Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ہے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کے یہاں میں سویا تھا، حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) بیدار ہوئے، مسواک کی اور وضو کیا اور اسی حالت میں آ يۂ
( اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوا تِ وَالْاَرْضِ) (1)
ختم سورہ تک پڑھی پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں جن میں قیام و رکوع و سجود کو طویل کیا پھر پڑھ کر آرام فرمایا یہاں تک کہ سانس کی آواز آئی، يوہيں تین بار میں چھ رکعتیں پڑھیں ہر بار مسواک و وضو کرتے اور ان آیتوں کی تلاوت فرماتے پھر وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔ (2)
حدیث ۲: نیز اُسی میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : رات کی نمازوں کے آخر میں وتر پڑھو اور فرماتے ہیں: ''صبح سے پیشتر وتر پڑھو۔'' (3)
حدیث ۳: مسلم و ترمذی و ابن ماجہ وغیرہم جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جسے اندیشہ ہو کہ پچھلی رات ميں نہ اٹھے گا و ہ اوّل میں پڑھ لے اور جسے امید ہو کہ پچھلے کو اٹھے گا وہ پچھلی رات میں پڑھے کہ آخر شب کی نماز مشہودہے (یعنی اُس میں ملئکۂ رحمت حاضر ہوتے ہیں) اور یہ افضل ہے۔'' (4)
حدیث ۴تا۶: ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: اللہ وتر ہے وتر کو محبوب رکھتا ہے، لہٰذا اے قرآن والو! وتر پڑھو۔ (5) اور اسی کے مثل جابر و ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی۔
حدیث ۷تا۱۱: ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ خارجہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''اللہ تعالیٰ نے ایک نماز سے تمہاری مدد فرمائی کہ وہ سُرخ اونٹوں سے بہتر ہے وہ وتر ہے، اللہ تعالیٰ نے اُسے عشا و طلوع فجر کے درمیان ميں رکھا ہے۔'' (6) یہ حدیث دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی مروی ہے، مثلاً معاذ بن جبل وعبداللہ بن عمر وا بن عباس و عقبہ بن عامر جہنی وغيرہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔
1 ۔ پ۲، ا لبقرۃ: ۱۶۴. 2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلا ۃ ا لمسا فرين، باب الدعاء ... إ لخ، ا لحديث: ۱۹۱۔(۷۶۳)، ص۳۸۷ .
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرين، باب صلاۃ الليل... إلخ، الحديث: ۷۵۰،۱۵۱۔(۷۵۱)، ص۳۷۸.
4 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرين، باب من خاف أن لايقوم من آخر الليل... إلخ، الحديث: ۷۵۵، ص۳۸۰.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الوتر، باب ماجاء أن الوتر ليس بحتم، الحديث: ۴۵۳، ج۲، ص۴.
6 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الوتر، باب استحباب الوتر، الحديث: ۱۴۱۸، ج۲، ص۸۸.
حدیث ۱۲: ترمذی زید بن اسلم سے مرسلاً راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: ''جو وتر سے سو جائے تو صبح کو پڑھ لے۔'' (1)
حدیث ۱۳تا۱۶: امام احمد ابی بن کعب سے اور دارمی ابن عباس سے اور ابو داود و ترمذی ام المومنین صدیقہ سے اور نسائی عبدالرحمن بن ابزے رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے راوی، ''رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی
اور دوسری میں
قُلْ یٰـاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ
اور تیسری میں
قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ
پڑھتے۔'' (2)
حدیث ۱۷: احمد و ابو داود و حاکم بافادۂ تصحيح بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: ''وتر حق ہے جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔'' (3)
حدیث ۱۸: ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور(صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے فرمایا: ''جو وتر سے سو جائے یا بھول جائے، تو جب بیدار ہو یا یاد آئے پڑھ لے۔'' (4)
حدیث ۱۹ و ۲۰: احمد و نسائی و دار قطنی بروایت عبدالرحمن بن ابزے عن ابیہ اور ابو داود و نسائی ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے راوی، کہ ''حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم جب وتر میں سلام پھیرتے، تین بار
سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ
کہتے اور تیسری بار بلند آواز سے کہتے۔'' (5)
وتر واجب ہے اگر سہواً یا قصداً نہ پڑھا تو قضا واجب ہے اور صاحبِ ترتیب کے ليے اگر یہ یادہے کہ نماز وتر نہیں پڑھی ہے اور وقت میں گنجائش بھی ہے تو فجر کی نماز فا سد ہے، خواہ شروع سے پہلے یاد ہو یا درمیان میں یاد آجائے۔ (6) (درمختار وغیرہ)
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الوتر، باب ماجاء في الرجل ينام عن الوتر أو ینساہ، الحديث: ۴۶۵، ج۲، ص۱۳۱.
2 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب قيام الليل... إلخ، باب نوع آخر من القرأۃ في الوتر، الحديث: ۱۷۳۲، ص۲۲۰۲.
و ''جامع الترمذي''، أبواب الوتر، باب ماجاء في ما يقرأ بہ في الوتر، الحديث: ۴۶۲، ج۲، ص۱۰.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الوتر، باب فيمن لم يوتر، الحديث: ۱۴۱۹، ج۲، ص۸۹.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الوتر، باب ماجاء في الرجل ينام عن الوتر أوینساہ، الحديث: ۴۶۴، ج۲، ص۱۲.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الوتر، باب في الدعاء بعد الوتر، الحديث: ۱۴۳۰، ج۲، ص۹۳.
و ''سنن النسائي''، کتاب قيام الليل... إلخ، باب ذکر الاختلاف علی شعبۃ فيہ، الحديث : ۱۷۳۳، ص۲۲۰۲.
6 ۔ ''الدرالمختار''معہ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۲۹ ۔ ۵۳۲، وغيرہ .
مسئلہ ۱: وتر کی نماز بیٹھ کر یا سواری پر بغیر عذر نہیں ہوسکتی۔ (1) (درمختار وغيرہ)
مسئلہ ۲: نماز وتر تین رکعت ہے اور اس میں قعدۂ اُولیٰ واجب ہے اور قعدۂ اُولیٰ میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہوجائے، نہ درود پڑھے نہ سلام پھیرے جیسے مغرب میں کرتے ہیں اُسی طرح کرے اور اگر قعدۂ اُولیٰ بھول کر کھڑا ہوگیا تو لوٹنے کی اجازت نہیں بلکہ سجدۂ سہو کرے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: وتر کی تینو ں رکعتوں میں مطلقاً قراء ت فرض ہے اور ہر ایک میں بعد فاتحہ سورت ملانا واجب اور بہتر یہ ہے کہ پہلی میں
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ
یا
اِنَّا اَنْزَلْنَادوسری میں
قُلْ یٰـاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ
تیسری میں
قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ
پڑھے۔ اور کبھی کبھی اور سورتیں بھی پڑھ لے، تیسری رکعت میں قراء ت سے فارغ ہو کر رکوع سے پہلے کانوں تک ہاتھ اُٹھا کر اللہ اکبر کہے جیسے تکبیر تحریمہ میں کرتے ہیں پھر ہاتھ باندھ لے اور دعائے قنوت پڑھے، دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے اور اس میں کسی خاص دعا کا پڑھنا ضروری نہیں، بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم سے ثابت ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور دعا پڑھے جب بھی حرج نہیں، سب میں زیادہ مشہوردُعا یہ ہے۔
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَ نَسْتَغْفِرُکَ وَ نُؤْمِنُ بِکَ وَ نَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ کُلَّہٗ وَنَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ وَ نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ ؕ اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ ؕ . (3)
اور بہتر یہ ہے کہ اس دعا کے ساتھ وہ دعا بھی پڑھے جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تعلیم فرمائی وہ یہ ہے۔
اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْ مَنْ عَافَیْتَ وَ تَوَلَّنِیْ فِیْ مَنْ تَوَلَّیْتَ وَ بَارِکْ لِیْ فِیْ مَا اَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ اِنَّہٗ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۳۲، وغيرہ .
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في منکر الوتر... إلخ، ج۲، ص۵۳۲،
باب سجود السھو، ص۶۶۲.
3 ۔ ترجمہ: الٰہی! ہم تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں اور مغفرت چاہتے ہیں ا ور تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تجھ پر توکل کرتے ہیں اور ہر بھلائی کے
ساتھ تیری ثنا کرتے ہیں اور ہم تیرا شکر کرتے ہیں ناشکری نہیں کرتے اور ہم جدا ہوتے ہیں اور اس شخص کو چھوڑتے ہیں جو تیرا گناہ کرے۔
اے اللہ (عزوجل) ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے ہی ليے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور تیری ہی طرف دوڑتے اور
سعی کرتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے۔ ۱۲
تَبَارَکْتَ وَ تَعَالَیْتَ سُبْحَانَکَ رَبَّ الْبَیْتِ وَ صَلَّی اللہُ عَلَی النَّبِیِّ وَاٰلِہٖ. (1)
اور ایک دُعا وہ ہے جو مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم آخر وتر میں پڑھتے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَا اُحْصِیْ ثَنَآءً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلیٰ نَفْسِکَ. (2)
اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عَذَابَکَ الْجِدَّ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ
کے بعد یہ پڑھتے تھے۔
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِھِمْ وَانْصُرْھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّھِمْ اَللّٰھُمَّ الْعَنْ کَفَرَۃَ اَھْلِ الْکِتَابِ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَیُقَاتِلُوْنَ اَوْلِیَآئَکَ اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ وَزَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ وَاَنْزِلْ عَلَیْھِمْ بَائْسَکَ الَّذِیْ لَمْ یُرَدَّ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ . (3)
دُعائے قنوت کے بعد درود شریف پڑھنا بہتر ہے۔ (4) (غنیہ و ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۴: دعائے قنوت آہستہ پڑھے امام ہو یا منفرد یا مقتدی، ادا ہو یا قضا، رمضان میں ہو یا اور دنوں میں۔ (5) (ردالمحتار)
1 ۔ ترجمہ: الٰہی! تو مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جن کو تُو نے ہدایت دی اور عافیت دے ان کے زمرہ میں جن میں تو نے عافیت دی اور میرا
ولی ہو۔ اُن میں جن کا تو ولی ہوا اور جو کچھ تو نے دیا اُس میں برکت دے اور جو کچھ تو نے فیصلہ کر دیا اوسکے شر سے مجھے بچا بیشک تو
حکم کرتاہے اور تجھ پر حکم نہیں کیا جاتا، بیشک تیرا دوست ذلیل نہیں ہوتا اور تیرا دشمن عزت نہیں پاتا تُو برکت والا ہے تو پاک ہے، اے
بیت (کعبہ) کے مالک اور اللہ (عزوجل) درود بھیجے نبی پر اور ان کی آل پر۔ ۱۲
2 ۔ ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) میں تیری خوشنودی کی پناہ مانگتا ہوں تیری ناخوشی سے اور تیری عافیت کی تیرے عذاب سے اور تیری ہی پناہ
مانگتا ہوں تجھ سے (تیرے عذاب سے) میں تیری پوری ثنا نہیں کر سکتا ہوں جیسی تُو نے اپنی ثنا کی۔ ۱۲
3 ۔ ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! تو مجھے بخش دے اور مومنین و مومنات و مسلمین و مسلمات کو اور ان کے دلوں میں اُلفت پیدا کر دے اور ان کے
آپس کی حالت درست کر دے اور اُن کو تُو اپنے دشمن اور خود ان کے دشمن پر مدد کر دے۔ اے اللہ (عزوجل) ! تو کفار اہل کتاب پر لعنت کرجو
تیرے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور تیرے دوستوں سے لڑتے ہیں، الٰہی تُو ان کی بات میں مخالفت ڈال دے اور ان کے قدموں کو ہٹا
دے اور ان پر اپنا وہ عذاب نازل کر جو قوم مجرمین سے واپس نہیں ہوتا۔ ۱۲
4 ۔ ''غنیۃ المتملي''، صلاۃ الوتر، ص۴۱۴ ۔ ۴۱۸.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في منکر الوتر... إلخ، ج۲، ص۵۳۴.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في منکر الوتر... إلخ، ج۲، ص۵۳۶.
مسئلہ ۵: جو دعائے قنوت نہ پڑھ سکے یہ پڑھے۔
رَبَّنَـآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْااخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ
کہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: اگر دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو نہ قیام کی طرف لوٹے نہ رکوع میں پڑھے اور اگر قیام کی طرف لوٹ آیا اور قنوت پڑھا اور رکوع نہ کیا، تو نماز فاسد نہ ہوگی، مگر گنہگار ہو گا اور اگر صرف الحمد پڑھ کر رکوع میں چلا گیا تھا تو لوٹے اور سورت و قنوت پڑھے پھر رکوع کرے اور آخر میں سجدۂ سہو کرے۔ يوہيں اگر الحمد بھول گیا اور سورت پڑھ لی تھی تو لوٹے اور فاتحہ و سورت و قنوت پڑھ کر پھر رکوع کرے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: امام کو رکوع میں یاد آیا کہ دعائے قنوت نہیں پڑھی تو قیام کی طرف عود نہ کرے(3) ، پھر بھی اگر کھڑا ہوگیا اور دُعا پڑھی تو رکوع کا اعادہ نہ چاہيے (4) اور اگر اعادہ کر لیا اور مقتدیوں نے پہلے رکوع میں امام کا ساتھ نہ دیا اور دوسرا امام کے ساتھ کیا، یا پہلا رکوع امام کے ساتھ کیا دوسرا نہ کیا، دونوں حال میں ان کی نماز بھی فاسد نہ ہوگی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: قنوت وتر میں مقتدی امام کی متابعت (6) کرے، اگر مقتدی قنوت سے فارغ نہ ہوا تھا کہ امام رکوع میں چلا گیا تو مقتدی بھی امام کا ساتھ دے اور اگر امام نے بے قنوت پڑھے رکوع کر دیا اور مقتدی نے ابھی کچھ نہ پڑھا، تو مقتدی کو اگر رکوع فوت ہونے کا اندیشہ ہو جب تو رکوع کردے، ورنہ قنوت پڑھ کر رکوع میں جائے اور اُس خاص دعا کی حاجت نہیں جو دعائے قنوت کے نام سے مشہور ہے، بلکہ مطلقاً کوئی دُعا جسے قنوت کہہ سکیں پڑھ لے۔ (7) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: اگر شک ہوا کہ یہ رکعت پہلی ہے یا دوسری یا تیسری تو اس میں بھی قنوت پڑھے اور قعدہ کرے، پھر اور دو رکعتیں پڑھے اور ہر رکعت میں قنوت بھی پڑھے اور قعدہ کرے۔ یوہیں دوسری اور تیسری ہونے میں شک واقع ہو تو دونوں میں
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثامن في صلاۃ الوتر، ج۱، ص۱۱۱.
اے ہمارے پروردگار! تو ہم کو دنیا میں بھلائی دے (اور ہم کو آخرت میں بھلائی دے) اور ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا۔ ۱۲
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثامن في صلاۃ الوتر، ج۱، ص۱۱۱.
3 ۔ يعنی واپس نہ لَوٹے۔
4 ۔ يعنی رکوع نہ لَوٹائے۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثامن في صلاۃ الوتر، ج۱، ص۱۱۱.
6 ۔ پيروی۔
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثامن في صلاۃ الوتر، ج۱، ص۱۱۱.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب: الاقتداء بالشافعي، ج۲، ص۵۴۰.
قنوت پڑھے۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: بھول کر پہلی یا دوسری میں دعائے قنوت پڑھ لی تو تیسری میں پھر پڑھے یہی راجح ہے۔ (2) (غنیہ، حلیہ، بحر)
مسئلہ ۱۱: مسبوق امام کے ساتھ قنوت پڑھے بعد کو نہ پڑھے اور اگر امام کے ساتھ تيسری رکعت کے رکوع ميں ملا ہے تو بعد کو جو پڑھے گا اس ميں قنوت نہ پڑھے۔ (3) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۲: وتر کی نماز شافعی المذہب کے پیچھے پڑھ سکتا ہے، بشرطیکہ دوسری رکعت کے بعد سلام نہ پھیرے ورنہ صحیح نہیں اور اس صورت میں قنوت امام کے ساتھ پڑھے یعنی تیسری رکعت کے رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد جب وہ شافعی امام پڑھے۔ (4) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۱۳: فجر میں اگر شافعی المذہب کی اقتدا کی اور اس نے اپنے مذہب کے موافق قنوت پڑھا تو یہ نہ پڑھے، بلکہ ہاتھ لٹکائے ہوئے اتنی دیر چپ کھڑا رہے۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۴: وتر کے سوا اور کسی نماز میں قنوت نہ پڑھے۔ ہاں اگر حادثۂ عظیمہ واقع ہو تو فجر میں بھی پڑھ سکتا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ رکوع کے قبل قنوت پڑھے۔ (6) (درمختاروحموی(7) )
مسئلہ ۱۵: وتر کی نماز قضا ہوگئی تو قضا پڑھنی واجب ہے اگرچہ کتنا ہی زمانہ ہوگیا ہو، قصداً قضا کی ہو یا بھولے سے قضا
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۴۱.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثامن في صلاۃالوتر، ج۱، ص۱۱۱.
2 ۔ ''غنیۃ المتملي ''، صلاۃ الوتر، ص۴۲۲. و ''البحرالرائق''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۷۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثامن في صلاۃ الوتر، ج۱، ص۱۱۱.
4 ۔
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۳۸، وغيرہ .
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۴۱، و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۷، ص۴۹۰.
7 ۔ بہارِ شريعت ميں اس جگہ درمختار و شرنبلالی کا حوالہ لکھا ہے، لیکن ہم نے صدر الشريعہ کے فرمان کے مطابق ''درمختار و حموی'' کردیا۔ چنانچہ صدر الشريعہ، بدر الطريقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عليہ رحمۃ اللہ القوی ''فتاویٰ امجديہ''، ج۱، ص۲۰۷ کے حاشيہ ميں لکھتے ہيں کہ: فقير نے بہارِ شريعت ميں بصورت نازلہ نماز فجر ميں قنوت کا قبل رکوع ہونا تحرير کيا مگر اس ميں حوالہ شرنبلالی کا ديا۔ اس مسئلہ کی تحرير کے وقت يہ معلوم ہوا کہ شرنبلالی بعد الرکوع کے قائل ہيں۔ اصل مسودہ بہارِ شريعت کا نکلواکر ديکھا گيا اس ميں پہلے يہ عبارت لکھی ہوئی تھی کہ قنوت نازلہ بعدالرکوع ہے اور شرنبلالی کا حوالہ۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ، نے بعدالرکوع قلم زد کراديا اور بجائے اس کے قبل رکوع بنوايا مگر غلطی سے شرنبلالی جو حوالہ تحرير تھا وہ قلم زد نہيں ہوا، ''لہٰذا لوگوں کو چاہيے کہ بہارِ شريعت ميں شرنبلالی کو قلم زد کرکے اس کی جگہ پر حموی لکھ ليں۔'' ۱۲ منہ
ہوگئی اور جب قضا پڑھے، تو اس میں قنوت بھی پڑھے۔ البتہ قضا میں تکبیر قنوت کے ليے ہاتھ نہ اٹھائے جب کہ لوگوں کے سامنے پڑھتا ہو کہ لوگ اس کی تقصیر پر مطلع ہوں گے۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: رمضان شریف کے علاوہ اور دنوں میں وتر جماعت سے نہ پڑھے اور اگر تداعی کے طور پر ہو تو مکروہ ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: جسے آخر شب میں جاگنے پر اعتماد ہو تو بہتر یہ ہے کہ پچھلی رات میں وتر پڑھے، ورنہ بعد عشا پڑھ لے۔ (3) (حدیث)
مسئلہ ۱۸: اوّل شب میں وتر پڑھ کر سو رہا، پھر پچھلے کو جاگا تو دوبارہ وتر پڑھنا جائز نہیں اور نوافل جتنے چاہے پڑھے۔ (4) (غنیہ)
مسئلہ ۱۹: وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا بہتر ہے ،اس کی پہلی رکعت میں
اِذَا زُلْزِلَت،
دوسری میں
قُلْ یٰاَیُّھَا الْکٰفِرُوْن
پڑھنا بہتر ہے۔ حدیث میں ہے: کہ ''اگر رات میں نہ اُٹھا تو یہ تہجد کے قائم مقام ہو جائیں گی۔'' (5) یہ مضامین احادیث سے ثابت ہیں۔
حدیث ۱: صحیح بخاری شریف میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم فرماتے ہیں: کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے، اسے میں نے لڑائی کا اعلان دے دیا اور میرا بندہ کسی شے سے اُس قدر تقرب حاصل نہیں کرتا جتنا فرائض سے ہوتا ہے اور نوافل کے ذریعہ سے ہمیشہ قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اسے محبوب بنا لیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے، تو اسے دوں گا اور پناہ مانگے تو پناہ دوں گا۔'' (6) (الحدیث)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثامن في صلاۃ الوتر، ج۱، ص۱۱۱.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في منکر الوتر... إلخ، ج۲، ص۵۳۳.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۶۰۴.
3 ۔ انظر: ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرين، باب من خاف ان لا يقوم... إلخ، الحديث: ۷۵۵، ص۳۸۰.
4 ۔ ''غنیۃ المتملي ''، صلاۃ الوتر، ص۴۲۴.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الرقاق، باب التواضع، الحديث: ۶۵۰۲، ج۴، ص۲۴۸.
حدیث ۲ و ۳: مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو مسلمان بندہ اللہ (عزوجل) کے ليے ہر روز فرض کے علاوہ تطوّع (نفل) کی بارہ رکعتیں پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے ليے جنت میں ایک مکان بنائے گا، چار ظہر سے پہلے اور دو ظہر کے بعد اور دو ۲ بعد مغرب اور دو ۲ بعد عشا اور دو ۲ قبل نماز فجر۔'' (1) اور رکعات کی تفصیل صرف ترمذی میں ہے۔ ترمذی و نسائی و ابن ماجہ کی روایت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ ہے کہ ''جو اِن پر محافظت کریگا، جنت میں داخل ہو گا۔'' (2)
حدیث ۴: ترمذی میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ ر سول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: ''ادبار نجوم فجر کے پہلے کی دو رکعتیں ہیں اور ادبار سجود مغرب کے بعد کی دو ۲ ۔'' (3)
حدیث ۵: مسلم و ترمذی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''فجر کی دو رکعتیں دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں۔'' (4)
حدیث ۶: بخاری و مسلم و ابو داود و نسائی انھيں سے راوی، کہتی ہیں: ''حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) ان کی جتنی محافظت فرماتے کسی اور نفل نماز کی نہیں کرتے۔'' (5)
حدیث ۷: طبرانی عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ ایک صاحب نے عرض کی، یارسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) ! کوئی ایسا عمل ارشاد فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اُس سے نفع دے؟ فرمایا: ''فجر کی دونوں رکعتوں کولازم کرلو، ان میں بڑی فضیلت ہے۔'' (6)
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرين، باب فضل السنن... إلخ، الحديث: ۱۰۳۔(۷۲۸)، ص۳۶۷.
و''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء فيمن صلی في يوم و ليلۃ... إلخ، الحديث: ۴۱۵، ج۱، ص۴۲۴.
2 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب قيام الليل... إلخ، باب ثواب من صلی في اليوم و الليلۃ... إلخ، الحديث: ۱۷۹۱، ص۳۰۷.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب التفسير، باب و من سورۃ الطور، الحديث : ۳۲۸۶، ج۵، ص۱۸۲.
4 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرين، باب استحباب رکعتي سنۃ الفجر... إلخ، الحديث: ۷۲۵، ص۳۶۵.
5 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب التھجد، باب تعاھد رکعتي الفجر... إلخ، الحديث: ۱۱۶۹، ج۱، ص۳۹۵.
6 ۔ ''الترغيب و الترھيب''، کتاب النوافل، الحديث: ۳، ج ۱، ص۲۲۳.
حدیث ۸: ابویعلیٰ باسناد حسن انھيں سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''
قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ
تہائی قرآن کی برابر ہے اور
قُلْ یٰاَیُّھَا الْکٰفِرُوْن
چوتھائی قرآن کی برابر اور ان دونوں کو فجر کی سنتوں میں پڑھتے اور یہ فرماتے کہ ان میں زمانہ کی رغبتیں ہیں۔'' (1)
حدیث ۹: ابو داود ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''فجر کی سنتیں نہ چھوڑو، اگرچہ تم پر دشمنوں کے گھوڑے آ پڑیں۔'' (2)
حدیث ۱۰: احمد و ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جو شخص ظہر سے پہلے چار اور بعد میں چار رکعتوں پر محافظت کرے، اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام فرما دے گا۔'' (3) ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہا۔
حدیث ۱۱: ابو داودو ابن ماجہ ابو ایّوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہيں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم ! ''ظہر سے پہلے چار رکعتیں جن کے درمیان ميں سلام نہ پھیرا جائے، ان کے ليے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔'' (4)
حدیث ۱۲: احمد و ترمذی عبداللہ بن سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم آفتاب ڈھلنے کے بعد نماز ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور فرماتے: ''یہ ایسی ساعت ہے کہ اس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں، لہٰذا میں محبوب رکھتا ہوں کہ اس میں میرا کوئی عمل صالح بلند کیا جائے۔'' (5)
حدیث ۱۳: بزار نے ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ دوپہر کے بعد چار رکعت پڑھنے کو حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) محبوب رکھتے، ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی، یارسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) ! میں دیکھتی ہوں کہ اس وقت میں حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نماز محبوب رکھتے ہیں، فرمایا: ''اس وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ
1 ۔ ''الترغيب و الترھيب''، کتاب النوافل، الحديث: ۵، ج ۱، ص۲۲۴.
و ''المعجم الأوسط''، الحديث:۱۸۶، ج۱، ص۶۸.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب التطوع، باب في تخفيفھما، الحديث: ۱۲۵۸، ج۲، ص۳۱.
3 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب قيام الليل... إلخ، باب الاختلاف علی اسماعيل بن أبي خالد، الحديث: ۱۸۱۳، ص۳۱۰.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب التطوع، باب الأربع قبل الظہر و بعدہا، الحديث: ۱۲۷۰، ج۲، ص۳۵.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الوتر، باب ماجاء في الصلاۃ عند الزوال، الحديث: ۴۷۷، ج۲، ص۲۰.
مخلوق کی طرف نظرِ رحمت فرماتا ہے اور اس نماز پر آدم و نوح و ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ علیھم الصلاۃ والسلام محافظت کرتے۔'' (1)
حدیث ۱۴ و ۱۵: طبرانی براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جس نے ظہر کے پہلے چار رکعتیں پڑھیں، گویا اس نے تہجد کی چار رکعتیں پڑھیں اور جس نے عشا کے بعد چار پڑھیں، تو یہ شب قدر میں چار کے مثل ہیں۔'' (2) عمر فاروق اعظم و بعض دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی اسی کی مثل مروی۔
حدیث ۱۶: احمد و ابو داود و ترمذی بافادۂ تحسین عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔'' (3)
حدیث ۱۷: ترمذی مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ''حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے۔'' (4) اور ابو داود کی روایت میں ہے کہ دو پڑھتے تھے۔ (5)
حدیث ۱۸ و ۱۹: طبرانی کبیر میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے بدن کو آگ پر حرام فرمادے گا۔'' (6) دوسری روایت طبرانی کی عمر و بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ ''حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے مجمع صحابہ میں جس میں امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے، فرمایا: ''جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے، اُسے آگ نہ چُھوئے گی۔'' (7)
حدیث ۲۰ و ۲۱: رزین نے مکحول سے مُرسلاً روایت کی کہ فرماتے ہیں: ''جو شخص بعد مغرب کلام کرنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے، اُس کی نماز علیین میں اٹھائی جاتی ہے۔'' اور ایک روایت میں ''چار رکعت ہے۔'' نیز انھيں کی روایت
1 ۔ ''مسند البزار''، مسند ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، الحديث: ۴۱۶۶، ج ۱۰، ص۱۰۲.
2 ۔ ''المعجم الأوسط'' للطبراني، باب الميم، الحديث: ۶۳۳۲، ج ۴، ص۳۸۶ .
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب التطوع، باب الصلاۃ قبل العصر، الحديث: ۱۲۷۱، ج۲، ص۳۵.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في الأربع قبل العصر، الحديث: ۴۲۹، ج۱، ص۴۳۷.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب التطوع، باب الصلاۃ قبل العصر، الحديث: ۱۲۷۲، ج۲، ص۳۵.
6 ۔ ''المعجم الکبير''، الحديث: ۶۱۱، ج ۲۳، ص۲۸۱.
7 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب الألف، الحديث: ۲۵۸۰، ج ۲، ص۷۷.
حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے، ''اس میں اتنی بات زیادہ ہے کہ فرماتے تھے مغرب کے بعد کی دونوں رکعتیں جلد پڑھو کہ وہ فرض کے ساتھ پیش ہوتی ہیں۔'' (1)
حدیث ۲۲: ترمذی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے اور ان کے درمیان میں کوئی بُری بات نہ کہے، تو بارہ برس کی عبادت کی برابر کی جائیں گی۔'' (2)
حدیث ۲۳: طبرانی کی روايت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے کہ فرماتے ہیں: ''جو مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے، اس کے گناہ بخش ديے جائیں گے، اگرچہ سمندر کے جھاگ برابر ہوں۔'' (3)
حدیث ۲۴: ترمذی کی روایت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہے، ''جو مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے ليے جنت میں ایک مکان بنائے گا۔'' (4)
حدیث ۲۵: ابو داود کی روایت انھيں سے ہے، کہ فرماتی ہیں: عشا کی نماز پڑھ کر نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم میرے مکان میں جب تشریف لاتے تو ''چار یا چھ رکعتیں پڑھتے۔'' (5)
سنتیں بعض مؤکدہ ہیں کہ شریعت میں اس پر تاکید آئی۔ بلاعذر ایک بار بھی ترک کرے تو مستحق ملامت ہے اورترک کی عادت کرے تو فاسق، مردود الشہادۃ، مستحق نار ہے۔ (6) اور بعض ائمہ نے فرمایا: کہ ''وہ گمراہ ٹھہرایا جائے گا اور گنہگار ہے، اگرچہ اس کا گناہ واجب کے ترک سے کم ہے۔'' تلویح میں ہے، کہ اس کا ترک قریب حرام کے ہے۔ اس کا تارک مستحق ہے کہ معاذ اللہ! شفاعت سے محروم ہو جائے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا: ''جو میری سنت کو ترک کریگا، اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔'' سنت مؤکدہ کو سنن الہدی بھی کہتے ہیں۔
دوسری قسم غیر مؤکدہ ہے جس کو سنن الزوائد بھی کہتے ہیں۔ اس پر شریعت میں تاکید نہیں آئی، کبھی اس کو مستحب اور
1 ۔ ''مشکاۃ المصابيح''، کتاب الصلاۃ، باب السنن و فضائلھا، الحديث: ۱۱۸۴، ۱۱۸۵، ج ۱، ص۳۴۵.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في فضل التطوع... إلخ، الحديث: ۴۳۵، ج۱، ص۴۳۹.
3 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب الميم، الحديث: ۷۲۴۵، ج ۵، ص۲۵۵.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في فضل التطوع... إلخ، الحديث ۴۳۵، ج۱، ص۴۳۹.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب التطوع، باب الصلاۃ بعد العشاء، الحديث: ۱۳۰۳، ج۲، ص۴۷.
6 ۔ يعنی اس کی گواہی قابل قبول نہيں اور جہنم کا حقدار ہے۔
مندوب بھی کہتے ہیں اور نفل عام ہے کہ سنت پر بھی اس کا اطلاق آیا ہے اور اس کے غیر کو بھی نفل کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام باب النوافل میں سنن کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ نفل ان کو بھی شامل ہے۔ (1) (ردالمحتار) لہٰذا نفل کے جتنے احکام بیان ہوں گے وہ سنتوں کو بھی شامل ہوں گے، البتہ اگر سنتوں کے ليے کوئی خاص بات ہوگی تو اس مطلق حکم سے اس کو الگ کیا جائے گا جہاں استثنا نہ ہو، اسی مطلق حکم نفل ميں شامل سمجھیں۔
مسئلہ ۱: سنت مؤکدہ یہ ہیں۔
(۱) دو رکعت نما زفجر سے پہلے
(۲) چار ظہر کے پہلے، دو بعد
(۳) دو مغرب کے بعد
(۴) دو عشا کے بعد اور
(۵) چار جمعہ سے پہلے، چار بعد یعنی جمعہ کے دن جمعہ پڑھنے والے پر چودہ رکعتیں ہیں اور علاوہ جمعہ کے باقی دنوں میں ہر روز بارہ رکعتیں۔ (2) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۲: افضل یہ ہے کہ جمعہ کے بعد چار پڑھے، پھر دو کہ دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائے۔ (3) (غنیہ)
مسئلہ ۳: جو سنتیں چار رکعتی ہیں مثلاً جمعہ و ظہر کی تو چاروں ایک سلام سے پڑھی جائیں گی یعنی چاروں پڑھ کر چوتھی کے بعد سلام پھیریں، یہ نہیں کہ دو دو رکعت پر سلام پھیریں اور اگر کسی نے ایسا کیا تو سنتیں ادا نہ ہوئیں۔ یوہیں اگر چار رکعت کی منت مانی اور دو دو رکعت کرکے چار پڑھیں تو منت پوری نہ ہوئی، بلکہ ضرور ہے کہ ایک سلام کے ساتھ چاروں پڑھے۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴: سب سنتوں میں قوی تر سنت فجر ہے، یہاں تک کہ بعض اس کو واجب کہتے ہیں اور اس کی مشروعیت کا اگر کوئی انکار کرے تو اگر شبہۃً یا براہ جہل ہو تو خوف کُفر ہے اور اگر دانستہ بلا شبہہ ہو تو اس کی تکفیر کی جائے گی و لہٰذا یہ سنتیں بلا عذر نہ بیٹھ کر ہو سکتی ہیں نہ سواری پر نہ چلتی گاڑی پر، ان کا حکم ان باتوں میں بالکل مثل وتر ہے۔ ان کے بعد پھر مغرب کی سنتیں پھر ظہر
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في السنۃ وتعاريفيہا، ج۱، ص۲۳۰ ،وغيرہ .
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۴۵.
3 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في النوافل، ص۳۸۹.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۴۵، وغيرہ .
کے بعد کی پھر عشا کے بعد کی پھر ظہر سے پہلے کی سنتیں اور اصح یہ ہے کہ سنت فجر کے بعد ظہر کی پہلی سنتوں کا مرتبہ ہے کہ حدیث میں خاص ان کے بارے میں فرمایا: کہ ''جو انھيں ترک کریگا، اُسے میری شفاعت نہ پہنچے گی۔'' (1) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۵: اگر کوئی عالم مرجع فتویٰ ہو کہ فتویٰ دینے میں اسے سنت پڑھنے کا موقع نہیں ملتا تو فجر کے علاوہ باقی سنتیں ترک کر سکتا ہے کہ اس وقت اگر موقع نہیں ہے تو موقوف رکھے، اگر وقت کے اندر موقع ملے پڑھ لے ورنہ معاف ہیں اور فجر کی سنتیں اس حالت میں بھی ترک نہیں کرسکتا۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: فجر کی نماز قضا ہوگئی اور زوال سے پہلے پڑھ لی تو سنتیں بھی پڑھے ورنہ نہیں علاوہ فجر کے اور سنتیں قضا ہوگئیں تو ان کی قضا نہیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: دو رکعت نفل پڑھے اور یہ گمان تھا کہ فجر طلوع نہ ہوئی بعد کو معلوم ہوا کہ طلوع ہو چکی تھی تو یہ رکعتیں سنت فجر کے قائم مقام ہو جائیں گی اور چار رکعت کی نیت باندھی اور ان میں دو پچھلی طلوع فجر کے بعد واقع ہوئیں تو یہ سنت فجر کے قائم مقام نہ ہوں گی۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: طلوع فجر سے پہلے سنت فجر جائز نہیں اور طلوع میں شک ہو جب بھی ناجائز اور طلوع کے ساتھ ساتھ شروع کی تو جائز ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: ظہر یا جمعہ کے پہلے کی سنت فوت ہوگئی اور فرض پڑھ ليے تو اگر وقت باقی ہے بعد فرض کے پڑھے اور افضل یہ ہے کہ پچھلی سنتيں پڑھ کر ان کو پڑھے۔ (6) (فتح القدیر)
مسئلہ ۱۰: فجر کی سنت قضا ہوگئی اور فرض پڑھ ليے تو اب سنتوں کی قضا نہیں البتہ امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کہ طلوع آفتاب کے بعد پڑھ لے تو بہتر ہے۔ (7) (غنیہ) اور طلوع سے پیشتر (8) بالاتفاق ممنوع ہے۔ (9) (ردالمحتار) آج کل
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في السنن و النوافل، ج۲، ص۵۴۸ ۔ ۵۵۰.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في السنن و النوافل، ج۲، ص۵۴۹.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في السنن و النوافل، ج۲، ص۵۵۰.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ج۱، ص۱۱۲.
6 ۔ ''فتح القدير''، کتاب الصلاۃ، باب ادراک الفريضۃ، ج۱، ص۴۱۶، و باب النوافل، ص۳۸۶.
7 ۔ ''غنیۃ المتملي ''، فصل في النوافل، ص۳۹۷.
8 ۔ يعنی سُورج نکلنے سے پہلے۔
9 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في السنن و النوافل، ج۲، ص۵۵۰.
اکثر عوام بعد فرض فوراً پڑھ لیا کرتے ہیں یہ ناجائز ہے، پڑھنا ہو تو آفتاب بلند ہونے کے بعدزوال سے پہلے پڑھیں۔
مسئلہ ۱۱: قبل طلوع آفتاب سنت فجر قضا پڑھنے کے ليے یہ حیلہ کرنا کہ شروع کرکے توڑ دے پھر ادا کرے یہ ناجائز ہے۔ سنت فجر پڑھ لی اور فرض قضا ہو گئے تو قضا پڑھنے میں سنت کا اعادہ نہ کرے۔ (1) (غنیہ)
مسئلہ ۱۲: فرض تنہا پڑھے جب بھی سنتوں کا ترک جائز نہیں ہے۔ (2) (عالمگیری) سنت فجر کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورۂ کافرون اور دوسری میں
قُلْ ھُوَ اللہُ
پڑھنا سنت ہے۔ (3) (غنیہ وغیرہ)
مسئلہ ۱۳: جماعت قائم ہونے کے بعد کسی نفل کا شروع کرنا جائز نہیں سوا سنت فجر کے کہ اگر یہ جانے کہ سنت پڑھنے کے بعد جماعت مل جائے گی، اگرچہ قعدہ ہی میں شامل ہو گا تو سنت پڑھ لے مگر صف کے برابر پڑھنا جائز نہیں ،بلکہ اپنے گھر پڑھے یا بیرون مسجد کوئی جگہ قابل نماز ہو تو وہاں پڑھے اور یہ ممکن نہ ہو تو اگر اندر کے حصہ میں جماعت ہوتی ہو تو باہر کے حصہ میں پڑھے ،باہر کے حصہ میں ہو تو اندر اور اگر اس مسجد میں اندر باہر دو درجے نہ ہوں تو ستون یا پیڑ کی آڑ میں پڑھے کہ اس میں اور صف میں حائل ہو جائے اور صف کے پیچھے پڑھنا بھی ممنوع ہے اگرچہ صف میں پڑھنا زیادہ بُرا ہے۔
آج کل اکثر عوام اس کا بالکل خیال نہیں کرتے اور اسی صف میں گھس کر شروع کر دیتے ہیں یہ ناجائز ہے اور اگر ہنوز جماعت شروع نہ ہوئی تو جہاں چاہے سنتیں شروع کرے خواہ کوئی سنت ہو۔ (4) (غنیہ)
مگر جانتا ہو کہ جماعت جلد قائم ہونے والی ہے اور یہ اُس وقت تک سنتوں سے فارغ نہ ہوگا تو ایسی جگہ نہ پڑھے کہ اس کے سبب صف قطع ہو۔
مسئلہ ۱۴: امام کو رکوع ميں پایا اور يہ نہيں معلوم کہ پہلی رکعت کا رکوع ہے يا دوسری کا تو سنت ترک کرے اور مل جائے۔ (5) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۵: اگر وقت میں گنجائش ہو اور اس وقت نوافل مکروہ نہ ہوں تو جتنے نوافل چاہے پڑھے اور اگر نماز فرض یا جماعت جاتی رہے گی تو نوافل میں مشغول ہونا ناجائز ہے۔
1 ۔ ''غنیۃ المتملي ''، فصل في النوافل، ۳۹۸.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ج۱، ص۱۱۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ج۱، ص۱۱۲.
و ''غنیۃ المتملي''، فصل في النوافل فروع لو ترک، ص۳۹۹.
4 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في النوافل، ۳۹۶.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب العاشر في ادراک الفريضۃ، ج۱، ص۱۲۰.
مسئلہ ۱۶: سنت و فرض کے درمیان کلام کرنے سے اصح یہ ہے کہ سنت باطل نہیں ہوتی البتہ ثواب کم ہو جاتا ہے۔ یہی حکم ہر اُس کام کا ہے جو منافی تحریمہ ہے۔ (1) (تنویر) اگر بیع و شرا (2) یا کھانے میں مشغول ہوا تو اعادہ کرے، ہاں سنتِ بعدیہ میں اگر کھانا لایا گیا اور بدمزہ ہوجانے کا اندیشہ ہے تو کھانا کھالے پھر سنت پڑھے مگر وقت جانے کا اندیشہ ہو تو پڑھنے کے بعد کھائے اور بلا عذر سنتِ بعدیہ کی بھی تاخیر مکروہ ہے اگرچہ ادا ہو جائے گی۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: عشا و عصر کے پہلے نیز عشا کے بعد چار چار رکعتيں ایک سلام سے پڑھنا مستحب ہے اور یہ بھی اختیار ہے کہ عشا کے بعد دو ہی پڑھے مستحب ادا ہو جائے گا۔ يوہيں ظہر کے بعد چار رکعت پڑھنا مستحب ہے کہ حدیث میں فرمایا:
''جس نے ظہر سے پہلے چار اور بعد میں چار پر محافظت کی، اللہ تعالیٰ اُس پر آگ حرام فرما دے گا۔'' (4)
علامہ سید طحطاوی فرماتے ہیں کہ سرے سے آگ میں داخل ہی نہ ہوگا اور اُس کے گناہ مٹا ديے جائیں گے اور جو اس پر مطالبات ہیں اللہ تعالیٰ اُس کے فریق کو راضی کر دے گا یا یہ مطلب ہے کہ اسے ایسے کاموں کی توفیق دے گا جن پر سزا نہ ہو۔ (5) اور علامہ شامی فرماتے ہیں کہ اُس کے ليے بشارت ہے: کہ ''سعادت پر اس کا خاتمہ ہو گا اور دوزخ میں نہ جائے گا۔'' (6)
مسئلہ ۱۸: سنت کی منت مانی اور پڑھی سنت ادا ہوگئی۔ یوہیں اگر شروع کرکے توڑ دی پھر پڑھی جب بھی سنت ادا ہوگئی۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: نفل نماز منت مان کر پڑھنا بغیر منت کے پڑھنے سے بہتر ہے جب کہ منت کسی شرط کے ساتھ نہ ہو، مثلاً فلاں بیمار صحیح ہو جائے گا تو اتنی نماز پڑھوں گا اور سنتوں میں منت نہ ماننا افضل ہے۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: بعد مغرب چھ رکعتیں مستحب ہیں ان کو صلاۃ الاوّابین کہتے ہیں، خواہ ایک سلام سے سب پڑھے یا دو سے یا
1 ۔ ''تنوير الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۵۸.
2 ۔ یعنی خريد و فروخت۔
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في تحیۃ المسجد، ج۲، ص۵۵۹.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، الحديث: ۴۲۷، ج۱، ص۴۳۵.
5 ۔ ''حاشیۃ الطحطاوي علی الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۱، ص۲۸۴.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في السنن و النوافل، ج۲، ص۵۴۷.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث مھم: في الکلام علی الضجعۃ بعد سنۃ الفجر، ج۲، ص۵۶۱.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في الکلام علی حديث النھی عن النذر، ج۲، ص۵۶۲.
تین سے اور تین سلام سے یعنی ہر دو رکعت پر سلام پھیرنا افضل ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: ظہر و مغرب و عشا کے بعد جو مستحب ہے اس میں سنت مؤکدہ داخل ہے، مثلاً ظہر کے بعد چار پڑھیں تو مؤکدہ و مستحب دونوں ادا ہوگئیں اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ مؤکدہ و مستحب دونوں کو ایک سلام کے ساتھ ادا کرے یعنی چار رکعت پر سلام پھیرے۔ (2) (فتح القدیر)
مسئلہ ۲۲: عشا کے قبل کی سنتیں جاتی رہیں تو ان کی قضا نہیں پھر بھی اگر بعد میں پڑھے گا تو نفل مستحب ہے، وہ سنت مستحبہ جو فوت ہوئی ادا نہ ہوئی۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: دن کے نفل میں ایک سلام کے ساتھ چار رکعت سے زيادہ اور رات میں آٹھ رکعت سے زیادہ پڑھنا مکروہ ہے اور افضل یہ ہے کہ دن ہو یا رات ہو چار چار رکعت پر سلام پھیرے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: جو سنت مؤکدہ چار رکعتی ہے اس کے قعدۂ اولیٰ میں صرف التحیات پڑھے اگر بھول کر درود شریف پڑھ لیا تو سجدۂ سہو کرے اور ان سنتوں میں جب تیسری رکعت کے ليے کھڑا ہوا تو
سُبْحٰنَکَ
اور
اَعُوْذُ
اَعُوْذُ بھی نہ پڑھے اور ان کے علاوہ اور چار رکعت والے نوافل کے قعدۂ اولیٰ میں بھی درود شریف پڑھے اور تیسری رکعت میں
سُبْحٰنَکَ
اور
اَعُوْذُ
بھی پڑھے، بشرطیکہ دو رکعت کے بعد قعدہ کیا ہو ورنہ پہلا
سُبْحٰنَکَ
اور
اَعُوْذُ
کافی ہے، منت کی نماز کے بھی قعدۂ اولیٰ میں درود پڑھے اور تیسری میں ثنا و تعوذ۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: چار رکعت نفل پڑھے اور قعدۂ اولیٰ فوت ہوگیا بلکہ قصداً بھی ترک کر دیا تو نماز باطل نہ ہوئی اور بھول کر تیسری رکعت کے ليے کھڑا ہوگیا تو عود نہ کرے اور سجدۂ سہو کرلے نماز کامل ادا ہوگی، اگر تين رکعتيں پڑھيں اور دوسری پر نہ بيٹھا تو نماز فاسد ہوگی اور اگر دو رکعت کی نيت باندھی تھی اور بغير قعدہ کيے تيسری کے ليے کھڑا ہوگيا تو عود کرے ورنہ فاسد ہو جائے گی۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: نماز میں قیام طویل ہونا کثرتِ رکعات سے افضل ہے یعنی جب کہ کسی وقت معین تک نماز پڑھنا چاہے
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في السنن و النوافل، ج۲، ص۵۴۷.
2 ۔ ''فتح القدير''، کتاب الصلاۃ، باب النوافل، ج۱، ص۳۸۶.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، مطلب: ہل الإساء ۃ دون الکراہۃ... إلخ، ج۲، ص۶۲۱.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۵۰.
5 ۔ المرجع السابق، ص۵۵۲.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ج۱، ص۱۱۳.
مثلاً دو رکعت میں اتنا وقت صرف کر دینا چار رکعت پڑھنے سے افضل ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔ مگر
(۱) تراویح و
(۲) تحیۃ المسجد اور
(۳) واپسی سفر کے دو نفل کہ ان کو مسجد میں پڑھنا بہتر ہے اور
(۴) احرام کی دو رکعتیں کہ میقات کے نزدیک کوئی مسجد ہو تو اس میں پڑھنا بہتر ہے اور
(۵) طواف کی دو رکعتیں کہ مقامِ ابراہیم کے پاس پڑھيں اور
(۶) معتکف کے نوافل اور
(۷) سورج گہن کی نماز کہ مسجد میں پڑھے اور
(۸) اگر یہ خیال ہو کہ گھر جا کر کاموں کی مشغولی کے سبب نوافل فوت ہو جائیں گے یا گھر میں جی نہ لگے گا اور خشوع کم ہو جائے گا تو مسجد ہی میں پڑھے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: نفل کی ہر رکعت میں امام و منفرد پر قراء ت فرض ہے اور اگر مقتدی ہو اگرچہ فرض پڑھنے والے کے پیچھے اقتدا کی ہو تو امام کی قراء ت اس کے ليے بھی کافی ہے اس پر خود پڑھنا نہیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: نفل نماز قصداً شروع کرنے سے واجب ہو جاتی ہے کہ اگر توڑ دے گا قضا پڑھنی ہوگی اور اگر قصداً شروع نہ کی تھی مثلاً یہ گمان تھا کہ فرض پڑھنا ہے اور فرض کی نیت سے شروع کیا پھر یادآیا کہ پڑھ چکا تھا تو اب یہ نفل ہے اور توڑ دینے سے قضا واجب نہیں بشرطیکہ یاد آتے ہی توڑ دے اور یاد آنے پر اس نماز کو پڑھنا اختیار کیا تو توڑ دینے سے قضا واجب ہوگی۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: اگر بلا قصد نماز فاسد ہوگئی جب بھی قضا واجب ہے مثلاً تیمم سے پڑھ رہا تھا اور اثنائے نماز (5) میں پانی پر
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب: قولھم کل شفع من النفل الصلاۃ ليس مطردا،
ج۲، ص۵۵۴.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب: قولھم کل شفع من النفل الصلاۃ ليس مطردا، ج۲، ص۵۶۲.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في صلاۃ الحاجۃ، ج۲، ص۵۷۳.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في صلاۃ الحاجۃ، ج۲، ص۵۷۴۔۵۷۶.
5 ۔ یعنی نماز کے دوران۔
قادر ہوا۔ يوہيں نفل پڑھتے میں عورت کو حیض ا ۤگیا تو قضا واجب ہوگئی بعد طہارت قضا پڑھے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: شروع کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ تحریمہ باندھے دوسری یہ کہ تیسری رکعت کے ليے کھڑا ہوگیا بشرطیکہ شروع صحیح ہو اور اگر شروع صحیح نہ ہو مثلاً اُمّی یا عورت کے پیچھے اقتدا کی یا بے وضو ناپاک کپڑوں میں شروع کر دی تو قضا واجب نہ ہوگی۔ (2) (ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: فرض پڑھنے والے کے پیچھے نفل کی نیت سے شروع کی پھر یاد آیا کہ یہ فرض مجھے پڑھنا ہے اور توڑ کر اسی فرض کی نیت سے اقتدا کی جو وہ پڑھ رہاتھا یا توڑ کر دوسرے نفل کی نیت کر کے شامل ہوا تو اُس نفل کی قضا واجب نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: طلوع و غروب و نصف النہار کے وقت نماز نفل شروع کی تو واجب ہے کہ توڑ دے اور وقت غیر مکروہ میں قضا پڑھے اور دوسرے وقت مکروہ میں قضا پڑھی جب بھی ہوگئی مگر گناہ ہوا اور پوری کرلی تو ہوگئی مگر وقت مکروہ میں پڑھنے کا گناہ ہوا، بلاوجہ شرعی نفل شروع کر کے توڑ دینا حرام ہے۔ (4) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۳۴: نفل نماز شروع کی اگرچہ چار کی نیت باندھی جب بھی دو ہی رکعت شروع کرنے والا قرار دیا جائے گا کہ نفل کا ہر شفع (یعنی دو رکعت) علیحدہ علیحدہ نماز ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: چار رکعت نفل کی نیت باندھی اور شفعِ اوّل یا ثانی میں توڑ دی تو دو رکعت قضا واجب ہوگی مگر شفعِ ثانی توڑنے سے دو رکعت قضا واجب ہونے کی يہ شرط ہے کہ دوسری رکعت پر قعدہ کرچکا ہو ورنہ چار قضا کرنی ہوں گی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: سنت مؤکدہ اور منت کی نماز اگر چار رکعتی ہو تو توڑنے سے چار کی قضا دے۔ يوہيں اگر چار رکعتی فرض پڑھنے والے کے پیچھے نفل کی نیت باندھی اور توڑ دی تو چار کی قضا واجب ہے۔ پہلے شفع میں توڑی یا دوسرے میں۔ (7) (درمختار وغیرہ)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في صلاۃ الحاجۃ، ج۲، ص۵۷۷.
2 ۔ المرجع السابق، ص۵۷۴، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ج۱، ص۱۱۴.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في صلاۃ الحاجۃ، ج۲، ص۵۷۴.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في صلاۃ الحاجۃ، ج۲، ص۵۷۶، وغیرہ .
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ج۱، ص۱۱۳.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۷۷.
7 ۔ المرجع السابق، ص۵۷۸، وغیرہ .
مسئلہ ۳۷: چار رکعت کی نیت باندھی اور چاروں میں قراء ت نہ کی یا پہلی دو میں يا پچھلی دو ميں نہ کی ياپہلی دومیں سے ایک رکعت میں نہ کی یا پچھلی دو میں سے ایک رکعت میں نہ کی یا پہلی دونوں اور پچھلی میں سے ایک میں قراء ت چھوڑ دی تو ان چھ صورتوں میں دو رکعت قضا واجب ہے۔ اور اگر پہلی دو میں سے ایک اور پچھلی دو میں سے ایک یا پہلی دو میں سے ایک میں اور پچھلی کی دونوں میں قراء ت چھوڑ دی تو ان صورتوں میں چار رکعت قضا واجب ہے۔ (1) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۳۸: اگر دو رکعت پر بقدر تشہد بیٹھا پھر توڑ دی تو اس صورت میں بالکل قضا نہیں بشرطیکہ تیسری کے ليے کھڑا نہ ہوا ہو اور پہلی دونوں میں قراء ت کرچکا ہو۔ (2) (درمختار) مگر بوجہ ترکِ واجب اس کے اعادہ کا حکم دیا جائے گا۔
مسئلہ ۳۹: نفل پڑھنے والے نے نفل پڑھنے والے کی اقتدا کی اگرچہ تشہد میں تو جو حال امام کا ہے وہی مقتدی کا ہے یعنی جتنی کی قضا امام پر واجب ہوگی مقتدی پر بھی واجب۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴۰: کھڑے ہو کر پڑھنے کی قدرت ہو جب بھی بیٹھ کر نفل پڑھ سکتے ہیں (4) مگر کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے کہ حدیث میں فرمایا: ''بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نصف ہے۔'' (5) اور عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھے تو ثواب میں کمی نہ ہوگی۔ یہ جو آج کل عام رواج پڑ گیا ہے کہ نفل بیٹھ کر پڑھا کرتے ہیں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید بیٹھ کر پڑھنے کو افضل سمجھتے ہیں ایسا ہے تو ان کا خیال غلط ہے۔ وتر کے بعد جو دو رکعت نفل پڑھتے ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھا افضل ہے اور اس میں اُس حدیث سے دلیل لانا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے وتر کے بعد بیٹھ کر نفل پڑھے۔ (6) صحیح نہیں کہ یہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کے مخصوصات میں سے ہے۔
چنانچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے، فرماتے ہیں: مجھے خبر پہنچی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم نے فرمایا ہے: کہ بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز سے آدھی ہے۔ اس کے بعد میں حاضر خدمتِ اقدس ہوا تو حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے پایا، سرِ اقدس پر میں نے ہاتھ رکھا (کہ بیمار تو نہیں) ارشاد فرمایا: کیا ہے اے عبداللہ؟ عرض کی، یا رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) ! حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے توایسا
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۷۹۔۵۸۱.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۸۲، ۵۸۳.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۸۳.
4 ۔ ''تنويرالأبصار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۸۴.
5 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرين و قصرہا، باب جواز النافلۃ قائما و قاعدا... إلخ، الحديث: ۷۳۵، ص۳۷۰.
6 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرين و قصرہا، باب صلاۃ الليل... إلخ، الحديث: ۱۲۶۔(۷۳۸)، ص۳۷۲ .
فرمایا ہے اور حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) بیٹھ کرنماز پڑھتے ہیں، فرمایا: ''ہاں و لیکن میں تم جیسا نہیں۔'' (1) امام ابراہیم حلبی و صاحب درمختار و صاحب ردالمحتار نے فرمایا: کہ یہ حکم حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کے خصائص سے ہے اور اسی حدیث سے استناد کیا۔ (2)
مسئلہ ۴۱: اگر رکوع کی حد تک جُھک کر نفل کا تحریمہ باندھا تو نما ز نہ ہوگی۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: لیٹ کر نفل نماز جائز نہیں جب کہ عذر نہ ہو اور عذر کی وجہ سے ہو تو جائز ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: کھڑے ہو کر شروع کی تھی پھر بیٹھ گیا یا بیٹھ کر شروع کی تھی پھر کھڑا ہوگیا دونوں صورتیں جائز ہیں، خواہ ایک رکعت کھڑے ہو کر پڑھی ایک بیٹھ کر یا ایک ہی رکعت کے ایک حصہ کو کھڑے ہو کر پڑھا اور کچھ حصہ بیٹھ کر۔ (5) (درمختار، ردالمحتار) مگر دوسری صورت یعنی کھڑے ہو کر شروع کی پھر بیٹھ گیا اس میں اِختلاف ہے، لہٰذا بچنا اَولیٰ ۔
مسئلہ ۴۴: کھڑے ہو کر نفل پڑھتا تھا اور تھک گیا تھا تو عصا یا دیوار پر ٹیک لگا کر پڑھنے میں حرج نہیں۔ (6) (عالمگیری) اور بغیر تھکے بھی اگر ایسا کرے تو کراہت ہے نماز ہو جائے گی۔
مسئلہ ۴۵: نفل بیٹھ کر پڑھے تو اس طرح بیٹھے جیسے تشہد میں بیٹھا کرتے ہیں مگر قراء ت کی حالت میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھے رہے جیسے قیام میں باندھتے ہیں۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۶: بيرون شہر (8) سواری پر بھی نفل پڑھ سکتا ہے اور اس صورت میں استقبالِ قبلہ شرط نہیں بلکہ سواری جس رُخ کو جا رہی ہو اِدھر ہی مونھ ہو اور اگر اُدھر مونھ نہ ہو تو نماز جائز نہیں اور شروع کرتے وقت بھی قبلہ کی طرف مونھ ہونا شرط نہیں بلکہ سواری جدھر جارہی ہے اُس طرف ہو اور رکوع و سجود اشارہ سے کرے اور سجدہ کا اشارہ بہ نسبت رکوع کے پست ہو۔ (9) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرين و قصرہا، باب جواز النافلۃ قائما و قاعدا... إلخ، الحديث: ۷۳۵، ص۳۷۰.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، مبحث المسائل ستۃ عشریۃ، ج۲، ص۵۸۵.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث المسائل الستۃ عشریۃ، ج۲، ص۵۸۴.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۸۴.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث المسائل الستۃ عشریۃ، ج۲، ص۵۸۴.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ج۱، ص۱۱۴.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، مبحث المسائل ستۃ عشریۃ، ج۲، ص۵۸۷.
8 ۔ بیرون شہر سے مراد وہ جگہ ہے جہاں سے مسافر پر قصر واجب ہوتا ہے۔ (عالمگیری) ۱۲ منہ حفظہ ربہ
9 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في الصلاۃ علی الدابۃ، ج۲، ص۵۸۸.
مسئلہ ۴۷: سواری پر نفل پڑھنے میں اگر ہانکنے کی ضرورت ہو اور عملِ قلیل سے ہانکا مثلاً ایک پاؤں سے ایڑ لگائی یا ہاتھ میں چابک ہے اُس سے ڈرایا تو حرج نہیں اور بلا ضرورت جائز نہیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۸: سواری پر نما زشروع کی پھر عملِ قلیل کے ساتھ اتر آیا تو اسی پر بنا کرسکتا ہے خواہ کھڑے ہو کر پڑھے یا بیٹھ کر مگر قبلہ کو مونھ کرنا ضروری ہے اور زمین پر شروع کی تھی پھر سوار ہوا تو بنا نہیں کر سکتا نماز جاتی رہی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴۹: گاؤں یا خیمہ کا رہنے والا جب گاؤں یا خیمہ سے باہر ہوا تو سواری پر نفل پڑھ سکتا ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۰: بیرون شہر سواری پر شروع کی تھی پڑھتے پڑھتے شہر میں داخل ہوگیا تو جب تک گھر نہ پہنچا سواری پر پوری کرسکتا ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۵۱: محمل اورسواری پر نفل نمازمطلقاً جائز ہے جبکہ تنہا پڑھے اور نفل نماز جماعت سے پڑھنا چاہے تو اس کے ليے شرط يہ ہے کہ امام و مقتدی الگ الگ سواريوں پر نہ ہوں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۵۲: محمل پر فرض نماز اُس وقت جائز ہے کہ اترنے پر قادر نہ ہو، ہاں اگر ٹھہرا ہوا ہو اور اس کے نیچے لکڑیاں لگا دیں کہ زمین پر قائم ہوگیا تو جائز ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۵۳: گاڑی کا جُوا (7) جانور پر رکھا ہو گاڑی کھڑی ہو یا چلتی اُس کا حکم وہی ہے جو جانور پر نماز پڑھنے کا ہے یعنی فرض و واجب و سنت فجر بلاعذر جائز نہیں اور اگر جوا جانور پر نہ ہو اور رُکی ہوئی ہو تو نماز جائز ہے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار) یہ حکم اس گاڑی کا ہے جس میں دو پہیّے ہوں چار پہیّے والی جب رُکی ہو تو صرف جُوا جانور پر ہوگا اور گاڑی زمین پر مستقر ہوگی، لہٰذا جب ٹھہری ہوئی ہو اس پر نماز جائز ہوگی جیسے تخت پر۔
مسئلہ ۵۴: گاڑی اور سواری پر نماز پڑھنے کے ليے یہ عذر ہیں۔ (۱) مينھ برس رہا ہے، (۲) اس قدر کیچڑ ہے کہ
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في الصلاۃ علی الدابۃ، ج۲، ص۵۸۹.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۸۹.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في الصلاۃ، علی الدابۃ، ج۲، ص۵۸۸.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۸۹.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۹۵.
6 ۔ المرجع السابق، ص۵۹۰.
7 ۔ يعنی وہ لکڑی جو گاڑی يا ہَل کے بيلوں کے کندھے پر رکھی جاتی ہے۔
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۹۱.
اُتر کر پڑھے گا تو مونھ دھنس جائے گا یا کیچڑ میں سن جائے گا یا جو کپڑا بچھا جائے گا وہ بالکل لتھڑ جائے گا اور اس صورت میں سواری نہ ہو تو کھڑے کھڑے اشارے سے پڑھے (۳) ساتھی چلے جائیں گے، (۴) یا سواری کا جانور شریر ہے کہ سوار ہونے میں دشواری ہوگی مددگار کی ضرورت ہوگی اور مدد گار موجود نہیں، (۵) یا وہ بوڑھا ہے کہ بغیر مددگار کے اُتر چڑ ھ نہ سکے گا اور مددگار موجود نہیں اور یہی حکم عورت کا ہے، (۶) یا مرض میں زیادتی ہوگی، (۷) جان (۸) یا مال، (۹) یا عورت کو آبرو کا اندیشہ ہو۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
چلتی ریل گاڑی پر بھی فرض و واجب و سنت فجر نہیں ہوسکتی اور اس کو جہاز اور کشتی کے حکم میں تصور کرنا غلطی ہے کہ کشتی اگر ٹھہرائی بھی جائے جب بھی زمین پر نہ ٹھہرے گی اور ریل گاڑی ایسی نہیں اور کشتی پر بھی اسی وقت نماز جائز ہے جب وہ بیچ دریا میں ہو کنارہ پر ہو اور خشکی پر آسکتا ہو تو اس پر بھی جائز نہیں ہے لہٰذا جب اسٹیشن پر گاڑی ٹھہرے اُس وقت یہ نمازیں پڑھے اوراگر دیکھے کہ وقت جاتا ہے تو جس طرح بھی ممکن ہو پڑھ لے پھر جب موقع ملے اعادہ کرے کہ جہاں مِن جہۃ العباد (2) کوئی شرط یا رکن مفقود ہو (3) اُس کا یہی حکم ہے۔
مسئلہ ۵۵: محمل کی ایک طرف خود سوار ہے دوسری طرف اس کی ماں یا زوجہ یا اور کوئی محارم میں ہے جو خود سوار نہیں ہوسکتی اور یہ خود اُتر چڑھ سکتا ہے مگر اس کے اُترنے میں محمل گر جانے کا اندیشہ ہے، اسے بھی اُسی پر پڑھنے کا حکم ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۵۶: جانور اور چلتی گاڑی پر اور اس گاڑی پر جس کا جوا جانور پر ہو بلاعذر شرعی فرض و سنت فجر و تمام واجبات جیسے وتر و نذر اور نفل جس کو توڑ دیا ہو اور سجدۂ تلاوت جب کہ آیت سجدہ زمین پر تلاوت کی ہو ادا نہیں کرسکتا اور اگر عذر کی وجہ سے ہو تو اُن سب میں شرط یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو قبلہ رُو کھڑا کر کے ادا کرے ورنہ جیسے بھی ممکن ہو۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۵۷: کسی نے منت مانی کہ دو رکعتیں بغیر طہارت پڑھے گا یا ان میں قراء ت نہ کریگا یا ننگا پڑھے گا یا ایک یا آدھی رکعت کی منت مانی تو ان سب صورتوں میں اُس پر دو رکعت طہارت و قراء ت و ستر کے ساتھ واجب ہوگئیں اور تین کی مانی تو چار واجب ہوئیں۔ (6) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في القادر بقدرۃ غيرہ، ج۲، ص۵۹۲.
2 ۔ یعنی بندوں کی طرف سے۔ 3 ۔ یعنی نہ پايا گيا ہو۔
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في القادر بقدرۃ غيرہ، ج۲، ص۵۹۳.
5 ۔ المرجع السابق، ص۵۹۴.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في القادر، بقدرۃ غيرہ، ج۲، ص۵۹۵.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ومم يتصل بذلک مسائل، ج۱، ص۱۱۵.
مسئلہ ۵۸: منت مانی کہ فلاں مقام پر نماز پڑھے گا اور اس سے کم درجہ کے مقام پر ادا کی ہوگئی۔ مثلاً مسجدِ حرام میں پڑھنے کی منت مانی اور مسجدِ قُدس یا گھر کی مسجد میں ادا کی۔ عورت نے منت مانی کہ کل نماز پڑھے گی یا روزہ رکھے گی دوسرے دن اسے حیض آگیا تو قضا کرے اور اگر یہ منت مانی کہ حالت حیض میں دو رکعت پڑھے گی تو کچھ نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵۹: منت مانی کہ آج دو رکعت پڑھے گا اور آج نہ پڑھی تو اس کی قضا نہیں، بلکہ کفارہ دینا ہو گا۔ (2) (عالمگيری)
مسئلہ ۶۰: مہینہ بھر کی نماز کی منت مانی تو ایک مہینے کے فرض و وتر کی مثل اس پر واجب ہے سنت کی مثل نہیں مگر وتر و مغرب کی جگہ چار رکعت پڑھے یعنی ہر روز بائیس رکعتیں۔ (3) (عالمگيری)
مسئلہ ۶۱: اگر کھڑے ہو کر پڑھنے کی منت مانی تو کھڑے ہو کر پڑھنا واجب ہے اور مطلق نماز کی منت ہے تو اختیار ہے۔ (4) (عالمگيری)
تنبیہ: نوافل تو بہت کثیر ہیں، اوقاتِ ممنوعہ کے سوا آدمی جتنے چاہے پڑھے مگر ان میں سے بعض جو حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم و ائمۂ دین رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہیں، بیان کيے جاتے ہیں۔
تحیۃ المسجد جو شخص مسجد میں آئے اُسے دو رکعت نماز پڑھنا سنت ہے بلکہ بہتر یہ ہے کہ چار پڑھے۔ (5)
بخاری و مسلم ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص مسجد میں داخل ہو، بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے۔'' (6)
مسئلہ ۱: ایسے وقت مسجد میں آیا جس میں نفل نماز مکروہ ہے مثلاً بعد طلوع فجر یا بعد نماز عصر وہ تحیۃ المسجد نہ پڑھے بلکہ تسبیح و تہلیل و درود شریف میں مشغول ہو حق مسجد ادا ہو جائے گا۔ (7) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في القادر، بقدرۃ غيرہ، ج۲، ص۵۹۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ومما يتصل بذلک مسائل، ج۱، ص۱۱۵.
اسکا کفارہ وہی ہے، جو قسم توڑنے کا ہے يعنی ایک غلام آزاد کرنا یا دس مسکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلانا یا کپڑا دینا یا تین روزے
رکھنا۔۱۲ منہ
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ومما يتصل بذلک مسائل، ج۱، ص۱۱۵.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في تحیۃ المسجد، ج۲، ص۵۵۵.
6 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الصلاۃ، باب إذا دخل المسجد فليرکع رکعتين، الحديث: ۴۴۴، ج۱، ص۱۷۰.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في تحیۃ المسجد، ج۲، ص۵۵۵.
مسئلہ ۲: فرض یا سنت یا کوئی نماز مسجد میں پڑھ لی تحیۃ المسجد ادا ہوگئی اگرچہ تحیۃ المسجد کی نیت نہ کی ہو۔ اس نماز کا حکم اس کے ليے ہے جو بہ نیت نماز نہ گیا بلکہ درس و ذکر وغیرہ کے ليے گیا ہو۔ اگر فرض یا اقتدا کی نیت سے مسجد میں گیا تو یہی قائم مقام تحیۃ المسجد ہے بشرطیکہ داخل ہونے کے بعد ہی پڑھے اور اگر عرصہ کے بعد پڑھے گا تو تحیۃ المسجد پڑھے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: بہتر یہ ہے کہ بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد پڑھ لے اور بغیر پڑھے بیٹھ گیا توساقط نہ ہوئی اب پڑھے۔ (2) (درمختاروغیرہ)
مسئلہ ۴: ہر روز ایک بار تحیۃ المسجد کافی ہے ہر بار ضرورت نہیں اور اگر کوئی شخص بے وضو مسجد میں گیا یا اور کوئی وجہ ہے کہ تحیۃ المسجد نہیں پڑھ سکتا تو چار بار
سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرْ
کہے۔ (3) (درمختار)
تحيۃ الوضو
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في تحیۃ المسجد، ج۲، ص۵۵۵.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۵۷.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''تنوير الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۶۳.
5 ۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضوء، الحدیث: ۲۳۴، ص۱۴۴.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلوۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب: سنۃ الوضوء، ج۲،ص۵۶۳.
7 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب السفر، باب ما ذکر مما يستحب من الجلوس في المسجد... إلخ، الحديث ۵۸۶، ج۲، ص۱۰۰.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ج۱، ص۱۱۲.
بنائے گا۔'' (1) اس حدیث کو ترمذی و ابن ماجہ نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
صحیح ۲ و ۳ مسلم شریف میں ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : آدمی پر اس کے ہر جوڑ کے بدلے صدقہ ہے (اور کل تین سو ساٹھ جوڑ ہیں) ہر تسبیح صدقہ ہے اور ہر حمد صدقہ ہے اور
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہنا صدقہ ہے اور
اَللہُ اَکْبَرْ
کہنا صدقہ ہے اور اچھی بات کا حکم کرنا صدقہ ہے اور بری بات سے منع کرنا صدقہ ہے اور ان سب کی طرف سے دو رکعتیں چاشت کی کفایت کرتی ہیں۔ (2)
ترمذی ۴ و ۵ ابو درداء و ابوذر سے اور ابو داود و دارمی نعیم بن ہمّار سے اور احمد ان سب سے راوی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم اللہ عزوجل فرماتا ہے: ''اے ابن آدم! شروع دن میں میرے ليے چار رکعتیں پڑھ لے، آخر دن تک میں تیری کفایت فرماؤں گا۔'' (3)
طبرانی ۶ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جس نے دو رکعتیں چاشت کی پڑھیں، غافلین میں نہیں لکھا جائے گا اور جو چار پڑھے عابدین میں لکھا جائے گا اور جو چھ پڑھے اس دن اُس کی کفایت کی گئی اور جو آٹھ پڑھے اللہ تعالیٰ اسے قانتین میں لکھے گا اور جو بارہ پڑھے اللہ تعالیٰ اُس کے ليے جنت میں ایک محل بنائے گا اور کوئی دن یا رات نہیں جس میں اللہ تعالیٰ بندوں پر احسان و صدقہ نہ کرے اور اس بندہ سے بڑھ کر کسی پر احسان نہ کیا جسے اپنا ذکر الہام کیا۔'' (4)
احمد ۷ و ترمذی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم : ''جو چاشت کی دو رکعتوں پر محافظت کرے، اس کے گناہ بخش ديے جائیں گے اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔'' (5)
مسئلہ ۱: اس کا وقت آفتاب بلند ہونے سے زوال یعنی نصف النہار شرعی تک ہے اور بہتر یہ ہے کہ چوتھائی دن چڑھے پڑھے۔ (6) (عالمگیری، ردالمحتار)
نمازِ سفر کہ سفر میں جاتے وقت دو رکعتیں اپنے گھر پر پڑھ کر جائے۔ (7) طبرانی کی حدیث میں ہے: کہ ''کسی نے
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الوتر، باب ماجاء في صلاۃ الضحٰی، الحدیث: ۴۷۲، ج۲، ص۱۷.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرین، باب استحباب صلاۃ الضحٰی... إلخ، الحدیث: ۷۲۰، ص۳۶۳.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الوتر، باب ماجاء في صلاۃ الضحٰی، الحدیث: ۴۷۴، ج۲، ص۱۹.
4 ۔ ''الترغيب والترھیب''، الترغيب في صلاۃ الضحٰی، الحدیث: ۱۴، ج۱، ص۲۶۶.
5 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند و أبي ھریرۃ، الحدیث: ۱۰۴۸۵، ج۳، ص۵۶۴.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ج۱، ص۱۱۲.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب: سنۃ الوضوء، ج۲، ص۵۶۳.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في رکعتی السفر، ج۲، ص۵۶۵.
اپنے اہل کے پاس اُن دو رکعتوں سے بہتر نہ چھوڑا، جو بوقت ارادۂ سفر ان کے پاس پڑھیں۔'' (1)
نماز واپسی سفر کہ سفر سے واپس ہو کر دو رکعتیں مسجد میں ادا کرے۔ (2) صحیح مسلم میں کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ ''رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم سفر سے دن میں چاشت کے وقت تشریف لاتے اور ابتداءً مسجد میں جاتے اور دو رکعتیں اُس میں نماز پڑھتے پھر وہیں مسجد میں تشریف رکھتے۔'' (3)
مسئلہ ۱: مسافر کو چاہیے کہ منزل میں بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نفل پڑھے جیسے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کیا کرتے تھے۔ (4) (ردالمحتار)
صلاۃ الليل ايک رات میں بعد نماز عشا جو نوافل پڑھے جائیں ان کو صلاۃ اللیل کہتے ہیں اور رات کے نوافل دن کے نوافل سے افضل ہیں کہ ۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں مرفوعاً ہے فرضوں کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے۔ (5) اور
حدیث ۲: طبرانی نے مرفوعاً روایت کی ہے کہ رات میں کچھ نماز ضروری ہے اگرچہ اتنی ہی دیر جتنی دیر میں بکری دَوہ لیتے ہیں اور فرض عشا کے بعد جو نماز پڑھی وہ صلاۃ اللیل ہے۔ (6)
مسئلہ ۱: اسی صلاۃ اللیل کی ایک قسم تہجد ہے کہ عشا کے بعد رات میں سو کر اُٹھیں اور نوافل پڑھیں، سونے سے قبل جو کچھ پڑھیں وہ تہجد نہیں۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: تہجد نفل کا نام ہے اگر کوئی عشا کے بعد سو رہا پھر اٹھ کر قضاپڑھی تو اُس کو تہجد نہ کہیں گے۔ (8) (ردالمحتار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في رکعتی السفر، ج۲، ص۵۶۵.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في رکعتی السفر، ج۲، ص۵۶۵.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرین، باب استحباب رکعتین في المسجد... إلخ، الحدیث: ۷۱۶، ص۳۶۱.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في رکعتی السفر، ج۲، ص۵۶۵.
5 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم، الحدیث: ۱۱۶۳، ص۵۹۱.
6 ۔ ''المعجم الکبير''، باب الألف، الحدیث: ۷۸۷، ج۱، ص۲۷۱.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في صلاۃ الليل، ج۲، ص۵۶۶.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في صلاۃ الليل، ج۲، ص۵۶۷.
مسئلہ ۳: کم سے کم تہجد کی دو رکعتیں ہیں اور
حدیث ۳: حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے آٹھ تک ثابت۔
حدیث ۴: نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص رات میں بیدار ہواور اپنے اہل کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعت پڑھیں تو کثرت سے یاد کرنے والوں میں لکھے جائیں گے۔'' اس حدیث کو نسائی و ابن ماجہ اپنی سنن میں اور ابن حبان اپنی صحیح میں اورحاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور منذری نے کہا یہ حدیث بر شرط شیخین صحیح ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جو شخص دو تہائی رات سونا چاہے اور ایک تہائی عبادت کرنا، اُسے افضل یہ ہے کہ پہلی اور پچھلی تہائی میں سوئے اور بیچ کی تہائی میں عبادت کرے اور اگر نصف شب میں سونا چاہتا ہے اور نصف جاگنا تو پچھلی نصف میں عبادت افضل ہے کہ
حدیث ۵: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: کہ رب عزوجل ہر رات میں جب پچھلی تہائی باقی رہتی ہے آسمان دنیا پر تجلّی خاص فرماتا ہے اور فرماتا ہے: ''ہے کوئی دُعا کرنے والا کہ اس کی دُعا قبول کروں، ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے دوں، ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ اس کی بخشش کر دوں۔'' (2)
اور سب سے بڑھ کر تو نماز داود ہے۔ کہ
حدیث ۶: بخاری و مسلم عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: سب نمازوں میں اللہ عزوجل کو زیادہ محبوب نماز داود ہے کہ آدھی رات سوتے اور تہائی رات عبادت کرتے پھر چھٹے حِصّہ میں سوتے۔ (3)
مسئلہ ۵: جو شخص تہجد کا عادی ہو بلا عذر اُسے چھوڑنا مکروہ ہے۔ کہ
حدیث ۷: صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ارشاد فرمایا: ''اے عبداللہ! تو فلاں کی طرح نہ ہونا کہ رات میں اُٹھا کرتا تھا پھر چھوڑ دیا۔'' (4) نیز
حدیث ۸: بخاری و مسلم وغیرہما میں ہے فرمایا: کہ ''اعمال میں زیادہ پسند اللہ عزوجل کو وہ ہے جو ہمیشہ ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔'' (5)
1 ۔ ''المستدرک'' للحاکم، کتاب صلاۃ التطوع، باب تودیع المنزل برکعتین، الحدیث: ۱۲۳۰، ج۱، ص۶۲۴.
''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ باب الوتر والنوافل، مطلب في صلاۃ اللیل، ج۲، ص۵۶۷.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرین، باب الترغيب في الدعاء... إلخ، الحدیث: ۷۵۸، ص۳۸۱.
3 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب احادیث الانبیاء، باب احب الصلاۃ إلی اللہ صلاۃ داود... إلخ، الحدیث: ۳۴۲۰، ج۲، ص۴۴۸.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب التہجد، باب ما یکرہ من ترک قیام اللیل لمن کان یقومہ، الحدیث: ۱۱۵۲، ج۱، ص۳۹۰.
5 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضیلۃ العمل الدائم... إلخ، الحدیث: ۲۱۸۔(۷۸۳)، ص۳۹۴.
مسئلہ ۶: عیدین اور پندرھویں شعبان کی راتوں اور رمضان کی اخیر دس راتوں اور ذی الحجہ کی پہلی دس راتوں میں شب بیداری مستحب ہے اکثر حصہ میں جا گنا بھی شب بیداری ہے۔ (1) (درمختار) عیدین کی راتوں میں شب بیداری یہ ہے کہ عشا و صبح دونوں جماعت اولیٰ سے ہوں۔ کہ
صحیح حدیث میں فرمایا: ''جس نے عشا کی نماز جماعت سے پڑھی، اُس نے آدھی رات عبادت کی اور جس نے نماز فجر جماعت سے پڑھی، اس نے ساری رات عبادت کی۔'' (2) اور ان راتوں میں اگر جاگے گا تو نماز عید و قربانی وغیرہ میں دقت ہوگی۔ لہٰذا اسی پر اکتفا کرے اور اگر ان کاموں میں فرق نہ آئے تو جا گنا بہت بہتر۔
مسئلہ ۷: ان راتوں میں تنہا نفل نماز پڑھنا اور تلاوت قرآن مجید اور حدیث پڑھنا اور سُننا اور درود شریف پڑھنا شب بیداری ہے نہ کہ خالی جاگنا۔ (3) (ردالمحتار) صلاۃ اللیل کے متعلق آٹھ حدیثیں ضمناً ابھی مذکور ہوئیں اس کے فضائل کی بعض حدیثیں اور سنيے۔
حدیث ۹: ترمذی و ابن ماجہ و حاکم برشرط شیخین عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں: ''رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے۔'' تو کثرت سے لوگ حاضرِ خدمت ہوئے، میں بھی حاضر ہوا، جب میں نے حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے چہرہ کو غور سے دیکھا پہچان لیا کہ يہ مونھ جھوٹوں کا مونھ نہیں۔ کہتے ہیں پہلی بات جو میں نے حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) سے سُنی یہ ہے فرمایا: ''اے لوگو! سلام شائع کرو اور کھانا کھلاؤ اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو اور رات میں نماز پڑھو جب لوگ سوتے ہوں، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوگے۔'' (4)
حدیث ۱۰: حاکم نے بافادۂ تصحیح روایت کی، کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوال کیا تھا کوئی ایسی چیز ارشاد ہو کہ اُس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہوں؟ اُس پر بھی وہی جواب ارشاد ہوا۔ (5)
حدیث ۱۱،۱۲: طبرانی کبیر میں باسناد حسن و حاکم بافادۂ تصحیح برشرط شیخین عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جنت میں ایک بالا خانہ ہے کہ باہر کا اندر سے دکھائی دیتا ہے اور اندر کا باہر سے۔'' ابو مالک
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۶۸.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب فضل الصلاۃ العشاء... إلخ، الحديث: ۶۵۶، ص۳۲۹.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في إحياء ليالی العيدين... إلخ، ج۲، ص۵۶۹.
4 ۔ ''المستدرک'' للحاکم، کتاب البروالصلۃ، باب إرحموا أھل الارض... إلخ، الحدیث: ۷۳۵۹، ج۵، ص۲۲۱.
و ''الترغيب و الترھيب''، کتاب النوافل، الترغيب في قیام اللیل، الحدیث: ۴، ج۱، ص۲۳۹.
5 ۔ ''المستدرک'' للحاکم، کتاب البروالصلۃ، باب إرحموا أھل الارض... إلخ، الحدیث: ۷۳۶۰، ج۵، ص۲۲۱.
اشعری نے عرض کی، یا رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ! وہ کس کے ليے ہے؟ فرمایا: ''اُس کے ليے کہ اچھی بات کرے اور کھانا کھلائے اور رات میں قیام کرے جب لوگ سوتے ہوں۔'' (1) اور اسی کے مثل ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حدیث ۱۳: بیہقی کی ایک روایت اسماء بنتِ یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہے کہ فرماتے ہیں: قیامت کے دن لوگ ایک میدان میں جمع کيے جائیں گے، اس وقت منادی پکارے گا، کہاں ہیں وہ جن کی کروٹیں خواب گاہوں سے جدا ہوتی تھیں؟ وہ لوگ کھڑے ہوں گے اور تھوڑے ہوں گے یہ جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے پھر اور لوگوں کے ليے حساب کا حکم ہوگا۔ (2)
حدیث ۱۴: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں: ''رات ميں ایک ایسی ساعت ہے کہ مرد مسلمان اُس ساعت میں اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی جوبھلائی مانگے، وہ اسے دے گا اور یہ ہر رات میں ہے۔'' (3)
حدیث ۱۵،۱۶: ترمذی ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''قیام اللیل کو اپنے اوپر لازم کر لو کہ یہ اگلے نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور تمھارے رب (عزوجل) کی طرف قربت کا ذریعہ اور سیّآت کا مٹانے والا اور گناہ سے روکنے والا۔'' (4) اور سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں یہ بھی ہے، کہ ''بدن سے بیماری دفع کرنے والا ہے۔'' (5)
حدیث ۱۷: صحیح بخاری میں عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو رات میں اُٹھے اور یہ دُعا پڑھے۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ لَـہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ وَ سُبْحٰنَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ رَبِّ اغْفِرْلِیْ . (6)
1 ۔ ''المستدرک'' للحاکم، کتاب صلاۃ التطوع، باب صلاۃ الحاجۃ، الحدیث: ۱۲۴۰، ج۱، ص۶۳۱، عن عبد اللہ بن عمرو.
2 ۔ ''شعب الإيمان''، باب في الصلوات، الحديث: ۳۲۴۴، ج۳، ص۱۶۹.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرین، باب في اللیل ساعۃ مستجاب فیھا الدعاء، الحدیث: ۷۵۷، ص۳۸۰.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الدعوات، باب فی دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، الحدیث: ۳۵۶۰، ج۵، ص۳۲۲.
5 ۔ ''المعجم الکبير''، باب السین، الحدیث: ۶۱۵۴، ج ۶، ص۲۵۸.
6 ۔ ترجمہ: اللہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اسی کے ليے ملک ہے اور اسی کے ليے حمد ہے اور وہ ہر شے پر قادرہے اور پاک ہے اللہ (عزوجل) اور حمد ہے اللہ (عزوجل) کے ليے اور اللہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ (عزوجل) بڑا ہے اور نہیں ہے گناہ سے پھرنا اور نہ نیکی کی طاقت مگر اللہ (عزوجل) کے ساتھ اے میرے پروردگار! تُو مجھے بخش دے۔ ۱۲
پھر جو دُعا کرے مقبول ہوگی اور اگر وضو کر کے نماز پڑھے تو اس کی نماز مقبول ہوگی۔'' (1)
حدیث ۱۸: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رات کو تہجد کے ليے اٹھتے تو یہ دُعا پڑھتے۔
اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ قَـیِّمُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ مَلِکُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ الْحَقُّ وَ وَعْدُکَ الْحَقُّ وَ لِقَاءُ کَ حَقٌّ وَّقَوْلُکَ حَقٌّ وَّالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَّالنَّارُ حَقٌّ وَّ النَّبِیُّوْنَ حَقٌّ وَّمُحَمَّدٌ حَقٌ وَّالسَّاعَۃُ حَقٌّ اَللّٰھُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْکَ اَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَاِلَیْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَنْتَ اَعلَمُ بِہٖ مِنِّیْ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اَنْتَ وَلَا اِلٰـہَ غَیْرُکَ . (2)
یہ ایک دُعا اور چند حدیثیں ذکر کر دی گئیں اور اُن کے علاوہ اس نماز کے فضائل میں بکثرت احادیث وارد ہیں، جسے اللہ عزوجل توفیق عطا فرمائے اس کے ليے یہی بس ہیں۔
حدیث صحیح جس کو مسلم کے سوا جماعت محدثین نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا، فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم کو تمام امور میں استخارہ کی تعلیم فرماتے، جیسے قرآن کی سُورت تعلیم فرماتے تھے، فرماتے ہیں:
1 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب التھجد، باب فضل من تعار من اللیل فصلی، الحدیث: ۱۱۵۴، ج۱، ص۳۹۱.
و ''مرقاۃ المفاتیح''، کتاب الصلوٰۃ، باب ما یقول إذا قام من اللیل، تحت الحدیث: ۱۲۱۳، ج۳، ص۲۸۸.
2 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب التھجد، باب التھجد باللیل، الحدیث: ۱۱۲۰، ج۱، ص۳۸۱.
ترجمہ: الٰہی! تیرے ہی ليے حمد ہے، آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا توقائم رکھنے والا ہے اور تیرے ہی ليے حمد ہے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا تو نور ہے اور تیرے ہی ليے حمد ہے آسمان و زمين اور جو کچھ ان ميں ہے تو سب کا بادشاہ ہے اور تیرے ہی ليے حمد ہے، تو حق ہے اورتیرا وعدہ حق ہے اور تجھ سے ملنا (قیامت) حق ہے اور جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے اور انبیا حق ہیں اور محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) حق ہیں اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ (عزوجل) تیرے ليے میں اسلام لایا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھی پر توکل کیا اور تیری ہی طرف رجوع کی اور تیری ہی مدد سے خصومت کی اور تیری ہی طرف فیصلہ لایا پس تُو بخش دے میرے ليے وہ گناہ جو میں
نے پہلے کیا اور پیچھے کیا اور چھپا کر کیا اور اعلانیہ کیا اور وہ گناہ جس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تُو ہی آگے بڑھانے والا ہے اور تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ ۱۲
''جب کوئی کسی امر کا قصد کرے تو دو رکعت نفل پڑھے پھر کہے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَ اَسْأَ لُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَ تَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ اَوْقَالَ عَاجِلِ اَمْرِی وَاٰجِلِہٖ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِـبَۃِ اَمْرِیْ اَوْ قَالَ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ رَضِّنِیْ بِہٖ . (1)
اور اپنی حاجت کا ذکر کرے خواہ بجائے
ھٰذَا الْاَمْر
کے حاجت کا نام لے یا اُس کے بعد۔ (2) (ردالمحتار)
اَوْ قَالَ عَاجِلِ اَمْرِیْ
میں
اَوْ
شک راوی ہے، فقہا فرماتے ہیں کہ جمع کرے یعنی یوں کہے۔
وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ وَعَاجِلِ اَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ . (3) (غنیہ)
مسئلہ ۱: حج اور جہاد اور دیگر نیک کاموں میں نفس فعل کے ليے استخارہ نہیں ہوسکتا، ہاں تعیین وقت کے ليے کرسکتے ہیں۔ (4) (غنیہ)
مسئلہ ۲: مستحب یہ ہے کہ اس دُعا کے اوّل آخر
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ
اور درود شریف پڑھے اور پہلی رکعت میں
قُلْ یٰاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ
اور دوسری میں
قُلْ ھُوَ اللہُ
پڑھے اور بعض مشایخ فرماتے ہیں کہ پہلی میں
وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَیَخْتَارُ یُعْلِنُوْنَ
تک اور دوسری میں
وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ
آخر آیت تک بھی پڑھے۔ (5) (ردالمحتار)
1 ۔ ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) میں تجھ سے استخارہ کرتا ہوں تیرے علم کے ساتھ اور تیری قدرت کے ساتھ طلب قدرت کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں اس ليے کہ تو قادر ہے اور میں قادر نہیں اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کا جاننے والا ہے۔ اے اللہ (عزوجل) اگر تیرے علم میں یہ ہے کہ یہ کام میرے ليے بہتر ہے میرے دین و معیشت اور انجام کار میں يا فرمایا اس وقت اور آئندہ میں تُو اس کو میرے ليے مقدر کر دے اور آسان کر پھر میرے ليے اس میں برکت دے اور اگر تو جانتا ہے کہ میرے ليے یہ کام برا ہے میرے دین و معیشت اور انجام کار میں یا فرمایا اس وقت اور آئندہ میں تو اس کو مجھ سے پھیر دے اور مجھ کو اس سے پھیر اور میرے ليے خیر کو مقرر فرما جہاں بھی ہو پھر مجھے اوس سے راضی کر۔ ۱۲
2 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب التھجد، باب ماجاء في التطوع... إلخ، الحدیث: ۱۱۶۲، ج۱، ص۳۹۳.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في رکعتی الاستخارۃ، ج۲، ص۵۶۹.
3 ۔ ''غنیۃ المتملي''، رکعتا الاستخارۃ، ص۴۳۱.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في رکعتی الاستخارۃ، ج۲، ص۵۷۰.
مسئلہ ۳: بہتر یہ ہے کہ سات بار استخارہ کرے کہ ایک حدیث میں ہے: ''اے انس! جب تو کسی کام کا قصد کرے تو اپنے رب (عزوجل) سے اس میں سات بار استخارہ کر پھر نظر کر تیرے دل میں کیا گذرا کہ بیشک اُسی میں خیر ہے۔'' (1) اور بعض مشایخ سے منقول ہے کہ دُعائے مذکور پڑھ کر باطہارت قبلہ رُو سو رہے اگر خواب میں سپیدی یا سبزی دیکھے تو وہ کام بہتر ہے اور سیاہی یا سُرخی دیکھے تو بُرا ہے اس سے بچے۔ (2) (ردالمحتار) استخارہ کا وقت اس وقت تک ہے کہ ایک طرف رائے پوری جم نہ چکی ہو۔
اس نماز میں بے انتہا ثواب ہے بعض محققین فرماتے ہیں اس کی بزرگی سن کر ترک نہ کریگا مگر دین میں سُستی کرنے والا۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ''اے چچا! کیامیں تم کو عطا نہ کروں، کیا میں تم کو بخشش نہ کروں، کیا میں تم کو نہ دوں تمھارے ساتھ احسان نہ کروں، دس خصلتیں ہیں کہ جب تم کرو تو اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ بخش دے گا۔ اگلا پچھلا پُرانا نیا جو بھول کرکیا اور جو قصداً کیا چھوٹا اور بڑا پوشیدہ اور ظاہر، اس کے بعد صلاۃ التسبيح کی ترکیب تعلیم فرمائی پھر فرمایا: کہ اگر تم سے ہو سکے کہ ہر روز ایک بار پڑھو تو کرو اور اگر روز نہ کرو تو ہر جمعہ میں ایک بار اور یہ بھی نہ کرو تو ہر مہینہ میں ایک بار اور يہ بھی نہ کرو تو سال ميں ايک بار اور یہ بھی نہ کرو تو عمر میں ایک بار۔'' اور اس کی ترکیب ہمارے طور پر وہ ہے جو سنن ترمذی شریف میں بروایت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالیٰ عنہ مذکور ہے، فرماتے ہیں: اللہ اکبر کہہ کر
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَآ اِلٰـہَ غَیْرُکَ
پڑھے پھر یہ پڑھے
سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرْ
پندرہ بار پھر
اَعُوْذُ
اور
بِسْمِ اللہ
اور
اَلْحَمْد
اور سورت پڑھ کر دس بار یہی تسبیح پڑھے پھر رکوع کرے اور رکوع میں دس بار پڑھے پھر رکوع سے سر اٹھائے اور بعد تسمیع و تحمید دس بار کہے پھر سجدہ کو جائے اور اس میں دس بار کہے پھر سجدہ سے سر اٹھا کر دس بار کہے پھر سجدہ کو جائے اور اس ميں دس مرتبہ پڑھے۔ يوہيں چار رکعت پڑھے ہر رکعت میں ۷۵ بار تسبیح اور چاروں میں تین سو ہوئیں اور رکوع و سجود میں
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، سبُحْاَنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی
کہنے کے بعد تسبیحات پڑھے۔ (3) (غنیہ وغیرہا)
مسئلہ ۱: ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا گیا کہ آپ کو معلوم ہے اس نماز میں کون سورت پڑھی جائے؟ فرمایا: سورۂ
1 ۔ ''کنز العمال''، کتاب الصلاۃ، رقم: ۲۱۵۳۵، ج۷، ص۳۳۶.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في رکعتی الاستخارۃ، ج۲، ص۵۷۰.
3 ۔ ''غنیۃ المتملي''، صلاۃ التسبيح، ص۴۳۱.
تکاثر والعصر اور
قُلْ یٰاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ
اور
قُلْ ھُوَ اللہُ
اور بعض نے کہا سورۂ حدید اور حشر اور صف اور تغابن۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: اگر سجدۂ سہو واجب ہو اور سجدے کرے تو ان دونوں میں تسبیحات نہ پڑھی جائیں اور اگر کسی جگہ بھول کر دس بار سے کم پڑھی ہیں تو دوسری جگہ پڑھ لے کہ وہ مقدار پوری ہو جائے اور بہتر یہ ہے کہ اس کے بعد جو دوسرا موقع تسبیح کا آئے وہیں پڑھ لے مثلاً قومہ کی سجدہ میں کہے اور رکوع میں بھولا تو اسے بھی سجدہ ہی میں کہے نہ قومہ میں کہ قومہ کی مقدار تھوڑی ہوتی ہے اور پہلے سجدہ میں بھولا تو دوسرے میں کہے جلسہ میں نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: تسبیح اُنگلیوں پر نہ گنے بلکہ ہو سکے تو دل میں شمار کرے ورنہ اُنگلیاں دبا کر۔ (3)
مسئلہ ۴: ہر وقت غیر مکروہ میں یہ نماز پڑھ سکتا ہے اور بہتر یہ کہ ظہر سے پہلے پڑھے۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ اس نماز میں سلام سے پہلے یہ دُعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَ لُکَ تَوْفِیْقَ اَھْلِ الھُدٰی وَاَعْمَالَ اَھْلِ الْیَقِیْنِ وَمُنَاصَحَۃَ اَھْلِ التَّوْبَۃِ وَعَزْمَ اَھْلِ الصَّبْرِ وَجِدَّ اَھْلِ الْخَشْیَۃِ وَطَلَبَ اَھْلِ الرَّغْبَۃِ وَتَعَبُّدَ اَھْلِ الْوَرَعِ وَعِرْفَانَ اَھْلِ الْعِلْمِ حَتّٰی اَخَافَکَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَ لُکَ مَخَافَۃً تَحْجُزُنِیْ عَنْ مَعَاصِيْکَ حَتّٰی اَعْمَلَ بِطَاعَتِکَ عَمَلاً اَسْتَحِقُّ بِہٖ رِضَاکَ وَحَتّٰی اُنَاصِحَکَ بِالتَّوْبَۃِ خَوْفًا مِّنْکَ وَحَتّٰی اُخْلِصَ لَکَ النَّصِیْحَۃَ حُبًّا لَّکَ وَحَتّٰی اَ تَوَکَّلَ عَلَیْکَ فِیْ الْاُمُوْرِ حُسْنَ ظَنٍّ م بِکَ سُبْحٰنَ خَالِقِ النُّوْرِ . (5) (ردالمحتار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في صلاۃ التسبيح، ج۲، ص۵۷۱.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في صلاۃ التسبيح، ج۲، ص۵۷۲.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في صلاۃ التسبيح، ج۲، ص۵۷۱.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، ج۱، ص۱۱۳.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في صلاۃ التسبيح، ج۲، ص۵۷۲.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ہدایت والوں کی توفیق اور یقین والوں کے اعمال اور اہل توبہ کی خیر خواہی اور اہل صبر کا عزم اور خوف والوں کی کوشش اور رغبت والوں کی طلب اور پرہیزگاروں کی عبادت اور اہل علم کی معرفت تاکہ میں تجھ سے ڈروں۔ اے اللہ (عزوجل) ! میں تجھ سے ایسا خوف مانگتا ہوں جو مجھے تیری نافرمانیوں سے روکے، تاکہ میں تیری طاعت کے ساتھ ایسا عمل کروں جس کی وجہ سے تیری رضا کا مستحق ہو جاؤں، تاکہ تیرے خوف سے خالص توبہ کروں اور تاکہ تیری محبت کی وجہ سے خیر خواہی کو تیرے ليے
خالص کروں اور تاکہ تمام امور میں تجھ پر توکل کروں، تجھ پر نیک گمان کرتے ہوئے، پاک ہے نور کا پیدا کرنے والا۔ ۱۲
ابو داود حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں: ''جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو کوئی امر اہم پیش آتا تو نماز پڑھتے۔'' (1) اس کے ليے دو رکعت یا چار پڑھے۔ حدیث میں ہے: ''پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور تین بار آیۃ الکرسی پڑھے اور باقی تین رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور
قُلْ ھُوَ اللہُ
اور
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
اور
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ
ایک ايک بار پڑھے، تو یہ ایسی ہیں جیسے شبِ قدر میں چار رکعتیں پڑھیں۔'' مشايخ فرماتے ہیں: کہ ہم نے یہ نماز پڑھی اور ہماری حاجتیں پوری ہوئیں۔ ایک حدیث میں ہے جس کو ترمذی و ابن ماجہ نے عبداللہ بن اوفٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس کی کوئی حاجت اللہ (عزوجل) کی طرف ہو یا کسی بنی آدم کی طرف تو اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ عزوجل کی ثنا کرے اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود بھیجے پھر یہ پڑھے:
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اَسْأَ لُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِیْمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَّالسَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ اِثْمٍ لَّا تَدَعْ لِیْ ذَنْبًا اِلَّا غَفَرْتَہٗ وَلَا ھَمًّا اِلَّا فَرَّجْتَہٗ وَلَا حَاجَۃً ھِیَ لَکَ رِضًا اِلَّا قَضَیْتَھَا یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ . (2)
ترمذی بافادۂ تحسین و تصحیح وابن ماجہ و طبرانی وغیرہم عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک صاحب نابینا حاضر خدمت اقدس ہوئے اور عرض کی، اللہ (عزوجل) سے دُعا کيجيے کہ مجھے عافیت دے، ارشاد فرمایا: ''اگر تو چاہے تو دُعا کروں اور چاہے صبر کر اور یہ تیرے ليے بہتر ہے۔'' انھوں نے عرض کی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) دُعا کریں، انھيں حکم فرمایا: کہ وضو کرو اوراچھا وضو کرو اور دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دُعا پڑھو:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَ لُکَ وَاَ تَوَسَّلُ وَاَ تَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ نَّبِیِّ الرَّحْمَۃِ یَا رَسُوْلَ اللہِ (3) اِنِّیْ
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب التطوع، باب وقت قیام النبي صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل، الحدیث: ۱۳۱۹، ج۲، ص۵۲.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الوتر، باب ماجاء في صلاۃ الحاجۃ، الحدیث: ۴۷۸، ج۲، ص۲۱.
ترجمہ: اللہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں جو حلیم و کریم ہے، پاک ہے اللہ (عزوجل)، مالک ہے عرشِ عظیم کا، حمد ہے اللہ (عزوجل) کے ليے جو رب ہے تمام جہاں کا، میں تجھ سے تیری رحمت کے اسباب مانگتا ہوں اور طلب کرتا ہوں تیری بخشش کے ذرايع اور ہر نیکی سے غنیمت اور ہر گناہ سے سلامتی کو میرے ليے کوئی گناہ بغیر مغفرت نہ چھوڑ اور ہر غم کو دور کر دے اور جو حاجت تیری رضا کے موافق ہے اسے پورا کر دے، اے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان۔ ۱۲
3 ۔ حدیث ميں اس جگہ يا محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ہے۔ مگر مجددِ اعظم، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے يا محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کہنے کے بجائے، يا رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کہنے کی تعليم دی ہے۔
تَوَجَّھْتُ بِکَ اِلٰی رَبِّیْ فِیْ حَاجَتِیْ ھٰذِہٖ لِتُقْضٰی لِیْ اَللّٰھُمَّ فَشَفِّعْہُ فِیَّ . (1)
عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''خدا کی قسم! ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے، باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آئے، گویا کبھی اندھے تھے ہی نہیں۔'' (2) نیز قضائے حاجت کے ليے ایک مجرب نماز جو علما ہمیشہ پڑھتے آئے یہ ہے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزارِ مبارک پر جا کر دو رکعت نماز پڑھے اور امام کے وسیلہ سے اللہ عزوجل سے سوال کرے، امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کہ میں ایسا کرتا ہوں تو بہت جلد میری حاجت پوری ہو جاتی ہے۔ (3) (خیرات الحسان)
نیز اس کے ليے ایک مجرب نماز صلاۃ الاسرار ہے جو امام ابوا لحسن نور الدین علی بن جریر لخمی شطنوفی بہجۃ الاسرار میں اور مُلّا علی قاری و شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہم حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اس کی ترکیب یہ ہے کہ بعد نماز مغرب سنتیں پڑھ کردو رکعت نماز نفل پڑھے اور بہتر یہ ہے کہ الحمد کے بعد ہر رکعت میں گیارہ گیارہ بار قل ھو اللہ پڑھے سلام کے بعد اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کرے پھر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر گیارہ بار دُرُود و سلام عرض کرے اور گیارہ بار يہ کہے:
یَا رَسُوْلَ اللہِ یَا نَبِیَّ اللہِ اَغِثْنِیْ وَامْدُدْنِیْ فِیْ قَضَاءِ حَاجَتِیْ یَا قَاضِیَ الْحَاجَاتِ . (4)
پھر عراق کی جانب گیارہ قدم چلے، ہر قدم پر یہ کہے:
یَا غَوْثَ الثَّـقَـلَیْنِ وَ یَا کَرِیْمَ الطَّرَفَیْنِ اَغِثْنِیْ وَامْدُدْنِیْ فِیْ قَضَاءِ حَاجَتِیْ یَا قَاضِیَ الْحَاجَاتِ . (5)
1 ۔ ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور توسل کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں تیرے نبی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ذریعہ سے جو نبی رحمت ہیں یا رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ! میں حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے ذریعہ سے اپنے رب (عزوجل) کی طرف اس حاجت کے بارہ میں متوجہ ہوتا ہوں، تاکہ میری حاجت پوری ہو۔ ''الٰہی! اون کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔'' ۱۲
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، کتاب إقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا، باب ماجاء في صلاۃ الحاجۃ، الحدیث: ۱۳۸۵، ج۲، ص۱۵۶.
و ''جامع الترمذي''، کتاب الدعوات، الحدیث: ۳۵۸۹، ج۵، ص۳۳۶.
و ''المعجم الکبير''، الحدیث: ۸۳۱۱، ج۹، ص۳۰. دون قولہ (واتوسل).
3 ۔ ''الخيرات الحسان''، الفصل الخامس و الثلاثون... إلخ، ص۲۳۰.
و '' تاريخ بغداد ''، باب ما ذکر في مقابر بغداد المخصوصۃ بالعلماء و الزھاد، ج۱، ص۱۳۵.
4 ۔ ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) کے رسول! اے اللہ (عزوجل) کے نبی! میری فریاد کو پہنچيے اور میری مدد کیجيے، میری حاجت پوری ہونے میں، اے تمام حاجتوں کے پورا کرنے والے۔ ۱۲
5 ۔ ترجمہ: اے جن و انس کے فریاد رس اور اے دونوں طرف (ماں باپ)سے بزرگ! میری فریاد کو پہنچيے اور میری مدد کیجيے، میری حاجت پوری ہونے میں، اے حاجتوں کے پورا کرنے والے۔ ۱۲
پھر حضور کے توسل سے اللہ عزوجل سے دُعا کرے۔ (1)
ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ اور ابن حبان اپنی صحیح میں ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جب کوئی بندہ گناہ کرے پھر وضو کر کے نماز پڑھے پھر استغفار کرے، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا۔'' پھر یہ آیت پڑھی۔
( وَالَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوۡۤا اَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوا اللہَ فَاسْتَغْفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمْ ۪ وَمَنۡ یَّغْفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللہُ ۪۟ وَلَمْ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَہُمْ یَعْلَمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾ ) (2)
جنھوں نے بے حیائی کا کوئی کام کیا یا اپنی جانوں پر ظلم کیا پھر اللہ (عزوجل) کو یاد کیا اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگی اور کون گناہ بخشے اللہ (عزوجل) کے سوا اور اپنے کيے پر دانستہ ہٹ نہ کی حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
مسئلہ ۱: صلاۃ الرغائب کہ رجب کی پہلی شب ِ جمعہ اور شعبان کی پندرھویں شب اور شب ِ قدر میں جماعت کے ساتھ نفل نماز بعض جگہ لوگ ادا کرتے ہیں، فقہا اسے ناجائز و مکروہ و بدعت کہتے ہیں اور لوگ اس بارے میں جو حدیث بیان کرتے ہیں محدثین اسے موضوع بتاتے ہیں۔ (3) لیکن اجلۂ اکابر اولیا سے باسانید صحیحہ مروی ہے، تو اس کے منع میں غلو نہ چاہیے (4) اور اگر جماعت میں تین سے زائد مقتدی نہ ہوں جب تو اصلاً کوئی حرج نہیں۔
1 ۔ ''بھجۃ الأسرار''، ذکر فضل أصحابہ و بشراہم، ص۱۹۷. بتصرف.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في الصلاۃ عند التوبۃ، الحدیث: ۴۰۶، ج۱، ص۴۱۴.
پ۴، اٰلِ عمرٰن: ۱۳۵.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في صلاۃ الرغائب، ج۲، ص۵۶۹، وغیرہ.
4 ۔ مجددِ اعظم، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاویٰ رضویہ''، جلد 7، صفحہ 465 پر فرماتے ہيں: ''نفل غير تراويح ميں امام کے سوا تين آدميوں تک تو اجازت ہی ہے۔ چار کی نسبت کتب ِ حنفیہ ميں کراہت لکھتے ہيں يعنی کراہت تنزیہ جس کا حاصل خلافِ اَولیٰ ہے نہ کہ گناہ و حرام کما بيناہ في فتاوٰنا (جيسا کہ ہم نے اس کی تفصيل اپنے فتاوٰیٰ ميں دی ہے۔ ت) مگر مسئلہ مختلف فیہ ہے اور بہت اکابر دين سے جماعت نوافل بالتداعی (تداعی کا لغوی معنی ہے ''ايک دوسرے کو بلانا''۔ اور تداعی کے ساتھ جماعت کا مطلب ہے کہ کم از کم چار آدمی ايک امام کی اقتدا کريں۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۷، ص۴۳۰) ثابت ہے اور عوام فعلِ خير سے منع نہ کيے جائيں گے۔ علمائے امت و حکمائے ملت نے ايسی ممانعت سے منع فرمايا ہے۔''
(''الفتاوی الرضویۃ''، ج۷، ص۴۶۵.)
مسئلہ ۱: تراویح مرد و عورت سب کے ليے بالاجماع سنت مؤکدہ ہے اس کا ترک جائز نہیں۔ (1) (درمختار وغیرہ) اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے مداومت فرمائی اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کہ ''میری سنت اور سنت خلفائے راشدین کو اپنے اوپر لازم سمجھو۔'' (2) اور خود حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے بھی تراویح پڑھی اور اسے بہت پسند فرمایا۔
صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، ارشاد فرماتے ہیں: ''جو رمضان میں قیام کرے ایمان کی وجہ سے اور ثواب طلب کرنے کے ليے، اس کے اگلے سب گناہ بخش ديے جائیں گے (3) یعنی صغائر۔'' پھر اس اندیشہ سے کہ امت پر فرض نہ ہو جائے ترک فرمائی پھر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان میں ایک رات مسجد کو تشریف لے گئے اور لوگوں کو متفرق طور پر نماز پڑھتے پایا کوئی تنہا پڑھ رہا ہے، کسی کے ساتھ کچھ لوگ پڑھ رہے ہیں، فرمایا: میں مناسب جانتا ہوں کہ ان سب کو ایک امام کے ساتھ جمع کر دوں تو بہتر ہو، سب کو ایک امام ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ اکٹھا کر دیا پھر دوسرے دن تشریف لے گئے ملاحظہ فرمایا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں فرمایا
نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ
یہ اچھی بدعت ہے۔ (4)
رواہ اصحاب السنن۔
مسئلہ ۲: جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی بیس رکعتیں ہیں (5) اور یہی احادیث سے ثابت، بیہقی نے بسند صحیح سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ لوگ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ (6) اور عثمان و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے عہد میں بھی یوہیں تھا۔ (7) اور موطا ميں یزید بن رومان سے روایت ہے، کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں لوگ رمضان ميں تیئس ۲۳ رکعتیں پڑھتے۔ (8) بیہقی نے کہا اس میں تین رکعتیں وتر کی ہیں۔ (9) اور مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۹۶، وغیرہ .
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب العلم، باب ماجاء في الأخذ بالسنۃ... إلخ، الحدیث: ۲۶۸۵، ج۴، ص۳۰۸.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرین، باب الترغيب في قیام رمضان وہو التراويح، الحدیث: ۷۵۹، ص۳۸۲.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب صلاۃ التروایح، باب فضل من قام رمضان، الحدیث : ۲۰۱۰، ج۱، ص۶۵۸.
و ''الموطأ'' لإمام مالک، کتاب الصلاۃ في رمضان، باب ماجاء في قيام رمضان، رقم ۲۵۵، ج۱، ص۱۲۰.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراويح، ج۲، ص۵۹۹.
6 ۔ ''معرفۃ السنن و الآثار'' للبیہقی، کتاب الصلاۃ، باب قيام رمضان، رقم ۱۳۶۵، ج۲، ص۳۰۵.
7 ۔ ''فتح باب العنایۃ شرح النقایۃ''، کتاب الصلاۃ، فصل في صلاۃ التراويح، ج۱، ص۳۴۲.
8 ۔ ''الموطأ'' لإمام مالک، کتاب الصلاۃ في رمضان، باب ماجاء في قيام رمضان، رقم ۲۵۷، ج۱، ص۱۲۰.
9 ۔ ''السنن الکبری''، کتاب الصلاۃ، باب ما روی في عدد رکعات القيام في شھر رمضان، الحدیث: ۴۶۱۸، ج۲، ص۶۹۹.
نے ایک شخص کو حکم فرمایا: کہ رمضان میں لوگوں کو بیس ۲۰ رکعتیں پڑھائے۔ (1) نیز اس کے بیس رکعت ہونے میں یہ حکمت ہے کہ فرائض و واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجب کی ہر روز بیس ۲۰ رکعتیں ہیں، لہٰذا مناسب کہ یہ بھی بیس ہوں کہ مکمل و مکمل برابر ہوں۔
مسئلہ ۳: اس کا وقت فرض عشا کے بعد سے طلوع فجر تک ہے وتر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے اور بعد بھی تو اگر کچھ رکعتیں اس کی باقی رہ گئیں کہ امام وتر کو کھڑا ہوگیا تو امام کے ساتھ و تر پڑھ لے پھر باقی ادا کرلے جب کہ فرض جماعت سے پڑھے ہوں اور یہ افضل ہے اوراگر تراویح پوری کر کے وتر تنہا پڑھے تو بھی جائز ہے اور اگر بعد میں معلوم ہوا کہ نماز عشا بغیر طہارت پڑھی تھی اور تراویح و وتر طہارت کے ساتھ تو عشا و تراویح پھر پڑھے وتر ہوگیا۔ (2) (درمختار، ردالمحتار، عالمگيری)
مسئلہ ۴: مستحب یہ ہے کہ تہائی رات تک تاخیر کریں اور آدھی رات کے بعد پڑھیں تو بھی کراہت نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۵: اگر فوت ہوجائیں تو ان کی قضا نہیں اور اگر قضا تنہا پڑھ لی تو تراویح نہیں بلکہ نفل مستحب ہیں، جیسے مغرب و عشا کی سنتیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: تراویح کی بیس ۲۰ رکعتیں دس سلام سے پڑھے یعنی ہر دو رکعت پر سلام پھیرے اور اگر کسی نے بیسوں پڑھ کر آخر میں سلام پھیرا تو اگر ہر دو رکعت پر قعدہ کرتا رہا تو ہو جائے گی مگر کراہت کے ساتھ اور اگر قعدہ نہ کیا تھا تو دو رکعت کے قائم مقام ہوئیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۷: احتیاط یہ ہے کہ جب دو دو رکعت پر سلام پھیرے تو ہر دو رکعت پر الگ الگ نیت کرے اور اگر ایک ساتھ بیسوں رکعت کی نیت کر لی تو بھی جائز ہے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: تراویح میں ایک بار قرآن مجید ختم کرنا سنت مؤکدہ ہے اور دو مرتبہ فضیلت اور تین مرتبہ افضل۔ لوگوں کی
1 ۔ ''السنن الکبری''، کتاب الصلاۃ، باب ما روی في عدد رکعات القيام في شھر رمضان، الحدیث: ۴۶۲۱، ج۲، ص۶۹۹.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراويح، ج۲، ص۵۹۷. و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ص۱۱۵.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۹۸.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراويح، ج۲، ص۵۹۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراويح، ج۲، ص۵۹۹.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراويح، ج۲، ص۵۹۷.
سستی کی وجہ سے ختم کو ترک نہ کرے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۹: امام و مقتدی ہر دو رکعت پر ثنا پڑھیں اور بعد تشہد دُعا بھی، ہاں اگر مقتدیوں پر گرانی ہو تو تشہد کے بعد
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
پر اکتفا کرے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: اگر ایک ختم کرنا ہو تو بہتر یہ ہے کہ ستائیسویں شب میں ختم ہو پھر اگر اس رات میں یا اس کے پہلے ختم ہو تو تراویح آخر رمضان تک برابر پڑھتے رہیں کہ سنت مؤکدہ ہیں۔ (3) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۱: افضل یہ ہے کہ تمام شفعوں میں قراء ت برابر ہو اور اگر ایسا نہ کیا جب بھی حرج نہیں۔ يوہيں ہر شفع کی پہلی رکعت اور دوسری کی قراء ت مساوی ہو دوسری کی قراء ت پہلی سے زیادہ نہ ہونا چاہيے ۔ (4) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۲: قراء ت اور ارکان کی ادا میں جلدی کرنا مکروہ ہے اور جتنی ترتیل زیادہ ہو(5) بہتر ہے۔ يوہيں تعوذ و تسمیہ و طمانينت و تسبیح کا چھوڑ دینا بھی مکروہ ہے۔ (6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۳: ہر چار رکعت پر اتنی دیر تک بیٹھنا مستحب ہے جتنی دیر میں چار رکعتيں پڑھیں، پانچویں ترویحہ اور وتر کے درمیان اگر بیٹھنا لوگوں پر گراں ہو تو نہ بیٹھے۔ (7) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۱۴: اس بیٹھنے میں اسے اختیار ہے کہ چپکا بیٹھا رہے یا کلمہ پڑھے یا تلاوت کرے یا درود شریف پڑھے یا چار رکعتیں تنہا نفل پڑھے جماعت سے مکروہ ہے یا یہ تسبیح پڑھے:
سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّۃِ وَالْعَظَمَۃِ وَالْکِبْرِیَآءِ وَالْجَبَرُوْتِ۔ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَنَامُ وَلَا یَمُوْتُ سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَّبُّنَا وَرَّبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوْحِ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ نَسْتَغْفِرُ
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۶۰۱. و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۷، ص۴۵۸.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراويح، ج۲، ص۶۰۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ص۱۱۸.
4 ۔ المرجع السابق، ص۱۱۷.
5 ۔ یعنی جس قدر حروف کو اچھی طرح ادا کرے۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ص۱۱۷. و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۶۰۳.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ص۱۱۵، وغیرہ.
اللہَ نَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ ۔ (1) (غنیہ، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۱۵: ہر دو رکعت کے بعد دو ۲ رکعت پڑھنا مکروہ ہے۔ يوہيں دس ۱۰ رکعت کے بعد بیٹھنا بھی مکروہ۔ (2) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: تراویح میں جماعت سنتِ کفایہ ہے کہ اگر مسجد کے سب لوگ چھوڑ دیں گے تو سب گنہگار ہوں گے اور اگر کسی ایک نے گھر میں تنہا پڑھ لی تو گنہگار نہیں مگر جو شخص مقتدا ہو کہ اس کے ہونے سے جماعت بڑی ہوتی ہے اور چھوڑ دے گا تو لوگ کم ہو جائیں گے اسے بلا عذر جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: تراویح مسجد میں باجماعت پڑھنا افضل ہے اگر گھر میں جماعت سے پڑھی تو جماعت کے ترک کا گناہ نہ ہوا مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں پڑھنے کا تھا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: اگر عالم حافظ بھی ہو تو افضل یہ ہے کہ خود پڑھے دوسرے کی اقتدا نہ کرے اور اگر امام غلط پڑھتا ہو تو مسجد محلہ چھوڑ کر دوسری مسجد میں جانے میں حرج نہیں۔ يوہيں اگر دوسری جگہ کا امام خوش آواز ہو یا ہلکی قراء ت پڑھتا ہو یا مسجد محلہ میں ختم نہ ہو گا تو دوسری مسجد میں جانا جائز ہے۔ (5) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۹: خوش خوان کو امام بنانا نہ چاہیے بلکہ درست خوان کو بنائیں۔ (6) (عالمگیری) افسوس صد افسوس کہ اس زمانہ میں حفاظ کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے، اکثر تو ایسا پڑھتے ہیں کہ
یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ
کے سوا کچھ پتہ نہیں چلتا الفاظ و حروف کھا جایا کرتے ہیں جو اچھا پڑھنے والے کہے جاتے ہیں اُنھیں دیکھیے تو حروف صحیح نہیں ادا کرتے ہمزہ، الف، عین اور ذ، ز، ظ اور
1 ۔ ''غنیۃ المتملي''، تراويح، ص۴۰۴.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراويح، ج۲، ص۶۰۰، وغیرہما.
ترجمہ: پاک ہے ملک و ملکوت والا، پاک ہے عزت و بزرگی اور بڑائی اور جبروت والا، پاک ہے بادشاہ جوزندہ ہے، جو نہ سوتا ہے نہ مرتا ہے، پاک مقدس ہے فرشتوں اور روح کا مالک، اللہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ (عزوجل) سے ہم مغفرت چاہتے ہیں، تجھ سے جنت کا سوال کرتے ہیں اور جہنم سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔۱۲
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ص۱۱۵. و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۶۰۱.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ص۱۱۶.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق.
ث، س، ص، ت، ط وغیرہا حروف میں تفرقہ (1) نہیں کرتے جس سے قطعاً نماز ہی نہیں ہوتی فقیر کو انھيں مصیبتوں کی وجہ سے تین سال ختم قرآن مجید سننا نہ ملا۔ مولا عزوجل مسلمان بھائیوں کو توفیق دے کہ
مَا اَنْزَلَ اللہُ
پڑھنے کی کوشش کریں۔
مسئلہ ۲۰: آج کل اکثر رواج ہوگیا ہے کہ حافظ کو اُجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے ۔دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں، اُجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کر لیں کہ يہ ليں گے یہ دیں گے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ
اَلْمَعْرُوْفُ کَالْمَشْرُوْطِ
ہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لُوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ
اَلصَّرِیْحُ يُفَوِّقُ الدَّلَالَۃَ (2)۔
مسئلہ ۲۱: ایک امام دو مسجدوں میں تراویح پڑھاتا ہے اگر دونوں میں پوری پوری پڑھائے تو ناجائز ہے اور مقتدی نے دو مسجدوں میں پوری پوری پڑھی تو حرج نہیں مگر دوسری میں وتر پڑھنا جائز نہیں جب کہ پہلی میں پڑھ چکا اور اگر گھر میں تراویح پڑھ کر مسجد میں آیا اور امامت کی تو مکروہ ہے۔ (3) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۲: لوگوں نے تراویح پڑھ لی اب دوبارہ پڑھنا چاہتے ہیں تو تنہا تنہا پڑھ سکتے ہیں جماعت کی اجازت نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: افضل یہ ہے کہ ایک امام کے پیچھے تراویح پڑھیں اور دو کے پیچھے پڑھنا چاہیں تو بہتر یہ ہے کہ پورے ترویحہ پر امام بدلیں، مثلاً آٹھ ایک کے پیچھے اور بارہ دوسرے کے۔ (5) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۴: نابالغ کے پیچھے بالغین کی تراویح نہ ہوگی یہی صحیح ہے۔ (6) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۵: رمضان شریف میں وتر جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے خواہ اُسی امام کے پیچھے جس کے پیچھے عشا و تراویح پڑھی یا دوسرے کے پیچھے۔ (7) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۶: یہ جائز ہے کہ ایک شخص عشا و وتر پڑھائے دوسرا تراویح۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشا و وتر کی
1 ۔ یعنی فرق۔ 2 ۔ یعنی صراحت کو دلالت پر فوقیت ہے ۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ص۱۱۶.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس،الفصل الثالث، ج۱، ص۸۵.
7 ۔ المرجع السابق، ص۱۱۶، و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مطلب في کراہۃ
الاقتداء في النفل علی سبيل التداعی... إلخ، ج۲، ص۶۰۶.
امامت کرتے تھے اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تراویح کی۔ (1) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۷: اگر سب لوگوں نے عشا کی جماعت ترک کر دی تو تراویح بھی جماعت سے نہ پڑھیں، ہاں عشا جماعت سے ہوئی اور بعض کو جماعت نہ ملی۔ تو یہ جماعت تراویح میں شریک ہوں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: اگر عشا جماعت سے پڑھی اور تراویح تنہا تو وتر کی جماعت میں شریک ہو سکتا ہے اور اگر عشا تنہا پڑھ لی اگرچہ تراویح باجماعت پڑھی تو وتر تنہا پڑھے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: عشا کی سنتوں کا سلام نہ پھیرا اسی میں تراویح ملا کر شروع کی تو تراویح نہیں ہوئی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: تراویح بیٹھ کر پڑھنا بلا عذر مکروہ ہے، بلکہ بعضوں کے نزدیک تو ہوگی ہی نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: مقتدی کو یہ جائز نہیں کہ بیٹھا رہے جب امام رکوع کرنے کو ہو تو کھڑا ہو جائے کہ یہ منافقین سے مشابہت ہے۔
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
(وَ اِذَا قَامُوۡۤا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوۡا کُسَالٰی ۙ )
منافق جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو تھکے جی سے۔ (6) (غنیہ وغیرہا)
مسئلہ ۳۲: امام سے غلطی ہوئی کوئی سورت یا آیت چھوٹ گئی تو مستحب یہ ہے کہ اسے پہلے پڑھ کر پھر آگے بڑھے۔ (7) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۳: دو رکعت پر بیٹھنا بھول گیا کھڑا ہوگیا تو جب تک تیسری کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے اور سجدہ کر لیا ہو تو چار
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ص۱۱۶.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۶۰۳.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراويح، ج۲، ص۶۰۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ص۱۱۷.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۶۰۳.
6 ۔ ''غنیۃ المتملي شرح منیۃ المصلي''، تراويح، فروع، ص۴۱۰. و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراويح، ج۲، ص۶۰۳. پ۵، النسآء : ۱۴۲.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ۱۱۸.
پوری کر لے مگر یہ دو شمار کی جائیں گی اور جو دو پر بیٹھ چکا ہے تو چار ہوئیں۔ (1) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۴: تین رکعت پڑھ کر سلام پھیرا، اگر دوسری پر بیٹھا نہ تھا تو نہ ہوئیں ان کے بدلے کی دو رکعت پھر پڑھے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: قعدہ میں مقتدی سو گیا امام سلام پھیر کر اور دو رکعت پڑھ کر قعدہ میں آیا اب یہ بیدار ہوا تو اگر معلوم ہوگیا تو سلام پھیر کر شامل ہو جائے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد جلد پوری کر کے امام کے ساتھ ہو جائے۔ (3) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۶: وتر پڑھنے کے بعد لوگوں کو یاد آیا کہ دو رکعتیں رہ گئیں تو جماعت سے پڑھ لیں اور آج یاد آیا کہ کل دو رکعتیں رہ گئی تھیں تو جماعت سے پڑھنا مکروہ ہے۔ (4) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۷: سلام پھیرنے کے بعد کوئی کہتا ہے دو ہوئیں کوئی کہتا ہے تین تو امام کے علم میں جو ہو اُس کا اعتبار ہے اور امام کو کسی بات کا یقین نہ ہو تو جس کو سچا جانتا ہو اُس کا قول اعتبار کرے۔ اگر اس میں لوگوں کو شک ہو کہ بیس ہوئیں یا اٹھارہ تو دو رکعت تنہا تنہا پڑھیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: اگر کسی وجہ سے نماز تراویح فاسد ہو جائے تو جتنا قرآن مجید ان رکعتوں میں پڑھا ہے اعادہ کریں تاکہ ختم میں نقصان نہ رہے۔ (6) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۹: اگر کسی وجہ سے ختم نہ ہو تو سورتوں کی تراویح پڑھیں اور اس کے ليے بعضوں نے یہ طریقہ رکھا ہے کہ
الم ترکیف
سے آخر تک دو با رپڑھنے میں بیس رکعتيں ہو جائیں گی۔ (7) (عالمگيری)
مسئلہ ۴۰: ایک بار بسم اللہ شریف جہر (8) سے پڑھنا سنت ہے اور ہر سورت کی ابتدا میں آہستہ پڑھنا مستحب اور یہ جو آج کل بعض جہال نے نکالا ہے کہ ایک سو چودہ بار بسم اللہ جہر سے پڑھی جائے ورنہ ختم نہ ہوگا، مذہب حنفی میں بے اصل ہے۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ۱۱۸.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ص۱۱۹.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ص۱۱۷.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج۱، ص۱۱۸.
7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔ يعنی اُونچی آواز۔
مسئلہ ۴۱: متاخرین نے ختم تراویح میں تین بار قل ھو اللہ پڑھنا مستحب کہا اور بہتر یہ ہے کہ ختم کے دن پچھلی رکعت میں الٓم سے مفلحون تک پڑھے۔
مسئلہ ۴۲: شبینہ کہ ایک رات کی تراویح میں پورا قرآن پڑھا جاتا ہے، جس طرح آج کل رواج ہے کہ کوئی بیٹھا باتیں کر رہا ہے، کچھ لوگ لیٹے ہیں، کچھ لوگ چائے پینے میں مشغول ہیں، کچھ لوگ مسجد کے باہرحقہ نوشی کر رہے ہیں اور جب جی میں آیا ایک آدھ رکعت میں شامل بھی ہوگئے یہ ناجائز ہے۔
فائدہ: ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان شریف میں اکسٹھ ختم کیا کرتے تھے۔ تیس ۳۰ دن ميں اور تیس رات ميں اور ایک تراویح میں اور پینتالیس برس عشا کے وضو سے نماز فجر پڑھی ہے۔
حدیث ۱،۲: امام مالک و نسائی روایت کرتے ہیں کہ ایک صحابی محجن نامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں حاضر تھے اذان ہوئی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی وہ بیٹھے رہ گئے، ارشاد فرمایا: ''جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے کیا چیز مانع ہوئی کیا تم مسلمان نہیں ہو۔'' عرض کی، یا رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)! ہوں تو مگر میں نے گھر پڑھ لی تھی، ارشاد فرمایا: ''جب نماز پڑھ کر مسجد میں آؤ اور نماز قائم کی جائے تو لوگوں کے ساتھ پڑھ لو اگرچہ پڑھ چکے ہو۔'' (1) اسی کے مثل یزید بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ ہے جو ابو داود میں مروی۔
حدیث ۳: امام مالک نے روایت کی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ''جو مغرب یا صبح کی پڑھ چکا ہے پھر جب امام کے ساتھ پائے اعادہ نہ کرے۔'' (2)
مسئلہ ۱: تنہا فرض نماز شروع ہی کی تھی یعنی ابھی پہلی رکعت کا سجدہ نہ کیا تھا کہ جماعت قائم ہوئی تو توڑکر جماعت میں شامل ہو جائے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲: فجر یا مغرب کی نماز ایک رکعت پڑھ چکا تھا کہ جماعت قائم ہوئی تو فوراً نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہوجائے اگرچہ دوسری رکعت پڑھ رہا ہو، البتہ دوسری رکعت کا سجدہ کر لیا تو اب ان دو نمازوں میں توڑنے کی اجازت نہیں اور نماز
1 ۔ ''الموطأ'' لإمام مالک، کتاب صلاۃ الجماعۃ، باب إعادۃ الصلاۃ مع الإمام، الحدیث: ۳۰۲، ج۱، ص۱۳۵. و ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الصلاۃ، باب من صلی صلاۃ مرتین، الحدیث: ۱۱۵۳، ج۱، ص۳۳۸.
2 ۔ ''الموطأ'' لإمام مالک، کتاب صلاۃ الجماعۃ، باب إعادۃ الصلاۃ مع الإمام، الحدیث: ۳۰۶، ج۱، ص۱۳۶.
3 ۔ ''تنوير الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، ج۲، ص۶۰۶ ۔ ۶۱۰.
پوری کرنے کے بعد بہ نیت نفل بھی ان میں شریک نہیں ہو سکتا کہ فجر کے بعد نفل جائز نہیں اور مغرب میں اس وجہ سے کہ تین رکعتیں نفل کی نہیں اور مغرب میں اگر شامل ہوگیا تو برا کیا، امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت اور ملا کر چار کرلے اور اگرامام کے ساتھ سلام پھیر دیا تو نماز فاسد ہوگئی چار رکعت قضا کرے۔ (1) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۳: مغرب پڑھنے والے کے پیچھے نفل کی نیت سے شامل ہوگیا۔ امام نے چوتھی رکعت کو تیسری گمان کیا اور کھڑا ہوگيا اس مقتدی نے اُس کا اتباع کیا، اس کی نماز فاسد ہوگئی، تیسری پر امام نے قعدہ کیا ہو یا نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: چار رکعت والی نماز شروع کر کے ایک رکعت پڑھ لی یعنی پہلی رکعت کا سجدہ کر لیا تو واجب ہے کہ ایک اور پڑھ کر توڑ دے کہ یہ دو رکعتیں نفل ہو جائیں اور دو پڑھ لی ہیں تو ابھی توڑ دے یعنی تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے اور تین پڑھ لی ہیں تو واجب ہے کہ نہ توڑے، توڑے گا تو گنہگار ہو گا بلکہ حکم یہ ہے کہ پوری کر کے نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہو جماعت کا ثواب پالے گا، مگر عصر میں شامل نہیں ہو سکتا کہ عصر کے بعد نفل جائز نہیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: جماعت قائم ہونے سے مؤذن کا تکبیر کہنا مراد نہیں بلکہ جماعت شروع ہو جانا مُراد ہے، مؤذن کے تکبیر کہنے سے قطع نہ کریگا اگرچہ پہلی رکعت کا ہنوز (4) سجدہ نہ کیا ہو۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: جماعت قائم ہونے سے نماز قطع کرنا اس وقت ہے کہ جس مقام پر یہ نماز پڑھتا ہو وہیں جماعت قائم ہو، اگر یہ گھر میں نماز پڑھتا ہے اور مسجد میں جماعت قائم ہوئی یا ایک مسجد میں یہ پڑھتا ہے دوسری مسجد میں جماعت قائم ہوئی تو توڑنے کا حکم نہیں اگرچہ پہلی کا سجدہ نہ کیا ہو۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: نفل شروع کيے تھے اور جماعت قائم ہوئی تو قطع نہ کرے بلکہ دو رکعت پوری کر لے، اگرچہ پہلی کا سجدہ بھی نہ کیا ہو اور تیسری پڑھتا ہو تو چار پوری کرلے۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: جمعہ اور ظہر کی سنتیں پڑھنے میں خطبہ یا جماعت شروع ہوئی تو چار پوری کرلے۔ (8) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب العاشر في إدراک الفريضۃ، ج۱، ص۱۱۹، وغیرہ.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب العاشر في إدراک الفريضۃ، ج۱، ص۱۱۹.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، مطلب: صلاۃ رکعۃ واحدۃ باطلۃ... إلخ، ج۲، ص۶۱۰.
4 ۔ ابھی تک۔
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، ج۲، ص۶۰۸.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، مطلب: صلاۃ رکعۃ واحدۃ... إلخ، ج۲، ص۶۱۱.
8 ۔ ''تنوير الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، ج۲، ص۶۱۱.
مسئلہ ۹: سنت یا قضا نماز شروع کی اور جماعت قائم ہوئی تو پوری کرکے شامل ہو ہاں جو قضا شروع کی اگر بعینہ اُسی قضا کے ليے جماعت قائم ہوئی تو توڑ کر شامل ہو جائے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: نماز توڑنا بغیر عذر ہو تو حرام ہے اور مال کے تلف (2) کا اندیشہ ہو تو مباح اور کامل کرنے کے ليے ہو تو مستحب اور جان بچانے کے ليے ہو تو واجب۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: نماز توڑنے کے ليے بیٹھنے کی حاجت نہیں کھڑا کھڑا ایک طرف سلام پھیر کر توڑ دے۔ (4) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۲: جس شخص نے نماز نہ پڑھی ہو اسے مسجد سے اذان کے بعد نکلنا مکروہِ تحریمی ہے۔ ابن ماجہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اذان کے بعد جو مسجد سے چلا گیا اور کسی حاجت کے ليے نہیں گیا اور نہ واپس ہونے کا ارادہ ہے وہ منافق ہے۔'' (5) امام بخاری کے علاوہ جماعت محدثین نے روایت کی کہ ابوالشعثا کہتے ہیں: ہم ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مسجد میں تھے جب مؤذن نے عصر کی اذان کہی، اُس وقت ایک شخص چلا گیا اس پر فرمایا: کہ ''اس نے ابو القاسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔'' (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: اذان سے مراد وقت نماز ہو جانا ہے، خواہ ابھی اذان ہوئی ہو یا نہیں۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: جو شخص کسی دوسری مسجد کی جماعت کا منتظم ہو، مثلاً امام یا مؤذن ہو کہ اُس کے ہونے سے لوگ ہوتے ہیں ورنہ متفرق ہو جاتے ہیں ایسے شخص کو اجازت ہے کہ یہاں سے اپنی مسجد کو چلا جائے اگرچہ یہاں اقامت بھی شروع ہوگئی ہو مگر جس مسجد کا منتظم ہے اگر وہاں جماعت ہو چکی تو اب یہاں سے جانے کی اجازت نہيں۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، ج۲، ص۶۰۶.
2 ۔ یعنی ضائع ہونے۔
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، مطلب: قطع الصلاۃ يکون حراما و مباحا... إلخ، ج۲، ص۶۱۰.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب العاشر في إدراک الفريضۃ، ج۱، ص۱۱۹.
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الأذان... إلخ، باب إذا أذن وأنت في المسجد فلا تخرج، الحدیث: ۷۳۴، ج۱، ص۴۰۴.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الأذان... إلخ، باب إذا أذن وأنت في المسجد فلا تخرج، الحدیث: ۷۳۳، ج۱، ص۴۰۴.
''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، مطلب في کراہۃ الخروج من المسجد بعد الأذان،
ج۲، ص۶۱۲.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، ج۲، ص۶۱۳.
8 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، مطلب في کراہۃ الخروج من المسجد بعد الأذان، ج۲، ص۶۱۳.
مسئلہ ۱۵: سبق کا وقت ہے تو يہاں سے اپنے استاد کی مسجد کو جاسکتا ہے يا کوئی ضرورت ہو اور واپس ہونے کا ارادہ ہو تو بھی جانے کی اجازت ہے، جبکہ ظن غالب ہو کہ جماعت سے پہلے واپس آجائے گا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: جس نے ظہر یا عشا کی نماز تنہا پڑھ لی ہو ،اسے مسجد سے چلے جانے کی ممانعت اُس وقت ہے کہ اقامت شروع ہوگئی اقامت سے پہلے جا سکتا ہے اور جب اقامت شروع ہوگئی تو حکم ہے کہ جماعت میں بہ نیت نفل شریک ہوجائے اور مغرب و فجر و عصر میں اُسے حکم ہے کہ مسجد سے باہر چلا جائے جب کہ پڑھ لی ہو۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: مقتدی نے دو سجدے کيے اور امام ابھی پہلے ہی میں تھا تو دوسرا سجدہ نہ ہوا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: چار رکعت والی نماز جسے ایک رکعت امام کے ساتھ ملی تو اُس نے جماعت نہ پائی، ہاں جماعت کا ثواب ملے گا اگرچہ قعدۂ اخیرہ میں شامل ہوا ہو بلکہ جسے تین رکعتیں ملیں اس نے بھی جماعت نہ پائی جماعت کا ثواب ملے گا، مگر جس کی کوئی رکعت جاتی رہی اُسے اتنا ثواب نہ ملے گا جتنا اوّل سے شریک ہونے والے کو ہے۔ اس مسئلہ کا محصل (4) یہ ہے کہ کسی نے قسم کھائی فلاں نماز جماعت سے پڑھے گا اور کوئی رکعت جاتی رہی تو قسم ٹوٹ گئی کفارہ دینا ہوگا تین اور دو رکعت والی نماز میں بھی ایک رکعت نہ ملی تو جماعت نہ ملی اور لاحق کا حکم پوری جماعت پانے والے کا ہے۔ (5) (درمختار، رالمحتار)
مسئلہ ۱۹: امام رکوع میں تھا کسی نے اُس کی اقتدا کی اور کھڑا رہا یہاں تک کہ امام نے سر اٹھالیا تو وہ رکعت نہیں ملی، لہٰذا امام کے فارغ ہونے کے بعد اس رکعت کو پڑھ لے اور اگر امام کو قیام میں پایا اور اس کے ساتھ رکوع ميں شريک نہ ہوا تو پہلے رکوع کرلے پھر اور افعال امام کے ساتھ کرے اور اگر پہلے رکوع نہ کيا بلکہ امام کے ساتھ ہو لیا پھر امام کے فارغ ہونے کے بعد رکوع کیا تو بھی ہو جائے گی مگر بوجہ ترکِ واجب گنہگار ہوا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: اس کے رکوع کرنے سے پیشتر امام نے سر اٹھالیا کہ اسے رکعت نہ ملی تو اس صورت میں نماز توڑ دینا جائز نہیں جیسا بعض جاہل کرتے ہیں بلکہ اس پر واجب ہے کہ سجدہ میں امام کی متابعت کرے اگرچہ يہ سجدے رکعت میں شمار نہ ہوں
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، ج۲، ص۶۱۴.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق، ص۶۲۵.
4 ۔ یعنی خلاصہ۔
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، مطلب: ھل الإساء ۃ دون الکراھۃ أو أفحش،
ج۲، ص۶۲۱.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، ج۲، ص۶۲۳.
گے۔ يوہيں اگر سجدہ میں ملا جب بھی ساتھ دے پھر بھی اگر سجدے نہ کيے تو نماز فاسد نہ ہوگی یہاں تک کہ اگر امام کے سلام کے بعد اس نے اپنی رکعت پڑھ لی نماز ہوگئی مگر ترک واجب کا گناہ ہوا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: امام سے پہلے رکوع کیا مگر اس کے سر اٹھانے سے پہلے امام نے بھی رکوع کيا تو رکوع ہوگيا بشرطیکہ اس نے اُس وقت رکوع کیا ہو کہ امام بقدر فرض قراء ت کر چکا ہو ورنہ رکوع نہ ہوا اور اس صورت میں امام کے ساتھ یا بعد اگر دوبارہ رکوع کر لے گا ہو جائے گی ورنہ نماز جاتی رہی اور امام سے پہلے رکوع خواہ کوئی رکن ادا کرنے میں گنہگار بہرحال ہوگا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: امام رکوع میں تھا اور یہ تکبیر کہہ کر جھکا تھا کہ امام کھڑا ہوگیا تو اگر حد رکوع میں مشارکت (3) ہوگئی اگرچہ قلیل تو رکعت مل گئی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: مقتدی نے تمام رکعتوں میں رکوع و سجود امام سے پہلے کیا تو سلام کے بعد ضروری ہے کہ ایک رکعت بغیر قراء ت پڑھے نہ پڑھی تو نماز نہ ہوئی اور اگر امام کے بعد رکوع و سجود کیا تو نماز ہوگئی اور اگر رکوع پہلے کیا اور سجدہ ساتھ تو چاروں رکعتیں بغیر قراء ت پڑھے اور اگر رکوع ساتھ کیا اور سجدہ پہلے تو دو رکعت بعد میں پڑھے۔ (5) (عالمگيری)
حدیث ۱: غزوۂ خندق میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی چار نمازیں مشرکین کی وجہ سے جاتی رہیں یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ چلا گیا، بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم فرمایا: انہوں نے اذان و اقامت کہی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر اقامت کہی تو عصر کی پڑھی، پھر اقامت کہی تو مغرب کی پڑھی، پھر اقامت کہی تو عشا کی پڑھی۔ (6)
حدیث ۲: امام احمد نے ابی جمعہ حبیب بن سباع سے روایت کی، کہ غزوۂ احزاب میں مغرب کی نما ز پڑھ کر فارغ ہوئے تو فرمایا: کسی کومعلوم ہے میں نے عصر کی پڑھی ہے؟ لوگو ں نے عرض کی، نہیں پڑھی، مؤذن کو حکم فرمایا: اُس نے اقامت کہی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے عصر کی پڑھی پھر مغرب کا اعادہ کیا۔ (7)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب إدراک الفريضۃ، مطلب: ھل الإساء ۃ دون الکراھۃ أو أفحش،
ج۲، ص۶۲۴.
2 ۔ المرجع السابق، ص۶۲۵. 3 ۔ یعنی باہم شرکت۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب العاشر في إدراک الفريضۃ، ج۱، ص۱۲۰.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب العاشر في إدراک الفريضۃ، ج۱، ص۱۲۰.
6 ۔ ''السنن الکبری'' للبیھقی، کتاب الصلاۃ، باب الأذان والإقامۃ للفائتۃ، الحدیث: ۱۸۹۲، ج۱ص۵۹۲ .
7 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أبي جمعہ حبیب بن سباع، الحدیث: ۱۶۹۷۲، ج ۶، ص۴۲.
حدیث ۳: طبرانی و بیہقی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، فرمایا: ''جو شخص کسی نماز کو بھول جائے اور یاد اُس وقت آئے کہ امام کے ساتھ ہو تو پوری کر لے پھر بھولی ہوئی پڑھے پھر اُسے پڑھے جس کو امام کے ساتھ پڑھا۔'' (1)
حدیث ۴: صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو نماز سے سو جائے یا بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے کہ وہی اُس کا وقت ہے۔'' (2)
حدیث ۵: صحیح مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ سوتے میں (اگر نماز جاتی رہی) تو قصور نہیں، قصور تو بیداری میں ہے۔(3)
مسئلہ ۱: بلا عذرِ شرعی نماز قضا کر دینا بہت سخت گناہ ہے، اُس پر فرض ہے کہ اُس کی قضا پڑھے اور سچے دل سے توبہ کرے، توبہ یا حج مقبول سے گناہِ تاخیر معاف ہو جائے گا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲: توبہ جب ہی صحیح ہے کہ قضا پڑھ لے۔ اُس کو تو ادا نہ کرے، توبہ کيے جائے، یہ توبہ نہیں کہ وہ نماز جو اس کے ذمہ تھی اس کا نہ پڑھنا تو اب بھی باقی ہے اور جب گناہ سے باز نہ آیا، توبہ کہاں ہوئی۔ (5) (ردالمحتار) حدیث میں فرمایا: '' گناہ پر قائم رہ کر استغفار کرنے والا اس کے مثل ہے جو اپنے رب (عزوجل) سے ٹھٹھا (6) کرتا ہے۔'' (7)
مسئلہ ۳: دشمن کا خوف نما زقضا کر دینے کے ليے عذر ہے، مثلاً مسافر کو چور اور ڈاکوؤں کا صحیح اندیشہ ہے تو اس کی وجہ سے وقتی نماز قضا کر سکتا ہے بشرطیکہ کسی طرح نماز پڑھنے پر قادر نہ ہو اور اگر سوار ہے اور سواری پر پڑھ سکتا ہے اگرچہ چلنے ہی کی حالت میں یا بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے تو عذر نہ ہوا۔ يوہيں اگر قبلہ کو مونھ کرتا ہے تو دشمن کا سامنا ہوتا ہے تو جس رُخ بن پڑے پڑھ لے ہو جائے گی ورنہ نماز قضا کرنے کا گناہ ہوا۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جنائی (9) نماز پڑھے گی تو بچہ کے مر جانے کا اندیشہ ہے نماز قضا کرنے کے ليے یہ عذر ہے۔ بچہ کا سر باہر
1 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب المیم، الحدیث: ۵۱۳۲، ج۴، ص۳۸.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ... إلخ، الحدیث: ۳۱۵۔(۶۸۴)، ص۳۴۶.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ... إلخ، الحدیث: ۶۸۱، ص۳۴۳.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۶۲۶.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۶۲۷.
6 ۔ یعنی مذاق۔
7 ۔ ''شعب الإيمان''، باب في معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، الحديث: ۷۱۷۸، ج۵، ص۴۳۶.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۶۲۷.
9 ۔ یعنی دائی ۔ بچہ جنانے والی۔
آگیا اور نفاس سے پیشتر وقت ختم ہو جائے گا تو اس حالت میں بھی اس کی ماں پر نماز پڑھنا فرض ہے نہ پڑھے گی گنہگار ہوگی، کسی برتن میں بچہ کا سر رکھ کر جس سے اس کو صدمہ نہ پہنچے نماز پڑھے مگر اس ترکیب سے پڑھنے میں بھی بچہ کے مر جانے کا اندیشہ ہو تو تاخیر معاف ہے بعد نفاس اس نماز کی قضا پڑھے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: جس چیز کابندوں پر حکم ہے اسے وقت میں بجا لانے کو ادا کہتے ہیں اور وقت کے بعد عمل میں لانا قضا ہے اور اگر اس حکم کے بجالانے میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو دوبارہ وہ خرابی دفعہ کرنے کے ليے کرنا اعادہ ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۶: وقت میں اگر تحریمہ باندھ لیا تو نماز قضا نہ ہوئی بلکہ ادا ہے۔ (3) (درمختار) مگر نماز فجر و جمعہ و عیدین کہ ان میں سلام سے پہلے بھی اگر وقت نکل گیا نماز جاتی رہی۔
مسئلہ ۷: سوتے میں یا بھولے سے نماز قضا ہوگئی تو اس کی قضا پڑھنی فرض ہے، البتہ قضا کا گناہ اس پر نہیں مگر بیدار ہونے اور یاد آنے پر اگر وقت مکروہ نہ ہو تو اُسی وقت پڑھ لے تاخیر مکروہ ہے، کہ حدیث میں ارشاد فرمایا: ''جو نماز سے بھول جائے یا سو جائے تو یاد آنے پر پڑھ لے کہ وہی اس کا وقت ہے۔'' (4) (عالمگیری وغيرہ) مگر دخول وقت کے بعد سو گیا پھر وقت نکل گیا تو قطعاً گنہگار ہوا جب کہ جاگنے پر صحیح اعتماد یا جگانے والا موجود نہ ہو بلکہ فجر میں دخول وقت سے پہلے بھی سونے کی اجازت نہیں ہوسکتی جب کہ اکثر حصہ رات کا جاگنے میں گزرا اور ظن ہے کہ اب سو گیا تو وقت میں آنکھ نہ کھلے گی۔
مسئلہ ۸: کوئی سو رہا ہے یا نماز پڑھنا بھول گیا تو جسے معلوم ہو اس پر واجب ہے کہ سوتے کو جگا دے اور بُھولے ہوئے کو یاد دلا دے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جب یہ اندیشہ ہو کہ صبح کی نماز جاتی رہے گی تو بلا ضرورت شرعیہ اُسے رات میں دیر تک جاگنا ممنوع ہے۔ (6) (ردالمحتار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۶۲۷.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۶۲۷۔۶۳۲.
3 ۔ المرجع السابق، ص۶۲۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر في قضاء الفوائت، ج۱، ص۱۲۱، وغيرہ.
5 ۔ ''ردالمحتار''،
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في طلوع الشمس من مغربھا، ج۲، ص۳۳.
امير اہلسنت، بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الياس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ ''نماز کے اَحکام'' صفحہ 329 پر فرماتے ہيں: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نعت خوانیوں ، ذِکرو فکر کی محفِلوں نیز سنّتوں بھرے اجتماعات وغیرہ میں رات دیر تک جاگنے کے بعدسونے کے سبب اگر نَمازِ فجر قَضا ہونے کا اندیشہ ہو تو بَہ نیّتِ اعتکاف مسجِد میں قِیام کریں یا وہاں سوئیں جہاں کوئی قابلِ اعتماد اسلامی=
مسئلہ ۱۰: فرض کی قضا فرض ہے اور واجب کی قضا واجب اور سنت کی قضا سنت یعنی وہ سنتیں جن کی قضا ہے مثلاً فجر کی سنتیں جبکہ فرض بھی فوت ہوگیا ہو اور ظہر کی پہلی سنتیں جب کہ ظہر کا وقت باقی ہو۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: قضا کے ليے کوئی وقت معین نہیں عمر میں جب پڑھے گا بریئ الذّمہ ہو جائے گا مگر طلوع و غروب اور زوال کے وقت کہ ان وقتوں میں نماز جائز نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مجنون کی حالت جنون جو نمازیں فوت ہوئیں اچھے ہونے کے بعد ان کی قضا واجب نہیں جبکہ جنون نماز کے چھ وقت کامل تک برابر رہا ہو۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: جو شخص معاذ اللہ مرتَد ہوگیا پھر اسلام لایا تو زمانۂ ارتداد کی نمازوں کی قضا نہیں اور مرتد ہونے سے پہلے زمانۂ اسلام میں جو نماز یں جاتی رہی تھیں ان کی قضا واجب ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: دارالحرب میں کوئی شخص مسلمان ہوا اور احکام شرعیہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیر ہا کی اس کو اطلاع نہ ہوئی تو جب تک وہاں رہا ان دِنوں کی قضا اس پر واجب نہیں اور جب دارالاسلام میں آگیا تو اب جو نماز قضا ہوگی اسے پڑھنا فرض ہے کہ دارالاسلام میں احکام کا نہ جاننا عذر نہیں اور کسی ایک شخص نے بھی اسے نماز فرض ہونے کی اطلاع دے دی اگرچہ فاسق یا بچہ یا عورت یا غلام نے تو اب جتنی نہ پڑھے گا ان کی قضا واجب ہے، دارالاسلام میں مُسلمان ہوا تو جو نماز فوت ہوئی اس کی قضا واجب ہے اگرچہ کہے کہ مجھے اس کا علم نہ تھا۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: ایسا مریض کہ اشارہ سے بھی نماز نہیں پڑھ سکتا اگر یہ حالت پورے چھ وقت تک رہی تو اس حالت میں جو نمازیں فوت ہوئیں ان کی قضا واجب نہیں۔ (6) (عالمگیری)
= بھائی جگانے والا موجود ہو یا اِلارم والی گھڑی ہو جس سے آنکھ کُھل جاتی ہو مگر ایک عدد گھڑی پر بھروسہ نہ کیا جائے کہ نیند میں ہاتھ لگ جانے سے یا یوں ہی خراب ہو کر بند ہو جانے کا امکان رہتا ہے، دو یا حسبِ ضَرورت زائد گھڑیاں ہوں تو بہتر ہے۔ فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تعالیٰ فرماتے ہیں، ''جب یہ اندیشہ ہو کہ صبح کی نَماز جاتی رہے گی تو بِلا ضَرورتِ شَرعِیَّہ اُسے رات دیر تک جاگنا ممنوع ہے۔''
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، مطلب في تعريف الإعادۃ، ج۲، ص۶۳۳.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت وما يتصل بھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۲.
طلوع و غروب و زوال سے کیا مراد ہے، اس کا بیان باب الاوقات میں گذرا۔ ۱۲ منہ
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر في قضاء الفوائت، ج۱، ص۱۲۱.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، مطلب في بطلان بالختمات و التھاليل، ج۲، ص۶۴۷.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر في قضاء الفوائت، ج۱، ص۱۲۱.
مسئلہ ۱۶: جو نماز جیسی فوت ہوئی اس کی قضا ویسی ہی پڑھی جائے گی، مثلاً سفر میں نماز قضا ہوئی تو چار رکعت والی دو ہی پڑھی جائے گی اگرچہ اقامت کی حالت میں پڑھے اور حالت اقامت میں فوت ہوئی تو چار رکعت والی کی قضا چار رکعت ہے اگرچہ سفر میں پڑھے۔ البتہ قضا پڑھنے کے وقت کوئی عذر ہے تو اس کا اعتبار کیا جائے گا، مثلاً جس وقت فوت ہوئی تھی اس وقت کھڑا ہو کر پڑھ سکتا تھا اور اب قیام نہیں کر سکتا تو بیٹھ کر پڑھے یا اس وقت اشارہ ہی سے پڑھ سکتا ہے تو اشارے سے پڑھے اور صحت کے بعد اس کا اعادہ نہیں۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۷: لڑکی نماز عشا پڑھ کر یا بے پڑھے سوئی آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ پہلا حیض آیا تو اس پر وہ عشا فرض نہیں اور اگر احتلام سے بالغ ہوئی تو اس کا حکم وہ ہے جو لڑکے کا ہے، پَو پھٹنے (2) سے پہلے آنکھ کھلی تو اُس وقت کی نماز فرض ہے اگرچہ پڑھ کر سوئی اور پَو پھٹنے کے بعد آنکھ کھلی تو عشا کا اعادہ کرے اور عمر سے بالغ ہوئی یعنی اس کی عمر پورے پندرہ سال کی ہوگئی تو جس وقت پورے پندرہ سال کی ہوئی اس وقت کی نماز اس پر فرض ہے اگرچہ پہلے پڑھ چکی ہو۔ (3) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۱۸: پانچوں فرضوں میں باہم اور فرض و وتر میں ترتیب ضروری ہے کہ پہلے فجر پھر ظہر پھر عصر پھر مغرب پھر عشا پھر وتر پڑھے، خواہ یہ سب قضا ہوں یا بعض ادا بعض قضا، مثلاً ظہر کی قضا ہوگئی تو فرض ہے کہ اسے پڑھ کر عصر پڑھے یا وتر قضا ہوگیا تو اُسے پڑھ کر فجر پڑھے اگر یاد ہوتے ہوئے عصر یا وتر کی پڑھ لی تو ناجائز ہے۔ (4) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۹: اگروقت میں اتنی گنجائش نہیں کہ وقتی اور قضائیں سب پڑھ لے تو وقتی اور قضا نمازوں میں جس کی گنجائش ہو پڑھے باقی میں ترتیب ساقط ہے، مثلاً نماز عشا و وتر قضا ہو گئے اور فجر کے وقت میں پانچ رکعت کی گنجائش ہے تو وتر و فجر پڑھے اور چھ رکعت کی وسعت ہے تو عشا و فجر پڑھے۔ (5) (شرح وقایہ)
مسئلہ ۲۰: ترتیب کے ليے مطلق وقت کا اعتبار ہے، مستحب وقت ہونے کی ضرورت نہیں تو جس کی ظہر کی نماز قضا ہوگئی اور آفتاب زرد ہونے سے پہلے ظہر سے فارغ نہیں ہو سکتا مگر آفتاب ڈوبنے سے پہلے دونوں پڑھ سکتا ہے تو ظہر پڑھے پھر عصر۔ (6) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر في قضاء الفوائت، ج۱، ص۱۲۱.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۶۵۰.
2 ۔ یعنی صبح صادق ہونے۔
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر في قضاء الفوائت، ج۱، ص۱۲۱، وغيرہ .
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر في قضاء الفوائت، ج۱، ص۱۲۱، وغيرہ.
5 ۔ ''شرح الوقایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۱، ص۲۱۷.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، مطلب في تعريف الإعادۃ، ج۲، ص۶۳۴.
مسئلہ ۲۱: اگر وقت میں اتنی گنجائش ہے کہ مختصر طور پر پڑھے تو دونوں پڑھ سکتا ہے اور عمدہ طریقہ سے پڑھے تو دونوں نمازوں کی گنجائش نہیں تو اس صورت میں بھی ترتیب فرض ہے اور بقدر جواز جہاں تک اختصار کر سکتا ہے کرے۔ (1) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۲: وقت کی تنگی سے ترتیب ساقط ہونا اس وقت ہے کہ شروع کرتے وقت وقت تنگ ہو، اگر شروع کرتے وقت گنجائش تھی اور یہ یاد تھا کہ اس وقت سے پیشتر کی نماز قضا ہوگئی ہے اور نماز میں طول دیا کہ اب وقت تنگ ہوگیا تو یہ نماز نہ ہوگی ہاں اگر توڑ کر پھر سے پڑھے تو ہو جائے گی اور اگر قضا نماز یاد نہ تھی اور وقتی نماز میں طول دیا کہ وقت تنگ ہوگیا اب یاد آئی تو ہوگئی قطع نہ کرے۔ (2) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۳: وقت تنگ ہونے نہ ہونے میں اس کے گمان کا اعتبار نہیں بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ حقیقتاً وقت تنگ تھا یا نہیں مثلاً جس کی نمازِ عشا قضا ہوگئی اور فجر کا وقت تنگ ہونا گمان کر کے فجر کی پڑھ لی پھر یہ معلوم ہوا کہ وقت تنگ نہ تھا تو نمازِ فجر نہ ہوئی اب اگر دونوں کی گنجائش ہو تو عشا پڑھ کر پھر فجر پڑھے، ورنہ فجر پڑھ لے اگر دوبارہ پھر غلطی معلوم ہوئی تو وہی حکم ہے یعنی دونوں پڑھ سکتا ہے تو دونوں پڑھے ورنہ صرف فجر پھر پڑھے اور اگر فجر کا اعادہ نہ کیا، عشا پڑھنے لگا اور بقدر تشہد بیٹھنے نہ پایا تھا کہ آفتاب نکل آیا تو فجر کی نماز جو پڑھی تھی ہوگئی۔ يوہيں اگر فجر کی نماز قضا ہوگئی اور ظہر کے وقت میں دونوں نمازوں کی گنجائش اس کے گمان میں نہیں ہے اور ظہر پڑھ لی پھر معلوم ہوا کہ گنجائش ہے تو ظہر نہ ہوئی، فجر پڑھ کر ظہر پڑھے یہاں تک کہ اگر فجر پڑھ کر ظہر کی ایک رکعت پڑھ سکتا ہے تو فجر پڑھ کر ظہر شروع کرے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: جمعہ کے دن فجر کی نماز قضا ہوگئی اگر فجر پڑھ کر جمعہ میں شریک ہوسکتا ہے تو فرض ہے کہ پہلے فجر پڑھے اگرچہ خطبہ ہوتا ہو اور اگر جمعہ نہ ملے گا مگر ظہر کا وقت باقی رہے گا جب بھی فجر پڑھ کر ظہر پڑھے اور اگر ایسا ہے کہ فجر پڑھنے میں جمعہ بھی جاتا رہے گا اور جمعہ کے ساتھ وقت بھی ختم ہو جائے گا تو جمعہ پڑھ لے پھر فجر پڑھے اس صورت میں ترتیب ساقط ہے۔ (4) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۵: اگر وقت کی تنگی کے سبب ترتیب ساقط ہوگئی اور وقتی نماز پڑھ رہا تھا کہ اثنائے نماز میں وقت ختم ہوگیا تو ترتیب عود نہ کرے گی یعنی وقتی نماز ہوگئی۔ (5) (عالمگيری) مگر فجر و جمعہ میں کہ وقت نکل جانے سے یہ خود ہی نہیں ہوئیں۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر في قضاء الفوائت، ج۱، ص۱۲۲.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق، ص۱۲۳.
مسئلہ ۲۶: قضا نماز یاد نہ رہی اور وقتیہ پڑھ لی پڑھنے کے بعد یاد آئی تو وقتیہ ہوگئی اور پڑھنے میں یاد آئی تو گئی۔ (1) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۲۷: اپنے کو باوضو گمان کر کے ظہر پڑھی پھر وضو کر کے عصر پڑھی پھر معلوم ہوا کہ ظہر میں وضو نہ تھا تو عصر کی ہوگئی صرف ظہر کا اعادہ کرے۔ (2) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۸: فجر کی نماز قضا ہوگئی اور یاد ہوتے ہوئے ظہر کی پڑھ لی پھر فجر کی پڑھی تو ظہر کی نہ ہوئی، عصر پڑھتے وقت ظہر کی یاد تھی مگر اپنے گمان میں ظہر کو جائز سمجھا تھا تو عصر کی ہوگئی غرض یہ ہے کہ فرضیّت ترتیب سے جو ناواقف ہے اس کا حکم بھولنے والے کی مثل ہے کہ اس کی نماز ہو جائے گی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: چھ نمازیں جس کی قضا ہو گئیں کہ چھٹی کا وقت ختم ہوگیا اس پر ترتیب فرض نہیں، اب اگرچہ باوجود وقت کی گنجائش اور یادکے وقتی پڑھے گا ہو جائے گی خواہ وہ سب ایک ساتھ قضا ہوئیں مثلاً ایک دم سے چھ وقتوں کی نہ پڑھیں یا متفرق طور پر قضا ہوئیں مثلاً چھ دن فجر کی نماز نہ پڑھی اور باقی نمازیں پڑھتا رہا مگر ان کے پڑھتے وقت وہ قضائیں بھولا ہوا تھا خواہ وہ سب پرانی ہوں یا بعض نئی بعض پرانی مثلاً ایک مہینہ کی نماز نہ پڑھی پھر پڑھنی شروع کی پھر ایک وقت کی قضا ہوگئی تو اس کے بعد کی نماز ہو جائے گی اگرچہ اس کا قضا ہونا یاد ہو۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: جب چھ نمازیں قضا ہونے کے سبب ترتیب ساقط ہوگئی تو ان میں سے اگربعض پڑھ لی کہ چھ سے کم رہ گئیں تو وہ ترتیب عود نہ کرے گی یعنی ان میں سے اگر دو باقی ہوں تو باوجود یاد کے وقتی نماز ہو جائے گی البتہ اگر سب قضائیں پڑھ لیں تو اب پھر صاحب ترتیب ہوگیا کہ اب اگر کوئی نماز قضا ہوگی تو بشرائط سابق اسے پڑھ کر وقتی پڑھے ورنہ نہ ہوگی۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: یوہیں اگر بھولنے یا تنگی وقت کے سبب ترتیب ساقط ہوگئی تو وہ بھی عود نہ کرے گی مثلاً بھول کر نماز پڑھ لی اب یاد آیا تو نماز کا اعادہ نہیں اگرچہ وقت میں بہت کچھ گنجائش ہو۔ (6) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر في قضاء الفوائت، ج۱، ص۱۲۲.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۶۳۹.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، مطلب في تعريف الإعادۃ، ج۲، ص۶۳۷.
5 ۔ المرجع السابق، ص۶۴۰.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۶۴۰.
مسئلہ ۳۲: باوجود یاد اور گنجائش وقت کے وقتی نماز کی نسبت جوکہا گیا کہ نہ ہوگی اس سے مراد یہ ہے کہ وہ نماز موقوف ہے اگر وقتی پڑھتا گیا اور قضا رہنے دی تو جب دونوں مل کر چھ ہو جائیں گی یعنی چھٹی کا وقت ختم ہو جائے گا تو سب صحیح ہو گئیں اور اگر اس درمیان میں قضا پڑھ لی تو سب گئیں یعنی نفل ہوگئیں سب کو پھر سے پڑھے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۳: بعض نماز پڑھتے وقت قضا یاد تھی اور بعض میں یاد نہ رہی تو جن میں قضا یاد ہے ان میں پانچویں کا وقت ختم ہو جائے یعنی قضا سمیت چھٹی کا وقت ہو جائے تو اب سب ہو گئیں اور جن کے ادا کرتے وقت قضا کی یاد نہ تھی ان کا اعتبار نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: عورت کی ایک نماز قضا ہوئی اس کے بعد حیض آگیا تو حیض سے پاک ہو کر پہلے قضا پڑھ لے پھر وقتی پڑھے، اگر قضا یاد ہوتے ہوئے وقتی پڑھے گی نہ ہوگی جب کہ وقت میں گنجائش ہو۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: جس کے ذمہ قضا نمازیں ہوں اگرچہ ان کا پڑھنا جلد سے جلد واجب ہے مگر بال بچوں کی خورد و نوش اور اپنی ضروریات کی فراہمی کے سبب تاخیر جائز ہے تو کاروبار بھی کرے اور جو وقت فرصت کا ملے اس میں قضا پڑھتا رہے یہاں تک کہ پوری ہو جائیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: قضا نمازیں نوافل سے اہم ہیں یعنی جس وقت نفل پڑھتا ہے انھيں چھوڑ کر ان کے بدلے قضائیں پڑھے کہ بری الذمہ ہو جائے البتہ تراویح اور بارہ رکعتیں سنت مؤکدہ کی نہ چھوڑے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۷: منّت کی نماز میں کسی خاص وقت یا دن کی قید لگائی تو اسی وقت یا دن میں پڑھنی واجب ہے ورنہ قضا ہوجائے گی اور اگر وقت یا دن معین نہیں تو گنجائش ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۳۸: کسی شخص کی ایک نما زقضا ہوگئی اور يہ یاد نہیں کہ کونسی نماز تھی تو ایک دن کی نمازیں پڑھے۔ يوہيں اگر
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۶۴۱.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، مطلب في تعريف الإعادۃ، ج۲، ص۶۴۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر في قضاء الفوائت، ج۱، ص۱۲۴.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۶۴۶.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، مطلب في بطلان الوصیۃ بالختمات و التھاليل، ج۲، ص۶۴۶.
خليلِ ملّت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد خليل خان قادری برکاتی علیہ رحمۃ الرحمن ''سُنّی بہشتی زيور''، صفحہ 240 پر فرماتے ہيں: ''اور لَو لگائے رکھے کہ مولا عزوجل اپنے کرمِ خاص سے قضا نمازوں کے ضمن ميں ان نوافل کا ثواب بھی اپنے خزائنِ غيب سے عطا فرمادے، جن کے اوقات ميں یہ قضا نمازيں پڑھی گئيں۔ واللہ ذوالفضل العظيم۔ (''سُنّی بہشتی زيور''، نفل نمازوں کا بيان، ص۲۴۰)
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، مطلب في بطلان الوصیۃ... إلخ، ج۲، ص۶۴۶.
دونمازیں دو دن میں قضا ہوئیں تو دونوں دنوں کی سب نمازیں پڑھے۔ يوہيں تین دن کی تین نمازیں اور پانچ دن کی پانچ نمازیں۔ (1) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۹: ایک دن عصر کی اور ایک دن ظہر کی قضا ہوگئی اور یہ یاد نہیں کہ پہلے دن کی کون نماز ہے تو جدھر طبیعت جمے اسے پہلی قرار دے اور کسی طرف دل نہیں جمتا تو جو چاہے پہلے پڑھے مگر دوسری پڑھنے کے بعد جو پہلے پڑھی ہے پھیرے اور بہتر یہ ہے کہ پہلے ظہرپڑھے پھر عصر پھر ظہر کا اعادہ اور اگر پہلے عصر پڑھی پھر ظہر پھر عصر کا اعادہ کیا تو بھی حرج نہیں۔ (2) (عالمگيری)
مسئلہ ۴۰: عصر کی نماز پڑھنے میں یاد آیا کہ نماز کا ايک سجدہ رہ گیا مگر یہ یاد نہیں کہ اسی نماز کا رہ گیا یا ظہر کا تو جدھر دل جمے اس پر عمل کرے اور کسی طرف نہ جمے تو عصر پوری کر کے آخر میں ایک سجدہ کرلے پھر ظہر کا اعادہ کرے پھر عصر کا اور اعادہ نہ کیا تو بھی حرج نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: جس کی نمازیں قضا ہو گئیں اور انتقال ہوگیا تو اگر وصیّت کر گیا اور مال بھی چھوڑا تو اس کی تہائی سے ہر فرض و وتر کے بدلے نصف صاع گیہوں یا ایک صاع جَو تصدق کريں اور مال نہ چھوڑا اور ورثا فدیہ دینا چاہیں تو کچھ مال اپنے پاس سے یا قرض لے کر مسکین پر تصدق کرکے اس کے قبضہ میں دیں اور مسکین اپنی طرف سے اسے ہبہ کر دے (4) اور یہ قبضہ بھی کرلے پھر يہ مسکین کو دے ،يوہيں لوٹ پھیر کرتے رہیں یہاں تک کہ سب کا فدیہ ادا ہو جائے ۔اوراگر مال چھوڑا مگر وہ ناکافی ہے جب بھی یہی کریں اور اگر وصیّت نہ کی اور ولی اپنی طرف سے بطور احسان فدیہ دینا چاہے تو دے اور اگر مال کی تہائی بقدر کافی ہے اور وصیّت یہ کی کہ اس میں سے تھوڑا لے کر لوٹ پھیر کرکے فدیہ پورا کر لیں اور باقی کو ورثا یا اور کوئی لے لے تو گنہگار ہوا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: میت نے ولی کو اپنے بدلے نماز پڑھنے کی وصیّت کی اور ولی نے پڑھ بھی لی تو یہ ناکافی ہے۔ يوہيں اگر مرض کی حالت میں نماز کا فدیہ دیا تو ادا نہ ہوا۔ (6) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر في قضاء الفوائت، ج۱، ص۱۲۴.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ يعنی تحفہ ميں دیدے۔
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، مطلب في إسقاط الصلاۃ عن الميت، ج۲،
ص۶۴۳ ۔ ۶۴۴.
6 ۔ ''تنوير الأبصار''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۶۴۵.
مسئلہ ۴۳: بعض ناواقف یوں فدیہ ديتے ہیں کہ نمازوں کے فدیہ کی قیمت لگا کر سب کے بدلے ميں قرآن مجید دیتے ہیں اس طرح کل فدیہ ادا نہیں ہوتا یہ محض بے اصل بات ہے بلکہ صرف اتنا ہی ادا ہو گا جس قیمت کا مصحف شریف ہے۔
مسئلہ ۴۴: شافعی المذہب کی نماز قضا ہوئی اس کے بعد حنفی ہوگیا تو حنفیوں کے طور پر قضا پڑھے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: جس کی نمازوں میں نقصان و کراہت ہو وہ تمام عمر کی نمازیں پھیرے تو اچھی بات ہے اور کوئی خرابی نہ ہو تو نہ چاہيے اور کرے تو فجر و عصر کے بعد نہ پڑھے اور تمام رکعتیں بھری پڑھے اور وتر میں قنوت پڑھ کر تیسری کے بعد قعدہ کرے پھر ایک اور ملائے کہ چار ہوجائیں۔ (2) (عالمگيری)
مسئلہ ۴۶: قضائے عمری کہ شبِ قدر یا اخیر جمعۂ رمضان میں جماعت سے پڑھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ عمر بھر کی قضائیں اسی ایک نماز سے ادا ہوگئیں، یہ باطل محض ہے۔
حدیث ۱: حدیث میں ہے: ''ایک بار حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہو گئے بیٹھے نہیں پھر سلام کے بعد سجدۂ سہو کیا۔'' (3) اس حدیث کو ترمذی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
مسئلہ ۱: واجبات نماز میں جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے ليے سجدۂ سہو واجب ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ التحیات کے بعد دہنی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرے پھر تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیرے۔ (4) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۲: اگر بغیر سلام پھیرے سجدے کر ليے کافی ہيں مگر ایسا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے۔ (5) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳: قصداً واجب ترک کیا تو سجدۂ سہو سے وہ نقصان دفع نہ ہو گا بلکہ اعادہ واجب ہے۔ يوہيں اگر سہواً واجب ترک ہوا اور سجدۂ سہو نہ کیا جب بھی اعادہ واجب ہے۔ (6) (درمختار وغیرہ)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر في قضاء الفوائت، ج۱، ص۱۲۴.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔
4 ۔ ''شرح الوقایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۱، ص۲۲۰.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۱، ۶۵۵.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۵.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۳.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۵، وغيرہ.
مسئلہ ۴: کوئی ایسا واجب ترک ہوا جو واجباتِ نماز سے نہیں بلکہ اس کا وجوب امر خارج سے ہو تو سجدۂ سہو واجب نہیں مثلاً خلافِ ترتیب قرآن مجيد پڑھنا ترک واجب ہے مگر موافق ترتیب پڑھنا واجباتِ تلاوت سے ہے واجباتِ نماز سے نہیں لہٰذا سجدۂ سہو نہیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: فرض ترک ہو جانے سے نماز جاتی رہتی ہے سجدۂ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی لہٰذا پھر پڑھے اور سنن و مستحبات مثلاً تعوذ، تسمیہ، ثنا، آمین، تکبیراتِ انتقالات، تسبیحات کے ترک سے بھی سجدۂ سہو نہیں بلکہ نماز ہو گئی۔ (2) (ردالمحتار، غنیہ) مگر اعادہ مستحب ہے سہواً ترک کیا ہو یا قصداً۔
مسئلہ ۶: سجدۂ سہو اس وقت واجب ہے کہ وقت میں گنجائش ہو اور اگر نہ ہو مثلاً نماز فجر میں سہو واقع ہوا اور پہلا سلام پھیرا اور سجدہ ابھی نہ کیا کہ آفتاب طلوع کر آیا تو سجدۂ سہو ساقط ہوگیا۔ يوہيں اگر قضا پڑھتا تھا اور سجدہ سے پہلے قرص آفتاب زرد ہوگیا سجدہ ساقط ہوگیا۔ جمعہ یا عید کاوقت جاتا رہے گا جب بھی یہی حکم ہے۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: جو چیز مانع بنا ہے، مثلاً کلام وغیرہ منافی نماز، اگر سلام کے بعد پائی گئی تو اب سجدۂ سہو نہیں ہوسکتا۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: سجدۂ سہو کا ساقط ہونا اگر اس کے فعل سے ہے تو اعادہ واجب ہے ورنہ نہیں۔ (5) (ردالمحتار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۵.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۵.
و ''غنیۃ المتملي''، فصل في سجود السھو، ص۴۵۵.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۵.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۴.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۵.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۴.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۴.
یہ علامہ شامی کی بحث ہے اور اعلیٰ حضرت قبلہ مدظلہم الاقدس نے حاشیۂ ردالمحتار میں یہ ثابت کیا کہ بہرحال اعادہ ہے۔ ''وہذا نصہ و الذی یظہرلی لزوم الاعادۃ مـطلقا لان الصلوۃ وقعت ناقصۃ وقد وجب علیہ اکمالہا وکانت الیہ سبیلان متصل بالسجود و متراخ بالاعادۃ فان عجز عن احدہما ولو بلا صنعہ فلم یعجز عن الاخری و سیأثرالعلامۃ المحشی عن النہر ان المقتدی اذا سہا دون امامہ فانہ لایسجد ومقتضی کلا مہم ان یعید لتمکن الکراہۃ مع تعذر الجابر اھ فان ہذا التـعذر ایضاً بغیر صنعہ وقداقرہ المحشی وہو وان کان ثمہ سہوا من النہر والمحشی
کما سیاتی ہنا لکن لاشک انہ مقتضی کلامہم ہنا.'' ۱۲
مسئلہ ۹: فرض و نفل دونوں کا ایک حکم ہے یعنی نوافل میں بھی واجب ترک ہونے سے سجدۂ سہو واجب ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: نفل کی دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں سہو ہوا پھر اسی پر بنا کر کے دو رکعتيں اور پڑھیں تو سجدۂ سہو کرے اور فرض میں سہو ہوا تھا اور اس پر قصداً نفل کی بنا کی تو سجدۂ سہو نہیں بلکہ فرض کا اعادہ کرے اور اگر اس فرض کے ساتھ سہواً نفل ملایا ہو مثلاً چار رکعت پر قعدہ کر کے کھڑا ہوگیا اور پانچویں کا سجدہ کر لیا تو ایک رکعت اور ملائے کہ یہ دو نفل ہو جائیں اور ان میں سجدۂ سہو کرے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: سجدۂ سہو کے بعد بھی التحیات پڑھنا واجب ہے التحیات پڑھ کر سلام پھیرے اور بہتر یہ ہے کہ دونوں قعدوں میں درود شریف بھی پڑھے۔ (3) (عالمگيری) اور یہ بھی اختیار ہے کہ پہلے قعدہ میں التحیات و درود پڑھے اور دوسرے میں صرف التحیات۔
مسئلہ ۱۲: سجدۂ سہو سے وہ پہلا قعدہ باطل نہ ہوا مگر پھر قعدہ کرنا واجب ہے اور اگر نماز کا کوئی سجدہ باقی رہ گیا تھا قعدہ کے بعد اس کو کیا یا سجدۂ تلاوت کیا تو وہ قعدہ جاتا رہا۔ اب پھر قعدہ فرض ہے کہ بغیر قعدہ نماز ختم کر دی تو نہ ہوئی اور پہلی صورت میں ہو جائے گی مگر واجب الاعادہ۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۳: ایک نماز میں چند واجب ترک ہوئے تو وہی دو سجدے سب کے ليے کافی ہیں۔ (5) (ردالمحتار وغیرہ)
واجباتِ نماز کا مفصّل بیان پیشتر ہو چکا ہے، مگر تفصیل ا حکام کے ليے اعادہ بہتر، واجب کی تاخیر رکن کی تقدیم یا تاخیر یا اس کو مکرر کرنا يا واجب میں تغيير یہ سب بھی ترک واجب ہیں۔
مسئلہ ۱۴: فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل و وتر کی کسی رکعت میں سورۂ الحمد کی ایک آیت بھی رہ گئی یا سورت سے پیشتر دو بار الحمد پڑھی یا سورت ملانا بھول گیا یا سورت کو فاتحہ پر مقدم کیا یا الحمد کے بعد ایک یا دو چھوٹی آیتیں پڑھ کر رکوع میں چلا گیا پھر یاد آیا اور لوٹا اور تین آیتیں پڑھ کر رکوع کیا تو ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے۔ (6) (درمختار، عالمگيری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۶.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۴.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۵.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السہو، ج۲، ص۶۵۳، وغيرہ.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۵، وغيرہ.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السہو، ج۲، ص۶۵۶.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۶.
مسئلہ ۱۵: الحمد کے بعد سورت پڑھی اس کے بعد پھر الحمد پڑھی تو سجدۂ سہو واجب نہیں۔ يوہيں فرض کی پچھلی رکعتوں میں فاتحہ کی تکرار سے مطلقاً سجدۂ سہو واجب نہیں اور اگر پہلی رکعتوں میں الحمد کا زیادہ حصہ پڑھ لیا تھا۔ پھر اعادہ کیا تو سجدۂ سہو واجب ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: الحمد پڑھنا بھول گیا اور سورت شروع کر دی اور بقدر ایک آیت کے پڑھ لی اب یاد آیا تو الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور سجدہ واجب ہے۔ يوہيں اگر سورت کے پڑھنے کے بعد یا رکوع میں یا رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد یاد آیا تو پھر الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور رکوع کا اعادہ کرے اور سجدۂ سہو کرے۔ (2) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۷: فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملائی تو سجدۂ سہو نہيں اور قصداً ملائی جب بھی حرج نہیں مگر امام کو نہ چاہیے يوہيں اگر پچھلی میں الحمد نہ پڑھی جب بھی سجدۂ سہو نہیں اور رکوع و سجود و قعدہ میں قرآن پڑھا تو سجدہ واجب ہے۔ (3) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۸: آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا تو سجدۂ تلاوت ادا کرے اور سجدۂ سہو کرے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: جو فعل نماز میں مکرر ہیں ان میں ترتیب واجب ہے لہٰذا خلاف ترتیب فعل واقع ہو تو سجدۂ سہو کرے مثلاً قراء ت سے پہلے رکوع کر دیا اور رکوع کے بعد قراء ت نہ کی تو نماز فاسد ہوگئی کہ فرض ترک ہوگیا اور اگر رکوع کے بعد قراء ت تو کی مگر پھر رکوع نہ کیا تو فاسد ہوگئی کہ قراء ت کی وجہ سے رکوع جاتا رہا اور اگر بقدر فرض قراء ت کر کے رکوع کیا مگر واجب قراء ت ادا نہ ہوا مثلاً الحمد نہ پڑھی یا سورت نہ ملائی تو حکم یہی ہے کہ لوٹے اور الحمد و سورت پڑھ کر رکوع کرے اور سجدۂ سہو کرے اور اگر دوبارہ رکوع نہ کیا تو نماز جاتی رہی کہ پہلا رکوع جاتا رہا تھا۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: کسی رکعت کا کوئی سجدہ رہ گیا آخر میں یاد آیا تو سجدہ کر لے پھر التحیات پڑھ کر سجدۂ سہو کرے اور سجدہ کے پہلے جو افعال نماز ادا کيے باطل نہ ہوں گے، ہاں اگر قعدہ کے بعد وہ نماز والا سجدہ کیا تو صرف وہ قعدہ جاتا رہا۔ (6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۱: تعدیل ارکان (7) بھول گیا سجدۂ سہو واجب ہے۔ (8) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۶.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۵.
6 ۔ ''الدرالمختار''، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۷.
7 ۔ يعنی رکوع، سجود، قومہ اور جلسہ ميں کم از کم ايک بار ''سُبْحٰنَ اللہ'' کہنے کی مقدار ٹھہرنا۔
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۷.
مسئلہ ۲۲: فرض میں قعدۂ اولیٰ بھول گیا توجب تک سیدھا کھڑا نہ ہوا، لوٹ آئے اور سجدۂ سہو نہیں اور اگر سیدھا کھڑا ہو گيا تو نہ لوٹے اور آخر ميں سجدۂ سہو کرے اور اگر سيدھا کھڑا ہو کر لوٹا تو سجدۂ سہو کرے اور صحيح مذہب ميں نماز ہوجائے گی مگر گنہگار ہوا لہٰذا حکم ہے کہ اگر لوٹے تو فوراً کھڑا ہوجائے۔ (1) (درمختار، غنیہ)
مسئلہ ۲۳: اگر مقتدی بھول کر کھڑا ہوگیا تو ضرور ہے کہ لوٹ کہ آوے، تاکہ امام کی مخالفت نہ ہو۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: قعدۂ اخیرہ بھول گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کرے اور اگر قعدۂ اخیرہ میں بیٹھا تھا، مگر بقدر تشہد نہ ہوا تھا کہ کھڑا ہوگیا تو لوٹ آئے اور وہ جو پہلے کچھ دیر تک بیٹھا تھا محسوب ہو گا یعنی لوٹنے کے بعد جتنی دیر تک بیٹھا یہ اور پہلے کا قعدہ دونوں مل کر اگر بقدر تشہد ہو گئے فرض ادا ہوگیا مگر سجدۂ سہو اس صورت میں بھی واجب ہے اور اگر اس رکعت کا سجدہ کر لیا تو سجدہ سے سر اٹھاتے ہی وہ فرض نفل ہوگیا لہٰذا اگر چاہے تو علاوہ مغرب کے اور نمازوں میں ایک رکعت اور ملالے کہ شفع پورا ہو جائے اور طاق رکعت نہ رہے اگرچہ وہ نماز فجر یا عصر ہو مغرب میں اور نہ ملائے کہ چار پوری ہوگئیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: نفل کا ہر قعدہ قعدۂ اخیرہ ہے یعنی فرض ہے اگر قعدہ نہ کیا اور بھول کر کھڑا ہوگیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کر لے لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کرے اور واجب نماز مثلاً وتر فرض کے حکم میں ہے، لہٰذا وتر کا قعدۂ اولیٰ بھول جائے تو وہی حکم ہے جو فرض کے قعدۂ اولیٰ بھول جانے کا ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۶: اگر بقدر تشہد قعدۂ اخیرہ کر چکا ہے اور کھڑا ہوگیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کر کے سلام پھیر دے اور اگر قیام ہی کی حالت میں سلام پھیر دیا تو بھی نماز ہو جائے گی مگر سنت ترک ہوئی اور اس صورت میں اگر امام کھڑا ہوگیا تو مقتدی اس کا ساتھ نہ دیں بلکہ بیٹھے ہوئے انتظار کریں اگر لوٹ آیا ساتھ ہولیں اور نہ لوٹا اور سجدہ کر لیا تو مقتدی سلام پھیر دیں اور امام ایک رکعت اور ملائے کہ یہ دو نفل ہو جائیں اور سجدۂ سہو کر کے سلام پھیرے اور یہ دو رکعتیں سنت ظہر یا عشا کے قائم مقام نہ ہوں گی اور اگر ان دو رکعتوں میں کسی نے امام کی اقتدا کی یعنی اب شامل ہوا تو یہ مقتدی بھی چھ پڑھے اور اگر اس نے توڑ دی تو دو رکعت کی قضا پڑھے اور اگر امام چوتھی پر نہ بیٹھا تھا تو یہ مقتدی چھ رکعت کی قضا پڑھے۔ اور اگر امام نے ان رکعتوں کو فاسدکر دیا تو اس پر مطلقاً قضا نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۶۱.
2 ۔ ''الدرالمختار''، المرجع السابق، ص۶۶۳.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۶۴.
4 ۔ ''الدرالمختار''، المرجع السابق، ص۶۶۱.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۶۷، ۶۶۹.
مسئلہ ۲۷: چوتھی پر قعدہ کر کے کھڑا ہوگیا اور کسی فرض پڑھنے والے نے اس کی اقتدا کی تو اقتدا صحیح نہیں اگرچہ لوٹ آیا اور قعدہ نہ کیا تھا تو جب تک پانچویں کا سجدہ نہ کیا اقتدا کر سکتا ہے کہ ابھی تک فرض ہی میں ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: دو رکعت کی نیت تھی اور ان میں سہو ہوا اور دوسری کے قعدہ میں سجدۂ سہو کر لیا تو اس پر نفل کی بنا مکروہ تحریمی ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: مسافر نے سجدۂ سہو کے بعد اقامت کی نیت کی تو چار پڑھنا فرض ہے اور آخر میں سجدۂ سہو کا اعادہ کرے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ تو سجدۂ سہو واجب ہے اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھا بلکہ اس وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی تو اگر اتنی دیر تک سکوت کیا جب بھی سجدۂ سہو واجب ہے جیسے قعدہ و رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے سجدۂ سہو واجب ہے، حالانکہ وہ کلام الٰہی ہے۔ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کو خواب میں دیکھا، حضور(صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم)نے ارشاد فرمایا: ''درود پڑھنے والے پر تم نے کیوں سجدہ واجب بتایا؟'' عرض کی، اس ليے کہ اس نے بُھول کر پڑھا، حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے تحسین فرمائی۔ (4) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۳۱: کسی قعدہ میں اگر تشہد میں سے کچھ رہ گیا، سجدۂ سہو واجب ہے، نماز نفل ہو یا فرض۔ (5) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۲: پہلی دو رکعتوں کے قیام میں الحمد کے بعد تشہد پڑھا سجدۂ سہو واجب ہے اور الحمد سے پہلے پڑھا تو نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: پچھلی رکعتوں کے قیام میں تشہد پڑھا تو سجدہ واجب نہ ہوا اور اگر قعدۂ اولیٰ میں چند بار تشہد پڑھا سجدہ واجب ہوگیا۔ (7) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۴: تشہد پڑھنا بھول گيا اورسلام پھير ديا پھر ياد آيا تو لوٹ آئے تشہد پڑھے اور سجدۂ سہو کرے۔ يوہيں اگر
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۶۹.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۷۰.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۷، وغيرہما.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۷.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ المرجع السابق.
تشہد کی جگہ الحمد پڑھی سجدہ واجب ہوگيا۔ (1) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۵: رکوع کی جگہ سجدہ کیا یا سجدہ کی جگہ رکوع یا کسی ایسے رُکن کو دوبارہ کیا جو نماز میں مکرر مشروع نہ تھا یا کسی رُکن کو مقدم یا مؤخر کیا تو ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے۔ (2) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۶: قنوت یا تکبیر قنوت یعنی قراء ت کے بعد قنوت کے ليے جو تکبیر کہی جاتی ہے بھول گیا سجدۂ سہو کرے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: عیدین کی سب تکبیریں یا بعض بھول گیا یا زائد کہیں یا غیرمحل میں کہیں ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے۔ (4) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۸: امام تکبیراتِ عیدین بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو لوٹ آئے اور مسبوق رکوع میں شامل ہوا تو رکوع ہی میں تکبیریں کہہ لے۔ (5) (عالمگيری) عیدین میں دوسری رکعت کی تکبیرِ رکوع بھول گیا تو سجدۂ سہو واجب ہے اور پہلی رکعت کی تکبیر رکوع بُھولا تو نہیں۔ (6) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۹: جمعہ و عیدین میں سہو واقع ہوا اور جماعت کثیر ہو تو بہتر یہ ہے کہ سجدۂ سہو نہ کرے۔ (7) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: امام نے جہری نماز میں بقدر جواز نماز یعنی ایک آیت آہستہ پڑھی یا سرّی میں جہر سے تو سجدۂ سہو واجب ہے اور ایک کلمہ آہستہ یا جہر سے پڑھا تو معاف ہے۔ (8) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار، غنیہ)
مسئلہ ۴۱: منفرد نے سِرّی نماز میں جہر سے پڑھا تو سجدہ واجب ہے اور جہری میں آہستہ تو نہیں۔ (9) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۷.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۸.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۸.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۸.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۷۵.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۸.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۷.
9 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۷.
مسئلہ ۴۲: ثنا و دُعا و تشہد بلند آواز سے پڑھا تو خلاف سنت ہوا مگر سجدۂ سہو واجب نہیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: قراء ت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کے وقفہ ہوا سجدۂ سہو واجب ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: امام سے سہو ہوا اور سجدۂ سہو کیا تو مقتدی پر بھی سجدہ واجب ہے اگرچہ مقتدی سہو واقع ہونے کے بعد جماعت میں شامل ہوا اور اگر امام سے سجدہ ساقط ہوگیا تو مقتدی سے بھی ساقط پھر اگر امام سے ساقط ہونا اس کے کسی فعل کے سبب ہو تو مقتدی پر بھی نماز کا اعادہ واجب ورنہ معاف۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۵: اگر مقتدی سے بحالتِ اقتدا سہو واقع ہوا تو سجدۂ سہو واجب نہیں۔ (4) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۴۶: مسبوق امام کے ساتھ سجدۂ سہو کرے اگرچہ اس کے شریک ہونے سے پہلے سہو ہوا ہو اور اگر امام کے ساتھ سجدہ نہ کیا اور مابقی پڑھنے کھڑا ہوگیا تو آخر میں سجدۂ سہو کرے اور اگر اس مسبوق سے اپنی نماز میں بھی سہو ہوا تو آخر کے یہی سجدے اس سہو امام کے ليے بھی کافی ہیں۔ (5) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۷: مسبوق نے اپنی نماز بچانے کے ليے امام کے ساتھ سجدۂ سہو نہ کیا یعنی جانتا ہے کہ اگر سجدہ کریگا تو نماز جاتی رہے گی مثلاً نمازِ فجر میں آفتاب طلوع ہو جائے گا یا جمعہ ميں وقت عصر آجائے گا یا معذور ہے اور وقت ختم ہو جائے گا یا موزہ پر مسح کی مدّت گذر جائے گی تو ان صورتوں میں امام کے ساتھ سجدہ نہ کرنے میں کراہت نہیں۔ بلکہ بقدر تشہد بیٹھنے کے بعد کھڑا ہوجائے۔ (6) (غنیہ)
مسئلہ ۴۸: مسبوق نے امام کے سہو میں امام کے ساتھ سجدۂ سہو کیا پھر جب اپنی پڑھنے کھڑا ہوا اور اس میں بھی سہو ہوا تو اس میں بھی سجدۂ سہو کرے۔ (7) (درمختار وغیرہ)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۸.
2 ۔ المرجع السابق، ص۶۷۷.
3 ۔ المرجع السابق، ص۶۵۸.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۸.
اور اعادہ بھی اس کے ذمہ نہیں کما حققناہ فی فتاوٰنا۔ ۱۲ منہ
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۸.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۹.
6 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في سجود السہو، ص۴۶۶.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۹، وغيرہ .
مسئلہ ۴۹: مسبوق کو امام کے ساتھ سلام پھیرنا جائز نہیں اگر قصداً پھیرے گا نماز جاتی رہے گی اور اگر سہواً پھیرا اور سلام امام کے ساتھ معاً بلا وقفہ تھا تو اس پر سجدۂ سہو نہیں اور اگر سلام امام کے کچھ بھی بعد پھیرا تو کھڑا ہو جائے اپنی نماز پوری کرکے سجدۂ سہو کرے۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۰: امام کے ایک سجدہ کرنے کے بعد شریک ہوا تو دوسرا سجدہ امام کے ساتھ کرے اور پہلے کی قضا نہيں اور اگر دونوں سجدوں کے بعد شریک ہوا تو امام کے سہو کا اس کے ذمہ کوئی سجدہ نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۱: امام نے سلام پھیر دیا اور مسبوق اپنی پوری کرنے کھڑا ہوا اب امام نے سجدۂ سہو کیا تو جب تک مسبوق نے اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور امام کے ساتھ سجدہ کرے جب امام سلام پھیرے تو اب اپنی پڑھے اور پہلے جو قیام و قراء ت و رکوع کر چکا ہے اس کا شمار نہ ہو گا بلکہ اب پھر سے وہ افعال کرے اور اگر نہ لوٹا اور اپنی پڑھ لی تو آخر میں سجدۂ سہو کرے اور اگر اس رکعت کا سجدہ کر چکا ہے تو نہ لَوٹے، لَوٹے گاتو نماز فاسد ہوجائے گی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: امام کے سہو سے لاحق پر بھی سجدۂ سہو واجب ہے مگر لاحق اپنی آخر نماز میں سجدۂ سہو کریگا اور امام کے ساتھ اگر سجدہ کیا تو آخر میں اعادہ کرے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۵۳: اگر تین رکعت میں مسبوق ہوا اور ایک رکعت میں لاحق تو ایک رکعت بلا قراء ت پڑھ کر بیٹھے اور تشہد پڑھ کر سجدۂ سہو کرے پھر ایک رکعت بھری پڑھ کر بیٹھے کہ یہ اس کی دوسری رکعت ہے پھر ایک بھری اور ایک خالی پڑھ کر سلام پھیر دے اور اگر ایک میں مسبوق ہے اور تین میں لاحق تو تین پڑھ کر سجدۂ سہو کرے پھر ایک بھری پڑھ کر سلام پھیر دے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۴: مقیم نے مسافر کی اقتدا کی اور امام سے سہو ہوا تو امام کے ساتھ سجدۂ سہو کرے پھر اپنی دو پڑھے اور ان میں بھی سہو ہوا تو آخر میں پھر سجدہ کرے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۵: امام سے صلاۃ الخوف میں (جس کا بیان اور طریقہ انشاء اللہ تعالیٰ مذکور ہو گا) سہو ہوا تو امام کے ساتھ
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۹، وغيرہ .
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۷، ص۲۳۸.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۹.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۸.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۶۰.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۶۰.
6 ۔ المرجع السابق.
دوسرا گروہ سجدۂ سہو کرے اور پہلا گروہ اسوقت کرے جب اپنی نماز ختم کرچکے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: امام کو حدث ہوا اور پیشتر سہو بھی واقع ہو چکا ہے اور اس نے خلیفہ بنایا تو خليفہ سجدۂ سہو کرے اور اگرخلیفہ کو بھی حالتِ خلافت میں سہو ہوا تو وہی سجدے کافی ہیں اور اگر امام سے تو سہو نہ ہوا مگر خلیفہ سے اس حالت میں سہو ہوا تو امام پر بھی سجدۂ سہو واجب ہے اور اگر خلیفہ کا سہو خلافت سے پہلے ہو تو سجدہ واجب نہیں نہ اس پر نہ امام پر۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۷: جس پر سجدۂ سہو واجب ہے اگر سہو ہونا یاد نہ تھا اور بہ نیت قطع سلام پھیر دیا تو ابھی نماز سے باہر نہ ہوا بشرطیکہ سجدۂ سہو کرلے، لہٰذا جب تک کلام یا حدث عمد، یا مسجد سے خروج یا اور کوئی فعل منافی نماز نہ کیا ہو اسے حکم ہے کہ سجدہ کر لے اور اگر سلام کے بعد سجدۂ سہو نہ کیا تو سلام پھیرنے کے وقت سے نماز سے باہر ہوگیا، لہٰذا سلام پھیرنے کے بعد اگر کسی نے اقتدا کی اور امام نے سجدۂ سہو کر لیا تو اقتدا صحیح ہے اور سجدہ نہ کیا تو صحیح نہیں اور اگر یاد تھا کہ سہو ہوا ہے اور بہ نیت قطع سلام پھیر دیا تو سلام پھیرتے ہی نماز سے باہر گیا اور سجدۂ سہو نہیں کر سکتا، اعادہ کرے اور اگر اس نے غلطی سے سجدہ کیا اور اس میں کوئی شریک ہو تو اقتدا صحیح نہیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: سجدۂ تلاوت باقی تھا یا قعدۂ اخیرہ میں تشہد نہ پڑھا تھا مگر بقدر تشہد بیٹھ چکا تھا اور یہ یاد ہے کہ سجدۂ تلاوت یا تشہد باقی ہے مگر قصداً سلام پھیر دیا تو سجدہ ساقط ہوگیا اور نماز سے باہر ہوگیا، نماز فاسد نہ ہوئی کہ تمام ارکان ادا کر چکا ہے مگر بوجہ ترک واجب مکروہ تحریمی ہوئی۔ يوہيں اگر اس کے ذمہ سجدۂ سہو و سجدۂ تلاوت ہیں اور دونوں یاد ہیں یا صرف سجدۂ تلاوت یاد ہے اور قصداً سلام پھیر دیا تو دونوں ساقط ہوگئے اگر سجدۂ نماز و سجدۂ سہو دونوں باقی تھے یا صرف سجدۂ نماز رہ گیا تھا اور سجدۂ نماز یاد ہوتے ہوئے سلام پھیر دیا تو نماز فاسد ہوگئی اور اگر سجدۂ نماز و سجدۂ تلاوت باقی تھے اور سلام پھیرتے وقت دونوں یاد تھے یا ایک جب بھی نماز فاسد ہوگئی۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۹: سجدۂ نماز یا سجدۂ تلاوت باقی تھا یا سجدۂ سہو کرنا تھا اور بھول کر سلام پھیرا تو جب تک مسجد سے باہر نہ ہوا کرلے اور میدان میں ہو تو جب تک صفوں سے متجاوز نہ ہوا یاآگے کو سجدہ کی جگہ سے نہ گزرا کرلے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۰: رکوع میں یاد آیا کہ نماز کا کوئی سجدہ رہ گیا ہے اور وہیں سے سجدہ کو چلا گیا یا سجدہ میں یاد آیا اور سر اٹھا کر وہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۸.
2 ۔ المرجع السابق، ص۱۳۰.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۷۳.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۷۳.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۷۴.
سجدہ کر لیا تو بہتر یہ ہے کہ اس رکوع و سجود کا اعادہ کرے اور سجدۂ سہو کرے اور اگر اس وقت نہ کیا بلکہ آخر نماز میں کیا تو اس رکوع و سجود کا اعادہ نہیں سجدۂ سہو کرنا ہوگا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۶۱: ظہر کی نماز پڑھتا تھا اور یہ خیال کر کے کہ چار پوری ہو گئیں دو رکعت پر سلام پھیر دیا تو چار پوری کر لے اور سجدۂ سہو کرے اور اگر یہ گمان کیا کہ مجھ پر دو ہی رکعتیں ہیں، مثلاً اپنے کو مسافر تصور کیا یا یہ گمان ہوا کہ نماز جمعہ ہے یا نیا مسلمان ہے سمجھا کہ ظہر کے فرض دو ہی ہیں یا نماز عشا کو تراویح تصور کیا تو نماز جاتی رہی۔ يوہيں اگر کوئی رکن فوت ہوگیا اور یاد ہوتے ہوئے سلام پھیر دیا، تو نماز گئی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۶۲: جس کو شمار رکعت میں شک ہو، مثلاً تین ہوئیں یا چار اور بلوغ کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے تو سلام پھیر کر یا کوئی عمل منافی نماز کر کے توڑ دے یا غالب گمان کے بموجب پڑھ لے مگر بہر صورت اس نماز کو سرے سے پڑھے محض توڑنے کی نیت کافی نہیں اور اگر یہ شک پہلی بار نہیں بلکہ پیشتر بھی ہو چکا ہے تو اگر غالب گمان کسی طرف ہو تو اس پر عمل کرے ورنہ کم کی جانب کو اختيار کرے یعنی تین اور چار میں شک ہو تو تین قرار دے، دو اور تین میں شک ہو تو دو، وعلیٰ ھذا القیاس اور تیسری چوتھی دونوں میں قعدہ کرے کہ تیسری رکعت کا چوتھی ہونا محتمل ہے اور چوتھی میں قعدہ کے بعد سجدۂ سہو کر کے سلام پھیرے اور گمان غالب کی صورت میں سجدۂ سہو نہیں مگر جبکہ سوچنے میں بقدر ایک رکن کے وقفہ کیا ہو تو سجدۂ سہو واجب ہوگیا۔ (3) (ہدايہ وغیرہا)
مسئلہ ۶۳: نماز پوری کرنے کے بعد شک ہوا تو اس کا کچھ اعتبار نہیں اور اگر نماز کے بعد یقین ہے کہ کوئی فرض رہ گیا مگر اس میں شک ہے کہ وہ کیا ہے تو پھر سے پڑھنا فرض ہے۔ (4) (فتح، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۴: ظہر پڑھنے کے بعد ایک عادل شخص نے خبر دی کہ تین رکعتیں پڑھیں تو اعادہ کرے اگرچہ اس کے خیال میں یہ خبر غلط ہو اور اگر کہنے والا عادل نہ ہو تو اس کی خبر کا اعتبار نہیں اور اگر مصلّی کو شک ہو اور دو عادل نے خبر دی تو ان کی خبر پر عمل کرنا ضروری ہے۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۶۵: اگر تعداد رکعات میں شک نہ ہوا مگر خود اس نماز کی نسبت شک ہے مثلاً ظہر کی دوسری رکعت میں شک ہوا
1 ۔ ''الدرالمختار''
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۷۴.
3 ۔ ''الہدایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السہو، ج۱، ص۷۶، وغيرہا.
4 ۔ ''فتح القدير''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۱، ص۴۵۲.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۷۵.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۳۱، وغيرہ.
کہ یہ عصر کی نماز پڑھتا ہوں اور تیسری میں نفل کا شبہ ہوا اور چوتھی میں ظہر کا تو ظہر ہی ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۶: تشہد کے بعد یہ شک ہو اکہ تین ہوئیں یا چار اور ایک رکن کی قدر خاموش رہا اور سوچتا رہا، پھر یقین ہوا کہ چار ہوگئیں تو سجدۂ سہو واجب ہے اور اگر ایک طرف سلام پھیرنے کے بعد ایسا ہوا تو کچھ نہیں اور اگر اسے حدث ہو اور وضو کرنے گیا تھا کہ شک واقع ہوا اور سوچنے میں وضو سے کچھ دیر تک رُک رہا تو سجدۂ سہو واجب ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۷: یہ شک واقع ہوا کہ اس وقت کی نماز پڑھی یا نہیں، اگر وقت باقی ہے اعادہ کرے ورنہ نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۸: شک کی سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے اور غلبۂ ظن میں نہیں مگر جب کہ سوچنے میں ایک رُکن کا وقفہ ہوگیا تو واجب ہوگیا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۶۹: بے وضو ہونے یا مسح نہ کرنے کا یقین ہوا اور اسی حالت میں ایک رُکن ادا کر لیا تو سرے سے نماز پڑھے اگرچہ پھر یقین ہوا کہ وضو تھا اور مسح کیا تھا۔ (5) (عالمگيری)
مسئلہ ۷۰: نماز میں شک ہوا کہ مقیم ہے یا مسافر تو چار پڑھے اور دوسری کے بعد قعدہ ضروری ہے۔ (6) (عالمگيری)
مسئلہ ۷۱: وتر میں شک ہوا کہ دوسری ہے یا تیسری تو اس میں قنوت پڑھ کر قعدہ کے بعد ایک رکعت اور پڑھے اور اس میں بھی قنوت پڑھے اور سجدۂ سہو کرے۔ (7) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۷۲: امام نماز پڑھا رہا ہے دوسری میں شک ہوا کہ پہلی ہے یا دوسری یا چوتھی اور تیسری میں شک ہوا اور مقتدیوں کی طرف نظر کی کہ وہ کھڑے ہوں تو کھڑا ہوجاؤں بیٹھیں تو بیٹھ جاؤں تو اس میں حرج نہیں اور سجدۂ سہو واجب نہ ہوا۔ (8) (عالمگيری)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۷۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۲۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۳۰.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۷۸.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ج۱، ص۱۳۱.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ المرجع السابق، وغیرہ.
8 ۔ المرجع السابق.
حدیث ۱: حدیث میں ہے، عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار تھے، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم سے نماز کے بارے میں سوال کیا، فرمایا: ''کھڑے ہو کر پڑھو، اگر استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو لیٹ کر، اللہ تعالیٰ کسی نفس کو تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی کہ اس کی وسعت ہو۔'' (1) اس حدیث کو مسلم کے سوا جماعت محدثین نے روایت کیا۔
حدیث ۲: بزار مسند میں اور بیہقی معرفۃ میں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم ایک مریض کی عیادت کو تشریف لے گئے، دیکھا کہ تکیہ پر نماز پڑھتا ہے یعنی سجدہ کرتا ہے اسے پھینک دیا، اس نے ايک لکڑی لی کہ اس پر نماز پڑھے، اسے بھی لے کر پھینک دیا اور فرمایا: زمین پر نماز پڑھے اگر استطاعت ہو ،ورنہ اشارہ کرے اور سجدہ کو رکوع سے پست کرے۔ (2)
مسئلہ ۱: جو شخص بوجہ بیماری کے کھڑے ہو کر نما زپڑھنے پر قادر نہیں کہ کھڑے ہو کر پڑھنے سے ضرر لاحق ہوگا یا مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھا ہو گا یا چکّر آتا ہے یا کھڑے ہو کر پڑھنے سے قطرہ آئے گا یا بہت شدید درد ناقابل برداشت پیدا ہوجائے گا تو ان سب صورتوں میں بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھے۔ (3) (درمختار) اس کے متعلق بہت سے مسائل فرائض نماز میں مذکور ہوئے۔
مسئلہ ۲: اگر اپنے آپ بیٹھ بھی نہیں سکتا مگر لڑکا یا غلام یا خادم یا کوئی اجنبی شخص وہاں ہے کہ بٹھا دے گا تو بیٹھ کر پڑھنا ضروری ہے اور اگربیٹھا نہیں رہ سکتا تو تکیہ یا دیوار یا کسی شخص پر ٹیک لگا کر پڑھے یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹ کر پڑھے اور بیٹھ کر پڑھنا ممکن ہو تو ليٹ کر نماز نہ ہوگی۔ (4) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: بیٹھ کر پڑھنے میں کسی خاص طور پر بیٹھنا ضروری نہیں بلکہ مریض پر جس طرح آسانی ہو اس طرح بیٹھے۔ ہاں دو زانو بیٹھنا آسان ہو یا دوسری طرح بیٹھنے کے برابر ہو تو دو زانو بہتر ہے ورنہ جو آسان ہو اختیار کرے۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۴: نفل نماز میں تھک گیا تو دیوار یا عصاپر ٹیک لگانے میں حرج نہیں ورنہ مکروہ ہے اور بیٹھ کر پڑھنے میں
1 ۔ ''نصب الرایۃ'' للزیلعي، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المریض، ج۲، ص۱۷۷۔ ۱۷۸.
2 ۔ ''معرفۃ السنن والآثار'' للبیھقي، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، الحدیث: ۱۰۸۳، ج۲، ص۱۴۰.
3 ۔ ''تنوير الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۸۱.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاۃ المريض، ج۱، ص۱۳۶.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۸۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاۃ المريض، ج۱، ص۱۳۶، وغیرہ.
کچھ حرج نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵: چار رکعت والی نماز بیٹھ کر پڑھی، قعدۂ اخیرہ کے موقع پر تشہد پڑھنے سے پہلے قراء ت شروع کر دی اور رکوع بھی کیا تو اس کا وہی حکم ہے کہ کھڑا ہو کر پڑھنے والا چوتھی کے بعد کھڑا ہوجاتا ،لہٰذا اس نے جب تک پانچویں کا سجدہ نہ کیا ہو تشہد پڑھے اور سجدۂ سہو کرے اورپانچویں کا سجدہ کر لیا تو نماز جاتی رہی۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: بیٹھ کر پڑھنے والا دوسری کے سجدہ سے اٹھااور قیام کی نیت کی مگر قراء ت سے پہلے یاد آگیا تو تشہد پڑھے اور نماز ہوگئی اور سجدۂ سہو بھی نہیں۔ (3) (عالمگيری)
مسئلہ ۷: مریض نے بیٹھ کر نماز پڑھی چوتھی کے سجدہ سے اٹھا تو یہ گمان کر کے کہ تیسری ہے قراء ت کی اور اشارہ سے رکوع و سجود کیا نماز جاتی رہی اور دوسری کے سجدہ کے بعد یہ گمان کر کے کہ دوسری ہے قراء ت شروع کی پھر یاد آیا تو تشہد کی طرف عود نہ کرے بلکہ پوری کرے اور آخر میں سجدۂ سہو کرے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: کھڑا ہو سکتا ہے مگر رکوع و سجود نہیں کر سکتا یا صرف سجدہ نہیں کرسکتا مثلاً حلق وغیرہ میں پھوڑا ہے کہ سجدہ کرنے سے بہے گا تو بھی بیٹھ کر اشارہ سے پڑھ سکتا ہے بلکہ یہی بہتر ہے اور اس صورت میں یہ بھی کرسکتا ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے اور رکوع کے ليے اشارہ کرے یا رکوع پر قادر ہو تو رکوع کرے پھر بیٹھ کر سجدہ کے ليے اشارہ کرے۔ (5) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: اشارہ کی صورت میں سجدہ کا اشارہ رکوع سے پست ہونا ضروری ہے مگر یہ ضرور نہیں کہ سر کو بالکل زمین سے قریب کر دے سجدہ کے ليے تکیہ وغیرہ کوئی چیز پیشانی کے قریب اٹھا کراس پر سجدہ کرنا مکروہِ تحریمی ہے، خواہ خود اسی نے وہ چیز اٹھائی ہو یا دوسرے نے۔ (6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۰: اگر کوئی چیز اٹھا کر اس پر سجدہ کیا اور سجدہ میں بہ نسبت رکوع کے زیادہ سر جھکایا، جب بھی سجدہ ہوگیا مگر گنہگار ہوا اور سجدہ کے ليے زيادہ سر نہ جھکایا تو ہوا ہی نہیں۔ (7) (درمختار، عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۹۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاۃ المريض، ج۱، ص۱۳۷.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق، ص۱۳۶، و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۸۴.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۸۵. وغيرہ
7 ۔ المرجع السابق، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاۃ المريض، ج۱، ص۱۳۶.
مسئلہ ۱۱: اگر کوئی اونچی چیز زمین پر رکھی ہوئی ہے اُس پر سجدہ کیا اور رکوع کے ليے صرف اشارہ نہ ہوا بلکہ پیٹھ بھی جھکائی تو صحیح ہے بشرطیکہ سجدہ کے شرائط پائے جائیں مثلاً اس چیز کا سخت ہونا جس پر سجدہ کیا کہ اس قدر پیشانی دب گئی ہو کہ پھر دبانے سے نہ دبے اور اس کی اونچائی بارہ اُنگل سے زیادہ نہ ہو۔ ان شرائط کے پائے جانے کے بعد حقیقۃً رکوع و سجود پائے گئے، اشارہ سے پڑھنے والا اسے نہ کہیں گے اور کھڑا ہو کر پڑھنے والا اس کی اقتدا کر سکتا ہے اور یہ شخص جب اس طرح رکوع و سجود کرسکتا ہے اور قیام پر قادر ہے تو اس پر قیام فرض ہے یا اثنائے نماز میں قیام پر قادر ہوگیا تو جو باقی ہے اسے کھڑے ہو کر پڑھنا فرض ہے لہٰذا جو شخص زمین پر سجدہ نہیں کر سکتا مگر شرائط مذکورہ کے ساتھ کوئی چیز زمین پر رکھ کر سجدہ کر سکتا ہے، اس پر فرض ہے کہ اسی طرح سجدہ کرے اشارہ جائز نہیں اور اگر وہ چیز جس پر سجدہ کیا ایسی نہیں تو حقیقۃً سجود نہ پایا گیابلکہ سجدہ کے ليے اشارہ ہوا لہٰذا کھڑا ہونے والا اس کی اقتدا نہیں کر سکتا اور اگر یہ شخص اثنائے نماز میں قيام پر قادر ہوا تو سرے سے پڑھے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: پیشانی میں زخم ہے کہ سجدہ کے ليے ماتھا نہیں لگا سکتا تو ناک پر سجدہ کرے اور ایسا نہ کیا بلکہ اشارہ کیا تو نماز نہ ہوئی۔ (2) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۳: اگر مریض بیٹھنے پر بھی قادر نہیں تو لیٹ کر اشارہ سے پڑھے، خواہ داہنی یا بائیں کروٹ پر لیٹ کر قبلہ کو مونھ کرے خواہ چت لیٹ کر قبلہ کو پاؤں کرے مگر پاؤں نہ پھیلائے، کہ قبلہ کو پاؤں پھیلانا مکروہ ہے بلکہ گھٹنے کھڑے رکھے اور سر کے نیچے تکیہ وغیرہ رکھ کر اونچا کر لے کہ مونھ قبلہ کو ہو جائے اور یہ صورت یعنی چت لیٹ کر پڑھنا افضل ہے۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۴: اگر سر سے اشارہ بھی نہ کرسکے تو نماز ساقط ہے، اس کی ضرورت نہیں کہ آنکھ یا بھوں یا دل کے اشارہ سے پڑھے پھر اگر چھ وقت اسی حالت میں گزر گئے تو ان کی قضا بھی ساقط، فدیہ کی بھی حاجت نہیں ورنہ بعد صحت ان نمازوں کی قضا لازم ہے اگرچہ اتنی ہی صحت ہو کہ سر کے اشارہ سے پڑھ سکے۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۵: مریض اگر قبلہ کی طر ف نہ اپنے آپ مونھ کر سکتا ہے نہ دوسرے کے ذریعہ سے تو ویسے ہی پڑھ لے اور صحت کے بعد اس نماز کا اعادہ نہیں اور اگر کوئی شخص موجود ہے کہ اس کے کہنے سے قبلہ رُو کردے گا مگر اس نے اس سے نہ کہا تو نہ ہوئی، اشارہ سے جو نمازیں پڑھی ہیں صحت کے بعد ان کا بھی اعادہ نہیں۔ يوہيں اگر زبان بند ہوگئی اور گونگے کی طرح نماز پڑھی
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۸۵، ۶۸۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاۃ المريض، ج۱، ص۱۳۶.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۸۶. وغيرہ
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۸۷، وغيرہ.
پھر زبان کُھل گئی تو ان نمازوں کا اعادہ نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: مریض اس حالت کو پہنچ گیا کہ رکوع و سجود کی تعداد یاد نہیں رکھ سکتا تو ا س پر ادا ضروری نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: تندرست شخص نماز پڑھ رہا تھا، اثنائے نماز میں ایسا مرض پیدا ہوگیا کہ ارکان کی ادا پر قدرت نہ رہی تو جس طرح ممکن ہو بیٹھ کر لیٹ کر نماز پوری کرلے، سرے سے پڑھنے کی حاجت نہیں۔ (3) (درمختار، عالمگيری)
مسئلہ ۱۸: بیٹھ کر رکوع و سجود سے نماز پڑھ رہا تھا، اثنائے نماز میں قیام پر قادر ہوگیا تو جو باقی ہے کھڑا ہو کر پڑھے اور اشارہ سے پڑھتا تھا اور نماز ہی میں رکوع و سجود پر قادر ہوگیا تو سرے سے پڑھے۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۹: رکوع و سجود پر قادر نہ تھا کھڑے یا بیٹھے نماز شروع کی رکوع و سجود کے اشارہ کی نوبت نہ آئی تھی کہ اچھا ہوگیا تو اسی نماز کو پورا کرے سرے سے پڑھنے کی حاجت نہیں اوراگر لیٹ کر نماز شروع کی تھی اور اشارہ سے پہلے کھڑے یا بیٹھ کر رکوع و سجود پر قادر ہوگیا تو سرے سے پڑھے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: چلتی ہوئی کشتی یا جہاز میں بلا عذر بیٹھ کر نماز صحیح نہیں بشرطیکہ اتر کر خشکی میں پڑھ سکے اور زمین پر بیٹھ گئی ہو تو اترنے کی حاجت نہیں اور کنارے پر بندھی ہو اور اتر سکتا ہو تو اتر کر خشکی میں پڑھے ورنہ کشتی ہی میں کھڑے ہو کر اور بیچ دریا میں لنگر ڈالے ہوئے ہے تو بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں، اگر ہوا کے تیز جھونکے لگتے ہوں کہ کھڑے ہونے میں چکّر کا غالب گمان ہو اور اگر ہوا سے زیادہ حرکت نہ ہو تو بیٹھ کرنہیں پڑھ سکتے اور کشتی پر نماز پڑھنے میں قبلہ رُو ہونا لازم ہے اور جب کشتی گھوم جائے تو نمازی بھی گھوم کر قبلہ کو مونھ کر لے اوراگر اتنی تیز گردش ہو کہ قبلہ کو مونھ کرنے سے عاجز ہے تو اس وقت ملتوی رکھے ہاں اگر وقت جاتا دیکھے تو پڑھ لے۔ (6) (غنیہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: جنون یا بے ہوشی اگر پورے چھ وقت کو گھیرلے تو ان نمازوں کی قضا بھی نہیں، اگرچہ بے ہوشی آدمی یا درندے کے خوف سے ہو اور اس سے کم ہو تو قضا واجب ہے۔ (7) (درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۸۸.
2 ۔ ''تنوير الأبصار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۸۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاۃ المريض، ج۱، ص۱۳۷.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۸۹.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۸۹.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، مطلب في الصلاۃ في السفينۃ، ج۲، ص۶۹۰.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۹۲.
مسئلہ ۲۲: اگر کسی کسی وقت ہوش ہو جاتا ہے تو اس کا وقت مقرر ہے يا نہيں اگر وقت مقرر ہے اور اس سے پہلے پورے چھ وقت نہ گزرے تو قضا واجب اور وقت مقرر نہ ہو بلکہ دفعتہً ہوش ہو جاتا ہے پھر وہی حالت پیدا ہو جاتی ہے تو اس اِفاقہ کا اعتبار نہیں یعنی سب بے ہوشیاں متصل سمجھی جائیں گی۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۳: شراب یا بنگ پی اگرچہ دوا کی غرض سے اور عقل جاتی رہی تو قضا واجب ہے اگرچہ بے عقلی کتنے ہی زیادہ زمانہ تک ہو۔ يوہيں اگر دوسرے نے مجبور کر کے شراب پلا دی جب بھی قضا مطلقاً واجب ہے۔ (2) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۴: سوتا رہا جس کی و جہ سے نماز جاتی رہی تو قضا فرض ہے اگرچہ نیند پورے چھ وقت کو گھیر لے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: اگر یہ حالت ہو کہ روزہ رکھتا ہے تو کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا اور نہ رکھے تو کھڑے ہو کر پڑھ سکے گا تو روزہ رکھے اور نماز بیٹھ کرپڑھے۔ (4) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۶: مریض نے وقت سے پہلے نماز پڑھ لی اس خیال سے کہ وقت میں نہ پڑھ سکے گا تو نماز نہ ہوئی اور بغیر قراء ت بھی نہ ہوگی مگر جبکہ قراء ت سے عاجز ہو تو ہو جائے گی۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: عورت بیمار ہو تو شوہر پر فرض نہیں کہ اسے وضو کرا دے اور غلام بیمار ہو تو وضو کرا دینا مولیٰ کے ذمّہ ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: چھوٹے سے خیمہ میں ہے کہ کھڑا نہیں ہو سکتا اور باہر نکلتا ہے تو مينھ (7) اور کیچڑ ہے تو بیٹھ کر پڑھے۔ يوہیں کھڑے ہونے میں دشمن کا خوف ہے تو بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے۔ (8) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۹: بیمار کی نمازیں قضا ہوگئیں اب اچھا ہو کر انھيں پڑھنا چاہتا ہے تو ویسے پڑھے جیسے تندرست پڑھتے ہیں اس طرح نہیں پڑھ سکتا جیسے بیماری میں پڑھتا مثلاً بیٹھ کر یا اشارہ سے اگر اسی طرح پڑھیں تو نہ ہوئیں اور صحت کی حالت میں
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۹۲.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاۃ المريض، ج۱، ص۱۳۷.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، ج۲، ص۶۹۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاۃ المريض، ج۱، ص۱۳۸.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ یعنی بارش۔
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاۃ المريض، ج۱، ص۱۳۸.
قضا ہوئیں بیماری میں انھيں پڑھنا چاہتا ہے تو جس طرح پڑھ سکتا ہے پڑھے ہوجائيں گی، صحت کی سی پڑھنا اس وقت واجب نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: پانی میں ڈوب رہا ہے اگر اس وقت بھی بغیر عملِ کثیر اشارے سے پڑھ سکتا ہے مثلاً تیراک ہے یا لکڑی وغیرہ کا سہارا پا جائے تو پڑھنا فرض ہے ،ورنہ معذور ہے بچ جائے تو قضا پڑھے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: آنکھ بنوائی اور طبیب حاذق مسلمان مستور نے لیٹے رہنے کا حکم دیا تو لیٹ کر اشارے سے پڑھے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: مریض کے نیچے نجس بچھونا بچھا ہے اور حالت یہ ہو کہ بدلا بھی جائے تو نماز پڑھتے پڑھتے بقدر مانع ناپاک ہو جائے تو اسی پر نماز پڑھے۔ يوہيں اگر بدلا جائے تو اس قدر جلد نجس نہ ہو گا مگر بدلنے میں اسے شدید تکلیف ہوگی تو اسی نجس ہی پر پڑھ لے۔ (4) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
تنبیہ ضروری: مسلمان اس باب کے مسائل کو دیکھیں تو انھيں بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ شرع مطہرہ نے کسی حالت میں بھی سوا بعض نادر صورتوں کے نما زمعاف نہیں کی بلکہ یہ حکم دیا کہ جس طرح ممکن ہو پڑھے۔ آج کل جو بڑے نمازی کہلاتے ہیں ان کی یہ حالت دیکھی جا رہی ہے کہ بخار آیا ذرا شدت ہوئی نماز چھوڑ دی شدت کا درد ہوا نماز چھوڑ دی کوئی پھڑیا نکل آئی نماز چھوڑ دی، یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ دردِ سر و زکام میں نماز چھوڑ بیٹھتے ہیں حالانکہ جب تک اشارے سے بھی پڑھ سکتا ہو اور نہ پڑھے تو انھيں وعیدوں کا مستحق ہے جو شروع کتاب میں تارک الصلوٰۃ کے ليے احادیث سے بیان ہوئیں، والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ مُقِیْمِی الصَّلٰوۃِ وَمِنْ صَالِحِیْ اَھْلِھَا اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًا وَّ ارْزُقْنَا اتِّبَاعَ شَرِیْعَۃِ حَبِیْبِکَ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْمِ اٰمِیْن . (5)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاۃ المريض، ج۱، ص۱۳۸.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المريض، مطلب في الصلاۃ في السفينۃ، ج۲، ص۶۹۳.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاۃ المريض، ج۱، ص۱۳۷.
5 ۔ اے اللہ (عزوجل) ! تو ہم کو نماز قائم کرنے والوں میں اور زندگی اور مرنے کے بعد اچھے نماز والوں میں کر اور اپنے حبیب کریم (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی شریعت کی پیروی اور روزی کر، ان پر بہتر درود و سلام، اٰمین ۔
صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ''جب ابن آدم آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے، شیطان ہٹ جاتا ہے اور رو کر کہتا ہے، ہائے بربادی میری! ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا، اس نے سجدہ کیا، اس کے ليے جنت ہے اور مجھے حکم ہوا میں نے انکار کیا، میرے ليے دوزخ ہے۔'' (1)
مسئلہ ۱: سجدہ کی چودہ آیتیں ہیں وہ یہ ہیں:
(۱) سورۂ اعراف کی آخر آیت
( اِنَّ الَّذِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّکَ لَا یَسْتَکْبِرُوۡنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَ یُسَبِّحُوۡنَہٗ وَلَہٗ یَسْجُدُوۡنَ ﴿۲۰۶﴾٪ٛ ) (2)
(۲) سورۂ رعد میں یہ آیت
( وَ لِلہِ یَسْجُدُمَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْہًا وَّظِلٰلُہُمۡ بِالْغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ ﴿ٛ۱۵﴾ ) (3)
(۳) سورۂ نحل میں یہ آیت
( وَ لِلہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّالْمَلٰٓئِکَۃُ وَہُمْ لَایَسْتَکْبِرُوۡنَ ﴿۴۹ ) (4)
(۴) سورۂ بنی اسرائیل میں یہ آیت
( اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ مِنۡ قَبْلِہٖۤ اِذَا یُتْلٰی عَلَیۡہِمْ یَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذْقَانِ سُجَّدًا ﴿۱۰۷﴾ۙوَّ یَقُوۡلُوۡنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَا اِنۡ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوۡلًا ﴿۱۰۸﴾وَیَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذْقَانِ یَبْکُوۡنَ وَیَزِیۡدُہُمْ خُشُوۡعًا ﴿۱۰۹﴾ ) (5)
(۵) سورۂ مریم میں یہ آیت
( اِذَا تُتْلٰی عَلَیۡہِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّ بُکِیًّا ﴿ٛ۵۸﴾ ) (6)
(۶) سورۂ حج میں پہلی جگہ جہاں سجدہ کا ذکر ہے یعنی یہ آیت
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الإيمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ، الحدیث: ۸۱، ص۵۶.
2 ۔ پ۹، الاعراف: ۲۰۶.
3 ۔ پ۱۳، الرعد: ۱۵.
4 ۔ پ۱۴، النحل: ۴۹.
5 ۔ پ۱۵، بنیۤ اسرآء یل: ۱۰۷ ۔ ۱۰۹.
6 ۔ پ۱۶، مريم: ۵۸.
( اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ یَسْجُدُ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوۡمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّ وَآبُّ وَکَثِیۡرٌ مِّنَ النَّاسِ ؕ وَکَثِیۡرٌ حَقَّ عَلَیۡہِ الْعَذَابُ ؕ وَمَنۡ یُّہِنِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّکْرِمٍ ؕ اِنَّ اللہَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿۱۸﴾ ) (1)
(۷) سورۂ فرقان میں یہ آیت
(وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اسْجُدُوۡا لِلرَّحْمٰنِۚ قَالُوۡا وَ مَا الرَّحْمٰنُ ٭ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاۡمُرُنَا وَ زَادَہُمْ نُفُوۡرًا ﴿۶۰﴾ ) (2)
(۸) سورۂ نمل میں یہ آیت
(اَلَّا یَسْجُدُوۡا لِلہِ الَّذِیۡ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوۡنَ وَمَا تُعْلِنُوۡنَ ﴿۲۵﴾اَللہُ لَاللہ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیۡمِ ﴿ٛ۲۶﴾ ) (3)
(۹) سورۂ الم تنزیل میں یہ آیت
(اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِہَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ ہُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوۡنَ ﴿ٛ۱۵﴾ ) (4)
(۱۰) سورۂ ص میں یہ آیت
(فَاسْتَغْفَرَ رَبَّہٗ وَ خَرَّ رَاکِعًا وَّ اَنَابَ ﴿ٛ۲۴﴾فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِکَ ؕ وَ اِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلْفٰی وَ حُسْنَ مَاٰبٍ ﴿۲۵﴾ ) (5)
(۱۱) سورۂ حم السجدۃ میں آیت
( وَمِنْ اٰیٰتِہِ الَّیۡلُ وَ النَّہَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ ؕ لَا تَسْجُدُوۡا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوۡا لِلہِ الَّذِیۡ خَلَقَہُنَّ اِنۡ کُنۡتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوۡنَ ﴿۳۷﴾فَاِنِ اسْتَکْبَرُوۡا فَالَّذِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّکَ یُسَبِّحُوۡنَ لَہٗ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَہُمْ لَا یَسْـَٔمُوۡنَ ﴿ٛ۳۸﴾ ) (6)
(۱۲) سورۂ نجم میں
( فَاسْجُدُوۡا لِلہِ وَ اعْبُدُوۡا ﴿٪ٛ۶۲﴾
) (7)
1 ۔ پ۱۷، الحج: ۱۸.
2 ۔ پ۱۹، الفرقان: ۶۰.
3 ۔ پ۱۹، النمل: ۲۵ ۔ ۲۶.
4 ۔ پ۲۱، السجدۃ: ۱۵.
5 ۔ پ۲۳، صۤ: ۲۴ ۔ ۲۵.
6 ۔ پ۲۴، حٰمۤ السجدۃ: ۳۷ ۔ ۳۸. 7 ۔ پ۲۷، النجم: ۶۲.
(۱۳) سورۂ انشقاق میں آیت
( فَمَا لَہُمْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیۡہِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوۡنَ ﴿ؕٛ۲۱﴾ ) (1)
(۱۴) سورۂ اقراء میں آیت
( وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ ﴿٪ٛ۱۹﴾ ) (2)
مسئلہ ۲: آیت سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی آواز سے ہو کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو خود سُن سکے، سننے والے کے ليے یہ ضرور نہیں کہ بالقصد سنی ہو بلا قصد سُننے سے بھی سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ (3) (ہدایہ، درمختاروغیرہما)
مسئلہ ۳: سجدہ واجب ہونے کے ليے پوری آیت پڑھنا ضروری نہیں بلکہ وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادہ پایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھنا کافی ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: اگر اتنی آواز سے آیت پڑھی کہ سن سکتا تھا مگر شور و غل یا بہرے ہونے کی وجہ سے نہ سنی تو سجدہ واجب ہوگیا اور اگر محض ہونٹ ہلے آواز پیدا نہ ہوئی تو واجب نہ ہوا۔ (5) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۵: قاری نے آیت پڑھی مگر دوسرے نے نہ سُنی تو اگرچہ اسی مجلس میں ہو اس پر سجدہ واجب نہ ہوا، البتہ نماز میں امام نے آیت پڑھی تو مقتدیوں پر واجب ہوگیا، اگرچہ نہ سنی ہو بلکہ اگرچہ آیت پڑھتے وقت وہ موجود بھی نہ تھا، بعد پڑھنے کے سجدہ سے پیشتر شامل ہوا اور اگر امام سے آیت سنی مگر امام کے سجدہ کرنے کے بعد اسی رکعت میں شامل ہوا تو امام کا سجدہ اس کے ليے بھی ہے اور دوسری رکعت میں شامل ہوا تو نماز کے بعد سجدہ کرے۔ يوہیں اگر شامل ہی نہ ہوا جب بھی سجدہ کرے۔ (6) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ پ۳۰، الانشقاق: ۲۰ ۔ ۲۱. 2 ۔ پ۳۰، العلق: ۱۹.
''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۲.
3 ۔ ''الھدایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۱، ص۷۸.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۶۹۴، وغیرہما.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۶۹۴.
اعلیٰ حضرت، امامِ احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: سجدہ واجِب ہونے کے لئے پوری آیت پڑھنا ضَروری ہے لیکن بعض عُلَمائے مُتَأَخِّرِین کے نزدیک وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادّہ پایا جاتا ہے اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھاتوسجدۂ تلاو ت واجِب ہوجاتاہے لہذا اِحتیاط یِہی ہے کہ دونوں صورَتوں میں سجدۂ تلاوت کیا جائے۔ ( فتاویٰ رضویہ،ج۸،ص،۲۲۳۔۲۳۳مُلَخَّصاً ) .
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۲.
6 ۔ المرجع السابق، ص۱۳۳. و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۶۹۶.
مسئلہ ۶: سورۂ حج کی آخر آیت جس میں سجدہ کا ذکر ہے اس کے پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب نہیں کہ اس میں سجدے سے مراد نماز کا سجدہ ہے، البتہ اگر شافعی المذہب امام کی اقتدا کی اور اس نے اس موقع پر سجدہ کیا تو اس کی متابعت میں مقتدی پر بھی واجب ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: امام نے آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ نہ کیا تو مقتدی بھی اس کی متابعت میں سجدہ نہ کریگا، اگرچہ آیت سُنی ہو۔ (2) (غنیہ)
مسئلہ ۸: مقتدی نے آیت سجدہ پڑھی تو نہ خود اس پر سجدہ واجب ہے نہ امام پر نہ اور مقتدیوں پر نہ نماز میں نہ بعد میں، البتہ اگر دوسرے نمازی نے کہ اس کے ساتھ نماز میں شریک نہ تھا آیت سُنی خواہ وہ منفرد ہو یا دوسرے امام کا مقتدی یا دوسرا امام ان پر بعد نماز سجدہ واجب ہے۔ يوہيں اس پر واجب ہے جو نماز میں نہ ہو۔ (3) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جو شخص نماز میں نہیں اور آیت سجدہ پڑھی اور نمازی نے سُنی تو بعد نماز سجدہ کرے نماز میں نہ کرے اور نماز ہی میں کر لیا تو کافی نہ ہو گا، بعد نماز پھر کرنا ہو گا مگر نماز فاسد نہ ہوگی ہاں اگر تلاوت کرنے والے کے ساتھ سجدہ کیا اور اتباع کا قصد بھی کیا تو نماز جاتی رہی۔ (4) (غنیہ، عالمگيری)
مسئلہ ۱۰: جو شخص نماز میں نہ تھا آیت سجدہ پڑھ کر نما زمیں شامل ہوگیا تو سجدہ ساقط ہوگیا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: رکوع یا سجود میں آیت سجدہ پڑھی تو سجدہ واجب ہوگیا اور اسی رکوع یا سجود سے ادا بھی ہوگیا اور تشہد میں پڑھی تو سجدہ واجب ہوگیا لہٰذا سجدہ کرے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: آیت سجدہ پڑھنے والے پر اس وقت سجدہ واجب ہوتا ہے کہ وہ وجوب نماز کا اہل ہو یعنی ادا یا قضا کا اسے حکم ہو، لہٰذا اگر کافر یا مجنون یا نابالغ یا حیض و نفاس والی عورت نے آیت پڑھی تو ان پر سجدہ واجب نہیں اور مسلمان عاقل بالغ
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۶۹۵۔۶۹۷.
2 ۔ ''غنیۃ المتملي''، سجدۃ التلاوۃ، ص۵۰۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۳.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۶۹۷.
4 ۔ ''غنیۃ المتملي ''، سجدۃ التلاوۃ، ص۵۰۰.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۳.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۶۹۸.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۶۹۸.
اہل نماز نے ان سے سُنی تو اس پر واجب ہوگیا اور جنون اگر ایک دن رات سے زیادہ نہ ہو تو مجنون پر پڑھنے یا سننے سے واجب ہے، بے وضو یا جنب نے آیت پڑھی یا سنی تو سجدہ واجب ہے، نشہ والے نے آیت پڑھی یا سنی تو سجدہ واجب ہے۔ يوہيں سوتے میں آیت پڑھی بعد بیداری اسے کسی نے خبر دی تو سجدہ کرے، نشہ والے یا سونے والے نے آیت پڑھی تو سننے والے پر سجدہ واجب ہوگیا۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۳: عورت نے نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ نہ کیا یہاں تک کہ حیض آگیا تو سجدہ ساقط ہوگیا۔ (2) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۴: نفل پڑھنے والے نے آیت پڑھی اور سجدہ بھی کر لیا پھر نماز فاسد ہوگئی تو اس کی قضا میں سجدہ کا اعادہ نہیں اور نہ کیا تھا تو بیرونِ نماز کرے۔ (3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۵: فارسی یا کسی اور زبان میں آیت کا ترجمہ پڑھا تو پڑھنے والے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہوگیا، سننے والے نے یہ سمجھا ہو یا نہیں کہ آیت سجدہ کا ترجمہ ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ اسے نامعلوم ہو تو بتا دیا گیا ہو کہ یہ آیت سجدہ کا ترجمہ تھا اور آیت پڑھی گئی ہو تو اس کی ضرورت نہیں کہ سننے والے کو آیت سجدہ ہونا بتایا گیا ہو۔ (4) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۶: چند شخصوں نے ایک ایک حرف پڑھا کہ سب کا مجموعہ آیت سجدہ ہوگیاتو کسی پر سجدہ واجب نہ ہوا۔ يوہيں آیت کے ہجے کرنے یا ہجے سننے سے بھی واجب نہ ہوگا۔ يوہيں پرند سے آیت سجدہ سُنی یا جنگل اور پہاڑ وغیرہ میں آواز گونجی اور بجنسہ آیت کی آواز کان میں آئی تو سجدہ واجب نہیں۔ (5) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۷: آیت سجدہ پڑھنے کے بعد معاذاللہ مرتد ہوگیا پھر مسلمان ہوا تو وہ سجدہ واجب نہ رہا۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۲.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۰ ۔ ۷۰۲.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۲.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۶.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۳.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۲، ۱۳۳.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۲.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۳.
مسئلہ ۱۸: آیت سجدہ لکھنے یا اس کی طرف دیکھنے سے سجدہ واجب نہیں۔ (1) (عالمگيری، غنيہ)
مسئلہ ۱۹: سجدۂ تلاوت کے ليے تحریمہ کے سوا تمام وہ شرائط ہیں جو نماز کے ليے ہیں مثلاً طہارت، استقبال قبلہ، نیت، وقت اس معنی پر کہ آگے آتا ہے ستر عورت، لہٰذا اگر پانی پر قادر ہے تیمم کر کے سجدہ کرنا جائز نہیں۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۰: اس کی نیت میں یہ شرط نہیں کہ فلاں آیت کا سجدہ ہے بلکہ مطلقاً سجدۂ تلاوت کی نیت کافی ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: جو چیزیں نماز کو فاسد کرتی ہیں ان سے سجدہ بھی فاسد ہو جائے گا مثلاً حدث عمد وکلام و قہقہہ۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: سجدہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کر
اَللہُ اَکْبَرْ
کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین بار
سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی
کہے، پھر
اَللہُ اَکْبَرْ
کہتاہوا کھڑا ہو جائے، پہلے پیچھے دونوں بار
اَللہُ اَکْبَرْ
کہنا سنت ہے اور کھڑے ہو کر سجدہ میں جانا اور سجدہ کے بعد کھڑا ہونا یہ دونوں قیام مستحب۔ (5) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۲۳: مستحب یہ ہے کہ تلاوت کرنے والا آگے اور سننے والے اس کے پیچھے صف باندھ کر سجدہ کریں اور یہ بھی مستحب ہے کہ سامعین اس سے پہلے سر نہ اوٹھائیں اور اگر اس کے خلاف کیا مثلاً اپنی اپنی جگہ پر سجدہ کیا اگرچہ تلاوت کرنے والے کے آگے یا اس سے پہلے سجدہ کیا یا سر اٹھالیا یا تلاوت کرنے والے نے اس وقت سجدہ نہ کیا اور سامعین نے کرلیا تو حرج نہیں اور تلاوت کرنے والے کا سجدہ فاسد ہو جائے تو ان کے سجدوں پر اس کا کچھ اثر نہیں کہ یہ حقیقۃً اقتدا نہیں، لہٰذا عورت نے اگر تلاوت کی تو مردوں کی امام یعنی سجدہ میں آگے ہوسکتی ہے اور عورت مرد کے محاذی ہو جائے تو فاسد نہ ہوگا۔ (6) (غنیہ، عالمگيری)
مسئلہ ۲۴: اگر سجدہ سے پہلے یا بعد میں کھڑا نہ ہوا یا
اَللہُ اَکْبَرْ
نہ کہا یا
سُبْحٰنَ
نہ پڑھا تو ہو جائے گا مگر تکبیر چھوڑنا
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۳.
و ''غنیۃ المتملي''، سجدۃ التلاوۃ، ص۵۰۰.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۶۹۹. وغيرہ
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۶۹۹.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۶۹۹.
5 ۔ المرجع السابق، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۵.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۴.
و ''غنیۃ المتملي''، سجدۃ التلاوۃ، ص۵۰۱.
نہ چاہيے کہ سلف کے خلا ف ہے۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: اگر تنہا سجدہ کرے تو سنت یہ ہے کہ تکبیر اتنی آواز سے کہے کہ خود سُن لے اور دوسرے لوگ بھی اس کے ساتھ ہوں تو مستحب یہ ہے کہ اتنی آواز سے کہے کہ دوسرے بھی سنیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: یہ جو کہا گیا کہ سجدۂ تلاوت میں
سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی
پڑھے یہ فرض نماز میں ہے اور نفل نماز میں سجدہ کیا تو چاہے یہ پڑھے یا اور دُعائیں جو احادیث میں وارد ہیں وہ پڑھے۔ مثلاً
سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ وَصَوَّرَہٗ وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ بِحَوْلِہٖ وَقُوَّتِہٖ فَتَبَارَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ. (3)
یا
اَللّٰھُمَّ اکْتُبْ لِیْ عِنْدَکَ بِھَا اَجْرًا وَّ ضَعْ عنَیِّ بِھَا وِزْرًا وَّاجْعَلْھَا لِیْ عِنْدَکَ زُخْرًا وَّ تَقَبَّلْھَا مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَھَا مِنْ عَبْدِکَ دَاوٗدَ . (4)
یا يہ کہے۔
سُبْحٰنَ رَبِّنَا اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا ؕ (5)
اور اگر بیرون نماز ہو تو چاہے یہ پڑھے یا صحابہ و تابعین سے جو آثار مروی ہیں وہ پڑھے، مثلاً ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے تھے:
اَللّٰھُمَّ لَکَ سَجَدَ سَوَادِیْ رَبِّکَ اٰمَنَ فُؤَادِیْ اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ عِلْمًا یَّنْفَعُنِیْ وَعَمَلًا یَّرْفَعُنِیْ . (6) (غنیہ، ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۵.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۰.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۰.
3 ۔ ترجمہ: میرے چہرے نے سجدہ کیا اوس کے ليے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی صورت بنائی اور اپنی طاقت وقوت سے کان اور آنکھ کی جگہ پھاڑی برکت والا ہے اللہ (عزوجل) ! جو اچھا پیدا کرنے والا ہے۔ ۱۲
4 ۔ ترجمہ: اے اللہ (عزوجل)! اس سجدہ کی وجہ سے تو میرے ليے اپنے نزدیک ثواب لکھ اور اس کی وجہ سے مجھ سے گناہ کو دور کر اور اسے تو میرے ليے اپنے پاس ذخیرہ بنا اور اس کو تو مجھ سے قبول کر جیسا تو نے اپنے بندے داود علیہ السلام سے قبول کیا۔ ۱۲
5 ۔ ترجمہ: پاک ہے ہمارا رب، بے شک ہمارے پروردگار کا وعدہ ہو کر رہے گا۔ ۱۲
6 ۔ ''غنیۃ المتملي ''، سجدۃ التلاوۃ، ص۵۰۲، و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۰.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! میرے جسم نے تجھے سجدہ کیا اور میرا دل تجھ پر ایمان لایا۔ اے اللہ! تو مجھ کو علم نافع اور عمل رافع روزی کر ۔ ۱۲
مسئلہ ۲۷: سجدۂ تلاوت کے ليے
اَللہُ اَکْبَرْ
کہتے وقت نہ ہاتھ اٹھانا ہے اور نہ اس ميں تشہد ہے نہ سلام۔ (1) (تنویرالابصار)
مسئلہ ۲۸: آیت سجدہ بیرون نماز پڑھی تو فوراً سجدہ کر لینا واجب نہیں ہاں بہتر ہے کہ فوراً کر لے اور وضو ہو تو تاخیر مکروہِ تنزیہی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: اُس وقت اگر کسی وجہ سے سجدہ نہ کرسکے تو تلاوت کرنے والے اور سامع کو یہ کہہ لینا مستحب ہے
سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ . (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: سجدۂ تلاوت نماز میں فوراً کرنا واجب ہے تاخیر کریگا گنہگار ہو گا اور سجدہ کرنا بھول گیا تو جب تک حرمت نماز (4) میں ہے کرلے، اگرچہ سلام پھیر چکا ہو اور سجدۂ سہو کرے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار) تاخیر سے مراد تین آیت سے زیادہ پڑھ لینا ہے کم میں تاخیر نہیں مگر آخر سورت میں اگر سجدہ واقع ہے، مثلاً
اِنْشَقَّتْ
تو سورت پوری کر کے سجدہ کرے گا جب بھی حرج نہیں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: نماز میں آیت سجدہ پڑھی تو اس کا سجدہ نماز ہی میں واجب ہے بیرون نماز نہیں ہو سکتا۔ اور قصداً نہ کیا تو گنہگار ہوا تو بہ لازم ہے بشرطیکہ آیت سجدہ کے بعد فوراً رکوع و سجود نہ کیا ہو، نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ نہ کیا پھر وہ نماز فاسد ہوگئی یا قصداً فاسد کی تو بیرونِ نماز سجدہ کر لے اور سجدہ کر لیا تھا تو حاجت نہیں۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: اگر آیت پڑھنے کے بعد فوراً نماز کا سجدہ کر لیا یعنی آیت سجدہ کے بعد تین آیت سے زیادہ نہ پڑھا اور رکوع کر کے سجدہ کیا تو اگرچہ سجدۂ تلاوت کی نیت نہ ہو ادا ہو جائے گا۔ (8) (عالمگیری، درمختار)
1 ۔ ''تنوير الأبصار''، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۰.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۳.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۳.
ترجمہ: ہم نے سنا اور حکم مانا، تیری مغفرت کا سوال کرتے ہیں، اے پروردگار! اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔ ۱۲
4 ۔ یعنی کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو منافی نماز ہے۔ ۱۲
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۴.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۶۔۷۰۷.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۵.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۸.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۳، ۱۳۴.
مسئلہ ۳۳: نماز کا سجدۂ تلاوت سجدہ سے بھی ادا ہو جاتا ہے اور رکوع سے بھی، مگر رکوع سے جب ادا ہو گا کہ فوراً کرے فوراً نہ کیا تو سجدہ کرنا ضروری ہے اور جس رکوع سے سجدۂ تلاوت ادا کیا خواہ وہ رکوع رکوعِ نماز ہو یا اس کے علاوہ۔ اگر رکوعِ نماز ہے تو اس میں ادائے سجدہ کی نیت کر لے اور اگر خاص سجدہ ہی کے ليے یہ رکوع کیا تو اس رکوع سے اٹھنے کے بعد مستحب یہ ہے کہ دو تین آیتیں یا زیادہ پڑھ کر رکوعِ نماز کرے فوراً نہ کرے۔ اور اگر آیت سجدہ پر سورت ختم ہے اور سجدہ کے ليے رکوع کیا تو دوسری سورت کی آیتیں پڑھ کر رکوع کرے۔ (1) (غنیہ، عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۴: آیت سجدہ بیچ سورت میں ہے تو افضل یہ ہے کہ اسے پڑھ کر سجدہ کرے پھر کچھ اور آیتیں پڑھ کر رکوع کرے اور اگر سجدہ نہ کیا اور رکوع کر لیا اور اس رکوع میں ادائے سجدہ کی بھی نیت کرلی تو کافی ہے اور اگر نہ سجدہ کیا نہ رکوع کیا بلکہ سورت ختم کر کے رکوع کیا تو اگرچہ نیت کرے، ناکافی ہے اور جب تک نماز میں ہے سجدہ کی قضا کر سکتا ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: سجدہ پر سورت ختم ہے اور آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ کیا تو سجدہ سے اٹھنے کے بعد دوسری سورت کی کچھ آیتیں پڑھ کر رکوع کرے اور بغیر پڑھے رکوع کر دیا تو بھی جائز ہے۔ (3) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۶: اگر آیت سجدہ کے بعد ختم سورت میں دو تین آیتیں باقی ہیں تو چاہے فوراً رکوع کر دے یا سورت ختم کرنے کے بعد یا فوراً سجدہ کر لے پھر باقی آیتیں پڑھ کر رکوع میں جائے یا سورت ختم کر کے سجدہ میں جائے سب طرح اختیار ہے مگر اس صورت اخیرہ میں سجدہ سے اٹھ کر کچھ آیتیں دوسری سورت کی پڑھ کر رکوع کرے۔ (4) (غنیہ، عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: رکوع جاتے وقت سجدہ کی نیت نہیں کی بلکہ رکوع میں یا اٹھنے کے بعد کی تو یہ نیت کافی نہیں۔ (5) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۸: تلاوت کے بعد امام رکوع میں گیا اور نیت سجدہ کر لی مگر مقتدیوں نے نہ کی تو ان کا سجدہ ادا نہ ہوا لہٰذا امام جب سلام پھیرے تو مقتدی سجدہ کر کے قعدہ کر یں اور سلام پھیریں اور اس قعدہ میں تشہد واجب ہے اگر قعدہ نہ کیا تو نماز فاسد ہوگئی کہ قعدہ جاتا رہا یہ حکم جہری نماز کا ہے، سری میں چونکہ مقتدی کو علم نہیں لہٰذا معذور ہے اور اگر امام نے رکوع سے سجدۂ تلاوت کی نیت نہ کی تو اسی سجدۂ نماز سے مقتدیوں کا بھی سجدۂ تلاوت ادا ہوگیا اگرچہ نیت نہ ہو، لہٰذا امام کو چاہیے کہ رکوع میں سجدہ کی نیت
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۶.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۳.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۳.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق. 5 ۔ المرجع السابق.
نہ کرے کہ مقتدیوں نے اگر نیت نہ کی تو ان کا سجدہ ادا نہ ہوگا اور رکوع کے بعد جب امام سجدہ کریگا تو اس سے سجدۂ تلاوت بہرحال ادا ہو جائے گا نیت کرے یا نہ کرے پھر نیت کی کیا حاجت۔ (1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۹: جہری نماز میں امام نے آیت سجدہ پڑھی تو سجدہ کرنا اولیٰ ہے اور سری میں رکوع کرنا کہ مقتدیوں کو دھوکا نہ لگے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: امام نے سجدۂ تلاوت کیا مقتدیوں کو رکوع کا گمان ہوا اور رکوع میں گئے تو رکوع توڑ کر سجدہ کریں اور جس نے رکوع اور ایک سجدہ کیا جب بھی ہوگیا اور اگر رکوع کر کے دو سجدے کر ليے تو اس کی نماز گئی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴۱: مصلّی سجدۂ تلاوت بھول گیا رکوع یا سجدہ یا قعدہ میں یاد آیا تو اسی وقت سجدہ کرلے پھر جس رکن میں تھا اس کی طرف عود کرے یعنی رکوع میں تھا تو سجدہ کر کے رکوع میں واپس ہو وعلی ہذا لقیاس اور اگر اس رکن کا اعادہ نہ کیا جب بھی نماز ہوگئی۔ (4) (عالمگیری) مگر قعدۂ اخیرہ کا اعادہ فرض ہے کہ سجدہ سے قعدہ باطل ہو جاتا ہے۔
مسئلہ ۴۲: ایک مجلس میں سجدہ کی ایک آیت کو بار بار پڑھا یا سنا تو ایک ہی سجدہ واجب ہوگا، اگرچہ چند شخصوں سے سنا ہو۔ يوہيں اگر آیت پڑھی اور وہی آیت دوسرے سے سنی بھی جب بھی ایک ہی سجدہ واجب ہوگا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: پڑھنے والے نے کئی مجلسوں میں ایک آیت بار بار پڑھی اور سننے والے کی مجلس نہ بدلی تو پڑھنے والا جتنی مجلسوں میں پڑھے گا اس پر اتنے ہی سجدے واجب ہوں گے اور سننے والے پر ایک اور اگر اس کا عکس ہے یعنی پڑھنے والا ایک مجلس میں بار بار پڑھتا رہا اور سننے والے کی مجلس بدلتی رہی تو پڑھنے والے پر ایک سجدہ واجب ہو گا اور سننے والے پر اتنے جتنی مجلسوں میں سُنا۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: مجلس میں آیت پڑھی یا سُنی اور سجدہ کر لیا پھر اسی مجلس میں وہی آیت پڑھی یا سُنی تو وہی پہلا سجدہ کافی ہے۔ (7) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۳.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۷.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۸.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۰۹.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۴.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۲.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۴.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۲.
مسئلہ ۴۵: ایک مجلس میں چند بار آیت پڑھی یا سُنی اور آخر میں اتنی ہی بار سجدہ کرنا چاہے تو یہ بھی خلاف مستحب ہے بلکہ ایک ہی بار کرے، بخلاف دُرود شریف کے کہ نام اقدس لیا یا سنا تو ایک بار دُرود شریف واجب اور ہر بار مستحب۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۶: دو ایک لقمہ کھانے، دو ایک گھونٹ پینے، کھڑے ہو جانے، دوایک قدم چلنے، سلام کا جواب دینے، دو ایک بات کرنے، مکان کے ایک گوشہ سے دوسرے کی طرف چلے جانے سے مجلس نہ بدلے گی، ہاں اگر مکان بڑا ہے جیسے شاہی محل تو ایسے مکان میں ایک گوشہ سے دوسرے میں جانے سے مجلس بدل جائے گی۔ کشتی میں ہے اور کشتی چل رہی ہے، مجلس نہ بدلے گی۔ ریل کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے، جانور پر سوار ہے اور وہ چل رہا ہے تو مجلس بدل رہی ہے ہاں اگر سواری پر نماز پڑھ رہا ہے تو نہ بدلے گی، تین لقمے کھانے، تین گھونٹ پینے، تین کلمے بولنے، تین قدم میدان میں چلنے، نکاح یا خرید و فروخت کرنے، لیٹ کر سو جانے سے مجلس بدل جائے گی۔ (2) (عالمگیری، غنیہ، درمختار وغیرہا)
مسئلہ ۴۷: سواری پر نما زپڑھتا ہے اور کوئی شخص ساتھ چل رہا ہے یا وہ بھی سوا ر ہے مگر نماز میں نہیں، ایسی حالت میں اگر آیت بار بار پڑھی تو اس پر ایک سجدہ واجب ہے اور ساتھ والے پر اتنے جتنی بار سُنا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۸: تانا تننا، نہر یا حوض میں تیرنا، درخت کی ایک شاخ سے دوسری پر جانا، ہل جوتنا، دائیں چلانا، چکی کے بیل کے پیچھے پھرنا، عورت کا بچہ کودُودھ پلانا، ان سب صورتوں میں مجلس بدل جاتی ہے جتنی بار پڑھے گا یا سُنے گا اتنے سجدے واجب ہوں گے۔ (4) (غنیہ، درمختار وغیرہما) یہی حکم کولو کے بیل کے پیچھے چلنے کا ہونا چاہیے۔
مسئلہ ۴۹: ایک جگہ بیٹھے بیٹھے تانا تن رہا ہے تو مجلس بدل رہی ہے اگرچہ فتح القدیر میں اس کے خلاف لکھا، اس ليے کہ یہ عملِ کثیر ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۰: کسی مجلس میں دیر تک بیٹھنا قراء ت، تسبیح، تہلیل، درس وعظ میں مشغول ہونا مجلس کو نہیں بدلے گا اور اگر
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۲، ۷۱۷.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۴.
و ''غنیۃ المتملي''، سجدۃ التلاوۃ، ص۵۰۳.
و ''الدرالمختار'' کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۲ ۔ ۷۱۶.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۶.
4 ۔ المرجع السابق، ص۷۱۴.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۶.
دونوں بار پڑھنے کے درمیان کوئی دنیا کا کام کیا مثلاً کپڑا سینا وغیرہ تو مجلس بدل گئی۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۱: آیت سجدہ بیرونِ نماز تلاوت کی اور سجدہ کر کے پھر نماز شروع کی اور نماز میں پھر وہی آیت پڑھی تو اس کے ليے دو بارہ سجدہ کرے اور اگر پہلے نہ کیا تھا تو یہی اس کے بھی قائم مقام ہوگیا بشرطیکہ آیت پڑھنے اور نماز کے درمیان کوئی اجنبی فعل فاصل نہ ہو اور اگر نہ پہلے سجدہ کیا نہ نماز میں تو دونوں ساقط ہو گئے اور گنہگار ہوا توبہ کرے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۲: ایک رکعت میں بار بار وہی آیت پڑھی تو ایک ہی سجدہ کافی ہے، خواہ چند بار پڑھ کر سجدہ کیا یا ایک بار پڑھ کر سجدہ کیا پھر دوبارہ سہ بارہ آیت پڑھی۔ يوہيں اگر ایک نماز کی سب رکعتوں میں یا دو تین میں وہی آیت پڑھی تو سب کے ليے ایک سجدہ کافی ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کر لیا پھر سلام کے بعد اسی مجلس میں وہی آیت پڑھی تو اگر کلام نہ کیا تھا تو وہی نماز والا سجدہ اس کے قائم مقام بھی ہے اور کلام کر لیا تھا تو دوبارہ سجدہ کرے اور اگر نماز میں سجدہ نہ کیا تھا پھر سلام پھیرنے کے بعد وہی آیت پڑھی تو ایک سجدہ کرے، نماز والا ساقط ہوگیا۔ (4) (خانیہ، غنیہ، عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۴: نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کیا پھر بے وضو ہوا اور وضو کر کے بنا کی پھر وہی آیت پڑھی تو دوسرا سجدہ واجب نہ ہوا اور اگر بنا کے بعد دوسرے سے وہی آیت سُنی تو دوسرا واجب ہے اور یہ دوسرا سجدہ نماز کے بعد کرے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۵: ایک مجلس میں سجدہ کی چند آیتیں پڑھیں تو اتنے ہی سجدے کرے ایک کافی نہیں۔ (6) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۵۶: پوری سورت پڑھنا اور آیت سجدہ چھوڑ دینا مکروہِ تحریمی ہے اور صرف آیت سجدہ کے پڑھنے ميں کراہت نہیں، مگر بہتر یہ ہے کہ دو ایک آیت پہلے یا بعد کی ملالے۔ (7) (درمختار وغيرہ)
مسئلہ ۵۷: سامعین نے سجدہ کا تہیّہ کیا ہو اور سجدہ ان پر بار نہ ہو تو آیت بلند آواز سے پڑھنا اولیٰ ہے ورنہ آہستہ اور
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۶.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۱.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۵.
4 ۔ المرجع السابق، و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۵.
6 ۔ ''شرح الوقایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۱، ص۲۳۲.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۷، وغيرہ.
سامعین کا حال معلوم نہ ہو کہ آمادہ ہیں یا نہیں جب بھی آہستہ پڑھنا بہتر ہونا چاہيے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: آیت سجدہ پڑھی گئی مگر کام میں مشغولی کے سبب نہ سنی تو اصح یہ ہے کہ سجدہ واجب نہیں، مگر بہت سے علما کہتے ہیں کہ اگرچہ نہ سُنی سجدہ واجب ہوگیا۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
فائدۂ اہم: جس مقصد کے ليے ایک مجلس میں سجدہ کی سب آیتیں پڑھ کر سجدے کرے اللہ عزوجل اس کا مقصد پورا فرما دے گا۔ خواہ ایک ایک آیت پڑھ کر اس کا سجدہ کرتا جائے یا سب کو پڑھ کر آخر میں چودہ سجدے کرلے۔ (3) (غنیہ، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۵۹: زمین پر آیت سجدہ پڑھی تو یہ سجدہ سواری پر نہیں کر سکتا مگر خوف کی حالت ہو تو ہوسکتا ہے اور سواری پر آیت پڑھی تو سفر کی حالت میں سواری پر سجدہ کرسکتا ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: مرض کی حالت میں اشارہ سے بھی سجدہ ادا ہو جائے گا۔ يوہيں سفر میں سواری پر اشارہ سے ہو جائے گا۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۶۱: جمعہ و عیدین اور سِرّی نمازوں میں اور جس نماز میں جماعتِ عظیم ہو آیت سجدہ امام کو پڑھنا مکروہ ہے۔ ہاں اگر آیت کے بعد فوراً رکوع و سجود کر دے اور رکوع میں نیت نہ کرے تو کراہت نہیں۔ (6) (غنیہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۲: منبر پر آیت سجدہ پڑھی تو خود اُس پر اور سننے والوں پر سجدہ واجب ہے اور جنھوں نے نہ سُنی ان پر نہیں۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۳: سجدۂ شکر مثلاً اولاد پیدا ہوئی یا مال پایا یا گمی ہوئی چیز مل گئی یا مریض نے شفا پائی یا مُسافر واپس آیا غرض کسی
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۸.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۸.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۹. و ''غنیۃ المتملي''، سجدۃ التلاوۃ، ص۵۰۷. وغيرہما
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۵.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''غنیۃ المتملي''، سجدۃ التلاوۃ، ص۵۰۷.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، مطلب في سجدۃ الشکر، ج۲، ص۷۲۰.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، مطلب في سجدۃ الشکر، ج۲، ص۷۲۰.
نعمت پر سجدہ کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ وہی ہے جو سجدۂ تلاوت کا ہے۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۴: سجدۂ بے سبب جیسا اکثر عوام کرتے ہیں نہ ثواب ہے، نہ مکروہ۔ (2) (عالمگیری)
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
(وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الۡاَرْضِ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَقْصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوۃِ ٭ۖ اِنْ خِفْتُمْ اَنۡ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ ) (3)
جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر اس کا گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کرو اگر خوف ہو کہ کافر تمھیں فتنہ میں ڈالیں گے۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ہے، یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: امیر المؤمنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے میں نے عرض کی، کہ اللہ عزوجل نے تو یہ فرمایا:
( اَنۡ تَقْصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوۃِ ٭ۖ اِنْ خِفْتُمْ اَنۡ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ ) (4)
اور اب تو لوگ امن میں ہیں(یعنی امن کی حالت میں قصر نہ ہونا چاہيے) فرمایا: اس کا مجھے بھی تعجب ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا ارشاد فرمایا: یہ ایک صدقہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر تصدق فرمایا اس کا صدقہ قبول کرو۔ (5)
حدیث ۲: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں مروی، کہ حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: ''رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھائی حالانکہ نہ ہماری اتنی زیادہ تعداد کبھی تھی نہ اس قدر امن۔'' (6)
حدیث ۳: صحیحین میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ ''رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں اور ذی الحليفہ (7) میں عصر کی دو رکعتیں۔'' (8)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۶.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، مطلب في سجدۃ الشکر، ج۲، ص۷۲۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۶.
3 ۔ پ۵، النسآء: ۱۰۱. 4 ۔ پ۵، النسآء: ۱۰۱.
5 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا، باب صلاۃ المسافرین و قصرھا، الحدیث: ۶۸۶، ص۳۴۷.
6 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الحج، باب الصلاۃ بِمِنی، الحدیث: ۱۶۵۶، ج۱، ص۵۵۴.
7 ۔ مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر ایک مقام کا نام ہے، یہی اصح ہے۔ (مرقاۃ) ۱۲ منہ
8 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الحج، باب من بات بذی الحلیفۃ حتی أصبح، الحدیث: ۱۵۴۷، ج۱، ص۵۲۰.
حدیث ۴: ترمذی شریف میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ حضر و سفر دونوں میں نمازیں پڑھیں، حضر میں حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے ساتھ ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعت اور سفر میں ظہر کی دو اور اس کے بعد دو رکعت اور عصر کی دو۔ اور اس کے بعد کچھ نہیں اور مغرب کی حضر و سفر میں برابر تین رکعتیں، سفر وحضر کسی کی نمازِ مغرب میں قصر نہ فرماتے اور اس کے بعد دو رکعت۔ (1)
حدیث ۵: صحیحین میں ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی، فرماتی ہیں: ''نماز دو رکعت فرض کی گئی پھر جب حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ہجرت فرمائی تو چار فرض کر دی گئی اور سفر کی نماز اسی پہلے فرض پر چھوڑی گئی۔'' (2)
حدیث ۶: صحیح مسلم شریف میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہتے ہیں: کہ ''اللہ عزوجل نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبانی حضر میں چار رکعتیں فرض کیں اور سفر میں دو اور خوف میں ایک (3) یعنی امام کے ساتھ۔'' (4)
حدیث ۷: ابن ماجہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نمازِ سفر کی دو رکعتیں مقرر فرمائیں اور یہ پوری ہے کم نہیں یعنی اگرچہ بظاہر دو رکعتیں کم ہوگئیں مگر ثواب میں یہ دو ہی چار کی برابر ہیں۔ (5)
شرعاً مسافر وہ شخص ہے جو تین دن کی راہ تک جانے کے ارادہ سے بستی سے باہر ہوا۔ (6) (متون)
مسئلہ ۱: دن سے مراد سال کا سب ميں چھوٹا دن اور تین دن کی راہ سے یہ مراد نہیں کہ صبح سے شام تک چلے کہ کھانے پینے، نماز اور دیگر ضروریات کے ليے ٹھہرنا تو ضرور ہی ہے، بلکہ مراد دن کا اکثر حصہ ہے مثلاً شروع صبح صادق سے دوپہر ڈھلنے تک چلا پھر ٹھہر گیا پھر دوسرے اور تيسرے دن يوہيں کیا تو اتنی دور تک کی راہ کو مسافت سفرکہیں گے دوپہر کے بعد تک چلنے میں بھی برابر چلنا مراد نہیں بلکہ عادۃً جتنا آرام لینا چاہے اس قدر اس درمیان میں ٹھہرتا بھی جائے اور چلنے سے مراد معتدل چال ہے کہ نہ تیز ہو نہ سُست، خشکی میں آدمی اور اونٹ کی درمیانی چال کا اعتبار ہے اور پہاڑی راستہ میں اسی حساب سے جو اس کے ليے
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب السفر، باب ماجاء في التطوع في السفر، الحدیث: ۵۵۲، ج۲، ص۷۶.
2 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب مناقب الأنصار، باب التاریخ... إلخ، الحدیث: ۳۹۳۵، ج۲، ص۶۰۴.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا، باب صلاۃ المسافرین و قصرھا، الحدیث: ۶۸۷، ص۳۴۷.
4 ۔ يعنی امام کے ساتھ صرف ايک رکعت پڑھے گا اور ايک رکعت اکيلے۔
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب إقامۃ الصلوات و السنۃ فیھا، باب ماجاء في الوتر في السفر، الحدیث: ۱۱۹۴، ج۲، ص۵۴.
6 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۸، ص۲۴۳.
مناسب ہو اور دریا میں کشتی کی چال اس وقت کی کہ ہوا نہ بالکل رُکی ہو نہ تیز۔ (1) (درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۲: سال کا چھوٹا دن اس جگہ کا معتبر ہے جہاں دن رات معتدل ہوں یعنی چھوٹے دن کے اکثر حصہ میں منزل طے کر سکتے ہوں لہٰذا جن شہروں میں بہت چھوٹا دن ہوتا ہے جیسے بلغار کہ وہاں بہت چھوٹا دن ہوتا ہے، لہٰذا وہاں کے دن کا اعتبار نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: کوس کا اعتبار نہیں کہ کوس کہیں چھوٹے ہوتے ہیں کہیں بڑے بلکہ اعتبار تین منزلوں کا ہے اور خشکی میں میل کے حساب سے اس کی مقدار ۵۷ ــــ ۳ ۸ میل ہے۔ (3) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۴: کسی جگہ جانے کے دو راستے ہیں ایک سے مسافت سفرہے دوسرے سے نہیں تو جس راستہ سے یہ جائے گا اس کا اعتبار ہے، نزدیک والے راستے سے گیا تو مسافر نہیں اور دور والے سے گیا تو ہے، اگرچہ اس راستہ کے اختیار کرنے میں
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۳۸.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۴.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۵.
3 ۔ بہارِ شريعت کے مطبوعہ نسخوں ميں فتاویٰ رضويہ کے حوالے سے ۵۷ ــــ ۳ ۸ میل مرقوم ہے، یہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ ''فتاویٰ رضويہ'' (جديد)، ج۸، ص۲۷۰، اور ''فتاویٰ رضويہ'' (قديم)، ج۳، ص۶۶۹، ميں مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عليہ رحمۃ الرحمن نے ساڑھے ستاون (۵۷ ــــ ۱ ۲ ) ميل لکھا ہے۔
فقیہ اعظم ہند علامہ مفتی محمد شريف الحق امجدی عليہ رحمۃ اللہ القوی ''نزھۃ القاری''، جلد 2، صفحہ 655 پر فرماتے ہیں: ''مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عليہ رحمۃ الرحمن نے ظاہر مذہب کو اختیار فرما کر تین منزل کی یہ مسافت( ساڑھے ستاون میل)بیان فرمائی ہے۔
''جدالممتار'' میں لکھتے ہیں: والمعتاد المعھود فی بلادنا أن کل مرحلۃ ۱۲ کوس، وقد جربت مرارا کثيرۃ بمواضع شہیرۃ أن المیل الرائج فی بلادناخمسۃ أثمان کوس المعتبر ہہنا، فاذا ضربت الاکواس فی ۸، وقسم الحاصل علی ۵ کانت أمیال رحلۃ واحدۃ ۱۹۔۵/۱، وأميال مسيرۃ ثلاثۃ أيام ۵۷۔۵/۳ أعنی ۶۔۵۷. (''جدالممتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۱، ص۳۵۹.)
ہمارے بلاد میں معتاد ومعہود یہ ہے کہ ہر منزل بارہ کوس کی ہوتی ہے میں نے بار بار بکثرت مشہور جگہوں میں آزمایا ہے کہ اس وقت ہمارے بلاد میں جو میل رائج ہے۔ وہ ــــ ۵ ۸ کوس جب کوسوں کو ۸ میں ضرب دیں اور حاصل ضرب کو ۵ پر تقسیم کریں تو حاصل قسمت میل ہو گا، اب ایک منزل ۱۹ ــــ ۱ ۵ میل کی ہوئی اور تین دن کی مسافت ۵۷ ــــ ۳ ۵ میل یعنی ۵۷-۶ میل۔''
(''نزہۃ القاری شرح صحيح البخاری''، ابواب تقصير الصلوۃ، ج۲، ص۶۶۵.)
اس کی کوئی غرض صحیح نہ ہو۔ (1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: کسی جگہ جانے کے دو راستے ہیں، ایک دریا کا دوسرا خشکی کا ان میں ایک دو دن کا ہے دوسرا تین دن کا، تین دن والے سے جائے تو مسافر ہے ورنہ نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: تین دن کی راہ کو تیز سواری پر دو دن يا کم ميں طے کرے تو مسافر ہی ہے اور تين دن سے کم کے راستہ کو زيادہ دنوں ميں طے کيا تو مسافر نہيں۔ (3) (درمختار، عالمگيری)
مسئلہ ۷: تین دن کی راہ کو کسی ولی نے اپنی کرامت سے بہت تھوڑے زمانہ میں طے کیا تو ظاہر یہی ہے کہ مسافر کے احکام اس کے ليے ثابت ہوں مگر امام ابن ہمام نے اس کا مسافر ہونا مستبعد فرمایا۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: محض نیت سفر سے مسافر نہ ہو گا بلکہ مسافر کا حکم اس وقت سے ہے کہ بستی کی آبادی سے باہر ہو جائے شہرمیں ہے تو شہر سے، گاؤں میں ہے تو گاؤں سے اور شہر والے کے ليے یہ بھی ضرور ہے کہ شہر کے آس پاس جو آبادی شہر سے متصل ہے اس سے بھی باہر ہو جائے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: فنائے شہر سے جو گاؤں متصل ہے شہر والے کے ليے اس گاؤں سے باہر ہو جانا ضرور نہیں۔ يوہيں شہر کے متصل باغ ہوں اگرچہ ان کے نگہبان اور کام کرنے والے ان میں رہتے ہوں ان باغوں سے نکل جانا ضروری نہیں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: فنائے شہر يعنی شہر سے باہر جو جگہ شہر کے کاموں کے ليے ہو مثلاً قبرستان، گھوڑ دوڑ کا میدان، کوڑا پھینکنے کی جگہ اگر یہ شہر سے متصل ہو تو اس سے باہر ہو جانا ضروری ہے۔ اور اگرشہر و فنا کے درمیان فاصلہ ہو تو نہیں۔ (7) (ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۳۸.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۳۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۳۹.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۶.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۶.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۲.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۲.
7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۱: آبادی سے باہر ہونے سے مراد یہ ہے کہ جدھر جا رہا ہے اس طرف آبادی ختم ہو جائے اگرچہ اس کی محاذات میں دوسری طرف ختم نہ ہوئی ہو۔ (1) (غنیہ)
مسئلہ ۱۲: کوئی محلہ پہلے شہر سے ملا ہوا تھا مگر اب جدا ہوگیا تو اس سے باہر ہونا بھی ضروری ہے اور جو محلہ ویران ہوگیا خواہ شہر سے پہلے متصل تھا یا اب بھی متصل ہے اس سے باہر ہونا شرط نہیں۔ (2) (غنیہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: اسٹیشن جہاں آبادی سے باہر ہوں تو اسٹیشن پر پہنچنے سے مسافر ہو جائے گا جبکہ مسافت سفر تک جانے کا ارادہ ہو۔
مسئلہ ۱۴: سفر کے ليے یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں سے چلا وہاں سے تین دن کی راہ کا ارادہ ہو اور اگر دو دن کی راہ کے ارادہ سے نکلا وہاں پہنچ کر دوسری جگہ کا ارادہ ہوا کہ وہ بھی تین دن سے کم کا راستہ ہے، يوہيں ساری دنیا گھوم آئے مسافر نہیں۔ (3) (غنیہ، درمختار)
مسئلہ ۱۵: یہ بھی شرط ہے کہ تین دن کا ارادہ متصل سفر کا ہو،ا گر یوں ارادہ کیا کہ مثلاً دو دن کی راہ پر پہنچ کر کچھ کام کرنا ہے وہ کر کے پھر ایک دن کی راہ جاؤں گا تو یہ تین دن کی راہ کا متصل ارادہ نہ ہوا مسافر نہ ہوا۔ (4) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱۶: مسافر پر واجب ہے کہ نماز میں قصر کرے یعنی چار رکعت والے فرض کو دو پڑھے اس کے حق میں دو ہی رکعتیں پوری نماز ہے اور قصداً چار پڑھیں اور دو پر قعدہ کیا تو فرض ادا ہوگئے اور پچھلی دو رکعتیں نفل ہوئيں مگر گنہگار و مستحق نار ہوا کہ واجب ترک کیا لہٰذا تو بہ کرے اور دو رکعت پر قعدہ نہ کیا تو فرض ادا نہ ہوئے اور وہ نماز نفل ہوگئی ہاں اگر تیسری رکعت کا سجدہ کرنے سے پیشتر اقامت کی نیت کر لی تو فرض باطل نہ ہوں گے مگر قیام و رکوع کا اعادہ کرنا ہوگا اور اگر تیسری کے سجدہ میں نیت کی تو اب فرض جاتے رہے، يوہيں اگر پہلی دونوں یا ایک میں قراء ت نہ کی نماز فاسد ہوگئی۔ (5) (ہدایہ، عالمگیری، درمختار وغیرہا)
1 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في صلاۃ المسافر، ص۵۳۶.
2 ۔ المرجع السابق، و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۳.
3 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في صلاۃ المسافر، ص۵۳۷.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۳، ۷۲۴.
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۸، ص۲۷۰.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۳۹.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۳.
و ''الھدایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۱، ص۸۰.
مسئلہ ۱۷: یہ رخصت کہ مسافر کے ليے ہے، مطلق ہے اس کا سفر جائز کام کے ليے ہو یا ناجائز کے ليے بہرحال مسافر کے احکام اس کے ليے ثابت ہوں گے۔ (1) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۱۸: کافر تین دن کی راہ کے ارادہ سے نکلا دو دن کے بعد مسلمان ہوگیا تو اس کے ليے قصر ہے اور نابالغ تین دن کی راہ کے قصد سے نکلا اور راستہ میں بالغ ہوگیا، اب سے جہاں جانا ہے تین دن کی راہ نہ ہو تو پوری پڑھے حیض والی پاک ہوئی اور اب سے تین دن کی راہ نہ ہو تو پوری پڑھے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: بادشاہ نے رعایا کی تفتیش حال کے ليے مُلک میں سفر کیا تو قصر نہ کرے جبکہ پہلا ارادہ متصل تین منزل کا نہ ہوا اور اگر کسی اور غرض کے ليے ہو اور مسافتِ سفر ہو تو قصر کرے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: سُنّتوں میں قصر نہیں بلکہ پوری پڑھی جائیں گی البتہ خوف اور رواروی(4) کی حالت میں معاف ہیں اور امن کی حالت میں پڑھی جائیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: مسافر اس وقت تک مسافر ہے جب تک اپنی بستی میں پہنچ نہ جائے یا آبادی میں پورے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرلے، یہ اس وقت ہے جب تین دن کی راہ چل چکا ہو اور اگر تین منزل پہنچنے سے پیشتر واپسی کا ارادہ کر لیا تو مسافر نہ رہا اگرچہ جنگل میں ہو۔(6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۲: نیتِ اقامت صحیح ہونے کے ليے چھ شرطیں ہیں:
(۱) چلنا ترک کرے اگرچلنے کی حالت میں اقامت کی نیت کی تو مقیم نہیں۔
(۲) وہ جگہ اقامت کی صلاحیت رکھتی ہو جنگل یا دریا غیر آباد ٹاپُو میں اقامت کی نیت کی مقیم نہ ہوا۔
(۳) پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہو اس سے کم ٹھہرنے کی نیت سے مقیم نہ ہوگا۔
(۴) یہ نیت ایک ہی جگہ ٹھہرنے کی ہو اگر دو موضعوں میں پندرہ دن ٹھہرنے کا ارادہ ہو، مثلاً ایک میں دس دن دوسرے میں پانچ دن کا تو مقیم نہ ہوگا۔
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۳۹.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۴۶.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، مطلب في الوطن الأصلي... إلخ، ج۲، ص۷۴۵.
4 ۔ یعنی خوف وگھبراہٹ۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۳۹.
6 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۸.
(۵) اپنا ارادہ مستقل رکھتا یعنی کسی کا تابع نہ ہو۔
(۶) اس کی حالت اس کے ارادہ کے منافی نہ ہو۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: مسافر جا رہا ہے اور ابھی شہر یا گاؤ ں میں پہنچا نہیں اور نیت اقامت کر لی تو مقیم نہ ہوا اور پہنچنے کے بعد نیت کی تو ہوگیا اگرچہ ابھی مکان وغیرہ کی تلاش میں پھر رہا ہو۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مسلمانوں کا لشکر کسی جنگل میں پڑاؤ ڈال دے اور ڈیرہ خیمہ نصب کر کے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرلے تو مقیم نہ ہوا اور جو لوگ جنگل میں خيموں ميں رہتے ہیں وہ اگر جنگل میں خیمہ ڈال کر پندرہ دن کی نیت سے ٹھہریں مقیم ہوجائیں گے، بشرطیکہ وہاں پانی اور گھاس وغیرہ دستیاب ہوں کہ ان کے ليے جنگل ویسا ہی ہے جیسے ہمارے ليے شہر اور گاؤں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: دو جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کی اور دونوں مستقل ہوں جیسے مکّہ و منیٰ تو مقیم نہ ہوا اور ایک دوسرے کی تابع ہو جیسے شہر اور اس کی فنا تو مقیم ہوگیا۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۶: یہ نیت کی کہ ان دو بستیوں میں پندرہ روز ٹھہرے گا ایک جگہ دن میں رہے گا اور دوسری جگہ رات میں تو اگر پہلے وہاں گیا جہاں دن میں ٹھہرنے کا ارادہ ہے تو مقیم نہ ہوا اور اگر پہلے وہاں گیا جہاں رات میں رہنے کا قصد ہے تو مقیم ہوگیا، پھر يہاں سے دوسری بستی میں گیا جب بھی مقیم ہے۔ (5) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: مسافر اگر اپنے ارادہ میں مستقل نہ ہو تو پندرہ دن کی نیت سے مقیم نہ ہوگا، مثلاً عورت جس کا مہر معجل شوہر کے ذمّہ باقی نہ ہو کہ شوہر کی تابع ہے اس کی اپنی نیت بیکار ہے اور غلام غیر مکاتب کہ اپنے مالک کا تابع ہے اور لشکری جس کو بیت المال یا بادشاہ کی طرف سے خوراک ملتی ہے کہ یہ اپنے سردار کا تابع ہے اور نوکر کہ یہ اپنے آقا کا تابع ہے اور قیدی کہ يہ قید کرنے
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۳۹.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۳.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۳۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۳۹.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۲.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۰.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۹.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۰.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۰.
والے کا تابع ہے اور جس مالدار پر تاوان لازم آیا اور شاگرد جس کو استاذ کے یہاں سے کھانا ملتا ہے کہ یہ اپنے استاذ کا تابع ہے اور نیک بیٹا اپنے باپ کا تابع ہے ان سب کی اپنی نیت بے کار ہے بلکہ جن کے تابع ہیں ان کی نیتوں کا اعتبار ہے ان کی نیت اقامت کی ہے تو تابع بھی مقیم ہیں ان کی نیت اقامت کی نہیں تو یہ بھی مسافر ہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: عورت کا مہر معجل باقی ہے تو اسے اختیار ہے کہ اپنے نفس کو روک لے لہٰذا اس وقت تابع نہیں۔ يوہيں مکاتب غلام کو بغیر مالک کی اجازت کے سفر کا اختیار ہے لہٰذا تابع نہیں ا ور جو سپاہی پادشاہ یا بیت المال سے خوراک نہیں لیتا وہ تابع نہیں اور اجیر جو ماہانہ یا برسی پر نوکر نہیں بلکہ روزانہ اس کا مقرر ہے وہ دن بھر کام کرنے کے بعد اجارہ فسخ کرسکتا ہے لہٰذا تابع نہیں اور جس مسلمان کو دشمن نے قید کیا اگر معلوم ہے کہ تین دن کی راہ کو لے جائے گا تو قصر کرے اور معلوم نہ ہو تو اس سے دریافت کرے، جو بتائے اس کے موافق عمل کرے اور نہ بتایا تو اگر معلوم ہے کہ وہ دشمن مقیم ہے تو پوری پڑھے اور مسافر ہے تو قصر کرے اور یہ بھی معلوم نہ ہوسکے تو جب تک تین دن کی راہ طے نہ کر لے، پوری پڑھے اور جس پر تاوان لازم آیا وہ سفر میں تھا اور پکڑا گیا اگر نادار ہے تو قصر کرے اور مالدار ہے اور پندرہ دن کے اندر دینے کا ارادہ ہے یا کچھ ارادہ نہیں جب بھی قصر کرے اور یہ ارادہ ہے کہ نہیں دے گا تو پوری پڑھے۔ (2) (ردالمحتار وغيرہ)
مسئلہ ۲۹: تابع کو چاہیے کہ متبوع (3) سے سوال کرے وہ جو کہے اس کے بموجب عمل کرے اور اگر اس نے کچھ نہ بتایا تو دیکھے کہ مقیم ہے یا مسافر اگر مقیم ہے تو اپنے کو مقیم سمجھے اور مسافر ہے تو مسافر اور یہ بھی نہ معلوم، تو تین دن کی راہ طے کرنے کے بعد قصر کرے اس سے پہلے پوری پڑھے۔ اور اگر سوال نہ کرے تو وہی حکم ہے کہ سوال کیا اور کچھ جواب نہ ملا۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: اندھے کے ساتھ کوئی پکڑ کر لے جانے والا ہے اگر یہ اس کا نوکر ہے تو نابینا کی اپنی نیت کا اعتبار ہے اور اگر محض احسان کے طور پر اس کے ساتھ ہے تو اس کی نیت کا اعتبار ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: جو سپاہی سردار کا تابع تھا اور لشکر کو شکست ہوئی اور سب متفرق ہوگئے تو اب تابع نہیں بلکہ اقامت و سفر
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۱.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، مطلب في الوطن الأصلي... إلخ، ج۲، ص۷۴۱۔۷۴۴.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، مطلب في الوطن الأصلي... إلخ، ج۲، ص۷۴۲، وغيرہ.
3 ۔ يعنی جس کے تابع ہے۔
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، مطلب في الوطن الأصلي... إلخ، ج۲، ص۷۴۳.
5 ۔ المرجع السابق.
میں خود اس کی اپنی نیت کا لحاظ ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: غلام اپنے مالک کے ساتھ سفر میں تھا۔ مالک نے کسی مقیم کے ہاتھ اسے بیچ ڈالا اگر نماز میں اسے اس کا علم تھا اور دو پڑھیں تو پھر پڑھے۔ يوہيں اگر غلام نماز میں تھا اور مالک نے اقامت کی نیت کرلی، اگر جان کر دو پڑھیں تو پھر پڑھے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: غلام دو شخصوں میں مشترک ہے اور وہ دونوں سفر میں ہیں ایک نے اقامت کی نیت کی دوسرے نے نہیں تو اگر اس غلام سے خدمت لینے میں باری مقرر ہے تو مقیم کی باری کے دن چار پڑھے اور مسافر کی باری کے دن دو۔ اور باری مقرر نہ ہو تو ہر روز چار پڑھے اور دو رکعت پر قعدہ فرض ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: جس نے اقامت کی نیت کی مگر اس کی حالت بتاتی ہے کہ پندرہ دن نہ ٹھہرے گا تو نیت صحیح نہیں، مثلاً حج کرنے گیا اور شروع ذی الحجہ میں پندرہ دن مکۂ معظمہ میں ٹھہرنے کا ارادہ کیا تو یہ نیت بیکار ہے کہ جب حج کا ارادہ ہے تو عرفات و منیٰ کو ضرور جائے گا پھر اتنے دنوں مکۂ معظمہ میں کیونکر ٹھہر سکتا ہے اور منیٰ سے واپس ہو کر نیت کرے تو صحیح ہے۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۵: جو شخص کہیں گیا اوروہاں پندرہ دن ٹھہرنے کا ارادہ نہیں مگر قافلہ کیساتھ جانے کا ارادہ ہے اور یہ معلوم ہے کہ قافلہ پندرہ دن کے بعد جائے گا تو وہ مقیم ہے اگرچہ اقامت کی نیت نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: مسافر کسی کام کے ليے یا ساتھیوں کے انتظار میں دو چار روز یا تیرہ چودہ دن کی نیت سے ٹھہرا یا یہ ارادہ ہے کہ کام ہو جائے گا تو چلا جائے گا اور دونوں صورتوں میں اگر آجکل آجکل کرتے برسیں گزر جائیں جب مسافر ہی ہے، نماز قصر پڑھے۔ (6) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۳۷: مسلمانوں کا لشکر دارالحرب کو گیا یا دارالحرب میں کسی قلعہ کا محاصرہ کیا تو مسافر ہی ہے اگرچہ پندرہ دن کی
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، مطلب في الوطن الأصلي... إلخ، ج۲، ص۷۴۴.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۱.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۰.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۹.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۹.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۳۹، وغيرہ .
نیت کر لی ہو اگرچہ ظاہر غلبہ ہو۔ يوہيں اگر دارالاسلام میں باغیوں کا محاصرہ کیا ہو تو مقیم نہیں اور جو شخص دارالحرب میں امان لے کر گیا اور پندرہ دن کی اقامت کی نیت کی تو چار پڑھے۔ (1) (غنیہ، درمختار)
مسئلہ ۳۸: دارالحرب کا رہنے والا وہیں مسلمان ہوگیا اور کفار اس کے مار ڈالنے کی فکر میں ہوئے وہ وہاں سے تین دن کی راہ کا ارادہ کرکے بھاگا تو نماز قصر کرے اور اگر کہیں دو ایک ماہ کے ارادہ سے چھپ گیا جب بھی قصر پڑھے اور اگر اسی شہر میں چھپا تو پوری پڑھے اور اگر مسلمان دارالحرب میں قید تھا وہاں سے بھاگ کر کسی غار میں چھپا تو قصر پڑھے اگرچہ پندرہ دن کا ارادہ ہو اور اگر دارالحرب کے کسی شہر کے تمام رہنے والے مسلمان ہو جائیں اور حربیوں نے ان سے لڑنا چاہا تو وہ سب مقیم ہی ہیں۔ يوہيں اگر کفار ان کے شہر پر غالب آئے اور یہ لوگ شہر چھوڑ کر ایک دن کی راہ کے ارادہ سے چلے گئے جب بھی مقیم ہیں اور تین دن کی راہ کا ارادہ ہو تو مسافر پھر اگر واپس آئے اور کفار نے ان کے شہر پر قبضہ نہ کیا ہو تو مقیم ہو گئے اور اگر مشرکوں کا شہر پر تسلّط ہوگیا اور وہاں رہے بھی مگر مسلمانوں کے واپس آنے پر چھوڑ دیا تو اگر یہ لوگ وہاں رہنا چاہیں تو دارالاسلام ہوگیا، نمازیں پوری کریں اور اگر وہاں رہنے کا ارادہ نہیں بلکہ صرف ایک آدھ مہینا رہ کر دارالاسلام کو چلے جائیں گے تو قصر کریں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: مسلمانوں کا لشکر دارالحرب میں گیا اور غالب آیا اور اس شہر کو دار الاسلام بنایا تو قصر نہ کریں اور اگر محض دو ایک ماہ رہنے کا ارادہ ہے تو قصر کریں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: مسافر نے نماز کے اندر اقامت کی نیت کی تو یہ نماز بھی پوری پڑھے اور اگر یہ صورت ہوئی کہ ایک رکعت پڑھی تھی کہ وقت ختم ہوگیا اور دوسری میں اقامت کی نیت کی تو یہ نماز دو ہی رکعت پڑھے اس کے بعد کی چار پڑھے۔ يوہيں اگر مسافر لاحق تھا اور امام بھی مسافر تھا امام کے سلام کے بعد نیتِ اقامت کی تو دو ہی پڑھے اور امام کے سلام سے پیشتر نیت کی تو چار پڑھے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: ادا و قضا دونوں میں مقیم مسافر کی اقتدا کر سکتا ہے اور امام کے سلام کے بعد اپنی باقی دو رکعتیں پڑھ لے اور ان رکعتوں میں قراء ت بالکل نہ کرے بلکہ بقدر فاتحہ چپ کھڑا رہے۔ (5) (درمختار وغیرہ)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۱.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۰.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۸.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۵، وغيرہ .
مسئلہ ۴۲: امام مسافر ہے اور مقتدی مقیم، امام کے سلام سے پہلے مقتدی کھڑا ہوگیا اور سلام سے پہلے امام نے اقامت کی نیت کر لی تو اگر مقتدی نے تیسری کا سجدہ نہ کیا ہو تو امام کے ساتھ ہولے، ورنہ نماز جاتی رہی اورتیسری کے سجدہ کے بعد امام نے اقامت کی نیت کی تو متابعت نہ کرے، متابعت کریگا تو نماز جاتی رہے گی۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: یہ پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ حکم صحت اقتدا کے ليے شرط ہے کہ امام کا مقیم یا مسافر ہونا معلوم ہو خواہ نماز شروع کرتے وقت معلوم ہوا ہو یا بعد میں، لہٰذا امام کو چاہيے کہ شروع کرتے وقت اپنا مسافر ہونا ظاہر کر دے اور شروع میں نہ کہا تو بعد نماز کہہ دے کہ اپنی نمازیں پوری کر لو میں مسافر ہوں۔ (2) (درمختار) اور شروع میں کہہ دیا ہے جب بھی بعد میں کہہ دے کہ جو لوگ اس وقت موجود نہ تھے انھيں بھی معلوم ہو جائے۔
مسئلہ ۴۴: وقت ختم ہونے کے بعد مسافر مقیم کی اقتدا نہیں کر سکتا وقت میں کر سکتا ہے اور اس صورت میں مسافر کے فرض بھی چار ہوگئے یہ حکم چار رکعتی نماز کا ہے اور جن نمازوں میں قصر نہیں ان میں وقت و بعد وقت دونوں صورتوں میں اقتدا کرسکتا ہے وقت میں اقتدا کی تھی نماز پوری کرنے سے پہلے وقت ختم ہوگیا جب بھی اقتدا صحیح ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۵: مسافر نے مقیم کی اقتدا کی اور امام کے مذہب کے موافق وہ نماز قضاہے اور مقتدی کے مذہب پر ادا، مثلاً امام شافعی المذہب ہے مقتدی حنفی اور ایک مثل کے بعد ظہر کی نماز اس نے اس کے پیچھے پڑھی تو اقتدا صحیح ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۶: مسافر نے مقیم کے پیچھے شروع کر کے فاسد کر دی تو اب دو ہی پڑھے گا یعنی جبکہ تنہا پڑھے یا کسی مسافر کی اقتدا کرے اور اگر پھر مقیم کی اقتدا کی تو چار پڑھے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۷: مسافر نے مقیم کی اقتدا کی تو مقتدی پر بھی قعدۂ اولیٰ واجب ہوگیا فرض نہ رہا تو اگر امام نے قعدہ نہ کیانماز فاسد نہ ہوئی اور مقیم نے مسافر کی اقتدا کی تو مقتدی پر بھی قعدۂ اولیٰ فرض ہوگیا۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۸: قصر اور پوری پڑھنے میں آخر وقت کا اعتبار ہے جبکہ پڑھ نہ چکا ہو، فرض کرو کسی نے نماز نہ پڑھی تھی اور
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۵.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۵ ۔ ۷۳۶.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۶.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۶.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۶.
وقت اتنا باقی رہ گیا ہے کہ اللہ اکبر کہہ لے اب مسافر ہوگیا تو قصر کرے اور مسافر تھا اسوقت اقامت کی نیت کی تو چار پڑھے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴۹: ظہر کی نماز وقت میں پڑھنے کے بعد سفر کیا اور عصر کی دو پڑھیں پھر کسی ضرورت سے مکان پر واپس آیا اور ابھی عصر کا وقت باقی ہے، اب معلوم ہوا کہ دونوں نمازیں بے وضو ہوئیں تو ظہر کی دو پڑھے اور عصر کی چار اور اگر ظہر و عصر کی پڑھ کر آفتاب ڈوبنے سے پہلے سفر کیا اور معلوم ہواکہ دونوں نمازیں بے وضو پڑھی تھیں تو ظہر کی چار پڑھے اور عصر کی دو۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار )
مسئلہ ۵۰: مسافر کو سہو ہوا اور دو رکعت پر سلام پھیرنے کے بعد نیتِ اقامت کی اس نماز کے حق میں مقیم نہ ہوا اور سجدۂ سہو ساقط ہوگیا اور سجدہ کرنے کے بعد نیت کی تو صحیح ہے اور چار رکعت پڑھنا فرض، اگرچہ ایک ہی سجدہ کے بعدنیت کی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: مسافر نے مسافروں کی امامت کی، اثنائے نماز (4) میں امام بے وضو ہوا اور کسی مسافر کو خلیفہ کیا، خلیفہ نے اقامت کی نیت کی تو اس کے پیچھے جو مسافر ہیں ان کی نمازیں دو ہی رکعت رہیں گی۔ يوہيں اگر مقیم کو خلیفہ کيا جب بھی مقتدی مسافر دوہی پڑھیں اور اگر امام نے حدث کے بعد مسجد سے نکلنے سے پہلے اقامت کی نیت کی تو چار پڑھیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: وطن دو قسم ہے ۔
(۱) وطن اصلی۔
(۲) وطن اقامت۔
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۸.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۱۔۱۴۲.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۱۔۱۴۲.
4 ۔ یعنی نماز کے دوران۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۲.
وطن اقامت : وہ جگہ ہے کہ مسافر نے پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا وہاں ارادہ کیا ہو۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: مسافر نے کہیں شادی کر لی اگرچہ وہاں پندرہ دن ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو، مقیم ہوگیا اور دو شہروں میں اس کی دو عورتیں رہتی ہوں تو دونوں جگہ پہنچتے ہی مقیم ہو جائے گا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۴: ایک جگہ آدمی کا وطنِ اصلی ہے، اب اس نے دوسری جگہ وطن اصلی بنایا اگر پہلی جگہ بال بچے موجود ہوں تو دونوں اصلی ہیں ورنہ پہلا اصلی نہ رہا، خواہ ان دونوں جگہوں کے درمیان مسافت سفر ہو یا نہ ہو۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۵: وطن اقامت دوسرے وطن اقامت کو باطل کر دیتا ہے یعنی ایک جگہ پندر دن کے ارادہ سے ٹھہرا پھر دوسری جگہ اتنے ہی دن کے ارادہ سے ٹھہرا تو پہلی جگہ اب وطن نہ رہی، دونوں کے درمیان مسافت سفر ہو یا نہ ہو۔ یوہیں وطن اقامت وطن اصلی و سفر سے باطل ہو جاتا ہے۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۶: اگر اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر دوسری جگہ چلا گیا اور پہلی جگہ مکان و اسباب وغیرہ باقی ہیں تو وہ بھی وطن اصلی ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۷: وطنِ اقامت کے ليے یہ ضرور نہیں کہ تین دن کے سفر کے بعد وہاں اقامت کی ہو بلکہ اگر مدتِ سفر طے کرنے سے پیشتر اقامت کر لی وطنِ اقامت ہوگیا۔ (6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۵۸: بالغ کے والدین کسی شہر میں رہتے ہیں اور وہ شہر اس کی جائے ولادت نہیں نہ اس کے اہل وہاں ہوں تو وہ جگہ اس کے ليے وطن نہیں۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۹: مسافر جب وطن اصلی میں پہنچ گیا، سفر ختم ہوگیا اگرچہ ا قامت کی نیت نہ کی ہو۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: عورت بیاہ کر سُسرال گئی اور یہیں رہنے سہنے لگے تو میکا اس کے ليے وطنِ اصلی نہ رہا یعنی اگر سُسرال
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۲.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، مطلب في الوطن الأصلي... إلخ، ج۲، ص۷۳۹.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، مطلب في الوطن الأصلي و وطن الاقامۃ، ج۲، ص۷۳۹.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۲.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، مطلب في الوطن الأصلي... إلخ، ج۲، ص۷۳۹.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۲.
تین منزل پر ہے وہاں سے میکے آئی اور پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کی تو قصر پڑھے اور اگر میکے رہنا نہیں چھوڑا بلکہ سُسرال عارضی طور پر گئی تو میکے آتے ہی سفر ختم ہوگیا نماز پوری پڑھے۔
مسئلہ ۶۱: عورت کو بغیر محرم کے تین دن یا زیادہ کی راہ جانا ناجائز ہے بلکہ ایک دن کی راہ جانا بھی۔ نابالغ بچہ یا مَعتُوہ کے ساتھ بھی سفر نہیں کرسکتی، ہمراہی میں بالغ محرم یا شوہر کا ہونا ضروری ہے۔ (1) (عالمگیری وغیرہ) محرم کے ليے ضرور ہے کہ سخت فاسق بے باک غیر مامون نہ ہو۔
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
( یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللہِ وَ ذَرُوا الْبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمْ خَیۡرٌ لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿۹﴾ ) (2)
اے ایمان والوں! جب نما زکے ليے جمعہ کے دن اذان دی جائے ،تو ذکر خدا کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے ليے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
حدیث ۱ و ۲: صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ہم پچھلے ہیں یعنی دنیامیں آنے کے لحاظ سے اور قیامت کے دن پہلے سوا اس کے کہ انھيں ہم سے پہلے کتاب ملی اور ہمیں ان کے بعد یہی جمعہ وہ دن ہے کہ ان پر فرض کیا گیا یعنی یہ کہ اس کی تعظیم کریں وہ اس سے خلاف ہو گئے اور ہم کو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا دوسرے لوگ ہمارے تابع ہیں، یہود نے دوسرے دن کو وہ دن مقرر کیا یعنی ہفتہ کو اور نصاریٰ نے تیسرے دن کو یعنی اتوار کو ۔''(3) اور مسلم کی دوسری روایت انھيں سے اور حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ ہے، فرماتے ہیں: ''ہم اہل دنیا سے پیچھے ہیں اور قیامت کے دن پہلے کہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس عشر في صلاۃ المسافر، ج۱، ص۱۴۲.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۶۵۷.
2 ۔ پ۲۸، الجمعۃ: ۹.
3 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الجمعۃ، باب فرض الجمعۃ... إلخ، الحدیث: ۸۷۶، ج۱، ص۳۰۳.
تمام مخلوق سے پہلے ہمارے ليے فیصلہ ہو جائے گا۔'' (1)
حدیث ۳: مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''بہتر دن کہ آفتاب نے اس پر طلوع کیا، جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ الصّلوٰۃ والسلام پیدا کيے گئے اور اسی میں جنت میں داخل کيے گئے اور اسی میں جنت سے اترنے کا انھيں حکم ہوا۔ اور قیامت جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی۔'' (2)
حدیث ۴ و ۵: ابو داود و نسائی و ابن ماجہ و بیہقی اَوس بن اَوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''تمھارے افضل دنوں سے جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کيے گئے اور اسی میں انتقال کیا اور اسی میں نفخہ ہے (دوسری بار صور پھونکا جانا) اور اسی میں صعقہ ہے (پہلی بار صور پھونکا جانا)، اس دن میں مجھ پر دُرود کی کثر ت کرو کہ تمہارا دُرود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔'' لوگوں نے عرض کی، یا رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ! اس وقت حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ہمارا دُرود کیونکر پیش کیا جائے گا، جب حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) انتقال فرما چکے ہوں گے؟ فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیا کے جسم کھانا حرام کر دیا ہے۔'' (3) اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے، کہ فرماتے ہیں: ''جمعہ کے دن مجھ پر دُرود کی کثرت کرو کہ یہ دن مشہود ہے، اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور مجھ پر جو دُرود پڑھے گا پیش کیا جائے گا۔ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی اور موت کے بعد؟ فرمایا: بے شک! اللہ (عزوجل) نے زمین پر انبیا کے جسم کھانا حرام کر دیا ہے، اللہ کا نبی زندہ ہے، روزی دیا جاتا ہے۔'' (4)
حدیث ۶ و ۷:ـ ابن ماجہ ابو لبابہ بن عبدالمنذر اور احمد سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے اور وہ اللہ کے نزدیک عيداضحی و عید الفطر سے بڑا ہے، اس میں پانچ خصلتیں ہیں۔
(۱) اللہ تعالیٰ نے اسی میں آدم علیہ السلام کو پيدا کیا۔
(۲) اور اسی میں زمین پر انھيں اتارا۔
(۳) اور اسی میں انھيں وفات دی۔
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الجمعۃ، باب ھدایۃ ھذه الأمۃ لیوم الجمعۃ، الحدیث: ۸۵۶، ص۴۲۶.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الجمعۃ، باب فضل یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۸۔(۸۵۴)، ص۴۲۵.
3 ۔ ''سنن النسائي''، کتاب الجمعۃ، باب اکثار الصلاۃ علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۳۷۱،
ص۲۳۷.
4 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الجنائز، باب ذکر وفاتہ و دفنہ صلی اللہ علیہ وسلم الحدیث: ۱۶۳۷، ج۲، ص۲۹۱.
(۴) اور اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اس وقت جس چیز کا سوال کرے وہ اسے دے گا، جب تک حرام کا سوال نہ کرے۔
(۵) اور اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، کوئی فرشتۂ مقرب و آسمان و زمین اور ہوا اور پہاڑ اور دریا ایسا نہیں کہ جمعہ کے دن سے ڈرتا نہ ہو۔'' (1)
حدیث ۸ تا۱۰: بخاری و مسلم ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جمعہ میں ایک ايسی ساعت ہے کہ مسلمان بندہ اگر اسے پالے اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے بھلائی کا سوال کرے تو وہ اسے دے گا۔'' اور مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ'' وہ وقت بہت تھوڑا ہے۔'' (2) رہا یہ کہ وہ کون سا وقت ہے اس میں روایتیں بہت ہیں ان میں دو قوی ہیں ایک یہ کہ امام کے خطبہ کے ليے بیٹھنے سے ختم نماز تک ہے۔ (3) اس حدیث کو مسلم ابو بردہ بن ابی موسیٰ سے وہ اپنے والد سے وہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ اور دوسری یہ کہ ''وہ جمعہ کی پچھلی ساعت ہے۔'' امام مالک و ابو داود و ترمذی و نسائی و احمد ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، وہ کہتے ہیں: میں کوہِ طور کی طرف گیا اور کعب احبار سے ملا ان کے پاس بیٹھا، انہوں نے مجھے تورات کی روایتیں سنائیں اور میں نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کیں، ان میں ایک حدیث یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بہتر دن کہ آفتاب نے اس پر طلوع کیا جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کيے گئے اور اسی میں انھيں اترنے کا حکم ہوا اور اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی اور اسی میں ان کا انتقال ہوا اور اسی میں قیامت قائم ہوگی اور کوئی جانور ایسا نہیں کہ جمعہ کے دن صبح کے وقت آفتاب نکلنے تک قیامت کے ڈر سے چیختا نہ ہو سِوا آدمی اور جن کے اور اس میں ایک ایسا وقت ہے کہ مسلمان بندہ نماز پڑھنے میں اسے پا لے تو اللہ تعالیٰ سے جس شے کا سوال کرے وہ اسے دے گا۔ کعب نے کہا سال میں ایسا ایک دن ہے؟ میں نے کہا بلکہ ہر جمعہ میں ہے، کعب نے تورات پڑھ کر کہا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور کعب احبار کی مجلس
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب إقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا، باب في فضل الجمعۃ، الحدیث: ۱۰۸۴، ج۲، ص۸.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الجمعۃ، باب في الساعۃ التي في یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۵۔(۸۵۲)، ص۴۲۴.
و ''مرقاۃ المفاتیح''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، تحت الحدیث: ۱۳۵۷، ج۳، ص۴۴۵.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الجمعۃ، باب في الساعۃ التی في یوم الجمعۃ، الحدیث: ۸۵۳، ص۴۲۴.
اور جمعہ کے بارے میں جو حدیث بیان کی تھی اس کا ذکر کیا اور یہ کہ کعب نے کہا تھا، یہ ہر سال میں ایک دن ہے، عبد اللہ بن سلام نے کہا کعب نے غلط کہا، میں نے کہا پھر کعب نے تورات پڑھ کر کہا بلکہ وہ ساعت ہر جمعہ میں ہے، کہا کعب نے سچ کہا، پھر عبداللہ بن سلام نے کہا تمھيں معلوم ہے یہ کون سی ساعت ہے؟ میں نے کہا مجھے بتاؤ اور بُخل نہ کرو، کہا جمعہ کے دن کی پچھلی ساعت ہے، میں نے کہا پچھلی ساعت کیسے ہو سکتی ہے حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے تو فرمایا ہے مسلمان بندہ نماز پڑھتے میں اسے پائے اور وہ نماز کا وقت نہیں، عبداللہ بن سلام نے کہا، کیا حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ جو کسی مجلس میں انتظار نماز میں بیٹھے وہ نماز میں ہے میں نے کہا ہاں، فرمایا تو ہے کہا تو وہ یہی ہے یعنی نماز پڑھنے سے نماز کا انتظار مراد ہے۔ (1)
حدیث ۱۱: ترمذی انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جمعہ کے دن جس ساعت کی خواہش کی جاتی ہے، اسے عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک تلاش کرو۔'' (2)
حدیث ۱۲: طبرانی اوسط میں بسندِ حسن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''اللہ تبارک و تعالیٰ کسی مسلمان کو جمعہ کے دن بے مغفرت کيے نہ چھوڑے گا۔'' (3)
حدیث ۱۳: ابو یعلیٰ انھیں سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جمعہ کے دن اور رات میں چوبیس گھنٹے ہیں، کوئی گھنٹاایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ جہنم سے چھ لاکھ آزاد نہ کرتا ہو جن پر جہنم واجب ہوگیا تھا۔'' (4)
حدیث ۱۴: احمد و ترمذی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرے گا، اللہ تعالیٰ اسے فتنۂ قبر سے بچالے گا۔'' (5)
حدیث ۱۵: ابو نعیم نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات ميں مرے گا، عذاب قبر سے بچا لیا جائے گا اور قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس پر شہیدوں کی مُہر ہوگی۔'' (6)
1 ۔ ''الموطأ'' لإمام مالک، کتاب الجمعۃ، باب ماجاء في الساعۃ التی في یوم الجمعۃ، الحدیث: ۲۴۶، ج۱، ص۱۱۵.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الجمعۃ، باب ماجاء في الساعۃ... إلخ، الحدیث: ۴۸۹، ج۲، ص۳۰.
3 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب العین، الحدیث: ۴۸۱۷، ج۳، ص۳۵۱.
4 ۔ ''مسند أبي یعلی''، مسند انس بن مالک، الحدیث: ۳۴۲۱، ۳۴۷۱، ج۳، ص۲۱۹، ۲۳۵.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الجنائز، باب ماجاء فیمن يموت یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۰۷۶، ج۲، ص۳۳۹.
6 ۔ ''حلیۃ الأولیاء''، رقم: ۳۶۲۹، ج۳، ص۱۸۱.
حدیث ۱۶: حمید نے ترغیب میں ایاس بن بکیر سے روایت کی، کہ فرماتے ہیں: ''جو جمعہ کے دن مرے گا، اس کے ليے شہید کا اجر لکھا جائے گا اور فتنۂ قبر سے بچا لیا جائے گا۔'' (1)
حدیث ۱۷: عطا سے مروی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو مسلمان مرد یا مسلمان عورت جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرے، عذاب قبر اور فتنۂ قبر سے بچا لیا جائے گا اور خدا سے اس حال میں ملے گا کہ اس پر کچھ حساب نہ ہوگا اور اس کے ساتھ گواہ ہوں گے کہ اس کے ليے گواہی دیں گے یا مُہر ہوگی۔'' (2)
حدیث ۱۸: بیہقی کی روایت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جمعہ کی رات روشن رات ہے اور جمعہ کا دن چمکدار دن۔'' (3)
حدیث ۱۹: ترمذی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی:
( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیۡکُمْ نِعْمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسْلَامَ دِیۡنًا ؕ ) (4)
آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمھارے ليے اسلام کو دین پسند فرمایا۔
ان کی خدمت میں ایک یہودی حاضر تھا، اس نے کہا یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بناتے، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: یہ آیت دو عیدوں کے دن اُتری جمعہ اور عرفہ کے دن یعنی ہمیں اس دن کو عید بنانے کی ضرورت نہیں کہ اللہ عزوجل نے جس دن یہ آیت اتاری اس دن دوہری عید تھی کہ جمعہ و عرفہ یہ دونوں دن مسلمانوں کے عید کے ہیں اور اس دن یہ دونوں جمع تھے کہ جمعہ کا دن تھا اور نویں ذی الحجہ۔ (5)
حدیث ۲۰: مسلم و ابو داود وترمذی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کو آیا اور (خطبہ) سنا اور چپ رہا اس کے ليے مغفرت ہو جائے گی ان گناہوں کی جو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہیں اور تین دن اور۔ اور جس نے کنکری چھوئی اس نے لغو کیا یعنی خطبہ سننے کی حالت میں اتنا
1 ۔ ''شرح الصدور''، للسيوطی، باب من لا يسئل فی القبر، ص۱۵۱.
2 ۔ ''شرح الصدور''، للسيوطی، باب من لا يسئل فی القبر، ص۱۵۱.
3 ۔ ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، الحدیث: ۱۳۶۹، ج۱، ص۳۹۳.
4 ۔ پ۶، المآئدۃ: ۳.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب تفیسر القرآن، باب ومن سورۃ المائدۃ، الحدیث: ۳۰۵۵، ج۵، ص۳۳.
کام بھی لغو میں داخل ہے کہ کنکری پڑی ہو اسے ہٹا دے۔'' (1)
حدیث ۲۱: طبرانی کی روایت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جمعہ کفّارہ ہے ان گناہوں کے ليے جو اس جمعہ اور اس کے بعد والے جمعہ کے درمیان ہیں اور تین دن زیادہ اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ''جو ایک نیکی کرے، اس کے ليے دس مثل ہے۔'' (2)
حدیث ۲۲: ابن حبان اپنی صحیح میں ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''پانچ چیزیں جو ایک دن میں کریگا، اللہ تعالیٰ اس کو جنتی لکھ دے گا۔
(۱) جو مریض کو پوچھنے جائے اور
(۲) جنازے میں حاضر ہو اور
(۳) روزہ رکھے اور
(۴) جمعہ کو جائے اور
(۵) غلام آزاد کرے۔'' (3)
حدیث ۲۳: ترمذی بافادۂ تصحیح و تحسین راوی، کہ یزید بن ابی مریم کہتے ہیں: میں جمعہ کو جاتا تھا، عبایہ بن رفاعہ بن رافع ملے، انہوں نے کہا: تمھيں بشارت ہو کہ تمھارے یہ قدم اللہ کی راہ میں ہیں، میں نے ابو عبس کو کہتے سُنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس کے قدم اللہ (عزوجل) کی راہ میں گرد آلود ہوں وہ آگ پر حرام ہیں۔'' (4) اور بخاری کی روایت میں یوں ہے، کہ عبایہ کہتے ہیں: میں جمعہ کو جا رہا تھا، ابو عبس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے اور حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا ارشاد سنایا۔ (5)
حدیث ۲۴ تا۲۶: مسلم ابوہریرہ و ابن عمر سے اور نسائی و ابن ماجہ ابن عباس و ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آئیں گے یا اللہ تعالیٰ انکے دلوں پر مہر کر دے گا پھر
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الجمعۃ، باب فضل من استمع و أنصت في الخطبۃ، الحدیث: ۲۷۔(۸۵۷)، ص۴۲۷.
2 ۔ ''المعجم الکبير''، الحدیث: ۳۴۵۹، ج۳، ص۲۹۸.
3 ۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ، الحدیث: ۲۷۶۰، ج۴، ص۱۹۱.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب فضائل الجھاد، باب ماجاء في فضل من اغبرت قدماہ... إلخ، الحدیث: ۱۶۳۸، ج۳، ص۲۳۵.
5 ۔ ''صحيح البخار ي''، کتاب الجمعۃ، باب المشي إلی الجمعۃ، الحدیث: ۹۰۷، ج۱، ص۳۱۳.
غافلین میں ہو جائیں گے۔'' (1)
حدیث ۲۷ تا ۳۱: فرماتے ہیں: ''جو تین جمعے سُستی کی وجہ سے چھوڑے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مُہر کر دے گا۔'' (2) اس کو ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی و ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم ابوالجعد ضمری سے اور امام مالک نے صفوان بن سلیم سے اور امام احمد نے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کیا ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے اور حاکم نے کہا صحیح برشرط مسلم ہے اور ابن خزیمہ و حبان کی ایک روایت میں ہے، ''جو تین جمعے بلاعذر چھوڑے، وہ منافق ہے۔'' (3) اور رزین کی روایت میں ہے، ''وہ اللہ (عزوجل) سے بے علاقہ ہے۔'' (4) اور طبرانی کی روایت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے، ''وہ منافقین میں لکھ دیا گیا۔'' (5) اور امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے، وہ منافق لکھ دیا گیا اس کتاب میں جو نہ محو ہو نہ بدلی جائے، (6) اور ایک روایت میں ہے، ''جو تین جمعے پے درپے چھوڑ ے اس نے اسلام کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔'' (7) اس کو ابو يعلیٰ نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بسند صحیح روایت کیا۔
حدیث ۳۲: احمد و ابو داود و ابن ماجہ سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو بغیر عذر جمعہ چھوڑے، ایک دینار صدقہ دے اور اگر نہ پائے تو آدھا دینار اور یہ دینار تصدق کرنا شاید اس ليے ہو کہ قبول توبہ کے ليے معین ہو ورنہ حقیقۃً تو توبہ کرنا فرض ہے۔'' (8)
حدیث ۳۳: صحیح مسلم شریف میں ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''میں نے قصد کیا کہ ایک شخص کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور جو لوگ جمعہ سے پیچھے رہ گئے، ان کے گھروں کو جلا دوں۔'' (9)
حدیث ۳۴: ابن ماجہ نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خطبہ فرمایا اور فرمایا: ''اے لوگو! مرنے سے پہلے اللہ (عزوجل) کی طرف توبہ کرو اور مشغول ہونے سے پہلے نیک کاموں کی طرف سبقت کرو
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الجمعۃ، باب التغلیظ في ترک الجمعۃ، الحدیث: ۸۶۵، ص۴۳۰.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الجمعۃ، باب ماجاء في ترک الجمعۃ... إلخ، الحدیث: ۵۰۰، ج۲، ص۳۸.
3 ۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الإیمان، باب ماجاء في الشرک والنفاق، الحدیث: ۲۵۸، ج۱،ص۲۳۷.
4 ۔ ''الترغيب و الترھيب''، کتاب الجمعۃ، الترھیب من ترک الجمعۃ بغیر عذر، الحدیث: ۳، ج۱، ص۲۹۵.
5 ۔ ''المعجم الکبير''، باب الألف، الحدیث: ۴۲۲، ج۱، ص۱۷۰.
6 ۔ ''المسند'' لإمام الشافعي، ومن کتاب إيجاب الجمعۃ، ص۷۰.
7 ۔ ''مسند أبي یعلی''، مسند ابن عباس، الحدیث: ۲۷۰۴، ج۲، ص۵۵۳.
8 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب کفارۃ من ترکھا، الحدیث: ۱۰۵۳، ج۱، ص۳۹۳.
9 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب المساجد... إلخ، باب فضل صلاۃ الجمعۃ... إلخ، الحدیث: ۶۵۲، ص۳۲۷.
اور یادِ خدا کی کثرت اور ظاہر و پوشیدہ صدقہ کی کثرت سے جو تعلقات تمھارے اور تمھارے رب (عزوجل) کے درمیان ہیں ملاؤ۔ ایسا کروگے تو تمھيں روزی دی جائے گی اور تمھاری مدد کی جائے گی اور تمھاری شکستگی دور فرمائی جائے گی اور جان لو کہ اس جگہ اس دن اس سال میں قیامت تک کے ليے اللہ (عزوجل) نے تم پر جمعہ فرض کیا، جو شخص میری حیات میں یا میرے بعد ہلکا جان کر اور بطور انکار جمعہ چھوڑے اور اس کے ليے کوئی امام یعنی حاکم اسلام ہو عادل یا ظالم تو اللہ تعالیٰ نہ اس کی پراگندگی کو جمع فرمائے گا، نہ اس کے کام میں برکت دے گا، آگاہ اس کے ليے نہ نماز ہے، نہ زکوٰۃ، نہ حج، نہ روزہ، نہ نیکی جب تک توبہ نہ کرے اور جو توبہ کرے اللہ (عزوجل) اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔'' (1)
حدیث ۳۵: دارقطنی انھيں سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو اللہ (عزوجل) اور پچھلے دن پر ایمان لاتا ہے اس پر جمعہ کے دن (نماز) جمعہ فرض ہے مگر مریض یا مسافر یا عورت یا بچہ یاغلام پر اور جو شخص کھیل یا تجارت میں مشغول رہا تو اللہ (عزوجل) اس سے بے پرواہ ہے اور اللہ (عزوجل) غنی حمید ہے۔'' (2)
حدیث ۳۶تا۳۸: صحیح بخاری میں سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو شخص جمعہ کے دن نہائے اور جس طہارت کی استطاعت ہو کرے اور تیل لگائے اور گھر میں جو خوشبو ہو مَلے پھر نماز کو نکلے اور دو شخصوں میں جدائی نہ کرے یعنی دوشخص بیٹھے ہوئے ہوں انھيں ہٹا کر بیچ میں نہ بیٹھے اور جو نماز اس کے ليے لکھی گئی ہے پڑھے اور امام جب خطبہ پڑھے تو چپ رہے، اس کے ليے ان گناہوں کی جو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہیں مغفرت ہو جائے گی۔'' (3) اور اسی کے قریب قریب ابوسعید خدری و ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی متعدد طرق سے روایتیں آئیں۔
حدیث ۳۹ و ۴۰: احمد ابو داود و ترمذی بافادۂ تحسین و نسائی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم بافادۂ تصحيح اَوس بن اَوس اور طبرانی اوسط میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو نہلائے اور نہائے اور اوّل وقت آئے اور شروع خطبہ میں شریک ہو اور چل کر آئے سواری پر نہ آئے اور امام سے قریب ہو اور کان لگا کر خطبہ سُنے اور لغو کام نہ کرے، اس کے ليے ہر قدم کے بدلے سال بھر کا عمل ہے، ایک سال کے دنوں کے روزے اور راتوں کے قیام کا اس
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب إقامۃ الصلوات و السنۃ فیھا، باب في فرض الجمعۃ، الحدیث: ۱۰۸۱، ج۲، ص۵.
2 ۔ ''سنن الدار قطني''، کتاب الجمعۃ، باب من تجب علیہ الجمعۃ، الحدیث: ۱۵۶۰، ج۲، ص۳.
3 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الجمعۃ، باب الدھن للجمعۃ، الحدیث: ۸۸۳، ج۱، ص۳۰۶.
کے ليے اجر ہے۔'' (1) اور اسی کے مثل دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی روایتیں ہیں۔
حدیث ۴۱: بخاری و مسلم ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''ہرمسلمان پر سات دن میں ایک دن غسل ہے کہ اس دن میں سر دھوئے اور بدن۔'' (2)
حدیث ۴۲: احمد و ابو داود و ترمذی و نسائی و دارمی سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''جس نے جمعہ کے دن وضو کیا، فبہا اور اچھا ہے اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے۔'' (3)
حدیث ۴۳: ابو داود عکرمہ سے راوی، کہ عراق سے کچھ لوگ آئے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سوال کیا کہ جمعہ کے دن آپ غسل واجب جانتے ہیں؟ فرمایا نہ، ہاں یہ زیادہ طہارت ہے اور جو نہائے اس کے ليے بہتر ہے اور جو غسل نہ کرے تو اس پر واجب نہیں۔'' (4)
حدیث ۴۴: ابن ماجہ بسند حسن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''اس دن کو اللہ (عزوجل) نے مسلمانوں کے ليے عید کیا تو جو جمعہ کو آئے وہ نہائے اور اگر خوشبو ہو تو لگائے۔'' (5)
حدیث ۴۵: احمد و ترمذی بسند حسن براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''مسلمان پر حق ہے کہ جمعہ کے دن نہائے اور گھر میں جو خوشبو ہو لگائے اور خوشبو نہ پائے تو پانی (6) یعنی نہانا بجائے خوشبو ہے۔''
حدیث ۴۶ و ۴۷: طبرانی کبیرو اوسط میں صدیق اکبر و عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی، کہ فرماتے ہیں: ''جو جمعہ کے دن نہائے اس کے گناہ اور خطائیں مٹا دی جاتی ہیں اور جب چلنا شروع کیا تو ہر قدم پر بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔'' (7) اور دوسری روایت میں ہے، ''ہر قدم پر بیس سال کا عمل لکھا جاتا ہے اور جب نماز سے فارغ ہو تو اسے دو سو برس کے عمل کا اجر ملتا ہے۔'' (8)
1 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أوس بن أبي أوس الثقفی، الحدیث: ۱۶۱۷۳، ج۵، ص۴۶۵.
2 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الجمعۃ، باب ھل علی من لم یشھد الجمعۃ غسل... إلخ، الحدیث: ۸۹۷، ج۱، ص۳۱۰.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الجمعۃ، باب ماجاء في الوضوء یوم الجمعۃ، الحدیث: ۴۹۷، ج۲، ص۳۶.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب الرخصۃ في ترک الغسل یوم الجمعۃ، الحدیث: ۳۵۳، ج۱، ص۱۶۰.
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب اقامۃ الصلوات... إلخ، باب ماجاء في الزینۃ یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۰۹۸، ج۲، ص۱۶.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الجمعۃ، باب ماجاء في السواک... إلخ، الحدیث: ۵۲۸، ج۲، ص۵۸.
7 ۔ ''المعجم الکبير''، الحدیث: ۲۹۲، ج۱۸، ص۱۳۹.
8 ۔ ''المعجم الأوسط''، باب الجیم، الحدیث: ۳۳۹۷، ج۲، ص۳۱۴.
حدیث ۴۸: طبرانی کبیر میں بروایت ثقاث ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''جمعہ کا غسل بال کی جڑوں سے خطائیں کھینچ لیتا ہے۔'' (1)
حدیث ۴۹: بخاری و مسلم و ابو داود و ترمذی و مالک و نسائی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی للہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، جیسے جنابت کا غسل ہے پھر پہلی ساعت میں جائے تو گويا اس نے اونٹ کی قربانی کی اور جو دوسری ساعت میں گیا اس نے گائے کی قربانی کی اور جو تیسری ساعت میں گیا اس نے سینگ والے مینڈھے کی قربانی کی اور جو چوتھی ساعت میں گیا گویا اس نے مرغی نیک کام میں خرچ کی اور جو پانچویں ساعت ميں گیا گویا انڈا خرچ کیا، پھر جب امام خطبہ کو نکلا ملئکہ ذکر سننے حاضر ہوجاتے ہیں۔'' (2)
حدیث ۵۰تا۵۲: بخاری و مسلم و ابن ماجہ کی دوسری روایت انھيں سے ہے حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)فرماتے ہیں: ''جب جمعہ کا دن ہوتا ہے فرشتے مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہوتے ہیں اور حاضر ہونے والے کو لکھتے ہیں سب میں پہلا پھر اس کے بعد والا،( اس کے بعد وہی ثواب جو اوپر کی روایت میں مذکور ہوئے ذکر کيے) پھر امام جب خطبہ کو نکلا فرشتے اپنے دفتر لپیٹ لیتے ہیں اور ذکر سنتے ہیں۔'' (3) اسی کے مثل سمرہ بن جندب و ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدیث ۵۳: امام احمد و طبرانی کی روایت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے، ''جب امام خطبہ کو نکلتا ہے تو فرشتے دفتر طے کر لیتے ہیں، کسی نے ان سے کہا، تو جو شخص امام کے نکلنے کے بعد آئے اس کا جمعہ نہ ہوا؟ کہا، ہاں ہوا تو لیکن وہ دفتر میں نہیں لکھا گیا۔'' (4)
حدیث ۵۴: ''جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے جہنم کی طرف پُل بنایا۔'' (5) اس حدیث
1 ۔ ''المعجم الکبير''، الحدیث: ۷۹۹۶، ج۸، ص۲۵۶.
2 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الجمعۃ، باب فضل الجمعۃ، الحدیث: ۸۸۱، ج۱، ص۳۰۵.
و ''الموطأ'' لإمام مالک، کتاب الجمعۃ، باب العمل في غسل یوم الجمعۃ، الحدیث: ۲۳۰، ج۱، ص۱۰۹.
3 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الجمعۃ، باب الاستماع إلی الخطبۃ یوم الجمعۃ، الحدیث: ۹۲۹، ج۱، ص۳۱۹.
4 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث أبي امامۃ الباھلي، الحدیث: ۲۲۳۳۱، ج۸، ص۲۹۷.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الجمعۃ، باب ماجاء في کراھیۃ التخطي یوم الجمعۃ، الحدیث: ۵۱۳، ج۲، ص۴۸.
حدیث میں لفظ اتَّخذَ جِسْرًا واقع ہو اہے اس کو معروف و مجہول دونوں طرح پڑھتے ہیں اور یہ ترجمہ معروف کا ہے اور مجہول پڑھیں تو =
کو ترمذی و ابن ماجہ معاذ بن انس جہنی سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے اور تمام اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے۔
حدیث ۵۵: احمد و ابو داود و نسائی عبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آئے اور حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)خطبہ فرما رہے تھے ارشاد فرمایا: ''بیٹھ جا! تو نے ایذا پہنچائی۔'' (1)
حدیث ۵۶: ابو داود عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''جمعہ میں تین قسم کے لوگ حاضر ہوتے ہیں۔ ایک وہ کہ لغو کے ساتھ حاضر ہوا (یعنی کوئی ایسا کام کیا جس سے ثواب جاتا رہے مثلاً خطبہ کے وقت کلام کیا یا کنکریاں چُھوئیں) تو اس کا حصّہ جمعہ سے وہی لغو ہے اور ایک وہ شخص کہ اللہ سے دُعا کی تُو اگر چاہے دے اور چاہے نہ دے اور ایک وہ کہ سکوت و انصات کے ساتھ حاضر ہوا اور کسی مسلمان کی نہ گردن پھلانگی نہ کسی کو ایذا دی تو جمعہ اس کے ليے کفارہ ہے، آئندہ جمعہ اور تین دن زيادہ تک۔'' (2)
جمعہ فرض عین ہے اور اس کی فرضیّت ظہر سے زیادہ مؤکد ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱: جمعہ پڑھنے کے ليے چھ شرطیں ہیں کہ ان میں سے ایک شرط بھی مفقود ہو تو ہو گا ہی نہیں۔
مصر وہ جگہ ہے جس میں متعدد کُوچے اور بازار ہوں اور وہ ضلع یا پرگنہ (4) ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور وہاں کوئی حاکم ہو کہ اپنے دبدبہ و سَطوَت کے سبب مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے یعنی انصاف پر قدرت کافی ہے، اگرچہ ناانصافی کرتا اور بدلہ نہ لیتا ہو اور مصر کے آس پاس کی جگہ جو مصر کی مصلحتوں کے ليے ہو اسے ''فنائے مصر'' کہتے ہیں۔ جیسے قبرستان، گھوڑ دوڑ کا میدان، فوج کے رہنے کی جگہ، کچہریاں، اسٹیشن کہ یہ چیزیں شہر سے باہر ہوں تو فنائے مصر ميں
= مطلب یہ ہوگا کہ خودپل بنا دیا جائے گا يعنی جس طرح لوگوں کی گردنیں اس نے پھلانگی ہیں، اس کو قیامت کے دن جہنم میں جانے کا پُل بنایا جائے گا کہ اس کے اوپر چڑھ کر لوگ جائیں گے۔ ۱۲
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب تخطي رقاب الناس یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۱۱۸، ج۱، ص۴۱۳.
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب الکلام والإمام یخطب، الحدیث: ۱۱۱۳، ج۱، ص۴۱۱.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۵. 4 ۔ یعنی ضلع کا حصہ۔
ان کا شمار ہے اور وہاں جمعہ جائز۔ (1) (غنیہ وغیرہا) لہٰذا جمعہ يا شہر میں پڑھا جائے یا قصبہ میں یا ان کی فنا میں اور گاؤں میں جائز نہیں۔ (2) (غنیہ)
مسئلہ ۲: جس شہر پر کفار کا تسلط ہوگیا وہاں بھی جمعہ جائز ہے، جب تک دارالاسلام رہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مصر کے ليے حاکم کا وہاں رہنا ضرور ہے، اگر بطور دورہ وہاں آگیا تو وہ جگہ مصر نہ ہوگی، نہ وہاں جمعہ قائم کیا جائے گا۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جو جگہ شہر سے قریب ہے مگر شہر کی ضرورتوں کے ليے نہ ہو اور اس کے اور شہر کے درمیان کھیت وغیرہ فاصل ہو تو وہاں جمعہ جائز نہیں اگرچہ اذان جمعہ کی آواز وہاں تک پہنچتی ہو۔ (5) (عالمگیری) مگر اکثر آئمہ کہتے ہیں کہ اگر اذان کی آواز پہنچتی ہو تو ان لوگوں پر جمعہ پڑھنا فرض ہے بلکہ بعض نے تو یہ فرمایا کہ اگر شہر سے دور جگہ ہو مگر بلا تکلیف واپس باہر جاسکتا ہو تو جمعہ پڑھنا فرض ہے۔ (6) (درمختار) لہٰذا جو لوگ شہر کے قریب گاؤں میں رہتے ہیں انھيں چاہيے کہ شہر میں آکر جمعہ پڑھ جائیں۔
مسئلہ ۵: گاؤں کا رہنے والے شہر میں آیا اور جمعہ کے دن یہیں رہنے کا ارادہ ہے تو جمعہ فرض ہے اور اسی دن واپسی کا ارادہ ہو، زوال سے پہلے یا بعد تو فرض نہیں، مگرپڑھے تو مستحقِ ثواب ہے۔ يوہيں مسافر شہر میں آیا اور نیت اقامت نہ کی تو جمعہ فرض نہیں، گاؤں والا جمعہ کے ليے شہر کو آیا اور کوئی دوسرا کام بھی مقصود ہے تو اس سعی (یعنی جمعہ کے ليے آنے) کا بھی ثواب پائے گا اور جمعہ پڑھا تو جمعہ کا بھی۔ (7) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: حج کے دنوں میں منیٰ میں جمعہ پڑھا جائے گا جبکہ خلیفہ یا امیر حجاز یعنی شريف مکّہ وہاں موجود ہو اور امیر موسم یعنی وہ کہ حاجیوں کے ليے حاکم بنایا گیا ہے جمعہ نہیں قائم کر سکتا۔ حج کے علاوہ اور دنوں میں منیٰ میں جمعہ نہیں ہوسکتا اور عرفات
1 ۔ ''غنیۃ المتملي ''، فصل في صلاۃ الجمعۃ، ص۵۴۹ ۔ ۵۵۱، وغیرہا.
2 ۔ ''غنیۃ المتملي ''، فصل في صلاۃ الجمعۃ، ص۵۴۹.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في جواز استنابۃ الخطيب، ج۳، ص۱۶.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۷.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۵.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۳۰.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۵.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في حکم المرقی بين يدی الخطيب، ج۳، ص۴۴.
میں مطلقاً نہیں ہو سکتا، نہ حج کے زمانہ میں، نہ اور دنوں میں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہو سکتا ہے، خواہ وہ شہر چھوٹا ہو یا بڑا اور جمعہ دو مسجدوں میں ہو یا زیادہ۔ (2) (درمختار وغیرہ) مگر بلا ضرورت بہت سی جگہ جمعہ قائم نہ کیا جائے کہ جمعہ شعائر اسلام سے ہے اور جامع جماعات ہے اور بہت سی مسجدوں میں ہونے سے وہ شوکت اسلامی باقی نہیں رہتی جو اجتماع میں ہوتی، نیز دفع حرج کے ليے تعدد جائز رکھا گیا ہے تو خواہ مخواہ جماعت پراگندہ کرنا اور محلہ محلہ جمعہ قائم کرنا نہ چاہيے۔ نیز ایک بہت ضروری امر جس کی طرف عوام کو بالکل توجہ نہیں، یہ ہے کہ جمعہ کو اور نمازوں کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا نیا جمعہ قائم کر لیا اور جس نے چاہا پڑھا دیا یہ ناجائز ہے، اس ليے کہ جمعہ قائم کرنا بادشاہِ اسلام یا اس کے نائب کا کام ہے، اس کا بیان آگے آتا ہے اور جہاں اسلامی سلطنت نہ ہو وہاں جو سب سے بڑا فقیہ سُنی صحیح العقیدہ ہو، احکام شرعیہ جاری کرنے میں سُلطان اسلام کے قائم مقام ہے، لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے بغیر اس کی اجازت کے نہیں ہوسکتا اور یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں، عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطور خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو چار شخص کسی کو امام مقرر کر لیں ایسا جمعہ کہیں سے ثابت نہیں۔
مسئلہ ۸: ظہراحتیاطی (کہ جمعہ کے بعد چار رکعت نماز اس نیت سے کہ سب ميں پچھلی ظہر جس کا وقت پایا اور نہ پڑھی) خاص لوگوں کے ليے ہے جن کو فرض جمعہ ادا ہونے ميں شک نہ ہو اور عوام کہ اگر ظہر احتیاطی پڑھیں تو جمعہ کے ادا ہونے میں انھيں شک ہو گا وہ نہ پڑھیں اور اس کی چاروں رکعتیں بھری پڑھی جائیں اور بہتر یہ ہے کہ جمعہ کی پچھلی چار سنتیں پڑھ کر ظہر احتیاطی پڑھیں پھر دو سنتیں اور ان چھ سنتوں میں سنت وقت کی نیت کریں۔ (3) (عالمگیری، صغیری، ردالمحتار وغیرہا)
مسئلہ ۹: سُلطان عادل ہو یا ظالم جمعہ قائم کرسکتا ہے۔ يوہيں اگر زبردستی بادشاہ بن بیٹھا یعنی شرعاً اس کو حق امامت نہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۵.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۱۸، و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۸، ص۳۱۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۵.
و ''صغيری ''، فصل في صلاۃ الجمعۃ، ص۲۷۸، و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في نیۃ آخر ظھر بعد صلاۃ الجمعۃ، ج۳، ص۲۱، و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۸، ص۲۹۳.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۵.
ہو، مثلاً قرشی نہ ہو یا اور کوئی شرط مفقود ہو تو یہ بھی جمعہ قائم کر سکتا ہے۔ يوہيں اگر عورت بادشاہ بن بیٹھی تو اس کے حکم سے جمعہ قائم ہوگا، یہ خود نہیں قائم کر سکتی۔ (1) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۱۰: بادشاہ نے جسے جمعہ کا امام مقرر کر دیا وہ دوسرے سے بھی پڑھوا سکتا ہے اگرچہ اسے اس کا اختیار نہ دیا ہو کہ دوسرے سے پڑھوا دے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: امام جمعہ کی بلا اجازت کسی نے جمعہ پڑھایا اگر امام یا وہ شخص جس کے حکم سے جمعہ قائم ہوتا ہے شریک ہوگیا تو ہو جائے گا ورنہ نہیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: حاکم شہر کا انتقال ہوگیا یا فتنہ کے سبب کہیں چلا گیا اور اس کے خلیفہ (ولی عہد) یا قاضی ماذون نے جمعہ قائم کیا جائز ہے۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۳: کسی شہر میں بادشاہ اسلام وغیرہ جس کے حکم سے جمعہ قائم ہوتا ہے نہ ہو تو عام لوگ جسے چاہیں امام بناویں۔ يوہيں اگر بادشاہ سے اجازت نہ لے سکتے ہوں جب بھی کسی کو مقرر کرسکتے ہیں۔ (5) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۴: حاکمِ شہر نابالغ یا کافر ہے اور اب وہ نابالغ بالغ ہوا یا کافر مسلمان ہوا تو اب بھی جمعہ قائم کرنے کا ان کو حق نہیں، البتہ اگر جدید حکم ان کے ليے آیا یا بادشاہ نے کہہ دیا تھا کہ بالغ ہونے یا اسلام لانے کے بعد جمعہ قائم کرنا تو قائم کر سکتا ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: خطبہ کی اجازت جمعہ کی اجازت ہے اور جمعہ کی اجازت خطبہ کی اجازت ہے اگرچہ کہہ دیا ہو کہ خطبہ پڑھنا اور جمعہ نہ قائم کرنا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: بادشاہ لوگوں کو جمعہ قائم کرنے سے منع کر دے تو لوگ خودقائم کر لیں اور اگر اس نے کسی شہر کی شہریت باطل کر دی تو لوگوں کو اب جمعہ پڑھنے کا اختیار نہیں۔ (8) (ر دالمحتار) یہ اس وقت ہے کہ بادشاہِ اسلام نے شہریت باطل کی ہو اور
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في صحۃ الجمعۃ... إلخ، ج۳، ص۹، وغيرہما.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۱۰.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في جواز استنابۃ الخطيب، ج۳، ص۱۴.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۱۴.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۶.
6 ۔ المرجع السابق. 7 ۔ المرجع السابق.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في جواز استنابۃ الخطيب، ج۳، ص۱۶.
کافر نے باطل کی تو پڑھیں۔
مسئلہ ۱۷: امام جمعہ کو بادشاہ نے معزول کر دیا تو جب تک معزولی کا پروانہ نہ آئے یا خود بادشاہ نہ آئے معزول نہ ہوگا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: بادشاہ سفر کر کے اپنے ملک کے کسی شہر میں پہنچا تو وہاں جمعہ خود قائم کر سکتا ہے۔ (2) (عالمگیری)
یعنی وقت ظہر میں نماز پوری ہو جائے تو اگر اثنائے نماز میں اگرچہ تشہد کے بعد عصر کا وقت آگیا جمعہ باطل ہوگیا ظہر کی قضا پڑھیں۔ (3) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۱۹: مقتدی نماز میں سو گیا تھا آنکھ اس وقت کھلی کہ امام سلام پھیر چکا ہے تو اگر وقت باقی ہے جمعہ پورا کر لے ورنہ ظہر کی قضا پڑھے یعنی نئے تحریمہ سے۔ (4) (عالمگیری وغیرہ) يوہيں اگر اتنی بھیڑ تھی کہ رکوع و سجود نہ کرسکا یہاں تک کہ امام نے سلام پھیر دیا تو اس میں بھی وہی صورتیں ہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: خطبہ جمعہ میں شرط یہ ہے، کہ:
(۱) وقت میں ہو اور
(۲) نماز سے پہلے اور
(۳) ایسی جماعت کے سامنے ہو جو جمعہ کے ليے شرط ہے یعنی کم سے کم خطیب کے سوا تین مرد اور
(۴) اتنی آواز سے ہو کہ پاس والے سُن سکیں اگر کوئی امر مانع نہ ہو تو اگر زوال سے پیشتر خطبہ پڑھ لیا یا نماز کے بعد پڑھا یا تنہا پڑھا یا عورتوں بچوں کے سامنے پڑھا تو ان سب صورتوں میں جمعہ نہ ہوا اور اگر بہروں یا سونے والوں کے سامنے پڑھا یا حاضرین دور ہیں کہ سنتے نہیں یا مسافر یا بیماروں کے سامنے پڑھا جو عاقل بالغ مرد ہیں تو ہو جائے گا۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۶.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۶.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۲۱.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في نیۃ آخر ظھر بعد صلاۃ الجمعۃ، ج۳، ص۲۱.
مسئلہ ۲۱: خطبہ ذکر الٰہی کا نام ہے اگرچہ صرف ایک بار
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ
یا
سُبْحٰنَ اللہ
یا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہا اسی قدر سے فرض ادا ہوگیا مگر اتنے ہی پر اکتفا کرنا مکروہ ہے۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: چھینک آئی اور اس پر
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ
کہا یا تعجب کے طور پر
سُبْحٰنَ اللہ
یا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہا تو فرض ادا نہ ہوا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: خطبہ و نماز میں اگر زیادہ فاصلہ ہو جائے تو وہ خطبہ کافی نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۴: سنت یہ ہے کہ دو خطبے پڑھے جائیں اور بڑے بڑے نہ ہوں اگر دونوں مل کر طوال مفصّل سے بڑھ جائیں تو مکروہ ہے خصوصاً جاڑوں (4) میں۔ (5) (درمختار، غنیہ)
مسئلہ ۲۵: خطبہ میں یہ چیزیں سنت ہیں:
(۱) خطیب کا پاک ہونا۔
(۲) کھڑا ہونا۔
(۳) خطبہ سے پہلے خطیب کا بیٹھنا۔
(۴) خطیب کا منبر پر ہونا۔ اور
(۵) سامعین کی طرف مونھ۔ اور
(۶) قبلہ کو پیٹھ کرنا اور بہتر یہ ہے کہ منبر محراب کی بائیں جانب ہو۔
(۷) حاضرین کا متوجہ بامام ہونا۔
(۸) خطبہ سے پہلے اَعُوْذُ بِاللہِ آہستہ پڑھنا۔
(۹) اتنی بلند آواز سے خطبہ پڑھنا کہ لوگ سنیں۔
(۱۰) الحمد سے شروع کرنا۔
(۱۱) اللہ عزوجل کی ثنا کرنا۔
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۲۲، وغيرہ .
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۶.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۲۷.
4 ۔ یعنی سرديوں۔
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۲۳.
(۱۲) اللہ عزوجل کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت دینا۔
(۱۳) حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) پر درود بھیجنا۔
(۱۴) کم سے کم ایک آیت کی تلاوت کرنا۔
(۱۵) پہلے خطبہ میں وعظ و نصیحت ہونا۔
(۱۶) دوسرے میں حمد و ثنا و شہادت و درود کا اعادہ کرنا۔
(۱۷) دوسرے میں مسلمانوں کے ليے دُعا کرنا۔
(۱۸) دونوں خطبے ہلکے ہونا۔
(۱۹) دونوں کے درمیان بقدر تین آیت پڑھنے کے بیٹھنا۔ مستحب یہ ہے کہ دوسرے خطبہ میں آواز بہ نسبت پہلے کے پست ہو اور خلفائے راشدین وعمّین مکرمین حضرت حمزہ و حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ذکر ہو بہتریہ ہے کہ دوسرا خطبہ اس سے شروع کریں:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ وَنُؤْمِنُ بِہٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ وَنَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّاٰتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّھْدِی اللہُ فَلَا مُضِلَّ لَـہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْہُ فَلَا ھَادِیَ لَـہٗ . (1)
(۲۰) مرد اگر امام کے سامنے ہو تو امام کی طرف مونھ کرے اور دہنے بائیں ہو تو امام کی طرف مڑ جائے۔ اور
(۲۱) امام سے قریب ہونا افضل ہے مگر یہ جائز نہیں کہ امام سے قریب ہونے کے ليے لوگوں کی گردنیں پھلانگے، البتہ اگر امام ابھی خطبہ کو نہیں گیا ہے اور آگے جگہ باقی ہے تو آگے جاسکتا ہے اور خطبہ شروع ہونے کے بعد مسجد میں آیا تو مسجد کے کنارے ہی بیٹھ جائے۔
(۲۲) خطبہ سننے کی حالت میں دو زانو بیٹھے جیسے نماز میں بیٹھتے ہیں۔ (2) (عالمگیری، درمختار، غنیہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۶: بادشاہ اسلام کی ایسی تعریف جو اس میں نہ ہو حرام ہے، مثلاً مالک رقاب الامم کہ یہ محض جھوٹ اور
1 ۔ حمد ہے اللہ (عزوجل) کے ليے، ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور اس سے مدد طلب کرتے ہیں اور مغفرت چاہتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر توکل کرتے ہیں اور اللہ (عزوجل) کی پناہ مانگتے ہیں اپنے نفسوں کی برائی سے اور اپنے اعمال کی بدی سے جسکو اللہ (عزوجل) ہدایت کرے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہيں اور جس کو گمراہ کرے اسے ہدايت کرنے والا کوئی نہيں۔ ۱۲
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۶، ۱۴۷.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۲۳ ۔ ۲۶.
حرام ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: خطبہ میں آیت نہ پڑھنا یا دونوں خطبوں کے درمیان جلسہ نہ کرنا یا اثنائے خطبہ میں کلام کرنا مکروہ ہے، البتہ اگر خطیب نے نیک بات کا حکم کیا یا بُری بات سے منع کیا تو اسے اس کی ممانعت نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: غیر عربی میں خطبہ پڑھنا یا عربی کے ساتھ دوسری زبان خطبہ میں خلط کرنا خلاف سنت متوارثہ ہے۔ يوہيں خطبہ میں اشعار پڑھنا بھی نہ چاہيے اگرچہ عربی ہی کے ہوں، ہاں دو ایک شعر پندونصائح کے اگر کبھی پڑھ لے تو حرج نہیں۔
مسئلہ ۲۹: اگر تین غلام یا مسافر یا بیمار یا گونگے یا اَن پڑھ مقتدی ہوں تو جمعہ ہو جائے گا اور صرف عورتیں یا بچے ہوں تو نہیں۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: خطبہ کے وقت جو لوگ موجود تھے وہ بھاگ گئے اور دوسرے تین شخص آگئے تو ان کے ساتھ امام جمعہ پڑھے یعنی جمعہ کی جماعت کے ليے انھيں لوگوں کا ہونا ضروری نہیں جو خطبہ کے وقت حاضر تھے بلکہ ان کے غیر سے بھی ہوجائے گا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: پہلی رکعت کا سجدہ کرنے سے پیشتر سب مقتدی بھاگ گئے یا صرف دو رہ گئے تو جمعہ باطل ہوگیا سرے سے ظہر کی نیت باندھے اور اگر سب بھاگ گئے مگر تین مرد باقی ہیں یا سجدہ کے بعد بھاگے يا تحريمہ کے بعد بھاگ گئے تھے مگر پہلے رکوع ميں آکر شامل ہوگئے يا خطبہ کے بعد بھاگ گئے اور امام نے دوسرے تین مردوں کے ساتھ جمعہ پڑھا تو ان سب صورتوں میں جمعہ جائز ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: امام نے جب
اَللہُ اَکْبَر
کہا اس وقت مقتدی باوضو تھے مگر انہوں نے نیت نہ باندھی پھر یہ سب بے وضو ہو گئے اور دوسرے لوگ آگئے یہ چلے گئے تو ہوگیا اور اگر تحریمہ ہی کے وقت سب مقتدی بے وضو تھے پھر اور لوگ آگئے تو امام
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۲۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۶.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۸. و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۲۷.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۲۷.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في قول الخطيب... إلخ، ج۳، ص۲۷.
سرے سے تحریمہ باندھے۔ (1) (خانيہ)
یعنی مسجد کا دروازہ کھول دیا جائے کہ جس مسلمان کا جی چاہے آئے کسی کی روک ٹوک نہ ہو، اگر جامع مسجد میں جب لوگ جمع ہو گئے دروازہ بند کر کے جمعہ پڑھا نہ ہوا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: بادشاہ نے اپنے مکان میں جمعہ پڑھا اور دروازہ کھول دیا لوگوں کو آنے کی عام اجازت ہے تو ہوگیا لوگ آئیں یا نہ آئیں اور دروازہ بند کر کے پڑھا یا دربانوں کو بٹھا دیا کہ لوگوں کو آنے نہ دیں تو جمعہ نہ ہوا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: عورتوں کو اگر مسجد جامع سے روکا جائے تو اذن عام کے خلاف نہ ہو گا کہ ان کے آنے میں خوفِ فتنہ ہے۔ (4) (ردالمحتار)
جمعہ واجب ہونے کے ليے گیارہ شرطیں ہیں۔ ان میں سے ایک بھی معدوم ہو تو فرض نہیں پھر بھی اگر پڑھے گا تو ہوجائے گا بلکہ مرد عاقل بالغ کے ليے جمعہ پڑھنا افضل ہے اور عورت کے ليے ظہر افضل، ہاں عورت کا مکان اگر مسجد سے بالکل متصل ہے کہ گھر میں امام مسجد کی اقتدا کر سکے تو اس کے ليے بھی جمعہ افضل ہے اور نابالغ نے جمعہ پڑھا تو نفل ہے کہ اس پر نماز فرض ہی نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
(۱) شہر میں مقیم ہونا
(۲) صحت یعنی مریض پر جمعہ فرض نہیں مریض سے مراد وہ ہے کہ مسجد جمعہ تک نہ جاسکتا ہو یا چلا تو جائے گا مگر مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھا ہوگا۔ (6) (غنیہ) شیخ فانی مریض کے حکم میں ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۳۵: جو شخص مریض کا تیماردار ہو، جانتا ہے کہ جمعہ کو جائے گا تو مریض دِقتوں میں پڑ جائے گا اور اس کا کوئی پرسانِ حال نہ ہوگا تو اس تیماردار پر جمعہ فرض نہیں۔ (8) (درمختار وغيرہ)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۸.
2 ۔ المرجع السابق. 3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في قول الخطيب... إلخ، ج۳، ص۲۹.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في شروط وجوب الجمعۃ، ج۳، ص۳۰.
6 ۔ ''غنیۃ المتملي ''، فصل في صلاۃ الجمعۃ، ص۵۴۸.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۳۱.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۳۱، وغيرہ .
(۳) آزاد ہونا۔ غلام پر جمعہ فرض نہیں اور اس کا آقا منع کر سکتا ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: مکاتب غلام پر جمعہ واجب ہے۔ يوہيں جس غلام کا کچھ حصہ آزاد ہو چکا ہو باقی کے ليے سعایت کرتا ہو یعنی بقیہ آزاد ہونے کے ليے کما کر اپنے آقا کو دیتا ہو اس پر بھی جمعہ فرض ہے۔ (2) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۷: جس غلام کو اس کے مالک نے تجارت کرنے کی اجازت دی ہو یا اس کے ذمہ کوئی خاص مقدار کما کر لانا مقرر کیا ہو اس پر جمعہ واجب ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: مالک اپنے غلام کو ساتھ لے کر، مسجد جامع کو گیا اور غلام کو دروازہ پر چھوڑا کہ سواری کی حفاظت کرے تو اگر جانور کی حفاظت میں خلل نہ آئے پڑھ لے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: مالک نے غلام کو جمعہ پڑھنے کی اجازت دے دی جب بھی واجب نہ ہوا اور بلااجازت مالک اگر جمعہ یا عید کو گیا اگر جانتا ہے کہ مالک ناراض نہ ہو گا تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: نوکر اور مزدور کو جمعہ پڑھنے سے نہیں روک سکتا، البتہ اگر مسجد جامع دور ہے تو جتنا حرج ہوا ہے اس کی مزدوری میں کم کر سکتا ہے اور مزدور اس کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتا۔ (6) (عالمگیری)
(۴) مرد ہونا
(۵) بالغ ہونا
(۶) عاقل ہونا۔ یہ دونوں شرطیں خاص جمعہ کے ليے نہیں بلکہ ہر عبادت کے وجوب میں عقل و بلوغ شرط ہے۔
(۷) انکھیارا ہونا۔ (7)
مسئلہ ۴۱: یک چشم اور جس کی نگاہ کمزور ہو اس پر جمعہ فرض ہے۔ يوہيں جو اندھا مسجد میں اذان کے وقت باوضو ہو
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۴.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۳۱.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۴.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في شروط وجوب الجمعۃ، ج۳، ص۳۲.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۴.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في شروط وجوب الجمعۃ، ج۳، ص۳۲.
اس پر جمعہ فرض ہے اور وہ نابینا جو خود مسجد جمعہ تک بلا تکلّف نہ جا سکتا ہو اگرچہ مسجد تک کوئی لے جانے والا ہو، اُجرتِ مثل پر لے جائے یا بلا اُجرت اس پر جمعہ فرض نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: بعض نابینا بلا تکلّف بغیر کسی کی مدد کے بازاروں راستوں میں چلتے پھرتے ہیں اور جس مسجد میں چاہیں بلا پُوچھے جا سکتے ہیں ان پر جمعہ فرض ہے۔ (2) (ردالمحتار)
(۸) چلنے پر قادر ہونا۔
مسئلہ ۴۳: اپاہج پر جمعہ فرض نہیں، اگرچہ کوئی ایسا ہو کہ اسے اٹھا کر مسجد میں رکھ آئے گا۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: جس کا ایک پاؤں کٹ گیا ہو یا فالج سے بیکار ہوگیا ہو، اگر مسجد تک جا سکتا ہو تو اس پر جمعہ فرض ہے ورنہ نہیں۔ (4) (درمختار وغیرہ)
(۹) قید میں نہ ہونا، مگر جب کہ کسی دَین کی وجہ سے قید کیا گیا اور مالدار ہے یعنی ادا کرنے پر قادر ہے تو اس پر فرض ہے۔ (5) (ردالمحتار)
(۱۰) بادشاہ یا چور وغیرہ کسی ظالم کا خوف نہ ہونا، مفلس قرضدار کو اگر قید کا اندیشہ ہو تو اس پر فرض نہیں۔ (6) (ردالمحتار)
(۱۱) مینھ یا آندھی یا اولے یا سردی کا نہ ہونا یعنی اسقدر کہ ان سے نقصان کا خوف صحیح ہو۔ (7)
مسئلہ ۴۵: جمعہ کی امامت ہر مرد کر سکتا ہے جو اور نمازوں میں امام ہو سکتا ہو اگرچہ اس پر جمعہ فرض نہ ہو جیسے مریض مسافر غلام۔ (8) (درمختار) یعنی جبکہ سلطان اسلام یا اس کا نائب یا جس کو اس نے اجازت دی بیمار ہو یا مسافر تو یہ سب نمازجمعہ پڑھا سکتے ہیں یا انہوں نے کسی مریض یا مسافر یا غلام یا کسی لائق امامت کو اجازت دی ہو یا بضرورت عام لوگوں نے کسی ایسے کو امام مقرر کیا ہو جو امامت کر سکتا ہو، یہ نہیں کہ بطور خود جس کا جی چاہے جمعہ پڑھاوے کہ یوں جمعہ نہ ہوگا۔
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في شروط وجوب الجمعۃ، ج۳، ص۳۲.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في شروط وجوب الجمعۃ، ج۳، ص۳۲.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۳۲، وغيرہ .
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في شروط وجوب الجمعۃ، ج۳، ص۳۳.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في شروط وجوب الجمعۃ، ج۳، ص۳۳.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۳۳.
مسئلہ ۴۶: جس پر جمعہ فرض ہے اسے شہر میں جمعہ ہو جانے سے پہلے ظہر پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، بلکہ امام ابن ہمام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حرام ہے اور پڑھ لیا جب بھی جمعہ کے ليے جانا فرض ہے اور جمعہ ہو جانے کے بعد ظہر پڑھنے میں کراہت نہیں، بلکہ اب تو ظہر ہی پڑھنافرض ہے، اگر جمعہ دوسری جگہ نہ مل سکے مگر جمعہ ترک کرنے کا گناہ اس کے سر رہا۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۷: یہ شخص کہ جمعہ ہونے سے پہلے ظہر پڑھ چکا تھا نادم ہو کر گھر سے جمعہ کی نیت سے نکلا اگر اس وقت امام نماز میں ہو تو نماز ظہر جاتی رہی، جمعہ مل جائے تو پڑھ لے ورنہ ظہر کی نماز پھر پڑھے اگرچہ مسجد دور ہونے کے سبب جمعہ نہ ملا ہو۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴۸: مسجد جامع میں یہ شخص ہے جس نے ظہر کی نماز پڑھ لی ہے اور جس جگہ نماز پڑھی وہیں بیٹھا ہے تو جب تک جمعہ شروع نہ کرے ظہر باطل نہیں اور اگر بقصد جمعہ وہاں سے ہٹا تو باطل ہوگئی۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۹: یہ شخص اگر مکان سے نکلا ہی نہیں یا کسی اور ضرورت سے نکلا یا امام کے فارغ ہونے کے وقت يا فارغ ہونے کے بعد نکلا یا اس دن جمعہ پڑھا ہی نہ گیا یا لوگوں نے جمعہ پڑھنا تو شروع کیا تھا مگر کسی حادثہ کے سبب پورا نہ کیا تو ان سب صورتوں میں ظہر باطل نہیں۔ (4) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۵۰: جن صورتوں میں ظہر باطل ہونا کہا گیا اس سے مراد فرض جاتا رہنا ہے کہ یہ نماز اب نفل ہوگئی۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۱: جس پر جمعہ فرض تھا اس نے ظہر کی نماز میں امامت کی پھر جمعہ کو نکلا تو اس کی ظہر باطل ہے مگر مقتديوں ميں جو جمعہ کو نکلا اس کے فرض باطل نہ ہوئے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۵۲: جس پر کسی عذر کے سبب جمعہ فرض نہ ہو وہ اگر ظہر پڑھ کر جمعہ کے ليے نکلا تو اس کی نماز بھی جاتی رہی، ان شرائط کے ساتھ جو اوپر مذکور ہوئیں۔ (7) (درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في شروط وجوب الجمعۃ، ج۳، ص۳۳.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۳۴.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في شروط وجوب الجمعۃ، ج۳، ص۳۴.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۹.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۳۵.
6 ۔ المرجع السابق. 7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۵۳: مریض یا مسافر یا قیدی یا کوئی اور جس پر جمعہ فرض نہیں ان لوگوں کو بھی جمعہ کے دن شہر میں جماعت کے ساتھ ظہر پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، خواہ جمعہ ہونے سے پیشتر جماعت کریں یا بعد میں۔ يوہيں جنھیں جمعہ نہ ملا وہ بھی بغیر اذان و اقامت ظہر کی نماز تنہا تنہا پڑھیں، جماعت ان کے ليے بھی ممنوع ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵۴: علما فرماتے ہیں جن مسجدوں میں جمعہ نہیں ہوتا، انھيں جمعہ کے دن ظہر کے وقت بند رکھیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۵۵: گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ باجماعت پڑھیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: معذور اگر جمعہ کے دن ظہر پڑھے تو مستحب یہ ہے کہ نماز جمعہ ہو جانے کے بعد پڑھے اور تاخیر نہ کی تو مکروہ ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۵۷: جس نے جمعہ کا قعدہ پالیا یا سجدۂ سہو کے بعد شریک ہوا اسے جمعہ مل گیا۔ لہٰذا اپنی دو ہی رکعتیں پوری کرے۔ (5) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۵۸: نماز جمعہ کے ليے پیشتر سے جانا اور مسواک کرنا اور اچھے اور سفید کپڑے پہننا اور تیل اور خوشبو لگانا اور پہلی صف میں بیٹھنا مستحب ہے اور غسل سنت۔ (6) (عالمگیری، غنيہ)
مسئلہ ۵۹: جب امام خطبہ کے ليے کھڑا ہوا اس وقت سے ختم نماز تک نماز و اذکار اور ہر قسم کا کلام منع ہے، البتہ صاحب ترتیب اپنی قضا نماز پڑھ لے۔ يوہيں جو شخص سنت یا نفل پڑھ رہا ہے جلد جلد پوری کرلے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۶۰: جو چیزیں نماز میں حرام ہیں مثلاً کھانا پینا، سلام و جواب سلام وغیرہ یہ سب خطبہ کی حالت میں بھی حرام ہیں یہاں تک کہ امر بالمعروف، ہاں خطیب امر بالمعروف کر سکتا ہے، جب خطبہ پڑھے تو تمام حاضرین پر سننا اور چپ رہنا فرض ہے، جو لوگ امام سے دور ہوں کہ خطبہ کی آواز ان تک نہیں پہنچتی انھيں بھی چپ رہنا واجب ہے، اگر کسی کو بری بات کرتے
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۳۶.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۹.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۳۶.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۹.
6 ۔ المرجع السابق. و ''غنیۃ المتملي''، فصل في صلاۃ الجمعۃ، ص۵۵۹.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۳۸.
و''جدالممتار'' علی ''ردالمحتار''کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ،ج۱،ص۳۷۸.
دیکھیں تو ہاتھ یا سر کے اشارے سے منع کر سکتے ہیں زبان سے ناجائز ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۶۱: خطبہ سننے کی حالت میں دیکھا کہ اندھا کوئيں میں گرا چاہتا ہے یا کسی کو بچّھو وغیرہ کاٹنا چاہتا ہے، تو زبان سے کہہ سکتے ہیں، اگر اشارہ یا دبانے سے بتا سکيں تو اس صورت میں بھی زبان سے کہنے کی اجازت نہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۲: خطیب نے مسلمانوں کے ليے د ُعا کی تو سامعین کو ہاتھ اٹھانا یا آمین کہنا منع ہے، کریں گے گنہگار ہوں گے۔ خطبہ میں دُرُود شریف پڑھتے وقت خطیب کا داہنے بائیں مونھ کرنا بدعت ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۳: حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام پاک خطیب نے لیا تو حاضرین دل میں دُرُود شریف پڑھیں، زبان سے پڑھنے کی اسوقت اجازت نہیں۔ (4) يوہيں صحابۂ کرام کے ذکر پر اس وقت رضی اللہ تعالیٰ عنہم زبان سے کہنے کی اجازت نہیں۔ (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶۴: خطبۂ جمعہ کے علاوہ اور خطبوں کا سننا بھی واجب ہے، مثلاً خطبۂ عیدین و نکاح وغیرہما۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۶۵: پہلی اذان کے ہوتے ہی سعی واجب ہے اور بیع وغیرہ ان چیزوں کا جو سعی کے منافی ہوں چھوڑ دینا واجب یہاں تک کہ راستہ چلتے ہوئے اگر خرید و فروخت کی تو یہ بھی ناجائز اور مسجد میں خرید و فروخت تو سخت گناہ ہے اور کھانا کھارہا تھاکہ اذان جمعہ کی آواز آئی اگر یہ اندیشہ ہو کہ کھائے گا تو جمعہ فوت ہو جائے گا تو کھانا چھوڑ دے اور جمعہ کو جائے،جمعہ کے ليے اطمينان و وقارکے ساتھ جائے۔ (6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۶۶: خطیب جب منبر پر بیٹھے تو اس کے سامنے دوبارہ اذان دی جائے۔ (7) (متون) یہ ہم اوپر بیان کر آئے کہ سامنے سے یہ مراد نہیں کہ مسجد کے اندر منبر سے متصل ہو کہ مسجد کے اندر اذان کہنے کو فقہائے کرام مکروہ فرماتے ہیں۔
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۳۹.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في شروط وجوب الجمعۃ، ج۳، ص۳۹.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في شروط وجوب الجمعۃ، ج۳، ص۳۸، و مطلب في قول
الخطيب... إلخ، ص۲۴.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۴۰.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۹.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۴۲.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۴۲.
مسئلہ ۶۷: اکثر جگہ دیکھا گیا کہ اذان ثانی پست آواز سے کہتے ہیں،یہ نہ چاہيے بلکہ اسے بھی بلند آواز سے کہیں کہ اس سے بھی اعلان مقصود ہے اور جس نے پہلی نہ سُنی اسے سُن کر حاضر ہو۔ (1) (بحر وغیرہ)
مسئلہ ۶۸: خطبہ ختم ہو جائے تو فوراً اقامت کہی جائے، خطبہ و اقامت کے درمیان دنیا کی بات کرنا مکروہ ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۶۹: جس نے خطبہ پڑھا وہی نماز پڑھائے، دوسرا نہ پڑھائے اور اگر دوسرے نے پڑھا دی جب بھی ہو جائے گی جبکہ وہ ماذُون (3) ہو۔ يوہيں اگر نابالغ نے بادشاہ کے حکم سے خطبہ پڑھا اور بالغ نے نماز پڑھائی جائز ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۰: نماز جمعہ میں بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اور دوسری میں سورۂ منافقون یا پہلی میں
سَبِّحِ اسْمَ
اور دوسری میں
ھَلْ اَ تٰکَ
پڑھے، مگر ہمیشہ انھيں کو نہ پڑھے کبھی کبھی اور سورتیں بھی پڑھے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۱: جمعہ کے دن اگر سفر کیا اور زوال سے پہلے آبادی شہر سے باہر ہوگیا تو حرج نہیں ورنہ ممنوع ہے۔ (6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۷۲: حجامت بنوانا اور ناخن ترشوانا جمعہ کے بعد افضل ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۷۳: سوال کرنے والا اگر نمازیوں کے آگے سے گزرتا ہو یا گردنیں پھلانگتا ہو یا بلا ضرورت مانگتا ہو تو سوال بھی ناجائز ہے اور ایسے سائل کو دینا بھی ناجائز۔ (8) (ردالمحتار) بلکہ مسجد میں اپنے ليے مطلقاً سوال کی اجازت نہیں۔
مسئلہ ۷۴: جمعہ کے دن یا رات میں سورۂ کہف کی تلاوت افضل ہے اور زیادہ بزرگی رات میں پڑھنے کی ہے نسائی بيہقی بسند صحیح ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''جو شخص سورۂ کہف جمعہ کے دن پڑھے، اس کے ليے دونوں
1 ۔ ''البحر الرائق''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۲۷۳. وغيرہ
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۴۳.
3 ۔ يعنی جس کو اجازت دی گئی۔
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في حکم المرقي... إلخ، ج۳، ص۴۳.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلب: أمر الخليفۃ... إلخ، ج۳، ص۶۴.
و ''البحر الرائق''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ، ج۲، ص۲۷۵.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۴۴.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۴۶.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب في الصدقۃ علی سؤال المسجد، ج۳، ص۴۷.
جُمعوں کے درمیان نور روشن ہو گا۔'' (1)
اور دارمی کی روایت میں ہے، ''جو شب جمعہ میں سورۂ کہف پڑھے اس کے ليے وہاں سے کعبہ تک نور روشن ہوگا۔'' (2)
اور ابو بکر ابن مردویہ کی روایت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے کہ فرماتے ہیں: ''جو جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے اس کے قدم سے آسمان تک نور بلند ہو گا جو قیامت کو اس کے ليے روشن ہو گا اور دو جُمعوں کے درمیان جو گناہ ہوئے ہيں بخش ديے جائیں گے۔'' (3) اس حدیث کی اسناد میں کوئی حرج نہیں۔
حم الدخان
پڑھنے کی بھی فضیلت آئی ہے۔
طبرانی نے ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے فرمایا: ''جو شخص جمعہ کے دن یا رات میں
حم الدخان
پڑھے، اس کے ليے اللہ تعالیٰ جنت میں ایک گھر بنائے گا۔'' (4) اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ ''اس کی مغفرت ہوجائے گی۔'' (5) اور ایک روایت میں ہے، ''جو کسی رات میں
حم الدخان
پڑھے، اس کے ليے ستر ہزار فرشتے استغفار کریں گے۔'' (6) جمعہ کے دن یا رات میں جو سورۂ يٰس پڑھے، اس کی مغفرت ہو جائے۔'' (7)
فائدہ: جمعہ کے دن روحیں جمع ہوتی ہیں، لہٰذا اس میں زیارتِ قبور کرنی چاہيے اور اس روز جہنم نہیں بھڑکایا جاتا۔ (8) (درمختار)
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
( وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ھَدا کُمْ ) (9)
روزوں کی گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بولو کہ اس نے تمھيں ہدایت فرمائی۔
1 ۔ ''السنن الصغری'' للبیھقي، کتاب الصلاۃ، باب فضل الجمعۃ، الحدیث: ۶۰۸، ج۱، ص۲۱۰.
2 ۔ ''سنن الدارمي''، کتاب فضائل القرآن، باب في فضل سورۃ الکھف، الحدیث: ۳۴۰۷، ج۲، ص۵۴۶.
3 ۔ ''الترغيب و الترھيب''، کتاب الجمعۃ، الترغيب في قرأۃ سورۃ الکھف... إلخ، الحدیث: ۲، ج۱، ص۲۹۸.
4 ۔ ''المعجم الکبير''، الحدیث: ۸۰۲۶، ج۸، ص۲۶۴.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب فضائل القرآن، باب ماجاء في فضل حمۤ الدخان، الحدیث: ۲۸۹۸، ج۴، ص۴۰۷.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب فضائل القرآن، باب ماجاء في فضل حمۤ الدخان، الحدیث:۲۸۹۷، ج۴، ص۴۰۶.
7 ۔ ''الترغيب و الترھيب''، کتاب الجمعۃ، الترغيب في قرأۃ سورۃ الکھف... إلخ، الحدیث: ۴، ج۱، ص۲۹۸.
8 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۴۹.
9 ۔ پ۲، البقرۃ: ۱۸۵.
اور فرماتا ہے:
(فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ ؕ﴿۲﴾ ) (1)
اپنے رب (عزوجل) کے ليے نماز پڑھ اور قربانی کر۔
حدیث ۱: ابن ماجہ ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو عیدین کی راتوں میں قیام کرے، اس کا دل نہ مرے گا جس دن لوگو ں کے دل مریں گے۔'' (2)
حدیث ۲: اصبہانی معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں: ''جو پانچ راتوں میں شب بیداری کرے اس کے ليے جنت واجب ہے، ذی الحجہ کی آٹھویں، نویں، دسویں راتیں اور عیدالفطر کی رات اور شعبان کی پندرھویں رات (3) یعنی شب براء ت۔''
حدیث ۳: ابو داود انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے، اس زمانہ میں اہل مدینہ سال میں دو دن خوشی کرتے تھے (مہرگان و نيروز)، فرمایا: یہ کیا دن ہیں؟ لوگوں نے عرض کی، جاہلیت میں ہم ان دنوں ميں خوشی کرتے تھے، فرمایا: ''اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن تمھيں ديے، عيداضحی و عیدالفطر کے دن۔'' (4)
حدیث ۴، ۵: ترمذی و ابن ماجہ و دارمی بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ''حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن کچھ کھا کر نماز کے ليے تشریف لے جاتے اور عيداضحی کو نہ کھاتے، جب تک نماز نہ پڑھ لیتے۔'' (5) اور بخاری کی روایت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ ''عیدالفطر کے دن تشریف نہ لے جاتے، جب تک چند کھجوریں نہ تناول فرمالیتے اور طاق ہوتیں۔'' (6)
حدیث ۶: ترمذی و دارمی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ ''عید کو ایک راستہ سے تشریف لے جاتے اور دوسرے سے واپس ہوتے۔'' (7)
1 ۔ پ۳۰، الکوثر: ۲.
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الصیام، باب فیمن قام لیلتی العیدین، الحدیث: ۱۷۸۲، ج۲، ص۳۶۵.
3 ۔ ''الترغيب و الترھيب''، کتاب العیدین والأضحیۃ، الترغیب في إحیاء لیلتی العیدین، الحدیث: ۲، ج۲، ص۹۸.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین، الحدیث: ۱۱۳۴، ج۱، ص۴۱۸.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب العیدین، باب ماجاء في الأکل یوم الفطر قبل الخروج، الحدیث: ۵۴۲، ج۲، ص۷۰.
6 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب العیدین، باب الأکل یوم الفطر قبل الخروج، الحدیث: ۹۵۳، ج۱، ص۳۲۸.
7 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب العیدین، باب ماجاء في خروج النبي صلی اللہ علیہ وسلم إلی العید... إلخ، الحدیث: ۵۴۱، ج۲، ص۶۹.
حدیث ۷: ابو داود و ابن ماجہ کی روایت انھيں سے ہے، کہ ''ایک مرتبہ عید کے دن بارش ہوئی تو مسجد میں حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے عید کی نماز پڑھی۔'' (1)
حدیث ۸: صحیحین میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ ''حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے عید کی نماز دو رکعت پڑھی، نہ اس کے قبل نماز پڑھی نہ بعد۔'' (2)
حدیث ۹: صحیح مسلم شریف میں ہے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: میں نے حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کے ساتھ عید کی نماز پڑھی ایک دو مرتبہ نہیں (بلکہ بارہا)، نہ اذان ہوئی نہ اقامت۔ (3)
عیدین کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ انھيں پر جن پر جمعہ واجب ہے اور اس کی ادا کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کے ليے ہیں صرف اتنا فرق ہے کہ جمعہ میں خطبہ شرط ہے اور عیدین میں سنت، اگر جمعہ میں خطبہ نہ پڑھا تو جمعہ نہ ہوا اور اس میں نہ پڑھا تو نماز ہوگئی مگر بُرا کیا۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ جمعہ کا خطبہ قبل نماز ہے اور عیدین کا بعد نماز، اگر پہلے پڑھ لیا تو بُرا کیا، مگر نماز ہوگئی لوٹائی نہیں جائے گی اور خطبہ کا بھی اعادہ نہیں اور عیدین میں نہ اذان ہے نہ اقامت، صرف دوبار اتنا کہنے کی اجازت ہے۔
اَلصَّلٰوۃُ جَامِعَۃٌ ؕ۔ (4)
(عالمگیری، درمختار وغیرہما) بلاوجہ عيد کی نماز چھوڑنا گمراہی و بدعت ہے۔ (5) (جوہرہ نيرہ)
مسئلہ ۱: گاؤں میں عیدین کی نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۲: عیدکے دن یہ امور مستحب ہيں:
(۱) حجامت بنوانا۔
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب یصلی بالناس العید في المسجد إذا کان یوم مطر، الحدیث: ۱۱۶۰، ج۱، ص۴۲۵.
2 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب العیدین، باب الخطبۃ بعد العید، الحدیث: ۹۶۴، ج۱، ص۳۳۱.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ العیدین، باب کتاب صلاۃ العیدین، الحدیث: ۸۸۷، ص۴۳۹.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۵۰.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۵۱، وغيرہما .
5 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ص۱۱۹.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۵۲.
(۲) ناخن ترشوانا۔
(۳) غسل کرنا۔
(۴) مسواک کرنا۔ (1)
(۵) اچھے کپڑے پہننا، نیا ہو تو نیا ورنہ دُھلا۔
(۶) انگوٹھی پہننا۔ (2)
(۷) خوشبو لگانا۔
(۸) صبح کی نماز مسجد محلّہ میں پڑھنا۔
(۹) عیدگاہ جلد چلا جانا۔
(۱۰) نماز سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنا۔
(۱۱) عیدگاہ کو پیدل جانا۔
(۱۲) دوسرے راستہ سے واپس آنا۔
(۱۳) نماز کو جانے سے پیشتر چند کھجوریں کھا لینا۔ تین، پانچ، سات یا کم و بیش مگر طاق ہوں، کھجوریں نہ ہوں تو کوئی میٹھی چیز کھا لے، نماز سے پہلے کچھ نہ کھایا تو گنہگار نہ ہوا مگر عشا تک نہ کھایا تو عتاب (3) کیا جائے گا۔ (4) (کتب کثیرہ)
مسئلہ ۳: سواری پر جانے میں بھی حرج نہیں مگر جس کو پیدل جانے پر قدرت ہو اس کے ليے پیدل جانا افضل ہے اور
1 ۔ یہ اس کے علاوہ ہے جو وضو میں کی جاتی ہے کہ وضو میں سنت مؤکدہ ہے اور عید کی اس میں خصوصیت نہیں، بلکہ وہ تو ہر وضو کے لئے ہے۔ (ردالمحتار) ۱۲ منہ حفظہ ربہ
2 ۔ اس کی تفصیلی معلومات کیلئے بہارِ شريعت حصہ۱۶ ميں ''انگوٹھی اور زيور کا بيان'' ملاحظہ فرمائيں۔
امير اہلسنت، بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الياس عطارؔ قادری رضوی دامت برکاتہم العاليہ ''نماز کے اَحکام'' ميں فرماتے ہيں: جب کبھی انگوٹھی پہنئے تو اِس بات کا خاص خیال رکھئے کہ صِرف ساڑھے چار ماشہ سے کم وَزن چاندی کی ایک ہی انگوٹھی پہنئے۔ ایک سے زیادہ نہ پہنئے اور اُس ایک انگوٹھی میں بھی نگینہ ایک ہی ہو، ایک سے زیادہ نگینے نہ ہوں، بغیر نگینے کی بھی مت پہنئے۔ نگینے کے وَزن کی کوئی قید نہیں، چاند ی کا چَھلّہ یا چاندی کے بیان کردہ وَزن وغیرہ کے علاوہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی یا چھلّہ مرد نہیں پہن سکتا۔(''نماز کے اَحکام''، ص۴۴۴۔۴۴۵)
3 ۔ یعنی سرزنش۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۴۹.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۵۴، وغيرہما.
واپسی میں سواری پر آنے میں حرج نہیں۔ (1) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۴: عیدگاہ کو نماز کے ليے جانا سنت ہے اگرچہ مسجد میں گنجائش ہو اور عید گاہ میں منبر بنانے یا منبر لے جانے میں حرج نہیں۔ (2) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۵: (۱۴) خوشی ظاہر کرنا
(۱۵) کثرت سے صدقہ دينا
(۱۶) عیدگاہ کو اطمينان و وقار اور نیچی نگاہ کيے جانا
(۱۷) آپس میں مبارک دینا مستحب ہے اور راستہ میں بلند آواز سے تکبیر نہ کہے۔ (3) (درمختار،ر دالمحتار)
مسئلہ ۶: نماز عید سے قبل نفل نماز مطلقاً مکروہ ہے، عیدگاہ میں ہو یا گھر میں اس پر عید کی نماز واجب ہو یا نہیں، یہاں تک کہ عورت اگر چاشت کی نماز گھر میں پڑھنا چاہے تو نماز ہو جانے کے بعد پڑھے اور نماز عید کے بعد عید گاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے، گھر میں پڑھ سکتا ہے بلکہ مستحب ہے کہ چار رکعتیں پڑھے۔ یہ احکام خواص کے ہیں، عوام اگر نفل پڑھیں اگرچہ نماز عید سے پہلے اگرچہ عیدگاہ میں انھيں منع نہ کیا جائے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: نماز کا وقت بقدر ایک نیزہ آفتاب بلند ہونے سے ضحوۂ کبریٰ یعنی نصف النہار شرعی تک ہے، مگر عیدالفطر میں دیر کرنا اور عيداضحی میں جلد پڑھ لینا مستحب ہے اور سلام پھیرنے کے پہلے زوال ہوگیا ہو تو نماز جاتی رہی۔ (5) (درمختار وغیرہ) زوال سے مراد نصف النہار شرعی ہے، جس کا بیان باب الاوقات میں گزرا۔
نماز عید کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت واجب عیدالفطر یا عيداضحی کی نیت کر کے کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے پھر ثنا پڑھے پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اللہ اکبر کہتا ہوا ہاتھ چھوڑ دے پھر ہاتھ اٹھائے اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ
1 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ص۱۱۹.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۴۹.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۵۵. وغيرہ
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۵۶.
4 ۔ المرجع السابق، ص۵۷ ۔ ۶۰.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۶۰، وغيرہ .
چھوڑ دے پھر ہاتھ اٹھائے اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے یعنی پہلی تکبیر میں ہاتھ باندھے، اس کے بعد دو تکبیروں میں ہاتھ لٹکائے پھر چوتھی تکبیر میں باندھ لے۔ اس کو یوں یاد رکھے کہ جہاں تکبیر کے بعد کچھ پڑھنا ہے وہاں ہاتھ باندھ ليے جائیں اورجہاں پڑھنا نہیں وہاں ہاتھ چھوڑ ديے جائیں، پھر امام اعوذ اور بسم اللہ آہستہ پڑھ کر جہر کے ساتھ الحمد اور سورت پڑھے پھر رکوع و سجدہ کرے، دوسری رکعت میں پہلے الحمد و سورت پڑھے پھر تین بار کان تک ہاتھ لے جا کر اللہ اکبر کہے اور ہاتھ نہ باندھے اور چوتھی بار بغیر ہاتھ اٹھائے اللہ اکبر کہتا ہوا رکوع میں جائے، اس سے معلوم ہوگیا کہ عیدین میں زائد تکبیریں چھ ہوئیں، تین پہلی ميں قراء ت سے پہلے اور تکبیر تحریمہ کے بعد اور تین دوسری میں قراء ت کے بعد، اور تکبیر رکوع سے پہلے اور ان چھوؤں تکبیروں میں ہاتھ اٹھائے جائیں گے اور ہر دو تکبیروں کے درمیان تین تسبیح کی قدر سکتہ کرے اور عیدین میں مستحب یہ ہے کہ پہلی میں سورۂ جمعہ اور دوسری میں سورۂ منافقون پڑھے یا پہلی میں
سَبِّحِ اسْمَ
اور دوسری میں
ھَلْ اَ تٰکَ ۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۸: امام نے چھ تکبیروں سے زیادہ کہیں تو مقتدی بھی امام کی پیروی کرے مگر تیرہ سے زیادہ میں امام کی پیروی نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: پہلی رکعت میں امام کے تکبیر کہنے کے بعد مقتدی شامل ہوا تو اسی وقت تین تکبیریں کہہ لے اگرچہ امام نے قراء ت شروع کر دی ہو اور تین ہی کہے، اگرچہ امام نے تین سے زیادہ کہی ہوں اور اگراس نے تکبیریں نہ کہیں کہ امام رکوع میں چلا گیا تو کھڑے کھڑے نہ کہے بلکہ امام کے ساتھ رکوع میں جائے اور رکوع میں تکبیر کہہ لے اور اگر امام کو رکوع میں پایا اور غالب گمان ہے کہ تکبیریں کہہ کر امام کو رکوع میں پا لے گا تو کھڑے کھڑے تکبیریں کہے پھر رکوع میں جائے ورنہ اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں جائے اور رکوع میں تکبیریں کہے پھر اگر اس نے رکوع میں تکبیریں پوری نہ کی تھیں کہ امام نے سر اٹھا لیا تو باقی ساقط ہوگئیں اور اگر امام کے رکوع سے اٹھنے کے بعد شامل ہوا تو اب تکبیریں نہ کہے بلکہ جب اپنی پڑھے اس وقت کہے اور رکوع میں جہاں تکبیر کہنا بتایا گیا، اس میں ہاتھ نہ اٹھائے اور اگر دوسری رکعت میں شامل ہوا تو پہلی رکعت کی تکبیریں اب نہ کہے بلکہ جب اپنی فوت شدہ پڑھنے کھڑا ہو اس وقت کہے اور دوسری رکعت کی تکبیریں اگر امام کے ساتھ پا جائے، فبہا ورنہ اس میں بھی وہی تفصیل ہے جو پہلی رکعت کے بارہ میں مذکور ہوئی۔ (3) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۶۱، وغيرہ .
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلب: أمر الخليفۃ... إلخ، ج۳، ص۶۳.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۵۱.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۶۴ ۔ ۶۶، وغيرہما .
مسئلہ ۱۰: جو شخص امام کے ساتھ شامل ہوا پھر سو گیا یا اس کا وضو جاتا رہا، اب جو پڑھے تو تکبیریں اتنی کہے جتنی امام نے کہیں، اگرچہ اس کے مذہب میں اتنی نہ تھیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: امام تکبیر کہنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو قیام کی طرف نہ لوٹے نہ رکوع میں تکبیر کہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: پہلی رکعت میں امام تکبیریں بھول گیا اور قراء ت شروع کر دی تو قراء ت کے بعد کہہ لے يا رکوع ميں اور قراء ت کا اعادہ نہ کرے۔ (3) (غنیہ، عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: امام نے تکبیراتِ زوائد میں ہاتھ نہ اٹھائے تو مقتدی اس کی پیروی نہ کرے بلکہ ہاتھ اٹھائے۔ (4) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۱۴: نماز کے بعد امام دو خطبے پڑھے اور خطبۂ جمعہ میں جو چیزیں سنت ہیں اس میں بھی سنت ہیں اور جو وہاں مکروہ یہاں بھی مکروہ صرف دو باتوں میں فرق ہے ایک یہ کہ جمعہ کے پہلے خطبہ سے پیشتر خطیب کا بیٹھنا سنت تھا اور اس میں نہ بیٹھنا سنت ہے دوسرے یہ کہ اس میں پہلے خطبہ سے پیشتر نو بار اور دوسرے کے پہلے سات بار اور منبر سے اترنے کے پہلے چودہ بار اللہ اکبر کہنا سنت ہے اور جمعہ میں نہیں۔ (5) (عالمگیری درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۱۵: عیدالفطر کے خطبہ میں صدقۂ فطر کے احکام کی تعلیم کرے، وہ پانچ باتيں ہیں:
(۱) کس پر واجب ہے؟ (۲) اور کس کے ليے؟ (۳) اور کب؟ (۴) اور کتنا؟ (۵) اور کس چیز سے؟۔
بلکہ مناسب یہ ہے کہ عید سے پہلے جو جمعہ پڑھے اس میں بھی یہ احکام بتا ديے جائیں کہ پیشتر سے لوگ واقف ہو جائیں اور عيداضحی کے خطبہ میں قربانی کے احکام اور تکبیرات تشریق کی تعلیم کی جائے۔ (6) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: امام نے نماز پڑھ لی اور کوئی شخص باقی رہ گیا خواہ وہ شامل ہی نہ ہوا تھا یا شامل تو ہوا مگر اس کی نماز فاسد ہوگئی تو اگر دوسری جگہ مل جائے پڑھ لے ورنہ نہیں پڑھ سکتا، ہاں بہتر یہ ہے کہ یہ شخص چار رکعت چاشت کی نماز پڑھے۔ (7) (درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۵۱.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلب: أمر الخليفۃ... إلخ، ج۳، ص۶۵.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۵۱.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق، ص۱۵۰، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۶۷، وغيرہما .
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۶۷.
مسئلہ ۱۷: کسی عذر کے سبب عید کے دن نماز نہ ہو سکی (مثلاً سخت بارش ہوئی یا ابر کے سبب چاند نہیں دیکھا گیا اور گواہی ایسے وقت گزری کہ نماز نہ ہو سکی یا ابر تھا اور نماز ایسے وقت ختم ہوئی کہ زوال ہو چکا تھا) تو دوسرے دن پڑھی جائے اور دوسرے دن بھی نہ ہوئی تو عیدالفطر کی نماز تیسرے دن نہیں ہو سکتی اور دوسرے دن بھی نماز کا وہی وقت ہے جو پہلے دن تھا یعنی ایک نیزہ آفتاب بلند ہونے سے نصف النہار شرعی تک اور بلاعذر عیدالفطر کی نماز پہلے دن نہ پڑھی تو دوسرے دن نہیں پڑھ سکتے۔ (1) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۱۸: عيداضحی تمام احکام میں عیدالفطر کی طرح ہے صرف بعض باتوں میں فرق ہے، اس میں مستحب یہ ہے کہ نماز سے پہلے کچھ نہ کھائے اگرچہ قربانی نہ کرے اور کھا لیا تو کراہت نہیں اور راستہ میں بلند آواز سے تکبیر کہتا جائے اور عيداضحی کی نماز عذر کی وجہ سے بارہویں تک بلا کراہت مؤخر کر سکتے ہیں، بارہویں کے بعد پھر نہیں ہو سکتی اور بلاعذر دسویں کے بعد مکروہ ہے۔ (2) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۱۹: قربانی کرنی ہو تو مستحب یہ ہے کہ پہلی سے دسویں ذی الحجہ تک نہ حجامت بنوائے، نہ ناخن ترشوائے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: عرفہ کے دن یعنی نویں ذی الحجہ کو لوگوں کا کسی جگہ جمع ہو کر حاجیوں کی طرح وقوف کرنا اور ذکر و دُعا میں مشغول رہنا صحیح يہ ہے کہ کچھ مضایقہ نہیں جبکہ لازم و واجب نہ جانے اور اگر کسی دوسری غرض سے جمع ہوئے، مثلاً نماز استسقا پڑھنی ہے، جب تو بلا اختلاف جائز ہے اصلاً حرج نہیں۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۱: بعد نمازِ عید مصافحہ (5) و معانقہ کرنا (6) جیسا عموماً مسلمانوں میں رائج ہے بہتر ہے کہ اس میں اظہارِ مسرّت ہے۔ (7) (وشاح الجید)
مسئلہ ۲۲: نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک ہر نماز فرض پنجگانہ کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۵۱،۱۵۲.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۶۸، وغيرہما .
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر في صلاۃ العيدين، ج۱، ص۱۵۲، وغيرہ .
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين مطلب في إزالۃ الشعر... إلخ، ج۳، ص۷۷.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۷۰، وغيرہ .
5 ۔ یعنی ہاتھ ملانا۔ 6 ۔ یعنی گلے ملنا۔
7 ۔ انظر: ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۸، ص۶۰۱.
گئی ایک بار تکبیر بلند آواز سے کہنا واجب ہے اور تین بار افضل اسے تکبیر تشریق کہتے ہیں، وہ یہ ہے:
اَللہُ اَکْبَرْ اَللہُ اَکْبَرْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرْ اَللہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ ؕ (1) (تنویر الابصار وغیرہ)
مسئلہ ۲۳: تکبیر تشریق سلام پھیرنے کے بعد فوراً واجب ہے یعنی جب تک کوئی ایسا فعل نہ کیا ہو کہ اس نماز پر بنا نہ کر سکے، اگر مسجد سے باہر ہوگیا یا قصداً وضو توڑ دیا یا کلام کیا اگرچہ سہواً تو تکبیر ساقط ہوگئی اور بلا قصد وضو ٹوٹ گیا تو کہہ لے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: تکبیر تشریق اس پر واجب ہے جو شہر میں مقیم ہو یا جس نے اس کی اقتدا کی اگرچہ عورت یا مسافر یا گاؤں کا رہنے والا اور اگر اس کی اقتدا نہ کریں تو ان پر واجب نہیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: نفل پڑھنے والے نے فرض والے کی اقتدا کی تو امام کی پیروی ميں اس مقتدی پر بھی واجب ہے اگرچہ امام کے ساتھ اس نے فرض نہ پڑھے اور مقیم نے مسافر کی اقتدا کی تو مقیم پر واجب ہے اگرچہ امام پر واجب نہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: غلام پر تکبیر تشریق واجب ہے اور عورتوں پر واجب نہیں اگرچہ جماعت سے نماز پڑھی، ہاں اگر مرد کے پیچھے عورت نے پڑھی اور امام نے اس کے امام ہونے کی نیت کی تو عورت پر بھی واجب ہے مگر آہستہ کہے۔ يوہيں جن لوگوں نے برہنہ نماز پڑھی ان پر بھی واجب نہیں، اگرچہ جماعت کریں کہ ان کی جماعت جماعتِ مستحبہ نہیں۔ (5) (درمختار، جوہرہ وغیرہما)
مسئلہ ۲۷: نفل و سنت و وتر کے بعد تکبیر واجب نہیں اور جمعہ کے بعد واجب ہے اور نماز عید کے بعد بھی کہہ لے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: مسبوق و لاحق پر تکبیر واجب ہے، مگر جب خود سلام پھیریں اس وقت کہیں اور امام کے ساتھ کہہ لی تو نماز فاسد نہ ہوئی اور نماز ختم کرنے کے بعد تکبیر کا اعادہ بھی نہیں۔ (7) (ردالمحتار)
1 ۔ ''تنوير الأبصار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۷۱، ۷۴، وغيرہ .
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلب: المختار أن الذبيح إسماعيل، ج۳، ص۷۳.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۷۴.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلب: المختار أن الذبيح إسماعيل، ج۳، ص۷۴.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۷۴.
و ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العيدين، ص۱۲۲، وغيرہما .
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلب: المختار أن الذبيح إسماعيل، ج۳، ص۷۳.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلب: کلمۃ لابأس قدتستعمل في المندوب، ج۳، ص۷۶.
مسئلہ ۲۹: اور دِنوں میں نماز قضا ہوگئی تھی ایّام تشریق میں اس کی قضا پڑھی تو تکبیر واجب نہیں۔ يوہيں ان دنوں کی نمازیں اور دنوں میں پڑھیں جب بھی واجب نہیں۔ يوہيں سال گذشتہ کے ایّام تشریق کی قضا نمازیں اس سال کے ایّام تشریق میں پڑھے جب بھی واجب نہیں، ہاں اگر اسی سال کے ایّام تشریق کی قضا نمازیں اسی سال کے انھيں دنوں میں جماعت سے پڑھے تو واجب ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: منفرد (2) پر تکبیر واجب نہیں۔ (3) (جوہرہ نیرہ) مگر منفرد بھی کہہ لے کہ صاحبین (4) کے نزدیک اس پر بھی واجب ہے۔
مسئلہ ۳۱: امام نے تکبیر نہ کہی جب بھی مقتدی پر کہنا واجب ہے اگرچہ مقتدی مسافر یا دیہاتی یا عورت ہو۔ (5) (درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: ان تاریخوں میں اگر عام لوگ بازاروں میں باعلان تکبیریں کہيں تو انہيں منع نہ کیا جائے۔ (6) (درمختار)
حدیث ۱: صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد کریم میں ایک مرتبہ آفتاب میں گہن لگا، مسجد میں تشریف لائے اور بہت طویل قیام و رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھی کہ میں نے کبھی ایسا کرتے نہ دیکھا اور یہ فرمایا: کہ ''اللہ عزوجل کسی کی موت و حیات کے سبب اپنی یہ نشانیاں ظاہر نہیں فرماتا، ولیکن ان سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، لہٰذا جب ان میں سے کچھ دیکھو تو ذکر و دُعا و استغفار کی طرف گھبرا کر اٹھو۔'' (7)
حدیث ۲: نیز انھیں میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ لوگوں نے عرض کی، یارسول اللہ ! ہم نے حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کو دیکھا کہ کسی چیز کے لینے کا قصد فرماتے ہیں پھر پیچھے ہٹتے دیکھا، فرمایا: ''میں نے جنت کو دیکھا اور اس سے ایک خوشہ لینا چاہا اورا گر لے لیتا تو جب تک دنیا باقی رہتی تم اس سے کھاتے اور دوزخ کو دیکھا اور آج کے مثل کوئی خوفناک منظر
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلب: المختار أن الذبيح إسماعيل، ج۳، ص۷۴.
2 ۔ يعنی تنہا نماز پڑھنے والے۔
3 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العيدين، ص۱۲۲.
4 ۔ فقۂ حنفی ميں امام ابو يوسف اور امام محمد رحمتہ اللہ تعالیٰ عليہما کو صاحبين کہتے ہيں۔
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلب: کلمۃ لابأس قدتستعمل في المندوب، ج۳، ص۷۶.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۷۵.
7 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الکسوف، باب الذکر في الکسوف، الحدیث: ۱۰۵۹، ج۱، ص۳۶۳.
کبھی نہ دیکھا اور میں نے دیکھا کہ اکثر دوزخی عورتیں ہیں، عرض کی، کیوں یارسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) ؟ فرمایا: کہ کفر کرتی ہیں، عرض کی گئی، اللہ (عزوجل) کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ فرمایا: ''شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان کا کفران کرتی ہیں، اگر تُو اس کے ساتھ عمر بھر احسان کرے پھر کوئی بات بھی (خلاف مزاج) دیکھے، کہے گی، میں نے کبھی کوئی بھلائی تم سے دیکھی ہی نہیں۔'' (1)
حدیث ۳: صحیح بخاری شریف میں حضرت اسما بنت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، فرماتی ہیں: ''حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے آفتاب گہنے میں غلام آزاد کرنے کا حکم فرمایا۔'' (2)
حدیث ۴: سُنن اربعہ میں سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں: ''حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے گہن کی نماز پڑھائی اور ہم حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کی آواز نہیں سنتے تھے۔'' (3) یعنی قراء ت آہستہ کی۔
سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور چاند گہن کی مستحب۔ سورج گہن کی نماز جماعت سے پڑھنی مستحب ہے اور تنہا تنہا بھی ہو سکتی ہے اور جماعت سے پڑھی جائے تو خطبہ کے سوا تمام شرائط جمعہ اس کے ليے شرط ہیں، وہی شخص اس کی جماعت قائم کر سکتا ہے جو جمعہ کی کر سکتا ہے، وہ نہ ہو تو تنہا تنہا پڑھیں، گھر میں یا مسجد میں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱: گہن کی نماز اسی وقت پڑھیں جب آفتاب گہنا ہو، گہن چھوٹنے کے بعد نہیں اور گہن چھوٹنا شروع ہوگیا مگر ابھی باقی ہے اس وقت بھی شروع کر سکتے ہیں اور گہن کی حالت میں اس پر ابر آجائے جب بھی نماز پڑھیں۔ (5) (جوہرۂ نیرہ)
مسئلہ ۲: ایسے وقت گہن لگا کہ اس وقت نماز ممنوع ہے تو نماز نہ پڑھیں، بلکہ دُعا میں مشغول رہیں اور اسی حالت میں ڈوب جائے تو دُعا ختم کر دیں اور مغرب کی نماز پڑھیں۔ (6) (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: یہ نماز اور نوافل کی طرح دو رکعت پڑھیں یعنی ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے کریں نہ اس میں اذان
1 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الکسوف، باب صلاۃ الکسوف جماعۃ، الحدیث: ۱۰۵۲، ج۱، ص۳۶۰.
2 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الکسوف، باب من أحب العتاقۃ في کسوف الشمس، الحدیث: ۱۰۵۴، ج۱، ص۳۶۲.
3 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب إقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا، باب ماجاء في صلاۃ الکسوف، الحدیث: ۱۲۶۴، ج۲، ص۹۳.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الکسوف، ج۳، ص۷۷ ۔ ۸۰.
5 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الکسوف، ص۱۲۴.
6 ۔ المرجع السابق، و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الکسوف، ج۳، ص۷۸.
ہے، نہ اقامت، نہ بلند آواز سے قراء ت اور نماز کے بعد دُعا کریں یہاں تک کہ آفتاب کھل جائے اور دورکعت سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں، خواہ دودورکعت پر سلام پھیریں یا چار پر۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: اگر لوگ جمع نہ ہوئے تو ان لفظوں سے پکاریں،
اَلصَّلٰوۃُ جَامِعَۃٌ۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۵: افضل یہ ہے کہ عید گاہ یا جامع مسجد میں اس کی جماعت قائم کی جائے اور اگر دوسری جگہ قائم کریں جب بھی حرج نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: اگر یاد ہو تو سورۂ بقرہ اور آل عمران کی مثل بڑی بڑی سورتیں پڑھیں اور رکوع و سجود میں بھی طول دیں اور بعد نماز دُعا میں مشغول رہیں یہاں تک کہ پورا آفتاب کھل جائے اور یہ بھی جائز ہے کہ نماز میں تخفیف کریں اور دُعا میں طول، خواہ امام قبلہ رُو دُعا کرے یا مقتدیوں کی طرف مونھ کر کے کھڑا ہو اور یہ بہتر ہے اور سب مقتدی آمین کہیں، اگر دُعا کے وقت عصا یا کمان پر ٹیک لگا کر کھڑا ہو تو یہ بھی اچھا ہے، دُعا کے ليے منبر پر نہ جائے۔ (4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۷: سورج گہن اور جنازہ کا اجتماع ہو تو پہلے جنازہ پڑھے۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۸: چاند گہن کی نماز میں جماعت نہیں، امام موجود ہو یا نہ ہو بہرحال تنہا تنہا پڑھیں۔ (6) (درمختار وغیرہ) امام کے علاوہ دو تین آدمی جماعت کرسکتے ہیں۔
مسئلہ ۹: تیز آندھی آئے یا دن میں سخت تاریکی چھا جائے یا رات میں خوفناک روشنی ہو یا لگاتار کثرت سے مينھ برسے یا بکثرت اولے پڑیں یا آسمان سُرخ ہو جائے یا بجلیاں گریں يا بکثرت تارے ٹوٹیں یا طاعون وغیرہ وبا پھیلے یا زلزلے آئیں یا دشمن کا خوف ہو یا اور کوئی دہشت ناک امر پایا جائے ان سب کے ليے دو رکعت نما زمستحب ہے۔ (7) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الکسوف، ج۳، ص۷۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الکسوف، ج۳، ص۷۹.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثامن عشر في صلاۃ الکسوف، ج۱، ص۱۵۳.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الکسوف، ج۳، ص۷۹.وغيرہ
5 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الکسوف، ص۱۲۴.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثامن عشر في صلاۃ الکسوف، ج۱، ص۱۵۳.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الکسوف، ج۳، ص۸۰، وغيرہ .
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثامن عشر في صلاۃ الکسوف، ج۱، ص۱۵۳.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الکسوف، ج۳، ص۸۰، وغيرہما .
چند حدیثیں جن میں آندھی وغیرہ کا ذکر ہے، اس موقع پر بیان کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ان پر عمل کریں (وباللہ التوفیق)۔
حدیث ۱: ام المومنين صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہما میں مروی، فرماتی ہیں: جب تیز ہوا چلتی تو حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) یہ دُعا پڑھتے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وَخَیْرَمَا فِیْھَا وَخَیْرَمَا اُرْسِلَتْ بِہٖ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّمَا فِیْھَا وَشَرِّمَا اُرْسِلَتْ بِہٖ . (1)
حدیث ۲: امام شافعی و ابو داود و ابن ماجہ و بيہقی نے دعوات کبیر میں روایت کی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''ہَوا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہے، رحمت و عذاب لاتی ہے، اسے بُرا نہ کہو اور اللہ (عزوجل) سے اس کے خیر کا سوال کرو اور اس کے شر سے پناہ مانگو۔'' (2)
حدیث ۳: ترمذی میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ ایک شخص نے حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کے سامنے ہوا پر لعنت بھیجی۔ فرمایا: ''ہوا پر لعنت نہ بھیجو کہ وہ مامور ہے اور جو شخص کسی شے پر لعنت بھیجے اور وہ لعنت کی مستحق نہ ہو تو وہ لعنت اسی بھیجنے والے پر لوٹ آتی ہے۔'' (3)
حدیث ۴: ابو داود و نسائی و ابن ماجہ و امام شافعی نے ام المومنين صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہتی ہیں: جب آسمان پر ابر آتا تو حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کلام ترک فرما دیتے اور اس کی طرف متوجہ ہو کر یہ دُعا پڑھتے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْہِ . (4)
اگر کھل جاتا حمد کرتے اور برستا تو یہ دُعا پڑھتے:
اَللّٰھُمَّ سَقْیاً نَّافِعًا ؕ (5)
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ الاستسقاء، باب التعوذ عند رؤیۃ الریح... إلخ، الحدیث: ۱۵۔(۸۹۹)، ص۴۴۶.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! میں تجھ سے اس کے خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس کے خیر کا جو اس میں ہے اور اس کے خیر کا جس کے ساتھ يہ بھیجی گئی اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے اور اس چیز کے شر سے جو اس میں ہے اور اس کے شر سے جس کے ساتھ يہ بھیجی گئی۔ ۱۲
2 ۔ ''مسند'' الإمام الشافعي، کتاب العیدین، ص۸۱.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب البر والصلۃ، باب ماجاء في اللعنۃ، الحدیث: ۱۹۸۵، ج۳، ص۳۹۴.
4 ۔ ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جو اس میں ہے۔ ۱۲
5 ۔ ''مسند'' الإمام الشافعي، کتاب العیدین، ص۸۱.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! ایسا پانی برسا جو نفع پہنچائے۔ ۱۲
حدیث ۵: امام احمد و ترمذی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) جب بادل کی گرج اور بجلی کی کڑک سنتے تو یہ کہتے:
اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ . (1)
حدیث ۶: امام مالک نے عبداللہ بن زبير رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) جب بادل کی آوز سنتے تو کلام ترک فرما دیتے اور کہتے:
سُبْحٰنَ الَّذِیْ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بَحَمْدِہٖ وَالْمَلٰئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ (2) اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیۡرٌ ؕ (3)
حدیث ۷: فرماتے ہیں: ''جب بادل کی گرج سُنو تو اللہ (عزوجل) کی تسبیح کرو، تکبیر نہ کہو۔'' (4)
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
(وَ مَاللہ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ وَ یَعْفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾ ) (5)
تمھيں جو مصيبت پہنچتی ہے، وہ تمھارے ہاتھوں کے کرتوت سے ہے اور بہت سی معاف فرما دیتا ہے۔
یہ قحط بھی ہمارے ہی معاصی کے سبب ہے، لہٰذا ایسی حالت میں کثرتِ استغفار کی بہت ضرورت ہے اور یہ بھی اس کا فضل ہے کہ بہت سے معاف فرما دیتا ہے، ورنہ اگر سب باتوں پر مؤاخذہ کرے تو کہاں ٹھکانہ۔
فرماتا ہے:
(وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوۡا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہۡرِہَا مِنۡ دَاللہبَّۃٍ ) (6)
اگر لوگوں کو ان کے فعلوں پر پکڑتا تو زمین پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا۔
1 ۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الدعوات، باب ما یقول إذا سمع الرعد، الحدیث: ۳۴۶۱، ج۵، ص۲۸۰.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! اپنے غضب سے تو ہم کو قتل نہ کر اور اپنے عذاب سے ہم کو ہلاک نہ کر اور اس سے قبل ہم کو عافیت میں رکھ۔ ۱۲
2 ۔ ''الموطأ'' لإمام مالک، کتاب الکلام، باب القول إذا سمعت الرعد، الحدیث: ۱۹۲۰، ج۲، ص۴۷۰.
3 ۔ ترجمہ: پاک ہے وہ کہ حمد کے ساتھ رعد اس کی تسبیح کرتا ہے اور فرشتے اس کے خوف سے، بے شک اللہ (عزوجل) ہر چیز پر قادر ہے۔ ۱۲
4 ۔ ''مراسيل أبي داود'' مع ''سنن أبي داود''، باب ماجاء في المطر، ص۲۰.
5 ۔ پ۲۵، الشورٰی: ۳۰.
6 ۔ پ۲۲، فاطر: ۴۵.
اور فرماتا ہے:
( اسْتَغْفِرُوۡا رَبَّکُمْ ۟ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ﴿ۙ۱۰﴾ یُّرْسِلِ السَّمَاللہءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدْرَارًا ﴿ۙ۱۱﴾وَّ یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ یَجْعَلۡ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلۡ لَّکُمْ اَنْہٰرًا ﴿ؕ۱۲﴾ ) (1)
اپنے رب (عزوجل) سے استغفار کرو، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے، مُوسلادھار پانی تم پر بھیجے گا اور مالوں اور بیٹوں سے تمھاری مدد کریگا اور تمھيں باغ دے گا اور تمھيں نہریں دے گا۔
حدیث ۱: ابن ماجہ کی روایت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو لوگ ناپ اور تول میں کمی کرتے ہیں، وہ قحط اور شدت موت میں اور ظلم بادشاہ میں گرفتار ہوتے ہیں، اگر چوپائے نہ ہوتے تو ان پر بارش نہ ہوتی۔'' (2)
حدیث ۲: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''قحط اسی کا نام نہیں کہ بارش نہ ہو، بڑا قحط تو یہ ہے کہ بارش ہو اور زمین کچھ نہ اُگائے۔'' (3)
حدیث ۳: صحيحين میں ہے، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، ''حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کسی دُعا میں اس قدر ہاتھ نہ اٹھاتے جتنا استسقا میں اٹھاتے، یہاں تک بلند فرماتے کہ بغلوں کی سپیدی ظاہر ہوتی۔'' (4)
حدیث ۴: صحیح مسلم شریف میں انہيں سے مروی، کہ ''حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے بارش کے ليے دُعا کی اور پشتِ دست سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔'' (5) (یعنی اور دعاؤں میں تو قاعدہ یہ ہے کہ ہتھیلی آسمان کی طرف ہو، اور اس میں ہاتھ لوٹ دیں کہ حال بدلنے کی فال ہو)۔
حدیث ۵: سُنن اربعہ میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہتے ہیں: ''رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پرانے کپڑے پہن کر استسقا کے ليے تشریف لے گئے تواضع و خشوع و تضرع کے ساتھ۔'' (6)
1 ۔ پ۲۹، نوح: ۱۰ ۔ ۱۲.
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الفتن، باب العقوبات، الحدیث: ۴۰۱۹، ج۴، ص۳۶۷.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب في سکنی المدينۃ... إلخ، الحديث: ۲۹۰۴، ص۱۵۵۳.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الاستسقاء، باب رفع الإمام يدہ في الإستسقاء، الحديث: ۱۰۳۱، ج۱، ص۳۵۲.
5 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ الإستسقاء، باب رفع اليدين بالدعاء في الإستسقاء، الحديث: ۸۹۶، ص۴۴۴.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب السفر، باب ماجاء في صلاۃ الإستسقاء، الحديث: ۵۵۸، ج۲، ص۸۰.
و ''سنن ابن ماجہ''، أبواب إقامۃ الصلاۃ... إلخ، باب ماجاء في صلاۃ الإستسقاء، الحديث: ۱۲۶۶، ج۲، ص۹۴.
حدیث ۶: ابو داود نے ام المومنين صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہتی ہیں: لوگوں نے حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کی خدمت میں قحط باراں کی شکایت پیش کی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے منبر کے ليے حکم فرمایا، عیدگاہ میں رکھا گیا اور لوگوں سے ایک دن کا وعدہ فرمایا کہ اس روز سب لوگ چلیں، جب آفتاب کا کنارہ چمکا، اس وقت حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) تشریف لے گئے اور منبر پر بیٹھے، تکبیر کہی اور حمد الٰہی بجا لائے، پھر فرمایا: ''تم لوگوں نے اپنے ملک کے قحط کی شکایت کی اور یہ کہ مينھ اپنے وقت سے مؤخر ہوگیا اور اللہ عزوجل نے تمھيں حکم دیا ہے کہ اس سے دُعا کرو اور اس نے وعدہ کر لیا ہے کہ تمھاری دُعا قبول فرمائے گا۔'' اس کے بعد فرمایا:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ اللہُ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اَنْتَ الْغَنِیُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ اَنْزِلْ عَلَیْنَا الْغَیْثَ وَاجْعَلْ مَا اَنْزَلْتَ قُوَّۃً وَّ بَلَاغًا اِلٰی حِیْنٍ o (1)
پھر ہاتھ بلند فرمایا یہاں تک کہ بغل کی سپیدی ظاہر ہوئی پھر لوگوں کی طرف پشت کی اور ردائے مبارک لوٹ دی پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر سے اوتر کر دورکعت نماز پڑھی، اللہ تعالیٰ نے اسی وقت ابر پیدا کیا، وہ گرجا اور چمکا اور برسا۔ اور حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) ابھی مسجد کو تشریف بھی نہ لائے تھے کہ نالے بہہ گئے۔ (2)
حدیث ۷: امام مالک و ابو داود بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) استسقا کی دُعا میں یہ کہتے:
اَللّٰھُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَ بَھِیْمَتَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَاَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ . (3)
حدیث ۸: سنن ابو داود میں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ہاتھ اٹھا کر یہ دُعا کی:
اَللّٰھُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُّغِیْثًا مَّرِیْأً مَّرِیْعاً نَّافِعاً غَیْرَ ضَارٍّ عَاجِلاً غَيْرَ اٰجِلٍ . (4)
1 ۔ ترجمہ: حمد ہے اللہ (عزوجل) کے ليے جو رب ہے سارے جہان کا رحمن و رحیم ہے قیامت کے دن کا مالک ہے اللہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے یا اللہ (عزوجل) ! تو ہی معبود ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو غنی ہے اور ہم محتاج ہیں ہم پر مينھ اوتار اور جو کچھ تو اوتارے، اوسے ہمارے ليے قوت اور ایک وقت تک پہنچنے کا سبب کر دے۔ ۱۲
2 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب صلاۃ الإستسقاء، باب رفع اليدين في الإستسقاء، الحديث: ۱۱۷۳، ج۱، ص۴۳۱.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب صلاۃ الإستسقاء، باب رفع اليدين في الإستسقاء، الحديث: ۱۱۷۶، ج۱، ص۴۳۲.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! تو اپنے بندوں اور چوپایوں کو سیراب کر اور اپنی رحمت کو پھیلا اور اپنے شہرِمردہ کو زندہ کر۔ ۱۲
4 ۔ ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! ہم کو سیراب کر پوری بارش سے، جو خوشگوار تازگی لانے والی ہو، نافع ہو، ضرر نہ کرے، جلد ہو، دیر میں نہ ہو۔ ۱۲
حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے يہ دُعا پڑھی تھی کہ آسمان گھِر آیا۔ (1)
حدیث ۹: صحیح بخاری شریف میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں: لوگ جب قحط میں مبتلا ہوتے تو امیر المومنین فاروقِ اعظم حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے توسّل سے طلبِ باراں کرتے، عرض کرتے، اے اللہ (عزوجل) ! تیری طرف ہم اپنے نبی کا وسیلہ کیا کرتے تھے اور تو برساتا تھا، اب ہم تیری طرف نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عم مکرم کو وسیلہ کرتے ہیں تو بارش بھیج۔ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: جب یوں کرتے تو بارش ہوتی (2) یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیاتِ ظاہری میں حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) آگے ہوتے اور ہم حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کے پیچھے صفیں باندھ کر دُعا کرتے۔ اب کہ یہ میّسر نہیں حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کے چچا کو آگے کر کے دُعا کرتے ہیں یہ بھی تو سّل حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) سے ہے صورۃً میسر نہیں تو معنیً۔
استسقا دُعا و استغفار کا نام ہے۔ استسقا کی نماز جماعت سے جائز ہے، مگر جماعت اس کے ليے سنت نہیں، چاہیں جماعت سے پڑھیں یا تنہا تنہا دونوں طرح اختیار ہے۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱: استسقا کے ليے پرانے یا پیوند لگے کپڑے پہن کر تذلّل و خشوع و خضوع و تواضع کے ساتھ سَر برہنہ پیدل جائیں اور پا برہنہ ہوں تو بہتر اور جانے سے پیشتر خیرات کریں۔ کفّار کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں کہ جاتے ہیں رحمت کے ليے اور کافر پر لعنت اترتی ہے۔ تین دن پیشتر سے روزے رکھیں اور توبہ و استغفار کریں پھر میدان میں جائیں اور وہاں توبہ کریں اور زبانی توبہ کافی نہیں بلکہ دل سے کریں اور جن کے حقوق اس کے ذمہ ہیں سب ادا کرے یا معاف کرائے، کمزوروں، بُوڑھوں، بُڑھيوں بچوں کے توسّل سے دُعا کرے اور سب آمین کہیں۔ کہ صحیح بخاری شریف میں ہے، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''تمھيں روزی اور مدد کمزوروں کے ذریعہ سے ملتی ہے۔'' (4) اور ایک روایت میں ہے، ''اگر جوان خشوع کرنے والے اور چوپائے چرنے والے اور بوڑھے رکوع کرنے والے اور بچے دودھ پینے والے نہ ہوتے تو تم پر شدّت سے عذاب کی بارش ہوتی۔'' (5) اس وقت بچے اپنی ماؤں سے جدا رکھے جائیں اور مویشی بھی ساتھ لے جائیں۔ غرض یہ کہ توجہ رحمت کے
1 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب صلاۃ الإستسقاء، باب رفع اليدين في الإستسقاء، الحديث: ۱۱۶۹، ج۱، ص۴۳۰.
2 ۔ ''صحيح البخاري''، أبواب الإستسقاء، باب سؤال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا، الحديث: ۱۰۱۰، ج۱،ص۳۴۶.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الإستسقاء، ج۳، ص۸۱ ۔۸۳.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الجہاد، باب من استعان بالضعفاء... إلخ، الحدیث: ۲۸۹۶، ج۲، ص۲۸۰.
5 ۔ ''السنن الکبری''، کتاب صلاۃ الإستسقاء، باب استحباب الخروج بالضعفاء... إلخ، الحدیث: ۶۳۹۰، ج۳، ص۴۸۱.
تمام اسباب مہیّا کریں اور تین دن متواتر جنگل کو جائیں اور دُعا کریں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امام دو رکعت جہر کے ساتھ نماز پڑھائے اور بہتر یہ ہے کہ پہلی میں
سَبِّحِ اسْمَ
اور دوسری میں
ھَلْ اَ تٰکَ
پڑھے اور نماز کے بعد زمین پر کھڑا ہو کر خطبہ پڑھے اور دونوں خطبوں کے درمیان جلسہ کرے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی خطبہ پڑھے اور خطبہ میں دُعا و تسبیح و استغفار کرے اور اثنائے خطبہ میں چادر لوٹ دے یعنی اوپر کا کنارہ نیچے اور نیچے کا اوپر کر دے کہ حال بدلنے کی فال ہو، خطبہ سے فارغ ہو کر لوگوں کی طرف پیٹھ اور قبلہ کو مونھ کر کے دُعا کرے۔ بہتر وہ دُعائیں ہيں جو احادیث میں وارد ہیں اور دُعا میں ہاتھوں کو خوب بلند کرے اور پشتِ دست جانب آسمان (1) رکھے۔ (2) (عالمگیری، غنیہ، درمختار، جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۲: اگر جانے سے پیشتر بارش ہوگئی، جب بھی جائیں اور شکر الٰہی بجا لائیں اور مينھ کے وقت حدیث میں جودُعا ارشاد ہوئی پڑھے اور بادل گرجے تو اس کی دُعا پڑھے اور بارش میں کچھ دیر ٹھہرے کہ بدن پر پانی پہنچے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: کثرت سے بارش ہو کہ نقصان کرنے والی معلوم ہو تو اس کے روکنے کی دُعا کر سکتے ہیں اور اس کی دُعا حدیث میں یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا اَللّٰھُمَّ عَلَی الْاٰکَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُوْنِ الْاَوْدِیَۃِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ . (4)
اس حدیث کو بخاری و مسلم نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
1 ۔ یعنی اور دعاؤں میں تو قاعدہ یہ ہے کہ ہتھیلی آسمان کی طرف ہو، اور اس میں ہاتھ لوٹ دیں کہ حال بدلنے کی فال ہو۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع عشر في الإستسقاء، ج۱، ص۱۵۳ ۔ ۱۵۴.
و ''غنیۃ المتملي ''، صلاۃ الإستسقاء، ۴۲۷ ۔ ۴۳۰.
و ''الدرالمختار'' ، کتاب الصلاۃ، باب الإستسقاء، ج۳، ص۸۳ ۔ ۸۵.
و ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الإستسقاء، ص۱۲۴ ۔ ۱۲۵.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإستسقاء، ج۳، ص۸۵.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الإستسقاء، باب الاستسقاء في المساجد الجامع، الحدیث: ۱۰۱۳، ج۱، ص۳۴۷.
و ''صحيح مسلم''، کتاب صلاۃ الإستسقاء، الحديث:۸۔(۸۹۷)،۹۔(۸۹۷)، ص۴۴۴،۴۴۵.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! ہمارے آس پاس برسا، ہمارے اوپر نہ برسا۔ اے اللہ (عزوجل) ! بارش کر ٹیلوں اور پہاڑيوں پر اور نالوں میں اور جہاں درخت اوگنے ہیں۔ ۱۲
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
(فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا ۚ فَاِذَاللہ اَمِنۡتُمْ فَاذْکُرُوا اللہَ کَمَا عَلَّمَکُمۡ مَّا لَمْ تَکُوۡنُوۡا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۳۹﴾ )
اگر تمھيں خوف ہو تو پیدل یا سواری پر نماز پڑھو پھر جب خوف جاتا رہے تو اللہ (عزوجل) کو اس طرح یاد کرو جیسا اُس نے سکھایا وہ کہ تم نہیں جانتے تھے۔
اور فرماتا ہے:
( وَ اِذَا کُنۡتَ فِیۡہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَاللہئِفَۃٌ مِّنْہُمۡ مَّعَکَ وَلْیَاللہخُذُوۡۤا اَسْلِحَتَہُمْ ۟ فَاِذَا سَجَدُوۡا فَلْیَکُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَاللہئِکُمْ ۪ وَلْتَاللہتِ طَاللہئِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوۡا فَلْیُصَلُّوۡا مَعَکَ وَلْیَاللہخُذُوۡا حِذْرَہُمْ وَاَسْلِحَتَہُمْ ۚ وَدَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوْ تَغْفُلُوۡنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَاَمْتِعَتِکُمْ فَیَمِیۡلُوۡنَ عَلَیۡکُمْ مَّیۡلَۃً وَّاحِدَۃً ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ اِنۡ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِّنۡ مَّطَرٍ اَوْکُنۡتُمۡ مَّرْضٰۤی اَنۡ تَضَعُوۡۤا اَسْلِحَتَکُمْ ۚ وَخُذُوۡا حِذْرَکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ اَعَدَّ لِلْکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۱۰۲﴾فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِکُمْ ۚ فَاِذَا اطْمَاللہنَنۡتُمْ فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ ۚ اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوْقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾ ) (2)
اور جب تم ان میں ہو اور نماز قائم کرو تو ان میں کا ایک گروہ تمھارے ساتھ کھڑا ہو اور انھيں چاہيے کہ اپنے ہتھیار ليے ہوں پھر جب ایک رکعت کا سجدہ کر لیں تو وہ تمھارے پیچھے ہوں اور اب دوسرا گروہ آئے، جس نے تمھارے ساتھ نہ پڑھی تھی، وہ تمھارے ساتھ پڑھے اور اپنی پناہ اور اپنے ہتھیار ليے رہيں، کافروں کی تمنا ہے کہ کہیں تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے اسباب سے غافل ہو جاؤ، تو ایک ساتھ تم پر جھک پڑیں اور تم پر کچھ گناہ نہیں، اگر تمھيں مينھ سے تکلیف ہو یا بیمار ہو کہ اپنے ہتھیار رکھ دو، مگر پناہ کی چیز ليے رہو، بیشک اللہ (عزوجل) نے کافروں کے ليے ذلّت کا عذاب طیار کر رکھا ہے، پھر جب نماز پوری کر چکو تو اللہ (عزوجل) کو یاد کرو، کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے، پھر جب اطمینان سے ہو جاؤ تو نماز حسب دستور قائم کرو، بیشک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔
حدیث ۱: ترمذی و نسائی میں بروایت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عسفان و ضجنان
1 ۔ پ۲، البقرۃ: ۲۳۹.
2 ۔ پ۵، النسآء: ۱۰۲ ۔ ۱۰۳.
کے درمیان اترے، مشرکین نے کہا ان کے ليے ايک نماز ہے جو باپ اور بیٹوں سے بھی زیادہ پیاری ہے اور وہ نماز عصر ہے، لہٰذا سب کام ٹھیک رکھو، جب نماز کو کھڑے ہوں ایک دم حملہ کرو، جبریل علیہ الصلوۃ والسلام نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) اپنے اصحاب کے دو حصے کریں ایک گروہ کے ساتھ نماز پڑھیں اور دوسرا گروہ ان کے پیچھے سپر اوراسلحہ ليے کھڑا رہے تو ان کی ایک ایک رکعت ہوگی (یعنی حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کے ساتھ) اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دو رکعتیں۔ (1)
حدیث ۲: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ گئے جب ذات الرقاع میں پہنچے، ایک سایہ دار درخت حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کے ليے چھوڑ دیا، اس پر حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے اپنی تلوار لٹکا دی تھی، ایک مشرک آیا اور تلوار لے لی اور کھینچ کر کہنے لگا، آپ مجھ سے ڈرتے ہیں فرمایا: ''نہ''، اس نے کہا تو آپ کو کون مجھ سے بچائے گا،فرمایا: ''اللہ (عزوجل)''، صحابۂ کرام نے جب دیکھا تو اسے ڈرایا، اس نے میان میں تلوار رکھ کر لٹکا دی، اس کے بعد اذان ہوئی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) نے ایک گروہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی پھر یہ پیچھے ہٹا اور دوسرے گروہ کے ساتھ دو رکعت پڑھی تو حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کی چار ہوئیں اور لوگوں کی دو دو یعنی حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) کے ساتھ۔ (2)
نمازِ خوف جائز ہے، جبکہ دشمنوں کا قریب میں ہونا یقین کے ساتھ معلوم ہو اور اگر یہ گمان تھا کہ دشمن قریب میں ہیں اور نماز خوف پڑھی، بعد کو گمان کی غلطی ظاہر ہوئی تو مقتدی نماز کا اعادہ کریں۔ يوہيں اگر دشمن دور ہوں تو یہ نماز جائز نہیں یعنی مقتدی کی نہ ہوگی اور امام کی ہوجائے گی۔
نمازِ خوف کا طریقہ یہ ہے کہ جب دشمن سامنے ہوں اور یہ اندیشہ ہو کہ سب ایک ساتھ نماز پڑھیں گے تو حملہ کر دیں گے، ایسے وقت امام جماعت کے دو حصے کرے، اگر کوئی اس پر راضی ہو کہ ہم بعدکو پڑھ لیں گے تو اسے دشمن کے مقابل کرے اور دوسرے گروہ کے ساتھ پوری نماز پڑھ لے، پھر جس گروہ نے نماز نہیں پڑھی اس میں کوئی امام ہو جائے اور یہ لوگ اس کے ساتھ باجماعت پڑھ لیں اور اگر دونوں میں سے بعد کو پڑھنے پر کوئی راضی نہ ہو تو امام ایک گروہ کو دشمن کے مقابل کرے اور دوسرا امام کے پیچھے نماز پڑھے، جب امام اس گروہ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ چکے یعنی پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے سر اوٹھائے تو یہ
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب تفسير القرآن، باب ومن سورۃ النساء، الحديث: ۳۰۴۶، ج۵، ص۲۷.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب فضائل القرآن وما يتعلق بہ، باب صلاۃ الخوف، الحديث: ۸۴۳، ص۴۲۰.
لوگ دشمن کے مقابل چلے جائیں اور جو لوگ وہاں تھے وہ چلے آئیں اب ان کے ساتھ امام ایک رکعت پڑھے اور تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے، مگر مقتدی سلام نہ پھیریں بلکہ یہ لوگ دشمن کے مقابل چلے جائیں یا یہیں اپنی نماز پوری کر کے جائیں اور وہ لوگ آئیں اور ایک رکعت بغیر قراء ت پڑھ کر تشہدکے بعد سلام پھیریں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ گروہ یہاں نہ آئے بلکہ وہیں اپنی نماز پوری کر لے اور دوسرا گروہ اگر نماز پوری کر چکا ہے، فبہا، ورنہ اب پوری کرے، خواہ وہیں یا یہاں آکر اور یہ لوگ قراء ت کے ساتھ اپنی ایک رکعت پڑھیں اور تشہد کے بعد سلام پھیریں۔ یہ طریقہ دو رکعت والی نماز کا ہے خواہ نماز ہی دورکعت کی ہو، جیسے فجر و عید و جمعہ یا سفر کی وجہ سے چار کی دو ہوگئیں اور چار رکعت والی نماز ہو تو ہر گروہ کے ساتھ امام دو دو رکعت پڑھے اور مغرب میں پہلے گروہ کے ساتھ دو اور دوسرے گروہ کے ساتھ ایک پڑھے، اگر پہلے کے ساتھ ایک پڑھی اور دوسرے کے ساتھ دو تو نماز جاتی رہی۔ (1) (درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۱: یہ سب احکام اس صورت میں ہیں جب امام و مقتدی سب مقیم ہوں یا سب مسافر یا امام مقیم ہے اور مقتدی مسافر اور اگر امام مسافر ہو اور مقتدی مقیم تو امام ایک گروہ کے ساتھ ایک رکعت پڑھے اور دوسرے کے ساتھ ایک پڑھ کر سلام پھیر دے، پھر پہلا گروہ آئے اور تین رکعتیں بغیر قراء ت کے پڑھے پھر دوسرا گروہ آئے اور تین پڑھے، پہلی میں فاتحہ و سورت پڑھے اور اگر امام مسافر ہے اور مقتدی بعض مقیم ہیں بعض مسافر تو مقیم مقیم کے طریقہ پر عمل کریں اور مسافر مسافر کے۔ (2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲: ایک رکعت کے بعد دشمن کے مقابل جانے سے مراد پیدل جانا ہے، سواری پر جائیں گے تو نماز جاتی رہے گی۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: اگر خوف بہت زیادہ ہو کہ سواری سے اتر نہ سکیں تو سواری پر تنہا تنہا اشارہ سے، جس طرف بھی مونھ کرسکیں اسی طرف نماز پڑھیں، سواری پر جماعت سے نہیں پڑھ سکتے، ہاں اگر ایک گھوڑے پر دو سوار ہوں تو پچھلا اگلے کی اقتدا کرسکتا ہے اور سواری پر فرض نماز اسی وقت جائز ہوگی کہ دشمن ان کا تعاقب کر رہے ہوں اور اگر یہ دشمن کے تعاقب میں ہوں تو سواری پر نماز نہیں ہوگی۔ (4) (جوہرہ، درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الخوف، ج۳، ص۸۶ ۔ ۸۸.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب العشرون في صلاۃ الخوف، ج۱، ص۱۵۴۔۱۵۵، وغيرہما.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب العشرون في صلاۃ الخوف، ج۱، ص۱۵۵، وغيرہ .
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الخوف، ج۳، ص۸۷.
4 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الخوف، ص۱۳۰.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الخوف، ج۳، ص۸۸.
مسئلہ ۴: نماز خوف میں صرف دشمن کے مقابل جانا اور وہاں سے امام کے پاس صف میں آنا یا وضو جاتا رہا تو وضو کے ليے چلنا معاف ہے، اس کے علاوہ چلنا نماز کو فاسد کر دے گا، اگر دشمن نے اسے دوڑایا یا اس نے دشمن کو بھگایا تو نماز جاتی رہی، البتہ پہلی صورت میں اگر سواری پر ہو تو معاف ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: سواری پر نہیں تھا اثنائے نماز میں سوار ہوگیا نماز جاتی رہی، خواہ کسی غرض سے سوار ہوا ہو اور لڑنا بھی نماز کو فاسد کر دیتا ہے، مگر ایک تیر پھینکنے کی اجازت ہے۔ (2) (درمختار) يوہيں آج کل بندوق کا ایک فیر کرنے کی اجازت ہے۔
مسئلہ ۶: دریا میں تیرنے والا اگر کچھ دیر بغیر اعضا کو حرکت ديے رہ سکے تو اشارہ سے نماز پڑھے، ور نہ نماز نہ ہوگی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۷: جنگ میں مشغول ہے، مثلاً تلوار چلا رہا ہے اور وقت نماز ختم ہونا چاہتا ہے تو نماز کو مؤخر کرے، لڑائی سے فارغ ہو کر نماز پڑھے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: باغیوں اور اس شخص کے ليے جس کا سفر کسی معصیت کے ليے ہو صلاۃ الخوف جائز نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۹: نماز خوف ہو رہی تھی، اثنائے نماز میں خوف جاتا رہا یعنی دشمن چلے گئے تو جو باقی ہے وہ امن کی سی پڑھیں، اب خوف کی پڑھنا جائز نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: دشمنوں کے چلے جانے کے بعد کسی نے قبلہ سے سینہ پھیرا، نماز جاتی رہی۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: نمازِ خوف میں ہتھیار ليے رہنا مستحب ہے اور خوف کا اثر صرف اتنا ہے کہ ضرورت کے ليے چلنا جائز ہے، باقی محض خوف سے نماز میں قصر نہ ہوگا۔ (8) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۲: نمازِ خوف جس طرح دشمن سے ڈر کے وقت جائز ہے۔ يوہيں درندہ اور بڑے سانپ وغيرہ سے خوف ہو جب بھی جائز ہے۔ (9) (درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الخوف، ج۳، ص۸۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الخوف، ج۳، ص۸۸.
3 ۔ المرجع السابق، ص۸۹. 4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الخوف، ج۳، ص۸۹.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الخوف، ج۳، ص۸۹.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب العشرون في صلاۃ الخوف، ج۱، ص۱۵۶.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب العشرون في صلاۃ الخوف، ج۱، ص۱۵۶.
8 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الخوف، ج۳، ص۸۸.
9 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الخوف، ج۳، ص۸۶.
بیماری بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کے منافع بے شمار ہيں، اگرچہ آدمی کو بظاہر اس سے تکلیف پہنچتی ہے مگر حقیقۃً راحت و آرام کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہاتھ آتا ہے۔ یہ ظاہری بیماری جس کو آدمی بیماری سمجھتا ہے، حقیقت میں روحانی بیماریوں کا ایک بڑا زبردست علاج ہے حقیقی بیماری امراض روحانیہ ہيں کہ یہ البتہ بہت خوف کی چیز ہے اور اسی کو مرض مہلک سمجھنا چاہيے۔ بہت موٹی سی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہی غافل ہو مگر جب مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو کس قدر خداکو یاد کرتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے اور یہ تو بڑے رتبہ والوں کی شان ہے کہ تکلیف کا بھی اسی طرح استقبال کرتے ہیں جیسے راحت کا۔
r ع انچہ از دوست میر سد نیکوست (1) rمگر ہم جیسے کم سے کم اتنا تو کریں کہ صبر و استقلال سے کام لیں اور جزع و فزع کرکے آتے ہوئے ثواب کو ہاتھ سے نہ دیں اور اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ بے صبری سے آئی ہو ئی مصیبت جاتی نہ رہے گی پھر اس بڑے ثواب سے محرومی دوہری مصیبت ہے۔ بہت سے نادان بیماری میں نہایت بے جا کلمے بول اٹھتے ہیں بلکہ بعض کفر تک پہنچ جاتے ہیں معاذ اللہ۔ اللہ عزوجل کی طرف ظلم کی نسبت کر دیتے ہیں، یہ تو بالکل ہی
خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ
کے مصداق (2) بن جاتے ہیں، اب ہم اس کے بعض فوائد جو احادیث میں وارد ہیں بیان کرتے ہیں کہ مسلمان اپنے پیارے اور برگزیدہ رسول کے ارشادات بگوش دل سنیں اور ان پر عمل کریں، اللہ عزوجل توفیق عطا فرمائے۔
حدیث ۱،۲: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوہریرہ و ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''مسلمان کو جو تکلیف و ہم وحزن و اذیت و غم پہنچے، یہاں تک کہ کانٹا جو اس کے چُبھے، اللہ تعالیٰ ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔'' (3)
حدیث ۳: صحیحین میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''مسلمان کو جو اذیت پہنچتی ہے مرض ہو یا اس کے سوا کچھ اور، اللہ تعالیٰ اس کے سیّآت کو گرا دیتا ہے، جیسے درخت سے پتے
1 ۔ يعنی وہ چيز جو دوست کی طرف سے پہنچتی ہے، اچھی ہوتی ہے۔
2 ۔ يعنی دنیا و آخرت ميں نقصان اٹھانے والوں کی طرح۔
3 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب المرضی، باب ماجاء في کفارۃ المرض... إلخ، الحديث ۵۶۴۱، ج۴، ص۳.
جھڑتے ہیں۔'' (1)
حدیث ۴ و ۵: صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ام السائب کے پاس تشریف لے گئے، فرمایا: ''تجھے کیا ہوا ہے جو کانپ رہی ہے؟ عرض کی، بخار ہے، خدا اس میں برکت نہ کرے، فرمایا: ''بخار کو برا نہ کہہ کہ وہ آدمی کی خطاؤں کو اس طرح دور کرتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے مَیل کو۔'' (2) اسی کے مثل سنن ابن ماجہ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی۔
حدیث ۶: صحیح بخاری شریف میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ''جب اپنے بندہ کی آنکھیں لے لوں پھر وہ صبر کرے، تو آنکھوں کے بدلے اسے جنت دوں گا۔'' (3)
حدیث ۷: ترمذی شریف میں ہے، امیہ نے صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ان دو آیتوں کا مطلب دریافت کیا:
( وَ اِنۡ تُبْدُوۡا مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوۡہُ یُحَاسِبْکُمۡ بِہِ اللہُ ؕ ) (4)
جو تمھارے نفس میں ہے اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ۔ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ اور
(مَنۡ یَّعْمَلْ سُوۡٓءًا یُّجْزَ بِہٖ ۙ ) (5)
جو کسی قسم کی برائی کریگا اس کا بدلہ دیا جائے گا۔
(کہ جب ہر برائی کی جزا ہے اور جو خطرہ دل میں گزرے اس کا بھی حساب ہے تو بڑی مشکل ہے کہ اس سے کون بچے گا۔)
صدیقہ نے فرمایا: جب سے میں نے اس کا سوال حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) سے کیا کسی نے بھی مجھ سے نہ پوچھا، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اس سے مراد عتاب ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر کرتا ہے کہ اسے بخار اور تکلیف پہنچاتا ہے، یہاں تک کہ مال جو کُرتے کی آستین میں ہو اور گم جائے اور اس کی وجہ سے گھبرا جائے، ان اُمور کی وجہ سے گناہوں سے ایسا نکل جاتا ہے جیسے بھٹی سے سرخ سونا نکلتا ہے۔'' (6) (یعنی گناہوں سے ایسا پاک صاف ہو جاتا ہے جیسا بھٹی سے سونا مَیل
1 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب المرضی، باب وضع اليد علی المریض، الحديث: ۵۶۶۰، ج۴، ص۹.
2 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب البر... إلخ، باب ثواب المؤمن فيما يصيبہ من مرض... إلخ، الحديث: ۲۵۷۵، ص۱۳۹۲.
3 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب المرضی، باب فضل من ذھب بصرہ، الحديث: ۵۶۵۳، ج۴، ص۶.
4 ۔ پ۳، البقرۃ: ۲۸۴.
5 ۔ پ۵، النسآء: ۱۲۳.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب تفسير القرآن، باب ومن سورۃ البقرۃ، الحديث: ۳۰۰۲، ج۴، ص۴۶۵.
سے پاک ہو کر نکلتا ہے)۔
حدیث ۸: ترمذی ميں ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''بندہ کوکوئی تکلیف کم و بیش نہیں پہنچتی مگر گناہ کے سبب اور جو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے وہ بہت زیادہ ہے'' اور یہ آیۃ پڑھی:
(وَ مَاللہ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ وَ یَعْفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾ ) (1)
جو تمھيں مصیبت پہنچی، وہ اس کا بدلہ ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کیا اور بہت سی معاف فرما دیتا ہے۔
حدیث ۹و۱۰: شرح سنت میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''بندہ جب عبادت کے اچھے طریقہ پر ہو پھر بیمار ہو جائے تو جو فرشتہ اس پر مؤکل ہے، اس سے فرمایا جاتا ہے: اس کے ليے ویسے ہی اعمال لکھ جب مرض میں مبتلا نہ تھا، یہاں تک کہ میں اسے مرض سے رہا کروں یا اپنی طرف بلالوں (2) یعنی موت دوں۔'' اور انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جب مسلمان کسی بلائے بدن میں مبتلا ہوتا ہے، فرشتہ کو حکم ہوتا ہے، لکھ جو نیک کام پہلے کیا کرتا تھا، تو اگر شفا دیتا ہے تو دھو دیتا اور پاک کر دیتا ہے اور موت دیتا ہے تو بخش دیتا ہے اور رحم فرماتا ہے۔'' (3)
حدیث ۱۱: ترمذی بافادۂ تصحیح و تحسین و ابن ماجہ و دارمی سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) سے سوال ہوا، کس پر بلا زیادہ سخت ہوتی ہے؟ فرمایا: ''انبیا پر پھر جو بہتر ہیں پھر جو بہتر ہیں آدمی ميں جتنا دِین ہوتا ہے اسی کے اندازہ سے بلا میں مبتلا کیا جاتا ہے، اگر دِین میں قوی ہے بلا بھی اس پر سخت ہوگی اور دِین میں ضعیف ہے تو اس پر آسانی کی جاتی ہے تو ہمیشہ بلا میں مبتلا کیا جاتا ہے یہاں تک کہ زمین پر یوں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہ رہا۔'' (4)
حدیث ۱۲: ترمذی و ابن ماجہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جتنی بلا زیادہ اتنا ہی ثواب زیادہ اور اللہ عزوجل جب کسی قوم کو محبوب رکھتا ہے تو اسے بلا میں ڈالتا ہے، جو راضی ہوا اس کے ليے رضا ہے اور جو ناراض ہوا اس کے ليے ناخوشی۔'' (5) اور دوسری روایت ترمذی کی انھيں سے یوں ہے، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جب
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب تفسير القرآن، باب ومن سورۃ الشورٰی... إلخ، الحديث: ۳۲۶۳، ج۵، ص۱۶۹.
پ۲۵، الشورٰی: ۳۰.
2 ۔ ''شرح السنۃ''، کتاب الجنائز، باب المريض يکتب لہ مثل عملہ، الحديث: ۱۴۲۳، ج۳، ص۱۸۶.
3 ۔ ''شرح السنۃ''، کتاب الجنائز، باب المريض يکتب لہ مثل عملہ، الحديث: ۱۴۲۴، ج۳، ص۱۸۷.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزہد، باب ماجاء في الصبر علی البلاء، الحديث: ۲۴۰۶، ج۴، ص۱۷۹.
و ''سنن الدرامي''، کتاب الرقائق، باب في أشد الناس بلاء، الحديث: ۲۷۸۳، ج۲، ص۴۱۲.
5 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزہد، باب ماجاء في الصبر... إلخ، الحديث: ۲۴۰۴، ج۴، ص۱۷۸.
اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے ساتھ خیر کا ارادہ رکھتا ہے تو اُسے دنیا ہی میں سزا دیدیتا ہے اور جب شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے گناہ کا بدلہ نہیں دیتا اور قیامت کے دن اسے پورا بدلہ دے گا۔'' (1)
حدیث ۱۳: امام مالک و ترمذی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''مسلمان مرد و عورت کے جان و مال و اولاد میں ہمیشہ بلا رہتی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر خطا کچھ نہیں۔'' (2)
حدیث ۱۴: احمد و ابو داود بروایت محمد بن خالد عن ابیہ عن جدہ راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''بندہ کے ليے علم الہی میں کوئی مرتبہ مقرر ہوتا ہے اور وہ اعمال کے سبب اس رتبہ کو نہ پہنچا تو بدن یا مال یا اولاد میں اس کا ابتلا فرماتا ہے پھر اسے صبر دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے اس مرتبہ کو پہنچا دیتا ہے جو اس کے ليے علم الہی میں ہے۔'' (3)
حدیث ۱۵: ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جب قیامت کے دن اہل بلا کو ثواب دیا جائے گا تو عافیت والے تمنا کریں گے، کاش دنیا میں قینچیوں سے ان کی کھالیں کاٹی جاتیں۔'' (4)
حدیث ۱۶: ابو داود و عامر الرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا اور فرمايا: کہ ''مومن جب بیمار ہو پھر اچھا ہو جائے، اس کی بیماری گناہوں سے کفارہ ہو جاتی ہے اور آئندہ کے ليے نصیحت اورمنافق جب بیمار ہوا پھر اچھا ہوا، اوس کی مثال اونٹ کی ہے کہ مالک نے اسے باندھا پھر کھول دیا تو نہ اسے یہ معلوم کہ کیوں باندھا، نہ یہ کہ کیوں کھولا؟ ایک شخص نے عرض کی، یا رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ! بیماری کیا چیز ہے، میں تو کبھی بیمار نہ ہوا؟ فرمایا: ہمارے پاس سے اٹھ جا کہ تو ہم میں سے نہیں۔'' (5)
حدیث ۱۷: امام احمدشداد بن اَوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں، اللہ عزوجل فرماتا ہے: ''جب میں اپنے مومن بندہ کو بَلا میں ڈالوں اور وہ اس ابتلا پر میری حمد کرے، تو وہ اپنی خواب گاہ سے گناہوں سے ایسا پاک ہوکر اٹھے گا جیسے اس دن کہ اپنی ماں سے پیدا ہوا۔'' اور رب تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ''میں نے اپنے بندہ کو مقید اور مبتلا کیا، اس کے ليے عمل ویسا ہی جاری رکھو جیسا صحت میں تھا۔'' (6)
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزہد، باب ماجاء في الصبر... إلخ، الحديث:۲۴۰۴،ج۴، ص۱۷۸.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزہد، باب ماجاء في الصبر... إلخ، الحديث: ۲۴۰۷، ج۴، ص۱۷۹.
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الجنائز، باب الأمراض المکفرۃ للذنوب، الحديث: ۳۰۹۰، ج۳، ص۲۴۶.
و ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث رجل، الحديث: ۲۲۴۰۱، ج۸، ص۳۱۴.
4 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزھد، ۵۹۔باب، الحديث: ۲۴۱۰، ج۴، ص۱۸۰.
5 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الجنائز، باب الأمراض المکفرۃ للذنوب، الحديث: ۳۰۸۹، ج۳، ص۲۴۵.
6 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث شداد بن أوس، الحديث: ۱۷۱۱۸، ج۶، ص۷۷.
مریض کی عیادت کو جانا سنت ہے۔ احادیث میں اس کی بہت فضیلت آئی ہے۔
حدیث ۱: بخاری ومسلم و ابو داود و ا بن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مسلمان پر مسلمان کے پانچ حق ہیں:
(۱) سلام کا جواب دینا
(۲) مریض کے پوچھنے کو جانا
(۳) جنازے کے ساتھ جانا
(۴) دعوت قبول کرنا
(۵) چھینکنے والے کا جواب دینا۔(1) (جب
اَلْحَمْدُلِلّٰہ
کہے)
حدیث ۲: صحیحین میں ہے برأبن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، ہمیں سات باتوں کا حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے حکم فرمایا، (یہ پانچ باتیں ذکر کر کے فرمایا)، (۶) قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنا، (۷) مظلوم کی مدد کرنا۔ (2)
حدیث ۳: بخاری و مسلم ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کو گیا تو واپس ہونے تک ہمیشہ جنت کے پھل چننے میں رہا۔'' (3)
حدیث ۴: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ عزوجل روزِ قیامت فرمائے گا: ''اے ابن آدم! میں بیمار ہوا تُو نے میری عیادت نہ کی، عرض کریگا، تیری عیادت کیسے کرتا تُو رب العالمین ہے (یعنی خدا کیسے بیمار ہو سکتا ہے کہ اس کی عیادت کی جائے) فرمائے گا: کيا تجھے نہیں معلوم کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور اس کی تُو نے عیادت نہ کی، کیا تُو نہیں جانتا کہ اگر اس کی عیادت کو جاتا تو مجھے اس کے پاس پاتا اور فرمائے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا تُو نے نہ دیا عرض کریگا تجھے کس طرح کھانا دیتا تُو تو رب العالمین ہے فرمائے گا: کیا تجھے نہیں معلوم کہ میرے فلاں بندہ نے تجھ سے کھانا مانگا اور تونے نہ دیا کیا تجھے نہیں معلوم کہ اگر تُو نے دیا ہوتا تو اس کو (یعنی اس کے ثواب کو) میرے پاس پاتا، فرمائے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی طلب کیا تُو نے نہ دیا،
1 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الجنائز، باب الأمر باتباع الجنائز، الحديث: ۱۲۴۰، ج۱، ص۴۲۱.
2 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب اللباس، باب خواتيم الذھب، الحديث: ۵۸۶۳، ج۴، ص۶۷.
3 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب البر... إلخ، باب فضل عيادۃ المريض، الحديث: ۴۱۔(۲۵۶۸)، ص۱۳۸۹.
عرض کریگا، تجھے کیسے پانی دیتا تُو تو رب العالمین ہے فرمائے گا: ''میرے فلاں بندہ نے تجھ سے پانی مانگا تُو نے اسے نہ پلایا، اگر پلایا ہوتا تو میرے یہاں پاتا۔'' (1)
حدیث ۵: صحیح بخاری شریف میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کو تشریف لے گئے اور عادت کریمہ یہ تھی کہ جب کسی مریض کی عیادت کو تشریف لے جاتے تو یہ فرماتے:
لَا بَأْسَ طُھُوْرٌ اِنْشَآءَ اللہُ تَعَالیٰ .
''یعنی کوئی حرج کی بات نہیں ان شاء اللہ تعالیٰ یہ مرض گناہوں سے پاک کرنے والا ہے۔''
اس اعرابی سے بھی یہی فرمایا:
لَا بَأْسَ طُھُوْرٌ اِنْشَآءَ اللہُ تَعَالیٰ . (2)
حدیث ۶: ابو داود و ترمذی امیر المومنین مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کے ليے صبح کو جائے تو شام تک اس کے ليے ستّر ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں اور شام کو جائے تو صبح تک ستّر ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں اور اس کے ليے جنت میں ایک باغ ہوگا۔'' (3)
حدیث ۷: ابو داود نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو اچھی طرح وضو کر کے بغرض ثواب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کو جائے جہنم سے ساٹھ برس کی راہ دور کر دیا گیا۔'' (4)
حدیث ۸: ترمذی بافادۂ تحسین و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو شخص مریض کی عیادت کو جاتا ہے آسمان سے منادی ندا کرتا ہے، تُو اچھا ہے اور تیرا چلنا اچھا اور جنت کی ایک منزل کو تُو نے ٹھکانا بنایا۔'' (5)
حدیث ۹: ابن ماجہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جب تُو مریض کے پاس جائے تو اس سے کہہ کہ تیرے ليے دُعاکرے کہ اس کی دُعا دُعائے ملئکہ کی مانند ہے۔'' (6)
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب البر... إلخ، باب فضل عيادۃ المريض، الحديث: ۲۵۶۹، ص۱۳۸۹.
2 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام، الحديث؛ ۳۶۱۶، ج۲، ص۵۰۵.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الجنائز، باب ماجاء في عيادۃ المريض، الحديث: ۹۷۱، ج۲، ص۲۹۰.
4 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الجنائز، باب في فضل العيادۃ علی وضوء، الحديث: ۳۰۹۷، ج۳، ص۲۴۸.
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الجنائز، باب ماجاء في ثواب من عاد مريضا، الحدیث: ۱۴۴۳، ج۲، ص۱۹۲.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الجنائز، باب ماجاء في عيادۃ المريض، الحديث: ۱۴۴۱، ج۲، ص۱۹۱.
حدیث ۱۰: بیہقی نے سعید بن المسیب سے مرسلا روایت کی کہ فرماتے ہیں: ''افضل عیادت یہ ہے کہ جلد اٹھ آئے۔'' (1) اور اسی کی مثل انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی۔
حدیث ۱۱: ترمذی و ابن ماجہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: جب مریض کے پاس جاؤ تو عمر کے بارے میں دل خوش کن بات کرو کہ یہ کسی چیز کو رد نہ کردے گا اور اس کے جی کو اچھا معلوم ہوگا۔ (2)
حدیث ۱۲: ابن حبان اپنی صحیح میں انھيں سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''پانچ چیزیں جو ایک دن میں کریگا، اللہ تعالیٰ اس کو جنتیوں میں لکھ دیگا۔
(۱) مریض کی عیادت کرے
(۲) جنازہ میں حاضر ہو
(۳) روزہ رکھے
(۴) جمعہ کو جائے
(۵) غلام آزاد کرے۔'' (3)
حدیث ۱۳و۱۴: احمد و طبرانی و ابو يعلیٰ و ابن خزیمہ و ابن حبان معاذ بن جبل اور ابو داود ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''پانچ چیزیں ہیں کہ جو ان میں سے ایک بھی کرے، اللہ عزوجل کے ضمان میں آجائے گا۔
(۱) مریض کی عیادت کرے
(۲) يا جنازہ کے ساتھ جائے
(۳) یا غزوہ کو جائے
(۴) یا امام کے پاس اس کی تعظیم و توقیر کے ارادہ سے جائے
(۵) یا اپنے گھر میں بیٹھا رہے کہ لوگ اس سے سلامت رہیں اور وہ لوگوں سے۔'' (4)
حدیث ۱۵: ابن خزیمہ اپنی صحیح میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
1 ۔ ''شعب الإيمان''، باب في عيادۃ المريض، فصل في آداب العيادۃ، الحديث: ۹۲۲۱، ج۶، ص۵۴۲.
2 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطب، ۳۵۔باب، الحدیث: ۲۰۹۴، ج۴، ص۲۵.
3 ۔ ''الإحسان بترتيب صحيح ابن حبان''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ، الحديث: ۲۷۶۰، ج۴، ص۱۹۱.
4 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، الحديث: ۲۲۱۵۴، ج۸، ص۲۵۵.
''آج تم میں کون روزہ دار ہے؟ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی میں، فرمایا: آج تم میں کس نے مسکین کو کھانا کھلایا؟ عرض کی میں نے، فرمایا: کون آج جنازہ کے ساتھ گیا؟ عرض کی میں، فرمایا: کس نے آج مریض کی عیادت کی؟ عرض کی میں نے، فرمایا: یہ خصلتیں کسی میں کبھی جمع نہ ہوں گی مگر جنت میں داخل ہوگا۔'' (1)
حدیث ۱۶: ابو داود و ترمذی عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جب کوئی مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کو جائے تو سات بار یہ دُعا پڑھے:
اَسئَالُ اللہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ اَنْ یَّشْفِیْکَ . (2)
اگر موت نہیں آئی ہے تو اُسے شفا ہو جائے گی۔'' (3)
دنیا گزشتنی و گزاشتنی (4) ہے، آخر ایک دن موت آنی ہے جب یہاں سے کوچ کرنا ہی ہے تو وہاں کی طیاری چاہيے جہاں ہمیشہ رہنا ہے اور اس وقت کو ہر وقت پيشِ نظر رکھنا چاہيے۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ''دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر بلکہ راہ چلتا۔'' (5) تو مسافر جس طرح ایک اجنبی شخص ہوتا ہے اور راہ گیر راستہ کے کھیل تماشوں میں نہیں لگتا کہ راہ کھوٹی ہوگی اور منزل مقصود تک پہنچنے میں ناکامی ہوگی، اسی طرح مسلمان کو چاہيے کہ دنیا میں نہ پھنسے اور نہ ایسے تعلقات پیدا کرے کہ مقصودِ اصلی کے حاصل کرنے میں آڑے آئیں اور موت کو کثرت سے یاد کرے کہ اس کی یاد دنیوی تعلقات کی بیخ کنی کرتی ہے۔ (6)
حدیث میں ارشاد فرمایا:
1 ۔ ''الترغيب و الترہيب''، کتاب الجنائز، الترغيب في عيادۃ المرضی... إلخ، الحديث: ۷، ج۴، ص۱۶۳.
2 ۔ ترجمہ: اللہ عظیم سے سوال کرتا ہوں، جو عرشِ کریم کامالک ہے اس کا کہ تجھے شفا دے۔ ۱۲
3 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الجنائز، باب الدعاء للمريض، الحديث: ۳۱۰۶، ج۳، ص۲۵۱.
و ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن العباس، الحديث: ۲۱۸۲، ج۱، ص۵۲۴.
4 ۔ يعنی دنیا ختم ہونے والی اور چھوٹنے والی۔
5 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الرقائق، باب قول النبي صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم ((کن في الدنيا کأنک غريب أو عابر سبيل))،
الحديث: ۶۴۱۶، ج۴، ص۲۲۳.
6 ۔ يعنی جڑ کاٹتی ہے۔
اَکْثِرُوْا ذِکْرَ ھَاذِمِ اللَّـذَّاتِ (1) الْمَوْتِ . (2)
مگر کسی مصیبت پرموت کی آرزو نہ کرے کہ اس کی ممانعت آئی ہے اور ناچار کرنی ہی ہے تو یوں کہے، الہی مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے ليے خیر ہو اور موت دے جب موت میرے ليے بہتر ہو۔ (3)
کما ھو فی حدیث الصحیحین عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (4)
اور مسلمان کو چاہيے کہ اللہ عزوجل سے نیک گمان رکھے، اس کی رحمت کا امیدوار رہے۔ حدیث میں فرمایا: کوئی نہ مرے، مگر اس حال میں کہ اللہ عزوجل سے نیک گمان رکھتا ہو۔'' (5) کہ ارشادِ الہی ہے:
اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ . (6)
''میرا بندہ مجھ سے جیسا گمان رکھتا ہے میں اسی طرح اس کے ساتھ پیش آتا ہوں۔''
ایک جو ان کے پاس تشریف لے گئے اور وہ قریب الموت تھے، فرمایا: تو اپنے کو کس حال میں پاتا ہے عرض کی، یارسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ! اللہ (عزوجل) سے امید ہے اور اپنے گناہوں سے ڈر، فرمایا: ''یہ دونوں خوف و رجا، اس موقع پر جس بندہ کے دل میں ہوں گے، اللہ اسے وہ دے گا جس کی امید رکھتا ہے اور اس سے امن میں رکھے گا جس سے خوف کرتا ہے۔'' (7) رُوح قبض ہونے کا وقت بہت سخت وقت ہے کہ اسی پر سارے عمل کا مدار ہے، بلکہ ایمان کے تمام نتائج اُخروی اسی پر مرتب کہ اعتبار خاتمہ ہی کا ہے اور شیطان لعین ایمان لینے کی فکر میں ہے، جس کو اللہ تعالیٰ اس کے مکر سے بچائے اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے وہ مراد کو پہنچا۔
اِنَّمَا الْعِبْرَۃُ بِالْخَوَاتِیْمِ .
''اعتبار خاتمہ ہی کا ہے۔''
اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا حُسْنَ الْخَاتِمَۃِ .
ارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : جس کا آخر کلام
لَا اِلٰـہِ اِلَّا اللہُ
ہوا یعنی کلمہ طیبہ وہ جنت میں داخل ہوا۔ (8)
جب موت کا وقت قریب آئے اور علامتیں پائی جائیں تو سنت یہ ہے کہ دہنی کروٹ پر لٹا کر قبلہ کی طرف مونھ کر دیں
1 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزھد، باب ماجاء في ذکر الموت، الحديث: ۲۳۱۴، ج۴، ص۱۳۸.
2 ۔ لذتوں کی توڑ دینے والی موت کو کثرت سے یاد کرو ۔ ۱۲
3 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب المرضیٰ، باب تمنی المريض الموت، الحديث: ۵۶۷۱، ج۴، ص۱۳.
4 ۔ یعنی اس حديث کو بخاری و مسلم نے حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روايت کیا۔
5 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الجنۃ... إلخ، باب الأمر بحسن الظن باللہ تعالیٰ عند الموت، الحديث: ۸۲۔(۲۸۷۷)، ص۱۵۳۸.
6 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب التوحيد، باب قول اللہ تعالیٰ، (ويحذرکم اللہ نفسہ)... إلخ، الحديث: ۷۴۰۵، ج۴، ص۵۴۱.
7 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الجنائز، ۱۱۔باب،الحديث: ۹۸۵، ج۲، ص۲۹۶.
8 ۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الجنائز، باب في التلقين، الحديث: ۳۱۱۶، ج۳، ص۲۵۵.
اور یہ بھی جائز ہے کہ چت لٹائیں اور قبلہ کو پاؤں کریں کہ یوں بھی قبلہ کو مونھ ہو جائے گا مگر اس صورت میں سر کو قدرے اونچا رکھیں اور قبلہ کو مونھ کرنا دشوار ہو کہ اس کو تکلیف ہوتی ہو تو جس حالت پر ہے چھوڑ دیں۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱: جان کنی کی حالت میں جب تک روح گلے کو نہ آئی اسے تلقین کریں یعنی اس کے پاس بلند آواز سے پڑھیں
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ
مگر اسے اس کے کہنے کا حکم نہ کریں۔ (2) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۲: جب اس نے کلمہ پڑھ لیا تو تلقین موقوف کر دیں، ہاں اگرکلمہ پڑھنے کے بعد اس نے کوئی بات کی تو پھر تلقین کریں کہ اس کا آخر کلام
لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ
ہو۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: تلقین کرنے والا کوئی نیک شخص ہو، ایسا نہ ہو جس کو اس کے مرنے کی خوشی ہو اور اس کے پاس اس وقت نیک اور پرہیزگار لوگوں کا ہونا بہت اچھی بات ہے اور اس وقت وہاں سورۂ يٰس شریف کی تلاوت اور خوشبو ہونا مستحب، مثلاً لوبان یا اگر کی بتیاں سُلگا دیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: موت کے وقت حیض و نفاس والی عورتیں اس کے پاس حاضر ہوسکتی ہیں۔ (5) (عالمگیری) مگر جس کا حیض و نفاس منقطع ہوگیا اور ابھی غسل نہیں کیا اسے اور جنب کو آنا نہ چاہيے ۔اور کوشش کرے کہ مکان میں کوئی تصویر یا کُتّا نہ ہو، اگر یہ چیزیں ہوں تو فوراً نکال دی جائیں کہ جہاں یہ ہوتی ہیں ملئکۂ رحمت نہیں آتے، اس کی نزع کے وقت اپنے اور اس کے ليے دُعائے خیر کرتے رہیں، کوئی بُرا کلمہ زبان سے نہ نکالیں کہ اس وقت جو کچھ کہا جاتا ہے ملائکہ اس پر آمین کہتے ہیں، نزع میں سختی دیکھیں تو سورۂ يٰس و سورۂ رعد پڑھیں۔
مسئلہ ۵: جب روح نکل جائے تو ایک چوڑی پٹی جبڑے کے نیچے سے سر پر لے جا کر گرہ دے دیں کہ مونھ کھلا نہ رہے اور آنکھیں بند کر دی جائیں اور انگلیاں اور ہاتھ پاؤں سیدھے کر ديے جائیں، یہ کام اس کے گھر والوں میں جو زیادہ نرمی کے ساتھ کر سکتا ہو باپ يا بیٹا وہ کرے۔ (6) (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۶: آنکھیں بند کرتے وقت یہ دُعا پڑھے:
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۹۱، وغيرہ .
2 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الأول، ج۱، ص۱۵۷.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۱.
بِسْمِ اللہِ وَعَلیٰ مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ اَللّٰھُمَّ یَسِّرْ عَلَیْہِ اَمْرَہٗ وَسَھِّلْ عَلَیْہِ مَا بَعْدَہٗ وَاَسْعِدْہٗ بِلِقَآئِکَ وَاجْعَلْ مَا خَرَجَ اِلَیْہِ خَیْرًا مِّمَّا خَرَجَ عَنْـہُ . (1) (درمختار)
مسئلہ ۷: اس کے پیٹ پر لوہا یا گیلی مٹی یا اور کوئی بھاری چیز رکھ دیں کہ پیٹ پھول نہ جائے۔ (2) (عالمگیری) مگر ضرورت سے زیادہ وزنی نہ ہو کہ باعثِ تکلیف ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۸: میّت کے سارے بدن کو کسی کپڑے سے چھپا دیں اور اس کو چارپائی یا تخت وغیرہ کسی اونچی چیز پر رکھیں کہ زمین کی سیل نہ پہنچے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: مرتے وقت معاذ اللہ اس کی زبان سے کلمۂ کفر نکلا تو کفر کا حکم نہ دیں گے کہ ممکن ہے موت کی سختی میں عقل جاتی رہی ہو اور بے ہوشی میں یہ کلمہ نکل گیا۔ (5) (درمختار) اور بہت ممکن ہے کہ اس کی بات پوری سمجھ میں نہ آئی کہ ایسی شدت کی حالت میں آدمی پوری بات صاف طور پر ادا کرلے دشوار ہوتا ہے۔
مسئلہ ۱۰: اس کے ذمہ قرض یا جس قسم کے دَین ہوں جلد سے جلد ادا کر دیں۔ (6) کہ حدیث میں ہے، ''میّت اپنے دَین میں مقید ہے۔'' (7) ایک روایت میں ہے، ''اس کی روح معلق رہتی ہے جب تک دَین نہ ادا کیا جائے۔'' (8)
مسئلہ ۱۱: میّت کے پاس تلاوت قرآن مجید جائز ہے جبکہ اسکا تمام بدن کپڑے سے چھپا ہو اور تسبیح و دیگر اذکار ميں مطلقاً حرج نہیں۔ (9) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۱۲: غسل و کفن و دفن میں جلدی چاہيے کہ حدیث میں اس کی بہت تاکید آئی ہے۔ (10) (جوہرہ)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۹۷.
ترجمہ: اللہ (عزوجل) کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ کی ملّت پر، اے اللہ (عزوجل) تو اس کے کام کو اس پر آسان کر اور اس کے ما بعد کو اس پر سہل کر اور اپنی ملاقات سے تُو اسے نیک بخت کر اور جس کی طرف نکلا (آخرت) اسے اس سے بہتر کر، جس سے نکلا (دنیا)۔ ۱۲
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الأول، ج۱، ص۱۵۷.
3 ۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الأول، ج۱، ص۱۵۷.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۹۶.
6 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۱.
7 ۔
8 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الجنائز، باب ماجاء عن النبی انہ قال ... الخ، الحدیث: ۱۰۸۱، ج۲، ص۳۴۱.
9 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في القراء ۃ عند الميت، ج۳، ص۹۸ ۔ ۱۰۰، وغيرہ .
10 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۱.
مسئلہ ۱۳: پروسیوں اور اس کے دوست احباب کو اطلاع کر دیں کہ نمازیوں کی کثرت ہوگی اور اس کے ليے دُعا کریں گے کہ ان پر حق ہے کہ اس کی نماز پڑھیں اور دُعا کریں۔ (1) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۱۴: بازار و شارع عام پر اس کی موت کی خبر دینے کے ليے بلند آواز سے پکارنا بعض نے مکروہ بتايا، مگر اصح یہ ہے کہ اس میں حرج نہیں مگر حسب عادت جاہلیت بڑے بڑے الفاظ سے نہ ہو۔ (2) (جوہرہ نیرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: ناگہانی موت سے مرا تو جب تک موت کا یقین نہ ہو، تجہیز و تکفین ملتوی رکھیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: عورت مر گئی اور اس کے پیٹ میں بچہ حرکت کر رہا ہے تو بائیں جانب سے پیٹ چاک کر کے بچہ نکالا جائے اور اگر عورت زندہ ہے اور اس کے پیٹ میں بچہ مر گیا اور عورت کی جان پر بنی ہو تو بچہ کاٹ کر نکالا جائے اور بچہ بھی زندہ ہو تو کیسی ہی تکلیف ہو، بچہ کاٹ کر نکالنا جائز نہیں۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۷: اگر اس نے قصداً کسی کا مال نگل لیا اور مر گیا تو اگر اتنا مال چھوڑا ہے کہ تاوان دے دیا جائے تو ترکہ سے تاوان ادا کریں، ورنہ پیٹ چیرکر مال نکالا جائے گا اور بلا قصد ہے تو چیرا نہ جائے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: حاملہ عورت مر گئی اور دفن کر دی گئی کسی نے خواب میں دیکھا کہ اوس کے بچہ پیدا ہوا تو محض اس خواب کی بنا پر قبر کھودنی جائز نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: میّت کو نہلانا فرض کفایہ ہے بعض لوگوں نے غسل دے دیا تو سب سے ساقط ہوگیا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: نہلانے کا طریقہ یہ ہے کہ جس چارپائی یا تخت یا تختہ پر نہلانے کا ارادہ ہو اُس کو تین یا پانچ یا سات بار دھونی دیں یعنی جس چیز میں وہ خوشبو سلگتی ہو اُسے اتنی بار چارپائی وغیرہ کے گرد پھرائیں اور اُس پر میّت کو لٹا کر ناف سے گھٹنوں تک کسی
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الأول، ج۱، ص۱۵۷.
2 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۱.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في أطفال المشرکين، ج۳، ص۹۷.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الأول، ج۱، ص۱۵۷.
4 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۷۱.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۷۲.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الکراہیۃ، الباب السادس عشر في زيارۃ القبور... إلخ، ج۵، ص۳۵۱.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۸.
کپڑے سے چھپا دیں، پھر نہلانے والا اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر پہلے استنجا کرائے پھر نماز کا سا وضو کرائے یعنی مونھ پھر کہنیوں سمیت ہاتھ دھوئیں پھر سر کا مسح کریں پھر پاؤں دھوئیں مگر میّت کے وضو میں گٹوں تک پہلے ہاتھ دھونا اور کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا نہیں ہے ہاں کوئی کپڑا یا روئی کی پھریری بھگو کر دانتوں اور مسوڑوں اورہونٹوں اور نتھنوں پر پھیر دیں پھر سر اور داڑھی کے بال ہوں تو گل خیرو سے دھوئیں یہ نہ ہو تو پاک صابون اسلامی کارخانہ کا بنا ہوا یا بیسن یا کسی اور چیز سے ورنہ خالی پانی بھی کافی ہے، پھر بائیں کروٹ پر لٹا کر سر سے پاؤں تک بیری کا پانی بہائیں کہ تختہ تک پہنچ جائے پھر داہنی کروٹ پر لٹا کر يوہيں کریں اور بیری کے پتّے جوش دیا ہوا پانی نہ ہو تو خالص پانی نیم گرم کافی ہے پھر ٹیک لگا کر بٹھائیں اور نرمی کے ساتھ نیچے کو پیٹ پر ہاتھ پھیریں اگر کچھ نکلے دھو ڈالیں وضو و غسل کا اعادہ نہ کریں پھر آخر میں سر سے پاؤں تک کافور کا پانی بہائیں پھر اُس کے بدن کو کسی پاک کپڑے سے آہستہ پونچھ دیں۔ (1)
مسئلہ ۳: ایک مرتبہ سارے بدن پر پانی بہانا فرض ہے اور تین مرتبہ سنت جہاں غسل دیں مستحب یہ ہے کہ پردہ کر لیں کہ سوا نہلانے والوں اور مددگاروں کے دوسرا نہ دیکھے، نہلاتے وقت خواہ اس طرح لٹائیں جیسے قبر میں رکھتے ہیں یا قبلہ کی طرف پاؤں کرکے یا جو آسان ہو کریں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: نہلانے والا با طہارت ہو، جنب یا حیض والی عورت نے غسل دیا تو کراہت ہے مگر غسل ہو جائے گا اور بے وضو نے نہلایا تو کراہت بھی نہیں، بہتر یہ ہے کہ نہلانے والا میّت کا سب سے زيادہ قریبی رشتہ دار ہو، وہ نہ ہو یانہلانا نہ جانتا ہو تو کوئی اور شخص جو امانت دار و پرہیزگار ہو۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: نہلانے والا معتمد شخص ہو کہ پوری طرح غسل دے اور جو اچھی بات دیکھے، مثلاً چہرہ چمک اٹھا یا میّت کے بدن سے خوشبو آئی تو اسے لوگوں کے سامنے بیان کرے اور کوئی بُری بات دیکھی، مثلاً چہرے کا رنگ سیاہ ہوگیا یا بدبو آئی یا صورت یا اعضا میں تغیر آیا تو اسے کسی سے نہ کہے اور ایسی بات کہنا جائز بھی نہیں، کہ حدیث میں ارشاد ہوا: ''اپنے مُردوں کی خوبیاں ذکر کرو اور اُس کی برائیوں سے باز رہو۔'' (4) (جوہرہ نيرہ)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۸، وغيرہ .
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۸.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۹.
4 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۱.
''سنن أبي داود''، کتاب الأدب، باب في النھی عن سب الموتی، الحديث: ۴۹۰۰، ج۴، ص۳۶۰.
مسئلہ ۶: اگر کوئی بدمذہب مرا اور اُس کا رنگ سیاہ ہوگیا يا اور کوئی بُری بات ظاہر ہوئی تو اس کا بیان کرنا چاہيے کہ اس سے لوگوں کو عبرت و نصیحت ہوگی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: نہلانے والے کے پاس خوشبو سلگانا مستحب ہے کہ اگر میّت کے بدن سے بُو آئے تو اسے پتہ نہ چلے ورنہ گھبرائے گا، نیز اُسے چاہيے کہ بقدر ضرورت اعضائے میّت کی طرف نظر کرے بلا ضرورت کسی عضو کی طرف نہ دیکھے کہ ممکن ہے اُس کے بدن میں کوئی عیب ہو جسے وہ چھپاتا تھا۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۸: اگر وہاں اس کے سوا اور بھی نہلانے والے ہوں تو نہلانے پر اجرت لے سکتا ہے مگر افضل یہ ہے کہ نہ لے اور اگر کوئی دوسرا نہلانے والا نہ ہو تو اُجرت لینا جائز نہیں۔ (3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۹: جنب یا حیض و نفاس والی عورت کا انتقال ہوا تو ایک ہی غسل کافی ہے کہ غسل واجب ہونے کے کتنے ہی اسباب ہوں، سب ایک غسل سے ادا ہو جاتے ہيں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: مرد کو مرد نہلائے اور عورت کو عورت، میّت چھوٹا لڑکا ہے تو اسے عورت بھی نہلا سکتی ہے اور چھوٹی لڑکی کو مرد بھی، چھوٹے سے یہ مراد کہ حدِ شہوت کو نہ پہنچے ہوں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: جس مرد کا عضوِ تناسل یا انثیین کاٹ ليے گئے ہوں وہ مرد ہی ہے یعنی مرد ہی اُسے غسل دے سکتا ہے یا اُس کی عورت۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے جب کہ موت سے پہلے یا بعد کوئی ایسا امر نہ واقع ہوا ہو جس سے اس کے نکاح سے نکل جائے، مثلاً شوہر کے لڑکے یا باپ کو شہوت سے چھوا یا بوسہ لیا یا معاذاللہ مرتد ہوگئی، اگرچہ غسل سے پہلے ہی پھر مسلمان ہوگئی کہ ان وجوہ سے نکاح جاتا رہا اور اجنبیہ ہوگئی لہٰذا غسل نہیں دے سکتی۔ (7) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۹.
2 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۱.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۹۔۱۶۰.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۰۷.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۰۲.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۶۰.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۳: عورت کو طلاق رجعی دی ہنوز عدت میں تھی کہ شوہر کا انتقال ہوگیا تو غسل دے سکتی ہے اوربائن طلاق دی ہے تو اگرچہ عدت میں ہے غسل نہیں دے سکتی۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۴: ام ولد (2) یا مدبّرہ (3) یا مکاتبہ (4) یا ویسی باندی اپنے آقائے مردہ کو غسل نہیں دے سکتی کہ يہ سب اب اُس کی مِلک سے خارج ہوگئیں۔ يوہيں اگر یہ مر جائیں تو آقا نہیں نہلا سکتا۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۵: عورت مر جائے تو شوہر نہ اُسے نہلا سکتا ہے نہ چھو سکتا ہے اور دیکھنے کی ممانعت نہیں۔ (6) (درمختار)
عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازہ کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قبر میں اتار سکتا ہے نہ مونھ دیکھ سکتا ہے، یہ محض غلط ہے صرف نہلانے اور اسکے بدن کو بلاحائل ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے۔
مسئلہ ۱۶: عورت کا انتقال ہوا اور وہاں کوئی عورت نہیں کہ نہلا دے تو تیمم کرایا جائے پھر تیمم کرنے والا محرم ہو تو ہاتھ سے تیمم کرائے اور اجنبی ہو اگرچہ شوہر تو ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر جنس زمین پر ہاتھ مارے اور تیمم کرائے اورشوہر کے سوا کوئی اور اجنبی ہو تو کلائیوں کی طرف نظر نہ کرے اورشوہر کو اس کی حاجت نہیں اور اس مسئلہ میں جوان اور بڑھیا دونوں کا ایک حکم ہے۔ (7) (درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۱۷: مرد کا انتقال ہوا اور وہاں نہ کوئی مرد ہے نہ اُس کی بی بی، تو جو عورت وہاں ہے اُسے تیمم کرائے پھر اگر عورت محرم ہے یا اُس کی باندی تو تیمم میں ہاتھ پر کپڑا لپيٹنے کی حاجت نہیں اور اجنبی ہو تو کپڑا لپیٹ کر تیمم کرائے۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: مرد کا سفر میں انتقال ہوا اور اس کے ساتھ عورتیں ہیں اور کافر مرد مگر مسلمان مرد کوئی نہیں تو عورتیں اس کافر
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۶۰.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۰۷.
2 ۔ يعنی وہ لونڈی جس کے بچہ پيدا ہوا اور مولیٰ نے اقرار کیا کہ يہ ميرا بچہ ہے۔
3 ۔ يعنی وہ لونڈی جس کی نسبت مولیٰ نے کہا کہ تو ميرے مرنے کے بعد آزاد ہے۔
4 ۔ يعنی آقا اپنی لونڈی سے مال کی ايک مقدار مقرر کرکے يہ کہہ دے کہ اتنا ادا کردے تو آزاد ہے اور لونڈی اس کو قبول بھی کرلے۔
نوٹ: تفصيلی معلومات کے لئے بہارِ شريعت حصہ ۹ ميں مدبّر، مکاتب اور ام ولد کا بیان ملاحظہ فرمائيں۔
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۰۶. وغيرہ
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۰۵. 7 ۔ المرجع السابق، ص۱۱۰.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۶۰، وغيرہما.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۶۰.
کو نہلانے کا طریقہ بتا دیں کہ وہ نہلا دے اور اگر مرد کوئی نہیں اور چھوٹی لڑکی ہمراہ ہے کہ نہلانے کی طاقت رکھتی ہے تو یہ عورتیں اُسے سکھا دیں کہ وہ نہلائے۔ يوہيں اگر عورت کا انتقال ہوا اور کوئی مسلمان عورت نہیں اور کافرہ عورت موجود ہے تو مرد اُس کافرہ کو غسل کی تعلیم کرے اور اُس سے نہلوائے یا چھوٹا لڑکا اس قابل ہوکہ نہلا سکے تو اُسے بتائے اور وہ نہلائے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: ایسی جگہ انتقال ہوا کہ پانی وہاں نہیں ملتا تو تیمم کرائیں اور نماز پڑھیں اور نماز کے بعد اگر قبل دفن پانی مل جائے تو نہلا کر نماز کا اعادہ کریں۔ (2) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۰: خنثیٰ مشکل (3) کا انتقال ہوا تو اسے نہ مرد نہلا سکتا ہے نہ عورت بلکہ تیمم کرایا جائے اور تیمم کرانے والا اجنبی ہو تو ہاتھ پر کپڑا لپیٹ لے اور کلائیوں پر نظر نہ کرے۔ يوہيں خنثیٰ مشکل کسی مرد یا عورت کو غسل نہیں دے سکتا۔ (4) (عالمگیری) خنثیٰ مشکل چھوٹا بچہ ہو تو اُسے مرد بھی نہلا سکتے ہيں اور عورت بھی يوہيں عکس۔
مسئلہ ۲۱: مسلمان کا انتقال ہوا اور اُس کا باپ کافر ہے تو اُسے مسلمان نہلائیں، اس کے باپ کے قابو میں نہ دیں، کافر مسلمان ہوا اور اُس کی عورت کافرہ ہے تو اگر کتابیہ ہے نہلاسکتی ہے مگر بلا ضرورت اُس سے نہلوانا بہت بُرا ہے اور اگر مجوسیہ یا بت پرست ہے اور اُس کے مرنے کے بعد مسلمان ہوگئی تو نہلا سکتی ہے بشرطیکہ نکاح میں باقی ہو ورنہ نہیں اورنکاح میں باقی رہنے کی صورت یہ ہے کہ اگر سلطنتِ اسلامی میں ہے تو حاکم اسلام شوہر کے مسلمان ہونے کے بعد عورت پر اسلام پیش کرے، اگر مان لیا فبہا ورنہ فوراً نکاح سے نکل جائے گی اور اگر سلطنتِ اسلامی میں نہیں تو اسلام شوہر کے بعد عورت کو تین حیض آنے کا انتظار کیا جائے گا اس مدت میں مسلمان ہوگئی فبہا ورنہ نکاح سے نکل جائے گی اور دونوں صورتوں میں پھر اگرچہ مسلمان ہو جائے غسل نہیں دے سکتی۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: میّت سے غسل اُتر جانے اور اس پر نماز صحیح ہونے میں نیت اور فعل شرط نہیں، یہاں تک کہ مُردہ اگر پانی میں گِر گیا يا اس پر مينھ برسا کہ سارے بدن پر پانی بہہ گیا غسل ہوگیا، مگر زندوں پر جو غسلِ میّت واجب ہے یہ اس وقت بری الذّمہ ہوں گے کہ نہلائیں، لہٰذا اگر مردہ پانی میں ملا تو بہ نیت غسل اُسے تین بار پانی میں حرکت دے دیں کہ غسل مسنون ادا ہوجائے اور ایک بار حرکت دی تو واجب ادا ہوگیا مگر سنّت کا مطالبہ رہا اور بلا نیت نہلانے سے بری الذّمہ ہو جائیں گے مگر
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۶۰.
2 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۱۱.
3 ۔ يعنی جس میں مردوعورت دونوں کی علامتیں پائی جائیں اور یہ ثابت نہ ہو کہ مرد ہے یا عورت۔
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۶۰.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۰۷، وغيرہ .
ثواب نہ ملے گا۔ مثلاً کسی کو سکھانے کی نیت سے میّت کو غسل دیا واجب ساقط ہوگیا، مگر غسلِ میّت کا ثواب نہ ملے گا، نیز غسل ہوجانے کے ليے یہ بھی ضرور نہیں کہ نہلانے والا مکلّف یا اہل نیت ہو، لہٰذا نابالغ یا کافر نے نہلا دیا غسل ادا ہوگیا۔ يوہيں اگر عورت اجنبیہ نے مرد کو یا مرد نے عورت کو غسل دیا غسل ادا ہوگیا اگرچہ ان کو نہلانا جائز نہ تھا۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: کسی مسلمان کا آدھے سے زیادہ دھڑ ملا تو غسل و کفن دیں گے اور جنازہ کی نماز پڑھیں گے اور نماز کے بعد وہ باقی ٹکڑا بھی ملا تو اس پر دوبارہ نماز نہ پڑھیں گے اور آدھا دھڑ ملا تو اگر اس میں سر بھی ہے جب بھی یہی حکم ہے اور اگر سر نہ ہو یا طول ميں سر سے پاؤں تک دہنا یا بایاں ایک جانب کا حصہ ملا تو ان دونوں صورتوں میں نہ غسل ہے، نہ کفن، نہ نماز بلکہ ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیں۔ (2) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۲۴: مُردہ مِلا اور یہ نہیں معلوم کہ مسلمان ہے یا کافر تو اگر اس کی وضع قطع مسلمانوں کی ہو یا کوئی علامت ایسی ہو، جس سے مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہے یا مسلمانوں کے محلّہ میں ملا تو غسل دیں اور نماز پڑھیں ورنہ نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: مسلمان مُردے کافر مُردوں میں مل گئے تو اگر ختنہ وغیرہ کسی علامت سے شناخت کر سکیں تو مسلمانوں کو جُدا کر کے غسل و کفن دیں اور نماز پڑھیں اور امتياز نہ ہوتا ہو تو غسل دیں اور نماز میں خاص مسلمانوں کے ليے دُعا کی نیت کریں اور اُن میں اگر مسلمان کی تعداد زیادہ ہو تو مسلمانوں کے مقبرہ میں دفن کریں ورنہ علیحدہ۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: کافر مُردے کے ليے غسل و کفن و دفن نہیں بلکہ ایک چیتھڑے میں لپیٹ کر تنگ گڑھے میں داب دیں، یہ بھی جب کریں کہ اُس کا کوئی ہم مذہب نہ ہو یا اُسے لے نہ جائے، ورنہ مسلمان ہاتھ نہ لگائے نہ اس کے جنازے میں شرکت کرے اور اگر بوجہ قرابت قریبہ شریک ہو تو دُور دُور رہے اور اگر مسلمان ہی اُس کا رشتہ دار ہے اور اس کا ہم مذہب کوئی نہ ہو یا لے نہیں اور بلحاظ قرابت غسل و کفن دفن کرے تو جائز ہے، مگر کسی امر میں سنت کا طریقہ نہ برتے بلکہ نجاست دھونے کی طرح اُس پر پانی بہائے اور چیتھڑے میں لپیٹ کر تنگ گڑھے میں دبا دے، یہ حکم کافر اصلی کا ہے اور مرتد کا حکم یہ ہے کہ مطلقاً نہ اُسے غسل
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في حديث ((کل سبب و نسب منقطع إلاسببي و نسبي))، ج۳، ص۱۰۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۰۷.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۹، وغيرہما .
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۹.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في حديث ((کل سبب و نسب منقطع إلاسببي و نسبي))،
ج۳، ص۱۰۹.
دیں نہ کفن، بلکہ کُتّے کی طرح کسی تنگ گڑھے میں ڈھکیل کر مٹی سے بغیر حائل کے پاٹ دیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: ذمیہ کو مسلمان کا حمل تھا وہ مر گئی اگر بچہ میں جان پڑ گئی تھی تو اُسے مسلمانوں کے قبرستان سے علیحدہ دفن کریں اور اس کی پیٹھ قبلہ کو کر دیں کہ بچہ کا مونھ قبلہ کو ہو، اس ليے کہ بچہ جب پیٹ میں ہوتا ہے تو اُس کا مونھ ماں کی پیٹھ کی طرف ہوتا ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: میّت کا بدن اگر ایسا ہوگیا کہ ہاتھ لگانے سے کھال اُدھڑے گی، تو ہاتھ نہ لگائیں صرف پانی بہا دیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: نہلانے کے بعد اگر ناک کان مونھ اور دیگر سوراخوں میں روئی رکھ دیں تو حرج نہیں مگر بہتر یہ ہے کہ نہ رکھیں۔ (4) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۳۰: میّت کی داڑھی یا سر کے بال میں کنگھا کرنا یا ناخن تراشنا یا کسی جگہ کے بال مونڈنا یا کترنا یا اُکھاڑنا، ناجائز و مکروہ و تحریمی ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ جس حالت پر ہے اُسی حالت میں دفن کر دیں، ہاں اگر ناخن ٹوٹا ہو تو لے سکتے ہیں اور اگر ناخن یا بال تراش ليے تو کفن میں رکھ دیں۔ (5) (درمختار، عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: میّت کے دونوں ہاتھ کروٹوں میں رکھیں سینہ پر نہ رکھیں کہ یہ کفار کا طریقہ ہے۔ (6) (درمختار) بعض جگہ ناف کے نیچے اُس طرح رکھتے ہیں جیسے نماز کے قیام میں یہ بھی نہ کریں۔
مسئلہ ۳۲: بعض جگہ دستور ہے کہ عموماً میّت کے غسل کے ليے کورے گھڑے بدھنے (7) لاتے ہیں اس کی کچھ ضرورت نہیں، گھر کے استعمالی گھڑے لوٹے سے بھی غسل دے سکتے ہیں اور بعض یہ جہالت کرتے ہیں کہ غسل کے بعد توڑ ڈالتے ہیں، یہ ناجائز و حرام ہے کہ مال ضائع کرنا ہے اور اگر یہ خیال ہو کہ نجس ہو گئے تو یہ بھی فضول بات ہے کہ اولاً تو اُس پر چھینٹیں
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: مھم إذا قال ان شتمت، ج۳، ص۱۵۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۱۰.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۸.
4 ۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۰۴ ۔ ۱۰۵، وغيرہما .
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في القراء ۃ عند الميت، ج۳، ص۱۰۴.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۸.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۰۵.
7 ۔ يعنی مٹی کے نئے مٹکے، لوٹے۔
نہیں پڑتیں اور پڑیں بھی تو راجح یہ ہے کہ میّت کا غسل نجاست حکمیہ دُور کرنے کے ليے ہے تو مستعمل پانی کی چھینٹیں پڑیں اور مستعمل پانی نجس نہیں، جس طرح زندوں کے وضو و غسل کا پانی اور اگر فرض کیا جائے کہ نجس پانی کی چھینٹیں پڑیں تو دھو ڈالیں، دھونے سے پاک ہو جائیں گے اور اکثر جگہ وہ گھڑے بدھنے مسجدوں میں رکھ دیتے ہیں اگر نیت یہ ہو کہ نمازیوں کو آرام پہنچے گا اور اُس کا مُردے کو ثواب تو یہ اچھی نیت ہے اور رکھنا بہتر اور اگر یہ خیال ہو کہ گھر میں رکھنا نحوست ہے تو یہ نری حماقت اور بعض لوگ گھڑے کا پانی پھینک دیتے ہیں یہ بھی حرام ہے۔
مسئلہ ۱: میت کو کفن دینا فرض کفایہ ہے، کفن کے تین درجے ہیں۔
(۱) ضرورت (۲) کفایت (۳) سنت
مرد کے ليے سنت تین کپڑے ہیں۔
(۱) لفافہ (۲) اِزار (۳) قمیص
اور عورت کے ليے پانچ۔
تین یہ اور
(۴) اوڑھنی (۵) سینہ بند
کفنِ کفایت مرد کے ليے دو کپڑے ہیں۔
(۱) لفافہ (۲) اِزار
اور عورت کے ليے تين۔
(۱) لفافہ (۲) اِزار (۳) اوڑھنی یا
(۱) لفافہ (۲) قمیص (۳) اوڑھنی۔
کفن ضرورت دونوں کے ليے یہ کہ جو میّسر آئے اور کم از کم اتنا تو ہو کہ سارا بدن ڈھک جائے۔ (1) (درمختار، عالمگیری وغیرہما)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۱۲۔ ۱۱۶.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۶۰، وغيرہما.
مسئلہ ۲: لفافہ یعنی چادر کی مقدار یہ ہے کہ میّت کے قد سے اس قدر زیادہ ہو کہ دونوں طرف باندھ سکیں اور اِزار یعنی تہہ بند چوٹی سے قدم تک یعنی لفافہ سے اتنی چھوٹی جو بندش کے ليے زیادہ تھا اور قمیص جس کو کفنی کہتے ہیں گردن سے گھٹنوں کے نیچے تک اور یہ آگے اور پیچھے دونوں طرف برابر ہوں اور جاہلوں میں جو رواج ہے کہ پیچھے کم رکھتے ہیں یہ غلطی ہے، چاک اور آستینيں اس میں نہ ہوں۔ مرد اور عورت کی کفنی میں فرق ہے، مرد کی کفنی مونڈھے پرچیریں اور عورت کے ليے سینہ کی طرف، اوڑھنی تین ہاتھ کی ہونی چاہيے یعنی ڈیڑھ گز، سینہ بند پستان سے ناف تک اور بہتر یہ ہے کہ ران تک ہو۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۳: بلاضرورت کفن کفایت سے کم کرنا ناجائز و مکروہ ہے۔ (2) (درمختار) بعض محتاج کفنِ ضرورت پر قادر ہوتے ہیں مگر کفنِ مسنون میّسر نہیں، وہ کفن مسنون کے ليے لوگوں سے سوال کرتے ہیں یہ ناجائز ہے کہ سوال بلا ضرورت جائز نہیں اور يہاں ضرورت نہيں، البتہ اگر کفنِ ضرورت پر بھی قادر نہ ہوں تو بقدرِ ضرورت سوال کريں زيادہ نہيں، ہاں اگر بغیر مانگے مسلمان خود کفنِ مسنون پورا کر دیں تو انشاء اللہ تعالیٰ پورا ثواب پائیں گے۔ (3) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۴: ورثہ میں اختلاف ہوا، کوئی دو کپڑوں کے ليے کہتا ہے کوئی تین کے ليے تو تین کپڑے ديے جائیں کہ یہ سنت ہے یا یوں کیا جائے کہ اگر مال زیادہ ہے اور وارث کم تو کفنِ سنت دیں اور مال کم ہے وارث زیادہ تو کفنِ کفایت۔ (4) (جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۵: کفن اچھا ہونا چاہيے یعنی مرد عیدین و جمعہ کے ليے جیسے کپڑے پہنتا تھا اور عورت جیسے کپڑے پہن کر میکے جاتی تھی اُس قیمت کا ہونا چاہيے۔ حدیث میں ہے، ''مُردوں کو اچھا کفن دو کہ وہ باہم ملاقات کرتے اور اچھے کفن سے تفاخر کرتے یعنی خوش ہوتے ہیں، سفید کفن بہتر ہے۔ کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اپنے مُردے سفید کپڑوں میں کفناؤ۔'' (5) (غنیہ، ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۶۰.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في الکفن، ج۳، ص۱۱۲، وغيرہما .
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في الکفن، ج۳، ص۱۱۵.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۱۰۰.
4 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۵.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في الکفن، ج۳، ص۱۱۲.
و ''غنیۃ المتملي''، فصل في الجنائز، ص۵۸۱ ۔ ۵۸۲.
''جامع الترمذي''، أبواب الجنائز، باب ماجاء ما يستحب من الأکفان، الحديث: ۹۹۶، ج۲، ص۳۰۱.
مسئلہ ۶: کسم یا زعفران کا رنگا ہوا يا ریشم کا کفن مرد کو ممنوع ہے اور عورت کے ليے جائز یعنی جو کپڑا زندگی میں پہن سکتا ہے، اُس کا کفن دیا جا سکتا ہے اور جو زندگی میں ناجائز، اُس کا کفن بھی ناجائز۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: خنثیٰ مشکل کو عورت کی طرح پانچ کپڑے ديے جائیں مگر کسم یا زعفران کا رنگا ہوا اور ریشمی کفن اسے ناجائز ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: کسی نے وصیت کی کہ کفن ميں اُسے دو کپڑے دیے جائیں تو یہ وصیت جاری نہ کی جائے، تین کپڑے ديے جائیں اور اگر یہ وصیت کی کہ ہزار روپے کا کفن دیا جائے تو یہ بھی نافذ نہ ہوگی متوسط درجہ کا دیا جائے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جو نابالغ حدِشہوت (4) کو پہنچ گیا وہ بالغ کے حکم میں ہے یعنی بالغ کو کفن میں جتنے کپڑے ديے جاتے ہیں اسے بھی ديے جائیں اور اس سے چھوٹے لڑکے کو ایک کپڑا اور چھوٹی لڑکی کو دوکپڑے دے سکتے ہیں اور لڑکے کو بھی دو کپڑے دیے جائیں تو اچھا ہے اور بہتر یہ ہے کہ دونوں کو پورا کفن دیں اگرچہ ایک دن کا بچّہ ہو۔ (5) (ردالمحتار وغيرہ)
مسئلہ ۱۰: پُرانے کپڑے کا بھی کفن ہو سکتا ہے، مگر پُرانا ہو تو دُھلا ہوا ہو کہ کفن ستھرا ہونا مرغوب ہے۔ (6) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۱: میّت نے اگر کچھ مال چھوڑا تو کفن اسی کے مال سے ہونا چاہيے اور مدیون (7) ہے تو قرضخواہ (8) کفن کفایت سے زیادہ کو منع کر سکتا ہے اور منع نہ کیا تو اجازت سمجھی جائے گی۔ (9) (ردالمحتار) مگر قرض خواہ کو ممانعت کا اس وقت حق ہے، جب وہ تمام مال دَین میں مستغرق (10) ہو۔
مسئلہ ۱۲: دَین و وصیّت و میراث، ان سب پر کفن مقدم ہے اور دَین وصیت پر اور وصیت میراث پر۔ (11) (جوہرہ)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۶۱.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في الکفن، ج۳، ص۱۱۲.
4 ۔ حد شہوت لڑکوں میں یہ کہ اس کا دل عورتوں کی طرف رغبت کرے اور لڑکی میں یہ کہ اسے دیکھ کر مرد کو اس کی طرف میلان پیدا ہو اور اس
کااندازہ لڑکوں میں بارہ سال اور لڑکیوں میں نو برس ہے۔ ۱۲ منہ
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في الکفن، ج۳، ص۱۱۷، وغيرہ .
6 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، الجزء الأول، ص۱۳۵.
7 ۔ یعنی مقروض۔ 8 ۔ يعنی قرض دينے والا۔
9 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في الکفن، ج۳، ص۱۱۴، وغيرہ .
10 ۔ يعنی قرض ميں گھرا ہوا۔
11 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۴.
مسئلہ ۱۳: میّت نے مال نہ چھوڑا تو کفن اس کے ذمہ ہے جس کے ذمہ زندگی میں نفقہ تھا اور اگر کوئی ایسا نہیں جس پر نفقہ واجب ہوتا یا ہے مگر نادار ہے تو بیت المال سے دیا جائے اور بیت المال بھی وہاں نہ ہو، جیسے یہاں ہندوستان میں تو وہاں کے مسلمانوں پر کفن دینا فرض ہے، اگر معلوم تھا اور نہ دیا تو سب گنہگار ہوں گے اگر ان لوگوں کے پاس بھی نہیں تو ایک کپڑے کی قدر اور لوگوں سے سوال کرلیں۔ (1) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۱۴: عورت نے اگرچہ مال چھوڑا اُس کا کفن شوہر کے ذمہ ہے بشرطیکہ موت کے وقت کوئی ایسی بات نہ پائی گئی جس سے عورت کا نفقہ شوہر پر سے ساقط ہو جاتا، اگر شوہر مرا اور اس کی عورت مالدار ہے، جب بھی عورت پر کفن واجب نہیں۔ (2) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۱۵: يہ جو کہا گیا کہ فلاں پر کفن واجب ہے اس سے مراد کفنِ شرعی ہے۔ يوہيں باقی سامانِ تجہیز مثلاً خوشبو اور غسال اور لے جانے والوں کی اُجرت اور دفن کے مصارف، سب میں شرعی مقدار مراد ہے۔ باقی اور باتیں اگر میّت کے مال سے کی گئیں اور ورثہ بالغ ہوں اور سب وارثوں نے اجازت بھی دے دی ہو تو جائز ہے، ورنہ خرچ کرنے والے کے ذمہ ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: کفن کے ليے سوال کر لائے اس میں سے کچھ بچ رہا تو اگر معلوم ہے کہ يہ فلاں نے دیا ہے تو اُسے واپس کر دیں، ورنہ دوسرے محتاج کے کفن میں صرف کر دیں، یہ بھی نہ ہو تو تصدق کر دیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: میّت ایسی جگہ ہے کہ وہاں صرف ایک شخص ہے اور اُس کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہے تو اُس پر یہ ضرور نہیں کہ اپنے کپڑے کا کفن کر دے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: کفن پہنانے کا طریقہ یہ ہے کہ میّت کو غسل دینے کے بعد بدن کسی پاک کپڑے سے آہستہ پونچھ لیں کہ کفن تر نہ ہو اور کفن کو ایک یا تین یا پانچ یا سات بار دھونی دے لیں اس سے زیادہ نہیں، پھر کفن یوں بچھائیں کہ پہلے بڑی چادر پھر
1 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۴.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۱۸۔۱۲۰.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۶۱.
و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في کفن الزوجۃ علی الزوج، ج۳، ص۱۱۹.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في کفن الزوجۃ علی الزوج، ج۳، ص۱۱۹.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۰.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۰.
تہبند پھر کفنی پھر میّت کو اس پر لٹائیں اور کفنی پہنائیں اور داڑھی اور تمام بدن پر خوشبو ملیں اور مواضع سجود یعنی ماتھے، ناک، ہاتھ، گھٹنے، قدم پر کافور لگائیں پھر اِزار یعنی تہبند لپیٹیں پہلے بائیں جانب سے پھر دہنی طرف سے پھر لفافہ لپیٹیں پہلے بائیں طرف سے پھر دہنی طرف سے تاکہ دہنا اوپر رہے اور سر اور پاؤں کی طرف باندھ دیں کہ اُڑنے کا اندیشہ نہ رہے، عورت کو کفنی پہنا کر اُس کے بال کے دو حصے کر کے کفنی کے اوپر سینہ پر ڈالدیں اور اوڑھنی نصف پشت کے نیچے سے بچھا کر سر پر لا کر مونھ پر مثل نقاب ڈال دیں کہ سینہ پر رہے کہ اُس کا طول نصف پشت سے سینہ تک ہے اور عرض ایک کان کی لَو سے دوسرے کان کی لَو تک ہے اور یہ جو لوگ کیا کرتے ہیں کہ زندگی کی طرح اُڑھاتے ہیں یہ محض بیجا و خلافِ سُنت ہے پھر بدستور اِزار و لفافہ لپیٹیں پھر سب کے اُوپر سینہ بند بالائے پستان سے ران تک لا کر باندھیں۔ (1) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۱۹: مرد کے بدن پر ایسی خوشبو لگانا جائز نہیں جس میں زعفران کی آمیزش ہو عورت کے ليے جائز ہے، جس نے احرام باندھا ہے اُس کے بدن پر بھی خوشبو لگائیں اور اُس کا مونھ اور سر کفن سے چھپایا جائے۔ (2) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۲۰: اگر مُردہ کا کفن چوری گیا اور لاش ابھی تازہ ہے تو پھر کفن دیا جائے اگر میت کا مال بدستور ہے تو اس سے اور تقسیم ہوگیا تو ورثہ کے ذمہ کفن دیناہے، وصیت یا قرض میں دیا گیا تو ان لوگوں پر نہیں اور اگر کُل ترکہ دَین میں مستغرق ہے اور قرض خواہوں نے اب تک قبضہ نہ کیا ہو تو اسی مال سے دیں اور قبضہ کر لیا تو اُن سے واپس نہ لیں گے، بلکہ کفن اُس کے ذمہ ہے کہ مال نہ ہونے کی صورت میں جس کے ذمہ ہوتا ہے اور اگر صورتِ مذکورہ میں لاش پھٹ گئی تو کفن مسنون کی حاجت نہیں ایک کپڑا کافی ہے۔ (3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۱: اگر مُردہ کو جانور کھا گیا اور کفن پڑا ملا تو اگر میّت کے مال سے دیا گیا ہے ترکہ میں شمار ہو گا اور کسی اور نے دیا ہے اجنبی یا رشتہ دار نے تو دينے والا مالک ہے جوچاہے کرے۔ (4) (عالمگیری)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۶۱.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۱۶، وغيرہما .
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۶۱.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۶۲.
ليے جو کپڑا لایا جاتا ہے وہ اسی انداز سے لایا جاتا ہے جس میں یہ دونوں بھی ہو جائیں) جب تو ظاہر ہے کہ اس کی اجازت ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر میّت کے مال سے ہے تو دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ ورثہ سب بالغ ہوں اور سب کی اجازت سے ہو، جب بھی جائز ہے اور اگر اجازت نہ دی تو جس نے میّت کے مال سے منگایا اور تصدق کیا اس کے ذمہ یہ دونوں چیزیں ہیں یعنی ان میں جو قیمت صرف ہوئی ترکہ میں شمارکی جائے گی اور وہ قیمت خرچ کرنے والا اپنے پاس سے دے گا، دوسری صورت یہ کہ ورثہ میں کُل یا بعض نابالغ ہیں تو اب وہ دونوں چیزیں ترکہ سے ہرگز نہیں دی جا سکتیں، اگرچہ اس نابالغ نے اجازت بھی دیدی ہو کہ نابالغ کے مال کو صرف کر لینا حرام ہے۔ لوٹے گھڑے ہوتے ہوئے خاص میّت کے نہلانے کے ليے خریدے تو اس میں یہی تفصیل ہے۔ تیجہ، دسواں، چالیسواں، ششماہی، برسی کے مصارف میں بھی یہی تفصیل ہے کہ اپنے مال سے جو چاہے خرچ کرے اور میّت کو ثواب پہنچائے اور میّت کے مال سے یہ مصارف اسی وقت کيے جائیں کہ سب وارث بالغ ہوں اور سب کی اجازت ہو ورنہ نہیں مگر جو بالغ ہو اپنے حصہ سے کر سکتا ہے۔ ایک صورت اور بھی ہے کہ میّت نے وصیت کی ہو تو دَین ادا کرنے کے بعد جو بچے اس کی تہائی میں وصیت جاری ہوگی۔ اکثر لوگ اس سے غافل ہیں یا ناواقف کہ اس قسم کے تمام مصارف کر لینے کے بعد اب جو باقی رہتا ہے اسے ترکہ سمجھتے ہیں۔ ان مصارف میں نہ وارث سے اجازت لیتے ہیں، نہ نابالغ وارث ہونا مضر جانتے ہیں اور یہ سخت غلطی ہے، اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ تیجہ وغیرہ کو منع کیا جاتا ہے کہ یہ تو ایصالِ ثواب ہے، اسے کون منع کریگا۔ منع وہ کرے جو وہابی ہو بلکہ ناجائز طور پر جو ان میں صرف کیا جاتا ہے اس سے منع کیا جاتا ہے، کوئی اپنے مال سے کرے یا ورثہ بالغين ہی ہوں، ان سے اجازت لے کر کرے تو ممانعت نہیں۔
مسئلہ ۱: جنازہ کو کندھا دینا عبادت ہے، ہر شخص کو چاہيے کہ عبادت میں کوتاہی نہ کرے اور حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ اٹھایا۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۲: سنّت یہ ہے کہ چار شخص جنازہ اٹھائیں، ايک ايک پایہ ایک شخص لے اور اگر صرف دوشخصوں نے جنازہ اٹھایا، ایک سرہانے اور ایک پائنتی تو بلا ضرورت مکروہ ہے اور ضرورت سے ہو مثلاً جگہ تنگ ہے تو حرج نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: سنت یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے چاروں پایوں کو کندھا دے اور ہر بار دس دس قدم چلے اور پوری سنت یہ کہ پہلے دہنے سرہانے کندھا دے پھر دہنی پائنتی پھر بائیں سرہانے پھر بائیں پائنتی اور دس دس قدم چلے تو کُل چالیس قدم ہوئے کہ
1 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۹.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الرابع، ج۱، ص۱۶۲.
حدیث میں ہے، ''جو چالیس قدم جنازہ لے چلے اس کے چالیس کبیرہ گناہ مٹا ديے جائیں گے۔'' نیز حدیث میں ہے، ''جو جنازہ کے چاروں پایوں کو کندھا دے، اللہ تعالیٰ اس کی حتمی مغفرت فرما دے گا۔'' (1) (جوہرہ، عالمگیری، درمختار) مسئلہ ۴: جنازہ لے چلنے میں چارپائی کو ہاتھ سے پکڑ کر مونڈھے پر رکھے، اسباب کی طرح گردن یا پیٹھ پر لادنا مکروہ ہے، چوپایہ پر جنازہ لادنا بھی مکروہ ہے۔ (2) (عالمگیری، غنیہ، درمختار) ٹھیلے پر لادنے کا بھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ ۵: چھوٹا بچّہ شیرخوار یا ابھی دُودھ چھوڑا ہو یا اس سے کچھ بڑا، اس کو اگر ایک شخص ہاتھ پر اٹھا کر لے چلے تو حرج نہیں اور یکے بعد دیگرے لوگ ہاتھوں ہاتھ لیتے رہیں اور اگر کوئی شخص سواری پر ہو اور اتنے چھوٹے جنازہ کو ہاتھ پر ليے ہو، جب بھی حرج نہیں اور اس سے بڑا مردہ ہو تو چارپائی پر لے جائیں۔ (3) (غنیہ، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۶: جنازہ معتدل تیزی سے لے جائیں مگر نہ اس طرح کہ میّت کو جھٹکا لگے اور ساتھ جانے والوں کے ليے افضل یہ ہے کہ جنازہ سے پیچھے چلیں، دہنے بائیں نہ چلیں اور اگر کوئی آگے چلے تو اسے چاہيے کہ اتنی دور رہے کہ ساتھیوں میں نہ شمار کیا جائے اورسب کے سب آگے ہوں تو مکروہ ہے۔ (4) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۷: جنازہ کے ساتھ پیدل چلنا افضل ہے اور سواری پر ہو تو آگے چلنا مکروہ اور آگے ہو تو جنازہ سے دور ہو۔ (5) (عالمگیری، صغیری)
مسئلہ ۸: عورتوں کو جنازہ کے ساتھ جانا ناجائز و ممنوع ہے اور نوحہ کرنے والی ساتھ ميں ہو تو اسے سختی سے منع کیا جائے، اگر نہ مانے تو اس کی وجہ سے جنازہ کے ساتھ جانا نہ چھوڑا جائے کہ اس کے ناجائز فعل سے يہ کیوں سُنت ترک کرے، بلکہ دل سے اسے بُرا جانے اور شریک ہو۔ (6) (درمختار، صغیری)
1 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۹.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الرابع، ج۱، ص۱۶۲.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۵۸ ۔ ۱۵۹.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الرابع، ج۱، ص۱۶۲.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۵۹.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الرابع، ج۱، ص۱۶۲.
و ''غنیۃ المتملي، فصل في الجنائز، ص۵۹۲. وغیرھما
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الرابع، ج۱، ص۱۶۲، وغیرہ .
5 ۔ المرجع السابق، و ''صغيری''، فصل في الجنائز، ص۲۹۲.
6 ۔ ''صغيری ''، فصل في الجنائز، ص۲۹۳.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۶۲.
مسئلہ ۹: اگر عورتیں جنازے کے پیچھے ہوں اور مرد کو یہ اندیشہ ہو کہ پیچھے چلنے میں عورتوں سے اختلاط ہو گا یا ان میں کوئی نوحہ کرنے والی ہو تو ان صورتوں میں مرد کو آگے چلنا بہتر ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: جنازہ لے چلنے میں سرہانا آگے ہونا چاہيے اور جنازہ کے ساتھ آگ لے جانے کی ممانعت ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: جنازہ کے ساتھ چلنے والوں کو سکوت کی حالت میں ہونا چاہيے۔ موت اور احوال و اہوالِ قبر کو پیش نظر رکھیں، دنیا کی باتیں نہ کریں نہ ہنسیں، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو جنازہ کے ساتھ ہنستے دیکھا، فرمایا: ''تُو جنازہ میں ہنستا ہے، تجھ سے کبھی کلام نہ کروں گا۔'' اور ذکر کرنا چاہیں تو دل میں کریں اور بلحاظ حال زمانہ اب علما نے ذکر جہر کی بھی اجازت دی ہے۔ (3) (صغیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۱۲: جنازہ جب تک رکھا نہ جائے بیٹھنا مکروہ ہے اور رکھنے کے بعد بے ضرورت کھڑا نہ رہے اور اگر لوگ بیٹھے ہوں اور نماز کے ليے وہاں جنازہ لایا گیا تو جب تک رکھا نہ جائے کھڑے نہ ہوں۔ يوہيں اگر کسی جگہ بیٹھے ہوں اور وہاں سے جنازہ گزرا تو کھڑا ہونا ضرور نہیں، ہاں جو شخص ساتھ جانا چاہتا ہے وہ اٹھے اور جائے، جب جنازہ رکھا جائے تو یوں نہ رکھیں کہ قبلہ کو پاؤں ہوں یا سر بلکہ آڑا رکھیں کہ دہنی کروٹ قبلہ کو ہو۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۳: جنازہ اٹھانے پر اُجرت لینا دینا جائز ہے، جب کہ اور اٹھانے والے بھی موجود ہوں۔ (5) (عالمگیری) مگر جو ثواب جنازہ لے چلنے پر حديث ميں بيان ہوا، اسے نہ ملے گا کہ اس نے تو بدلہ لے ليا۔
مسئلہ ۱۴: میّت اگر پڑوسی یا رشتہ داریاکوئی نیک شخص ہو تو اس کے جنازہ کے ساتھ جانا نفل نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ (6) (عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، في حمل الميت، ج۳، ص۱۶۲.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الرابع، ج۱، ص۱۶۲.
3 ۔ ''صغيری ''، فصل في الجنائز، ص۲۹۲.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۶۳.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۱۴۰.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الرابع، ج۱، ص۱۶۲.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۶۰.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الرابع، ج۱، ص۱۶۲.
6 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۵: جو شخص جنازہ کے ساتھ ہو اسے بغیر نماز پڑھے واپس نہ ہونا چاہيے اور نماز کے بعد اولیائے میّت سے اجازت لے کر واپس ہو سکتا ہے اور دفن کے بعد اولیا سے اجازت کی ضرورت نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: نمازِ جنازہ فرض کفایہ ہے کہ ایک نے بھی پڑھ لی تو سب بری الذمہ ہوگئے، ورنہ جس جس کو خبر پہنچی تھی اور نہ پڑھی گنہگار ہوا۔ (2) (عامۂ کتب) اسکی فرضیت کا جو انکار کرے کافر ہے۔
مسئلہ ۲: اس کے ليے جماعت شرط نہیں، ایک شخص بھی پڑھ لے فرض ادا ہوگیا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: نمازِ جنازہ واجب ہونے کے ليے وہی شرائط ہیں جو اور نمازوں کے ليے ہیں یعنی
(۱) قادر
(۲) بالغ
(۳) عاقل
(۴) مسلمان ہونا، ایک بات اس میں زیادہ ہے یعنی اس کی موت کی خبر ہونا۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: نمازِ جنازہ میں دو طرح کی شرطیں ہیں، ایک مصلّی کے متعلق دوسری میّت کے متعلق، مصلّی کے لحاظ سے تو وہی شرطیں ہیں جو مطلق نماز کی ہیں یعنی
(۱) مصلّی کا نجاست حکمیہ و حقیقیہ سے پاک ہونا، نیز اس کے کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا
(۲) ستر عورت
(۳) قبلہ کو مونھ ہونا
(۴) نیت، اس میں وقت شرط نہیں اور تکبیر تحریمہ رُکن ہے شرط نہیں جیسا پہلے ذکر ہوا۔ (5) (ردالمحتار وغیرہ)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۵.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۰.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۲.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۱.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۱، وغيرہ .
بعض لوگ جوتا پہنے اور بہت لوگ جوتے پر کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھتے ہیں، اگر جوتا پہنے پڑھی تو جوتا اور اس کے نیچے کی زمین دونوں کا پاک ہونا ضروری ہے، بقدر مانع نجاست ہوگی تو اس کی نماز نہ ہوگی اور جوتے پر کھڑے ہو کر پڑھی تو جوتے کا پاک ہونا (1) ضروری ہے۔
مسئلہ ۵: جنازہ طیار ہے جانتا ہے کہ وضو یا غسل کریگا تو نماز ہو جائے گی تیمم کر کے پڑھے۔ اس کی تفصیل باب تیمم میں مذکور ہوئی۔
مسئلہ ۶: امام طاہر نہ تھا تو نماز پھر پڑھیں، اگرچہ مقتدی طاہر ہوں کہ جب امام کی نہ ہوئی کسی کی نہ ہوئی اور اگر امام طاہر تھا اور مقتدی بلا طہارت تو اعادہ نہ کی جائے کہ اگرچہ مقتدیوں کی نہ ہوئی مگر امام کی تو ہوگئی۔ يوہيں اگر عورت نے نماز پڑھائی اور مردوں نے اس کی اقتدا کی تو لوٹائی نہ جائے کہ اگرچہ مردوں کی اقتدا صحیح نہ ہوئی مگر عورت کی نماز تو ہوگئی، وہی کافی ہے اور نماز جنازہ کی تکرار جائز نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۷: نماز جنازہ سواری پر پڑھی تو نہ ہوئی۔ امام کا بالغ ہونا شرط ہے خواہ امام مرد ہو یا عورت، نابالغ نے نماز پڑھائی تو نہ ہوئی۔ (3) (درمختار، عالمگیری)
نماز جنازہ میں میّت سے تعلق رکھنے والی چند شرطیں ہیں۔
(۱) میّت کا مسلمان ہونا۔ (4)
مسئلہ ۸: میّت سے مراد وہ ہے جو زندہ پیدا ہوا پھر مر گیا، تو اگر مردہ پیدا ہوا بلکہ اگر نصف سے کم باہر نکلا اس وقت زندہ تھا اور اکثر باہر نکلنے سے پیشتر مر گیا تو اُس کی بھی نماز نہ پڑھی جائے اور تفصیل آتی ہے۔
مسئلہ ۹: چھوٹے بچے کے ماں باپ دونوں مسلمان ہوں یا ایک تو وہ مسلمان ہے، اُس کی نماز پڑھی جائے اور دونوں کافر ہیں تو نہیں۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۰: مسلمان کو دارالحرب میں چھوٹا بچہ تنہا ملا اور اُس نے اُٹھا لیا پھر مسلمان کے یہاں مرا، تو اُس کی نماز پڑھی
1 ۔ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:احتیاط یہی ہے کہ جوتا اتار کر اس پر پاؤں رکھ کر نماز پڑھی جائے کہ زمین یا تلا اگر ناپاک ہو تو نماز میں خلل نہ آئے۔(فتاویٰ رضویہ ج۹ ص۱۸۸)
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۲.
3 ۔ المرجع السابق، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۴.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۱.
5 ۔
جائے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: ہر مسلمان کی نماز پڑھی جائے اگرچہ وہ کیسا ہی گنہگار و مرتکب کبائر ہو مگر چند قسم کے لوگ ہیں کہ اُن کی نماز نہیں۔
(۱) باغی جو امام برحق پر ناحق خروج کرے اور اُسی بغاوت میں مارا جائے۔
(۲) ڈاکو کہ ڈاکہ میں مارا گیا نہ اُن کو غسل دیا جائے نہ اُن کی نماز پڑھی جائے، مگر جبکہ بادشاہِ اسلام نے اُن پر قابو پایا اورقتل کیا تو نماز و غسل ہے یا وہ نہ پکڑے گئے نہ مارے گئے بلکہ ویسے ہی مرے تو بھی غسل و نماز ہے۔
(۳) جو لوگ ناحق پاسداری سے لڑیں بلکہ جو اُن کا تماشہ دیکھ رہے تھے اور پتھر آکر لگا اور مر گئے تو ان کی بھی نماز نہیں، ہاں اُنکے متفرق ہونے کے بعد مرے تو نماز ہے۔
(۴) جس نے کئی شخص گلا گھونٹ کر مار ڈالے۔
(۵) شہر میں رات کو ہتھیار لے کر لوٹ مار کریں وہ بھی ڈاکو ہیں، اس حالت میں مارے جائیں تو اُن کی بھی نماز نہ پڑھی جائے۔
(۶) جس نے اپنی ماں یا باپ کو مار ڈالا، اُس کی بھی نماز نہیں۔
(۷) جو کسی کا مال چھین رہا تھا اور اس حالت میں مارا گیا، اُس کی بھی نماز نہیں۔ (2) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۱۲: جس نے خودکشی کی حالانکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے، مگر اُس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی اگرچہ قصداً خودکشی کی ہو، جو شخص رجم کیا گیا یا قصاص میں مارا گیا، اُسے غسل دیں گے اور نماز پڑھیں گے۔ (3) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
(۲) میّت کے بدن و کفن کا پاک ہونا۔ (4)
مسئلہ ۱۳: بدن پاک ہونے سے یہ مراد ہے کہ اُسے غسل دیا گیا ہو یا غسل نا ممکن ہونے کی صورت میں تیمم کرایا گیا ہو اور کفن پہنانے سے پیشتر اُسکے بدن سے نجاست نکلی تو دھو ڈالی جائے اور بعد میں خارج ہوئی تو دھونے کی حاجت نہیں اور کفن پاک ہونے کا یہ مطلب ہے کہ پاک کفن پہنایا جائے اور بعد میں اگر نجاست خارج ہوئی اور کفن آلودہ ہوا تو حرج نہیں۔ (5) (درمختار ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۳.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: ھل يسقط فرض... إلخ، ج۳، ص۱۲۵، ۱۲۸.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۳، وغيرہما.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۷، وغيرہما.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۲.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۲.
مسئلہ ۱۴: بغیر غسل نماز پڑھی گئی نہ ہوئی، اُسے غسل دے کر پھر پڑھیں اور اگر قبر میں رکھ چکے، مگر مٹی ابھی نہیں ڈالی گئی تو قبر سے نکالیں اور غسل دے کر نماز پڑھیں اور مٹی دے چکے تو اب نہيں نکال سکتے، لہٰذا اب اُس کی قبر پر نماز پڑھیں کہ پہلی نماز نہ ہوئی تھی کہ بغير غُسل ہوئی تھی اور اب چونکہ غسل نا ممکن ہے لہٰذا اب ہو جائے گی۔ (1) (ردالمحتار وغیرہ)
(۳) جنازہ کا وہاں موجود ہونا یعنی کُل یا اکثر یا نصف مع سر کے موجود ہونا، لہٰذا غائب کی نماز نہیں ہوسکتی۔ (2)
(۴) جنازہ زمین پر رکھا ہونا یا ہاتھ پر ہو مگر قريب ہو، اگر جانور وغيرہ پر لدا ہو نماز نہ ہوگی۔ (3)
(۵) جنازہ مصلّی کے آگے قبلہ کو ہونا، اگر مصلّی کے پیچھے ہوگا نماز صحیح نہ ہوگی۔ (4)
مسئلہ ۱۵: اگر جنازہ الٹا رکھا یعنی امام کے دہنے میّت کا قدم ہو تو نماز ہو جائے گی، مگر قصداً ایسا کیا تو گنہگار ہوئے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: اگر قبلہ کے جاننے میں غلطی ہوئی یعنی میّت کو اپنے خیال سے قبلہ ہی کو رکھا تھا مگر حقیقۃً قبلہ کو نہیں، تو موضع تحری میں اگر تحری کی نماز ہوگئی ورنہ نہیں۔ (6) (درمختار)
(۶) میّت کا وہ حصۂ بدن جس کا چھپانا فرض ہے چُھپا ہونا۔ (7)
(۷) میّت امام کے محاذی ہو یعنی اگر ایک میّت ہے تو اُس کا کوئی حصۂ بدن امام کے محاذی ہو اور چند ہوں تو کسی ایک کا حصۂ بدن امام کے محاذی ہونا کافی ہے۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: نماز جنازہ میں دو رکن ہیں:
(۱) چار بار اللہ اکبر کہنا
(۲) قیام
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۱، وغيرہ.
2 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: ھل يسقط فرض الکفایۃ بفعل الصبي،
ج۳، ص۱۲۳.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۴.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۱.
8 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: ھل يسقط فرض الکفایۃ بفعل الصبي، ج۳، ص۱۲۳.
بغیر عذر بیٹھ کر يا سواری پر نماز جنازہ پڑھی، نہ ہوئی اور اگر ولی یا امام بیمار تھا اس نے بیٹھ کر پڑھائی اور مقتدیوں نے کھڑے ہو کر پڑھی ہوگئی۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: نماز جنازہ میں تین چیزیں سنت مؤکدہ ہیں:
(۱) اللہ عزوجل کی حمد و ثنا۔ (۲) نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود۔ (۳) میّت کے ليے دُعا۔
نماز جنازہ کا طریقہ یہ ہے کہ کان تک ہاتھ اُٹھا کر اللہ اکبر کہتا ہوا ہاتھ نیچے لائے اور ناف کے نیچے حسب دستور باندھ لے اور ثنا پڑھے، یعنی
سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ وَلَا اِلٰـہَ غَیْرُکَ .
پھر بغیرہاتھ اٹھائے اللہ اکبر کہے اور درود شریف پڑھے بہتر وہ دُرود ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے اور کوئی دوسرا پڑھا جب بھی حرج نہیں، پھر اللہ اکبر کہہ کر اپنے اور میّت اور تمام مومنین و مومنات کے ليے دُعا کرے اور بہتر یہ کہ وہ دُعا پڑھے جو احادیث میں وارد ہیں اور ماثور دُعائیں اگر اچھی طرح نہ پڑھ سکے توجو دُعا چاہے پڑھے، مگروہ دُعا ایسی ہو کہ اُمورِ آخرت سے متعلق ہو۔ (2) (جوہرہ نیرہ، عالمگيری، درمختار وغيرہا)
بعض ماثور دُعائیں یہ ہیں:
(۱) اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَشَاھِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا اَللّٰھُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی الْاِیْمَانِ ؕ اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ (ھا) (3) وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہٗ (ھا) . (4)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: ھل يسقط فرض... إلخ، ج۳، ص۱۲۴.
2 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۷.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۴، ۱۲۸.
3 ۔ ان دعاؤں میں عورتوں کیلئے جہاں صیغے کا اختلاف ہے اسے ہلال کے اوپر لکھ دیا ہے۔ ۱۲ منہ ز جبکہ ہم نے اسے ہلال ميں سامنے لکھ ديا ہے۔
4 ۔ رواہ احمد وابو داود و الترمذی والنسائی وابن حبان والحاکم عن ابی ہریرۃ و احمد وابو يعلی والبیہقی وسعید بن
منصور فی سننہ عن ابی قتادۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہما. ۱۲ منہ
''المستدرک'' للحاکم، کتاب الجنائز، باب أدعیۃ صلاۃ الجنازۃ، الحديث: ۱۳۶۶، ج۱، ص۶۸۴.
و ''عمل اليوم و الليلۃ'' مع ''السنن الکبری'' للنسائي، الحديث: ۱۰۹۱۹، ج۶، ص۲۶۶.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! تو بخش دے ہمارے زندہ اور مردہ اور ہمارے حاضر و غائب کو اور ہمارے چھوٹے اور ہمارے بڑے کو اور ہمارے مرد اور عورت کو، اے اللہ (عزوجل) ! ہم میں سے تُو جسے زندہ رکھے، اُسے اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے تُو جس کو وفات دے اُسے ایمان پر وفات دے۔ اے اللہ (عزوجل) ! تو ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ رکھ اور اس کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈال۔ ۱۲
(۲) اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ (لَھَا) وَارْحَمْہٗ (ھَا) وَعَافِہٖ (ھا) وَاعْفُ عَنْہُ (ھَا) وَاَکْرِمْ نُزُلَہٗ (ھَا) وَوَسِّعْ مُدْخَلَہٗ (ھَا) وَاغْسِلْہُ (ھَا) بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِوَنَقِّہٖ (ھَا) مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الثَّوْبَ الْاَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَاَبْدِلْہُ (ھَا) دَارًا خَیْرًا مِّنْ دَارِہٖ (ھَا) وَاَھْلاً خَیْرًا مِّنْ اَھْلِہٖ (ھَا) وَزَوْجًا خَیْرًا مِّنْ زَوْجِہٖ (1) وَاَدْخِلْہُ (ھَا) اَلْجَنَّۃَ وَاَعِذْہٗ (ھَا) مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ۔ (2)
(۳) اَللّٰھُمَّ عَبْدُکَ (اَمَتَکَ) وَابْنُ (بِنْتُ) اَمَتِکَ یَشْھَدُ (تَشْھَدُ) اَنْ لَّا اِلہٰ َ اِلَّا اَنتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ وَ یَشْھَدُ (تَشْھَدُ) اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ اَصْبَحَ فَقِیْرًا (اَصْبَحَتْ فَقِیْرَۃً) اِلٰی رَحْمَتِکَ وَاَصْبَحْتَ غَنِیًّا عَنْ عَذَابِہٖ (ھَا) تَخَلّٰی (تَخَلَّتْ) مِنَ الدُّنْیَا وَاَھْلِھَا اِنْ کَانَ (کَانَتْ) زَاکِیًا (زَکِیَۃً) فَزِکِّہٖ (ھَا) وَاِنْ کَانَ (کَانَتْ) مُخْطِئًا (مُخْطِئَۃً) فَاغْفِرْ لَـہٗ (ھَا) اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ (ھَا) وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَہٗ (ھَا) . (3)
(۴) اَللّٰھُمَّ ھَذَا (ھٰذِہٖ) عَبْدُکَ ابْنُ (اَمَتُکَ بِنْتُ) عَبْدِکَ ابْنُ (بِنْتُ) اَمَتِکَ مَاضٍ فِیْہِ (ھَا) حُکْمُکَ خَلَقْتَہٗ (ھَا) وَلَمْ یَکُ (تَکُ ھِیَ) شَیْئًا مَذْکُوْرًا ؕ نَزَلَ (نَزَلَتْ) بِکَ وَاَنْتَ خَیْرُ مَنْزُولٍ بَہٖ اَللّٰہُمَّ لَقِّنْہُ (ھَا) حُجَّتَہٗ (ھَا) وَاَلْحِقْہُ (ھا) بِنَبِیِّہٖ (ھَا)مُحَمَّدٍ صَلیَّ اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؕ وَثَبِّتْہُ (ھَا) بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ
1 ۔ يعنی يہ الفاظ عورت کے جنازہ پر نہ پڑھے جائيں۔ ۱۲ منہ
2 ۔ رواہ مسلم والترمذی والنسائی و ابن ماجہ و ابوبکر بن ابی شیبۃ عن عوف بن مالک الاشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ. ۱۲ منہ
''صحيح مسلم''، کتاب الجنائز، باب الدعاء للميت في الصلاۃ، الحدیث: ۹۶۳، ص۴۷۹.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! اُس کو بخش دے اور رحم کر اور عافیت دے اور معاف کر اور عزت کی مہمانی کر اور اس کی جگہ کو کشادہ کر اور اس کو پانی اور برف اور اولے سے دھو دے اور اس کو خطا سے پاک کر جیسا کہ تو نے سفید کپڑے کو میل سے کیا اور اس کو گھرکے بدلے ميں بہتر گھر دے اور اہل کے بدلے میں بہتر اہل دے اور بی بی کے بدلے میں بہتر بی بی اور اس کو جنت میں داخل کر اور عذاب قبر و فتنہ قبر و عذاب جہنم سے محفوظ رکھ۔ ۱۲
3 ۔ رواہ الحاکم عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما. ۱۲ منہ
''المستدرک'' للحاکم، کتاب الجنائز، باب أدعیۃ صلاۃ الجنازۃ، الحديث: ۱۳۶۹، ج۱، ص۶۸۵.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیری باندی کا بیٹا ہے گواہی دیتا ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو تنہا ہے تیرا کوئی شریک نہیں گواہی دیتا ہے کہ محمد (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) تیرے بندے اور رسول ہیں یہ تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اسکے عذاب سے غنی ہے دنیااور دنیا والوں سے جُدا ہوا، اگر یہ پاک ہے تو تُو اسے پاک و صاف کر اور اگر خطا کار ہے تو بخش دے۔ اے اللہ (عزوجل) ! اس کے اجر سے ہمیں محروم نہ رکھ اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔ ۱۲
فِاِنَّہٗ (ھَا) اِفْتَقَرَ (اِفْتَقَرَتْ) اِلَیْکَ وَاسْتَغْنَیْتَ عَنْہُ (ھَا) کَانَ (کَانَتْ) یَشْھَدُ (تَشْھَدُ) اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ فَاغْفِرْلَہٗ (لَھَا) وَارْحَمْہُ (ھَا) وَلَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ (ھَا) وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہٗ (ھَا) ط اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ (کَانَتْ) زَاکِیَّا (زَاکِیَّۃً) فَزَکِّہٖ (ھَا) وَاِنْ کَانَ (کَانَتْ) خَاطِئًا (خَاطِئَۃً) فَاغْفِرْ لَـہٗ (ھَا) . (1)
(۵) اَللّٰھُمَّ عَبْدُکَ (اَمَتُکَ) وَابْنُ (بِنْتُ) اَمَتِکَ اِحْتَاجَ (جَتْ) اِلیٰ رَحْمَتِکَ وَاَنْتَ غَنِیٌّ عَنْ عَذَابِہٖ (ھَا) اِنْ کَانَ (کانَتْ) مُحْسِنًا (مُحْسِنَۃً) فَزِدْ فِیْ اِحْسَانِہٖ (ھَا) وَاِنْ کَانَ (کَانَتْ) مُسِیْئًا (مُسِیْئَۃً) فَتَجَاوَزْ عَنْہُ (ھَا) . (2)
(۶) اَللّٰھُمَّ عَبْدُکَ (اَمَتُکَ) وَابْنُ (بِنْتُ) عَبْدِکَ کَانَ (کَانَتْ) یَشْھَدُ (تَشْھَدُ) اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ صَلیَ اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؕ وَاَنْتَ اَعْلَمُ بہٖ (ھَا) مِنَّا اِنْ کَانَ (کَانَتْ) مُحْسِنًا (مُحْسِنَۃً) فَزِدْ فِیْ اِحْسَانِہٖ (ھَا) وَاِنْ کَانَ (کَانَتْ) مُسِیْئًا (مُسِیْئَۃً) فَاغْفِرْ لَـہٗ (ھَا) وَلَا تَحْرِمْنَآ اَجْرَہٗ (ھَا) وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہٗ (ھَا) . (3)
1 ۔ رواہ عن امیر المومنین علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ. ۱۲ منہ
''کنز العمال''، کتاب الموت، صلاۃ الجنائز، الحديث: ۴۲۸۵۷، ج۱۵، ص۳۰۴.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! یہ تیرا بندہ ہے اور تيرے بندہ اور تیری باندی کا بیٹا ہے، اس کے متعلق تیرا حکم نافذ ہے تُو نے اسے پیدا کیا
حالانکہ یہ قابل ذکر شے نہ تھا۔ تیرے پاس آیا تو ان سب سے بہتر ہے جن کے پاس اوترا جائے۔ اے اللہ حجت کی تو اس کو تلقین کر اور اس کو اس کے نبی محمد صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کے ساتھ ملا دے اور قول ثابت پر اسے ثابت رکھ اس ليے کہ یہ تیری طرف محتاج ہے اور تو اس سے غنی ہے یہ شہادت دیتا تھا کہ اللہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں، پس اسے بخش دے اور رحم کر اور اس کے اجر سے ہم کو محروم نہ کر اور اس کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈال۔ اے اللہ (عزوجل) ! اگر یہ پاک ہے تو پاک کر اور بدکار ہے تو بخش دے۔ ۱۲
2 ۔ رواہ الحاکم عن یزید بن رکانۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہما. ۱۲ منہ
''المستدرک'' للحاکم، کتاب الجنائز، باب أدعیۃ صلاۃ الجنازۃ، الحديث: ۱۳۶۸، ج۱، ص۶۸۵.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیری باندی کا بیٹا ہے، تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اسکے عذاب سے غنی ہے اگر نیکوکار ہے تو اس کی خوبی میں زیادہ کر اور اگر گنہگار ہے تو درگذر فرما۔ ۱۲
3 ۔ رواہ ابن حبان عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ. ۱۲ منہ
''الإحسان بترتيب صحيح ابن حبان''، کتاب الجنائز، فصل في الصلاۃ علی الجنازۃ، الحديث: ۳۰۶۲، ج۵، ص۳۰.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندہ کا بیٹا ہے، گواہی دیتا تھا کہ اللہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم تیرے بندہ اورتیرے رسول ہیں اور تُو ہم سے زیادہ اسے جانتا ہے، اگر نیکوکار ہے تو نیکی میں زیادہ کر اوراگر گنہگار ہے تو اسے بخش دے اور اس کے اجر سے ہمیں محروم نہ کر اور اس کے بعد فتنہ میں نہ ڈال۔ ۱۲
(۷) اَصْبَحَ (اَصْبَحَتْ) عَبْدُکَ (اَمَتُکَ) ھَذٰا (ہٰذِہٖ) قَدْ تَخَلّٰی (تَخَلَّتْ) عَنِ الدُّنْیَا وَتَرَکَھَا (تَرَکَتْھَا) لِاَھْلِھَا وَافْتَقَرَ (افْتَقَرَتْ) اِلَیْکَ وَاسْتَغْنَیْتَ عَنْہُ (ھَا) وَقَد کَانَ (کَانَتْ) یَشْھَدُ (تَشْھَدُ) اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؕ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ (ھَا) وَتَجَاوَزْ عَنْہُ (ھَا) وَاَلْحِقْہُ (ھَا) بِنَبِیِّہٖ (ھَا) صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ . (1)
(۸) اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبُّھَا وَاَنْتَ خَلَقْتَھَا وَاَنْتَ ھَدَیْتَھَا لِلْاِسْلَامِ ؕ وَاَنْتَ قَبَضْتَ رُوْحَھَا وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِسِرِّھَا وَعَلَا نِیَّتِھَا جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْلَھَا . (2)
(۹) اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاِخْوَانِنَا وَاَخَوَاتِنَا وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِنَا اَللّٰھُمَّ ھٰذَا (ھٰذِہٖ) عَبْدُکَ (اَمَتُکَ) فُـلَانُ بْنُ فُـلَانٍ وَلَا نَعْلَمُ اِلَّا خَیْرًا وَّاَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ (بِھَا) مِنَّا فَاغْفِرْلَنَا وَلَہٗ (لَھَا) . (3)
(۱۰) اَللّٰھُمَّ اِنَّ فُـلَانَ بْنَ فُـلَانٍ (فُـلَانَہُ بِنْتَ فُـلَانٍ) فِیْ ذِمَّتِکَ وَحَبْلِ جَوَارِکَ فَقِہٖ (ھَا) مِنْ
فِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَاَنْتَ اَھلُ الْوَفَاءِ وَالْحَمْدِؕ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ (ھَا) وَارْحَمْہٗ (ھَا) اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ ؕ . (1)
(۱۱) اَللّٰھُمَّ اَجِرْھَا مِنَ الشَّیْطَانِ وَعَذَابِ الْقَبْرِؕ اَللّٰھُمَّ جَافِ الْاَرْضَ عَنْ جَنْبَیْھَا وَصَعِّدْ رُوْحَھَا وَلَقِّھَا مِنْکَ رِضْوَانًا ؕ . (2)
(۱۲) اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ خَلَقْتَنَا وَنَحْنُ عِبَادُکَ ؕ اَنْتَ رَبُّنَا وَ اِلَیْکَ مَعَادُنَا . (3)
(۱۳) اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَوَّلِنَا واٰخِرِنَا وَحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَشَاھِدِنَا وَغَائِبِنَا اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ (ھَا) وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہٗ (ھَا) . (4)
(۱۴) اَللّٰھُمَّ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ یَا بَدِیْعَ
(۹) اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاِخْوَانِنَا وَاَخَوَاتِنَا وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا وَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِنَا اَللّٰھُمَّ ھٰذَا (ھٰذِہٖ) عَبْدُکَ (اَمَتُکَ) فُـلَانُ بْنُ فُـلَانٍ وَلَا نَعْلَمُ اِلَّا خَیْرًا وَّاَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ (بِھَا) مِنَّا فَاغْفِرْلَنَا وَلَہٗ (لَھَا) . (3)
(۱۰) اَللّٰھُمَّ اِنَّ فُـلَانَ بْنَ فُـلَانٍ (فُـلَانَہُ بِنْتَ فُـلَانٍ) فِیْ ذِمَّتِکَ وَحَبْلِ جَوَارِکَ فَقِہٖ (ھَا) مِنْ
1 ۔ رواہ ابو یعلی بسند صحیح عن سعید بن المسیب عن امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ من قولہ الحقنا بما قبلہ من المرفوعات للمناسبتہ. ۱۲ منہ
''کنز العمال''، کتاب الموت، صلاۃ الجنائز، الحديث: ۴۲۸۱۷، ج۱۵، ص۲۹۹.
ترجمہ: آج تیرا یہ بندہ دنیا سے نکلا اور دنیا کو اہل دنیا کے ليے چھوڑا۔ تیری طرف محتاج ہے اور تو اس سے غنی گواہی دیتا تھا کہ اللہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمد صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم تیرے بندہ اور رسول ہیں اے اللہ (عزوجل) ! تُو اس کو بخش دے اور اس سے درگزر فرما اور اس کو اس کے نبی محمد صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کے ساتھ لاحق کر دے۔ ۱۲
2 ۔ رواہ ابو داود والنسائی والبیہقی عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ. ۱۲ منہ
''سنن أبي داود''، کتاب الجنائز، باب الدعاء للميت، الحديث: ۳۲۰۰، ج۳، ص۲۸۳.
و ''السنن الکبریٰ'' للبيہقي، کتاب الجنائز، باب الدعاء في صلاۃ الجنازۃ، الحديث: ۶۹۷۶، ج۴، ص۶۸.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! تُو اس کا رب ہے اور تُو نے اس کو پیدا کیا اورتُو نے اس کو اسلام کی طرف ہدایت کی اور تُو نے اس کی رُوح کو قبض کیا تُو اس کے پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے ہم سفارش کے ليے حاضر ہوئے اسے بخش دے۔
3 ۔ روا ابو نعیم عن عبد اللہ بن الحارث بن نوفل عن ابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ. ۱۲ منہ
''کنز العمال''، کتاب الموت، صلاۃ الجنائز، الحديث: ۴۲۸۳۷، ج۱۵، ص۳۰۱.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو تُو بخش دے اور ہمارے آپس کی حالت درست کر اور ہمارے دلوں میں اُلفت پیدا کر دے۔ اے اللہ (عزوجل) ! یہ تیرا بندہ فلاں بن فلاں ہے ہم اس کے متعلق خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے اور تُو اس کو ہم سے زیادہ جانتا ہے، تُو ہم کو اور اُس کو بخش دے۔ ۱۲
فِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَاَنْتَ اَھلُ الْوَفَاءِ وَالْحَمْدِؕ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ (ھَا) وَارْحَمْہٗ (ھَا) اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ ؕ . (1)
(۱۱) اَللّٰھُمَّ اَجِرْھَا مِنَ الشَّیْطَانِ وَعَذَابِ الْقَبْرِؕ اَللّٰھُمَّ جَافِ الْاَرْضَ عَنْ جَنْبَیْھَا وَصَعِّدْ رُوْحَھَا وَلَقِّھَا مِنْکَ رِضْوَانًا ؕ . (2)
(۱۲) اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ خَلَقْتَنَا وَنَحْنُ عِبَادُکَ ؕ اَنْتَ رَبُّنَا وَ اِلَیْکَ مَعَادُنَا . (3)
(۱۳) اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَوَّلِنَا واٰخِرِنَا وَحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَشَاھِدِنَا وَغَائِبِنَا اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ (ھَا) وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہٗ (ھَا) . (4)
(۱۴) اَللّٰھُمَّ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ یَا بَدِیْعَ
1 ۔ رواہ ابو داود و ابن ماجہ عن واثلہ بن الاسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ. ۱۲ منہ
''سنن أبي داود''، کتاب الجنائز، باب الدعاء للميت، الحديث: ۳۲۰۲، ج۳، ص۲۸۳.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! فلاں بن فلاں تیرے ذمہ اور تیری حفاظت میں ہے، اس کو فتنۂ قبر اور عذاب جہنم سے بچا، تُو وفا اور حمد کا اہل ہے اے اللہ (عزوجل) ! اس کو بخش اور رحم کر بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے۔ ۱۲
2 ۔ رواہ ابن ماجہ عن ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما. ۱۲ منہ
''سنن ابن ماجہ''، کتاب الجنائز، باب ماجاء في إدخال الميت القبر، الحديث: ۱۵۵۳، ج۲، ص۲۴۳.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! اس کو شیطان سے اور عذابِ قبر سے بچا اے اللہ زمین کو اس کی دونوں کروٹوں سے کشادہ کر دے اور اُس کی رُوح کو بلند کر اور اپنی خوشنودی دے۔ ۱۲
3 ۔ رواہ البغوی و ابن مندہ والدیلمی فی مسند الفردوس عن ابی حاضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ . ۱۲ منہ
''کنز العمال''، کتاب الموت، صلاۃ الجنائز، الحديث: ۴۲۸۴۲، ج۱۵، ص۳۰۲.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! تُو نے ہم کو پیدا کیا اور ہم تیرے بندے ہیں، تُو ہمارا رب ہے اور تیری ہی طرف ہم کو لوٹنا ہے۔ ۱۲
نوٹ: بہارِ شريعت کے مطبوعہ نسخوں ميں عن ابی عامر جبکہ فتاویٰ رضويہ قدیم و جدید دونوں ميں عن ابی حاصر ہے۔ ہم نے بہارِ شريعت ميں اسے عن ابی حاضرلکھ دیا ہے، کیونکہ يہ دونو ں کتابت کی غلطیاں معلوم ہوتی ہیں۔
دیکھئے: ''مسند الفردوس''، الحدیث: ۲۰۲۶، ج۱، ص۴۹۷. ''الاصابۃ في تمييز الصحابۃ'' للعسقلاني، رقم: ۹۷۴۱، ج۷، ص۷۰.
4 ۔ رواہ البغوی عن ابراہیم الاسہلی عن ابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ. ۱۲ منہ
''کنز العمال''، کتاب الموت، في الصلاۃ علی الميت، الحديث: ۴۲۲۹۲، ج۱۵، ص۲۴۸.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! بخش دے ہمارے اگلے اور پچھلے کو اورہمارے زندہ و مردہ کو اور ہمارے مرد و عورت کو اور ہمارے چھوٹے اور بڑے کو اور ہمارے حاضر و غائب کو۔ اے اللہ (عزوجل) ! اس کے اجر سے ہمیں محروم نہ کر اور اس کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈال۔ ۱۲
السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ اِنِّیْ اَسْئَالُکَ بِاَنِّیْ اَشْھَدُ اَنَّکَ اَنْتَ اللہُ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ o اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ وَاَتَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ نَّبِیِّ الرَّحْمَۃِؕ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؕ اَللّٰھُمَّ اِنَّ الْکَرِیْمَ اِذَا اَمَرَ بِالْسُّئَوالِ لَمْ یَرُدَّہٗ اَبَدًا وَّقَدْ اَمَرْتَنَا فَدَعَوْنَا وَاَذِنْتَ لَنَا فَشَفَعْنَا وَاَنْتَ اَکْرَمُ الْاَکْرَمِیْنَ ؕ فَشَفِّعْنَا فِیْہِ (ھَا) وَارْحَمْہُ (ھَا) فِیْ وَحْدَتِہٖ (ھَا) وَارْحَمْہُ (ھَا) فِیْ وَحْشَتِہٖ (ھَا) وَارْحَمْہُ (ھَا) فِیْ غُرْبَتِہٖ (ھَا) وَارْحَمْہُ (ھَا) فِیْ کُرْبَتِہٖ (ھَا) وَاعْظِمْ لَـہٗ (لَھَا) اَجْرَہٗ (ھَا) وَنَوِّرْ لَـہٗ (ھَا) قَبْرَہٗ (ھاَ) وَبَیِّضْ لَـہٗ (لَھَا) وَجْھَہٗ (ھَا) وَبَرِّدْلَـہٗ (ھَا) مَضْجَعَہٗ (ھَا) وَعَطِّرْلَـہٗ (ھَا) مَنْزِلَـہٗ (ھَا) وَاَکْرِمْ لَـہٗ (ھَا) نُزُلَہُ (ھَا) یَا خَیْرَ الْمُنْزِلِیْنَ ج وَ یَاخَیْرَ الْغَافِرِیْنَ وَ یَا خَیْرَ الرَّاحِمِیْنَ ج اٰمِیْنَ اٰمِیْنَ اٰمِیْنَ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِ الشَّافِعِیْنَ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِـہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ ؕ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (1)
فائدہ: نویں دسویں دعاؤں میں اگر میت کے باپ کا نام معلوم نہ ہو تو اُس کی جگہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام کہے کہ وہ سب آدمیوں کے باپ ہیں اور اگر خود میّت کا نام بھی معلوم نہ ہو تو نویں دُعا میں
ھٰذَا عَبْدُکَ یا ھٰذِہٖ اَمَتُکَ
پر قناعت کرے فلاں بن فلاں یا بنت کو چھوڑ دے اور دسویں میں اُس کی جگہ
عَبْدُکَ ھٰذَا
یا عورت ہو تو
اَمَتُکَ ھٰذِہٖ
کہے۔
فائدہ: میّت کا فسق و فجور معلوم ہو تو نویں دُعا میں
لَا نَعْلَمُ اِلَّا خَیْرًا
کی جگہ
قَدْ عَلِمْنَا مِنْہُ خَیْرًا
کہے کہ اسلام ہر خير سے بہترخیر ہے۔
1 ۔ زادہ مجدد المأتہ الحاضرۃ. ۱۲ منہ
''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۲۱۷.
ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! اے ارحم الراحمین، اے ارحم الراحمین، اے ارحم الراحمین، اے زندہ، اے قیوم، اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، اے عظمت و بزرگی والے، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس وجہ سے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ تو اللہ (عزوجل) یکتا ہے، بے نیاز ہے، جو نہ دوسرے کو جنا، نہ دوسرے سے جنا اور اُس کا مقابل کوئی نہیں۔ اے اللہ میں سوال کرتا ہوں اور تیری طرف نبی محمد صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کے ذریعہ سے متوجہ ہوتا ہوں۔ اے اللہ کریم! جب سوال کا حکم دیتا ہے تو واپس کبھی نہیں کرتا اور تُو نے ہمیں حکم دیا ہم نے دُعاکی اور تُو نے ہمیں اجازت دی ہم نے سفارش کی اور تو سب کریموں سے زیادہ کریم ہے، ہماری سفارش اس کے بارہ میں قبول کر اور اس کی تنہائی میں تُو اس پر رحم کر اور اس کی وحشت میں تُو رحم کر اور اس کی غربت میں تُو رحم کر اس کی بے چینی میں تُو رحم کر اور اس کے اجر کو عظیم کر اور اس کی قبر کو منور کر اور اس کے چہرہ کو سپید کر اور اس کی خواب گاہ کو ٹھنڈا کر اور اُس کی منزل کو معطر کر اور اس کی مہمانی کا سامان اچھا کر۔
اے بہتر اوتارنے والے اور اے بہتر بخشنے والے اور اے بہتر رحم کرنے والے۔ آمین، آمین، آمین، دُرودو سلام بھیج اور برکت کر شفاعت کرنے والوں کے سردار محمد (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) اور اُن کی آل و اصحاب سب پر۔ تمام تعریفیں اللہ (عزوجل) کے ليے، جو رب ہے تمام جہان کا۔ ۱۲
فائدہ: ان دُعاؤں میں بعض مضامین مکرر ہیں اور دُعا میں تکرار مستحسن اگر سب دُعائیں یاد ہوں اور وقت میں گنجائش ہو تو سب کا پڑھنا اَولیٰ، ورنہ جو چاہے پڑھے اور امام جتنی دیر میں یہ دُعائیں پڑھے اگر مقتدی کو یاد نہ ہوں تو پہلی دُعا کے بعد آمین آمین کہتا رہے۔
مسئلہ ۱: میت مجنون یا نابالغ ہو تو تیسری تکبیر کے بعد یہ دُعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا ذُخْرًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا شَافِعًا وَّمُشَفَّعًا . (1)
اور لڑکی ہو تو
اجْعَلْھَا
اور
شَافِعَۃً وَّمُشَفَّعَۃً
کہے۔ (2) (جوہرہ)
مجنون سے مراد وہ مجنون ہے کہ بالغ ہونے سے پہلے مجنون ہوا کہ وہ کبھی مکلّف ہی نہ ہوا اور اگر جنون عارضی ہے تو اس کی مغفرت کی دُعا کی جائے، جیسے اوروں کے ليے کی جاتی ہے کہ جنوں سے پہلے تو وہ مکلّف تھا اور جنون کے پیشتر کے گناہ جنوں سے جاتے نہ رہے۔ (3) (غنیہ)
مسئلہ ۲: چوتھی تکبیر کے بعد بغیر کوئی دُعا پڑھے ہاتھ کھول کر سلام پھیر دے(4)، سلام میں میّت اور فرشتوں اورحاضرین نماز کی نیت کرے، اُسی طرح جیسے اور نمازوں کے سلام میں نیت کی جاتی ہے یہاں اتنی بات زیادہ ہے کہ میّت کی بھی نیت کرے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۳: تکبیر و سلام کو امام جہر کے ساتھ کہے، باقی تمام دُعائیں آہستہ پڑھی جائیں اور صرف پہلی مرتبہ اللہ اکبر کہنے کے وقت ہاتھ اٹھائے پھر ہاتھ اٹھانا نہیں۔ (6) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۴: نماز جنازہ میں قرآن بہ نیت قرآن یا تشہد پڑھنا منع ہے اور بہ نیت دُعا و ثنا الحمد وغیرہ آیات دعائیہ و ثنائیہ پڑھنا جائز ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۵: بہتر یہ ہے کہ نماز جنازہ میں تین صفیں کریں کہ حدیث میں ہے: ''جس کی نماز تین صفوں نے پڑھی،
1 ۔ ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! تو اس کو ہمارے ليے پیش رو کر اور اسکو ہمارے ليے ذخیرہ کر اور اسکو ہماری شفاعت کرنیوالا اور مقبول الشفاعۃ کر دے۔ ۱۲
2 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۸. 3 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في الجنائز، ص۵۸۷.
4 ۔ اس کی وضاحت فتاویٰ رضویہ جلد 9صفحہ 194پر ملاحظہ فرمالیجئے۔
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب ھل يسقط فرض... إلخ، ج۳، ص۱۳۰، وغيرہما.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۸۔۱۳۰.
7 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۳۰.
اُس کی مغفرت ہو جائے گی۔'' اور اگر کُل سات ہی شخص ہوں تو ایک امام ہو اور تین پہلی صف میں اور دو دوسری میں اور ایک تیسری میں۔ (1) (غنیہ)
مسئلہ ۶: جنازہ میں پچھلی صف کو تمام صفوں پر فضیلت ہے۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۷: نماز جنازہ میں امامت کا حق بادشاہ اسلام کو ہے، پھر قاضی، پھر امام جمعہ، پھر امام محلہ، پھر ولی کو، امام محلہ کا ولی پر تقدم بطور استحباب ہے اور یہ بھی اُس وقت کے ولی سے افضل ہو ورنہ ولی بہترہے۔ (3) (غنیہ، درمختار)
مسئلہ ۸: ولی سے مراد میّت کے عصبہ ہیں اور نماز پڑھانے میں اولیا کی وہی ترتیب ہے جو نکاح میں ہے، صرف فرق اتنا ہے کہ نماز جنازہ میں میّت کے باپ کو بیٹے پر تقدم ہے اورنکاح میں بیٹے کو باپ پر، البتہ اگر باپ عالم نہیں اور بیٹا عالم ہے تو نماز جنازہ میں بھی بیٹا مقدم ہے، اگر عصبہ نہ ہوں تو ذوی الارحام غیروں پر مقدم ہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: میّت کا ولی اقرب (سب سے زيادہ نزدیک کا رشتہ دار) غائب ہے اور ولی ابعد (دُور کا رشتہ والا) حاضر ہے تو یہی ابعد نماز پڑھائے، غائب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اتنی دُور ہے کہ اُس کے آنے کے انتظار میں حرج ہو۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: عورت کا کوئی ولی نہ ہو تو شوہر نماز پڑھائے، وہ بھی نہ ہو تو پڑوسی۔ يوہيں مرد کا ولی نہ ہو تو پروسی اوروں پر مقدم ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: غلام مر گیا تو اُس کا آقا بیٹے اور باپ پر مقدم ہے، اگرچہ یہ دونوں آزاد ہوں اور آزاد شدہ غلام میں باپ اور بیٹے اور دیگر ورثہ آقا پر مقدم ہیں۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في الجنائز، ص۵۸۸.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۳۱.
3 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في الجنائز، ص۵۸۴.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۳۹ ۔ ۱۴۱.
4 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: تعظيم أولی الأمر واجب، ج۳، ص۱۴۱.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: تعظيم أولی الأمر واجب، ج۳، ص۱۴۱.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۴۳.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: تعظيم أولی الأمر واجب، ج۳، ص۱۴۳.
مسئلہ ۱۲: مکاتب کا بیٹا یا غلام مر گیا تو نماز پڑھانے کا حق مکاتب کو ہے، مگر اُس کا مولیٰ اگر موجود ہو تو اُسے چاہيے کہ مولیٰ سے پڑھوائے اور اگر مکاتب مر گیا اور اتنا مال چھوڑا کہ بدل کتابت ادا ہو جائے اور وہ مال وہاں موجود ہے تو اُس کا بیٹا نماز پڑھائے اور مال غائب ہے تو مولیٰ۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۳ا: عورتوں اور بچوں کو نماز جنازہ کی ولایت نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: ولی اور بادشاہ اسلام کو اختیار ہے کہ کسی اور کو نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دے دے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: میّت کے ولی اقرب اورولی ابعد دونوں موجود ہیں تو ولی اقرب کو اختیار ہے کہ ابعد کے سوا کسی اور سے پڑھوا دے ابعد کو منع کرنے کا اختیار نہیں اور اگر ولی اقرب غائب ہے اور اتنی دُور ہے کہ اُس کے آنے کا انتظار نہ کیا جا سکے اور کسی تحریر کے ذریعہ سے ابعد کے سوا کسی اور سے پڑھوانا چاہے تو ابعد کو اختیار ہے کہ اُسے روک دے اور اگر ولی اقرب موجود ہے مگر بیمار ہے تو جس سے چاہے پڑھوا دے ابعد کو منع کا اختیار نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: عورت مر گئی شوہر اور جوان بیٹا چھوڑا تو ولایت بیٹے کو ہے شوہر کو نہیں، البتہ اگر یہ لڑکا اُسی شوہر سے ہے تو باپ پر پیش قدمی مکروہ ہے، اسے چاہيے کہ باپ سے پڑھوائے اور اگر دوسرے شوہر سے ہے تو سوتیلے باپ پر تقدم کر سکتا ہے کوئی حرج نہیں اور بیٹا بالغ نہ ہو تو عورت کے جو اور ولی ہوں اُن کا حق ہے شوہر کا نہیں۔ (5) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: دو یا چند شخص ایک درجہ کے ولی ہوں تو زیادہ حق اُس کا ہے جو عمر میں بڑا ہے، مگر کسی کو یہ اختیار نہیں کہ دوسرے ولی کے سوا کسی اور سے بغیر اُس کی اجازت کے پڑھوا دے اور اگر ایسا کیا یعنی خود نہ پڑھائی اور کسی اور کو اجازت دے دی تو دوسرے ولی کو منع کا اختیار ہے، اگرچہ یہ دوسرا ولی عمر میں چھوٹا ہو اور اگر ایک ولی نے ایک شخص کو اجازت دی، دوسرے نے دوسرے کو تو جس کو بڑے نے اجازت دی وہ اولیٰ ہے۔ (6) (عالمگیری وغيرہ)
مسئلہ ۱۸: میّت نے وصیت کی تھی کہ میری نماز فلاں پڑھائے یا مجھے فلاں شخص غسل دے تو یہ وصیت باطل ہے یعنی اس وصیت سے ولی کا حق جاتا نہ رہے گا، ہاں ولی کو اختیار ہے کہ خود نہ پڑھائے اُس سے پڑھوا دے۔ (7) (عالمگیری وغيرہ)
1 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، الجزء الأول، ص۱۳۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۳.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: تعظيم... إلخ، ج۳، ص۱۴۱۔ ۱۴۴.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۳.
5 ۔ المرجع السابق. 6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۳، وغيرہ.
مسئلہ ۱۹: ولی کے سوا کسی ایسے نے نماز پڑھائی جو ولی پر مقدم نہ ہو اورولی نے اُسے اجازت بھی نہ دی تھی تو ا گر ولی نماز میں شریک نہ ہوا تو نماز کا اعادہ کر سکتا ہے اور اگر مردہ دفن ہوگیا ہے تو قبر پر نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر وہ ولی پر مقدم ہے جیسے بادشاہ و قاضی و امام محلہ کہ ولی سے افضل ہو تو اب ولی نماز کا اعادہ نہیں کر سکتا اور اگرایک ولی نے نماز پڑھا دی تو دوسرے اولیا اعادہ نہیں کر سکتے اور ہر صورت اعادہ میں جو شخص پہلی نماز میں شریک نہ تھا وہ ولی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے اور جو شخص شریک تھا وہ ولی کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا ہے کہ جنازہ کی دو مرتبہ نماز ناجائز ہے سوا اس صورت کے کہ غیر ولی نے بغیر اذن ولی پڑھائی۔ (1) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۲۰: جن چیزوں سے تمام نمازیں فاسد ہوتی ہیں نماز جنازہ بھی اُن سے فاسد ہو جاتی ہے سوا ایک بات کے کہ عورت مرد کے محاذی ہو جائے تونماز جنازہ فاسد نہ ہوگی۔ (2) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۱: مستحب یہ ہے کہ میّت کے سینہ کے سامنے امام کھڑا ہو اور میّت سے دُور نہ ہو میّت خواہ مرد ہو یا عورت بالغ ہو یا نابالغ یہ اُس وقت ہے کہ ایک ہی میّت کی نماز پڑھانی ہو اور اگر چند ہوں تو ایک کے سینہ کے مقابل اورقریب کھڑا ہو۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: امام نے پانچ تکبیریں کہیں تو پانچویں تکبیر میں مقتدی امام کی متابعت نہ کرے بلکہ چُپ کھڑا رہے جب امام سلام پھیرے تو اُس کے ساتھ سلام پھیر دے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: بعض تکبیریں فوت ہو گئیں یعنی اُس وقت آیا کہ بعض تکبیریں ہو چکی ہیں تو فوراً شامل نہ ہو اس وقت ہو جب امام تکبیر کہے اور اگر انتظار نہ کیا بلکہ فوراً شامل ہوگیا تو امام کے تکبیر کہنے سے پہلے جو کچھ ادا کیا اُس کا اعتبار نہیں، اگر وہیں موجود تھا مگر تکبیر تحریمہ کے وقت امام کے ساتھ اللہ اکبر نہ کہا، خواہ غفلت کی وجہ سے دیر ہوئی یا ہنوز نیّت ہی کرتا رہ گیا تو یہ شخص اس کا انتظار نہ کرے کہ امام دوسری تکبیر کہے تو اُس کے ساتھ شامل ہو بلکہ فوراً ہی شامل ہو جائے۔ (5) (درمختار، غنیہ)
مسئلہ ۲۴: مسبوق یعنی جس کی بعض تکبیريں فوت ہو گئیں وہ اپنی باقی تکبیریں امام کے سلام پھیرنے کے بعد کہے اور
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۳.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۴۴، وغیرھما.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۴.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: ھل يسقط فرض... إلخ، ج۳، ص۱۳۴.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۳۱.
5 ۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في الجنائز، ص۵۸۷.
اگر یہ اندیشہ ہو کہ دُعائیں پڑھے گا تو پوری کرنے سے پہلے لوگ میّت کو کندھے تک اٹھالیں گے تو صرف تکبيريں کہہ لے دُعائیں چھوڑ دے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: لاحق یعنی جو شروع میں شامل ہوا مگر کسی وجہ سے درمیان کی بعض تکبیریں رہ گئیں مثلاً پہلی تکبیر امام کے ساتھ کہی، مگر دوسری اور تیسری جاتی رہیں تو امام کی چوتھی تکبیر سے پیشتر یہ تکبیریں کہہ لے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: چوتھی تکبیر کے بعد جو شخص آیا تو جب تک امام نے سلام نہ پھیرا شامل ہو جائے اور امام کے سلام کے بعد تین بار اللہ اکبر کہہ لے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: کئی جنازے جمع ہوں تو ایک ساتھ سب کی نماز پڑھ سکتا ہے یعنی ایک ہی نماز میں سب کی نیّت کر لے اور افضل یہ ہے کہ سب کی علیحدہ علیحدہ پڑھے ا ورا س صورت میں یعنی جب علیحدہ علیحدہ پڑھے تو اُن میں جو افضل ہے اس کی پہلے پڑھے پھر اس کی جو اُس کے بعد سب میں افضل ہے وعلیٰ ھذا القیاس۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: چند جنازے کی ایک ساتھ پڑھائی تو اختیار ہے کہ سب کو آگے پیچھے رکھیں یعنی سب کا سینہ امام کے مقابل ہو یا برابر برابر رکھیں یعنی ایک کی پائنتی یا سرہانے دوسرے کو اورا س دوسرے کی پائنتی یا سرہانے تیسرے کو وعلیٰ ھذا القیاس۔ اگر آگے پیچھے رکھے تو امام کے قریب اس کا جنازہ ہو جو سب میں افضل ہو پھر اُس کے بعد جو ا فضل ہو وعلیٰ ھذا القیاس۔
اوراگر فضیلت میں برابر ہوں تو جس کی عمر زیادہ ہو اسے امام کے قریب رکھیں یہ اس وقت ہے کہ سب ایک جنس کے ہوں اور اگر مختلف جنس کے ہوں تو امام کے قریب مرد ہو اس کے بعد لڑکا پھر خنثیٰ پھر عورت پھر مراہقہ یعنی نماز میں جس طرح مقتدیوں کی صف میں ترتیب ہے، ا س کا عکس یہاں ہے اور اگر آزاد و غلام کے جنازے ہوں تو آزاد کو امام سے قریب رکھیں گے اگرچہ نابالغ ہو، اُس کے بعد غلام کو اور کسی ضرورت سے ایک ہی قبر میں چند مُردے دفن کریں تو ترتیب عکس کریں یعنی قبلہ کو اُسے رکھیں جو افضل ہے جب کہ سب مرد یا سب عورتیں ہوں، ورنہ قبلہ کی جانب مرد کو رکھیں پھر لڑکے پھر خنثیٰ پھر عورت پھر مراہقہ کو۔ (5) (عالمگیری، درمختار)
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۳۶.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: ھل يسقط فرض الکفایۃ بفعل الصبي، ج۳، ص۱۳۶.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۳۶.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۳۸.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۵.
و''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۳۹.
مسئلہ ۲۹: ایک جنازہ کی نماز شروع کی تھی کہ دوسرا آگیا تو پہلے کی پوری کر لے اور اگردوسری تکبیر میں دونوں کی نیّت کرلی، جب بھی پہلے ہی کی ہوگی اور اگر صرف دوسرے کی نیّت کی تو دوسرے کی ہوگی اس سے فارغ ہو کر پہلے کی پھر پڑھے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: نماز جنازہ میں امام بے وضو ہوگیا اور کسی کو اپنا خلیفہ کیا تو جائز ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: میّت کو بغیر نماز پڑھے دفن کر دیا اور مٹی بھی دے دی گئی تو اب اس کی قبر پر نماز پڑھیں، جب تک پھٹنے کا گمان نہ ہو اور مٹی نہ دی گئی ہو تو نکالیں اور نماز پڑھ کر دفن کریں اور قبر پر نماز پڑھنے میں دنوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں کہ کتنے دن تک پڑھی جائے کہ یہ موسم اور زمین اور میّت کے جسم و مرض کے اختلاف سے مختلف ہے، گرمی میں جلد پھٹے گا اور جاڑے میں بدیر تر یا شور زمین میں جلد خشک اور غیر شور میں بدیر فربہ جسم جلد لاغر دیر میں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: کوئیں میں گِرکر مر گیا یا اوس کے اوپر مکان گِر پڑا اور مردہ نکالا نہ جا سکا تو اُسی جگہ اُس کی نماز پڑھیں اور دریا میں ڈوب گیا اور نکالا نہ جاسکا تو اس کی نماز نہیں ہو سکتی کہ میّت کا مصلّی کے آگے ہونا معلوم نہیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: مسجد میں نماز جنازہ مطلقاً مکروہِ تحریمی ہے، خواہ میّت مسجد کے اندر ہو یا باہر، سب نمازی مسجد میں ہوں یا بعض، کہ حدیث میں نماز جنازہ مسجد میں پڑھنے کی ممانعت آئی۔ (5) (درمختار) شارع عام اور دوسرے کی زمین پر نماز جنازہ پڑھنا منع ہے۔ (6) (ردالمحتار) یعنی جب کہ مالک زمین منع کرتا ہو۔
مسئلہ ۳۴: جمعہ کے دن کسی کا انتقال ہوا تو اگر جمعہ سے پہلے تجہیز و تکفین ہو سکے تو پہلے ہی کر لیں، اس خیال سے روک رکھنا کہ جمعہ کے بعد مجمع زیادہ ہوگا مکروہ ہے۔ (7) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۳۵: نماز مغرب کے وقت جنازہ آیا تو فرض اور سنتیں پڑھ کر نماز جنازہ پڑھیں۔ يوہيں کسی اور فرض نماز کے وقت جنازہ آئے اور جماعت طیار ہو تو فرض و سنت پڑھ کر نماز جنازہ پڑھیں، بشرطیکہ نماز جنازہ کی تاخیر میں جسم خراب
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۵.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: تعظيم أولی الأمر واجب، ج۳، ص۱۴۶.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: تعظيم أولی الأمر واجب، ج۳، ص۱۴۷.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۴۸.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في کراھۃ صلاۃ الجنازۃ في المسجد، ج۳، ص۱۴۸.
7 ۔ المرجع السابق، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۷۳، و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۳۱۰.
ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ (1) ( ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: نماز عید کے وقت جنازہ آیا تو پہلے عید کی نماز پڑھیں پھر جنازہ پھر خطبہ اور گہن کی نماز کے وقت آئے تو پہلے جنازہ پھر گہن کی۔ (2) (درمختار، جوہرہ)
مسئلہ ۳۷: مسلمان مرد یا عورت کا بچہ زندہ پیدا ہوا یعنی اکثر حصہ باہر ہونے کے وقت زندہ تھا پھر مر گیا تو اُس کو غسل و کفن دیں گے اور اس کی نماز پڑھیں گے، ورنہ اُسے ويسے ہی نہلا کر ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیں گے، اُس کے ليے غسل و کفن بطریق مسنون نہیں اور نماز بھی اس کی نہیں پڑھی جائے گی، یہاں تک کہ سر جب باہر ہوا تھا اس وقت چیختا تھا مگراکثر حصہ نکلنے سے پیشتر مر گیا تو نماز نہ پڑھی جائے، اکثر کی مقدار یہ ہے کہ سر کی جانب سے ہو تو سینہ تک اکثر ہے اور پاؤں کی جانب سے ہو تو کمر تک۔ (3) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۳۸: بچہ کی ماں یا جنائی نے زندہ پیدا ہونے کی شہادت دی تو اس کی نماز پڑھی جائے، مگروراثت کے بارے میں اُ ن کی گواہی نامعتبر ہے یعنی بچہ اپنے باپ فوت شدہ کا وارث نہیں قرار دیا جائے گا نہ بچہ کی وارث اُس کی ماں ہوگی، یہ اس وقت ہے کہ خود باہر نکلا اور کسی نے حاملہ کے شکم پر ضرب لگائی کہ بچہ مرا ہوا باہر نکلا تو وارث ہوگا اور وارث بنائے گا۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۹: بچہ زندہ پیدا ہوا یا مُردہ اُس کی خلقت تمام ہو یا نا تمام بہرحال اس کا نام رکھا جائے اور قیامت کے دن اُس کا حشر ہوگا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: کافر کا بچہ دارالحرب میں اپنی ماں یا باپ کے ساتھ یا بعد میں قید کیا گیا پھر وہ مر گیا اور اُس کے ماں باپ میں سے اب تک کوئی مسلمان نہ ہوا تو اسے نہ غسل دیں گے نہ کفن، خواہ دارالحرب ہی میں مرا ہو یا دارالاسلام میں اور اگر تنہا دارالاسلام میں اُسے لائیں یعنی اُس کے ماں باپ میں سے کسی کو قید کر کے نہ لائے ہوں نہ وہ بطور خود بچہ کے لانے سے
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، مطلب: فيما يترجع تقديمہ من صلاۃ عيد و جنازۃ... إلخ، ج۳،
ص۵۲ ۔ ۵۳.
و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۱۸۳۔۱۸۴.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج۳، ص۵۲.
و ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الکسوف، ص۱۲۴.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: مھم إذا قال... إلخ، ج۳، ص۱۵۲۔۱۵۴.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: مھم إذا قال... إلخ، ج۳، ص۱۵۲.
5 ۔ المرجع السابق، ص۱۵۴.
پہلے ذمی بن کر آئے تو اسے غسل و کفن دیں گے اور اُس کی نماز پڑھی جائے گی، اگر اس نے عاقل ہو کر کفر اختیار نہ کیا۔ (1) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۴۱: کافر کے بچہ کو قید کیا اور ابھی وہ دارالحرب ہی ميں تھا کہ اُس کا باپ دارالاسلام میں آکر مسلمان ہوگیا تو بچہ مسلمان سمجھا جائے گا یعنی اگرچہ دارالحرب میں مر جائے، اسے غسل و کفن دیں گے اس کی نماز پڑھیں گے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: بچہ کو ماں باپ کے ساتھ قید کر لائے اور ان میں سے کوئی مسلمان ہوگیا یا وہ بچہ سمجھ وال تھا، خود مسلمان ہوگیا تو ان دونوں صورتوں میں وہ مسلمان سمجھا جائے گا۔ (3) (تنویر الابصار)
مسئلہ ۴۳: کافر کے بچہ کو ماں باپ کے ساتھ قید کیا مگر وہ دونوں وہیں دارالحرب میں مر گئے تو اب مسلمان سمجھا جائے، مجنون بالغ قید کیا گیا تو اس کا حکم وہی ہے جو بچہ کا ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: مسلمان کا بچہ کافرہ سے پیدا ہوا اور وہ اُس کی منکوحہ نہ تھی، يعنی وہ بچہ زنا کا ہے تو اُس کی نماز پڑھی جائے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱: میّت کو دفن کرنا فرض کفایہ ہے اور یہ جائز نہیں کہ میّت کو زمین پر رکھ دیں اور چاروں طرف سے دیواریں قائم کر کے بند کر دیں۔ (6) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: جس جگہ انتقال ہوا اسی جگہ دفن نہ کریں کہ يہ انبیا علیھم الصلوۃ والسلام کے ليے خاص ہے بلکہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں، مقصد یہ کہ اس کے ليے کوئی خاص مدفن نہ بنایا جائے میّت بالغ ہو یا نابالغ۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۵۹.
و''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۵۵، وغيرہما.
2 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: مھم إذا قال... إلخ، ج۳، ص۱۵۵.
3 ۔ ''تنوير الأبصار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۵۵ ۔ ۱۵۷.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: مھم إذا قال... إلخ، ج۳، ص۱۵۷.
5 ۔ ''ردالمحتار''
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۵.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۶۳.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۶۶.
مسئلہ ۳: قبر کی لنبائی میّت کے قد برابر ہو اور چوڑائی آدھے قد کی اور گہرائی کم سے کم نصف قد کی اور بہتر یہ کہ گہرائی بھی قد برابر ہو اور متوسط درجہ یہ کہ سینہ تک ہو۔ (1) (ردالمحتار) اس سے مراد یہ کہ لحد یا صندوق اتنا ہو، یہ نہیں کہ جہاں سے کھودنی شروع کی وہاں سے آخر تک یہ مقدار ہو۔
مسئلہ ۴: قبر دو قسم ہے، لحد کہ قبر کھود کر اس میں قبلہ کی طرف میّت کے رکھنے کی جگہ کھودیں اور صندوق وہ جو ہندوستان میں عموماً رائج ہے، لحد سنت ہے اگر زمین اس قابل ہو تو یہی کریں اور نرم زمین ہو تو صندوق میں حرج نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: قبر کے اندر چٹائی وغيرہ بچھانا ناجائز ہے کہ بے سبب مال ضائع کرنا ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۶: تابوت کہ میّت کو کسی لکڑی وغیرہ کے صندوق میں رکھ کر دفن کریں یہ مکروہ ہے، مگر جب ضرورت ہو مثلاً زمین بہت تر ہے تو حرج نہیں اور اس صورت میں تابوت کے مصارف اس میں سے ليے جائیں جو میّت نے مال چھوڑا ہے۔ (4) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۷: اگر تابوت میں رکھ کر دفن کریں تو سنت یہ ہے کہ اس میں مٹی بچھا دیں اور دہنے بائیں خام (5) اینٹیں لگا دیں اور اوپر کہگل (6) کر دیں غرض یہ کہ اندر کا حصہ مثل لحد کے ہو جائے اور لوہے کا تابوت مکروہ ہے اور قبر کی زمین نم ہو تو دھول بچھا دینا سنت ہے۔ (7) (صغیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: قبر کے اس حصہ میں کہ میّت کے جسم سے قریب ہے، پکی اينٹ لگانا مکروہ ہے کہ اینٹ آگ سے پکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو آگ کے اثر سے بچائے۔ (8) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۹: قبر میں اترنے والے دو تین جو مناسب ہوں کوئی تعداد اس میں خاص نہیں اور بہتر یہ کہ قوی و نیک و امین
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۶۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۵.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۶۴.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۶.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۶۵، وغيرہما.
5 ۔ یعنی کچی۔
6 ۔ يعنی مٹی کی لپائی۔
7 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۶۵.
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۶ ،وغيرہ.
ہوں کہ کوئی بات نا مناسب دیکھیں تو لوگوں پر ظاہر نہ کریں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: جنازہ قبر سے قبلہ کی جانب رکھنا مستحب ہے کہ مردہ قبلہ کی جانب سے قبر میں اتارا جائے، یوں نہیں کہ قبر کی پائنتی رکھیں اور سر کی جانب سے قبر میں لائیں۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۱: عورت کا جنازہ اتارنے والے محارم ہوں، یہ نہ ہوں تو دیگر رشتہ والے یہ بھی نہ ہوں تو پرہیزگار اجنبی کے اتارنے میں مضايقہ نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: میّت کو قبر میں رکھتے وقت یہ دُعا پڑھیں:
بِسْمِ اللہِ وَ بِاللہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ .
اور ایک روایت میں
بِسْمِ اللہِ
کے بعد
وَفِیْ سَبِیْلِ اللہِ
بھی آیا ہے۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: میّت کو دہنی طرف کروٹ پر لٹائیں اور اس کا مونھ قبلہ کو کریں، اگر قبلہ کی طرف مونھ کرنا بھول گئے تختہ لگانے کے بعد یاد آیا تو تختہ ہٹا کر قبلہ رُو کر دیں اور مٹی دینے کے بعد یاد آیا تو نہیں۔ يوہيں اگر بائیں کروٹ پر رکھا یا جدھر سرہانا ہونا چاہيے ادھر پاؤں کيے تو اگر مٹی دینے سے پہلے یاد آیا ٹھیک کر دیں ورنہ نہیں۔ (5) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: قبرمیں رکھنے کے بعد کفن کی بندش کھول دیں کہ اب ضرورت نہیں اور نہ کھولی تو حرج نہیں۔ (6) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۵: قبر میں رکھنے کے بعد لحد کو کچی اینٹوں سے بند کریں اور زمین نرم ہو تو تختے لگانا بھی جائز ہے، تختوں کے درمیان جھری رہ گئی تو اُسے ڈھیلے وغیرہ سے بند کر دیں، صندوق کا بھی یہی حکم ہے۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: عورت کاجنازہ ہو تو قبر میں اتارنے سے تختہ لگانے تک قبر کو کپڑے وغیرہ سے چھپائے رکھیں، مرد کی قبر کو
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۶.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۶۶، وغيرہ.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۶.
4 ۔ ''تنویر الأبصار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۶۶.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۶.
5 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۶۷.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۶.
6 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۴۰.
7 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۶۷.
دفن کرتے وقت نہ چھپائیں البتہ اگر مينھ وغیرہ کوئی عذر ہو تو چھپانا جائز ہے، عورت کا جنازہ بھی ڈھکا رہے۔ (1) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۱۷: تختے لگانے کے بعد مٹی دی جائے مستحب یہ ہے کہ سرہانے کی طرف دونوں ہاتھوں سے تین بار مٹی ڈالیں۔
پہلی بار کہیں:
مِنْھَا خَلَقْنٰـکُمْ . (2)
دوسری بار:
وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ . (3)
تیسری بار:
وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ . (4)
یا پہلی بار:
اَللّٰھُمَّ جَافِ الْاَرْضَ عَنْ جَنْبَیْہِ . (5)
دوسری بار:
اَللّٰھُمَّ افْتَحْ اَبْوَابَ السَّمَآءِ لِرُوْحِہٖ . (6)
تیسری بار:
اَللّٰھُمَّ زَوِّجْہُ مِنْ حُوْرِ الْعِیْنِ . (7)
اور میّت عورت ہو تو ،
تیسری بار یہ کہیں:
اَللّٰھُمَّ ادْخِلْھَا الْجَنَّۃَ بِرَحْمَتِکَ . (8)
باقی مٹی ہاتھ یا کُھرپی یا پھوڑے وغیرہ جس چیز سے ممکن ہو قبر میں ڈالیں اور جتنی مٹی قبر سے نکلی اُس سے زیادہ ڈالنا مکروہ ہے۔ (9) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: ہاتھ میں جو مٹی لگی ہے، اسے جھاڑ دیں یا دھو ڈاليں اختيار ہے۔
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۶۸.
و ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۴۰.
2 ۔ اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا۔ ۱۲
3 ۔ اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے۔ ۱۲
4 ۔ اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ ۱۲
5 ۔ اے اللہ (عزوجل) ! زمین کو اس کے دونوں پہلوؤں سے کشادہ کر۔ ۱۲ عورت کے لئے ضمیر مؤنث ہو جَنْبَیْہَا، لِرُوْحِہَا۔ ۱۲
6 ۔ اے اللہ (عزوجل) ! اس کی روح کیلئے آسمان کے دروازے کھول دے۔ ۱۲
7 ۔ اے اللہ (عزوجل) ! حورعین کو اس کی زوجہ کر دے۔ ۱۲
8 ۔ اے اللہ (عزوجل) ! اپنی رحمت سے تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔ ۱۲
9 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۴۱.
و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۶.
مسئلہ ۱۹: قبر چوکھونٹی نہ بنائیں بلکہ اس میں ڈھال رکھیں جیسے اونٹ کا کوہان اور اس پر پانی چھڑکنے میں حرج نہیں، بلکہ بہتر ہے اور قبر ایک بالشت اونچی ہو یا کچھ خفیف زیادہ۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: جہاز پر انتقال ہوا اور کنارہ قریب نہ ہو، تو غسل و کفن دے کر نماز پڑھ کر سمندر میں ڈبو دیں۔ (2) (غنیہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: علما و سادات کی قبور پر قبہ وغیرہ بنانے میں حرج نہیں اورقبر کو پختہ نہ کیا جائے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار) یعنی اندر سے پختہ نہ کی جائے اور اگر اندر خام ہو، اوپر سے پختہ تو حرج نہیں۔
مسئلہ ۲۲: اگر ضرورت ہو تو قبر پر نشان کے ليے کچھ لکھ سکتے ہیں، مگر ایسی جگہ نہ لکھیں کہ بے ادبی ہو، ایسے مقبرہ میں دفن کرنا بہتر ہے جہاں صالحین کی قبریں ہوں۔ (4) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۲۳: مستحب یہ ہے کہ دفن کے بعد قبر پر سورۂ بقر کا اوّل و آخر پڑھیں سرہانے المۤ سے مُفْلِحُوْنَ تک اور پائنتی اٰمَنَ الرَّسُوْلُ سے ختم سورت تک پڑھیں۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۴: دفن کے بعد قبر کے پاس اتنی دیر تک ٹھہرنا مستحب ہے جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے گوشت تقسیم کر دیا جائے، کہ ان کے رہنے سے میّت کو انس ہو گا اور نکیرین کا جواب دینے میں وحشت نہ ہوگی اور اتنی دیر تک تلاوتِ قرآن اور میّت کے ليے دُعا و استغفار کریں اور یہ دُعا کریں کہ سوال نکیرین کے جواب میں ثابت قدم رہے۔ (6) (جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۵: ایک قبر میں ایک سے زیادہ بلا ضرورت دفن کرنا جائز نہیں اور ضرورت ہو تو کر سکتے ہیں، مگر دو میّتوں کے درمیان مٹی وغیرہ سے آڑ کر دیں اور کون آگے ہو کون پیچھے یہ اوپر مذکور ہوا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: جس شہر یا گاؤں وغیرہ میں انتقال ہوا وہیں کے قبرستان میں دفن کرنا مستحب ہے اگرچہ یہ وہاں رہتا نہ
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۶.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۶۸.
2 ۔ ''ردالمحتار'' المرجع السابق، ص۱۶۵ و ''غنیۃ المتملي''، فصل في الجنائز، ص۶۰۷.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۶۹.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۷۰.
و ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۴۱.
5 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۴۱، وغیرہ.
6 ۔ المرجع السابق.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۶.
ہو، بلکہ جس گھر میں انتقال ہوا اس گھر والوں کے قبرستان میں دفن کریں اور دو ایک میل باہر لے جانے میں حرج نہیں کہ شہر کے قبرستان اکثر اتنے فاصلے پر ہوتے ہیں اور اگر دوسرے شہر کو اس کی لاش اٹھا لے جائیں تو اکثر علما نے منع فرمایا اور یہی صحیح ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ دفن سے پیشتر لے جانا چاہیں اور دفن کے بعد تو مطلقاً نقل کرنا ممنوع ہے، سوا بعض صورتوں کے جو مذکور ہوں گی۔ (1) (عالمگیری) اور یہ جو بعض لوگوں کا طریقہ ہے کہ زمین کو سپرد کرتے ہیں پھر وہاں سے نکال کر دوسری جگہ دفن کرتے ہیں، یہ ناجائز ہے اور رافضیوں کا طریقہ ہے۔
مسئلہ ۲۷: دوسرے کی زمین میں بلا اجازتِ مالک دفن کر دیا تو مالک کو اختیار ہے خواہ اولیائے میّت سے کہے اپنا مردہ نکال لو یا زمین برابر کر کے اس میں کھیتی کرے۔ يوہيں اگر وہ زمین شفعہ میں لے لی گئی یا غصب کيے ہوئے کپڑے کا کفن دیا تو مالک مردہ کو نکلوا سکتا ہے۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: وقفی قبرستان میں کسی نے قبر طیار کرائی اس میں دوسرے لوگ اپنا مردہ دفن کرنا چاہتے ہیں اور قبرستان میں جگہ ہے، تو مکروہ ہے اور اگر دفن کر دیا تو قبر کھودوانے والا مردہ کو نہیں نکلوا سکتا جو خرچ ہوا ہے لے لے۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: عورت کو کسی وارث نے زیور سمیت دفن کر دیا اور بعض ورثہ موجود نہ تھے ان ورثہ کو قبر کھودنے کی اجازت ہے، کسی کا کچھ مال قبر میں گرگیا مٹی دینے کے بعد یاد آیا تو قبر کھود کر نکال سکتے ہیں اگرچہ وہ ایک ہی درہم ہو۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: اپنے ليے کفن تیار رکھے تو حرج نہیں اور قبر کھودوا رکھنا بے معنی ہے کیا معلوم کہاں مرے گا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: قبر پر بیٹھنا، سونا، چلنا، پاخانہ، پیشاب کرنا حرام ہے۔ قبرستان میں جو نیا راستہ نکالا گیا اس سے گزرنا ناجائز ہے، خواہ نیا ہونا اسے معلوم ہو یا اس کا گمان ہو۔ (6) (عالمگیری، درمختار)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۷.
2 ۔ المرجع السابق، و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۷۱.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۶.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۷۱.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۷.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج۳، ص۱۷۱.
5 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۸۳.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السادس، ج۱، ص۱۶۶.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۸۳.
مسئلہ ۳۲: اپنے کسی رشتہ دار کی قبر تک جانا چاہتا ہے مگر قبروں پر گزرنا پڑے گا تو وہاں تک جانا منع ہے، دور ہی سے فاتحہ پڑھ دے، قبرستان میں جوتیاں پہن کر نہ جائے۔ ایک شخص کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جوتے پہنے دیکھا، فرمایا: ''جوتے اتار دے، نہ قبر والے کو تُو ایذا دے، نہ وہ تجھے۔'' (1)
مسئلہ ۳۳: قبر پر قرآن پڑھنے کے ليے حافظ مقرر کرنا جائز ہے۔ (2) (درمختار) یعنی جب کہ پڑھنے والے اُجرت پر نہ پڑھتے ہوں کہ اُجرت پر قرآن مجید پڑھنا اورپڑھوانا ناجائز ہے، اگر اُجرت پر پڑھوانا چاہے تو اپنے کام کاج کے ليے نوکر رکھے پھر یہ کام لے۔
مسئلہ ۳۴: شجرہ یا عہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میّت کے مونھ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں، بلکہ درمختار میں کفن پر عہد نامہ لکھنے کو جائز کہا ہے اور فرمایا کہ اس سے مغفرت کی امید ہے اور میّت کے سینہ اور پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا جائز ہے۔ ایک شخص نے اس کی وصیّت کی تھی، انتقال کے بعد سینہ اور پیشانی پر بسم اللہ شریف لکھ دی گئی پھر کسی نے انھيں خواب میں دیکھا، حال پوچھا؟ کہا: جب میں قبر میں رکھا گیا،عذاب کے فرشتے آئے، فرشتوں نے جب پیشانی پر بسم اللہ شریف دیکھی کہا تو عذاب سے بچ گیا۔ (3) (درمختار، غنیہ، عن التاتار خانیہ) یوں بھی ہو سکتا ہے کہ پیشانی پر بسم اللہ شریف لکھیں اور سینہ پر کلمہ طیبہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مگر نہلانے کے بعد کفن پہنانے سے پیشتر کلمہ کی انگلی سے لکھیں روشنائی سے نہ لکھیں۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: زیارتِ قبور مستحب ہے ہر ہفتہ میں ایک دن زیارت کرے،جمعہ یا جمعرات یا ہفتہ یا پیر کے دن مناسب ہے، سب ميں افضل روزِ جمعہ وقتِ صبح ہے۔ اولیائے کرام کے مزارات طیبہ پر سفر کر کے جانا جائز ہے، وہ اپنے زائر کو نفع پہنچاتے ہیں اور اگر وہاں کوئی منکرِ شرعی ہو مثلاً عورتوں سے اختلاط تو اس کی وجہ سے زیارت ترک نہ کی جائے کہ ایسی باتوں سے نیک کام ترک نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے بُرا جانے اور ممکن ہو تو بُری بات زائل کرے۔ (5) (ردالمحتار)
1 ۔
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۸۵.
3 ۔ المرجع السابق، و ''الفتاوی التاتار خانیۃ''، کتاب الصلاۃ، الفصل الثاني، ج۲، ص۱۷۰.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب: فيما يکتب علی کفن الميت، ج۳، ص۱۸۶.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في زيارۃ القبور، ج۳، ص۱۷۷.
مسئلہ ۳۶: عورتوں کے ليے بعض علما نے زیارتِ قبور کو جائز بتایا، درمختار میں یہی قول اختیار کیا، مگر عزیزوں کی قبور پر جائیں گی تو جزع و فزع کریں گی، لہٰذا ممنوع ہے اور صالحین کی قبور پر برکت کے ليے جائیں تو بوڑھیوں کے ليے حرج نہیں اور جوانوں کے ليے ممنوع۔ (1) (ردالمحتار) اور اسلم یہ ہے کہ عورتیں مطلقاً منع کی جائیں کہ اپنوں کی قبور کی زیارت میں تو وہی جزع و فزع ہے اور صالحین کی قبور پر یا تعظیم میں حد سے گزر جائیں گی یا بے ادبی کریں گی کہ عورتوں میں یہ دونوں باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ (2) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۳۷: زیارتِ قبر کا طریقہ یہ ہے کہ پائنتی کی جانب (3) سے جا کر میّت کے مونھ کے سامنے کھڑا ہو، سرہانے سے نہ آئے کہ میّت کے ليے باعثِ تکلیف ہے یعنی میّت کو گردن پھیر کر دیکھنا پڑے گا کہ کون آتا ہے اور یہ کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَھْلَ دَارِ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ اَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَّ اِنَّا اِنْشَاءَ اللہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ نَسْأَلُ اللہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ یَرْحَمُ اللہُ الْمُسْتَـقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَاْخِرِیْنَ اَللّٰھُمَّ رَبَّ الْاَرْوَاحِ الْفَانِیَۃِ وَالْاَجْسَادِ الْبَالِیَۃِ وَالْعِظَامِ النَّخِرَۃِ اَدْخِلْ ھٰذِہِ الْقُبُوْرِ مِنْکَ رَوْحًا وَّرَیْحَانًا وَّمِنَّا تَحِیَّۃً وَّسَلَامًا . (4)
پھر فاتحہ پڑھے اور بیٹھنا چاہے تو اتنے فاصلہ سے بیٹھے کہ اس کے پاس زندگی میں نزدیک یا دور جتنے فاصلہ پر بیٹھ سکتا تھا۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۸: قبرستان میں جائے تو الحمد شریف اور
المۤ
سے
مُفْلِحُوْنَ
تک اور آیۃ الکرسی اور
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ
آخر سورہ تک اور سورۂ یٰس اور
تَبَارَکَ الَّذِیْ
اور
اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرْ
ایک ایک بار اور
قُلْ ھُوَ اللہُ
بارہ یا گیارہ یا سات یا تین بار پڑھے اور ان سب کا ثواب مردوں کو پہنچائے۔ حدیث میں ہے: ''جو گیارہ بار
قُلْ ھُوَ اللہُ
شریف پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کو پہنچائے تو مردوں کی گنتی برابر اسے ثواب ملے گا۔'' (6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في زيارۃ القبور، ج۳، ص۱۷۸.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۵۳۸.
3 ۔ يعنی قدموں کی طرف۔
4 ۔ سلام ہو تم پر اے قوم مومنین کے گھر والو! تم ہمارے اگلے ہو اور ہم انشاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، اللہ (عزوجل) سے ہم اپنے اور تمہارے ليے عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں، اللہ (عزوجل) ہمارے اگلوں اور پچھلوں پر رحم کرے۔ اے اللہ (عزوجل) ! رب فانی روحوں کے اور جسم گل جانے والے اور بوسیدہ ہڈیوں کے، تو اپنی طرف سے ان قبروں میں تازگی اور خوشبو داخل کر اور ہماری طرف سے تحیت و سلام پہنچا دے۔۱۲
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في زيارۃ القبور، ج۳، ص۱۷۹.
6 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في زيارۃ القبور، ج۳، ص۱۷۹.
مسئلہ ۳۹: نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور ہر قسم کی عبادت اور ہر عمل نیک فرض و نفل کا ثواب مُردوں کو پہنچا سکتا ہے، اُن سب کو پہنچے گا اور اس کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی، بلکہ اُس کی رحمت سے امید ہے کہ سب کو پورا ملے یہ نہیں کہ اُسی ثواب کی تقسیم ہو کر ٹکڑا ٹکڑا ملے۔ (1) (ردالمحتار) بلکہ یہ امید ہے کہ اس ثواب پہنچانے والے کے ليے اُن سب کے مجموعے کے برابر ملے مثلاً کوئی نیک کام کیا، جس کا ثواب کم از کم دس ملے گا، اس نے دس مُردوں کو پہنچايا تو ہر ایک کو دس دس ملیں گے اور اس کو ایک سو دس اور ہزار کو پہنچایا تو اسے دس ہزار دس وعلیٰ ہذا القیاس۔ (2) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۴۰: نابالغ نے کچھ پڑھ کر یا کوئی نیک عمل کر کے اُس کا ثواب مُردہ کو پہنچایا تو
اِنْشَاءَ اللہ
تعالیٰ پہنچے گا۔ (3) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۴۱: قبر کو بوسہ دینا بعض علما نے جائز کہا ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ منع ہے۔ (4) (اشعۃ اللمعات) اور قبر کا طوافِ تعظیمی منع ہے اور اگر برکت لینے کے ليے گرد مزار پھرا تو حرج نہیں، مگر عوام منع کيے جائیں بلکہ عوام کے سامنے کیا بھی نہ جائے کہ کچھ کا کچھ سمجھیں گے۔
مسئلہ ۴۲: دفن کے بعد مُردہ کو تلقین کرنا، اہل سنت کے نزدیک مشروع ہے۔ (5) (جوہرہ) یہ جو اکثر کتابوں میں ہے کہ تلقین نہ کی جائے یہ معتزلہ کا مذہب ہے کہ انہوں نے ہماری کتابوں میں یہ اضافہ کر دیا۔ (6) (ردالمحتار) حدیث میں ہے، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی مرے اور اُس کی مٹی دے چکو، تو تم میں ایک شخص قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر کہے یا فلاں بن فلانہ وہ سُنے گا اور جواب نہ دے گا پھر کہے یا فلاں بن فلانہ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا پھر کہے يا فلاں بن فلانہ وہ کہے گا، ہمیں ارشاد کر اللہ (عزوجل) تجھ پر رحم فرمائے گا، مگر تمھيں اس کے کہنے کی خبر نہیں ہوتی پھر کہے:
اُذْکُرْ مَا خَرَجْتَ مِنَ الدُّنْیَا شَھَادَۃَ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ صَلَّی اللہ تَعَالٰی
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في القراء ۃ للميت... إلخ، ج۳، ص۱۸۰.
2 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۶۲۳ ۔ ۶۲۹.
3 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۶۲۹ ۔ ۶۴۲.
4 ۔ ''اشعۃ اللمعات''، کتاب الجنائز، باب زيارۃ القبور، ج۱، ص۷۶۳.
5 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۰.
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في التلقين بعد الموت، ج۳، ص۹۴.
عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَنَّکَ رَضِیْتَ بِاللہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَاِم دِیْنًا وَّ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیًّا وَّ بِالْقُرْاٰنِ اِمَامًا . (1)
نکیرین ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کرکہیں گے، چلو ہم اُس کے پاس کیا بیٹھیں جسے لوگ اس کی حجت سکھا چکے، اس پر کسی نے حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم) سے عرض کی، اگر اُس کی ماں کا نام معلوم نہ ہو؟ فرمایا: حوّا کی طرف نسبت کرے۔'' (2)
رواہ الطبرانی فی الکبیر والضیاء فی الاحکام وغیرھما۔
بعض اجلۂ ائمہ تابعین فرماتے ہیں: جب قبرپر مٹی برابر کر چکیں اور لوگ واپس جائیں تو مستحب سمجھا جاتا کہ میّت سے اس کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر یہ کہا جائے:
يا فلان بن فلان قُلْ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ . (3)
تین بارپھر کہا جائے:
قُلْ رَّبِّیَ اللہُ وَدِیْنِیَ الْاِسْلَامُ وَنَبِیِّ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ . (4)
اعلیٰ حضرت قبلہ نے اس پر اتنا اور اضافہ کیا:
وَاعْلَمْ اَنَّ ھٰذَیْنِ الَّذیْنِ اَتَیَاکَ اَوْیَأْ تِیَانِکَ اِنَّمَا ھُمَا عَبْدَانِ لِلّٰہِ لَا یَضُرَّانِ وَلَا یَنْفَعَانِ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ فَـلَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ وَاَشْھَدْ اَنَّ رَبَّکَ اللہُ وَدِیْنَکَ الْاِسْلَامُ وَنَبِیَّکَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَـبَّتَنَا اللہُ وَاِیَّاکَ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰـوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ اِنَّـہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ . (5)
مسئلہ ۴۳: قبر پر پھول ڈالنا بہتر ہے کہ جب تک تر رہیں گے تسبیح کرینگے اور میّت کا دل بہلے گا۔ (6) (ردالمحتار)
1 ۔ ترجمہ: تو اُسے یاد کر، جس پر تُو دنیا سے نکلا یعنی یہ گواہی کہ اللہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم اس کے بندہ اور رسول ہیں اور یہ کہ تُو اللہ (عزوجل) کے رب اور اسلام کے دین اور محمد صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم کے نبی اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھا۔ ۱۲
2 ۔ ''المعجم الکبير'' للطبراني، الحديث: ۷۹۷۹، ج۸، ص۲۴۹ ۔ ۲۵۰.
3 ۔ اے فلان بن فلان تو کہہ کہ اللہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ۱۲
4 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۲۲۲.
تو کہہ میرا رب اللہ (عزوجل) ہے اور میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔ ۱۲
5 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۲۲۲.
اور جان لے کہ یہ دو شخص جو تیرے پاس آئے یا آئیں گے یہ اللہ (عزوجل) کے بندے ہیں بغیر خدا کے حکم کے نہ ضرر پہنچائیں، نہ نفع پس نہ خوف کر اور نہ غم کر اور تو گواہی دے کہ تیرا رب اللہ (عزوجل) ہے اور تیرا دین اسلام ہے اور تیرے نبی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں اللہ (عزوجل) ہم کو اور تجھ کو قول ثابت پر ثابت رکھے، دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ۱۲
6 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في وضع الجريد و نحو الآس علی القبور، ج۳، ص۱۸۴.
يوہيں جنازہ پر پھولوں کی چادر ڈالنے میں حرج نہیں۔
مسئلہ ۴۴: قبر پر سے تر گھاس نوچنا نہ چاہیے کہ اُس کی تسبیح سے رحمت اُترتی ہے اور میّت کو اُنس ہوتا ہے اور نوچنے میں میّت کا حق ضائع کرنا ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱: تعزیت مسنون ہے۔ حدیث میں ہے، ''جو اپنے بھائی مسلمان کی مصیبت ميں تعزیت کرے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُسے کرامت کا جوڑا پہنائے گا۔'' (2) اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا۔ دوسری حدیث ترمذی و ابن ماجہ میں ہے، ''جو کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کرے، اُسے اُسی کے مثل ثواب ملے گا۔'' (3)
مسئلہ ۲: تعزیت کا وقت موت سے تین دن تک ہے، اس کے بعد مکروہ ہے کہ غم تازہ ہوگا مگر جب تعزیت کرنے والا یا جس کی تعزیت کی جائے وہاں موجود نہ ہو یا موجود ہے مگر اُسے علم نہیں تو بعد میں حرج نہیں۔ (4) (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: دفن سے پیشتر بھی تعزیت جائز ہے، مگر افضل یہ ہے کہ دفن کے بعد ہو یہ اُس وقت ہے کہ اولیائے میّت جزع و فزع نہ کرتے ہوں، ورنہ ان کی تسلی کے ليے دفن سے پیشتر ہی کرے۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۴: مستحب یہ ہے کہ میّت کے تمام اقارب کو تعزیت کریں، چھوٹے بڑے مرد و عورت سب کو مگر عورت کو اُس کے محارم ہی تعزیت کریں۔ تعزیت میں یہ کہے، اللہ تعالیٰ میّت کی مغفرت فرمائے اور اس کو اپنی رحمت میں ڈھانکے اور تم کو صبر روزی کرے اور اس مصیبت پر ثواب عطا فرمائے۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لفظوں سے تعزیت فرمائی:
لِلّٰہِ مَا اَخَذَ وَاَعْطٰی وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی .
''خدا ہی کا ہے جو اُس نے لیا دیا اور اُس کے نزدیک ہرچیز ایک میعادمقررکے ساتھ ہے۔'' (6) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۵: مصیبت پر صبر کرے تو اُسے دو ثواب ملتے ہیں، ایک مصیبت کا دوسرا صبر کا اور جزع و فزع سے دونوں
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في وضع الجريد و نحو الآس علی القبور، ج۳، ص۱۸۴.
2 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الجنائز، باب ماجاء في ثواب من عزی مصابا، الحديث: ۱۶۰۱، ج۲، ص۲۶۸.
3 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الجنائز، باب ماجاء في أجر من عزی مصابا، الحديث: ۱۰۷۵، ج۲، ص۳۳۸.
4 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۴۱.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في کراھۃ الضيافۃ من أھل الميت، ج۳، ص۱۷۷.
5 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۴۱.
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، ج۱، ص۱۶۷، وغيرہ.
جاتے رہتے ہیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: میّت کے اعزّہ کا گھر میں بیٹھنا کہ لوگ ان کی تعزیت کو آئیں اس میں حرج نہیں اورمکان کے دروازہ پر یا شارع عام پر بچھونے بچھا کر بیٹھنا بُری بات ہے۔ (2) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۷: میّت کے پروسی یا دور کے رشتہ دار اگر میّت کے گھر والوں کے ليے اُس دن اور رات کے ليے کھانا لائیں تو بہتر ہے اور انھيں اصرار کرکے کھلائیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: میّت کے گھر والے تیجہ وغیرہ کے دن دعوت کریں تو ناجائز و بدعت قبیحہ ہے کہ دعوت تو خوشی کے وقت مشروع ہے نہ کہ غم کے وقت اور اگر فقرا کو کھلائیں تو بہتر ہے۔ (4) (فتح القدیر)
مسئلہ ۹: جن لوگوں سے قرآن مجید یا کلمۂ طیبہ پڑھوایا، ان کے ليے بھی کھانا طیار کرنا ناجائز ہے۔ (5) (ردالمحتار) یعنی جب کہ ٹھہرا لیا ہو یا معروف ہو یا وہ اغنیا ہوں۔
مسئلہ ۱۰: تیجے وغیرہ کا کھانا اکثر میّت کے ترکہ سے کیا جاتا ہے، اس میں یہ لحاظ ضروری ہے کہ ورثہ میں کوئی نابالغ نہ ہو ورنہ سخت حرام ہے۔ يوہيں اگر بعض ورثہ موجود نہ ہوں جب بھی ناجائز ہے، جبکہ غیر موجودین سے اجازت نہ لی ہو اور سب بالغ ہوں اور سب کی اجازت سے ہو یا کچھ نابالغ یا غیر موجود ہوں مگر بالغ موجود اپنے حصہ سے کرے تو حرج نہیں۔ (6) (خانیہ وغیرہا)
مسئلہ۱۱:تعزیت کے ليے اکثر عورتیں رشتہ دار جمع ہوتی ہیں اور روتی پیٹتی نوحہ کرتی ہیں، انھيں کھانا نہ دیا جائے کہ گناہ پر مدد دینا ہے۔ (7) (کشف الغطا)
مسئلہ ۱۲: میّت کے گھر والوں کو جو کھانا بھیجا جاتا ہے یہ کھانا صرف گھر والے کھائیں اور انھيں کے لائق بھیجا جائے
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في الثواب علی المصيبۃ، ج۳، ص۱۷۵.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، ومما يتصل بذلک مسائل، ج۱، ص۱۶۷.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في کراھۃ الضيافۃ من أھل الميت، ج۳، ص۱۷۶.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في الثواب علی المصيبۃ، ج۳، ص۱۷۵.
4 ۔ ''فتح القدير''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، فصل في الدفن، ج۲، ص۱۵۱. طبعۃ مرکز اہل السنۃ برکات رضا.
5 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في کراھۃ الضيافۃ من أھل الميت، ج۳، ص۱۷۶.
6 ۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج۴، ص۳۶۶، و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۶۶۴، وغیرہ.
7 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۶۶۶.
زیادہ نہیں اوروں کو وہ کھانا، کھانا منع ہے۔ (1) (کشف الغطا) اور صرف پہلے دن کھانا بھیجنا سنت ہے، اس کے بعد مکروہ۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: قبرستان میں تعزیت کرنا بدعت ہے۔ (3) (ردالمحتار) اور دفن کے بعد میّت کے مکان پر آنا اور تعزیت کر کے اپنے اپنے گھر جانا اگر اتفاقاً ہو تو حرج نہیں اور اس کی رسم کرنا نہ چاہیے اور میّت کے مکان پر تعزیت کے ليے لوگوں کا مجمع کرنا دفن کے پہلے ہو یا بعد اسی وقت ہو یا کسی اور وقت خلاف اَولیٰ ہے اور کریں تو گناہ بھی نہیں۔
مسئلہ ۱۴: جو ایک بار تعزیت کر آیا اسے دوبارہ تعزیت کے ليے جانا مکروہ ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: سوگ کے ليے سیاہ کپڑے پہننا مردوں کو ناجائز ہے۔ (5) (عالمگیری) يوہيں سیاہ بلّے لگانا کہ اس میں نصارےٰ کی مشابہت بھی ہے۔
مسئلہ ۱۶: میّت کے گھر والوں کو تین دن تک اس ليے بیٹھنا کہ لوگ آئیں اور تعزیت کر جائیں جائز ہے مگر ترک بہتر اور یہ اس وقت ہے کہ فروش اور دیگر آرائش نہ کرنا ہو ورنہ ناجائز۔ (6) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: نوحہ یعنی میّت کے اوصاف مبالغہ کے ساتھ بیان کر کے آواز سے رونا جس کو بَین کہتے ہیں بالاجماع حرام ہے۔ يوہيں واویلا
وامصیبتا (7)
کہہ کے چلّانا۔ (8) (جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۸: گریبان پھاڑنا، مونھ نوچنا، بال کھولنا، سر پر خاک ڈالنا، سینہ کوٹنا، ران پر ہاتھ مارنا یہ سب جاہلیت کے
1 ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۶۶۶.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في الھدايا و الضيافات، ج۵، ص۳۴۴.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في کراھۃ الضيافۃ من أھل الميت، ج۳، ص۱۷۷.
4 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۷۷.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، ومما يتصل بذلک مسائل، ج۱، ص۱۶۷.
7 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، ومما يتصل بذلک مسائل، ج۱، ص۱۶۷.
و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في کراھۃ الضيافۃ من أھل الميت، ج۳، ص۱۷۶.
8 ۔ يعنی ہائے مصيبت۔
9 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۹ ،وغيرہ.
کام ہیں اور حرام۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: تین دن سے زیادہ سوگ جائز نہیں، مگر عورت شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔ (2) (حدیث)
مسئلہ ۲۰: آواز سے رونا منع ہے اور آواز بلند نہ ہو تو اس کی ممانعت نہیں، بلکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر بُکا فرمایا۔ (3) (جوہرہ) اس مقام پر بعض احادیث جو نوحہ وغیرہ کے بارہ میں وارد ہیں ذکر کی جاتی ہیں کہ مسلمان بغور دیکھیں اور اپنے یہاں کی عورتوں کو سنائیں ،کہ یہ بلا ہندوستان کی اکثر عورتوں میں ہندوؤں کی تقلید سے پائی جاتی ہے۔
حدیث ۱ـ: بخاری و مسلم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو مونھ پر طمانچہ مارے اور گریبان پھاڑے اورجاہلیت کا پکارنا پکارے (نوحہ کرے) وہ ہم سے نہیں۔'' (4)
حدیث ۲ـ: صحیحین میں ابوبردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی واللفظ لمسلم، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو سر منڈائے (5) اور نوحہ کرے اور کپڑے پھاڑ ے، میں اس سے بَری ہوں۔'' (6)
حدیث ۳ـ: صحیح مسلم شریف میں ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''میری اُمّت میں چار کام جاہلیت کے ہیں، لوگ انھيں نہ چھوڑیں گے۔
(۱) حسب پر فخر کرنا اور
(۲) نسب میں طعن کرنا اور
(۳) ستاروں سے مينھ چاہنا (فلاں نچھتر کے سبب پانی برسے گا) اور
(۴) نوحہ کرنا
اور فرمایا: ''نوحہ کرنے والی نے اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کی تو قیامت کے دن اس طرح کھڑی کی جائے گی کہ اس پر
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، ومما يتصل بذلک مسائل، ج۱، ص۱۶۷.
2 ۔ انظر: ''صحيح البخاري''، کتاب الجنائز، باب إحداد المرأۃ علی غير زوجھا، الحديث: ۱۲۸۰، ج۱، ص۴۳۲.
3 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۹ ۔ ۱۴۰.
4 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الجنائز، باب ليس منّا من ضرب الخدود، الحديث: ۱۲۹۷، ج۱، ص۴۳۹.
5 ۔ یعنی کسی کے مرنے پر جیسے ہندو بھدرا کرتے ہیں۔ ۱۲
6 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الإيمان، باب تحريم ضرب الخدود... إلخ، الحديث: ۱۰۴، ص۶۶.
ایک کُرتا قطران کا ہوگا اور ایک خارشت کا۔'' (1)
حدیث ۴ـ: صحیحین میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''آنکھ کے آنسو اور دل کے غم کے سبب اللہ تعالیٰ عذاب نہیں فرماتا اور زبان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: لیکن اس کے سبب عذاب یا رحم فرماتا ہے اور گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میّت پر عذاب ہوتا ہے'' (2) یعنی جبکہ اس نے وصیّت کی ہو یا وہاں رونے کا رواج ہو اور منع نہ کیا ہو، واللہ تعالیٰ اعلم یا یہ مراد ہے کہ ان کے رونے سے اسے تکلیف ہوتی ہے کہ دوسری حدیث میں آیا، ''اے اللہ (عزوجل) کے بندو! اپنے مردے کو تکلیف نہ دو، جب تم رونے لگتے ہو وہ بھی روتا ہے۔'' (3)
حدیث ۵ـ: بخاری و مسلم مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس پر نوحہ کیا گیا، قیامت کے دن اس نوحہ کے سبب اس پر عذاب ہو گا ۔'' (4) یعنی اُنھيں صورتوں میں
حدیث ۶ـ: صحیح مسلم میں ہے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں: جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا، میں نے کہا مسافرت اور پردیس میں انتقال ہوا، ان پر اس طرح روؤں گی جس کا چرچا ہو، میں نے رونے کا تہيّہ کیا تھا اور ایک عورت بھی اس ارادہ سے آئی کہ میری مدد کرے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: ''جس گھر سے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو دو مرتبہ نکالا، تُو اس میں شیطان کو داخل کرنا چاہتی ہے''، فرماتی ہیں: میں رونے سے باز آئی اور نہیں روئی۔ (5)
حدیث ۷ـ: ترمذی ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو مرتا ہے اور رونے والا اس کی خوبیاں بیان کر کے روتا ہے، اللہ تعالیٰ اس میّت پر دو فرشتے مقرر فرماتا ہے جو اسے کونچتے ہیں اور کہتے ہیں کیا تُو ایسا تھا؟۔'' (6)
حدیث ۸ـ: ابن ماجہ ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ عزوجل فرماتا ہے: ''اے ابن آدم! اگر تُو اوّل صدمہ کے وقت صبر کرے اور ثواب کا طالب ہو تو تیرے ليے جنت کے سوا کسی ثواب پر
1 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الجنائز، باب التشديد في النياحۃ، الحديث: ۹۳۴، ص۴۶۵.
2 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الجنائز، باب البکاء عند المريض، الحديث: ۱۳۰۴، ج۱، ص۴۴۱.
3 ۔
4 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الجنائز، باب الميت يعذب ببکاء أھلہ عليہ، الحديث: ۹۳۳، ص۴۶۵.
5 ۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الجنائز، باب البکاء علی الميت، الحديث: ۹۲۲، ص۴۵۹.
6 ۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الجنائز، باب ماجاء في کراھیۃ البکاء علی الميت، الحديث:۱۰۰۵، ج۲، ص۳۰۵.
ميں راضی نہیں۔'' (1)
حدیث ۹ـ: احمد وبیہقی امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جس مسلمان مرد یا عورت پر کوئی مصیبت پہنچی اسے یاد کر کے
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
کہے، اگرچہ مصيبت کا زمانہ دراز ہوگیا ہو، تو اللہ تعالیٰ اُس پر نیا ثواب عطا فرماتا ہے اور ویسا ہی ثواب دیتا ہے جیسا اُس دن کہ مصیبت پہنچی تھی۔'' (2)
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
(وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوَاتٌ ؕ بَلْ اَحْیَاللہءٌ وَّلٰکِنۡ لَّا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾ ) (3)
جو اللہ (عزوجل) کی راہ میں قتل کيے گئے، انھيں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمھيں خبر نہیں۔
اور فرماتا ہے:
(وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوَاتًا ؕ بَلْ اَحْیَاللہءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾ۙفَرِحِیۡنَ بِمَاللہ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ۙ وَیَسْتَبْشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمْ یَلْحَقُوۡا بِہِمۡ مِّنْ خَلْفِہِمْ ۙ اَ لَّا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿۱۷۰﴾ۘیَسْتَبْشِرُوۡنَ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللہِ وَفَضْلٍ ۙ وَّاَنَّ اللہَ لَا یُضِیۡعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾ۚ ) (4)
جو لوگ راہ خدا میں قتل کيے گئے انھيں مردہ نہ گمان کر، بلکہ وہ اپنے رب (عزوجل) کے یہاں زندہ ہیں انھيں روزی ملتی ہے۔ اللہ (عزوجل) نے اپنے فضل سے جو انھيں دیا اس پر خوش ہیں اور جو لوگ بعد والے ان سے ابھی نہ ملے، ان کے ليے خوشخبری کے طالب کہ ان پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے، اللہ (عزوجل) کی نعمت اور فضل کی خوشخبری چاہتے ہیں اور یہ کہ ایمان والوں کا اجر اللہ (عزوجل) ضائع نہیں فرماتا۔
احادیث میں اس کے فضائل بکثرت وارد ہیں، شہادت صرف اسی کا نام نہیں کہ جہاد میں قتل کیا جائے بلکہ:
(حدیث ۱:) ایک حدیث میں فرمایا: ''اس کے سوا سات شہادتیں اور ہیں۔
(۱) جو طاعون سے مرا شہید ہے۔
1 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الجنائز، باب ماجاء في العبد علی المصيبۃ، الحديث: ۱۵۹۷، ج۲، ص۲۶۶.
2 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث الحسين بن علی رضی اللہ عنہما، الحديث: ۱۷۳۴، ج۱، ص۴۲۹.
3 ۔ پ۲، البقرۃ: ۱۵۴.
4 ۔ پ۴، اٰلِ عمرٰن: ۱۶۹۔۱۷۱.
(۲) جو ڈوب کر مرا شہید ہے۔
(۳) ذات الجنب میں مرا شہید ہے۔
(۴) جو پیٹ کی بیماری میں مرا شہید ہے۔ (1)
(۵) جو جل کر مرا شہید ہے۔
(۶) جس کے اوپر دیوار وغیرہ ڈہ پڑے اور مر جائے شہید ہے۔
(۷) عورت کہ بچہ پیدا ہونے یا کوآرے پن میں مر جائے شہید ہے۔'' (2)
اس حدیث کو امام مالک (3) و ابو داود و نسائی نے جابر بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت اور: حدیث ۲: امام احمد کی روایت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''طاعون سے بھاگنے والا اس کے مثل ہے ،جو جہادسے بھاگا اور جو صبر کرے اس کے ليے شہید کا اجر ہے۔'' (4)
حدیث ۳: احمد و نسائی عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو طاعون میں مرے، ان کے بارے میں اللہ عزوجل کے دربار میں مقدمہ پیش ہوگا۔ شہدا کہیں گے، یہ ہمارے بھائی ہیں یہ ویسے ہی قتل کيے گئے جیسے ہم اور بچھونوں پر وفات پانے والے کہیں گے یہ ہمارے بھائی ہیں یہ اپنے بچھونوں پرمرے جیسے ہم۔ اللہ عزوجل فرمائے گا: ''ان کے زخم دیکھو، اگر ان کے زخم مقتولین کے مشابہ ہوں ،تو یہ انھيں میں ہيں اور انھيں کے ساتھ ہیں۔'' دیکھیں گے تو ان کے زخم شہدا کے زخم سے مشابہ ہوں گے، شہدا میں شامل کر ديے جائیں گے۔'' (5)
حدیث ۴: ابن ماجہ کی روایت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے کہ ارشاد فرمایا مسافرت ۸ کی موت شہادت ہے۔ (6)
1 ۔ اس سے مراد استسقا ہے یا دست آنا دونوں قول ہیں اور یہ لفظ دونوں کو شامل ہوسکتا ہے، لہٰذا اس کے فضل سے امید ہے کہ دونوں کو شہادت کا اجر ملے۔ ۱۲ منہ حفظہ ربہ
2 ۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں ((وَالْمَرْأَۃُ تَمُوْتُ بِجُمْعٍ فَہِیَ شَہِیْدَۃٌ)) (''سنن النسائي''، کتاب الجنائز، باب النھی عن البکاء علی الميت، الحديث: ۱۸۴۷، ص۲۲۰۹) دون قولہ: فہی.
جس کے یہ معنی ہیں کہ ايسی چیز سے مری، جو اس میں اکٹھی ہے جدا نہ ہوئی اس میں ولادت وزوال بکارت دونوں داخل ہیں۔ ۱۲
3 ۔ ''الموطأ '' لإمام مالک، کتاب الجنائز، باب النھی عن البکاء علی الميت، الحديث: ۵۶۳، ج۱، ص۲۱۸.
4 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد اللہ، الحديث: ۱۴۸۸۱، ج۵، ص۱۴۲.
5 ۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حديث العرباض بن ساریۃ، الحديث: ۱۷۱۵۹، ج۶، ص۸۶.
6 ۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الجنائز، باب ماجاء فيمن مات غريبا، الحديث: ۱۶۱۳، ج۲، ص۲۷۵.
ان کے سوا اور بہت صورتیں ہیں جن میں شہادت کا ثواب ملتا ہے، امام جلال الدین سیوطی وغیرہ ائمہ نے ان کو ذکر کیا ہے، بعض یہ ہیں۔
(۹) سِل کی بیماری میں مرا۔
(۱۰) سواری سے گِر کر یا مر گی سے مرا۔
(۱۱) بخار میں مرا۔
(۱۲) مال یا
(۱۳) جان یا
(۱۴) اہل یا
(۱۵) کسی حق کے بچانے میں قتل کیا گیا۔
(۱۶) عشق میں مرا بشرطیکہ پاکدامن ہو اور چھپایا ہو۔
(۱۷) کسی درندہ نے پھاڑ کھایا۔
(۱۸) بادشاہ نے ظلماً قید کیا یا
(۱۹) مارا اور مر گیا۔
(۲۰) کسی موذی جانور کے کاٹنے سے مرا۔
(۲۱) علم دین کی طلب میں مرا۔
(۲۲) مؤذن کہ طلب ثواب کے ليے اذان کہتا ہو۔
(۲۳) تاجر راست گو۔
(۲۴) جسے سمندر کے سفر میں متلی اور قے آئی۔
(۲۵) جو اپنے بال بچوں کے ليے سعی کرے، ان میں امر الہی قائم کرے اور انھيں حلال کھلائے۔
(۲۶) جو ہر روز پچیس بار یہ پڑھے
اَللّٰھُمَّ بِارِکْ لِیْ فِی الْمَوْتِ وَفِیْمَا بَعْدَ الْمَوْتِ۔
(۲۷) جو چاشت کی نماز پڑھے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھے اور وتر کو سفر و حضر میں کہیں ترک نہ کرے۔
(۲۸) فسادِ اُمّت کے وقت سنت پر عمل کرنے والا، اس کے ليے سو شہید کا ثواب ہے۔
(۲۹) جو مرض میں
لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُـنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ
چالیس بار کہے اور اسی مرض میں مر جائے اور اچھا ہوگیا تو اس کی مغفرت ہو جائے گی۔
(۳۰) کفار سے مقابلہ کے ليے سرحد پر گھوڑا باندھنے والا۔
(۳۱) جوہر رات میں سورۂ يٰس شریف پڑھے۔
(۳۲) جو با طہارت سویا اور مر گیا۔
(۳۳) جو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر سو بار دُرُود شریف پڑھے۔
(۳۴) جو سچے دل سے یہ سوال کرے کہ اللہ (عزوجل) کی راہ میں قتل کیا جاؤں۔
(۳۵) جو جمعہ کے دن مرے۔
(۳۶) جو صبح کو
اَعُوْذُ بِاللہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
تین بار پڑھ کر سورۂ حشر کی پچھلی تین آیتیں پڑھے، اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے مقرر فرمائے گا کہ اس کے ليے شام تک استغفار کریں اور اگر اس دن میں مرا تو شہید مرا اور جو شام کو کہے صبح تک کے ليے یہی بات ہے۔ (1)
اصطلاح فقہ میں شہید اس مسلمان عاقل بالغ طاہر کو کہتے ہیں جو بطور ظلم کسی آلۂ جارحہ سے قتل کیا گیا اور نفس قتل سے مال نہ واجب ہوا ہو اوردنیا سے نفع نہ اٹھایا ہو۔ (2) شہید کا حکم یہ ہے کہ غسل نہ دیا جائے، ویسے ہی خون سمیت دفن کر دیا جائے۔ (3) تو جہاں یہ حکم پایا جائے گا فقہا اسے شہید کہیں گے ورنہ نہیں، مگر شہید فقہی نہ ہونے سے یہ لازم نہیں کہ شہید کا ثواب بھی نہ پائے، صرف اس کا مطلب اتنا ہو گا کہ غسل دیا جائے و بس۔
مسئلہ ۱: نابالغ اور مجنون کو غسل دیا جائے، اگرچہ وہ کسی طرح قتل کيے گئے، جنب اور حیض و نفاس والی عورت خواہ ابھی حیض و نفاس میں ہو یا ختم ہوگیا مگر ابھی غسل نہ کیا تو ان سب کو غسل دیا جائے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: حیض شروع ہوئے ابھی پورے تین دن نہ ہوئے تھے کہ قتل کی گئی تو اسے غسل نہ دیں گے کہ ابھی یہ نہیں کہہ
1 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، مطلب في تعداد الشھداء، ج۳، ص۱۹۵ ۔ ۱۹۷.
2 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ج۳، ص۱۸۷ ۔ ۱۸۹.
3 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ج۳، ص۱۹۱.
4 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ج۳، ص۱۸۷.
سکتے کہ حائض ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳: جنب ہونا یوں معلوم ہوگا کہ قتل سے پہلے اس نے خود بیان کیا ہو یا اس کی عورت نے بتایا۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۴: آلۂ جارحہ وہ جس سے قتل کرنے سے قاتل پر قصاص واجب ہوتا ہے یعنی جو اعضا کو جدا کر دے جیسے تلوار، بندوق کو بھی آلۂ جارحہ کہیں گے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: جب نفس قتل سے قاتل پر قصاص واجب نہ ہو بلکہ مال واجب ہو تو غسل دیا جائے گا، مثلاً لاٹھی سے مارا یا قتل خطا کہ نشانہ پر مار رہا تھا مگر کسی آدمی کو لگا اور مر گیا یا کوئی شخص ننگی تلوار ليے سوگیا اور سوتے میں کسی آدمی پر وہ تلوار گِر پڑی وہ مرگیا یا کسی شہر یا گاؤں میں یا ان کے قریب مقتول پڑا ملا اور اس کا قاتل معلوم نہیں، ان سب صورتوں میں غسل دیں گے اور اگر مقتول شہر وغیرہ میں ملا اور معلوم ہے کہ چوروں نے قتل کیا ہے خواہ اسلحہ سے قتل کیا ہو یا کسی اور چیز سے تو غسل نہ دیا جائے، اگرچہ یہ معلوم نہیں کہ کس چور نے قتل کیا۔ يوہيں اگر جنگل میں ملا اور معلوم نہیں کہ کس نے قتل کیا تو غسل نہ دیں گے۔ يوہيں اگر ڈاکوؤں نے قتل کیا تو غسل نہ دیں گے، ہتھیار سے قتل کیا ہو یا کسی اور چیز سے۔ (4) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۶: اگر نفس قتل سے مال واجب نہ ہوا بلکہ وجوب مال کسی امر خارج سے ہے، مثلاً قاتل و اولیائے مقتول میں صلح ہوگئی یا باپ نے بیٹے کو مار ڈالا یا کسی ایسے کو مارا کہ اس کا وارث بیٹا ہے، مثلاً اپنی عورت کو مار ڈالا اور عورت کا وارث بیٹا ہے جو اسی شوہر سے ہے تو قصاص کا مالک یہی لڑکا ہوگا مگر چونکہ اس کا باپ قاتل ہے قصاص ساقط ہوگیا تو ان صورتوں میں غسل نہ دیا جائے۔ (5) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۷: اگر قتل بطورِ ظلم نہ ہو بلکہ قصاص یا حد يا تعزیر میں قتل کیا گیا یا درندہ نے مار ڈالا تو غسل دیں گے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۸: کوئی شخص گھائل ہوا مگر اُس کے بعد دنیا سے متمتع ہوا، مثلاً کھایایا پیا یا سویا یا علاج کیا، اگرچہ یہ چیزیں بہت قلیل ہوں یا خیمہ میں ٹھہرا یعنی وہیں جہاں زخمی ہوا یا نماز کا ایک وقت پورا ہوش میں گزرا، بشرطیکہ نماز ادا کرنے پر قادر ہو یا وہاں
1 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ج۳، ص۱۸۷.
2 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ص۱۴۳.
3 ۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ج۳، ص۱۸۹.
4 ۔ المرجع السابق، وغيرہ.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ج۳، ص۱۹۲.
سے اُٹھ کر دوسری جگہ کو چلا یا لوگ اُسے معرکہ سے اُٹھا کر دوسری جگہ لے گئے خواہ زندہ پہنچا ہو یا راستہ ہی میں انتقال ہوا یا کسی دنیوی بات کی وصيّت کی یا بیع کی یا کچھ خریدا یا بہت سی باتیں کیں، تو ان سب صورتوں میں غسل دیں گے، بشرطیکہ یہ امور جہاد ختم ہونے کے بعد واقع ہوئے اور اگر اثنائے جنگ میں ہوں تو یہ چیزیں مانع شہادت نہیں یعنی غسل نہ دیں گے اور وصیت اگر آخرت کے متعلق ہو یا دو ایک بات بولا اگرچہ لڑائی کے بعد تو شہید ہے غسل نہ دیں گے اور اگر لڑائی میں نہیں قتل کیا گیا بلکہ ظلماً تو ان چیزوں میں سے اگر کوئی پائی گئی غسل دیں گے ورنہ نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جس کو حربی یا باغی یا ڈاکو نے کسی آلہ سے قتل کیا ہو یا ان کے جانوروں نے اسے کچل ديا، اگرچہ خود يہی ان کے جانور پر سوار تھا يا کھينچے ليے جاتا تھا يا اس جانور نے اپنے ہاتھ پاؤں اس پر مارے یا دانت سے کاٹا یا اس کی سواری کو ان لوگوں نے بھڑکا دیا اُس سے گِر کر مر گیا یا انہوں نے اس پر آگ پھینکی یا اُن کے یہاں سے ہوا آگ اُڑا لائی یا انہوں نے کسی لکڑی میں آگ لگا دی جس کاایک کنارہ اُدھر تھا اور ان صورتوں میں جل کر مر گیا یا معرکہ میں مرا ہوا ملا اور اُس پر زخم کا نشان ہے، مثلاً آنکھ کان سے خون نکلا ہے یا حلق سے صاف خون نکلا یا اُن لوگوں نے شہر پناہ پر سے اُسے پھینک دیا یا اُس کے اوپر دیوار ڈھا دی یا پانی میں ڈوبا دیا يا پانی بند تھا انہوں نے کھول کر ادھر بہا دیا کہ ڈوب گیا یا گلا گھونٹ دیا، غرض وہ لوگ جس طرح بھی مسلمان کو قتل کریں یا قتل کے سبب بنیں وہ شہید ہے۔ (2) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۱۰: معرکہ میں مُردہ ملا اور اُس پر قتل کا کوئی نشان نہیں یا اُس کی ناک یا پاخانہ پیشاب کے مقام سے خون نکلا ہے یا حلق سے بستہ خون نکلا یا دشمن کے خوف سے مر گیا تو غسل دیا جائے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: اپنی جان یا مال یا کسی مسلمان کے بچانے میں لڑا اور مارا گیا وہ شہید ہے، لوہے یا پتھر یا لکڑی کسی چیز سے قتل کیا گیا ہو۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: دو کشتيوں ميں مسلمان تھے، دشمن نے ايک کشتی پر آگ پھينکی يہ لوگ جل گئے، وہ آگ بڑھ کر دوسری کشتی ميں لگی يہ بھی جلے تو اس دوسری کشتی والے بھی شہيد ہيں۔ (5) (عالمگيری)
1 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ج۳، ص۱۹۲۔۱۹۴.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السابع، ج۱، ص۱۶۷ ۔ ۱۶۸.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ج۳، ص۱۸۹، وغيرہما.
3 ۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ج۳، ص۱۹۰.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السابع، ج۱، ص۱۶۸.
5 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۳: مشرک کا گھوڑا چھوٹ کر بھاگا اور اُس پر کوئی سوار نہیں اس نے کسی مسلمان کو کچل دیا یا مسلمان نے کافر پر تیر چلایا وہ مسلمان کو لگا یا کافر کے گھوڑے سے مسلمان کا گھوڑا بھڑکا اُس نے مسلمان سوار کو گرا دیا یا معاذ اللہ! مسلمانوں نے فرار کی کافروں نے ان کو آگ یا خندق کی طرف مضطر کیا یا مسلمانوں نے اپنے گرد گو کھرو بچھائے تھے پھر اُس پر چلے اور مر گئے ان سب صورتوں میں غسل دیا جائے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: لڑائی میں کسی مسلمان کا گھوڑا بھڑکا یا کافروں کا جھنڈا دیکھ کر بدکا، مگر کافروں نے اسے نہیں بھڑکایا اور اس نے سوار کو گِرا دیا وہ مر گیا یا کافر قلعہ بند ہوئے اور مسلمان شہر پناہ پر چڑھے، اُس پر سے پِھسل کر کوئی گرا اور مر گیا یا معاذ اللہ! مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ایک مسلمان کی سواری نے دوسرے مسلمانوں کو کچل دیا، خواہ وہ مسلمان اس پر سوار ہو یا باگ پکڑ کر ليے جاتا یا پیچھے سے ہانکتا ہو یا دشمن پر حملہ کیا اور گھوڑے سے گِر کر مر گیا، ان سب صورتوں میں غسل دیا جائے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: دونوں فریق آمنے سامنے ہوئے، مگر لڑائی کی نوبت نہیں آئی اورایک شخص مُردہ ملا تو جب تک یہ نہ معلوم ہو کہ آلۂ جارحہ سے ظلماً قتل کیا گیا غسل دیا جائے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: شہید کے بدن پر جو چيزيں از قسم کفن نہ ہوں اُتار لی جائیں، مثلاً پوستین زرہ ٹوپی، خود ہتھیار، روئی کا کپڑا اور اگر کفن مسنون میں کچھ کمی پڑے تو اضافہ کیا جائے اور پاجامہ نہ اُتارا جائے اور اگر کمی ہے مگر پوراکرنے کو کچھ نہیں تو پوستین اور روئی کا کپڑا نہ اُتاریں، شہید کے سب کپڑے اُتار کرنئے کپڑے دینا مکروہ ہے۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۱۷: جیسے اور مُردوں کو خوشبو لگاتے ہیں شہید کو بھی لگائیں، شہید کا خون نہ دھویا جائے، خون سمیت دفن کریں اور اگر کپڑے میں نجاست لگی ہو تو دھو ڈالیں۔ (5) (عالمگیری وغيرہ) شہید کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے۔ (6) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۱۸: دشمن پر وار کیا ضرب اُس پر نہ پڑی، بلکہ خود اس پر پڑی اور مر گیا تو عنداللہ شہید ہے، مگر غسل دیں اور نماز پڑھیں۔ (7) (جوہرہ)
1 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السابع، ج۱، ص۱۶۸.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔ المرجع السابق.
4 ۔ المرجع السابق، '' و ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ج۳، ص۱۹۱، وغيرہما.
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل السابع، ج۱، ص۱۶۸، وغيرہ.
6 ۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ج۳، ص۱۹۱.
7 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الشھيد، ص۱۴۵.
حدیث ۱،۲: صحیح مسلم و صحیح بخاری میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اسامہ بن زید و عثمان بن طلحہ حجبی و بلال بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہم کعبۂ معظمہ میں داخل ہوئے اور دروازہ بند کر لیا گیا کچھ دیر تک وہاں ٹھہرے جب باہر تشریف لائے، میں نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے کیا کیا؟ کہا: ایک ستون بائیں طرف کیا اوردو داہنی طر ف اور تین پیچھے پھر نماز پڑھی اور اُس زمانہ میں بیت اللہ شریف کے چھ ستون تھے۔ (1)
مسئلہ ۱: کعبۂ معظمہ کے اندر ہر نماز جائز ہے، فرض ہو یا نفل تنہا پڑھے یا باجماعت، اگرچہ امام کا رُخ اور طرف ہو اور مقتدی کا اور طرف مگر جب کہ مقتدی کی پشت امام کے سامنے ہو تو مقتدی کی نماز نہ ہوگی اور اگر مقتدی کا مونھ امام کے مونھ کے سامنے ہو تو ہو جائے گی، مگر کوئی چیز اگر درمیان میں حائل نہ ہو تو مکروہ ہے اور اگر مقتدی کا مونھ امام کی کروٹ کی طرف ہو تو بلا کراہت جائز۔ (2) (جوہرہ، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۲: کعبۂ معظمہ کی چھت پر نماز پڑھی جب بھی یہی صورتیں ہیں، مگر اُس کی چھت پر نماز پڑھنا بھی مکروہ ہے۔ (3) (تنویر الابصار)
مسئلہ ۳: مسجد الحرام شریف میں کعبۂ معظمہ کے گرد جماعت کی اورمقتدی کعبۂ معظمہ کے چاروں طرف ہوں جب بھی جائز ہے اگرچہ مقتدی بہ نسبت امام کے کعبہ سے قریب تر ہو، بشرطیکہ یہ مقتدی جو بہ نسبت امام کے قریب تر ہے ادھر نہ ہو جس طرف امام ہو بلکہ دوسری طرف ہو اور اگر اسی طرف ہے جس طرف امام ہے اور بہ نسبت امام کے قریب تر ہے تو اُس کی نماز نہ ہوئی۔ (4) (عامۂ کتب)
مسئلہ ۴: امام کعبہ کے اندر ہے اور مقتدی باہر تو اقتدا صحیح ہے، خواہ امام تنہا اندر ہو یا اس کے ساتھ بعض مقتدی بھی ہوں، مگر دروازہ کھلا ہونا چاہيے کہ امام کے رکوع و سجود کا حال معلوم ہوتا رہے اور اگر دروازہ بند ہے مگر امام کی آواز آتی ہے جب بھی
1 ۔ ''صحيح البخاري''، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ بين السواري في غير جماعۃ، الحديث: ۵۰۵، ج۱، ص۱۸۸.
2 ۔ ''الجوہرۃ النيرۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ في الکعبۃ، ص۱۴۵.
و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ في الکعبۃ، ج۳، ص۱۹۸، وغيرہما.
3 ۔ ''تنوير الأبصار''، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ في الکعبۃ، ج۳، ص۱۹۸.
4 ۔ ''تنوير الأبصار '' و ''ردالمحتار'' کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ في الکعبۃ، ج۳، ص۱۹۹، وغيرہما.
حرج نہیں مگر جس صورت میں امام تنہا اندر ہو کراہت ہے کہ امام تنہا بلندی پر ہوگا اور یہ مکروہ ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: امام باہر ہو اور مقتدی اندر جب بھی نماز صحیح ہے بشرطیکہ مقتدی کی پشت امام کے مواجہہ میں نہ ہو۔ (2) (ردالمحتار)
قد تم ھذا الجزء بحمد اللہ تعالی ولہ الحمد اولا واٰخرا وباطنا وظاھرا والصلٰوۃ والسلام علی من ارسلہ شاھدا ومبشرا ونذیرا وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا واٰلہ واصحابہ وابنہ وحزبہ اجمعین الٰی یوم الدین والحمد للہ رب العٰلمین وانا الفقیر الی الغنی ابو العلا امجد علی الاعظمی غفر اللہ ولوالدیہ اٰمین۔