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنۡکُنَّ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۲۹﴾
)(1)
اے نبی! اپنی بی بیوں سے فرما دو کہ اگر تُم دنیا کی زندگی اور اُس کی زینت چاہتی ہو تو آ ؤ میں تمھیں مال دوں اور تم کو اچھی طرح چھوڑدوں اور اگر اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو اﷲ (عزوجل) نے تم میں نیکی والوں کے لیے بڑا اجر طیار کر رکھا ہے۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ جب یہ آیت نازل ہوئی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: ''اے عائشہ میں تجھ پرایک بات پیش کرتا ہوں، اُس میں جلدی نہ کرنا جب تک اپنے والدین سے مشورہ نہ کرلینا جواب نہ دینا (اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو معلوم تھا کہ ان کے والدین جدائی کے لیے مشورہ نہ دینگے)۔ اُم المومنین نے عرض کی، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) وہ کیا بات ہے؟ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ام المومنین نے عرض کی، یا رسول اللہ! (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بارے
میں مجھے والدین سے مشورہ کی کیا حاجت ہے، بلکہ میں اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں اور میں یہ چاہتی ہوں کہ ازواج مطہرات میں سے کسی کو میرے جواب کی حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) خبر نہ دیں۔ ارشاد فرمایا: ''جو مجھ سے پوچھے گی کہ عائشہ نے کیا جواب دیا ہے، میں اُ سے خبر کردونگا اﷲ (عزوجل) نے مجھے مشقّت میں ڈالنے والا اور مشقّت میں پڑنے والا بنا کر نہیں بھیجا ہے، اُس نے مجھے معلم اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔'' (2)
حدیث ۲: صحیح بخاری شریف میں عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، فرماتی ہیں نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا ہم نے اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو اختیار کیا اور اس کو کچھ (یعنی طلاق) نہیں شمار کیا۔ اُسی میں ہے، مسروق کہتے ہیں مجھے کچھ پرواہ نہیں کہ اُس کو ایک دفعہ اختیار دوں یا سو دفعہ جب کہ وہ مجھے اختیار کرے یعنی اس صورت میں طلاق نہیں ہوتی۔ (3)
1 ۔پ۲۱، الأحزاب:۲۸،۲۹.
2 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الطلاق، باب بیان ان تخییرہ امراتہ... إلخ، الحدیث: ۱۴۷۸، ص۷۸۳.
3 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الطلاق، باب من خیّرنساء ہ... إلخ، الحدیث: ۵۲۶۲، ۵۲۶۳، ج۳،ص۴۸۲.
مسئلہ ا: عورت سے کہا تجھے اختیار ہے یا تیرامعاملہ تیرے ہاتھ ہے اور اس سے مقصود طلاق کا اختیار دینا ہے تو عورت اُس مجلس میں اپنے کو طلاق دے سکتی ہے اگرچہ وہ مجلس کتنی ہی طویل ہواور مجلس بدلنے کے بعد کچھ نہیں کرسکتی اور اگر عورت وہاں موجود نہ تھی یا موجود تھی مگر سُنا نہیں اور اُسے اختیار اُنھیں لفظوں سے دیا تو جس مجلس میں اُسے اسکا علم ہوا اُس کا اعتبار ہے۔ ہاں اگر شوہرنے کوئی وقت مقرر کردیا تھا مثلاً آج اُسے اختیار ہے اور وقت گزرنے کے بعد اُسے علم ہو اتو ا ب کچھ نہیں کرسکتی اور اگر ان لفظوں سے شوہر نے طلاق کی نیت ہی نہ کی تو کچھ نہیں کہ یہ کنایہ ہیں اور کنایہ میں بے نیت طلاق نہیں ہاں اگر غضب کی حالت میں کہا یا اُس وقت طلاق کی بات چیت تھی تو اب نیت نہیں دیکھی جائے گی۔ اور اگر عورت نے ابھی کچھ نہ کہا تھا کہ شوہر نے اپنے کلام کو واپس لیا تو مجلس کے اندر واپس نہ ہوگا یعنی بعد واپسی شوہر بھی عورت اپنے کو طلاق دے سکتی ہے اور شوہر اُسے منع بھی نہیں کرسکتا۔ اور اگر شوہر نے یہ لفظ کہے کہ تو اپنے کو طلاق دیدے یا تجھے اپنی طلاق کا اختیار ہے جب بھی یہی سب احکام ہیں مگر اِس صورت میں عورت نے طلاق دیدی تو رجعی پڑیگی ہاں اس صورت میں عورت نے تین طلاقیں دیں اور مرد نے تین کی نیت بھی کر لی ہے تو تین ہوں گی اور مرد کہتا ہے میں نے ایک کی نیت کی تھی تو ایک بھی واقع نہ ہوگی اور اگر شوہر نے تین کی نیت کی یا یہ کہا کہ تو اپنے کو تین طلاقیں دے لے اور عورت نے ایک دی تو ایک پڑے گی اور اگر کہا تو اگر چاہے تو اپنے کو تین طلاقیں دے عورت نے ایک دی یا کہا تو اگر چاہے تو اپنے کو ایک طلاق دے عورت نے تین دیں تو دونوں صورتوں میں کچھ نہیں مگر پہلی صورت میں اگر عورت نے کہا میں نے اپنے کو طلاق دی ایک اور ایک اورایک تو تین پڑیں گی۔(1) (جوہرہ، درمختار، عالمگیری وغیرہا)
مسئلہ ۲: اِن الفاظ مذکورہ کے ساتھ یہ بھی کہا کہ تو جب چاہے یا جس وقت چاہے تو اب مجلس بدلنے سے اختیار باطل نہ ہوگا اور شوہر کو کلام واپس لینے کا اب بھی اختیار نہ ہو گا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳: اگر عورت سے کہا تو اپنی سوت(3) کو طلاق دیدے یا کسی اور شخص سے کہا تو میری عورت کو طلاق دیدے تو
1 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الطلاق،الجزء الثانی،ص۵۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۱.
و''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث فی تفویض الطلاق...إلخ،الفصل الاول،ج۱،ص۳۸۷۔۳۸۹، وغیرہا.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۳.
3 ۔ ایک خاوندکی دویازیادہ بیویاں آپس میں ایک دوسرے کی سوت کہلاتی ہیں۔
مجلس کے ساتھ مقید نہیں بعد مجلس بھی طلاق ہو سکتی ہے اور اس میں رجوع کرسکتا ہے کہ یہ وکیل ہے اور مؤکل کو اختیار ہے کہ وکیل کو معزول کردے مگر جبکہ مشیت (1)پر معلق کردیا ہو یعنی کہہ دیا ہو کہ اگر تو چاہے تو طلاق دیدے تو اب توکیل(2) نہیں بلکہ تملیک(3) ہے لہٰذا مجلس کے ساتھ خاص ہے اور رجوع نہ کرسکے گا اور اگر عورت سے کہا تو اپنے کو اور اپنی سوت کو طلاق دیدے تو خود اُس کے حق میں تملیک ہے اور سَوت کے حق میں توکیل اور ہر ایک کا حکم وہ ہے جو اوپر مذکور ہو ا یعنی اپنے کو مجلس بعد نہیں دے سکتی اور سَوت کو دے سکتی ہے۔(4) (جوہرہ ،درمختار)
مسئلہ ۴: تملیک و توکیل میں چند باتوں کا فرق ہے تملیک میں رجوع نہیں کرسکتا۔ معزول نہیں کرسکتا بعد تملیک کے شوہر مجنون ہو جائے تو باطل نہ ہوگی۔ جس کو مالک بنا یا اُسکا عاقل ہونا ضروری نہیں اور مجلس کے ساتھ مقیّد ہے اور توکیل میں اِن سب کا عکس ہے اگر بالکل نا سمجھ بچے سے کہا تو میری عورت کو اگر چاہے طلاق دیدے اور وہ بول سکتاہے اُس نے طلاق دیدی واقع ہوگئی۔ یوہیں اگر مجنون کو مالک کردیا اور اُس نے دیدی تو ہوگئی اور وکیل بنایا تو نہیں اور مالک کرنے کی صورت میں اگر اچھا تھا اُس کے بعد مجنون ہوگیا تو واقع نہ ہو گی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۵: بیٹھی تھی کھڑی ہوگئی یا ایک کام کررہی تھی اُسے چھوڑ کر دوسرا کام کرنے لگی مثلاً کھانا منگوایا یا سو گئی یا غسل کرنے لگی یا مہندی لگانے لگی یا کسی سے خریدو فروخت کی بات کی یا کھڑی تھی جانور پر سوار ہوگئی یا سوار تھی اتر گئی یا ایک سواری سے اتر کر دوسری پر سوار ہوئی یا سوار تھی مگر جانور کھڑا تھا چلنے لگا تو اِن سب صورتوں میں مجلس بدل گئی اور اب طلاق کا اختیار نہ رہا اور اگر کھڑی تھی بیٹھ گئی یا کھڑی تھی اور مکان میں ٹہلنے لگی یا بیٹھی ہوئی تھی تکیہ لگالیا یا تکیہ لگائے ہوئے تھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی یا اپنے باپ وغیرہ کسی کو مشورہ کے ليے بُلایا یا گواہوں کو بُلانے گئی کہ اُن کے سامنے طلاق دے بشرطیکہ وہاں کوئی ایسا نہیں جوبُلادے یا سواری پر جارہی تھی اُسے روک دیا یا پانی پیا یا کھانا وہاں موجود تھا کچھ تھوڑا ساکھا لیا، ان سب صورتوں میں مجلس نہیں بدلی۔(6) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
1 ۔مرضی،ارادہ۔ 2 ۔وکیل بنانا۔ 3 ۔مالک بنانا۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۴.
و''الجوہرۃالنیرۃ''،کتاب الطلاق،الجزء الثاني،ص۶۰.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۴.
6 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث،الفصل الاول،ج۱،ص۳۸۷.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۵،وغیرہما.
مسئلہ ۶: کشتی گھر کے حکم میں ہے کہ کشتی کے چلنے سے مجلس نہ بدلے گی اور جانور پر سوار ہے اور جانور چل رہا ہے تو مجلس بدل رہی ہے، ہاں اگر شوہر کے سکوت کرتے ہی فوراً اُسی قدم میں جواب دیا تو طلاق ہوگئی اور اگر محمل (1)میں دونوں سوارہیں جسے کوئی کھینچے ليے جاتا ہے تو مجلس نہیں بدلی کہ یہ کشتی کے حکم میں ہے۔ (2)(درمختار) گاڑی پالکی(3) کا بھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ ۷: بیٹھی ہوئی تھی لیٹ گئی اگر تکیہ وغیرہ لگا کر اُس طرح لیٹی جیسے سونے کے ليے لیٹتے ہیں تو اختیار جاتا رہا۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۸: دو۲زا نوبیٹھی تھی چار زانو بیٹھ گئی یا عکس کیا یا بیٹھی سوگئی تو مجلس نہیں بدلی۔(5) (عالمگیری ، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: شوہر نے اُسے مجبور کرکے کھڑا کیا یا جماع کیا تو اختیار نہ رہا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: شوہر کے اختیار دینے کے بعد عورت نے نماز شروع کردی اختیار جاتا رہا نماز فرض ہو یا واجب یا نفل۔ اور اگر عورت نماز پڑھ رہی تھی اُسی حالت میں اختیار دیا تو اگر وہ نماز فرض یا واجب یا سنت مؤکدہ ہے تو پوری کرکے جواب دے اختیار باطل نہ ہوگا اور اگر نفل نماز ہے تو دو رکعت پڑھکر جواب دے اور اگر تیسری رکعت کے ليے کھڑی ہوئی تو اختیار جاتا رہا اگرچہ سلام نہ پھیرا ہو۔ اور اگر سُبْحٰنَ اللہِ کہا یا کچھ تھوڑا سا قرآن پڑھا تو باطل نہ ہو ا اور زیادہ پڑھا تو باطل ہوگیا۔(7) (جوہرہ) اور اگر عورت نے جواب میں کہا تُو اپنی زبان سے کیوں طلاق نہیں دیتا تو اس کہنے سے اختیار باطل نہ ہوگا اور اگر یہ کہا اگر تُو مجھے طلاق دیتا ہے تو اتنا مجھے دیدے تو اختیار باطل ہوگیا۔(8) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: اگر بیک وقت اس کی اور شفعہ کی خبر پہنچی اور عورت دونوں کو اختیار کرنا چاہتی ہے تو یہ کہنا چاہيے کہ میں نے دونوں کو اختیار کیا ورنہ جس ایک کو اختیار کرے گی دوسرا جاتا رہے گا۔(9) (عالمگيری)
1 ۔یعنی کجاوہ۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۶.
3 ۔ڈولی۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۶.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث،الفصل الاول،ج۱،ص۳۸۷،۳۸۸.
و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۵.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۶.
7 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الطلاق،الجزء الثاني،ص۵۸.
8 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث،الفصل الأول،ج۱،ص۳۸۸.
و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۶.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث،الفصل الاول،ج۱،ص۳۸۸.
مسئلہ۱۲: مرد نے اپنی عورت سے کہا تو اپنے نفس کو اختیار کر عورت نے کہا میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا یا کہا میں نے اختیار کیا یا اختیار کرتی ہوں تو ایک طلاق بائن واقع ہوگی اور تین کی نیت صحیح نہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: تفویضِ طلاق (2)میں یہ ضرورہے کہ زن و شو (3) دونوں میں سے ایک کے کلام میں لفظ نفس یا طلاق کا ذکر ہواگر شوہر نے کہا تجھے اختیار ہے عورت نے کہا میں نے اختیار کیا طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر جواب میں کہا میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا یا شوہر نے کہا تھا تو اپنے نفس کو اختیار کر عورت نے کہا میں نے اختیار کیا یا کہا میں نے کیا تو اگر نیت طلاق تھی تو ہوگئی اور یہ بھی ضرورہے کہ لفظ نفس کو متصلاً (4) ذکر کرے اور اگر اِس لفظ کو کچھ دیر بعد کہا اور مجلس بدلی نہ ہو تو متصل ہی کے حکم میں ہے یعنی طلاق واقع ہوگی اور مجلس بدلنے کے بعد کہا تو بیکار ہے۔(5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۴: شوہر نے دوبار کہا اختیار کر اختیار کر یا کہا اپنی ماں کو اختیار کر تو اب لفظ نفس ذکر کرنے کی حاجت نہیں یہ اُس کے قائم مقام ہوگیا۔ یوہیں عورت کا کہنا کہ میں نے اپنے باپ یا ماں یا اہل یا ازواج کو اختیار کیا لفظ نفس کے قائم مقام ہے اور اگر عورت نے کہا میں نے اپنی قوم یا کنبہ والوں یا رشتہ داروں کو اختیار کیا تو یہ اسکے قائم مقام نہیں اورا گر عورت کے ماں باپ نہ ہوں تو یہ کہنا بھی کہ میں نے اپنے بھائی کو اختیار کیا کافی ہے اور ماں باپ نہ ہونے کی صورت میں اُس نے ماں باپ کو اختیار کیا جب بھی طلاق ہوجائے گی۔ عورت سے کہا تین کو اختیار کر عورت نے کہا میں نے اختیار کیا تو تین طلاقیں پڑجائیں گی۔ (6)(درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۱۵: عورت نے جواب میں کہا میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا نہیں بلکہ اپنے شوہر کو تو واقع ہو جائے گی اور یوں کہاکہ میں نے اپنے شوہر کو اختیار کیا نہیں بلکہ اپنے نفس کو تو واقع نہ ہوگی اور اگر کہا میں نے اپنے نفس یا شوہر کو اختیار کیا تو واقع نہ ہوگی اوراگر کہا اپنے نفس اور شوہر کو تو واقع ہوگی اور اگر کہا شوہر اور نفس کو تو نہیں۔ (7)(فتح القدیر)
مسئلہ ۱۶: مرد نے عورت کو اختیار دیا تھا عورت نے ابھی جواب نہ دیا تھا کہ شوہر نے کہا اگر تو اپنے کو اختیار کرلے تو ایک ہزار دونگا عورت نے اپنے کو اختیار کیا تو نہ طلاق ہوئی نہ مال دینا واجب آیا۔(8) (فتح القدیر)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۶.
2 ۔طلاق کاسپردکرنا۔ 3 ۔میاں بیوی۔ 4 ۔ساتھ ہی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث فی تفویض الطلاق...إلخ،الفصل الاول،ج۱،ص۳۸۸۔۳۸۹وغیرہ.
6 ۔''الدرالمختار''و''رد المحتار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۸،وغیرہما.
7 ۔''فتح القدیر''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۳،ص۴۱۴.
8 ۔''فتح القدیر''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۳،ص۴۱۴.
مسئلہ ۱۷: شوہر نے اختیار دیا عورت نے جواب میں کہا میں نے اپنے کو بائن کیا یا حرام کردیا یا طلاق دی تو جواب ہوگيا اور ایک بائن طلاق پڑگئی۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۸: شوہر نے تین بار کہا تجھے اپنے نفس کا اختیار ہے عورت نے کہا میں نے اختیار کیا یا کہا پہلے کو اختیار کیا یا بیچ والے کو یا پچھلے کو یا ایک کو بہر حال تین طلاقیں واقع ہوں گی۔ اور اگر اس کے جواب میں کہا کہ میں نے اپنے نفس کو طلاق دی یا میں نے اپنے نفس کو ایک طلاق کے ساتھ اختیار کیا یا میں نے پہلی طلاق اختیار کی تو ایک بائن واقع ہوگی۔ (2)(تنویرالابصار)
مسئلہ ۱۹: شوہر نے تین مرتبہ کہا مگر عورت نے پہلی ہی بار کے جواب میں کہہ دیا میں نے اپنے نفس کواختیار کیا تو بعد والے الفاظ باطل ہوگئے۔ یوہیں اگر عورت نے کہا میں نے ایک کو باطل کر دیا تو سب باطل ہوگئے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: شوہر نے کہا تجھے اپنے نفس کا اختیار ہے کہ تو طلاق دیدے عورت نے طلاق دی تو بائن واقع ہوئی۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: عورت سے کہا تین طلاقوں میں سے جوتو چاہے تجھے اختیار ہے تو ایک یا دو کا اختیار ہے تین کا نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: عورت کو اختیار دیا اُس نے جواب میں کہا میں تجھے نہیں اختیار کرتی یا تجھے نہیں چاہتی یا مجھے تیری حاجت نہیں تو یہ سب کچھ نہیں اور اگر کہا میں نے یہ اختیارکیا کہ تیری عورت نہ ہوں تو بائن ہوگئی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: کسی سے کہا تو میری عورت کو اختیار دیدے تو جب تک یہ شخص اُسے اختیار نہ دے گا عورت کو اختیار حاصل نہیں اور اگر اُس شخص سے کہا تو عورت کو اختیار کی خبر دے تو عورت کو اختیار حاصل ہوگيا اگرچہ خبر نہ کرے۔ (7)(درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث فی تفویض الطلاق...إلخ،الفصل الاول،ج۱،ص۳۸۹.
2 ۔''تنویر الأبصار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۵۰۔۵۵۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث فی تفویض الطلاق...إلخ،الفصل الاول،ج۱،ص۳۸۹.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۵۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث فی تفویض الطلاق...إلخ،الفصل الاول،ج۱،ص۳۹۰.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۵۲.
مسئلہ ۲۴: کہا تجھے اس سال یا اس مہینے یا آج دن میں اختیار ہے تو جب تک وقت باقی ہے اختیار ہے اگرچہ مجلس بدل گئی ہو۔ اور اگر ایک دن کہا تو چوبیس گھنٹے اور ایک ماہ کہا تو تیس دن تک اختیار ہے اور چاند جس وقت دکھائی دیا اُس وقت ایک مہینے کا اختیار دیا تو تیس دن ضرور نہیں بلکہ دوسرے ہلال (1) تک ہے۔ (2)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۵: نکاح سے پیشتر (3) تفویضِ طلاق کی مثلاً عورت سے کہا اگر میں دوسری عورت سے نکاح کروں توتجھے اپنے نفس کو طلاق دینے کا اختیار ہے تو یہ تفویض نہ ہوئی کہ اضافت ملک کی طرف نہیں۔ یوہیں اگر ایجاب و قبول میں شرط کی اور ایجاب شوہر کی طرف سے ہو مثلاًکہا میں تجھے اس شرط پر نکاح میں لایا عورت نے کہا میں نے قبول کیا جب بھی تفویض نہ ہوئی۔ اور اگر عقد میں شرط کی اور ایجاب عورت یا اُس کے وکیل نے کیا مثلاً میں نے اپنے نفس کو یا اپنی فلاں موکلہ(4) کو اس شرط پر تیرے نکاح میں دیا مرد نے کہا میں نے اس شرط پر قبول کیا تو تفویض طلاق ہوگئی شرط پائی جائے تو عورت کو جس مجلس میں علم ہو ا اپنے کو طلاق دینے کا اختیار ہے۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: مرد نے عورت سے کہا تیرا امر (6) تیرے ہاتھ ہے تو اس میں بھی وہی شرائط و احکام ہیں جو اختیار کے ہیں کہ نیت طلاق سے کہا ہو اور نفس کاذکر ہو اور جس مجلس میں کہا یا جس مجلس میں علم ہوا اُسی میں عورت نے طلاق دی ہو تو واقع ہو جائے گی اور شوہر رجوع نہیں کرسکتاصرف ایک بات میں فرق ہے وہاں تین کی نیت صحیح نہیں اور اِس میں اگر تین طلاق کی نیت کی تو تین واقع ہونگی اگرچہ عورت نے اپنے کو ایک طلاق دی یا کہا میں نے اپنے نفس کو قبول کیا یا اپنے امر کو اختیار کیا یا تو مجھ پر حرام ہے یا مجھ سے جُدا ہے یا میں تجھ سے جُدا ہوں یا مجھے طلاق ہے۔ اوراگر مرد نے دو ۲ کی نیت کی یا ایک کی یا نیت میں کوئی عدد نہ ہو تو ایک ہوگی۔(7) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۷: زوجہ نابالغہ ہے اُس سے یہ کہا کہ تیر اامر تیرے ہاتھ ہے اُس نے اپنے کو طلاق دیدی ہوگئی اور اگر عورت کے باپ سے کہا کہ اُس کا امر تیرے ہاتھ ہے اس نے کہا میں نے قبول کیا یا کوئی اور لفظ طلاق کا کہا طلاق ہوگئی۔ (8)(ردالمحتار)
1 ۔ چاند۔
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب تفویض الطلاق، ج۴، ص۵۵۳.
و ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الاول ، ج۱، ص۳۹۰.
3 ۔ پہلے۔ 4 ۔وکیل بنانے والی ۔
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، مطلب: فی الحشیشۃ...الخ، ج۴، ص۴۳۷.
6 ۔یعنی معاملہ ۔
7 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، باب الامربالید، ج۴، ص۵۵۴، وغیرہ.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب الامربالید، ج۴، ص۵۵۵.
مسئلہ ۲۸: عورت کے ليے یہ لفظ کہا مگر اُسے اس کا علم نہ ہوا اور طلاق دے لی واقع نہ ہوئی۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ ۲۹: شوہر نے کہا تیرا امر تیرے ہاتھ ہے اس کے جواب میں عورت نے کہا میراامر میرے ہاتھ ہے تو یہ جواب نہ ہوا یعنی طلاق نہ ہوئی بلکہ جواب میں وہ لفظ ہونا چاہيے جس کی نسبت عورت کی طرف اگر زوج (2)کرتا تو طلاق ہوتی۔ (3) (درمختار) مثلاً کہے میں نے اپنے نفس کو حرام کیا، بائن کیا، طلاق دی، وغیرہا۔ یوہیں اگر جواب میں کہا میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا یاکہا قبول کیا یا عورت کے باپ نے قبول کیا جب بھی طلاق ہوگئی۔ یوہیں اگر جواب میں کہا تو مجھ پر حرام ہے یا میں تجھ پر حرام ہوئی یا تو مجھ سے جدا ہے یا میں تجھ سے جدا ہوں یا کہا میں حرام ہوں یا میں جدا ہوں تو ان سب صورتوں میں طلاق ہے اور اگر کہا تو حرام ہے اور یہ نہ کہا کہ مجھ پر یا تو جدا ہے اور یہ نہ کہا کہ مجھ سے تو باطل ہے طلاق نہ ہوئی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: اس کے جواب میں اگرچہ رجعی کا لفظ ہو طلاق بائن پڑے گی ہاں اگر شوہر نے کہا تیرا امر تیرے ہاتھ ہے طلاق دینے میں تو رجعی ہوگی یا شوہر نے کہا تین طلاق کا امر تیرے ہاتھ ہے اور عورت نے ایک یا دو دی تو رجعی ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: کہا تیرا امر تیری ہتھیلی میں ہے یا دہنے ہاتھ یا بائیں ہاتھ میں یا تیرا امر تیرے ہاتھ میں کر دیا یا تیرے ہاتھ کوسپُرد کردیا یا تیرے مونھ میں ہے یا زبان میں، جب بھی وہی حکم ہے۔(6) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۲: اگر ان الفاظ کو بہ نیت طلاق نہ کہاتوکچھ نہیں مگر حالت غضب یا مذاکرہ طلاق (7)میں کہا تونیت نہیں دیکھی جائے گی بلکہ حکم طلاق دیدیں گے۔ اور اگر مرد کو حالت غضب یا مذاکرہ طلاق سے انکار ہے تو عورت سے گواہ ليے جائیں گواہ نہ پیش کرسکے تو قسم لیکر شوہر کا قول مانا جائے۔ اور نیت طلاق پر اگر عورت گواہ پیش کرے تو مقبول نہیں ہاں اگر مرد نے نیت کا اقرار کیا ہواور اقرار کے گواہ عورت پیش کرے تو مقبول ہیں۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ۳۳: شوہر نے کہا تیرا امر تیرے ہاتھ ہے، آج اور پر سوں تو دونوں راتیں درمیان کی داخل نہیں اور یہ دو
1 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق، فصل فی الطلاق الذی یکون من الوکیل...الخ، ج۲، ص۲۵۱.
2 ۔ شوہر۔
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الامربالید، ج۴، ص۵۵۴۔۵۵۶.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۰،۳۹۱.
5 ۔ المرجع السابق .
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۱.
7 ۔یعنی طلاق کے متعلق گفتگو۔
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۱.
تفویضیں جُدا جُدا ہیں، لہٰذا اگر آج ردکردیا تو پرسوں عورت کو اختیار رہے گا اوررات میں طلاق دیگی تو واقع نہ ہوگی اور ایک دن میں ایک ہی بار طلاق دے سکتی ہے اور اگر کہا آج اور کل تو رات داخل ہے اور آج رد کردیگی تو کل کے ليے بھی اختیار نہ رہا کہ یہ ایک تفویض ہے اور اگر یوں کہا آج تیرا امر تیرے ہاتھ ہے اور کل تیراامر تیرے ہاتھ ہے تو رات داخل نہیں اور جُدا جُدا دو تفویضیں ہیں اور اگر کہا تیراامر تیرے ہاتھ ہے آج اور کل اور پرسوں تو ایک تفویض ہے اور راتیں داخل ہیں اور جہاں دو تفویضیں ہیں، اگر آج اُس نے طلاق دے لی پھر کل آنے سے پہلے اُسی سے نکاح کر لیا تو کل پھر اُسے طلاق دینے کا اختیار حاصل ہے۔(1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۴: عورت نے یہ دعویٰ کیا کہ شوہر نے میراامر میرے ہاتھ میں دیا تو یہ دعویٰ نہ سُنا جائے کہ بیکار ہے۔ ہاں عورت نے اس امر کے سبب اپنے کو طلاق دے دی پھر طلاق ہونے اور مہر لینے کے ليے دعویٰ کیا تو اب سُنا جائیگا۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۵: اگر یہ کہاکہ تیرا امر تیرے ہاتھ ہے جس دن فلاں آئے تو صرف دن کے ليے ہے اگر رات میں آیا تو طلاق نہیں دے سکتی اور اگر وہ دن میں آیا مگر عورت کو اُس کے آنے کا علم نہ ہوا یہاں تک کہ آفتاب ڈوب گیاتو اب اختیار نہ رہا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: اگر کوئی وقت معین نہ کیا تو مجلس بدلنے سے اختیار جاتا رہے گا جیسا اوپر مذکور ہوا اور اگر وقت معین کردیا ہو مثلاً آج یا کل یا اس مہینے یا اس سال میں تو اُس پورے وقت میں اختیار حاصل ہے۔
مسئلہ ۳۷: کاتب سے کہا تو لکھ دے اگر میں اپنی عورت کی بغیر اجازت سفر کو جاؤں تو وہ جب چاہے اپنے کو ایک طلاق دے لے، عورت نے کہا میں ایک طلاق نہیں چاہتی تین طلاقیں لکھوا مگر شوہر نے انکار کردیا اور لکھنے کی نوبت نہ آئی تو عورت کو ایک طلاق کا اختیار حاصل رہا۔(4) (عالمگيری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱،ص۳۹۱،۳۹۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الامربالید ،ج۴، ص۵۵۷.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۱.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۳.
مسئلہ ۳۸: اجنبی شخص سے کہا کہ میری عورت کا امر تیرے ہاتھ ہے تو اُس کو طلاق دینے کا اختیار حاصل ہے اور وہی احکام ہیں جو خود عورت کے ہاتھ میں اختیار دینے کے ہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: دوشخصوں کے ہاتھ میں دیا تو تنہا ایک کچھ نہیں کرسکتا اوراگر کہا میرے ہاتھ میں ہے اور تیرے اور مخاطب نے طلاق دے دی تو جب تک شوہر اُس طلاق کو جائز نہ کریگا نہ ہوگی اور اگر کہا اﷲ (عزوجل) کے ہاتھ میں ہے اور تیرے ہاتھ میں اور مخاطب نے طلاق دیدی تو ہوگئی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: عورت کے اولیا (3) نے طلاق لینی چاہی شوہر عورت کے باپ سے یہ کہہ کر چلا گیا کہ تم جو چاہو کرو اور والدِ زوجہ نے طلاق دیدی تو اگر شوہر نے تفویض کے ارادہ سے نہ کہا ہو طلاق نہ ہوگی۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۴۱: عورت سے کہا اگر تیرے ہوتے ساتے (5) نکاح کروں تو اُسکا امر تیرے ہاتھ میں ہے پھر کسی فضولی (6) نے اس کا نکاح کردیا اور اس نے کوئی کام ایسا کیا جس سے وہ نکاح جائز ہوگیا مثلاً مہر بھیج دیا یا وطی کی۔ زبان سے کہہ کر جائز نہ کیا تو پہلی عورت کو اختیار نہیں کہ اُسے طلاق دیدے۔ اور اگر اس کے وکیل نے نکاح کردیا یا فضولی کے نکاح کو زبان سے جائز کیا یا کہا تھا کہ میرے نکاح میں اگرکوئی عورت آئے تو ایسا ہے تو ان سب صورتوں میں عورت کو اختیار ہے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۴۲: اپنی دو۲ عورتوں سے کہا کہ تمھارا امر تمھارے ہاتھ ہے تو اگر دونوں اپنے کو طلاق دیں تو ہوگی، ورنہ نہیں۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: اپنی عورت سے کہا کہ میری عورتوں کا امر تیرے ہاتھ میں ہے یا تو میری جس عورت کو چاہے طلاق دیدے تو خود اپنے کو وہ طلاق نہیں دے سکتی۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: فضولی نے کسی کی عورت سے کہا تیرا امر تیرے ہاتھ ہے عورت نے کہا میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۳.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۳.
3 ۔سرپرستوں۔
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الامربالید، ج۴، ص ۵۶۲.
5 ۔یعنی تیرے ہوتے ہوئے۔ 6 ۔وہ شخص جودوسرے کے حق میں اس کی اجازت کے بغیرتصرف(عمل دخل) کرے۔
7 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، باب الامربالید، ج۴، ص۵۶۲.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۴.
9 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۴.
یہ خبر شوہر کو پہنچی اُس نے جائز کر دیا تو طلاق واقع نہ ہوئی مگر جس مجلس میں عورت کو اجازتِ شوہر کا علم ہوا اُسے اختیار حاصل ہوگیا یعنی اب چاہے تو طلاق دے سکتی ہے۔ یوہیں اگر عورت نے خود ہی کہا میں نے اپنا امر اپنے ہاتھ میں کیا پھر کہا میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور شوہر نے جائز کر دیا تو طلاق نہ ہوئی مگر اختیار طلاق حاصل ہوگیا۔ اور اگر عورت نے یہ کہا کہ میں نے اپنا امر اپنے ہاتھ میں کیا اور اپنے کو میں نے طلاق دی شوہر نے جائز کر دیا تو ایک طلاق رجعی ہوگئی اور عورت کو اختیار بھی حاصل ہوگيا یعنی اب اگر عورت اپنے نفس کو اختیار کرے تو دوسری بائن طلاق واقع ہوگی۔ عورت نے کہا میں نے اپنے کو بائن کردیا شوہر نے جائز کیا اور شوہر کی نیت طلاق کی ہے تو طلاق بائن ہوگئی۔ اور عورت نے طلاق دینا کہا تو اجازت شوہر کے وقت اگر شوہر کی نیت نہ بھی ہو طلاق ہوجائیگی اور تین کی نیت صحیح نہیں۔ اور عورت نے کہا میں نے اپنے کو تجھ پر حرام کردیا شوہر نے جائز کر دیا طلاق ہوگئی۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۴۵: شوہر سے کسی نے کہا فلاں شخص نے تیری عورت کو طلاق دیدی اُس نے جواب میں کہا اچھا کیا توطلاق ہوگئی اور اگر کہا بُرا کیا تو نہ ہوئی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: اپنی عورت سے کہا جب تک تو میرے نکاح میں ہے اگر میں کسی عورت سے نکاح کروں تو اُس کا امر تیرے ہاتھ میں ہے پھر اِس عورت سے خلع کیا(3) یا طلاق بائن یا تین طلاقیں دیں اب دوسری عورت سے نکاح کیا تو پہلی عورت کو کچھ اختیار نہیں اور اگر یہ کہا تھا کہ کسی عورت سے نکاح کر وں تو اُس کا امر تیرے ہاتھ ہے تو خلع وغیرہ کے بعد بھی اس کو اختیار ہے۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۴۷: عورت سے کہا تو اپنے کو طلاق دیدے اور نیت کچھ نہ ہو یا ایک یا دو۲ کی نیت ہو اور عورت آزاد ہو تو عورت کے طلاق دینے سے ایک رجعی واقع ہوگی اور تین کی نیت کی ہو تو تین پڑیں گی اور عورت باندی ہو تو دو۲ کی نیت بھی صحیح ہے۔ اور اگر عورت نے جواب میں کہا کہ میں نے اپنے کو بائن کیا یا جُدا کیا یا میں حرام ہوں یا بَری ہوں جب بھی ایک رجعی واقع ہوگی۔ اور اگر کہا میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو کچھ نہیں اگرچہ شوہر نے جائز کر دیا ہو۔(5) (درمختار) کسی اور سے کہا تو میری عورت کو رجعی طلاق دے اُس نے بائن دی جب بھی رجعی ہوگی اور اگر وکیل نے طلاق کا لفظ نہ کہا بلکہ کہا میں نے اُسے بائن کر
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۴.
3 ۔یعنی مال کے بدلے نکاح سے آزادکیا۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق، ص۳۹۶،۳۹۷.
5 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، فصل في المشیئۃ، ج۴، ص۵۶۳ ۔ ۵۶۵.
دیا یا جُدا کر دیا تو کچھ نہیں۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۸: عورت سے کہا اگر تو چاہے تو اپنے کو دس طلاقیں دے عورت نے تین دیں یا کہا اگر چاہے تو ایک طلاق دے عورت نے آدھی دی تو دونوں صورتوں میں ایک بھی واقع نہیں۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۴۹: شوہر نے کہا تو اپنے کو رجعی طلاق دے عورت نے بائن دی یا شوہر نے کہا بائن طلاق دے عورت نے رجعی دی تو جو شوہرنے کہا وہ واقع ہوگی عورت نے جیسی دی وہ نہیں اور اگر شوہر نے اُس کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ تو اگر چاہے اور عورت نے اُس کے حکم کے خلاف بائن یا رجعی دی تو کچھ نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۵۰: کسی کی دوعورتیں ہیں اور دونوں مدخولہ ہیں اُس نے دونوں کو مخاطب کرکے کہا تم دونوں اپنے کو یعنی خود کو اور دوسری کو تین طلاقیں دو ہر ایک نے اپنے کو اور سَوت کو آگے پیچھے تین طلاقیں دیں تو پہلی ہی کے طلاق دینے سے دونوں مُطلّقہ ہو گئیں اور اگر پہلے سَوت کو طلاق دی پھر اپنے کو تو سَوت کو پڑگئی اسے نہیں کہ اختیار ساقط(4) ہو چکا لہٰذا دوسری نے اگر اسے طلاق دی تو یہ بھی مُطلّقہ ہو جائے گی ورنہ نہیں۔ اور اگر شوہر نے اس طرح اختیار دینے کے بعد منع کر دیا کہ طلاق نہ دو تو جب تک مجلس باقی ہے ہر ایک اپنے کو طلاق دے سکتی ہے سَوت کو نہیں کہ دوسری کے حق میں وکیل ہے اور منع کر دینے سے وکالت باطل ہوگئی۔ اور اگر اُس لفظ کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ اگر تم چاہو تو فقط ایک کے طلاق دینے سے طلاق نہ ہوگی جب تک دونوں اُسی مجلس میں اپنے کو اور دوسری کو طلاق نہ دیں طلاق نہ ہوگی اور مجلس کے بعد کچھ نہیں ہو سکتا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: کسی سے کہا اگر تو چاہے عورت کو طلاق دیدے اُس نے کہا میں نے چاہا تو طلاق نہ ہوئی اور اگر کہا اُس کو طلاق ہے اگر توچاہے اُس نے کہا میں نے چاہا تو ہوگئی۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵۲: عورت سے کہا تو اگر چاہے تو اپنے کو طلاق دیدے عورت نے جواب میں کہا میں نے چاہا کہ اپنے کو طلاق دیدوں تو کچھ نہیں۔ اگر کہا تو چاہے تو اپنے کو تین طلاقیں دیدے عورت نے کہا مُجھے طلاق ہے تو طلاق نہ ہوئی جب تک یہ
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،فصل فی المشیئۃ،ج۴،ص۵۶۹.
2 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۲، ص۲۴۱.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، فصل في المشیئۃ، ج۴، ص۵۶۹.
4 ۔ ختم۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۰۳.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، فصل في المشیئۃ، ج۴، ص۵۶۷.
نہ کہے کہ مُجھے تین طلاقیں ہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: عورت سے کہا اپنے کو تو طلاق دیدے جیسی تو چاہے تو عورت کو اختیار ہے بائن دے یا رجعی ایک دے یا دو یا تین مگر مجلس بدلنے کے بعد اختیار نہ رہے گا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: اگر کہا تو چاہے تو اپنے کو طلاق دیدے اور تو چاہے تو میری فلاں بی بی کو طلاق دیدے تو پہلے اپنے کو طلاق دے یا اُس کو دونوں مُطلقہ ہو جائیں گی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۵: عورت سے کہا تو جب چاہے اپنے کو ایک طلاق بائن دیدے پھر کہا تو جب چاہے اپنے کو ایک وہ طلاق دے جس میں رجعت کا میں مالک رہوں عورت نے کچھ دنوں بعد اپنے کو طلاق دی تو رجعی ہوگی اور شوہر کے پچھلے کلام کا جواب سمجھا جائیگا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: عورت سے کہا تجھ کو طلاق ہے اگر تو ارادہ کرے یا پسند کرے یا خواہش کرے یا محبوب رکھے جواب میں کہا میں نے چاہا یا ارادہ کیا ہوگئی۔ یوہیں اگر کہا تجھے موافق آئے جواب میں کہا میں نے چاہا ہوگئی اور جواب میں کہا میں نے محبوب رکھا تونہ ہوئی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۷: عورت سے کہا اگر تو چاہے تو تجھ کو طلاق ہے جواب میں کہا ہاں یا میں نے قبول کیا یا میں راضی ہوئی واقع نہ ہوئی اور اگر کہا تو اگر قبول کرے تو تجھ کو طلاق ہے جواب میں کہا میں نے چاہی تو ہوگئی۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۸: عورت سے کہا تجھ کو طلاق ہے اگر توچاہے ،جواب میں کہا میں نے چاہا اگر تو چاہے، مرد نے بہ نیتِ طلاق کہا میں نے چاہا، تو واقع نہ ہوئی اور اگر مرد نے آخر میں کہا میں نے تیری طلاق چاہی تو ہوگئی جبکہ نیت بھی ہو۔(7) (ہدایہ) اگر عورت نے جواب میں کہا میں نے چاہا اگر فلاں بات ہوئی ہو کسی ایسی چیز کے ليے جو ہو چکی ہو یا اُس وقت موجود ہو مثلاًاگر
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۰۳.
2 ۔ المرجع السابق، ص۴۰۳.
3 ۔ المرجع السابق، ص۴۰۳.
4 ۔ المرجع السابق، ص۴۰۳.
5 ۔ المرجع السابق، ص۴۰۴.
6 ۔ المرجع السابق، ص۴۰۴.
7 ۔ ''الھدایۃ ''، کتاب الطلاق، فصل في المشیئۃ، ج۱، ص۲۴۲.
فلاں شخص آیا ہو یا میرا باپ گھر میں ہو اور واقع میں وہ آچکا ہے یا وہ گھر میں ہے تو طلاق واقع ہو گئی اور اگر وہ ایسی چیز ہے جواب تک نہ ہوئی ہو اگرچہ اُس کا ہونا یقینی ہو مثلاً کہا میں نے چاہا اگر رات آئے یا اُس کا ہو نا محتمل ہو مثلاً اگر میراباپ چاہے تو طلاق نہ ہوئی اگرچہ اُس کے باپ نے کہہ دیا کہ میں نے چاہا۔ (1)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۵۹: عورت سے کہا تجھ کو ایک طلاق ہے اگر تو چاہے، تجھ کو دو۲ طلاقیں ہیں اگر تو چاہے ،جواب میں کہا میں نے ایک چاہی میں نے دو چاہی اگر دونوں جملے متصل ہوں تو تین طلاقیں ہوگئیں۔ یوہیں اگر کہا تجھ کو طلاق ہے اگر تو چاہے ایک اور اگر تو چاہے دو اُس نے جواب میں کہا میں نے چاہی تو تین طلاقیں ہوگئیں۔ (2)(عالمگيری)
مسئلہ ۶۰: شوہر نے کہا اگر تو چاہے اور نہ چاہے تو تجھ کو طلاق ہے۔ یا تجھ کو طلاق ہے اگر تو چاہے اور نہ چاہے تو طلاق نہیں ہو سکتی چاہے یا نہ چاہے۔ اور اگر کہا تجھ کو طلاق ہے اگرتو چاہے اور اگر تو نہ چاہے تو بہر حال طلاق ہے چاہے یا نہ چاہے۔ اگر عورت سے کہا تو طلاق کو محبوب رکھتی ہے تو تجھ کو طلاق اور اگر تو اُس کو مبغوض رکھتی ہے (3)تو تجھ کو طلاق اگر عورت کہے میں محبوب رکھتی ہو یا بُرا جانتی ہوں تو طلاق ہو جائے گی اور اگر کچھ نہ کہے یا کہے میں نہ محبوب رکھتی ہوں نہ بُرا جانتی تو نہ ہوگی۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۱: اپنی دوعورتوں سے کہا تم دونوں میں سے جسے طلاق کی زیادہ خواہش ہے اُس کو طلاق،دونوں نے اپنی خواہش دوسری سے زیادہ بتائی اگر شوہر دونوں کی تصدیق کرے تو دونوں مُطلقہ ہوگئیں ورنہ کوئی نہیں۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۲: عورت سے کہا اگر تو مجھ سے محبت یا عداوت رکھتی ہے تو تجھ پر طلاق ،عورت نے اُسی مجلس میں محبت یا عداوت (6)ظاہر کی طلاق ہوگئی اگرچہ اُسکے دل میں جو کچھ ہے اُس کے خلاف ظاہر کیا ہواور اگر شوہر نے کہا اگر دِل سے تو مجھ سے محبت رکھتی ہے تو تجھ پر طلاق ،عورت نے جواب میں کہا میں تجھے محبوب رکھتی ہوں طلاق ہو جائیگی اگرچہ جھوٹی ہو۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۰۴.
و''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، فصل في المشیئۃ، ج۴، ص۵۷۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۰۴.
3 ۔یعنی بُراسمجھتی ہے۔
4 ۔ ''الدرالمختار'' و'' ردالمحتار''،کتاب الطلاق، فصل في المشیئۃ، مطلب: أنت طالق ان شئت...الخ، ج۴، ص۵۷۶ .
5 ۔ ''الدرالمختار''و''رد المحتار''، کتاب الطلاق، مطلب: انت طالق... الخ، ج۴، ص۵۷۷.
6 ۔دشمنی۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۰۵.
مسئلہ ۶۳: عورت سے کہا تجھ پر ایک طلاق اور اگر تجھے ناگوار (1) ہو تو دو ،عورت نے نا گواری ظاہر کی تو تین طلاقیں ہوئیں اور چپ رہی تو ایک۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۴: تجھ کو طلاق ہے جب تو چاہے یا جس وقت چاہے یا جس زمانہ میں چاہے، عورت نے رد کر دیا یعنی کہا میں نہیں چاہتی، تو رد نہ ہوا بلکہ آئندہ جس وقت چاہے طلاق دے سکتی ہے مگر ایک ہی دے سکتی ہے زیادہ نہیں۔ اور اگر یہ کہا کہ جب کبھی تو چاہے تو تین طلاقیں بھی دے سکتی ہے مگر دو ایک ساتھ یا تینوں ایک ساتھ نہیں دے سکتی بلکہ متفرق طور پر اگرچہ ایک ہی مجلس میں تین بار میں تین طلاقیں دیں اور اس لفظ میں اگر دو یا تین اکھٹا دیں تو ایک بھی نہ ہوئی۔ اور اگر عورت نے متفرق طور پر اپنے کو تین طلاقیں دیکر دوسرے سے نکاح کیا اس کے بعد پھر شوہر اول سے نکاح کیا تو اب عورت کو طلاق دینے کا اختیار نہ رہا۔ اور اگر خود طلاق نہ دی یا ایک یا دودے کر بعد عدّت دوسرے سے نکاح کیا پھر شوہر اول کے نکاح میں آئی تو اب پھر اُسے تین طلاقیں متفرق طور پر دینے کا اختیار ہے۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۵: تو طالق ہے جس جگہ چاہے تو اُسی مجلس تک اختیارہے بعد مجلس چاہا کرے کچھ نہیں ہو سکتا۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۶۶: اگر کہا جتنی تو چاہے یا جس قدر یا جو تو چاہے تو عورت کو اختیار ہے اُس مجلس میں جتنی طلاقیں چاہے دے اگرچہ شوہر کی کچھ نیت ہو اور بعد مجلس کچھ اختیار نہیں۔ اور اگر کہا تین میں سے جو چاہے یا جس قدر یا جتنی تو ایک اور دو۲کا اختیار ہے تین کا نہیں اور ان صورتوں میں تین یا دو طلاقیں دینا یا حالت حیض میں طلاق دینا بدعت نہیں۔ (5)(درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۶۷: شوہر نے کسی شخص سے کہا میں نے تجھے اپنے تمام کاموں میں وکیل بنایا۔ وکیل نے اُس کی عورت کو طلاق دے دی واقع نہ ہوئی اور اگر کہا تمام امور (6) میں وکیل کیا جن میں وکیل بنانا جائز ہے تو تما م باتوں میں وکیل بن گیا ۔(7)(خانیہ) یعنی اُس کی عورت کو طلاق بھی دے سکتا ہے۔
مسئلہ ۶۸: ایک طلاق دینے کے ليے وکیل کیا ،وکیل نے دو دیدیں تو واقع نہ ہوئی اور بائن کے ليے وکیل کیا وکیل
1 ۔ناپسند۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۰۵.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و'' ردالمحتار''،کتاب الطلاق، فصل في المشیئۃ، ج۴، ص۵۷۰ ۔ ۵۷۳.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، فصل في المشیئۃ، ج۴، ص۵۷۳.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، فصل في المشیئۃ، مطلب: في مسألۃ الھدم، ج۴، ص۵۷۵ .
6 ۔معاملات۔
7 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، فصل في الطلاق الذی یکون من الوکیل أومن المرأۃ، ج۱، ص۲۵۳.
نے رجعی دی تو بائن ہوگی اور رجعی کے ليے وکیل سے کہا اُس نے بائن دی تو رجعی ہوئی۔ اور اگر ایسے کو وکیل کیا جو غائب ہے اور اُسے ابھی تک وکالت کی خبر نہیں اور موکل کی عورت کو طلاق دیدی تو واقع نہ ہوئی کہ ابھی تک وکیل ہی نہیں۔ اور اگر کسی سے کہا میں تجھے اپنی عورت کو طلاق دینے سے منع نہیں کرتا تو اس کہنے سے وکیل نہ ہوایا اس کے سامنے اسکی عورت کو کسی نے طلاق دی اور اس نے اُسے منع نہ کیا جب بھی وہ وکیل نہ ہوا۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۶۹: طلاق دینے کے ليے وکیل کیا اور وکیل کے طلاق دینے سے پہلے خود موکل نے عورت کو طلاق بائن یا رجعی دے دی تو جب تک عورت عدّت میں ہے وکیل طلاق دے سکتا ہے۔ اور اگر وکیل نے طلاق نہیں دی اور موکل نے خود طلاق دیکر عدّت کے اندر اُس عورت سے نکاح کر لیا تو وکیل اب بھی طلاق دے سکتا ہے اور عدّت گزر نے کے بعد اگر نکاح کیا تو نہیں۔ اور اگر میاں بی بی میں کوئی معاذاﷲ مرتد ہوگيا جب بھی عدّت کے اندر وکیل طلاق دے سکتا ہے ہاں اگر مرتدہو کر دارالحرب کو چلا گیا اور قاضی نے حکم بھی دیدیا تو اب وکالت باطل ہوگئی۔ یوہیں اگر وکیل معاذاﷲ مرتد ہو جائے تو وکالت باطل نہ ہوگی ہاں اگر دارالحرب کو چلاگیا اور قاضی نے حکم بھی دیدیا تو باطل۔ (2)(خانیہ)
مسئلہ ۷۰: طلاق کے وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ دوسرے کو وکیل بنادے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۱: کسی کو وکیل بنایا اور وکیل نے منظور نہ کیا تو وکیل نہ ہوا اور اگر چُپ رہا پھر طلاق دیدی ہوگئی۔ سمجھ وال بچہ اور غلام کو بھی وکیل بنا سکتا ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: وکیل سے کہا تو میری عورت کو کل طلاق دیدینااُس نے آج ہی کہہ دیا تجھ پر کل طلاق ہے تو واقع نہ ہوئی۔ یوہیں اگر وکیل سے کہا طلاق دے دے اُس نے طلاق کو کسی شرط پر معلق کیا مثلاً کہا اگر تو گھر میں جائے تو تجھ پر طلاق ہے اور عورت گھر میں گئی طلاق نہ ہوئی۔ یوہیں وکیل سے تین طلاق کے ليے کہا وکیل نے ہزار طلاقیں دیدیں یا آدھی کے ليے کہا وکیل نے ایک طلاق دی تو واقع نہ ہوئی۔ (5)(بحرالرائق)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۰۸.
2 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، فصل في الطلاق الذی یکون من الوکیل أومن المرأۃ، ج۱، ص۲۵۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۰۹.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''البحرالرائق''، کتاب الطلاق، فصل في المشیئۃ، ج۳، ص۵۷۷.
تعلیق کے معنے یہ ہیں کہ کسی چیز کا ہونا دوسری چیز کے ہونے پر موقوف کیا جائے یہ دوسری چیز جس پر پہلی موقوف ہے اس کو شرط کہتے ہیں۔ تعلیق صحیح ہونے کے ليے یہ شرط ہے کہ ''شرط'' فی الحال معدوم ہو(1) مگر عادۃًہو سکتی ہو لہٰذا اگر شرط معدوم نہ ہو مثلاً یہ کہے کہ اگر آسمان ہمارے اوپر ہو تو تجھ کو طلاق ہے یہ تعلیق نہیں بلکہ فوراً طلاق واقع ہو جائیگی اور اگر شرط عادۃًمحال ہو مثلاً یہ کہ اگر سوئی کے ناکے میں اونٹ چلا جائے تو تجھ کو طلاق ہے یہ کلام لغو (2)ہے اس سے کچھ نہ ہوگا۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ ''شرط'' متصلاً(3)بولی جائے اور یہ کہ سزا دینا مقصودنہ ہو مثلاً عورت نے شوہر کو کمینہ کہا شوہر نے کہا اگر میں کمینہ ہوں تو تجھ پر طلاق ہے تو طلاق ہوگئی اگرچہ کمینہ نہ ہو کہ ایسے کلام سے تعلیق مقصود نہیں ہوتی بلکہ عورت کو ایذا (4)دینا، اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ فعل ذکر کیا جائے جسے شرط ٹھہرایا، لہٰذا اگر یوں کہا تجھے طلاق ہے اگر، اور اس کے بعد کچھ نہ کہا تو یہ کلام لغو ہے طلاق نہ واقع ہوئی نہ ہوگی۔ تعلیق کے ليے شرط یہ ہے کہ عورت تعلیق کے وقت اُس کے نکاح میں ہو مثلاً اپنی منکوحہ سے یا جو عورت اُس کی عدّت میں ہے کہا اگر تو فلاں کام کرے یا فلاں کے گھر جائے تو تجھ پر طلاق ہے یا نکاح کی طرف اضافت ہو مثلاً کہا اگر میں کسی عورت سے نکاح کروں تو اُس پر طلاق ہے یا اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ پر طلاق ہے یا جس عورت سے نکاح کروں اُسے طلاق ہے اور کسی اجنبیہ سے کہا اگر تو فلاں کے گھر گئی تو تجھ پر طلاق، پھر اُس سے نکاح کیااور وہ عورت اُس کے یہاں گئی طلاق نہ ہوئی یا کہا جو عورت میرے ساتھ سوئے اُسے طلاق ہے پھر نکاح کیا اور ساتھ سوئی طلاق نہ ہوئی۔ یوہیں اگر والدین سے کہا اگر تم میرا نکاح کرو گے تو اُسے طلاق پھر والدین نے اس کے بے کہے نکاح کر دیا طلاق واقع نہ ہوگی۔ یوہیں اگر طلاق ثبوت ملک (5)یا زوال ملک (6)کے مقارن (7)ہو تو کلام لغو ہے طلاق نہ ہوگی، مثلاً تجھ پر طلاق ہے تیرے نکاح کے ساتھ یا میری یا تیری موت کے ساتھ۔ (8)(درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۱: طلاق کسی شرط پر معلق کی تھی اور شرط پائی جانے سے پہلے تین طلاقیں دیدیں تو تعلیق باطل ہوگئی یعنی وہ عورت پھر اس کے نکاح میں آئے اور اب شرط پائی جائے تو طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر تعلیق کے بعد تین سے کم طلاقیں دیں تو تعلیق باطل نہ ہوئی لہٰذا اب اگرعورت اس کے نکاح میں آئے اور شرط پائی جائے تو جتنی طلاقیں معلّق کی تھیں سب واقع ہو جائیں گی یہ اُس صورت میں ہے کہ دوسرے شوہر کے بعد اس کے نکاح میں آئی۔ اور اگر دو ایک طلاق دیدی پھر بغیر دوسرے کے نکاح کے خود نکاح کرلیا تو اب تین میں جو باقی ہے واقع ہوگی اگرچہ بائن طلاق دی ہو یا رجعی کی عدّت ختم ہوگئی ہو کہ بعد عدّت
1 ۔یعنی موجود نہ ہو۔ 2 ۔بیکار،فضول۔ 3 ۔یعنی ساتھ ہی۔ 4 ۔تکلیف۔
5 ۔ملکیت کاثابت ہونا۔ 6 ۔ملکیت کا ختم ہونا۔ 7 ۔متصل،ملی ہوئی۔
8 ۔''الدرالمختار'' و'' ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب: فیما لوحلف لایحلف فعلق، ج۴، ص۵۷۸۔ ۵۸۶،وغیرہما.
رجعی میں بھی عورت نکاح سے نکل جاتی ہے خلاصہ یہ ہے کہ ملک نکاح جانے سے تعلیق باطل نہیں ہوتی۔(1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: شوہر مرتد ہوکر دارالحرب کو چلا گیا تو تعلیق باطل ہوگئی یعنی اب اگر مسلمان ہوا اور اُس عورت سے نکاح کیا پھر شرط پائی گئی تو طلاق واقع نہ ہوگی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳: شرط کا محل جاتا رہا تعلیق باطل ہو گئی مثلاً کہا اگر فلاں سے بات کرے تو تجھ پر طلاق اب وہ شخص مر گیا تو تعلیق باطل ہو گئی لہٰذا اگر کسی ولی کی کرامت سے جی گیا (3)اب کلام کیا طلاق واقع نہ ہوگی یا کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھ پر طلاق اور وہ مکان منہدم ہو کر (4) کھیت یا باغ بن گیا تعلیق جاتی رہی اگرچہ پھر دوبارہ اُس جگہ مکان بنایا گیا ہو۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: یہ کہا اگر تو اس گلاس میں کا پانی پیے گی تو تجھ پر طلاق ہے اور گلاس میں اُس وقت پانی نہ تھا تو تعلیق باطل ہے اور اگر پانی اُس وقت موجودتھا پھر گرادیا گیا تو تعلیق صحیح ہے۔
مسئلہ ۵: زوجہ کنیز(6) ہے اُس سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھ پر تین طلاقیں پھر اُس کے مالک نے اُسے آزاد کر دیا اب گھر میں گئی تو دو طلاقیں پڑیں اور شوہر کو رجعت کا حق حاصل ہے کہ بوقت تعلیق تین طلاق کی اُس میں صلاحیت نہ تھی لہٰذا دوہی کی تعلیق ہوگی اور اب کہ آزاد ہوگئی تین کی صلاحیت اُس میں ہے مگر اُس تعلیق کے سبب دوہی واقع ہونگی کہ ایک طلاق کا اختیار شوہر کو اب جدیدحاصل ہوا۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۶: حروف شرط اُردو زبان میں یہ ہیں۔ اگر، جب، جس وقت، ہر وقت، جو، ہر، جس، جب کبھی، ہر بار۔
مسئلہ ۷: ایک مرتبہ شرط پائی جانے سے تعلیق ختم ہوجاتی ہے یعنی دوبارہ شرط پائی جانے سے طلاق نہ ہوگی مثلاً عورت سے کہا اگر تو فلاں کے گھر میں گئی یا تو نے فلاں سے بات کی تو تجھ کو طلاق ہے عورت اُس کے گھر گئی تو طلاق ہوگئی دوبارہ پھر گئی تو اب واقع نہ ہوگی کہ اب تعلیق کا حکم باقی نہیں مگر جب کبھی یا جب جب یا ہر بار کے لفظ سے تعلیق کی ہے تو ایک دوبارپر تعلیق ختم نہ ہوگی بلکہ تین بارمیں تین طلاقیں واقع ہونگی کہ یہ کُلَّما کا ترجمہ ہے اور یہ لفظ عموم افعال کے واسطے آتا ہے مثلاًعورت سے
1 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۵۸۹، وغیرہ.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۵۹۰.
3 ۔یعنی زندہ ہوگیا۔ 4 ۔گِرکر۔
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب في معنی قولھم: لیس للمقلد... إلخ، ج۴، ص۵۹۰.
6 ۔لونڈی۔
7 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۵۹۱.
کہا جب کبھی تو فلاں کے گھر جائے یا فلاں سے بات کرے تو تجھ کو طلاق ہے تو اگر اُس کے گھر تین بار گئی تین طلاقیں ہو گئیں اب تعلیق کا حکم ختم ہوگيا یعنی اگر وہ عورت بعد حلالہ پھر اُس کے نکاح میں آئی اب پھر اُس کے گھر گئی تو طلاق واقع نہ ہوگی ہاں اگر یوں کہا ہے کہ جب کبھی میں اُس سے نکاح کروں تو اُسے طلاق ہے تو تین پر بس نہیں بلکہ سوبار بھی نکاح کرے تو ہر بار طلاق واقع ہوگی۔(1) (عامہ کتب) یوہیں اگر یہ کہا کہ جس جس شخص سے تو کلام کرے تجھ کو طلاق ہے یا ہر اُس عورت سے کہ میں نکاح کروں اُسے طلاق ہے یا جس جس وقت تو یہ کام کرے تجھ پر طلاق ہے کہ یہ الفاظ بھی عموم کے واسطے ہیں، لہٰذا ایک بار میں تعلیق ختم نہ ہوگی۔
مسئلہ ۸: عورت سے کہا جب کبھی میں تجھے طلاق دوں تو تجھے طلاق ہے اور عورت کو ایک طلاق دی تو دو واقع ہوئیں ایک طلاق تو خود اب اُس نے دی اور ایک اُس تعلیق کے سبب اور اگر یوں کہا کہ جب کبھی تجھے طلاق ہو تو تجھ کوطلاق ہے اور ایک طلاق دی تو تین ہوئیں ایک تو خود اس نے دی اور ایک تعلیق کے سبب اور دوسری طلاق واقع ہونے سے طلاق ہونا پایا گیا لہٰذا ایک اور پڑیگی کہ یہ لفظ عموم کے ليے ہے مگر بہر صورت تین سے متجاوز(2) نہیں ہو سکتی۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۹: شرط پائی جانے سے تعلیق ختم ہو جاتی ہے اگرچہ شرط اُس وقت پائی گئی کہ عورت نکاح سے نکل گئی ہو البتہ اگر عورت نکاح میں نہ رہی تو طلاق واقع نہ ہوگی مثلاً عورت سے کہا تھا اگر تو فلاں کے گھر جائے تو تجھ کو طلاق ہے، اس کے بعد عورت کو طلاق دیدی اور عدّت گزر گئی اب عورت اُس کے گھر گئی پھر شوہر نے اُس سے نکاح کرلیا اب پھر گئی تو طلاق واقع نہ ہوگی کہ تعلیق ختم ہوچکی ہے لہٰذا اگر کسی نے یہ کہا ہو کہ اگر تو فلاں کے گھر جائے تو تجھ پر تین طلاقیں اور چاہتا ہو کہ اُس کے گھر آمدورفت شروع ہو جائے تو اُس کا حیلہ یہ ہے کہ عورت کو ایک طلاق دیدے پھر عدّت کے بعد عورت اُس کے گھر جائے پھر نکاح کرلے اب جایا آیا کرے طلاق واقع نہ ہوگی مگر عموم کے الفاظ استعمال کيے ہوں تو یہ حیلہ کام نہیں دیگا۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: یہ کہا کہ ہر اُس عورت سے کہ میں نکاح کروں اُسے طلاق ہے تو جتنی عورتوں سے نکاح کریگا سب کو طلاق ہو جائے گی اور اگر ایک ہی عورت سے دوبار نکاح کیا تو صرف پہلی بار طلاق پڑیگی دوبارہ نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: یہ کہا کہ جب کبھی میں فلاں کے گھر جاؤں تو میری عورت کو طلاق ہے اور اُس شخص کی چار عورتیں ہیں اور
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط...الخ، الفصل الاول ،ج۱، ص۴۱۵.
2 ۔زیادہ۔
3 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۵۹۷ ۔ ۶۰۱.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق،باب التعلیق،مطلب مہم: الاضافۃ للتعریف...الخ،ج۴،ص۶۰۰.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الاول، ج۱، ص۴۱۵.
چار مرتبہ اُس کے گھر گیا تو ہربار میں ایک طلاق واقع ہوئی لہٰذا اگر عورت کو معیّن نہ کیا ہو تو اب اختیار ہے کہ چاہے تو سب طلاقیں ایک پر کردے یا ایک ایک، ایک ایک پر(1)۔ اور اگر دوشخصوں سے یہ کہاجب کبھی میں تم دونوں کے یہاں کھانا کھاؤں تو میری عورت کو طلاق ہے اور ایک دن ایک کے یہاں کھاناکھایا دوسرے دن دوسرے کے یہاں،تو عورت کو تین طلاقیں پڑگئیں یعنی جبکہ تین لقمے یا زیادہ کھایا ہو۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: یہ کہا کہ جب کبھی میں کوئی اچھا کلام زبان سے نکالوں تو تجھ پر طلاق ہے ،اس کے بعد کہا
سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلا اِلٰہَ اِلاَّاللہُ وَاللہُ اَکْبَرْ
تو ایک طلاق واقع ہوگی اور اگر بغیر واو کے
سُبْحٰنَ اللہِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ لا اِلٰہ اِلاَّ اَللہُ اَللہُ اَکْبَرْ
کہا تو تین۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: یہ کہا کہ جب کبھی میں اِس مکان میں جاؤں اور فلاں سے کلام کروں تو میری عورت کو طلاق ہے، اُس کے بعد اُس گھر میں کئی مرتبہ گیا مگر اُس سے کلام نہ کیا تو عورت کو طلاق نہ ہوئی اور اگر جانا کئی بار ہوا اور کلام ایک بار تو ایک طلاق ہوئی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: شوہر نے دروازہ کی کنڈی بجائی کہ کھول دیا جائے اور کھولانہ گیا اُس نے کہا اگر آج رات میں تُو دروازہ نہ کھولے تو تجھ کو طلاق ہے اور گھر میں کوئی تھا ہی نہیں کہ دروازہ کھولتا، یوہیں رات گزر گئی تو طلاق نہ ہوئی۔ یوہیں اگر جیب میں روپیہ تھا مگر ملا نہیں اس پر کہا اگر وہ روپیہ کہ تو نے میری جیب سے لیا ہے واپس نہ کرے تو تجھ کو طلاق ہے پھر دیکھا تو روپیہ جیب ہی میں تھا تو طلاق واقع نہ ہوئی۔(5) (خانیہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۵: عورت کو حیض ہے اور کہا اگر تو حائض ہو تو تجھ کو طلاق، یا عورت بیمار ہے اور کہا اگر تو بیمار ہو تو تجھ کو طلاق، تو اِس سے وہ حیض یا مرض مراد ہے کہ زمانہ آئندہ میں ہواور اگر اس موجود کی نیت کی تو صحیح ہے اور اگر کہا کہ کل اگر تو حائض ہو تو تجھ کو طلاق اور اُسے علم ہے کہ حیض سے ہے تو یہی حیض مراد ہے، لہٰذا اگر صبح چمکتے وقت حیض رہا تو طلاق ہوگئی جبکہ اُس وقت تین دن پورے یا اس سے زائد ہوں۔ اور اگر اُسے اس حیض کا علم نہیں تو جدید حیض مراد ہوگا لہٰذا طلاق نہ ہوگی اور اگر کھڑے ہونے، بیٹھنے، سوار ہونے، مکان میں رہنے پر تعلیق کی اور کہتے وقت وہ بات موجود تھی تو اس کہنے کے کچھ بعد تک اگر عورت اُسی حالت پر
1 ۔یعنی ایک ایک طلاق ایک ایک عورت پرکردے۔
2 ۔ ''الفتاوی الہندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۱۶.
3 ۔ المرجع السابق. 4 ۔ المرجع السابق، ص۴۱۷.
5 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق،باب التعلیق، ج۲، ص۲۳۲، وغیرہا.
رہی تو طلاق ہوگئی اور مکان میں داخل ہونے یامکان سے نکلنے پر تعلیق کی تو آئندہ کا جانا اور نکلنا مراد ہے اور مارنے اور کھانے سے مراد وہ ہے جو اب کہنے کے بعد ہوگا اور روزہ رکھنے پر معلق کیا اور تھوڑی دیر بھی روزہ کی نیت سے رہی تو طلاق ہوگئی اور اگر یہ کہا کہ ایک دن اگر تو روزہ رکھے تو اُس وقت طلاق ہوگی کہ اُس دن کاآفتاب ڈوب جائے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: یہ کہا اگر تجھے حیض آئے تو طلاق ہے، تو عورت کو خون آتے ہی طلاق کا حکم نہ دینگے جب تک تین دن رات تک مُستَمِر (2) نہ ہو، اور جب یہ مدت پوری ہوگی تو اُسی وقت سے طلاق کا حکم دینگے جب سے خون دیکھا ہے اور یہ طلاق بدعی ہوگی کہ حیض میں واقع ہوئی۔ اور یہ کہا کہ اگر تجھے پورا حیض آئے یا آدھا یا تہائی یا چوتھائی تو ان سب صورتوں میں حیض ختم ہونے پر طلاق ہوگی پھر اگر دس دن پر حیض ختم ہو تو ختم ہوتے ہی اور کم میں منقطع (3)ہو تو نہانے یا نماز کا وقت گزر جانے پر ہوگی۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۷: حیض اور احتلام وغیرہ مخفی (5)چیزیں عورت کے کہنے پر مان لی جائینگی مگر دوسرے پر اس کا کچھ اثر نہیں مثلاًعورت سے کہا اگر تجھے حیض آئے تو تجھ کو اور فلانی کو طلاق ہے، اور عورت نے اپنا حائض (6) ہونا بتا یا تو خود اس کو طلاق ہوگئی دوسری کو نہیں ہاں اگر شوہر نے اُس کے کہنے کی تصدیق کی یا اُس کاحائض ہونا یقین کے ساتھ معلوم ہوا تو دوسری کو بھی طلاق ہوگی۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: کسی کی دو عورتیں ہیں دونوں سے کہا جب تم دونوں کو حیض آئے تو دونوں کو طلاق ہے ،دونوں نے کہا ہمیں حیض آیا اور شوہر نے دونوں کی تصدیق کی تو دونوں مطلقہ ہو گئیں اور دونوں کی تکذیب کی تو کسی کو نہیں اور ایک کی تصدیق کی اور ایک کی تکذیب ،ــتو جس کی تصدیق کی ہے اُسے طلاق ہوئی اور جس کی تکذیب کی اُس کو نہیں۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: یہ کہا کہ تو لڑکا جنے تو ایک طلاق اور لڑکی جنے تو دو۲، اور لڑکا لڑکی دونوں پیدا ہوئے تو جو پہلے پیداہوا اُسی کے بموجب طلاق واقع ہوگی اور معلوم نہ ہو کہ پہلے کیا پیدا ہوا تو قاضی ایک طلاق کا حکم دیگا اور احتیاط یہ ہے کہ شوہر دو طلاقیں
1 ۔ ''الفتاوی الہندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۲۱.
2 ۔جاری۔ 3 ۔ختم۔
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۰۷ ۔ ۶۰۹.
5 ۔پوشیدہ۔ 6 ۔حیض والی۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۰۴ ۔ ۶۰۷.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۲۲.
'' جس کی تصدیق کی ہے اُسے طلاق ہوئی اور جس کی تکذیب کی اُس کو نہیں''۔غالباً یہاں کتابت کی غلطی ہے،اصل کتاب میں مسئلہ اس طرح ہے''جس کی تکذیب کی ہے اسے طلاق ہوئی اورجس کی تصدیق کی ہے اس کونہیں''۔...عِلْمِیہ
سمجھے اور عدّت بھی دوسرے بچے کے پیدا ہونے سے پوری ہوگئی لہٰذا اب رجعت بھی نہیں کرسکتا اور دونوں ایک ساتھ پیدا ہوں تو تین طلاقیں ہوں گی اور عدّت حیض سے پوری کرے اور خنثیٰ (1)پیدا ہوا تو ایک ابھی واقع مانی جائے گی اور دوسری کا حکم اُس وقت تک موقوف رہیگا جب تک اُس کا حال نہ کھلے اور اگر ایک لڑکا اور دو لڑکیاں ہوئیں تو قاضی دوکا حکم دیگا اور احتیاط یہ ہے کہ تین سمجھے اور اگر دولڑکے اور ایک لڑکی ہوئی تو قاضی ایک کا حکم دیگا اور احتیاطاً تین سمجھے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: یہ کہا کہ جو کچھ تیرے شکم (3)میں ہے اگر لڑکا ہے تو تجھ کو ایک طلاق اور لڑکی ہے تو دو، اور لڑکا لڑکی دونوں پیدا ہوئے تو کچھ نہیں۔ یوہیں اگر کہا کہ بوری میں جو کچھ ہے اگر گیہوں ہیں تو تجھے طلاق یاآٹا ہے تو تجھے طلاق، اور بوری میں گیہوں اور آٹا دونوں ہیں تو کچھ نہیں اور یوں کہا کہ اگر تیرے پیٹ میں لڑکا ہے تو ایک طلاق اور لڑکی تو دو اور دونوں ہوئے تو تین طلاقیں ہوئیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: عورت سے کہا اگر تیرے بچہ پیدا ہو تو تجھ کو طلاق، اب عورت کہتی ہے میرے بچہ پیدا ہوا اور شوہر تکذیب کرتا ہے(5) اور حمل ظاہر نہ تھانہ شوہر نے حمل کا اقرار کیا تھا تو صرف جنائی(6) کی شہادت پر حکم طلاق نہ دینگے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: یہ کہا کہ اگر تو بچہ جنے تو طلاق ہے اور مُردہ بچہ پیدا ہوا طلاق ہوگئی اور کچا بچہ جنی اور بعض اعضا بن چکے تھے جب بھی طلاق ہوگئی ورنہ نہیں۔(8) (جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۳: عورت سے کہا اگر تو بچہ جنے تو تجھ کو طلاق، پھر کہا اگر تو اُسے لڑکا جنے تو دو طلاقیں ،اور لڑکا ہوا تو تین واقع ہوگئیں۔ (9) (ردالمحتار)اور اگر یوں کہا کہ تو اگر بچہ جنے تو تجھ کو دوطلاقیں ،پھر کہا وہ بچہ کہ تیرے شکم میں ہے لڑکا ہو تو تجھ کو طلاق، اور لڑکا ہوا تو ایک ہی طلاق ہوگی اور بچہ پیدا ہوتے ہی عدّت بھی گزر جائے گی۔(10) (عالمگیری)
1 ۔ہیجڑا۔
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب: اختلاف الزوجین في وجود الشرط، ج۴، ص۶۱۰.
3 ۔پیٹ۔
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۱۱.
5 ۔یعنی جھٹلاتاہے۔ 6 ۔دائی ، بچہ جنانے والی۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۲۴.
8 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الطلاق، الجزء الثاني، ص۵۴، وغیرہا.
9 ۔ '' ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب: اختلاف الزوجین في وجود الشرط، ج۴، ص۶۱۱.
10 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۲۴ ،۴۲۵.
مسئلہ ۲۴: حمل پر طلاق معلق کی ہو تو مستحب یہ ہے کہ استبرا یعنی حیض کے بعد وطی کرے کہ شاید حمل ہو۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: اگر دوشرطوں پر طلاق معلق کی مثلاً جب زید آئے اور جب عمرو آئے یا جب زیدو عمرو آئیں تو تجھ کو طلاق ہے تو طلاق اُس وقت واقع ہوگی کہ پچھلی شرط اس کی مِلک(2) میں پائی جائے اگرچہ پہلی اُس وقت پائی گئی کہ عورت ملک میں نہ تھی مثلاً اُسے طلاق دیدی تھی اور عدّت گزر چکی تھی اب زید آیا پھر اُس سے نکاح کیا اب عمرو آیا تو طلاق واقع ہوگئی اور دوسری شرط ملک میں نہ ہو تو پہلی اگرچہ ملک میں پائی گئی طلاق نہ ہوئی۔(3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۶: وطی پر تین طلاقیں معلق کی تھیں تو حشفہ(4) داخل ہونے سے طلاق ہو جائے گی، اور واجب ہے کہ فور اً جُدا ہوجائے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: اپنی عورت سے کہا جب تک تو میرے نکاح میں ہے اگر میں کسی عورت سے نکاح کروں تو اُسے طلاق پھر عورت کو طلاق بائن دی اور عدّت کے اندر دوسری عورت سے نکاح کیا تو طلاق نہ ہو ئی اور رجعی کی عدّت میں تھی تو ہوگئی۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: کسی کی تین عورتیں ہیں، ایک سے کہا اگر میں تجھے طلاق دوں تو اُن دونوں کو بھی طلاق ہے، پھر دوسری اور تیسری سے بھی یوہیں کہا، پھر پہلی کو ایک طلاق دی ،تو اُن دونوں کو بھی ایک ایک ہوئی اور اگر دوسری کو ایک طلاق دی تو پہلی کو ایک ہوئی اور دوسری اور تیسری پر دو دو، اور اگر تیسری عور ت کو ایک طلاق دی تو اس پر تین ہوئیں اور دوسری پر دو، اور پہلی پر ایک۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: یہ کہا کہ اگر اس شب میں تو میرے پاس نہ آئی تو تجھے طلاق، عورت دروازہ تک آئی اندر نہ گئی، طلاق ہوگئی اور اگر اندر گئی مگر شوہر سو رہاتھا تو نہ ہوئی اور پاس آنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی قریب آجائے کہ شوہر ہاتھ بڑھائے تو عورت تک پہنچ جائے۔ مرد نے عورت کو بلایا اُس نے انکار کیا اس پر کہا اگر تو نہ آئی تو تجھ کو طلاق ہے ،پھر شوہر خود زبر دستی اُسے لے آیا
1 ۔ '' الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۲۵.
2 ۔ملکیت۔
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۱۳، وغیرہ .
4 ۔مرد کے آلہء تناسل کی سپاری۔
5 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۱۴.
6 ۔ المرجع السابق، ص۶۱۵.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۲۶.
طلاق نہ ہوئی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: کوئی شخص مکان میں ہے لوگ اُسے نکلنے نہیں دیتے، اُس نے کہا اگر میں یہاں سوؤں تو میری عورت کو طلاق ہے اُسکا مقصد خاص وہ جگہ ہے جہاں بیٹھا یا کھڑا ہے پھر اُسی مکان میں سویا مگر اُس جگہ سے ہٹ کر تو قضائً طلاق ہو جائے گی دیانۃً نہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: عورت سے کہا اگر تو اپنے بھائی سے میری شکایت کریگی تو تجھ کو طلاق ہے، اُس کا بھائی آیا عورت نے کسی بچہ کو مخاطب کرکے کہا میرے شوہر نے ایسا کیا ایسا کیا اور اُسکا بھائی سب سُن رہا ہے طلاق نہ ہو گی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: آپس میں جھگڑرہے تھے مرد نے کہا اگر تو چُپ نہ رہے گی تو تجھ کو طلاق ہے، عورت نے کہا نہیں چُپ ہوں گی اِس کے بعد خاموش ہوگئی طلاق نہ ہوئی۔ یوہیں اگر کہا کہ توچیخے گی تو تجھ کو طلاق ہے عورت نے کہا چیخوں گی تو مگر پھر چُپ ہوگئی طلاق نہ ہوئی۔ یوہیں اگر کہا کہ فلاں کا ذکر کرے گی تو ایسا ہے عورت نے کہا میں اُس کا ذکر نہ کروں گی یا کہا جب تو منع کرتا ہے تو اُس کا ذکر نہ کروں گی طلاق نہ ہوگی کہ اتنی بات مستثنےٰ ہے۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۳: عورت نے فاقہ کشی کی شکایت کی، شوہر نے کہا اگر میرے گھر تو بھوکی رہے تو تجھے طلاق ہے، تو علاوہ روزے کے بھوکی رہنے پر طلاق ہوگی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: اگر تو فلاں کے گھر جائے تو تجھ کو طلاق ہے اور وہ شخص مر گیا اور مکان ترکہ میں چھوڑااب وہاں جانے سے طلاق نہ ہوگی۔ یوہیں اگر بیع یا ہبہ(6) یا کسی اور وجہ سے اُس کی مِلک میں مکان نہ رہا جب بھی طلاق نہ ہوگی۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: عورت سے کہا اگر تو بغیر میری اجازت کے گھر سے نکلی توتجھ پر طلاق پھر سائل نے دروازہ پر سوال کیا شوہر نے عورت سے کہا اُسے روٹی کا ٹکڑا دے آ اگر سائل دروازہ سے اتنے فاصلہ پر ہے کہ بغیر باہر نکلے نہیں دے سکتی تو باہر نکلنے سے طلاق نہ ہوگی اوراگر بغیر باہر نکلے دے سکتی تھی مگر نکلی تو طلاق ہوگئی او ر اگر جس وقت شوہر نے عورت کو بھیجا تھا اُس وقت سائل دروازہ سے قریب تھا اور جب عورت وہاں لے کر پہنچی تو ہٹ گیا تھا کہ عورت کو نکل کر دینا پڑا جب بھی طلاق ہوگئی۔ اور اگر عربی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۳۰.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۳۱. 3 ۔المرجع السابق، ص۴۳۲.
4 ۔المرجع السابق،ص۴۳۲. 5 ۔المرجع السابق، ص۴۳۲.
6 ۔تحفہ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۳۴.
میں اجازت دی اور عورت عربی نہ جانتی ہو تو اجازت نہ ہوئی لہٰذا اگر نکلے گی طلاق ہو جائے گی۔ یوہیں سوتی تھی یا موجود نہ تھی یا اُس نے سُنا نہیں تو یہ اجازت نا کافی ہے یہاں تک کہ شوہر نے اگر لوگوں کے سامنے کہا کہ میں نے اُسے نکلنے کی اجازت دی مگر یہ نہ کہا کہ اُس سے کہہ دو یا خبر پہنچا دو اور لوگوں نے بطور خود عورت سے جاکر کہاکہ اُس نے اجازت دیدی اور اُن کے کہنے سے عورت نکلی طلاق ہوگئی۔ اگر عورت نے میکے جانے کی اجازت مانگی شوہر نے اجازت دی مگر عورت اُس وقت نہ گئی کسی اور وقت گئی تو طلاق ہوگئی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: اس بچہ کو اگر گھر سے باہر نکلنے دیا تو تجھ کو طلاق ہے، عورت غافل ہو گئی یا نماز پڑھنے لگی اور بچہ نکل بھا گا توطلاق نہ ہوگی۔ اگر تو اس گھر کے دروازہ سے نکلی تو تجھ پر طلاق، عورت چھت پر سے پڑوس کے مکان میں گئی طلاق نہ ہوئی۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: تجھ پر طلاق ہے یا میں مرد نہیں، تو طلاق ہوگئی اور اگر کہا تجھ پر طلاق ہے یا میں مرد ہوں تو نہ ہوئی۔(3)(خانیہ)
مسئلہ ۳۸: اپنی عورت سے کہا اگر تو میری عورت ہے تو تجھے تین طلاقیں اور اُس کے متصل ہی(4) اگر ایک طلاق بائن دیدی ،تو یہی ایک پڑے گی ورنہ تین۔(5) (خانیہ)
استثناکے ليے شرط یہ ہے کہ کلام کے ساتھ متصل ہو یعنی بلاوجہ نہ سکوت کیا ہونہ کوئی بیکار بات درمیان میں کہی ہو ، اور یہ بھی شرط ہے کہ اتنی آواز سے کہے کہ اگر شوروغل وغیرہ کوئی مانع (6)نہ ہو تو خودسُن سکے بہرے کا استثنا صحیح ہے۔ (7)
مسئلہ ۱: عورت نے طلاق کے الفاظ سُنے مگر استثنا نہ سُنا تو جس طرح ممکن ہو شوہر سے علیحدہ ہو جائے اُسے جماع نہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۳۸،۴۳۹ .
2 ۔ المرجع السابق، ص۴۴۱.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۲، ص۲۲۴.
4 ۔ فوراً ہی یعنی درمیان میں کوئی اور کلام وغیرہ نہ کیا۔
5 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۲، ص۲۲۶.
6 ۔ یعنی رکاوٹ۔
7 ۔''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب: الاستثناء یطلق علی الشرط لغۃ واستعمالا، ج۴، ص۶۱۷ ۔ ۶۱۹.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۲، ص۲۴۲.
کرنے دے۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ۲: سانس یا چھینک یا کھانسی یا ڈکار یا جماہی یا زبان کی گرانی (2)کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ کسی نے اس کا مونھ بند کر دیا اگر وقفہ ہوا تو اتصال (3)کے منافی نہیں۔ یوہیں اگر درمیان میں کوئی مفید بات کہی تو اتصال کے منافی نہیں مثلاً تاکید کی نیت سے لفظ طلاق دو بار کہہ کر استثنا کا لفظ بولا۔ (4)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ۳: درمیان میں کوئی غیر مفید بات کہی پھر استثنا کیا تو صحیح نہیں مثلاً تجھ کو طلاق رجعی ہے ان شاء اللہ تو طلاق ہوگئی اور اگر کہا تجھ کو طلاق بائن ہے ان شاء اللہ تو واقع نہ ہوئی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۴: لفظ ان شاء اللہ اگرچہ بظاہر شرط معلوم ہوتا ہے مگر اس کا شمار استثنا میں ہے مگر اُنھیں چیزوں میں جن کا وجود بولنے پر موقوف ہے مثلاً طلاق و حلف وغیرہما اور جن چیزوں کو تلفظ سے خصوصیت نہیں وہاں استثنا کے معنی نہیں مثلاً یہ کہا
نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ غَداً اِن شَاءَ اللہُ تَعَالٰی (6)
کہ یہاں نہ استثنا ہے نہ نیت روزہ پر اسکا اثر بلکہ یہ لفظ ایسے مقام پر برکت و طلب توفیق کے ليے ہوتا ہے۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: عورت سے کہا تجھ کو طلاق ہے ان شاء اللہ تعالیٰ طلاق واقع نہ ہوئی اگرچہ ان شاء اللہ کہنے سے پہلے مرگئی اور اگر شوہر اتنا لفظ کہہ کر کہ تجھ کو طلاق ہے مر گیا ان شاء اللہ کہنے کی نوبت نہ آئی مگر اُس کا ارادہ اس کے کہنے کا بھی تھا تو طلاق ہو گئی رہا یہ کہ کیونکر معلوم ہوا کہ اُس کا ارادہ ایسا تھا یہ یوں معلوم ہوا کہ پہلے سے اُس نے کہدیا تھا کہ میں اپنی عورت کو طلاق دے کر استثنا کروں گا۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۶: استثنا میں یہ شرط نہیں کہ بالقصد(9) کہا ہو بلکہ بلا قصد(10) زبان سے نکل گیا جب بھی طلاق واقع نہ ہوگی، بلکہ اگر اُس کے معنے بھی نہ جانتا ہو جب بھی واقع نہ ہوگی اور یہ بھی شرط نہیں کہ لفظ طلاق و استثنا دونوں بولے، بلکہ اگر زبان سے طلاق کا لفظ کہا اور فوراً لفظ ان شاء اللہ لکھ دیا یا طلاق لکھی اور زبان سے انشاء اﷲ کہہ دیا جب بھی طلاق واقع نہ ہوئی یا
1 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''.
2 ۔یعنی لُکنت۔ 3 ۔یعنی ملاہواہونا۔
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۱۷ وغیرہ.
5 ۔ المرجع السابق، ص۶۱۷ . 6 ۔ترجمہ:میں نیت کرتاہوں کہ کل روزہ رکھوں گاان شاء اللہ تعالیٰ۔
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب: مسائل الاستثناء، ومطلب: الاستثناء یثبت حکمہ...الخ، ج۴، ص۶۱۶.
8 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب: قال: انت طالق وسکت...الخ، ج۴، ص۶۱۶ ، ۶۱۹.
9 ۔ارادتاً۔ 10 ۔ارادہ کے بغیر۔
دونوں کو لکھا پھر لفظ استثنا مٹا دیا طلاق واقع نہ ہوئی۔ (1)(درمختار)
مسئلہ۷: دوشخصوں نے شہادت دی کہ تو نے انشاء اﷲ کہا تھا مگر اسے یاد نہیں تو اگر اُس وقت غصہ زیادہ تھا اور لڑائی جھگڑے کی وجہ سے یہ احتمال ہے کہ بوجہ مشغولی یادنہ ہو گا تو اُن کی بات پر عمل کر سکتا ہے اور اگر اتنی مشغولی نہ تھی کہ بھول جاتا تو اُن کا قول نہ مانے۔(2) (درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ۸: تجھ کو طلاق ہے مگر یہ کہ خدا چاہے یا اگر خدانہ چاہے یا جو اﷲ (عزوجل) چاہے یا جب خدا چاہے یا مگر جو خدا چاہے یا جب تک خدا نہ چاہے یا اﷲ (عزوجل) کی مشیت (3) یا ارادہ یا رضا کے ساتھ یا اﷲ (عزوجل) کی مشیت یا ارادہ یا اُس کی رضا یاحکم یا اذن(4) یا امر میں ،تو طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر یوں کہا کہ اﷲ (عزوجل) کے امر یا حکم یا اذن یا علم یا قضا یا قدرت سے یا اﷲ (عزوجل) کے علم میں یااُس کی مشیت یا ارادہ یا حکم وغیرہا کے سبب تو ہو جائے گی۔(5) (عالمگیری ، درمختار)
مسئلہ۹: ایسے کی مشیت پر طلاق معلق کی جس کی مشیت کا حال معلوم نہ ہوسکے یا اُس کے ليے مشیت ہی نہ ہو تو طلاق نہ ہوگی جیسے جن و ملائکہ اور دیوار اور گدھا وغیرہا۔ یوہیں اگر کہا کہ اگر خدا چاہے اور فلاں(6) تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ فلاں کا چاہنا معلوم ہو۔ یوہیں اگرکسی سے کہا تو میری عورت کو طلاق دیدے اگر اﷲ (عزوجل) چاہے اور تو یا جو اﷲ (عزوجل) چاہے اور تو اور اُس نے طلاق دیدی طلاق واقع نہ ہوئی۔(7) (عالمگیری ،درمختار)
مسئلہ۱۰: عورت سے کہا تجھ کو طلاق ہے اگر اﷲ (عزوجل) میری مدد کرے یا اﷲ (عزوجل) کی مدد سے اور نیت استثنا کی ہے تو دیانۃًطلاق نہ ہوئی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ۱۱: تجھ کو طلاق ہے اگر فلاں چاہے یا ارادہ کرے یا پسند کرے یا خواہش کرے۔ یا مگر یہ کہ فلاں اس کے غیر کا ارادہ کرے یا پسند کرے یا خواہش کرے یا چاہے یا مناسب جانے تو یہ تملیک (9) ہے لہٰذا جس مجلس میں اُس شخص کو علم ہوا اگر
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۱۹.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب: فیما لو حلف وأنشألہ آخر، ج۴، ص۶۲۱.
3 ۔یعنی اگر اللہ نے چاہا۔ 4 ۔اجازت۔
5 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، الفصل الرابع، ج۱، ص۴۵۴،۴۵۵.
6 ۔اس طرح کہناناجائزہے کہ مشیت خداکے ساتھ بندہ کی مشیت کوجمع کیا۱۲منہ
7 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، الفصل الرابع، ج۱، ص۴۵۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۲۲-۶۲۳.
8 ۔ ''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، الفصل الرابع، ج۱،ص۴۵۵.
9 ۔ مالک بنانا۔
اُس نے طلاق چاہی تو ہوئی ورنہ نہیں یعنی اپنی زبان سے اگر طلاق چاہنا ظاہر کیا ہوگئی اگرچہ دل میں نہ چاہتا ہو۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ۱۲: تجھ کو طلاق اگر تیرا مہر نہ ہوتا یا تیری شرافت نہ ہوتی یا تیرا باپ نہ ہوتا یا تیرا حسن و جمال نہ ہوتا یا اگر میں تجھ سے محبت نہ کرتا ہوتا ان سب صورتوں میں طلاق نہ ہوگی۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ۱۳: اگر انشاء اﷲ کو مقدم کیا یعنی یوں کہا انشاء اﷲ تجھ کو طلاق ہے جب بھی طلاق نہ ہوگی اور اگر یوں کہا کہ تجھ کو طلاق ہے انشاء اﷲ اگر تو گھر میں گئی تو مکان میں جانے سے طلاق نہ ہوگی۔ اور اگر انشاء اﷲ دوجملے طلاق کے درمیان میں ہو مثلاً کہا تجھ کو طلاق ہے انشاء اﷲ تجھ کو طلاق ہے تو استثنا پہلے کی طرف رجوع کریگا لہٰذا دوسرے سے طلاق ہو جائے گی۔ یوہیں اگر کہا تجھ کو تین طلاقیں ہیں انشاء اﷲ تجھ پر طلاق ہے تو ایک واقع ہوگی۔ (3)(بحر ، درمختار، خانیہ)
مسئلہ۱۴: اگر کہا تجھ پر ایک طلاق ہے اگر خدا چاہے اور تجھ پر دو طلاقیں اگر خدانہ چاہے تو ایک بھی واقع نہ ہوگی اور اگر کہا تجھ پر آج ایک طلاق ہے اگر خد ا چاہے اور اگر خدا نہ چاہے تو دو اور آج کا دن گزر گیا اور عورت کو طلاق نہ دی تو دو واقع ہوئیں اور اگر اُس دن ایک طلاق دیدی تو یہی ایک واقع ہوگی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ۱۵: اگر تین طلاقیں دےکر اُن میں سے ایک یا دو کا استثنا کرے تو یہ استثنا صحیح ہے یعنی استثنا کے بعد جو باقی ہے واقع ہوگی مثلاً کہا تجھ کو تین طلاقیں ہیں مگر ایک تو دو ہونگی اور اگر کہا مگر دو تو ایک ہوگی۔ اور کل کا استثنا صحیح نہیں خواہ اُسی لفظ سے ہو مثلاً تجھ پر تین طلاقیں مگر تین یا ایسے لفظ سے ہو جس کے معنی کل کے مساوی ہوں مثلاً کہا تجھ پر تین طلاقیں ہیں مگر ایک اور ایک اور ایک یا مگردو اور ایک ،تو ان صورتوں میں تینوں واقع ہونگی۔ یا اُس کی کئی عورتیں ہیں سب کو مخاطب کرکے کہا تم سب کو طلاق ہے مگرفلانی اور فلانی اور فلانی نا م لیکر سب کا استثنا کردیاتو سب مطلقہ ہوجائیں گی اور اگر باعتبار معنی کے وہ لفظ مساوی نہ ہو اگرچہ اس خاص صورت میں مساوی ہو تو استثنا صحیح ہے مثلاًکہا میری ہر عورت پر طلاق مگر فلانی اور فلانی پر، تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ اُسکی یہی دو عورتیں ہوں۔ (5)(درمختار وغیرہ)
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، الفصل الرابع،ج۱،ص۴۵۵.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۵۶.
3 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۲۴-۶۲۶.
و''البحر الرائق'' ،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۵.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق،باب التعلیق،ج۲،ص۲۴۲.
4 ۔'' الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الرابع ، ج۱، ص۴۵۶.
5 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۲۹ وغیرہ.
مسئلہ۱۶: تجھ کو طلاق ہے تجھ کو طلاق ہے تجھ کو طلاق ہے مگر ایک، یاکہا تجھ کو طلاق ہے ایک اور ایک اور ایک مگر ایک ، تو ان دونوں صورتوں میں تین پڑیں گی کہ ہر ایک مستقل کلام ہے اور ہر ایک سے استثنا کا تعلق ہو سکتا ہے اور استثنا چونکہ ہر ایک کا مساوی ہے لہٰذا صحیح نہیں۔(1) (بحر)
مسئلہ۱۷: اگر تین سے زائد طلاق دے کر اُن میں سے کم کا استثنا کیا تو صحیح ہے اور استثنا کے بعد جو باقی ہے واقع ہوگی مثلاً کہا تجھ پر دس طلاقیں ہیں مگر نو،تو ایک ہوگی اور آٹھ کا استثنا کیا تو دوہوں گی۔(2) (درمختار)
مسئلہ۱۸: استثنا اگر اصل پر زیادہ ہو تو باطل ہے مثلاً کہا تجھ پر تین طلاقیں مگر چار یا پانچ ،تو تین واقع ہوں گی۔ یوہیں جزو طلاق کا استثنا بھی باطل ہے مثلاً کہا تجھ پر تین طلاقیں مگر نصف تو تین واقع ہوں گی اور تین میں سے ڈیڑھ کا استثنا کیا تو دو واقع ہوں گی۔ (3)(عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۱۹: اگر کہا تجھ کو طلاق ہے مگر ایک ،تو دو واقع ہوں گی کہ ایک سے ایک کا استثنا تو ہو نہیں سکتا لہٰذا طلاق سے تین طلاقیں مراد ہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ۲۰: چند استثنا جمع کیے تو اس کی دوصورتیں ہیں، اُن کے درمیان ''اور'' کا لفظ ہے تو ہر ایک اُسی اول کلام سے استثنا ہے مثلاًتجھ پر دس طلاقیں ہیں مگر پانچ اور مگر تین اور مگر ایک ،تو ایک ہوگی اور اگر درمیان میں ''اور'' کا لفظ نہیں تو ہر ایک اپنے ماقبل سے استثنا ہے، مثلاً تجھ پر دس طلاقیں مگر نو مگر آٹھ مگر سات ،تو دو ہوں گی۔(5) (درمختار)
امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ فرمايا اگر مریض طلاق دے تو عورت جب تک عدّت میں ہے شوہر کی وارث ہے اور شوہر اُس کا وارث نہیں۔ (6)
1 ۔ ''البحر الرائق'' ، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۹.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۳۰.
ـ3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الرابع، ج۱، ص۴۵۷ وغیرہ.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۳۲.
5 ۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۳۱.
6 ۔ ''المصنف'' لعبد الرزاق، کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، الحدیث: ۱۲۲۴۸، ج۷، ص۴۷.
فتح القدیر وغیرہ میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجہ کو مرض میں طلاق بائن دی اور عدّت میں اُن کی وفات ہوگئی تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اُن کی زوجہ کو میراث دلائی اور یہ واقعہ مجمع صحابہ کرام کے سامنے ہوا اور کسی نے انکار نہ کیا۔ لہٰذا اس پر اجماع ہوگیا۔ (1)
مسئلہ ۱: مریض سے مراد وہ شخص ہے جس کی نسبت غالب گمان ہو کہ اس مرض سے ہلاک ہوجائے گا کہ مرض نے اُسے اتنا لاغر(2) کر دیا ہے کہ گھر سے باہر کے کام کے ليے نہیں جاسکتا مثلاً نماز کے ليے مسجد کو نہ جا سکتا ہو یا تاجر اپنی دوکان تک نہ جاسکتا ہو اور یہ اکثر کے لحاظ سے ہے، ورنہ اصل حکم یہ ہے کہ اُس مرض میں غالب گمان موت ہو اگرچہ ابتدائً جبکہ شدت نہ ہوئی ہو باہر جاسکتا ہو مثلاً ہیضہ وغیرہا امراض مہلکہ (3)میں بعض لوگ گھر سے باہر کے بھی کام کر لیتے ہیں مگر ایسے امراض میں غالب گمان ہلاکت ہے۔ یوہیں یہاں مریض کے ليے صاحب فراش ہونا بھی ضروری نہیں اور امراض مزمنہ مثلاً سِلْ(4)۔ فالج اگر روزبروز زیادتی پر ہوں تو یہ بھی مرض الموت ہیں اور اگر ایک حالت پر قائم ہوگئے اور پُرانے ہوگئے یعنی ایک سال کا زمانہ گزر گیا تو اب اُس شخص کے تصرفات تندرست کی مثل نافذ ہونگے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: مریض نے عورت کو طلاق دی تو اُسے فاربالطلاق کہتے ہیں کہ وہ زوجہ کو ترکہ سے محروم کرنا چاہتا ہے (6) اور اس کے احکام آگے آتے ہیں۔
مسئلہ ۳: جو شخص لڑائی میں دشمن سے لڑرہا ہو وہ بھی مریض کے حکم میں ہے اگرچہ مریض نہیں کہ غالب خوف ہلاک ہے۔ یوہیں جو شخص قصاص میں قتل کے ليے یا پھانسی دینے کے ليے یا سنگسار کرنے کے ليے لایا گیا یا شیروغیرہ کسی درندہ نے اُسے پچھاڑا یاکشتی میں سوار ہے اور کشتی موج کے طلاطم (7)میں پڑگئی یا کشتی ٹوٹ گئی اور یہ اُس کے کسی تختہ پر بہتا ہوا جارہا ہے تو یہ سب مریض کے حکم میں ہیں جبکہ اُسی سبب سے مربھی جائیں اور اگر وہ سبب جاتا رہا پھر کسی اور وجہ سے مرگئے تو مریض نہیں اور اگر شیر کے مونھ سے چھوٹ گیا مگر زخم ایسا کا ری لگا ہے کہ غالب گمان یہی ہے کہ اُس سے مر جائیگا تو اب بھی مریض ہے۔ (8)(فتح، درمختار وغیرہما)
1 ۔''فتح القدیر''، کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، ج۴، ص۳.
2 ۔کمزور۔ 3 ۔ہلاک کردینے والی بیماریاں۔ 4 ۔بیماری کانام ہے۔
5 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، ج۵، ص۵ ۔ ۸.
6 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب طلاق المریض، ج۵، ص۵.
7 ۔ موجوں کا زور،پانی کے تھپیڑے۔
8 ۔''فتح القدیر''،کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، ج۴، ص۸۰۷.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، ج۵، ص۵ ۔ ۸، وغیرہما.
مسئلہ ۴: مریض نے تبرع کیا مثلاً اپنی جائداد وقف کردی یا کسی اجنبی کو ہبہ کر دیا یا کسی عورت سے مہرِ مثل سے زیادہ پر نکاح کیا تو صرف تہائی مال میں اُس کا تصرف (1) نافذ ہوگا کہ یہ افعال وصیت کے حکم میں ہیں۔ (2)
مسئلہ ۵: عورت کو طلاق رجعی دی اور عدّت کے اندر مر گیا تو مطلقاً عورت وارث ہے صحت میں طلاق دی ہو یا مرض میں، عورت کی رضامندی سے دی ہو یا بغیر رضا۔ یوہیں اگر عورت کتابیہ تھی یا باندی اور طلاق رجعی کی عدّت میں مسلمان ہو گئی یا آزاد کردی گئی اور شوہر مر گیا تو مطلقاً وارث ہے اگرچہ شوہر کو اُس کے مسلمان ہونے یا آزاد ہونے کی خبر نہ ہو۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: اگر مرض الموت میں عورت کو بائن طلاق دی ایک دی ہو یا زیادہ اور اُسی مرض میں عدّت کے اندر مر گیا خواہ اُسی مرض سے مرا یا کسی اور سبب سے مثلاً قتل کر ڈالا گیا تو عورت وارث ہے جبکہ با ختیار خود اور عورت کی بغیر رضا مندی کے طلاق دی ہو بشرطیکہ بوقت طلاق عورت وارث ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو اگرچہ شوہر کو اس کا علم نہ ہو مثلاً عورت کتابیہ تھی یا کنیز اور اُس وقت مسلمان یا آزاد ہو چکی تھی۔ اور اگر عدّت گزرنے کے بعد مرایا اُس مرض سے اچھا ہوگيا پھر مرگیا خواہ اُسی مرض میں پھر مُبتلا ہو کر مرا یا کسی اور سبب سے یا طلاق دینے پر مجبور کیا گیا یعنی مار ڈالنے یا عضو کاٹنے کی صحیح دھمکی دی گئی ہو یا عورت کی رضا سے طلاق دی تو وارث نہ ہوگی اور اگر قید کی دھمکی دی گئی اور طلاق دیدی تو عورت وارث ہے اور اگر عورت طلاق پر راضی نہ تھی مگر مجبور کی گئی کہ طلاق طلب کرے اور عورت کی طلب پر طلاق دی تو وارث ہوگی۔ (4)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۷: یہ حکم کہ مرض الموت میں عورت بائن کی گئی اور شوہر عدّت کے اندر مر جائے تو بشرائط سابقہ(5) عورت وارث ہوگی طلاق کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جو فُرقَت (6)جانبِ زوج سے ہو سب کا یہی حکم ہے مثلاً شوہر نے بخیارِ بلوغ (7) عورت کو بائن کیا یا عورت کی ماں یا لڑکی کا شہوت سے بوسہ لیا یا معاذاﷲ مرتد ہوگيا اور جو فرقت جانبِ زوجہ سے ہو اُس میں وارث نہ ہوگی مثلاً عورت نے شوہر کے لڑکے کا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا مرتد ہوگئی یا خلع کرایا۔ یوہیں اگر غیر کی جانب سے ہو مثلاً شوہر کے لڑکے نے عورت کا بوسہ لیا اگرچہ عورت کو مجبور کیا ہو ہاں اگر اس کے باپ نے حکم دیا ہو تو وارث ہوگی۔(8) (ردالمحتار)
1 ۔اس کا کیا ہوامعاملہ،عمل دخل۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، ج۵، ص۹.
3 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الخامس في طلاق المریض، ج۱، ص۴۶۲.
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، ج۵، ص۹۔۱۱، وغیرہ.
5 ۔ان شرائط کے مطابق جوگزرچکیں۔ 6 ۔جدائی۔ 7 ۔ بالغ ہونے پرملنے والے اختیار کی وجہ سے ۔
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب طلاق المریض،ج۵،ص۹.
مسئلہ ۸: مریض نے عورت کو تین طلاقیں دی تھیں اس کے بعد عورت مرتدہ ہوگئی پھر مسلمان ہوئی اب شوہر مرا تو وارث نہ ہوگی اگرچہ ابھی عدّت پوری نہ ہوئی ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: عورت نے طلاق رجعی یا طلاق کا سؤال کیا تھا مرد مریض نے طلاق بائن یا تین طلاقیں دیدیں اور عدّت میں مر گیا تو عورت وارث ہے۔ یوہیں عورت نے بطور خود اپنے کو تین طلاقیں دے لی تھیں اور شوہر مریض نے جائز کر دیں تو وارث ہوگی۔ اور اگر شوہر نے عورت کو اختیار دیا تھا عورت نے اپنے نفس کو اختیارکیا یا شوہر نے کہا تھا تو اپنے کو تین طلاقیں دیدے عورت نے دیدیں تو وارث نہ ہوگی۔(2) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مریض نے عورت کو طلاق بائن دی تھی اور عورت ہی اَثنائے عدّ ت میں(3) مر گئی تو یہ شوہر اُس کا وارث نہ ہو گا اور اگر رجعی طلاق تھی تو وارث ہو گا۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: قتل کے ليے لایا گیا تھا مگر پھر قید خانہ کو واپس کر دیا گیا یا دشمن سے میدان جنگ میں لڑرہا تھا پھر صف میں واپس گیا تو یہ اُس مریض کے حکم میں ہے کہ اچھا ہوگيا لہٰذا اُس حالت میں طلاق دی تھی اور عدّت کے اند رمارا گیا تو عورت وارث نہ ہوگی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مریض نے طلاق دی تھی اور خود عورت نے اُسے عدّت کے اندر قتل کر ڈالا تو وارث نہ ہوگی کہ قاتل مقتول کا وارث نہیں۔ (6)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۳: عورت مریضہ تھی اور اُس نے کوئی ایسا کام کیا جس کی وجہ سے شوہر سے فرقت ہوگئی مثلاً خیار بلوغ و عتق یا شوہر کے لڑکے کا بوسہ لینا وغیرہا پھر مر گئی تو شوہر اس کا وارث ہو گا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مریض نے عورت کو طلاق بائن دی تھی اور عورت نے ابن زوج (8)کا بوسہ لیا یا مطاوعت (9) کی یا مرض
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس في طلاق المریض،ج۱،ص۴۶۲.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب طلاق المریض،ج۵،ص۱۱.
و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس في طلاق المریض،ج۱،ص۴۶۲.
3 ۔عدت کے دوران۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب طلاق المریض،ج۵،ص۱۱.
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس في طلاق المریض،ج۱،ص۴۶۳.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
8 ۔شوہرکابیٹا۔ 9 ۔یعنی خاوند کے بیٹے کو اپنے او پر بخوشی قادر کیا۔
کی حالت میں لعان کیا یا مرض کی حالت میں ایلا کیا اور اس کی مدت گزر گئی تو عورت وارث ہوگی اور اگر رجعی طلاق میں ابن زوج کا بوسہ عدّت میں لیا تو وارث نہ ہوگی کہ اب فرقت جانب زوجہ سے ہے۔ یوہیں اگر بلوغ یا عتق یا شوہر کے نامرد ہونے یا عضوتناسل کٹ جانے کی بنا پر عورت کو اختیار دیا گیا اور عورت نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو وارث نہ ہوگی کہ فرقت جانب زوجہ سے ہے اور اگر صحت میں ایلا کیا تھا اور مرض میں مدت پوری ہوئی تو وارث نہ ہوگی اور اگر عورت مریضہ سے لعان کیا اور عدّت کے اندر مر گئی تو شوہر وارث نہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: عورت مریضہ تھی اور شوہر نامرد، عورت کو اختیار دیا گیا یعنی پہلے سال بھر کی شوہر کو میعاد دی گئی مگر اس مدت میں شوہر نے جماع نہ کیا پھر عورت کو اختیار دیا گیا اُس نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور عدّت کے اندر مرگئی یا شوہر نے دخول کے بعد عورت کو طلاق بائن دی پھر شوہر کا عضو تناسل کٹ گیا اس کے بعد اُسی عورت سے عدّت کے اندر نکاح کیا اب عورت کو اُس کا حال معلوم ہوا اُس نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور مریضہ تھی عدّت کے اندر مر گئی تو ان دونوں صورتوں میں شوہر اس کا وارث نہیں۔ (2)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۶: دشمنوں نے قید کرلیا ہے یا صف قتال (3) میں ہے مگر لڑتا نہیں ہے یا بخار وغیرہ کسی بیماری میں مبتلا ہے جس میں غالب گمان ہلاکت نہ ہو یا وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے یا کشتی پر سوار ہے اور ڈوبنے کا خوف نہیں یا شیروں کے بَن (4)میں ہے یا ایسی جگہ ہے جہاں دشمنوں کاخوف ہے یا قصاص یا رجم کے ليے قید ہے تو اِن صورتوں میں مریض کے حکم میں نہیں طلاق دینے کے بعد عدّت میں مارا جائے یا مر جائے تو عورت وارث نہیں۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: حمل کی حالت میں جانب زوجہ سے تفریق واقع ہوئی اور بچہ پیدا ہونے میں مرگئی تو شوہر وارث نہ ہو گا ہاں اگر دردزہ(6) میں ایسا ہوا تو وارث ہو گا کہ اب عورت فارّہ ہے۔(7) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۸: مریض نے طلاق بائن کسی غیر کے فعل پر معلق کی مثلاً اگر فلاں یہ کام کریگا تو میری عورت کو طلاق ہے اگرچہ وہ غیر خود انھیں دونوں کی اولاد ہو۔ یا کسی وقت کے آنے پر تعلیق ہو مثلاًجب فلاں وقت آئے تو تجھ کو طلاق ہے اور تعلیق اور
1 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، ج۵، ص۱۲.
2 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الخامس في طلاق المریض، ج۱، ص۴۶۳.
3 ۔جنگ کرنے والوں کی صف۔ 4 ۔شیروں کےجنگل ۔
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، ج۵، ص۳ا۔۱۵.
6 ۔بچہ پیداہونے کادرد۔
7 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الخامس في طلاق المریض، ج۱، ص۴۶۳.
شرط کا پایا جانا دونوں حالت مرض میں ہیں یا اپنے کسی کام کرنے پر طلاق معلق کی مثلاً اگر میں یہ کام کروں تو میری عورت کو طلاق ہے اور تعلیق و شرط دونوں مرض میں ہیں یا تعلیق صحت میں ہو اور شرط کا پایا جانا مرض میں۔ یا عورت کے کسی کام کرنے پر معلق کی اور وہ کام ایسا ہے جس کا کرنا شرعاً یا طبعاً ضروری ہے مثلاً اگر تو کھائے گی یا نماز پڑھے گی اور تعلیق و شرط دونوں مرض میں ہوں یا صرف شرط تو اِن صورتوں میں عورت وارث ہوگی اور اگر فعل غیر یا کسی وقت کے آنے پر معلق کی اورتعلیق و شرط دونوں یا فقط تعلیق صحت میں ہو یا عورت کے فعل پر معلق کیا اور وہ فعل ایسا نہیں جس کا کرنا عورت کے ليے ضروری ہو تو ان صورتوں میں وارث نہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: صحت کی حالت میں عورت سے کہا اگر میں اور فلاں شخص چاہیں تو تجھ کو تین طلاقیں ہیں پھر شوہر مریض ہوگيا اور دونوں نے ایک ساتھ طلاق چاہی یا پہلے شوہر نے چاہی پھر اُس شخص نے تو عورت وارث نہ ہوگی اور اگر پہلے اُس شخص نے چاہی پھر شوہر نے تو وارث ہوگی۔ (2)(خانیہ) اور اگر مرض کی حالت میں کہا تھا تو بہر صورت وارث ہوگی۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: مریض نے عورت مدخولہ کو طلاق بائن دی پھر اُس سے کہا اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ پر تین طلاقیں اور عدّت کے اندر نکاح کرلیا تو طلاقیں پڑجائیں گی اور اب سے نئی عدّت ہوگی اور عدّت کے اندر شوہر مر جائے تو عورت وارث نہ ہوگی۔(4) (خانیہ)
مسئلہ ۲۱: مریض نے اپنی عورت سے جو کسی کی کنیز ہے یہ کہا کہ تجھ پر کل تین طلاقیں اور اُس کے مولیٰ نے کہا توکل آزاد ہے تودوسرے دن کی صبح چمکتے ہی طلاق و آزادی دونوں ایک ساتھ ہونگی اور عورت وارث نہ ہوگی۔ اور اگر مولیٰ نے پہلے کہا تھا پھر شوہر نے، جب بھی یہی حکم ہے ہاں اگر شوہر نے یوں کہا کہ جب تو آزاد ہو تو تجھ کو تین طلاقیں تو اب وارث ہوگی۔ اور اگر مولیٰ نے کہا توکل آزاد ہے اور شوہر نے کہا تجھے پر سوں طلاق ہے اگر شوہر کو مولیٰ کا کہنا معلوم تھا تو فاربالطلاق ہے ورنہ نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: عورت سے کہا جب میں بیمار ہوں تو تجھ پر طلاق شوہر بیمار ہوا تو طلاق ہوگئی اور عدّت میں مرگیا تو عورت
1 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، ج۵، ص۱۵.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق، فصل فی المعتدۃ التی ترث، ج۲، ص۲۷۳.
3 ۔''رد المحتار''،کتاب الطلاق،باب طلاق المریض،مطلب: حال فشوالطاعون...الخ،ج۵، ص۱۷.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، فصل فی المعتدۃ التی ترث، ج۲، ص۲۷۳.
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الطلاق، الباب الخامس في طلاق المریض، ج۱، ص۴۶۵.
وارث ہوگی۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۲۳: مسلمان مریض نے اپنی عورت کتابیہ سے کہا جب تو مسلمان ہو جائے تو تجھ کو تین طلاقیں ہیں وہ مسلمان ہوگئی اورشوہرعدت کے اندرمرگیاتووارث ہوگی اوراگرکہاکل تجھ کوتین طلاقیں ہیں اوروہ عورت آج ہی مسلمان ہوگئی تو وارث نہ ہوگی اور اگر مسلمان ہونے کے بعد طلاق دی تووارث ہوگی اگرچہ شوہر کو علم نہ ہو۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مریض نے اپنی دو عورتوں سے کہا تم دونوں اپنے کو طلاق دے لو ہر ایک نے اپنے کو اورسَوت(3) کو آگے پیچھے طلاق دی تو پہلی ہی کے طلاق دینے سے دونوں مطلَّقہ ہوگئیں اور اس کے بعد دوسری کا طلاق دینا بیکار ہے اور دوسری وارث ہوگی پہلی نہیں اور اگر پہلی نے صرف سَوت کو طلاق دی اپنے کو نہیں یا ہر ایک نے دوسری کو طلاق دی اپنے کو نہ دی تو دونوں وارث ہونگی۔ اور اگر ہر ایک نے اپنے کو اور سَوت کو معاً (4)طلاق دی تو دونوں مطلَّقہ ہوگئیں اور وارث نہ ہوں گی اور اگر ایک نے اپنے کو طلاق دی اور دوسری نے بھی اسی کو طلاق دی تو یہی مطلقہ ہوگی۔ اور یہ وارث نہ ہوگی۔ اور اگر ایک نے سَوت کو طلاق دی پھر اس کے بعد دوسری نے خود اپنے ہی کو طلاق دی تو وارث ہوگی۔ یہ سب صورتیں اُس وقت ہیں کہ اُسی مجلس میں ایسا ہوا اور اگر مجلس بدلنے کے بعد ہر ایک نے اپنے کو اور سَوت کو معاًطلاق دی یا آگے پیچھے یا ہر ایک نے دوسری کو طلاق دی بہر حال دونوں وارث ہیں اور ہر ایک نے اپنے کو طلاق دی تو طلاق ہی نہ ہوئی خلاصہ یہ ہے کہ جس صورت میں عورت خود اپنے طلاق دینے سے مطلقہ ہوئی ہو تو وارث نہ ہوگی ورنہ ہوگی۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۵: دو عورتیں مدخولہ ہیں شوہر نے صحت میں کہا تم دونوں میں سے ایک کو تین طلاقیں اور یہ بیان نہ کیا کہ کس کو پھر جب مریض ہوا تو بیان کیا کہ وہ مطلَّقہ فلاں عورت ہے تو یہ عورت میراث سے محروم نہ ہوگی اور اگر اس شخص کی ان دوکے علاوہ کوئی اور عورت بھی ہے تواس کے ليے نصف میراث ہے اور وہ عورت جس کا مطلَّقہ ہونا بیان کیا اگر شوہر سے پہلے مر گئی تو شوہر کا بیان صحیح مانا جائیگا اور دوسری جو باقی ہے میراث لے گی لہٰذا اگر کوئی تیسری عورت بھی ہے تو دونوں حق زوجیت میں برابر کی حقدار ہیں۔ اورا گر جس کا مطلَّقہ ہونا بیان کیا زندہ ہے اور دوسری شوہر کے پہلے مرگئی تو یہ نصف ہی کی حقدار ہے لہٰذا اگر کوئی اور
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ'' ،کتاب الطلاق، فصل فی المعتدۃ التی ترث، ج۲، ص۲۷۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الخامس في طلاق المریض، ج۱، ص۴۶۶.
3 ۔ خاوندکی دو یا زیادہ بیویاں آپس میں ایک دوسرے کی سَوت کہلاتی ہیں۔ 4 ۔یعنی ایک ساتھ۔
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الخامس في طلاق المریض، ج۱، ص۴۶۶.
عورت بھی ہے تو اُسے تین ربع (1) ملیں گے اور اسے ایک ربع (2) اوراگر شوہر کے بیان کرنے اور مرنے سے پہلے اُن میں کی ایک مرگئی تو اب جو باقی ہے وہی مطلَّقہ سمجھی جائے گی اور میراث نہ پائے گی اور اگر ایک کے مرنے کے بعد شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے اُسی کو طلاق دی تھی تو شوہر اُس کا وارث نہ ہوگا مگر جو موجود ہے وہ مطلَّقہ سمجھی جائے گی اور اگر دونوں آگے پیچھے مریں اب یہ کہتا ہے کہ پہلے جو مری ہے اُسے طلاق دی تھی تو کسی کا وارث نہیں۔ اور اگر دونوں ایک ساتھ مریں مثلاً اُن پر دیوار ڈھ پڑی (3) یا دونوں ایک ساتھ ڈوب گئیں یا آگے پیچھے مریں مگر یہ نہیں معلوم کہ کون پہلے مری کون پیچھے ،تو ہر ایک کے مال میں جتنا شوہر کا حصہ ہوتا ہے اُس کا نصف نصف اسے ملے گا اور اس صورت میں کہ ایک ساتھ مریں یا معلوم نہیں کہ پہلے کون مری اس نے ایک کا مطلقہ ہونا معین کیا تو اس کے مال میں سے شوہر کو کچھ نہ ملے گا اور دوسری کے ترکہ میں سے نصف حق پائے گا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: صحت میں کسی کو طلاق کی تفویض کی اُس نے مرض کی حالت میں طلاق دی تو اگر اُسے طلاق کا مالک کردیا تھا تو عورت وارث نہ ہوگی اور اگر وکیل کیا تھا اور معزول کرنے پر قادر تھا تو وارث ہو گی۔ (5)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۷: عورت سے مرض میں کہا میں نے صحت میں تجھے طلاق دیدی تھی اور تیری عدّت بھی پوری ہوچکی عورت نے اس کی تصدیق کی پھر شوہر نے اقرار کیا کہ عورت کا مجھ پر اتنا دَین (6) ہے یا اُس کی فلاں شے مجھ پر ہے یا اُس کے ليے کچھ مال کی وصیت کی تو اُس اقرار و میراث یا وصیت و میراث میں جو کم ہے عورت وہ پائیگی اور اس بارے میں عِدّت وقت اقرار سے شروع ہوگی یعنی اب سے عدّت پوری ہونے تک کے درمیان میں شوہر مرا تو یہی اقل (7) پائے گی اور اگر عدّت گزرنے پر مرا تو جو کچھ اقرار کیا یا وصیت کی کل پائے گی۔ اور اگر صحت میں ایسا کہا تھا اور عورت نے تصدیق کرلی یا وہ مرض مرض الموت نہ تھا یعنی وہ بیماری جاتی رہی تو اقرار وغیرہ صحیح ہے اگرچہ عدّت میں مر گیا۔ اور اگر عورت نے تکذیب کی(8) اور شوہر اُسی مرض میں وقت اقرار سے عدّت میں مرگیا تو اقرار و وصیت صحیح نہیں اور اگر بعد عدّت مرا یا اُس مرض سے اچھا ہوگيا تھا اور عدّت میں مرا تو عورت وارث نہ ہوگی اور اقرار ووصیت صحیح ہیں۔ اور اگر مرض میں عورت کے کہنے سے طلاق دی پھر اقرار یا وصیت کی جب بھی وہی حکم ہے کہ دونوں میں جو کم ہے وہ پائے گی۔(9) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔چارحصوں میں سے تین حصے۔ 2 ۔چارحصوں میں سے ایک حصہ ۔ 3 ۔گر پڑی۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس فی طلاق المریض ،ج۱، ص۴۶۷ ۔ ۴۶۸.
5 ۔ المرجع السابق، ص۴۶۸
و''الدر المختار''، کتاب الطلاق،باب طلاق المریض ،ج۵،ص۱۵-۱۶.
6 ۔قرض۔ 7 ۔یعنی جوکم ہے وہ۔ 8 ۔یعنی جھٹلایا۔
9 ۔ ''الدر المختار ورد المحتار''،کتاب الطلاق، باب طلاق المریض،مطلب:حال فشوالطاعون...الخ،ج۵، ص۱۷ ۔ ۱۹.
مسئلہ ۲۸: عورت نے شوہر مریض پر دعویٰ کیا کہ اُس نے اسے طلاق بائن دی اور شوہر انکار کرتا ہے قاضی نے شوہر کو حلف دیا اُس نے قسم کھالی پھر عورت نے بھی شوہر کے مرنے سے پہلے اُس کی تصدیق کی تو وارث ہوگی اور مرنے کے بعد تصدیق کی تو نہیں جبکہ یہ دعویٰ ہو کہ صحت میں طلاق بائن دی تھی۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: شوہر کے مرنے کے بعد عورت کہتی ہے کہ اُس نے مجھے مرض الموت میں بائن طلاق دی تھی اور میں عدّت میں تھی کہ مرگیا لہٰذا مجھے میراث ملنی چاہيے اور ورثہ کہتے ہیں کہ صحت میں طلاق دی تھی لہٰذا نہ ملنی چاہیے تو قول عورت کا معتبر ہے۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۰: عورت کو مرض الموت میں تین طلاقیں دیں اور مر گیا عورت کہتی ہے میری عدّت پوری نہیں ہوئی تو قسم کے ساتھ اُس کا قول معتبر ہے اگرچہ زمانہ دراز ہوگیا ہو اگر قسم کھالے گی وارث ہوگی قسم سے انکار کرے گی تو نہیں اور اگر عورت نے ابھی کچھ نہیں کہا مگر اتنے زمانے کے بعد جس میں عدّت پوری ہوسکتی ہے اُس نے دوسرے سے نکاح کیا اب کہتی ہے کہ عدّت پوری نہیں ہوئی تو وارث نہ ہوگی اور وہ دوسرے ہی کی عورت ہے۔ اور اگر ابھی نکاح نہیں کیا ہے مگر کہتی ہے میں آئسہ ہوں تین مہینے کی عدّت پوری کی اور شوہرمرگیا اب دوسرے سے نکاح کیا اور عورت کے بچہ ہوا یا حیض آیا تو وارث ہوگی اور دوسرے سے جونکاح کیا ہے یہ نکاح نہیں ہوا۔(3) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۱: کسی نے کہا پچھلی عورت جس سے نکاح کروں تو اُسے طلاق ہے اور ایک سے نکاح کرنے کے بعد دوسری سے مرض میں نکاح کیا اور شوہر مر گیا تو اس عورت کو نکاح کرتے ہی طلاق ہوگئی اور وارث نہ ہوگی۔(4) (درمختار)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
(وَبُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوۡۤا اِصْلَاحًا ؕ ) (5)
1 ۔ ''الدر المختار'' و''رد المحتار''،کتاب الطلاق، باب طلاق المریض،مطلب:حال فشوالطاعون...الخ،ج۵،ص۱۹.
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الخامس في طلاق المریض، ج۱، ص۴۶۴.
3 ۔ المرجع السابق،ص۴۶۴،۴۶۵.
4 ۔'الدر المختار''، کتاب الطلاق،باب طلاق المریض ،ج۵،ص۲۴.
5 ۔پ ۲،البقرۃ: ۲۲۸.
مطلقات رجعیہ کے شوہروں کو عدّت میں واپس کرلینے کا حق ہے، اگر اصلاح مقصود ہو۔
اور فرماتا ہے:
( وَاِذَاطَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَـبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ) (1)
جب عورتوں کو طلاق دو اور اُن کی عدّت پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو اُن کو خوبی کےساتھ روک سکتے ہو۔
حدیث ۱: حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے اپنی زوجہ کو طلاق دی تھی حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو جب اسکی خبر پہنچی تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمايا: کہ ''اُن کو حکم کرو کہ رجعت کر لیں۔'' (2)
مسئلہ ۱: رجعت کے یہ معنیٰ ہیں کہ جس عورت کو رجعی طلاق دی ہو، عدّت کے اندر اُسے اُسی پہلے نکاح پر باقی رکھنا۔(3)
مسئلہ ۲: رجعت اُسی عورت سے ہو سکتی ہے جس سے وطی کی ہو، اگر خلوت صحیحہ ہوئی مگر جماع نہ ہوا تو نہیں ہوسکتی اگرچہ اُسے شہوت کے ساتھ چُھوا یا شہوت کے ساتھ فرجِ داخل (4)کی طرف نظر کی ہو۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: شوہر دعویٰ کرتا ہے کہ یہ عورت میری مدخولہ ہے تو اگر خلوت ہوچکی ہے رجعت کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: رجعت کو کسی شرط پر معلق کیا یا آئندہ زمانہ کی طرف مضاف کیا مثلاً اگر تو گھر میں گئی تو میرے نکاح میں واپس ہو جائے گی یا کل تو میرے نکاح میں واپس آجائے گی تو یہ رجعت نہ ہوئی اور اگر مذاق یا کھیل یا غلطی سے رجعت کے الفاظ کہے تو رجعت ہوگئی۔(7) (بحر)
مسئلہ ۵: کسی اور نے رجعت کے الفاظ کہے اور شوہر نے جائز کر دیا تو ہوگئی۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ کرے اور
1 ۔پ۲، البقرۃ:۲۳۱.
2 ۔''سنن النسائي''، کتاب الطلاق، باب وقت الطلاق للعدۃ... إلخ، الحدیث: ۳۳۸۶، ص۵۵۲.
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۲۶.
4 ۔عورت کی شرمگاہ کااندرونی حصہ۔
5 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ ...الخ، ج۱، ص۴۷۰.
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۴، ص۸۳.
8 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۲۷.
عورت کو بھی اس کی خبر کردے کہ عدّت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرلے اور اگر کرلیا تو تفریق کردی جائے اگرچہ دخول کر چکا ہو کہ یہ نکاح نہ ہوا۔ اور اگر قول سے رجعت کی مگر گواہ نہ کيے یا گواہ بھی کيے مگر عورت کو خبر نہ کی تو مکروہ خلافِ سنت ہے مگر رجعت ہو جائے گی۔ اور اگر فعل سے رجعت کی مثلاً اُس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کی تو رجعت ہو گئی مگر مکروہ ہے۔ اُسے چاہيے کہ پھر گواہوں کے سامنے رجعت کے الفاظ کہے۔(1) (جوہرہ)
مسئلہ ۷: شوہر نے رجعت کرلی مگر عورت کو خبر نہ کی اُس نے عدّت پوری کرکے کسی سے نکاح کرلیا اور رجعت ثابت ہوجائے تو تفریق کردی جائے گی اگرچہ دوسر ا دخول بھی کر چکا ہو۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۸: رجعت کے الفاظ یہ ہیں میں نے تجھ سے رجعت کی یا اپنی زوجہ سے رجعت کی یا تجھ کو واپس لیا۔ یا روک لیا یہ سب صریح الفاظ ہیں کہ اِن میں بِلا نیت بھی رجعت ہو جائیگی۔ یا کہا تو میرے نزدیک ویسی ہی ہے جیسی تھی یا تو میری عورت ہے تو اگر بہ نیت رجعت یہ الفاظ کہے ہوگئی ورنہ نہیں اور نکاح کے الفاظ سے بھی رجعت ہو جاتی ہے۔ (3)(عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۹: مطلقہ سے کہا تجھ سے ہزار روپے مہر پر میں نے رجعت کی، اگر عورت نے قبول کیا تو ہو گئی، ورنہ نہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: جس فعل سے حرمت مصاہرت ہوتی ہے اُس سے رجعت ہوجائیگی مثلاً وطی کرنا یا شہوت کے ساتھ مونھ یا رخسار یا ٹھوڑی یا پیشانی یا سر کا بوسہ لینا یا بلاحائل (5) بدن کو شہوت کے ساتھ چھونا یا حائل ہو تو بدن کی گرمی محسوس ہو یا فرج داخل کی طرف شہوت کے ساتھ نظر کرنا اور اگر یہ افعال شہوت کے ساتھ نہ ہوں تو رجعت نہ ہوگی اور شہوت کے ساتھ بلا قصد رجعت (6) ہوں جب بھی رجعت ہو جائے گی۔ اور بغیر شہوت بوسہ لینا یا چھونا مکروہ ہے جبکہ رجعت کا ارادہ نہ ہو۔ یوہیں اُسے برہنہ(7) دیکھنا بھی مکروہ ہے۔(8) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: عورت نے مرد کا بوسہ لیا یا چھوا خواہ مرد نے عورت کو اس کی قدرت دی تھی یا غفلت میں یا زبردستی عورت
1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الرجعۃ ، الجزء الثانی، ص۶۵.
2 ۔'الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۶۸، وغیرہ.
4 ۔ المرجع السابق، ص۴۶۹.
5 ۔بغیر آڑکے۔ 6 ۔رجعت کے ارادہ کے بغیر۔ 7 ۔بے لباس۔
8 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،المرجع السابق، و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۲۷،۲۸.
نے ایسا کیایا مرد سورہا تھا یا بوہرا یا مجنون ہے اور عورت نے ایسا کیا جب بھی رجعت ہوگئی جبکہ مرد تصدیق کرتا ہو کہ اُس وقت شہوت تھی اوراگر مرد شہوت ہونے یا نفسِ فعل ہی سے انکار کرتا ہو تو رجعت نہ ہوئی اور مرد مرگیا ہو تو اُس کے ورثہ کی تصدیق یا انکار کا اعتبارہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: مجنون کی رجعت فعل سے ہوگی قول سے نہیں اوراگر مرد سورہا تھا یا مجنون ہے اور عورت نے اپنی شرمگاہ میں اُس کا عضو داخل کرلیا تو رجعت ہوگئی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: عورت نے مرد سے کہا میں نے تجھ سے رجعت کرلی تو یہ رجعت نہ ہوئی۔(3) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۴: محض خلوت سے رجعت نہ ہوگی اگرچہ صحیحہ ہواور پیچھے کے مقام میں وطی کرنے سے بھی رجعت ہو جائے گی اگرچہ یہ حرام اور سخت حرام ہے اور اس کی طرف بشہوت (4) نظر کرنے سے نہ ہوگی۔ (5)(عالمگیری ،درمختار)
مسئلہ ۱۵: عدّت میں اُس سے نکاح کر لیا جب بھی رجعت ہو جائے گی۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: رجعت میں عورت کی رضا کی ضرورت نہیں بلکہ اگر وہ انکار بھی کرے جب بھی ہو جائے گی بلکہ اگر شوہر نے طلاق دینے کے بعد کہہ دیا ہو کہ میں نے رجعت باطل کردی یا مجھے رجعت کا اختیار نہیں جب بھی رجعت کر سکتا ہے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: عورت کا مہر مؤجل بطلاق تھا (یعنی طلاق ہونے کے بعد مہر کا مطالبہ کریگی) ایسی صورت میں اگر شوہر نے طلاق رجعی دی تواب میعاد پوری ہوگئی، عورت عدّت کے اندر مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے اور رجعت کرلینے سے مطالبہ ساقط نہ ہوگا۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: زوج و زوجہ(9) دونوں کہتے ہیں کہ عدّت پوری ہوگئی مگر رجعت میں اختلاف ہے ایک کہتا ہے کہ رجعت
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ، ج۵،ص۲۸.
2 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃوفیماتحل بہ المطلّقۃوما یتصل بہ،ج۱،ص۴۶۹،۴۷۰.
3 ۔المرجع السابق،ص۴۶۹.
4 ۔ شہوت کے ساتھ۔
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃوفیماتحل بہ المطلّقۃوما یتصل بہ،ج۱،ص۴۶۹،۴۷۰.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۲۶،۲۸.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۲۸.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۲۹.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۲۹.
9 ۔میاں اوربیوی۔
ہوئی اور دوسرا منکرہے (1)تو زوجہ کا قول معتبر ہے اور قسم کھلانے کی حاجت نہیں اور عدّت کے اندر یہ اختلاف ہوا تو زوج کا قول معتبر ہے اور اگر عدّت کے بعد شوہر نے گواہوں سے ثابت کیا کہ میں نے عدّت میں کہا تھا کہ میں نے اُسے واپس لیا یا کہا تھا کہ میں نے اُس سے جماع کیا تو رجعت ہوگئی۔(2) (ہدایہ ،بحر وغیرہما)
مسئلہ ۱۹: عدّت پوری ہونے کے بعد کہتا ہے کہ میں نے عدّت میں رجعت کرلی ہے اور عورت تصدیق کرتی ہے تو رجعت ہوگئی اور تکذیب کرتی ہے تو نہیں۔ (3)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۰: زوج و زوجہ متفق ہیں کہ جمعہ کے دن رجعت ہوئی مگر عورت کہتی ہے میری عدت جمعرات کو پوری ہوئی تھی اورشوہر کہتا ہے ہفتہ کے دن، تو قسم کے ساتھ شوہر کا قول معتبر ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: عورت سے عدت میں کہا میں نے تجھے واپس لیا اُس نے فوراً کہا میری عدت ختم ہو چکی اور طلاق کو اتنا زمانہ ہو چکا ہے کہ اتنے دنوں میں عدت پوری ہوسکتی ہے تو رجعت نہ ہوئی مگر عورت سے قسم لی جائے گی کہ اُس وقت عدت پوری ہوچکی تھی اگر قسم کھانے سے انکار کریگی تو رجعت ہو جائے گی۔ اور اگر طلاق کو اتنا زمانہ نہیں ہو ا کہ عدت پوری ہو سکے تو رجعت ہوگئی البتہ اگر عورت کہتی ہے کہ میرے بچہ پیدا ہوا اور اسے ثابت بھی کردے تو مدت کا لحاظ نہ کیا جائے گا اور اگر جس وقت شوہر نے رجعت کے الفاظ کہے عورت چُپ رہی پھر بعد میں کہا کہ میری عدت پوری ہوچکی تو رجعت ہوگئی۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: باندی کے شوہر نے عدت گزرنے کے بعد کہا میں نے عدت میں رجعت کرلی تھی مولیٰ (6) اس کی تصدیق کرتا ہے اور باندی تکذیب اور شوہر کے پاس گواہ نہیں یا باندی کہتی ہے میری عدت گزر چکی تھی اور شوہر و مولیٰ دونوں انکار کرتے ہیں تو ان دونوں صورتوں میں باندی کا قول معتبر ہے اور اگر مولیٰ شوہر کی تکذیب کرتا ہے اور باندی تصدیق تو مولیٰ کا قول معتبر ہے۔ اور اگر دونوں شوہر کی تصدیق کرتے ہیں تو کوئی اختلاف ہی نہیں۔ اور دونوں تکذیب کرتے ہوں تو رجعت نہیں ہوئی۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔انکارکرتاہے۔
2 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج ۲، ص۲۵۴،۲۵۵.
و''البحرالرائق''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۴، ص۸۵،۸۶، وغیرہما.
3 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج ۲، ص۲۵۴.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۰.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۲.
6 ۔ مالک۔
7 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، المرجع السابق،ص۳۳.
اور اگر مولیٰ کہتا ہے تو نے رجعت کی ہے اور شوہر منکر ہے تو مولیٰ کا قول معتبر نہیں۔(1) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۳: عورت نے پہلے يہ کہاکہ میری عدت پوری ہو چکی اب کہتی ہے کہ پوری نہیں ہوئی تو شوہر کو رجعت کا اختیار ہے۔ (2)(تنویر)
مسئلہ ۲۴: عورت عدت پوری ہونا بتائے تو مدت کا لحاظ ضروری ہے یعنی اتنا زمانہ گزر چکا ہو کہ عدت پوری ہوسکتی ہو یعنی اُس زمانہ میں تین حیض پورے ہو سکیں اوراگر وضع حمل سے عدت ہو تو اُس کے ليے کوئی مدّت نہیں اگر کچا بچہ ہوا جس کے اعضا بن چکے ہوں جب بھی عدت پوری ہو جائیگی مگر اس میں عورت سے قسم لی جائیگی کہ اُس کے اعضا بن چکے تھے اوراگر ولادت کا دعویٰ کرتی ہے تو گواہ ہونے چاہیے۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۵: عورت سے کہا اگرمیں تجھے چھوؤں تو تجھ کو طلاق ہے اور چھوا تو طلاق ہوگئی پھر دوبارہ چھوا تو رجعت ہوگئی جبکہ یہ شہوت کے ساتھ ہو۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۲۶: اپنی عورت سے کہا اگر میں تجھ سے رجعت کروں تو تجھ کو طلاق ہے تو مراد رجعت حقیقی ہے یعنی اگر اُسے طلاق دی پھر نکاح کیا تو طلاق واقع نہ ہوگی اوراگر رجعت کی تو ہو جائے گی۔ اور طلاق رجعی کی عدت میں اُس سے کہا کہ اگر میں رجعت کروں تو تجھ کو تین طلاقیں اور عدت پوری ہونے کے بعد اُس سے نکاح کیا تو طلاق نہیں ہوگی اور بائن کی عدت میں کہا تو ہو جائے گی۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۷: رجعت اُس وقت تک ہے کہ پچھلے حیض سے پاک نہ ہوئی ہو اُس کے بعد نہیں ہوسکتی یعنی اگر باندی ہے تودوسرے حیض سے پاک ہونے تک اور آزاد عورت ہے تو تیسرے سے پاک ہونے تک رجعت ہے اب اگر پچھلا حیض پورے دس دن پر ختم ہوا ہے تو دس دن رات پورے ہوتے ہی رجعت کا بھی خاتمہ ہے اگرچہ غسل ابھی نہ کیا ہو اور دس دن رات سے کم میں پاک ہوئی تو جب تک نہا نہ لے یا نماز کا ایک وقت نہ گزرلے رجعت ختم نہیں ہوئی اور اگر گدھے کے جھوٹے پانی سے نہائی جب بھی رجعت نہیں کر سکتا مگر اُس غسل سے نماز نہیں پڑھ سکتی نہ ابھی دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے
1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الرجعۃ، الجزء الثانی، ص۶۷.
2 ۔''تنویرالابصار''،کتاب الطلاق باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۳.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۳، وغیرہ.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۶۹.
5 ۔المرجع السابق.
جب تک غیر مشکوک پانی (1)سے نہا نہ لے یا نماز کا وقت نہ گزر لے اور اگر وقت اتنا باقی ہے کہ نہا کر تحریمہ باندھ لے تو اُس وقت کے ختم ہونے پر رجعت بھی ختم ہے اور اگر اتناخفیف (2)وقت باقی ہے کہ نہانہیں سکتی یا نہاسکتی ہے مگر غسل اور کپڑا پہننے کے بعد اﷲ اکبر کہنے کا بھی وقت نہ رہے گا تو اُس وقت کا اعتبار نہیں بلکہ یا نہالے یا اس کے بعد کا دوسرا وقت گزرلے۔ اور اگر ایسے وقت میں خون بند ہوا کہ وہ وقت فرض نماز کا نہیں یعنی آفتاب نکلنے سے ڈھلنے تک تو اس کا بھی اعتبار نہیں بلکہ اسکے بعد کا وقت ختم ہوجائے یعنی ظہر کا۔ اور اگر دس دن رات سے کم میں خون بند ہوا اور عورت نے غسل کرلیا پھر خون جاری ہوگيا اور دس دن سے متجاوز نہ ہوا تو ابھی رجعت ختم نہ ہوئی تھی اور اگر عورت نے دوسرے سے نکاح کرلیا تھا تو نکاح صحیح نہ ہوا۔ یوہیں اگر غسل یا نمازکا وقت گزرنے سے پہلے اس صورت میں نکاح دوسرے سے کیا جب بھی نکاح نہ ہوا۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: کسی عورت کو کبھی پانچ دن خون آتا ہے اور کبھی چھ ۶ دن اور اس بار استحاضہ ہوگیا یعنی دس ۱۰دن سے زیادہ آیا تو رجعت کے حق میں پانچ دن کااعتبار ہے کہ پانچ دن پورے ہونے پر رجعت نہ ہوگی اور دوسرے سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس حیض کے چھ۶ دن پورے ہونے پر کر سکتی ہے۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۹: عورت اگر کتابیہ ہے تو پچھلا حیض ختم ہوتے ہی رجعت ختم ہو گئی غسل و نماز کا وقت گزرنا شرط نہیں۔ (5)(عالمگيری) مجنونہ اور معتوہہ کا بھی یہی حکم ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۳۰: دس۱۰ دن رات سے کم میں منقطع ہوا اور نہ نہائی نہ نماز کا وقت ختم ہوا بلکہ تیمم کرلیا تو رجعت منقطع نہ ہوئی ہاں اگر اس تیمم سے پوری نماز پڑھ لی تو اب رجعت نہیں ہو سکتی اگرچہ وہ نماز نفل ہواور اگر ابھی نماز پوری نہیں ہوئی ہے، بلکہ شروع کی ہے تو رجعت کر سکتا ہے اور اگر تیمم کرکے قرآن مجید پڑھا یا مصحف شریف چھوایا مسجد میں گئی تو رجعت ختم نہ ہوئی۔ (7)(فتح وغیرہ)
مسئلہ ۳۱: غسل کیا اور کوئی جگہ ایک عضو سے کم مثلاً بازو یا کلائی کا کچھ حصہ یا دو ایک اونگلی بھول گئی جہاں پانی پہنچنے نہ پہنچنے میں شک ہے تو رجعت ختم ہوگئی مگر دوسرے سے نکاح اُس وقت کر سکتی ہے کہ اُس جگہ کو دھولے یا نماز کا وقت گزر جائے اور
1 ۔یعنی وہ پانی جس کے پاک ہونے اورپاک کرنے میں شک نہ ہو۔ 2 ۔تھوڑا۔
3 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۴.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۱.
5 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۱.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۵.
7 ۔ ''فتح القدیر''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۴، ص۲۱، وغیرہ.
اگر یقین ہے کہ وہاں پانی نہیں پہنچاہے یا قصداً اُس جگہ کو چھوڑ دیا تو رجعت ہو سکتی ہے اور اگر پورا عضو جیسے ہاتھ يا پاؤں بھولی تو رجعت ہوسکتی ہے، کُلّی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا دونوں ملکر ایک عضو ہیں اور ہر ایک ایک عضو سے کم۔(1) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۳۲: حاملہ کو طلاق دی اور اُس کی وطی سے منکر ہے اور رجعت کرلی پھر چھ مہینے سے کم میں بچہ پیدا ہو مگر وقت نکاح سے چھ ۶مہینے یا زیادہ میں ولادت ہوئی تو رجعت ہوگئی۔(2) (شرح وقایہ)
مسئلہ ۳۳: نکاح کے بعد چھ مہینے یا زیادہ کے بعد بچہ پیدا ہوا پھر اُسے طلاق دی اور وطی سے انکار کرتا ہے تو رجعت کر سکتا ہے کہ جب بچہ پیدا ہو چکا شرعاً وطی ثابت ہے اُس کا انکار بیکار ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳۴: اگر خلوت ہوچکی ہے مگر وطی سے انکار کرتا ہے پھر طلاق دی تو رجعت نہیں کرسکتا اور اگر شوہر وطی کا اقرار کرتا ہے مگر عورت منکر ہے اور خلوت ہوچکی ہے تو رجعت کر سکتا ہے اور خلوت نہیں ہوئی تو نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۵: عورت سے کہا اگر تو جنے تو تجھ کو طلاق ہے اُس کے بچہ پیدا ہوا طلاق ہوگئی پھر چھ ۶ مہینے یا زیادہ میں دوسرا بچہ پیدا ہوا تو رجعت ہوگئی اگرچہ دوسرا بچہ دو۲ برس (5)سے زیادہ میں پیدا ہوا کہ اکثر مدت حمل دو ۲برس ہے اور اِس صورت میں عدت حیض سے ہے تو ہو سکتا ہے کہ زیادہ زیادہ دنوں کے بعد حیض آیا اور عدت ختم ہونے سے پیشتر شوہر نے وطی کی ہو۔ ہاں اگر عورت عدت گزرنے کا اقرار کرچکی ہو تو مجبوری ہے۔ اور اگر دوسرا بچہ پہلے بچہ سے چھ۶ مہینے سے کم میں پیدا ہوا تو بچہ پیدا ہونے کے بعد رجعت نہیں۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: طلاق رجعی کی عدت میں عورت بناؤ سنگار کرے جبکہ شوہر موجود ہو اور عورت کو رجعت کی امید ہو اور اگر شوہر موجودنہ ہو یا عورت کو معلوم ہو کہ رجعت نہ کریگا تو تزیُّن(7)نہ کرے۔ اور طلاق بائن اور وفات کی عدت میں زینت حرام ہے اور مطلَّقہرجعیہ کو سفر میں نہ لیجائے بلکہ سفر سے کم مسافت تک بھی نہ لیجائے جب تک رجعت پر گواہ نہ قائم کرلے یہ اُس وقت ہے کہ شوہر نے صراحۃً رجعت کی نفی کی ہو ورنہ سفر میں لے جانا ہی رجعت ہے۔ (8)(درمختار وغیرہ)
1 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۵، وغیرہما.
2 ۔ ''شرح الوقایہ''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ،ج۱، الجزء الثاني، ص۱۱۲۔۱۱۴.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۶.
4 ۔ المرجع السابق، ص۳۹.
5 ۔غالباً یہاں کتابت کی غلطی ہے۔اصل کتاب میں دوبرس کے بجائے دس برس کاذکرہے۔...عِلْمِیہ
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۴۰.
7 ۔بناؤسنگار۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۴۱، وغیرہ.
مسئلہ ۳۷: شوہر کو چاہیے کہ جس مکان میں عورت ہے جب وہاں جائے تو اُسے خبر کردے یا کھنکار کر جائے یا اس طرح چلے کہ جوتے کی آوازعورت سُنے یہ اُس صورت میں ہے کہ رجعت کا ارادہ نہ ہو۔ یوہیں جب رجعت کا ارادہ نہ ہو تو خلوت بھی مکروہ ہے اور رجعت کا ارادہ ہے تو مکروہ نہیں اور رجعت کا ارادہ ہو تو اس کی باری بھی ہے ورنہ نہیں۔ (1)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۳۸: عورت باندی تھی اُسے طلاق دیدی اور حرہ سے نکاح کر لیا تو اُس سے رجعت کر سکتا ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: جس عورت کو تین سے کم طلاق بائن دی ہے اُس سے عدت میں بھی نکاح کر سکتاہے اور بعد عدت بھی اور تین طلاقیں دی ہوں یا لونڈی کو دو تو بغیر حلالہ نکاح نہیں کر سکتا اگرچہ دخول نہ کیا ہو البتہ اگر غیر مدخولہ ہو (3) تو تین طلاق ایک لفظ سے ہوگی تین لفظ سے ایک ہی ہوگی جیسا پہلے معلوم ہو چکا اور دوسرے سے عدت کے اندر مطلقاً نکاح نہیں کر سکتی تین طلاقیں دی ہوں یا تین سے کم۔(4) (عامہ کتب)
مسئلہ ۴۰: حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اگر عورت مدخولہ ہے(5) تو طلاق کی عدت پوری ہونے کے بعد عورت کسی اور سے نکاح صحیح کرے اور یہ شوہر ثانی (6) اُس عورت سے وطی بھی کرلے اب اس شوہر ثانی کے طلاق یا موت کے بعد عدت پوری ہونے پر شوہر اول سے نکاح ہو سکتا ہے اور اگر عورت مدخولہ نہیں ہے تو پہلے شوہر کے طلاق دینے کے بعد فوراًدوسرے سے نکاح کر سکتی ہے کہ اس کے ليے عدت نہیں۔(7) (عامہ کتب)
مسئلہ ۴۱: پہلے شوہر کے ليے حلال ہونے میں نکاح ِصحیح نافذ کی شرط ہے اگر نکاح فاسد ہوا یا موقوف اور وطی بھی ہوگئی تو حلالہ نہ ہوامثلاًکسی غلام نے بغیر اجازت مولیٰ اُس سے نکاح کیا اور وطی بھی کر لی پھر مولیٰ نے جائز کیا تو اجازت مولیٰ کے بعد
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۴۲، وغیرہما.
2 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۲.
3 ۔جس سے جماع،دخول نہ کیا گیاہو۔
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، الباب السادس في الرجعۃ وفیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۲، وغیرہ.
5 ۔جس سے جماع،دخول کیا گیاہو۔ 6 ۔دوسراشوہر۔
7 ۔ ''البحرالرائق''،کتاب الطلاق، فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج۴، ص۹۷،۹۸.
وطی کرکے چھوڑے گا تو پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے اور بلا وطی طلاق دی تو وہ پہلے کی وطی کافی نہیں۔ یوہیں زنا یا وطی بالشبہ سے بھی حلالہ نہ ہوگا۔ یوہیں اگر وہ عورت کسی کی باندی تھی عدت پوری ہونے کے بعد مولیٰ نے اُس سے جماع کیا تو شوہر اول کے ليے اب بھی حلال نہ ہوئی اور اگر زوجہ باندی تھی اُسے دو۲ طلاقیں دیں پھر اُس کے مالک سے خریدلی یا اور کسی طرح سے اُس کا مالک ہوگيا تو اُس سے وطی نہیں کرسکتا جب تک دوسرے سے نکاح نہ ہولے اوروہ دوسراوطی بھی نہ کرلے۔ یوہیں اگر عورت معاذاﷲ مُرتدہ ہوکر دارالحرب میں چلی گئی پھر وہاں سے جہاد میں پکڑ آئی اور شوہر اُس کا مالک ہوگيا تو اس کے ليے حلال نہ ہوئی۔ حلالہ میں جو وطی شرط ہے، اس سے مراد وہ وطی ہے جس سے غسل فرض ہو جاتا ہے یعنی دخول حشفہ(1) اور انزال (2)شرط نہیں۔ (3)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۴۲: عورت حیض میں ہے یا احرام باندھے ہوئے ہے اس حالت میں شوہر ثانی نے وطی کی تو یہ وطی حلالہ کے ليے کافی ہے اگرچہ حیض کی حالت میں وطی کرنا بہت سخت حرام ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: دوسرا نکاح مراہق سے ہوا (یعنی ایسے لڑکے سے جو نا بالغ ہے مگر قریب بلوغ ہے اور اُس کی عمر والے جماع کرتے ہیں) اور اُس نے وطی کی اور بعد بلوغ طلاق دی تو وہ وطی کہ قبل بلوغ کی تھی حلالہ کے ليے کافی ہے مگر طلاق بعد بلوغ ہونی چاہیے کہ نابالغ کی طلاق واقع ہی نہ ہوگی مگر بہتر یہ ہے کہ بالغ کی وطی ہو کہ امام مالک رحمہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک انزال شرط ہے اور نا بالغ میں انزال کہاں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: اگر مطلقہ چھوٹی لڑکی ہے کہ وطی کے قابل نہیں تو شوہر ثانی اُس سے وطی کر بھی لے جب بھی شوہر ِاول کے ليے حلال نہ ہوئی اور اگر نابالغہ ہے مگر اُس جیسی لڑکی سے وطی کی جاتی ہے یعنی وہ اس قابل ہے تو وطی کافی ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۴۵: اگر عورت کے آگے اور پیچھے کا مقام ایک ہوگيا ہے تو محض وطی کافی نہیں بلکہ شرط یہ ہے کہ حاملہ ہو جائے۔ یوہیں اگر ایسے شخص سے نکاح ہوا جس کا عضو تناسل کٹ گیا ہے تو اس میں بھی حمل شرط ہے۔(7) (عالمگيری)
1 ۔آلہ تناسل کی سپاری کاداخل ہونا۔ 2 ۔منی کانکلنا۔
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ۴۵ ۔ ۴۸.
و ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ ، فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ...الخ، ج۱، ص۴۷۳، وغیرہما.
4 ۔''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، مطلب: حیلۃ اسقاط عدۃ المحلل، ج۵، ۵۰.
5 ۔''الدرالمختار'' و''رد المحتار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ، مطلب: فی العقدعلی المبانۃ،ج۵، ص۴۴.
6 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق،باب الرجعۃ، مطلب: فی العقدعلی المبانۃ،ج۵، ص۴۷.
7 ۔''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ ،فصل فیما تحل بہ المطلقۃ...الخ، ج۱، ص۴۷۳.
مسئلہ ۴۶: مجنون یا خصی (1)سے نکاح ہوا اور وطی کی تو شوہر اول کے ليے حلال ہوگئی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۴۷: کتا بیہ عورت مسلمان کے نکاح میں تھی اُسے طلاق دی اور اُس نے کسی کتابی سے نکاح کیا اور حلالہ کے تمام شرائط پائے گئے تو شوہر اول کے ليے حلال ہو گئی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۸: پہلے شوہر نے تین طلاقیں دیں عورت نے دوسرے سے نکاح کیا بغیر وطی اُس نے بھی تین طلاقیں دیدیں پھر عورت نے تیسرے سے نکاح کیا اس نے وطی کرکے طلاق دی تو پہلے اور دوسرے دونوں کے ليے حلال ہو گئی یعنی اب پہلے یا دوسرے جس سے چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: بہت زیادہ عمر والے سے نکاح کیا جو وطی پر قادر نہیں ہے اُس نے کسی ترکیب سے عضو تناسل داخل کر دیا تو یہ وطی حلالہ کے ليے کافی نہیں ہا ں اگر آلہ میں کچھ انتشار پایا گیا اور دخول ہوگيا تو کافی ہے۔ (5)(فتح وغیرہ)
مسئلہ ۵۰: عورت سورہی تھی یا بیہوش تھی شوہر ثانی نے اس حالت میں اُس سے وطی کی تویہ وطی حلالہ کے ليے کافی ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۵۱: عورت کو تین طلاقیں دی تھیں اب وہ آکر شوہر اول سے یہ کہتی ہے کہ عدت پوری ہونے کے بعد میں نے نکاح کیااور اُس نے جماع بھی کیا اور طلاق دیدی اور یہ عدت بھی پوری ہوچکی اور پہلے شوہر کو طلاق ديے اتنا زمانہ گزر چکا ہے کہ یہ سب باتیں ہو سکتی ہیں تو اگر عورت کو اپنے گمان میں سچی سمجھتا ہے تو اُس سے نکاح کر سکتا ہے۔ (7)(ہدایہ) اور اگر عورت فقط اتنا ہی کہے کہ میں حلال ہو گئی تو اُس سے نکاح حلال نہیں، جب تک سب باتیں پوچھ نہ لے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: عورت کہتی ہے کہ شوہر ثانی نے جماع کیا ہے اور شوہر ثانی انکار کرتا ہے تو شوہر اول کو نکاح جائز ہے اور شوہر ثانی کہتا ہے کہ میں نے جماع کیا ہے اور عورت انکار کرتی ہے تو نکاح جائز نہیں اور اگر عورت اقرار کرتی ہے اور شوہر اول
1 ۔جس کے خصیے نہ ہوں یا نکال دئیے گئے ہوں ۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۴۵.
3 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃ،فصل فیما تحل بہ المطلَّقۃ...إلخ،ج۱،ص۴۷۳.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''فتح القدیر''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،فصل فیما تحل لہ بہ المطلَّقۃ،ج۴،ص۳۳،وغیرہ.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۵۰.
7 ۔''الہدایۃ''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،فصل فیما تحل بہ المطلَّقۃ،ج۲،ص۲۵۸،۲۵۹.
8 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃ،فصل فیما تحل بہ المطلَّقۃ...إلخ،ج۱،ص۴۷۴.
نے نکاح کے بعد کہا کہ شوہر ثانی نے جماع نہیں کیا ہے تو دونوں میں تفریق کردی جائے اور اگر شوہر اول سے نکاح ہو جانے کے بعد عورت کہتی ہے میں نے دوسرے سے نکاح کیا ہی نہ تھا اور شوہر کہتا ہے کہ تو نے دوسرے سے نکاح کیا اور اُس نے وطی بھی کی تو عورت کی تصدیق نہ کی جائے اور اگر شوہر ثانی عورت سے کہتا ہے کہ میرا نکاح تجھ سے فاسد ہوا کہ میں نے تیری ماں سے جماع کیا ہے اگر عورت اُسکے کہنے کو سچ سمجھتی ہے تو عورت شوہر اول کے ليے حلال نہ ہوئی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: کسی عورت سے نکاح فاسد کرکے تین طلاقیں دے دیں تو حلالہ کی حاجت نہیں بغیر حلالہ اُس سے نکاح کر سکتا ہے۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۵۴: نکاح بشرط التحلیل (3) جس کے بارے میں حدیث میں لعنت آئی وہ یہ ہے کہ عقد ِنکاح یعنی ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے اور یہ نکاح مکروہ تحریمی ہے زوج اول و ثانی (4) اور عورت تینوں گنہگار ہوں گے مگر عورت اِس نکاح سے بھی بشرائط حلالہ شوہر اول کے ليے حلال ہو جائیگی۔ اور شرط باطل ہے۔ اور شوہر ثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں۔ اور اگر عقد میں شرط نہ ہو اگرچہ نیت میں ہو تو کراہت اصلاً نہیں بلکہ اگر نیت خیر ہو تو مستحق اجر ہے۔ (5)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۵ـ: اگر نکاح اس نیت سے کیا جارہا ہے کہ شوہر اول کے ليے حلال ہو جائے اور عورت یا شوہر اول کو یہ اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نکاح کرکے طلاق نہ دے تو دقّت (6) ہوگی تو اس کے ليے بہتر حیلہ یہ ہے کہ اُس سے یہ کہلوالیں کہ اگر میں اس عورت سے نکاح کرکے جماع کروں یا نکاح کرکے ایک رات سے زیادہ رکھوں تو اس پر بائن طلاق ہے اب عورت سے جماع کرتے ہی یا رات گزرنے پر طلاق پڑجائے گی یا یوں کرے کہ عورت یا اُسکا وکیل یہ کہے کہ میں نے یا میری مؤکلہ نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ مجھے یا اُسے اپنے نفس کااختیار ہے کہ جب چاہے اپنے کو طلاق دے لے وہ کہے میں نے قبول کیا اب عورت کو طلاق دینے کا خود اختیار ہے۔ اور اگر پہلے زوج کی جانب سے الفاظ کہے گئے کہ میں نے اُس عورت سے نکاح کیا اِس شرط پر کہ اُسے اُس کے نفس کا اختیار ہے تو یہ شرط لغو (7) ہے عورت کو اختیار نہ ہوگا۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۶: دوسرے سے عورت نے نکاح کیا اور اُس نے دخول بھی کیا پھر اس کے مرنے یا طلاق دینے کے بعد
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس فيالرجعۃ،فصل فیما تحل بہ...الخ،ج۱،ص۴۷۴.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرنا۔ 4 ۔یعنی پہلاشوہرجس نے طلاق دی اوردوسراجس سے نکاح کیا۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۵۱، وغیرہ.
6 ۔پریشانی۔ 7 ۔فضول۔
8 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، باب الرجعۃ، مطلب:حیلۃ اسقاط عدۃالمحلل،ج۵، ص۵۱ .
شوہر اول سے اسکا نکاح ہوا تو اب شوہر اول تین طلاقوں کا مالک ہوگيا پہلے جو کچھ طلاق دے چکا تھا اُس کا اعتبار اب نہ ہوگا۔ اور اگر شوہر ثانی نے دخول نہ کیا ہواور شوہر اول نے تین طلاقیں دی تھیں جب تو ظاہر ہے کہ حلالہ ہواہی نہیں پہلے شوہر سے نکاح ہی نہیں ہو سکتا اور تین سے کم دی تھی تو جو باقی رہ گئی ہے اُسی کا مالک ہے تین کا مالک نہیں اور زوجہ لونڈی ہو تو اس کی دو طلاقیں حرہ کی تین کی جگہ ہیں۔(1) (عالمگيری، درمختار)
مسئلہ ۵۷: عورت کے پاس دوشخصوں نے گواہی دی کہ اُس کے شوہر نے اُسے تین طلاقیں دیدیں اور شوہر غائب ہے توعورت بعد عدت دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے بلکہ اگر ایک شخص ثقہ نے طلاق کی خبر دی ہے جب بھی عورت نکاح کرسکتی ہے بلکہ اگر شوہر کا خط آیا جس میں اسے طلاق لکھی ہے اور عورت کا غالب گمان ہے کہ خط اُسی کا ہے تو نکاح کرنے کی عورت کے ليے گنجائش ہے اور اگر شوہر موجود ہے اور دونوں میاں بی بی کی طرح رہتے ہیں تو اب نکاح نہیں کرسکتی۔ (2)(عالمگیری ،ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: شوہر نے عورت کو تین طلاقیں دیدیں یا بائن طلاق دی مگر اب انکار کرتا ہے اور عورت کے پاس گواہ نہیں تو جس طرح ممکن ہو عورت اُس سے پیچھا چھڑائے، مہر معاف کرکے یا اپنا مال دیکر اُس سے علیحدہ ہو جائے، غرض جس طرح بھی ممکن ہو اُس سے کنارہ کشی کرے اور کسی طرح وہ نہ چھوڑے تو عورت مجبور ہے مگر ہر وقت اِسی فکر میں رہے کہ جس طرح ممکن ہو رہائی حاصل کرے اور پوری کو شش اس کی کرے کہ صحبت نہ کرنے پائے یہ حکم نہیں کہ خود کشی کرلے(3)۔ عورت جب اِن باتوں پر عمل کرے گی تو معذور ہے اور شوہر بہر حال گنہگار ہے۔ (4)(درمختار مع زیادۃ)
مسئلہ ۵۹: عورت کو اب تین طلاقیں دیں اور کہتا یہ ہے کہ اس سے پیشتر ایک طلاق دے چکا تھا اور عدت بھی ہو چکی تھی یعنی اُس کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ عدت گزرنے پر عورت اجنبیہ ہوگئی لہٰذا یہ طلاقیں واقع نہ ہوئیں اور عورت بھی تصدیق کرتی ہے تو کسی کی تصدیق نہ کیجائے دونوں جھوٹے ہیں کہ ایسا تھا تو میاں بی بی کی طرح رہتے کیونکر تھے ہاں اگر لوگوں کو اُسکا طلاق دینا
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃ،فصل فیماتحل بہ المطلَّقۃ...إلخ،ج۱،ص۴۷۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۵۵.
2 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃ،فصل فیماتحل بہ المطلَّقۃ...إلخ،ج۱،ص۴۷۵.
و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ ،مطلب: الاقدام علی النکاح...الخ ، ج۵، ص۶۰.
3 ۔امیراہلسنت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطارقادری دامت برکاتھم العالیہ لکھتے ہیں''خودکشی گناہ کبیرہ حرام اورجہنم میں لے جانے والاکام ہے۔نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاارشادہے ''تم سے پہلی امتوں میں سے ایک شخص کے بدن میں پھوڑا نکلا(جب اس میں سخت تکلیف ہونے لگی) تو اس نے اپنے ترکش (یعنی تیردان )سے تیرنکالااورپھوڑے کوچیردیاجس سے خون بہنے لگااوررک نہ سکایہاں تک کہ
اس سبب سے وہ ہلاک ہوگیاتمھارے رب عزوجل نے فرمایامیں نے اس پرجنت حرام کردی '' (صحیح مسلم ،حدیث ۱۸۰،ص۱۷)
(مزیدمعلومات کے لیے دیکھیے رسالہ'' خودکشی کاعلاج ''ص۶)۔...عِلْمِیہ
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۵۹،مع زیادۃ.
اور عدت گزرجانا معلوم ہو تو اور بات ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۶۰: شوہر تین طلاقیں دے کر انکاری ہوگيا عورت نے گواہ پیش کيے اور تین طلاق کا حکم دیا گیا اب کہتا ہے کہ پہلے ایک طلاق دے چکا تھا اور عدت گزر چکی تھی اور گواہ بھی پیش کرتا ہے تو گواہ بھی مقبول نہیں۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۱: غیر مدخولہ کو دو ۲ طلاقیں دیں اور کہتا ہے کہ ایک پہلے دے چکا ہے تو تین قرار پائیں گی۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۶۲: تین طلاقیں کسی شرط پر معلق تھیں اور وہ شرط پائی گئی لہٰذا تین طلاقیں پڑگئیں عورت ڈرتی ہے کہ اگر اُس سے کہے گی تو وہ سرے سے تعلیق ہی سے انکار کر جائے گا تو عورت کو چاہیے خفیہ حلالہ کرائے اور عدت پوری ہونے کے بعد شوہر سے تجدید نکاح کی درخواست کرے۔(4)(عالمگيری)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(لِلَّذِیۡنَ یُؤْلُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍ ۚ فَاِنْ فَآءُوۡفَاِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۲۶﴾ وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۲۷﴾ ) (5)
جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے کی قسم کھالیتے ہیں اُن کے ليے چار مہینے کی مدت ہے پھر اگر اِس مدت میں واپس ہوگئے (قسم توڑ دی) تو اﷲ (عزوجل) بخشنے والا مہربان ہے اور اگر طلاق کا پکا ارادہ کرلیا (رجوع نہ کی) تو اﷲ (عزوجل) سننے والا، جاننے والا ہے (طلاق ہو جا ئے گی)۔
مسئلہ ۱: ایلا کے معنی یہ ہیں کہ شوہر نے یہ قسم کھائی کہ عورت سے قربت (6) نہ کریگا یا چار مہینے قربت نہ کریگا عورت باندی ہے تو اس کے ایلا کی مدت دو ۲ماہ ہے۔ (7)
مسئلہ ۲: قسم کی دوصورت ہے ایک یہ کہ اﷲ تعالیٰ یا اُس کے اُن صفات کی قسم کھائی جن کی قسم کھائی جاتی ہے مثلاً اُس
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۶۰.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،مطلب:الاقدام علی النکاح...إلخ،ج۵،ص۶۱.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۶۱.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃ،فصل فیما تحل بہ المطلَّقۃ...إلخ،ج۱،ص۴۷۵.
5 ۔پ۲،البقرۃ:۲۲۶،۲۲۷.
6 ۔جماع ، ہمبستری۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب السابع فی الایلاء،ج۱،ص۴۷۶.
کی عظمت و جلال کی قسم، اُس کی کبریائی کی قسم، قرآن کی قسم، کلام اﷲ کی قسم، دوسری تعلیق مثلاً یہ کہ اگر اِس سے وطی کروں تو میرا غلام آزاد ہے یا میری عورت کو طلاق ہے یا مُجھ پر اتنے دنوں کا روزہ ہے یا حج ہے۔(1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۳: ایلادو۲ قسم ہے ایک موقت یعنی چار مہینے کا، دوسرا مؤبد یعنی چار مہینے کی قید اُس میں نہ ہو بہر حال اگر عورت سے چار ماہ کے اندر جماع کیا تو قسم ٹوٹ گئی اگرچہ مجنون ہواور کفارہ لازم جبکہ اﷲ تعالیٰ یا اُس کے اُن صفات کی قسم کھائی ہو۔ اور جماع سے پہلے کفارہ دے چکا ہے تو اُس کا اعتبار نہیں بلکہ پھر کفارہ دے۔ اور اگر تعلیق تھی تو جس بات پرتھی وہ ہوجائے گی مثلاً یہ کہا کہ اگر اس سے صحبت کروں تو غلام آزاد ہے اور چار مہینے کے اندر جماع کیا تو غلام آزاد ہوگيا اور قربت نہ کی یہاں تک کہ چار مہینے گزر گئے تو طلاق بائن ہوگئی۔ پھر اگر ایلا ئے موقت تھا یعنی چار ماہ کا تو یمین (2) ساقط ہوگئی یعنی اگر اُس عورت سے پھر نکاح کیا تو اُسکا کچھ اثر نہیں۔ اور اگر مؤبد تھا یعنی ہمیشہ کی اُس میں قید تھی مثلاً خدا کی قسم تجھ سے کبھی قربت نہ کرونگایا اس میں کچھ قید نہ تھی مثلاًخدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کرونگا تو اِن صورتوں میں ایک بائن طلاق پڑگئی پھر بھی قسم بدستور باقی ہے یعنی اگر اُس عورت سے پھر نکاح کیا تو پھر ایلا بدستور آگیا اگر وقت نکاح سے چارماہ کے اندر جماع کرلیا تو قسم کا کفارہ دے اور تعلیق تھی تو جزا واقع ہو جائیگی۔ اور اگر چار مہینے گزرلیے اور قربت نہ کی تو ایک طلاق بائن واقع ہوگئی مگر یمین بدستور باقی ہے سہ بارہ (3) نکاح کیاتو پھر ایلاآگیا اب بھی جماع نہ کرے تو چار ماہ گزر نے پر تیسری طلاق پڑجائیگی اور اب بے حلالہ نکاح نہیں کر سکتا اگر حلالہ کے بعد پھر نکاح کیا تو اب ایلا نہیں یعنی چار مہینے بغیر قربت گزرنے پر طلاق نہ ہوگی مگر قسم باقی ہے اگر جماع کریگا کفارہ واجب ہوگا۔ اور اگر پہلی یا دوسری طلاق کے بعد عورت نے کسی اور سے نکاح کیا اُس کے بعد پھر اس سے نکاح کیا تو مستقل طور پر اب سے تین طلاق کا مالک ہوگا مگر ایلا رہے گا یعنی قربت نہ کرنے پر طلاق ہوجائے گی پھر نکاح کیا پھر وہی حکم ہے پھر ایک یا دو طلاق کے بعد کسی سے نکاح کیا پھر اس سے نکاح کیا پھر وہی حکم ہے یعنی جب تک تین طلاق کے بعد دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے ایلا بدستور باقی رہے گا۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۴: ذمی نے ذات وصفات (5) کی قسم کے ساتھ ایلا کیا یا طلاق و عتاق(6) پر تعلیق کی تو ایلا ہے اور حج و روزہ و دیگر عبادات پر تعلیق کی تو ایلا نہ ہوا اور جہاں ایلا صحیح ہے وہاں مسلمان کے حکم میں ہے، مگر صحبت کرنے پر کفارہ واجب نہیں۔(7) (عالمگيری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب السابع فی الایلاء،ج۱،ص۴۷۶.
و''البحرالرائق''،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۴،ص۱۰۰.
2 ۔قسم۔ 3 ۔یعنی تیسری مرتبہ۔
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السابع في الایلاء،ج۱،ص۴۷۶.
5 ۔یعنی اللہ عزوجل کی ذات وصفات۔ 6 ۔یعنی غلام آزاد کرنے ۔
7 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السابع في الایلاء،ج۱، ص۴۷۶.
مسئلہ ۵: یوں ایلا کیا کہ اگر میں قربت کروں تو میرا فلاں غلام آزاد ہے اسکے بعد غلام مر گیا تو ایلا ساقط ہوگيا۔ یوہیں اگر اُس غلام کو بیچ ڈالا جب بھی ساقط ہے مگر وہ غلام اگر قربت سے پہلے پھر اس کی مِلک میں آگیا تو ایلا کا حکم لوٹ آئیگا۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: ایلا صرف منکوحہ سے ہوتا ہے یا مطلقہ رجعی سے کہ وہ بھی منکوحہ ہی کے حکم میں ہے اجنبیہ(2)سے اور جسے بائن طلاق دی ہے اُس سے ابتداء ً نہیں ہو سکتا۔ یوہیں اپنی لونڈی سے بھی نہیں ہو سکتا ہاں دوسرے کی کنیز اس کے نکاح میں ہے تو ایلا کر سکتا ہے یوہیں اجنبیہ کا ایلا اگر نکاح پر معلق کیا تو ہو جائیگا مثلاً اگر میں تجھ سے نکاح کر وں تو خدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کرونگا۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ایلا کے ليے یہ بھی شرط ہے کہ شوہر اہل طلاق ہو یعنی وہ طلاق دے سکتا ہو لہٰذا مجنون و نابالغ کا ایلا صحیح نہیں کہ یہ اہل طلاق نہیں۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۸: غلام نے اگر قسم کےساتھ ایلا کیا مثلاًخدا کی قسم میں تجھ سے قُربت نہ کروں گا یا ایسی چیز پر معلق کیا جسے مال سے تعلق نہیں مثلاً اگر میں تجھ سے قربت کروں تو مجھ پر اتنے دنوں کا روزہ ہے یا حج یا عمرہ ہے یا میری عورت کو طلاق ہے تو ایلا صحیح ہے۔ اور اگر مال سے تعلق ہے تو صحیح نہیں مثلاً مجھ پر ایک غلام آزاد کرنا یا اِتنا صدقہ دینا لازم ہے تو اِیلا نہ ہوا کہ وہ مال کا مالک ہی نہیں۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹: یہ بھی شرط ہے کہ چار مہینے سے کم کی مدت نہ ہو اور زوجہ کنیز ہے تو دو ماہ سے کم کی نہ ہو اور زیادہ کی کوئی حد نہیں اور زوجہ کنیز تھی اس کے شوہر نے ایلا کیا تھا اور مدت پوری نہ ہوئی تھی کہ آزاد ہوگئی تو اب اس کی مدت آزاد عورتوں کی ہے۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ جگہ معین نہ کرے اگر جگہ معین کی مثلاً واﷲ فلاں جگہ تجھ سے قربت نہ کروں گا تو ایلا نہیں۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ زوجہ کے ساتھ کسی باندی یا اجنبیہ کو نہ ملائے مثلاً تجھ سے اور فلاں عورت سے قربت نہ کرونگا۔ اور یہ کہ بعض مدت کا استثنا نہ ہو مثلاً چار مہینے تجھ سے قربت نہ کرونگا مگر ایک دن۔ اور یہ کہ قربت کے ساتھ کسی اور چیز کو نہ ملائے مثلاً اگر میں تجھ سے قربت کروں یا تجھے اپنے بچھونے پر بُلاؤں تو تجھ کو طلاق ہے تو یہ ایلا نہیں۔ (6)(خانیہ، درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۲.
2 ۔یعنی نا محرمہ عورت۔
3 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۲.
4 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۲.
5 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۲.
6 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۱، ص۲۶۵۔۲۶۶.
و ''الدر المختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۴.
مسئلہ ۱۰: اس کے الفاظ بعض صریح ہیں بعض کنا یہ صریح وہ الفاظ ہیں جن سے ذہن معنی جماع کی طرف سبقت (1) کرتا ہو اس معنی میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہو اس میں نیت در کار نہیں بغیر نیت بھی ایلا ہے اور اگر صریح لفظ میں یہ کہے کہ میں نے معنی جماع کا ارادہ نہ کیا تھا تو قضاءً اُس کا قول معتبر نہیں دیانۃً معتبر ہے۔ کنا یہ وہ جس سے معنی جماع متبادر نہ ہوں دوسرے معنی کابھی احتمال ہواس میں بغیر نیت ایلا نہیں اور دوسرے معنی مراد ہونا بتا تا ہے تو قضاءً بھی اس کا قول مان لیا جائیگا۔(2)(ردالمحتاروغیرہ)
مسئلہ ۱۱: صریح کے بعض الفاظ یہ ہیں واﷲ میں تجھ سے جماع نہ کرونگا، قربت نہ کرونگا، صحبت نہ کروں گا، وطی (3)نہ کرونگا اور اُردو میں بعض اور الفاظ بھی ہیں جو خاص جماع ہی کے ليے بولے جاتے ہیں اُن کے ذکر کی حاجت نہیں ہر شخص اُردوداں جانتا ہے۔ علامہ شامی نے اس لفظ کو کہ میں تیرے ساتھ نہ سوؤں گا صریح کہا ہے اور اصل یہ ہے کہ مدار(4)عرف پر ہے عرفاً جس لفظ سے معنی جماع متبادرہوں(5) صریح ہے، اگرچہ یہ معنی مجازی ہوں۔ کنا یہ کے بعض الفاظ یہ ہیں: تیرے بچھونے کے قریب نہ جاؤنگا، تیرے ساتھ نہ لیٹو ں گا، تیرے بدن سے میرا بدن نہ ملے گا، تیرے پاس نہ رہوں گا، وغیرہا۔ (6)
مسئلہ ۱۲: ایسی بات کی قسم کھائی کہ بغیر جماع کيے قسم ٹوٹ جائے تو ایلا نہیں مثلاً اگر میں تجھ کو چھوؤں تو ایسا ہے کہ محض بد ن پر ہاتھ رکھنے ہی سے قسم ٹوٹ جائیگی۔ (7)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۳: اگر کہا میں نے تجھ سے ایلا کیا ہے اب کہتا ہے کہ میں نے ایک جھوٹی خبر دی تھی تو قضائً ایلا ہے اور دیانۃً اُس کا قول مان لیا جائیگا اور اگر یہ کہے کہ اس لفظ سے ایلا کرنا مقصود تھا تو قضاءً و دیانۃً ہر طرح ایلا ہے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: یہ کہا کہ واﷲ تجھ سے قربت نہ کرونگا جب تک تو یہ کام نہ کرلے اور وہ کام چار مہینے کے اندر کرسکتی ہے تو ایلا نہ ہوا اگرچہ چار مہینے سے زیادہ میں کرے۔(9) (ردالمحتار)
1 ۔یعنی پہلے پہل،ابتداء ً ذہن جماع کے معنی کی طرف جاتاہو۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۵، وغیرہ.
3 ۔جماع ۔ 4 ۔انحصار۔ 5 ۔ ذہن میں فوراً آجاتا ہو۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۵،ص۶۵،۶۷،وغیرہا.
7 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۷۷.
8 ۔ المرجع السابق، ص۴۷۸.
9 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۶.
مسئلہ ۱۵: ایلا اگر تعلیق سے ہو تو ضرور ہے کہ جماع پر کسی ایسے فعل کو معلق کرے جس میں مشقت ہو لہٰذا اگر یہ کہا کہ اگر میں قربت کروں تو مجھ پر دورکعت نفل ہے تو ایلا نہ ہوا اور اگر کہا کہ مجھ پر سو رکعتیں نفل کی ہیں تو ایلا ہوگيا اور اگر وہ چیز ایسی ہے جس کی منت نہیں جب بھی ایلا نہ ہوامثلاً تلاوت قرآن، نماز جنازہ، تکفین میّت(1)، سجدہ تلاوت، بیت المقدس میں نماز۔(2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: اگر میں تجھ سے قربت کروں تو مجھ پر فلاں مہینے کا روزہ ہے اگر وہ مہینہ چار مہینے پورے ہونے سے پہلے پورا ہوجائے تو ایلا نہیں، ورنہ ہے۔ (3)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۷: اگر میں تجھ سے قربت کروں تو مجھ پر ایک مسکین کا کھانا ہے یا ایک دن کا روزہ تو ایلا ہوگيا یا کہا خدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کروں گا جب تک اپنے غلام کو آزاد نہ کروں یا اپنی فلاں عورت کو طلاق نہ دوں یا ایک مہینے کا روزہ نہ رکھ لوں تو ان سب صورتوں میں ایلا ہے۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۸: تو مجھ پر ویسی ہے جیسے فلاں کی عورت اور اُس نے ایلا کیا ہے اور اِس نے بھی ایلا کی نیت کی تو ایلا ہے ورنہ نہیں۔ یہ کہا کہ اگر میں تجھ سے قربت کروں تو تُو مجھ پر حرام ہے اور نیت ایلا کی ہے تو ہو گیا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: ایک عورت سے ایلا کیا پھر دوسری سے کہا تجھے میں نے اُس کے ساتھ شریک کردیا تو دوسری سے ایلا نہ ہوا۔(6) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۰: دوعورتوں سے کہا واﷲ میں تم دونوں سے قربت نہ کرونگا تو دونوں سے ایلا ہوگيا اب اگر چار مہینے گزر گئے اور دونوں سے قربت نہ کی تو دونوں بائن ہوگئیں اور اگر ایک سے چار مہینے کے اندر جماع کرلیا تو اس کا ایلا باطل ہوگيا اور دوسری کا باقی ہے، مگر کفارہ واجب نہیں اور اگر مدت کے اندر ایک مر گئی تو دونوں کا ایلا باطل ہے اور کفارہ نہیں اور اگر ایک کو طلاق دی تو ایلا باطل نہیں اور اگر مدت میں دونوں سے جماع کیا تو دونوں کا ایلا باطل ہوگیا اور ایک کفارہ واجب ہے۔ (7)(عالمگيری)
1 ۔میت کوکفن دینا۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۷۸.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق. 7 ۔ المرجع السابق، ص۴۷۹.
مسئلہ ۲۱: اپنی چار عورتوں سے کہا خداکی قسم میں تم سے قربت نہ کرونگا مگر فلانی یا فلانی سے، تو ان دونوں سے ایلا نہ ہوا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: اپنی دوعورتوں کو مخاطب کرکے کہا خدا کی قسم تم میں سے ایک سے قربت نہ کرونگا تو ایک سے ایلا ہوا۔ پھر اگر ایک سے وطی کرلی ایلا باطل ہوگیا اورکفارہ واجب ہے۔ اور اگر ایک مر گئی یا مرتد ہ ہوگئی یا اُس کو تین طلاقیں دیدیں تو دوسری ایلا کے ليے معیَّن ہے۔ اور اگر کسی سے وطی نہ کی یہاں تک کہ مدت گزر گئی تو ایک کو بائن طلاق پڑگئی اُسے اختیار ہے جسے چاہے اس کے ليے معین کرے۔ اور اگر چار مہینے کے اندر ایک کو معین کرنا چاہتا ہے تو اسکا اُسے اختیار نہیں اگر معین کر بھی دے جب بھی معین نہ ہوئی مدت کے بعد معین کرنے کا اُسے اختیار ہے۔ اگر ایک سے بھی جماع نہ کیا اور چارمہینے اور گزر گئے تو دونوں بائن ہوگئیں اس کے بعد اگر پھر دونوں سے نکاح کیا ایک ساتھ یا آگے پیچھے تو پھر ایک سے ایلا ہے مگر غیر معین اور دونوں مدتیں گزرنے پر دونوں بائن ہو جائیں گی۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۳: اگر کہا تم دونوں میں کسی سے قربت نہ کرونگا تو دونوں سے ایلا ہے چار مہینے گزر گئے اور کسی سے قربت نہ کی تو دونوں کو طلاق بائن ہوگئی اور ایک سے وطی کرلی تو ایلا باطل ہے اور کفارہ واجب۔(3) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۴: اپنی عورت اور باندی سے کہا تم میں ایک سے قربت نہ کرونگا تو ایلا نہیں ہاں اگر عورت مراد ہے تو ہے اور ان میں ایک سے وطی کی تو قسم ٹوٹ گئی کفارہ دے۔ پھر اگر لونڈی کو آزاد کرکے اُس سے نکاح کیا جب بھی ایلا نہیں اور اگر دو زوجہ ہوں ایک حرہ (4) دوسری باندی اور کہا تم دونوں سے قربت نہ کرونگا تو دونوں سے ایلا ہے دو۲ مہینے گزر گئے اور کسی سے قربت نہ کی تو باندی کو بائن طلاق ہوگئی اسکے بعد دو ۲ مہینے اور گزر ے تو حرہ بھی بائن۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۵: اپنی دو عورتوں سے کہا کہ اگر تم میں ایک سے قربت کروں تو دوسری کو طلاق ہے اور چار مہینے گزر گئے مگرکسی سے وطی نہ کی تو ایک بائن ہوگئی اور شوہر کو اختیار ہے جس کو چاہے طلاق کے ليے معین کرے اور اب دوسری سے ایلا ہے اگر پھر چار مہینے گزر گئے اور ہنوز(6) پہلی عدت میں ہے تو دوسری بھی بائن ہوگئی ورنہ نہیں اور اگر معین نہ کیا یہاں تک کہ اور چار
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۷۹.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔آزادعورت جولونڈی نہ ہو۔
5 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۷۹.
6 ۔ابھی تک۔
مہینے گزر گئے تو دونوں بائن ہوگئیں۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۶: جس عورت کو طلاق بائن دی ہے اُس سے ایلا نہیں ہوسکتا اور رجعی دی ہے تو عدت میں ہوسکتا ہے مگر وقت ایلا سے چار مہینے پورے نہ ہوئے تھے کہ عدت ختم ہوگئی تو ایلا ساقط ہوگیا اور اگر ایلا کرنے کے بعد طلاق بائن دی تو طلاق ہوگئی اور وقت ایلا سے چار مہینے گزرے اور ہنوز طلاق کی عدت پوری نہ ہوئی تو دوسری طلاق پھر پڑی اور اگر عدت پوری ہونے پر ایلا کی مدت پوری ہوئی تو اب ایلا کی وجہ سے طلاق نہ پڑے گی۔ اور اگر ایلا کے بعد طلاق دی اور عدت کے اندر اُس سے پھر نکاح کرلیا تو ایلا بدستور باقی ہے یعنی وقت ایلا سے چار مہینے گزرنے پر طلاق واقع ہوجائے گی اور عدت پوری ہونے کے بعد نکاح کیا جب بھی ایلا ہے مگر وقت نکاح ثانی سے چار ماہ گزرنے پر طلاق ہوگی۔ (2)(خانیہ)
مسئلہ ۲۷: یہ کہا کہ خدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کرونگا دومہینے اور دو مہینے تو ایلا ہوگيا۔ اور اگر یہ کہا کہ واﷲ دو مہینے تجھ سے قربت نہ کروں گا پھر ایک دن بعد بلکہ تھوڑی دیر بعد کہا واﷲ اُن دومہینوں کے بعد دومہینے قربت نہ کرونگا تو ایلا نہ ہوا مگر اس مدت میں جماع کریگا تو قسم کا کفارہ لازم ہے۔ اگر کہا قسم خدا کی تجھ سے چار مہینے قربت نہ کرونگا مگر ایک دن ،پھر فوراًکہا واﷲ اُس دن بھی قربت نہ کرونگا تو ایلا ہو گیا۔ (3)(عالمگیری ،درمختار)
مسئلہ ۲۸: اپنی عورت سے کہا تجھ کو طلاق ہے قبل اس کے کہ تجھ سے قربت کروں تو ایلا ہوگیا اگر قربت کی تو فوراً طلاق ہوگئی اور چار مہینے تک نہ کی تو ایلا کی وجہ سے بائن ہوگئی۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۲۹: یہ کہا کہ اگر میں تجھ سے قربت کروں تو مجھ پر اپنے لڑکے کو قربانی کر دینا ہے تو ایلا ہوگيا۔(5)(عالمگيری)
مسئلہ ۳۰: یہ کہا کہ اگر میں تجھ سے قربت کروں تو میرا یہ غلام آزاد ہے، چار مہینے گزر گئے اب عورت نے قاضی کے یہاں دعویٰ کیا قاضی نے تفریق کردی(6) پھر اُس غلام نے دعویٰ کیا کہ میں غلام نہیں بلکہ اصلی آزاد ہوں اور گواہ بھی پیش کرديے
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱،ص۴۸۰.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۱، ص۲۶۶،۲۶۷.
3 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۸۱،۴۸۲.
و ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۷۰ .
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ، ص۴۸۲.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔یعنی جدائی ڈال دی ۔
قاضی فیصلہ کریگا کہ وہ آزاد ہے اور ایلا باطل ہو جائیگا اور عورت واپس ملے گی کہ ایلا تھا ہی نہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: اپنی عورت سے کہا خدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کروں گا ایک دن بعد پھر یہی کہا ایک دن اور گزرا پھر یہی کہا تو یہ تین ایلا ہوئے اور تین قسمیں۔ چار مہینے گزرنے پر ایک بائن طلاق پڑی پھر ایک دن اور گزرا تو ایک اور پڑی، تیسرے دن پھر ایک اور پڑی اب بغیر حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی، حلالہ کے بعد اگر نکاح اور قربت کی تو تین کفارے ادا کرے اور اگر ایک ہی مجلس میں یہ لفظ تین بار کہے اور نیت تاکید کی ہے تو ایک ہی ایلا ہے اور ایک ہی قسم اور اگر کچھ نیت نہ ہویا بار بار قسم کھانا تشدد کی نیت سے ہو تو ایلا ایک ہے مگر قسم تین، لہٰذا اگر قربت کریگا تو تین کفارے دے اور قربت نہ کرے تو مدت گزرنے پر ایک طلاق واقع ہوگی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳۲: خدا کی قسم میں تجھ سے ایک سال تک قربت نہ کرونگا مگر ایک دن یا ایک گھنٹا تو فی الحال ایلا نہیں مگر جبکہ سال میں کسی دن جماع کرلیا اور ابھی سال پورا ہونے میں چار ماہ یا زیادہ باقی ہیں تو اب ایلا ہوگیا۔ اور اگر جماع کرنے کے بعد سال میں چار مہینے سے کم باقی ہے یا اُس سال قربت ہی نہ کی تو اب بھی ایلا نہ ہوا۔ اوراگر صورت مذکورہ میں ایک دن کی جگہ ایک بار کہا جب بھی یہی حکم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اگر ایک دن کہا ہے تو جس دن جماع کیا ہے اُس دن آفتاب ڈوبنے کے بعد سے اگر چار مہینے باقی ہیں تو ایلا ہے ورنہ نہیں اگرچہ وقت جماع سے چارمہینے ہوں اور اگر ایک بار کا لفظ کہا تو جماع سے فارغ ہونے سے چار ماہ باقی ہیں تو ایلا ہوگیا۔ اور اگر یوں کہا کہ میں ایک سال تک جماع نہ کرونگا مگر جس دن جماع کروں تو ایلاکسی طرح نہ ہوا اور اگر یہ کہا کہ تجھ سے قربت نہ کرونگا مگر ایک دن یعنی سال کا لفظ نہ کہا تو جب کبھی جماع کریگا اُسوقت سے ایلا ہے۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳۳: عورت دوسرے شہر یا دوسرے گاؤں میں ہے شوہر نے قسم کھائی کہ میں وہاں نہیں جاؤنگا تو ایلا نہ ہوا اگرچہ وہاں تک چار مہینے یا زیادہ کی راہ ہو۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: جماع کرنے کو کسی ایسی چیز پر موقوف کیا جسکی نسبت یہ امید نہیں ہے کہ چار مہینے کے اندر ہوجائے تو ایلا ہوگيا مثلاً رجب کے مہینے میں کہے واﷲ میں تجھ سے قربت نہ کرونگا جب تک محرم کا روزہ نہ رکھ لوں یا میں تجھ سے جماع نہ
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۸۲.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۷۰.
3 ۔المرجع السابق، ص۷۲، وغیرہ.
4 ۔ ''الدر المختار'' و''رد المحتار''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۷۰.
کرونگامگر فلاں جگہ اور وہاں تک چار مہینے سے کم میں نہیں پہنچ سکتا یا جب تک بچہ کے دودھ چُھڑانے کا وقت نہ آئے اور ابھی دو ۲ برس پورے ہونے میں چار ماہ یا زیادہ باقی ہے تو ان سب صورتوں میں ایلا ہے۔ یوہیں اگر وہ کام مدت کے اندر تو ہوسکتا ہے مگر یوں کہ نکاح نہ رہیگا جب بھی ایلا ہے مثلاً قربت نہ کرونگا یہاں تک کہ تو مرجائے یا میں مرجاؤں یا تو قتل کی جائے یا میں مار ڈالا جاؤں یا تو مجھے مار ڈالے یامیں تجھے مار ڈالوں یا میں تجھے تین طلاقیں دیدوں۔(1) (جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۳۵: یہ کہا کہ تجھ سے قیامت تک قربت نہ کرونگا یا یہاں تک کہ آفتاب مغرب سے طلوع کرے یا دجال لعین کا خروج ہو (2)یا دابۃ الا رض (3)ظاہر ہو یا اونٹ سوئی کے ناکے میں چلا جائے یہ سب ایلا ئے مؤبد ہے۔ (4)(جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۳۶: عورت نا بالغہ ہے اُس سے قسم کھا کر کہا کہ تجھ سے قربت نہ کرونگا جب تک تجھے حیض نہ آجائے، اگر معلوم ہے کہ چار مہینے تک نہ آئیگا تو ایلا ہے۔ یوہیں اگر عورت آئسہ ہے اُس سے کہا جب بھی ایلا ہے۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۷: قسم کھا کر کہا تجھ سے قربت نہ کرونگا جب تک تو میری عورت ہے پھر اسے بائن طلا ق دیکر نکاح کیا تو ایلا نہیں اور اب قربت کریگا تو کفارہ بھی نہیں۔(6) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۸: قربت کرنا ایسی چیز پر معلق کیا جو کر نہیں سکتا مثلاً یہ کہا جب تک آسمان کو نہ چھولوں توایلا ہوگیا اور اگر کہا کہ جماع نہ کرونگا جب تک یہ نہر جاری ہے اور وہ نہر بارہوں مہینے جاری رہتی ہے تو ایلا ہے۔(7) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۹: صحت کی حالت میں ایلا کیا تھا اور مدت کے اندر وطی کی مگر اس وقت مجنون ہے تو قسم ٹوٹ گئی اور ایلا ساقط۔ (8)(فتح)
مسئلہ ۴۰: ایلا کیا اور مدت کے اندر قسم توڑنا چاہتا ہے مگر وطی کرنے سے عاجز ہے کہ وہ خود بیمار ہے یا عورت بیمار ہے یا عورت صغیر سن (9)ہے یا عورت کا مقام بند ہے کہ وطی ہونہیں سکتی یا یہی نا مرد ہے یا اسکا عضو کاٹ ڈالا گیا ہے یا عورت اتنے فاصلہ پر ہے کہ چار مہینے میں وہاں نہیں پہنچ سکتا یا خودقید ہے اور قید خانہ میں وطی نہیں کر سکتا اور قید بھی ظلماً ہو یا عورت جما ع نہیں
1 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الایلاء ،الجزء الثانی ص۷۱، وغیرہا.
2 ۔ظہور ہو، دجال لعین نکلے ۔
3 ۔ ایک جانورہے ،جوقرب قیامت میں نکلے گا۔دیکھیے بہارشریعت جلداول ، حصہ اول،ص۱۲۶۔
4 ۔''الجوہرۃ النیرۃ'' ، کتاب الایلاء ،الجزء الثانی ص۷۱.
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۸۵.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق.
8 ۔''فتح القدیر'' ،کتاب الطلاق،باب الایلاء ،ج۴،ص۵۷.
9 ۔ چھوٹی عمروالی۔
کرنے دیتی یا کہیں ایسی جگہ ہے کہ اسکو اُسکا پتا نہیں تو ایسی صورتوں میں زبان سے رجوع کے الفاظ کہہ لے مثلاً کہے میں نے تجھے رجوع کرلیا یا ایلا کو باطل کر دیا یا میں نے اپنے قول سے رجوع کیا یا واپس لیا تو ایلا جاتا رہیگا یعنی مدت پوری ہونے پر طلاق واقع نہ ہوگی اور احتیاط یہ ہے کہ گواہوں کے سامنے کہے مگر قسم اگر مطلق ہے یا مؤبد تو وہ بحالہٖ (1)باقی ہے جب وطی کریگاکفارہ لازم آئیگا۔ اور اگر چار مہینے کی تھی اور چار مہینے کے بعد وطی کی تو کفارہ نہیں مگر زبان سے رجوع کرنے کے ليے یہ شرط ہے کہ مدت کے اندر یہ عجز(2) قائم رہے اور اگر مدت کے اندر زبانی رجوع کے بعد وطی پر قادر ہوگیا تو زبانی رجوع نا کافی ہے وطی ضرورہے۔(3)(درمختار، جوہرہ وغیرہما)
مسئلہ ۴۱: اگر کسی عذر شرعی کی وجہ سے وطی نہیں کرسکتا مثلاً خود یا عورت نے حج کا احرام باندھا ہے اور ابھی حج پورے ہونے میں چار مہینے کا عرصہ ہے تو زبان سے رجوع نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگر کسی کے حق کی وجہ سے قید ہے تو زبانی رجوع کافی نہیں کہ یہ عاجز نہیں کہ حق ادا کرکے قید سے رہائی پا سکتا ہے اور اگر جہاں عورت ہے وہاں تک چار مہینے سے کم میں پہنچے گا مگر دشمن یا بادشاہ جانے نہیں دیتا تو یہ عذر نہیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: وطی سے عاجز نے دل سے رجوع کرلیا مگر زبان سے کچھ نہ کہا تو رجوع نہیں۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: جس وقت ایلا کیا اُس وقت عاجز نہ تھا پھر عاجز ہوگیا تو زبانی رجوع کافی نہیں مثلاً تندرست نے ایلا کیا پھر بیمار ہوگيا تو اب رجوع کے ليے وطی ضرور ہے، مگر جبکہ ایلا کرتے ہی بیمار ہوگيا اتنا وقت نہ ملا کہ وطی کرتا تو زبان سے کہہ لینا کافی ہے اور اگر مریض نے ایلا کیا تھا اور ابھی اچھا نہ ہوا تھا کہ عورت بیمار ہوگئی، اب یہ اچھا ہوگیا تو زبانی رجوع ناکافی ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: زبان سے رجوع کے ليے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وقت رجوع نکاح باقی ہواور اگر بائن طلاق دیدی تو رجوع نہیں کر سکتا یہاں تک کہ اگر مدت کے اندر نکاح کرلیا پھر مدت پوری ہوئی تو طلاق بائن واقع ہوگئی۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔اسی طرح۔ 2 ۔عذر،مجبوری
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۷۴،۷۶.
و''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الایلاء ، الجزء الثانی،ص۷۵، وغیرہما.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار'' ،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۵،ص۷۴.
5 ۔''رد المحتار''،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۵،ص۷۵.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار'' ،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۵،ص۷۶،۷۷.
7 ۔ المرجع السابق، ص۷۷.
مسئلہ ۴۵: شہوت کے ساتھ بوسہ لینا یا چھونا یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کرنا یا آگے کے مقام کے علاوہ کسی اور جگہ وطی کرنا رجوع نہیں۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۴۶: اگر حیض میں جماع کرلیا تو اگرچہ یہ بہت سخت حرام ہے مگر ایلا جاتا رہا۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۴۷: اگر ایلا کسی شرط پر معلق تھا اور جس وقت شرط پائی گئی اُس وقت عاجز ہے تو زبانی رجوع کافی ہے ورنہ نہیں،تعلیق کے وقت کا لحاظ نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۸: مریض نے ایلا کیا پھر دس دن کے بعد دوبارہ ایلا کے الفاظ کہے تو دو۲ ایلا ہیں اور دو ۲ قسمیں اور دونوں کی دو مدتیں اگر دونوں مدتیں پوری ہونے سے پہلے زبانی رجوع کرلیا اور دونوں مدتیں پوری ہونے تک بیمار رہا تو زبانی رجوع صحیح ہے دونوں ایلا جاتے رہے۔ اور اگر پہلی مدت پوری ہونے سے پہلے اچھا ہوگيا تو وہ رجوع کرنا بیکار گیا اور اگر زبانی رجوع نہ کیا تھاتو دونوں مدتیں پوری ہونے پر دو ۲ طلاقیں واقع ہونگی اور اگر جماع کرلے گا تو دونوں قسمیں ٹوٹ جائیں گی اور دو کفارے لازم اور اگر پہلی مدت پوری ہونے سے پہلے زبانی رجوع کیا اور مدت پوری ہونے پر اچھا ہوگيا تو اب دوسرے کے ليے وہ کافی نہیں بلکہ جماع ضرور ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: مدت میں اگر زوج و زوجہ کا اختلاف ہو تو شوہر کا قول معتبر ہے مگر عورت کو جب اُس کا جھوٹا ہونا معلوم ہو تو اُسے اجازت نہیں کہ اُس کے ساتھ رہے جس طرح ہوسکے مال وغیرہ دیکر اُس سے علیحدہ ہو جائے۔ اور اگر مدت کے اندر جماع کرنا بتاتا ہے تو شوہر کا قول معتبر ہے اور پوری ہونے کے بعد کہتا ہے کہ اثنائے مدت (5)میں جماع کیا ہے تو جب تک عورت اُس کی تصدیق نہ کرے اُس کا قول نہ مانیں۔ (6)(عالمگیری ، جوہرہ)
مسئلہ ۵۰: عورت سے کہا اگر تو چاہے تو خدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کرونگا اُسی مجلس میں عورت نے کہامیں نے چاہا تو ایلا ہوگيا۔ یوہیں اگر اور کسی کے چاہنے پر ایلا معلق کیا تو مجلس میں اُس کے چاہنے سے ایلا ہو جائیگا۔ (7)(عالمگيری)
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۸۵.
2 ۔المرجع السابق، ص۴۸۶. 3 ۔المرجع السابق، ص۴۸۶.
4 ۔ المرجع السابق، ص۴۸۶.
5 ۔مدت کے دوران۔
6 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، المرجع السابق، ص۴۸۷.
و''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الایلاء، الجزء الثانی،ص۷۵.
7 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۸۷.
مسئلہ ۵۱: عورت سے کہا تو مجھ پر حرام ہے اس لفظ سے ایلا کی نیت کی تو ایلا ہے اور ظہار کی ،تو ظہار ورنہ طلاق بائن اور تین کی نیت کی تو تین۔ اور اگر عورت نے کہا کہ میں تجھ پر حرام ہوں تو یمین ہے شوہر نے زبر دستی یا اُس کی خوشی سے جماع کیا تو عورت پرکفارہ لازم ہے۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۲: اگر شوہر نے کہا تو مجھ پر مثل مُردار یا گوشتِ خنزیر یا خون یا شراب کے ہے اگر اس سے جھوٹ مقصود ہے تو جھوٹ ہے اور حرام کرنا مقصود ہے تو ایلا ہے اور طلاق کی نیت ہے تو طلاق۔ (2)(جوہرہ)
مسئلہ ۵۳: عورت کو کہا تو میری ماں ہے اور نیت تحریم کی ہے تو حرام نہ ہوگی، بلکہ یہ جھوٹ ہے۔(3) (جوہرہ)
مسئلہ ۵۴: اپنی دوعورتوں سے کہا تم دونوں مجھ پر حرام ہو اور ایک میں طلاق کی نیت ہے، دوسری میں ایلا کی یا ایک میں ایک طلاق کی نیت کی، دوسری میں تین کی تو جیسی نیت کی، اُس کے موافق حکم دیا جائے گا۔(4) (درمختار ،عالمگیری)
اﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
(وَلَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ شَیۡئًا اِلَّاۤ اَنۡ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِ ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِ ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَا فِیۡمَا افْتَدَتْ بِہٖ ؕ تِلْکَ حُدُودُ اللہِ فَلَا تَعْتَدُوۡہَا ۚ وَمَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۲۹﴾ )(5)
تمھیں حلال نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا ہے اُس میں سے کچھ واپس لو، مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اﷲ (عزوجل) کی حدیں قائم نہ رکھیں گے پھر اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اﷲ (عزوجل) کی حدیں قائم نہ رکھیں گے تو اُن پر کچھ گناہ نہیں، اِس میں کہ بدلا دیکر عورت چھٹی لے، یہ اﷲ (عزوجل) کی حدیں ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اورجو اﷲ (عزوجل) کی حدوں سے تجاوز کریں تو وہ لوگ ظالم ہیں۔
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الایلاء،مطلب فی قولہ:أنت علیَّ حرام،ج۵،ص۷۷۔۸۱ .
2 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الایلاء،الجزء الثانی،ص۷۶.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۵،ص۸۵.
و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السابع في الایلاء،ج۱،ص۴۸۷.
5 ۔پ۲،البقرۃ:۲۲۹.
حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی کہ ثا بت بن قیس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی زوجہ نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، کہ یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ثابت بن قیس کے اخلاق و دین کی نسبت مجھے کچھ کلام نہیں (یعنی اُن کے اخلاق بھی اچھے ہیں اور دیندار بھی ہیں) مگر اسلام میں کفران نعمت کو میں پسند نہیں کرتی (یعنی بوجہ خوبصورت نہ ہونے کے میر ی طبیعت ان کی طرف مائل نہیں) ارشار فرمايا: ''اُس کا باغ (جو مہر میں تجھ کو دیا ہے) تو واپس کر دیگی؟'' عرض کی، ہاں۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ثابت بن قیس سے فرمايا: ''باغ لے لو اور طلاق دیدو۔'' (1)
مسئلہ ۱: مال کے بدلے میں نکاح زائل کرنے کو خلع کہتے ہیں عورت کا قبول کرنا شرط ہے بغیر اُس کے قبول کیے خلع نہیں ہو سکتا اور اس کے الفاظ معین ہیں ان کے علاوہ اور لفظوں سے نہ ہو گا۔
مسئلہ ۲: اگر زوج و زوجہ میں نا اتفاقی رہتی ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ احکام شرعیہ کی پابندی نہ کرسکیں گے تو خلع میں مضایقہ نہیں اور جب خلع کر لیں تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور جو مال ٹھہرا ہے عورت پر اُس کا دینا لازم ہے۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۳: اگر شوہر کی طرف سے زیادتی ہو تو خلع پر مطلقاً عوض لینا مکروہ ہے اور اگر عورت کی طرف سے ہو تو جتنا مہر میں دیا ہے اُس سے زیا دہ لینا مکروہ پھر بھی اگر زیادہ لے لے گا تو قضاءً جائز ہے۔(3) (عالمگيری)
مسئلہ ۴: جو چیز مہر ہو سکتی ہے وہ بدل خلع بھی ہو سکتی ہے اور جو چیز مہرنہیں ہو سکتی وہ بھی بدل خلع ہو سکتی ہے مثلاً دس درہم سے کم کو بدل خلع کر سکتے ہیں مگر مہر نہیں کر سکتے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۵: خلع شوہر کے حق میں طلاق کو عورت کے قبول کرنے پر معلق کرنا ہے کہ عورت نے اگر مال دینا قبول کر لیا تو طلاق بائن ہو جائے گی لہٰذا اگر شوہر نے خلع کے الفاظ کہے اور عورت نے ابھی قبول نہیں کیا تو شوہر کو رجوع کا اختیار نہیں نہ شوہر کو شرط خیار حاصل اور نہ شوہر کی مجلس بدلنے سے خلع باطل۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۶: خلع عورت کی جانب میں اپنے کو مال کے بدلے میں چھڑانا ہے تو اگر عورت کی جانب سے ابتدا ہوئی مگر
1 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الطلاق، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ، الحدیث: ۵۲۷۳،ج۳، ص۴۸۷.
2 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۲، ص۲۶۱.
3 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الاول، ج۱، ص۴۸۸.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۸۹.
5 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۶.
ابھی شوہر نے قبول نہیں کیا تو عورت رجوع کر سکتی ہے اور اپنے ليے اختیار بھی لے سکتی ہے اور یہاں تین دن سے زیادہ کا بھی اختیار لے سکتی ہے۔ بخلاف بیع (1) کے کہ بیع میں تین دن سے زیادہ کا اختیار نہیں اور دونوں میں سے ایک کی مجلس بدلنے کے بعد عورت کا کلام باطل ہو جائیگا۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۷: خلع چونکہ معاوضہ ہے لہٰذا یہ شرط ہے کہ عورت کا قبول اُس لفظ کے معنٰے سمجھ کر ہو، بغیر معنٰے سمجھے اگر محض لفظ بول دے گی تو خلع نہ ہوگا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۸: چونکہ شوہر کی جانب سے خلع طلاق ہے لہٰذا شوہر کا عاقل بالغ ہونا شرط ہے نا بالغ یامجنون خلع نہیں کر سکتا کہ اہل طلاق نہیں(4) اور یہ بھی شرط ہے کہ عورت محل طلاق ہو لہٰذا اگر عورت کو طلاق بائن دیدی ہے تو اگرچہ عدت میں ہو اُس سے خلع نہیں ہوسکتا۔ یوہیں اگر نکاح فاسد ہواہے یا عورت مرتدہ ہوگئی جب بھی خلع نہیں ہو سکتا کہ نکاح ہی نہیں ہے خلع کس چیز کا ہو گا اور رجعی کی عدت میں ہے تو خلع ہو سکتا ہے۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: شوہر نے کہا میں نے تجھ سے خلع کیا اور مال کا ذکر نہ کیا تو خلع نہیں بلکہ طلاق ہے اور عورت کے قبول کرنے پر موقوف نہیں۔(6) (بدائع)
مسئلہ ۱۰: شوہر نے کہامیں نے تجھ سے اتنے پر خلع کیا عورت نے جواب میں کہا ہاں تو اس سے کچھ نہیں ہوگا جب تک یہ نہ کہے کہ میں راضی ہوئی یا جائز کیا یہ کہا تو صحیح ہوگیا۔ یوہیں اگر عورت نے کہا مجھے ہزار روپیہ کے بدلے میں طلاق دیدے شوہر نے کہا ہاں تو یہ بھی کچھ نہیں اور اگر عورت نے کہا مجھ کو ہزار روپیہ کے بدلے میں طلاق ہے شوہر نے کہا ہاں تو ہوگئی۔(7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: نکاح کی وجہ سے جتنے حقوق ایک کے دوسرے پر تھے وہ خلع سے ساقط ہو جاتے ہیں اور جو حقوق کہ نکاح سے علاوہ ہیں وہ ساقط نہ ہوں گے۔ عدت کا نفقہ اگرچہ نکاح کے حقوق سے ہے مگر یہ ساقط نہ ہوگا ہاں اگر اس کے ساقط ہونے کی
1 ۔خریدوفروخت۔
2 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۶.
3 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۹۱.
4 ۔یعنی طلاق دینے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
5 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۸۷،۸۹.
6 ۔''بدائع الصنائع''، کتاب الطلاق، فصل رکن الخلع، ج۳، ص۲۲۹.
7 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الاول، ج۱، ص۴۸۸.
شرط کر دی گئی تو یہ بھی ساقط ہو جائیگا۔ یوہیں عورت کے بچہ ہو تو اُس کا نفقہ اور دودھ پلانے کے مصارف (1)ساقط نہ ہوں گے اور اگر ان کے ساقط ہونے کی بھی شرط ہے اور اس کے ليے کوئی وقت معین کر دیا گیا ہے تو ساقط ہو جائیں گے ورنہ نہیں اور بصورت وقت معین کرنے کے اگر اُس وقت سے پیشتر بچہ کا انتقال ہوگيا تو باقی مدت میں جو صرف ہوتا وہ عورت سے شوہر لے سکتا ہے۔ اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ عورت اپنے مال سے دس برس تک بچہ کی پرورش کریگی تو بچہ کے کپڑے کا عورت مطالبہ کر سکتی ہے۔ اور اگر بچہ کا کھانا کپڑا دونوں ٹھہرا ہے تو کپڑے کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی اگرچہ یہ معین نہ کیا ہو کہ کس قسم کا کپڑا پہنائے گی اور بچہ کو چھوڑ کر عورت بھاگ گئی تو باقی نفقہ کی قیمت شوہر وصول کر سکتا ہے۔ اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ بلوغ تک اپنے پاس رکھے گی تو لڑکی میں ایسی شرط ہو سکتی ہے لڑکے میں نہیں۔ (2)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۲: خلع کسی مقدار معین پر ہوا اور عورت مدخولہ ہے اور مہر پر عورت نے قبضہ کر لیا ہے تو جو ٹھہرا ہے شوہر کو دے اور اس کے علاوہ شوہر کچھ نہیں لے سکتا ہے۔ اور مہرعورت کو نہیں ملا ہے تو اب عورت مہر کا مطالبہ نہیں کرسکتی اورجو ٹھہرا ہے شوہر کو دے۔ اور اگر غیر مدخولہ ہے اور پورا مہر لے چکی ہے تو شوہر نصف مہر کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور مہرعورت کو نہیں ملاہے تو عورت نصف مہر کا شوہر پر دعویٰ نہیں کرسکتی اور دونوں صورتوں میں جو ٹھہرا ہے دینا ہوگا اور اگر مہر پر خلع ہوا اور مہر لے چکی ہے تو مہر واپس کرے اور مہر نہیں لیا ہے توشوہر سے مہر ساقط ہوگيا اور عورت سے کچھ نہیں لے سکتا۔ اور اگر مثلاً مہر کے دسویں حصہ پر خلع ہوا اور مہر مثلاً ہزار روپے کا ہے اور عورت مدخولہ ہے اور کل مہر لے چکی ہے تو شوہر اُس سے سوروپے لے گا اور مہر بالکل نہیں لیا ہے تو شوہر سے کل مہر ساقط ہوگیا اور اگر عورت غیر مدخولہ ہے اور مہر لے چکی ہے تو شوہر اُس سے پچاس روپے لے سکتا ہے اور عورت کو کچھ مہر نہیں ملا ہے تو کل ساقط ہو گیا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: عورت کا جو مہر شوہر پر ہے اُسکے بدلے میں خلع ہوا پھر معلوم ہوا کہ عورت کا کچھ مہر شوہر پر نہیں تو عورت کو مہر واپس کرنا ہوگا۔ یوہیں اگر اُس اسباب (4)کے بدلے میں خلع ہوا جو عورت کا مرد کے پاس ہے پھر معلوم ہوا کہ اُس کا اسباب اسکے پاس کچھ نہیں ہے تو مہر کے بدلے میں خلع قرار پائیگا مہر لے چکی ہے تو واپس کرے اور شوہر پر باقی ہے تو ساقط۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۱۴: جو مہر عورت کا شوہر پر ہے اُس کے بدلے میں خلع ہوا یا طلاق اور شوہر کو معلوم ہے کہ اُس کا کچھ مجھ پر نہیں
1 ۔اخراجات۔
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الاول، ج۱، ص۴۸۸ ۔۴۹۰. 3 ۔ المرجع السابق، ص۴۸۹.
4 ۔سامان۔
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۷.
چاہیے تو اُس سے کچھ نہیں لے سکتا ہے خلع کی صورت میں طلاق بائن ہوگی اور طلاق کی صورت میں رجعی۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۱۵: یوں خلع ہوا کہ جو کچھ شوہر سے لیا ہے واپس کرے اور عورت نے جو کچھ لیا تھا فروخت کر ڈالا یاہبہ کر کے قبضہ دلا دیا کہ وہ چیز شوہر کو واپس نہیں کر سکتی تو اگر وہ چیز قیمتی ہے تو اُس کی قیمت دے اور مثلی ہے تو اُس کی مثل۔ (2)(خانیہ)
مسئلہ ۱۶: عورت کو طلاق بائن دے کر پھر اُس سے نکاح کیا پھر مہر پر خلع ہوا تو دوسرا مہر ساقط ہوگيا پہلا نہیں۔ (3)(جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۱۷: بغیر مہرنکاح ہوا تھا اور دخول سے پہلے خلع ہوا تو متعہ (4)ساقط اور اگر عورت نے مال معین پر خلع کیا اس کے بعد بدل خلع میں زیادتی کی (5)تو یہ زیا دتی باطل ہے۔ (6)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۸: خلع اس پر ہوا کہ کسی عورت سے زوجہ اپنی طرف سے نکاح کرا دے اور اُسکا مہر زوجہ دے تو زوجہ پر صرف وہ مہر واپس کرنا ہوگا جو زوج سے لے چکی ہے اور کچھ نہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: شراب وخنزیر و مردار وغیرہ ایسی چیز پر خلع ہوا جو مال نہیں تو طلاق بائن پڑگئی اور عورت پر کچھ واجب نہیں اور اگر ان چیزوں کے بدلے میں طلاق دی تو رجعی واقع ہوئی۔ یوہیں اگر عورت نے یہ کہا میرے ہاتھ میں جو کچھ ہے اُس کے بدلے میں خلع کر اور ہا تھ میں کچھ نہ تھا تو کچھ واجب نہیں اور اگر یوں کہا کہ اُس مال کے بدلے میں جو میرے ہاتھ میں ہے اور ہاتھ میں کچھ نہ ہو تو اگر مہر لے چکی ہے تو واپس کرے ورنہ مہر ساقط ہو جائیگا اور اس کے علاوہ کچھ دینا نہیں پڑیگا۔ یوہیں اگر شوہر نے کہا میں نے خلع کیا اُس کے بدلے میں جو میرے ہاتھ میں ہے اور ہاتھ میں کچھ نہ ہو تو کچھ نہیں اور ہاتھ میں جواہرات ہوں تو عورت پر دینا لازم ہو گااگرچہ عورت کو یہ معلوم نہ تھا کہ اُس کے ہاتھ میں کیا ہے۔ (8)(درمختار، جوہرہ)
مسئلہ ۲۰: میرے ہاتھ میں جو روپے ہیں اُن کے بدلے میں خلع کر اور ہاتھ میں کچھ نہیں تو تین روپے دینے ہوں گے۔(9)(درمختار وغیرہ) مگر اُردو میں چونکہ جمع دوپر بھی بولتے ہیں لہٰذا دوہی روپے لازم ہوں گے اور صورت مذکور ہ میں اگر ہاتھ
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ'' کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۷.
2 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۸.
3 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الخلع، الجزء الثانی، ص۸۱.
4 ۔ کپڑوں کاجوڑا(قمیض،شلوار،چادر)۔ 5 ۔اضافہ کیا۔
6 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثامن فيالخلع ومافيحکمہ،الفصل الاول،ج۱،ص۴۹۰.
7 ۔المرجع السابق.
8 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۹۶.
و''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الخلع،الجزء الثاني،ص۷۹.
9 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۹۷، وغیرہ.
میں ایک ہی روپیہ ہے، جب بھی دو دے۔
مسئلہ ۲۱: اگر یہ کہا کہ اِس گھر میں یا اس صندوق میں جو مال یا روپے ہیں اُن کے بدلے میں خلع کر اور حقیقتہً ان میں کچھ نہ تھا تو یہ بھی اُسی کے مثل ہے کہ ہاتھ میں کچھ نہ تھا۔ یوہیں اگر یہ کہا کہ اس جاریہ(1) یا بکری کے پیٹ میں جو ہے اُس کے بدلے میں اور کمتر مدت حمل میں نہ جنی تو مفت طلاق واقع ہوگئی اور کمتر مدت حمل میں جنی تو وہ بچہ خلع کے بدلے ملے گا۔ کمتر مدت حمل عورت میں چھ مہینے ہے اور بکری میں چار مہینے اور دوسرے چوپایوں میں بھی وہی چھ ۶ مہینے۔ یوہیں اگر کہا اس درخت میں جو پھل ہیں اُن کے بدلے اور درخت میں پھل نہیں تو مہر واپس کرنا ہوگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: کوئی جانور گھوڑا خچر بیل وغیرہ بدل خلع قرار دیا اور اُس کی صفت بھی بیان کر دی تو اوسط (3) درجہ کا دینا واجب آئیگا اور عورت کو یہ بھی اختیار ہے کہ اُس کی قیمت دیدے اور جانور کی صفت نہ بیان کی ہو تو جو کچھ مہر میں لے چکی ہے وہ واپس کرے۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۳: عورت سے کہا میں نے تجھ سے خلع کیا عورت نے کہا میں نے قبول کیا تو اگر وہ لفظ شوہر نے بہ نیت طلاق کہا تھا طلاق بائن واقع ہوگئی اور مہر ساقط نہ ہوگابلکہ اگر عورت نے قبول نہ کیا ہو جب بھی یہی حکم ہے اور اگر شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے طلاق کی نیت سے نہ کہا تھا تو طلاق واقع نہ ہوگی جب تک عورت قبول نہ کرے۔ اور اگر یہ کہا تھا کہ فلاں چیز کے بدلے میں نے تجھ سے خلع کیا تو جب تک عورت قبول نہ کرے گی طلاق واقع نہ ہوگی اور عورت کے قبول کرنے کے بعد اگر شوہر کہے کہ میری مراد طلاق نہ تھی تو اُس کی بات نہ مانی جائے۔(5) (خانیہ وغیرہ)
مسئلہ ۲۴: بھاگے ہوئے غلام کے بدلے میں خلع کیا اور عورت نے یہ شرط لگادی کہ میں اُس کی ضامن نہیں یعنی اگر مل گیا تو دیدوں گی اور نہ ملا تو اس کا تاوان میرے ذمّہ نہیں تو خلع صحیح ہے اور شرط باطل یعنی اگر نہ ملا تو عورت اُس کی قیمت دے اور اگر یہ شرط لگائی کہ اگر اُس میں کوئی عیب ہو تو میں بَری ہوں تو شرط صحیح ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار) جانور گم شدہ کے بدلے میں ہو جب بھی یہی حکم ہے۔
1 ۔لونڈی۔
2 ۔ ''الدر المختار''،کتاب الطلاق،باب الخلع، ج۵، ص۹۸.
3 ۔درمیانہ ۔
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الثانی،ج۱، ص۴۹۵.
5 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۷، وغیرہ.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، مطلب: فی معنی المجتھد فیہ، ج۵، ص۹۹.
مسئلہ ۲۵: عورت نے شوہر سے کہا ہزارروپے پر مجھ سے خلع کر شوہر نے کہا تجھ کو طلاق ہے تو یہ اُس کا جواب سمجھا جائیگا۔ ہاں اگر شوہر کہے کہ میں نے جواب کی نیت سے نہ کہا تھا تو اُس کا قول مان لیا جا ئیگا اور طلاق مفت واقع ہوگی۔ اور بہتر یہ ہے کہ پہلے ہی شوہر سے دریافت کر لیا جائے۔ یوہیں اگر عورت کہتی ہے میں نے خلع طلب کیا تھا اور شوہر کہتا ہے میں نے تجھے طلاق دی تھی تو شوہرسے دریافت کریں اگر اُس نے جواب میں کہا تھا تو خلع ہے ورنہ طلاق۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۲۶: خرید وفروخت کے لفظ سے بھی خلع ہوتا ہے مثلاً مرد نے کہا میں نے تیرا امر یا تیری طلاق تیرے ہاتھ اتنے کو بيچی عورت نے اُسی مجلس میں کہا میں نے قبول کی طلاق واقع ہو گئی۔ یوہیں اگر مہر کے بدلے میں بیچی اور اُس نے قبول کی ہاں اگر اُس کا مہر شوہر پر باقی نہ تھا اور یہ بات شوہر کو معلوم تھی پھر مہر کے بدلے بیچی تو طلاق رجعی ہوگی۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۲۷: لوگوں نے عورت سے کہا تو نے اپنے نفس کو مہرو نفقہ عدّت (3) کے بدلے خریدا عورت نے کہا ہاں خریدا پھر شوہر سے کہا تو نے بیچا اُس نے کہا ہاں تو خلع ہوگيا اور شوہر تما م حقوق سے بَری ہوگيا۔ اور اگر خلع کرانے کے ليے لوگ جمع ہوئے اور الفاظ مذکورہ دونوں سے کہلائے اب شوہر کہتا ہے میرے خیال میں یہ تھا کہ کسی مال کی خرید و فروخت ہورہی ہے جب بھی طلاق کا حکم دیں گے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: لفظ بیع سے خلع ہو تو اُس سے عورت کے حقوق ساقط نہ ہوں گے جب تک یہ ذکر نہ ہو کہ اُن حقوق کے بدلے بیچا۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۲۹: شوہر نے عورت سے کہا تو نے اپنے مہر کے بدلے مجھ سے تین طلاقیں خریدیں عورت نے کہا خریدیں تو طلاق واقع نہ ہوگی جب تک مرد اس کے بعد یہ نہ کہے کہ میں نے بیچیں اور اگر شوہر نے پہلے یہ لفظ کہے کہ مہر کے بدلے مجھ سے تین طلاقیں خریداور عورت نے کہا خریدیں تو واقع ہوگئیں، اگرچہ شوہر نے بعد میں بیچنے کا لفظ نہ کہا۔ (6)(خانیہ)
مسئلہ ۳۰: عورت نے شوہر سے کہا میں نے اپنا مہر اور نفقہ عدّت تیرے ہاتھ بیچا تونے خریدا، شوہر نے کہا میں
1 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۹.
2 ۔المرجع السابق، فصل فی الخلع بلفظ...الخ، ص۲۶۲.
3 ۔نفقہ عدت یعنی وہ اخراجات جودورانِ عدت شوہر کی طرف سے عورت کودیے جاتے ہیں۔
4 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع ومافی حکمہ ،الفصل الاول،ج۱، ص۴۹۳.
5 ۔'' الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق، فصل فی الخلع بلفظ البیع والشراء ، ج۱،ص۲۶۲-۲۶۳.
6 ۔المرجع السابق، ص۲۶۲.
نے خریدا، اُٹھ جا، وہ چلی گئی تو طلاق واقع نہ ہوئی مگر احتیاط یہ ہے کہ اگر پہلے دوطلاقیں نہ دے چکا ہو تو تجدیدِ نکاح کرے۔(1)(خانیہ)
مسئلہ ۳۱: عورت سے کہا میں نے تیرے ہاتھ ایک طلاق بیچی اور عوض کا ذکر نہ کیا عورت نے کہا میں نے خریدی تو رجعی پڑے گی اور اگر یہ کہا کہ میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا اور عورت نے کہا خریدا تو بائن پڑیگی۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۳۲: عورت سے کہا میں نے تیرے ہاتھ تین ہزار کو طلا ق بیچی اس کو تین بار کہا آخر میں عورت نے کہا میں نے خریدی پھر شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے تکرار کے ارادہ سے تین بار کہا تھا تو قضاءً اُس کا قول معتبر نہیں اور تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور عورت کو صرف تین ہزار دینے ہونگے نو ۹ ہزار نہیں کہ پہلی طلاق تین ہزار کے عوض ہوئی اور اب دوسری اور تیسری پر مال واجب نہیں ہوسکتا اور چونکہ صریح ہیں، لہٰذا بائن کو لاحق ہونگی۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۳۳: مال کے بدلے میں طلاق دی اور عورت نے قبول کر لیا تو مال واجب ہوگا اور طلاق بائن واقع ہوگی۔(4)(عالمگيری)
مسئلہ ۳۴ــ: عورت نے کہا ہزار روپے کے عوض مجھے تین طلاقیں دیدے شوہر نے اُسی مجلس میں ایک طلاق دی تو بائن واقع ہوئی اور ہزار کی تہائی کا مستحق ہے اور مجلس سے اُٹھ گیا پھر طلاق دی تو بلا معاوضہ واقع ہوگی۔ اوراگر عورت کے اس کہنے سے پہلے دو۲طلاقیں دے چکا تھا اور اب ایک دی تو پورے ہزار پائیگا۔ اور اگر عورت نے کہا تھا کہ ہزار روپے پر تین طلاقیں دے اور ایک دی تو رجعی ہوئی اور اگر اس صورت میں مجلس میں تین طلاقیں متفرق کرکے دیں تو ہزار پائے گا اور تین مجلسوں میں دیں تو کچھ نہیں پائیگا۔ (5)(درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: شوہر نے عورت سے کہا ہزار کے عوض یا ہزار روپے پر تو اپنے کو تین طلاقیں دیدے عورت نے ایک طلاق دی تو واقع نہ ہوئی۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۳۶ : عورت سے کہا ہزار کے عوض یا ہزار روپے پر تجھ کو طلاق ہے عورت نے اُسی مجلس میں قبول کر لیا تو ہزار
1 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۶۲.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما فيحکمہ، الفصل الاول،ج۱، ص۴۹۵.
5 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، مطلب: فی معنی المجتھد فیہ ،ج۵، ص۹۹.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۱۰۰.
روپے واجب ہوگئے اور طلاق ہو گئی۔ ہاں اگر عورت سفیہہ(1)ہے یا قبول کرنے پر مجبور کی گئی تو بغیر مال طلاق پڑجائے گی اور اگر مریضہ ہے تو تہائی سے یہ رقم ادا کی جائے گی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳۷: اپنی دو عورتوں سے کہا تم میں ایک کو ہزار روپے کے عوض طلاق ہے اور دوسری کو سو اشرفیوں کے بدلے اور دونوں نے قبول کرلیاتو دونوں مطلَّقہ ہوگئیں اور کسی پر کچھ واجب نہیں ہاں اگر شوہر دونوں سے روپے لینے پر راضی ہو تو روپے لازم ہوں گے اور راضی نہ ہو تو مفت مگر اس صورت میں رجعی ہوگی۔(3) (درمختار، ردالمحتار) اور اگر یوں کہا کہ ایک کو ہزار روپے پر طلاق اور دوسری کو پانسو روپے پر تو دونوں مطلقہ ہوگئیں اور ہر ایک پر پان پانسو لازم۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۸: عورت غیر مدخولہ کو ہزار روپے پر طلاق دی اور اُس کامہر تین ہزار کا تھا جو سب ابھی شوہر کے ذمہ ہے تو ڈیڑھ ہزار تو یوں ساقط ہوگئے کہ قبل دخول (5) طلاق دی ہے باقی رہے ڈیڑھ ہزار ان میں ہزار طلاق کے بدلے وضع ہوئے اور پانسو شوہرسے واپس لے۔ (6)(عالمگيری)
مسئلہ ۳۹: مہر کی ایک تہائی کے بدلے ایک طلاق دی اور دوسری تہائی کے بدلے دوسری اور تیسری کے بدلے تیسری تو صرف پہلی طلاق کے عوض ایک تہائی ساقط ہو جائے گی اور دو تہائیاں شوہر پر واجب ہیں۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: عورت کو چار طلاقیں ہزار روپے کے عوض دیں اُس نے قبول کر لیں تو ہزار کے بدلے میں تین ہی واقع ہونگی اور اگر ہزار کے بدلے میں تین قبول کیں تو کوئی واقع نہ ہوگی۔ اور اگر عورت نے شوہر سے ہزار کے بدلے میں چار طلاقیں دینے کو کہا اور شوہر نے تین دیں تو یہ تین طلاقیں ہزار کے بدلے میں ہو گئیں اور ایک دی تو ایک ہزارکی تہائی کے بدلے میں۔ (8)(فتح)
مسئلہ ۴۱: عورت نے کہا ہزار روپے پر یا ہزار کے بدلے میں مجھے ایک طلاق دے شوہر نے کہا تجھ پر تین طلاقیں اور بدلے کو ذکر نہ کیا تو بلا معاوضہ تین ہوگئیں۔ اور اگر شوہر نے ہزار کے بدلے میں تین دیں تو عورت کے قبول کرنے پر موقوف ہے
1 ۔بیوقوف،کم عقل۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الخلع،ج۵،ص۱۰۰،۱۱۷.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الخلع،مطلب:تستعمل ((علی))...إلخ،ج۵،ص۱۰۱.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ،الفصل الثالث،ج۱،ص۴۹۸.
5 ۔جماع سے پہلے۔
6 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ،الفصل الثالث،ج۱،ص۴۹۵.
7 ۔المرجع السابق،ص۴۹۵.
8 ۔''فتح القدیر''،کتاب الطلاق،باب الخلع،ج۴،ص۶۹.
قبول نہ کیا تو کچھ نہیں اور قبول کیا تو تین طلاقیں ہزار کے بدلے میں ہوئیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: عورت سے کہا تجھ پر تین طلاقیں ہیں جب تو مجھے ہزار روپے دے تو فقط اس کہنے سے طلاق واقع نہ ہوگی بلکہ جب عورت ہزار روپے دے گی یعنی شوہر کے سامنے لاکر رکھ دیگی اُس وقت طلاقیں واقع ہونگی اگرچہ شوہر لینے سے انکار کرے اور شوہر روپے لینے پر مجبور نہیں کیا جائیگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: دونوں راہ چل رہے ہیں اور خلع کیا اگر ہر ایک کا کلام دوسرے کے کلام سے متصل ہے تو خلع صحیح ہے ورنہ نہیں اور اِس صورت میں طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔(3) (عالمگيری)
مسئلہ ۴۴: عورت کہتی ہے میں نے ہزار کے بدلے تین طلاقوں کو کہا تھا اور تونے ایک دی اور شوہر کہتا ہے تو نے ایک ہی کو کہا تھا تو اگر شوہر گواہ پیش کرے فبہا (4) ورنہ عورت کا قول معتبر ہے۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۴۵: شوہر کہتا ہے میں نے ہزارروپے پر تجھے طلاق دی تو نے قبول نہ کیا عورت کہتی ہے میں نے قبول کیا تھا تو قسم کے ساتھ شوہر کا قول معتبر ہے اور اگر شوہر کہتا ہے میں نے ہزار روپے پر تیرے ہاتھ طلاق بیچی تو نے قبول نہ کی عورت کہتی ہے میں نے قبول کی تھی تو عورت کا قول معتبر ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۴۶: عورت کہتی ہے میں نے سوروپے میں طلاق دینے کو کہا تھا شوہر کہتا ہے نہیں بلکہ ہزار کے بدلے تو عورت کا قول معتبر ہے اور دونوں نے گواہ پیش کیے تو شوہر کے گواہ قبول کیے جائیں۔ یوہیں اگر عورت کہتی ہے بغیر کسی بدلے کے خلع ہوا اور شوہر کہتا ہے نہیں بلکہ ہزار روپے کے بدلے میں تو عورت کا قول معتبر ہے اور گواہ شوہر کے مقبول۔ (7)(عالمگيری)
مسئلہ ۴۷: عورت کہتی ہے میں نے ہزار کے بدلے میں تین طلاق کو کہا تھا تونے ایک دی شوہر کہتا ہے میں نے تین دیں اگر اُسی مجلس کی بات ہے تو شوہر کا قول معتبر ہے اور وہ مجلس نہ ہو تو عورت کا اور عورت پر ہزار کی تہائی واجب مگر عدت پوری نہیں ہوئی ہے تو تین طلاقیں ہو گئیں۔(8) (عالمگيری)
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الثالث،ج۱، ص۴۹۶.
2 ۔ المرجع السابق،ص۴۹۷. 3 ۔المرجع السابق، ص۴۹۹.
4 ۔توٹھیک ہے۔
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''، المرجع السابق،ص۴۹۹.
6 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۱۰۱.
7 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۹۹.
8 ۔ ''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع ومافی حکمہ، الفصل الثالث، ج۱،ص۴۹۹.
مسئلہ ۴۸: عورت نے خلع چاہا پھر یہ دعویٰ کیا کہ خلع سے پہلے بائن طلاق دے چکا تھا اور اس کے گواہ پیش کیے تو گواہ مقبول ہیں اور بدلِ خلع واپس کیا جائے۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۴۹: شوہر دعویٰ کرتا ہے کہ اتنے پر خلع ہوا عورت کہتی ہے خلع ہوا ہی نہیں تو طلاق بائن واقع ہوگئی رہا مال اُس میں عورت کا قول معتبر ہے کہ وہ منکر ہے اور اگر عورت خلع کا دعویٰ کرتی ہے اور شوہر منکر ہے تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۵۰: زن و شو میں (3) اختلاف ہوا عورت کہتی ہے تین بار خلع ہو چکا اور مرد کہتا ہے کہ دوبار اگر یہ اختلاف نکاح ہو جانے کے بعد ہوا اور عورت کا مطلب یہ ہے کہ نکاح صحیح نہ ہوا اس واسطے کہ تین طلاقیں ہو چکیں اب بغیر حلالہ نکاح نہیں ہو سکتا اور مرد کی غرض یہ ہے کہ نکاح صحیح ہوگيا اس واسطے کہ دوہی طلاقیں ہوئی ہیں تو اس صورت میں مرد کا قول معتبر ہے اور اگر نکاح سے پہلے عدت میں یا بعد عدت یہ اختلاف ہوا تو اس صورت میں نکاح کر نا جائز نہیں دوسرے لوگوں کو بھی یہ جائز نہیں کہ عورت کو نکاح پر آمادہ کریں نہ نکاح ہونے دیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: مرد نے کسی سے کہا کہ تو میری عورت سے خلع کر تو اُس کو یہ اختیار نہیں کہ بغیر مال خلع کرے۔ (5) (عالمگيری)
مسئلہ ۵۲: عورت نے کسی کو ہزار روپے پر خلع کے ليے وکیل بنایا تو اگر وکیل نے بدل خلع مطلق رکھا مثلاً یہ کہا کہ ہزار روپے پر خلع کریا اس ہزار پر یا وکیل نے اپنی طرف اضافت(6) کی مثلاً یہ کہا کہ میرے مال سے ہزار روپے پر یا کہا ہزار روپے پر اور میں ہزار روپے کا ضامن ہوں تو دونوں صورتوں میں وکیل کے قبول کرنے سے خلع ہو جائیگا پھر اگر روپے مطلق ہیں جب تو شوہر عورت سے لے گا ورنہ وکیل سے بدل خلع کا مطالبہ کریگا عورت سے نہیں پھر وکیل عورت سے لے گا اور اگر وکیل کے اسباب کے بدلے خلع کیا اور اسباب ہلاک ہوگئے تو وکیل اُن کی قیمت ضمان دے۔(7) (عالمگيری)
مسئلہ ۵۳: مرد نے کسی سے کہا کہ تو میری عورت کو طلاق دیدے اُس نے مال پر خلع کیا یا مال پر طلاق دی اور عورت
1 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع ومافی حکمہ، الفصل الثالث، ج۱،ص۴۹۹.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الخلع،ج۵،ص۱۰۲.
3 ۔ بیوی اورشوہر۔
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الثالث،ج۱،ص۵۰۰.
5 ۔المرجع السابق، ص۵۰۱.
6 ۔ نسبت۔
7 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الثالث، ج۱،ص۵۰۱.
مدخولہ ہے تو جائز نہیں اور غیر مدخولہ ہے تو جائز ہے۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۵۴: عورت نے کسی کو خلع کے ليے وکیل کیا پھر رجوع کر گئی اور وکیل کو رجوع کا حال معلوم نہ ہوا تو رجوع صحیح نہیں اور اگر قاصد بھیجا تھا اور اُس کے پہنچنے سے قبل رجوع کر گئی تو رجوع صحیح ہے اگرچہ قاصد کو اس کی اطلاع نہ ہوئی۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۵۵: لوگوں نے شوہر سے کہا تیری عورت نے خلع کا ہمیں وکیل بنایا شوہر نے دوہزار پر خلع کیا عورت وکیل بنانے سے انکار کرتی ہے تو اگر وہ لوگ مال کے ضامن ہوئے تھے تو طلاق ہوگئی اور بدل خلع اُنھیں دینا ہوگا اور اگر ضامن نہ ہوئے تھے اور زوج مُدَّعِی ہے(3) کہ عورت نے اُنھیں وکیل کیا تھا تو طلاق ہو گئی مگر مال واجب نہیں اور اگر زوج مدعی وکالت نہ ہو تو طلاق نہ ہوگی۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۵۶: باپ نے لڑکی کا اُس کے شوہر سے خلع کرایا اگر لڑکی بالغہ ہے اور باپ بدل خلع کا ضامن ہوا(5) تو خلع صحیح ہے اور اگر مہر پر خلع ہوا اور لڑکی نے اذن دیا تھاجب بھی صحیح ہے اور اگر بغیر اذن (6)ہوا اور خبر پہنچنے پر جائز کر دیا جب بھی ہوگيا اور اگر جائز نہ کیا نہ باپ نے مَہر کی ضمانت کی تو نہ ہوا اور مہر کی ضمانت کی ہے تو ہوگیا۔ پھر جب لڑکی کو خبر پہنچی اُس نے جائز کر دیا تو شوہر مہر سے بری ہے اور جائز نہ کیا تو عورت شوہر سے مَہر لے گی اور شوہر اُس کے باپ سے۔ اور اگر نا بالغہ لڑکی کا اُس لڑکی کے مال پر خلع کرایا تو صحیح یہ ہے کہ طلاق ہو جائے گی مگر نہ تومَہر ساقط ہوگا نہ لڑکی پر مال واجب ہوگا اور اگر ہزار روپے پر نا بالغہ کا خلع ہوا اور باپ نے ضمانت کی تو ہوگيا اور روپے باپ کو دینے ہوں گے اور اگر باپ نے یہ شرط کی کہ بدل خلع لڑکی دیگی تو اگر لڑکی سمجھ وال ہے یہ سمجھتی ہے کہ خلع نکاح سے جدا کر دیتا ہے تو اُس کے قبول پر موقوف ہے قبول کرلے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی مگر مال واجب نہ ہو گا اور اگر نا بالغہ کی ماں نے اپنے مال سے خلع کرایا یا ضامن ہوئی تو خلع ہو جائیگا اور لڑکی کے مال سے کرایا تو طلاق نہ ہوگی۔ یوہیں اگر اجنبی نے خلع کر ایا تو یہی حکم ہے۔ (7)(عالمگیری، درمختار وغیرہما)
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، ج۱، الفصل الثالث، ص۵۰۱.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ دعویٰ کرتاہے۔
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، ج۱، الفصل الثالث،ص۵۰۱ ۔ ۵۰۲.
5 ۔یعنی جس مال پر خلع ہواہے اُس کا ضامن ہوا۔ 6 ۔اجازت کے بغیر۔
7 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، ج۱، الفصل الثالث، ص۵۰۳.
و''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۱۱۲،۱۱۶، وغیرہما.
مسئلہ ۵۷: نا بالغہ نے اپنا خلع خود کرایا اور سمجھ وال ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی مگر مال واجب نہ ہوگا اور اگر مال کے بدلے طلاق دلوائی تو طلاق رجعی ہوگی۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: نابالغ لڑکا نہ خود خلع کر سکتا ہے، نہ اُس کی طرف سے اُس کا باپ۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۹: عورت نے اپنے مرض الموت میں خلع کرایا اور عدت میں مر گئی تو تہائی مال اور میراث اور بدل خلع ان تینوں میں جو کم ہے شوہر وہ پائیگا۔ اور اگر اُس بدلِ خلع کے علاوہ کوئی مال ہی نہ ہو تو اُس کی تہائی اور میراث میں جو کم ہے وہ پائیگا۔ اور اگر عدت کے بعد مری تو بدلِ خلع لے لیگا جبکہ تہائی مال کے اندر ہو اور عورت غیر مدخولہ ہے اور مرض الموت میں پور ے مہرکے بدلے خلع ہوا تو نصف مہر بوجہ طلاق کے ساقط ہے رہا نصف اب اگر عورت کے اور مال نہیں ہے تو اس نصف کی چوتہائی کا شوہر حقدار ہے۔(3) (عالمگیری، ردالمحتار)
اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
( اَلَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَآئِھِمْ مَّا ھُنَّ اُمَّھٰتِھِمْ ط اِنْ اُمَّھٰـتُھُمْ اِلَّاالّٰـئیْ وَلَدْنَھُمْ ط وَاِنَّھُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا طوَاِنَّ اللہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ ) (4)
جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں (اُنھیں ماں کی مثل کہہ دیتے) وہ اُن کی مائیں نہیں، اُنکی مائیں تو وہی ہیں جن سے پیدا ہوئے اور وہ بیشک بُری اور نری جھوٹی بات کہتے ہیں اور بیشک اﷲ (عزوجل) ضرور معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔
مسئلہ ۱: ظہار کے یہ معنے ہیں کہ اپنی زوجہ یا اُس کے کسی جزوِ شائع یا ایسے جز کو جو کُل سے تعبیر کیا جاتا ہو ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کے ليے حرام ہو یا اسکے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھنا حرام ہو مثلاً کہا تو مجھ پر میری
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، ج۱، ص۵۰۴.
و''رد المحتار''،کتاب الطلاق،باب الخلع،مطلب: فی خلع الصغیرۃ،ج۵،ص۱۱۲،۱۱۳.
2 ۔''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، مطلب : فی خلع الصغیرۃ،ج۵، ص۱۱۳.
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع ومافی حکمہ،الفصل الثالث،ج۱،ص۵۰۵.
و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، مطلب : فی خلع الصغیرۃ،ج۵،ص۱۱۷.
4 ۔پ ۲۸، المجادلۃ :۲.
ماں کی مثل ہے یا تیرا سر یا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے۔ (1)
مسئلہ ۲: ظہار کے ليے اسلام و عقل و بلوغ شرط ہے کافر نے اگر کہا تو ظہار نہ ہوا یعنی اگر کہنے کے بعد مشرف با سلام ہوا تواُس پر کفارہ لازم نہیں۔ یوہیں نا بالغ و مجنون یا بوہرے یا مدہوش یا سر سام و برسام کے بیمار نے یا بیہوش یا سونے والے نے ظہار کیا تو ظہار نہ ہوا اور ہنسی مذاق میں یا نشہ میں یا مجبور کیا گیا اس حالت میں یا زبان سے غلطی میں ظہار کا لفظ نکل گیا تو ظہار ہے۔ (2)(درمختار، عالمگيری)
مسئلہ ۳: زوجہ کی جانب سے کوئی شرط نہیں، آزاد ہو یا باندی، مدبرہ یا مکاتبہ یا ام ولد، مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ، مسلمہ ہو یا کتابیہ، نا بالغہ ہو یا بالغہ، بلکہ اگر عورت غیر کتا بیہ ہے اور اُسکا شوہر اسلام لایا مگر ابھی عورت پر اسلام پیش نہیں کیا گیا تھا کہ شوہر نے ظہار کیا تو ظہار ہوگيا عورت مسلمان ہوئی تو شوہر پرکفارہ دینا ہو گا۔(3) (عالمگیری ، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: اپنی باندی سے ظہار نہیں ہو سکتا موطؤہ ہو یا غیر موطؤہ(4)۔ یوہیں اگر کسی عورت سے بغیر اذن ليے نکاح کیا اور ظہار کیا پھر عورت نے نکاح کو جائز کر دیا تو ظہار نہ ہواکہ وقتِ ظہار وہ زوجہ نہ تھی۔ یوہیں جس عورت کو طلاق بائن دے چکا ہے یا ظہار کو کسی شرط پر معلق کیا اور وہ شرط اُس وقت پائی گئی کہ عورت کو بائن طلاق دیدی تو ان صورتوں میں ظہارنہیں۔(5)(ردالمحتار)
مسئلہ۵: جس عورت سے تشبیہ دی اگر اُس کی حرمت عارضی ہے ہمیشہ کے ليے نہیں تو ظہار نہیں مثلاً زوجہ کی بہن یا جس کو تین طلاقیں دی ہیں یا مجوسی یا بُت پرست عورت کہ یہ مسلمان یا کتابیہ ہوسکتی ہیں اور اُنکی حرمت دائمی نہ ہو نا ظاہر۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۶: اجنبیہ سے کہا کہ اگر تو میری عورت ہو یا میں تجھ سے نکاح کروں تو تُو ایسی ہے تو ظہار ہو جائیگا کہ ملک
1 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الظہار، ج۵، ص۱۲۵،۱۲۹.
و''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۵.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الظہار، ج۵، ص۱۲۶.
و''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۸.
3 ۔''الفتاوی الھنديۃ''، کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۵.
و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الظہار، ج۵، ص۱۲۶.
4 ۔یعنی اس سے وطی کی ہویانہ کی ہو۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الظہار، ج۵، ص۱۲۶.
6 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الظھار، ج۵ ،ص۱۲۷.
یاسبب مِلک کی طرف اضافت ہوئی اور یہ کافی ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۷: عورت مرد سے ظہار کے الفاظ کہے تو ظہار نہیں بلکہ لغو ہیں۔(2) (جوہرہ)
مسئلہ ۸: عورت کے سر یا چہرہ یا گردن یا شرمگاہ کو محارِم سے تشبیہ دی تو ظہار ہے اور اگر عورت کی پیٹھ یا پیٹ یا ہاتھ یا پاؤں یا ران کو تشبیہ دی تو نہیں۔ یوہیں اگر محارم کے ایسے عضو سے تشبیہ دی جسکی طرف نظر کرنا حرام نہ ہو مثلاً سر یا چہرہ یا ہاتھ یا پاؤں یا بال تو ظہار نہیں اور گھٹنے سے تشبیہ دی تو ہے۔(3) (جوہرہ، خانیہ وغیرہما)
مسئلہ ۹: محارم سے مراد عام ہے نسبی ہوں یا رضاعی یا سُسرالی رشتہ سے لہٰذا ماں بہن پھوپھی لڑکی اور رضاعی ماں اور بہن وغیرہما اور زوجہ کی ماں اور لڑکی جبکہ زوجہ مدخولہ ہواور مدخولہ نہ ہو تو اُس کی لڑکی سے تشبیہ دینے میں ظہار نہیں کہ وہ محار م میں نہیں۔ یوہیں جس عورت سے اُس کے باپ یا بیٹے نے معاذاﷲ زنا کیا ہے اُس سے تشبیہ دی یا جس عورت سے اس نے زنا کیا ہے اُس کی ماں یا لڑکی سے تشبیہ دی تو ظہار ہے۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۰: محارم کی پیٹھ یا پیٹ یا ران سے تشبیہ دی یا کہا میں نے تجھ سے ظہار کیا تو یہ الفاظ صریح ہیں ان میں نیت کی کچھ حاجت نہیں کچھ بھی نیت نہ ہو یا طلاق کی نیت ہو یا اکرام کی نیت ہو، ہر حالت میں ظہار ہی ہے اور اگر یہ کہتا ہے کہ مقصود جھوٹی خبر دینا تھا یا زمانہ گزشتہ کی خبر دینا ہے تو قضائً تصدیق نہ کرینگے اور عورت بھی تصدیق نہیں کر سکتی۔ (5)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: عورت کو ماں یا بیٹی یا بہن کہا تو ظہار نہیں، مگر ایسا کہنا مکروہ ہے۔ (6)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۲: عورت سے کہا تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے تو نیت دریافت کی جائے اگر اُس کے اِعزاز (7)کے ليے کہا تو کچھ نہیں اور طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہوگی اور ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور تحریم (8)کی نیت ہے تو ایلا ہے اور کچھ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الظھار،ج۵،ص۱۲۸.
2 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الظہار،الجزء الثانی،ص۸۳.
3 ۔المرجع السابق،ص۸۴.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق،باب الظھار،ج۲،ص۲۶۵،وغیرہما.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب التاسع في الظہار،ج۱،ص۵۰۵،۵۰۶.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الظہار،ج۵،ص۱۲۹.
و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب التاسع في الظہار،ج۱،ص۵۰۷.
6 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب التاسع في الظہار،ج۱،ص۵۰۷.
7 ۔عزت واحترام۔ 8 ۔ حرام کرنے۔
نیت نہ ہو تو کچھ نہیں۔ (1)(جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۱۳: اپنی چند عورتوں کو ایک مجلس یا متعدد مجالس میں محارم کے ساتھ تشبیہ دی تو سب سے ظہار ہوگيا ہر ایک کے ليے الگ الگ کفارہ دینا ہوگا۔(2) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۴: کسی نے اپنی عورت سے ظہار کیا تھا دوسرے نے اپنی عورت سے کہا تو مجھ پر ویسی ہے جیسی فلاں کی عورت تو یہ بھی ظہار ہوگيا یا ایک عورت سے ظہار کیا تھا دوسری سے کہا تو مجھ پر اس کی مثل ہے یا کہا میں نے تجھے اُسکے ساتھ شریک کر دیا تو دوسری سے بھی ظہار ہو گیا۔(3) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۵: ظہار کی تعلیق بھی ہو سکتی ہے مثلاً اگر فلاں کے گھر گئی تو ایسی ہے تو ظہار ہو جائیگا۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۶: ظہار کا حکم یہ ہے کہ جب تک کفارہ نہ دیدے اُس وقت تک اُس عورت سے جماع کرنا یا شہوت کے ساتھ اُس کا بوسہ لینا یا اُس کو چھونا یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کرنا حرام ہے اور بغیر شہوت چھونے یا بوسہ لینے میں حرج نہیں مگرلب کا بوسہ بغیر شہوت بھی جائز نہیں کفارہ سے پہلے جماع کرلیا تو توبہ کرے اور اُس کے ليے کو ئی دوسرا کفارہ واجب نہ ہوا مگر خبر دار پھر ایسا نہ کرے اور عورت کو بھی یہ جائز نہیں کہ شوہر کو قربت کرنے دے۔(5) (جوہرہ ،درمختار)
مسئلہ ۱۷: ظہار کے بعد عورت کو طلاق دی پھر اُس سے نکاح کیا تو اب بھی وہ چیزیں حرام ہیں اگرچہ دوسرے شوہرکے بعد اسکے نکاح میں آئی بلکہ اگرچہ اُسے تین طلاقیں دی ہوں۔ یوہیں اگر زوجہ کسی کی کنیز تھی ظہار کے بعد خرید لی اور اب نکاح باطل ہوگيا مگر بغیر کفارہ وطی وغیرہ نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگر عورت مرتدہ ہوگئی اور دارالحرب کو چلی گئی پھر قید کر کے لائی گئی اور شوہرنے خریدی یا شوہر مرتد ہوگيا غرض کسی طرح کفارہ سے بچاؤ نہیں۔(6) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۸: اگر ظہار کسی خاص وقت تک کے ليے ہے مثلاً ایک ماہ یا ایک سال اور اس مدت کے اندر جماع کرنا چاہے
1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الظہار،الجزء الثانی، ص۸۴.
2 ۔المرجع السابق،ص۸۵.
3 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۹.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۹.
5 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الظہار، الجزء الثانی، ص۸۲.
و ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الظہار، ج۵، ص۱۳۰.
6 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۶، وغیرہ.
تو کفارہ دے اور اگر مدت گزر گئی اور قربت نہ کی تو کفارہ ساقط اور ظہار باطل۔ (1)(جوہرہ)
مسئلہ ۱۹: شوہر کفارہ نہیں دیتا تو عورت کو یہ حق ہے کہ قاضی کے پاس دعویٰ کرے قاضی مجبور کریگا کہ یا کفارہ دیکر قربت کرے یا عورت کو طلاق دے اور اگر کہتا ہے کہ میں نے کفارہ دے دیا ہے تو اُس کا کہنا مان لیں جبکہ اُس کا جھوٹا ہونا معروف نہ ہو۔ (2)(عالمگيری)
مسئلہ ۲۰: ایک عورت سے چند بار ظہار کیا تو اُتنے ہی کفارے دے اگرچہ ایک ہی مجلس میں متعدد بار الفاظ ظہار کہے اور اگر یہ کہتا ہے کہ بار بار لفظ بولنے سے متعدد ظہار مقصود نہ تھے بلکہ تا کید مقصود تھی تو اگر ایک ہی مجلس میں ایسا ہوا مان لیں گے ورنہ نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: پورے رجب اور پورے رمضان کے ليے ظہار کیا تو ایک ہی کفارہ واجب ہو گا خواہ رجب میں کفارہ دے یا رمضان میں، شعبان میں نہیں دے سکتا کہ شعبان میں ظہار ہی نہیں۔ یوہیں اگر ظہار کیا اور کسی دن کا استثنا کیا تو اُس دن کفارہ نہیں دے سکتا اُس کے علاوہ جس دن چاہے دے سکتا ہے۔(4) (درمختار)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( وَ الَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمْ ثُمَّ یَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا فَتَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مِّنۡ قَبْلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ؕ ذٰلِکُمْ تُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۳﴾فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ مِنۡ قَبْلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ؕ فَمَنۡ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیۡنَ مِسْکِیۡنًا ؕ ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوۡا بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ ؕ وَ لِلْکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴﴾ ) (5)
جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کریں پھر وہی کرنا چاہیں جس پر یہ بات کہہ چکے تو اُن پر جماع سے پہلے ایک غلام آزاد
1 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الظہار، الجزء الثانی، ص۸۲.
2 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۷.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الظہار، ج۵، ص۱۳۴.
4 ۔ المرجع السابق، ص۱۳۵.
5 ۔پ۲۸، المجادلۃ :۳،۴.
کرنا ضرور ہے یہ وہ بات ہے جس کی تمہیں نصیحت دی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اُس سے خبردار ہے۔ پھر جو غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو لگاتار دو ۲ مہینے کے روزے جماع سے پہلے رکھے پھر جو اس کی بھی استطاعت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے یہ اس ليے کہ تم اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایمان رکھو اور یہ اﷲ (عزوجل) کی حدیں ہیں اور کافروں کے ليے دردناک عذاب۔
حدیث ۱: ترمذی و ابوداود و ابن ماجہ نے روایت کی کہ سلمہ بن صخر بیاضی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجہ سے رمضان گزرنے تک کے ليے ظہار کیا تھا اور آدھا رمضان گزرا کہ شب میں اُنھوں نے جماع کر لیا پھر حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، ارشاد فرمايا: ''ایک غلام آزاد کرو۔'' عرض کی، مجھے میسر نہیں۔ ارشاد فرمايا: ''تو دو ۲ ماہ کے لگاتار روزے رکھو۔'' عرض کی، اس کی بھی طاقت نہیں۔ ارشاد فرمايا: ''تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔'' عرض کی، میرے پاس اتنا نہیں۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فروہ بن عمرو سے فرمايا: کہ ''وہ زنبیل(1) دیدو کہ مساکین کو کھلائے۔'' (2)
مسئلہ ۱: ظہار کرنے والا جماع کا ارادہ کرے تو کفارہ واجب ہے اور اگر یہ چاہے کہ وطی نہ کرے اور عورت اُس پر حرام ہی رہے تو کفارہ واجب نہیں اور اگر ارادہ جماع تھا مگر زوجہ مر گئی تو واجب نہ رہا۔ (3)(عالمگيری)
مسئلہ ۲: ظہار کا کفارہ غلام یا کنیز آزاد کرنا ہے مسلمان ہو یا کافر، بالغ ہو یا نا بالغ یہاں تک کہ اگر دودھ پیتے بچہ کو آزاد کیا کفارہ ادا ہوگيا۔ (4)(عامہ کتب)
مسئلہ ۳: پہلے نصف غلام کو آزاد کیا اور جماع سے پہلے پھر نصف باقی کو آزاد کیا تو کفارہ ادا ہوگيا اور اگر درمیان میں جماع کر لیا تو ادا نہ ہوا اور اگر غلام مشترک (5)ہے اور اس نے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو ادا نہ ہوا، اگرچہ یہ مالدار ہو یعنی جب غلام مشترک کو آزاد کرے اور مالدار ہو تو حکم یہ ہے کہ اپنے شریک کو اُس کے حصہ کی قدر دے اور کُل غلام اسکی طرف سے آزاد
1 ۔کھجور کے پتوں سے بنا ہوا ایسا ٹوکرا جس میں پندرہ یا سولہ صاع کھجوریں آجاتی ہیں ۔
2 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الطلاق...إلخ، باب ماجاء في کفارۃ الظھار، الحدیث: ۱۲۰۴، ج۲، ص۴۰۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب العاشرفي الکفارۃ، ج۱، ص۵۰۹.
4 ۔المرجع السابق، ص۵۰۹،۵۱۰.
5 ۔ایسا غلام جس کے مالک دو یا دو سے زیادہ ہوں ۔
ہوگا مگر کفارہ ادانہ ہوگا۔ یوہیں دو ۲ غلاموں میں آدھے آدھے کا مالک ہے اور دونوں کے نصف نصف کو آزاد کیا تو کفا رہ ادا نہ ہوا۔(1)(جوہرہ،عالمگیری)
مسئلہ ۴: آدھا غلام آزاد کیا اور ایک مہینے کے روزے رکھ لیے یا تیس مسکین کو کھانا کھلا دیا تو کفارہ ادانہ ہوا۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۵: غلام آزاد کرنے میں شرط یہ ہے کہ کفارہ کی نیت سے آزاد کیا ہو بغیر نیت کفارہ آزاد کرنے سے کفارہ ادا نہ ہوگا اگرچہ آزاد کرنے کی نیت کیا کرے۔ (3)(جوہرہ)
مسئلہ ۶: اسکا قریبی رشتہ دار یعنی وہ کہ اگر ان میں سے ایک مرد ہوتا دوسرا عورت تو نکاح باہم حرام ہوتا مثلاً اس کا بھائی یا باپ یا بیٹا یا چچا یا بھتیجا ایسے رشتہ دار کا جب مالک ہو گا تو آزاد ہو جائیگا خواہ کسی طرح مالک ہو مثلاًاس نے خرید لیا یا کسی نے ہبہ یا تصدق کیا(4) یا وراثت میں ملا پھر ایسا غلام اگر بلا اختیار اسکی مِلک میں آیا مثلاً وراثت میں ملا اور آزاد ہوگيا تو اگرچہ اس نے کفارہ کی نیت کی ادا نہ ہوا اور اگر باختیار خود اپنی ملک میں لایا (مثلاًخریدا) اور جس عمل کے ذریعہ سے ملک میں آیا اُس کے پائے جانے کے وقت (مثلاً خریدتے وقت) کفارہ کی نیت کی تو کفارہ ادا ہوگيا۔(5) (جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۷: جو غلام گروی یا مدیون ہے اُسے آزاد کیا تو کفارہ ادا ہوگيا۔ یوہیں اگر بھاگا ہوا ہے اور یہ معلوم ہے کہ زندہ ہے تو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو جائیگا اور اگر بالکل اُس کا پتا نہ معلوم ہو، نہ یہ معلوم کہ زندہ ہے یا مرگیا تو نہ ہوگا۔(6) (عالمگيری)
مسئلہ ۸: اگر غلام میں کسی قسم کا عیب ہے تو اس کی دو۲ صورتیں ہیں،ایک یہ کہ وہ عیب اس قسم کا ہو جس سے جنسِ منفعت فوت ہوتی ہے یعنی دیکھنے، سُننے، بولنے، پکڑنے، چلنے کی اُس کو قدرت نہ ہو یا عاقل نہ ہو تو کفارہ ادا نہ ہوگا اور دوسرے یہ کہ اس حد کا نقصان نہیں تو ہو جائیگا، لہٰذا اتنا بہرا کہ چیخنے سے بھی نہ سُنے یا گونگا یا اندھا یا مجنون کہ کسی وقت اُسکو افاقہ نہ ہوتا ہو یا بوہرا یا وہ بیمار جس کے اچھے ہونے کی اُمید نہ ہو یا جس کے سب دانت گر گئے ہوں اور کھانے سے بالکل عاجزہو یاجس کے
1 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''کتاب الظہار، الجزء الثانی، ص۸۵.
و ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب العاشرفي الکفارۃ، ج۱، ص۵۱۰.
2 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الظہار، الجزء الثانی، ص۸۵.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔بطور صدقہ دیا۔
5 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الطلاق، کتاب الظہار، الجزء الثاني، ص۸۵، وغیرہا.
6 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب العاشرفي الکفارۃ، ج۱، ص۵۱۱ ۔ ۵۱۰.
دونوں ہاتھ کٹے ہوں یا ہاتھ کے دونوں انگوٹھے کٹے ہوں یا علاوہ انگوٹھے کے ہر ہاتھ کی تین تین اُنگلیاں یا دونوں پاؤں یا ایک جانب کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں نہ ہو یالُنجھا(1) یا فالج کا مارا ہو یا دونوں ہاتھ بیکار ہوں تو ان سب کے آزاد کرنے سے کفارہ ادا نہ ہوا۔ (2)(درمختار، جوہرہ)
مسئلہ ۹: اگر ایسا بہرا ہے کہ چیخنے سے سُن لیتا ہے یا مجنون ہے مگر کبھی افاقہ بھی ہوتا ہے اور اسی حالت افاقہ میں آزاد کیا یا اُس کا ایک ہاتھ یا ایک پاؤں یا ایک ہاتھ ایک پاؤں خلاف سے کٹا ہو یعنی ایک دہنا دوسرا بایاں یا ایک ہاتھ کا انگوٹھا یاپاؤں کے دونوں انگوٹھے یا ہر ہاتھ کی دو ۲ دو ۲ اُنگلیاں یا دونوں ہونٹ یا دونوں کان یا ناک کٹی ہو یا انثیین(3) یا عضو تناسل کٹ گیا ہو یا لونڈی کا آگے کا مقام بند ہو یا بھوں یا داڑھی یا سر کے بال نہ ہوں یا کانا یا چند ھا(4)ہو یا ایسا بیمار ہو جس کے اچھے ہونے کی امید ہے اگرچہ موت کاخوف ہو یا سپید داغ کی بیماری (5)ہویا نا مرد ہو تو ان کے آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہوجائیگا۔(6) (درمختار، عالمگيری)
مسئلہ ۱۰: لونڈی کے شکم میں بچہ ہے اُس کو کفارہ میں آزاد کیا تونہ ہوا۔ اس کے غلام کوکسی نے غصب کیا اِس مالک نے آزاد کر دیا تو ہوگيا اور ام ولدو مدبرو مکاتب (7)جس نے بدل کتابت(8) کچھ ادانہ کیا ہو یا کچھ ادا کیا مگر پورا ادا کرنے سے عاجز ہوگيا تو اُسے آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو گیا۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: اپنا غلام دوسرے کے کفارہ میں آزاد کر دیا اگر اُس کے بغیر حکم ہے تو ادا نہ ہوا اور اگر اُس کے کہنے سے مثلاً اُس نے کہا اپنا غلام میری طرف سے آزاد کر دے اور کوئی عوض ذکر نہ کیا جب بھی ادا نہ ہوا اور اگر عوض کا ذکر ہے مثلاً اپنا غلام میری
1 ۔ہاتھ پاؤں سے معذور۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الکفارۃ،ج۵،ص۱۳۷.
و''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الظہار،الجزء الثانی،ص۸۵.
3 ۔خصيے (فوطے)۔ 4 ۔کمزوربینائی والا۔ 5 ۔برص کی بیماری ۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الکفارۃ،ج۵،ص۱۳۷۔۱۳۹.
و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب العاشرفي الکفارۃ،ج۱،ص۵۱۰.
7 ۔غالباًیہاں پرکاتب سے عبارت رہ گئی ہے۔اصل کتاب میں یہ ہے کہ ''...مدبرومکاتب جس نے بعض بدل کتابت اداکردیاہواوربقیہ ادا
کرنے سے عاجز نہ ہو،توان کوآزاد کرنے سے کفارہ ادانہ ہوگا،ہاں وہ مکاتب جس نے بدل کتابتـ ۔الخ۔...عِلْمِیہ
8 ۔وہ مال جس کی ادائیگی کے عوض غلام یالونڈی نے اپنے مالک سے اپنی آزادی کامعاہدہ کیا ہو۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الکفارۃ،ج۵،ص۱۳۷،۱۳۹.
طرف سے اتنے پر آزاد کردے تو ہو جائیگا۔ (1)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۲: ظہار کے دو ۲ کفارے اس کے ذمّے تھے، اس نے دو ۲ غلام آزاد کیے اوریہ نیت نہ کی کہ فلاں غلام فلاں کفارہ میں آزاد کیا تو دونوں ادا ہوگئے۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۳: کسی غلام کو کہا اگر میں تجھے خریدو ں تو تُو آزاد ہے پھر اُسے کفارہ ظہار کی نیت سے خریدا تو آزاد ہوگا مگرکفارہ ادا نہ ہوا اور اگر پہلے کہہ دیا تھا کہ اگر تجھے خریدوں تو میرے ظہار کے کفارہ میں آزاد ہے تو ہوجائیگا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: جب غلام پر قدرت ہے اگرچہ وہ خدمت کا غلام ہو تو کفارہ آزاد کرنے ہی سے ہو گا اور اگر غلام کی اِستطاعت نہ ہو خواہ ملتا نہیں یا اسکے پاس دام(4) نہیں تو کفارہ میں پے در پے (5) دو۲ مہینے کے روزے رکھے اور اگر اُس کے پاس خدمت کا غلام ہے یا مدیون (6)ہے اور دَین(7) ادا کرنے کے ليے غلام کے سواکچھ نہیں تو ان صورتوں میں بھی روزے وغیرہ سے کفارہ ادا نہیں کرسکتا بلکہ غلام ہی آزاد کرنا ہوگا۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: روزے سے کفارہ ادا کرنے میں یہ شرط ہے کہ نہ اِس مدت کے اندر ماہ رمضان ہو، نہ عید الفطر، نہ عیداضحی نہ ایام تشریق۔ ہاں اگر مسافر ہے تو ماہ رمضان میں کفارہ کی نیت سے روزہ رکھ سکتا ہے، مگر ایامِ مَنْہِیَہ(9) میں اسے بھی اجازت نہیں۔ (10)(جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۱۶: روزے اگر پہلی تاریخ سے رکھے تو دوسرے مہینہ کے ختم پر کفارہ ادا ہوگيا اگرچہ دونوں مہینے ۲۹ کے ہوں اور اگر پہلی تاریخ سے نہ رکھے ہوں تو ساٹھ پورے رکھنے ہونگے اور اگر پندرہ روزے رکھنے کے بعد چاند ہوا پھراس مہینے کے روزے رکھ ليے اور یہ ۲۹ دن کا مہینہ ہو اس کے بعد پندرہ دن اور رکھ ليے کہ ۵۹دن ہوئے جب بھی کفارہ
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب العاشرفي الکفارۃ، ج۱، ص۵۱۱.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔قیمت ، نقدی۔ 5 ۔لگاتا ر ، مسلسل۔
6 ۔مقروض۔ 7 ۔قرض
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الکفارۃ،ج۵، ص۱۳۹ .
9 ۔وہ ایام جن میں روزہ رکھنا منع ہےیعنی عیدالفطر،عیدالاضحی اورگیارہ ،بارہ ،تیرہ ذی الحجہ کے دن ۔۔عِلْمِیہ
10 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الظہار، الجزء الثانی، ص۸۷ .
و ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الکفارۃ،ج۵، ص۱۴۱.
ادا ہوجائیگا۔ (1) (درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: روزوں سے کفارہ ادا ہونے میں شرط یہ ہے کہ پچھلے روزے کے ختم تک غلام آزاد کرنے پر قدرت نہ ہویہاں تک کہ پچھلے روزے کی آخر ساعت میں بھی اگر قدرت پائی گئی تو روزے ناکافی ہیں بلکہ غلام آزاد کرنا ہوگا اوراب یہ روزہ نفل ہوا اس کا پورا کرنا مستحب رہے گا اگر فوراً توڑ دیگا تو اسکی قضا نہیں البتہ اگر کچھ دیر بعد توڑیگا تو قضا لازم ہے۔(2)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۸: کفارہ کا روزہ توڑدیا خواہ سفر وغیرہ کسی عذر سے توڑا یا بغیر عذریا ظہار کرنے والے نے جس عورت سے ظہار کیا ان دو۲ مہینوں کے اندر دن یا رات میں اُس سے وطی کی قصداًکی ہو یا بھول کر تو سرے سے روزے رکھے کہ شرط یہ ہے کہ جماع سے پہلے دومہینے کے پے در پے روزے رکھے اور ان صورتوں میں یہ شرط پائی نہ گئی۔ (3)(درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: یہ احکام جو کفا رہ کے متعلق بیان کيے گئے یعنی غلام آزاد کرنے اور روزے رکھنے کے متعلق یہ ظہار کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر کفارہ کے یہی احکام ہیں۔ مثلاً قتل کا کفارہ یا روزہ رمضان توڑنے کا کفارہ، قسم کا کفارہ مگر قسم کے کفارہ میں تین روزے ہیں۔ اور یہ حکم کہ روزہ توڑ دیا تو سرے سے رکھنے ہونگے کفارہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جہاں پے در پے کی شرط ہو مثلاً پے در پے روزوں کی منت مانی تو یہاں بھی یہی حکم ہے البتہ اگر عورت نے رمضان کا روزہ توڑدیا اور کفارہ میں روزے رکھ رہی تھی اور حیض آگیا تو سرے سے رکھنے کا حکم نہیں بلکہ جتنے باقی ہیں اُن کا رکھنا کافی ہے۔ ہاں اگر اس حیض کے بعد آئسہ ہوگئی یعنی اب ایسی عمر ہوگئی کہ حیض نہ آئے گا تو سرے سے رکھنے کا حکم دیا جائے گا کہ اب وہ پے در پے دومہینے کے روزے رکھ سکتی ہے اور اگر اثنائے کفارہ میں(4) عورت کے بچہ ہوا تو سرے سے رکھے۔ ظہار وغیرظہار کے کفار وں میں ایک اور فرق ہے وہ یہ کہ غیر ظہار کے کفار ے میں اگر رات میں وطی کی یا دن میں بھول کر کی تو سرے سے روزے رکھنے کی حاجت نہیں۔ یوہیں ظہار کے روزوں میں اگر بھول کر کھا لیا یادوسری عورت سے بھول کر جماع کیا یا رات میں قصداً جماع کیا تو سرے سے رکھنے کی حاجت نہیں ۔ (5) (درمختار، ردالمحتار، وغیرہما)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب الکفارۃ، مطلب: لااستحالۃ في جعل... إلخ، ج۵، ص۱۴۱.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الکفارۃ،ج۵، ص۱۴۱، وغیرہ.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''رد المحتار''، المرجع السابق، ص۱۴۲.
4 ۔کفارہ کے روزے رکھنے کے دوران۔
5 ۔''الدر المختار'' و''رد المحتار''، المرجع السابق، ص۱۴۲، وغیرہما.
مسئلہ ۲۰: غلام نے اگر اپنی عورت سے ظہار کیا اگرچہ مکاتب ہو یا اُسکا کچھ حصہ آزاد ہو چکا باقی کے ليے سَعایتکرتا ہو(1)یا آزاد نے ظہار کیا مگر بوجہ کم عقلی کے اُس کے تصرفات روک ديے گئے ہوں تو ان سب کے ليے کفارے میں روزے رکھنا معین ہے ان کے ليے غلام آزاد کرنا یا کھانا کھلانا نہیں لہٰذا اگر غلام کے آقانے اُس کی طرف سے غلام آزادکردیا یا کھانا کھلا دیا تو یہ کافی نہیں اگرچہ غلام کی اجازت سے ہوا اور کفارہ کے روزوں سے اُسکا آقا منع نہیں کرسکتا اوراگر غلام نے کفارہ کے روزے ابتک نہیں رکھے اور اب آزاد ہوگيا تو اگر غلام آزاد کرنے پر قدرت ہو تو آزاد کرے ورنہ روزے رکھے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: روزے رکھنے پر بھی اگر قدرت نہ ہو کہ بیمار ہے اور اچھے ہونے کی امید نہیں یا بہت بوڑھا ہے تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے اور یہ اختیار ہے کہ ایک دم سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاوے یا متفرق طور پر، مگر شرط یہ ہے کہ اس اثنا میں روزے پر قدرت حاصل نہ ہو ورنہ کھلانا صدقہ نفل ہوگا اور کفارہ میں روزے رکھنے ہونگے۔ اور اگر ایک وقت ساٹھ کو کھلایا دوسرے وقت ان کے سوا دوسرے ساٹھ کو کھلایا تو ادا نہ ہوا بلکہ ضرور ہے کہ پہلوں یا پچھلوں کو پھر ایک وقت کھلائے۔(3) (درمختار،ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: شرط یہ ہے کہ جن مسکینوں کو کھانا کھلایا ہواُن میں کوئی نا بالغ غیر مراہق نہ ہو ہاں اگر ایک جوان کی پوری خوراک کا اُسے مالک کر دیا تو کافی ہے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر مسکین کو بقدر صدقہ فطر یعنی نصف صاع گیہوں یا ایک صاع جَو یا ان کی قیمت کا مالک کر دیا جائے مگر اباحت کافی نہیں اور اُنھیں لوگوں کو دے سکتے ہیں جنھیں صدقہ فطر دے سکتے ہیں جن کی تفصیل صدقہ فطر کے بیان میں مذکور ہوئی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صبح کو کھلاوے اور شام کے ليے قیمت دیدے یا شام کو کھلاوے اور صبح کے کھانے کی قیمت دیدے یا دو ۲ دن صبح کو یا شام کو کھلاوے یا تیس کو کھلائے اور تیس کو دیدے غرض یہ کہ ساٹھ کی تعداد جس طرح چاہے پوری کرے اس کا اختیار ہے یا پاؤ صاع گیہوں اور نصف صاع جو دیدے یا کچھ گیہوں یا جو دے باقی کی قیمت ہر
1 ۔یعنی مالک کو ثمن ادا کرنے کے لئے محنت مزدوری کر تا ہو ۔
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب العاشرفي الکفارۃ، ج۱، ص۵۱۲ ۔ ۵۱۳.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب الکفارۃ، مطلب: أی حرلیس لہ... إلخ، ج۵، ص۱۴۴.
و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب العاشرفي الکفارۃ، ج۱، ص۵۱۳.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الکفارۃ،مطلب:أی حرلیس لہ...إلخ، ج۵، ص۱۴۴.
طرح اختیارہے۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: کھلانے میں پیٹ بھر کر کھلانا شرط ہے اگرچہ تھوڑے ہی کھانے میں آسودہ ہوجائیں (2) اور اگر پہلے ہی سے کوئی آسودہ تھا تو اُس کا کھانا کافی نہیں اور بہتر یہ ہے کہ گیہوں کی روٹی اور سالن کھلائے اوراس سے اچھا کھاناہو تو اور بہتر اور جوکی روٹی ہو تو سالن ضروری ہے۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: ایک مسکین کو ساٹھ دن تک دونوں وقت کھلایا یا ہر روز بقدر صدقہ فطراُسے دیدیا جب بھی اد ا ہوگیا اور اگر ایک ہی دن میں ایک مسکین کو سب دیدیا ایک دفعہ میں یا ساٹھ دفعہ کر کے یا اُس کو سب بطور اباحت دیا تو صرف اُس ایک دن کا ادا ہوا۔ یوہیں اگر تیس مساکین کو ایک ایک صاع گیہوں ديے یا دودو صاع جَو تو صرف تیس کو دینا قرار پائیگا یعنی تیس مساکین کو پھر دینا پڑے گا یہ اُس صورت میں ہے کہ ایک دن میں ديے ہوں اور دودنوں میں ديے تو جائز ہے۔(4) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۶: ساٹھ مساکین کو پاؤ پاؤ صاع گیہوں ديے تو ضرورہے کہ ان میں ہر ایک کو اور پاؤ پاؤ صاع دے اور اگر ان کی عوض میں اور ساٹھ مساکین کو پاؤ پاؤ صاع ديے تو کفارہ ادا نہ ہوا۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۷: ایک سو بیس مساکین کو ایک وقت کھانا کھلادیا تو کفارہ ادا نہ ہوا بلکہ ضرور ہے کہ ان میں سے ساٹھ کو پھر ایک وقت کھلائے خواہ اُسی دن یاکسی دوسرے دن اور اگر وہ نہ ملیں تو دوسرے ساٹھ مساکین کو دونوں وقت کھلائے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: اس کے ذمہ دو۲ ظہار تھے خواہ ایک ہی عورت سے دونوں ظہار کیے یا دو عورتوں سے اور دونوں کے کفارہ میں ساٹھ مسکین کو ایک ایک صاع گیہوں دیديے تو صرف ایک کفارہ ادا ہوا اور اگر پہلے نصف نصف صاع ایک کفارہ میں ديے پھر اُنھیں کو نصف نصف صاع دوسرے کفارہ میں ديے تو دونوں ادا ہوگئے۔(7) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۹: دو ظہار کے کفاروں میں دو غلام آزاد کر ديے یا چارمہینے کے روزے رکھ ليے یا ایک سو بیس مسکینوں کو
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الکفارۃ،مطلب:أی حرلیس لہ...إلخ،ج۵،ص۱۴۴۔۱۴۶.
2 ۔یعنی پیٹ بھرجائے ،سیرہوجائے۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الکفارۃ،مطلب:أی حرلیس لہ...إلخ،ج۵،ص۱۴۶.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب العاشرفي الکفارۃ،ج۱،ص۵۱۳،وغیرہ.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الکفارۃ،ج۵،ص۱۵۰.
7 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب العاشرفي الکفارۃ،ج۱،ص۵۱۴.
کھاناکھلادیا تو دونوں کفارے ادا ہوگئے اگرچہ معین نہ کیا ہو کہ یہ فلاں کاکفارہ ہے اور یہ فلاں کا۔ اور اگر دونوں دو قسم کے کفارے ہوں تو کوئی ادا نہ ہو ا مگر جبکہ یہ نیت ہو کہ ایک کفارہ میں یہ اور ایک میں وہ اگرچہ معین نہ کیا ہو کہ کون سے کفارہ میں یہ اور کس میں وہ۔ اور اگر دونوں کی طرف سے ایک غلام آزاد کیا یادوماہ کے روزے رکھے تو ایک ادا ہوا اور اُسے اختیار ہے کہ جس کے ليے چاہے معین کرے اور اگر دونوں کفارے دوقسم کے ہیں مثلاً ایک ظہار کا ہے دوسرا قتل کا تو کوئی کفارہ ادا نہ ہوا مگر جبکہ کافر کوآزاد کیا ہو تو یہ ظہار کے ليے متعین ہے کہ قتل کے کفارہ میں مسلمان کا آزاد کرنا شرط ہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: دو ۲ قسم کے دوکفارے ہیں اور ساٹھ مسکین کو ایک ایک صاع گیہوں دونوں کفاروں میں دیدیے تو دونوں ادا ہوگئے اگرچہ پورا پوراصاع ایک مرتبہ دیا ہو۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳۱: نصف غلام آزاد کیا اور ایک مہینے کے روزے رکھے یا تیس مسکینوں کو کھانا کھلایا تو کفارہ ادا نہ ہوا۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: ظہار میں یہ ضروری ہے کہ قربت سے پہلے ساٹھ مساکین کو کھلادے اور اگر ابھی پورے ساٹھ مساکین کو کھلا نہیں چکا ہے اور درمیان میں وطی کرلی تو اگرچہ یہ حرام ہے مگر جتنوں کو کھلا چکا ہے وہ باطل نہ ہوا، با قیوں کو کھلادے، سرے سے پھر ساٹھ کو کھلانا ضرور نہیں۔(4) (جوہرہ)
مسئلہ ۳۳: دوسرے نے بغیر اس کے حکم کے کھِلا دیا تو کفارہ ادا نہ ہوا اور اس کے حکم سے ہے تو صحیح ہے مگر جو صَرف ہوا ہے وہ اس سے نہیں لے سکتا ہاں اگر اس نے حکم کرتے وقت یہ کہدیا ہو کہ جو صرف ہوگا میں دوں گا تولے سکتا ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۳۴: جس کے ذمہ کفارہ تھا اُس کا انتقال ہوگیا وارث نے اُس کی طرف سے کھانا کھلادیا یا قسم کے کفارہ میں کپڑے پہنا دیے تو ہو جائیگا اور غلام آزاد کیا تو نہیں۔ (6)(ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الکفارۃ،ج۵،ص۱۴۸.
2 ۔المرجع السابق، ص۱۴۸.
3 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب العاشرفي الکفارۃ، ج۱، ص۵۱۴.
4 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الظہار،الجزء الثانی،ص۸۹.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الکفارۃ،ج۵،ص۱۴۷.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الکفارۃ،مطلب:لااستحالۃ في جعل...إلخ،ج۵،ص۱۴۷.
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(وَالَّذِیۡنَ یَرْمُوۡنَ اَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنۡ لَّہُمْ شُہَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُہُمْ فَشَہَادَۃُ اَحَدِہِمْ اَرْبَعُ شَہٰدٰتٍۭ بِاللہِ ۙ اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۶﴾وَالْخَامِسَۃُ اَنَّ لَعْنَتَ اللہِ عَلَیۡہِ اِنۡ کَانَ مِنَ الْکٰذِبِیۡنَ ﴿۷﴾وَیَدْرَؤُا عَنْہَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْہَدَ اَرْبَعَ شَہٰدٰتٍۭ بِاللہِ ۙ اِنَّہٗ لَمِنَ الْکٰذِبِیۡنَ ۙ﴿۸﴾وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللہِ عَلَیۡہَاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۹﴾ ) (1)
اور جو لوگ اپنی عورتوں کو تہمت لگائیں اور اُن کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اﷲ (عزوجل) کے نام سے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں یہ کہ اﷲ (عزوجل) کی لعنت ہواُس پر اگر جھوٹا ہواور عورت سے سزا یوں ٹلے گی کہ وہ اﷲ (عزوجل) کا نام لے کر چار بار گواہی دے کہ مرد جھوٹا ہے اور پانچویں بار یوں کہ عورت پر اﷲ (عزوجل) کا غضب اگر مرد سچاہو۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، یارسول اﷲ (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم )کیا کسی مرد کو اپنی بی بی کے ساتھ پاؤں تو اُسے چھوؤں بھی نہیں، یہاں تک کہ چار گواہ لاؤں؟ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: ہاں۔ اُنھوں نے عرض کی، ہر گز نہیں، قسم ہے اُس کی جس نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں فوراً تلوار سے کام تمام کر دونگا۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ''سنو تمھارا سردار کیا کہتا ہے، بیشک وہ بڑا غیرت والا ہے اور میں اُس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اﷲ (عزوجل) مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے۔'' دوسری روایت میں ہے، کہ ''یہ اﷲ (عزوجل) کی غیرت ہی کی وجہ سے ہے کہ فواحش (بے حیائی کی باتوں) کو حرام فرما ديا ہے، خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔'' (2)
حدیث ۲: صحیحین میں اُنھیں سے مروی، کہ ایک اعرابی نے حاضر ہو کر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے عرض کی کہ میری عورت کے سیاہ رنگ کا لڑکا پیدا ہوا ہے اورمجھے اِس کا اچنبا ہے (یعنی معلوم ہوتا ہے میرانہیں)۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: ''تیرے پاس اونٹ ہیں؟'' عرض کی، ہاں۔ فرمايا: اُن کے رنگ کیا ہیں؟ عرض کی، سُرخ۔ فرمايا: ''اُن میں کوئی بھورا بھی ہے؟'' عرض کی، چند بھورے بھی ہیں۔ فرمايا: ''تو سُرخ رنگ والوں میں یہ بھورا کہاں سے آگیا؟'' عرض کی، شاید رگ نے کھینچا ہو (یعنی اس کے باپ دادا میں کوئی ایسا ہوگا، اُس کا اثر ہوگا) فرمايا: ''تو یہاں بھی شاید رگ نے کھینچ لیا ہو، اتنی بات پر
1 ۔پ ۱۸،النور:۶۔۹.
2 ۔''صحیح مسلم''، کتاب اللعان، الحدیث: ۱۶۔۱۴۹۸،۱۴۹۹، ص۸۰۵.
اُسے انکار نسب کی اجازت نہ دی۔'' (1)
حدیث ۳: صحیح بخاری شریف ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، ہلال بن اُمیّہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی بی بی پر تہمت لگائی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: ''گواہ لاؤ، ورنہ تمھاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی۔'' عرض کی یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کوئی شخص اپنی عورت پر کسی مرد کو دیکھے تو گواہ ڈھونڈنے جائے۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے وہی جواب دیا۔ پھر ہلال نے کہا، قسم ہے اُس کی جس نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! بیشک میں سچا ہوں اور خدا کوئی ایسا حکم نازل فرمائیگا جو میری پیٹھ کو حد سے بچاوے۔ اُس وقت جبریل علیہ السلام اُترے اور ( وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ ) نازل ہوئی، ہلال نے حاضر ہوکر لعان کا مضمون ادا کیا۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: بیشک اﷲ (عزوجل) جانتا ہے کہ تم میں ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں کوئی توبہ کرتا ہے۔ پھر عورت کھڑی ہوئی اُس نے بھی لعان کیا، جب پانچویں بار کی نوبت آئی تو لوگوں نے اُسے روک کر کہا، اب کہے گی تو ضرور غضب کی مستحق ہو جائیگی اس پر وہ کچھ رُکی اور جھجکی جس سے ہم کو خیال ہوا کہ رجوع کریگی مگر پھر کھڑی ہو کر کہنے لگی میں تو اپنی قوم کو ہمیشہ کے ليے رسوانہ کرونگی پھر وہ پانچواں کلمہ بھی اُس نے ادا کر دیا۔ (2)
حدیث ۴: صحیحین میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مردوعورت میں لعان کرایا پھر شوہر نے عورت کے لڑکے سے انکار کر دیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے دونوں میں تفریق کر دی اور بچہ کو عورت کی طرف منسوب کر دیا اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے لعان کے وقت پہلے مرد کو نصیحت و تذکیر کی اور یہ خبر دی کہ دُنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت آسان ہے پھر عورت کو بُلا کر نصیحت و تذکیر کی اور اُسے بھی یہی خبر دی۔ دوسری روایت میں ہے، کہ مرد نے اپنے مال (مہر) کا مطالبہ کیا۔ ارشاد فرمايا: کہ ''تم کو مال نہ ملے گا، اگر تم نے سچ کہا ہے تو جو منفعت اُس سے اُٹھا چکے ہو اُس کے بدلے میں ہوگيا اور اگر تم نے جھوٹ کہا ہے تو یہ مطالبہ بہت بعیدو بعیدتر ہے۔'' (3)
حدیث ۵: ابن ماجہ میں بروایت عمر و بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: کہ ''چار عورتوں سے لعان نہیں ہوسکتا۔ (۱) نصرانیہ جو مسلمان کی زوجہ ہے۔ اور (۲)یہودیہ جو مسلمان کی عورت ہے۔ اور(۳) حرہ جو کسی غلام کے نکاح میں ہے۔اور (۴) باندی جو آزاد مرد کے نکاح میں ہے۔'' (4)
1 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الاعتصام، باب من شبہ أَصلا معلوما... إلخ، الحدیث: ۷۳۱۴، ج۴، ص۵۱۲.
2 ۔''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، باب ویدرأعنہاالعذاب...الخ،الحدیث: ۴۷۴۷، ج۳، ص۲۸۰.
3 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب النکاح، باب اللعان، الحدیث: ۳۳۰۵، ۳۳۰۶ ج۲، ص۲۵۰.
4 ۔''سنن ابن ماجہ''، کتاب الطلاق، باب اللعان، الحدیث:۲۰۷۱،ج۲، ص۵۲۸.
مسئلہ ۱: مرد نے اپنی عورت کو زنا کی تہمت لگائی اس طرح پر کہ اگر اجنبیہ عورت کو لگاتاتو حدِ قذف ( تہمتِ زنا کی حد) اس پر لگائی جاتی یعنی عورت عاقلہ، بالغہ، حرہ، مسلمہ ،عفیفہ(1) ہو تو لعان کیا جائیگا اس کا طریقہ یہ ہے کہ قاضی کے حضور پہلے شوہر قسم کے ساتھ چار مرتبہ شہادت دے یعنی کہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے جو اس عورت کو زنا کی تہمت لگائی اس میں خدا کی قسم! میں سچا ہوں پھر پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اُس پر خدا کی لعنت اگر اس امر میں کہ اس کو زنا کی تہمت لگائی جھوٹ بولنے والوں سے ہو اور ہر بار لفظ ــ''اس'' سے عورت کی طرف اشارہ کرے پھر عورت چار مرتبہ یہ کہے کہ میں شہادت دیتی ہوں خدا کی قسم! اس نے جو مجھے زنا کی تہمت لگائی ہے، اس بات میں جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اُس پر اﷲ (عزوجل) کا غضب ہو، اگر یہ اُس بات میں سچا ہو جو مجھے زنا کی تہمت لگائی۔ لعان میں لفظ شہادت شرط ہے، اگر یہ کہا کہ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ سچا ہوں، لعان نہ ہوا۔ (2)
مسئلہ ۲: لعان کے ليے چند شر طیں ہیں:
(۱) نکاح صحیح ہو۔ اگر اُس عورت سے اس کا نکاح فاسد ہوا ہے اور تہمت لگائی تو لعان نہیں۔
(۲) زوجیت قائم ہو(3) خواہ دخول ہوا ہو یا نہیں لہٰذا اگر تہمت لگانے کے بعد طلاق بائن دی تو لعان نہیں ہوسکتا اگرچہ طلاق دینے کے بعد پھر نکاح کرلیا۔ یوہیں اگر طلاق بائن دینے کے بعد تہمت لگائی یازوجہ کے مر جانے کے بعد تو لعان نہیں اور اگر تہمت کے بعد رجعی طلاق دی یا رجعی طلاق کے بعد تہمت لگائی تو لعان ساقط نہیں۔
(۳) دونوں آزاد ہوں۔
(۴) دونوں عاقل ہوں۔
(۵) دونوں بالغ ہوں۔
(۶) دونوں مسلمان ہوں۔
(۷) دونوں ناطق ہوں یعنی اُن میں کوئی گونگا نہ ہو۔
1 ۔پاکدامن،پارسا عورت۔
2 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر في اللعان، ج۱، ص۵۱۵،۵۱۶.
3 ۔یعنی عورت نکاح میں موجودہو۔
(۸) اُن میں کسی پر حد قذف نہ لگائی گئی ہو۔
(۹) مرد نے اپنے اِس قول پر گواہ نہ پیش کيے ہوں۔
(۱۰) عورت زنا سے انکار کرتی ہواور اپنے کو پارسا کہتی ہو اصطلاح شرع میں پار سا اُس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ وطی حرام نہ ہوئی ہونہ وہ اسکے ساتھ متہم ہو(1) لہٰذا طلاق بائن کی عدت میں اگر شوہر نے اُس سے وطی کی اگرچہ وہ اپنی نا دانی سے یہ سمجھتا تھا کہ اس سے وطی حلال ہے تو عورت عفیفہ نہیں۔ یوہیں اگر نکاح فاسد کرکے اُس سے وطی کی تو عفت (2)جاتی رہی یا عورت کی اولاد ہے جس کے باپ کو یہاں کے لوگ نہ جانتے ہوں اگرچہ حقیقۃً وہ ولدالزنا (3) نہیں ہے یہ صورت متہم ہونے کی ہے اس سے بھی عفت جاتی رہتی ہے۔ اور اگر وطی حرام عارضی سبب سے ہو مثلاًحیض ونفاس وغیرہ میں جن میں وطی حرام ہے وطی کی تو اس سے عفت نہیں جاتی۔
(۱۱) صریح زنا کی تہمت لگائی ہو یا اُس کی جو اولاد اسکے نکاح میں پیدا ہوئی اُس کو کہتا ہو کہ یہ میری نہیں یا جو بچہ عورت کا دوسرے شوہر سے ہے اُس کو کہتا ہو کہ یہ اُس کا نہیں۔
(۱۲) دارالاسلام میں یہ تہمت لگائی ہو۔
(۱۳) عورت قاضی کے پاس اُس کا مطالبہ کرے۔
(۱۴) شوہر تہمت لگانے کا اقرار کرتا ہو یا دومرد گواہوں سے ثابت ہو۔ لعان کے وقت عورت کاکھڑا ہونا شرط نہیں بلکہ مستحب ہے۔ (4)
مسئلہ ۳: عورت پر چند بار تہمت لگائی تو ایک ہی بار لعان ہو گا۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۴: لعان میں تما دی نہیں یعنی اگر عورت نے زما نہ دراز تک مطالبہ نہ کیا تو لعان ساقط نہ ہوگا ہر وقت مطالبہ کا اُس کو اختیار باقی ہے۔ لعان معاف نہیں ہو سکتا یعنی اگر شوہر نے تہمت لگائی اور عورت نے اُس کو معاف کر دیا اور معاف کرنے کے بعد اب قاضی کے یہاں دعویٰ کرتی ہے تو قاضی لعان کا حکم دیگا اور عورت دعویٰ نہ کرے تو قاضی خود مطالبہ نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگر عورت نے کچھ لے کر صلح کر لی تو لعان ساقط نہ ہوا جو لیا ہے اُسے واپس کرکے مطالبہ کرنےکا عورت کو حق حاصل ہے مگر عورت
1 ۔نہ اُس پر وطی حرام کی تہمت لگی ہو۔ 2 ۔پاکدامنی۔ 3 ۔ زناسے پیداہونے والابچہ۔
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر في اللعان، ج۱، ص۵۱۵.
و ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب اللعان، ج۵، ص۱۵۱،۱۵۶.
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر فياللعان، ج۱، ص۵۱۴.
کے ليے افضل یہ ہے کہ ایسی بات کو چھپائے اور حاکم کو بھی چاہیے کہ عورت کو پردہ پوشی کا حکم دے۔ (1)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۵: عورت کے مرجانے کے بعد اُس کو تہمت لگائی اور اُس عورت کی دوسرے شوہر سے اولاد ہے جس کے نسب میں اسکی تہمت کی وجہ سے خرابی پڑتی ہے اُس نے مطالبہ کیا اور شوہر ثبوت نہ دے سکا تو حد قذف قائم کی جائے اور اگر دوسرے سے اولاد نہیں بلکہ اسی کی اولادیں ہیں تو حد قائم نہیں ہو سکتی۔(2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مرد و عورت دونوں کافر ہوں یا عورت کافر ہ یا دونوں مملوک ہوں یا ایک یا دونوں میں سے ایک مجنون ہو یا نابالغ یا کسی پر حد قذف قائم ہوئی ہے تو لعان نہیں ہو سکتا اور اگر دونوں اندھے یا فاسق ہوں یا ایک تو ہوسکتا ہے۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: شوہر اگر تہمت لگانے سے انکار کرتا ہے او ر عورت کے پاس دو۲ مرد گواہ بھی نہ ہوں تو شوہر سے قسم نہ کھلائی جائے اور اگر قسم کھلائی گئی اُس نے قسم کھانے سے انکار کیا تو حد قائم نہ کریں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۸: شوہر نے تہمت لگائی اور اب لعان سے انکار کرتا ہے تو قید کیا جائے گا یہاں تک کہ لعان کرے یا کہے میں نے جھوٹ کہا تھا اگر جھوٹ کا اقرار کرے تو اُس پر حد قذف قائم کریں اور شوہر نے لعان کے الفاظ ادا کرليے تو ضرور ہے کہ عورت بھی ادا کرے ورنہ قید کی جائیگی یہاں تک کہ لعان کرے یا شوہر کی تصدیق کرے اور اب لعان نہیں ہو سکتا نہ آئندہ تہمت لگانے سے شوہر پر حد قذف قائم ہوگی مگر عورت پر تصدیق شوہر کی وجہ سے حد زنا بھی قائم نہ ہوگی جبکہ فقط اتنا کہا ہو کہ وہ سچا ہے اور اگر اپنے زنا کا اقرار کیا تو بشرائط اقرار زنا حد زنا قائم ہو گی۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: شوہر کے نا قابل شہادت ہونے کی وجہ سے اگر لعان ساقط ہو مثلاً غلام ہے یا کافر یا اُس پر حد قذف لگائی جاچکی ہے تو حد قذف قائم کی جائے بشرطیکہ عاقل بالغ ہو۔ اور اگر لعان کا ساقط ہونا عورت کی جانب سے ہے کہ وہ اس قابل نہیں مثلاً کافرہ ہے یا باندی یا محدودہ فی القذف یا وہ ایسی ہے کہ اُس پر تہمت لگانے والے کے ليے حد قذف نہ ہو یعنی عفیفہ نہ ہو تو
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر فياللعان، ج۱، ص۵۱۶.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب اللعان،ج۵،ص۱۵۴.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب اللعان، ج۵، ص۱۵۳.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب اللعان، ج۵، ص۱۵۲.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب اللعان، ج۵، ص۱۵۵.
5 ۔''الدرالمختار'' و''رد المحتار''، کتاب الطلاق، باب اللعان، ج۵،ص۱۵۵.
شوہر پر حد قذف نہیں بلکہ تعزیر ہے مگر جبکہ عفیفہ نہ ہو اورعلانیہ زنا کرتی ہو تو تعزیر بھی نہیں اور اگر دونوں محدود فی القذف (1)ہوں تو شوہر پر حد قذف ہے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: اگر عورت سے کہا تونے بچپن میں زنا کیا تھا یا حالت جنون میں اور یہ بات معلوم ہے کہ عورت کو جنون تھا تو نہ لعان ہے، نہ شوہر پر حد قذف، اور اگر کہا تو نے حالت کفر میں یا جب تو کنیز تھی اُس وقت زنا کیاتھا یا کہا چالیس (۴۰) برس ہوئے کہ تونے زنا کیا حالانکہ عورت کی عمر اتنی نہیں تو ان صورتوں میں لعان ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: عورت سے کہا اے زانیہ یا تو نے زنا کیا یا میں نے تجھے زنا کرتے دیکھا تو یہ سب الفاظ صریح ہیں، اِن میں لعان ہوگا اور اگر کہا تونے حرامکاری کی یا تجھ سے حرام طور پر جماع کیا گیا یا تجھ سے لواطت کی گئی تو لعان نہیں۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۲: لعان کا حکم یہ ہے کہ اس سے فارغ ہوتے ہی اس شخص کو اُس عورت سے وطی حرام ہے مگر فقط لعان سے نکاح سے خارج نہ ہوئی بلکہ لعان کے بعد حاکم اسلام تفریق کردیگا اور اب مطلقہ بائن ہوگئی لہٰذا بعدلعان اگر قاضی نے تفریق نہ کی ہو تو طلاق دے سکتا ہے ایلا و ظہار کر سکتا ہے دونوں میں سے کوئی مرجائے تو دوسرا اُسکا ترکہ پائیگا اور لعان کے بعد اگر وہ دونوں علیحدہ ہونا نہ چاہیں جب بھی تفریق کردی جائیگی۔(5) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۳: اگر لعان کی ابتدا قاضی نے عورت سے کرائی تو شوہر کے الفاظ لعان کہنے کے بعد عورت سے پھر کہلوائے اور دوبارہ عورت سے نہ کہلوائے اور تفریق کردی تو ہوگئی۔(6) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۴: لعان ہو جانے کے بعد ابھی تفریق نہ کی تھی کہ خود قاضی کا انتقال ہوگيا یا معزول ہوگيا اور دوسرااُس کی جگہ مقرر کیا گیا تو یہ قاضی دوم اب پھر لعان کرائے۔(7)(جوہرہ)
مسئلہ ۱۵: تین تین بار دونوں نے الفاظ لعان کہے تھے یعنی ابھی پورا لعان نہ ہوا تھا کہ قاضی نے غلطی سے تفریق کر دی تو تفریق ہوگئی مگر ایسا کرنا خلافِ سنت ہے اور اگر ایک ایک یا دو دو بار کہنے کے بعد تفریق کی تو تفریق نہ ہوئی اور اگر صرف
1 ۔یعنی دونوں کوتہمت زناکی سزامل چکی ہو۔
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب اللعان، ج۵، ص۱۵۵،۱۵۷.
3 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب اللعان، ج۵، ص۱۵۸.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر فياللعان، ج۱، ص۵۱۵.
5 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب اللعان، الجزء الثانی، ص۹۲.
6 ۔ المرجع السابق. 7 ۔ المرجع السابق.
شوہر نے الفاظ لعان ادا کيے عورت نے نہیں اور قاضی غیر حنفی نے (جس کا یہ مذہب ہو کہ صرف شوہر کے لعان سے تفریق ہوجاتی ہے) تفریق کر دی تو جدائی ہوگئی اور قاضی حنفی ایسا کریگا تو اُس کی قضا نافذ نہ ہوگی کہ یہ اُس کے مذہب کے خلاف ہے اور خلاف مذہب حکم کرنے کا اُسے حق نہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: لعان کے بعد ابھی تفریق نہیں ہوئی ہے اور دونوں یا ایک کو کوئی ایسا امر لاحق ہو ا کہ لعان سے پیشتر ہوتا تولعان ہی نہ ہوتا مثلاً ایک یا دونوں گونگے یا مرتد ہو گئے یا کسی کو تہمت لگائی اور حد قذف قائم ہوئی یا ایک نے اپنی تکذیب کی یاعورت سے وطی حرام کی گئی تو لعان باطل ہوگيا، لہٰذا قاضی اب تفریق نہ کریگا اور اگر دونوں میں سے کوئی مجنون ہوگيا تو لعان ساقط نہ ہوگا لہٰذا تفریق کردیگا اور اگر بوہرا ہوگیا جب بھی تفریق کر دیگا اور اگر مرد نے الفاظ لعان کہہ ليے تھے اور عورت نے ابھی نہیں کہے تھے کہ بوہرا ہوگیا یا عورت بوہری ہوگئی تو تفریق نہ ہوگی نہ عورت سے لعان کرایا جائے۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۷: لعان کے بعد شوہر یا عورت نے تفریق کے ليے کسی کو اپنا وکیل کیا اور غائب ہوگيا تو قاضی وکیل کے سامنے تفریق کر دیگا۔ یوہیں اگر بعد لعان چل ديے پھر کسی کو وکیل بنا کر بھیجا تو قاضی اس وکیل کے سامنے تفریق کر دیگا۔ (3)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۸: لعان کے بعد اگر ابھی تفریق نہ ہوئی ہو جب بھی اُس عورت سے وطی و دواعی وطی (4)حرام ہیں اور تفریق ہوگئی تو عدت کا نفقہ و سُکنےٰ یعنی رہنے کا مکان پائے گی اور عدت کے اندر جو بچہ پیدا ہوگا اُسی شوہر کا ہوگا اگر دو ۲برس کے اندر پیداہو۔ اور اگر عدت اُس عورت کے ليے نہ ہو اور چھ ۶ ماہ کے اندر بچہ پیدا ہو تو اسی شوہر کا قرار دیاجائیگا۔(5)(درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: اگر شوہر نے اُس بچہ کی نسبت جو اس کے نکاح میں پیدا ہوا ہے اور زندہ بھی ہے یہ کہا کہ یہ میرانہیں ہے اورلعان ہو اتو قاضی اُس بچہ کا نسب شوہر سے منقطع کر دیگا اور وہ بچہ اب ماں کی طرف منتسب ہوگا بشرطیکہ علوق (6)ایسے وقت میں ہوا کہ عورت میں صلاحیت لعان ہو، لہٰذا اگر اُس وقت باندی تھی اب آزاد ہے یا اُس وقت کافرہ تھی اب مسلمان ہے تو نسب منتفی نہ ہوگا،(7) اس واسطے کہ اِس صورت میں لعان ہی نہیں اور اگر وہ بچہ مر چکا ہے تو لعان ہوگا اورنسب منتفی نہیں ہوسکتا ہے۔ یوہیں اگر دوبچے ہوئے اور ایک مر چکا ہے اور ایک زندہ ہے اور دونوں سے شوہرنے انکار کر دیا یا لعان سے پہلے ایک مرگیا تو اُس
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب اللعان،ج۵، ص۱۶۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر في اللعان، ج۱، ص۵۱۷ .
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔یعنی وطی پر ابھارنے والے افعال مثلاًبوس وکناروغیرہ۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب اللعان، مطلب: فی الدعائ...الخ، ج۵، ص۱۶۰.
6 ۔نطفہ ٹھہرنا،حمل ٹھہرنا۔ 7 ۔یعنی نسب منقطع نہ ہوگا۔
مُردہ کانسب منتفی نہ ہوگا۔ نسب منتفی ہونے کی چھ۶شرطیں ہیں:
(۱) تفریق۔
(۲) وقت ولادت یا اس کے ایک دن یا دودن بعدتک ہو دو۲ دن کے بعد انکار نہیں کرسکتا۔
(۳) اس انکار سے پہلے اقرار نہ کرچکا ہو اگرچہ دلالۃً اقرار ہو مثلاًاسکو مبارکباد کہی گئی اور اس نے سکوت کیا یا اُس کے ليے کھلونے خریدے۔
(۴) تفریق کے وقت بچہ زندہ ہو۔
(۵)تفریق کے بعد اُسی حمل سے دوسرا بچہ نہ پیدا ہو یعنی چھ ۶ مہینے کے اندر۔
(۶) ثبوت نسب کا حکم شرعاً نہ ہوچکا ہو، مثلاً بچہ پیدا ہوا اور وہ کسی دودھ پیتے بچہ پر گرا اور یہ مرگیا اور یہ حکم دیا گیا کہ اُس بچہ کے باپ کے عصبہ اس کی دیت ادا کریں اور اب باپ یہ کہتا ہے کہ میر ا نہیں تو لعان ہوگا اور نسب منقطع نہ ہوگا۔(1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: لعان و تفریق کے بعد پھر اُس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا جب تک دونوں اہلیت لعان رکھتے ہوں اور اگر لعان کی کوئی شرط دونوں یا ایک میں مفقود ہوگئی تو اب باہم دونوں نکاح کرسکتے ہیں مثلاًشوہر نے اس تہمت میں اپنے کو جھوٹا بتایا اگرچہ صراحۃً یہ نہ کہا ہو کہ میں نے جھوٹی تہمت لگائی تھی مثلاًوہ بچہ جس کا انکار کر چکا تھا مر گیا اور اُس نے مال چھوڑا ترکہ لینے کے ليے یہ کہتا ہے کہ وہ میرا بچہ تھا تو حد قذف قائم ہوگی اوراس کا نکاح اُس عورت سے اب ہوسکتا ہے اور اگر حدقذف نہ لگائی گئی جب بھی نکاح ہو سکتا ہے۔ یوہیں اگر بعد لعان و تفریق کسی اور پر تہمت لگائی اور اس کی وجہ سے حد قذف قائم ہوئی یا عورت نے اُس کی تصدیق کی یا عورت سے وطی حرام کی گئی اگرچہ زنا نہ ہو مگر تصدیق زن سے نکاح اُس وقت جائز ہو گا جبکہ چار بار ہو اور حدولعان ساقط ہونے کے ليے ایک بار تصدیق کافی ہے۔(2) (عالمگيری، درمختار)
مسئلہ ۲۱: حمل کی نسبت اگر شوہر نے کہا کہ یہ میرا نہیں تو لعان نہیں ہاں اگر یہ کہے کہ تونے زنا کیا ہے اوریہ حمل اُسی سے ہے تو لعان ہوگا مگر قاضی اِس حمل کو شوہر سے نفی نہ کریگا۔ (3)(درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب اللعان، مطلب: فی الدعائ...الخ، ج۵، ص۱۶۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر في اللعان، ج۱، ص۵۲۰.
و ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب اللعان،ج۵، ص۱۶۱.
3 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، باب اللعان، ج۵، ص۱۶۲.
مسئلہ ۲۲: کسی نے اس کی عورت پر تہمت لگائی اس نے کہا تو نے سچ کہا وہ ویسی ہی ہے جیسا تو کہتا ہے تولعان ہوگا اوراگر فقط اتنا ہی کہا کہ تو سچا ہے تو لعان نہیں نہ حد قذف۔(1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: عورت سے کہا تجھ پر تین طلاقیں اے زانیہ تو لعان نہیں بلکہ حد قذف ہے اور اگر کہا اے زانیہ تجھے تین طلاقیں تو نہ لعان ہے نہ حد۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۴: عورت سے کہا اے زانیہ، زانیہ کی بچی تو عورت اور اُس کی ماں دونوں پر تہمت لگائی اب اگر ماں بیٹی دونوں ایک ساتھ مطالبہ کریں تو ماں کا مطالبہ مقدم قرار دیکر حد قذف قائم کرینگے اور لعان ساقط ہو جائیگا اور اگر ماں نے مطالبہ نہ کیا اور عورت نے کیا تو لعان ہوگا پھر بعد میں اگرماں نے مطالبہ کیا تو حد قذف قائم کرینگے۔ اور اگر صورت مذکورہ میں عورت کی ماں مرچکی ہے اور عورت نے دونوں مطالبے کيے تو ماں کی تہمت پر حد قذف قائم کرینگے اورلعان ساقط اور اگر صرف اپنا مطالبہ کیا تو لعان ہوگا۔ یوہیں اگر اجنبیہ پر تہمت لگائی پھر اُس سے نکاح کرکے پھر تہمت لگائی اورعورت نے لعان و حد دونوں کا مطالبہ کیا تو حد ہوگی اور لعان ساقط اور اگر لعان کا مطالبہ کیا اورلعان ہو اپھر حد کا مطالبہ کیا تو حد بھی قائم کرینگے۔(3) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۵: اپنی عورت سے کہا میں نے جو تجھ سے نکاح کیا اس سے پہلے تونے زنا کیا یا نکاح سے پہلے میں نے تجھے زناکرتے دیکھا تو یہ تہمت چونکہ اب لگائی لہٰذا لعان ہے اور اگر یہ کہا نکاح سے پہلے میں نے تجھے زنا کی تہمت لگائی تو لعان نہیں بلکہ حد قائم ہوگی۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۶: عورت سے کہا میں نے تجھے بکر نہ پایا تو نہ حد ہے نہ لعان۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۷: اولاد سے انکار اُس وقت صحیح ہے جب مبارکبادی دیتے وقت یا ولادت کے سامان خریدنے کے وقت نفی کی ہو ورنہ سکوت (6)رضا سمجھا جائیگا اب پھر نفی نہیں ہوسکتی مگر لعان دونوں صورتوں میں ہوگا اور اگر ولادت کے وقت شوہر موجود نہ تھا تو جب اُسے خبر ہوئی نفی کے ليے وہ وقت بمنزلہ ولادت کے ہے۔(7) شوہر نے اولاد سے انکار کیا اور عورت نے بھی اُس کی تصدیق کی تولعان نہیں ہو سکتا۔(8)(درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر في اللعان، ج۱، ص۵۱۷ .
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔المرجع السابق، ص۵۱۸. 5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔خاموش رہنا۔ 7 ۔ولادت کے قائم مقام ہے ،ولادت کے درجہ میں ہے۔
8 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب اللعان، ج۵، ص۱۶۳.
مسئلہ ۲۸: دو۲بچے ایک حمل سے پیدا ہوئے یعنی دونوں کے درمیان چھ ماہ سے کم کا فاصلہ ہواور ان دونوں میں پہلے سے انکار کیا دوسرے کا اقرار تو حد لگائی جائے اور اگر پہلے کا اقرار کیا دوسرے سے انکار تو لعان ہوگا بشر طیکہ انکار سے نہ پھرے اور پھر گیا تو حد لگائی جائے مگر بہر حال دونوں ثابت النسب ہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: جس بچے سے انکار کیا اور لعان ہواوہ مرگیا اور اُس نے اولاد چھوڑی اب لعان کرنے والے نے اُس کو اپنا پوتا پوتی قرار دیا تو وہ ثابت النسب ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳۰: اولاد سے انکار کیا اور ابھی لعان نہ ہوا کہ کسی اجنبی نے عورت پر تہمت لگائی اور اُس بچہ کو حرامی کہا اس پر حدِ قذف قائم ہوئی تو اب اُسکا نسب ثابت ہے اور کبھی منتفی نہ ہوگا۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: عورت کے بچہ پیدا ہوا شوہر نے کہا یہ میرا نہیں یا یہ زنا سے ہے اور کسی وجہ سے لعان ساقط ہوگیا تو نسب منتفی نہ ہوگا حد واجب ہو یا نہیں۔ یوہیں اگر دونوں اہل لعان ہیں مگر لعان نہ ہوا تو نسب منتفی نہ ہوگا۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۲: نکاح کیا مگر ابھی دخول نہ ہوا بلکہ ابھی عورت کو دیکھا بھی نہیں اور عورت کے بچہ پیدا ہوا، شوہرنے اُس سے انکار کیا تو لعان ہوسکتا ہے اور بعد لعان وہ بچہ ماں کے ذمہ ہوگا اور مہر پورا دینا ہوگا۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۳: لعان کے سبب جس لڑکے کا نسب عورت کے شوہر سے منقطع کر دیا گیا ہے بعض باتوں میں اُس کے ليے نسب کے احکام ہیں مثلاً وہ اپنے باپ کے ليے گواہی دے تو مقبول نہیں، نہ باپ کی گواہی اُس کے ليے مقبول، نہ وہ اپنے باپ کو زکوٰۃ دے سکے، نہ باپ اُس کو، اور اس لڑکے کے بیٹے کا نکاح باپ کی اُس لڑکی سے جو دوسری عورت سے ہے نہیں ہوسکتا یا عکس ہو جب بھی نہیں ہوسکتا، اور اگر باپ نے اُس کو مار ڈالا تو قصاص نہیں، اور دوسرا شخص یہ کہے کہ یہ میرالڑکاہے تو اُس کا نہیں ہو سکتا اگرچہ یہ لڑکا بھی اپنے کو اُس کا بیٹا کہے بلکہ تمام باتوں میں وہی احکام ہیں جو ثابت النسب کے ہیں صرف دو باتوں میں فرق ہے ایک یہ کہ ایک دوسرے کا وارث نہیں دوسرے یہ کہ ایک کا نفقہ دوسرے پر واجب نہیں۔(6)(عالمگیری ، درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب اللعان، ج۵، ص۱۶۳.
2 ۔المرجع السابق، ص۱۶۶. 3 ۔ المرجع السابق، ص۱۶۷.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر في اللعان،ج۱، ص۵۱۹.
5 ۔ المرجع السابق، ص۵۱۹ ۔ ۵۲۰.
6 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر في اللعان،ج۱، ص۵۲۱.
و ''الدرالمختار''کتاب الطلاق، باب اللعان،ج۵، ص۱۶۷.
حدیث : فتح القدیر میں ہے، عبدالرزاق نے روایت کی، کہ امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ فیصلہ فرمايا کہ عنین کو ایک سال کی مدت دی جائے۔ اور ابن ابی شیبہ نے روایت کی، امیرالمومنین نے قاضی شریح کے پاس لکھ بھیجا کہ یوم مرافعہ سے(1) ایک سال کی مدت دی جائے۔اورعبدالرزاق و ابن ابی شیبہ نے مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور ابن ابی شیبہ(2)نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک سال کی مدت دی جائے۔ اور حسن بصری و شعبی و ابراہیم نخعی و عطأ و سعید بن مسیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔ (3)
مسئلہ ۱: عنین اُس کو کہتے ہیں کہ آلہ موجود ہو اور زوجہ کے آگے کے مقام میں دخول نہ کرسکے اور اگر بعض عورت سے جماع کرسکتا ہے اور بعض سے نہیں یا ثیب کے ساتھ کر سکتاہے اوربِکر کے ساتھ نہیں تو جس سے نہیں کرسکتا اُس کے حق میں عنین ہے اور جس سے کر سکتا ہے اُس کے حق میں نہیں۔ اس کے اسباب مختلف ہیں مرض کی وجہ سے ہے یا خلقۃً(4)ایسا ہے یا بُڑھاپے کی وجہ سے یا اس پر جادو کردیا گیا ہے۔ (5)
مسئلہ ۲: اگر فقط حشفہ (6) داخل کر سکتا ہے تو عنین نہیں اور حشفہ کٹ گیا ہو تو اُس کی مقدار عضو داخل کر سکنے پر عنین نہ ہوگا اور عورت نے شوہر کا عضو کاٹ ڈالا تو مقطوع الذکر (7)کا حکم جاری نہ ہوگا۔(8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: شوہر عنین ہے اور عورت کامقام بند ہے یا ہڈی نکل آئی ہے کہ مرد اُس سے جماع نہیں کرسکتا تو ایسی عورت کے ليے وہ حکم نہیں جو عنین کی زوجہ کو ہے کہ اس میں خود بھی قصور ہے۔(9) (درمختار)
1 ۔دعویٰ کے دن سے۔
2 ۔اس جگہ دیگرنسخوں میں ابن شیبہ لکھاہواہے جوکہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے اصل میں ابن ابی شیبہ ہے لہٰذاہم نے درست کردیاہے۔جن
کے پاس بہارشریعت کے دیگرنسخے ہوں وہ اس کودرست کرلیں۔...عِلْمِیہ
3 ۔''فتح القدیر''،کتاب الطلاق،باب العنین وغیرہ،ج ۴،ص۱۲۸.
4 ۔یعنی پیدائشی طورپر۔
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثاني عشرفي العنین،ج۱،ص۵۲۲.
6 ۔آلہ تناسل کی سپاری۔ 7 ۔یعنی جس کا عضو مخصو ص کاٹ دیاگیا ہو۔
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب العنین وغیرہ،ج۵،ص۱۶۹.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب العنین وغیرہ،ج۵،ص۱۶۹،۱۷۰.
مسئلہ ۴: مرد کا عضو تنا سل و انثیین(1) یا صرف عضو تناسل بالکل جڑ سے کٹ گیا ہو یا بہت ہی چھوٹا گھنڈی کی مثل ہواور عورت تفریق چاہے تو تفریق کردی جائیگی اگر عورت حرہ بالغہ ہو اور نکاح سے پہلے یہ حال اُس کو معلوم نہ ہونہ نکاح کے بعد جان کر اس پر راضی رہی اگر عورت کسی کی باندی ہے تو خود اس کو کوئی اختیار نہیں بلکہ اختیار اس کے مولیٰ کو ہے اور نابالغہ ہے تو بلوغ تک انتظار کیا جائے بعد بلوغ راضی ہوگئی فبہا ورنہ تفریق کر دی جائے عضو تناسل کٹ جانے کی صورت میں شوہر بالغ ہو یا نا بالغ اس کا اعتبار نہیں۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: اگر مرد کا عضو تناسل چھوٹا ہے کہ مقام معتاد(3) تک داخل نہیں کرسکتا تو تفریق نہیں کی جائے گی۔(4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: لڑکی نا بالغہ کا نکاح اُس کے باپ نے کر دیا اُس نے شوہر کو مقطوع الذَکرپایا تو باپ کو تفریق کے دعوی کا حق نہیں جب تک لڑکی خود بالغہ نہ ہولے۔ (5)(عالمگيری)
مسئلہ ۷: ایک بار جماع کرنے کے بعد اُس کا عضو کاٹ ڈالا گیا یا عنین ہوگيا تو اب تفریق نہیں کی جاسکتی۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۸: شوہر کے انثیین کاٹ ڈالے گئے اور انتشار ہوتا ہے تو عورت کو تفریق کرانے کا حق نہیں اور اِنتشار نہ ہوتا ہو تو عنین ہے اور عنین کا حکم یہ ہے کہ عورت جب قاضی کے پاس دعوے کرے تو شوہر سے قاضی دریافت کرے اگر اقرارکرلے تو ایک سال کی مہلت دی جائے گی اگر سال کے اندر شوہر نے جماع کر لیا تو عورت کا دعویٰ ساقط ہوگیا اور جماع نہ کیا اور عورت جُدائی کی خواستگار(7) ہے تو قاضی اُس کو طلاق دینے کو کہے اگر طلاق دیدے فبہا(8)، ورنہ قاضی تفریق کردے۔(9) (عامہ کتب)
1 ۔خصیے(فوطیے)
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب العنین وغیرہ،ج۵،ص۱۶۹،۱۷۰.
3 ۔فرج داخل میں وہ جگہ جہاں تک عموماً ، عادتاًآلہ تناسُل پہنچتاہے ۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب العنین وغیرہ،ج۵،ص۱۶۹.
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثاني عشرفي العنین،ج۱،ص۵۲۵.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب العنین وغیرہ،ج۵،ص۱۷۰.
7 ۔طلبگار۔ 8 ۔توبہتر۔
9 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق،باب العنین وغیرہ،ج۵،ص۱۷۲۔۱۷۵.
مسئلہ ۹: عورت نے دعویٰ کیا اور شوہر کہتا ہے میں نے اس سے جماع کیا ہے اور عورت ثیب ہے تو شوہر سے قسم کھلائیں قسم کھالے تو عورت کا حق جاتا رہا انکار کرے تو ایک سال کی مہلت دے اور اگر عورت اپنے کو بکر بتاتی ہے تو کسی عورت کو دکھائیں اور احتیاط یہ ہے کہ دو عورتوں کو دکھائیں، اگر یہ عورتیں اُسے ثیب بتائیں تو شوہر کو قسم کھلا کر اُس کی بات مانیں اور یہ عورتیں بکر کہیں تو عورت کی بات بغیر قسم مانی جائے گی اور اِن عورتوں کو شک ہو تو کسی طریقہ سے امتحان کرائیں اور اگر ان عورتوں میں باہم اختلاف ہے کوئی بکر کہتی ہے کوئی ثیب تو کسی اور سے تحقیق کرائیں، جب یہ بات ثابت ہو جائے کہ شوہر نے جماع نہیں کیا ہے تو ایک سال کی مہلت دیں۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۰: عورت کا دعویٰ قاضی شہر کے پاس ہوگا دوسرے قاضی یا غیر قاضی کے پاس دعویٰ کیا اور اُس نے مہلت بھی دیدی تو اس کا کچھ اعتبار نہیں۔ یوہیں عورت کا بطور خود بیٹھی رہنا بیکار ہے۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۱۱: سال سے مُراد اس مقام پر شمسی سال ہے یعنی تین سو پینسٹھ دن اور ایک دن کا کچھ حصہ اور ایام حیض و ماہ رمضان اور شوہر کے حج اور سفر کا زمانہ اسی میں محسوب ہے اور عورت کے حج اور غَیبت کا زمانہ(3) اور مرد یا عورت کے مرض کا زمانہ محسوب (4)نہ ہوگا اور اگراحرام کی حالت میں عورت نے دعویٰ کیا تو جب تک احرام سے فارغ نہ ہولے قاضی میعاد مقرر نہ کریگا۔(5) (عالمگيری، درمختار)
مسئلہ ۱۲: اگر عنین نے عورت سے ظہار کیا ہے اور آزاد کرنے پر قادر ہے تو ایک سال کی مہلت دی جائیگی ورنہچودہ ماہ کی یعنی جبکہ روزہ رکھنے پر قادر ہواور اگر مہلت دینے کے بعد ظہار کیا تو اس کی وجہ سے مدّت میں کوئی اضافہ نہ ہوگا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: شوہر بیمار ہے کہ بیماری کی وجہ سے جماع پر قادر نہیں توعورت کے دعویٰ پر میعاد مقرر نہ کی جائے جب تک تندرست نہ ہولے اگرچہ مرض زمانہ دراز تک رہے۔ (7)(عالمگيری)
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثاني عشرفي العنین،ج۱،ص۵۲۲،۵۲۳.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في العنین،ج۱،ص۱۸۸.
3 ۔یعنی موجود نہ ہونے کاعرصہ۔ 4 ۔یعنی شمار۔
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثاني عشرفي العنین،ج۱،ص۵۲۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب العنین وغیرہ،ج۵،ص۱۷۳.
6 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثاني عشرفي العنین،ج۱،ص۵۲۳.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱۴: شوہر نا بالغ ہے تو جب تک بالغ نہ ہولے میعاد نہ مقررکی جائے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: عورت مجنونہ ہے اور شوہر عنین تو ولی کے دعوے پر قاضی میعاد مقرر کریگا اور تفریق کر دے گا اور اگر ولی بھی نہ ہو تو قاضی کسی شخص کو اُس کی طرف سے مدعی بنا کر یہ احکام جاری کریگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: میعاد گزرنے کے بعد عورت نے دعویٰ کیا کہ شوہر نے جماع نہیں کیااور وہ کہتا ہے کیا ہے تو اگر عورت ثیب تھی تو شوہر کو قسم کھلائیں اُس نے قسم کھالی تو عورت کا حق باطل ہوگیا اور قسم کھانے سے انکار کرے تو عورت کو اختیار ہے تفریق چاہے تو تفریق کردینگے اور اگر عورت اپنے کو بکر (3) کہتی ہے تو وہی صورتیں ہیں جو مذکور ہوئیں۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۷: عورت کو قاضی نے اختیار دیا اُس نے شوہر کو اختیار کیا یا مجلس سے اُٹھ کھڑی ہوئی یا لوگوں نے اُسے اُٹھادیا یا ابھی اُس نے کچھ نہ کہا تھا کہ قاضی اُٹھ کھڑا ہوا تو اِن سب صورتوں میں عورت کا خیار باطل ہوگیا۔(5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۸: تفریقِ قاضی طلاق بائن قرار دی جائیگی اور خلوت ہوچکی ہے تو پورا مہر پائیگی اور عدت بیٹھے گی ورنہ نصف مہر ہے اور عدت نہیں اور اگر مہر مقرر نہ ہواتھا تو متعہ(6) ملے گا۔ (7)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۹: قاضی نے ایک سال کی مہلت دی تھی سال گزرنے پر عورت نے دعویٰ نہ کیا تو حق باطل نہ ہوگا جب چاہے آکر پھر دعویٰ کر سکتی ہے اور اگر شوہر اور مہلت مانگتا ہے تو جب تک عورت راضی نہ ہو قاضی مہلت نہ دے اور عورت کی رضا مندی سے قاضی نے مہلت دی تو عورت پر اس میعاد کی پابندی ضرور نہیں جب چاہے دعویٰ کر سکتی ہے اور یہ میعاد باطل ہو جائے گی اور اگر میعاد اول کے بعد قاضی معزول ہوگیا یا اُس کا انتقال ہوگيا اور دوسرااُس کی جگہ پر مقرر ہوا اور عورت نے گواہوں سے ثابت کر دیا کہ قاضی اول نے مہلت دی تھی اور وہ زمانہ ختم ہو چکا تو یہ قاضی سرے سے مدت مقرر نہ کریگا بلکہ اُسی پر عمل کریگا جو قاضی اول نے کیا تھا۔(8) (عالمگیری وغیرہ)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب العنین وغیرہ، ج۵، ص۱۷۴.
2 ۔''الدر المختار'' ،کتاب الطلاق، باب العنین وغیرہ، ج۵، ص۱۷۵.
3 ۔کنواری۔
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثاني عشرفي العنین ، ج۱، ص۵۲۴.
5 ۔ المرجع السابق ، وغیرہ.
6 ۔کپڑوں کاجوڑا۔
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب العنین وغیرہ، ج۵، ص۱۷۵، وغیرہ.
8 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثاني عشرفي العنین ، ج۱، ص۵۲۴، وغیرہ.
مسئلہ ۲۰: قاضی کی تفریق کے بعد گواہوں نے شہادت دی کہ تفریق سے پہلے عورت نے جماع کا اقرار کیا تھا تو تفریق باطل ہے اور تفریق کے بعد اقرار کیا ہو تو باطل نہیں۔ (1)(عالمگيری)
مسئلہ ۲۱: تفریق کے بعد اسی عورت نے پھر اُسی شوہر سے نکاح کیا یا دوسری عورت نے جس کو یہ حال معلوم تھا تو اب دعویٰ تفریق کا حق نہیں۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: اگر شوہر میں اور کسی قسم کا عیب ہے مثلاً جنون، جذام، برص یا عورت میں عیب ہو کہ اُس کامقام بند ہو یا اُس جگہ گوشت یا ہڈی پیدا ہوگئی ہو تو فسخ کا اختیار نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۳: شوہر جماع کرتا ہے مگر منی نہیں ہے کہ انزال ہو تو عورت کو دعوے کا حق نہیں۔(4) (عالمگيری)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوۡہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّۃَ ۚ وَ اتَّقُوا اللہَ رَبَّکُمْ ۚ لَا تُخْرِجُوۡہُنَّ مِنۡۢ بُیُوۡتِہِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ؕ ) (5)
اے نبی! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) لوگوں سے فرمادو کہ جب عورتوں کو طلاق دو تو اُنھیں عدت کے وقت کے ليے طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اﷲ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، نہ عدت میں عورتوں کو اُن کے رہنے کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ کھلی ہوئی بے حیائی کی بات کریں۔
اور فرماتا ہے:
( وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ ؕ وَلَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنۡ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللہُ فِیۡٓ اَرْحَامِہِنَّ اِنۡ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ ؕ ) (6)
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثاني عشرفي العنین ، ج۱، ص۵۲۴.
2 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب العنین وغیرہ، ج۵، ص۱۷۹.
3 ۔ المرجع السابق، ص۱۷۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثاني عشرفي العنین ،ج۱، ص۵۲۵.
5 ۔پ۲۸، الطلاق:۱. 6 ۔پ۲، البقرۃ: ۲۲۸.
طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں اور اُنھیں یہ حلال نہیں کہ جو کچھ خدا نے ان کے پیٹوں میں پیدا کیا اُسے چھپائیں، اگر وہ اﷲ (عزوجل) اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہوں۔
اور فرماتا ہے:
(وَ الِّٰٓیۡٔۡ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیۡضِ مِنۡ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ ۙ وَّ الِّٰٓیۡٔۡ لَمْ یَحِضْنَ ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنۡ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ؕ ) (1)
اور تمھاری عورتوں میں جو حیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔
اور فرماتا ہے:
(وَالَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنۡکُمْ وَیَذَرُوۡنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًا ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ فِیۡمَا فَعَلْنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوۡفِ ؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۳۴﴾ ) (2)
تم میں جو مرجائیں اور بی بیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو تم پر کچھ مؤاخذہ نہیں اُس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شرع کے موافق کریں اور اﷲ (عزوجل) کو تمھارے کاموں کی خبر ہے۔
حدیث ۱: صحیح بخاری شریف میں مسور بن مخرمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے وفات شوہر کے چند دن بعد بچہ پیدا ہوا، نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر نکاح کی اجازت طلب کی حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اجازت دیدی۔(3) نیز اُس میں ہے، کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سورہ طلاق (جس میں حمل کی عدت کا بیان ہے) سورہ بقرہ (کہ اس میں عدت وفات چار مہینے دس دن ہے) کے بعد نازل ہوئی (4)یعنی حمل والی کی عدت چار ماہ دس دن نہیں بلکہ وضع حمل ہے۔ اور ایک روایت میں ہے، کہ میں اس پر مباہلہ کر سکتا ہوں کہ وہ اس کے بعد نازل ہوئی۔(5)
حدیث ۲: امام مالک و شافعی وبیہقی حضرت امیرا لمومنین عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ وفات کے بعد اگر بچہ پیدا ہوگيا اور ہنوز مُردہ چارپائی پر ہو تو عدت پوری ہوگئی۔ (6)
1 ۔پ ۲۸، الطلاق: ۴. 2 ۔پ۲، البقرۃ: ۲۳۴.
3 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الطلاق، باب واولات الاحمال... إلخ، الحدیث: ۵۳۲۰، ج۴ص۴۶۰.
4 ۔''صحیح البخاری''، کتاب التفسیر، باب والذین یتوفون منکم...الخ، الحدیث: ۴۵۳۲، ج۳، ص۱۸۳.
5 ۔''سنن ابی داود''، کتاب الطلاق، باب فی عدۃ الحامل، الحدیث: ۲۳۰۷، ج۲، ص۴۲۷.
6 ۔''الموطأ للامام مالک''، کتاب الطلاق، باب عدۃالمتوفی عنھا...الخ، الحدیث:۱۲۸۴، ج۲، ص۱۳۲.
مسئلہ ۱: نکاح زائل ہونے یا شبہہ نکاح کے بعد عورت کا نکاح سے ممنوع ہونا اور ایک زمانہ تک انتظار کرنا عدت ہے۔(1)
مسئلہ ۲: نکاح زائل ہونے کے بعد اُسوقت عدت ہے کہ شوہر کا انتقال ہوا ہو یا خلوت صحیحہ ہوئی ہو۔ زانیہ کے ليے عدت نہیں اگرچہ حاملہ ہو اور یہ نکاح کر سکتی ہے مگر جس کے زنا سے حمل ہے اُس کے سوا دوسرے سے نکاح کرے تو جب تک بچہ پیدا نہ ہو وطی جائز نہیں۔ نکاح فاسد میں دخول سے قبل تفریق ہوئی تو عدت نہیں اور دخول کے بعد ہوئی تو ہے۔(2)(عامہ کتب)
مسئلہ ۳: جس عورت کامقام بند ہے اُس سے خلوت ہوئی تو طلاق کے بعد عدت نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۴: عورت کو طلاق دی، بائن یا رجعی یا کسی طرح نکاح فسخ (4)ہوگيا، اگرچہ یوں کہ شوہر کے بیٹے کا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا اور اِن صورتوں میں دخول ہوچکا ہویا خلوت ہوئی ہو اور اس وقت حمل نہ ہو اور عورت کوحیض آتا ہے تو عدت پورے تین حیض ہے جبکہ عورت آزاد ہواور باندی ہو تو دو حیض اور اگر عورت ام ولد ہے اُس کے مولیٰ کا انتقال ہوگيا یا اُس نے آزاد کر دیا تو اس کی عدت بھی تین حیض ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۵: ان صورتوں میں اگر عورت کو حیض نہیں آتا ہے کہ ابھی ایسے سِن کو نہیں پہنچی یا سِن ایاس کو پہنچ چکی ہے یا عمر کے حسابوں بالغہ ہو چکی ہے مگر ابھی حیض نہیں آیا ہے تو عدت تین مہینے ہے اور باندی ہے تو ڈیڑھ ماہ۔ (6)
مسئلہ ۶: اگر طلاق یا فسخ پہلی تا ریخ کو ہواگرچہ عصر کے وقت تو چاند کے حساب سے تین مہینے ورنہ ہر مہینہ تیس دن کا قرار دیا جائے یعنی عدت کے کل دن نوے ہونگے۔ (7)(عالمگیری، جوہرہ)
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث عشر في العدۃ،ج۱،ص۵۲۶.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب العدۃ،ج۵،ص۱۸۳.
4 ۔یعنی ختم۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب العدۃ،ج۵،ص۱۹۱.
6 ۔المرجع السابق،ص۱۸۶۔۱۹۲.
7 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث عشر في العدۃ،ج۱،ص۵۲۷.
و''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب العدۃ، الجزء الثاني،ص۹۶.
مسئلہ ۷: عورت کو حیض آچکا ہے مگر اب نہیں آتا اور ابھی سِن ایاس کو بھی نہیں پہنچی ہے اس کی عدت بھی حیض سے ہے جب تک تین حیض نہ آلیں یا سِن ایاس کو نہ پہنچے اس کی عدت ختم نہیں ہوسکتی اور اگر حیض آیا ہی نہ تھا اور مہینوں سے عدت گزاررہی تھی کہ اثنائے عدت میں حیض آگیا تو اب حیض سے عدت گزارے یعنی جب تک تین حیض نہ آلیں عدت پوری نہ ہوگی۔ (1)(عالمگيری)
مسئلہ ۸: حیض کی حالت میں طلاق دی تو یہ حیض عدت میں شمار نہ کیا جائے بلکہ اس کے بعد پورے تین حیض ختم ہونے پر عدت پوری ہوگی۔(2) (عامہ کتب)
مسئلہ ۹: جس عورت سے نکاح فاسد ہوا اور دخول ہو چکا ہو یا جس عورت سے شبہۃً وطی ہوئی اُس کی عدت فرقت و موت دونوں میں حیض سے ہے اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے۔ (3)(جوہرہ نیرہ) اور وہ عورت کسی کی باندی ہو تو عدت ڈیڑھ ماہ۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۰: اس کی عورت کسی کی کنیزہے اس نے خود خریدلی تو نکاح جاتا رہا مگر عدت نہیں یعنی اُس کو وطی کرنا جائز مگر دوسرے سے اسکا نکاح نہیں ہوسکتا جب تک دو حیض نہ گزرلیں۔ (5)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۱: اپنی عورت کو جوکنیزتھی خریدااور ایک حیض آنے کے بعد آزاد کر دیا تو اِس حیض کے بعد دو حیض اور عدت میں رہے اور حرہ (6)کا سا سوگ کرے اور اگر ایک بائن طلاق دیکر خریدی تو ملکِ یمین (7)کی وجہ سے وطی کرسکتا ہے اور دو طلاقیں دیں تو بغیر حلالہ وطی نہیں کرسکتا اور اگر دوحیض کے بعد آزاد کردی تو نکاح کی وجہ سے عدت نہیں، ہاں عتق (8)کی وجہ سے عدت گزارے۔ (9)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۲: جس عورت سے نابالغ نے شبہۃً یا نکاح فاسد میں وطی کی اُس پر بھی یہی عدت ہے۔ یوہیں اگر نابالغی میں خلوت ہوئی اور بالغ ہونے کے بعد طلاق دی جب بھی یہی عدت ہے۔ (10)(ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث عشر في العدۃ،ج۱،ص۵۲۷ .
2 ۔المرجع السابق،ص۵۲۷.
3 ۔''الجوھرۃالنیرۃ''،کتاب العدۃ، الجزء الثانی،ص۹۵،۹۶.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث عشر في العدۃ،ج۱،ص۵۲۷ .
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔آزادعورت ۔ 7 ۔لونڈی کامالک ہونے۔ 8 ۔آزادہونے،آزادی۔
9 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدۃ،ج۱،ص۵۲۷.
10 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب العدۃ، مطلب: فی عدۃزوجۃ الصغیر،ج۵،ص۱۹۰.
مسئلہ ۱۳: نکاح فاسد میں تفریق یا متارکہ کے وقت سے عدت شمار کی جائے گی متارکہ یہ کہ مرد نے یہ کہا کہ میں نے اُسے چھوڑا یا اُس سے وطی ترک کی یا اسی قسم کے اور الفاظ کہے جب تک متارکہ یا تفریق نہ ہو کتنا ہی زمانہ گزر جائے عدت نہیں اگرچہ دل میں ارادہ کرلیا کہ وطی نہ کریگااور اگر عورت کے سامنے نکاح سے انکار کرتا ہے تویہ متارکہ ہے ورنہ نہیں لہٰذا اس کا اعتبار نہیں۔ (1)(جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۱۴: طلاق کی عدت وقتِ طلاق سے ہے اگرچہ عورت کو اس کی اطلاع نہ ہو کہ شوہر نے اُسے طلاق دی ہے اور تین حیض آنے کے بعد معلوم ہواتو عدت ختم ہوچکی اور اگر شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے اس کو اتنے زمانہ سے طلاق دی ہے تو عورت اُسکی تصدیق کرے یا تکذیب، عدت وقت اقرار سے شمار ہوگی۔(2) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۵: عورت کوکسی نے خبر دی کہ اُس کے شوہر نے تین طلاقیں دیدیں یا شوہر کا خط آیا اور اُس میں اسے طلاق لکھی ہے، اگر عورت کا غالب گمان ہے کہ وہ سچ کہتا ہے یا یہ خط اُسی کا ہے تو عدت گزار کر نکاح کرسکتی ہے۔ (3)(جوہرہ)
مسئلہ ۱۶: عورت کو تین طلاقیں دیدیں مگر لوگوں پر ظاہر نہ کیا اور دوحیض آنے کے بعد عورت سے وطی کی اور حمل رہ گیا اب اُس نے لوگوں سے طلاق دینا بیان کیا تو عدت وضع حمل ہے اور وضع حمل تک نفقہ اُس پر واجب۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۷: طلاق دیکر مُکر گیا، عورت نے قاضی کے پاس دعویٰ کیا اور گواہ سے طلاق دینا ثابت کر دیا اور قاضی نے تفریق کا حکم دیا تو عدت وقت طلاق سے ہے، اس وقت سے نہیں۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۸: پچھلا حیض اگر پورے دس دن پر ختم ہوا ہے تو ختم ہوتے ہی عدت ختم ہو گئی اگرچہ ابھی غسل نہ کیا بلکہ اگرچہ اتنا وقت بھی ابھی نہیں گزرا ہے کہ اُس میں غسل کر سکتی اور طلاق رجعی تھی تو شوہر اب رجعت نہیں کرسکتا اور اب یہ عورت نکاح کرسکتی ہے۔ اور اگر دس دن سے کم میں ختم ہوا ہے تو جب تک نہا نہ لے یا ایک نماز کا پورا وقت نہ گزرلے عدت ختم نہ ہوگی یہ حکم مسلمان عورت کے ہیں اور کتابیہ ہو تو بہر حال حیض ختم ہوتے ہی عدت پوری ہوجائیگی۔ (6)(عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج۵، ص۲۰۸ ۔ ۲۰۹.
''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص۱۰۲.
2 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص۱۰۱ ۔ ۱۰۲.
3 ۔ المرجع السابق، ص۱۰۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدۃ، ج۱، ص۵۳۲.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق، ص۵۲۸.
مسئلہ ۱۹: وطی بالشبہہ کی چند صورتیں ہیں :
(۱) عورت عدت میں تھی اور شوہر کے سواکسی اور کے پاس بھیج دی گئی اور یہ ظاہر کیا گیا کہ تیری عورت ہے اُس نے وطی کی بعد کو حال کھُلا۔
(۲) عورت کو تین طلاقیں دیکر بغیر حلالہ اُس سے نکاح کرلیا اور وطی کی۔
(۳) عورت کو تین طلاقیں دیکر عدت میں وطی کی اور کہتا ہے کہ میرا گمان یہ تھا کہ اس سے وطی حلال ہے۔
(۴) مال کے عوض یا لفظ کنایہ سے طلاق دی اور عدت میں وطی کی۔
(۵) خاوند والی عورت تھی اور شبہۃًاُس سے کسی اور نے وطی کی پھر شوہر نے اُس کو طلاق دیدی ان سب صورتوں میں عورت پر دو عدتیں ہیں اور بعد تفریق دوسری عدت پہلی عدت میں داخل ہو جائے گی یعنی اب جو حیض آئیگا دونوں عدتوں میں شمار ہوگا۔ (1)(جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۲۰: مطلقہ نے ایک حیض کے بعد دوسرے سے نکاح کیا اور اس دوسرے نے اُس سے وطی کی پھر دونوں میں تفریق کر دی گئی اور تفریق کے بعد دوحیض آئے تو پہلی عدت ختم ہو گئی مگر ابھی دوسری ختم نہ ہوئی لہٰذا یہ شخص اُس سے نکاح کر سکتا ہے کوئی اور نہیں کرسکتا جب تک بعد تفریق تین حیض نہ آلیں اور تین حیض آنے پر دونوں عدتیں ختم ہو گئیں۔ (2)(عالمگيری)
مسئلہ ۲۱: عورت کو طلاق بائن دی تھی ایک یا دو، اور عدت کے اندر وطی کی اور جانتا تھا کہ وطی حرام ہے اور حرام ہونے کا اقرار بھی کرتا ہے تو ہر بار کی وطی پر عدت ہے مگر سب متداخل ہونگی اور تین طلاقیں دے چکا ہے اور عدت میں وطی کی اور جانتا ہے کہ وطی حرام ہے اور مقر(3) بھی ہے تو اس وطی کے ليے عدت نہیں ہے بلکہ مرد کو رجم کا حکم ہے اور عورت بھی اقرار کرتی ہے تو اُس پر بھی۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۲: موت کی عدت چار مہینے دس دن ہے یعنی دسویں رات بھی گزرلے بشرطیکہ نکاح صحیح ہو دخول ہوا ہو یا نہیں دونوں کا ایک حکم ہے اگرچہ شوہر نا بالغ ہو یا زوجہ نا بالغہ ہو۔ یوہیں اگر شوہر مسلمان تھا اور عورت کتابیہ تو اس کی بھی یہی عدت ہے مگر اس عدت میں شرط یہ ہے کہ عورت کو حمل نہ ہو۔(5) (جوہرہ وغیرہا)
ـ1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص۱۰۱.
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدۃ، ج۱، ص۵۳۲.
3 ۔ اقرارکرنے والا۔
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،المرجع السابق.
5 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص۹۷، وغیرہا.
مسئلہ ۲۳: عورت کنیز ہے تو اُس کی عدت دو ۲مہینے پانچ دن ہے شوہر آزاد ہو یا غلام کہ عدت میں شوہر کے حال کالحاظ نہیں بلکہ عورت کے اعتبار سے ہے پھر موت پہلی تاریخ کو ہو تو چاند سے مہینے ليے جائیں ورنہ حرہ کے ليے ایک سوتیس دن اور باندی کے ليے پینسٹھ دن۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: عورت حامل ہے توعدت وضع حمل ہے عورت حرہ ہو یا کنیز مسلمہ ہو یا کتا بیہ عدت طلاق کی ہو یا وفات کی یا متارکہ یا وطی بالشبہہ کی حمل ثابت النسب ہو یا زنا کا مثلاًزانیہ حاملہ سے نکاح کیا اور شوہر مرگیا یا وطی کے بعد طلاق دی تو عدت وضعِ حمل ہے۔ (2)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۲۵: وضعِ حمل سے عدت پوری ہونے کے ليے کوئی خاص مدت مقرر نہیں موت یا طلاق کے بعد جس وقت بچہ پیدا ہو عدت ختم ہوجائے گی اگرچہ ایک منٹ بعد حمل ساقط ہوگيا اور اعضابن چکے ہیں عدت پوری ہوگئی ورنہ نہیں اور اگر دو یا تین بچے ایک حمل سے ہوئے تو پچھلے کے پیدا ہونے سے عدت پوری ہوگی۔(3) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۶: بچہ کا اکثر حصہ باہر آچکا تو رجعت نہیں کر سکتا مگر دوسرے سے نکاح اُس وقت حلال ہو گا کہ پورا بچہ پیدا ہولے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: موت کے بعد اگر حمل قرار پایا تو عدت وضعِ حمل سے نہ ہوگی بلکہ دنوں سے۔(5) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۸: بارہ برس سے کم عمر والے کا انتقال ہوا اور اُس کی عورت کے چھ مہینے سے کم کے اندر بچہ پیدا ہوا تو عدت وضعِ حمل ہے اور چھ مہینے یا زائد میں ہوا تو چار مہینے دس دن اور نسب بہر حال ثابت نہ ہوگا۔ اور اگر شوہر مراہق ہو تو دونوں صورت میں وضعِ حمل سے عدت پوری ہوگی اور بچہ ثابت النسب ہے۔ (6)(جوہرہ ، درمختار)
مسئلہ ۲۹: جو شخص خصی تھا اُس کا انتقال ہوا اور اُس کی عورت حاملہ ہے یا مرنے کے بعد حاملہ ہونا معلوم ہوا تو عدت
1 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج۵، ص۱۹۰ ۔ ۱۹۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج۵، ص۱۹۲.
''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدۃ، ج۱، ص۵۲۸، وغیرہما.
3 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص۹۶.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب العدۃ، مطلب: فی عدۃ الموت،ج۵، ص۱۹۳.
5 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص۱۰۰.
6 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص۱۰۰.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب العدۃ،ج۵، ص۱۹۳.
وضعِ حمل ہے اور بچہ ثابت النسب ہے۔(1) (جوہرہ)
مسئلہ ۳۰: عورت کو طلاقِ رجعی دی تھی اور عدت میں مر گیا تو عورت موت کی عدت پوری کرے اور طلاق کی عدت جاتی رہی خواہ صحت کی حالت میں طلاق دی ہو یا مرض میں۔ اور اگر بائن طلاق دی تھی یا تین تو طلاق کی عدت پوری کرے جبکہ صحت میں طلاق دی ہو اور اگر مرض میں دی ہو تو دونوں عدتیں پوری کرے یعنی اگر چار مہینے دس دن میں تین حیض پورے ہو چکے تو عدت پوری ہوچکی اور اگر تین حیض پورے ہوچکے ہیں مگر چار مہینے دس دن پورے نہ ہوئے تو ان کو پورا کرے اور اگر یہ دن پورے ہوگئے مگر ابھی تین حیض پورے نہ ہوئے تو ان کے پورے ہونے کا انتظار کرے۔(2) (عامہ کتب)
مسئلہ ۳۱: عورت کنیز تھی اُسے رجعی طلاق دی اور عدت کے اندر آزاد ہوگئی تو حرہ کی عدت پوری کرے یعنی تین حیض یا تین مہینے اور طلاقِ بائن یا موت کی عدت میں آزاد ہو ئی توباندی کی عدت یعنی دو حیض یا ڈیڑھ مہینہ یا دومہینے پانچ دن۔(3)(درمختار)
مسئلہ ۳۲: عورت کہتی ہے کہ عدت پوری ہوچکی اگر اتنا زمانہ گزرا ہے کہ پوری ہو سکتی ہے تو قسم کے ساتھ اُس کا قول معتبر ہے اور اگر اتنا زمانہ نہیں گزرا تو نہیں۔ مہینوں سے عدت ہو جب تو ظاہر ہے کہ اُتنے دن گزرنے پر عدت ہو چکی اور حیض سے ہو توآزاد عورت کے ليے کم از کم ساٹھ دن ہیں اور لونڈی کے ليے چالیس بلکہ ایک روایت میں حرہ کے ليے اُنتالیس دن کہ تین حیض کی اقل(4) مدت نو دن ہے اور دو طہر کی تیس دن اور باندی کے ليے اکیس دن کہ دو حیض کے چھ دن اور ایک طہر درمیان کا پندرہ دن۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: مطلقہ کہتی ہے کہ عدت پوری ہوگئی کہ حمل تھا ساقط ہوگيا اگر حمل کی مدت اتنی تھی کہ اعضا بن چکے تھے تو مان لیا جائیگا ورنہ نہیں مثلاً نکاح سے ایک مہینے بعد طلاق دی اور طلاق کے ایک ماہ بعد حمل ساقط ہونا بتاتی ہے تو عدت پوری نہ ہوئی کہ بچے کے اعضا چار ماہ میں بنتے ہیں۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: اپنی عورت مطلقہ سے عدت میں نکاح کیا اور قبل وطی طلاق دیدی تو پورامہر واجب ہوگا اور سرے سے
1 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص۱۰۰.
2 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدۃ، ج۱، ص۵۳۰.
3 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج۵، ص۱۹۶.
4 ۔کم سے کم۔
5 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب العدۃ، مطلب: فی وطء المعتدۃبشبہۃ ،ج۵، ص۲۱۰.
6 ۔ ''ردالمحتار''، المرجع السابق، ص۲۱۱.
عدت بیٹھے۔ یوہیں اگرپہلا نکاح فاسد تھا اور دخول کے بعد تفریق ہوئی اور عدت کے اندر نکاح صحیح کر کے طلاق دیدی یا دخول کے بعد کفو نہ ہونے کی وجہ سے تفریق ہوئی پھر نکاح کر کے طلاق دی یا نابالغہ سے نکاح کرکے وطی کی پھر طلاق دی اور عدت کے اندر نکاح کیا اب وہ لڑکی بالغہ ہوئی اور اپنے نفس کو اختیار کیا یا نا بالغہ سے نکاح کر کے وطی کی پھر لڑکی نے بالغہ ہوکر اپنے کو اختیار کیا اور عدت کے اندر پھر اُس سے نکاح کیااور قبلِ دخول طلاق دیدی ان سب صورتوں میں دوسرے نکاح کا پورا مَہراور طلاق کے بعد عدت واجب ہے، اگرچہ دوسرے نکاح کے بعد وطی نہیں ہوئی کہ نکاح اول کی وطی نکاح ثانی میں بھی وطی قرار دی جائیگی۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: بچہ پیدا ہونے کے بعد عورت کو طلاق دی تو جب تک اُسے تین حیض نہ آلیں دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی یا سن ایاس کو پہنچ کر مہینوں سے عدت پوری کرے اگرچہ بچہ پیدا ہونے سے قبل اُسے حیض نہ آیا ہو۔(2) (درمختار)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(وَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ فِیۡمَا عَرَّضْتُمۡ بِہٖ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَآءِ اَوْ اَکْنَنۡتُمْ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ ؕ عَلِمَ اللہُ اَنَّکُمْ سَتَذْکُرُوۡنَہُنَّ وَلٰـکِنۡ لَّا تُوَاعِدُوۡہُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا قَوْلًا مَّعْرُوۡفًا ۬ؕ وَلَا تَعْزِمُوۡا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗ ؕ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ فَاحْذَرُوۡہُ ۚ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۲۳۵﴾٪ ) (3)
اور تم پر گناہ نہیں اس میں کہ اشارۃً عورتوں کے نکاح کا پیغام دویا اپنے دل میں چھپا رکھو، اﷲ (عزوجل) کو معلوم ہے کہ تم اُن کی یاد کروگے ہاں اُن سے خفیہ وعدہ مت کر و مگر یہ کہ اُتنی ہی بات کروجو شرع کے موافق ہے۔ اور عقد نکاح کا پکا ارادہ نہ کر و جب تک کتاب کا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ جائے اور جان لو کہ اﷲ (عزوجل) اُس کو جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے تو اُس سے ڈرو اورجان لو کہ اﷲ (عزوجل) بخشنے والا، حلم والا ہے۔
حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ ایک عورت نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہوگئی (یعنی و ہ عدت میں ہے) اور اُس کی
1 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب العدۃ، مطلب: فی وطء المعتدۃ بشبھۃ ، ج۵، ص۲۱۲.
2 ۔ ''الدرالمختار''، المرجع السابق، ص۲۱۷.
3 ۔پ۲، البقرۃ: ۲۳۵.
آنکھیں دُکھتی ہیں، کیا اُسے سرمہ لگائیں؟ ارشاد فرمايا: نہیں دو یا تین بار یہی فرمايا کہ نہیں پھر فرمايا: کہ ''یہ تو یہی چار مہینے دس دن ہیں اور جاہلیت میں تو ایک سال گزرنے پر مینگنی پھینکا کرتی تھی۔'' (1)(یہ جاہلیت کی رسم تھی کہ سال بھر کی عدت ایک جھونپڑے میں گزارتی اور نہایت ميلے کچیلے کپڑے پہنتی، جب سال پورا ہوتا تو وہاں سے مینگنی پھینکتی ہوئی نکلتی اور اب عدت پوری ہوتی)۔
حدیث ۲: صحیحین میں ام المومنین ام حبیبہ و ام المومنین زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: جو عورت اﷲ (عزوجل) اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اُسے یہ حلال نہیں کہ کسی میّت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے، مگر شوہر پر کہ چار مہینے دس دن سوگ کرے۔'' (2)
حدیث ۳: ام عطیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: ''کوئی عورت کسی میّت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے، مگر شوہر پر چار مہینے دس دن سوگ کرے اور رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، مگر وہ کپڑا کہ بُننے سے پہلے اُس کا سوت جگہ جگہ باندھ کر رنگتے ہیں اور سرمہ نہ لگائے اور نہ خوشبو چھوئے، مگر جب حیض سے پاک ہو تو تھوڑا سا عود استعمال کرسکتی ہے۔'' اور ابو داود کی روایت میں یہ بھی ہے کہ منہدی نہ لگائے۔ (3)
حدیث ۴: ابوداود و نسائی نے ام المو منین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمايا: ''جس عورت کا شوہر مر گیا ہے، وہ نہ کسم کا رنگا ہوا کپڑا پہنے اور نہ گیرو کا رنگا ہوا اور نہ زیور پہنے اور نہ مہندی لگائے اور نہ سُرمہ۔'' (4)
حدیث ۵: ابوداودو نسائی اُنھیں سے راوی، کہ جب میرے شوہر ابوسلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے۔ اُس وقت میں نے مصبر (ایلوہ) لگا رکھا تھا، فرمايا: ''ام سلمہ یہ کیا ہے؟'' میں نے عرض کی، یہ ایلوہ ہے اس میں خوشبو نہیں۔ فرمايا: ''اس سے چہرہ میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے، اگر لگانا ہی ہے تو رات میں لگا لیا کرو اور دن میں صاف کر ڈالا کرو اور خوشبو اور مہندی سے بال نہ سنوارو۔'' میں نے عرض کی، کنگھا کرنے کے ليے کیا چیز سر پر لگاؤں؟ فرمايا: کہ ''بیری کے پتّے سر پر تھوپ لیا کرو پھر کنگھا کرو۔'' (5)
1 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الطلاق، باب تحد المتوفي عنھا... إلخ، الحدیث: ۵۳۳۶،ج۳، ص۵۰۶.
2 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الجنائز، باب حد المرأۃ علی غیر زوجھا، الحدیث: ۱۲۸۱،۱۲۸۲،ج۱، ص۴۳۳.
3 ۔''صحیح مسلم''، کتاب الطلاق، باب وجوب الاحداد في عدۃ الوفاۃ... إلخ، الحدیث:۱۴۹۱، ص۷۹۹.
''سنن أبي داود''، کتاب الطلاق، باب فیما تجتنبہ المعتدۃ في عدتھا، الحدیث: ۲۳۰۲، ج۲،ص۴۲۵.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطلاق، باب فیما تجتنبہ المعتدۃ في عدتھا، الحدیث: ۲۳۰۴،ج۲، ص۴۲۵.
5 ۔''سنن أبي داود''، کتاب الطلاق، باب فیما تجتنبہ المعتدۃ في عدتھا، الحدیث: ۲۳۰۵، ج۲،ص۴۲۵.
حدیث ۶: حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بہن کے شوہر کواُن کے غلاموں نے قتل کر ڈالا تھا، وہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم)کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں، کہ مجھے میکے میں عدت گزارنے کی اجازت دی جائے کہ میرے شوہر نے کوئی اپنا مکان نہیں چھوڑا اور نہ خرچ چھوڑا۔ اجازت دیدی پھر بُلا کر فرمايا: ''اُسی گھر میں رہو جس میں رہتی ہو، جب تک عدت پوری نہ ہو۔'' لہٰذا اُنھوں نے چار ماہ دس دن اُسی مکان میں پورے کيے۔ (1)
مسئلہ ۱: سوگ کے یہ معنی ہیں کہ زینت کو ترک کرے یعنی ہر قسم کے زیور چاندی سونے جواہر وغیرہا کے اور ہر قسم اور ہر رنگ کے ریشم کے کپڑے اگرچہ سیاہ ہوں نہ پہنے اورخوشبو کا بدن یا کپڑوں میں استعمال نہ کرے اور نہ تیل کا استعمال کرے اگرچہ اُس میں خوشبو نہ ہو جیسے روغن زیتون اور کنگھا کرنا اور سیاہ سرمہ لگانا۔ یوہیں سفید خوشبودار سرمہ لگانا اور مہندی لگانا اور زعفران یا کسم یا گیرو کا رنگا ہوا یا سُرخ رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے ان سب چیزوں کا ترک واجب ہے۔(2) (جوہرہ، درمختار، عالمگیری) یوہیں پڑیا کا رنگ گلابی۔ دھانی۔ چمپئی اور طرح طرح کے رنگ جن میں تزین (3)ہوتا ہے سب کو ترک کرے۔
مسئلہ ۲: جس کپڑے کا رنگ پُرانا ہوگیا کہ اب اُسکا پہننا زینت نہیں اُسے پہن سکتی ہے۔ یوہیں سیاہ رنگ کے کپڑے میں بھی حرج نہیں جبکہ ریشم کے نہ ہوں۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۳: عذر کی وجہ سے اِن چیزوں کا استعمال کر سکتی ہے مگر اس حال میں اُسکا استعمال زینت کے قصد (5)سے نہ ہو مثلاً درد سر کی وجہ سے تیل لگاسکتی ہے یا تیل لگانے کی عادی ہے جانتی ہے کہ نہ لگانے میں دردسر ہو جائیگا تو لگانا جائز ہے۔ یا دردسر کے وقت کنگھا کرسکتی ہے مگر اُس طرف سے جدھر کے دندانے موٹے ہیں اُدھر سے نہیں جدھر باریک ہوں کہ یہ بال سنوارنے کے ليے ہوتے ہیں اور یہ ممنوع ہے۔ یاسُرمہ لگانیکی ضرورت ہے کہ آنکھوں میں درد ہے۔ یا خارشت (6)ہے تو ریشمی
1 ۔''جامع الترمذي''، أبواب الطلاق...إلخ، باب ماجاء این تعتد المتوفي عنھا زوجھا، الحدیث: ۱۲۰۸،ج۲، ص۴۱۱.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۲۱ .
''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر في الحداد، ج۱، ص۵۳۳ .
و''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص ۱۰۲.
3 ۔یعنی بناؤسنگار۔
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر في الحداد، ج۱، ص۵۳۳.
5 ۔ارادہ۔ 6 ۔ایک جلدی بیماری جس میں بدن پر پھنسیاں نکل آتی ہیں اورکھجلی ہوتی ہے ۔
کپڑے پہن سکتی ہے۔ یا اُس کے پاس اور کپڑا نہیں ہے تو یہی ریشمی یا رنگا ہوا پہنے مگر یہ ضرور ہے کہ ان کی اجازت ضرورت کے وقت ہے لہٰذا بقدر ضرورت اجازت ہے ضرورت سے زیادہ ممنوع مثلاًآنکھ کی بیماری میں سرمہ لگانیکی ضرورت ہو تو یہ لحاظ ضروری ہے کہ سیاہ سرمہ اُس وقت لگاسکتی ہے جب سفید سرمہ سے کام نہ چلے اور اگر صرف رات میں لگانا کافی ہے تو دن میں لگانے کی اجازت نہیں۔ (1)(عالمگیری ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: سوگ اُس پر ہے جو عاقلہ بالغہ مسلمان ہواور موت یا طلاق بائن کی عدت ہو اگرچہ عورت باندی ہو۔ شوہر کے عنّین ہونے یا عضو تناسل کے کٹے ہونے کی وجہ سے فرقت ہوئی تو اُس کی عدت میں بھی سوگ واجب ہے۔ (2)(درمختار ، عالمگیری)
مسئلہ ۵: طلاق دینے والا سوگ کرنے سے منع کرتا ہے یا شوہر نے مرنے سے پہلے کہدیا تھا کہ سوگ نہ کرنا جب بھی سوگ کرنا واجب ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۶: نابالغہ و مجنونہ و کا فرہ پر سوگ نہیں۔ ہاں اگر اثنائے عدت میں نابالغہ بالغہ ہوئی مجنونہ کا جنون جاتا رہا اورکافرہ مسلمان ہوگئی تو جو دن باقی رہ گئے ہیں اُن میں سوگ کرے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ام ولد کو اُس کے مولیٰ نے آزاد کر دیا یا مولیٰ کا انتقال ہوگيا تو عدت بیٹھے گی مگر اس عدت میں سوگ واجب نہیں۔ یوہیں نکاح فاسد اور وطی بالشبہہ اور طلاق رجعی کی عدت میں سوگ نہیں۔(5) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۸: کسی قریب کے مرجانے پر عورت کو تین دن تک سوگ کرنے کی اجازت ہے اس سے زائد کی نہیں اور عورت شوہر والی ہو تو شوہر اس سے بھی منع کرسکتا ہے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹: کسی کے مرنے کے غم میں سیاہ کپڑے پہننا جائز نہیں مگر عورت کو تین دن تک شوہر کے مرنے پر غم کی وجہ
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر في الحداد، ج۱، ص۵۳۳.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۲۲.
2 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۲۱.
و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر في الحداد، ج۱، ص۵۳۴ .
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۲۱.
4 ۔''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۲۳.
5 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب العدۃ، الجزء الثاني، ص ۱۰۳.
و ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر في الحداد، ج۱، ص۵۳۴ .
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۲۳.
سے سیاہ کپڑے پہننا جائز ہے اور سیاہ کپڑے غم ظاہر کرنے کے ليے نہ ہوں تو مطلقاً جائز ہیں۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: عدت کے اندر چار پائی پر سو سکتی ہے کہ یہ زینت میں داخل نہیں۔
مسئلہ ۱۱: جو عورت عدت میں ہو اُس کے پاس صراحۃً نکاح کا پیغام دینا حرام ہے اگرچہ نکاح فاسد یا عتق کی عدت میں ہوا ور موت کی عدت ہو تو اشارۃًکہہ سکتے ہیں اور طلاق رجعی یا بائن یا فسخ کی عدت میں اشارۃًبھی نہیں کہہ سکتے اور وطی بالشبہہ یا نکاح فاسد کی عدت میں اشارۃً کہہ سکتے ہیں اشارۃً کہنے کی صورت یہ ہے کہ کہے میں نکاح کرنا چاہتاہوں مگر یہ نہ کہے کہ تجھ سے، ورنہ صراحت ہو جائیگی یا کہے میں ایسی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں جس میں یہ یہ وصف ہوں اور وہ اوصاف بیان کرے جو اس عورت میں ہیں یا مجھے تجھ جیسی کہاں ملیگی۔ (2)(درمختار ، عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: جو عورت طلاق رجعی یا بائن کی عدت میں ہے یا کسی وجہ سے فرقت ہوئی اگرچہ شوہر کے بیٹے کا بوسہ لینے سے اوراس کی عدت میں ہو یا خلع کی عدت میں ہو اگرچہ نفقہ عدت پر خلع ہوا ہو یا اس پر خلع ہوا کہ عدت میں شوہر کے مکان میں نہ رہے گی تو ان عورتوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں نہ دن میں نہ رات میں جبکہ آزاد ہوں یا لونڈی ہوجو شوہر کے پاس رہتی ہے اور عاقلہ، بالغہ، مسلمہ ہو اگرچہ شوہر نے اُسے باہر نکلنے کی اجازت بھی دی ہو۔ اور نابالغہ لڑکی طلاقِ رجعی کی عدت میں شوہر کی اجازت سے باہر جاسکتی ہے اور بغیر اجازت نہیں اور نا بالغہ بائن طلاق کی عدت میں اجازت وبے اجازت دونوں صورت میں جاسکتی ہے ہاں اگر قریب البلوغ (3)ہے تو بغیر اجازت نہیں جاسکتی اور عورت پگلی یا بوہری یاکتابیہ ہے تو جاسکتی ہے مگر شوہر کو منع کرنے کا حق ہے۔ مرد و عورت مجوسی (4)تھے شوہر مسلمان ہوگيا اور عورت نے اسلام لانے سے انکار کیا اور فرقت ہوگئی اور مدخولہ تھی لہٰذا عدت بھی واجب ہوئی تو عدت کے اندر اُس کا شوہر نکلنے سے منع کرسکتا ہے۔ مولیٰ نے ام ولدکو آزاد کیا تو اس عدت میں باہر جاسکتی ہے اور نکاحِ فاسد کی عدت میں نکلنے کی اجازت ہے مگر شوہر منع کر سکتا ہے۔ (5)(عالمگيری، درمختار)
مسئلہ ۱۳: چند مکان کا ایک صحن ہواور وہ سب مکان شوہر کے ہوں تو صحن میں آسکتی ہے اور وں کے ہوں تو نہیں۔ (6)(درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، فصل في الحداد،ج۵، ص۲۲۴.
2 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر في الحداد، ج۱، ص۵۳۴ .
و''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۲۵.
3 ۔بالغ ہونے کے قریب۔ 4 ۔ آگ کی پوجاکرنے والے۔
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر في الحداد، ج۱، ص۵۳۴ .
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۲۷.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۲۷.
مسئلہ ۱۴: اگر کرایہ کے مکان میں رہتی تھی جب بھی مکان بدلنے کی اجازت نہیں شوہر کے ذمہ زمانہ عدت کا کرایہ ہے اور اگر شوہر غائب ہے اور عورت خود کرایہ دے سکتی ہے جب بھی اُسی میں رہے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: موت کی عدت میں اگر باہر جانے کی حاجت ہو کہ عورت کے پاس بقدر کفایت مال نہیں اور باہر جا کر محنت مزدوری کرکے لائیگی تو کام چلے گا تو اسے اجازت ہے کہ دن میں اور رات کے کچھ حصے میں باہر جائے اور رات کا اکثر حصہ اپنے مکان میں گزارے مگر حاجت سے زیادہ باہر ٹھہرنے کی اجازت نہیں۔ اور اگر بقدر کفایت اس کے پاس خرچ موجود ہے تو اسے بھی گھر سے نکلنا مطلقاً منع ہے اور اگر خرچ موجود ہے مگر باہر نہ جائے تو کوئی نقصان پہنچے گا مثلاً زراعت کا کوئی دیکھنے بھالنے والا نہیں اور کوئی ایسا نہیں جسے اس کام پر مقرر کرے تو اس کے ليے بھی جاسکتی ہے مگر رات کو اُسی گھر میں رہنا ہوگا۔ (2)(درمختار ، ردالمحتار) یوہیں کوئی سودالانے والا نہ ہو تو اس کے ليے بھی جاسکتی ہے۔
مسئلہ ۱۶: موت یا فرقت(3) کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت(4) تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اور یہ جو کہا گیاہے کہ گھر سے باہر نہیں جاسکتی اس سے مراد یہی گھر ہے اور اس گھر کو چھوڑکر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کرسکتی مگر بضرورت اور ضرورت کی صورتیں ہم آگے لکھیں گے آج کل معمولی باتوں کو جس کی کچھ حاجت نہ ہو محض طبیعت کی خواہش کو ضرورت بولا کرتے ہیں وہ یہاں مراد نہیں بلکہ ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیر چارہ نہ ہو۔
مسئلہ ۱۷: عورت اپنے میکے گئی تھی یا کسی کام کے ليے کہیں اور گئی تھی اُس وقت شوہر نے طلاق دی یا مر گیا تو فوراً بلا توقف وہاں سے واپس آئے۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۸: جس مکان میں عدت گزارنا واجب ہے اُس کو چھوڑ نہیں سکتی مگر اُس وقت کہ اسے کوئی نکال دے مثلاًطلاق کی عدت میں شوہر نے گھر میں سے اس کو نکال دیا، یا کرایہ کامکان ہے اور عدت عدتِ وفات ہے مالک مکان کہتا ہے کہ کرایہ دے یا مکان خالی کر اور اس کے پاس کرایہ نہیں یا وہ مکان شوہر کا ہے مگر اس کے حصہ میں جتنا پہنچا وہ قابل سکونت نہیں اورورثہ اپنے حصہ میں اسے رہنے نہیں دیتے یا کرایہ مانگتے ہیں اور پاس کرایہ نہیں یا مکان ڈھ رہا ہو (6)یا ڈِھْنے کا خوف ہو
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،فصل فی الحداد،مطلب:الحق ان علی المفتی...إلخ،ج۵،ص۲۲۸.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،فصل فی الحداد،مطلب:الحق ان علی المفتی...إلخ،ج۵،ص۲۲۸.
3 ۔ علیحدگی۔ 4 ۔رہائش۔
5 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الرابع عشر في الحداد،ج۱،ص۵۳۵.
6 ۔گررہاہو۔
یاچوروں کاخوف ہو، مال تلف (1)ہو جانے کا اندیشہ ہے یا آبادی کے کنارے مکان ہے اور مال وغیرہ کا اندیشہ ہے تو ان صورتوں میں مکان بدل سکتی ہے۔ اور اگر کرایہ کا مکان ہواور کرایہ دے سکتی ہے یا ورثہ کو کرایہ دے کر رہ سکتی ہے تو اُسی میں رہنا لازم ہے۔ اور اگر حصہ اتنا ملا کہ اس کے رہنے کے ليے کافی ہے تو اُسی میں رہے اور دیگر ورثہ شوہر جن سے پردہ فرض ہے اُن سے پردہ کرے اور اگر اُس مکان میں نہ چور کا خوف ہے نہ پروسیوں کا مگر اُس میں کوئی اور نہیں ہے اور تنہا رہتے خوف کرتی ہے تو اگر خوف زیادہ ہو مکان بدلنے کی اجازت ہے ورنہ نہیں اور طلاق بائن کی عدت ہے اور شوہر فاسق ہے اور کوئی وہاں ایسا نہیں کہ اگر اُس کی نیت بد ہو تو روک سکے ایسی حالت میں مکان بدل دے۔ (2)(عالمگیری ، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۱۹: وفات کی عدت میں اگر مکان بدلنا پڑے تو اُس مکان سے جہاں تک قریب کا میسر آسکے اُسے لے اور عدت طلاق کی ہو تو جس مکان میں شوہر اُسے رکھنا چاہے اور اگر شوہر غائب ہے تو عورت کو اختیار ہے۔ (3)(عالمگيری)
مسئلہ ۲۰: جب مکان بدلا تو دوسرے مکان کا وہی حکم ہے جو پہلے کا تھا یعنی اب اس مکان سے باہر جانے کی اجازت نہیں مگر عدتِ وفات میں بوقتِ حاجت بقدرِ حاجت جس کا ذکر پہلے ہوچکا۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۱: طلاقِ بائن کی عدت میں یہ ضروری ہے کہ شوہر و عورت میں پردہ ہو یعنی کسی چیزسے آڑ کر دی جائے کہ ایک طرف شوہر رہے اور دوسری طرف عورت۔ عورت کا اُسکے سامنے اپنا بدن چھپانا کافی نہیں اس واسطے کہ عورت اب اجنبیہ ہے اور اجنبیہ سے خلوت جائز نہیں بلکہ یہاں فتنہ کا زیادہ اندیشہ ہے اور اگر مکان میں تنگی ہو اتنا نہیں کہ دونوں الگ الگ رہ سکیں تو شوہر اُتنے دنوں تک مکان چھوڑدے، یہ نہ کرے کہ عورت کو دوسرے مکان میں بھیج دے اور خود اس میں رہے کہ عورت کو مکان بدلنے کی بغیر ضرورت اجازت نہیں اور اگر شوہر فاسق ہو تو اُسے حکماً اُس مکان سے علیحدہ کر دیا جائے اور اگر نہ نکلے تو اُس مکان میں کوئی ثقہ (5)عورت رکھ دی جائے جو فتنہ کے روکنے پر قادر ہو اور اگررجعی کی عدت ہو تو پردہ کی کچھ حاجت نہیں اگرچہ شوہر فاسق ہو کہ یہ نکاح سے باہر نہ ہوئی۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ضائع۔
2 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الرابع عشر في الحداد،ج۱،ص۵۳۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،فصل فی الحداد،ج۵،ص۲۲۹،وغیرہما.
3 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الرابع عشر في الحداد،ج۱،ص۵۳۵.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔ معتبر،قابل اعتماد۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،فصل فی الحداد،مطلب:الحق ان علی المفتی...إلخ،ج۵،ص۲۳۰.
مسئلہ ۲۲: تین طلاق کی عدت کا بھی وہی حکم ہے جو طلاق بائن کی عدت کا ہے۔ زن و شواگر بڑھیا بوڑھے ہوں اور فرقت واقع ہوئی اور اُن کی اولادیں ہوں جنکی مفارقت گوار انہ ہو تو دونوں ایک مکان میں رہ سکتے ہیں جبکہ زن وشو کی طرح نہ رہتے ہوں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: سفر میں شوہر نے طلاق بائن دی یا اُس کا انتقال ہوا اب وہ جگہ شہر ہے یا نہیں اور وہاں سے جہاں جانا ہے مدتِ سفر ہے یا نہیں اور بہر صورت مکان مدتِ سفر ہے یا نہیں اگر کسی طرف مسافت سفر نہ ہو تو عورت کو اختیار ہے وہاں جائے یا گھر واپس آئے اُسکے ساتھ محرم ہو یا نہ ہو مگر بہتر یہ ہے کہ گھر واپس آئے اور اگر ایک طرف مسافتِ سفر ہے اور دوسری طرف نہیں تو جدھر مسافتِ سفر نہ ہو اُس کو اختیار کرے اور اگر دونوں طرف مسافتِ سفر ہے اور وہاں آبادی نہ ہو تو اختیار ہے جائے یا واپس آئے ساتھ میں محرم ہو یانہ ہو اور بہتر گھر واپس آنا ہے اور اگر اس وقت شہر میں ہے تو وہیں عدت پوری کرے محرم یا بغیر محرم نہ ادھر آسکتی ہے نہ اُدھر جاسکتی اور اگر اس وقت جنگل میں ہے مگر راستہ میں گاؤں یا شہر ملے گا اور وہاں ٹھہر سکتی ہے کہ مال یا آبرو کا اندیشہ نہیں اور ضرورت کی چیزیں وہاں ملتی ہوں تو وہیں عدت پوری کرے پھر محرم کے ساتھ وہاں سے سفر کرے۔(2)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: عورت کو عدت میں شوہر سفر میں نہیں لیجاسکتا، اگرچہ وہ رجعی کی عدت ہو۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: رجعی کی عدت کے وہی احکام ہیں جو بائن کے ہیں مگر اس کے ليے سوگ نہیں اور سفر میں رجعی طلاق دی تو شوہر ہی کے ساتھ رہے اور کسی طرف مسافت سفر (4) ہے تو اُدھر نہیں جاسکتی۔(5) (درمختار)
حدیث میں فرمايا: ''بچہ اُس کے ليے ہے، جس کا فراش ہے (یعنی عورت جس کی منکوحہ یا کنیزہو) اور زانی کے ليے پتھر ہے۔'' (6)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۳۱.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۳۲.
و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر في الحداد، ج۱، ص۵۳۵.
3 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۳۳.
4 ۔یعنی ساڑھے ستاون میل (تقریباً ۹۲کلومیٹر) کی راہ۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج۵، ص۲۳۳.
6 ۔''صحیح البخاري''، کتاب الحدود، باب للعاھر الحجر، الحدیث: ۶۸۱۸، ج۴، ص۳۴۰.
مسئلہ ۱: حمل کی مدت کم سے کم چھ مہینے ہے اور زیادہ سے زیادہ دو۲سال لہٰذا جو عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہے اور عدت پوری ہونے کا عورت نے اقرار نہ کیا ہو اور بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت ہے اور اگر عدت پوری ہونے کا اقرار کیا اور وہ مدت اتنی ہے کہ اُس میں عدت پوری ہوسکتی ہے اور وقتِ اقرار سے چھ مہینے کے اندر بچہ پیدا ہوا جب بھی نسب ثابت ہے کہ بچہ پیدا ہونے سے معلوم ہوا کہ عورت کا اقرار غلط تھااور ان دونوں صورتوں میں ولادت سے ثابت ہوا کہ شوہر نے رجعت کرلی ہے جبکہ وقت طلاق سے پورے دو ۲ برس یا زیادہ میں بچہ پیدا ہوا اور دو برس سے کم میں پیدا ہوا تو رجعت ثابت نہ ہوئی ممکن ہے کہ طلاق دینے سے پہلے کا حمل ہو اور اگر وقتِ اقرار سے چھ مہینے پر بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت نہیں۔ یوہیں طلاقِ بائن یا موت کی عدت پوری ہونے کا عورت نے اقرارکیا اور وقتِ اقرار سے چھ مہینے سے کم میں بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت ہے، ورنہ نہیں۔(1) (درمختار وغیرہ، عامہ کتب)
مسئلہ ۲: جس عورت کو بائن طلاق دی اور وقتِ طلاق سے دو۲ برس کے اندر بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت ہے اور دو برس کے بعد پیدا ہوا تو نہیں مگر جبکہ شوہر اُس بچہ کی نسبت کہے کہ یہ میرا ہے یا ایک بچہ دو۲برس کے اندر پیدا ہوا دوسرا بعد میں تو دونوں کا نسب ثابت ہو جائیگا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳: وقت نکاح سے چھ ۶مہینے کے اندر بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت نہیں اور چھ مہینے یا زیادہ پر ہوا تو ثابت ہے جبکہ شوہر اقرار کرے یا سکوت اور اگر کہتاہے کہ بچہ پیدا ہی نہ ہوا تو ایک عورت کی گواہی سے ولادت ثابت ہو جائیگی اور اگر شوہر نے کہا تھا کہ جب تو جنے تو تجھ کو طلاق اور عورت بچہ پیدا ہونا بیان کرتی ہے اور شوہر انکار کرتا ہے تو دومرد یا ایک مر د اور دو ۲ عورتوں کی گواہی سے طلاق ثابت ہوگی تنہا جنائی کی شہادت ناکافی ہے۔ یوہیں اگر شوہر نے حمل کا اقرار کیا تھا یا حمل ظاہر تھا جب بھی طلاق ثابت ہے اور نسب ثابت ہونے کے ليے فقط جنائی کا قول کافی ہے۔(3) (جوہرہ) اور اگر دو بچے پیدا ہوئے ایک چھ مہینے کے اندر دوسرا چھ مہینے پر یا چھ مہینے کے بعد تو دونوں میں کسی کا نسب ثا بت نہیں۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۴: نکاح میں جہاں نسب ثابت ہونا کہا جاتا ہے وہاں کچھ یہ ضرور نہیں کہ شوہر دعوے کرے تو نسب ہوگا بلکہ
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،فصل في ثبوت النسب،ج۵،ص۲۳۴،وغیرہ.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،فصل في ثبوت النسب،ج۵،ص۲۳۷.
3 ۔''الجوھرۃالنیرۃ''،کتاب العدۃ،الجزء الثانی،ص۱۰۷.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۳۶.
سکوت سے بھی نسب ثابت ہوگا اور اگر انکار کرے تو نفی نہ ہوگی جب تک لعان نہ ہو او ر اگر کسی وجہ سے لعان نہ ہوسکے جب بھی ثابت ہوگا۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۵: نابالغہ کو اُس کے شوہر نے بعدِ دخول طلاقِ رجعی دی اور اُس نے حاملہ ہونا ظاہر کیا تو اگر ستائیس مہینے کے اندر بچہ پیدا ہوا تو ثابت النسب ہے اور طلاق بائن میں دو برس کے اندر ہوگاتو ثابت ہے ورنہ نہیں اور اگر اُس نے عدت پوری ہونیکا اقرار کیا ہے تو وقتِ اقرار سے چھ مہینے کے اندر ہوگا تو ثابت ہے ورنہ نہیں اور اگر نہ حاملہ ہونا ظاہر کیا نہ عدت پوری ہونے کا اقرار کیا بلکہ سکوت کیا تو سکوت کا وہی حکم ہے جو عدت پوری ہونے کے اقرار کا ہے۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۶: شوہر کے مرنے کے وقت سے دو۲برس کے اندر بچہ پیدا ہوگا تونسب ثابت ہے، ورنہ نہیں۔ یہی حکم صغیرہ کا ہے جبکہ حمل کا اقرار کرتی ہو اور اگر عورت صغیرہ ہے جس نے نہ حمل کا اقرار کیا، نہ عدت پوری ہونے کا اور دس مہینے دس دن سے کم میں ہوا تو ثابت ہے ورنہ نہیں اور اگر عدت پوری ہونے کا اقرار کیا اور وقت اقرار یعنی چارمہینے دس دن کے بعد اگر چھ مہینے کے اندر پیدا ہوا تو ثابت ہے، ورنہ نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۷: عورت نے عدتِ وفات میں پہلے یہ کہا مجھے حمل نہیں پھر دوسرے دن کہا حمل ہے تو اُس کا قول مان لیا جائیگا اور اگر چار مہینے دس دن پورے ہونے پر کہا کہ حمل نہیں ہے پھر حمل ظاہر کیا تو اُس کا قول نہیں مانا جائیگا مگر جبکہ شوہر کی موت سے چھ مہینے کے اندر بچہ پیدا ہو تو اُس کا وہ اقرار کہ عدت پوری ہوگئی باطل سمجھا جائیگا۔ (4)(خانیہ)
مسئلہ ۸: طلاق یا موت کے بعد دو۲برس کے اندر بچہ پیدا ہوا اور شوہر یا اُس کے ورثہ بچہ پیداہونے سے انکار کرتے ہیں اور عورت دعویٰ کرتی ہے تو اگر حمل ظاہر تھا یا شوہر نے حمل کا اقرار کیا تھا تو ولادت ثابت ہے اگرچہ جنائی(5) بھی شہادت نہ دے اور وہ ثابت النسب ہے اور اگر نہ حمل ظاہر تھا نہ شوہر نے حمل کا اقرار کیا تھا تو اُس وقت ثابت ہوگا کہ دو مرد یا ایک مرد، دو عورت گواہی دیں۔ اور مرد کس طرح گواہی دیں گے اس کی صورت یہ ہے کہ عورت تنہا مکان میں گئی اور اُس مکان میں کوئی ایسا بچہ نہ تھا اور بچہ ليے ہوئے باہر آئی یا مرد کی نگاہ اچانک پڑگئی دیکھا کہ اُس کے بچہ پیدا ہورہا ہے اور قصد اً نگاہ کی
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۳۶.
2 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۳۷.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،فصل في ثبوت النسب،ج۵،ص۲۴۰.
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق،باب العدۃ،فصل فی النسب،ج۲،ص۲۷۴.
5 ۔دائی، بچہ جنانے والی۔
توفاسق ہے اور اُس کی گواہی مردود۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: شوہر بچہ پیدا ہونے کااقرار کرتا ہے مگر کہتا ہے کہ یہ بچہ نہیں ہے تو اُس کے ثبوت کے ليے جنائی کی شہادت کافی ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: عدتِ وفات میں بچہ پیدا ہوا اور بعض ورثہ نے تصدیق کی تو اس کے حق میں نسب ثابت ہوگیا پھر اگر یہ عادل ہے اور اسکے ساتھ کسی اور وارث قابلِ شہادت نے بھی تصدیق کی یا کسی اجنبی نے شہادت دی تو ورثہ اور غیر سب کے حق میں نسب ثابت ہوگيا یعنی مثلاً اگر اس لڑکے نے دعویٰ کیا کہ میرے باپ کے فلاں شخص پر اتنے روپے دَین ہیں تو دعویٰ سُننے کے ليے اسکی حاجت نہیں کہ وہ اپنا نسب ثابت کرے اور اگر تنہا ایک وارث تصدیق کرتا ہے یا چند ہوں مگر وہ عادل نہ ہوں تو فقط ان کے حق میں ثابت ہے اوروں کے حق میں ثابت نہیں یعنی مثلاً اگر دیگر ورثہ اس صورت میں انکار کرتے ہوں تو اولاد ہونے کی وجہ سے ان کے حصوں میں کوئی کمی نہ ہوگی اور وارث اگر تصدیق کریں تو ان کے ليے اقرار کرنے میں لفظ ِشہادت اور مجلس ِقاضی وغیرہ کچھ شرط نہیں مگر اوروں کے حق میں ان کا اقرار اُس وقت مانا جائیگا جب عادل ہوں ہاں اگر اس وارث کے ساتھ کوئی غیر وارث ہے تو اُس کا فقط یہ کہہ دینا کافی نہ ہوگا کہ یہ فلاں کا لڑکا ہے بلکہ لفظِ شہادت اور مجلسِ حکم وغیرہ و ہ سب امور جوشہادت میں شرط ہیں، اس کے ليے شرط ہیں۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: بچہ پیدا ہوا عورت کہتی ہے کہ نکاح کو چھ مہینے یا زائد کا عرصہ گزرا اور مرد کہتا ہے کہ چھ مہینے نہیں ہوئے توعورت کو قسم کھلائیں، قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہے اور شوہر یا اس کے ورثہ گواہ پیش کرنا چاہیں تو گواہ نہ سنے جائیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: کسی لڑکے کی نسبت کہا یہ میرا بیٹا ہے اور اُس شخص کا انتقال ہوگيا اور اُس لڑکے کی ماں جس کا حرہ و مسلمہ ہونامعلوم ہے یہ کہتی ہے کہ میں اُس کی عورت ہوں اور یہ اُسکا بیٹا تو دونوں وارث ہونگے اور اگر عورت کا آزاد ہونا مشہور نہ ہو یاپہلے وہ باندی تھی اور اب آزاد ہے اور یہ نہیں معلوم کہ علوق کے وقت آزاد تھی یا نہیں اور ورثہ کہتے ہیں تو اُس کی ام ولد تھی تووارث نہ ہوگی۔ یوہیں اگر ورثہ کہتے ہیں کہ تو اُس کے مرنے کے وقت نصرانیہ تھی اور اُس وقت اُس عورت کا مسلمان
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،فصل في ثبوت النسب،مطلب:في ثبوت النسب من الصغیرۃ،ج۵،ص۲۴۲.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،فصل في ثبوت النسب،ج۵،ص۲۴۳.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،فصل في ثبوت النسب،مطلب:في ثبوت النسب من الصغیرۃ،ج۵،ص۲۴۴.
4 ۔المرجع السابق،ص۲۴۵.
ہونامشہورنہیں ہے، جب بھی وارث نہ ہوگی۔(1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۳: عورت کا بچہ خود عورت کے قبضہ میں ہے شوہر کے قبضہ میں نہیں اُس کی نسبت عورت یہ کہتی ہے کہ یہ لڑکا میرے پہلے شوہر سے ہے اس کے پیدا ہونے کے بعد میں نے تجھ سے نکاح کیا اور شوہر کہتا ہے کہ میر ا ہے میرے نکاح میں پیدا ہوا تو شوہر کا قول معتبر ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: کسی عورت سے زنا کیا پھر اُس سے نکاح کیا اور چھ مہینے یا زائد میں بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت ہے اور کم میں ہوا تو نہیں اگرچہ شوہر کہے کہ یہ زنا سے میر ا بیٹا ہے۔ (3)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۵: نسب کا ثبوت اشارہ سے بھی ہوسکتا ہے اگرچہ بولنے پر قادر ہو۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۶: کسی نے اپنے نا بالغ لڑکے کا نکاح کسی عورت سے کر دیا اور لڑکا اتنا چھوٹا ہے کہ نہ جماع کر سکتا ہے نہ اُس سے حمل ہو سکتا ہے اور عورت کے بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت نہیں اور اگر لڑکا مراہق (5)ہے اور اُس کی عورت سے بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت ہے۔ (6)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۷: اپنی کنیز سے وطی کرتا ہے اور بچہ پید ا ہوا تو اُس کا نسب اُس وقت ثابت ہوگا کہ یہ اقرار کرے کہ میرا بچہ ہے اور وہ لونڈی ام ولد ہوگئی اب اس کے بعد جو بچے پیدا ہونگے اُن میں اقرار کی حاجت نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ نفی کرنے سے مُنْتَفِی ہوجائے گا مگر نفی سے اُس وقت منتفی ہوگا کہ زیادہ زمانہ نہ گزرا ہو نہ قاضی نے اُس کے نسب کا حکم دیدیا ہواور ان میں کوئی بات پائی گئی تو نفی نہیں ہو سکتی۔ اور مدبرہ کے بچہ کا نسب بھی اقرار سے ثابت ہوگا۔ منکوحہ کے بچہ کا نسب ثابت ہونے کے ليے اقرار کی حاجت نہیں بلکہ انکار کی صورت میں لعان کرنا ہوگا اور جہاں لعان نہیں وہاں انکار سے بھی کام نہ چلے گا۔ (7)(عالمگیری، ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۳۹،وغیرہ.
2 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۴۰.
3 ۔المرجع السابق. 4 ۔المرجع السابق.
5 ۔بالغ ہونے کے قریب۔
6 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۴۰.
7 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،ج۱،ص۵۳۶.
و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب العدۃ،فصل في ثبوت النسب،مطلب:الفراش علی اربع مراتب،ج۵،ص۲۵۱.
حدیث ا: امام احمد و ابوداود عبداﷲ بن عمرورضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ ایک عورت نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے عرض کی، یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم )میرا یہ لڑکا ہے میرا پیٹ اس کے ليے ظرف تھا اور میرے پستان اس کے ليے مشک اور میری گود اس کی محافظ تھی اور اس کے باپ نے مجھے طلاق دیدی اور اب اسکو مجھ سے چھیننا چاہتا ہے۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: ''تو زیا دہ حقدار ہے، جب تک تو نکاح نہ کرے۔'' (1)
حدیث ۲: صحیحین میں براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ صلح حدیبیہ کے بعد دوسرے سال میں جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم عُمرہ قضا سے فارغ ہو کر مکہ معظمہ سے روانہ ہوئے تو حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہتی پیچھے ہولیں۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اُنھیں لے لیا اور ہاتھ پکڑ لیا پھر حضرت علی و زید بن حارثہ و جعفر طیار رضی اﷲ تعالیٰ عنہم میں ہر ایک نے اپنے پاس رکھنا چاہا۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا، میں نے ہی اسے لیا اور میرے چچا کی لڑکی ہے اور حضرت جعفر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا، میرے چچا کی لڑکی ہے اور اس کی خالہ میری بی بی ہے اور حضرت زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا، میرے (رضاعی) بھائی کی لڑکی ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے لڑکی خالہ کو دلوائی اور فرمايا: کہ ''خالہ بمنزلہ ماں کے ہے اور حضرت علی سے فرمايا: کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے اور حضرت جعفر سے فرمايا: کہ تم میری صورت اور سیرت میں مشابہ ہو اور حضرت زید سے فرمايا: کہ تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ ہو۔'' (2)
مسئلہ ۱: بچہ کی پرورش کا حق ماں کے ليے ہے خواہ وہ نکاح میں ہو یا نکاح سے باہر ہوگئی ہو ہاں اگر وہ مرتدہ ہوگئی تو پرورش نہیں کرسکتی یا کسی فسق میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے بچہ کی تربیت میں فرق آئے مثلاًزانیہ یا چور یا نوحہ کرنے والی ہے تواُس کی پرورش میں نہ دیا جائے بلکہ بعض فقہانے فرمايا اگر وہ نماز کی پابندنہیں تو اُسکی پر ورش میں بھی نہ دیا جائے مگر اصح یہ ہے کہ اُس کی پرورش میں اُس وقت تک رہے گا کہ نا سمجھ ہو جب کچھ سمجھنے لگے تو علیحدہ کر لیں کہ بچہ ماں کو دیکھ کر وہی عادت اختیار کریگا جو اُس کی ہے۔ یوہیں ماں کی پرورش میں اُسوقت بھی نہ دیاجائے جبکہ بکثرت بچہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر چلی جاتی ہو اگرچہ اُسکا جانا کسی گناہ کے ليے نہ ہو مثلاًوہ عورت مُردے نہلاتی ہے یا جنائی ہے یا اور کوئی ایسا کام کرتی ہے
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطلاق، باب من احق بالولد، الحدیث: ۲۲۷۶، ج۲، ص۴۱۳.
2 ۔ ''صحیح البخاری''، کتاب المغازی، باب عمرۃ القضاء ، الحدیث: ۴۲۵۱، ج۳، ص۹۴.
جس کی وجہ سے اُسے اکثر گھر سے باہر جانا پڑتا ہے یاوہ عورت کنیزیا ام ولدیا مدبرہ ہو یا مکاتبہ ہو جس سے قبل عقد کتابت بچہ پیدا ہوا جبکہ وہ بچہ آزادہو اور اگر آزاد نہ ہو تو حقِ پرورش مولیٰ کے ليے ہے کہ اُس کی ملک ہے مگر اپنی ماں سے جُدا نہ کیاجائے۔ (1)(عالمگیری،درمختار، ردالمحتار وغیرہا)
مسئلہ ۲: اگر بچہ کی ماں نے بچہ کے غیر محرم سے نکاح کر لیا تو اسے پرورش کاحق نہ رہا اور اس کے محرم سے نکاح کیا تو حقِ پر ورش باطل نہ ہوا۔ غیر محرم سے مراد وہ شخص ہے کہ نسب کی جہت سے بچہ کے ليے محرم نہ ہو اگرچہ رضاع کی جہت سے محرم ہو جیسے اس کی ماں نے اس کے رضاعی چچا سے شادی کرلی تو اب ماں کی پرورش میں نہ رہے گا کہ اگرچہ رضاع کے لحاظ سے بچہ کا چچا ہے مگر نسباً اجنبی ہے او ر نسبی چچا سے نکاح کیا تو باطل نہیں۔ (2)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳: ماں اگر مفت پرورش کرنا نہیں چاہتی اور باپ اجرت دے سکتا ہے تو اُجرت دے اور تنگ دست ہے تو ماں کے بعد جن کو حقِ پرورش ہے اگر اُن میں کوئی مفت پرورش کرے تو اُس کی پرورش میں دیاجائے بشرطیکہ بچہ کے غیر محرم سے اُس نے نکاح نہ کیا ہو اور ماں سے کہہ دیا جائے کہ یامفت پرورش کر یا بچہ فلاں کو دیدے مگر ماں اگر بچہ کو دیکھنا چاہے یا اُس کی دیکھ بھال کرنا چاہے تو منع نہیں کر سکتے اور اگر کوئی دوسری عورت ایسی نہ ہوجس کو حق پرورش ہے مگر کوئی اجنبی شخص یا رشۃ دار مرد مفت پرورش کرنا چاہتا ہے تو ماں ہی کو دیں گے اگرچہ اُس نے اجنبی سے نکاح کیا ہواگرچہ اُجرت مانگتی ہو۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جس کے ليے حقِ پرورش ہے اگر وہ انکار کرے اور کوئی دوسری نہ ہو جو پرورش کرے تو پرورش کرنے پر مجبور کی جائے گی۔ یوہیں اگر بچہ کی ماں دودھ پلانے سے انکار کرے اور بچہ دوسری عورت کا دودھ نہ لیتا ہو یا مفت کوئی دودھ نہیں پلاتی اور بچہ یااُس کے باپ کے پاس مال نہیں تو ماں دودھ پلانے پر مجبور کی جائے گی۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: ماں کی پر ورش میں بچہ ہواور وہ اس کے باپ کے نکاح یا عدت میں ہو تو پرورش کا معاوضہ نہیں پائے گی ورنہ اسکا بھی حق لے سکتی ہے اور دودھ پلانے کی اُجرت او ر بچہ کا نفقہ بھی اور اگر اُس کے پاس رہنے کا مکان نہ ہو تو یہ بھی اور بچہ کو خادم کی ضرورت ہو تو یہ بھی اور یہ سب اخراجات اگر بچہ کا مال ہو تو اُس سے ديے جائیں ورنہ جس پر بچہ کا نفقہ ہے اُسی
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس عشر في الحضانۃ،ج۱،ص۵۴۱.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،ج۵،ص۲۵۹۔۲۶۱،وغیرہا.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،ج۵،ص۲۶۱،وغیرہ.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،مطلب:شروط الحاضنۃ،ج۵،ص۲۶۱.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،مطلب:شروط الحاضنۃ،ج۵،ص۲۶۵.
کے ذمہ یہ سب بھی ہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۶: ماں نے اگر پرورش سے انکار کر دیا پھر یہ چاہتی ہے کہ پرورش کرے تو رجوع کر سکتی ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ماں اگر نہ ہو یا پرورش کی اہل نہ ہو یا انکار کر دیا یا اجنبی سے نکاح کیا تو اب حق پرورش نانی کے ليے ہے یہ بھی نہ ہو تو نانی کی ماں اس کے بعد دادی پر دادی بشرائط مذکورہ بالا پھر حقیقی بہن پھر اخیافی بہن پھر سوتیلی بہن پھر حقیقی بہن کی بیٹی پھر اخیافی بہن کی بیٹی پھر خالہ یعنی ماں کی حقیقی بہن پھر اخیافی پھر سوتیلی پھر سوتیلی بہن کی بیٹی پھر حقیقی بھتیجی پھر اخیافی بھائی کی بیٹی پھر سوتیلے بھائی کی بیٹی پھر اسی ترتیب سے پھوپیاں پھر ماں کی خالہ پھر باپ کی خالہ پھر ماں کی پھوپیاں پھر باپ کی پھوپیاں اور ان سب میں وہی ترتیب ملحوظ ہے کہ حقیقی پھر اخیافی پھر سوتیلی۔ اور اگر کوئی عورت پر ورش کرنے والی نہ ہو یا ہو مگر اسکا حق ساقط ہو تو عصبات بہ ترتیبِ ارث یعنی باپ پھر دادا پھر حقیقی بھائی پھر سوتیلا پھر بھتیجے پھر چچا پھر اس کے بیٹے مگر لڑکی کوچچا زاد بھائی کی پرورش میں نہ دیں خصوصاً جبکہ مشتہاۃ ہوا ور اگر عصبات بھی نہ ہوں تو ذوی الارحام کی پرورش میں دیں مثلاً اخیافی بھائی پھر اُسکا بیٹا پھر ماں کا چچا پھر حقیقی ماموں۔ چچا اور پھوپھی اور ماموں اور خالہ کی بیٹیوں کو لڑکے کی پرورش کاحق نہیں۔ (3)(درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: اگر چند شخص ایک درجہ کے ہوں تو اُن میں جو زیادہ بہتر ہو پھر وہ کہ زیادہ پر ہیزگار ہو پھر وہ کہ اُن میں بڑا ہو حقدار ہے۔(4) (عالمگيری، درمختار)
مسئلہ ۹: بچہ کی ماں اگر ایسے مکان میں رہتی ہے کہ گھر والے بچہ سے بغض رکھتے ہیں تو باپ اپنے بچہ کو اُس سے لے لیگا یا عورت وہ مکان چھوڑدے اور اگر ماں نے بچہ کے کسی رشتہ دار سے نکاح کیا مگر وہ محرم نہیں جب بھی حق ساقط ہو جائیگا مثلاًاُس کے چچازاد بھائی سے ہاں اگر ماں کے بعد اُسی چچا کے لڑکے کا حق ہے یا بچہ لڑکا ہے تو ساقط نہ ہوگا۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: اجنبی کے ساتھ نکاح کرنے سے حقِ پرورش ساقط ہوگیا تھا پھر اُس نے طلاق بائن دیدی یا رجعی دی
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الحضانۃ،ج۵،ص۲۶۶۔۲۶۸.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،مطلب:فی لزوم اجرۃ مسکن الحضانۃ،ج۵،ص۲۶۴.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،مطلب:فی لزوم اجرۃ مسکن الحضانۃ،ج۵،ص۲۶۹۔۲۷۱.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس عشر في الحضانۃ،ج۱،ص۵۴۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،ج۵،ص۲۷۱.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،مطلب:فی لزوم اجرۃ مسکن الحضانۃ،ج۵،ص۲۷۲.
مگر عدت پوری ہوگئی تو حقِ پر ورش عود(1) کر آئیگا۔ (2)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۱: پاگل اور بوہرے کو حقِ پرورش حاصل نہیں اور اچھے ہوگئے تو حق حاصل ہو جائیگا۔ یوہیں مرتد تھا، اب مسلمان ہوگيا تو پرورش کا حق اسے ملے گا۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: بچہ نانی یا دادی کے پاس ہے اور وہ خیانت کرتی ہے تو پھوپی کو اختیار ہے کہ اُس سے لے لے۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۳: بچہ کا باپ کہتا ہے کہ اُس کی ماں نے کسی سے نکاح کر لیا اور ماں انکار کرتی ہے تو ماں کا قول معتبر ہے اور اگر یہ کہتی ہے کہ نکاح تو کیا تھا مگر اُس نے طلاق دیدی اور میراحق عود کر آیا تو اگر اتنا ہی کہا اور یہ نہ بتایاکہ کس سے نکاح کیا جب بھی ماں کا قول معتبر ہے اور اگر یہ بھی بتایا کہ فلاں سے نکاح کیا تھا تو اب جب تک وہ شخص طلاق کااقرار نہ کرے محض اس عورت کا کہنا کافی نہیں۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۱۴: جس عورت کے ليے حقِ پرورش ہے اُس کے پاس لڑکے کو اُس وقت تک رہنے دیں کہ اب اسے اُس کی حاجت نہ رہے یعنی اپنے آپ کھاتا پیتا، پہنتا، استنجا کرلیتا ہو، اس کی مقدار سات برس کی عمر ہے اور اگر عمر میں اختلاف ہو تو اگر یہ سب کام خود کرلیتا ہو تو اُس کے پاس سے علیٰحدہ کرلیا جائے ورنہ نہیں اور اگر باپ لینے سے انکار کرے تو جبراً اُس کے حوالے کیا جائے اور لڑکی اُس وقت تک عورت کی پرورش میں رہے گی کہ حدِ شہوت کو پہنچ جائے اس کی مقدار نو برس کی عمر ہے اور اگر اس عمر سے کم میں لڑکی کا نکاح کر دیا گیا جب بھی اُسی کی پرورش میں رہے گی جس کی پرورش میں ہے نکاح کردینے سے حقِ پرورش باطل نہ ہوگا، جب تک مرد کے قابل نہ ہو۔(6) (خانیہ، بحر وغیرہما)
مسئلہ ۱۵: سات برس کی عمر سے بلوغ تک لڑکااپنے باپ یا دادا یا کسی اور ولی کے پاس رہے گا پھر جب بالغ ہوگیا اور سمجھ وال ہے کہ فتنہ یا بدنامی کا اندیشہ نہ ہوا ور تا دیب (7)کی ضرورت نہ ہو تو جہاں چاہے وہاں رہے اور اگر اِن باتوں کا اندیشہ ہو
1 ۔یعنی دوبارہ پرورش کاحق حاصل ہوجائے گا۔
2 ۔''الھدایۃ'' ،کتاب الطلاق، باب الولدمن أحق بہ، ج۲، ص۲۸۴، وغیرہا.
3 ۔''ردالمحتار''، کتاب الطلاق،باب الحضانۃ، مطلب: لوکانت الاخوۃ... إلخ، ج۵، ص۲۷۳.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانۃ، ج۱، ص۵۴۱.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب النکاح،باب في ذکر مسائل المہر، فصل في الحضانۃ،ج۱، ص۱۹۴.
6 ۔المرجع السابق.
و''البحرالرائق''، کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج۴، ص۲۸۷، وغیرہما.
7 ۔یعنی اصلاح،تربیت۔
اور تا دیب کی ضرورت ہو تو باپ دادا وغیرہ کے پاس رہے گا خود مختار نہ ہوگامگربالغ ہونے کے بعد باپ پر نفقہ واجب نہیں اب اگر اخراجات کا متکفل ہو(1) تو تبرع واحسان ہے۔(2) (عالمگیری ، درمختار) یہ حکم فقہی ہے مگر نظر بحالِ زمانہ خود مختار نہ رکھا جائے، جب تک چال چلن اچھی طرح درست نہ ہو لیں اور پورا وثوق (3) نہ ہولے کہ اب اس کی وجہ سے فتنہ و عار نہ ہوگا کہ آج کل اکثر صحبتیں مخرب اخلاق(4) ہوتی ہیں اور نو عمری میں فساد بہت جلد سرایت کرتا ہے۔
مسئلہ ۱۶: لڑکی نو برس کے بعد سے جب تک کو آری ہے باپ دادا بھائی وغیرہم کے یہاں رہے گی مگر جبکہ عمر رسیدہ ہو جائے اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اُسے اختیار ہے جہاں چاہے رہے اور لڑکی ثیب ہے مثلاً بیوہ ہے اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اُسے اختیار ہے، ورنہ باپ دادا وغیرہ کے یہاں رہے اور یہ ہم پہلے بیان کرچکے کہ چچا کے بیٹے کو لڑکی کے ليے حقِ پرورش نہیں یہی حکم اب بھی ہے کہ وہ محرم نہیں بلکہ ضرور ہے کہ محرم کے پاس رہے اور محرم نہ ہو تو کسی ثقہ امانت دار عورت کے پاس رہے جو اُس کی عفت کی حفاظت کرسکے اور اگر لڑکی ایسی ہو کہ فساد کا اندیشہ نہ ہو تو اختیار ہے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: لڑکا بالغ نہ ہوا مگر کام کے قابل ہوگیا ہے تو باپ اُسے کسی کام میں لگادے جو کام سکھانا چاہے اُس کے جاننے والوں کے پاس بھیج دے کہ اُن سے کا م سیکھے نوکری یا مزدوری کے قابل ہو اور باپ اُس سے نوکری یا مزدوری کرانا چاہے تو نوکری یا مزدوری کرائے اور جو کمائے اُس پر صرف کرے اور بچ رہے تو اُس کے ليے جمع کرتا رہے اور اگر باپ جانتا ہے کہ میرے پاس خرچ ہوجائے گا تو کسی اور کے پاس امانت رکھ دے۔ (6)(درمختار) مگر سب سے مقدم یہ ہے کہ بچوں کو قرآ ن مجید پڑھائیں اور دین کی ضروری باتیں سکھائی جائیں روزہ و نماز و طہارت اور بیع واجارہ و دیگر معاملات کے مسائل جن کی روز مرّہ حاجت پڑتی ہے اور ناواقفی سے خلافِ شرع عمل کرنے کے جرم میں مبتلا ہوتے ہیں اُ ن کی تعلیم ہو اگر دیکھیں کہ بچہ کو علم کی طرف رجحان ہے اور سمجھ دار ہے تو علم دِین کی خدمت سے بڑھ کر کیا کام ہے اور اگر استطاعت نہ ہو تو تصحیح و تعلیمِ عقائد اور ضروری مسائل کی تعلیم کے بعد جس جائز کام میں لگائیں اختیار ہے۔
1 ۔ کفالت کرنے والاہو۔
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانۃ، ج۱، ص۵۴۲.
و ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج۵، ص۲۷۷ .
3 ۔اعتماد،یقین۔ 4 ۔اخلاق کو بگاڑنے والی۔
5 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق،باب الحضانۃ، مطلب: لوکانت الاخوۃ...الخ ،ج۵، ص۲۷۷.
و ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانۃ ،ج۱، ص۵۴۲.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج۵، ص۲۷۸.
مسئلہ ۱۸: لڑکی کو بھی عقائد و ضروری مسائل سکھانے کے بعد کسی عورت سے سلائی اور نقش و نگار وغیرہ ایسے کام سکھائیں جن کی عورتوں کو اکثر ضرورت پڑتی ہے اور کھانا پکانے اور دیگر امور ِخانہ داری میں اُسکو سلیقہ ہونے کی کوشش کریں کہ سلیقہ والی عورت جس خوبی سے زندگی بسر کرسکتی ہے بدسلیقہ نہیں کرسکتی۔ (1)
مسئلہ ۱۹: لڑکی کو نوکر نہ رکھائیں کہ جس کے پاس نوکر رہے گی کبھی ایسا بھی ہوگا کہ مرد کے پاس تنہا رہے اور یہ بڑ ے عیب کی بات ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: زمانہ پرورش میں باپ یہ چاہتا ہے کہ عورت سے بچہ لے کر کہیں دوسری جگہ چلا جائے تو اُس کو یہ اختیار حاصل نہیں اور اگر عورت چاہتی ہے کہ بچہ کولے کر دوسرے شہر کو چلی جائے اور دونوں شہروں میں اتنا فاصلہ ہے کہ باپ اگر بچہ کو دیکھنا چاہے تو دیکھ کر رات آنے سے پہلے واپس آسکتا ہے تو لے جا سکتی ہے اور اس سے زیادہ فاصلہ ہے تو خود بھی نہیں جاسکتی۔ یہی حکم ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں یا گاؤں سے شہر میں جانے کا ہے کہ قریب ہے توجائز ہے ورنہ نہیں۔ اور شہر سے گاؤں میں بغیر اجازت نہیں لے جاسکتی، ہاں اگر جہاں جانا چاہتی ہے وہاں اُ س کا میکاہے اور وہیں اُس کا نکاح ہوا ہے تو لے جاسکتی ہے اور اگر اُس کا میکا ہے مگر وہاں نکاح نہیں ہوا بلکہ نکاح کہیں اور ہوا ہے تو نہ میکے لے جاسکتی ہے، نہ وہاں جہاں نکاح ہوا، ماں کے علاوہ کوئی اور پرورش کرنے والی لے جانا چاہتی ہو تو باپ کی اجازت سے لے جاسکتی ہے۔ مسلمان یا ذمی عورت بچہ کو دارالحرب میں مطلقاً نہیں لیجاسکتی، اگرچہ وہیں نکاح ہوا ہو۔ (3)(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۱: عورت کو طلاق دیدی اُس نے کسی اجنبی سے نکاح کرلیا تو باپ بچہ کو اُس سے لے کر سفر میں لے جاسکتا ہے جبکہ کوئی اور پرورش کا حقدار نہ ہو ورنہ نہیں۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: جب پرورش کازمانہ پورا ہوچکا اور بچہ باپ کے پاس آگیا تو باپ پر یہ واجب نہیں کہ بچہ کو اُس کی ماں کے پاس بھیجے نہ پرورش کے زمانہ میں ماں پر باپ کے پاس بھیجنا لازم تھا ہاں اگر ایک کے پاس ہے اور دوسرااُسے دیکھنا چاہتا ہے تودیکھنے سے منع نہیں کیا جاسکتا۔(5) (درمختار)
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،مطلب:لوکانت الاخوۃ...إلخ،ج۵،ص۲۷۹.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،مطلب:لوکانت الاخوۃ...إلخ،ج۵،ص۲۷۹.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،مطلب:لوکانت الاخوۃ...إلخ،ج۵،ص۲۷۹.
و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس عشر في الحضانۃ،ج۱،ص۵۴۳-۵۴۴،وغیرہ.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،ج۵،ص۲۸۱.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،ج۵،ص۲۷۲.
مسئلہ ۲۳: عورت بچہ کو گہوارے میں لٹا کر باہر چلی گئی گہوارہ گرا اور بچہ مر گیا تو عورت پر تا وان نہیں کہ اُس نے خود ضائع نہیں کیا۔(1) (خانیہ)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( لِـیُنۡفِقْ ذُوۡ سَعَۃٍ مِّنۡ سَعَتِہٖ ؕ وَ مَنۡ قُدِرَ عَلَیۡہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنۡفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىہُ اللہُ ؕ لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىہَا ؕ سَیَجْعَلُ اللہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا ٪﴿۷﴾ ) (2)
مالدار شخص اپنی وسعت کے لائق خرچ کرے اورجس کی روزی تنگ ہے، وہ اُس میں سے خرچ کرے جو اُسے خدا نے دیا، اﷲ (عزوجل) کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اُتنی ہی جتنی اُسے طاقت دی ہے، قریب ہے کہ اﷲ (عزوجل) سختی کے بعد آسانی پیدا کر دے۔
اور فرماتا ہے:
(وَعَلَی الْمَوْلُوۡدِ لَہٗ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوۡفِ ؕ لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَہَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌۢ بِوَلَدِہَا وَلَا مَوْلُوۡدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ ٭ وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ ۚ ) (3)
جس کا بچہ ہے اُس پر عورتوں کو کھانا اور پہننا ہے دستور کے موافق کسی جان پر تکلیف نہیں دی جاتی مگر اُس کی گنجائش کے لائق ماں کو اُس کے بچہ کے سبب ضرر نہ دیا جائے اور نہ باپ کو اُس کی اولاد کے سبب اورجو باپ کے قائم مقام ہے اُس پر بھی ایسا ہی واجب ہے۔
اور فرماتا ہے:
(اَسْکِنُوۡہُنَّ مِنْ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ وُّجْدِکُمْ وَ لَا تُضَآرُّوۡہُنَّ لِتُضَیِّقُوۡا عَلَیۡہِنَّ ؕ ) (4)
عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہو اپنی طاقت بھر اور اُنھیں ضرر نہ دو کہ اُن پر تنگی کرو۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمايا: ''عورتوں کے بارے میں خدا سے ڈرو کہ وہ تمھارے پاس قیدی کی مثل ہیں، اﷲ (عزوجل) کی امانت کے
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الحضانۃ،ج۱،ص۱۹۴.
2 ۔پ۲۸،الطلاق:۷.
3 ۔پ۲،البقرۃ:۲۳۳.
4 ۔پ۲۸،الطلاق:۶.
ساتھ تم نے اُنکو لیا اور اﷲ (عزوجل) کے کلمہ کے ساتھ اُن کے فروج کو حلال کیا، تمھارا اُن پر یہ حق ہے کہ تمھارے بچھونوں پر (مکانوں میں) ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کو تم نا پسند رکھتے ہو اور اگر ایسا کریں تو تم اس طرح مارسکتے ہو جس سے ہڈی نہ ٹوٹے اور اُن کا تم پر یہ حق ہے کہ اُنھیں کھانے اور پہننے کو دستور کے موافق دو۔'' (1)
حدیث ۲: صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ ہند بنت عتبہ نے عرض کی، یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ابوسفیان (میرے شوہر) بخیل ہیں، وہ مجھے اتنا نفقہ نہیں دیتے جو مجھے او ر میری اولاد کو کافی ہو مگر اُس صورت میں کہ اُن کی بغیر اطلاع میں کچھ لے لوں (تو آیا اس طرح لینا جائز ہے؟) فرمايا: کہ ''اُس کے مال میں سے اتنا تو لے سکتی ہے جو تجھے اور تیرے بچوں کو دستور کے موافق خرچ کے ليے کافی ہو۔'' (2)
حدیث ۳: صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا: ''جب خدا کسی کو مال دے تو خود اپنے اور گھر والوں پرخرچ کرے۔'' (3)
حدیث ۴: صحیح بخاری میں ابو مسعود انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمايا: ''مسلمان جو کچھ اپنے اہل پر خرچ کرے اور نیت ثواب کی ہو تو یہ اُس کے ليے صدقہ ہے۔'' (4)
حدیث ۵: بخاری شریف میں سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمايا: ''جو کچھ تو خرچ کریگا وہ تیرے ليے صدقہ ہے، یہاں تک کہ لقمہ جو بی بی کے مونھ میں اُٹھا کر دیدے۔'' (5)
حدیث ۶: صحیح مسلم شریف میں عبداﷲ بن عمرو (6)رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: کہ ''آدمی کو گنہگار ہونے کے ليے اتنا کافی ہے کہ جس کا کھانا اس کے ذمہ ہو، اُسے کھانے کو نہ دے۔'' (7)
1 ۔''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم، الحدیث: ۱۲۱۸، ص۶۳۴ .
2 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب النفقات، باب اذالم ینفق الرجل... إلخ، الحدیث: ۵۳۶۴، ج۳، ص۵۱۶.
3 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الامارۃ، باب الناس تبع لقریش... إلخ، الحدیث: ۱۸۲۲، ص۱۰۱۳ .
4 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب النفقات، باب فضل النفقۃ علی الاھل... إلخ، الحدیث: ۵۳۵۱، ج۳، ص۵۱۱.
5 ۔ ''صحیح البخاري''، کتاب النفقات، باب اذالم ینفق الرجل... إلخ، الحدیث: ۵۳۵۴، ج۳، ص۵۱۲.
6 ۔بہار شریعت کے نسخوں میں اس مقام پر '' عبد اللہ بن عمر '' رضی اللہ تعالیٰ عنہما لکھا ہے ،جو کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ حدیث پاک
'' صحیح مسلم '' میں حضرت سیدنا' 'عبد اللہ بن عمرو '' رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، اسی وجہ سے ہم نے متن میں درستگی کی ہے ۔...عِلْمِیہ
7 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب فضل النفقۃ علی العیال... إلخ، الحدیث: ۹۹۴، ص۴۹۹.
حدیث ۷: ابوداود و ابن ماجہ بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی کہ ایک شخص نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، کہ میرے پاس مال ہے اور میرے والد کو میرے مال کی حاجت ہے؟ فرمايا: ''تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ليے ہیں، تمھاری اولاد تمھاری عمدہ کمائی سے ہیں، اپنی اولاد کی کمائی کھاؤ۔'' (1)
مسئلہ ۱: نفقہ سے مراد کھاناکپڑا رہنے کا مکان ہے اور نفقہ واجب ہونے کے تین سبب ہیں زوجیت(2) ۔ نَسب۔ مِلک(3) ۔ (4)(جوہرہ ، درمختار)
مسئلہ ۲: جس عورت سے نکاح صحیح ہوا اُس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے عورت مسلمان ہو یا کافرہ، آزاد ہو یا مکاتبہ، محتاج ہو یا مالدار، دخول ہوا ہو یا نہیں، بالغہ ہویا نا بالغہ مگر نابالغہ میں شرط یہ ہے کہ جماع کی طاقت رکھتی ہو یا مشتہاۃ ہو۔ اور شوہرکی جانب کوئی شرط نہیں بلکہ کتنا ہی صغیرالسِن (5) ہواُس پرنفقہ واجب ہے اُس کے مال سے دیا جائے گا۔ اور اگر اُس کی ملک میں مال نہ ہو تو اُس کی عورت کا نفقہ اُس کے باپ پر واجب نہیں ہاں اگر اُس کے باپ نے نفقہ کی ضمانت کی ہو تو باپ پرواجب ہے شوہر عنین ہے یا اُسکا عضوتناسُل کٹا ہوا ہے یا مریض ہے کہ جماع کی طاقت نہیں رکھتا یا حج کو گیا ہے جب بھی نفقہ واجب ہے۔(6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳: نا بالغہ جو قابلِ جماع نہ ہو اُس کا نفقہ شوہر پر واجب نہیں، خواہ شوہر کے یہاں ہو یا اپنے باپ کے گھر جب تک قابلِ وطی نہ ہو جائے ہاں اگر اس قابل ہو کہ خدمت کر سکے یا اُس سے اُنس حاصل ہو سکے اور شوہر نے اپنے مکان میں رکھاتو نفقہ واجب ہے اور نہیں رکھا تو نہیں۔ (7)(عالمگيری، درمختار)
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب البیوع، باب فی الرجل یأکل من مال ولدہ، الحدیث: ۳۵۳۰، ج۳، ص۴۰۳.
2 ۔ نکاح میں ہونا۔ 3 ۔ مِلکیت۔
4 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النفقات، الجزء الثانی،ص۱۰۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۲۸۳.
5 ۔ کم عمر۔
6 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشر، الفصل الاول في نفقۃ الزوجۃ، ج۱، ص۵۴۴.
و''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ ،ج۵، ص۲۸۳.
7 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشر، الفصل الاول في نفقۃ الزوجۃ، ج۱، ص۵۴۴.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب النفقۃ ،ج۵، ص۲۸۶.
مسئلہ ۴: عورت کامقام بند ہے جس کے سبب سے وطی نہیں ہو سکتی یا دیوانی ہے یا بوہری، تو نفقہ واجب ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۵: زوجہ کنیزہے یا مدبرہ یا ام ولد تونفقہ واجب ہونے کے ليے تَبوِیہ شرط ہے یعنی اگر مولیٰ کے گھر رہتی ہے تو واجب نہیں۔ (2)(جوہرہ)
مسئلہ ۶: نکاحِ فاسد مثلاً بغیر گواہوں کے نکاح ہو تو اس میں یا اس کی عدت میں نفقہ واجب نہیں۔ یوہیں وطی بالشبہہ میں اور اگر بظاہر نکاح صحیح ہوا اور قاضی شرع نے نفقہ مقرر کر دیا بعد کو معلوم ہوا کہ نکاح صحیح نہیں مثلاًوہ عورت اس کی رضاعی بہن ثابت ہوئی تو جوکچھ نفقہ میں دیا ہے واپس لے سکتا ہے اور اگر بطور خود بلا حکمِ قاضی(3)دیا ہے تو نہیں لےسکتا۔(4)(جوہرہ ، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: انجانے میں عورت کی بہن یا پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا بعد کو معلوم ہوا اور تفریق ہوئی تو جب تک اس کی عدت پوری نہ ہوگی عورت سے جماع نہیں کرسکتا مگر عورت کانفقہ واجب ہے اور اُس کی بہن، پھوپی، خالہ کا نہیں اگرچہ ان عورتوں پر عدت واجب ہے۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۸: بالغہ عورت جب اپنے نفقہ کا مطالبہ کرے اور ابھی رخصت نہیں ہوئی ہے تو اُس کا مطالبہ درست ہے جبکہ شوہر نے اپنے مکان پر لے جانے کو اُس سے نہ کہا ہو۔ اور اگر شوہر نے کہا تُو میرے یہاں چل اور عورت نے انکار نہ کیا جب بھی نفقہ کی مستحق ہے اور اگر عورت نے انکار کیا تو اس کی دوصورتیں ہیں اگر کہتی ہے جب تک مہرِ معجل نہ دوگے نہیں جاؤنگی جب بھی نفقہ پائے گی کہ اُس کا انکار نا حق نہیں اور اگر انکار نا حق ہے مثلاً مہرِ معجل ادا کر چکا ہے یا مہر معجل تھا ہی نہیں یا عورت معاف کرچکی ہے تو اب نفقہ کی مستحق نہیں جب تک شوہر کے مکان پر نہ آئے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: دخول ہونے کے بعداگر عورت شوہر کے یہاں آنے سے انکار کرتی ہے تو اگر مہرِ معجل کا مطالبہ کرتی ہے کہ دے دو تو چلوں تو نفقہ کی مستحق ہے، ورنہ نہیں۔ (7)(درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۲۸۶.
2 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات، الجزء الثانی ، ص۱۰۸.
3 ۔قاضی کے حکم کے بغیر۔
4 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات، الجزء الثاني، ص۱۰۸.
و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، مطلب: لاتجب علی الاب ... إلخ، ج۵، ص۲۸۸.
5 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، الفصل الاول، ج۱، ص۵۴۷.
6 ۔ المرجع السابق ،ص۵۴۵.
7 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ ،ج۵، ص۲۸۶.
مسئلہ ۱۰: شوہر کے مکان میں رہتی ہے مگر اُس کے قابو میں نہیں آتی تو نفقہ ساقط نہیں اور اگر جس مکان میں رہتی ہے وہ عورت کی ملک ہے اور شوہر کا آنا وہاں بند کر دیا تو نفقہ نہیں پائے گی ہاں اگر اُس نے شوہر سے کہا کہ مجھے اپنے مکان میں لے چلو یا میرے ليے کرایہ پر کوئی مکان لے دو اور شوہر نہ لے گیا تو قصور شوہر کا ہے لہٰذا نفقہ کی مستحق ہے۔ یوہیں اگر شوہر نے پر ایا مکان غصب کر لیا ہے اُس میں رہتا ہے عورت وہاں رہنے سے انکار کرتی ہے تو نفقہ کی مستحق ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: شوہر عورت کو سفر میں لے جانا چاہتا ہے اور عورت انکار کرتی ہے یا عورت مسافتِ سفر(2) پر ہے، شوہر نے کسی اجنبی شخص کو بھیجا کہ اُسے یہاں اپنے ساتھ لے آ عورت اُس کے ساتھ جانے سے انکار کرتی ہے تو نفقہ(3) ساقط نہ ہوگا اور اگر عورت کے محرم کو بھیجا اور آنے سے انکار کرے تو نفقہ ساقط ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ۱۲: عورت شوہر کے گھر بیمار ہوئی یا بیمار ہو کر اُس کے یہاں گئی یا اپنے ہی گھر رہی مگر شوہر کے یہاں جانے سے انکار نہ کیا تو نفقہ واجب ہے اور اگر شوہر کے یہاں بیمار ہوئی اور اپنے باپ کے یہاں چلی گئی اگر اتنی بیمار ہے کہ ڈولی وغیرہ پر بھی نہیں آسکتی تو نفقہ کی مستحق ہے اور اگر آسکتی ہے مگر نہیں آئی تو نہیں۔(5) (درمختار)
مسئلہ۱۳: عورت شوہر کے یہاں سے ناحق چلی گئی تو نفقہ نہیں پائے گی جب تک واپس نہ آئے اور اگر اُس وقت واپس آئی کہ شوہرمکان پر نہیں بلکہ پردیس چلا گیا ہے جب بھی نفقہ کی مستحق ہے۔ اور اگر عورت یہ کہتی ہے کہ میں شوہر کی اجازت سے گئی تھی اور شوہر انکار کرتا ہے یا یہ ثابت ہوگیا کہ بلا اجازت چلی گئی تھی مگر عورت کہتی ہے کہ گئی تو تھی بغیر اجازت مگر کچھ دنوں شوہر نے وہاں رہنے کی اجازت دیدی تھی تو بظاہر عورت کا قول معتبر نہ ہوگا۔ (6)(درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ۱۴: چند مہینے کا نفقہ شوہر پر باقی تھا عورت اُس کے مکان سے بغیر اجازت چلی گئی تو یہ نفقہ بھی ساقط ہوگیا اورلوٹ کر آئے جب بھی اُس کی مستحق نہ ہوگی اور اگر باجازت اس نے قرض لے کر نفقہ میں صرف کیا تھا اور اب چلی گئی تو ساقط نہ ہوگا۔ (7)(درمختار ، ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السابع عشرفی النفقات،الفصل الاول،ج۱،ص۵۴۵.
2 ۔یعنی ساڑھے ستاون میل (تقریباً ۹۲کلومیٹر)کی راہ۔
3 ۔کھانے پینے اوررہائش وغیرہ کے اخراجات۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب النفقۃ،ج۵،ص۲۹۰.
5 ۔المرجع السابق،ص۲۸۷.
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب النفقۃ،مطلب:لا تجب علی الاب...إلخ،ج۵،ص۲۸۹.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ۱۵: عورت اگر قید ہوگئی اگرچہ ظلماً تو شوہر پر نفقہ واجب نہیں ہاں اگر خود شوہر کا عورت پر دَین تھا اُسی نے قید کرایا تو ساقط نہ ہوگا۔ یوہیں اگرعورت کو کوئی اُٹھالے گیا یا چھین لے گیا جب بھی شوہر پر نفقہ واجب نہیں۔(1) (جوہرہ)
مسئلہ۱۶: عورت حج کے ليے گئی اور شوہر ساتھ نہ ہو تو نفقہ واجب نہیں اگرچہ محرم (2)کے ساتھ گئی ہو اگرچہ حج فرض ہو۔ اگرچہ شوہر کے مکان پر رہتی تھی۔ اور اگر شوہر کے ہمراہ ہے تو نفقہ واجب ہے حج فرض ہو یا نفل مگر سفر کے مطابق نفقہ واجب نہیں بلکہ حضر کا نفقہ(3) واجب ہے، لہٰذا کرایہ وغیرہ مصارفِ سفر(4) شوہر پر واجب نہیں۔ (5)(جوہرہ ،خانیہ)
مسئلہ۱۷: کسی عورت کو حمل ہے لوگوں کو شبہہ ہے کہ فلاں شخص کا حمل ہے لہٰذا عورت کے باپ نے اُسی سے نکاح کر دیا مگر وہ کہتا ہے کہ حمل مجھ سے نہیں تو نکاح ہو جائے گا مگر نفقہ شوہر پر واجب نہیں اور اگر حمل کا اقرار کرتا ہے تو نفقہ واجب ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ۱۸: جس عورت کو طلاق دی گئی ہے بہر حال عدت کے اندر نفقہ پائے گی طلاق رجعی ہو یا بائن یا تین طلاقیں، عورت کو حمل ہو یا نہیں۔(7) (خانیہ)
مسئلہ۱۹: جو عورت بے اجازتِشوہر گھر سے چلی جایا کرتی ہے اس بنا پر اُسے طلاق دیدی تو عدت کا نفقہ نہیں پائے گی ہاں اگر بعدِ طلاق شوہر کے گھر میں رہی اور باہر جانا چھوڑدیا تو پائے گی۔ (8)(عالمگيری)
مسئلہ۲۰: جب تک عورت سِن ایاس (9)کو نہ پہنچے اُس کی عدت تین حیض ہے جیسا کہ پہلے معلوم ہو چکا اور اگر اس عمر سے پہلے کسی وجہ سے جوان عورت کو حیض نہیں آتا تو اس کی عدت کتنی ہی طویل ہو زمانہ عدت کا نفقہ واجب ہے یہاں تک کہ اگر سِن ایاس تک حیض نہ آیا تو بعدِ ایاس تین ماہ گزرنے پر عدت ختم ہوگی اور اُس وقت تک نفقہ دینا ہوگا۔ ہاں اگر شوہر گواہوں سے ثابت کردے کہ عورت نے اقرار کیا ہے کہ تین حیض آئے اور عدت ختم ہوگئی تو نفقہ ساقط کہ عدت پوری ہوچکی اور اگر عورت کو طلاق ہوئی اُس نے اپنے کو حاملہ بتایا تو وقتِ طلاق سے دو برس تک وضعِ حمل (10)کاانتظار کیا جائے وضعِ حمل تک نفقہ واجب
1 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النفقات،الجزء الثانی،ص۱۱۱.
2 ۔ایسارشتہ دارجس کے ساتھ نکاح ہمیشہ حرام ہو۔ 3 ۔حالت اقامت کانفقہ۔ 4 ۔سفرکے اخراجات۔
5 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب النکاح، باب النفقۃ، ج۱، ص۱۹۶.
و''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات، الجزء الثاني، ص۱۱۱.
6 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الاول،ج۱، ص۵۴۶.
7 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، باب النفقۃ، ج۱، ص۱۹۶.
8 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الأول ، ج۱، ص۵۴۵.
9 ۔یعنی ایسی عمرجس میں حیض کاخون آنابندہوجاتاہے۔ J ۔بچے پیداہونے۔
ہے اور دو۲برس پر بھی بچہ نہ ہوا اورعورت کہتی ہے کہ مجھے حیض نہیں آیا اور حمل کا گمان تھا تو نفقہ برابر لیتی رہے گی یہاں تک کہ تین حیض آئیں یا سِن ایاس آکر تین مہینے گزرجائیں۔(1) (خانیہ)
مسئلہ۲۱: عدت کے نفقہ کا نہ دعویٰ کیا نہ قاضی نے مقرر کیا تو عدت گزرنے کے بعد نفقہ ساقط ہوگیا۔
مسئلہ۲۲: مفقود (2)کی عورت نے نکاح کرلیا اور اس دوسرے شوہر نے دخول بھی کرلیا ہے، اب پہلا شوہر آیا تو عورت اور دوسرے شوہر میں تفریق کردی جائیگی اور عورت عدت گزارے گی، مگر اس عدت کانفقہ نہ پہلے شوہر پر ہے، نہ دوسرے پر۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ۲۳: اپنی مدخولہ عورت کو تین طلاقیں دیدیں عورت نے عدت میں دوسرے سے نکاح کر لیا اور دخول بھی ہوا تو تفریق کردی جائے اور پہلے شوہر پر نفقہ ہے۔ اور منکوحہ نے دوسرے سے نکاح کیا اور دخول کے بعد معلوم ہوا اور تفریق کرائی گئی پھر شوہر کو معلوم ہوا اُس نے تین طلاقیں دیدیں تو عورت پر دونوں کی عدت واجب ہے اور نفقہ کسی پرنہیں۔(4) (خانیہ)
مسئلہ۲۴: عدت اگر مہینوں سے ہو تو کسی مقدارِ معین پر صلح ہوسکتی ہے اور حیض یا وضعِ حمل سے ہو تو نہیں کہ یہ معلوم نہیں کتنے دنوں میں عدت پوری ہوگی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ۲۵: وفات کی عدت میں نفقہ واجب نہیں، خواہ عورت کو حمل ہو یا نہیں۔ یوہیں جو فرقت عورت کی جانب سے معصیت کے ساتھ ہواُس میں بھی نہیں مثلاً عورت مرتدہ ہوگئی یا شہوت کے ساتھ شوہر کے بیٹے یا باپ کا بوسہ لیا یا شہوت کے ساتھ چھوا، ہاں اگر مجبور کی گئی توساقط نہ ہوگا۔ یوہیں اگر عدت میں مرتدہ ہوگئی تونفقہ ساقط ہوگیا پھر اگر اسلام لائی تو نفقہ عود کر آئیگا۔ اور اگر عدت میں شوہر کے بیٹے یا باپ کا بوسہ لیا تو نفقہ ساقط نہ ہوا اور جو فرقت زوجہ کی جانب سے سببِ مباح سے ہواُس میں نفقہ عدت ساقط نہیں مثلاً خیارِ عتق، خیار ِبُلوغ عورت کو حاصل ہوا، اُس نے اپنے نفس کو اختیار کیا بشرطیکہ دخول کے بعد ہو ورنہ عدت ہی نہیں اور خلع میں نفقہ ہے، ہاں اگر خلع اس شرط پر ہواکہ عورت نفقہ وسکنےٰ(6)معاف کرے تو نفقہ اب نہیں پائے گی مگر سکنٰے سے شوہر اب بھی بَری نہیں کہ عورت اسکو معاف کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔(7) (جوہرہ)
1 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، فصل فی نفقۃ العدۃ ،ج۱،ص۲۰۲.
2 ۔وہ شخص جس کا کوئی پتانہ ہو اور یہ بھی معلوم نہ ہو کہ زندہ ہے یا مرگیا ہے ۔
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، باب النفقۃ، ج۱، ص۱۹۶.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ ،ج۵، ص۳۴۲.
6 ۔ یعنی رہنے کامکان۔
7 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات، الجزء الثانی، ص۱۱۰،۱۱۱.
مسئلہ ۲۶: عورت سے ایلا یا ظہار یا لعان کیا یا شوہر مرتد ہوگیا یاشوہر نے عورت کی ماں سے جماع کیا یا عنین کی عورت نے فرقت اختیار کی تو ان سب صورتوں میں نفقہ پائے گی۔ (1)(عالمگيری)
مسئلہ۲۷: عورت نے کسی کے بچہ کو دودھ پلانے کی نوکری کی مگر دودھ پلانے جاتی نہیں بلکہ بچہ کو یہاں لاتے ہیں تو نفقہ ساقط نہیں، البتہ شوہر کو اختیار ہے کہ اس سے روک دے بلکہ اگر اپنے بچہ کو جودوسرے شوہر سے ہے دودھ پلائے تو شوہر کو منع کر دینے کا اختیار حاصل بلکہ ہر ایسے کام سے منع کرسکتا ہے جس سے اُسے ایذا ہوتی ہے یہاں تک کہ سلائی وغیرہ ایسے کاموں سے بھی منع کرسکتا ہے بلکہ اگر شوہر کو مہندی کی بو نا پسند ہے تو مہندی لگانے سے بھی منع کرسکتا ہے۔ اور اگر دودھ پلانے وہاں جاتی ہے خواہ دن میں وہاں رہتی ہے یا رات میں تونفقہ ساقط ہے۔ یوہیں اگر عورت مُردہ نہلانے یا دائی کا کام کرتی ہے اور اپنے کام کے ليے باہر جاتی ہے مگر رات میں شوہر کے یہاں رہتی ہے اگر شوہر نے منع کیااور بغیر اجازت گئی تونفقہ ساقط ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ۲۸: اگر مرد و عورت دونوں مالدار ہوں تو نفقہ مالداروں کاسا ہوگا اور دونوں محتاج ہوں تو محتاجوں کا سا اورایک مالدار ہے، دوسرا محتاج تو متوسط درجہ کا یعنی محتاج جیسا کھاتے ہوں اُس سے عمدہ اور اغنیا جیسا کھاتے ہوں اُس سے کم اور شوہر مالدار ہواور عورت محتاج تو بہتر یہ ہے کہ جیسا آپ کھاتا ہو عورت کو بھی کھلائے، مگر یہ واجب نہیں واجب متوسط ہے۔(3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ۲۹: نفقہ کا تعین روپوں سے نہیں کیا جاسکتا کہ ہمیشہ اُتنے ہی روپے ديے جائیں اس ليے کہ نرخ بدلتا رہتا ہے ارزانی و گرانی(4) دونوں کے مصارف یکساں نہیں ہوسکتے بلکہ گرانی میں اُس کے لحاظ سے تعداد بڑھائی جائے گی اور ارزانی میں کم کی جائے گی۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ۳۰: عورت آٹا پیسنے روٹی پکانے سے انکار کرتی ہے اگر وہ ایسے گھرانے کی ہے کہ اُن کے یہاں کی عورتیں اپنے آپ یہ کام نہیں کرتیں یا وہ بیمار یا کمزور ہے کہ کر نہیں سکتی تو پکا ہوا کھانا دینا ہوگا یا کوئی ایسا آدمی دے جو کھانا پکاوے، پکانے پر مجبور نہیں کی جاسکتی اور اگر نہ ایسے گھرانے کی ہے نہ کوئی سبب ایسا ہے کہ کھانا نہ پکاسکے تو شوہر پر یہ واجب نہیں کہ پکا ہوا
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشر، الفصل الثالث فی نفقۃ المعتد ۃ، ج۱، ص۵۵۷.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب النفقۃ،ج۵، ص۲۹۰.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب النفقۃ ، ج۵، ص۲۸۶، وغیرہ.
4 ۔بھاؤکااتارچڑھاؤیعنی سستائی اورمہنگائی۔
5 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الاول، ج۱، ص۵۴۷.
اُسے دے اور اگر عورت خود پکاتی ہے مگر پکانے کی اُجرت مانگتی ہے تو اُجرت نہیں دی جائے گی۔(1) (عالمگيری، درمختار)
مسئلہ۳۱: کھانا پکانے کے تمام برتن اور سامان شوہر پر واجب ہے، مثلاً چکی، ہانڈی، توا، چمٹا، رکابی، پیالہ، چمچہ وغیرہا جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے حسبِ حیثیت اعلیٰ، ادنیٰ متوسط۔ یوہیں حسبِ حیثیت اثاث البیت دینا واجب، مثلاً چٹائی، دری، قالین، چارپائی، لحاف، توشک(2)، تکیہ، چادر وغیرہا۔ یوہیں کنگھا، تیل، سر دھونے کے ليے کَھلی(3)وغیرہ اور صابن یا بیسن (4)میل دور کرنے کے ليے اور سُرمہ، مِسی(5)، مہندی دینا شوہر پر واجب نہیں، اگر لائے تو عورت کو استعمال ضروری ہے۔ عطر وغیرہ خوشبو کی اتنی ضرورت ہے جس سے بغل اور پسینہ کی بُو کو دفع کرسکے۔ (6)(جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ۳۲: غسل ووضو کا پانی شوہر کے ذمہ ہے عورت غنی ہو یا فقير۔ (7)(عالمگيری)
مسئلہ۳۳: عورت اگر چائے یا حقہ پیتی ہے تو ان کے مصارف شوہر پر واجب نہیں اگرچہ نہ پینے سے اُس کو ضرر پہنچے گا۔ (8)(ردالمحتار) یوہیں پان، چھالیا، تمباکو شوہر پر واجب نہیں۔
مسئلہ۳۴ : عورت بیمار ہو تو اُس کی دوا کی قیمت اور طبیب کی فیس شوہر پر واجب نہیں۔ فصد یا پچھنے کی ضرورت ہو تو یہ بھی شوہر پر نہیں۔(9) (جوہرہ)
مسئلہ۳۵: بچہ پیدا ہو تو جنائی کی اُجرت شوہر پر ہے اگر شوہر نے بُلایا۔ اور عورت پر ہے اگر عورت نے بلوایا۔ اور اگر وہ خود بغیر ان دونوں میں کسی کے بُلائے آجائے تو ظاہر یہ ہے کہ شوہر پر ہے۔ (10)(بحر، ردالمحتار)
مسئلہ۳۶: سال میں دو ۲ جوڑے کپڑے دینا واجب ہے ہر ششماہی پر ایک جوڑا۔ جب ایک جوڑا کپڑا دیدیا تو جب
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الاول، ج۱، ص۵۴۸.
و ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۲۹۳.
2 ۔پلنگ کا بچھونا،گدا۔ 3 ۔تِل یاسرسوں کاپھوک جوسردھونے سے پہلے سرپرلگاتے ہیں۔
4 ۔چنے کاآٹا،یہ پہلے ہاتھ دھونے کے لیے استعمال ہوتاتھا۔ 5 ۔ایک سیاہ قسم کامنجن یاپاؤڈر جسے دانتوں پرملتے ہیں۔
6 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات، الجزء الثانی، ص۱۰۸، وغیرہا.
7 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الاول، ج۱، ص۵۴۹.
8 ۔ ''ردالمحتار'' ،کتاب الطلاق، باب النفقۃ، مطلب: لاتجب علی الاب ... إلخ، ج۵، ص۲۹۴.
9 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات، الجزء الثانی، ص۱۰۹.
10 ۔''البحر الرائق''، کتاب الطلاق،باب النفقۃ ،ج۴ ،ص۲۹۹.
و ''رد المحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ ،مطلب: لاتجب علی الاب...الخ ، ج۵، ص۲۹۴.
تک مدت پوری نہ ہو دینا واجب نہیں اور اگر مدت کے اندر پھاڑڈالا اور عادۃًجس طرح پہنا جاتا ہے اُس طرح پہنتی تو نہیں پھٹتا تو دوسرے کپڑے اس ششماہی میں واجب نہیں ورنہ واجب ہیں اور اگر مدت پوری ہوگئی اور وہ جوڑا باقی ہے تو اگرپہنا ہی نہیں یا کبھی اُس کو پہنتی تھی اور کبھی اور کپڑے اس وجہ سے باقی ہے تو اب دوسرا جوڑا دینا واجب ہے اور اگر یہ وجہ نہیں بلکہ کپڑا مضبوط تھا اس وجہ سے نہیں پھٹا تو دوسرا جوڑا واجب نہیں۔ (1)(جوہرہ)
مسئلہ۳۷: جاڑوں میں(2)جاڑے کے مناسب اور گرمیوں میں گرمی کے مناسب کپڑے دے مگر بہر حال اس کا لحاظ ضرور ی ہے کہ اگر دونوں مالدار ہوں تو مالداروں کے سے کپڑے ہوں اور محتاج ہوں تو غریبوں کے سے اور ایک مالدار ہو اور ایک محتاج تو متوسط جیسے کھانے میں تینوں باتوں کا لحاظ ہے۔ اور لباس میں اُس شہر کے رواج کااعتبار ہے جاڑے گرمی میں جیسے کپڑوں کا وہاں چلن (3)ہے وہ دے چمڑے کے موزے عورت کے ليے شوہر پر واجب نہیں مگر عورت کی باندی(4) کے موزے شوہر پر واجب ہیں۔ اور سوتی، اونی موزے جو جاڑوں میں سردی کی وجہ سے پہنے جاتے ہیں یہ دینے ہونگے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۳۸: عورت جب رخصت ہو کر آئی تو اسی وقت سے شوہر کے ذمے اُس کا لباس ہے اس کاانتظار نہ کریگا کہ چھ مہینے گزر لیں تو کپڑے بنائے اگرچہ عورت کے پاس کتنے ہی جوڑے ہوں نہ عورت پر یہ واجب کہ میکے سے جو کپڑے لائی ہے وہ پہنے بلکہ اب سب شوہر کے ذمہ ہے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ۳۹: شوہر کو خود ہی چاہیے کہ عورت کے مصارف اپنے ذمہ لے یعنی جس چیز کی ضرورت ہو لا کر یا منگا کر دے۔ اور اگر لانے میں ڈھیل ڈالتا ہے(7) توقاضی کوئی مقدار وقت اور حال کے لحاظ سے مقرر کردے کہ شوہر وہ رقم دے دیاکرے اور عورت اپنے طور پر خرچ کرے۔ اور اگر اپنے او پر تکلیف اُٹھا کر عورت اس میں سے کچھ بچالے تووہ عورت کا ہے واپس نہ کریگی نہ آئندہ کے نفقہ میں مُجرا دیگی (8)اور اگر شوہر بقدرِ کفایت عورت کونہیں دیتا تو بغیر اجازتِشوہر عورت اُس کے مال
1 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النفقات،الجزء الثانی،ص۱۰۹.
2 ۔سردیوں میں۔ 3 ۔رواج۔ 4 ۔لونڈی۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب النفقۃ،مطلب:لاتجب علی الاب...إلخ،ج۵،ص۲۹۴.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب النفقۃ،مطلب:لاتجب علی الاب...إلخ،ج۵،ص۲۹۴.
7 ۔یعنی تاخیر کرتاہے۔ 8 ۔یعنی بچائی ہوئی رقم آئندہ کے نفقہ میں شامل نہ ہو گی۔
سے لے کر صرف کرسکتی ہے۔ (1)(بحر، ردالمحتار)
مسئلہ۴۰: نفقہ کی مقدار معین کی جائے تو اس میں جو طریقہ آسان ہو وہ برتا جائے مثلاً مزدوری کرنے والے کے ليے یہ حکم دیا جائیگا کہ وہ عورت کو روزانہ شام کو اتنا دے دیا کرے کہ دوسرے دن کے ليے کافی ہو کہ مزدور ایک مہینے کے تمام مصارف ایک ساتھ نہیں دے سکتا اور تاجر اور نوکری پیشہ جو ماہوار تنخواہ پاتے ہیں مہینے کا نفقہ ایک ساتھ دے دیا کریں اور ہفتہ میں تنخواہ ملتی ہے تو ہفتہ وار اورکھیتی کرنے والے ہر سال یا ربیع وخریف دو فصلوں میں دیا کریں۔(2) (درمختار)
مسئلہ۴۱: اگر شوہر باہر چلا جاتا ہواور عورت کو خرچ کی ضرورت پڑتی ہو تو اُسے یہ حق ہے کہ شوہر سے کہے کہ کسی کو ضامن بنادوکہ مہینے پر اُس سے خرچ لے لوں پھر اگر عورت کو معلوم ہے کہ شوہر ایک مہینے تک باہررہے گا تو ایک مہینے کے ليے ضامن طلب کرے اور یہ معلوم ہے کہ زیادہ دنوں سفر میں رہے گا مثلاً حج کو جاتا ہے تو جتنے دنوں کے ليے جاتا ہے، اتنے دنوں کے ليے ضامن مانگے اور اُس شخص نے اگر یہ کہہ دیا کہ میں ہر مہینے میں دے دیا کرونگا تو ہمیشہ کے ليے ضامن ہوگیا۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۴۲: شوہر عورت کو جتنے روپے کھانے کے ليے دیتا ہے اپنے اوپر تکلیف اُٹھا کر اُن میں سے کچھ بچالیتی ہے اور خوف ہے کہ لاغر ہوجائے گی تو شوہر کو حق ہے کہ اُسے تنگی کرنے سے روک دے نہ مانے تو قاضی کے یہاں اس کا دعویٰ کر کے رُکواسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے جمال میں فرق آئے گا اور یہ شوہر کا حق ہے۔ (4)(د رمختار)
مسئلہ۴۳: اگر باہم رضا مندی سے کوئی مقدار معین ہوئی یاقاضی نے معین کردی اورچند ماہ تک وہ رقم نہ دی تو عورت وصول کرسکتی ہے اور معاف کرنا چاہے تو کرسکتی ہے بلکہ جو مہینہ آگیا ہے اُس کا بھی نفقہ معاف کرسکتی ہے جبکہ ماہ بماہ نفقہ دینا ٹھہرا ہو اور سالانہ مقرر ہواتو اس سنہ(5) اور سال گزشتہ کا معاف کرسکتی ہے۔ پہلی صورت میں بعد والے مہینے کا دوسری میں اُس سال کا جوابھی نہیں آیا معاف نہیں کرسکتی اور اگر نہ باہم کوئی مقدارمعین ہوئی نہ قاضی نے معین کی تو زمانہ گزشۃ کا نفقہ نہ طلب کرسکتی ہے، نہ معاف کرسکتی ہے کہ وہ شوہر کے ذمہ واجب ہی نہیں، ہاں اگر اس شرط پر خلع ہوا کہ عورت عدت کانفقہ معاف
1 ۔ ''رد المحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، مطلب: لاتجب علی الاب ... إلخ، ج۵، ص۲۹۵.
و''البحر الرائق''، کتاب الطلاق،باب النفقۃ ،ج۴،ص۲۹۴.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ،ج۵، ص۲۹۶.
3 ۔ ''الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الطلاق، مطلب: فی اخذ المرأۃ... إلخ، ج۵، ص۲۹۷.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۰۰.
5 ۔سال۔
کردے تو یہ معاف ہو جائیگا۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۴۴: عورت کو مثلاً مہینے بھر کا نفقہ دیدیا اُس نے فضول خرچی سے مہینہ پورا ہونے سے پہلے خرچ کرڈالا یا چوری جاتا رہا یا کسی اور وجہ سے ہلاک ہوگیا تو اس مہینے کانفقہ شوہر پر واجب نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ۴۵: عورت کے ليے اگر کوئی خادم مملوک ہو یعنی لونڈی یا غلام تو اُس کانفقہ بھی شوہر پرہے بشرطیکہ شوہر تنگدست نہ ہو اور عورت آزاد ہو۔ اور اگر عورت کو چندخادموں کی ضرورت ہو کہ عورت صاحب اولاد ہے ایک سے کام نہیں چلتا تو دو تین جتنے کی ضرورت ہے اُن کانفقہ شوہر کے ذمہ ہے۔(3) (عالمگيری، درمختار)
مسئلہ۴۶: شوہر اگر ناداری کے سبب نفقہ دینے سے عاجز ہے تواس کی وجہ سے تفریق نہ کی جائے۔ یوہیں اگر مالدار ہے مگر مال یہاں موجود نہیں جب بھی تفریق نہ کریں بلکہ اگرنفقہ مقرر ہوچکا ہے تو قاضی حکم دے کہ قرض لےکر یا کچھ کام کر کے صرف کرے اور وہ سب شوہر کے ذمہ ہے کہ اُسے دینا ہوگا۔ (4)(درمختار)
مسئلہ۴۷: عورت نے قاضی کے پاس آکر بیان کیاکہ میرا شوہرکہیں گیا ہے اور مُجھے نفقہ کے ليے کچھ دے کر نہ گیا تو اگر کچھ روپے یا غلہ چھوڑ گیا ہے اور قاضی کو معلوم ہے کہ یہ اُس کی عورت ہے تو قاضی حکم دیگا کہ اُس میں سے خرچ کرے مگرفضول خرچ نہ کرے مگر یہ قسم لے لے کہ اُس سے نفقہ نہیں پایا ہے اور کوئی ایسی بات بھی نہیں ہوئی ہے جس سے نفقہ ساقط ہوجاتا ہے اور عورت سے کوئی ضامن بھی لے۔(5) (خانیہ)
مسئلہ۴۸: شوہر کہیں چلا گیا ہے اور نفقہ نہیں دے گیا مگر گھر میں اسباب وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو نفقہ کی جنس سے نہیں تو عورت اُن چیزوں کو بیچ کر کھانے وغیرہ میں نہیں صرف کرسکتی۔(6) (عالمگيری)
مسئلہ۴۹: جس مقدارپر رضا مندی ہوئی یا قاضی نے مقرر کی عورت کہتی ہے کہ یہ ناکافی ہے تو مقدار بڑھادی جائے
1 ۔ ''الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الطلاق،باب النفقۃ، مطلب في الابراء عن النفقۃ، ج۵، ص۳۰۳.
2 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۰۶.
3 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الاول ،ج۱، ص۵۴۷.
و''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۰۷ ۔ ۳۰۹.
4 ۔ المرجع السابق، ص۳۰۹ ۔ ۳۱۱.
5 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب النکاح، باب النفقۃ، ج۱، ص۱۹۸.
6 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الاول ،ج۱، ص۵۵۰.
یا شوہر کہتا ہے کہ یہ زیادہ ہے اس سے کم میں کام چل جائیگا کیونکہ اب ارزانی ہے یا مقرر ہی زیادہ مقدار ہوئی اور قاضی کو بھی معلوم ہوگیا کہ یہ رقم زائد ہے تو کم کردی جائے۔(1) (درمختار)
مسئلہ۵۰: چند مہینے کانفقہ باقی تھا او ردونوں میں سے کوئی مرگیا تونفقہ ساقط ہوگیا ہاں ا گر قاضی نے عورت کو حکم دیاتھا کہ قرض لیکر صرف کرے پھر کوئی مرگیا تو ساقط نہ ہوگا۔ طلاق سے بھی پیشتر کا نفقہ ساقط ہوجاتا ہے مگر جبکہ اسی ليے طلاق دی ہو کہ نفقہ ساقط ہوجائے تو ساقط نہ ہوگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ۵۱: عورت کو پیشگی نفقہ دے دیا تھا پھر اُن میں سے کسی کا انتقال ہوگیا یا طلاق ہوگئی تو وہ دیا ہوا واپس نہیں ہوسکتا۔ یوہیں اگر شوہر کے باپ نے اپنی بہو کو پیشگی نفقہ دے دیا تو موت یا طلاق کے بعد وہ بھی واپس نہیں لے سکتا۔(3) (درمختار)
مسئلہ۵۲: مرد نے عورت کے پاس کپڑے یا روپے بھیجے عورت کہتی ہے ہدیۃً بھیجے اور مرد کہتا ہے نفقہ میں بھیجے تو شوہر کا قول معتبر ہے ہاں اگر عورت گواہوں سے ثابت کردے کہ ہدیۃًبھیجے یا یہ کہ شوہر نے اس کا اقرار کیا تھا اور گواہوں نے اُس کے اقرار کی شہادت دی تو گواہی مقبول ہے۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ۵۳: غلام نے مولیٰ کی اجازت سے نکاح کیا ہے تو اگر غلام خالص ہے یعنی مدبر ومکاتب نہ ہو تو اُسے بیچ کر اُس کی عورت کا نفقہ ادا کریں پھر بھی باقی رہ جائے تو یکے بعد دیگرے (5) بیچتے رہیں یہاں تک کہ نفقہ ادا ہوجائے بشرطیکہ خریدار کو معلوم ہو کہ نفقہ کی وجہ سے بیچا جارہا ہے اور اگر خریدتے وقت اُسے معلوم نہ تھا بعد کو معلوم ہوا تو خریدار کو بیع ردکرنے کااختیار ہے اور اگر بیع کو قائم رکھا تو ثابت ہوا کہ راضی ہے لہٰذا اب اسے کوئی عذر نہیں اور اگر مولیٰ بیچنے سے انکار کرتا ہے تو مولیٰ کے سامنے قاضی بیع کردے گا مگر نفقہ میں بیچنے کے ليے یہ شرط ہے کہ نفقہ اتنا اُس کے ذمہ باقی ہو کہ ادا کرنے سے عاجز ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مولیٰ اپنے پاس سے نفقہ دیکر اپنے غلام کو چُھڑا لے اور اگر وہ غلام مدبر یا مکاتب ہو جو بدلِ کتا بت ادا کرنے سے عاجز نہیں تو بیچا نہ جائے بلکہ کما کر نفقہ کی مقدار پوری کرے۔ اور اگر جس عورت سے نکاح کیا ہے وہ اس کے مولیٰ کی کنیز ہے تو اس پر نفقہ واجب ہی نہیں۔(7) (خانیہ ،درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۱۴.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۱۷.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۱۹ .
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الاول ،ج۱، ص۵۵۲.
5 ۔یعنی بار بار۔
7 ۔''الفتاوی الخانیہ''،کتاب النکاح ،باب النفقۃ ،ج۱،ص۱۹۴.
و''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ ، ج۵، ص۳۱۹۔۳۲۱.
مسئلہ۵۴: بغیر اجازتِ مولیٰ غلام نے نکاح کیا اور ابھی مولیٰ نے رد نہ کیا تھا کہ آزاد کردیا تو نکاح صحیح ہوگیا اور آزاد ہونے کے بعدسے نفقہ واجب ہوگا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ۵۵: لونڈی نے مولیٰ کی اجازت سے نکاح کیا اور دن بھر مولیٰ کی خدمت کرتی ہے اور رات میں اپنے شوہر کے پاس رہتی ہے تو دن کانفقہ مولیٰ پر ہے اور رات کا شوہر پر۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ۵۶ـ: غلام یا مدبر یا مکاتب نے نکاح کیا اور اولاد ہوئی تواولاد کانفقہ ان پر نہیں بلکہ زوجہ اگر مکاتبہ ہے تو اس پرہے اور مدبرہ یا ام ولد ہے تو ان کے مولیٰ پر اور آزاد ہے تو خود عورت پر اور اس کے پاس بھی کچھ نہ ہو تو بچہ کا جو سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہواُس پر ہے اور اگر شوہر آزاد ہے اور عورت کنیز جب بھی یہی سب احکام ہیں جو مذکور ہوئے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ۵۷: غلام نے مولیٰ کی اجازت سے نکاح کیا تھا اور عورت کانفقہ واجب ہونے کے بعد مر گیا یا مار ڈالاگیا تو نفقہ ساقط ہوگیا۔(4) (درمختار)
مسئلہ۵۸: نفقہ کا تیسرا جز سُکنٰے ہے یعنی رہنے کا مکان۔ شوہر جو مکان عورت کو رہنے کے ليے دے، وہ خالی ہو یعنی شوہر کے متعلقین وہاں نہ رہیں، ہاں اگر شوہر کااتنا چھوٹا بچہ ہو کہ جماع سے آگاہ نہیں تو وہ مانع نہیں۔ یوہیں شوہر کی کنیز یا ام ولد کا رہنا بھی کچھ مضر نہیں اور اگر اُس مکان میں شوہر کے متعلقین رہتے ہوں اور عورت نے اسی کو اختیار کیا کہ سب کے ساتھ رہے تو متعلقین شوہر سے خالی ہونے کی شرط نہیں۔ اور عورت کا بچہ اگرچہ بہت چھوٹا ہواگر شوہر روکنا چاہے تو روک سکتا ہے عورت کو اس کا اختیار نہیں کہ خواہ مخواہ اُسے وہاں رکھے۔(5) (عامہ کتب)
مسئلہ۵۹: عورت اگر تنہا مکان چاہتی ہے یعنی اپنی سَوت یا شوہر کے متعلقین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اگر مکان میں کوئی ایسا دالان اُس کو دے دے جس میں دروازہ ہواور بند کرسکتی ہو تو وہ دے سکتا ہے دوسرا مکان طلب کرنے کا اُس کو اختیار نہیں بشرطیکہ شوہر کے رشتہ دار عورت کو تکلیف نہ پہنچاتے ہوں۔ رہا یہ امر کہ پاخانہ(6)، غسل خانہ، باورچی خانہ بھی علیحدہ ہونا
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الاول ،ج۱، ص۵۵۴.
2 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الاول ،ج۱، ص۵۵۵.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۱۹،۳۲۲.
5 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ ،ج۵، ص۳۲۴.
6 ۔ یعنی بیت الخلاء ۔
چاہيے، اس میں تفصیل ہے اگر شوہر مالدار ہو تو ایسا مکان دے جس میں یہ ضروریات ہوں اور غریبوں میں خالی ایک کمرہ دے دینا کافی ہے، اگرچہ غسل خانہ وغیرہ مشترک ہو۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ۶۰: یہ بات ضروری ہے کہ عورت کو ایسے مکان میں رکھے جس کے پڑوسی صالحین ہوں کہ فاسقوں میں خود بھی رہنا اچھا نہیں نہ کہ ایسے مقام پر عورت کا ہونا اور اگر مکان بہت بڑا ہو کہ عورت وہاں تنہا رہنے سے گھبراتی اور ڈرتی ہے تو وہاں کوئی ایسی نیک عورت رکھے جس سے دل بستگی ہویا عورت کو کوئی دوسرا مکان دے جو اتنا بڑانہ ہو اور اُس کے ہمسایہ نیک لوگ ہوں۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۶۱: عورت کے والدین ہر ہفتہ میں ایک بار اپنی لڑکی کے یہاں آسکتے ہیں شوہر منع نہیں کرسکتا، ہاں اگر رات میں وہاں رہنا چاہتے ہیں تو شوہر کومنع کرنے کا اختیار ہے اور والدین کے علاوہ اور محارم (3)سال بھر میں ایک بار آسکتے ہیں۔ یوہیں عورت اپنے والدین کے یہاں ہر ہفتہ میں ایک بار اور دیگر محارم کے یہاں سا ل میں ایک بار جاسکتی ہے، مگر رات میں بغیر اجازت شوہر وہاں نہیں رہ سکتی، دن ہی دن میں واپس آئے اور والدین یا محارم اگر فقط دیکھنا چاہیں تو اس سے کسی وقت منع نہیں کرسکتا۔ اور غیروں کے یہاں جانے یا اُن کی عیادت کرنے یا شادی وغیرہ تقریبوں کی شرکت سے منع کرے بغیر اجازت جائے گی تو گنہگار ہوگی اور اجازت سے گئی تو دونوں گنہگار ہوئے۔ (4)(درمختار، عالمگيری)
مسئلہ۶۲: عورت اگر کوئی ایساکام کرتی ہے جس سے شوہر کا حق فوت ہوتا ہے یااُس میں نقصان آتا ہے یا اُس کام کے ليے باہر جانا پڑتا ہے تو شوہر کو منع کردینے کااختیار ہے۔ (5)(درمختار) بلکہ نظر بحالِ زمانہ ایسے کام سے تو منع ہی کرنا چاہیے جس کے ليے باہر جانا پڑے۔
مسئلہ۶۳: جس کام میں شوہر کی حق تلفی نہ ہوتی ہو نہ نقصان ہواگر عورت گھر میں وہ کام کرلیا کرے جیسے کپڑا سینا یا اگلے زمانہ میں چرخہ کاتنے کا رواج تھا تو ایسے کام سے منع کرنے کی کچھ حاجت نہیں خصوصاً جبکہ شوہر گھر نہ ہو کہ ان کاموں سے
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الاول ،ج۱، ص۵۵۶.
و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب النفقۃ، مطلب فی مسکن الزوجۃ،ج۵،ص۳۲۵.
2 ۔ ''الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، مطلب في الکلام علی المؤنسۃ، ج۵، ص۳۲۸.
3 ۔یعنی وہ رشتہ دارجن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب النفقۃ،ج۵، ص۳۲۸.
و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الاول،ج۱، ص۵۵۷.
5 ۔ ''الدر المختار'' ،کتاب الطلاق، باب النفقۃ ،ج۵، ص۳۳۰.
جی بہلتا رہے گا اور بیکار بیٹھے گی تو وسوسے اور خطرے پیدا ہوتے رہیں گے اور لا یعنی باتوں میں مشغول ہوگی۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ۶۴: نابالغ اولاد کانفقہ باپ پر واجب ہے جبکہ اولاد فقیر ہو یعنی خود اس کی مِلک میں مال نہ ہو اور آزاد ہو۔ اور بالغ بیٹا اگر اپاہج یا مجنون یا نابینا ہو کمانے سے عاجز ہو اور اُس کے پاس مال نہ ہو تو اُس کا نفقہ بھی باپ پر ہے اور لڑکی جبکہ مال نہ رکھتی ہو تو اُس کانفقہ بہر حال باپ پر ہے اگرچہ اُس کے اعضا سلامت ہوں۔ اور اگر نا بالغ کی مِلک میں مال ہے مگر یہاں مال موجود نہیں تو باپ کو حکم دیاجائے گا۔ کہ اپنے پاس سے خرچ کرے جب مال آئے تو جتنا خرچ کیا ہے اُس میں سے لے لے اور اگر بطورِ خود خرچ کیا ہے اور چاہتا ہے کہ مال آنے کے بعد اُس میں سے لے لے تو لوگوں کو گواہ بنا ئے کہ جب مال آئے گا میں لے لوں گا اور گواہ نہ کيے تو دیانۃًلے سکتا ہے قضاءً نہیں۔(2) (جوہرہ)
مسئلہ۶۵: نابالغ کا باپ تنگ دست ہے اور ماں مالدار جب بھی نفقہ باپ ہی پر ہے مگر ماں کو حکم دیا جائیگا کہ اپنے پاس سے خرچ کرے اور جب شوہر کے پاس ہو تو وصول کرلے۔(3) (جوہرہ)
مسئلہ۶۶: اگر باپ مفلس ہے تو کمائے اور بچوں کو کھلائے اور کمانے سے بھی عاجز ہے مثلاًاپاہج ہے تو دادا کے ذمہ نفقہ ہے کہ خود باپ کانفقہ بھی اس صورت میں اُسی کے ذمہ ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ۶۷: طالب علم کہ علم دین پڑھتا ہواور نیک چلن ہو اُس کا نفقہ بھی اُس کے والد کے ذمہ ہے وہ طلبہ مراد نہیں جو فضولیات ولغویات فلاسفہ میں مشتغل ہوں اگر یہ باتیں ہوں تو نفقہ باپ پر نہیں۔(5) (عالمگيری، درمختار)
وہ طلبہ بھی اس سے مراد نہیں جو بظاہر علم دین پڑھتے اور حقیقہً دین ڈھانا چاہتے ہیں مثلاً وہابیوں سے پڑھتے ہیں اُن کے پاس اُٹھتے بیٹھتے ہیں کہ ایسوں سے عموماًیہی مشاہدہ ہورہا ہے کہ بدباطنی و خباثت اور اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی جناب میں گستاخی کرنے میں اپنے اساتذہ سے بھی سبقت لے گئے۔ ایسوں کانفقہ درکنار اُنکو پاس بھی نہ آنے دینا چاہيے ایسی تعلیم سے تو جاہل رہنا اچھا تھا کہ اس نے تو مذہب و دین سب کو برباد کیا اور نہ فقط اپنا بلکہ وہ تم کوبھی لے ڈوبے گا۔ ؎
بے ادب تنہا نہ خودراداشت بد بلکہ آتش درہمہ آفاق زد(6)
1 ۔''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، مطلب في الکلام علی المؤنسۃ، ج۵، ص۳۳۱.
2 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات، الجزء الثانی، ص۱۱۵.
3 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات، الجزء الثانی، ص۱۱۵.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، مطلب: الکلام علی نفقۃ الاقارب، ج۵، ص۳۴۹.
5 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الرابع ، ج۱، ص۵۶۳.
و'الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب النفقۃ،ج۵، ص۳۴۸-۳۴۹.
6 ۔ترجمہ: بے ادب صرف اپنے آپ کوبربادنہیں کرتابلکہ تمام جہان میں آگ لگادیتاہے۔
مسئلہ ۶۸: بچہ کی ملک میں کوئی جائداد منقولہ یا غیر منقولہ ہواور نفقہ کی حاجت ہو تو بیچ کر خرچ کی جائے اگرچہ سب رفتہ رفتہ کرکے خرچ ہوجائے۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۶۹: لڑکی جب جوان ہوگئی اور اُس کی شادی کردی تو اب شوہر پرنفقہ ہے باپ سبکدوش ہوگیا۔ (2)(عالمگيری)
مسئلہ ۷۰: بچہ جب تک ماں کی پرورش میں ہے اخراجات بچہ کی ماں کے حوالہ کرے یا ضرورت کی چیزیں مہیا کردے اور اگر کوئی مقدار معین کرلی گئی تو اس میں بھی حرج نہیں اور جو مقدار معین ہوئی اگر وہ اتنی زیادہ ہے کہ اندازہ سے باہرہے تو کم کردی جائے اور اگر اندازہ سے باہر نہیں تو معاف ہے اور کم ہے تو کمی پوری کی جائے۔(3) (عالمگيری)
مسئلہ ۷۱: کسی اور کی کنیز سے نکاح کیا اور بچہ پیدا ہواتو یہ اُسی کی مِلک (4) ہے جس کی مِلک میں اس کی ماں ہے اور اس کا نفقہ باپ پر نہیں بلکہ مولیٰ پر ہے اس کا باپ آزاد ہو یا غلام، باپ پر نہیں اگرچہ مالدار ہو۔ اور اگر غلام یا مدبر یا مکاتب نے مولیٰ (5)کی اجازت سے نکاح کیاا ور اولاد پیدا ہوئی توان پر نہیں بلکہ اگر ماں مدبرہ یا ام ولد یا کنیز ہے تو مولیٰ پر ہے اور آزاد یا مکاتبہ ہے تو ماں پر اور اگر ماں کے پاس مال نہ ہو تو سب رشتہ داروں میں جو قریب تر ہے اُس پر ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: ماں نے اگر بچہ کا نفقہ اُس کے باپ سے لیا اور چوری گیا یا اور کسی طریقہ سے ہلاک ہوگیا تو پھر دوبارہ نفقہ لے گی اور بچ رہاتو واپس کرے گی۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۷۳: باپ مرگیا اُس نے نا بالغ بچے اور اموال چھوڑے تو بچوں کانفقہ اُن کے حصوں میں سے دیا جائیگا۔ یوہیں ہر وارث کانفقہ اُس کے حصہ میں سے دیا جائیگا پھر اگر میت نے کسی کو وصی کیا ہے تو یہ کام وصی کاہے کہ ان کے حصوں سے نفقہ دے اور وصی کسی کونہ کیا ہو تو قاضی کاکام ہے کہ نابالغوں کانفقہ اُن کے حصوں سے دے یا قاضی کسی کو وصی بنادے کہ وہ خرچ کرے اور اگر وہاں قاضی نہ ہواور میت کے بالغ لڑکوں نے نابالغوں پر اُن کے حصوں سے خرچ کیا تو قضاءً ان کو تاوان دینا ہوگا اور دیانۃًنہیں۔ یوہیں اگر سفرمیں دوشخص ہیں اُن میں سے ایک بیہوش ہوگیا دوسرے نے اُس کا مال اُس پر صرف کیا یا ایک مرگیا دوسرے نے اُس کے مال سے تجہیز و تکفین کی تو دیانۃًتاوان لازم نہیں۔(8) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات ، الفصل الرابع ،ج۱، ص۵۶۲.
2 ۔ المرجع السابق. ص۵۶۳. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔مِلکیت۔ 5 ۔آقا،مالک
6 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الاول،ج۱، ص۵۵۵.
7 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۴۷.
8 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الرابع ،ج۱، ص۵۶۴.
مسئلہ ۷۴: بچہ کو دودھ پلانا ماں پر اُسوقت واجب ہے کہ کوئی دوسری عورت دودھ پلانے والی نہ ملے یابچہ دوسری کادودھ نہ لے یا اُس کا باپ تنگدست ہے کہ اُجرت نہیں دے سکتا اور بچہ کی مِلک میں بھی مال نہ ہو ان صورتوں میں دودھ پلانے پر ماں مجبور کی جائے گی اور اگریہ صورتیں نہ ہوں تو دیانۃًماں کے ذمہ دودھ پلانا ہے مجبور نہیں کی جاسکتی۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۷۵: بچہ کو دائی نے دودھ پلایا کچھ دنوں کے بعد دودھ پلانے سے انکار کرتی ہے اور بچہ دوسری عورت کا دودھ نہیں لیتا یا کوئی اور پلانے والی نہیں ملتی یا ابتدا ہی میں کوئی عورت اس کو دودھ پلانے والی نہیں تویہی متعین ہے دودھ پلانے پر مجبور کی جائیگی۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷۶: بچہ چونکہ ماں کی پرورش میں ہوتا ہے لہٰذا جو دائی مقرر کی جائے وہ ماں کے پاس دودھ پلایاکرے مگر نوکر رکھتے وقت یہ شرط نہ کرلی گئی ہو کہ تجھے یہاں رہ کر دودھ پلانا ہوگا تو دائی پر یہ واجب نہ ہوگا کہ وہاں رہے بلکہ دودھ پلا کر چلی جاسکتی ہے یا کہہ سکتی ہے کہ میں وہاں نہیں پلاؤں گی یہاں پلادونگی یا گھر لیجا کر پلاؤں گی۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ ۷۷: اگر لونڈی سے بچہ پیدا ہوا تو وہ دودھ پلانے سے انکار نہیں کرسکتی۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۷۸: باپ کو اختیار ہے کہ دائی سے دودھ پلوائے، اگرچہ ماں پلانا چاہتی ہو۔ (5)(عالمگيری)
مسئلہ ۷۹: بچہ کی ماں نکاح میں ہو یا طلاقِ رجعی کی عدت میں اگر دودھ پلائے تو اس کی اُجرت نہیں لے سکتی اور طلاقِ بائن کی عدت میں لے سکتی ہے اور اگر دوسری عورت کے بچہ کو جو اُسی شوہر کا ہے دودھ پلائے تو مطلقاًاجرت لے سکتی ہے اگرچہ نکاح میں ہو۔ (6)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۸۰: عدت گزرنے کے بعد مطلقاً اُجرت لے سکتی ہے اور اگر شوہر نے دوسری عورت کو مقرر کیا اور ماں مفت پلانے کو کہتی ہے یا اُتنی ہی اُجرت مانگتی ہے جتنی دوسری عورت مانگتی ہے تو ماں کو زیادہ حق ہے اور اگر ماں اُجرت مانگتی ہے اور
1 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ،ج۵، ص۳۵۴.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، مطلب في ارضاع الصغیر، ج۵، ص۳۵۴.
3 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل فی نفقۃ الاولاد،ج۱،ص۲۰۵، وکتاب الاجارات فصل فی اجارۃالظئر،ج۳،ص۴۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الرابع ،ج۱، ص۵۶۱.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۵۵، وغیرہ.
دوسری عورت مفت پلانے کو کہتی ہے یا ماں سے کم اُجرت مانگتی ہے تو وہ دوسری زیادہ مستحق ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۸۱: عدت کے بعد عورت نے اُجر ت پر اپنے بچہ کو دودھ پلایا اور ان دنوں کا نفقہ نہیں لیا تھاکہ شوہرکا یعنی بچہ کے باپ کا انتقال ہوگیا تو یہ نفقہ موت سے ساقط نہ ہوگا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۸۲: باپ، ماں، دادا، دادی، نانا، نانی اگر تنگدست ہوں توان کا نفقہ واجب ہے، اگرچہ کمانے پر قادر ہوں جبکہ یہ مالدار ہو یعنی مالک نصاب ہواگرچہ وہ نصاب نامی نہ ہو اور اگر یہ بھی محتاج ہے تو باپ کا نفقہ اس پر واجب نہیں، البتہ اگر باپ اپاہج یا مفلوج (3)ہے کہ کما نہیں سکتا تو بیٹے کے ساتھ نفقہ میں شریک ہے اگرچہ بیٹا فقیر ہو اور ماں کا نفقہ بھی بیٹے پر ہے، اگرچہ اپاہج نہ ہواگرچہ بیٹا فقیر ہو۔ یعنی جبکہ بیوہ ہواور اگر نکاح کرلیا ہے تو اس کانفقہ شوہر پر ہے اور اگر اس کے باپ کے نکاح میں ہے اور باپ اور ماں دونوں محتاج ہوں تو دونوں کا نفقہ بیٹے پر ہے اور باپ محتاج نہ ہو تو باپ پر ہے اور باپ محتاج ہے اورماں مالدار تو ماں کانفقہ اب بھی بیٹے پر نہیں بلکہ اپنے پاس سے خرچ کرے اورشوہر سے وصول کرسکتی ہے۔ (4)(جوہرہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۳: باپ وغیرہ کانفقہ جیسے بیٹے پر واجب ہے، یوہیں بیٹی پر بھی ہے، اگر بیٹا بیٹی دونوں ہوں تو دونوں پر برابر برابر واجب ہے اور اگر دوبیٹے ہوں ایک فقط مالکِ نصاب ہے اور دوسر ا بہت مالدار ہے تو باپ کانفقہ دونوں پر برابر برابرہے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۴: باپ اور اولاد کے نفقہ میں قرابت وجزئیت کا اعتبار ہے وراثت کانہیں مثلاًبیٹا ہے او رپوتا تو نفقہ بیٹے پرواجب ہے، پوتے پر نہیں۔ یوہیں بیٹی ہے اور پوتا تو بیٹی پر ہے، پوتے پر نہیں، اور پوتا ہے اور نواسی یا نواسہ تو دونوں پر برابر، اوربیٹی ہے اور بہن یا بھائی تو بیٹی پر ہے، اور نواسہ نواسی ہیں اور بھائی تو اُن پر ہے، اس پر نہیں اور باپ یا ماں ہے اور بیٹا تو بیٹے پرہے، اُن پر نہیں اور دادا ہے اور پوتا تو ایک ثلث دادا پر اور باقی پوتے پر، اور باپ ہے اور نواسی نواسہ
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۵۶.
2 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۵۸.
3 ۔یعنی فالج کا مریض ۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، مطلب: نفقۃ الاصول... إلخ، ج۵، ص۳۵۸۔۳۶۱ .
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ ، مطلب: صاحب الفتح... إلخ ،ج۵، ص۳۶۱.
و''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات،الجزء الثانی، ص۱۱۵.
توباپ پر ہے، ان پر نہیں۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸۵: باپ اگر تنگ دست ہواور اُس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں اور یہ بچے محتاج ہوں اور بڑا بیٹا مالدار ہے تو باپ اور اُس کی سب اولاد کانفقہ اس پر واجب ہے۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۸۶: بیٹا اگر ماں باپ دونوں کانفقہ نہیں دے سکتا مگر ایک کادے سکتا ہے توماں زیادہ مستحق ہے۔ اور اگر باپ محتاج ہے اور چھوٹا بچہ بھی ہے اور دونوں کانفقہ نہ دے سکتا ہو مگر ایک کا دے سکتا ہے تو بیٹا زیادہ حقدار ہے۔ اور اگر والدین میں کسی کاپورا نفقہ نہ دے سکتا ہو تو دونوں کو اپنے ساتھ کھلائے جو خود کھاتا ہو اُسی میں سے اُنھیں بھی کھلائے۔ اور اگر باپ کو نکاح کرنے کی ضرورت ہے اور بیٹا مالدار ہے تو بیٹے پر باپ کی شادی کرادینا واجب ہے یا اُس کے ليے کوئی کنیز خرید دے اور اگر باپ کی دوبی بیاں ہیں تو بیٹے پر فقط ایک کا نفقہ واجب ہے مگر باپ کو دیدے کہ وہ دونوں کو تقسیم کرکے دے۔ (3)(جوہرہ)
مسئلہ ۸۷: باپ بیٹے دونوں نادار ہیں مگر بیٹا کمانے والا ہے تو بیٹے پر دیانۃًحکم کیا جائیگا کہ باپ کو بھی ساتھ لے لے یہ جبکہ بیٹا تنہا ہواور اگر بال بچوں والا ہے تو مجبور کیاجائے گا کہ باپ کوبھی ہمراہ لے لے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۸: جو رشتہ دار محارم ہوں اُن کا بھی نفقہ واجب ہے جبکہ محتاج ہوں اور نابالغ یا عورت ہو۔ اوررشتہ دار بالغ مرد ہو تو یہ بھی شرط ہے کہ کمانے سے عاجز ہو مثلاًدیوانہ ہے یا اُس پر فالج گرا ہے یا اپاہج ہے یا اندھا۔ اور اگر عاجز نہ ہو تو واجب نہیں اگرچہ محتاج ہو اور عورت میں بالغہ نا بالغہ کی قید نہیں اور ان کے نفقات بقدرِ میراث (5) واجب ہیں یعنی اُس کے ترکہ سے جتنی مقدار کا وارث ہوگا اُسی کے موافق اِس پر نفقہ واجب مثلاًکوئی شخص محتاج ہے اور اُس کی تین بہنیں ہیں ایک حقیقی ایک سوتیلی ایک اخیافی تو نفقہ کے پانچ حصے تصور کریں تین حقیقی بہن پر اور ایک ایک ان دونوں پراور اگر اسی طرح کے تین بھائی ہیں تو چھ حصے تصور کریں ایک اخیافی بھائی پر اور باقی حقیقی پر سوتیلے پر کچھ نہیں کہ وہ وارث نہیں۔ اور اگر ماں اور دادا ہیں تو ایک حصہ ماں پر اور دو دادا پر۔ اور اگر ماں اور بھائی یا ماں او ر چچا ہے جب بھی یہی صورت ہے اور اگر ان کے ساتھ بیٹا بھی ہے مگر نا بالغ نادار ہے یابالغ ہے مگر عاجز تو اُسکا ہونا نہ ہونا دونوں برابر کہ جب اُس پر نفقہ واجب نہیں تو کالعدم (6) ہے اور اگرحقیقی چچا اور حقیقی پھوپی یا
1 ۔''رد المحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، مطلب: صاحب الفتح... إلخ، ج۵، ص۳۶۲.
2 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الخامس ،ج۱، ص۵۶۵.
3 ۔''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات،الجزء الثانی، ص۱۱۹.
4 ۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الخامس،ج۱، ص۵۶۵.
5 ۔یعنی میراث میں جتنا حصہ اُن کوملتاہے اس (حصہ)کے برابر ۔ 6 ۔نہ ہونے کی طرح۔
حقیقی ماموں ہے تو نفقہ چچا پر ہے پھوپی یاماموں پر نہیں۔ اور وراثت سے مراد محض اہلِ وراثت ہے کہ حقیقۃً وراثت تو مرنے کے بعد ہوگی، نہ اب۔ (1)(جوہرہ، عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۸۹: يہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ رشتہ دار عورت میں نابالغہ کی قید نہیں، بلکہ اگر کمانے پر قادر ہے جب بھی اُس کانفقہ واجب ہے، ہاں اگر کوئی کام کرتی ہے جس سے اُس کاخرچ چلتا ہے تو اب اس کانفقہ رشتہ دار پر فرض نہیں۔ یوہیں اندھا وغیرہ بھی کماتا ہو تو اب کسی اور پر نفقہ فرض نہیں۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹۰: طالبِ علمِ دین اگرچہ تندرست ہے، کام کرنے پر قادر ہے، مگر اپنے کو طلبِ علمِ دین میں مشغول رکھتا ہے تو اُس کانفقہ بھی رشتہ والوں پر فرض ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۹۱: قریبی رشتہ دار غائب ہے اور دوروالا موجود ہے تو نفقہ اسی دور کے رشتہ دار پر ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۹۲: عورت کاشوہر تنگ دست ہے اور بھائی مالدار ہے تو بھائی کو خرچ کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ پھر جب شوہر کے پاس مال ہوجائے تو واپس لے سکتا ہے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۹۳: اگر رشتہ دار محرم نہ ہو جیسے چچا زاد بھائی یا محرم ہو مگر رشتہ دار نہ ہو، جیسے رضاعی بھائی، بہن یا رشتہ دار محرم ہو مگر حرمت قرابت کی نہ ہو(6)، جیسے چچا زاد بھائی اور وہ رضاعی بھائی بھی ہے کہ حرمت رضاعت کی وجہ سے ہے(7)، نہ رشتہ کی وجہ سے تو ان صورتوں میں نفقہ واجب نہیں۔(8) (عالمگيری)
مسئلہ ۹۴: محارم کانفقہ دے دیا اور اُس کے پاس سے ضائع ہوگیا تو پھر دیناہوگا اور کچھ بچ رہا تو اتنا کم کردیا جائے۔ (9)(عالمگيری)
1 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات، الجزء الثاني، ص۱۲۰.
و''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب السابع عشرفی النفقات،الفصل الخامس،ج۱،ص۵۶۵۔۵۶۷.
و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب النفقۃ،ج۵، ص۳۶۸۔۳۷۲.
2 ۔''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ ،مطلب في نفقۃ قرابۃ... إلخ، ج۵، ص۳۶۸.
3 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۶۹.
4 ۔ المرجع السابق، ص۳۷۲ . 5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔یعنی نکاح کاحرام ہوناقریبی رشتہ کی وجہ سے نہ ہو۔ 7 ۔یعنی نکاح حرام ہونادودھ کے رشتے کی وجہ سے ہے۔
8 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الخامس، ج۱، ص۵۶۶.
9 ۔ المرجع السابق، ص۵۶۷ .
مسئلہ ۹۵: باپ محتاج ہے نفقہ کی ضرورت ہے اور بیٹا جوان مالدارہے جوموجود نہیں تو باپ کو اختیار ہے کہ اُس کے اسباب کو بیچ کر اپنے نفقہ میں صَرف کرے مگر جائدادغیرمنقولہ کے بیچنے کی اجازت نہیں اور ماں اور رشتہ داروں کوکسی چیز کے بیچنے کی اجازت نہیں اور بیٹا موجود ہے تو باپ بھی کسی چیز کونہیں بیچ سکتا۔ یوہیں اگر بیٹا مجنون ہوگیا اُس کے اور اُس کے بال بچوں کے خرچ کے ليے اُس کی چیزیں باپ فروخت کرسکتا ہے اگرچہ جائداد غیر منقولہ ہو اور اگر باپ کا بیٹے پر دَین ہواور بیٹا غائب ہو تو دَین وصول کرنے کے ليے اُس کے سامان کو بیچنے کی اجازت نہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۹۶: کسی کے پاس امانت رکھی ہے اور مالک غائب ہے اس نے بیچ کر اُس کے بال بچوں یا ماں باپ پر صرف کردیا اگر مالک کی اجازت سے یا قاضی شرعی کے حکم سے نہیں تو دیانۃًتاوان دینا پڑے گا اور امین نے جن پر خرچ کیا ہے اُن سے واپس نہیں لے سکتا اور اگر وہاں قاضی نہیں یا ہے مگر شرعی نہیں یا مالک کی اجازت سے صرف کیا تو تاوان نہیں۔ یوہیں اگر وہ مالک غائب مرگیا اور امین نے جس پر خرچ کیا ہے وہی اُس کا وارث ہے تو اب وارث تاوان نہیں لے سکتا کہ اس نے اپنا حق پالیا۔ یوہیں اگردو شخص سفر میں ہوں ایک مرگیا دوسرے نے اُس کے مال سے تجہیز و تکفین کی یا مسجد کے متعلق جائداد وقف ہے اور کوئی متولی نہیں کہ خرچ کرے اہل محلہ نے وقف کی آمدنی مسجد میں صرف کی یا میت کے ذمہ دَین تھا وصی کو معلوم ہوا اُس نے ادا کر دیا یا مال امانت تھا اور مالک مر گیا اور مالک پر دَین تھا امین نے اُس امانت سے ادا کردیا یا قرض خواہ مر گیا اور اُس پر دَین تھا قرض دار نے ادا کردیا تو ان سب صورتوں میں دیا نتہً تاوان نہیں۔ (2)(درمختار ،ردالمحتار)
مسئلہ ۹۷: کوئی شخص غائب ہے اور اُس کے والدین یا اولاد یا زوجہ کے پاس اُسکی اشیا از قسم نفقہ موجود ہیں انھوں نے خرچ کر لیں تو تاوان نہیں اور اگر وہ شخص موجود ہے اور اپنے والدین حاجت مند کو نہیں دیتا اور وہاں کوئی قاضی بھی نہیں جس کے پاس دعویٰ کریں تو اُنھیں اختیار ہے اُس کا مال چھپا کر لے سکتے ہیں۔ یوہیں اگروہ دیتا ہے مگر بقدرِ کفایت نہیں دیتا جب بھی بقدر کفایت خفیۃً اس کا مال لے سکتے ہیں اور کفایت سے زیادہ لینا یا بغیر حاجت لینا جائز نہیں۔ (3)(درمختار، عالمگيری)
مسئلہ ۹۸: باپ کے پاس رہنے کا مکان اور سواری کا جانور ہے تو اُسے یہ حکم نہیں دیا جائیگا کہ ان چیزوں کو بیچ کر نفقہ میں صرف کرے بلکہ اس کانفقہ اس کے بیٹے پر فرض ہے ہاں اگر مکان حاجت سے زائد ہے کہ تھوڑے سے حصہ میں رہتا ہے تو جتنا حاجت سے زائد ہے اُسے بیچ کر نفقہ میں صرف کرے اور جب وہی حصہ باقی رہ گیا جس میں رہتا ہے تو اب نفقہ اُس کے
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۷۳ ۔ ۳۷۵.
2 ۔ ''الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ ، مطلب: فی نفقۃ قرابۃ...الخ، ج۵، ص۳۷۵.
3 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق ، باب النفقۃ ، ج۵،ص۳۷۶.
و ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الخامس،ج۱، ص۵۶۷.
بیٹے پر ہے۔ یوہیں اگر اُس کے پاس اعلیٰ درجہ کی سواری ہے تو یہ حکم دیا جائے گا کہ بیچ کر کم درجہ کی سواری خریدے اور جو بچے نفقہ میں صرف کرے پھر اس کے بعد دوسرے پر نفقہ واجب ہوگا یہی احکام اولاد و دیگر محارم کے بھی ہیں۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۹۹: زوجہ کے سوا کسی اور کے نفقہ کا قاضی نے حکم دیا اور ایک مہینہ یا زیادہ زمانہ گزرا تو اس مدت کا نفقہ ساقط ہوگیا اور ایک مہینے سے کم زمانہ گزرا ہے تو وصول کرسکتے ہیں اور زوجہ بہر حال بعد ِحکم قاضی وصول کرسکتی ہے۔ اور اگر نفقہ نہ دینے کی صورت میں اُن لوگوں نے بھیک مانگ کر گزر کی جب بھی ساقط ہو جائے گا کہ جو کچھ مانگ لائے وہ اُن کی ملک ہوگیا تو اب جب تک وہ خرچ نہ ہولے حاجت نہ رہی۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰۰: غیر زوجہ جس کے نفقہ کا قاضی نے حکم دیا تھا اُس نے قاضی کے حکم سے قرض لے کر کام چلایا تو نفقہ ساقط نہ ہوگا یہاں تک کہ اگر قرض لینے کے بعد اُس شخص کا انتقال ہوگیا جس پر نفقہ فرض ہواتو وہ قرض ترکہ سے ادا کیا جائے گا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۰۱: لونڈی غلام کا نفقہ اُن کے آقاپر ہے وہ مدبرہوں یا خالص غلام چھوٹے ہوں یا بڑے اپاہج ہوں یا تندرست اندھے ہوں یا انکھیارے (4) اور اگر آقا نفقہ دینے سے انکار کرے تو مزدوری وغیرہ کر کے اپنے نفقہ میں صرف کریں اور کمی پڑے تو مولیٰ سے لیں بچ رہے تو مولیٰ کو دیں اور کما بھی نہ سکتے ہوں تو غیر مدبروام ولد میں مولیٰ کو حکم دیا جائے گا کہ اُن کو نفقہ دے یا بیچ ڈالے اور مدبر وام ولدمیں نفقہ پر مجبور کیا جائے گا اور اگر لونڈی خوبصورت ہے کہ مزدوری کو جائے گی تو اندیشہ فتنہ ہے تو مولیٰ کو حکم دیا جائے گا کہ نفقہ دے یا بیچ ڈالے۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۰۲: غلام کو اُس کا آقا خرچ نہیں دیتا اور کمانے پر بھی قادر نہیں یا مولیٰ کمانے کی اجازت نہیں دیتا تو مولیٰ کے مال سے بقدرِ کفایت(6) بلا اجازت لے سکتا ہے۔ ورنہ بلا اجازت لینا جائز نہیں اور اگر مولیٰ کھانے کو دیتا ہے مگر بقدر کفایت نہیں دیتا تو بلا اجازت مولیٰ کا مال نہیں لے سکتا ممکن ہو تو مزدوری کرکے وہ کمی پوری کر لے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۰۳: لونڈی غلام کانفقہ روٹی سالن وغیرہ اور لباس اُس شہر کی عام خوراک و پوشاک کے موافق ہونا
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل الخامس،ج۱، ص۵۶۷.
2 ۔ ''الدر المختار'' و''رد المحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، مطلب: في مواضع ... إلخ، ج۵، ص۳۷۷.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۷۸ ۔ ۳۸۰.
4 ۔بینا،درست آنکھوں والے۔
5 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل السادس،ج۱، ص۵۶۸.
6 ۔یعنی اتنی مقدارجواس کی ضروریات کوکافی ہو۔
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۸۳.
چاہیے اور لونڈی کو صرف اتنا ہی کپڑا دینا جو سترِ عورت کے لائق ہے جائز نہیں اور اگر مولیٰ اچھے کھانے کھاتا ہے اچھے لباس پہنتاہے تو یہ واجب نہیں کہ غلام کو بھی ویسا ہی کھلائے پہنائے مگر مستحب ہے کہ ویسا ہی دے اور اگر مولیٰ بخل یا ریاضت کے سبب وہاں کی عادت سے کم درجہ کا کھاتا پہنتا ہے تو یہ ضرور ہے کہ غلام کو وہاں کے عام چلن کے موافق دے اور اگر غلام نے کھانا پکایاہے تو مولیٰ کو چاہیے کہ اُسے اپنے ساتھ بٹھاکر کھلائے اور اگر غلام ادب کی وجہ سے انکار کرتا ہے تو اُس میں سے اُسے کچھ دیدے۔ (1)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۰۴: چند غلام ہوں تو سب کو یکساں کھانا کپڑا دے لونڈی کا بھی یہی حکم ہے اور جس لونڈی سے وطی کرتا ہے اُس کا لباس اور وں سے اچھا ہو۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۵: غلام کے وضو غسل وغیرہ کے ليے پانی خریدنے کی ضرورت ہو تو مولیٰ پر خریدنا واجب ہے۔ (3)(جوہرہ)
مسئلہ ۱۰۶: جس غلام کے کچھ حصہ کو آزاد کردیا ہے اُس کا اور مکاتب کانفقہ مولیٰ کے ذمہ نہیں۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۰۷: جس غلام کو بیچ ڈالا ہے اُس کا نفقہ بائع پر ہے جب تک بائع کے قبضہ میں ہے اور اگر بیع میں کسی جانب خیار ہو تو نفقہ اُس کے ذمہ ہے جس کی ملک بالآخر قرار پائے اور کسی کے پاس غلام کو امانت یا رہن رکھا تو مالک پر ہے او ر عاریۃً دیا تو کھلانا عاریت لینے والے پر ہے اور کپڑا مالک کے ذمہ اور اگر امین یا مرتہن نے قاضی سے اجازت چاہی کہ جو کچھ خرچ ہو وہ غلام کے ذمہ ڈالا جائے تو قاضی اس کا حکم نہ دے بلکہ یہ کہے کہ غلام مزدوری کرے اور جو کمائے اُس کے نفقہ میں صرف کیا جائے یا قاضی غلام کوبیچ ڈالے اور ثمن مولیٰ کے ليے محفوظ رکھے اور اگر قاضی کے نزدیک یہی مصلحت ہے کہ نفقہ اُس پر ڈالا جائے تو یہ حکم بھی دے سکتا ہے۔ یہی احکام اُس وقت بھی ہیں کہ بھاگے ہوئے غلام کو کوئی پکڑلایا اور قاضی سے نفقہ کے بارے میں اجازت چاہی یا دوشریک تھے ایک حاضر ہے ایک غا ئب اور حاضر نے اجازت مانگی۔ (5)(عالمگیری ، درمختار)
مسئلہ ۱۰۸: کسی نے غلام غصب کر لیا تو نفقہ غاصب پر ہے، جب تک واپس نہ کرے اور اگر غاصب نے قاضی
1 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل السادس، ج۱، ص۵۶۸.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات، الجزء الثانی، ص۱۲۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل السادس،ج۱، ص۵۶۹.
5 ۔ المرجع السابق.
و''الدرالمختار''، کتاب الطلاق ، باب النفقۃ ،ج۵،ص۳۸۴.
سے نفقہ یا بیع کی اجازت مانگی تو اجازت نہ دے، ہاں اگر یہ اندیشہ ہو کہ غلام کوضائع کردے گا تو قاضی بیچ ڈالے اور ثمن محفوظ رکھے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۰۹: غلام مشترک کانفقہ ہر شریک پر بقدر حصہ لازم ہے اور اگر ایک شریک نفقہ دینے سے انکار کرے تو بحکم قاضی جو اُس کی طرف سے خرچ کریگا اُس سے وصول کرسکتا ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۱۰: اگر غلام کو آزاد کر دیا تو اب مولیٰ پر نفقہ واجب نہیں اگرچہ وہ کمانے کے لائق نہ ہو مثلاً بہت چھوٹا بچہ یا بہت بوڑھا یا اپاہج یا مریض ہو بلکہ ان کا نفقہ بیت المال سے دیا جائے گا اگر کوئی ایسا نہ ہو جس پر نفقہ واجب ہو۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۱: جانور پالے اور اُنھیں چارہ نہیں دیتا تو دیا نۃًحکم دیا جائے گا کہ چارہ وغیرہ دے یا بیچ ڈالے اور اگر مشترک ہے اور ایک شریک اُسے چارہ وغیرہ دینے سے انکار کرتا ہے تو قضائً بھی حکم دیا جائے گا کہ یا چارہ دے یا بیچ ڈالے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۱۲: اگر جانور کو چارہ کم دیتا ہے اور پورادودھ دوہ لینا مُضر ہو تو پورا دودھ دوہنا مکروہ ہے۔ یوہیں بالکل نہ دوہے یہ بھی مکروہ ہے اور دوہنے میں یہ بھی خیال رکھے کہ بچہ کے ليے بھی چھوڑنا چاہيے اور ناخن بڑے ہوں تو ترشوادے کہ اُسے تکلیف نہ ہو۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۳: جانور پر بوجھ لادنے اور سواری لینے میں یہ خیال کرنا چاہیے کہ اُس کی طاقت سے زیادہ نہ ہو۔ (6)(جوہرہ)
باغ اور زراعت و مکان میں اگر خرچ کرنے کی ضرورت ہو تو خرچ کرے اور خرچ نہ کرکے ضائع نہ کرے کہ مال ضائع کرنا ممنوع ہے۔(7) (درمختار ) واﷲ تعالیٰ اعلم۔
شب بست و دوم ماہ فاخر ربیع الآخر شب پنج شنبہ ۱۳۳۸ھ
باتمام رسید (8)
1 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۸۳.
2 ۔ المرجع السابق،ص۳۸۵.
3 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل السادس، ج۱، ص۵۷۰.
4 ۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۸۵.
5 ۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفی النفقات، الفصل السادس، ج۱، ص۵۷۳.
6 ۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب النفقات،الجزء الثانی،ص۱۲۳.
7 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق،باب النفقۃ ، ج۵، ص۳۸۶.
8 ۔(یہ حصہ)بائیس ربیع الآخر جمعرات کی رات تیرہ سواڑتیس ہجری کومکمل ہوا۔