Pages
- عقا ئد٭ جنت٭ دوزخ٭ امامت اور ولایت کا بیان
- کتاب الطھارۃ
- نَماز کا بیان
- نَماز کا بقیہ حصہ٭ زیارتِ قبور اور شہید کا بیان
- زکاۃ کا بیان روزہ کا بیان ٭
- حج کا بیان
- نکاح کا بیان
- طلاق کا بیان
- میراث کے مسائل کا بیان
- اسلام اور علم کی اہمیت٭آدابِ فتویٰ٭ طبقاتِ فقہاء ٭...
- وصیّت کے مسائل
- قِصاص٭دیت ٭ضمان وغیرہ کے مسائل کابیان
- تحری٭احیاء مَوات٭شکار٭رَہْن اور جنایات کے مسائل کا...
- حظرواباحت ٭سلام٭ آداب مسجد وقبلہ ٭زیارتِ قُبور اور...
- اِکراہ٭حَجر٭ غَصْب٭شُفعہ٭ ذَبح٭قربانی اور عقیقہ کے...
- مضاربت٭ اجارہ٭اکراہ٭ حظرواباحت ٭قصاص٭دیت٭ وصیت٭میر...
- دعوے کا بیان٭ حلف٭ اقرار٭تخارج کا بیان
- کفالت٭ حوالہ٭ قضاء٭ تحکیم٭ وقالت٭ گواہی
- خرید و فروخت کا بیان
- لقیط ٭ شرکت٭ وقف٭ تولیت٭ دعویٰ٭ شہادت ٭
- آزاد کرنے ٭ قسم٭ کفارہ٭ حدود٭ عشر و خراج٭ جزیہ٭ مر...
Special Thanks
سید ظہیر الحسن بخاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اصطلاحِ شرع میں کفالت کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص اپنے ذمہ کو دوسرے کے ذمہ کے ساتھ مطالبہ میں ضم کر دے یعنی مطالبہ ایک شخص کے ذمہ تھا دوسر ے نے بھی مطالبہ اپنے ذمہ لے لیا خواہ وہ مطالبہ نفس(1)کا ہو یا دَین(2) یا عین(3) کا۔ (4)(ہدایہ، درمختار)
جس کا مطالبہ ہے اس کو طالب و مکفول لہ کہتے ہیں اور جس پر مطالبہ ہے وہ اصیل و مکفول عنہ ہے اور جس نے ذمہ داری کی وہ کفیل ہے اور جس چیز کی کفالت کی وہ مکفول بہ ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱: جس مدعی(6) کو یہ ڈر ہو کہ معلوم نہیں مال وصول ہو گا یا نہ ہو گا اور جس مدعیٰ علیہ کو یہ اندیشہ ہو کہ کہیں حراست میں نہ لیا جاؤں(7) ان دونوں کو اس اندیشہ سے بچانے کے لیے کفالت کرنا محمود و حسن ہے(8) اور اگر کفیل یہ سمجھتا ہو کہ مجھے خود شرمندگی حاصل ہو گی تو اس سے بچنا ہی احتیاط ہے تو ریت مقدس(9) میں ہے کہ کفالت کی ابتدا ملامت ہے اور اوسط ندامت ہے اور آخر غرامت ہے یعنی ضامن ہوتے ہی خود اس کا نفس یا دوسرے لوگ ملامت کریں گے اور جب اس سے
1 ۔یعنی کسی شخص کوحاضرکرنے کامطالبہ ۔ 2 ۔قرض۔
3 ۔معین ومشخص چیز جیسے مکان اور سامان وغیرہ۔
4 ۔ ''الدر المختار'' ،کتاب الکفالۃ ، ج ۷ ،ص ۵۸۹.
و'' الھدایۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۲، ص۸۷.
5 ۔''الدر المختار'' ،کتاب الکفالۃ ، ج ۷،ص۵۹۵.
6 ۔دعوی کرنے والا۔
7 ۔گرفتارنہ کرلیاجاؤں۔
8 ۔تعریف کے قابل اور اچھا ہے۔
9 ۔ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب۔
مطالبہ ہونے لگا تو شرمندہ ہونا پڑتا ہے اور آخر یہ کہ گرہ سے(1) دینا پڑتا ہے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
کفالت کا جواز اور اس کی مشروعیت قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس کے جواز پر اجماع منعقد ہے۔ قرآن مجید سورہ یوسف میں ہے۔
1 ۔جیب سے۔
2 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ، مطلب فی کفالۃ نفقۃ الزوجۃ ،ج ۷،ص ۵۹۵.
3 ۔پ۱۳،یوسف:۷۲.
4 ۔'' فتح القدیر''،کتاب الکفالۃ ،ج ۶،ص ۲۸۳،۲۸۵،۲۸۶.
5 ۔جس کامطالبہ ہے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ، الباب الاول فی تعریف الکفالۃ... إلخ، ج ۳، ص ۲۵۲.
7 ۔جس پرمطالبہ ہے۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ، الباب الاول فی تعریف الکفالۃ... إلخ ،ج ۳، ص ۲۵۲،۲۵۳.
یہ کفالت درست ہے۔ اگرچہ مکفول لہ نے قبول نہ کیا ہو بلکہ وہاں موجود بھی نہ ہو۔ مریض کے مرنے کے بعد ورثہ سے مطالبہ ہو گا مگر میّت نے ترکہ نہ چھوڑا ہو تو ورثہ ادا کرنے پر مجبور نہیں کیے جا سکتے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: مریض نے کسی اجنبی شخص کو اپنا ضامن بنایا وہ ضامن ہو گیا اگرچہ مکفول لہ موجود نہیں ہے کہ اس کفالت کو قبول کرے یہ کفالت بھی درست ہے لہٰذا اس اجنبی نے دَین ادا کر دیا تو اُس کے ترکہ سے وصول کر سکتا ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: مریض نے ورثہ سے ضمانت کو نہیں کہا بلکہ خود ورثہ ہی نے مریض سے کہا کہ لوگوں کے جو کچھ دیون(3) تمھارے ذمہ ہیں ہم ضامن ہیں اور قرض خواہ وہاں موجود نہیں ہیں کہ قبول کرتے یہ کفالت صحیح نہیں۔ اور اُس کے مرنے کے بعد ورثہ نے کفالت کی تو صحیح ہے۔(4) (خانیہ)
مسئلہ ۷: مکفول بہ(5) کبھی نفس ہو تا ہے کبھی مال۔ نفس کی کفالت کا یہ مطلب ہے کہ اُس شخص کو جس کی کفالت کی حاضر لائے جس طرح آج کل بھی کچہریوں میں ہوتا ہے کہ مدعیٰ علیہ (6)سے کفیل(7) طلب کیا جاتا ہے جو اس امر کا ذمہ دار ہوتا ہے اُس پر لازم ہے کہ تاریخ پر حاضر لائے اور نہ لائے تو خود اُسے حراست (8) میں رکھتے ہیں۔
کفالت کے شرائط حسبِ ذیل ہیں:
(۱) کفیل کا عاقل ہونا۔ (۲) بالغ ہونا۔
مجنوں یا نابالغ نے کفالت کی، صحیح نہیں۔ مگر جب کہ ولی نے نابالغ کے لیے قرض لیا اور نابالغ سے کہہ دیا کہ تم اس مال کی کفالت کر لو اُس نے کفالت کر لی یہ کفالت صحیح ہے اور اس کفالت کا مطلب یہ ہو گا کہ نابالغ کو مال ادا کرنے کی اجازت ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ، الباب الاول فی تعریف الکفالۃ... الخ ج ۳، ص ۲۵۳.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔دین کی جمع قرضے۔
4 ۔''الفتاوی الخانیۃ '' ، کتاب الکفالۃ والحوالۃ ، فصل فی الکفالۃ بالمال ،ج ۲ ،ص ۱۷۴.
5 ۔جس چیزکی کفالت کی ۔ 6 ۔ جس پر دعوی کیا گیا ہے۔
7 ۔ضامن۔ 8 ۔قید۔
اور اس صورت میں اس بچہ سے دَین کا مطالبہ ہو سکتا ہے اور کفالت نہ کرتا تو صرف ولی سے مطالبہ ہوتا۔ ولی نے نابالغ کو کفالتِ نفس کا حکم دیا اُس نے کفالت کر لی یہ صحیح نہیں۔ (1)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۸: نابالغ نے کفالت کی اور بالغ ہونے کے بعد کفالت کا اقرار کرتا ہے تو اس سے مطالبہ نہیں ہو سکتا اور اگر بعد بلوغ اس میں اور طالب میں اختلاف ہوا یہ کہتا ہے میں نے نابالغی میں کفالت کی تھی اور طالب کہتا ہے بالغ ہونے کے بعد کفالت کی ہے تو نابالغ کا قول معتبر ہے۔(2) (عالمگیری)
(۳) آزاد ہونا۔
یہ شرطِ نفاذ ہے یعنی اگر غلام نے کفالت کی تو جب تک آزاد نہ ہو اُس سے مطالبہ نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ ایسا غلام ہو جس کوتجارت کرنے کی اجازت ہو ہاں جب وہ آزاد ہو گیا تو اُس کفالت کی وجہ سے جو غلامی کی حالت میں کی تھی اُس سے مطالبہ ہو سکتا ہے اور اگر مولیٰ (3) نے اُسے کفالت کی اجازت دے دی تو اُس کی کفالت صحیح و نافذ ہے جب کہ مدیون (4) نہ ہو۔ (5)(درمختار،عالمگیری)
(۴) مریض نہ ہونا۔
یعنی جو شخص مرض الموت میں ہو اور ثلث مال(6) سے زیادہ کی کفالت کرے تو صحیح نہیں۔ یوہیں اگر اُس پر اتنا دَین (7) ہو جو اُس کے ترکہ کو محیط ہو (8) تو بالکل کفالت نہیں کر سکتا۔ مریض نے وارث کے لیے یا وارث کی طرف سے کفالت کی یہ مطلقاً صحیح نہیں۔ (9) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۵۹۳.
و''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،الباب الاول فی تعریف الکفالۃ... إلخ،ج ۳ ،ص ۲۵۳.
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،الباب الاول فی تعریف الکفالۃ ... إلخ،ج ۳ ،ص ۲۵۳.
3 ۔آقا، مالک۔
4 ۔مقروض۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،الباب الاول فی تعریف الکفالۃ ... إلخ،ج ۳ ،ص ۲۵۳.
و''الدرالمختار''،کتاب الکفالۃ،ج۷،ص۵۹۴.
6 ۔مال کا تیسرا حصہ۔ 7 ۔قرض۔
8 ۔اُس کی تمام میراث کو گھیرے ہوئے ہو۔
9 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ، مطلب فی کفالۃ نفقۃ الزوجۃ ،ج ۷ ،ص ۵۹۴.
مسئلہ ۹: اگر مریض پر بظاہر دین نہ تھا اُس نے کسی کی کفالت کی تھی پھر یہ اقرار کیا کہ مجھ پر اتنا دَین ہے جو کُل مال کو محیط ہے پھر مر گیا اس کا مال مقرلہ (1) کو ملے گا مکفول لہ (2) کو نہیں ملے گا۔ اور اگر اتنے مال کا اقرار کیا ہے جو کُل مال کو محیط نہیں ہے اور دَین نکالنے کے بعد جو بچا کفالت کی رقم اُس کی تہائی تک ہے تو یہ کفالت درست ہے اور اگر کفالت کی رقم تہائی سے زیادہ ہے تو تہائی کی قدر کفالت صحیح ہے۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: مریض نے حالتِ مرض میں یہ اقرار کیا کہ میں نے صحت میں کفالت کی ہے یہ اُس کے پورے مال میں صحیح ہے بشرطیکہ یہ کفالت نہ وارث کے لیے ہو نہ وارث کی طرف سے ہو۔(4) (ردالمحتار)
(۵) مکفول بہ مقدور التسلیم ہو۔
یعنی جس چیز کی کفالت کی اُس کے ادا کرنے پر قادر ہو۔ حدود و قصاص کی کفالت نہیں ہو سکتی۔ جس پر حد واجب ہو اُسکے نفس کی کفالت ہو سکتی ہے۔ جبکہ اُس حدمیں بندوں کا حق ہو۔ یوہیں میّت کی کفالت بالنفس (5) نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جب وہ مرچکا تو حاضر کیونکر کر سکتا ہے بلکہ اگر زندگی میں کفالت کی تھی پھر مر گیا تو کفالت بالنفس باطل ہو گئی کہ وہ رہا ہی نہیں جس کی کفالت کی تھی۔
(۶) دَین کی کفالت کی تو وہ دَین صحیح ہو۔
یعنی بغیر اداکیے یا مدعی (6)کے معاف کیے وہ ساقط نہ ہو سکے۔ بدل کتابت کی کفالت نہیں ہو سکتی کہ یہ دَین صحیح نہیں۔ یوہیں زوجہ کے نفقہ (7) کی کفالت نہیں ہو سکتی جب تک قاضی نے اس کا حکم نہ دیا ہو کہ یہ دَین صحیح نہیں۔
(۷) وہ دَین قائم ہو۔
1 ۔جس کے لیے اقرار کیا۔
2 ۔جس شخص کامطالبہ ہے۔
3 ۔''ردالمحتار '' ،کتاب الکفالۃ ، مطلب فی کفالۃ نفقۃ الزوجۃ ،ج ۷ ،ص ۵۹۴.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔جان کی کفالت یعنی کسی شخص کو حاضر کرنے کی کفالت۔
6 ۔دعوی کرنے والا۔
7 ۔کھانے ،پینے وغیرہ کے اخراجات۔
لہٰذا جو مفلس (1)مرا اور ترکہ نہیں چھوڑا اُس پر جو دَین ہے قابلِ کفالت نہیں کہ ایسے دَین کا دنیا میں مطالبہ ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ دَین قائم نہ رہا۔ (2)
مسئلہ ۱۱: کفالت ایسے الفاظ سے ہوتی ہے جن سے کفیل کا ذمہ دار ہونا سمجھا جاتا ہو مثلاً خود لفظِ کفالت ضمانت۔ یہ مجھ پر ہے ۔ میری طرف ہے۔ میں ذمہ دار ہوں۔ یہ مجھ پر ہے کہ اس کو تمھارے پاس لاؤں۔ فلاں شخص میری پہچان کا ہے یہ کفالت بالنفس ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: تمھارا جو کچھ فلاں پر ہے میں دوں گا یہ کفالت نہیں بلکہ وعدہ ہے۔ تمھارا جو دَین فلاں پر ہے میں دوں گا میں ادا کروں گا یہ کفالت نہیں جب تک یہ نہ کہے کہ میں ضامن ہوں یا وہ مجھ پر ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: یہ کہا کہ جو کچھ تمھارا فلاں پر ہے میں اُس کا ضامن ہوں یہ کفالت صحیح ہے۔ یا یہ کہا جو کچھ تم کواس بیع میں پہنچے گا میں اُس کا ضامن ہوں یعنی یہ کہ مبیع میں اگر دوسرے کا حق ثابت ہو تو ثمن کا میں ذمہ دار ہوں یہ کفالت بھی صحیح ہے۔ اس کو ضمان الدرک کہتے ہیں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: کفالت بالنفس میں یہ کہنا ہو گا کہ اُس کے نفس کا ضامن ہوں یا ایسے عضو کو ذکر کرے جو کل کی تعبیر ہوتاہے۔ مثلاً گردن، جزو شائع نصف و ربع کی طرف اضافت کرنے سے بھی کفالت ہو جاتی ہے۔ اگر یہ کہا اُس کی شناخت میرے ذمہ ہے تو کفالت نہ ہوئی۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: کفالت کا حکم یہ ہے کہ اصیل کی طرف سے اس نے جس چیز کی کفالت کی ہے (7)اُس کا مطالبہ اس کے
1 ۔نادار، محتاج۔
2 ۔''الدرالمختار''و'' ردالمحتار ''، کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۵۹۲.
3 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃواقسامھا... الخ،الفصل الاول،ج ۳ ،ص ۲۵۵.
4 ۔المرجع السابق ص ۲۵۶،۲۵۷.
5 ۔''الدرالمختار''و'' ردالمحتار ''، کتاب الکفالۃ ، مطلب : کفالۃ المال قسمان... الخ ،ج ۷ ،ص ۶۲۱.
6 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص۵۹۶،۵۹۹.
7 ۔یعنی جس چیزکاضامن بناہے،جس چیزکی ضمانت لی ہے۔
ذمہ لازم ہو گیا یعنی طالب کے لیے حقِ مطالبہ ثابت ہو گیا وہ جب چاہے اس سے مطالبہ کر سکتا ہے اس کو انکار کی گنجائش نہیں۔ یہ ضرور نہیں کہ اس سے مطالبہ اُسی وقت کرے جب اصیل سے مطالبہ نہ کر سکے بلکہ اصیل (1) سے مطالبہ کر سکتا ہو۔ جب بھی کفیل سے مطالبہ کر سکتا ہے۔ اور اصیل سے مطالبہ شروع کر دیا جب بھی کفیل سے مطالبہ کر سکتا ہے۔ ہاں اگر اصیل سے اُس نے اپنا حق وصول کر لیا تو کفالت ختم ہو گئی اب کفیل بری ہو گیا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: میں نے فلاں کی کفالت کی آج سے ایک ماہ تک تو ایک ماہ کے بعد کفیل(3) بری ہو جائے گا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ اور فقط اتنا ہی کہا کہ ایک ماہ کفیل ہوں یہ نہ کہا کہ آج سے جب بھی عرف یہی ہے کہ ایک ماہ کی تحدید ہے(4) ،اس کے بعد کفیل سے تعلق نہ رہا۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: کفیل نے یوں کفالت کی کہ جب تو طلب کریگا تو ایک ماہ کی مدت میرے لیے ہو گی یہ کفالت صحیح ہے۔ اور وقتِ طلب سے ایک ماہ کی مدت ہو گی اور مدت پوری ہونے پر تسلیم کرنا لازم ہے اب دوبارہ مدت نہ ہو گی۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: اس شرط پر کفالت کی کہ مجھ کو تین دن یا دس دن کا خیار ہے کفالت صحیح ہے اور خیار بھی صحیح یعنی جس مدّت تک خیار لیا ہے اُس کے بعد مطالبہ ہو گا اور اندرونِ مدّت اُس کو اختیار ہے کہ کفالت کو ختم کر دے۔ (7)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۹: کفیل نے وقت معین (8) کر دیا ہے کہ میں فلاں وقت اس کو حاضر لاؤں گا اور طالب نے طلب کیا تو اُس وقتِ معین پر حاضر لانا ضرورہے اگر حاضر لایا فبہا (9) ورنہ خود اس کفیل کو حبس (10)کر دیا جائے گا۔ یہ اُس صورت میں ہے جب
1 ۔ جس پرمطالبہ ہے۔
2 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ، مطلب: فی کفالۃ نفقۃ الزوجۃ ،ج ۷ ،ص ۵۹۳.
3 ۔ضامن،کفالت کرنے والا۔
4 ۔یعنی ایک ماہ کی مدت مقررہے۔
5 ۔''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب فی الکفالۃ المؤقتہ ،ج ۷ ،ص۶۰۰.
6 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۶۰۲.
7 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۶۰۲،وغیرہ.
8 ۔مقرر۔ 9 ۔تو صحیح۔ 10 ۔قید ، گرفتار۔
حاضر کرنے میں اس نے خود کوتاہی کی ہو اور اگر معلوم ہو کہ اس کی جانب سے کوتاہی نہیں ہے تو ابتداءً حبس نہ کیا جائے بلکہ اس کو اتنا موقع دیا جائے کہ کوشش کرکے لائے۔(1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۰: کفالت بالنفس (2)کی تھی اور وہ شخص غائب ہو گیا کہیں چلا گیا تو کفیل کو اتنے دنوں کی مہلت دی جائے گی کہ وہاں جا کر لائے اور مدّت پوری ہونے پر بھی نہ لایا تو قاضی کفیل کو حبس کریگا اور اگر یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں گیا تو کفیل کوچھوڑ دیا جائے گا۔ جب کہ طالب بھی اس بات کو مانتا ہو کہ وہ لاپتا ہے اور اگر طالب گواہوں سے ثابت کر دے کہ وہ فلاں جگہ ہے تو کفیل مجبور کیا جائے گا کہ وہاں سے جا کر لائے۔(3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۱: یہ جو کہا گیا کہ کفیل اُس کو وہاں سے جا کر لائے اگر یہ اندیشہ (4)ہو کہ کفیل بھی بھاگ جائے گا تو طالب کو یہ حق ہو گا کہ کفیل سے ضامن طلب کرے اور کفیل کو اس صورت میں ضامن دینا ہو گا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: کفالت بالنفس میں اگر مکفول بہ(6) مر گیا کفالت باطل ہو گئی۔ یوہیں اگر کفیل مر گیا جب بھی کفالت باطل ہو گئی اُس کے ورثہ سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ طالب کے مرنے سے کفالت باطل نہیں ہوتی اس کے ورثہ یا وصی کفیل سے مطالبہ کر سکتے ہیں۔ کفیل نے مدعیٰ علیہ (7) کو مدعی(8) کے پاس حاضر کر دیا تو کفالت سے بری ہو گیا مگر شرط یہ ہے کہ ایسی جگہ حاضر لایا ہو جہاں مدعی کو مقدمہ پیش کرنے کا موقع ہو یعنی جہاں حاکم رہتا ہو یعنی اُسی شہر میں حاضر لانا ہو گا دوسرے شہریاجنگل یا گاؤں میں اُس کے پاس حاضر لانا کافی نہیں۔ کفیل کے بری ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ضمانت
1 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۶۰۳.
و''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ...إلخ،الفصل الثانی ،ج ۳ ،ص ۲۵۸.
2 ۔جان کی کفالت یعنی کسی شخص کو حاضر کرنے کا ضامن بنا تھا۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... إلخ،الفصل الثانی ،ج ۳ ،ص ۲۵۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۶۰۳.
4 ۔ڈر ،خوف۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... إلخ،الفصل الثانی ،ج ۳ ،ص ۲۵۸.
6 ۔جس کی کفالت کی ہے۔
7 ۔جس پر دعوی کیا جائے۔
8 ۔دعوی کرنے والا۔
کے وقت یہ شرط کرے کہ جب میں حاضر لاؤں بری ہو جاؤں گا یعنی بغیر اس شرط کے بھی حاضر کر دینے سے بری ہوجائے گا۔(1) (درمختار، ردالمحتار )
مسئلہ ۲۳: کفیل کی برأت(2) کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جب حاضر کر دے تو مکفول لہ(3) قبول کر لے وہ انکار کرتا رہے اور یہ کہے کہ اسے دوسرے وقت لانا جب بھی کفیل بری الذمہ ہو گیا۔ کفیل کے ذمہ صرف ایک بار حاضر کر دینا ہے۔ ہاں اگر ایسے لفظ سے کفالت کی ہو جس سے عموم سمجھا جاتا ہو مثلاً یہ کہ جب کبھی تو اسے طلب کریگا میں حاضر لاؤں گا تو ایک مرتبہ کے حاضر کرنے سے بریئ الذمہ نہ ہو گا۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۴: کفالت میں شرط کر دی ہے کہ مجلسِ قاضی میں حاضر کریگا اب دوسری جگہ مدعی کے پاس حاضر لانا کافی نہیں۔ ہاں امیرِ شہر کے پاس حاضر کر دیا یا امیر کے پاس حاضر کرنے کی شرط تھی اور قاضی کے پاس لایا یا دوسرے قاضی کے پاس لایا، یہ کافی ہے۔ (5)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: مطلوب (مدعیٰ علیہ) نے خود اپنے کو حاضر کر دیا کفیل بری ہو گیا جب کہ اس نے مطلوب کے کہنے سے کفالت کی ہو اور اگر بغیر کہے اپنے آپ ہی کفالت کر لی تو اُس کے خود حاضر ہونے سے کفیل بری نہ ہوا۔ کفیل کے وکیل یا قاصد نے حاضر کر دیا کفیل بری ہو گیا مگر ان تینوں میں یعنی خود حاضر ہو گیا یا وکیل یا قاصد نے حاضر کر دیا شرط یہ ہے کہ وہ کہے کہ میں بمقتضائے کفالت (6)حاضر ہوا یا کفیل کی طرف سے پیش کرتا ہوں اوراگر یہ ظاہر نہ کیا تو کفیل بری الذمہ نہ ہوا۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: کسی اجنبی شخص نے جو کفیل کی طرف سے مامور نہیں ہے مطلوب کو پیش کر دیا اور کہہ دیا کہ کفیل کی طرف
1 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب فی الکفالۃ المؤقتۃ،ج ۷ ،ص ۶۰۵.
2 ۔یعنی ضامن کا بری الذمہ ہونا۔
3 ۔جس کامطالبہ ہے۔
4 ۔''الدرالمختار'' ، کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۶۰۶ .
5 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۶۰۶ .
و''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... الخ،الفصل الثالث ،ج ۳ ،ص ۲۵۹.
6 ۔کفالت کے تقاضے کے مطابق۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار'' ، کتاب الکفالۃ ،مطلب: کفالۃ النفس لاتبطل بابراء الاصیل ،ج ۷ ،ص ۶۰۷.
سے پیش کرتا ہوں اگر طالب نے منظور کر لیا کفیل بری ہو گیا ورنہ نہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: کفیل نے یوں کفالت کی کہ اگر میں کل اس کو حاضر نہ لایا تو جو مال اس کے ذمہ ہے میں اُس کا ضامن ہوں اور باوجود قدرت اُس نے حاضر نہیں کیا تو مال کا ضامن ہو گیا اُس سے مال وصول کیا جائے گا اور اگر مطلوب بیمار ہو گیا یا قید کر دیا گیا یا اُس کا پتہ نہیں ہے کہ کہاں ہے ان وجوہ سے کفیل نے حاضر نہیں کیا تو مال کا ضامن نہیں ہوا اور اگر مطلوب مر گیا یامجنوں ہو گیا اس وجہ سے نہیں حاضر کر سکا تو ضامن ہے اور اگر صورت مذکورہ میں خود طالب مر گیا تو اُس کے ورثہ اُس کے قائم مقام ہیں اور اگر کفیل مر گیا تو اس کے ورثہ سے مطالبہ ہو گا یعنی اُس وقت تک وارث نے اُس کو حاضر کر دیا بری ہو گیا ورنہ وارث پر لازم ہو گا کہ کفیل کے ترکہ سے دَین ادا کرے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: کفیل نے یہ کہا تھا کہ اگر کَل فلاں جگہ اس کو تمھارے پاس نہ لاؤں تو مال کا میں ضامن ہوں کفیل اُسے لایا مگر طالب کو نہیں پایا اور اس پر لوگوں کو گواہ کر لیا تو کفیل دونوں کفالتوں (کفالتِ نفس اور کفالتِ مال) سے بری ہو گیا۔ اور اگر صورت مذکورہ میں طالب وکفیل میں اختلاف ہوا۔ طالب کہتا ہے تم اُسے نہیں لائے۔ کفیل کہتا ہے میں لایا تم نہیں ملے۔ اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں تو طالب کا قول معتبر ہے یعنی کفیل کے ذمہ مال لازم ہو گیا اور اگر کفیل نے گواہوں سے ثابت کر دیا کہ اُسے لایا تھا تو کفیل بری ہو گیا۔(3) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: کفیل مطلوب کو لایا مگر خود طالب چھپ گیا اس صورت میں قاضی اُس کی طرف سے کسی کو وکیل مقرر کر دے گا کفیل اُس وکیل کو سپرد کر دے گا۔ اسی طرح مشتری کو خیار تھا اور بائع غائب ہو گیا یا کسی نے قسم کھائی تھی کہ آج میں اپنا قرض ادا کر دوں گا اور قرض خواہ غائب ہو گیا یا کسی نے عورت سے کہا تھا اگر تیرا نفقہ (4)تجھ کو آج نہ پہنچے تو تجھ کو طلاق دے لینے کا اختیار ہے اور عورت کہیں چھپ گئی ان سب صورتوں میں قاضی ان کی طرف سے وکیل مقرر کر دے گا اور وکیل کافعل مؤکل (5)کا فعل ہو گا۔ (6)(ردالمحتار)
ـ1 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الکفالۃ، الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... الخ، الفصل الثالث ، ج ۳ ص ۲۶۱.
2 ۔''الدرالمختار''و'' ردالمحتار ''، کتاب الکفالۃ ، مطلب :کفالۃالنفس... الخ ، ج ۷ ص ۶۰۸ ۔۶۱۰.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الکفالۃ، الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... الخ، الفصل الثالث ،ج ۳ ،ص ۲۶۰.
و''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب: حادثۃ الفتویٰ ،ج ۷ ،ص ۶۱۱.
4 ۔کھانے پینے وغیرہ کے اخراجات۔ 5 ۔وکیل بنانے والا۔
6 ۔ ''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب فی المواضع التی ینصب فیھا القاضی وکیلا... الخ ،ج ۷ ،ص ۶۱۱.
مسئلہ ۳۰: قاضی یا اس کے امین نے مدعیٰ علیہ(1) سے کفیل طلب کیا جو اس کے حاضر لانے کا ضامن ہو مدعی(2) کے کہنے سے کفیل طلب کیا ہو یا بغیر کہے کفیل پر لازم ہو گا کہ مدعیٰ علیہ کو قاضی کے پاس حاضر لائے مدعی کے پاس لانے سے بری الذمہ نہ ہو گا ہاں اگر قاضی نے یہ کہہ دیا ہو کہ مدعی تم سے کفیل طلب کرتا ہے تم اس کو کفیل دو تو اب مدعی کے پاس لانا ہو گا قاضی کے پاس لانے سے بری الذمہ نہ ہو گا۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ ۳۱: طالب نے کسی کو وکیل کیا کہ مطلوب سے ضامن لے، اس کی دو صورتیں ہیں وکیل نے کفالت کی اپنی طرف نسبت کی یا مؤکل کی طرف، اگر اپنی طرف نسبت کی تو کفیل سے مطالبہ خود وکیل کریگا اور مؤکل کی طرف نسبت کی تومؤکل کے لیے حقِ مطالبہ ہے مگر کفیل نے اگر مؤکل کے پاس مطلوب کو پیش کر دیا تو دونوں صورتوں میں بری الذمہ ہو گیا اوروکیل کے پاس حاضر لایا تو پہلی صورت میں بری ہو گا دوسری صورت میں نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: ایک شخص کی کفالت چند شخصوں نے کی اگر یہ ایک کفالت ہو تو اُ ن میں کسی ایک کا حاضر لانا کافی ہے سب بری ہو گئے اور اگر متفرق طور پر سب نے کفالت کی ہے تو ایک کا حاضر لانا کافی نہیں یعنی یہ بری ہو گیا دوسرے بری نہیں ہوئے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: کفالت صحیح ہونے کے لیے یہ شرط نہیں کہ وقتِ کفالت دعویٰ صحیح ہو بلکہ اگر دعویٰ میں جہالت ہے اور کفالت کر لی یہ کفالت صحیح ہے مثلاً ایک شخص نے دوسرے پر ایک حق کا دعویٰ کیا اور یہ بیان نہیں کیا کہ وہ حق کیا ہے یا سو اشرفیوں کا دعویٰ کیا اور یہ بیان نہیں کیا کہ وہ اشرفیاں کس قسم کی ہیں۔ ایک شخص نے مدعی سے کہا اس کو چھوڑ دو میں اس کی ذات کا کفیل ہوں اگر میں اُس کو کل حاضر نہ لایا تو سو اشرفیاں میرے ذمہ ہیں۔ یہاں دو کفالتیں ہیں ایک نفس کی دوسری مال کی اور دونوں صحیح ہیں لہٰذا اگر دوسرے دن حاضر نہ لایا تو اشرفیاں دینی پڑیں گی یا وہ حق دینا ہو گا رہا یہ کہ کیونکر معلوم ہو گا کہ وہ حق کیا ہے یا اشرفیاں کس قسم کی ہیں اس کی صورت یہ ہو گی کہ مدعی اپنے دعوے کی تفصیل میں جو بیان کرے اور اُس کو گواہوں سے ثابت کر دے یا مدعی علیہ اُس کی تصدیق کرے کفیل کے ذمہ وہ دینا لازم ہو گا اور اگر نہ مدعی نے گواہوں سے ثابت کیا نہ مدعیٰ علیہ نے اُس کی تصدیق کی بلکہ دونوں میں اختلاف ہوا تو مدعی کا قول معتبر ہے۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔جس پر دعوی کیا گیاہے۔ 2 ۔ دعوی کرنے والا۔
3 ۔ الفتاوی الخانیۃ ،کتاب الکفالۃ والحوالۃ ،مسائل فی نفس المکفول بہ،ج ۲ ،ص ۱۷۰.
4 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... الخ ،الفصل الثالث ،ج ۳ ،ص ۲۶۲.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب فی المواضع التی ینصب فیھا القاضی... الخ ،ج ۷ ،ص۶۱۱.
مسئلہ ۳۴: کفالت بالمال کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ نفسِ مال کا ضامن ہو (1) دوسری یہ کہ تقاضا (2)کرنے کی ذمہ داری کرے ایک شخص کا دوسرے کے ذمہ کچھ مال تھا تیسرے شخص نے طالب سے کہا کہ میں ضامن ہوتا ہوں کہ اُس سے وصول کرکے تم کو دوں گا یہ مال کی ضمانت نہیں ہے کہ اپنے پاس سے دیدے بلکہ تقاضا کرنے کا ضامن ہے کہ جب اُس سے وصول ہو گا دے گا اس سے مال کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ زید نے عمرو کے ہزار روپے غصب کر لیے تھے عمرواُس سے جھگڑاکر رہا تھا کہ میرے روپے دیدے تیسرے شخص نے کہا لڑو مت، میں اس کا ضامن ہوں کہ اُس سے لے کر تم کو دوں، اس ضامن کے ذمہ لازم ہے کہ وصول کر کے دے اور اگر زید نے وہ روپے خرچ کر ڈالے تو یہ بھی نہ رہا کہ وہ روپے وصول کر کے دے صرف تقاضا کرنے کا ضامن ہے۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: کفالت اُ س وقت صحیح ہے جب وہ اپنے ذمہ لازم کرے یعنی کوئی ایسا لفظ کہے جس سے التزام سمجھا جاتا ہو مثلاً یہ کہ میرے ذمہ ہے یا مجھ پر ہے میں ضامن ہوں ،میں کفالت کرتا ہوں اور اگر فقط یہ کہا کہ فلاں کے ذمہ جو تمھارا روپیہ ہے اُس کومَیں تمھیں دوں گا، مَیں تسلیم کروں گا ،مَیں وصول کروں گا، اس کہنے سے کفیل نہیں ہوا اور اگر ان الفاظ کو تعلیق کے طور پر(4) کہا کہ وہ نہیں دے تو مَیں دوں گا ،مَیں ادا کروں گا، یوں کہنے سے کفیل ہو گیا۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: اگر کسی وجہ سے اصیل (6)سے اس وقت مطالبہ نہ ہو سکتا ہو اور اُس کی کسی نے کفالت کر لی کفالت صحیح ہے اور کفیل سے اسی وقت مطالبہ ہو گا مثلاً غلام محجور (جس کو مالک نے خرید و فروخت کی ممانعت کر دی ہو) اُس نے کسی کی چیز ہلاک کر دی یااس پر قرض ہے اُس سے مطالبہ آزاد ہونے کے بعد ہو گا مگر کسی نے اُس کی کفالت کر لی تو کفیل سے ابھی مطالبہ ہو گا یوہیں مدیون (7)کے متعلق قاضی نے مفلسی (8) کا حکم دے دیا تو اس سے مطالبہ مؤخر ہو گیا مگر کفیل سے مؤخر نہیں ہو گا۔(9) (ردالمحتار)
ـ1 ۔یعنی مال کی ادائیگی کاضامن ہو۔ 2 ۔مطالبہ ۔
3 ۔ ''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب: کفالۃ المال،ج ۷، ص ۶۱۷.
4 ۔یعنی معلق کرکے۔
5 ۔ ''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب: کفالۃ المال، ج ۷ ،ص ۶۱۸.
6 ۔جس پرمطالبہ ہے۔ 7 ۔مقروض۔
8 ۔محتاجی،ناداری۔
9 ۔''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب: کفالۃ المال قسمان... الخ ،ج ۷ ،ص ۶۱۸.
مسئلہ ۳۷: مال مجہول(1) کی کفالت بھی صحیح ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کفالت نفس و کفالت مال میں تردید کرے مثلاً یہ کہے کہ میں فلاں شخص کا ضامن یا اُس کے ذمہ جو فلاں کا مال ہے اُس کا ضامن ہوں اور کفیل کو اختیار ہے دونوں کفالتوں میں سے جس کو چاہے اختیار کرے۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۸: دو شخصوں میں دَین مشترک ہے یعنی ان دونوں کا کسی کے ذمہ دَین تھا مثلاً دونوں نے ایک مشترک چیز کسی کے ہاتھ بیچی یا ان کے مورث(3) کا کسی کے ذمہ دَین تھا یہ دونوں اُس میں شریک ہیں ان میں سے ایک دوسرے کے لیے کفالت نہیں کر سکتا پورے دَین کا کفیل بھی نہیں ہو سکتا اور دوسرے کے حصہ کا بھی کفیل نہیں ہو سکتا اور اگر دونوں ایک چیز میں شریک تھے اور دونوں نے اپنا اپنا حصہ علیحدہ علیحدہ بیچا ایک عقد میں بیع نہیں کیا تو ایک دوسرے کے لیے کفالت کر سکتا ہے اور پہلی صورتوں میں اگر ایک نے دوسرے کو بقدر اُس کے حصہ کے بلا کفالت دیدیا یہ دینا درست ہے مگر اُس کا معاوضہ نہیں ملے گا۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۹: عورت کا نفقہ جوزن وشو(5) کی باہم رضا مندی سے مقرر ہوا ہے یا قاضی نے اُس کو مقرر کر دیا ہے اس کی کفالت بھی ہو سکتی ہے یا قاضی کے حکم سے نفقہ کے لیے عورت نے قرض لیا ہے عورت اس کا مطالبہ شوہر سے کرے گی، شوہر کی طرف سے کسی نے کفالت کی یہ کفالت بھی صحیح ہے آئندہ کے نفقہ کی ضمانت بھی درست ہے ایام گذشتہ کا نفقہ باقی ہے مگر اُس کا تقرر (6)نہ تراضی سے(7) ہوا، نہ حکم قاضی سے،اس کی ضمانت صحیح نہیں۔(8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: دَین مَہر کی کفالت(9) صحیح ہے کہ یہ بھی دَین صحیح ہے بدلِ کتابت (10) کی کفالت صحیح نہیں کہ یہ دَین صحیح
1 ۔یعنی وہ مال جس کو معین نہ کیا گیا ہو۔
2 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الکفالۃ، مطلب : کفالۃ المال قسمان... الخ،ج ۷ ،ص۶۱۸.
3 ۔وارث کرنے والا یعنی میت۔
4 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۶۱۹ .
5 ۔ میاں بیوی۔ 6 ۔مقرر کرنا۔
7 ۔باہم رضامندی سے۔
8 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ، مطلب: کفالۃ المال قسمان... الخ ،ج ۷ ،ص ۶۱۹.
9 ۔وہ مہر جو کسی کے ذمے قرض ہو اُس کی ضمانت۔
10 ۔آقا کا اپنے غلام سے مال کی ادائیگی کے بدلے اُس کی آزادی کا معاہدہ کرنا کتابت کہلاتاہے اور جو مال مقرر ہوا اُسے بدل کتابت کہتے ہیں ۔
نہیں اور اگر کسی نے ناواقفی سے ضمانت کر لی اور کچھ ادا بھی کر دیا پھرمعلوم ہوا کہ یہ کفالت صحیح نہ تھی اور مجھ پر ادا کرنا لازم نہ تھا تو جوکچھ ادا کر چکا ہے واپس لے سکتا ہے۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: دوسرے کی عورت سے کہا مَیں ہمیشہ کے لیے تیرے نفقہ (2) کا ضامن ہوں، جب تک وہ عورت اُس کے نکاح میں رہے گی اُس وقت تک یہ کفیل ہے، مرنے کے بعد یا طلاق کے بعد صرف عدّت تک ضامن ہے ،اُس کے بعد کفالت ختم ہو گئی۔ یہ کہہ دیا کہ فلاں شخص کو ایک روپیہ روزانہ دے دیا کرو اس کا میں ضامن ہوں وہ دیتا رہا ایک کثیر رقم ہوگئی اب کفیل یہ کہتا ہے میرا مطلب یہ نہ تھا کہ تم اتنی رقمِ کثیر (3) اُسے دے دو گے اس کی یہ بات معتبر نہیں کُل رقم دینی پڑے گی۔ یوہیں دوکاندار سے یہ کہہ دیا کہ اس کے ہاتھ جو کچھ بیچو گے وہ میرے ذمہ ہے تو جو کچھ اس کے ہاتھ بیع کریگا مطالبہ کفیل سے ہو گا یہ نہیں سنا جائے گا کہ میرا مطلب یہ تھا یہ نہ تھا مگر یہ ضرور ہے کہ مکفول لہ (4)نے اسے قبول کر لیا ہو چاہے قبول کے الفاظ کہے ہوں یا دلالۃً قبول کیا ہو مثلاً اُس کے ہاتھ کوئی چیز فی الحال بیع کر دی مگر اس بیع کے بعد دوبارہ یا سہ بارہ(5) بیع کریگا تو اُس کے ثمن کا ضامن نہ ہو گا کہ یہ ہمیشہ کے لیے ضمانت نہیں ہے۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: ایک شخص دوسرے سے قرض مانگ رہا تھا اُس نے قرض دینے سے انکار کر دیا تیسرے شخص نے یہ کہا اس کو قرض دیدو میں ضامن ہوں اُس نے فوراً قرض دے دیا یہ ضامن ہو گیا کہ اُس کا قرض دے دینا ہی قبول کفالت ہے۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: اس کے ہاتھ فلاں چیز بیع کرو اس میں جو کچھ خسارہ ہو گا میں ضامن ہوں یہ کفالت صحیح نہیں۔ (8) (ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ، مطلب: کفالۃ المال قسمان... إلخ،ج ۷ ، ص ۶۲۰.
2 ۔کھانے پینے وغیرہ کے اخراجات۔
3 ۔اتنا زیادہ مال ۔
4 ۔جس کامطالبہ ہے۔
5 ۔تیسری بار۔
6 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب: کفالۃ المال قسمان... إلخ، ج ۷ ،ص ۶۲۲.
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الکفالۃ ،مطلب: کفالۃ المال قسمان...إلخ ، ج ۷ ،ص ۶۲۳.
8 ۔المرجع السابق ،ص۶۲۲.
مسئلہ ۴۴: یہ کہا کہ فلاں شخص اگر تمھاری کوئی چیز غصب کر لے گاوہ مجھ پر ہے تو کفیل ہو گیا اور اگر یہ کہا کہ جو شخص تیری چیز غصب کرے میں اُس کا ضامن ہوں تویہ کفالت باطل ہے یوہیں اگر یہ کہا کہ اس گھر والے جو چیز تیری غصب کریں مَیں ضامن ہوں یہ کفالت باطل ہے جب تک کسی آدمی کا نام نہ لے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۴۵: یہ کہا تھا کہ جو چیز فلاں کے ہاتھ بیع کرو گے میں ضامن ہوں یہ کہہ کر اُس نے اپنا کلام واپس لیا کہہ دیا مَیں ضامن نہیں اب اگر اس نے بیچا تو وہ ضامن نہ رہا اُس سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۴۶: یہ کہتا ہے کہ میں نے ایک شخص کی کفالت کی ہے جس کا نام نہیں جانتا ہوں صورت پہچانتا ہوں یہ اقرار درست ہے اس کے بعد کسی شخص کو لا کر کہتا ہے کہ یہ وہی ہے بری ء ا لذمہ ہو جائے گا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۴۷: ایک شخص نے بار برداری کے لیے جانور کرایہ پر لیا یا خدمت کے لیے غلام کو اجارہ پر لیا(4) اگر وہ جانور اور غلام معین ہیں یعنی اس جانور پر میرا سامان لادا جائے یا یہ غلام میری خدمت کریگا اس کی کفالت صحیح نہیں کہ کفیل اس کی تسلیم سے عاجز ہے(5) اور غیر معین ہوں تو کفالت صحیح ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۴۸: مبیع کی کفالت صحیح نہیں یعنی ایک شخص نے کوئی چیز خریدی کفیل نے مشتری سے کہا یہ چیز اگر ہلاک ہو گئی تومیرے ذمہ ہے یہ کفالت صحیح نہیں کہ مبیع ہلاک ہونے کی صورت میں بیع ہی فسخ ہو گئی بائع سے کسی چیز کا مطالبہ نہ رہا پھر کفالت کس چیز کی ہوگی۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۹: معین شے اگر کسی کے پاس ہو اس کی دو صورتیں ہیں۔ وہ چیز اُس کے ضمان میں ہے یا نہیں اگر ضمان میں ہے تو ضمان بنفسہٖ ہے یا ضمان بغیرہ یہ کل تین صورتیں ہوئیں اگر اُس کا قبضہ قبضہ ضمان نہ ہو بلکہ قبضہ امانت ہو کہ ہلاک ہونے کی صورت میں تاوان دینا نہ پڑے جیسے ودیعت (جس کو لوگ امانت کہتے ہیں) مال مضاربت، مال شرکت، عاریت، کرایہ کی چیز
1 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص۶۲۲،۶۲۴.
2 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷،ص ۶۲۳.
3 ۔ المرجع السابق ص ۶۲۸.
4 ۔ یعنی نوکر رکھا۔ 5 ۔سپردکرنے سے عاجز ہے۔
6 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۶۲۹.
7 ۔ ''ردالمحتار '' ،کتاب الکفالۃ ، مطلب فی تعلیق الکفالۃ بشرط... إلخ،ج ۷ ص ۶۲۹.
جوکرایہ دار کے قبضہ میں ہے۔
قبضہ ضمان جبکہ ضمان بغیرہ ہو اسکی مثال مبیع ہے جبکہ بائع کے قبضہ میں ہو یا مرہون(1) جو مرتہن (2)کے قبضہ میں ہو کہ مبیع ہلاک ہونے سے ثمن جاتا رہتا ہے اور مرہون ہلاک ہو تو دَین جاتا رہتا ہے۔
جس کا ضمان بعینہٖ ہے اُس کی مثال وہ مبیع جس کی بیع فاسد ہوئی اور وہ مشتری کے قبضہ میں ہو۔ خریداری کے طور پر نرخ کرکے چیز پر قبضہ کیا۔ مغصوب(3) اور انکے علاوہ وہ چیزیں کہ ہلاک ہونے کی صورت میں اُ ن کی قیمت دینی پڑتی ہے اس تیسری قسم میں کفالت صحیح ہے پہلی دونوں قسموں میں کفالت صحیح نہیں۔ (4)(ردالمحتار) اس قاعدہ کلیہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مرہون اور ودیعت اور مبیع کی کفالت صحیح نہیں ہے مگر ان چیزوں کی تسلیم کی کفالت ہو سکتی ہے یعنی بائع یا مرتہن یا امین سے لے کر اُس کے قبضہ دلانے کی کفالت صحیح ہے مگر اس کفالت کا محصل(5) یہ ہو گا کہ چیز اگر موجود ہے تو تسلیم کر دے اور ہلاک ہو گئی تو کچھ نہیں۔ کفیل بری ء ا لذمہ ہو گیا۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۰: بیع میں ثمن کی کفالت صحیح ہے جبکہ وہ بیع صحیح ہو کفالت کے بعد یہ معلوم ہوا کہ بیع صحیح نہ تھی اور کفیل نے بائع کو ثمن ادا کر دیا ہے تو کفیل کو اختیار ہے کہ جو کچھ ادا کر چکا ہے بائع سے وصول کرے یا مشتری سے اور اگر پہلے وہ بیع صحیح تھی بعد میں شرط فاسد لگا کر بیع کو فاسد کر دیا تو کفیل نے جو کچھ دیا ہے مشتری سے وصول کریگا اور اگر مبیع میں استحقاق ہوا(7) جس کی وجہ سے مشتری سے لے لی گئی یا خیارِ شرط ،خیارِعیب ،خیار رویت کی وجہ سے بائع کو واپس ہوئی تو کفیل بری ہو گیا کیونکہ ان صورتوں میں مشتری کے ذمہ ثمن دینا نہ رہا لہٰذا کفالت بھی ختم ہو گئی۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔گروی رکھی ہوئی چیز۔
2 ۔جس کے پاس چیز گروی رکھی جاتی ہے۔
3 ۔ ناجائزطورپر قبضہ میں لی ہوئی چیز ۔
4 ۔ ''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب: فی تعلیق الکفالۃ... الخ ،ج ۷،ص ۶۲۹.
5 ۔ماحاصل،حاصل۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب: فی تعلیق الکفالۃ... الخ ،ج ۷،ص۶۲۹.
7 ۔کسی کا حق نکل آیایعنی مبیع میں کسی نے اپناحق ثابت کردیا۔
8 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب فی تعلیق الکفالۃ... الخ ،ج ۷ ،ص۶۳۰.
مسئلہ ۵۱: صبی محجور (جس بچہ کو خریدوفروخت کی ممانعت ہو) نے کوئی چیز خریدی اور کسی نے اُس کی طرف سے ثمن کی ضمانت کی یہ کفالت صحیح نہیں کہ جب اصیل سے مطالبہ نہیں ہو سکتا تو کفیل سے کیونکر ہو گا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۵۲: ایک شخص نے اپنی کوئی چیز بیع کرنے کے لیے دوسرے کو وکیل کیا وکیل نے چیز بیچ ڈالی اور موکل کے لیے ثمن کا خود ہی ضامن بنا ،یہ کفالت صحیح نہیں کہ ثمن پر قبضہ کرنا خود اسی کا کام ہے لہٰذا اپنے لیے کفالت ہو گئی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۵۳: وصی(3) اور ناظر(4) مشتری کی طرف سے ثمن کے ضامن نہیں ہو سکتے کہ ثمن وصول کرنا خود انھیں کا کام ہے اور اگر یہ مشتری کو ثمن معاف کر دیں تو مشتری سے معاف ہو گیا مگر ان کو اپنے پاس سے دینا ہو گا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۵۴: مضارب(6) نے کوئی چیز بیع کی اور رب المال(7) کے لیے مشتری کی طرف سے خود ہی ضامن ہو گیا یہ کفالت بھی صحیح نہیں۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۵۵: کفالت کو کسی شرط پر معلق کرنا بھی صحیح ہے مگر یہ ضروری ہے کہ وہ شرط کفالت کے مناسب ہو۔ اس کی تین صورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ لزومِ حق کے لیے شرط ہو یعنی وہ شرط نہ ہو تو حق لازم ہی نہ ہو مثلاً یہ کہ اگر مبیع میں کوئی حقدار پیدا ہو گیا یاامین نے امانت سے انکار کر دیا یا فلاں نے تمھاری کوئی چیز غصب کر لی یا اُس نے تجھے یا تیرے بیٹے کو خطأً قتل کر ڈالا تو میں ضامن ہوں بدلا میں دوں گا یہ وہ شرطیں ہیں کہ اگر پائی نہ جائیں تو مکفول لہ(9) کا حق ہی نہیں لہٰذا اگر یہ کہا کہ تجھ کو درندہ مار ڈالے تو میں ضامن ہوں یہ کفالت صحیح نہیں کہ درندہ کے مار ڈالنے پر حق لازم ہی نہیں۔ یوہیں اسکے یہاں کوئی مہمان آیا تھا اُس کو
1 ۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص۶۳۱.
2 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۶۳۵.
3 ۔وصیت کرنے والا اپنی وصیت پوری کرنے کے لئے جس شخص کو مقرر کر ے ۔
4 ۔دیکھ بھال کرنے والا،نگہداشت کرنے والا۔
5 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۶۳۵.
6 ۔مضاربت پر مال لینے والا۔
7 ۔مضارب کو مال دینے والا۔
8 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۷ ،ص ۶۳۵.
9 ۔جس شخص کامطالبہ ہے۔
اپنی سواری کے جانور کا اندیشہ تھا کہ کوئی درندہ نہ پھاڑ کھائے اس نے کہا اگر درندہ نے پھاڑ کھایا تومَیں ضامن ہوں یہ کفالت صحیح نہیں ضمان دینا لازم نہیں ۔
دوسری یہ کہ امکان استیفا(1) کے لیے وہ شرط ہو کہ اُس کے پائے جانے سے حق کا وصول کرنا آسانی سے ممکن ہو گا مثلاً یہ کہا کہ اگر زید آجائے تو جو کچھ اُس پر دَین ہے وہ مجھ پر ہے یعنی میں ضامن ہوں اور زید ہی مکفول عنہ (2)ہے یا مکفول عنہ کا مضارب یا امین یا غاصب ہے، ظاہر ہے کہ زید کے آنے سے مطالبہ ادا کرنے میں سہولت ہوگی اور اگر زید اجنبی شخص ہوتو اُس کے آنے پر معلق کرنا صحیح نہیں۔
تیسری صورت یہ کہ وہ شرط ایسی ہو کہ اُس کے پائے جانے سے حق کا وصول کرنا دشوار(3) ہو جائے مثلاً یہ کہ مکفول عنہ غائب ہو گیا تو میں ضامن ہوں کہ جب وہ نہ ہو گا طالب (4) کیونکر حق وصول کر سکتا ہے لہٰذا اس نے اُس صورت میں اپنے کو کفیل(5) بنایا ہے کہ اُس سے وصول نہ ہو سکے۔ یوہیں یہ کہا کہ اگر وہ مر جائے اور کچھ مال نہ چھوڑے یا تمھارا مال اُس سے بوجہ اُس کے مفلس ہو جانے (6)کے نہ وصول ہو سکے یا وہ تمھیں نہ دے تو مجھ پر ہے ان سب صورتوں میں شرط پر معلق کرنا صحیح ہے۔ اور اگر کفیل نے یہ کہا تھا کہ مدیون(7) اگر نہ دے تو میں دوں گا طالب نے مدیون سے مانگا اُس نے دینے سے انکار کر دیا کفیل پر اسی وقت دینا واجب ہو گیا اگر یہ شرط کی کہ چھ ماہ تک وہ ادا نہ کر دے تو مجھ پر ہے یہ شرط صحیح ہے، بعد اُس مدت کے کفیل پر دینا لازم ہو گا۔(8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۶: کفالت کو ایسی شرط پر معلق کیا جو مناسب نہ ہو تو شرط فاسد ہے اور کفالت صحیح ہے مثلاً یہ کہ اگر زید گھر میں گیا یہ شرط صحیح نہیں۔( 9) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۷: یہ کہا فلاں کے ہاتھ بیع کرو جو بیچو گے اُس کا میں ضامن ہوں طالب کہتا ہے میں نے اُسکے ہاتھ بیچا اور
1 ۔یعنی ادائیگیئ حق ممکن ہونے۔
2 ۔جس پرمطالبہ ہے۔ 3 ۔مشکل۔
4 ۔جس شخص کامطالبہ ہے۔ 5 ۔ضامن ۔
6 ۔نادار ہوجانے،محتاج ہوجانے۔ 7 ۔مقروض۔
8 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب: کفالۃ المال قسمان... الخ ،ج ۷، ص ۶۲۴۔ ۶۲۸.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... الخ ،الفصل الخامس ،ج ۳،ص ۲۷۱.
اُس نے قبضہ بھی کر لیا کفیل کہتا ہے کہ نہیں بیچا اور مکفول عنہ کفیل کے قول کی تصدیق کرتا ہے اگر وہ مال موجود ہے کفیل سے مطالبہ ہو گا اور ہلاک ہوگیا تو جب تک طالب گواہوں سے نہ ثابت کرلے مطالبہ نہیں کر سکتا۔ صورتِ مذکورہ میں اگر کفیل یہ کہے تو نے پانسو میں بیع کی اور طالب کہتا ہے ہزار میں بیع کی ہے اور مکفول عنہ(1) طالب کی بات کا اقرار کرتا ہے تو کفیل سے ہزار کا مطالبہ ہو گا۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۵۸: کفالت کی کوئی میعاد مجہول(3) ذکر کی اس کی دو صورتیں ہیں اُس میں بہت زیادہ جہالت ہے یا تھوڑی سی جہالت ہے اگر زیادہ جہالت ہے مثلاً آندھی چلنا یا مینہ برسنا یہ میعاد باطل ہے اور کفالت صحیح اور اگر تھوڑی جہالت ہے مثلاً کھیت کٹنا یا تنخواہ ملنا تو کفالت بھی صحیح ہے اور میعاد بھی صحیح۔(4) (فتح)
مسئلہ ۵۹: تعلیق کی صورت میں اگر مکفول عنہ مجہول ہو کفالت صحیح نہیں اور تعلیق نہ ہومثلاً جو کچھ تمھارا فلاں یا فلاں پر ہے میں اُس کا ضامن ہوں یہ کفالت صحیح ہے اور کفیل کو اختیار ہو گا کہ اُن دونوں میں جس کو چاہے معین کر لے یوہیں اگر یہ کہا کہ فلاں کے نفس کا یا جو کچھ اُس کے ذمہ تیرا مال ہے مَیں اُس کاکفیل ہوں یہ کفالت صحیح ہے اور کفیل کو اختیار ہو گا کہ اُس کو حاضر کردے یا مال دیدے۔(5) (فتح القدیر)
مسئلہ ۶۰: کفالت بالمال کی دو صورتیں ہیں۔ مکفول عنہ کے کہنے سے کفالت کی ہے یا بغیر کہے۔ اگر کہنے سے کفالت ہوئی تو کفیل جو کچھ دَین(6) ادا کریگا مکفول عنہ سے لے گا اور اگر بغیر کہے اپنے آپ ہی ضامن ہو گیا تو احسان و تبرع (7)ہے جو کچھ ادا کریگا مکفول عنہ سے نہیں لے سکتا۔ (8)(ہدایہ)
1 ۔جس پر مطالبہ ہے ۔
2 ۔
3 ۔نامعلوم مدت۔
4 ۔ فتح القدیر،کتاب الکفالۃ ،ج ۶ ،ص ۳۰۲.
5 ۔المرجع السابق،ص۲۹۹،۳۰۰.
6 ۔قرض۔
7 ۔بخشش وہدیہ۔
8 ۔''الھدایۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،ج ۲،ص ۹۱.
مسئلہ ۶۱: بعض صورتوں میں مکفول عنہ کے بغیر کہے کفالت کرنے سے بھی اگر ادا کیا ہے تو وصول کر سکتا ہے مثلاًباپ نے نابالغ لڑکے کا نکاح کیا اورمَہر کا ضامن ہو گیا اُس کے مرنے کے بعد عورت یا اس کے ولی نے والدزوج کے ترکہ میں سے مَہر وصول کر لیا تو دیگر ورثہ اپنا حصہ پورا پورا لیں گے اور لڑکے کے حصہ میں سے بقدر مَہر کے کم کردیا جائے گا کہ باپ چونکہ ولی تھا اُس کا ضامن ہونا گویا لڑکے کے کہنے سے تھا اور اگر باپ مرا نہیں زندہ ہے اُس نے خود مَہر ادا کیا اور لوگوں کو گواہ کر لیا ہے کہ لڑکے سے وصول کر لوں گا تو وصول کر سکتا ہے ورنہ نہیں دوسری صورت یہ ہے کہ کفیل نے کفالت سے انکار کر دیا مدعی نے گواہوں سے ثابت کر دیا کہ اس نے مکفول عنہ کے حکم سے کفالت کی تھی اس نے دَین ادا کیا مکفول عنہ سے واپس لے سکتا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اس نے کفالت کی اور مکفول لہ نے ابھی قبول نہیں کی تھی کہ مکفول عنہ نے اجازت دیدی یہ کفالت بھی اُس کے کہنے سے قرارپائے گی۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۲: اجنبی شخص نے کہہ دیا کہ تم فلاں کی ضمانت کر لو اس نے کر لی اور دَین ادا کر دیا مکفول عنہ سے واپس نہیں لے سکتا۔ مکفول عنہ کے کہنے سے کفالت کی ہے اس میں بھی واپس لینے کے لیے یہ شرط ہے کہ مکفول عنہ نے یہ کہہ دیا ہو کہ میری طرف سے کفالت کر لویا میری طرف سے اداکردو یا یہ کہ جو کچھ تم دو گے وہ مجھ پر ہے یا میرے ذمہ ہے اور اگر فقط اتنا ہی کہا ہے کہ ہزار روپے کی مثلاً تم ضمانت یا کفالت کر لو تو واپس نہیں لے سکتا مگر جبکہ کفیل خلیط ہو توا س صورت میں بھی واپس لے سکتا ہے۔ خلیط سے مراد اس مقام پر وہ شخص ہے جو اس کے عیال میں ہے مثلاً باپ یا بیٹا بیٹی یا اجیریا شریک بشرکت عنان یا وہ شخص جس سے اس کا لین دین ہو اُس کے یہاں مال رکھتا ہو۔ (2)(فتح القدیر، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۳: ایک شخص نے دوسرے سے کہا فلاں شخص کو ہزار روپے دے دو اس نے دے دیے، کہنے والے سے واپس نہیں لے سکتامگر جس کو دیے ہیں اُس سے لے سکتا ہے۔(3) (خانیہ)
1 ۔ ''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب: فی ضمان المھر ،ج ۷ ،ص ۶۳۶.
2 ۔''فتح القدیر''،کتاب الکفالۃ،ج۶،ص۳۰۴.
و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب: فی ضمان المھر ،ج ۷ ،ص ۶۳۷.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ'' ، کتاب الکفالۃ ،مسائل الأمر،ج ۲ ،ص ۱۷۵.
مسئلہ ۶۴: صبی محجور(1) نے اس کو کفالت کے لیے کہا اس نے کفالت کر لی اور مال ادا کر دیا واپس نہیں لے سکتا یوہیں غلام محجور کی طرف سے اُس کے کہنے سے کفالت کی اور ادا کر دیا واپس نہیں لے سکتا جب تک وہ آزاد نہ ہو۔ اور صبی ماذون و غلام ماذون(2) سے واپس ملے گا۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۵: غلام نے آقا کی طرف سے کفالت کی اور آزاد ہونے کے بعد ادا کیا واپس نہیں لے سکتا۔ یوہیں آقا نے غلام کی طرف سے کفالت کی اور غلام کے آزاد ہونے کے بعد ادا کیا واپس نہیں لے سکتا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۶: ثمن کی کفالت کی پھر بائع نے کفیل کو ثمن ہبہ کر دیا کفیل نے مشتری سے وصول کیا اس کے بعد مشتری نے مبیع میں عیب دیکھا اُس کو واپس کر دیا اوربائع سے ثمن واپس لیا کفیل سے نہ بائع لے سکتاہے نہ مشتری۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۷: کفیل نے جس چیز کی ضمانت کی وہی چیز ادا کی یا دوسری چیز دی مثلاً ہزار روپے کی ضمانت کی اور ہزار روپے ادا کیے یا روپے کی جگہ اشرفیاں(6) یا کوئی دوسری چیز دی۔ پہلی صورت میں جو ادا کیا ہے واپس لے سکتا ہے اور دوسری صورت میں وہ ملے گا جس کا ضامن ہوا تھا یعنی روپے لے سکتا ہے اشرفیوں کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اور اگر اُسی جنس کی چیزمکفول لہ کو دی مگراُس سے گھٹیا (7)یا بَڑھیا(8) دی جب بھی وہی لے سکتا ہے جس کی ضمانت کی کہ اس صورت میں یعنی جبکہ دوسری چیز دی یا گھٹیا بڑھیا چیز دی تو یہ خود دَین کا مالک ہو گیا اور طالب کے قائم مقام ہوگیا۔ (9)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۶۸: ایک شخص نے دوسرے سے کہا تم میرا قرضہ ادا کر دو میں تم کو دے دوں گا اُس نے قرض میں دوسری چیز دی تو جو چیز دی ہے وہی واپس لے گا جو اُس کے ذمہ تھا وہ نہیں لے سکتا کہ یہ دَین کا مالک نہیں ہوا۔ (10)(فتح القدیر)
1 ۔جس بچہ کو خریدوفروخت کی ممانعت ہو۔
2 ۔وہ غلام جس کو آقا کی طرف سے خریدوفروخت کی اجازت ہو۔
3 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ،مطلب فی ضمان المھر، ج ۷ ،ص ۶۳۷.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ،کتاب الکفالۃ ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... الخ ،الفصل الرابع ، ج ۳ ،ص ۲۶۶.
5 ۔''الفتاوی الھندیہ'' ،کتاب الکفالۃ ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... الخ ،الفصل الرابع ، ج ۳ ،ص ۲۶۷.
6 ۔اشرفی کی جمع سونے کا سکہ۔ 7 ۔ردی۔ 8 ۔عمدہ۔
9 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ، ج ۷ ،ص ۶۳۷ ،وغیرہ.
10 ۔''فتح القدیر''،کتاب الکفالۃ،ج۶،ص۳۰۵.
مسئلہ ۶۹: اصیل(1) پر ہزار روپے تھے کفیل نے طالب سے پانسوروپے میں مصالحت کر لی(2) اور دے دیئے، مکفول عنہ(3) سے پانسو ہی لے سکتاہے کہ یہ اسقاط(4) یا ابرا (5)ہے لہٰذا اصیل سے بھی پانسو جاتے رہے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷۰: واپسی کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ کفیل نے اُس وقت دیا ہو کہ اصیل پر واجب الادا ہواور اگر اصیل پر ابھی دینا واجب بھی نہیں ہوا ہے کہ کفیل نے دے دیا تو واپس نہیں لے سکتا مثلاً مستاجر(7) کی طرف سے کسی نے اجرت کی ضمانت کی تھی اور ابھی اجیر(8) نے کام کیا ہی نہیں ہے کہ اجرت واجب ہوتی کفیل نے اُسے دیدی واپس نہیں لے سکتا۔ یوہیں اگر کفیل کے دینے سے پہلے خود اصیل نے دَین(9) ادا کر دیا اور کفیل کو اس کی اطلاع نہیں ہوئی اس نے بھی دے دیا اصیل سے واپس نہیں لے سکتا کہ جس وقت اس نے دیا ہے اصیل پر دینا واجب ہی نہ تھا بلکہ اس صورت میں دائن (10)سے واپس لے گا۔ (11)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷۱: کفیل نے جس کے لیے کفالت کی تھی (یعنی طالب) وہ مر گیا اور خود کفیل اُس کا وارث ہے تو کفیل دَین کا مالک ہو گیا مکفول عنہ یعنی مدیون سے مطالبہ کریگا۔ یوہیں اگر طالب نے کفیل کو دَین ہبہ کر دیا یہ مالک ہو گیا۔(12) (درمختار)
مسئلہ ۷۲: ایک شخص نے ہزارو پے میں گھوڑا خریدا مشتری کی طرف سے ثمن کی کسی نے ضمانت کی کفیل نے اپنے پاس سے روپے دے دیے اور مشتری سے ابھی وصول نہیں کیے تھے بغیر وصول کیے کفیل غائب ہو گیا اور گھوڑے کے متعلق کسی نے اپنا حق ثابت کیا اور لے لیا مشتری چاہتا ہے کہ بائع سے ثمن واپس لے تو جب تک کفیل حاضر نہ ہو جائے بائع سے ثمن نہیں لے سکتا اب کفیل آگیا تو اسے اختیار ہے بائع سے ثمن واپس لے یا مشتری سے۔ اگر بائع سے لے گا توبائع مشتری سے نہیں لے سکتا اور مشتری سے لے گا تو مشتری بائع سے واپس لے گا اور اگر کفیل بائع کو دینے کے بعد مشتری سے وصول کر کے
1 ۔جس پرمطالبہ ہے۔ 2 ۔یعنی صلح کرلی۔ 3 ۔جس پرمطالبہ ہے۔
4 ۔ یعنی کم کردینا۔ 5 ۔بری کرنا یعنی معاف کردینا۔
6 ۔''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ، مطلب : فی ضمان المھر، ج ۷ ص ۶۳۷ .
7 ۔اجرت پرکام کروانے والا۔ 8 ۔اجرت پرکام کرنے والا۔
9 ۔ قرض ۔ 10 ۔قرض خواہ۔
11 ۔''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ ، مطلب : فی ضمان المھر، ج ۷ ص ۶۳۷ .
12 ۔''الدرالمختار'' ، کتاب الکفالۃ، ج ۷ ،ص ۶۳۸.
غائب ہوا ہے اس کے بعد حق ثابت ہوا تو مشتری بائع سے ثمن واپس لے گا کفیل کے آنے کا انتظار نہ کریگا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۳: مسلمان دارالحرب میں مقید تھا روپیہ دے کر کسی نے اُس کو خریدا اگر اُس کے بغیر حکم ایسا کیا تواحسان ہے واپس نہیں لے سکتا اور اُس کے کہنے سے ایسا کیا تو واپس لے سکتا ہے چاہے اُس نے واپس دینے کو کہا ہو یا نہ کہا ہو۔ یوہیں اگر کسی نے یہ کہہ دیا کہ میرے بال بچوں پر اپنے پاس سے خرچ کرو یا میرے مکان کی تعمیر میں اپنا روپیہ خرچ کرو اُس نے خرچ کیا تو وصول کر سکتاہے۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۷۴: ایک شخص نے دوسرے سے کہا فلاں شخص کو میری طرف سے ہزار روپے دے دو اُس نے دے دیے یہ ہبہ حکم دینے والے کی طرف سے ہوا مگر جس نے دیے وہ نہ کہنے والے سے لے سکتا ہے نہ اُس سے جس کو دیے اور اگر یہ کہا تھا کہ اُس کو ہزار روپے دے دو میں ضامن ہوں تو کہنے والے سے وصول کر سکتا ہے۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۷۵: ایک شخص نے دوسرے سے کہا فلاں کو میری طرف سے ہزار روپے قرض دے دو اُس نے دے دیے واپس لے سکتا ہے اور اگر صرف اتنا ہی کہا کہ فلاں کو ہزار روپے قرض دے دو تو واپس نہیں لے سکتا اگرچہ وہ اسکا خلیط(4) ہو۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۶: ایک شخص نے دوسرے سے کہا میری قسم کا کفارہ ادا کردو یا میری زکوٰۃ اپنے مال سے ادا کر دو یا میرا حج بدل کرا دو اُس نے یہ سب کر دیا تو کہنے والے سے وصول نہیں کر سکتا۔ (6)(خانیہ)
مسئلہ ۷۷: ایک نے دوسرے سے کہا مجھ کو ہزار روپے ہبہ کر دو فلاں شخص اس کا ضامن ہے اور وہ شخص بھی یہاں موجود ہے اُس نے کہا ہاں اس کے ہاں کہنے پر اُس نے دے دیےیہ ہبہ اس ضامن کی طرف سے ہو گا اور دینے والے کے ہزار روپے اس کے ذمہ قرض ہیں۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیہ'' ، کتاب الکفالۃ ، الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... إلخ، الفصل الرابع ، ج ۳ ص ۲۶۷ ، ۲۶۸.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ'' ، کتاب الکفالۃ، فصل فی الکفالۃ بالمال ، ج ۲ ص ۱۷۳.
3 ۔المرجع السابق، مسائل الاٰمر، ج ۲، ص ۱۷۵.
4 ۔خلیط یعنی وہ شخص جس کے ساتھ اسکابالواسطہ یابلاواسطہ لین دین ہے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الکفالۃ، الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... إلخ، الفصل الرابع، ج ۳ ص ۲۶۹.
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الکفالۃ، مسائل الاٰمر،ج ۲ ص ۱۷۵.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الکفالۃ، الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ...إلخ، الفصل الرابع، ج ۳، ص ۲۷۰.
مسئلہ ۷۸: ایک شخص کے دوسرے کے ذمہ ہزار روپے ہیں مدیون(1) نے کسی سے کہا اس کے ہزار روپے ادا کر دو یہ کہتا ہے میں نے ادا کر دیئے مگر دائن(2) انکار کرتا ہے تو قسم کے ساتھ دائن کا قول معتبر ہے اور وہ شخص مدیون سے واپس نہیں لے سکتا اگرچہ مدیون نے اُس کی تصدیق کی ہو۔ یوہیں مکفول عنہ(3) کے کہنے سے کسی نے کفالت کی کفیل(4) کہتا ہے میں نے مال ادا کر دیا اور مکفول عنہ بھی اسکی تصدیق کرتا ہے مگر طالب انکار کرتا ہے طالب کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اس نے قسم کھا کر مکفول عنہ سے مال وصول کر لیا اب کفیل مکفول سے واپس نہیں لے سکتا اور اگر مکفول عنہ بھی انکار کرتا ہے کفیل نے گواہوں سے اپنا دینا ثابت کر دیا تو کفیل واپس لے سکتا ہے اور طالب کے مقابل میں یہی گواہ معتبر ہیں اگرچہ طالب موجود نہ ہو۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۹: ایک شخص نے دوسرے سے کہا فلاں شخص کے میرے ذمہ ہزار روپے ہیں تم اپنی فلاں چیز اُس کے ہاتھ اُن ہزارروپوں میں بیع کر دو اُس نے بیچ دی یہ جائز ہے پھر اگر بیع کے بعد طالب کہتا ہے اُس نے میرے ہاتھ بیع کی مگر قبضہ سے پہلے اُسی کے پاس چیز ہلاک ہو گئی اور وہ دونوں کہتے ہیں تو نے قبضہ کر لیا تھا اس میں بھی طالب کا قول معتبر ہے اس نے قسم کھا لی تو بیع فسخ (6)مانی جائے گی اور طالب اپنے روپے مدیون سے وصول کریگا اور جس نے بیع کی تھی وہ مدیون سے کچھ نہیں لے سکتا اور اگر بائع نے گواہوں سے طالب کا قبضہ ثابت کر دیا تو بیع فسخ نہیں مانی جائے گی اور ہزار روپے مدیون سے وصول کریگا اور طالب مدیون سے کچھ نہیں لے سکتا اگرچہ بائع نے طالب کی عدم موجودگی میں گواہ پیش کئے ہوں جبکہ مدیون بھی منکر ہو۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۸۰: کفیل جب تک طالب کو ادا نہ کر دے مکفول عنہ سے دَین(8) کا مطالبہ نہیں کر سکتا اور اگر مکفول عنہ نے کفیل کے پاس ادا کرنے سے پہلے کوئی چیز رہن(9) رکھ دی یہ رہن رکھنا درست ہے۔ (10)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔ مقروض۔ 2 ۔ قرض خواہ۔
3 ۔ جس پرمطالبہ ہے۔ 4 ۔ضامن۔
5 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الکفالۃ، الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... الخ ، الفصل الرابع ،ج ۳ ،ص ۲۷۰.
6 ۔ ختم ۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الکفالۃ، الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... الخ ، الفصل الرابع ،ج ۳ ،ص ۲۷۰.
8 ۔ قرض۔ 9 ۔ گروی۔
10 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ، کتاب الکفالۃ، مطلب فی ضمان المھر، ج ۷ ص ۶۳۹.
مسئلہ ۸۱: طالب یعنی دائن کو اختیار ہے کہ کفیل سے مطالبہ کرے یا اصیل(1) سے یا دونوں سے اگر مکفول لہ نے کفیل کا ملازمہ کیا (یعنی جہاں جاتا ہے طالب بھی اُس کے ساتھ جاتا ہے پیچھا نہیں چھوڑتا) تو کفیل اصیل کے ساتھ ایسا ہی کر سکتا ہے اوراگر طالب نے کفیل کو حبس(2) کرا دیا تو کفیل اصیل کو حبس کرا سکتا ہے کہ کفیل کا ملازمہ یا حبس اصیل کی وجہ سے ہے۔ یہ حکم اُس وقت ہے کہ اصیل کے کہنے سے اُس نے کفالت کی ہو اور اصیل کا خود کفیل کے ذمہ دَین نہ ہو اور اگر کفیل کے ذمہ مطلوب کا دَین ہو تو کفیل نہ ملازمہ کر سکتا ہے نہ حبس کرا سکتا ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اصیل کفیل کے اصول میں نہ ہو اور اگر اصیل اصول میں ہے تو کفیل اُس کے ساتھ یہ فعل نہیں کر سکتا۔ کفیل کا ملازمہ یا حبس اُس وقت ہو سکتا ہے کہ اصیل طالب کے اصول میں سے نہ ہو ورنہ اصول کے ملازمہ و حبس کا سبب خود یہی طالب ہوا اور کوئی شخص اپنے باپ ماں دادا دادی وغیرہ اصول کے ساتھ یہ حرکت کرنے کا مجاز نہیں۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۲: کفیل کا دَین ادا کر دینا کفیل و اصیل دونوں کی برأت کا سبب ہے یعنی اب طالب کا کسی سے تقاضا نہ رہا، نہ اصیل سے نہ کفیل سے، مگر جبکہ کفیل نے اپنے مدیون پر حوالہ کر دیا اور یہ شرط کر دی کہ فقط میں بری ہوں تو اصیل بری نہ ہوا اور اگر شرط نہ کی تو اس صورت میں بھی دونوں دَین سے بری ہو گئے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۸۳: اصیل نے دَین ادا کر دیا تو کفیل بھی بری الذمہ ہو گیا اب کفیل سے بھی مطالبہ نہیں ہو سکتا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۴: طالب نے اصیل سے دَین معاف کر دیا کفیل بھی بری ہو گیا مگر یہ ضرور ہے کہ مکفول عنہ نے قبول بھی کر لیا ہو اور اگر اصیل نے اُس کے معاف کرنے پر نہ رد کیا نہ قبول کیا اور مر گیا تو اُس کامرنا قبول کے قائم مقام ہو گیا یعنی دَین معاف ہو گیا اور کفیل بری ہو گیا اور اگر طالب نے معاف کر دیا مگر اصیل نے انکار کر دیا معافی کو منظور نہیں کیا تومعافی رد ہو گئی اور دَین بدستور قائم رہا۔ یوہیں اگر طالب نے اصیل کو دَین ہبہ کر دیا اور قبول سے پہلے اصیل مر گیا بری ہو گیا اور اصیل نے ہبہ کو رد کر دیا
1 ۔ جس پرمطالبہ ہے۔ 2 ۔قید۔
3 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ، کتاب الکفالۃ، مطلب فی ضمان المھر، ج ۷، ص ۶۴۰.
4 ۔''الدرالمختار'' ، کتاب الکفالۃ،ج ۷ ،ص ۶۴۱.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الکفالۃ ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... الخ ،الفصل الثالث، ج ۳، ص ۲۶۲.
تو رد ہو گیا اور دَین بدستور باقی رہا کوئی بری نہ ہوا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۸۵: اصیل کے مرنے کے بعد طالب نے دَین معاف کر دیا یا ہبہ کر دیا اور ورثہ نے قبول کر لیا تو معافی اور ہبہ صحیح ہیں اور رد کر دیا تو رد ہو گیا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸۶: طالب نے اصیل کو مہلت دے دی کفیل کے لیے بھی مہلت ہو گئی اس سے بھی اندرون میعاد مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۸۷: طالب نے کفیل کو بری کر دیا یعنی اس سے مطالبہ معاف کر دیا یا اس کو مہلت دے دی تو اصیل نہ بری ہو گا نہ اس کے لیے مہلت ہو گی اور اصیل اگرچہ بری نہ ہوا مگر کفیل کو یہ حق نہیں کہ اصیل سے کچھ مطالبہ کر سکے بخلاف اُس صورت کے کہ طالب نے کفیل کو ہبہ یاصدقہ کر دیا ہو تو چونکہ طالب کا مطالبہ ساقط ہو گیا کفیل اصیل سے بقدر دَین وصول کریگا۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۸: کفیل کو معاف کر دیا تو چاہے کفیل اس کو قبول کرے یا نہ کرے بہرحال معافی ہو گئی البتہ اگر اس کو ہبہ یا صدقہ کر دیا ہے تو قبول کرنا ضروری ہے۔ کفیل کو مہلت دی مگر اُ س نے منظور نہیں کی تو مہلت کفیل کے لیے بھی نہ ہوئی۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۹: ایک شخص پر دَین واجب الادا ہے یعنی فوری دینا ہے میعاد نہیں ہے اُس کی کفالت کسی نے یوں کی کہ اتنے دنوں کے بعد دینے کا میں ضامن ہوں تو یہ میعاد اصیل کے لیے بھی ہو گئی یعنی اُس سے بھی مطالبہ اتنے دنوں کے لیے مؤخر ہو گیا (6) (ہدایہ) اور اگر کفیل نے میعاد کو اپنے ہی لیے رکھا مثلاً یہ کہا کہ مجھ کو اتنے دنوں کی مہلت دو یا طالب نے وقت کفالت خصوصیت کے ساتھ کفیل کو مہلت دی ہے تو اصیل کے لیے مہلت نہیں۔ یوہیں قرض کی کفالت میعاد کے ساتھ کی تو کفیل کے لیے میعاد ہو گئی مگر اصیل کے لیے نہیں ہوئی کہ اگرچہ کفالت میں میعاد ہے مگر جس پر قرض ہے اُس کے لیے میعاد ہو نہیں سکتی۔ (7)(ردالمحتار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الکفالۃ ، الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... الخ ،الفصل الثالث، ج ۳ ص ۲۶۲، ۲۶۳.
2 ۔المرجع السابق، ص۲۶۳.
3 ۔''الدرالمختار'' ، کتاب الکفالۃ ، ج ۷ ص ۶۴۲.
4 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الکفالۃ مطلب : لوکفل بالقرض موجلاً... الخ ج ۷، ص ۶۴۳.
5 ۔''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار'' ،کتاب الکفالۃ، مطلب : لو کفل بالقرض موجلاً ... الخ، ج ۷، ص ۶۴۴.
6 ۔الھدایۃ، کتاب الکفالۃ، ج ۲،ص ۹۱.
7 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب الکفالۃ ، ج ۷ ص ۶۴۳.
مسئلہ ۹۰: کفیل سے دَین کا مطالبہ کیا اُس نے کہا صبر کرو اصیل کو آجانے دو طالب نے کہا مجھے تم سے تعلق ہے اُس سے کوئی تعلق نہیں اس کہنے سے اصیل بری نہ ہوا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۹۱: دَین میعادی تھا(2) اس کی کفالت کی تھی کفیل مر گیا توکفیل کے حق میں میعاد باقی نہ رہی اور اصیل کے حق میں میعاد بدستور ہے یعنی مکفول لہ(3) کفیل کے ورثہ سے ابھی مطالبہ کر سکتا ہے اور اس کے ورثہ نے دَین ادا کر دیا تو اصیل سے اُس وقت واپس لینے کے حقدار ہوں گے جب میعاد پوری ہو جائے۔ یوہیں اگر اصیل مر گیا تو اس کے حق میں میعاد ساقط ہوگئی کہ اس کے ترکہ سے مرنے کے بعد ہی وصول کر سکتا ہے اور کفیل کے حق میں میعاد بدستور باقی ہے کہ اندرون میعاد اس سے مطالبہ نہیں ہو سکتا اور اصیل و کفیل دونوں مر گئے تو طالب کو اختیار ہے جس کے ترکہ(4) سے چاہے دَین وصول کر لے میعاد تک انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۹۲: میعادی دَین کو کفیل نے میعاد پوری ہونے سے پہلے ادا کر دیا تو اصیل کے حق میں میعاد بدستور ہے یعنی اُس سے اندرون میعاد واپس نہیں لے سکتا۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹۳: جس دَین کی کفالت کی وہ ہزار روپے تھا اورپانسومیں مصالحت ہوئی اس کی چار صورتیں ہیں۔ (۱) یہ شرط ہوئی کہ اصیل و کفیل دونوں پانسو سے بریئ الذمہ ہیں یا (۲) یہ کہ اصیل بری یا (۳) سکوت رہا اس کا ذکر ہی نہیں کہ کون بری ان تینوں صورتوں میں باقی پانسو سے دونوں بری ہو گئے اور (۴) اگر فقط کفیل کا بری ہونا شرط کیا یعنی کفیل سے پانسو ہی کا مطالبہ ہو گا توتنہا کفیل پانسو سے بری الذمہ ہو گا اصیل پر پورے ہزار کا مطالبہ رہے گا لہٰذا کفیل نے پانسو روپے دے دیے تو باقی کا مطالبہ اصیل سے کریگا اور کفیل نے اُس کے کہنے سے کفالت کی ہے تو پانسو اصیل سے واپس لے۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
ـ1 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ، ج ۷، ص ۶۴۵.
2 ۔یعنی قرض کی مدت مقرر تھی۔
3 ۔جس کامطالبہ ہے۔
4 ۔میت کاچھوڑاہوامال۔
5 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ ، ج ۷، ص ۶۴۵.
6 ۔ردالمحتار، کتاب الکفالۃ، مطلب : لوکفل بالقرض مؤجلاً... الخ، ج ۷، ص ۶۴۵.
7 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الکفالۃ ، مطلب : لوکفل بالقرض مؤجلاً... الخ ج ۷، ص ۶۴۵.
مسئلہ ۹۴: طالب نے کفیل سے یہ مصالحت کی(1) کہ اگر تم مجھ کو اتنا دو تو میں تم کو کفالت سے بری کر دوں گا یعنی کفالت سے بری کرنے کا معاوضہ لینا چاہتا ہے یہ صلح صحیح نہیں اور کفیل پر اس مال کا دینا لازم نہیں پھر اگر وہ کفالت بالنفس تھی تو کفالت باقی ہے کفیل بری نہیں اور اگر کفالت بالمال تھی تو کفالت جاتی رہی۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹۵: ایک شخص نے دوسرے کی کفالت بالنفس کی ،طالب کہتا ہے کہ اُس پر میرا کوئی حق نہیں، اس کہنے سے کفیل بری نہیں ہے بلکہ اُس شخص کو حاضر لانا ہو گا اور اگر طالب نے یہ کہا کہ اُس پرکوئی میرا حق نہیں نہ میری جانب سے نہ دوسرے کی جانب سے ولایت، وصایہ، وکالت کسی اعتبار سے میرا حق نہیں کفیل بری ہو گیا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۹۶: یہ کہا کہ فلاں شخص پر جو ہزار روپے ہیں اُن کا میں ضامن ہوں پھر اُس شخص مکفول عنہ نے گواہوں سے ثابت کر دیا کہ کفالت سے پہلے ہی ادا کر چکا ہے اصیل بری ہو گیا مگر کفیل بری نہ ہوا اُس کو دینا پڑے گا۔ اوراگر گواہوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ کفالت کے بعد ادا کر دیا تو دونوں بری ہو گئے۔ (4)(بحر)
مسئلہ ۹۷: کفیل نے دَین ادا کرنے سے پہلے اصیل کو دَین سے بری کر دیا یہ صحیح ہے یعنی اس کے بعد دَین ادا کر کے
اصیل سے واپس نہیں لے سکتا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۹۸: طالب نے کفیل سے یہ کہا کہ میں نے تم کو بری کر دیا وہ بری ہو گیا اس سے یہ ثابت نہیں ہو گا کہ کفیل نے طالب کو دَین ادا کر کے برأت حاصل کی ہے لہٰذا کفیل کو اصیل سے واپس لینے کا حق نہ ہو گا اور طالب کو اصیل سے دَین وصول کرنے کا حق رہے گا۔ اور اگر طالب نے یہ کہا کہ تُو بری ہو گیااس کا مطلب یہ ہو گا کہ دَین ادا کر کے بری ہوا ہے یعنی میں نے دَین وصول پا لیا اس صورت میں کفیل اصیل سے لے سکتاہے اور طالب اصیل سے نہیں لے سکتا۔(6)(ہدایہ وغیرہ) یہ اُس وقت ہے جب طالب موجود نہ ہو غائب ہو اور اگر موجود ہو تو اُس سے دریافت کیا جائے کہ اس کلام کا کیا مطلب ہے وہ کہے میں نے دَین وصول پا لیا تو دونوں صورتوں میں کفیل رجوع کر سکتا ہے اور یہ کہے کہ کفیل کو میں نے معاف کر دیا
1 ۔صلح کی۔
2 ۔''ردالمحتار '' ، کتاب الکفالۃ، مطلب: لوکفل بالقرض مؤجلا... إلخ، ج ۷، ص ۶۴۶ ، ۶۴۷.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکفالۃ، الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... إلخ ،الفصل الثالث، ج ۳ ص ۲۶۳.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الکفالۃ،ج۶، ص۳۷۸.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکفالۃ ، الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... إلخ ،الفصل الثالث، ج ۳ ص ۲۶۳،۲۶۴.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الکفالۃ ،ج۲، ص۹۲،وغیرہ.
تو دونوں صورتوں میں رجوع نہیں کر سکتا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۹۹: طالب نے دستاویز (2) اس مضمون کی لکھی کہ کفیل نے جن روپوں کی کفالت کی تھی اُس سے بری ہو گیا تو یہ دَین وصول پا لینے کا اقرار ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۰: ایک شخص نے مَہر کی کفالت کی اگر دخول سے پہلے عورت کی طرف سے کوئی ایسی بات ہوئی جس کی وجہ سے جدائی ہو گئی تو کُل مَہر ساقط اورکفیل بالکل بری اور اگر شوہر نے قبل دخول طلاق دے دی تو آدھا مَہر ساقط اور کفیل بھی آدھے سے بری۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۱: عورت نے مَہر کے بدلے شوہر سے خلع کیا اور اس عورت کا شوہر کے ذمہ دَین ہے کسی نے اس دَین کی کفالت کر لی اس کے بعد اُن دونوں نے پھر آپس میں نکاح کر لیا تو کفیل بری نہ ہوا عورت اُس سے مطالبہ کر سکتی ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۰۲: کفیل کی برأت کو شرط پر معلق کیا اگر وہ شرط ایسی ہے جس میں طالب کا فائدہ ہے مثلاً اگر تم اتنا دے دو بری الذمہ ہو جاؤ گے یہ تعلیق صحیح ہے اور اگر وہ شرط ایسی نہیں ہے مثلاً جب کل کا دن آئے گا تم بری ہو جاؤ گے یہ تعلیق باطل ہے یعنی بری نہ ہو گا بدستور کفیل رہے گا۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰۳: اصیل کی برأت کو شرط پر معلق کرنا صحیح نہیں یعنی وہ بری نہیں ہو گا۔ طالب نے مدیون(7) سے کہا جو کچھ میرا مال تمھارے ذمہ ہے اگر مجھے وصول نہ ہوا اور تم مر گئے تو معاف ہے اور وہ مر گیا معاف نہ ہوا اور اگر یہ کہا کہ میں مرجاؤں تومعاف ہے اور طالب مر گیا معاف ہو گیا کہ یہ وصیت ہے۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار'' ،کتاب الکفالۃ، ج ۷، ص ۶۴۷.
2 ۔ایساتحریری ثبوت جس سے اپناحق ثابت کرسکیں۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الکفالۃ، الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ... إلخ، الفصل الثالث، ج ۳ ص ۲۶۴.
4 ۔ المرجع السابق.
5 ۔
6 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الکفالۃ، الباب ا لثانی فی الفاظ الکفالۃ... إلخ، الفصل الثالث،ج ۳ ص ۲۶۵.
7 ۔مقروض۔
8 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الکفالۃ، الباب ا لثانی فی الفاظ الکفالۃ... إلخ، الفصل الثالث،ج ۳ ص ۲۶۵.
مسئلہ ۱۰۴: کفیل بالنفس کی براء ت کو شرط پر معلق کیا اس کی تین صورتیں ہیں۔
1یہ شرط ہے کہ تم دس روپے دے دو بری ہو اس صورت میں براء ت ہو گئی اور شرط باطل اور2 اگر وہ مال کا بھی کفیل ہے طالب نے یہ کہا کہ مال اگر دے دو تو کفالت بالنفس سے بری ہو اس میں براء ت اور شرط دونوں جائز کہ مال دیدے گا بری ہو جائے گا۔ 3کفیل بالنفس سے یہ شرط کی کہ مال دے دو اور اصیل سے وصول کر لو اس صورت میں براء ت بھی نہ ہوئی اور شرط بھی باطل۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۱۰۵: اصیل نے کفیل کو مال دے دیا کہ طالب کو ادا کر دے او ر وہ کفیل طالب کے کہنے سے ضامن ہوا تھااب اصیل وہ مال کفیل سے واپس نہیں لے سکتا اگرچہ کفیل نے طالب کو ادا نہ کیا ہو۔ یوہیں اصیل کو یہ حق بھی نہیں کہ کفیل کو ادا کرنے سے منع کر دے یہ اُس صورت میں ہے جب اصیل نے کفیل کو بروجہ قضا دَین کا روپیہ دیا ہو یعنی یہ کہہ کر کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں طالب اپنا حق تم سے نہ وصول کرے لہٰذا قبل اس کے کہ تم اُسے دو میں تم کو دیتا ہوں اور اگر کفیل کو بروجہ رسالت دیا ہو یعنی اُس کے ہاتھ طالب کے پاس بھیجا ہے تو واپس بھی لے سکتا ہے اور منع بھی کر سکتا ہے اور اگر وہ شخص اس کے بغیر کہے کفیل ہو گیا ہے اس نے طالب کو دینے کے لیے اُسے روپے دے دیے تو جب تک ادا نہیں کیا ہے واپس بھی لے سکتا ہے اور اُسے دینے سے منع بھی کرسکتا ہے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰۶: اصیل نے کفیل کو دیا تھا مگر اُس نے طالب کو نہیں دیا اور اصیل نے خود طالب کودیا تو کفیل سے واپس لے سکتا ہے کہ اب اُس کو روکنے کا کوئی حق نہ رہا۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰۷: کفیل نے اصیل سے روپیہ وصول کیااور طالب کو نہیں دیا اس روپے سے کچھ منفعت حاصل کی یہ نفع اُس کے لیے حلال ہے کہ بروجہ قضا جو کچھ کفیل وصول کریگا اُس کا مالک ہو جائے گا اور اگر اصیل نے اُس کے ہاتھ طالب کے یہاں بھیجے ہیں اور اس نے نہیں دیے بلکہ تصرف کر کے نفع اُٹھایا تو یہ نفع خبیث ہے کہ اس تقدیرپر(4)وہ روپیہ اس کے پاس امانت تھا اس کو تصرف کرنا(5) حرام تھا اس نفع کو صدقہ کر دینا واجب ہے۔ (6) (درمختار)
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الکفالۃوالحوالۃ،مسائل فی تسلیم نفس المکفول بہ،ج۲،۱۷۲.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الکفالۃ،مطلب:فی بطلان تعلیق البراء ۃ...إلخ،ج۷،ص۶۵۱-۶۵۲.
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب الکفالۃ،مطلب:فی بطلان تعلیق البراء ۃ...إلخ،ج۷،ص۶۵۳.
4 ۔اس صورت میں۔ 5 ۔یعنی اخراجات میں لانا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الکفالۃ،ج۷،ص۶۵۲-۶۵۴.
مسئلہ ۱۰۸: اُس صورت میں کہ کفیل نے اصیل سے چیز لی اور طالب کو نہیں دی اور اُس سے نفع اُٹھایا اگر وہ چیز ایسی ہو جو متعین کرنے سے معین ہو جاتی ہے مثلاً اصیل پر گیہوں واجب تھے اُس نے کفیل کو دیے کفیل نے ان میں نفع حاصل کیا تو بہتر یہ ہے کہ نفع اصیل کو واپس کر دے اور اصیل کے لیے وہ نفع حلال ہے اگرچہ مالدار ہو اور اگر وہ چیز نقود کی قسم سے ہو مثلاً روپیہ اشرفی تو نفع واپس کرنا مندوب بھی نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۰۹: اصیل نے کفیل سے کہا تم بیع عینہ کرو اور جو کچھ خسارہ ہو گا وہ میرے ذمہ ہے (یعنی دس روپے کی مثلاً ضرورت ہے کفیل نے کسی تاجر سے مانگے وہ اپنے یہاں سے کوئی چیز جس کی واجبی قیمت(2)دس روپے ہے کفیل کے ہاتھ پندرہ روپے میں بیع کر دی کفیل اُس کو بازار میں دس روپے میں فروخت کردیتا ہے اس صورت میں تاجر کو پانچ روپے کا نفع ہو جاتا ہے اور کفیل کو پانچ روپے کا خسارہ ہوتا ہے اس کو اصیل کہتا ہے کہ میرے ذمہ ہے) کفیل نے اُس کے کہنے سے بیع عینہ کی تو تاجر سے جو چیز نقصان کے ساتھ خریدی ہے اُس کا مالک کفیل ہے اور نقصان بھی کفیل ہی کے سر رہے گا اصیل سے اس کا مطالبہ نہیں کر سکتا کیوں کہ اصیل کے لفظ سے اگر خسارہ کی ضمانت مراد ہے تو یہ باطل اس کی ضمانت نہیں ہو سکتی اور اگر توکیل(3)قرار دی جائے تو یہ بھی صحیح نہیں کہ مجہول کی توکیل نہیں ہوتی۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۱۰: یوں کفالت کی کہ جو کچھ اُس کے ذمہ لازم ہو گا یا ثابت ہو گا یا قاضی جو کچھ اُس پر لازم کر دے گا میں اُس کی کفالت کرتا ہوں اور اصیل غائب ہو گیا مدعی نے قاضی کے سامنے کفیل کے مقابلے میں گواہ پیش کیے کہ اُس کے ذمہ میرا اتنا ہے تو جب تک اصیل حاضر نہ ہو گواہ مقبول نہیں جب اصیل حاضر ہو گا اُس کے مقابلے میں گواہ سنے جائیں گے اور فیصلہ ہو گا اس کے بعد کفیل سے مطالبہ ہو گا۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۱۱: مدعی نے یہ دعویٰ کیا کہ فلاں شخص جو غائب ہے اُس کے ذمہ میرا اتنا روپیہ ہے اور یہ شخص اُس کاکفیل ہے اور اس کو گواہوں سے ثابت کر دیا اس صورت میں صرف کفیل کے مقابلے میں فیصلہ ہو گا اور اگر مدعی نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ اُس کے حکم سے ضامن ہوا تھا تو کفیل و اصیل دونوں کے مقابلہ میں فیصلہ ہو گا اور کفیل کو اصیل سے واپس لینے کا حق ہو گا۔ (6)(درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الکفالۃ،ج۷،ص۶۵۳،۶۵۴.
2 ۔کسی چیز کی وہ قیمت جو عام طورپر بازار میں مقرر ہو،رائج قیمت۔ 3 ۔یعنی وکالت۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الکفالۃ،ج۷،ص۶۵۶.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۱۲: کفالت بالدرک (یعنی بائع کی طرف سے اس بات کی کفالت کہ اگر مبیع کا کوئی دوسرا حقدار ثابت ہوا تو ثمن کامیں ذمہ دار ہوں) یہ کفیل کی جانب سے تسلیم ہے کہ مبیع بائع کی ملک ہے لہٰذا جس نے کفالت کی وہ خود اس کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مبیع میری ملک ہے جس طرح کفیل کو شفعہ کرنے کا حق نہیں کہ اُ س کاکفیل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ مشتری کے خریدنے پر راضی ہے۔ یوہیں جس دستاویز میں یہ تحریر ہے کہ میں نے اپنی ملک فلاں کے ہاتھ بیع کی یا میں نے بیع بات نافذ فلاں کے ہاتھ کی اس دستاویز پر کسی نے اپنی گواہی لکھی یا قاضی کے یہاں بیع کی شہادت دی ان سب صورتوں میں بائع کی ملک کا اقرار ہے کہ یہ شخص اب اپنی ملک کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اگر دستاویز میں فقط اتنی بات لکھی ہے کہ فلاں شخص نے یہ چیز بیع کی بائع نے اُس میں اپنی ملک کا ذکر نہیں کیا ہے نہ یہ کہ بیع بات نافذ ہے ایسی دستاویز پر گواہی ثبت کرنا بائع کی ملک کا اقرار نہیں یا اُس نے اپنی گواہی کے الفاظ یہ تحریر کیے کہ عاقدین نے(1) بیع کااقرار کیا میں اس کا شاہدہوں یہ بھی ملک بائع کا اقرار نہیں یعنی ایسی شہادت تحریر کرنے کے بعد بھی اپنی ملک کادعویٰ کر سکتا ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۱۳: کفالت بالدرک میں محض استحقاق سے(3)ضامن سے مؤاخذہ نہیں ہو گا جب تک قاضی یہ فیصلہ نہ کردے کہ مبیع مستحق کی ہے اور بیع کو فسخ نہ کر دے بیع فسخ ہونے کے بعد بیشک کفیل سے ثمن کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۱۴: استحقاق مبطل(جس کا ذکر باب الاستحقاق میں ہو چکا ہے) مثلاً دعوی نسب(5)یا یہ دعویٰ کہ جو زمین خریدی ہے یہ وقف ہے یا یہ پہلے مسجد تھی ان میں اگرچہ قاضی نے یہ فیصلہ نہ دیا ہو کہ ثمن مکفول عنہ (بائع) سے واپس لیا جائے مشتری کفیل سے وصول کر سکتا ہے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱۵: ایک نے دوسرے سے کہا تم اپنی فلاں چیز اس کے ہاتھ ایک ہزار میں بیع کر دو میں اُس ہزار کا ضامن ہوں اس نے دو ہزار میں بیع کی کفیل ایک ہی ہزار کا ضامن ہے اور پانسو میں بیع کی تو کفیل پانسو کا ضامن ہے۔(7) (عالمگیری)
1 ۔یعنی بیچنے والے اورخریدار نے۔
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الکفالۃ،مطلب:بیع العینۃ،ج۷،ص۶۶۰.
3 ۔ حق ثابت ہونے سے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الکفالۃ،ج۷،ص۶۶۲.
5 ۔نسب کا دعوٰی مثلاً یہ میرا بیٹا یا بیٹی ہے۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب الکفالۃ،مطلب:بیع العینۃ ،ج۷،ص۶۶۲.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکفالۃ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ...إلخ،الفصل الخامس،ج۳،ص۲۷۲.
مسئلہ ۱۱۶: یہ کہا کہ جو کچھ تیرا فلاں کے ذمہ ہے میں اُس کا ضامن ہوں اور گواہوں سے ثابت ہوا کہ اُس کے ذمہ ہزار روپے ہیں تو کفیل سے ہزار کا مطالبہ ہو گا اور اگر گواہوں سے ثابت نہ ہوا تو کفیل قسم کے ساتھ جتنے کا اقرار کرے اُسی کا مطالبہ ہو گا اور اگر مکفول عنہ(1) اِس سے زیادہ کا اقرار کرتا ہے تو یہ زائد کفیل سے نہیں لیا جا سکتا مکفول عنہ سے لیا جائے گا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۷: کفیل نے حالت صحت میں یہ کہا جو کچھ فلاں شخص اپنے ذمہ فلاں کے لیے اقرار کر لے اُس کا میں ضامن ہوں اس کے بعد کفیل بیمار ہو گیا یعنی مرض الموت میں مبتلا ہو گیا اور اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب دَین میں مستغرق ہے(3) مکفول عنہ نے طالب کے لیے ایک ہزار کا اقرار کیا کفیل کے ذمہ ایک ہزار لازم ہو گئے ۔ یوہیں اگر کفیل کے مرنے کے بعد ایک ہزار کا اقرار کیا تو یہ کفیل کے ذمہ لازم ہو گئے مگر چونکہ کفیل کے پاس جو کچھ مال تھا وہ دَین میں مستغفرق تھا لہٰذا مکفول لہ (4)دیگر قرض خواہوں کی طرح کفیل کے ترکہ سے اپنے حصہ کی قدر وصول کریگا یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ کہہ دیا جائے کہ دَین سے بچی ہوئی کوئی جائداد نہیں ہے لہٰذا مکفول لہ کو نہیں ملے گا صرف قرض خواہ لیں گے۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۱۱۸: ایک شخص نے دوسرے کی طرف سے کفالت کی اور یہ شرط کی کہ تم اپنی فلاں چیز میرے پاس رہن(6) رکھ دو مگر طالب سے یہ نہیں کہا کہ میں نے اس شرط پر کفالت کی ہے۔ اب مکفول عنہ اپنی چیز رہن رکھنا نہیں چاہتا تو کفیل کو کفالت فسخ(7) کرنے کا اختیار نہیں طالب کا مطالبہ دینا پڑے گا کیونکہ رہن کی شرط اگر تھی تو مکفول عنہ سے تھی طالب کو اس شرط سے تعلق نہیں ہاں اگر طالب سے کہہ دیا تھا کہ تیرے لیے اس شرط پر کفالت کرتا ہوں کہ مکفول عنہ اپنی فلاں چیز میرے پاس رہن رکھے تو بیشک رہن نہ رکھنے کی صورت میں کفالت کو فسخ کرسکتا ہے اور اب طالب اس سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱۹: کفیل نے یوں کفالت کی کہ مکفول عنہ کی جو امانت میرے پاس ہے میں اُس سے تمھارا دَین ادا کر وں گا
1 ۔جس شخص پر مطالبہ ہے ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکفالۃ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ...إلخ،الفصل الخامس،ج۳،ص۲۷۲.
3 ۔یعنی جو کچھ اس کے پاس ہے دَین اس سے زائد ہے۔ 4 ۔جس شخص کامطالبہ ہے۔
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الکفالۃوالحوالۃ،مسائل الامر ینفذ المال عنہ،ج۲،ص۱۷۶.
6 ۔گروی۔ 7 ۔ ختم ۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکفالۃ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ...إلخ،الفصل الخامس،ج۳،ص۲۷۳.
یہ کفالت صحیح ہے اور امانت سے اُس کو دَین ادا کرنا ہو گا اور امانت اس کے پاس سے ہلاک ہو گئی تو کفالت بھی ختم ہو گئی کفیل سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲۰: یوں ضمانت کی تھی کہ اس چیز کے ثمن سے دَین ادا کریگا اور وہ چیز کفیل ہی کی ہے مگر بیع کرنے سے پہلے ہی وہ چیز ہلاک ہو گئی توکفالت باطل ہو گئی اور اگر وہ چیز سو روپے میں بیچی اور اُس کی واجبی قیمت بھی سو ہی ہے اور دَین ہزار روپے ہے تو کفیل کو سوہی دینے ہوں گے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲۱: سو روپے کی ضمانت کی او ریہ کہہ دیا کہ پچاس یہاں دے گا اور پچاس دوسرے شہر میں مگر میعاد نہیں مقرر کی ہے طالب کو اختیار ہے جہاں چاہے وصول کر سکتا ہے اوراگر وہ چیز جو ضامن دے گا ایسی ہے جس میں بار برداری صرف ہو گی(3) تو جس مقام میں دینا قرار پایا ہے وہیں مطالبہ ہو سکتا ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲۲: ایک شخص نے کپڑا غصب کیا تھا مالک نے اُسے پکڑا دوسرا شخص ضامن ہوا کہ اس کو کل میں حاضر کر دوں گا مدعی نے کہا اگر تم اس کو نہ لائے تو کپڑے کی قیمت دس روپے ہے وہ تم کو دینے ہوں گے کفیل نے کہا دس نہیں بیس میں دوں گا اورمکفول لہ خاموش رہا تو کفیل سے دس ہی وصول کئے جا سکتے ہیں۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۱۲۳: ایک شخص نے دوسرے سے کہا تم اس راستہ سے جاؤ اگر تمھارا مال چھین لیا جائے میں ضامن ہوں یہ کفالت صحیح ہے کفیل کو مال دینا ہو گا اور اگر یہ کہا کہ اس راستہ سے جاؤ اگر درندہ نے تمھارا مال ہلاک کر دیا یا تمھارے بیٹے کو مار ڈالا تو میں ضامن ہوں یہ کفالت صحیح نہیں۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲۴: دوسرے کے دَین کی کفالت کی اس شرط پر کہ فلاں اور فلاں بھی اتنے کی کفالت کریں اور اُن دونوں نے انکار کر دیا تو پہلی کفالت لازم رہے گی اُس کو فسخ کرنے کا اختیار نہ ہو گا۔(7) (خانیہ)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکفالۃ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ...إلخ،الفصل الخامس،ج۳،ص۲۷۳.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی مزدوری خرچ ہوگی۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکفالۃ، الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ...إلخ،الفصل الخامس، ج ۳ ،ص ۲۷۴.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الکفالۃوالحوالۃ،مسائل فی تسلیم نفس المکفول بہ،ج۲،ص۱۷۲.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکفالۃ،الباب الثانی فی الفاظ الکفالۃ...إلخ،الفصل الخامس،ج۳،ص۲۷۷.
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الکفالۃوالحوالۃ،فصل فی الکفالۃ بالمال،ج۲،ص۱۷۳.
مسئلہ ۱۲۵: ایک شخص نے دوسرے کی طرف سے ہزار روپے کی ضمانت کی تھی اب کفیل یہ کہتا ہے وہ روپے جوے کے تھے یا شراب کے دام تھے یا اسی قسم کی کسی دوسری چیز کا نام لیا یعنی وہ روپے مکفول عنہ(1)پر واجب نہیں تھے لہٰذا کفالت صحیح نہیں ہوئی اور مجھ سے مطالبہ نہیں ہو سکتا کفیل کی یہ بات قابلِ سماعت نہیں(2)بلکہ مکفول لہ کے مقابل میں اگر گواہ بھی اس بات پر پیش کرے اور مکفول لہ(3)انکارکرتا ہو تو کفیل کے گواہ بھی نہیں لیے جائیں گے اور اگر مکفول لہ پر حلف رکھنا چاہے تو حلف نہیں دیا جائے گا اور اگر اس بات کے گواہ پیش کرنا چاہتا ہے کہ خود مکفول لہ نے ایسا اقرار کیا تھا جب بھی گواہ مسموع نہ ہوں گے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲۶: کفیل نے طالب کا مطالبہ ادا کر دیا اور مکفول عنہ سے واپس لینا چاہتا ہے مکفول عنہ اُسی قسم کا عذر پیش کرتا ہے کہ وہ روپیہ جس کا مجھ پر مطالبہ تھا وہ جوے کا تھا یعنی جوئے میں ہار گیا تھا اس کا مطالبہ تھا یا شراب کا ثمن تھا اور مکفول لہ موجود نہیں ہے کہ اُس سے دریافت کیا جائے یہ گواہ پیش کرنا چاہتا ہے گواہ نہیں لیے جائیں گے بلکہ یہ حکم دیا جائے گا کہ کفیل کا روپیہ ادا کر دے اور اُس سے یہ کہا جائے گا کہ تجھ کو یہ دعویٰ کرنا ہو تو طالب کے مقابل میں کر اور اگر طالب نے اب تک کفیل سے وصول نہیں کیا ہے اُس نے قاضی کے سامنے اقرار کر لیا کہ یہ مطالبہ شراب کے ثمن کا ہے تو اصیل و کفیل دونوں بری کر دیے جائیں اور اگر قاضی نے کفیل کو بری کر دیا مگر مکفول عنہ نے حاضر ہو کر یہ اقرار کیا کہ وہ روپیہ قرض تھا یا مبیع کا ثمن تھا اور طالب بھی اُس کی تصدیق کرتا ہے تو اصیل پر اُس مال کا دینا لازم ہے اور کفیل کے مقابل میں ان دونوں کی بات قابل اعتبار نہ رہی۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۱۲۷: تین شخصوں کے ہزار ہزار روپے ایک شخص کے ذمہ ہیں مگر سب کا دَین الگ الگ ہے یہ نہیں کہ وہ روپے سب کے مشترک ہوں تو ان میں دو تیسرے کے لیے یہ گواہی دے سکتے ہیں کہ اس کے روپے کی فلاں شخص نے ضمانت کی تھی اور اگر روپے میں شرکت ہو تو گواہی مقبول نہیں۔(6) (عالمگیری)
1 ۔جس شخص پر مطالبہ ہے ۔ 2 ۔ قابل قبول نہیں۔
3 ۔جس شخص کامطالبہ ہے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکفالۃ،الباب الثالث فی الدعوی والخصومۃ،ج۳،ص۲۸۰.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الکفالۃوالحوالۃ،مسائل الامرینفذ المال عنہ،ج۲،ص۱۷۶.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکفالۃ،الباب الثالث فی الدعوی والخصومۃ،ج۳،ص۲۸۰.
مسئلہ ۱۲۸: خراج موظف میں (جس کی مقدار معین ہوتی ہے کہ سالانہ اتنا دینا ہوتا ہے جس کا ذکر کتاب الزکوٰۃ میں گزرا) کفالت صحیح ہے اور اس کے مقابل میں رہن رکھنا بھی صحیح ہے اور خراج مقاسمہ کی نہ کفالت صحیح ہو سکتی ہے نہ اُس کے مقابلہ میں رہن رکھنا صحیح ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۲۹: سلطنت کی جانب سے جو مطالبات لازم ہوتے ہیں اُن کی کفالت بھی صحیح ہے خواہ وہ مطالبہ جائز ہو یا ناجائز کیوں کہ یہ مطالبہ دَین کے مطالبہ سے بھی سخت ہوتا ہے مثلاً آج کل گورنمنٹ زمینداروں سے مال گزاری(2)اور ابواب (3)لیتی ہے اگر اس کے دینے میں تاخیر کرے فوراًحراست(4)میں لے لیا جاتا ہے جائداد نیلام کر دی جاتی ہے۔ اسی طرح مکان کا ٹیکس،انکم ٹیکس(5)،چونگی(6)کہ ان تمام مطالبات کے ادا کرنے پر آدمی مجبور ہے لہٰذا ان سب کی کفالت صحیح ہے اور جس پر مطالبہ ہے اُس کے حکم سے کفالت کی ہے تو کفیل اُس سے واپس لے گا۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱۳۰: دلال(8)کے پاس سے چیز جاتی رہی اُس پر تاوان واجب نہیں اورا گر دلال یہ کہتا ہے کہ میں نے کسی دوکان میں رکھ دی تھی یا دنہیں کس دوکان میں رکھی تھی تو تاوان دینا پڑے گا اور اگر دلال نے دوکاندار کو دکھائی اور دام طے ہوگئے اور اُس کے پاس رکھ کر چلا گیا دوکاندار کے پاس سے جاتی رہی یا دلال نے بازار میں وہ چیز دکھائی پھر کسی دوکان پر رکھ دی یہاں سے جاتی رہی تو تاوان دینا ہو گا اور دوکاندار سے تاوان نہیں لیا جا سکتا۔(9) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳۱: کسی نے دلال کو چیز دی اور دلال کو معلوم ہو گیا کہ یہ چیز چوری کی ہے اور اس کا مالک فلاں شخص ہے اُس نے مالک کو چیز دے دی دلال سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ (10)(درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الکفالۃ،ج۷،ص۶۶۲.
2 ۔زمین کا سرکاری مقرر کردہ ٹیکس۔ 3 ۔غیر مقررہ ٹیکس، نذرانہ۔
4 ۔ قید ۔ 5 ۔مقررہ قواعد کے مطابق آمدنی پر سرکاری محصول۔
6 ۔ایک محصول جو میونسپل کمیٹی کی حدود میں مال لانے پر لیاجاتاہے۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الکفالۃ،ج۷،ص۶۶۲.
8 ۔کمیشن پر مال بیچنے والا، کمیشن ایجنٹ۔
9 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الکفالۃ،مطلب:بیع العِینۃ،ج۷،ص۶۶۸.
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الکفالۃ،ج۷،ص۶۶۸.
مسئلہ ۱۳۲: دلال نے بائع کے لیے ثمن کی ضمانت کی یہ کفالت صحیح نہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۳۳: ایک شخص نے کہا فلاں شخص پرمیرے اتنے روپے ہیں اگر تم وصول کر لاؤ تو دس روپے تم کو دوں گا اس وصول کرنے والے کو اُجرتِ مثل ملے گی جو دس روپے سے زیادہ نہیں ہو گی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۳۴: دو شخصوں پر دَین ہے مثلاً دونوں نے کوئی چیز سو روپے میں خریدی تھی اور ان میں ہر ایک نے دوسرے کی طرف سے اُس کے کہنے سے کفالت کی یہ کفالت صحیح ہے اور اس صورت میں چونکہ ہر ایک نصف دَین میں اصیل(3)ہے اور نصف میں کفیل(4)ہے لہٰذا جو کچھ ادا کریگا جب تک نصف سے زیادہ نہ ہو وہ اصالۃً(5)قرار پائے گا یعنی وہ روپیہ ادا کیا جو اس پراصالۃً تھا شریک سے وصول نہیں کر سکتا اور جب نصف سے زیادہ ادا کیا تو جو کچھ زیادہ دیا ہے کفالت میں شمار ہو گا شریک سے وصول کر سکتا ہے۔ (6)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۳۵: صورتِ مذکورہ میں صرف ایک نے دوسرے کی طرف سے کفالت کی ہے اور کفیل نے کچھ ادا کیا اور کہتا ہے کہ میں نے جو کچھ ادا کیا ہے بطور کفالت ہے اس کی بات مقبول ہے یعنی دوسرے مدیون مکفول عنہ(7) سے واپس لے سکتا ہے۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳۶: دو شخصوں پر دَین ہے اور ہر ایک نے دوسرے کی طرف سے کفالت کی مگر دونوں پر دو قسم کے دَین ہیں ایک پر میعادی دَین ہے اور دوسرے پر فوراً واجب الادا ہے اور جس پر میعادی دَین ہے اُس نے قبل میعاد ایک رقم ادا کی اور یہ کہتاہے میں نے دوسرے کی طرف سے یعنی کفالت کے روپے ادا کیے ہیں اُس کی بات قابلِ تسلیم ہے جو کچھ اُس نے دیا ہے دوسرے سے وصول کر سکتا ہے اور جس کے ذمہ فوراً واجب الادا ہے اُس نے دیا اور کہتا یہ ہے کہ کفالت کے روپے ادا کیے ہیں
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الکفالۃ،ج۷،ص۶۶۸.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الکفالۃ،ج۷،ص۶۶۸.
3 ۔یعنی نصف دَین خود اِسی پر ہو۔
4 ۔ضامن۔ 5 ۔یعنی اپنی طرف سے ادائیگی۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الکفالۃ،باب کفالۃ الرجلین،ج۲،ص۹۶.
7 ۔جس شخص پر مطالبہ ہے ۔
8 ۔''ردالمحتار''،کتاب الکفالۃ،باب کفالۃ الرجلین،ج۷،ص۶۷۱.
توجب تک میعاد پوری نہ ہو جائے دوسرے سے وصول نہیں کر سکتا۔ اور اگر ایک پر قرض ہے دوسرے کے ذمہ مبیع کا ثمن ہے اور ہر ایک نے دوسرے کی کفالت کی تو جو ادا کرے یہ نیت کر سکتا ہے کہ اپنے ساتھی کی طرف سے ادا کرتا ہوں یعنی اُس سے وصول کر سکتا ہے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳۷: ایک شخص پر دَین(2)ہے دو شخصوں نے اُس کی کفالت کی یعنی ہر ایک نے پورے دَین کی ضمانت کی پھر ہر ایک کفیل نے دوسرے کفیل کی طرف سے بھی کفالت کی اس صورت مفروضہ(3)میں ایک کفیل جو کچھ ادا کریگا اُس کا نصف دوسرے سے وصول کر سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کل روپیہ اصیل سے وصول کرے اور اگر طالب نے ایک کو بری کر دیا تو دوسرا بری نہ ہو گا کیونکہ یہاں ہر ایک کفیل ہے اور اصیل بھی ہے اور کفیل کے بری کرنے سے اصیل بری نہیں ہوتا۔(4)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۳۸: دو شخصوں کے مابین شرکت مفاوضہ تھی اور دونوں علیحدہ ہو گئے قرض خواہ کو اختیار ہے کہ ان میں جس سے چاہے پورا دَین وصول کر سکتا ہے کیونکہ شرکت مفاوضہ میں ہر ایک دوسرے کا کفیل ہوتا ہے اور ایک نے جو دَین ادا کیا ہے اگر وہ نصف تک ہے تو دوسرے سے وصول نہیں کر سکتا اور نصف سے زیادہ دے چکا تو یہ رقم اپنے ساتھی سے وصول کر سکتا ہے۔ (5)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۳۹: اپنے دو غلاموں سے عقد کتابت کیا ان میں ہر ایک نے دوسرے کی کفالت کی تو جو کچھ بدلِ کتابت ایک ادا کریگا اُس کا نصف دوسرے سے وصول کر سکتا ہے اگر مولےٰ(6)نے ان میں سے بعد عقد کتابت ایک کو آزاد کر دیا یہ آزاد ہو گیا اورا س کے مقابلہ میں جو کچھ بدلِ کتابت تھا ساقط ہو گیا اور دوسرے کا بدلِ کتابت باقی ہے اور اختیار ہےجس سے چاہے وصول کرے کیونکہ ایک اصیل ہے دوسرا کفیل ہے اگر کفیل سے لیا تو یہ اصیل سے وصول کر سکتا ہے۔ (7)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۴۰: کسی نے غلام کی طرف سے مال کی کفالت کی اس کفالت کا اثر مولےٰ کے حق میں بالکل نہ ہو گا یعنی کفیل مولےٰ سے روپیہ وصو ل نہیں کر سکتا اس کفالت کا اثر یہ ہو گاکہ غلام جب آزاد ہو جائے اُس سے وصول کیا جائے اور کفیل کو یہ روپیہ
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب الکفالۃ،مطلب :بیع العینۃ،ج۷،ص۶۷۱.
2 ۔قرض۔ 3 ۔فرض کردہ صورت،مثال کے طور پر بیان کی گئی صورت۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الکفالۃ،باب کفالۃ الرجلین،ج۲،ص۹۶.
5 ۔المرجع السابق،ص۹۷.
6 ۔آقا،مالک۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الکفالۃ،باب کفالۃ الرجلین،ج۲،ص۹۷.
فی الحال ادا کرنا ہو گا اگرچہ اس کی شرط نہ ہو ہاں اگر کفالت کے وقت ہی میعاد کی شرط ہو تو جب تک میعاد پوری نہ ہو دَین ادا کرنا واجب نہیں۔ (1)(ہدایہ، فتح القدیر)
مسئلہ ۱۴۱: ایک شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ غلام میرا ہے کسی نے اُس کی کفالت کی اس کے بعد غلام مر گیا اور مدعی نے گواہوں سے اپنی ملک ثابت کر دی کفیل کو اُس کی قیمت دینی پڑے گی اور اگر غلام پر مال کا دعویٰ ہوتا اور کفالت بالنفس(2) کرتاپھر وہ مر جاتا تو کفیل بری ہوجاتا۔ (3)(ہدایہ)
حوالہ جائز ہے مدیون(4)کبھی دَین ادا کرنے سے عاجز ہوتا ہے اور دائن(5)کاتقاضا(6)ہوتا ہے اس صورت میں دائن کو دوسرے پر حوالہ کر دیتا ہے اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ مدیون کا دوسرے پر دَین ہے مدیون اپنے دائن کو اُس دوسرے پر حوالہ کر دیتا ہے کیوں کہ دائن کو اُس پر اطمینان ہوتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ اُس سے بآسانی مجھے وصول ہو جائے گا۔ بالجملہ اس کی متعدد صورتیں ہیں اور اس کی حاجت بھی پیش آتی ہے اسی لیے حدیث میں ارشاد فرمایا کہ تونگر(7)کا دَین ادا کرنے میں دیر کرنا ظلم ہے اور جب مالدار پر حوالہ کر دیا جائے تو دائن قبول کر لے۔(8)اس حدیث کو بخاری و مسلم و ابو داود و طبرانی وغیرہم نے ابوہریرہ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
مسئلہ ۱: دَین کو اپنے ذمہ سے دوسرے کے ذمہ کی طرف منتقل کر دینے کو حوالہ کہتے ہیں ،مدیون کو محیل کہتے ہیں اور دائن کو محتال اور محتال لہ اور محال اور محال لہ اور حویل کہتے ہیں اور جس پر حوالہ کیا گیا اُس کو محتال علیہ اور محال علیہ کہتے ہیں اور مال کو محال بہ کہتے ہیں۔(9) (درمختار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الکفالۃ،باب کفالۃ العبد وعنہ،ج۲،ص۹۷۔۹۸.
و''فتح القدیر''،کتاب الکفالۃ،باب کفالۃ العبد وعنہ،ج۶،ص۳۴۲.
2 ۔شخصی ضمانت یعنی جس شخص کے ذمہ حق باقی ہوضامن اس کو حاضر کرنے کی ذمہ داری قبول کرے۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الکفالۃ،باب کفالۃ العبد وعنہ،ج۲،ص۹۸.
4 ۔مقروض۔ 5 ۔قرض دینے والا۔ 6 ۔مطالبہ۔ 7 ۔مالدار، امیر۔ 8 ۔''صحیح البخاری''،کتاب الحوالات،باب اذاأحال علی ملیٍّ فلیس لہ رد،الحدیث:۲۲۸۸،ج۲،ص۷۲.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحوالۃ،ج۸،ص۵-۷.
مسئلہ ۲: حوالہ کے رکن ایجاب و قبول ہیں۔ مثلاً مدیون یہ کہے میرے ذمہ جو دَین ہے فلاں شخص پر میں نے اُس کا حوالہ کیا محتال لہ اور محتال علیہ نے کہا ہم نے قبول کیا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: حوالہ کے لیے چند شرائط ہیں۔
(۱) محیل کا عاقل بالغ ہونا۔ مجنوں یا نا سمجھ بچہ نے حوالہ کیا یہ صحیح نہیں اور نابالغ عاقل نے جو حوالہ کیا یہ اجازت ولی پر موقوف ہے اُس نے جائز کر دیا نافذ ہو جائے گاورنہ نافذ نہ ہو گا۔ محیل کا آزاد ہونا شرط نہیں اگرغلام ماذون لہ ہے(2)تو محتال علیہ دَین ادا کرنے کے بعد اُس سے وصول کر سکتاہے اور محجور ہے(3) تو جب تک آزاد نہ ہو اُس سے وصول نہیں کیا جا سکتا۔ محیل اگر مرض الموت میں مبتلا ہے جب بھی حوالہ درست ہے یعنی صحت شرط نہیں۔ محیل کا راضی ہونا بھی شرط نہیں یعنی اگر مدیون نے خود حوالہ نہ کیا بلکہ محتال علیہ نے دائن سے یہ کہہ دیا کہ فلاں شخص پر جو تمھارا دَین ہے اُس کو میں اپنے اوپر حوالہ کرتا ہوں تم اس کو قبول کرو اُس نے منظور کر لیا حوالہ صحیح ہو گیا اس کو دَین ادا کرنا ہو گا مگر مدیون سے اس صورت میں وصول نہیں کر سکتا کہ یہ حوالہ اُس کے حکم سے نہیں ہوا۔ (4)(عالمگیری)
(۲) محتال کا عاقل بالغ ہونا۔ مجنوں یا نا سمجھ بچہ نے حوالہ قبول کر لیا صحیح نہ ہوا اور نابالغ سمجھ وال نے کیا تو اجازت ولی پر موقوف ہے جب کہ محتال علیہ بہ نسبت محیل کے زیادہ مالدار ہو۔
(۳) محتال کا راضی ہونا۔ اگر محتال یعنی دائن کو حوالہ قبول کرنے پر مجبور کیا گیا حوالہ صحیح نہ ہوا۔
(۴) محتال کا اُسی مجلس میں قبول کرنا۔ یعنی اگر مدیون نے حوالہ کر دیا اور دائن وہاں موجود نہیں ہے جب اُس کو خبر پہنچی اُس نے منظور کر لیا یہ حوالہ صحیح نہ ہوا۔ ہاں اگر مجلس حوالہ میں کسی نے اُس کی طرف سے قبول کر لیا جب خبر پہنچی اُس نے منظور کر لیا یہ حوالہ صحیح ہو گیا۔
(۵) محتال علیہ کا عاقل بالغ ہونا۔ سمجھ وال بچہ نے حوالہ قبول کر لیا جب بھی صحیح نہیں اگرچہ اُسے تجارت کی اجازت ہو
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،الباب الأول فی تعریفھاورکنھا،ج۳،ص۲۹۵.
2 ۔یعنی اس کے مالک نے اسے خریدوفروخت کی اجازت دی ہے۔
3 ۔یعنی اس کے مالک نے اسے خریدوفروخت سے روک دیاہے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،الباب الأول فی تعریفھاورکنھا،ج۳،ص۲۹۵.
اگرچہ اُس کے ولی نے بھی منظور کر لیا ہو۔
(۶) محتال علیہ کا قبول کرنا۔ یہ ضرور نہیں کہ اُسی مجلس حوالہ ہی میں اس نے قبول کیا ہو بلکہ اگر وہاں موجود نہیں ہے مگر جب خبر ملی اس نے منظور کر لیا صحیح ہو گیا یہ ضرور نہیں کہ محیل کا اس کے ذمہ دَین ہو ۔ہویا نہ ہو جب قبول کر لے گا صحیح ہو جائے گا۔
(۷) جس چیز کا حوالہ کیا گیا ہو وہ دَین لازم ہو۔ عین کا حوالہ یا دَین غیر لازم مثلاً بدلِ کتابت کا حوالہ صحیح نہیں خلاصہ یہ کہ جس دَین کی کفالت نہیں ہو سکتی اُس کا حوالہ بھی نہیں ہو سکتا۔ (1)
مسئلہ ۴: محتال علیہ نے دوسرے پر حوالہ کر دیا اور تمام شرائط پائے جاتے ہوں یہ حوالہ بھی صحیح ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: دَین مجہول کا حوالہ صحیح نہیں مثلاً یہ کہہ دیا کہ جو کچھ تمھارا فلاں کے ذمہ مطالبہ ثابت ہو اُس کو میں نے اپنے اوپر حوالہ کیا یہ صحیح نہیں۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مالِ غنیمت دارالاسلام میں لا کر جمع کر دیا گیا ہے مگر ابھی اُس کی تقسیم نہیں ہوئی غازی نے دَین لے کر اپنا کام چلایا اور دائن کو بادشاہ پر حوالہ کر دیا کہ غنیمت سے جو میرا حصہ ملے اتنا اس شخص کو دیا جائے یہ حوالہ صحیح ہے۔ یوہیں جو شخص جائداد موقوفہ کی آمدنی کا حقدار ہے اُس نے قرض لیا اور متولی(4) پر دائن کو حوالہ کر دیا کہ میرے حصہ کی آمدنی سے اس کا دَین ادا کیا جائے یہ حوالہ بھی صحیح ہے۔ (5)(ردالمحتار) یوہیں ملازم پر دَین ہے جس کے یہاں نوکر ہے اُس پر حوالہ کر دیا کہ میری تنخواہ سے اس کا دَین ادا کر دیا جائے صحیح ہے۔
مسئلہ ۷: جب حوالہ صحیح ہو گیا محیل یعنی مدیون دَین سے بری ہو گیا جب تک دَین کے ہلاک ہونے کی صورت پیدا نہ ہو محیل کو دَین سے کوئی تعلق نہ رہا۔ دائن کو یہ حق نہ رہا کہ اس سے مطالبہ کرے۔ اگر محیل مر جائے محتال اُس کے ترکہ سے دَین وصول نہیں کر سکتا البتہ ورثہ سے کفیل لے سکتا ہے کہ دَین ہلاک ہونے کی صورت میں ترکہ سے دَین وصول ہو سکے۔ دائن محیل کو معاف کرنا چا ہے معاف نہیں کر سکتا نہ دَین اُسے ہبہ کر سکتا ہے کہ اُس کے ذمہ دَین ہی نہ رہا۔ مشتری نے بائع کو ثمن کا حوالہ کسی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،الباب الأول فی تعریفھاورکنھا،ج۳،ص۲۹۵-۲۹۶.
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحوالۃ،ج۸،ص۱۰.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔مال وقف کی نگرانی کرنے والا۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب الحوالۃ،مطلب:فی حوالۃ الغازی وحوالۃ المستحق من الوقف،ج۸،ص۱۱.
دوسرے پر کر دیا بائع مبیع کو روک نہیں سکتا۔ راہن(1)نے مرتہن(2)کو دوسرے پر حوالہ کر دیا مرتہن رہن کو روکنے کا حقدار نہ رہا یعنی رہن واپس کرنا ہو گا۔ عورت نے مہر معجل کا مطالبہ کیا تھا شوہر نے حوالہ کر دیا عورت اپنے نفس کو نہیں روک سکتی۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: اگر دَین ہلاک ہونے کی صورت پیدا ہو گئی تو محتال محیل سے مطالبہ کریگا اور اس سے دَین وصول کریگا دَین ہلاک ہونے کی دو صورتیں ہیں۔a محتال علیہ نے حوالہ ہی سے انکار کر دیا اور گواہ نہ محیل کے پاس ہیں نہ محتال کے پاس محتال علیہ پر حلف دیا گیا اُس نے قسم کھالی کہ میں نے حوالہ نہیں قبول کیا ہے۔ b محتال علیہ مفلسی(4)کی حالت میں مر گیا نہ اُس کے پاس عین ہے نہ دَین جس سے مطالبہ ادا ہو سکے نہ اُس نے کوئی کفیل چھوڑا ہے کہ کفیل سے ہی رقم وصول کی جائے۔(5) (ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ ۹: محتال علیہ کے مرنے کے بعد محیل و محتال میں اختلاف ہوا محتال کہتا ہے اُس نے کچھ نہیں چھوڑا ہے اور محیل کہتا ہے ترکہ چھوڑمرا ہے محتال کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے یعنی یہ قسم کھائے گا کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ ترکہ چھوڑ مرا ہے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: محتال علیہ نے محیل سے یہ مطالبہ کیا کہ تمھارے حکم سے میں نے تم پر جو دَین تھا ادا کر دیا لہٰذا وہ رقم مجھے دے دو محیل نے جواب میں یہ کہا کہ میں نے تم پر حوالہ اس لیے کیا تھا کہ میرا دَین تمھارے ذمہ تھا لہٰذا میرے ذمہ مطالبہ نہیں رہا۔ اس صورت میں محتال علیہ(7)کا قول معتبر ہے کیوں کہ محیل نے حوالہ کا اقرار کر لیا اور حوالہ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ محیل کا محتال علیہ کے ذمہ باقی ہو۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: محیل نے محتال سے یہ کہا کہ میں نے تمھیں فلاں پر حوالہ اس لیے کیا تھا کہ اُس چیز پر میرے لیے قبضہ کرو یعنی یہ حوالہ بمعنیٰ وکالت ہے محتال جواب میں یہ کہتا ہے کہ یہ بات نہیں بلکہ تمھارے ذمہ میرا دَین تھا اس لیے تم نے حوالہ کیا تھا اس صورت میں محیل کا قول معتبر ہے کہ وہی منکر ہے۔ (9)(درمختار)
1 ۔گروی رکھنے والا۔ 2 ۔جس کے پاس چیز گروی رکھی جائے۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحوالۃ،مطلب:فی حوالۃ الغازی وحوالۃ المستحق من الوقف،ج۸،ص۱۲.
4 ۔ناداری ،محتاجی۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الحوالۃ،ج۲،ص۹۹،۱۰۰،وغیرہ.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحوالۃ،ج۸،ص۱۵.
7 ۔بہار شریعت کے نسخوں میں اس مقام پر ''محتال'' مذکور ہے ،جو کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ درمختارمیں اس مقام پر''محتال '' نہیں بلکہ''محتال علیہ '' ذکرہے، اسی وجہ سے ہم نے تصحیح کردی ہے ۔...عِلْمِیہ
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحوالۃ،ج۸،ص۱۶.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحوالۃ،ج۸،ص۱۶.
مسئلہ ۱۲: حوالہ کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) مُطلَقہ (۲) مقیدہ۔
مطلقہ کا مطلب یہ ہے کہ اُس میں یہ قید نہ ہو کہ امانت یا دَین جو تم پر ہے اُس سے اس دَین کو ادا کرنا۔ مقیدہ میں اسی قسم کی قید ہوتی ہے۔ حوالہ اگر مطلقہ ہو اور فرض کرو محیل(1)کا دَین یا امانت محتال علیہ(2)کے پاس ہے تو محتال(3) کا حق اُس مخصوص مال کے ساتھ متعلق نہیں بلکہ محتال علیہ کے ذمہ کے ساتھ متعلق ہو گا یعنی محیل اپنا دَین یا ودیعت(4)محتال علیہ سے لے لے توحوالہ باطل نہ ہوگا ۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: محیل پر دَین غیر میعادی ہے یعنی فوراً واجب الادا ہے اس کا حوالہ کر دیا تو محتال علیہ پر فوراً ادا کرنا واجب ہے اور محیل پر دَین میعادی ہے مثلاً ایک سال کی میعاد ہے اس کا حوالہ کیا اور محتال علیہ کے لیے بھی ایک سال کی میعاد ذکر کر دی گئی تو محتال علیہ کے لیے بھی میعاد ہو گئی اور اس صورت میں اگر حوالہ کے اندر میعاد کا ذکر نہ ہوا جب بھی حوالہ میعادی ہے جس طرح میعادی دَین کی کفالت کرنے سے کفیل کے لیے بھی میعاد ہو جاتی ہے اگرچہ کفالت میں میعاد کا ذکر نہ ہو۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: محیل پر میعادی دَین تھا اُس کا حوالہ کر دیا اور محیل مر گیا تو محتال علیہ پر اب بھی میعادی ہے محیل کے مرنے سے میعاد ساقط نہ ہو گی اور محتال علیہ مر گیا تو میعاد جاتی رہی اگرچہ محیل زندہ ہو۔ ہاں اگر محتال علیہ مفلس مرا کچھ ترکہ اُس نے نہیں چھوڑا تو محیل کی طرف دَین رجوع کریگا اور وہ میعاد بھی ہو گی جو پہلے تھی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: محیل پر دَین غیر میعادی تھا مثلاً قرض اس کا حوالہ کیا اور محتال علیہ نے کوئی میعاد حوالہ میں ذکر کی تو یہ میعادی ہو گیا اندرون میعاد مطالبہ نہیں ہو سکتا مگر محتال علیہ اگر نادار ہو کر مرا پھر محیل کی طرف دَین رجوع کریگا اور غیرمیعادی ہو گا۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: زید کے ہزار روپے عمرو پر واجب الادا ہیں اور عمرو کے بکر پر ہزار روپے واجب الادا ہیں عمرو نے زید کو بکر پر حوالہ کر دیا کہ تمھارے ذمہ جو میرے روپے واجب الادا ہیں وہ زید کو ادا کر دو یہ حوالہ صحیح ہے پھر اگر زید نے بکر کو مثلاً ایک سال کی میعاد دے دی تو عمرو بکر سے اپنا روپیہ وصول نہیں کر سکتا اور اگر میعاد دینے کے بعد زید نے بکر کو حوالہ کی رقم سے بری کر دیا تو عمرو اپنادَین بکر سے وصول کر سکتا ہے۔(9) (خانیہ)
1 ۔ مقروض۔ 2 ۔مقروض قرض کی ادائیگی جس کے ذمے ڈال دے وہ محتال علیہ ہے۔
3 ۔قرض دینے والا ۔ 4 ۔امانت۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،الباب الثانی فی تقسیم الحوالۃ،ج۳،ص۲۹۷.
6 ۔المرجع السابق،ص۲۹۸. 7 ۔المرجع السابق .
8 ۔المرجع السابق .
9 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الکفالۃوالحوالۃ،مسائل الحوالۃ،ج۲،ص۱۷۹.
مسئلہ ۱۷: زید کے عمرو پر ہزار روپے واجب الادا ہیں اور زید نے اپنے دائن کو عمرو پر حوالہ کر دیا کہ ایک سال میں عمرو اُس کو روپے دے دے مگر زید نے خود سال کے اند ر دَین ادا کر دیا تو عمرو سے اپنے روپے ابھی وصول کر سکتا ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: نابالغ کا کسی کے ذمہ دَین تھا اُس نے حوالہ کر دیا اور اس میں کوئی میعاد مقرر ہوئی اُس نابالغ کے باپ یا وصی نے حوالہ قبول کر لیا یہ ناجائز ہے یعنی جبکہ نابالغ کو وہ دَین میراث میں ملا ہو اور اگر باپ یا وصی نے اس نابالغ کے لیے کوئی عقد کیا ہو اس کا دَین ہو تو اس میں میعاد مقرر کرنا جائز ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: حوالہ کا روپیہ جب تک محتال علیہ ادا نہ کر لے محیل سے وصول نہیں کر سکتا اور اگر محتال لہ نے محتال علیہ کو قید کرا دیا تو یہ محیل کو قید کرا سکتا ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: محتال علیہ نے محتال لہ(4) کوادا کر دیا یا محتال لہ نے محتال علیہ کو ہبہ کر دیا(5)یا صدقہ کر دیا یا محتال لہ مر گیا اور محتال علیہ اُس کا وارث ہے تومحیل سے وصول کر سکتا ہے اور اگر محتال لہ نے محتال علیہ کو دَین سے بری کر دیا(6)بری ہو گیا اور محیل سے وصول نہیں کر سکتا۔ اور اگر محتال لہ نے یہ کہہ دیا کہ میں نے دَین تمھارے لیے چھوڑ دیا تو محیل سے وصول کر سکتا ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: مدیون نے ایسے شخص پر حوالہ کیا جس پر مدیون کا دَین نہیں ہے اور کسی اجنبی شخص نے محتال علیہ کی طرف سے دَین ادا کر دیا تو محتال علیہ محیل سے وصول کر سکتا ہے اور اگرمحیل کا محتال علیہ پر دَین تھا اور حوالہ کر دیا اور اجنبی نے محیل کی طرف سے دَین ادا کر دیا تو محیل محتال علیہ سے اپنا دَین وصول کر سکتا ہے اور اگر محیل یہ کہتا ہے کہ اُس نے میری طرف سے دَین ادا کیا ہے اور محتال علیہ کہتا ہے میری طرف سے ادا کیا ہے اور فضولی نے ادا کے وقت کچھ ظاہر نہیں کیا تھا تو اُس فضولی سے دریافت کیا جائے کہ کس کی طرف سے ادا کیا تھا جو وہ کہے اُس کا اعتبار کیا جائے۔ اور اگر وہ فضولی مر گیا یا اُس کا پتا ہی نہیں ہے کہ اُس سے دریافت ہو سکے تو محتال علیہ کی طرف سے دَین ادا کرنا قرار دیا جائے۔(8) (خانیہ)
مسئلہ ۲۲: محتال علیہ نے ادا کر دیا تو جس مال کا حوالہ ہوا وہ محیل سے وصول کریگا وہ نہیں جو اُس نے ادا کیا مثلاًروپیہ کا حوالہ ہوا اور اس نے اشرفیاں ادا کیں یا اس کا عکس ہوا یا روپے کی جگہ کوئی سامان محتال لہ کو دیا تو وہ چیز دینی ہو گی جس کا حوالہ ہوا۔ اورمحتال علیہ و محتال لہ میں مصالحت ہو گئی اگر اُسی قسم کی چیز پر مصالحت ہوئی جو واجب تھی یعنی جتنی دینی لازم تھی اُس
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،الباب الثانی فی تقسیم الحوالۃ،ج۳،ص۲۹۸.
2 ۔المرجع السابق. 3 ۔المرجع السابق.
4 ۔یعنی قرض دینے والے۔ 5 ۔یعنی دے دیا۔ 6 ۔قرض معاف کر دیا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،الباب الثانی فی تقسیم الحوالۃ،ج۳،ص۲۹۸.
8 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الکفالۃوالحوالۃ،مسائل الحوالۃ،ج۲،ص۱۷۹.
سے کم پر مصالحت ہوئی مثلاً سو روپے کی جگہ اسی۸۰پر صلح ہوئی یعنی بیس معاف کر دیئے تو جتنے دیے محیل سے اُتنے ہی وصول کر سکتا ہے اور اگر خلاف جنس پر مصالحت ہوئی مثلاً سو روپے کی جگہ دو اشرفیوں پر صلح ہوئی تو محتال علیہ محیل سے سو روپے وصول کر سکتا ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: حوالہ مقیدہ کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ محیل کا دَین محتال علیہ کے ذمہ ہے اُس دَین کے ساتھ حوالہ کو مخصوص کیا دوسری یہ کہ محتال علیہ(2) کے پاس محیل(3)کی عین شے ہے اُس سے مقید کیا مثلاًمحیل نے اُس کے پاس روپے وغیرہ کوئی چیز امانت رکھی ہے یا اُس نے محیل کی کوئی چیز غصب کر لی ہے اس نے حوالہ میں یہ ذکر کر دیا کہ امانت یا غصب کے روپے سے محتال علیہ دَین ادا کر دے۔ حوالہ مقیدہ کا حکم یہ ہے کہ محیل اپنا دَین یا امانت یا مغصوب شے (4)حوالہ کے بعد محتال علیہ سے نہیں لے سکتا اور اگر اُس نے محیل کو دے دیا تو ضامن ہے اُس کو اپنے پاس سے دینا پڑے گا اور اس صورت میں کہ محیل نے اپنا مال اُس سے وصول کر لیا اور محتال لہ(5) نے بھی بربنا ئے حوالہ اس سے وصول کیا محتال علیہ محیل سے یہ رقم لے سکتا ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: حوالہ مقید بہ امانت تھا اور وہ امانت اس کے پاس سے ضائع ہو گئی حوالہ بھی باطل ہو گیا محتال علیہ بری ہو گیا اور دَین محیل کے ذمہ لوٹ آیا اور اگر حوالہ میں مغصوب کی قید تھی یعنی محتال علیہ نے محیل کی چیز غصب کی ہے اُس سے دَین وصول کرنے کو حوالہ کیا اور مغصوب شے غاصب کے پاس سے ہلاک ہو گئی حوالہ بدستور باقی ہے اب بھی محتال علیہ کو دَین ادا کرنا لازم ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: حوالہ مقیدبدَین یا مقید بعین تھا اور محیل مر گیا اور اُس پر اس دَین کے علاوہ اور دیون بھی ہیں مگر سوا اُس دین کے جو محتال علیہ کے ذمہ ہے یا اُس عین کے جو محتال علیہ کے پاس ہے کوئی چیز نہیں چھوڑی تو وہ دَین یا عین تنہا محتال لہ کے لیے مخصوص نہ ہو گا بلکہ دیگر قرض خواہ بھی اُس میں حقدار ہیں سب پر بقدر حصہ رسد(8) تقسیم ہو گا۔(9) (عالمگیری، درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،الباب الثانی فی تقسیم الحوالۃ،ج۳،ص۲۹۹.
2 ۔اپنے قرض کی ادائیگی جس کے ذمے ڈال دے وہ محتال علیہ ہے۔3 ۔اپنے قرض کی ادائیگی دوسرے کے ذمے ڈالنے والایعنی مقروض۔
4 ۔غصب کی گئی چیز۔ 5 ۔یعنی دائن ،قرض دینے والا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،الباب الثانی فی تقسیم الحوالۃ،ج۳،ص۲۹۹.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحوالۃ،ج۸،ص۱۷.
8 ۔یعنی جتنا جتنا حصے میں آئے اُس کے مطابق۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،الباب الثانی فی تقسیم الحوالۃ،ج۳،ص۳۰۰.
و''الدرالمختار''،کتاب الحوالۃ،ج۸،ص۱۸.
مسئلہ ۲۶: حوالہ مقید بودیعت تھا محیل بیمار ہو گیا اور محتال علیہ نے ودیعت محتال لہ کو دے دی اس کے بعد محیل کا انتقال ہو گیا اور اس کے ذمہ دیگر دیون(1) بھیہیں امین سے دوسرے قرض خواہ تاوان نہیں لے سکتے مگر ودیعت تنہا محتال لہ کو نہیں ملے گی بلکہ دوسرے قرض خواہ بھی اُس میں شریک ہوں گے اور اگر محتال علیہ کے پاس ودیعت نہیں ہے بلکہ محیل کا اُس کے ذمہ دَین ہے اور حوالہ اس دَین کے ساتھ مقید کیا تھا اور محتال علیہ کے ادا کرنے سے پہلے محیل بیمار ہو گیا اب محتال علیہ نے محتال لہ کو ادا کر دیا اور محیل مر گیا اور اُس کے ذمہ دیگر دیون بھی ہیں اور اُس دَین کے علاوہ جو محتال علیہ کے ذمہ تھا محیل نے کوئی ترکہ نہیں چھوڑا تو محتال لہ جو وصول کر چکا وہ تنہا اُسی کا ہے دیگر غرما اس میں شریک نہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: حوالہ مقید بہ امانت تھا اور محتال علیہ نے امانت سے دَین نہیں ادا کیا بلکہ اپنے روپے دَین میں دیے اور امانت کے روپے اپنے پاس رکھ لیے تو یہ دَین ادا کرنا تبرع نہیں قرار پائے گا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: حوالہ مقید بہ ثمن تھا یعنی محیل نے محتال علیہ کے ہاتھ کوئی چیز بیع کی تھی جس کا ثمن باقی تھا اس مشتری پر اپنے دَین کا حوالہ کر دیا کہ محتال لہ ثمن وصول کرے مگر مشتری نے خیارِ رویت،خیارِ شرط کی وجہ سے بیع فسخ کر دی یا خیار عیب کی وجہ سے قبل قبضہ فسخ کی یا بعد قبضہ قضائے قاضی سے فسخ ہوئی یا مبیع قبل قبضہ ہلاک ہو گئی ان سب صورتوں میں مشتری کے ذمہ ثمن باقی نہ رہا جب بھی حوالہ بدستور باقی ہے۔ اور اگر مبیع میں کوئی دوسرا حقدار نکلا یا ظاہر ہوا کہ مبیع غلام نہیں ہے بلکہ حُر (4)ہے یا دَین کے ساتھ حوالہ کو مقید کیا تھا اور اُس کا کوئی مستحق ظاہر ہوا تو ان صورتوں میں حوالہ باطل ہو جائے گا۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: ایک شخص نے کوئی چیز خریدی اور بائع کو ثمن وصول کرنے کے لیے کسی شخص پر حوالہ کر دیا پھر مشتری نے مبیع میں کوئی عیب پایا اور قاضی کے حکم سے بائع کو واپس کر دی تو مشتری بائع سے ثمن واپس نہیں لے سکتا جبکہ بائع یہ کہتا ہو کہ میں نے ثمن وصول نہیں کیا ہے ہاں بائع اُس محتال علیہ پر حوالہ کر دے گا۔ (6)(خانیہ)
مسئلہ ۳۰: ایک شخص پر دَین ہے دوسرا اس کا کفیل (7)ہے کفیل نے طالب کو ایک تیسرے شخص پر حوالہ کر دیا اُس نے قبول
1 ۔ دَین کی جمع ، قرض۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الحوالۃ،الباب الثانی فی تقسیم الحوالۃ،ج۳،ص۳۰۰.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔آزاد ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،الباب الثانی فی تقسیم الحوالۃ،ج۳،ص۳۰۰.
6 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الکفالۃوالحوالۃ،مسائل الحوالۃ،ج۲،ص۱۸۰.
7 ۔ضامن۔
کر لیا اصیل(1)و کفیل دونوں بری ہوگئے اور محتال علیہ مفلس(2)مراتواصیل و کفیل دونوں کی طرف معاملہ لوٹے گا۔(3)(خانیہ، عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: ایک شخص پر حوالہ کیا کہ وہ اپنے مکان کے ثمن سے دَین ادا کریگا محتال علیہ اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا کہ گھر بیچ کر دَین ادا کرے البتہ جب مکان بیع کریگا تو دَین ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: ایک شخص کے ہاتھ کوئی چیز بیع کی اور یہ شرط کر دی کہ بائع اپنے قرض خواہ کو مشتری پر حوالہ کر دے گا کہ ثمن سے دَین ادا کرے یہ بیع فاسد ہے اور حوالہ بھی باطل اور اگر یہ شرط کی ہے کہ مشتری ثمن کا کسی اور پر حوالہ کر دے گا یہ بیع صحیح ہے اور حوالہ بھی صحیح۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: حوالہ فاسدہ میں اگر محتال علیہ نے دَین ادا کر دیا تو اُسے اختیار ہے محتال لہ سے واپس لے یا محیل سے وصول کرے مثلاً یہ حوالہ کہ محیل کے مکان کو بیع کر کے ثمن سے دَین ادا کریگا اور محیل نے اس کی اجازت نہ دی ہو یہ حوالہ فاسد ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۳۴: ایک شخص نے دوسرے کی کفالت کی اور یہ شرط ہو گئی کہ اصیل بری ہے یہ حقیقت میں حوالہ ہے اور حوالہ میں یہ شرط قرار پائی کہ اصیل سے بھی مطالبہ کریگا تو یہ کفالت ہے دائن نے مدیون پر کسی کو حوالہ کر دیا اور محتال لہ کا دائن پر دَین نہیں ہے یہ حقیقت میں وکالت ہے حوالہ نہیں۔ ایک شخص نے دوسرے کو کسی پر حوالہ کر دیا کہ اس سے اتنے من غلہ لے لینا اور محتال علیہ نے قبول کر لیا مگر حقیقت میں نہ محیل کا محتال علیہ پر کچھ ہے نہ محتال لہ کا محیل پر تو محتال علیہ پر کچھ دینا واجب نہیں۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: آڑھت(8) میں غلہ وغیرہ ہر قسم کی چیز بیچنے والے لا کر جمع کر دیتے ہیں اور خریدنے والے آڑھت والے سے خریدتے ہیں اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ خریدار سے ابھی دام وصول نہیں ہوئے اور بیچنے والے اپنے وطن کو واپس جانا
1 ۔جس شخص پر مطالبہ ہے یعنی مقروض۔ 2 ۔نادارو محتاج ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،الباب الثانی فی تقسیم الحوالۃ،ج۳،ص۳۰۱.
و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الکفالۃوالحوالۃ،مسائل الحوالۃ،ج۲،ص۱۷۹.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،الباب الثانی فی تقسیم الحوالۃ،ج۳،ص۳۰۲.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحوالۃ،مطلب:فی حوالۃالغازی...إلخ،ج۸،ص۱۹.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحوالۃ،ج۸،ص۱۹.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،مسائل شتی،ج۳،ص۳۰۵.
8 ۔وہ مکان یا دُکان جہاں سوداگروں کا مال کمیشن لیکر بیچاجاتا ہے۔
چاہتے ہیں آڑھت والے اپنے پاس سے دام دے دیتے ہیں خریدار سے وصول ہو گا تو رکھ لیں گے یہاں اگرچہ بظاہر حوالہ نہیں مگر اس کو حوالہ ہی کے حکم میں سمجھنا چاہیے یعنی بائع نے آڑھتی(1)سے قرض لیا اور مشتری پر حوالہ کر دیا کہ اُس سے وصول کر لے لہٰذا اگر آڑھتی کو مشتری سے دَین وصول نہ ہو سکا کہ وہ مفلس مرا تو آڑھتی بائع سے اُس روپیہ کو وصول کر سکتا ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: مدیون نے دائن کو کسی پر حوالہ کر دیا اس شرط پر کہ محتال لہ(3)کو خیار حاصل ہے یہ حوالہ جائز ہے اور محتال لہ کو اختیار ہے کہ حوالہ کو نافذ کرے محتال علیہ(4)سے وصول کرے یا خود محیل(5)سے وصول کرے۔ یوہیں اگر یوں حوالہ کیا کہ محتال لہ جب چاہے محیل پر رجوع کرے یہ حوالہ بھی جائز ہے اور اُسے اختیار ہے جس سے چاہے وصول کرے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: عقد حوالہ میں میعاد نہیں ہو سکتی ہاں جس دَین کا حوالہ ہو اُس کے لیے میعاد ہو سکتی ہے یعنی انتقال دَین(7) تو ابھی ہو گیا مگر مطالبہ میعاد پر ہو گا۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۳۸: ہُنڈی بھی حوالہ ہی کی ایک قسم ہے اس کی صورت یہ ہے کہ تاجر کو روپیہ بطورِ قرض دیتے ہیں کہ وہ اس کو دوسرے شہر میں ادا کر دے گا یا اس کے کسی دوست یا عزیز کو دوسرے شہر میں دے دے گا مثلاً اُس تاجر کی دوسرے شہر میں دوکان ہے وہاں لکھ دے گا اس کو یا اس کے عزیز کو وہاں قرض کا روپیہ وصول ہو جائے گا۔ قرض کے طور پر دینے سے مقصود یہ ہے کہ اگر امانت کہہ کر دیتا ہے تو وہی روپیہ بعینہ اُس کو پہنچایا جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ راستہ میں ضائع ہو جائے اور دینے والے کا نقصان ہو کیوں کہ امانت میں تاوان نہیں لیا جا سکتا اس نفع کی خاطر قرض دیتا ہے لہٰذا یہ مکروہ تحریمی ہے کہ قرض سے ایک نفع حاصل کرنا ہے۔ اور اگر قرض میں دوسری جگہ دینے کی شرط نہ ہو مثلاً اس کا قرض اُس کے ذمہ تھا اُس سے کہا فلاں جگہ کے لیے حوالہ لکھ دو اُس نے لکھ دیا یہ ناجائز نہیں۔ ہنڈی کی یہ صورت بھی ہے کہ دوکاندار دوسرے شہر میں مال لینے جاتا ہے اگر ساتھ میں روپیہ لے جاتا ہے تو ضائع ہونے کا اندیشہ ہے یا اس وقت روپیہ موجود نہیں ہے وہاں مال خریدکر ہُنڈی لکھ دیتا ہے جب یہاں ہُنڈی پہنچتی ہے
1 ۔کمیشن پر مال بیچنے والا،کمیشن ایجنٹ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،مسائل شتی،ج۳،ص۳۰۵.
3 ۔یعنی قرض دینے والا۔ 4 ۔مقروض قرض کی ادائیگی جس کے سپرد کرے وہ محتال علیہ ہے۔
5 ۔اپنے قرض کی ادائیگی دوسرے کے سپردکرنے والایعنی مقروض۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الحوالۃ،مسائل شتی،ج۳،ص۳۰۵.
7 ۔قرض کی منتقلی۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحوالۃ،ج۸،ص۲۰.
روپیہ ادا کر دیا جاتا ہے اکثر یہ ہُنڈی میعادی ہوتی ہے(1) اور کبھی غیر میعادی بھی ہوتی ہے مگر اس میں سود کی ایک رقم شامل ہوتی ہے اس کے حرام ہونے میں کیا شبہ ہے۔
مسئلہ ۳۹: محیل محتال لہ کا وکیل بن کر حوالہ کا روپیہ وصول کرنا چاہتا ہے یہ صحیح نہیں اگر محتال علیہ اسے دینے سے انکار کرے تو دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ (2)(درمختار)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّ نُوْرٌ یَّحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ ) (3)
''ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت و نور ہے اُس کے موافق انبیاء حکم کرتے رہے'' ۔
پھر فرمایا:
وَمَنۡ لَّمْ یَحْکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۴﴾ (4)
''جو لوگ خدا کے اُتارے ہوئے پر حکم نہ کریں وہ کافر ہیں'' ۔
پھر فرمایا:
وَمَنۡ لَّمْ یَحْکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾ (5)
''جو لوگ خدا کے اُتارے ہوئے پر حکم نہ کریں وہ ظالم ہیں'' ۔
پھر فرمایا:
وَمَنۡ لَّمْ یَحْکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۷﴾ (6)
''جو لوگ خدا کے اُتارے ہوئے کے موافق حکم نہ کریں وہ فاسق ہیں'' ۔
پھر فرمایا:
1 ۔یعنی اس کا وقت مقرر ہوتاہے۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الحوالۃ،ج۸،ص۲۲.
3 ۔پ۶،المائدۃ :۴۴.
4 ۔پ۶،المائدۃ :۴۴.
5 ۔پ۶،المائدۃ :۴۵.
6 ۔پ۶،المائدۃ :۴۷.
( وَ اَنِ احْکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہۡوَآءَہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اَنۡ یَّفْتِنُوۡکَ عَنۡۢ بَعْضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ اِلَیۡکَ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ اَنۡ یُّصِیۡبَہُمۡ بِبَعْضِ ذُنُوۡبِہِمْ ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۹﴾ ) (1)
''تم حکم کرو اُن کے مابین اُس کے موافق جو خدا نے نازل کیا اور اُنکی خواہشوں کی پیروی نہ کرو اور اُن سے بچتے رہو کہ کہیں تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں بعض اُن چیزوں سے جو خدا نے تمھاری طرف اُتاری اور اگر وہ اعراض کریں تو جان لو کہ خدا اُنکے بعض گناہوں کی سزا اُن کو پہنچانا چاہتا ہے اور بیشک بہت سے لوگ فاسق ہیں کیا وہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اﷲ (عزوجل) سے بڑھ کر یقین والوں کے لیے کون حکم دینے والا ہے'' ۔
اور فرمایا:
(فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۶۵﴾ ) (2)
''تمھارے رب کی قسم وہ مومن نہ ہوں گے جب تک تم کو حکم نہ بنائیں اُس چیز میں جس میں اُن کے مابین اختلاف ہے پھر جو کچھ تم نے فیصلہ کر دیا اُس سے اپنے دل میں تنگی نہ پائیں اور اُسے پورے طور پر تسلیم نہ کریں'' ۔
اور فرماتا ہے:
( اِنَّاۤ اَنۡزَلْنَاۤ اِلَیۡکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىکَ اللہُ ؕ وَلَا تَکُنۡ لِّلْخَآئِنِیۡنَ خَصِیۡمًا ﴿۱۰۵﴾ۙ ) (3)
'' ہم نے تمھاری طرف حق کے ساتھ کتاب اُتاری تاکہ لوگوں کے درمیان اُس کے ساتھ فیصلہ کرو جوخدا نے تمھیں دکھایا اور خیانت کرنے والوں کے لیے جھگڑا نہ کرو''۔
حدیث ۱: امام احمد بن حنبل نے ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ''چھ دن بعد تم سے جو کچھ کہا جائے اُسے اپنے ذہن میں رکھنا ساتویں دن یہ ارشاد فرمایا کہ میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ 1 باطن و ظاہر میں اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور2 جب تم سے کوئی برا کام ہو جائے تو نیکی کرنا اور 3 کسی سے کوئی چیز طلب نہ
1 ۔پ۶،المائدۃ : ۴۹،۵۰.
2 ۔پ۵،النساء :۶۵.
3 ۔پ۵،النساء :۱۰۵.
کرنا اگرچہ تمھارا کوڑا (1)گر جائے یعنی تم سواری پر ہو اور کوڑا گرجائے تو یہ بھی کسی سے نہ کہنا کہ اُٹھا دے 4کسی کی امانت اپنے پاس نہ رکھنا اورe دو شخصوں کے مابین فیصلہ نہ کرنا ''۔(2)
حدیث ۲: امام احمد و ابن ماجہ اور بیہقی شعب الایمان میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جو شخص لوگوں کے مابین حکم(3)کرتا ہے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ فر شتہ اُس کی گدی(4)پکڑے ہو گا پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھائے گا (ا س انتظار میں کہ اس کے لیے کیا حکم ہوتا ہے) اگر یہ حکم ہو گا کہ ڈال دے تو ایسے گڑھے میں ڈالے گا کہ چالیس برس تک گرتا ہی رہے گا یعنی چالیس برس میں تہ تک پہنچے گا'' ۔(5)
حدیث ۳: امام احمد ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''قاضی عادل قیامت کے دن تمنا کریگا کہ دو شخصوں کے درمیان ایک پھل کے متعلق بھی فیصلہ نہ کیے ہوتا'' ۔(6)
حدیث ۴: ترمذی نے روایت کی کہ عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا کرو (عہدہ قضا کو قبول کرو) اُنھوں نے عرض کی امیر المومنین آپ مجھے معافی دیں فرمایا کہ اس کو ناپسند کیوں رکھتے ہو تمھارے والد فیصلہ کیا کرتے تھے عرض کی اس لیے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ فرماتے تھے :''جو قاضی ہو اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرے اُس کے لیے لائق یہ ہے کہ برابر واپس ہو'' یعنی جس حالت میں تھا ویسا ہی رہ جائے یہی غنیمت ہے۔ (7)
حدیث ۵: امام احمد و ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :''جو لوگوں کے مابین قاضی بنایا گیا وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا''۔ (8)
حدیث ۶: ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جو قضا کا طالب ہو اور اس کی درخواست کرے وہ اپنے نفس کی طرف سپرد کر دیا جائے گا اور جس کو مجبور کر کے قاضی بنایا جائے اﷲ تعالیٰ اُس
1 ۔چابک۔
2 ۔ ''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،حدیث ابي ذرالغفاري،الحدیث:۲۱۶۲۹،۲۱۶۳۰،ج۸،ص۱۳۷.
3 ۔یعنی فیصلہ ۔ 4 ۔گردن کا پچھلا حصہ۔
5 ۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأحکام،باب التغلیظ فيالحیف...إلخ،الحدیث:۲۳۱۱،ج۳،ص۹۱.
6 ۔''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنھا،الحدیث:۲۴۵۱۸،ج۹،ص۳۵۱.
7 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأحکام، باب ماجاء عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في القاضی،الحدیث:۱۳۲۶،ج۳،ص۶۰.
8 ۔ ''سنن ابي داو،د''،کتاب الأقضیۃ، باب في طلب القضاء،الحدیث:۳۵۷۲،ج۳،ص۴۱۷.
کے پاس فرشتہ بھیجے گا جو ٹھیک چلائے گا''۔ (1)
حدیث ۷: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جس نے قضا طلب کی(2)اور اُسے مل گئی پھر اس کا عدل اُس کے جور(3) پر غالب رہا۔ یعنی عدل نے ظلم کرنے سے روکا اُس کے لیے جنت ہے اور جس کاجور عدل پر غالب آیا اُس کے لیے جہنم ہے''۔ (4)
حدیث ۸: صحیح بخاری میں ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ،کہتے ہیں میں اور میری قوم کے دو شخص حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے ایک نے کہا یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مجھے حاکم کر دیجیے اور دوسرے نے بھی ایسا ہی کہا ارشاد فرمایا:'' ہم اُس کو حاکم نہیں بناتے جو اس کا سوال کرے اور نہ اُس کو جو اس کی حرص کرے۔'' (5)
حدیث ۹: سنن ابو داود و ترمذی میں عمرو بن مرّہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا کہ'' اﷲ تعالیٰ امورِ مسلمین(6)میں کوئی کام کسی کو سپرد فرمائے (یعنی اُسے حاکم بنائے) وہ لوگوں کے حوائج و ضرورت و احتیاج میں پردے کے اندر رہے'' یعنی اہل حاجت کی اُس تک رسائی نہ ہو سکے اپنے پاس ارباب حاجت(7) کو آنے نہ دے'' تو اﷲ تعالیٰ اُس کی حاجت و ضرورت و احتیاج میں حجاب فرمائے گا'' یعنی اُس کو اپنی رحمت سے دور فرما دے گا اور ایک روایت میں ہے کہ'' اﷲ تعالیٰ اُس کی حاجت کے وقت میں آسمان کے دروازے بند فرما دے گا ''۔(8)اسی کی مثل ابو داود و ابن سعد و بغوی و طبرانی و بیہقی و ابن عساکر ابی مریم و احمد و طبرانی معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی۔
حدیث ۱۰: بیہقی حضرت عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی جب حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے عمال (حکام) کو بھیجتے اُن پر یہ شرط کرتے کہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہونا اور باریک آٹا یعنی میدہ نہ کھانا اور باریک کپڑے نہ پہننا اور لوگوں
1 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأحکام، باب ماجاء عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في القاضی،الحدیث:۱۳۲۸،ج۳،ص۶۱.
2 ۔یعنی قاضی بننا چاہا۔ 3 ۔یعنی انصاف سے فیصلہ نہ کرنا،ظلم۔
4 ۔''سنن ابي داو،د''،کتاب الأقضیۃ، باب في القاضی یخطیئ،الحدیث:۳۵۷۵،ج۳،ص۴۱۸.
5 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الأحکام، باب مایکرہ من الحرص علی الإمارۃ،الحدیث:۷۱۴۹،ج۴،ص۴۵۶.
6 ۔مسلمانوں کے معاملات۔ 7 ۔حاجت مند لوگ۔
8 ۔''سنن ابي داو،د''،کتاب الخراج والفیئ والإمارۃ،باب فیمایلزم الإمام...إلخ،الحدیث:۲۹۴۸،ج۳،ص۱۸۸.
و''جامع الترمذي''،کتاب الأحکام،باب ماجاء فی إمام الرعیۃ،الحدیث:۱۳۳۷،ج۳،ص۶۴.
کے حوائج(1)کے وقت اپنے دروازے نہ بند کرنا اگرتم نے ان میں سے کسی امر کو کیا تو سزا کے مستحق ہو گے۔ (2)
حدیث ۱۱: ترمذی و ابو داود و دارمی نے معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب ان کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجنا چاہا فرمایا کہ'' جب تمھارے سامنے کوئی معاملہ پیش آئے گا تو کس طرح فیصلہ کرو گے عرض کی کتاب اﷲ سے فیصلہ کروں گا فرمایا اگر کتاب اﷲ میں نہ پاؤ تو کیا کرو گے عرض کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت کے ساتھ فیصلہ کروں گا فرمایا اگر سنت رسول اﷲ میں بھی نہ پاؤ تو کیا کرو گے عرض کی اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اجتہاد کرنے میں کمی نہ کروں گا حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے سینہ پر ہاتھ مارا اور یہ کہا کہ حمد ہے اﷲ (عزوجل) کے لیے جس نے رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے فرستادہ(3) کو اُس چیز کی توفیق دی جس سے رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) راضی ہے۔'' (4)
حدیث ۱۲: ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہتے ہیں جب مجھ کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجنا چاہا میں نے عرض کی، یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مجھے بھیجتے ہیں اور میں نو عمر شخص ہوں اور مجھے فیصلہ کرنا آتا بھی نہیں یعنی میں نے کبھی اس کام کو نہیں کیاہے ارشاد فرمایا :''اﷲ تعالیٰ تمھارے قلب کو رہنمائی کریگا اور تمھاری زبان کو حق پر ثابت رکھے گا۔ جب تمھارے پاس دو شخص معاملہ پیش کریں تو صرف پہلے کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا جب تک دوسرے کی بات سن نہ لو کہ اس صورت میں یہ ہو گا کہ فیصلہ کی نوعیت تمھارے لیے ظاہر ہو جائے گی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی مجھے فیصلہ کرنے میں شک و تر دد نہ ہوا۔'' (5)
حدیث ۱۳: صحیح بخاری شریف میں ہے حسن بصری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''اﷲ تعالیٰ نے حکام کے ذمہ یہ بات رکھی ہے کہ خواہش نفسانی کی پیروی نہ کریں اور لوگوں سے خوف نہ کریں اور اﷲ (عزوجل) کی آیات کو تھوڑے دام کے بدلے میں نہ خریدیں اس کے بعد یہ آیت پڑھی:
(یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیۡفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنۡ
1 ۔لوگوں کی ضروریات۔
2 ۔''شعب الإیمان''،باب فی طاعۃ أولي الأمر،فصل فی فضل الإمام العادل،الحدیث:۷۳۹۴،ج۶،ص۲۴.
3 ۔بھیجا ہوا،قاصد،سفیر۔
4 ۔''سنن أبيداو،د''،کتاب القضائ،باب اجتھاد الرأی في القضاء،الحدیث:۳۵۹۲،ج۳،ص۴۲۴.
5 ۔''سنن أبيداو،د''،کتاب القضاء،باب کیف القضاء،الحدیث:۳۵۸۲،ج۳،ص۴۲۱.
و''جامع الترمذي''،کتاب الأحکام،باب ماجاء في القاضی لایقضي...إلخ،الحدیث:۱۳۳۶،ج۳،ص۶۳.
سَبِیۡلِ اللہِ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا یَوْمَ الْحِسَابِ ﴿٪۲۶﴾ )(1)
''اے داود ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ کیا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرو کہ وہ تم کو اﷲ (عزوجل) کے راستہ سے ہٹا دے گی اور جو اﷲ (عزوجل) کے راستہ سے الگ ہو گئے اُن کے لیے سخت عذاب ہے اس وجہ سے کہ حساب کے دن کو بھول گئے۔''
عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں پانچ باتیں قاضی میں جمع ہونی چاہیے اُن میں کی ایک نہ ہو تو اُس میں عیب ہو گا۔ (۱) سمجھ دار ہو (۲) بردبار ہو (۳) سخت ہو (۴) عالم ہو (۵) علم کی باتوں کا پوچھنے والاہو۔ (2)
حدیث ۱۴: بیہقی نے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ''فریقین مقدمہ کو واپس کر دو تاکہ وہ آپس میں صلح کر لیں کیونکہ معاملہ کا فیصلہ کر دینا لوگوں کے درمیان عداوت(3)پیدا کرتا ہے۔'' (4)
حدیث ۱۵: ابن عساکر و بیہقی روایت کرتے ہیں کہ شعبی کہتے ہیں حضرت عمر اور ابی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے مابین ایک معاملہ میں خصومت تھی حضرت عمر نے فرمایا میرے اور اپنے درمیان کسی کو حکم کر لو(5)۔ دونوں صاحبوں نے زید بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم بنایا اور دونوں ان کے پاس آئے حضرت عمر نے کہا ہم اس لیے تمھارے پاس آئے ہیں کہ ہمارے مابین فیصلہ کردو جب دونوں اُن کے پاس فیصلہ کے لیے پہنچے تو حضرت زید صدر مجلس سے ہٹ گئے اور عرض کی امیر المومنین یہاں تشریف لائیے حضرت عمر نے فرمایا یہ تمھارا پہلا ظلم ہے جو فیصلہ میں تم نے کیا۔ و لیکن میں اپنے فریق کے ساتھ بیٹھوں گا دونوں صاحب اُن کے سامنے بیٹھ گئے۔ ابی بن کعب نے دعویٰ کیا اور حضرت عمر نے اُن کے دعوے سے انکار کیا۔ حضرت زید نے ابی بن کعب سے کہا کہ امیر المومنین کو حلف سے معافی دے دو حضرت عمر نے قسم کھا لی اس کے بعد قسم کھا کر کہا کہ زید کو کبھی فیصلہ سپرد نہ کیا جائے جب تک اُن کے نزدیک عمر اور دوسرا مسلمان برابر نہ ہو یعنی جو شخص مدعی(6)و مدعی علیہ(7)میں اس قسم کی تفریق کرے وہ فیصلہ کا اہل نہیں۔ (8)
1 ۔پ۲۳،ص:۲۶.
2 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الأحکام،باب متی یستوجب الرجل القضائ،ج۴،ص۴۶۰.
3 ۔یعنی دشمنی۔
4 ۔''السنن الکبری''للبیہقي،کتاب الصلح،باب ماجاء فی التحلل...إلخ،الحدیث:۱۳۶۰،ج۶،ص۱۰۹.
5 ۔ثالث مقرر کرلو۔ 6 ۔دعوی کرنے والا۔ 7 ۔جس پر دعوی کیا گیاہے،ملزم۔
8 ۔''السنن الکبری''للبیہقي،کتاب آداب القاضی، باب انصاف الخصمین...إلخ،الحدیث:۲۰۴۶۳،ج۱۰،ص۲۲۹.
حدیث ۱۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوبکرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ''حاکم غصہ کی حالت میں دو شخصوں کے مابین فیصلہ نہ کرے۔''(1)
حدیث ۱۷: صحیح بخاری و مسلم میں عبداﷲ بن عمر و (2)و ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:'' حاکم نے فیصلہ کرنے میں کوشش کی اور ٹھیک فیصلہ کیا اُس کے لیے دو ثواب اور اگر کوشش کر کے (غوروخوض کرکے) فیصلہ کیا اور غلطی ہو گئی اس کو ایک ثواب۔'' (3)
حدیث ۱۸: ابو داود و ابن ماجہ بریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہسے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :''قاضی تین ہیں ایک جنت میں اور دو جہنم میں ،جو قاضی جنت میں جائے گا وہ ہے جس نے حق کو پہچانا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا اور جس نے حق کو پہچانا مگر فیصلہ حق کے خلاف کیا وہ جہنم میں ہے اور جس نے بغیر جانے بوجھے فیصلہ کر دیا وہ جہنم میں ہے ''(4) اسی کی مثل ابن عدی و حاکم نے بھی بریدہ سے اور طبرانی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے راوی۔
حدیث ۱۹: ترمذی و ابن ماجہ عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''قاضی کے ساتھ اﷲ تعالیٰ ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے اور جب وہ ظلم کرتا ہے اﷲ تعالیٰ اُس سے جدا ہو جاتا ہے اور شیطان اُس کے ساتھ ہو جاتا ہے۔'' (5)
حدیث ۲۰: بیہقی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ فرمایا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے: ''قاضی جب اپنے اجلاس میں بیٹھتا ہے دو فرشتے اُترتے ہیں جو اُسے ٹھیک راستہ پر لے چلنا چاہتے ہیں اور توفیق دیتے ہیں اور رہنمائی کرتے ہیں جب تک وہ ظلم نہ کرے اور جب ظلم کرتا ہے تو چلے جاتے ہیں اور اسے چھوڑ دیتے ہیں۔'' (6)
حدیث ۲۱: ابویعلیٰ حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم :''حکام عادل و ظالم سب کو قیامت کے دن
1 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الأحکام،باب ہل یقضی الحاکم او یفتی وہوغضبان،الحدیث:۷۱۵۸،ج۴،ص۴۵۸.
2 ۔بہارشریعت کے نسخوں میں یہاں ایسے ہی مذکورہے جبکہ ''بخاری ومسلم''میں اس حدیث کے راوی حضرت ''عبداللہ بن عمرو'' رضی اللہ تعالی عنہ مذکورنہیں ہیں،بہرحال (مشکوٰۃالمصابیح،کتاب الامارۃوالقضائ،باب العمل فی القضائ... إلخ،ج۲،ص۱۴)میں یہ حدیث بخاری ومسلم کے حوالے سے ایسے ہی یعنی حضرت عبداللہ بن عمرواورحضرت ابوھریرۃرضی اللہ تعالی عنھماسے مروی ہے ۔...عِلْمِیہ
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الإعتصام،باب اجر الحاکم اذا اجتھد فاصاب اوأخطأ،الحدیث:۷۳۵۲،ج۴،ص۶۱۱.
4 ۔''سنن أبي داو،د''،کتاب الأقضیۃ،باب في القاضی یخطیئ،الحدیث:۳۵۷۳،ج۳،ص۴۱۸.
5 ۔''جامع الترمذي''،کتاب الأحکام، باب ماجاء في الإمام العادل،الحدیث :۱۳۳۵،ج۳،ص۶۳.
6 ۔''السنن الکبری''،للبیہقي،کتاب آداب القاضی،باب فضل من ابتلی بشیئ...إلخ،الحدیث:۲۰۱۶۶،ج۱۰،ص۱۵۱.
پلِ صراط پر روکا جائے گا پھر اﷲ عزوجل فرمائے گا تم سے میرا مطالبہ ہے جس حاکم نے فیصلہ میں ظلم کیا ہو گا اور رشوت لی ہو گی صرف ایک فریق کی بات توجہ سے سنی ہو گی وہ جہنم کی اتنی گہرائی میں ڈالا جائے گا جس کی مسافت ستر۰ ۷سال ہے اور جس نے حد (مقرر) سے زیاد ہ مارا ہے اُس سے اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ جتنا میں نے حکم دیا تھا اُس سے زیادہ تُو نے کیوں مارا وہ کہے گا اے پروردگار مَیں نے تیرے لیے غضب کیا اﷲ (عزوجل) فرمائے گا تیرا غصہ میرے غضب سے بھی زیادہ ہو گیا اور وہ شخص لایا جائے گا جس نے سزا میں کمی کی ہے اﷲ تعالیٰ فرمائے گا اے میرے بندہ تُو نے کمی کیوں کی کہے گا میں نے اُس پر رحم کیا فرمائے گا کیا تیری رحمت میری رحمت سے بھی زیادہ ہو گئی۔ (1)
حدیث ۲۲: ابو داود بریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جس کو ہم کسی کام پر مقرر کریں اور اُس کو روزی دیں اب اس کے بعد وہ جو کچھ لے گا خیانت ہے۔ ''(2)
حدیث ۲۳: ترمذی نے معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف حاکم کر کے بھیجا جب میں چلا تو میرے پیچھے آدمی بھیج کر واپس بلایا اور فرمایا :''تمھیں معلوم ہے کیوں میں نے آدمی بھیج کر بلایا اس لیے کہ کوئی چیز بغیر میری اجازت نہ لینا کہ وہ خیانت ہو گی اور جو خیانت کریگا اُس چیز کو قیامت کے دن لے کر آنا ہو گا اسی کہنے کے لیے بلایا تھا اب اپنے کام پر جاؤ۔ ''(3)
حدیث ۲۴: مسلم و ابو داود عدی بن عمیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:''اے لوگو! تم میں جو کوئی ہمارے کسی کام پر مقرر ہوا وہ ایک سوئی یا اس سے بھی کم کوئی چیز ہم سے چھپائے گا وہ خائن ہے قیامت کے دن اُسے لے کر آئے گا انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور یہ کہا یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اپنا یہ کام مجھ سے واپس لیجیے فرمایا کیا وجہ ہے عرض کی میں نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو ایساایسا فرماتے سنا فرمایا:'' میں یہ کہتا ہوں جس کو ہم عامل بنائیں وہ تھوڑا یا زیادہ جو کچھ ہو ہمارے پاس لائے پھر جو کچھ ہم دیں اُسے لے اور جس سے منع کیا جائے باز رہے۔'' (4)
1 ۔''کنز العمال''،کتاب الإمارۃ،الفصل الثانی،الحدیث:۱۴۷۶۵،ج۶،ص۱۸.
2 ۔''سنن أبيداو،د''،کتاب الخراج...إلخ،باب في ارزاق العمال،الحدیث:۲۹۴۳،ج۳،ص۱۸۶.
3 ۔''جامع الترمذی''،کتاب الأحکام،باب ماجاء في ہدایا الأمرائ،الحدیث:۱۳۴۰،ج۳،ص۶۵.
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الإمارۃ،باب تحریم ہدایا العمال،الحدیث:۳۰۔(۱۸۳۳)،ص۱۰۲۰.
و''سنن أبي داو،د''،کتاب الأقضیۃ،باب في ہدایا العمال،الحدیث:۳۵۸۱،ج۳،ص۴۲۰.
حدیث ۲۵: ابو داود و ابن ماجہ عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے اور ترمذی اُن سے اور ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اور امام احمد و بیہقی ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت
فرمائی اور ایک روایت میں اُس پر بھی لعنت فرمائی جو رشوت کا دلال ہے۔ (1)
حدیث ۲۶: صحیح بخاری وغیرہ میں ابو حمید ساعدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بنی اسدمیں سے ایک شخص کو جس کو ابن اللُّتَبِیَّہ کہا جاتا تھا عامل بنا کر بھیجا جب وہ واپس آئے یہ کہا کہ یہ (مال)تمہارے لیے ہے اوریہ میرے لیے ہدیہ ہوا رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور حمد الٰہی اور ثنا کے بعد یہ فرمایا :'' کیا حال ہے اُس عامل کا جس کو ہم بھیجتے ہیں اور وہ آکر یہ کہتا ہے کہ یہ آپ کے لیے ہے اور یہ میرے لیے ہے وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھا رہا دیکھتا کہ اُسے ہدیہ کیا جاتا ہے یا نہیں ،قسم ہے اُس کی جس کے ہاتھ میں میرا نفس ہے ایسا شخص قیامت کے دن اُس چیز کو اپنی گردن پر لاد کر لائے گا اگر اونٹ ہے تو وہ چلائے گا اور گائے ہے تو وہ بان بان کرے گی اور بکری ہے تو وہ میں میں کرے گی اس کے بعد حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اپنے ہاتھوں کو اتنا بلند فرمایا کہ بغل مبارک کی سپیدی ظاہر ہونے لگی اور اس کلمہ کو تین بار فرمایا آگاہ(2) میں نے پہنچا دیا۔'' (3)
حدیث ۲۷: ابو داود نے ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جو کسی کے لیے سفارش کرے اور وہ اس کے لیے کچھ ہدیہ دے اور یہ قبول کر لے وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازہ پر آگیا۔'' (4)
لوگوں کے جھگڑوں اور منازعات کے فیصلہ کرنے کو قضاکہتے ہیں۔ (5)(درمختار)
قضا فرضِ کفایہ ہے کیونکہ بغیر اس کے نہ لوگوں کے حقوق کی محافظت ہو سکتی نہ امن عامہ قائم رہ سکتا ہے۔ جس کو قاضی
1 ۔''سنن ابي داو،د''،کتاب الأقضیۃ،باب فی کراھیۃالرشوۃ،الحدیث:۳۵۸۰،ج۳،ص۴۲۰.
و''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،حدیث ثوبان،الحدیث:۲۲۴۶۲، ج۸،ص۳۲۷.
2 ۔یعنی خبردارہو جاؤ۔
3 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الحیل،باب إحتیال العامل لیھدی لہ،الحدیث:۶۹۷۹،ج۴،ص۳۹۸.
و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الزکاۃ،الفصل الاول،الحدیث:۱۷۷۹،ج۱،ص۴۹۵.
4 ۔''سنن ابي داو،د''،کتاب الإجارۃ،باب فی الھدیۃ لقضاء الحاجۃ،الحدیث:۳۵۴۱،ج۳،ص۴۰۷.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج ۸،ص ۲۵.
بنایا جاتا ہے اگر وہی اس عہدہ کا صالح ہے دوسرے میں صلاحیت ہی نہ ہوکہ انصاف کرے اس صورت میں عہدہ قضا قبول کر لینا واجب ہے اور اگر دوسرا بھی اس قابل ہے مگر یہ زیادہ صلاحیت رکھتا ہو تواس کو قبول کر لینا مستحب ہے اور اگر دوسرے بھی اسی قابلیت کے ہیں تو اختیار ہے قبول کرے یا نہ کرے اور اگر یہ صلاحیت رکھتا ہے مگر دوسرا اس سے بہترہے تو اس کو قبول کرنا مکروہ ہے اور یہ شخص اگر خود جانتا ہے کہ یہ کام مجھ سے انجام نہ پا سکے گا تو قبول کرنا حرام ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: قاضی اُسی کو بنا سکتے ہیں جس میں شرائط شہادت پائے جائیں وہ یہ ہیں:
مسلمان۔ عاقل۔ بالغ۔ آزاد ہو۔ اندھا نہ ہو۔ گونگا نہ ہو۔ بالکل بہرہ نہ ہو کہ کچھ نہ سنے۔ محدود فی القذف نہ ہو۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: کافر کو قاضی بنایا اس لیے کہ وہ کفار کے معاملات کو فیصل کر ے(3)یہ ہو سکتا ہے مگر مسلمانوں کے معاملات فیصل کرنے کا اُسے اختیار نہیں۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳: قاضی مقرر کرنا بادشاہ اسلام کا کام ہے یا سلطان کے ماتحت جو ریاستیں خراج گزار ہیں(5) جن کو سلطان نے قضاۃ کے عزل و نصب کا اختیار(6) دیا ہو یہ بھی قاضی مقرر کر سکتی ہیں۔ (7)(ردالمحتار )
مسئلہ ۴: فاسق کو قاضی بنانا نہ چاہیے اوراگر مقرر کر دیا گیا تو اس کی قضا نافذ ہو گی۔ فاسق کو مفتی بنانا یعنی اُس سے فتویٰ پوچھنا درست نہیں کیونکہ فتویٰ امور دین سے ہے اور فاسق کا قول دیانات میں نا معتبر(8)۔ قاضی نے اپنے دشمن کے خلاف فیصلہ کیا یہ فیصلہ جائز نہیں جب کہ دونوں میں دنیوی عداوت ہو۔(9) (درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الأول فی تفسیرمعنی الأدب...إلخ،ج۳،ص۳۰۶.
2 ۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء ،مطلب:الحکم الفعلی،ج۸،ص۲۹.
3 ۔یعنی فیصلہ کرے۔
4 ۔ ''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:الحکم الفعلی،ج۸،ص۳۰.
5 ۔یعنی وہ حکومتیں جو خراج اداکرتی ہیں۔
6 ۔یعنی قاضیوں کو معزول کرنے اور مقرر کرنے کا اختیار۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی حکم القاضی،الدُّرزی والنصرانی،ج۸،ص۳۱.
8 ۔یعنی دینی معاملات میںفاسق کا قول قابلِ قبول نہیں۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۳۱،۳۶.
مسئلہ ۵: جس وقت اُس کو قاضی مقرر کیا تھا اُس وقت عادل (غیر فاسق) تھا اُس کے بعد فاسق ہو گیا تو فسق کی وجہ سے معزول نہ ہوا مگر معزولی کا مستحق ہو گیا بلکہ سلطان پر معزول کر دینا واجب ہے اور اگر سلطان نے اُس کے تقرر کے وقت یہ شرط کر دی ہے کہ اگر فاسق ہو جائے گا تو معزول ہو جائے گا تو فسق کرنے سے خودہی معزول ہو گیا معزول کرنے کی ضرورت نہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: جس طرح بادشاہ عادل کی طرف سے عہدہ قبول کرنا جائز ہے بادشاہ ظالم کی طرف سے بھی قبول کرنا صحیح ہے مگر بادشاہ ظالم کی طرف سے اس عہدہ کو قبول کرنا اُ س وقت درست ہے جبکہ قاضی عدل و انصاف و حق کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہو اس کے فیصلوں میں ناجائز طور پر بادشاہ مداخلت نہ کرتا ہو اور احکام کو مطابق شرع نافذ کرنے سے منع نہ کرتا ہو اور اگر یہ باتیں نہ ہوں بلکہ جانتا ہو کہ حق کے مطابق فیصلہ ناممکن ہو گا یا اس کے فیصلوں میں بے جا مداخلت ہو گی یا بعض احکام کی تنفیذسے(2) منع کیا جائے گا تو اس عہدہ کو قبول نہ کرے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: بادشاہ کو چاہیے کہ رعایامیں(4) جو اس عہدہ کے لیے زیادہ موزوں ہو اُسے قاضی بنائے کیوں کہ حدیث میں ارشاد ہوا کہ جس نے کسی کو کام سپرد کر دیا اور اُس کی رعایا میں اس سے بہتر موجود تھا اُس نے اﷲ و رسول (عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) و جماعت مسلمین کی خیانت کی۔ قاضی میں یہ اوصاف ہوں معاملہ فہم ہو(5)۔ فیصلہ نافذ کرنے پر قادر ہو۔ وجیہ ہو(6)۔ بارعب ہو۔ لوگوں کی باتوں پر صبر کرتا ہو۔ صاحبِ ثروت ہو(7)تاکہ طمع میں مبتلا نہ ہو۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: قاضی اُس کو کیا جائے جو عفت و پارسائی(9) اور عقل و صلاح (10)و فہم (11)و علم میں معتمدعلیہ ہو(12) اُس کے مزاج میں شدت (13) ہو مگر زیادہ شدت نہ ہو اور نرمی ہو تو اتنی نہ ہو جو لوگوں سے دب جائے(14)۔ وجیہ ہو اُس کا رعب لوگوں
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الأول فی تفسیر معنی الادب،ج۳،ص۳۰۷ .
2 ۔احکام کونافذ کرنے سے ۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الأول فی تفسیر معنی الادب،ج۳،ص۲۲۷.
4 ۔ اپنے محکوم لوگوں میں،عوام۔ 5 ۔معاملات کو صحیح طریقے سے سمجھنے والاہو۔
6 ۔باوقار،معتبر،معزز۔ 7 ۔امیرودولتمند ہو۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الأول فی تفسیر معنی الادب،ج۳،ص ۳۰۸.
9 ۔پاکدامنی اور نیکوکاری۔ 10 ۔عقلمند ی وصلاحیت ۔
11 ۔سمجھداری۔ 12 ۔یعنی علم میں قابل اعتماد ہو۔
13 ۔طبیعت میں سختی ۔ 14 ۔مغلوب ہوجائے۔
پر ہو۔ لوگوں کی طرف سے جو اُس پر مصائب(1) آئیں اُن پر صبر کرے۔ (2)
تنبیہ: عہدہ قضا کا قبول کر لینا اگرچہ جائز ہے مگر علما و ائمہ کی اس کے متعلق مختلف رائیں ہیں بعض نے اس میں حرج نہ سمجھا اور بعض نے بچنے ہی کو ترجیح دی اور حدیث سے بھی اسی رائے کی ترجیح ظاہر ہوتی ہے ارشاد فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کہ'' جو شخص قاضی بنایا گیا وہ بغیر چھری ذبح کر دیا گیا۔'' (3) خود ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ (4)نے یہ عہدہ دینا چاہا مگر امام نے انکار کیا۔ یہاں تک کہ نوے ۹۰درّے آپ کولگائے گئے پھر بھی آپ نے اسے قبول نہیں فرمایا اور یہ فرمایا کہ اگر سمندر تیر کر پار کرنے کامجھے حکم دیا جائے تو یہ کر سکتا ہوں مگر اس عہدہ کو قبول نہیں کر سکتا۔ عبداﷲ بن وہب رحمہ اﷲ تعالیٰ کو یہ عہدہ دیا گیا اُنھوں نے انکار کر دیا اور پاگل بن گئے جو کوئی ان کے پاس آتا مونھ نوچتے اور کپڑے پھاڑتے اُن کے ایک شاگرد نے سوراخ سے جھانک کر کہا اگر آپ اس عہدہ قضا کو قبول فرما لیتے اور عدل کرتے تو بہتر ہوتا جواب دیا اے شخص تیری عقل یہ ہے کیا تو نے نہیں سنا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:'' قاضیوں کا حشر سلاطین کے ساتھ ہوگا اور علما کا حشر انبیاء علیہم السلام کےساتھ ہو گا۔'' امام محمد رحمہ اﷲ تعالیٰ سے کہا گیا اُنھوں نے اس سے انکار کیا جب قید کر دیئے گئے اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں مجبوراً اُنھوں نے قبول کیا۔ (5)
مسئلہ ۹: حکومت کی نہ طلب ہونی چاہیے نہ اس کا سوال کرنا چاہیے۔ طلب کا یہ مطلب ہے کہ بادشاہ کے یہاں اس کی درخواست پیش کرے اور سوال کا مطلب یہ کہ لوگوں کے سامنے یہ تذکرہ کرے کہ اگر بادشاہ کی طرف سے مجھے فلاں جگہ کی حکومت ملے گی تو قبول کر لوں گا اور دل میں یہ خواہش ہو کہ یہ خبر کسی طرح بادشاہ تک پہنچ جائے اور وہ مجھے بلا کر حکومت عطا کرے لہٰذا اس کی خواہش نہ دل میں ہو نہ زبان سے اس کا اظہار ہو۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: جو لوگ عہدہ قضا کی قابلیت رکھتے ہیں سب نے انکار کر دیا اور کسی نا اہل کو قاضی بنا دیا گیا تو وہ سب گنہگار
1 ۔تکالیف،پریشانیاں۔
2 ۔''تنویرالأبصار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:السلطان یصیر سلطانا بأمرین،ج۸،ص۴۵.
3 ۔''سنن ابی داو،د''،کتاب الأقضیۃ،باب فی طلب القضاء،الحدیث:۳۵۷۲،ج۳،ص۴۱۷.
4 ۔ خلیفہ ابوجعفرمنصور۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أ دب القاضی،الباب الثانی فی الدخول فی القضاء،ج۳،ص۳۱۰.
6 ۔المرجع السابق،ص۳۱۱.
ہوئے اور اگر قابلیت والوں کو چھوڑ کر بادشاہ نے ناقابل کو قاضی بنایا تو بادشاہ گنہگار ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: دو شخص عہدہ قضا کے قابل ہیں مگر ان میں ایک زیادہ فقیہ ہے دوسرا زیادہ پرہیزگار ہے تو اُس کو قاضی مقرر کیا جائے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: قاضی جس کا مقلد ہے(3)اگر اُس کا قول مسئلہ متنازع فیھا (4)میں معلوم و محفوظ ہے تو اُ س کے موافق فیصلہ کرے ورنہ فقہا سے فتوی حاصل کر کے اس کے مطابق عمل کرے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: قاضی کے تقرر کو کسی شرط پر معلق کرنا یا کسی وقت کی طرف مضاف کرنا جائز ہے یعنی جب وہ شرط پائی جائے گی یا وہ وقت آجائے گا اُس وقت وہ قاضی ہو گا اُس کے پہلے نہیں ہو گا مثلاً یہ کہا کہ تم جب فلاں شہر میں پہنچ جاؤ تو وہاں کے قاضی ہو یا فلاں مہینہ کے شروع سے تم کو قاضی کیا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: ایک وقت معین تک کے لیے بھی کسی کو قاضی مقرر کیا جا سکتا ہے مثلاً ایک دن کے لیے قاضی بنایا تو ایک ہی دن قاضی رہے گا اور اگر اُس کو کسی خاص جگہ کا قاضی بنایا ہے تو وہیں کا قاضی ہے دوسری جگہ کے لیے وہ قاضی نہیں اور اس کا بھی پابند کیا جا سکتا ہے کہ فلاں قسم کے مقدمات کی سماعت نہ کرے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی خاص شخص کے معاملات کی نسبت استثناکر دیا جائے یعنی فلاں کے مقدمہ کی سماعت نہ کرے اور بادشاہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ جب تک میں سفر سے واپس نہ آؤں فلاں معاملہ کی سماعت نہ کی جائے اس صورت میں اگر مقدمہ کی سماعت کی اورفیصلہ بھی دے دیا وہ نافذ نہیں ہو گا۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: بادشاہ نے کسی شخص کی نسبت یہ کہہ دیا کہ میں نے تمھیں قاضی مقرر کیا اور یہ نہیں ظاہر کیا کہ کہاں کا قاضی اُس کو بنایا تو جہاں تک سلطنت ہے وہ سب جگہ کا قاضی ہو گیا۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۶ ۱: ایک مقدمہ کی سماعت کر کے فیصلہ صادر کر دیا اس کے بعد بادشاہ نے حکم دیا کہ علما کے سامنے دوبارہ مقدمہ
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الثانی فی الدخول فی القضاء،ج۳،ص۳۱۱.
2 ۔ المرجع السابق.
3 ۔یعنی آئمہ اربعہ میں سے جس امام کا پیرو کار ہے۔ 4 ۔یعنی جس جھگڑے،مقدمے کے متعلق اس نے فیصلہ کرنا ہے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الثالث فی ترتیب الدلائل للعمل بھا،ج۳،ص۳۱۳.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الخامس فی التقلید والعزل،ج۸،ص۳۱۵.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔ المرجع السابق.
کی سماعت کی جائے قاضی پر اس کی پابندی لازم نہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: کسی شہر کے تمام لوگوں نے متفق ہو کر ایک شخص کو قاضی مقرر کردیا کہ وہ اُ ن کے معاملات فیصل کیا کرے اُن کے قاضی بنانے سے وہ قاضی نہ ہوگا کہ قاضی بنانا بادشاہ اسلام کا کام ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: قاضی نے کسی کو اپنا نائب(3)بنایا کہ وہ دعوے کی سماعت کرے اور گواہوں کے بیانات لے مگر معاملہ کو فیصل نہ کرے(4) تو یہ نائب اُتنا ہی کر سکتاہے جتنا قاضی نے اُسے اختیار دیا ہے یعنی فیصلہ نہیں کر سکتا اور جو کچھ اُس نے تحقیقات کر کے قاضی کے روبرو پیش کر دیا قاضی گواہوں کے ان بیانات یا مدعیٰ علیہ(5)کے اقرار پر فیصلہ نہیں کر سکتا کہ قاضی کے سامنے نہ گواہوں نے گواہی دی ہے نہ مدعیٰ علیہ نے اقرار کیا ہے بلکہ اس صورت میں قاضی ازسرنو(6)بیان لے گا اس کے بعد فیصلہ کریگا۔ (7)(خانیہ)
مسئلہ ۱۹: بادشاہ نے قاضی کو معزول کر دیا اس کی خبر جب قاضی کو پہنچے گی اُس وقت معزول ہو گا یعنی معزول کرنے کے بعد خبر پہنچنے سے قبل جو فیصلے کریگا صحیح و نافذ ہوں گے۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: بادشاہ مر گیا تو قاضی وغیرہ حکام جو اُس کے زمانہ میں تھے سب بدستور اپنے اپنے عہدہ پرباقی رہیں گے یعنی بادشاہ کے مرنے سے معزول نہ ہوں گے۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: قاضی کی آنکھیں جاتی رہیں یا بالکل بہرا ہو گیا یا عقل جاتی رہی یا مرتد ہو گیا تو خودبخود معزول ہو گیا اور اگر پھر یہ اعذار جاتے رہے یعنی مثلاً آنکھیں ٹھیک ہوگئیں تو بدستور سابق قاضی ہو جائے گا۔(10) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: قاضی نے بادشاہ کے سامنے کہہ دیا میں نے اپنے کومعزول کر دیا اور بادشاہ نے سن لیا معزول ہو
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الخامس فی التقلید والعزل،ج۳،ص۳۱۵.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔قائم مقام۔ 4 ۔فیصلہ نہ کرے۔
5 ۔جس پر دعوی کیاگیا ہے۔ 6 ۔نئے سرے سے،دوبارہ۔
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الدعوی والبینات،الباب الاول فی آداب القاضی،الفصل الاول،ج۲،ص۴۶ .
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الخامس فی التقلید والعزل،ج۳،ص۳۱۷.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الخامس فی التقلیدوالعزل،ج۳،ص۳۱۷.
10 ۔المرجع السابق،ص۳۱۸.
گیا اور نہ سنا تومعزول نہ ہوا۔ یوہیں بادشاہ کے پاس یہ تحریر بھیج دی کہ میں نے اپنے کو معزول کر دیا اور تحریر پہنچ گئی معزول ہو گیا۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: قاضی کے لڑکے نے کسی پر دعویٰ کیا اور یہ مقدمہ قاضی کے پاس پیش ہوا یا کسی دوسرے نے قاضی کے لڑکے پر دعوی قاضی کے یہاں کیا قاضی اس معاملہ میں غور کرے اگر لڑکے کے خلاف فیصلہ ہو جب تو خود ہی فیصلہ کر دے اور اگر لڑکے کے موافق فیصلہ ہو گا تو دونوں سے کہہ دے اس دعوے کو تم کسی دوسرے کے پاس لے جاؤ۔ بادشاہ جس نے قاضی بنایا ہے قاضی اُس کے موافق فیصلہ کریگا جب بھی نافذ ہو گا۔ یوہیں قاضی ماتحت نے قاضی بالا کے موافق فیصلہ کیا یہ بھی نافذ ہو گا۔ قاضی نے اپنی ساس کے موافق فیصلہ کیا اگر قاضی کی بی بی زندہ ہے تو فیصلہ ناجائز ہے اور بی بی مر چکی ہے تو جائز ہے۔ سوتیلی ماں کے موافق فیصلہ کیا اگر اس کا باپ زندہ ہے تو ناجائز ہے اورمر چکا ہے تو جائز ہے۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۲۴: دو شخصوں کے مابین مقدمہ ہے ایک نے قاضی کے لڑکے کو اپنا وکیل کیا قاضی نے اس کے موافق فیصلہ کیا ناجائز ہے اور خلاف فیصلہ کیا تو جائز ہے۔ یوہیں اگر قاضی کا بیٹا وصی ہو تو موافق فیصلہ کرنا جائز نہیں۔(3) (بحرالرائق)
مسئلہ ۲۵: قاضی کو قضا کے لیے ایسی جگہ بیٹھنا چاہیے جہاں لوگ آسانی سے پہنچ سکیں ایسی جگہ نہ بیٹھے جہاں مسافروغریب الوطن(4) پہنچ نہ سکیں۔ سب سے بہتر مسجد جامع ہے پھر وہ مسجد جہاں پنجگانہ جماعت ہوتی ہو اگرچہ اُس میں جمعہ نہ پڑھا جاتا ہو اور اگر مسجد جامع وسط شہر میں نہ ہو بلکہ شہر کے ایک کنارہ پر واقع ہے کہ اکثر لوگوں کو وہاں جانے میں دشواری ہو گی تو وسط شہر میں کوئی دوسری مسجد تجویز کرے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے محلہ کی مسجد کو اختیار کرے۔ مسجد بازار چونکہ زیادہ مشہور ہے مسجد محلہ سے بہتر ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: قاضی قبلہ کو پیٹھ کر کے بیٹھے جس طرح خطیب و مدرس قبلہ کو پیٹھ کر کے بیٹھتے ہیں۔ (6)(درمختار)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الخامس فی التقلیدوالعزل،ج۳،ص۳۱۸.
2 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الدعوی والبینات،فصل لمن یجوز قضاء القاضی...إلخ،ج۲،ص۱۰۸.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشھادات،باب من تقبل شھادتہ ومن لاتقبل،ج۷،ص۱۳۸.
4 ۔یعنی دوسرے علاقے کے رہنے والے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب السابع فی جلوس القاضی...إلخ،ج۳،ص۳۱۹-۳۲۰.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۵۶.
مسئلہ ۲۷: اگر اپنے مکان میں اجلاس کرے درست ہے مگر اذن عام ہونا چاہیے یعنی ارباب حاجت(1) کے لیے روک ٹوک نہ ہو۔(2) (درمختار) یہ اُس زمانہ کی باتیں ہیں جب کہ دارالقضا نہ تھا مسجد یا اپنے مکان میں قاضی اجلا س کیا کرتے تھے اور اب دارالقضا موجود ہیں عام طور پر لوگوں کے علم میں یہی بات ہے کہ قاضی کا اجلاس دارالقضا میں ہوتا ہے لہٰذا قاضی کے لیے یہ مناسب جگہ ہے۔
مسئلہ ۲۸: قاضی کہیں بھی اجلاس کرے دربان مقرر کر دے کہ مقدمہ والے دربار قاضی میں ہجوم و شوروغل نہ کریں وہ ان کوبیجا باتوں سے روکے گا مگر دربان کو یہ جائز نہیں کہ لوگوں سے کچھ لے کر اندر آنے کی اجازت دے دے۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۲۹: قاضی کے پاس جب مدعی(4) و مدعی علیہ(5)دونوں فریقِ مقدمہ حاضرہوں تو دونوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے،(6) نظر کرے تو دونوں کی طرف نظر کرے ،بات کرے تو دونوں سے کرے، ایسا نہ کرے کہ ایک کی طرف مخاطب ہو دوسرے سے بے توجہی رکھے ،اگر ایک سے بکشادہ پیشانی بات کرے تو دوسرے سے بھی کرے، دونوں کو ایک قسم کی جگہ دے، یہ نہ ہو کہ ایک کو کرسی دے اور دوسرے کو کھڑا رکھے یا فرش پر بٹھائے ،اُن میں کسی سے سرگوشی نہ کرے، نہ ایک کی طرف ہاتھ یا سر یا ابرو سے اشارہ کرے ،نہ ہنس کر کسی سے بات کرے۔ اجلاس میں ہنسی مذاق نہ کرے، نہ ان دونوں سے ،نہ کسی اور سے۔ علاوہ کچہری کے بھی کثرت مزاح سے پرہیز کرے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۰ : دونوں فریق میں سے ایک کی طرف دل جھکتا ہے(8) اور قاضی کا جی چاہتا ہے کہ یہ اپنے ثبوت و دلائل اچھی طرح پیش کرے تو یہ جرم نہیں کہ دل کا میلان اختیاری چیز نہیں ہاں جو چیزیں اختیاری ہوں اُن میں اگر یکساں معاملہ نہ کرے تو بے شک مجرم ہے۔ (9)(عالمگیری)
1 ۔یعنی حاجتمند ،محتاج لوگوں۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۵۶.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الدعوی والبینات،الباب الأول فی آداب القاضی،فصل فیمایستحق علی...إلخ،ج۲،ص۴۷.
4 ۔دعوی کرنے والا۔ 5 ۔جس پر دعوی کیاجائے۔ 6 ۔یعنی ایک جیسا سلوک کرے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب السابع فی جلوس القاضی ،ج۳،ص۳۲۲.
8 ۔یعنی دل مائل ہوتاہے۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب السابع فی جلوس القاضی،ج۳،ص۳۲۲.
مسئلہ ۳۱ : دونوں میں سے ایک کی دعوت نہ کرے ایک کی دعوت کرتا ہے تو دوسرے کی بھی کرے۔ ایک سے ایسی زبان میں بات نہ کرے جس کو دوسرا نہ جانتا ہو۔ اپنے مکان پر بھی ایک سے تنہائی میں کوئی بات نہ کرے بلکہ اپنے مکان پر آنے کی اُسے اجازت بھی نہ دے بالجملہ ہر اُس بات سے اجتناب کرے جس سے لوگوں کو بدگمانی کا موقع ہاتھ آئے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲ : قاضی کو ہدیہ قبول کرنا ناجائز ہے کہ یہ ہدیہ نہیں ہے بلکہ رشوت ہے جیسا کہ آج کل اکثر لوگ حکام کو ڈالی(2)کے نام سے دیتے ہیں اور اس سے مقصود صرف یہی ہوتا ہے کہ اگر کوئی معاملہ ہو گا تو ہمارے ساتھ رعایت ہو گی۔ قاضی کو اگر یہ معلوم ہو کہ اس کی چیز پھیر دی جائے گی(3) تو اسے تکلیف ہو گی تو چیز کو لے لے اور اُس کی واجبی قیمت(4)دے دے، کم قیمت دے کر لینا بھی ناجائز ہے اور اگر کوئی شخص ہدیہ رکھ کر چلا گیا معلوم نہیں کہ وہ کون تھا اُس کا مکان دور ہے پھیرنے میں دقت ہے تو بیت المال میں یہ چیز داخل کر دے خود نہ رکھے جب دینے والا مل جائے اُسے واپس کر دے ۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۳۳: جس طرح ہدیہ لینا جائز نہیں ہے دیگر تبرعات بھی ناجائز ہیں مثلاً قرض لینا، عاریت لینا، کسی سے کوئی کام مفت کرانا بلکہ واجبی اجرت سے کم دے کر کام لینا بھی جائز نہیں۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: واعظ و مفتی و مدرس و امام مسجد ہدیہ قبول کر سکتے ہیں کہ ان کو جو کچھ دیا جاتا ہے وہ ان کے علم کا اعزاز ہے کسی چیز کی رشوت نہیں ہے۔ اگر مفتی کو اس لیے ہدیہ دیا کہ فتوے میں رعایت کرے تو دینا لینا دونوں حرام اور اگر فتوی بتانے کی اجرت ہے تو یہ بھی حلال نہیں۔ ہاں لکھنے کی اجرت لے سکتا ہے مگر یہ بھی نہ لے تو بہتر ہے۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: قاضی کو بادشاہ نے یا کسی حاکم بالا نے ہدیہ دیا تو لینا جائز ہے۔ یوہیں قاضی کے کسی رشتہ دار محرم نے ہدیہ دیا یا ایسے شخص نے ہدیہ دیا جو اس کے قاضی ہونے سے پہلے بھی دیا کرتا تھا اور اُتنا ہی دیا جتنا پہلے دیا کرتا تھا تو قبول کرنا جائز ہے اور پہلے جتنا دیتا تھا اب اُس سے زائد دیا تو جتنا زیادہ دیا ہے واپس کر دے ہاں اگر ہدیہ دینے والاپہلے سے اب زیادہ مالدار ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب السابع فی جلوس القاضی،ج ۳،ص۳۲۲.
2 ۔تحائف ،نذرانے۔ 3 ۔واپس کی گئی۔
4 ۔رائج قیمت،عام طور پر بازارمیں اُس چیز کی جو قیمت ہو۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۵۷.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی ھدیۃ القاضی،ج۸،ص۵۶-۵۷.
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی حکم الھدیۃللمفتی،ج۸،ص۵۷.
اور پہلے جو کچھ دیتا تھا اپنی حیثیت کے لائق دیتا تھا اور اس وقت جو پیش کر رہا ہے اس حیثیت کے مطابق ہے تو زیادتی کے قبول کرنے میں حرج نہیں۔ (1)(درمختار، ردالمحتار، فتح)
مسئلہ ۳۶: رشتہ دار یا جس کی عادت پہلے سے ہدیہ دینے کی تھی ان دونوں کے ہدیے قاضی کو قبول کرنا اُس وقت جائز ہے جب کہ ان کے مقدمات اس قاضی کے یہاں نہ ہوں ورنہ دوران مقدمہ میں ہدیہ، ہدیہ نہیں بلکہ رشوت ہے ہاں بعد ختم مقدمہ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔(2) (درمختار، ردالمحتار )
مسئلہ ۳۷: دعوت خاصہ قبول کرنا قاضی کے لیے جائز نہیں دعوت عامہ قبول کر سکتا ہے مگر جس کا مقدمہ قاضی کے یہاں ہو اُس کی دعوت عامہ کو بھی قبول نہ کرے دعوت خاصہ وہ ہے کہ اگر معلوم ہو جائے کہ قاضی اس میں شریک نہ ہو گا تو دعوت ہی نہ ہو گی اور عامہ وہ ہے کہ قاضی آئے یا نہ آئے بہرحال لوگوں کی دعوت ہو گی کھانا کھلایا جائے گامثلاً دعوتِ ولیمہ۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۸: قاضی کو چاہیے کہ کسی سے قرض و عاریت نہ لے مگر جو شخص قاضی ہونے سے پہلے ہی اس کا دوست تھا یاشریک تھاجس سے اس قسم کے معاملات جاری تھے اُس سے قرض لینے اور عاریت لینے میں کوئی حرج نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: جنازہ میں جا سکتا ہے مریض کی عیادت کے لیے بھی جائے گا مگر وہاں دیر تک نہ ٹھہرے نہ وہاں اہل مقدمہ کو کلام کا موقع دے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: قاضی نے ایسا فیصلہ دیا جو کتاب اﷲ کے خلاف ہے یا سنت مشہورہ (6)یا اجماع(7) کے مخالف ہے یہ فیصلہ نافذ نہ ہو گا مثلاً مدعی نے صرف ایک گواہ پیش کیا اور قسم بھی کھائی کہ میرا حق مدعیٰ علیہ کے ذمہ ہے اور قاضی نے ایک گواہ اور یمین(8)سے مدعی کے موافق فیصلہ کر دیا یہ فیصلہ نافذ نہیں اگر دوسرے قاضی کے پاس مرافعہ (9)ہو گا اُس فیصلہ کو باطل کر دے گا۔
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی حکم الھدیۃللمفتی،ج۸،ص۵۸-۵۹.
و''فتح القدیر''،کتاب أدب القاضی،ج۶،ص۳۷۱.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی حکم الھدیۃ للمفتی،ج۸،ص۵۸.
3 ۔ المرجع السابق،ص۵۹.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الثامن فی افعال القاضی وصفاتہ،ج۳،ص۳۲۸.
5 ۔ المرجع السابق.
6 ۔یہاں پر اس سے مراد وہ احکام ہیں جو حدیثِ مشہور سے ثابت ہوں۔ 7 ۔صحابہ یامجتہدین وفقہاء کا کسی امرشرعی پر متفق ہونا۔
8 ۔ قسم۔ 9 ۔اپیل۔
یوہیں ولی مقتول نے قسم کے ساتھ بتایا کہ فلاں شخص قاتل ہے محض اس کی یمین پر قاضی نے قصاص کا حکم دے دیا یہ نافذ نہیں۔ یا محض تنہا مُرضِعَہ(1) کی شہادت پر کہ ان دونوں میاں بی بی نے میرا دودھ پیا ہے قاضی نے تفریق(2) کا حکم دے دیا یہ نافذ نہیں۔ غلام یا بچہ کا فیصلہ نافذ نہیں۔ کافر نے مسلم کے خلاف فیصلہ کیا یہ بھی نافذ نہیں۔(3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: یومِ موت(4)فیصلہ کے تحت میں داخل نہیں یعنی دو شخصوں کے مابین محض اس بات میں اختلاف ہوا کہ فلاں شخص کس دن مرا ہے اس کے متعلق قاضی نے فیصلہ بھی کر دیا اس فیصلہ کا وجود و عدم(5)برابر ہے یعنی اس فیصلہ کے بعد اگر دوسرا شخص اس امر پر گواہ پیش کرے جس سے معلوم ہو کہ اُس وقت مرا نہ تھا تو یہ گواہ مقبول ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ فیصلہ کا مقصد رفعِ نزاع(6)ہے کہ گواہوں سے ثابت کر کے نزاع کو دور کریں اور موت فی نفسہٖ(7) محلِ نزاع نہیں لہٰذا اگر اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز شامل ہو جو محلِ نزاع (8)بن سکتی ہے تو اُس کے ضمن میں یوم موت تحت قضا داخل ہو سکتا ہے مثلاً ایک شخص نے یہ دعویٰ کیاکہ یہ چیز میرے باپ کی ہے اور وہ فلاں تاریخ میں مر گیا اور میں اُس کا وارث ہوں اور اس کو گواہوں سے ثابت کر دیا قاضی نے اس کے موافق فیصلہ کیا اور چیز اسے دلا دی اس کے بعد ایک عورت دعویٰ کرتی ہے کہ میں اُس میّت کی زوجہ ہوں اُس نے مجھ سے فلاں تاریخ میں نکاح کیا تھا وہ مر گیا مجھ کو مہر اور ترکہ(9)ملنا چاہیے اور نکاح کی جو تاریخ بتاتی ہے یہ اُس کے بعد ہے جو بیٹے نے مرنے کی ثابت کی تھی اور عورت نے بھی اپنے دعوے کو گواہوں سے ثابت کر دیا تو قاضی اس عورت کو بھی مہرو ترکہ ملنے کا حکم دے گا کیوں کہ ان دونوں دعوؤں کا حاصل یہ ہے کہ مُورِث(10)مرچکااور میں وارث ہوں تاریخ موت کو اس میں کچھ دخل نہیں ہاں اگر موت مشہور ہے چھوٹے بڑے سب کومعلوم ہے اور عورت اُس تاریخ کے بعد نکاح ہونا بتاتی ہے تووہ یقیناً جھوٹی ہے اُس کی بات قابل اعتبار نہیں۔ اور اگر یہ سب باتیں قتل کے بعد ہوں کہ پہلے بیٹے نے اپنے باپ کے قتل کئے جانے کی تاریخ گواہوں سے ثابت کی اور قاضی نے فیصلہ کر دیا اس کے بعد عورت نے اُس تاریخ کے بعد اپنا نکاح ہونا بیان کیا تو عورت کے گواہ مقبول نہیں کیونکہ قتل کے متعلق جو احکام ہیں عورت کے گواہ قبول کر لیے جانے میں باطل ہو جاتے ہیں۔(11)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: اگر تاریخ سے محض موت کا بتانا مقصود نہ ہو بلکہ اس کا مقصود کچھ اور ہو مثلاً مِلک کا تقدم ثابت کرنا(12)چاہتا
1 ۔دودھ پلانے والی عورت۔ 2 ۔جدائی۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب أدب القاضی،مطلب:فی الحکم بما خالف الکتاب اوالسنۃ،ج۸،ص۹۶۔۹۹.
4 ۔مرنے کا دن۔ 5 ۔ہونا نہ ہونا۔ 6 ۔جھگڑے کو ختم کرنا۔ 7 ۔بذات خود،بالذات۔
8 ۔جھگڑے کا سبب۔ 9 ۔میت کا چھوڑا ہوا مال وجائیداد۔ 10 ۔وارث کرنے والا۔
11 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب أدب القاضی،مطلب:یوم الموت لایدخل القضاء،ج۸،ص۱۰۱۔۱۰۲.
12 ۔ملکیت کے پہلے ہونے کو ثابت کرنا۔
ہو تو یوم موت تحت قضا(1)داخل ہے مثلاً دو شخص ایک چیز کے مدعی(2) ہیں جو تیسرے کے ہاتھ میں ہے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ چیز میرے باپ کی ہے وہ مر گیا اور اس چیز کو ترکہ میں چھوڑا تو جو اپنے باپ کے مرنے کی تاریخ کو مقدم ثابت کریگا وہی پائے گا اور اگر موت کی تاریخ بیان نہ کرتے یا دونوں نے ایک ہی تاریخ بیان کی ہوتی تو دونوں نصف نصف کے حقدار ہوتے۔ ایک شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ فلاں شخص کی جوچیز تمھارے پاس ہے اُس نے مجھے وکیل کیا ہے کہ اُس پر قبضہ کروں مدعی علیہ(3)نے گواہوں سے ثابت کیا کہ وہ شخص فلاں روز مر گیا یہ گواہ مقبول ہیں کیوں کہ اس سے مقصود یہ ہے کہ وکیل وکالت سے اُس کے مرنے کی وجہ سے معزول ہوگیا لہٰذا یہ شخص قبضہ نہیں کر سکتا۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: بیع و ہبہ و نکاح وغیرہاجملہ عقود(5) و مداینات(6) تحتِ قضا داخل ہیں یعنی جب ایک مرتبہ ایک معین دن میں اس کا ہونا ثابت کر دیا گیا اور قاضی نے فیصلہ دے دیا توا س کے بعد کی تاریخ اگر کوئی ثابت کرنا چاہے یہ مقبول نہیں مثلاً ایک شخص نے گواہوں سے یہ ثابت کیا کہ زید نے یہ چیز فلاں تاریخ میں میرے ہاتھ بیع کی ہے دوسرا یہ کہتا ہے کہ اُسی زید نے میرے ہاتھ فلاں تاریخ میں بیع کی ہے اور اس کی تاریخ مؤخر ہے یہ گواہ مقبول نہیں۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: جس امر میں نزاع(8)ہے اُس کے متعلق قاضی کے سامنے جیسا ثبوت ہوگا قاضی اُس کے موافق فیصلہ کرنے پر مجبور ہے ہوسکتا ہے کہ قاضی کے سامنے حق دار نے ثبوت نہ پہنچایا اور غیر مستحق نے ثابت کر دکھایا اور قاضی نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا یہ فیصلہ بظاہر نافذ ہی ہو گا مگر باطناً(9)نافذ ہے یا نہیں اس کی دو صورتیں ہیں بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں قضاء قاضی ظاہراً و باطناً ہر طرح نافذ ہے اور بعض ایسی ہیں جن میں ظاہراً نافذ ہے باطناً نافذ نہیں یعنی مدعی وہ چیز مدعیٰ علیہ سے جبراً لے سکتا ہے مگر اُس سے نفع حاصل کرنا بلکہ اُس کو اپنے قبضہ میں لینا ناجائز ہے وہ گنہگار ہے مواخذہ اخروی(10)میں گرفتار ہے قسم اول عقود و فسوخ ہیں یعنی کسی عقد کے متعلق نزاع ہے مثلاً مدعی نے دعویٰ کیا کہ مدعی علیہ نے یہ چیز میرے ہاتھ بیع کی ہے اور مدعی علیہ منکر ہے مدعی نے گواہوں سے بیع کرنا ثابت کر دیا اور قاضی نے بیع کا حکم دے دیا فرض کرو کہ بیع نہیں
1 ۔فیصلہ کے تحت۔ 2 ۔دعوی کرنے والے۔ 3 ۔جس پر دعوی کیا گیا،ملزم۔
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب أدب القاضی،مطلب:یوم الموت لایدخل القضاء،ج۸،ص۱۰۱۔۱۰۲.
5 ۔تمام عقد،لین دین وـغیرہ کے تمام قول و قرار ۔
6 ۔بہار شریعت کے نسخوں میں اس مقام پر '' مدانیات'' مذکورہے ،جو کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ درست لفظ' ' مداینات '' ہے ،
ا سی وجہ سے ہم نے درست کردیا ہے ۔...عِلْمِیہ
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب أدب القاضی،مطلب:یوم الموت لایدخل القضاء ،ج۸،ص۱۰۳.
8 ۔جھگڑا۔ 9 ۔حقیقت میں۔ 10 ۔آخرت کی پکڑ،آخرت کی پوچھ گچھ۔
ہوئی تھی مگر قاضی کا یہ حکم خود بمنزلہ بیع(1)ہے یا اقالہ(2) کو گواہوں سے ثابت کیا تو اگراقالہ نہ بھی ہوا ہو یہ حکم قاضی ہی اقالہ ہے۔ قسم دوم املاک مرسلہ(3)ہے کہ مدعی نے چیز کے متعلق ملک کا دعویٰ کیا اور اس کا سبب کچھ نہیں بیان کیا مثلاً ہبہ یا خریدنے کے ذریعہ سے میں مالک ہوا ہوں اور گواہوں سے ثابت کر دیا اس صورت میں اگر واقع میں مدعی کی ملک نہ ہو تو باوجود فیصلہ اُس کو لینا جائز نہیں اور تصرف(4) حرام ہے۔ یوہیں اگر ملک کا سبب بیان کیا مگر وہ سبب ایسا ہے جس کا انشا ممکن نہیں مثلاً یہ کہتا ہے کہ بذریعہ وراثت یہ چیز مجھے ملی ہے اور حقیقت میں ایسا نہیں تو باوجود قضاء قاضی اس کا لینا جائز نہیں۔ یوہیں اگر کسی عورت پر دعویٰ کیا کہ یہ میری عورت ہے اور گواہوں سے نکاح ثابت کر دیا حالانکہ وہ عورت دوسرے کی منکوحہ ہے تو اگرچہ قاضی نے اس کے موافق فیصلہ کر دیا اس کو اُس عورت سے صحبت کرنا جائز نہیں۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۵: قضاء قاضی ظاہراً و باطناً نافذ ہونے میں یہ شرط ہے کہ قاضی کو گواہوں کا جھوٹا ہونا معلوم نہ ہواور اگر خود قاضی کو علم ہے کہ یہ گواہ جھوٹے ہیں باوجود اس کے مدعی کے موافق فیصلہ کر دیا یہ قضا بالکل نافذ نہیں نہ ظاہراً نہ باطناً۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۴۶: مدعی کے پاس گواہ نہیں ہیں مدعیٰ علیہ پر حلف دیا گیا اُس نے جھوٹی قسم کھا لی اور قاضی نے مدعیٰ علیہ کے موافق فیصلہ کر دیا یہ قضا بھی باطناً نافذ نہیں مثلاً عورت نے دعویٰ کیا کہ شوہر نے اُسے تین طلاقیں دے دی ہیں اور شوہر انکار کرتا ہے عورت طلاق کے گواہ نہ پیش کر سکی شوہر پر حلف دیا گیا اُس نے قسم کھالی کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے قاضی نے عورت کا دعویٰ خارج کر دیا اگر واقع میں عورت اپنے دعوے میں سچی ہے تو اُسے شوہر کے ساتھ رہنے اور وطی(7)پر قدرت دینے کی اجازت نہیں جس طرح ہو سکے اُس سے پیچھا چھوڑائے اور یہ شوہر مر جائے تو اس کی میراث لینا بھی عورت کو جائز نہیں۔(8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۷: فیصلہ صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ قاضی اپنے مذہب کے موافق فیصلہ کرے اگر اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ کیا دانستہ(9)اُس نے ایسا کیا یا بھول کر بہرحال اُس کا حکم نافذ نہ ہو گا مثلاً حنفی کو(10)یہ اختیار نہیں کہ وہ
1 ۔بیع کی طرح،بیع کے قائم مقام۔ 2 ۔بیع کو ختم کرنا۔
3 ۔وہ جائیداد جس میں ملکیت کا دعوی کیا جائے اور سببِ ملک بیان نہ کیاگیا ہو۔ 4 ۔اپنے استعمال میں لانا۔
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی القضاء بشہادۃ الزور،ج۸،ص۱۰۵ - ۱۰۷.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۰۶.
7 ۔ہم بستری ،جماع،مباشرت۔
8 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی القضاء بشہادۃ الزور،ج۸،ص۱۰۶-۱۰۷.
9 ۔قصداً یعنی جان بوجھ کر۔ 10 ۔امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید کرنے والے کو۔
مذہب شافعی کے موافق(1) فیصلہ کرے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۴۸: قاضی کے لیے یہ درست نہیں کہ غائب کے خلاف فیصلہ کرے خواہ وہ شہادت کے وقت غائب ہو یا بعد شہادت و بعد تزکیہ شہود(3)غائب ہوا ہو چاہے وہ مجلس قاضی سے غائب ہو یا شہر ہی میں نہ ہو یہ اُس وقت ہے کہ حق کا ثبوت گواہوں سے ہواہو۔ اور اگر خود مدعی علیہ نے حق کا اقرار کر لیا ہو تو اس صورت میں فیصلہ کے وقت اُس کا موجود ہونا ضروری نہیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۹: مدعی علیہ غائب ہے مگر اُس کا نائب حاضر ہے نائب کی موجودگی میں فیصلہ کرنا درست ہے اگرچہ مدعی علیہ کی عدم موجودگی میں ہو مثلاً اُس کا وکیل موجود ہے تو فیصلہ صحیح ہے کہ یہ حقیقۃً اُس کا نائب ہے یا مدعی علیہ مر گیا ہے مگر اُس کا وصی موجود ہے یا نابالغ مدعی علیہ ہے اور اُس کے ولی مثلاً باپ یا دادا کی موجودگی میں فیصلہ ہوا یا وقف کا متولی(5) کہ یہ واقف کا قائم مقام ہے اس کی موجودگی میں فیصلہ درست ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۰: وکیلِ مدعی علیہ کی موجودگی میں گواہان ثبوت پیش ہوئے پھر وہ وکیل مر گیا یا غائب ہو گیا اور موکل(7) کی موجودگی میں فیصلہ ہوا یہ فیصلہ درست ہے۔ یوہیں موکل کے سامنے گواہ گزرے اور وکیل کی موجودگی میں فیصلہ ہوا یہ بھی درست ہے۔ یوہیں مدعیٰ علیہ کے سامنے ثبوت گزرا پھر وہ مر گیا اور کسی وارث کے سامنے فیصلہ ہوا یہ بھی درست ہے۔ (8)(غرر)
مسئلہ ۵۱: میّت کے ذمہ کسی کا حق ہو یا میّت کا کسی کے ذمہ ہو اس صورت میں ایک وارث سب کے قائم مقام ہو سکتا ہے یعنی اس کے موافق یا مخالف جو فیصلہ ہو گا وہ سب کے مقابل تصور کیا جائے گا کہ یہ فیصلہ حقیقۃً میّت کے مقابل ہے اور یہ
1 ۔امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب کے مطابق۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء ،ج۸،ص۱۰۸.
3 ۔ گواہوں کے عادل و غیر عادل ہونے کی تحقیق کے بعد۔
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی القضا علی الغائب،ج۸،ص۱۱۱.
5 ۔مال وقف کی نگرانی کرنے والا۔
6 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی القضا علی الغائب،ج۸،ص۱۱۱۔۱۱۲.
7 ۔وکیل کرنے والا۔
8 ۔''غررالأحکام''،کتاب القضاء ،الجزء الثانی،ص۴۱۱.
وارث میّت کا قائم مقام ہے مگر عین کا دعوی ہو تو وارث اُس وقت مدعی علیہ بن سکتا ہے جب وہ عین اُس کے قبضہ میں ہو۔ اوراگر اُس کو مدعی علیہ بنایا جس کے پاس وہ چیز نہ ہو تو دعویٰ مسموع نہ ہو گا۔ اور اگر دَین کا دعویٰ ہو تو ترکہ کی کوئی چیز اس کے قبضہ میں ہو یا نہ ہو بہرحال یہ مدعی علیہ بن سکتا ہے۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۲: جن لوگوں پر جائداد وقف کی گئی ہے اُن میں سے بعض بقیہ موقوف علیہم(2) کے قائم مقام ہو سکتے ہیں بشرطیکہ وقف ثابت ہو نفس وقف میں نزاع نہ ہو(3) اور اگر نزاع وقف میں ہو کہ وقف ہوا ہے یا نہیں تو ایک شخص دوسرے کے قائم مقام نہ ہو گا۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۵۳: کبھی ایسا ہو تاہے کہ حقیقۃً خصم(5) کے قائم مقام کوئی نہیں ہے ایسی صورت میں جانب شرع سے اُس کا نائب مقرر کیا جاتا ہے مثلاً ایک شخص مرا اور اُس نے مال اور نابالغ بچوں کو چھوڑا اور کسی کو وصی نہیں بنایا اس صورت میں قاضی ایک وصی مقرر کریگا اور یہ اُس میّت کا قائم مقام ہو گا یہی دعویٰ کریگا اور اسی پر دعویٰ ہو گا اور اسی کی موجودگی میں فیصلہ ہو گا۔ (6)(درر)
مسئلہ ۵۴: کبھی حکماً نیابت ہوتی ہے(7) اِس کی صورت یہ ہے کہ غائب پر دعویٰ حاضر پر دعوی کے لیے سبب ہو یعنی دعوی تو حاضر پر ہے مگر اس کا سبب غائب پر دعویٰ ہے بغیر غائب کو مدعیٰ علیہ بنائے حاضر پر دعوی نہیں چل سکتا لہٰذا یہ حاضر اُس غائب کا حکماً قائم مقام ہے اس کی مثال یہ ہے کہ ایک مکان ایک شخص کے قبضہ میں ہے اُس پر کسی نے یہ دعوی کیا کہ میں نے یہ مکان فلاں شخص سے جو غائب ہے خریدا ہے اور اس کو گواہوں سے ثابت کر دیا حاکم نے مدعی کے حق میں فیصلہ کر دیا تو یہ فیصلہ جس طرح اس حاضر کے مقابل میں ہے اُس غائب کے مقابل میں بھی ہے یعنی اگر وہ غائب حاضر ہو کر انکار کرے تو یہ انکار نامعتبر ہے۔(8) (درر، غرر) اس کی ایک مثال یہ بھی ہے زید نے دعوی کیا کہ عمرو پر میرے اتنے روپے ہیں وہ غائب ہے بکر اُس کے حکم
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فیمن ینصب خصمًا عن غیرہ،ج۸،ص۱۱۳.
2 ۔جن پر جائیداد وقف کی گی ہے۔ 3 ۔یعنی وقف ہونے یانہ ہونے میں اختلاف نہ ہو۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۱۳.
5 ۔مد مقابل۔
6 ۔''دررالحکام'' شرح ''غرر الأحکام ''،کتاب القضاء،مسائل شتی،الجزء الثانی،ص۴۱۹.
7 ۔یعنی کبھی حکماً قائم مقام ہوناہوتا ہے۔
8 ۔''دررالحکام ''و''غررالأحکام''،کتاب القضاء،الجزء الثانی،ص۴۱۱.
سے اُس کا کفیل ہوا تھا جو موجود ہے اور گواہوں سے ثابت کر دیا قاضی کا فیصلہ عمرو و بکر دونوں پر ہو گا اگرچہ عمرو موجود نہیں ہے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵۵: اگر غائب پر دعوی حاضر پر دعوی کے لیے شرط ہو تو یہ حاضر اُس غائب کے قائم مقام نہیں ہو گا یعنی یہ فیصلہ نہ حاضر پر ہے نہ غائب پر جب کہ غائب کا ضرر ہو اور اگر غائب کا ضرر نہ ہو توحاضر پر فیصلہ ہو جائے گا مثلاً غلام نے مولے پر یہ دعوی کیا کہ اس نے کہا تھا کہ فلاں شخص اپنی بی بی کو طلاق دے دے تو تُو آزاد ہے اور اُس نے اپنی زوجہ کو طلاق دے دی اور اس پر گواہ پیش کیے تو یہ گواہ اُس وقت مقبول ہوں گے جب وہ شوہر بھی موجود ہو کیونکہ اس فیصلہ میں اُ س کا نقصان ہے۔ اور اگر عورت نے یہ دعویٰ کیا کہ شوہر نے کہا تھا اگر زید مکان میں داخل ہو تو تجھ کو طلاق ہے اور چونکہ شرط طلاق پائی گئی لہٰذا میں مطلقہ ہوں اور زید کی عدم موجودگی میں گواہوں سے ثابت کردیا طلاق ہو گئی زید کا موجود ہونا اس فیصلہ میں شرط نہیں کہ اس فیصلہ سے زید کا کوئی نقصان نہیں۔ (2)(درر، غرر)
مسئلہ ۵۶: ایک شخص مر گیا اُس کے ذمہ اتنا دَین ہے جو سارے ترکہ(3) کو مستغرق ہے (4)ورثہ(5) کو اختیار نہیں ہے کہ ترکہ بیچ کر دَین(6)ادا کریں بلکہ یہ حق قاضی کا ہے یہ اُس وقت ہے کہ سب ورثہ اپنے مال سے دَین ادا کرنے میں متفق نہ ہوں اور اگر سب نے اس امر پر اتفاق کر لیا کہ جو کچھ دَین ہے ہم اپنے مال سے ادا کریں گے اور ترکہ ہم لیں گے تو خود ورثہ ایسا کر سکتے ہیں اور اگر قرض خواہ اس بات پر راضی ہوں کہ ترکہ کو بیع کر کے ورثہ دَین ادا کر دیں تو ان کو بیچنا جائز ہے اور ان کی رضامندی کے بغیر بیع کریں گے تو یہ بیع نافذ نہ ہو گی۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۷: قاضی کو یہ حق حاصل ہے کہ مال وقف یا مال غائب یا مال یتیم کسی تونگر(8) کو جو امین ہے قرض دے دے مگر شرط یہ ہے کہ اس مال کی حفاظت کی اس سے بہتر دوسری صورت نہ ہو اور اگر مضاربت پر کوئی لینے والا موجود ہو یا اُس مال سے کوئی ایسی جائداد خریدی جا سکتی ہو جس کی کچھ آمدنی ہو تو قرض دینے کی اجازت نہیں اور قرض دینے کی صورت میں دستاویز
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:المسائل التی یکون القضاء...إلخ،ج۸،ص۱۱۵.
2 ۔''دررالحکام''و''غررالأحکام''،کتاب القضاء،الجزء الثانی،ص۴۱۰.
3 ۔وہ مال وجائیداد جومیت چھوڑ جائے۔ 4 ۔گھیرے ہوئے ہے یعنی قرض زیادہ اور ترکہ کم ہے۔
5 ۔ ورثاء،میت کے وارث۔ 6 ۔قرض۔
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی بیع الترکۃ المستغرقۃبالدین،ج۸،ص۱۲۲-۱۲۳.
8 ۔دولتمند۔
لکھی جائے تاکہ یادداشت رہے مگر قاضی اپنی ذات کے لیے یہ اموال بطور قرض نہیں لے سکتا۔(1) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۵۸: باپ یا وصی کو یہ حق حاصل نہیں کہ نابالغ بچہ کا مال قرض کے طور پر دے دیں یہاں تک کہ خود قاضی بھی اپنے نابالغ بچہ کا مال قرض نہیں دے سکتا اگر یہ لوگ قرض دیں گے ضامن ہوں گے تلف (2) ہونے کی صورت میں تاوان دینا پڑے گا اسی طرح جس نے لقطہ (پڑا مال) پایا ہے یہ بھی اُس مال کوقرض نہیں دے سکتا۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۹: ملتقط(4)نے اگر لقطہ(5) کااُتنے زمانہ تک اعلان کر لیا جو اُس کے لیے مقرر ہے اور مالک کا پتہ نہ چلا اب اگر یہ قرض دینا چاہے دے سکتا ہے کیوں کہ جب اس وقت اس کو تصدق(6) کرنا جائز ہے تو قرض دینا بدرجہ اولیٰ جائز ہو گا۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۶۰: باپ یا وصی کو اگر ایسی ضرورت پیش آگئی کہ بغیر قرض دیے مال کی حفاظت ہی نہ ہو سکتی ہو مثلاً آگ لگ گئی ہے یا لوٹیرے مال لوٹ رہے ہیں اور ایسے وقت کوئی قرض مانگتا ہے اگر یہ نہیں دے گا تو مال تلف ہو جائے گا ایسی حالت میں ان کو بھی قرض دینا جائز ہے۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۶۱: باپ یا وصی فضول خرچ ہیں اندیشہ ہے کہ نابالغ کے مال کو فضول خرچی میں اُڑا دیں گے تو قاضی ان سے مال لے کر ایسے کے پاس امانت رکھے کہ ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۱: فتوی دینا حقیقۃً مجتہد کا کام ہے کہ سائل کے سوال کا جواب کتاب و سنت و اجماع و قیاس سے وہی دے سکتاہے۔ افتا کا دوسرا مرتبہ نقل ہے یعنی صاحب مذہب سے جو بات ثابت ہے سائل کے جواب میں اُسے بیان کر دینا اس کا کام ہے اور یہ حقیقۃً فتوی دینا نہ ہوا بلکہ مستفتی(10)کے لیے مفتی (مجتہد) کا قول نقل کر دینا ہوا کہ وہ اس پر عمل کرے۔ (11)(عالمگیری)
1 ۔ ''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۲۴-۱۲۵.
و''البحرالرائق''،کتاب القضاء،باب کتاب القاضی الی القاضی وغیرہ،ج۷ ،ص۳۹.
2 ۔ضائع ۔
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:للقاضی اقراض مال الیتیم ونحوہ،ج۸،ص۱۲۵- ۱۲۶.
4 ۔گری پڑی چیز کو اُٹھانے والا۔ 5 ۔گری پڑی چیز۔ 6 ۔صدقہ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۲۶.
8 ۔المرجع السابق،ص۱۲۵. 9 ۔المرجع السابق .
10 ۔فتوی طلب کرنے والے۔
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الاول فی تفسیر معنی الادب... إلخ،ج۳،ص۳۰۸.
مسئلہ ۲: مفتی ناقل کے لیے یہ امر ضروری ہے کہ قول مجتہد کو مشہور و متد اول(1) و معتبر کتابوں سے اخذ کرے غیر مشہور کتب سے نقل نہ کرے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: فاسق مفتی ہو سکتا ہے یا نہیں اکثر متأخرین کی رائے یہ ہے کہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ فتویٰ امورِ دین سے ہے اور فاسق کی بات دیانات(3)میں نامعتبر۔ فاسق سے فتویٰ پوچھنا ناجائزاور اُس کے جواب پر اعتماد نہ کرے کہ علم شریعت ایک نور ہے جو تقویٰ کرنے والوں پر فائض ہوتا ہے جو فسق و فجور میں مبتلا ہوتا ہے اس سے محروم رہتا ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۴: ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اُس سے دینی سوالات کرتے ہیں اور وہ جواب دیتا ہے اور لوگ اُسے عظمت کی نظر سے دیکھتے ہیں اگرچہ اس کو یہ معلوم نہیں کہ یہ کون ہیں اور کیسے ہیں اس کو فتویٰ پوچھنا جائز ہے کہ مسلمانوں کا اُن کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنا اس کی دلیل ہے کہ یہ قابلِ اعتماد شخص ہیں۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: مفتی کو بیدار مغز ہوشیار ہونا چاہیے غفلت برتنا اس کے لیے درست نہیں کیونکہ اس زمانہ میں اکثر حیلہ سازی اور ترکیبوں سے واقعات کی صورت بدل کر فتوی حاصل کر لیتے ہیں اور لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فلاں مفتی نے مجھے فتوی دے دیا ہے محض فتوی ہاتھ میں ہونا ہی اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں بلکہ مخالف پر اس کی وجہ سے غالب آجاتے ہیں اس کو کون دیکھے کہ واقعہ کیا تھا اور اس نے سوال میں کیا ظاہر کیا۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مفتی پر یہ بھی لازم ہے کہ سائل سے واقعہ کی تحقیق کر لے اپنی طرف سے شقوق(7) نکال کر سائل کے سامنے بیان نہ کرے مثلاً یہ صورت ہے تو یہ حکم ہے اور یہ ہے تو یہ حکم ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو صورت سائل کے موافق ہوتی ہے اُسے اختیار کر لیتا ہے اور گواہوں سے ثابت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو گواہ بھی بنا لیتا ہے بلکہ بہتر یہ کہ نزاعی معاملات(8) میں
1 ۔مروج ،رائج۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الاول فی تفسیر معنی الادب...إلخ،ج۳،ص۳۰۸.
3 ۔دینی معاملات۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۳۶.
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی قضاء العدوعلی عدوہ،ج۸،ص۳۶.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب القضاء، مطلب:فی قضاء العدوعلی عدوہ،ج۸،ص۳۷.
7 ۔مختلف صورتیں۔ 8 ۔وہ معاملات جن میں فریقین کا جھگڑا ہو۔
اُس وقت فتوی دے جب فریقین کو طلب کرے اور ہر ایک کا بیان دوسرے کی موجودگی میں سنے اور جس کے ساتھ حق دیکھے اُسے فتوی دے دوسرے کو نہ دے۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: استفتا کا جواب اشارہ سے بھی دیا جا سکتا ہے مثلاً سر یا ہاتھ سے ہاں یا نہیں کا اشارہ کر سکتا ہے اور قاضی کسی معاملہ کے متعلق اشارہ سے فیصلہ نہیں کر سکتاہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۸: قاضی بھی لوگوں کو فتوی دے سکتا ہے کچہری میں بھی اور بیرون اجلاس بھی مگر متخاصمین (مدعی، مدعی علیہ) کو ان کے دعوے کے متعلق فتویٰ نہیں دے سکتا دوسرے امور میں انھیں بھی فتویٰ دے سکتا ہے۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: مفتی اگر اونچا سنتا ہے اُس کے پاس تحریری سوال پیش ہوا اُس نے لکھ کر جواب دے دیا اس پر عمل درست ہے مگر جو شخص کارِ افتا (4)پر مقرر ہو اُس کے پاس دیہاتی اور عورتیں ہر قسم کے لوگ فتوےٰ پوچھنے آتے ہیں اُس کی سماعت ٹھیک ہو نی چاہیے کیونکہ ہر شخص تحریر پیش کرے دشوار ہے اور جب سماعت ٹھیک نہیں ہے تو بہت ممکن ہے کہ پوری بات نہ سنے اور فتویٰ دے دے یہ فتوی قابل اعتبار نہ ہوگا۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۰ ۱: امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا قول سب پر مقد م ہے پھر قول امام ابو یوسف پھر قول امام محمد پھر امام زفرو حسن بن زیادکا قول البتہ جہاں اصحاب فتوی اور اصحاب ترجیح نے امام اعظم کے علاوہ دوسرے قول پر فتوی دیا ہو یا ترجیح دی ہو تو جس پر فتوی یا ترجیح ہے اُس کے موافق فتوی دیا جائے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: جو شخص فتوی دینے کا اہل ہو اُس کے لیے فتوی دینے میں کوئی حرج نہیں۔ (7)(عالمگیری) بلکہ فتوی دینا لوگوں کو دین کی بات بتانا ہے اور یہ خود ایک ضروری چیز ہے کیونکہ کتمانِ علم (8) حرام ہے۔
1 ۔''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی قضاء العدوعلی عدوہ،ج۸،ص۳۷- ۳۸.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۳۸.
3 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:یفتی بقول الا مام علی الاطلاق،ج۸،ص۳۹.
4 ۔فتوی دینے کا کام۔
5 ۔''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی قضاء العدوعلی عدوہ،ج۸،ص۳۸.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فی قضاء العدوعلی عدوہ،ج۸،ص۳۸.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب ادب القاضی،الباب الاول فی تفسیر معنی الأدب...إلخ،ج۳،ص۳۰۹.
8 ۔علم کاچھپانا۔
مسئلہ ۱۲: حاکم اسلام پر یہ لازم ہے کہ اس کا تَجَسُّس کرے کون فتویٰ دینے کے قابل ہے اور کون نہیں ہے جو نا اہل ہو اُسے اس کام سے روک دے کہ ایسوں کے فتوے سے طرح طرح کی خرابیاں واقع ہوتی ہیں جن کا اس زمانہ میں پوری طور پرمشاہدہ ہو رہا ہے۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: فتوے کے شرائط سے یہ بھی ہے کہ سائلین(2) کی ترتیب کا لحاظ رکھے امیر و غریب کا خیال نہ کرے یہ نہ ہو کہ کوئی مالدار یا حکومت کا ملازم ہو تو اُس کو پہلے جواب دے دے اور پیشتر سے جو غریب لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اُنھیں بٹھائے رکھے بلکہ جو پہلے آیا اُسے پہلے جواب دے اور جو پیچھے آیا اُسے پیچھے،کسے باشد(3)۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مفتی کو یہ چاہیے کہ کتاب کو عزت و حرمت کے ساتھ لے کتاب کی بے حرمتی نہ کرے اور جو سوال اُس کے سامنے پیش ہو اُسے غور سے پڑھے پہلے سوال کو خوب اچھی طرح سمجھ لے اُس کے بعد جواب دے۔(5) (عالمگیری) بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ سؤال میں پیچیدگیاں ہوتی ہیں جب تک مُستفتی سے دریافت نہ کیا جائے سمجھ میں نہیں آتا ایسے سؤال کو مستفتی سے سمجھنے کی ضرورت ہے اُس کی ظاہر عبارت پر ہرگز جواب نہ دیا جائے۔ اور یہ بھی ہوتا ہے کہ سوال میں بعض ضروری باتیں مستفتی ذکر نہیں کرتا اگرچہ اس کا ذکر نہ کرنا بددیانتی کی بنا پر نہ ہو بلکہ اُس نے اپنے نزدیک اُس کو ضروری نہیں سمجھا تھا مفتی پر لازم ہے کہ ایسی ضروری باتیں سائل سے دریافت کر لے تاکہ جواب واقعہ کے مطابق ہو سکے اور جو کچھ سائل نے بیان کر دیا ہے مفتی اُس کواپنے جواب میں ظاہر کر دے تاکہ یہ شبہہ نہ ہو کہ جواب و سؤال میں مطابقت نہیں ہے۔
مسئلہ ۵ ۱: سؤال کا کاغذ ہاتھ میں لیا جائے اور جواب لکھ کر ہاتھ میں دیا جائے اُسے سائل کی طرف پھینکا نہ جائے کیوں کہ ایسے کاغذت میں اکثر اﷲ عزوجل کا نام ہوتا ہے قرآن کی آیات ہوتی ہیں حدیثیں ہوتی ہیں ان کی تعظیم ضروری ہے اور یہ چیزیں نہ بھی ہوں تو فتویٰ خود تعظیم کی چیز ہے کہ اُس میں حکم شریعت تحریر ہے حکم شرع کا احترام لازم ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: جواب کو ختم کرنے کے بعد واﷲ تعالیٰ اعلم یا اس کے مثل دوسرے الفاظ تحریر کر دینا چاہیے ۔(7) (عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب ادب القاضی،الباب الاول فی تفسیر معنی الأدب...إلخ،ج۳،ص۳۰۹.
2 ۔سوال پوچھنے والے ،فتوی طلب کرنے والے۔ 3 ۔ یعنی کوئی بھی ہو۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب ادب القاضی،الباب الاولفی تفسیر معنی الأدب...إلخ،ج۳،ص۳۰۹.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب ادب القاضی،الباب الاول فی تفسیر معنی الأدب...إلخ،ج۳،ص۳۰۹.
6 ۔ المرجع السابق. 7 ۔ المرجع السابق.
مسئلہ ۱۷: مفتی کے لیے یہ ضروری ہے کہ بردبار خوش خلق ہنس مکھ ہو نرمی کے ساتھ بات کرے غلطی ہو جائے تو واپس لے اپنی غلطی سے رجوع کرنے میں کبھی دریغ نہ کرے یہ نہ سمجھے کہ مجھے لوگ کیا کہیں گے کہ غلط فتوی دے کر رجوع نہ کرنا حیا سے ہو یا تکبر سے بہرحال حرام ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: ایسے وقت میں فتوی نہ دے جب مزاج صحیح نہ ہو مثلاً غصہ یا غم یا خوشی کی حالت میں طبیعت ٹھیک نہ ہو تو فتوی نہ دے۔ یوہیں پاخانہ پیشاب کی ضرورت کے وقت فتوی نہ دے ہاں اگر اُسے یقین ہے کہ اس حالت میں بھی صحیح جواب ہو گا تو فتوی دینا صحیح ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: بہتر یہ ہے کہ فتوی پر سائل سے اجرت نہ لے مفت جواب لکھے اور وہاں والوں نے اگر اس کی ضروریات کا لحاظ کر کے گزارہ کے لائق مقرر کر رکھا ہو کہ عالمِ دین، دین کی خدمت میں مشغول رہے اور اُس کی ضروریات لوگ اپنے طور پر پورے کریں یہ درست ہے۔ (3)(بحرالرائق)
مسئلہ ۲۰: مفتی کو ہدیہ قبول کرنا اور دعوتِ خاص میں جانا جائز ہے۔(4) (عالمگیری) یعنی جب اُسے اطمینان ہو کہ ہدیہ یا دعوت کی وجہ سے فتوے میں کسی قسم کی رعایت نہ ہو گی بلکہ حکم شرع بلا کم و کاست(5)ظاہر کریگا۔
مسئلہ ۲۱: امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالیٰ سے فتویٰ پوچھا گیا وہ سیدھے بیٹھ گئے اور چادر اوڑھ کر عمامہ باندھ کر فتوی دیا یعنی اِفتا کی عظمت کا لحاظ کیا جائے گا۔(6) (عالمگیری)
اس زمانہ میں کہ علمِ دین کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بہت کم باقی ہے اہلِ علم کو اس قسم کی باتوں کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے جن سے علم کی عظمت پیدا ہو اس طرح ہرگز تواضع نہ کی جائے کہ علم و اہلِ علم کی وقعت میں کمی پیدا ہو۔ سب سے بڑھ کر جو چیز تجربہ سے ثابت ہوئی وہ احتیاج(7)ہے جب اہلِ دنیا کو یہ معلوم ہوا کہ ان کو ہماری طرف احتیاج ہے وَہیں وقعت کا خاتمہ ہے۔
ـ1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الاول فی تفسیر معنی الأدب...إلخ،ج۳،ص۳۰۹.
2 ۔ المرحع السابق.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب القضاء،فصل فی المستفتی،ج۶،ص۴۵۰.
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب ادب القاضی،الباب التاسع فی رزق القاضی وھدیۃ...إلخ،ج۳،ص۳۳۰.
5 ۔کمی بیشی کے بغیر۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب آدب القاضی الباب الاول فی تفسیر معنی الأدب...إلخ،ج۳،ص۳۱۰.
7 ۔حاجت ،ضرورت۔
تحکیم کے معنی حَکم بنانا یعنی فریقین اپنے معاملہ میں کسی کواس لیے مقرر کریں کہ وہ فیصلہ کرے(1) اور نزاع کو دورکردے اسی کو پنچ اور ثالث بھی کہتے ہیں۔
مسئلہ ۱: تحکیم کا رکن ایجاب و قبول ہے یعنی فریقین یہ کہیں کہ ہم نے فلاں کو حکم بنایا اور حکم قبول کرے اور اگر حکم نے قبول نہ کیا پھر فیصلہ کر دیا یہ فیصلہ نافذ نہ ہو گا ہاں اگر انکار کے بعد پھر فریقین نے اُس سے کہا اور اب قبول کر لیا تو حکم ہو گیا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲: حکم کا فیصلہ(3) فریقین کے حق میں ویسا ہی ہے جیسا کہ قاضی کا فیصلہ، فرق یہ ہے کہ قاضی کے لیے چونکہ ولایت(4)عامہ ہے سب کے حق میں اس کا فیصلہ ناطق(5)ہے اور حکم کا فیصلہ علاوہ فریقین کے اور اُس شخص کے جو اُس کے فیصلہ پر راضی ہے دوسروں سے تعلق نہیں رکھتا دوسروں کے لیے بمنزلہ مصلح کے(6)ہے گویا طرفین(7)میں صلح کرا دی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: اس کے لیے چند شرائط ہیں۔
فریقین کا عاقل ہونا شرط ہے۔ حریت و اسلام(9) شرط نہیں یعنی غلام اور کافر کو بھی کسی کا حَکم بنا سکتے ہیں۔ حکم کے لیے ضروری ہے کہ وقت تحکیم و وقت فیصلہ وہ اہل شہادت سے ہو(10) فرض کرو جس وقت اُس کو حکم بنایا اہل شہادت سے نہ تھا مثلاً غلام تھا اور وقت فیصلہ آزاد ہو چکا ہے اس کا فیصلہ درست نہیں یا مسلمانوں نے کافر کو حکم بنایا اور وہ فیصلہ کے وقت مسلمان ہو چکا ہے اس کا فیصلہ نافذ نہیں۔ (11)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴: ذمیوں نے ذمی کو حکم بنایا یہ تحکیم صحیح ہے اگرحَکم فیصلہ کے وقت مسلمان ہو گیا ہے جب بھی فیصلہ صحیح ہے۔ اور تحکیم کے معنی حَکم بنانا یعنی فریقین اپنے معاملہ میں کسی کواس لیے مقرر کریں کہ وہ فیصلہ کرے(1) اور نزاع کو دورکردے اسی کو پنچ اور ثالث بھی کہتے ہیں۔
مسئلہ ۱: تحکیم کا رکن ایجاب و قبول ہے یعنی فریقین یہ کہیں کہ ہم نے فلاں کو حکم بنایا اور حکم قبول کرے اور اگر حکم نے قبول نہ کیا پھر فیصلہ کر دیا یہ فیصلہ نافذ نہ ہو گا ہاں اگر انکار کے بعد پھر فریقین نے اُس سے کہا اور اب قبول کر لیا تو حکم ہو گیا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲: حکم کا فیصلہ(3) فریقین کے حق میں ویسا ہی ہے جیسا کہ قاضی کا فیصلہ، فرق یہ ہے کہ قاضی کے لیے چونکہ ولایت(4)عامہ ہے سب کے حق میں اس کا فیصلہ ناطق(5)ہے اور حکم کا فیصلہ علاوہ فریقین کے اور اُس شخص کے جو اُس کے فیصلہ پر راضی ہے دوسروں سے تعلق نہیں رکھتا دوسروں کے لیے بمنزلہ مصلح کے(6)ہے گویا طرفین(7)میں صلح کرا دی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: اس کے لیے چند شرائط ہیں۔
فریقین کا عاقل ہونا شرط ہے۔ حریت و اسلام(9) شرط نہیں یعنی غلام اور کافر کو بھی کسی کا حَکم بنا سکتے ہیں۔ حکم کے لیے ضروری ہے کہ وقت تحکیم و وقت فیصلہ وہ اہل شہادت سے ہو(10) فرض کرو جس وقت اُس کو حکم بنایا اہل شہادت سے نہ تھا مثلاً غلام تھا اور وقت فیصلہ آزاد ہو چکا ہے اس کا فیصلہ درست نہیں یا مسلمانوں نے کافر کو حکم بنایا اور وہ فیصلہ کے وقت مسلمان ہو چکا ہے اس کا فیصلہ نافذ نہیں۔ (11)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴: ذمیوں نے ذمی کو حکم بنایا یہ تحکیم صحیح ہے اگرحَکم فیصلہ کے وقت مسلمان ہو گیا ہے جب بھی فیصلہ صحیح ہے۔ اور
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،باب التحکیم،ج۸،ص۱۴۰.
و''الھدایۃ''،کتاب أدب القاضی،باب التحکیم،ج۲،ص۱۰۸.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،باب التحکیم،ج۸،ص۱۴۰.
3 ۔ثالث کا فیصلہ،جرگہ کافیصلہ۔ 4 ۔سرپرستی،سربراہی۔ 5 ۔لازم۔
6 ۔صلح کروانے والے کی طرح۔ 7 ۔یعنی مدعی اور مدعی علیہ۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الرابع والعشرون فی التحکیم،ج۳،ص۳۹۷.
9 ۔آزاداورمسلمان ہونا۔ 10 ۔گواہی دینے کا اہل ہو۔
11 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الرابع والعشرون فی التحکیم،ج۳،ص۳۹۷.
و''الدرالمختار''،کتاب القضاء،باب التحکیم،ج۸،ص۱۴۰،۱۴۱.
اگر فریقین میں سے کوئی مسلمان ہو گیا اور حکم کافر ہے تو فیصلہ صحیح نہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: حَکم ایسے کو بنائیں جس کو طرفین جانتے ہوں اور اگر ایسے کو حکم بنایاجو معلوم نہ ہو مثلاً جو شخص پہلے مسجد میں آئے وہ حکم ہے یہ تحکیم ناجائز اور اس کا فیصلہ کرنا بھی درست نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۶: جس کو پنچ(3)بنایا ہے وہ بیمار ہو گیا یا بیہوش ہو گیا یا سفر میں چلا گیا پھر اچھا ہو گیا یا ہوش میں ہوگیا یا سفر سے واپس ہوا اور فیصلہ کیا یہ فیصلہ صحیح ہے۔ اور اگر اندھا ہو گیا پھر بینائی واپس ہوئی اس کا فیصلہ جائز نہیں۔ اورا گر مرتد ہو گیا پھر اسلام لایا اس کا فیصلہ بھی ناجائز ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: حَکم کو فریقین میں سے کسی نے وکیل بالخصومۃ(5) کیا اور اُس نے قبول کر لیا حَکم نہ رہا یوہیں جس چیز میں جھگڑا تھا اگر حکم نے یا اُس کے بیٹے نے یا کسی ایسے شخص نے خریدلی جس کے حق میں حَکم کی شہادت درست نہیں ہے تو اب وہ حکم نہ رہا۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: حدود و قصاص اور عاقلہ پر دیت کے متعلق حکم بنانادرست نہیں ہے اور ان امور کے متعلق حکم کا فیصلہ بھی درست نہیں اور ان کے علاوہ جتنے حقوق العباد ہیں جن میں مصالحت ہو سکتی ہے سب میں تحکیم ہو سکتی ہے۔(7)(درمختار)
مسئلہ ۹: حکم نے جو کچھ فیصلہ کیا خواہ مدعی علیہ(8)کے اقرار کی بنا پر ہو یا مدعی(9)کے گواہ پیش کرنے پر یا مدعی علیہ نے قسم سے انکارکیا اس بنا پر اُس کا فیصلہ فریقین پر نافذ ہے اُن دونوں پر لازم ہے اُس سے انکار نہیں کر سکتے بشرطیکہ فریقین(10) تحکیم پر(11)وقتِ فیصلہ تک قائم ہوں اور اگر فیصلہ سے قبل دونوں میں سے ایک نے بھی ناراضی ظاہر کی تحکیم کو
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الرابع والعشرون فی التحکیم،ج۳،ص۳۹۷.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،باب التحکیم،ج۸،ص۱۴۱.
3 ۔ثالث ،فیصلہ کرنے والا۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الرابع والعشرون فی التحکیم،ج۳،ص۳۹۸.
5 ۔مقدمہ کی پیروی کا وکیل۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الرابع والعشرون فی الحکیم،ج۳،ص۳۹۸۔۳۹۹.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۴۲.
8 ۔جس دعوی کیا گیاہے۔ 9 ۔دعوی کرنے والا۔
10 ۔یعنی مدعی اور مدعی علیہ۔ 11 ۔یعنی حَکَم بنانے پر ۔
توڑ دیا تو فیصلہ نافذ نہ ہو گا کہ وہ اب حکم ہی نہ رہا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: دو شریکوں میں سے ایک نے اور غریم(2)نے کسی کو حَکم بنایا اس نے فیصلہ کر دیا وہ فیصلہ دوسرے شریک پر بھی لازم ہے اگرچہ دوسرے شریک کی عدم موجودگی میں فیصلہ ہوا کہ حکم کا فیصلہ بمنزلہ صلح ہے(3)اور صلح کا حکم یہ ہے کہ ایک شریک نے جو صلح کی وہ دوسرے پر لازم ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: بائع (5)و مشتری (6)کے مابین مبیع (7)کے عیب میں اختلاف ہوا ان دونوں نے کسی کو حکم بنایا اس نے مبیع واپس کر نے کا حکم دیا تو بائع کو یہ اختیار نہیں کہ اپنے بائع یعنی بائع اول کو واپس دے ہاں اگر بائع اول و ثانی و مشتری تینوں کی رضامندی سے حکم ہوا تو بائع اول پرمبیع واپس ہو گی۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: حکم نے فیصلہ کے وقت یہ کہا کہ تو نے میرے سامنے مدعی کے حق کا اقرار کیا یا میرے نزدیک گواہان عادل سے مدعی کا حق ثابت ہوا میں نے اس بنا پر یہ فیصلہ دیا اب مدعیٰ علیہ یہ کہتا ہے کہ میں نے اقرار نہیں کیا تھا یاوہ گواہ عادل نہ تھے تو یہ انکار نا معتبر ہے وہ فیصلہ لازم ہو جائے گا اور اگرحکم نے بعد فیصلہ کرنے کے یہ خبر دی کہ میں نے اس معاملہ میں یہ فیصلہ کیا تھا یہ خبر اُس کی نامعتبر ہے کہ اب وہ حکم نہیں ہے۔ (9)( درر وغیرہ)
مسئلہ ۱۳: اپنے والدین اور اولاد اور زوجہ کے موافق فیصلہ کریگا یہ نافذ نہ ہو گا اور ان کے خلاف فیصلہ کریگا وہ نافذ ہو گا کیونکہ ان کے لیے وہ اہل شہادت سے نہیں ان کے خلاف شہادت کا اہل ہے جس طرح قاضی ان کے موافق فیصلہ کریگا نافذ نہ ہو گا مخالف کریگا تو نافذ ہو گا۔(10) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: فریقین نے دو شخصوں کو پنچ(11) مقرر کیا تو فیصلہ میں دونوں کا مجتمع ہونا(12) ضروری ہے فقط ایک
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۴۲.
2 ۔قرض خواہ۔ 3 ۔یعنی صلح کی طرح ہے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۴۳.
5 ۔بیچنے والا۔ 6 ۔خریدار۔ 7 ۔بیچی جانے والی چیز۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۴۳.
9 ۔''دررالحکام'' شرح ''غرر الأحکام ''،کتاب القضاء،الجزء الثانی ،ص ۴۱۱،وغیرہ .
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۴۴.
11 ۔ثالث ،فیصلہ کرنے والا۔ 12 ۔حاضر ہونا۔
کافیصلہ کر دیناناکافی ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں کا ایک امر پر اتفاق ہو اگر مختلف رائیں ہوئیں تو کوئی رائے پابندی کے قابل نہیں مثلاً شوہر نے عورت سے کہا تُو مجھ پر حرام ہے اور اس لفظ سے طلاق کی نیت کی ان دونوں نے دو شخصوں کو حکم بنایا ایک نے طلاق بائن کا فیصلہ دیا دوسرے نے تین طلاق کا حکم دیا یہ فیصلہ جائز نہ ہوا کہ دونوں کا ایک امر پر اتفاق نہ ہوا۔ (1)(درر،درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ ہمارے مابین فلاں یا فلاں فیصلہ کر دے ان میں سے جو ایک فیصلہ کردے گا صحیح ہو گا مگر ایک کے پاس انھوں نے معاملہ پیش کر دیا تو وہی حکم ہونے کے لیے متعین ہو گیا دوسرا حَکم نہ رہا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: حَکم نے جو فیصلہ کیا اُس کا مرافعہ (3)قاضی کے پاس ہوا اگر یہ فیصلہ قاضی کے مذہب کے موافق ہو تو اسے نافذ کر دے اور مذہب قاضی کے خلاف ہو تو باطل کر دے اور قاضی کا فیصلہ اگر دوسرے قاضی کے پاس پیش ہوا تو اگرچہ اس کے مذہب کے خلاف ہے اختلافی مسائل میں قاضی اول کے فیصلہ کو باطل نہیں کر سکتا جبکہ قاضی اول نے اپنے مذہب کے موافق فیصلہ کیاہو۔ یوہیں قاضی نے اگر حَکم کے فیصلہ کا امضا (4) کر دیا تو اب دوسرا قاضی اس فیصلہ کو نہیں توڑ سکتا کہ یہ تنہا حَکم کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ قاضی کا بھی ہے۔ (5)(درر، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: فریقین نے حَکم بنایا پھر فیصلہ کرنے کے قبل قاضی نے اُس کے حکم ہونے کو جائز کر دیا اور حکم نے رائے قاضی کے خلاف فیصلہ کیا یہ فیصلہ جائز نہیں جبکہ قاضی کو اپنا قائم مقام بنانے کی اجازت نہ ہو اور اگر اُسے نائب و خلیفہ مقرر کرنے کی اجازت ہے اور اُس نے حَکم ہونے کو جائز رکھا تو اگرچہ حکم کا فیصلہ رائے قاضی کے خلاف ہو قاضی اس فیصلہ کو نہیں توڑ سکتا۔ (6)(عالمگیری)
1 ۔''دررالحکام'' شرح ''غرر الأحکام ''،کتاب القضاء،الجزء الثانی،ص۴۱۱.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:حکم بینھماقبل تحکیمہ...إلخ،ج۸،ص۱۴۴-۱۴۵.
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الرابع والعشرون فی التحکیم،ج۳،ص۳۹۸.
3 ۔اپیل۔ 4 ۔نافذ۔
5 ۔''دررالحکام'' شرح ''غرر الأحکام ''،کتاب القضاء،الجزء الثانی،ص۴۱۱.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:حکم منھاقبل تحکیمہ...إلخ،ج۸،ص۱۴۵.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الرابع والعشرون فی التحکیم،ج۳،ص۳۹۹.
مسئلہ ۱۸: ایک کو حَکم بنایا اُس نے فیصلہ کر دیا پھر فریقین نے دوسرے کوحَکم بنایا اگر اس کے نزدیک پہلے کا فیصلہ صحیح ہے اُسی کو نافذ کر دے اور اگر اس کی رائے کے خلاف ہے باطل کر دے اور ایک نے ایک فیصلہ کیا دوسرے حکم نے دوسرا فیصلہ کیااور یہ دونوں فیصلے قاضی کے سامنے پیش ہوئے ان میں جو فیصلہ قاضی کی رائے کے موافق ہو اُسے نافذ کر دے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: حَکم کو یہ اختیار نہیں کہ دوسرے کوحَکم بنائے اور اُس سے فیصلہ کرائے اور اگر دوسرے کو حکم بنا دیا اور اُس نے فیصلہ کر دیا اور فریقین اُس کے فیصلہ پر راضی ہو گئے تو خیر ورنہ بغیر رضامندی فریقین اُس کا فیصلہ کوئی چیز نہیں اور حکم اول چاہے کہ اُس کے فیصلہ کو نافذ کر دے یہ نہیں کر سکتا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: شخص ثالث(3) نے فریقین میں خود ہی فیصلہ کر دیا انھوں نے اس کوحَکم نہیں بنایا ہے مگر فریقین اس کے فیصلہ پر راضی ہو گئے تو یہ فیصلہ صحیح ہو گیا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: فریقین میں ایک نے اپنے آدمی کو حکم بنایا دوسرے نے اپنے آدمی کو اور ہر ایک حکم نے اپنے اپنے فریق کے موافق فیصلہ کیا تو کوئی فیصلہ صحیح نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ۲۲: زمانہ تحکیم میں(6) فریقین میں سے کوئی بھی حکم کے پاس ہدیہ پیش کرے یا اُس کی خاص دعوت کرے حکم کو چاہیے کہ قبول نہ کرے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱: دو منزلہ مکان دو شخصوں کے مابین مشتر ک ہے نیچے کی منزل ایک کی ہے بالاخانہ دوسرے کا ہے ہر ایک اپنے حصہ میں ایسا تصرف کرنے سے روکا جائے گا جس کا ضرر دوسرے تک پہنچتا ہو مثلاً نیچے والا دیوار میں میخ گاڑنا چاہتا ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الرابع والعشرون فی التحکیم،ج۳،ص۳۹۹.
2 ۔المرجع السابق،ص۴۰۰.
3 ۔یعنی کسی تیسرے شخص۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الرابع والعشرون فی التحکیم،ج۳،ص۴۰۰.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الرابع والعشرون فی التحکیم،ج۳،ص۴۰۰.
6 ۔ یعنی جس وقت تک ان کاثالث ہے ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۴۷.
یاطاق بناناچاہتا ہے یا بالاخانہ والا اوپر جدید عمارت بنانا چاہتا ہے یا پردہ کی دیواروں پر کڑیاں رکھ کر چھت پاٹنا (1) چاہتا ہے یاجدید پاخانہ(2)بنوانا چاہتا ہے۔ یہ سب تصرفات(3)بغیر مرضی دوسرے کے نہیں کر سکتا اُس کی رضامندی سے کر سکتا ہے اور اگر ایسا تصرف ہے جس سے ضرر کا اندیشہ نہیں ہے مثلاً چھوٹی کیل گاڑنا کہ اس سے دیوار میں کیا کمزوری پیدا ہو سکتی ہے اس کی ممانعت نہیں اور اگرمشکوک حالت ہے معلوم نہیں کہ نقصان پہنچے گا یا نہیں یہ تصرف بھی بغیر رضامندی نہیں کر سکتا۔ (4)(ہدایہ،فتح، درمختار وغیرہا)
مسئلہ ۲: اوپر کی عمارت گر چکی ہے صرف نیچے کی منزل باقی ہے اس کے مالک نے اپنی عمارت قصداً گرا دی کہ بالاخانہ والا بھی بنوانے سے مجبور ہو گیا نیچے والے کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنی عمارت بنوائے تاکہ بالاخانہ والا اسکے اوپر عمارت طیار کر لے اور اگر اُس نے نہیں گرائی ہے بلکہ اپنے آپ عمارت گر گئی تو بنوانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا کہ اس نے اُس کو نقصان نہیں پہنچایا ہے بلکہ قدرتی طور پر اُسے نقصان پہنچ گیا پھر اگر بالاخانہ والا یہ چاہتا ہے کہ نیچے کی منزل بنا کر اپنی عمارت اوپر بنائے تو نیچے والے سے اجازت حاصل کرلے یا قاضی سے اجازت لے کر بنائے اور نیچے کی تعمیر میں جو کچھ صَرفہ(5)ہو گا وہ مالک مکان سے وصول کر سکتا ہے اور اگر نہ اُس سے اجازت لی نہ قاضی سے حاصل کی خود ہی بنا ڈالی تو صرفہ نہیں ملے گا بلکہ عمارت کی بنانے کے وقت جو قیمت ہو گی وہ وصول کر سکتا ہے۔(6) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳: مکان ایک منزلہ دو شخصوں میں مشترک تھا پورا مکان گر گیا ایک شریک نے بغیر اجازت دوسرے کی اُس مکان کو بنوایا تویہ بنوانا محض تبرع(7) ہے شریک سے کوئی معاوضہ نہیں لے سکتا کیوں کہ یہ شخص پورامکان بنوانے پر مجبور نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ زمین تقسیم کراکے صرف اپنے حصہ کی تعمیر کرائے ہاں اگر یہ مکان مشترک اتنا چھوٹا ہے کہ تقسیم کے بعد قابل انتفاع باقی نہیں رہتا تو یہ شخص پور امکان بنوانے پر مجبور ہے اور شریک سے بقدر اُس کے حصہ کے عمارت کی قیمت لے سکتا ہے۔ یوہیں اگر مکان مشترک کا ایک حصہ گر گیاہے اور ایک شریک نے تعمیر کرائی تو دوسرے سے اُس کے حصہ کے لائق قیمت وصول کر سکتا ہے
1 ۔چھت ڈالنا۔ 2 ۔نیابیت الخلا۔ 3 ۔یہ تمام کام۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب أدب القاضی،باب التحکیم،مسائل شتی من کتاب القضاء،ج۲،ص۱۰۸،۱۰۹.
و''فتح القدیر''،کتاب أدب القاضی،باب التحکیم،مسائل منثورۃ من کتاب القضاء،ج۶،ص۴۱۲.
و''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۶۵،۱۶۶،وغیرہا.
5 ۔خرچہ۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۶۶،وغیرہ.
7 ۔احسان ،نیکی بھلائی۔
جبکہ یہ مکان چھوٹا ہو اور اگر بڑا مکان ہو جو قابل قسمت(1)ہے اور کچھ حصہ گر گیا ہے تو تقسیم کرا لے اگرمنہدم حصہ(2) اس کے حصہ میں پڑے درست کرا لے اور شریک کے حصہ میں پڑے تو وہ جو چاہے کرے۔ (3)(ردالمحتار)
جو شخص اپنے شریک کو کام کرنے پر مجبور کر سکتا ہو وہ بغیر اجازت شریک خود ہی اگر اُس کام کو تنہا کرلے گا متبرع(4) قرار پائے گا شریک سے معاوضہ نہیں لے سکتا مثلاً نہر پٹ گئی(5)ہے یا کشتی عیب دار ہو گئی ہے شریک درستی پر مجبور ہے اور اگر وہ خود درست نہیں کراتا ہے قاضی کے یہاں درخواست دے کر مجبور کرائے اور اگر شریک کو مجبور نہیں کر سکتا اور تنہا ایک شخص کریگا تو معاوضہ لے سکتا ہے مثلاً بالاخانہ والا نیچے والے کو تعمیر پر مجبور نہیں کر سکتا یہ بغیر اُس کے حکم کے بنائے گا جب بھی معاوضہ پائے گا اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ جانور دو شخصوں میں مشترک ہے ایک شریک نے بغیر اجازت دوسرے کے اُسے کِھلایا معاوضہ نہیں پائے گا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ قاضی کے پاس معاملہ پیش کرے اور قاضی دوسرے کو مجبور کرے اور زراعت مشترک میں قاضی شریک کو مجبور نہیں کر سکتا اس میں معاوضہ پائے گا۔ (6)(ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۴: بالاخانہ والے نے جب نیچے کی عمارت بنوالی تو نیچے والے کو اُس میں سکونتسے(7) روک سکتا ہے جب تک جو رقم واجب ہے ادا نہ کر لے اسی طرح ایک دیوار مشترک ہے جس پر دو شخصوں کی کڑیاں(8)ہیں وہ گر گئی ایک نے بنوائی جب تک دوسرا اس کا معاوضہ ادا نہ کر لے اُس پر کڑیاں رکھنے سے روکا جا سکتا ہے۔(9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: ایک دیوار پر دو شخصوں کے چھپر(10)یا کھپریلیں(11)ہیں دیوار خراب ہو گئی ہے ایک شخص اُس کو درست کرانا چاہتا ہے دوسرا انکار کرتا ہے پہلا شخص دوسرے سے کہہ دے کہ تم بانس، بَلی(12)وغیرہ لگا کر اپنے چھپر یا کھپریل
1 ۔تقسیم کے قابل۔ 2 ۔گِراہواحصہ۔
3 ۔''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فیمالوانھدم المشترک واراد...إلخ،ج۸،ص۱۶۶.
4 ۔احسان کرنے والا۔ 5 ۔مٹی وغیرہ سے بھر گئی،خراب ہوگئی۔
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فیمالوانھدم المشترک واراد...إلخ،ج۸،ص۱۶۷وغیرہ.
7 ۔رہائش سے ،رہنے سے۔ 8 ۔کڑی کی جمع شہتیر۔
9 ۔''ردالمحتار'' ،کتاب القضاء ، مطلب :فیمالوانھدم المشترک واراد...إلخ،ج۸،ص۱۶۷.
10 ۔پھوس کی چھت،سائبان۔ 11 ۔ٹائل ،چوکے وغیرہ جن سے چھت بنائی جاتی ہے۔
12 ۔لکڑی کا لٹھا ،مظبوط لمبا بانس ۔
کو روک لو ورنہ میں دیوار گراؤں گا تمھارا نقصان ہو گا اور اس پر لوگوں کو گواہ کر لے اگر اُس نے انتظام کر لیا فبہا (1)ورنہ یہ دیوار گرا دے دوسرے کا جو کچھ نقصان ہو گا اُس کا تاوان اس کے ذمہ نہیں کیوں کہ وہ خوداپنے نقصان کے لیے طیار ہوا ہے اس کا قصور نہیں۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: ایک(3) لمبا راستہ ہے جس میں سے ایک کوچہ غیر نافذہ نکلا ہے یعنی کچھ دور کے بعد یہ گلی بند ہو گئی ہے جن لوگوں کے مکانات کے دروازے پہلے راستہ میں ہیں اُن کو یہ حق حاصل نہیں کہ کوچہ غیر نافذہ میں دروازے نکالیں کیونکہ کوچہ غیر نافذہ میں اُن لوگوں کے لیے آمدورفت(4) کا حق نہیں ہے ہاں اگر ہوا آنے جانے کے لیے کھڑکی بنانا چاہتے ہیں یاروشندان کھولنا چاہتے ہیں تو اس سے روکے نہیں جا سکتے کہ اس میں کوچہ سربستہ(5)والوں کا کوئی نقصان نہیں ہے اور کوچہ سربستہ والے اگر پہلے راستہ میں اپنا دروازہ نکالیں تو منع نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ وہ راستہ اُن لوگوں کے لیے مخصوص نہیں۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷ : اگر اُس لمبے راستہ میں ایک شاخ(7) مستدیر (گول )(8) نکلی ہو جو نصف دائرہ یا کم ہو تو جن لوگوں کے دروازے پہلے راستہ میں ہوں وہ اس کوچہ مستدیرہ(9)میں بھی اپنا دروازہ نکال سکتے ہیں کہ یہ میدان مشترک ہے سب کے لیے
1 ۔توصحیح ہے،توبہتر ہے۔
2 ۔''ردالمحتار''،کتاب القضاء،مطلب:فیمالوانھدم المشترک واراد...إلخ،ج۸،ص۱۶۸.
3 ۔اس کی صورت یہ ہے
.gif)
4 ۔آنے جانے ۔
5 ۔ایک طرف سے بند گلی ۔
6 ۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار'' ،کتاب القضاء ، مطلب : فی فتح باب آخر للدار،ج ۸، ص ۱۶۸ ،۱۷۰.
7 ۔یعنی گلی۔
8 ۔اس کی صورت یہ ہے
.gif)
9 ۔گول گلی ۔
اس میں حق آسائش ہے۔(1) (ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۸: ہر شخص اپنی مِلک میں جو تصرف چاہے کر سکتا ہے دوسرے کو منع کرنے کا اختیار نہیں مگر جبکہ ایسا تصرف کرے کہ اس کی وجہ سے پروس والے کو کھلا ہوا ضرر پہنچے تو یہ اپنے تصرف سے روک دیا جائے گا مثلاً اس کے تصرف کرنے سے پروس والے کی دیوار گر جائے گی یا پروسی کا مکان قابل انتفاع نہ رہے گا مثلاً اپنی زمین میں دیوار اُٹھا رہا ہے جس سے دوسرے کا روشندان بند ہو جائے گا اُس میں بالکل اندھیرا ہو جائے گا۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: کوئی شخص اپنے مکان میں تنور گاڑنا چاہتا ہے جس میں ہر وقت روٹی پکے گی جس طرح دوکانوں میں ہوتاہے یا اجر ت پر آٹا پیسنے کی چکی لگانا چاہتا ہے یا دھوبی کا پاٹا رکھوانا چاہتا ہے جس پر کپڑے دھلتے رہیں گے ان چیزوں سے منع کیا جاسکتا ہے کہ تنور کی وجہ سے ہر وقت دھواں آئے گا جو پریشان کریگا چکی اور کپڑے دھونے کی دھمک سے پروسی کی عمارت کمزور ہو گی اس لیے ان سے مالک مکان کو منع کر سکتا ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: بالاخانہ پر کھڑکی بناتا ہے جس سے پروس والے کے مکان کی بے پردگی ہو گی اس سے روکا جائے گا۔ (4)(درمختار، ردالمحتار) یوہیں چھت پر چڑھنے سے منع کیا جائے گاجب کہ اس کی وجہ سے بے پردگی ہوتی ہو۔
مسئلہ ۱۱: دو مکانوں کے درمیان میں پردہ کی دیوار تھی گر گئی جس کی دیوار ہے وہ بنائے اور مشترک ہو تو دونوں بنوائیں تاکہ بے پردگی دور ہو۔(5)
مسئلہ ۱۲: ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ فلاں وقت اُس نے یہ مکان مجھے ہبہ کر دیا تھا اور قبضہ بھی دے دیا مدعی سے ہبہ کے گواہ مانگے گئے توکہنے لگا اُس نے ہبہ سے انکار کر دیا تھا لہٰذا میں نے یہ مکان اُس سے خرید لیا اور خرید نے کے گواہ پیش کئے اگر یہ گواہ خریدنے کا وقت ہبہ کے بعد کا بتاتے ہیں مقبول ہیں اور پہلے کا بتائیں تو مقبول نہیں کہ تناقض پیدا ہو گیا اور اگر ہبہ اور بیع دونوں کے وقت مذکور نہ ہوں یا ایک کے لیے وقت ہو دوسرے کے لیے وقت نہ ہو جب بھی گواہ
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب أدب القاضی،باب التحکیم،مسائل شتی من کتاب القضاء،ج۲،ص۱۰۹وغیرہا.
2 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضائ،مطلب:اقتسموا دارًا وأرا د...إلخ،ج۸،ص۱۷۱۔۱۷۳.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الثانی والثلاثون فی المتفرقات،ج۳،ص۴۴۵.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضائ،مطلب:اقتسموا دارًا وأرا د...إلخ،ج۸،ص۱۷۲.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الحوالۃ،باب التحکیم،ج۷،ص۵۷.
مقبول ہیں کہ دونوں قولوں میں توفیق ممکن ہے۔(1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۳: مکان کے متعلق دعوی کیا کہ یہ مجھ پر وقف ہے پھر یہ کہتا ہے میرا ہے یا پہلے دوسرے کے لیے دعوی کیا پھر اپنے لیے دعوی کرتا ہے یہ مقبول نہیں کہ تناقض ہے اوراگر پہلے اپنی ملک کا دعوی کیا پھر اپنے اوپر وقف بتایا یا پہلے اپنے لیے دعوی کیا پھر دوسرے کے لیے یہ مقبول ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: ایک شخص نے دوسرے سے کہا میرے ذمہ تمھارے ہزارروپے ہیں اُس نے کہا میرا تم پر کچھ نہیں ہے پھر اُسی جگہ اُس نے کہا ہاں میرے تمھارے ذمہ ہزاررو پے ہیں تو اب کچھ نہیں لے سکتا کہ اُس کا اقرار اس کے رد کرنے سے رد ہو گیا اب یہ اس کا دعوی ہے گواہ سے ثابت کرے یا وہ شخص اس کی تصدیق کرے تو لے سکتا ہے ورنہ نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: ایک شخص نے دوسرے پر ہزارو پے کا دعوی کیا مدعی علیہ نے انکار کیا کہ میرے ذمہ تمھارا کچھ نہیں ہے یا یہ کہا کہ میرے ذمہ کبھی کچھ نہ تھا اور مدعی نے اُس کے ذمہ ہزار روپے ہونا گواہوں سے ثابت کیا اور مدعی علیہ نے گواہوں سے ثابت کیا کہ میں ادا کر چکا ہوں یا مدعی معاف کر چکا ہے مدعی علیہ کے گواہ مقبول ہیں اور اگر مدعی علیہ نے یہ کہا کہ میرے ذمہ کچھ نہ تھا اور میں تمھیں پہچانتا بھی نہیں اسکے بعد ادا یا ابرا کے(4) گواہ قائم کئے مقبول نہیں۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۶: چار سو روپے کا دعوی کیا مدعی علیہ نے انکار کر دیا مدعی نے گواہوں سے ثابت کیا اس کے بعد مدعی نے یہ اقرار کیا کہ مدعی علیہ کے اسکے ذمہ تین سو ہیں اس اقرار کی وجہ سے مدعی علیہ سے تین سو ساقط نہ ہوں گے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: دعوی کیا کہ تم نے فلاں چیز میرے ہاتھ بیع کی ہے مدعی علیہ منکر ہے مدعی نے گواہوں سے بیع ثابت کردی اور قاضی نے چیز دلا دی اس کے بعد مدعی نے دعوی کیا کہ اس چیز میں عیب ہے لہٰذا واپس کرا دی جائے بائع جواب میں کہتاہے کہ میں ہر عیب سے دست بردار ہو چکا تھا اور اس کو گواہوں سے ثابت کرنا چاہتا ہے بائع کے گواہ نامقبول ہیں۔ (7)(عالمگیری)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الثانی والثلاثون فی المتفرقات،ج۳،ص۴۴۴،وغیرہ.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضائ،ج۸،ص۱۷۷.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الثانی والثلاثون فی المتفرقات،ج۳،ص۴۴۴.
4 ۔معاف کرنے کے۔
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب أدب القاضی،باب التحکیم،مسائل شتی من القضائ،ج۲،ص۱۱۰.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضائ،ج۸،ص۱۸۱.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الثانی والثلاثون فی المتفرقات،ج۳،ص۴۴۵.
مسئلہ ۱۸: ایک شخص دستاویز(1) پیش کرتا ہے کہ اس کی رو سے تم نے فلاں چیز کا میرے لیے اقرار کیا ہے وہ کہتا ہے ہاں میں نے اقرار کیا تھا مگر تم نے اُس کو رد کر دیا مقرلہ کو حلفدیا جائے گا (2) اگر وہ حلف سے یہ کہہ دے کہ میں نے رد نہیں کیا تھا وہ چیز مقرسے(3)لے سکتا ہے۔ یوہیں ایک شخص نے دعوی کیا کہ تم نے یہ چیز میرے ہاتھ بیع کی ہے بائع کہتا ہے کہ ہاں بیع کی تھی مگر تم نے اقالہ کر لیامدعی پرحلف دیا جائے گا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: کافر ذمی مر گیا اُس کی عورت میراث کا دعوی کرتی ہے اور یہ عورت اس وقت مسلمان ہے کہتی ہے میں اُس کے مرنے کے بعد مسلمان ہوئی ہوں اور ورثہ(5)یہ کہتے ہیں کہ اُس کے مرنے سے پہلے مسلمان ہو چکی تھی لہٰذا میراث کی حقدار نہیں ہے ورثہ کا قول معتبر ہے اور مسلمان مر گیا اُس کی عورت کافرہ تھی وہ کہتی ہے میں شوہر کی زندگی میں مسلمان ہو چکی ہوں اور ورثہ کہتے ہیں مرنے کے بعد مسلمان ہوئی ہے اس صورت میں بھی ورثہ کا قول معتبر ہے۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۰: میّت کے کفرواسلام میں اختلاف ہے کہ وہ مسلمان ہوا تھا یا کافر ہی تھا جو اُس کے اسلام کا مدعی ہے اُس کاقول معتبر ہے مثلاً ایک شخص مر گیا جس کے والدین کافر ہیں اور اولاد مسلمان ہے والدین یہ کہتے ہیں کہ ہمارا بیٹا کافر تھا اور کافر مرااور اُس کی اولاد یہ کہتی ہے کہ ہمارا باپ مسلمان ہو چکا تھا اسلام پر مرا اولاد کا قول معتبر ہے یہی اُس کے وارث قرار پائیں گے ماں باپ کو ترکہ نہیں ملے گا۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱ : پن چکی ٹھیکہ پر دے دی ہے مالک اجرت کا مطالبہ کرتا ہے ٹھیکہ دار یہ کہتا ہے کہ نہر کا پانی خشک ہو گیا تھا اس وجہ سے چکی چل نہ سکی اور میرے ذمہ اجر ت واجب نہیں مالک اس سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے پانی جاری تھا چکی بند رہنےکی کوئی وجہ نہیں اور گواہ کسی کے پاس نہیں اگر اس وقت پانی جاری ہے مالک کاقول معتبر ہے اور جاری نہیں ہے تو ٹھیکہ دار کا قول معتبر ۔ (8)(درمختار)
1 ۔یعنی ایسا تحریری ثبوت جس سے اپنا حق ثابت کیا جا سکے۔ 2 ۔جس کے لیے اقرار کیا تھا اس سے قسم لی جائے گی۔
3 ۔اقرار کرنے والے سے۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب أدب القاضی،الباب الثانی والثلاثون فی المتفرقات،ج۳،ص۴۴۷.
5 ۔میت کے وارث۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب أدب القاضی،فصل فی القضاء بالمواریث،ج۲،ص۱۱۱.
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب القضائ،مطلب:اقتسموا دارًا وأرا د...إلخ،ج۸،ص۱۸۵.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضائ،ص۱۸۴.
مسئلہ ۲۲: ایک شخص نے اپنی چیز کسی کے پاس امانت رکھی تھی وہ مر گیا امین ایک شخص کی نسبت یہ کہتا ہے یہ شخص اُس امانت رکھنے والے کابیٹا ہے اس کے سوا اُس کا کوئی وارث نہیں حکم دیا جائے گا کہ امانت اسے دے دے۔ اس کے بعد وہ امین ایک دوسرے شخص کی نسبت یہ اقرار کرتا ہے کہ یہ اُس میت کا بیٹا ہے مگر وہ پہلا شخص انکار کرتا ہے تو یہ شخص اُس امانت میں سے کچھ نہیں لے سکتا ہاں اگر پہلے شخص کوامین نے بغیر قضائے قاضی(1) امانت دے دی ہے تو دوسرے کے حصہ کی قدر امین کو اپنے پاس سے دینا پڑے گا۔ مدیون(2) نے یہ اقرار کیا کہ یہ میرے دائن(3) کا بیٹا ہے اس کے سوا اُس کا کوئی وارث نہیں تو دَین(4) اُسے دے دینا ضروری ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: صورتِ مذکورہ میں امین نے یہ اقرار کیا کہ یہ شخص اُس کا بھائی ہے اور اس کے سوا میّت کا کوئی وارث نہیں توقاضی فوراً دینے کا حکم نہ دے گا بلکہ انتظار کریگا کہ شاید اُس کا کوئی بیٹا ہو۔ جو شخص بہرحال وارث ہوتا ہے جیسے بیٹی باپ ماں یہ سب بیٹے کے حکم میں ہیں اور جو کبھی وارث ہوتا ہے کبھی نہیں وہ بھائی کے حکم میں ہے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: امین نے اقرار کیا کہ جس نے امانت رکھی ہے یہ اُس کاوکیل بالقبض(7) ہے یا وصی ہے یا اس نے اُس سے اس چیز کو خریدلیا ہے تو ان سب کو دینے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ اور اگر مدیون نے کسی شخص کی نسبت یہ اقرار کیا کہ یہ اُس کا وکیل بالقبض ہے تو دے دینے کا حکم دیا جائے گا۔ عاریت اورعین مغصوبہ(8) امانت کے حکم میں ہیں جہاں امانت دے دینا جائز ان کا بھی دے دینا جائز اور جہاں وہ ناجائز یہ بھی ناجائز۔(9) (بحرالرائق)
مسئلہ ۲۵: میّت کا ترکہ وارثوں یا قرض خواہوں میں تقسیم کیا گیا اگر ورثہ یا قرض خواہوں کا ثبوت گواہوں سے ہوا ہو تو ان لوگوں سے اس بات کا ضامن نہیں لیا جائے گا کہ اگر کوئی وارث یا دائن ثابت ہوا تو تم کو واپس کرنا ہو گا اور اگر
1 ۔قاضی کے فیصلے کے بغیر۔ 2 ۔مقروض۔
3 ۔ یعنی قرض دینے والا۔ 4 ۔قرض۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضائ،ج۸،ص۱۸۵.
6 ۔''ردالمحتار''،کتاب القضائ،مطلب:اقتسموا دارًا وأرا د...إلخ،ج۸،ص۱۸۵.
7 ۔کسی چیز پر قبضہ کرنے کاوکیل۔
8 ۔جس چیز پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہو۔
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃ والقبض،ج۷،ص۳۱۳ -۳۱۴.
اِرث (1)یا دَین اقرار سے ثابت ہو تو کفیل(2)لیا جائے گا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۶: ایک شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ مکان میرا اور میرے بھائی کا ہے جو ہم کو میراث میں ملا ہے اور اُس کا بھائی غائب ہے اس موجود نے گواہوں سے ثابت کر دیا آدھا مکان اس کو دے دیا جائے گا اور آدھا قابض کے ہاتھ میں چھوڑ دیا جائے گا جب وہ غائب آجائے گا تو اُسکا حصہ اُسے مل جائے گا نہ اُسے گواہ قائم کرنے کی ضرورت پڑے گی نہ جدید فیصلہ کی وہ پہلا ہی فیصلہ اُس کے حق میں بھی فیصلہ ہے۔ جائدادمنقولہ(4) کا بھی یہی حکم ہے۔ (5)(درمختار، بحرالرائق)
مسئلہ ۲۷: کسی شخص نے یہ کہا کہ میرامال صدقہ ہے یا جو کچھ میری مِلک میں ہے صدقہ ہے تو جو اموال از قبیل زکاۃ ہیں یعنی سونا ،چاندی ،سائمہ، اموال تجارت یہ سب مساکین پر تصدق کرے(6)۔ اور اگر اُس کے پاس اموال زکاۃ کے سوا کوئی دوسرا مال ہی نہ ہوتواس میں سے بقدر قوت روک لے(7)باقی صدقہ کر دے پھر جب کچھ مال ہاتھ میں آجائے تو جتنا روک لیا تھا اوتنا صدقہ کر دے۔ (8)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۸: کسی شخص کو وصی بنایا اور اُسے خبر نہ ہوئی یہ ایصا (9)صحیح ہے اور وصی نے اگر تصرف کر لیا تو یہ تصرف صحیح ہے اور کسی کو وکیل بنایا اور وکیل کو علم نہ ہوا یہ توکیل صحیح نہیں اور اسی لاعلمی میں وکیل نے تصرف کر ڈالا یہ تصرف بھی صحیح نہیں۔ (10)(درمختار)
1 ۔وراثت۔ 2 ۔ضامن۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضائ،ج۸،ص۱۸۵۔۱۸۷.
4 ۔وہ جائیداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاسکتی ہو۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضائ،ج۸،ص۱۸۷.
و''البحرالرائق''،کتاب الحوالۃ،باب التحکیم،ج۷،ص۷۷.
6 ۔یعنی صدقہ کردے ۔
7 ۔یعنی اتنی مقدارجو اس کی گزر بسرکے لیے کافی ہو۔
8 ۔''الھدایۃ''،کتاب أدب القاضی،باب التحکیم،فصل فی القضاء بالمواریث،ج۲،ص۱۱۳،وغیرھا.
9 ۔یعنی وصی مقرر کرنا۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضائ،ج۸،ص۱۸۹.
مسئلہ ۲۹: قاضی یا امین قاضی نے کسی کی چیز قرض خواہ کے دَین ادا کرنے کے لیے بیع کر دی اور ثمن پر قبضہ کر لیا مگر یہ ثمن قاضی یا اُس کے امین کے پاس سے ضائع ہو گیا اور وہ چیزجو بیع کی گئی تھی اُسکا کوئی حقدار پیدا ہو گیا یا مشتری کو دینے سے پہلے وہ چیز ضائع ہو گئی تو اس صورت میں نہ قاضی پر تاوان ہے نہ اُس کے امین پربلکہ مشتری جو ثمن ادا کر چکا ہے اُن قرض خواہوں سے اس کا تاوان وصول کریگا اور اگر وصی نے دَین ادا کرنے کے لیے میَّت کا مال بیچا ہے اور یہی صورت واقع ہوئی تو مشتری وصی سے وصول کریگا اگرچہ وصی نے قاضی کے حکم سے بیچا ہو پھر وصی دائن سے وصول کریگا اس کے بعد اگر میّت کے کسی مال کا پتہ چلے تو دائن(1) اُس سے اپنا دَین وصول کرے ورنہ گیا۔(2) (درمختار)
مسئلہ۳۰: کسی نے ایک ثلث مال(3) کی فقرا کے لیے وصیت کی قاضی نے ثلث مال ترکہ(4) میں سے نکال لیا مگر ابھی فقیروں کو دیا نہ تھا کہ ضائع ہو گیا تو فقراکا مال ہلاک ہوا یعنی باقی دو تہائی (5)میں سے ثلث نہیں نکالا جائے گا بلکہ یہ دو تہائیاں ورثہ(6) کو دی جائیں گی۔ (7)(درمختار)
مسئلہ۳۱ : قاضی عالم و عادل اگر حکم دے کہ میں نے اس شخص کے رجم یا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا ہے یا کوڑے مارنے کا حکم دیا ہے تو یہ سزا قائم کر تو اگرچہ ثبوت اس کے سامنے نہیں گذرا ہے مگر اس کو کرنا درست ہے اور اگر قاضی عادل ہے مگر عالم نہیں تو اُس سے اُس سزا کے شرائط دریافت کرے اگر اُس نے صحیح طور پر شرائط بیان کر دیئے تو اُس کے حکم کی تعمیل کرے ورنہ نہیں۔ یوہیں اگر قاضی عادل نہ ہو تو جب تک ثبوت کا خود معاینہ کیا ہو وہ کام نہ کرے اور اس زمانہ میں احتیاط کا مقتضٰی(8)یہی ہے کہ بہر صورت بدون معاینہ ثبوت(9) قاضی کے کہنے پر افعال نہ کرے۔ (10) (درمختار وغیرہ)
1 ۔قرض دینے والا۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۹۰-۱۹۱.
3 ۔ایک تہائی مال ۔ 4 ۔ وہ مال جو مرنے والا چھوڑ جائے۔
5 ۔تین حصوں میں سے دو حصے۔ 6 ۔میت کے وارث۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۹۱۔۱۹۲.
8 ۔احتیاط کا تقاضا۔
9 ۔ثبوت کا معائنہ کئے بغیر۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب القضاء،ج۸،ص۱۹۲،وغیرہ
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( وَاسْتَشْہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ مِنۡ رِّجَالِکُمْ ۚ فَاِنْ لَّمْ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحْدٰىہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰىہُمَا الۡاُخْرٰی ؕ وَلَا یَاۡبَ الشُّہَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا ؕ وَلَا تَسْئَمُوْۤا اَنۡ تَکْتُبُوْہُ صَغِیۡرًا اَوۡ کَبِیۡرًا اِلٰۤی اَجَلِہٖ ؕ ذٰلِکُمْ اَقْسَطُ عِنۡدَ اللہِ وَاَقْوَمُ لِلشَّہَادَۃِ وَاَدْنٰۤی اَلَّا تَرْتَابُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیۡرُوۡنَہَا بَیۡنَکُمْ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَکْتُبُوۡہَا ؕ وَاَشْہِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ ۪ وَلَا یُضَآرَّکَاتِبٌ وَّلَا شَہِیۡدٌ ۬ؕ وَ اِنۡ تَفْعَلُوۡا فَاِنَّہٗ فُسُوۡقٌۢ بِکُمْ ؕ وَاتَّقُوا اللہَ ؕ وَیُعَلِّمُکُمُ اللہُ ؕ وَاللہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸۲﴾ ) (1)
''اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بنا لو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں اُن گواہوں سے جن کو تم پسند کرتے ہو کہ کہیں ایک عورت بھول جائے تو اُسے دوسری یاد دلادے گی۔ گواہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں۔ معاملہ کسی میعاد تک ہو تو اُس کے لکھنے سے مت گھبراؤ چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا۔ یہ اﷲ (عزوجل) کے نزدیک انصاف کی بات ہے اور شہادت کو درست رکھنے والا ہے اور اس کے قریب ہے کہ تمھیں شبہہ نہ ہو ہاں اس صورت میں کہ تجارت فوری طور پر ہو جس کو تم آپس میں کر رہے ہو تو اس کے نہ لکھنے میں حرج نہیں۔ اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لو اور نہ تو کاتب نقصان پہنچائے نہ گواہ اور اگر تم نے ایسا کیا تو یہ تمھارا فسق ہے اور اﷲ (عزوجل) سے ڈرو اور اﷲ (عزوجل) تم کو سکھاتا ہے اور اﷲ (عزوجل) ہر چیز کا جاننے والا ہے۔''
اور فرماتا ہے:
(وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَۃَ ؕ وَمَنۡ یَّکْتُمْہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ ؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸۳﴾) (2)
''اور شہادت کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپائے گا اُس کا دل گنہگار ہے اورجو کچھ تم کرتے ہو اﷲ (عزوجل) اُس کو جانتا ہے۔''
حدیث ۱: امام مالک و مسلم و احمد و ابو داود و ترمذی زیدبن خالد جہنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :''کیا تم کو یہ خبر نہ دوں کہ بہتر گواہ کون ہے وہ جو گواہی دیتا ہے اس سے قبل کہ اُس سے گواہی کے لیے کہا جائے''۔ (3)
حدیث ۲: بیہقی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: '' اگر لوگوں کو محض
1 ۔پ۳،البقرۃ:۲۸۲.
2 ۔پ۳،البقرۃ:۲۸۳.
3 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الأقضیۃ،باب بیان خبرالشھود،الحدیث:۱۹۔(۱۷۱۹)،ص۹۴۶.
اُن کے دعوے پر چیز دلائی جائے تو بہت سے لوگ خون اور مال کے دعوے کر ڈالیں گے و لیکن مدعی(1) کے ذمہ بینہ (گواہ) ہے اور منکر پر قسم۔ (2)
حدیث ۳: ابو داود نے ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ دو شخصوں نے میراث کے متعلق حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں دعویٰ کیا اور گواہ کسی کے پاس نہ تھے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کے موافق اُس کے بھائی کی چیز کا فیصلہ کر دیا جائے تو وہ آگ کا ٹکڑا ہے یہ سن کر دونوں نے عرض کی یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں اپنا حق اپنے فریق کو دیتا ہوں فرمایا یوں نہیں بلکہ تم دونوں جاکر اُسے تقسیم کرو اور ٹھیک ٹھیک تقسیم کرو۔ پھر قرعہ اندازی کر کے اپنااپنا حصہ لے لو اور ہر ایک دوسرے سے (اگر اس کے حصہ میں اُس کا حق پہنچ گیا ہو) معافی کرا لے۔ (3)
حدیث ۴: شرح سنت میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی کہ دو شخصوں نے ایک جانور کے متعلق دعویٰ کیا ہر ایک نے اس بات پر گواہ کئے کہ میرے گھر کا بچہ ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اُس کے موافق فیصلہ کیا جس کے قبضہ میں تھا۔ (4)
حدیث ۵: ابو داود نے ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں دو شخصوں نے ایک اونٹ کے متعلق دعویٰ کیا اور ہر ایک نے گواہ پیش کیے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے دونوں کے مابین نصف نصف تقسیم فرما دیا۔ (5)
حدیث ۶: صحیح مسلم میں ہے علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص حضر موت کا اور ایک قبیلہ کندہ کا دونوں حاضر ہوئے حضر موت والے نے کہا یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اس نے میری زمین زبردستی لے لی کندی نے کہا وہ زمین میری ہے اور میرے قبضہ میں ہے اُس میں اس شخص کا کوئی حق نہیں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے حضرموت والے سے فرمایا کیا تمھارے پاس گواہ ہیں عرض کی نہیں۔ فرمایا تو اب اُس پر حلف دے سکتے ہو عرض کی، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ شخص فاجر ہے اس کی پرواہ بھی نہ کریگا کہ کس چیز پر قسم کھاتا ہے ایسی باتوں سے پرہیز نہیں کرتا ارشاد فرمایا
1 ۔دعوےٰ کرنے والا۔
2 ۔ ''السنن الکبری''للبیہقي،کتاب الدعوٰی والبینات،باب البینۃ علی المدعی...إلخ،الحدیث:۲۱۲۰۱،ج۱۰،ص۴۲۷.
3 ۔''سنن أبي داو،د''،کتاب القضائ،باب في قضاء القاضی اذاأخطأ،الحدیث:۳۵۸۳،۳۵۸۴،ج۳،ص۴۲۱.
4 ۔''شرح السنۃ''،کتاب الإمارۃ والقضاء، باب المتدا عیین اذاأقام کل واحد بینۃ،الحدیث:۲۴۹۸،ج۵،ص۳۴۳.
5 ۔''سنن أبي داو،د''،کتاب القضائ،باب الرجلین یدعیان شیئًا...إلخ،الحدیث:۳۶۱۵،ج۳،ص۴۳۴.
اس کے سوا دوسری بات نہیں۔ جب وہ شخص قسم کے لیے آمادہ ہوا ارشاد فرمایا اگر یہ دوسرے کے مال پر قسم کھائے گا کہ بطور ظلم اُس کا مال کھا جائے تو خدا سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس سے اعراض(1)فرمانے والا ہے۔ (2)
حدیث ۷: ترمذی نے عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ نہ خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی گواہی جائز اور نہ اُس مرد کی جس پر حد لگائی گئی اور نہ ایسی عورت کی اور نہ اُس کی جس کو اُس سے عداوت ہے جس کے خلاف گواہی دیتا ہے اور نہ اُس کی جس کی جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو چکا ہو اور نہ اُس کے موافق جس کا یہ تابع ہے (یعنی اس کا کھانا پینا جس کے ساتھ ہو) اورنہ اُس کی جو وِلا یا قرابت میں متہم ہو۔ (3)
حدیث ۸: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :''کبیرہ گناہ یہ ہیں اﷲ (عزوجل) کے ساتھ شریک کرنا۔ ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ کسی کو ناحق قتل کرنا۔ اور جھوٹی گواہی دینا''۔ (4)
حدیث ۹: ابو داودو ابن ماجہ نے خریم بن فاتک اور امام احمد و ترمذی نے ایمن بن خریم رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز صبح پڑھ کر قیام کیا اور یہ فرمایا کہ جھوٹی گواہی شرک کے ساتھ برابر کر دی گئی پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی:
( فاَجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ حُنَفَاءَ لِلہِ غَیْرُ مُشْرِکِیْنَ ) (5)
''بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو اﷲ (عزوجل) کے لیے باطل سے حق کی طرف مائل ہو جاؤ اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو'' ۔(6)
حدیث ۱۰: بخاری و مسلم میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:''سب سے بہتر میرے ز مانہ کے لوگ ہیں پھر جو اُن کے بعد ہیں پھر وہ جو اُن کے بعد ہیں پھر ایسی قوم آئے گی کہ اُن کی گواہی قسم پر سبقت کرے گی اور قسم گواہی پر'' یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے میں بے باک ہوں گے۔ (7)
1 ۔یعنی اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرما ئے گا۔
2 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان،باب وعید من اقتطع حق مسلم...إلخ،الحدیث:۲۲۳۔(۱۳۹)،ص۸۴.
3 ۔''جامع الترمذی''،کتاب الشھادات،باب ماجاء فیمن لا تجوز شھادتہ،الحدیث:۲۳۰۵،ج۴،ص۸۴.
4 ۔''صحیح مسلم''،کتاب الإیمان،باب الکبائرواکبرھا،الحدیث:۱۴۴۔(۸۸)،ص۵۹.
5 ۔پ۱۷،الحج:۳۰،۳۱.
6 ۔''سنن أبي داو،د''،کتاب القضائ،باب في شھادۃ الزور،الحدیث:۳۵۹۹،ج۳،ص۴۲۷.
و''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،مسندالکوفیین،حدیث خریم بن فاتک رضی اللہ تعالیٰ عنہ،الحدیث:۱۸۹۲۴،ج۶،ص۴۸۵.
7 ۔''صحیح البخاري''،کتاب الشھادات،باب لایشھد علی شہادۃ جور... إلخ،الحدیث:۲۶۵۲،ج۲،ص۱۹۳.
حدیث ۱۱: ابن ماجہ عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اﷲ تعالیٰ اُس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔ (1)
حدیث ۱۲: طبرانی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مرد مسلم کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے اُس نے جہنم واجب کر لیا۔ (2)
حدیث ۱۳: بیہقی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرمایا جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمہ کی پیروی کرے وہ اﷲ (عزوجل) کی ناخوشی میں ہے جب تک اُس سے جدا نہ ہو جائے۔ (3)
حدیث ۱۴: طبرانی ابوموسیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو گواہی کے لیے بلایا گیا اور اُس نے گواہی چھپائی یعنی ادا کرنے سے گریز کی وہ ویسا ہی ہے جیسا جھوٹی گواہی دینے والا۔ (4)
مسئلہ ۱: کسی حق کے ثابت کرنے کے لیے مجلس قاضی میں لفظ شہادت کے ساتھ سچی خبر دینے کو شہادت یا گواہی کہتے ہیں۔ (5)
مسئلہ ۲: مدعی(6) کے طلب کرنے پر گواہی دینا لازم ہے اور اگر گواہ کو اندیشہ ہو کہ گواہی نہ دے گا تو صاحبِ حق (7)کا حق تلف(8) ہو جائے گا یعنی اُسے معلوم ہی نہیں ہے کہ فلاں شخص معاملہ کو جانتا ہے کہ اُسے گواہی کے لیے طلب کرتا اس صورت میں بغیر طلب بھی گواہی دینا لازم ہے۔(9) (درمختار)
1 ۔''سنن ابن ماجہ''،ابواب الأحکام،باب شھادۃ الزور،الحدیث:۲۳۷۳،ج۳،ص۱۲۳.
2 ۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۱۵۴۱،ج۱۱،ص۱۷۲۔۱۷۳.
3 ۔''السنن الکبری''،للبیہقي،کتاب الوکالۃ،باب اثم من خاصم...إلخ،الحدیث:۱۱۴۴۴،ج۶،ص۱۳۶.
4 ۔''المعجم الأوسط''،من اسمہ علی،الحدیث:۴۱۶۷،ج۳،ص۱۵۶.
5 ۔''تنویر الأبصار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۱۹۶.
6 ۔دعوےٰ کرنے والا۔ 7 ۔حق دار۔ 8 ۔ضائع۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۱۹۶.
مسئلہ ۳: شہادت فرضِ کفایہ ہے بعض نے کر لیا تو باقی لوگوں سے ساقط اور دو ہی شخص ہوں تو فرض عین ہے۔ خواہ تحمل ہو یا ادا یعنی گواہ بنانے کے لیے بلائے گئے یا گواہی دینے کے لیے دونوں صورتوں میں جانا ضروری ہے۔(1) (بحر)
مسئلہ ۴: جس چیز کے گواہ ہوں اگر وہ مؤجل ہے یعنی اُس کے لیے کوئی میعاد ہو تو لکھ لینا چاہیے ورنہ نہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔(2)(بحر)
مسئلہ ۵: شہادت کے لیے دو قسم کی شرطیں ہیں۔ شرائط تحمل و شرائط ادا۔
تحمل یعنی معاملہ کے گواہ بننے کے لیے تین شرطیں ہیں۔
(۱) بوقتِ تحمل عاقل ہونا، (۲) انکھیارا ہونا(3)، (۳) جس چیز کا گواہ بنے اُس کا مشاہدہ کرنا۔
لہٰذا مجنوں یا لا یعقل بچہ(4)یا اندھے کی گواہی درست نہیں۔ یوہیں جس چیز کا مشاہدہ نہ کیا ہو محض سنی سنائی بات کی گواہی دینا جائز نہیں۔ ہاں بعض امور کی شہادت بغیر دیکھے محض سننے کے ساتھ ہو سکتی ہے جن کا ذکر آئے گا۔ تحمل کے لیے بلوغ، حریت، اسلام، عدالت شرط نہیں یعنی اگر وقت تحمل(5) بچہ یا غلام یا کافر یا فاسق تھا مگر ادا کے وقت بچہ بالغ ہو گیا ہے غلام آزاد ہو چکا ہے کافر مسلمان ہو چکا ہے فاسق تائب ہو چکا ہے تو گواہی مقبول ہے۔(6) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۶: شرائطِ ادا یہ ہیں۔ (۱) گواہ کا عاقل (۲) بالغ (۳) آزاد (۴) انکھیارا ہونا(۵) نا طق ہونا(7)(۶) محدود فی القذف نہ ہونا یعنی اُسے تہمت کی حد(8) نہ ماری گئی ہو (۷) گواہی دینے میں گواہ کا نفع یا دفع ضرر مقصود نہ ہونا(9) (۸) جس چیز کی شہادت دیتا ہو اُس کوجانتا ہو اس وقت بھی اُسے یاد ہو (۹) گواہ کا فریق مقدمہ نہ ہونا (۱۰) جس کے خلاف شہادت دیتا ہے وہ مسلمان ہو تو گواہ کا مسلمان ہونا (۱۱) حدودو قصاص میں گواہ کامرد ہونا (۱۲) حقوق العباد میں جس چیز کی گواہی دیتا ہے اُس کا
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،ج۷،ص۹۷.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔یعنی دیکھ سکتا ہو۔ 4 ۔نا سمجھ بچہ۔
5 ۔یعنی جس وقت گواہ بن رہا تھا۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشھادات،الباب الاول فی بیان تعریفھا...إلخ ،ج ۳،ص ۴۵۰،وغیرہ.
7 ۔ یعنی گفتگو کرسکتا ہو۔ 8 ۔یعنی کسی کو زنا کی جھوٹی تہمت لگانے کی شرعی سزا۔
9 ۔یعنی گواہی اپنے نفع یا نقصان دور کرنے کے لیے نہ ہو۔
پہلے سے دعوٰے ہونا (۱۳) شہادت کا دعوے کے موافق ہونا۔(1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۷: شہادت کا رکن یہ ہے کہ بوقت ادا گواہ یہ لفظ کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں اس لفظ کا یہ مطلب ہے کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس بات پر مطلع ہوا اور اب اس کی خبر دیتا ہوں۔ اگر گواہی میں یہ لفظ کہہ دیا کہ میرے علم میں یہ ہے یامیرا گمان یہ ہے تو گواہی مقبول نہیں۔ (2)(درمختار) آج کل انگریزی کچہریوں میں ان لفظوں سے گواہی دی جاتی ہے میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں۔ یہ شرع کے خلاف ہے۔
مسئلہ ۸: شہادت کا حکم یہ ہے کہ گواہوں کا جب تزکیہ ہو جائے(3) اُس کے موافق حکم کر نا واجب ہے اور جب تمام شرائط پائے گئے اور قاضی نے گواہی کے موافق فیصلہ نہ کیا گنہگار ہوا اورمستحق عزل وتعزیر(4)ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۹: ادائے شہادت واجب ہونے کے لیے چند شرائط ہیں: (۱) حقوق العباد میں مدعی کا طلب کرنا اور اگر مدعی کو اس کا گواہ ہونا معلوم نہ ہو اور اس کو معلوم ہو کہ گواہی نہ دے گا تو مدعی کی حق تلفی ہو گی اس صورت میں بغیر طلب گواہی دینا واجب ہے۔ (۲) یہ معلوم ہو کہ قاضی اس کی گواہی قبول کر لے گا اور اگر معلوم ہو کہ قبول نہیں کریگا تو گواہی دینا واجب نہیں۔ (۳) گواہی کے لیے یہ معین ہے اور اگر معین نہ ہو یعنی اور بھی بہت سے گواہ ہوں تو گواہی دینا واجب نہیں جب کہ دوسرے لوگ گواہی دے دیں اور وہ اس قابل ہوں کہ اُن کی گواہی مقبول ہو گی۔ اور اگر ایسے لوگوں نے شہادت دی جن کی گواہی مقبول نہ ہو گی اور اس نے نہ دی تو یہ گنہگار ہے اور اگر اس کی گواہی دوسروں کی بہ نسبت جلد قبول ہو گی اگرچہ دوسروں کی بھی قبول ہو گی اور اُس نے نہ دی گنہگار ہے۔(۴)دوعادل کی زبانی اس امر کا بطلان معلوم نہ ہوا ہو جس کی شہادت دینا چاہتا ہے مثلاً مدعی نے دَین کا دعویٰ کیا ہے جس کا یہ شاہد ہے مگردو عادل سے معلوم ہوا کہ مدعی علیہ(6) دَین(7)ادا کر چکا ہے یازوج نکاح کا مدعیہ(8)اور گواہ کو معلوم ہوا کہ تین طلاقیں دے چکا ہے یا مشتری غلام خرید نے کا دعویٰ کرتا ہے اورگواہ کو معلوم ہوا ہے کہ مشتری اُسے آزاد کر چکا ہے
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشھادات،الباب الاول فی بیان تعریفھا...إلخ ،ج۳،ص ۴۵۰۔۴۵۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۱۹۶.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۱۹۸.
3 ۔یعنی جبقاضی گواہوں کے متعلق یہ تحقیق کرلے کہ وہ عادل اور معتبر ہیں یا نہیں ۔
4 ۔یعنی وہ قاضی اس بات کا مستحق ہے کہ اسے معزول کر کے تادیباً سزا دی جائے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۱۹۸.
6 ۔جس پر دعوےٰ کیاگیا۔ 7 ۔قرض۔ 8 ۔شوہرنکاح کا دعوٰی کرتا ہے۔
یاقتل کا دعویٰ ہے اور معلوم ہے کہ ولی معاف کر چکا ہے ان سب صورتوں میں دَین و نکاح و بیع و قتل کی گواہی دینا درست نہیں۔ اور اگر خبر دینے والے عادل نہ ہوں تو گواہ کو اختیار ہے گواہی دے اور قاضی کے سامنے جو کچھ سنا ہے ظاہر کر دے اور یہ بھی اختیار ہے کہ گواہی سے انکار کر دے۔ اور اگر خبر دینے والا ایک عادل ہوتو گواہی سے انکار نہیں کر سکتا۔ نکاح کے دعوے میں گواہ سے دو عادل نے کہا کہ ہم نے خود معاینہ کیا ہے کہ دونوں نے ایک عورت کا دودھ پیا۔ یا گواہوں نے دیکھا ہے کہ مدعی اُس چیز میں اُس طرح تصرف کرتا ہے جیسے مالک کیا کرتے ہیں او ردو عادل نے ان کے سامنے یہ شہادت دی کہ وہ چیز دوسرے شخص کی ہے تو گواہی دینا جائز نہیں۔ (۵) جس قاضی کے پاس شہادت کے لیے بلایا جاتا ہے وہ عادل ہو۔ (۶) گواہ کو یہ معلوم نہ ہو کہ مقر(1) نے خوف کی وجہ سے اقرار کیا ہے۔ اگر یہ معلوم ہو جائے تو گواہی نہ دے مثلاً مدعیٰ علیہ سے جبراً ایک چیز کااقرار کرایا گیا تو اس اقرار کی شہادت درست نہیں۔ (۷) گواہ ایسی جگہ ہو کہ وہ کچہری سے قریب ہو یعنی قاضی کے یہاں جا کر گواہی دے کر شام تک اپنے مکان کو واپس آسکتا ہو اور اگر زیادہ فاصلہ ہو کہ شام تک واپس نہ آسکتا ہو تو گواہی نہ دینے میں گناہ نہیں اور اگر بوڑھا ہے کہ پیدل کچہری تک نہیں جا سکتا اور خود اُسکے پاس سواری نہیں ہے مدعی اپنی طرف سے اُسے سوار کر کے لے گیا اس میں حرج نہیں اور گواہی مقبول ہے اور اگر اپنی سواری پر جا سکتا ہو اور مدعی سوار کر کے لے گیا تو گواہی مقبول نہیں۔ (2)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۰: آج کل انگریزی کچہریوں میں گواہی دینے کی جو صورت ہے وہ اہلِ معاملہ پر مخفی نہیں(3) وکیلِ مدعی(4) جھوٹ بولنے پر زور دیتے ہیں اور وکیل مدعیٰ علیہ جھوٹا بنانے کی کوشش کرتے ہیں ایسی گواہی سے خدا بچائے۔
مسئلہ ۱۱: مدعی نے گواہوں کو کھانا کھلایا اگر اس کی صورت یہ ہے کہ کھانا طیار تھا اور گواہ اس موقع پر پہنچ گیا اُسے بھی کھلا دیا تو گواہی مقبول ہے اور اگر خاص گواہوں کے لیے کھانا طیار ہوا ہے تو گواہی مقبول نہیں مگر امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی مقبول ہے۔(5) (بحرالرائق)
مسئلہ۱۲: حقوق اﷲ میں گواہی دینا بغیر طلب مدعی بھی واجب ہے بلکہ گواہی میں تاخیر کرنا بھی اس کے لیے جائز نہیں
1 ۔اقرار کرنے والا۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،ج۷،ص۹۷۔۹۸.
3 ۔پوشیدہ نہیں۔ 4 ۔دعوےٰ کرنے والے کا وکیل۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،ج۷،ص۹۸.
اگر بلا عذر شرعی تاخیر کریگافاسق ہو جائے گا اور اس کی گواہی مردود ہو گی مثلاً کسی نے اپنی عورت کو بائن طلاق دے دی ہے اسکی گواہی دینا ضروری ہے اور اگر مغلظہ طلاق کے بعد(1)وہ دونوں میاں بی بی کی طرح رہتے ہوں اور اسے معلوم ہے اور گواہی نہیں دی کچھ دنوں کے بعد گواہی دیتا ہے مردود الشہادۃ(2)ہے۔ (3)(درمختار، بحر)
مسئلہ۱۳: ایک شخص مر گیا اُس نے زوجہ اور دیگر وارث چھوڑے گواہوں نے گواہی دی کہ اُ س نے صحت کی حالت میں ہمارے سامنے اقرار کیا تھا کہ عورت کو تین طلاقیں دے دی ہیں یا بائن طلاق دی ہے یہ گواہی مردود ہے جب کہ وہ عورت اُسی مرد کے ساتھ رہی ہو کہ ان لوگوں نے اب تک دیکھا اور خاموش رہے لہٰذا فاسق ہو گئے۔ (4)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۴: ہلال رمضان و عید الفطر و عیداضحےٰ کی شہادت دینا بھی واجب ہے اور وقف کی گواہی بھی ضروری ہے۔ (5)(درمختا ر، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: حدودکی گواہی میں دونوں پہلو ہیں ایک ازالہ منکر(6) ورفع فساد (7)اور دوسرا مسلم کی پردہ پوشی کرنا ،گواہ کو اختیار ہے کہ پہلی صورت اختیار کرے اور گواہی دے یا دوسری صورت اختیار کرے اور گواہی دینے سے اجتناب کرے اور یہ دوسری صورت زیادہ بہتر ہے مگر جب کہ وہ شخص بیباک ہو(8) حدود شرعیہ کی محافظت نہ کرتا ہو۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: چوری کی شہادت میں بہتر یہ کہنا ہے کہ اس نے اس شخص کامال لے لیا یہ نہ کہے کہ چوری کی کہ اُس طرح کہنے میں احیاءِ حق بھی ہو جاتا ہے(10)اور پردہ پوشی بھی۔ (11)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۷: نصا ب شہادت زنا میں چار مرد ہیں بقیہ حدود وقصاص کے لیے دو مرد ان دونوں چیزوں میں عورتوں کی
1 ۔یعنی تین طلاقوں کے بعد۔ 2 ۔یعنی گواہی قابل قبول نہیں۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج ۸،ص۱۹۹.
و''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،ج ۷،ص۹۷.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،ج ۷،ص۹۷.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۱۹۹.
6 ۔گناہ ،برائی کومٹانا۔ 7 ۔جھگڑا،فساد کو ختم کرنا۔
8 ۔بے خوف یعنی گناہ کرنے سے نہ گھبراتا ہو۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج ۸،ص۲۰۰.
10 ۔یعنی حق بھی ثابت ہو جاتا ہے۔
11 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،ج۲،ص۱۱۶.
گواہی معتبر نہیں ہاں اگر کسی نے طلاق کو شراب پینے پر معلق کیا تھا اور اس کے شراب پینے کی گواہی ایک مرد اور دو عورتوں نے دی تو طلاق واقع ہونے کا حکم دیا جائے گا اگرچہ حد نہیں جاری ہو گی۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: کسی مرد کافر کے اسلام لانے کا ثبوت بھی دو مردوں کی شہادت سے ہو گا۔ اسی طرح مسلمان کے مرتد ہونے کا ثبوت بھی دو مردوں کی گواہی سے ہو گا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۹: ولادت(3)و بکارت(4)اور عورتوں کے وہ عیوب جن پر مردوں کو اطلاع نہیں ہوتی ان میں ایک عورت حرہ مسلمہ(5)کی گواہی کافی ہے اور دو عورتیں ہوں توبہتر اور بچہ زندہ پیدا ہوا،پیدا ہونے کے وقت رویا تھا اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے حق میں ایک عورت کی گواہی کافی ہے۔ مگر حق وراثت میں امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نزدیک ایک عورت کی گواہی کافی نہیں۔(6)(درمختار)
مسئلہ۲۰: عورتوں کے وہ عیوب جن پر مردوں کو اطلاع نہیں ہوتی اور ولادت کے متعلق اگر ایک مرد نے شہادت دی تو اس کی دو صورتیں ہیں اگر کہتا ہے میں نے بالقصد اُدھر نظر کی تھی گواہی مقبول نہیں کہ مرد کو نظر کرنا جائز نہیں۔ اور اگر یہ کہتا ہے کہ اچانک میری اُس طرف نظر چلی گئی تو گواہی مقبول ہے۔(7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: مکتب کے بچوں میں مار پیٹ جھگڑے ہو جائیں ان میں تنہا معلم کی گواہی مقبول ہے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: ان کے علاوہ دیگر معاملات میں دو مرد یا ایک مرد اور دوعورتوں کی گواہی معتبر ہے جس حق کی شہادت دی گئی ہو وہ مال ہو یا غیر مال مثلاً نکاح، طلاق، عتاق، وکالت کہ یہ مال نہیں۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: کسی معاملہ میں تنہا چار عورتیں گواہی دیں جن کے ساتھ مرد کوئی نہیں یہ گواہی نامعتبر ہے۔ (10)(درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج ۸،ص۲۰۰.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۰۱.
3 ۔بچہ جننا۔ 4 ۔عورت کا کنواری ہونا۔ 5 ۔ مسلمان آزادعورت۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۲۰۱.
7 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۲۰۲.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشھادات،الباب الاول فی بیان تعریفھا...إلخ،ج۳،ص۴۷۰.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۲۰۲.
10 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۲۴: گواہی کی ہر صورت میں یہ کہنا ضروری ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں یعنی صیغہ حال کہنا ضروری ہے اور جہاں یہ لفظ شرط نہ ہو مثلاً پانی کی طہارت اور رویت ہلالِ رمضان کہ یہ از قبیل شہادت نہیں بلکہ اخبار ہے۔ شہادت کے واجب القبول ہونے کے لیے عدالت شرط ہے۔ صحتِ قضا کے لیے عدالت شرط نہیں اگر غیر عادل کی شہاد ت قاضی نے قبول کر لی اور فیصلہ دے دیا تو یہ فیصلہ نافذ ہے اگرچہ قاضی گنہگار ہوا اور اگر قاضی کے لیے بادشاہ کا یہ حکم ہے کہ فاسق کی گواہی قبول نہ کرنا اور قاضی نے قبول کر لی تو فیصلہ نافذ نہ ہو گا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۵: گواہی ایسے شخص پر دیتا ہو جو موجود ہے تو گواہ کو مدعی(2)و مدعی علیہ(3)و مشہود بہ (وہ چیز جس کے متعلق شہادت دیتا ہے) کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے جب کہ مشہود بہ عین ہو اور غائب یا میّت پر شہادت دیتا ہو تو اُس کا اور اُس کے باپ اور دادا کا نام لینا ضروری ہے اور اگر اُس کے باپ اور پیشہ کا نام لیا دادا کانام نہ لیا یہ کافی نہیں ہاں اگر اس کی وجہ سے ایسا ممتاز ہو جائے کہ کسی قسم کا شبہہ باقی نہ رہے تو کافی ہے اور اگر وہ اتنا معروف ہے کہ فقط نام یا لقب ہی سے بالکل ممتاز ہو جائے تویہی کافی ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۶: قاضی کو اگر گواہوں کا عادل ہونا معلوم ہو تو ان کے حالات کی تحقیق کی کیا حاجت اور معلوم نہ ہو تو حدود و قصاص میں تحقیقات کرنا ہی ہے مدعیٰ علیہ اس کی درخواست کرے یا نہ کرے اور ان کے غیر میں اگر مدعیٰ علیہ ان پر طعن کرتا ہو تو ضرور ہے ورنہ قاضی کو اختیار ہے۔ اور اس زمانہ میں مخفی طور پر گواہوں کے حالات دریافت کئے جائیں علانیہ دریافت کرنے میں بڑے فتنے ہیں۔(5) (ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ ۲۷: جو چیز دیکھنے کی ہے اُسے آنکھ سے دیکھا اور جو چیز سننے کی ہے اُسے اپنے کان سے سنا مگر جس سے سُنا اُس کو بھی آنکھ سے دیکھا ہو تو گواہی دینا جائز ہے اگرچہ پردہ کی آڑ سے دیکھا ہو کہ اس نے دیکھا اور اُس نے نہ دیکھا یہ ضرور نہیں کہ اُس نے کہہ دیا ہو کہ میں نے تمھیں گواہ بنایا مثلاً دو شخصوں کے مابین بیع ہوئی اس نے دونوں کو دیکھا اور دونوں کے الفاظ سُنے یا بطور تعاطی(6)دو شخصوں کے مابین بیع ہوئی جس کو خود اس نے دیکھا یہ بیع کا گواہ ہے یا مجلس نکاح میں یہ حاضر ہے الفاظ ایجاب و
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۲۰۲.
2 ۔دعوےٰ کرنے والا۔ 3 ۔جس پر دعوی کیاگیا ہے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۲۰۳.
5 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،ج۲،ص۱۱۸،وغیرہ.
6 ۔یعنی بغیر بولے صرف لین دین کے ذریعے خریدوفروخت کرنا۔
قبول اپنے کان سے سُنے اوردونوں کو بوقت سُننے کے دیکھ رہا ہے یہ نکاح کا گواہ ہے اگرچہ رسمی طور پر اس کو گواہی کے لیے نامزد نہ کیا ہو۔ یوہیں اگر اس کے سامنے مقر نے اقرار کیا یہ اقرار کا گواہ ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۸: جس کی بات اس نے سُنی وہ پردے میں ہے آواز سُنتا ہے مگر اُسے دیکھتا نہیں ہے اُس کے متعلق اس کی گواہی درست نہیں اگرچہ آواز سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ فلاں کی آواز ہے ہاں اگر اسے واضح طور پر یہ معلوم ہے کہ اُس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے یوں کہ یہ خود پہلے مکان میں گیا تھا اور دیکھ آیا تھا کہ مکان میں اُس کے سوا کوئی نہیں ہے اور یہ دروازہ پر بیٹھا رہا کوئی دوسرا مکان کے اندر گیا نہیں اورمکان میں جانے کا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ایسی حالت میں جو کچھ اندر سے آواز آئی اور اس نے سُنی اُس کی شہادت دے سکتا ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: ایک عورت نے کوئی بات کہی یہ اُس کو دیکھ رہا ہے مگر چہرہ نہیں دیکھا کہ پہچانتا اور دو شخصوں نے اس کے سامنے یہ شہادت دی کہ یہ فلانی عورت ہے تو نام و نسب کے ساتھ یعنی فلانی عورت فلاں کی بیٹی نے یہ اقرارکیا یوں گواہی دینا جائز ہے اور اگر دیکھا نہیں فقط آواز سُنی اور دو شخصوں نے اس کے سامنے شہادت دی کہ یہ فلانی عورت ہے اس صورت میں گواہی دینا جائز نہیں۔ اور اگر چہرہ اس نے خود دیکھ لیا اور اُس نے خود اپنے مونھ سے کہہ دیا کہ میں فلانہ بنت فلاں ہوں تو جب تک وہ زندہ ہے یہ گواہی دے سکتا ہے اور اُس کی طرف اشارہ کر کے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے میرے سامنے یہ اقرار کیا تھا اس صورت میں اس کی ضرورت نہیں کہ دو شخص اس کے سامنے گواہی دیں کہ یہ فلانی ہے اور اُس کے مرنے کے بعد یہ شہادت دینا جائز نہیں کہ فلانی عورت نے میرے سامنے اقرار کیا جب کہ یہ خود پہچانتا نہیں محض اُس کے کہنے سے جان لیا ہو۔ (3)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: ایک عورت کے متعلق نام و نسب کے ساتھ گواہی دی اور عورت کچہری میں حاضر ہے حاکم نے دریافت کیاکہ اُس عورت کو پہچانتے ہو گواہ نے کہا نہیں یہ گواہی مقبول نہیں اور اگر گواہوں نے یہ کہا کہ وہ عورت جس کا نام و نسب یہ ہے اُس نے جو بات کہی تھی ہم اُس کے شاہد ہیں مگر یہ ہم کو معلوم نہیں کہ یہ وہی ہے یا دوسری تو اُس نَامْبُرْدَہ(4)پر شہادت صحیح ہے مگر مدعی کے ذمہ یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ عورت جو حاضر ہے وہی ہے۔(5) (عالمگیری)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۲۰۵.
2 ۔المرجع السابق،ص۲۰۶.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ...إلخ،ج۳،ص۴۵۲.
و''الدرالمختار'' ،کتاب الشہادات،ج۸،ص۲۰۶.
4 ۔جس کانام لیاجاچکاہے۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ...إلخ،ج۳،ص۴۵۳.
مسئلہ ۳۱: ایک شخص کے ذمہ کسی کامطالبہ ہے وہ تنہائی میں اقرار کر لیتا ہے مگر جب لوگوں کے سامنے دریافت کرتا ہے تو انکار کر دیتا ہے صاحب حق نے یہ حیلہ کیا کہ کچھ لوگوں کو مکان کے اندر چھپا دیا اوراُس کو بلایا اور دریافت کیا اُس نے یہ سمجھ کر کہ یہاں کوئی نہیں ہے اقرار کر لیا جس کو اُ ن لوگوں نے سُنا اگر اُن لوگوں نے دروازہ کی جھری(1) یا سوراخ سے اُس شخص کو دیکھ لیا گواہی دینا درست ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ۳۲: مِلک کو جانتا ہے مگر مالک کو نہیں پہچانتا مثلاً ایک مکان ہے جس کو اس نے دیکھا ہے اور اُس کے حدود اربعہ کو پہچانتا ہے اور لوگوں سے اس نے سُنا ہے کہ یہ مکان فلاں بن فلاں کا ہے جس کو یہ پہچانتا نہیں اس کو گواہی دینا جائز ہے اور گواہی مقبول ہے اور اگر مِلک و مالک دونوں کو نہیں پہچانتا مثلاً یہ سُنا ہے کہ فلاں بن فلاں کا فلاں گاؤں میں ایک مکان ہے جس کے حدود یہ ہیں نہ مکان کو دیکھا نہ مالک کو تصرف کرتے دیکھا اس صورت میں گواہی دینا جائز نہیں اور اگر مالک کو دیکھا ہے مگر مِلک کو نہیں دیکھا ہے مثلاً اس شخص کو خوب پہچانتا ہے اور لوگوں سے سُنتا ہے کہ فلاں جگہ اس کا ایک مکان ہے جس کے حدود یہ ہیں اس صورت میں گواہی دینا جائز نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: مالک و مِلک دونوں کو دیکھاہے اُس شخص کو دیکھا ہے کہ اُس مِلک میں اُس قسم کا تصرف(4)کرتا ہے جس طرح مالک کرتے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ یہ چیز میری ہے اور گواہ کی سمجھ میں بھی یہ بات آگئی کہ یہ اسی کی ہے پھر کچھ دنوں کے بعد وہ چیز دوسرے کے قبضہ میں دیکھی شخص اول کی مِلک کی شہادت دے سکتا ہے مگر قاضی کے سامنے اگر یہ بیان کر دے گا کہ مجھے اُس کی مِلک ہونا اس طرح معلوم ہوا ہے کہ میں نے اُسے تصرف کرتے دیکھا ہے تو گواہی رد کر دی جائے گی ہاں اگر دو عادل نے گواہ کو یہ خبر دی کہ یہ چیز شخصِ ثانی ہی کی ہے اس نے پہلے کے پاس امانت رکھی تھی تو اب پہلے کے لیے گواہی دینا جائز نہیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: جو بات معروف و مشہور ہو جس میں سُن کر بھی گواہی دینا جائز ہو جاتا ہے مثلاً کسی کی موت، نکاح، نسب جب کہ دل میں یہ بات آتی ہے کہ جو کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ٹھیک ہے اُس کے متعلق اگر دو عادل یہ کہہ دیں کہ ویسا نہیں ہے جو
1 ۔شگاف ،چیر،درز۔
2 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ...إلخ،ج۳،ص۴۵۳.
3 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ...إلخ،ج۳،ص۴۵۳۔۴۵۴.
4 ۔عمل دخل۔
5 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ...إلخ،ج۳،ص۴۵۴.
تمھارے دل میں ہے اب گواہی دینا جائز نہیں ہاں اگر گواہ کو یقین ہے کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں غلط ہے توگواہی دے سکتا ہے اور اگر ایک عادل نے اس کے خلاف کی شہادت دی ہے تو گواہی دینا جائز ہے مگر جب دل میں یہ بات آئے کہ یہ شخص سچ کہتا ہے تو ناجائزہے۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۳۵: مدعی(2)نے ایک تحریرپیش کی کہ یہ مدعی علیہ(3)کی تحریر ہے اور مدعی علیہ کہتا ہے کہ یہ میری تحریر نہیں ، مدعی علیہ سے ایک تحریر لکھوائی گئی دونوں تحریروں کو ملایا گیا بالکل مشابہ ہیں محض اتنی بات سے مدعیٰ علیہ کی تحریر قرار دے کر اُس پر مال لازم نہیں کیا جا سکتا جب تک گواہوں سے وہ تحریر اُس کی ثابت نہ ہواور اگرمدعیٰ علیہ اپنی تحریر بتاتا ہے مگر مال سے انکار کرتا ہے اگر وہ تحریر باضابطہ ہے یعنی اُس طرح لکھی ہے جس طرح اقرار نامہ لکھا جاتا ہے تو مدعیٰ علیہ پرمال لازم ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۶: دستاویز(5)پر اس کی گواہی لکھی ہوئی ہے اگر اس کے سامنے دستاویز پیش ہوئی پہچان لیا کہ یہ میرے دستخط ہیں اگر واقعہ اس کو یاد آگیا اگرچہ اس سے پہلے یاد نہ تھا گواہی دینا جائز ہے۔ اور اگر اب بھی یاد نہیں آتا یا یہ یاد آتا ہے کہ میں نے اس کاغذ پر گواہی لکھی تھی مگر مال دیا گیا یہ یاد نہیں تو امام محمد رحمہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک گواہی دینا جائز ہے۔ یہ پہچانتا ہے کہ دستخط میرے ہیں مگر معاملہ بالکل یاد نہیں اگر کاغذ اس کی حفاظت میں تھا جب تو امام ابو یوسف کے نزدیک بھی گواہی دینا جائز ہے اور فتوٰے اس پر ہے کہ اگر اُسے یقین ہے کہ یہ دستخط میرے ہی ہیں تو چاہے کاغذ اس کے پاس ہو یا مدعی کے پاس ہو گواہی دینا جائز ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: دستخط پہچانتا ہے کہ میرے ہی ہیں اور مقر(7)کا اقرار بھی یاد ہے اور مقرلہ(8)کو بھی پہچانتا ہے مگریہ یاد نہیں کہ وہ کیا وقت تھا اور کونسی جگہ تھی گواہی دینا حلال ہے۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: گواہوں کے سامنے دستاویز لکھی گئی مگر پڑھ کر سُنائی نہیں گئی گواہوں سے کہا جو کچھ اس میں لکھا ہے اُس
1 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الشہادات،فصل فی الشاہدیشھد بعدمااخبربزوال الحق...إلخ،ج۲،ص۱۴۰.
2 ۔دعوےٰ کرنے والا۔ 3 ۔جس پر دعوی کیاجاتاہے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۲۰۷.
5 ۔ایساتحریری ثبوت جس سے اپناحق ثابت کرسکیں۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ...إلخ،ج۳،ص۴۵۶.
7 ۔اقرار کرنے والا۔
8 ۔جس کے لیے اقرار کیا۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ...إلخ،ج۳،ص۴۵۶.
کے گواہ ہو جاؤ ان لوگوں کوشہادت دینا جائز نہیں۔ گواہی دینا اُ س وقت جائز ہے کہ اُنھیں پڑھ کر سُنا دے یا دوسرے نے دستاویز لکھی اور مقر نے خود پڑھ کر سُنائی اور یہ کہہ دیا کہ جو کچھ اس میں لکھا ہے اُس کے گواہ ہو جاؤ یا گواہوں کے سامنے خود مقر نے لکھی اور گواہوں کو معلوم ہے جو کچھ اُس میں لکھا ہے اور مقر نے کہہ دیا جو کچھ میں نے اس میں لکھا ہے اُس کے تم گواہ ہو جاؤ۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: مقر نے دستاویز لکھی اور گواہوں کومعلوم ہے جو کچھ اُس میں لکھا ہے مگر مقر نے گواہوں سے یہ نہیں کہا کہ تم اس کے گواہ ہو جاؤ اگر وہ اقرار نامہ رسم کے مطابق ہے اور گواہوں کے سامنے لکھا ہے اُن کوگواہی دینا جائز ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: جس چیز کی گواہی دی جاتی ہے اُس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ محض اُس کامعاینہ گواہی دینے کے لیے کافی ہے جیسے بیع، اقرار ، غصب، قتل کہ بائع و مشتری سے بیع کے الفاظ سُنے یا مقر سے اقرار سُنا یا غصب و قتل کرتے ہوئے دیکھا گواہی دینا دُرست ہے اس کو گواہ بنایا ہو یا نہ بنایا ہو۔ اگر گواہ نہیں بنایا ہے تو یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں یہ نہیں کہے گا کہ مجھے گواہ بنایا ہے۔ دوسری قسم یہ ہے کہ بغیر گواہ بنائے ہوئے گواہی دینا درست نہیں جیسے کسی کو گواہی دیتے ہوئے دیکھا تو یہ گواہی نہیں دے سکتا یعنی یوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اُ س نے یہ گواہی دی ہاں اگر اس نے اس کو گواہ بنایا تو گواہی دے سکتا ہے۔ (3)(ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ ۴۱: قاضی نے اس کے سامنے فیصلہ سُنایا یہ گواہی دے سکتا ہے کہ فلاں قاضی نے اس معاملہ میں یہ فیصلہ کیا ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۴۲: چند چیزیں وہ ہیں کہ محض شہرت اور سُننے کے بنا پر اُن کی شہادت دینا درست ہے اگرچہ اس نے خود مشاہدہ نہ کیا ہو جب کہ ایسے لوگوں سے سُنا ہو جن پر اعتماد ہو۔
(۱) نکاح (۲) نسب (۳) موت (۴) قضا (۵) دخول۔
مثلاً ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک عورت کے پاس جاتا ہے اور لوگوں سے سُنا کہ یہ اُس کی بی بی ہے یہ نکاح کی گواہی
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ...إلخ،ج۳،ص۴۵۶.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،فصل مایتحملہ الشاھدعلی ضربین،ج۲،ص۱۱۹،وغیرہ.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،ج۸،ص۲۰۸.
دے سکتا ہے۔ یا لوگوں سے سُنا ہے کہ یہ شخص فلاں کابیٹا ہے شہادت دے سکتا ہے۔ یا ایک شخص کو دیکھا کہ لوگوں کے معاملات فیصل کرتا ہے اور لوگوں سے سُنا کہ یہ یہاں کا قاضی ہے۔ گواہی دے سکتا ہے کہ یہ قاضی ہے اگرچہ بادشاہ نے جب قاضی بنایا اس نے مشاہدہ نہیں کیا۔ یا ایک شخص کی نسبت لوگوں سے سُنا کہ مر گیا اُس کی موت کی شہادت دے سکتا ہے مگر ان صورتوں میں گواہ کو چاہیے کہ یہ ظاہر نہ کرے کہ میں نے ایسا سُنا ہے اگر سُننا بیان کر دے گا تو گواہی رد ہو جائے گی۔ (1)(ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: مرد و عورت کو ایک گھر میں رہتے دیکھا اور یہ کہ وہ اس طرح رہتے ہیں جیسے میاں بی بی اس صورت میں نکاح کی گواہی دے سکتا ہے۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۴۴: اگر کسی کے دفن میں یہ خود حاضر تھا یا اُس کے جنازہ کی نماز پڑھی تو یہ معاینہ ہی کے حکم میں ہے اگرچہ نہ مرتے وقت حاضر تھا نہ میّت کا چہرہ کھول کر دیکھا۔ اگر اس امر کو قاضی کے سامنے بھی ظاہر کر دے گا جب بھی گواہی مقبول ہے۔ (3)(ہدایہ)
مسئلہ ۴۵: کسی کے مرنے کی خبر آئی اور گھر والوں نے وہ چیزیں کیں جو اموات کے لیے کرتے ہیں مثلاً سوم ۔ و ایصال ثواب(4) وغیرہ محض اتنی بات معلوم ہونے پر موت کی شہادت دینا درست نہیں جب تک معتبر آدمی یہ خبر نہ دے کہ وہ مر گیا اور اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: (۶) اصل وقف کی شہادت سُننے کی بنا پر جائز ہے شرائط کے متعلق سُن کر شہادت دینا نادرست ہے کیونکہ عام طور پر وقف ہی کی شہرت ہوا کرتی ہے اور یہ بات کہ اُس کی آمدنی اس نوعیت سے خرچ کی جائے گی اس کو خاص ہی جانتے ہیں۔(6) (ہدایہ)
مسئلہ ۱: گونگے اور اندھے کی گواہی مقبول نہیں چاہے وہ پہلے ہی سے اندھا تھا یا پہلے اندھا نہ تھا وہ شے دیکھی تھی جس
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات، فصل مایتحملہ الشاھد علی ضربین،ج۲،ص۱۲۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ...إلخ،ج۳،ص۴۵۹.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،فصل مایتحملہ الشاھد علی ضربین،ج۲،ص۱۲۰.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔کسی فوت شدہ مسلمان کے لیے بخشش ومغفرت کی دعا اور صدقہ وخیرات کرنا۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ...إلخ،ج۳،ص ۴۵۹.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات، فصل مایتحملہ الشاھدعلی ضربین،ج۲،ص۱۲۰.
کی گواہی دیتا ہے مگر گواہی دینے کے وقت اندھا ہے بلکہ اگر گواہی دینے کے وقت انکھیارا ہے(1)اور ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ اندھا ہو گیا اس گواہی پر فیصلہ نہیں ہو سکتا پہلے اندھا تھا گواہی رد ہو گئی پھر انکھیارا ہو گیا اور اسی معاملہ میں گواہی دی اب قبول ہو گی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲: کافر کی گواہی مسلم کے خلاف قبول نہیں۔ مرتد کی گواہی اصلاً مقبول نہیں۔ ذمی کی گواہی ذمی پر قبول ہے اگرچہ دونوں کے مختلف دین ہوں مثلاً ایک یہودی ہے دوسرا نصرانی(3)۔ یوہیں ذمی کی شہادت مستامن پر درست ہے اور مستامن کی ذمی پر درست نہیں۔ ایک مستامن دوسرے مستامن پر گواہی دے سکتا ہے جب کہ دونوں ایک سلطنت کے رہنے والے ہوں ۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳: دو شخصوں میں دنیوی عداوت(5)ہو تو ایک کی گواہی دوسرے کے خلاف مقبول نہیں اور اگر دین کی بنا پر عداوت ہو تو قبول کی جا سکتی ہے جبکہ اُن کے مذہب میں مخالف مذہب کے مقابل جھوٹی گواہی دینا جائز نہ ہو اور وہ حد کفر کوبھی نہ پہنچا ہو۔ (6)(درمختار) آج کل کے وہابی اولاً کفر کی حد کو پہنچ گئے ہیں دوم تجربہ سے یہ بات ثابت ہے کہ سنّیوں کے مقابل میں جھوٹ بولنے میں بالکل باک نہیں رکھتے (7)ان کی گواہی سنّیوں کے مقابل ہرگز قابل قبول نہیں۔
مسئلہ ۴: جو شخص صغیرہ گناہ کا مرتکب ہے مگر اُس پر اصرار نہ کرتا ہو یعنی متعدد بار نہ کیا ہو اور کبیرہ سے اجتناب کرتا ہو اُس کی گواہی مقبول ہے اور کبیرہ کا ارتکاب کریگا تو گواہی قبول نہیں۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۵: جس کا کسی عذر کی وجہ سے ختنہ نہیں ہوا ہے یا اُس کے انثیین(9)نکال ڈالے گئے ہوں یا مقطوع الذکر ہو یا ولدالزناہو یا خنثٰے(10)ہو اُس کی گواہی مقبول ہے۔ (11)(درمختار)
1 ۔آنکھوں والا،جودیکھ سکتا ہو۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الرابع فیمن تقبل شہادتہ ومن لاتقبل،ج۳،ص۴۶۴.
3 ۔عیسائی۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات، باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۱۶.
5 ۔کسی دنیاوی معاملے کی وجہ سے دشمنی۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۱۴.
7 ۔ڈر،خوف نہیں رکھتے۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۱۴.
9 ۔فوطے،خصیے۔ 10 ۔ہیجڑا۔
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۱۶.
مسئلہ ۶: بھائی کی گواہی بھائی کے لیے بھتیجے کی چچا کے لیے یا چچا کی اولاد کے لیے یا بالعکس یا ماموں اور خالہ اور ان کی اولاد کے لیے یا بالعکس، ساس سسر، سالی، سالے، داماد کے لیے درست ہے۔ مابین مدعی و گواہ کے حرمت رضاعت یا مصاہرت ہو گواہی قبول ہے۔ (1)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۷: ملازمین سلطنت اگر ظلم پر اعانت نہ کرتے ہوں تو ان کی گواہی مقبول ہے۔ کسی امیر کبیر نے دعویٰ کیا اُس کے ملازمین اور رعایا کی گواہی اُس کے حق میں مقبول نہیں۔ یوہیں زمیندار کے حق میں اسامیوں(2) کی گواہی مقبول نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۸: غلام اور بچہ کی گواہی اور وہ لوگ جو دنیا کی باتوں سے بے خبر رہتے ہیں یعنی مجذوب یا مجذوب صفت ان کی گواہی بھی مقبول نہیں۔ غلام نے یا کسی نے بچپن میں کسی معاملہ کو دیکھا تھا آزاد ہونے اور بالغ ہونے کے بعد گواہی دیتا ہے یا زمانہ کفر میں مشاہدہ کیا تھا اسلام لانے کے بعد مسلم کے خلاف گواہی دیتا ہے مقبول ہے کہ مانع موجود نہ رہا۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۹: جس پر حد قذف قائم کی گئی (یعنی کسی پر زنا کی تہمت لگائی اور ثبوت نہیں دے سکا اس وجہ سے اُس پر حد ماری گئی) اُس کی گواہی کبھی مقبول نہیں اگرچہ تائب ہو چکا ہو ہاں کافر پر حد قذف قائم ہوئی پھر مسلمان ہو گیا تو اس کی گواہی مقبول ہے۔ جس کا جھوٹا ہونا مشہور ہے یا جھوٹی گواہی دے چکا ہے جس کا ثبوت ہو چکا ہے اُس کی گواہی مقبول نہیں۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۰: زوج و زوجہ میں سے ایک کی گواہی دوسرے کے حق میں مقبول نہیں بلکہ تین طلاقیں دے چکا ہے اور ابھی عدت میں ہے جب بھی ایک کی گواہی دوسرے کے حق میں قبول نہیں بلکہ گواہی دینے کے بعد نکاح ہوا اور ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے یہ گواہی بھی باطل ہو گئی اور ان میں ایک کی گواہی دوسرے کے خلاف مقبول ہے۔ مگر شوہر نے عورت کے زنا کی شہادت دی تو یہ گواہی مقبول نہیں۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۱۶.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الرابع فیمن تقبل شہادتہ ومن لاتقبل،ج۳،ص۴۷۰.
2 ۔کاشتکار،وہ لوگ جو کاشتکاری کے لیے زمیندار سے ٹھیکے پر زمین لیتے ہیں۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۱۷.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۲۰.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۲۱.
6 ۔''الدرالمختار''،و''ردالمحتار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۲۲.
مسئلہ ۱۱: فرع کی گواہی اصل کے لیے اور اصل کی فرع کے لیے یعنی اولاد اگر ماں باپ دادا دادی وغیرہم اصول کے حق میں گواہی دیں یا ماں باپ دادا دادی وغیرہم اپنی اولاد کے حق میں گواہی دیں یہ نامقبول ہے۔ ہاں اگر باپ بیٹے کے مابین مقدمہ ہے اوردادا نے باپ کے خلاف پوتے کے حق میں گواہی دی تو مقبول ہے اور اصل نے فرع کے خلاف یا فرع نے اصل کے خلاف گواہی دی تو مقبول ہے۔ مگر میاں بی بی میں جھگڑا ہے اور بیٹے نے باپ کے خلاف ماں کے موافق گواہی دی تو مقبول نہیں یہاں تک کہ اس کی سوتیلی ماں نے اس کے باپ پر طلاق کا دعویٰ کیا اور اس کی ماں زندہ ہے اور اس کے باپ کے نکاح میں ہے اس نے طلاق کی گواہی دی یہ مقبول نہیں کہ اس میں اس کی ماں کا فائدہ ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: ایک شخص نے اپنی عورت کو طلاق دی جس کی گواہی بیٹے دیتے ہیں اور وہ شخص طلاق دینے سے انکار کرتا ہے اسکی دو صورتیں ہیں ان کی ماں طلاق کا دعویٰ کرتی ہے یا نہیں اگر کرتی ہے تو بیٹوں کی گواہی قبول نہیں اور مدعی نہیں ہے تو مقبول ہے۔(2) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۳: بیٹوں نے یہ گواہی دی کہ ہماری سوتیلی ماں معاذ اﷲ مرتدہ ہو گئی اور وہ منکر ہے(3)اگر ان لڑکوں کی ماں زندہ ہے یہ گواہی مقبول نہیں اور اگر زندہ نہیں ہے تو دو صورتیں ہیں باپ مدعی ہے یا نہیں اگر باپ مدعی ہے جب بھی مقبول نہیں ورنہ مقبول ہے۔(4) (بحر)
مسئلہ ۱۴: ایک شخص نے اپنی عورت کو طلاق دی پھر نکاح کیا بیٹے یہ کہتے ہیں کہ تین طلاقیں دی تھیں اور بغیر حلالہ کے نکاح کیا باپ اگر مدعی ہے تومقبول نہیں ورنہ مقبول ہے۔(5) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۵: دو شخص باہم شریک ہیں اُن میں ایک دوسرے کے حق میں اُس شے کے بارے میں شہادت دیتا ہے جو دونوں کی شرکت کی ہے یہ گواہی مقبول نہیں کہ خود اپنی ذات کے لیے یہ گواہی ہو گئی اور اگر وہ چیز شرکت کی نہ ہو تو گواہی مقبول ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: گاؤں کے زمینداروں نے یہ شہادت دی کہ یہ زمین اسی گاؤں کی ہے یہ شہادت مقبول نہیں کہ یہ شہادت
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۲۲.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۷،ص۱۳۶.
3 ۔انکار کرتی ہے۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۷ص۱۳۷.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۲۳.
اپنی ذات کے لیے ہے یوہیں کوچہ غیر نافذہ(1)کے رہنے والے ایک نے دوسرے کے حق میں ایسی گواہی دی جس کا نفع خود اس کی طرف بھی عائد ہوتا ہے۔ یہ گواہی مقبول نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۷: محلہ کے لوگوں نے مسجد محلہ کے وقف کی شہادت دی کہ یہ چیز اس مسجدپر وقف ہے یا اہلِ شہر نے مسجد جامع کے اوقاف کی شہادت دی یا مسافروں نے یہ گواہی دی کہ یہ چیز مسافروں پروقف ہے مثلاً مسافر خانہ یہ گواہیاں مقبول ہیں۔ علمائے مدرسہ نے مدرسہ کی جائداد موقوفہ(3) کی گواہی دی یا کسی ایسے شخص نے گواہی دی جس کا بچہ مدرسہ میں پڑھتا ہے یہ گواہی بھی مقبول ہے۔(4) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۸: اہلِ مدرسہ نے آمدنی وقف کے متعلق کوئی ایسی گواہی دی جس کا نفع خود اس کی طرف بھی عائد ہوتا ہے یہ گواہی مقبول نہیں۔ (5)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۹: کسی کاریگر کے پاس کام سیکھنے والے جن کی نہ کوئی تنخواہ ہے نہ مزدوری پاتے ہیں اپنے اُستاد کے پاس رہتے اور اُس کے یہاں کھاتے پیتے ہیں ان کی گواہی اُستاد کے حق میں مقبول نہیں۔ (6)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۰: اجیر خاص جو ایک مخصوص شخص کا کام کرتا ہے کہ اُن اوقات میں دوسرے کا کام نہیں کر سکتا خواہ وہ نوکر ہو جو ہفتہ وار، ماہوار، ششماہی، برسی(7) پر تنخواہ پاتا یا روزانہ کا مزدور ہو کہ صبح سے شام تک کا مثلاً مزدور ہے دوسرے دن مستاجر(8)نے بلایا تو کام کریگا ورنہ نہیں ان سب کی گواہی مستاجر کے حق میں مقبول نہیں اور اجیر مشترک جسے اجیر عام بھی کہتے ہیں جیسے درزی، دھوبی کہ یہ سبھی کے کپڑے سیتے اور دھوتے ہیں کسی کے نوکر نہیں کام کریں گے تو مزدوری پائیں گے ورنہ نہیں ان کی گواہی مقبول ہے۔ (9)(ہدایہ، بحر)
1 ۔ایسی گلی جوکچھ فاصلہ کے بعد بند ہو یعنی عام راستہ نہ ہو۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۲۳.
3 ۔وہ جائیداد جو راہ خداعزوجل میں وقف کی گئی ہو۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۷ص۱۴۱.
5 ۔المرجع السابق،ص۱۴۰.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۲،ص۱۲۲.
7 ۔سالانہ۔ 8 ۔ٹھیکیدار،مزدوری دے کر کام کروانے والا۔
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۲،ص۱۲۲.
و''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۷،ص۱۳۹.
مسئلہ ۲۱: مخنث(1)جس کے اعضا میں لچک اورکلام میں نرمی ہو کہ یہ خلقی چیز ہے اس کی شہادت مقبول ہے اور جو برے افعال کراتا ہو اُس کی گواہی مردود۔ یوہیں گویّا اور گانے والی عورت ان کی گواہی مقبول نہیں اورنوحہ کرنے والی(2)جس کا پیشہ ہو کہ دوسرے کے مصائب میں جا کر نوحہ کرتی ہو اسکی گواہی مقبول نہیں اور اگر اپنی مصیبت پر بے اختیار ہو کر صبر نہ کر سکی اور نوحہ کیا تو گواہی مقبول ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: جو شخص اٹکل پچو(4)باتیں اُڑاتا ہویا کثرت سے قسم کھاتا ہو یا اپنے بچوں کویا دوسروں کو گالی دینے کا عادی ہو یا جانورکو بکثرت گالی دیتا ہو جیسا یکہ(5)تانگہ گاڑی(6) والے اور ہل جوتنے والے کہ خوامخواہ جانوروں کو گالیاں دیتے رہتے ہیں ان کی گواہی مقبول نہیں۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۲۳: جو شاعر ہجوکرتا ہو اُس کی گواہی مقبول نہیں اور مردصالح نے ایسا شعر پڑھا جس میں فحش (8) ہے تو اس کی گواہی مردود نہیں۔ یوہیں جس نے جاہلیت کے اشعار سیکھے اگر یہ سیکھنا عربیت کے لیے ہو تو گواہی مردود نہیں۔ اگرچہ ان اشعار میں فحش ہو۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: جس کا پیشہ کفن اور مردہ کی خوشبو بیچنے کا ہو کہ وہ اس انتظار میں رہتا ہو کہ کوئی مرے اور کفن فروخت ہو اس کی گواہی مقبول نہیں۔(10)(درمختار) یہاں ہندوستان میں ایسے لوگ نہیں پائے جاتے جو یہ کام کرتے ہوں عام طور پر بزاز(11) کے یہاں سے کفن لیا جاتا ہے اور پنساریوں(12)کے یہاں سے لوبان(13)وغیرہ لیتے ہیں۔ ہاں شہروں میں تکیہ دار فقیر(14)جو گورکن(15)ہوتے ہیں یا گورکنی(16)نہ بھی کرتے ہوں تو چادروغیرہ لینا اُن کا کام ہے اور اُسی پر اُن کی گزر اوقات ہے اُن کی
1 ۔ہیجڑا۔ 2 ۔میت کے اوصاف مبالغہ کے ساتھ بیان کرکے آواز سے رونے والی۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۲۵.
4 ۔ اوٹ پٹانگ۔ 5 ۔ایک قسم کی گاڑی جس میں صرف ایک ہی گھوڑاجوتاجاتاہے۔
6 ۔وہ گھوڑا گاڑی جس میں آگے پیچھے چھ سواریاں بیٹھ سکتی ہیں۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۲۶.
8 ۔بیہودہ بات۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الرابع فیمن تقبل شہادتہ ومن لاتقبل،الفصل الثانی،ج۳،ص۴۶۸.
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۲۷.
11 ۔کپڑا بیچنے والا۔ 12 ۔پنساری کی جمع ،دیسی دوائیاں،جڑی بوٹی بیچنے والا۔13 ۔ایک قسم کاگوند جو آگ پررکھنے سے خوشبو دیتاہے۔ 14 ۔قبرستان میں رہنے والا فقیر۔ 15 ۔قبر کھودنے والا۔ 16 ۔قبر کھودنے کا کام۔
نسبت بارہا ایسا سنا گیا ہے یہاں تک کہ وباکے زمانہ میں یہ لوگ کہتے ہیں آج کل خوب سہالگ ہے۔(1) لوگوں کے مرنے پریہ لوگ خوش ہوتے ہیں ایسے لوگ قابلِ قبول شہادت نہیں۔
مسئلہ ۲۵: جس کا پیشہ دلالی ہو کہ وہ کثرت سے جھوٹ بولتا ہے اسکی گواہی مقبول نہیں۔(2)(درمختار) وکالت و مختاری کا پیشہ کرنے والوں کی نسبت عموماً یہ بات مشہور ہے کہ جان بوجھ کر جھوٹ کو سچ کرنا چاہتے ہیں بلکہ گواہوں کو جھوٹ بولنے کی تعلیم و تلقین کرتے ہیں۔
مسئلہ ۲۶: خمریعنی انگوری شراب ایک مرتبہ پینے سے بھی فاسق اور مردود الشہادۃہو جاتا ہے(3) اور اس کے علاوہ دوسری شراب پینے کا عادی ہو اور لہو کے طور پر پیتا ہو تو اُس کی شہادت بھی مردود ہے۔ اور اگر علاج کے طور پر کسی نے ایسا کیا اگرچہ یہ بھی ناجائز ہے مگر اختلاف کی وجہ سے فسق سے بچ جائے گا۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۷: جانور کے ساتھ کھیلنے والا جیسے مرغ بازی(5)، کبوتر بازی، (6)بٹیر بازی(7) کرنے والے کی گواہی مقبول نہیں اسی طرح مینڈھا(8) لڑانے والے ،بھینسا لڑانے والے اور طرح طرح کے اس قسم کے کھیل کرنے والے کہ ان کی بھی گواہی مقبول نہیں ہاں اگر محض دل بہلنے کے لیے کسی نے کبوتر پال لیا ہے بازی نہیں کرتا یعنی اُڑاتا نہ ہو تو جائز ہے مگر جب کہ دوسروں کے کبوتر پکڑ لیتا ہو جیسا کہ اکثر کبوتر بازوں کی عادت ہوتی ہے اور وہ اسے عیب بھی نہیں سمجھتے یہ حرام اور سخت حرام ہے کہ پرایا مال ناحق لینا ہے۔ (9)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۸: جو شخص کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہے بلکہ جو مجلس فجور میں بیٹھتا ہے اگرچہ وہ خود اس حرام کامرتکب نہیں ہے اُس کی گواہی بھی مقبول نہیں ہے۔ (10)(عالمگیری)
1 ۔خوشی کے دن ہیں۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۲۸.
3 ۔یعنی اس کی گواہی قبول نہیں ہوتی۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۲۸.
5 ۔مرغ لڑانا۔ 6 ۔کبوتر پالنے اور اڑانے کامشغلہ۔7 ۔بٹیرپالنااورلڑانا۔ 8 ۔دنبہ،بھیڑ کانر۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۲۹،وغیرہ.
10 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الرابع فیمن تقبل شہادتہ ومن لاتقبل،الفصل الثانی،ج۳،ص۴۶۶.
مسئلہ ۲۹: حمام میں برہنہ غسل کرنے والا، سود خوار اور جواری اور چوسر(1)،پچیسی(2) کھیلنے والا اگرچہ اس کے ساتھ جوا شامل نہ ہو یا شطرنج(3)کے ساتھ جوا کھیلنے والا یا اس کھیل میں نماز فوت کر دینے والا یا شطرنج راستہ پر کھیلنے والا ان سب کی گواہی مقبول نہیں۔ (4)(درمختار عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: جوعبادتیں وقت معین میں فرض ہیں کہ وقت نکل جانے پر قضا ہو جاتی ہیں جیسے نماز روزہ اگر بغیرعذر شرعی ان کو وقت سے مؤخر کر ے فاسق مردود الشہادۃ ہے اور جن کے لیے وقت معین نہیں جیسے زکوٰۃ اور حج ان میں اختلاف ہے تاخیر سے مردود الشہادۃ ہوتا ہے یا نہیں صحیح یہ ہے کہ نہیں ہوتا۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: بلاعذر جمعہ ترک کرنے والا فاسق ہے یعنی محض اپنی کاہلی اورسستی سے جو ترک کرے اور اگر عذر کی وجہ سے نہیں پڑھا مثلاً بیمار ہے یا کسی تاویل کی بنا پر نہیں پڑھتا مثلاً یہ کہتا ہے کہ امام فاسق ہے اس وجہ سے نہیں پڑھتا ہوں تو یہ چھوڑنے والا فاسق نہیں۔(6)(عالمگیری) یہ عذر اُس وقت مسموع ہو گا(7) کہ ایک ہی جگہ جمعہ ہوتا ہو یا کئی جگہ جمعہ ہوتا ہے مگر سب امام اسی قسم کے ہوں۔
مسئلہ ۳۲: محض کاہلی اور سستی سے نماز یا جماعت ترک کرنے والا مردود الشہادۃ ہے اور اگر ترک جماعت کے لیے عذر ہو مثلاً امام فاسق ہے کہ اُس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور امام کو ہٹا بھی نہیں سکتا یا امام گمراہ بد عتی ہے اس وجہ سے اُس کے پیچھے نہیں پڑھتا گھر میں تنہا پڑھ لیتا ہے تو اس کی گواہی مقبول ہے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: فاسق نے توبہ کر لی تو جب تک اتنا زمانہ نہ گزر جائے کہ توبہ کے آثار اُس پر ظاہر ہو جائیں اُس وقت تک گواہی مقبول نہیں اور اس کے لیے کوئی مدت نہیں ہے بلکہ قاضی کی رائے پر ہے۔(9)(عالمگیری)
1 ۔ایک قسم کا کھیل۔ 2 ۔ایک قسم کا کھیل جوسات کوڑیوں سے کھیلاجاتاہے۔
3 ۔ایک قسم کا کھیل جو۶۴ چکور خانوں کی بساط پردورنگ کے۳۲مہروں سے کھیلاجاتاہے۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۳۰.
و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الرابع فیمن تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،الفصل الثانی،ج۳،ص۴۶۶.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الرابع فیمن تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،الفصل الثانی،ج۳،ص۴۶۶.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔قبول ہو گا۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الرابع فیمن تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،الفصل الثانی،ج۳،ص۴۶۶.
9 ۔المرجع السابق،ص۴۶۸.
مسئلہ ۳۴: جو شخص بزرگانِ دین ،پیشوایانِ اسلام مثلاً صحابہ و تابعین رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو برے الفاظ سے علانیہ یاد کرتا ہو اُس کی گواہی مقبول نہیں۔ اُنھیں بزرگانِ دین سلف صالحین میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی ہیں مثلاً روافض(1) کہ صحابہ کرام کی شان میں دشنام بکتے ہیں(2)اور غیر مقلدین(3) کہ ائمہ مجتہدین خصوصاً امام اعظم کی شان میں سب و شتم(4)و بیہودہ گوئی کرتے ہیں۔ (5)(عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۳۵: جو شخص حقیر و ذلیل افعال کرتا ہو اُس کی شہادت مقبول نہیں جیسے راستہ پر پیشاب کرنا۔ راستہ پر کوئی چیز کھانا۔ بازار میں لوگوں کے سامنے کھانا۔ صرف پاجامہ یا تہبند پہن کر بغیر کرتہ پہنے یا بغیر چادر اوڑھے گزرگاہ عام پر چلنا۔ لوگوں کے سامنے پاؤں دراز کر کے بیٹھنا۔ ننگے سر ہو جانا جہاں اس کو خفیف و بے ادبی و قلت حیا تصور کیا جاتا ہو۔(6) (عالمگیری، ہدایہ، فتح)
مسئلہ ۳۶: دو شخصوں نے یہ گواہی دی کہ ہمارے باپ نے فلاں شخص کو وصی مقرر کیا ہے اگر یہ شخص مدعی(7)ہو تو گواہی مقبول ہے۔ اورمنکر ہو تو مقبول نہیں کیوں کہ قبول وصیت پر قاضی کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔ اسی طرح میت کے دائن(8)یا مدیون(9)یا موصےٰ لہ(10)نے گواہی دی کہ میت نے فلاں شخص کو وصی بنایا ہے تو ان کی گواہیاں بھی مقبول ہیں۔ (11)(ہدایہ)
مسئلہ ۳۷: دو شخصوں نے یہ گواہی دی کہ ہمارا باپ پردیس چلا گیا ہے اُس نے فلاں شخص کو اپنا قرضہ اور دَین وصول کرنے کے لیے وکیل کیا ہے یہ گواہی مقبول نہیں وہ شخص ثالث وکالت کا مدعی ہو یا منکر دونوں کا ایک حکم ہے۔ اور اگر ان کا باپ
1 ۔رافضی کی جمع ،تفصیل کے لیے دیکھئے بہارشریعت ،ج۱ ،ص۲۰۵۔ 2 ۔بیہودہ بکتے ہیں۔
3 ۔تفصیل کے لیے دیکھئے بہارشریعت ،ج۱ ،ص۲۳۵۔ 4 ۔گالی گلوچ،لعن طعن۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الرابع فیمن تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،الفصل الثانی،ج۳،ص۴۶۸،وغیرہ.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الرابع فیمن تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،الفصل الثانی،ج۳،ص۴۶۸.
و ''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۲،ص۱۲۳.
و''فتح القدیر'' ،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۶،۴۸۵،۴۸۶.
7 ۔دعوٰی کرنے والا۔ 8 ۔جس نے میت کو قرض دیا ہے۔ 9 ۔مقروض۔
10 ۔میت نے جس کے لیے وصیت کی ہے۔
11 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۲،ص۱۲۴.
یہیں موجود ہو تو دعویٰ ہی مسموع نہیں شہادت کس بات کی ہو گی۔ وکیل کے بیٹے پوتے یا باپ دادا نے وکالت کی گواہی دی نامقبول ہے۔ (1)(ہدایہ، فتح، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۸: دو شخص کسی امانت کے امین ہیں اُنھوں نے گواہی دی کہ یہ امانت اُس کی مِلک ہے جس نے ان کے پاس رکھی ہے گواہی مقبول ہے اور اگر یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص جو اس چیز کا دعویٰ کرتا ہے اس نے خود اقرار کیا ہے کہ امانت رکھنے والے کی مِلک ہے تو گواہی مقبول نہیں مگر جب کہ ان دونوں نے امانت اُس شخص کو واپس دے دی ہو جس نے رکھی تھی۔ (2)(فتح القدیر)
مسئلہ ۳۹: دو مرتہن یہ گواہی دیتے ہیں کہ مرہون شے(3) اُس کی مِلک ہے جو دعویٰ کرتا ہے گواہی مقبول ہے اور اُس چیز کے ہلاک ہونے کے بعد یہ گواہی دیں تو نا مقبول ہے مگر ان دونوں کے ذمہ اُس چیز کا تاوان لازم ہو گیا یعنی مدعی(4) کو اُس کی قیمت ادا کریں کہ ان دونوں نے غصب کا خود اقرار کر لیا اور اگر مرتہن یہ گواہی دیں کہ خود مدعی نے مِلک راہن(5) کا اقرار کیا تھا تو مقبول نہیں اگرچہ مرہون ہلاک ہو چکا ہو۔ ہاں اگر راہن کو واپس کرنے کے بعد یہ گواہی دیں تومقبول ہے۔ ایک شخص نے مرتہن پر دعویٰ کیا کہ مرہون چیز میری ہے اور مرتہن منکر ہے اور راہن نے گواہی دی تو قبول نہیں مگر راہن پر تاوان لازم ہے۔ (6)(فتح القدیر)
مسئلہ ۴۰: غاصب نے(7)شہادت دی کہ مغصوب چیز(8)مدعی کی ہے مقبول نہیں مگر جب کہ جس سے غصب کی تھی اُس کو واپس دینے کے بعد گواہی دی تو قبول ہے اور اگر غاصب کے ہاتھ میں چیز ہلاک ہو گئی پھر مدعی کے حق میں شہادت دی تو مقبول نہیں۔ (9)(فتح القدیر)
مسئلہ ۴۱: مستقرض (قرض لینے والے) نے گواہی دی کہ چیز مدعی کی ہے تو گواہی مقبول نہیں چیز واپس کر چکا ہو یا
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۲،ص۱۲۵.
و''فتح القدیر''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل شہادتہ،ج۶،ص۴۹۴،۴۹۵.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۳۲.
2 ۔''فتح القدیر''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل شہادتہ،ج۶،ص۴۹۴،۴۹۵.
3 ۔گروی رکھی گئی چیز۔ 4 ۔دعوےٰ کرنے والا۔ 5 ۔گروی رکھنے والے کی ملکیت ۔ 6 ۔''فتح القدیر''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۶،ص۴۹۴.
7 ۔ناجائز قبضہ کرنے والے نے۔ 8 ۔وہ چیز جس پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہو۔
9 ۔''فتح القدیر''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۶،ص۴۹۴.
نہیں۔ بیع فاسد کے ساتھ چیز خریدی اور قبضہ کر چکا مشتری گواہی دیتا ہے کہ مدعی کی مِلک ہے مقبول نہیں۔ اور اگر قاضی نے اس بیع کو توڑ دیا یا خود بائع و مشتری نے اپنی رضا مندی سے توڑ دیا اور چیز ابھی مشتری کے پاس ہے اور مشتری نے مدعی کے حق میں گواہی دی مقبول نہیں۔ اور اگر مبیع بائع کو واپس کر دینے کے بعد مدعی کے حق میں گواہی دیتا ہے قبول ہے۔ (1)(فتح القدیر)
مسئلہ ۴۲: مشتری نے جو چیز خریدی ہے اُس کے متعلق گواہی دیتا ہے کہ مدعی کی مِلک ہے اگرچہ بیع کا اقالہ ہو چکا ہو یا عیب کی وجہ سے بغیر قضائے قاضی(2)واپس ہو چکی ہو گواہی مقبول نہیں۔ یوہیں بائع نے بیع کے بعد یہ گواہی دی کہ مبیع مِلک مدعی ہے یہ مقبول نہیں۔ اگر بیع کو اس طرح پر رد کیا گیا ہو جو فسخ(3)قرار پائے تو گواہی مقبول ہے۔(4)(فتح)
مسئلہ ۴۳: مدیون کی یہ گواہی کہ دَین جو اس پر تھا وہ اس مدعی کا ہے مقبول نہیں اگرچہ دَین ادا کر چکا ہو۔ مستاجر(5) نے گواہی دی کہ مکان جو میرے کرایہ میں ہے مدعی کی مِلک ہے اور مدعی یہ کہتا ہے کہ میرے حکم سے یہ مکان مدعی علیہ نے اسے کرایہ پر دیا تھا یہ گواہی مقبول نہیں۔ اور اگر مدعی یہ کہتا ہے کہ بغیر میرے حکم کے دیا گیا تو مقبول ہے اور جو شخص بغیر کرایہ مکان میں رہتا ہے اُس کی گواہی مدعی کے موافق و مخالف دونوں مقبول۔(6)(فتح)
مسئلہ ۴۴: ایک شخص کو وکیل بالخصومۃ کیا(7)اُس نے قاضی کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے پاس مقدمہ پیش کیا پھر موکل نے وکیل کو معزول کر کے قاضی کے پاس پیش کیا۔ وکیل نے گواہی دی یہ مقبول ہے۔ اور اگر قاضی کے پاس وکیل نے مقدمہ پیش کر دیا اس کے بعد وکیل کو معزول کیا تو گواہی مقبول نہیں۔ (8)(فتح القدیر)
مسئلہ ۴۵: وصی کو قاضی نے معزول کر کے دوسرا وصی اُس کے قائم مقام مقرر کیا یا ورثہ بالغ ہو گئے اب وہ وصی یہ گواہی دیتا ہے کہ میت کا فلاں شخص پر دَین ہے یہ گواہی نا مقبول اور معزولی سے قبل کی گواہی تو بدرجہ اولیٰ نا مقبول ہے۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۴۶: جو شخص کسی معاملہ میں خصم (10)ہو چکا اُس معاملہ میں اُ سکی گواہی مقبول نہیں اور جو ابھی تک خصم نہیں ہوا
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۶،ص۴۹۴.
2 ۔قاضی کے فیصلہ کے بغیر۔ 3 ۔ختمکرنا۔
4 ۔''فتح القدیر''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۶،ص۴۹۴.
5 ۔کرائے پر لینے والا،کرایہ دار۔
6 ۔''فتح القدیر''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۶،ص۴۹۴.
7 ۔مقدمے کاوکیل بنایا۔
8 ۔''فتح القدیر''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۶،ص۴۹۴.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۳۲.
10 ۔مدمقابل،حریف۔
ہے مگر قریب ہونے کے ہے اُس کی گواہی مقبول ہے پہلے کی مثال وصی ہے دوسرے کی مثال وکیل بالخصومۃ ہے جس نے قاضی کے یہاں دعویٰ نہیں کیا اور معزول ہو گیا۔(1) (تبیین)
مسئلہ ۴۷: وکیل بالخصومۃ نے قاضی کے یہاں ایک ہزار روپے کا دعویٰ کیا اس کے بعد موکل نے اُسے معزول کر دیا اس کے بعد وکیل نے موکل کے لیے یہ گواہی دی کہ اس کی فلاں شخص کے ذمہ سو اشرفیاں ہیں یہ گواہی مقبول ہے کہ یہ دوسرا دعویٰ ہے جس میں یہ شخص وکیل نہ تھا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۴۸: دو شخصوں نے میت کے ذمہ دَین کا دعویٰ کیا ان کی گواہی دو شخصوں نے دی پھر ان دونوں گواہوں نے اُسی میت پر اپنے دَین کا دعویٰ کیا اور ان مدعیوں نے ان کے موافق شہادت دی سب کی گواہیاں مقبول ہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۴۹: دو شخصوں نے گواہی دی کہ میت نے فلاں اور فلاں کے لیے ایک ہزار کی وصیت کی ہے اور ان دونوں نے بھی اُن گواہوں کے لیے یہی شہادت دی کہ میت نے اُن کے لیے ہزار کی وصیت کی ہے تو ان میں کسی کی گواہی مقبول نہیں۔ اور اگر عین کی وصیت کا دعویٰ ہو اورگواہوں نے شہادت دی کہ میت نے اس چیز کی وصیت فلاں و فلاں کے لیے کی ہے اور ان دونوں نے گواہوں کے لیے ایک دوسری معین چیز کی وصیت کرنے کی شہادت دی تو سب گواہیاں مقبول ہیں۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۰: میت نے دو شخصوں کو وصی کیا ان دونوں نے ایک وارث بالغ کے حق میں شہادت ایک اجنبی کے مقابل میں دی اور جس مال کے متعلق شہادت دی وہ میت کا ترکہ(5) نہیں ہے یہ گواہی مقبول ہے اور اگر میت کا ترکہ ہے تو گواہی مقبول نہیں اور اگر نابالغ وارث کے حق میں شہادت ہو تو مطلقاً مقبول نہیں میت کا ترکہ ہو یا نہ ہو۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۵۱: جَرح مُجَرَّد(یعنی جس سے محض گواہ کا فسق بیان کرنا مقصود ہو، حق اﷲ یا حق العبد کا ثابت کرنا مقصود نہ ہو) اس پر گواہی نہیں ہو سکتی مثلاً اس کی گواہی کہ یہ گواہ فاسق ہیں یا زانی یا سود خوار یا شرابی ہیں یا انھوں نے خود اقرار کیا ہے کہ جھوٹی گواہی دی ہے یا شہادت سے رجوع کرنے کا انھوں نے اقرار کیا ہے یا اقرار کیا ہے کہ اجرت لے کر یہ گواہی دی ہے یا یہ اقرار کیا
1 ۔''تبیین الحقائق''،کتاب الدیات،باب القسامۃ،ج۷،ص۳۶۰.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۳۲.
3 ۔المرجع السابق،ص۲۳۴.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۳۴.
5 ۔وہ مال واسباب جو میت چھوڑ جائے۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۳۵.
ہے کہ مدعی کا یہ دعویٰ غلط ہے یا یہ کہ اس واقعہ کے ہم لوگ شاہد نہ تھے ان امور پر شہادت کو نہ قاضی سُنے گا اور نہ اس کے متعلق کوئی حکم دے گا۔ (1)(ہدایہ، فتح القدیر)
مسئلہ ۵۲: مدعی علیہ (2)نے گواہوں سے ثابت کیا کہ گواہوں نے اجرت لے کر گواہی دی ہے مدعی (3) نے ہمارے سامنے اجرت دی ہے یہ گواہی بھی مقبول نہیں کہ یہ بھی جرح مجرد ہے اور مدعی کا اجرت دینا اگرچہ امر زائد ہے مگر مدعی کا اس کے متعلق کوئی دعویٰ نہیں ہے کہ اس پر شہادت لی جائے۔(4)(بحرالرائق)
مسئلہ ۵۳: جرح مُجَرَّد پر گواہی مقبول نہ ہونا اُس صورت میں ہے جب دربار قاضی میں یہ شہادت گزرے اور مخفی طور پر مدعیٰ علیہ نے قاضی کے سامنے اُن کا فاسق ہونا بیان کیا اور طلب کرنے پر اُس نے گواہ پیش کر دیے تو یہ شہادت مقبول ہو گی یعنی گواہوں کی گواہی رد کر دے گا اگرچہ اُن کی عدالت ثابت ہو کہ جرح تعدیل(5)پر مقدم ہے۔ (6)(بحر)
مسئلہ ۵۴: فسق کے علاوہ اگر گواہوں پر اور کسی قسم کا طعن کیا اور اس کی شہادت پیش کر دی مثلاً گواہ مدعی کا شریک ہے یا مدعی کابیٹا یا باپ ہے یا احدالزوجین(7)ہے یا اُس کا مملوک (8)ہے یا حقیر و ذلیل افعال کرتا ہے اس قسم کی شہادت مقبول ہے۔ (9)(بحر)
مسئلہ ۵۵: جس شخص کے فسق سے عام طور پر لوگوں کو ضرر پہنچتا ہے مثلاً لوگوں کو گالیاں دیتا ہے یا اپنے ہاتھ سے مسلمانوں کو ایذا پہنچاتا ہے اس کے متعلق گواہی دینا جائز ہے تاکہ حکومت کی طرف سے ایسے شریر سے نجات کی کوئی صورت تجویز ہو اور حقیقۃً یہ شہادت نہیں ہے۔ (10)(بحر)
مسئلہ ۵۶: جرح اگر مجرد نہ ہو بلکہ اُس کے ساتھ کسی حق کا تعلق ہو اس پر شہادت ہو سکتی ہے مثلاً مدعیٰ علیہ نے گواہوں پر دعویٰ کیا کہ میں نے ان کو کچھ روپے اس لیے دیے تھے کہ اس جھوٹے مقدمہ میں شہادت نہ دیں اور انھوں نے گواہی دے دی لہٰذا
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لاتقبل،ج۶،ص۴۹۵.
و''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لاتقبل،ج۲،ص۱۲۵.
2 ۔جس پر دعوےٰ کیاجائے۔ 3 ۔دعوی کرنے والا۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۷،ص۱۶۶.
5 ۔یعنی گواہوں کاعادل ہونا، قابل شہادت ہونا۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لاتقبل،ج۷،ص۱۶۹.
7 ۔یعنی میاں بیوی میں سے کوئی ایک۔ 8 ۔غلام۔
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لاتقبل،ج۷،ص۱۷۰.
10 ۔المرجع السابق.
میرے روپے واپس ملنے چاہیے یا یہ دعویٰ کیا کہ مدعی کے پاس میرا مال تھا اُس نے وہ مال گواہوں کو اس لیے دے دیا کہ وہ میرے خلاف مدعی کے حق میں گواہی دیں میرا وہ مال ان گواہوں سے دلایا جائے یا کسی اجنبی نے گواہوں پر دعویٰ کیا کہ ان لوگوں کو میں نے اتنے روپے دیے تھے کہ فلاں کے خلاف گواہی نہ دیں میرے روپے واپس دلائے جائیں اور یہ بات مدعیٰ علیہ نے گواہوں سے ثابت کر دی یا انھوں نے خود اقرار کر لیا یا قسم سے انکار کیا وہ مال ان گواہوں سے دلایا جائے گا اور اسی ضمن میں ان کے فسق کا بھی حکم ہو گا۔ ا ور جو گواہی یہ دے چکے ہیں رد ہو جائے گی۔ اور اگر مدعیٰ علیہ نے محض اتنی بات کہی کہ میں نے ان کو اس لیے روپے دیے تھے کہ گواہی نہ دیں اور مال کا مطالبہ نہیں کرتا تو اس پر شہادت نہیں لی جائے گی کہ یہ جرح مجرد ہے۔ (1)(ہدایہ، فتح القدیر،بحر)
مسئلہ ۵۷: مدعی نے اقرار کیا ہے کہ گواہوں کو اس نے اجرت دی ہے یااقرار کیا ہے کہ وہ فاسق ہیں ،یااقرار کیا ہے کہ اُنہوں نے جھوٹی گواہی دی ہے اس پر شہادت ہوسکتی ہے۔(2)(ہدایہ،درمختار)
مسئلہ ۵۸: گواہوں پر یہ دعویٰ کہ انھوں نے چوری کی ہے یا شراب پی ہے یا زنا کیا ہے اس پر شہادت لی جائے گی کہ یہ جرح مجرد نہیں اس کے ساتھ حق اﷲ کا تعلق ہے یعنی اگر ثبوت ہو گا تو حد قائم ہو گی اور اسی کے ساتھ وہ گواہی جو دے چکے ہیں رد کر دی جائے گی۔(3) (فتح القدیر)
مسئلہ ۵۹: گواہ نے گواہی دی اور ابھی وہیں قاضی کے پاس موجود ہے باہر نہیں گیا ہے اور کہتا ہے کہ گواہی میں مجھ سے کچھ غلطی ہو گئی اس کہنے سے اُس کی گواہی باطل نہ ہو گی بلکہ اگر وہ عادل ہے تو گواہی مقبول ہے غلطی اگر اس قسم کی ہے جس سے شہادت میں کوئی فرق نہیں آتا یعنی جس چیز کے متعلق شہادت ہے اُس میں کچھ کمی بیشی نہیں ہوتی مثلاً یہ لفظ بھول گیا تھا کہ میں گواہی دیتا ہوں تو باہر سے آکر بھی یہ کہہ سکتا ہے اس کی وجہ سے متہم نہیں کیاجا سکتا اور وہ غلطی جس سے فرق پیدا ہو تاہے اُس کی دو صورتیں ہیں جو کچھ پہلے کہا تھا اُس سے اب زائد بتاتا ہے یا کم کہتا ہے مثلاً پہلے بیان میں ایک ہزار کہا تھا اب ڈیڑھ ہزار کہتا ہے یا پانسو اگر کمی بتاتا ہے یعنی جتنا پہلے کہا تھا اب اُس سے کم کہتا ہے یعنی مدعی کے مدعیٰ علیہ کے ذمہ پانسو ہیں اس صورت میں حکم یہ ہے کہ کم کرنے کے بعد جو کچھ بچے اُس کا فیصلہ ہو گا اور زیادہ بتاتا ہو یعنی کہتا ہے بجائے ڈیڑھ ہزار کے میری زبان سے ہزار نکل
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لاتقبل،ج۶،ص۴۹۵.
و''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۲،ص۱۲۵.
و''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لاتقبل،ج۷،ص۱۷۱.
2 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۲،ص۱۲۵.
و''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۳۷.
3 ۔''فتح القدیر''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لاتقبل،ج۶،ص۴۹۶.
گیا اس کی دو صورتیں ہیں۔ مدعی کا دعویٰ ڈیڑھ ہزار کا ہے یا ہزار کا اگر مدعی کا دعویٰ ڈیڑھ ہزار کا ہے تو یہ زیادت مقبول ہے ورنہ نہیں۔ (1)(فتح، ردالمحتار)
مسئلہ۶۰: حدود یا نسب میں غلطی کی مثلاً شرقی حد کی جگہ غربی بول گیا یا محمد بن عمر بن علی کی جگہ محمد بن علی بن عمر کہہ دیا اور اُسی مجلس میں اس غلطی کی تصحیح کر دی تو گواہی معتبر ہو جائے گی۔(2) (ہدایہ)
مسئلہ ۶۱: شہادت قاصرہ جس میں بعض ضروری باتیں ذکر کرنے سے رہ گئیں اس کی تکمیل دوسرے نے کر دی یہ گواہی معتبر ہے مثلاً ایک مکان کے متعلق گواہی گزری کہ یہ مدعی کی مِلک ہے مگر گواہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ مکان اس وقت مدعیٰ علیہ کے قبضہ میں ہے مدعی نے دوسرے گواہوں سے مدعیٰ علیہ کا قبضہ ثابت کر دیا گواہی معتبر ہو گئی۔ یا گواہوں نے ایک محدود شے میں مِلک کی شہادت دی اور حدود ذکر نہیں کیے، دوسرے گواہوں سے حدود ثابت کیے گواہی معتبر ہو گئی۔ یا ایک شخص کے مقابل میں نام و نسب کے ساتھ شہادت دی اور مدعیٰ علیہ کو پہچانا نہیں دوسرے گواہوں سے یہ ثابت کیا کہ جس کا یہ نام و نسب ہے وہ یہ شخص ہے گواہی معتبر ہو گئی۔ (3)(درمختار)
مسئلہ۶۲: ایک گواہ نے گواہی دی باقی گواہ یوں گواہی دیتے ہیں کہ جو اُس کی گواہی ہے وہی ہماری شہادت ہے یہ مقبول نہیں بلکہ اُن کو بھی وہ باتیں کہنی ہوں گی جن کی گواہی دینا چاہتے ہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ۶۳: نفی کی گواہی نہیں ہوتی یعنی مثلاً یہ گواہی دی کہ اس نے بیع نہیں کی ہے یا اقرار نہیں کیا ہے ایسی چیزوں کو گواہوں سے نہیں ثابت کر سکتے۔ نفی صورۃً ہو یا معنًی دونوں کا ایک حکم ہے مثلاً وہ نہیں تھا یا غائب تھا کہ دونوں کا حاصل ایک ہے۔ گواہ کو یقینی طور پر نفی کا علم ہو یا نہ ہو بہرحال گواہی نہیں دے سکتا مثلاً گواہوں نے یہ گواہی دی کہ زید نے عمرو کے ہاتھ یہ چیز بیع کی ہے اب یہ گواہی نہیں دی جا سکتی کہ زید تو وہاں تھا ہی نہیں ہاں اگر نفی متواتر ہو سب لوگ جانتے ہوں کہ وہ اُس جگہ یا اُس وقت موجود نہ تھا تو نفی کی گواہی صحیح ہے کہ دعویٰ ہی مسموع نہ ہو گا۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
1 ۔''فتح القدیر''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لاتقبل،ج۶،ص۴۹۷.
و''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۳۷.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،باب من تقبل شہادتہ ومن لا تقبل،ج۲،ص۱۲۵.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۴۴.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۴۴.
مسئلہ ۶۴: شہادت کا جب ایک جز باطل ہو گیا تو کل شہادت باطل ہو گئی یہ نہیں کہ ایک جز صحیح ہو اور ایک جز باطل مگر بعض صورتیں ایسی ہیں کہ ایک جز صحیح اور ایک جزباطل مثلاً ایک غلام مشترک ہے اُس کا مالک ایک مسلم اور ایک نصرانی ہے، دو نصرانیوں نے شہادت دی کہ ان دونوں نے غلام کو آزاد کر دیا نصرانی کے خلاف میں گواہی صحیح ہے یعنی اس کا حصہ آزاداور مسلمان کا حصہ آزاد نہ ہوگا۔(1) (درمختار)
اختلاف شہادت کے مسائل کی بنا چند اصول پر ہے:
(۱) حقوق العباد میں شہادت کے لیے دعویٰ ضروری ہے یعنی جس بات پر گواہی گزری مدعی(2)نے اُس کا دعویٰ نہیں کیا ہے یہ گواہی معتبر نہیں کہ حق العبدکا فیصلہ(3) بغیر مطالبہ نہیں کیا جا سکتا اور یہاں مطالبہ نہیں اور حقوق اﷲ میں دعوے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر شخص کے ذمہ اس کا اثبات ہے گویا دعویٰ موجود ہے۔
(۲) گواہوں نے اُس سے زیادہ بیان کیا جتنا مدعی دعویٰ کرتا ہے تو گواہی باطل ہے اور کم بیان کیا تو مقبول ہے اور اُتنے ہی کا فیصلہ ہو گا جتنا گواہوں نے بیان کیا۔
(۳) مِلک مطلق مِلک مقید سے زیادہ ہے کہ وہ اصل سے ثابت ہوتی ہے اور مقید وقت سبب سے معتبر ہو گی۔
(۴) دونوں شہادتوں میں لفظاً و معنےً ہر طرح اتفاق ہوناضروری ہے اور شہادت و دعویٰ میں باعتبار معنے متفق ہونا ضرور ہے لفظ کے مختلف ہونے کا اعتبار نہیں۔ (4)(درر)
مسئلہ ۱: مدعی نے مِلک مطلق کا دعویٰ کیا یعنی کہتا ہے کہ یہ چیز میری ہے یہ نہیں بتاتا کہ کس سبب سے ہے مثلاًخریدی ہے یا کسی نے ہبہ کی ہے(5) اور گواہوں نے مِلک مقید بیان کی یعنی سبب مِلک کا اظہار کیا مثلاً مدعی نے خریدی ہے یہ گواہی
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب القبول وعدمہ،ج۸،ص۲۴۴.
2 ۔دعوی کرنے والا۔
3 ۔بندے کے حق کا فیصلہ۔
4 ۔''دررالحکام'' شرح ''غرر الأحکام ''،باب الاختلاف فی الشہادۃ،الجزء الثانی،ص۳۸۴.
5 ۔یعنی بطور تحفہ دی ہے۔
مقبول ہے اور اس کا عکس ہو یعنی مدعی نے مِلک مقید کا دعویٰ کیا اور گواہوں نے مِلک مطلق بیان کی یہ گواہی مقبول نہیں بشرطیکہ مدعی نے یہ بیان کیا کہ میں نے فلاں شخص سے خریدی ہے اور بائع کو اس طرح بیان کر دے کہ اُس کی شناخت ہو جائے اور خرید نے کے ساتھ قبضہ کا ذکر نہ کرے۔ اور اگر دعوے میں بائع کا ذکر نہیں یا یہ کہ میں نے ایک شخص سے خریدی ہے یا یہ کہ میں نے عبداﷲ سے خریدی ہے یا خریدنے کے ساتھ دعوے میں قبضہ کا بھی ذکر ہے اور گواہوں نے ان صورتوں میں مِلک مطلق کی شہادت دی تو مقبول ہے۔(1) (درمختار، بحرالرائق)
مسئلہ ۲: یہ اختلاف اُس وقت معتبر ہے جب اُس شے کے لیے متعدد اسباب ہوں اور اگر ایک ہی سبب ہو مثلاً مدعی نے دعویٰ کیا کہ یہ میری عورت ہے میں نے اس سے نکاح کیا ہے گواہوں نے بیان کیا کہ اُس کی منکوحہ ہے شہادت مقبول ہے۔ (2)(بحر)
مسئلہ ۳: مدعی نے اپنی مِلک کا سبب میراث بتایا کہ وراثۃً میں اس کا مالک ہوں یا مدعی نے کہا کہ یہ جانور میرے گھر کا بچہ ہے اور گواہوں نے مِلک مطلق کی شہادت دی یہ گواہی مقبول ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۴: ودیعت (4) کا دعویٰ کیا کہ میں نے یہ چیز فلاں کے پاس ودیعت رکھی ہے گواہوں نے بیان کیا کہ مدعی علیہ (5)نے ہمارے سامنے اقرار کیا ہے کہ یہ چیز میرے پاس فلاں کی امانت ہے۔ یوہیں غصب یا عاریت کا دعویٰ کیا اور گواہوں نے مدعی علیہ کے اقرار کی شہادت دی یا نکاح کا دعویٰ کیا اور گواہوں نے اقرار نکاح کی گواہی دی یا دَین کا دعویٰ کیا اور گواہی یہ دی کہ مدعی علیہ نے اپنے ذمہ اُس کے مال کا اقرار کیا ہے یا قرض کا دعویٰ ہے اور گواہی یہ ہوئی کہ اپنے ذمہ مال کا اقرار کیا ہے اور سبب کچھ نہیں بیان کیا ان سب صورتوں میں گواہی مقبول ہے۔ بیع کا دعویٰ کیا اور اقرار بیع کی شہادت گزری گواہی مقبول ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ میرے دس من گیہوں فلاں شخص پر بیع سلم کی رو سے واجب ہیں اور گواہوں نے یہ بیان کیا کہ مدعیٰ علیہ نے اپنے ذمہ دس من گیہوں کا اقرار کیا ہے یہ گواہی مقبول نہیں۔(6)(بحرالرائق)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ...إلخ،ج۸،ص۲۴۷.
و''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۱۷۴۔۱۷۵.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۱۸۰.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ...إلخ،،ج۸،ص۲۴۸.
4 ۔امانت۔ 5 ۔جس پر دعوی کیا گیا ہے۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۱۸۳.
مسئلہ ۵: دونوں گواہوں کے بیان میں لفظاً و معنےً اتفاق ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں لفظوں کے ایک معنے ہوں یہ نہ ہو کہ ہر لفظ کے جدا جدا معنے ہوں اور ایک دوسرے میں داخل ہوں مثلاً ایک نے کہا دو روپے دوسرے نے کہا چار روپے یہ اختلاف ہو گیا کہ دو اور چار کے الگ الگ معنے ہیں یہ نہیں کہا جائے گا کہ چار میں دو بھی ہیں لہٰذا دو روپے پر دونوں گواہوں کا اتفاق ہو گیا۔ اور اگر لفظ دو ہیں مگر دونوں کے معنی ایک ہیں تو یہ اختلاف نہیں مثلاً ایک نے کہا ہبہ دوسرے نے کہا عطیہ یا ایک نے کہا نکاح دوسرے نے کہا تزویج یہ اختلاف نہیں اور گواہی معتبر ہے۔ (1)(بحر، درمختار)
مسئلہ ۶: ایک گواہ نے دو ہزار روپے بتائے دوسرے نے ایک ہزار یا ایک نے دو سو دوسرے نے ایک سو یا ایک نے کہا ایک طلاق یا دو طلاق دوسرے نے کہا تین طلاقیں دیں یہ گواہیاں رد کر دی جائیں گی کہ دونوں میں اختلاف ہو گیا یا ایک نے کہا مدعیٰ علیہ نے غصب کیا دوسرے نے کہا غصب کا اقرار کیا یاایک نے کہا قتل کیا دوسرے نے کہا قتل کا اقرار کیا دونوں نامقبول ہیں۔ اور اگر دونوں اقرار کی شہادت دیتے قبول ہوتی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۷: جب قول و فعل کا اجتماع ہو گا یعنی ایک گواہ نے قول بیان کیا دوسرے نے فعل تو گواہی مقبول نہ ہو گی مثلاً ایک نے کہا غصب کیا دوسرے نے کہا غصب کا اقرار کیا دوسری مثال یہ ہے کہ مدعی نے ایک شخص پر ہزار روپے کا دعویٰ کیا ایک گواہ نے مدعی کا دینا بیان کیا دوسرے نے مدعی علیہ کا اقرار کرنا بیان کیا یہ نامقبول ہے البتہ جس مقام پر قول و فعل دونوں لفظ میں متحد ہوں مثلاً ایک نے بیع(3)یا قرض یا طلاق یا عتاق کی(4)شہادت دی دوسرے نے ان کے اقرار کی شہادت دی کہ ان سب میں دونوں کے لیے ایک لفظ ہے یعنی یہ لفظ کہ میں نے طلاق دی طلاق دینا بھی ہے اور اقرار بھی اسی طرح سب میں لہٰذا فعل و قول کا اختلاف ان میں معتبر نہیں دونوں گواہیاں مقبول ہیں۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۸: ایک نے گواہی دی کہ تلوار سے قتل کیا دوسرے نے بتایا کہ چھری سے یہ گواہی مقبول نہیں۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۹: ایک نے گواہی دی ایک ہزار کی دوسرے نے ایک ہزار اور ایک سو کی اور مدعی کا دعویٰ گیارہ سو کا ہو تو ایک ہزار کی گواہی مقبول ہے کہ دونوں اس میں متفق ہیں اور اگر دعویٰ صرف ہزار کا ہے تو نہیں مگر جب کہ مدعی کہہ دے کہ تھا تو ایک ہزار
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ...إلخ،ج۸،ص۲۴۸.
و''البحرالرائق''، کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۱۸۴.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ...إلخ،ج۸،ص۲۴۸.
3 ۔تجارت،خریدو فروخت۔ 4 ۔غلام آزاد کرنے کی۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ...إلخ،ج۸،ص۲۴۹.
6 ۔المرجع السابق.
ایک سو مگر ایک سو اُس نے دیدیا یا میں نے معاف کر دیا جس کا علم اس گواہ کو نہیں تو اب قبول ہے۔ (1)(درمختار) اور اگر گواہ نے ایک ہزار ایک سو کی جگہ گیارہ سو کہا تو اختلاف ہو گیا کہ لفظاً دونوں مختلف ہیں۔
مسئلہ ۱۰: ایک گواہ نے دو معین چیز کی شہادت دی اور دوسرے نے ان میں سے ایک معین کی تو جس ایک معین پر دونوں کا اتفاق ہوا اس کے متعلق گواہی مقبول ہے۔ اور اگر عقد میں یہی صورت ہو مثلاً ایک نے کہا یہ دونوں چیزیں مدعی نے خریدی ہیں اور ایک نے ایک معین کی نسبت کہا کہ یہ خریدی ہے تو گواہی مقبول نہیں یا ثمن میں اختلاف ہوا ایک کہتا ہے ایک ہزار میں خریدی ہے دوسرا ایک ہزار ایک سو بتاتا ہے توعقد ثابت نہ ہو گا کہ مبیع یا ثمن کے مختلف ہونے سے عقد مختلف ہو جاتا ہے اور عقدکے دعوے میں ثمن کا ذکر کرنا ضروری ہے کیونکہ بغیر ثمن کے بیع نہیں ہو سکتی ہاں اگر گواہ یہ کہیں کہ بائع نے اقرار کیا ہے کہ مشتری نے یہ چیز خریدی اور ثمن ادا کر دیا ہے تو مقدار ثمن کے ذکر کی حاجت نہیں کیونکہ اس صورت میں فیصلہ کا تعلق عقد سے نہیں ہے بلکہ مشتری کے لیے مِلک ثابت کرنا ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: مدعی نے پانسو کا دعویٰ کیا اور گواہوں نے ایک ہزار کی شہادت دی مدعی نے بیان کیا کہ تھا تو ایک ہزار مگر پانسو مجھے وصول ہو گئے فوراً کہا ہو یا کچھ دیر کے بعد گواہی مقبول ہے اور اگر یہ کہا کہ مدعیٰ علیہ کے ذمہ پانسو ہی تھے تو شہادت باطل ہے۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ ۱۲: راہن (4)نے دعویٰ کیا اور گواہوں نے زر رہن(5) میں اختلاف کیا ایک نے ایک ہزار بتایا دوسرے نے ایک ہزار ایک سو اور راہن زائد کا مدعی ہے یا کم کا ،بہرحال شہادت معتبر نہیں کہ مقصود اثبات عقد ہے۔ اور اگر مرتہن(6) مدعی ہو اور گواہوں میں اختلاف ہو اور مرتہن زائد کا مدعی ہو تو گواہی معتبر ہے یعنی ایک ہزار کی رقم پر دونوں کا اتفاق ہے اسی کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اور اگر مرتہن نے کم یعنی ایک ہزارہی کا دعویٰ کیا ہے تو گواہی معتبر نہیں۔ خلع میں اگر عورت مدعی ہو اور گواہوں میں اختلاف ہو تو گواہی معتبر نہیں اور اگر شوہر مدعی ہو تو زیادت کی صورت میں معتبر ہے جیسا دَین کا حکم ہے۔(7) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ...إلخ،ج۸،ص۲۴۹.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الشہادات،فصل الشہادۃ التی تخالف الاصل،ج۲،ص۳۰.
4 ۔اپنی چیز گروی رکھنے والا۔ 5 ۔وہ روپیہ جس کے لیے کوئی چیز رہن رکھی جائے۔ 6 ۔جس کے پاس رہن رکھاجاتاہے۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ...إلخ،ج۸،ص۲۴۹۔۲۵۱.
مسئلہ ۱۳: اجارہ کا دعویٰ ہے اور گواہوں کے بیان میں اجرت کی مقدار میں اسی قسم کا اختلاف ہوا اس کی چار صورتیں ہیں۔ مستاجر(1)مدعی ہے یا موجر(2)۔ ابتدائے مدت اجارہ میں دعویٰ ہے یا ختم مدت کے بعد۔ اگر ابتدائے مدت میں دعویٰ ہوا ہے گواہی مقبول نہیں کہ اس صورت میں مقصود اثبات عقد ہے اور زمانہ اجارہ ختم ہونے کے بعد دعویٰ ہوا ہے اور موجرمدعی ہے تو گواہی مقبول ہے اور مستاجرمدعی ہے مقبول نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: نکاح کا دعویٰ ہے اور گواہوں نے مقدار مہر میں اسی قسم کا اختلاف کیا تو نکاح ثابت ہو جائے گا اور کم مقدار مثلاً ایک ہزار مہر قرار پائے گا مرد مدعی ہو یا عورت۔ دعوے میں مہر کم بتایا ہو یا زیادہ سب کا ایک حکم ہے کیونکہ یہاں مال مقصود نہیں جو چیز مقصود ہے یعنی نکاح اُس میں دونوں متفق ہیں لہٰذا یہ اختلاف معتبر نہیں۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: میراث کا دعویٰ ہو مثلاً زید نے عمرو پر یہ دعویٰ کیا کہ فلاں چیز جو تمھارے پاس ہے یہ میرے باپ کی میراث ہے اس میں گواہوں کا مِلک مورث(5) ثابت کر دینا کافی نہیں ہے بلکہ یہ کہنا پڑے گا کہ وہ شخص مرا اور اس چیز کو ترکہ(6) میں چھوڑا، یا یہ کہنا ہو گا کہ وہ شخص مرتے وقت اس چیز کا مالک تھا یا یہ چیز موت کے وقت اُس کے قبضے میں یا اُس کے قائم مقام کے قبضے میں تھی مثلاً جب مرا تھا یہ چیز اُس کے مستاجر کے پاس یا مستعیر (7) یا امین یا غاصب (8)کے ہاتھ میں تھی کہ جب مورث کا قبضہ بوقت موت ثابت ہو گیا تو یہ قبضہ مالکانہ ہی قرار پائے گا کیونکہ موت کے وقت کا قبضہ قبضہ ضمان ہے۔ اگر قبضہ ضمان نہ ہوتا تو ظاہر کر دیتا اُس کا ظاہر نہ کرنا کہ یہ چیز فلاں کی میرے پاس امانت ہے قبضہ ضمان کر دیتا ہے اور جب مورث کی مِلک ہوئی تو وارث کی طرف منتقل ہی ہو گی۔(9) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۶: میراث کے دعوے میں گواہوں کو سبب وراثت بھی بیان کرنا ہو گا فقط اتنا کہنا کافی نہ ہو گا کہ یہ اُس کا وارث ہے بلکہ مثلاً یہ کہنا ہو گا کہ اُس کا بھائی ہے اور جب بھائی بتا چکا تو یہ بتانا بھی ہو گا کہ حقیقی بھائی ہے یا علاتی ہے یا اخیافی۔(10)(بحر)
1 ۔اجرت پرلینے والا،ٹھیکیدار۔ 2 ۔اجرت پر دینے والا،ٹھیکے پر دینے والا۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ...إلخ،ج۸،ص۲۵۱.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔وارث بنانے والے کی ملکیت۔ 6 ۔وہ مال جو میت چھوڑ جائے،میراث۔
7 ۔عاریتاً لینے والا۔ 8 ۔ناجائز قبضہ کرنے والا۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ...إلخ،ج۸،ص۲۵۲.
و''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۱۹۹۔۲۰۰.
10۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۲۰۰.
مسئلہ ۱۷: گواہ کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ اس کے سوا میت کا کوئی وارث نہیں ہے یا یہ کہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا وارث میں نہیں جانتا اس کے بعد قاضی نسب نامہ(1) پوچھے گا تاکہ معلوم ہو سکے کوئی دوسرا وارث ہے یا نہیں۔(2) (بحر)
مسئلہ ۱۸: یہ بھی ضروری ہے کہ گواہوں نے میت کو پایا ہو اگر یہ بیان کیا کہ فلاں شخص مر گیا اور یہ مکان ترکہ میں چھوڑا اور خود ان گواہوں نے میت کو نہیں پایا ہے تو یہ گواہی باطل ہے۔ میت کا نام لینا ضرور نہیں اگر یہ کہہ دیا کہ اس مدعی کاباپ یا اس کا دادا جب بھی گواہی مقبول ہے۔ (3)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۹: گواہوں نے گواہی دی کہ یہ مرد اُس عورت کا جو مر گئی ہے شوہر ہے یایہ عورت اُس مرد کی زوجہ ہے جو مر گیا اور ہمارے علم میں میت کا کوئی دوسرا وارث نہیں ہے عورت کے ترکہ سے(4) شوہر کو نصف دے دیا جائے اور شوہر کے ترکہ سے عورت کو چوتھائی دی جائے اور اگر گواہوں نے فقط اتنا ہی کہا ہے کہ یہ اُس کا شوہر ہے یا یہ اُس کی بی بی ہے تو یہ حصہ یعنی نصف و چہارم نہ دیا جائے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ میت کی اولاد ہو اور اس صورت میں زوج وزوجہ کو حصہ کم ملے گا لہٰذا ایک حد تک قاضی انتظار کرے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: ایک شخص نے مکان کا دعویٰ کیا گواہوں نے یہ گواہی دی کہ ایک مہینہ ہوا مدعی کے قبضہ میں ہے یہ گواہی مقبول نہیں اور اگر یہ کہیں کہ مدعی کی مِلک میں ہے تو مقبول ہے یا کہہ دیں کہ مدعی سے مدعیٰ علیہ نے چھین لیاجب بھی مقبول۔ (6)(ہدایہ) محصل یہ ہے کہ زمانہ گذشتہ کی مِلک پر شہادت مقبول ہے اور زمانہ گذشتہ میں زندہ کا قبضہ ثابت ہو نا مِلک کے لیے کافی نہیں ہے اور موت کے وقت قبضہ ہونا دلیل مِلک(7) ہے۔
مسئلہ ۲۱: مدعی علیہ نے خود مدعی کے قبضہ کا اقرار کیا یا اُس کا اقرار کرنا گواہوں سے ثابت ہو گیا تو چیز مدعی کو دلا دی
1 ۔یعنی باپ داداکا نام وغیرہ۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۲۰۰.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ...إلخ،ج۸،ص۲۵۳.
و''البحر الرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۲۰۱.
4 ۔یعنی مرحومہ بیوی کے چھوڑے ہوئے مال سے۔
5 ۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب السادس فی الشہادۃ فی المواریث،ج۳،ص۴۸۹.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،فصل فی الشہادۃ علی الإرث،ج۲،ص۱۲۸.
7 ۔ملکیت کی دلیل
جائے گی۔(1) (ہدایہ) مدعی علیہ(2) نے کہا کہ میں نے یہ چیز مدعی(3) سے چھینی ہے کیونکہ یہ میری مِلک ہے مدعی چھیننے سے انکار کرتا ہے تو اس کو نہیں ملے گی کہ اقرار کو رد کر دیا اور مدعی تصدیق کرتا ہو تو مدعی کو دلائی جائے گی اور قبضہ مدعی کا مانا جائے گا لہٰذا اُس کے مقابل میں جو شخص ہے وہ گواہ پیش کرے یا اس سے حلف لیا جائے۔ (4)(بحر)
مسئلہ ۲۲: مدعی علیہ اقرار کرتا ہے کہ چیز مدعی کے ہاتھ میں ناحق طریقہ سے تھی یہ قبضہ مدعی کا اقرار ہو گیا اور جائداد غیر منقولہ میں قبضہ مدعی کے لیے اقرار مدعیٰ علیہ کافی نہیں بلکہ مدعی گواہوں سے ثابت کرے یا قاضی کو خود علم ہو۔(5) (بحر)
مسئلہ ۲۳: گواہوں کے بیانات میں اگرتاریخ و وقت کا اختلاف ہو جائے یا جگہ میں اختلاف ہو بعض صورتوں میں اختلاف کا لحاظ کر کے گواہی قبول نہیں کرتے اور بعض صورتوں میں اختلاف کا لحاظ نہیں کرتے گواہی قبول کرتے ہیں۔ بیع و شرا (6) و طلاق۔ عتق(7)۔ وکالت۔ وصیت۔ دَین۔ براء ت(8)۔ کفالہ۔ حوالہ۔ قذف ان سب میں گواہی قبول ہے۔ اور جنایت ۔ غصب۔ قتل۔ نکاح۔ رہن۔ ہبہ۔ صدقہ میں اختلاف ہواتو گواہی مقبول نہیں۔ اس کا قاعدہ ئ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز کی شہادت دی جاتی ہے وہ قول ہے یا فعل۔ اگر قول ہے جیسے بیع و طلاق وغیرہ ان میں وقت اور جگہ کا اختلاف معتبر نہیں یعنی گواہی مقبول ہے ہو سکتا ہے کہ وہ لفظ بار بار کہے گئے لہٰذا وقت اور جگہ کے بیان میں اختلاف پیدا ہو گیا اور اگر مشہود بہ(9) فعل ہے جیسے غصب و جنایت یا مشہود بہ قول ہے مگر اُس کی صحت کے لیے فعل شرط ہے جیسے نکاح کہ یہ ایجاب و قبول کا نام ہے جو قول ہے مگر گواہوں کا وہاں حاضر ہونا کہ یہ فعل ہے نکاح کے لیے شرط ہے یا وہ ایسا عقد ہو جس کی تمامیت(10) فعل سے ہو جیسے ہبہ ان میں گواہوں کا یہ اختلاف مضر(11)ہے گواہی معتبر نہیں۔(12) (بحرالرائق)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،فصل فی الشہادۃ علی الإرث،ج۲،ص۱۲۸.
2 ۔جس پر دعوی کیا جائے۔ 3 ۔دعوی کرنے والا۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۲۰۲.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔خریدوفروخت۔ 7 ۔غلام آزاد کرنا۔
8 ۔کسی کودَین( قرض) سے بَری کرنا،قرض معاف کرنا۔
9 ۔یعنی جس چیز کے متعلق گواہی دی ۔ 10۔۔۔۔مکمل ہونا۔ 11۔۔۔۔نقصان دہ۔
12۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۱۹۰۔۱۹۲.
مسئلہ ۲۴: ایک شخص نے گواہی دی کہ زید نے اپنی زوجہ کو ۱۰ ذی الحجہ کو مکہ میں طلاق دی اور دوسرے نے یہ گواہی دی کہ اُسی تاریخ میں بی بی کو زید نے کوفہ میں طلاق دی یہ گواہی باطل ہے کہ دونوں میں ایک یقیناً جھوٹا ہے اورا گر دونوں کی ایک تاریخ نہیں بلکہ دو تاریخیں ہیں اور دونوں میں اتنے دن کا فاصلہ ہے کہ زید وہاں پہنچ سکتا ہے تو گواہی جائز ہے۔ یوہیں اگر گواہوں نے دو مختلف بیبیوں کے نام لے کر طلاق دینا بیان کیا اور تاریخ ایک ہے مگر ایک کو مکہ میں طلاق دینا دوسری کو کوفہ میں اُسی تاریخ میں طلاق دینا بیان کیا یہ بھی مقبول نہیں۔(1) (بحر)
مسئلہ ۲۵: ایک زوجہ کے طلاق دینے کے گواہ پیش ہوئے کہ زید نے اپنی اس زوجہ کو مکہ میں فلاں تاریخ کو طلاق دی اور قاضی نے حکم طلاق دے دیا اس کے بعد دوگواہ دوسرے پیش ہوتے ہیں جو اُسی تاریخ میں زید کا دوسری زوجہ کو کوفہ میں طلاق دینا بیان کرتے ہیں ان گواہوں کی طرف قاضی التفات بھی نہ کریگا۔(2) (بحرالرائق)
مسئلہ ۲۶: اولیائے مقتول نے گواہ پیش کیے کہ اُسی زخم سے مرا اور زخمی کرنے والے نے گواہ پیش کیے کہ زخم اچھا ہو گیا تھا یا دس روز کے بعد مرا اولیا کے گواہ کو ترجیح ہے۔ (3)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۲۷: وصی نے یتیم کا مال بیچا یتیم نے بالغ ہو کر یہ دعویٰ کیا کہ غبن (ٹوٹے) کے ساتھ مال بیع کیا گیا اور مشتری نے گواہ قائم کیے کہ واجبی قیمت پر فروخت کیا گیا غبن کے گواہ کو ترجیح ہو گی۔ مرد نے عورت سے خلع کیا اس کے بعد مرد نے گواہوں سے ثابت کیا کہ خلع کے وقت میں مجنون تھا اور عورت نے گواہ پیش کیے کہ عاقل تھا عورت کے گواہ مقبول ہیں۔ بائع نے گواہ پیش کیے کہ نابالغی میں اُس نے بیچا تھا اور مشتری نے ثابت کیا کہ وقتِ بیع بالغ تھا مشتری کے گواہ معتبر ہیں۔ ایک شخص نے وارث کے لیے اقرار کیا مقرلہ(4)یہ کہتا ہے کہ حالتِ صحت میں اقرار کیا تھا دیگر ورثہ (5)کہتے ہیں کہ مرض میں اقرار کیا تھا گواہ مقرلہ کے معتبر ہیں اور اُس کے پاس گواہ نہ ہوں تو ورثہ کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ بیع و صلح و اقرار میں اکراہ (6)اور غیر اکراہ دونوں قِسم کے گواہ پیش ہوئے تو گواہ اکراہ اولےٰ ہیں۔ بائع و مشتری(7) بیع کی صحت و فساد میں مختلف ہیں تو قول اُس کا معتبر ہے
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۱۹۲.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الجنایات،ج۱۰،ص۱۷۸.
و''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۱۹۲.
4 ۔جس کے لیے اقرار کیا تھا۔ 5 ۔میت کے دوسرے وارث۔
6 ۔زبردستی کرنا مراد اکراہ شرعی ہے۔ 7 ۔بیچنے والا اور خریدار۔
جو مدعی صحت ہے اور گواہ اُس کے معتبر ہیں جو مدعی فساد ہو۔(1) (بحرالرائق، منحۃ الخالق)
مسئلہ ۲۸: دو شخصوں نے شہادت دی کہ اس نے گائے چُرائی ہے مگر ایک نے اُس گائے کا رنگ سیاہ بتایا دوسرے نے سفید اور مدعی نے رنگ کے متعلق کچھ نہیں بیان کیا ہے تو گواہی مقبول ہے اور اگر مدعی نے کوئی رنگ متعین کر دیا ہے توگواہی مقبول نہیں۔ اور اگر ایک گواہ نے گائے کہا دوسرے نے بیل تومطلقاً گواہی مردود ہے۔ اور دعویٰ غصب کا ہو اور گواہوں نے رنگ کا اختلاف کیا تو شہادت مردود ہے۔ (2)(ہدایہ، بحر)
مسئلہ ۲۹: زندہ آدمی کے دَین کی شہادت دی کہ اُس کے ذمہ اتنا دَین تھا گواہی مقبول ہے ہاں اگر مدعیٰ علیہ نے سؤال کیا کہ بتاؤ اب بھی ہے یا نہیں گواہوں نے یہ کہا ہمیں یہ نہیں معلوم تو گواہی مقبول نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۳۰: مدعی نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ چیز میری مِلک تھی اور گواہوں نے بیان کیا کہ اُس کی مِلک ہے یہ گواہی مقبول نہیں۔ یوہیں اگر گواہوں نے بھی زمانہ گذشتہ میں مِلک ہونا بتایا کہ اُس کی مِلک تھی جب بھی معتبر نہیں کہ مدعی کا یہ کہنا میری مِلک تھی بتاتا ہے کہ اب اُس کی مِلک نہیں ہے کیونکہ اگر اس وقت بھی اُس کی مِلک ہوتی تو یہ نہ کہتا کہ مِلک تھی۔ اور اگر مدعی نے دعویٰ کیا ہے کہ میری مِلک ہے اور گواہوں نے زمانہ گذشتہ کی طرف نسبت کی تو مقبول ہے کیونکہ پہلے مِلک ہونا معلوم ہے اور اس وقت بھی اُسی کی مِلک ہے یہ گواہوں کو اسی بنا پر معلوم ہوا کہ وہی پہلی مِلک چلی آئی ہے۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: مدعی نے دعویٰ کیا کہ یہ مکان جس کے حدود دستاویز میں مکتوب ہیں(5) میرا ہے اور گواہوں نے یہ گواہی دی کہ وہ مکان جس کے حدود دستاویز میں لکھے ہیں مدعی کا ہے یہ دعویٰ اور شہادت دونوں صحیح ہیں اگرچہ حدود کو تفصیل کے ساتھ خود نہ بیان کیا ہو۔ یوہیں اگر یہ شہادت دی کہ جو مال اس دستاویز میں لکھا ہے وہ مدعی علیہ کے ذمہ ہے اور تفصیل نہیں بیان کی گواہی مقبول ہے۔ یوہیں مکان متنازع فیہ(6) کے متعلق گواہی دی کہ وہ مدعی کا ہے مگر اُس کے حدود نہیں بیان کئے اگر فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ گواہ کی شہادت متنازع فیہ کے ہی متعلق ہے گواہی مقبول ہے۔ (7)(ردالمحتار)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۱۹۳.
و''منحۃالخالق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۱۹۳۔۱۹۴.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادۃ،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۲،ص۱۲۷.
و''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۷،ص۱۹۵.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۸،ص۲۵۵.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۸،ص۲۵۴.
5 ۔یعنی تحریری ثبوت میں لکھے ہوئے ہیں۔ 6 ۔ایسامکان جس کی ملکیت کے متعلق فریقین میں اختلاف ہو۔
7 ۔''ردالمحتار''،کتاب الشہادات،باب الاختلاف فی الشہادۃ،ج۸،ص۲۵۶.
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص اصل واقعہ کا شاہد ہے کسی وجہ سے اُس کی گواہی نہیں ہو سکتی مثلاً وہ سخت بیمار ہے کہ کچہری نہیں جا سکتا یا سفر میں گیا ہے ایسی صورتوں میں یہ ہو سکتا ہے کہ اپنی جگہ دوسرے کو کر دے اور یہ دوسرا جا کر گواہی دے گا اس کو شہادۃ علی الشہادۃ کہتے ہیں۔ (1)
مسئلہ ۱: جملہ حقوق میں شہادۃ علی الشہادۃ جائز ہے مگر حدود وقصاص میں جائز نہیں یعنی اس کے ذریعہ سے ثبوت ہونے پر حد اور قصاص نہیں جاری کریں گے۔(2) (ہدایہ)
مسئلہ ۲: جو شخص واقعہ کا گواہ ہے وہ د وسرے کو مطلقاً گواہ بنا سکتا ہے یعنی اُسے عذر ہو یا نہ ہو گواہ بنانے میں مضایقہ نہیں(3) مگر اس کی گواہی قبول اُس وقت کی جائے گی جب اصل گواہ شہادت دینے سے معذور ہو اس کی چند صورتیں ہیں۔ اصل گواہ مر گیا یا ایسا بیمار ہے کہ کچہری حاضر نہیں ہو سکتا یا سفر میں گیا ہے یا اتنی دور پر ہے کہ مکان سے آئے اور گواہی دے کر رات تک گھر پہنچ جانا چاہے تو نہ پہنچے، یہ بھی اصلی گواہ کے عذر کے لیے کافی ہے یا وہ پردہ نشین عورت ہے کہ ایسی جگہ جانے کی اُس کی عادت نہیں جہاں اجانب سے اختلاط ہو(4)۔ اور اگر وہ اپنی ضرورت کے لیے کبھی کبھی نکلتی ہو یا غسل کے لیے حمام میں جاتی ہوجب بھی پردہ نشین ہی کہلائی گی، الغرض جب اصلی گواہ معذور ہو اُس وقت وہ شخص گواہی دے سکتا ہے جس کو اُس نے اپنا قائم مقام کیا ہے اگرچہ قائم مقام کرنے کے وقت معذور نہ ہو۔(5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳: شاہد فرع میں عدد بھی شرط ہے یعنی اصلی گواہ اپنے قائم مقام دو مردوں یا ایک مرد دو عورتوں کو مقرر کرے بلکہ عورت گواہ ہے اور وہ اپنی جگہ کسی کو گواہ کرنا چاہتی ہے تو اُسے بھی لازم ہے کہ دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں اپنی جگہ مقرر کرے۔ (6)(درمختار)
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،باب الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۲،ص۱۲۹.
2 ۔المرجع السابق.
3 ۔حرج نہیں۔
4 ۔غیر محرم لوگوں سے میل ملاپ ہو۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۸،ص۲۵۶،وغیرہ.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۸،ص۲۵۷.
مسئلہ ۴: ایک شخص کی گواہی کے دو شاہد ہیں(1) مگر ان میں ایک ایسا ہے جو خود نفس واقعہ کا بھی شاہد ہے یعنی اس نے اپنی طرف سے بھی شہادت ادا کی اور شاہد اصل کی طرف سے بھی یہ گواہی مقبول نہیں۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۵: ایک اصلی گواہ ہے جو واقعہ کا شاہد ہے اور دو شخص دوسرے اصلی گواہ کے قائم مقام ہیں یوں تین شخصوں نے گواہی دی یہ مقبول ہے۔ اور اگر ایک اصلی گواہ نے دو شخصوں کو اپنی جگہ کیا دوسرے اصلی نے بھی اُنھیں دونوں کو اپنی جگہ پر کیا بلکہ فرض کرو بہت سے لوگ گواہ تھے اور سب نے انھیں دونوں کو اپنے اپنے قائم مقام کیا یہ درست ہے یعنی اِنھیں دونوں کی گواہی سب کی جگہ پرقرار پائے گی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: گواہ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ گواہ اصل کسی دوسرے شخص کو جس کو اپنے قائم مقام کرنا چاہتا ہے خطاب کر کے یہ کہے تم میری اس گواہی پر گواہ ہو جاؤ میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ مثلاً زید کے عمرو کے ذمہ اتنے روپے ہیں۔ یا یوں کہے میں گواہی دیتا ہوں کہ زید نے میرے سامنے یہ اقرار کیا ہے اور تم میری اس گواہی کے گواہ ہو جاؤ۔ غرض اصلی گواہ اس وقت اُس طرح گواہی دے گا جس طرح قاضی کے سامنے گواہی ہوتی ہے اور فرع کو(4)اس پر گواہ بنائے گا اور فرع اس کو قبول کرے بلکہ فرع نے سکوت کیا جب بھی شاہد کے قائم مقام ہو جائے گا اور اگر انکار کر دے گا کہہ دے گا کہ تمھاری جگہ گواہ ہونے کومَیں قبول نہیں کرتا تو گواہی رد ہو گئی یعنی اب اُس کی جگہ گواہی نہیں دے سکتا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۷: شاہد فرع قاضی کے پاس یوں گواہی دے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ فلاں شخص نے مجھے اپنی فلاں گواہی پر گواہ بنایا تھا اور مجھ سے کہا تھا کہ تم میری اس شہادت پر گواہ ہو جاؤ۔ اور اس سے مختصر عبارت یہ ہے کہ اصل گواہ کہے تم میری اس گواہی پر گواہ ہو جاؤ اور فرع یہ کہے میں فلاں شخص کی اس شہادت کی شہادت دیتا ہوں۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۸: شاہد فرع کو معلوم ہے کہ اصلی گواہ عادل نہیں ہے بلکہ اگر اُس کا عادل وغیر عادل ہونا کچھ معلوم نہ ہو تو اُس کی جگہ پر گواہی نہ دینا چاہیے ۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۹: دوسرے کو اپنی جگہ گواہ بنانا چاہتا ہو تو یہ کرنا چاہیے کہ طالب و مطلوب(8)دونوں کو سامنے بلا کر شاہد فرع(9)
1 ۔دو گواہ ہیں۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،باب الحادی عشرفی الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۳،ص۵۲۴.
3 ۔المرجع السابق،ص۵۲۳،۵۲۴.
4 ۔قائم مقام گواہ کو۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۸،ص۲۵۸.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق،ص۲۵۹.
8 ۔یعنی مدعی اور مدعی علیہ۔ 9 ۔قائم مقام گواہ۔
کے سامنے دونوں کی طرف اشارہ کر کے شہادت دے مثلاً اس شخص نے اس شخص کے لیے اس چیز کا اقرار کیا ہے اور اگر طالب و مطلوب موجود نہ ہوں تو نام و نسب کے ساتھ شہادت دے یعنی فلاں بن فلاں بن فلاں اور شاہد فرع جب قاضی کے پاس شہادت دے تو شاہد اصل کانام اور اُس کے باپ دادا کے نام ضرور ذکر کرے اور ذکر نہ کرے تو گواہی مقبول نہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: گواہان فرع اگر اصلی گواہ کی تعدیل کریں(2)یہ درست ہے جس طرح دو گواہوں میں سے ایک دوسرے کی تعدیل کر سکتا ہے اور اگر فرع نے تعدیل نہیں کی تو قاضی خود نظر کرے اور دیکھے کہ عادل ہے یا نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: چند امور ایسے ہیں جن کی وجہ سے فرع کی شہادت باطل ہو جاتی ہے۔
(۱) اصلی گواہ نے گواہی دینے سے منع کر دیا۔ (۲) اصلی گواہ خود قابل قبول شہادت نہ رہامثلاً فاسق ہو گیا گونگا ہو گیا اندھا ہو گیا۔ (۳) اصل گواہ نے شہادت سے انکار کر دیا مثلاً ہم واقعہ کے گواہ نہیں یا ہم نے اُن لوگوں کو گواہ نہیں بنایا یا ہم نے گواہ بنایا مگر یہ ہماری غلطی ہے۔(۴) اگر اصول(4)خود قاضی کے پاس فیصلہ کے قبل حاضر ہوگئے تو فروع کی شہادت پر فیصلہ نہیں ہو گا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: شاہد اصل نے دوسروں کو اپنے قائم مقام گواہ کر دیا اس کے بعد اصل ایسی حالت میں ہو گیا کہ اُس کی گواہی جائز نہیں اس کے بعد پھر ایسے حال میں ہوا کہ اب گواہی جائز ہے مثلاً فاسق ہو گیا تھا پھر تائب ہو گیا اس کے بعد فرع نے شہادت دی یہ گواہی جائز ہے۔ یوہیں اگر دونوں فرع ناقابل شہادت ہو گئے پھر قابل شہادت ہو گئے اور اب شہادت دی یہ بھی جائز ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: قاضی نے اگر فرع کی شہادت اس وجہ سے رد کی ہے کہ اصل متہم ہے تو نہ اصل کی قبول ہو گی نہ فرع کی اور اگر اس وجہ سے رد کی کہ فرع میں تہمت ہے تو اصل کی شہادت قبول ہو سکتی ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: فروع(8)یہ کہتے ہیں اصول نے ہم کو فلاں بن فلاں بن فلاں پر شاہد کیا تھا ہم اس کی شہادت دیتے ہیں مگر ہم اُس کو پہچانتے نہیں اس صورت میں مدعی کے ذمہ یہ لازم ہے کہ گواہوں سے ثابت کرے کہ جس کے متعلق شہادت گزری ہے یہ شخص ہے۔ (9) (عالمگیری) فرض کرو ایک عورت کے مقابل میں نام و نسب کے ساتھ گواہی گزری مگر گواہوں نے کہہ دیا ہم
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الحادی عشر فی الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۳،ص۵۲۴.
2 ۔یعنی قائم مقام گواہ اصلی گواہ کا عادل وگواہی کے قابل ہونا بتائیں۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الشہادۃ علی الشہادۃج۸،ص۲۵۹.
4 ۔یعنی اصلی گواہ۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الحادی عشرفی الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۳،ص۵۲۵.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق۵۲۵،۵۲۶.
8 ۔قائم مقام گواہ۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشہادات،الباب الحادی عشر فی الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۳،ص۵۲۶.
اُس کو پہچانتے نہیں اور مدعی ایک عورت کو پیش کرتا ہے کہ یہ وہی عورت ہے بلکہ خود عورت بھی اقرار کرتی ہے کہ ہاں میں ہی وہ ہوں یہ کافی نہیں بلکہ مدعی کو گواہوں سے ثابت کرنا ہو گا کہ یہی وہ عورت ہے بلکہ اگر مدعیٰ علیہ یہ کہتا ہو کہ یہ نام و نسب دوسرے شخص کے بھی ہیں اُس سے قاضی ثبوت طلب کریگا اگر ثبوت ہو جائے گا دعویٰ خارج۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: جس نے جھوٹی گواہی دی قاضی اُس کی تشہیر کریگا یعنی جہاں کا وہ رہنے والا ہے اُس محلہ میں ایسے وقت آدمی بھیجے گا کہ لوگ کثرت سے مجتمع ہوں وہ شخص قاضی کا یہ پیغام پہنچائے گا کہ ہم نے اسے جھوٹی گواہی دینے والا پایا تم لوگ اس سے بچو اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے پرہیز کرنے کو کہو۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۶: جھوٹی گواہی کا ثبوت گواہوں سے نہیں ہو سکتا کیونکہ نفی کے متعلق گواہی نہیں ہو سکتی بلکہ اس کا ثبوت صرف گواہ کے اقرار سے ہو سکتا ہے خواہ اُس نے خود قاضی کے یہاں اقرار کیا ہو یا قاضی کے پاس اُس کے اقرار کے متعلق گواہ پیش ہوئے۔ (3)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۷: اگر گواہی رد کر دی گئی کسی تہمت کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ شہادت و دعوے میں مخالفت تھی یا اس وجہ سے کہ دونوں شہادتوں میں باہم مخالفت تھی اس کو جھوٹا گواہ قرار دیکر تعزیر نہیں کریں گے کیا معلوم کہ یہ جھوٹا ہے یا مدعی جھوٹا ہے یا اس کا ساتھی دوسرا گواہ جھوٹا ہے۔(4) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۸: اگر فاسق نے جھوٹی گواہی دی اور اُس کا جھوٹ ثابت ہو گیاپھر تائب ہو گیا تو اب اُس کی گواہی مقبول ہے کہ اس کا سبب فسق تھا وہ زائل ہو گیا اور اگر عادل یا مستورالحال نے جھوٹی گواہی دی پھر تائب ہو گیا تو بعد توبہ بھی اُس کی گواہی ہمیشہ کے لیے مردود ہے(5) مگر فتویٰ قول امام ابو یوسف پر ہے کہ اگر تائب ہو جائے اور قاضی کے نزدیک اُس کی گواہی قابلِ اطمینان ہو جائے تو اب مقبول ہے۔(6) (درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۸،ص۲۶۱.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،باب الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۲،ص۱۳۱.
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الشہادات،باب الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۲،ص۱۳۱.
و''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۸،ص۲۶۳.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الشہادات،باب الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۷،ص۲۱۲.
5 ۔نامقبول ہے۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الشہادۃ علی الشہادۃ،ج۸،ص۲۶۲.
گواہی سے رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود کہے کہ میں نے اپنی شہادت سے رجوع کیا یا اس کے مثل دوسرے الفاظ کہے اور اگر گواہی سے انکار کرتا ہے کہتا ہے میں نے گواہی دی ہی نہیں تو اس کو رجوع نہیں کہیں گے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱: اگر فیصلہ سے قبل رجوع کیا ہے تو قاضی اس کی گواہی پر فیصلہ ہی نہیں کریگا کیونکہ اس کے دونوں قول متناقض ہیں(2) کیا معلوم کونسا قول سچا ہے اور اس صورت میں گواہ پر تاوان واجب نہیں کہ اُس نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا ہے جس کا تاوان دے۔(3)(ہدایہ)
مسئلہ ۲: اگر فیصلہ کے بعد رجوع کیا تو جو فیصلہ ہو چکا وہ توڑا نہیں جائے گا بخلاف اُس صورت کے کہ گواہ کا غلام ہونا یا محدود فی القذف ہونا ثابت ہو جائے کہ یہ فیصلہ ہی صحیح نہیں ہوا اور اس صورت میں مدعی نے جو کچھ لیا ہے واپس کرے اور اس صورت میں گواہوں پر تاوان نہیں کہ یہ غلطی قاضی کی ہے کیونکہ ایسے لوگوں کی شہادت پر فیصلہ کیا جو قابلِ شہادت نہ تھے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳: رجوع کے لیے شرط یہ ہے کہ مجلس قاضی میں رجوع کرے خواہ اُسی قاضی کی کچہری میں رجوع کرے جس کے یہاں شہادت دی ہے یا دوسرے قاضی کے یہاں لہٰذا اگر مدعیٰ علیہ جس کے خلاف اُس نے گواہی دی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ گواہ نے غیر قاضی کے پاس رجوع کیا اور اس پر گواہ پیش کرنا چاہتا ہے یا اُس گواہ رجوع کرنے والے پر حلف دینا چاہتا ہے یہ قبول نہیں کیا جائے گا کہ اُس کا دعویٰ ہی غلط ہے۔ ہاں اگر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اُس نے کسی قاضی کے پاس رجوع کیا ہے یا رجوع کا اقرار غیر قاضی کے پاس کیا ہے اور وہ کہتا ہے مجھے تاوان دلایا جائے کیونکہ اُس کی غلط گواہی سے میرے خلاف فیصلہ ہوا ہے اور رجوع یا اقرار رجوع پر گواہ پیش کرنا چاہتا ہے تو گواہ لیے جائیں گے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۴: فیصلہ کے بعد گواہوں نے رجوع کیا تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا ہے گواہ اُس کو تاوان دیں کہ اُس کا جو کچھ نقصان ہوا ان گواہوں کی بدولت ہوا ہے مدعی سے وہ چیز نہیں لی جا سکتی کہ اُس کے موافق فیصلہ ہو چکا ان کے رجوع کرنے سے اُس پر اثر نہیں پڑتا۔ (6)(ہدایہ وغیرہا)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الرجوع عن الشہادۃ،ج۸،ص۲۶۴.
2 ۔یعنی اس کے دونوں قول ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔
3 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرجوع عن الشہادۃ،ج۳،ص۱۳۲.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الرجوع عن الشہادۃ،ج۸،ص۲۶۵.
5 ۔المرجع السابق،ص۲۶۴.
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرجوع عن الشہادۃ،ج۲،ص۱۳۲،وغیرہا.
مسئلہ ۵: تاوان کے بارے میں اعتبار اُس کا ہو گا جو باقی رہ گیا ہو اُس کا اعتبار نہیں جو رجوع کر گیا مثلاً دو گواہ تھے ایک نے رجوع کیا نصف تاوان دے اور تین گواہ تھے ایک نے رجوع کیا کچھ تاوان نہیں کہ اب بھی دو باقی ہیں اور اگر ان میں سے پھر ایک رجوع کر گیا تو نصف تاوان دونوں سے لیا جائے گا اور تیسرا بھی رجوع کر گیا تو تینوں پر ایک ایک تہائی۔ ایک مرد ،دو عورتیں گواہ تھیں ایک عورت نے رجوع کیا چوتھائی تاوان اس کے ذمہ ہے اور دونوں نے رجوع کیا تو دونوں پر نصف اوراگر ایک مرد، دس عورتیں گواہ تھیں ان میں آٹھ رجوع کر گئیں تو کچھ تاوان نہیں اور نویں بھی رجوع کر گئی تو اب ان نو پر ایک چوتھائی تاوان ہے اور سب رجوع کر گئے یعنی ایک مرد اور دسوں عورتیں تو چھٹا حصہ مرد اور باقی پانچ حصے دسوں عورتوں پر یعنی بارہ حصے تاوان کے ہوں گے ہر ایک عورت ایک ایک حصہ دے اور مرد ،دو حصے۔ دو مرد اور ایک عورت نے گواہی دی تھی اور سب رجوع کر گئے تو عورت پر تاوان نہیں کہ ایک عورت گواہ ہی نہیں۔(1) (ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۶: نکاح کی شہادت دی اس کی تین صورتیں ہیں مہر مثل کے ساتھ یا مہر مثل سے زاید یا کم کے ساتھ۔ اور تینوں صورتوں میں مدعی نکاح مرد ہے یا عورت یہ کل چھ صورتیں ہوئیں۔ مرد مدعی ہے جب تو رجوع کرنے کی تینوں صورتوں میں تاوان نہیں۔ اورعورت مدعی ہے اور مہر مثل سے زیادہ کے ساتھ نکاح ہونا گواہوں نے بیان کیا ہے تو جتنا مہر مثل سے زائد ہے وہ تاوان میں واجب ہے باقی دو صورتوں میں کچھ تاوان نہیں۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۷: گواہوں نے عورت کے خلاف یہ گواہی دی کہ اس نے اپنے پورے مہر پریا اُس کے جز پر قبضہ کر لیا پھر رجوع کیا تو تاوان دینا ہو گا۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۸: قبل دخول طلاق کی شہادت دی اور قاضی نے طلاق کا حکم دے دیا اس کے بعد گواہوں نے رجوع کیا تو نصف مہر کا تاوان دینا پڑے گا۔ (4)(ہدایہ)
مسئلہ ۹: بیع کی گواہی دی پھر رجوع کر گئے اگر واجبی قیمت(5) پر بیع ہونا بتایا تو تاوان کچھ نہیں مدعی بائع ہو یا مشتری
1 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرجوع عن الشہادۃ،ج۲،ص۱۳۲،۱۳۳،وغیرہا.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرجوع عن الشہادۃ،ج۲،ص۱۳۳.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الرجوع عن الشہادۃ،ج۸،ص۲۶۸.
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرجوع عن الشہادۃ،ج۲،ص۱۳۳.
5 ۔رائج قیمت،لاگو قیمت۔
اور اصلی قیمت سے زیادہ پر بیع ہونا بتایا اور مدعی بائع ہے تو بقدر زیادتی تاوان واجب ہے اور بائع مدعی نہ ہو تو تاوان نہیں۔ اور واجبی قیمت سے کم کی شہادت دی پھر رجوع کیا تو واجبی قیمت سے جو کچھ کم ہے اُس کا تاوان دے یہ اُس صورت میں ہے کہ مدعی مشتری ہو اور بائع مدعی ہو تو کچھ نہیں۔(1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۰: بیع کی شہادت دی اور اس کی بھی کہ مشتری نے بائع کو ثمن دے دیا اور رجوع کیا اگر ایک ہی شہادت میں بیع اور ادائے ثمن دونوں کی گواہی دی ہے کہ زید نے عمرو سے فلاں چیز اتنے میں خریدی اور ثمن ادا کر دیا اس صورت میں قیمت کا تاوان ہے یعنی اُس چیز کی واجبی قیمت(2)جو ہو وہ تاوان ہے اور اگر دونوں باتوں کی گواہی دو شہادتوں میں دی ہے تو ثمن کا تاوان ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: بائع کے خلاف یہ گواہی دی کہ اُس نے یہ چیز دو ہزار میں ایک سال کی میعاد پر بیچی ہے اور چیز کی واجبی قیمت ایک ہزار ہے اور گواہوں نے رجوع کیا تو بائع کو اختیار ہے گواہوں سے اس وقت کی قیمت کا تاوان لے یعنی ایک ہزار یا مشتری سے سال بھر بعد دو ہزار لے ان دونوں صورتوں میں جو صورت اختیار کریگا دوسرا بری ہو جائے گا مگر گواہوں سے اُس نے ایک ہزار لے لیے تو گواہ مشتری سے ثمن یعنی دو ہزار وصول کریں گے اور اس میں سے ایک ہزار صدقہ کر دیں۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: بیع بات اور بیع بالخیاردونوں کا ایک حکم ہے یعنی اگر گواہوں نے یہ شہادت دی کہ اس نے یہ چیز واجبی قیمت سے کم پر بیع کی ہے اور اس کو خیار ہے اگرچہ اب بھی مدت خیار باقی ہو اور فرض کرو قاضی نے فیصلہ بیع بالخیار کا کر دیا اور اندرون مدت بائع نے بیع کو فسخ نہیں کیا (5)اور گواہوں نے رجوع کیا تو تاوان واجب ہو گا۔ ہاں اگر اندرون مدت بائع نے بیع کو جائز کر دیا تو گواہوں سے ضمان ساقط ہو جائے گا۔ (6)(ہدایہ، فتح القدیر)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الرجوع عن الشہادۃج۸،ص۲۶۸،وغیرہ.
2 ۔بازار میں رائج قیمت۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الرجوع عن الشہادۃ،ج۸،ص۲۶۹.
4 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشہادات،باب الرجوع عن الشہادۃ،ج۸،ص۲۶۹.
5 ۔ختم نہیں کیا۔
6 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرجوع عن الشہادۃ،ج۲،ص۱۳۳.
و''فتح القدیر''،کتاب الرجوع عن الشہادۃ،ج۶،۵۴۴،۵۴۵.
مسئلہ ۱۳: دو گواہوں نے قبل دخول(1)تین طلاق کی شہادت دی اور ایک گواہ نے ایک طلاق قبل دخول کی شہادت دی اور سب رجوع کر گئے تو تاوان اُن پر ہے جنھوں نے تین طلاق کی گواہی دی ہے اُس پر نہیں ہے جس نے ایک طلاق کی گواہی دی اور اگر وطی یا خلوت کے بعد طلاق کی شہادت دی پھر رجوع کیا تو کچھ تاوان واجب نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: دو گواہوں نے طلاق قبل الدخول کی شہادت دی اور دو نے دخول کی پھر یہ سب رجوع کر گئے دخول کے گواہوں پر مہر کے تین ربع(3) کا تاوان ہے اور طلاق کے گواہوں پر ایک ربع کا۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: اصلی گواہوں نے دوسرے لوگوں کو اپنے قائم مقام کیا تھا فروع نے رجوع کیا تو ان پر تاوان واجب ہے اور اگر فیصلہ کے بعد اصلی گواہوں نے یہ کہا کہ ہم نے فروع کو اپنی گواہی پر شاہد بنایا ہی نہ تھا یا ہم نے غلطی کی کہ ان کو گواہ بنایا تو اس صورت میں تاوان واجب نہیں نہ اصول پر نہ فروع پر۔ یوہیں اگر فروع نے یہ کہا کہ اصول نے جھوٹ کہا یا غلطی کی تو تاوان نہیں۔ اور اگر اصول و فروع سب رجوع کر گئے تو تاوان صرف فروع پر ہے اصول پرنہیں۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: تزکیہ کرنے والے (6) جنھوں نے گواہ کی تعدیل کی تھی یہ بتایا تھا کہ یہ قابل شہادت ہے رجوع کر گئے اگر علم تھا کہ یہ قابلِ شہادت نہیں ہے مثلاً غلام ہے اور تزکیہ کر دیا تو تاوان دینا ہو گا اور اگر دانستہ(7) نہیں کیا ہے بلکہ غلطی سے تزکیہ کر دیا تو تاوان نہیں۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۷: دو گواہوں نے تعلیق کی گواہی دی مثلاً شوہر نے یہ کہا ہے اگرتو اس گھر میں گئی تو تجھ کو طلاق ہے یا مولےٰ نے کہا اگر یہ کام کروں تو میرا غلام آزاد ہے اور دو گواہوں نے یہ شہادت دی کہ شرط پائی گئی لہٰذا بی بی کو طلاق کا اور غلام کو آزاد ہونے کا حکم ہو گیا پھر یہ سب گواہ رجوع کر گئے تو تعلیق کے گواہ کو تاوان دینا ہو گا غلام آزاد ہوا ہے تو اُس کی قیمت اور عورت کو طلاق کا حکم ہوا اور قبل دخول ہے تو نصف مہر تاوان دیں۔(9) (ہدایہ)
1 ۔یعنی ہمبستری سے پہلے۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الرجوع عن الشہادۃ،ج۸،ص۲۷۰.
3 ۔تین چوتھائی۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الرجوع عن الشہادۃ،ج۸،ص۲۷۰.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الرجوع عن الشہادۃ،ج۸،ص۲۷۱.
6 ۔ گواہوں کے قابل شہادت ہونے کی تحقیق کرنے والے۔ 7 ۔قصداً ،جان بوجھ کر۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الرجوع عن الشہادۃ،ج۸،ص۲۷۱.
9 ۔''الھدایۃ''،کتاب الرجوع عن الشہادۃ،ج۲،ص۱۳۴۔۱۳۵.
مسئلہ ۱۸: دو گواہوں نے گواہی دی کہ مرد نے عورت کو طلاق سپرد کر دی اور دو نے یہ گواہی دی کہ عورت نے اپنے کو طلاق دے دی پھر یہ سب رجوع کر گئے تو تاوان اُن پر ہے جو طلاق دینے کے گواہ ہیں اُن پر نہیں جو سپرد کرنے کے گواہ ہیں۔ یوہیں شہوداحصان(1) پر رجوع کرنے سے دیت واجب نہیں کہ رجم کی علت زنا ہے اور احصان محض شرط ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: عورت نے دعویٰ کیا کہ شوہر سے دس روپے ماہوار نفقہ پر میری مصالحت ہو گئی ہے شوہر کہتا ہے پانچ روپے ماہوار پر صلح ہو ئی ہے عورت نے گواہوں سے دس روپے ماہوارپر صلح ہونا ثابت کیا اور قاضی نے فیصلہ دے دیا اس کے بعد گواہ رجوع کر گئے اگر عورت ایسی ہے کہ اس جیسی کا نفقہ دس روپے یا زیادہ ہونا چاہیے جب تو کچھ نہیں اور اگر ایسی نہیں ہے توجو کچھ زیادہ اس گذشتہ زمانہ میں دیا گیا مثلاً پانچ روپے کی حیثیت تھی اور دلائے گئے دس روپے توماہوار پانچ روپے زیادہ دیے گئے لہٰذا فیصلہ کے بعدسے اب تک جو کچھ شوہر سے زیادہ لیا گیا ہے اُس کا تاوان گواہوں پر لازم ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: قاضی نے شوہر پر دس روپے ماہوار نفقہ کے مقرر کر دیے ایک برس کے بعد عورت نے مطالبہ کیا کہ آج تک مجھ کو میرا نفقہ نہیں وصول ہوا ہے شوہر نے دو گواہ پیش کر دیے جنھوں نے شہادت دی کہ شوہر نے برابر ماہ بماہ نفقہ ادا کیا ہے قاضی نے اس گواہی کے موافق فیصلہ کر دیا پھر گواہ رجوع کر گئے اُن کو اس پوری مدت کے نفقہ کا تاوان دینا ہو گا۔ اولاد یا کسی محرم(4) کا نفقہ قاضی نے مقرر کر دیا اور اُس میں یہی صورت پیش آئی تو اُس کا بھی وہی حکم ہے۔ (5)(عالمگیری)
انسان کو اﷲ تعالیٰ نے مختلف طبائع عطا کیے ہیں کوئی قوی ہے اور کوئی کمزور بعض کم سمجھ ہیں اور بعض عقلمند ہر شخص میں خود ہی اپنے معاملات کو انجام دینے کی قابلیت نہیں نہ ہر شخص اپنے ہاتھ سے اپنے سب کام کرنے کے لیے طیار لہٰذا انسانی حاجت کا یہ تقاضا ہوا کہ وہ دوسروں سے اپنا کام کرائے۔ قرآن مجید نے بھی اس کے جواز کی طرف اشارہ کیا اﷲ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا قول ذکر فرمایا۔
( فَابْعَثُوۡۤا اَحَدَکُمۡ بِوَرِقِکُمْ ہٰذِہٖۤ اِلَی الْمَدِیۡنَۃِ فَلْیَنۡظُرْ اَیُّہَاۤ اَزْکٰی طَعَامًا فَلْیَاۡتِکُمۡ بِرِزْقٍ مِّنْہُ ) (6)
1 ۔مرد یاعورت کاشادی ہونے کی گواہی دینے والے۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الشہادات،باب الرجوع عن الشہادۃ،ج۸،ص۲۸۲.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرجوع عن الشہادۃ،الباب الحادی عشرفی المتفرقات،ج۳،ص۵۵۷.
4 ۔ایسا قریبی رشتہ دار جس سے نکاح کرنا ہمیشہ کے لیے حرام ہو۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرجوع عن الشہادۃ،الباب الحادی عشرفی المتفرقات،ج۳،ص۵۵۷.
6 ۔پ۱۵،الکہف:۱۹.
''اپنے میں سے کسی کو یہ چاندی دے کر شہر میں بھیجو وہاں سے حلال کھانا دیکھ کر تمھارے پاس لائے۔''
خود حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بعض امور میں لوگوں کو وکیل بنایا، حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو قربانی کا جانور خریدنے کے لیے وکیل کیا۔(1) اور بعض صحابہ کو نکاح کا وکیل کیا وغیرہ وغیرہ۔ اور وکالت کے جواز پر اجماع امت بھی منعقد لہٰذا کتاب و سنت و اجماع سے اس کا جواز ثابت۔ وکالت کے یہ معنیٰ ہیں کہ جو تصرف خود کرتا اُس میں دوسرے کو اپنے قائم مقام کر دینا۔ (2)
مسئلہ ۱: یہ کہہ دیا کہ میں نے تجھے فلاں کام کرنے کا وکیل کیا یا میں یہ چاہتا ہوں کہ تم میری یہ چیز بیچ دو یا میری خوشی یہ ہے کہ تم یہ کام کردو یہ سب صورتیں توکیل کی(3)ہیں۔ وکیل کا قبول کرنا صحت وکالت کے لیے ضروری نہیں یعنی اُس نے وکیل بنایا اور وکیل نے کچھ نہیں کہا یہ بھی نہیں کہ میں نے قبول کیا اور اُس کام کو کر دیا تو مؤکل پر لازم ہو گا۔ ہاں اگر وکیل نے رد کر دیا تو وکالت نہیں ہوئی فرض کرو ایک شخص نے کہا تھا کہ میری یہ چیز بیچ دو اُس نے انکار کر دیا اس کے بعد پھر بیع کر دی تو یہ بیع مؤکل پر لازم نہ ہوئی کہ یہ اُس کا وکیل نہیں بلکہ فضولی ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: زید نے عمرو کو اپنی زوجہ کو طلاق دینے کے لیے وکیل کیا عمرو نے انکار کر دیا اب طلاق نہیں دے سکتا اور اگر خاموش رہا اور اُس کو طلاق دے دی تو طلاق ہو گئی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: یہ ضروری ہے کہ وہ تصرف جس میں وکیل بناتا ہے معلوم ہواور اگر معلوم نہ ہو تو سب سے کم درجہ کا تصرف یعنی حفاظت کرنا اس کا کام ہو گا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: اس کے لیے شرط یہ ہے کہ توکیل اُسی چیز میں ہو سکتی ہے جس کو مؤکل خود کر سکتا ہو اور اگر کسی خاص وجہ سے مؤکل کا تصرف ممتنع ہو گیا اور اصل میں جائز ہو توکیل درست ہے مثلاً مُحرِم(7)نے شکار بیع کرنے کے لیے غیر محرم کو وکیل کیا۔ (8)(درمختار)
1 ۔''سنن ابی داود''،کتاب البیوع،باب فی المضارب یخالف،الحدیث:۳۳۸۶،ج۳،ص۳۵۰.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۷۳۔۲۷۶.
3 ۔وکیل بنانے کی۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً...إلخ،ج۳،ص۵۶۰.
5 ۔المرجع السابق. 6 ۔المرجع السابق.
7 ۔حج وعمرہ کی نیت سے احرام باندھنے والا مُحرِم کہلاتا ہے۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۷۶.
مسئلہ ۵: مجنون یا لا یعقل بچہ(1)نے وکیل بنایا یہ توکیل مطلقاً صحیح نہیں اور سمجھ وال بچہ نے وکیل کیا اس کی تین صورتیں ہیں۔ (۱) اُس چیز کا وکیل کیا جس کو خود نہیں کر سکتا ہے مثلاً زوجہ کو طلاق دینا۔ غلام کو آزاد کرنا۔ ہبہ کرنا۔ صدقہ دینا یعنی ایسے تصرفات جن میں ضرر محض ہے ان میں توکیل صحیح نہیں۔ (۲) اور اگر ایسے تصرفات میں وکیل کیا جو نفع محض ہیں یہ توکیل درست ہے مثلاً ہبہ قبول کرنا۔ صدقہ قبول کرنا۔ (۳) اور ایسے تصرفات میں وکیل کیا جن میں نفع و ضرر دونوں ہوں جیسے بیع و اجارہ وغیرہما اس میں ولی نے اجازت تجارت دی ہو توکیل صحیح ہے ورنہ ولی کی اجازت پر موقوف ہے اجازت دے گا صحیح ہو گی ورنہ باطل۔ (2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۶: مرتد نے کسی کو وکیل کیا یہ توکیل موقوف ہے اگر مسلمان ہو گیا نافذ ہے اوراگر قتل کیا گیا یا مر گیا یا دارالحرب میں چلا گیا توکیل باطل ہے اور اگر دارالحرب میں چلا گیاتھا پھر مسلمان ہو کر واپس ہوا اور قاضی نے اسکے دارالحرب چلے جانے کا حکم دے دیا تھا وہ توکیل باطل ہو چکی اور قاضی نے ابھی حکم نہیں دیاہے کہ مسلمان ہو کر واپس آگیا توکیل باقی ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: مرتدہ عورت نے کسی کو وکیل بنایا یہ توکیل جائز ہے۔ وکیل بنانے کے بعد معاذاﷲ مرتدہ ہو گئی یہ توکیل بدستور باقی ہے ہاں اگر مرتدہ عورت اپنے نکاح کا وکیل بنائے یہ توکیل باطل ہے اگر زمانہ ارتدادمیں(4)وکیل نے نکاح کر دیا یہ نکاح بھی باطل اور اگر مسلمان ہونے کے بعد وکیل نے اس کا نکاح کیا یہ نکاح صحیح ہے اور اگر وکیل نے اُس وقت نکاح کیا تھاجب وہ مسلمان تھی پھر معاذاﷲ مرتدہ ہو گئی پھر مسلمان ہو گئی اب وکیل نے اُس کا نکاح کیا یہ نکاح جائز نہیں ہے کہ توکیل باطل ہو گئی۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: کافر کی کافر کے ذمہ شراب باقی ہے اُس نے مسلمان کو تقاضے کے لیے(6)وکیل کیا مسلمان کو ایسی وکالت قبول نہ کرنی چاہیے ۔(7) (عالمگیری)
1 ۔ناسمجھ بچہ ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً...إلخ،ج۳،ص۵۶۱،وغیرہ.
3 ۔المرجع السابق،ص ۵۶۱۔۵۶۲.
4 ۔مرتد ہونے کے زمانے میں۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً...إلخ،ج۳،ص۵۶۲.
6 ۔مطالبے کے لیے،لینے کے لیے۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً ...إلخ،ج۳،ص۵۶۲.
مسئلہ ۹: باپ نے نابالغ بچہ کے لیے کسی چیز کے خریدنے یا بیچنے کا کسی کو وکیل کیا یہ توکیل درست ہے باپ کے وصی کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ بچے کے لیے چیز خریدنے یا بیچنے کاکسی کو وکیل بنا سکتا ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: توکیل کے لیے وکیل کا عاقل ہونا شرط ہے یعنی مجنون یا اتنا چھوٹا بچہ جو لا یعقل ہو وکیل نہیں ہو سکتا بلوغ اور حریت(2) اس کے لیے شرط نہیں یعنی نابالغ سمجھ وال کواور غلام محجور(3) کو بھی وکیل بنا سکتے ہیں۔ وکیل نے بھنگ پی لی کہ عقل میں فتور (4)پیدا ہو گیا وہ اپنی وکالت پر نہ رہا یعنی اس حالت میں جو تصرف کریگا وہ مؤکل پر نافذ نہیں ہو گا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: وکیل کو علم ہو جانا صحت توکیل کے لیے شرط نہیں فرض کرو اُس نے کسی کو وکیل کر دیا ہے اور اُس وقت وکیل کو خبر نہ ہوئی بعد کو وکیل نے معلوم کیا اور تصرف کیا یہ تصرف جائز ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: وکیل بنانے کے لیے وکیل کو علم ہو جانا اگرچہ شرط نہیں ہے مگر وہ وکیل اُس وقت ہو گا جب اُسے علم ہو جائے لہٰذا اگر غلام بیچنے یا زوجہ کو طلاق دینے کا وکیل کیا اور وکیل کو ابھی علم نہیں ہوا ہے بطور خود اُس وکیل نے غلام کو بیچ دیا یا اُس کی بی بی کو طلاق دے دی نہ بیع جائز ہوئی نہ طلاق۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: حقوق دو قسم ہیں حقوق العبد،حقوق اﷲ۔
حقوق اﷲ دو قسم ہیں۔ اُس میں دعویٰ شرط ہے یا نہیں۔ جن حقوق اﷲ میں دعویٰ شرط ہے جیسے حد قذف، حد سرقہ ان کے اثبات کے لیے توکیل صحیح ہے۔ موکل موجود ہو یا غائب وکیل اس کا ثبوت پیش کر سکتا ہے اور ان کا استیفا یعنی قذف میں درّے لگانا یا چوری میں ہاتھ کاٹنا اس کے لیے موکل کی موجودگی ضروری ہے۔ اور جن حقوق اﷲ میں دعوٰے شرط نہیں جیسے حد زنا، حد شرب خمر(8)ان کے اثبات یا استیفا کسی میں توکیل جائز نہیں۔
حقوق العباد بھی دو قسم ہیں شبہہ سے ساقط ہو تے ہیں یا نہیں۔ اگر ساقط ہو جائیں جیسے قصاص اسکے اثبات کی توکیل صحیح
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً...إلخ،ج۳،ص۵۶۱.
2 ۔آزادی یعنی غلام نہ ہونا۔
3 ۔ایسا غلام جسے آقا نے تجارت کر نے سے روک دیا ہو۔
4 ۔نقص ،خرابی ،خلل۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً...إلخ،ج۳،ص۵۶۱.
6 ۔المرجع السابق،ص۵۶۳. 7 ۔المرجع السابق.
8 ۔شراب پینے کی سزا۔
ہے اور استیفا کی توکیل یعنی قصاص جاری کرنے کا وکیل بنانا یہ اگر موکل یعنی ولی کی موجودگی میں ہو تو درست ہے ورنہ نہیں۔ اور حقوق العبد جو شبہہ سے ساقط نہیں ہوتے ان سب میں وکیل بالخصومۃ(1)بنانا درست ہے وہ حق از قبیل دَین ہو(2)یاعین(3)۔ تعزیر کے اثبات اور استیفا دونوں کے لیے وکیل بنانا جائز ہے موکل موجود ہو یا غائب۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مباحات میں وکیل بنانا جائز نہیں جیسے جنگل کی لکڑی کاٹنا، گھاس کاٹنا، دریا یا کوئیں سے پانی بھرنا، جانور کا شکار کرنا، کان سے جواہر نکالنا جوکچھ ان سب میں حاصل ہو گا وہ سب وکیل کا ہے موکل اُس میں سے کسی شے کا حقدار نہیں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: وکیل بالخصومۃ میں خصم(6) کا راضی ہونا شرط ہے یعنی بغیر اُس کی رضامندی کے وکالت لازم نہیں اگر وہ رد کر دے گا تو وکالت رد ہو جائے گی خصم یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ خود حاضر ہو کر جواب دے۔ خصم مدعی (7)ہو یا مدعی علیہ(8) دونوں کا ایک حکم ہے اور اگر موکل بیمار ہو کہ پیدل کچہری نہ جا سکتا ہو یا سواری پر جانے میں مرض کا اضافہ ہو جاتا ہو یا موکل سفر میں ہو یا سفر کا ارادہ رکھتا ہو یا عورت پردہ نشین ہو یا عورت حیض و نفاس والی ہو اور حاکم مسجد میں اجلاس کرتا ہو یا کسی دوسرے حاکم نے اُسے قید کر دیا ہویا اپنا دعویٰ اچھی طرح بیان نہ کر سکتا ہو ان سب نے وکیل کیا تو وکالت بغیر رضا مندی خصم لازم ہو گی۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: مدعی مدعیٰ علیہ میں سے ایک معزز ہے دوسرا کم درجہ کا ہے وہ معزز مقدمہ کی پیروی کے لیے وکیل کرتا ہے یہ عذر نہیں اس کی وجہ سے وکالت لازم نہ ہو گی اُس کا فریق کہہ سکتا ہے کہ وہ خود کچہری میں حاضر ہو کر جواب دہی کرے۔(10) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: خصم راضی ہو گیا تھا مگر ابھی دعوے کی سماعت نہیں ہوئی ہے اس رضا مندی کو واپس لے سکتا ہے اور دعوے کی سماعت کے بعد واپس نہیں لے سکتا۔(11) (درمختار)
1 ۔ مقدمے کا وکیل ۔ 2 ۔یعنی قرض کی قِسم سے ہو۔ 3 ۔یعنی کوئی مخصوص چیز۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً...إلخ،ج۳،ص۵۶۳۔۵۶۴.
5 ۔المرجع السابق،ص۵۶۴.
6 ۔مدمقابل۔ 7 ۔دعوی کرنے والا۔
8 ۔جس پر دعوےٰ کیا جاتاہے۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۷۸.
10 ۔المرجع السابق،ص۲۷۹. 11 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱۸: عقد دو قسم کے ہیں بعض وہ ہیں جن کی اضافت (1)موکل(2) کی طرف کرنا ضروری نہیں خود اپنی طرف بھی اضافت کرے جب بھی موکل ہی کے لیے ہو جیسے بیع اجارہ اور بعض وہ ہیں جن کی اضافت موکل کی طرف کرنا ضروری ہے اگر اپنی طرف اضافت کر دے تو موکل کے لیے نہ ہو بلکہ وکیل ہی کے لیے ہو جیسے نکاح کہ اس میں موکل کا نام لینا ضروری ہے اگر یہ کہہ دے کہ میں نے تجھ سے نکاح کیا تو اسی کا نکاح ہو گا موکل کا نہیں ہو گا۔ قسم اوّل کے حقوق کا تعلق خود وکیل سے ہو گا موکل سے نہیں ہو گا مثلاً بائع کا وکیل ہے تو تسلیم مبیع (3) اور قبض ثمن (4) وکیل کریگا اور مشتری کاوکیل ہے توثمن دینا اور مبیع لینا اسی کا کام ہے مبیع میں استحقاق ہوا (5) تو مشتری وکیل سے ثمن واپس لے گا وہ بائع سے لے گا اور مشتری کے وکیل نے خریدا ہے تو یہ وکیل ہی بائع سے ثمن واپس لے گا یہ کام موکل یعنی مشتری کا نہیں اور مبیع میں عیب ظاہر ہوا تو اس میں جو کچھ کرنا پڑے خصومت وغیرہ (6)وہ سب وکیل ہی کا کام ہے۔ (7)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۹: عقد کی اضافت اگر وکیل نے موکل کی طرف کر دی مثلاً یہ کہا کہ یہ چیز تم سے فلاں شخص نے خریدی اس صورت میں عقد کے حقوق موکل سے متعلق ہوں گے۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: موکل نے یہ شرط کر دی کہ عقد کے حقوق کا تعلق وکیل سے نہ ہو گا بلکہ مجھ سے ہو گا یہ شرط باطل ہے یعنی باوجود اس شرط کے بھی وکیل ہی سے تعلق ہو گا۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: اس صورت میں حقوق کا تعلق اگرچہ وکیل سے ہے مگر مِلک ابتدا ہی سے موکل کے لیے ہوتی ہے یہ نہیں کہ پہلے اُس چیز کا وکیل مالک ہو پھر اُس سے موکل کی طرف منتقل ہو لہٰذا غلام خریدنے کا اسے وکیل کیا تھا اس نے اپنے قریبی رشتہ دار کو جو غلام ہے خریدا آزاد نہیں ہو گا یا باندی(10) خریدنے کو کہا تھا اس نے اپنی زوجہ کو جو باندی ہے خریدا نکاح فاسد نہیں کہ وکیل ان کا مالک ہوا ہی نہیں اور موکل کے ذی رحم محرم کو خریدا آزاد ہو جائے گا اور موکل کی زوجہ کو خریدا نکاح فاسد ہو جائے گا۔ (11)(درمختار)
1 ۔نسبت یعنی منسوب کرنا۔ 2 ۔وکیل بنانے والا۔
3 ۔یعنی فروخت شدہ چیز خریدار کو دینا۔ 4 ۔ یعنی خریدار سے چیز کی مقرر کردہ قیمت لینا۔
5 ۔جو چیز بیچی گئی ہے اس میں کسی کا حق ثابت ہوا۔ 6 ۔مقدمہ وغیرہ۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوکالۃ،ج۳،ص۱۳۷۔۱۳۸.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۸۱.
9 ۔المرجع السابق.
10 ۔لونڈی۔
11 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۸۲.
مسئلہ ۲۲: جس عقد کی موکل کی طرف اضافت ضروری ہے جیسے نکاح، خلع، دم عمد(1)سے صلح، انکار کے بعد صلح، مال کے بدلے میں آزاد کرنا، کتابت، ہبہ، تصدق(2)، عاریت، امانت رکھنا، رہن(3)، قرض دینا، شرکت، مضاربت کہ اگر ان کو موکل کی طر ف نسبت نہ کرے تو موکل کے لیے نہیں ہوں گے ان میں عقد کے حقوق کا تعلق موکل سے ہو گا وکیل سے نہیں ہوگا۔ وکیل ان عقودمیں(4) سفیر محض ہوتا ہے قاصد کی طرح کہ پیغام پہنچا دیااور کسی بات سے کچھ تعلق نہیں لہٰذا نکاح میں شوہر کے وکیل سے مہر کا مطالبہ نہیں ہو سکتا عورت کے وکیل سے تسلیمِ زوجہ کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: وکیل سے چیز خریدی ہے موکل ثمن کا مطالبہ کرتا ہے مشتری انکار کرسکتا ہے کہہ سکتا ہے کہ میں نے تم سے نہیں خریدی جس سے خریدی اُس کو دام دوں گا مگر مشتری نے موکل کو دے دیا تو دینا صحیح ہے اگرچہ وکیل نے منع کر دیا ہو کہہ دیا ہو کہ مجھی کو دینا موکل کو نہ دینا۔ وکیل کے سامنے موکل کو دے یا اُس کی غیبت(6) میں ثمن ادا ہو جائے گا وکیل دوبارہ مطالبہ نہیں کر سکتا۔(7) (ہدایہ، بحر)
مسئلہ ۲۴: وکیل کے مر جانے کے بعد وصی اس کے قائم مقام ہے موکل قائم مقام نہیں۔ (8)(بحر)
مسئلہ ۲۵: ایک شخص نے خریدنے کے لیے دوسرے کو وکیل کیا خریدنے سے پہلے یا بعد میں وکیل کو زر ثمن دے دیا کہ اسے ادا کر کے مبیع لاؤ وکیل نے روپیہ ضائع کر دیا اور وکیل خود تنگدست ہے اپنے پاس سے اس وقت روپیہ نہیں دے سکتا اس صورت میں بائع کو اختیار ہے کہ مبیع کو روک لے اُس پر قبضہ نہ دے جب تک ثمن وصول نہ کر لے مگرمؤکل سے ثمن کا مطالبہ نہیں کر سکتا اور فرض کرو کہ موکل نہ ثمن دیتا ہے نہ مبیع پر قبضہ لیتا ہے تو قاضی ان دونوں کی رضامندی سے چیز کو بیع کر دے گا۔ (9) (بحرالرائق)
1 ۔جان بوجھ کر کسی کو قتل کرنا۔ 2 ۔صدقہ کرنا۔
3 ۔ کسی کے پاس اپنی کوئی چیز گروی رکھنا۔ 4 ۔ان معاملات میں۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۸۲.
6 ۔عدم موجودگی۔
7 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوکالۃ،ج۳،ص۱۳۸.
و''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،ج۷،ص۲۵۸.
8 ۔ ''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،ج۷،ص۲۵۸.
9 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۲۶: وکیلِ بائع سے ایک چیز خریدی اور مشتری کا دَین موکل یا وکیل یا دونوں کے ذمہ ہے چاہتا یہ ہے کہ دام (1)نہ دینا پڑے بقایا میں مجرا کر دیا جائے(2)اگر موکل کے ذمہ دَین ہے تو محض عقد کرنے ہی سے مقاصہ یعنی ادلا بدلا ہو گیا اور اگر وکیل و موکل دونوں کے ذمہ ہے تو موکل کے دَین کے مقابلہ میں مقاصہ ہو گا وکیل کے نہیں اور تنہا وکیل پر دَین ہو تواس سے بھی مقاصہ ہو جائے گا مگر وکیل پر لازم ہو گا کہ اپنے پاس سے موکل کو ثمن ادا کرے۔(3) (بحرالرائق)
مسئلہ ۲۷: وصی نے کسی کو یتیم کی چیز بیچنے کو کہا وکیل نے بیچ کر دام یتیم کو دے دیے یہ دینا جائز نہیں بلکہ وصی کو دے۔ بیع صرف میں وکیل کیا ہے وکیل نے عقد کیا اور موکل نے عوض پر قبضہ کیا یہ درست نہیں عقد صرف باطل ہو جائے گا کہ اس میں مجلس عقد میں عاقد کا قبضہ ضروری ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۸: کسی کو اس لیے وکیل کیا کہ وہ فلاں شخص سے یا کسی سے قرض لا دے یہ توکیل صحیح نہیں اور اگر اس لیے وکیل کیا ہے کہ میں نے فلاں سے قرض لیا ہے تو اُس پر قبضہ کر لے یہ توکیل صحیح ہے۔ اور قرض لینے کے لیے قاصد بنانا صحیح ہے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۲۹: وکیل کو کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہاں وکیل اس لیے کیا کہ یہ چیز فلاں کو دے دے وکیل کو دینا لازم ہے مثلاً کسی سے کہا یہ کپڑا فلاں شخص کو دے دینا اُس نے منظور کر لیا وہ شخص چلا گیا اس کو دینا لازم ہے۔ غلام آزاد کرنے پر وکیل کیا اورموکل غائب ہو گیا وکیل آزاد کرنے پر مجبور نہیں۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ جس کام کے لیے وکیل بنایا گیا ہے دوسرے کو اُس کا وکیل کر دے ہاں اگر موکل نے اُس کویہ اختیار دیا ہو کہ خود کر دے یا دوسرے سے کرا دے تو وکیل بنا سکتا ہے یا وکیل کے وکیل نے کام کر لیا اُس کو موکل نے جائز کر دیا تو اب درست ہو گیا۔ وکیل سے کہہ دیا جو کچھ تو کرے منظورہے وکیل نے وکیل کر لیا یہ توکیل درست ہے اور یہ وکیلِ ثانی موکل کا وکیل قرار پائے گا وکیل کا وکیل نہیں یعنی اگر وکیل اوّل مر جائے یا مجنون ہو جائے یا معزول کر دیا جائے تو اس کا اثر وکیل ثانی پر کچھ نہیں اور اگر وکیل اوّل نے ثانی کو معزول کر دیا معزول ہو جائے گا۔ اگر وکیل اوّل نے دوسرے کو وکیل بناتے
1 ۔قیمت۔ 2 ۔کاٹ دیا جائے۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،ج۷،ص۲۵۸.
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۸۳.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً...إلخ،ج۳،ص۵۶۶.
وقت یہ کہہ دیا کہ توجو کریگا جائز ہے اور اس وکیل دوم نے کسی کو وکیل کیا یہ درست نہیں۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: وکالت میں تھوڑی سی جہالت مضر نہیں مثلاً کہہ دیا ململ کا تھان(2) خرید دو۔ شروط فاسدہ سے وکالت فاسد نہیں ہوتی۔ اس میں شرط خیار نہیں ہو سکتی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: وکالتِ عقد لازم نہیں وکیل و موکل ہر ایک بغیر دوسرے کی موجودگی کے معزول کر سکتا ہے مگر یہ ضرور ہے کہ موکل اگر وکیل کو معزول کرے تو جب تک وکیل کو خبر نہ ہو معزول نہیں یعنی اس درمیان میں جو تصرف (4) کرلے گا نافذ ہو گاموکل یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں معزول کر چکا ہوں۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: وکیل کے قبضہ میں جو چیز ہوتی ہے وہ بطورِ امانت ہے یعنی ضائع ہو جانے سے ضمان واجب نہیں۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: موکل نے یہ کہا کہ جو چیز مناسب سمجھو میرے لیے خرید لو یہ خریداری کی وکالت عامہ ہے جو کچھ بھی خریدے گا موکل انکار نہیں کر سکتا۔ یوہیں اگر یہ کہہ دیا کہ میرے لیے جو کپڑا چاہو خرید لو یہ کپڑے کے متعلق وکالت عامہ ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی خاص چیز کی خریداری کے لیے وکیل کیا ہو مثلاً یہ گائے یہ بکری یہ گھوڑا خرید دو۔ اس صورت کا حکم یہ ہے کہ وہی معین چیز جس کی خریداری کا وکیل کیاہے خرید سکتا ہے اُس کے سوا دوسری چیز نہیں خرید سکتا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ نہ تعمیم ہے نہ تخصیص مثلاً یہ کہہ دیا کہ میرے لیے ایک گائے خرید دو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر جہالت تھوڑی سی ہو توکیل درست ہے اور جہالت فاحشہ ہوتوکیل باطل(7)۔ (8)(درمختار وغیرہ)
1 ۔''الفتاوی الھندیہ''،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً...إلخ،ج۳،ص۵۶۶.
2 ۔ایک قسم کے باریک سوتی کپڑے کا تھان۔
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً...إلخ،ج۳،ص۵۶۷.
4 ۔عمل دخل۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً...إلخ،ج۳،ص۵۶۷،۶۳۷.
6 ۔المرجع السابق.
7 ۔یعنی وکیل بنانا درست نہیں۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۴،وغیرہ.
مسئلہ ۲: جب خریدنے کا وکیل کیا جائے تو ضرور ہے کہ اُس چیز کی جنس و صفت یا جنس و ثمن بیان کر دیا جائے تاکہ جہالت میں کمی پیدا ہو جائے۔ اگر ایسا لفظ ذکر کیا جس کے نیچے کئی جنسیں شامل ہیں مثلاً کہہ دیا چوپایہ خرید لاؤ یہ توکیل صحیح نہیں اگرچہ ثمن بیان کر دیا گیا ہو کیونکہ اُس ثمن میں مختلف جنسوں کی اشیاء خرید سکتے ہیں اور اگر وہ لفظ ایسا ہے جس کے نیچے کئی نوعیں ہیں (1) تونوع بیان کرے یا ثمن بیان کرے اور نوع یا ثمن بیان کرنے کے بعد وصف یعنی اعلیٰ، اوسط، ادنیٰ بیان کرنا ضرورنہیں۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۳: یہ کہا کہ میرے لیے گھوڑا خرید لاؤ یا تنزیب کا تھان(3) خرید لاؤ یہ توکیل صحیح ہے اگرچہ ثمن نہ ذکر کیا ہو کہ اس میں بہت کم جہالت ہے اور وکیل اس صورت میں ایسا گھوڑا یا ایسا کپڑا خریدے گا جو موکل کے حال سے مناسب ہو۔ غلام یا مکان خریدنے کو کہا تو ثمن ذکر کرنا ضروری ہے یعنی اس قیمت کا خریدنا یا نوع بیان کر دے مثلاً حبشی غلام ورنہ توکیل صحیح نہیں یہ کہا کہ کپڑا خرید لاؤ یہ توکیل صحیح نہیں اگرچہ ثمن بھی بتا دیا ہو کہ یہ لفظ بہت جنسوں کو شامل ہے۔(4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴: طعام خریدنے کے لیے بھیجا مقدار بیان کر دی یا ثمن دے دیا توعرف کا لحاظ کرتے ہوئے طیار کھانا لیا جائے گا گوشت روٹی وغیرہ۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۵: یہ کہا کہ موتی کا ایک دانہ خرید لاؤ یایا قوت سرخ کا نگینہ خرید لاؤ اور ثمن ذکر کیا توکیل صحیح ہے ورنہ نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: گیہوں وغیرہ غلہ خریدنے کو کہا نہ مقدار ذکر کی کہ اتنے سیر یا اتنے مَن اور نہ ثمن ذکر کیا کہ اتنے کا یہ توکیل صحیح نہیں اور اگر بیان کر دیا ہے تو صحیح ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: گاؤں کے کسی آدمی نے یہ کہا میرے لیے فلاں کپڑا خرید لو اور ثمن نہیں بتایا وکیل وہ کپڑا خریدے جو گاؤں والے استعمال کرتے ہیں اور ایسا کپڑا خریدنا جو گاؤں والوں کے استعمال میں نہیں آتاہو، ناجائز ہے یعنی موکل اُس کے لینے سے انکار کر سکتا ہے۔ (8)(عالمگیری)
1 ۔ یعنی کئی قِسمیں ہیں۔
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۲،ص۱۳۹.
3 ۔باریک اور کلف دار سوتی کپڑے کا تھان۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۴،وغیرہ.
5 ۔المرجع السابق،ص۲۸۵.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الثانی فی التوکیل بالشراء،ج۳،ص۵۷۴.
7 ۔المرجع السابق. 8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۸: دلال(1) کو روپے دیے کہ اس کی میرے لیے چیز خرید دو اور چیز کا نام نہیں لیا اگر وہ کسی خاص چیز کی دلالی کرتا ہو تو وہی چیز مراد ہے ورنہ توکیل فاسد۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: توکیل میں موکل(3)نے کوئی قید ذکر کی ہے اُس کا لحاظ ضروری ہے اُس کے خلاف کریگا تو خریداری کا تعلق موکل سے نہیں ہوگا ہاں اگر موکل کے خلاف کیا اور اُس سے بہتر کیا جس کو موکل نے بتایا تھا تو یہ خریداری موکل پر نافذ ہو گی وکیل سے کہا خدمت کے لیے یا روٹی پکانے کے لیے لونڈی خرید لاؤ یا فلاں کام کے لیے غلام خرید لاؤ کنیز (4)یا غلام ایسا خریدا جس کی آنکھیں نہیں یا ہاتھ پاؤں نہیں یہ خریداری موکل پر نافذ نہیں ہو گی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: موکل نے جو جنس متعین کی تھی وکیل نے دوسری جنس سے بیع کی موکل پر نافذ نہیں اگرچہ وہ چیز اُس کی بہ نسبت زیادہ کام کی ہے جس کو موکل نے کہا ہے مثلاً وکیل سے کہا تھا میرا غلام ہزار روپے کو بیچنا اُس نے ہزار اشرفی کو بیع کر دیا اور اگر وصف یا مقدار کے لحاظ سے مخالفت ہے تو دو صورتیں ہیں اس مخالفت میں موکل کا نفع ہے یا نقصان اگر نفع ہے موکل پر نافذ ہے مثلاً اُس نے ایک ہزار روپے میں بیچنے کو کہا تھا اس نے ڈیڑھ ہزار میں بیع کی اور نقصان ہے تو نافذ نہیں مثلاً نو سو میں بیع کی۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: وکیل نے کوئی چیز خریدی اور اُس میں عیب ظاہر ہوا جب تک وہ چیز وکیل کے پاس ہو اُس کے واپس کرنے کا حق وکیل کو ہے اور اگر وکیل مر گیا تو اُس کے وصی یا وارث کا یہ حق ہے اور یہ نہ ہوں تو یہ حق موکل کے لیے ہے اور اگر وکیل نے وہ چیز موکل کو دیدی تو اب بغیر اجازت موکل وکیل کو پھیرنے کا حق نہیں ہے۔ یہی حکم وکیل بالبیع (7) کا ہے کہ جب تک مبیع کی تسلیم نہیں کی واپسی کا حق اس کوہے۔ وکیل نے عیب پر مطلع ہو کر بیع سے رضا مندی ظاہر کر دی تو اب وہ بیع وکیل پر لازم ہو گئی واپسی کا حق جاتا رہا اورموکل کو اختیار ہے چاہے اس بیع کو قبول کر لے اور انکار کر دے گا تو وکیل کی وہ چیز ہو جائے گی موکل سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ (8)(بحر، درمختار)
1 ۔سودا طے کرانے والا،آڑھتی۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الثانی فی التوکیل بالشراء،ج۳،ص۵۷۴.
3 ۔وکیل بنانے والا۔ 4 ۔لونڈی۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الثانی فی التوکیل بالشراء،ج۳،ص۵۷۴،۵۷۵.
6 ۔المرجع السابق،ص۵۷۵.
7 ۔فروخت کرنے کاوکیل۔
8 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۲.
و''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۵.
مسئلہ ۱۲: وکیل بالبیع نے چیز بیع کی مشتری(1) کو مبیع(2)کے عیب پر اطلاع ہوئی اگر مشتری نے ثمن وکیل کو دیا ہے تو وکیل سے واپس لے اور موکل کو دیا ہے تو موکل سے واپس لے اور مشتری نے وکیل کو دیا وکیل نے موکل کو دے دیااس صورت میں بھی وکیل سے واپس لے گا۔(3) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۳: مشتری نے مبیع میں عیب پایا موکل اُس عیب کا اقرارکرتا ہے مگر وکیل منکر ہے مبیع واپس نہیں ہو سکتی کیونکہ عقد کے حقوق وکیل سے متعلق ہیں موکل اجنبی ہے اس کا اقرار کوئی چیز نہیں اورا گر وکیل اقرار کرتا ہے موکل انکار کرتا ہے وکیل پر واپسی ہو جائے گی پھر اگر وہ عیب اس قسم کاہے کہ اتنے دنوں میں کہ موکل کے یہاں سے چیز آئی پیدا نہیں ہو سکتا جب تو چیز موکل پر واپس ہو جائے گی اور اگروہ عیب ایسا ہے کہ اتنے دنوں میں پیدا ہو سکتا ہے تو وکیل کو گواہوں سے ثابت کرناہو گا کہ یہ عیب موکل کے یہاں تھا اور اگر وکیل کے پاس گواہ نہ ہوں تو موکل پر قسم دے گا اگر قسم سے انکار کرے چیز واپس ہو گی اور قسم کھالے تو وکیل پر لازم ہو گی۔(4) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۴: وکیل نے بیع فاسد کے ساتھ چیز خریدی یا بیچی اگر موکل ثمن دے چکا ہے یا مبیع کی تسلیم کر دی ہے اور ثمن وصول کر کے موکل کو دے چکاہے بہرحال وکیل کو بیع فسخ کر دینے کا اختیار(5)ہے اور ثمن موکل سے لےکر بائع کو واپس کر دے کہ یہ فسخ بیع حق موکل کی وجہ سے نہیں ہے کہ اُس سے اجازت لے بلکہ حق شرع کی وجہ سے ہے۔(6) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۵: وکیل کو یہ اختیار ہے کہ جب تک موکل سے ـثمن نہ وصول کر لے چیز اپنے قبضہ میں رکھے موکل کو نہ دے خواہ وکیل نے ثمن اپنے پاس سے بائع کو دے دیا ہو یا نہ دیاہو یہ اُس صورت میں ہے کہ ثمن مؤجل نہ ہو اور اگر ثمن مؤجل ہو یعنی ادا کی کوئی میعاد مقرر ہو تو موکل کے حق میں بھی مؤجل ہو گیا یعنی جب تک میعاد پوری نہ ہو موکل سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اگر بیع میں ثمن مؤجل نہ تھا بیع کے بعد بائع نے ثمن کے لیے کوئی میعاد مقرر کر دی توموکل پر مؤجل نہ ہو گا یعنی وکیل اسی وقت اُس سے مطالبہ کر سکتا ہے۔(7) (بحرالرائق)
1 ۔خریدار۔ 2 ۔بیچی ہوئی چیز۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۲.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔سوداختم کرنے کا اختیار۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۳.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱۶: وکیل نے ہزار روپے میں چیز خریدی بائع نے وہ ہزار وکیل کو ہبہ کردیے وکیل موکل سے پورے ہزار کا مطالبہ کریگا اور اگر بائع نے پانسو ہبہ کردیے تو یہ پانسومؤکل سے ساقط ہو گئے بقیہ پانسو کا مطالبہ ہو گا اور اگر پہلے پانسو ہبہ کردیے پھر پانسو ہبہ کئے پہلے پانسو موکل سے ساقط ہو گئے بعد والے پانسو کا وکیل مطالبہ کر سکتا ہے۔(1) (بحر)
مسئلہ ۱۷: وکیل نے ثمن وصول کرنے کے لیے مبیع کو روک لیا اس کے بعدمبیع ہلاک ہو گئی تو وکیل کا نقصان ہوا موکل سے کچھ نہیں لے سکتا اور رو کی نہیں تھی اور ہلاک ہو گئی تومؤکل کا نقصان ہوا موکل کوثمن دینا ہو گا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: بیع صرف و سلم میں مجلسِ عقدمیں(3) قبضہ ضروری ہے بدونِ قبضہ(4) جدا ہوجانا عقد کو باطل کر دیتا ہے اس سے مراد وکیل کی جدائی ہے موکل کے جدا ہونے کا اعتبارنہیں فرض کرومؤکل بھی وہاں موجود تھا عقد کے بعد قبضہ سے پہلے موکل چلا گیا عقد باطل نہ ہوا اور وکیل چلا گیا باطل ہو گیا اگرچہ موکل موجود ہو۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۹: وکیل بالشرا (6) کوموکل نے روپے دیدیے تھے اُس نے چیز خریدی اور دام نہیں دیے وہ چیز موکل کو دے دی اور موکل کے روپے خرچ کر ڈالے اور بائع کو روپے اپنے پاس سے دیدیے یہ خریداری موکل ہی کے حق میں ہو گی اور اگردوسرے روپے سے چیز خریدی مگر ادا کیے موکل کے روپے، تو خریداری وکیل کے حق میں ہو گی موکل کے لیے ضمان دینا ہو گا۔ (7)(بحر)
مسئلہ ۲۰: وکیل بالشراء نے موکل سے ثمن نہیں لیا ہے تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ موکل سے ملے گا تب دوں گا اُسے اپنے پاس سے دینا ہو گا اور وکیل بالبیع نے چیز بیچ ڈالی اور ابھی دام نہیں ملے ہیں تو موکل سے کہہ سکتا ہے کہ مشتری دے گا تو دوں گا اُس کو اِس پرمجبور نہیں کیا جا سکتا کہ اپنے پاس سے دیدے۔ (8)(بحرالرائق)
مسئلہ ۲۱: وکیل بالبیع (9) نے موکل سے کہا کہ میں نے تمھارا کپڑا فلاں کے ہاتھ بیچ ڈالا میں اُس کی طرف سے تمھیں اپنے پاس سے دام دے دیتا ہوں تو متبرع (10) ہے مشتری سے نہیں لے سکتا اور اگر یہ کہا کہ میں تمھیں اپنے پاس سے دام دے دیتا
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۳.
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۶.
3 ۔یعنی جہاں خریدوفروخت ہووہیں۔ 4 ۔قبضہ کے بغیر۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۷.
6 ۔چیزخریدنے کا وکیل۔
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۳.
8 ۔المرجع السابق.
9 ۔کسی چیزکوفروخت کرنے کا وکیل۔ 10 ۔احسان،بھلائی کرنے والا۔
ہوں مشتری کے ذمہ جو دام ہیں وہ میں لے لوں گا اس طرح دینا جائز نہیں جو کچھ موکل کو دیا اُس سے واپس لے۔(1) (بحر)
مسئلہ ۲۲: آڑھتی (2)کے پاس لوگ اپنے مال رکھ دیتے ہیں اور بیچنے کو کہہ دیتے ہیں اُس نے چیز بیع کی اور اپنے پاس سے دام دے دیے کہ مشتری سے ملیں گے تو میں لے لوں گا مشتری مفلس ہو گیا اُس سے ملنے کی اُمید نہیں تو جو کچھ آڑھتی نے مال والوں کو دیا ہے اُن سے واپس لے سکتا ہے۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۲۳: موکل نے وکیل کو ہزار روپے چیز خریدنے کے لیے دیے اُس نے چیز خریدی مگر ابھی بائع کو ثمن ادا نہیں کیا اور وہ روپے ضائع ہو گئے تو موکل کے ضائع ہوئے یعنی اُس کو دوبارہ دینا ہو گا اور اگرمؤکل نے پہلے روپے نہیں دیے ہیں وکیل کے خریدنے کے بعد دیے اور بائع کو ابھی دیے نہیں روپے ضائع ہو گئے تو وکیل کے ہلاک ہوئے اور اگر پہلے دے دیے تھے اور وکیل نے بائع کو نہیں دیے اور ہلاک ہو گئے تو وکیل موکل سے دوبارہ لے گا اور اس مرتبہ بھی ہلاک ہو گئے تو اب موکل سے نہیں لے سکتا اپنے پاس سے دینا ہو گا۔ (4)(بحر)
مسئلہ ۲۴: غلام خریدنے کے لیے ہزار روپے کسی نے دیے تھے روپے گھر میں رکھ کر بازار گیا اور غلام خرید لایا بائع کو روپیہ دینا چاہتا ہے دیکھتا ہے کہ روپے چوری گئے اور غلام بھی اسی کے گھر مر گیا ایک طرف بائع آیا کہ روپیہ دو، دوسری طرف موکل آتا ہے کہتا ہے غلام لاؤ، اس کا حکم یہ ہے کہ موکل سے ہزار روپے لے کر بائع کو دے اور پہلے کے روپے اورغلام یہ ہلاک ہوئے موکل ان کا کوئی معاوضہ نہیں لے سکتا کہ امانت تھے۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۲۵: ایک شخص سے کہا کہ ایک روپیہ کا پانچ سیر گوشت لا دو، وہ ایک روپیہ کا دس سیر گوشت لایا اور گوشت بھی وہ ہے جو بازار میں روپیہ کا پانچ سیر ملتا ہے موکل کو صرف پانچ سیر آٹھ آنے میں لینا ضروری ہے اور باقی گوشت وکیل کے ذمہ۔ اور اگر پاؤ آدھ سیر زائد لایا ہے مگر اتنے ہی میں جتنے میں موکل نے بتایا تھا تو یہ زیادتی موکل کے ذمہ لازم ہے اس کے لینے سے انکار نہیں کر سکتا اور اگر گوشت روپیہ کا پانچ سیر والا نہیں ہے بلکہ یہ گوشت روپیہ کا دس سیر بکتا ہے تو اس میں سے موکل کو کچھ لینا ضرورنہیں۔ یہی حکم ہر وزنی چیز کاہے۔ اور اگر قیمی چیز ہومثلاً یہ کہا کہ پانچ روپے کا ململ (6) کا تھان لاؤ وکیل پانچ روپے میں دو
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۴.
2 ۔دلال یعنی وہ شخص جو کمیشن لیکر لوگوں کا مال بیچتاہے۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۴.
4 ۔المرجع السابق.
5 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوکالۃ،فصل فی التوکیل بالبیع والشراء،ج۲،ص۱۵۸.
6 ۔ایک قسم کا باریک سوتی کپڑا۔
تھان لایا مگر تھان وہی ہے جو بازار میں پانچ کا آتا ہے تو موکل کو لینا لازم نہیں۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: ایک چیز معین کرکے کہا کہ یہ چیز میرے لیے خرید لاؤ مثلاً یہ بکری یہ گائے یہ بھینس تو وکیل کو وہ چیز اپنے لیے یا موکل کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے خریدنا جائز نہیں اگر وکیل کی نیت اپنے لیے خریدنے کی ہے یا مونھ سے کہہ دیا کہ اس کو اپنے لیے یا فلاں کے لیے خریدتا ہوں جب بھی وہ چیز موکل ہی کے لیے ہے۔(2) (ہدایہ، بحر)
مسئلہ ۲۷: وکیل مذکور نے موکل کی موجودگی میں چیز اپنے لیے خریدی یعنی صاف طور پر کہہ دیا کہ اپنے لیے خریدتا ہوں یا ثمن جو کچھ اُس نے بتایا تھا اُس کے خلاف دوسری جنس کو ثمن کیا اُس نے روپیہ کہا تھا اس نے اشرفی(3) یا نوٹ سے وہ چیز خریدی یا موکل نے ثمن کی جنس کومعین نہیں کیا تھا اس نے نقود کے علاوہ دوسری چیز کے عوض میں خریدی یا اس نے خود نہیں خریدی بلکہ دوسرے کو خریدنے کے لیے وکیل کیا اور اُس نے اس کی عدم موجودگی میں خریدی ان سب صورتوں میں وکیل کی مِلک ہو گی موکل کی نہیں ہو گی اور اگر وکیل کے وکیل نے وکیل کی موجودگی میں خریدی تو موکل کی ہو گی۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۸: غیر معین چیز خریدنے کے لیے وکیل کیا تو جو کچھ خریدے گا وہ خود وکیل کے لیے ہے مگر دو صورتوں میں موکل کے لیے ہے ایک یہ کہ خریداری کے وقت اُس نے موکل کے لیے خریدنے کی نیت کی دوسری یہ کہ موکل کے مال سے خریدی یعنی عقد کو وکیل نے مال موکل کی طرف نسبت کیا مثلاً یہ چیز فلاں کے روپے سے خریدتا ہوں۔(5) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۲۹: عقد کو اپنے روپے کی طرف نسبت کیا تو اسی کے لیے ہے اور اگر عقد کو مطلق روپے سے کیا نہ یہ کہا کہ موکل کے روپے سے نہ یہ کہ اپنے روپے سے تو جو نیت ہو۔ اپنے لیے نیت کی تو اپنے لیے موکل کے لیے نیت کی تو موکل کے لئے۔ اور اگر نیتوں میں اختلاف ہے تو یہ دیکھا جائے گا کہ کس کے روپے اُس نے دیے اپنے دیے تو اپنے لیے خریدی ہے موکل کے دیے تو اُس کے لیے خریدی ہے۔ (6)(بحر)
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۷.
2 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج ۲،ص۱۴۱.
و''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۸.
3 ۔سونے کا سکہ۔
4 ۔''الھدایۃ''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۲،ص۱۴۱.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۸.
و''الھدایۃ''،کتاب الوکالۃ، باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۲،ص۱۴۲.
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،با ب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۷۰ـ۲۷۱.
مسئلہ ۳۰: وکیل و موکل میں اختلاف ہے وکیل کہتا ہے میں نے تمھارے (موکل کے) لیے خریدی ہے موکل کہتا ہے تم نے اپنے لیے خریدی ہے اس صورت میں موکل کا قول معتبر ہے جبکہ موکل نے روپیہ نہ دیا ہو اور اگر موکل نے روپیہ دے دیا ہو تو وکیل کا قول معتبر ہے۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۳۱: معین غلام کی خریداری کا وکیل تھا پھر وکیل و موکل میں اختلاف ہوا اگر غلام زندہ ہے وکیل کا قول معتبر ہے موکل نے دام(2) دیے ہوں یا نہ دیے ہوں۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: خریدار نے کہا یہ چیز میرے ہاتھ زید کے لیے بیچو اُس نے بیچی اس کے بعد خریدار یہ کہتا ہے کہ زید نے مجھے خریدنے کا حکم نہیں کیا تھا مقصود یہ ہے کہ اس کو میں خود لوں زید کو نہ دوں اگر زید لینا چاہتا ہے تو چیز لے لیگا اور خریدار کا انکار لغو و بیکار ہے۔ ہاں اگر زید بھی یہی کہتا ہے کہ میں نے اُسے حکم نہیں دیا تھا تو خریدارلے گا زید کو نہیں ملے گی مگر جب کہ باوجود اس کے کہ زید نے کہہ دیا ہے کہ میں نے اُس سے لینے کو نہیں کہا ہے خریدار نے وہ چیز زید کو دے دی اور زید نے لے لی تو اب زید کی ہو گئی اور یہ تعاطی کے طور پر(4) زید سے بیع ہوئی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۳۳: دو چیزیں خریدنے کے لیے حکم دیا خواہ دونوں معین ہوں یا غیر معین اورثمن معین نہیں کیا ہے کہ اتنے میں خریدی جائیں وکیل نے ایک خریدی اگر یہ واجبی قیمت (6)میں خریدی ہے یا خفیف سی زیادتی کے ساتھ خریدی کہ اتنی زیادتی کے ساتھ لوگ خرید لیتے ہوں تو یہ بیع موکل کے لیے ہو گی اور اگر بہت زیادہ داموں کے ساتھ خریدی تو موکل کے لیے لینا ضرور نہیں۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۳۴: دو چیزیں خریدنے کے لیے وکیل کیا اورثمن معین کر دیا ہے مثلاً ہزار روپے میں دونوں خریدو اورفرض کرو کہ دونوں قیمت میں یکساں ہیں وکیل نے ایک کو پانسویا کم میں خریدا تو موکل پر نافذ ہے اور پانسو سے زیادہ میں خریدی اگرچہ تھوڑی ہی زیادتی ہو تو موکل پر نافذ نہیں مگر جب کہ دوسری باقی روپے میں موکل کے مقدمہ دائر کرنے سے پہلے خریدلے مثلاً پہلی ساڑھے
1 ۔ ''الھدایۃ''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۲،ص۱۴۱ـ۱۴۲.
2 ۔روپے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ، باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۹.
4 ۔ایجاب وقبول کے بغیر صرف لین دین سے۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۹-۲۹۰.
6 ۔بازار میں کسی چیز کی معین قیمت جس میں کمی بیشی نہیں کی جاتی ۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء ،ج۸،ص۲۹۰.
پانسو میں خریدی اور دوسری ساڑھے چار سو میں کہ دونوں ایک ہزار میں ہو گئیں اب دونوں موکل پر لازم ہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۵: زید کا عمرو پر دَین(2) ہے زید نے عمرو سے کہا کہ تمھارے ذمہ جو میرے روپے ہیں اُن کے بدلے فلاں چیز معین میرے لیے خرید لو یا فلاں سے فلاں چیز خرید لو یعنی چیز معین کر دی ہو یا بائع کو معین کر دیا ہو یہ توکیل صحیح ہے عمرو خرید کر جب وہ روپیہ بائع کو دیدے گا زید کے دَین سے بری الذمہ ہو جائے گا زید نہ تو چیز کے لینے سے انکار کر سکتا ہے نہ اب دَین کا مطالبہ کر سکتا ہے اور اگر نہ چیز کو معین کیا نہ بائع کو معین کیا اور مدیون(3) نے چیز خریدلی اور روپیہ ادا کر دیا تو بریئ الذمہ نہیں ہوا زید اس سے دَین کا مطالبہ کر سکتاہے اور وہ چیز جو خریدی ہے مدیون کی ہے زید اُس کے لینے سے انکار کر سکتاہے اور فرض کرو ہلاک ہو گئی تومدیون کی ہلاک ہوئی زید سے تعلق نہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۶: دائن(5) نے مدیون سے کہہ دیا کہ میرا روپیہ جو تمھارے ذمہ ہے اُسے خیرات کر دو یہ کہنا صحیح ہے خیرات کر دے گا تو دائن کی طرف سے ہو گا اب دَین کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ یوہیں مالک مکان نے کرایہ دار سے یہ کہا کہ کرایہ جو تمھارے ذمہ ہے اُس سے مکان کی مرمت کرادو اُس نے کرا دی درست ہے کرایہ کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۳۷: ایک چیز ہزار روپے میں خریدنے کو کہا تھا اور روپے بھی دے دیے اُس نے خرید لی اورچیز بھی ایسی ہے جس کی واجبی قیمت ہزار روپے ہے وہ شخص کہتا ہے یہ پانسو میں تم نے خریدی ہے اور وکیل کہتا ہے نہیں میں نے ہزار میں خریدی ہے اس میں وکیل کا قول معتبر ہو گا اور اگر واجبی قیمت اُس کی پانسو ہی ہے تو موکل کا قول معتبر ہے اور اگر روپے نہیں دیے ہیں اور واجبی قیمت پانسو ہے جب بھی موکل کا قول معتبر ہے اور اگر واجبی قیمت ہزار ہے تو دونوں پر حلف دیا جائے گا اگر دونوں قسم کھا جائیں تو عقد فسخ ہو جائے گا (7) او روہ چیز وکیل کے ذمہ لازم ہو جائے گی۔ (8)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۳۸: موکل نے چیز کو معین کر دیا ہے مگر ثمن نہیں معین کیا کہ کتنے میں خریدنا اوریہی اختلاف ہوا یعنی وکیل کہتا
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۹۰.
2 ۔قرض۔ 3 ۔مقروض۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۹۰.
5 ۔قرض دینے والا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۹۰.
7 ۔یعنی وکیل ومؤکل کے درمیان یہ معاملہ ختم ہوجائے گا۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۹۱.
و''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۷۷-۲۷۸.
ہے میں نے ہزار میں خریدی ہے موکل کہتا ہے پانسو میں خریدی ہے یہاں بھی دونوں پر حلف ہے (1) اگرچہ بائع وکیل کی تصدیق کرتا ہو کہ اس کی تصدیق کا کچھ لحاظ نہیں کیونکہ یہ اس معاملہ میں اجنبی ہے اور بعد حلف وہ چیز وکیل پر لازم ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳۹: موکل یہ کہتا ہے میں نے تم سے کہا تھا کہ پانسو میں خریدنا اور وکیل کہتا ہے تم نے ہزار روپے میں خریدنے کو کہا تھا یہاں موکل کا قول معتبر ہے اور اگر دونوں گواہ پیش کریں تو وکیل کے گواہ معتبر ہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۴۰: ایک شخص سے کہا تھا کہ میری یہ چیز اتنے میں بیع کر دو اور اُس وقت اُس چیز کی اُتنی ہی قیمت تھی مگر بعد میں قیمت زیادہ ہو گئی تو وکیل کو اُتنے میں بیچنا اب درست نہیں یعنی نہیں بیچ سکتا۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: خریدوفروخت و اجارہ و بیع سلم و بیع صرف کا وکیل اُن لوگوں کے ساتھ عقد نہیں کر سکتا جن کے حق میں اس کی گواہی مقبول نہیں اگرچہ واجبی قیمت کے ساتھ عقد کیا ہو ہاں اگر موکل نے اس کی اجازت دے دی ہو کہہ دیا ہو کہ جس کے ساتھ تم چاہو عقد کرو تو ان لوگوں سے واجبی قیمت پر عقد کر سکتا ہے اور اگر موکل نے عام اجازت نہیں دی ہے اور واجبی قیمت سے زیادہ پر ان لوگوں کے ہاتھ چیز بیع کی تو جائز ہے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۴۲: وکیل کو یہ جائز نہیں کہ اُس چیز کو خود خرید لے جس کی بیع کے لیے اس کو وکیل کیا ہے یعنی یہ بیع ہی نہیں ہو سکتی کہ خوہی بائع ہوا اور خود مشتری۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۴۳: موکل نے اُن لوگوں سے بیع کی صریح لفظوں میں اجازت دے دی ہو جب بھی اپنی ذات یا نابالغ لڑکے یا اپنے غلام کے ہاتھ جس پر دَین نہ ہو بیع کرنا جائز نہیں۔(7) (بحرالرائق
1 ۔ قسم ہے۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۸،ص۲۹۲.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔''ردالمحتار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۸،ص۲۹۳.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۲۹۳.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۸.
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۴.
مسئلہ ۴۴: وکیل کم یا زیادہ جتنی قیمت پر چاہے خرید و فروخت کر سکتا ہے جب کہ تہمت کی جگہ نہ ہو اور موکل نے دام بتائے نہ ہوں(1) مگر بیع صرف میں غبن فاحش کے ساتھ بیع کرنا درست نہیں اور وکیل یہ بھی کر سکتا ہے کہ چیز کو غیر نقود کے بدلے میں بیع کرے۔ (2)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴۵: بیع کا وکیل چیز اُدھار بھی بیع کر سکتا ہے جب کہ موکل بطور تجارت چیز بیچنا چاہتا ہو اور اگر ضرورت و حاجت کے لیے بیع کرتا ہے مثلاً خانہ داری کی چیزیں ضرورت کے وقت بیچ ڈالتے ہیں اس صورت میں وکیل کو اُدھار بیچنا جائز نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۴۶: عورت نے سوت کا ت کر کسی کو بیچنے کے لیے دیا اُدھار بیچنا جائز نہیں غرض اگر قرینہ سے یہ ثابت ہو کہ موکل کی مراد نقد بیچنا ہے تو اُدھار بیچنا درست نہیں اور جہاں اُدھار بیچنا درست ہے اُس سے مراد اُتنے زمانہ کے لیے اُدھار بیچنا ہے جس کا رواج ہو اوراگر زمانہ طویل کر دیا مثلاً عام طور پر لوگ ایک مہینے کی مدت دیتے تھے اس نے زیادہ کر دی یہ جائز نہیں۔(4) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۴۷: موکل نے کہا اس چیز کو سو روپے میں اُدھار بیچ دینا اُس نے سو روپے نقد میں بیچ دی یہ جائز ہے اور اگر موکل نے دام نہ بتائے ہوں یہ کہا کہ اس کو اُدھار بیچنا وکیل نے نقد بیچ دی یہ جائز نہیں۔ (5)(بحرالرائق)
مسئلہ ۴۸: وکالت کو زمانہ یا مکان کے ساتھ مقید کرنا درست ہے یعنی موکل نے کہہ دیا کہ اسکو کل بیچنا یا خریدنا یا فلاں جگہ خریدنا یا بیچنا وکیل آج عقد نہیں کر سکتانہ اس جگہ کے علاوہ دوسری جگہ کر سکتا ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۴۹: وکیل سے کہا جاؤ بازار سے فلاں چیز فلاں شخص کی معرفت خرید لاؤ وکیل نے بغیر اُس کی معرفت کے خریدی یہ درست ہے یعنی اگر وہ چیز ضائع ہو گئی تو وکیل ضامن نہیں اور اگر یہ کہا تھا کہ بغیر اُس کی معرفت کے مت خریدنا وکیل نے بغیر معرفت خریدلی یہ جائز نہیں ہلاک ہو جائے تو وکیل کا نقصان ہے موکل سے تعلق نہیں۔ (7)(درمختار)
1 ۔قیمت نہ بتائی ہو۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۲۹۴،وغیرہ.
3 ۔المرجع السابق،ص۲۹۵.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۴.
و''الدرالمختار'' کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۲۹۵.
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۷،ص۲۸۴.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۲۹۶.
7 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۵۰: ایسی چیز بیچنے کے لیے وکیل کیا ہے جس میں بار برداری صَرف ہو گی(1) اور وکیل و موکل دونوں ایک ہی شہر میں ہیں تو اُس سے مراد اُسی شہر میں بیچنا ہے دوسرے شہر میں لے جانا جائز نہیں فرض کرو دوسری جگہ بار کراکے لے گیا اور چوری گئی یا ضائع ہو گئی وکیل کو تاوان دینا ہو گا۔ اور اگر بار برداری کا صرفہ نہ ہوتا ہو اور موکل نے جگہ کی تعیین نہیں کی ہے تو اس شہر کی خصوصیت نہیں وکیل کو اختیار ہے جہاں چاہے لے جائے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: موکل نے وکیل پر کوئی شرط کر دی ہے جو پوری طور پر مفید ہے وکیل کو اُس شرط کی رعایت واجب ہے مثلاً کہا تھا اس کو خیار کے ساتھ بیع کرنا وکیل نے بلا خیار بیع کر دی یہ جائز نہیں۔ موکل نے کہا تھا کہ میرے لیے اس میں خیار رکھنا اور خیار کی شرط نہیں کی جب تو بیع ہی جائز نہیں اور اگر موکل کے لیے خیار شرط کیا تو وکیل و موکل دونوں کے لیے ہو گا۔ موکل نے مطلق بیع کی اجازت دی وکیل نے موکل یا اجنبی کے لیے خیار شرط کیا یہ بیع صحیح ہے۔ موکل نے ایسی شرط لگائی جس کا کوئی فائدہ نہیں اس کاکوئی اعتبار نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: وکیل نے اُدھار بیچی تو ثمن کے لیے مشتری سے کفیل(4)لے سکتا ہے یا ثمن کے مقابل(5) میں کوئی چیز رہن(6)رکھ سکتا ہے لہٰذا اس صورت میں وکیل کے پاس سے رہن کی چیز ہلاک ہو گئی یا کفیل سے وصولی کی کوئی صورت ہی نہ رہی تو وکیل ضامن نہیں۔ (7)(درمختار)
مسئلہ۵۳: موکل نے کہہ دیا ہے کہ جس کے ہاتھ بیع کرو اُس سے کفیل لینا یا کوئی چیز رہن رکھ لینا وکیل نے بغیر رہن و کفالت(8)بیع کر دی یہ جائز نہیں۔ وکیل و موکل میں اختلاف ہوا موکل کہتا ہے میں نے رہن یا کفالت کے لیے کہا تھا وکیل کہتا ہے نہیں کہا تھا اس میں موکل کا قول معتبر ہے۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ۵۴: وکیل نے بیع کی اور مشتری کی طرف سے ثمن کی خود ہی کفالت کی یہ کفالت جائز نہیں اور اگر وہ بیع کا وکیل
1 ۔یعنی مزدوری دینی پڑے گی۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الثالث فی الوکالۃبالبیع،ج۳،ص۵۸۹.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔ضامن،ذمہ دار۔ 5 ۔یعنی قیمت کے بدلے۔ 6 ۔گروی۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۲۹۶.
8 ۔رہن رکھے بغیر یاکفیل لیے بغیر۔
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الثالث فی الوکالۃ بالبیع...إلخ،ج۳،ص۵۹۰.
نہیں ہے بلکہ مشتری سے ثمن وصول کرنے کے لیے وکیل ہے یہ مشتری کی طرف سے ثمن کی کفالت کرتا ہے جائز ہے اور مشتری سے ثمن معاف کر دے تومعاف نہ ہو گا۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۵۵: وکیل نے مشتری سے ثمن وصول کرنے میں تاخیر کر دی یعنی بیع کے بعد اُس کے لیے میعاد مقرر کر دی یا ثمن معاف کر دیا یا مشتری نے حوالہ کر دیا اس نے قبول کر لیایا اُس نے کھوٹے روپے دے دیے اس نے لے لیے یہ سب درست ہے یعنی جو کچھ کر چکا ہے مشتری سے اُس کے خلاف نہیں کر سکتا مگرمؤکل کے لیے تاوان دینا ہو گا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: جو شخص خریدنے کا وکیل ہوا اُس کی خریداری کے لیے موکل نے ثمن کی تعیین نہ کی ہو تو اُتنے ہی دام کے ساتھ خرید سکتا ہے جو چیز کی اصلی قیمت ہے یا کچھ زیادہ کے ساتھ خرید سکتا ہے کہ عام طور پر لوگوں کے خریدنے میں یہ دام ہوتے ہوں۔ یہ اُن چیزوں میں ہے جن کا ثمن معروف و مشہور نہ ہو اور اگر ثمن معروف ہے جیسے روٹی۔ گوشت۔ ڈبل روٹی۔ بسکٹ اور انکے علاوہ بہت سی چیزیں ان کو وکیل نے زیادہ ثمن سے خریدا اگرچہ بہت تھوڑی زیادتی ہے مثلاً چار پیسے میں چار روٹیاں آتی ہیں اس نے پانچ کی چار خریدیں یہ بیع موکل پر نافذ نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۵۷: چیز بیچنے کے لیے وکیل کیا وکیل نے اُس میں سے آدھی بیچ دی اورچیز ایسی ہے جس میں تقسیم نہ ہو سکے جیسے لونڈی ،غلام ،گائے، بکری کہ ان میں تقسیم نہیں ہو سکتی اگر موکل کے دعویٰ کرنے سے پہلے وکیل نے دوسرا نصف بھی بیچ دیا جب تو جائزہے ورنہ نہیں اور اگر چیز ایسی ہے جس کے حصہ کرنے میں نقصان نہ ہو جیسے جَو ،گیہوں(4) تو نصف کی بیع صحیح ہے چاہے باقی کو بیع کرے یا نہ کرے اور اگر خریدنے کا وکیل ہے اور آدھی چیز خریدی تو جب تک باقی کو خرید نہ لے موکل پر نافذ نہ ہو گی اُس چیز کے حصے ہو سکتے ہوں یا نہ ہو سکیں دونوں کا ایک حکم ہے۔ (5)(درمختا ر، بحر)
مسئلہ ۵۸: مشتری نے مبیع میں عیب پایا اور وکیل پر اس کو رد کر دیا اس کی چند صورتیں ہیں مشتری نے گواہوں سے عیب ثابت کیا ہے یا وکیل پر حلف دیا گیا اس نے حلف سے انکار کیا یا خود وکیل نے عیب کا اقرار کیا بشرطیکہ اس تیسری صورت میں
1 ۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الثالث فی الوکالۃ بالبیع،ج۳،ص۵۹۶.
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۲۹۷.
4 ۔گندم۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۸۸.
و''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۲۹۷.
وہ عیب ایسا ہو کہ اس مدت میں پیدا نہیں ہو سکتا ان تینوں صورتوں میں وکیل پر رد موکل پر رد ہے اور اگر عیب ایسا ہے جس کا مثل اس مدت میں پیدا ہو سکتا ہے اور وکیل نے اس کا اقرار کر لیا تو وکیل پر رد موکل پر رد نہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۵۹: مبیع ایسے عیب کی وجہ سے جس کا مثل حادث ہو سکتا ہے وکیل پر بوجہ اقرار کے رد کی گئی اس صورت میں وکیل کو موکل پر دعویٰ کرنے کا حق ہے گواہوں سے اگر موکل کے یہاں عیب ہونا ثابت کر دے گا یا بصورت گواہ نہ ہونے کے موکل پر حلف دیا جائے گا اگر حلف سے انکار کر دے گا تو موکل پر رد کر دی جائے گی اور اگر وکیل پر رد کیا جانا قاضی کے حکم سے نہ ہو بلکہ خود وکیل نے اپنی رضا مندی سے چیز واپس لی تو اب موکل پر دعویٰ کرنے کا بھی حق نہیں ہے کہ اس طرح واپسی حق ثالث میں بیع جدید (2)ہے۔ (3)(بحرالرائق)
مسئلہ ۶۰: وکالت میں اصل خصوص ہے کیونکہ عموماً یہی ہوتا ہے کہ وکیل کے لیے معین کر کے کام بتایا جاتا ہے عموم بہت کم ہوتا ہے اور مضاربت میں عموم اصل ہے یعنی عام طور پر مضارب کو امور تجارت میں وسیع اختیارات دیے جاتے ہیں کیونکہ مضارب کے لیے پابندی اکثر موقع پر اصل مقصود کے منافی ہوتی ہے اس قاعدہ کلیہ کی تفریع یہ ہے کہ وکیل نے اُدھار بیچا موکل نے کہا میں نے تم سے نقد بیچنے کو کہا تھا وکیل کہتا ہے تم نے مطلق رکھا تھا نقد یا اُدھار کسی کی تخصیص نہیں تھی موکل کی بات مانی جائے گی اور یہی صورت مضاربت میں ہو کہ رب المال(4) کہتا ہے میں نے نقد بیچنے کو کہا تھا اور مضارب(5) کہتا ہے نقد یا اُدھار کسی کی تعیین نہ تھی تو مضارب کی بات مانی جائے گی۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۶۱: وکیل مدعی ہے کہ میں نے چیز بیچ دی اور ثمن پر قبضہ بھی کر لیا مگر ثمن ہلاک ہو گیا اور مشتری بھی وکیل کی تصدیق کرتا ہے موکل کہتا ہے دونوں جھوٹے ہیں وکیل کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہے۔(7) (بحرالرائق)
مسئلہ ۶۲: مؤکل کہتا ہے میں نے تجھ کو وکالت سے جدا کر دیا وکیل کہتا ہے وہ چیز تو میں نے کل ہی بیچ ڈالی وکیل کی بات نہیں مانی جائے گی۔ (8)(بحر)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۲۹۸.
2 ۔تیسرے شخص کے حق میں نیا سودا۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالہ بالبیع والشراء،ج۷،ص۲۸۹.
4 ۔مال کامالک ۔ 5 ۔دوسرے کے مال سے مشترک نفع پر تجارت کرنے والا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۲۹۹.
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالہ بالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۱.
8 ۔المرجع السابق.
مسئلہ۶۳: ایک شخص نے دو شخصوں کو وکیل کیا تو ان میں سے ایک تنہا تصرف نہیں کر سکتا (1)اگر کریگا موکل پر نافذ نہیں ہو گا دوسرا مجنوں ہو گیا یا مر گیا جب بھی اُس ایک کو تصرف کرنا جائز نہیں۔ یہ اُس صورت میں ہے کہ اُس کام میں دونوں کی رائے اور مشورہ کی ضرورت ہو مثلاً بیع اگرچہ ثمن بھی بتا دیا ہو اوریہ حکم وہاں ہے کہ دونوں کو ایک ساتھ وکیل بنایا یعنی یہ کہا میں نے دونوں کو وکیل کیا یا زید وعمرو کو وکیل کیا اور اگر دونوں کو ایک کلام میں وکیل نہ بنایا ہو آگے پیچھے وکیل کیا ہو تو ہر ایک بغیر دوسرے کی رائے کے تصرف کر سکتا ہے۔ (2)(بحر)
مسئلہ۶۴: دو شخصوں کو مقدمہ کی پیروی کے لیے وکیل کیا تو بوقت پیروی دونوں کا مجتمع ہونا(3) ضروری نہیں تنہا ایک بھی پیروی کر سکتا ہے بشرطیکہ امور مقدمہ(4) میں دونوں کی رائے مجتمع ہو۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۶۵: زوجہ کو بغیر مال کے طلاق دینے کے لیے یا غلام کو بغیر مال آزاد کرنے کے لیے دو شخصوں کو وکیل کیا ان میں تنہا ایک شخص طلاق دے سکتا ہے آزاد کر سکتا ہے یہاں تک کہ ایک نے طلاق دے دی اور دوسرا انکار کرتا ہے جب بھی طلاق ہو گئی۔ یوہیں کسی کی امانت واپس کرنے کے لیے یا عاریت پھیرنے کے لیے(6) یا غصب کی ہوئی چیز (7)دینے کے لیے یا بیع فاسد میں رد کرنے کے لیے دو وکیل کیے تنہا ایک شخص بغیر مشارکت دوسرے کے یہ سب کام کر سکتا ہے۔ زوجہ کو طلاق دینے کے لیے دو شخصوں کو وکیل کیا اور یہ کہہ دیا کہ تنہا ایک شخص طلاق نہ دے بلکہ دونوں جمع ہو کر متفق ہو کر طلاق دیں اور ایک نے طلاق دے دی دوسرے نے نہیں دی یا ایک نے طلاق دی دوسرے نے اسے جائز کیا طلاق نہ ہوئی اورا گر یہ کہا کہ تم دونوں مجتمع ہو کر اُسے تین طلاقیں دے دینا ایک نے ایک طلاق دی دوسرے نے دو طلاقیں دیں ایک بھی نہیں ہوئی جب تک مجتمع ہو کر دونوں تین طلاقیں نہ دیں۔ یوہیں دو شخصوں سے کہاکہ میری عورتوں میں سے ایک کو تم دونوں طلاق دے دو اور عورت کو معین نہ کیا تو تنہا ایک شخص طلاق نہیں دے سکتا۔(8) (عالمگیری)
1 ۔یعنی معاملہ طے نہیں کر سکتا۔
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالہ بالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۴.
3 ۔یعنی حاضر ہونا۔ 4 ۔مقدمہ کے معاملات۔
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۲۹۹.
6 ۔عارضی طور پر لی ہوئی چیزواپس کرنے کے لیے۔ 7 ۔ناجائز قبضہ کی ہوئی چیز۔
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الثامن فی توکیل الرجلین،ج۳،ص۶۳۴.
مسئلہ ۶۶: دو شخصوں کو کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے وکیل کیا یا عورت نے دو شخصوں کو نکاح کا وکیل کیا تنہا ایک وکیل نکاح نہیں کر سکتا اگرچہ موکل نے مہر کا تعین بھی کر دیا ہو۔ خلع کے لیے دو شخصوں کو وکیل کیا تنہا ایک شخص خلع نہیں کر سکتا اگرچہ بدلِ خلع بھی ذکر کر دیا ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۷: امانت یا عاریت یا مغصوب شے کو واپس لینے کے لیے دو شخصوں کو وکیل کیا تو تنہا ایک شخص واپس نہیں لے سکتا جب تک اس کا ساتھی بھی شریک نہ ہو فرض کرو اگر تنہاایک نے واپس لی اور ضائع ہوئی تو اُسے پوری چیز کا تاوان دینا ہو گا ۔ (2)(بحرالرائق)
مسئلہ ۶۸: دَین(3) ادا کرنے کے لیے دو وکیل کیے تو ایک تنہا بھی ادا کر سکتا ہے دوسرے کی شرکت ضروری نہیں اور دَین وصول کرنے کے لیے دو وکیل کیے تو تنہا ایک وصول نہیں کر سکتا۔(4) (بحر)
مسئلہ ۶۹: دَین وصول کرنے کے لیے دو شخصوں کو وکیل کیا اور موکل غائب ہو گیا اور ایک وکیل بھی غائب ہو گیا جو وکیل موجود تھا اُس نے دَین کا مطالبہ کیا مدیون دَین کا اقرار کرتا ہے مگر وکالت سے انکار کرتا ہے وکیل نے گواہوں سے ثابت کیا کہ فلاں شخص نے دَین وصول کرنے کا مجھے اور فلاں شخص کو وکیل کیا ہے اس صورت میں قاضی دونوں کی وکالت کا حکم دے گا دوسرا وکیل جو غائب ہے جب آجائے گا اُسے گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہ ہو گی بلکہ دونوں مل کر دَین وصول کر لیں گے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۰: واہب نے(6)دو شخصوں کو وکیل کیا کہ یہ چیز فلاں موہوب لہ(7) کو تسلیم کر دو(8) ان میں کا ایک شخص تسلیم کر سکتا ہے اور اگر موہوب لہ نے قبضہ کے لیے دو شخصوں کو وکیل کیا تو تنہا ایک شخص قبضہ نہیں کر سکتا اور اگر دو شخصوں کو وکیل کیا کہ یہ چیز کسی کو ہبہ کر دو اور موہوب لہ کو معین نہیں کیا تو ایک شخص کسی کو ہبہ نہیں کر سکتا اور اگر موہوب لہ کو معین کر دیا ہے تو ایک شخص ہبہ کر سکتا ہے۔ (9)(بحرالرائق)
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الثامن فی توکیل الرجلین،ج۳،ص۶۳۴.
2 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۶.
3 ۔قرض۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۷.
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الثامن فی توکیل الرجلین،ج۳،ص۶۳۴.
6 ۔ہبہ کرنے والے نے۔ 7 ۔جس کے لیے ہبہ کیا۔ 8 ۔یعنی سپرد کردو ،دے دو۔
9 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ، باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۷.
مسئلہ ۷۱: رہن ایک شخص تنہا نہیں رکھ سکتا مکان یا زمین کرایہ پر لینے کے لیے دو وکیل کیے تنہا ایک نے کرایہ پرلیا تو وکیل کے اجارہ میں ہوا پھر اگر وکیل نے موکل(1) کو دے دیا تو یہ وکیل و موکل کے مابین ایک جدید اجارہ بطور تعاطی منعقد ہوا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: یہ کہا کہ میں نے تم دونوں میں سے ایک کو فلاں چیز کے خریدنے کا وکیل کیا دونوں نے خرید لی اگر آگے پیچھے خریدی ہے تو پہلے کی چیز موکل کی ہو گی اور دوسرے نے جو خریدی ہے وہ خود اُس وکیل کی ہو گی اور اگر دونوں نے بیک وقت خریدی تو دونوں چیزیں موکل کی ہوں گی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۳: ایک شخص سے کہا میری یہ چیز بیچ دو پھر دوسرے سے بھی اُسی چیز کے بیچنے کو کہا اور دونوں نے دو شخصوں کے ہاتھ بیع کر دی اگر معلوم ہے کہ کس نے پہلے بیع کی تو جس نے پہلے خریدی ہے چیز اُسی کی ہے اور معلوم نہ ہو تو دونوں مشتری اُس میں نصف نصف کے شریک ہیں اور ہر ایک کو اختیار ہے کہ نصف ثمن کے ساتھ لے یا نہ لے اور اگر دونوں نے ایک ہی شخص کے ہاتھ بیع کی اور دوسرے نے زیادہ داموں میں(4) بیچی دوسری بیع جائز ہے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۴: ایک شخص کو وکیل کیا ہے کہ وہ اپنے مال سے یا موکل کے مال سے دَین ادا کر دے اس کو دَین ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا مگر جب کہ وکیل کے ذمہ خود موکل کا دَین ہے اور موکل نے اُس سے دوسرے کا دَین جو موکل پر ہے ادا کرنے کو کہا۔ اسی کی خصوصیت نہیں بلکہ کسی جگہ بھی وکیل اُس کام پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جس کے لیے وکیل ہوا ہے مثلاً یہ کہا کہ میری یہ چیز بیچ کر فلاں کادَین ادا کر دو وکیل اُس کے بیچنے پرمجبور نہیں یا یہ کہہ دیا ہو کہ میری عورت کو طلاق دے دو، وکیل طلاق دینے پر مجبور نہیں اگرچہ عورت طلاق مانگتی ہو یا غلام آزاد کر دو یا فلاں شخص کو یہ چیز ہبہ کر دو یا فلاں کے ہاتھ یہ چیز بیع کر دو۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
ـ1 ۔وکیل کرنے والا۔
2 ۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الثامن فی توکیل الرجلین،ج۳،ص۶۳۵.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔زیادہ قیمت پر۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب الثامن فی توکیل الرجلین،ج۳،ص۶۳۵.
6 ۔''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۳۰۰.
مسئلہ ۷۵: بعض باتوں میں وکیل اُس کام کے کرنے پر مجبور کیا جائے گاانکار نہیں کر سکتا۔1ایک چیز معین شخص کودینے کے لیے وکیل کیا تھا کہ یہ چیز فلاں کو دے آؤ اور موکل غائب ہو گیا وکیل کو اُسے دینا لازم ہے۔ 2 مدعی(1) کی طلب پرمدعی علیہ(2) نے وکیل کیا اور مدعی علیہ غائب ہو گیا وکیل کو پیروی کرنی لازم ہے 3 ایک چیز رہن رکھی ہے اور عقد رہن کے اندریا بعد میں راہن(3) نے توکیل بالبیع شرط کر دی اس صورت میں وکیل کو بیع کر کے مرتہن(4) کا دَین ادا کرنا ضروری ہے 4جووکیل اجرت پر کام کرتے ہوں جیسے دلال آڑھتی(5) وہ کام کرنے پر مجبور ہیں انکار نہیں کر سکتے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۷۶: وکیل جس چیز کے بارے میں وکیل ہے بغیر اجازت موکل اُس میں دوسرے کو وکیل نہیں کر سکتا مثلاً زید نے عمروسے ایک چیز خریدنے کو کہا عمرو بکر سے کہہ دے کہ تُو خرید کر لا یہ نہیں ہو سکتا یعنی وکیل الوکیل جو کچھ کریگا وہ موکل پر نافذ نہیں ہو گا۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۷۷: وکیل کو موکل نے اس کی اجازت دے دی ہے کہ وہ خود کر دے یا دوسرے سے کرادے تو وکیل بنانا جائز ہے یا اُس کام کے لیے اُس نے اختیار ِتام(8) دے دیا ہے مثلاً کہہ دیا ہے کہ تم اپنی رائے سے کام کرو اس صورت میں بھی وکیل بنانا جائز ہے۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۷۸: ایک شخص کو زکوٰۃ کے روپے دے کر کہا کہ فقیروں کو دے دو اس نے دوسرے کو کہا اُس نے تیسرے کو کہا غرض یہ کہ جو بھی فقیروں کو دے دے گا زکوٰۃ ادا ہو جائے گی موکل کو اجازت دینے کی بھی ضرورت نہیں اور اگر قربانی کا جانور خریدنے کے لیے ایک کو کہا اُس نے دوسرے سے کہہ دیا دوسرے نے تیسرے سے کہا غرض آخر والے نے خریدا تو اوّل کی اجازت پر موقوف رہے گا اگر جائز کریگا جائز ہو گا ورنہ نہیں۔(10) (درمختار)
1 ۔دعوےٰ کرنے والا۔ 2 ۔جس پر دعوی کیا جائے۔ 3 ۔گروی رکھنے والا۔
4 ۔جس کے پاس چیز گروی رکھی جاتی ہے۔ 5 ۔کمیشن لیکر چیز فروخت کرنے والا۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۳۰۱.
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۳۰۲.
8 ۔مکمل اختیار۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۳۰۳.
10 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۷۹: اذن یا تفویض (کام اس کی رائے پر سپرد کرنے) کی وجہ سے وکیل نے دوسرے کو وکیل بنایا تو یہ وکیل ثانی(1) وکیل کا وکیل نہیں ہے بلکہ موکل کا وکیل ہے اگر وکیل اوّل اسے معزول (2) کرنا چاہے معزول نہیں کر سکتا نہ اُس کے مرنے سے یہ معزول ہو سکتا ہے موکل کے مرنے سے دونوں معزول ہو جائیں گے۔(3) (بحر)
مسئلہ ۸۰: وکیل نے وہ کام کیا جس کے لیے وکیل تھا اور حقوق میں اُس نے دوسرے کو وکیل بنایا یہ جائز ہے اس کے لیے نہ اذن کی ضرورت ہے نہ تفویض کی مثلاً خریدنے کا وکیل تھا اس نے خریدا اور مبیع پر قبضہ کے لیے یا عیب کی وجہ سے واپس کرنے کے لیے یا اُس کے متعلق دعویٰ کرنا پڑے اس کے لیے بغیر اذن و تفویض بھی وکیل کر سکتا ہے کہ ان سب کاموں میں وکیل اصیل ہے۔ (4)(بحرالرائق)
مسئلہ ۸۱: وکیل نے بغیر اذن و تفویض دوسرے کو وکیل کر دیا دوسرے نے پہلے کی موجودگی یا عدم موجودگی میں کام کیا اور اوّل نے اُسے جائز کر دیا تو جائز ہو گیا بلکہ کسی اجنبی نے کر دیا اُس نے جائز کر دیا جب بھی جائز ہو گیا اور اگر وکیل اوّل نے ثانی کے لیے ثمن مقرر کر دیا ہے کہ چیز اتنے میں بیچنا اور ثانی نے اوّل کی غیبت میں بیچ دی تو جائز ہے یعنی اوّل کی رائے سے کام ہوا اور یہ بیع موکل پر نافذ ہو گی کیونکہ اُس کی رائے اس صورت میں یہی ہے کہ ثمن کی مقدار متعین کر دے اور یہ کام اُس نے کر دیا۔ خریدنے کے لیے وکیل کیا تھا اور اجنبی نے خریدی اور وکیل نے جائز کر دی جب بھی اُسی اجنبی کے لیے ہے۔ (5)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۸۲: ایسی چیزیں جو عقد نہیں ہیں جیسے طلاق ،عتاق ان میں کسی کو وکیل کیا وکیل نے دوسرے کو وکیل کر دیا ثانی نے اوّل کی موجودگی میں طلاق دی یا اجنبی نے طلاق دی وکیل نے جائز کر دی طلاق نہیں ہو گی۔(6) (درمختار)
مسئلہ۸۳: وکالت کبھی خاص ہوتی ہے کہ ایک مخصوص کام مثلاً خریدنے یا بیچنے یا نکاح یا طلاق کے لیے وکیل کیا اور کبھی عام ہوتی ہے کہ ہر قسم کے کام وکیل کوسپرد کر دیتے ہیں جس کو مختار عام کہتے ہیں مثلاً کہہ دیا کہ میں نے تجھے ہر کام میں وکیل کیا اس
1 ۔دوسرا وکیل۔ 2 ۔برطرف ۔
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۷.
4 ۔المرجع السابق،ص۲۹۸.
5 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۳۰۴.
و''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۸.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۳۰۴.
صورت میں وکیل کو تمام معاوضات خریدنا بیچنا اجارہ دینا لینا سب کام کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے مگر بی بی کو طلاق دینا غلام کو آزاد کرنا یا دوسرے تبرعات مثلاً کسی کو اسکی چیز ہبہ کر دینا اس کی جائداد کو وقف کر دینا اس قسم کے کاموں کا وکیل اختیار نہیں رکھتا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۸۴: کسی سے کہا میں نے اپنی عورت کا معاملہ تمھیں سپرد کر دیا یہ طلاق کا وکیل ہے مگر مجلس تک اختیار رکھتا ہے بعد میں نہیں اور اگر یہ کہا کہ عورت کے معاملہ میں،مَیں نے تم کو وکیل کیا تو مجلس تک مقتصر نہیں(2)۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۸۵: جس شخص کو دوسرے پر ولایت (4)نہ ہو اُس کے حق میں اگر تصرف کریگا جائز نہیں ہو گا مثلاً غلام یا کافر نے اپنے نابالغ بچہ حر(5) مسلمان کا مال بیچ دیا یا اُس کے بدلے میں کوئی چیز خریدی یا اپنی نابالغہ لڑکی حرہ مسلمہ (6) کا نکاح کیا یہ جائز نہیں۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۸۶: نابالغ کے مال کی ولایت اُس کے باپ کو ہے پھر اُس کے وصی کو ہے یہ نہ ہو تو اس کے وصی کو ہے یعنی باپ کا وصی دوسرے کو وصی بنا سکتا ہے اس کے بعد دادا کو پھر دادا کے وصی کو پھر اس وصی کے وصی کو یہ بھی نہ ہو تو قاضی کو اس کے بعد وہ جس کو قاضی نے مقرر کیا ہو اس کو وصی قاضی کہتے ہیں پھر اُس کو جس کو اس وصی نے وصی کیاہو۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۸۷: ماں مر گئی یا بھائی مرا اور انھوں نے ترکہ چھوڑا اور اس مال کا کسی کو وصی کیا تو باپ یا اسکے وصی یا وصی وصی یا دادا یا اسکے وصی یا وصی وصی کے ہوتے ہوئے ماں یا بھائی کے وصی کو کچھ اختیار نہیں اور اگر ان مذکورین میں کوئی نہیں ہے تو ماں یا بھائی کے وصی کے متعلق اُس ترکہ کی حفاظت ہے اور اُس ترکہ میں سے صرف منقول چیزیں(9) بیع کر سکتا ہے غیر منقول کی بیع نہیں کر سکتا اور کھانے اورلباس کی چیزیں خرید سکتا ہے وبس۔(10)(درمختار)
مسئلہ ۸۸: وصی قاضی بھی وہ تمام اختیارات رکھتا ہے جو باپ کا وصی رکھتا ہے ہاں اگر قاضی نے اُسے کسی خاص بات کا پابند کر دیا ہے تو پابند ہو گا۔ (11)(درمختار)
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ، فصل لایعقد وکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۳۰۵.
2 ۔یعنی مجلس تک محدود نہیں بعد میں بھی اُس کو اختیارہے۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۳۰۵.
4 ۔سرپرستی،تصرف کا اختیار۔ 5 ۔آزادجو غلام نہ ہو۔ 6 ۔آزاد مسلمان لڑکی جو لونڈی نہ ہو۔
7 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۳۰۵.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۳۰۵.
9 ۔وہ چیزیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاسکتی ہو۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلٌالبیع والشراء...إلخ،ج۸،ص۳۰۶.
11 ۔المرجع السابق.
مسئلہ ۱: جس شخص کو خصومت یعنی مقدمہ میں پیروی کرنے کے لیے وکیل کیا ہے وہ قبضہ کا اختیار نہیں رکھتا یعنی اس کے موافق فیصلہ ہوا اور چیز دلا دی گئی تو اُس پر قبضہ کرنا اس وکیل کا کام نہیں۔ یوہیں تقاضا کرنے کا (1) جس کو وکیل کیا ہے وہ بھی قبضہ نہیں کر سکتا۔ (2)(درمختار) مگر جہاں عرف اس قسم کا ہو کہ جو تقاضے کو جاتا ہے وہی دَین وصول بھی کرتا ہے جیسا کہ ہندوستان کا عموماً یہی عرف ہے کہ تجار کے یہاں سے جو تقاضے کو بھیجے جاتے ہیں وہی بقایا وصول کر کے لاتے بھی ہیں یہ نہیں ہے کہ تقاضا ایک کا کام ہو اور وصول کرنا دوسرے کا لہٰذا یہاں کے عرف کا لحاظ کرتے ہوئے تقاضا کرنے والا قبضہ کا اختیار رکھتا ہے۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۲: خصومت (4) یا تقاضے کے لیے جس کو وکیل کیا ہے یہ مصالحت نہیں کر سکتے کہ ان کا یہ کام نہیں۔ تقاضے کے لیے جس کو قاصد بنایا ہے جس سے یہ کہہ دیا کہ فلاں شخص کو ہمارا یہ پیغام پہنچا دینا وہ قبضہ کر سکتا ہے اُس مدیون (5) پر دعویٰ نہیں کر سکتا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۳: جس کو صلح کے لیے وکیل بنایا ہے وہ دعویٰ نہیں کر سکتا اور دَین پر قبضہ کے لیے جسے وکیل کیا ہے وہ دعویٰ کرسکتا ہے۔ وکیل قسمۃ ، وکیل شفعہ(7)، ہبہ میں رجوع کا وکیل۔ عیب کی وجہ سے رد کا وکیل (8) ان سب کو دعویٰ کرنے کا حق حاصل ہے۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۴: ایک شخص کے ذمہ میرا دَین ہے تم اُس پر قبضہ کرو اور سب ہی پر قبضہ کرنا، وکیل نے تمام دَین پر قبضہ کیا صرف ایک روپیہ باقی رہ گیا یہ قبضہ صحیح نہیں ہوا کہ موکل کی اس نے مخالفت کی یعنی اگر وہ دَین جس پر قبضہ کیا ہے ہلاک ہو جائے تو موکل ذمہ دار نہیں موکل اُس مدیون سے اپنا پورا دَین وصول کریگا۔ (10)(درمختار)
1 ۔ یعنی قرضہ وصول کرنے کا۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃوالقبض،ج۸،ص۳۰۶.
3 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃ،ج۷،ص۳۰۲.
4 ۔مقدمہ لڑنے۔ 5 ۔مقروض۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃوالقبض،ج۸،ص۳۰۷.
7 ۔شفعہ کا وکیل۔ 8 ۔خریدی ہوئی چیز کو واپس کرنے کا وکیل۔
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃوالقبض،ج۸،ص۳۰۷.
10 ۔المرجع السابق،ص۳۰۸.
مسئلہ ۵: یہ کہا کہ میں نے اپنے ہر دَین کے تقاضا کا تجھے وکیل کیا یا میرے جتنے حقوق لوگوں پر ہیں اُن کے لیے وکیل کیا یہ توکیل اُن حقوق کے متعلق بھی ہے جو اس وقت موجود ہیں اور اُن کے متعلق بھی جو اب ہوں گے اور اگر یہ کہا ہے کہ فلاں کے ذمہ جو میرا دَین ہے اُس کے قبض کا وکیل کیا تو صرف وہی دَین مراد ہے جو اس وقت ہے جو بعدمیں ہوں گے اُن کے متعلق وکیل نہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: جو شخص قبض دَین کا وکیل (2)ہے وہ نہ تو حوالہ قبول کر سکتا ہے نہ مدیون کو دَین ہبہ کر سکتا ہے نہ دَین معاف کر سکتا ہے نہ دَین کو مؤخر کر سکتا ہے یعنی میعاد نہیں مقرر کر سکتا نہ دَین کے مقابلے میں کوئی شے رہن(3) رکھ سکتا ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: ایک شخص کو وکیل کیا کہ فلاں کے ذمہ میرا دَین ہے اُسے وصول کر کے فلاں شخص کو ہبہ کر دے یہ جائز ہے اگر مدیون(5) یہ کہتا ہے میں نے دَین دے دیا اور موہوب لہ(6) بھی تصدیق کرتا ہے تو ٹھیک ہے اور موہوب لہ انکار کرتاہے تو مدیون کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: دَین وصول کرنے کا وکیل آیا اُس نے وصول کیا پھر دوسرا وکیل آیا کہ یہ بھی دَین وصول کرنے کا وکیل ہے یہ چاہتا ہے کہ وکیل اوّل نے جو کچھ وصول کیا ہے اُسے میں اپنے قبضہ میں رکھوں اُسے اس کا اختیا ر نہیں ہاں اگر وکیل دوم کو موکل نے یہ اختیارات دیے ہیں کہ جو کچھ موکل کی چیز کسی کے پاس ہو اُس پر قبضہ کرے تو وکیل اوّل سے لے سکتا ہے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: محتال لہ نے (9) محیل(10) کووکیل کر دیا کہ محتال علیہ(11) سے دَین وصول کرے یہ توکیل صحیح نہیں۔ یوہیں دائن نے(12) مدیون کو وکیل بنایا کہ وہ خود اپنے نفس سے دَین وصول کرے یہ توکیل صحیح نہیں۔(13) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: کفیل بالمال کو وکیل نہیں بنایاجا سکتا اُس کو وکیل بنانا ویسا ہی ہے جیسے خود مدیون کو وکیل کیا جائے ہاں اگر
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابع فی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،فصل فی أحکام التوکیل...إلخ،ج۳،ص۶۲۰.
2 ۔قرض پر قبضہ کرنے کا وکیل۔ 3 ۔گروی۔
4 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابع فی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،فصل فی أحکام التوکیل...إلخ،ج۳،ص۶۲۱.
5 ۔مقروض۔ 6 ۔جس کے لیے ہبہ کیا۔
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابع فی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،فصل فی أحکام التوکیل...إلخ،ج۳،ص۶۲۱.
8 ۔المرجع السابق .
9 ۔ قرض دینے والے نے۔ 10 ۔ اپنے قرض کی ادائیگی دوسرے کے سپرد کرنے والایعنی قرض دار۔
11 ۔وہ شخص کہ قرض دار نے اپنے قرض کی ادائیگی اس کے سپرد کر دی۔ 12 ۔قرض دینے والے نے۔
13 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابع فی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،فصل فی أحکام التوکیل...إلخ،ج۳،ص۶۲۲.
مدیون کو وکیل کیا کہ تم اپنے سے دَین معاف کر دو یہ توکیل صحیح ہے اور معاف کرنے سے پہلے موکل نے معزول کر دیا یہ عزل(1) بھی صحیح ہے۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: زید کے دو شخصوں کے ذمہ ہزارروپے ہیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا کفیل ہے زید نے عمرو کو وکیل کیا کہ ان میں سے فلاں سے دَین وصول کرے عمرو نے بجائے اُس کے دوسرے سے وصول کیا یہ اُس کا قبضہ کرنا صحیح ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص پر ہزار روپے دَین ہے اور دوسرا اس کا کفیل ہے دائن نے وکیل کیا تھا مدیون سے وصول کرنے کے لیے، اُس نے کفیل سے وصول کرلیا یہ بھی صحیح ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: دَین وصول کرنے کے لیے وکیل کیا تھا وکیل نے مدیون سے بجائے روپیہ کے سامان لیا اس چیز کو موکل (4) پسند نہیں کرتا ہے وکیل یہ سامان پھیر دے(5) اور دَین کا مطالبہ کرے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: مدیون نے دائن کو کوئی چیز دے دی کہ اسے بیچ کر اُس میں سے اپنا حق لے لو اُس نے بیع کی اور ثمن پر قبضہ کر لیا پھر یہ ثمن ہلاک ہو گیا تو مدیون کا نقصان ہوا جب تک دائن نے ثمن پر جدید قبضہ نہ کیا ہو اور اگر مدیون نے چیز دیتے وقت یہ کہا اسے اپنے حق کے بدلے میں بیع کر لو تو ثمن پر قبضہ ہوتے ہی دَین وصول ہو گیا اگر ہلاک ہو گا دائن کا ہلاک ہو گا۔ (7)(خانیہ)
مسئلہ ۱۴: ایک شخص نے دوسرے سے یہ کہا کہ فلاں کا تمھارے ذمہ دَین ہے اُس نے مجھے دَین لینے کے لیے(8)وکیل کیا ہے اس کی تین صورتیں ہیں۔ 1مدیون اس کی تصدیق کرتا ہے 2 یاتکذیب کرتا ہے3یاسکوت کرتاہے(9)، اگر تصدیق کرتا ہے دَین ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا پھر واپس لینے کا اس کو اختیار نہیں۔ باقی دو صورتوں میں مجبور نہیں کیا جائے گا مگر اس نے دے دیا تو واپس لینے کا اختیار نہیں۔ پھر موکل آیا اس نے وکالت کا اقرار کر لیا تومعاملہ ختم ہے اور اگر وکالت سے انکار
1 ۔برطرف کرنا۔
2 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃ والقبض،ج۸،ص۲۱۰.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابع فی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،فصل فی أحکام التوکیل...إلخ،ج۳،ص۶۲۲.
4 ۔وکیل کرنے والا۔ 5 ۔سامان واپس کردے۔
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابع فی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،فصل فی أحکام التوکیل...إلخ،ج۳،ص۶۲۲.
7 ۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الوکالۃ،فصل فیمایکون وکیلاًومالایکون،ج۲،ص۴۷ا- ۱۴۸۔
8 ۔قرض وصول کرنے کے لیے۔ 9 ۔ خاموشی اختیار کرتاہے۔
کرتا ہے اور مدیون(1) سے دَین(2) لینا چاہتا ہے اگر مدیون نے دعوی کیا کہ تم نے فلاں کو وکیل کیا تھا میں نے اُسے دے دیا اور اُس کی توکیل کو گواہوں سے ثابت کر دیا یا گواہ نہ ہونے کی صورت میں دائن (3)پر حلف(4) دیا گیا اس نے حلف سے انکار کر دیا مدیون بری ہو گیا اور اگر اس نے حلف کر لیا کہ میں نے اُسے وکیل نہیں کیا تھا تو مدیون سے اپنا دَین وصول کریگا۔ پھر اُس وکیل کے پاس اگر وہ چیز موجود ہے تو مدیون اُس سے وصول کرے اور ہلاک کر دی ہے تو تاوان لے سکتا ہے اور اگر ہلاک ہو گئی ہو اور مدیون نے اس کی تصدیق کی تھی تو کچھ نہیں لے سکتا اور تکذیب کی تھی یا سکوت کیا تھا یا تصدیق کی تھی مگر ضمان کی شرط کر لی تھی توجو کچھ دائن کو دیا ہے اس وکیل سے واپس لے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: ایک شخص نے کہا فلاں شخص کی امانت تمھارے پاس ہے اُس نے مجھے وکیل بالقبض کیاہے امین اگرچہ اس کی تصدیق کرتا ہو امانت دینے کا حکم نہیں دیا جائے گا اور اگر امین نے دے دی تو اب واپس لینے کا حق نہیں رکھتا اور اگر امین سے کوئی یہ کہتا ہے کہ میں نے امانت والی چیز خرید لی ہے اُس کو دینے کا حکم نہیں دیا جائے گا اگرچہ امین اُس کی تصدیق کرتا ہو اور اگر امین سے یہ کہتا ہے کہ جس نے امانت رکھی تھی اُس کا انتقال ہو گیا اور یہ چیز بطور وصیت یا وراثت مجھے ملی ہے اگر امین اس کی بات کو سچ مانتا ہے حکم دیا جائے گا کہ اس کو دے دے بشرطیکہ میت پر دَین مستغرق نہ ہو(6) اور اگر امین اُس کی بات سے منکر ہے(7) یا کہتا ہے مجھے نہیں معلوم تو اس صورت میں جب تک ثابت نہ کردے ،دینے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ (8)(ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۶: دائن نے مدیون سے کہا تم فلاں شخص کو دے دینا پھر دوسرے موقع پر کہا اُس کو مت دینا مدیون نے کہا میں تو اُسے دے چکا اور وہ شخص بھی اقرار کرتا ہے کہ مجھے دیا ہے مدیون دَین سے بری ہو گیا۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: دائن نے مدیون کے پاس کہلا بھیجا کہ میرا روپیہ بھیج دو مدیون نے اسی کے ہاتھ بھیج دیا تو دائن کا ہو گیا اگر ہلاک ہو گا دائن کا ہو گا اور اگر دائن نے مدیون سے کہا کہ فلاں کے ہاتھ بھیج دینا یا میرے بیٹے کے ہاتھ یا اپنے بیٹے کے ہاتھ بھیج دینا مدیون نے بھیج دیا اور ضائع ہوا تو مدیون کا ضائع ہوا اور اگر دائن نے یہ کہا تھا کہ میرے بیٹے کو یا اپنے بیٹے کو دے دینا وہ مجھے
1 ۔مقروض۔ 2 ۔قرض۔ 3 ۔قرض دینے والا۔ 4 ۔قسم۔
5 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابع فی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،فصل فی أحکام التوکیل...إلخ،ج۳،ص۶۲۳.
6 ۔یعنی اتناقرض نہ ہوجو اس کے چھوڑے ہوئے مال سے زیادہ ہو۔ 7 ۔یعنی انکار کرتاہے۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃوالقبض،ج۸،ص۳۱۳.
و''الھدایۃ''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃوالقبض،ج۲،ص۱۵۱.
9 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابع فی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،فصل فی أحکام التوکیل...إلخ،ج۳،ص۶۲۵.
لا کے دے دیگا یہ توکیل ہے اگر ضائع ہو گا دائن کا نقصان ہو گا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: مدیون نے کسی کو اپنا دَین ادا کرنے کا وکیل کیا اُس نے ادا کر دیا تو جو کچھ دیا ہے مدیون سے لے گا اور اگر یہ کہا ہے کہ میری زکوٰۃ ادا کر دینا یا میری قسم کے کفارہ میں کھانا کھلا دینا اور اس نے کر دیا تو کچھ نہیں لے سکتا ہاں اگر اُس نے یہ بھی کہا تھا کہ میں ضامن ہوں تو وصول کر سکتا ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: یہ کہا کہ فلاں کو اتنے روپے ادا کر دینا، یہ نہیں کہا کہ میری طرف سے ،نہ یہ کہ میں ضامن ہوں ،نہ یہ کہ وہ میرے ذمہ ہوں گے، اس نے دے دیے، اگر یہ اُس کا شریک یا خلیط یا اُس کی عیال میں ہے یا اس پر اُسے اعتماد ہے تو رجوع کریگا ورنہ نہیں خلیط کے معنی یہ ہیں کہ دونوں میں لین دین ہے یا آپس میں دونوں کے یہ طے ہے کہ اگر ایک کا دوسرے کے پاس قاصد یا وکیل آئے گا تو اُس کے ہاتھ بیع کر ے گا اُسے قرض دیدیگا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: ایک ہی شخص دائن و مدیون دونوں کا وکیل ہو کہ ایک کی طرف سے خود ادا کرے اور دوسرے کی طرف سے خود ہی وصول کرے یہ نہیں ہو سکتا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: مدیون نے ایک شخص کو روپے دیے کہ میرے ذمہ فلاں کے اتنے روپے باقی ہیں یہ دے دینا اور رسید لکھوا لینا روپے اُس نے دے دیے مگر رسید نہیں لکھوائی اُس پر ضمان نہیں یعنی اگر دائن انکار کرے تو تاوان لازم نہ ہو گا اور اگر مدیون نے یہ کہا تھا کہ جب تک رسید نہ لے لینا دینا مت اور اُس نے بغیر رسید لیے دے دیے تو ضامن ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: جس کو دَین ادا کرنے کو کہا ہے اُس نے اُس سے بہتر ادا کیا جو کہا تھا تو ویسا رجوع کریگا جیسا ادا کرنے کو کہا تھا اور اُس سے خراب ادا کیا تو جیسا دیا ہے ویسا ہی لے گا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: ایک شخص کو اپنے حقوق وصول کرنے اور مقدمات کی پیروی کرنے کے لیے وکیل کیا ہے اور یہ کہہ دیا ہے کہ موکل پر (یعنی مجھ پر) جو دعوی ہو اُس میں تو وکیل نہیں یہ صورت توکیل کی جائز ہے نتیجہ یہ ہوا کہ وکیل نے ایک شخص پر مال کا
1 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابع فی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،فصل فی أحکام التوکیل...إلخ،ج۳،ص۶۲۶.
2 ۔المرجع السابق . 3 ۔المرجع السابق، فصل اذا وکل انساناً...إلخ،ص۶۲۶-۶۲۷.
4 ۔المرجع السابق،ص ۶۲۷. 5 ۔المرجع السابق.
6 ۔المرجع السابق ۶۲۸.
دعویٰ کیا اور گواہوں سے ثابت کر دیا مدعیٰ علیہ اپنے اوپر سے اس کو دفع کرنا چاہتا ہے مثلاً کہتا ہے میں نے ادا کر دیا ہے یا دائن نے معاف کر دیا ہے یہ جوابدہی وکیل کے مقابل میں مسموع نہیں کہ وہ اس بات میں وکیل ہی نہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۴: وکیل بالخصومۃ (2)کو اختیار ہے کہ خصم (3)کے حق سے انکار کر دے یا اُس کے حق کا اقرار کرلے مگر قاضی کے پاس اقرار کر سکتا ہے غیر قاضی کے پاس نہیں یعنی مجلس قضا (4)کے علاوہ دوسری جگہ اُس نے اقرار کیا اس کو اگر قاضی کے پاس خصم نے گواہوں سے ثابت کیاتو وکیل کا اقرار نہیں قرار پائے گا یہ البتہ ہو گا کہ گواہوں سے غیر مجلس قضا میں اقرار ثابت ہونے پر یہ وکیل ہی وکالت سے معزول(5) ہو جائے گا اور اس کو مال نہیں دیا جائے گا۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۲۵: وکیل بالخصومۃ اقرار اُس وقت کر سکتا ہے جب اُس کی توکیل مطلق ہو اقرار کی موکل نے ممانعت نہ کی ہو اور اگر موکل نے اُس کو غیر جائز الاقرار قرار دیا ہے تو وکیل ہے مگر اقرار نہیں کر سکتا اگر قاضی کے پاس یہ اقرار کریگا اقرار صحیح نہیں ہو گا اور وکالت سے خارج ہو جائے گا اور اگر وکیل کیا ہے مگر انکار کی اجازت نہیں دی ہے تو انکار نہیں کر سکتا۔ (7)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۶: توکیل بالاقرار صحیح ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اقرار کا وکیل ہے یایہ کہ کچہری میں جاتے ہی اقرار کر لے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وکیل سے کہہ دیا ہے کہ اولاً تم جھگڑا کرنا جو کچھ فریق کہے اُس سے انکار کرنا مگر جب دیکھنا کہ کام نہیں چلتا اور انکار میں میری بدنامی ہوتی ہے تو اقرار کر لینا اس وکیل کا اقرار صحیح ہے وہ موکل پر اقرار ہے۔ (8)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: جو شخص دائن کا وکیل ہے مدیون نے بھی اُسی کو قبضہ کا وکیل کر دیا یہ توکیل درست نہیں مثلاً وہ مدیون کے پاس آکر مطالبہ کرتاہے مدیون نے اُسے کوئی چیز دے دی کہ اسے بیچ کر ثمن سے دَین ادا کر دینا اگر فرض کرو اُس نے بیچی مگر ثمن
1 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃ والقبض،ج۸،ص۳۰۹.
2 ۔مقدمہ کی پیروی کا وکیل۔ 3 ۔مدمقابل۔
4 ۔ عدالت جہاں قاضی فیصلہ کرتاہے۔ 5 ۔برطرف۔
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃ والقبض،ج۸،ص۳۰۹.
7 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابعفی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،ج۳،ص۶۱۷.
و''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃ والقبض،ج۸،ص۳۱۰.
8 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابعفی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،ج۳،ص۶۱۷.
و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃ والقبض،ج۸،ص۳۱۰.
ہلاک ہو گیا تو مدیون کا ہلاک ہوا۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: کفیل بالنفس(2)قبض دَین کا وکیل(3)ہو سکتا ہے۔ یوہیں قاصد اور وکیل بالنکاح ان کو وکیل بالقبض کیاجا سکتا ہے وکیل بالنکاح مہر کا ضامن ہو سکتا ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: دَین قبضہ کرنے کا وکیل تھا اس نے کفالت کر لی یہ صحیح ہے مگر وکالت باطل ہو گئی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: وکیل بیع نے(6) مشتری کی طرف سے بائع کے لیے ثمن(7) کی ضمانت کر لی یہ جائز نہیں پھر اگر اس ضمانت باطلہ کی بنا پر وکیل نے بائع کو ثمن اپنے پاس سے دے دیا تو بائع سے واپس لے سکتا ہے اور اگر ادا کیا مگر ضمانت کی وجہ سے نہیں تو واپس نہیں لے سکتا کہ متبرع(8) ہے۔(9)(درمختار)
مسئلہ ۳۱: وکیل بالقبض نے مال طلب کیا مدیون نے جواب میں یہ کہا کہ موکل کو دے چکا ہوں یا اُس نے معاف کر دیا ہے یا تمھارے موکل نے خود میری مِلک کا اقرار کیا ہے اس کا حاصل یہ ہوا کہ اس نے مِلک موکل کا اقرار کر لیا اور اس کی وکالت کو بھی تسلیم کیا مگر ایک عذر ایساپیش کرتا ہے جس سے مطالبہ ساقط ہو جائے اوراس پر گواہ پیش نہیں کیے اب دوسری صورت منکر پر حلف کی ہے مگر حلف اگر ہو گا تو موکل پر نہ کہ وکیل پر لہٰذا اس صورت میں اُس شخص کو مال دینا ہو گا۔(10) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: مشتری(11) نے عیب کی وجہ سے مبیع(12) کو واپس کرنے کے لیے کسی کو وکیل کیا وکیل جب بائع کے پاس(13)جاتا ہے بائع یہ کہتا ہے کہ مشتری اس عیب پر راضی ہو گیا تھا لہٰذا واپسی نہیں ہو سکتی اس صورت میں جب تک مشتری حلف(14) نہ اُٹھائے بائع پر رد نہیں کر سکتا اور اگر وکیل نے بائع پر رد کر دی پھر موکل آیا اس نے بائع کی تصدیق کی توچیز اسی کی
1 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃوالقبض،ج۸،ص۳۱۱.
2 ۔شخصی ضمانت یعنی جس شخص کے ذمہ حق باقی ہوضامن اس کو حاضر کرنے کی ذمہ داری قبول کرے۔
3 ۔قرض پر قبضہ کرنے کا وکیل۔
4 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃ والقبض،ج۸،ص۳۱۱.
5 ۔المرجع السابق.
6 ۔کسی چیز کے بیچنے کے وکیل نے۔ 7 ۔بائع اور مشتری کی مقرر کردہ قیمت۔ 8 ۔احسان کرنے والا.
9 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃوالقبض،ج۸،ص۳۱۱.
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃوالقبض،ج۸،ص۳۱۳.
11 ۔خریدار۔ 12 ۔ جو چیز بیچی گئی،فروخت شدہ چیز۔ 13 ۔ بیچنے والے کے پاس۔ 14 ۔قسم۔
ہو گی بائع کی نہ ہو گی۔ (1)(بحر)
مسئلہ ۳۳: زید نے عمروکودس روپے دیے کہ یہ میرے بال بچوں پر خرچ کرنا عمرو نے دس روپے اپنے پاس کے خرچ کیے وہ روپے جو دیے گئے تھے رکھ لیے تو یہ دس اُن دس کے بدلے میں ہو گئے اسی طرح اگر دَین ادا کرنے کے لیے روپے دیے تھے یا صدقہ کرنے کے لیے دیے تھے اس نے یہ روپے رکھ لیے اور اپنے پاس سے دَین ادا کر دیا یا صدقہ کر دیا تو ان صورتوں میں بھی ادلا بدلا ہو گیا۔ جو روپے زید نے دیے ہیں اُن کے رہتے ہوئے یہ حکم ہے اور اگر عمرو نے زید کے روپے خرچ کر ڈالے اس کے بعد بال بچوں کے لیے چیزیں خریدیں وہ سب عمرو کی مِلک ہیں اور بچوں پر خرچ کرنا تبرع ہے(2)اور زید کے روپے جو خرچ کیے ہیں اُن کا تاوان دینا ہو گا اور یہ بھی ضرور ہے کہ خرچ کے لیے عمرو جو چیزیں خرید لایا اُن کی بیع کو زید کے روپے کی طرف نسبت کرے یا عقد کو مطلق رکھے اور اگر عمرو نے عقد کو اپنے روپے کی طرف نسبت کیا تو یہ چیزیں عمرو کی ہوں گی اور زید کے بال بچوں پر خرچ کرنے میں متبرع ہو گا اور زید کے روپے اس کے ذمہ باقی رہیں گے یہی حکم دَین(3) ادا کرنے اور صدقہ کرنے کا ہے۔ (4)(بحرالرائق)
مسئلہ ۳۴: زید نے عمرو سے کہا فلاں شخص پر میرے اتنے روپے باقی ہیں اُن کو وصول کر کے خیرات کر دو، عمرو نے اپنے پاس سے یہ نیت کرتے ہوئے خرچ کر دیے کہ جب مدیون(5) سے وصول ہوں گے تو اُنھیں رکھ لوں گا یہ جائز ہے یعنی عمرو پر تاوان نہیں اور اگر زید نے روپے دے دیے تھے اس نے وہ روپے رکھ لیے(6)اور اپنے پاس کے خیرات کر دیے تو تاوان نہیں۔ (7)(بحر)
مسئلہ ۳۵: وصی یا باپ نے بچہ پر اپنا مال خرچ کیا کیونکہ اُس کا مال ابھی آیا نہیں ہے تو اس کا معاوضہ نہیں ملے گا ہاں اگر اُس نے اس پر گواہ بنا لیے ہیں کہ یہ قرض دیتا ہوں یا میں خرچ کرتا ہوں اس کا معاوضہ لوں گا تو بدلا لے سکتا ہے۔ (8) (درمختار)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالخصومۃوالقبض،ج۷،ص ۳۱۶.
2 ۔احسان،بھلائی ہے۔ 3 ۔قرض۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالخصومۃوالقبض،ج۷،ص۳۱۶-۳۱۷.
5 ۔مقروض۔
6 ۔لیکن اگر زید نے روپے دے دیے تھے اور اس نے وہ روپے خرچ کرڈالے اوراپنے پاس کے روپے خیرات کر دیے تواس صورت میں عمرو پرتاوان
ہے ،کذا فی البحرالرائق۔...عِلْمِیہ
7 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالخصومۃ والقبض،ج۷،ص۳۱۷.
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۸،ص۳۱۵.
مسئلہ ۳۶: جو شخص قبض عین (شے معین) کا وکیل ہو وہ وکیل بالخصومۃ(1) نہیں ہے مثلاً کسی نے یہ کہہ دیا کہ میری فلاں چیز فلاں شخص سے وصول کرو جس کے ہاتھ میں چیز ہے اُس نے کہا کہ موکل نے یہ چیز میرے ہاتھ بیع کی ہے اور اس کو گواہوں سے ثابت کر دیا معاملہ ملتوی ہو جائے گا جب موکل آجائے گا اُس کی موجودگی میں بیع کے گواہ پھرپیش کیے جائیں گے۔ اسی طرح ایک شخص نے کسی کو بھیجا کہ میری زوجہ کو رخصت کرا لاؤ عورت نے کہا شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے اور گواہوں سے طلاق ثابت کر دی اس کا اثر صرف اتنا ہو گا کہ رخصت کو ملتوی کر دیا جائے گا طلاق کا حکم نہیں دیا جائے گا جب شوہر آئے گا اُس کی موجودگی میں عورت کو طلاق کے گواہ پھر پیش کرنے ہوں گے۔(2) (عالمگیری، ہدایہ)
مسئلہ ۳۷: ایک شخص قبض عین کا وکیل تھا اس کے قبضہ سے پہلے کسی نے وہ چیز ہلاک کر دی یہ اُس پر تاوان کا دعوی نہیں کر سکتا اور قبضہ کے بعد ہلاک کی ہے تو دعوی کر سکتا ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: کسی سے کہا میری بکری فلاں کے یہاں ہے اُس پر قبضہ کرو اس کہنے کے بعد بکری کے بچہ پیدا ہوا تو وکیل بکری اور بچہ دونوں پر قبضہ کریگا اور اگر وکیل کرنے سے پہلے بچہ پیدا ہو چکا ہے تو بچہ پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ باغ کے پھل کا وہی حکم ہے جو بچہ کا ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: وکیل کیا کہ میری امانت فلاں کے پاس ہے اُس پر قبضہ کرو اور وکیل کے قبضہ سے پہلے خود موکل نے قبضہ کر لیا اور پھر دوبارہ اُس کو امانت رکھ دیا اب وکیل نہ رہا یعنی قبضہ نہیں کر سکتا موکل کے قبضہ کرنے کا چاہے اس کو علم ہو یا نہ ہو۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: مالک نے حکم دیا تھا کہ فلاں کے پاس میری امانت ہے اُس پر آج قبضہ کرو تو اُسی دن قبضہ کرنا ضرور نہیں دوسرے دن بھی قبضہ کر سکتا ہے اور اگر کہا تھا کہ کل قبضہ کرنا تو آج نہیں قبضہ کر سکتا اور اگر کہا تھا کہ فلاں کی موجودگی میں قبضہ کرنا تو بغیر اُس کی موجودگی کے قبضہ کر سکتا ہے۔ یوہیں اگر کہا تھا کہ گواہوں کے سامنے قبضہ کرنا تو بغیر گواہوں کے قبضہ کر سکتا ہے اور اگر
1 ۔مقدمہ کی پیروی کاوکیل۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابع فی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،فصل فی الوکیل...إلخ،ج۳،ص۶۲۹.
و''الھدایۃ''،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالخصومۃ والقبض،ج۲،ص۱۴۹-۱۵۰.
3 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابع فی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،فصل فی الوکیل...إلخ،ج۳،ص۶۲۹.
4 ۔المرجع السابق. 5 ۔المرجع السابق،ص۶۳۰.
کہا بغیر فلاں کی موجودگی کے قبضہ نہ کرنا تو غیبت میں(1) قبضہ نہیں کر سکتا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: ایک شخص نے گھوڑا عاریت لیا اور کسی کو بھیجا کہ اُسے لاؤ یہ اُس پر سوار ہو کر لے گیا اگر گھوڑا ایسا ہے کہ بغیر سوار ہوئے قابو میں آسکتا ہے تو یہ ضامن ہے اور قابو میں نہیں آسکتا ہے تو ضامن نہیں۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱: وکالت عقو دلازمہ میں سے نہیں یعنی نہ موکل پر اس کی پابندی لازم ہے نہ وکیل پر، جس طرح موکل جب چاہے وکیل کو برطرف کر سکتا ہے وکیل بھی جب چاہے دست بردار ہو سکتاہے(4)اسی وجہ سے اس میں خیار شرط نہیں ہوتا کہ جب یہ خود ہی لازم نہیں تو شرط لگانے سے کیا فائدہ۔ (5)(بحر)
مسئلہ ۲: وکالت کا بالقصد حکم نہیں ہو سکتا یعنی جب تک اس کے ساتھ دوسری چیز شامل نہ ہو محض وکالت کا قاضی حکم نہیں دے گا مثلاً یہ کہ زید عمرو کا وکیل ہے۔ اگر مدیون پر وکیل نے دعوی کیا اور وہ اس کی وکالت سے انکار کرتا ہے تو اب یہ بیشک اس قابل ہے کہ اس کے متعلق قاضی اپنا فیصلہ صادر کر ے۔(6) (بحر)
مسئلہ ۳: موکل وکیل کو معزول کرے یا وکیل خود اپنے کو معزول کرے بہرحال دوسرے کو اس کا علم ہو جانا ضرور ہے جب تک علم نہ ہو گا معزول نہ ہو گا اگرچہ وہ نکاح یا طلاق کا وکیل ہو جس میں وکیل کو معزولی کی وجہ سے کوئی ضرر بھی نہیں پہنچتا۔ عزل کی کئی صورتیں ہیں وکیل کے سامنے موکل نے کہہ دیا کہ میں نے تم کو معزول کر دیا یا لکھ کر دے دیا یا وکیل کے یہاں کسی سے کہلا بھیجا جس کو بھیجا وہ عادل ہو یا غیر عادل آزاد ہو یا غلام بالغ ہو یا نابالغ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ جا کر یہ کہے کہ موکل نے مجھے بھیجا ہے کہ میں تم کو یہ خبر پہنچا دوں کہ اُس نے تمھیں معزول کر دیا۔ اور اگر اُس نے خود کسی کو نہیں بھیجا ہے بلکہ بطور خود کسی نے یہ خبر پہنچائی تو اس کے لیے ضرور ہے کہ وہ خبر لے جانے والا عادل ہو یا دو شخص ہوں۔(7) (بحرالرائق)
1 ۔غیرموجودگی میں۔
2 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب السابع فی التوکیل بالخصومۃ...إلخ،فصل فی الوکیل...إلخ،ج۳،ص۶۳۰.
3 ۔المرجع السابق.
4 ۔یعنی وکالت چھوڑسکتاہے۔
5 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۷،ص۳۱۷.
6 ۔المرجع السابق. 7 ۔المرجع السابق،ص ۳۱۷ -۳۱۸.
مسئلہ ۴: اگر وکالت کے ساتھ حق غیر متعلق ہو جائے تو موکل وکیل کو معزول نہیں کر سکتا مثلاً وکیل بالخصومۃ(1) جس کو خصم (2)کے طلب کرنے پر وکیل بنایا گیا اس کوموکل معزول نہیں کر سکتا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۵: طلاق و عتاق کا وکیل۔ موکل کا مال بیع کرنے کا وکیل۔ کسی غیر معین چیز کے خریدنے کا وکیل یہ سب اپنے کوبغیر علمِ موکل معزول کر سکتے ہیں یعنی اپنے کو خود معزول کرنے کے بعد یہ سب کام کیے تو نافذ نہیں ہوں گے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۶: قبض دَین کے لیے(5) وکیل کیا تھا مدیون(6) کی عدم موجودگی میں اسے معزول کر سکتا ہے اور اگر مدیون کی موجودگی میں وکیل کیا ہے تو عدم موجودگی میں معزول نہیں کر سکتا مگر جبکہ مدیون کو اسکی معزولی کا علم ہو جائے یعنی مدیون کو اسکی معزولی کا علم نہیں تھا اور دَین اس کو دے دیا بری الذمہ ہو گیا دائن(7) اُس سے مطالبہ نہیں کر سکتا اور مدیون کو معلوم تھا اور دے دیا تو بری الذمہ نہیں ہے۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۷: ایک شخص کو راہن(9) نے وکیل کیا تھا کہ شے مرہون(10) کو بیع کر کے دَین ادا کردے اُس نے اپنے کو مرتہن (11)کی موجودگی میں معزول کر دیا اور مرتہن اس پر راضی بھی ہو گیا تو معزول ہو گیا ورنہ نہیں۔ (12)(درمختار)
مسئلہ ۸: وکالت قبول کرنے کے بعد وکیل کا یہ کہنا میں نے وکالت کو لغو کر دیا میں وکالت سے بری ہوں ان الفاظ سے معزول نہیں ہو گا اگرچہ یہ الفاظ موکل کے سامنے کہے۔ یوہیں موکل کا توکیل سے انکار کر دینا بھی عزل نہیں ہے۔(13) (درمختار)
مسئلہ ۹: وکیل نے وکالت رد کر دی رد ہو گئی مگر اس کے لیے موکل کو معلوم ہونا شرط ہے مثلاً موکل نے وکیل کیا جس کی خبر وکیل کو پہنچی وکیل نے رد کر دی کہہ دیا مجھے منظور نہیں مگر اس کا علم موکل کو نہیں ہوا پھر اس نے وکالت قبول کر لی وکیل ہو گیا۔ وکیل نے وکالت قبول کر لی اس کے بعد موکل نے کہا وکالت رد کر دو اُس نے کہا میں نے رد کر دی رد ہو گئی۔ (14)(عالمگیری)
1 ۔مقدمہ کی پیروی کاوکیل۔ 2 ۔مدمقابل۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۷ص۳۱۷.
4 ۔المرجع السابق،ص۳۲۰.
5 ۔قرض پرقبضہ کرنے کے لیے۔ 6 ۔مقروض۔ 7 ۔قرض دینے والا۔
8 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۷،ص۳۲۱.
9 ۔اپنی چیزکسی کے پاس گروی رکھنے والا۔ 10 ۔وہ چیز جو گروی رکھی گئی ہے۔11 ۔جس کے پاس چیز گروی رکھی گئی ہے۔
12 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۷،ص۳۲۱.
13 ۔المرجع السابق .
14 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب التاسع فیما یخرج بہ الوکیل عن الوکالۃ،مسائل متفرقۃمن العزل وغیرہ،ج۳،ص۶۳۹.
مسئلہ ۱۰: توکیل کو شرط پر معلق کر سکتے ہیں مثلاً یہ کام کروں تو تم میرے وکیل ہو مگر اس کے عزل کو شرط پر معلق نہیں کر سکتے۔ توکیل کو شرط پرمعلق کیا تھا اور شرط پائی جانے سے پہلے وکیل کو معزول کرنا چاہتا ہے کر سکتا ہے۔ (1)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۱: وکیل کو معزول کرنے کا یہ مطلب ہے کہ جس کام کے لیے اُس کو وکیل کیا ہے وہ اب تک نہ ہوا ہو اور کام پورا ہو گیا تو معزول کرنے کی کیا ضرورت خود ہی معزول ہو گیا وہ کام ہی باقی نہ رہا جس میں وکیل تھا مثلاً دَین وصول کرنے کے لیے وکیل تھا دَین وصول کر لیا۔ عورت سے نکاح کرنے کے لیے وکیل تھا اور نکاح ہو گیا۔(2) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۱۲: دونوں میں سے کوئی مر گیا یا اُس کو جنون مطبق ہو گیا وکالت باطل ہو گئی جنون مطبق یہ ہے کہ مسلسل ایک ماہ تک رہے۔ یوہیں مرتد ہو کر دارالحرب کو چلے جانے سے بھی وکالت باطل ہو جاتی ہے جبکہ قاضی نے اُس کے دارالحرب چلے جانے کا اعلان کر دیا ہو پھر اگر مجنون ٹھیک ہو جائے یا مرتد مسلمان ہو کر دارالحرب سے واپس آجائے تو وکالت واپس نہیں ہو گی۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: راہن نے کسی کو مرہون شے کی بیع کا وکیل کیا تھا یا خود مرتہن کو وکیل کیا تھا کہ دَین کی میعاد پوری ہونے پرچیز کو بیچ دینا اور راہن مر گیا اس کے مرنے سے وکالت باطل نہیں ہو گی یہی حکم اُس کے مجنون ہونے یا معاذ اﷲ مرتد ہوجانے کا ہے۔(4) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۴: امر بالید کا وکیل یعنی اُس کے ہاتھ میں معاملہ دے دیا گیا ہے اور بیع بالوفا کا وکیل یعنی مدیون نے دائن کو اپنی کوئی چیز دیدی ہے کہ اس کو بیچ کر اپنا حق وصول کر لو ان دونوں صورتوں میں بھی موکل کے مرنے سے وکالت باطل نہیں ہوگی۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: دو شخصوں میں شرکت تھی شریکین نے وکیل کیا تھا پھر ان میں جدائی و تفریق ہو گئی یعنی شرکت توڑ دی وکالت باطل ہو گئی اس صورت میں وکیل کو معلوم ہونے کی بھی ضرورت نہیں کہ یہ عزل حکمی ہے عزل حکمی میں معلوم ہونا شرط نہیں۔ (6) (درمختار)
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۷،ص۳۲۰.
2 ۔المرجع السابق،ص۳۲۲ .
و ''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۸،ص۳۲۲.
3 ۔''الدرالمختار''،المرجع السابق،ص۳۲۲،۳۲۳.
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۷،ص۳۲۱.
5 ۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۸،ص۳۲۳.
6 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۸،ص۳۲۴ .
مسئلہ ۱۶: موکل (1) مکاتب تھا وہ بدل کتابت سے عاجز ہو گیا یا موکل غلام ماذون تھا اس کے مولیٰ نے محجور کر دیا یعنی اس کے تصرفات روک دیے ان دونوں صورتوں میں بھی ان کا وکیل معزول ہو جاتا ہے اوریہ بھی عزل حکمی ہے علم کی شرط نہیں مگر یہ اُسی وکیل کی معزولی ہے جو خصومت(2) یا عقود کا وکیل ہو اور اگر وہ اس لیے وکیل تھا کہ دَین ادا کرے یا دَین وصول کرے یا ودیعت پر قبضہ کرے وہ معزول نہیں ہو گا۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: جس کام کے لیے وکیل کیا تھا موکل نے اُسے خود ہی کر ڈالا وکیل معزول ہو گیاکہ اب وہ کام کرنا ہی نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ تصرف ہے کہ موکل کے ساتھ وکیل تصرف نہ کر سکتا ہو مثلاً غلام کو آزاد کرنے یا مکاتب کرنے کا وکیل تھا مولیٰ (4)نے خود ہی آزاد کر دیا یا مکاتب کر دیا یا کسی عورت سے نکاح کا وکیل کیا تھا اُس نے خود ہی نکاح کر لیا یا کسی چیز کے خریدنے کا وکیل کیا تھا اُس نے خود خرید لی یا زوجہ کو طلاق دینے کا وکیل کیا تھا موکل نے خود ہی تین طلاقیں دے دیں یا ایک ہی طلاق دی اور عدت پوری ہو گئی یا خلع کا وکیل تھا اُس نے خود خلع کر لیا اور اگر وکیل بھی تصرف کر سکتا ہے عاجز نہیں ہے تو وکالت باطل نہیں ہو گی مثلاً طلاق کا وکیل تھا موکل نے ابھی ایک ہی طلاق دی ہے اور عدت باقی ہے وکیل بھی طلاق دے سکتا ہے یا طلاق کا وکیل تھا شوہر نے خلع کیا اندرون عدت(5) وکیل طلاق دے سکتا ہے۔ بیع کا وکیل تھا اور موکل نے خود بیع کر دی مگر وہ چیز موکل پر واپس ہوئی اُس طریقہ پر جو فسخ ہے تو وکیل اپنی وکالت پر باقی ہے اُس چیز کو بیع کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور اگر ایسے طور پر چیز واپس ہوئی جو فسخ نہیں ہے تو وکیل کو اختیار نہ رہا۔ (6)(بحرالرائق)
مسئلہ ۱۸: ہبہ کرنے کا وکیل کیا تھا اور موکل نے خود ہبہ کر دیا اس کے بعد اپنا ہبہ واپس لے لیا وکیل کو ہبہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ بیع کے لیے وکیل کیا تھا اور موکل نے اُس چیز کو رہن رکھ دیایا اجرت پر دیدیا وکیل اپنی وکالت پر باقی ہے۔(7) (بحر)
مسئلہ ۱۹ : مکان کرایہ پر دینے کے لیے وکیل کیا تھا اور موکل نے خود کرایہ پر دے دیا پھر اجارہ فسخ ہو گیا وکیل کی وکالت لوٹ آئی۔ (8)(بحر)
1 ۔وکیل کرنے والا۔ 2 ۔مقدمہ۔
3 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۸،ص۳۲۵.
4 ۔آقا،مالک۔ 5 ۔عدت کے دوران ۔
6 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۷،ص۳۲۴.
7 ۔المرجع السابق . 8 ۔المرجع السابق .
مسئلہ ۲۰: مکان بیع کرنے کے لیے وکیل کیا تھا اور اُس میں جدید تعمیر کی وکالت جاتی رہی۔ یوہیں زمین بیع کرنے کے لیے وکیل کیا تھا اور اُس میں پیڑ لگا دیئے۔ اور اگر موکل نے اُس میں زراعت کی کھیت کو بو دیا تو وکیل زمین کو بیچ سکتا ہے۔ (1)(بحر)
مسئلہ ۲۱: ستو(2) خریدنے کو کہا اُس میں گھی مل دیا گیا یاتِل خریدنے کوکہا تھا پَیل کر(3) تیل نکال لیا گیا وکالت باطل ہو گئی اور اگر ان کی بیع کا وکیل تھا تووکالت باقی ہے۔ (4)(بحرالرائق)
مسئلہ ۲۲: ایک چیز کی بیع کا وکیل کیا تھا اُس کو خود موکل نے بیچ ڈالا اس کی اطلاع وکیل کو نہیں ہوئی اُس نے بھی ایک شخص کے ہاتھ بیع کر دی اور مشتری سے ثمن بھی وصول کر لیا مگر اس کے پاس سے ضائع ہو گیا اور مبیع ابھی مشتری کو دی نہیں تھی کہ ہلاک ہو گئی مشتری وکیل سے ثمن واپس لے گا اور وکیل موکل سے۔ (5)(بحرالرائق)
مسئلہ ۲۳: دَین وصول کرنے کے لیے وکیل کیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ تم جس کو چاہو وکیل کر دو وکیل نے کسی کو وکیل کیا وکیل اوّل چاہے تو اسے معزول بھی کر سکتا ہے اور اگرمؤکل نے یہ کہا تھا کہ فلاں کو وکیل کر لو اور وکیل نے اُ س کو وکیل مقرر کیا اب
اُس کو معزول نہیں کر سکتا اور اگر یہ کہا تھا کہ فلاں کو تم چاہو تو وکیل کر لو اب اسے معزول بھی کر سکتاہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مدیون سے کہہ دیا جو شخص تمھارے پاس فلاں نشانی کے ساتھ آئے تم اُس کو دے دینا یا جو شخص تمہاری انگلی پکڑ لے یا جو شخص تم سے یہ بات کہہ دے اُس کو دَین(7) ادا کر دینا ان سب صورتوں میں توکیل صحیح نہیں کہ مجہول(8) کو وکیل بنانا ہے اگر مدیون(9) نے اُسے دے دیا بری الذمہ نہیں ہوا۔ (10)(درمختار)
وَاللہُ سُبْحَانَہٗ وَ تَعَالیٰ اَعْلَمُ وَعِلْمُہٗ جَلَّ مَجْدُہٗ اَتَمُّ وَاَحْکَمُ.
1 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۷،ص۳۲۴.
2 ۔بھُنے ہوئے اناج کاآٹا۔
3 ۔تیل یارس بیلنے کے آلے میں پیس کر۔
4 ۔''البحرالرائق''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۷،ص۳۲۴ـ۳۲۵.
5 ۔المرجع السابق،ص۳۲۵.
6 ۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الوکالۃ،الباب العاشر فی المتفرقات،ج۳،ص۶۴۰.
7 ۔قرض۔ 8 ۔غیرمعین شخص ۔ 9 ۔مقروض۔
10 ۔''الدرالمختار''،کتاب الوکالۃ،باب عزل الوکیل،ج۸،ص۳۲۶.